<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 05:12:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 05:12:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں بڑھتی آبادی سنگین مسئلہ، حکومت اور عوام کو مل کر سوچنا ہوگا، ڈاکٹر زیب ڈہر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274131/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ٹیو سندھ (پی پی ایچ آئی) کی ڈاکٹر زیب ڈہر کا کہنا ہےکہ پاکستان میں بڑھتی آبادی ایک سنگین مسئلہ ہے، عوام اور حکومت کو اس حوالے سے مل کر سوچنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’اِن فوکس‘ میں میزبان نادیہ نقی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر زیب ڈہر نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی ہے، موجودہ حالات میں حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر پارہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ سب سے بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت کے پاس ایسی کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں کہ جس سے فوری طور پر بڑھتی آبادی پر قابو پایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt; &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زیب ڈہر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد، جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، انہیں سمجھائے کہ بچے اتنے پیدا کریں، جن کو روٹی، کپڑا اور مکان سمیت دیگر بنیادی سہولیات بآسانی فراہم کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt; &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زیب ڈہر کے مطابق صوبہ سندھ میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مناسب پیش رفت سامنے آرہی ہے، دہی علاقوں میں بڑھتی آبادی میں کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ وہاں کام کرنے والے فلاحی ادارے ہیں، جو مقامی آبادی کو خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt; &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ کی طرح دیگر صوبوں میں اس طرح کے اقدامات اُٹھائے جائیں تو ممکن ہے کہ وہاں بھی بڑھتی آبادی میں کسی حد تک کمی واقع ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے کہا کہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کرنٹ سسٹم میں صرف خاندانی منصوبہ بندی کی پلاننگ، اسٹاف ہائرنگ اور آپریشنل کاموں میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ادارے کو ضم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں، اس کا کام اسکل ڈیویلپمنٹ اور پالیسی میکنگ ہونا چاہیے نہ کر سروس ڈیلیوری۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ٹیو سندھ (پی پی ایچ آئی) کی ڈاکٹر زیب ڈہر کا کہنا ہےکہ پاکستان میں بڑھتی آبادی ایک سنگین مسئلہ ہے، عوام اور حکومت کو اس حوالے سے مل کر سوچنا ہوگا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’اِن فوکس‘ میں میزبان نادیہ نقی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر زیب ڈہر نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی ہے، موجودہ حالات میں حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر پارہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ سب سے بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت کے پاس ایسی کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں کہ جس سے فوری طور پر بڑھتی آبادی پر قابو پایا جا سکے۔</p>
<p> </p>
<p>ڈاکٹر زیب ڈہر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد، جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، انہیں سمجھائے کہ بچے اتنے پیدا کریں، جن کو روٹی، کپڑا اور مکان سمیت دیگر بنیادی سہولیات بآسانی فراہم کر سکیں۔</p>
<p> </p>
<p>ڈاکٹر زیب ڈہر کے مطابق صوبہ سندھ میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مناسب پیش رفت سامنے آرہی ہے، دہی علاقوں میں بڑھتی آبادی میں کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ وہاں کام کرنے والے فلاحی ادارے ہیں، جو مقامی آبادی کو خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p> </p>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ کی طرح دیگر صوبوں میں اس طرح کے اقدامات اُٹھائے جائیں تو ممکن ہے کہ وہاں بھی بڑھتی آبادی میں کسی حد تک کمی واقع ہو جائے۔</p>
<p>آخر میں انہوں نے کہا کہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کرنٹ سسٹم میں صرف خاندانی منصوبہ بندی کی پلاننگ، اسٹاف ہائرنگ اور آپریشنل کاموں میں مصروف ہے۔</p>
<p>اس ادارے کو ضم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں، اس کا کام اسکل ڈیویلپمنٹ اور پالیسی میکنگ ہونا چاہیے نہ کر سروس ڈیلیوری۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274131</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 23:20:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/22231711c7c8755.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/22231711c7c8755.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
