<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 16:41:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 16:41:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تقرری کیلئے ایگزیکٹو کی عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار دیدی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273634/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد میں ججز کی تقرری کے لیے ایگزیکٹو کی عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 73 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ججز کی تقرری یا برطرفی کے معاملات میں وفاقی حکومت اپنے اختیارات اسلام آباد ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد استعمال کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کی سروس کی شرائط میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ، بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر اختیارات کا استعمال شامل ہو گا، ججز کی تقرری یا برطرفی کے معاملات میں وفاقی حکومت اپنے اختیارات اسلام آباد ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد استعمال کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270061'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق اسلام آباد میں دوسرے صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے ججز عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں، عدالتی افسران کی تقرری، مدت ملازمت اور برطرفی کے لیے حکومت ترمیم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس بابر ستار کی جانب سے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ترمیم ہونے تک حکومت کوئی بھی تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت سے ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کی مشاورت کے بغیر تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی غیرقانونی تصور ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے وزارت قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کو فیصلے کی نقول بھجوانے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 25 کے تحت شہریوں کو انصاف تک رسائی ایک بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی فیصلے کے مطابق ریاست کے 3 ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے آزاد ہیں اور کسی کو دوسرے پر بالادستی حاصل نہیں، کوئی بھی قانون یا انتظامی عمل جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے، وہ آئین سے متصادم اور باطل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ماتحت عدلیہ بھی اسی آئینی تحفظ کی حقدار ہے جو اعلیٰ عدلیہ کو حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد میں ججز کی تقرری کے لیے ایگزیکٹو کی عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار دے دی گئی۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 73 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ججز کی تقرری یا برطرفی کے معاملات میں وفاقی حکومت اپنے اختیارات اسلام آباد ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد استعمال کرے۔</p>
<p>تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کی سروس کی شرائط میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ، بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر اختیارات کا استعمال شامل ہو گا، ججز کی تقرری یا برطرفی کے معاملات میں وفاقی حکومت اپنے اختیارات اسلام آباد ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد استعمال کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270061'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے کے مطابق اسلام آباد میں دوسرے صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے ججز عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں، عدالتی افسران کی تقرری، مدت ملازمت اور برطرفی کے لیے حکومت ترمیم کرے۔</p>
<p>جسٹس بابر ستار کی جانب سے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ترمیم ہونے تک حکومت کوئی بھی تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت سے ہو گی۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کی مشاورت کے بغیر تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی غیرقانونی تصور ہو گی۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے وزارت قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کو فیصلے کی نقول بھجوانے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 25 کے تحت شہریوں کو انصاف تک رسائی ایک بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔</p>
<p>تفصیلی فیصلے کے مطابق ریاست کے 3 ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے آزاد ہیں اور کسی کو دوسرے پر بالادستی حاصل نہیں، کوئی بھی قانون یا انتظامی عمل جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے، وہ آئین سے متصادم اور باطل ہے۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ماتحت عدلیہ بھی اسی آئینی تحفظ کی حقدار ہے جو اعلیٰ عدلیہ کو حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273634</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 16:00:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1214570182d39fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1214570182d39fb.webp"/>
        <media:title>فاضل جج نے قرار دیا کہ عدلیہ کی مشاورت کے بغیر تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی غیرقانونی تصور ہوگی — فائل فوٹو: اسلام آباد ہائیکورٹ/ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
