<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 06:02:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 06:02:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیدیوں کی حراست غیر قانونی ہے: چیف جسٹس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/54463/adiala-jail-supreme-court</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/01/supreme_court_afp_7_6701.jpg"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-48644" alt="سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک فائل تصویر۔ اے ایف پی " src="https://i.dawn.com/urdu/2013/01/supreme_court_afp_7_6701.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک فائل تصویر۔ اے ایف پی&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: سپریم کورٹ میں اڈیالہ جیل کےلاپتہ قیدیوں سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چھبیس جون سن دو ہزار گیارہ سےقیدی حراستی مراکز میں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آگر قیدیوں کے خلاف ثبوت تھے تو انہیں جیل بھیجنا چاہیے تھا۔ تاہم قیدیوں کی حراست غیرقانونی ہے اور انہیں ایک سکینڈ بھی نہیں رکھ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی نمائندگی کرنے والے راجہ ارشاد نے بنچ کو بتایا تھا کہ فوج اور ایجنسیوں کو قیدیوں کے خلاف ثبوت نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں عدالت میں ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سیکریٹری فاٹا، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی سرزنش ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران چیف جسٹس اور ایجنسیوں کے وکیل کا مکالمہ ہوا۔ جس کے دوران راجہ ارشاد نے کہا کہ آج تک کسی دہشتگرد کو سزا نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ اب انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس قیدیوں کو حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/01/supreme_court_afp_7_6701.jpg"><img class="size-full wp-image-48644" alt="سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک فائل تصویر۔ اے ایف پی " src="https://i.dawn.com/urdu/2013/01/supreme_court_afp_7_6701.jpg" width="670" height="350" /></a></div><div class="caption"> سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک فائل تصویر۔ اے ایف پی</div></div></p>
<p><strong>اسلام آباد: سپریم کورٹ میں اڈیالہ جیل کےلاپتہ قیدیوں سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چھبیس جون سن دو ہزار گیارہ سےقیدی حراستی مراکز میں ہیں۔</strong></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آگر قیدیوں کے خلاف ثبوت تھے تو انہیں جیل بھیجنا چاہیے تھا۔ تاہم قیدیوں کی حراست غیرقانونی ہے اور انہیں ایک سکینڈ بھی نہیں رکھ سکتے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی نمائندگی کرنے والے راجہ ارشاد نے بنچ کو بتایا تھا کہ فوج اور ایجنسیوں کو قیدیوں کے خلاف ثبوت نہیں ملا۔</p>
<p>علاوہ ازیں عدالت میں ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سیکریٹری فاٹا، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی سرزنش ہوئی۔</p>
<p>سماعت کے دوران چیف جسٹس اور ایجنسیوں کے وکیل کا مکالمہ ہوا۔ جس کے دوران راجہ ارشاد نے کہا کہ آج تک کسی دہشتگرد کو سزا نہیں ہوئی۔</p>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ اب انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس قیدیوں کو حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/54463</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jan 2013 10:45:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان نیوز)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
