<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:15:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:15:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی:&lt;/strong&gt; ٹک ٹاک نے پاکستان میں ایک نیا سیلف سروس ایڈورٹائزنگ حل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے برانڈ کی ترقی کے لیے اس پلیٹ فارم کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک فار بزنس ایڈز منیجر کے نام سے یہ سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو ایسے ٹولز فراہم کرتا ہے جن کی مدد سے وہ ٹک ٹاک کمیونٹی کی تخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، نئی آڈئینس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ایک آسان اور استعمال میں سہل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مارکیٹنگ مہمات کو مؤثر انداز میں بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کا تعارف مقامی کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے  لیے ٹک ٹاک کے جاری عزم کا تسلسل ہے، جس میں  &lt;a href="/trends/GrowWithTikTok"&gt;#GrowWithTikTok&lt;/a&gt;  ماسٹرکلاس جیسے اقدامات شامل ہیں جو پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے سائز کے  پاکستانی کاروباری اداروں کو عملی تربیت، تخلیقی ٹولز اور بہترین طریقۂ کار فراہم کر چکے ہیں تاکہ وہ پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کو بہتر اور مضبوط بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ عالمی جائزے کے مطابق، ٹک ٹاک کے 73 فیصد صارفین نے بتایا کہ انہوں نے ٹک ٹاک پر اشتہارات کے ذریعے ایسی نئی مصنوعات دریافت کیں جن پر انہوں نے پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا، جبکہ 78 فیصد صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے نئے برانڈز کے بارے میں معلوم ہوا جن کے بارے میں وہ پہلے نہیں جانتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی:</strong> ٹک ٹاک نے پاکستان میں ایک نیا سیلف سروس ایڈورٹائزنگ حل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے برانڈ کی ترقی کے لیے اس پلیٹ فارم کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>ٹک ٹاک فار بزنس ایڈز منیجر کے نام سے یہ سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو ایسے ٹولز فراہم کرتا ہے جن کی مدد سے وہ ٹک ٹاک کمیونٹی کی تخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، نئی آڈئینس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ایک آسان اور استعمال میں سہل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مارکیٹنگ مہمات کو مؤثر انداز میں بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>اس فیچر کا تعارف مقامی کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے  لیے ٹک ٹاک کے جاری عزم کا تسلسل ہے، جس میں  <a href="/trends/GrowWithTikTok">#GrowWithTikTok</a>  ماسٹرکلاس جیسے اقدامات شامل ہیں جو پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے سائز کے  پاکستانی کاروباری اداروں کو عملی تربیت، تخلیقی ٹولز اور بہترین طریقۂ کار فراہم کر چکے ہیں تاکہ وہ پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کو بہتر اور مضبوط بنا سکیں۔</p>
<p>ایک حالیہ عالمی جائزے کے مطابق، ٹک ٹاک کے 73 فیصد صارفین نے بتایا کہ انہوں نے ٹک ٹاک پر اشتہارات کے ذریعے ایسی نئی مصنوعات دریافت کیں جن پر انہوں نے پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا، جبکہ 78 فیصد صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے نئے برانڈز کے بارے میں معلوم ہوا جن کے بارے میں وہ پہلے نہیں جانتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274861</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:19:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18131810eebb307.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18131810eebb307.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
