<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 03:22:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 03:22:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نواز شریف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/80111/nawaz-sharif-2-2</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دو مرتبہ وزیرِ اعظم اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہنے والے میاں محمد نواز شریف کو سن اُنیّسو اٹھانوے میں کیے جانے والے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے بخوبی پہچانا جاتا ہے۔ آپ اس وقت ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ۔ نواز کے سربراہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تعارف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں نواز شریف پاکستان کے ممتاز سیاستدان، کاروباری شخصیت اور دو مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی وزارتِ عظمیٰ کا پہلا دور یکم نومبر سن اُنیّسو نوّے تا اٹھارہ جولائی سن اُنیّسو ترانوے جبکہ دوسرا سترہ فروری سن اُنیّسو ستانوے تا بارہ اکتوبر سن اُنیّسو ننانوے پر محیط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی جماعت، پاکستان مسلم لیگ ۔ نواز بدستور ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے جو پنجاب میں واضح اکثریت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوانح عمری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف پچیس دسمبر، اُنیّسو اُننچاس میں، لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد میاں شریف صنعتکار تھے جو سن اُنیّسو سینتالیس میں امرتسر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعہ پنجاب کے شعبہ قانون میں داخلہ لینے سے قبل انہوں نے سینٹ انتھونی ہائی اسکول اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار 'اتفاق ہاؤس' سے منسلک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی شادی کلثوم نواز سے ہوئی اور ان کے تین بچے، مریم، حسن اور حسین ہیں۔  ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بھی سیاستدان ہیں اور وہ بھی دو بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیاسی کیریئر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کے سیاسی سفر کا آغاز سن اُنیّسو اسّی کی دہائی میں تب شروع ہوا، جب انہوں نے پنجاب حکومت میں بطور وزیرِ خزانہ شمولیت اختیار کی۔ بعد میں وہ صوبے کے وزیرِ اعلیٰ بھی بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور وزیرِ خزانہ انہوں نے ایسی معاشی پالیسیاں متعارف کرائیں اور ان کا نفاذ کیا جن سے صوبے کی مالی خوشحالی میں بہت اضافہ ہوا، ایک وقت میں، وفاق کی تمام اکائیوں میں پنجاب کو سب سے مالدار صوبے کے طور پر جانا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی معاشی پالیسیوں کو جنرل ضیاالحق کی بھی حمایت حاصل رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں، نواز شریف کو پنجاب کا وزیرِ اعلی نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں انہوں نے اکثریت حاصل کی اورمسلسل دوسری بار اس عہدے پر فائز ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر اُنیّسو نوّے میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بینظیر بھٹو کو شکست دے کر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دور میں، نواز شریف نے ملک گیر سطح پر متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ہی اسمبلی سے شریعت بِل منظور کیا گیا، جس کا مقصد قرآن و سُنت کو ملک کا قانون بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں نواز شریف حکومت نے ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی نگرانی اور اس کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے واسطے ایک ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتب کردہ مسودہ قانون سے ظاہر تھا کہ  نواز شریف خواتین کے خلاف امتیازی قوانین (جیسا کہ حدود آرڈیننس)ختم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکنگ گروپ نے شریعت کورٹ کے قیام، اسلامی تعلیمات شامل کرنے کے لیے نصاب میں تبدیلی، نیز ذرائع ابلاغ پر سخت ترین سینسر شپ کے نفاذ کی سفارشات پیش کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے متعدد سرکاری اداروں کو نجکاری کی لیے پیش کیا اور نجی منی چینجرز کے ذریعے غیر ملکیِ زرِ مبادلہ کی ترسیلات کے لیے قانون سازی کی۔ ترقیاتی منصوبوں اور صنعت کاری میں سندھ اور بلوچستان کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کر کے پی پی پی اور ایم کیو ایم نے انہیں سخت تنقید کا ہدف بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کو پہلی بار اُنیّسو ترانوے میں اُس وقت ایوانِ اقتدار سے باہر نکلنا پڑا، جب بطور وزیراعظم اُن کے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے تعلقات نہایت ہی کشیدہ صورت اختیار کرگئے تھے۔ ان کی سبکدوشی نے نئی حکومت کے قیام کے لیے بینظیر بھٹو کا راستہ صاف کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن اُنیّسو ستانوے میں نواز شریف ایک بار پھر وزیرِ اعظم بنے، جس کے بعد انہوں نے متعدد آئینی ترامیم کیں۔ ان میں سے بعض ترامیم ایسی تھیں جس کا مقصد اپنے دورِ حکومت میں 'اداروں کی مخالفت' کا مقابلہ کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور میں توہینِ عدالت کے نوٹس پر ان کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ تنازعہ کھڑا ہوا اور بلاآخرِ کار اُنہیں فارغ ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نواز شریف کا دوسرا دورِ حکومت تھا، جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے، جس کے چند روز بعد پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان دھماکوں کے نتیجے میں انہیں ملک گیر سطح پر خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تاہم اسی دوران ان کا اپنے نئے منتخب کردہ آرمی چیف پرویز مشرف کے ساتھ کارگل کے معاملے پر تنازعہ ہوگیا، جو ان دونوں کے درمیان شدت اختیار کرتا چلا گیا اور آخر کار بارہ اکتوبر اُنیّسو ننانوے کو فوج نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کو گرفتار کر کے ان پر ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا اور اپریل دو ہزار میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں، لبنانی وزیرِ اعظم رفیق حریری کی مداخلت سے  پرویز مشرف اور نواز شریف کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ ہوا اور فوجی حکومت نے ان کی سزا معاف کر کےاہلِ خانہ سمیت سعودی عرب جلا وطن کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان واپسی اور اُس کے بعد&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اور ملکی سیاست میں شمولیت کے تقریباً ایک ماہ بعد، نومبر دو ہزار سات میں نواز شریف وطن واپس لوٹ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے نتیجے میں ان کی جماعت نے قومی اسمبلی کی ایک چوتھائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور وفاق اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکتِ اقتدار کرتے ہوئے مخلوط حکومت قائم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرف دور میں برطرف کیے گئے سپریم کورٹ کے ججوں کی بحالی اور آصف علی زرداری کی بطور متفقہ صدارتی امیدوار نامزدگی پر دونوں جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد نواز شریف کی جماعت نے وفاق کی مخلوط اتحادی حکومت سے علیحدگی اختیار کی اور بطور اپوزیشن سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد قائم کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانِ اقتدار میں پہنچے تو ملک کو جدید اور ترقیاتی خطوط پر استوار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان اور لا پتا افراد کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر ان کی حکومت قائم ہوئی تو وہ اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک جبری طور پر لاپتا تمام افراد کو بازیاب نہیں کرلیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے نواز شریف نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وہ قبل ازیں، سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کرچکے ہیں تاہم وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملے بند کرنے کا موقف رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور سیاستدان نواز شریف کی سوچ میں ایک واضح تبدیلی، جسے محسوس کیا جاسکتا ہے وہ فوج اور اس کے کردار سے متعلق ان کا تبدیل شدہ نظریہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافی سلیم شہزاد کے قتل پر نواز شریف کا کہنا تھا کوئی ادارہ مقدس گائے نہیں اور نہ ہی کسی کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اپنے بیان میں انہوں نے فوج کا نام تو نہیں لیا تھا تاہم سب ہی یہ جانتے ہیں کہ یہ کہتے ہوئے اُن کا اشارہ کس کی طرف تھا: (انہیں) چاہیے کہ اب اپنی سوچ تبدیل کرلیں۔'&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق و تحریر: سونہں ابڑو&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریزی سے اُردو ترجمہ: مختار آزاد&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دو مرتبہ وزیرِ اعظم اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہنے والے میاں محمد نواز شریف کو سن اُنیّسو اٹھانوے میں کیے جانے والے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے بخوبی پہچانا جاتا ہے۔ آپ اس وقت ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ۔ نواز کے سربراہ ہیں۔</strong></p>
<p><strong>تعارف</strong></p>
<p>میاں نواز شریف پاکستان کے ممتاز سیاستدان، کاروباری شخصیت اور دو مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم رہ چکے ہیں۔</p>
<p>ان کی وزارتِ عظمیٰ کا پہلا دور یکم نومبر سن اُنیّسو نوّے تا اٹھارہ جولائی سن اُنیّسو ترانوے جبکہ دوسرا سترہ فروری سن اُنیّسو ستانوے تا بارہ اکتوبر سن اُنیّسو ننانوے پر محیط ہے۔</p>
<p>ان کی جماعت، پاکستان مسلم لیگ ۔ نواز بدستور ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے جو پنجاب میں واضح اکثریت رکھتی ہے۔</p>
<p><strong>سوانح عمری</strong></p>
<p>نواز شریف پچیس دسمبر، اُنیّسو اُننچاس میں، لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد میاں شریف صنعتکار تھے جو سن اُنیّسو سینتالیس میں امرتسر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔</p>
<p>جامعہ پنجاب کے شعبہ قانون میں داخلہ لینے سے قبل انہوں نے سینٹ انتھونی ہائی اسکول اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار 'اتفاق ہاؤس' سے منسلک ہوگئے۔</p>
<p>ان کی شادی کلثوم نواز سے ہوئی اور ان کے تین بچے، مریم، حسن اور حسین ہیں۔  ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بھی سیاستدان ہیں اور وہ بھی دو بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں۔</p>
<p><strong>سیاسی کیریئر</strong></p>
<p>نواز شریف کے سیاسی سفر کا آغاز سن اُنیّسو اسّی کی دہائی میں تب شروع ہوا، جب انہوں نے پنجاب حکومت میں بطور وزیرِ خزانہ شمولیت اختیار کی۔ بعد میں وہ صوبے کے وزیرِ اعلیٰ بھی بنے۔</p>
<p>بطور وزیرِ خزانہ انہوں نے ایسی معاشی پالیسیاں متعارف کرائیں اور ان کا نفاذ کیا جن سے صوبے کی مالی خوشحالی میں بہت اضافہ ہوا، ایک وقت میں، وفاق کی تمام اکائیوں میں پنجاب کو سب سے مالدار صوبے کے طور پر جانا جاتا تھا۔</p>
<p>ان کی معاشی پالیسیوں کو جنرل ضیاالحق کی بھی حمایت حاصل رہی تھی۔</p>
<p>بعد میں، نواز شریف کو پنجاب کا وزیرِ اعلی نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں انہوں نے اکثریت حاصل کی اورمسلسل دوسری بار اس عہدے پر فائز ہوئے۔</p>
<p>نومبر اُنیّسو نوّے میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بینظیر بھٹو کو شکست دے کر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دور میں، نواز شریف نے ملک گیر سطح پر متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔</p>
<p>ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ہی اسمبلی سے شریعت بِل منظور کیا گیا، جس کا مقصد قرآن و سُنت کو ملک کا قانون بنانا تھا۔</p>
<p>بعد میں نواز شریف حکومت نے ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی نگرانی اور اس کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے واسطے ایک ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا۔</p>
<p>مرتب کردہ مسودہ قانون سے ظاہر تھا کہ  نواز شریف خواتین کے خلاف امتیازی قوانین (جیسا کہ حدود آرڈیننس)ختم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔</p>
<p>ورکنگ گروپ نے شریعت کورٹ کے قیام، اسلامی تعلیمات شامل کرنے کے لیے نصاب میں تبدیلی، نیز ذرائع ابلاغ پر سخت ترین سینسر شپ کے نفاذ کی سفارشات پیش کی تھیں۔</p>
<p>نواز شریف نے متعدد سرکاری اداروں کو نجکاری کی لیے پیش کیا اور نجی منی چینجرز کے ذریعے غیر ملکیِ زرِ مبادلہ کی ترسیلات کے لیے قانون سازی کی۔ ترقیاتی منصوبوں اور صنعت کاری میں سندھ اور بلوچستان کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کر کے پی پی پی اور ایم کیو ایم نے انہیں سخت تنقید کا ہدف بنایا۔</p>
<p>نواز شریف کو پہلی بار اُنیّسو ترانوے میں اُس وقت ایوانِ اقتدار سے باہر نکلنا پڑا، جب بطور وزیراعظم اُن کے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے تعلقات نہایت ہی کشیدہ صورت اختیار کرگئے تھے۔ ان کی سبکدوشی نے نئی حکومت کے قیام کے لیے بینظیر بھٹو کا راستہ صاف کردیا۔</p>
<p>سن اُنیّسو ستانوے میں نواز شریف ایک بار پھر وزیرِ اعظم بنے، جس کے بعد انہوں نے متعدد آئینی ترامیم کیں۔ ان میں سے بعض ترامیم ایسی تھیں جس کا مقصد اپنے دورِ حکومت میں 'اداروں کی مخالفت' کا مقابلہ کرنا تھا۔</p>
<p>اس دور میں توہینِ عدالت کے نوٹس پر ان کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ تنازعہ کھڑا ہوا اور بلاآخرِ کار اُنہیں فارغ ہونا پڑا۔</p>
<p>یہ نواز شریف کا دوسرا دورِ حکومت تھا، جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے، جس کے چند روز بعد پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کردیے۔</p>
<p>اگرچہ ان دھماکوں کے نتیجے میں انہیں ملک گیر سطح پر خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تاہم اسی دوران ان کا اپنے نئے منتخب کردہ آرمی چیف پرویز مشرف کے ساتھ کارگل کے معاملے پر تنازعہ ہوگیا، جو ان دونوں کے درمیان شدت اختیار کرتا چلا گیا اور آخر کار بارہ اکتوبر اُنیّسو ننانوے کو فوج نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔</p>
<p>نواز شریف کو گرفتار کر کے ان پر ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا اور اپریل دو ہزار میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی۔</p>
<p>بعد میں، لبنانی وزیرِ اعظم رفیق حریری کی مداخلت سے  پرویز مشرف اور نواز شریف کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ ہوا اور فوجی حکومت نے ان کی سزا معاف کر کےاہلِ خانہ سمیت سعودی عرب جلا وطن کردیا۔</p>
<p><strong>پاکستان واپسی اور اُس کے بعد</strong></p>
<p>بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اور ملکی سیاست میں شمولیت کے تقریباً ایک ماہ بعد، نومبر دو ہزار سات میں نواز شریف وطن واپس لوٹ آئے۔</p>
<p>سن دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے نتیجے میں ان کی جماعت نے قومی اسمبلی کی ایک چوتھائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور وفاق اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکتِ اقتدار کرتے ہوئے مخلوط حکومت قائم کی۔</p>
<p>مشرف دور میں برطرف کیے گئے سپریم کورٹ کے ججوں کی بحالی اور آصف علی زرداری کی بطور متفقہ صدارتی امیدوار نامزدگی پر دونوں جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔</p>
<p>جس کے بعد نواز شریف کی جماعت نے وفاق کی مخلوط اتحادی حکومت سے علیحدگی اختیار کی اور بطور اپوزیشن سامنے آئی۔</p>
<p>سن دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد قائم کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانِ اقتدار میں پہنچے تو ملک کو جدید اور ترقیاتی خطوط پر استوار کریں گے۔</p>
<p>بلوچستان اور لا پتا افراد کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر ان کی حکومت قائم ہوئی تو وہ اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک جبری طور پر لاپتا تمام افراد کو بازیاب نہیں کرلیا جاتا۔</p>
<p>دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے نواز شریف نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>اگرچہ وہ قبل ازیں، سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کرچکے ہیں تاہم وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملے بند کرنے کا موقف رکھتے ہیں۔</p>
<p>بطور سیاستدان نواز شریف کی سوچ میں ایک واضح تبدیلی، جسے محسوس کیا جاسکتا ہے وہ فوج اور اس کے کردار سے متعلق ان کا تبدیل شدہ نظریہ ہے۔</p>
<p>صحافی سلیم شہزاد کے قتل پر نواز شریف کا کہنا تھا کوئی ادارہ مقدس گائے نہیں اور نہ ہی کسی کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ اپنے بیان میں انہوں نے فوج کا نام تو نہیں لیا تھا تاہم سب ہی یہ جانتے ہیں کہ یہ کہتے ہوئے اُن کا اشارہ کس کی طرف تھا: (انہیں) چاہیے کہ اب اپنی سوچ تبدیل کرلیں۔'</p>
<p>تحقیق و تحریر: سونہں ابڑو</p>
<p>انگریزی سے اُردو ترجمہ: مختار آزاد</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/80111</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Apr 2013 10:43:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اردو ڈیسک)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
