<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Editorial</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 22:48:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 22:48:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مذہبی توہین اور خودساختہ انصاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/8933/blasphemy-law</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2012/07/blasphemy-agitation-afp-670.jpg"&gt;&lt;img class="size-medium wp-image-8934" title="blasphemy-agitation-afp-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2012/07/blasphemy-agitation-afp-670.jpg?w=300" alt="" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; ایک مشتعل ہجوم اور پولیس ۔۔ فائل تصویر اے ایف پی&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بہاولپور میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مبینہ مذہبی توہین کے مرتکب شخص کو زندہ جلا کر ماردینے کا واقعہ پاکستانی معاشرے کی بربریت کی واضع مثال ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس واقعے کا شکار شخص ایک ذہنی مریض تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں قانون کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی اور کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر سزا دی گئی ۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;لیکن منگل کا واقعہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ مذہبی توہین کے الزامات سے وابستہ معاملات کے سامنے ملک کا عدالتی اور قانون نافذ کرنے والا نظام بے بس نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس شخص کو پولیس اسٹیشن سے باہر نکالا گیا اورآگ لگادی گئی۔ اس سے قبل جون میں بھی اسی طرح کے دو واقعات پیش آئے جب کوئٹہ اور کراچی میں مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول کر توہین کے دو ملزمان کو، جن میں سے ایک دماغی مریض اور دوسرا منشیات کا عادی تھا، حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;گزشتہ برس بعض وکلاء اور مذہبی گروہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ جس جج نے سلمان تاثیر کے قاتل کو سزائے موت سنائی تھی اسے اُن کے حوالے کیا جائے۔ صد شکرہے کہ اس جج کی قسمت جسٹس عارف بھٹی جیسی نہ تھی جنہیں دو عیسائیوں پر توہین کے الزامات رد کرنے پر انیس سو ستانوے میں ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس واقعے کو گزرے ایک عشرے بیت چکا ہے لیکن اب تک حکومت یہ واضح نہیں کرسکی کہ توہین کے معاملات میں قانون ہاتھوں میں لینے کا عمل کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس معاملے میں حکومتِ پنجاب خصوصا قصوروار ہے کیونکہ اس نے دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے صوبے میں متعلقہ قانون کے غلط استعمال پر آنکھیں موند رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;اس سانحے کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک اور ایسا واقعہ ہے جس میں ہجوم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور یہ مسئلہ صرف توہین کے معاملات تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس ہجوم کی جسامت اتنی بڑی ہوتی ہے کہ کسی ایک کو ذمے دار قراردینا تقریباً محال ہوتا ہے ۔ مثلاً، بہاولپور کے واقعے میں کسی ایک کو کیسے الزام  دیا جاسکتا ہے جبکہ دو ہزار افراد کے خلاف مقدمہ تو درج ہوا ہے لیکن نام کسی ایک کا بھی نہیں لکھا گیا؟&lt;/p&gt;&#13;
دکانوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے شرپسندوں سے لے کر توانائی بحران پر گاڑیاں جلاتے ہوئے انبوہ تک، سیالکوٹ کے واقعے سے لے کر مذکورہ بالا سانحے تک  کے یہ واقعات اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہمارے معاشرے میں برداشت اور رحم کی کمی کے علاوہ لوگوں کا ملکی قوانین اور انصاف پر بھی اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے  پاکستان ایک انتہائی بے رحم معاشرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><a href="https://i.dawn.com/urdu/2012/07/blasphemy-agitation-afp-670.jpg"><img class="size-medium wp-image-8934" title="blasphemy-agitation-afp-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2012/07/blasphemy-agitation-afp-670.jpg?w=300" alt="" width="670" height="350" /></a></div><div class="caption"> ایک مشتعل ہجوم اور پولیس ۔۔ فائل تصویر اے ایف پی</div></div>
<p><strong>بہاولپور میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مبینہ مذہبی توہین کے مرتکب شخص کو زندہ جلا کر ماردینے کا واقعہ پاکستانی معاشرے کی بربریت کی واضع مثال ہے۔</strong></p>
<p>اس واقعے کا شکار شخص ایک ذہنی مریض تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں قانون کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی اور کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر سزا دی گئی ۔</p>
<p>لیکن منگل کا واقعہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ مذہبی توہین کے الزامات سے وابستہ معاملات کے سامنے ملک کا عدالتی اور قانون نافذ کرنے والا نظام بے بس نظر آتا ہے۔</p>
<p>اس شخص کو پولیس اسٹیشن سے باہر نکالا گیا اورآگ لگادی گئی۔ اس سے قبل جون میں بھی اسی طرح کے دو واقعات پیش آئے جب کوئٹہ اور کراچی میں مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول کر توہین کے دو ملزمان کو، جن میں سے ایک دماغی مریض اور دوسرا منشیات کا عادی تھا، حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>گزشتہ برس بعض وکلاء اور مذہبی گروہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ جس جج نے سلمان تاثیر کے قاتل کو سزائے موت سنائی تھی اسے اُن کے حوالے کیا جائے۔ صد شکرہے کہ اس جج کی قسمت جسٹس عارف بھٹی جیسی نہ تھی جنہیں دو عیسائیوں پر توہین کے الزامات رد کرنے پر انیس سو ستانوے میں ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>اس واقعے کو گزرے ایک عشرے بیت چکا ہے لیکن اب تک حکومت یہ واضح نہیں کرسکی کہ توہین کے معاملات میں قانون ہاتھوں میں لینے کا عمل کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ۔</p>
<p>اس معاملے میں حکومتِ پنجاب خصوصا قصوروار ہے کیونکہ اس نے دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے صوبے میں متعلقہ قانون کے غلط استعمال پر آنکھیں موند رکھی ہیں۔</p>
<p>اس سانحے کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک اور ایسا واقعہ ہے جس میں ہجوم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور یہ مسئلہ صرف توہین کے معاملات تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس ہجوم کی جسامت اتنی بڑی ہوتی ہے کہ کسی ایک کو ذمے دار قراردینا تقریباً محال ہوتا ہے ۔ مثلاً، بہاولپور کے واقعے میں کسی ایک کو کیسے الزام  دیا جاسکتا ہے جبکہ دو ہزار افراد کے خلاف مقدمہ تو درج ہوا ہے لیکن نام کسی ایک کا بھی نہیں لکھا گیا؟</p>
دکانوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے شرپسندوں سے لے کر توانائی بحران پر گاڑیاں جلاتے ہوئے انبوہ تک، سیالکوٹ کے واقعے سے لے کر مذکورہ بالا سانحے تک  کے یہ واقعات اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہمارے معاشرے میں برداشت اور رحم کی کمی کے علاوہ لوگوں کا ملکی قوانین اور انصاف پر بھی اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے  پاکستان ایک انتہائی بے رحم معاشرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/8933</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Jul 2012 16:58:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2012/07/blasphemy-agitation-afp-670.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2012/07/blasphemy-agitation-afp-670.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
