<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 05:15:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 05:15:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے راکھ کا بادل جنوبی پاکستان تک پہنچ سکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274216/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹولوز وولکینک ایش ایڈوائزری سنٹر (وی اے اے سی) نے کہا ہے کہ شمال مشرقی ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے راکھ کا بادل یمن اور عمان کے اوپر سے ہوتا ہوا جنوبی پاکستان تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اریٹیریا کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے شمال مشرق میں 800 کلومیٹر دور  افار علاقے میں واقع ہیلی گوبی آتش فشاں اتوار کو کئی گھنٹوں تک پھٹا، یہ تقریباً 12 ہزار سالوں میں پہلا موقع تھا،جب اسے ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آتش فشاں پھٹنے سے دھوئیں کے گہرے بادل آسمان میں 14 کلومیٹر تک پہنچ گئے، جو قریبی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر بحیرہ عرب کے علاقے کی طرف بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم نے ڈان کو بتایا کہ راکھ کے بادل کے اثرات کراچی میں محسوس نہیں کیے جائیں گے اور یہ بحیرہ عرب کے اوپر سے گزریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینہ کل رات سے ہے اور اس کا اثر گہرے بحیرہ عرب، عمان اور ممبئی ایف آئی آر (فلائٹ ریجن) میں محسوس کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ راکھ کے بادل 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اس علاقے سے گزریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انجم نذیر ضیغم نے واضح کیا کہ راکھ کے بادل کا اثر آج گوادر سے 60 ناٹیکل میل جنوب میں دیکھا گیا، دفتر نے متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کر دی ہے جو تاحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/volcaholic1/status/1992550387652444238'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/volcaholic1/status/1992550387652444238"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقامی رہائشی نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://addisstandard.com/volcanic-eruption-near-erta-ale-in-afar-reported-for-the-first-time-in-thousands-of-years/"&gt;&lt;strong&gt;دی ایڈیس اسٹینڈرڈ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بتایا کہ یہ دھماکا مرکزی پہاڑ سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک رہائشی نے بتایا کہ ہم آواز سے بہت چونک گئے اور خوفزدہ ہوگئے، اسٹیشن کی جانب سے کیے گئے فون انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ آواز اور اس کے اثرات جبوتی، ٹگرے ​​اور وولو کے علاقے کے قصبوں تک محسوس کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی اسٹینڈرڈ نے رپورٹ کیا کہ دھماکے سے آس پاس کے علاقے میں جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کی آواز جبوتی تک سنی گئی، اس کے بعد راکھ کے بادل نے آس پاس کی بستیوں کو تاریکی میں ڈوبو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'  alt='&amp;mdash; فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈچ نیوز ایجنسی بی این او نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے دی اسٹینڈرڈ نے کہا کہ دھماکا صبح 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا اور دوپہر تک دھماکے ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹولوز آتش فشاں راکھ ایڈوائزری سینٹر کی طرف سے جاری ایک ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ راکھ تقریباً 45 ہزار (13.7 کلومیٹر) تک بڑھ گئی ہے، ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ انہیں موصول ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق اب آتش فشاں کے پھٹنے کا عمل رک گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشی گن ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی میں آتش فشاں کے ماہر اور پروفیسر سائمن کارن نے بلوسکی پر تصدیق کی کہ ہیلی گوبی کے پاس ہولوسین کے پھٹنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/flightradar24/status/1992722680370413625'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/flightradar24/status/1992722680370413625"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج صبح 3:31 بجے فلائٹ ٹریکنگ مانیٹر ’فلائٹ ریڈار‘ کی ایک اپ ڈیٹ نے راکھ کے بادل کا متوقع راستہ دکھایا، جو جزیرہ نما عرب اور بحیرہ عرب کی طرف اڑایا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹر نے اپنی پوسٹ میں دکھایا کہ پاکستان براہ راست اس کے راستے میں آئے گا،  راکھ کے بادل کے تقریباً 18 گھنٹے میں پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی اے اے سی کا ایک نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ راکھ کا بادل شمال مشرق کی طرف بھارت جانے سے قبل جنوبی سندھ سے گزرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'  alt=' فوٹو: اسکرین گریب' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: اسکرین گریب&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹولوز وولکینک ایش ایڈوائزری سنٹر (وی اے اے سی) نے کہا ہے کہ شمال مشرقی ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے راکھ کا بادل یمن اور عمان کے اوپر سے ہوتا ہوا جنوبی پاکستان تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>اریٹیریا کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے شمال مشرق میں 800 کلومیٹر دور  افار علاقے میں واقع ہیلی گوبی آتش فشاں اتوار کو کئی گھنٹوں تک پھٹا، یہ تقریباً 12 ہزار سالوں میں پہلا موقع تھا،جب اسے ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>آتش فشاں پھٹنے سے دھوئیں کے گہرے بادل آسمان میں 14 کلومیٹر تک پہنچ گئے، جو قریبی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر بحیرہ عرب کے علاقے کی طرف بڑھ گئے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم نے ڈان کو بتایا کہ راکھ کے بادل کے اثرات کراچی میں محسوس نہیں کیے جائیں گے اور یہ بحیرہ عرب کے اوپر سے گزریں گے۔</p>
<p>ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینہ کل رات سے ہے اور اس کا اثر گہرے بحیرہ عرب، عمان اور ممبئی ایف آئی آر (فلائٹ ریجن) میں محسوس کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ راکھ کے بادل 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اس علاقے سے گزریں گے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انجم نذیر ضیغم نے واضح کیا کہ راکھ کے بادل کا اثر آج گوادر سے 60 ناٹیکل میل جنوب میں دیکھا گیا، دفتر نے متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کر دی ہے جو تاحال برقرار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/volcaholic1/status/1992550387652444238'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/volcaholic1/status/1992550387652444238"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک مقامی رہائشی نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://addisstandard.com/volcanic-eruption-near-erta-ale-in-afar-reported-for-the-first-time-in-thousands-of-years/"><strong>دی ایڈیس اسٹینڈرڈ</strong></a> کو بتایا کہ یہ دھماکا مرکزی پہاڑ سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔</p>
<p>ایک رہائشی نے بتایا کہ ہم آواز سے بہت چونک گئے اور خوفزدہ ہوگئے، اسٹیشن کی جانب سے کیے گئے فون انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ آواز اور اس کے اثرات جبوتی، ٹگرے ​​اور وولو کے علاقے کے قصبوں تک محسوس کیے گئے تھے۔</p>
<p>دی اسٹینڈرڈ نے رپورٹ کیا کہ دھماکے سے آس پاس کے علاقے میں جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کی آواز جبوتی تک سنی گئی، اس کے بعد راکھ کے بادل نے آس پاس کی بستیوں کو تاریکی میں ڈوبو دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'  alt='&mdash; فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈچ نیوز ایجنسی بی این او نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے دی اسٹینڈرڈ نے کہا کہ دھماکا صبح 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا اور دوپہر تک دھماکے ہوتے رہے۔</p>
<p>ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹولوز آتش فشاں راکھ ایڈوائزری سینٹر کی طرف سے جاری ایک ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ راکھ تقریباً 45 ہزار (13.7 کلومیٹر) تک بڑھ گئی ہے، ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ انہیں موصول ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق اب آتش فشاں کے پھٹنے کا عمل رک گیا ہے۔</p>
<p>مشی گن ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی میں آتش فشاں کے ماہر اور پروفیسر سائمن کارن نے بلوسکی پر تصدیق کی کہ ہیلی گوبی کے پاس ہولوسین کے پھٹنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/flightradar24/status/1992722680370413625'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/flightradar24/status/1992722680370413625"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>آج صبح 3:31 بجے فلائٹ ٹریکنگ مانیٹر ’فلائٹ ریڈار‘ کی ایک اپ ڈیٹ نے راکھ کے بادل کا متوقع راستہ دکھایا، جو جزیرہ نما عرب اور بحیرہ عرب کی طرف اڑایا جا رہا تھا۔</p>
<p>مانیٹر نے اپنی پوسٹ میں دکھایا کہ پاکستان براہ راست اس کے راستے میں آئے گا،  راکھ کے بادل کے تقریباً 18 گھنٹے میں پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>وی اے اے سی کا ایک نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ راکھ کا بادل شمال مشرق کی طرف بھارت جانے سے قبل جنوبی سندھ سے گزرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'  alt=' فوٹو: اسکرین گریب' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: اسکرین گریب</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274216</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 22:03:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکامتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/24215922a646bc3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/24215922a646bc3.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ایڈس اسٹینڈرڈ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
