<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:37:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:37:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاہ عبدالطیف بھٹائی کا عُرس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/46952/shah-latif-urs</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-46953 " alt="سسی پلیجو شاہ لطیف کانفرنس کے موقع پر ان پر شائع کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے۔ تصویریوسف ناگوری  " src="https://i.dawn.com/urdu/2012/12/shah-latif-conference-670.jpg" width="670" height="381" /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; سسئی پلیجو شاہ لطیف کانفرنس کے موقع پر ان پر شائع کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے۔ تصویریوسف ناگوری&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھٹ شاہ: سندھ دھرتی کے عظیم بزرگ، صوفی شاعر اور تاریخ دان، شاہ عبدالطیف بھٹائی کے سالانہ عرس کے موقع پر بھٹ شاہ میں منعقدہ عالمی ادبی کانفرنس میں محققین نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں دنیا بھر کے قوموں اور مذاہب کو ایک ساتھ رکھنے اور برداشت کا پیغام دیا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے میلے کے دوسرے دن کانفرنس کا انتظام صوبائی محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سسئی پلیجو نے بتایا کہ بھٹائی کی شاعری اور فلسفے کو راجستھانی، جاپانی، جرمن اور دیگر زبانوں میں ترجمے کرائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس موقع پر ڈاکٹر غلام علی الانا نے کہا کہ بھٹائی کی شاعری پر خواجہ غلام فرید کے کلام کا بہت اثر ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;بھارت سے آنیوالے مہمان اسکالر ہیرو ٹھکر نے کہا کہ بھٹائی کی شاعری روح میں سما جاتی ہے اور ہم اسکو گیتا کے برابر اہمیت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;سرحد کے اس پار سے آنے والے ایک اور اسکالر ڈاکٹرجیٹھو لالوانی نے کہا کہ انڈیا کے کچھ کے علاقے میں ایک ہزار سے زائد گاؤں میں محفلوں اور دیہاتی کچہریوں میں بھٹائی کا کلام گیااور سنا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;ایرانی اسکالر محمد حسین تسبیح نے کہا کہ شاہ لطیف کی شاعری کی وجہ سے سندھ محبت اور عشق کا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران میں بھی بھٹائی کی تعلیمات کے لیے اقدامات کئے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&#13;
&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-46954" alt="شاہ لطیف کے مزار کا ایک منظر ۔ تصویریوسف ناگوری  " src="https://i.dawn.com/urdu/2012/12/shah-latif-conference-6701.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; شاہ لطیف کے مزار کا ایک منظر ۔ تصویریوسف ناگوری&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&#13;
&lt;p&gt;اسیر مینگل نے کہا کہ قدرت نے قوموں کی رہنمائی کے لیے رہبر بھیجے اور سندھ کے لیے بھٹائی کو بھیجا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; اس کے بعد پختونخوا کے اسکالر سلیم بنگش نے کہا کہ شاہ لطیف اور رحمان بابا کی شاعری میں یکسانیت ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;محکمہ ثقافت کی جانب سے مختلف اسکالرز کی مرتب کردہ  16 کتابیں شایع کی گئیں جن کی تقریبِ رونمائی میلے کے دوسرے دن کی گئی۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;شاہ کے باغ میں لگائے گئے ثقافت گاؤں دوسرے دن بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سندھ کی روایتی کشتی ملہہ کے پہلوانوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور تماشائیوں سے داد حاصل کی۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;شاہ لطیف کے ذکر کے علاوہ مختلف مقامات پر مقامی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اپنی مدد آپ کے تحت گھڑدوڑ کے بعد تین روزہ میلے کی دوسری دھمال اختتام کو پہنچی۔ شائیں شاہ لطیف کے عرس کی تصاویر &lt;a href="http://urdu.dawn.com/2012/12/30/shah-latif-celebrations/"&gt;یہاں&lt;/a&gt; دیکھی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><img class="size-full wp-image-46953 " alt="سسی پلیجو شاہ لطیف کانفرنس کے موقع پر ان پر شائع کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے۔ تصویریوسف ناگوری  " src="https://i.dawn.com/urdu/2012/12/shah-latif-conference-670.jpg" width="670" height="381" /></div><div class="caption"> سسئی پلیجو شاہ لطیف کانفرنس کے موقع پر ان پر شائع کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے۔ تصویریوسف ناگوری</div></div>
<p><strong>بھٹ شاہ: سندھ دھرتی کے عظیم بزرگ، صوفی شاعر اور تاریخ دان، شاہ عبدالطیف بھٹائی کے سالانہ عرس کے موقع پر بھٹ شاہ میں منعقدہ عالمی ادبی کانفرنس میں محققین نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں دنیا بھر کے قوموں اور مذاہب کو ایک ساتھ رکھنے اور برداشت کا پیغام دیا ۔</strong></p>
<p>سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے میلے کے دوسرے دن کانفرنس کا انتظام صوبائی محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔</p>
<p>اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سسئی پلیجو نے بتایا کہ بھٹائی کی شاعری اور فلسفے کو راجستھانی، جاپانی، جرمن اور دیگر زبانوں میں ترجمے کرائے جائیں گے۔</p>
<p>اس موقع پر ڈاکٹر غلام علی الانا نے کہا کہ بھٹائی کی شاعری پر خواجہ غلام فرید کے کلام کا بہت اثر ہے۔</p>
<p>بھارت سے آنیوالے مہمان اسکالر ہیرو ٹھکر نے کہا کہ بھٹائی کی شاعری روح میں سما جاتی ہے اور ہم اسکو گیتا کے برابر اہمیت دیتے ہیں۔</p>
<p>سرحد کے اس پار سے آنے والے ایک اور اسکالر ڈاکٹرجیٹھو لالوانی نے کہا کہ انڈیا کے کچھ کے علاقے میں ایک ہزار سے زائد گاؤں میں محفلوں اور دیہاتی کچہریوں میں بھٹائی کا کلام گیااور سنا جاتا ہے۔</p>
<p>ایرانی اسکالر محمد حسین تسبیح نے کہا کہ شاہ لطیف کی شاعری کی وجہ سے سندھ محبت اور عشق کا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران میں بھی بھٹائی کی تعلیمات کے لیے اقدامات کئے جائیں۔</p>
<p>
<div class="image-container"><div class="image"><img class="size-full wp-image-46954" alt="شاہ لطیف کے مزار کا ایک منظر ۔ تصویریوسف ناگوری  " src="https://i.dawn.com/urdu/2012/12/shah-latif-conference-6701.jpg" width="670" height="350" /></div><div class="caption"> شاہ لطیف کے مزار کا ایک منظر ۔ تصویریوسف ناگوری</div></div>
<p>اسیر مینگل نے کہا کہ قدرت نے قوموں کی رہنمائی کے لیے رہبر بھیجے اور سندھ کے لیے بھٹائی کو بھیجا۔</p>
<p> اس کے بعد پختونخوا کے اسکالر سلیم بنگش نے کہا کہ شاہ لطیف اور رحمان بابا کی شاعری میں یکسانیت ہے۔</p>
<p>محکمہ ثقافت کی جانب سے مختلف اسکالرز کی مرتب کردہ  16 کتابیں شایع کی گئیں جن کی تقریبِ رونمائی میلے کے دوسرے دن کی گئی۔</p>
<p>شاہ کے باغ میں لگائے گئے ثقافت گاؤں دوسرے دن بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔</p>
<p>سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سندھ کی روایتی کشتی ملہہ کے پہلوانوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور تماشائیوں سے داد حاصل کی۔</p>
<p>شاہ لطیف کے ذکر کے علاوہ مختلف مقامات پر مقامی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔</p>
<p>اپنی مدد آپ کے تحت گھڑدوڑ کے بعد تین روزہ میلے کی دوسری دھمال اختتام کو پہنچی۔ شائیں شاہ لطیف کے عرس کی تصاویر <a href="http://urdu.dawn.com/2012/12/30/shah-latif-celebrations/">یہاں</a> دیکھی جاسکتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/46952</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Dec 2012 15:01:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سانگی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2012/12/shah-latif-conference-670.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1366" width="2400">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2012/12/shah-latif-conference-670.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
