<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:06:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:06:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور اہم مسلم ممالک کی غزہ میں عالمی فورس تعینات کرنے کی امریکی قرارداد کی حمایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273756/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے دیگر اہم مسلم اور عرب ممالک کے ساتھ شامل ہو کر اُس امریکی قرارداد کی حمایت کی ہے جس میں غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955182/islamabad-regional-allies-support-us-resolution-on-gaza-peace"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، اردن، تُرکیہ اور امریکا نے اس قرارداد کے لیے اپنی مشترکہ حمایت کا اظہار کیا جو اس وقت سلامتی کونسل میں زیرِ غور ہے، یہ قرارداد امریکا نے کونسل کے ارکان اور خطے کے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد تیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 ستمبر کو اعلان کردہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے تاریخی جامع منصوبہ اس قرارداد میں شامل ہے اور شرم الشیخ میں اس کی توثیق اور پذیرائی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/QNAEnglish/status/1989427917068136595'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/QNAEnglish/status/1989427917068136595"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم یہ بیان اُن ممالک کے طور پر جاری کر رہے ہیں، جنہوں نے ہائی لیول ویک کے دوران اس عمل کی ابتدا کی، ایک ایسا عمل جو فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کا راستہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان اُس عمل کی توثیق کرتا ہے جو فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کی راہ ہموار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273181'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک مخلصانہ کوشش ہے اور یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بلکہ پورے خطے کے لیے امن اور استحکام کا قابلِ عمل راستہ پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مُمالک نے امید ظاہر کی کہ سلامتی کونسل اس قرارداد کو جلد منظور کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں سلامتی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کی جانے والی امریکی قرارداد کی باقاعدہ توثیق کرے اور خبردار کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی ’کمزور‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="روس-کی-قرارداد" href="#روس-کی-قرارداد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;روس کی قرارداد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکی اپیل کے ساتھ ہی روس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ پر اپنی علیحدہ قرارداد پیش کر دی، جس سے براہِ راست امریکی مسودے کو چیلنج کیا گیا ہے، کونسل کے 5 مستقل ارکان (امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس) کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے اپنے بیان میں کہا کہ جب اس قرارداد پر اتفاقِ رائے کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں، ایسے وقت میں اختلاف پیدا کرنے کی کوششیں فلسطینیوں کے لیے سنگین، حقیقی اور مکمل طور پر قابلِ گریز نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی نازک صورتحال میں ہے اور ہم کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متحد ہو کر آگے بڑھے اور اس انتہائی ضروری امن کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی مشن نے بتایا کہ اکتوبر کے وسط میں امریکا نے قطر، مصر، سعودی عرب، تُرکیہ اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے قرارداد کا مسودہ تیار کرنا شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرارداد کا سادہ اور واضح مقصد صدر ٹرمپ کے تاریخی 20 نکاتی جامع امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے، جسے 13 اکتوبر 2025 کو شرم الشیخ میں 20 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ 3 نومبر کے ہفتے میں امریکا نے نیویارک میں سلامتی کونسل کے اراکین اور شراکت داروں کے ساتھ نیک نیتی پر مبنی مذاکرات شروع کیے تاکہ ایک ایسے مسودے پر اتفاقِ رائے ہو سکے، جس کے ذریعے بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) قائم کی جا سکے اور غزہ میں ایک ایسا محفوظ، پُرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل بنایا جا سکے جو حماس کے اثر سے آزاد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دو-سال-کا-مینڈیٹ" href="#دو-سال-کا-مینڈیٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’دو سال کا مینڈیٹ‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273605'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی مشن نے مزید کہا کہ یہ کوشش صدر ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر منظور شدہ 20 نکاتی منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے جس کی شرم الشیخ میں توثیق کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سلامتی کونسل سے کہتے ہیں کہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر امریکی قرارداد منظور ہوگئی تو یہ غزہ کی عبوری حکومتی ساخت (جسے بورڈ آف پیس کہا جائے گا) کے لیے 2 سالہ مینڈیٹ (2027 کے آخر تک) کی منظوری دے گی، اور اس بورڈ کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ قرارداد رکن ممالک کو ایک عارضی عالمی استحکام فورس تشکیل دینے کی اجازت دے گی، جو غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر غیر فعال کرے گی، شہریوں کی حفاظت کرے گی اور غزہ میں انسانی امداد کے محفوظ راستے قائم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل مجوزہ فورس میں امریکی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے دیگر اہم مسلم اور عرب ممالک کے ساتھ شامل ہو کر اُس امریکی قرارداد کی حمایت کی ہے جس میں غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955182/islamabad-regional-allies-support-us-resolution-on-gaza-peace"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، اردن، تُرکیہ اور امریکا نے اس قرارداد کے لیے اپنی مشترکہ حمایت کا اظہار کیا جو اس وقت سلامتی کونسل میں زیرِ غور ہے، یہ قرارداد امریکا نے کونسل کے ارکان اور خطے کے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد تیار کی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 ستمبر کو اعلان کردہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے تاریخی جامع منصوبہ اس قرارداد میں شامل ہے اور شرم الشیخ میں اس کی توثیق اور پذیرائی کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/QNAEnglish/status/1989427917068136595'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/QNAEnglish/status/1989427917068136595"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم یہ بیان اُن ممالک کے طور پر جاری کر رہے ہیں، جنہوں نے ہائی لیول ویک کے دوران اس عمل کی ابتدا کی، ایک ایسا عمل جو فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کا راستہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>مشترکہ بیان اُس عمل کی توثیق کرتا ہے جو فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کی راہ ہموار کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273181'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک مخلصانہ کوشش ہے اور یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بلکہ پورے خطے کے لیے امن اور استحکام کا قابلِ عمل راستہ پیش کرتا ہے۔</p>
<p>مُمالک نے امید ظاہر کی کہ سلامتی کونسل اس قرارداد کو جلد منظور کرے گی۔</p>
<p>امریکا نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں سلامتی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کی جانے والی امریکی قرارداد کی باقاعدہ توثیق کرے اور خبردار کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی ’کمزور‘ ہے۔</p>
<h1><a id="روس-کی-قرارداد" href="#روس-کی-قرارداد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>روس کی قرارداد</h1>
<p>امریکی اپیل کے ساتھ ہی روس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ پر اپنی علیحدہ قرارداد پیش کر دی، جس سے براہِ راست امریکی مسودے کو چیلنج کیا گیا ہے، کونسل کے 5 مستقل ارکان (امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس) کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے اپنے بیان میں کہا کہ جب اس قرارداد پر اتفاقِ رائے کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں، ایسے وقت میں اختلاف پیدا کرنے کی کوششیں فلسطینیوں کے لیے سنگین، حقیقی اور مکمل طور پر قابلِ گریز نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی نازک صورتحال میں ہے اور ہم کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متحد ہو کر آگے بڑھے اور اس انتہائی ضروری امن کو یقینی بنائے۔</p>
<p>امریکی مشن نے بتایا کہ اکتوبر کے وسط میں امریکا نے قطر، مصر، سعودی عرب، تُرکیہ اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے قرارداد کا مسودہ تیار کرنا شروع کیا تھا۔</p>
<p>اس قرارداد کا سادہ اور واضح مقصد صدر ٹرمپ کے تاریخی 20 نکاتی جامع امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے، جسے 13 اکتوبر 2025 کو شرم الشیخ میں 20 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ 3 نومبر کے ہفتے میں امریکا نے نیویارک میں سلامتی کونسل کے اراکین اور شراکت داروں کے ساتھ نیک نیتی پر مبنی مذاکرات شروع کیے تاکہ ایک ایسے مسودے پر اتفاقِ رائے ہو سکے، جس کے ذریعے بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) قائم کی جا سکے اور غزہ میں ایک ایسا محفوظ، پُرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل بنایا جا سکے جو حماس کے اثر سے آزاد ہو۔</p>
<h1><a id="دو-سال-کا-مینڈیٹ" href="#دو-سال-کا-مینڈیٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’دو سال کا مینڈیٹ‘</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273605'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی مشن نے مزید کہا کہ یہ کوشش صدر ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر منظور شدہ 20 نکاتی منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے جس کی شرم الشیخ میں توثیق کی گئی تھی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سلامتی کونسل سے کہتے ہیں کہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے۔</p>
<p>اگر امریکی قرارداد منظور ہوگئی تو یہ غزہ کی عبوری حکومتی ساخت (جسے بورڈ آف پیس کہا جائے گا) کے لیے 2 سالہ مینڈیٹ (2027 کے آخر تک) کی منظوری دے گی، اور اس بورڈ کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے۔</p>
<p>اس کے علاوہ قرارداد رکن ممالک کو ایک عارضی عالمی استحکام فورس تشکیل دینے کی اجازت دے گی، جو غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر غیر فعال کرے گی، شہریوں کی حفاظت کرے گی اور غزہ میں انسانی امداد کے محفوظ راستے قائم کرے گی۔</p>
<p>بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل مجوزہ فورس میں امریکی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273756</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 10:32:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/151001455acbce4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/151001455acbce4.webp"/>
        <media:title>روس نے سلامتی کونسل میں غزہ پر علیحدہ قرارداد پیش کی ہے، براہِ راست امریکی مسودے کو چیلنج کیا گیا ہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
