<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 02 May 2026 19:59:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 02 May 2026 19:59:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی 20 ورلڈ کپ میں شاداب خان کی واپسی کے امکانات باقی ہیں، کپتان قومی کرکٹ ٹیم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274487/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ٹی 20 ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے آئندہ برس سال ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل کہ آلراؤنڈر شاداب خان کے لیے قومی ٹیم میں واپسی کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاداب نے آخری مرتبہبنگلادیش کے خلاف جون میں ٹی 20 سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، جس کے بعد وہ انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہو گئے تھے۔&lt;br&gt;ہفتے کے روز پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے کر سہ فریقی سیریز جیت لی، میچ میں محمد نواز کی 3 وکٹوں نے میزبان ٹیم کے حق میں میچ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد نواز کے علاوہ اوپنر صائم ایوب نے بھی پاکستان کے بااثر اسپن آپشن کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے، جب کہ ابرار احمد اور عثمان طارق نے خود کو قابل اعتماد اسپیشلسٹ کے طور پر منوایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سلمان علی آغا نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران شاداب کی واپسی کے امکان کو رد نہیں کیا، انہوں نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شاداب کے بارے میں کہا کہ جب وہ بدقسمتی سے زخمی ہوئے تو وہ ٹیم کے نائب کپتان تھے اور جب آپ کے پاس ایسا کھلاڑی موجود ہو جو اتنے ورلڈ کپ کھیل چکا ہو، جس کے پاس تجربہ ہو، جو نمبر 5 اور 6 پر بیٹنگ کر سکے اور آپ کو اسپن بولنگ بھی دے سکے، اگر ہمیں لگا کہ وہ فٹ بیٹھتا ہے، تو ظاہر ہے، کیوں نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اسپن ڈپارٹمنٹ کی بڑھتی ہوئی گہرائی اُن کی حالیہ وائٹ بال کرکٹ میں واپسی کی نمایاں وجوہات میں سے ایک رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان نے مزید کہا کہ اگر کنڈیشنز ہمیں 2 اسپیشلسٹ اسپنرز یا اس سے بھی زیادہ کھلانے کی اجازت دیتی ہیں، تو ہم بالکل ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے۔&lt;br&gt;ہمارے پاس نواز، صائم، ابرار اور عثمان، چار بہت مختلف آپشنز ہیں، ہمارا کام صرف پاکستان کے لیے بہترین اسکواڈ میدان میں اتارنا ہے، اگر پچز اسپنرز کا ساتھ دیں تو آپ ان سب کو ایک ساتھ کھیلتے دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ٹی 20 ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے آئندہ برس سال ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل کہ آلراؤنڈر شاداب خان کے لیے قومی ٹیم میں واپسی کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔</p>
<p>شاداب نے آخری مرتبہبنگلادیش کے خلاف جون میں ٹی 20 سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، جس کے بعد وہ انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہو گئے تھے۔<br>ہفتے کے روز پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے کر سہ فریقی سیریز جیت لی، میچ میں محمد نواز کی 3 وکٹوں نے میزبان ٹیم کے حق میں میچ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔</p>
<p>محمد نواز کے علاوہ اوپنر صائم ایوب نے بھی پاکستان کے بااثر اسپن آپشن کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے، جب کہ ابرار احمد اور عثمان طارق نے خود کو قابل اعتماد اسپیشلسٹ کے طور پر منوایا ہے۔</p>
<p>تاہم سلمان علی آغا نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران شاداب کی واپسی کے امکان کو رد نہیں کیا، انہوں نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شاداب کے بارے میں کہا کہ جب وہ بدقسمتی سے زخمی ہوئے تو وہ ٹیم کے نائب کپتان تھے اور جب آپ کے پاس ایسا کھلاڑی موجود ہو جو اتنے ورلڈ کپ کھیل چکا ہو، جس کے پاس تجربہ ہو، جو نمبر 5 اور 6 پر بیٹنگ کر سکے اور آپ کو اسپن بولنگ بھی دے سکے، اگر ہمیں لگا کہ وہ فٹ بیٹھتا ہے، تو ظاہر ہے، کیوں نہیں؟</p>
<p>پاکستان کے اسپن ڈپارٹمنٹ کی بڑھتی ہوئی گہرائی اُن کی حالیہ وائٹ بال کرکٹ میں واپسی کی نمایاں وجوہات میں سے ایک رہی ہے۔</p>
<p>کپتان نے مزید کہا کہ اگر کنڈیشنز ہمیں 2 اسپیشلسٹ اسپنرز یا اس سے بھی زیادہ کھلانے کی اجازت دیتی ہیں، تو ہم بالکل ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے۔<br>ہمارے پاس نواز، صائم، ابرار اور عثمان، چار بہت مختلف آپشنز ہیں، ہمارا کام صرف پاکستان کے لیے بہترین اسکواڈ میدان میں اتارنا ہے، اگر پچز اسپنرز کا ساتھ دیں تو آپ ان سب کو ایک ساتھ کھیلتے دیکھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274487</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 18:08:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/30180646c7fb8d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/30180646c7fb8d1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پی سی بی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
