<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 00:34:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 00:34:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>25 کروڑ کی رشوت وصولی: این سی سی آئی اے کے افسران سمیت 13 افراد کیخلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273461/</link>
      <description>&lt;p&gt;کال سینٹرز کے ذریعے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ وصولی اور غیر قانونی دھندے کی پشت پناہی کے سنگین الزامات پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے 2 ایڈیشنل اور ڈپٹی ڈائریکٹرز سمیت مزید 13 افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد میں درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان چھاپوں کے بعد مختلف مقامات پر جا کر ڈیلز کرتے اور بھاری رقوم وصول کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان چھاپوں کے بعد ڈیل کے ذریعے بھاری رقوم لیتے تھے، مقدمے میں 2 ایڈیشنل ڈائریکٹرز شہزاد حیدر اور عامر نذیر، ڈپٹی ڈائریکٹرز سلمان اعوان، حیدر عباس اور ندیم احمد خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272604'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272604"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
سب انسپکٹرز عثمان بشارت، محمد بلال، صارم علی، ظہیر عباس نیازی اور میاں عرفان سمیت متعدد اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کر کے غیر قانونی کال سینٹرز کو قانونی تحفظ فراہم کیا، مقدمے میں ایک نجی کمپنی کے مالک حسن امیر اور ایک چینی شہری کا نام بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان چھاپوں کے بعد مختلف مقامات پر جا کر ڈیلز کرتے اور بھاری رقوم وصول کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں رقوم کی وصولی میں ایک خاتون کے ذریعے لین دین کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس سے قبل این سی سی آئی اے نے یوٹیوبر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کے خلاف
مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا تھا، تاہم بعد ازاں ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی جانب سے این سی سی آئی اے کے افسران کیخلاف کروڑوں روپے کی رشوت وصول کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے نے مقدمے میں نامزد افسران کو گرفتار کرلیا تھا، جس کے بعد ان کا ٹرائل متعلقہ کورٹ میں جاری ہے، جب کہ گرفتار کیے گئے افسران نے اپنے استعفے بھی وزارت داخلہ کو بھجوا دیے تھے، جو ابھی منظور کیے جانے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے رشوت اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) این سی سی آئی اے وقار الدین سید کا تبادلہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقارالدین سید کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، ان کی جگہ پولیس سروس آف پاکستان (بی ایس-21) کے افسر سید خرم علی کو نیا سربراہ تعینات کیا گیا ہے، جو اس سے قبل پنجاب حکومت کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کال سینٹرز کے ذریعے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ وصولی اور غیر قانونی دھندے کی پشت پناہی کے سنگین الزامات پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے 2 ایڈیشنل اور ڈپٹی ڈائریکٹرز سمیت مزید 13 افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد میں درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان چھاپوں کے بعد مختلف مقامات پر جا کر ڈیلز کرتے اور بھاری رقوم وصول کرتے تھے۔</p>
<p>ملزمان چھاپوں کے بعد ڈیل کے ذریعے بھاری رقوم لیتے تھے، مقدمے میں 2 ایڈیشنل ڈائریکٹرز شہزاد حیدر اور عامر نذیر، ڈپٹی ڈائریکٹرز سلمان اعوان، حیدر عباس اور ندیم احمد خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272604'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272604"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
سب انسپکٹرز عثمان بشارت، محمد بلال، صارم علی، ظہیر عباس نیازی اور میاں عرفان سمیت متعدد اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کر کے غیر قانونی کال سینٹرز کو قانونی تحفظ فراہم کیا، مقدمے میں ایک نجی کمپنی کے مالک حسن امیر اور ایک چینی شہری کا نام بھی شامل ہے۔</p>
<p>مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان چھاپوں کے بعد مختلف مقامات پر جا کر ڈیلز کرتے اور بھاری رقوم وصول کرتے تھے۔</p>
<p>مقدمے میں رقوم کی وصولی میں ایک خاتون کے ذریعے لین دین کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اس سے قبل این سی سی آئی اے نے یوٹیوبر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کے خلاف
مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا تھا، تاہم بعد ازاں ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی جانب سے این سی سی آئی اے کے افسران کیخلاف کروڑوں روپے کی رشوت وصول کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔</p>
<p>ایف آئی اے نے مقدمے میں نامزد افسران کو گرفتار کرلیا تھا، جس کے بعد ان کا ٹرائل متعلقہ کورٹ میں جاری ہے، جب کہ گرفتار کیے گئے افسران نے اپنے استعفے بھی وزارت داخلہ کو بھجوا دیے تھے، جو ابھی منظور کیے جانے ہیں۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے رشوت اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) این سی سی آئی اے وقار الدین سید کا تبادلہ کر دیا تھا۔</p>
<p>وقارالدین سید کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، ان کی جگہ پولیس سروس آف پاکستان (بی ایس-21) کے افسر سید خرم علی کو نیا سربراہ تعینات کیا گیا ہے، جو اس سے قبل پنجاب حکومت کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273461</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 12:38:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/09123510057bc02.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/09123510057bc02.webp"/>
        <media:title>مقدمے میں رقوم کی وصولی میں ایک خاتون کے ذریعے لین دین کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
— فوٹو: فیس بک (این سی سی آئی اے)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
