<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 23:47:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 23:47:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسامہ کی معلومات آئی ایس آئی کے کرنل نے فراہم کیں، کتاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/15640/isi-colonel-provided-osama-information</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2012/05/osama-bin-laden6701.jpg"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-3619" title="osama-bin-laden6701" src="https://i.dawn.com/urdu/2012/05/osama-bin-laden6701.jpg" alt="" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; اسامہ بن لادن ۔ — فائل فوٹو&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن: پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ایک سینئر عہدے دار نے امریکی سی آئی اے کو القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن تک پہنچنے کیلیے اہم معلومات فراہم کی تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&#13;
منگل کے روز ایک نئی کتاب ' لیڈنگ فرام بی ہائنڈ' (Leading from Behind: The Reluctant President and the Advisors Who Decide for Him') میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ممکنہ طور پر پاکستان کے آرمی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ایبٹ آباد آپریشن سے پانچ ماہ قبل ایک بریفنگ کے دوران انہیں مشن کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں دی وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ سے منسلک رہنے والے امریکہ کے نامور صحافی رچرڈ مینیٹر نے اپنی کتاب میں مزید کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں وہ کمپاؤنڈ جہاں اسامہ اپنے خاندان کے ساتھ رہ رے تھے ، دراصل ملٹری اکیڈمی کی ہی 'ملکیت' تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب کے مطابق آئی ایس آئی کا ایک کرنل اگست، 2010 میں اسلام آباد میں موجود سی آئی اے اسٹیشن پر آیا اور اسامہ کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات فراہم کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القاعدہ رہنما کو مئی، 2011 میں امریکی نیوی سیل کے کمانڈوز نے ایک آپیشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب کے مطابق: غالب امکان ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف کو آپریشن سے پانچ ماہ قبل دسمبر، 2010 میں اس حوالے سے بریفنگ دی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینیٹر نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پاکستان فوج اور اوبامہ کے درمیان مشن کے حوالے سے ایک خاموش رضامندی موجود تھی اور مشن کو چھپانے کیلیے ایک کور اسٹوری بھی بنا لی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;'بن لادن کے خلاف آپریشن میں پاکستان کی شمولیت اس سے کہیں زیادہ تھی جتنی اوبامہ انتظامیہ تسلیم کرتی ہے۔  جب سی آئی اے نے انکشاف کیا کہ آئی ایس آئی کا ایک کرنل نے انہیں اسامہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے تو وائٹ ہاوس میں ایک بحث شروع ہو گئی'۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;'بحث میں جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا آئی ایس آئی کے سربراہ نے اشاروں میں اسامہ کو موجودگی کی معلومات فراہم کی ہیں یا پھر محب وطن ہونے کے دعوے دار کرنل نے بذات خود ہی یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ بہرحال مقصد جو بھی تھا۔ سی ائی اے نے معلومات ملنے کے ایک ماہ کے اندر اندر اسامہ کا ٹھکانہ کھوج لیا '۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;' اس بحث کے دوران طے کیا گیا کہ مشن کے حوالے سے کوئی کور اسٹوری مرتب کی جائے  تاکہ پاکستان کی بلا خوف و خطر معاونت حاصل رہے اور اس کی اعلی قیادت کو سیاسی طور پر کوئی نقصان بھی نہ پہنچے'۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;'وائٹ ہاوس میں ہونے والی اس منصوبہ بندی کی معلومات رکھنے والے ایک سرکاری عہدے دار کے مطابق، کہانی یہ گھڑی گئی کہ اسامہ ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا اور بعد ازاں امریکہ نے ایک ٹیم بھیجی تاکہ اس کی لاش حاصل کی جا سکے۔ عہدے دار کے مطابق اس کہانی سے پاکستانی قیادت کو وہ نقصان نہ ہوتا جو امریکی کمانڈوز کی پاکستانی سر زیمن پر آپریشن سے ہوسکتا تھا'۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;'لیکن جب آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد کمپاؤنڈ میں گر گیا تو اس کور اسٹوری کو ختم کر دیا گیا'۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;'اس عہدے دار کے مطابق جنرل کیانی کو دسمبر، 2010 میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ مشن کے حوالے سے غیر رسمی اجازت مانگی گئی ، تاہم انہیں آپریشن کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں '۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینیٹر لکھتے ہیں کہ اس کہانی کی آزاد ذرائع سے تصدیق تو نہ ہو سکی لیکن یہ کہانی وضاحت کرتی ہے کہ آخر کیوں اسامہ کے ملٹری اکیڈمی کے نزدیک ہی موجود ہونے کے باوجود اوبامہ انتظامیہ پاکستان کی عسکری امداد روکنے پر آمادہ نظر نہیں آئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ کو ڈھونڈ نکالنے کے بعد سی آئی اے کی تحقیقات کے دوران زمین سے متعلق ریکارڈ سے انکشاف ہوا کہ یہ کمپاؤنڈ بظاہرکاکول ملٹری اکیڈمی کی 'ملکیت' تھا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب کے مطابق 14 مارچ، 2011 کو ایک اجلاس میں صدر اوباما نے طے کیا کہ مشن کی منصوبہ بندی کرتے ہوئےکہ پاکستان کو ' مکمل اندھیرے میں رکھا جائے'۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><a href="https://i.dawn.com/urdu/2012/05/osama-bin-laden6701.jpg"><img class="size-full wp-image-3619" title="osama-bin-laden6701" src="https://i.dawn.com/urdu/2012/05/osama-bin-laden6701.jpg" alt="" width="670" height="350" /></a></div><div class="caption"> اسامہ بن لادن ۔ — فائل فوٹو</div></div>
<p><strong>واشنگٹن: پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ایک سینئر عہدے دار نے امریکی سی آئی اے کو القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن تک پہنچنے کیلیے اہم معلومات فراہم کی تھیں۔</strong></p>
منگل کے روز ایک نئی کتاب ' لیڈنگ فرام بی ہائنڈ' (Leading from Behind: The Reluctant President and the Advisors Who Decide for Him') میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ممکنہ طور پر پاکستان کے آرمی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ایبٹ آباد آپریشن سے پانچ ماہ قبل ایک بریفنگ کے دوران انہیں مشن کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ماضی میں دی وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ سے منسلک رہنے والے امریکہ کے نامور صحافی رچرڈ مینیٹر نے اپنی کتاب میں مزید کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں وہ کمپاؤنڈ جہاں اسامہ اپنے خاندان کے ساتھ رہ رے تھے ، دراصل ملٹری اکیڈمی کی ہی 'ملکیت' تھا۔</p>
<p>کتاب کے مطابق آئی ایس آئی کا ایک کرنل اگست، 2010 میں اسلام آباد میں موجود سی آئی اے اسٹیشن پر آیا اور اسامہ کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات فراہم کیں۔</p>
<p>القاعدہ رہنما کو مئی، 2011 میں امریکی نیوی سیل کے کمانڈوز نے ایک آپیشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔</p>
<p>کتاب کے مطابق: غالب امکان ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف کو آپریشن سے پانچ ماہ قبل دسمبر، 2010 میں اس حوالے سے بریفنگ دی گئی ہو۔</p>
<p>مینیٹر نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پاکستان فوج اور اوبامہ کے درمیان مشن کے حوالے سے ایک خاموش رضامندی موجود تھی اور مشن کو چھپانے کیلیے ایک کور اسٹوری بھی بنا لی گئی تھی۔</p>
<p>'بن لادن کے خلاف آپریشن میں پاکستان کی شمولیت اس سے کہیں زیادہ تھی جتنی اوبامہ انتظامیہ تسلیم کرتی ہے۔  جب سی آئی اے نے انکشاف کیا کہ آئی ایس آئی کا ایک کرنل نے انہیں اسامہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے تو وائٹ ہاوس میں ایک بحث شروع ہو گئی'۔</p>
<p>'بحث میں جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا آئی ایس آئی کے سربراہ نے اشاروں میں اسامہ کو موجودگی کی معلومات فراہم کی ہیں یا پھر محب وطن ہونے کے دعوے دار کرنل نے بذات خود ہی یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ بہرحال مقصد جو بھی تھا۔ سی ائی اے نے معلومات ملنے کے ایک ماہ کے اندر اندر اسامہ کا ٹھکانہ کھوج لیا '۔</p>
<p>' اس بحث کے دوران طے کیا گیا کہ مشن کے حوالے سے کوئی کور اسٹوری مرتب کی جائے  تاکہ پاکستان کی بلا خوف و خطر معاونت حاصل رہے اور اس کی اعلی قیادت کو سیاسی طور پر کوئی نقصان بھی نہ پہنچے'۔</p>
<p>'وائٹ ہاوس میں ہونے والی اس منصوبہ بندی کی معلومات رکھنے والے ایک سرکاری عہدے دار کے مطابق، کہانی یہ گھڑی گئی کہ اسامہ ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا اور بعد ازاں امریکہ نے ایک ٹیم بھیجی تاکہ اس کی لاش حاصل کی جا سکے۔ عہدے دار کے مطابق اس کہانی سے پاکستانی قیادت کو وہ نقصان نہ ہوتا جو امریکی کمانڈوز کی پاکستانی سر زیمن پر آپریشن سے ہوسکتا تھا'۔</p>
<p>'لیکن جب آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد کمپاؤنڈ میں گر گیا تو اس کور اسٹوری کو ختم کر دیا گیا'۔</p>
<p>'اس عہدے دار کے مطابق جنرل کیانی کو دسمبر، 2010 میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ مشن کے حوالے سے غیر رسمی اجازت مانگی گئی ، تاہم انہیں آپریشن کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں '۔</p>
<p>مینیٹر لکھتے ہیں کہ اس کہانی کی آزاد ذرائع سے تصدیق تو نہ ہو سکی لیکن یہ کہانی وضاحت کرتی ہے کہ آخر کیوں اسامہ کے ملٹری اکیڈمی کے نزدیک ہی موجود ہونے کے باوجود اوبامہ انتظامیہ پاکستان کی عسکری امداد روکنے پر آمادہ نظر نہیں آئی ۔</p>
<p>کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ کو ڈھونڈ نکالنے کے بعد سی آئی اے کی تحقیقات کے دوران زمین سے متعلق ریکارڈ سے انکشاف ہوا کہ یہ کمپاؤنڈ بظاہرکاکول ملٹری اکیڈمی کی 'ملکیت' تھا ۔</p>
<p>کتاب کے مطابق 14 مارچ، 2011 کو ایک اجلاس میں صدر اوباما نے طے کیا کہ مشن کی منصوبہ بندی کرتے ہوئےکہ پاکستان کو ' مکمل اندھیرے میں رکھا جائے'۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/15640</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Aug 2012 13:38:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2012/08/osama_bin_laden-360.jpg" type="image/jpeg" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2012/08/osama_bin_laden-360.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
