<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:47:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 11:47:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27 ویں آئینی ترمیم: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی مستعفی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273765/</link>
      <description>&lt;p&gt;جسٹس شمس محمود مرزا نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وہ ملک کی کسی بھی ہائی کورٹ کے پہلے جج بن گئے ہیں جنہوں نے متنازع 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندانی ذرائع کے مطابق ان کے استعفے کے خط میں کہا گیا کہ آئین میں حالیہ ترمیم کے پیشِ نظر وہ مزید خدمات انجام نہیں دے سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شمس محمود مرزا کو 2014 میں لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا، اور ان کی ریٹائرمنٹ 6 مارچ 2028 کو طے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=bB3-tYKHNPU'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/bB3-tYKHNPU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شمس محمود مرزا نے استعفیٰ منظوری کے لیے صدر آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد جسٹس شمس محمود مرزا کے تبادلے کا امکان تھا، جس پر انہوں نے بطور جج لاہور ہائی کورٹ اپنا استعفیٰ صدر کو بھیج دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سپریم کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت میں شمولیت سے معذرت کرلی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273735'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس امین الدین کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا، آئینی ترمیم کے مطابق موجودہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدت ملازمت تک چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے، تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان میں سے سینئر جج ہی چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حق دار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 24 جنوری 2025 ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1887343"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا تھا کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل (اے اے جی) نے لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شمس محمود مرزا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جج نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات پر 7 سال سے جاری رہنے والے حکم امتناع کو بڑھا کر ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی کو فائدہ پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے اے جی شیراز ذکا نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ آئل کمپنی بمقابلہ وزارت پیٹرولیم (کیس نمبر W.P.No. 6727-17) گزشتہ 7  سال سے جسٹس شمس محمود مرزا کی عدالت میں زیر التوا ہے، ہر سماعت کی تاریخ پر، انہوں نے درخواست گزار کو حکم امتناع میں توسیع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی افسر نے کہا کہ وہ اس کیس میں بطور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پاکستان، وفاق اور ایف آئی اے کی نمائندگی کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ جج نے جان بوجھ کر گزشتہ 7 سال سے درخواست گزار کمپنی کو فائدہ پہنچایا اور ہر سماعت کی تاریخ پر اسٹے آرڈرز میں توسیع دیتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیس کمپنی سے 40 کروڑ روپے سے زائد کی پیٹرولیم لیوی کی وصولی سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیراز ذکا نے کہا کہ حکومتی آڈٹ کے مطابق حکومت کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ایف آئی اے نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے کہا کہ اسٹے کی وجہ سے تحقیقات روک دی گئیں، جو پہلی بار 2017 میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے دیا تھا، جو اب سپریم کورٹ کے سینئر جج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 میں جسٹس منصور شاہ کے سپریم کورٹ میں ترقی پانے کے بعد کیس جسٹس شمس مرزا کی عدالت کو منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273690'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273690"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی افسر کے مطابق جسٹس شمس مرزا نے تب سے کیس کو زیر التوا رکھ کر آئل مارکیٹنگ کمپنی کو ’فائدہ‘ پہنچانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیراز ذکا نے کہا کہ جج کو نااہلی دکھانے، کیس فیصلہ نہ کرنے اور غیر ایماندارانہ نیت رکھنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 دسمبر 2024 کی آخری سماعت پر، انہوں نے فائل کو ’انتظار برائے احکامات‘ کے لیے رکھا اور پھر کیس کو 14 اپریل 2025 تک ملتوی کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شمس مرزا کی طرف سے آخری سماعت پر جاری تحریری حکم میں کہا گیا کہ ’فریقین کے وکلا دلائل جاری رکھ رہے ہیں، دوبارہ سماعت 14.04.2025 کو مقرر کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار/آئل کمپنی کے وکلا علی سبطین فضل، ہاشم احمد خان اور عمر طارق گل کی حاضری درج کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے اے جی شیراز ذکا اور انویسٹی گیشن افسر رانا عدیل نے بالترتیب حکومت اور ایف آئی اے کی نمائندگی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی شکایت میں قانونی افسر نے اشارہ دیا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد، کسی جج کو نااہلی دکھانے پر ہٹایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری موجودہ ہفتے (جنوری 2025) کے وفاقی قانون افسران کی روسٹر سے ظاہر ہوا تھا کہ شیراز ذکا کو جسٹس مرزا کے سنگل بینچ کے سامنے فیڈریشن کی نمائندگی کے لیے اے اے جی حمزہ شیخ کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا دعویٰ تھا کہ اے اے جی شیراز ذکا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں یا ہٹائے جانے کا سامنا کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جسٹس شمس محمود مرزا نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وہ ملک کی کسی بھی ہائی کورٹ کے پہلے جج بن گئے ہیں جنہوں نے متنازع 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔</p>
<p>خاندانی ذرائع کے مطابق ان کے استعفے کے خط میں کہا گیا کہ آئین میں حالیہ ترمیم کے پیشِ نظر وہ مزید خدمات انجام نہیں دے سکتے۔</p>
<p>جسٹس شمس محمود مرزا کو 2014 میں لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا، اور ان کی ریٹائرمنٹ 6 مارچ 2028 کو طے تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=bB3-tYKHNPU'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/bB3-tYKHNPU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس شمس محمود مرزا نے استعفیٰ منظوری کے لیے صدر آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد جسٹس شمس محمود مرزا کے تبادلے کا امکان تھا، جس پر انہوں نے بطور جج لاہور ہائی کورٹ اپنا استعفیٰ صدر کو بھیج دیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔</p>
<p>اسی طرح سپریم کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت میں شمولیت سے معذرت کرلی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273735'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس امین الدین کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا، آئینی ترمیم کے مطابق موجودہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدت ملازمت تک چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے، تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان میں سے سینئر جج ہی چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حق دار ہوگا۔</p>
<p>یاد رہے کہ 24 جنوری 2025 ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1887343"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا تھا کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل (اے اے جی) نے لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شمس محمود مرزا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جج نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات پر 7 سال سے جاری رہنے والے حکم امتناع کو بڑھا کر ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی کو فائدہ پہنچایا ہے۔</p>
<p>اے اے جی شیراز ذکا نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ آئل کمپنی بمقابلہ وزارت پیٹرولیم (کیس نمبر W.P.No. 6727-17) گزشتہ 7  سال سے جسٹس شمس محمود مرزا کی عدالت میں زیر التوا ہے، ہر سماعت کی تاریخ پر، انہوں نے درخواست گزار کو حکم امتناع میں توسیع دی۔</p>
<p>قانونی افسر نے کہا کہ وہ اس کیس میں بطور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پاکستان، وفاق اور ایف آئی اے کی نمائندگی کر رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ جج نے جان بوجھ کر گزشتہ 7 سال سے درخواست گزار کمپنی کو فائدہ پہنچایا اور ہر سماعت کی تاریخ پر اسٹے آرڈرز میں توسیع دیتے رہے۔</p>
<p>یہ کیس کمپنی سے 40 کروڑ روپے سے زائد کی پیٹرولیم لیوی کی وصولی سے متعلق ہے۔</p>
<p>شیراز ذکا نے کہا کہ حکومتی آڈٹ کے مطابق حکومت کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ایف آئی اے نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے کہا کہ اسٹے کی وجہ سے تحقیقات روک دی گئیں، جو پہلی بار 2017 میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے دیا تھا، جو اب سپریم کورٹ کے سینئر جج ہیں۔</p>
<p>2018 میں جسٹس منصور شاہ کے سپریم کورٹ میں ترقی پانے کے بعد کیس جسٹس شمس مرزا کی عدالت کو منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273690'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273690"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قانونی افسر کے مطابق جسٹس شمس مرزا نے تب سے کیس کو زیر التوا رکھ کر آئل مارکیٹنگ کمپنی کو ’فائدہ‘ پہنچانے کی کوشش کی۔</p>
<p>شیراز ذکا نے کہا کہ جج کو نااہلی دکھانے، کیس فیصلہ نہ کرنے اور غیر ایماندارانہ نیت رکھنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔</p>
<p>24 دسمبر 2024 کی آخری سماعت پر، انہوں نے فائل کو ’انتظار برائے احکامات‘ کے لیے رکھا اور پھر کیس کو 14 اپریل 2025 تک ملتوی کر دیا۔</p>
<p>جسٹس شمس مرزا کی طرف سے آخری سماعت پر جاری تحریری حکم میں کہا گیا کہ ’فریقین کے وکلا دلائل جاری رکھ رہے ہیں، دوبارہ سماعت 14.04.2025 کو مقرر کریں۔</p>
<p>درخواست گزار/آئل کمپنی کے وکلا علی سبطین فضل، ہاشم احمد خان اور عمر طارق گل کی حاضری درج کی گئی۔</p>
<p>اے اے جی شیراز ذکا اور انویسٹی گیشن افسر رانا عدیل نے بالترتیب حکومت اور ایف آئی اے کی نمائندگی کی۔</p>
<p>اپنی شکایت میں قانونی افسر نے اشارہ دیا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد، کسی جج کو نااہلی دکھانے پر ہٹایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>دفتر اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری موجودہ ہفتے (جنوری 2025) کے وفاقی قانون افسران کی روسٹر سے ظاہر ہوا تھا کہ شیراز ذکا کو جسٹس مرزا کے سنگل بینچ کے سامنے فیڈریشن کی نمائندگی کے لیے اے اے جی حمزہ شیخ کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کا دعویٰ تھا کہ اے اے جی شیراز ذکا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں یا ہٹائے جانے کا سامنا کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273765</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 14:45:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخرانا بلالویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/151308453d5b6a3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/151308453d5b6a3.webp"/>
        <media:title>جسٹس شمس محمود کیخلاف جنوری میں سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع کرائی گئی تھی— فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ/ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
