<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 14:23:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 14:23:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی ساختہ انسان نما روبوٹ نے بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر چل کر گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274188/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک چینی ساختہ ہیومینائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے ملک کے مشرقی شہروں کے درمیان بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر پیدل چل کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956999/humanoid-robot-sets-guinness-record-with-106km-walk"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق شنگھائی کی کمپنی اگی بوٹ (Agibot) کے تیار کردہ اینڈرائیڈ اے 2 نے 10 نومبر کی رات سُوزو سے اپنا سفر شروع کیا اور 13 نومبر کی صبح کے اوائل میں شنگھائی کے علاقے بند پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگی بوٹ کے تیز رفتار ہاٹ-سوآپ بیٹری سسٹم کی مدد سے روبوٹ پورے سفر کے دوران متحرک رہا، اور جمعرات کو سرکاری طور پر تصدیق کے مطابق اس نے 106.3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267115'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267115"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر وانگ چوآنگ نے کہا کہ سوزو سے شنگھائی تک پیدل چلنا بہت سے انسانوں کے لیے بھی مشکل ہے، لیکن روبوٹ نے یہ کارنامہ سرانجام دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی روبوٹ کے ہارڈویئر، توازن برقرار رکھنے کے ’سریبیلر‘ الگورتھم اور برداشت کی صلاحیت کی پختگی کو ثابت کرتی ہے، جو بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی راہ ہموار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوہری جی پی ایس ٹیکنالوجی، لیڈار اور انفراریڈ ڈیپتھ سینسرز سے لیس ’اے 2‘ نے ٹریفک سگنلز، تنگ گزرگاہوں اور بھیڑ بھاڑ والے فٹ پاتھ جیسی پیچیدہ صورتحال میں بھی سفر جاری رکھا، اور دن و رات مستحکم ادراک برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبوٹ نے اسفالٹ سڑکوں، ٹائل والے راستوں، پُلوں، نابینا افراد کے لیے بنے مخصوص راستوں اور ریمپس پر چلتے ہوئے ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی پہنچنے پر شِنہوا کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روبوٹ نے اس سفر کو اپنی ’مشینی زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ‘ قرار دیا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید اسے ’نئے جوتوں کی ضرورت ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں بیجنگ ہیومینائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ تیئن کنگ الٹرا نے 21 کلومیٹر کی ہاف میراتھن 2 گھنٹے 40 منٹ میں مکمل کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک چینی ساختہ ہیومینائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے ملک کے مشرقی شہروں کے درمیان بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر پیدل چل کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956999/humanoid-robot-sets-guinness-record-with-106km-walk"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق شنگھائی کی کمپنی اگی بوٹ (Agibot) کے تیار کردہ اینڈرائیڈ اے 2 نے 10 نومبر کی رات سُوزو سے اپنا سفر شروع کیا اور 13 نومبر کی صبح کے اوائل میں شنگھائی کے علاقے بند پہنچا۔</p>
<p>اگی بوٹ کے تیز رفتار ہاٹ-سوآپ بیٹری سسٹم کی مدد سے روبوٹ پورے سفر کے دوران متحرک رہا، اور جمعرات کو سرکاری طور پر تصدیق کے مطابق اس نے 106.3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267115'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267115"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر وانگ چوآنگ نے کہا کہ سوزو سے شنگھائی تک پیدل چلنا بہت سے انسانوں کے لیے بھی مشکل ہے، لیکن روبوٹ نے یہ کارنامہ سرانجام دے دیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی روبوٹ کے ہارڈویئر، توازن برقرار رکھنے کے ’سریبیلر‘ الگورتھم اور برداشت کی صلاحیت کی پختگی کو ثابت کرتی ہے، جو بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی راہ ہموار کرتی ہے۔</p>
<p>دوہری جی پی ایس ٹیکنالوجی، لیڈار اور انفراریڈ ڈیپتھ سینسرز سے لیس ’اے 2‘ نے ٹریفک سگنلز، تنگ گزرگاہوں اور بھیڑ بھاڑ والے فٹ پاتھ جیسی پیچیدہ صورتحال میں بھی سفر جاری رکھا، اور دن و رات مستحکم ادراک برقرار رکھا۔</p>
<p>روبوٹ نے اسفالٹ سڑکوں، ٹائل والے راستوں، پُلوں، نابینا افراد کے لیے بنے مخصوص راستوں اور ریمپس پر چلتے ہوئے ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کی۔</p>
<p>شنگھائی پہنچنے پر شِنہوا کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روبوٹ نے اس سفر کو اپنی ’مشینی زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ‘ قرار دیا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید اسے ’نئے جوتوں کی ضرورت ہو‘۔</p>
<p>اپریل میں بیجنگ ہیومینائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ تیئن کنگ الٹرا نے 21 کلومیٹر کی ہاف میراتھن 2 گھنٹے 40 منٹ میں مکمل کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274188</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 16:40:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241156495b1bbd0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241156495b1bbd0.webp"/>
        <media:title>’اے 2‘ نے ٹریفک سگنلز، تنگ گزرگاہوں، رش والے فٹ پاتھ پر بھی سفر جاری رکھا — فوٹو: اگی بوٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
