<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 22:27:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 22:27:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274862/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پر عمل درآمدکے لیے اقدامات تیز کردیے، شوگر سیکٹرکو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق حکام وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی نے بتایا کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں پر عائد پابندی اور شوگرملز لگانے کے لیےصوبائی حکومت کی اجازت کی شرط ختم کرنے کی تجاویز ہیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دینےکی تجویز دی گئی ہے تاہم شوگر ملز کو کرشنگ سیزن میں خام چینی کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی-&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264288'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264288"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم اور شوگرسیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیےقوانین میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری صنعت و پیداوار کمیٹی کے کنوینر جبکہ وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزیر اقتصادی امور سمیت دیگر وزرا کمیٹی کے ارکان تھے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پر عمل درآمدکے لیے اقدامات تیز کردیے، شوگر سیکٹرکو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق حکام وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی نے بتایا کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی-</p>
<p>حکام کے مطابق پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں پر عائد پابندی اور شوگرملز لگانے کے لیےصوبائی حکومت کی اجازت کی شرط ختم کرنے کی تجاویز ہیں-</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دینےکی تجویز دی گئی ہے تاہم شوگر ملز کو کرشنگ سیزن میں خام چینی کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی-</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264288'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264288"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم اور شوگرسیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیےقوانین میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں-</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی تھی۔</p>
<p>سیکریٹری صنعت و پیداوار کمیٹی کے کنوینر جبکہ وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزیر اقتصادی امور سمیت دیگر وزرا کمیٹی کے ارکان تھے۔<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274862</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:39:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1813314774be435.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1813314774be435.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
