<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 01:03:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 01:03:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بزدلانہ حملے دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، نائب وزیراعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273630/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم محمد اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں کبھی بھی پاکستان کے اس خطرے سے نمٹنے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں 2 روزہ انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے  وفاقی دارالحکومت میں خودکش دھماکے اور وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کا ذکر بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’میں واضح کر دوں، یہ بزدلانہ کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو کبھی بھی لرزا براندام یا کمزور نہیں کر سکتیں کہ ہم اس خطرے (دہشت گردی) سے نمٹیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ حملے ہمیں کمزور نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں مزید یقین دلاتے ہیں کہ امن اور سلامتی کے لیے صرف بات چیت، سمجھ بوجھ اور تعاون ہی صحیح راستہ ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273606/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں وانا اور اسلام آباد میں دو نہایت گھناؤنے دہشت گرد حملے دیکھے، جس کے نتیجے میں 15 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحٰق ڈار نے حملوں کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ہر شکل اور ہر قسم کے دہشت گرد حملوں کی قطعی طور پر مذمت کرتے ہیں، ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قرار دیا کہ دہشت گردی ہمارے دور کے بڑے عالمی چیلنجز میں سے ایک ہے، اور زور دیا کہ پاکستان اس خطرے کے خلاف ایک مضبوط محافظ رہا ہے جو کسی سرحد، مذہب، جنس، نسل یا قومیت کو تسلیم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں تقریباً 3 سال بعد اس وقت خودکش دھماکا ہوا جب بین الاقوامی تقاریب منعقد کی جا رہی تھیں، جن میں انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس اور چھٹا مارگلہ ڈائیلاگ شامل تھا، جبکہ پاکستان، سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان تین ملکی کرکٹ سیریز بھی جاری تھی، جس کا ایک میچ منگل کو راولپنڈی میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے، پولیس کے مطابق ایک بمبار نے یکٹر جی-11 میں واقع کمپلیکس کے اندر داخل ہونے کی بارہا ناکام کوششوں کے بعد مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، اس موقع پر وہاں سیکڑوں مدعی اور وکلا موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم محمد اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں کبھی بھی پاکستان کے اس خطرے سے نمٹنے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں 2 روزہ انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے  وفاقی دارالحکومت میں خودکش دھماکے اور وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کا ذکر بھی کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’میں واضح کر دوں، یہ بزدلانہ کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو کبھی بھی لرزا براندام یا کمزور نہیں کر سکتیں کہ ہم اس خطرے (دہشت گردی) سے نمٹیں‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ حملے ہمیں کمزور نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں مزید یقین دلاتے ہیں کہ امن اور سلامتی کے لیے صرف بات چیت، سمجھ بوجھ اور تعاون ہی صحیح راستہ ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273606/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں وانا اور اسلام آباد میں دو نہایت گھناؤنے دہشت گرد حملے دیکھے، جس کے نتیجے میں 15 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘۔</p>
<p>اسحٰق ڈار نے حملوں کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ہر شکل اور ہر قسم کے دہشت گرد حملوں کی قطعی طور پر مذمت کرتے ہیں، ۔</p>
<p>انہوں نے قرار دیا کہ دہشت گردی ہمارے دور کے بڑے عالمی چیلنجز میں سے ایک ہے، اور زور دیا کہ پاکستان اس خطرے کے خلاف ایک مضبوط محافظ رہا ہے جو کسی سرحد، مذہب، جنس، نسل یا قومیت کو تسلیم نہیں کرتا۔</p>
<p>اسلام آباد میں تقریباً 3 سال بعد اس وقت خودکش دھماکا ہوا جب بین الاقوامی تقاریب منعقد کی جا رہی تھیں، جن میں انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس اور چھٹا مارگلہ ڈائیلاگ شامل تھا، جبکہ پاکستان، سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان تین ملکی کرکٹ سیریز بھی جاری تھی، جس کا ایک میچ منگل کو راولپنڈی میں ہوا۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے، پولیس کے مطابق ایک بمبار نے یکٹر جی-11 میں واقع کمپلیکس کے اندر داخل ہونے کی بارہا ناکام کوششوں کے بعد مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، اس موقع پر وہاں سیکڑوں مدعی اور وکلا موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273630</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 13:29:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/121316104444fae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/121316104444fae.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
