<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:14:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 13:14:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: کشتی ڈوبنے سے متعدد لاپتہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/60257/bangladesh-ship-drowned</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/02/bangladesh-6701.jpg"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-60261 " alt="بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثات کی ایک وجہ گنجائش سے زائد افراد کو سوار کرنا ہے۔ — اے ایف پی فائل فوٹو" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/02/bangladesh-6701.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثات کی ایک وجہ گنجائش سے زائد افراد کو سوار کرنا ہے۔ — اے ایف پی فائل فوٹو&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ایک دریا میں سو کے قریب مسافروں کو لے جانے والی کشتی ڈوبنے سے متعدد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی پولیس سربراہ جہانگیر حسین نے جمعہ کو وسطی ضلع منشی گنج میں دریائے میغنا میں پیش آنے والے واقعہ کے  حوالے سے بتایا کہ کشتی میں سو کے قریب افراد سوار تھے، کچھ لوگ تیر کر ساحل پر آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلعی منتظم اعلیٰ سیف الدین بادل کا کہنا تھا کہ پچاس سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو اطلاعات کے حوالے سے بتایا کہ پچیس کے قریب لوگ تیر کر کناروں پر پہنچ گئے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بادل کا کہنا تھا کہ ایم وی سروش نامی کشتی دارالحکومت ڈھاکہ سے مسافروں کو جنوب مشرقی ضلع چاند پور لے جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے کی وجہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثات کی ایک تاریخ ہے جس کی بنیادی وجہ پست حفاظتی معیارات اور کشتیوں پر گنجائش سے زیادہ افراد کو سوار کرنا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ مارچ دریائے میغنا میں ایک مسافر کشتی مال بردار بحری جہاز سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گئی تھی جس کے نتیجے میں 147افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے ۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/02/bangladesh-6701.jpg"><img class="size-full wp-image-60261 " alt="بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثات کی ایک وجہ گنجائش سے زائد افراد کو سوار کرنا ہے۔ — اے ایف پی فائل فوٹو" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/02/bangladesh-6701.jpg" width="670" height="350" /></a></div><div class="caption"> بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثات کی ایک وجہ گنجائش سے زائد افراد کو سوار کرنا ہے۔ — اے ایف پی فائل فوٹو</div></div></p>
<p><strong>ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ایک دریا میں سو کے قریب مسافروں کو لے جانے والی کشتی ڈوبنے سے متعدد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>مقامی پولیس سربراہ جہانگیر حسین نے جمعہ کو وسطی ضلع منشی گنج میں دریائے میغنا میں پیش آنے والے واقعہ کے  حوالے سے بتایا کہ کشتی میں سو کے قریب افراد سوار تھے، کچھ لوگ تیر کر ساحل پر آ گئے ہیں۔</p>
<p>ضلعی منتظم اعلیٰ سیف الدین بادل کا کہنا تھا کہ پچاس سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو اطلاعات کے حوالے سے بتایا کہ پچیس کے قریب لوگ تیر کر کناروں پر پہنچ گئے ہیں ۔</p>
<p>بادل کا کہنا تھا کہ ایم وی سروش نامی کشتی دارالحکومت ڈھاکہ سے مسافروں کو جنوب مشرقی ضلع چاند پور لے جا رہی تھی۔</p>
<p>فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے کی وجہ کیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثات کی ایک تاریخ ہے جس کی بنیادی وجہ پست حفاظتی معیارات اور کشتیوں پر گنجائش سے زیادہ افراد کو سوار کرنا ہے ۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ مارچ دریائے میغنا میں ایک مسافر کشتی مال بردار بحری جہاز سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گئی تھی جس کے نتیجے میں 147افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے ۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/60257</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Feb 2013 12:36:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2013/02/bangladesh-6701.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2013/02/bangladesh-6701.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
