<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 23 May 2026 15:31:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 23 May 2026 15:31:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے کی ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 5 برس میں 6 کروڑ 89 لاکھ کے جرمانے عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274037/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کام کمپنیوں کی ناقص اور غیر معیاری سروس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ 5 برس میں پی ٹی اے نے غیر معیاری سروس فراہم کرنے پر مختلف ٹیلی کام آپریٹرز پر مجموعی طور پر 6 کروڑ 89 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے، جب کہ اسی مدت میں 39 شوکاز نوٹس اور 17 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق ملک بھر میں موبائل فون سروس متاثر ہونے اور انٹرنیٹ کے مختلف مسائل کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کی 9 ہزار موبائل سائٹس نیٹ ورک دستیابی کے مسائل کا شکار ہیں، طویل لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے مسائل، تجارتی بجلی تک محدود رسائی، بجلی چوری اور تخریب کاری کے واقعات بھی نیٹ ورک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سروس کا معیار خطرناک حد تک گر گیا ہے، آپریٹرز کے دعوؤں کے باوجود نیٹ ورک دستیابی اب بھی لائسنس کے معیار تک نہیں پہنچ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273680'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق سال کی پہلی ششماہی میں سروس سے متعلق 8 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99.17 فیصد حل کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے دوران کوالٹی چیک کے لیے 89 پلانڈ سروے اور 78 کمپلینٹ بیسڈ سروے مکمل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سروس کے معیار کی عدم تعمیل پر آپریٹرز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور نیٹ ورک مسائل کے حل کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ شکایات کے فوری حل کے لیے کمزور سروس والے مقامات کی نشاندہی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پی ٹی اے کے جرمانوں سے متعلق 11 کیسز تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کام کمپنیوں کی ناقص اور غیر معیاری سروس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔</p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ 5 برس میں پی ٹی اے نے غیر معیاری سروس فراہم کرنے پر مختلف ٹیلی کام آپریٹرز پر مجموعی طور پر 6 کروڑ 89 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے، جب کہ اسی مدت میں 39 شوکاز نوٹس اور 17 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق ملک بھر میں موبائل فون سروس متاثر ہونے اور انٹرنیٹ کے مختلف مسائل کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کی 9 ہزار موبائل سائٹس نیٹ ورک دستیابی کے مسائل کا شکار ہیں، طویل لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے مسائل، تجارتی بجلی تک محدود رسائی، بجلی چوری اور تخریب کاری کے واقعات بھی نیٹ ورک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سروس کا معیار خطرناک حد تک گر گیا ہے، آپریٹرز کے دعوؤں کے باوجود نیٹ ورک دستیابی اب بھی لائسنس کے معیار تک نہیں پہنچ سکی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273680'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق سال کی پہلی ششماہی میں سروس سے متعلق 8 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99.17 فیصد حل کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>رواں سال کے دوران کوالٹی چیک کے لیے 89 پلانڈ سروے اور 78 کمپلینٹ بیسڈ سروے مکمل کیے گئے۔</p>
<p>اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سروس کے معیار کی عدم تعمیل پر آپریٹرز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور نیٹ ورک مسائل کے حل کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ شکایات کے فوری حل کے لیے کمزور سروس والے مقامات کی نشاندہی کی جائے۔</p>
<p>دریں اثنا، پی ٹی اے کے جرمانوں سے متعلق 11 کیسز تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274037</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 14:59:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/201456390adfe8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/201456390adfe8b.webp"/>
        <media:title>فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
