<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Columnist</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 28 May 2026 01:03:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 28 May 2026 01:03:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیروبی ڈرامہ اور ایک سبق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/131593/nairobi-drama-and-a-lesson-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-131594 " alt="" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/10/afp-670.jpg" width="670" height="402" /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; نیروبی ویسٹ گیٹ مال میں الشباب کا مسلح رکن، اے ایف پی، فوٹو۔۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الشباب نے جتنی مدت کے لئے ویسٹ گیٹ مال کو اپنے کنٹرول میں رکھا اور اس حملے کے لئے جو منصوبہ بندی کی گئی وہ بلاشبہ الشباب کی فوجی قوت، اس کے کمانڈ کی مہارت اور کنٹرول اسٹرکچر اور اپنے کاز کے لئے لوگوں کو بھرتی کرنے کی اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے حالانکہ 2011 میں اسے بھاری پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt; الشباب کی فوجی صلاحیت اور اس کی ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ہمیں اس کا موازنہ پاکستانی طالبان کے وسیع تر اثاثوں سے کرنا ہوگا-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بہت سے عوامل جن کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان بلا خوف و خطر کارروائیاں کرنے اور مسلح افواج اور پاکستانی ریاست کے ساتھ حقارت آمیز رویہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، الشباب میں نظر نہیں آتے۔ سب سے بڑا فرق تو ان کے علاقوں کا فرق ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹی ٹی پی کے ہیڈ کوارٹرز اور ان کے تربیتی مراکز دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں واقع ہیں- پاکستان، افغانستان سرحد تقریبْا 2400 کلومیٹر لمبی ہے اور اس کے بڑے حصوں پر ان کا فوجی کنٹرول ہے، اگرچہ کہ بہت سے علاقوں میں ان کے سماجی اور سیاسی اثر کی وجہ 'خوف' ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طالبان اپنے پہاڑی مورچوں میں رہتے بستے، کاررروائیاں اور جنگ کرتے اور مرتے ہیں، جہاں سینکڑوں ہزاروں غار، کھوہ اور وادیاں ہیں --اتنی بلندی پر کہ سردیوں میں یہاں برف جم جاتی ہے-- غیر قبائلی یہاں پہنچ نہیں سکتے اور یہ طالبان اور دوسرے جنگجوُوں کے لئے، منشیات کا دھندہ کرنے والوں اور کرایہ کے قاتلوں کے لئے بہترین پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ بڑی 'سلطنت' معاشی لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے۔ لیکن ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب کئی دہائیوں کی جنگ نے اور جنگ کے حالات نے طالبان کو اس لائق بنا دیا ہے کہ وہ افغانستان اور مین اسٹریم پاکستان سے زندہ رہنے اور جنگ کرنے کے لئے درکار ہر قسم کا سامان اسمگل کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طالبان کے زیر تحت علاقوں پر اندھادھند بمباری سے کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے گولہ بارود کی بربادی کے- کیونکہ امن ہو یا جنگ اس سے طالبان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ اسلحہ کسی بھی قسم کا ہو طالبان کے لئے کوئی مسْلہ نہیں ہے۔ انھیں نہ صرف اپنی ضرورت کا اسلحہ افغانستان سے مل جاتا ہے بلکہ خود ان کے علاقے میں بھی ہتھیار بنانے والی فیکٹریاں موجود ہیں-&lt;/p&gt;&lt;p&gt; ہتھیاروں کی مسلسل اور کثیر سپلائ ٹی ٹی پی کا ایک بہت بڑا سرمایہ ہے- اگر ان اثاثوں کے قابل حصول ہونے کی بنا پر وہ پاکستان کی ریاست پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچتی ہے تواس بارے میں کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اب اس کا موازنہ الشباب کے حقیر وسائل سے کیجیے، اور ان کی اس صلاحیت پر ہم حیران رہ جائنگے--یقیناُ افسوس کے ساتھ-- کہ اس نے ایک بڑے ہمسایہ ملک کے دارالحکومت میں شرانگیزی کی اور خوف پھیلایا-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان پہاڑوں کے برعکس جو طالبان کا میدان جنگ ہیں اور ان کا گھر بھی، صومالیہ میدانی علاقہ ہے جس کے شمال میں کچھ پہاڑیاں ہیں اور یہ ان علاقوں میں ہیں جو اب علیحدہ ہو چکا ہے- چنانچہ الشباب کے عسکریت پسند ان محفوظ اور قدرتی قلعہ بند پناہ گاہوں سے محروم ہیں جو پاکستانی طالبان کو حاصل ہیں-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسی طرح، صومالیہ میں کسی ایسی کمیونٹی کے موجود ہونے کی کوئی روایت نہیں ہے جس کے پاس پاکستان کے قبائلیوں کی طرح ہتھیار بنانے کی چھوٹی موٹی انڈسٹری ہو-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گزشتہ سال الشباب کو یہ دھچکا لگا کہ کسمایو کی جنوبی بندر گاہ سے وہ ہاتھ دھوبیٹھی- اس کی وجہ سے وہ سمندری راستہ سے اسلحہ حاصل کرنے کے ایک اہم ذریعہ سے محروم ہوگئی- اب الشباب ان ہتھیاروں کو اسمگل کرتی ہے یا دیگر عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک سے، جو سب صحارہ ریجن میں واقع ہیں خریدتی ہے یا حاصل کرتی ہے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستانی طالبان آجتک کبھی ہارے نہیں ہیں یا اپنےعلاقے سے بھاگنے پر مجبور نہیں کئے گئے ہیں سوائے محدود حد تک جیسے سوات اور باجوڑ میں- لیکن دوسری طرف الشباب نے 2011 میں دارالسلطنت موغادیشو اور دوسرے کئی بڑے شہر کھو دئے- ان کو شکست ضرور ہوئی لیکن وہ ختم نہیں ہوئے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس وقت بھی ان کے پاس کم از کم 7000 خوب اچھی طرح تربیت یافتہ اور انتہائی پرجوش جنگجو موجود ہیں۔ لیکن ایک چیز جو الشباب کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے اور جس سے طالبان محروم ہیں وہ ہے ان کے ملک کا ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا- ان کا شمالی علاقہ علیحدہ ہو چکا ہے اور وسطی حصہ میں صحیح معنوں میں دو دہائیوں سے کسی حکومت کا وجود ہی نہیں ہے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان فرق بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ انٹیلیجنس اگر چاہے تو دہشت گردی کے اس ناسور کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر ویسٹ گیٹ کیس میں کینیا کی انٹیلیجنس ناکام ہو گئی تو ہم اس کی وجہ سمجھ سکتے ہیں- کینیا آخر کارایک جنگ کا میدان نہیں ہے جیسا کہ اس وقت پاکستان کا دو تہائی علاقہ بنا ہوا ہے- نہ ہی کینیا میں 50000 ہزار لوگ ان کا نشانہ بنے جو ہم نے بد قسمتی سے ایک بے بس تماشائی کی طرح دیکھا ہے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہمارے معاملے میں انٹیلیجنس کی ناکامی ناقابل معافی ہے --صرف جی ایچ کیو، مہران اور بنوں کی مثال ہی لیجئے لیکن اس کے ساتھ ہی حیرت انگیز موازنہ اس بات سے کیجئے کہ کس طرح امریکہ اوبی ایل، ولی الرحمان اور طالبان کے دیگر بہت سے وار لارڈز کو نکال لے گیا-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سوال یہ ہے: اگر اس سے کہیں زیادہ کمزور الشباب بچ سکتی ہے اور مقابلہ کرسکتی ہے تو اس بات کے کیا امکانات ہیں کہ پاکستان اس سے کہیں زیادہ طاقتور طالبان ملیشیا کا خاتمہ کر سکتا ہے؟ تا وقتیکہ پاکستان کے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے ادارے ویسے ہی اعلیٰ درجہ کا انٹیلیجنس سسٹم نہ تیار کرلیں جیسا کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے پاس موجود ہے-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مثال کے طور پر غور کیجئے، گزشتہ سال برطانیہ میں اولمپک مقابلے کس قدر قابل رشک پرامن حالات میں منعقد ہوئے- یہ نہیں تھا کہ دہشت گردوں کا خطرہ موجود نہیں تھا- برطانیہ میں یقیناَ مقامی اور غیرملکی دہشت گرد موجود ہیں جو موقع کے انتظارمیں رہتے ہیں لیکن اعلیٰ درجہ کی انٹیلیجنس، مسلسل نگرانی اور ایسا سیکیورٹی سسٹم جوانسانی انٹیلیجنس اور سائبر ٹکنولوجی، دونوں کی مدد سے، ان تمام خطرات کو بھانپ کر پہلے ہی روک تھام کر چکا تھا-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طالبان اور 'سیکولر' دہشت گرد ---- صرف پہاڑوں ہی میں نہیں ہر جگہ موجود ہیں- ان کی شاطرانہ چالوں کی مہارت، جسے وہ جرائم کے لئے استعمال کرتے ہیں، شہریوں کے درمیان رہ کر انھیں ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں- کوئی بھی سکیورٹی فورس کسی گاؤں یا کسی شہر کی جھونپڑ پٹی کو اس لئے نہیں اجاڑ دیگی کہ وہاں 50000 کی آبادی میں دس جنگجو رہتے ہیں-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طالبان کو ختم کرنے کے لئے جو ہمارے دشمن ہیں، ہمیں گولہ بارود کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کہ بہتر انٹیلیجنس کی ہے- اگلی دفعہ جب ہم اپنے ڈونرز سے ملیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم ان سے پیسہ نہ مانگیں بلکہ ان سے کہیں کہ وہ ہمیں انٹیلیجنس میں ابتدائی سبق دیں-&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پوسٹ اسکرپٹ: معافی چاہتا ہوں کہ میں نے ان دونوں تنظیموں کے درمیان موجود ایک اہم فرق کا ذکر نہیں کیا- الشباب کے پاس عمران خان جیسا کرشماتی ترجمان موجود نہیں جو طالبان کا دفاع کرتا ہے-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;hr /&gt;&#13;
&lt;p&gt;ترجمہ :  سیدہ صالحہ&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><img class="size-full wp-image-131594 " alt="" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/10/afp-670.jpg" width="670" height="402" /></div><div class="caption"> نیروبی ویسٹ گیٹ مال میں الشباب کا مسلح رکن، اے ایف پی، فوٹو۔۔۔۔</div></div><p><strong>الشباب نے جتنی مدت کے لئے ویسٹ گیٹ مال کو اپنے کنٹرول میں رکھا اور اس حملے کے لئے جو منصوبہ بندی کی گئی وہ بلاشبہ الشباب کی فوجی قوت، اس کے کمانڈ کی مہارت اور کنٹرول اسٹرکچر اور اپنے کاز کے لئے لوگوں کو بھرتی کرنے کی اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے حالانکہ 2011 میں اسے بھاری پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</strong></p><p> الشباب کی فوجی صلاحیت اور اس کی ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ہمیں اس کا موازنہ پاکستانی طالبان کے وسیع تر اثاثوں سے کرنا ہوگا-</p><p>بہت سے عوامل جن کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان بلا خوف و خطر کارروائیاں کرنے اور مسلح افواج اور پاکستانی ریاست کے ساتھ حقارت آمیز رویہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، الشباب میں نظر نہیں آتے۔ سب سے بڑا فرق تو ان کے علاقوں کا فرق ہے۔</p><p>ٹی ٹی پی کے ہیڈ کوارٹرز اور ان کے تربیتی مراکز دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں واقع ہیں- پاکستان، افغانستان سرحد تقریبْا 2400 کلومیٹر لمبی ہے اور اس کے بڑے حصوں پر ان کا فوجی کنٹرول ہے، اگرچہ کہ بہت سے علاقوں میں ان کے سماجی اور سیاسی اثر کی وجہ 'خوف' ہے۔</p><p>طالبان اپنے پہاڑی مورچوں میں رہتے بستے، کاررروائیاں اور جنگ کرتے اور مرتے ہیں، جہاں سینکڑوں ہزاروں غار، کھوہ اور وادیاں ہیں --اتنی بلندی پر کہ سردیوں میں یہاں برف جم جاتی ہے-- غیر قبائلی یہاں پہنچ نہیں سکتے اور یہ طالبان اور دوسرے جنگجوُوں کے لئے، منشیات کا دھندہ کرنے والوں اور کرایہ کے قاتلوں کے لئے بہترین پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں-</p><p>یہ بڑی 'سلطنت' معاشی لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے۔ لیکن ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب کئی دہائیوں کی جنگ نے اور جنگ کے حالات نے طالبان کو اس لائق بنا دیا ہے کہ وہ افغانستان اور مین اسٹریم پاکستان سے زندہ رہنے اور جنگ کرنے کے لئے درکار ہر قسم کا سامان اسمگل کریں۔</p><p>طالبان کے زیر تحت علاقوں پر اندھادھند بمباری سے کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے گولہ بارود کی بربادی کے- کیونکہ امن ہو یا جنگ اس سے طالبان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا-</p><p>اس سے بھی زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ اسلحہ کسی بھی قسم کا ہو طالبان کے لئے کوئی مسْلہ نہیں ہے۔ انھیں نہ صرف اپنی ضرورت کا اسلحہ افغانستان سے مل جاتا ہے بلکہ خود ان کے علاقے میں بھی ہتھیار بنانے والی فیکٹریاں موجود ہیں-</p><p> ہتھیاروں کی مسلسل اور کثیر سپلائ ٹی ٹی پی کا ایک بہت بڑا سرمایہ ہے- اگر ان اثاثوں کے قابل حصول ہونے کی بنا پر وہ پاکستان کی ریاست پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچتی ہے تواس بارے میں کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے-</p><p>اب اس کا موازنہ الشباب کے حقیر وسائل سے کیجیے، اور ان کی اس صلاحیت پر ہم حیران رہ جائنگے--یقیناُ افسوس کے ساتھ-- کہ اس نے ایک بڑے ہمسایہ ملک کے دارالحکومت میں شرانگیزی کی اور خوف پھیلایا-</p><p>ان پہاڑوں کے برعکس جو طالبان کا میدان جنگ ہیں اور ان کا گھر بھی، صومالیہ میدانی علاقہ ہے جس کے شمال میں کچھ پہاڑیاں ہیں اور یہ ان علاقوں میں ہیں جو اب علیحدہ ہو چکا ہے- چنانچہ الشباب کے عسکریت پسند ان محفوظ اور قدرتی قلعہ بند پناہ گاہوں سے محروم ہیں جو پاکستانی طالبان کو حاصل ہیں-</p><p>اسی طرح، صومالیہ میں کسی ایسی کمیونٹی کے موجود ہونے کی کوئی روایت نہیں ہے جس کے پاس پاکستان کے قبائلیوں کی طرح ہتھیار بنانے کی چھوٹی موٹی انڈسٹری ہو-</p><p>گزشتہ سال الشباب کو یہ دھچکا لگا کہ کسمایو کی جنوبی بندر گاہ سے وہ ہاتھ دھوبیٹھی- اس کی وجہ سے وہ سمندری راستہ سے اسلحہ حاصل کرنے کے ایک اہم ذریعہ سے محروم ہوگئی- اب الشباب ان ہتھیاروں کو اسمگل کرتی ہے یا دیگر عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک سے، جو سب صحارہ ریجن میں واقع ہیں خریدتی ہے یا حاصل کرتی ہے-</p><p>پاکستانی طالبان آجتک کبھی ہارے نہیں ہیں یا اپنےعلاقے سے بھاگنے پر مجبور نہیں کئے گئے ہیں سوائے محدود حد تک جیسے سوات اور باجوڑ میں- لیکن دوسری طرف الشباب نے 2011 میں دارالسلطنت موغادیشو اور دوسرے کئی بڑے شہر کھو دئے- ان کو شکست ضرور ہوئی لیکن وہ ختم نہیں ہوئے-</p><p>اس وقت بھی ان کے پاس کم از کم 7000 خوب اچھی طرح تربیت یافتہ اور انتہائی پرجوش جنگجو موجود ہیں۔ لیکن ایک چیز جو الشباب کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے اور جس سے طالبان محروم ہیں وہ ہے ان کے ملک کا ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا- ان کا شمالی علاقہ علیحدہ ہو چکا ہے اور وسطی حصہ میں صحیح معنوں میں دو دہائیوں سے کسی حکومت کا وجود ہی نہیں ہے-</p><p>ان دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان فرق بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ انٹیلیجنس اگر چاہے تو دہشت گردی کے اس ناسور کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے-</p><p>اگر ویسٹ گیٹ کیس میں کینیا کی انٹیلیجنس ناکام ہو گئی تو ہم اس کی وجہ سمجھ سکتے ہیں- کینیا آخر کارایک جنگ کا میدان نہیں ہے جیسا کہ اس وقت پاکستان کا دو تہائی علاقہ بنا ہوا ہے- نہ ہی کینیا میں 50000 ہزار لوگ ان کا نشانہ بنے جو ہم نے بد قسمتی سے ایک بے بس تماشائی کی طرح دیکھا ہے-</p><p>ہمارے معاملے میں انٹیلیجنس کی ناکامی ناقابل معافی ہے --صرف جی ایچ کیو، مہران اور بنوں کی مثال ہی لیجئے لیکن اس کے ساتھ ہی حیرت انگیز موازنہ اس بات سے کیجئے کہ کس طرح امریکہ اوبی ایل، ولی الرحمان اور طالبان کے دیگر بہت سے وار لارڈز کو نکال لے گیا-</p><p>سوال یہ ہے: اگر اس سے کہیں زیادہ کمزور الشباب بچ سکتی ہے اور مقابلہ کرسکتی ہے تو اس بات کے کیا امکانات ہیں کہ پاکستان اس سے کہیں زیادہ طاقتور طالبان ملیشیا کا خاتمہ کر سکتا ہے؟ تا وقتیکہ پاکستان کے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے ادارے ویسے ہی اعلیٰ درجہ کا انٹیلیجنس سسٹم نہ تیار کرلیں جیسا کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے پاس موجود ہے-</p><p>مثال کے طور پر غور کیجئے، گزشتہ سال برطانیہ میں اولمپک مقابلے کس قدر قابل رشک پرامن حالات میں منعقد ہوئے- یہ نہیں تھا کہ دہشت گردوں کا خطرہ موجود نہیں تھا- برطانیہ میں یقیناَ مقامی اور غیرملکی دہشت گرد موجود ہیں جو موقع کے انتظارمیں رہتے ہیں لیکن اعلیٰ درجہ کی انٹیلیجنس، مسلسل نگرانی اور ایسا سیکیورٹی سسٹم جوانسانی انٹیلیجنس اور سائبر ٹکنولوجی، دونوں کی مدد سے، ان تمام خطرات کو بھانپ کر پہلے ہی روک تھام کر چکا تھا-</p><p>طالبان اور 'سیکولر' دہشت گرد ---- صرف پہاڑوں ہی میں نہیں ہر جگہ موجود ہیں- ان کی شاطرانہ چالوں کی مہارت، جسے وہ جرائم کے لئے استعمال کرتے ہیں، شہریوں کے درمیان رہ کر انھیں ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں- کوئی بھی سکیورٹی فورس کسی گاؤں یا کسی شہر کی جھونپڑ پٹی کو اس لئے نہیں اجاڑ دیگی کہ وہاں 50000 کی آبادی میں دس جنگجو رہتے ہیں-</p><p>طالبان کو ختم کرنے کے لئے جو ہمارے دشمن ہیں، ہمیں گولہ بارود کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کہ بہتر انٹیلیجنس کی ہے- اگلی دفعہ جب ہم اپنے ڈونرز سے ملیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم ان سے پیسہ نہ مانگیں بلکہ ان سے کہیں کہ وہ ہمیں انٹیلیجنس میں ابتدائی سبق دیں-</p><p>پوسٹ اسکرپٹ: معافی چاہتا ہوں کہ میں نے ان دونوں تنظیموں کے درمیان موجود ایک اہم فرق کا ذکر نہیں کیا- الشباب کے پاس عمران خان جیسا کرشماتی ترجمان موجود نہیں جو طالبان کا دفاع کرتا ہے-</p>
<p><hr />
<p>ترجمہ :  سیدہ صالحہ</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/131593</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Oct 2013 10:00:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمّد علی صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2013/10/afp-670.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2013/10/afp-670.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
