<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:40:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:40:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئین و جمہوریت کو نقصان پہنچا تو آرٹیکل 243 کی مخالفت کریں گے، سربراہ جے یو آئی (ف)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273398/</link>
      <description>&lt;p&gt;سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں تبدیلی سے ملکی سیاست، آئین اور جمہوریت پر منفی اثرات مرتب ہوئے تو وہ ہمیں قبول نہیں ہوگا، تاہم اگر اس میں صرف انتظامی باتیں ہیں، تو انتظامی چیزیں ملک میں چلتی رہتی ہیں، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیے گئے اگر ان اختیارات میں کمی کی گی تو جے یو آئی اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایف سی ایوارڈ میں آئین کے تحت صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، کمی نہیں، اگر صوبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے تو ہم نے اصولی فیصلہ اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273375/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف ایک ادارے کی سوچ کی ہی حاکمیت نہیں ہونے چاہیے، پارلیمنٹ، متعلقہ اسٹیک ہولڈر کو بیٹھ کر اجتماعی قومی مؤقف اپنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں تھی، اسی رابطے کے تحت ہم نے حکومت کو 35 شقوں سے دستبردار کروایا تھا، 18ویں ترمیم کوئی فریق کسی کے مقابلے میں نہیں تھے، اس وقت سب لوگ متفق تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک-افغان مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ میں منتظر ہوں کہ کوئی اچھی خبر ملے اور مذکرات کامیاب ہوں، دونوں پڑوسی ملک ہیں، دونوں کی بہتری قیام امن میں ہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں تبدیلی سے ملکی سیاست، آئین اور جمہوریت پر منفی اثرات مرتب ہوئے تو وہ ہمیں قبول نہیں ہوگا، تاہم اگر اس میں صرف انتظامی باتیں ہیں، تو انتظامی چیزیں ملک میں چلتی رہتی ہیں، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔</p>
<p>اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیے گئے اگر ان اختیارات میں کمی کی گی تو جے یو آئی اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔</p>
<p>این ایف سی ایوارڈ میں آئین کے تحت صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، کمی نہیں، اگر صوبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے تو ہم نے اصولی فیصلہ اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273375/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف ایک ادارے کی سوچ کی ہی حاکمیت نہیں ہونے چاہیے، پارلیمنٹ، متعلقہ اسٹیک ہولڈر کو بیٹھ کر اجتماعی قومی مؤقف اپنانا ہوگا۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں تھی، اسی رابطے کے تحت ہم نے حکومت کو 35 شقوں سے دستبردار کروایا تھا، 18ویں ترمیم کوئی فریق کسی کے مقابلے میں نہیں تھے، اس وقت سب لوگ متفق تھے۔</p>
<p>پاک-افغان مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ میں منتظر ہوں کہ کوئی اچھی خبر ملے اور مذکرات کامیاب ہوں، دونوں پڑوسی ملک ہیں، دونوں کی بہتری قیام امن میں ہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273398</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2025 20:55:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/07184650ffeee03.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/07184650ffeee03.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
