<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:45:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:45:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب کیوں ہو گئے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275060/ausat-amdani-mein-izafe-ke-bawajud-pakistani-pahle-se-ziada-ghareeb-kiyon-ho-gaye</link>
      <description>&lt;p&gt;یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور  تمام مسائل کی ماں  ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو فوری طور پر  مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔</p>
<p>سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔</p>
<p>لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔</p>
<p>اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔</p>
<p>یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔</p>
<p>شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟</p>
<p>اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔</p>
<p>تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور  تمام مسائل کی ماں  ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔</p>
<p>پاکستان کو فوری طور پر  مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔</p>
<p>جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275060</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:43:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظفر مرزامفتاح اسمٰعیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091440003be2723.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091440003be2723.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی کب تک خسارے میں رہے گی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275032/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275007'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135 ارب روپے میں سے صرف 7.5 فیصد رقم پیشگی ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے 75 فیصد حصص حاصل کر لیتا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ پی آئی اے میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا ہے، اس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے اور اس کے بدلے حصص ریاست کے پاس رہنے چاہئیں۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے خریدار کو مکمل 45 ارب روپے بغیر کسی رعایت کے ادا کرنا ہوں گے۔ یوں اگر وہ ایسا کرے تو مجموعی طور پر صرف 55 ارب روپے ادا کر کے تقریباً 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی میں ادارے کی قدر 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔ منطقی طور پر اسے صرف ایک تہائی حصص دیے جاتے اور باقی ریاست کے پاس رہنے چاہئیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ بولی سے قبل جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا اور بظاہر فروخت کے بعد سامنے آیا۔ عوامی نقصان اور غیر شفاف عمل کے پیش نظر یہ کہنا کہ پی آئی اے کے بدلے جو کچھ ملا وہ کافی ہے، درحقیقت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا میں کسی بھی ایسے معاہدے میں ایسی عجیب شرائط دیکھنے میں نہیں آئیں۔ طنزیہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پی آئی اے کو OLX پر بیچنے سے زیادہ رقم مل جاتی!&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے اپنے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا اور جو ملکی فضائی نظام میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کی دہائی میں بھی اس پر سستے داموں فروخت کے الزامات لگے تھے۔ لیکن خریداروں کو بھی ایک قومی اثاثے پر ایسا ناقص معاہدہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ یہی بات فوجی فرٹیلائزر کے معاملے پر بھی صادق آتی ہے، جس کے بارے میں بعض حلقے کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بولی سے الگ ہوئی تاکہ بعد میں اثر و رسوخ کے ذریعے کسی فاتح کے ساتھ شامل ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے متنازع مینڈیٹ اور وسیع تر ادارہ جاتی کردار نے اس سودے کو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے مزید قابلِ بحث بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداروں کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے اور نہ عالمی سطح کی مہارت۔ ایئر انڈیا کا خریدار ٹاٹا گروپ تھا، جس نے 1930 کی دہائی میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح کا ایک تجربہ کار گروپ ہے۔ کیا پی آئی اے کے خریدار اسے عالمی ادارے کے طور پر چلا سکیں گے؟ انہیں عملے کی چھانٹی، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، اس کے باوجود ان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقصان پی آئی اے کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہوچکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کی بنا پر؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی نجکاریوں میں مسائل کی بھرمار رہی۔ کم قیمت فروخت، بعد ازاں خراب کارکردگی، اجارہ داریاں، غیر شفاف سودے، مہنگی پیداوار اور بڑے پیمانے پر عملے کی برطرفیاں۔ کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کا کاروبار میں کوئی کام نہیں لیکن ریاست کو یہ بتانا بھی کاروباری طبقے کا کام نہیں۔ ریاست کو اُن شعبوں میں کاروبار کرنے کا پورا حق ہے جہاں نجی شعبہ بہتر طور پر کام نہیں کر سکتا، مثلاً اسٹریٹجک یا عوام دوست شعبے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسلسل مسائل اور نجی شعبے کی محدود انتظامی و مالی صلاحیت کے پیش نظر دیگر آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جیسے خودمختار پیشہ ور بورڈز، صرف انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملازمین کی ملکیت والے ادارے، ادارے کو ختم کرنا یا حصص کی عوامی فروخت۔ ہر بیمار ادارے کے لیے بہترین راستہ واضح معیار اور شفاف عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری صرف اُن چھوٹے اداروں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جن کی کوئی قومی یا اسٹریٹجک اہمیت نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سودے کے حامی کہتے ہیں کہ نجکاری سے پی آئی اے درست ہو جائے گی، دیگر سرکاری اداروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسے خوش نما دعووں کو احتیاط سے پرکھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں دیگر راستے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔</p>
<p>یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275007'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔</p>
<p>مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135 ارب روپے میں سے صرف 7.5 فیصد رقم پیشگی ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے 75 فیصد حصص حاصل کر لیتا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ پی آئی اے میں کی جائے گی۔</p>
<p>چونکہ یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا ہے، اس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے اور اس کے بدلے حصص ریاست کے پاس رہنے چاہئیں۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے خریدار کو مکمل 45 ارب روپے بغیر کسی رعایت کے ادا کرنا ہوں گے۔ یوں اگر وہ ایسا کرے تو مجموعی طور پر صرف 55 ارب روپے ادا کر کے تقریباً 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی میں ادارے کی قدر 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔ منطقی طور پر اسے صرف ایک تہائی حصص دیے جاتے اور باقی ریاست کے پاس رہنے چاہئیں تھے۔</p>
<p>یہ معاملہ بولی سے قبل جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا اور بظاہر فروخت کے بعد سامنے آیا۔ عوامی نقصان اور غیر شفاف عمل کے پیش نظر یہ کہنا کہ پی آئی اے کے بدلے جو کچھ ملا وہ کافی ہے، درحقیقت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا میں کسی بھی ایسے معاہدے میں ایسی عجیب شرائط دیکھنے میں نہیں آئیں۔ طنزیہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پی آئی اے کو OLX پر بیچنے سے زیادہ رقم مل جاتی!</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے اپنے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا اور جو ملکی فضائی نظام میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>1990 کی دہائی میں بھی اس پر سستے داموں فروخت کے الزامات لگے تھے۔ لیکن خریداروں کو بھی ایک قومی اثاثے پر ایسا ناقص معاہدہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ یہی بات فوجی فرٹیلائزر کے معاملے پر بھی صادق آتی ہے، جس کے بارے میں بعض حلقے کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بولی سے الگ ہوئی تاکہ بعد میں اثر و رسوخ کے ذریعے کسی فاتح کے ساتھ شامل ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے متنازع مینڈیٹ اور وسیع تر ادارہ جاتی کردار نے اس سودے کو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے مزید قابلِ بحث بنا دیا ہے۔</p>
<p>خریداروں کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے اور نہ عالمی سطح کی مہارت۔ ایئر انڈیا کا خریدار ٹاٹا گروپ تھا، جس نے 1930 کی دہائی میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح کا ایک تجربہ کار گروپ ہے۔ کیا پی آئی اے کے خریدار اسے عالمی ادارے کے طور پر چلا سکیں گے؟ انہیں عملے کی چھانٹی، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، اس کے باوجود ان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقصان پی آئی اے کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہوچکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کی بنا پر؟</p>
<p>ماضی کی نجکاریوں میں مسائل کی بھرمار رہی۔ کم قیمت فروخت، بعد ازاں خراب کارکردگی، اجارہ داریاں، غیر شفاف سودے، مہنگی پیداوار اور بڑے پیمانے پر عملے کی برطرفیاں۔ کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کا کاروبار میں کوئی کام نہیں لیکن ریاست کو یہ بتانا بھی کاروباری طبقے کا کام نہیں۔ ریاست کو اُن شعبوں میں کاروبار کرنے کا پورا حق ہے جہاں نجی شعبہ بہتر طور پر کام نہیں کر سکتا، مثلاً اسٹریٹجک یا عوام دوست شعبے۔</p>
<p>ان مسلسل مسائل اور نجی شعبے کی محدود انتظامی و مالی صلاحیت کے پیش نظر دیگر آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جیسے خودمختار پیشہ ور بورڈز، صرف انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملازمین کی ملکیت والے ادارے، ادارے کو ختم کرنا یا حصص کی عوامی فروخت۔ ہر بیمار ادارے کے لیے بہترین راستہ واضح معیار اور شفاف عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>نجکاری صرف اُن چھوٹے اداروں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جن کی کوئی قومی یا اسٹریٹجک اہمیت نہ ہو۔</p>
<p>اس سودے کے حامی کہتے ہیں کہ نجکاری سے پی آئی اے درست ہو جائے گی، دیگر سرکاری اداروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسے خوش نما دعووں کو احتیاط سے پرکھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں دیگر راستے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275032</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 19:17:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر نیاز مرتضیٰ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06191500ce5ebd4.webp" type="image/webp" medium="image" height="736" width="1408">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06191500ce5ebd4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ایجنڈا 2026 کیا ہونا چاہیے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275021/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش باہم جڑے چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہو سکے اور ملک کو پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا کام حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایک پُرسکون اور پرامن سیاسی ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے۔ منقسم اور شدید طور پر پولرائزڈ قوم کبھی مستحکم ملک نہیں بن سکتی۔ اگرچہ باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ مشکل ہے، تاہم سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ مسلسل کشیدگی اور تصادم کو کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی صورتحال ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف ایک ایسی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے جسے وہ اب تک جائز نہیں مانتی۔ یہ ایک موقع ہے جو زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی، ایک مثبت قدم ہے جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274873/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے وقتاً فوقتاً مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، مگر اس میں سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔ اکثر ایسی پیشکشوں کے ساتھ اپوزیشن کو شیطان صفت بنا کر پیش کرنے والی زبان بھی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ پارلیمان کو محض ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنا، آئینی ترامیم کو زبردستی منظور کرا کے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اپوزیشن و اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن حکومت کے جمہوریت سے عدم احترام کو عیاں کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً سب بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے خیال سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کی ترجیح یہی دکھائی دیتی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دباؤ میں رکھے۔ فوجی ترجمان کے حالیہ بیانات اور پریس کانفرنسز، جن میں تحریک انصاف کو نشانہ بنایا گیا، ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں، جو اس بات کا اشارہ نہیں دیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں نرمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے ملک بھر میں نمایاں انتخابی حمایت حاصل ہے۔ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے یا دبانے کی کوششیں سیاسی استحکام پیدا نہیں کرے گی۔ یک طرفہ حکمرانی نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتی ہے بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی نظام کو اشتراکی بنیادوں پر چلایا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مرکز کو اپوزیشن کی زیرِ قیادت صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے خلاف۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274796/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;معاشی بحالی یقینی طور پر قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہونی چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے آئی ایم ایف بیل آؤٹ اور دیگر بیرونی وسائل کی مدد سے میکرو اکنامک استحکام میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ ایک قلیل مدتی فائدہ ہے جو غیر پائیدار عوامل پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 23 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات کے مقابلے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہیں۔ ٹیکس نظام، اخراجات اور توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات تاحال مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو سکیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ سامنے نہیں آیا جو پاکستان کو کمزور معاشی نمو، کم بچت و سرمایہ کاری، بلند خساروں اور بڑھتے قرضوں کے جال سے نکال سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری، بشمول غیر ملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کارآمد نہیں۔ قرضوں پر مبنی وقتی معاشی بہتری پائیدار نہیں ہو سکتی۔ جب تک یہ حکمتِ عملی تبدیل نہیں ہوتی، استحکام سے ترقی کی جانب سفر ممکن نہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک نیا معاشی منصوبہ تشکیل دینا ہوگا جو ساختی مسائل کو مؤخر کرنے کے بجائے حل کرے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے کمزور معاشی نمو کی ایماندارانہ تشخیص ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کو قومی ایجنڈے میں اعلیٰ ترجیح ملنی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہو رہا، حالانکہ ملک کی ترقی کے امکانات انسانی سرمائے میں کم سرمایہ کاری کے باعث شدید طور پر محدود ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پاکستان ایک سنگین انسانی ترقی کے بحران سے دوچار ہے، جس کا اظہار خواندگی، تعلیم، صحت، غربت اور صنفی عدم مساوات سمیت تقریباً تمام اشاریوں میں بگاڑ کی صورت میں ہو رہا ہے۔20 ملین سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک قومی المیہ ہے۔ خواندگی کی شرح 60 فیصد پر جمود کا شکار ہے، یعنی 40 فیصد آبادی ناخواندہ ہے اور اس سطح کی ناخواندگی کے ساتھ معاشی ترقی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274782/political-leaders-traitor-weakens-national-security'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274782"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;غربت کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی بینک کے مطابق یہ 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صحت کے اشاریے بھی جنوبی ایشیا کے بدترین اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ غذائی قلت اور غربت کا ایک سنگین نتیجہ بچوں میں قد کی کمی ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچے اس مسئلے کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبادی میں بے قابو اضافہ اور اس اہم مسئلے پر حکومتی عدم توجہی انسانی ترقی کے بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ سالانہ تقریباً 2.5 فیصد آبادی بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہر سال قریباً 60 لاکھ بچے آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، جو وسائل، انفرااسٹرکچر، روزگار، صحت اور تعلیم پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں فوری طور پر درکار ہیں۔ خطے کے تقریباً تمام ممالک نے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیاں کامیابی سے نافذ کی ہیں، مگر پاکستان اب تک ناکام رہا ہے۔ اگر جامع آبادی کنٹرول پالیسی نہ اپنائی گئی تو ملک ایک بڑے آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اَن پڑھ اور بے روزگار نوجوان سماجی و سیاسی عدم استحکام کو جنم دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنا بھی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ گزشتہ برس شدت پسند تشدد میں اضافہ ہوا اور دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں محض فوجی کارروائیوں پر انحصار نہ ہو بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی اقدامات اور مقامی برادری کی شمولیت بھی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام چیلنجز سیاسی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے تنگ نظری پر مبنی مفادات سے بالاتر ہو کر ان مسائل سے نمٹ سکیں گے جو ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش باہم جڑے چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہو سکے اور ملک کو پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔</p>
<p>سب سے پہلا کام حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایک پُرسکون اور پرامن سیاسی ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے۔ منقسم اور شدید طور پر پولرائزڈ قوم کبھی مستحکم ملک نہیں بن سکتی۔ اگرچہ باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ مشکل ہے، تاہم سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ مسلسل کشیدگی اور تصادم کو کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی صورتحال ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر رہی ہے۔</p>
<p>تحریک انصاف ایک ایسی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے جسے وہ اب تک جائز نہیں مانتی۔ یہ ایک موقع ہے جو زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی، ایک مثبت قدم ہے جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274873/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکومت نے وقتاً فوقتاً مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، مگر اس میں سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔ اکثر ایسی پیشکشوں کے ساتھ اپوزیشن کو شیطان صفت بنا کر پیش کرنے والی زبان بھی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ پارلیمان کو محض ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنا، آئینی ترامیم کو زبردستی منظور کرا کے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اپوزیشن و اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن حکومت کے جمہوریت سے عدم احترام کو عیاں کرتا ہے۔</p>
<p>یقیناً سب بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے خیال سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کی ترجیح یہی دکھائی دیتی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دباؤ میں رکھے۔ فوجی ترجمان کے حالیہ بیانات اور پریس کانفرنسز، جن میں تحریک انصاف کو نشانہ بنایا گیا، ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں، جو اس بات کا اشارہ نہیں دیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں نرمی آئی ہے۔</p>
<p>اپوزیشن معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے ملک بھر میں نمایاں انتخابی حمایت حاصل ہے۔ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے یا دبانے کی کوششیں سیاسی استحکام پیدا نہیں کرے گی۔ یک طرفہ حکمرانی نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتی ہے بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی نظام کو اشتراکی بنیادوں پر چلایا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مرکز کو اپوزیشن کی زیرِ قیادت صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے خلاف۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274796/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>معاشی بحالی یقینی طور پر قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہونی چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے آئی ایم ایف بیل آؤٹ اور دیگر بیرونی وسائل کی مدد سے میکرو اکنامک استحکام میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ ایک قلیل مدتی فائدہ ہے جو غیر پائیدار عوامل پر مبنی ہے۔</p>
<p>قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 23 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات کے مقابلے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہیں۔ ٹیکس نظام، اخراجات اور توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات تاحال مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو سکیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔</p>
<p>ابھی تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ سامنے نہیں آیا جو پاکستان کو کمزور معاشی نمو، کم بچت و سرمایہ کاری، بلند خساروں اور بڑھتے قرضوں کے جال سے نکال سکے۔</p>
<p>سرمایہ کاری، بشمول غیر ملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کارآمد نہیں۔ قرضوں پر مبنی وقتی معاشی بہتری پائیدار نہیں ہو سکتی۔ جب تک یہ حکمتِ عملی تبدیل نہیں ہوتی، استحکام سے ترقی کی جانب سفر ممکن نہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک نیا معاشی منصوبہ تشکیل دینا ہوگا جو ساختی مسائل کو مؤخر کرنے کے بجائے حل کرے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے کمزور معاشی نمو کی ایماندارانہ تشخیص ناگزیر ہے۔</p>
<p>انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کو قومی ایجنڈے میں اعلیٰ ترجیح ملنی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہو رہا، حالانکہ ملک کی ترقی کے امکانات انسانی سرمائے میں کم سرمایہ کاری کے باعث شدید طور پر محدود ہو چکے ہیں۔</p>
<p>آج پاکستان ایک سنگین انسانی ترقی کے بحران سے دوچار ہے، جس کا اظہار خواندگی، تعلیم، صحت، غربت اور صنفی عدم مساوات سمیت تقریباً تمام اشاریوں میں بگاڑ کی صورت میں ہو رہا ہے۔20 ملین سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک قومی المیہ ہے۔ خواندگی کی شرح 60 فیصد پر جمود کا شکار ہے، یعنی 40 فیصد آبادی ناخواندہ ہے اور اس سطح کی ناخواندگی کے ساتھ معاشی ترقی ممکن نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274782/political-leaders-traitor-weakens-national-security'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274782"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>غربت کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی بینک کے مطابق یہ 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صحت کے اشاریے بھی جنوبی ایشیا کے بدترین اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ غذائی قلت اور غربت کا ایک سنگین نتیجہ بچوں میں قد کی کمی ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچے اس مسئلے کا شکار ہیں۔</p>
<p>آبادی میں بے قابو اضافہ اور اس اہم مسئلے پر حکومتی عدم توجہی انسانی ترقی کے بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ سالانہ تقریباً 2.5 فیصد آبادی بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہر سال قریباً 60 لاکھ بچے آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، جو وسائل، انفرااسٹرکچر، روزگار، صحت اور تعلیم پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں فوری طور پر درکار ہیں۔ خطے کے تقریباً تمام ممالک نے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیاں کامیابی سے نافذ کی ہیں، مگر پاکستان اب تک ناکام رہا ہے۔ اگر جامع آبادی کنٹرول پالیسی نہ اپنائی گئی تو ملک ایک بڑے آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اَن پڑھ اور بے روزگار نوجوان سماجی و سیاسی عدم استحکام کو جنم دیں گے۔</p>
<p>دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنا بھی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ گزشتہ برس شدت پسند تشدد میں اضافہ ہوا اور دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں محض فوجی کارروائیوں پر انحصار نہ ہو بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی اقدامات اور مقامی برادری کی شمولیت بھی شامل ہو۔</p>
<p>یہ تمام چیلنجز سیاسی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے تنگ نظری پر مبنی مفادات سے بالاتر ہو کر ان مسائل سے نمٹ سکیں گے جو ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275021</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 12:50:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملیحہ لودھی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0517384545ab82e.webp" type="image/webp" medium="image" height="736" width="1408">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0517384545ab82e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: پاکستان میں دہشت گردی ’معمول‘ بن جانے کا خطرہ!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275016/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں تشدد اب معمول بنتا جارہا ہے۔ 2025 میں سکیورٹی صورتحال نہایت ابتر رہی۔  پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی  ’پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025‘ کے مطابق ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 366 افراد زخمی ہوئے جو ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر تنازعات سے جڑے  پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں، بڑھ کر 11 سو 24 تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ان واقعات کو اب محض وقتی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور جس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ دہشت گردی کا ہدف کون بن رہا ہے۔ اب شہید ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ پولیس اسٹیشنز، سکیورٹی قافلے اور چیک پوسٹس پر بار بار حملے ہو رہے ہیں جبکہ فوجی یونٹس بھی نشانہ بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی توجہ ریاست کو تھکانے، اس کی افواج کو منتشر کرنے اور حوصلے پست کرنے پر مرکوز ہے۔ کچھ برسوں کے سکون کے بعد خودکش حملوں کی واپسی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح کے حملوں کے لیے منصوبہ بندی، وسائل اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے جو دہشت گردوں کی مایوسی کے بجائے ان کے دوبارہ منظم ہونے کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد جغرافیائی طور پر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوز ہے۔ تقریباً تمام دہشت گردانہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں شدت پسندوں نے اپنی حکمت عملی کو محض ’ہٹ اینڈ رن‘ (حملہ کرو اور بھاگ جاؤ) تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اب اس میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، اغوا اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی مغربی پٹی سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے بڑی فالٹ لائن بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست نے اس کا جواب طاقت سے دیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی، جن میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن عسکری کارروائیوں  پر یہ شدید انحصار ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، سیکڑوں آپریشنز کے باوجود حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشدد کا بڑا حصہ مذہبی طور پر متحرک دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے ہے، جس نے اپنی طاقت دوبارہ بحال کر لی ہے۔ دہشت گرد تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں؛ وہ بہتر ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اکثر مقامی شکایات، کمزور طرزِ حکمرانی اور انٹیلی جنس ہم آہنگی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف، ریاست محض ردِعمل کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کو ’نیا معمول‘ تسلیم کر لینا خطرناک ہوگا۔ اگرچہ عام شہریوں کی اموات میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن ریاست کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک سبق ہونا چاہیے۔ ایسی سیکورٹی پالیسی جو محض چھاپوں اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہو، مستقل امن فراہم نہیں کر سکتی،خاص طور پر جب تک نظریاتی انتہا پسندی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل حل نہ کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دائرے کو توڑنے کے لیے محض فوجی طاقت سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ سیاسی بصیرت، متاثرہ علاقوں میں سول گورننس اور سنجیدہ علاقائی روابط اب محض اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔ اسی طرح پولیس اصلاحات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عدالتی کارروائی کی تکمیل ضروری ہے۔ ان اقدامات کے بغیر ملک مستقل عدم تحفظ کی دلدل میں دھنسنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں تشدد اب معمول بنتا جارہا ہے۔ 2025 میں سکیورٹی صورتحال نہایت ابتر رہی۔  پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی  ’پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025‘ کے مطابق ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 366 افراد زخمی ہوئے جو ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر تنازعات سے جڑے  پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں، بڑھ کر 11 سو 24 تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ان واقعات کو اب محض وقتی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور جس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ دہشت گردی کا ہدف کون بن رہا ہے۔ اب شہید ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ پولیس اسٹیشنز، سکیورٹی قافلے اور چیک پوسٹس پر بار بار حملے ہو رہے ہیں جبکہ فوجی یونٹس بھی نشانہ بنے ہیں۔</p>
<p>ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی توجہ ریاست کو تھکانے، اس کی افواج کو منتشر کرنے اور حوصلے پست کرنے پر مرکوز ہے۔ کچھ برسوں کے سکون کے بعد خودکش حملوں کی واپسی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح کے حملوں کے لیے منصوبہ بندی، وسائل اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے جو دہشت گردوں کی مایوسی کے بجائے ان کے دوبارہ منظم ہونے کی علامت ہے۔</p>
<p>تشدد جغرافیائی طور پر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوز ہے۔ تقریباً تمام دہشت گردانہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔</p>
<p>بلوچستان میں شدت پسندوں نے اپنی حکمت عملی کو محض ’ہٹ اینڈ رن‘ (حملہ کرو اور بھاگ جاؤ) تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اب اس میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، اغوا اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی مغربی پٹی سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے بڑی فالٹ لائن بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>ریاست نے اس کا جواب طاقت سے دیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی، جن میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن عسکری کارروائیوں  پر یہ شدید انحصار ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، سیکڑوں آپریشنز کے باوجود حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اس تشدد کا بڑا حصہ مذہبی طور پر متحرک دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے ہے، جس نے اپنی طاقت دوبارہ بحال کر لی ہے۔ دہشت گرد تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں؛ وہ بہتر ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اکثر مقامی شکایات، کمزور طرزِ حکمرانی اور انٹیلی جنس ہم آہنگی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف، ریاست محض ردِعمل کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔</p>
<p>اس صورتحال کو ’نیا معمول‘ تسلیم کر لینا خطرناک ہوگا۔ اگرچہ عام شہریوں کی اموات میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن ریاست کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک سبق ہونا چاہیے۔ ایسی سیکورٹی پالیسی جو محض چھاپوں اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہو، مستقل امن فراہم نہیں کر سکتی،خاص طور پر جب تک نظریاتی انتہا پسندی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل حل نہ کیے جائیں۔</p>
<p>اس دائرے کو توڑنے کے لیے محض فوجی طاقت سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ سیاسی بصیرت، متاثرہ علاقوں میں سول گورننس اور سنجیدہ علاقائی روابط اب محض اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔ اسی طرح پولیس اصلاحات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عدالتی کارروائی کی تکمیل ضروری ہے۔ ان اقدامات کے بغیر ملک مستقل عدم تحفظ کی دلدل میں دھنسنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275016</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:39:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0513390342228d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0513390342228d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: صحافیوں، بلاگرز کو عمر قید، ریاست کا اقدام زیادہ سخت نہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275008/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار پر بلاگرز اور صحافیوں کو دی جانے والی عمر قید کی سزائیں سزا اور جرم کے تناسب، شفاف عدالتی عمل اور پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے مستقبل سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاشبہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والا تشدد، جس میں فوجی اور ریاستی تنصیبات پر حملے شامل تھے، کئی ریڈ لائنز کو عبور کرگیا۔ اسی طرح اس دوران گردش کرنے والا بہت سا ڈیجیٹل تبصرہ حد سے بڑھا ہوا، قیاس آرائی پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور بعض صورتوں میں حقائق کے منافی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سزا پانے والوں میں سے کچھ کی تنقید اگرچہ قابلِ قبول حدود سے باہر نہیں گئی، تاہم دیگر افراد نے سنسنی خیزی، آدھے سچ اور جارحانہ لہجے کے ذریعے اپنی آڈیئنس کو مشتعل کیا، جس سے رائے اور اشتعال انگیزی کے درمیان لکیر دھندلا گئی۔ اس رویے پر تنقید کرنی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بحران کے وقت غلط معلومات پھیلانے یا جذبات بھڑکانے کا لائسنس نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلو بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان میں سے کئی آوازیں پی ٹی آئی کے عروج کے دور میں اس کی نمایاں حامی تھیں اور اس وقت انہوں نے نواز شریف اور ان کی جماعت سمیت سیاسی مخالفین پر سخت حملے کیے، مگر انہیں ریاست کی جانب سے اسی نوعیت کی قانونی جانچ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ احتساب کی یہ انتخابی نوعیت ریاستی اقدام کی اخلاقی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔ تاہم ان حقائق کا اعتراف بھی ان سزاؤں کو کم تشویشناک نہیں بناتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر حاضری میں ہونے والی سماعتوں اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے وسیع دائرۂ اختیار کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کو عمر قید دینا مبینہ طور پر اظہار اور تبصرے جیسے جرائم کے مقابلے میں غیر متناسب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی طور پر زیادہ نپی تلی راہیں موجود تھیں۔ جہاں مواد ہتک آمیز، ثابت شدہ طور پر غلط یا بدنیتی پر مبنی تھا، وہاں دیوانی ہتکِ عزت کے مقدمات یا محدود فوجداری دفعات کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا تھا، بغیر اس کے کہ ریاست کے سخت ترین ہتھیار استعمال کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سخت ترین راستہ اختیار کر کے حکام ایک ایسی مثال قائم کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جو متعلقہ افراد سے کہیں آگے بڑھ کر جائز صحافت اور اختلافِ رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام منصفانہ رہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو غیر ذمہ دارانہ باتوں اور اظہارِ رائے کا مقابلہ حد سے زیادہ سخت سزائیں دیے بغیر بھی کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداریہ کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965026/extreme-move"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار پر بلاگرز اور صحافیوں کو دی جانے والی عمر قید کی سزائیں سزا اور جرم کے تناسب، شفاف عدالتی عمل اور پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے مستقبل سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہیں۔</p>
<p>بلاشبہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والا تشدد، جس میں فوجی اور ریاستی تنصیبات پر حملے شامل تھے، کئی ریڈ لائنز کو عبور کرگیا۔ اسی طرح اس دوران گردش کرنے والا بہت سا ڈیجیٹل تبصرہ حد سے بڑھا ہوا، قیاس آرائی پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور بعض صورتوں میں حقائق کے منافی تھا۔</p>
<p>سزا پانے والوں میں سے کچھ کی تنقید اگرچہ قابلِ قبول حدود سے باہر نہیں گئی، تاہم دیگر افراد نے سنسنی خیزی، آدھے سچ اور جارحانہ لہجے کے ذریعے اپنی آڈیئنس کو مشتعل کیا، جس سے رائے اور اشتعال انگیزی کے درمیان لکیر دھندلا گئی۔ اس رویے پر تنقید کرنی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بحران کے وقت غلط معلومات پھیلانے یا جذبات بھڑکانے کا لائسنس نہیں دیتی۔</p>
<p>یہ پہلو بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان میں سے کئی آوازیں پی ٹی آئی کے عروج کے دور میں اس کی نمایاں حامی تھیں اور اس وقت انہوں نے نواز شریف اور ان کی جماعت سمیت سیاسی مخالفین پر سخت حملے کیے، مگر انہیں ریاست کی جانب سے اسی نوعیت کی قانونی جانچ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ احتساب کی یہ انتخابی نوعیت ریاستی اقدام کی اخلاقی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔ تاہم ان حقائق کا اعتراف بھی ان سزاؤں کو کم تشویشناک نہیں بناتا۔</p>
<p>غیر حاضری میں ہونے والی سماعتوں اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے وسیع دائرۂ اختیار کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کو عمر قید دینا مبینہ طور پر اظہار اور تبصرے جیسے جرائم کے مقابلے میں غیر متناسب ہے۔</p>
<p>قانونی طور پر زیادہ نپی تلی راہیں موجود تھیں۔ جہاں مواد ہتک آمیز، ثابت شدہ طور پر غلط یا بدنیتی پر مبنی تھا، وہاں دیوانی ہتکِ عزت کے مقدمات یا محدود فوجداری دفعات کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا تھا، بغیر اس کے کہ ریاست کے سخت ترین ہتھیار استعمال کیے جاتے۔</p>
<p>سخت ترین راستہ اختیار کر کے حکام ایک ایسی مثال قائم کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جو متعلقہ افراد سے کہیں آگے بڑھ کر جائز صحافت اور اختلافِ رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام منصفانہ رہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو غیر ذمہ دارانہ باتوں اور اظہارِ رائے کا مقابلہ حد سے زیادہ سخت سزائیں دیے بغیر بھی کر سکے۔</p>
<p>اداریہ کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1965026/extreme-move"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275008</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 16:18:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0416171814d5255.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0416171814d5255.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’سیاسی بحران کا واحد راستہ سنجیدہ مکالمہ اور باہمی لچک ’</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274998/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں جب یہ کہا کہ اگر پانچ فریق مشترکہ نکات پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کے طویل سیاسی بحران کا حل نکل سکتا ہے، تو وہ حقیقت سے زیادہ دور نہیں تھے۔ انہوں نے اس امکان کو حقیقت بنانے کے لیے بعض اعتماد سازی کے اقدامات کا بھی مشورہ دیا، جن میں یہ بات شامل تھی کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جاری ان مہمات اور اکاؤنٹس سے خود کو الگ کرے جو مسلح افواج اور ان کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان کو ایک مثبت اشارہ سمجھا جانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر کی جانب سے آنے والی جوابی تجویز کو۔ بظاہر رانا ثنااللہ کے بیان کے ردعمل میں ملک عامر ڈوگر نے تجویز دی کہ حکومت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور قید میں موجود پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے درمیان ملاقات کا انتظام کرے۔ ان کے بقول امید ہے کہ اس سے کوئی راستہ نکل آئے گا۔ ماضی میں رکھی جانے والی سخت پیشگی شرائط کے برعکس، یہ تجاویز زیادہ حقیقت پسندانہ محسوس ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ مکالمے کے لیے دوسرا فریق اپنی شرائط میں کہاں تک لچک دکھانے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک طویل عرصے تک ایک سخت اور نقصان دہ بیانیاتی جنگ لڑی ہے، جنہیں وہ اپنی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ اس وقت اس سے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ان محاذ آرائیوں کو مزید نہ بڑھائے جنہیں وہ خود پروان چڑھاتی رہی ہے اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرے۔ یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخالف سیاسی قوتیں اب بھی جماعت، اس کی قیادت اور کارکنوں کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پی ٹی آئی کو یہ مطالبہ معقول محسوس ہونا چاہیے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ معمولاتِ زندگی کی بحالی کا امکان بھی جڑا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ کوئی غیر معمولی نہیں۔ جماعت صرف یہ چاہتی ہے کہ دو سینئر سیاست دانوں کو، جو پہلے ہی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ ان سے بات چیت کر سکیں اور ممکنہ طور پر انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طویل عرصے بعد پہلی بار حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ممکنہ راستہ سامنے آیا ہے۔ انہیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مکالمہ شروع ہوا تو یہ تمام فریقین کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ ماضی میں بے شمار غلطیاں ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود ضروری ہے کہ دونوں جانب کے سیاست دان سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کوشش کریں۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر سیاسی مفاہمت نہ ہو سکی تو اس بات کا واضح خطرہ موجود ہے کہ ملک ایک ایسے منفی دائرے میں داخل ہو جائے جو آخرکار بدامنی اور شدید معاشی بدحالی پر منتج ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ کروڑوں عوام کو بھگتنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض استحکام اس حجم اور صلاحیت والے ملک کے لیے کافی نہیں۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اسی سرزمین پر خوشحالی اور سکون کے ساتھ زندگی گزاریں جسے وہ اپنا وطن کہتے ہیں۔ ملک کی قیادت کو عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ اس کے سوا ہر چیز غیر اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اداریہ کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1964813"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں جب یہ کہا کہ اگر پانچ فریق مشترکہ نکات پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کے طویل سیاسی بحران کا حل نکل سکتا ہے، تو وہ حقیقت سے زیادہ دور نہیں تھے۔ انہوں نے اس امکان کو حقیقت بنانے کے لیے بعض اعتماد سازی کے اقدامات کا بھی مشورہ دیا، جن میں یہ بات شامل تھی کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جاری ان مہمات اور اکاؤنٹس سے خود کو الگ کرے جو مسلح افواج اور ان کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں۔</p>
<p>اس بیان کو ایک مثبت اشارہ سمجھا جانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر کی جانب سے آنے والی جوابی تجویز کو۔ بظاہر رانا ثنااللہ کے بیان کے ردعمل میں ملک عامر ڈوگر نے تجویز دی کہ حکومت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور قید میں موجود پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے درمیان ملاقات کا انتظام کرے۔ ان کے بقول امید ہے کہ اس سے کوئی راستہ نکل آئے گا۔ ماضی میں رکھی جانے والی سخت پیشگی شرائط کے برعکس، یہ تجاویز زیادہ حقیقت پسندانہ محسوس ہوتی ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ مکالمے کے لیے دوسرا فریق اپنی شرائط میں کہاں تک لچک دکھانے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک طویل عرصے تک ایک سخت اور نقصان دہ بیانیاتی جنگ لڑی ہے، جنہیں وہ اپنی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ اس وقت اس سے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ان محاذ آرائیوں کو مزید نہ بڑھائے جنہیں وہ خود پروان چڑھاتی رہی ہے اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرے۔ یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخالف سیاسی قوتیں اب بھی جماعت، اس کی قیادت اور کارکنوں کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پی ٹی آئی کو یہ مطالبہ معقول محسوس ہونا چاہیے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ معمولاتِ زندگی کی بحالی کا امکان بھی جڑا ہو۔</p>
<p>دوسری جانب حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ کوئی غیر معمولی نہیں۔ جماعت صرف یہ چاہتی ہے کہ دو سینئر سیاست دانوں کو، جو پہلے ہی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ ان سے بات چیت کر سکیں اور ممکنہ طور پر انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طویل عرصے بعد پہلی بار حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ممکنہ راستہ سامنے آیا ہے۔ انہیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مکالمہ شروع ہوا تو یہ تمام فریقین کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ ماضی میں بے شمار غلطیاں ہو چکی ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود ضروری ہے کہ دونوں جانب کے سیاست دان سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کوشش کریں۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر سیاسی مفاہمت نہ ہو سکی تو اس بات کا واضح خطرہ موجود ہے کہ ملک ایک ایسے منفی دائرے میں داخل ہو جائے جو آخرکار بدامنی اور شدید معاشی بدحالی پر منتج ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ کروڑوں عوام کو بھگتنا پڑے گا۔</p>
<p>محض استحکام اس حجم اور صلاحیت والے ملک کے لیے کافی نہیں۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اسی سرزمین پر خوشحالی اور سکون کے ساتھ زندگی گزاریں جسے وہ اپنا وطن کہتے ہیں۔ ملک کی قیادت کو عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ اس کے سوا ہر چیز غیر اہم ہے۔</p>
<hr />
<p>اداریہ کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1964813"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274998</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 17:32:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/03173112da5e571.webp" type="image/webp" medium="image" height="309" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/03173112da5e571.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کے شپاٹر!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274915/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی بڑی شاہراہوں پر گاڑی چلانے والے اکثر ڈرائیوروں نے یہ منظر بارہا دیکھا ہے، خاص طور پر ویک اینڈ کی راتوں اور سرکاری تعطیلات پر، پیچھے سے تیزی سے قریب آتی ہوئی ایک ’ایسی موٹر سائیکل جس پر کوئی سوار نہ ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں وہ ریئر ویو مرر میں محض ایک دھندلا سا سایہ ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے وہ قریب آتی ہے، ڈرائیور کو آخرکار ایک نوجوان نظر آتا ہے جو پوری موٹر سائیکل پر چپکا ہوا لیٹا ہوتا ہے، اس کی آنکھیں ہینڈل کے عین اوپر سے سڑک کو گھور رہی ہوتی ہیں، اسپیڈومیٹر غائب ہوتا ہے، بازو جسم کے ساتھ جکڑے ہوتے ہیں یا تو ہینڈل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے یا بعض اوقات سائڈ پر سسپنشن کو پکڑ کر، کاندھوں کی مدد سے ہینڈل کو موڑتے ہوئے۔ ٹانگیں یا تو بالکل سیدھی لیٹی ہوتی ہیں یا ٹخنوں پر قینچی کی طرح جڑی ہوتی ہیں، پورا جسم ہوا کی رفتار کو کم کرنے والی پوزیشن میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر ڈرائیور جانتے ہیں کہ ایسی موٹر سائیکل کا سامنا ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے: اپنی لائن برقرار رکھیں، دائیں جائیں نہ بائیں۔ اچانک بریک نہ لگائیں۔ اسٹیئرنگ نہ موڑیں۔ تقریباً ہر بار، موٹر سائیکل سوار آخری لمحے میں مڑتا ہے، گاڑیوں کے درمیان سے زِگ زیگ کرتا ہوا نکل جاتا ہے اور پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ شاذ و نادر ہی اکیلا ہوتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایسی ہی کئی موٹر سائیکلوں کا جھنڈ آتا ہے، جو ہر سمت سے گزر جاتا ہے، ڈرائیوروں کو اسٹیئرنگ وہیل مضبوطی سے پکڑنے اور دل ہی دل میں دعائیں مانگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی سلامتی کے لیے بھی اور اپنی جان کے لیے بھی۔ اس برق رفتاری پر معمولی سی غلطی، اچانک لین بدلنا، گھبراہٹ میں بریک لگانا، لمحہ بھر کی ہچکچاہٹ۔ نہ صرف موٹر سائیکل سوار بلکہ سڑک پر موجود کسی بھی شخص کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوار زیادہ تر کم عمر اور نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کے پاس حفاظتی سامان کے نام پر صرف آنکھوں پر لگے گوگلز ہوتے ہیں، تاکہ گرد و غبار سے نظر دھندلی نہ ہو۔ ان کی موٹر سائیکلیں بالکل برہنہ ہوتی ہیں، تیزرفتاری کی غرض سے ہر غیر ضروری پرزہ ہٹا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی سڑکوں پر انہیں ایک ہی نام سے جانا جاتا ہے، شپاٹر۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" href="#شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;شپاٹر کیا ہوتا ہے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس لفظ کے اصل اور درست معنی واضح نہیں تاہم کراچی کے تجربہ کار موٹر سائیکل ریسرز کے مطابق یہ غالباً ’شارپ‘ اور ’فنٹر‘ (مقامی طور پر punter کا بگڑی ہوئی شکل) کا مجموعہ ہے، جس سے مراد کم عمری میں دو پہیوں پر غیر معمولی مہارت دکھانے والا فرد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصطلاح 1990 کی دہائی سے رائج ہے اور بعض اوقات اسے سیاسی طاقت اور چھوٹے جرائم سے بھی جوڑا گیا، اگرچہ ریسرز اس تصور کو اب غیر متعلق سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 سالہ محمد طارق جو طارق 180 کے نام سے مشہور ہیں، نے بتایا کہ ’ہم میں سے زیادہ تر محنت کش لوگ ہیں، جو ریسنگ کے شوقین ہیں‘۔ مضبوط جسامت کے حامل طارق ایک ماہر مکینک بھی ہیں اور اب اپنی ورکشاپ چلاتے ہیں۔ انہوں نے 2009 میں اسکول چھوڑ کر بطور اپرینٹس کام شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق ریسنگ کی دنیا میں موٹرسائیکل پر وہیلی کرنے سے داخل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق نے بتایا کہ’ 14-2013 میں، میں نے CB 180cc بائیک خریدی، جس کے بعد مجھے 180 کا نام ملا‘۔ تاہم طارق کو اپنے بیشتر ہم عصروں پر ایک نمایاں برتری حاصل ہے۔ وہ صرف سوار نہیں بلکہ استاد بھی ہیں، ایک ایسا ماہر مکینک جو موٹر سائیکل کے ہر پرزے کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ کسی خاص ریس کے لیے اسے کس طرح بہترین بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایک نوجوان ایسا بھی تھا، جس نے محض اپنی رائیڈنگ مہارت کے بل پر کراچی کے اس غیر قانونی ریسنگ سرکٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی سب سے مشہور ریس جو اس کی آخری بھی ثابت ہوئی آج بھی معما بنی ہوئی ہے اور شاید یہی اس کے افسانوی کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'  alt=' اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بابو-70-کی-داستان" href="#بابو-70-کی-داستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بابو 70 کی داستان&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اُزیب مصطفیٰ جو بابو 70 کے نام سے مشہور ہوئے، کا جنون بھی گزدرآباد (رنچھوڑ لائنز) میں بچپن کے دوران سائیکل پر وہیلی کرنے سے شروع ہوا۔ ان کے بھائی مرتضیٰ کے مطابق علاقے کے بیشتر نوجوانوں کی طرح وہ بھی ریحان استاد کی ورکشاپ میں بیٹھنے لگے، جہاں موٹر سائیکلوں کے پرزوں اور مرمت کا کاروبار عروج پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دُبلے جسم کے حامل تقریباً 5 فٹ 6 انچ قد کے بابو ریسنگ کے لیے موزوں جسم رکھتے تھے۔ سائیکل اور پھر موٹر سائیکل پر وہیلی کرنے میں ان کی مہارت پہلے ہی انہیں ممتاز بنا چکی تھی۔ انہیں بابو 70 کا نام اپنے والد کی وجہ سے ملا، جو فٹبالر تھے اور 70cc موٹر سائیکل چلاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر شپاٹروں کی طرح بابو نے بھی لائسنس کے بغیر ریسنگ شروع کی۔ 2011 میں 18 برس کی عمر میں انہوں نے چیمپئن ریسر بالی ایکس کو شکست دے کر اپنی پہچان بنائی۔ اگلے پانچ برسوں میں انہوں نے شاہراہِ فیصل اور دیگر ٹریکس پر اپنی برتری قائم کر لی۔ 2016 تک وہ کراچی کے اس وقت کے سرِفہرست شپاٹر، ثاقب سنکی کے برابر آ چکے تھے۔ ان کی رقابت ایک آخری جان لیوا ریس پر ختم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتضیٰ کے مطابق ایک موقع پر سنکی اس ریس سے پیچھے ہٹنا چاہتے تھے کیونکہ پہلے کی ایک ریس کے فیصلے پر بابو اور ان کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی تھی۔ مگر بابو نے اصرار کیا، کیونکہ وہ دو دن بعد دبئی جا رہے تھے، جہاں ان کے دوست ان کے لیے کاروبار قائم کرنے میں مدد کر رہے تھے۔&lt;br&gt;یہ ریس نومبر 2016 کی ایک صبح 4 بجے ہوئی۔ ابتدا میں منصوبہ تھا کہ 12 کلومیٹر کی ریس شاہراہِ فیصل پر ہو، جو ایئرپورٹ کے قریب سے شروع ہو کر ایف ٹی سی پل پر ختم ہو۔ مگر سڑک پر تیل ہونے کے باعث آغاز کا مقام ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب منتقل کر دیا گیا۔&lt;br&gt;ریس شروع ہوتے ہی بابو نے برتری حاصل کر لی، جو آدھے راستے سے آگے تک برقرار رہی۔ اس پر سب متفق ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس پر اختلاف ہے۔&lt;br&gt;مرتضیٰ کہتے ہیں کہ بابو کو ایک کار نے ٹکر ماری تاہم انہیں یاد نہیں کہ وہ سیڈان تھی یا ہیچ بیک۔ علی جو اب ریسنگ چھوڑ چکے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ثاقب سنکی کے لوگ تھے اور ثاقب سنکی نے خود بھی بابو کی موٹر سائیکل کو لات ماری۔&lt;br&gt;طارق 180 ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’بابو کی موٹر سائیکل کا انجن ریس کے دوران خراب ہو گیا تھا، تیل بہنے لگا، جو پہیے پر آ گیا اور وہ کنٹرول کھو بیٹھا‘۔&lt;br&gt;مرتضیٰ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیت چند لمحوں کی دوری پر تھی۔ ’وہ تقریباً ایک کلومیٹر تک زمین پر رگڑتا رہا اور شدید زخمی ہو گیا‘۔&lt;br&gt;بابو تقریباً چار ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہے اور پھر انتقال کر گئے۔ اہلِ خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرائی، جس سے طارق کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ کوئی سازش نہیں تھی۔&lt;br&gt;ڈان نے ثاقب سنکی سے رابطے کی کئی کوششیں کیں، مگر ان کے شاگردوں نے بتایا کہ وہ کسی صحافی سے بات نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ ان کی ویڈیوز اور ریس باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتی ہیں۔ ایک وجہ ان کے قانونی مسائل ہو سکتے ہیں۔ ثاقب اس وقت 2022 کے ایک ڈکیتی کیس میں ضمانت پر ہیں۔&lt;br&gt;اس کے باوجود ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کے نام سے متعدد اکاؤنٹس چل رہے ہیں۔&lt;br&gt;پھر بھی بہت سے لوگ آج بھی بابو کو ان سے بہتر مانتے ہیں۔ ’بابو واضح طور پر بہتر رائیڈر تھے، اور اگر وہ ثاقب سنکی کو ہرا دیتے تو کراچی کے بے تاج بادشاہ بن جاتے‘۔ سابق ریسر ابراہیم کہتے ہیں ’آج بھی اگر نوجوانوں سے پوچھیں کہ وہ کس جیسے بننا چاہتے ہیں تو اکثر بابو 70 کا نام لیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بابو کی موت کے بعد چند برس تک ان کے مداح ان کی برسی پر یادگاری ریلیاں نکالتے رہے۔ ان کی ریسوں کی ویڈیوز اور کارنامے آج بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھائے ہوئے ہیں۔ کراچی یا پاکستان کے بہترین رائیڈرز پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ان کا نام لازماً سامنے آتا ہے اور اس بات پر دعوے اور جوابی دعوے ہوتے ہیں کہ کراچی کی سڑکوں پر سب سے بڑا شپاٹر کون تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ریس-رائیڈر-اور-مشین" href="#ریس-رائیڈر-اور-مشین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ریس، رائیڈر اور مشین&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;طارق کے مطابق عزت و شہرت حاصل کرنے کے لیے صرف بہترین رائیڈر کافی نہیں ایک ماہر استاد بھی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جان تو رائیڈر داؤ پر لگاتا ہے، مگر موٹر سائیکل کو ریس کے لیے تیار استاد ہی کرتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ موٹر سائیکل سوار اپنے عملی تجربے کے ذریعے طبیعیات کے بعض اصولوں  جیسے ایروڈائنامکس اور ہوا کے دباؤ  کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ شپاٹر کی لیٹی ہوئی پوزیشن ہوا کی مزاحمت کم کرتی ہے اور کسی گاڑی کے پیچھے چلنا ہوا کے دباؤ کو گھٹا کر رفتار بڑھاتا ہے۔ طارق اپنے فون میں جی پی ایس میٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ ریس سے پہلے موٹر سائیکل کی کارکردگی جانچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اصل کمال استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ برسوں کے تجربے، پرزے کھولنے، جوڑنے اور آزمائش سے یہ مہارت حاصل ہوتی ہے۔ طارق بتاتے ہیں کہ ’اسی طرح 70cc بائیک 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر جاتی ہے، استاد رائیڈر کو ناقابلِ شکست بنا سکتا ہے، مگر ریسر اور استاد دنوں ہی یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے جب کوئی رائیڈر چیلنج دیتا ہے تو وہ اپنے استاد کا نام بھی لیتا ہے۔ یہ چیلنج اب زیادہ تر فیس بک گروپس میں دیے جاتے ہیں۔ قبولیت کے بعد ایک منصف طے کیا جاتا ہے جو عموماً تجربہ کار رائیڈر ہوتا ہے اور موٹر سائیکل پر سوار دونوں ریسرز کو فالو کر کے ویڈیو بناتا ہے۔ شرط کی رقم، جو 15 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، منصف کے پاس جمع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریس کی شرائط مقامی اصطلاحات میں طے ہوتی ہیں: جیسے ’اپنی ہوا‘ (دوسرے کے پیچھے نہ چلنا)، ’سی ایس آلٹر‘ (کاربوریٹر اور سپروکیٹس میں تبدیلی کی اجازت)۔ سب سے خطرناک فارمیٹ ’فری اسٹائل‘ ہوتا ہے، جس میں ایک دوسرے کو مارنا، پکڑنا یا لات مارنا شامل ہے ۔ طارق نے بتایا کہ استادوں کے اتفاق سے اب یہ  فری اسٹائل کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریس سے قبل دونوں فریق موٹر سائیکلوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ کسی خلاف ورزی کا پتا چلایا جا سکے۔ اگر اعتراضات درست ثابت ہوں تو منصف کسی بھی فریق کو نااہل قرار دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شو روم سے شو روم ریسیں بھی ہوتی ہیں، جن میں دونوں فریق شو روم سے موٹر سائیکل لیتے ہیں اور سیدھا طے شدہ ٹریک پر ریس کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ طارق کے مطابق یہ رجحان موٹر سائیکلوں میں تبدیلیوں کی نئی جدت کے باعث سامنے آیا۔ ان کے بقول آج کل ایسی ہوشیاری ہو چکی ہے کہ بڑے بڑے استاد بھی تبدیلیاں نہیں پکڑ پاتے، زیادہ تر تبدیلیاں لاہور کے مکینک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں رائیڈر بہتر ہیں لیکن استاد لاہور میں زیادہ ماہر ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خطرے-کی-قیمت" href="#خطرے-کی-قیمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خطرے کی قیمت&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;تمام مہارت، دلیری اور کہانیوں کے باوجود شپاٹر جو خطرات مول لیتے ہیں وہ صرف ان تک محدود نہیں رہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی مصروف اور تنگ سڑکیں پہلے ہی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ گزشتہ برس شہر میں کم از کم پانچ سو سڑک حادثات میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی تاہم اعداد و شمار میں ریس کرنے والوں کی الگ شناخت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن پروگرام جو نیورو سرجن ڈاکٹر راشد جوما نے شروع کیا تھا، کراچی میں ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جمع کرنے والا واحد پروگرام تھا۔ فنڈز اور سرکاری سرپرستی نہ ملنے پر 2017 میں بند ہونے والے اس پروگرام کی نومبر 2016 کی رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2014 کے دوران 9 ہزار 129 افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 8 ہزار 654 کیسز میں سے 3 ہزار 871 یعنی 44.7 فیصد ہلاکتوں میں حادثے کا شکار گاڑی موٹر سائیکل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی ریس کرنے والے موٹر سائیکل سوار سے بات کریں تو وہ دوستوں کے نام گنوا دے گا جو ریسنگ یا پریکٹس کے دوران جان سے گئے۔ طارق اپنے سر کا زخم دکھاتے ہیں جس پر ان کے بقول دو درجن ٹانکے آئے تھے، جبکہ ایک زخم ان کی پشت پر بھی ہے۔ ان کے مطابق محمود آباد کے پانچ چھ لڑکے حالیہ برسوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں استاد سہیل ایس ون بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک پولیس کے مطابق قانونی کارروائی بہت مشکل ہے کیونکہ ریسیں اچانک طے پاتی ہیں اور اکثر صبح سویرے ہوتی ہیں جب سڑکیں بظاہر خالی ہوتی ہیں۔ کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پیر محمد شاہ کے مطابق یہ موٹر سائیکل سوار بغیر نمبر پلیٹ اور حفاظتی سامان کے ہوتے ہیں اور اپنی مہارت کے باعث پکڑ میں نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فضائی نگرانی متعارف کرائی گئی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی امید پے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر ریس کرنے والے ای چالان یا کریک ڈاؤن کی پروا نہیں کرتے۔ ان کی اصل تشویش ریس کے آغاز کے وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی ہوتی ہے۔ طارق کے مطابق ریس کے وقت حتیٰ کہ ہائی وے پر بھی رائیڈر آغاز کے مقام پر جمع ہو کر لمحاتی طور پر سڑک بند کرتے ہیں تاکہ ٹریک خالی ہو سکے۔ اس موقع پر پولیس کی آمد سڑک روکنے والوں کے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجربہ کار پولیس افسر نصراللہ خان جو مختلف ریسنگ ہاٹ اسپاٹس میں ایس ایچ او رہے، کہتے ہیں کہ یہ ریسیں غیر قانونی ہیں اور موٹر سائیکلوں میں غیر مجاز تبدیلیاں بھی جرم ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو 70 سی سی کی موٹر سائیکل کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جبکہ گاڑی 150 سی سی کی طرح چلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصراللہ خان کے مطابق سی ویو کا ’شیطانی پوائنٹ‘ مختلف ریسوں کا مرکز تھا، جسے سڑک کے درمیان بیریئرز لگا کر بند کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ داخلی اور خارجی راستے بند کر کے کاروں اور بائیکس کی ریسوں میں شامل افراد کو گرفتار کرتے تھے، تاہم عموماً ان پر لاپروائی سے ڈرائیونگ کا مقدمہ ہی بن پاتا اور گاڑیاں ضبط کی جاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول ریسوں میں استعمال ہونے والی بہت سی موٹر سائیکلیں چوری کی ہوتی ہیں یا ان میں چوری شدہ پرزے لگے ہوتے ہیں۔ طارق کا کہنا ہے کہ وہ اس خدشے سے بچنے کے لیے گاہکوں سے گاڑیوں کے کاغذات طلب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر اور رائیڈر دونوں متفق ہیں کہ پابندیوں یا کریک ڈاؤن کے باوجود بائیک ریسنگ جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصراللہ خان کے مطابق واحد حل یہ ہے کہ ریسنگ کو کم خطرناک بنایا جائے، نہ صرف شپاٹرز کے لیے بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ریسنگ کے لیے مخصوص جگہ فراہم کی جائے جیسا کہ جیپ ریلیوں اور دیگر مقابلوں میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ڈان کو بتایا کہ شہر کی انتظامیہ اس خیال کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایسی جگہ ملی بھی تو وہ شہر کے مضافات میں ہو گی جہاں زیادہ تر لوگ جانا نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق کے مطابق بڑی ریس پہلے ہی ہائی وے کے حصوں پر اور شہر سے باہر نوری آباد تک ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ان کے پاس اپنی جگہ نہیں ہوتی، شپاٹرز کراچی کی سڑکوں پر ریئر ویو مررز میں نظر آتے رہیں گے، ایک تیز رفتار دھندلا سایہ جو اچانک پیچھے سے آتا ہے اور ڈرائیوروں کو اپنی لائن پکڑ کر رکھنے اور خیر کی اُمید کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سڑکوں پر افسانے اور المیے کے درمیان فاصلہ کلومیٹرز میں نہیں بلکہ لمحوں میں ناپا جاتا ہے اور ہر بابو کے افسانہ بن جانے کے باوجود درجنوں ایسے  ہیں جو اسی عارضی شہرت کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی بڑی شاہراہوں پر گاڑی چلانے والے اکثر ڈرائیوروں نے یہ منظر بارہا دیکھا ہے، خاص طور پر ویک اینڈ کی راتوں اور سرکاری تعطیلات پر، پیچھے سے تیزی سے قریب آتی ہوئی ایک ’ایسی موٹر سائیکل جس پر کوئی سوار نہ ہو‘۔</p>
<p>ابتدا میں وہ ریئر ویو مرر میں محض ایک دھندلا سا سایہ ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے وہ قریب آتی ہے، ڈرائیور کو آخرکار ایک نوجوان نظر آتا ہے جو پوری موٹر سائیکل پر چپکا ہوا لیٹا ہوتا ہے، اس کی آنکھیں ہینڈل کے عین اوپر سے سڑک کو گھور رہی ہوتی ہیں، اسپیڈومیٹر غائب ہوتا ہے، بازو جسم کے ساتھ جکڑے ہوتے ہیں یا تو ہینڈل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے یا بعض اوقات سائڈ پر سسپنشن کو پکڑ کر، کاندھوں کی مدد سے ہینڈل کو موڑتے ہوئے۔ ٹانگیں یا تو بالکل سیدھی لیٹی ہوتی ہیں یا ٹخنوں پر قینچی کی طرح جڑی ہوتی ہیں، پورا جسم ہوا کی رفتار کو کم کرنے والی پوزیشن میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>زیادہ تر ڈرائیور جانتے ہیں کہ ایسی موٹر سائیکل کا سامنا ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے: اپنی لائن برقرار رکھیں، دائیں جائیں نہ بائیں۔ اچانک بریک نہ لگائیں۔ اسٹیئرنگ نہ موڑیں۔ تقریباً ہر بار، موٹر سائیکل سوار آخری لمحے میں مڑتا ہے، گاڑیوں کے درمیان سے زِگ زیگ کرتا ہوا نکل جاتا ہے اور پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔</p>
<p>لیکن یہ شاذ و نادر ہی اکیلا ہوتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایسی ہی کئی موٹر سائیکلوں کا جھنڈ آتا ہے، جو ہر سمت سے گزر جاتا ہے، ڈرائیوروں کو اسٹیئرنگ وہیل مضبوطی سے پکڑنے اور دل ہی دل میں دعائیں مانگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی سلامتی کے لیے بھی اور اپنی جان کے لیے بھی۔ اس برق رفتاری پر معمولی سی غلطی، اچانک لین بدلنا، گھبراہٹ میں بریک لگانا، لمحہ بھر کی ہچکچاہٹ۔ نہ صرف موٹر سائیکل سوار بلکہ سڑک پر موجود کسی بھی شخص کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ سوار زیادہ تر کم عمر اور نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کے پاس حفاظتی سامان کے نام پر صرف آنکھوں پر لگے گوگلز ہوتے ہیں، تاکہ گرد و غبار سے نظر دھندلی نہ ہو۔ ان کی موٹر سائیکلیں بالکل برہنہ ہوتی ہیں، تیزرفتاری کی غرض سے ہر غیر ضروری پرزہ ہٹا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>کراچی کی سڑکوں پر انہیں ایک ہی نام سے جانا جاتا ہے، شپاٹر۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" href="#شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>شپاٹر کیا ہوتا ہے؟</h2>
<p>اس لفظ کے اصل اور درست معنی واضح نہیں تاہم کراچی کے تجربہ کار موٹر سائیکل ریسرز کے مطابق یہ غالباً ’شارپ‘ اور ’فنٹر‘ (مقامی طور پر punter کا بگڑی ہوئی شکل) کا مجموعہ ہے، جس سے مراد کم عمری میں دو پہیوں پر غیر معمولی مہارت دکھانے والا فرد ہے۔</p>
<p>یہ اصطلاح 1990 کی دہائی سے رائج ہے اور بعض اوقات اسے سیاسی طاقت اور چھوٹے جرائم سے بھی جوڑا گیا، اگرچہ ریسرز اس تصور کو اب غیر متعلق سمجھتے ہیں۔</p>
<p>24 سالہ محمد طارق جو طارق 180 کے نام سے مشہور ہیں، نے بتایا کہ ’ہم میں سے زیادہ تر محنت کش لوگ ہیں، جو ریسنگ کے شوقین ہیں‘۔ مضبوط جسامت کے حامل طارق ایک ماہر مکینک بھی ہیں اور اب اپنی ورکشاپ چلاتے ہیں۔ انہوں نے 2009 میں اسکول چھوڑ کر بطور اپرینٹس کام شروع کیا تھا۔</p>
<p>طارق ریسنگ کی دنیا میں موٹرسائیکل پر وہیلی کرنے سے داخل ہوا۔</p>
<p>طارق نے بتایا کہ’ 14-2013 میں، میں نے CB 180cc بائیک خریدی، جس کے بعد مجھے 180 کا نام ملا‘۔ تاہم طارق کو اپنے بیشتر ہم عصروں پر ایک نمایاں برتری حاصل ہے۔ وہ صرف سوار نہیں بلکہ استاد بھی ہیں، ایک ایسا ماہر مکینک جو موٹر سائیکل کے ہر پرزے کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ کسی خاص ریس کے لیے اسے کس طرح بہترین بنایا جائے۔</p>
<p>لیکن ایک نوجوان ایسا بھی تھا، جس نے محض اپنی رائیڈنگ مہارت کے بل پر کراچی کے اس غیر قانونی ریسنگ سرکٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی سب سے مشہور ریس جو اس کی آخری بھی ثابت ہوئی آج بھی معما بنی ہوئی ہے اور شاید یہی اس کے افسانوی کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'  alt=' اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="بابو-70-کی-داستان" href="#بابو-70-کی-داستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بابو 70 کی داستان</h2>
<p>اُزیب مصطفیٰ جو بابو 70 کے نام سے مشہور ہوئے، کا جنون بھی گزدرآباد (رنچھوڑ لائنز) میں بچپن کے دوران سائیکل پر وہیلی کرنے سے شروع ہوا۔ ان کے بھائی مرتضیٰ کے مطابق علاقے کے بیشتر نوجوانوں کی طرح وہ بھی ریحان استاد کی ورکشاپ میں بیٹھنے لگے، جہاں موٹر سائیکلوں کے پرزوں اور مرمت کا کاروبار عروج پر ہے۔</p>
<p>دُبلے جسم کے حامل تقریباً 5 فٹ 6 انچ قد کے بابو ریسنگ کے لیے موزوں جسم رکھتے تھے۔ سائیکل اور پھر موٹر سائیکل پر وہیلی کرنے میں ان کی مہارت پہلے ہی انہیں ممتاز بنا چکی تھی۔ انہیں بابو 70 کا نام اپنے والد کی وجہ سے ملا، جو فٹبالر تھے اور 70cc موٹر سائیکل چلاتے تھے۔</p>
<p>زیادہ تر شپاٹروں کی طرح بابو نے بھی لائسنس کے بغیر ریسنگ شروع کی۔ 2011 میں 18 برس کی عمر میں انہوں نے چیمپئن ریسر بالی ایکس کو شکست دے کر اپنی پہچان بنائی۔ اگلے پانچ برسوں میں انہوں نے شاہراہِ فیصل اور دیگر ٹریکس پر اپنی برتری قائم کر لی۔ 2016 تک وہ کراچی کے اس وقت کے سرِفہرست شپاٹر، ثاقب سنکی کے برابر آ چکے تھے۔ ان کی رقابت ایک آخری جان لیوا ریس پر ختم ہوئی۔</p>
<p>مرتضیٰ کے مطابق ایک موقع پر سنکی اس ریس سے پیچھے ہٹنا چاہتے تھے کیونکہ پہلے کی ایک ریس کے فیصلے پر بابو اور ان کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی تھی۔ مگر بابو نے اصرار کیا، کیونکہ وہ دو دن بعد دبئی جا رہے تھے، جہاں ان کے دوست ان کے لیے کاروبار قائم کرنے میں مدد کر رہے تھے۔<br>یہ ریس نومبر 2016 کی ایک صبح 4 بجے ہوئی۔ ابتدا میں منصوبہ تھا کہ 12 کلومیٹر کی ریس شاہراہِ فیصل پر ہو، جو ایئرپورٹ کے قریب سے شروع ہو کر ایف ٹی سی پل پر ختم ہو۔ مگر سڑک پر تیل ہونے کے باعث آغاز کا مقام ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب منتقل کر دیا گیا۔<br>ریس شروع ہوتے ہی بابو نے برتری حاصل کر لی، جو آدھے راستے سے آگے تک برقرار رہی۔ اس پر سب متفق ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس پر اختلاف ہے۔<br>مرتضیٰ کہتے ہیں کہ بابو کو ایک کار نے ٹکر ماری تاہم انہیں یاد نہیں کہ وہ سیڈان تھی یا ہیچ بیک۔ علی جو اب ریسنگ چھوڑ چکے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ثاقب سنکی کے لوگ تھے اور ثاقب سنکی نے خود بھی بابو کی موٹر سائیکل کو لات ماری۔<br>طارق 180 ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’بابو کی موٹر سائیکل کا انجن ریس کے دوران خراب ہو گیا تھا، تیل بہنے لگا، جو پہیے پر آ گیا اور وہ کنٹرول کھو بیٹھا‘۔<br>مرتضیٰ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیت چند لمحوں کی دوری پر تھی۔ ’وہ تقریباً ایک کلومیٹر تک زمین پر رگڑتا رہا اور شدید زخمی ہو گیا‘۔<br>بابو تقریباً چار ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہے اور پھر انتقال کر گئے۔ اہلِ خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرائی، جس سے طارق کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ کوئی سازش نہیں تھی۔<br>ڈان نے ثاقب سنکی سے رابطے کی کئی کوششیں کیں، مگر ان کے شاگردوں نے بتایا کہ وہ کسی صحافی سے بات نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ ان کی ویڈیوز اور ریس باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتی ہیں۔ ایک وجہ ان کے قانونی مسائل ہو سکتے ہیں۔ ثاقب اس وقت 2022 کے ایک ڈکیتی کیس میں ضمانت پر ہیں۔<br>اس کے باوجود ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کے نام سے متعدد اکاؤنٹس چل رہے ہیں۔<br>پھر بھی بہت سے لوگ آج بھی بابو کو ان سے بہتر مانتے ہیں۔ ’بابو واضح طور پر بہتر رائیڈر تھے، اور اگر وہ ثاقب سنکی کو ہرا دیتے تو کراچی کے بے تاج بادشاہ بن جاتے‘۔ سابق ریسر ابراہیم کہتے ہیں ’آج بھی اگر نوجوانوں سے پوچھیں کہ وہ کس جیسے بننا چاہتے ہیں تو اکثر بابو 70 کا نام لیں گے۔‘</p>
<p>بابو کی موت کے بعد چند برس تک ان کے مداح ان کی برسی پر یادگاری ریلیاں نکالتے رہے۔ ان کی ریسوں کی ویڈیوز اور کارنامے آج بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھائے ہوئے ہیں۔ کراچی یا پاکستان کے بہترین رائیڈرز پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ان کا نام لازماً سامنے آتا ہے اور اس بات پر دعوے اور جوابی دعوے ہوتے ہیں کہ کراچی کی سڑکوں پر سب سے بڑا شپاٹر کون تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="ریس-رائیڈر-اور-مشین" href="#ریس-رائیڈر-اور-مشین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ریس، رائیڈر اور مشین</h2>
<p>طارق کے مطابق عزت و شہرت حاصل کرنے کے لیے صرف بہترین رائیڈر کافی نہیں ایک ماہر استاد بھی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جان تو رائیڈر داؤ پر لگاتا ہے، مگر موٹر سائیکل کو ریس کے لیے تیار استاد ہی کرتا ہے‘۔</p>
<p>یہ زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ موٹر سائیکل سوار اپنے عملی تجربے کے ذریعے طبیعیات کے بعض اصولوں  جیسے ایروڈائنامکس اور ہوا کے دباؤ  کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ شپاٹر کی لیٹی ہوئی پوزیشن ہوا کی مزاحمت کم کرتی ہے اور کسی گاڑی کے پیچھے چلنا ہوا کے دباؤ کو گھٹا کر رفتار بڑھاتا ہے۔ طارق اپنے فون میں جی پی ایس میٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ ریس سے پہلے موٹر سائیکل کی کارکردگی جانچ سکیں۔</p>
<p>لیکن اصل کمال استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ برسوں کے تجربے، پرزے کھولنے، جوڑنے اور آزمائش سے یہ مہارت حاصل ہوتی ہے۔ طارق بتاتے ہیں کہ ’اسی طرح 70cc بائیک 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر جاتی ہے، استاد رائیڈر کو ناقابلِ شکست بنا سکتا ہے، مگر ریسر اور استاد دنوں ہی یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p>اسی لیے جب کوئی رائیڈر چیلنج دیتا ہے تو وہ اپنے استاد کا نام بھی لیتا ہے۔ یہ چیلنج اب زیادہ تر فیس بک گروپس میں دیے جاتے ہیں۔ قبولیت کے بعد ایک منصف طے کیا جاتا ہے جو عموماً تجربہ کار رائیڈر ہوتا ہے اور موٹر سائیکل پر سوار دونوں ریسرز کو فالو کر کے ویڈیو بناتا ہے۔ شرط کی رقم، جو 15 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، منصف کے پاس جمع ہوتی ہے۔</p>
<p>ریس کی شرائط مقامی اصطلاحات میں طے ہوتی ہیں: جیسے ’اپنی ہوا‘ (دوسرے کے پیچھے نہ چلنا)، ’سی ایس آلٹر‘ (کاربوریٹر اور سپروکیٹس میں تبدیلی کی اجازت)۔ سب سے خطرناک فارمیٹ ’فری اسٹائل‘ ہوتا ہے، جس میں ایک دوسرے کو مارنا، پکڑنا یا لات مارنا شامل ہے ۔ طارق نے بتایا کہ استادوں کے اتفاق سے اب یہ  فری اسٹائل کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔</p>
<p>ریس سے قبل دونوں فریق موٹر سائیکلوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ کسی خلاف ورزی کا پتا چلایا جا سکے۔ اگر اعتراضات درست ثابت ہوں تو منصف کسی بھی فریق کو نااہل قرار دے سکتا ہے۔</p>
<p>شو روم سے شو روم ریسیں بھی ہوتی ہیں، جن میں دونوں فریق شو روم سے موٹر سائیکل لیتے ہیں اور سیدھا طے شدہ ٹریک پر ریس کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ طارق کے مطابق یہ رجحان موٹر سائیکلوں میں تبدیلیوں کی نئی جدت کے باعث سامنے آیا۔ ان کے بقول آج کل ایسی ہوشیاری ہو چکی ہے کہ بڑے بڑے استاد بھی تبدیلیاں نہیں پکڑ پاتے، زیادہ تر تبدیلیاں لاہور کے مکینک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں رائیڈر بہتر ہیں لیکن استاد لاہور میں زیادہ ماہر ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="خطرے-کی-قیمت" href="#خطرے-کی-قیمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خطرے کی قیمت</strong></h2>
<p>تمام مہارت، دلیری اور کہانیوں کے باوجود شپاٹر جو خطرات مول لیتے ہیں وہ صرف ان تک محدود نہیں رہتے۔</p>
<p>کراچی کی مصروف اور تنگ سڑکیں پہلے ہی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ گزشتہ برس شہر میں کم از کم پانچ سو سڑک حادثات میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی تاہم اعداد و شمار میں ریس کرنے والوں کی الگ شناخت موجود نہیں۔</p>
<p>روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن پروگرام جو نیورو سرجن ڈاکٹر راشد جوما نے شروع کیا تھا، کراچی میں ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جمع کرنے والا واحد پروگرام تھا۔ فنڈز اور سرکاری سرپرستی نہ ملنے پر 2017 میں بند ہونے والے اس پروگرام کی نومبر 2016 کی رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2014 کے دوران 9 ہزار 129 افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 8 ہزار 654 کیسز میں سے 3 ہزار 871 یعنی 44.7 فیصد ہلاکتوں میں حادثے کا شکار گاڑی موٹر سائیکل تھی۔</p>
<p>کسی بھی ریس کرنے والے موٹر سائیکل سوار سے بات کریں تو وہ دوستوں کے نام گنوا دے گا جو ریسنگ یا پریکٹس کے دوران جان سے گئے۔ طارق اپنے سر کا زخم دکھاتے ہیں جس پر ان کے بقول دو درجن ٹانکے آئے تھے، جبکہ ایک زخم ان کی پشت پر بھی ہے۔ ان کے مطابق محمود آباد کے پانچ چھ لڑکے حالیہ برسوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں استاد سہیل ایس ون بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ٹریفک پولیس کے مطابق قانونی کارروائی بہت مشکل ہے کیونکہ ریسیں اچانک طے پاتی ہیں اور اکثر صبح سویرے ہوتی ہیں جب سڑکیں بظاہر خالی ہوتی ہیں۔ کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پیر محمد شاہ کے مطابق یہ موٹر سائیکل سوار بغیر نمبر پلیٹ اور حفاظتی سامان کے ہوتے ہیں اور اپنی مہارت کے باعث پکڑ میں نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فضائی نگرانی متعارف کرائی گئی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی امید پے۔</p>
<p>زیادہ تر ریس کرنے والے ای چالان یا کریک ڈاؤن کی پروا نہیں کرتے۔ ان کی اصل تشویش ریس کے آغاز کے وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی ہوتی ہے۔ طارق کے مطابق ریس کے وقت حتیٰ کہ ہائی وے پر بھی رائیڈر آغاز کے مقام پر جمع ہو کر لمحاتی طور پر سڑک بند کرتے ہیں تاکہ ٹریک خالی ہو سکے۔ اس موقع پر پولیس کی آمد سڑک روکنے والوں کے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہے۔</p>
<p>تجربہ کار پولیس افسر نصراللہ خان جو مختلف ریسنگ ہاٹ اسپاٹس میں ایس ایچ او رہے، کہتے ہیں کہ یہ ریسیں غیر قانونی ہیں اور موٹر سائیکلوں میں غیر مجاز تبدیلیاں بھی جرم ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو 70 سی سی کی موٹر سائیکل کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جبکہ گاڑی 150 سی سی کی طرح چلتی ہے۔</p>
<p>نصراللہ خان کے مطابق سی ویو کا ’شیطانی پوائنٹ‘ مختلف ریسوں کا مرکز تھا، جسے سڑک کے درمیان بیریئرز لگا کر بند کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ داخلی اور خارجی راستے بند کر کے کاروں اور بائیکس کی ریسوں میں شامل افراد کو گرفتار کرتے تھے، تاہم عموماً ان پر لاپروائی سے ڈرائیونگ کا مقدمہ ہی بن پاتا اور گاڑیاں ضبط کی جاتیں۔</p>
<p>ان کے بقول ریسوں میں استعمال ہونے والی بہت سی موٹر سائیکلیں چوری کی ہوتی ہیں یا ان میں چوری شدہ پرزے لگے ہوتے ہیں۔ طارق کا کہنا ہے کہ وہ اس خدشے سے بچنے کے لیے گاہکوں سے گاڑیوں کے کاغذات طلب کرتے ہیں۔</p>
<p>پولیس افسر اور رائیڈر دونوں متفق ہیں کہ پابندیوں یا کریک ڈاؤن کے باوجود بائیک ریسنگ جاری رہے گی۔</p>
<p>نصراللہ خان کے مطابق واحد حل یہ ہے کہ ریسنگ کو کم خطرناک بنایا جائے، نہ صرف شپاٹرز کے لیے بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ریسنگ کے لیے مخصوص جگہ فراہم کی جائے جیسا کہ جیپ ریلیوں اور دیگر مقابلوں میں ہوتا ہے۔</p>
<p>کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ڈان کو بتایا کہ شہر کی انتظامیہ اس خیال کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایسی جگہ ملی بھی تو وہ شہر کے مضافات میں ہو گی جہاں زیادہ تر لوگ جانا نہیں چاہتے۔</p>
<p>طارق کے مطابق بڑی ریس پہلے ہی ہائی وے کے حصوں پر اور شہر سے باہر نوری آباد تک ہوتی تھی۔</p>
<p>جب تک ان کے پاس اپنی جگہ نہیں ہوتی، شپاٹرز کراچی کی سڑکوں پر ریئر ویو مررز میں نظر آتے رہیں گے، ایک تیز رفتار دھندلا سایہ جو اچانک پیچھے سے آتا ہے اور ڈرائیوروں کو اپنی لائن پکڑ کر رکھنے اور خیر کی اُمید کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔</p>
<p>ان سڑکوں پر افسانے اور المیے کے درمیان فاصلہ کلومیٹرز میں نہیں بلکہ لمحوں میں ناپا جاتا ہے اور ہر بابو کے افسانہ بن جانے کے باوجود درجنوں ایسے  ہیں جو اسی عارضی شہرت کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274915</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 16:16:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسین دادا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261606568109fdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="688" width="1552">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261606568109fdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور کی سڑکوں پر روایت اور خوف کو چیلنج کرتی خواتین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274893/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب سوشل میڈیا انفلوئنسر صبا نے پہلی بار پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانا شروع کی تو یہ منظر دیکھتے ہی لوگوں کا ردعمل فوراً سامنے آ گیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ شہر میں لوگ انہیں حیرت سے گھورتے رہے، جیسے کسی عورت کا اکیلے دو پہیوں والی سواری چلانا ایک غیر معمولی بات ہو۔ تاہم یہ توجہ ان کے حوصلے کو کم نہ کر سکی اور وہ نظریں سڑک پر جمائے آگے بڑھتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا کے مطابق خاندان کی حمایت نے انہیں یہ اعتماد دیا کہ وہ لوگوں کے ردعمل کو نظرانداز کریں اور اپنے راستے پر توجہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سڑکوں پر موٹرسائیکلیں گاڑیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم اور پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2007 سے مارچ 2025 تک 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں جبکہ اسی عرصے میں صرف 26 لاکھ گاڑیاں فروخت ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کی نویں بڑی ٹو وہیلر مارکیٹ بن چکا ہے اور 2025 میں عالمی سطح پر تیز ترین ترقی کرنے والی مارکیٹس میں شامل رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'  alt='اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا اب بھی نہایت کم ہے، خاص طور پر پشاور جیسے شہروں میں جنہیں قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے اسکوٹر پر سفر کے لیے غیر تحریری مگر سخت سماجی اصول موجود ہیں، جن کے تحت عورت خود ہینڈل نہیں پکڑ سکتی اور اگر وہ پیچھے بیٹھی ہو تو اسے ایک مخصوص انداز میں بیٹھنا ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی بھی طرزِ نشست بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" href="#منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;منظر نامہ بدل رہا ہے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;صبا جیسی خواتین جو ان روایات سے بے نیاز ہو کر سڑکوں پر نکل رہی ہیں، پشاور کے منظرنامے کو آہستہ آہستہ بدل رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شہر خواتین کے لیے اب پہلے سے زیادہ محفوظ اور قابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول ان کے فیصلے نے دیگر خواتین کو بھی حوصلہ دیا ہے اور پشاور میں اسکوٹر چلانا بے حیائی نہیں بلکہ حدود میں رہتے ہوئے ایک محفوظ عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار اس تبدیلی کی سست رفتاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق پشاور کی 47 لاکھ آبادی میں خواتین کی تعداد 23 لاکھ سے زائد ہے، مگر ٹریفک پولیس کے مطابق 2025 میں شہر میں صرف 1931 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانے والی ہر خاتون محض ایک مسافر نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب کی علامت بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی مطالعات کے مطابق خواتین کے لیے ذاتی سواری اختیار کرنا خودمختاری کی علامت ہے اور یہ صنفی حدود کو چیلنج کرتی ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ پر ہراسانی اور عدم تحفظ خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے، جس کے باعث ذاتی سواری ایک بہتر متبادل بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر پشاور کو ایک مخصوص طرز کا شہر قرار دیتے ہیں، مگر میرا مقصد یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ پشاور کی خواتین بھی دیگر شہروں کی خواتین کی طرح باصلاحیت ہیں۔ اسی لیے میں نے پہلا قدم اٹھایا اور اسکوٹی چلانا شروع کی۔ ان کے مطابق میرے پاس کار اور ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے، مگر اسکوٹی چلانا بہت آسان ہے۔ میں بغیر کسی مشکل کے میٹنگز میں جا سکتی ہوں اور روزمرہ کے کام نمٹا سکتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خودمختاری" href="#خودمختاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خودمختاری&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;جامعہ پشاور کے شعبہ عمرانیات کے لیکچرار ڈاکٹر ظفر خان کے مطابق خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا نہ صرف سماجی تبدیلی بلکہ بااختیاری کی علامت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب خواتین کا گاڑی چلانا بھی قابلِ قبول نہیں تھا، مگر اب تبدیلی آ رہی ہے۔ ذاتی سواری خواتین کو روزمرہ کے امور میں خودمختاری فراہم کرتی ہے اور مردوں پر انحصار کم کرتی ہے، خواہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑنا ہو، یونیورسٹی جانا ہو یا دیگر ضروری کام۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'  alt='لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس سے خواتین کے لیے معاشی مواقع بھی بہتر ہوتے ہیں اور محفوظ ماحول فراہم کر کے انہیں عوامی ٹرانسپورٹ پر ہراسانی سے بچایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ نقل و حرکت کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ اگر خواتین کام کر رہی ہوں تو ان کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں میں کئی خواتین کو موٹر سائیکل اور اسکوٹی چلاتے دیکھتا ہوں، اور جب میں نے پہلی بار ایک لڑکی کو موٹر سائیکل پر دیکھا تو میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ معاشرے اور حکومت دونوں کی حمایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشرہ اور حکومت ایسی سرگرمیوں میں خواتین کی حمایت کریں تو یہ دوسروں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسانی سے بچا سکتا ہے۔ محفوظ ماحول فراہم کرنے سے خواتین سماجی اور معاشی طور پر زیادہ بااختیار ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خاندانی-حمایت-کا-کردار" href="#خاندانی-حمایت-کا-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خاندانی حمایت کا کردار&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پشاور کے شہریوں نے بھی خواتین سواروں کے لیے سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ طاہر نعیم جو پشاور کے رہائشی ہیں مگر اب اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ہر ہفتے شہر آتے ہیں، کا کہنا تھا کہ خواتین کو محفوظ جگہیں ملنی چاہئیں۔ متبادل سفری ذرائع ایک اچھا موقع ہیں۔ یہ خودمختاری دیتے ہیں، دوسروں پر انحصار کم کرتے ہیں اور کم خرچ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'  alt='کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل &amp;mdash; اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل — اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی حمایت ان تبدیلیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کی مثال جامعہ پشاور کی طالبہ ہما کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بچپن میں سائیکل چلانے سے 2020 میں موٹر سائیکل چلانے تک کا سفر طے کیا، جس میں ان کے والد نے حوصلہ افزائی کی۔ ان کے مطابق اگر خاندان آپ کے ساتھ ہو تو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ خاندان میں پرورش پانے والی ہما کے والد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ان کے فیصلے میں مداخلت نہ کرے۔ ان کی حمایت نے ہما کو خودمختاری کی راہ اپنانے کی آزادی دی۔ ان کے مطابق لوگ مجھے موٹر سائیکل چلانے پر سراہتے ہیں اور یہ میرے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ میں رات کے وقت بھی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے کبھی منفی ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، البتہ پہلی بار دیکھنے پر لوگ چونک جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل چلانے سے میری زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ میں خودمختار ہوں اور کسی پر انحصار کیے بغیر کہیں بھی جا سکتی ہوں۔ ہما نے دیگر نوجوان خواتین کے لیے پیغام بھی دیا کہ موٹر سائیکل چلانا میرے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ یہ خودمختاری اور آزادی کے بارے میں ہے۔ بہت سی لڑکیاں صرف اس ڈر سے رک جاتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" href="#تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تبدیلی میں وقت لگے گا&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں مقیم صحافی جمائمہ آفریدی نے ڈان کو بتایا کہ وہ اس علاقے سے تعلق رکھنے اور یہاں کام کرنے کے باعث خواتین کو درپیش مشکلات کو سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی چیز معاشرے میں غیر مانوس ہو تو اس کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ تب ہی معمول بنے گا جب ایسی خواتین آگے آئیں اور نقل و حرکت کے بنیادی حق پر عمل کریں۔ وقت کے ساتھ لوگ عادی ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک سائیکل ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس پر کافی تنقید ہوئی، مگر اس سے لوگوں کو یہ احساس بھی ہوا کہ خواتین کو سائیکل چلانے کا حق ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمائمہ آفریدی نے کہا کہ خواتین کے سائیکل یا موٹر سائیکل چلانے پر عوامی بحث شروع کرنا ان کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ قدم اٹھانے والی خواتین کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ گھورنا، تنقید، اور یہ دعوے کہ وہ ثقافت کو خراب کر رہی ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ بہتری آئے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس کو اپنائیں تاکہ ان کی موجودگی نظر آئے اور یہ معمول بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خاموش-انقلاب" href="#خاموش-انقلاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خاموش انقلاب&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں اسکوٹی چلانے والی خواتین کی تعداد شاید اب بھی کم ہو مگر ان کی موجودگی ایک بڑے پیغام کی عکاس ہے، ایک ایسی تبدیلی جس کے ذریعے خواتین ایک ایسے شہر میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں جو آہستہ آہستہ ان کے لیے جگہ پیدا کرنا سیکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا نے ایک گہری سانس کے ساتھ کہا کہ میرا پشاور بہت خوبصورت ہے، اور یہ لڑکیوں کے لیے بہتر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ میں پشاور سے محمد اشفاق نے تعاون کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب سوشل میڈیا انفلوئنسر صبا نے پہلی بار پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانا شروع کی تو یہ منظر دیکھتے ہی لوگوں کا ردعمل فوراً سامنے آ گیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ شہر میں لوگ انہیں حیرت سے گھورتے رہے، جیسے کسی عورت کا اکیلے دو پہیوں والی سواری چلانا ایک غیر معمولی بات ہو۔ تاہم یہ توجہ ان کے حوصلے کو کم نہ کر سکی اور وہ نظریں سڑک پر جمائے آگے بڑھتی رہیں۔</p>
<p>صبا کے مطابق خاندان کی حمایت نے انہیں یہ اعتماد دیا کہ وہ لوگوں کے ردعمل کو نظرانداز کریں اور اپنے راستے پر توجہ رکھیں۔</p>
<p>پاکستان کی سڑکوں پر موٹرسائیکلیں گاڑیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم اور پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2007 سے مارچ 2025 تک 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں جبکہ اسی عرصے میں صرف 26 لاکھ گاڑیاں فروخت ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کی نویں بڑی ٹو وہیلر مارکیٹ بن چکا ہے اور 2025 میں عالمی سطح پر تیز ترین ترقی کرنے والی مارکیٹس میں شامل رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'  alt='اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure>
<p>اس کے باوجود خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا اب بھی نہایت کم ہے، خاص طور پر پشاور جیسے شہروں میں جنہیں قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے اسکوٹر پر سفر کے لیے غیر تحریری مگر سخت سماجی اصول موجود ہیں، جن کے تحت عورت خود ہینڈل نہیں پکڑ سکتی اور اگر وہ پیچھے بیٹھی ہو تو اسے ایک مخصوص انداز میں بیٹھنا ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی بھی طرزِ نشست بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔</p>
<h2><a id="منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" href="#منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>منظر نامہ بدل رہا ہے</h2>
<p>صبا جیسی خواتین جو ان روایات سے بے نیاز ہو کر سڑکوں پر نکل رہی ہیں، پشاور کے منظرنامے کو آہستہ آہستہ بدل رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شہر خواتین کے لیے اب پہلے سے زیادہ محفوظ اور قابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>ان کے بقول ان کے فیصلے نے دیگر خواتین کو بھی حوصلہ دیا ہے اور پشاور میں اسکوٹر چلانا بے حیائی نہیں بلکہ حدود میں رہتے ہوئے ایک محفوظ عمل ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار اس تبدیلی کی سست رفتاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق پشاور کی 47 لاکھ آبادی میں خواتین کی تعداد 23 لاکھ سے زائد ہے، مگر ٹریفک پولیس کے مطابق 2025 میں شہر میں صرف 1931 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں۔</p>
<p>یوں پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانے والی ہر خاتون محض ایک مسافر نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب کی علامت بن جاتی ہے۔</p>
<p>تحقیقی مطالعات کے مطابق خواتین کے لیے ذاتی سواری اختیار کرنا خودمختاری کی علامت ہے اور یہ صنفی حدود کو چیلنج کرتی ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ پر ہراسانی اور عدم تحفظ خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے، جس کے باعث ذاتی سواری ایک بہتر متبادل بن جاتی ہے۔</p>
<p>صبا کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر پشاور کو ایک مخصوص طرز کا شہر قرار دیتے ہیں، مگر میرا مقصد یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ پشاور کی خواتین بھی دیگر شہروں کی خواتین کی طرح باصلاحیت ہیں۔ اسی لیے میں نے پہلا قدم اٹھایا اور اسکوٹی چلانا شروع کی۔ ان کے مطابق میرے پاس کار اور ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے، مگر اسکوٹی چلانا بہت آسان ہے۔ میں بغیر کسی مشکل کے میٹنگز میں جا سکتی ہوں اور روزمرہ کے کام نمٹا سکتی ہوں۔</p>
<h2><a id="خودمختاری" href="#خودمختاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خودمختاری</h2>
<p>جامعہ پشاور کے شعبہ عمرانیات کے لیکچرار ڈاکٹر ظفر خان کے مطابق خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا نہ صرف سماجی تبدیلی بلکہ بااختیاری کی علامت بھی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب خواتین کا گاڑی چلانا بھی قابلِ قبول نہیں تھا، مگر اب تبدیلی آ رہی ہے۔ ذاتی سواری خواتین کو روزمرہ کے امور میں خودمختاری فراہم کرتی ہے اور مردوں پر انحصار کم کرتی ہے، خواہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑنا ہو، یونیورسٹی جانا ہو یا دیگر ضروری کام۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'  alt='لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<p>ان کے مطابق اس سے خواتین کے لیے معاشی مواقع بھی بہتر ہوتے ہیں اور محفوظ ماحول فراہم کر کے انہیں عوامی ٹرانسپورٹ پر ہراسانی سے بچایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ نقل و حرکت کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ اگر خواتین کام کر رہی ہوں تو ان کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں میں کئی خواتین کو موٹر سائیکل اور اسکوٹی چلاتے دیکھتا ہوں، اور جب میں نے پہلی بار ایک لڑکی کو موٹر سائیکل پر دیکھا تو میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ معاشرے اور حکومت دونوں کی حمایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشرہ اور حکومت ایسی سرگرمیوں میں خواتین کی حمایت کریں تو یہ دوسروں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسانی سے بچا سکتا ہے۔ محفوظ ماحول فراہم کرنے سے خواتین سماجی اور معاشی طور پر زیادہ بااختیار ہو سکتی ہیں۔</p>
<h2><a id="خاندانی-حمایت-کا-کردار" href="#خاندانی-حمایت-کا-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خاندانی حمایت کا کردار</strong></h2>
<p>پشاور کے شہریوں نے بھی خواتین سواروں کے لیے سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ طاہر نعیم جو پشاور کے رہائشی ہیں مگر اب اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ہر ہفتے شہر آتے ہیں، کا کہنا تھا کہ خواتین کو محفوظ جگہیں ملنی چاہئیں۔ متبادل سفری ذرائع ایک اچھا موقع ہیں۔ یہ خودمختاری دیتے ہیں، دوسروں پر انحصار کم کرتے ہیں اور کم خرچ ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'  alt='کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل &mdash; اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل — اے ایف پی</figcaption>
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی حمایت ان تبدیلیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کی مثال جامعہ پشاور کی طالبہ ہما کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بچپن میں سائیکل چلانے سے 2020 میں موٹر سائیکل چلانے تک کا سفر طے کیا، جس میں ان کے والد نے حوصلہ افزائی کی۔ ان کے مطابق اگر خاندان آپ کے ساتھ ہو تو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔</p>
<p>مشترکہ خاندان میں پرورش پانے والی ہما کے والد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ان کے فیصلے میں مداخلت نہ کرے۔ ان کی حمایت نے ہما کو خودمختاری کی راہ اپنانے کی آزادی دی۔ ان کے مطابق لوگ مجھے موٹر سائیکل چلانے پر سراہتے ہیں اور یہ میرے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ میں رات کے وقت بھی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے کبھی منفی ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، البتہ پہلی بار دیکھنے پر لوگ چونک جاتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل چلانے سے میری زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ میں خودمختار ہوں اور کسی پر انحصار کیے بغیر کہیں بھی جا سکتی ہوں۔ ہما نے دیگر نوجوان خواتین کے لیے پیغام بھی دیا کہ موٹر سائیکل چلانا میرے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ یہ خودمختاری اور آزادی کے بارے میں ہے۔ بہت سی لڑکیاں صرف اس ڈر سے رک جاتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔</p>
<h2><a id="تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" href="#تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تبدیلی میں وقت لگے گا</strong></h2>
<p>پشاور میں مقیم صحافی جمائمہ آفریدی نے ڈان کو بتایا کہ وہ اس علاقے سے تعلق رکھنے اور یہاں کام کرنے کے باعث خواتین کو درپیش مشکلات کو سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی چیز معاشرے میں غیر مانوس ہو تو اس کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ تب ہی معمول بنے گا جب ایسی خواتین آگے آئیں اور نقل و حرکت کے بنیادی حق پر عمل کریں۔ وقت کے ساتھ لوگ عادی ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک سائیکل ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس پر کافی تنقید ہوئی، مگر اس سے لوگوں کو یہ احساس بھی ہوا کہ خواتین کو سائیکل چلانے کا حق ہونا چاہیے۔</p>
<p>جمائمہ آفریدی نے کہا کہ خواتین کے سائیکل یا موٹر سائیکل چلانے پر عوامی بحث شروع کرنا ان کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ قدم اٹھانے والی خواتین کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ گھورنا، تنقید، اور یہ دعوے کہ وہ ثقافت کو خراب کر رہی ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ بہتری آئے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس کو اپنائیں تاکہ ان کی موجودگی نظر آئے اور یہ معمول بن جائے۔</p>
<h2><a id="خاموش-انقلاب" href="#خاموش-انقلاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خاموش انقلاب</strong></h2>
<p>پشاور میں اسکوٹی چلانے والی خواتین کی تعداد شاید اب بھی کم ہو مگر ان کی موجودگی ایک بڑے پیغام کی عکاس ہے، ایک ایسی تبدیلی جس کے ذریعے خواتین ایک ایسے شہر میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں جو آہستہ آہستہ ان کے لیے جگہ پیدا کرنا سیکھ رہا ہے۔</p>
<p>صبا نے ایک گہری سانس کے ساتھ کہا کہ میرا پشاور بہت خوبصورت ہے، اور یہ لڑکیوں کے لیے بہتر ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<hr />
<p>اس رپورٹ میں پشاور سے محمد اشفاق نے تعاون کیا ہے۔</p>
<hr />
<p>تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274893</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 14:59:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملائکہ ارباب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2214552812e4c09.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2214552812e4c09.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ہجوم اب سڑکوں پر نہیں، اسکرین پر بنتا ہے!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274873/</link>
      <description>&lt;p&gt;کئی دہائیوں تک پاکستان میں عوامی اجتماع ایک متوقع راستہ اختیار کرتا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں احتجاجی کال دیتیں، علما جلوسوں کا اعلان کرتے اور مزدور یونینیں مارچ منظم کرتیں۔ پولیس برسوں تک اسی طرز عمل پر انحصار کرتی رہی، قیادت سے مذاکرات، راستوں کی منصوبہ بندی اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر شدت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب ملک بھر میں ہجوم اس انداز میں منظم نہیں ہوتا جیسا ہمارے ادارے تصور کرتے ہیں۔ وہ دور گزر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ہجوم سڑک پر آنے سے بہت پہلے ایک اسمارٹ فون کے اندر تشکیل پاتا ہے۔ کوئی مختصر ویڈیو، ایڈیٹ کیا گیا کلپ، وائس نوٹ یا واٹس ایپ پر فارورڈ ہونے والی افواہ کسی بھی سیاسی ہدایت سے کہیں زیادہ تیزی سے لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پاکستان میں عوامی کو متحرک کرنے کے اصل انجن بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز جذباتی مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے غصہ، اشتعال، مظلومیت کا احساس اور مذہبی جذبات، اور انہیں تیزی سے لاکھوں افراد تک پہنچا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" href="#جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جب وائرل ہونا سیکیورٹی خطرہ بن جائے&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں تقریباً 11 ہزار 861 عوامی نظم و نسق کی کارروائیاں نمٹائی گئیں، جن میں سیاسی احتجاج، مذہبی جلوس، محرم و عاشورہ کی مجالس اور یومِ آزادی کی تقریبات شامل تھیں، جس کے بعد ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ ہجوم جسمانی طور پر بننے سے پہلے ڈیجیٹل طور پر تشکیل پاتا ہے۔ جب تک پولیس کی پہلی نفری کسی واقعے کی جگہ پہنچتی ہے، آن لائن جذباتی اشتعال پہلے ہی پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ روایتی نہیں بلکہ الگورتھم کے ذریعے پیدا ہونے والی تحریک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک نمایاں مثال گزشتہ سال پنجاب کالج برائے خواتین کے طلبہ میں پھیلنے والی جعلی زیادتی کی اطلاع تھی، جو لمحوں میں وائرل ہو گئی اور صوبے کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد کے جمع ہونے کا باعث بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور واقعے میں اکتوبر 2025 میں لاہور پریس کلب کے قریب فلسطین کے حق میں ہونے والا احتجاج ابتدا میں پُرامن رہا، مگر آن لائن اشتعال انگیز مواد اور لائیو ویڈیوز پھیلنے کے بعد پرتشدد ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ الگورتھم سے پیدا ہونے والی شدت کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270014'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیکڑوں بلکہ ہزاروں افراد نے ایک حساس عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس سے سیکیورٹی کی انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوئی۔ صورتحال کو تیزی سے کنٹرول، محدود طاقت کے استعمال، قیادت کو الگ کرنے اور منتظمین سے رابطے کے ذریعے قابو میں کیا گیا اور بعد ازاں اہم تنصیبات کو محفوظ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ تحریک مذہبی نوعیت کی ہو تو یہ اور بھی تیز اور غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کوئی مختصر خطبہ، پرانا ویڈیو کلپ یا دانستہ طور پر اس طرح ایڈٹ کیا گیا مواد جو توہین کا تاثر دے، یہ سب بجلی کی رفتار سے پھیلتے ہیں۔ کئی مواقع پر دنوں کی محنت سے ہونے والے مذاکرات صرف اس لمحے ناکام ہو گئے جب ایسا کوئی کلپ گردش میں آیا اور متوقع حد سے کئی زیادہ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محرم اور دیگر مذہبی مواقع اب ایک متوازی ڈیجیٹل میدان کے ساتھ انجام پاتے ہیں جو اکثر خود جلوس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ 2024 میں چہلم کے جلوس کے دوران پیر مکی کٹ پر اس وقت ایک معمولی فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی جب ایک چھوٹے گروہ نے طے شدہ راستے کی خلاف ورزی کی۔ غیر مجاز کراسنگ سے تلخ کلامی اور ہلکی پھلکی ہاتھا پائی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس واقعے کی سیاق و سباق سے مختلف ویڈیوز تیزی سے آن لائن پھیل گئیں، جس سے زمینی حقائق سے زیادہ بڑا خطرہ ظاہر ہونے لگا اور وسیع پیمانے پر انتشار کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ صورتحال کو فوری طور پر انتظامی گرفت اور مقامی شیعہ و سنی عمائدین سے مذاکرات کے ذریعے قابو میں کیا گیا، یوں ڈیجیٹل شدت کو سڑکوں تک پھیلنے سے روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں یومِ آزادی کے موقع پر ایک بالکل نیا رجحان سامنے آیا، جسے نمائشی بے امنی کہا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر نوجوانوں کے بڑے گروہ جو کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں نکلے اور نہ ہی انہیں نظام سے کوئی شکایت تھی، بلکہ صرف دکھائی دینے اور وائرل ہونے کی خواہش کے زیر اثر انہوں نے عجیب و غیر رویہ اپنایا۔ ان کی لائیو اسٹریمز نے خطرناک ایکشن، جارحیت اور ہراسانی کو ہوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کا پولیسنگ ماڈل اب بھی پرانے مفروضوں پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" href="#جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جدید ڈیجیٹل حکمت عملی ناگزیر&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ہم آج بھی کسی تقریب کی تیاری شرکا کی تعداد، سیاسی قیادت اور طے شدہ راستوں کو دیکھ کر کرتے ہیں۔ لیکن الگورتھم سے بننے والے ہجوم نہ قیادت کی پیروی کرتے ہیں، نہ بتدریج جمع ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا رویہ قابلِ پیش گوئی ہوتا ہے۔ ان کے محرکات نظریے سے کم اور جذبات سے زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ لفظوں میں، عوامی نظم و نسق کے مسائل اب آن لائن شروع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان کو عوامی سرگرمیوں کے ان بدلتے انداز سے نمٹنا ہے تو عوامی تحفظ کے لیے ڈیجیٹل بنیادوں پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس میں ایسے خصوصی یونٹس کا قیام شامل ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل جذبات کی نگرانی کریں، وائرل مواد کی نشاندہی کریں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ پر نظر رکھیں۔ سیف سٹی اداروں، ٹیلی کام ریگولیٹرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جو آن لائن انڈیکیٹرز اور زمینی حقائق کو جوڑ کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی کسی حد تک نظر بھی آ رہی ہے، پنجاب پولیس آرڈر دوسری ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت ایک مخصوص رائٹ مینجمنٹ یونٹ بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی احتجاج اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت اور آلات فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ قانون کے تحت حکام کو رائٹ زون قرار دینے، علاقوں کو گھیرے میں لینے، شہریوں کے انخلا اور نیک نیتی سے کارروائی کرنے والے اہلکاروں کو قانونی تحفظ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ احتجاج کے منتظمین اور اکسانے والوں کو جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانے اور تشدد یا توڑ پھوڑ پر سخت سزائیں، جن میں دس سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں، عائد کرنے کی بات کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محض نفاذ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اتنا ہی ضروری ہے کہ پیش گوئی پر مبنی تجزیات اور ’ہیٹ میپس‘ استعمال کیے جائیں، جو یہ بتا سکیں کہ آن لائن غصہ کن مقامات، شناختوں یا واقعات کے گرد جمع ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیاری طریقہ کار کو اس طرح اپ ڈیٹ کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل تحریک کو ابتدائی وارننگ سمجھا جائے، پس منظر کا شور نہیں۔ عوامی نظم کے یونٹس کو گھنٹوں نہیں بلکہ منٹوں میں ردعمل دینے کے قابل ہونا چاہیے، اس سے پہلے کہ غلط معلومات بڑے پیمانے پر تحریک میں بدل جائیں۔ یہ فوری ایکشن اس وسیع تر سیکیورٹی ماحول میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جہاں ریاست پر کنٹرول دکھانے کا دباؤ مسلسل موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" href="#روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روایتی انٹیلی جنس نظام سے آگے سوچنا ہوگا&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے ہمسایہ ممالک پر دباؤ، اور اندرونِ ملک واقعات جیسے ایبٹ آباد میں خاتون ٹیچرکے قتل سے متلق آپریشن میں ایک &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274827"&gt;&lt;strong&gt;اہم ملزم کی ہلاکت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;، اس ادارہ جاتی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بے یقینی حالات میں فیصلہ کن رویے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں عوامی نظم و نسق اگر ڈیجیٹل دور کے مطابق نہ ڈھالا گیا تو یہ محض ردعمل اور طاقت کے استعمال تک محدود ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کا مطلب اظہارِ رائے کو محدود کرنا یا اختلاف کو دبانا نہیں۔ اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ آج عوامی نظم و نسق ان قوتوں کے زیرِ اثر ہے جو روایتی انٹیلی جنس نظام کی رفتار سے بہت تیز ہیں۔ جب ویڈیو تصدیق سے پہلے پھیل جائے اور اشتعال عقل سے آگے نکل جائے تو پولیسنگ کو ڈنڈوں، رکاوٹوں اور بعد از کارروائی رپورٹس سے آگے بڑھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہجوم پہلے سے زیادہ تیزی سے بنے گا، تیزی سے بکھرے گا اور زیادہ غیر متوقع انداز میں عمل کرے گا۔ اگر ادارے خود کو نہ تبدیل کر سکے تو اگلا بڑا بحران کسی سیاسی اعلان یا مذہبی خطبے سے نہیں بلکہ کسی بارہ سیکنڈ کے کلپ سے شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی تحفظ کے لیے ریاست کو ایک سادہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔ آج ہجوم سڑک پر نہیں بلکہ ’فیڈ‘ میں جنم لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960496/algorithmic-crowd-the-changing-anatomy-of-mobs-in-pakistan"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کئی دہائیوں تک پاکستان میں عوامی اجتماع ایک متوقع راستہ اختیار کرتا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں احتجاجی کال دیتیں، علما جلوسوں کا اعلان کرتے اور مزدور یونینیں مارچ منظم کرتیں۔ پولیس برسوں تک اسی طرز عمل پر انحصار کرتی رہی، قیادت سے مذاکرات، راستوں کی منصوبہ بندی اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر شدت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔</p>
<p>لیکن اب ملک بھر میں ہجوم اس انداز میں منظم نہیں ہوتا جیسا ہمارے ادارے تصور کرتے ہیں۔ وہ دور گزر چکا ہے۔</p>
<p>آج ہجوم سڑک پر آنے سے بہت پہلے ایک اسمارٹ فون کے اندر تشکیل پاتا ہے۔ کوئی مختصر ویڈیو، ایڈیٹ کیا گیا کلپ، وائس نوٹ یا واٹس ایپ پر فارورڈ ہونے والی افواہ کسی بھی سیاسی ہدایت سے کہیں زیادہ تیزی سے لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پاکستان میں عوامی کو متحرک کرنے کے اصل انجن بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز جذباتی مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے غصہ، اشتعال، مظلومیت کا احساس اور مذہبی جذبات، اور انہیں تیزی سے لاکھوں افراد تک پہنچا دیتے ہیں۔</p>
<h2><a id="جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" href="#جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جب وائرل ہونا سیکیورٹی خطرہ بن جائے</strong></h2>
<p>لاہور میں تقریباً 11 ہزار 861 عوامی نظم و نسق کی کارروائیاں نمٹائی گئیں، جن میں سیاسی احتجاج، مذہبی جلوس، محرم و عاشورہ کی مجالس اور یومِ آزادی کی تقریبات شامل تھیں، جس کے بعد ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ ہجوم جسمانی طور پر بننے سے پہلے ڈیجیٹل طور پر تشکیل پاتا ہے۔ جب تک پولیس کی پہلی نفری کسی واقعے کی جگہ پہنچتی ہے، آن لائن جذباتی اشتعال پہلے ہی پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ روایتی نہیں بلکہ الگورتھم کے ذریعے پیدا ہونے والی تحریک ہے۔</p>
<p>اس کی ایک نمایاں مثال گزشتہ سال پنجاب کالج برائے خواتین کے طلبہ میں پھیلنے والی جعلی زیادتی کی اطلاع تھی، جو لمحوں میں وائرل ہو گئی اور صوبے کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد کے جمع ہونے کا باعث بنی۔</p>
<p>ایک اور واقعے میں اکتوبر 2025 میں لاہور پریس کلب کے قریب فلسطین کے حق میں ہونے والا احتجاج ابتدا میں پُرامن رہا، مگر آن لائن اشتعال انگیز مواد اور لائیو ویڈیوز پھیلنے کے بعد پرتشدد ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ الگورتھم سے پیدا ہونے والی شدت کا نتیجہ تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270014'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سیکڑوں بلکہ ہزاروں افراد نے ایک حساس عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس سے سیکیورٹی کی انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوئی۔ صورتحال کو تیزی سے کنٹرول، محدود طاقت کے استعمال، قیادت کو الگ کرنے اور منتظمین سے رابطے کے ذریعے قابو میں کیا گیا اور بعد ازاں اہم تنصیبات کو محفوظ بنایا گیا۔</p>
<p>جب یہ تحریک مذہبی نوعیت کی ہو تو یہ اور بھی تیز اور غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کوئی مختصر خطبہ، پرانا ویڈیو کلپ یا دانستہ طور پر اس طرح ایڈٹ کیا گیا مواد جو توہین کا تاثر دے، یہ سب بجلی کی رفتار سے پھیلتے ہیں۔ کئی مواقع پر دنوں کی محنت سے ہونے والے مذاکرات صرف اس لمحے ناکام ہو گئے جب ایسا کوئی کلپ گردش میں آیا اور متوقع حد سے کئی زیادہ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔</p>
<p>محرم اور دیگر مذہبی مواقع اب ایک متوازی ڈیجیٹل میدان کے ساتھ انجام پاتے ہیں جو اکثر خود جلوس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ 2024 میں چہلم کے جلوس کے دوران پیر مکی کٹ پر اس وقت ایک معمولی فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی جب ایک چھوٹے گروہ نے طے شدہ راستے کی خلاف ورزی کی۔ غیر مجاز کراسنگ سے تلخ کلامی اور ہلکی پھلکی ہاتھا پائی ہوئی۔</p>
<p>لیکن اس واقعے کی سیاق و سباق سے مختلف ویڈیوز تیزی سے آن لائن پھیل گئیں، جس سے زمینی حقائق سے زیادہ بڑا خطرہ ظاہر ہونے لگا اور وسیع پیمانے پر انتشار کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ صورتحال کو فوری طور پر انتظامی گرفت اور مقامی شیعہ و سنی عمائدین سے مذاکرات کے ذریعے قابو میں کیا گیا، یوں ڈیجیٹل شدت کو سڑکوں تک پھیلنے سے روک دیا گیا۔</p>
<p>لاہور میں یومِ آزادی کے موقع پر ایک بالکل نیا رجحان سامنے آیا، جسے نمائشی بے امنی کہا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر نوجوانوں کے بڑے گروہ جو کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں نکلے اور نہ ہی انہیں نظام سے کوئی شکایت تھی، بلکہ صرف دکھائی دینے اور وائرل ہونے کی خواہش کے زیر اثر انہوں نے عجیب و غیر رویہ اپنایا۔ ان کی لائیو اسٹریمز نے خطرناک ایکشن، جارحیت اور ہراسانی کو ہوا دی۔</p>
<p>ان تمام تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کا پولیسنگ ماڈل اب بھی پرانے مفروضوں پر قائم ہے۔</p>
<h2><a id="جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" href="#جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جدید ڈیجیٹل حکمت عملی ناگزیر</strong></h2>
<p>ہم آج بھی کسی تقریب کی تیاری شرکا کی تعداد، سیاسی قیادت اور طے شدہ راستوں کو دیکھ کر کرتے ہیں۔ لیکن الگورتھم سے بننے والے ہجوم نہ قیادت کی پیروی کرتے ہیں، نہ بتدریج جمع ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا رویہ قابلِ پیش گوئی ہوتا ہے۔ ان کے محرکات نظریے سے کم اور جذبات سے زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>سادہ لفظوں میں، عوامی نظم و نسق کے مسائل اب آن لائن شروع ہوتے ہیں۔</p>
<p>اگر پاکستان کو عوامی سرگرمیوں کے ان بدلتے انداز سے نمٹنا ہے تو عوامی تحفظ کے لیے ڈیجیٹل بنیادوں پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس میں ایسے خصوصی یونٹس کا قیام شامل ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل جذبات کی نگرانی کریں، وائرل مواد کی نشاندہی کریں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ پر نظر رکھیں۔ سیف سٹی اداروں، ٹیلی کام ریگولیٹرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جو آن لائن انڈیکیٹرز اور زمینی حقائق کو جوڑ کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔</p>
<p>یہ تبدیلی کسی حد تک نظر بھی آ رہی ہے، پنجاب پولیس آرڈر دوسری ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت ایک مخصوص رائٹ مینجمنٹ یونٹ بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی احتجاج اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت اور آلات فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>مجوزہ قانون کے تحت حکام کو رائٹ زون قرار دینے، علاقوں کو گھیرے میں لینے، شہریوں کے انخلا اور نیک نیتی سے کارروائی کرنے والے اہلکاروں کو قانونی تحفظ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ احتجاج کے منتظمین اور اکسانے والوں کو جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانے اور تشدد یا توڑ پھوڑ پر سخت سزائیں، جن میں دس سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں، عائد کرنے کی بات کی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم محض نفاذ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اتنا ہی ضروری ہے کہ پیش گوئی پر مبنی تجزیات اور ’ہیٹ میپس‘ استعمال کیے جائیں، جو یہ بتا سکیں کہ آن لائن غصہ کن مقامات، شناختوں یا واقعات کے گرد جمع ہو رہا ہے۔</p>
<p>معیاری طریقہ کار کو اس طرح اپ ڈیٹ کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل تحریک کو ابتدائی وارننگ سمجھا جائے، پس منظر کا شور نہیں۔ عوامی نظم کے یونٹس کو گھنٹوں نہیں بلکہ منٹوں میں ردعمل دینے کے قابل ہونا چاہیے، اس سے پہلے کہ غلط معلومات بڑے پیمانے پر تحریک میں بدل جائیں۔ یہ فوری ایکشن اس وسیع تر سیکیورٹی ماحول میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جہاں ریاست پر کنٹرول دکھانے کا دباؤ مسلسل موجود ہے۔</p>
<h2><a id="روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" href="#روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>روایتی انٹیلی جنس نظام سے آگے سوچنا ہوگا</strong></h2>
<p>سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے ہمسایہ ممالک پر دباؤ، اور اندرونِ ملک واقعات جیسے ایبٹ آباد میں خاتون ٹیچرکے قتل سے متلق آپریشن میں ایک <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274827"><strong>اہم ملزم کی ہلاکت</strong></a>، اس ادارہ جاتی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بے یقینی حالات میں فیصلہ کن رویے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں عوامی نظم و نسق اگر ڈیجیٹل دور کے مطابق نہ ڈھالا گیا تو یہ محض ردعمل اور طاقت کے استعمال تک محدود ہو جائے گا۔</p>
<p>اس سب کا مطلب اظہارِ رائے کو محدود کرنا یا اختلاف کو دبانا نہیں۔ اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ آج عوامی نظم و نسق ان قوتوں کے زیرِ اثر ہے جو روایتی انٹیلی جنس نظام کی رفتار سے بہت تیز ہیں۔ جب ویڈیو تصدیق سے پہلے پھیل جائے اور اشتعال عقل سے آگے نکل جائے تو پولیسنگ کو ڈنڈوں، رکاوٹوں اور بعد از کارروائی رپورٹس سے آگے بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہجوم پہلے سے زیادہ تیزی سے بنے گا، تیزی سے بکھرے گا اور زیادہ غیر متوقع انداز میں عمل کرے گا۔ اگر ادارے خود کو نہ تبدیل کر سکے تو اگلا بڑا بحران کسی سیاسی اعلان یا مذہبی خطبے سے نہیں بلکہ کسی بارہ سیکنڈ کے کلپ سے شروع ہوگا۔</p>
<p>عوامی تحفظ کے لیے ریاست کو ایک سادہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔ آج ہجوم سڑک پر نہیں بلکہ ’فیڈ‘ میں جنم لیتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960496/algorithmic-crowd-the-changing-anatomy-of-mobs-in-pakistan"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274873</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 16:15:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالوہاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/19151931b25ab1c.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/19151931b25ab1c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ریاستی جبر اور بڑھتا ہوا سیاسی بحران</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274860/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں ہفتے اڈیالہ جیل جہاں سابق وزیراعظم عمران خان قید ہیں، کے باہر مظاہرین کے خلاف کیا گیا طاقت کا استعمال ایک مانوس طرزِ عمل کا حصہ ہے، ریاستی حکام نے عدالتی احکامات اور شہری حقوق کو نظر انداز کیا اور ایک پُرامن احتجاج کو منتشر کر دیا حالانکہ وہ باآسانی مظاہرین سے یا کم از کم عمران خان کے اہلِ خانہ سے بات چیت کر سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انصاف کی امیدیں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب نظامِ انصاف خود شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دوسری جانب سیاسی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث ملک پر چھایا مستقل بحران اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک طور پر سماجی معاہدے میں متعدد ترامیم کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہو سکی اور پاکستان ایک گہرے سماجی و سیاسی بحران کی گرفت میں پھنسا ہوا ہے۔ جیسے جیسے جائز اختلافِ رائے کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں، حکومت عوامی بے چینی کی وجوہات دور کرنے کے بجائے اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر نے بدھ کو اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرین پر گزشتہ شب ہائی پریشر واٹر کینن کے استعمال کو ’پُرامن اجتماع کے حق کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پانی میں کیمیائی محرکات شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام سے مطالبہ کیاگیا کہ ‘لوگوں کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام  اور طاقت کے غیر متناسب اور سزا دینے والے استعمال کو ختم کریں‘، ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ ’بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے تحت واٹر کینن کا استعمال صرف شدید عوامی بے امنی اور وسیع پیمانے پر تشدد کی صورت میں ہی جائز ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے لیے سخت گیر ہتھکنڈوں پر اصرار کی کوئی منطقی ضرورت نہیں، خصوصاً اس کے بعد کہ وہ ملک کے بیشتر انتظامی اور حکومتی شعبوں میں غیر معمولی طاقت حاصل کر چکی ہے۔ اس کے باوجود، ناقابلِ فہم طور پر حکومت یوں برتاؤ کر رہی ہے جیسے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی جماعت سے اسے مسلسل وجودی خطرہ لاحق ہو، اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے طاقت کا سہارا ناگزیر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اپنے لیے نئے مسائل ہی پیدا کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر اپنے بیان میں خبردار کیا کہ’اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات، جیسے آئی سی سی پی آر اور منصفانہ عدالتی عمل کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے‘ اور مزید کہا کہ ’منڈیلا رولز کے مطابق اہلِ خانہ سے رابطے پر پابندی کو تادیبی یا سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں اور متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے، مگر ان کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جانے چاہئیں۔ اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے سے عمران خان کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، اس لیے انہیں تنہائی میں رکھنے پر اصرار بے معنی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرے اور مزید عالمی تنقید سے بچنے کے لیے بروقت اقدام کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اداریہ انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961755"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں ہفتے اڈیالہ جیل جہاں سابق وزیراعظم عمران خان قید ہیں، کے باہر مظاہرین کے خلاف کیا گیا طاقت کا استعمال ایک مانوس طرزِ عمل کا حصہ ہے، ریاستی حکام نے عدالتی احکامات اور شہری حقوق کو نظر انداز کیا اور ایک پُرامن احتجاج کو منتشر کر دیا حالانکہ وہ باآسانی مظاہرین سے یا کم از کم عمران خان کے اہلِ خانہ سے بات چیت کر سکتے تھے۔</p>
<p>انصاف کی امیدیں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب نظامِ انصاف خود شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دوسری جانب سیاسی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث ملک پر چھایا مستقل بحران اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>افسوسناک طور پر سماجی معاہدے میں متعدد ترامیم کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہو سکی اور پاکستان ایک گہرے سماجی و سیاسی بحران کی گرفت میں پھنسا ہوا ہے۔ جیسے جیسے جائز اختلافِ رائے کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں، حکومت عوامی بے چینی کی وجوہات دور کرنے کے بجائے اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر نے بدھ کو اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرین پر گزشتہ شب ہائی پریشر واٹر کینن کے استعمال کو ’پُرامن اجتماع کے حق کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پانی میں کیمیائی محرکات شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p>حکام سے مطالبہ کیاگیا کہ ‘لوگوں کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام  اور طاقت کے غیر متناسب اور سزا دینے والے استعمال کو ختم کریں‘، ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ ’بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے تحت واٹر کینن کا استعمال صرف شدید عوامی بے امنی اور وسیع پیمانے پر تشدد کی صورت میں ہی جائز ہے‘۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے لیے سخت گیر ہتھکنڈوں پر اصرار کی کوئی منطقی ضرورت نہیں، خصوصاً اس کے بعد کہ وہ ملک کے بیشتر انتظامی اور حکومتی شعبوں میں غیر معمولی طاقت حاصل کر چکی ہے۔ اس کے باوجود، ناقابلِ فہم طور پر حکومت یوں برتاؤ کر رہی ہے جیسے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی جماعت سے اسے مسلسل وجودی خطرہ لاحق ہو، اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے طاقت کا سہارا ناگزیر ہو۔</p>
<p>حکومت اپنے لیے نئے مسائل ہی پیدا کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر اپنے بیان میں خبردار کیا کہ’اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات، جیسے آئی سی سی پی آر اور منصفانہ عدالتی عمل کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے‘ اور مزید کہا کہ ’منڈیلا رولز کے مطابق اہلِ خانہ سے رابطے پر پابندی کو تادیبی یا سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔</p>
<p>عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں اور متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے، مگر ان کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جانے چاہئیں۔ اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے سے عمران خان کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، اس لیے انہیں تنہائی میں رکھنے پر اصرار بے معنی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرے اور مزید عالمی تنقید سے بچنے کے لیے بروقت اقدام کرے۔</p>
<hr />
<p>اداریہ انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1961755"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274860</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:03:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18122632b16ed14.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18122632b16ed14.webp"/>
        <media:title>دھرنے کے دوران کچھ مظاہرین نے احتجاجی مقام کے قریب پیٹرول پمپوں اور دیگر عمارتوں کی دیواروں پر پی ٹی آئی کے حق میں نعرے اور تحریریں لکھیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیض حمید کی سزا: ایک غیر معمولی فیصلہ یا روایتی تسلسل؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274843/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک سال سے زائد عرصے بعد گزشتہ ہفتے فیض حمید کی سزا کا اعلان کیا گیا، یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کسی کے لیے حیران کن تھا، جب گزشتہ سال ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی تو سزا تقریباً طے شدہ نظر آتی تھی۔ گزشتہ چند مہینوں میں بھی اس حوالے سے کئی لیکس سامنے آتی رہی تھیں کہ فیصلہ کسی بھی دن آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو افراد طاقت کے مراکز تک رسائی نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اس سزا کا پاکستان، اس کے ریاستی ڈھانچے اور فوج کے لیے کیا مطلب ہے۔ اسی لیے اس سزا سے متعلق چند خیالات اور سوالات پیش کیے جا رہے ہیں، جو بلاشبہ غیر معمولی ہے، کیونکہ آئی ایس آئی کی قیادت کرنے والے کسی افسر کو اس سے قبل اس کے اپنے ادارے نے کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سول اور عسکری تعلقات پیچیدہ رہے ہیں، آئی ایس آئی کے سربراہان ہمیشہ تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر سیاسی اور طاقت کے تعلقات کا نتیجہ رہا ہے، نہ کہ محض افراد کا۔ اسد درانی سے لے کر حمید گل اور احسان الحق تک، یہ سب شخصیات میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں، حالانکہ اس دور کا میڈیا آج کے مقابلے میں خاصا محدود تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دور میں شجاع پاشا آئے، جنہوں نے شاید اپنے سربراہ کے ساتھ توسیع کی روایت کو فروغ دیا۔ وہ میموگیٹ جیسے بحران میں بھی مرکزی کردار رہے، جہاں ان کا حلف نامہ تنازع اور عدم استحکام کا باعث بنا۔ اگرچہ آج انہیں زیادہ تر پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے اور مشہور لاہور جلسے کی منصوبہ بندی کرنے والے دماغ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بعد ظہیرالاسلام آئے، جن پر 2014 کے دھرنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا۔ اس دھرنے کے عروج کے دوران میڈیا میں ایسی رپورٹس آئیں کہ حکومت سے ملاقاتوں میں ان اور اس وقت کے آرمی چیف کے درمیان بے چینی پائی جاتی تھی۔ اس کے بعد رضوان اختر آئے، جنہوں نے نسبتاً خاموشی سے اپنی مدت پوری کی جبکہ ان کے ماتحت فیض حمید تمام تر توجہ کا مرکز بنے رہے اور 2018 کے انتخابات سے قبل ملک بھر میں سرگرم رہے۔ تاہم رضوان اختر بھی جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے قریب پیدا ہونے والے تنازعات سے محفوظ نہ رہ سکے، مثلاً جب ایک سینیٹر نے قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بیان دیا، جو اس وقت ابھی آرمی چیف منتخب نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فیض حمید کے کریئر میں دو ایسے ادوار آئے جب وہ غیر معمولی طور پر نمایاں رہے۔ سیاست میں مداخلت، قتل کے الزامات، دھمکیاں، میڈیا کو دبانا اور حتیٰ کہ رشوت ستانی ان پر ہر طرح کے الزامات لگے، اور اب ان میں سے بہت سی باتیں کھلے عام کہی جا رہی ہیں۔ سیاست دانوں اور صحافیوں نے ان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں اور اقدامات پر کھل کر بات کی ہے، اور یہ سب اب عوامی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے جانے کے بعد ندیم انجم بھی عوامی نظروں اور افواہوں سے زیادہ دور نہ رہ سکے۔ درحقیقت، وہ شاید واحد انٹیلی جنس سربراہ تھے جنہوں نے براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس بھی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274802'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا فیض حمید نے ایسی حدیں عبور کیں جو ناقابلِ قبول تھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے کہ آیا وہ ایک استثنیٰ تھے یا پھر انہوں نے طاقت کے استعمال کا ایک نیا معمول قائم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کا جواب اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کی سزا کی تفصیلات بہت محدود انداز میں سامنے آئی ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال، لوگوں کو نقصان پہنچانے، آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاست میں مداخلت کے الزامات ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے دو الزامات کو غالباً ٹاپ سٹی اسکینڈل سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ڈیفنس اہلکاروں کے ذریعے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو دھمکایا۔ تاہم آخری دو الزامات کے بارے میں قیاس آرائی کے سوا کچھ کہنا مشکل ہے۔ سیاست میں ان کے کن اقدامات کو غلط قرار دیا گیا اور کون سے قابلِ قبول سمجھے گئے، اس پر کوئی وضاحت نہیں، خصوصاً جب پریس ریلیز میں اشارہ دیا گیا کہ 9 مئی سے متعلق تحقیقات ابھی زیرِ التوا ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی سطح پر ان کے اقدامات پر بھرپور بحث ہو رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ کورٹ مارشل میں کن امور کو قابلِ سزا قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ مباحثہ انہیں ایک ولن کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان کی سزا مستقبل میں اسی نوعیت کی طاقت رکھنے والوں کے لیے واقعی کوئی رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272027'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تیسرا پہلو 9 مئی کا مقدمہ ہے، جس میں بظاہر مزید تحقیقات ہو سکتی ہیں، اور جس کے اثرات عمران خان تک جا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اشارے اور بیانات جاری رہیں گے، مگر حتیٰ کہ اگر ایک اور کورٹ مارشل اور پھر عمران خان کو سزا بھی ہو جائے، تب بھی 9 مئی پر بحث ختم نہیں ہوگی جب تک کہ ان مقدمات کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ کیونکہ اس صورت میں بھی یہ واضح نہیں ہوگا کہ لاہور میں ایک سینئر فوجی افسر کو 9 مئی کے فوراً بعد بغیر کورٹ مارشل کیوں ہٹایا گیا، اگر اصل ذمہ دار فیض حمید اور عمران خان ہی تھے۔ اور نہ ہی یہ وضاحت ہوگی کہ دیگر ملزمان کو عام عدالتوں میں عام پولیس اہلکاروں کی گواہی پر کیوں سزا دی گئی، اگر شواہد اتنے مضبوط تھے کہ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ایک سابق وزیرِ اعظم کو سزا دی جاسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیاتی حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کثرت سے سننے میں آ رہا ہے کہ 14 سال کی یہ سزا بعد میں کم ہو سکتی ہے۔ کیا یہ محض قیاس آرائی ہے یا کسی ٹھوس بنیاد پر؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ تاہم کچھ لوگ جنرل جاوید اقبال کے مقدمے کی مثال دیتے ہیں، جن کی سزا کم ہونے کے بعد بالآخر معافی بھی ہو گئی تھی۔ اور ان پر جاسوسی جیسے سنگین الزامات تھے، جو بظاہر سیاست میں مداخلت کے مقابلے میں زیادہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال، اگر شک کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ فیض حمید کی سزا واقعی کسی اہم موڑ کی علامت ہے یا محض ماضی کی روایتوں کا ایک اور تسلسل۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961427/after-the-trial"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک سال سے زائد عرصے بعد گزشتہ ہفتے فیض حمید کی سزا کا اعلان کیا گیا، یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کسی کے لیے حیران کن تھا، جب گزشتہ سال ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی تو سزا تقریباً طے شدہ نظر آتی تھی۔ گزشتہ چند مہینوں میں بھی اس حوالے سے کئی لیکس سامنے آتی رہی تھیں کہ فیصلہ کسی بھی دن آ سکتا ہے۔</p>
<p>جو افراد طاقت کے مراکز تک رسائی نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اس سزا کا پاکستان، اس کے ریاستی ڈھانچے اور فوج کے لیے کیا مطلب ہے۔ اسی لیے اس سزا سے متعلق چند خیالات اور سوالات پیش کیے جا رہے ہیں، جو بلاشبہ غیر معمولی ہے، کیونکہ آئی ایس آئی کی قیادت کرنے والے کسی افسر کو اس سے قبل اس کے اپنے ادارے نے کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سول اور عسکری تعلقات پیچیدہ رہے ہیں، آئی ایس آئی کے سربراہان ہمیشہ تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر سیاسی اور طاقت کے تعلقات کا نتیجہ رہا ہے، نہ کہ محض افراد کا۔ اسد درانی سے لے کر حمید گل اور احسان الحق تک، یہ سب شخصیات میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں، حالانکہ اس دور کا میڈیا آج کے مقابلے میں خاصا محدود تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ دور میں شجاع پاشا آئے، جنہوں نے شاید اپنے سربراہ کے ساتھ توسیع کی روایت کو فروغ دیا۔ وہ میموگیٹ جیسے بحران میں بھی مرکزی کردار رہے، جہاں ان کا حلف نامہ تنازع اور عدم استحکام کا باعث بنا۔ اگرچہ آج انہیں زیادہ تر پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے اور مشہور لاہور جلسے کی منصوبہ بندی کرنے والے دماغ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کے بعد ظہیرالاسلام آئے، جن پر 2014 کے دھرنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا۔ اس دھرنے کے عروج کے دوران میڈیا میں ایسی رپورٹس آئیں کہ حکومت سے ملاقاتوں میں ان اور اس وقت کے آرمی چیف کے درمیان بے چینی پائی جاتی تھی۔ اس کے بعد رضوان اختر آئے، جنہوں نے نسبتاً خاموشی سے اپنی مدت پوری کی جبکہ ان کے ماتحت فیض حمید تمام تر توجہ کا مرکز بنے رہے اور 2018 کے انتخابات سے قبل ملک بھر میں سرگرم رہے۔ تاہم رضوان اختر بھی جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے قریب پیدا ہونے والے تنازعات سے محفوظ نہ رہ سکے، مثلاً جب ایک سینیٹر نے قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بیان دیا، جو اس وقت ابھی آرمی چیف منتخب نہیں ہوئے تھے۔</p>
<p>یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فیض حمید کے کریئر میں دو ایسے ادوار آئے جب وہ غیر معمولی طور پر نمایاں رہے۔ سیاست میں مداخلت، قتل کے الزامات، دھمکیاں، میڈیا کو دبانا اور حتیٰ کہ رشوت ستانی ان پر ہر طرح کے الزامات لگے، اور اب ان میں سے بہت سی باتیں کھلے عام کہی جا رہی ہیں۔ سیاست دانوں اور صحافیوں نے ان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں اور اقدامات پر کھل کر بات کی ہے، اور یہ سب اب عوامی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے جانے کے بعد ندیم انجم بھی عوامی نظروں اور افواہوں سے زیادہ دور نہ رہ سکے۔ درحقیقت، وہ شاید واحد انٹیلی جنس سربراہ تھے جنہوں نے براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس بھی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274802'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا فیض حمید نے ایسی حدیں عبور کیں جو ناقابلِ قبول تھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے کہ آیا وہ ایک استثنیٰ تھے یا پھر انہوں نے طاقت کے استعمال کا ایک نیا معمول قائم کر دیا۔</p>
<p>اس سوال کا جواب اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کی سزا کی تفصیلات بہت محدود انداز میں سامنے آئی ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال، لوگوں کو نقصان پہنچانے، آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاست میں مداخلت کے الزامات ثابت ہوئے۔</p>
<p>پہلے دو الزامات کو غالباً ٹاپ سٹی اسکینڈل سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ڈیفنس اہلکاروں کے ذریعے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو دھمکایا۔ تاہم آخری دو الزامات کے بارے میں قیاس آرائی کے سوا کچھ کہنا مشکل ہے۔ سیاست میں ان کے کن اقدامات کو غلط قرار دیا گیا اور کون سے قابلِ قبول سمجھے گئے، اس پر کوئی وضاحت نہیں، خصوصاً جب پریس ریلیز میں اشارہ دیا گیا کہ 9 مئی سے متعلق تحقیقات ابھی زیرِ التوا ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>عوامی سطح پر ان کے اقدامات پر بھرپور بحث ہو رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ کورٹ مارشل میں کن امور کو قابلِ سزا قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ مباحثہ انہیں ایک ولن کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان کی سزا مستقبل میں اسی نوعیت کی طاقت رکھنے والوں کے لیے واقعی کوئی رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272027'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تیسرا پہلو 9 مئی کا مقدمہ ہے، جس میں بظاہر مزید تحقیقات ہو سکتی ہیں، اور جس کے اثرات عمران خان تک جا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اشارے اور بیانات جاری رہیں گے، مگر حتیٰ کہ اگر ایک اور کورٹ مارشل اور پھر عمران خان کو سزا بھی ہو جائے، تب بھی 9 مئی پر بحث ختم نہیں ہوگی جب تک کہ ان مقدمات کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ کیونکہ اس صورت میں بھی یہ واضح نہیں ہوگا کہ لاہور میں ایک سینئر فوجی افسر کو 9 مئی کے فوراً بعد بغیر کورٹ مارشل کیوں ہٹایا گیا، اگر اصل ذمہ دار فیض حمید اور عمران خان ہی تھے۔ اور نہ ہی یہ وضاحت ہوگی کہ دیگر ملزمان کو عام عدالتوں میں عام پولیس اہلکاروں کی گواہی پر کیوں سزا دی گئی، اگر شواہد اتنے مضبوط تھے کہ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ایک سابق وزیرِ اعظم کو سزا دی جاسکتی۔</p>
<p>تجزیاتی حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کثرت سے سننے میں آ رہا ہے کہ 14 سال کی یہ سزا بعد میں کم ہو سکتی ہے۔ کیا یہ محض قیاس آرائی ہے یا کسی ٹھوس بنیاد پر؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ تاہم کچھ لوگ جنرل جاوید اقبال کے مقدمے کی مثال دیتے ہیں، جن کی سزا کم ہونے کے بعد بالآخر معافی بھی ہو گئی تھی۔ اور ان پر جاسوسی جیسے سنگین الزامات تھے، جو بظاہر سیاست میں مداخلت کے مقابلے میں زیادہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>فی الحال، اگر شک کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ فیض حمید کی سزا واقعی کسی اہم موڑ کی علامت ہے یا محض ماضی کی روایتوں کا ایک اور تسلسل۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1961427/after-the-trial"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274843</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 13:37:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارفہ نور)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/16132443ae81985.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/16132443ae81985.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی عدم استحکام کے محرک: فیض حمید کی اگلی منزل کیا ہوگی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274802/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے اعلان نے ایک بار پھر ان کے مبینہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے، خصوصاً اس کے بعد جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اشارہ دیا کہ معاملہ بہت زیادہ وسیع اور سنگین نوعیت کا ہے، جس میں بعض نامعلوم سیاسی کردار بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایس پی آر کے بیان میں فیض حمید کی سزا پر توجہ مرکوز رہی، لیکن آخری پیراگراف وہ تھا جس نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں، اپنے مفادات کیلئے سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں سزا یافتہ فرد کی مداخلت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جارہا ہے‘۔ لیکن اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زبان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فیض حمید اور بعض نامعلوم سیاست دانوں کو ملک میں بے امنی پیدا کرنے کی ایک وسیع کوشش سے جوڑا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ حوالہ فوج کی جانب سے گزشتہ سال سے جاری ایسے بیانات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جن میں شکوک کا اظہار اور ان کے سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ رابطوں کی طرف اشارے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 اگست 2024 کو جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’بعض ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ان کی گرفتاری کے وقت جاری ایک اور بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کے ایکٹ کی متعدد خلاف ورزیاں ثابت ہوئی ہیں‘، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز بعد آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ فیض حمید سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، ایسے واقعات جن میں فوجی تنصیبات اور یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تحقیقات کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا ایسے اقدامات میں تعلق سامنے آیا ہے جن کا مقصد سیاسی بے چینی اور بدامنی پیدا کرنا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد واقعات ہوئے، جن میں 9 مئی 2023 کے واقعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب سیاسی مفادات کے لیے اور سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں کیا گیا، جس کی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="الزامات-اور-شکوک" href="#الزامات-اور-شکوک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;الزامات اور شکوک&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں کہ فیض حمید پر سیاسی کردار ادا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو، وہ بھی سروس کے دوران اور بعد از ریٹائرمنٹ دونوں صورتوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پہلی بار اُس وقت نمایاں ہوئے جب انہوں نے 2017 میں حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے متنازع فیض آباد معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا، جس سے کئی ہفتوں طویل دھرنا ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں انہوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم کے ’کچن کیبنٹ‘ میں بھی جگہ بنا لی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی دونوں کے کافی قریب ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی گوجرانوالہ کے جلسے میں براہِ راست الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کی برطرفی کے پسِ پردہ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے جلسے میں کہا تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جنرل فیض! یہ سب آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، اس کا جواب دینا ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کے پی ٹی آئی کی سیاست پر اثرانداز ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں عام تھیں، مگر کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1240147/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2022 میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک پی ٹی آئی رہنما انہیں سیاست میں آنے کی دعوت دیتے نظر آئے۔ تاہم سابق جنرل نے ٹی وی پر آکر واضح کیا کہ وہ دو سالہ پابندی کے بعد بھی سیاست میں نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر ان کے بھائی نجف حمید کا معاملہ سامنے آیا، جنہیں مارچ 2024 میں کرپشن اور رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جب ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے بھائی کے آئی ایس آئی چیف ہونے کے دور میں علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" href="#کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کیا 9 مئی میں کردار تھا؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال گرفتاری کے فوراً بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں “گہرے طور پر ملوث” رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا ’ریٹائرمنٹ کے بعد جو سیاسی واقعات ہوئے، ان میں فیض کا کردار تھا، وہ ایسے شخص ہیں جو طاقت رکھتے رہے ہوں اور پھر پیچھے ہٹنا پڑے تو وہ معاملات میں مداخلت کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 مئی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’قرائن اور شواہد‘ ان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر ’اسٹریٹجک ایڈوائزر‘ کا کردار ادا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا ’وہ لاجسٹکس فراہم کر سکتے تھے اور زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے رہنمائی دے سکتے تھے، اگرچہ میں سو فیصد دعویٰ نہیں کر سکتا، مگر شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایس پی آر نے کسی سیاسی جماعت یا رہنما کا نام نہیں لیا، مگر ’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ‘ جیسے بار بار استعمال ہونے والے جملے کو عام طور پر سابق وزیرِاعظم عمران خان کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے یہ نہیں بتایا کہ الگ سے جاری تحقیقات کب مکمل ہوں گی یا سابق خفیہ سربراہ کے خلاف مزید الزامات عائد کیے جائیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960623"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے اعلان نے ایک بار پھر ان کے مبینہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے، خصوصاً اس کے بعد جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اشارہ دیا کہ معاملہ بہت زیادہ وسیع اور سنگین نوعیت کا ہے، جس میں بعض نامعلوم سیاسی کردار بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اگرچہ آئی ایس پی آر کے بیان میں فیض حمید کی سزا پر توجہ مرکوز رہی، لیکن آخری پیراگراف وہ تھا جس نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا:</p>
<p>’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں، اپنے مفادات کیلئے سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں سزا یافتہ فرد کی مداخلت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جارہا ہے‘۔ لیکن اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔</p>
<p>اس زبان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فیض حمید اور بعض نامعلوم سیاست دانوں کو ملک میں بے امنی پیدا کرنے کی ایک وسیع کوشش سے جوڑا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ حوالہ فوج کی جانب سے گزشتہ سال سے جاری ایسے بیانات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جن میں شکوک کا اظہار اور ان کے سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ رابطوں کی طرف اشارے موجود تھے۔</p>
<p>15 اگست 2024 کو جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’بعض ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘</p>
<p>اسی دوران ان کی گرفتاری کے وقت جاری ایک اور بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کے ایکٹ کی متعدد خلاف ورزیاں ثابت ہوئی ہیں‘، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔</p>
<p>چند روز بعد آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ فیض حمید سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، ایسے واقعات جن میں فوجی تنصیبات اور یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔</p>
<p>اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا تھا:</p>
<p>’تحقیقات کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا ایسے اقدامات میں تعلق سامنے آیا ہے جن کا مقصد سیاسی بے چینی اور بدامنی پیدا کرنا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد واقعات ہوئے، جن میں 9 مئی 2023 کے واقعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب سیاسی مفادات کے لیے اور سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں کیا گیا، جس کی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘</p>
<hr />
<h3><a id="الزامات-اور-شکوک" href="#الزامات-اور-شکوک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>الزامات اور شکوک</h3>
<p>یہ پہلا موقع نہیں کہ فیض حمید پر سیاسی کردار ادا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو، وہ بھی سروس کے دوران اور بعد از ریٹائرمنٹ دونوں صورتوں میں۔</p>
<p>وہ پہلی بار اُس وقت نمایاں ہوئے جب انہوں نے 2017 میں حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے متنازع فیض آباد معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا، جس سے کئی ہفتوں طویل دھرنا ختم ہوا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں انہوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم کے ’کچن کیبنٹ‘ میں بھی جگہ بنا لی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی دونوں کے کافی قریب ہو گئے تھے۔</p>
<p>2020 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی گوجرانوالہ کے جلسے میں براہِ راست الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کی برطرفی کے پسِ پردہ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید تھے۔</p>
<p>نواز شریف نے جلسے میں کہا تھا:</p>
<p>’جنرل فیض! یہ سب آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، اس کا جواب دینا ہوگا۔‘</p>
<p>اگرچہ ان کے پی ٹی آئی کی سیاست پر اثرانداز ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں عام تھیں، مگر کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1240147/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>2022 میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک پی ٹی آئی رہنما انہیں سیاست میں آنے کی دعوت دیتے نظر آئے۔ تاہم سابق جنرل نے ٹی وی پر آکر واضح کیا کہ وہ دو سالہ پابندی کے بعد بھی سیاست میں نہیں آئیں گے۔</p>
<p>پھر ان کے بھائی نجف حمید کا معاملہ سامنے آیا، جنہیں مارچ 2024 میں کرپشن اور رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جب ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔</p>
<p>بہت سوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے بھائی کے آئی ایس آئی چیف ہونے کے دور میں علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔</p>
<hr />
<h3><a id="کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" href="#کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کیا 9 مئی میں کردار تھا؟</h3>
<p>گزشتہ سال گرفتاری کے فوراً بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں “گہرے طور پر ملوث” رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا ’ریٹائرمنٹ کے بعد جو سیاسی واقعات ہوئے، ان میں فیض کا کردار تھا، وہ ایسے شخص ہیں جو طاقت رکھتے رہے ہوں اور پھر پیچھے ہٹنا پڑے تو وہ معاملات میں مداخلت کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔‘</p>
<p>9 مئی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’قرائن اور شواہد‘ ان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر ’اسٹریٹجک ایڈوائزر‘ کا کردار ادا کر رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا ’وہ لاجسٹکس فراہم کر سکتے تھے اور زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے رہنمائی دے سکتے تھے، اگرچہ میں سو فیصد دعویٰ نہیں کر سکتا، مگر شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘</p>
<p>اگرچہ آئی ایس پی آر نے کسی سیاسی جماعت یا رہنما کا نام نہیں لیا، مگر ’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ‘ جیسے بار بار استعمال ہونے والے جملے کو عام طور پر سابق وزیرِاعظم عمران خان کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>فوج نے یہ نہیں بتایا کہ الگ سے جاری تحقیقات کب مکمل ہوں گی یا سابق خفیہ سربراہ کے خلاف مزید الزامات عائد کیے جائیں گے یا نہیں۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960623"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274802</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 11:17:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/12111558495c6c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/12111558495c6c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/121112411071272.webp" type="image/webp" medium="image" height="401" width="668">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/121112411071272.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی کشمکش میں نئی شدت معاشی استحکام کے لیے نیا چیلنج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274796/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ جاری ہے جو متعدد محاذوں پر، مختلف حکمتِ عملیوں اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ داؤ پر اس ملک کی سیاست کا مستقبل لگا ہوا ہے۔ اور اس تمام صورتحال کے محرک وہ معیشت ہے جو طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت سے آغاز کریں اور پھر اُن اثرات کا جائزہ لیں جو سیاسی نظام میں پھیلتے ہیں۔ 2022 کی گرمیوں میں معیشت حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی، یہ عمل ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اس وقت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 2021 کے دوسرے نصف میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور جون 2022 تک زرمبادلہ ذخائر ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ فضا میں یہ خدشات گونج رہے تھے کہ کہیں پاکستان ’سری لنکا طرز‘ کے بحران میں نہ جا گرے۔ معیشت سے اٹھنے والی شدید بے چینی پورے معاشرے میں پھیل رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2022 میں آخری لمحے میں آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کو کھائی کے کنارے سے واپس کھینچا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسحٰق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ ذمہ داری سنبھالتے ہی پروگرام سے انحراف کیا جس کے بعد ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر جا پہنچا، یہاں تک کہ جولائی 2023 میں ایک اور ہنگامی آئی ایم ایف پروگرام نے ایک مرتبہ پھر بچا لیا۔ ایک سال میں دو بار آخری لمحے میں بچاؤ شاید ایک ریکارڈ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274513/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2023 کے بعد سے معیشت مستحکم رہی، مہنگائی ختم ہو گئی، زرمبادلہ ذخائر بڑھے اور درآمدات کے لیے کور کم از کم ڈھائی ماہ تک پہنچ گیا۔ لیکن اچھی خبریں بس یہیں تک تھیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران معیشت تو مستحکم رہی، اور بے چینی بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی، مگر اس کا ایک بھاری خمیازہ سامنے آیا۔ روزگار کے مواقع رک گئے، ترقی رک گئی اور معیشت میں ایک نئی قسم کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمود معیشت کے کچھ حصوں کو جیسے قیمتوں اور درآمدی طلب کو تو مستحکم کر دیتا ہے مگر یہی جمود سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھا دیتا ہے، متوسط طبقہ اپنی قوتِ خرید کو تیزی سے کھوتا ہے اور محنت کش طبقے کیلئے زندگی ایک کٹھن جدوجہد بنتی جاتی ہےکیونکہ پاکستان میں اجرت ہمیشہ سب سے آخر میں بحال ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مایوسی ریاست کی بڑھتی ہوئی وسائل کی طلب میں مزید اضافہ کرتی ہے، جو استحکام کے دور میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، اخراجات کم ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک ہر دستیاب ڈالر کو ذخائر بڑھانے کے لیے سمیٹ لیتا ہے۔ ریاست کے مطالبات براہِ راست سرمایہ پر پڑتے ہیں، زیادہ ٹیکس، زیادہ شرحِ سود، اور ڈالر کی کمی پالیسیوں کو جکڑ لیتی ہے۔ ترقی کے وہ ادوار جو ایسے بحران سے پہلے آتے ہیں، سرمایہ داروں کو بہت زیادہ منافع دیتے ہیں۔ مگر جب باری بحران کی آتی ہے تو ریاست حساب لینے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی نظام میں ابھرنے والی ہلچل بھی انہی عوامل کی عکاس ہے۔ نظام کی پہلی دراڑ سول اور ملٹری اداروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ دونوں ہی استحکام کے دور میں وسائل کی کمی کا شدید دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث اپنی قوتِ خرید کھونے پر پریشان ہوتے ہیں اور ریاستی ڈھانچےانفرااسٹرکچر سے ہتھیاروں کی خریداری تک سرمایہ مانگتے ہیں۔ سول حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے ووٹرز کو راضی کرنے کے لیے ریاستی وسائل اُن تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کاروباری طبقہ اس بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ ٹیکس، شرح سود اور مراعات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اکثر وہ اپنے مفاد کیلئے ریاست کے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں نچلی سطح کی مایوسی اوپر کی کشمکش کو بھڑکاتی ہے۔ حکمران طبقے میں بے اعتمادی، شک اور مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہے، نااہل ہے، خود غرض ہے۔ یہ سب کچھ حکومت کی توجہ معیشت کے استحکام سے ہٹا دیتا ہے اور ترقی کی بے قراری دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر سے ایک بار پھر گزر رہا ہے، مگر اس بار کچھ فرق کے ساتھ۔ مرکز اب غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، 2018 میں شروع ہونے والا ہائبرڈ تجربہ 2024 کے بعد مزید مضبوط ہوا اور ایگزیکٹو فیصلوں میں سول اداروں کی جگہ لیتا گیا۔ جمہوری قوتیں اب صوبوں میں اپنے اپنے مضبوط قلعوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر بڑی سیاسی جماعت ایک صوبے پر قابض ہے، جس کی آمدن اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر جماعت نے اپنے صوبے کو بنیاد بنا کر پہلے نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے اور پھر مرکز میں اپنی ’حق دار‘ جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، میں اسے ’عظیم پسپائی‘ کہتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران استحکام کا تیسرا سال شروع ہوتے ہی مرکز کی وسائل کی طلب بے انتہا بڑھ گئی ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس کے پیچھے ہیں۔ وہ عناصر جو جمہوری قوتوں کو مکمل طور پر مٹائے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے، اس کوشش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کو توڑنے کی باتیں اسی سول-ملٹری کشمکش سے جنم لیتی ہیں، جب معاشی استحکام عوام کو کاٹنے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک استحکام سے نکلنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا، نظام مزید اندرونی کشمکش کا شکار ہوگا اور کسی نہ کسی بڑے تصادم یا حساب کتاب کے بغیر یہ دباؤ نہیں ٹلے گا۔ کھلاڑی بہت زیادہ ہیں اور کھیل میں جگہ بہت کم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بڑی بیرونی مالی مدد نہ ملی تو معاشی استحکام کے تیسرے سال پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت بڑھتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس کالم کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960458/the-great-retreat"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ جاری ہے جو متعدد محاذوں پر، مختلف حکمتِ عملیوں اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ داؤ پر اس ملک کی سیاست کا مستقبل لگا ہوا ہے۔ اور اس تمام صورتحال کے محرک وہ معیشت ہے جو طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔</p>
<p>معیشت سے آغاز کریں اور پھر اُن اثرات کا جائزہ لیں جو سیاسی نظام میں پھیلتے ہیں۔ 2022 کی گرمیوں میں معیشت حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی، یہ عمل ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اس وقت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 2021 کے دوسرے نصف میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور جون 2022 تک زرمبادلہ ذخائر ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ فضا میں یہ خدشات گونج رہے تھے کہ کہیں پاکستان ’سری لنکا طرز‘ کے بحران میں نہ جا گرے۔ معیشت سے اٹھنے والی شدید بے چینی پورے معاشرے میں پھیل رہی تھی۔</p>
<p>اگست 2022 میں آخری لمحے میں آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کو کھائی کے کنارے سے واپس کھینچا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسحٰق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ ذمہ داری سنبھالتے ہی پروگرام سے انحراف کیا جس کے بعد ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر جا پہنچا، یہاں تک کہ جولائی 2023 میں ایک اور ہنگامی آئی ایم ایف پروگرام نے ایک مرتبہ پھر بچا لیا۔ ایک سال میں دو بار آخری لمحے میں بچاؤ شاید ایک ریکارڈ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274513/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جولائی 2023 کے بعد سے معیشت مستحکم رہی، مہنگائی ختم ہو گئی، زرمبادلہ ذخائر بڑھے اور درآمدات کے لیے کور کم از کم ڈھائی ماہ تک پہنچ گیا۔ لیکن اچھی خبریں بس یہیں تک تھیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران معیشت تو مستحکم رہی، اور بے چینی بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی، مگر اس کا ایک بھاری خمیازہ سامنے آیا۔ روزگار کے مواقع رک گئے، ترقی رک گئی اور معیشت میں ایک نئی قسم کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔</p>
<p>جمود معیشت کے کچھ حصوں کو جیسے قیمتوں اور درآمدی طلب کو تو مستحکم کر دیتا ہے مگر یہی جمود سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھا دیتا ہے، متوسط طبقہ اپنی قوتِ خرید کو تیزی سے کھوتا ہے اور محنت کش طبقے کیلئے زندگی ایک کٹھن جدوجہد بنتی جاتی ہےکیونکہ پاکستان میں اجرت ہمیشہ سب سے آخر میں بحال ہوتی ہیں۔</p>
<p>یہ مایوسی ریاست کی بڑھتی ہوئی وسائل کی طلب میں مزید اضافہ کرتی ہے، جو استحکام کے دور میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، اخراجات کم ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک ہر دستیاب ڈالر کو ذخائر بڑھانے کے لیے سمیٹ لیتا ہے۔ ریاست کے مطالبات براہِ راست سرمایہ پر پڑتے ہیں، زیادہ ٹیکس، زیادہ شرحِ سود، اور ڈالر کی کمی پالیسیوں کو جکڑ لیتی ہے۔ ترقی کے وہ ادوار جو ایسے بحران سے پہلے آتے ہیں، سرمایہ داروں کو بہت زیادہ منافع دیتے ہیں۔ مگر جب باری بحران کی آتی ہے تو ریاست حساب لینے آتی ہے۔</p>
<p>سیاسی نظام میں ابھرنے والی ہلچل بھی انہی عوامل کی عکاس ہے۔ نظام کی پہلی دراڑ سول اور ملٹری اداروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ دونوں ہی استحکام کے دور میں وسائل کی کمی کا شدید دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث اپنی قوتِ خرید کھونے پر پریشان ہوتے ہیں اور ریاستی ڈھانچےانفرااسٹرکچر سے ہتھیاروں کی خریداری تک سرمایہ مانگتے ہیں۔ سول حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے ووٹرز کو راضی کرنے کے لیے ریاستی وسائل اُن تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کاروباری طبقہ اس بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ ٹیکس، شرح سود اور مراعات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اکثر وہ اپنے مفاد کیلئے ریاست کے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>یوں نچلی سطح کی مایوسی اوپر کی کشمکش کو بھڑکاتی ہے۔ حکمران طبقے میں بے اعتمادی، شک اور مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہے، نااہل ہے، خود غرض ہے۔ یہ سب کچھ حکومت کی توجہ معیشت کے استحکام سے ہٹا دیتا ہے اور ترقی کی بے قراری دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر سے ایک بار پھر گزر رہا ہے، مگر اس بار کچھ فرق کے ساتھ۔ مرکز اب غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، 2018 میں شروع ہونے والا ہائبرڈ تجربہ 2024 کے بعد مزید مضبوط ہوا اور ایگزیکٹو فیصلوں میں سول اداروں کی جگہ لیتا گیا۔ جمہوری قوتیں اب صوبوں میں اپنے اپنے مضبوط قلعوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر بڑی سیاسی جماعت ایک صوبے پر قابض ہے، جس کی آمدن اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر جماعت نے اپنے صوبے کو بنیاد بنا کر پہلے نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے اور پھر مرکز میں اپنی ’حق دار‘ جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، میں اسے ’عظیم پسپائی‘ کہتا ہوں۔</p>
<p>اسی دوران استحکام کا تیسرا سال شروع ہوتے ہی مرکز کی وسائل کی طلب بے انتہا بڑھ گئی ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس کے پیچھے ہیں۔ وہ عناصر جو جمہوری قوتوں کو مکمل طور پر مٹائے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے، اس کوشش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کو توڑنے کی باتیں اسی سول-ملٹری کشمکش سے جنم لیتی ہیں، جب معاشی استحکام عوام کو کاٹنے لگتا ہے۔</p>
<p>جب تک استحکام سے نکلنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا، نظام مزید اندرونی کشمکش کا شکار ہوگا اور کسی نہ کسی بڑے تصادم یا حساب کتاب کے بغیر یہ دباؤ نہیں ٹلے گا۔ کھلاڑی بہت زیادہ ہیں اور کھیل میں جگہ بہت کم۔</p>
<p>اگر کوئی بڑی بیرونی مالی مدد نہ ملی تو معاشی استحکام کے تیسرے سال پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت بڑھتی جائے گی۔</p>
<hr />
<p>اس کالم کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960458/the-great-retreat"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274796</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 12:37:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/111234402845100.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/111234402845100.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’سیاسی رہنماؤں کو ’سیکیورٹی رسک‘ قرار دینا قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274782/political-leaders-traitor-weakens-national-security</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک میں سیاسی رہنماؤں کو غدار اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا کوئی نئی بات نہیں، یہ عمل ہماری سیاسی قوت کے کھیل کا دیرینہ حصہ ہے۔ شاذ و نادر ہی کوئی بڑا سیاسی رہنما  چاہے وہ اعلیٰ ترین ریاستی عہدہ سنبھال چکا ہو ایسی توہین سے محفوظ رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست میں تازہ اضافہ جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان کا ہے، جنہیں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ’سکیورٹی تھریٹ‘ اور ’خیالی دنیا میں رہنے والا شخص‘ قرار دیا ہے۔ یہ لیبل ایسے شخص پر لگایا گیا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ملک کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ سنبھالے ہوئے تھا اور آج بھی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا سربراہ ہے، یہ بات تشویش ناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبصرے عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے بعد سامنے آئے، مگر سلامتی کے اداروں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس حوالے سے عوامی سطح پر لفظی جنگ میں پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی سیاسی رہنما کو ‘سکیورٹی رسک’ یا ‘غدار’ قرار دینا کسی بھی جواز سے درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا، مگر بہت سے مسلم لیگ (ن) کے وزرا بھی اپنے سیاسی مخالف کے خلاف اس مہم میں شامل ہوگئے ہیں، بھول کر کہ کچھ سال قبل یہی کچھ ان کے اپنے قائد کے ساتھ بھی ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274743/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کو 2016 میں ’ڈان لیکس‘ کے معاملے پر بدترین الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سلامتی کے حلقوں کی جانب سے کوئی عوامی اعلان نہیں کیا گیا تھا، مگر اس وقت ایک منظم مہم ایک بیٹھے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف چلائی گئی، جس نے انہیں طاقت کے مراکز کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں دھکیل دیا۔ نہ صرف انہیں ایک وزیر اور ایک خصوصی مشیر کو برطرف کرنا پڑا بلکہ یہ اسکینڈل ان کی اپنی برطرفی میں بھی حصہ دار بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد جب انہوں نے اُس وقت کی سیکیورٹی قیادت پر تنقید کی تو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس عمران خان کو 2018 میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے والا سمجھا جاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ آج نواز شریف جنہیں دوبارہ سیاسی طور پر قابلِ قبول سمجھا جا رہا ہے، اور ان کی جماعت کے رہنما خود عمران خان کے خلاف یہی الزامات دہرانے لگے اور پی ٹی آئی پر پابندی کے حامی بن گئے۔ انتقام کی یہ سیاست ہمیشہ ماورائے آئین طاقتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت آئینی جمہوریت کو چکانی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف علی زرداری بھی اپنی پہلی صدارتی مدت میں ’میموگیٹ‘ کے نام پر ایسی ہی مہم کا نشانہ بنے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) پیش پیش تھی، اور اس مہم کے پیچھے پوشیدہ قوتوں کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا خوف دلا کر ہمیشہ سویلین حکومتوں کو کمزور کیا گیا اور سیاسی قیادت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ہمیشہ اس کھیل میں مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اس مہم کی سب سے بڑی شکار بے نظیر بھٹو تھیں جنہیں اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، ہر وقت نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 1988 کے انتخابات جیتنے کے باوجود انہیں انتہائی ناگواری کے ساتھ اقتدار منتقل کیا گیا، اور جلد ہی ان کی حکومت کو گرانے کی سازش شروع ہوگئی۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا لیبل رکھنے والی اس مہم کی قیادت مسلم لیگ (ن) نے ریاستی سرپرستی میں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینظیر بھٹو کے اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے سارک سربراہ اجلاس میں ملاقاتیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کی گئی کوششوں کو ان کے خلاف شدید پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو اس مہم میں تیزی آگئی۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل حمید گل، جو اس وقت ملتان کے کور کمانڈر تھے اور  آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹائے گئے تھے، نے 1990 کے اوائل میں مجھے بتایا کہ کس طرح ملک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں میں سے ایک، &lt;em&gt;ضربِ مومن&lt;/em&gt; کے ذریعے سکیورٹی قیادت نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی جانب ان کی کوشش کو کمزور کیا۔ ملک اور بیرونِ ملک سے آئے صحافیوں کو یہ مشق دکھائی گئی، جسے پاکستان کا ‘glasnost’ لمحہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چند ماہ بعد ان کی حکومت ایک ’آئینی بغاوت‘ کے ذریعے برطرف کردی گئی۔ بے نظیر بھٹو پر یہ جھوٹا الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی حساس معلومات امریکا کو فراہم کیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسی خبریں کہاں سے آتی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں پر ریاست مخالف الزامات لگانا خود قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے، اور افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ساتھ ہیماورائے آئین اقدامات پر تنقید کو سلامتی کے اداروں پر حملہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند سال قبل تک عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے ’بدعنوان سیاسی قیادت‘ کا متبادل بنا کر پیش کیا تھا۔ وہ خود بھی اپنے سیاسی مخالفین کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے رہے۔ مگر حالات بدلے تو آج وہ خود انہی طاقتور حلقوں کے ہاتھوں ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار پائے جنہوں نے انہیں اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عمران خان کی موجودہ مہم جو کہ فوجی قیادت کے خلاف ذاتی حملوں پر مبنی ہے، کسی طور درست قرار نہیں دی جاسکتی، مگر ان کے ساتھ اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی کسی طرح جائز نہیں۔ ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے کردار نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کی پریس کانفرنس نے ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو اور بھی بھڑکا دیا ہے اور سلامتی کے اداروں کے مبینہ کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوام کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے؛ بڑھتی ہوئی کشیدگی پہلے سے ہی نازک صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے اندر انتہائی منقسم سیاست اور عوام و ریاست کے درمیان بڑھتی عدم اعتماد کی خلیج ان دو اسٹریٹجک صوبوں میں دہشت گردی کے وجودی خطرے کے خاتمے کے لیے درکار قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی کشیدگی بھی تشویش کا باعث ہے، خصوصاً جب صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پہلے سے زیادہ ملک کو سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ اصل چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔ سابق وزیر اعظم کو ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار دینا یا سکیورٹی اداروں کو گالیاں دینا موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960282"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک میں سیاسی رہنماؤں کو غدار اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا کوئی نئی بات نہیں، یہ عمل ہماری سیاسی قوت کے کھیل کا دیرینہ حصہ ہے۔ شاذ و نادر ہی کوئی بڑا سیاسی رہنما  چاہے وہ اعلیٰ ترین ریاستی عہدہ سنبھال چکا ہو ایسی توہین سے محفوظ رہا ہو۔</p>
<p>اس فہرست میں تازہ اضافہ جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان کا ہے، جنہیں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ’سکیورٹی تھریٹ‘ اور ’خیالی دنیا میں رہنے والا شخص‘ قرار دیا ہے۔ یہ لیبل ایسے شخص پر لگایا گیا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ملک کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ سنبھالے ہوئے تھا اور آج بھی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا سربراہ ہے، یہ بات تشویش ناک ہے۔</p>
<p>یہ تبصرے عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے بعد سامنے آئے، مگر سلامتی کے اداروں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس حوالے سے عوامی سطح پر لفظی جنگ میں پڑیں۔</p>
<p>کسی بھی سیاسی رہنما کو ‘سکیورٹی رسک’ یا ‘غدار’ قرار دینا کسی بھی جواز سے درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا، مگر بہت سے مسلم لیگ (ن) کے وزرا بھی اپنے سیاسی مخالف کے خلاف اس مہم میں شامل ہوگئے ہیں، بھول کر کہ کچھ سال قبل یہی کچھ ان کے اپنے قائد کے ساتھ بھی ہوا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274743/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نواز شریف کو 2016 میں ’ڈان لیکس‘ کے معاملے پر بدترین الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سلامتی کے حلقوں کی جانب سے کوئی عوامی اعلان نہیں کیا گیا تھا، مگر اس وقت ایک منظم مہم ایک بیٹھے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف چلائی گئی، جس نے انہیں طاقت کے مراکز کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں دھکیل دیا۔ نہ صرف انہیں ایک وزیر اور ایک خصوصی مشیر کو برطرف کرنا پڑا بلکہ یہ اسکینڈل ان کی اپنی برطرفی میں بھی حصہ دار بنا۔</p>
<p>نواز شریف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد جب انہوں نے اُس وقت کی سیکیورٹی قیادت پر تنقید کی تو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس عمران خان کو 2018 میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے والا سمجھا جاتا رہا۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ آج نواز شریف جنہیں دوبارہ سیاسی طور پر قابلِ قبول سمجھا جا رہا ہے، اور ان کی جماعت کے رہنما خود عمران خان کے خلاف یہی الزامات دہرانے لگے اور پی ٹی آئی پر پابندی کے حامی بن گئے۔ انتقام کی یہ سیاست ہمیشہ ماورائے آئین طاقتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت آئینی جمہوریت کو چکانی پڑتی ہے۔</p>
<p>آصف علی زرداری بھی اپنی پہلی صدارتی مدت میں ’میموگیٹ‘ کے نام پر ایسی ہی مہم کا نشانہ بنے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) پیش پیش تھی، اور اس مہم کے پیچھے پوشیدہ قوتوں کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا خوف دلا کر ہمیشہ سویلین حکومتوں کو کمزور کیا گیا اور سیاسی قیادت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ہمیشہ اس کھیل میں مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>شاید اس مہم کی سب سے بڑی شکار بے نظیر بھٹو تھیں جنہیں اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، ہر وقت نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 1988 کے انتخابات جیتنے کے باوجود انہیں انتہائی ناگواری کے ساتھ اقتدار منتقل کیا گیا، اور جلد ہی ان کی حکومت کو گرانے کی سازش شروع ہوگئی۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا لیبل رکھنے والی اس مہم کی قیادت مسلم لیگ (ن) نے ریاستی سرپرستی میں کی۔</p>
<p>بینظیر بھٹو کے اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے سارک سربراہ اجلاس میں ملاقاتیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کی گئی کوششوں کو ان کے خلاف شدید پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو اس مہم میں تیزی آگئی۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل حمید گل، جو اس وقت ملتان کے کور کمانڈر تھے اور  آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹائے گئے تھے، نے 1990 کے اوائل میں مجھے بتایا کہ کس طرح ملک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں میں سے ایک، <em>ضربِ مومن</em> کے ذریعے سکیورٹی قیادت نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی جانب ان کی کوشش کو کمزور کیا۔ ملک اور بیرونِ ملک سے آئے صحافیوں کو یہ مشق دکھائی گئی، جسے پاکستان کا ‘glasnost’ لمحہ قرار دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چند ماہ بعد ان کی حکومت ایک ’آئینی بغاوت‘ کے ذریعے برطرف کردی گئی۔ بے نظیر بھٹو پر یہ جھوٹا الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی حساس معلومات امریکا کو فراہم کیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسی خبریں کہاں سے آتی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں پر ریاست مخالف الزامات لگانا خود قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے، اور افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ساتھ ہیماورائے آئین اقدامات پر تنقید کو سلامتی کے اداروں پر حملہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>چند سال قبل تک عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے ’بدعنوان سیاسی قیادت‘ کا متبادل بنا کر پیش کیا تھا۔ وہ خود بھی اپنے سیاسی مخالفین کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے رہے۔ مگر حالات بدلے تو آج وہ خود انہی طاقتور حلقوں کے ہاتھوں ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار پائے جنہوں نے انہیں اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>اگرچہ عمران خان کی موجودہ مہم جو کہ فوجی قیادت کے خلاف ذاتی حملوں پر مبنی ہے، کسی طور درست قرار نہیں دی جاسکتی، مگر ان کے ساتھ اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی کسی طرح جائز نہیں۔ ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے کردار نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کردیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کی پریس کانفرنس نے ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو اور بھی بھڑکا دیا ہے اور سلامتی کے اداروں کے مبینہ کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوام کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے؛ بڑھتی ہوئی کشیدگی پہلے سے ہی نازک صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔</p>
<p>ملک کے اندر انتہائی منقسم سیاست اور عوام و ریاست کے درمیان بڑھتی عدم اعتماد کی خلیج ان دو اسٹریٹجک صوبوں میں دہشت گردی کے وجودی خطرے کے خاتمے کے لیے درکار قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی کشیدگی بھی تشویش کا باعث ہے، خصوصاً جب صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات موجود ہیں۔</p>
<p>آج پہلے سے زیادہ ملک کو سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ اصل چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔ سابق وزیر اعظم کو ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار دینا یا سکیورٹی اداروں کو گالیاں دینا موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ کرے گا۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960282"><strong>پڑھیں</strong></a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274782</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 12:29:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/10122646913dd5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="389" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/10122646913dd5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’عمران خان اور بشریٰ بی بی سیاست میں جادو و توہم پرستی کا استعمال کرنے والے واحد کردار نہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274747/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ ماہ 14 نومبر کو دی اکانومسٹ کے ماتحت آنے والے ناشر 1843 نے بشریٰ بی بی کے متنازعہ روحانی اثر و رسوخ پر ایک مضمون شائع کیا جو جیل میں قید سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بشریٰ بی بی اس وقت خود بھی قید میں ہیں اور عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ عمران خان اب بھی ان کی ‘روحانی’ طاقتوں سے متاثر ہیں۔ ناشر 1843 نے اس جوڑے کے سابق قریبی ساتھیوں اور گھریلو عملے کے بیانات بھی شائع کیے جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بشریٰ بی بی ‘جادو ٹونے’ کے ذریعے عمران خان کی طاقت برقرار رکھنے اور ان کے مخالفین پر قابو پانے میں ملوث تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس مضمون کا متن پاکستانی میڈیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی ان تفصیلات سے واقف تھے جن پر مضمون میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ تاہم جب اس جوڑے کے بارے میں الزامات ایک انتہائی معزز بین الاقوامی میگزین میں سامنے آئے تو ردِعمل انتہائی شدید تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے حریفوں نے فوراً سوشل میڈیا پر اس اشاعت کا فائدہ اٹھایا جبکہ وہ صحافی جنہیں پہلے عمران خان کی پارٹی نے غیر مستند افواہوں کو نشر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اس مضمون کو اپنے پرانے شبہات کی توثیق کے طور پر دیکھنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے ناقدین نے بشریٰ بی بی پر الزام لگایا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کے پُر آشوب دورِ حکومت کے دوران براہِ راست سیاست میں مداخلت کی جوکہ ایک ایسا الزام ہے جو عمران خان کے عوامی دعوے کے بالکل برعکس تھا کہ وہ ’صرف نیک گھریلو خاتون‘ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے عمران خان کا مذاق اُڑانے لگے کہ اوکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ حقیقت میں انتہائی توہم پرست اور غیر معقول شخص ہیں۔ آخرکار ایک تیسری جماعت نے 1843 کے مضمون پر تنقید کی جس کے لیے اس نے استدلال کیا کہ یہ مضمون ‘خواتین مخالف’ ہے کیونکہ اس نے عمران خان کی حکومت میں پیش آنے والی تمام ناکامیوں کا الزام براہِ راست بشریٰ بی بی پر ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273775'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273775"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میرا خیال ہے کہ یہ صورت حال ان بے شمار مثالوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاستدانوں نے جادو اور مافوق الفطرت عقائد کو آمرانہ حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔ یہ حربہ اکثر عوام میں خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں یہ عقائد پہلے ہی عام ہوں۔ بنیادی طور پر یہ وسیع تر ‘خوف کی سیاست’ کی عملی شکل ہے جو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے نفسیاتی کمزوریوں کو بروئے کار لاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسوا ‘پاپا ڈاک’ ڈووالئیر جو 1957ء سے 1971ء تک ہیٹی پر حکمرانی کرتے رہے، ایک نمایاں مثال ہیں کہ کس طرح ایک رہنما نے اپنے آپ کو جادو اور ووڈو کے ذریعے مطلق العنان حاکم کے طور پر پیش کیا۔ فرانسوا ڈووالئیر نے وحشیانہ آمریت اور ووڈو تصوف کے امتزاج سے اپنے لیے ایک طاقتور شخصیت کا مرکز قائم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے رویے کی تقلید ہیٹی کے ‘مردہ روحوں’ سے کی۔ انہوں نے عوام میں گہرائی تک موجود روحانی عقائد اور خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک جادوئی حکمران کی تصویر قائم کی۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا دورِ حکومت روحانی دنیا سے منسلک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنی طاقت کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہے بالخصوص دیہی علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ تھا جہاں زیادہ تر لوگ ووڈو کے پیروکار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ظالم نیم فوجی دستے جسے ‘ٹونٹونز میکوٹس’ کہا جاتا تھا، کا نام کریول لوک کہانیوں کے ایک کردار سے لیا گیا تھا جوکہ ایک ڈراؤنا کردار تھا جو نافرمان بچوں کو اغوا کیا کرتا ہے۔ اس نام کے ذریعے حکمت عملی کے تحت ثقافتی خوف اور توہمات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شمالی کوریا میں بھی کِم خاندان ایسی کہانیاں بنا کر اقتدار میں رہتا ہے جس سے لگتا ہے کہ ان کے پاس جادوئی طاقتیں ہیں اور ان کی وہاں تقریباً دیوتاؤں کی طرح تعظیم کی جاتی ہے۔ حکومت لوگوں کو بتاتی ہے کہ کِم خاندان کے لوگ حیرت انگیز چیزیں کر سکتے ہیں جیسے کہ وہ موسم کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہانیاں کِم کو نہ صرف سیاسی رہنماؤں سے زیادہ کا درجہ دیتے ہیں بلکہ اس سے انہیں ملک پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق عراقی آمر صدام حسین خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے خفیہ اور پُراسرار افواہوں کا ہوشیاری سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ صدام حسین اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ افواہیں عام تھیں کہ وہ اپنے دور حکومت کو محفوظ رکھنے اور دشمنوں کے اقدامات کی پیش گوئی کے لیے جادوگروں کو استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام میں یہ کہانیاں گردش کرتی تھیں کہ صدام کے پاس ایک جادوی پتھر یا تعویذ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے ان کی جلد کے نیچے نصب کیا گیا ہے اور یہ انہیں کسی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ یقین کہ آمر جادوئی طور پر محفوظ ہے، ایک طاقتور نفسیاتی حربے کے طور پر کام کرتا تھا جو کسی بھی داخلی تحریک کو حکمران کی طاقت کو چیلنج کرنے سے پہلے ہی دبا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا جیسی جمہوریت جہاں جدید سیاست نظر آتی ہے، وہاں بھی توہمات اور پرانی روایات اہمیت رکھتی ہیں۔ ماہر سیاسیات او این تھلپاویلا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے بہت سے سیاستدان اب بھی توہمات پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی سیاسی زندگی کو آگے بڑھانے کے لیے علمِ نجوم پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاست دان اکثر ان عقائد کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ عوام سے حمایت اور اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے کیونکہ جو خود عوام بھی انہیں عقائد کو مانتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکمرانوں کی جانب سے استعمال ہونے والی پرانی آمرانہ چال کی چند جدید مثالیں ہیں۔ وہ مافوق الفطرت طاقتوں کا دعویٰ کرتے ہیں خاص طور پر جب لوگوں کی اکثریت روایات یا توہمات پر یقین رکھتی ہو۔ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی طاقت مقدس یا خوفناک معلوم ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مافوق الفطرت کا سیاسی استعمال دو دھاری تلوار کی مانند خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جہاں کچھ رہنما اسے خدائی طاقت کا تاثر دیتے ہیں، وہیں کچھ اپنے مخالفین کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے ‘کالے جادو’ کے الزامات استعمال کرتے ہیں۔ یہ الزامات مخالف کی شہرت اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1248024'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے اکثر بشریٰ بی بی کو ایک انتہائی مذہبی، صوفی خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور کہا کہ ان کے سیاسی حریف انہیں نقصان پہنچانے کے لیے انہیں ’جادوگرنی‘ کی طرح دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ الزامات صرف ان کے حریفوں کی طرف سے سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ عمران خان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ جو ان پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان تھے، یہ بھی دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے برے مقاصد کے لیے جادو کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کی مذہبی تصویر سیاسی فائدے کے لیے عمران خان کی مشہور توہمات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دانستہ اقدام تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جوڑا عوامی طور پر ایسے ‘روحانی’ اعمال میں حصہ لیتا رہا ہو جو دیہی عوام خاص طور پر پنجاب میں، عام طور پر ہوتے ہیں تاکہ ان طبقات سے حمایت حاصل کی جا سکے اور سیاسی اثر و رسوخ مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی ممکن ہے کہ بشریٰ بی بی نے دانستہ طور پر اپنی بڑھتی ہوئی شہرت کو ایک طاقتور مافوق الفطرت قوتوں کی حامل شخصیت کے طور پر فروغ دیا ہو جن میں یہ افواہ بھی شامل ہو کہ ان کی خدمت میں جن موجود ہیں تاکہ اسے حکمت عملی کے طور پر استعمال کی جا سکے اور عمران خان کی پارٹی کے اندر اور باہر موجود دونوں مخالفین پر قابو پایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان اور بشریٰ بی بی اکثر ایسا کرتے اور بولتے تھے جیسے وہ مافوق الفطرت طاقتوں سے رہنمائی حاصل کر رہے ہوں جسے وہ ’تصوف‘ کہتے تھے۔ اس نے پہلے کے تمام منظرناموں کو قابل اعتبار بنا دیا اور ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں ایک مضبوط کہانی تخلیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ’تصوف‘ واقعی اتنا طاقتور تھا تو اس نے عمران خان کو جیل سے باہر آنے یا وزیر اعظم کے طور پر اقتدار میں واپس آنے میں مدد کیوں نہیں دی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کے مخالفین نے جوڑے کے روحانی طریقوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے خود ایسے جواز پیدا کیے کہ یہ کہانیاں جڑ پکڑ سکیں اور مزید پھیل سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959558/smokers-corner-superstitions-and-statecraft"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ ماہ 14 نومبر کو دی اکانومسٹ کے ماتحت آنے والے ناشر 1843 نے بشریٰ بی بی کے متنازعہ روحانی اثر و رسوخ پر ایک مضمون شائع کیا جو جیل میں قید سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں۔</p>
<p>بشریٰ بی بی اس وقت خود بھی قید میں ہیں اور عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ عمران خان اب بھی ان کی ‘روحانی’ طاقتوں سے متاثر ہیں۔ ناشر 1843 نے اس جوڑے کے سابق قریبی ساتھیوں اور گھریلو عملے کے بیانات بھی شائع کیے جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بشریٰ بی بی ‘جادو ٹونے’ کے ذریعے عمران خان کی طاقت برقرار رکھنے اور ان کے مخالفین پر قابو پانے میں ملوث تھیں۔</p>
<p>لیکن اس مضمون کا متن پاکستانی میڈیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی ان تفصیلات سے واقف تھے جن پر مضمون میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ تاہم جب اس جوڑے کے بارے میں الزامات ایک انتہائی معزز بین الاقوامی میگزین میں سامنے آئے تو ردِعمل انتہائی شدید تھا۔</p>
<p>عمران خان کے حریفوں نے فوراً سوشل میڈیا پر اس اشاعت کا فائدہ اٹھایا جبکہ وہ صحافی جنہیں پہلے عمران خان کی پارٹی نے غیر مستند افواہوں کو نشر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اس مضمون کو اپنے پرانے شبہات کی توثیق کے طور پر دیکھنے لگے۔</p>
<p>عمران خان کے ناقدین نے بشریٰ بی بی پر الزام لگایا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کے پُر آشوب دورِ حکومت کے دوران براہِ راست سیاست میں مداخلت کی جوکہ ایک ایسا الزام ہے جو عمران خان کے عوامی دعوے کے بالکل برعکس تھا کہ وہ ’صرف نیک گھریلو خاتون‘ ہیں۔</p>
<p>پھر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے عمران خان کا مذاق اُڑانے لگے کہ اوکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ حقیقت میں انتہائی توہم پرست اور غیر معقول شخص ہیں۔ آخرکار ایک تیسری جماعت نے 1843 کے مضمون پر تنقید کی جس کے لیے اس نے استدلال کیا کہ یہ مضمون ‘خواتین مخالف’ ہے کیونکہ اس نے عمران خان کی حکومت میں پیش آنے والی تمام ناکامیوں کا الزام براہِ راست بشریٰ بی بی پر ڈال دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273775'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273775"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میرا خیال ہے کہ یہ صورت حال ان بے شمار مثالوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاستدانوں نے جادو اور مافوق الفطرت عقائد کو آمرانہ حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔ یہ حربہ اکثر عوام میں خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں یہ عقائد پہلے ہی عام ہوں۔ بنیادی طور پر یہ وسیع تر ‘خوف کی سیاست’ کی عملی شکل ہے جو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے نفسیاتی کمزوریوں کو بروئے کار لاتی ہے۔</p>
<p>فرانسوا ‘پاپا ڈاک’ ڈووالئیر جو 1957ء سے 1971ء تک ہیٹی پر حکمرانی کرتے رہے، ایک نمایاں مثال ہیں کہ کس طرح ایک رہنما نے اپنے آپ کو جادو اور ووڈو کے ذریعے مطلق العنان حاکم کے طور پر پیش کیا۔ فرانسوا ڈووالئیر نے وحشیانہ آمریت اور ووڈو تصوف کے امتزاج سے اپنے لیے ایک طاقتور شخصیت کا مرکز قائم کیا۔</p>
<p>انہوں نے اپنے رویے کی تقلید ہیٹی کے ‘مردہ روحوں’ سے کی۔ انہوں نے عوام میں گہرائی تک موجود روحانی عقائد اور خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک جادوئی حکمران کی تصویر قائم کی۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا دورِ حکومت روحانی دنیا سے منسلک ہے۔</p>
<p>وہ اپنی طاقت کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہے بالخصوص دیہی علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ تھا جہاں زیادہ تر لوگ ووڈو کے پیروکار تھے۔</p>
<p>ان کے ظالم نیم فوجی دستے جسے ‘ٹونٹونز میکوٹس’ کہا جاتا تھا، کا نام کریول لوک کہانیوں کے ایک کردار سے لیا گیا تھا جوکہ ایک ڈراؤنا کردار تھا جو نافرمان بچوں کو اغوا کیا کرتا ہے۔ اس نام کے ذریعے حکمت عملی کے تحت ثقافتی خوف اور توہمات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>شمالی کوریا میں بھی کِم خاندان ایسی کہانیاں بنا کر اقتدار میں رہتا ہے جس سے لگتا ہے کہ ان کے پاس جادوئی طاقتیں ہیں اور ان کی وہاں تقریباً دیوتاؤں کی طرح تعظیم کی جاتی ہے۔ حکومت لوگوں کو بتاتی ہے کہ کِم خاندان کے لوگ حیرت انگیز چیزیں کر سکتے ہیں جیسے کہ وہ موسم کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں۔</p>
<p>یہ کہانیاں کِم کو نہ صرف سیاسی رہنماؤں سے زیادہ کا درجہ دیتے ہیں بلکہ اس سے انہیں ملک پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>سابق عراقی آمر صدام حسین خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے خفیہ اور پُراسرار افواہوں کا ہوشیاری سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ صدام حسین اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ افواہیں عام تھیں کہ وہ اپنے دور حکومت کو محفوظ رکھنے اور دشمنوں کے اقدامات کی پیش گوئی کے لیے جادوگروں کو استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>عوام میں یہ کہانیاں گردش کرتی تھیں کہ صدام کے پاس ایک جادوی پتھر یا تعویذ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے ان کی جلد کے نیچے نصب کیا گیا ہے اور یہ انہیں کسی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ یقین کہ آمر جادوئی طور پر محفوظ ہے، ایک طاقتور نفسیاتی حربے کے طور پر کام کرتا تھا جو کسی بھی داخلی تحریک کو حکمران کی طاقت کو چیلنج کرنے سے پہلے ہی دبا دیتا ہے۔</p>
<p>سری لنکا جیسی جمہوریت جہاں جدید سیاست نظر آتی ہے، وہاں بھی توہمات اور پرانی روایات اہمیت رکھتی ہیں۔ ماہر سیاسیات او این تھلپاویلا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے بہت سے سیاستدان اب بھی توہمات پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی سیاسی زندگی کو آگے بڑھانے کے لیے علمِ نجوم پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>سیاست دان اکثر ان عقائد کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ عوام سے حمایت اور اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے کیونکہ جو خود عوام بھی انہیں عقائد کو مانتی ہے۔</p>
<p>یہ حکمرانوں کی جانب سے استعمال ہونے والی پرانی آمرانہ چال کی چند جدید مثالیں ہیں۔ وہ مافوق الفطرت طاقتوں کا دعویٰ کرتے ہیں خاص طور پر جب لوگوں کی اکثریت روایات یا توہمات پر یقین رکھتی ہو۔ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی طاقت مقدس یا خوفناک معلوم ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>تاہم مافوق الفطرت کا سیاسی استعمال دو دھاری تلوار کی مانند خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جہاں کچھ رہنما اسے خدائی طاقت کا تاثر دیتے ہیں، وہیں کچھ اپنے مخالفین کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے ‘کالے جادو’ کے الزامات استعمال کرتے ہیں۔ یہ الزامات مخالف کی شہرت اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1248024'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عمران خان نے اکثر بشریٰ بی بی کو ایک انتہائی مذہبی، صوفی خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور کہا کہ ان کے سیاسی حریف انہیں نقصان پہنچانے کے لیے انہیں ’جادوگرنی‘ کی طرح دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ الزامات صرف ان کے حریفوں کی طرف سے سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ عمران خان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ جو ان پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان تھے، یہ بھی دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے برے مقاصد کے لیے جادو کا استعمال کیا۔</p>
<p>کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کی مذہبی تصویر سیاسی فائدے کے لیے عمران خان کی مشہور توہمات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دانستہ اقدام تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جوڑا عوامی طور پر ایسے ‘روحانی’ اعمال میں حصہ لیتا رہا ہو جو دیہی عوام خاص طور پر پنجاب میں، عام طور پر ہوتے ہیں تاکہ ان طبقات سے حمایت حاصل کی جا سکے اور سیاسی اثر و رسوخ مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ بھی ممکن ہے کہ بشریٰ بی بی نے دانستہ طور پر اپنی بڑھتی ہوئی شہرت کو ایک طاقتور مافوق الفطرت قوتوں کی حامل شخصیت کے طور پر فروغ دیا ہو جن میں یہ افواہ بھی شامل ہو کہ ان کی خدمت میں جن موجود ہیں تاکہ اسے حکمت عملی کے طور پر استعمال کی جا سکے اور عمران خان کی پارٹی کے اندر اور باہر موجود دونوں مخالفین پر قابو پایا جا سکے۔</p>
<p>عمران خان اور بشریٰ بی بی اکثر ایسا کرتے اور بولتے تھے جیسے وہ مافوق الفطرت طاقتوں سے رہنمائی حاصل کر رہے ہوں جسے وہ ’تصوف‘ کہتے تھے۔ اس نے پہلے کے تمام منظرناموں کو قابل اعتبار بنا دیا اور ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں ایک مضبوط کہانی تخلیق کی ہے۔</p>
<p>لیکن اس سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ’تصوف‘ واقعی اتنا طاقتور تھا تو اس نے عمران خان کو جیل سے باہر آنے یا وزیر اعظم کے طور پر اقتدار میں واپس آنے میں مدد کیوں نہیں دی؟</p>
<p>اگرچہ ان کے مخالفین نے جوڑے کے روحانی طریقوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے خود ایسے جواز پیدا کیے کہ یہ کہانیاں جڑ پکڑ سکیں اور مزید پھیل سکیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959558/smokers-corner-superstitions-and-statecraft"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274747</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 14:57:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ندیم ایف پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0911202587f8406.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0911202587f8406.webp"/>
        <media:title>—السٹریشن: ابڑو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی میں نیا تصادم: ’انہیں جلد یا بدیر مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274743/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ایک نیا تصادم ابھر رہا ہے۔ یہ بات گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں ہونے والی پریس کانفرنس سے واضح تھی جو عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے کیے گئے ٹوئٹس کے بعد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس اور بعدازاں حکمران جماعت کے سیاست دانوں کی جانب سے ملنے والی حمایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی بالخصوص عمران خان کے لیے آنے والے حالات مشکل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت بہت سے لوگوں کے نزدیک گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی الفاظ کی جنگ عمران خان کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ طرح طرح کی انتباہات دیے جا رہے ہیں کہ ان تک رسائی مزید محدود کر دی جائے گی اور ملاقاتوں کا سلسلہ بالکل روک دیا جائے گا۔ پہلے بھی ان کی جلد رہائی کی کسی نے توقع نہیں کی تھی اور اب تو یہ بات گویا پختہ ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274669'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ اتنے پُراعتماد ہیں کہ مستقبل کی پیش گوئی کرسکیں، وہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے مقدمے کی کارروائی، فوجی عدالتوں اور سخت سزاؤں کی بھی بات کر رہے ہیں مگر مجھ جیسے ایک عام صحافی کے لیے غیب دان بننا آسان نہیں۔ تو چلیے انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر عمران خان مزید مقدمات اور مزید سزاؤں کے جال میں الجھ جاتے ہیں تو آگے کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے اصل چیلنج خیبر پختونخوا ہے۔ دونوں ’فریق‘ (اگر انہیں اس طرح بیان کیا جا سکے) پہلے ہی پی ٹی آئی کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے جس کے باعث گورنر راج کی بازگشت ہورہی تھی۔ اور گزشتہ چند دنوں میں یہ باتیں مزید زور پکڑتی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا اسے اُن لوگوں کی جانب سے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اس اقدام کی اجازت دینے والی قانونی اور آئینی شقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کر رہی ہے جہاں اسے مضبوط عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دہشت گردی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج رہا ہے جبکہ یہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف اس عدم تحفظ پیدا کرتا ہے بلکہ اس نے صوبے کے عوامی مزاج پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے، بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کی فوجی کارروائیوں اور موجودہ شدت پسندی میں اضافے نے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی ہے۔ اور اسی کے ساتھ عوام کی اکثریت خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشنز کی خواہش مند نہیں ہے جوکہ وہی مؤقف ہے جو پی ٹی آئی بھی اختیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں گورنر راج کا نفاذ ریاست کے لیے معاملات کو آسان بنانے کے بجائے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یقینی طور پر صوبے کی حکمران جماعت کو اقتدار سے باہر نکال دینا، اس کی حمایت کو مزید مضبوط کرے گا جبکہ پہلے سے ناراض عوام کو مزید بیگانگی کے احساس میں دھکیل دے گا۔ ناراض عوام والا پہلو دہشت گردی پر قابو پانے میں ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اور یہ تو اس اقدام کے زیادہ واضح منفی پہلو ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے معاملے میں جس بات کا کم ذکر ہوتا ہے وہ سیاسی متبادل کی کمی ہے کیونکہ ایسے سیاسی عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں جو کم از کم کسی حد تک بھی عوامی حمایت فراہم کر سکیں۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام-ف (جے یو آئی-ف) جیسی جماعتیں زیادہ مقبول نہیں ہیں جبکہ اب محسوس ہوتا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی مرکزی دھارے سے باہر کی تنظیمیں بھی اپنا ربط کھو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن معاملات صرف یہی نہیں۔ خیبر پختونخوا میں نگران سیٹ اپ جو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد قائم ہوا تھا، زیادہ بہتر طور پر حکومتی امور نہیں چلا سکا تھا۔ محض الزامات نہیں تھے بلکہ بدعنوانی کے متعدد دعوے سامنے آئے اور انگلیاں اُن سیاسی جماعتوں کی جانب بھی اٹھیں جو اُس وقت کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی مخلوط حکومت کا حصہ تھیں اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خیبر پختونخوا کے سیٹ اپ میں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پی ٹی آئی کو اقتدار سے بےدخل کردیا جاتا ہے تو کیا اسے دوبارہ خیبرپختونخوا کو چلانے کا موقع دیا جائے گا؟ گورنر راج لگانے سے یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ سیاسی طور پر اور کون سے آپشن باقی رہ جاتے ہیں اور اس کا عوامی تاثرات پر کیا اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست وہ واحد فریق ہے جسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی بھی الجھن کا شکار ہے۔ خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کے ساتھ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر معاملات طے کرنا ہوں گے پھر چاہے وہ صوبے چلانے کی خاطر ہوں یا عمران خان تک رسائی کے لیے۔۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے انتخابات کے تقریباً  دو سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ٹی آئی اپنے ووٹ بینک کو سڑکوں پر اس طرح متحرک نہیں کر سکی کہ عمران خان کو رہائی دلوائی جا سکے۔ اور قانونی و عدالتی نظام بھی اب اسے کوئی قابلِ عمل راستہ فراہم نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا چاہے پی ٹی آئی ٹاک شوز میں سخت سے سخت مؤقف اختیار کرے یا خیبر پختونخوا میں اپنے جلسوں میں گرم جوشی دکھائے، اس کے پاس کرنے کو زیادہ آپشنز نہیں ہے۔ اور اگر وہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کی صورت حال بہتر نہ بنا سکی تو اس کے حامیوں کی ناراضی جو پہلے علی امین گنڈاپور کے لیے تھی، نئے وزیرِ اعلیٰ کو بھی نہیں بخشے گی۔ اور اس سب کے لیے، اسے اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنا سیکھنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں جلد یا بدیر پی ٹی آئی کو یہ احساس ہو جائے گا کہ اسے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے پھر چاہے وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرے یا دیگر فریقین کے ساتھ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ دونوں جانب کے مزاج کے باعث بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا دشوار ہے۔ کسی غیرمتوقع واقعے کے بغیر جو موجودہ حالات کو یکسر تبدیل کردے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ فریقین بیٹھ کر بات چیت بھلا کیوں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی خاموش رہے اور تعاون کرے جبکہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور اس کا مینڈیٹ اسے واپس کیا جائے۔ اس صورت میں درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کا احساس دے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ تجویز دیتے ہیں کہ ایک سال بعد انتخابات کے لیے کوئی معاہدہ کیا جا سکتا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ بات کیوں قابلِ قبول ہوگی؟ اور یہ کیا ضمانت دی جا سکتی ہے کہ یہ نسبتاً منصفانہ انتخابات ہوں گے؟ یہ کون یقینی بنا سکتا ہے اور کیوں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن بات الگ سمت اختیار کررہی ہے۔ فی الحال اصل چیلنج پی ٹی آئی کی قیادت والے خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان تصادم ہے۔ گورنر راج آسان حل نہیں ہے اور پی ٹی آئی اس سے بخوبی واقف ہے جبکہ وفاق کو بھی اس کا ادراک ہے۔ امکانات یہی ہیں کہ لفظی جنگ جاری رہے گی کیونکہ کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960048/stalemate-continues"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ایک نیا تصادم ابھر رہا ہے۔ یہ بات گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں ہونے والی پریس کانفرنس سے واضح تھی جو عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے کیے گئے ٹوئٹس کے بعد کی گئی تھی۔</p>
<p>پریس کانفرنس اور بعدازاں حکمران جماعت کے سیاست دانوں کی جانب سے ملنے والی حمایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی بالخصوص عمران خان کے لیے آنے والے حالات مشکل ہوں گے۔</p>
<p>درحقیقت بہت سے لوگوں کے نزدیک گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی الفاظ کی جنگ عمران خان کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ طرح طرح کی انتباہات دیے جا رہے ہیں کہ ان تک رسائی مزید محدود کر دی جائے گی اور ملاقاتوں کا سلسلہ بالکل روک دیا جائے گا۔ پہلے بھی ان کی جلد رہائی کی کسی نے توقع نہیں کی تھی اور اب تو یہ بات گویا پختہ ہو چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274669'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جو لوگ اتنے پُراعتماد ہیں کہ مستقبل کی پیش گوئی کرسکیں، وہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے مقدمے کی کارروائی، فوجی عدالتوں اور سخت سزاؤں کی بھی بات کر رہے ہیں مگر مجھ جیسے ایک عام صحافی کے لیے غیب دان بننا آسان نہیں۔ تو چلیے انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر عمران خان مزید مقدمات اور مزید سزاؤں کے جال میں الجھ جاتے ہیں تو آگے کیا ہوگا۔</p>
<p>تاہم اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے اصل چیلنج خیبر پختونخوا ہے۔ دونوں ’فریق‘ (اگر انہیں اس طرح بیان کیا جا سکے) پہلے ہی پی ٹی آئی کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے جس کے باعث گورنر راج کی بازگشت ہورہی تھی۔ اور گزشتہ چند دنوں میں یہ باتیں مزید زور پکڑتی گئی ہیں۔</p>
<p>لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا اسے اُن لوگوں کی جانب سے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اس اقدام کی اجازت دینے والی قانونی اور آئینی شقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔</p>
<p>خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کر رہی ہے جہاں اسے مضبوط عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دہشت گردی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج رہا ہے جبکہ یہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف اس عدم تحفظ پیدا کرتا ہے بلکہ اس نے صوبے کے عوامی مزاج پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔</p>
<p>بدقسمتی سے، بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کی فوجی کارروائیوں اور موجودہ شدت پسندی میں اضافے نے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی ہے۔ اور اسی کے ساتھ عوام کی اکثریت خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشنز کی خواہش مند نہیں ہے جوکہ وہی مؤقف ہے جو پی ٹی آئی بھی اختیار کرتی ہے۔</p>
<p>اس پس منظر میں گورنر راج کا نفاذ ریاست کے لیے معاملات کو آسان بنانے کے بجائے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یقینی طور پر صوبے کی حکمران جماعت کو اقتدار سے باہر نکال دینا، اس کی حمایت کو مزید مضبوط کرے گا جبکہ پہلے سے ناراض عوام کو مزید بیگانگی کے احساس میں دھکیل دے گا۔ ناراض عوام والا پہلو دہشت گردی پر قابو پانے میں ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اور یہ تو اس اقدام کے زیادہ واضح منفی پہلو ہیں۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے معاملے میں جس بات کا کم ذکر ہوتا ہے وہ سیاسی متبادل کی کمی ہے کیونکہ ایسے سیاسی عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں جو کم از کم کسی حد تک بھی عوامی حمایت فراہم کر سکیں۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام-ف (جے یو آئی-ف) جیسی جماعتیں زیادہ مقبول نہیں ہیں جبکہ اب محسوس ہوتا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی مرکزی دھارے سے باہر کی تنظیمیں بھی اپنا ربط کھو چکی ہیں۔</p>
<p>لیکن معاملات صرف یہی نہیں۔ خیبر پختونخوا میں نگران سیٹ اپ جو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد قائم ہوا تھا، زیادہ بہتر طور پر حکومتی امور نہیں چلا سکا تھا۔ محض الزامات نہیں تھے بلکہ بدعنوانی کے متعدد دعوے سامنے آئے اور انگلیاں اُن سیاسی جماعتوں کی جانب بھی اٹھیں جو اُس وقت کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی مخلوط حکومت کا حصہ تھیں اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خیبر پختونخوا کے سیٹ اپ میں شامل تھیں۔</p>
<p>اگر پی ٹی آئی کو اقتدار سے بےدخل کردیا جاتا ہے تو کیا اسے دوبارہ خیبرپختونخوا کو چلانے کا موقع دیا جائے گا؟ گورنر راج لگانے سے یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ سیاسی طور پر اور کون سے آپشن باقی رہ جاتے ہیں اور اس کا عوامی تاثرات پر کیا اثر پڑے گا۔</p>
<p>اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست وہ واحد فریق ہے جسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی بھی الجھن کا شکار ہے۔ خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کے ساتھ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر معاملات طے کرنا ہوں گے پھر چاہے وہ صوبے چلانے کی خاطر ہوں یا عمران خان تک رسائی کے لیے۔۔۔</p>
<p>2024 کے انتخابات کے تقریباً  دو سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ٹی آئی اپنے ووٹ بینک کو سڑکوں پر اس طرح متحرک نہیں کر سکی کہ عمران خان کو رہائی دلوائی جا سکے۔ اور قانونی و عدالتی نظام بھی اب اسے کوئی قابلِ عمل راستہ فراہم نہیں کرتے۔</p>
<p>لہٰذا چاہے پی ٹی آئی ٹاک شوز میں سخت سے سخت مؤقف اختیار کرے یا خیبر پختونخوا میں اپنے جلسوں میں گرم جوشی دکھائے، اس کے پاس کرنے کو زیادہ آپشنز نہیں ہے۔ اور اگر وہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کی صورت حال بہتر نہ بنا سکی تو اس کے حامیوں کی ناراضی جو پہلے علی امین گنڈاپور کے لیے تھی، نئے وزیرِ اعلیٰ کو بھی نہیں بخشے گی۔ اور اس سب کے لیے، اسے اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنا سیکھنا پڑے گا۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں جلد یا بدیر پی ٹی آئی کو یہ احساس ہو جائے گا کہ اسے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے پھر چاہے وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرے یا دیگر فریقین کے ساتھ۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بدقسمتی سے یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ دونوں جانب کے مزاج کے باعث بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا دشوار ہے۔ کسی غیرمتوقع واقعے کے بغیر جو موجودہ حالات کو یکسر تبدیل کردے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ فریقین بیٹھ کر بات چیت بھلا کیوں کریں گے۔</p>
<p>اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی خاموش رہے اور تعاون کرے جبکہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور اس کا مینڈیٹ اسے واپس کیا جائے۔ اس صورت میں درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کا احساس دے؟</p>
<p>کچھ لوگ تجویز دیتے ہیں کہ ایک سال بعد انتخابات کے لیے کوئی معاہدہ کیا جا سکتا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ بات کیوں قابلِ قبول ہوگی؟ اور یہ کیا ضمانت دی جا سکتی ہے کہ یہ نسبتاً منصفانہ انتخابات ہوں گے؟ یہ کون یقینی بنا سکتا ہے اور کیوں؟</p>
<p>لیکن بات الگ سمت اختیار کررہی ہے۔ فی الحال اصل چیلنج پی ٹی آئی کی قیادت والے خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان تصادم ہے۔ گورنر راج آسان حل نہیں ہے اور پی ٹی آئی اس سے بخوبی واقف ہے جبکہ وفاق کو بھی اس کا ادراک ہے۔ امکانات یہی ہیں کہ لفظی جنگ جاری رہے گی کیونکہ کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960048/stalemate-continues"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274743</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 13:14:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارفہ نور)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091043265de3a0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091043265de3a0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر کی وجہ ہائبرڈ نظام میں دراڑ ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274735/</link>
      <description>&lt;p&gt;بہت سے تجزیہ کار اور حکومتی اہلکار اس پورے معاملے کو ضرورت سے زیادہ بڑا معاملہ بنا کر پیش کررہے تھے، ان کی تمام قیاس آرائیاں ختم ہوچکی ہیں کیونکہ طویل عرصے سے زیرِ بحث نوٹیفکیشن بلآخر عوام کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نوٹیفکیشن میں ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہائبرڈ حکومتی نظام کے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ (اگر کوئی تھا) کی اصل وجہ کیا تھی یا اگر کس فریق نے اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274728/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274728"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ متعدد قیاس آرائیاں زیرگردش رہیں کہ اختلافات کی وجہ سے نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہوا اور کچھ ‘تجزیہ کاروں’ کی رائے تھی کہ یہ اختلافات ٹوٹ پھوٹ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے جو ہائبرڈ سیٹ اپ کے خاتمے پر منتج ہوگا لیکن دوسری طرف ایسے مبصرین بھی موجود تھے جو صورت حال کو بہت زیادہ باریک بینی سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ تباہی کی جو پیش گوئی کی جا رہی ہے وہ مبالغہ آرائی، غیر حقیقت پسندانہ اور اصل حقائق سے زیادہ خواہش مندانہ سوچ کی پیداوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 ویں ترمیم میں سب کچھ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تو یہ دیکھنا مشکل تھا کہ آخر بھلا کوئی اختلاف کیوں ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے انہیں بنیادی طور پر صرف ترمیم کے الفاظ کو کاپی اور پیسٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ درحقیقت اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود یہ ترمیم اس حقیقت کی معترف اور عکاس تھی کہ اس ہائبرڈ نظام کو تشکیل دینے والے دو غیر مساوی شراکت دار‘ چاہے وہ جتنے بھی مختلف کیوں نہ ہوں، ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب یہ حقیقت تسلیم شدہ تھی تو پھر آخر کہاں، کیسے اور کیوں سول قیادت کی جانب سے کسی طرح کے تحفظات اٹھیں گے؟ یہ تو دور کی بات ہے کہ ایسے لوگ جنہیں عام زبان میں beggars can’t be choosers کہا جاتا ہے، کسی قسم کا ’مؤقف‘ اختیار کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ طاقت کے انتظام کے سویلین فریق کے لیے اس نظام کو جاری رکھنا کتنا ضروری ہے، خاص طور پر گزشتہ انتخابات جہاں اس کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور اسے مشکل سے جیت دلوائی گئی حالانکہ اس کے حریف نے ہر ممکن مشکلات کا سامنا کیا تو آپ کہیں گے کہ یہ انتہائی اہم ہے۔ اور آپ بالکل درست بھی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی بقا اور اہمیت کے لیے درمیانی تا طویل مدت میں ایک ادارے کی قیادت کی فیاضی پر کس حد تک انحصار کرے گی کیونکہ نظام کا وہ حصہ جس کا ابھی اعلان کیا گیا ہے، اگلے عام انتخابات کے بعد بھی تقریباً دو سال تک برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائبرڈ نظام کے برقرار رہنے کی ایک اور واضح نشانی حالیہ تلخ جھگڑوں کی صورت میں سامنے آئی کہ جو قید میں موجود حزبِ اختلاف کے رہنما اور انہیں اذیت دینے والوں کے درمیان ہوئے جہاں گفتگو بلا ضرورت توہین اور سخت الفاظ پر مبنی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ملک کے سب سے مقبول سیاستدان ہوسکتے ہیں لیکن وہ انتہائی سخت اور غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے دیگر لوگ ان کی دیکھا دیکھی یہی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ زبان قومی مفاہمت کے امکانات کو مزید کم کردیتی ہے اور ان کے مخالفین کو ان کے خلاف متحد بھی کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274721/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;باقی سب کچھ غیرمتعلقہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف جنہوں نے فوجی حکمران کے پسندیدہ شاگرد سے ایک ایسے لیڈر میں کامیابی اور بہادری کے ساتھ تبدیل ہونے کا سفر طے کیا جو سول بالادستی کے اصول کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، ایسا لگتا ہے کہ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بعض اوقات یہ ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے عقائد کے پابند ہیں لیکن اپنی واپسی اور ایک طویل اور اہم سیاسی کریئر کے بعد، وہ اب ایک قدم پیچھے ہٹنے اور اپنے منتخب جانشین یعنی اپنی صاحبزادی کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی زبان نرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے چھوٹے بھائی اور وزیرِ اعظم پاکستان بظاہر اپنے عالمی کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں جو خلیج، وسطی ایشیا اور دیگر دور دراز مقامات پر جا کر مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں اور معاہدوں (MoUs) پر دستخط کرتے ہی۔ ان معاہدوں کے بارے میں ہماری بے یار و مددگار قوم کو دل سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ جلد کسی دن حقیقی غیرملکی سرمایہ کاری کی صورت میں عملی شکل اختیار کریں تاکہ ان کی زندگی بہتر ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ چونکہ 27ویں ترمیم پارلیمان کی اطاعت پذیر کارروائی کے ذریعے باآسانی منظور ہو گئی، اس لیے جو بھی افراد وزارتِ قانون اور وزارتِ دفاع سے لے کر جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ تک نوٹیفیکیشن تیار کرنے اور لکھنے کے ذمہ دار تھے، وہ شاید حد سے زیادہ پُر اعتماد اور لاپروا ہو گئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اچانک اس وقت جاگے کہ جب نوٹیفکیشن پبلک کرنے میں تاخیر مسئلہ بن گئی۔ انہوں نے کہا، ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ بحران کے قریب رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں نظریات کو پھیلانے کے ساتھ، کمزور الیکٹرانک میڈیا بھی خود کو اس معاملے سے دور نہیں رکھ سکا۔ اور یوں طوفان برپا ہوگیا لیکن بلبلہ آخر پھٹ ہی گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیر اس بارے میں کافی بات ہوگئی۔ موجودہ نظام مستقبل قریب تک جاری رہ سکتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی نتائج حاصل کر سکتا ہے۔ ملک کو ہر طرف سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دو صوبوں میں ہونے والی دہشت گردی برسوں کی ناکام ریاستی پالیسیز کا نتیجہ ہو یا غیر ملکی مداخلت کا، یہ ملکی سلامتی کے ذمہ داروں کے لیے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ترقی کے وعدے اس وقت کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں جب آبادی معیشت سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہو۔ تقریباً ہر روز دستخط کیے جانے والے معاہدوں میں بعض اوقات صوبائی کنٹرول کو کمزور کرکے غیر ملکی کمپنیز کو ہمارے معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان صوبوں نے زیادہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں دیکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ جو معمولی آمدنی ہے، وہ بھی ان لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے کافی نہیں جو ان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت کے حقیقی مالک ہیں۔ صوبوں سے رقم کی آئینی طور پر ضمانت شدہ حصہ چھیننے کی ایک اور کوشش ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتائج کی کوئی فکر نہیں کی جارہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ نوٹیفکیشن کا معاملہ طے پا چکا ہے، اگر ملک کو اپنے حقیقی چیلنجز سے نمٹنا ہے تو اسے ان تمام مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر لفظ ‘حب الوطنی‘ پر اتنا سیاسی الزام نہ لگایا جاتا تو میں اسے حب الوطنی کی ضرورت کہوں گا لیکن کیا کوئی واقعی بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا حقیقی فرض ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959657/new-internal-security-order"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بہت سے تجزیہ کار اور حکومتی اہلکار اس پورے معاملے کو ضرورت سے زیادہ بڑا معاملہ بنا کر پیش کررہے تھے، ان کی تمام قیاس آرائیاں ختم ہوچکی ہیں کیونکہ طویل عرصے سے زیرِ بحث نوٹیفکیشن بلآخر عوام کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>لیکن نوٹیفکیشن میں ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہائبرڈ حکومتی نظام کے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ (اگر کوئی تھا) کی اصل وجہ کیا تھی یا اگر کس فریق نے اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274728/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274728"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ متعدد قیاس آرائیاں زیرگردش رہیں کہ اختلافات کی وجہ سے نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہوا اور کچھ ‘تجزیہ کاروں’ کی رائے تھی کہ یہ اختلافات ٹوٹ پھوٹ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے جو ہائبرڈ سیٹ اپ کے خاتمے پر منتج ہوگا لیکن دوسری طرف ایسے مبصرین بھی موجود تھے جو صورت حال کو بہت زیادہ باریک بینی سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ تباہی کی جو پیش گوئی کی جا رہی ہے وہ مبالغہ آرائی، غیر حقیقت پسندانہ اور اصل حقائق سے زیادہ خواہش مندانہ سوچ کی پیداوار ہے۔</p>
<p>27 ویں ترمیم میں سب کچھ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تو یہ دیکھنا مشکل تھا کہ آخر بھلا کوئی اختلاف کیوں ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے انہیں بنیادی طور پر صرف ترمیم کے الفاظ کو کاپی اور پیسٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ درحقیقت اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا۔</p>
<p>خود یہ ترمیم اس حقیقت کی معترف اور عکاس تھی کہ اس ہائبرڈ نظام کو تشکیل دینے والے دو غیر مساوی شراکت دار‘ چاہے وہ جتنے بھی مختلف کیوں نہ ہوں، ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب یہ حقیقت تسلیم شدہ تھی تو پھر آخر کہاں، کیسے اور کیوں سول قیادت کی جانب سے کسی طرح کے تحفظات اٹھیں گے؟ یہ تو دور کی بات ہے کہ ایسے لوگ جنہیں عام زبان میں beggars can’t be choosers کہا جاتا ہے، کسی قسم کا ’مؤقف‘ اختیار کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔</p>
<p>اگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ طاقت کے انتظام کے سویلین فریق کے لیے اس نظام کو جاری رکھنا کتنا ضروری ہے، خاص طور پر گزشتہ انتخابات جہاں اس کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور اسے مشکل سے جیت دلوائی گئی حالانکہ اس کے حریف نے ہر ممکن مشکلات کا سامنا کیا تو آپ کہیں گے کہ یہ انتہائی اہم ہے۔ اور آپ بالکل درست بھی ہوں گے۔</p>
<p>یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی بقا اور اہمیت کے لیے درمیانی تا طویل مدت میں ایک ادارے کی قیادت کی فیاضی پر کس حد تک انحصار کرے گی کیونکہ نظام کا وہ حصہ جس کا ابھی اعلان کیا گیا ہے، اگلے عام انتخابات کے بعد بھی تقریباً دو سال تک برقرار رہے گا۔</p>
<p>ہائبرڈ نظام کے برقرار رہنے کی ایک اور واضح نشانی حالیہ تلخ جھگڑوں کی صورت میں سامنے آئی کہ جو قید میں موجود حزبِ اختلاف کے رہنما اور انہیں اذیت دینے والوں کے درمیان ہوئے جہاں گفتگو بلا ضرورت توہین اور سخت الفاظ پر مبنی رہی۔</p>
<p>وہ ملک کے سب سے مقبول سیاستدان ہوسکتے ہیں لیکن وہ انتہائی سخت اور غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے دیگر لوگ ان کی دیکھا دیکھی یہی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ زبان قومی مفاہمت کے امکانات کو مزید کم کردیتی ہے اور ان کے مخالفین کو ان کے خلاف متحد بھی کر دیتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274721/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>باقی سب کچھ غیرمتعلقہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف جنہوں نے فوجی حکمران کے پسندیدہ شاگرد سے ایک ایسے لیڈر میں کامیابی اور بہادری کے ساتھ تبدیل ہونے کا سفر طے کیا جو سول بالادستی کے اصول کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، ایسا لگتا ہے کہ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>وہ بعض اوقات یہ ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے عقائد کے پابند ہیں لیکن اپنی واپسی اور ایک طویل اور اہم سیاسی کریئر کے بعد، وہ اب ایک قدم پیچھے ہٹنے اور اپنے منتخب جانشین یعنی اپنی صاحبزادی کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی زبان نرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ان کے چھوٹے بھائی اور وزیرِ اعظم پاکستان بظاہر اپنے عالمی کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں جو خلیج، وسطی ایشیا اور دیگر دور دراز مقامات پر جا کر مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں اور معاہدوں (MoUs) پر دستخط کرتے ہی۔ ان معاہدوں کے بارے میں ہماری بے یار و مددگار قوم کو دل سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ جلد کسی دن حقیقی غیرملکی سرمایہ کاری کی صورت میں عملی شکل اختیار کریں تاکہ ان کی زندگی بہتر ہو سکے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ چونکہ 27ویں ترمیم پارلیمان کی اطاعت پذیر کارروائی کے ذریعے باآسانی منظور ہو گئی، اس لیے جو بھی افراد وزارتِ قانون اور وزارتِ دفاع سے لے کر جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ تک نوٹیفیکیشن تیار کرنے اور لکھنے کے ذمہ دار تھے، وہ شاید حد سے زیادہ پُر اعتماد اور لاپروا ہو گئے ہوں۔</p>
<p>وہ اچانک اس وقت جاگے کہ جب نوٹیفکیشن پبلک کرنے میں تاخیر مسئلہ بن گئی۔ انہوں نے کہا، ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ بحران کے قریب رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں نظریات کو پھیلانے کے ساتھ، کمزور الیکٹرانک میڈیا بھی خود کو اس معاملے سے دور نہیں رکھ سکا۔ اور یوں طوفان برپا ہوگیا لیکن بلبلہ آخر پھٹ ہی گیا۔</p>
<p>خیر اس بارے میں کافی بات ہوگئی۔ موجودہ نظام مستقبل قریب تک جاری رہ سکتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی نتائج حاصل کر سکتا ہے۔ ملک کو ہر طرف سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دو صوبوں میں ہونے والی دہشت گردی برسوں کی ناکام ریاستی پالیسیز کا نتیجہ ہو یا غیر ملکی مداخلت کا، یہ ملکی سلامتی کے ذمہ داروں کے لیے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>معاشی ترقی کے وعدے اس وقت کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں جب آبادی معیشت سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہو۔ تقریباً ہر روز دستخط کیے جانے والے معاہدوں میں بعض اوقات صوبائی کنٹرول کو کمزور کرکے غیر ملکی کمپنیز کو ہمارے معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان صوبوں نے زیادہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں دیکھی ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ جو معمولی آمدنی ہے، وہ بھی ان لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے کافی نہیں جو ان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت کے حقیقی مالک ہیں۔ صوبوں سے رقم کی آئینی طور پر ضمانت شدہ حصہ چھیننے کی ایک اور کوشش ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتائج کی کوئی فکر نہیں کی جارہی۔</p>
<p>اب جبکہ نوٹیفکیشن کا معاملہ طے پا چکا ہے، اگر ملک کو اپنے حقیقی چیلنجز سے نمٹنا ہے تو اسے ان تمام مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>اگر لفظ ‘حب الوطنی‘ پر اتنا سیاسی الزام نہ لگایا جاتا تو میں اسے حب الوطنی کی ضرورت کہوں گا لیکن کیا کوئی واقعی بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا حقیقی فرض ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959657/new-internal-security-order"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274735</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 16:33:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عباس ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/08161257c7d7527.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/08161257c7d7527.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: موجودہ صورت حال میں صفیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274721/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیاست میں معتدل زبان کی اہمیت، حتیٰ کہ تنقید کے دوران بھی کم نہیں لکھی جا سکتی، بدقسمتی سے ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے سیاستدان (اور اب سیکیورٹی حلقے بھی) اس کے بالکل برعکس رویہ اختیار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آج کے دور میں، جلد غصے اور گہری تقسیم کے ماحول میں کوئی یہ توقع نہیں رکھتا کہ تنقید یا زبانی تبادلے مہذب ہوں، لیکن بدتمیزی کی حدیں سخت ترین توہین آمیز الفاظ تک بڑھانی نہیں چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، جمعہ کے روز آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مایوس کن تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے سربراہ کے پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان کو (نام لیے بغیر) نشانہ بنانے والے سخت الفاظ سے ظاہر ہوا کہ فوج اور بڑی اپوزیشن جماعت کے درمیان گہرا عدم اعتماد موجود ہے، لیکن سابق وزیر اعظم کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ غیر معمولی حد تک سخت تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کو ‘ذہنی طور پر بیمار’ اور ‘سیکیورٹی رسک’ قرار دیا گیا اور ان کی جماعت پر بھارت اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ساز باز کا الزام لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول حکمران بھی اس کے ساتھ نظر آئے، وزیر اطلاعات نے ہر لفظ کی توثیق کی، جبکہ وزیر دفاع نے بھی پریس کانفرنس کا دفاع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کو نشانہ بنانا (فوجی مداخلت کے بغیر صرف سیاستدانوں کے درمیان ہونا چاہیے) ملک میں ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، جیسا کہ دیگر ممالک میں بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن پاکستان میں، سیاسی حریفوں پر معمول کی تنقید کے علاوہ، سیاستدانوں، جیسے کہ ایوب خان کے دور میں فاطمہ جناح کے حب الوطنی کے معیار کو بھی مضبوط فوجی حضرات نے چیلنج کیا، اور بعد میں وہی سیاستدان (جنہیں انہوں نے اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کیا تھا) سیاسی طور پر بحال بھی کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاستدانوں نے بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غفار خان اور ولی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک، کئی سیاستدانوں کو بدعنوان یا ریاست مخالف قرار دیا گیا، جمعہ کی پریس کانفرنس کے ہدف، خود عمران خان نے مخالفین (فوج سمیت) کے خلاف زبانی سختی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ زہریلا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر وہ لوگ جو قومی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں اور عوامی عہدوں پر فائز ہیں، انہیں اپنے الفاظ میں محتاط رہنا چاہیے اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک کو درپیش مختلف چیلنجز (دہشت گردی اور سرحدی کشیدگی) سے محفوظ رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال میں ضرورت ہے کہ صفیں مضبوط کی جائیں اور مخالفین کو ‘ریاست کے دشمن’ قرار دینا بند کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام غلطیوں اور داخلی بحران کے باوجود، پی ٹی آئی اب بھی عوام میں قابلِ ذکر حمایت رکھتی ہے، اور اس پر تنقید اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے کہ اسے ریاست مخالف رجحانات کے برابر سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;یہ اداریہ آج ڈان اخبار میں شائع ہوا ہے، انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959867"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیاست میں معتدل زبان کی اہمیت، حتیٰ کہ تنقید کے دوران بھی کم نہیں لکھی جا سکتی، بدقسمتی سے ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے سیاستدان (اور اب سیکیورٹی حلقے بھی) اس کے بالکل برعکس رویہ اختیار کر رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ آج کے دور میں، جلد غصے اور گہری تقسیم کے ماحول میں کوئی یہ توقع نہیں رکھتا کہ تنقید یا زبانی تبادلے مہذب ہوں، لیکن بدتمیزی کی حدیں سخت ترین توہین آمیز الفاظ تک بڑھانی نہیں چاہئیں۔</p>
<p>اس تناظر میں، جمعہ کے روز آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مایوس کن تھی۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے سربراہ کے پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان کو (نام لیے بغیر) نشانہ بنانے والے سخت الفاظ سے ظاہر ہوا کہ فوج اور بڑی اپوزیشن جماعت کے درمیان گہرا عدم اعتماد موجود ہے، لیکن سابق وزیر اعظم کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ غیر معمولی حد تک سخت تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عمران خان کو ‘ذہنی طور پر بیمار’ اور ‘سیکیورٹی رسک’ قرار دیا گیا اور ان کی جماعت پر بھارت اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ساز باز کا الزام لگایا گیا۔</p>
<p>سول حکمران بھی اس کے ساتھ نظر آئے، وزیر اطلاعات نے ہر لفظ کی توثیق کی، جبکہ وزیر دفاع نے بھی پریس کانفرنس کا دفاع کیا ہے۔</p>
<p>اپوزیشن کو نشانہ بنانا (فوجی مداخلت کے بغیر صرف سیاستدانوں کے درمیان ہونا چاہیے) ملک میں ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، جیسا کہ دیگر ممالک میں بھی ہے۔</p>
<p>لیکن پاکستان میں، سیاسی حریفوں پر معمول کی تنقید کے علاوہ، سیاستدانوں، جیسے کہ ایوب خان کے دور میں فاطمہ جناح کے حب الوطنی کے معیار کو بھی مضبوط فوجی حضرات نے چیلنج کیا، اور بعد میں وہی سیاستدان (جنہیں انہوں نے اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کیا تھا) سیاسی طور پر بحال بھی کیے گئے۔</p>
<p>سیاستدانوں نے بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔</p>
<p>غفار خان اور ولی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک، کئی سیاستدانوں کو بدعنوان یا ریاست مخالف قرار دیا گیا، جمعہ کی پریس کانفرنس کے ہدف، خود عمران خان نے مخالفین (فوج سمیت) کے خلاف زبانی سختی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔</p>
<p>لیکن یہ زہریلا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔</p>
<p>خاص طور پر وہ لوگ جو قومی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں اور عوامی عہدوں پر فائز ہیں، انہیں اپنے الفاظ میں محتاط رہنا چاہیے اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک کو درپیش مختلف چیلنجز (دہشت گردی اور سرحدی کشیدگی) سے محفوظ رکھنا چاہیے۔</p>
<p>موجودہ صورتحال میں ضرورت ہے کہ صفیں مضبوط کی جائیں اور مخالفین کو ‘ریاست کے دشمن’ قرار دینا بند کیا جائے۔</p>
<p>تمام غلطیوں اور داخلی بحران کے باوجود، پی ٹی آئی اب بھی عوام میں قابلِ ذکر حمایت رکھتی ہے، اور اس پر تنقید اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے کہ اسے ریاست مخالف رجحانات کے برابر سمجھا جائے۔</p>
<p><em>یہ اداریہ آج ڈان اخبار میں شائع ہوا ہے، انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959867">پڑھیے</a>۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274721</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 14:36:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/081207069f689a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/081207069f689a5.webp"/>
        <media:title>غفار خان اور ولی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک، کئی سیاستدانوں کو بدعنوان یا ریاست مخالف قرار دیا گیا۔ —فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’کراچی کے کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی بےحسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274656/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں ڈھکن کے بغیر کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جوکہ شہریوں کو روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے معمول کی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے والے خاندان کو عمر بھر کا روگ مل گیا۔ گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر نوعمر ابراہیم جان سے چلا گیا جس کی لاش سانحے کے 15 گھنٹوں بعد ملی۔ بچے کی موت اور سرچ آپریشن میں تاخیر نے عوامی غصے کو بھڑکایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہیں ریسکیو ہیلپ لائن نے دعویٰ کیا کہ شہری اداروں اور ٹاؤن انتظامیہ نے سیوریج کے راستوں کے داخلے اور اخراج کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔ عوامی احتجاج، دھرنوں اور مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر جواب دہی کے مطالبات کے باوجود، میئر کے دفتر کی جانب سے معذرت تاخیر سے سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم روایت کے مطابق، کچھ افسران کی معطلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے وعدے کے ساتھ ساتھ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ادارہ جاتی تبدیلیوں کی یقین دہانی ضرور کروائی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274586'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میٹروپول شہر میں سیوریج میں گرنے کے واقعات نہایت عام ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 68 افراد مبینہ طور پر کھلے مین ہولز کی نذر ہوگئے۔ رواں سال رپورٹس کے مطابق، کھلے نالوں اور سیوریج نے 24 رہائشیوں کی جانوں کو نگل لیا جن میں 5 بچے شامل تھے۔ وہ بے حسی جس کی سندھ حکومت عادی ہو چکی ہے، اسے عوام کے جذبات سمجھنے اور ان کے دکھ کا ادراک کرنے سے قاصر بنائے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال کے لیے کروڑوں کے بجٹ کے باوجود، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر اداروں کی مبینہ غفلت نے کراچی کے تقریباً 50 فیصد کم آمدنی والے علاقوں کو کھلے موت کے گڑھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کھلے نالوں اور مین ہولز کا معاملہ بھی نہایت سنگین ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ معیار کے ایسے ڈھکنوں کی ضرورت ہے جو نشے کے عادی افراد ہٹا نہ سکیں اور نہ ہی بھاری گاڑیاں انہیں نقصان پہنچا سکیں جبکہ ایسے ڈھکن ہر مین ہول پر لگائے جائیں۔ فنڈز کو بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے مین ہول اسکیننگ سسٹمز کی تنصیب پر بھی خرچ کیا جانا چاہیے جو ساختی حالت کا ڈیٹا اکٹھا اور نقشہ بندی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بڑے شہروں کے برعکس، کراچی کی سڑکیں موت کے جال بن چکی ہیں۔ زندگی سے بھرپور یہ شہر، بیک وقت زندہ رہنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959257/karachis-death-holes"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں ڈھکن کے بغیر کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جوکہ شہریوں کو روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے معمول کی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے والے خاندان کو عمر بھر کا روگ مل گیا۔ گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر نوعمر ابراہیم جان سے چلا گیا جس کی لاش سانحے کے 15 گھنٹوں بعد ملی۔ بچے کی موت اور سرچ آپریشن میں تاخیر نے عوامی غصے کو بھڑکایا۔</p>
<p>وہیں ریسکیو ہیلپ لائن نے دعویٰ کیا کہ شہری اداروں اور ٹاؤن انتظامیہ نے سیوریج کے راستوں کے داخلے اور اخراج کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔ عوامی احتجاج، دھرنوں اور مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر جواب دہی کے مطالبات کے باوجود، میئر کے دفتر کی جانب سے معذرت تاخیر سے سامنے آئی۔</p>
<p>تاہم روایت کے مطابق، کچھ افسران کی معطلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے وعدے کے ساتھ ساتھ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ادارہ جاتی تبدیلیوں کی یقین دہانی ضرور کروائی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274586'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میٹروپول شہر میں سیوریج میں گرنے کے واقعات نہایت عام ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 68 افراد مبینہ طور پر کھلے مین ہولز کی نذر ہوگئے۔ رواں سال رپورٹس کے مطابق، کھلے نالوں اور سیوریج نے 24 رہائشیوں کی جانوں کو نگل لیا جن میں 5 بچے شامل تھے۔ وہ بے حسی جس کی سندھ حکومت عادی ہو چکی ہے، اسے عوام کے جذبات سمجھنے اور ان کے دکھ کا ادراک کرنے سے قاصر بنائے ہوئے ہے۔</p>
<p>سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال کے لیے کروڑوں کے بجٹ کے باوجود، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر اداروں کی مبینہ غفلت نے کراچی کے تقریباً 50 فیصد کم آمدنی والے علاقوں کو کھلے موت کے گڑھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کھلے نالوں اور مین ہولز کا معاملہ بھی نہایت سنگین ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ معیار کے ایسے ڈھکنوں کی ضرورت ہے جو نشے کے عادی افراد ہٹا نہ سکیں اور نہ ہی بھاری گاڑیاں انہیں نقصان پہنچا سکیں جبکہ ایسے ڈھکن ہر مین ہول پر لگائے جائیں۔ فنڈز کو بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے مین ہول اسکیننگ سسٹمز کی تنصیب پر بھی خرچ کیا جانا چاہیے جو ساختی حالت کا ڈیٹا اکٹھا اور نقشہ بندی کرتے ہیں۔</p>
<p>دیگر بڑے شہروں کے برعکس، کراچی کی سڑکیں موت کے جال بن چکی ہیں۔ زندگی سے بھرپور یہ شہر، بیک وقت زندہ رہنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959257/karachis-death-holes"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274656</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 12:41:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/051210201ec1a15.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/051210201ec1a15.webp"/>
        <media:title>—تصویر: میٹا اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج: ’یہ اقدام ملک کو سنگین بحران میں دھکیل دے گا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر کئی ماہ سے بحث ہوتی رہی ہے لیکن اب یہ معاملہ ناگزیر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بعض سرکاری وزرا کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا کوئی بھی اقدام ملک کو مزید سنگین بحران میں دھکیل دے گا جس کے دور رس سیاسی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک میں تنگ ہوتی جمہوری فضا پہلے ہی ایک غیر مستحکم صورتِ حال پیدا کر چکی ہے اور محاذ آرائی کی سیاست پورے نظام کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ کیا ملک جو پہلے ہی متعدد داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا متحمل ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274527'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274527"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کی جانب سے اس ممکنہ اقدام کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں، اُن میں خیبرپختونخوا میں سلامتی اور گورننس کے مسائل شامل ہیں۔ یہ درست ہو سکتا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبے کو ایک دہائی میں اپنی بدترین سیکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اور دہشت گردی سیکڑوں جانیں لے چکی ہے لیکن ان بگڑتے حالات کی اصل ذمہ داری وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ بدانتظامی کا بہانہ بھی کمزور ہے کیونکہ دیگر صوبوں میں حالات قابلِ تعریف نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورا معاملہ طاقت کی سیاست اور خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کو دیوار سے لگانے کا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ لیکن خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کیے جانے کے باوجود، پی ٹی آئی اب بھی کے پی اسمبلی میں غالب حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نئے اور سخت گیر وزیرِاعلیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے اس ہائبرڈ نظام کی مایوسی جھلکتی ہے جو صوبائی حکومت کو زیرِ دام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ایسی کسی بھی سخت کارروائی کے نتیجے میں صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے، بالخصوص اُس خطے میں کہ جہاں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ تشویشناک پہلو مقامی آبادی کی ریاست سے بڑھتی ہوئی بیگانگی کا احساس ہے، بالخصوص وہ اضلاع جو عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کے باعث ان علاقوں میں انتظامی کنٹرول تقریباً ختم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال دہشت گرد گروہوں کو مزید کھلی آزادی فراہم کرتی ہے جو اب بلاخوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ اب اعلیٰ سیکیورٹی زون میں بھی اس نوعیت کے بے باک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274489'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274489"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً کم وسائل رکھنے والے اور مایوسی کا شکار شہری قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد کا خلا صوبے میں سیکیورٹی کے عملی طور پر انہدام کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ کے ‘سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ’ کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو وسیع پیمانے پر اس طور پر لیا گیا ہے کہ صوبائی سیاسی قیادت کو عسکریت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس تاثر نے اسلام آباد اور پشاور کے مابین جاری تناؤ میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، یہ صورتِ حال عوام کو وجودی خطرے کے خلاف متحد کرنے کے بجائے ان میں اعتماد کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے اور یوں ریاست کو اپنے ہی لوگوں سے دور کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی اور وہاں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں نے براہِ راست خیبرپختونخوا کو متاثر کیا ہے۔ صوبے کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے اور نسلی بنیادوں پر روابط بھی موجود ہیں۔ لہٰذا پاک-افغان تناؤ میں اضافہ خیبرپختونخوا کی سیاست اور معاشرے پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرحدوں کی بندش نے صوبے میں کاروبار اور تجارت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ لیکن کیا ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت نے مقامی آبادی کے ان خدشات کو تسلیم کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ افغانستان کی کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن صوبائی حکومت کا اُن افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کے خلاف مؤقف جو اس ملک میں پیدا ہوئے یا تقریباً تین نسلوں تک یہاں رہے، اتنا غیر معقول نہیں جتنا وفاقی حکومت اسے بنا کر پیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت حکومت کے من مانے فیصلے یعنی ان مہاجرین کو واپس بھیجنے اور تجارت بند کرنے سے افغان عوام کے جذبات اس ملک کے خلاف ہو گئے ہیں جسے افغان طالبان کی انتظامیہ نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے لیے اپنی افغان پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ وزیرِ دفاع اور کچھ دیگر پاکستانی حکام کی جانب سے افغانوں کے بارے میں سخت زبان میں دیے گئے عوامی بیانات نے نہ صرف سرحد کے اُس پار لوگوں کو مشتعل کیا ہے بلکہ اندرونِ ملک بہت سے پشتون بھی اس سے دل برداشتہ ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن ملکی جمہوری فضا کے سکڑنے اور بڑھتی ہوئی آمریت میں موجودہ محاذ آرائی کی جڑ ہے۔ عدلیہ کی خود مختاری کو آئینی ترامیم کے ذریعے محدود کرکے حکومت نے ہائبرڈ نظام کے ماورائے آئین اقدامات کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اُن کے آئینی حق یعنی منصفانہ ٹرائل سے محروم رکھنا اور عدالتی احکامات کے باوجود اُنہیں اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کرنے نہ دینا، وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے میں پارٹی اب نوجوان نسل اور زیادہ پُراعتماد عناصر کے ہاتھ میں ہے جو حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ اور بظاہر فرمانبردار آئینی عدالت کے قیام کے بعد، وفاقی حکومت کو اب اس بات کا زیادہ یقین ہوچکا ہے کہ اس کے ماورائے آئین اور غیر جمہوری اقدامات کالعدم قرار نہیں دیے جائیں گے جس سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ بااثر حلقوں میں شاید اس بات کا شعور نہیں کہ اس اقدام سے صوبے میں عوامی ردِعمل کس قدر شدید ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ قانون نے گورنر راج کا دفاع کرتے ہوئے اسے مارشل لا کے بجائے ایک آئینی راستہ قرار دیا ہے۔ مگر جمہوری حقوق کی نفی اور بعض طاقتور حلقوں کا سخت طرزِ عمل عوام کی نظر میں مارشل لا سے کم نہیں سمجھا جا رہا۔ صوبائی حکومت کو معطل کرنا عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گا اور ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958892"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر کئی ماہ سے بحث ہوتی رہی ہے لیکن اب یہ معاملہ ناگزیر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بعض سرکاری وزرا کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایسا کوئی بھی اقدام ملک کو مزید سنگین بحران میں دھکیل دے گا جس کے دور رس سیاسی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک میں تنگ ہوتی جمہوری فضا پہلے ہی ایک غیر مستحکم صورتِ حال پیدا کر چکی ہے اور محاذ آرائی کی سیاست پورے نظام کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ کیا ملک جو پہلے ہی متعدد داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا متحمل ہو سکتا ہے؟</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274527'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274527"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی حکومت کی جانب سے اس ممکنہ اقدام کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں، اُن میں خیبرپختونخوا میں سلامتی اور گورننس کے مسائل شامل ہیں۔ یہ درست ہو سکتا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبے کو ایک دہائی میں اپنی بدترین سیکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اور دہشت گردی سیکڑوں جانیں لے چکی ہے لیکن ان بگڑتے حالات کی اصل ذمہ داری وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ بدانتظامی کا بہانہ بھی کمزور ہے کیونکہ دیگر صوبوں میں حالات قابلِ تعریف نہیں۔</p>
<p>پورا معاملہ طاقت کی سیاست اور خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کو دیوار سے لگانے کا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ لیکن خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کیے جانے کے باوجود، پی ٹی آئی اب بھی کے پی اسمبلی میں غالب حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p>ایک نئے اور سخت گیر وزیرِاعلیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے اس ہائبرڈ نظام کی مایوسی جھلکتی ہے جو صوبائی حکومت کو زیرِ دام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ایسی کسی بھی سخت کارروائی کے نتیجے میں صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے، بالخصوص اُس خطے میں کہ جہاں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ تشویشناک پہلو مقامی آبادی کی ریاست سے بڑھتی ہوئی بیگانگی کا احساس ہے، بالخصوص وہ اضلاع جو عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کے باعث ان علاقوں میں انتظامی کنٹرول تقریباً ختم ہو چکا ہے۔</p>
<p>ایسی صورتِ حال دہشت گرد گروہوں کو مزید کھلی آزادی فراہم کرتی ہے جو اب بلاخوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ اب اعلیٰ سیکیورٹی زون میں بھی اس نوعیت کے بے باک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274489'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274489"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً کم وسائل رکھنے والے اور مایوسی کا شکار شہری قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد کا خلا صوبے میں سیکیورٹی کے عملی طور پر انہدام کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ کے ‘سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ’ کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو وسیع پیمانے پر اس طور پر لیا گیا ہے کہ صوبائی سیاسی قیادت کو عسکریت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس تاثر نے اسلام آباد اور پشاور کے مابین جاری تناؤ میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً، یہ صورتِ حال عوام کو وجودی خطرے کے خلاف متحد کرنے کے بجائے ان میں اعتماد کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے اور یوں ریاست کو اپنے ہی لوگوں سے دور کر سکتی ہے۔</p>
<p>افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی اور وہاں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں نے براہِ راست خیبرپختونخوا کو متاثر کیا ہے۔ صوبے کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے اور نسلی بنیادوں پر روابط بھی موجود ہیں۔ لہٰذا پاک-افغان تناؤ میں اضافہ خیبرپختونخوا کی سیاست اور معاشرے پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>سرحدوں کی بندش نے صوبے میں کاروبار اور تجارت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ لیکن کیا ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت نے مقامی آبادی کے ان خدشات کو تسلیم کیا ہے؟</p>
<p>اگرچہ افغانستان کی کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن صوبائی حکومت کا اُن افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کے خلاف مؤقف جو اس ملک میں پیدا ہوئے یا تقریباً تین نسلوں تک یہاں رہے، اتنا غیر معقول نہیں جتنا وفاقی حکومت اسے بنا کر پیش کر رہی ہے۔</p>
<p>درحقیقت حکومت کے من مانے فیصلے یعنی ان مہاجرین کو واپس بھیجنے اور تجارت بند کرنے سے افغان عوام کے جذبات اس ملک کے خلاف ہو گئے ہیں جسے افغان طالبان کی انتظامیہ نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔</p>
<p>اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے لیے اپنی افغان پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ وزیرِ دفاع اور کچھ دیگر پاکستانی حکام کی جانب سے افغانوں کے بارے میں سخت زبان میں دیے گئے عوامی بیانات نے نہ صرف سرحد کے اُس پار لوگوں کو مشتعل کیا ہے بلکہ اندرونِ ملک بہت سے پشتون بھی اس سے دل برداشتہ ہوئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن ملکی جمہوری فضا کے سکڑنے اور بڑھتی ہوئی آمریت میں موجودہ محاذ آرائی کی جڑ ہے۔ عدلیہ کی خود مختاری کو آئینی ترامیم کے ذریعے محدود کرکے حکومت نے ہائبرڈ نظام کے ماورائے آئین اقدامات کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔</p>
<p>سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اُن کے آئینی حق یعنی منصفانہ ٹرائل سے محروم رکھنا اور عدالتی احکامات کے باوجود اُنہیں اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کرنے نہ دینا، وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔</p>
<p>صوبے میں پارٹی اب نوجوان نسل اور زیادہ پُراعتماد عناصر کے ہاتھ میں ہے جو حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>ایک علیحدہ اور بظاہر فرمانبردار آئینی عدالت کے قیام کے بعد، وفاقی حکومت کو اب اس بات کا زیادہ یقین ہوچکا ہے کہ اس کے ماورائے آئین اور غیر جمہوری اقدامات کالعدم قرار نہیں دیے جائیں گے جس سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ بااثر حلقوں میں شاید اس بات کا شعور نہیں کہ اس اقدام سے صوبے میں عوامی ردِعمل کس قدر شدید ہو سکتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ قانون نے گورنر راج کا دفاع کرتے ہوئے اسے مارشل لا کے بجائے ایک آئینی راستہ قرار دیا ہے۔ مگر جمہوری حقوق کی نفی اور بعض طاقتور حلقوں کا سخت طرزِ عمل عوام کی نظر میں مارشل لا سے کم نہیں سمجھا جا رہا۔ صوبائی حکومت کو معطل کرنا عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گا اور ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل دے گا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958892"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274627</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 12:54:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/041058016334cdd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/041058016334cdd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کسی خاص حکمت عملی کے تحت بابری مسجد کو 6 دسمبر کو شہید کیا گیا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274548/</link>
      <description>&lt;p&gt;6 دسمبر وہ تاریخ ہے کہ جب 33 سال قبل بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1992ء کے فسادات سے قبل یہ دن بھارت کی دلت ذات اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتہائی عقیدت سے ان کے ہیرو بھیم راؤ امبیڈکر کے یومِ وفات کے طور پر منایا جاتا تھا۔ بھیم امبیڈکر نے 14 اکتوبر 1956ء کو ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مت اختیار کیا تھا اور 6 دسمبر کو وفات پائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسجد کی مسماری کے لیے اسی تاریخ کا انتخاب کرنا حکمت عملی کا حصہ تھا جس کے تحت ہندوتوا تحریک کو صدیوں پرانی ذات کی پریشان کُن کشمکش سے عوام کی توجہ ہٹانے میں مدد ملی اور اس کے بجائے لوگوں نے اپنی توجہ ہندو بامقابلہ مسلم مسئلے پر مرکوز کر دی جس سے سیاستدانوں کے انتخابی فوائد مقصود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تقسیم 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی حکام کے ہاتھوں پروان چڑھی اور 1947ء میں تقسیمِ ہند کا باعث بنی۔ آزادی کو 70 سے زائد سال گزر جانے کے باوجود یہ تقسیم اب بھی بھارت اور پاکستان کے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کے لیے ایک نظریاتی قالب کے طور پر کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر حال ہی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسی ہندو مسلم تقسیم کا استعمال کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ پاکستان کا قیام کیوں عمل میں آیا اور اس ملک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خون کے ہر قطرے تک اس کا دفاع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ الگ بات ہے کہ آج پاکستان کو صرف اپنے ایک بڑے ہندو ہمسایے سے خطرے کا سامنا نہیں بلکہ ایک مسلم ریاست بھی پاکستان کے لیے پریشانیوں کا باعث بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس ہندو-مسلم تقسیم کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ کثیرالثقافتی اور کثیرالمذاہب ریاست، بھارت کو واحد ہندو اکثریتی قوم یعنی ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے اپنے مقصد کو آگے بڑھا سکیں۔ وہ یہ سب سڑکوں پر عوامی طاقت، میڈیا پر کنٹرول اور سرکاری معاملات میں ہیرا پھیری کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کا ادراک کیے بغیر، بھارت اور پاکستان دونوں میں بسنے والے بہت سے لبرل مفکرین بھی ہندو-مسلم تقسیم کو قبول کرتے ہیں۔ وہ ایسا مثبت وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ماضی میں ہندو اور مسلمان پُرامن طور پر ایک ساتھ رہ چکے ہیں تاکہ ان کے خیال کو تقویت ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبرل سوچ رکھنے والوں کی ’گنگا-جمنا تہذیب‘ کی مسلسل تائید بھی اسی عقیدے سے جڑی ہے اور وہ درست کہتے ہیں کہ کبھی ہندو اور مسلمان مل کر ایک دلکش ثقافتی امتزاج تشکیل دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر ہم مزید باریک بینی سے دیکھیں تو یہ خیال ہمیشہ سے کسی حد تک اشرافیہ کا تھا۔ یہ استحارنامہ میں پائی جانے والی سوچ پر مبنی تھا جوکہ ایک سرکاری اعلان ہے جسے اودھ کی آخری ملکہ بیگم حضرت محل نے اس وقت شائع کیا تھا جب وہ 1857ء میں انگریزوں سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے غیر ملکی دشمن کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ یہ پیغام گنگا-جمنا تصور کا ابتدائی ورژن تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے سخت سماجی درجہ بندی کو بھی تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1958ء میں انہوں نے لکھا تھا، ’ہر شخص (میرے ماتحت علاقوں میں) اپنے اپنے دھرم پر عمل پیرا ہے اور اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق عزت پاتا ہے۔ اعلیٰ نسب کے مرد خواہ وہ مسلمانوں میں سید، شیخ، مغل یا پٹھان ہوں یا ہندوؤں میں برہمن، کھتری، ویش یا کایتھ، سب کو ان کے رتبے کے مطابق وقار حاصل ہے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274230/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274230"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن اسی سرکاری دستاویز میں بیگم حضرت محل نے اُن ہندوستانیوں کے بارے میں بھی ایک نکتہ واضح کیا جو اودھ کی عنایتوں کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ ’اور نچلی ذات کے تمام لوگ جیسے جمعدار، چمار، دھانک یا پاسی، وہ ان کے برابر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ افسوسناک سوچ یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ’اعلیٰ نسب کے ہر شخص کی عزت اور وقار کو (انگریز) نچلے طبقوں کی عزت اور وقار کے برابر سمجھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ وہ نچلے طبقے کے مقابلے میں اونچے طبقے سے تحقیر اور بے ادبی سے پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;‘انگریز معزز لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں اور چمار کے اشارے پر کسی نواب یا راجا کی حاضری لازمی کر دیتے ہیں اور انہیں تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندو-مسلم ثقافتی امتزاج کی علامت سمجھی جانے والی دلکش ’گنگا-جمنا تہذیب‘ نے خود کو اس طرح محدود کر لیا کہ اس کی اپیل دونوں بڑی مذہبی برادریوں کے صرف اشرافیہ تک ہی رہی۔ نچلے درجے کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس دائرے سے واضح طور پر خارج کرنا اس سیکولر اپیل کی کمزوری ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ قریب سے دیکھیں تو ذات پات کی تقسیم اب بھی غیرمنصفانہ نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ’مسلم دلت‘ (جیسے مہتر یا حلال خور) کو مثبت کارروائی کے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو ایک ’ہندو دلت‘ کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ مظلوم گروہوں میں تقسیم پیدا کرتا ہے جس سے ان کا استحصال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں بہار میں ایک بڑی انتخابی فتح کے بعد نریندر مودی پچھلے ہفتے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ہمراہ ایودھیا واپس آئے جہاں انہوں نے رام مندر کے اوپر روایتی سنہری جھنڈا لہرا کر تاجروں، فلمی ستاروں اور کرکٹرز کی موجودگی میں داد وصول کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے عجلت میں جنوری 2024ء میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا تاکہ مئی کے انتخابات سے پہلے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے  لیکن ان کی پارٹی انتخاب ہار گئی لیکن پھر بھی اتحادی شراکت داروں کی مرہونِ منت وہ اقتدار میں برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زخم پر نمک چھڑکنے والی بات کروں تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کو بھگوان رام کے ایودھیا میں ایک دلت مخالف نے شکست دی تھی۔ یوں ہندو راشٹر کے سفر نے اتنا ہی مشکل اور غیر یقینی منظر پیش کرنا شروع کر دیا جتنا کہ ناممکن لگنے لگا۔ اپنے حامیوں اور اپنے وفادار کارکنان کے حوصلے برقرار رکھنے کے لیے مودی کو دعاؤں اور تقریروں کا سہارا لینا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ہفتے گوا میں انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں بھارت ایک ثقافتی احیا کا تجربہ کر رہا ہے۔ وہ خود کو عظیم تاریخی شخصیات جیسے لورینزو ڈی میڈیکی، مائیکل اینجیلو اور کوپرنیکس کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم یہ دعویٰ ریاستی سرپرستی میں بھارت کی ثقافتی آمیزش اور سائنسی بنیادوں پر پھیلے ہوئے ماحول کو دبانے اور جان بوجھ کر غیر فکری اور سیاسی طور پر سازگار اکثریتی نظام کو قائم کرنے کی کوشش سے اُلجھا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260181'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک اور چیز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وہ ہے ہندوستان کے ثقافتی احیا کے حقیقی، متاثر کن لمحات۔۔۔ مثال کے طور پر، 19ویں صدی میں بنگال کی نشاۃ ثانیہ نے بہت سے فرسودہ نظریات اور طرز عمل کو چیلنج کیا جن میں سے کچھ کی اب بی جے پی، جواہرلال نہرو کے لبرل وژن کو کمزور کرنے کے لیے حمایت کرتی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19ویں صدی کی اس تحریک نے ادب، سائنس اور تعلیم میں بڑی ترقی کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور روکیہ سخاوت حسین جیسی اہم شخصیات نے اس وقت کی فکری اور سماجی زندگی دونوں کی تشکیل میں مدد کی۔ کیرالہ کی بھی اپنی نشانِ ثانیہ تھی جبکہ ہندوستان کے دیگر خطوں میں بھی یہی تھا لیکن ہندوستان اس وقت ایک قوم، ایک ریاست نہیں تھا۔ سماجی اصلاحاتی تحریکوں میں ایک مشترکہ موضوع عقلیت پسندی تھا جس میں بت پرستی سے کنارہ کشی بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اِدھر مودی گویا بھارت کی نئی نشاط ثانیہ کا اعلان کرنے کے لیے گوا میں رام کے 77 فٹ بلند مجسمے کا افتتاح کر رہے تھے۔ مگر جب بُت تراشی کو ویدوں کی تائید ہی حاصل نہیں، تو آخر ایسی مورتیاں کسی نشاط ثانیہ کی علامت کیسے بن سکتی ہیں؟ خصوصاً جب مجسمہ سازی کی روایت چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندرِ اعظم کے ساتھ اس خطّے میں پہنچی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ویدک دور میں بُت پرستی کا کوئی رواج نہیں تھا، اُس زمانے میں عبادت فطری قوتوں کی شخصی صورتوں کو وقف رسوم اور بھجنوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ بُتوں اور مندروں کا تصور تو موریہ عہد کے بعد کے زمانوں میں عام ہوا۔ لیکن مودی اور ہندوتوا کے نزدیک یہ بات اہم نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958683"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>6 دسمبر وہ تاریخ ہے کہ جب 33 سال قبل بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔</p>
<p>1992ء کے فسادات سے قبل یہ دن بھارت کی دلت ذات اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتہائی عقیدت سے ان کے ہیرو بھیم راؤ امبیڈکر کے یومِ وفات کے طور پر منایا جاتا تھا۔ بھیم امبیڈکر نے 14 اکتوبر 1956ء کو ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مت اختیار کیا تھا اور 6 دسمبر کو وفات پائی تھی۔</p>
<p>مسجد کی مسماری کے لیے اسی تاریخ کا انتخاب کرنا حکمت عملی کا حصہ تھا جس کے تحت ہندوتوا تحریک کو صدیوں پرانی ذات کی پریشان کُن کشمکش سے عوام کی توجہ ہٹانے میں مدد ملی اور اس کے بجائے لوگوں نے اپنی توجہ ہندو بامقابلہ مسلم مسئلے پر مرکوز کر دی جس سے سیاستدانوں کے انتخابی فوائد مقصود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تقسیم 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی حکام کے ہاتھوں پروان چڑھی اور 1947ء میں تقسیمِ ہند کا باعث بنی۔ آزادی کو 70 سے زائد سال گزر جانے کے باوجود یہ تقسیم اب بھی بھارت اور پاکستان کے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کے لیے ایک نظریاتی قالب کے طور پر کام کرتی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر حال ہی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسی ہندو مسلم تقسیم کا استعمال کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ پاکستان کا قیام کیوں عمل میں آیا اور اس ملک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خون کے ہر قطرے تک اس کا دفاع کریں گے۔</p>
<p>اب یہ الگ بات ہے کہ آج پاکستان کو صرف اپنے ایک بڑے ہندو ہمسایے سے خطرے کا سامنا نہیں بلکہ ایک مسلم ریاست بھی پاکستان کے لیے پریشانیوں کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p>خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس ہندو-مسلم تقسیم کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ کثیرالثقافتی اور کثیرالمذاہب ریاست، بھارت کو واحد ہندو اکثریتی قوم یعنی ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے اپنے مقصد کو آگے بڑھا سکیں۔ وہ یہ سب سڑکوں پر عوامی طاقت، میڈیا پر کنٹرول اور سرکاری معاملات میں ہیرا پھیری کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کا ادراک کیے بغیر، بھارت اور پاکستان دونوں میں بسنے والے بہت سے لبرل مفکرین بھی ہندو-مسلم تقسیم کو قبول کرتے ہیں۔ وہ ایسا مثبت وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ماضی میں ہندو اور مسلمان پُرامن طور پر ایک ساتھ رہ چکے ہیں تاکہ ان کے خیال کو تقویت ملے۔</p>
<p>لبرل سوچ رکھنے والوں کی ’گنگا-جمنا تہذیب‘ کی مسلسل تائید بھی اسی عقیدے سے جڑی ہے اور وہ درست کہتے ہیں کہ کبھی ہندو اور مسلمان مل کر ایک دلکش ثقافتی امتزاج تشکیل دیتے تھے۔</p>
<p>لیکن اگر ہم مزید باریک بینی سے دیکھیں تو یہ خیال ہمیشہ سے کسی حد تک اشرافیہ کا تھا۔ یہ استحارنامہ میں پائی جانے والی سوچ پر مبنی تھا جوکہ ایک سرکاری اعلان ہے جسے اودھ کی آخری ملکہ بیگم حضرت محل نے اس وقت شائع کیا تھا جب وہ 1857ء میں انگریزوں سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے غیر ملکی دشمن کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ یہ پیغام گنگا-جمنا تصور کا ابتدائی ورژن تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے سخت سماجی درجہ بندی کو بھی تقویت دی۔</p>
<p>1958ء میں انہوں نے لکھا تھا، ’ہر شخص (میرے ماتحت علاقوں میں) اپنے اپنے دھرم پر عمل پیرا ہے اور اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق عزت پاتا ہے۔ اعلیٰ نسب کے مرد خواہ وہ مسلمانوں میں سید، شیخ، مغل یا پٹھان ہوں یا ہندوؤں میں برہمن، کھتری، ویش یا کایتھ، سب کو ان کے رتبے کے مطابق وقار حاصل ہے‘۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274230/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274230"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن اسی سرکاری دستاویز میں بیگم حضرت محل نے اُن ہندوستانیوں کے بارے میں بھی ایک نکتہ واضح کیا جو اودھ کی عنایتوں کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ ’اور نچلی ذات کے تمام لوگ جیسے جمعدار، چمار، دھانک یا پاسی، وہ ان کے برابر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے‘۔</p>
<p>لیکن یہ افسوسناک سوچ یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ’اعلیٰ نسب کے ہر شخص کی عزت اور وقار کو (انگریز) نچلے طبقوں کی عزت اور وقار کے برابر سمجھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ وہ نچلے طبقے کے مقابلے میں اونچے طبقے سے تحقیر اور بے ادبی سے پیش آتے ہیں۔</p>
<p>‘انگریز معزز لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں اور چمار کے اشارے پر کسی نواب یا راجا کی حاضری لازمی کر دیتے ہیں اور انہیں تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں’۔</p>
<p>ہندو-مسلم ثقافتی امتزاج کی علامت سمجھی جانے والی دلکش ’گنگا-جمنا تہذیب‘ نے خود کو اس طرح محدود کر لیا کہ اس کی اپیل دونوں بڑی مذہبی برادریوں کے صرف اشرافیہ تک ہی رہی۔ نچلے درجے کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس دائرے سے واضح طور پر خارج کرنا اس سیکولر اپیل کی کمزوری ثابت ہوا۔</p>
<p>زیادہ قریب سے دیکھیں تو ذات پات کی تقسیم اب بھی غیرمنصفانہ نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ’مسلم دلت‘ (جیسے مہتر یا حلال خور) کو مثبت کارروائی کے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو ایک ’ہندو دلت‘ کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ مظلوم گروہوں میں تقسیم پیدا کرتا ہے جس سے ان کا استحصال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔</p>
<p>نومبر میں بہار میں ایک بڑی انتخابی فتح کے بعد نریندر مودی پچھلے ہفتے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ہمراہ ایودھیا واپس آئے جہاں انہوں نے رام مندر کے اوپر روایتی سنہری جھنڈا لہرا کر تاجروں، فلمی ستاروں اور کرکٹرز کی موجودگی میں داد وصول کی۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے عجلت میں جنوری 2024ء میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا تاکہ مئی کے انتخابات سے پہلے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے  لیکن ان کی پارٹی انتخاب ہار گئی لیکن پھر بھی اتحادی شراکت داروں کی مرہونِ منت وہ اقتدار میں برقرار رہے۔</p>
<p>زخم پر نمک چھڑکنے والی بات کروں تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کو بھگوان رام کے ایودھیا میں ایک دلت مخالف نے شکست دی تھی۔ یوں ہندو راشٹر کے سفر نے اتنا ہی مشکل اور غیر یقینی منظر پیش کرنا شروع کر دیا جتنا کہ ناممکن لگنے لگا۔ اپنے حامیوں اور اپنے وفادار کارکنان کے حوصلے برقرار رکھنے کے لیے مودی کو دعاؤں اور تقریروں کا سہارا لینا پڑا۔</p>
<p>تاہم گزشتہ ہفتے گوا میں انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں بھارت ایک ثقافتی احیا کا تجربہ کر رہا ہے۔ وہ خود کو عظیم تاریخی شخصیات جیسے لورینزو ڈی میڈیکی، مائیکل اینجیلو اور کوپرنیکس کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم یہ دعویٰ ریاستی سرپرستی میں بھارت کی ثقافتی آمیزش اور سائنسی بنیادوں پر پھیلے ہوئے ماحول کو دبانے اور جان بوجھ کر غیر فکری اور سیاسی طور پر سازگار اکثریتی نظام کو قائم کرنے کی کوشش سے اُلجھا ہوا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260181'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہاں ایک اور چیز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وہ ہے ہندوستان کے ثقافتی احیا کے حقیقی، متاثر کن لمحات۔۔۔ مثال کے طور پر، 19ویں صدی میں بنگال کی نشاۃ ثانیہ نے بہت سے فرسودہ نظریات اور طرز عمل کو چیلنج کیا جن میں سے کچھ کی اب بی جے پی، جواہرلال نہرو کے لبرل وژن کو کمزور کرنے کے لیے حمایت کرتی نظر آتی ہے۔</p>
<p>19ویں صدی کی اس تحریک نے ادب، سائنس اور تعلیم میں بڑی ترقی کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور روکیہ سخاوت حسین جیسی اہم شخصیات نے اس وقت کی فکری اور سماجی زندگی دونوں کی تشکیل میں مدد کی۔ کیرالہ کی بھی اپنی نشانِ ثانیہ تھی جبکہ ہندوستان کے دیگر خطوں میں بھی یہی تھا لیکن ہندوستان اس وقت ایک قوم، ایک ریاست نہیں تھا۔ سماجی اصلاحاتی تحریکوں میں ایک مشترکہ موضوع عقلیت پسندی تھا جس میں بت پرستی سے کنارہ کشی بھی شامل تھی۔</p>
<p>اور اِدھر مودی گویا بھارت کی نئی نشاط ثانیہ کا اعلان کرنے کے لیے گوا میں رام کے 77 فٹ بلند مجسمے کا افتتاح کر رہے تھے۔ مگر جب بُت تراشی کو ویدوں کی تائید ہی حاصل نہیں، تو آخر ایسی مورتیاں کسی نشاط ثانیہ کی علامت کیسے بن سکتی ہیں؟ خصوصاً جب مجسمہ سازی کی روایت چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندرِ اعظم کے ساتھ اس خطّے میں پہنچی؟</p>
<p>ابتدائی ویدک دور میں بُت پرستی کا کوئی رواج نہیں تھا، اُس زمانے میں عبادت فطری قوتوں کی شخصی صورتوں کو وقف رسوم اور بھجنوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ بُتوں اور مندروں کا تصور تو موریہ عہد کے بعد کے زمانوں میں عام ہوا۔ لیکن مودی اور ہندوتوا کے نزدیک یہ بات اہم نہیں ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958683"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274548</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 15:42:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/02140139b6ae8a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/02140139b6ae8a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں بڑھتی دلچسپی کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274541/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی سوچ سمجھ کر بنائی گئی مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کے واضح ہونے کے ساتھ ہی بے یقینی کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے سیکیورٹی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر سلامتی کے تعاون کے ذریعے سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے ظاہر ہوتی ہے جس میں ایک ‘عرب-اسلامی ٹاسک فورس’ کے قیام کی تجویز دی گئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں ان کی حمایت کرکے، غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اور قطر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش بھی پاکستان کی حکمت عملی میں نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269619'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی سرگرمیاں، اس کے لیے عالمی سطح پر متعلقہ رہنے کا اہم طریقہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے پاکستان نے کئی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی سیکیورٹی تعاون قائم کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر، فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری اور فضائی افسران کی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ، وہ شعبے ہیں جہاں اسلام آباد اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی عملی تعاون موجود رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان موجودہ ادارہ جاتی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرتے ہوئے اور نئے سیکیورٹی اقدامات شامل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سول اور عسکری قیادت میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ایک اہم اسٹریٹجک موقع اس وقت گنوا دیا تھا کہ  جب اس کی پارلیمنٹ نے سعودی قیادت میں یمن کے خلاف مہم میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اب یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کے اپنے فیصلے کی وجہ سے اس نے اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کی۔ غیرجانبداری کی پالیسی نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو کمزور کیا اور اسلام آباد کی ایک قابل اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی لیے پاکستان اپنے عرب شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے اسٹریٹجک اقدامات کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے خطے میں زیادہ سیکیورٹی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت یقینی بنائے گی کہ اسے مسلسل اقتصادی معاونت ملتی رہے اور ممکنہ مسلح تنازعے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ صورت حال کے دوران بھی تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سیکیورٹی کے میدان میں اس اعلیٰ کردار سے عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی اور دیگر عسکری تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فعال سیکیورٹی کوششیں واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ مثال کے طور پر پاک-سعودی معاہدہ اور اسلام آباد کی آئی ایس ایف میں شرکت واشنگٹن کو اس قابل بنائے گی کہ وہ خلیج کی سیکیورٹی کی کچھ ذمہ داریاں ایک مضبوط علاقائی شراکت دار پر منتقل کر دے کیونکہ اس سے پینٹاگون کی مستقل تعیناتی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی اتحادی کے طور پر خطے میں پاکستان کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ سلامتی کے ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔ ریاض کو دی جانے والی اسلام آباد کی سیکیورٹی یقین دہانیاں حوثیوں جیسے دشمن عناصر کو باز رہنے کا اشارہ دیں گی جبکہ یہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف اسٹریٹجک پراکسی مہم شروع کرنے سے روکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں توانائی کی فراہمی کے راستوں کی حفاظت کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی معاملات میں فعال کردار ادا کرکے اسلام آباد زیادہ قریب سے واشنگٹن کے اسٹریٹجک منصوبوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273083/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد پہلے ہی واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کو ترجیح دے چکا ہے۔ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو واشنگٹن نے پاکستان کی ترجیح کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اپنی پوزیشن پر قائم رہا لیکن وہ بائیڈن انتظامیہ کو قائل نہ کر سکا۔ تاہم ٹرمپ کے مثبت اشارے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہم آہنگی نے اسلام آباد کو دونوں بڑی طاقتوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں پاکستان خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہے۔ نئی دہلی کی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستان میں منفی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ہندو-عربی تعلقات کو نئی دہلی کی ایک کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے قابلِ اعتماد اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داروں سے محروم کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہ خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام حساب کے باوجود، اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار پیچیدہ اور کئی سطح پر محیط خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا باعث بھی بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے اسلام آباد عرب و خلیجی ممالک کو ایک یکساں (مونولیتھک) اکائی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایک ایسا نقطۂ نظر ہے کہ جس میں عیب ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کے مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حوالے سے منفرد پالیسیز اور حکمت عملی اپنائی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے عرب ممالک سعودی عرب کے خطے میں سیکیورٹی انفرااسٹرکچر پر اجارہ داری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ریاض کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ممکنہ طور پر کچھ چھوٹے عرب و خلیجی ممالک کے اسٹریٹجک مقادات کو متاثر کر سکتا ہے جوکہ پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں فعال کردار ادا کرنے سے اسلام آباد کی ایک ’غیر جانبدار‘ ریاست کے طور پر اپنی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے جو عرب و خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ قطر کے سفارتی بحران کے دوران کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم نہیں کرے گا۔ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی تل ابیب کو بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کرے گی جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چوتھا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے میں اثر و رسوخ اسی وقت بڑھ رہے ہیں کہ جب تہران 1979ء کے بعد کی کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایران کے اندر حالیہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے بھی ایران کے خطے میں عزائم کو کمزور کیا ہے تو موجودہ صورت حال میں ایران ممکنہ طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو کھلے عام چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر ایران خطے کی سیکیورٹی انفرااسٹرکچر میں دوبارہ بڑا اسٹریٹجک کردار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ ناگزیر طور پر پاکستان کی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دے گا۔ پاک-سعودی مشترکہ جوابی اقدامات حوثیوں کے خلاف ایران کے عزائم کو مزید غیر مستحکم کرسکتے ہیں جس سے اسلام آباد کو ایک ہمسایہ (ایران) اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار (سعودی عرب) کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل حوثیوں کی حالیہ کارروائی جس میں 24 پاکستانیوں کو لے جانے والی ایل پی جی بحری جہاز پر قبضہ کیا گیا، نے اسلام آباد-ریاض دفاعی معاہدے پر ان کی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ چانچہ اب اسلام آباد کو کیا انتخاب کرنا ہے، اس کا بہت احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان، مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تنازعات میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینے کے قابل ہے یا اس کے بجائے دور دراز کے اقتصادی شراکت دار بننے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ محفوظ ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958684"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی سوچ سمجھ کر بنائی گئی مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کے واضح ہونے کے ساتھ ہی بے یقینی کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے سیکیورٹی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر سلامتی کے تعاون کے ذریعے سامنے آئی ہے۔</p>
<p>یہ بات سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے ظاہر ہوتی ہے جس میں ایک ‘عرب-اسلامی ٹاسک فورس’ کے قیام کی تجویز دی گئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں ان کی حمایت کرکے، غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اور قطر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش بھی پاکستان کی حکمت عملی میں نمایاں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269619'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد کی مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی سرگرمیاں، اس کے لیے عالمی سطح پر متعلقہ رہنے کا اہم طریقہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟</p>
<p>سب سے پہلے پاکستان نے کئی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی سیکیورٹی تعاون قائم کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر، فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری اور فضائی افسران کی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ، وہ شعبے ہیں جہاں اسلام آباد اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی عملی تعاون موجود رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان موجودہ ادارہ جاتی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرتے ہوئے اور نئے سیکیورٹی اقدامات شامل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سول اور عسکری قیادت میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ایک اہم اسٹریٹجک موقع اس وقت گنوا دیا تھا کہ  جب اس کی پارلیمنٹ نے سعودی قیادت میں یمن کے خلاف مہم میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اب یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کے اپنے فیصلے کی وجہ سے اس نے اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کی۔ غیرجانبداری کی پالیسی نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو کمزور کیا اور اسلام آباد کی ایک قابل اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی لیے پاکستان اپنے عرب شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے اسٹریٹجک اقدامات کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔</p>
<p>دوسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے خطے میں زیادہ سیکیورٹی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت یقینی بنائے گی کہ اسے مسلسل اقتصادی معاونت ملتی رہے اور ممکنہ مسلح تنازعے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ صورت حال کے دوران بھی تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ سیکیورٹی کے میدان میں اس اعلیٰ کردار سے عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی اور دیگر عسکری تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔</p>
<p>تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فعال سیکیورٹی کوششیں واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ مثال کے طور پر پاک-سعودی معاہدہ اور اسلام آباد کی آئی ایس ایف میں شرکت واشنگٹن کو اس قابل بنائے گی کہ وہ خلیج کی سیکیورٹی کی کچھ ذمہ داریاں ایک مضبوط علاقائی شراکت دار پر منتقل کر دے کیونکہ اس سے پینٹاگون کی مستقل تعیناتی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>روایتی اتحادی کے طور پر خطے میں پاکستان کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ سلامتی کے ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔ ریاض کو دی جانے والی اسلام آباد کی سیکیورٹی یقین دہانیاں حوثیوں جیسے دشمن عناصر کو باز رہنے کا اشارہ دیں گی جبکہ یہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف اسٹریٹجک پراکسی مہم شروع کرنے سے روکیں گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ، اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں توانائی کی فراہمی کے راستوں کی حفاظت کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی معاملات میں فعال کردار ادا کرکے اسلام آباد زیادہ قریب سے واشنگٹن کے اسٹریٹجک منصوبوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273083/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد پہلے ہی واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کو ترجیح دے چکا ہے۔ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو واشنگٹن نے پاکستان کی ترجیح کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اپنی پوزیشن پر قائم رہا لیکن وہ بائیڈن انتظامیہ کو قائل نہ کر سکا۔ تاہم ٹرمپ کے مثبت اشارے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہم آہنگی نے اسلام آباد کو دونوں بڑی طاقتوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرانے میں مدد دی۔</p>
<p>آخر میں پاکستان خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہے۔ نئی دہلی کی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستان میں منفی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ہندو-عربی تعلقات کو نئی دہلی کی ایک کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے قابلِ اعتماد اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داروں سے محروم کر دے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہ خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔</p>
<p>اس تمام حساب کے باوجود، اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار پیچیدہ اور کئی سطح پر محیط خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا باعث بھی بنے گا۔</p>
<p>سب سے پہلے اسلام آباد عرب و خلیجی ممالک کو ایک یکساں (مونولیتھک) اکائی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایک ایسا نقطۂ نظر ہے کہ جس میں عیب ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کے مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حوالے سے منفرد پالیسیز اور حکمت عملی اپنائی ہیں۔</p>
<p>چھوٹے عرب ممالک سعودی عرب کے خطے میں سیکیورٹی انفرااسٹرکچر پر اجارہ داری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ریاض کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ممکنہ طور پر کچھ چھوٹے عرب و خلیجی ممالک کے اسٹریٹجک مقادات کو متاثر کر سکتا ہے جوکہ پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں فعال کردار ادا کرنے سے اسلام آباد کی ایک ’غیر جانبدار‘ ریاست کے طور پر اپنی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے جو عرب و خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ قطر کے سفارتی بحران کے دوران کیا گیا تھا۔</p>
<p>تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم نہیں کرے گا۔ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی تل ابیب کو بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کرے گی جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چوتھا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے میں اثر و رسوخ اسی وقت بڑھ رہے ہیں کہ جب تہران 1979ء کے بعد کی کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایران کے اندر حالیہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے بھی ایران کے خطے میں عزائم کو کمزور کیا ہے تو موجودہ صورت حال میں ایران ممکنہ طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو کھلے عام چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم اگر ایران خطے کی سیکیورٹی انفرااسٹرکچر میں دوبارہ بڑا اسٹریٹجک کردار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ ناگزیر طور پر پاکستان کی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دے گا۔ پاک-سعودی مشترکہ جوابی اقدامات حوثیوں کے خلاف ایران کے عزائم کو مزید غیر مستحکم کرسکتے ہیں جس سے اسلام آباد کو ایک ہمسایہ (ایران) اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار (سعودی عرب) کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل حوثیوں کی حالیہ کارروائی جس میں 24 پاکستانیوں کو لے جانے والی ایل پی جی بحری جہاز پر قبضہ کیا گیا، نے اسلام آباد-ریاض دفاعی معاہدے پر ان کی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>آخر میں اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ چانچہ اب اسلام آباد کو کیا انتخاب کرنا ہے، اس کا بہت احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان، مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تنازعات میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینے کے قابل ہے یا اس کے بجائے دور دراز کے اقتصادی شراکت دار بننے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ محفوظ ہوگا؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958684"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274541</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 12:40:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم عباس)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/021112525f8f37c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/021112525f8f37c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بےروزگاری کی شرح میں ہوش ربا اضافہ معاشی ناکامی یا بدعنوانی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274513/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہوتا تو وہ مایوسی محسوس کرتے ہیں۔ اگر وہ سرنگ کے اختتام پر روشنی نہیں دیکھتے تو یہی مایوسی گہری ناامیدی میں بدل جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کئی ناپسندیدہ رویوں میں ملوث ہوسکتے ہیں جن میں گداگری، چوری، گینگز بنانا یا ریاست مخالف عناصر کا آلہ کار بن جانا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر فورس سروے 2025ء-2024ء کے مطابق، گزشتہ 4 سالوں میں مزید 14 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں 59 لاکھ مرد اور خواتین بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب آبادی میں اب بھی اسی طرح 2 فیصد سے زیادہ سالانہ کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک بات یہ ہے کہ بے روزگاری کی شرح 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ ہے جوکہ 2025ء-2024ء میں 12.8 فیصد ہے جبکہ 2021ء-2020ء میں 11.1 فیصد تھی۔ لہٰذا یہ حیران کُن نہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مایوس، ناامید، دل شکستہ اور بعض اوقات پُرتشدد نوجوان سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہوتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ چھوٹے جرائم کی جانب مائل ہوتے ہیں اور کچھ کو خفیہ طور پر ریاست مخالف نیٹ ورکس بھرتی کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ تمام نوجوان مرد اور خواتین جو بے روزگار ہیں اسی زمرے میں آتے ہیں کیونکہ ایسا بالکل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر نوجوان غیر رسمی ملازمتیں کرتے ہیں جہاں وہ صرف گزر بسر کے لیے قومی سطح پر مقررہ کم از کم اُجرت کا نصف ہی کما پاتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس سے احتیاط سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی حمایت یافتہ اور مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف کوششیں جاری رکھتے ہوئے، حکومت کو اس مسئلے کے سماجی اور اقتصادی پہلو کو بھی حل کرنا چاہیے۔ اشرافیہ کو وسائل پر قابو پانے سے روکنے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر اقتصادی منصوبہ بندی اور مضبوط سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس صدی کے ابتدائی 25 سالوں میں پاکستانی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں۔ وہ فوجی حکمرانی، کمزور اور ناکارہ جمہوری نظام اور ہائبرڈ حکومتوں کے ماتحت رہ چکے ہیں۔ اب سنجیدہ خود شناسی کا وقت ہے۔ یہ اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ریاست عوام کے لیے مؤثر خدمات فراہم نہ کرے اور انہیں محترم محسوس نہ کروائے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے مستفید ہو سکیں جو 1973ء کے آئین میں درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرامز کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہ معاشی استحکام اور موسمیاتی آفات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہ جزوی طور پر درست بیان ہے۔ ہر حکومت گزشتہ حکومت کو خسارے کا باعث بننے والے مالی اور گورننس کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے لیکن پھر بھی ہر حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے ان مسائل کو دیرپا حل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ملکی و غیر ملکی قرضے بڑھتے رہتے ہیں۔ حکومت کا زیادہ سے زیادہ بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں میں خرچ ہوجاتا ہے جبکہ دفاعی اخراجات کے بعد عوامی ترقی کے لیے بہت کم رقم باقی رہ جاتی ہے۔ چونکہ ترقیاتی اخراجات بہت کم ہیں، پاکستان کی معیشت مضبوط، دیرپا ترقی حاصل کرنے کے بجائے جدوجہد کر رہی ہے اور بقا کی جنگ لڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستحکم، پائیدار معاشی ترقی نہ ہونا، سخت بے روزگاری کو جنم دیتا ہے جسے بڑھتی ہوئی بدعنوانی مزید بڑھا دیتی ہے جو نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے اور اس کے نتیجے میں صحت، تعلیم، ہنرمندوں کی تربیت، سستی سہولیات، سڑکوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی پر حقیقی خرچ مزید کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آبادی کی شرح 2 فیصد سے زائد ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع مزید کم ہوجاتے ہیں کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی سیکٹر کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیے بغیر بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنا ممکن نہیں۔ لیکن سیاسی اور معاشی مسائل کی وجہ سے یہ بہت مشکل ہے جیسے کہ نجی شعبے اور فوج کے تعاون سے چلنے والے کاروباروں کے درمیان غیر واضح تعلقات کی وجہ سے جہاں کئی دہائیوں سے سرکاری کمپنیاں پیسہ کھو رہی ہیں وہیں بعض صنعتوں کو سیاسی اور مالی طور پر ضرورت سے زیادہ سپورٹ بھی کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملازمتیں اس صورت میں بڑھ سکتی ہیں کہ اگر نجی شعبہ زیادہ سرمایہ کاری کرے اور غیرملکی سرمایہ کاری ایسی صنعتوں میں کی جائے جو بہت سی ملازمتیں پیدا کرتی ہیں۔ لیکن جب سیاسی نظام غیر مستحکم ہو تو کیا مقامی کاروبار سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور کیا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی ختم کیے بغیر اور کراچی جو ملک کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، اسے قابلِ رہائش بنائے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر زراعت اور مال کی تیاری میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے؟ خدمات کے شعبے میں؟ کیا کسی بھی شخص کے لیے یہ سوچنا ممکن ہے کہ خدمات کا شعبہ کیسے ترقی کرے گا جب تک کہ زراعت اور صنعت اس کی مضبوط بنیاد فراہم نہ کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سنگین سوالات ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ پالیسی ساز انہیں اپنے نعروں اور چمکدار پریزنٹیشن سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی یافتہ ممالک میں آٹومیشن (خودکار آلات)، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے ترقی انسانی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہے جوکہ دولت اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں نئے اسباق پیش کر رہا ہے۔ پالیسی سازوں کو اس پر غور کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں خودکاری اور اے آئی کی موجودگی میں انسانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہوگا خاص طور پر اگر مقامی سرمایہ کار بھی ان ٹیکنالوجیز کا استعمال زیادہ تیز کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958327"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہوتا تو وہ مایوسی محسوس کرتے ہیں۔ اگر وہ سرنگ کے اختتام پر روشنی نہیں دیکھتے تو یہی مایوسی گہری ناامیدی میں بدل جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کئی ناپسندیدہ رویوں میں ملوث ہوسکتے ہیں جن میں گداگری، چوری، گینگز بنانا یا ریاست مخالف عناصر کا آلہ کار بن جانا شامل ہیں۔</p>
<p>لیبر فورس سروے 2025ء-2024ء کے مطابق، گزشتہ 4 سالوں میں مزید 14 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں 59 لاکھ مرد اور خواتین بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب آبادی میں اب بھی اسی طرح 2 فیصد سے زیادہ سالانہ کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>تشویشناک بات یہ ہے کہ بے روزگاری کی شرح 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ ہے جوکہ 2025ء-2024ء میں 12.8 فیصد ہے جبکہ 2021ء-2020ء میں 11.1 فیصد تھی۔ لہٰذا یہ حیران کُن نہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مایوس، ناامید، دل شکستہ اور بعض اوقات پُرتشدد نوجوان سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہوتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ چھوٹے جرائم کی جانب مائل ہوتے ہیں اور کچھ کو خفیہ طور پر ریاست مخالف نیٹ ورکس بھرتی کر لیتے ہیں۔</p>
<p>یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ تمام نوجوان مرد اور خواتین جو بے روزگار ہیں اسی زمرے میں آتے ہیں کیونکہ ایسا بالکل نہیں۔</p>
<p>زیادہ تر نوجوان غیر رسمی ملازمتیں کرتے ہیں جہاں وہ صرف گزر بسر کے لیے قومی سطح پر مقررہ کم از کم اُجرت کا نصف ہی کما پاتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس سے احتیاط سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>غیر ملکی حمایت یافتہ اور مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف کوششیں جاری رکھتے ہوئے، حکومت کو اس مسئلے کے سماجی اور اقتصادی پہلو کو بھی حل کرنا چاہیے۔ اشرافیہ کو وسائل پر قابو پانے سے روکنے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر اقتصادی منصوبہ بندی اور مضبوط سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس صدی کے ابتدائی 25 سالوں میں پاکستانی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں۔ وہ فوجی حکمرانی، کمزور اور ناکارہ جمہوری نظام اور ہائبرڈ حکومتوں کے ماتحت رہ چکے ہیں۔ اب سنجیدہ خود شناسی کا وقت ہے۔ یہ اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ریاست عوام کے لیے مؤثر خدمات فراہم نہ کرے اور انہیں محترم محسوس نہ کروائے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے مستفید ہو سکیں جو 1973ء کے آئین میں درج ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرامز کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہ معاشی استحکام اور موسمیاتی آفات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہ جزوی طور پر درست بیان ہے۔ ہر حکومت گزشتہ حکومت کو خسارے کا باعث بننے والے مالی اور گورننس کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے لیکن پھر بھی ہر حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے ان مسائل کو دیرپا حل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً ملکی و غیر ملکی قرضے بڑھتے رہتے ہیں۔ حکومت کا زیادہ سے زیادہ بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں میں خرچ ہوجاتا ہے جبکہ دفاعی اخراجات کے بعد عوامی ترقی کے لیے بہت کم رقم باقی رہ جاتی ہے۔ چونکہ ترقیاتی اخراجات بہت کم ہیں، پاکستان کی معیشت مضبوط، دیرپا ترقی حاصل کرنے کے بجائے جدوجہد کر رہی ہے اور بقا کی جنگ لڑتی ہے۔</p>
<p>مستحکم، پائیدار معاشی ترقی نہ ہونا، سخت بے روزگاری کو جنم دیتا ہے جسے بڑھتی ہوئی بدعنوانی مزید بڑھا دیتی ہے جو نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے اور اس کے نتیجے میں صحت، تعلیم، ہنرمندوں کی تربیت، سستی سہولیات، سڑکوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی پر حقیقی خرچ مزید کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ آبادی کی شرح 2 فیصد سے زائد ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع مزید کم ہوجاتے ہیں کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں۔</p>
<p>نجی سیکٹر کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیے بغیر بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنا ممکن نہیں۔ لیکن سیاسی اور معاشی مسائل کی وجہ سے یہ بہت مشکل ہے جیسے کہ نجی شعبے اور فوج کے تعاون سے چلنے والے کاروباروں کے درمیان غیر واضح تعلقات کی وجہ سے جہاں کئی دہائیوں سے سرکاری کمپنیاں پیسہ کھو رہی ہیں وہیں بعض صنعتوں کو سیاسی اور مالی طور پر ضرورت سے زیادہ سپورٹ بھی کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملازمتیں اس صورت میں بڑھ سکتی ہیں کہ اگر نجی شعبہ زیادہ سرمایہ کاری کرے اور غیرملکی سرمایہ کاری ایسی صنعتوں میں کی جائے جو بہت سی ملازمتیں پیدا کرتی ہیں۔ لیکن جب سیاسی نظام غیر مستحکم ہو تو کیا مقامی کاروبار سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟</p>
<p>اور کیا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی ختم کیے بغیر اور کراچی جو ملک کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، اسے قابلِ رہائش بنائے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آسکتی ہے؟</p>
<p>اگر زراعت اور مال کی تیاری میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے؟ خدمات کے شعبے میں؟ کیا کسی بھی شخص کے لیے یہ سوچنا ممکن ہے کہ خدمات کا شعبہ کیسے ترقی کرے گا جب تک کہ زراعت اور صنعت اس کی مضبوط بنیاد فراہم نہ کریں؟</p>
<p>یہ سنگین سوالات ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ پالیسی ساز انہیں اپنے نعروں اور چمکدار پریزنٹیشن سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ترقی یافتہ ممالک میں آٹومیشن (خودکار آلات)، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے ترقی انسانی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہے جوکہ دولت اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں نئے اسباق پیش کر رہا ہے۔ پالیسی سازوں کو اس پر غور کرنا ہوگا۔</p>
<p>مستقبل میں خودکاری اور اے آئی کی موجودگی میں انسانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہوگا خاص طور پر اگر مقامی سرمایہ کار بھی ان ٹیکنالوجیز کا استعمال زیادہ تیز کردیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958327"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274513</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 15:00:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محی الدین اعظم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/01133913e6510aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/01133913e6510aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’شہرِ کوئٹہ کی خاموشی کو حکمران طبقہ استحکام سمجھ بیٹھا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274506/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ کی اداسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ خوف سے زیادہ، ایک ایسی بھاری خاموشی ہے جو شہر اور اس کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے جبکہ ایک پُراسرار سکوت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی گرفت سخت کیے جارہا ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد، سڑکوں کی بندش، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی معطلی، سیکیورٹی انتباہات کے باعث اسکولز کی بندش، ‘حساس’ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سرکاری عمارتوں پر تاروں کا جال، مضبوط حفاظتی انتظامات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی، یہ سب عناصر مل کر کوئٹہ کو بے چین اور کشیدگی سے بھرپور شہر بنا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوتا رہا یعنی سیکیورٹی کی صورت حال جیسی بھی رہی، کوئٹہ شہر کا اپنا رنگ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے تھے، نجی اور عوامی سطح پر غصے کا اظہار کرتے تھے، تقدیر سے بحث کرتے تھے لیکن پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال میں کوئٹہ نے تواتر سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اب لوگ احتجاج نہیں کرتے، وہ اپنے گرد بڑھتی پابندیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ وہ اب بس خاموش رہتے ہیں۔ وہ چپ سادھے زندگی گزارتے ہیں اور یہی خاموشی شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر احمد فراز زندہ ہوتے تو شاید وہ اس لمحے کے لیے ایک شہرِ آشوب لکھتے۔ مگر حکومت اس خاموشی میں سکون تلاش کرتی ہے اور وہ اسے غلطی سے استحکام سمجھ بیٹھی ہے۔ آخرکار اعداد و شمار بھی ان کے اسی خیال کے حق میں نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ میں رواں ماہ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے صرف 10 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جوکہ کم شدت کے تھے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم گزشتہ تین ماہ میں صوبے بھر میں قوم پرست شدت پسندوں سے منسوب 52 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 49 جانیں لقمہ اجل بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر کا تاریک رخ یہ ہے کہ ان گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دائر کار کو وسیع کر لیا ہے جہاں وہ خاص طور پر سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے پولیس یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ تبدیل ہو رہا ہے یعنی وہ زیادہ وسعت اختیار کررہا ہے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغی گروہوں نے صوبے بھر میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اغوا کرنا شامل ہے جن پر وہ جاسوسی یا ان کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اغوا ان لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہوئے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مخبر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغی نفسیاتی حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں بند کر رہے ہیں اور مختصر طور پر بڑی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ بار بار دہشت گردانہ حملے کرنے سے زیادہ، سڑکوں کی ناکہ بندیوں سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی حد تک خطرات پر قابو پانے کے لیے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے باغیوں کو پسپا کیا، ان کے سپلائی نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے اور ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر عسکری اقدامات، ان کا بنیادی دائرۂ کار نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیڈران کے پاس طاقت کے استعمال کیے بغیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جو امر پریشان کُن ہے، وہ یہ ہے کہ تشدد کی روک تھام کے طریقوں کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے وہ طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگوں کا ان پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور اداروں کے لیے باغیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ خاموش رہ کر کسی کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح سے ریاست کو ہائبرڈ نظام کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ عوام کتنے ناخوش ہیں جبکہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست کو اچھی طرح سے کام کرنے والے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب لوگ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ حقیقت میں یہ معاشرے میں ایک گہرے، چھپے ہوئے درد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن نوجوانوں کے لاپتا ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ لوگوں کے خاموش رہنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ صوبے کے مشترکہ مصائب کو مزید بدتر بناتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما جیل میں قید ہونے کی وجہ سے احتجاجاً آواز اٹھانے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاموشی زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ لوگ جو خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ چھوٹی سی حرکت پر بھی چوکنا ہوجاتے ہیں۔ نومبر کئی غیر تشدد پسند قوم پرست گروہوں اور مسلح علیحدگی پسند نیٹ ورکس کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے، چاہے وہ صوبے کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک پھیلے ہوئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ نومبر سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ کوئٹہ میں ممکنہ تشدد کے خطرات کے پیش نظر، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے اندر بسوں اور ٹرینوں سمیت تمام مسافروں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ انہوں نے کئی اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا۔ بڑے شہروں میں کچھ خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر کے وسط میں لیے گئے ان اقدامات کا سلسلہ مہینے کے آخر تک جاری رہا۔ اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معمول بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ، دوسرے علاقوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے مخالفت میں اٹھنی والی آوازیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ان سے توقع تھی کہ وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام آدمی کیا کہتا ہے، یہ طاقت کے مراکز کے لیے اہم نہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ریاست اور باغیوں دونوں نے دیوار سے لگا دیا ہے جبکہ جو رہی سہی جگہ ہے اس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قبضے کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مذہبی جماعتیں اس بات پر اُلجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کس جانب جانا چاہیے کیونکہ صوبے میں ریاست کی سخت گیر پالیسی ان کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ باغی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست ریاست کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ بات چیت کا درمیانی راستہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراتفری کے باوجود عام لوگوں میں امید اب بھی موجود ہے۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے کے مسائل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو ان کے سامنے کھڑا ہے، وہ صوبے کی سیاسی اور معاشی صورت حال ہے۔ عدم استحکام پھیلانے کے خواہش مند عناصر، تنازعات والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جوکہ افغان اور ایرانی سرحدوں سے شیرانی ژوب اور نیچے ضلع حب تک پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن خراب کرنے والے کون ہیں۔ جو بات ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں کیوں تسلیم نہیں کرتے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ کیوں وہ ان پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید کسی کے پاس اس کا جواب ہو مگر اس خاموشی میں کوئی بھی بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ جنہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں، وہ بس دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو سمجھے اور اس درد کا مداوا پیش کرے جو ان کی روحوں میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958245/silence-which-speaks"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ کی اداسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ خوف سے زیادہ، ایک ایسی بھاری خاموشی ہے جو شہر اور اس کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے جبکہ ایک پُراسرار سکوت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی گرفت سخت کیے جارہا ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد، سڑکوں کی بندش، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی معطلی، سیکیورٹی انتباہات کے باعث اسکولز کی بندش، ‘حساس’ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سرکاری عمارتوں پر تاروں کا جال، مضبوط حفاظتی انتظامات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی، یہ سب عناصر مل کر کوئٹہ کو بے چین اور کشیدگی سے بھرپور شہر بنا چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کوئٹہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوتا رہا یعنی سیکیورٹی کی صورت حال جیسی بھی رہی، کوئٹہ شہر کا اپنا رنگ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے تھے، نجی اور عوامی سطح پر غصے کا اظہار کرتے تھے، تقدیر سے بحث کرتے تھے لیکن پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال میں کوئٹہ نے تواتر سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اب لوگ احتجاج نہیں کرتے، وہ اپنے گرد بڑھتی پابندیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ وہ اب بس خاموش رہتے ہیں۔ وہ چپ سادھے زندگی گزارتے ہیں اور یہی خاموشی شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔</p>
<p>اگر احمد فراز زندہ ہوتے تو شاید وہ اس لمحے کے لیے ایک شہرِ آشوب لکھتے۔ مگر حکومت اس خاموشی میں سکون تلاش کرتی ہے اور وہ اسے غلطی سے استحکام سمجھ بیٹھی ہے۔ آخرکار اعداد و شمار بھی ان کے اسی خیال کے حق میں نظر آتے ہیں۔</p>
<p>کوئٹہ میں رواں ماہ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے صرف 10 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جوکہ کم شدت کے تھے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم گزشتہ تین ماہ میں صوبے بھر میں قوم پرست شدت پسندوں سے منسوب 52 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 49 جانیں لقمہ اجل بنیں۔</p>
<p>تصویر کا تاریک رخ یہ ہے کہ ان گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دائر کار کو وسیع کر لیا ہے جہاں وہ خاص طور پر سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے پولیس یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ تبدیل ہو رہا ہے یعنی وہ زیادہ وسعت اختیار کررہا ہے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>باغی گروہوں نے صوبے بھر میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اغوا کرنا شامل ہے جن پر وہ جاسوسی یا ان کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اغوا ان لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہوئے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مخبر ہیں۔</p>
<p>باغی نفسیاتی حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں بند کر رہے ہیں اور مختصر طور پر بڑی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ بار بار دہشت گردانہ حملے کرنے سے زیادہ، سڑکوں کی ناکہ بندیوں سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی حد تک خطرات پر قابو پانے کے لیے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے باغیوں کو پسپا کیا، ان کے سپلائی نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے اور ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>غیر عسکری اقدامات، ان کا بنیادی دائرۂ کار نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیڈران کے پاس طاقت کے استعمال کیے بغیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جو امر پریشان کُن ہے، وہ یہ ہے کہ تشدد کی روک تھام کے طریقوں کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے وہ طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگوں کا ان پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور اداروں کے لیے باغیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ خاموش رہ کر کسی کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>جس طرح سے ریاست کو ہائبرڈ نظام کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ عوام کتنے ناخوش ہیں جبکہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست کو اچھی طرح سے کام کرنے والے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔</p>
<p>لہٰذا جب لوگ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ حقیقت میں یہ معاشرے میں ایک گہرے، چھپے ہوئے درد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن نوجوانوں کے لاپتا ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ لوگوں کے خاموش رہنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ صوبے کے مشترکہ مصائب کو مزید بدتر بناتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما جیل میں قید ہونے کی وجہ سے احتجاجاً آواز اٹھانے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔</p>
<p>خاموشی زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ لوگ جو خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ چھوٹی سی حرکت پر بھی چوکنا ہوجاتے ہیں۔ نومبر کئی غیر تشدد پسند قوم پرست گروہوں اور مسلح علیحدگی پسند نیٹ ورکس کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے، چاہے وہ صوبے کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک پھیلے ہوئے ہوں۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ نومبر سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ کوئٹہ میں ممکنہ تشدد کے خطرات کے پیش نظر، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے اندر بسوں اور ٹرینوں سمیت تمام مسافروں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ انہوں نے کئی اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا۔ بڑے شہروں میں کچھ خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>نومبر کے وسط میں لیے گئے ان اقدامات کا سلسلہ مہینے کے آخر تک جاری رہا۔ اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معمول بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ، دوسرے علاقوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے مخالفت میں اٹھنی والی آوازیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ان سے توقع تھی کہ وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p>عام آدمی کیا کہتا ہے، یہ طاقت کے مراکز کے لیے اہم نہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ریاست اور باغیوں دونوں نے دیوار سے لگا دیا ہے جبکہ جو رہی سہی جگہ ہے اس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قبضے کرلیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مذہبی جماعتیں اس بات پر اُلجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کس جانب جانا چاہیے کیونکہ صوبے میں ریاست کی سخت گیر پالیسی ان کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ باغی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست ریاست کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ بات چیت کا درمیانی راستہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p>افراتفری کے باوجود عام لوگوں میں امید اب بھی موجود ہے۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے کے مسائل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو ان کے سامنے کھڑا ہے، وہ صوبے کی سیاسی اور معاشی صورت حال ہے۔ عدم استحکام پھیلانے کے خواہش مند عناصر، تنازعات والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جوکہ افغان اور ایرانی سرحدوں سے شیرانی ژوب اور نیچے ضلع حب تک پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن خراب کرنے والے کون ہیں۔ جو بات ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں کیوں تسلیم نہیں کرتے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ کیوں وہ ان پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>شاید کسی کے پاس اس کا جواب ہو مگر اس خاموشی میں کوئی بھی بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ جنہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں، وہ بس دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو سمجھے اور اس درد کا مداوا پیش کرے جو ان کی روحوں میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958245/silence-which-speaks"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274506</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 13:19:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عامر رانا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/011255197370f9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/011255197370f9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واشنگٹن فائرنگ: ’امریکا نے لاکھوں افغانوں سے کیا اپنا وعدہ بھلا دیا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274427/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک شخص جس کی شناخت رحمٰن اللہ لکانوال کے نام سے ہوئی ہے، نے شاید امریکا میں مقیم تمام افغان پناہ گزینوں کی قسمت کو تاریک کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے جہاں امریکی شہری تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے لیے سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے، وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک میٹرو اسٹیشن پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزام ہے کہ افغان شہری جو اپنے گھر واشنگٹن اسٹیٹ سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وہاں پہنچا تھا، نے نیشنل گارڈ کی ایک خاتون اہلکار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی جبکہ حملہ آور نے ایک مرد گارڈ کو بھی گولی ماری۔ دیگر نیشنل گارڈ اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرکے رحمٰن اللہ کو زخمی کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274326'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیشنل گارڈ کے اہلکار کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر واشنگٹن ڈی سی میں تعینات ہیں تاکہ ان حالات کا مقابلہ کیا جاسکے جسے ٹرمپ نے ’جرائم کی ہنگامی صورت حال‘ کا نام دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق 29 سالہ رحمٰن اللہ لکانوال 2021ء میں ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا۔ اسے اُسی سال امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ تاہم یہ حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ کام نہیں آئی جس نے اس حملے کو طالبان کے ظلم سے بھاگ کر آنے والے افغان مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن حکومت کے دوران ہزاروں مہاجرین کو امریکا لایا گیا اور انہوں نے اس پورے عمل کی جانچ پڑتال  پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ امریکا آنے والے مہاجرین اور ویزا ہولڈرز سخت اور مکمل جانچ پڑتال سے گزرتے ہیں۔ سیاسی طور پر اس افسوسناک اور المناک واقعے کو ٹرمپ نے اپنے اینٹی امیگرنٹ بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جو کہ خراب معاشی کارکردگی پر تنقید کا شکار اس کمزور ہوتی حکومت کے لیے عوامی توجہ ہٹانے کا کام کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے فوراً بعد ٹرمپ نے بیان دیا، ‘ہمیں اب بائیڈن کے دور میں افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہونے والے ہر ایک غیرملکی کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا اور ہمیں ضروری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کسی بھی ایسے غیرملکی کو چاہے وہ کسی بھی ملک سے ہو، یہاں سے نکالا جا سکے جو یہاں کا نہیں ہے یا ہمارے ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتا‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہمیں اُن کی یہاں ضرورت نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کریک ڈاؤن کا عمل مزید تیز ہوگیا۔ ایکس پر پوسٹ میں امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) نے اعلان کیا کہ، ’افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274395/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق پروسیسنگ روکنا ممکنہ طور پر تمام افغان شہریوں کو متاثر کرے گا جو امریکا میں رہنے کے لیے پناہ  کے طلب گار ہیں یا گرین کارڈ کے ذریعے مستقل قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اُن افغانوں کو بھی متاثر کرے گی جنہوں نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران امریکا کی مدد کی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ تیسری ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور خصوصی امیگرنٹ ویزا پروگرام کے ذریعے اپنی ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ کے منتظر ہیں جو کہ ان چند راستوں میں سے ایک ہے جو افغان مہاجرین کے لیے باقی رہ گیا ہے جن سے جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کے بدلے میں محفوظ پناہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ‘میں تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والی تمام امیگریشن کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتظامیہ کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پہلے دن سے اس کی نمایاں اور خوفناک پالیسی کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ یہ حملہ اگرچہ افسوسناک تھا لیکن اُن بے شمار فائرنگ کے واقعات سے مختلف نہیں تھا جو امریکا میں روزانہ پیش آتے ہیں۔ مگر اس واقعے نے انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکا میں تمام امیگریشن کو روکنے کے لیے ایک اور جواز پیش کرے، خصوصاً وہاں جہاں بات سیاہ فام اور بھورے رنگت والے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعلان سے چند روز قبل ہی یو ایس سی آئی ایس نے حکم دیا تھا کہ امریکا میں موجود ہیٹی کے شہری جنہیں اپنے ملک کی بدامنی کے باعث عارضی حفاظتی اسٹیٹس حاصل تھا، اگلے سال کے اوائل کے بعد اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانوں پر کریک ڈاؤن (اور افواہیں ہیں کہ یہ قدم صومالی مہاجرین تک بھی پھیلایا جائے گا) ٹرمپ کے اُس بڑے وژن کا حصہ ہے جس میں امریکا کو ایک سفید فام اور مسیحی قوم کے طور پر دیکھنے کا تصور شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر ہے نقصان اُن افغانوں کا ہوا ہے جنہوں نے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور یقین کیا کہ اس کے بدلے میں اُن کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ ایک شخص کا اٹھایا گیا ایک قدم جس کا تعلق لازمی نہیں کہ انتہاپسندی سے ہو بلکہ شاید یہ ذہنی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح کبھی نوآبادیاتی طاقتیں کیا کرتی تھیں، بالکل ویسے ہی موجودہ دور کے نوآبادیاتی قوتیں بھی کر رہی ہیں یعنی وہ اپنے وعدے فراموش کررہی ہیں، اُن لوگوں کی قربانیوں کو بے وقعت کررہی ہیں جنہوں نے ان کے لیے جان ہتھیلی پر رکھی جبکہ انہوں نے نئی مہمات کی طرف بڑھتے ہوئے پرانی جنگوں کو فراموش کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آ جانا امریکا کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ 20 سالہ جنگ اور کھربوں ڈالرز ضٓئع کردینے کے بعد بھی انہیں کوئی حقیقی فتح حاصل نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہزاروں افغان اور دیگر تارکین وطن اب شاید کبھی امریکا نہ پہنچ پائیں۔ صرف ایک لمحے میں اُن کی موجودگی کو بدنما کر دیا گیا ہے، ان پر ’ناپسندیدہ‘ کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور اب انہیں ایک بار پھر ایسی دنیا میں اپنے لیے جینے کی راہ تلاش کرنی ہے جو اجنبیوں اور غیر ملکیوں سے نفرت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958073"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک شخص جس کی شناخت رحمٰن اللہ لکانوال کے نام سے ہوئی ہے، نے شاید امریکا میں مقیم تمام افغان پناہ گزینوں کی قسمت کو تاریک کردیا ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے جہاں امریکی شہری تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے لیے سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے، وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک میٹرو اسٹیشن پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔</p>
<p>الزام ہے کہ افغان شہری جو اپنے گھر واشنگٹن اسٹیٹ سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وہاں پہنچا تھا، نے نیشنل گارڈ کی ایک خاتون اہلکار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی جبکہ حملہ آور نے ایک مرد گارڈ کو بھی گولی ماری۔ دیگر نیشنل گارڈ اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرکے رحمٰن اللہ کو زخمی کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274326'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نیشنل گارڈ کے اہلکار کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر واشنگٹن ڈی سی میں تعینات ہیں تاکہ ان حالات کا مقابلہ کیا جاسکے جسے ٹرمپ نے ’جرائم کی ہنگامی صورت حال‘ کا نام دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق 29 سالہ رحمٰن اللہ لکانوال 2021ء میں ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا۔ اسے اُسی سال امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ تاہم یہ حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ کام نہیں آئی جس نے اس حملے کو طالبان کے ظلم سے بھاگ کر آنے والے افغان مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔</p>
<p>حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن حکومت کے دوران ہزاروں مہاجرین کو امریکا لایا گیا اور انہوں نے اس پورے عمل کی جانچ پڑتال  پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ امریکا آنے والے مہاجرین اور ویزا ہولڈرز سخت اور مکمل جانچ پڑتال سے گزرتے ہیں۔ سیاسی طور پر اس افسوسناک اور المناک واقعے کو ٹرمپ نے اپنے اینٹی امیگرنٹ بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جو کہ خراب معاشی کارکردگی پر تنقید کا شکار اس کمزور ہوتی حکومت کے لیے عوامی توجہ ہٹانے کا کام کررہا ہے۔</p>
<p>حملے کے فوراً بعد ٹرمپ نے بیان دیا، ‘ہمیں اب بائیڈن کے دور میں افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہونے والے ہر ایک غیرملکی کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا اور ہمیں ضروری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کسی بھی ایسے غیرملکی کو چاہے وہ کسی بھی ملک سے ہو، یہاں سے نکالا جا سکے جو یہاں کا نہیں ہے یا ہمارے ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتا‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہمیں اُن کی یہاں ضرورت نہیں‘۔</p>
<p>اس کے بعد کریک ڈاؤن کا عمل مزید تیز ہوگیا۔ ایکس پر پوسٹ میں امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) نے اعلان کیا کہ، ’افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے‘۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274395/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق پروسیسنگ روکنا ممکنہ طور پر تمام افغان شہریوں کو متاثر کرے گا جو امریکا میں رہنے کے لیے پناہ  کے طلب گار ہیں یا گرین کارڈ کے ذریعے مستقل قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ اُن افغانوں کو بھی متاثر کرے گی جنہوں نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران امریکا کی مدد کی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ تیسری ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور خصوصی امیگرنٹ ویزا پروگرام کے ذریعے اپنی ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ کے منتظر ہیں جو کہ ان چند راستوں میں سے ایک ہے جو افغان مہاجرین کے لیے باقی رہ گیا ہے جن سے جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کے بدلے میں محفوظ پناہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>جمعرات کو ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ‘میں تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والی تمام امیگریشن کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔</p>
<p>اس انتظامیہ کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پہلے دن سے اس کی نمایاں اور خوفناک پالیسی کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ یہ حملہ اگرچہ افسوسناک تھا لیکن اُن بے شمار فائرنگ کے واقعات سے مختلف نہیں تھا جو امریکا میں روزانہ پیش آتے ہیں۔ مگر اس واقعے نے انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکا میں تمام امیگریشن کو روکنے کے لیے ایک اور جواز پیش کرے، خصوصاً وہاں جہاں بات سیاہ فام اور بھورے رنگت والے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہو۔</p>
<p>اس اعلان سے چند روز قبل ہی یو ایس سی آئی ایس نے حکم دیا تھا کہ امریکا میں موجود ہیٹی کے شہری جنہیں اپنے ملک کی بدامنی کے باعث عارضی حفاظتی اسٹیٹس حاصل تھا، اگلے سال کے اوائل کے بعد اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔</p>
<p>افغانوں پر کریک ڈاؤن (اور افواہیں ہیں کہ یہ قدم صومالی مہاجرین تک بھی پھیلایا جائے گا) ٹرمپ کے اُس بڑے وژن کا حصہ ہے جس میں امریکا کو ایک سفید فام اور مسیحی قوم کے طور پر دیکھنے کا تصور شامل ہے۔</p>
<p>ظاہر ہے نقصان اُن افغانوں کا ہوا ہے جنہوں نے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور یقین کیا کہ اس کے بدلے میں اُن کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ ایک شخص کا اٹھایا گیا ایک قدم جس کا تعلق لازمی نہیں کہ انتہاپسندی سے ہو بلکہ شاید یہ ذہنی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>جس طرح کبھی نوآبادیاتی طاقتیں کیا کرتی تھیں، بالکل ویسے ہی موجودہ دور کے نوآبادیاتی قوتیں بھی کر رہی ہیں یعنی وہ اپنے وعدے فراموش کررہی ہیں، اُن لوگوں کی قربانیوں کو بے وقعت کررہی ہیں جنہوں نے ان کے لیے جان ہتھیلی پر رکھی جبکہ انہوں نے نئی مہمات کی طرف بڑھتے ہوئے پرانی جنگوں کو فراموش کر دیا۔</p>
<p>یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آ جانا امریکا کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ 20 سالہ جنگ اور کھربوں ڈالرز ضٓئع کردینے کے بعد بھی انہیں کوئی حقیقی فتح حاصل نہ ہو سکی۔</p>
<p>ہزاروں افغان اور دیگر تارکین وطن اب شاید کبھی امریکا نہ پہنچ پائیں۔ صرف ایک لمحے میں اُن کی موجودگی کو بدنما کر دیا گیا ہے، ان پر ’ناپسندیدہ‘ کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور اب انہیں ایک بار پھر ایسی دنیا میں اپنے لیے جینے کی راہ تلاش کرنی ہے جو اجنبیوں اور غیر ملکیوں سے نفرت کرتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958073"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274427</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 13:17:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رافعہ ذکریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29130423d5abadb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29130423d5abadb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یو اے ای ویزا کے حصول میں پریشانیوں کا سامنا کرتے پاکستانی کیسا محسوس کرتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274392/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;لاہور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ندیم جوکہ مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، نے جب رواں سال اپنے پہلے تفریحی دبئی کے دورے کی منصوبہ بندی کی تو انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ سفر مہینوں کی طویل آزمائش میں بدل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک ٹریول ایجنسی کے ذریعے وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ یہ ایک ‘معمول کا عمل‘ ہے۔ لیکن ان کی درخواست پہلی مرتبہ جنوری میں اور پھر دوبارہ نومبر کے آغاز میں دو بار مسترد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس ایجنسی نے ان کا کیس سنبھالا تھا، اس نے سادہ سا سبب بتایا کہ وہ ’40 سال سے کم عمر‘ ہیں اور کم عمر درخواست گزاروں کو زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ندیم جنہوں نے اپنا پہلا نام ظاہر کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ وضاحت الجھن میں مزید اضافے کا باعث بنی جبکہ بہت سے مسافر بھی اس سے پریشان تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا۔ میری عمر کا اس سے کیا تعلق؟ میں فل ٹائم ملازم ہوں اور میں نے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ بھی جمع کروایا تھا۔ میرا ایک دوست فری لانسر ہے، پہلی کوشش میں ہی اسے ویزا مل گیا۔ میں نے تیسری بار درخواست دی ہے، دعا ہے کہ اس بار منظور ہو جائے لیکن یہ بہت تھکا دینے والا عمل رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانیوں کے لیے ویزا مسترد کیے جانے کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں حالانکہ خلیجی ملک کے پاکستان کے ساتھ قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ابوظبی مشرق وسطیٰ میں اسلام آباد کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ترسیلاتِ زر کا بڑا ذریعہ بھی جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی انسانی حقوق کی فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستانی پاسپورٹس پر کوئی رسمی پابندی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274356/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274356"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری جو کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ یہ پابندیاں اس وجہ سے لگائی گئی ہیں کہ مسافروں کے ‘جرائم میں ملوث ہونے‘ کے خدشات ہیں اور کہا کہ حال ہی میں بہت پیچیدگیوں کے بعد ہی چند ویزے جاری کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ جنوری 2025ء میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تارکین وطن پاکستانیوں کو بتایا گیا کہ بعض ممالک کے ویزے ’غیر رسمی طور پر بند‘ کر دیے گئے ہیں۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر اعصام بیگ نے کہا کہ یو اے ای کو پاکستان سے آنے والے وزٹ ویزہ رکھنے والے افراد کے حوالے سے خدشات ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر ’گداگری‘ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اگلے ماہ پاکستان کے سابق سفیر برائے یو اے ای فیصل نیاز ترمذی نے پاکستانی شہریوں کو ویزا نہ دینے کے معاملے کو ایک ’سنگین اور اہم‘ مسئلہ قرار دیا۔ عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام نے دستاویزات کی صداقت، بشمول تعلیمی اسناد اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے درخواست دہندگان کے معاملات پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل ترمذی نے کہا، ’اگر کہیں بھی تضاد پایا گیا، پھر چاہے دستاویز اصلی ہی کیوں نہ ہوں مگر پاکستان یا یو اے ای میں تصدیق اصلی نہ ہو تو یہ ویزے رد کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیقی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں یو اے ای کے سفیر برائے پاکستان حمد عبید ابراہیم سالم الزعابی نے اعلان کیا کہ ویزا کے مسائل حل ہو گئے ہیں اور پاکستانی شہری اب پانچ سالہ ویزے سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان یقین دہانیوں کے باوجود، جولائی کے شروع میں دوبارہ مسائل سامنے آئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ معاملہ اپنے یو اے ای ہم منصب کے ساتھ اٹھایا اور 11 جولائی کی ملاقات میں یو اے ای کے لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی تیز تر پروسیسنگ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کے باوجود مسافروں کو اب بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافی فاطمہ عطاروالہ نے دبئی میں ہونے والے بڑے ایونٹ گل فوڈ کی کوریج کے لیے اپنی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’میرا ویزا دو بار مسترد ہوا۔ پہلے ہم ایک ایجنسی کے ذریعے گئے پھر اس ایونٹ کی کوآرڈینیٹنگ آفیشل ایجنسی کے پاس گئے لیکن 45 سال سے کم عمر کے ہر درخواست دہندہ کا ویزا مسترد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہاں تک کہ کمپنی ڈائریکٹرز کے ویزے بھی پہلے راؤنڈ میں منظور نہیں ہوئے۔ دوسرے راؤنڈ میں صرف 45 سال سے زائد عمر کے درخواست دہندگان کے ویزے دیے گئے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، افریقہ اور دیگر ممالک کے لوگوں کو بھی یہی صورت حال دیکھنے کو ملی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 سالہ سید عباس رضا نقوی جو ایک امریکی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں نے کہا کہ انہیں کمپنی کی اسپانسر شپ کے باوجود ان کا ویزا بار بار رد کیا گیا۔ ’میں نے گزشتہ سال ستمبر میں جنوری میں ہونے والی ایک کانفرنس کے لیے درخواست دینا شروع کی۔ میری کمپنی نے دعوت نامہ اور تمام معاون دستاویزات فراہم کیں لیکن پھر بھی کامیابی نہ ملی۔ میں نے تین بار کوشش کی۔ آخرکار ایک ’گارنٹی شدہ ویزا‘ زیادہ فیس پر جاری کیا گیا لیکن یہ عمل اب بھی غیر شفاف اور پریشان کن ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس رضا نے اس سال ستمبر میں پانچ سالہ، ملٹی پل انٹری وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی لیکن اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256672/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256672"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘ویزے کی قیمت ایک ہزار 200 ڈالر (3  لاکھ 39 ہزار روپے) تھی۔ مجھے 650 ڈالر واپس کیے گئے لیکن پھر بھی مجھے ایک بڑا مالی نقصان ہوا۔ خوش قسمتی سے، میری کمپنی نے اخراجات برداشت کیے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک مایوس کن تجربہ رہا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے ایک 36 سالہ ٹیک کاروباری صاحب کا ویزا بھی مسترد ہوا، انہوں نے ڈان کو نام نہ ظاہر کرنے شرط پر بتایا کہ انہوں نے اس سال ستمبر میں کوشش کی تھی۔ اس کے بعد میں نے پہلی درخواست کے بجائے نئی ویزا کے لیے درخواست دی۔ حیرت انگیز طور پر اسی مہینے میں ویزا جاری کر دیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزمل آصف ایک اسپورٹس جرنلسٹ ہیں جو دبئی میں ایشیا کپ کی کوریج کے لیے تعینات تھے، اپنے ویزا مسترد ہونے کی وجہ سے سفر نہ کر سکے حالانکہ ان کے پاس تمام ضروری اجازت نامے اور دستاویزات موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہمارے ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ دبئی ویزوں کے رد کیے جانے کی شرح ’100 فیصد‘ ہے۔ ہر ایجنسی نے درخواست دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابو ظبی کے ذریعے درخواست دینے کی ہدایت دی لیکن پھر بھی منظوری غیر یقینی تھی۔ آخرکار میرا ویزا اس لیے مسترد کر دیا گیا کیونکہ میں 35 سال سے کم عمر اور غیرشادی شدہ ہوں۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی اور میری نیوز ایجنسی کو تقریباً ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریول ایجنسیز نے اس رجحان کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا ایکسپریس کراچی کی کسٹمر سروسز نمائندہ سحر نصیر نے ڈان کو بتایا کہ ’دبئی کے لیے پہلی بار اور سنگل انٹری ویزا کی درخواستوں کو 70 سے 80 فیصد تک مسترد کر دیا جاتا ہے جبکہ یو اے ای میں خاندانی تعلقات رکھنے والے افراد کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیجر ٹرِپس ٹریول اینڈ ٹورز ظہیر زبیر نے کہا کہ سنگل ویزوں کی منظوری کی شرح صرف 20 فیصد ہے جبکہ فیملی ویزوں کی منظوری تقریباً 80 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ای جی ویزا کے ایک ٹریول ایجنٹ عبید سجاد نے ویزا حاصل کرنے کے لیے سخت مالی تقاضوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر آپ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ تقریباً 30 لاکھ روپے جمع کرواتے ہیں تو آپ کے امکانات بہتر ہیں۔ سنگل ویزا مسترد ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناکافی فنڈز ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پریمیو ٹریول اینڈ ٹورز کی ایجنٹ قرۃ العین نے کہا کہ گزشتہ زائد قیام یا غیر واضح مالی دستاویزات‘ ویزا مسترد ہونے کی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سوشل میڈیا پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں وسیع پیمانے پر مایوسی پائی جاتی ہے۔ ریڈٹ صارفین نے بلاک شدہ ٹرانزٹ ویزے اور ایجنسیز جیسے VFS گلوبل کی متضاد اطلاعات کا ذکر کیا اور ایک صارف نے بتایا کہ پیشہ ورانہ حیثیت یا عمر اکثر ویزا منظوری کا تعین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین نے کہا کہ ’پاکستانیوں کے لیے دبئی میں وزٹ ویزے پر عملی طور پر پابندی‘ ہے جس کی وجہ مبینہ غیر قانونی ہجرت کے خدشات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یو اے ای ایمبیسی کے ایک سینئر سفارتکار جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، نے اس قیاس آرائی کو مسترد کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ’پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’یو اے ای حکومت مختلف کیٹیگریز کے تحت درخواست دہندگان کو روزانہ ویزے جاری کرتی ہے۔ البتہ بعض پاکستانی ٹریول ایجنٹس نے ماضی میں درخواست دہندگان کے ڈیٹا میں تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے جس کے بعد مرکزی ویزا نظام متعارف کروایا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتکار نے مزید بتایا کہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایمبیسی میں تین بایومیٹرک ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’یو اے ای میں 22 لاکھ 70 ہزار پاکستانی مقیم ہیں جو نئے قانون کے تحت اپنے خاندانوں کی اسپانسرشپ کر سکتے ہیں۔ تاہم جن لوگوں کا کریمنل ریکارڈ ہے یا جنہوں نے اپنا ڈیٹا تبدیل کیا تھا، انہیں اپنے ریکارڈ درست کرنے کو کہا جا رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یو اے ای کے سفیر سالم الزعابی نے جمعرات کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ویزا سہولت کاری میں بڑے اصلاحات سے آگاہ کیا جن میں آن لائن پروسیسنگ، پاسپورٹ اسٹیمپ کے بغیر ای ویزے اور سسٹم ٹو سسٹم لنکیجز کی تیز رفتار سہولت شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں نئے قائم شدہ یو اے ای ویزا سینٹر میں روزانہ تقریباً 500 ویزا پراسیس کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی یقین دہانیوں اور حال ہی میں اعلان شدہ اصلاحات کے باوجود ندیم اور دیگر پاکستانی ویزا درخواست دہندگان کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ عمل پر اب بھی غیریقینی صورت حال پائی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندیم نے فون پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہا، ’ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنے منصوبوں، کام کی ذمہ داریوں اور پیسوں کے ساتھ لاٹری کھیل رہے ہیں۔ میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں جا سکتا ہوں یا نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;اضافی رپورٹنگ: عبداللہ مہمند&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: خالی شیخ زائد روڈ ’دبئی رن 2025‘ کی صبح سویرے شروعات کے لیے تیار ہے جو دبئی فٹنس چیلنج کے نویں ایڈیشن کے حصے کے طور پر 23 نومبر 2025 کو دبئی میں منعقد ہوا — تصویر: اے ایف پی&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957715/rising-uae-visa-rejections-leave-pakistani-travellers-in-limbo"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>لاہور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ندیم جوکہ مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، نے جب رواں سال اپنے پہلے تفریحی دبئی کے دورے کی منصوبہ بندی کی تو انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ سفر مہینوں کی طویل آزمائش میں بدل جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے ایک ٹریول ایجنسی کے ذریعے وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ یہ ایک ‘معمول کا عمل‘ ہے۔ لیکن ان کی درخواست پہلی مرتبہ جنوری میں اور پھر دوبارہ نومبر کے آغاز میں دو بار مسترد ہوگئی۔</p>
<p>جس ایجنسی نے ان کا کیس سنبھالا تھا، اس نے سادہ سا سبب بتایا کہ وہ ’40 سال سے کم عمر‘ ہیں اور کم عمر درخواست گزاروں کو زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ندیم جنہوں نے اپنا پہلا نام ظاہر کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ وضاحت الجھن میں مزید اضافے کا باعث بنی جبکہ بہت سے مسافر بھی اس سے پریشان تھے۔</p>
<p>انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا۔ میری عمر کا اس سے کیا تعلق؟ میں فل ٹائم ملازم ہوں اور میں نے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ بھی جمع کروایا تھا۔ میرا ایک دوست فری لانسر ہے، پہلی کوشش میں ہی اسے ویزا مل گیا۔ میں نے تیسری بار درخواست دی ہے، دعا ہے کہ اس بار منظور ہو جائے لیکن یہ بہت تھکا دینے والا عمل رہا ہے‘۔</p>
<p>حال ہی میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانیوں کے لیے ویزا مسترد کیے جانے کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں حالانکہ خلیجی ملک کے پاکستان کے ساتھ قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ابوظبی مشرق وسطیٰ میں اسلام آباد کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ترسیلاتِ زر کا بڑا ذریعہ بھی جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی انسانی حقوق کی فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستانی پاسپورٹس پر کوئی رسمی پابندی نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274356/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274356"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری جو کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ یہ پابندیاں اس وجہ سے لگائی گئی ہیں کہ مسافروں کے ‘جرائم میں ملوث ہونے‘ کے خدشات ہیں اور کہا کہ حال ہی میں بہت پیچیدگیوں کے بعد ہی چند ویزے جاری کیے گئے ہیں۔</p>
<p>یہ مسئلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ جنوری 2025ء میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تارکین وطن پاکستانیوں کو بتایا گیا کہ بعض ممالک کے ویزے ’غیر رسمی طور پر بند‘ کر دیے گئے ہیں۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر اعصام بیگ نے کہا کہ یو اے ای کو پاکستان سے آنے والے وزٹ ویزہ رکھنے والے افراد کے حوالے سے خدشات ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر ’گداگری‘ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے اگلے ماہ پاکستان کے سابق سفیر برائے یو اے ای فیصل نیاز ترمذی نے پاکستانی شہریوں کو ویزا نہ دینے کے معاملے کو ایک ’سنگین اور اہم‘ مسئلہ قرار دیا۔ عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام نے دستاویزات کی صداقت، بشمول تعلیمی اسناد اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے درخواست دہندگان کے معاملات پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔</p>
<p>فیصل ترمذی نے کہا، ’اگر کہیں بھی تضاد پایا گیا، پھر چاہے دستاویز اصلی ہی کیوں نہ ہوں مگر پاکستان یا یو اے ای میں تصدیق اصلی نہ ہو تو یہ ویزے رد کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیقی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اپریل میں یو اے ای کے سفیر برائے پاکستان حمد عبید ابراہیم سالم الزعابی نے اعلان کیا کہ ویزا کے مسائل حل ہو گئے ہیں اور پاکستانی شہری اب پانچ سالہ ویزے سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ان یقین دہانیوں کے باوجود، جولائی کے شروع میں دوبارہ مسائل سامنے آئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ معاملہ اپنے یو اے ای ہم منصب کے ساتھ اٹھایا اور 11 جولائی کی ملاقات میں یو اے ای کے لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی تیز تر پروسیسنگ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔</p>
<p>اس سب کے باوجود مسافروں کو اب بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>صحافی فاطمہ عطاروالہ نے دبئی میں ہونے والے بڑے ایونٹ گل فوڈ کی کوریج کے لیے اپنی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’میرا ویزا دو بار مسترد ہوا۔ پہلے ہم ایک ایجنسی کے ذریعے گئے پھر اس ایونٹ کی کوآرڈینیٹنگ آفیشل ایجنسی کے پاس گئے لیکن 45 سال سے کم عمر کے ہر درخواست دہندہ کا ویزا مسترد کر دیا گیا۔</p>
<p>’یہاں تک کہ کمپنی ڈائریکٹرز کے ویزے بھی پہلے راؤنڈ میں منظور نہیں ہوئے۔ دوسرے راؤنڈ میں صرف 45 سال سے زائد عمر کے درخواست دہندگان کے ویزے دیے گئے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، افریقہ اور دیگر ممالک کے لوگوں کو بھی یہی صورت حال دیکھنے کو ملی‘۔</p>
<p>25 سالہ سید عباس رضا نقوی جو ایک امریکی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں نے کہا کہ انہیں کمپنی کی اسپانسر شپ کے باوجود ان کا ویزا بار بار رد کیا گیا۔ ’میں نے گزشتہ سال ستمبر میں جنوری میں ہونے والی ایک کانفرنس کے لیے درخواست دینا شروع کی۔ میری کمپنی نے دعوت نامہ اور تمام معاون دستاویزات فراہم کیں لیکن پھر بھی کامیابی نہ ملی۔ میں نے تین بار کوشش کی۔ آخرکار ایک ’گارنٹی شدہ ویزا‘ زیادہ فیس پر جاری کیا گیا لیکن یہ عمل اب بھی غیر شفاف اور پریشان کن ہے‘۔</p>
<p>عباس رضا نے اس سال ستمبر میں پانچ سالہ، ملٹی پل انٹری وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی لیکن اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256672/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256672"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘ویزے کی قیمت ایک ہزار 200 ڈالر (3  لاکھ 39 ہزار روپے) تھی۔ مجھے 650 ڈالر واپس کیے گئے لیکن پھر بھی مجھے ایک بڑا مالی نقصان ہوا۔ خوش قسمتی سے، میری کمپنی نے اخراجات برداشت کیے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک مایوس کن تجربہ رہا‘۔</p>
<p>کراچی کے ایک 36 سالہ ٹیک کاروباری صاحب کا ویزا بھی مسترد ہوا، انہوں نے ڈان کو نام نہ ظاہر کرنے شرط پر بتایا کہ انہوں نے اس سال ستمبر میں کوشش کی تھی۔ اس کے بعد میں نے پہلی درخواست کے بجائے نئی ویزا کے لیے درخواست دی۔ حیرت انگیز طور پر اسی مہینے میں ویزا جاری کر دیا گیا‘۔</p>
<p>مزمل آصف ایک اسپورٹس جرنلسٹ ہیں جو دبئی میں ایشیا کپ کی کوریج کے لیے تعینات تھے، اپنے ویزا مسترد ہونے کی وجہ سے سفر نہ کر سکے حالانکہ ان کے پاس تمام ضروری اجازت نامے اور دستاویزات موجود تھیں۔</p>
<p>’ہمارے ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ دبئی ویزوں کے رد کیے جانے کی شرح ’100 فیصد‘ ہے۔ ہر ایجنسی نے درخواست دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابو ظبی کے ذریعے درخواست دینے کی ہدایت دی لیکن پھر بھی منظوری غیر یقینی تھی۔ آخرکار میرا ویزا اس لیے مسترد کر دیا گیا کیونکہ میں 35 سال سے کم عمر اور غیرشادی شدہ ہوں۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی اور میری نیوز ایجنسی کو تقریباً ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا‘۔</p>
<p>ٹریول ایجنسیز نے اس رجحان کی تصدیق کی۔</p>
<p>ویزا ایکسپریس کراچی کی کسٹمر سروسز نمائندہ سحر نصیر نے ڈان کو بتایا کہ ’دبئی کے لیے پہلی بار اور سنگل انٹری ویزا کی درخواستوں کو 70 سے 80 فیصد تک مسترد کر دیا جاتا ہے جبکہ یو اے ای میں خاندانی تعلقات رکھنے والے افراد کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں‘۔</p>
<p>منیجر ٹرِپس ٹریول اینڈ ٹورز ظہیر زبیر نے کہا کہ سنگل ویزوں کی منظوری کی شرح صرف 20 فیصد ہے جبکہ فیملی ویزوں کی منظوری تقریباً 80 فیصد ہے۔</p>
<p>اے ای جی ویزا کے ایک ٹریول ایجنٹ عبید سجاد نے ویزا حاصل کرنے کے لیے سخت مالی تقاضوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر آپ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ تقریباً 30 لاکھ روپے جمع کرواتے ہیں تو آپ کے امکانات بہتر ہیں۔ سنگل ویزا مسترد ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناکافی فنڈز ہیں‘۔</p>
<p>ادھر پریمیو ٹریول اینڈ ٹورز کی ایجنٹ قرۃ العین نے کہا کہ گزشتہ زائد قیام یا غیر واضح مالی دستاویزات‘ ویزا مسترد ہونے کی وجوہات ہیں۔</p>
<p>پاکستانی سوشل میڈیا پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں وسیع پیمانے پر مایوسی پائی جاتی ہے۔ ریڈٹ صارفین نے بلاک شدہ ٹرانزٹ ویزے اور ایجنسیز جیسے VFS گلوبل کی متضاد اطلاعات کا ذکر کیا اور ایک صارف نے بتایا کہ پیشہ ورانہ حیثیت یا عمر اکثر ویزا منظوری کا تعین کرتی ہے۔</p>
<p>کچھ صارفین نے کہا کہ ’پاکستانیوں کے لیے دبئی میں وزٹ ویزے پر عملی طور پر پابندی‘ ہے جس کی وجہ مبینہ غیر قانونی ہجرت کے خدشات ہیں۔</p>
<p>تاہم یو اے ای ایمبیسی کے ایک سینئر سفارتکار جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، نے اس قیاس آرائی کو مسترد کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ’پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’یو اے ای حکومت مختلف کیٹیگریز کے تحت درخواست دہندگان کو روزانہ ویزے جاری کرتی ہے۔ البتہ بعض پاکستانی ٹریول ایجنٹس نے ماضی میں درخواست دہندگان کے ڈیٹا میں تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے جس کے بعد مرکزی ویزا نظام متعارف کروایا گیا‘۔</p>
<p>سفارتکار نے مزید بتایا کہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایمبیسی میں تین بایومیٹرک ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’یو اے ای میں 22 لاکھ 70 ہزار پاکستانی مقیم ہیں جو نئے قانون کے تحت اپنے خاندانوں کی اسپانسرشپ کر سکتے ہیں۔ تاہم جن لوگوں کا کریمنل ریکارڈ ہے یا جنہوں نے اپنا ڈیٹا تبدیل کیا تھا، انہیں اپنے ریکارڈ درست کرنے کو کہا جا رہا ہے‘۔</p>
<p>دوسری جانب یو اے ای کے سفیر سالم الزعابی نے جمعرات کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ویزا سہولت کاری میں بڑے اصلاحات سے آگاہ کیا جن میں آن لائن پروسیسنگ، پاسپورٹ اسٹیمپ کے بغیر ای ویزے اور سسٹم ٹو سسٹم لنکیجز کی تیز رفتار سہولت شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں نئے قائم شدہ یو اے ای ویزا سینٹر میں روزانہ تقریباً 500 ویزا پراسیس کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سفارتی یقین دہانیوں اور حال ہی میں اعلان شدہ اصلاحات کے باوجود ندیم اور دیگر پاکستانی ویزا درخواست دہندگان کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ عمل پر اب بھی غیریقینی صورت حال پائی جارہی ہے۔</p>
<p>ندیم نے فون پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہا، ’ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنے منصوبوں، کام کی ذمہ داریوں اور پیسوں کے ساتھ لاٹری کھیل رہے ہیں۔ میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں جا سکتا ہوں یا نہیں‘۔</p>
<hr />
<p><em>اضافی رپورٹنگ: عبداللہ مہمند</em></p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: خالی شیخ زائد روڈ ’دبئی رن 2025‘ کی صبح سویرے شروعات کے لیے تیار ہے جو دبئی فٹنس چیلنج کے نویں ایڈیشن کے حصے کے طور پر 23 نومبر 2025 کو دبئی میں منعقد ہوا — تصویر: اے ایف پی</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957715/rising-uae-visa-rejections-leave-pakistani-travellers-in-limbo"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274392</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 14:57:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سارہ بی حیدر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/28145903dcb474f.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/28145903dcb474f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’احتساب کا مطالبہ کرتے نواز شریف کی جماعت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274382/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف 2023ء میں پاکستان واپسی کے بعد سے زیادہ تر منظر عام سے غائب رہے ہیں لیکن بدھ کے روز انہوں نے نومنتخب قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے حساس سیاسی معاملات پر اپنی خاموشی توڑ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ’بڑے مجرم‘ جنہوں نے جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا تھا، انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے نام لینے سے تو گریز کیا لیکن 2023ء میں وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر سینئر ججز پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے 2017ء میں انہیں وزیرِ اعظم ہاؤس سے برطرف کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ بحث نہیں کہ احتساب ضروری ہے خاص طور پر اُن لوگوں کا جو جمہوری عمل میں مداخلت کرتے رہے ہیں لیکن ایسا عمل کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے یا چند مخصوص لوگوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں نواز شریف نے عوامی بالادستی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی کوشش کی اور اس کی قیمت انہوں نے اپنا وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ کھو کر ادا کی۔ مگر صرف اُن کا معاملہ پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے سیاسی منظرنامے میں ابھرنے سے بہت پہلے سے مختلف ریاستی ادارے حکومتیں بنانے اور گرانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں تک افراد کا تعلق ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی عناصر جن پر نواز شریف نے اپنی برطرفی کا الزام لگایا تھا، انہی کو عمران خان کی حکومت گرانے اور مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں کردار ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت بھی آرمی چیف تھے جب نواز شریف کو برطرف کیا گیا تھا اور اس وقت بھی کہ جب عمران خان کی حکومت برطرف کی گئی تھی۔ لہٰذا ایسے تمام واقعات کا تفصیل سے معائنہ کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں محض یک طرفہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدان جن میں نواز شریف کی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں، اور ریاستی ادارے جن میں عدلیہ بھی شامل ہے، اکثر غیرمنتخب قوتوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے ذریعے حریفوں کو برطرف کرنے میں ساتھ رہے ہیں۔ اُن کے کردار کی مزید جانچ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب نواز شریف ایسی قوتوں کی مداخلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں تو ان کی اپنی جماعت کے لوگ جن میں وزرا بھی شامل ہیں، اسی ہائبرڈ نظام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274313'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس بات کی ہے کہ خود احتسابی کی جائے اور سیاسی طبقہ سنجیدگی سے سوچے کہ کس طرح وہ خود ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جو غیر سیاسی قوتوں کو طاقت کے مراکز پر قابض ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف اور بےنظیر بھٹو نے 2006ء میں میثاقِ جمہوریت پر اس مقصد کے لیے دستخط کیے تھے کہ عوامی بالادستی کو مضبوط کیا جائے۔ اس دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ ’کوئی بھی جماعت اقتدار میں آنے یا کسی جمہوری حکومت کو ہٹانے کے لیے فوج کی مدد طلب نہیں کرے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف تینوں ہی اس مقصد کو نظرانداز کرتی رہی ہیں اور نتیجتاً یہ جماعتیں ہائبرڈ نظام کا شکار بھی رہی ہیں اور اس سے مستفید بھی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اب ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات ایک جانب رکھ کر اکٹھا ہونا ہوگا اور ایک حقیقی جمہوری اور آئینی نظام پر اتفاق کر کے اُس کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957825"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف 2023ء میں پاکستان واپسی کے بعد سے زیادہ تر منظر عام سے غائب رہے ہیں لیکن بدھ کے روز انہوں نے نومنتخب قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے حساس سیاسی معاملات پر اپنی خاموشی توڑ دی۔</p>
<p>نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ’بڑے مجرم‘ جنہوں نے جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا تھا، انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>نواز شریف نے نام لینے سے تو گریز کیا لیکن 2023ء میں وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر سینئر ججز پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے 2017ء میں انہیں وزیرِ اعظم ہاؤس سے برطرف کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>یہ بات قابلِ بحث نہیں کہ احتساب ضروری ہے خاص طور پر اُن لوگوں کا جو جمہوری عمل میں مداخلت کرتے رہے ہیں لیکن ایسا عمل کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے یا چند مخصوص لوگوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>ماضی میں نواز شریف نے عوامی بالادستی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی کوشش کی اور اس کی قیمت انہوں نے اپنا وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ کھو کر ادا کی۔ مگر صرف اُن کا معاملہ پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔</p>
<p>عمران خان کے سیاسی منظرنامے میں ابھرنے سے بہت پہلے سے مختلف ریاستی ادارے حکومتیں بنانے اور گرانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں تک افراد کا تعلق ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی عناصر جن پر نواز شریف نے اپنی برطرفی کا الزام لگایا تھا، انہی کو عمران خان کی حکومت گرانے اور مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں کردار ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔</p>
<p>مثال کے طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت بھی آرمی چیف تھے جب نواز شریف کو برطرف کیا گیا تھا اور اس وقت بھی کہ جب عمران خان کی حکومت برطرف کی گئی تھی۔ لہٰذا ایسے تمام واقعات کا تفصیل سے معائنہ کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں محض یک طرفہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔</p>
<p>یہ تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدان جن میں نواز شریف کی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں، اور ریاستی ادارے جن میں عدلیہ بھی شامل ہے، اکثر غیرمنتخب قوتوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے ذریعے حریفوں کو برطرف کرنے میں ساتھ رہے ہیں۔ اُن کے کردار کی مزید جانچ ضروری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب نواز شریف ایسی قوتوں کی مداخلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں تو ان کی اپنی جماعت کے لوگ جن میں وزرا بھی شامل ہیں، اسی ہائبرڈ نظام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274313'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ضرورت اس بات کی ہے کہ خود احتسابی کی جائے اور سیاسی طبقہ سنجیدگی سے سوچے کہ کس طرح وہ خود ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جو غیر سیاسی قوتوں کو طاقت کے مراکز پر قابض ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>نواز شریف اور بےنظیر بھٹو نے 2006ء میں میثاقِ جمہوریت پر اس مقصد کے لیے دستخط کیے تھے کہ عوامی بالادستی کو مضبوط کیا جائے۔ اس دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ ’کوئی بھی جماعت اقتدار میں آنے یا کسی جمہوری حکومت کو ہٹانے کے لیے فوج کی مدد طلب نہیں کرے گی‘۔</p>
<p>پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف تینوں ہی اس مقصد کو نظرانداز کرتی رہی ہیں اور نتیجتاً یہ جماعتیں ہائبرڈ نظام کا شکار بھی رہی ہیں اور اس سے مستفید بھی ہوئی ہیں۔</p>
<p>شاید اب ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات ایک جانب رکھ کر اکٹھا ہونا ہوگا اور ایک حقیقی جمہوری اور آئینی نظام پر اتفاق کر کے اُس کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957825"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274382</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 12:43:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/281119480240468.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/281119480240468.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’طالبان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اس کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات پر ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274336/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے وزیرِ دفاع کے مطابق، ’ہمارے ہمسایے کے ساتھ پُرامن تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہر طرح کی حمایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے’۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان فریق پر بھروسہ کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک سرحد پار حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں نہ مل جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں امریکا کو بھی ٹھوس ضمانتیں نہیں دیں اور قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ایسی ضمانتیں نہیں دیں گے۔ میں طالبان کا وکیل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اُن کی پالیسیز کو سمجھنا چاہوں گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کی ایک مشترکہ مگر تنازعات سے بھرپور تاریخ ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے منسلک شناختیں، سرحدی تنازعات اور تقسیم شدہ قبائل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، اُن کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات کے تابع رہے ہیں اور اُن کی جنگوں کا شکار بھی بنے ہیں۔ یہی وہ تمام عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ کابل کی پاکستان میں کھلی مداخلت اور اس کے ‘پختونستان’ کے دعوؤں سے شروع ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مداخلت کو مؤثر طور پر ناکام بنایا لیکن خود کو افغانستان کے سیاسی عمل میں گھسیٹ لیے جانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں اُس نے افغانستان کی اسلام پسند جماعتوں کی مدد سے اپریل 1978ء کی ثور انقلاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں اُس نے افغانوں کو ہمارے قبائلی علاقوں اور اس سے مضافات میں مہاجرین اور پھر مجاہدین کے طور پر پناہ لینے دی جنہوں نے آگے چل کر طالبان کی صورت اختیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمسایہ ملک کے علاقائی دعووں کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے، ہم نے افغان گروہوں کو اپنے معاشرے اور سیاست میں جڑ پکڑنے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اجازت دی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان نے اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شروع سے ہی طالبان کی سابقہ ​​فاٹا کے علاقے اور بلوچستان میں واضح موجودگی رہی ہے۔ انہوں نے نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے مذہبی مدارس کا استعمال کیا جن میں سے بیشتر میں انہوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ قبائلی علاقے افغانستان میں طالبان کی جنگ کے لیے ایک قسم کا محفوظ حمایتی گڑھ بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور نئے عسکریت پسندوں کے اتحادی پیدا ہوئے۔ اب یہ گروہ ہمارے علاقوں میں وہی کچھ دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طالبان نے ان کی مدد سے افغانستان میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان عوام جنہیں پہلے مجاہدین اور بعد میں ایک بدعنوان امریکا نواز حکمران طبقے نے دھوکا دیا جبکہ پاکستان جہاں سیکیورٹی ایجنسیز کا خیال تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ کیا بہتر ہے، دونوں نے وہ افغانستان کھو دیا ہے جو کبھی موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان ہیرو یا آزادی پسند نہیں ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ نہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے بلکہ اپنے عدم استحکام اور خامیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم کا شکار طالبان قیادت ایک ایسی آبادی پر حکومت کر رہی ہے جو کہ منقسم بھی ہے جبکہ اس کی معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے اور انسانی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان نے کئی جہادی، علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی جگہ فراہم کی ہے جن کے ساتھ انہوں نے برسوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس سے ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جن پر کوئی حقیقی حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ اس سے افغانستان خود اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمزور اور غیر مستحکم صورت حال میں طالبان کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش یا صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان ان کا استعمال داعش خراساں، قومی مزاحمتی محاذ یا ان کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خطرات سے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔ طالبان ان گروہوں کو دوسرے ممالک سے سیاسی شناخت یا تجارتی معاہدوں جیسے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے ساتھ نمٹنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ان سے کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اسلام آباد کو طالبان کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت ہے تو اسے صرف اس بات تک محدود ہونا چاہیے کہ پاکستان کیا سنبھال سکتا ہے اور ایسے میں طالبان کو زیر کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان اگر خطرہ محسوس کریں گے تو اس سے وہ قدرتی طور پر ٹی ٹی پی کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ جبکہ ایک کمزور، غیر مستحکم افغانستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271606/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر، پاکستان کو طالبان سے نمٹنا بھی ہے جبکہ ایسا کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف اپنی حفاظت بھی کرنا ہے۔ ملک کو سرحدی کنٹرول، پناہ گزینوں اور تجارت جیسے مسائل پر صبر، بات چیت اور کسی حد تک دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مسائل کا خالصتاً کوئی فوجی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی بھارت تک رسائی پر زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان کو کابل کو بتانا چاہیے کہ اسے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے لیکن ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایک مناسب حکومت کی طرح کام کرے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ باغیوں جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان گروہوں کو اندرون ملک بھی کمزور کرنا ہوگا جن سے طالبان کو اپنے کام نہ آنے والی پراکسیز کے خلاف کارروائی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ طالبان پاکستان کے لیے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے پھر چاہے وہ حل کرنا کیوں نہ چاہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر مختلف فوجی پہلوؤں رکھنا والا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957653/afghanistan-dilemma"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے وزیرِ دفاع کے مطابق، ’ہمارے ہمسایے کے ساتھ پُرامن تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہر طرح کی حمایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے’۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان فریق پر بھروسہ کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک سرحد پار حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں نہ مل جائیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں امریکا کو بھی ٹھوس ضمانتیں نہیں دیں اور قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ایسی ضمانتیں نہیں دیں گے۔ میں طالبان کا وکیل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اُن کی پالیسیز کو سمجھنا چاہوں گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان اور افغانستان کی ایک مشترکہ مگر تنازعات سے بھرپور تاریخ ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے منسلک شناختیں، سرحدی تنازعات اور تقسیم شدہ قبائل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، اُن کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات کے تابع رہے ہیں اور اُن کی جنگوں کا شکار بھی بنے ہیں۔ یہی وہ تمام عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔</p>
<p>یہ سب کچھ کابل کی پاکستان میں کھلی مداخلت اور اس کے ‘پختونستان’ کے دعوؤں سے شروع ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مداخلت کو مؤثر طور پر ناکام بنایا لیکن خود کو افغانستان کے سیاسی عمل میں گھسیٹ لیے جانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>ابتدا میں اُس نے افغانستان کی اسلام پسند جماعتوں کی مدد سے اپریل 1978ء کی ثور انقلاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں اُس نے افغانوں کو ہمارے قبائلی علاقوں اور اس سے مضافات میں مہاجرین اور پھر مجاہدین کے طور پر پناہ لینے دی جنہوں نے آگے چل کر طالبان کی صورت اختیار کی۔</p>
<p>ہمسایہ ملک کے علاقائی دعووں کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے، ہم نے افغان گروہوں کو اپنے معاشرے اور سیاست میں جڑ پکڑنے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اجازت دی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان نے اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>شروع سے ہی طالبان کی سابقہ ​​فاٹا کے علاقے اور بلوچستان میں واضح موجودگی رہی ہے۔ انہوں نے نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے مذہبی مدارس کا استعمال کیا جن میں سے بیشتر میں انہوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ قبائلی علاقے افغانستان میں طالبان کی جنگ کے لیے ایک قسم کا محفوظ حمایتی گڑھ بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نتیجتاً، خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور نئے عسکریت پسندوں کے اتحادی پیدا ہوئے۔ اب یہ گروہ ہمارے علاقوں میں وہی کچھ دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طالبان نے ان کی مدد سے افغانستان میں کیا تھا۔</p>
<p>افغان عوام جنہیں پہلے مجاہدین اور بعد میں ایک بدعنوان امریکا نواز حکمران طبقے نے دھوکا دیا جبکہ پاکستان جہاں سیکیورٹی ایجنسیز کا خیال تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ کیا بہتر ہے، دونوں نے وہ افغانستان کھو دیا ہے جو کبھی موجود تھا۔</p>
<p>طالبان ہیرو یا آزادی پسند نہیں ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ نہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے بلکہ اپنے عدم استحکام اور خامیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔</p>
<p>تقسیم کا شکار طالبان قیادت ایک ایسی آبادی پر حکومت کر رہی ہے جو کہ منقسم بھی ہے جبکہ اس کی معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے اور انسانی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>طالبان نے کئی جہادی، علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی جگہ فراہم کی ہے جن کے ساتھ انہوں نے برسوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس سے ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جن پر کوئی حقیقی حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ اس سے افغانستان خود اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔</p>
<p>اس کمزور اور غیر مستحکم صورت حال میں طالبان کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش یا صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>طالبان ان کا استعمال داعش خراساں، قومی مزاحمتی محاذ یا ان کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خطرات سے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔ طالبان ان گروہوں کو دوسرے ممالک سے سیاسی شناخت یا تجارتی معاہدوں جیسے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>طالبان کے ساتھ نمٹنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ان سے کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اسلام آباد کو طالبان کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت ہے تو اسے صرف اس بات تک محدود ہونا چاہیے کہ پاکستان کیا سنبھال سکتا ہے اور ایسے میں طالبان کو زیر کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔</p>
<p>طالبان اگر خطرہ محسوس کریں گے تو اس سے وہ قدرتی طور پر ٹی ٹی پی کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ جبکہ ایک کمزور، غیر مستحکم افغانستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271606/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنیادی طور پر، پاکستان کو طالبان سے نمٹنا بھی ہے جبکہ ایسا کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف اپنی حفاظت بھی کرنا ہے۔ ملک کو سرحدی کنٹرول، پناہ گزینوں اور تجارت جیسے مسائل پر صبر، بات چیت اور کسی حد تک دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مسائل کا خالصتاً کوئی فوجی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔</p>
<p>طالبان کی بھارت تک رسائی پر زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان کو کابل کو بتانا چاہیے کہ اسے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے لیکن ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایک مناسب حکومت کی طرح کام کرے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ باغیوں جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان گروہوں کو اندرون ملک بھی کمزور کرنا ہوگا جن سے طالبان کو اپنے کام نہ آنے والی پراکسیز کے خلاف کارروائی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ طالبان پاکستان کے لیے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے پھر چاہے وہ حل کرنا کیوں نہ چاہیں۔</p>
<p>اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر مختلف فوجی پہلوؤں رکھنا والا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957653/afghanistan-dilemma"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274336</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 15:05:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (توقیر حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/271217583a6011d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/271217583a6011d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ایک آنکھ زمین ایک آسمان پر‘، بنوں پولیس عسکریت پسندوں کے جدید حربوں سے کیسے نمٹ رہی ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274280/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;جون یا یہ کہہ لیجیے کہ گزشتہ 5 ماہ سے خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کی پولیس نہ صرف زمینی سطح پر عسکریت پسندوں سے نبرد آزما ہے بلکہ انہیں فضا سے ہونے والے دشمن کے حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم اپنی ایک آنکھ بندوق کی نالی جبکہ دوسری آنکھ آسمان پر رکھتے ہیں‘، بنوں کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے تبصرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ماہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے آنے والے شرپسندوں نے پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملے کی کوشش میں متعدد مسلح کواڈ کاپٹر پروازیں لانچ کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید بتاتے ہیں، ’ایک ہی ہفتے میں 50 ایسی کوششیں کی گئیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے 200 سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں عسکریت پسندوں نے عام سطح پر دستیاب کم قیمت کے ڈرونز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حکمت-عملی-میں-تبدیلی" href="#حکمت-عملی-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکمت عملی میں تبدیلی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دہشتگرد عموماً کواڈ کاپٹر حملوں کے دوران دیسی ساختہ گولہ بارود استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پسندیدہ ہتھیار روسی ساخت کے انڈر بیرل گرینیڈ لانچرز جیسے GP-25 میں استعمال ہونے والے گرینیڈ اور چھوٹے کیلیبر کے مارٹر راؤنڈ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشتگردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے اس استعمال جن میں ہدف پر دیسی ساختہ گولہ بارود گرانے کے لیے ترمیم کیا گیا تھا، اس حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس نے اپنی تنصیبات کے اوپر جال بچھانا شروع کیے، ایک چھت نما شیلٹر نصب کیا تاکہ گولہ بارود کو ٹکرانے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنوں کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (اے آئی جی) سجاد خان نے کہا، ’ہمیں کسی بھی قریب آتی ہوئی شے کو مار گرانے کے لیے چھتوں پر اسنائپر تعینات کرنا پڑے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک موقع پر ایک ڈرون نے اُس گاڑی کا پیچھا کیا جو شہر کے نواح میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 11 پولیس اہلکار جن میں سے ایک زخمی بھی شامل تھا، کو منتقل کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 60.0000%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;"&gt;
  &lt;iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5xhghAkQ/urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen"&gt;
  &lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;a href="https:&amp;#x2F;&amp;#x2F;www.canva.com&amp;#x2F;design&amp;#x2F;DAG5xhghAkQ&amp;#x2F;urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg&amp;#x2F;view?utm_content=DAG5xhghAkQ&amp;amp;utm_campaign=designshare&amp;amp;utm_medium=embeds&amp;amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener"&gt;&lt;/a&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;اس وقت گاڑی چلانے والے بنوں پولیس کے نائب کمانڈنٹ عباد وزیر یاد کرکے بتاتے ہیں کہ ’ڈرون منڈلا رہا تھا اور پیچھا کر رہا تھا‘۔ عسکریت پسندوں نے اس تعاقب کی ویڈیو بھی بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون کا استعمال جو پاکستانی فورسز کے خلاف پہلی بار ہوا، نے دہائیوں پر محیط جنگ میں ایک نئے مرحلے اور شاید سب سے مہلک تبدیلی کو ظاہر کیا جس میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جان سے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہونے ہر مجبور ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیٹ سینسنگ کیمرے یا تھرمل امیجنگ سے لیس یہ کواڈ کاپٹرز ہدف کی نگرانی کرنے اور بم گرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دہشتگرد بھی جدید جنگی حالات سے خود کو موافق کررہے ہیں جبکہ اب وہ باقاعدہ اپنے ڈرونز کی آپریٹنگ فریکوئنسی تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے استعمال ہونے والے جیمرز سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خفیہ ایجنسی اور پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ایسی حکمتِ عملی اور معلومات کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے اور یہ مہارت صرف ایسے تجربہ کار دہشت گردوں سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جو اس بارے میں مکمل مہارت رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پیچیدہ خودکش حملوں میں استعمال کی جانے والی حکمتِ عملی بھی اسی بات کی واضح علامتیں ظاہر کرتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے خطے میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا ہے اور کہا کہ اس نوعیت کی مہارت کی تربیت کے ممکنہ ذرائع وہی ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="برتری-کھونا" href="#برتری-کھونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;برتری کھونا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تقریباً دو دہائیوں یعنی اگست 2021ء تک، اسلام آباد اور اس کی فورسز کو ہتھیاروں اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے برتری حاصل تھی۔ اگرچہ پولیس کے لیے یہ اب بھی تقریباً برابر کی جنگ تھی جہاں وہ اے کے–47 رائفلز سے لیس ہو کر قریبی فاصلے کے مقابلے لڑتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب اُس وقت بدل گیا جب امریکا نے افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد، نہ ختم ہونے والی جنگ سے تھک کر انخلا کا فیصلہ کیا اور امریکی افواج نے اپنے پیچھے &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1905209"&gt;&lt;strong&gt;7.1 ارب ڈالر مالیت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا فوجی ساز و سامان اور دفاعی آلات چھوڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2022ء کی ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sigar.mil/Portals/147/Files/Reports/Audits-and-Inspections/Evaluation/SIGAR-23-04-IP.pdf"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے چھوڑے گئے ہتھیاروں میں M-4، 16، M-24 اور M-249 جیسی 3 لاکھ بندوقیں شامل تھیں۔ 48 ہزار خصوصی آلات بھی تھے جیسے نائٹ وژن چشمے، تھرمل امیجنگ اسکوپس اور ریڈیو نگرانی کے آلات بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’امریکا نے جان بوجھ کر افغانستان کو انتشار کی حالت میں چھوڑا‘، یہ کہنا تھا ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کا جو اُس وقت کابل میں تین فریقی کمیشن کے رکن کے طور پر تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے کچھ حلقوں میں خوشیوں کا ماحول زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور یہ جلد ہی برے خواب میں بدل گیا۔ نہ صرف عسکریت پسندوں کے حملے کئی گنا بڑھ گئے بلکہ ان حملوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے میدان کا منظرنامہ ڈرامائی طور پر بدل گیا۔ نائٹ وژن اور تھرمل صلاحیتوں والے امریکی ہتھیاروں سے لیس اسنائپرز نے ایک ہزار 500 میٹر دور سے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور شہید کیا جبکہ اسٹیل کور سے 5.56 ملی میٹر کی گولیاں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ سے بھی گزر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اہلکار نے کہا، ’وہ ہمارے لوگوں کو بہت آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'  alt='  جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات &amp;mdash; تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات — تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ فوجی فراہم کردہ G-3 رائفلز جو 7.62 ملی میٹر نیٹو کیلیبر میں ہیں، امریکی M-4 اور M-16 کے مقابلے میں مؤثریت میں کمزور ثابت ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اہلکار نے مزید کہا، ’انہیں ہم پر برتری حاصل تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اموات کی تعداد بڑھنے لگی اور عسکریت پسند تھرمل امیجنگ اسکوپس سے لاعلم اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے لگے تو پالیسی سازوں نے غور کرنا شروع کیا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر پولیس افسران کے مطابق اس کے بعد غور و فکر کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس میں انٹرویوز اور بریفنگز ہوئیں جن میں اُن کے درجنوں باوردی ساتھی شامل تھے جنہوں نے دہشت گروں کے رات کے حملوں کا سامنا کیا تاکہ عسکریت پسندوں کی حکمتِ عملی اور حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو سمجھا جا سکے اور ’اپنی حکمتِ عملی کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا سکے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ دیر نہ گزری کہ یہ احساس پیدا ہو گیا کہ نہ صرف عسکریت پسندوں نے اپنی حکمتِ عملی اور طریقۂ کار بہتر کیے تھے بلکہ ان کے پاس ہتھیار بھی کہیں زیادہ بہتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم نے نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں کافی دیر کردی‘، آئی جی نے اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اہلکار کے پاس نہ صرف بہتر ہتھیاروں کی کمی تھی بلکہ اُن ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی کافی نہ تھا۔ ہتھیار حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کے لیے ایک ٹیم تیار کرنے میں وقت کی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوویت دور کی مخصوص نشانہ باز دراگونوف رائفلز جن پر بہت سے فوجی اعتماد کیا کرتے ہیں اور آج بھی انہیں استعمال کیا جاتا ہے، زیادہ درستی کے ساتھ طویل فاصلے تک دیکھنے والے تھرمل اسکوپس سے آراستہ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="توازن-میں-تبدیلی" href="#توازن-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;توازن میں تبدیلی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد فوج کی مدد سے بین الاقوامی مارکیٹ سے مختلف ہتھیاروں اور آلات کی خریداری کی کوششیں فوراً شروع کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اربوں روپے خرچ کیے گئے اور آئندہ مالی سال کے اختتام تک مزید کئی ارب روپے ہتھیاروں اور آلات کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے تاکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے اس دیوہیکل چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک خریدے گئے سسٹمز کی فہرست میں امریکی M-16 رائفلز، M-24 اسنائپر رائفلز، M-249 مشین گنز، لائٹ اسنائپر رائفلز، تھرمل ویپن سائٹس، اینٹی ڈرون گنز، درمیانی اور طویل فاصلے تک نگرانی اور حملے کے ڈرونز اور ہائی فریکوئنسی جیمرز شامل ہیں جو بکتربند گاڑیوں کو سڑک کنارے دھماکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'  alt='  خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی&amp;mdash; تصویر: ڈان نیوز ٹی وی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی— تصویر: ڈان نیوز ٹی وی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکاروں کو نشانہ بازی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے اور ڈویژن کی سطح پر اسپیشل آپریشن ٹیمز تشکیل دی جا رہی ہیں۔ بعدازاں انہیں ضلعی سطح تک توسیع دی جائے گی اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور اپنی پوزیشن کا دفاع کرنے کے لیے انہیں جدید ترین ہتھیاروں اور آلات سے لیس کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ بہتر ہتھیاروں کی دستیابی کا اثر جنگی میدان میں نظر آنے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی نے کہا، ’ہم طاقت کا توازن پلٹ رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ اینٹی ڈرون گنز کی بدولت اب اُن کے تھانوں پر کواڈ کاپٹر حملے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مہینے میں 5 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا، ایک ڈرون کو پولیس کے اسنائپر نے مار گرایا جبکہ دو دیگر کو اینٹی ڈرون گنز کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 141.4286%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;"&gt;
  &lt;iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5tn2ykyk/yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen"&gt;
  &lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;a href="https:&amp;#x2F;&amp;#x2F;www.canva.com&amp;#x2F;design&amp;#x2F;DAG5tn2ykyk&amp;#x2F;yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ&amp;#x2F;view?utm_content=DAG5tn2ykyk&amp;amp;utm_campaign=designshare&amp;amp;utm_medium=embeds&amp;amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener"&gt;Blue and White Non Profit Organization Report&lt;/a&gt; by Dawn
&lt;/raw-html&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ان علاقوں میں جہاں عسکریت پسندوں کو معلوم ہے کہ ریاستی فورسز کے پاس نائٹ وژن اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں ہیں، وہاں ڈرون اور رات کے اندھیرے میں حملوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جیسا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، یہ ایک طویل جدوجہد تھی، ایک ایسی لڑائی جس میں حوصلہ، وسائل اور حکمتِ عملی سب کی آزمائش تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہو سکتا ہے ہم انہیں مار رہے ہوں لیکن کیا ہم اصل مسئلے کو حل کر رہے ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: پاکستانی فوج کے جوان 2 ستمبر 2025ء کو بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری  (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد علاقے کو محفوظ بنا رہے ہیں — تصویر: رائٹرز&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957290/one-eye-on-the-barrel-the-other-on-the-sky-how-police-in-bannu-are-dealing-with-evolving-militant-tactics"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>جون یا یہ کہہ لیجیے کہ گزشتہ 5 ماہ سے خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کی پولیس نہ صرف زمینی سطح پر عسکریت پسندوں سے نبرد آزما ہے بلکہ انہیں فضا سے ہونے والے دشمن کے حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>’ہم اپنی ایک آنکھ بندوق کی نالی جبکہ دوسری آنکھ آسمان پر رکھتے ہیں‘، بنوں کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے تبصرہ کیا۔</p>
<p>کئی ماہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے آنے والے شرپسندوں نے پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملے کی کوشش میں متعدد مسلح کواڈ کاپٹر پروازیں لانچ کی ہیں۔</p>
<p>خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید بتاتے ہیں، ’ایک ہی ہفتے میں 50 ایسی کوششیں کی گئیں‘۔</p>
<p>بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے 200 سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں عسکریت پسندوں نے عام سطح پر دستیاب کم قیمت کے ڈرونز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔</p>
<h1><a id="حکمت-عملی-میں-تبدیلی" href="#حکمت-عملی-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکمت عملی میں تبدیلی</h1>
<p>دہشتگرد عموماً کواڈ کاپٹر حملوں کے دوران دیسی ساختہ گولہ بارود استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پسندیدہ ہتھیار روسی ساخت کے انڈر بیرل گرینیڈ لانچرز جیسے GP-25 میں استعمال ہونے والے گرینیڈ اور چھوٹے کیلیبر کے مارٹر راؤنڈ ہوتے ہیں۔</p>
<p>دہشتگردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے اس استعمال جن میں ہدف پر دیسی ساختہ گولہ بارود گرانے کے لیے ترمیم کیا گیا تھا، اس حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس نے اپنی تنصیبات کے اوپر جال بچھانا شروع کیے، ایک چھت نما شیلٹر نصب کیا تاکہ گولہ بارود کو ٹکرانے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔</p>
<p>بنوں کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (اے آئی جی) سجاد خان نے کہا، ’ہمیں کسی بھی قریب آتی ہوئی شے کو مار گرانے کے لیے چھتوں پر اسنائپر تعینات کرنا پڑے‘۔</p>
<p>ایک موقع پر ایک ڈرون نے اُس گاڑی کا پیچھا کیا جو شہر کے نواح میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 11 پولیس اہلکار جن میں سے ایک زخمی بھی شامل تھا، کو منتقل کر رہی تھی۔</p>
<raw-html>
<div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 60.0000%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;">
  <iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5xhghAkQ/urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen">
  </iframe>
</div>
<a href="https:&#x2F;&#x2F;www.canva.com&#x2F;design&#x2F;DAG5xhghAkQ&#x2F;urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg&#x2F;view?utm_content=DAG5xhghAkQ&amp;utm_campaign=designshare&amp;utm_medium=embeds&amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener"></a>
</raw-html>
<p>اس وقت گاڑی چلانے والے بنوں پولیس کے نائب کمانڈنٹ عباد وزیر یاد کرکے بتاتے ہیں کہ ’ڈرون منڈلا رہا تھا اور پیچھا کر رہا تھا‘۔ عسکریت پسندوں نے اس تعاقب کی ویڈیو بھی بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔</p>
<p>عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون کا استعمال جو پاکستانی فورسز کے خلاف پہلی بار ہوا، نے دہائیوں پر محیط جنگ میں ایک نئے مرحلے اور شاید سب سے مہلک تبدیلی کو ظاہر کیا جس میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جان سے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہونے ہر مجبور ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ہیٹ سینسنگ کیمرے یا تھرمل امیجنگ سے لیس یہ کواڈ کاپٹرز ہدف کی نگرانی کرنے اور بم گرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دہشتگرد بھی جدید جنگی حالات سے خود کو موافق کررہے ہیں جبکہ اب وہ باقاعدہ اپنے ڈرونز کی آپریٹنگ فریکوئنسی تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے استعمال ہونے والے جیمرز سے بچ سکیں۔</p>
<p>خفیہ ایجنسی اور پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ایسی حکمتِ عملی اور معلومات کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے اور یہ مہارت صرف ایسے تجربہ کار دہشت گردوں سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جو اس بارے میں مکمل مہارت رکھتے ہوں۔</p>
<p>’پیچیدہ خودکش حملوں میں استعمال کی جانے والی حکمتِ عملی بھی اسی بات کی واضح علامتیں ظاہر کرتی ہے‘۔</p>
<p>حکام نے خطے میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا ہے اور کہا کہ اس نوعیت کی مہارت کی تربیت کے ممکنہ ذرائع وہی ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="برتری-کھونا" href="#برتری-کھونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>برتری کھونا</h1>
<p>تقریباً دو دہائیوں یعنی اگست 2021ء تک، اسلام آباد اور اس کی فورسز کو ہتھیاروں اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے برتری حاصل تھی۔ اگرچہ پولیس کے لیے یہ اب بھی تقریباً برابر کی جنگ تھی جہاں وہ اے کے–47 رائفلز سے لیس ہو کر قریبی فاصلے کے مقابلے لڑتے تھے۔</p>
<p>سب اُس وقت بدل گیا جب امریکا نے افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد، نہ ختم ہونے والی جنگ سے تھک کر انخلا کا فیصلہ کیا اور امریکی افواج نے اپنے پیچھے <a href="https://www.dawn.com/news/1905209"><strong>7.1 ارب ڈالر مالیت</strong></a> کا فوجی ساز و سامان اور دفاعی آلات چھوڑے۔</p>
<p>نومبر 2022ء کی ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sigar.mil/Portals/147/Files/Reports/Audits-and-Inspections/Evaluation/SIGAR-23-04-IP.pdf"><strong>رپورٹ</strong></a> میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے چھوڑے گئے ہتھیاروں میں M-4، 16، M-24 اور M-249 جیسی 3 لاکھ بندوقیں شامل تھیں۔ 48 ہزار خصوصی آلات بھی تھے جیسے نائٹ وژن چشمے، تھرمل امیجنگ اسکوپس اور ریڈیو نگرانی کے آلات بھی شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>’امریکا نے جان بوجھ کر افغانستان کو انتشار کی حالت میں چھوڑا‘، یہ کہنا تھا ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کا جو اُس وقت کابل میں تین فریقی کمیشن کے رکن کے طور پر تعینات تھے۔</p>
<p>پاکستان کے کچھ حلقوں میں خوشیوں کا ماحول زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور یہ جلد ہی برے خواب میں بدل گیا۔ نہ صرف عسکریت پسندوں کے حملے کئی گنا بڑھ گئے بلکہ ان حملوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔</p>
<p>جنگ کے میدان کا منظرنامہ ڈرامائی طور پر بدل گیا۔ نائٹ وژن اور تھرمل صلاحیتوں والے امریکی ہتھیاروں سے لیس اسنائپرز نے ایک ہزار 500 میٹر دور سے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور شہید کیا جبکہ اسٹیل کور سے 5.56 ملی میٹر کی گولیاں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ سے بھی گزر سکتی ہیں۔</p>
<p>پولیس اہلکار نے کہا، ’وہ ہمارے لوگوں کو بہت آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'  alt='  جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات &mdash; تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات — تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں تک کہ فوجی فراہم کردہ G-3 رائفلز جو 7.62 ملی میٹر نیٹو کیلیبر میں ہیں، امریکی M-4 اور M-16 کے مقابلے میں مؤثریت میں کمزور ثابت ہوئیں۔</p>
<p>پولیس اہلکار نے مزید کہا، ’انہیں ہم پر برتری حاصل تھی‘۔</p>
<p>جب اموات کی تعداد بڑھنے لگی اور عسکریت پسند تھرمل امیجنگ اسکوپس سے لاعلم اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے لگے تو پالیسی سازوں نے غور کرنا شروع کیا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔</p>
<p>سینئر پولیس افسران کے مطابق اس کے بعد غور و فکر کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس میں انٹرویوز اور بریفنگز ہوئیں جن میں اُن کے درجنوں باوردی ساتھی شامل تھے جنہوں نے دہشت گروں کے رات کے حملوں کا سامنا کیا تاکہ عسکریت پسندوں کی حکمتِ عملی اور حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو سمجھا جا سکے اور ’اپنی حکمتِ عملی کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا سکے‘۔</p>
<p>زیادہ دیر نہ گزری کہ یہ احساس پیدا ہو گیا کہ نہ صرف عسکریت پسندوں نے اپنی حکمتِ عملی اور طریقۂ کار بہتر کیے تھے بلکہ ان کے پاس ہتھیار بھی کہیں زیادہ بہتر ہیں۔</p>
<p>’ہم نے نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں کافی دیر کردی‘، آئی جی نے اعتراف کیا۔</p>
<p>ان کے اہلکار کے پاس نہ صرف بہتر ہتھیاروں کی کمی تھی بلکہ اُن ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی کافی نہ تھا۔ ہتھیار حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کے لیے ایک ٹیم تیار کرنے میں وقت کی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش کررہے تھے۔</p>
<p>سوویت دور کی مخصوص نشانہ باز دراگونوف رائفلز جن پر بہت سے فوجی اعتماد کیا کرتے ہیں اور آج بھی انہیں استعمال کیا جاتا ہے، زیادہ درستی کے ساتھ طویل فاصلے تک دیکھنے والے تھرمل اسکوپس سے آراستہ کی گئیں۔</p>
<h1><a id="توازن-میں-تبدیلی" href="#توازن-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>توازن میں تبدیلی</h1>
<p>اس کے بعد فوج کی مدد سے بین الاقوامی مارکیٹ سے مختلف ہتھیاروں اور آلات کی خریداری کی کوششیں فوراً شروع کر دی گئیں۔</p>
<p>اربوں روپے خرچ کیے گئے اور آئندہ مالی سال کے اختتام تک مزید کئی ارب روپے ہتھیاروں اور آلات کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے تاکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے اس دیوہیکل چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p>اب تک خریدے گئے سسٹمز کی فہرست میں امریکی M-16 رائفلز، M-24 اسنائپر رائفلز، M-249 مشین گنز، لائٹ اسنائپر رائفلز، تھرمل ویپن سائٹس، اینٹی ڈرون گنز، درمیانی اور طویل فاصلے تک نگرانی اور حملے کے ڈرونز اور ہائی فریکوئنسی جیمرز شامل ہیں جو بکتربند گاڑیوں کو سڑک کنارے دھماکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'  alt='  خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی&mdash; تصویر: ڈان نیوز ٹی وی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی— تصویر: ڈان نیوز ٹی وی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اہلکاروں کو نشانہ بازی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے اور ڈویژن کی سطح پر اسپیشل آپریشن ٹیمز تشکیل دی جا رہی ہیں۔ بعدازاں انہیں ضلعی سطح تک توسیع دی جائے گی اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور اپنی پوزیشن کا دفاع کرنے کے لیے انہیں جدید ترین ہتھیاروں اور آلات سے لیس کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ بہتر ہتھیاروں کی دستیابی کا اثر جنگی میدان میں نظر آنے لگا ہے۔</p>
<p>آئی جی نے کہا، ’ہم طاقت کا توازن پلٹ رہے ہیں‘۔</p>
<p>بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ اینٹی ڈرون گنز کی بدولت اب اُن کے تھانوں پر کواڈ کاپٹر حملے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مہینے میں 5 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا، ایک ڈرون کو پولیس کے اسنائپر نے مار گرایا جبکہ دو دیگر کو اینٹی ڈرون گنز کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔</p>
<raw-html>
<div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 141.4286%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;">
  <iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5tn2ykyk/yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen">
  </iframe>
</div>
<a href="https:&#x2F;&#x2F;www.canva.com&#x2F;design&#x2F;DAG5tn2ykyk&#x2F;yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ&#x2F;view?utm_content=DAG5tn2ykyk&amp;utm_campaign=designshare&amp;utm_medium=embeds&amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener">Blue and White Non Profit Organization Report</a> by Dawn
</raw-html>
<hr />
<p>ان علاقوں میں جہاں عسکریت پسندوں کو معلوم ہے کہ ریاستی فورسز کے پاس نائٹ وژن اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں ہیں، وہاں ڈرون اور رات کے اندھیرے میں حملوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔</p>
<p>لیکن جیسا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، یہ ایک طویل جدوجہد تھی، ایک ایسی لڑائی جس میں حوصلہ، وسائل اور حکمتِ عملی سب کی آزمائش تھی۔</p>
<p>’ہو سکتا ہے ہم انہیں مار رہے ہوں لیکن کیا ہم اصل مسئلے کو حل کر رہے ہیں؟‘</p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: پاکستانی فوج کے جوان 2 ستمبر 2025ء کو بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری  (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد علاقے کو محفوظ بنا رہے ہیں — تصویر: رائٹرز</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957290/one-eye-on-the-barrel-the-other-on-the-sky-how-police-in-bannu-are-dealing-with-evolving-militant-tactics"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274280</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 13:37:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسماعیل خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/261058438629288.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/261058438629288.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تیجس پائلٹ کی موت کو عزت دینے کے لیے بھارت کو دفاعی معاہدوں میں شفافیت لانا ہوگی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274230/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ دن بھی ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زندگی کے کسی عام دن کی طرح مہارت اور بے خوفی سے بھرپور ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ دبئی ایئر شو میں دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے بھارتی فضائیہ کے تقریباً دیسی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس جو تیاری میں تاخیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنا، سے مشہور کیلسیتھنکس کرتب بازی کا مظاہرہ کریں گے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فضائی کرتب کے دوران تیجس اچانک کرتب دکھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر ایک خوفناک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/PakVanguard/status/1991855879436783667"&gt;&lt;strong&gt;آگ کے گولے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں تبدیل ہوگیا جس میں نمنش سیال کی جان چلی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274148'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بُری چیزیں عموماً اس وقت ہوتی ہیں کہ جب ان کی توقع سب سے کم ہوتی ہے۔ اس سے ٹائٹینک ذہن کے پردے پر اُبھرتا ہے۔ ایک اور مثال یوری گاگرین کی ہے جو سائنس کی دنیا کے ہیرو تھے اور 1959ء میں خلا میں جانے والے پہلے انسان تھے لیکن سوویت یونین کے خلاباز کے موت خلائی سفر کے 8 سال بعد اس وقت ہوئی کہ جب ایک ٹیسٹ فلائٹ میں وہ اپنے شریک پائلٹ کے ساتھ جس MiG-15 کو اڑا رہے تھے، وہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 ماہ میں یہ تیجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے لیکن پہلے واقعے میں پائلٹ بحفاظت طیارے سے نکل گیا تھا۔ اپولو مشن کی نمایاں تباہی اس بات کی یاددہانی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی میں بھی خامیاں ہو سکتی ہے۔ 1967ء میں اپولو-1 کے پری لانچ ٹیسٹ کے دوران لگنے والی آگ میں تینوں خلاباز ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اپولو-13 کا حادثہ خلا میں پیش آیا تھا مگر معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمنش سیال کی موت لوگوں کے نرم پہلو کو سامنے لے کر آئی کہ جب سرحد پار سے ہلاک پائلٹ کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ بہ ظاہر ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر لیکن کشیدہ فوجی تعطل کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی تھی، ہمدردی کا جذبہ کس طرح اسے پُرسکون کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خط کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sabrangindia.in/a-salute-across-the-skies-from-air-commodore-pervez-akhtar-khan/amp/"&gt;&lt;strong&gt;سبرنگ انڈیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے آن لائن شیئر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ ’بھارتی فضائیہ کے نام، اس خاندان کے نام جس نے بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں حالانکہ الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے۔ صرف ساتھی پائلٹ ہی اس درد کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’صرف ایک پائلٹ کی موت نہیں ہوئی ہے بلکہ بلندیوں کے نگہبان کو گھر بلا لیا گیا ہے۔ کہیں آج رات ایک وردی لٹک رہی ہے جسے پہنا نہیں گیا۔ کہیں ایک بچہ پوچھ رہا ہے کہ اس کا باپ کب لوٹے گا۔ کہیں آسمان خود کو پہلے سے زیادہ خالی محسوس کر رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274079'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غم زدہ خاندان میں نمنش سیال کی اہلیہ افشاں شامل ہیں جو خود بھی بھارتی فضائیہ کی افسر ہیں۔ یہ تعزیتی پیغام سرحد کے اُس پار محسوس کی جانے والی ہمدردی کا عکاس تھا۔ اس نے اُن بے ہودہ رویوں کی مذمت کی جو دونوں ممالک کے درمیان وطن پرستی کو بہانہ بنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خط بظاہر پاک فضائیہ کے سابق فوجی کی جانب سے بھیجا گیا تھا مگر اس کی صداقت کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس طرح کے جذبات بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں جو کبھی کبھار دونوں اطراف مثبت اثرات ڈالنے کا کام بھی کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا صرف 20 ماہ میں تیجس طیارے کے دوسرے حادثے کے بعد ممکنہ کاروباری نقصانات سے بہت پریشان نظر آرہا ہے۔ یہ اس نوعیت کی چیزیں ہیں جو روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا جب میں مغربی نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہا تھا اور روانڈا میں قتل عام ہورہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ ہونے والی خونریزی کی خبریں، ایک کالم کی موسم کی خبروں سے بھی زیادہ کم اہم سمجھی جاتی تھیں۔ پھر ایک دن کیگالی میں موجود اسی ایجنسی کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ قتل عام کے نتیجے میں روانڈا کی کافی کی پیداوار کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جلد ہی ردعمل سامنے آیا اور اس نمائندے کو عوامی طور پر سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے مشہور فضائی ہیروز، ریڈ ایروز کئی فضائی حادثات کا شکار ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سنا کہ ہاک T1 طیارے نے مالی نقصان اٹھایا ہو؟ ریڈ ایروز نے 2011ء میں فلائٹ لیفٹیننٹ جون ایگنگ کو فضائی حادثے میں کھو دیا۔ جون ایگنگ کا ہاک T1 طیارہ بورنماؤتھ ایئر فیسٹیول میں کرتب کے مظاہرہ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا اور تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ جی-فورس کی کمزوری ممکنہ طور پر حادثے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قیاس بھی ہے کہ نمنش سیال کے ساتھ بھی اسی طرح کی رولر کوسٹر نما جسمانی دباؤ کی کیفیت پیش آئی ہو جو زمین کی کشش کے خلاف تیز رفتار حرکت کے ساتھ آتی ہے۔ کارپورل جوناتھن بیلس 2018ء میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا طیارہ RAF ویلی سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک انجن ناکامی کے دوران حادثے کا شکار ہوا جبکہ کو-پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈیوڈ اسٹارک بحفاظت ایجیکٹ کر گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی وائر نے بھارت کو دفاعی پیداوار اور غیرملکی خریداروں کو ہارڈویئر کی فروخت میں درپیش مسائل پر ایک تشویش ناک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thewire.in/security/dubai-tejas-crash-more-than-pr-embarrassment-hal-credibility-gap"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; شائع کی۔ معتبر دفاعی تجزیہ کار راہول بیڈی نے لکھا، ’تیجس کا حادثہ ناگزیر طور پر ایک پرانی تباہ کُن برآمدات کی مہم کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ جب 2009ء-2008ء میں 7 دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹرز (AHLs) ایکواڈور کو 40 کروڑ 25 لاکھ ڈالر میں فروخت کیے گئے جن میں سے 4 گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ان حادثات نے بلآخر ایکواڈور ایئر فورس کو مجبور کیا کہ وہ اکتوبر 2015ء میں HAL کے ساتھ ALH معاہدہ ختم کر دے جس سے بھارت کے ایک مقامی فوجی ساز و سامان کے پلیٹ فارم کی پہلی بڑی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے تو نمنش سیال کی موت کو عزت دینے کا ایک بامعنی طریقہ یہ ہوگا کہ بھارت ہتھیاروں کے سودوں میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرے جسے بھارتی حکومتیں اکثر خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے بجائے نمنش سیال کی موت، کسی کو قصوروار ٹھہرانے کی دوڑ کا سبب بنی ہے۔ سرکاری تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں لیکن بھارتی چینلز پر قوم پرست تجزیہ کار امریکا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے مبینہ طور پر تیجس میں استعمال کے لیے کم معیار کے انجن بھارت کو فروخت کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانیت کی سطح پر نمنش سیال کی موت اور انہیں پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ذاتی روابط دونوں ممالک کے لیے ایک مہربان، دوستانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔ بھارتی پائلٹ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصد سے لکھے گئے خط کا بنیادی پیغام یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957243/decency-knows-no-passport"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ دن بھی ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زندگی کے کسی عام دن کی طرح مہارت اور بے خوفی سے بھرپور ہونا تھا۔</p>
<p>اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ دبئی ایئر شو میں دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے بھارتی فضائیہ کے تقریباً دیسی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس جو تیاری میں تاخیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنا، سے مشہور کیلسیتھنکس کرتب بازی کا مظاہرہ کریں گے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔</p>
<p>ایک فضائی کرتب کے دوران تیجس اچانک کرتب دکھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر ایک خوفناک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/PakVanguard/status/1991855879436783667"><strong>آگ کے گولے</strong></a> میں تبدیل ہوگیا جس میں نمنش سیال کی جان چلی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274148'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بُری چیزیں عموماً اس وقت ہوتی ہیں کہ جب ان کی توقع سب سے کم ہوتی ہے۔ اس سے ٹائٹینک ذہن کے پردے پر اُبھرتا ہے۔ ایک اور مثال یوری گاگرین کی ہے جو سائنس کی دنیا کے ہیرو تھے اور 1959ء میں خلا میں جانے والے پہلے انسان تھے لیکن سوویت یونین کے خلاباز کے موت خلائی سفر کے 8 سال بعد اس وقت ہوئی کہ جب ایک ٹیسٹ فلائٹ میں وہ اپنے شریک پائلٹ کے ساتھ جس MiG-15 کو اڑا رہے تھے، وہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>20 ماہ میں یہ تیجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے لیکن پہلے واقعے میں پائلٹ بحفاظت طیارے سے نکل گیا تھا۔ اپولو مشن کی نمایاں تباہی اس بات کی یاددہانی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی میں بھی خامیاں ہو سکتی ہے۔ 1967ء میں اپولو-1 کے پری لانچ ٹیسٹ کے دوران لگنے والی آگ میں تینوں خلاباز ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اپولو-13 کا حادثہ خلا میں پیش آیا تھا مگر معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>نمنش سیال کی موت لوگوں کے نرم پہلو کو سامنے لے کر آئی کہ جب سرحد پار سے ہلاک پائلٹ کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ بہ ظاہر ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر لیکن کشیدہ فوجی تعطل کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی تھی، ہمدردی کا جذبہ کس طرح اسے پُرسکون کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس خط کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sabrangindia.in/a-salute-across-the-skies-from-air-commodore-pervez-akhtar-khan/amp/"><strong>سبرنگ انڈیا</strong></a> نے آن لائن شیئر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ ’بھارتی فضائیہ کے نام، اس خاندان کے نام جس نے بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں حالانکہ الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے۔ صرف ساتھی پائلٹ ہی اس درد کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں۔</p>
<p>’صرف ایک پائلٹ کی موت نہیں ہوئی ہے بلکہ بلندیوں کے نگہبان کو گھر بلا لیا گیا ہے۔ کہیں آج رات ایک وردی لٹک رہی ہے جسے پہنا نہیں گیا۔ کہیں ایک بچہ پوچھ رہا ہے کہ اس کا باپ کب لوٹے گا۔ کہیں آسمان خود کو پہلے سے زیادہ خالی محسوس کر رہا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274079'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>غم زدہ خاندان میں نمنش سیال کی اہلیہ افشاں شامل ہیں جو خود بھی بھارتی فضائیہ کی افسر ہیں۔ یہ تعزیتی پیغام سرحد کے اُس پار محسوس کی جانے والی ہمدردی کا عکاس تھا۔ اس نے اُن بے ہودہ رویوں کی مذمت کی جو دونوں ممالک کے درمیان وطن پرستی کو بہانہ بنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ خط بظاہر پاک فضائیہ کے سابق فوجی کی جانب سے بھیجا گیا تھا مگر اس کی صداقت کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس طرح کے جذبات بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں جو کبھی کبھار دونوں اطراف مثبت اثرات ڈالنے کا کام بھی کر جاتے ہیں۔</p>
<p>بھارتی میڈیا صرف 20 ماہ میں تیجس طیارے کے دوسرے حادثے کے بعد ممکنہ کاروباری نقصانات سے بہت پریشان نظر آرہا ہے۔ یہ اس نوعیت کی چیزیں ہیں جو روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا جب میں مغربی نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہا تھا اور روانڈا میں قتل عام ہورہا تھا۔</p>
<p>روزانہ ہونے والی خونریزی کی خبریں، ایک کالم کی موسم کی خبروں سے بھی زیادہ کم اہم سمجھی جاتی تھیں۔ پھر ایک دن کیگالی میں موجود اسی ایجنسی کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ قتل عام کے نتیجے میں روانڈا کی کافی کی پیداوار کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جلد ہی ردعمل سامنے آیا اور اس نمائندے کو عوامی طور پر سراہا گیا۔</p>
<p>برطانیہ کے مشہور فضائی ہیروز، ریڈ ایروز کئی فضائی حادثات کا شکار ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سنا کہ ہاک T1 طیارے نے مالی نقصان اٹھایا ہو؟ ریڈ ایروز نے 2011ء میں فلائٹ لیفٹیننٹ جون ایگنگ کو فضائی حادثے میں کھو دیا۔ جون ایگنگ کا ہاک T1 طیارہ بورنماؤتھ ایئر فیسٹیول میں کرتب کے مظاہرہ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا اور تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ جی-فورس کی کمزوری ممکنہ طور پر حادثے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>یہ قیاس بھی ہے کہ نمنش سیال کے ساتھ بھی اسی طرح کی رولر کوسٹر نما جسمانی دباؤ کی کیفیت پیش آئی ہو جو زمین کی کشش کے خلاف تیز رفتار حرکت کے ساتھ آتی ہے۔ کارپورل جوناتھن بیلس 2018ء میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا طیارہ RAF ویلی سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک انجن ناکامی کے دوران حادثے کا شکار ہوا جبکہ کو-پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈیوڈ اسٹارک بحفاظت ایجیکٹ کر گئے تھے۔</p>
<p>دی وائر نے بھارت کو دفاعی پیداوار اور غیرملکی خریداروں کو ہارڈویئر کی فروخت میں درپیش مسائل پر ایک تشویش ناک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thewire.in/security/dubai-tejas-crash-more-than-pr-embarrassment-hal-credibility-gap"><strong>رپورٹ</strong></a> شائع کی۔ معتبر دفاعی تجزیہ کار راہول بیڈی نے لکھا، ’تیجس کا حادثہ ناگزیر طور پر ایک پرانی تباہ کُن برآمدات کی مہم کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ جب 2009ء-2008ء میں 7 دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹرز (AHLs) ایکواڈور کو 40 کروڑ 25 لاکھ ڈالر میں فروخت کیے گئے جن میں سے 4 گر گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’ان حادثات نے بلآخر ایکواڈور ایئر فورس کو مجبور کیا کہ وہ اکتوبر 2015ء میں HAL کے ساتھ ALH معاہدہ ختم کر دے جس سے بھارت کے ایک مقامی فوجی ساز و سامان کے پلیٹ فارم کی پہلی بڑی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچا‘۔</p>
<p>اگر واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے تو نمنش سیال کی موت کو عزت دینے کا ایک بامعنی طریقہ یہ ہوگا کہ بھارت ہتھیاروں کے سودوں میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرے جسے بھارتی حکومتیں اکثر خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔</p>
<p>تحقیقات کے بجائے نمنش سیال کی موت، کسی کو قصوروار ٹھہرانے کی دوڑ کا سبب بنی ہے۔ سرکاری تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں لیکن بھارتی چینلز پر قوم پرست تجزیہ کار امریکا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے مبینہ طور پر تیجس میں استعمال کے لیے کم معیار کے انجن بھارت کو فروخت کیے۔</p>
<p>انسانیت کی سطح پر نمنش سیال کی موت اور انہیں پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ذاتی روابط دونوں ممالک کے لیے ایک مہربان، دوستانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔ بھارتی پائلٹ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصد سے لکھے گئے خط کا بنیادی پیغام یہی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957243/decency-knows-no-passport"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274230</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 13:39:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/25124102ad73794.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/25124102ad73794.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
