<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 17:42:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 17:42:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: انڈونیشیا کے صدر کو وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274750/</link>
      <description>&lt;p&gt;2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود  انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر سبیانتو کے لیے باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274727'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے صدر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دعوت پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ وہ صدر سبیانتو کی میزبانی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتے ہیں اور کل ہونے والی ہماری بامعنی مصروفیات کے منتظر ہیں، کیوں کہ ہم اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/1997985226811650335'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/1997985226811650335"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کئی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ثقافت میں دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر شراکت داری کو بڑھانے کے امور شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ (ایف او) کے مطابق یہ صدر سبیانتو کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جب کہ آخری صدارتی دورہ سابق صدر جوکو ویدودو نے 2018 میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف او نے یہ بھی بتایا کہ یہ دورہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق اپنے قیام کے دوران صدر پرابووو، صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے، وہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود  انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔</p>
<p>ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر سبیانتو کے لیے باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274727'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انڈونیشیا کے صدر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دعوت پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے تھے۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ وہ صدر سبیانتو کی میزبانی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتے ہیں اور کل ہونے والی ہماری بامعنی مصروفیات کے منتظر ہیں، کیوں کہ ہم اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/1997985226811650335'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/1997985226811650335"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دورے کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کئی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کریں گے۔</p>
<p>بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ثقافت میں دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر شراکت داری کو بڑھانے کے امور شامل ہوں گے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ (ایف او) کے مطابق یہ صدر سبیانتو کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جب کہ آخری صدارتی دورہ سابق صدر جوکو ویدودو نے 2018 میں کیا تھا۔</p>
<p>ایف او نے یہ بھی بتایا کہ یہ دورہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق اپنے قیام کے دوران صدر پرابووو، صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے، وہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274750</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 11:53:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09120021f55bd6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09120021f55bd6f.webp"/>
        <media:title>تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ثقافت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ —فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
