<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Columnist</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 22 May 2026 15:58:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 22 May 2026 15:58:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب کیوں ہو گئے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275060/ausat-amdani-mein-izafe-ke-bawajud-pakistani-pahle-se-ziada-ghareeb-kiyon-ho-gaye</link>
      <description>&lt;p&gt;یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور  تمام مسائل کی ماں  ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو فوری طور پر  مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔</p>
<p>سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔</p>
<p>لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔</p>
<p>اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔</p>
<p>یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔</p>
<p>شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟</p>
<p>اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔</p>
<p>تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور  تمام مسائل کی ماں  ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔</p>
<p>پاکستان کو فوری طور پر  مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔</p>
<p>جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275060</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:43:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظفر مرزامفتاح اسمٰعیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091440003be2723.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091440003be2723.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی کب تک خسارے میں رہے گی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275032/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275007'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135 ارب روپے میں سے صرف 7.5 فیصد رقم پیشگی ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے 75 فیصد حصص حاصل کر لیتا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ پی آئی اے میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا ہے، اس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے اور اس کے بدلے حصص ریاست کے پاس رہنے چاہئیں۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے خریدار کو مکمل 45 ارب روپے بغیر کسی رعایت کے ادا کرنا ہوں گے۔ یوں اگر وہ ایسا کرے تو مجموعی طور پر صرف 55 ارب روپے ادا کر کے تقریباً 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی میں ادارے کی قدر 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔ منطقی طور پر اسے صرف ایک تہائی حصص دیے جاتے اور باقی ریاست کے پاس رہنے چاہئیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ بولی سے قبل جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا اور بظاہر فروخت کے بعد سامنے آیا۔ عوامی نقصان اور غیر شفاف عمل کے پیش نظر یہ کہنا کہ پی آئی اے کے بدلے جو کچھ ملا وہ کافی ہے، درحقیقت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا میں کسی بھی ایسے معاہدے میں ایسی عجیب شرائط دیکھنے میں نہیں آئیں۔ طنزیہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پی آئی اے کو OLX پر بیچنے سے زیادہ رقم مل جاتی!&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے اپنے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا اور جو ملکی فضائی نظام میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کی دہائی میں بھی اس پر سستے داموں فروخت کے الزامات لگے تھے۔ لیکن خریداروں کو بھی ایک قومی اثاثے پر ایسا ناقص معاہدہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ یہی بات فوجی فرٹیلائزر کے معاملے پر بھی صادق آتی ہے، جس کے بارے میں بعض حلقے کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بولی سے الگ ہوئی تاکہ بعد میں اثر و رسوخ کے ذریعے کسی فاتح کے ساتھ شامل ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے متنازع مینڈیٹ اور وسیع تر ادارہ جاتی کردار نے اس سودے کو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے مزید قابلِ بحث بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداروں کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے اور نہ عالمی سطح کی مہارت۔ ایئر انڈیا کا خریدار ٹاٹا گروپ تھا، جس نے 1930 کی دہائی میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح کا ایک تجربہ کار گروپ ہے۔ کیا پی آئی اے کے خریدار اسے عالمی ادارے کے طور پر چلا سکیں گے؟ انہیں عملے کی چھانٹی، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، اس کے باوجود ان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقصان پی آئی اے کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہوچکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کی بنا پر؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی نجکاریوں میں مسائل کی بھرمار رہی۔ کم قیمت فروخت، بعد ازاں خراب کارکردگی، اجارہ داریاں، غیر شفاف سودے، مہنگی پیداوار اور بڑے پیمانے پر عملے کی برطرفیاں۔ کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کا کاروبار میں کوئی کام نہیں لیکن ریاست کو یہ بتانا بھی کاروباری طبقے کا کام نہیں۔ ریاست کو اُن شعبوں میں کاروبار کرنے کا پورا حق ہے جہاں نجی شعبہ بہتر طور پر کام نہیں کر سکتا، مثلاً اسٹریٹجک یا عوام دوست شعبے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسلسل مسائل اور نجی شعبے کی محدود انتظامی و مالی صلاحیت کے پیش نظر دیگر آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جیسے خودمختار پیشہ ور بورڈز، صرف انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملازمین کی ملکیت والے ادارے، ادارے کو ختم کرنا یا حصص کی عوامی فروخت۔ ہر بیمار ادارے کے لیے بہترین راستہ واضح معیار اور شفاف عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری صرف اُن چھوٹے اداروں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جن کی کوئی قومی یا اسٹریٹجک اہمیت نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سودے کے حامی کہتے ہیں کہ نجکاری سے پی آئی اے درست ہو جائے گی، دیگر سرکاری اداروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسے خوش نما دعووں کو احتیاط سے پرکھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں دیگر راستے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔</p>
<p>یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275007'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔</p>
<p>مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135 ارب روپے میں سے صرف 7.5 فیصد رقم پیشگی ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے 75 فیصد حصص حاصل کر لیتا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ پی آئی اے میں کی جائے گی۔</p>
<p>چونکہ یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا ہے، اس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے اور اس کے بدلے حصص ریاست کے پاس رہنے چاہئیں۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے خریدار کو مکمل 45 ارب روپے بغیر کسی رعایت کے ادا کرنا ہوں گے۔ یوں اگر وہ ایسا کرے تو مجموعی طور پر صرف 55 ارب روپے ادا کر کے تقریباً 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی میں ادارے کی قدر 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔ منطقی طور پر اسے صرف ایک تہائی حصص دیے جاتے اور باقی ریاست کے پاس رہنے چاہئیں تھے۔</p>
<p>یہ معاملہ بولی سے قبل جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا اور بظاہر فروخت کے بعد سامنے آیا۔ عوامی نقصان اور غیر شفاف عمل کے پیش نظر یہ کہنا کہ پی آئی اے کے بدلے جو کچھ ملا وہ کافی ہے، درحقیقت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا میں کسی بھی ایسے معاہدے میں ایسی عجیب شرائط دیکھنے میں نہیں آئیں۔ طنزیہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پی آئی اے کو OLX پر بیچنے سے زیادہ رقم مل جاتی!</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے اپنے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا اور جو ملکی فضائی نظام میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>1990 کی دہائی میں بھی اس پر سستے داموں فروخت کے الزامات لگے تھے۔ لیکن خریداروں کو بھی ایک قومی اثاثے پر ایسا ناقص معاہدہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ یہی بات فوجی فرٹیلائزر کے معاملے پر بھی صادق آتی ہے، جس کے بارے میں بعض حلقے کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بولی سے الگ ہوئی تاکہ بعد میں اثر و رسوخ کے ذریعے کسی فاتح کے ساتھ شامل ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے متنازع مینڈیٹ اور وسیع تر ادارہ جاتی کردار نے اس سودے کو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے مزید قابلِ بحث بنا دیا ہے۔</p>
<p>خریداروں کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے اور نہ عالمی سطح کی مہارت۔ ایئر انڈیا کا خریدار ٹاٹا گروپ تھا، جس نے 1930 کی دہائی میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح کا ایک تجربہ کار گروپ ہے۔ کیا پی آئی اے کے خریدار اسے عالمی ادارے کے طور پر چلا سکیں گے؟ انہیں عملے کی چھانٹی، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، اس کے باوجود ان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقصان پی آئی اے کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہوچکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کی بنا پر؟</p>
<p>ماضی کی نجکاریوں میں مسائل کی بھرمار رہی۔ کم قیمت فروخت، بعد ازاں خراب کارکردگی، اجارہ داریاں، غیر شفاف سودے، مہنگی پیداوار اور بڑے پیمانے پر عملے کی برطرفیاں۔ کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کا کاروبار میں کوئی کام نہیں لیکن ریاست کو یہ بتانا بھی کاروباری طبقے کا کام نہیں۔ ریاست کو اُن شعبوں میں کاروبار کرنے کا پورا حق ہے جہاں نجی شعبہ بہتر طور پر کام نہیں کر سکتا، مثلاً اسٹریٹجک یا عوام دوست شعبے۔</p>
<p>ان مسلسل مسائل اور نجی شعبے کی محدود انتظامی و مالی صلاحیت کے پیش نظر دیگر آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جیسے خودمختار پیشہ ور بورڈز، صرف انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملازمین کی ملکیت والے ادارے، ادارے کو ختم کرنا یا حصص کی عوامی فروخت۔ ہر بیمار ادارے کے لیے بہترین راستہ واضح معیار اور شفاف عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>نجکاری صرف اُن چھوٹے اداروں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جن کی کوئی قومی یا اسٹریٹجک اہمیت نہ ہو۔</p>
<p>اس سودے کے حامی کہتے ہیں کہ نجکاری سے پی آئی اے درست ہو جائے گی، دیگر سرکاری اداروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسے خوش نما دعووں کو احتیاط سے پرکھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں دیگر راستے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275032</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 19:17:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر نیاز مرتضیٰ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06191500ce5ebd4.webp" type="image/webp" medium="image" height="736" width="1408">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06191500ce5ebd4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ایجنڈا 2026 کیا ہونا چاہیے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275021/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش باہم جڑے چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہو سکے اور ملک کو پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا کام حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایک پُرسکون اور پرامن سیاسی ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے۔ منقسم اور شدید طور پر پولرائزڈ قوم کبھی مستحکم ملک نہیں بن سکتی۔ اگرچہ باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ مشکل ہے، تاہم سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ مسلسل کشیدگی اور تصادم کو کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی صورتحال ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف ایک ایسی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے جسے وہ اب تک جائز نہیں مانتی۔ یہ ایک موقع ہے جو زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی، ایک مثبت قدم ہے جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274873/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے وقتاً فوقتاً مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، مگر اس میں سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔ اکثر ایسی پیشکشوں کے ساتھ اپوزیشن کو شیطان صفت بنا کر پیش کرنے والی زبان بھی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ پارلیمان کو محض ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنا، آئینی ترامیم کو زبردستی منظور کرا کے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اپوزیشن و اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن حکومت کے جمہوریت سے عدم احترام کو عیاں کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً سب بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے خیال سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کی ترجیح یہی دکھائی دیتی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دباؤ میں رکھے۔ فوجی ترجمان کے حالیہ بیانات اور پریس کانفرنسز، جن میں تحریک انصاف کو نشانہ بنایا گیا، ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں، جو اس بات کا اشارہ نہیں دیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں نرمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے ملک بھر میں نمایاں انتخابی حمایت حاصل ہے۔ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے یا دبانے کی کوششیں سیاسی استحکام پیدا نہیں کرے گی۔ یک طرفہ حکمرانی نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتی ہے بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی نظام کو اشتراکی بنیادوں پر چلایا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مرکز کو اپوزیشن کی زیرِ قیادت صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے خلاف۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274796/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;معاشی بحالی یقینی طور پر قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہونی چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے آئی ایم ایف بیل آؤٹ اور دیگر بیرونی وسائل کی مدد سے میکرو اکنامک استحکام میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ ایک قلیل مدتی فائدہ ہے جو غیر پائیدار عوامل پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 23 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات کے مقابلے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہیں۔ ٹیکس نظام، اخراجات اور توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات تاحال مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو سکیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ سامنے نہیں آیا جو پاکستان کو کمزور معاشی نمو، کم بچت و سرمایہ کاری، بلند خساروں اور بڑھتے قرضوں کے جال سے نکال سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری، بشمول غیر ملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کارآمد نہیں۔ قرضوں پر مبنی وقتی معاشی بہتری پائیدار نہیں ہو سکتی۔ جب تک یہ حکمتِ عملی تبدیل نہیں ہوتی، استحکام سے ترقی کی جانب سفر ممکن نہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک نیا معاشی منصوبہ تشکیل دینا ہوگا جو ساختی مسائل کو مؤخر کرنے کے بجائے حل کرے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے کمزور معاشی نمو کی ایماندارانہ تشخیص ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کو قومی ایجنڈے میں اعلیٰ ترجیح ملنی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہو رہا، حالانکہ ملک کی ترقی کے امکانات انسانی سرمائے میں کم سرمایہ کاری کے باعث شدید طور پر محدود ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پاکستان ایک سنگین انسانی ترقی کے بحران سے دوچار ہے، جس کا اظہار خواندگی، تعلیم، صحت، غربت اور صنفی عدم مساوات سمیت تقریباً تمام اشاریوں میں بگاڑ کی صورت میں ہو رہا ہے۔20 ملین سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک قومی المیہ ہے۔ خواندگی کی شرح 60 فیصد پر جمود کا شکار ہے، یعنی 40 فیصد آبادی ناخواندہ ہے اور اس سطح کی ناخواندگی کے ساتھ معاشی ترقی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274782/political-leaders-traitor-weakens-national-security'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274782"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;غربت کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی بینک کے مطابق یہ 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صحت کے اشاریے بھی جنوبی ایشیا کے بدترین اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ غذائی قلت اور غربت کا ایک سنگین نتیجہ بچوں میں قد کی کمی ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچے اس مسئلے کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبادی میں بے قابو اضافہ اور اس اہم مسئلے پر حکومتی عدم توجہی انسانی ترقی کے بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ سالانہ تقریباً 2.5 فیصد آبادی بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہر سال قریباً 60 لاکھ بچے آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، جو وسائل، انفرااسٹرکچر، روزگار، صحت اور تعلیم پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں فوری طور پر درکار ہیں۔ خطے کے تقریباً تمام ممالک نے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیاں کامیابی سے نافذ کی ہیں، مگر پاکستان اب تک ناکام رہا ہے۔ اگر جامع آبادی کنٹرول پالیسی نہ اپنائی گئی تو ملک ایک بڑے آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اَن پڑھ اور بے روزگار نوجوان سماجی و سیاسی عدم استحکام کو جنم دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنا بھی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ گزشتہ برس شدت پسند تشدد میں اضافہ ہوا اور دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں محض فوجی کارروائیوں پر انحصار نہ ہو بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی اقدامات اور مقامی برادری کی شمولیت بھی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام چیلنجز سیاسی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے تنگ نظری پر مبنی مفادات سے بالاتر ہو کر ان مسائل سے نمٹ سکیں گے جو ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش باہم جڑے چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہو سکے اور ملک کو پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔</p>
<p>سب سے پہلا کام حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایک پُرسکون اور پرامن سیاسی ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے۔ منقسم اور شدید طور پر پولرائزڈ قوم کبھی مستحکم ملک نہیں بن سکتی۔ اگرچہ باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ مشکل ہے، تاہم سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ مسلسل کشیدگی اور تصادم کو کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی صورتحال ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر رہی ہے۔</p>
<p>تحریک انصاف ایک ایسی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے جسے وہ اب تک جائز نہیں مانتی۔ یہ ایک موقع ہے جو زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی، ایک مثبت قدم ہے جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274873/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکومت نے وقتاً فوقتاً مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، مگر اس میں سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔ اکثر ایسی پیشکشوں کے ساتھ اپوزیشن کو شیطان صفت بنا کر پیش کرنے والی زبان بھی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ پارلیمان کو محض ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنا، آئینی ترامیم کو زبردستی منظور کرا کے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اپوزیشن و اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن حکومت کے جمہوریت سے عدم احترام کو عیاں کرتا ہے۔</p>
<p>یقیناً سب بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے خیال سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کی ترجیح یہی دکھائی دیتی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دباؤ میں رکھے۔ فوجی ترجمان کے حالیہ بیانات اور پریس کانفرنسز، جن میں تحریک انصاف کو نشانہ بنایا گیا، ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں، جو اس بات کا اشارہ نہیں دیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں نرمی آئی ہے۔</p>
<p>اپوزیشن معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے ملک بھر میں نمایاں انتخابی حمایت حاصل ہے۔ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے یا دبانے کی کوششیں سیاسی استحکام پیدا نہیں کرے گی۔ یک طرفہ حکمرانی نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتی ہے بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی نظام کو اشتراکی بنیادوں پر چلایا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مرکز کو اپوزیشن کی زیرِ قیادت صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے خلاف۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274796/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>معاشی بحالی یقینی طور پر قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہونی چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے آئی ایم ایف بیل آؤٹ اور دیگر بیرونی وسائل کی مدد سے میکرو اکنامک استحکام میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ ایک قلیل مدتی فائدہ ہے جو غیر پائیدار عوامل پر مبنی ہے۔</p>
<p>قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 23 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات کے مقابلے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہیں۔ ٹیکس نظام، اخراجات اور توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات تاحال مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو سکیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔</p>
<p>ابھی تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ سامنے نہیں آیا جو پاکستان کو کمزور معاشی نمو، کم بچت و سرمایہ کاری، بلند خساروں اور بڑھتے قرضوں کے جال سے نکال سکے۔</p>
<p>سرمایہ کاری، بشمول غیر ملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کارآمد نہیں۔ قرضوں پر مبنی وقتی معاشی بہتری پائیدار نہیں ہو سکتی۔ جب تک یہ حکمتِ عملی تبدیل نہیں ہوتی، استحکام سے ترقی کی جانب سفر ممکن نہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک نیا معاشی منصوبہ تشکیل دینا ہوگا جو ساختی مسائل کو مؤخر کرنے کے بجائے حل کرے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے کمزور معاشی نمو کی ایماندارانہ تشخیص ناگزیر ہے۔</p>
<p>انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کو قومی ایجنڈے میں اعلیٰ ترجیح ملنی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہو رہا، حالانکہ ملک کی ترقی کے امکانات انسانی سرمائے میں کم سرمایہ کاری کے باعث شدید طور پر محدود ہو چکے ہیں۔</p>
<p>آج پاکستان ایک سنگین انسانی ترقی کے بحران سے دوچار ہے، جس کا اظہار خواندگی، تعلیم، صحت، غربت اور صنفی عدم مساوات سمیت تقریباً تمام اشاریوں میں بگاڑ کی صورت میں ہو رہا ہے۔20 ملین سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک قومی المیہ ہے۔ خواندگی کی شرح 60 فیصد پر جمود کا شکار ہے، یعنی 40 فیصد آبادی ناخواندہ ہے اور اس سطح کی ناخواندگی کے ساتھ معاشی ترقی ممکن نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274782/political-leaders-traitor-weakens-national-security'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274782"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>غربت کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی بینک کے مطابق یہ 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صحت کے اشاریے بھی جنوبی ایشیا کے بدترین اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ غذائی قلت اور غربت کا ایک سنگین نتیجہ بچوں میں قد کی کمی ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچے اس مسئلے کا شکار ہیں۔</p>
<p>آبادی میں بے قابو اضافہ اور اس اہم مسئلے پر حکومتی عدم توجہی انسانی ترقی کے بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ سالانہ تقریباً 2.5 فیصد آبادی بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہر سال قریباً 60 لاکھ بچے آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، جو وسائل، انفرااسٹرکچر، روزگار، صحت اور تعلیم پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں فوری طور پر درکار ہیں۔ خطے کے تقریباً تمام ممالک نے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیاں کامیابی سے نافذ کی ہیں، مگر پاکستان اب تک ناکام رہا ہے۔ اگر جامع آبادی کنٹرول پالیسی نہ اپنائی گئی تو ملک ایک بڑے آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اَن پڑھ اور بے روزگار نوجوان سماجی و سیاسی عدم استحکام کو جنم دیں گے۔</p>
<p>دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنا بھی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ گزشتہ برس شدت پسند تشدد میں اضافہ ہوا اور دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں محض فوجی کارروائیوں پر انحصار نہ ہو بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی اقدامات اور مقامی برادری کی شمولیت بھی شامل ہو۔</p>
<p>یہ تمام چیلنجز سیاسی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے تنگ نظری پر مبنی مفادات سے بالاتر ہو کر ان مسائل سے نمٹ سکیں گے جو ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275021</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 12:50:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملیحہ لودھی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0517384545ab82e.webp" type="image/webp" medium="image" height="736" width="1408">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0517384545ab82e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور کی سڑکوں پر روایت اور خوف کو چیلنج کرتی خواتین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274893/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب سوشل میڈیا انفلوئنسر صبا نے پہلی بار پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانا شروع کی تو یہ منظر دیکھتے ہی لوگوں کا ردعمل فوراً سامنے آ گیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ شہر میں لوگ انہیں حیرت سے گھورتے رہے، جیسے کسی عورت کا اکیلے دو پہیوں والی سواری چلانا ایک غیر معمولی بات ہو۔ تاہم یہ توجہ ان کے حوصلے کو کم نہ کر سکی اور وہ نظریں سڑک پر جمائے آگے بڑھتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا کے مطابق خاندان کی حمایت نے انہیں یہ اعتماد دیا کہ وہ لوگوں کے ردعمل کو نظرانداز کریں اور اپنے راستے پر توجہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سڑکوں پر موٹرسائیکلیں گاڑیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم اور پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2007 سے مارچ 2025 تک 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں جبکہ اسی عرصے میں صرف 26 لاکھ گاڑیاں فروخت ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کی نویں بڑی ٹو وہیلر مارکیٹ بن چکا ہے اور 2025 میں عالمی سطح پر تیز ترین ترقی کرنے والی مارکیٹس میں شامل رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'  alt='اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا اب بھی نہایت کم ہے، خاص طور پر پشاور جیسے شہروں میں جنہیں قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے اسکوٹر پر سفر کے لیے غیر تحریری مگر سخت سماجی اصول موجود ہیں، جن کے تحت عورت خود ہینڈل نہیں پکڑ سکتی اور اگر وہ پیچھے بیٹھی ہو تو اسے ایک مخصوص انداز میں بیٹھنا ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی بھی طرزِ نشست بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" href="#منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;منظر نامہ بدل رہا ہے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;صبا جیسی خواتین جو ان روایات سے بے نیاز ہو کر سڑکوں پر نکل رہی ہیں، پشاور کے منظرنامے کو آہستہ آہستہ بدل رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شہر خواتین کے لیے اب پہلے سے زیادہ محفوظ اور قابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول ان کے فیصلے نے دیگر خواتین کو بھی حوصلہ دیا ہے اور پشاور میں اسکوٹر چلانا بے حیائی نہیں بلکہ حدود میں رہتے ہوئے ایک محفوظ عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار اس تبدیلی کی سست رفتاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق پشاور کی 47 لاکھ آبادی میں خواتین کی تعداد 23 لاکھ سے زائد ہے، مگر ٹریفک پولیس کے مطابق 2025 میں شہر میں صرف 1931 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانے والی ہر خاتون محض ایک مسافر نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب کی علامت بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی مطالعات کے مطابق خواتین کے لیے ذاتی سواری اختیار کرنا خودمختاری کی علامت ہے اور یہ صنفی حدود کو چیلنج کرتی ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ پر ہراسانی اور عدم تحفظ خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے، جس کے باعث ذاتی سواری ایک بہتر متبادل بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر پشاور کو ایک مخصوص طرز کا شہر قرار دیتے ہیں، مگر میرا مقصد یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ پشاور کی خواتین بھی دیگر شہروں کی خواتین کی طرح باصلاحیت ہیں۔ اسی لیے میں نے پہلا قدم اٹھایا اور اسکوٹی چلانا شروع کی۔ ان کے مطابق میرے پاس کار اور ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے، مگر اسکوٹی چلانا بہت آسان ہے۔ میں بغیر کسی مشکل کے میٹنگز میں جا سکتی ہوں اور روزمرہ کے کام نمٹا سکتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خودمختاری" href="#خودمختاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خودمختاری&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;جامعہ پشاور کے شعبہ عمرانیات کے لیکچرار ڈاکٹر ظفر خان کے مطابق خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا نہ صرف سماجی تبدیلی بلکہ بااختیاری کی علامت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب خواتین کا گاڑی چلانا بھی قابلِ قبول نہیں تھا، مگر اب تبدیلی آ رہی ہے۔ ذاتی سواری خواتین کو روزمرہ کے امور میں خودمختاری فراہم کرتی ہے اور مردوں پر انحصار کم کرتی ہے، خواہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑنا ہو، یونیورسٹی جانا ہو یا دیگر ضروری کام۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'  alt='لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس سے خواتین کے لیے معاشی مواقع بھی بہتر ہوتے ہیں اور محفوظ ماحول فراہم کر کے انہیں عوامی ٹرانسپورٹ پر ہراسانی سے بچایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ نقل و حرکت کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ اگر خواتین کام کر رہی ہوں تو ان کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں میں کئی خواتین کو موٹر سائیکل اور اسکوٹی چلاتے دیکھتا ہوں، اور جب میں نے پہلی بار ایک لڑکی کو موٹر سائیکل پر دیکھا تو میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ معاشرے اور حکومت دونوں کی حمایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشرہ اور حکومت ایسی سرگرمیوں میں خواتین کی حمایت کریں تو یہ دوسروں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسانی سے بچا سکتا ہے۔ محفوظ ماحول فراہم کرنے سے خواتین سماجی اور معاشی طور پر زیادہ بااختیار ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خاندانی-حمایت-کا-کردار" href="#خاندانی-حمایت-کا-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خاندانی حمایت کا کردار&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پشاور کے شہریوں نے بھی خواتین سواروں کے لیے سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ طاہر نعیم جو پشاور کے رہائشی ہیں مگر اب اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ہر ہفتے شہر آتے ہیں، کا کہنا تھا کہ خواتین کو محفوظ جگہیں ملنی چاہئیں۔ متبادل سفری ذرائع ایک اچھا موقع ہیں۔ یہ خودمختاری دیتے ہیں، دوسروں پر انحصار کم کرتے ہیں اور کم خرچ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'  alt='کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل &amp;mdash; اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل — اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی حمایت ان تبدیلیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کی مثال جامعہ پشاور کی طالبہ ہما کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بچپن میں سائیکل چلانے سے 2020 میں موٹر سائیکل چلانے تک کا سفر طے کیا، جس میں ان کے والد نے حوصلہ افزائی کی۔ ان کے مطابق اگر خاندان آپ کے ساتھ ہو تو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ خاندان میں پرورش پانے والی ہما کے والد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ان کے فیصلے میں مداخلت نہ کرے۔ ان کی حمایت نے ہما کو خودمختاری کی راہ اپنانے کی آزادی دی۔ ان کے مطابق لوگ مجھے موٹر سائیکل چلانے پر سراہتے ہیں اور یہ میرے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ میں رات کے وقت بھی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے کبھی منفی ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، البتہ پہلی بار دیکھنے پر لوگ چونک جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل چلانے سے میری زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ میں خودمختار ہوں اور کسی پر انحصار کیے بغیر کہیں بھی جا سکتی ہوں۔ ہما نے دیگر نوجوان خواتین کے لیے پیغام بھی دیا کہ موٹر سائیکل چلانا میرے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ یہ خودمختاری اور آزادی کے بارے میں ہے۔ بہت سی لڑکیاں صرف اس ڈر سے رک جاتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" href="#تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تبدیلی میں وقت لگے گا&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں مقیم صحافی جمائمہ آفریدی نے ڈان کو بتایا کہ وہ اس علاقے سے تعلق رکھنے اور یہاں کام کرنے کے باعث خواتین کو درپیش مشکلات کو سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی چیز معاشرے میں غیر مانوس ہو تو اس کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ تب ہی معمول بنے گا جب ایسی خواتین آگے آئیں اور نقل و حرکت کے بنیادی حق پر عمل کریں۔ وقت کے ساتھ لوگ عادی ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک سائیکل ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس پر کافی تنقید ہوئی، مگر اس سے لوگوں کو یہ احساس بھی ہوا کہ خواتین کو سائیکل چلانے کا حق ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمائمہ آفریدی نے کہا کہ خواتین کے سائیکل یا موٹر سائیکل چلانے پر عوامی بحث شروع کرنا ان کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ قدم اٹھانے والی خواتین کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ گھورنا، تنقید، اور یہ دعوے کہ وہ ثقافت کو خراب کر رہی ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ بہتری آئے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس کو اپنائیں تاکہ ان کی موجودگی نظر آئے اور یہ معمول بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خاموش-انقلاب" href="#خاموش-انقلاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خاموش انقلاب&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں اسکوٹی چلانے والی خواتین کی تعداد شاید اب بھی کم ہو مگر ان کی موجودگی ایک بڑے پیغام کی عکاس ہے، ایک ایسی تبدیلی جس کے ذریعے خواتین ایک ایسے شہر میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں جو آہستہ آہستہ ان کے لیے جگہ پیدا کرنا سیکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا نے ایک گہری سانس کے ساتھ کہا کہ میرا پشاور بہت خوبصورت ہے، اور یہ لڑکیوں کے لیے بہتر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ میں پشاور سے محمد اشفاق نے تعاون کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب سوشل میڈیا انفلوئنسر صبا نے پہلی بار پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانا شروع کی تو یہ منظر دیکھتے ہی لوگوں کا ردعمل فوراً سامنے آ گیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ شہر میں لوگ انہیں حیرت سے گھورتے رہے، جیسے کسی عورت کا اکیلے دو پہیوں والی سواری چلانا ایک غیر معمولی بات ہو۔ تاہم یہ توجہ ان کے حوصلے کو کم نہ کر سکی اور وہ نظریں سڑک پر جمائے آگے بڑھتی رہیں۔</p>
<p>صبا کے مطابق خاندان کی حمایت نے انہیں یہ اعتماد دیا کہ وہ لوگوں کے ردعمل کو نظرانداز کریں اور اپنے راستے پر توجہ رکھیں۔</p>
<p>پاکستان کی سڑکوں پر موٹرسائیکلیں گاڑیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم اور پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2007 سے مارچ 2025 تک 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں جبکہ اسی عرصے میں صرف 26 لاکھ گاڑیاں فروخت ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کی نویں بڑی ٹو وہیلر مارکیٹ بن چکا ہے اور 2025 میں عالمی سطح پر تیز ترین ترقی کرنے والی مارکیٹس میں شامل رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/19140500b7b3daa.webp'  alt='اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسلام آباد کی ایک سڑک پر دو خواتین موٹرسائیکل پر سوار ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure>
<p>اس کے باوجود خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا اب بھی نہایت کم ہے، خاص طور پر پشاور جیسے شہروں میں جنہیں قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے اسکوٹر پر سفر کے لیے غیر تحریری مگر سخت سماجی اصول موجود ہیں، جن کے تحت عورت خود ہینڈل نہیں پکڑ سکتی اور اگر وہ پیچھے بیٹھی ہو تو اسے ایک مخصوص انداز میں بیٹھنا ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی بھی طرزِ نشست بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔</p>
<h2><a id="منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" href="#منظر-نامہ-بدل-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>منظر نامہ بدل رہا ہے</h2>
<p>صبا جیسی خواتین جو ان روایات سے بے نیاز ہو کر سڑکوں پر نکل رہی ہیں، پشاور کے منظرنامے کو آہستہ آہستہ بدل رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شہر خواتین کے لیے اب پہلے سے زیادہ محفوظ اور قابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>ان کے بقول ان کے فیصلے نے دیگر خواتین کو بھی حوصلہ دیا ہے اور پشاور میں اسکوٹر چلانا بے حیائی نہیں بلکہ حدود میں رہتے ہوئے ایک محفوظ عمل ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار اس تبدیلی کی سست رفتاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق پشاور کی 47 لاکھ آبادی میں خواتین کی تعداد 23 لاکھ سے زائد ہے، مگر ٹریفک پولیس کے مطابق 2025 میں شہر میں صرف 1931 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں۔</p>
<p>یوں پشاور کی سڑکوں پر اسکوٹر چلانے والی ہر خاتون محض ایک مسافر نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب کی علامت بن جاتی ہے۔</p>
<p>تحقیقی مطالعات کے مطابق خواتین کے لیے ذاتی سواری اختیار کرنا خودمختاری کی علامت ہے اور یہ صنفی حدود کو چیلنج کرتی ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ پر ہراسانی اور عدم تحفظ خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے، جس کے باعث ذاتی سواری ایک بہتر متبادل بن جاتی ہے۔</p>
<p>صبا کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر پشاور کو ایک مخصوص طرز کا شہر قرار دیتے ہیں، مگر میرا مقصد یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ پشاور کی خواتین بھی دیگر شہروں کی خواتین کی طرح باصلاحیت ہیں۔ اسی لیے میں نے پہلا قدم اٹھایا اور اسکوٹی چلانا شروع کی۔ ان کے مطابق میرے پاس کار اور ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے، مگر اسکوٹی چلانا بہت آسان ہے۔ میں بغیر کسی مشکل کے میٹنگز میں جا سکتی ہوں اور روزمرہ کے کام نمٹا سکتی ہوں۔</p>
<h2><a id="خودمختاری" href="#خودمختاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خودمختاری</h2>
<p>جامعہ پشاور کے شعبہ عمرانیات کے لیکچرار ڈاکٹر ظفر خان کے مطابق خواتین کو اسکوٹر یا موٹرسائیکل چلاتے دیکھنا نہ صرف سماجی تبدیلی بلکہ بااختیاری کی علامت بھی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب خواتین کا گاڑی چلانا بھی قابلِ قبول نہیں تھا، مگر اب تبدیلی آ رہی ہے۔ ذاتی سواری خواتین کو روزمرہ کے امور میں خودمختاری فراہم کرتی ہے اور مردوں پر انحصار کم کرتی ہے، خواہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑنا ہو، یونیورسٹی جانا ہو یا دیگر ضروری کام۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/1914060315e71d2.webp'  alt='لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لاہور میں خواتین اسکوٹر پر جارہی ہیں۔ فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<p>ان کے مطابق اس سے خواتین کے لیے معاشی مواقع بھی بہتر ہوتے ہیں اور محفوظ ماحول فراہم کر کے انہیں عوامی ٹرانسپورٹ پر ہراسانی سے بچایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ نقل و حرکت کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ اگر خواتین کام کر رہی ہوں تو ان کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں میں کئی خواتین کو موٹر سائیکل اور اسکوٹی چلاتے دیکھتا ہوں، اور جب میں نے پہلی بار ایک لڑکی کو موٹر سائیکل پر دیکھا تو میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ معاشرے اور حکومت دونوں کی حمایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشرہ اور حکومت ایسی سرگرمیوں میں خواتین کی حمایت کریں تو یہ دوسروں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسانی سے بچا سکتا ہے۔ محفوظ ماحول فراہم کرنے سے خواتین سماجی اور معاشی طور پر زیادہ بااختیار ہو سکتی ہیں۔</p>
<h2><a id="خاندانی-حمایت-کا-کردار" href="#خاندانی-حمایت-کا-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خاندانی حمایت کا کردار</strong></h2>
<p>پشاور کے شہریوں نے بھی خواتین سواروں کے لیے سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ طاہر نعیم جو پشاور کے رہائشی ہیں مگر اب اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ہر ہفتے شہر آتے ہیں، کا کہنا تھا کہ خواتین کو محفوظ جگہیں ملنی چاہئیں۔ متبادل سفری ذرائع ایک اچھا موقع ہیں۔ یہ خودمختاری دیتے ہیں، دوسروں پر انحصار کم کرتے ہیں اور کم خرچ ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/17213208176db93.webp'  alt='کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل &mdash; اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کراچی میں 19 اگست 2024 کو بائیکیا کے ساتھ پارسل پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والی موٹر سائیکل سوار آمنہ سہیل — اے ایف پی</figcaption>
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی حمایت ان تبدیلیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کی مثال جامعہ پشاور کی طالبہ ہما کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بچپن میں سائیکل چلانے سے 2020 میں موٹر سائیکل چلانے تک کا سفر طے کیا، جس میں ان کے والد نے حوصلہ افزائی کی۔ ان کے مطابق اگر خاندان آپ کے ساتھ ہو تو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔</p>
<p>مشترکہ خاندان میں پرورش پانے والی ہما کے والد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ان کے فیصلے میں مداخلت نہ کرے۔ ان کی حمایت نے ہما کو خودمختاری کی راہ اپنانے کی آزادی دی۔ ان کے مطابق لوگ مجھے موٹر سائیکل چلانے پر سراہتے ہیں اور یہ میرے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ میں رات کے وقت بھی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے کبھی منفی ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، البتہ پہلی بار دیکھنے پر لوگ چونک جاتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل چلانے سے میری زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ میں خودمختار ہوں اور کسی پر انحصار کیے بغیر کہیں بھی جا سکتی ہوں۔ ہما نے دیگر نوجوان خواتین کے لیے پیغام بھی دیا کہ موٹر سائیکل چلانا میرے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ یہ خودمختاری اور آزادی کے بارے میں ہے۔ بہت سی لڑکیاں صرف اس ڈر سے رک جاتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔</p>
<h2><a id="تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" href="#تبدیلی-میں-وقت-لگے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تبدیلی میں وقت لگے گا</strong></h2>
<p>پشاور میں مقیم صحافی جمائمہ آفریدی نے ڈان کو بتایا کہ وہ اس علاقے سے تعلق رکھنے اور یہاں کام کرنے کے باعث خواتین کو درپیش مشکلات کو سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی چیز معاشرے میں غیر مانوس ہو تو اس کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ تب ہی معمول بنے گا جب ایسی خواتین آگے آئیں اور نقل و حرکت کے بنیادی حق پر عمل کریں۔ وقت کے ساتھ لوگ عادی ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک سائیکل ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس پر کافی تنقید ہوئی، مگر اس سے لوگوں کو یہ احساس بھی ہوا کہ خواتین کو سائیکل چلانے کا حق ہونا چاہیے۔</p>
<p>جمائمہ آفریدی نے کہا کہ خواتین کے سائیکل یا موٹر سائیکل چلانے پر عوامی بحث شروع کرنا ان کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ قدم اٹھانے والی خواتین کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ گھورنا، تنقید، اور یہ دعوے کہ وہ ثقافت کو خراب کر رہی ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ بہتری آئے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس کو اپنائیں تاکہ ان کی موجودگی نظر آئے اور یہ معمول بن جائے۔</p>
<h2><a id="خاموش-انقلاب" href="#خاموش-انقلاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خاموش انقلاب</strong></h2>
<p>پشاور میں اسکوٹی چلانے والی خواتین کی تعداد شاید اب بھی کم ہو مگر ان کی موجودگی ایک بڑے پیغام کی عکاس ہے، ایک ایسی تبدیلی جس کے ذریعے خواتین ایک ایسے شہر میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں جو آہستہ آہستہ ان کے لیے جگہ پیدا کرنا سیکھ رہا ہے۔</p>
<p>صبا نے ایک گہری سانس کے ساتھ کہا کہ میرا پشاور بہت خوبصورت ہے، اور یہ لڑکیوں کے لیے بہتر ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<hr />
<p>اس رپورٹ میں پشاور سے محمد اشفاق نے تعاون کیا ہے۔</p>
<hr />
<p>تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274893</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 14:59:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملائکہ ارباب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2214552812e4c09.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2214552812e4c09.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ہجوم اب سڑکوں پر نہیں، اسکرین پر بنتا ہے!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274873/</link>
      <description>&lt;p&gt;کئی دہائیوں تک پاکستان میں عوامی اجتماع ایک متوقع راستہ اختیار کرتا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں احتجاجی کال دیتیں، علما جلوسوں کا اعلان کرتے اور مزدور یونینیں مارچ منظم کرتیں۔ پولیس برسوں تک اسی طرز عمل پر انحصار کرتی رہی، قیادت سے مذاکرات، راستوں کی منصوبہ بندی اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر شدت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب ملک بھر میں ہجوم اس انداز میں منظم نہیں ہوتا جیسا ہمارے ادارے تصور کرتے ہیں۔ وہ دور گزر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ہجوم سڑک پر آنے سے بہت پہلے ایک اسمارٹ فون کے اندر تشکیل پاتا ہے۔ کوئی مختصر ویڈیو، ایڈیٹ کیا گیا کلپ، وائس نوٹ یا واٹس ایپ پر فارورڈ ہونے والی افواہ کسی بھی سیاسی ہدایت سے کہیں زیادہ تیزی سے لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پاکستان میں عوامی کو متحرک کرنے کے اصل انجن بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز جذباتی مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے غصہ، اشتعال، مظلومیت کا احساس اور مذہبی جذبات، اور انہیں تیزی سے لاکھوں افراد تک پہنچا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" href="#جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جب وائرل ہونا سیکیورٹی خطرہ بن جائے&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں تقریباً 11 ہزار 861 عوامی نظم و نسق کی کارروائیاں نمٹائی گئیں، جن میں سیاسی احتجاج، مذہبی جلوس، محرم و عاشورہ کی مجالس اور یومِ آزادی کی تقریبات شامل تھیں، جس کے بعد ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ ہجوم جسمانی طور پر بننے سے پہلے ڈیجیٹل طور پر تشکیل پاتا ہے۔ جب تک پولیس کی پہلی نفری کسی واقعے کی جگہ پہنچتی ہے، آن لائن جذباتی اشتعال پہلے ہی پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ روایتی نہیں بلکہ الگورتھم کے ذریعے پیدا ہونے والی تحریک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک نمایاں مثال گزشتہ سال پنجاب کالج برائے خواتین کے طلبہ میں پھیلنے والی جعلی زیادتی کی اطلاع تھی، جو لمحوں میں وائرل ہو گئی اور صوبے کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد کے جمع ہونے کا باعث بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور واقعے میں اکتوبر 2025 میں لاہور پریس کلب کے قریب فلسطین کے حق میں ہونے والا احتجاج ابتدا میں پُرامن رہا، مگر آن لائن اشتعال انگیز مواد اور لائیو ویڈیوز پھیلنے کے بعد پرتشدد ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ الگورتھم سے پیدا ہونے والی شدت کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270014'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیکڑوں بلکہ ہزاروں افراد نے ایک حساس عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس سے سیکیورٹی کی انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوئی۔ صورتحال کو تیزی سے کنٹرول، محدود طاقت کے استعمال، قیادت کو الگ کرنے اور منتظمین سے رابطے کے ذریعے قابو میں کیا گیا اور بعد ازاں اہم تنصیبات کو محفوظ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ تحریک مذہبی نوعیت کی ہو تو یہ اور بھی تیز اور غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کوئی مختصر خطبہ، پرانا ویڈیو کلپ یا دانستہ طور پر اس طرح ایڈٹ کیا گیا مواد جو توہین کا تاثر دے، یہ سب بجلی کی رفتار سے پھیلتے ہیں۔ کئی مواقع پر دنوں کی محنت سے ہونے والے مذاکرات صرف اس لمحے ناکام ہو گئے جب ایسا کوئی کلپ گردش میں آیا اور متوقع حد سے کئی زیادہ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محرم اور دیگر مذہبی مواقع اب ایک متوازی ڈیجیٹل میدان کے ساتھ انجام پاتے ہیں جو اکثر خود جلوس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ 2024 میں چہلم کے جلوس کے دوران پیر مکی کٹ پر اس وقت ایک معمولی فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی جب ایک چھوٹے گروہ نے طے شدہ راستے کی خلاف ورزی کی۔ غیر مجاز کراسنگ سے تلخ کلامی اور ہلکی پھلکی ہاتھا پائی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس واقعے کی سیاق و سباق سے مختلف ویڈیوز تیزی سے آن لائن پھیل گئیں، جس سے زمینی حقائق سے زیادہ بڑا خطرہ ظاہر ہونے لگا اور وسیع پیمانے پر انتشار کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ صورتحال کو فوری طور پر انتظامی گرفت اور مقامی شیعہ و سنی عمائدین سے مذاکرات کے ذریعے قابو میں کیا گیا، یوں ڈیجیٹل شدت کو سڑکوں تک پھیلنے سے روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں یومِ آزادی کے موقع پر ایک بالکل نیا رجحان سامنے آیا، جسے نمائشی بے امنی کہا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر نوجوانوں کے بڑے گروہ جو کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں نکلے اور نہ ہی انہیں نظام سے کوئی شکایت تھی، بلکہ صرف دکھائی دینے اور وائرل ہونے کی خواہش کے زیر اثر انہوں نے عجیب و غیر رویہ اپنایا۔ ان کی لائیو اسٹریمز نے خطرناک ایکشن، جارحیت اور ہراسانی کو ہوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کا پولیسنگ ماڈل اب بھی پرانے مفروضوں پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" href="#جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جدید ڈیجیٹل حکمت عملی ناگزیر&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ہم آج بھی کسی تقریب کی تیاری شرکا کی تعداد، سیاسی قیادت اور طے شدہ راستوں کو دیکھ کر کرتے ہیں۔ لیکن الگورتھم سے بننے والے ہجوم نہ قیادت کی پیروی کرتے ہیں، نہ بتدریج جمع ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا رویہ قابلِ پیش گوئی ہوتا ہے۔ ان کے محرکات نظریے سے کم اور جذبات سے زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ لفظوں میں، عوامی نظم و نسق کے مسائل اب آن لائن شروع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان کو عوامی سرگرمیوں کے ان بدلتے انداز سے نمٹنا ہے تو عوامی تحفظ کے لیے ڈیجیٹل بنیادوں پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس میں ایسے خصوصی یونٹس کا قیام شامل ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل جذبات کی نگرانی کریں، وائرل مواد کی نشاندہی کریں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ پر نظر رکھیں۔ سیف سٹی اداروں، ٹیلی کام ریگولیٹرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جو آن لائن انڈیکیٹرز اور زمینی حقائق کو جوڑ کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی کسی حد تک نظر بھی آ رہی ہے، پنجاب پولیس آرڈر دوسری ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت ایک مخصوص رائٹ مینجمنٹ یونٹ بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی احتجاج اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت اور آلات فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ قانون کے تحت حکام کو رائٹ زون قرار دینے، علاقوں کو گھیرے میں لینے، شہریوں کے انخلا اور نیک نیتی سے کارروائی کرنے والے اہلکاروں کو قانونی تحفظ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ احتجاج کے منتظمین اور اکسانے والوں کو جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانے اور تشدد یا توڑ پھوڑ پر سخت سزائیں، جن میں دس سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں، عائد کرنے کی بات کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محض نفاذ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اتنا ہی ضروری ہے کہ پیش گوئی پر مبنی تجزیات اور ’ہیٹ میپس‘ استعمال کیے جائیں، جو یہ بتا سکیں کہ آن لائن غصہ کن مقامات، شناختوں یا واقعات کے گرد جمع ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیاری طریقہ کار کو اس طرح اپ ڈیٹ کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل تحریک کو ابتدائی وارننگ سمجھا جائے، پس منظر کا شور نہیں۔ عوامی نظم کے یونٹس کو گھنٹوں نہیں بلکہ منٹوں میں ردعمل دینے کے قابل ہونا چاہیے، اس سے پہلے کہ غلط معلومات بڑے پیمانے پر تحریک میں بدل جائیں۔ یہ فوری ایکشن اس وسیع تر سیکیورٹی ماحول میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جہاں ریاست پر کنٹرول دکھانے کا دباؤ مسلسل موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" href="#روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روایتی انٹیلی جنس نظام سے آگے سوچنا ہوگا&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے ہمسایہ ممالک پر دباؤ، اور اندرونِ ملک واقعات جیسے ایبٹ آباد میں خاتون ٹیچرکے قتل سے متلق آپریشن میں ایک &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274827"&gt;&lt;strong&gt;اہم ملزم کی ہلاکت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;، اس ادارہ جاتی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بے یقینی حالات میں فیصلہ کن رویے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں عوامی نظم و نسق اگر ڈیجیٹل دور کے مطابق نہ ڈھالا گیا تو یہ محض ردعمل اور طاقت کے استعمال تک محدود ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کا مطلب اظہارِ رائے کو محدود کرنا یا اختلاف کو دبانا نہیں۔ اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ آج عوامی نظم و نسق ان قوتوں کے زیرِ اثر ہے جو روایتی انٹیلی جنس نظام کی رفتار سے بہت تیز ہیں۔ جب ویڈیو تصدیق سے پہلے پھیل جائے اور اشتعال عقل سے آگے نکل جائے تو پولیسنگ کو ڈنڈوں، رکاوٹوں اور بعد از کارروائی رپورٹس سے آگے بڑھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہجوم پہلے سے زیادہ تیزی سے بنے گا، تیزی سے بکھرے گا اور زیادہ غیر متوقع انداز میں عمل کرے گا۔ اگر ادارے خود کو نہ تبدیل کر سکے تو اگلا بڑا بحران کسی سیاسی اعلان یا مذہبی خطبے سے نہیں بلکہ کسی بارہ سیکنڈ کے کلپ سے شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی تحفظ کے لیے ریاست کو ایک سادہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔ آج ہجوم سڑک پر نہیں بلکہ ’فیڈ‘ میں جنم لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960496/algorithmic-crowd-the-changing-anatomy-of-mobs-in-pakistan"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کئی دہائیوں تک پاکستان میں عوامی اجتماع ایک متوقع راستہ اختیار کرتا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں احتجاجی کال دیتیں، علما جلوسوں کا اعلان کرتے اور مزدور یونینیں مارچ منظم کرتیں۔ پولیس برسوں تک اسی طرز عمل پر انحصار کرتی رہی، قیادت سے مذاکرات، راستوں کی منصوبہ بندی اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر شدت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔</p>
<p>لیکن اب ملک بھر میں ہجوم اس انداز میں منظم نہیں ہوتا جیسا ہمارے ادارے تصور کرتے ہیں۔ وہ دور گزر چکا ہے۔</p>
<p>آج ہجوم سڑک پر آنے سے بہت پہلے ایک اسمارٹ فون کے اندر تشکیل پاتا ہے۔ کوئی مختصر ویڈیو، ایڈیٹ کیا گیا کلپ، وائس نوٹ یا واٹس ایپ پر فارورڈ ہونے والی افواہ کسی بھی سیاسی ہدایت سے کہیں زیادہ تیزی سے لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پاکستان میں عوامی کو متحرک کرنے کے اصل انجن بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز جذباتی مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے غصہ، اشتعال، مظلومیت کا احساس اور مذہبی جذبات، اور انہیں تیزی سے لاکھوں افراد تک پہنچا دیتے ہیں۔</p>
<h2><a id="جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" href="#جب-وائرل-ہونا-سیکیورٹی-خطرہ-بن-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جب وائرل ہونا سیکیورٹی خطرہ بن جائے</strong></h2>
<p>لاہور میں تقریباً 11 ہزار 861 عوامی نظم و نسق کی کارروائیاں نمٹائی گئیں، جن میں سیاسی احتجاج، مذہبی جلوس، محرم و عاشورہ کی مجالس اور یومِ آزادی کی تقریبات شامل تھیں، جس کے بعد ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ ہجوم جسمانی طور پر بننے سے پہلے ڈیجیٹل طور پر تشکیل پاتا ہے۔ جب تک پولیس کی پہلی نفری کسی واقعے کی جگہ پہنچتی ہے، آن لائن جذباتی اشتعال پہلے ہی پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ روایتی نہیں بلکہ الگورتھم کے ذریعے پیدا ہونے والی تحریک ہے۔</p>
<p>اس کی ایک نمایاں مثال گزشتہ سال پنجاب کالج برائے خواتین کے طلبہ میں پھیلنے والی جعلی زیادتی کی اطلاع تھی، جو لمحوں میں وائرل ہو گئی اور صوبے کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد کے جمع ہونے کا باعث بنی۔</p>
<p>ایک اور واقعے میں اکتوبر 2025 میں لاہور پریس کلب کے قریب فلسطین کے حق میں ہونے والا احتجاج ابتدا میں پُرامن رہا، مگر آن لائن اشتعال انگیز مواد اور لائیو ویڈیوز پھیلنے کے بعد پرتشدد ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ الگورتھم سے پیدا ہونے والی شدت کا نتیجہ تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270014'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سیکڑوں بلکہ ہزاروں افراد نے ایک حساس عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس سے سیکیورٹی کی انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوئی۔ صورتحال کو تیزی سے کنٹرول، محدود طاقت کے استعمال، قیادت کو الگ کرنے اور منتظمین سے رابطے کے ذریعے قابو میں کیا گیا اور بعد ازاں اہم تنصیبات کو محفوظ بنایا گیا۔</p>
<p>جب یہ تحریک مذہبی نوعیت کی ہو تو یہ اور بھی تیز اور غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کوئی مختصر خطبہ، پرانا ویڈیو کلپ یا دانستہ طور پر اس طرح ایڈٹ کیا گیا مواد جو توہین کا تاثر دے، یہ سب بجلی کی رفتار سے پھیلتے ہیں۔ کئی مواقع پر دنوں کی محنت سے ہونے والے مذاکرات صرف اس لمحے ناکام ہو گئے جب ایسا کوئی کلپ گردش میں آیا اور متوقع حد سے کئی زیادہ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔</p>
<p>محرم اور دیگر مذہبی مواقع اب ایک متوازی ڈیجیٹل میدان کے ساتھ انجام پاتے ہیں جو اکثر خود جلوس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ 2024 میں چہلم کے جلوس کے دوران پیر مکی کٹ پر اس وقت ایک معمولی فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی جب ایک چھوٹے گروہ نے طے شدہ راستے کی خلاف ورزی کی۔ غیر مجاز کراسنگ سے تلخ کلامی اور ہلکی پھلکی ہاتھا پائی ہوئی۔</p>
<p>لیکن اس واقعے کی سیاق و سباق سے مختلف ویڈیوز تیزی سے آن لائن پھیل گئیں، جس سے زمینی حقائق سے زیادہ بڑا خطرہ ظاہر ہونے لگا اور وسیع پیمانے پر انتشار کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ صورتحال کو فوری طور پر انتظامی گرفت اور مقامی شیعہ و سنی عمائدین سے مذاکرات کے ذریعے قابو میں کیا گیا، یوں ڈیجیٹل شدت کو سڑکوں تک پھیلنے سے روک دیا گیا۔</p>
<p>لاہور میں یومِ آزادی کے موقع پر ایک بالکل نیا رجحان سامنے آیا، جسے نمائشی بے امنی کہا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر نوجوانوں کے بڑے گروہ جو کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں نکلے اور نہ ہی انہیں نظام سے کوئی شکایت تھی، بلکہ صرف دکھائی دینے اور وائرل ہونے کی خواہش کے زیر اثر انہوں نے عجیب و غیر رویہ اپنایا۔ ان کی لائیو اسٹریمز نے خطرناک ایکشن، جارحیت اور ہراسانی کو ہوا دی۔</p>
<p>ان تمام تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کا پولیسنگ ماڈل اب بھی پرانے مفروضوں پر قائم ہے۔</p>
<h2><a id="جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" href="#جدید-ڈیجیٹل-حکمت-عملی-ناگزیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جدید ڈیجیٹل حکمت عملی ناگزیر</strong></h2>
<p>ہم آج بھی کسی تقریب کی تیاری شرکا کی تعداد، سیاسی قیادت اور طے شدہ راستوں کو دیکھ کر کرتے ہیں۔ لیکن الگورتھم سے بننے والے ہجوم نہ قیادت کی پیروی کرتے ہیں، نہ بتدریج جمع ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا رویہ قابلِ پیش گوئی ہوتا ہے۔ ان کے محرکات نظریے سے کم اور جذبات سے زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>سادہ لفظوں میں، عوامی نظم و نسق کے مسائل اب آن لائن شروع ہوتے ہیں۔</p>
<p>اگر پاکستان کو عوامی سرگرمیوں کے ان بدلتے انداز سے نمٹنا ہے تو عوامی تحفظ کے لیے ڈیجیٹل بنیادوں پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس میں ایسے خصوصی یونٹس کا قیام شامل ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل جذبات کی نگرانی کریں، وائرل مواد کی نشاندہی کریں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ پر نظر رکھیں۔ سیف سٹی اداروں، ٹیلی کام ریگولیٹرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جو آن لائن انڈیکیٹرز اور زمینی حقائق کو جوڑ کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔</p>
<p>یہ تبدیلی کسی حد تک نظر بھی آ رہی ہے، پنجاب پولیس آرڈر دوسری ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت ایک مخصوص رائٹ مینجمنٹ یونٹ بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی احتجاج اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت اور آلات فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>مجوزہ قانون کے تحت حکام کو رائٹ زون قرار دینے، علاقوں کو گھیرے میں لینے، شہریوں کے انخلا اور نیک نیتی سے کارروائی کرنے والے اہلکاروں کو قانونی تحفظ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ احتجاج کے منتظمین اور اکسانے والوں کو جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانے اور تشدد یا توڑ پھوڑ پر سخت سزائیں، جن میں دس سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں، عائد کرنے کی بات کی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم محض نفاذ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اتنا ہی ضروری ہے کہ پیش گوئی پر مبنی تجزیات اور ’ہیٹ میپس‘ استعمال کیے جائیں، جو یہ بتا سکیں کہ آن لائن غصہ کن مقامات، شناختوں یا واقعات کے گرد جمع ہو رہا ہے۔</p>
<p>معیاری طریقہ کار کو اس طرح اپ ڈیٹ کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل تحریک کو ابتدائی وارننگ سمجھا جائے، پس منظر کا شور نہیں۔ عوامی نظم کے یونٹس کو گھنٹوں نہیں بلکہ منٹوں میں ردعمل دینے کے قابل ہونا چاہیے، اس سے پہلے کہ غلط معلومات بڑے پیمانے پر تحریک میں بدل جائیں۔ یہ فوری ایکشن اس وسیع تر سیکیورٹی ماحول میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جہاں ریاست پر کنٹرول دکھانے کا دباؤ مسلسل موجود ہے۔</p>
<h2><a id="روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" href="#روایتی-انٹیلی-جنس-نظام-سے-آگے-سوچنا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>روایتی انٹیلی جنس نظام سے آگے سوچنا ہوگا</strong></h2>
<p>سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے ہمسایہ ممالک پر دباؤ، اور اندرونِ ملک واقعات جیسے ایبٹ آباد میں خاتون ٹیچرکے قتل سے متلق آپریشن میں ایک <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274827"><strong>اہم ملزم کی ہلاکت</strong></a>، اس ادارہ جاتی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بے یقینی حالات میں فیصلہ کن رویے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں عوامی نظم و نسق اگر ڈیجیٹل دور کے مطابق نہ ڈھالا گیا تو یہ محض ردعمل اور طاقت کے استعمال تک محدود ہو جائے گا۔</p>
<p>اس سب کا مطلب اظہارِ رائے کو محدود کرنا یا اختلاف کو دبانا نہیں۔ اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ آج عوامی نظم و نسق ان قوتوں کے زیرِ اثر ہے جو روایتی انٹیلی جنس نظام کی رفتار سے بہت تیز ہیں۔ جب ویڈیو تصدیق سے پہلے پھیل جائے اور اشتعال عقل سے آگے نکل جائے تو پولیسنگ کو ڈنڈوں، رکاوٹوں اور بعد از کارروائی رپورٹس سے آگے بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہجوم پہلے سے زیادہ تیزی سے بنے گا، تیزی سے بکھرے گا اور زیادہ غیر متوقع انداز میں عمل کرے گا۔ اگر ادارے خود کو نہ تبدیل کر سکے تو اگلا بڑا بحران کسی سیاسی اعلان یا مذہبی خطبے سے نہیں بلکہ کسی بارہ سیکنڈ کے کلپ سے شروع ہوگا۔</p>
<p>عوامی تحفظ کے لیے ریاست کو ایک سادہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔ آج ہجوم سڑک پر نہیں بلکہ ’فیڈ‘ میں جنم لیتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960496/algorithmic-crowd-the-changing-anatomy-of-mobs-in-pakistan"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274873</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 16:15:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالوہاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/19151931b25ab1c.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/19151931b25ab1c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیض حمید کی سزا: ایک غیر معمولی فیصلہ یا روایتی تسلسل؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274843/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک سال سے زائد عرصے بعد گزشتہ ہفتے فیض حمید کی سزا کا اعلان کیا گیا، یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کسی کے لیے حیران کن تھا، جب گزشتہ سال ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی تو سزا تقریباً طے شدہ نظر آتی تھی۔ گزشتہ چند مہینوں میں بھی اس حوالے سے کئی لیکس سامنے آتی رہی تھیں کہ فیصلہ کسی بھی دن آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو افراد طاقت کے مراکز تک رسائی نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اس سزا کا پاکستان، اس کے ریاستی ڈھانچے اور فوج کے لیے کیا مطلب ہے۔ اسی لیے اس سزا سے متعلق چند خیالات اور سوالات پیش کیے جا رہے ہیں، جو بلاشبہ غیر معمولی ہے، کیونکہ آئی ایس آئی کی قیادت کرنے والے کسی افسر کو اس سے قبل اس کے اپنے ادارے نے کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سول اور عسکری تعلقات پیچیدہ رہے ہیں، آئی ایس آئی کے سربراہان ہمیشہ تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر سیاسی اور طاقت کے تعلقات کا نتیجہ رہا ہے، نہ کہ محض افراد کا۔ اسد درانی سے لے کر حمید گل اور احسان الحق تک، یہ سب شخصیات میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں، حالانکہ اس دور کا میڈیا آج کے مقابلے میں خاصا محدود تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دور میں شجاع پاشا آئے، جنہوں نے شاید اپنے سربراہ کے ساتھ توسیع کی روایت کو فروغ دیا۔ وہ میموگیٹ جیسے بحران میں بھی مرکزی کردار رہے، جہاں ان کا حلف نامہ تنازع اور عدم استحکام کا باعث بنا۔ اگرچہ آج انہیں زیادہ تر پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے اور مشہور لاہور جلسے کی منصوبہ بندی کرنے والے دماغ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بعد ظہیرالاسلام آئے، جن پر 2014 کے دھرنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا۔ اس دھرنے کے عروج کے دوران میڈیا میں ایسی رپورٹس آئیں کہ حکومت سے ملاقاتوں میں ان اور اس وقت کے آرمی چیف کے درمیان بے چینی پائی جاتی تھی۔ اس کے بعد رضوان اختر آئے، جنہوں نے نسبتاً خاموشی سے اپنی مدت پوری کی جبکہ ان کے ماتحت فیض حمید تمام تر توجہ کا مرکز بنے رہے اور 2018 کے انتخابات سے قبل ملک بھر میں سرگرم رہے۔ تاہم رضوان اختر بھی جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے قریب پیدا ہونے والے تنازعات سے محفوظ نہ رہ سکے، مثلاً جب ایک سینیٹر نے قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بیان دیا، جو اس وقت ابھی آرمی چیف منتخب نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فیض حمید کے کریئر میں دو ایسے ادوار آئے جب وہ غیر معمولی طور پر نمایاں رہے۔ سیاست میں مداخلت، قتل کے الزامات، دھمکیاں، میڈیا کو دبانا اور حتیٰ کہ رشوت ستانی ان پر ہر طرح کے الزامات لگے، اور اب ان میں سے بہت سی باتیں کھلے عام کہی جا رہی ہیں۔ سیاست دانوں اور صحافیوں نے ان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں اور اقدامات پر کھل کر بات کی ہے، اور یہ سب اب عوامی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے جانے کے بعد ندیم انجم بھی عوامی نظروں اور افواہوں سے زیادہ دور نہ رہ سکے۔ درحقیقت، وہ شاید واحد انٹیلی جنس سربراہ تھے جنہوں نے براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس بھی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274802'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا فیض حمید نے ایسی حدیں عبور کیں جو ناقابلِ قبول تھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے کہ آیا وہ ایک استثنیٰ تھے یا پھر انہوں نے طاقت کے استعمال کا ایک نیا معمول قائم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کا جواب اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کی سزا کی تفصیلات بہت محدود انداز میں سامنے آئی ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال، لوگوں کو نقصان پہنچانے، آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاست میں مداخلت کے الزامات ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے دو الزامات کو غالباً ٹاپ سٹی اسکینڈل سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ڈیفنس اہلکاروں کے ذریعے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو دھمکایا۔ تاہم آخری دو الزامات کے بارے میں قیاس آرائی کے سوا کچھ کہنا مشکل ہے۔ سیاست میں ان کے کن اقدامات کو غلط قرار دیا گیا اور کون سے قابلِ قبول سمجھے گئے، اس پر کوئی وضاحت نہیں، خصوصاً جب پریس ریلیز میں اشارہ دیا گیا کہ 9 مئی سے متعلق تحقیقات ابھی زیرِ التوا ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی سطح پر ان کے اقدامات پر بھرپور بحث ہو رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ کورٹ مارشل میں کن امور کو قابلِ سزا قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ مباحثہ انہیں ایک ولن کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان کی سزا مستقبل میں اسی نوعیت کی طاقت رکھنے والوں کے لیے واقعی کوئی رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272027'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تیسرا پہلو 9 مئی کا مقدمہ ہے، جس میں بظاہر مزید تحقیقات ہو سکتی ہیں، اور جس کے اثرات عمران خان تک جا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اشارے اور بیانات جاری رہیں گے، مگر حتیٰ کہ اگر ایک اور کورٹ مارشل اور پھر عمران خان کو سزا بھی ہو جائے، تب بھی 9 مئی پر بحث ختم نہیں ہوگی جب تک کہ ان مقدمات کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ کیونکہ اس صورت میں بھی یہ واضح نہیں ہوگا کہ لاہور میں ایک سینئر فوجی افسر کو 9 مئی کے فوراً بعد بغیر کورٹ مارشل کیوں ہٹایا گیا، اگر اصل ذمہ دار فیض حمید اور عمران خان ہی تھے۔ اور نہ ہی یہ وضاحت ہوگی کہ دیگر ملزمان کو عام عدالتوں میں عام پولیس اہلکاروں کی گواہی پر کیوں سزا دی گئی، اگر شواہد اتنے مضبوط تھے کہ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ایک سابق وزیرِ اعظم کو سزا دی جاسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیاتی حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کثرت سے سننے میں آ رہا ہے کہ 14 سال کی یہ سزا بعد میں کم ہو سکتی ہے۔ کیا یہ محض قیاس آرائی ہے یا کسی ٹھوس بنیاد پر؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ تاہم کچھ لوگ جنرل جاوید اقبال کے مقدمے کی مثال دیتے ہیں، جن کی سزا کم ہونے کے بعد بالآخر معافی بھی ہو گئی تھی۔ اور ان پر جاسوسی جیسے سنگین الزامات تھے، جو بظاہر سیاست میں مداخلت کے مقابلے میں زیادہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال، اگر شک کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ فیض حمید کی سزا واقعی کسی اہم موڑ کی علامت ہے یا محض ماضی کی روایتوں کا ایک اور تسلسل۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961427/after-the-trial"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک سال سے زائد عرصے بعد گزشتہ ہفتے فیض حمید کی سزا کا اعلان کیا گیا، یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کسی کے لیے حیران کن تھا، جب گزشتہ سال ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی تو سزا تقریباً طے شدہ نظر آتی تھی۔ گزشتہ چند مہینوں میں بھی اس حوالے سے کئی لیکس سامنے آتی رہی تھیں کہ فیصلہ کسی بھی دن آ سکتا ہے۔</p>
<p>جو افراد طاقت کے مراکز تک رسائی نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اس سزا کا پاکستان، اس کے ریاستی ڈھانچے اور فوج کے لیے کیا مطلب ہے۔ اسی لیے اس سزا سے متعلق چند خیالات اور سوالات پیش کیے جا رہے ہیں، جو بلاشبہ غیر معمولی ہے، کیونکہ آئی ایس آئی کی قیادت کرنے والے کسی افسر کو اس سے قبل اس کے اپنے ادارے نے کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سول اور عسکری تعلقات پیچیدہ رہے ہیں، آئی ایس آئی کے سربراہان ہمیشہ تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر سیاسی اور طاقت کے تعلقات کا نتیجہ رہا ہے، نہ کہ محض افراد کا۔ اسد درانی سے لے کر حمید گل اور احسان الحق تک، یہ سب شخصیات میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں، حالانکہ اس دور کا میڈیا آج کے مقابلے میں خاصا محدود تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ دور میں شجاع پاشا آئے، جنہوں نے شاید اپنے سربراہ کے ساتھ توسیع کی روایت کو فروغ دیا۔ وہ میموگیٹ جیسے بحران میں بھی مرکزی کردار رہے، جہاں ان کا حلف نامہ تنازع اور عدم استحکام کا باعث بنا۔ اگرچہ آج انہیں زیادہ تر پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے اور مشہور لاہور جلسے کی منصوبہ بندی کرنے والے دماغ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کے بعد ظہیرالاسلام آئے، جن پر 2014 کے دھرنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا۔ اس دھرنے کے عروج کے دوران میڈیا میں ایسی رپورٹس آئیں کہ حکومت سے ملاقاتوں میں ان اور اس وقت کے آرمی چیف کے درمیان بے چینی پائی جاتی تھی۔ اس کے بعد رضوان اختر آئے، جنہوں نے نسبتاً خاموشی سے اپنی مدت پوری کی جبکہ ان کے ماتحت فیض حمید تمام تر توجہ کا مرکز بنے رہے اور 2018 کے انتخابات سے قبل ملک بھر میں سرگرم رہے۔ تاہم رضوان اختر بھی جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے قریب پیدا ہونے والے تنازعات سے محفوظ نہ رہ سکے، مثلاً جب ایک سینیٹر نے قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بیان دیا، جو اس وقت ابھی آرمی چیف منتخب نہیں ہوئے تھے۔</p>
<p>یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فیض حمید کے کریئر میں دو ایسے ادوار آئے جب وہ غیر معمولی طور پر نمایاں رہے۔ سیاست میں مداخلت، قتل کے الزامات، دھمکیاں، میڈیا کو دبانا اور حتیٰ کہ رشوت ستانی ان پر ہر طرح کے الزامات لگے، اور اب ان میں سے بہت سی باتیں کھلے عام کہی جا رہی ہیں۔ سیاست دانوں اور صحافیوں نے ان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں اور اقدامات پر کھل کر بات کی ہے، اور یہ سب اب عوامی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے جانے کے بعد ندیم انجم بھی عوامی نظروں اور افواہوں سے زیادہ دور نہ رہ سکے۔ درحقیقت، وہ شاید واحد انٹیلی جنس سربراہ تھے جنہوں نے براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس بھی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274802'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا فیض حمید نے ایسی حدیں عبور کیں جو ناقابلِ قبول تھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے کہ آیا وہ ایک استثنیٰ تھے یا پھر انہوں نے طاقت کے استعمال کا ایک نیا معمول قائم کر دیا۔</p>
<p>اس سوال کا جواب اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کی سزا کی تفصیلات بہت محدود انداز میں سامنے آئی ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال، لوگوں کو نقصان پہنچانے، آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاست میں مداخلت کے الزامات ثابت ہوئے۔</p>
<p>پہلے دو الزامات کو غالباً ٹاپ سٹی اسکینڈل سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ڈیفنس اہلکاروں کے ذریعے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو دھمکایا۔ تاہم آخری دو الزامات کے بارے میں قیاس آرائی کے سوا کچھ کہنا مشکل ہے۔ سیاست میں ان کے کن اقدامات کو غلط قرار دیا گیا اور کون سے قابلِ قبول سمجھے گئے، اس پر کوئی وضاحت نہیں، خصوصاً جب پریس ریلیز میں اشارہ دیا گیا کہ 9 مئی سے متعلق تحقیقات ابھی زیرِ التوا ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>عوامی سطح پر ان کے اقدامات پر بھرپور بحث ہو رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ کورٹ مارشل میں کن امور کو قابلِ سزا قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ مباحثہ انہیں ایک ولن کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان کی سزا مستقبل میں اسی نوعیت کی طاقت رکھنے والوں کے لیے واقعی کوئی رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272027'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تیسرا پہلو 9 مئی کا مقدمہ ہے، جس میں بظاہر مزید تحقیقات ہو سکتی ہیں، اور جس کے اثرات عمران خان تک جا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اشارے اور بیانات جاری رہیں گے، مگر حتیٰ کہ اگر ایک اور کورٹ مارشل اور پھر عمران خان کو سزا بھی ہو جائے، تب بھی 9 مئی پر بحث ختم نہیں ہوگی جب تک کہ ان مقدمات کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ کیونکہ اس صورت میں بھی یہ واضح نہیں ہوگا کہ لاہور میں ایک سینئر فوجی افسر کو 9 مئی کے فوراً بعد بغیر کورٹ مارشل کیوں ہٹایا گیا، اگر اصل ذمہ دار فیض حمید اور عمران خان ہی تھے۔ اور نہ ہی یہ وضاحت ہوگی کہ دیگر ملزمان کو عام عدالتوں میں عام پولیس اہلکاروں کی گواہی پر کیوں سزا دی گئی، اگر شواہد اتنے مضبوط تھے کہ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ایک سابق وزیرِ اعظم کو سزا دی جاسکتی۔</p>
<p>تجزیاتی حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کثرت سے سننے میں آ رہا ہے کہ 14 سال کی یہ سزا بعد میں کم ہو سکتی ہے۔ کیا یہ محض قیاس آرائی ہے یا کسی ٹھوس بنیاد پر؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ تاہم کچھ لوگ جنرل جاوید اقبال کے مقدمے کی مثال دیتے ہیں، جن کی سزا کم ہونے کے بعد بالآخر معافی بھی ہو گئی تھی۔ اور ان پر جاسوسی جیسے سنگین الزامات تھے، جو بظاہر سیاست میں مداخلت کے مقابلے میں زیادہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>فی الحال، اگر شک کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ فیض حمید کی سزا واقعی کسی اہم موڑ کی علامت ہے یا محض ماضی کی روایتوں کا ایک اور تسلسل۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1961427/after-the-trial"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274843</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 13:37:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارفہ نور)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/16132443ae81985.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/16132443ae81985.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی عدم استحکام کے محرک: فیض حمید کی اگلی منزل کیا ہوگی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274802/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے اعلان نے ایک بار پھر ان کے مبینہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے، خصوصاً اس کے بعد جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اشارہ دیا کہ معاملہ بہت زیادہ وسیع اور سنگین نوعیت کا ہے، جس میں بعض نامعلوم سیاسی کردار بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایس پی آر کے بیان میں فیض حمید کی سزا پر توجہ مرکوز رہی، لیکن آخری پیراگراف وہ تھا جس نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں، اپنے مفادات کیلئے سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں سزا یافتہ فرد کی مداخلت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جارہا ہے‘۔ لیکن اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زبان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فیض حمید اور بعض نامعلوم سیاست دانوں کو ملک میں بے امنی پیدا کرنے کی ایک وسیع کوشش سے جوڑا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ حوالہ فوج کی جانب سے گزشتہ سال سے جاری ایسے بیانات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جن میں شکوک کا اظہار اور ان کے سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ رابطوں کی طرف اشارے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 اگست 2024 کو جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’بعض ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ان کی گرفتاری کے وقت جاری ایک اور بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کے ایکٹ کی متعدد خلاف ورزیاں ثابت ہوئی ہیں‘، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز بعد آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ فیض حمید سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، ایسے واقعات جن میں فوجی تنصیبات اور یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تحقیقات کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا ایسے اقدامات میں تعلق سامنے آیا ہے جن کا مقصد سیاسی بے چینی اور بدامنی پیدا کرنا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد واقعات ہوئے، جن میں 9 مئی 2023 کے واقعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب سیاسی مفادات کے لیے اور سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں کیا گیا، جس کی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="الزامات-اور-شکوک" href="#الزامات-اور-شکوک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;الزامات اور شکوک&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں کہ فیض حمید پر سیاسی کردار ادا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو، وہ بھی سروس کے دوران اور بعد از ریٹائرمنٹ دونوں صورتوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پہلی بار اُس وقت نمایاں ہوئے جب انہوں نے 2017 میں حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے متنازع فیض آباد معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا، جس سے کئی ہفتوں طویل دھرنا ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں انہوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم کے ’کچن کیبنٹ‘ میں بھی جگہ بنا لی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی دونوں کے کافی قریب ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی گوجرانوالہ کے جلسے میں براہِ راست الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کی برطرفی کے پسِ پردہ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے جلسے میں کہا تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جنرل فیض! یہ سب آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، اس کا جواب دینا ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کے پی ٹی آئی کی سیاست پر اثرانداز ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں عام تھیں، مگر کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1240147/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2022 میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک پی ٹی آئی رہنما انہیں سیاست میں آنے کی دعوت دیتے نظر آئے۔ تاہم سابق جنرل نے ٹی وی پر آکر واضح کیا کہ وہ دو سالہ پابندی کے بعد بھی سیاست میں نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر ان کے بھائی نجف حمید کا معاملہ سامنے آیا، جنہیں مارچ 2024 میں کرپشن اور رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جب ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے بھائی کے آئی ایس آئی چیف ہونے کے دور میں علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" href="#کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کیا 9 مئی میں کردار تھا؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال گرفتاری کے فوراً بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں “گہرے طور پر ملوث” رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا ’ریٹائرمنٹ کے بعد جو سیاسی واقعات ہوئے، ان میں فیض کا کردار تھا، وہ ایسے شخص ہیں جو طاقت رکھتے رہے ہوں اور پھر پیچھے ہٹنا پڑے تو وہ معاملات میں مداخلت کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 مئی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’قرائن اور شواہد‘ ان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر ’اسٹریٹجک ایڈوائزر‘ کا کردار ادا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا ’وہ لاجسٹکس فراہم کر سکتے تھے اور زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے رہنمائی دے سکتے تھے، اگرچہ میں سو فیصد دعویٰ نہیں کر سکتا، مگر شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایس پی آر نے کسی سیاسی جماعت یا رہنما کا نام نہیں لیا، مگر ’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ‘ جیسے بار بار استعمال ہونے والے جملے کو عام طور پر سابق وزیرِاعظم عمران خان کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے یہ نہیں بتایا کہ الگ سے جاری تحقیقات کب مکمل ہوں گی یا سابق خفیہ سربراہ کے خلاف مزید الزامات عائد کیے جائیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960623"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے اعلان نے ایک بار پھر ان کے مبینہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے، خصوصاً اس کے بعد جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اشارہ دیا کہ معاملہ بہت زیادہ وسیع اور سنگین نوعیت کا ہے، جس میں بعض نامعلوم سیاسی کردار بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اگرچہ آئی ایس پی آر کے بیان میں فیض حمید کی سزا پر توجہ مرکوز رہی، لیکن آخری پیراگراف وہ تھا جس نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا:</p>
<p>’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں، اپنے مفادات کیلئے سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں سزا یافتہ فرد کی مداخلت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جارہا ہے‘۔ لیکن اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔</p>
<p>اس زبان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فیض حمید اور بعض نامعلوم سیاست دانوں کو ملک میں بے امنی پیدا کرنے کی ایک وسیع کوشش سے جوڑا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ حوالہ فوج کی جانب سے گزشتہ سال سے جاری ایسے بیانات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جن میں شکوک کا اظہار اور ان کے سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ رابطوں کی طرف اشارے موجود تھے۔</p>
<p>15 اگست 2024 کو جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’بعض ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘</p>
<p>اسی دوران ان کی گرفتاری کے وقت جاری ایک اور بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کے ایکٹ کی متعدد خلاف ورزیاں ثابت ہوئی ہیں‘، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔</p>
<p>چند روز بعد آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ فیض حمید سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ، ایسے واقعات جن میں فوجی تنصیبات اور یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔</p>
<p>اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا تھا:</p>
<p>’تحقیقات کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا ایسے اقدامات میں تعلق سامنے آیا ہے جن کا مقصد سیاسی بے چینی اور بدامنی پیدا کرنا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد واقعات ہوئے، جن میں 9 مئی 2023 کے واقعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب سیاسی مفادات کے لیے اور سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں کیا گیا، جس کی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘</p>
<hr />
<h3><a id="الزامات-اور-شکوک" href="#الزامات-اور-شکوک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>الزامات اور شکوک</h3>
<p>یہ پہلا موقع نہیں کہ فیض حمید پر سیاسی کردار ادا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو، وہ بھی سروس کے دوران اور بعد از ریٹائرمنٹ دونوں صورتوں میں۔</p>
<p>وہ پہلی بار اُس وقت نمایاں ہوئے جب انہوں نے 2017 میں حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے متنازع فیض آباد معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا، جس سے کئی ہفتوں طویل دھرنا ختم ہوا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں انہوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم کے ’کچن کیبنٹ‘ میں بھی جگہ بنا لی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی دونوں کے کافی قریب ہو گئے تھے۔</p>
<p>2020 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی گوجرانوالہ کے جلسے میں براہِ راست الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کی برطرفی کے پسِ پردہ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید تھے۔</p>
<p>نواز شریف نے جلسے میں کہا تھا:</p>
<p>’جنرل فیض! یہ سب آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، اس کا جواب دینا ہوگا۔‘</p>
<p>اگرچہ ان کے پی ٹی آئی کی سیاست پر اثرانداز ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں عام تھیں، مگر کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1240147/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>2022 میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک پی ٹی آئی رہنما انہیں سیاست میں آنے کی دعوت دیتے نظر آئے۔ تاہم سابق جنرل نے ٹی وی پر آکر واضح کیا کہ وہ دو سالہ پابندی کے بعد بھی سیاست میں نہیں آئیں گے۔</p>
<p>پھر ان کے بھائی نجف حمید کا معاملہ سامنے آیا، جنہیں مارچ 2024 میں کرپشن اور رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جب ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔</p>
<p>بہت سوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے بھائی کے آئی ایس آئی چیف ہونے کے دور میں علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔</p>
<hr />
<h3><a id="کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" href="#کیا-9-مئی-میں-کردار-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کیا 9 مئی میں کردار تھا؟</h3>
<p>گزشتہ سال گرفتاری کے فوراً بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں “گہرے طور پر ملوث” رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا ’ریٹائرمنٹ کے بعد جو سیاسی واقعات ہوئے، ان میں فیض کا کردار تھا، وہ ایسے شخص ہیں جو طاقت رکھتے رہے ہوں اور پھر پیچھے ہٹنا پڑے تو وہ معاملات میں مداخلت کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔‘</p>
<p>9 مئی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’قرائن اور شواہد‘ ان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر ’اسٹریٹجک ایڈوائزر‘ کا کردار ادا کر رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا ’وہ لاجسٹکس فراہم کر سکتے تھے اور زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے رہنمائی دے سکتے تھے، اگرچہ میں سو فیصد دعویٰ نہیں کر سکتا، مگر شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘</p>
<p>اگرچہ آئی ایس پی آر نے کسی سیاسی جماعت یا رہنما کا نام نہیں لیا، مگر ’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ‘ جیسے بار بار استعمال ہونے والے جملے کو عام طور پر سابق وزیرِاعظم عمران خان کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>فوج نے یہ نہیں بتایا کہ الگ سے جاری تحقیقات کب مکمل ہوں گی یا سابق خفیہ سربراہ کے خلاف مزید الزامات عائد کیے جائیں گے یا نہیں۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960623"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274802</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 11:17:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/12111558495c6c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/12111558495c6c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/121112411071272.webp" type="image/webp" medium="image" height="401" width="668">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/121112411071272.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی کشمکش میں نئی شدت معاشی استحکام کے لیے نیا چیلنج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274796/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ جاری ہے جو متعدد محاذوں پر، مختلف حکمتِ عملیوں اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ داؤ پر اس ملک کی سیاست کا مستقبل لگا ہوا ہے۔ اور اس تمام صورتحال کے محرک وہ معیشت ہے جو طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت سے آغاز کریں اور پھر اُن اثرات کا جائزہ لیں جو سیاسی نظام میں پھیلتے ہیں۔ 2022 کی گرمیوں میں معیشت حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی، یہ عمل ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اس وقت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 2021 کے دوسرے نصف میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور جون 2022 تک زرمبادلہ ذخائر ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ فضا میں یہ خدشات گونج رہے تھے کہ کہیں پاکستان ’سری لنکا طرز‘ کے بحران میں نہ جا گرے۔ معیشت سے اٹھنے والی شدید بے چینی پورے معاشرے میں پھیل رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2022 میں آخری لمحے میں آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کو کھائی کے کنارے سے واپس کھینچا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسحٰق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ ذمہ داری سنبھالتے ہی پروگرام سے انحراف کیا جس کے بعد ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر جا پہنچا، یہاں تک کہ جولائی 2023 میں ایک اور ہنگامی آئی ایم ایف پروگرام نے ایک مرتبہ پھر بچا لیا۔ ایک سال میں دو بار آخری لمحے میں بچاؤ شاید ایک ریکارڈ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274513/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2023 کے بعد سے معیشت مستحکم رہی، مہنگائی ختم ہو گئی، زرمبادلہ ذخائر بڑھے اور درآمدات کے لیے کور کم از کم ڈھائی ماہ تک پہنچ گیا۔ لیکن اچھی خبریں بس یہیں تک تھیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران معیشت تو مستحکم رہی، اور بے چینی بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی، مگر اس کا ایک بھاری خمیازہ سامنے آیا۔ روزگار کے مواقع رک گئے، ترقی رک گئی اور معیشت میں ایک نئی قسم کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمود معیشت کے کچھ حصوں کو جیسے قیمتوں اور درآمدی طلب کو تو مستحکم کر دیتا ہے مگر یہی جمود سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھا دیتا ہے، متوسط طبقہ اپنی قوتِ خرید کو تیزی سے کھوتا ہے اور محنت کش طبقے کیلئے زندگی ایک کٹھن جدوجہد بنتی جاتی ہےکیونکہ پاکستان میں اجرت ہمیشہ سب سے آخر میں بحال ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مایوسی ریاست کی بڑھتی ہوئی وسائل کی طلب میں مزید اضافہ کرتی ہے، جو استحکام کے دور میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، اخراجات کم ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک ہر دستیاب ڈالر کو ذخائر بڑھانے کے لیے سمیٹ لیتا ہے۔ ریاست کے مطالبات براہِ راست سرمایہ پر پڑتے ہیں، زیادہ ٹیکس، زیادہ شرحِ سود، اور ڈالر کی کمی پالیسیوں کو جکڑ لیتی ہے۔ ترقی کے وہ ادوار جو ایسے بحران سے پہلے آتے ہیں، سرمایہ داروں کو بہت زیادہ منافع دیتے ہیں۔ مگر جب باری بحران کی آتی ہے تو ریاست حساب لینے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی نظام میں ابھرنے والی ہلچل بھی انہی عوامل کی عکاس ہے۔ نظام کی پہلی دراڑ سول اور ملٹری اداروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ دونوں ہی استحکام کے دور میں وسائل کی کمی کا شدید دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث اپنی قوتِ خرید کھونے پر پریشان ہوتے ہیں اور ریاستی ڈھانچےانفرااسٹرکچر سے ہتھیاروں کی خریداری تک سرمایہ مانگتے ہیں۔ سول حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے ووٹرز کو راضی کرنے کے لیے ریاستی وسائل اُن تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کاروباری طبقہ اس بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ ٹیکس، شرح سود اور مراعات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اکثر وہ اپنے مفاد کیلئے ریاست کے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں نچلی سطح کی مایوسی اوپر کی کشمکش کو بھڑکاتی ہے۔ حکمران طبقے میں بے اعتمادی، شک اور مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہے، نااہل ہے، خود غرض ہے۔ یہ سب کچھ حکومت کی توجہ معیشت کے استحکام سے ہٹا دیتا ہے اور ترقی کی بے قراری دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر سے ایک بار پھر گزر رہا ہے، مگر اس بار کچھ فرق کے ساتھ۔ مرکز اب غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، 2018 میں شروع ہونے والا ہائبرڈ تجربہ 2024 کے بعد مزید مضبوط ہوا اور ایگزیکٹو فیصلوں میں سول اداروں کی جگہ لیتا گیا۔ جمہوری قوتیں اب صوبوں میں اپنے اپنے مضبوط قلعوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر بڑی سیاسی جماعت ایک صوبے پر قابض ہے، جس کی آمدن اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر جماعت نے اپنے صوبے کو بنیاد بنا کر پہلے نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے اور پھر مرکز میں اپنی ’حق دار‘ جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، میں اسے ’عظیم پسپائی‘ کہتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران استحکام کا تیسرا سال شروع ہوتے ہی مرکز کی وسائل کی طلب بے انتہا بڑھ گئی ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس کے پیچھے ہیں۔ وہ عناصر جو جمہوری قوتوں کو مکمل طور پر مٹائے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے، اس کوشش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کو توڑنے کی باتیں اسی سول-ملٹری کشمکش سے جنم لیتی ہیں، جب معاشی استحکام عوام کو کاٹنے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک استحکام سے نکلنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا، نظام مزید اندرونی کشمکش کا شکار ہوگا اور کسی نہ کسی بڑے تصادم یا حساب کتاب کے بغیر یہ دباؤ نہیں ٹلے گا۔ کھلاڑی بہت زیادہ ہیں اور کھیل میں جگہ بہت کم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بڑی بیرونی مالی مدد نہ ملی تو معاشی استحکام کے تیسرے سال پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت بڑھتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس کالم کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960458/the-great-retreat"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ جاری ہے جو متعدد محاذوں پر، مختلف حکمتِ عملیوں اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ داؤ پر اس ملک کی سیاست کا مستقبل لگا ہوا ہے۔ اور اس تمام صورتحال کے محرک وہ معیشت ہے جو طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔</p>
<p>معیشت سے آغاز کریں اور پھر اُن اثرات کا جائزہ لیں جو سیاسی نظام میں پھیلتے ہیں۔ 2022 کی گرمیوں میں معیشت حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی، یہ عمل ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اس وقت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 2021 کے دوسرے نصف میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور جون 2022 تک زرمبادلہ ذخائر ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ فضا میں یہ خدشات گونج رہے تھے کہ کہیں پاکستان ’سری لنکا طرز‘ کے بحران میں نہ جا گرے۔ معیشت سے اٹھنے والی شدید بے چینی پورے معاشرے میں پھیل رہی تھی۔</p>
<p>اگست 2022 میں آخری لمحے میں آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کو کھائی کے کنارے سے واپس کھینچا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسحٰق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ ذمہ داری سنبھالتے ہی پروگرام سے انحراف کیا جس کے بعد ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر جا پہنچا، یہاں تک کہ جولائی 2023 میں ایک اور ہنگامی آئی ایم ایف پروگرام نے ایک مرتبہ پھر بچا لیا۔ ایک سال میں دو بار آخری لمحے میں بچاؤ شاید ایک ریکارڈ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274513/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جولائی 2023 کے بعد سے معیشت مستحکم رہی، مہنگائی ختم ہو گئی، زرمبادلہ ذخائر بڑھے اور درآمدات کے لیے کور کم از کم ڈھائی ماہ تک پہنچ گیا۔ لیکن اچھی خبریں بس یہیں تک تھیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران معیشت تو مستحکم رہی، اور بے چینی بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی، مگر اس کا ایک بھاری خمیازہ سامنے آیا۔ روزگار کے مواقع رک گئے، ترقی رک گئی اور معیشت میں ایک نئی قسم کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔</p>
<p>جمود معیشت کے کچھ حصوں کو جیسے قیمتوں اور درآمدی طلب کو تو مستحکم کر دیتا ہے مگر یہی جمود سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھا دیتا ہے، متوسط طبقہ اپنی قوتِ خرید کو تیزی سے کھوتا ہے اور محنت کش طبقے کیلئے زندگی ایک کٹھن جدوجہد بنتی جاتی ہےکیونکہ پاکستان میں اجرت ہمیشہ سب سے آخر میں بحال ہوتی ہیں۔</p>
<p>یہ مایوسی ریاست کی بڑھتی ہوئی وسائل کی طلب میں مزید اضافہ کرتی ہے، جو استحکام کے دور میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، اخراجات کم ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک ہر دستیاب ڈالر کو ذخائر بڑھانے کے لیے سمیٹ لیتا ہے۔ ریاست کے مطالبات براہِ راست سرمایہ پر پڑتے ہیں، زیادہ ٹیکس، زیادہ شرحِ سود، اور ڈالر کی کمی پالیسیوں کو جکڑ لیتی ہے۔ ترقی کے وہ ادوار جو ایسے بحران سے پہلے آتے ہیں، سرمایہ داروں کو بہت زیادہ منافع دیتے ہیں۔ مگر جب باری بحران کی آتی ہے تو ریاست حساب لینے آتی ہے۔</p>
<p>سیاسی نظام میں ابھرنے والی ہلچل بھی انہی عوامل کی عکاس ہے۔ نظام کی پہلی دراڑ سول اور ملٹری اداروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ دونوں ہی استحکام کے دور میں وسائل کی کمی کا شدید دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث اپنی قوتِ خرید کھونے پر پریشان ہوتے ہیں اور ریاستی ڈھانچےانفرااسٹرکچر سے ہتھیاروں کی خریداری تک سرمایہ مانگتے ہیں۔ سول حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے ووٹرز کو راضی کرنے کے لیے ریاستی وسائل اُن تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کاروباری طبقہ اس بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ ٹیکس، شرح سود اور مراعات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اکثر وہ اپنے مفاد کیلئے ریاست کے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>یوں نچلی سطح کی مایوسی اوپر کی کشمکش کو بھڑکاتی ہے۔ حکمران طبقے میں بے اعتمادی، شک اور مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہے، نااہل ہے، خود غرض ہے۔ یہ سب کچھ حکومت کی توجہ معیشت کے استحکام سے ہٹا دیتا ہے اور ترقی کی بے قراری دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر سے ایک بار پھر گزر رہا ہے، مگر اس بار کچھ فرق کے ساتھ۔ مرکز اب غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، 2018 میں شروع ہونے والا ہائبرڈ تجربہ 2024 کے بعد مزید مضبوط ہوا اور ایگزیکٹو فیصلوں میں سول اداروں کی جگہ لیتا گیا۔ جمہوری قوتیں اب صوبوں میں اپنے اپنے مضبوط قلعوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر بڑی سیاسی جماعت ایک صوبے پر قابض ہے، جس کی آمدن اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر جماعت نے اپنے صوبے کو بنیاد بنا کر پہلے نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے اور پھر مرکز میں اپنی ’حق دار‘ جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، میں اسے ’عظیم پسپائی‘ کہتا ہوں۔</p>
<p>اسی دوران استحکام کا تیسرا سال شروع ہوتے ہی مرکز کی وسائل کی طلب بے انتہا بڑھ گئی ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس کے پیچھے ہیں۔ وہ عناصر جو جمہوری قوتوں کو مکمل طور پر مٹائے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے، اس کوشش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کو توڑنے کی باتیں اسی سول-ملٹری کشمکش سے جنم لیتی ہیں، جب معاشی استحکام عوام کو کاٹنے لگتا ہے۔</p>
<p>جب تک استحکام سے نکلنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا، نظام مزید اندرونی کشمکش کا شکار ہوگا اور کسی نہ کسی بڑے تصادم یا حساب کتاب کے بغیر یہ دباؤ نہیں ٹلے گا۔ کھلاڑی بہت زیادہ ہیں اور کھیل میں جگہ بہت کم۔</p>
<p>اگر کوئی بڑی بیرونی مالی مدد نہ ملی تو معاشی استحکام کے تیسرے سال پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت بڑھتی جائے گی۔</p>
<hr />
<p>اس کالم کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960458/the-great-retreat"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274796</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 12:37:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/111234402845100.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/111234402845100.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’سیاسی رہنماؤں کو ’سیکیورٹی رسک‘ قرار دینا قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274782/political-leaders-traitor-weakens-national-security</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک میں سیاسی رہنماؤں کو غدار اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا کوئی نئی بات نہیں، یہ عمل ہماری سیاسی قوت کے کھیل کا دیرینہ حصہ ہے۔ شاذ و نادر ہی کوئی بڑا سیاسی رہنما  چاہے وہ اعلیٰ ترین ریاستی عہدہ سنبھال چکا ہو ایسی توہین سے محفوظ رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست میں تازہ اضافہ جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان کا ہے، جنہیں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ’سکیورٹی تھریٹ‘ اور ’خیالی دنیا میں رہنے والا شخص‘ قرار دیا ہے۔ یہ لیبل ایسے شخص پر لگایا گیا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ملک کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ سنبھالے ہوئے تھا اور آج بھی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا سربراہ ہے، یہ بات تشویش ناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبصرے عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے بعد سامنے آئے، مگر سلامتی کے اداروں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس حوالے سے عوامی سطح پر لفظی جنگ میں پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی سیاسی رہنما کو ‘سکیورٹی رسک’ یا ‘غدار’ قرار دینا کسی بھی جواز سے درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا، مگر بہت سے مسلم لیگ (ن) کے وزرا بھی اپنے سیاسی مخالف کے خلاف اس مہم میں شامل ہوگئے ہیں، بھول کر کہ کچھ سال قبل یہی کچھ ان کے اپنے قائد کے ساتھ بھی ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274743/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کو 2016 میں ’ڈان لیکس‘ کے معاملے پر بدترین الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سلامتی کے حلقوں کی جانب سے کوئی عوامی اعلان نہیں کیا گیا تھا، مگر اس وقت ایک منظم مہم ایک بیٹھے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف چلائی گئی، جس نے انہیں طاقت کے مراکز کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں دھکیل دیا۔ نہ صرف انہیں ایک وزیر اور ایک خصوصی مشیر کو برطرف کرنا پڑا بلکہ یہ اسکینڈل ان کی اپنی برطرفی میں بھی حصہ دار بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد جب انہوں نے اُس وقت کی سیکیورٹی قیادت پر تنقید کی تو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس عمران خان کو 2018 میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے والا سمجھا جاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ آج نواز شریف جنہیں دوبارہ سیاسی طور پر قابلِ قبول سمجھا جا رہا ہے، اور ان کی جماعت کے رہنما خود عمران خان کے خلاف یہی الزامات دہرانے لگے اور پی ٹی آئی پر پابندی کے حامی بن گئے۔ انتقام کی یہ سیاست ہمیشہ ماورائے آئین طاقتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت آئینی جمہوریت کو چکانی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف علی زرداری بھی اپنی پہلی صدارتی مدت میں ’میموگیٹ‘ کے نام پر ایسی ہی مہم کا نشانہ بنے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) پیش پیش تھی، اور اس مہم کے پیچھے پوشیدہ قوتوں کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا خوف دلا کر ہمیشہ سویلین حکومتوں کو کمزور کیا گیا اور سیاسی قیادت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ہمیشہ اس کھیل میں مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اس مہم کی سب سے بڑی شکار بے نظیر بھٹو تھیں جنہیں اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، ہر وقت نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 1988 کے انتخابات جیتنے کے باوجود انہیں انتہائی ناگواری کے ساتھ اقتدار منتقل کیا گیا، اور جلد ہی ان کی حکومت کو گرانے کی سازش شروع ہوگئی۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا لیبل رکھنے والی اس مہم کی قیادت مسلم لیگ (ن) نے ریاستی سرپرستی میں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینظیر بھٹو کے اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے سارک سربراہ اجلاس میں ملاقاتیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کی گئی کوششوں کو ان کے خلاف شدید پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو اس مہم میں تیزی آگئی۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل حمید گل، جو اس وقت ملتان کے کور کمانڈر تھے اور  آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹائے گئے تھے، نے 1990 کے اوائل میں مجھے بتایا کہ کس طرح ملک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں میں سے ایک، &lt;em&gt;ضربِ مومن&lt;/em&gt; کے ذریعے سکیورٹی قیادت نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی جانب ان کی کوشش کو کمزور کیا۔ ملک اور بیرونِ ملک سے آئے صحافیوں کو یہ مشق دکھائی گئی، جسے پاکستان کا ‘glasnost’ لمحہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چند ماہ بعد ان کی حکومت ایک ’آئینی بغاوت‘ کے ذریعے برطرف کردی گئی۔ بے نظیر بھٹو پر یہ جھوٹا الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی حساس معلومات امریکا کو فراہم کیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسی خبریں کہاں سے آتی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں پر ریاست مخالف الزامات لگانا خود قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے، اور افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ساتھ ہیماورائے آئین اقدامات پر تنقید کو سلامتی کے اداروں پر حملہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند سال قبل تک عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے ’بدعنوان سیاسی قیادت‘ کا متبادل بنا کر پیش کیا تھا۔ وہ خود بھی اپنے سیاسی مخالفین کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے رہے۔ مگر حالات بدلے تو آج وہ خود انہی طاقتور حلقوں کے ہاتھوں ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار پائے جنہوں نے انہیں اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عمران خان کی موجودہ مہم جو کہ فوجی قیادت کے خلاف ذاتی حملوں پر مبنی ہے، کسی طور درست قرار نہیں دی جاسکتی، مگر ان کے ساتھ اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی کسی طرح جائز نہیں۔ ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے کردار نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کی پریس کانفرنس نے ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو اور بھی بھڑکا دیا ہے اور سلامتی کے اداروں کے مبینہ کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوام کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے؛ بڑھتی ہوئی کشیدگی پہلے سے ہی نازک صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے اندر انتہائی منقسم سیاست اور عوام و ریاست کے درمیان بڑھتی عدم اعتماد کی خلیج ان دو اسٹریٹجک صوبوں میں دہشت گردی کے وجودی خطرے کے خاتمے کے لیے درکار قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی کشیدگی بھی تشویش کا باعث ہے، خصوصاً جب صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پہلے سے زیادہ ملک کو سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ اصل چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔ سابق وزیر اعظم کو ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار دینا یا سکیورٹی اداروں کو گالیاں دینا موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960282"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک میں سیاسی رہنماؤں کو غدار اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا کوئی نئی بات نہیں، یہ عمل ہماری سیاسی قوت کے کھیل کا دیرینہ حصہ ہے۔ شاذ و نادر ہی کوئی بڑا سیاسی رہنما  چاہے وہ اعلیٰ ترین ریاستی عہدہ سنبھال چکا ہو ایسی توہین سے محفوظ رہا ہو۔</p>
<p>اس فہرست میں تازہ اضافہ جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان کا ہے، جنہیں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ’سکیورٹی تھریٹ‘ اور ’خیالی دنیا میں رہنے والا شخص‘ قرار دیا ہے۔ یہ لیبل ایسے شخص پر لگایا گیا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ملک کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ سنبھالے ہوئے تھا اور آج بھی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا سربراہ ہے، یہ بات تشویش ناک ہے۔</p>
<p>یہ تبصرے عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے بعد سامنے آئے، مگر سلامتی کے اداروں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس حوالے سے عوامی سطح پر لفظی جنگ میں پڑیں۔</p>
<p>کسی بھی سیاسی رہنما کو ‘سکیورٹی رسک’ یا ‘غدار’ قرار دینا کسی بھی جواز سے درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا، مگر بہت سے مسلم لیگ (ن) کے وزرا بھی اپنے سیاسی مخالف کے خلاف اس مہم میں شامل ہوگئے ہیں، بھول کر کہ کچھ سال قبل یہی کچھ ان کے اپنے قائد کے ساتھ بھی ہوا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274743/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نواز شریف کو 2016 میں ’ڈان لیکس‘ کے معاملے پر بدترین الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سلامتی کے حلقوں کی جانب سے کوئی عوامی اعلان نہیں کیا گیا تھا، مگر اس وقت ایک منظم مہم ایک بیٹھے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف چلائی گئی، جس نے انہیں طاقت کے مراکز کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں دھکیل دیا۔ نہ صرف انہیں ایک وزیر اور ایک خصوصی مشیر کو برطرف کرنا پڑا بلکہ یہ اسکینڈل ان کی اپنی برطرفی میں بھی حصہ دار بنا۔</p>
<p>نواز شریف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد جب انہوں نے اُس وقت کی سیکیورٹی قیادت پر تنقید کی تو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس عمران خان کو 2018 میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے والا سمجھا جاتا رہا۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ آج نواز شریف جنہیں دوبارہ سیاسی طور پر قابلِ قبول سمجھا جا رہا ہے، اور ان کی جماعت کے رہنما خود عمران خان کے خلاف یہی الزامات دہرانے لگے اور پی ٹی آئی پر پابندی کے حامی بن گئے۔ انتقام کی یہ سیاست ہمیشہ ماورائے آئین طاقتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت آئینی جمہوریت کو چکانی پڑتی ہے۔</p>
<p>آصف علی زرداری بھی اپنی پہلی صدارتی مدت میں ’میموگیٹ‘ کے نام پر ایسی ہی مہم کا نشانہ بنے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) پیش پیش تھی، اور اس مہم کے پیچھے پوشیدہ قوتوں کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا خوف دلا کر ہمیشہ سویلین حکومتوں کو کمزور کیا گیا اور سیاسی قیادت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ہمیشہ اس کھیل میں مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>شاید اس مہم کی سب سے بڑی شکار بے نظیر بھٹو تھیں جنہیں اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، ہر وقت نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 1988 کے انتخابات جیتنے کے باوجود انہیں انتہائی ناگواری کے ساتھ اقتدار منتقل کیا گیا، اور جلد ہی ان کی حکومت کو گرانے کی سازش شروع ہوگئی۔ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کا لیبل رکھنے والی اس مہم کی قیادت مسلم لیگ (ن) نے ریاستی سرپرستی میں کی۔</p>
<p>بینظیر بھٹو کے اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے سارک سربراہ اجلاس میں ملاقاتیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کی گئی کوششوں کو ان کے خلاف شدید پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو اس مہم میں تیزی آگئی۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل حمید گل، جو اس وقت ملتان کے کور کمانڈر تھے اور  آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹائے گئے تھے، نے 1990 کے اوائل میں مجھے بتایا کہ کس طرح ملک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں میں سے ایک، <em>ضربِ مومن</em> کے ذریعے سکیورٹی قیادت نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی جانب ان کی کوشش کو کمزور کیا۔ ملک اور بیرونِ ملک سے آئے صحافیوں کو یہ مشق دکھائی گئی، جسے پاکستان کا ‘glasnost’ لمحہ قرار دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چند ماہ بعد ان کی حکومت ایک ’آئینی بغاوت‘ کے ذریعے برطرف کردی گئی۔ بے نظیر بھٹو پر یہ جھوٹا الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی حساس معلومات امریکا کو فراہم کیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسی خبریں کہاں سے آتی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں پر ریاست مخالف الزامات لگانا خود قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے، اور افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ساتھ ہیماورائے آئین اقدامات پر تنقید کو سلامتی کے اداروں پر حملہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>چند سال قبل تک عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے ’بدعنوان سیاسی قیادت‘ کا متبادل بنا کر پیش کیا تھا۔ وہ خود بھی اپنے سیاسی مخالفین کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے رہے۔ مگر حالات بدلے تو آج وہ خود انہی طاقتور حلقوں کے ہاتھوں ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار پائے جنہوں نے انہیں اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>اگرچہ عمران خان کی موجودہ مہم جو کہ فوجی قیادت کے خلاف ذاتی حملوں پر مبنی ہے، کسی طور درست قرار نہیں دی جاسکتی، مگر ان کے ساتھ اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی کسی طرح جائز نہیں۔ ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے کردار نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کردیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کی پریس کانفرنس نے ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو اور بھی بھڑکا دیا ہے اور سلامتی کے اداروں کے مبینہ کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوام کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے؛ بڑھتی ہوئی کشیدگی پہلے سے ہی نازک صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔</p>
<p>ملک کے اندر انتہائی منقسم سیاست اور عوام و ریاست کے درمیان بڑھتی عدم اعتماد کی خلیج ان دو اسٹریٹجک صوبوں میں دہشت گردی کے وجودی خطرے کے خاتمے کے لیے درکار قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی کشیدگی بھی تشویش کا باعث ہے، خصوصاً جب صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات موجود ہیں۔</p>
<p>آج پہلے سے زیادہ ملک کو سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ اصل چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔ سابق وزیر اعظم کو ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار دینا یا سکیورٹی اداروں کو گالیاں دینا موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ کرے گا۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960282"><strong>پڑھیں</strong></a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274782</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 12:29:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/10122646913dd5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="389" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/10122646913dd5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’عمران خان اور بشریٰ بی بی سیاست میں جادو و توہم پرستی کا استعمال کرنے والے واحد کردار نہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274747/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ ماہ 14 نومبر کو دی اکانومسٹ کے ماتحت آنے والے ناشر 1843 نے بشریٰ بی بی کے متنازعہ روحانی اثر و رسوخ پر ایک مضمون شائع کیا جو جیل میں قید سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بشریٰ بی بی اس وقت خود بھی قید میں ہیں اور عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ عمران خان اب بھی ان کی ‘روحانی’ طاقتوں سے متاثر ہیں۔ ناشر 1843 نے اس جوڑے کے سابق قریبی ساتھیوں اور گھریلو عملے کے بیانات بھی شائع کیے جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بشریٰ بی بی ‘جادو ٹونے’ کے ذریعے عمران خان کی طاقت برقرار رکھنے اور ان کے مخالفین پر قابو پانے میں ملوث تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس مضمون کا متن پاکستانی میڈیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی ان تفصیلات سے واقف تھے جن پر مضمون میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ تاہم جب اس جوڑے کے بارے میں الزامات ایک انتہائی معزز بین الاقوامی میگزین میں سامنے آئے تو ردِعمل انتہائی شدید تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے حریفوں نے فوراً سوشل میڈیا پر اس اشاعت کا فائدہ اٹھایا جبکہ وہ صحافی جنہیں پہلے عمران خان کی پارٹی نے غیر مستند افواہوں کو نشر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اس مضمون کو اپنے پرانے شبہات کی توثیق کے طور پر دیکھنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے ناقدین نے بشریٰ بی بی پر الزام لگایا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کے پُر آشوب دورِ حکومت کے دوران براہِ راست سیاست میں مداخلت کی جوکہ ایک ایسا الزام ہے جو عمران خان کے عوامی دعوے کے بالکل برعکس تھا کہ وہ ’صرف نیک گھریلو خاتون‘ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے عمران خان کا مذاق اُڑانے لگے کہ اوکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ حقیقت میں انتہائی توہم پرست اور غیر معقول شخص ہیں۔ آخرکار ایک تیسری جماعت نے 1843 کے مضمون پر تنقید کی جس کے لیے اس نے استدلال کیا کہ یہ مضمون ‘خواتین مخالف’ ہے کیونکہ اس نے عمران خان کی حکومت میں پیش آنے والی تمام ناکامیوں کا الزام براہِ راست بشریٰ بی بی پر ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273775'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273775"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میرا خیال ہے کہ یہ صورت حال ان بے شمار مثالوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاستدانوں نے جادو اور مافوق الفطرت عقائد کو آمرانہ حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔ یہ حربہ اکثر عوام میں خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں یہ عقائد پہلے ہی عام ہوں۔ بنیادی طور پر یہ وسیع تر ‘خوف کی سیاست’ کی عملی شکل ہے جو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے نفسیاتی کمزوریوں کو بروئے کار لاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسوا ‘پاپا ڈاک’ ڈووالئیر جو 1957ء سے 1971ء تک ہیٹی پر حکمرانی کرتے رہے، ایک نمایاں مثال ہیں کہ کس طرح ایک رہنما نے اپنے آپ کو جادو اور ووڈو کے ذریعے مطلق العنان حاکم کے طور پر پیش کیا۔ فرانسوا ڈووالئیر نے وحشیانہ آمریت اور ووڈو تصوف کے امتزاج سے اپنے لیے ایک طاقتور شخصیت کا مرکز قائم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے رویے کی تقلید ہیٹی کے ‘مردہ روحوں’ سے کی۔ انہوں نے عوام میں گہرائی تک موجود روحانی عقائد اور خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک جادوئی حکمران کی تصویر قائم کی۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا دورِ حکومت روحانی دنیا سے منسلک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنی طاقت کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہے بالخصوص دیہی علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ تھا جہاں زیادہ تر لوگ ووڈو کے پیروکار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ظالم نیم فوجی دستے جسے ‘ٹونٹونز میکوٹس’ کہا جاتا تھا، کا نام کریول لوک کہانیوں کے ایک کردار سے لیا گیا تھا جوکہ ایک ڈراؤنا کردار تھا جو نافرمان بچوں کو اغوا کیا کرتا ہے۔ اس نام کے ذریعے حکمت عملی کے تحت ثقافتی خوف اور توہمات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شمالی کوریا میں بھی کِم خاندان ایسی کہانیاں بنا کر اقتدار میں رہتا ہے جس سے لگتا ہے کہ ان کے پاس جادوئی طاقتیں ہیں اور ان کی وہاں تقریباً دیوتاؤں کی طرح تعظیم کی جاتی ہے۔ حکومت لوگوں کو بتاتی ہے کہ کِم خاندان کے لوگ حیرت انگیز چیزیں کر سکتے ہیں جیسے کہ وہ موسم کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہانیاں کِم کو نہ صرف سیاسی رہنماؤں سے زیادہ کا درجہ دیتے ہیں بلکہ اس سے انہیں ملک پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق عراقی آمر صدام حسین خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے خفیہ اور پُراسرار افواہوں کا ہوشیاری سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ صدام حسین اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ افواہیں عام تھیں کہ وہ اپنے دور حکومت کو محفوظ رکھنے اور دشمنوں کے اقدامات کی پیش گوئی کے لیے جادوگروں کو استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام میں یہ کہانیاں گردش کرتی تھیں کہ صدام کے پاس ایک جادوی پتھر یا تعویذ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے ان کی جلد کے نیچے نصب کیا گیا ہے اور یہ انہیں کسی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ یقین کہ آمر جادوئی طور پر محفوظ ہے، ایک طاقتور نفسیاتی حربے کے طور پر کام کرتا تھا جو کسی بھی داخلی تحریک کو حکمران کی طاقت کو چیلنج کرنے سے پہلے ہی دبا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا جیسی جمہوریت جہاں جدید سیاست نظر آتی ہے، وہاں بھی توہمات اور پرانی روایات اہمیت رکھتی ہیں۔ ماہر سیاسیات او این تھلپاویلا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے بہت سے سیاستدان اب بھی توہمات پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی سیاسی زندگی کو آگے بڑھانے کے لیے علمِ نجوم پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاست دان اکثر ان عقائد کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ عوام سے حمایت اور اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے کیونکہ جو خود عوام بھی انہیں عقائد کو مانتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکمرانوں کی جانب سے استعمال ہونے والی پرانی آمرانہ چال کی چند جدید مثالیں ہیں۔ وہ مافوق الفطرت طاقتوں کا دعویٰ کرتے ہیں خاص طور پر جب لوگوں کی اکثریت روایات یا توہمات پر یقین رکھتی ہو۔ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی طاقت مقدس یا خوفناک معلوم ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مافوق الفطرت کا سیاسی استعمال دو دھاری تلوار کی مانند خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جہاں کچھ رہنما اسے خدائی طاقت کا تاثر دیتے ہیں، وہیں کچھ اپنے مخالفین کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے ‘کالے جادو’ کے الزامات استعمال کرتے ہیں۔ یہ الزامات مخالف کی شہرت اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1248024'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے اکثر بشریٰ بی بی کو ایک انتہائی مذہبی، صوفی خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور کہا کہ ان کے سیاسی حریف انہیں نقصان پہنچانے کے لیے انہیں ’جادوگرنی‘ کی طرح دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ الزامات صرف ان کے حریفوں کی طرف سے سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ عمران خان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ جو ان پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان تھے، یہ بھی دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے برے مقاصد کے لیے جادو کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کی مذہبی تصویر سیاسی فائدے کے لیے عمران خان کی مشہور توہمات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دانستہ اقدام تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جوڑا عوامی طور پر ایسے ‘روحانی’ اعمال میں حصہ لیتا رہا ہو جو دیہی عوام خاص طور پر پنجاب میں، عام طور پر ہوتے ہیں تاکہ ان طبقات سے حمایت حاصل کی جا سکے اور سیاسی اثر و رسوخ مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی ممکن ہے کہ بشریٰ بی بی نے دانستہ طور پر اپنی بڑھتی ہوئی شہرت کو ایک طاقتور مافوق الفطرت قوتوں کی حامل شخصیت کے طور پر فروغ دیا ہو جن میں یہ افواہ بھی شامل ہو کہ ان کی خدمت میں جن موجود ہیں تاکہ اسے حکمت عملی کے طور پر استعمال کی جا سکے اور عمران خان کی پارٹی کے اندر اور باہر موجود دونوں مخالفین پر قابو پایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان اور بشریٰ بی بی اکثر ایسا کرتے اور بولتے تھے جیسے وہ مافوق الفطرت طاقتوں سے رہنمائی حاصل کر رہے ہوں جسے وہ ’تصوف‘ کہتے تھے۔ اس نے پہلے کے تمام منظرناموں کو قابل اعتبار بنا دیا اور ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں ایک مضبوط کہانی تخلیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ’تصوف‘ واقعی اتنا طاقتور تھا تو اس نے عمران خان کو جیل سے باہر آنے یا وزیر اعظم کے طور پر اقتدار میں واپس آنے میں مدد کیوں نہیں دی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کے مخالفین نے جوڑے کے روحانی طریقوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے خود ایسے جواز پیدا کیے کہ یہ کہانیاں جڑ پکڑ سکیں اور مزید پھیل سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959558/smokers-corner-superstitions-and-statecraft"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ ماہ 14 نومبر کو دی اکانومسٹ کے ماتحت آنے والے ناشر 1843 نے بشریٰ بی بی کے متنازعہ روحانی اثر و رسوخ پر ایک مضمون شائع کیا جو جیل میں قید سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں۔</p>
<p>بشریٰ بی بی اس وقت خود بھی قید میں ہیں اور عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ عمران خان اب بھی ان کی ‘روحانی’ طاقتوں سے متاثر ہیں۔ ناشر 1843 نے اس جوڑے کے سابق قریبی ساتھیوں اور گھریلو عملے کے بیانات بھی شائع کیے جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بشریٰ بی بی ‘جادو ٹونے’ کے ذریعے عمران خان کی طاقت برقرار رکھنے اور ان کے مخالفین پر قابو پانے میں ملوث تھیں۔</p>
<p>لیکن اس مضمون کا متن پاکستانی میڈیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی ان تفصیلات سے واقف تھے جن پر مضمون میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ تاہم جب اس جوڑے کے بارے میں الزامات ایک انتہائی معزز بین الاقوامی میگزین میں سامنے آئے تو ردِعمل انتہائی شدید تھا۔</p>
<p>عمران خان کے حریفوں نے فوراً سوشل میڈیا پر اس اشاعت کا فائدہ اٹھایا جبکہ وہ صحافی جنہیں پہلے عمران خان کی پارٹی نے غیر مستند افواہوں کو نشر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اس مضمون کو اپنے پرانے شبہات کی توثیق کے طور پر دیکھنے لگے۔</p>
<p>عمران خان کے ناقدین نے بشریٰ بی بی پر الزام لگایا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کے پُر آشوب دورِ حکومت کے دوران براہِ راست سیاست میں مداخلت کی جوکہ ایک ایسا الزام ہے جو عمران خان کے عوامی دعوے کے بالکل برعکس تھا کہ وہ ’صرف نیک گھریلو خاتون‘ ہیں۔</p>
<p>پھر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے عمران خان کا مذاق اُڑانے لگے کہ اوکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ حقیقت میں انتہائی توہم پرست اور غیر معقول شخص ہیں۔ آخرکار ایک تیسری جماعت نے 1843 کے مضمون پر تنقید کی جس کے لیے اس نے استدلال کیا کہ یہ مضمون ‘خواتین مخالف’ ہے کیونکہ اس نے عمران خان کی حکومت میں پیش آنے والی تمام ناکامیوں کا الزام براہِ راست بشریٰ بی بی پر ڈال دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273775'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273775"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میرا خیال ہے کہ یہ صورت حال ان بے شمار مثالوں کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاستدانوں نے جادو اور مافوق الفطرت عقائد کو آمرانہ حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔ یہ حربہ اکثر عوام میں خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں یہ عقائد پہلے ہی عام ہوں۔ بنیادی طور پر یہ وسیع تر ‘خوف کی سیاست’ کی عملی شکل ہے جو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے نفسیاتی کمزوریوں کو بروئے کار لاتی ہے۔</p>
<p>فرانسوا ‘پاپا ڈاک’ ڈووالئیر جو 1957ء سے 1971ء تک ہیٹی پر حکمرانی کرتے رہے، ایک نمایاں مثال ہیں کہ کس طرح ایک رہنما نے اپنے آپ کو جادو اور ووڈو کے ذریعے مطلق العنان حاکم کے طور پر پیش کیا۔ فرانسوا ڈووالئیر نے وحشیانہ آمریت اور ووڈو تصوف کے امتزاج سے اپنے لیے ایک طاقتور شخصیت کا مرکز قائم کیا۔</p>
<p>انہوں نے اپنے رویے کی تقلید ہیٹی کے ‘مردہ روحوں’ سے کی۔ انہوں نے عوام میں گہرائی تک موجود روحانی عقائد اور خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک جادوئی حکمران کی تصویر قائم کی۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا دورِ حکومت روحانی دنیا سے منسلک ہے۔</p>
<p>وہ اپنی طاقت کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہے بالخصوص دیہی علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ تھا جہاں زیادہ تر لوگ ووڈو کے پیروکار تھے۔</p>
<p>ان کے ظالم نیم فوجی دستے جسے ‘ٹونٹونز میکوٹس’ کہا جاتا تھا، کا نام کریول لوک کہانیوں کے ایک کردار سے لیا گیا تھا جوکہ ایک ڈراؤنا کردار تھا جو نافرمان بچوں کو اغوا کیا کرتا ہے۔ اس نام کے ذریعے حکمت عملی کے تحت ثقافتی خوف اور توہمات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/12/69341b04ad3e7.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>شمالی کوریا میں بھی کِم خاندان ایسی کہانیاں بنا کر اقتدار میں رہتا ہے جس سے لگتا ہے کہ ان کے پاس جادوئی طاقتیں ہیں اور ان کی وہاں تقریباً دیوتاؤں کی طرح تعظیم کی جاتی ہے۔ حکومت لوگوں کو بتاتی ہے کہ کِم خاندان کے لوگ حیرت انگیز چیزیں کر سکتے ہیں جیسے کہ وہ موسم کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں۔</p>
<p>یہ کہانیاں کِم کو نہ صرف سیاسی رہنماؤں سے زیادہ کا درجہ دیتے ہیں بلکہ اس سے انہیں ملک پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>سابق عراقی آمر صدام حسین خوف پیدا کرنے اور مخالفین کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے خفیہ اور پُراسرار افواہوں کا ہوشیاری سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ صدام حسین اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ افواہیں عام تھیں کہ وہ اپنے دور حکومت کو محفوظ رکھنے اور دشمنوں کے اقدامات کی پیش گوئی کے لیے جادوگروں کو استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>عوام میں یہ کہانیاں گردش کرتی تھیں کہ صدام کے پاس ایک جادوی پتھر یا تعویذ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے ان کی جلد کے نیچے نصب کیا گیا ہے اور یہ انہیں کسی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ یقین کہ آمر جادوئی طور پر محفوظ ہے، ایک طاقتور نفسیاتی حربے کے طور پر کام کرتا تھا جو کسی بھی داخلی تحریک کو حکمران کی طاقت کو چیلنج کرنے سے پہلے ہی دبا دیتا ہے۔</p>
<p>سری لنکا جیسی جمہوریت جہاں جدید سیاست نظر آتی ہے، وہاں بھی توہمات اور پرانی روایات اہمیت رکھتی ہیں۔ ماہر سیاسیات او این تھلپاویلا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے بہت سے سیاستدان اب بھی توہمات پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی سیاسی زندگی کو آگے بڑھانے کے لیے علمِ نجوم پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>سیاست دان اکثر ان عقائد کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ عوام سے حمایت اور اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے کیونکہ جو خود عوام بھی انہیں عقائد کو مانتی ہے۔</p>
<p>یہ حکمرانوں کی جانب سے استعمال ہونے والی پرانی آمرانہ چال کی چند جدید مثالیں ہیں۔ وہ مافوق الفطرت طاقتوں کا دعویٰ کرتے ہیں خاص طور پر جب لوگوں کی اکثریت روایات یا توہمات پر یقین رکھتی ہو۔ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی طاقت مقدس یا خوفناک معلوم ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>تاہم مافوق الفطرت کا سیاسی استعمال دو دھاری تلوار کی مانند خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جہاں کچھ رہنما اسے خدائی طاقت کا تاثر دیتے ہیں، وہیں کچھ اپنے مخالفین کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے ‘کالے جادو’ کے الزامات استعمال کرتے ہیں۔ یہ الزامات مخالف کی شہرت اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1248024'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عمران خان نے اکثر بشریٰ بی بی کو ایک انتہائی مذہبی، صوفی خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور کہا کہ ان کے سیاسی حریف انہیں نقصان پہنچانے کے لیے انہیں ’جادوگرنی‘ کی طرح دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ الزامات صرف ان کے حریفوں کی طرف سے سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ عمران خان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ جو ان پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان تھے، یہ بھی دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے برے مقاصد کے لیے جادو کا استعمال کیا۔</p>
<p>کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کی مذہبی تصویر سیاسی فائدے کے لیے عمران خان کی مشہور توہمات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دانستہ اقدام تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جوڑا عوامی طور پر ایسے ‘روحانی’ اعمال میں حصہ لیتا رہا ہو جو دیہی عوام خاص طور پر پنجاب میں، عام طور پر ہوتے ہیں تاکہ ان طبقات سے حمایت حاصل کی جا سکے اور سیاسی اثر و رسوخ مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ بھی ممکن ہے کہ بشریٰ بی بی نے دانستہ طور پر اپنی بڑھتی ہوئی شہرت کو ایک طاقتور مافوق الفطرت قوتوں کی حامل شخصیت کے طور پر فروغ دیا ہو جن میں یہ افواہ بھی شامل ہو کہ ان کی خدمت میں جن موجود ہیں تاکہ اسے حکمت عملی کے طور پر استعمال کی جا سکے اور عمران خان کی پارٹی کے اندر اور باہر موجود دونوں مخالفین پر قابو پایا جا سکے۔</p>
<p>عمران خان اور بشریٰ بی بی اکثر ایسا کرتے اور بولتے تھے جیسے وہ مافوق الفطرت طاقتوں سے رہنمائی حاصل کر رہے ہوں جسے وہ ’تصوف‘ کہتے تھے۔ اس نے پہلے کے تمام منظرناموں کو قابل اعتبار بنا دیا اور ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں ایک مضبوط کہانی تخلیق کی ہے۔</p>
<p>لیکن اس سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ’تصوف‘ واقعی اتنا طاقتور تھا تو اس نے عمران خان کو جیل سے باہر آنے یا وزیر اعظم کے طور پر اقتدار میں واپس آنے میں مدد کیوں نہیں دی؟</p>
<p>اگرچہ ان کے مخالفین نے جوڑے کے روحانی طریقوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے خود ایسے جواز پیدا کیے کہ یہ کہانیاں جڑ پکڑ سکیں اور مزید پھیل سکیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959558/smokers-corner-superstitions-and-statecraft"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274747</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 14:57:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ندیم ایف پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0911202587f8406.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0911202587f8406.webp"/>
        <media:title>—السٹریشن: ابڑو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی میں نیا تصادم: ’انہیں جلد یا بدیر مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274743/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ایک نیا تصادم ابھر رہا ہے۔ یہ بات گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں ہونے والی پریس کانفرنس سے واضح تھی جو عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے کیے گئے ٹوئٹس کے بعد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس اور بعدازاں حکمران جماعت کے سیاست دانوں کی جانب سے ملنے والی حمایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی بالخصوص عمران خان کے لیے آنے والے حالات مشکل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت بہت سے لوگوں کے نزدیک گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی الفاظ کی جنگ عمران خان کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ طرح طرح کی انتباہات دیے جا رہے ہیں کہ ان تک رسائی مزید محدود کر دی جائے گی اور ملاقاتوں کا سلسلہ بالکل روک دیا جائے گا۔ پہلے بھی ان کی جلد رہائی کی کسی نے توقع نہیں کی تھی اور اب تو یہ بات گویا پختہ ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274669'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ اتنے پُراعتماد ہیں کہ مستقبل کی پیش گوئی کرسکیں، وہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے مقدمے کی کارروائی، فوجی عدالتوں اور سخت سزاؤں کی بھی بات کر رہے ہیں مگر مجھ جیسے ایک عام صحافی کے لیے غیب دان بننا آسان نہیں۔ تو چلیے انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر عمران خان مزید مقدمات اور مزید سزاؤں کے جال میں الجھ جاتے ہیں تو آگے کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے اصل چیلنج خیبر پختونخوا ہے۔ دونوں ’فریق‘ (اگر انہیں اس طرح بیان کیا جا سکے) پہلے ہی پی ٹی آئی کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے جس کے باعث گورنر راج کی بازگشت ہورہی تھی۔ اور گزشتہ چند دنوں میں یہ باتیں مزید زور پکڑتی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا اسے اُن لوگوں کی جانب سے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اس اقدام کی اجازت دینے والی قانونی اور آئینی شقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کر رہی ہے جہاں اسے مضبوط عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دہشت گردی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج رہا ہے جبکہ یہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف اس عدم تحفظ پیدا کرتا ہے بلکہ اس نے صوبے کے عوامی مزاج پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے، بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کی فوجی کارروائیوں اور موجودہ شدت پسندی میں اضافے نے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی ہے۔ اور اسی کے ساتھ عوام کی اکثریت خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشنز کی خواہش مند نہیں ہے جوکہ وہی مؤقف ہے جو پی ٹی آئی بھی اختیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں گورنر راج کا نفاذ ریاست کے لیے معاملات کو آسان بنانے کے بجائے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یقینی طور پر صوبے کی حکمران جماعت کو اقتدار سے باہر نکال دینا، اس کی حمایت کو مزید مضبوط کرے گا جبکہ پہلے سے ناراض عوام کو مزید بیگانگی کے احساس میں دھکیل دے گا۔ ناراض عوام والا پہلو دہشت گردی پر قابو پانے میں ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اور یہ تو اس اقدام کے زیادہ واضح منفی پہلو ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے معاملے میں جس بات کا کم ذکر ہوتا ہے وہ سیاسی متبادل کی کمی ہے کیونکہ ایسے سیاسی عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں جو کم از کم کسی حد تک بھی عوامی حمایت فراہم کر سکیں۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام-ف (جے یو آئی-ف) جیسی جماعتیں زیادہ مقبول نہیں ہیں جبکہ اب محسوس ہوتا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی مرکزی دھارے سے باہر کی تنظیمیں بھی اپنا ربط کھو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن معاملات صرف یہی نہیں۔ خیبر پختونخوا میں نگران سیٹ اپ جو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد قائم ہوا تھا، زیادہ بہتر طور پر حکومتی امور نہیں چلا سکا تھا۔ محض الزامات نہیں تھے بلکہ بدعنوانی کے متعدد دعوے سامنے آئے اور انگلیاں اُن سیاسی جماعتوں کی جانب بھی اٹھیں جو اُس وقت کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی مخلوط حکومت کا حصہ تھیں اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خیبر پختونخوا کے سیٹ اپ میں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پی ٹی آئی کو اقتدار سے بےدخل کردیا جاتا ہے تو کیا اسے دوبارہ خیبرپختونخوا کو چلانے کا موقع دیا جائے گا؟ گورنر راج لگانے سے یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ سیاسی طور پر اور کون سے آپشن باقی رہ جاتے ہیں اور اس کا عوامی تاثرات پر کیا اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست وہ واحد فریق ہے جسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی بھی الجھن کا شکار ہے۔ خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کے ساتھ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر معاملات طے کرنا ہوں گے پھر چاہے وہ صوبے چلانے کی خاطر ہوں یا عمران خان تک رسائی کے لیے۔۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے انتخابات کے تقریباً  دو سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ٹی آئی اپنے ووٹ بینک کو سڑکوں پر اس طرح متحرک نہیں کر سکی کہ عمران خان کو رہائی دلوائی جا سکے۔ اور قانونی و عدالتی نظام بھی اب اسے کوئی قابلِ عمل راستہ فراہم نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا چاہے پی ٹی آئی ٹاک شوز میں سخت سے سخت مؤقف اختیار کرے یا خیبر پختونخوا میں اپنے جلسوں میں گرم جوشی دکھائے، اس کے پاس کرنے کو زیادہ آپشنز نہیں ہے۔ اور اگر وہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کی صورت حال بہتر نہ بنا سکی تو اس کے حامیوں کی ناراضی جو پہلے علی امین گنڈاپور کے لیے تھی، نئے وزیرِ اعلیٰ کو بھی نہیں بخشے گی۔ اور اس سب کے لیے، اسے اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنا سیکھنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں جلد یا بدیر پی ٹی آئی کو یہ احساس ہو جائے گا کہ اسے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے پھر چاہے وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرے یا دیگر فریقین کے ساتھ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ دونوں جانب کے مزاج کے باعث بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا دشوار ہے۔ کسی غیرمتوقع واقعے کے بغیر جو موجودہ حالات کو یکسر تبدیل کردے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ فریقین بیٹھ کر بات چیت بھلا کیوں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی خاموش رہے اور تعاون کرے جبکہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور اس کا مینڈیٹ اسے واپس کیا جائے۔ اس صورت میں درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کا احساس دے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ تجویز دیتے ہیں کہ ایک سال بعد انتخابات کے لیے کوئی معاہدہ کیا جا سکتا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ بات کیوں قابلِ قبول ہوگی؟ اور یہ کیا ضمانت دی جا سکتی ہے کہ یہ نسبتاً منصفانہ انتخابات ہوں گے؟ یہ کون یقینی بنا سکتا ہے اور کیوں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن بات الگ سمت اختیار کررہی ہے۔ فی الحال اصل چیلنج پی ٹی آئی کی قیادت والے خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان تصادم ہے۔ گورنر راج آسان حل نہیں ہے اور پی ٹی آئی اس سے بخوبی واقف ہے جبکہ وفاق کو بھی اس کا ادراک ہے۔ امکانات یہی ہیں کہ لفظی جنگ جاری رہے گی کیونکہ کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960048/stalemate-continues"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ایک نیا تصادم ابھر رہا ہے۔ یہ بات گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں ہونے والی پریس کانفرنس سے واضح تھی جو عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے کیے گئے ٹوئٹس کے بعد کی گئی تھی۔</p>
<p>پریس کانفرنس اور بعدازاں حکمران جماعت کے سیاست دانوں کی جانب سے ملنے والی حمایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی بالخصوص عمران خان کے لیے آنے والے حالات مشکل ہوں گے۔</p>
<p>درحقیقت بہت سے لوگوں کے نزدیک گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی الفاظ کی جنگ عمران خان کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ طرح طرح کی انتباہات دیے جا رہے ہیں کہ ان تک رسائی مزید محدود کر دی جائے گی اور ملاقاتوں کا سلسلہ بالکل روک دیا جائے گا۔ پہلے بھی ان کی جلد رہائی کی کسی نے توقع نہیں کی تھی اور اب تو یہ بات گویا پختہ ہو چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274669'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جو لوگ اتنے پُراعتماد ہیں کہ مستقبل کی پیش گوئی کرسکیں، وہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے مقدمے کی کارروائی، فوجی عدالتوں اور سخت سزاؤں کی بھی بات کر رہے ہیں مگر مجھ جیسے ایک عام صحافی کے لیے غیب دان بننا آسان نہیں۔ تو چلیے انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر عمران خان مزید مقدمات اور مزید سزاؤں کے جال میں الجھ جاتے ہیں تو آگے کیا ہوگا۔</p>
<p>تاہم اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے اصل چیلنج خیبر پختونخوا ہے۔ دونوں ’فریق‘ (اگر انہیں اس طرح بیان کیا جا سکے) پہلے ہی پی ٹی آئی کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے جس کے باعث گورنر راج کی بازگشت ہورہی تھی۔ اور گزشتہ چند دنوں میں یہ باتیں مزید زور پکڑتی گئی ہیں۔</p>
<p>لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا اسے اُن لوگوں کی جانب سے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اس اقدام کی اجازت دینے والی قانونی اور آئینی شقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔</p>
<p>خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کر رہی ہے جہاں اسے مضبوط عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دہشت گردی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج رہا ہے جبکہ یہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف اس عدم تحفظ پیدا کرتا ہے بلکہ اس نے صوبے کے عوامی مزاج پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔</p>
<p>بدقسمتی سے، بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کی فوجی کارروائیوں اور موجودہ شدت پسندی میں اضافے نے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی ہے۔ اور اسی کے ساتھ عوام کی اکثریت خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشنز کی خواہش مند نہیں ہے جوکہ وہی مؤقف ہے جو پی ٹی آئی بھی اختیار کرتی ہے۔</p>
<p>اس پس منظر میں گورنر راج کا نفاذ ریاست کے لیے معاملات کو آسان بنانے کے بجائے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274735/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274735"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یقینی طور پر صوبے کی حکمران جماعت کو اقتدار سے باہر نکال دینا، اس کی حمایت کو مزید مضبوط کرے گا جبکہ پہلے سے ناراض عوام کو مزید بیگانگی کے احساس میں دھکیل دے گا۔ ناراض عوام والا پہلو دہشت گردی پر قابو پانے میں ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اور یہ تو اس اقدام کے زیادہ واضح منفی پہلو ہیں۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے معاملے میں جس بات کا کم ذکر ہوتا ہے وہ سیاسی متبادل کی کمی ہے کیونکہ ایسے سیاسی عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں جو کم از کم کسی حد تک بھی عوامی حمایت فراہم کر سکیں۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام-ف (جے یو آئی-ف) جیسی جماعتیں زیادہ مقبول نہیں ہیں جبکہ اب محسوس ہوتا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی مرکزی دھارے سے باہر کی تنظیمیں بھی اپنا ربط کھو چکی ہیں۔</p>
<p>لیکن معاملات صرف یہی نہیں۔ خیبر پختونخوا میں نگران سیٹ اپ جو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد قائم ہوا تھا، زیادہ بہتر طور پر حکومتی امور نہیں چلا سکا تھا۔ محض الزامات نہیں تھے بلکہ بدعنوانی کے متعدد دعوے سامنے آئے اور انگلیاں اُن سیاسی جماعتوں کی جانب بھی اٹھیں جو اُس وقت کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی مخلوط حکومت کا حصہ تھیں اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خیبر پختونخوا کے سیٹ اپ میں شامل تھیں۔</p>
<p>اگر پی ٹی آئی کو اقتدار سے بےدخل کردیا جاتا ہے تو کیا اسے دوبارہ خیبرپختونخوا کو چلانے کا موقع دیا جائے گا؟ گورنر راج لگانے سے یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ سیاسی طور پر اور کون سے آپشن باقی رہ جاتے ہیں اور اس کا عوامی تاثرات پر کیا اثر پڑے گا۔</p>
<p>اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ریاست وہ واحد فریق ہے جسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی بھی الجھن کا شکار ہے۔ خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کے ساتھ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر معاملات طے کرنا ہوں گے پھر چاہے وہ صوبے چلانے کی خاطر ہوں یا عمران خان تک رسائی کے لیے۔۔۔</p>
<p>2024 کے انتخابات کے تقریباً  دو سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ٹی آئی اپنے ووٹ بینک کو سڑکوں پر اس طرح متحرک نہیں کر سکی کہ عمران خان کو رہائی دلوائی جا سکے۔ اور قانونی و عدالتی نظام بھی اب اسے کوئی قابلِ عمل راستہ فراہم نہیں کرتے۔</p>
<p>لہٰذا چاہے پی ٹی آئی ٹاک شوز میں سخت سے سخت مؤقف اختیار کرے یا خیبر پختونخوا میں اپنے جلسوں میں گرم جوشی دکھائے، اس کے پاس کرنے کو زیادہ آپشنز نہیں ہے۔ اور اگر وہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کی صورت حال بہتر نہ بنا سکی تو اس کے حامیوں کی ناراضی جو پہلے علی امین گنڈاپور کے لیے تھی، نئے وزیرِ اعلیٰ کو بھی نہیں بخشے گی۔ اور اس سب کے لیے، اسے اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنا سیکھنا پڑے گا۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں جلد یا بدیر پی ٹی آئی کو یہ احساس ہو جائے گا کہ اسے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے پھر چاہے وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرے یا دیگر فریقین کے ساتھ۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بدقسمتی سے یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ دونوں جانب کے مزاج کے باعث بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا دشوار ہے۔ کسی غیرمتوقع واقعے کے بغیر جو موجودہ حالات کو یکسر تبدیل کردے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ فریقین بیٹھ کر بات چیت بھلا کیوں کریں گے۔</p>
<p>اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی خاموش رہے اور تعاون کرے جبکہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور اس کا مینڈیٹ اسے واپس کیا جائے۔ اس صورت میں درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کا احساس دے؟</p>
<p>کچھ لوگ تجویز دیتے ہیں کہ ایک سال بعد انتخابات کے لیے کوئی معاہدہ کیا جا سکتا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ بات کیوں قابلِ قبول ہوگی؟ اور یہ کیا ضمانت دی جا سکتی ہے کہ یہ نسبتاً منصفانہ انتخابات ہوں گے؟ یہ کون یقینی بنا سکتا ہے اور کیوں؟</p>
<p>لیکن بات الگ سمت اختیار کررہی ہے۔ فی الحال اصل چیلنج پی ٹی آئی کی قیادت والے خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان تصادم ہے۔ گورنر راج آسان حل نہیں ہے اور پی ٹی آئی اس سے بخوبی واقف ہے جبکہ وفاق کو بھی اس کا ادراک ہے۔ امکانات یہی ہیں کہ لفظی جنگ جاری رہے گی کیونکہ کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960048/stalemate-continues"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274743</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 13:14:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارفہ نور)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091043265de3a0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091043265de3a0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر کی وجہ ہائبرڈ نظام میں دراڑ ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274735/</link>
      <description>&lt;p&gt;بہت سے تجزیہ کار اور حکومتی اہلکار اس پورے معاملے کو ضرورت سے زیادہ بڑا معاملہ بنا کر پیش کررہے تھے، ان کی تمام قیاس آرائیاں ختم ہوچکی ہیں کیونکہ طویل عرصے سے زیرِ بحث نوٹیفکیشن بلآخر عوام کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نوٹیفکیشن میں ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہائبرڈ حکومتی نظام کے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ (اگر کوئی تھا) کی اصل وجہ کیا تھی یا اگر کس فریق نے اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274728/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274728"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ متعدد قیاس آرائیاں زیرگردش رہیں کہ اختلافات کی وجہ سے نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہوا اور کچھ ‘تجزیہ کاروں’ کی رائے تھی کہ یہ اختلافات ٹوٹ پھوٹ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے جو ہائبرڈ سیٹ اپ کے خاتمے پر منتج ہوگا لیکن دوسری طرف ایسے مبصرین بھی موجود تھے جو صورت حال کو بہت زیادہ باریک بینی سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ تباہی کی جو پیش گوئی کی جا رہی ہے وہ مبالغہ آرائی، غیر حقیقت پسندانہ اور اصل حقائق سے زیادہ خواہش مندانہ سوچ کی پیداوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 ویں ترمیم میں سب کچھ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تو یہ دیکھنا مشکل تھا کہ آخر بھلا کوئی اختلاف کیوں ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے انہیں بنیادی طور پر صرف ترمیم کے الفاظ کو کاپی اور پیسٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ درحقیقت اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود یہ ترمیم اس حقیقت کی معترف اور عکاس تھی کہ اس ہائبرڈ نظام کو تشکیل دینے والے دو غیر مساوی شراکت دار‘ چاہے وہ جتنے بھی مختلف کیوں نہ ہوں، ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب یہ حقیقت تسلیم شدہ تھی تو پھر آخر کہاں، کیسے اور کیوں سول قیادت کی جانب سے کسی طرح کے تحفظات اٹھیں گے؟ یہ تو دور کی بات ہے کہ ایسے لوگ جنہیں عام زبان میں beggars can’t be choosers کہا جاتا ہے، کسی قسم کا ’مؤقف‘ اختیار کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ طاقت کے انتظام کے سویلین فریق کے لیے اس نظام کو جاری رکھنا کتنا ضروری ہے، خاص طور پر گزشتہ انتخابات جہاں اس کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور اسے مشکل سے جیت دلوائی گئی حالانکہ اس کے حریف نے ہر ممکن مشکلات کا سامنا کیا تو آپ کہیں گے کہ یہ انتہائی اہم ہے۔ اور آپ بالکل درست بھی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی بقا اور اہمیت کے لیے درمیانی تا طویل مدت میں ایک ادارے کی قیادت کی فیاضی پر کس حد تک انحصار کرے گی کیونکہ نظام کا وہ حصہ جس کا ابھی اعلان کیا گیا ہے، اگلے عام انتخابات کے بعد بھی تقریباً دو سال تک برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائبرڈ نظام کے برقرار رہنے کی ایک اور واضح نشانی حالیہ تلخ جھگڑوں کی صورت میں سامنے آئی کہ جو قید میں موجود حزبِ اختلاف کے رہنما اور انہیں اذیت دینے والوں کے درمیان ہوئے جہاں گفتگو بلا ضرورت توہین اور سخت الفاظ پر مبنی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ملک کے سب سے مقبول سیاستدان ہوسکتے ہیں لیکن وہ انتہائی سخت اور غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے دیگر لوگ ان کی دیکھا دیکھی یہی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ زبان قومی مفاہمت کے امکانات کو مزید کم کردیتی ہے اور ان کے مخالفین کو ان کے خلاف متحد بھی کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274721/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;باقی سب کچھ غیرمتعلقہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف جنہوں نے فوجی حکمران کے پسندیدہ شاگرد سے ایک ایسے لیڈر میں کامیابی اور بہادری کے ساتھ تبدیل ہونے کا سفر طے کیا جو سول بالادستی کے اصول کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، ایسا لگتا ہے کہ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بعض اوقات یہ ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے عقائد کے پابند ہیں لیکن اپنی واپسی اور ایک طویل اور اہم سیاسی کریئر کے بعد، وہ اب ایک قدم پیچھے ہٹنے اور اپنے منتخب جانشین یعنی اپنی صاحبزادی کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی زبان نرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے چھوٹے بھائی اور وزیرِ اعظم پاکستان بظاہر اپنے عالمی کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں جو خلیج، وسطی ایشیا اور دیگر دور دراز مقامات پر جا کر مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں اور معاہدوں (MoUs) پر دستخط کرتے ہی۔ ان معاہدوں کے بارے میں ہماری بے یار و مددگار قوم کو دل سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ جلد کسی دن حقیقی غیرملکی سرمایہ کاری کی صورت میں عملی شکل اختیار کریں تاکہ ان کی زندگی بہتر ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ چونکہ 27ویں ترمیم پارلیمان کی اطاعت پذیر کارروائی کے ذریعے باآسانی منظور ہو گئی، اس لیے جو بھی افراد وزارتِ قانون اور وزارتِ دفاع سے لے کر جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ تک نوٹیفیکیشن تیار کرنے اور لکھنے کے ذمہ دار تھے، وہ شاید حد سے زیادہ پُر اعتماد اور لاپروا ہو گئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اچانک اس وقت جاگے کہ جب نوٹیفکیشن پبلک کرنے میں تاخیر مسئلہ بن گئی۔ انہوں نے کہا، ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ بحران کے قریب رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں نظریات کو پھیلانے کے ساتھ، کمزور الیکٹرانک میڈیا بھی خود کو اس معاملے سے دور نہیں رکھ سکا۔ اور یوں طوفان برپا ہوگیا لیکن بلبلہ آخر پھٹ ہی گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیر اس بارے میں کافی بات ہوگئی۔ موجودہ نظام مستقبل قریب تک جاری رہ سکتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی نتائج حاصل کر سکتا ہے۔ ملک کو ہر طرف سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دو صوبوں میں ہونے والی دہشت گردی برسوں کی ناکام ریاستی پالیسیز کا نتیجہ ہو یا غیر ملکی مداخلت کا، یہ ملکی سلامتی کے ذمہ داروں کے لیے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ترقی کے وعدے اس وقت کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں جب آبادی معیشت سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہو۔ تقریباً ہر روز دستخط کیے جانے والے معاہدوں میں بعض اوقات صوبائی کنٹرول کو کمزور کرکے غیر ملکی کمپنیز کو ہمارے معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان صوبوں نے زیادہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں دیکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ جو معمولی آمدنی ہے، وہ بھی ان لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے کافی نہیں جو ان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت کے حقیقی مالک ہیں۔ صوبوں سے رقم کی آئینی طور پر ضمانت شدہ حصہ چھیننے کی ایک اور کوشش ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتائج کی کوئی فکر نہیں کی جارہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ نوٹیفکیشن کا معاملہ طے پا چکا ہے، اگر ملک کو اپنے حقیقی چیلنجز سے نمٹنا ہے تو اسے ان تمام مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر لفظ ‘حب الوطنی‘ پر اتنا سیاسی الزام نہ لگایا جاتا تو میں اسے حب الوطنی کی ضرورت کہوں گا لیکن کیا کوئی واقعی بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا حقیقی فرض ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959657/new-internal-security-order"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بہت سے تجزیہ کار اور حکومتی اہلکار اس پورے معاملے کو ضرورت سے زیادہ بڑا معاملہ بنا کر پیش کررہے تھے، ان کی تمام قیاس آرائیاں ختم ہوچکی ہیں کیونکہ طویل عرصے سے زیرِ بحث نوٹیفکیشن بلآخر عوام کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>لیکن نوٹیفکیشن میں ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہائبرڈ حکومتی نظام کے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ (اگر کوئی تھا) کی اصل وجہ کیا تھی یا اگر کس فریق نے اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274728/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274728"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ متعدد قیاس آرائیاں زیرگردش رہیں کہ اختلافات کی وجہ سے نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہوا اور کچھ ‘تجزیہ کاروں’ کی رائے تھی کہ یہ اختلافات ٹوٹ پھوٹ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے جو ہائبرڈ سیٹ اپ کے خاتمے پر منتج ہوگا لیکن دوسری طرف ایسے مبصرین بھی موجود تھے جو صورت حال کو بہت زیادہ باریک بینی سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ تباہی کی جو پیش گوئی کی جا رہی ہے وہ مبالغہ آرائی، غیر حقیقت پسندانہ اور اصل حقائق سے زیادہ خواہش مندانہ سوچ کی پیداوار ہے۔</p>
<p>27 ویں ترمیم میں سب کچھ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تو یہ دیکھنا مشکل تھا کہ آخر بھلا کوئی اختلاف کیوں ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے انہیں بنیادی طور پر صرف ترمیم کے الفاظ کو کاپی اور پیسٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ درحقیقت اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا۔</p>
<p>خود یہ ترمیم اس حقیقت کی معترف اور عکاس تھی کہ اس ہائبرڈ نظام کو تشکیل دینے والے دو غیر مساوی شراکت دار‘ چاہے وہ جتنے بھی مختلف کیوں نہ ہوں، ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب یہ حقیقت تسلیم شدہ تھی تو پھر آخر کہاں، کیسے اور کیوں سول قیادت کی جانب سے کسی طرح کے تحفظات اٹھیں گے؟ یہ تو دور کی بات ہے کہ ایسے لوگ جنہیں عام زبان میں beggars can’t be choosers کہا جاتا ہے، کسی قسم کا ’مؤقف‘ اختیار کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔</p>
<p>اگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ طاقت کے انتظام کے سویلین فریق کے لیے اس نظام کو جاری رکھنا کتنا ضروری ہے، خاص طور پر گزشتہ انتخابات جہاں اس کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور اسے مشکل سے جیت دلوائی گئی حالانکہ اس کے حریف نے ہر ممکن مشکلات کا سامنا کیا تو آپ کہیں گے کہ یہ انتہائی اہم ہے۔ اور آپ بالکل درست بھی ہوں گے۔</p>
<p>یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی بقا اور اہمیت کے لیے درمیانی تا طویل مدت میں ایک ادارے کی قیادت کی فیاضی پر کس حد تک انحصار کرے گی کیونکہ نظام کا وہ حصہ جس کا ابھی اعلان کیا گیا ہے، اگلے عام انتخابات کے بعد بھی تقریباً دو سال تک برقرار رہے گا۔</p>
<p>ہائبرڈ نظام کے برقرار رہنے کی ایک اور واضح نشانی حالیہ تلخ جھگڑوں کی صورت میں سامنے آئی کہ جو قید میں موجود حزبِ اختلاف کے رہنما اور انہیں اذیت دینے والوں کے درمیان ہوئے جہاں گفتگو بلا ضرورت توہین اور سخت الفاظ پر مبنی رہی۔</p>
<p>وہ ملک کے سب سے مقبول سیاستدان ہوسکتے ہیں لیکن وہ انتہائی سخت اور غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے دیگر لوگ ان کی دیکھا دیکھی یہی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ زبان قومی مفاہمت کے امکانات کو مزید کم کردیتی ہے اور ان کے مخالفین کو ان کے خلاف متحد بھی کر دیتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274721/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>باقی سب کچھ غیرمتعلقہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف جنہوں نے فوجی حکمران کے پسندیدہ شاگرد سے ایک ایسے لیڈر میں کامیابی اور بہادری کے ساتھ تبدیل ہونے کا سفر طے کیا جو سول بالادستی کے اصول کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، ایسا لگتا ہے کہ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>وہ بعض اوقات یہ ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے عقائد کے پابند ہیں لیکن اپنی واپسی اور ایک طویل اور اہم سیاسی کریئر کے بعد، وہ اب ایک قدم پیچھے ہٹنے اور اپنے منتخب جانشین یعنی اپنی صاحبزادی کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی زبان نرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ان کے چھوٹے بھائی اور وزیرِ اعظم پاکستان بظاہر اپنے عالمی کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں جو خلیج، وسطی ایشیا اور دیگر دور دراز مقامات پر جا کر مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں اور معاہدوں (MoUs) پر دستخط کرتے ہی۔ ان معاہدوں کے بارے میں ہماری بے یار و مددگار قوم کو دل سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ جلد کسی دن حقیقی غیرملکی سرمایہ کاری کی صورت میں عملی شکل اختیار کریں تاکہ ان کی زندگی بہتر ہو سکے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ چونکہ 27ویں ترمیم پارلیمان کی اطاعت پذیر کارروائی کے ذریعے باآسانی منظور ہو گئی، اس لیے جو بھی افراد وزارتِ قانون اور وزارتِ دفاع سے لے کر جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ تک نوٹیفیکیشن تیار کرنے اور لکھنے کے ذمہ دار تھے، وہ شاید حد سے زیادہ پُر اعتماد اور لاپروا ہو گئے ہوں۔</p>
<p>وہ اچانک اس وقت جاگے کہ جب نوٹیفکیشن پبلک کرنے میں تاخیر مسئلہ بن گئی۔ انہوں نے کہا، ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ بحران کے قریب رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں نظریات کو پھیلانے کے ساتھ، کمزور الیکٹرانک میڈیا بھی خود کو اس معاملے سے دور نہیں رکھ سکا۔ اور یوں طوفان برپا ہوگیا لیکن بلبلہ آخر پھٹ ہی گیا۔</p>
<p>خیر اس بارے میں کافی بات ہوگئی۔ موجودہ نظام مستقبل قریب تک جاری رہ سکتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی نتائج حاصل کر سکتا ہے۔ ملک کو ہر طرف سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دو صوبوں میں ہونے والی دہشت گردی برسوں کی ناکام ریاستی پالیسیز کا نتیجہ ہو یا غیر ملکی مداخلت کا، یہ ملکی سلامتی کے ذمہ داروں کے لیے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>معاشی ترقی کے وعدے اس وقت کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں جب آبادی معیشت سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہو۔ تقریباً ہر روز دستخط کیے جانے والے معاہدوں میں بعض اوقات صوبائی کنٹرول کو کمزور کرکے غیر ملکی کمپنیز کو ہمارے معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان صوبوں نے زیادہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں دیکھی ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ جو معمولی آمدنی ہے، وہ بھی ان لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے کافی نہیں جو ان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت کے حقیقی مالک ہیں۔ صوبوں سے رقم کی آئینی طور پر ضمانت شدہ حصہ چھیننے کی ایک اور کوشش ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتائج کی کوئی فکر نہیں کی جارہی۔</p>
<p>اب جبکہ نوٹیفکیشن کا معاملہ طے پا چکا ہے، اگر ملک کو اپنے حقیقی چیلنجز سے نمٹنا ہے تو اسے ان تمام مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>اگر لفظ ‘حب الوطنی‘ پر اتنا سیاسی الزام نہ لگایا جاتا تو میں اسے حب الوطنی کی ضرورت کہوں گا لیکن کیا کوئی واقعی بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا حقیقی فرض ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959657/new-internal-security-order"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274735</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 16:33:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عباس ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/08161257c7d7527.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/08161257c7d7527.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج: ’یہ اقدام ملک کو سنگین بحران میں دھکیل دے گا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274627/khyber-pakhtunkhwa-mein-governor-raj-security-masail-ki-asal-zimmedar-kaun</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر کئی ماہ سے بحث ہوتی رہی ہے لیکن اب یہ معاملہ ناگزیر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بعض سرکاری وزرا کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا کوئی بھی اقدام ملک کو مزید سنگین بحران میں دھکیل دے گا جس کے دور رس سیاسی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک میں تنگ ہوتی جمہوری فضا پہلے ہی ایک غیر مستحکم صورتِ حال پیدا کر چکی ہے اور محاذ آرائی کی سیاست پورے نظام کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ کیا ملک جو پہلے ہی متعدد داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا متحمل ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274527'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274527"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کی جانب سے اس ممکنہ اقدام کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں، اُن میں خیبرپختونخوا میں سلامتی اور گورننس کے مسائل شامل ہیں۔ یہ درست ہو سکتا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبے کو ایک دہائی میں اپنی بدترین سیکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اور دہشت گردی سیکڑوں جانیں لے چکی ہے لیکن ان بگڑتے حالات کی اصل ذمہ داری وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ بدانتظامی کا بہانہ بھی کمزور ہے کیونکہ دیگر صوبوں میں حالات قابلِ تعریف نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورا معاملہ طاقت کی سیاست اور خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کو دیوار سے لگانے کا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ لیکن خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کیے جانے کے باوجود، پی ٹی آئی اب بھی کے پی اسمبلی میں غالب حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نئے اور سخت گیر وزیرِاعلیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے اس ہائبرڈ نظام کی مایوسی جھلکتی ہے جو صوبائی حکومت کو زیرِ دام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ایسی کسی بھی سخت کارروائی کے نتیجے میں صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے، بالخصوص اُس خطے میں کہ جہاں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ تشویشناک پہلو مقامی آبادی کی ریاست سے بڑھتی ہوئی بیگانگی کا احساس ہے، بالخصوص وہ اضلاع جو عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کے باعث ان علاقوں میں انتظامی کنٹرول تقریباً ختم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال دہشت گرد گروہوں کو مزید کھلی آزادی فراہم کرتی ہے جو اب بلاخوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ اب اعلیٰ سیکیورٹی زون میں بھی اس نوعیت کے بے باک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274489'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274489"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً کم وسائل رکھنے والے اور مایوسی کا شکار شہری قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد کا خلا صوبے میں سیکیورٹی کے عملی طور پر انہدام کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ کے ‘سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ’ کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو وسیع پیمانے پر اس طور پر لیا گیا ہے کہ صوبائی سیاسی قیادت کو عسکریت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس تاثر نے اسلام آباد اور پشاور کے مابین جاری تناؤ میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، یہ صورتِ حال عوام کو وجودی خطرے کے خلاف متحد کرنے کے بجائے ان میں اعتماد کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے اور یوں ریاست کو اپنے ہی لوگوں سے دور کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی اور وہاں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں نے براہِ راست خیبرپختونخوا کو متاثر کیا ہے۔ صوبے کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے اور نسلی بنیادوں پر روابط بھی موجود ہیں۔ لہٰذا پاک-افغان تناؤ میں اضافہ خیبرپختونخوا کی سیاست اور معاشرے پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرحدوں کی بندش نے صوبے میں کاروبار اور تجارت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ لیکن کیا ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت نے مقامی آبادی کے ان خدشات کو تسلیم کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ افغانستان کی کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن صوبائی حکومت کا اُن افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کے خلاف مؤقف جو اس ملک میں پیدا ہوئے یا تقریباً تین نسلوں تک یہاں رہے، اتنا غیر معقول نہیں جتنا وفاقی حکومت اسے بنا کر پیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت حکومت کے من مانے فیصلے یعنی ان مہاجرین کو واپس بھیجنے اور تجارت بند کرنے سے افغان عوام کے جذبات اس ملک کے خلاف ہو گئے ہیں جسے افغان طالبان کی انتظامیہ نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے لیے اپنی افغان پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ وزیرِ دفاع اور کچھ دیگر پاکستانی حکام کی جانب سے افغانوں کے بارے میں سخت زبان میں دیے گئے عوامی بیانات نے نہ صرف سرحد کے اُس پار لوگوں کو مشتعل کیا ہے بلکہ اندرونِ ملک بہت سے پشتون بھی اس سے دل برداشتہ ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن ملکی جمہوری فضا کے سکڑنے اور بڑھتی ہوئی آمریت میں موجودہ محاذ آرائی کی جڑ ہے۔ عدلیہ کی خود مختاری کو آئینی ترامیم کے ذریعے محدود کرکے حکومت نے ہائبرڈ نظام کے ماورائے آئین اقدامات کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اُن کے آئینی حق یعنی منصفانہ ٹرائل سے محروم رکھنا اور عدالتی احکامات کے باوجود اُنہیں اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کرنے نہ دینا، وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے میں پارٹی اب نوجوان نسل اور زیادہ پُراعتماد عناصر کے ہاتھ میں ہے جو حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ اور بظاہر فرمانبردار آئینی عدالت کے قیام کے بعد، وفاقی حکومت کو اب اس بات کا زیادہ یقین ہوچکا ہے کہ اس کے ماورائے آئین اور غیر جمہوری اقدامات کالعدم قرار نہیں دیے جائیں گے جس سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ بااثر حلقوں میں شاید اس بات کا شعور نہیں کہ اس اقدام سے صوبے میں عوامی ردِعمل کس قدر شدید ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ قانون نے گورنر راج کا دفاع کرتے ہوئے اسے مارشل لا کے بجائے ایک آئینی راستہ قرار دیا ہے۔ مگر جمہوری حقوق کی نفی اور بعض طاقتور حلقوں کا سخت طرزِ عمل عوام کی نظر میں مارشل لا سے کم نہیں سمجھا جا رہا۔ صوبائی حکومت کو معطل کرنا عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گا اور ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958892"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر کئی ماہ سے بحث ہوتی رہی ہے لیکن اب یہ معاملہ ناگزیر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بعض سرکاری وزرا کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایسا کوئی بھی اقدام ملک کو مزید سنگین بحران میں دھکیل دے گا جس کے دور رس سیاسی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک میں تنگ ہوتی جمہوری فضا پہلے ہی ایک غیر مستحکم صورتِ حال پیدا کر چکی ہے اور محاذ آرائی کی سیاست پورے نظام کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ کیا ملک جو پہلے ہی متعدد داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا متحمل ہو سکتا ہے؟</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274527'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274527"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی حکومت کی جانب سے اس ممکنہ اقدام کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں، اُن میں خیبرپختونخوا میں سلامتی اور گورننس کے مسائل شامل ہیں۔ یہ درست ہو سکتا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبے کو ایک دہائی میں اپنی بدترین سیکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اور دہشت گردی سیکڑوں جانیں لے چکی ہے لیکن ان بگڑتے حالات کی اصل ذمہ داری وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ بدانتظامی کا بہانہ بھی کمزور ہے کیونکہ دیگر صوبوں میں حالات قابلِ تعریف نہیں۔</p>
<p>پورا معاملہ طاقت کی سیاست اور خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کو دیوار سے لگانے کا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ لیکن خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کیے جانے کے باوجود، پی ٹی آئی اب بھی کے پی اسمبلی میں غالب حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p>ایک نئے اور سخت گیر وزیرِاعلیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے اس ہائبرڈ نظام کی مایوسی جھلکتی ہے جو صوبائی حکومت کو زیرِ دام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ایسی کسی بھی سخت کارروائی کے نتیجے میں صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے، بالخصوص اُس خطے میں کہ جہاں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مغربی سرحد پر جنگ جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ تشویشناک پہلو مقامی آبادی کی ریاست سے بڑھتی ہوئی بیگانگی کا احساس ہے، بالخصوص وہ اضلاع جو عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کے باعث ان علاقوں میں انتظامی کنٹرول تقریباً ختم ہو چکا ہے۔</p>
<p>ایسی صورتِ حال دہشت گرد گروہوں کو مزید کھلی آزادی فراہم کرتی ہے جو اب بلاخوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ اب اعلیٰ سیکیورٹی زون میں بھی اس نوعیت کے بے باک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274489'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274489"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً کم وسائل رکھنے والے اور مایوسی کا شکار شہری قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد کا خلا صوبے میں سیکیورٹی کے عملی طور پر انہدام کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ کے ‘سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ’ کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو وسیع پیمانے پر اس طور پر لیا گیا ہے کہ صوبائی سیاسی قیادت کو عسکریت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس تاثر نے اسلام آباد اور پشاور کے مابین جاری تناؤ میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً، یہ صورتِ حال عوام کو وجودی خطرے کے خلاف متحد کرنے کے بجائے ان میں اعتماد کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے اور یوں ریاست کو اپنے ہی لوگوں سے دور کر سکتی ہے۔</p>
<p>افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی اور وہاں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں نے براہِ راست خیبرپختونخوا کو متاثر کیا ہے۔ صوبے کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے اور نسلی بنیادوں پر روابط بھی موجود ہیں۔ لہٰذا پاک-افغان تناؤ میں اضافہ خیبرپختونخوا کی سیاست اور معاشرے پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>سرحدوں کی بندش نے صوبے میں کاروبار اور تجارت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ لیکن کیا ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت نے مقامی آبادی کے ان خدشات کو تسلیم کیا ہے؟</p>
<p>اگرچہ افغانستان کی کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن صوبائی حکومت کا اُن افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کے خلاف مؤقف جو اس ملک میں پیدا ہوئے یا تقریباً تین نسلوں تک یہاں رہے، اتنا غیر معقول نہیں جتنا وفاقی حکومت اسے بنا کر پیش کر رہی ہے۔</p>
<p>درحقیقت حکومت کے من مانے فیصلے یعنی ان مہاجرین کو واپس بھیجنے اور تجارت بند کرنے سے افغان عوام کے جذبات اس ملک کے خلاف ہو گئے ہیں جسے افغان طالبان کی انتظامیہ نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔</p>
<p>اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے لیے اپنی افغان پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ وزیرِ دفاع اور کچھ دیگر پاکستانی حکام کی جانب سے افغانوں کے بارے میں سخت زبان میں دیے گئے عوامی بیانات نے نہ صرف سرحد کے اُس پار لوگوں کو مشتعل کیا ہے بلکہ اندرونِ ملک بہت سے پشتون بھی اس سے دل برداشتہ ہوئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن ملکی جمہوری فضا کے سکڑنے اور بڑھتی ہوئی آمریت میں موجودہ محاذ آرائی کی جڑ ہے۔ عدلیہ کی خود مختاری کو آئینی ترامیم کے ذریعے محدود کرکے حکومت نے ہائبرڈ نظام کے ماورائے آئین اقدامات کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔</p>
<p>سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اُن کے آئینی حق یعنی منصفانہ ٹرائل سے محروم رکھنا اور عدالتی احکامات کے باوجود اُنہیں اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کرنے نہ دینا، وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔</p>
<p>صوبے میں پارٹی اب نوجوان نسل اور زیادہ پُراعتماد عناصر کے ہاتھ میں ہے جو حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>ایک علیحدہ اور بظاہر فرمانبردار آئینی عدالت کے قیام کے بعد، وفاقی حکومت کو اب اس بات کا زیادہ یقین ہوچکا ہے کہ اس کے ماورائے آئین اور غیر جمہوری اقدامات کالعدم قرار نہیں دیے جائیں گے جس سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ بااثر حلقوں میں شاید اس بات کا شعور نہیں کہ اس اقدام سے صوبے میں عوامی ردِعمل کس قدر شدید ہو سکتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ قانون نے گورنر راج کا دفاع کرتے ہوئے اسے مارشل لا کے بجائے ایک آئینی راستہ قرار دیا ہے۔ مگر جمہوری حقوق کی نفی اور بعض طاقتور حلقوں کا سخت طرزِ عمل عوام کی نظر میں مارشل لا سے کم نہیں سمجھا جا رہا۔ صوبائی حکومت کو معطل کرنا عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گا اور ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل دے گا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958892"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274627</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 12:54:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/041058016334cdd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/041058016334cdd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کسی خاص حکمت عملی کے تحت بابری مسجد کو 6 دسمبر کو شہید کیا گیا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274548/</link>
      <description>&lt;p&gt;6 دسمبر وہ تاریخ ہے کہ جب 33 سال قبل بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1992ء کے فسادات سے قبل یہ دن بھارت کی دلت ذات اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتہائی عقیدت سے ان کے ہیرو بھیم راؤ امبیڈکر کے یومِ وفات کے طور پر منایا جاتا تھا۔ بھیم امبیڈکر نے 14 اکتوبر 1956ء کو ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مت اختیار کیا تھا اور 6 دسمبر کو وفات پائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسجد کی مسماری کے لیے اسی تاریخ کا انتخاب کرنا حکمت عملی کا حصہ تھا جس کے تحت ہندوتوا تحریک کو صدیوں پرانی ذات کی پریشان کُن کشمکش سے عوام کی توجہ ہٹانے میں مدد ملی اور اس کے بجائے لوگوں نے اپنی توجہ ہندو بامقابلہ مسلم مسئلے پر مرکوز کر دی جس سے سیاستدانوں کے انتخابی فوائد مقصود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تقسیم 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی حکام کے ہاتھوں پروان چڑھی اور 1947ء میں تقسیمِ ہند کا باعث بنی۔ آزادی کو 70 سے زائد سال گزر جانے کے باوجود یہ تقسیم اب بھی بھارت اور پاکستان کے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کے لیے ایک نظریاتی قالب کے طور پر کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر حال ہی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسی ہندو مسلم تقسیم کا استعمال کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ پاکستان کا قیام کیوں عمل میں آیا اور اس ملک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خون کے ہر قطرے تک اس کا دفاع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ الگ بات ہے کہ آج پاکستان کو صرف اپنے ایک بڑے ہندو ہمسایے سے خطرے کا سامنا نہیں بلکہ ایک مسلم ریاست بھی پاکستان کے لیے پریشانیوں کا باعث بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس ہندو-مسلم تقسیم کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ کثیرالثقافتی اور کثیرالمذاہب ریاست، بھارت کو واحد ہندو اکثریتی قوم یعنی ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے اپنے مقصد کو آگے بڑھا سکیں۔ وہ یہ سب سڑکوں پر عوامی طاقت، میڈیا پر کنٹرول اور سرکاری معاملات میں ہیرا پھیری کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کا ادراک کیے بغیر، بھارت اور پاکستان دونوں میں بسنے والے بہت سے لبرل مفکرین بھی ہندو-مسلم تقسیم کو قبول کرتے ہیں۔ وہ ایسا مثبت وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ماضی میں ہندو اور مسلمان پُرامن طور پر ایک ساتھ رہ چکے ہیں تاکہ ان کے خیال کو تقویت ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبرل سوچ رکھنے والوں کی ’گنگا-جمنا تہذیب‘ کی مسلسل تائید بھی اسی عقیدے سے جڑی ہے اور وہ درست کہتے ہیں کہ کبھی ہندو اور مسلمان مل کر ایک دلکش ثقافتی امتزاج تشکیل دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر ہم مزید باریک بینی سے دیکھیں تو یہ خیال ہمیشہ سے کسی حد تک اشرافیہ کا تھا۔ یہ استحارنامہ میں پائی جانے والی سوچ پر مبنی تھا جوکہ ایک سرکاری اعلان ہے جسے اودھ کی آخری ملکہ بیگم حضرت محل نے اس وقت شائع کیا تھا جب وہ 1857ء میں انگریزوں سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے غیر ملکی دشمن کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ یہ پیغام گنگا-جمنا تصور کا ابتدائی ورژن تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے سخت سماجی درجہ بندی کو بھی تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1958ء میں انہوں نے لکھا تھا، ’ہر شخص (میرے ماتحت علاقوں میں) اپنے اپنے دھرم پر عمل پیرا ہے اور اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق عزت پاتا ہے۔ اعلیٰ نسب کے مرد خواہ وہ مسلمانوں میں سید، شیخ، مغل یا پٹھان ہوں یا ہندوؤں میں برہمن، کھتری، ویش یا کایتھ، سب کو ان کے رتبے کے مطابق وقار حاصل ہے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274230/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274230"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن اسی سرکاری دستاویز میں بیگم حضرت محل نے اُن ہندوستانیوں کے بارے میں بھی ایک نکتہ واضح کیا جو اودھ کی عنایتوں کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ ’اور نچلی ذات کے تمام لوگ جیسے جمعدار، چمار، دھانک یا پاسی، وہ ان کے برابر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ افسوسناک سوچ یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ’اعلیٰ نسب کے ہر شخص کی عزت اور وقار کو (انگریز) نچلے طبقوں کی عزت اور وقار کے برابر سمجھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ وہ نچلے طبقے کے مقابلے میں اونچے طبقے سے تحقیر اور بے ادبی سے پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;‘انگریز معزز لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں اور چمار کے اشارے پر کسی نواب یا راجا کی حاضری لازمی کر دیتے ہیں اور انہیں تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندو-مسلم ثقافتی امتزاج کی علامت سمجھی جانے والی دلکش ’گنگا-جمنا تہذیب‘ نے خود کو اس طرح محدود کر لیا کہ اس کی اپیل دونوں بڑی مذہبی برادریوں کے صرف اشرافیہ تک ہی رہی۔ نچلے درجے کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس دائرے سے واضح طور پر خارج کرنا اس سیکولر اپیل کی کمزوری ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ قریب سے دیکھیں تو ذات پات کی تقسیم اب بھی غیرمنصفانہ نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ’مسلم دلت‘ (جیسے مہتر یا حلال خور) کو مثبت کارروائی کے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو ایک ’ہندو دلت‘ کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ مظلوم گروہوں میں تقسیم پیدا کرتا ہے جس سے ان کا استحصال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں بہار میں ایک بڑی انتخابی فتح کے بعد نریندر مودی پچھلے ہفتے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ہمراہ ایودھیا واپس آئے جہاں انہوں نے رام مندر کے اوپر روایتی سنہری جھنڈا لہرا کر تاجروں، فلمی ستاروں اور کرکٹرز کی موجودگی میں داد وصول کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے عجلت میں جنوری 2024ء میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا تاکہ مئی کے انتخابات سے پہلے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے  لیکن ان کی پارٹی انتخاب ہار گئی لیکن پھر بھی اتحادی شراکت داروں کی مرہونِ منت وہ اقتدار میں برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زخم پر نمک چھڑکنے والی بات کروں تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کو بھگوان رام کے ایودھیا میں ایک دلت مخالف نے شکست دی تھی۔ یوں ہندو راشٹر کے سفر نے اتنا ہی مشکل اور غیر یقینی منظر پیش کرنا شروع کر دیا جتنا کہ ناممکن لگنے لگا۔ اپنے حامیوں اور اپنے وفادار کارکنان کے حوصلے برقرار رکھنے کے لیے مودی کو دعاؤں اور تقریروں کا سہارا لینا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ہفتے گوا میں انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں بھارت ایک ثقافتی احیا کا تجربہ کر رہا ہے۔ وہ خود کو عظیم تاریخی شخصیات جیسے لورینزو ڈی میڈیکی، مائیکل اینجیلو اور کوپرنیکس کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم یہ دعویٰ ریاستی سرپرستی میں بھارت کی ثقافتی آمیزش اور سائنسی بنیادوں پر پھیلے ہوئے ماحول کو دبانے اور جان بوجھ کر غیر فکری اور سیاسی طور پر سازگار اکثریتی نظام کو قائم کرنے کی کوشش سے اُلجھا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260181'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک اور چیز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وہ ہے ہندوستان کے ثقافتی احیا کے حقیقی، متاثر کن لمحات۔۔۔ مثال کے طور پر، 19ویں صدی میں بنگال کی نشاۃ ثانیہ نے بہت سے فرسودہ نظریات اور طرز عمل کو چیلنج کیا جن میں سے کچھ کی اب بی جے پی، جواہرلال نہرو کے لبرل وژن کو کمزور کرنے کے لیے حمایت کرتی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19ویں صدی کی اس تحریک نے ادب، سائنس اور تعلیم میں بڑی ترقی کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور روکیہ سخاوت حسین جیسی اہم شخصیات نے اس وقت کی فکری اور سماجی زندگی دونوں کی تشکیل میں مدد کی۔ کیرالہ کی بھی اپنی نشانِ ثانیہ تھی جبکہ ہندوستان کے دیگر خطوں میں بھی یہی تھا لیکن ہندوستان اس وقت ایک قوم، ایک ریاست نہیں تھا۔ سماجی اصلاحاتی تحریکوں میں ایک مشترکہ موضوع عقلیت پسندی تھا جس میں بت پرستی سے کنارہ کشی بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اِدھر مودی گویا بھارت کی نئی نشاط ثانیہ کا اعلان کرنے کے لیے گوا میں رام کے 77 فٹ بلند مجسمے کا افتتاح کر رہے تھے۔ مگر جب بُت تراشی کو ویدوں کی تائید ہی حاصل نہیں، تو آخر ایسی مورتیاں کسی نشاط ثانیہ کی علامت کیسے بن سکتی ہیں؟ خصوصاً جب مجسمہ سازی کی روایت چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندرِ اعظم کے ساتھ اس خطّے میں پہنچی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ویدک دور میں بُت پرستی کا کوئی رواج نہیں تھا، اُس زمانے میں عبادت فطری قوتوں کی شخصی صورتوں کو وقف رسوم اور بھجنوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ بُتوں اور مندروں کا تصور تو موریہ عہد کے بعد کے زمانوں میں عام ہوا۔ لیکن مودی اور ہندوتوا کے نزدیک یہ بات اہم نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958683"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>6 دسمبر وہ تاریخ ہے کہ جب 33 سال قبل بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔</p>
<p>1992ء کے فسادات سے قبل یہ دن بھارت کی دلت ذات اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتہائی عقیدت سے ان کے ہیرو بھیم راؤ امبیڈکر کے یومِ وفات کے طور پر منایا جاتا تھا۔ بھیم امبیڈکر نے 14 اکتوبر 1956ء کو ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مت اختیار کیا تھا اور 6 دسمبر کو وفات پائی تھی۔</p>
<p>مسجد کی مسماری کے لیے اسی تاریخ کا انتخاب کرنا حکمت عملی کا حصہ تھا جس کے تحت ہندوتوا تحریک کو صدیوں پرانی ذات کی پریشان کُن کشمکش سے عوام کی توجہ ہٹانے میں مدد ملی اور اس کے بجائے لوگوں نے اپنی توجہ ہندو بامقابلہ مسلم مسئلے پر مرکوز کر دی جس سے سیاستدانوں کے انتخابی فوائد مقصود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تقسیم 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی حکام کے ہاتھوں پروان چڑھی اور 1947ء میں تقسیمِ ہند کا باعث بنی۔ آزادی کو 70 سے زائد سال گزر جانے کے باوجود یہ تقسیم اب بھی بھارت اور پاکستان کے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کے لیے ایک نظریاتی قالب کے طور پر کام کرتی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر حال ہی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسی ہندو مسلم تقسیم کا استعمال کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ پاکستان کا قیام کیوں عمل میں آیا اور اس ملک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خون کے ہر قطرے تک اس کا دفاع کریں گے۔</p>
<p>اب یہ الگ بات ہے کہ آج پاکستان کو صرف اپنے ایک بڑے ہندو ہمسایے سے خطرے کا سامنا نہیں بلکہ ایک مسلم ریاست بھی پاکستان کے لیے پریشانیوں کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p>خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس ہندو-مسلم تقسیم کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ کثیرالثقافتی اور کثیرالمذاہب ریاست، بھارت کو واحد ہندو اکثریتی قوم یعنی ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے اپنے مقصد کو آگے بڑھا سکیں۔ وہ یہ سب سڑکوں پر عوامی طاقت، میڈیا پر کنٹرول اور سرکاری معاملات میں ہیرا پھیری کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کا ادراک کیے بغیر، بھارت اور پاکستان دونوں میں بسنے والے بہت سے لبرل مفکرین بھی ہندو-مسلم تقسیم کو قبول کرتے ہیں۔ وہ ایسا مثبت وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ماضی میں ہندو اور مسلمان پُرامن طور پر ایک ساتھ رہ چکے ہیں تاکہ ان کے خیال کو تقویت ملے۔</p>
<p>لبرل سوچ رکھنے والوں کی ’گنگا-جمنا تہذیب‘ کی مسلسل تائید بھی اسی عقیدے سے جڑی ہے اور وہ درست کہتے ہیں کہ کبھی ہندو اور مسلمان مل کر ایک دلکش ثقافتی امتزاج تشکیل دیتے تھے۔</p>
<p>لیکن اگر ہم مزید باریک بینی سے دیکھیں تو یہ خیال ہمیشہ سے کسی حد تک اشرافیہ کا تھا۔ یہ استحارنامہ میں پائی جانے والی سوچ پر مبنی تھا جوکہ ایک سرکاری اعلان ہے جسے اودھ کی آخری ملکہ بیگم حضرت محل نے اس وقت شائع کیا تھا جب وہ 1857ء میں انگریزوں سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے غیر ملکی دشمن کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ یہ پیغام گنگا-جمنا تصور کا ابتدائی ورژن تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے سخت سماجی درجہ بندی کو بھی تقویت دی۔</p>
<p>1958ء میں انہوں نے لکھا تھا، ’ہر شخص (میرے ماتحت علاقوں میں) اپنے اپنے دھرم پر عمل پیرا ہے اور اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق عزت پاتا ہے۔ اعلیٰ نسب کے مرد خواہ وہ مسلمانوں میں سید، شیخ، مغل یا پٹھان ہوں یا ہندوؤں میں برہمن، کھتری، ویش یا کایتھ، سب کو ان کے رتبے کے مطابق وقار حاصل ہے‘۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274230/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274230"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن اسی سرکاری دستاویز میں بیگم حضرت محل نے اُن ہندوستانیوں کے بارے میں بھی ایک نکتہ واضح کیا جو اودھ کی عنایتوں کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ ’اور نچلی ذات کے تمام لوگ جیسے جمعدار، چمار، دھانک یا پاسی، وہ ان کے برابر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے‘۔</p>
<p>لیکن یہ افسوسناک سوچ یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ’اعلیٰ نسب کے ہر شخص کی عزت اور وقار کو (انگریز) نچلے طبقوں کی عزت اور وقار کے برابر سمجھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ وہ نچلے طبقے کے مقابلے میں اونچے طبقے سے تحقیر اور بے ادبی سے پیش آتے ہیں۔</p>
<p>‘انگریز معزز لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں اور چمار کے اشارے پر کسی نواب یا راجا کی حاضری لازمی کر دیتے ہیں اور انہیں تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں’۔</p>
<p>ہندو-مسلم ثقافتی امتزاج کی علامت سمجھی جانے والی دلکش ’گنگا-جمنا تہذیب‘ نے خود کو اس طرح محدود کر لیا کہ اس کی اپیل دونوں بڑی مذہبی برادریوں کے صرف اشرافیہ تک ہی رہی۔ نچلے درجے کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس دائرے سے واضح طور پر خارج کرنا اس سیکولر اپیل کی کمزوری ثابت ہوا۔</p>
<p>زیادہ قریب سے دیکھیں تو ذات پات کی تقسیم اب بھی غیرمنصفانہ نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ’مسلم دلت‘ (جیسے مہتر یا حلال خور) کو مثبت کارروائی کے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو ایک ’ہندو دلت‘ کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ مظلوم گروہوں میں تقسیم پیدا کرتا ہے جس سے ان کا استحصال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔</p>
<p>نومبر میں بہار میں ایک بڑی انتخابی فتح کے بعد نریندر مودی پچھلے ہفتے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ہمراہ ایودھیا واپس آئے جہاں انہوں نے رام مندر کے اوپر روایتی سنہری جھنڈا لہرا کر تاجروں، فلمی ستاروں اور کرکٹرز کی موجودگی میں داد وصول کی۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے عجلت میں جنوری 2024ء میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا تاکہ مئی کے انتخابات سے پہلے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے  لیکن ان کی پارٹی انتخاب ہار گئی لیکن پھر بھی اتحادی شراکت داروں کی مرہونِ منت وہ اقتدار میں برقرار رہے۔</p>
<p>زخم پر نمک چھڑکنے والی بات کروں تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کو بھگوان رام کے ایودھیا میں ایک دلت مخالف نے شکست دی تھی۔ یوں ہندو راشٹر کے سفر نے اتنا ہی مشکل اور غیر یقینی منظر پیش کرنا شروع کر دیا جتنا کہ ناممکن لگنے لگا۔ اپنے حامیوں اور اپنے وفادار کارکنان کے حوصلے برقرار رکھنے کے لیے مودی کو دعاؤں اور تقریروں کا سہارا لینا پڑا۔</p>
<p>تاہم گزشتہ ہفتے گوا میں انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں بھارت ایک ثقافتی احیا کا تجربہ کر رہا ہے۔ وہ خود کو عظیم تاریخی شخصیات جیسے لورینزو ڈی میڈیکی، مائیکل اینجیلو اور کوپرنیکس کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم یہ دعویٰ ریاستی سرپرستی میں بھارت کی ثقافتی آمیزش اور سائنسی بنیادوں پر پھیلے ہوئے ماحول کو دبانے اور جان بوجھ کر غیر فکری اور سیاسی طور پر سازگار اکثریتی نظام کو قائم کرنے کی کوشش سے اُلجھا ہوا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260181'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہاں ایک اور چیز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وہ ہے ہندوستان کے ثقافتی احیا کے حقیقی، متاثر کن لمحات۔۔۔ مثال کے طور پر، 19ویں صدی میں بنگال کی نشاۃ ثانیہ نے بہت سے فرسودہ نظریات اور طرز عمل کو چیلنج کیا جن میں سے کچھ کی اب بی جے پی، جواہرلال نہرو کے لبرل وژن کو کمزور کرنے کے لیے حمایت کرتی نظر آتی ہے۔</p>
<p>19ویں صدی کی اس تحریک نے ادب، سائنس اور تعلیم میں بڑی ترقی کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور روکیہ سخاوت حسین جیسی اہم شخصیات نے اس وقت کی فکری اور سماجی زندگی دونوں کی تشکیل میں مدد کی۔ کیرالہ کی بھی اپنی نشانِ ثانیہ تھی جبکہ ہندوستان کے دیگر خطوں میں بھی یہی تھا لیکن ہندوستان اس وقت ایک قوم، ایک ریاست نہیں تھا۔ سماجی اصلاحاتی تحریکوں میں ایک مشترکہ موضوع عقلیت پسندی تھا جس میں بت پرستی سے کنارہ کشی بھی شامل تھی۔</p>
<p>اور اِدھر مودی گویا بھارت کی نئی نشاط ثانیہ کا اعلان کرنے کے لیے گوا میں رام کے 77 فٹ بلند مجسمے کا افتتاح کر رہے تھے۔ مگر جب بُت تراشی کو ویدوں کی تائید ہی حاصل نہیں، تو آخر ایسی مورتیاں کسی نشاط ثانیہ کی علامت کیسے بن سکتی ہیں؟ خصوصاً جب مجسمہ سازی کی روایت چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندرِ اعظم کے ساتھ اس خطّے میں پہنچی؟</p>
<p>ابتدائی ویدک دور میں بُت پرستی کا کوئی رواج نہیں تھا، اُس زمانے میں عبادت فطری قوتوں کی شخصی صورتوں کو وقف رسوم اور بھجنوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ بُتوں اور مندروں کا تصور تو موریہ عہد کے بعد کے زمانوں میں عام ہوا۔ لیکن مودی اور ہندوتوا کے نزدیک یہ بات اہم نہیں ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958683"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274548</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 15:42:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/02140139b6ae8a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/02140139b6ae8a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں بڑھتی دلچسپی کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274541/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی سوچ سمجھ کر بنائی گئی مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کے واضح ہونے کے ساتھ ہی بے یقینی کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے سیکیورٹی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر سلامتی کے تعاون کے ذریعے سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے ظاہر ہوتی ہے جس میں ایک ‘عرب-اسلامی ٹاسک فورس’ کے قیام کی تجویز دی گئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں ان کی حمایت کرکے، غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اور قطر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش بھی پاکستان کی حکمت عملی میں نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269619'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی سرگرمیاں، اس کے لیے عالمی سطح پر متعلقہ رہنے کا اہم طریقہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے پاکستان نے کئی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی سیکیورٹی تعاون قائم کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر، فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری اور فضائی افسران کی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ، وہ شعبے ہیں جہاں اسلام آباد اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی عملی تعاون موجود رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان موجودہ ادارہ جاتی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرتے ہوئے اور نئے سیکیورٹی اقدامات شامل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سول اور عسکری قیادت میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ایک اہم اسٹریٹجک موقع اس وقت گنوا دیا تھا کہ  جب اس کی پارلیمنٹ نے سعودی قیادت میں یمن کے خلاف مہم میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اب یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کے اپنے فیصلے کی وجہ سے اس نے اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کی۔ غیرجانبداری کی پالیسی نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو کمزور کیا اور اسلام آباد کی ایک قابل اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی لیے پاکستان اپنے عرب شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے اسٹریٹجک اقدامات کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے خطے میں زیادہ سیکیورٹی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت یقینی بنائے گی کہ اسے مسلسل اقتصادی معاونت ملتی رہے اور ممکنہ مسلح تنازعے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ صورت حال کے دوران بھی تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سیکیورٹی کے میدان میں اس اعلیٰ کردار سے عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی اور دیگر عسکری تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فعال سیکیورٹی کوششیں واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ مثال کے طور پر پاک-سعودی معاہدہ اور اسلام آباد کی آئی ایس ایف میں شرکت واشنگٹن کو اس قابل بنائے گی کہ وہ خلیج کی سیکیورٹی کی کچھ ذمہ داریاں ایک مضبوط علاقائی شراکت دار پر منتقل کر دے کیونکہ اس سے پینٹاگون کی مستقل تعیناتی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی اتحادی کے طور پر خطے میں پاکستان کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ سلامتی کے ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔ ریاض کو دی جانے والی اسلام آباد کی سیکیورٹی یقین دہانیاں حوثیوں جیسے دشمن عناصر کو باز رہنے کا اشارہ دیں گی جبکہ یہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف اسٹریٹجک پراکسی مہم شروع کرنے سے روکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں توانائی کی فراہمی کے راستوں کی حفاظت کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی معاملات میں فعال کردار ادا کرکے اسلام آباد زیادہ قریب سے واشنگٹن کے اسٹریٹجک منصوبوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273083/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد پہلے ہی واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کو ترجیح دے چکا ہے۔ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو واشنگٹن نے پاکستان کی ترجیح کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اپنی پوزیشن پر قائم رہا لیکن وہ بائیڈن انتظامیہ کو قائل نہ کر سکا۔ تاہم ٹرمپ کے مثبت اشارے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہم آہنگی نے اسلام آباد کو دونوں بڑی طاقتوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں پاکستان خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہے۔ نئی دہلی کی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستان میں منفی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ہندو-عربی تعلقات کو نئی دہلی کی ایک کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے قابلِ اعتماد اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داروں سے محروم کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہ خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام حساب کے باوجود، اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار پیچیدہ اور کئی سطح پر محیط خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا باعث بھی بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے اسلام آباد عرب و خلیجی ممالک کو ایک یکساں (مونولیتھک) اکائی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایک ایسا نقطۂ نظر ہے کہ جس میں عیب ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کے مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حوالے سے منفرد پالیسیز اور حکمت عملی اپنائی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے عرب ممالک سعودی عرب کے خطے میں سیکیورٹی انفرااسٹرکچر پر اجارہ داری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ریاض کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ممکنہ طور پر کچھ چھوٹے عرب و خلیجی ممالک کے اسٹریٹجک مقادات کو متاثر کر سکتا ہے جوکہ پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں فعال کردار ادا کرنے سے اسلام آباد کی ایک ’غیر جانبدار‘ ریاست کے طور پر اپنی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے جو عرب و خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ قطر کے سفارتی بحران کے دوران کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم نہیں کرے گا۔ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی تل ابیب کو بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کرے گی جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چوتھا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے میں اثر و رسوخ اسی وقت بڑھ رہے ہیں کہ جب تہران 1979ء کے بعد کی کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایران کے اندر حالیہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے بھی ایران کے خطے میں عزائم کو کمزور کیا ہے تو موجودہ صورت حال میں ایران ممکنہ طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو کھلے عام چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر ایران خطے کی سیکیورٹی انفرااسٹرکچر میں دوبارہ بڑا اسٹریٹجک کردار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ ناگزیر طور پر پاکستان کی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دے گا۔ پاک-سعودی مشترکہ جوابی اقدامات حوثیوں کے خلاف ایران کے عزائم کو مزید غیر مستحکم کرسکتے ہیں جس سے اسلام آباد کو ایک ہمسایہ (ایران) اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار (سعودی عرب) کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل حوثیوں کی حالیہ کارروائی جس میں 24 پاکستانیوں کو لے جانے والی ایل پی جی بحری جہاز پر قبضہ کیا گیا، نے اسلام آباد-ریاض دفاعی معاہدے پر ان کی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ چانچہ اب اسلام آباد کو کیا انتخاب کرنا ہے، اس کا بہت احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان، مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تنازعات میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینے کے قابل ہے یا اس کے بجائے دور دراز کے اقتصادی شراکت دار بننے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ محفوظ ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958684"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی سوچ سمجھ کر بنائی گئی مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کے واضح ہونے کے ساتھ ہی بے یقینی کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے سیکیورٹی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر سلامتی کے تعاون کے ذریعے سامنے آئی ہے۔</p>
<p>یہ بات سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے ظاہر ہوتی ہے جس میں ایک ‘عرب-اسلامی ٹاسک فورس’ کے قیام کی تجویز دی گئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں ان کی حمایت کرکے، غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اور قطر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش بھی پاکستان کی حکمت عملی میں نمایاں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269619'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد کی مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی سرگرمیاں، اس کے لیے عالمی سطح پر متعلقہ رہنے کا اہم طریقہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟</p>
<p>سب سے پہلے پاکستان نے کئی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی سیکیورٹی تعاون قائم کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر، فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری اور فضائی افسران کی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ، وہ شعبے ہیں جہاں اسلام آباد اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی عملی تعاون موجود رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان موجودہ ادارہ جاتی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرتے ہوئے اور نئے سیکیورٹی اقدامات شامل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سول اور عسکری قیادت میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ایک اہم اسٹریٹجک موقع اس وقت گنوا دیا تھا کہ  جب اس کی پارلیمنٹ نے سعودی قیادت میں یمن کے خلاف مہم میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اب یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کے اپنے فیصلے کی وجہ سے اس نے اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کی۔ غیرجانبداری کی پالیسی نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو کمزور کیا اور اسلام آباد کی ایک قابل اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی لیے پاکستان اپنے عرب شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے اسٹریٹجک اقدامات کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔</p>
<p>دوسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے خطے میں زیادہ سیکیورٹی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت یقینی بنائے گی کہ اسے مسلسل اقتصادی معاونت ملتی رہے اور ممکنہ مسلح تنازعے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ صورت حال کے دوران بھی تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ سیکیورٹی کے میدان میں اس اعلیٰ کردار سے عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی اور دیگر عسکری تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔</p>
<p>تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فعال سیکیورٹی کوششیں واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ مثال کے طور پر پاک-سعودی معاہدہ اور اسلام آباد کی آئی ایس ایف میں شرکت واشنگٹن کو اس قابل بنائے گی کہ وہ خلیج کی سیکیورٹی کی کچھ ذمہ داریاں ایک مضبوط علاقائی شراکت دار پر منتقل کر دے کیونکہ اس سے پینٹاگون کی مستقل تعیناتی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>روایتی اتحادی کے طور پر خطے میں پاکستان کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ سلامتی کے ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔ ریاض کو دی جانے والی اسلام آباد کی سیکیورٹی یقین دہانیاں حوثیوں جیسے دشمن عناصر کو باز رہنے کا اشارہ دیں گی جبکہ یہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف اسٹریٹجک پراکسی مہم شروع کرنے سے روکیں گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ، اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں توانائی کی فراہمی کے راستوں کی حفاظت کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی معاملات میں فعال کردار ادا کرکے اسلام آباد زیادہ قریب سے واشنگٹن کے اسٹریٹجک منصوبوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273083/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد پہلے ہی واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کو ترجیح دے چکا ہے۔ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو واشنگٹن نے پاکستان کی ترجیح کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اپنی پوزیشن پر قائم رہا لیکن وہ بائیڈن انتظامیہ کو قائل نہ کر سکا۔ تاہم ٹرمپ کے مثبت اشارے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہم آہنگی نے اسلام آباد کو دونوں بڑی طاقتوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرانے میں مدد دی۔</p>
<p>آخر میں پاکستان خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہے۔ نئی دہلی کی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستان میں منفی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ہندو-عربی تعلقات کو نئی دہلی کی ایک کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے قابلِ اعتماد اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داروں سے محروم کر دے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہ خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔</p>
<p>اس تمام حساب کے باوجود، اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار پیچیدہ اور کئی سطح پر محیط خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا باعث بھی بنے گا۔</p>
<p>سب سے پہلے اسلام آباد عرب و خلیجی ممالک کو ایک یکساں (مونولیتھک) اکائی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایک ایسا نقطۂ نظر ہے کہ جس میں عیب ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کے مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حوالے سے منفرد پالیسیز اور حکمت عملی اپنائی ہیں۔</p>
<p>چھوٹے عرب ممالک سعودی عرب کے خطے میں سیکیورٹی انفرااسٹرکچر پر اجارہ داری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ریاض کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ممکنہ طور پر کچھ چھوٹے عرب و خلیجی ممالک کے اسٹریٹجک مقادات کو متاثر کر سکتا ہے جوکہ پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں فعال کردار ادا کرنے سے اسلام آباد کی ایک ’غیر جانبدار‘ ریاست کے طور پر اپنی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے جو عرب و خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ قطر کے سفارتی بحران کے دوران کیا گیا تھا۔</p>
<p>تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم نہیں کرے گا۔ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی تل ابیب کو بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کرے گی جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چوتھا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے میں اثر و رسوخ اسی وقت بڑھ رہے ہیں کہ جب تہران 1979ء کے بعد کی کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایران کے اندر حالیہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے بھی ایران کے خطے میں عزائم کو کمزور کیا ہے تو موجودہ صورت حال میں ایران ممکنہ طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو کھلے عام چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم اگر ایران خطے کی سیکیورٹی انفرااسٹرکچر میں دوبارہ بڑا اسٹریٹجک کردار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ ناگزیر طور پر پاکستان کی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دے گا۔ پاک-سعودی مشترکہ جوابی اقدامات حوثیوں کے خلاف ایران کے عزائم کو مزید غیر مستحکم کرسکتے ہیں جس سے اسلام آباد کو ایک ہمسایہ (ایران) اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار (سعودی عرب) کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل حوثیوں کی حالیہ کارروائی جس میں 24 پاکستانیوں کو لے جانے والی ایل پی جی بحری جہاز پر قبضہ کیا گیا، نے اسلام آباد-ریاض دفاعی معاہدے پر ان کی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>آخر میں اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ چانچہ اب اسلام آباد کو کیا انتخاب کرنا ہے، اس کا بہت احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان، مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تنازعات میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینے کے قابل ہے یا اس کے بجائے دور دراز کے اقتصادی شراکت دار بننے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ محفوظ ہوگا؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958684"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274541</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 12:40:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم عباس)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/021112525f8f37c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/021112525f8f37c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’شہرِ کوئٹہ کی خاموشی کو حکمران طبقہ استحکام سمجھ بیٹھا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274506/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ کی اداسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ خوف سے زیادہ، ایک ایسی بھاری خاموشی ہے جو شہر اور اس کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے جبکہ ایک پُراسرار سکوت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی گرفت سخت کیے جارہا ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد، سڑکوں کی بندش، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی معطلی، سیکیورٹی انتباہات کے باعث اسکولز کی بندش، ‘حساس’ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سرکاری عمارتوں پر تاروں کا جال، مضبوط حفاظتی انتظامات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی، یہ سب عناصر مل کر کوئٹہ کو بے چین اور کشیدگی سے بھرپور شہر بنا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوتا رہا یعنی سیکیورٹی کی صورت حال جیسی بھی رہی، کوئٹہ شہر کا اپنا رنگ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے تھے، نجی اور عوامی سطح پر غصے کا اظہار کرتے تھے، تقدیر سے بحث کرتے تھے لیکن پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال میں کوئٹہ نے تواتر سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اب لوگ احتجاج نہیں کرتے، وہ اپنے گرد بڑھتی پابندیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ وہ اب بس خاموش رہتے ہیں۔ وہ چپ سادھے زندگی گزارتے ہیں اور یہی خاموشی شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر احمد فراز زندہ ہوتے تو شاید وہ اس لمحے کے لیے ایک شہرِ آشوب لکھتے۔ مگر حکومت اس خاموشی میں سکون تلاش کرتی ہے اور وہ اسے غلطی سے استحکام سمجھ بیٹھی ہے۔ آخرکار اعداد و شمار بھی ان کے اسی خیال کے حق میں نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ میں رواں ماہ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے صرف 10 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جوکہ کم شدت کے تھے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم گزشتہ تین ماہ میں صوبے بھر میں قوم پرست شدت پسندوں سے منسوب 52 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 49 جانیں لقمہ اجل بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر کا تاریک رخ یہ ہے کہ ان گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دائر کار کو وسیع کر لیا ہے جہاں وہ خاص طور پر سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے پولیس یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ تبدیل ہو رہا ہے یعنی وہ زیادہ وسعت اختیار کررہا ہے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغی گروہوں نے صوبے بھر میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اغوا کرنا شامل ہے جن پر وہ جاسوسی یا ان کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اغوا ان لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہوئے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مخبر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغی نفسیاتی حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں بند کر رہے ہیں اور مختصر طور پر بڑی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ بار بار دہشت گردانہ حملے کرنے سے زیادہ، سڑکوں کی ناکہ بندیوں سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی حد تک خطرات پر قابو پانے کے لیے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے باغیوں کو پسپا کیا، ان کے سپلائی نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے اور ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر عسکری اقدامات، ان کا بنیادی دائرۂ کار نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیڈران کے پاس طاقت کے استعمال کیے بغیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جو امر پریشان کُن ہے، وہ یہ ہے کہ تشدد کی روک تھام کے طریقوں کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے وہ طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگوں کا ان پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور اداروں کے لیے باغیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ خاموش رہ کر کسی کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح سے ریاست کو ہائبرڈ نظام کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ عوام کتنے ناخوش ہیں جبکہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست کو اچھی طرح سے کام کرنے والے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب لوگ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ حقیقت میں یہ معاشرے میں ایک گہرے، چھپے ہوئے درد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن نوجوانوں کے لاپتا ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ لوگوں کے خاموش رہنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ صوبے کے مشترکہ مصائب کو مزید بدتر بناتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما جیل میں قید ہونے کی وجہ سے احتجاجاً آواز اٹھانے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاموشی زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ لوگ جو خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ چھوٹی سی حرکت پر بھی چوکنا ہوجاتے ہیں۔ نومبر کئی غیر تشدد پسند قوم پرست گروہوں اور مسلح علیحدگی پسند نیٹ ورکس کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے، چاہے وہ صوبے کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک پھیلے ہوئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ نومبر سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ کوئٹہ میں ممکنہ تشدد کے خطرات کے پیش نظر، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے اندر بسوں اور ٹرینوں سمیت تمام مسافروں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ انہوں نے کئی اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا۔ بڑے شہروں میں کچھ خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر کے وسط میں لیے گئے ان اقدامات کا سلسلہ مہینے کے آخر تک جاری رہا۔ اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معمول بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ، دوسرے علاقوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے مخالفت میں اٹھنی والی آوازیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ان سے توقع تھی کہ وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام آدمی کیا کہتا ہے، یہ طاقت کے مراکز کے لیے اہم نہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ریاست اور باغیوں دونوں نے دیوار سے لگا دیا ہے جبکہ جو رہی سہی جگہ ہے اس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قبضے کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مذہبی جماعتیں اس بات پر اُلجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کس جانب جانا چاہیے کیونکہ صوبے میں ریاست کی سخت گیر پالیسی ان کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ باغی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست ریاست کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ بات چیت کا درمیانی راستہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراتفری کے باوجود عام لوگوں میں امید اب بھی موجود ہے۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے کے مسائل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو ان کے سامنے کھڑا ہے، وہ صوبے کی سیاسی اور معاشی صورت حال ہے۔ عدم استحکام پھیلانے کے خواہش مند عناصر، تنازعات والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جوکہ افغان اور ایرانی سرحدوں سے شیرانی ژوب اور نیچے ضلع حب تک پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن خراب کرنے والے کون ہیں۔ جو بات ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں کیوں تسلیم نہیں کرتے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ کیوں وہ ان پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید کسی کے پاس اس کا جواب ہو مگر اس خاموشی میں کوئی بھی بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ جنہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں، وہ بس دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو سمجھے اور اس درد کا مداوا پیش کرے جو ان کی روحوں میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958245/silence-which-speaks"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ کی اداسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ خوف سے زیادہ، ایک ایسی بھاری خاموشی ہے جو شہر اور اس کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے جبکہ ایک پُراسرار سکوت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی گرفت سخت کیے جارہا ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد، سڑکوں کی بندش، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی معطلی، سیکیورٹی انتباہات کے باعث اسکولز کی بندش، ‘حساس’ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سرکاری عمارتوں پر تاروں کا جال، مضبوط حفاظتی انتظامات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی، یہ سب عناصر مل کر کوئٹہ کو بے چین اور کشیدگی سے بھرپور شہر بنا چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کوئٹہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوتا رہا یعنی سیکیورٹی کی صورت حال جیسی بھی رہی، کوئٹہ شہر کا اپنا رنگ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے تھے، نجی اور عوامی سطح پر غصے کا اظہار کرتے تھے، تقدیر سے بحث کرتے تھے لیکن پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال میں کوئٹہ نے تواتر سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اب لوگ احتجاج نہیں کرتے، وہ اپنے گرد بڑھتی پابندیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ وہ اب بس خاموش رہتے ہیں۔ وہ چپ سادھے زندگی گزارتے ہیں اور یہی خاموشی شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔</p>
<p>اگر احمد فراز زندہ ہوتے تو شاید وہ اس لمحے کے لیے ایک شہرِ آشوب لکھتے۔ مگر حکومت اس خاموشی میں سکون تلاش کرتی ہے اور وہ اسے غلطی سے استحکام سمجھ بیٹھی ہے۔ آخرکار اعداد و شمار بھی ان کے اسی خیال کے حق میں نظر آتے ہیں۔</p>
<p>کوئٹہ میں رواں ماہ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے صرف 10 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جوکہ کم شدت کے تھے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم گزشتہ تین ماہ میں صوبے بھر میں قوم پرست شدت پسندوں سے منسوب 52 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 49 جانیں لقمہ اجل بنیں۔</p>
<p>تصویر کا تاریک رخ یہ ہے کہ ان گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دائر کار کو وسیع کر لیا ہے جہاں وہ خاص طور پر سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے پولیس یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ تبدیل ہو رہا ہے یعنی وہ زیادہ وسعت اختیار کررہا ہے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>باغی گروہوں نے صوبے بھر میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اغوا کرنا شامل ہے جن پر وہ جاسوسی یا ان کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اغوا ان لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہوئے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مخبر ہیں۔</p>
<p>باغی نفسیاتی حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں بند کر رہے ہیں اور مختصر طور پر بڑی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ بار بار دہشت گردانہ حملے کرنے سے زیادہ، سڑکوں کی ناکہ بندیوں سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی حد تک خطرات پر قابو پانے کے لیے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے باغیوں کو پسپا کیا، ان کے سپلائی نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے اور ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>غیر عسکری اقدامات، ان کا بنیادی دائرۂ کار نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیڈران کے پاس طاقت کے استعمال کیے بغیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جو امر پریشان کُن ہے، وہ یہ ہے کہ تشدد کی روک تھام کے طریقوں کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے وہ طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگوں کا ان پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور اداروں کے لیے باغیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ خاموش رہ کر کسی کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>جس طرح سے ریاست کو ہائبرڈ نظام کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ عوام کتنے ناخوش ہیں جبکہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست کو اچھی طرح سے کام کرنے والے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔</p>
<p>لہٰذا جب لوگ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ حقیقت میں یہ معاشرے میں ایک گہرے، چھپے ہوئے درد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن نوجوانوں کے لاپتا ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ لوگوں کے خاموش رہنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ صوبے کے مشترکہ مصائب کو مزید بدتر بناتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما جیل میں قید ہونے کی وجہ سے احتجاجاً آواز اٹھانے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔</p>
<p>خاموشی زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ لوگ جو خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ چھوٹی سی حرکت پر بھی چوکنا ہوجاتے ہیں۔ نومبر کئی غیر تشدد پسند قوم پرست گروہوں اور مسلح علیحدگی پسند نیٹ ورکس کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے، چاہے وہ صوبے کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک پھیلے ہوئے ہوں۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ نومبر سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ کوئٹہ میں ممکنہ تشدد کے خطرات کے پیش نظر، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے اندر بسوں اور ٹرینوں سمیت تمام مسافروں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ انہوں نے کئی اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا۔ بڑے شہروں میں کچھ خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>نومبر کے وسط میں لیے گئے ان اقدامات کا سلسلہ مہینے کے آخر تک جاری رہا۔ اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معمول بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ، دوسرے علاقوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے مخالفت میں اٹھنی والی آوازیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ان سے توقع تھی کہ وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p>عام آدمی کیا کہتا ہے، یہ طاقت کے مراکز کے لیے اہم نہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ریاست اور باغیوں دونوں نے دیوار سے لگا دیا ہے جبکہ جو رہی سہی جگہ ہے اس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قبضے کرلیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مذہبی جماعتیں اس بات پر اُلجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کس جانب جانا چاہیے کیونکہ صوبے میں ریاست کی سخت گیر پالیسی ان کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ باغی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست ریاست کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ بات چیت کا درمیانی راستہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p>افراتفری کے باوجود عام لوگوں میں امید اب بھی موجود ہے۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے کے مسائل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو ان کے سامنے کھڑا ہے، وہ صوبے کی سیاسی اور معاشی صورت حال ہے۔ عدم استحکام پھیلانے کے خواہش مند عناصر، تنازعات والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جوکہ افغان اور ایرانی سرحدوں سے شیرانی ژوب اور نیچے ضلع حب تک پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن خراب کرنے والے کون ہیں۔ جو بات ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں کیوں تسلیم نہیں کرتے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ کیوں وہ ان پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>شاید کسی کے پاس اس کا جواب ہو مگر اس خاموشی میں کوئی بھی بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ جنہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں، وہ بس دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو سمجھے اور اس درد کا مداوا پیش کرے جو ان کی روحوں میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958245/silence-which-speaks"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274506</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 13:19:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عامر رانا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/011255197370f9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/011255197370f9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واشنگٹن فائرنگ: ’امریکا نے لاکھوں افغانوں سے کیا اپنا وعدہ بھلا دیا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274427/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک شخص جس کی شناخت رحمٰن اللہ لکانوال کے نام سے ہوئی ہے، نے شاید امریکا میں مقیم تمام افغان پناہ گزینوں کی قسمت کو تاریک کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے جہاں امریکی شہری تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے لیے سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے، وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک میٹرو اسٹیشن پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزام ہے کہ افغان شہری جو اپنے گھر واشنگٹن اسٹیٹ سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وہاں پہنچا تھا، نے نیشنل گارڈ کی ایک خاتون اہلکار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی جبکہ حملہ آور نے ایک مرد گارڈ کو بھی گولی ماری۔ دیگر نیشنل گارڈ اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرکے رحمٰن اللہ کو زخمی کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274326'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیشنل گارڈ کے اہلکار کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر واشنگٹن ڈی سی میں تعینات ہیں تاکہ ان حالات کا مقابلہ کیا جاسکے جسے ٹرمپ نے ’جرائم کی ہنگامی صورت حال‘ کا نام دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق 29 سالہ رحمٰن اللہ لکانوال 2021ء میں ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا۔ اسے اُسی سال امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ تاہم یہ حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ کام نہیں آئی جس نے اس حملے کو طالبان کے ظلم سے بھاگ کر آنے والے افغان مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن حکومت کے دوران ہزاروں مہاجرین کو امریکا لایا گیا اور انہوں نے اس پورے عمل کی جانچ پڑتال  پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ امریکا آنے والے مہاجرین اور ویزا ہولڈرز سخت اور مکمل جانچ پڑتال سے گزرتے ہیں۔ سیاسی طور پر اس افسوسناک اور المناک واقعے کو ٹرمپ نے اپنے اینٹی امیگرنٹ بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جو کہ خراب معاشی کارکردگی پر تنقید کا شکار اس کمزور ہوتی حکومت کے لیے عوامی توجہ ہٹانے کا کام کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے فوراً بعد ٹرمپ نے بیان دیا، ‘ہمیں اب بائیڈن کے دور میں افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہونے والے ہر ایک غیرملکی کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا اور ہمیں ضروری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کسی بھی ایسے غیرملکی کو چاہے وہ کسی بھی ملک سے ہو، یہاں سے نکالا جا سکے جو یہاں کا نہیں ہے یا ہمارے ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتا‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہمیں اُن کی یہاں ضرورت نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کریک ڈاؤن کا عمل مزید تیز ہوگیا۔ ایکس پر پوسٹ میں امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) نے اعلان کیا کہ، ’افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274395/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق پروسیسنگ روکنا ممکنہ طور پر تمام افغان شہریوں کو متاثر کرے گا جو امریکا میں رہنے کے لیے پناہ  کے طلب گار ہیں یا گرین کارڈ کے ذریعے مستقل قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اُن افغانوں کو بھی متاثر کرے گی جنہوں نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران امریکا کی مدد کی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ تیسری ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور خصوصی امیگرنٹ ویزا پروگرام کے ذریعے اپنی ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ کے منتظر ہیں جو کہ ان چند راستوں میں سے ایک ہے جو افغان مہاجرین کے لیے باقی رہ گیا ہے جن سے جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کے بدلے میں محفوظ پناہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ‘میں تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والی تمام امیگریشن کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتظامیہ کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پہلے دن سے اس کی نمایاں اور خوفناک پالیسی کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ یہ حملہ اگرچہ افسوسناک تھا لیکن اُن بے شمار فائرنگ کے واقعات سے مختلف نہیں تھا جو امریکا میں روزانہ پیش آتے ہیں۔ مگر اس واقعے نے انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکا میں تمام امیگریشن کو روکنے کے لیے ایک اور جواز پیش کرے، خصوصاً وہاں جہاں بات سیاہ فام اور بھورے رنگت والے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعلان سے چند روز قبل ہی یو ایس سی آئی ایس نے حکم دیا تھا کہ امریکا میں موجود ہیٹی کے شہری جنہیں اپنے ملک کی بدامنی کے باعث عارضی حفاظتی اسٹیٹس حاصل تھا، اگلے سال کے اوائل کے بعد اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانوں پر کریک ڈاؤن (اور افواہیں ہیں کہ یہ قدم صومالی مہاجرین تک بھی پھیلایا جائے گا) ٹرمپ کے اُس بڑے وژن کا حصہ ہے جس میں امریکا کو ایک سفید فام اور مسیحی قوم کے طور پر دیکھنے کا تصور شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر ہے نقصان اُن افغانوں کا ہوا ہے جنہوں نے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور یقین کیا کہ اس کے بدلے میں اُن کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ ایک شخص کا اٹھایا گیا ایک قدم جس کا تعلق لازمی نہیں کہ انتہاپسندی سے ہو بلکہ شاید یہ ذہنی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح کبھی نوآبادیاتی طاقتیں کیا کرتی تھیں، بالکل ویسے ہی موجودہ دور کے نوآبادیاتی قوتیں بھی کر رہی ہیں یعنی وہ اپنے وعدے فراموش کررہی ہیں، اُن لوگوں کی قربانیوں کو بے وقعت کررہی ہیں جنہوں نے ان کے لیے جان ہتھیلی پر رکھی جبکہ انہوں نے نئی مہمات کی طرف بڑھتے ہوئے پرانی جنگوں کو فراموش کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آ جانا امریکا کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ 20 سالہ جنگ اور کھربوں ڈالرز ضٓئع کردینے کے بعد بھی انہیں کوئی حقیقی فتح حاصل نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہزاروں افغان اور دیگر تارکین وطن اب شاید کبھی امریکا نہ پہنچ پائیں۔ صرف ایک لمحے میں اُن کی موجودگی کو بدنما کر دیا گیا ہے، ان پر ’ناپسندیدہ‘ کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور اب انہیں ایک بار پھر ایسی دنیا میں اپنے لیے جینے کی راہ تلاش کرنی ہے جو اجنبیوں اور غیر ملکیوں سے نفرت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958073"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک شخص جس کی شناخت رحمٰن اللہ لکانوال کے نام سے ہوئی ہے، نے شاید امریکا میں مقیم تمام افغان پناہ گزینوں کی قسمت کو تاریک کردیا ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے جہاں امریکی شہری تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے لیے سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے، وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک میٹرو اسٹیشن پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔</p>
<p>الزام ہے کہ افغان شہری جو اپنے گھر واشنگٹن اسٹیٹ سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وہاں پہنچا تھا، نے نیشنل گارڈ کی ایک خاتون اہلکار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی جبکہ حملہ آور نے ایک مرد گارڈ کو بھی گولی ماری۔ دیگر نیشنل گارڈ اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرکے رحمٰن اللہ کو زخمی کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274326'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نیشنل گارڈ کے اہلکار کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر واشنگٹن ڈی سی میں تعینات ہیں تاکہ ان حالات کا مقابلہ کیا جاسکے جسے ٹرمپ نے ’جرائم کی ہنگامی صورت حال‘ کا نام دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق 29 سالہ رحمٰن اللہ لکانوال 2021ء میں ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا۔ اسے اُسی سال امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ تاہم یہ حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ کام نہیں آئی جس نے اس حملے کو طالبان کے ظلم سے بھاگ کر آنے والے افغان مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔</p>
<p>حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن حکومت کے دوران ہزاروں مہاجرین کو امریکا لایا گیا اور انہوں نے اس پورے عمل کی جانچ پڑتال  پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ امریکا آنے والے مہاجرین اور ویزا ہولڈرز سخت اور مکمل جانچ پڑتال سے گزرتے ہیں۔ سیاسی طور پر اس افسوسناک اور المناک واقعے کو ٹرمپ نے اپنے اینٹی امیگرنٹ بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جو کہ خراب معاشی کارکردگی پر تنقید کا شکار اس کمزور ہوتی حکومت کے لیے عوامی توجہ ہٹانے کا کام کررہا ہے۔</p>
<p>حملے کے فوراً بعد ٹرمپ نے بیان دیا، ‘ہمیں اب بائیڈن کے دور میں افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہونے والے ہر ایک غیرملکی کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا اور ہمیں ضروری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کسی بھی ایسے غیرملکی کو چاہے وہ کسی بھی ملک سے ہو، یہاں سے نکالا جا سکے جو یہاں کا نہیں ہے یا ہمارے ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتا‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہمیں اُن کی یہاں ضرورت نہیں‘۔</p>
<p>اس کے بعد کریک ڈاؤن کا عمل مزید تیز ہوگیا۔ ایکس پر پوسٹ میں امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) نے اعلان کیا کہ، ’افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے‘۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274395/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق پروسیسنگ روکنا ممکنہ طور پر تمام افغان شہریوں کو متاثر کرے گا جو امریکا میں رہنے کے لیے پناہ  کے طلب گار ہیں یا گرین کارڈ کے ذریعے مستقل قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ اُن افغانوں کو بھی متاثر کرے گی جنہوں نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران امریکا کی مدد کی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ تیسری ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور خصوصی امیگرنٹ ویزا پروگرام کے ذریعے اپنی ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ کے منتظر ہیں جو کہ ان چند راستوں میں سے ایک ہے جو افغان مہاجرین کے لیے باقی رہ گیا ہے جن سے جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کے بدلے میں محفوظ پناہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>جمعرات کو ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ‘میں تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والی تمام امیگریشن کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔</p>
<p>اس انتظامیہ کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پہلے دن سے اس کی نمایاں اور خوفناک پالیسی کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ یہ حملہ اگرچہ افسوسناک تھا لیکن اُن بے شمار فائرنگ کے واقعات سے مختلف نہیں تھا جو امریکا میں روزانہ پیش آتے ہیں۔ مگر اس واقعے نے انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکا میں تمام امیگریشن کو روکنے کے لیے ایک اور جواز پیش کرے، خصوصاً وہاں جہاں بات سیاہ فام اور بھورے رنگت والے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہو۔</p>
<p>اس اعلان سے چند روز قبل ہی یو ایس سی آئی ایس نے حکم دیا تھا کہ امریکا میں موجود ہیٹی کے شہری جنہیں اپنے ملک کی بدامنی کے باعث عارضی حفاظتی اسٹیٹس حاصل تھا، اگلے سال کے اوائل کے بعد اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔</p>
<p>افغانوں پر کریک ڈاؤن (اور افواہیں ہیں کہ یہ قدم صومالی مہاجرین تک بھی پھیلایا جائے گا) ٹرمپ کے اُس بڑے وژن کا حصہ ہے جس میں امریکا کو ایک سفید فام اور مسیحی قوم کے طور پر دیکھنے کا تصور شامل ہے۔</p>
<p>ظاہر ہے نقصان اُن افغانوں کا ہوا ہے جنہوں نے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور یقین کیا کہ اس کے بدلے میں اُن کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ ایک شخص کا اٹھایا گیا ایک قدم جس کا تعلق لازمی نہیں کہ انتہاپسندی سے ہو بلکہ شاید یہ ذہنی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>جس طرح کبھی نوآبادیاتی طاقتیں کیا کرتی تھیں، بالکل ویسے ہی موجودہ دور کے نوآبادیاتی قوتیں بھی کر رہی ہیں یعنی وہ اپنے وعدے فراموش کررہی ہیں، اُن لوگوں کی قربانیوں کو بے وقعت کررہی ہیں جنہوں نے ان کے لیے جان ہتھیلی پر رکھی جبکہ انہوں نے نئی مہمات کی طرف بڑھتے ہوئے پرانی جنگوں کو فراموش کر دیا۔</p>
<p>یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آ جانا امریکا کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ 20 سالہ جنگ اور کھربوں ڈالرز ضٓئع کردینے کے بعد بھی انہیں کوئی حقیقی فتح حاصل نہ ہو سکی۔</p>
<p>ہزاروں افغان اور دیگر تارکین وطن اب شاید کبھی امریکا نہ پہنچ پائیں۔ صرف ایک لمحے میں اُن کی موجودگی کو بدنما کر دیا گیا ہے، ان پر ’ناپسندیدہ‘ کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور اب انہیں ایک بار پھر ایسی دنیا میں اپنے لیے جینے کی راہ تلاش کرنی ہے جو اجنبیوں اور غیر ملکیوں سے نفرت کرتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958073"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274427</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 13:17:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رافعہ ذکریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29130423d5abadb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29130423d5abadb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’طالبان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اس کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات پر ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274336/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے وزیرِ دفاع کے مطابق، ’ہمارے ہمسایے کے ساتھ پُرامن تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہر طرح کی حمایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے’۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان فریق پر بھروسہ کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک سرحد پار حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں نہ مل جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں امریکا کو بھی ٹھوس ضمانتیں نہیں دیں اور قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ایسی ضمانتیں نہیں دیں گے۔ میں طالبان کا وکیل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اُن کی پالیسیز کو سمجھنا چاہوں گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کی ایک مشترکہ مگر تنازعات سے بھرپور تاریخ ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے منسلک شناختیں، سرحدی تنازعات اور تقسیم شدہ قبائل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، اُن کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات کے تابع رہے ہیں اور اُن کی جنگوں کا شکار بھی بنے ہیں۔ یہی وہ تمام عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ کابل کی پاکستان میں کھلی مداخلت اور اس کے ‘پختونستان’ کے دعوؤں سے شروع ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مداخلت کو مؤثر طور پر ناکام بنایا لیکن خود کو افغانستان کے سیاسی عمل میں گھسیٹ لیے جانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں اُس نے افغانستان کی اسلام پسند جماعتوں کی مدد سے اپریل 1978ء کی ثور انقلاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں اُس نے افغانوں کو ہمارے قبائلی علاقوں اور اس سے مضافات میں مہاجرین اور پھر مجاہدین کے طور پر پناہ لینے دی جنہوں نے آگے چل کر طالبان کی صورت اختیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمسایہ ملک کے علاقائی دعووں کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے، ہم نے افغان گروہوں کو اپنے معاشرے اور سیاست میں جڑ پکڑنے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اجازت دی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان نے اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شروع سے ہی طالبان کی سابقہ ​​فاٹا کے علاقے اور بلوچستان میں واضح موجودگی رہی ہے۔ انہوں نے نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے مذہبی مدارس کا استعمال کیا جن میں سے بیشتر میں انہوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ قبائلی علاقے افغانستان میں طالبان کی جنگ کے لیے ایک قسم کا محفوظ حمایتی گڑھ بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور نئے عسکریت پسندوں کے اتحادی پیدا ہوئے۔ اب یہ گروہ ہمارے علاقوں میں وہی کچھ دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طالبان نے ان کی مدد سے افغانستان میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان عوام جنہیں پہلے مجاہدین اور بعد میں ایک بدعنوان امریکا نواز حکمران طبقے نے دھوکا دیا جبکہ پاکستان جہاں سیکیورٹی ایجنسیز کا خیال تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ کیا بہتر ہے، دونوں نے وہ افغانستان کھو دیا ہے جو کبھی موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان ہیرو یا آزادی پسند نہیں ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ نہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے بلکہ اپنے عدم استحکام اور خامیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم کا شکار طالبان قیادت ایک ایسی آبادی پر حکومت کر رہی ہے جو کہ منقسم بھی ہے جبکہ اس کی معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے اور انسانی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان نے کئی جہادی، علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی جگہ فراہم کی ہے جن کے ساتھ انہوں نے برسوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس سے ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جن پر کوئی حقیقی حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ اس سے افغانستان خود اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمزور اور غیر مستحکم صورت حال میں طالبان کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش یا صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان ان کا استعمال داعش خراساں، قومی مزاحمتی محاذ یا ان کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خطرات سے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔ طالبان ان گروہوں کو دوسرے ممالک سے سیاسی شناخت یا تجارتی معاہدوں جیسے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے ساتھ نمٹنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ان سے کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اسلام آباد کو طالبان کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت ہے تو اسے صرف اس بات تک محدود ہونا چاہیے کہ پاکستان کیا سنبھال سکتا ہے اور ایسے میں طالبان کو زیر کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان اگر خطرہ محسوس کریں گے تو اس سے وہ قدرتی طور پر ٹی ٹی پی کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ جبکہ ایک کمزور، غیر مستحکم افغانستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271606/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر، پاکستان کو طالبان سے نمٹنا بھی ہے جبکہ ایسا کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف اپنی حفاظت بھی کرنا ہے۔ ملک کو سرحدی کنٹرول، پناہ گزینوں اور تجارت جیسے مسائل پر صبر، بات چیت اور کسی حد تک دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مسائل کا خالصتاً کوئی فوجی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی بھارت تک رسائی پر زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان کو کابل کو بتانا چاہیے کہ اسے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے لیکن ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایک مناسب حکومت کی طرح کام کرے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ باغیوں جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان گروہوں کو اندرون ملک بھی کمزور کرنا ہوگا جن سے طالبان کو اپنے کام نہ آنے والی پراکسیز کے خلاف کارروائی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ طالبان پاکستان کے لیے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے پھر چاہے وہ حل کرنا کیوں نہ چاہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر مختلف فوجی پہلوؤں رکھنا والا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957653/afghanistan-dilemma"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے وزیرِ دفاع کے مطابق، ’ہمارے ہمسایے کے ساتھ پُرامن تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہر طرح کی حمایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے’۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان فریق پر بھروسہ کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک سرحد پار حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں نہ مل جائیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں امریکا کو بھی ٹھوس ضمانتیں نہیں دیں اور قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ایسی ضمانتیں نہیں دیں گے۔ میں طالبان کا وکیل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اُن کی پالیسیز کو سمجھنا چاہوں گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان اور افغانستان کی ایک مشترکہ مگر تنازعات سے بھرپور تاریخ ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے منسلک شناختیں، سرحدی تنازعات اور تقسیم شدہ قبائل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، اُن کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات کے تابع رہے ہیں اور اُن کی جنگوں کا شکار بھی بنے ہیں۔ یہی وہ تمام عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔</p>
<p>یہ سب کچھ کابل کی پاکستان میں کھلی مداخلت اور اس کے ‘پختونستان’ کے دعوؤں سے شروع ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مداخلت کو مؤثر طور پر ناکام بنایا لیکن خود کو افغانستان کے سیاسی عمل میں گھسیٹ لیے جانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>ابتدا میں اُس نے افغانستان کی اسلام پسند جماعتوں کی مدد سے اپریل 1978ء کی ثور انقلاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں اُس نے افغانوں کو ہمارے قبائلی علاقوں اور اس سے مضافات میں مہاجرین اور پھر مجاہدین کے طور پر پناہ لینے دی جنہوں نے آگے چل کر طالبان کی صورت اختیار کی۔</p>
<p>ہمسایہ ملک کے علاقائی دعووں کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے، ہم نے افغان گروہوں کو اپنے معاشرے اور سیاست میں جڑ پکڑنے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اجازت دی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان نے اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>شروع سے ہی طالبان کی سابقہ ​​فاٹا کے علاقے اور بلوچستان میں واضح موجودگی رہی ہے۔ انہوں نے نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے مذہبی مدارس کا استعمال کیا جن میں سے بیشتر میں انہوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ قبائلی علاقے افغانستان میں طالبان کی جنگ کے لیے ایک قسم کا محفوظ حمایتی گڑھ بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نتیجتاً، خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور نئے عسکریت پسندوں کے اتحادی پیدا ہوئے۔ اب یہ گروہ ہمارے علاقوں میں وہی کچھ دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طالبان نے ان کی مدد سے افغانستان میں کیا تھا۔</p>
<p>افغان عوام جنہیں پہلے مجاہدین اور بعد میں ایک بدعنوان امریکا نواز حکمران طبقے نے دھوکا دیا جبکہ پاکستان جہاں سیکیورٹی ایجنسیز کا خیال تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ کیا بہتر ہے، دونوں نے وہ افغانستان کھو دیا ہے جو کبھی موجود تھا۔</p>
<p>طالبان ہیرو یا آزادی پسند نہیں ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ نہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے بلکہ اپنے عدم استحکام اور خامیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔</p>
<p>تقسیم کا شکار طالبان قیادت ایک ایسی آبادی پر حکومت کر رہی ہے جو کہ منقسم بھی ہے جبکہ اس کی معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے اور انسانی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>طالبان نے کئی جہادی، علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی جگہ فراہم کی ہے جن کے ساتھ انہوں نے برسوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس سے ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جن پر کوئی حقیقی حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ اس سے افغانستان خود اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔</p>
<p>اس کمزور اور غیر مستحکم صورت حال میں طالبان کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش یا صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>طالبان ان کا استعمال داعش خراساں، قومی مزاحمتی محاذ یا ان کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خطرات سے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔ طالبان ان گروہوں کو دوسرے ممالک سے سیاسی شناخت یا تجارتی معاہدوں جیسے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>طالبان کے ساتھ نمٹنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ان سے کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اسلام آباد کو طالبان کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت ہے تو اسے صرف اس بات تک محدود ہونا چاہیے کہ پاکستان کیا سنبھال سکتا ہے اور ایسے میں طالبان کو زیر کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔</p>
<p>طالبان اگر خطرہ محسوس کریں گے تو اس سے وہ قدرتی طور پر ٹی ٹی پی کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ جبکہ ایک کمزور، غیر مستحکم افغانستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271606/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنیادی طور پر، پاکستان کو طالبان سے نمٹنا بھی ہے جبکہ ایسا کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف اپنی حفاظت بھی کرنا ہے۔ ملک کو سرحدی کنٹرول، پناہ گزینوں اور تجارت جیسے مسائل پر صبر، بات چیت اور کسی حد تک دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مسائل کا خالصتاً کوئی فوجی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔</p>
<p>طالبان کی بھارت تک رسائی پر زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان کو کابل کو بتانا چاہیے کہ اسے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے لیکن ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایک مناسب حکومت کی طرح کام کرے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ باغیوں جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان گروہوں کو اندرون ملک بھی کمزور کرنا ہوگا جن سے طالبان کو اپنے کام نہ آنے والی پراکسیز کے خلاف کارروائی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ طالبان پاکستان کے لیے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے پھر چاہے وہ حل کرنا کیوں نہ چاہیں۔</p>
<p>اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر مختلف فوجی پہلوؤں رکھنا والا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957653/afghanistan-dilemma"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274336</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 15:05:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (توقیر حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/271217583a6011d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/271217583a6011d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تیجس پائلٹ کی موت کو عزت دینے کے لیے بھارت کو دفاعی معاہدوں میں شفافیت لانا ہوگی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274230/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ دن بھی ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زندگی کے کسی عام دن کی طرح مہارت اور بے خوفی سے بھرپور ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ دبئی ایئر شو میں دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے بھارتی فضائیہ کے تقریباً دیسی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس جو تیاری میں تاخیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنا، سے مشہور کیلسیتھنکس کرتب بازی کا مظاہرہ کریں گے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فضائی کرتب کے دوران تیجس اچانک کرتب دکھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر ایک خوفناک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/PakVanguard/status/1991855879436783667"&gt;&lt;strong&gt;آگ کے گولے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں تبدیل ہوگیا جس میں نمنش سیال کی جان چلی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274148'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بُری چیزیں عموماً اس وقت ہوتی ہیں کہ جب ان کی توقع سب سے کم ہوتی ہے۔ اس سے ٹائٹینک ذہن کے پردے پر اُبھرتا ہے۔ ایک اور مثال یوری گاگرین کی ہے جو سائنس کی دنیا کے ہیرو تھے اور 1959ء میں خلا میں جانے والے پہلے انسان تھے لیکن سوویت یونین کے خلاباز کے موت خلائی سفر کے 8 سال بعد اس وقت ہوئی کہ جب ایک ٹیسٹ فلائٹ میں وہ اپنے شریک پائلٹ کے ساتھ جس MiG-15 کو اڑا رہے تھے، وہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 ماہ میں یہ تیجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے لیکن پہلے واقعے میں پائلٹ بحفاظت طیارے سے نکل گیا تھا۔ اپولو مشن کی نمایاں تباہی اس بات کی یاددہانی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی میں بھی خامیاں ہو سکتی ہے۔ 1967ء میں اپولو-1 کے پری لانچ ٹیسٹ کے دوران لگنے والی آگ میں تینوں خلاباز ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اپولو-13 کا حادثہ خلا میں پیش آیا تھا مگر معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمنش سیال کی موت لوگوں کے نرم پہلو کو سامنے لے کر آئی کہ جب سرحد پار سے ہلاک پائلٹ کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ بہ ظاہر ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر لیکن کشیدہ فوجی تعطل کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی تھی، ہمدردی کا جذبہ کس طرح اسے پُرسکون کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خط کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sabrangindia.in/a-salute-across-the-skies-from-air-commodore-pervez-akhtar-khan/amp/"&gt;&lt;strong&gt;سبرنگ انڈیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے آن لائن شیئر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ ’بھارتی فضائیہ کے نام، اس خاندان کے نام جس نے بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں حالانکہ الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے۔ صرف ساتھی پائلٹ ہی اس درد کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’صرف ایک پائلٹ کی موت نہیں ہوئی ہے بلکہ بلندیوں کے نگہبان کو گھر بلا لیا گیا ہے۔ کہیں آج رات ایک وردی لٹک رہی ہے جسے پہنا نہیں گیا۔ کہیں ایک بچہ پوچھ رہا ہے کہ اس کا باپ کب لوٹے گا۔ کہیں آسمان خود کو پہلے سے زیادہ خالی محسوس کر رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274079'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غم زدہ خاندان میں نمنش سیال کی اہلیہ افشاں شامل ہیں جو خود بھی بھارتی فضائیہ کی افسر ہیں۔ یہ تعزیتی پیغام سرحد کے اُس پار محسوس کی جانے والی ہمدردی کا عکاس تھا۔ اس نے اُن بے ہودہ رویوں کی مذمت کی جو دونوں ممالک کے درمیان وطن پرستی کو بہانہ بنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خط بظاہر پاک فضائیہ کے سابق فوجی کی جانب سے بھیجا گیا تھا مگر اس کی صداقت کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس طرح کے جذبات بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں جو کبھی کبھار دونوں اطراف مثبت اثرات ڈالنے کا کام بھی کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا صرف 20 ماہ میں تیجس طیارے کے دوسرے حادثے کے بعد ممکنہ کاروباری نقصانات سے بہت پریشان نظر آرہا ہے۔ یہ اس نوعیت کی چیزیں ہیں جو روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا جب میں مغربی نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہا تھا اور روانڈا میں قتل عام ہورہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ ہونے والی خونریزی کی خبریں، ایک کالم کی موسم کی خبروں سے بھی زیادہ کم اہم سمجھی جاتی تھیں۔ پھر ایک دن کیگالی میں موجود اسی ایجنسی کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ قتل عام کے نتیجے میں روانڈا کی کافی کی پیداوار کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جلد ہی ردعمل سامنے آیا اور اس نمائندے کو عوامی طور پر سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے مشہور فضائی ہیروز، ریڈ ایروز کئی فضائی حادثات کا شکار ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سنا کہ ہاک T1 طیارے نے مالی نقصان اٹھایا ہو؟ ریڈ ایروز نے 2011ء میں فلائٹ لیفٹیننٹ جون ایگنگ کو فضائی حادثے میں کھو دیا۔ جون ایگنگ کا ہاک T1 طیارہ بورنماؤتھ ایئر فیسٹیول میں کرتب کے مظاہرہ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا اور تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ جی-فورس کی کمزوری ممکنہ طور پر حادثے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قیاس بھی ہے کہ نمنش سیال کے ساتھ بھی اسی طرح کی رولر کوسٹر نما جسمانی دباؤ کی کیفیت پیش آئی ہو جو زمین کی کشش کے خلاف تیز رفتار حرکت کے ساتھ آتی ہے۔ کارپورل جوناتھن بیلس 2018ء میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا طیارہ RAF ویلی سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک انجن ناکامی کے دوران حادثے کا شکار ہوا جبکہ کو-پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈیوڈ اسٹارک بحفاظت ایجیکٹ کر گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی وائر نے بھارت کو دفاعی پیداوار اور غیرملکی خریداروں کو ہارڈویئر کی فروخت میں درپیش مسائل پر ایک تشویش ناک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thewire.in/security/dubai-tejas-crash-more-than-pr-embarrassment-hal-credibility-gap"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; شائع کی۔ معتبر دفاعی تجزیہ کار راہول بیڈی نے لکھا، ’تیجس کا حادثہ ناگزیر طور پر ایک پرانی تباہ کُن برآمدات کی مہم کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ جب 2009ء-2008ء میں 7 دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹرز (AHLs) ایکواڈور کو 40 کروڑ 25 لاکھ ڈالر میں فروخت کیے گئے جن میں سے 4 گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ان حادثات نے بلآخر ایکواڈور ایئر فورس کو مجبور کیا کہ وہ اکتوبر 2015ء میں HAL کے ساتھ ALH معاہدہ ختم کر دے جس سے بھارت کے ایک مقامی فوجی ساز و سامان کے پلیٹ فارم کی پہلی بڑی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے تو نمنش سیال کی موت کو عزت دینے کا ایک بامعنی طریقہ یہ ہوگا کہ بھارت ہتھیاروں کے سودوں میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرے جسے بھارتی حکومتیں اکثر خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے بجائے نمنش سیال کی موت، کسی کو قصوروار ٹھہرانے کی دوڑ کا سبب بنی ہے۔ سرکاری تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں لیکن بھارتی چینلز پر قوم پرست تجزیہ کار امریکا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے مبینہ طور پر تیجس میں استعمال کے لیے کم معیار کے انجن بھارت کو فروخت کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانیت کی سطح پر نمنش سیال کی موت اور انہیں پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ذاتی روابط دونوں ممالک کے لیے ایک مہربان، دوستانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔ بھارتی پائلٹ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصد سے لکھے گئے خط کا بنیادی پیغام یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957243/decency-knows-no-passport"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ دن بھی ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زندگی کے کسی عام دن کی طرح مہارت اور بے خوفی سے بھرپور ہونا تھا۔</p>
<p>اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ دبئی ایئر شو میں دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے بھارتی فضائیہ کے تقریباً دیسی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس جو تیاری میں تاخیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنا، سے مشہور کیلسیتھنکس کرتب بازی کا مظاہرہ کریں گے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔</p>
<p>ایک فضائی کرتب کے دوران تیجس اچانک کرتب دکھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر ایک خوفناک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/PakVanguard/status/1991855879436783667"><strong>آگ کے گولے</strong></a> میں تبدیل ہوگیا جس میں نمنش سیال کی جان چلی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274148'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بُری چیزیں عموماً اس وقت ہوتی ہیں کہ جب ان کی توقع سب سے کم ہوتی ہے۔ اس سے ٹائٹینک ذہن کے پردے پر اُبھرتا ہے۔ ایک اور مثال یوری گاگرین کی ہے جو سائنس کی دنیا کے ہیرو تھے اور 1959ء میں خلا میں جانے والے پہلے انسان تھے لیکن سوویت یونین کے خلاباز کے موت خلائی سفر کے 8 سال بعد اس وقت ہوئی کہ جب ایک ٹیسٹ فلائٹ میں وہ اپنے شریک پائلٹ کے ساتھ جس MiG-15 کو اڑا رہے تھے، وہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>20 ماہ میں یہ تیجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے لیکن پہلے واقعے میں پائلٹ بحفاظت طیارے سے نکل گیا تھا۔ اپولو مشن کی نمایاں تباہی اس بات کی یاددہانی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی میں بھی خامیاں ہو سکتی ہے۔ 1967ء میں اپولو-1 کے پری لانچ ٹیسٹ کے دوران لگنے والی آگ میں تینوں خلاباز ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اپولو-13 کا حادثہ خلا میں پیش آیا تھا مگر معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>نمنش سیال کی موت لوگوں کے نرم پہلو کو سامنے لے کر آئی کہ جب سرحد پار سے ہلاک پائلٹ کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ بہ ظاہر ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر لیکن کشیدہ فوجی تعطل کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی تھی، ہمدردی کا جذبہ کس طرح اسے پُرسکون کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس خط کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sabrangindia.in/a-salute-across-the-skies-from-air-commodore-pervez-akhtar-khan/amp/"><strong>سبرنگ انڈیا</strong></a> نے آن لائن شیئر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ ’بھارتی فضائیہ کے نام، اس خاندان کے نام جس نے بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں حالانکہ الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے۔ صرف ساتھی پائلٹ ہی اس درد کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں۔</p>
<p>’صرف ایک پائلٹ کی موت نہیں ہوئی ہے بلکہ بلندیوں کے نگہبان کو گھر بلا لیا گیا ہے۔ کہیں آج رات ایک وردی لٹک رہی ہے جسے پہنا نہیں گیا۔ کہیں ایک بچہ پوچھ رہا ہے کہ اس کا باپ کب لوٹے گا۔ کہیں آسمان خود کو پہلے سے زیادہ خالی محسوس کر رہا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274079'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>غم زدہ خاندان میں نمنش سیال کی اہلیہ افشاں شامل ہیں جو خود بھی بھارتی فضائیہ کی افسر ہیں۔ یہ تعزیتی پیغام سرحد کے اُس پار محسوس کی جانے والی ہمدردی کا عکاس تھا۔ اس نے اُن بے ہودہ رویوں کی مذمت کی جو دونوں ممالک کے درمیان وطن پرستی کو بہانہ بنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ خط بظاہر پاک فضائیہ کے سابق فوجی کی جانب سے بھیجا گیا تھا مگر اس کی صداقت کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس طرح کے جذبات بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں جو کبھی کبھار دونوں اطراف مثبت اثرات ڈالنے کا کام بھی کر جاتے ہیں۔</p>
<p>بھارتی میڈیا صرف 20 ماہ میں تیجس طیارے کے دوسرے حادثے کے بعد ممکنہ کاروباری نقصانات سے بہت پریشان نظر آرہا ہے۔ یہ اس نوعیت کی چیزیں ہیں جو روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا جب میں مغربی نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہا تھا اور روانڈا میں قتل عام ہورہا تھا۔</p>
<p>روزانہ ہونے والی خونریزی کی خبریں، ایک کالم کی موسم کی خبروں سے بھی زیادہ کم اہم سمجھی جاتی تھیں۔ پھر ایک دن کیگالی میں موجود اسی ایجنسی کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ قتل عام کے نتیجے میں روانڈا کی کافی کی پیداوار کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جلد ہی ردعمل سامنے آیا اور اس نمائندے کو عوامی طور پر سراہا گیا۔</p>
<p>برطانیہ کے مشہور فضائی ہیروز، ریڈ ایروز کئی فضائی حادثات کا شکار ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سنا کہ ہاک T1 طیارے نے مالی نقصان اٹھایا ہو؟ ریڈ ایروز نے 2011ء میں فلائٹ لیفٹیننٹ جون ایگنگ کو فضائی حادثے میں کھو دیا۔ جون ایگنگ کا ہاک T1 طیارہ بورنماؤتھ ایئر فیسٹیول میں کرتب کے مظاہرہ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا اور تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ جی-فورس کی کمزوری ممکنہ طور پر حادثے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>یہ قیاس بھی ہے کہ نمنش سیال کے ساتھ بھی اسی طرح کی رولر کوسٹر نما جسمانی دباؤ کی کیفیت پیش آئی ہو جو زمین کی کشش کے خلاف تیز رفتار حرکت کے ساتھ آتی ہے۔ کارپورل جوناتھن بیلس 2018ء میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا طیارہ RAF ویلی سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک انجن ناکامی کے دوران حادثے کا شکار ہوا جبکہ کو-پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈیوڈ اسٹارک بحفاظت ایجیکٹ کر گئے تھے۔</p>
<p>دی وائر نے بھارت کو دفاعی پیداوار اور غیرملکی خریداروں کو ہارڈویئر کی فروخت میں درپیش مسائل پر ایک تشویش ناک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thewire.in/security/dubai-tejas-crash-more-than-pr-embarrassment-hal-credibility-gap"><strong>رپورٹ</strong></a> شائع کی۔ معتبر دفاعی تجزیہ کار راہول بیڈی نے لکھا، ’تیجس کا حادثہ ناگزیر طور پر ایک پرانی تباہ کُن برآمدات کی مہم کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ جب 2009ء-2008ء میں 7 دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹرز (AHLs) ایکواڈور کو 40 کروڑ 25 لاکھ ڈالر میں فروخت کیے گئے جن میں سے 4 گر گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’ان حادثات نے بلآخر ایکواڈور ایئر فورس کو مجبور کیا کہ وہ اکتوبر 2015ء میں HAL کے ساتھ ALH معاہدہ ختم کر دے جس سے بھارت کے ایک مقامی فوجی ساز و سامان کے پلیٹ فارم کی پہلی بڑی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچا‘۔</p>
<p>اگر واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے تو نمنش سیال کی موت کو عزت دینے کا ایک بامعنی طریقہ یہ ہوگا کہ بھارت ہتھیاروں کے سودوں میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرے جسے بھارتی حکومتیں اکثر خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔</p>
<p>تحقیقات کے بجائے نمنش سیال کی موت، کسی کو قصوروار ٹھہرانے کی دوڑ کا سبب بنی ہے۔ سرکاری تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں لیکن بھارتی چینلز پر قوم پرست تجزیہ کار امریکا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے مبینہ طور پر تیجس میں استعمال کے لیے کم معیار کے انجن بھارت کو فروخت کیے۔</p>
<p>انسانیت کی سطح پر نمنش سیال کی موت اور انہیں پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ذاتی روابط دونوں ممالک کے لیے ایک مہربان، دوستانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔ بھارتی پائلٹ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصد سے لکھے گئے خط کا بنیادی پیغام یہی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957243/decency-knows-no-passport"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274230</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 13:39:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/25124102ad73794.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/25124102ad73794.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریئل اسٹیٹ مفادات یا شخصیت کا سحر؟ زہران ممدانی کے مخالف سے حامی تک ٹرمپ کا سفر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274186/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی میڈیا پر کیے جانے والے چند تبصروں میں صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی نیویارک شہر کے منتخب میئر زہران کوامے ممدانی کے ساتھ ملاقات کو ’برومینس‘ (دو مردوں کے درمیان گہری دوستی) قرار دینا مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے لیکن کون بھلا یہ پیش گوئی کرسکتا تھا کہ اوول آفس میں دونوں کے مابین ہونے والی یہ ملاقات اس قدر دوستانہ ثابت ہوگی کہ یہ ری پبلکن پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں سمیت ممکنہ طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم اراکین کو بھی ششدر کردے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273415'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273415"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر جنہوں نے پہلے زہران ممدانی کو ایک ’کمیونسٹ‘، ’یہود مخالف‘ اور ’جنونی‘ قرار دیا تھا، جمعے کو نومنتخب میئر سے ملاقات سے قبل ان کا لہجہ بدلا ہوا محسوس ہوا جہاں وہ توقع کا اظہار کرتے نظر آئے کہ یہ ملاقات ’خوشگوار‘ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات سے صرف ایک دن قبل ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے ایک بریفنگ میں کہا، ’یہ بہت اہم ہے کہ کل ایک کمیونسٹ وائٹ ہاؤس آ رہا ہے کیونکہ یہی وہ شخص ہے جسے ڈیموکریٹک پارٹی نے ملک کے سب سے بڑے شہر کے میئر کے لیے منتخب کیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا کہ فلوریڈا کے ری پبلکن سینیٹر رِک اسکاٹ نے جمعے کو رات گئے زہران ممدانی کو ’حقیقی کمیونسٹ‘ قرار دیا اور پیش گوئی کی کہ وہ ’وائٹ ہاؤس جا رہے ہیں تاکہ صدر ٹرمپ انہیں سبق سکھائیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے مطابق ری پبلکنز نے ہفتوں بلکہ کئی ماہ تک یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ ڈیموکریٹس کو زہران ممدانی کی سیاست سے جوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس بھی اس بات سے خوفزدہ نظر آئے جیسا کہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ان کی حمایت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔ ’یہ جی او پی (ری پبلکن پارٹی) کا پہلا بڑا موقع تھا کہ وہ یہ پیغام پہنچا سکے جو ٹرمپ کے ایجنڈے اور ڈیموکریٹک پارٹی میں پھیلی ہوئی مبینہ کمیونزم کے درمیان تضاد قائم کرسکے لیکن ٹرمپ نے اس حکمت عملی کو مکمل طور پر برباد کر دیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقیناً ری پبلکن پارٹی کو حیران کُن طور پر یہ دعویٰ مسترد کرکے چونکا دیا کہ زہران ممدانی ایک ’جہادی‘ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ نیو یارک کے گورنر کے لیے ری پبلکن امیدوار ایلیس اسٹیفانک (جو کہ اسرائیل کے حق میں مؤقف رکھنے والی کانگریس رکن ہیں) کے اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں کہ زہران ممدانی جہادی ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا، ’نہیں، میں اتفاق نہیں کرتا‘ اور انہوں نے اس تبصرے کو انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/atrupar/status/1991977473525895371'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/atrupar/status/1991977473525895371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے نیو یارک کے نوجوان میئر کو بھی ’کافی سخت‘ امیدواروں کے خلاف کامیابی پر سراہا جوکہ اپنی عمر کے اعتبار سے اس وقت پیدا ہوئے ہوں گے کہ جب ٹرمپ کی عمر 45 برس تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ میئر منتخب ہونے والے زہران ممدانی اپنی پالیسیز کے ذریعے ری پبلکنز کو سرپرائز دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف یہی نہیں بلکہ جب رپورٹرز نے ان کے میئرل مہم کے کچھ بیانات کے بارے میں سوالات کیے جن میں وائٹ ہاؤس کے موجودہ صدر کو ’فاشسٹ‘ کہنے والا بیان بھی شامل تھا، ٹرمپ نے اپنے پُرکشش مہمان کا دفاع کیا۔ یہ واضح طور پر علامت تھی کہ ٹرمپ کا دل بدل چکا ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوا کہ زہران ممدانی کے انتخابی دوڑ میں پہلی بار حصہ لینے کے بعد سے ٹرمپ کے مؤقف میں واضح تبدیلی آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273566'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک واضح سوال جو سب پوچھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیوں؟ میں نے نیو یارک میں مقیم ایک جنوبی ایشیائی نژاد تجزیہ کار سے یہ سوال کیا جنہوں نے مذاحیہ لہجے میں یہ ریمارکس دیے کہ نومنتخب میئر زہران ممدانی نے پاکستان کی قیادت کی حکمت عملی سے سبق لیتے ہوئے ٹرمپ کو ’اپنے مہربان لہجے سے جیت لیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر سنجیدہ انداز میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک خود پسند اور بدتہذیب شخص ہیں۔ زہران ممدانی جو غیرمعمولی طور پر جذباتی ذہانت رکھتے ہیں، انہوں نے شاید صدر کی ان دونوں خصوصیات پر کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی جنوبی ایشین دلکشی، بزرگوں کے احترام کی عادت کو ابلاغ کی بہترین مہارتوں کے امتزاج سے 79 سالہ ٹرمپ کی خود پسندی کے لیے استعمال کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح طور پر شائستگی سے بتایا کہ وہ ٹرمپ کی بدلحاظی کا شکار ہونے والوں میں سے نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ زہران ممدانی، امریکی صدر کے ساتھ ادب سے کھڑے رہے جبکہ ٹرمپ اپنی میز پر بیٹھ کر میڈیا سے بات کر رہے تھے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ غزہ میں جنگ جسے وہ نسل کشی قرار دیتے ہیں، کیا وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اس میں براہ راست ملوث ہے جس پر نوجوان میئر نے فوراً یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی طرح کی کمزوری دکھانے والے نہیں ہیں۔ زہران ممدانی نے دوبارہ اپنی پوزیشن دہرائی کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی اور امریکا نے اس کی مالی مدد کی۔ انہوں نے فخر سے کہا، ’میں ایک جمہوری سوشلسٹ ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/1992277024271126880'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/1992277024271126880"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زہران ممدانی ان تمام سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ نیویارک کے لوگوں کے لیے ’سستی‘ اور استطاعت کے مطابق شہری زندگی کے اپنی انتخابی مہم کے اہم مسئلے پر بھی بات کرتے رہے۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں دوبارہ اضافے کے ساتھ ہی ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے پاس زہران ممدانی کی سستی اشیا کی بات سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ رہائش کے اخراجات ایک اہم مسئلہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور اپنی صدارتی مہم کے دوران اس پر زور بھی دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ٹرمپ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ نیو یارک کے لیے وفاقی فنڈنگ میں کمی کریں گے جیسا کہ انہوں نے میئرل انتخاب سے پہلے دھمکی دی تھی تو انہوں نے کہا کہ وہ زہران ممدانی کو نقصان پہنچانے کی بجائے ان کی مدد پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ ’ہم دونوں کے پسندیدہ شہر‘ کو فائدہ پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالانکہ ٹرمپ حالیہ برسوں میں فلوریڈا منتقل ہو گئے تھے لیکن وہ ہمیشہ نیویارک کے شہری ہی سمجھے جائیں گے اور انہوں نے کہا کہ میئر منتخب ہونے والے زہران ممدانی نیویارک سٹی کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہیں تو وہ ان کا حوصلہ بڑھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تجزیہ کار نے کہا کہ صدر ’مضبوط‘ رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے بار بار عوامی طور پر بھی کہا ہے پھر چاہے وہ پاکستان کے فوجی سربراہ کی بات کر رہے ہوں یا اپنے دنیا بھر کے اتحادیوں کے بارے میں جن میں حال ہی میں منتخب ہونے والی جاپانی وزیر اعظم بھی شامل ہیں۔ ’انہیں زہران ممدانی کو بھی اسی زمرے میں رکھنا چاہیے کیونکہ نومنتخب میئر نے ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرکے غیر معمولی حالات میں کامیابی حاصل کی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی سیاسی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ نوجوان سیاستدان نے در در جا کر انتخابی مہم چلانے کے لیے کس طرح رضاکاروں کا لشکر اکٹھا کیا اور ان کی میڈیا ٹیم نے سوشل میڈیا پر نئے یا پہلی بار ووٹ دینے والے شہریوں کو ہدف بنانے کے لیے شاندار پیغام رسانی کی جبکہ زہران نے انٹرویوز اور مہم کے اشتہارات کے ذریعے روایتی میڈیا کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً اوول آفس میں دوستانہ ملاقات کے میڈیا کے تجزیات میں ایک چیز غائب تھی جو صدر کی پالیسیز اور رویے کی ’لین دین‘ کی نوعیت تھی۔ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے لیے سخت یہاں تک کہ بدتہذیب لہجہ اختیار کرتے نظر آئے کیونکہ ٹرمپ کے خیال میں یوکرین کے صدر وہ شخص تھے جو ’ضرورت مند‘ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن زہران ممدانی ایسے نہیں۔ شاید یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے قریبی دوست اور خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر (اور دیگر دوست) سب نیو یارک سٹی میں رئیل اسٹیٹ کے مفادات رکھتے ہیں جن کی مالیت کئی ارب ڈالرز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں رئیل اسٹیٹ کی نگرانی ہو، زوننگ ہو، آگ اور تدابیر کے قوانین ہوں یا عمارت کے لائسنس کا اجرا یا پھر سوشل ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے معاہدے ہوں، سب سٹی ہال کے دائرہ کار میں طے ہوتے ہیں۔ اور شہر کا میئر سٹی ہال کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو جیرڈ کشنر، اسٹیو ویٹکوف اور دیگر احباب و دوست کاروباری حضرات و ساتھی، شراکت دار اور خود ٹرمپ نے یقیناً یہ ضروری سمجھا ہوگا کہ سٹی ہال کو اپنی طرف رکھنا کتنا ضروری ہے اور سیاسی اختلافات اور مفادات کو ایک جانب رکھتے ہوئے اس کے اختیارات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956825/mamdani-trumps-trump"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی میڈیا پر کیے جانے والے چند تبصروں میں صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی نیویارک شہر کے منتخب میئر زہران کوامے ممدانی کے ساتھ ملاقات کو ’برومینس‘ (دو مردوں کے درمیان گہری دوستی) قرار دینا مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے لیکن کون بھلا یہ پیش گوئی کرسکتا تھا کہ اوول آفس میں دونوں کے مابین ہونے والی یہ ملاقات اس قدر دوستانہ ثابت ہوگی کہ یہ ری پبلکن پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں سمیت ممکنہ طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم اراکین کو بھی ششدر کردے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273415'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273415"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی صدر جنہوں نے پہلے زہران ممدانی کو ایک ’کمیونسٹ‘، ’یہود مخالف‘ اور ’جنونی‘ قرار دیا تھا، جمعے کو نومنتخب میئر سے ملاقات سے قبل ان کا لہجہ بدلا ہوا محسوس ہوا جہاں وہ توقع کا اظہار کرتے نظر آئے کہ یہ ملاقات ’خوشگوار‘ ثابت ہوگی۔</p>
<p>ملاقات سے صرف ایک دن قبل ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے ایک بریفنگ میں کہا، ’یہ بہت اہم ہے کہ کل ایک کمیونسٹ وائٹ ہاؤس آ رہا ہے کیونکہ یہی وہ شخص ہے جسے ڈیموکریٹک پارٹی نے ملک کے سب سے بڑے شہر کے میئر کے لیے منتخب کیا ہے‘۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا کہ فلوریڈا کے ری پبلکن سینیٹر رِک اسکاٹ نے جمعے کو رات گئے زہران ممدانی کو ’حقیقی کمیونسٹ‘ قرار دیا اور پیش گوئی کی کہ وہ ’وائٹ ہاؤس جا رہے ہیں تاکہ صدر ٹرمپ انہیں سبق سکھائیں‘۔</p>
<p>سی این این کے مطابق ری پبلکنز نے ہفتوں بلکہ کئی ماہ تک یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ ڈیموکریٹس کو زہران ممدانی کی سیاست سے جوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس بھی اس بات سے خوفزدہ نظر آئے جیسا کہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ان کی حمایت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔ ’یہ جی او پی (ری پبلکن پارٹی) کا پہلا بڑا موقع تھا کہ وہ یہ پیغام پہنچا سکے جو ٹرمپ کے ایجنڈے اور ڈیموکریٹک پارٹی میں پھیلی ہوئی مبینہ کمیونزم کے درمیان تضاد قائم کرسکے لیکن ٹرمپ نے اس حکمت عملی کو مکمل طور پر برباد کر دیا‘۔</p>
<p>انہوں نے یقیناً ری پبلکن پارٹی کو حیران کُن طور پر یہ دعویٰ مسترد کرکے چونکا دیا کہ زہران ممدانی ایک ’جہادی‘ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ نیو یارک کے گورنر کے لیے ری پبلکن امیدوار ایلیس اسٹیفانک (جو کہ اسرائیل کے حق میں مؤقف رکھنے والی کانگریس رکن ہیں) کے اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں کہ زہران ممدانی جہادی ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا، ’نہیں، میں اتفاق نہیں کرتا‘ اور انہوں نے اس تبصرے کو انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/atrupar/status/1991977473525895371'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/atrupar/status/1991977473525895371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی صدر نے نیو یارک کے نوجوان میئر کو بھی ’کافی سخت‘ امیدواروں کے خلاف کامیابی پر سراہا جوکہ اپنی عمر کے اعتبار سے اس وقت پیدا ہوئے ہوں گے کہ جب ٹرمپ کی عمر 45 برس تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ میئر منتخب ہونے والے زہران ممدانی اپنی پالیسیز کے ذریعے ری پبلکنز کو سرپرائز دیں گے۔</p>
<p>صرف یہی نہیں بلکہ جب رپورٹرز نے ان کے میئرل مہم کے کچھ بیانات کے بارے میں سوالات کیے جن میں وائٹ ہاؤس کے موجودہ صدر کو ’فاشسٹ‘ کہنے والا بیان بھی شامل تھا، ٹرمپ نے اپنے پُرکشش مہمان کا دفاع کیا۔ یہ واضح طور پر علامت تھی کہ ٹرمپ کا دل بدل چکا ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوا کہ زہران ممدانی کے انتخابی دوڑ میں پہلی بار حصہ لینے کے بعد سے ٹرمپ کے مؤقف میں واضح تبدیلی آئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273566'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک واضح سوال جو سب پوچھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیوں؟ میں نے نیو یارک میں مقیم ایک جنوبی ایشیائی نژاد تجزیہ کار سے یہ سوال کیا جنہوں نے مذاحیہ لہجے میں یہ ریمارکس دیے کہ نومنتخب میئر زہران ممدانی نے پاکستان کی قیادت کی حکمت عملی سے سبق لیتے ہوئے ٹرمپ کو ’اپنے مہربان لہجے سے جیت لیا ہے‘۔</p>
<p>پھر سنجیدہ انداز میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک خود پسند اور بدتہذیب شخص ہیں۔ زہران ممدانی جو غیرمعمولی طور پر جذباتی ذہانت رکھتے ہیں، انہوں نے شاید صدر کی ان دونوں خصوصیات پر کام کیا۔</p>
<p>انہوں نے اپنی جنوبی ایشین دلکشی، بزرگوں کے احترام کی عادت کو ابلاغ کی بہترین مہارتوں کے امتزاج سے 79 سالہ ٹرمپ کی خود پسندی کے لیے استعمال کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح طور پر شائستگی سے بتایا کہ وہ ٹرمپ کی بدلحاظی کا شکار ہونے والوں میں سے نہیں ہیں۔</p>
<p>اگرچہ زہران ممدانی، امریکی صدر کے ساتھ ادب سے کھڑے رہے جبکہ ٹرمپ اپنی میز پر بیٹھ کر میڈیا سے بات کر رہے تھے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ غزہ میں جنگ جسے وہ نسل کشی قرار دیتے ہیں، کیا وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اس میں براہ راست ملوث ہے جس پر نوجوان میئر نے فوراً یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی طرح کی کمزوری دکھانے والے نہیں ہیں۔ زہران ممدانی نے دوبارہ اپنی پوزیشن دہرائی کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی اور امریکا نے اس کی مالی مدد کی۔ انہوں نے فخر سے کہا، ’میں ایک جمہوری سوشلسٹ ہوں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/1992277024271126880'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/1992277024271126880"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>زہران ممدانی ان تمام سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ نیویارک کے لوگوں کے لیے ’سستی‘ اور استطاعت کے مطابق شہری زندگی کے اپنی انتخابی مہم کے اہم مسئلے پر بھی بات کرتے رہے۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں دوبارہ اضافے کے ساتھ ہی ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کے پاس زہران ممدانی کی سستی اشیا کی بات سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ رہائش کے اخراجات ایک اہم مسئلہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور اپنی صدارتی مہم کے دوران اس پر زور بھی دیا تھا۔</p>
<p>جب ٹرمپ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ نیو یارک کے لیے وفاقی فنڈنگ میں کمی کریں گے جیسا کہ انہوں نے میئرل انتخاب سے پہلے دھمکی دی تھی تو انہوں نے کہا کہ وہ زہران ممدانی کو نقصان پہنچانے کی بجائے ان کی مدد پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ ’ہم دونوں کے پسندیدہ شہر‘ کو فائدہ پہنچ سکے۔</p>
<p>حالانکہ ٹرمپ حالیہ برسوں میں فلوریڈا منتقل ہو گئے تھے لیکن وہ ہمیشہ نیویارک کے شہری ہی سمجھے جائیں گے اور انہوں نے کہا کہ میئر منتخب ہونے والے زہران ممدانی نیویارک سٹی کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہیں تو وہ ان کا حوصلہ بڑھائیں گے۔</p>
<p>ایک اور تجزیہ کار نے کہا کہ صدر ’مضبوط‘ رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے بار بار عوامی طور پر بھی کہا ہے پھر چاہے وہ پاکستان کے فوجی سربراہ کی بات کر رہے ہوں یا اپنے دنیا بھر کے اتحادیوں کے بارے میں جن میں حال ہی میں منتخب ہونے والی جاپانی وزیر اعظم بھی شامل ہیں۔ ’انہیں زہران ممدانی کو بھی اسی زمرے میں رکھنا چاہیے کیونکہ نومنتخب میئر نے ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرکے غیر معمولی حالات میں کامیابی حاصل کی ہے‘۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی سیاسی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ نوجوان سیاستدان نے در در جا کر انتخابی مہم چلانے کے لیے کس طرح رضاکاروں کا لشکر اکٹھا کیا اور ان کی میڈیا ٹیم نے سوشل میڈیا پر نئے یا پہلی بار ووٹ دینے والے شہریوں کو ہدف بنانے کے لیے شاندار پیغام رسانی کی جبکہ زہران نے انٹرویوز اور مہم کے اشتہارات کے ذریعے روایتی میڈیا کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچایا۔</p>
<p>یقیناً اوول آفس میں دوستانہ ملاقات کے میڈیا کے تجزیات میں ایک چیز غائب تھی جو صدر کی پالیسیز اور رویے کی ’لین دین‘ کی نوعیت تھی۔ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے لیے سخت یہاں تک کہ بدتہذیب لہجہ اختیار کرتے نظر آئے کیونکہ ٹرمپ کے خیال میں یوکرین کے صدر وہ شخص تھے جو ’ضرورت مند‘ تھے۔</p>
<p>لیکن زہران ممدانی ایسے نہیں۔ شاید یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے قریبی دوست اور خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر (اور دیگر دوست) سب نیو یارک سٹی میں رئیل اسٹیٹ کے مفادات رکھتے ہیں جن کی مالیت کئی ارب ڈالرز ہے۔</p>
<p>شہر میں رئیل اسٹیٹ کی نگرانی ہو، زوننگ ہو، آگ اور تدابیر کے قوانین ہوں یا عمارت کے لائسنس کا اجرا یا پھر سوشل ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے معاہدے ہوں، سب سٹی ہال کے دائرہ کار میں طے ہوتے ہیں۔ اور شہر کا میئر سٹی ہال کو کنٹرول کرتا ہے۔</p>
<p>تو جیرڈ کشنر، اسٹیو ویٹکوف اور دیگر احباب و دوست کاروباری حضرات و ساتھی، شراکت دار اور خود ٹرمپ نے یقیناً یہ ضروری سمجھا ہوگا کہ سٹی ہال کو اپنی طرف رکھنا کتنا ضروری ہے اور سیاسی اختلافات اور مفادات کو ایک جانب رکھتے ہوئے اس کے اختیارات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1956825/mamdani-trumps-trump"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274186</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 15:59:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عباس ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241207179eb24ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241207179eb24ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دو شہر، دو کہانیاں: انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی میں پاکستان کہاں غلطی کررہا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274178/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی داخلی سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں حالانکہ حکومتی ادارے ان سے نمٹنے کے لیے مختلف حربے آزما رہے ہیں لیکن سنجیدگی سے اپنے منصوبوں پر دوبارہ غور کرنے کے بجائے وہ سخت اور دفاعی طریقے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ طاقت کا استعمال بعض اوقات ضروری ہو سکتا ہے خاص طور پر اس وقت کہ جب یہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو لیکن سخت اقدامات پر ضرورت سے زیادہ انحصار پہلے سامنے آنے والی تمام پیش رفت کو صفر کر سکتا ہے بلکہ یہ سیکیورٹی مسائل کے الٹ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274172/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274172"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دلیل کو مزید گہرائی سے دیکھنے سے پہلے، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے کس طرح دو بڑے شہروں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں جوکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہیں۔ بلوچستان ایک طویل عرصے سے جاری شورش کے ساتھ ساتھ اسلامسٹ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے مسلسل خطرات سے نبرد آزما ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں اہم نکتہ لندن اور پیرس کا موازنہ کرنا نہیں ہے جیسا کہ چارلس ڈکنز نے کیا تھا بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کیوں دو پاکستانی شہر حالانکہ انہیں سیکیورٹی کے لیے ایک جیسی رقم اور افرادی قوت ملتی ہے، کو مختلف نوعیت کے سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک شہر زیادہ محفوظ ہے، جبکہ دوسرا نہیں ہے۔ ریاست خفیہ معلومات، تعیناتیوں اور چوکیوں پر زیادہ وسائل خرچ کرتی ہے۔ اس کے باوجود دہشت گرد کمزوریاں تلاش کرکے انہیں استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں حملے کم ہوتے ہیں جبکہ کوئٹہ زیادہ عسکریت پسندوں کی زد میں آتا ہے۔ دونوں شہروں کے رہائشی سیکیورٹی اداروں کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملیوں سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ یہ اقدامات ان کی معمولاتِ زندگی میں براہِ راست رکاوٹ بنتے ہیں اور مقامی کاروبار پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے عام طور پر اپنی احتیاطی حکمتِ عملی تشکیل دیتے وقت عوامی شکایات کو شاذ و نادر ہی مدنظر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے اعداد و شمار اس بات کا واضح اشارہ کرتے ہیں کہ سیکیورٹی اداروں کو اپنی احتیاطی حکمتِ عملیوں پر ازسرِنو غور کرنے اور انہیں جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں جنوری 2021ء سے اب تک 6 دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہے۔ ان میں 11 نومبر کا حالیہ حملہ سب سے زیادہ مہلک تھا جس میں ضلعی کچہری کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں 12 افراد جان سے گئے۔ اسلام آباد میں اس سے پہلے ہونے والے حملے نسبتاً چھوٹے پیمانے پر تھے جوکہ شہر کے مضافات میں پیش آئے اور ان میں بنیادی طور پر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں سے زیادہ تر واقعات کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس کوئٹہ میں اسی عرصے کے دوران 152 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 264 افراد جاں بحق ہوئے۔ کوئٹہ میں جن افراد کو ہدف بنایا گیا ان کی نوعیت بہت زیادہ متنوع تھی جن میں عام شہری، حکومتی اہلکار، سیکیورٹی فورسز، قبائلی سردار، مذہبی برادریاں اور ان کے رہنما اور سیاسی کارکن شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273970/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملہ آور بھی اتنے ہی متنوع تھے جن میں قوم پرست باغی گروہوں جیسے بلوچ ری پبلکن گارڈز، بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، اور بی آر اے ایس (جو بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر جی کا اتحاد ہے) کے ساتھ ساتھ اسلامسٹ عسکری اور فرقہ وارانہ تنظیمیں جیسے داعش خراساں/داعش پاکستان پرووینس، لشکرِ جھنگوی، ٹی ٹی پی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان جاری ہے۔ صرف جنوری کے مہینے میں ہی کوئٹہ میں 32 حملے ہوئے جن میں 32 اموات ہوئیں  اور ان حملوں میں ہدف اور حملہ آوروں کی یہی مختلف اقسام دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ عسکری گروپس، ان کے ہدف اور ان کی حکمت عملی، گزرتے برسوں کے دوران بدل چکی ہیں۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہیں کہ موجودہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کس قدر غیرمؤثر ہیں، چاہے وہ عملی اقدامات ہوں یا احتیاطی اقدامات جو زیادہ تر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سیف سٹی نگرانی کے نظام اور انٹرنیٹ جام کرنے پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں حالیہ حملہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد گروہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قائم کردہ دفاعی حصار کو توڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ میں  قدرتی طور پر خطرہ زیادہ ہے لیکن وفاقی دارالحکومت کے رہائشی مختلف وجوہات کی بنیاد پر زیادہ پریشان ہیں۔ انہیں سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی سطحوں، چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد اور کرکٹ ٹیمز، غیرملکی مہمانوں اور سرکاری اہلکاروں کی نقل و حرکت کے پروٹوکول کی وجہ سے گھنٹوں تک سڑکوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کے معاملات اکثر رک سے جاتے ہیں جو اعصابی کیفیت اور ناقص انتظامات کی عکاسی کرتے ہیں حالانکہ ریاستی وسائل کافی مقدار میں دستیاب ہیں۔ اس کے باوجود حکومت اپنے سیکیورٹی منصوبوں پر نظرِ ثانی یا از سرِ نو سوچنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب سیکیورٹی ایجنسیز سخت پروٹوکولز پر حد سے زیادہ توجہ مرکوز کر دیتی ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر دہشت گردوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور وہ اپنی حکمت عملی بدل کر انہی اقدامات کو عبور کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ دونوں شہروں کے اعداد و شمار اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب دہشت گرد خود کو برتر محسوس کرنے لگتے ہیں تو یہ ریاست کی جانب سے اپنائی گئی سخت اقدامات کی حکمت عملی کو کمزور کر دیتا ہے۔ ان حکمت عملیوں میں ان ممالک پر دباؤ ڈالنا شامل ہے جو شدت پسندوں کو پناہ یا معاونت فراہم کرتے ہیں جبکہ ایسے عناصر کے ساتھ سیاسی تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کا سیاسی طریقہ کار بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب عوام سڑکوں پر بالکل مختلف حقائق دیکھتے ہیں تو دہشت گردی کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں پر بھی اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، افغانستان کی طالبان حکومت پر دہشت گرد نیٹ ورکس خاص طور پر ٹی ٹی پی کی حمایت کا سلسلہ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ حال ہی میں دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت صرف اسی صورت میں دوبارہ شروع ہوگی جب کابل سرحد پار دہشت گردی کو روکے جبکہ یہ بھی کہا کہ اہم علاقائی توانائی کے منصوبوں کے مستقبل کو طالبان کی طرف سے عسکریت پسندوں کی حمایت ختم کرنے سے جوڑ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ افغان نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر کی حالیہ پریس کانفرنس کے جواب میں تھا کہ جس میں انہوں نے افغان تاجروں کو پاکستان کے ذریعے سامان برآمد کرنے سے روکنے کی ہدایت دی تھی۔ بظاہر یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہو رہا کیونکہ مخالفین دیکھ سکتے ہیں کہ ان سے نمٹنے میں پاکستان کتنا مایوس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے افرادی، مالی، ٹیکنالوجی اور سائبر وسائل کا بہتر استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے آپریشنز کو اسٹریٹجک طور پر ڈھالنا ہوگا۔ روک تھام کے ظاہری اقدامات پر بہت زیادہ انحصار کرنا جیسے چوکیوں اور سڑکوں پر بڑی رکاوٹیں، معمولاتِ زندگی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے سیکیورٹی کو کمزور کیے بغیر چوکیوں کی تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ دہشت گرد واضح اور پوشیدہ دونوں حفاظتی اقدامات سے گزرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس لیے ایجنسیز کو تمام شعبہ جات میں اپنی کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273601/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273601"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی اور مقامی اہم شخصیات کی آمد و رفت کے لیے شاہراہوں اور بڑی سڑکوں کو بند کرنے سے سلامتی کے خطرات کم نہیں ہوتے۔ کئی مواقع پر یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں اور عوام میں خوف اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ یہ مایوسی خاص طور پر اسلام آباد میں نمایاں ہے جبکہ کوئٹہ میں عدم تحفظ کا احساس اب بھی بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار پھر اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست کو اپنی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملیوں کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس میں سیاسی، آپریشنل اور حفاظتی پہلوؤں میں ہم آہنگی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عوام میں مایوسی اور خوف دہشت گردی کی طرح نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن حکومت اپنے انسداد دہشت گردی کے منصوبوں میں ان انسانی پہلوؤں پر شاذ و نادر ہی غور کرتی ہے۔ ریاستی ادارے اکثر عام شہریوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ شہروں کو محفوظ رکھنے کے لیے قربانیاں دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ لوگوں کو اپنے سامنے ایک بالکل مختلف حقیقت نظر آتی ہے جوکہ یہ ہے کہ سرکاری اہلکار اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے زیادہ تر وسائل خرچ کرتے ہیں، ’ریڈ زونز‘ قائم کرتے ہیں، بڑی سیکیورٹی فورسز کو تعینات کرتے ہیں اور جب بھی اہم اہلکار یا اشرافیہ عوامی مقامات سے گزرتے ہیں تو روزمرہ کی زندگی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956826/a-tale-of-two-cities"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی داخلی سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں حالانکہ حکومتی ادارے ان سے نمٹنے کے لیے مختلف حربے آزما رہے ہیں لیکن سنجیدگی سے اپنے منصوبوں پر دوبارہ غور کرنے کے بجائے وہ سخت اور دفاعی طریقے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ طاقت کا استعمال بعض اوقات ضروری ہو سکتا ہے خاص طور پر اس وقت کہ جب یہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو لیکن سخت اقدامات پر ضرورت سے زیادہ انحصار پہلے سامنے آنے والی تمام پیش رفت کو صفر کر سکتا ہے بلکہ یہ سیکیورٹی مسائل کے الٹ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274172/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274172"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس دلیل کو مزید گہرائی سے دیکھنے سے پہلے، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے کس طرح دو بڑے شہروں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں جوکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہیں۔ بلوچستان ایک طویل عرصے سے جاری شورش کے ساتھ ساتھ اسلامسٹ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے مسلسل خطرات سے نبرد آزما ہے۔</p>
<p>یہاں اہم نکتہ لندن اور پیرس کا موازنہ کرنا نہیں ہے جیسا کہ چارلس ڈکنز نے کیا تھا بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کیوں دو پاکستانی شہر حالانکہ انہیں سیکیورٹی کے لیے ایک جیسی رقم اور افرادی قوت ملتی ہے، کو مختلف نوعیت کے سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے۔</p>
<p>ایک شہر زیادہ محفوظ ہے، جبکہ دوسرا نہیں ہے۔ ریاست خفیہ معلومات، تعیناتیوں اور چوکیوں پر زیادہ وسائل خرچ کرتی ہے۔ اس کے باوجود دہشت گرد کمزوریاں تلاش کرکے انہیں استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں حملے کم ہوتے ہیں جبکہ کوئٹہ زیادہ عسکریت پسندوں کی زد میں آتا ہے۔ دونوں شہروں کے رہائشی سیکیورٹی اداروں کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملیوں سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ یہ اقدامات ان کی معمولاتِ زندگی میں براہِ راست رکاوٹ بنتے ہیں اور مقامی کاروبار پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے عام طور پر اپنی احتیاطی حکمتِ عملی تشکیل دیتے وقت عوامی شکایات کو شاذ و نادر ہی مدنظر رکھتے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے اعداد و شمار اس بات کا واضح اشارہ کرتے ہیں کہ سیکیورٹی اداروں کو اپنی احتیاطی حکمتِ عملیوں پر ازسرِنو غور کرنے اور انہیں جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں جنوری 2021ء سے اب تک 6 دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہے۔ ان میں 11 نومبر کا حالیہ حملہ سب سے زیادہ مہلک تھا جس میں ضلعی کچہری کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں 12 افراد جان سے گئے۔ اسلام آباد میں اس سے پہلے ہونے والے حملے نسبتاً چھوٹے پیمانے پر تھے جوکہ شہر کے مضافات میں پیش آئے اور ان میں بنیادی طور پر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں سے زیادہ تر واقعات کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔</p>
<p>اس کے برعکس کوئٹہ میں اسی عرصے کے دوران 152 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 264 افراد جاں بحق ہوئے۔ کوئٹہ میں جن افراد کو ہدف بنایا گیا ان کی نوعیت بہت زیادہ متنوع تھی جن میں عام شہری، حکومتی اہلکار، سیکیورٹی فورسز، قبائلی سردار، مذہبی برادریاں اور ان کے رہنما اور سیاسی کارکن شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273970/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حملہ آور بھی اتنے ہی متنوع تھے جن میں قوم پرست باغی گروہوں جیسے بلوچ ری پبلکن گارڈز، بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، اور بی آر اے ایس (جو بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر جی کا اتحاد ہے) کے ساتھ ساتھ اسلامسٹ عسکری اور فرقہ وارانہ تنظیمیں جیسے داعش خراساں/داعش پاکستان پرووینس، لشکرِ جھنگوی، ٹی ٹی پی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ رجحان جاری ہے۔ صرف جنوری کے مہینے میں ہی کوئٹہ میں 32 حملے ہوئے جن میں 32 اموات ہوئیں  اور ان حملوں میں ہدف اور حملہ آوروں کی یہی مختلف اقسام دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ عسکری گروپس، ان کے ہدف اور ان کی حکمت عملی، گزرتے برسوں کے دوران بدل چکی ہیں۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہیں کہ موجودہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کس قدر غیرمؤثر ہیں، چاہے وہ عملی اقدامات ہوں یا احتیاطی اقدامات جو زیادہ تر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سیف سٹی نگرانی کے نظام اور انٹرنیٹ جام کرنے پر منحصر ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں حالیہ حملہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد گروہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قائم کردہ دفاعی حصار کو توڑ دیا ہے۔</p>
<p>کوئٹہ میں  قدرتی طور پر خطرہ زیادہ ہے لیکن وفاقی دارالحکومت کے رہائشی مختلف وجوہات کی بنیاد پر زیادہ پریشان ہیں۔ انہیں سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی سطحوں، چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد اور کرکٹ ٹیمز، غیرملکی مہمانوں اور سرکاری اہلکاروں کی نقل و حرکت کے پروٹوکول کی وجہ سے گھنٹوں تک سڑکوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>شہر کے معاملات اکثر رک سے جاتے ہیں جو اعصابی کیفیت اور ناقص انتظامات کی عکاسی کرتے ہیں حالانکہ ریاستی وسائل کافی مقدار میں دستیاب ہیں۔ اس کے باوجود حکومت اپنے سیکیورٹی منصوبوں پر نظرِ ثانی یا از سرِ نو سوچنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔</p>
<p>جب سیکیورٹی ایجنسیز سخت پروٹوکولز پر حد سے زیادہ توجہ مرکوز کر دیتی ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر دہشت گردوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور وہ اپنی حکمت عملی بدل کر انہی اقدامات کو عبور کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ دونوں شہروں کے اعداد و شمار اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>جب دہشت گرد خود کو برتر محسوس کرنے لگتے ہیں تو یہ ریاست کی جانب سے اپنائی گئی سخت اقدامات کی حکمت عملی کو کمزور کر دیتا ہے۔ ان حکمت عملیوں میں ان ممالک پر دباؤ ڈالنا شامل ہے جو شدت پسندوں کو پناہ یا معاونت فراہم کرتے ہیں جبکہ ایسے عناصر کے ساتھ سیاسی تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کا سیاسی طریقہ کار بھی شامل ہے۔</p>
<p>جب عوام سڑکوں پر بالکل مختلف حقائق دیکھتے ہیں تو دہشت گردی کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں پر بھی اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان، افغانستان کی طالبان حکومت پر دہشت گرد نیٹ ورکس خاص طور پر ٹی ٹی پی کی حمایت کا سلسلہ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ حال ہی میں دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت صرف اسی صورت میں دوبارہ شروع ہوگی جب کابل سرحد پار دہشت گردی کو روکے جبکہ یہ بھی کہا کہ اہم علاقائی توانائی کے منصوبوں کے مستقبل کو طالبان کی طرف سے عسکریت پسندوں کی حمایت ختم کرنے سے جوڑ دیا جائے۔</p>
<p>یہ افغان نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر کی حالیہ پریس کانفرنس کے جواب میں تھا کہ جس میں انہوں نے افغان تاجروں کو پاکستان کے ذریعے سامان برآمد کرنے سے روکنے کی ہدایت دی تھی۔ بظاہر یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہو رہا کیونکہ مخالفین دیکھ سکتے ہیں کہ ان سے نمٹنے میں پاکستان کتنا مایوس ہے۔</p>
<p>قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے افرادی، مالی، ٹیکنالوجی اور سائبر وسائل کا بہتر استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے آپریشنز کو اسٹریٹجک طور پر ڈھالنا ہوگا۔ روک تھام کے ظاہری اقدامات پر بہت زیادہ انحصار کرنا جیسے چوکیوں اور سڑکوں پر بڑی رکاوٹیں، معمولاتِ زندگی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے سیکیورٹی کو کمزور کیے بغیر چوکیوں کی تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ دہشت گرد واضح اور پوشیدہ دونوں حفاظتی اقدامات سے گزرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس لیے ایجنسیز کو تمام شعبہ جات میں اپنی کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273601/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273601"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>غیر ملکی اور مقامی اہم شخصیات کی آمد و رفت کے لیے شاہراہوں اور بڑی سڑکوں کو بند کرنے سے سلامتی کے خطرات کم نہیں ہوتے۔ کئی مواقع پر یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں اور عوام میں خوف اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ یہ مایوسی خاص طور پر اسلام آباد میں نمایاں ہے جبکہ کوئٹہ میں عدم تحفظ کا احساس اب بھی بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>ایک بار پھر اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست کو اپنی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملیوں کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس میں سیاسی، آپریشنل اور حفاظتی پہلوؤں میں ہم آہنگی ہو۔</p>
<p>اگرچہ عوام میں مایوسی اور خوف دہشت گردی کی طرح نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن حکومت اپنے انسداد دہشت گردی کے منصوبوں میں ان انسانی پہلوؤں پر شاذ و نادر ہی غور کرتی ہے۔ ریاستی ادارے اکثر عام شہریوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ شہروں کو محفوظ رکھنے کے لیے قربانیاں دیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ لوگوں کو اپنے سامنے ایک بالکل مختلف حقیقت نظر آتی ہے جوکہ یہ ہے کہ سرکاری اہلکار اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے زیادہ تر وسائل خرچ کرتے ہیں، ’ریڈ زونز‘ قائم کرتے ہیں، بڑی سیکیورٹی فورسز کو تعینات کرتے ہیں اور جب بھی اہم اہلکار یا اشرافیہ عوامی مقامات سے گزرتے ہیں تو روزمرہ کی زندگی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1956826/a-tale-of-two-cities"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274178</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 13:10:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عامر رانا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241101031d93967.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241101031d93967.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا پاکستان کے مسائل کے لیے کسی جادوئی حل کا تصور حقیقت ہے یا سیراب؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274017/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا آپ کو 2010ء کی دہائی کے اوائل میں پھیلا مشہور ’&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/740314/make-way-for-hydrogen-car"&gt;واٹر کار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;‘ کا جنون یاد ہے؟ ایک صاحب کئی سینئر سیاست دانوں اور ٹی وی اینکرز کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ انہوں نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس میں گاڑی پانی سے چلتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد ہے وہ ہیجان کس قدر پھیل گیا تھا اور کیسے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی نے خود ٹی وی پر آ کر اعلان کیا تھا کہ یہ ایجاد انقلاب ہے جو ہمارے تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد ہے وہ ‘&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1105356"&gt;سوئز بینک اکاؤنٹس میں 200 ارب ڈالر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;’ والا اضطراب جو 2010ء کی دہائی کے وسط میں ملک میں پھیلا تھا؟ جب کچھ سینئر عوامی شخصیات جن میں اسد عمر بھی شامل تھے جو چند سال بعد پاکستان کے وزیرِ خزانہ بننے والے تھے، دھرنے کے اسٹیج سے یہ دعویٰ بڑے زور و شور سے کیا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میں نے ایک مضمون لکھ کر اس مفروضے کی تردید کی تو مجھ پر ارب پتیوں کا ساتھ دینے کا الزام لگا دیا گیا۔ برسوں بعد جب وہ وزیرِ خزانہ بنے تو وہ انہی اینکرز میں سے ایک کے ٹی وی شو پر آئے جنہوں نے مجھ پر ’اشرافیہ کا ساتھ دینے‘ کا الزام لگایا تھا اور وہاں انہوں نے کہا کہ 200 ارب ڈالر والی بات ’بےبنیاد‘ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر وہ آف شور تیل کی کہانی تھی جسے اُس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اس وقت بیان کردیا تھا جب وہ ایک آئل کمپنی کی ٹیم سے ملاقات کے چند ہی منٹ بعد میڈیا کے سامنے آئے حالانکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ابھی کوئی حتمی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2014ء میں نواز شریف بہاولپور پہنچے اور اعلان کیا کہ وہاں سونے کے ایسے ذخائر ملے ہیں جو ہمارے تمام ملکی مسائل کا حل نکالنے کے لیے کافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح وہ 10 ارب ڈالر سالانہ کی رقم بھی تھی جو مبینہ طور پر ہر سال غیرقانونی ذرائع کے ذریعے پاکستان سے باہر منتقل ہو رہی تھی۔ یہ 10 ارب ڈالر کے اعداد و شمار جسے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ سے منسوب کیا گیا تھا جوکہ غلط تھا (اس میں دراصل ایسا کوئی تخمینہ موجود ہی نہیں تھا)۔ عمران خان نے اسی دعوے کی بنیاد پر کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت صرف بیرونِ ملک رقم منتقلی کو روک کر ہی ٹھیک کی جا سکتی ہے کیونکہ ان کے بقول یہ رقم جرائم اور کرپشن کے ذریعے کمائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت ہر چند سال بعد یہی کہانی دوبارہ دہرائی جاتی ہے۔ کوئی نہ کوئی افواہ اڑائی جاتی ہے، ساتھ یہ دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ اب فلاں دریافت یا پیشرفت ہمارے تمام مسائل کا حل بن ثابت ہوگی اور ملک کو مزید اپنے قرض دہندگان یا دوطرفہ شراکت داروں کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فی الحال تو پورے ملک میں مکمل اضطراب کی کیفیت نہیں لیکن اسی طرح کی کم شدت کی ایک کیفیت پاکستان میں معدنیات اور شیل گیس کے حوالے سے بھی پائی جارہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے پانیوں میں گیس کی تلاش کے بارے میں بھی حد سے زیادہ امیدوں اور غیرحقیقی توقعات سامنے آنے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274012/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند عرصے کے وقفوں کے بعد عوام میں پیدا کیے جانے والے اس اضطراب کے ذریعے کوئی نہ کوئی اہم بات ہم سے مخاطب ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی امید ہے جو کہیں دبی بیٹھی ہے کہ جیسے کوئی جادوئی حل ہے، کوئی دریافت یا پیشرفت ہے یا کوئی بیماری ہے جس کا علاج اگر کر دیا جائے تو مثبت تبدیلی پورے معاشی ڈھانچے میں پھیل جائے گی اور ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس عوامی اضطراب کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ دراصل ان امیدوں کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں جو حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ یہ اس توقع کی سب سے شدید اور جنونی شکل ہے۔ لیکن جب لوگ توقعات کے اس جال میں نہیں پھنستے تب یہی امید زیادہ لطیف طریقوں سے ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ یہ کلیدی پالیسی سازوں کے سوچنے کے انداز کو بھی تشکیل دیتا ہے جس سے انہیں یہ باور کروانا مشکل ہوجاتا ہے کہ اصلاحات ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزرے برسوں میں، میں نے اہم لوگوں جیسے سول سروس کے اہلکاروں، سیاست دانوں، فوجی افسران کو ایک ایسا سوال کرتے سنا ہے جو اس صورت حال کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے کہ جیسے اس ملک کے مسائل کے لیے کوئی ایک جادوئی حل موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پوچھتے ہیں کہ ’وہ کیا بنیادی مسئلہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو پیچھے رکھنے کی وجہ ہے؟’ اس سوال کے کچھ اور بھی روپ ہیں جیسے ’اگر آپ ایک چیز بدل سکتے تو وہ کیا چیز ہوتی؟’ یا ’ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ کون سا ہے جسے حل کرنا ضروری ہے؟’ اور اس طرح کے دیگر سوالات ذہن میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی مسائل حل کرنے کے لیے جادوئی حل کی تلاش ایک ایسے تصور سے جنم لیتی ہے جو معاشرے، معیشت اور سیاست کے بارے میں اس تصور سے بہت مختلف ہے جو ٹیکنوکریٹک سوچ رکھنے والے افراد جیسے کہ ماہرین معاشیات، پاکستان کے معاشی چیلنجز کا جائزہ لیتے وقت مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ معیشت پاکستان کے معاشی مسائل کو پورے ایک نظام کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں سب کچھ آپس میں منسلک ہوتا ہے۔ اس مجموعی تصور سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے قوانین اور مراعات کو کیسے ڈیزائن کیا جائے جو پالیسی سازوں کے طرزِعمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جیسے اشیا برآمد کرنے والی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جادوئی حل میں بھی چیزیں اس طرح آسان نہیں۔ وہ پہلے نظام کے انفرادی حصوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور عام طور پر نجی کاروباروں یا ماہرینِ اقتصادیات پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ سرمایے کو وہ درندہ صفت شکاری سمجھتے ہیں (جو غلط بھی نہیں ہے) جبکہ معیشت دانوں کو وہ ‘ہٹ مین’ یا غیر ملکی مفادات کے ایجنٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جو پاکستان کو کنٹرول کرنے اور اس کے لیبر اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں گروہ شاید ہی کبھی ایک دوسرے سے بات کرتے ہوں اور جب وہ کرتے ہیں تو اکثر ایک دوسرے کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے آپس میں ملنے یا مشترکہ مقصد تلاش کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ ہر گروہ دوسرے کی کمزوریوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271062'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ماہرین معیشت کے بارے میں اپنے بڑے تصویری نظریے میں سخت ہو سکتے ہیں۔ دوسرا گروہ اکثر صرف اپنی طاقت کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتا ہے، یہ سوچ کر کہ یہ عوام کی خدمت کے مترادف ہے۔ نتیجتاً ان کی گفتگو، عقائد اور خود غرضی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان میں اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کی رفتار سست ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔ اصلاحات کی سوچ کے سب سے بڑے محرک وہ لوگ ہیں جو قرض دینے والے اداروں سے وابستہ ہیں جیسے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عطیہ دہندگان وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ان اصلاحات پر عمل درآمد کے ذمہ داران خاص طور پر سول سروس کے اہلکار ایسی تبدیلیوں سے اپنے دائرہ اختیار کو خطرے میں سمجھتے ہیں جو یہ ادارے تجویز کرتے ہیں۔ وہ فنڈنگ تو حاصل کر ہی لیتے ہیں لیکن اصلاحات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہو سکتا ہے کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان کوئی رابطہ قائم ہو جائے۔ آغاز اس بات پر توجہ مرکوز کرنے سے ہو سکتی ہے کہ فوری اور خصوصی اقدامات کیے جائیں جس سے توانائی ’چھوٹی کوشش سے زیادہ بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کرنے‘ کی طرف مرکوز کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دباؤ سے بڑے اصلاحاتی منصوبوں کا پاکستان میں اعلیٰ فیصلہ سازوں کی طرف سے خیرمقدم کیے جانے کا امکان موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956193/manias-and-magic-bullets"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا آپ کو 2010ء کی دہائی کے اوائل میں پھیلا مشہور ’<strong><a href="https://www.dawn.com/news/740314/make-way-for-hydrogen-car">واٹر کار</a></strong>‘ کا جنون یاد ہے؟ ایک صاحب کئی سینئر سیاست دانوں اور ٹی وی اینکرز کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ انہوں نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس میں گاڑی پانی سے چلتی ہے؟</p>
<p>یاد ہے وہ ہیجان کس قدر پھیل گیا تھا اور کیسے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی نے خود ٹی وی پر آ کر اعلان کیا تھا کہ یہ ایجاد انقلاب ہے جو ہمارے تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے؟</p>
<p>یاد ہے وہ ‘<strong><a href="https://www.dawn.com/news/1105356">سوئز بینک اکاؤنٹس میں 200 ارب ڈالر</a></strong>’ والا اضطراب جو 2010ء کی دہائی کے وسط میں ملک میں پھیلا تھا؟ جب کچھ سینئر عوامی شخصیات جن میں اسد عمر بھی شامل تھے جو چند سال بعد پاکستان کے وزیرِ خزانہ بننے والے تھے، دھرنے کے اسٹیج سے یہ دعویٰ بڑے زور و شور سے کیا کرتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب میں نے ایک مضمون لکھ کر اس مفروضے کی تردید کی تو مجھ پر ارب پتیوں کا ساتھ دینے کا الزام لگا دیا گیا۔ برسوں بعد جب وہ وزیرِ خزانہ بنے تو وہ انہی اینکرز میں سے ایک کے ٹی وی شو پر آئے جنہوں نے مجھ پر ’اشرافیہ کا ساتھ دینے‘ کا الزام لگایا تھا اور وہاں انہوں نے کہا کہ 200 ارب ڈالر والی بات ’بےبنیاد‘ تھی۔</p>
<p>پھر وہ آف شور تیل کی کہانی تھی جسے اُس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اس وقت بیان کردیا تھا جب وہ ایک آئل کمپنی کی ٹیم سے ملاقات کے چند ہی منٹ بعد میڈیا کے سامنے آئے حالانکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ابھی کوئی حتمی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔</p>
<p>2014ء میں نواز شریف بہاولپور پہنچے اور اعلان کیا کہ وہاں سونے کے ایسے ذخائر ملے ہیں جو ہمارے تمام ملکی مسائل کا حل نکالنے کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p>اسی طرح وہ 10 ارب ڈالر سالانہ کی رقم بھی تھی جو مبینہ طور پر ہر سال غیرقانونی ذرائع کے ذریعے پاکستان سے باہر منتقل ہو رہی تھی۔ یہ 10 ارب ڈالر کے اعداد و شمار جسے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ سے منسوب کیا گیا تھا جوکہ غلط تھا (اس میں دراصل ایسا کوئی تخمینہ موجود ہی نہیں تھا)۔ عمران خان نے اسی دعوے کی بنیاد پر کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت صرف بیرونِ ملک رقم منتقلی کو روک کر ہی ٹھیک کی جا سکتی ہے کیونکہ ان کے بقول یہ رقم جرائم اور کرپشن کے ذریعے کمائی گئی ہے۔</p>
<p>درحقیقت ہر چند سال بعد یہی کہانی دوبارہ دہرائی جاتی ہے۔ کوئی نہ کوئی افواہ اڑائی جاتی ہے، ساتھ یہ دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ اب فلاں دریافت یا پیشرفت ہمارے تمام مسائل کا حل بن ثابت ہوگی اور ملک کو مزید اپنے قرض دہندگان یا دوطرفہ شراکت داروں کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔</p>
<p>اگرچہ فی الحال تو پورے ملک میں مکمل اضطراب کی کیفیت نہیں لیکن اسی طرح کی کم شدت کی ایک کیفیت پاکستان میں معدنیات اور شیل گیس کے حوالے سے بھی پائی جارہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے پانیوں میں گیس کی تلاش کے بارے میں بھی حد سے زیادہ امیدوں اور غیرحقیقی توقعات سامنے آنے لگی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274012/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چند عرصے کے وقفوں کے بعد عوام میں پیدا کیے جانے والے اس اضطراب کے ذریعے کوئی نہ کوئی اہم بات ہم سے مخاطب ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی امید ہے جو کہیں دبی بیٹھی ہے کہ جیسے کوئی جادوئی حل ہے، کوئی دریافت یا پیشرفت ہے یا کوئی بیماری ہے جس کا علاج اگر کر دیا جائے تو مثبت تبدیلی پورے معاشی ڈھانچے میں پھیل جائے گی اور ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔</p>
<p>جس عوامی اضطراب کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ دراصل ان امیدوں کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں جو حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ یہ اس توقع کی سب سے شدید اور جنونی شکل ہے۔ لیکن جب لوگ توقعات کے اس جال میں نہیں پھنستے تب یہی امید زیادہ لطیف طریقوں سے ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ یہ کلیدی پالیسی سازوں کے سوچنے کے انداز کو بھی تشکیل دیتا ہے جس سے انہیں یہ باور کروانا مشکل ہوجاتا ہے کہ اصلاحات ضروری ہیں۔</p>
<p>گزرے برسوں میں، میں نے اہم لوگوں جیسے سول سروس کے اہلکاروں، سیاست دانوں، فوجی افسران کو ایک ایسا سوال کرتے سنا ہے جو اس صورت حال کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے کہ جیسے اس ملک کے مسائل کے لیے کوئی ایک جادوئی حل موجود ہے۔</p>
<p>وہ پوچھتے ہیں کہ ’وہ کیا بنیادی مسئلہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو پیچھے رکھنے کی وجہ ہے؟’ اس سوال کے کچھ اور بھی روپ ہیں جیسے ’اگر آپ ایک چیز بدل سکتے تو وہ کیا چیز ہوتی؟’ یا ’ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ کون سا ہے جسے حل کرنا ضروری ہے؟’ اور اس طرح کے دیگر سوالات ذہن میں آتے ہیں۔</p>
<p>ملکی مسائل حل کرنے کے لیے جادوئی حل کی تلاش ایک ایسے تصور سے جنم لیتی ہے جو معاشرے، معیشت اور سیاست کے بارے میں اس تصور سے بہت مختلف ہے جو ٹیکنوکریٹک سوچ رکھنے والے افراد جیسے کہ ماہرین معاشیات، پاکستان کے معاشی چیلنجز کا جائزہ لیتے وقت مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہرینِ معیشت پاکستان کے معاشی مسائل کو پورے ایک نظام کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں سب کچھ آپس میں منسلک ہوتا ہے۔ اس مجموعی تصور سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے قوانین اور مراعات کو کیسے ڈیزائن کیا جائے جو پالیسی سازوں کے طرزِعمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جیسے اشیا برآمد کرنے والی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا وغیرہ۔</p>
<p>لیکن جادوئی حل میں بھی چیزیں اس طرح آسان نہیں۔ وہ پہلے نظام کے انفرادی حصوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور عام طور پر نجی کاروباروں یا ماہرینِ اقتصادیات پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ سرمایے کو وہ درندہ صفت شکاری سمجھتے ہیں (جو غلط بھی نہیں ہے) جبکہ معیشت دانوں کو وہ ‘ہٹ مین’ یا غیر ملکی مفادات کے ایجنٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جو پاکستان کو کنٹرول کرنے اور اس کے لیبر اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ دونوں گروہ شاید ہی کبھی ایک دوسرے سے بات کرتے ہوں اور جب وہ کرتے ہیں تو اکثر ایک دوسرے کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے آپس میں ملنے یا مشترکہ مقصد تلاش کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ ہر گروہ دوسرے کی کمزوریوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271062'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>معاشی ماہرین معیشت کے بارے میں اپنے بڑے تصویری نظریے میں سخت ہو سکتے ہیں۔ دوسرا گروہ اکثر صرف اپنی طاقت کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتا ہے، یہ سوچ کر کہ یہ عوام کی خدمت کے مترادف ہے۔ نتیجتاً ان کی گفتگو، عقائد اور خود غرضی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوجاتی ہے۔</p>
<p>یہ پاکستان میں اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کی رفتار سست ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔ اصلاحات کی سوچ کے سب سے بڑے محرک وہ لوگ ہیں جو قرض دینے والے اداروں سے وابستہ ہیں جیسے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عطیہ دہندگان وغیرہ۔</p>
<p>دوسری جانب ان اصلاحات پر عمل درآمد کے ذمہ داران خاص طور پر سول سروس کے اہلکار ایسی تبدیلیوں سے اپنے دائرہ اختیار کو خطرے میں سمجھتے ہیں جو یہ ادارے تجویز کرتے ہیں۔ وہ فنڈنگ تو حاصل کر ہی لیتے ہیں لیکن اصلاحات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>ہو سکتا ہے کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان کوئی رابطہ قائم ہو جائے۔ آغاز اس بات پر توجہ مرکوز کرنے سے ہو سکتی ہے کہ فوری اور خصوصی اقدامات کیے جائیں جس سے توانائی ’چھوٹی کوشش سے زیادہ بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کرنے‘ کی طرف مرکوز کی جا سکے۔</p>
<p>تاہم دباؤ سے بڑے اصلاحاتی منصوبوں کا پاکستان میں اعلیٰ فیصلہ سازوں کی طرف سے خیرمقدم کیے جانے کا امکان موجود نہیں ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1956193/manias-and-magic-bullets">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274017</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 15:15:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/20122309d209a01.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/20122309d209a01.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا بہار انتخابات میں مودی کی کامیابی کے بعد پاک-بھارت تناؤ میں کمی واقع ہوگی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273907/</link>
      <description>&lt;p&gt;بہار کے انتخابات سے جو اسباق ملے ہیں، ان کے اندرونِ ملک اثرات تو مرتب ہوں گے ہی لیکن ان اثرات کو ہمسایہ ممالک میں بھی غور سے دیکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے ردِعمل میں انتخابی ماحول میں رچے بہار سے پاکستان سے جنگ کا نعرہ لگایا تو اسے انتخابی نتائج کو اس انداز میں متاثر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا جس سے ہم سب واقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273750'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر واقعی جنگی ماحول اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ 4 روزہ کشیدگی نے بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے میں کردار ادا کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا بہار میں مودی کی حکمران نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی کامیابی سرحد پر تناؤ کو مزید ہوا دے گی؟ یا اب جبکہ پاکستان سے محاذ آرائی کا انتخابی مقصد پورا ہوچکا ہے تو کیا کشیدگی میں کمی واقع ہوگی؟ یا پھر مودی کو بہار انتخابات کی جیت اگلے سال کے اہم مغربی بنگال انتخابات میں یہی حکمتِ عملی کو دہرانے پر آمادہ کرے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کے حامیوں اور ان کے مخالفین دونوں کا بیانیہ یہ ہے کہ ایک یا دو فوجی واقعات نے حقیقتاً وزیرِ اعظم کو انتخابی طور پر فائدہ پہنچایا۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پلوامہ حملہ اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپ نے 2019ء کے انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت کو سیاسی فوائد پہنچائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کی پروا نہ کریں کہ ان جھڑپوں میں ہونے والی بعض چیزیں بھارت کے حق میں نہیں تھیں جیسے پلوامہ واقعے کے بعد ایک بھارتی پائلٹ کی پاکستان میں شرمناک گرفتاری اور وسیع پیمانے پر یہ دعوے کہ پاکستان نے آپریشن سندور/بنیان مرصوص میں کئی بھارتی طیارے مار گرائے جن کی بازگشت صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کرتے نظر آئے۔ ان مناظر کو حکومت نواز ٹی وی چینلز نے یا تو نظرانداز کر دیا یا انہیں بڑی کامیابی بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسی مثال بھی ہے جو اس خیال کو کمزور کرتی ہے کہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے میں جنگ ہمیشہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ من موہن سنگھ نومبر 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں پر جارحانہ ردعمل نہ دے کر بھی دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ جنگ کی دھمکی دینے کے بجائے، انہوں نے اپنے وزیر داخلہ کو تبدیل کیا اور دہشت گردی سے نمٹنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پُرامن طریقے تلاش کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;من موہن سنگھ نے مصر میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کشمیر کے ساتھ ساتھ بلوچستان پر بھی بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم یہ تجویز دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ نے مسترد کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273894/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اپوزیشن جماعتیں بہار کے نتائج کے حوالے سے شکایات کررہی ہیں۔ کانگریس جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے اتحادیوں کے ’غیرمعمولی 90 فیصد کامیابی کی شرح‘ پر حیرانی کا اظہار کررہی ہے یعنی این ڈی اے نے جن نشستوں میں سے انتخابات لڑے، ان میں سے 90 فیصد میں فتح حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے اکتوبر 1984ء میں اپنی والدہ کے قتل کے بعد لوک سبھا کی 514 نشستوں میں سے 404 نشستیں جیتیں لیکن وہ بھی بہار انتخابات میں این ڈی اے کے دعوے کے برابر کامیابی کی شرح حاصل نہیں کر پائے تھے۔ اس ضمن میں یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں دو مسائل ہیں جنہیں اپوزیشن کو حل کرنا چاہیے۔ اگر انتخابات کے نتائج میں مبینہ طور پر دھاندلی ہوئی ہے تو یہ بری خبر نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو کم از کم فاشزم سے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے کیونکہ فاشزم عوامی حمایت پر منحصر ہوتا ہے جس کے لیے بی جے پی کو اب بھی کوشش کرنی پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگر فوجی کارروائیاں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے لگیں تو بھارت مزید عسکریت پسند بن سکتا ہے جس سے ہندوتوا کے لیے مضبوط اثر و رسوخ حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بڑا سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس مودی کی طاقتور دائیں بازو کی حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے کیا منصوبہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راہول گاندھی اور ان کی ٹیم نے مودی دورِ حکومت کی بعض سنگین انتخابی بدعنوانیوں کی تحقیقات کی ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بےضابطگی میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ تحقیق کے نتائج دلچسپ اور قابلِ توجہ ہیں جن میں ایک موزوں مثال برازیلین ہیئر ڈریسر لارسا نیری کا کیس ہے جس کی تصاویر بھارت بھر کے ووٹر لسٹس میں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ اہم تحقیقاتی کام کرنے کے بعد راہول گاندھی کی پارٹی نے نشستوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر ایک مقامی اتحادی کے ساتھ بحث کرکے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اس لڑائی نے دونوں فریقین کو نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے پس منظر کے بغیر بہار کے انتخابی نتائج عام لگ سکتے ہیں۔ لالو یادو کی مرکزی اپوزیشن پارٹی، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے درحقیقت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن اس نے اسمبلی کی 243 نشستوں میں سے صرف 25 پر کامیابی حاصل کی۔ آر جے ڈی کو کُل ووٹوں کا 23 فیصد ملا جو مودی کے حلیف، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے زیادہ ہے جسے 19.25 فیصد ملے۔ یہ غیر معمولی بات ہے کہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی اتنی کم نشستیں حاصل کر پائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی نے 20.08 فیصد ووٹ شیئر حاصل کیا۔ اس کے باوجود بی جے پی اور جے ڈی یو نے بالترتیب 89 اور 85 نشستیں جیتیں۔ اسی طرح، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے 1.85 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 5 نشستیں حاصل کیں جبکہ کانگریس جس کے پاس 8.71 فیصد ووٹ تھے، صرف 6 نشستیں جیت سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کے عجیب و غریب نتائج بائیں بازو کی جماعتوں کے حصے میں بھی آئے اور یہ بھارت کے بہت سے انتخابات میں عام ہے جو ملک کے ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ نظام کے عکاس ہیں جہاں ایک نشست جیتنا کُل ووٹوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1977ء میں اندرا گاندھی کو جنتا پارٹی نے صرف 2 فیصد ووٹ کے فرق سے شکست دی تھی۔ وہ 40.98 فیصد ووٹ لے سکی تھیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس صرف 43 فیصد ووٹ تھے۔ مزید یہ کہ راہول گاندھی کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس شکست میں بھی اندرا گاندھی نے 543 رکنی لوک سبھا میں 154 سیٹیں جیت لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271511/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271511"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، حالیہ انتخابات میں کانگریس نے پہلے کی نسبت نصف نشستیں جیتنے کے لیے بھی جدوجہد کی۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ اگر راہول گاندھی اپنی پارٹی کو زندہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اور کانگریس کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کسی بھی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جہاں وہ مدھیہ پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر میں دھڑے بندی کے ذریعے ریاستی حکومتیں ختم کرنے اور انتخابی کمیشن کے سامنے سوالیہ طریقوں سے کامیابی حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ تو پھر اپوزیشن جماعتوں کے سامنے سب سے اہم کام کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں شاید ابتدائی طور پر اپنی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، بائیں بازو کو مغربی بنگال میں ممتا بینرجی کو کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا بی جے پی کو پیچھے دھکیلنا چاہیے؟ کیرالہ میں بھی بی جے پی کو دور رکھنے کے لیے اسی قسم کی قربانیاں ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا اپوزیشن کو واقعی یقین ہے کہ وہ انتخابات کے ذریعے کسی حقیقی جمہوری عمل میں حصہ لے رہی ہے؟ یا آج کے انتخابات محض ترتیب شدہ رسمی کارروائیاں ہیں جن کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہے؟ الیکشن کمیشن پر مضبوط کنٹرول اس کی واضح علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن نے ’دوسری تحریکِ آزادی‘ کے بارے میں بھی غور کیا۔ کیا انہیں گاندھی کی طرح سڑکوں پر نکلنا چاہیے؟ اور شاید گاندھی کی طرح پاکستان سے بات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ انتہائی قوم پرست اپوزیشن جماعت بھی بی جے پی کو اس کے عسکری میدان میں شکست نہیں دے سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955788"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بہار کے انتخابات سے جو اسباق ملے ہیں، ان کے اندرونِ ملک اثرات تو مرتب ہوں گے ہی لیکن ان اثرات کو ہمسایہ ممالک میں بھی غور سے دیکھا جائے گا۔</p>
<p>اپریل میں جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے ردِعمل میں انتخابی ماحول میں رچے بہار سے پاکستان سے جنگ کا نعرہ لگایا تو اسے انتخابی نتائج کو اس انداز میں متاثر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا جس سے ہم سب واقف ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273750'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر واقعی جنگی ماحول اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ 4 روزہ کشیدگی نے بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے میں کردار ادا کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا بہار میں مودی کی حکمران نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی کامیابی سرحد پر تناؤ کو مزید ہوا دے گی؟ یا اب جبکہ پاکستان سے محاذ آرائی کا انتخابی مقصد پورا ہوچکا ہے تو کیا کشیدگی میں کمی واقع ہوگی؟ یا پھر مودی کو بہار انتخابات کی جیت اگلے سال کے اہم مغربی بنگال انتخابات میں یہی حکمتِ عملی کو دہرانے پر آمادہ کرے گی؟</p>
<p>مودی کے حامیوں اور ان کے مخالفین دونوں کا بیانیہ یہ ہے کہ ایک یا دو فوجی واقعات نے حقیقتاً وزیرِ اعظم کو انتخابی طور پر فائدہ پہنچایا۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پلوامہ حملہ اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپ نے 2019ء کے انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت کو سیاسی فوائد پہنچائے۔</p>
<p>اس بات کی پروا نہ کریں کہ ان جھڑپوں میں ہونے والی بعض چیزیں بھارت کے حق میں نہیں تھیں جیسے پلوامہ واقعے کے بعد ایک بھارتی پائلٹ کی پاکستان میں شرمناک گرفتاری اور وسیع پیمانے پر یہ دعوے کہ پاکستان نے آپریشن سندور/بنیان مرصوص میں کئی بھارتی طیارے مار گرائے جن کی بازگشت صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کرتے نظر آئے۔ ان مناظر کو حکومت نواز ٹی وی چینلز نے یا تو نظرانداز کر دیا یا انہیں بڑی کامیابی بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا۔</p>
<p>ایک ایسی مثال بھی ہے جو اس خیال کو کمزور کرتی ہے کہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے میں جنگ ہمیشہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ من موہن سنگھ نومبر 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں پر جارحانہ ردعمل نہ دے کر بھی دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ جنگ کی دھمکی دینے کے بجائے، انہوں نے اپنے وزیر داخلہ کو تبدیل کیا اور دہشت گردی سے نمٹنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پُرامن طریقے تلاش کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>من موہن سنگھ نے مصر میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کشمیر کے ساتھ ساتھ بلوچستان پر بھی بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم یہ تجویز دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ نے مسترد کر دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273894/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی اپوزیشن جماعتیں بہار کے نتائج کے حوالے سے شکایات کررہی ہیں۔ کانگریس جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے اتحادیوں کے ’غیرمعمولی 90 فیصد کامیابی کی شرح‘ پر حیرانی کا اظہار کررہی ہے یعنی این ڈی اے نے جن نشستوں میں سے انتخابات لڑے، ان میں سے 90 فیصد میں فتح حاصل کی۔</p>
<p>کانگریس کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے اکتوبر 1984ء میں اپنی والدہ کے قتل کے بعد لوک سبھا کی 514 نشستوں میں سے 404 نشستیں جیتیں لیکن وہ بھی بہار انتخابات میں این ڈی اے کے دعوے کے برابر کامیابی کی شرح حاصل نہیں کر پائے تھے۔ اس ضمن میں یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>یہاں دو مسائل ہیں جنہیں اپوزیشن کو حل کرنا چاہیے۔ اگر انتخابات کے نتائج میں مبینہ طور پر دھاندلی ہوئی ہے تو یہ بری خبر نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو کم از کم فاشزم سے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے کیونکہ فاشزم عوامی حمایت پر منحصر ہوتا ہے جس کے لیے بی جے پی کو اب بھی کوشش کرنی پڑے گی۔</p>
<p>دوسری جانب اگر فوجی کارروائیاں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے لگیں تو بھارت مزید عسکریت پسند بن سکتا ہے جس سے ہندوتوا کے لیے مضبوط اثر و رسوخ حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بڑا سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس مودی کی طاقتور دائیں بازو کی حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے کیا منصوبہ ہے؟</p>
<p>راہول گاندھی اور ان کی ٹیم نے مودی دورِ حکومت کی بعض سنگین انتخابی بدعنوانیوں کی تحقیقات کی ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بےضابطگی میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ تحقیق کے نتائج دلچسپ اور قابلِ توجہ ہیں جن میں ایک موزوں مثال برازیلین ہیئر ڈریسر لارسا نیری کا کیس ہے جس کی تصاویر بھارت بھر کے ووٹر لسٹس میں شامل تھیں۔</p>
<p>تاہم یہ اہم تحقیقاتی کام کرنے کے بعد راہول گاندھی کی پارٹی نے نشستوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر ایک مقامی اتحادی کے ساتھ بحث کرکے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اس لڑائی نے دونوں فریقین کو نقصان پہنچایا۔</p>
<p>پورے پس منظر کے بغیر بہار کے انتخابی نتائج عام لگ سکتے ہیں۔ لالو یادو کی مرکزی اپوزیشن پارٹی، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے درحقیقت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن اس نے اسمبلی کی 243 نشستوں میں سے صرف 25 پر کامیابی حاصل کی۔ آر جے ڈی کو کُل ووٹوں کا 23 فیصد ملا جو مودی کے حلیف، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے زیادہ ہے جسے 19.25 فیصد ملے۔ یہ غیر معمولی بات ہے کہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی اتنی کم نشستیں حاصل کر پائی۔</p>
<p>بی جے پی نے 20.08 فیصد ووٹ شیئر حاصل کیا۔ اس کے باوجود بی جے پی اور جے ڈی یو نے بالترتیب 89 اور 85 نشستیں جیتیں۔ اسی طرح، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے 1.85 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 5 نشستیں حاصل کیں جبکہ کانگریس جس کے پاس 8.71 فیصد ووٹ تھے، صرف 6 نشستیں جیت سکی۔</p>
<p>اسی طرح کے عجیب و غریب نتائج بائیں بازو کی جماعتوں کے حصے میں بھی آئے اور یہ بھارت کے بہت سے انتخابات میں عام ہے جو ملک کے ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ نظام کے عکاس ہیں جہاں ایک نشست جیتنا کُل ووٹوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>1977ء میں اندرا گاندھی کو جنتا پارٹی نے صرف 2 فیصد ووٹ کے فرق سے شکست دی تھی۔ وہ 40.98 فیصد ووٹ لے سکی تھیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس صرف 43 فیصد ووٹ تھے۔ مزید یہ کہ راہول گاندھی کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس شکست میں بھی اندرا گاندھی نے 543 رکنی لوک سبھا میں 154 سیٹیں جیت لیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271511/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271511"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے برعکس، حالیہ انتخابات میں کانگریس نے پہلے کی نسبت نصف نشستیں جیتنے کے لیے بھی جدوجہد کی۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ اگر راہول گاندھی اپنی پارٹی کو زندہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اور کانگریس کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کسی بھی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جہاں وہ مدھیہ پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر میں دھڑے بندی کے ذریعے ریاستی حکومتیں ختم کرنے اور انتخابی کمیشن کے سامنے سوالیہ طریقوں سے کامیابی حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ تو پھر اپوزیشن جماعتوں کے سامنے سب سے اہم کام کیا ہے؟</p>
<p>انہیں شاید ابتدائی طور پر اپنی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، بائیں بازو کو مغربی بنگال میں ممتا بینرجی کو کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا بی جے پی کو پیچھے دھکیلنا چاہیے؟ کیرالہ میں بھی بی جے پی کو دور رکھنے کے لیے اسی قسم کی قربانیاں ضروری ہیں۔</p>
<p>کیا اپوزیشن کو واقعی یقین ہے کہ وہ انتخابات کے ذریعے کسی حقیقی جمہوری عمل میں حصہ لے رہی ہے؟ یا آج کے انتخابات محض ترتیب شدہ رسمی کارروائیاں ہیں جن کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہے؟ الیکشن کمیشن پر مضبوط کنٹرول اس کی واضح علامت ہے۔</p>
<p>اپوزیشن نے ’دوسری تحریکِ آزادی‘ کے بارے میں بھی غور کیا۔ کیا انہیں گاندھی کی طرح سڑکوں پر نکلنا چاہیے؟ اور شاید گاندھی کی طرح پاکستان سے بات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ انتہائی قوم پرست اپوزیشن جماعت بھی بی جے پی کو اس کے عسکری میدان میں شکست نہیں دے سکتی۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955788">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273907</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 13:31:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/181205132831b92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/181205132831b92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27ویں آئینی ترمیم کے بعد تمام قانونی راستے بند، عمران خان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273847/</link>
      <description>&lt;p&gt;26ویں ترمیم کے منظور ہونے کی بنیادی وجہ خوف تھا۔ یہ خوف کہ سپریم کورٹ کسی طرح سابق وزیرِاعظم عمران خان کو رہا نہ کر دے اور کہیں گزشتہ انتخابات کو بھی کالعدم قرار نہ دے دے یعنی ایسے انتخابات جن کے نتائج کے بارے میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بیلٹ باکس میں عوام کی حقیقی رائے کو شامل نہیں کیا گیا۔ 27ویں ترمیم اسی خیال کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام اُس ’ہائبرڈ‘ نظام کو آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے جسے وزیرِ دفاع نے اسی نام سے پکارا ہے اور ساتھ ہی یہ اس نظام کے سینئر شراکت دار کے قائدانہ کردار کو تسلیم بھی کرتا ہے اور اسے باضابطہ آئینی شکل بھی دیتا ہے، ایک ایسا کردار جو اس نظام کے جونیئر و سویلین شراکت دار کے اقتدار کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ناقدین کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتیں اب انتظامیہ کے کنٹرول میں آجائیں گی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوامی حکومت اور باوردی اداروں کے درمیان طاقت کے عدم توازن کو دیکھتے ہوئے، عدلیہ کے کچھ حصوں پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت آہنی ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن یہ کہنا بھی مناسب ہوگا کہ جو کچھ ہوا ہے، اُس نے پہلے سے تسلیم کردہ ایک حقیقت کو صرف آئینی تحفظ فراہم کیا ہے۔ چند انتہائی مختصر اور غیر اہم ادوار کے علاوہ، اعلیٰ عدلیہ نے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا شاذ و نادر ہی ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی پیشرو وفاقی آئینی عدالت سے آغاز کرتے ہوئے، چیف جسٹس محمد منیر کا بدنامِ زمانہ فیصلہ جس نے سندھ چیف کورٹ کا وہ حکم کالعدم کر دیا تھا جو اسپیکر مولوی تمیزالدین کے حق میں آیا تھا جہاں انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا سے لے کر آج تک، اعلیٰ عدلیہ کے اہم ترین فیصلے قانون کی حکمرانی یا آئین کی روح اور اس کی بالادستی سے زیادہ طاقت کے مراکز کی منشا کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے میں بہت سی مثالیں پیش کرسکتا ہوں۔ ایوب خان کے دور میں ہونے والے واقعات سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی برطرفی اور سزائے موت کی منظوری تک، 1988ء سے لے کر 1999ء میں فوج کے قبضے تک کئی حکومتوں کی برطرفی تک، سپریم کورٹ نے قانون، انصاف اور عوام کا کب دفاع کیا ہے؟ اگر سپریم کورٹ کو کمزور کیا گیا ہے تو یہ 27ویں ترمیم کے آئین میں شامل ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی عدلیہ حال ہی میں دو منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیج چکی ہے اور اس نے اسٹیبلشمنٹ کی رہنمائی پر عمل کیا ہے۔ لیکن اب جو کچھ ہوا ہے وہ چونکا دینے والا اس لیے ہے کیونکہ یہ باضابطہ طور پر آئین میں لکھا گیا ہے حالانکہ کئی ججز بظاہر طویل عرصے سے اس مداخلت پر مطمئن نظر آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے سامنے کھڑے ہونے والے چند جج مستثنیٰ تھے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہر وہ جج جس نے بندوق کی مرضی کے آگے سر نہ جھکایا اور پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، شاید درجنوں دیگر ججز اس جج کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273767/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273767"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی تو المیہ ہے۔ جہاں تک بین الاقوامی ماحول کا تعلق ہے تو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور فرد کی آزادی سب پر حملہ یا خطرہ محسوس کیا جارہا ہے۔ یہ قابلِ قدر عنصر بظاہر پسپائی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا کے اثرات سے بننے والی کہانیوں کے زمانے میں جہاں روایتی میڈیا کے اثر و رسوخ میں کمی واقع ہورہی ہے خاص طور پر ان عناصر کی جو سچائی، غیرجانبداری، توازن اور انصاف پر یقین رکھتے تھے، ایک نیا توازن اُبھر رہا ہے۔ یہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے یا لے جائے گا، یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری صورت حال میں بہت سے بیرونی خطرات اور دہشت گردی کے ملک میں سر اٹھانے اور جمہوریت کو ’ہائبرڈ‘ نظام سے بدلنے کے بعد، اب تمام طاقت ایک شخص کے پاس ہے۔ کچھ لوگ اتفاق کرسکتے ہیں کہ کسی حقیقی جواز کے بغیر ہی سیاست دانوں نے ایک فرد کو مکمل آئینی کنٹرول حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اب نتائج کی ذمہ داری بھی انہیں پر ہوگی اور کامیابیاں یا ناکامیاں بھی انہی کے کھاتے میں آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں ذاتی طور پر دل سے امید کرتا ہوں کہ قومی دفاع کے معاملے میں، فوجی ادارے مئی کے پاک-بھارت تنازع میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو دہرا سکیں اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں جو اب تک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں اس نفرت انگیز ماحول میں قومی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ اقتصادی ترقی، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور لوگوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنا ہے جن میں سے اکثریت تقریباً تمام سہولیات سے محروم ہیں۔ اور حقیقت ہے کہ ہمارے عوام کو شدید نظر انداز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر ڈالی جاتی رہی ہے کہ وہ کام کرنے میں ناکام ہیں حالانکہ ایسی واضح مثالیں بھی موجود ہیں جہاں اقتصادی صورت حال بہتر ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کو فیصلہ سازی سے روکا گیا ہے یا انہیں برطرف کیا گیا ہے۔ غیرمنتخب طاقت رکھنے والے افراد کے ذاتی مفادات، عوام کی بھاری اکثریت کے مفاد پر غالب آچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کردہ تعریف کے مطابق، یہ ہائبرڈ نظام عام ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے جہاں اب اس نظام کا سینئر شراکت دار ناکامیوں کے لیے جونیئر عوامی شراکت داروں کو الزام نہیں دے سکتا۔ کسی بھی غلطی کی ذمہ داری کو اب مشترکہ طور پر فوجی و عوامی اداروں کو اٹھانا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273614/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 27ویں آئینی ترمیم بظاہر سیاست دانوں اور اقتدار سے باہر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے لیے صورت حال کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ جب انہوں نے موجودہ صورت حال میں تبدیلی کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی کوشش کی اور ناکام رہے تو شاید ایک آخری امید جو کسی حد تک روشن تھی، وہ اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے ملنے والا قانونی یا عدالتی ریلیف تھا۔ لیکن اب اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر طاقتور اداروں میں اس جماعت کے حامیوں اور ہمدردوں کو ہٹا دیا گیا ہے یا دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ انہیں ملک کے کسی طاقت کے مرکز سے مدد نہیں ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے حامی اور عقیدت مند کہتے ہیں کہ ان کا مؤقف جھکنے والا نہیں اور اصولی ہے جبکہ دیگر کم از کم یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اب تک استقامت اور ضد کا مظاہرہ کیا ہے اور ہائبرڈ نظام کے ذیلی شراکت دار یعنی حکومت سے بات کرنے سے گریز کیا ہے حالانکہ انہیں اکثر بات چیت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزادی اور بحالی کے لیے قانونی راستہ اب بند ہو چکا ہے تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سابق وزیرِ اعظم اور ان کے اہم ساتھی اب آگے کیا طریقہ بہتر سمجھتے ہیں۔ چونکہ ان کے ساتھی اکثر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ انہیں بےخبر رکھا جاتا ہے تو اس لیے شاید چند ہفتوں یا مہینوں تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں مل پائے گا کہ تحریک انصاف کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955397"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>26ویں ترمیم کے منظور ہونے کی بنیادی وجہ خوف تھا۔ یہ خوف کہ سپریم کورٹ کسی طرح سابق وزیرِاعظم عمران خان کو رہا نہ کر دے اور کہیں گزشتہ انتخابات کو بھی کالعدم قرار نہ دے دے یعنی ایسے انتخابات جن کے نتائج کے بارے میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بیلٹ باکس میں عوام کی حقیقی رائے کو شامل نہیں کیا گیا۔ 27ویں ترمیم اسی خیال کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے۔</p>
<p>یہ اقدام اُس ’ہائبرڈ‘ نظام کو آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے جسے وزیرِ دفاع نے اسی نام سے پکارا ہے اور ساتھ ہی یہ اس نظام کے سینئر شراکت دار کے قائدانہ کردار کو تسلیم بھی کرتا ہے اور اسے باضابطہ آئینی شکل بھی دیتا ہے، ایک ایسا کردار جو اس نظام کے جونیئر و سویلین شراکت دار کے اقتدار کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب ناقدین کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتیں اب انتظامیہ کے کنٹرول میں آجائیں گی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوامی حکومت اور باوردی اداروں کے درمیان طاقت کے عدم توازن کو دیکھتے ہوئے، عدلیہ کے کچھ حصوں پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت آہنی ہوجائے گی۔</p>
<p>اگرچہ یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن یہ کہنا بھی مناسب ہوگا کہ جو کچھ ہوا ہے، اُس نے پہلے سے تسلیم کردہ ایک حقیقت کو صرف آئینی تحفظ فراہم کیا ہے۔ چند انتہائی مختصر اور غیر اہم ادوار کے علاوہ، اعلیٰ عدلیہ نے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا شاذ و نادر ہی ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کی پیشرو وفاقی آئینی عدالت سے آغاز کرتے ہوئے، چیف جسٹس محمد منیر کا بدنامِ زمانہ فیصلہ جس نے سندھ چیف کورٹ کا وہ حکم کالعدم کر دیا تھا جو اسپیکر مولوی تمیزالدین کے حق میں آیا تھا جہاں انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا سے لے کر آج تک، اعلیٰ عدلیہ کے اہم ترین فیصلے قانون کی حکمرانی یا آئین کی روح اور اس کی بالادستی سے زیادہ طاقت کے مراکز کی منشا کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے میں بہت سی مثالیں پیش کرسکتا ہوں۔ ایوب خان کے دور میں ہونے والے واقعات سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی برطرفی اور سزائے موت کی منظوری تک، 1988ء سے لے کر 1999ء میں فوج کے قبضے تک کئی حکومتوں کی برطرفی تک، سپریم کورٹ نے قانون، انصاف اور عوام کا کب دفاع کیا ہے؟ اگر سپریم کورٹ کو کمزور کیا گیا ہے تو یہ 27ویں ترمیم کے آئین میں شامل ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔</p>
<p>یہی عدلیہ حال ہی میں دو منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیج چکی ہے اور اس نے اسٹیبلشمنٹ کی رہنمائی پر عمل کیا ہے۔ لیکن اب جو کچھ ہوا ہے وہ چونکا دینے والا اس لیے ہے کیونکہ یہ باضابطہ طور پر آئین میں لکھا گیا ہے حالانکہ کئی ججز بظاہر طویل عرصے سے اس مداخلت پر مطمئن نظر آتے تھے۔</p>
<p>فوج کے سامنے کھڑے ہونے والے چند جج مستثنیٰ تھے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہر وہ جج جس نے بندوق کی مرضی کے آگے سر نہ جھکایا اور پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، شاید درجنوں دیگر ججز اس جج کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273767/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273767"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہی تو المیہ ہے۔ جہاں تک بین الاقوامی ماحول کا تعلق ہے تو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور فرد کی آزادی سب پر حملہ یا خطرہ محسوس کیا جارہا ہے۔ یہ قابلِ قدر عنصر بظاہر پسپائی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا کے اثرات سے بننے والی کہانیوں کے زمانے میں جہاں روایتی میڈیا کے اثر و رسوخ میں کمی واقع ہورہی ہے خاص طور پر ان عناصر کی جو سچائی، غیرجانبداری، توازن اور انصاف پر یقین رکھتے تھے، ایک نیا توازن اُبھر رہا ہے۔ یہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے یا لے جائے گا، یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔</p>
<p>ہماری صورت حال میں بہت سے بیرونی خطرات اور دہشت گردی کے ملک میں سر اٹھانے اور جمہوریت کو ’ہائبرڈ‘ نظام سے بدلنے کے بعد، اب تمام طاقت ایک شخص کے پاس ہے۔ کچھ لوگ اتفاق کرسکتے ہیں کہ کسی حقیقی جواز کے بغیر ہی سیاست دانوں نے ایک فرد کو مکمل آئینی کنٹرول حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اب نتائج کی ذمہ داری بھی انہیں پر ہوگی اور کامیابیاں یا ناکامیاں بھی انہی کے کھاتے میں آئیں گی۔</p>
<p>میں ذاتی طور پر دل سے امید کرتا ہوں کہ قومی دفاع کے معاملے میں، فوجی ادارے مئی کے پاک-بھارت تنازع میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو دہرا سکیں اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں جو اب تک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔</p>
<p>مستقبل میں اس نفرت انگیز ماحول میں قومی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ اقتصادی ترقی، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور لوگوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنا ہے جن میں سے اکثریت تقریباً تمام سہولیات سے محروم ہیں۔ اور حقیقت ہے کہ ہمارے عوام کو شدید نظر انداز کیا گیا ہے۔</p>
<p>اکثر ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر ڈالی جاتی رہی ہے کہ وہ کام کرنے میں ناکام ہیں حالانکہ ایسی واضح مثالیں بھی موجود ہیں جہاں اقتصادی صورت حال بہتر ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کو فیصلہ سازی سے روکا گیا ہے یا انہیں برطرف کیا گیا ہے۔ غیرمنتخب طاقت رکھنے والے افراد کے ذاتی مفادات، عوام کی بھاری اکثریت کے مفاد پر غالب آچکے ہیں۔</p>
<p>بیان کردہ تعریف کے مطابق، یہ ہائبرڈ نظام عام ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے جہاں اب اس نظام کا سینئر شراکت دار ناکامیوں کے لیے جونیئر عوامی شراکت داروں کو الزام نہیں دے سکتا۔ کسی بھی غلطی کی ذمہ داری کو اب مشترکہ طور پر فوجی و عوامی اداروں کو اٹھانا پڑے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273614/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ 27ویں آئینی ترمیم بظاہر سیاست دانوں اور اقتدار سے باہر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے لیے صورت حال کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ جب انہوں نے موجودہ صورت حال میں تبدیلی کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی کوشش کی اور ناکام رہے تو شاید ایک آخری امید جو کسی حد تک روشن تھی، وہ اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے ملنے والا قانونی یا عدالتی ریلیف تھا۔ لیکن اب اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>دیگر طاقتور اداروں میں اس جماعت کے حامیوں اور ہمدردوں کو ہٹا دیا گیا ہے یا دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ انہیں ملک کے کسی طاقت کے مرکز سے مدد نہیں ملے گی۔</p>
<p>عمران خان کے حامی اور عقیدت مند کہتے ہیں کہ ان کا مؤقف جھکنے والا نہیں اور اصولی ہے جبکہ دیگر کم از کم یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اب تک استقامت اور ضد کا مظاہرہ کیا ہے اور ہائبرڈ نظام کے ذیلی شراکت دار یعنی حکومت سے بات کرنے سے گریز کیا ہے حالانکہ انہیں اکثر بات چیت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔</p>
<p>آزادی اور بحالی کے لیے قانونی راستہ اب بند ہو چکا ہے تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سابق وزیرِ اعظم اور ان کے اہم ساتھی اب آگے کیا طریقہ بہتر سمجھتے ہیں۔ چونکہ ان کے ساتھی اکثر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ انہیں بےخبر رکھا جاتا ہے تو اس لیے شاید چند ہفتوں یا مہینوں تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں مل پائے گا کہ تحریک انصاف کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955397">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273847</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 12:25:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عباس ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1711325614e1b24.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1711325614e1b24.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’شکریہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ! تاریخ بھولے گی نہ معاف کرے گی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273767/</link>
      <description>&lt;p&gt;’اے مین آف آل سیزن‘ ڈرامے کے سب سے یادگار مناظر میں سے ایک وہ ہے جب تھامس مور اپنے جذباتی اور تیز مزاج داماد، روپر کے ساتھ بحث کرتا ہے۔ روپر کا اصرار تھا کہ ’شیطان‘یعنی کوئی بھی ایسا شخص جو خطرناک ہو یا سیاسی طور پر خطرہ ہو، اسے پکڑنے کے لیے قانون کو نظر انداز کیا جانا چاہیے یا اسے ایک طرف کردینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں تھامس مور ایک مضبوط استعارہ پیش کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ انگلینڈ ’جنگل کی طرح‘ قوانین سے بھرا ہوا ہے اور یہ قوانین ہر ایک کی حفاظت کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد تھامس مور ایک چبھتا ہوا سوال پوچھتا ہے۔ اگر تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنے کے لیے ہر قانون کو ختم کردو گے تو جب طاقت کا رخ بدل کر تمہارے خلاف ہوجائے تب تمہیں کون بچائے گا؟ تھامس مور خبردار کرتا ہے کہ قانون کے بغیر تم ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوگے، ہر طرف سے ہوائیں چل رہی ہوں گی اور تم بالکل بے سہارا ہو گے جہاں تم اپنا دفاع نہیں کر پاؤ گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی منظر ڈرامے کا مرکزی خیال بیان کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی طاقتوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ سب کے لیے ایک ڈھال ہے۔ اور جب اسے وقتی فائدے کے لیے کمزور کر دیا جائے تو پھر کوئی نہیں جان پائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور نہ ہی کوئی ہونے والی چیز کو روک سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو روز قبل پاکستان کی عدلیہ نے اپنے دو انتہائی باصلاحیت قانون دانوں، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو کھو دیا۔ یہ کیوں ہوا، اس کا جواب تاریخ ہی دے سکے گی۔ مگر اُن کی کہانی دو دن پہلے سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو کئی دہائیاں پہلے 1997ء میں شروع ہوئی تھی جب تین دوست جو آئین پر اٹوٹ یقین رکھتے تھے، نے اس وقت کی سب سے ترقی پسند ترین لا فرم قائم کی جس کا نام  اَفریدی، شاہ اینڈ من اللہ تھا۔ ان کے پاس صرف اپنی ذہانت، یقین اور اقتدار کی خاطر اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہونے کا پختہ عزم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دہائی بعد، اُن کے اس عزم کا امتحان ہوا۔ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ ڈوگر کورٹ کا بائیکاٹ کیا اور ملک گیر وکلا تحریک کا حصہ بن کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے سڑکوں پر آئے۔ اُن کے حوصلے خاموش تھے، مضبوط تھے جو کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ڈوگر کورٹ ختم ہوگئی۔ افتخار چوہدری کی عدالت بحال ہو گئی۔ اس چار دیواری کے اندر کیا ہوا، اس پر کسی اور دن بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273697'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273697"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" href="#جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جسٹس منصور علی شاہ، اصلاحات کا بینچ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ کو 2009ء میں لاہور ہائی کورٹ میں ترقی دی گئی جوکہ اُن کے شاندار قانونی کریئر کے بعد ہوا جہاں انہوں نے ٹیکس، کارپوریٹ اور متعدد عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت کی، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں بھی فیصلے دیے۔ ترقی کبھی اُن کے ذہن میں نہیں تھی مگر چند لوگوں نے اُنہیں قائل کیا کہ یہ بینچ اُنہیں قانون کی تشریح کرنے، حقوق کو وسعت دینے، سماجی نظام کو بدلنے اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کا موقع دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور انہوں نے یہ سب کچھ کیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات، جمہوریت، معذوری، صنف، ماحولیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی، عدالتی تاخیر، مقامی حکومت اور دیگر موضوعات پر سب سے زیادہ ترقی پسند فیصلے دیے۔ وہ اس وقت ’گرین جج‘ کے نام سے مشہور ہوئے کہ جب انہوں نے گرین بینچ کی قیادت کی تاکہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تنازعات کی سماعت ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عدالتی اصلاح پسند کے طور پر، انہوں نے پنجاب میں متبادل تنازعات کے حل کے مراکز قائم کیے تاکہ مقدمات کے طویل التوا کو کم کیا جا سکے، فوجداری اور سول ماڈل عدالتیں قائم کیں تاکہ رابطے بہتر ہوں اور انصاف تیزی سے فراہم کیا جا سکے اور کیس مینجمنٹ اور کورٹ آٹومیشن سسٹمز متعارف کروائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر، انہوں نے پہلا انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم نافذ کیا تاکہ عدالتی نظام آئندہ دہائی کے لیے شفاف، کھلا اور مکمل طور پر متعلقہ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" href="#جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جسٹس اطہر من اللہ، اسلام آباد میں حوصلے کی مثال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;2014ء میں  دوست اور سابقہ لا فرم کے ساتھی، اطہر من اللہ نے منصور علی شاہ کا ساتھ دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بینچ پر فائز ہوئے جہاں عدالتی حوصلے کی ایک واضح جھلک نظر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے جبری گمشدگیاں، غیرقانونی زمین کی خریداری، حیوانات کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا اور معاشرے کے کمزور افراد کا دفاع کیا۔ جب 2016ء کا الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالتی تقرریوں میں بھی مثالی کردار ادا کیا جن میں کئی جج شامل رہے جو شدید انتظامی دباؤ کے باوجود بار بار اصولوں پر ڈٹے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کا مقصد متعلقہ قانون دانوں کی ہر عدالتی کامیابی کی فہرست تیار کرنا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ناقدین بھی ان کی تخلیقی صلاحیت، آئینی بصیرت اور سیکڑوں فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں جنہوں نے اندرون اور بیرون ملک پاکستان کے قانونی نظام کو بہتر کیا۔ انہوں نے یہ سب بہترین طریقے سے سپریم کورٹ میں وقار اور حوصلے کے ساتھ انجام دیا اور ان کا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی کو ان حضرات کے بہت سے فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ بھی سب کی طرح انسان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے حال ہی میں ایک خط میں یاد دلایا، ’چند استثنیٰ کو چھوڑ کر، مجھ سمیت ہم سب ان اصولوں میں غلطی کرتے ہیں یا اُن پر پورا نہیں اتر پاتے جن کی پابندی کی ہم نے قسم کھائی ہے۔ آخرکار ہم سب انسان ہیں اور غلطی کرنے کا امکان رکھتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قاضی-کی-عدالت" href="#قاضی-کی-عدالت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قاضی کی عدالت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اس میں سے زیادہ تر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح یکے بعد دیگر ججز کی مدت نے آئین کو شدید نقصان پہنچایا۔ قاضی عدالت نے یہ سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد جو بچا تھا، وہ صرف تباہ نہیں ہوا بلکہ اسے اگلی عدالت نے اور بھی آگے بڑھایا جو سخت، آمرانہ قانونی قوانین سے چلتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو 2024ء کے عام انتخابات کے دہانے پر اپنے انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت واضح کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وہ آزاد امیدوار جو متعدد رکاوٹوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ اپنی جمہوری حیثیت کے مطابق نمائندگی حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔ جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے کسی اور ادارے کے ساتھ الحاق کیا تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں ان کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس محرومی کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ پھر سپریم کورٹ پہنچا جہاں جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے، نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا اور ایک بڑے بینچ کے قیام کی ہدایت دی۔ 8-5 اکثریت سے فل کورٹ کی جس رائے پر جسٹس منصور عی شاہ نے دستخط کیے اور جسٹس اطہر من اللہ نے ان کا ساتھ دیا، یہ بات واضح کی کہ ’پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور آج بھی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے نے انتخابی جمہوریت کے ایک بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا کہ ’جب الیکشن کمیشن غلطی کرے یا انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے والی اہم غلطیاں کرے تو ان کی اصلاح کے لیے عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ انتخابی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدلیہ، جسے انتخابی انصاف کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، سب سے پہلے عوام کی مرضی کی حفاظت کرنے کی پابند ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب بھی کافی نہ تھا۔ ’ماسٹر آف دی روسٹر‘ کے اصول جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود پہلے تنقید کر چکے تھے، دوبارہ بحال کر دیا گیا لیکن اب اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو دوبارہ ترتیب دیا گیا تاکہ بینچ کی تشکیل میں مداخلت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ججز کو منتخب کیا گیا، فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے لیے راستہ ہموار کیا گیا جو کسی ایک فرد کو چیف جسٹس بننے سے روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ تاریخ اس واقعے کو نہیں بھولے گی۔ یہ واقعی ایک تاریک باب تھا جو تاریخ کے پنوں پر لکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273614/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر بھی عوام کی مرضی کبھی پوری نہیں ہوئی۔ نہ اُس وقت ہوئی، نہ بعد اور نہ آج تک پوری ہوسکی ہے اسی عدالت نے دو مخالف ججز کی مدد سے الیکشن کمیشن کو عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو قاضی کی عدالت ہمیں کہاں لے آئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کو بے قابو چھوڑ دیا گیا، عوامی آزادیوں کو معطل کر دیا گیا، آئین پر انتظامی قبضہ مضبوط ہوگیا اور عدالتی آزادی چکناچور ہو گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے عہدے کے آخری دن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ دونوں نے چیف جسٹس کے ریفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے انہیں یوں بیان کیا، ‘ایک شتر مرغ کی طرح جس نے اپنا سر ریت میں چھپا لیا ہو، خود اطمینان اور عدلیہ پر بیرونی اثرات و دباؤ کے بارے میں بے پروا ہوچکا ہو‘۔ حتیٰ کہ جب جرأت مند ججز نے اپنے کام میں مداخلت کا سامنا کیا تو چیف جسٹس نے عوامی طور پر اصرار کیا کہ ’عدلیہ پر کوئی بیرونی اثر و رسوخ نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ججز کو انصاف نہیں ملا اور آج تک نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" href="#وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وفادار عدالت اور 27ویں آئینی ترمیم کا راستہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;قاضی کی عدالت پہلے ہی آئین کی بنیاد کو نقصان پہنچا چکی تھی۔ فوجی عدالتوں کو قانونی حیثیت دی گئی، عوام کی مرضی کو بحال کرنے والے فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف چیلنجز کو نظر انداز کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخصوص نشستوں کے فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے ہمیں یاد دلایا، ‘ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آئین وقتی قوانین نہیں ہیں جو صرف عارضی حالات کو پورا کرنے کے لیے بنائے جائیں بلکہ یہ اس وقت تک قائم رہنے کے لیے ہیں جب تک انسانی ادارے قائم رہ سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پارلیمنٹ نے زبردستی ایک آئینی ترمیم منظور کی ہے جس سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔ اس ترمیم سے ایک وفاقی آئینی عدالت وجود میں آتی ہے جو بنیادی طور پر حکومت کے زیرِکنٹرول عدالت ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کا بنیادی کام چھین لیتی ہے جوکہ آئین کی تشریح کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ترمیم کے تحت، صدر اور وزیرِ اعظم وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے چیف جسٹس اور ابتدائی ججز کا تقرر کریں گے جس سے جسٹس کمیشن آف پاکستان کو نظرانداز کیا جائے گا اور آغاز سے ہی انتظامیہ کا اثر قائم کر دیا جائے گا۔ جب تک قانون اس کی تشکیل کا تعین نہیں کرتا، ججز کی تعداد کا فیصلہ صرف انتظامیہ کرے گی۔ ان کا پسندیدہ نامزد امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے جوکہ وہی جج ہے جنہوں نے الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی ہدایت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273707/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ہر عوامی یا فوجداری مقدمہ آئینی مسئلہ اٹھاتا ہے لیکن اب لوگوں کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ایف سی سی یا سپریم کورٹ میں جانا ہے۔ مقدمات آگے پیچھے اچھالیں گے، انصاف کو سست، زیادہ مہنگا عمل اور فیصلوں کو غیریقینی بنا دیں گے۔ عام شہری جنہیں طاقتور مفادات سے تحفظ کی ضرورت ہے، ان کے پاس انصاف حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کم ہی ان حکومتوں کو نرمی دکھاتی ہے جو آئینی ہیر پھیر کے ذریعے مستقل طاقت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے منصوبے ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں مگر اس سے پہلے وہ ان اداروں کو شدید نقصان پہنچا جاتے ہیں جو شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پاکستان یہ سلسلہ پہلے بھی دیکھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ اَفریدی نے خبردار کیا کہ ’اس وقت کے غیر معمولی سیاسی ماحول اور ایسے ماحول میں موجود دباؤ نے عدالتی عمل پر اس طرح اثر ڈالا جو عدلیہ کی آزادی کے نظریات سے میل نہیں کھاتا‘۔ انہوں نے جسٹس ڈوراب پٹیل، محمد حلیم اور جی صفدر شاہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جوکہ وہ ججز تھے جو تاریکی کے لمحات میں مضبوط رہے، حتیٰ کہ جب ان کے اختلافی نوٹ نتیجہ بدلنے میں کارگر بھی ثابت نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جب تاریخ نے انہیں اسی امتحان میں ڈالا تو لگتا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے اصولوں پر قائم رہنے پر سمجھوتے کا انتخاب کیا ہے۔ 27ویں ترمیم زبردستی کروائی گئی اور انہوں نے عدلیہ کو مزید کمزور کرنے پر مزاحمت نہیں کی۔ انہوں نے اس عمل میں عدلیہ کی حفاظت نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں لوگوں نے اسے عدالت کا دفاع کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی کے طور پر دیکھا، اب وہ ایک ایسی سپریم کورٹ کی قیادت کررہے ہیں جسے بے اختیار چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا آئینی اختیار چھین لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="احتساب-اور-ذمہ-داری" href="#احتساب-اور-ذمہ-داری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;احتساب اور ذمہ داری&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ نقصان ملک کو برسوں تک پریشان رکھے گا۔ اگرچہ تمام آئینی حملوں کی طرح، یہ بھی بلآخر واپس ہوجائے گا لیکن ہم اس احتساب کو صرف وقت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ لمحہ وضاحت، حوصلے اور یادداشت کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو جج ایک غیر قانونی، وفاقی کنٹرول شدہ عدالت میں حلف اٹھائیں گے، وہ اس غیرآئینی عمل میں سہولت کار ہوں گے۔ جو جج ضمیر کے بدلے توسیع اور عہدے قبول کریں گے۔ انہوں نے انہی اصولوں کے ساتھ خیانت کی ہے جن کی پابندی کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ یہ ذمہ داری صرف انہی تک محدود نہیں، یہ ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے جو آئین کی بالادستی، عزم اور عدالتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکلا تحریک کے 18 سال بعد جب تین دوست اور ساتھی جو آئین پر مشترکہ یقین رکھتے تھے، ایک بار پھر آزمائے گئے تو ان میں سے صرف دو ہی اس عزم پر قائم رہ سکے۔ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ آج بھی مضبوط، جرات مند، اور نہ جھکنے والوں کی صف میں کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یوں کہانی واپس نقطہ آغاز پر آ جاتی ہے۔ جب قانون کا دفاع ذہانت، مضبوط عقائد اور بہادری کے ساتھ کیا جاتا ہے تو یہ ایک جنگل کی طرح رہتا ہے جہاں انصاف پروان چڑھ سکتا ہے۔ یہ ہر کسی کو حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی انصاف دیتا ہے جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں اور انہیں طاقت کی غیرمنصفانہ قوتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکریہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ! تاریخ  بھولے گی  نہ معاف کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955043/justices-shah-and-minallah-guardians-of-the-constitution"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’اے مین آف آل سیزن‘ ڈرامے کے سب سے یادگار مناظر میں سے ایک وہ ہے جب تھامس مور اپنے جذباتی اور تیز مزاج داماد، روپر کے ساتھ بحث کرتا ہے۔ روپر کا اصرار تھا کہ ’شیطان‘یعنی کوئی بھی ایسا شخص جو خطرناک ہو یا سیاسی طور پر خطرہ ہو، اسے پکڑنے کے لیے قانون کو نظر انداز کیا جانا چاہیے یا اسے ایک طرف کردینا چاہیے۔</p>
<p>اس کے جواب میں تھامس مور ایک مضبوط استعارہ پیش کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ انگلینڈ ’جنگل کی طرح‘ قوانین سے بھرا ہوا ہے اور یہ قوانین ہر ایک کی حفاظت کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد تھامس مور ایک چبھتا ہوا سوال پوچھتا ہے۔ اگر تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنے کے لیے ہر قانون کو ختم کردو گے تو جب طاقت کا رخ بدل کر تمہارے خلاف ہوجائے تب تمہیں کون بچائے گا؟ تھامس مور خبردار کرتا ہے کہ قانون کے بغیر تم ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوگے، ہر طرف سے ہوائیں چل رہی ہوں گی اور تم بالکل بے سہارا ہو گے جہاں تم اپنا دفاع نہیں کر پاؤ گے۔</p>
<p>یہی منظر ڈرامے کا مرکزی خیال بیان کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی طاقتوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ سب کے لیے ایک ڈھال ہے۔ اور جب اسے وقتی فائدے کے لیے کمزور کر دیا جائے تو پھر کوئی نہیں جان پائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور نہ ہی کوئی ہونے والی چیز کو روک سکتا ہے۔</p>
<p>دو روز قبل پاکستان کی عدلیہ نے اپنے دو انتہائی باصلاحیت قانون دانوں، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو کھو دیا۔ یہ کیوں ہوا، اس کا جواب تاریخ ہی دے سکے گی۔ مگر اُن کی کہانی دو دن پہلے سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو کئی دہائیاں پہلے 1997ء میں شروع ہوئی تھی جب تین دوست جو آئین پر اٹوٹ یقین رکھتے تھے، نے اس وقت کی سب سے ترقی پسند ترین لا فرم قائم کی جس کا نام  اَفریدی، شاہ اینڈ من اللہ تھا۔ ان کے پاس صرف اپنی ذہانت، یقین اور اقتدار کی خاطر اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہونے کا پختہ عزم تھا۔</p>
<p>ایک دہائی بعد، اُن کے اس عزم کا امتحان ہوا۔ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ ڈوگر کورٹ کا بائیکاٹ کیا اور ملک گیر وکلا تحریک کا حصہ بن کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے سڑکوں پر آئے۔ اُن کے حوصلے خاموش تھے، مضبوط تھے جو کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ڈوگر کورٹ ختم ہوگئی۔ افتخار چوہدری کی عدالت بحال ہو گئی۔ اس چار دیواری کے اندر کیا ہوا، اس پر کسی اور دن بات کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273697'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273697"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" href="#جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جسٹس منصور علی شاہ، اصلاحات کا بینچ</h1>
<p>جسٹس منصور علی شاہ کو 2009ء میں لاہور ہائی کورٹ میں ترقی دی گئی جوکہ اُن کے شاندار قانونی کریئر کے بعد ہوا جہاں انہوں نے ٹیکس، کارپوریٹ اور متعدد عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت کی، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں بھی فیصلے دیے۔ ترقی کبھی اُن کے ذہن میں نہیں تھی مگر چند لوگوں نے اُنہیں قائل کیا کہ یہ بینچ اُنہیں قانون کی تشریح کرنے، حقوق کو وسعت دینے، سماجی نظام کو بدلنے اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کا موقع دے گا۔</p>
<p>اور انہوں نے یہ سب کچھ کیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیا۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات، جمہوریت، معذوری، صنف، ماحولیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی، عدالتی تاخیر، مقامی حکومت اور دیگر موضوعات پر سب سے زیادہ ترقی پسند فیصلے دیے۔ وہ اس وقت ’گرین جج‘ کے نام سے مشہور ہوئے کہ جب انہوں نے گرین بینچ کی قیادت کی تاکہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تنازعات کی سماعت ہوسکے۔</p>
<p>ایک عدالتی اصلاح پسند کے طور پر، انہوں نے پنجاب میں متبادل تنازعات کے حل کے مراکز قائم کیے تاکہ مقدمات کے طویل التوا کو کم کیا جا سکے، فوجداری اور سول ماڈل عدالتیں قائم کیں تاکہ رابطے بہتر ہوں اور انصاف تیزی سے فراہم کیا جا سکے اور کیس مینجمنٹ اور کورٹ آٹومیشن سسٹمز متعارف کروائے۔</p>
<p>پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر، انہوں نے پہلا انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم نافذ کیا تاکہ عدالتی نظام آئندہ دہائی کے لیے شفاف، کھلا اور مکمل طور پر متعلقہ بنایا جا سکے۔</p>
<h1><a id="جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" href="#جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جسٹس اطہر من اللہ، اسلام آباد میں حوصلے کی مثال</h1>
<p>2014ء میں  دوست اور سابقہ لا فرم کے ساتھی، اطہر من اللہ نے منصور علی شاہ کا ساتھ دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بینچ پر فائز ہوئے جہاں عدالتی حوصلے کی ایک واضح جھلک نظر آئی۔</p>
<p>جسٹس اطہر من اللہ نے جبری گمشدگیاں، غیرقانونی زمین کی خریداری، حیوانات کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا اور معاشرے کے کمزور افراد کا دفاع کیا۔ جب 2016ء کا الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے عدالتی تقرریوں میں بھی مثالی کردار ادا کیا جن میں کئی جج شامل رہے جو شدید انتظامی دباؤ کے باوجود بار بار اصولوں پر ڈٹے رہے۔</p>
<p>اس تحریر کا مقصد متعلقہ قانون دانوں کی ہر عدالتی کامیابی کی فہرست تیار کرنا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ناقدین بھی ان کی تخلیقی صلاحیت، آئینی بصیرت اور سیکڑوں فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں جنہوں نے اندرون اور بیرون ملک پاکستان کے قانونی نظام کو بہتر کیا۔ انہوں نے یہ سب بہترین طریقے سے سپریم کورٹ میں وقار اور حوصلے کے ساتھ انجام دیا اور ان کا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کسی کو ان حضرات کے بہت سے فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ بھی سب کی طرح انسان ہیں۔</p>
<p>جیسا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے حال ہی میں ایک خط میں یاد دلایا، ’چند استثنیٰ کو چھوڑ کر، مجھ سمیت ہم سب ان اصولوں میں غلطی کرتے ہیں یا اُن پر پورا نہیں اتر پاتے جن کی پابندی کی ہم نے قسم کھائی ہے۔ آخرکار ہم سب انسان ہیں اور غلطی کرنے کا امکان رکھتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="قاضی-کی-عدالت" href="#قاضی-کی-عدالت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قاضی کی عدالت</h1>
<p>گزشتہ دو سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اس میں سے زیادہ تر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح یکے بعد دیگر ججز کی مدت نے آئین کو شدید نقصان پہنچایا۔ قاضی عدالت نے یہ سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد جو بچا تھا، وہ صرف تباہ نہیں ہوا بلکہ اسے اگلی عدالت نے اور بھی آگے بڑھایا جو سخت، آمرانہ قانونی قوانین سے چلتی تھی۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو 2024ء کے عام انتخابات کے دہانے پر اپنے انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت واضح کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا پڑا۔</p>
<p>جب وہ آزاد امیدوار جو متعدد رکاوٹوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ اپنی جمہوری حیثیت کے مطابق نمائندگی حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔ جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے کسی اور ادارے کے ساتھ الحاق کیا تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں ان کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس محرومی کی توثیق کی۔</p>
<p>یہ معاملہ پھر سپریم کورٹ پہنچا جہاں جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے، نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا اور ایک بڑے بینچ کے قیام کی ہدایت دی۔ 8-5 اکثریت سے فل کورٹ کی جس رائے پر جسٹس منصور عی شاہ نے دستخط کیے اور جسٹس اطہر من اللہ نے ان کا ساتھ دیا، یہ بات واضح کی کہ ’پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور آج بھی ہے‘۔</p>
<p>اس فیصلے نے انتخابی جمہوریت کے ایک بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا کہ ’جب الیکشن کمیشن غلطی کرے یا انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے والی اہم غلطیاں کرے تو ان کی اصلاح کے لیے عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ انتخابی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدلیہ، جسے انتخابی انصاف کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، سب سے پہلے عوام کی مرضی کی حفاظت کرنے کی پابند ہے‘۔</p>
<p>یہ سب بھی کافی نہ تھا۔ ’ماسٹر آف دی روسٹر‘ کے اصول جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود پہلے تنقید کر چکے تھے، دوبارہ بحال کر دیا گیا لیکن اب اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو دوبارہ ترتیب دیا گیا تاکہ بینچ کی تشکیل میں مداخلت کی جا سکے۔</p>
<p>ججز کو منتخب کیا گیا، فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے لیے راستہ ہموار کیا گیا جو کسی ایک فرد کو چیف جسٹس بننے سے روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ تاریخ اس واقعے کو نہیں بھولے گی۔ یہ واقعی ایک تاریک باب تھا جو تاریخ کے پنوں پر لکھا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273614/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پھر بھی عوام کی مرضی کبھی پوری نہیں ہوئی۔ نہ اُس وقت ہوئی، نہ بعد اور نہ آج تک پوری ہوسکی ہے اسی عدالت نے دو مخالف ججز کی مدد سے الیکشن کمیشن کو عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی۔</p>
<p>تو قاضی کی عدالت ہمیں کہاں لے آئی؟</p>
<p>آئین کو بے قابو چھوڑ دیا گیا، عوامی آزادیوں کو معطل کر دیا گیا، آئین پر انتظامی قبضہ مضبوط ہوگیا اور عدالتی آزادی چکناچور ہو گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے عہدے کے آخری دن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ دونوں نے چیف جسٹس کے ریفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے انہیں یوں بیان کیا، ‘ایک شتر مرغ کی طرح جس نے اپنا سر ریت میں چھپا لیا ہو، خود اطمینان اور عدلیہ پر بیرونی اثرات و دباؤ کے بارے میں بے پروا ہوچکا ہو‘۔ حتیٰ کہ جب جرأت مند ججز نے اپنے کام میں مداخلت کا سامنا کیا تو چیف جسٹس نے عوامی طور پر اصرار کیا کہ ’عدلیہ پر کوئی بیرونی اثر و رسوخ نہیں ہے‘۔</p>
<p>ان ججز کو انصاف نہیں ملا اور آج تک نہیں ملا۔</p>
<h1><a id="وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" href="#وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وفادار عدالت اور 27ویں آئینی ترمیم کا راستہ</h1>
<p>قاضی کی عدالت پہلے ہی آئین کی بنیاد کو نقصان پہنچا چکی تھی۔ فوجی عدالتوں کو قانونی حیثیت دی گئی، عوام کی مرضی کو بحال کرنے والے فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف چیلنجز کو نظر انداز کیا گیا۔</p>
<p>مخصوص نشستوں کے فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے ہمیں یاد دلایا، ‘ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آئین وقتی قوانین نہیں ہیں جو صرف عارضی حالات کو پورا کرنے کے لیے بنائے جائیں بلکہ یہ اس وقت تک قائم رہنے کے لیے ہیں جب تک انسانی ادارے قائم رہ سکتے ہیں‘۔</p>
<p>آج پارلیمنٹ نے زبردستی ایک آئینی ترمیم منظور کی ہے جس سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔ اس ترمیم سے ایک وفاقی آئینی عدالت وجود میں آتی ہے جو بنیادی طور پر حکومت کے زیرِکنٹرول عدالت ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کا بنیادی کام چھین لیتی ہے جوکہ آئین کی تشریح کرنا ہے۔</p>
<p>اس ترمیم کے تحت، صدر اور وزیرِ اعظم وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے چیف جسٹس اور ابتدائی ججز کا تقرر کریں گے جس سے جسٹس کمیشن آف پاکستان کو نظرانداز کیا جائے گا اور آغاز سے ہی انتظامیہ کا اثر قائم کر دیا جائے گا۔ جب تک قانون اس کی تشکیل کا تعین نہیں کرتا، ججز کی تعداد کا فیصلہ صرف انتظامیہ کرے گی۔ ان کا پسندیدہ نامزد امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے جوکہ وہی جج ہے جنہوں نے الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی ہدایت دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273707/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تقریباً ہر عوامی یا فوجداری مقدمہ آئینی مسئلہ اٹھاتا ہے لیکن اب لوگوں کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ایف سی سی یا سپریم کورٹ میں جانا ہے۔ مقدمات آگے پیچھے اچھالیں گے، انصاف کو سست، زیادہ مہنگا عمل اور فیصلوں کو غیریقینی بنا دیں گے۔ عام شہری جنہیں طاقتور مفادات سے تحفظ کی ضرورت ہے، ان کے پاس انصاف حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>تاریخ کم ہی ان حکومتوں کو نرمی دکھاتی ہے جو آئینی ہیر پھیر کے ذریعے مستقل طاقت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے منصوبے ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں مگر اس سے پہلے وہ ان اداروں کو شدید نقصان پہنچا جاتے ہیں جو شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پاکستان یہ سلسلہ پہلے بھی دیکھ چکا ہے۔</p>
<p>ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ اَفریدی نے خبردار کیا کہ ’اس وقت کے غیر معمولی سیاسی ماحول اور ایسے ماحول میں موجود دباؤ نے عدالتی عمل پر اس طرح اثر ڈالا جو عدلیہ کی آزادی کے نظریات سے میل نہیں کھاتا‘۔ انہوں نے جسٹس ڈوراب پٹیل، محمد حلیم اور جی صفدر شاہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جوکہ وہ ججز تھے جو تاریکی کے لمحات میں مضبوط رہے، حتیٰ کہ جب ان کے اختلافی نوٹ نتیجہ بدلنے میں کارگر بھی ثابت نہ ہوسکے۔</p>
<p>لیکن جب تاریخ نے انہیں اسی امتحان میں ڈالا تو لگتا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے اصولوں پر قائم رہنے پر سمجھوتے کا انتخاب کیا ہے۔ 27ویں ترمیم زبردستی کروائی گئی اور انہوں نے عدلیہ کو مزید کمزور کرنے پر مزاحمت نہیں کی۔ انہوں نے اس عمل میں عدلیہ کی حفاظت نہیں کی۔</p>
<p>آخر میں لوگوں نے اسے عدالت کا دفاع کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی کے طور پر دیکھا، اب وہ ایک ایسی سپریم کورٹ کی قیادت کررہے ہیں جسے بے اختیار چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا آئینی اختیار چھین لیا گیا ہے۔</p>
<h1><a id="احتساب-اور-ذمہ-داری" href="#احتساب-اور-ذمہ-داری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>احتساب اور ذمہ داری</h1>
<p>یہ نقصان ملک کو برسوں تک پریشان رکھے گا۔ اگرچہ تمام آئینی حملوں کی طرح، یہ بھی بلآخر واپس ہوجائے گا لیکن ہم اس احتساب کو صرف وقت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ لمحہ وضاحت، حوصلے اور یادداشت کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>جو جج ایک غیر قانونی، وفاقی کنٹرول شدہ عدالت میں حلف اٹھائیں گے، وہ اس غیرآئینی عمل میں سہولت کار ہوں گے۔ جو جج ضمیر کے بدلے توسیع اور عہدے قبول کریں گے۔ انہوں نے انہی اصولوں کے ساتھ خیانت کی ہے جن کی پابندی کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ یہ ذمہ داری صرف انہی تک محدود نہیں، یہ ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے جو آئین کی بالادستی، عزم اور عدالتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p>وکلا تحریک کے 18 سال بعد جب تین دوست اور ساتھی جو آئین پر مشترکہ یقین رکھتے تھے، ایک بار پھر آزمائے گئے تو ان میں سے صرف دو ہی اس عزم پر قائم رہ سکے۔ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ آج بھی مضبوط، جرات مند، اور نہ جھکنے والوں کی صف میں کھڑے ہیں۔</p>
<p>اور یوں کہانی واپس نقطہ آغاز پر آ جاتی ہے۔ جب قانون کا دفاع ذہانت، مضبوط عقائد اور بہادری کے ساتھ کیا جاتا ہے تو یہ ایک جنگل کی طرح رہتا ہے جہاں انصاف پروان چڑھ سکتا ہے۔ یہ ہر کسی کو حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی انصاف دیتا ہے جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں اور انہیں طاقت کی غیرمنصفانہ قوتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>شکریہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ! تاریخ  بھولے گی  نہ معاف کرے گی۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955043/justices-shah-and-minallah-guardians-of-the-constitution">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273767</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 14:31:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمر اے رانجھا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/15124530ff3c0af.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/15124530ff3c0af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’27 ویں ترمیم نے آئین کو عملی طور پر قتل کردیا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273614/</link>
      <description>&lt;p&gt;اپنی کتاب 1984 میں جارج اورویل نے لکھا تھا کہ ’رہنماؤں نے آپ سے کہا کہ آپ جو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں، اس پر یقین نہ کریں، یہ سب سے اہم ہدایت ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ماضی میں کئی بار فوجی آمروں کو آئین کو منسوخ یا معطل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ درحقیقت جنرل ضیاالحق کو تو یہ تک کہتے سنا گیا ہے کہ آئین ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں جسے وہ کسی وقت بھی پھاڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحوم آمر کا بیان اس تکبر کا عکاس تھا جو اقتدار کے ساتھ آتا ہے اور یہ اس آئین کو کم تر سمجھنے کا ان کا رویہ تھا جسے 1973ء میں ایک منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ 1988ء میں ایک فضائی حادثے میں جنرل ضیا الحق کے انتقال کے بعد آئین کو کچھ ترامیم کے ساتھ بحال کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل پرویز مشرف نے 1973ء کے آئین کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار معطل کیا۔ انہوں نے پہلے 1999ء میں آئین معطل کیا اور پھر 2007ء میں کیا۔ حالانکہ ان کے اس اقدام کو دوسری بار قانونی تحفظ نہیں مل سکا۔ وہ دوسری بار آئین معطلی کے بعد کچھ ماہ تک اقتدار میں رہے۔ آئین کو بعد میں بحال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بات یہ ہے کہ ان فوجی حکمرانوں نے بھی آئین کو اس طرح نہیں توڑا جس طرح اب ایک ایسی پارلیمنٹ نے کیا ہے جس کے مینڈیٹ پر پہلے ہی عوامی اعتراضات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں 26ویں ترمیم نے حکومت کی شاخوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا تھا، 27ویں ترمیم نے تو آئین کو عملی طور پر قتل ہی کر دیا ہے۔ آخری رسومات ’بگ برادر‘ کی نگرانی میں عجلت میں ادا کی جا رہی ہیں۔ یہ شاید ہماری ناقابلِ رشک آئینی تاریخ کا سیاہ ترین لمحہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کٹھ پتلی کے تماشے کی طرح تھا جہاں ایک کے بعد ایک قانون ساز ترمیم کی حمایت میں کھڑے ہوکر بولتا نظر آیا حالانکہ اس معاملے پر شاید ان سے ان کی رائے دریافت ہی نہیں کی گئی ہوگی۔ جب ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو انہوں نے قانون کے مسودے کو پڑھے بغیر صرف ’ہاں‘ کا نعرہ لگایا جو انہیں میٹنگ کے دوران دیا گیا تھا۔ انہوں نے صرف وہی کیا جو ان کی سیاسی جماعت نے انہیں کرنے کو کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کچھ جانے پہچانے چہرے بھی تھے جنہوں نے ماضی میں بھی ضیا الحق اور پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں میں آئین میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ سینیٹ میں ترمیم کی منظوری کے لیے ووٹوں کی مطلوبہ تعداد اپوزیشن بینچز کے چند منحرف اراکین کو اپنی جانب کرکے حاصل کیے گئے۔ کسی کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کیسے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273327/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اختلاف کی ایک جماعت، اپنے متعدد قانون سازوں کی حالیہ نااہلی کی وجہ سے توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور ان کے مزید اراکین مزید دھتکار دیے گئے جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے مشکوک ٹرائلز میں سزا سنائی تھی۔ ان اراکین کے پاس پارلیمنٹ میں ووٹ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایوان میں قابلِ ذکر اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باوجود یہ دھوکا دہی جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے نہ صرف 26ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کے لیے جو تھوڑی سی آزادی چھوڑی گئی تھی، وہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے بلکہ حکومت پر سویلین کنٹرول بھی ختم ہو چکا ہے۔ نئی ترمیم قانونی طور پر ملک کے پراٹورین ریاست (فوج کے زیر کنٹرول ریاست) بننے کے اقدام کو تحفظ فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمی چیف کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔ انہیں اس سال مئی میں بھارت کے ساتھ 4 روزہ مختصر تنازع کی قیادت کرنے پر فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اب انہیں قانون کے مطابق مکمل استثنیٰ ہوگی اور انہیں کوئی بھی سزا نہیں دی جاسکتی جبکہ ان کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع کے آپشن کے ساتھ فی الحال مزید 5 سال تک توسیع کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاحیات استثنیٰ نہ صرف فائیو اسٹار رینک والے مسلح افواج کے افسران کو دیا گیا ہے بلکہ صدر کو بھی دیا گیا ہے۔ لیڈران اور ریاستی عہدیداروں کے اعمال کا محاسبہ نہیں کرنے کی مثال کسی بھی جمہوری ملک میں نہیں ملے گی۔ یہ نہ صرف جمہوری اصولوں کی نفی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے بھی خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمہوری ممالک میں منتخب رہنماؤں کو اس طرح کا استثنیٰ نہیں دیا جاتا حتیٰ کہ جب وہ سرکاری دفتر میں ہوتے ہیں تب بھی ایسا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔ لیکن پاکستان میں 27ویں ترمیم کے بعد انہیں غیرقانونی اقدامات سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں ترمیم پر بحث دیکھنے میں کافی مزہ آیا جہاں وزرا اور حکومتی بینچز کے دیگر اراکین نے ملک کو 1973ء کا آئین دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور پھر ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس ترمیم سے ملک میں جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کی روح کو مارنے کے بعد جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والے ان سیاستدانوں کی منافقت پر تعجب بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا محض کٹھ پتلی بن کر سامنے آنے والے چہروں سے کسی اور چیز کی توقع رکھنی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ بھی ہو، ایوان میں ان کی موجودگی بعض حلقوں کی مرہون منت ہے۔ سینیٹ میں ترمیم پیش کرنے سے ایک دن قبل میں نے مسلم لیگ (ن) کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے اس تجویز کے بارے میں دریافت کیا جو ماضی میں کئی اہم وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں درحقیقت ترمیم کی دفعات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور وہ یقیناً اکیلے نہیں ہوں گے جنہیں اندازہ نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ کچھ وفاقی وزرا نے بھی نجی طور پر اعتراف کیا کہ انہیں اس مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ترمیم کے مسودے پر رازداری کو دیکھتے ہوئے یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور جس طرح سے اسے پارلیمنٹ کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، اس سے تصور کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ ہے ہماری نام نہاد جمہوریت کی حالت جوکہ جوڑ توڑ کے ذریعے انتخابات میں ہیرا پھیری سے اقتدار میں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273567'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273567"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوری صورت حال میں سب سے مایوس کُن پیپلز پارٹی کا کردار ہے۔ اگرچہ پارٹی حکمران اتحاد کا حصہ ہے، اس نے حکومت میں عہدہ نہ لینے کا انتخاب کیا ہے پھر بھی آئین کے انہدام میں پارٹی اور اس کے قائدین کا بھی اہم کردار تھا جسے بنانے کا سہرا پیپلز پارٹی اپنے سر لیتی ہے۔ جب پی پی پی کے قانون سازوں نے آئین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے جمہوریت کے لیے پارٹی قیادت کی طرف سے دی گئی قربانیوں کو فصاحت کے ساتھ بیان کیا تو اس وقت یہ سب غیرحقیقت پسندانہ لگ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی نے ماضی میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی ہے۔ لیکن اس کی موجودہ قیادت نے جماعت کی وراثت سے غداری کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے آئین میں تبدیلیوں بالخصوص علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 2006ء میں دستخط کیے تھے۔ تاہم عدالت کے بارے میں ان کی دلیل کوئی معنی نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میثاقِ جمہوریت، سویلین حکمرانی کو مضبوط رکھنے اور آئین کے تحفظ کے بارے میں بھی ہے۔ 27ویں ترمیم میثاقِ جمہوریت کے ہر نکتے کے خلاف ہے اور یہ ملک کو آمرانہ حکمرانی کی طرف لے جاتی ہے۔ موجودہ رہنماؤں کو ماضی کی قیادت کے مقابلے میں تاریخ انتہائی مختلف انداز میں پرکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ آئین اور 26ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو جو تھوڑی سی آزادی حاصل ہے، اس کے تحفظ کے لیے کچھ کرے گی؟ بدقسمتی سے نئی ترمیم نے ریاست کے اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954621"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اپنی کتاب 1984 میں جارج اورویل نے لکھا تھا کہ ’رہنماؤں نے آپ سے کہا کہ آپ جو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں، اس پر یقین نہ کریں، یہ سب سے اہم ہدایت ہے‘۔</p>
<p>پاکستان نے ماضی میں کئی بار فوجی آمروں کو آئین کو منسوخ یا معطل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ درحقیقت جنرل ضیاالحق کو تو یہ تک کہتے سنا گیا ہے کہ آئین ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں جسے وہ کسی وقت بھی پھاڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مرحوم آمر کا بیان اس تکبر کا عکاس تھا جو اقتدار کے ساتھ آتا ہے اور یہ اس آئین کو کم تر سمجھنے کا ان کا رویہ تھا جسے 1973ء میں ایک منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ 1988ء میں ایک فضائی حادثے میں جنرل ضیا الحق کے انتقال کے بعد آئین کو کچھ ترامیم کے ساتھ بحال کردیا گیا تھا۔</p>
<p>جنرل پرویز مشرف نے 1973ء کے آئین کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار معطل کیا۔ انہوں نے پہلے 1999ء میں آئین معطل کیا اور پھر 2007ء میں کیا۔ حالانکہ ان کے اس اقدام کو دوسری بار قانونی تحفظ نہیں مل سکا۔ وہ دوسری بار آئین معطلی کے بعد کچھ ماہ تک اقتدار میں رہے۔ آئین کو بعد میں بحال کیا گیا۔</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ ان فوجی حکمرانوں نے بھی آئین کو اس طرح نہیں توڑا جس طرح اب ایک ایسی پارلیمنٹ نے کیا ہے جس کے مینڈیٹ پر پہلے ہی عوامی اعتراضات ہیں۔</p>
<p>جہاں 26ویں ترمیم نے حکومت کی شاخوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا تھا، 27ویں ترمیم نے تو آئین کو عملی طور پر قتل ہی کر دیا ہے۔ آخری رسومات ’بگ برادر‘ کی نگرانی میں عجلت میں ادا کی جا رہی ہیں۔ یہ شاید ہماری ناقابلِ رشک آئینی تاریخ کا سیاہ ترین لمحہ ہے۔</p>
<p>یہ کٹھ پتلی کے تماشے کی طرح تھا جہاں ایک کے بعد ایک قانون ساز ترمیم کی حمایت میں کھڑے ہوکر بولتا نظر آیا حالانکہ اس معاملے پر شاید ان سے ان کی رائے دریافت ہی نہیں کی گئی ہوگی۔ جب ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو انہوں نے قانون کے مسودے کو پڑھے بغیر صرف ’ہاں‘ کا نعرہ لگایا جو انہیں میٹنگ کے دوران دیا گیا تھا۔ انہوں نے صرف وہی کیا جو ان کی سیاسی جماعت نے انہیں کرنے کو کہا تھا۔</p>
<p>ان میں سے کچھ جانے پہچانے چہرے بھی تھے جنہوں نے ماضی میں بھی ضیا الحق اور پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں میں آئین میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ سینیٹ میں ترمیم کی منظوری کے لیے ووٹوں کی مطلوبہ تعداد اپوزیشن بینچز کے چند منحرف اراکین کو اپنی جانب کرکے حاصل کیے گئے۔ کسی کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کیسے ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273327/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حزب اختلاف کی ایک جماعت، اپنے متعدد قانون سازوں کی حالیہ نااہلی کی وجہ سے توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور ان کے مزید اراکین مزید دھتکار دیے گئے جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے مشکوک ٹرائلز میں سزا سنائی تھی۔ ان اراکین کے پاس پارلیمنٹ میں ووٹ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایوان میں قابلِ ذکر اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باوجود یہ دھوکا دہی جاری رہی۔</p>
<p>اس سے نہ صرف 26ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کے لیے جو تھوڑی سی آزادی چھوڑی گئی تھی، وہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے بلکہ حکومت پر سویلین کنٹرول بھی ختم ہو چکا ہے۔ نئی ترمیم قانونی طور پر ملک کے پراٹورین ریاست (فوج کے زیر کنٹرول ریاست) بننے کے اقدام کو تحفظ فراہم کرے گی۔</p>
<p>آرمی چیف کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔ انہیں اس سال مئی میں بھارت کے ساتھ 4 روزہ مختصر تنازع کی قیادت کرنے پر فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اب انہیں قانون کے مطابق مکمل استثنیٰ ہوگی اور انہیں کوئی بھی سزا نہیں دی جاسکتی جبکہ ان کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع کے آپشن کے ساتھ فی الحال مزید 5 سال تک توسیع کردی گئی ہے۔</p>
<p>یہ تاحیات استثنیٰ نہ صرف فائیو اسٹار رینک والے مسلح افواج کے افسران کو دیا گیا ہے بلکہ صدر کو بھی دیا گیا ہے۔ لیڈران اور ریاستی عہدیداروں کے اعمال کا محاسبہ نہیں کرنے کی مثال کسی بھی جمہوری ملک میں نہیں ملے گی۔ یہ نہ صرف جمہوری اصولوں کی نفی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے بھی خلاف ہے۔</p>
<p>جمہوری ممالک میں منتخب رہنماؤں کو اس طرح کا استثنیٰ نہیں دیا جاتا حتیٰ کہ جب وہ سرکاری دفتر میں ہوتے ہیں تب بھی ایسا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔ لیکن پاکستان میں 27ویں ترمیم کے بعد انہیں غیرقانونی اقدامات سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں ترمیم پر بحث دیکھنے میں کافی مزہ آیا جہاں وزرا اور حکومتی بینچز کے دیگر اراکین نے ملک کو 1973ء کا آئین دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور پھر ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس ترمیم سے ملک میں جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔</p>
<p>آئین کی روح کو مارنے کے بعد جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والے ان سیاستدانوں کی منافقت پر تعجب بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا محض کٹھ پتلی بن کر سامنے آنے والے چہروں سے کسی اور چیز کی توقع رکھنی چاہیے؟</p>
<p>کچھ بھی ہو، ایوان میں ان کی موجودگی بعض حلقوں کی مرہون منت ہے۔ سینیٹ میں ترمیم پیش کرنے سے ایک دن قبل میں نے مسلم لیگ (ن) کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے اس تجویز کے بارے میں دریافت کیا جو ماضی میں کئی اہم وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں درحقیقت ترمیم کی دفعات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔</p>
<p>اور وہ یقیناً اکیلے نہیں ہوں گے جنہیں اندازہ نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ کچھ وفاقی وزرا نے بھی نجی طور پر اعتراف کیا کہ انہیں اس مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ترمیم کے مسودے پر رازداری کو دیکھتے ہوئے یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔</p>
<p>اور جس طرح سے اسے پارلیمنٹ کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، اس سے تصور کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ ہے ہماری نام نہاد جمہوریت کی حالت جوکہ جوڑ توڑ کے ذریعے انتخابات میں ہیرا پھیری سے اقتدار میں آئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273567'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273567"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس پوری صورت حال میں سب سے مایوس کُن پیپلز پارٹی کا کردار ہے۔ اگرچہ پارٹی حکمران اتحاد کا حصہ ہے، اس نے حکومت میں عہدہ نہ لینے کا انتخاب کیا ہے پھر بھی آئین کے انہدام میں پارٹی اور اس کے قائدین کا بھی اہم کردار تھا جسے بنانے کا سہرا پیپلز پارٹی اپنے سر لیتی ہے۔ جب پی پی پی کے قانون سازوں نے آئین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے جمہوریت کے لیے پارٹی قیادت کی طرف سے دی گئی قربانیوں کو فصاحت کے ساتھ بیان کیا تو اس وقت یہ سب غیرحقیقت پسندانہ لگ رہا تھا۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی نے ماضی میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی ہے۔ لیکن اس کی موجودہ قیادت نے جماعت کی وراثت سے غداری کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے آئین میں تبدیلیوں بالخصوص علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 2006ء میں دستخط کیے تھے۔ تاہم عدالت کے بارے میں ان کی دلیل کوئی معنی نہیں رکھتی۔</p>
<p>میثاقِ جمہوریت، سویلین حکمرانی کو مضبوط رکھنے اور آئین کے تحفظ کے بارے میں بھی ہے۔ 27ویں ترمیم میثاقِ جمہوریت کے ہر نکتے کے خلاف ہے اور یہ ملک کو آمرانہ حکمرانی کی طرف لے جاتی ہے۔ موجودہ رہنماؤں کو ماضی کی قیادت کے مقابلے میں تاریخ انتہائی مختلف انداز میں پرکھے گی۔</p>
<p>اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ آئین اور 26ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو جو تھوڑی سی آزادی حاصل ہے، اس کے تحفظ کے لیے کچھ کرے گی؟ بدقسمتی سے نئی ترمیم نے ریاست کے اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1954621">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273614</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 14:24:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1211350567507ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="608" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1211350567507ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چارلی کرک کے قتل نے زہران ممدانی کی جیت میں کیا کردار ادا کیا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273566/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا زہران ممدانی واقعی کمیونسٹ ہیں جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں؟ یا پھر زہران ممدانی ویٹنگ فار گوڈو ڈرامے کے اس پُراسرار گوڈو کردار کی طرح ہیں جس کا انتظار ولادیمیر اور  ایسٹراگون کرتے ہیں لیکن وہ نہیں آتا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی کچھ جانتا تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زہران ممدانی خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ بتاتے ہیں جوکہ یورپ میں ماضی کے سدھرے ہوئے اور الجھن کا شکار سوشل ڈیموکریٹس سے بالکل الگ ہیں۔ ان کے حامی شاید خوش ہوتے اگر وہ صرف زہرانی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ ہوں، کسی حد تک ان چینی شہریوں کی طرح جو ڈونلڈ ٹرمپ کو چینی خصوصیات والے سوشلزم نامی اختراع کو کسی حد تک قبول کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273415/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273415"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں وقت میں تھوڑا پیچھے جانا ہوگا تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زہران ممدانی کے لیے کون سا وصف زیادہ موزوں ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہے کہ یہ وہ بھوت نہیں ہیں جس سے کارل مارکس نے 1848ء میں یورپ کے نوآبادیاتی سرمایہ داروں کو خوفزدہ کیا تھا۔ مساوات کے اس انقلابی خیال نے اس وقت یورپ کو خوفزدہ کر دیا تھا لیکن چیزیں اس طرح نہیں ہوئیں جیسا کہ مارکس نے سوچی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محنت کشوں کے انقلاب کے بجائے امیر اور طاقتور (بورژوازی) نے زبردست مقابلہ کیا اور ان کا ردعمل آج ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ شائع ہونے کی تقریباً دو صدیوں بعد بھی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونسٹن چرچل، ایڈولف ہٹلر، بینیتو موسولینی، فرانسسکو فرانکو، اسٹیپن بنڈیرا، ایم ایس گولوالکر، جوزف میک کارتھی، ایوب خان، اوگسٹو پنوشے، رونلڈ ریگن، مارگریٹ تھیچر اور ضیاالحق جیسے رہنماؤں وہ مثال ہیں جو مختلف طریقوں سے کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیے گئے جسے اکثر مبالغہ آمیز یا خیالی ’کمیونسٹ خطرے‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورژوازی (سرمایہ دار طبقے) نے مساوات پر مبنی اتحاد کے اس کمیونسٹ ’بھوت‘ کو روکنے یا اس کی رفتار سست کرنے کے لیے مذہبی و ثقافتی ڈھانچے قائم کیے اور عام لوگوں میں اتحاد کو توڑنے کے لیے موجودہ ڈھانچوں کی سرپرستی کی جیسے نازی ازم، فاشزم، کو کلوکس کلان اور نسل پرستی جیسے نظام اسی مقصد کے لیے ابھرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا میں انہوں نے لوگوں کے مضبوط مذہبی لگاؤ سے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے کمیونسٹ عقائد کو ایسے بیان کیا جیسے کہ ان کا خدا یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم انہیں یوں جزوی کامیابی حاصل ہوپائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیونسٹ تحریک مغربی یورپ میں اس طرح زور نہیں پکڑی جیسی کہ مارکس نے پیش گوئی کی تھی لیکن یہ غیرمتوقع مقامات پر ابھری جیسے روس، چین، ویتنام، کیوبا اور چند دیگر ممالک میں بھی اُبھری لیکن وہ پائیدار نہیں تھی۔ زہران ممدانی کی سیاست کے تناظر میں 1957ء کا کیرالہ تجربہ اہم ہے جہاں بورژوا ریاست میں کمیونسٹ حکومت منتخب ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھار بورژوا جذبہ جو کمیونزم کے لیے رکاوٹیں کھڑے کرنے کے لیے ہوتا ہے، غلط سمت میں گامزن ہوجاتا ہے۔ میری شیلی کے ناول میں وکٹر فرینکنسٹائن کی طرح جس نے غلطی سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک حیوان پیدا کردیا تھا، اسی طرح بورژوازی بھی بعض اوقات اپنے لیے مسائل پیدا کرلیتا ہے جن کی مثال نریندر مودی یا ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں کو اقتدار میں لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر زہران ممدانی میئر بننے کے لیے حائل بڑے چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوپائے ہیں تو ان کی کامیابی کے ایک حصے کا سہرا دائیں بازو کے سیاستدانوں کے درمیان افراتفری کو دیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر نیتن یاہو مخالف جذبات کی اٹھتی لہر نے زہران ممدانی کے صیہونی مخالفین کے اثر و رسوخ کو کمزور کر دیا جس سے ان کے لیے کامیابی حاصل کرنا آسان ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269147'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلی کرک سانحے کی اہمیت دنیا ٹھیک سے نہیں سمجھ پائی ہے جس نے امریکی دائیں بازو میں شدید ہلچل مچا دی اور صہیونیت اور امریکا کے تعلقات کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ یہ دونوں گروہ زہران ممدانی کے سیاسی مخالف تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلی کرک کے قتل نے واقعات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جس نے غزہ میں تشدد کو روکا اور میک امریکا گریٹ اگین (MAGA) حلقوں سے بھی یہ ردعمل کا باعث بنا۔ یہی ردعمل نہ صرف زہران ممدانی کی انتخابی مہم میں مددگار ثابت ہوا بلکہ مختلف ریاستوں میں بیک وقت مختلف عہدوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کے حامی ڈیموکریٹک امیدواروں کی جیت کے امکانات کو بھی مستحکم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اسنائپر شاٹ جس میں چارلی کرک کو نشانہ بنایا گیا، اس نے صہیونی حلقے یعنی امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) کو بھی شدید نقصان پہنچایا جس کے سامنے بہت سے امریکی صدور نے قدرے جھکاؤ کا مظاہرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یہودی مگر صہیونی مخالف صحافی میکس بلومن تھل کی تحقیقات ہی تھیں جنہوں نے ظاہر کیا کہ چارلی کرک کے قتل سے بنیامن نیتن یاہو کو کس قدر دہشت محسوس ہوئی۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی بار دیکھا کہ کسی واقعے کے بعد نیتن یاہو فوری طور پر ٹی وی پر نمودار ہوئے ہوں لیکن چارلی کرک میں معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلی کرک جو اسرائیل کے سرپرست تھے لیکن تیزی سے ناقد بن رہے تھے، فوری پریس کانفرنس کرکے نیتن یاہو نے چارلی کرک کے انتقال پر تعزیت پیش کی۔ جس اداسی کے ساتھ وہ ٹی وی پر نمودار ہوئے، اسے یہ سمجھا گیا کہ جیسے وہ کہنا چاہتے تھے کہ چارلی کرک کی موت میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی افواہیں جھوٹی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی خواتین اور بچوں کی شہادتوں نے MAGA تحریک میں لوگوں کو اپنا جائزہ لینے پر مجبور کیا کہ وہ کس مقصد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ چارلی کرک اس حوالے سے ایک مضبوط آواز بن کر اُبھر رہے تھے۔ چارلی کرک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024ء انتخابات کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور انہوں نے نیتن یاہو کی اسرائیل کو لامحدود حمایت دینے سے روکنے کے لیے امریکا پر دباؤ بڑھانے کے لیے اثر و رسوخ بھی حاصل کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی 32ویں سالگرہ سے چند دن قبل ہونے والی ان کی موت لازم و ملزوم طور پر اینڈریو کوومو کی سیاست کو متاثر کر گئی اور اس نے نیویارک کے رہائشی یہودیوں کو صہیونی و غیرصہیونی گروہوں میں فرق کرنے میں مدد دی۔ اس عمل سے ایک نیا درمیانی راستہ پیدا ہوا جس نے زہران ممدانی کے حق میں حمایت بڑھانے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اوقات بائیں اور دائیں بازو نے تاریخ میں ایک ساتھ کام کیا ہے پھر چاہے وہ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہ کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر وہ شاہ ایران کا تختہ الٹنے اور بعد میں 1977ء میں اندرا گاندھی کو ہٹانے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بائیں بازو کے پاس وہ خصوصی اپیل نہیں ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ایک وقت تھا جب نکیتا خروشیف، امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے ساتھ دوستی کا تصور کر سکتے تھے، خاص طور پر جب ان دونوں نے کیوبا کے میزائل بحران سے دنیا کو بچایا اور پھر ہوشیاری اور حوصلے کے ساتھ دنیا کو ایٹمی تباہی کے کنارے سے واپس لائے۔ جان کینیڈی کمیونزم سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے، امریکی سیاست میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے بھی سخت نقاد تھے اور آخرکار انہیں قتل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263106/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263106"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زہران ممدانی اکتوبر 1991ء میں پیدا ہوئے جوکہ وہی سال تھا کہ جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا۔ ان کے والد انہیں بتاتے ہوں گے کہ کیسے سوویت یونین کے زوال اور اس کے نتیجے میں ختم ہونے والی سرد جنگ کے فوراً بعد جمہوریت کو بیان کرنے کے لیے ایک نئی اصطلاح سامنے آئی جسے ‘فری مارکیٹ ڈیموکریسی’ کہا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کے آس پاس اسپین (SPAN) میگزین جو دہلی میں امریکی سفارت خانے سے شائع ہوتا تھا، چھوٹا ہوتا گیا جس کے لیے باضابطہ طور پر کہا گیا کہ کاغذ کی بچت کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ واقعی اس میگزین کے ذریعے پروپیگنڈے پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ کام باخوبی ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروپیگنڈا ایجنسیز نے اپنے وعدے کے مطابق بہترین کارکردگی دکھائی تھی۔ میرے بھائی اور میں نے جان ایف کینیڈی کے کلاسک افتتاحی خطاب کو حفظ کیا ہوا ہے جس کے پتلے ریکارڈز، امریکی لائبریری لکھنؤ کے ذریعے تقسیم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیموئل بیکٹ کے ڈرامے میں گوڈو کو جان بوجھ کر مبہم کردار رکھا گیا ہے جو امید، مقصد یا اعلیٰ طاقت کی علامت کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ اس کی پہچان ناظرین پر چھوڑ دی گئی ہے۔ یہی ایک قابلِ قبول طریقہ ہوسکتا ہے جو اس مظہر کو بیان کرے جسے زہران کوامے ممدانی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954425"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا زہران ممدانی واقعی کمیونسٹ ہیں جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں؟ یا پھر زہران ممدانی ویٹنگ فار گوڈو ڈرامے کے اس پُراسرار گوڈو کردار کی طرح ہیں جس کا انتظار ولادیمیر اور  ایسٹراگون کرتے ہیں لیکن وہ نہیں آتا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی کچھ جانتا تھا؟</p>
<p>زہران ممدانی خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ بتاتے ہیں جوکہ یورپ میں ماضی کے سدھرے ہوئے اور الجھن کا شکار سوشل ڈیموکریٹس سے بالکل الگ ہیں۔ ان کے حامی شاید خوش ہوتے اگر وہ صرف زہرانی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ ہوں، کسی حد تک ان چینی شہریوں کی طرح جو ڈونلڈ ٹرمپ کو چینی خصوصیات والے سوشلزم نامی اختراع کو کسی حد تک قبول کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273415/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273415"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہمیں وقت میں تھوڑا پیچھے جانا ہوگا تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زہران ممدانی کے لیے کون سا وصف زیادہ موزوں ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہے کہ یہ وہ بھوت نہیں ہیں جس سے کارل مارکس نے 1848ء میں یورپ کے نوآبادیاتی سرمایہ داروں کو خوفزدہ کیا تھا۔ مساوات کے اس انقلابی خیال نے اس وقت یورپ کو خوفزدہ کر دیا تھا لیکن چیزیں اس طرح نہیں ہوئیں جیسا کہ مارکس نے سوچی تھیں۔</p>
<p>محنت کشوں کے انقلاب کے بجائے امیر اور طاقتور (بورژوازی) نے زبردست مقابلہ کیا اور ان کا ردعمل آج ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ شائع ہونے کی تقریباً دو صدیوں بعد بھی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p>ونسٹن چرچل، ایڈولف ہٹلر، بینیتو موسولینی، فرانسسکو فرانکو، اسٹیپن بنڈیرا، ایم ایس گولوالکر، جوزف میک کارتھی، ایوب خان، اوگسٹو پنوشے، رونلڈ ریگن، مارگریٹ تھیچر اور ضیاالحق جیسے رہنماؤں وہ مثال ہیں جو مختلف طریقوں سے کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیے گئے جسے اکثر مبالغہ آمیز یا خیالی ’کمیونسٹ خطرے‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔</p>
<p>بورژوازی (سرمایہ دار طبقے) نے مساوات پر مبنی اتحاد کے اس کمیونسٹ ’بھوت‘ کو روکنے یا اس کی رفتار سست کرنے کے لیے مذہبی و ثقافتی ڈھانچے قائم کیے اور عام لوگوں میں اتحاد کو توڑنے کے لیے موجودہ ڈھانچوں کی سرپرستی کی جیسے نازی ازم، فاشزم، کو کلوکس کلان اور نسل پرستی جیسے نظام اسی مقصد کے لیے ابھرے۔</p>
<p>جنوبی ایشیا میں انہوں نے لوگوں کے مضبوط مذہبی لگاؤ سے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے کمیونسٹ عقائد کو ایسے بیان کیا جیسے کہ ان کا خدا یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم انہیں یوں جزوی کامیابی حاصل ہوپائی۔</p>
<p>کمیونسٹ تحریک مغربی یورپ میں اس طرح زور نہیں پکڑی جیسی کہ مارکس نے پیش گوئی کی تھی لیکن یہ غیرمتوقع مقامات پر ابھری جیسے روس، چین، ویتنام، کیوبا اور چند دیگر ممالک میں بھی اُبھری لیکن وہ پائیدار نہیں تھی۔ زہران ممدانی کی سیاست کے تناظر میں 1957ء کا کیرالہ تجربہ اہم ہے جہاں بورژوا ریاست میں کمیونسٹ حکومت منتخب ہوئی تھی۔</p>
<p>کبھی کبھار بورژوا جذبہ جو کمیونزم کے لیے رکاوٹیں کھڑے کرنے کے لیے ہوتا ہے، غلط سمت میں گامزن ہوجاتا ہے۔ میری شیلی کے ناول میں وکٹر فرینکنسٹائن کی طرح جس نے غلطی سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک حیوان پیدا کردیا تھا، اسی طرح بورژوازی بھی بعض اوقات اپنے لیے مسائل پیدا کرلیتا ہے جن کی مثال نریندر مودی یا ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں کو اقتدار میں لانا ہے۔</p>
<p>اگر زہران ممدانی میئر بننے کے لیے حائل بڑے چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوپائے ہیں تو ان کی کامیابی کے ایک حصے کا سہرا دائیں بازو کے سیاستدانوں کے درمیان افراتفری کو دیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر نیتن یاہو مخالف جذبات کی اٹھتی لہر نے زہران ممدانی کے صیہونی مخالفین کے اثر و رسوخ کو کمزور کر دیا جس سے ان کے لیے کامیابی حاصل کرنا آسان ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269147'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چارلی کرک سانحے کی اہمیت دنیا ٹھیک سے نہیں سمجھ پائی ہے جس نے امریکی دائیں بازو میں شدید ہلچل مچا دی اور صہیونیت اور امریکا کے تعلقات کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ یہ دونوں گروہ زہران ممدانی کے سیاسی مخالف تھے۔</p>
<p>چارلی کرک کے قتل نے واقعات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جس نے غزہ میں تشدد کو روکا اور میک امریکا گریٹ اگین (MAGA) حلقوں سے بھی یہ ردعمل کا باعث بنا۔ یہی ردعمل نہ صرف زہران ممدانی کی انتخابی مہم میں مددگار ثابت ہوا بلکہ مختلف ریاستوں میں بیک وقت مختلف عہدوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کے حامی ڈیموکریٹک امیدواروں کی جیت کے امکانات کو بھی مستحکم کیا۔</p>
<p>وہ اسنائپر شاٹ جس میں چارلی کرک کو نشانہ بنایا گیا، اس نے صہیونی حلقے یعنی امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) کو بھی شدید نقصان پہنچایا جس کے سامنے بہت سے امریکی صدور نے قدرے جھکاؤ کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>یہ یہودی مگر صہیونی مخالف صحافی میکس بلومن تھل کی تحقیقات ہی تھیں جنہوں نے ظاہر کیا کہ چارلی کرک کے قتل سے بنیامن نیتن یاہو کو کس قدر دہشت محسوس ہوئی۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی بار دیکھا کہ کسی واقعے کے بعد نیتن یاہو فوری طور پر ٹی وی پر نمودار ہوئے ہوں لیکن چارلی کرک میں معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔</p>
<p>چارلی کرک جو اسرائیل کے سرپرست تھے لیکن تیزی سے ناقد بن رہے تھے، فوری پریس کانفرنس کرکے نیتن یاہو نے چارلی کرک کے انتقال پر تعزیت پیش کی۔ جس اداسی کے ساتھ وہ ٹی وی پر نمودار ہوئے، اسے یہ سمجھا گیا کہ جیسے وہ کہنا چاہتے تھے کہ چارلی کرک کی موت میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی افواہیں جھوٹی ہیں۔</p>
<p>فلسطینی خواتین اور بچوں کی شہادتوں نے MAGA تحریک میں لوگوں کو اپنا جائزہ لینے پر مجبور کیا کہ وہ کس مقصد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ چارلی کرک اس حوالے سے ایک مضبوط آواز بن کر اُبھر رہے تھے۔ چارلی کرک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024ء انتخابات کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور انہوں نے نیتن یاہو کی اسرائیل کو لامحدود حمایت دینے سے روکنے کے لیے امریکا پر دباؤ بڑھانے کے لیے اثر و رسوخ بھی حاصل کرلیا تھا۔</p>
<p>ان کی 32ویں سالگرہ سے چند دن قبل ہونے والی ان کی موت لازم و ملزوم طور پر اینڈریو کوومو کی سیاست کو متاثر کر گئی اور اس نے نیویارک کے رہائشی یہودیوں کو صہیونی و غیرصہیونی گروہوں میں فرق کرنے میں مدد دی۔ اس عمل سے ایک نیا درمیانی راستہ پیدا ہوا جس نے زہران ممدانی کے حق میں حمایت بڑھانے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>بعض اوقات بائیں اور دائیں بازو نے تاریخ میں ایک ساتھ کام کیا ہے پھر چاہے وہ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہ کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر وہ شاہ ایران کا تختہ الٹنے اور بعد میں 1977ء میں اندرا گاندھی کو ہٹانے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بائیں بازو کے پاس وہ خصوصی اپیل نہیں ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ایک وقت تھا جب نکیتا خروشیف، امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے ساتھ دوستی کا تصور کر سکتے تھے، خاص طور پر جب ان دونوں نے کیوبا کے میزائل بحران سے دنیا کو بچایا اور پھر ہوشیاری اور حوصلے کے ساتھ دنیا کو ایٹمی تباہی کے کنارے سے واپس لائے۔ جان کینیڈی کمیونزم سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے، امریکی سیاست میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے بھی سخت نقاد تھے اور آخرکار انہیں قتل کر دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263106/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263106"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>زہران ممدانی اکتوبر 1991ء میں پیدا ہوئے جوکہ وہی سال تھا کہ جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا۔ ان کے والد انہیں بتاتے ہوں گے کہ کیسے سوویت یونین کے زوال اور اس کے نتیجے میں ختم ہونے والی سرد جنگ کے فوراً بعد جمہوریت کو بیان کرنے کے لیے ایک نئی اصطلاح سامنے آئی جسے ‘فری مارکیٹ ڈیموکریسی’ کہا جاتا تھا۔</p>
<p>اس وقت کے آس پاس اسپین (SPAN) میگزین جو دہلی میں امریکی سفارت خانے سے شائع ہوتا تھا، چھوٹا ہوتا گیا جس کے لیے باضابطہ طور پر کہا گیا کہ کاغذ کی بچت کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ واقعی اس میگزین کے ذریعے پروپیگنڈے پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ کام باخوبی ہو چکا تھا۔</p>
<p>پروپیگنڈا ایجنسیز نے اپنے وعدے کے مطابق بہترین کارکردگی دکھائی تھی۔ میرے بھائی اور میں نے جان ایف کینیڈی کے کلاسک افتتاحی خطاب کو حفظ کیا ہوا ہے جس کے پتلے ریکارڈز، امریکی لائبریری لکھنؤ کے ذریعے تقسیم کیا گیا تھا۔</p>
<p>سیموئل بیکٹ کے ڈرامے میں گوڈو کو جان بوجھ کر مبہم کردار رکھا گیا ہے جو امید، مقصد یا اعلیٰ طاقت کی علامت کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ اس کی پہچان ناظرین پر چھوڑ دی گئی ہے۔ یہی ایک قابلِ قبول طریقہ ہوسکتا ہے جو اس مظہر کو بیان کرے جسے زہران کوامے ممدانی کہا جاتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1954425">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273566</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 15:47:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/111255261c7a932.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/111255261c7a932.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فوجی تقرریوں سے عدلیہ کی آزادی تک: ’27ویں ترمیم اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273508/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہفتے کو سینیٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا ماہرین جائزہ لیں گے اور اس پر تفصیلی تنقید کریں گے لیکن مجھ جیسے ایک عام آدمی کے لیے اس ترمیم کا مقصد چیزوں کو ویسا ہی برقرار رکھنا ہے جیسے کہ وہ پہلے تھیں اور یہ بھی لگتا ہے کہ جیسے صوبے ترمیم کے خلاف مزاحمت کرنے کا صرف ڈراما کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوچ وسیع طور پر انہیں نظریات پر مبنی ہے جن کی بنیاد پر 26ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی اور یہ 26ویں ترمیم کے عمل میں رہ جانے والی تمام خامیوں کو دور کرتی ہے۔ مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ کی مدت ختم ہوجائے جہاں کچھ ججز کو سیاسی وجوہات کی بنیاد پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جاتا تھا۔ اب عدلیہ خود کو کہیں زیادہ محدود اور پابند محسوس کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273327/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ستم ظریفی ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کرنے کا اقدام دراصل خود چند انہیں ججز کی مدد سے کیا جائے گا جنہوں نے کبھی آزاد عدلیہ کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا نظام بنایا جائے۔ (میرے ذہن میں تو پہلے ہی ایک فہرست بننے لگی ہے، مثال کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے وہ جج جو وفاقی دارالحکومت جیسے پُرسکون اور خوشگوار ماحول میں کام کرتے ہیں ان کا تبادلہ زیادہ غیر مستحکم، شورش زدہ اور کم دلکش مقامات کی طرف کیا جائے گا۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جو عدلیہ اتحاد کے دن تھے وہ اب ختم ہوچکے ہیں اور اب بس وہ ماضی کے آئینے میں ایک یاد بن کر رہ گئے ہیں۔ آج جب ہم عدلیہ کے پَر کترے جانے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں تو شاید افتخار چوہدری کے دور کی غلطیوں کا ذکر کرنا مناسب نہ لگے۔ مگر آخر کوئی اُنہیں بھلا کیسے سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ کوتاہیاں تھیں جن کا اختتام عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک ناجائز اتحاد میں ہوا جو چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور کی شناخت بنا۔ 2008ء کے انتخابات اور جمہوریت کے دوبارہ قیام کے بعد 2016ء میں وہ زوال شروع ہوا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے جبکہ سیاسی طبقے کے کچھ عناصر اس میں خوش دلی سے شریک رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ قانون کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ پہلے ہی ترمیم کے اس حصے پر بات کر رہے ہیں، اس لیے میں دیگر حصوں کی جانب توجہ دوں گا جیسے کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی جو فوجی تقرریوں کے حوالے سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 243 میں تبدیلی کے مطابق، رواں ماہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ اس عہدے کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس وقت موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز  کے نئے دوہرے عہدےکو سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات برقرار رہے گا۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو یہ عہدہ ویسے ہی تاحیات برقرار رہتا ہے، لہٰذا یہ بات محض دہرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیر اعظم کی جانب سے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کو تعینات کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273505/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا ہے لیکن ممکنہ طور پر یہ عہدہ فور اسٹار جنرل کے پاس ہوگا۔ اس سے اعلیٰ درجے کے تھری اسٹار جرنیلوں کو کچھ حاصل کرنے کی ترغیب ملے، خاص طور پر چونکہ ان کے باس کی مدتِ ملازمت 5 سال ہوتی ہے جسے وسعت دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر، یہ تمام پیش رفت موجودہ حالات کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے اور اسٹیٹس کو کو مستحکم کرنے کے بارے میں ہے۔ ان تبدیلیوں کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رواں سال مئی میں ’بھارت کے ساتھ جنگ میں فتح‘ کی وجہ سے آرٹیکل 243 کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں جدید جنگ کے تقاضوں کے بارے میں سیکھے جانے والے عملی ’اسباق‘ کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں کہ جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اصرار  ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور ابھی کے لیے صرف ‘معطل’ کیا ہے اور یہ ختم نہیں ہوا، کافی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ وفاق کی جانب سے قابلِ تقسیم فنڈ میں صوبوں کا حصہ جیسا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) میں درج ہے، میں 10 فیصد کٹوتی کی جاسکتی ہے تاکہ اضافی دفاعی ضروریات کے لیے فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی کہا گیا کہ تعلیم، آبادی و بہبود اور منصوبہ بندی کی وزارتیں جو 2010ء میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل کی گئی تھیں، بڑے بجٹ کے ساتھ عطیہ دہندگان کے تعاون سے وفاقی حکومت کو واپس مل جائیں گے۔ ان دو وزارتوں کے وفاق کے ماتحت واپس آنے اور این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کے خاتمے پر، لگتا یہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، مسلم لیگ (ن) نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ ایسے امور پر فی الحال ترمیم نہیں کی جائے گی جن پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پی پی پی نے اپنے حصے میں آئینی (ادارہ جاتی) کٹوتی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ حیرت کا باعث نہیں ہوگا اگر اضافی 500 ارب روپے جو دفاعی ضروریات کے لیے درکار ہیں، صوبوں بشمول سندھ اور بلوچستان (جہاں بھی پی پی پی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی قیادت کررہی ہے) کی طرف سے رضاکارانہ طور پر فراہم کیے جائیں خاص طور پر جب مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سلامتی کے خطرات واضح طور پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273467/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کی حکومت کے رویے کو نئے جارحانہ وزیرِ اعلیٰ کی تقرری کے بعد بیان کرنا مشکل ہے۔ اگر سندھ اور بلوچستان اپنا حصہ فراہم کرتے ہیں تو پنجاب بھی اسی راہ پر گامزن ہوگا کیونکہ وہاں تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سچ ہے کہ جمہوری قوتیں اور وہ لوگ جو عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، اس وقت مایوس ہوں گے کہ جب یہ ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گی (اور یقین رکھیں کہ یہ ضرور منظور ہوگی) لیکن یہ صورت حال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اقتدار بلآخر فوجی قوت سے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں آمرانہ دور، چند سال (1977ء) یا چند ماہ (1999ء) بڑی یا چھوٹی فوجی ناکامیوں کے بعد آئے تھے۔ اب ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی فتح کی توثیق کے بعد سے ہائبرڈ سیٹ اپ (یہ اصطلاح وزیر دفاع خواجہ آصف نے استعمال کی) کے مرکزی کردار کو زیادہ طاقت اور وسائل دینے پر زور دیا جارہا ہے اور امکان یہی ہے کہ اسے منظور کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں کی جانب سے علامتی مزاحمت کے باوجود یہی حقیقت ہے۔ اور افسوس کے ساتھ ہم میں سے بعض کے لیے یہ صورت حال مستقبل قریب تک ایسی ہی رہنے والی ہے۔ اگر کوئی ڈرامائی موڑ نہیں آتا تو کوئی تبدیلی کم از کم فی الحال ممکن نہیں اور نہ ہی مستقبل میں کوئی امید نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954042/27th-to-cement-status-quo"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہفتے کو سینیٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کا ماہرین جائزہ لیں گے اور اس پر تفصیلی تنقید کریں گے لیکن مجھ جیسے ایک عام آدمی کے لیے اس ترمیم کا مقصد چیزوں کو ویسا ہی برقرار رکھنا ہے جیسے کہ وہ پہلے تھیں اور یہ بھی لگتا ہے کہ جیسے صوبے ترمیم کے خلاف مزاحمت کرنے کا صرف ڈراما کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ سوچ وسیع طور پر انہیں نظریات پر مبنی ہے جن کی بنیاد پر 26ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی اور یہ 26ویں ترمیم کے عمل میں رہ جانے والی تمام خامیوں کو دور کرتی ہے۔ مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ کی مدت ختم ہوجائے جہاں کچھ ججز کو سیاسی وجوہات کی بنیاد پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جاتا تھا۔ اب عدلیہ خود کو کہیں زیادہ محدود اور پابند محسوس کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273327/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ ستم ظریفی ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کرنے کا اقدام دراصل خود چند انہیں ججز کی مدد سے کیا جائے گا جنہوں نے کبھی آزاد عدلیہ کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا نظام بنایا جائے۔ (میرے ذہن میں تو پہلے ہی ایک فہرست بننے لگی ہے، مثال کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے وہ جج جو وفاقی دارالحکومت جیسے پُرسکون اور خوشگوار ماحول میں کام کرتے ہیں ان کا تبادلہ زیادہ غیر مستحکم، شورش زدہ اور کم دلکش مقامات کی طرف کیا جائے گا۔)</p>
<p>سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جو عدلیہ اتحاد کے دن تھے وہ اب ختم ہوچکے ہیں اور اب بس وہ ماضی کے آئینے میں ایک یاد بن کر رہ گئے ہیں۔ آج جب ہم عدلیہ کے پَر کترے جانے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں تو شاید افتخار چوہدری کے دور کی غلطیوں کا ذکر کرنا مناسب نہ لگے۔ مگر آخر کوئی اُنہیں بھلا کیسے سکتا ہے؟</p>
<p>یہ وہ کوتاہیاں تھیں جن کا اختتام عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک ناجائز اتحاد میں ہوا جو چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور کی شناخت بنا۔ 2008ء کے انتخابات اور جمہوریت کے دوبارہ قیام کے بعد 2016ء میں وہ زوال شروع ہوا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے جبکہ سیاسی طبقے کے کچھ عناصر اس میں خوش دلی سے شریک رہے۔</p>
<p>جو لوگ قانون کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ پہلے ہی ترمیم کے اس حصے پر بات کر رہے ہیں، اس لیے میں دیگر حصوں کی جانب توجہ دوں گا جیسے کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی جو فوجی تقرریوں کے حوالے سے ہے۔</p>
<p>آرٹیکل 243 میں تبدیلی کے مطابق، رواں ماہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ اس عہدے کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس وقت موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز  کے نئے دوہرے عہدےکو سنبھالیں گے۔</p>
<p>ترمیم میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات برقرار رہے گا۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو یہ عہدہ ویسے ہی تاحیات برقرار رہتا ہے، لہٰذا یہ بات محض دہرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیر اعظم کی جانب سے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کو تعینات کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273505/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ یہ سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا ہے لیکن ممکنہ طور پر یہ عہدہ فور اسٹار جنرل کے پاس ہوگا۔ اس سے اعلیٰ درجے کے تھری اسٹار جرنیلوں کو کچھ حاصل کرنے کی ترغیب ملے، خاص طور پر چونکہ ان کے باس کی مدتِ ملازمت 5 سال ہوتی ہے جسے وسعت دی جا سکتی ہے۔</p>
<p>بنیادی طور پر، یہ تمام پیش رفت موجودہ حالات کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے اور اسٹیٹس کو کو مستحکم کرنے کے بارے میں ہے۔ ان تبدیلیوں کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رواں سال مئی میں ’بھارت کے ساتھ جنگ میں فتح‘ کی وجہ سے آرٹیکل 243 کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں جدید جنگ کے تقاضوں کے بارے میں سیکھے جانے والے عملی ’اسباق‘ کی عکاسی کرتی ہیں۔</p>
<p>اس پس منظر میں کہ جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اصرار  ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور ابھی کے لیے صرف ‘معطل’ کیا ہے اور یہ ختم نہیں ہوا، کافی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ وفاق کی جانب سے قابلِ تقسیم فنڈ میں صوبوں کا حصہ جیسا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) میں درج ہے، میں 10 فیصد کٹوتی کی جاسکتی ہے تاکہ اضافی دفاعی ضروریات کے لیے فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔</p>
<p>یہ بھی کہا گیا کہ تعلیم، آبادی و بہبود اور منصوبہ بندی کی وزارتیں جو 2010ء میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل کی گئی تھیں، بڑے بجٹ کے ساتھ عطیہ دہندگان کے تعاون سے وفاقی حکومت کو واپس مل جائیں گے۔ ان دو وزارتوں کے وفاق کے ماتحت واپس آنے اور این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کے خاتمے پر، لگتا یہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، مسلم لیگ (ن) نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ ایسے امور پر فی الحال ترمیم نہیں کی جائے گی جن پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔</p>
<p>اگرچہ پی پی پی نے اپنے حصے میں آئینی (ادارہ جاتی) کٹوتی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ حیرت کا باعث نہیں ہوگا اگر اضافی 500 ارب روپے جو دفاعی ضروریات کے لیے درکار ہیں، صوبوں بشمول سندھ اور بلوچستان (جہاں بھی پی پی پی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی قیادت کررہی ہے) کی طرف سے رضاکارانہ طور پر فراہم کیے جائیں خاص طور پر جب مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سلامتی کے خطرات واضح طور پر موجود ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273467/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیبر پختونخوا کی حکومت کے رویے کو نئے جارحانہ وزیرِ اعلیٰ کی تقرری کے بعد بیان کرنا مشکل ہے۔ اگر سندھ اور بلوچستان اپنا حصہ فراہم کرتے ہیں تو پنجاب بھی اسی راہ پر گامزن ہوگا کیونکہ وہاں تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔</p>
<p>یہ سچ ہے کہ جمہوری قوتیں اور وہ لوگ جو عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، اس وقت مایوس ہوں گے کہ جب یہ ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گی (اور یقین رکھیں کہ یہ ضرور منظور ہوگی) لیکن یہ صورت حال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اقتدار بلآخر فوجی قوت سے آتا ہے۔</p>
<p>ماضی میں آمرانہ دور، چند سال (1977ء) یا چند ماہ (1999ء) بڑی یا چھوٹی فوجی ناکامیوں کے بعد آئے تھے۔ اب ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی فتح کی توثیق کے بعد سے ہائبرڈ سیٹ اپ (یہ اصطلاح وزیر دفاع خواجہ آصف نے استعمال کی) کے مرکزی کردار کو زیادہ طاقت اور وسائل دینے پر زور دیا جارہا ہے اور امکان یہی ہے کہ اسے منظور کر دیا جائے گا۔</p>
<p>صوبوں کی جانب سے علامتی مزاحمت کے باوجود یہی حقیقت ہے۔ اور افسوس کے ساتھ ہم میں سے بعض کے لیے یہ صورت حال مستقبل قریب تک ایسی ہی رہنے والی ہے۔ اگر کوئی ڈرامائی موڑ نہیں آتا تو کوئی تبدیلی کم از کم فی الحال ممکن نہیں اور نہ ہی مستقبل میں کوئی امید نظر آتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1954042/27th-to-cement-status-quo">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273508</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 13:49:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عباس ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/10122924bb50a52.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/10122924bb50a52.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’زہران ممدانی کی جیت نے ثابت کیا کہ اسرائیل کی حمایت سے امریکی تنگ آچکے ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273415/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ فتح مکمل طور پر غیر متوقع تو نہیں تھی لیکن یہ تاریخی ضرور تھی۔ کچھ عرصے سے سروے ظاہر کر رہے تھے کہ زہران ممدانی جو جنوبی ایشیائی نژاد مسلمان تارکین وطن ہیں، نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں سبقت لیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کی جیت یقینی نہیں تھی کیونکہ ماہرین کا خیال تھا کہ عمر رسیدہ ووٹرز کی معمول سے زیادہ تعداد جو اینڈریو کومو کی حمایت کرتی تھی، نتائج کو پلٹ سکتی ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور 4 نومبر کی رات امریکا کے سب سے بڑے شہر نے پہلی مرتبہ ایک مسلمان میئر منتخب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس کے لیے خصوصاً ترقی پسند ڈیموکریٹس جنہوں نے اپنی پارٹی کی غزہ میں نسل کشی کی خاموش حمایت کی، آئس (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے چھاپوں پر بے عملی اور مہنگائی کے مسئلے پر حقیقی حل نہ دینے پر مایوسی ظاہر کی تھی، یہ فتح ایک طرح سے ان کے مؤقف کو رد کرتی ہے۔ زہران ممدانی جن کے خلاف 20 سے زائد ارب پتیوں نے لاکھوں ڈالر جھونک دیے، انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی اصل توانائی کہاں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273317/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273317"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جین زی کے ووٹر بڑی تعداد میں باہر نکلے اور زہران ممدانی کو ووٹ دیا۔ آخرکار برسوں تک ہیلری کلنٹن اور چَک شومر جیسے رہنماؤں کے پسندیدہ ’سینٹر ازم‘ کے نمائندوں کے بعد، ایک ایسا شخص سامنے آیا جو پارٹی کے عام ووٹر کی زبان بولتا تھا۔ ان کی فتح کے فرق نے یہ واضح کر دیا کہ ڈیموکریٹک قیادت کس قدر غلط فہمی میں مبتلا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل کہانی دراصل تارکین وطن اور مسلمانوں کی بھی ہے۔ نیویارک وہ شہر ہے جو 9/11 کی یاد کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ جسے ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں نے دنیا بھر میں جنگیں شروع کرنے اور ان کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یوں اسلاموفوبیا (اسلام دشمنی) کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو دہائیوں سے زائد عرصے تک 9/11 کی یاد کو نیویارک کے سیاستدانوں نے نسلی امتیاز اور مسلمانوں کے خلاف کھلے عام کارروائیوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا حتیٰ کہ ان افراد کے خلاف بھی جو صرف ’مسلمان جیسے‘ نظر آتے تھے۔ مشتبہ سیکیورٹی وجوہات اور بغیر ثبوت کے ممکنہ حملوں کے بہانے بنا کر مسلم مردوں اور عورتوں کو خوفزدہ کیا گیا۔ ایف بی آئی اور نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) کے ایجنٹس کو مساجد میں گھسنے کے لیے بھیجا گیا، مسلمانوں پر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے خلاف مخبری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کسی مسجد کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تو اسے شدید اسلام دشمنی کا سامنا کرنا پڑا، شہر کے بعض یہودی-امریکی گروہوں کی طرف سے بھی جنہوں نے 9/11 کے واقعے کو مسلمانوں کے سماجی و مذہبی اعتبار سے دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات زہران ممدانی کی جیت کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ نیویارک سٹی، اسرائیل کے باہر دنیا کا سب سے بڑا یہودی شہر ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوچتے تھے کہ غزہ میں جاری نسل کشی اور زہران ممدانی کی فلسطینیوں کے لیے کھلی حمایت کے پس منظر میں ایسی کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہودی برادری کے ایک بڑے حصے نے ان کے خلاف ووٹ دیا جیسا کہ ایگزٹ پولز کے مطابق روسی نژاد یہودی خاص طور پر زہران ممدانی کے خلاف منظم تھے لیکن قابلِ ذکر تعداد میں نوجوان امریکی یہودیوں نے ان کے حق میں ووٹ ڈالا۔ بوڑھے امریکی یہودیوں کے برعکس جن میں اکثریت صہیونی نظریات رکھتی ہے اور وہ اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی سمجھتے ہیں، نوجوان امریکی یہودی زیادہ باریک بین اور متوازن نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263106/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263106"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات یقیناً اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہوگی کیونکہ اس کی لابی ایپیک (AIPAC)  امریکا میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے امیدواروں کو ان کی حمایت کے بدلے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ نیویارک سٹی کے میئر کے انتخابی مباحثے میں، زہران ممدانی واحد امیدوار تھے جنہوں نے صاف کہا کہ انہیں جیتنے کے بعد اسرائیل کا دورہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اس کے بجائے نیویارک ہی میں رہنا پسند کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر امیدواروں نے اس مؤقف پر ان پر سخت تنقید کی مگر زہران اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور بالآخر وہی کامیاب ہوئے۔ یہ صورت حال یقیناً لابیز کے لیے پریشان کن ہے جو شاید اب سوچ رہی ہوں گی کہ کہیں امریکی سیاستدان یہ احساس تو نہیں کرنے لگے کہ عوام اپنے رہنماؤں کی اسرائیل نوازی سے تنگ آ چکے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ خود اپنے کرائے یا کھانے کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک سے باہر بھی ڈیموکریٹس نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں جسے آئندہ سال ہونے والے امریکا کے مڈٹرم انتخابات کے ایک واضح پیش منظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ووٹرز نے ری پبلکنز اور بالواسطہ طور پر ٹرمپ کے ایجنڈے کے خلاف نمایاں اکثریت سے ووٹ دیا حتیٰ کہ کمزور یا غیر متاثر کن ڈیموکریٹ امیدوار بھی جیتنے میں کامیاب رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خبر اُن تمام امریکیوں کے لیے خوش آئند ہے جو اس سال کے آغاز سے حکومت کے اندر جاری کمزوری اور انتشار کو دیکھ رہے تھے۔ عام طور پر صدور کو عوام کی ناپسندیدگی سے پہلے کچھ وقت مل جاتا ہے مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک تارکینِ وطن اور مسلمانوں کا تعلق ہے تو خوشخبری صرف نیویارک سٹی تک محدود نہیں تھی۔ ورجینیا نے بھارتی نژاد امریکی غزالہ ہاشمی کو اپنی پہلی مسلم امریکی خاتون لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اسی طرح، ڈیئر بورن (Dearborn)، مشی گن اور ڈیئر بورن ہائٹس (Dearborn Heights) کے شہروں میں بھی مسلمان میئر منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زہران ممدانی کی عمر صرف 9 سال تھی جب 9/11 کے واقعات پیش آئے۔ ان کی والدہ میرا نائر جو ایک آسکر نامزد فلم ساز ہیں اور ان کے والد محمود ممدانی جو نوآبادیاتی دور کے بعد کے مطالعے کے ممتاز ماہر ہیں، شاید کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ بچہ جو اس وقت ایک ایسے شہر میں ایک مسلمان طالبِ علم تھا جو اچانک مسلمانوں سے محتاط ہونے لگا تھا، ایک دن نیویارک کا پچھلے 100 برسوں میں سب سے کم عمر میئر بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر معجزے ہوتے ہیں اور تاریخ کی گردش یہ سکھاتی ہے کہ جسے کبھی معاشرہ ’غیر‘ یا ’اچھوت‘ سمجھتا ہے، وہی ایک دن رہنما بن کر ابھر سکتا ہے۔ زہران ممدانی کی کہانی اُن تمام لوگوں کے لیے سبق اور ترغیب ہے جنہوں نے کبھی بہتر وقت آنے کی امید چھوڑ دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953854/mad-for-mamdani"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ فتح مکمل طور پر غیر متوقع تو نہیں تھی لیکن یہ تاریخی ضرور تھی۔ کچھ عرصے سے سروے ظاہر کر رہے تھے کہ زہران ممدانی جو جنوبی ایشیائی نژاد مسلمان تارکین وطن ہیں، نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں سبقت لیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>تاہم ان کی جیت یقینی نہیں تھی کیونکہ ماہرین کا خیال تھا کہ عمر رسیدہ ووٹرز کی معمول سے زیادہ تعداد جو اینڈریو کومو کی حمایت کرتی تھی، نتائج کو پلٹ سکتی ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور 4 نومبر کی رات امریکا کے سب سے بڑے شہر نے پہلی مرتبہ ایک مسلمان میئر منتخب کیا۔</p>
<p>ڈیموکریٹس کے لیے خصوصاً ترقی پسند ڈیموکریٹس جنہوں نے اپنی پارٹی کی غزہ میں نسل کشی کی خاموش حمایت کی، آئس (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے چھاپوں پر بے عملی اور مہنگائی کے مسئلے پر حقیقی حل نہ دینے پر مایوسی ظاہر کی تھی، یہ فتح ایک طرح سے ان کے مؤقف کو رد کرتی ہے۔ زہران ممدانی جن کے خلاف 20 سے زائد ارب پتیوں نے لاکھوں ڈالر جھونک دیے، انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی اصل توانائی کہاں موجود ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273317/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273317"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جین زی کے ووٹر بڑی تعداد میں باہر نکلے اور زہران ممدانی کو ووٹ دیا۔ آخرکار برسوں تک ہیلری کلنٹن اور چَک شومر جیسے رہنماؤں کے پسندیدہ ’سینٹر ازم‘ کے نمائندوں کے بعد، ایک ایسا شخص سامنے آیا جو پارٹی کے عام ووٹر کی زبان بولتا تھا۔ ان کی فتح کے فرق نے یہ واضح کر دیا کہ ڈیموکریٹک قیادت کس قدر غلط فہمی میں مبتلا تھی۔</p>
<p>اصل کہانی دراصل تارکین وطن اور مسلمانوں کی بھی ہے۔ نیویارک وہ شہر ہے جو 9/11 کی یاد کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ جسے ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں نے دنیا بھر میں جنگیں شروع کرنے اور ان کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یوں اسلاموفوبیا (اسلام دشمنی) کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔</p>
<p>دو دہائیوں سے زائد عرصے تک 9/11 کی یاد کو نیویارک کے سیاستدانوں نے نسلی امتیاز اور مسلمانوں کے خلاف کھلے عام کارروائیوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا حتیٰ کہ ان افراد کے خلاف بھی جو صرف ’مسلمان جیسے‘ نظر آتے تھے۔ مشتبہ سیکیورٹی وجوہات اور بغیر ثبوت کے ممکنہ حملوں کے بہانے بنا کر مسلم مردوں اور عورتوں کو خوفزدہ کیا گیا۔ ایف بی آئی اور نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) کے ایجنٹس کو مساجد میں گھسنے کے لیے بھیجا گیا، مسلمانوں پر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے خلاف مخبری کریں۔</p>
<p>جب کسی مسجد کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تو اسے شدید اسلام دشمنی کا سامنا کرنا پڑا، شہر کے بعض یہودی-امریکی گروہوں کی طرف سے بھی جنہوں نے 9/11 کے واقعے کو مسلمانوں کے سماجی و مذہبی اعتبار سے دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>یہ بات زہران ممدانی کی جیت کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ نیویارک سٹی، اسرائیل کے باہر دنیا کا سب سے بڑا یہودی شہر ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوچتے تھے کہ غزہ میں جاری نسل کشی اور زہران ممدانی کی فلسطینیوں کے لیے کھلی حمایت کے پس منظر میں ایسی کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔</p>
<p>اگرچہ یہودی برادری کے ایک بڑے حصے نے ان کے خلاف ووٹ دیا جیسا کہ ایگزٹ پولز کے مطابق روسی نژاد یہودی خاص طور پر زہران ممدانی کے خلاف منظم تھے لیکن قابلِ ذکر تعداد میں نوجوان امریکی یہودیوں نے ان کے حق میں ووٹ ڈالا۔ بوڑھے امریکی یہودیوں کے برعکس جن میں اکثریت صہیونی نظریات رکھتی ہے اور وہ اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی سمجھتے ہیں، نوجوان امریکی یہودی زیادہ باریک بین اور متوازن نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263106/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263106"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ بات یقیناً اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہوگی کیونکہ اس کی لابی ایپیک (AIPAC)  امریکا میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے امیدواروں کو ان کی حمایت کے بدلے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ نیویارک سٹی کے میئر کے انتخابی مباحثے میں، زہران ممدانی واحد امیدوار تھے جنہوں نے صاف کہا کہ انہیں جیتنے کے بعد اسرائیل کا دورہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اس کے بجائے نیویارک ہی میں رہنا پسند کریں گے۔</p>
<p>دیگر امیدواروں نے اس مؤقف پر ان پر سخت تنقید کی مگر زہران اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور بالآخر وہی کامیاب ہوئے۔ یہ صورت حال یقیناً لابیز کے لیے پریشان کن ہے جو شاید اب سوچ رہی ہوں گی کہ کہیں امریکی سیاستدان یہ احساس تو نہیں کرنے لگے کہ عوام اپنے رہنماؤں کی اسرائیل نوازی سے تنگ آ چکے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ خود اپنے کرائے یا کھانے کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔</p>
<p>نیویارک سے باہر بھی ڈیموکریٹس نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں جسے آئندہ سال ہونے والے امریکا کے مڈٹرم انتخابات کے ایک واضح پیش منظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ووٹرز نے ری پبلکنز اور بالواسطہ طور پر ٹرمپ کے ایجنڈے کے خلاف نمایاں اکثریت سے ووٹ دیا حتیٰ کہ کمزور یا غیر متاثر کن ڈیموکریٹ امیدوار بھی جیتنے میں کامیاب رہے۔</p>
<p>یہ خبر اُن تمام امریکیوں کے لیے خوش آئند ہے جو اس سال کے آغاز سے حکومت کے اندر جاری کمزوری اور انتشار کو دیکھ رہے تھے۔ عام طور پر صدور کو عوام کی ناپسندیدگی سے پہلے کچھ وقت مل جاتا ہے مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔</p>
<p>جہاں تک تارکینِ وطن اور مسلمانوں کا تعلق ہے تو خوشخبری صرف نیویارک سٹی تک محدود نہیں تھی۔ ورجینیا نے بھارتی نژاد امریکی غزالہ ہاشمی کو اپنی پہلی مسلم امریکی خاتون لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اسی طرح، ڈیئر بورن (Dearborn)، مشی گن اور ڈیئر بورن ہائٹس (Dearborn Heights) کے شہروں میں بھی مسلمان میئر منتخب ہوئے۔</p>
<p>زہران ممدانی کی عمر صرف 9 سال تھی جب 9/11 کے واقعات پیش آئے۔ ان کی والدہ میرا نائر جو ایک آسکر نامزد فلم ساز ہیں اور ان کے والد محمود ممدانی جو نوآبادیاتی دور کے بعد کے مطالعے کے ممتاز ماہر ہیں، شاید کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ بچہ جو اس وقت ایک ایسے شہر میں ایک مسلمان طالبِ علم تھا جو اچانک مسلمانوں سے محتاط ہونے لگا تھا، ایک دن نیویارک کا پچھلے 100 برسوں میں سب سے کم عمر میئر بن جائے گا۔</p>
<p>مگر معجزے ہوتے ہیں اور تاریخ کی گردش یہ سکھاتی ہے کہ جسے کبھی معاشرہ ’غیر‘ یا ’اچھوت‘ سمجھتا ہے، وہی ایک دن رہنما بن کر ابھر سکتا ہے۔ زہران ممدانی کی کہانی اُن تمام لوگوں کے لیے سبق اور ترغیب ہے جنہوں نے کبھی بہتر وقت آنے کی امید چھوڑ دی تھی۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953854/mad-for-mamdani">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273415</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Nov 2025 13:43:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رافعہ ذکریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/08104603b45131e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/08104603b45131e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مجوزہ 27ویں ترمیم: ’یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر کرنا ہوگا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273327/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلآخر پینڈورا باکس کھل چکا ہے۔ 27ویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں گزشتہ کئی ماہ سے گردش میں تھیں۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں آئین میں مجوزہ ترمیم کے وسیع فریم ورک کا ذکر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز میں آئین میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا تصور کیا گیا ہے اور اس کا ایک حصہ عدلیہ کی آزادی کو مزید محدود کرنے اور قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی شیئر کے تحفظ کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273313/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن شاید اس تجویز میں سب سے دلچسپ شق آرٹیکل 243 میں تبدیلی ہے جو مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری اور خدمات کے ڈھانچے سے متعلق معاملات کے حوالے سے ہے۔ ترامیم کے بارے میں کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں لیکن کچھ وسیع خاکے ہیں جن پر مبینہ طور پر وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوری صورت حال کی رازداری سے لگتا ہے کہ اس معاملے کی بازگشت بند دروازوں کے پیچھے کئی ماہ سے جاری ہے اور اس امر نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ قانون ساز حتیٰ کہ کابینہ کے وزرا بھی ایسی اہم ترمیم کے بارے میں مکمل طور پر اندھیرے میں دکھائی دیتے ہیں جسے پارلیمنٹ میں ابھی پیش کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان قیاس آرائیوں میں کچھ سچائی نظر آتی ہے کہ مسودہ کہیں اور سے آیا ہے جیسا کہ 26ویں ترمیم کے معاملے میں کہا جارہا تھا جسے گزشتہ سال پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیا گیا تھا۔ ہائبرڈ حکمرانی کی پریشان کُن حقیقت یہی ہے۔ ملک کے سیاسی طاقت کے ڈھانچے اور وفاق کے انتہائی حساس آئینی معاملے سے بھی پارلیمنٹ اور کابینہ غیر متعلقہ ہوچکے ہیں۔ آئین میں اس طرح کی بڑی تبدیلیوں کے پیچھے جو مقصد ہے، اس کے بارے میں بھی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی درست ہے کہ آئین کوئی مقدس دستاویز نہیں ہے جسے بدلتے ہوئے ملک و حالات اور وفاق کو درپیش چیلنجز کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کوئی بھی تبدیلی جو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہو جیسے لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور حکومتی اداروں کے درمیان طاقت کے منصفانہ توازن میں تبدیلی، آمریت کا باعث بن سکتی ہے اور ملک کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت اور وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے صرف جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل ہے۔ لیکن جس خفیہ طریقے سے ترامیم تیار کی جا رہی ہیں، اس سے وہ بنیادی جمہوری تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ مجوزہ ترمیم کو منظور کرنے سے پہلے اس پر عوامی سطح پر اور پارلیمنٹ دونوں میں وسیع بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ حکومت اپنے مشکوک عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اس ضروری جمہوری عمل سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا مسودہ تیار کرنے میں مخلوط حکومت کا کتنا کردار ہے کیونکہ کابینہ کے بعض اراکین بھی نجی طور پر ایسے معاملات میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273162/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن وہ خود کو مکمل طور پر ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتے۔ وہ ملک میں جمہوری عمل کو کمزور کرنے میں برابر کے مجرم ہیں۔ جس طرح سے 26ویں ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا وہ آئین کو مسخ کرنے میں ان کے تعاون کا منہ بولتا ثبوت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ مجوزہ ترمیم کا مکمل متن دستیاب نہیں ہے، اس لیے صرف ان نکات کا جائزہ ہی لیا جاسکتا ہے جن پر پی پی پی چیئرمین نے روشنی ڈالی ہے اور بعد میں وزیر مملکت برائے قانون نے سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق بھی کی۔ تجویز کی اہم ترین شقوں میں سے ایک الگ آئینی عدالت کا قیام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ترمیم کو بعض مبصرین نے متنازعہ 26ویں ترمیم کی توسیع کے طور پر بیان کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ نئی ترمیم اعلیٰ عدلیہ کو مکمل طور پر ایگزیکٹو کے ماتحت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تجویز اس وقت پیش کی گئی ہے کہ جب 26ویں ترمیم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیرِ سماعت ہے جوکہ خود متنازعہ قانون سازی کی پیداوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ آئینی عدالت، آئینی معاملات پر عدالت عظمیٰ کے جو بھی اختیارات باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی چھین لے گی۔ یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ مجوزہ آئینی عدالت کے منتخب ججز سے بھرے ہونے کا کافی امکان ہے جیسا کہ ہم نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے آئینی بینچ کے لیے ججز کی تقرری کے معاملے میں دیکھا ہے جس پر حکمران اتحاد سے وابستہ اراکین کا غلبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن شاید سب سے زیادہ متنازع تجویز ہائی کورٹ کے ججز کے دیگر علاقائی عدالتوں میں تبادلے کا بندوبست ہے۔ اس سے ہائی کورٹ کے ججز کی پوزیشن نچلی عدالت کے ججز یا سرکاری ملازم تک محدود ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح دیگر عدالتوں کے ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں لایا جاتا ہے اور جو اپنی اصل عدالت میں سنیارٹی لسٹ میں نچلے درجوں میں ہوتے ہیں، انہیں چیف جسٹس بنا دیا جاتا ہے۔ مجوزہ ترمیم ایگزیکٹیو کو ان ججز کو سزا دینے کی اجازت دے گی جو ایگزیکٹو اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273098/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273098"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی سربراہان کی تقرری اور خدمات میں توسیع سے متعلق مجوزہ ترمیم کو جواز بناتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون نے مبینہ طور پر اشارہ کیا ہے کہ یہ ضروری تھا کیونکہ 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد پہلی بار کسی افسر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ آرمی چیف کے مزید اختیارات کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کو مالی وسائل کی تقسیم میں مجوزہ تبدیلیاں ایک انتہائی بڑے مسئلے کو جنم دے گی۔ مبینہ طور پر سندھ میں پی پی پی کے ایک عہدیدار کے بیان نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ سوال بھی ہے کہ کیا دوسرے صوبے اس تبدیلی کو قبول کریں گے۔ ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے وفاقی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے سے انکار اور حزب اختلاف کے متعدد قانون سازوں کی نااہلی کے بعد حکمران اتحاد کے پاس اب دونوں ایوانوں میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت ہے تو ایسے میں حکومت کے لیے ایک اور ترمیم کو ’بلڈوز‘ کرنا یا بغیر بحث کے منظور کروانا مشکل نہیں ہوگا۔ لیکن ایسا فیصلہ ملک اور ایک جمہوری قوم کے مستقبل کی قیمت پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953270/a-contentious-amendment"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلآخر پینڈورا باکس کھل چکا ہے۔ 27ویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں گزشتہ کئی ماہ سے گردش میں تھیں۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں آئین میں مجوزہ ترمیم کے وسیع فریم ورک کا ذکر کیا ہے۔</p>
<p>اس تجویز میں آئین میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا تصور کیا گیا ہے اور اس کا ایک حصہ عدلیہ کی آزادی کو مزید محدود کرنے اور قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی شیئر کے تحفظ کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273313/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لیکن شاید اس تجویز میں سب سے دلچسپ شق آرٹیکل 243 میں تبدیلی ہے جو مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری اور خدمات کے ڈھانچے سے متعلق معاملات کے حوالے سے ہے۔ ترامیم کے بارے میں کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں لیکن کچھ وسیع خاکے ہیں جن پر مبینہ طور پر وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس پوری صورت حال کی رازداری سے لگتا ہے کہ اس معاملے کی بازگشت بند دروازوں کے پیچھے کئی ماہ سے جاری ہے اور اس امر نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ قانون ساز حتیٰ کہ کابینہ کے وزرا بھی ایسی اہم ترمیم کے بارے میں مکمل طور پر اندھیرے میں دکھائی دیتے ہیں جسے پارلیمنٹ میں ابھی پیش کیا جانا ہے۔</p>
<p>ان قیاس آرائیوں میں کچھ سچائی نظر آتی ہے کہ مسودہ کہیں اور سے آیا ہے جیسا کہ 26ویں ترمیم کے معاملے میں کہا جارہا تھا جسے گزشتہ سال پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیا گیا تھا۔ ہائبرڈ حکمرانی کی پریشان کُن حقیقت یہی ہے۔ ملک کے سیاسی طاقت کے ڈھانچے اور وفاق کے انتہائی حساس آئینی معاملے سے بھی پارلیمنٹ اور کابینہ غیر متعلقہ ہوچکے ہیں۔ آئین میں اس طرح کی بڑی تبدیلیوں کے پیچھے جو مقصد ہے، اس کے بارے میں بھی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی درست ہے کہ آئین کوئی مقدس دستاویز نہیں ہے جسے بدلتے ہوئے ملک و حالات اور وفاق کو درپیش چیلنجز کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کوئی بھی تبدیلی جو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہو جیسے لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور حکومتی اداروں کے درمیان طاقت کے منصفانہ توازن میں تبدیلی، آمریت کا باعث بن سکتی ہے اور ملک کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p>اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت اور وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے صرف جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل ہے۔ لیکن جس خفیہ طریقے سے ترامیم تیار کی جا رہی ہیں، اس سے وہ بنیادی جمہوری تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ مجوزہ ترمیم کو منظور کرنے سے پہلے اس پر عوامی سطح پر اور پارلیمنٹ دونوں میں وسیع بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔</p>
<p>لیکن اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ حکومت اپنے مشکوک عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اس ضروری جمہوری عمل سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا مسودہ تیار کرنے میں مخلوط حکومت کا کتنا کردار ہے کیونکہ کابینہ کے بعض اراکین بھی نجی طور پر ایسے معاملات میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273162/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لیکن وہ خود کو مکمل طور پر ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتے۔ وہ ملک میں جمہوری عمل کو کمزور کرنے میں برابر کے مجرم ہیں۔ جس طرح سے 26ویں ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا وہ آئین کو مسخ کرنے میں ان کے تعاون کا منہ بولتا ثبوت تھا۔</p>
<p>چونکہ مجوزہ ترمیم کا مکمل متن دستیاب نہیں ہے، اس لیے صرف ان نکات کا جائزہ ہی لیا جاسکتا ہے جن پر پی پی پی چیئرمین نے روشنی ڈالی ہے اور بعد میں وزیر مملکت برائے قانون نے سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق بھی کی۔ تجویز کی اہم ترین شقوں میں سے ایک الگ آئینی عدالت کا قیام ہے۔</p>
<p>مجوزہ ترمیم کو بعض مبصرین نے متنازعہ 26ویں ترمیم کی توسیع کے طور پر بیان کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ نئی ترمیم اعلیٰ عدلیہ کو مکمل طور پر ایگزیکٹو کے ماتحت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تجویز اس وقت پیش کی گئی ہے کہ جب 26ویں ترمیم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیرِ سماعت ہے جوکہ خود متنازعہ قانون سازی کی پیداوار ہے۔</p>
<p>ایک علیحدہ آئینی عدالت، آئینی معاملات پر عدالت عظمیٰ کے جو بھی اختیارات باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی چھین لے گی۔ یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ مجوزہ آئینی عدالت کے منتخب ججز سے بھرے ہونے کا کافی امکان ہے جیسا کہ ہم نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے آئینی بینچ کے لیے ججز کی تقرری کے معاملے میں دیکھا ہے جس پر حکمران اتحاد سے وابستہ اراکین کا غلبہ ہے۔</p>
<p>لیکن شاید سب سے زیادہ متنازع تجویز ہائی کورٹ کے ججز کے دیگر علاقائی عدالتوں میں تبادلے کا بندوبست ہے۔ اس سے ہائی کورٹ کے ججز کی پوزیشن نچلی عدالت کے ججز یا سرکاری ملازم تک محدود ہو جائے گی۔</p>
<p>ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح دیگر عدالتوں کے ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں لایا جاتا ہے اور جو اپنی اصل عدالت میں سنیارٹی لسٹ میں نچلے درجوں میں ہوتے ہیں، انہیں چیف جسٹس بنا دیا جاتا ہے۔ مجوزہ ترمیم ایگزیکٹیو کو ان ججز کو سزا دینے کی اجازت دے گی جو ایگزیکٹو اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273098/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273098"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فوجی سربراہان کی تقرری اور خدمات میں توسیع سے متعلق مجوزہ ترمیم کو جواز بناتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون نے مبینہ طور پر اشارہ کیا ہے کہ یہ ضروری تھا کیونکہ 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد پہلی بار کسی افسر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ آرمی چیف کے مزید اختیارات کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔</p>
<p>قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کو مالی وسائل کی تقسیم میں مجوزہ تبدیلیاں ایک انتہائی بڑے مسئلے کو جنم دے گی۔ مبینہ طور پر سندھ میں پی پی پی کے ایک عہدیدار کے بیان نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ سوال بھی ہے کہ کیا دوسرے صوبے اس تبدیلی کو قبول کریں گے۔ ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے وفاقی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے سے انکار اور حزب اختلاف کے متعدد قانون سازوں کی نااہلی کے بعد حکمران اتحاد کے پاس اب دونوں ایوانوں میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت ہے تو ایسے میں حکومت کے لیے ایک اور ترمیم کو ’بلڈوز‘ کرنا یا بغیر بحث کے منظور کروانا مشکل نہیں ہوگا۔ لیکن ایسا فیصلہ ملک اور ایک جمہوری قوم کے مستقبل کی قیمت پر ہوگا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953270/a-contentious-amendment">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273327</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 14:49:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/061223395763e2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/061223395763e2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
