<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 22:07:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 22:07:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کربلا اور لاہور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/37816/karbala-lahore</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2012/11/muharram_670.jpg"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-37820" title="muharram_670" alt="" src="https://i.dawn.com/urdu/2012/11/muharram_670.jpg" height="350" width="670" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; لاہور میں محرم کے جلوس کا ایک منظر۔ فائل تصویر&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہمارے اسکول اور کالج کے دنوں میں ہم سب لاہور کے روایتی عاشورہ جلوسوں میں سبیل بنانے میں اپنے دوستوں کی مدد کیا کرتے تھے اور غم منانے والے ہزاروں افراد کو ٹھنڈے شربت پیش کیا کرتے تھے۔ اس وقت عقیدے اور فرقے کے بارے میں کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی اور یہاں تک کہ کسی کے مذہب کا بھی کوئی دخل نہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;پچھلے تیرہ سو بتیس سالوں سے کربلا کے سانحے نے ہراس شخص کو متاثر کیا ہے جس نے اسے سنا، خواہ وہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، ہندو ہو، سکھ یا کسی اور مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;بچپن میں ہم اپنے شیعہ دوستوں کے ساتھ 'شامِ غریباں' میں شرکت کرتے تھے، اور حق پر رہنے والوں کی حمایت کا سبق پڑھا کرتے تھے۔ ہر شخص دوسرے کے عقیدے کا احترام کرتا تھا۔ البتہ کچھ شرارتی لوگ ضرور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے لیکن انہیں نظر انداز کردیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;پرانے لاہور کا کربلا سے بہت گہرا تعلق ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;تاریخی داستانوں کے مطابق کربلا کی جنگ میں لاہور کے سات بہادر جنگجو بھی شہید ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دلیر بھائیوں کے والد رہاب دت جو اس وقت عربوں سے تجارت کیا کرتے تھے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حق کی خاطر ان کے نواسے کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیں گے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;لاہور میں دت قبیلے کے راجپوت موہیال نے اس وعدے کو نبھایا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;آج انہیں حسینی برہمن کے نام سے جانا جاتا ہے جو انیس سو سینتالیس تک لاہور میں رہتے تھے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;لاہور کے ہندو راجپوتوں کے علاوہ یہ حقیقت ہے کہ اس جنگ میں ابوزر غفاری کے آزاد کردہ غلام جون بن ہوائی بھی شریک تھے اور مبینہ طور پر ان کی نسل کے کچھ لوگ لاہور کی چار دیواری والے حصے میں آج بھی رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;میں نے کئی مرتبہ ان کے اجداد کی نشانیاں کھوجنے کی کوشش کی اور موری گیٹ میں رہنے والے ایک عیسائی  خاندان کا پتہ لگایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق ایک 'صحابی' سے ہے جن کا نام انہیں نہیں معلوم۔ یہ دعویٰ دو سو پچاس سال قبل لکھی گئی ایم اے کرن پیکار کی کتاب ' اسلام ان ٹرانزیشن' میں کیا گیا ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس کی کوئی اہمیت ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;لیکن لاہور میں حضرت حسین بن علی کے خاندان کی موجودگی کا سب سے مضبوط دعویٰ بی بی پاک دامن قبرستان میں حضرت بی بی رقیہ کی قبر کی صورت میں موجود ہے جو حضرت حسین کی بہن اور حضرت مسلم بن عقیل کی بیوی تھیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;پھر یہاں کچھ قبروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم بن عقیل کی بہنوں اور خاندان کے دوسرے افراد کی قبریں ہیں لیکن یہ دعوے بھی منتازعہ ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;لیکن کوئی اور نہیں بلکہ علی حسن ہجویری جو داتا صاحب کے نام سے لاہور کی ایک معروف روحانی شخصیت گزرے ہیں وہ یہاں آتے، فاتحہ پڑھتے اور اپنے ماننے والوں سے کہتےتھے کہ یہ رقیہ کی قبر ہے۔ جس جگہ وہ ہمیشہ کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھا کرتے تھے وہاں ایک نشان لگادیا گیا ہے اور ان کی کتاب میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ مانا کہ اس کی نفی کرنے والے بھی موجود ہیں لیکن اس کا ثبوت بھی مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;میں دت کی کہانی شوکت خانم ہسپتال کے ریکارڈ سے بیان کروں گا جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے فلم اسٹار سنیل دت نے ہسپتال کو عطیہ دیتے ہوئے کہا تھا : ' اپنے بزرگوں کی طرح لاہور کیلیے میں خون کا ہر قطرہ بہادوں گا اور جو کہا جائے گا وہ دوں گا، بالکل اسی طرح جس طرح میرے آبا و اجداد نے کربلا میں امام حسین کے ساتھ اپنی جانیں قربان کی تھیں۔'&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;یہ کچھ سوچنےپر مجبور کرتی ہے۔ لیکن ایک کہانی یہ بھی ہے کہ رہاب دت کے سات بیٹوں نے کربلا میں امام کی خاطر اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ قُم میں موجود شہیدوں کی فہرست سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ میں موجود ہے کہ جب یزیدی فوجی تیسری مرتبہ آگے بڑھے تو دت برادروں نے انہیں آگے جانے سے روکے رکھا۔ تلواریں اُٹھائے سات پنجابی اس وقت تک میدان میں ڈٹے رہے جب تک سینکڑوں گھوڑوں نے انہیں گرانہیں دیا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دت خاندان کی اسی وفاداری کے بدلے ایک مشہور بات کہی تھی: ' واہ دت سلطان، ہندو کا دھرم مسلمان کا امام، آدھا ہندو آدھا مسلمان۔'&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;تب سے اب تک یہی ان کا عقیدہ رہا اور مسلمانوں کو بھی کہا گیا کہ وہ دت کو مسلمان بنانے کی کوشش نہ کریں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;ایک غمگین رہاب اپنے بزرگوں کی زمین سے لوٹا، افغانستان میں ٹھہرنے کے بعد دوبارہ لاہور آیا۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ شہر کے دیوار والے حصے میں ان کا محلہ تلاش کرسکوں اور میرا خیال ہے کہ وہ لوہاری گیٹ کے اندر محلہ مولیاں ہے۔ بعد میں وہ موچی گیٹ منتقل ہوگئے۔ اور انیس سو سینتالیس سے قبل  تک مشہور دت وہیں رہے۔ انہوں نے تو اپنا سب کچھ دیا لیکن لوگوں کی نفرت کی وجہ سے وہ یہاں سے چلے گئے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;حسینی برہمنوں کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رہاب دت کے براہ راست خاندان میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کی گردن پر ایک ہلکا  سا نشان ہوتا جو ان کی قربانی کو ظاہر کرتا تھا۔  میں نے دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر دونیکا دت کی ایک تحریر میں پڑھا تھا کہ کہ تمام حقیقی دت کا تعلق لاہور سے ہی تھا اور وہ اس دعوے کو ثابت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;میں ان واقعات کا ایک اور دلچسپ پہلو بھی پیش کرنا چاہوں گا جسے چاولہ نامی اسکالر نے بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق حضرت امام حسین کی ایرانی بیوی شہر بانو، چندرا لیکھا یا مہر بانو کی بہن تھیں جو ایک ہندوستانی بادشاہ چندر گپتا کی بیوی تھی۔  ہم جانتے ہیں کہ اس نے لاہور پر حکومت کی تھی۔ پھر جب یزید بن معاویہ نے امام حسین کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تو امام حسین کے بیٹے (جن کا نام علی تھا) نے چندرا گپتا کو مدد کیلئے ایک خط بھی لکھا تھا۔ اس موریائی بادشاہ نے مبینہ طور پر ایک بہت بڑی فوج عراق بھیجی تھی لیکن جب وہ مدد کو پہنچی اس وقت تک کربلا کا واقعہ ہوچکا تھا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;کوفہ میں حضرت امام حسین کے ایک ماننے والے نے ان ( افواج) کو ٹھہرانے کا انتظام کیا تھا اور اسکے لئے شہر میں ایک خاص حصہ بنایا جسے 'دیرِ ہندیا' یعنی انڈین کوارٹر کا نام دیا جو آج بھی دیرِ ہندیا کے نام سے مشہور ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;پھر حسینی برہمنوں کا عقیدہ ہے کہ تمام اٹھارہ پرانوں میں سے سب سے آخری پُران، کالکی ُپرانا اور چوتھی وید یعنی اتھر وید میں کل یگ ( یعنی آج کے دور) امام حسین کا ذکر ایک اوتار کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کا یقین ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اوم مُورتی ہے یعنی خدا کے نزدیک سب سے قابلِ احترام خاندان ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;یہ تمام باتیں مجھے میرے اسکول کے دنوں کی یاد دلاتی ہیں جب ہم عاشورہ کے سوگواروں کی خدمت کیلئے بچے ہونے کے باوجود سخت محنت کرتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہمارے پڑوسی نواب رضا علی قزلباش ہمیں ہرسال اپنی حویلی پر بلاتے اور تمام انتظامات دکھایا کرتے تھے۔ اب رضا علی اس دنیا میں نہیں رہے اور ساتھ ہی برداشت اور کا وہ دور بھی ختم ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><a href="https://i.dawn.com/urdu/2012/11/muharram_670.jpg"><img class="size-full wp-image-37820" title="muharram_670" alt="" src="https://i.dawn.com/urdu/2012/11/muharram_670.jpg" height="350" width="670" /></a></div><div class="caption"> لاہور میں محرم کے جلوس کا ایک منظر۔ فائل تصویر</div></div>
<p><strong>ہمارے اسکول اور کالج کے دنوں میں ہم سب لاہور کے روایتی عاشورہ جلوسوں میں سبیل بنانے میں اپنے دوستوں کی مدد کیا کرتے تھے اور غم منانے والے ہزاروں افراد کو ٹھنڈے شربت پیش کیا کرتے تھے۔ اس وقت عقیدے اور فرقے کے بارے میں کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی اور یہاں تک کہ کسی کے مذہب کا بھی کوئی دخل نہ تھا۔</strong></p>
<p>پچھلے تیرہ سو بتیس سالوں سے کربلا کے سانحے نے ہراس شخص کو متاثر کیا ہے جس نے اسے سنا، خواہ وہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، ہندو ہو، سکھ یا کسی اور مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھتا ہو۔</p>
<p>بچپن میں ہم اپنے شیعہ دوستوں کے ساتھ 'شامِ غریباں' میں شرکت کرتے تھے، اور حق پر رہنے والوں کی حمایت کا سبق پڑھا کرتے تھے۔ ہر شخص دوسرے کے عقیدے کا احترام کرتا تھا۔ البتہ کچھ شرارتی لوگ ضرور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے لیکن انہیں نظر انداز کردیا جاتا تھا۔</p>
<p>پرانے لاہور کا کربلا سے بہت گہرا تعلق ہے۔</p>
<p>تاریخی داستانوں کے مطابق کربلا کی جنگ میں لاہور کے سات بہادر جنگجو بھی شہید ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دلیر بھائیوں کے والد رہاب دت جو اس وقت عربوں سے تجارت کیا کرتے تھے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حق کی خاطر ان کے نواسے کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p>لاہور میں دت قبیلے کے راجپوت موہیال نے اس وعدے کو نبھایا۔</p>
<p>آج انہیں حسینی برہمن کے نام سے جانا جاتا ہے جو انیس سو سینتالیس تک لاہور میں رہتے تھے۔</p>
<p>لاہور کے ہندو راجپوتوں کے علاوہ یہ حقیقت ہے کہ اس جنگ میں ابوزر غفاری کے آزاد کردہ غلام جون بن ہوائی بھی شریک تھے اور مبینہ طور پر ان کی نسل کے کچھ لوگ لاہور کی چار دیواری والے حصے میں آج بھی رہتے ہیں۔</p>
<p>میں نے کئی مرتبہ ان کے اجداد کی نشانیاں کھوجنے کی کوشش کی اور موری گیٹ میں رہنے والے ایک عیسائی  خاندان کا پتہ لگایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق ایک 'صحابی' سے ہے جن کا نام انہیں نہیں معلوم۔ یہ دعویٰ دو سو پچاس سال قبل لکھی گئی ایم اے کرن پیکار کی کتاب ' اسلام ان ٹرانزیشن' میں کیا گیا ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس کی کوئی اہمیت ہے۔</p>
<p>لیکن لاہور میں حضرت حسین بن علی کے خاندان کی موجودگی کا سب سے مضبوط دعویٰ بی بی پاک دامن قبرستان میں حضرت بی بی رقیہ کی قبر کی صورت میں موجود ہے جو حضرت حسین کی بہن اور حضرت مسلم بن عقیل کی بیوی تھیں۔</p>
<p>پھر یہاں کچھ قبروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم بن عقیل کی بہنوں اور خاندان کے دوسرے افراد کی قبریں ہیں لیکن یہ دعوے بھی منتازعہ ہیں۔</p>
<p>لیکن کوئی اور نہیں بلکہ علی حسن ہجویری جو داتا صاحب کے نام سے لاہور کی ایک معروف روحانی شخصیت گزرے ہیں وہ یہاں آتے، فاتحہ پڑھتے اور اپنے ماننے والوں سے کہتےتھے کہ یہ رقیہ کی قبر ہے۔ جس جگہ وہ ہمیشہ کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھا کرتے تھے وہاں ایک نشان لگادیا گیا ہے اور ان کی کتاب میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ مانا کہ اس کی نفی کرنے والے بھی موجود ہیں لیکن اس کا ثبوت بھی مضبوط ہے۔</p>
<p>میں دت کی کہانی شوکت خانم ہسپتال کے ریکارڈ سے بیان کروں گا جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے فلم اسٹار سنیل دت نے ہسپتال کو عطیہ دیتے ہوئے کہا تھا : ' اپنے بزرگوں کی طرح لاہور کیلیے میں خون کا ہر قطرہ بہادوں گا اور جو کہا جائے گا وہ دوں گا، بالکل اسی طرح جس طرح میرے آبا و اجداد نے کربلا میں امام حسین کے ساتھ اپنی جانیں قربان کی تھیں۔'</p>
<p>یہ کچھ سوچنےپر مجبور کرتی ہے۔ لیکن ایک کہانی یہ بھی ہے کہ رہاب دت کے سات بیٹوں نے کربلا میں امام کی خاطر اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ قُم میں موجود شہیدوں کی فہرست سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ میں موجود ہے کہ جب یزیدی فوجی تیسری مرتبہ آگے بڑھے تو دت برادروں نے انہیں آگے جانے سے روکے رکھا۔ تلواریں اُٹھائے سات پنجابی اس وقت تک میدان میں ڈٹے رہے جب تک سینکڑوں گھوڑوں نے انہیں گرانہیں دیا۔</p>
<p>رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دت خاندان کی اسی وفاداری کے بدلے ایک مشہور بات کہی تھی: ' واہ دت سلطان، ہندو کا دھرم مسلمان کا امام، آدھا ہندو آدھا مسلمان۔'</p>
<p>تب سے اب تک یہی ان کا عقیدہ رہا اور مسلمانوں کو بھی کہا گیا کہ وہ دت کو مسلمان بنانے کی کوشش نہ کریں۔</p>
<p>ایک غمگین رہاب اپنے بزرگوں کی زمین سے لوٹا، افغانستان میں ٹھہرنے کے بعد دوبارہ لاہور آیا۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ شہر کے دیوار والے حصے میں ان کا محلہ تلاش کرسکوں اور میرا خیال ہے کہ وہ لوہاری گیٹ کے اندر محلہ مولیاں ہے۔ بعد میں وہ موچی گیٹ منتقل ہوگئے۔ اور انیس سو سینتالیس سے قبل  تک مشہور دت وہیں رہے۔ انہوں نے تو اپنا سب کچھ دیا لیکن لوگوں کی نفرت کی وجہ سے وہ یہاں سے چلے گئے۔</p>
<p>حسینی برہمنوں کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رہاب دت کے براہ راست خاندان میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کی گردن پر ایک ہلکا  سا نشان ہوتا جو ان کی قربانی کو ظاہر کرتا تھا۔  میں نے دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر دونیکا دت کی ایک تحریر میں پڑھا تھا کہ کہ تمام حقیقی دت کا تعلق لاہور سے ہی تھا اور وہ اس دعوے کو ثابت کرتی ہیں۔</p>
<p>میں ان واقعات کا ایک اور دلچسپ پہلو بھی پیش کرنا چاہوں گا جسے چاولہ نامی اسکالر نے بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق حضرت امام حسین کی ایرانی بیوی شہر بانو، چندرا لیکھا یا مہر بانو کی بہن تھیں جو ایک ہندوستانی بادشاہ چندر گپتا کی بیوی تھی۔  ہم جانتے ہیں کہ اس نے لاہور پر حکومت کی تھی۔ پھر جب یزید بن معاویہ نے امام حسین کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تو امام حسین کے بیٹے (جن کا نام علی تھا) نے چندرا گپتا کو مدد کیلئے ایک خط بھی لکھا تھا۔ اس موریائی بادشاہ نے مبینہ طور پر ایک بہت بڑی فوج عراق بھیجی تھی لیکن جب وہ مدد کو پہنچی اس وقت تک کربلا کا واقعہ ہوچکا تھا۔</p>
<p>کوفہ میں حضرت امام حسین کے ایک ماننے والے نے ان ( افواج) کو ٹھہرانے کا انتظام کیا تھا اور اسکے لئے شہر میں ایک خاص حصہ بنایا جسے 'دیرِ ہندیا' یعنی انڈین کوارٹر کا نام دیا جو آج بھی دیرِ ہندیا کے نام سے مشہور ہے۔</p>
<p>پھر حسینی برہمنوں کا عقیدہ ہے کہ تمام اٹھارہ پرانوں میں سے سب سے آخری پُران، کالکی ُپرانا اور چوتھی وید یعنی اتھر وید میں کل یگ ( یعنی آج کے دور) امام حسین کا ذکر ایک اوتار کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کا یقین ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اوم مُورتی ہے یعنی خدا کے نزدیک سب سے قابلِ احترام خاندان ہے۔</p>
<p>یہ تمام باتیں مجھے میرے اسکول کے دنوں کی یاد دلاتی ہیں جب ہم عاشورہ کے سوگواروں کی خدمت کیلئے بچے ہونے کے باوجود سخت محنت کرتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہمارے پڑوسی نواب رضا علی قزلباش ہمیں ہرسال اپنی حویلی پر بلاتے اور تمام انتظامات دکھایا کرتے تھے۔ اب رضا علی اس دنیا میں نہیں رہے اور ساتھ ہی برداشت اور کا وہ دور بھی ختم ہوچکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/37816</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Nov 2012 10:00:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2012/11/muharram_670.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2012/11/muharram_670.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
