<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:03:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:03:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیمار منچھر جھیل علاج چاہتی ہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/95292/manchar-lake</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;div class="image-container"&gt;&lt;div class="image"&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/05/manchar-lake-670.jpg"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-95293" alt="سیلاب کے بعد منجھر جھیل کا ایک منظر۔ فائل تصویر " src="https://i.dawn.com/urdu/2013/05/manchar-lake-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="caption"&gt; سیلاب کے بعد منجھر جھیل کا ایک منظر۔ فائل تصویر&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حیدرآباد: پاکستان کی اہم ترین جھیلوں میں سے ایک منچھر، ہزاروں کیوسک زہریلے پانی سے آلودہ ہوچکی ہے جس میں فوری طور پر ہزاروں کیوسک پانی چھوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی آلودگی کو کم کیا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;ممتاز آبی ماہر ڈاکٹر احسان صدیقی نے کہا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا) کو 25,000 کیوسک پانی فراہم کیا جائے تاکہ آلودہ جھیل کو بحال کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ انتیس ستمبر 2012 سے  اکیس مئی 2013  تک اس جھیل سے 320,100 کیوسک زہریلا پانی دریائے سندھ میں شامل کیا گیا اور میں فوری طور پر مطالبہ کرتا ہوں کہ سندھ کو اضافی طور پر 25,000 کیوسک پانی دیا جائے تاکہ جھیل کو مون سون کی آمد سے قبل خالی کرکے دوبارہ بحال کیا جائے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;ڈاکٹر صدیقی نے بتایا کہ وہ  ہائی کورٹ کے حکم پر وہ دریائے سندھ میں چھوڑے جانے سے قبل جھیل کے پانی کا جائزہ لے رہے ہیں ۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ( منچھر) جھیل کا پانی ، حیدرآباد، ٹھھٹہ، جامشورو، کراچی اور کوٹری بیراج ڈاؤن سٹریم کے رہائشی استعمال کرتے ہیں ۔ اسی لئے اس کا پانی دریائے سندھ میں چھوڑے جانے سے قبل مناسب طور پر اس کی آلودگی کی شدت کو کم کرنا ( ڈیلیوشن) ضروری ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم پانی کو ڈیلیوشن فارمولہ کے تحت ریلیز کرتے ہیں۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جب ہم جھیل کا پانی دریا میں انڈیل رہے ہوں تب دریا میں مناسب پانی ہونا چاہئے اور اس دریا کے کنارے پانی کے کم دباؤ کے وقت چھوڑنا چاہئے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;ڈاکٹر صدیقی نے بتایا کہ دریا کے پانی کی کوالٹی کو عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے تحت رکھا جانا چاہئے۔ لیکن اب خدشہ ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی اور ناکافی بہاؤ کی وجہ سے اب اس معیار کو برقرار کھنا ناممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگی کا انحصار اس جھیل پر ہے اور اسی لئے پچیس ہزارکیوسک پانی کو کوٹہ ملنا چاہئے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت منچھر جھیل میں پانی کی سطح کم ہے جبکہ اس کا زہریلا پانی دریا میں شامل کرنے کیلئے لازمی ہے کہ بہاؤ بہت تیز ہو اور اسی کے ساتھ منچھر مون سون بارشوں کا برداشت کرسکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس جھیل پر ڈھائی کروڑ افراد کا دارومدار ہے اور اسی لئے فوری طور پر پچیس ہزار کیوسک  پانی کی ضرورت ہے تاکہ پانی کی مناسب ڈیلیوشن کی جاسکے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جھیل کی بحالی کیلئے آراوبی ڈی پروجیکٹ ٹو کو مکمل کرنے کی فوری ضرورت ہے جس کے زریعے اس کا آلودہ پانی سمندر تک لے جایا جاسکے گا۔ یہ منصوبہ پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار رہا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><div class="image-container"><div class="image"><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/05/manchar-lake-670.jpg"><img class="size-full wp-image-95293" alt="سیلاب کے بعد منجھر جھیل کا ایک منظر۔ فائل تصویر " src="https://i.dawn.com/urdu/2013/05/manchar-lake-670.jpg" width="670" height="350" /></a></div><div class="caption"> سیلاب کے بعد منجھر جھیل کا ایک منظر۔ فائل تصویر</div></div>
<p><strong>حیدرآباد: پاکستان کی اہم ترین جھیلوں میں سے ایک منچھر، ہزاروں کیوسک زہریلے پانی سے آلودہ ہوچکی ہے جس میں فوری طور پر ہزاروں کیوسک پانی چھوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی آلودگی کو کم کیا جاسکے۔</strong></p>
<p>ممتاز آبی ماہر ڈاکٹر احسان صدیقی نے کہا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا) کو 25,000 کیوسک پانی فراہم کیا جائے تاکہ آلودہ جھیل کو بحال کیا جاسکے۔</p>
<p>حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ انتیس ستمبر 2012 سے  اکیس مئی 2013  تک اس جھیل سے 320,100 کیوسک زہریلا پانی دریائے سندھ میں شامل کیا گیا اور میں فوری طور پر مطالبہ کرتا ہوں کہ سندھ کو اضافی طور پر 25,000 کیوسک پانی دیا جائے تاکہ جھیل کو مون سون کی آمد سے قبل خالی کرکے دوبارہ بحال کیا جائے۔</p>
<p>ڈاکٹر صدیقی نے بتایا کہ وہ  ہائی کورٹ کے حکم پر وہ دریائے سندھ میں چھوڑے جانے سے قبل جھیل کے پانی کا جائزہ لے رہے ہیں ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ( منچھر) جھیل کا پانی ، حیدرآباد، ٹھھٹہ، جامشورو، کراچی اور کوٹری بیراج ڈاؤن سٹریم کے رہائشی استعمال کرتے ہیں ۔ اسی لئے اس کا پانی دریائے سندھ میں چھوڑے جانے سے قبل مناسب طور پر اس کی آلودگی کی شدت کو کم کرنا ( ڈیلیوشن) ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم پانی کو ڈیلیوشن فارمولہ کے تحت ریلیز کرتے ہیں۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جب ہم جھیل کا پانی دریا میں انڈیل رہے ہوں تب دریا میں مناسب پانی ہونا چاہئے اور اس دریا کے کنارے پانی کے کم دباؤ کے وقت چھوڑنا چاہئے۔</p>
<p>ڈاکٹر صدیقی نے بتایا کہ دریا کے پانی کی کوالٹی کو عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے تحت رکھا جانا چاہئے۔ لیکن اب خدشہ ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی اور ناکافی بہاؤ کی وجہ سے اب اس معیار کو برقرار کھنا ناممکن ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگی کا انحصار اس جھیل پر ہے اور اسی لئے پچیس ہزارکیوسک پانی کو کوٹہ ملنا چاہئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت منچھر جھیل میں پانی کی سطح کم ہے جبکہ اس کا زہریلا پانی دریا میں شامل کرنے کیلئے لازمی ہے کہ بہاؤ بہت تیز ہو اور اسی کے ساتھ منچھر مون سون بارشوں کا برداشت کرسکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس جھیل پر ڈھائی کروڑ افراد کا دارومدار ہے اور اسی لئے فوری طور پر پچیس ہزار کیوسک  پانی کی ضرورت ہے تاکہ پانی کی مناسب ڈیلیوشن کی جاسکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جھیل کی بحالی کیلئے آراوبی ڈی پروجیکٹ ٹو کو مکمل کرنے کی فوری ضرورت ہے جس کے زریعے اس کا آلودہ پانی سمندر تک لے جایا جاسکے گا۔ یہ منصوبہ پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار رہا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/95292</guid>
      <pubDate>Sat, 25 May 2013 00:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2013/05/manchar-lake-670.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2013/05/manchar-lake-670.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
