<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:12:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:12:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم ممالک کے اعتراض پر ٹونی بلیئر کو ’غزہ امن کونسل‘ سے ہٹا دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274759/</link>
      <description>&lt;p&gt;عرب اور مسلم ممالک نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے کردار پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں انہیں غزہ کے انتظام کے لیے تجویز کردہ ’امن کونسل‘ سے ہٹا دیا گیا ہے، اب متوقع ہے کہ وہ اس کے بجائے ایک چھوٹی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈل ایسٹ مانیٹر کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.middleeastmonitor.com/20251209-tony-blair-dropped-from-trumps-proposed-peace-council-for-gaza-after-regional-objections/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہودی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ ٹونی بلیئر اب اس کونسل کی رکنیت کے لیے زیرِ غور نہیں ہیں، جس کی تجویز امریکی صدر &lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ&lt;/strong&gt; نے دی تھی، یہ معلومات ان لوگوں سے حاصل ہوئی ہیں جو بات چیت سے واقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹونی بلیئر واحد عوامی طور پر منسلک شخصیت تھے، جب ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے بعد انتظام کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ٹرمپ نے بلیئر کو ایک مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270317'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270317"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بلیئر نے بھی اس کونسل میں خدمات انجام دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کی صدارت ٹرمپ کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے، ہفتے کے دن ریاستی ٹی وی چینل ’&lt;strong&gt;کان‘&lt;/strong&gt; نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم &lt;strong&gt;بنیامین نیتن یاہو&lt;/strong&gt; نے بلیئر کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی تھی، جس کا مقصد غزہ میں آنے والے دنوں کے انتظامات پر بات چیت کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات علاقے کے ’بعد کے دنوں‘ کی منصوبہ بندی سے متعلق وسیع اقدامات کا حصہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حماس-کا-خیر-مقدم" href="#حماس-کا-خیر-مقدم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حماس کا خیر مقدم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ’پریس ٹی وی‘ نے رپورٹ کیا کہ حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ بلیئر کو ممکنہ طور پر ہٹانے کی رپورٹس حماس کی اس بات سے ہم آہنگ ہیں کہ وہ بار بار ثالثوں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں غزہ سے متعلق کسی بھی ادارے میں شامل نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270135'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270135"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلیئر اب بھی کسی کم مرکزی کردار میں رہ سکتے ہیں، لیکن بلیئر کے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;النونو نے دوہرایا کہ یہ تحریک ’طویل مدتی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیلی حکومت مکمل جنگ بندی کی تمام شرائط کو پورا کرے، جسے تل ابیب نے اب تک واضح طور پر کئی بار توڑ دیا ہے، حالاں کہ اکتوبر کے شروع میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے عہدیدار نے یہ بھی زور دیا کہ کسی بھی منصوبے میں بین الاقوامی فورس کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ’مسترد کیا گیا ہے اور کبھی زیرِ بحث نہیں آیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی موجودگی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ملی، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ تحریک کا ماننا ہے کہ ممالک اس مشن پر متفق نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عرب اور مسلم ممالک نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے کردار پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں انہیں غزہ کے انتظام کے لیے تجویز کردہ ’امن کونسل‘ سے ہٹا دیا گیا ہے، اب متوقع ہے کہ وہ اس کے بجائے ایک چھوٹی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>مڈل ایسٹ مانیٹر کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.middleeastmonitor.com/20251209-tony-blair-dropped-from-trumps-proposed-peace-council-for-gaza-after-regional-objections/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہودی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ ٹونی بلیئر اب اس کونسل کی رکنیت کے لیے زیرِ غور نہیں ہیں، جس کی تجویز امریکی صدر <strong>ڈونلڈ ٹرمپ</strong> نے دی تھی، یہ معلومات ان لوگوں سے حاصل ہوئی ہیں جو بات چیت سے واقف ہیں۔</p>
<p>ٹونی بلیئر واحد عوامی طور پر منسلک شخصیت تھے، جب ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے بعد انتظام کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ٹرمپ نے بلیئر کو ایک مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270317'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270317"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بلیئر نے بھی اس کونسل میں خدمات انجام دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کی صدارت ٹرمپ کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے، ہفتے کے دن ریاستی ٹی وی چینل ’<strong>کان‘</strong> نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم <strong>بنیامین نیتن یاہو</strong> نے بلیئر کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی تھی، جس کا مقصد غزہ میں آنے والے دنوں کے انتظامات پر بات چیت کرنا تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات علاقے کے ’بعد کے دنوں‘ کی منصوبہ بندی سے متعلق وسیع اقدامات کا حصہ تھی۔</p>
<h1><a id="حماس-کا-خیر-مقدم" href="#حماس-کا-خیر-مقدم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حماس کا خیر مقدم</h1>
<p>ایران کے ’پریس ٹی وی‘ نے رپورٹ کیا کہ حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ بلیئر کو ممکنہ طور پر ہٹانے کی رپورٹس حماس کی اس بات سے ہم آہنگ ہیں کہ وہ بار بار ثالثوں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں غزہ سے متعلق کسی بھی ادارے میں شامل نہ کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270135'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270135"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلیئر اب بھی کسی کم مرکزی کردار میں رہ سکتے ہیں، لیکن بلیئر کے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>النونو نے دوہرایا کہ یہ تحریک ’طویل مدتی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیلی حکومت مکمل جنگ بندی کی تمام شرائط کو پورا کرے، جسے تل ابیب نے اب تک واضح طور پر کئی بار توڑ دیا ہے، حالاں کہ اکتوبر کے شروع میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔</p>
<p>حماس کے عہدیدار نے یہ بھی زور دیا کہ کسی بھی منصوبے میں بین الاقوامی فورس کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ’مسترد کیا گیا ہے اور کبھی زیرِ بحث نہیں آیا‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی موجودگی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ملی، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ تحریک کا ماننا ہے کہ ممالک اس مشن پر متفق نہیں ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274759</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 15:29:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09152711e013841.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09152711e013841.webp"/>
        <media:title>حماس کو غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی موجودگی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ملی۔ — فوٹو: دی ٹائم
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
