<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Editorial</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 08:07:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 08:07:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: پاکستان میں دہشت گردی ’معمول‘ بن جانے کا خطرہ!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275016/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں تشدد اب معمول بنتا جارہا ہے۔ 2025 میں سکیورٹی صورتحال نہایت ابتر رہی۔  پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی  ’پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025‘ کے مطابق ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 366 افراد زخمی ہوئے جو ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر تنازعات سے جڑے  پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں، بڑھ کر 11 سو 24 تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ان واقعات کو اب محض وقتی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور جس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ دہشت گردی کا ہدف کون بن رہا ہے۔ اب شہید ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ پولیس اسٹیشنز، سکیورٹی قافلے اور چیک پوسٹس پر بار بار حملے ہو رہے ہیں جبکہ فوجی یونٹس بھی نشانہ بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی توجہ ریاست کو تھکانے، اس کی افواج کو منتشر کرنے اور حوصلے پست کرنے پر مرکوز ہے۔ کچھ برسوں کے سکون کے بعد خودکش حملوں کی واپسی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح کے حملوں کے لیے منصوبہ بندی، وسائل اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے جو دہشت گردوں کی مایوسی کے بجائے ان کے دوبارہ منظم ہونے کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد جغرافیائی طور پر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوز ہے۔ تقریباً تمام دہشت گردانہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں شدت پسندوں نے اپنی حکمت عملی کو محض ’ہٹ اینڈ رن‘ (حملہ کرو اور بھاگ جاؤ) تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اب اس میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، اغوا اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی مغربی پٹی سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے بڑی فالٹ لائن بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست نے اس کا جواب طاقت سے دیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی، جن میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن عسکری کارروائیوں  پر یہ شدید انحصار ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، سیکڑوں آپریشنز کے باوجود حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشدد کا بڑا حصہ مذہبی طور پر متحرک دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے ہے، جس نے اپنی طاقت دوبارہ بحال کر لی ہے۔ دہشت گرد تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں؛ وہ بہتر ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اکثر مقامی شکایات، کمزور طرزِ حکمرانی اور انٹیلی جنس ہم آہنگی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف، ریاست محض ردِعمل کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کو ’نیا معمول‘ تسلیم کر لینا خطرناک ہوگا۔ اگرچہ عام شہریوں کی اموات میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن ریاست کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک سبق ہونا چاہیے۔ ایسی سیکورٹی پالیسی جو محض چھاپوں اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہو، مستقل امن فراہم نہیں کر سکتی،خاص طور پر جب تک نظریاتی انتہا پسندی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل حل نہ کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دائرے کو توڑنے کے لیے محض فوجی طاقت سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ سیاسی بصیرت، متاثرہ علاقوں میں سول گورننس اور سنجیدہ علاقائی روابط اب محض اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔ اسی طرح پولیس اصلاحات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عدالتی کارروائی کی تکمیل ضروری ہے۔ ان اقدامات کے بغیر ملک مستقل عدم تحفظ کی دلدل میں دھنسنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں تشدد اب معمول بنتا جارہا ہے۔ 2025 میں سکیورٹی صورتحال نہایت ابتر رہی۔  پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی  ’پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025‘ کے مطابق ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 366 افراد زخمی ہوئے جو ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر تنازعات سے جڑے  پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں، بڑھ کر 11 سو 24 تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ان واقعات کو اب محض وقتی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور جس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ دہشت گردی کا ہدف کون بن رہا ہے۔ اب شہید ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ پولیس اسٹیشنز، سکیورٹی قافلے اور چیک پوسٹس پر بار بار حملے ہو رہے ہیں جبکہ فوجی یونٹس بھی نشانہ بنے ہیں۔</p>
<p>ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی توجہ ریاست کو تھکانے، اس کی افواج کو منتشر کرنے اور حوصلے پست کرنے پر مرکوز ہے۔ کچھ برسوں کے سکون کے بعد خودکش حملوں کی واپسی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح کے حملوں کے لیے منصوبہ بندی، وسائل اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے جو دہشت گردوں کی مایوسی کے بجائے ان کے دوبارہ منظم ہونے کی علامت ہے۔</p>
<p>تشدد جغرافیائی طور پر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوز ہے۔ تقریباً تمام دہشت گردانہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔</p>
<p>بلوچستان میں شدت پسندوں نے اپنی حکمت عملی کو محض ’ہٹ اینڈ رن‘ (حملہ کرو اور بھاگ جاؤ) تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اب اس میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، اغوا اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی مغربی پٹی سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے بڑی فالٹ لائن بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>ریاست نے اس کا جواب طاقت سے دیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی، جن میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن عسکری کارروائیوں  پر یہ شدید انحصار ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، سیکڑوں آپریشنز کے باوجود حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اس تشدد کا بڑا حصہ مذہبی طور پر متحرک دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے ہے، جس نے اپنی طاقت دوبارہ بحال کر لی ہے۔ دہشت گرد تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں؛ وہ بہتر ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اکثر مقامی شکایات، کمزور طرزِ حکمرانی اور انٹیلی جنس ہم آہنگی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف، ریاست محض ردِعمل کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔</p>
<p>اس صورتحال کو ’نیا معمول‘ تسلیم کر لینا خطرناک ہوگا۔ اگرچہ عام شہریوں کی اموات میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن ریاست کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک سبق ہونا چاہیے۔ ایسی سیکورٹی پالیسی جو محض چھاپوں اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہو، مستقل امن فراہم نہیں کر سکتی،خاص طور پر جب تک نظریاتی انتہا پسندی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل حل نہ کیے جائیں۔</p>
<p>اس دائرے کو توڑنے کے لیے محض فوجی طاقت سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ سیاسی بصیرت، متاثرہ علاقوں میں سول گورننس اور سنجیدہ علاقائی روابط اب محض اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔ اسی طرح پولیس اصلاحات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عدالتی کارروائی کی تکمیل ضروری ہے۔ ان اقدامات کے بغیر ملک مستقل عدم تحفظ کی دلدل میں دھنسنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275016</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:39:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0513390342228d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0513390342228d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: صحافیوں، بلاگرز کو عمر قید، ریاست کا اقدام زیادہ سخت نہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275008/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار پر بلاگرز اور صحافیوں کو دی جانے والی عمر قید کی سزائیں سزا اور جرم کے تناسب، شفاف عدالتی عمل اور پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے مستقبل سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاشبہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والا تشدد، جس میں فوجی اور ریاستی تنصیبات پر حملے شامل تھے، کئی ریڈ لائنز کو عبور کرگیا۔ اسی طرح اس دوران گردش کرنے والا بہت سا ڈیجیٹل تبصرہ حد سے بڑھا ہوا، قیاس آرائی پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور بعض صورتوں میں حقائق کے منافی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سزا پانے والوں میں سے کچھ کی تنقید اگرچہ قابلِ قبول حدود سے باہر نہیں گئی، تاہم دیگر افراد نے سنسنی خیزی، آدھے سچ اور جارحانہ لہجے کے ذریعے اپنی آڈیئنس کو مشتعل کیا، جس سے رائے اور اشتعال انگیزی کے درمیان لکیر دھندلا گئی۔ اس رویے پر تنقید کرنی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بحران کے وقت غلط معلومات پھیلانے یا جذبات بھڑکانے کا لائسنس نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلو بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان میں سے کئی آوازیں پی ٹی آئی کے عروج کے دور میں اس کی نمایاں حامی تھیں اور اس وقت انہوں نے نواز شریف اور ان کی جماعت سمیت سیاسی مخالفین پر سخت حملے کیے، مگر انہیں ریاست کی جانب سے اسی نوعیت کی قانونی جانچ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ احتساب کی یہ انتخابی نوعیت ریاستی اقدام کی اخلاقی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔ تاہم ان حقائق کا اعتراف بھی ان سزاؤں کو کم تشویشناک نہیں بناتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر حاضری میں ہونے والی سماعتوں اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے وسیع دائرۂ اختیار کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کو عمر قید دینا مبینہ طور پر اظہار اور تبصرے جیسے جرائم کے مقابلے میں غیر متناسب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی طور پر زیادہ نپی تلی راہیں موجود تھیں۔ جہاں مواد ہتک آمیز، ثابت شدہ طور پر غلط یا بدنیتی پر مبنی تھا، وہاں دیوانی ہتکِ عزت کے مقدمات یا محدود فوجداری دفعات کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا تھا، بغیر اس کے کہ ریاست کے سخت ترین ہتھیار استعمال کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سخت ترین راستہ اختیار کر کے حکام ایک ایسی مثال قائم کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جو متعلقہ افراد سے کہیں آگے بڑھ کر جائز صحافت اور اختلافِ رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام منصفانہ رہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو غیر ذمہ دارانہ باتوں اور اظہارِ رائے کا مقابلہ حد سے زیادہ سخت سزائیں دیے بغیر بھی کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداریہ کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965026/extreme-move"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار پر بلاگرز اور صحافیوں کو دی جانے والی عمر قید کی سزائیں سزا اور جرم کے تناسب، شفاف عدالتی عمل اور پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے مستقبل سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہیں۔</p>
<p>بلاشبہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والا تشدد، جس میں فوجی اور ریاستی تنصیبات پر حملے شامل تھے، کئی ریڈ لائنز کو عبور کرگیا۔ اسی طرح اس دوران گردش کرنے والا بہت سا ڈیجیٹل تبصرہ حد سے بڑھا ہوا، قیاس آرائی پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور بعض صورتوں میں حقائق کے منافی تھا۔</p>
<p>سزا پانے والوں میں سے کچھ کی تنقید اگرچہ قابلِ قبول حدود سے باہر نہیں گئی، تاہم دیگر افراد نے سنسنی خیزی، آدھے سچ اور جارحانہ لہجے کے ذریعے اپنی آڈیئنس کو مشتعل کیا، جس سے رائے اور اشتعال انگیزی کے درمیان لکیر دھندلا گئی۔ اس رویے پر تنقید کرنی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بحران کے وقت غلط معلومات پھیلانے یا جذبات بھڑکانے کا لائسنس نہیں دیتی۔</p>
<p>یہ پہلو بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان میں سے کئی آوازیں پی ٹی آئی کے عروج کے دور میں اس کی نمایاں حامی تھیں اور اس وقت انہوں نے نواز شریف اور ان کی جماعت سمیت سیاسی مخالفین پر سخت حملے کیے، مگر انہیں ریاست کی جانب سے اسی نوعیت کی قانونی جانچ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ احتساب کی یہ انتخابی نوعیت ریاستی اقدام کی اخلاقی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔ تاہم ان حقائق کا اعتراف بھی ان سزاؤں کو کم تشویشناک نہیں بناتا۔</p>
<p>غیر حاضری میں ہونے والی سماعتوں اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے وسیع دائرۂ اختیار کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کو عمر قید دینا مبینہ طور پر اظہار اور تبصرے جیسے جرائم کے مقابلے میں غیر متناسب ہے۔</p>
<p>قانونی طور پر زیادہ نپی تلی راہیں موجود تھیں۔ جہاں مواد ہتک آمیز، ثابت شدہ طور پر غلط یا بدنیتی پر مبنی تھا، وہاں دیوانی ہتکِ عزت کے مقدمات یا محدود فوجداری دفعات کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا تھا، بغیر اس کے کہ ریاست کے سخت ترین ہتھیار استعمال کیے جاتے۔</p>
<p>سخت ترین راستہ اختیار کر کے حکام ایک ایسی مثال قائم کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جو متعلقہ افراد سے کہیں آگے بڑھ کر جائز صحافت اور اختلافِ رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام منصفانہ رہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو غیر ذمہ دارانہ باتوں اور اظہارِ رائے کا مقابلہ حد سے زیادہ سخت سزائیں دیے بغیر بھی کر سکے۔</p>
<p>اداریہ کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1965026/extreme-move"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275008</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 16:18:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0416171814d5255.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0416171814d5255.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’سیاسی بحران کا واحد راستہ سنجیدہ مکالمہ اور باہمی لچک ’</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274998/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں جب یہ کہا کہ اگر پانچ فریق مشترکہ نکات پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کے طویل سیاسی بحران کا حل نکل سکتا ہے، تو وہ حقیقت سے زیادہ دور نہیں تھے۔ انہوں نے اس امکان کو حقیقت بنانے کے لیے بعض اعتماد سازی کے اقدامات کا بھی مشورہ دیا، جن میں یہ بات شامل تھی کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جاری ان مہمات اور اکاؤنٹس سے خود کو الگ کرے جو مسلح افواج اور ان کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان کو ایک مثبت اشارہ سمجھا جانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر کی جانب سے آنے والی جوابی تجویز کو۔ بظاہر رانا ثنااللہ کے بیان کے ردعمل میں ملک عامر ڈوگر نے تجویز دی کہ حکومت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور قید میں موجود پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے درمیان ملاقات کا انتظام کرے۔ ان کے بقول امید ہے کہ اس سے کوئی راستہ نکل آئے گا۔ ماضی میں رکھی جانے والی سخت پیشگی شرائط کے برعکس، یہ تجاویز زیادہ حقیقت پسندانہ محسوس ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ مکالمے کے لیے دوسرا فریق اپنی شرائط میں کہاں تک لچک دکھانے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک طویل عرصے تک ایک سخت اور نقصان دہ بیانیاتی جنگ لڑی ہے، جنہیں وہ اپنی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ اس وقت اس سے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ان محاذ آرائیوں کو مزید نہ بڑھائے جنہیں وہ خود پروان چڑھاتی رہی ہے اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرے۔ یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخالف سیاسی قوتیں اب بھی جماعت، اس کی قیادت اور کارکنوں کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پی ٹی آئی کو یہ مطالبہ معقول محسوس ہونا چاہیے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ معمولاتِ زندگی کی بحالی کا امکان بھی جڑا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ کوئی غیر معمولی نہیں۔ جماعت صرف یہ چاہتی ہے کہ دو سینئر سیاست دانوں کو، جو پہلے ہی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ ان سے بات چیت کر سکیں اور ممکنہ طور پر انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طویل عرصے بعد پہلی بار حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ممکنہ راستہ سامنے آیا ہے۔ انہیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مکالمہ شروع ہوا تو یہ تمام فریقین کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ ماضی میں بے شمار غلطیاں ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود ضروری ہے کہ دونوں جانب کے سیاست دان سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کوشش کریں۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر سیاسی مفاہمت نہ ہو سکی تو اس بات کا واضح خطرہ موجود ہے کہ ملک ایک ایسے منفی دائرے میں داخل ہو جائے جو آخرکار بدامنی اور شدید معاشی بدحالی پر منتج ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ کروڑوں عوام کو بھگتنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض استحکام اس حجم اور صلاحیت والے ملک کے لیے کافی نہیں۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اسی سرزمین پر خوشحالی اور سکون کے ساتھ زندگی گزاریں جسے وہ اپنا وطن کہتے ہیں۔ ملک کی قیادت کو عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ اس کے سوا ہر چیز غیر اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اداریہ کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1964813"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں جب یہ کہا کہ اگر پانچ فریق مشترکہ نکات پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کے طویل سیاسی بحران کا حل نکل سکتا ہے، تو وہ حقیقت سے زیادہ دور نہیں تھے۔ انہوں نے اس امکان کو حقیقت بنانے کے لیے بعض اعتماد سازی کے اقدامات کا بھی مشورہ دیا، جن میں یہ بات شامل تھی کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جاری ان مہمات اور اکاؤنٹس سے خود کو الگ کرے جو مسلح افواج اور ان کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں۔</p>
<p>اس بیان کو ایک مثبت اشارہ سمجھا جانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر کی جانب سے آنے والی جوابی تجویز کو۔ بظاہر رانا ثنااللہ کے بیان کے ردعمل میں ملک عامر ڈوگر نے تجویز دی کہ حکومت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور قید میں موجود پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے درمیان ملاقات کا انتظام کرے۔ ان کے بقول امید ہے کہ اس سے کوئی راستہ نکل آئے گا۔ ماضی میں رکھی جانے والی سخت پیشگی شرائط کے برعکس، یہ تجاویز زیادہ حقیقت پسندانہ محسوس ہوتی ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ مکالمے کے لیے دوسرا فریق اپنی شرائط میں کہاں تک لچک دکھانے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک طویل عرصے تک ایک سخت اور نقصان دہ بیانیاتی جنگ لڑی ہے، جنہیں وہ اپنی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ اس وقت اس سے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ان محاذ آرائیوں کو مزید نہ بڑھائے جنہیں وہ خود پروان چڑھاتی رہی ہے اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرے۔ یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخالف سیاسی قوتیں اب بھی جماعت، اس کی قیادت اور کارکنوں کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پی ٹی آئی کو یہ مطالبہ معقول محسوس ہونا چاہیے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ معمولاتِ زندگی کی بحالی کا امکان بھی جڑا ہو۔</p>
<p>دوسری جانب حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ کوئی غیر معمولی نہیں۔ جماعت صرف یہ چاہتی ہے کہ دو سینئر سیاست دانوں کو، جو پہلے ہی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ ان سے بات چیت کر سکیں اور ممکنہ طور پر انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طویل عرصے بعد پہلی بار حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ممکنہ راستہ سامنے آیا ہے۔ انہیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مکالمہ شروع ہوا تو یہ تمام فریقین کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ ماضی میں بے شمار غلطیاں ہو چکی ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود ضروری ہے کہ دونوں جانب کے سیاست دان سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کوشش کریں۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر سیاسی مفاہمت نہ ہو سکی تو اس بات کا واضح خطرہ موجود ہے کہ ملک ایک ایسے منفی دائرے میں داخل ہو جائے جو آخرکار بدامنی اور شدید معاشی بدحالی پر منتج ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ کروڑوں عوام کو بھگتنا پڑے گا۔</p>
<p>محض استحکام اس حجم اور صلاحیت والے ملک کے لیے کافی نہیں۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اسی سرزمین پر خوشحالی اور سکون کے ساتھ زندگی گزاریں جسے وہ اپنا وطن کہتے ہیں۔ ملک کی قیادت کو عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ اس کے سوا ہر چیز غیر اہم ہے۔</p>
<hr />
<p>اداریہ کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1964813"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274998</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 17:32:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/03173112da5e571.webp" type="image/webp" medium="image" height="309" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/03173112da5e571.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ریاستی جبر اور بڑھتا ہوا سیاسی بحران</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274860/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں ہفتے اڈیالہ جیل جہاں سابق وزیراعظم عمران خان قید ہیں، کے باہر مظاہرین کے خلاف کیا گیا طاقت کا استعمال ایک مانوس طرزِ عمل کا حصہ ہے، ریاستی حکام نے عدالتی احکامات اور شہری حقوق کو نظر انداز کیا اور ایک پُرامن احتجاج کو منتشر کر دیا حالانکہ وہ باآسانی مظاہرین سے یا کم از کم عمران خان کے اہلِ خانہ سے بات چیت کر سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انصاف کی امیدیں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب نظامِ انصاف خود شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دوسری جانب سیاسی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث ملک پر چھایا مستقل بحران اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک طور پر سماجی معاہدے میں متعدد ترامیم کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہو سکی اور پاکستان ایک گہرے سماجی و سیاسی بحران کی گرفت میں پھنسا ہوا ہے۔ جیسے جیسے جائز اختلافِ رائے کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں، حکومت عوامی بے چینی کی وجوہات دور کرنے کے بجائے اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر نے بدھ کو اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرین پر گزشتہ شب ہائی پریشر واٹر کینن کے استعمال کو ’پُرامن اجتماع کے حق کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پانی میں کیمیائی محرکات شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام سے مطالبہ کیاگیا کہ ‘لوگوں کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام  اور طاقت کے غیر متناسب اور سزا دینے والے استعمال کو ختم کریں‘، ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ ’بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے تحت واٹر کینن کا استعمال صرف شدید عوامی بے امنی اور وسیع پیمانے پر تشدد کی صورت میں ہی جائز ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے لیے سخت گیر ہتھکنڈوں پر اصرار کی کوئی منطقی ضرورت نہیں، خصوصاً اس کے بعد کہ وہ ملک کے بیشتر انتظامی اور حکومتی شعبوں میں غیر معمولی طاقت حاصل کر چکی ہے۔ اس کے باوجود، ناقابلِ فہم طور پر حکومت یوں برتاؤ کر رہی ہے جیسے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی جماعت سے اسے مسلسل وجودی خطرہ لاحق ہو، اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے طاقت کا سہارا ناگزیر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اپنے لیے نئے مسائل ہی پیدا کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر اپنے بیان میں خبردار کیا کہ’اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات، جیسے آئی سی سی پی آر اور منصفانہ عدالتی عمل کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے‘ اور مزید کہا کہ ’منڈیلا رولز کے مطابق اہلِ خانہ سے رابطے پر پابندی کو تادیبی یا سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں اور متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے، مگر ان کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جانے چاہئیں۔ اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے سے عمران خان کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، اس لیے انہیں تنہائی میں رکھنے پر اصرار بے معنی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرے اور مزید عالمی تنقید سے بچنے کے لیے بروقت اقدام کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اداریہ انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961755"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں ہفتے اڈیالہ جیل جہاں سابق وزیراعظم عمران خان قید ہیں، کے باہر مظاہرین کے خلاف کیا گیا طاقت کا استعمال ایک مانوس طرزِ عمل کا حصہ ہے، ریاستی حکام نے عدالتی احکامات اور شہری حقوق کو نظر انداز کیا اور ایک پُرامن احتجاج کو منتشر کر دیا حالانکہ وہ باآسانی مظاہرین سے یا کم از کم عمران خان کے اہلِ خانہ سے بات چیت کر سکتے تھے۔</p>
<p>انصاف کی امیدیں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب نظامِ انصاف خود شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دوسری جانب سیاسی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث ملک پر چھایا مستقل بحران اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>افسوسناک طور پر سماجی معاہدے میں متعدد ترامیم کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہو سکی اور پاکستان ایک گہرے سماجی و سیاسی بحران کی گرفت میں پھنسا ہوا ہے۔ جیسے جیسے جائز اختلافِ رائے کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں، حکومت عوامی بے چینی کی وجوہات دور کرنے کے بجائے اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر نے بدھ کو اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرین پر گزشتہ شب ہائی پریشر واٹر کینن کے استعمال کو ’پُرامن اجتماع کے حق کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پانی میں کیمیائی محرکات شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p>حکام سے مطالبہ کیاگیا کہ ‘لوگوں کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام  اور طاقت کے غیر متناسب اور سزا دینے والے استعمال کو ختم کریں‘، ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ ’بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے تحت واٹر کینن کا استعمال صرف شدید عوامی بے امنی اور وسیع پیمانے پر تشدد کی صورت میں ہی جائز ہے‘۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے لیے سخت گیر ہتھکنڈوں پر اصرار کی کوئی منطقی ضرورت نہیں، خصوصاً اس کے بعد کہ وہ ملک کے بیشتر انتظامی اور حکومتی شعبوں میں غیر معمولی طاقت حاصل کر چکی ہے۔ اس کے باوجود، ناقابلِ فہم طور پر حکومت یوں برتاؤ کر رہی ہے جیسے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی جماعت سے اسے مسلسل وجودی خطرہ لاحق ہو، اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے طاقت کا سہارا ناگزیر ہو۔</p>
<p>حکومت اپنے لیے نئے مسائل ہی پیدا کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر اپنے بیان میں خبردار کیا کہ’اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات، جیسے آئی سی سی پی آر اور منصفانہ عدالتی عمل کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے‘ اور مزید کہا کہ ’منڈیلا رولز کے مطابق اہلِ خانہ سے رابطے پر پابندی کو تادیبی یا سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔</p>
<p>عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں اور متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے، مگر ان کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جانے چاہئیں۔ اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے سے عمران خان کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، اس لیے انہیں تنہائی میں رکھنے پر اصرار بے معنی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرے اور مزید عالمی تنقید سے بچنے کے لیے بروقت اقدام کرے۔</p>
<hr />
<p>اداریہ انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1961755"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274860</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:03:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18122632b16ed14.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18122632b16ed14.webp"/>
        <media:title>دھرنے کے دوران کچھ مظاہرین نے احتجاجی مقام کے قریب پیٹرول پمپوں اور دیگر عمارتوں کی دیواروں پر پی ٹی آئی کے حق میں نعرے اور تحریریں لکھیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’کراچی کے کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی بےحسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274656/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں ڈھکن کے بغیر کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جوکہ شہریوں کو روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے معمول کی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے والے خاندان کو عمر بھر کا روگ مل گیا۔ گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر نوعمر ابراہیم جان سے چلا گیا جس کی لاش سانحے کے 15 گھنٹوں بعد ملی۔ بچے کی موت اور سرچ آپریشن میں تاخیر نے عوامی غصے کو بھڑکایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہیں ریسکیو ہیلپ لائن نے دعویٰ کیا کہ شہری اداروں اور ٹاؤن انتظامیہ نے سیوریج کے راستوں کے داخلے اور اخراج کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔ عوامی احتجاج، دھرنوں اور مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر جواب دہی کے مطالبات کے باوجود، میئر کے دفتر کی جانب سے معذرت تاخیر سے سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم روایت کے مطابق، کچھ افسران کی معطلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے وعدے کے ساتھ ساتھ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ادارہ جاتی تبدیلیوں کی یقین دہانی ضرور کروائی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274586'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میٹروپول شہر میں سیوریج میں گرنے کے واقعات نہایت عام ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 68 افراد مبینہ طور پر کھلے مین ہولز کی نذر ہوگئے۔ رواں سال رپورٹس کے مطابق، کھلے نالوں اور سیوریج نے 24 رہائشیوں کی جانوں کو نگل لیا جن میں 5 بچے شامل تھے۔ وہ بے حسی جس کی سندھ حکومت عادی ہو چکی ہے، اسے عوام کے جذبات سمجھنے اور ان کے دکھ کا ادراک کرنے سے قاصر بنائے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال کے لیے کروڑوں کے بجٹ کے باوجود، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر اداروں کی مبینہ غفلت نے کراچی کے تقریباً 50 فیصد کم آمدنی والے علاقوں کو کھلے موت کے گڑھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کھلے نالوں اور مین ہولز کا معاملہ بھی نہایت سنگین ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ معیار کے ایسے ڈھکنوں کی ضرورت ہے جو نشے کے عادی افراد ہٹا نہ سکیں اور نہ ہی بھاری گاڑیاں انہیں نقصان پہنچا سکیں جبکہ ایسے ڈھکن ہر مین ہول پر لگائے جائیں۔ فنڈز کو بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے مین ہول اسکیننگ سسٹمز کی تنصیب پر بھی خرچ کیا جانا چاہیے جو ساختی حالت کا ڈیٹا اکٹھا اور نقشہ بندی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بڑے شہروں کے برعکس، کراچی کی سڑکیں موت کے جال بن چکی ہیں۔ زندگی سے بھرپور یہ شہر، بیک وقت زندہ رہنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959257/karachis-death-holes"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں ڈھکن کے بغیر کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جوکہ شہریوں کو روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے معمول کی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے والے خاندان کو عمر بھر کا روگ مل گیا۔ گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر نوعمر ابراہیم جان سے چلا گیا جس کی لاش سانحے کے 15 گھنٹوں بعد ملی۔ بچے کی موت اور سرچ آپریشن میں تاخیر نے عوامی غصے کو بھڑکایا۔</p>
<p>وہیں ریسکیو ہیلپ لائن نے دعویٰ کیا کہ شہری اداروں اور ٹاؤن انتظامیہ نے سیوریج کے راستوں کے داخلے اور اخراج کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔ عوامی احتجاج، دھرنوں اور مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر جواب دہی کے مطالبات کے باوجود، میئر کے دفتر کی جانب سے معذرت تاخیر سے سامنے آئی۔</p>
<p>تاہم روایت کے مطابق، کچھ افسران کی معطلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے وعدے کے ساتھ ساتھ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ادارہ جاتی تبدیلیوں کی یقین دہانی ضرور کروائی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274586'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میٹروپول شہر میں سیوریج میں گرنے کے واقعات نہایت عام ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 68 افراد مبینہ طور پر کھلے مین ہولز کی نذر ہوگئے۔ رواں سال رپورٹس کے مطابق، کھلے نالوں اور سیوریج نے 24 رہائشیوں کی جانوں کو نگل لیا جن میں 5 بچے شامل تھے۔ وہ بے حسی جس کی سندھ حکومت عادی ہو چکی ہے، اسے عوام کے جذبات سمجھنے اور ان کے دکھ کا ادراک کرنے سے قاصر بنائے ہوئے ہے۔</p>
<p>سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال کے لیے کروڑوں کے بجٹ کے باوجود، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر اداروں کی مبینہ غفلت نے کراچی کے تقریباً 50 فیصد کم آمدنی والے علاقوں کو کھلے موت کے گڑھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کھلے نالوں اور مین ہولز کا معاملہ بھی نہایت سنگین ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ معیار کے ایسے ڈھکنوں کی ضرورت ہے جو نشے کے عادی افراد ہٹا نہ سکیں اور نہ ہی بھاری گاڑیاں انہیں نقصان پہنچا سکیں جبکہ ایسے ڈھکن ہر مین ہول پر لگائے جائیں۔ فنڈز کو بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے مین ہول اسکیننگ سسٹمز کی تنصیب پر بھی خرچ کیا جانا چاہیے جو ساختی حالت کا ڈیٹا اکٹھا اور نقشہ بندی کرتے ہیں۔</p>
<p>دیگر بڑے شہروں کے برعکس، کراچی کی سڑکیں موت کے جال بن چکی ہیں۔ زندگی سے بھرپور یہ شہر، بیک وقت زندہ رہنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1959257/karachis-death-holes"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274656</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 12:41:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/051210201ec1a15.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/051210201ec1a15.webp"/>
        <media:title>—تصویر: میٹا اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’احتساب کا مطالبہ کرتے نواز شریف کی جماعت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274382/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف 2023ء میں پاکستان واپسی کے بعد سے زیادہ تر منظر عام سے غائب رہے ہیں لیکن بدھ کے روز انہوں نے نومنتخب قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے حساس سیاسی معاملات پر اپنی خاموشی توڑ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ’بڑے مجرم‘ جنہوں نے جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا تھا، انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے نام لینے سے تو گریز کیا لیکن 2023ء میں وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر سینئر ججز پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے 2017ء میں انہیں وزیرِ اعظم ہاؤس سے برطرف کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ بحث نہیں کہ احتساب ضروری ہے خاص طور پر اُن لوگوں کا جو جمہوری عمل میں مداخلت کرتے رہے ہیں لیکن ایسا عمل کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے یا چند مخصوص لوگوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں نواز شریف نے عوامی بالادستی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی کوشش کی اور اس کی قیمت انہوں نے اپنا وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ کھو کر ادا کی۔ مگر صرف اُن کا معاملہ پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے سیاسی منظرنامے میں ابھرنے سے بہت پہلے سے مختلف ریاستی ادارے حکومتیں بنانے اور گرانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں تک افراد کا تعلق ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی عناصر جن پر نواز شریف نے اپنی برطرفی کا الزام لگایا تھا، انہی کو عمران خان کی حکومت گرانے اور مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں کردار ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت بھی آرمی چیف تھے جب نواز شریف کو برطرف کیا گیا تھا اور اس وقت بھی کہ جب عمران خان کی حکومت برطرف کی گئی تھی۔ لہٰذا ایسے تمام واقعات کا تفصیل سے معائنہ کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں محض یک طرفہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدان جن میں نواز شریف کی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں، اور ریاستی ادارے جن میں عدلیہ بھی شامل ہے، اکثر غیرمنتخب قوتوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے ذریعے حریفوں کو برطرف کرنے میں ساتھ رہے ہیں۔ اُن کے کردار کی مزید جانچ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب نواز شریف ایسی قوتوں کی مداخلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں تو ان کی اپنی جماعت کے لوگ جن میں وزرا بھی شامل ہیں، اسی ہائبرڈ نظام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274313'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس بات کی ہے کہ خود احتسابی کی جائے اور سیاسی طبقہ سنجیدگی سے سوچے کہ کس طرح وہ خود ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جو غیر سیاسی قوتوں کو طاقت کے مراکز پر قابض ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف اور بےنظیر بھٹو نے 2006ء میں میثاقِ جمہوریت پر اس مقصد کے لیے دستخط کیے تھے کہ عوامی بالادستی کو مضبوط کیا جائے۔ اس دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ ’کوئی بھی جماعت اقتدار میں آنے یا کسی جمہوری حکومت کو ہٹانے کے لیے فوج کی مدد طلب نہیں کرے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف تینوں ہی اس مقصد کو نظرانداز کرتی رہی ہیں اور نتیجتاً یہ جماعتیں ہائبرڈ نظام کا شکار بھی رہی ہیں اور اس سے مستفید بھی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اب ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات ایک جانب رکھ کر اکٹھا ہونا ہوگا اور ایک حقیقی جمہوری اور آئینی نظام پر اتفاق کر کے اُس کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957825"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف 2023ء میں پاکستان واپسی کے بعد سے زیادہ تر منظر عام سے غائب رہے ہیں لیکن بدھ کے روز انہوں نے نومنتخب قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے حساس سیاسی معاملات پر اپنی خاموشی توڑ دی۔</p>
<p>نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ’بڑے مجرم‘ جنہوں نے جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا تھا، انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>نواز شریف نے نام لینے سے تو گریز کیا لیکن 2023ء میں وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر سینئر ججز پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے 2017ء میں انہیں وزیرِ اعظم ہاؤس سے برطرف کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>یہ بات قابلِ بحث نہیں کہ احتساب ضروری ہے خاص طور پر اُن لوگوں کا جو جمہوری عمل میں مداخلت کرتے رہے ہیں لیکن ایسا عمل کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے یا چند مخصوص لوگوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>ماضی میں نواز شریف نے عوامی بالادستی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی کوشش کی اور اس کی قیمت انہوں نے اپنا وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ کھو کر ادا کی۔ مگر صرف اُن کا معاملہ پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔</p>
<p>عمران خان کے سیاسی منظرنامے میں ابھرنے سے بہت پہلے سے مختلف ریاستی ادارے حکومتیں بنانے اور گرانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں تک افراد کا تعلق ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی عناصر جن پر نواز شریف نے اپنی برطرفی کا الزام لگایا تھا، انہی کو عمران خان کی حکومت گرانے اور مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں کردار ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔</p>
<p>مثال کے طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت بھی آرمی چیف تھے جب نواز شریف کو برطرف کیا گیا تھا اور اس وقت بھی کہ جب عمران خان کی حکومت برطرف کی گئی تھی۔ لہٰذا ایسے تمام واقعات کا تفصیل سے معائنہ کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں محض یک طرفہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔</p>
<p>یہ تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدان جن میں نواز شریف کی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں، اور ریاستی ادارے جن میں عدلیہ بھی شامل ہے، اکثر غیرمنتخب قوتوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے ذریعے حریفوں کو برطرف کرنے میں ساتھ رہے ہیں۔ اُن کے کردار کی مزید جانچ ضروری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب نواز شریف ایسی قوتوں کی مداخلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں تو ان کی اپنی جماعت کے لوگ جن میں وزرا بھی شامل ہیں، اسی ہائبرڈ نظام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274313'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ضرورت اس بات کی ہے کہ خود احتسابی کی جائے اور سیاسی طبقہ سنجیدگی سے سوچے کہ کس طرح وہ خود ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جو غیر سیاسی قوتوں کو طاقت کے مراکز پر قابض ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>نواز شریف اور بےنظیر بھٹو نے 2006ء میں میثاقِ جمہوریت پر اس مقصد کے لیے دستخط کیے تھے کہ عوامی بالادستی کو مضبوط کیا جائے۔ اس دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ ’کوئی بھی جماعت اقتدار میں آنے یا کسی جمہوری حکومت کو ہٹانے کے لیے فوج کی مدد طلب نہیں کرے گی‘۔</p>
<p>پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف تینوں ہی اس مقصد کو نظرانداز کرتی رہی ہیں اور نتیجتاً یہ جماعتیں ہائبرڈ نظام کا شکار بھی رہی ہیں اور اس سے مستفید بھی ہوئی ہیں۔</p>
<p>شاید اب ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات ایک جانب رکھ کر اکٹھا ہونا ہوگا اور ایک حقیقی جمہوری اور آئینی نظام پر اتفاق کر کے اُس کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957825"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274382</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 12:43:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/281119480240468.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/281119480240468.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’شیخ حسینہ کو سزائے موت سے بنگلہ دیش میں عدم استحکام مزید بڑھے گا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273892/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد جو ایک دور میں بنگلہ دیش پر آہنی حکمرانی کیا کرتی تھیں، گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران مبینہ طور پر اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے انسانیت سوز جرائم پر سزائے موت سنا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب شیخ حسینہ جو اگست 2024ء میں ملک سے فرار ہوکر بھارت میں مقیم ہیں، نے اس فیصلے کو ’جانبدار‘ اور ’ٹریبونل کی دھاندلی‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستم ظریفی یہ ہے کہ جس عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انہیں سزا سنائی ہے، وہ خود شیخ حسینہ نے قائم کی تھی۔ ان کے دورِ حکومت میں اسی ٹریبونل نے ان کے کئی سیاسی مخالفین بالخصوص جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اور اپوزیشن بی این پی کے رہنماؤں کو 1971ء کے واقعات میں مبینہ کردار پر پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگوں نے بجا طور پر ان مقدمات کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔ آج خود شیخ حسینہ انہی اداروں کی شکار دکھائی دیتی ہیں جنہیں انہوں نے اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس مقدمے کی شفافیت اور جلد بازی پر سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ حسینہ کی حکومت, وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آمرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے لگی تھی۔ مخصوص افراد کو نوازا گیا جبکہ مخالفین کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ جمہوری اصول ترک کر دیے گئے اور اس کی جگہ شیخ حسینہ، ان کے والد شیخ مجیب اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے گرد شخصیت پرستی کے کلچر نے لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ کے جابرانہ اقدامات بالآخر گزشتہ سال مشتعل عوام پھٹ پڑے جس نے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور انہیں دہائیوں سے اپنے قریب سمجھے جانے والے اتحادی بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273859/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات واضح ہے کہ 2024ء کے احتجاج کے دوران ان کی حکومت نے مظاہرین پر سختیاں کیں۔ خود انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ’ہم صورتحال پر قابو کھو بیٹھے تھے‘۔ رواں سال کے آغاز میں ان کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی جبکہ ان کے مرحوم والد جو کبھی ’بنگلہ بندھو‘ کہلائے جاتے تھے، وہ بھی مظاہرین کے اشتعال کا نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے 5 دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود سیاسی استحکام آج بھی اس ملک سے دور ہے۔ جو معاشی ترقی بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کے دور میں حاصل کی تھی، اس پر ان کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے اور اپوزیشن پر مسلسل حملوں کے باعث پردہ پڑ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بنگلہ دیش ایک فیصلہ کُن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں اور ضروری ہے کہ عبوری حکام جلد از جلد پوری طرح جمہوری حکومت کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ انتخابات کی شفافیت کے لیے ضروری ہے کہ عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 2024ء کے انتخابات جس کے ذریعے شیخ حسینہ دوبارہ برسراقتدار آئی تھیں اور اپوزیشن نے ان کا بائیکاٹ کیا تھا، منصفانہ تصور نہیں کیے گئے تھے اور یہی ان کے اقتدار کے خاتمے کی بڑی وجہ بنا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ آئندہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت ہو تاکہ عمل کی ساکھ مبہم نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن اہلکاروں نے جرائم کیے ہوں، انہیں انصاف کا سامنا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر یہ عمل انتقامی رنگ اختیار کرلے خصوصاً سزائے موت جیسے انتہائی اقدامات جس کی یہ اخبار مخالفت کرتا ہے تو اس سے عدم استحکام مزید بڑھے گا۔ بالغ اور ذمہ دار ریاستیں انصاف کے تقاضوں اور مفاہمت کی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955785/sheikh-hasina-verdict"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد جو ایک دور میں بنگلہ دیش پر آہنی حکمرانی کیا کرتی تھیں، گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران مبینہ طور پر اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے انسانیت سوز جرائم پر سزائے موت سنا دی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب شیخ حسینہ جو اگست 2024ء میں ملک سے فرار ہوکر بھارت میں مقیم ہیں، نے اس فیصلے کو ’جانبدار‘ اور ’ٹریبونل کی دھاندلی‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔</p>
<p>ستم ظریفی یہ ہے کہ جس عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انہیں سزا سنائی ہے، وہ خود شیخ حسینہ نے قائم کی تھی۔ ان کے دورِ حکومت میں اسی ٹریبونل نے ان کے کئی سیاسی مخالفین بالخصوص جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اور اپوزیشن بی این پی کے رہنماؤں کو 1971ء کے واقعات میں مبینہ کردار پر پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔</p>
<p>بہت سے لوگوں نے بجا طور پر ان مقدمات کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔ آج خود شیخ حسینہ انہی اداروں کی شکار دکھائی دیتی ہیں جنہیں انہوں نے اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے بنایا تھا۔</p>
<p>اگرچہ اس مقدمے کی شفافیت اور جلد بازی پر سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ حسینہ کی حکومت, وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آمرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے لگی تھی۔ مخصوص افراد کو نوازا گیا جبکہ مخالفین کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ جمہوری اصول ترک کر دیے گئے اور اس کی جگہ شیخ حسینہ، ان کے والد شیخ مجیب اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے گرد شخصیت پرستی کے کلچر نے لے لی۔</p>
<p>شیخ حسینہ کے جابرانہ اقدامات بالآخر گزشتہ سال مشتعل عوام پھٹ پڑے جس نے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور انہیں دہائیوں سے اپنے قریب سمجھے جانے والے اتحادی بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273859/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ بات واضح ہے کہ 2024ء کے احتجاج کے دوران ان کی حکومت نے مظاہرین پر سختیاں کیں۔ خود انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ’ہم صورتحال پر قابو کھو بیٹھے تھے‘۔ رواں سال کے آغاز میں ان کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی جبکہ ان کے مرحوم والد جو کبھی ’بنگلہ بندھو‘ کہلائے جاتے تھے، وہ بھی مظاہرین کے اشتعال کا نشانہ بنے۔</p>
<p>مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے 5 دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود سیاسی استحکام آج بھی اس ملک سے دور ہے۔ جو معاشی ترقی بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کے دور میں حاصل کی تھی، اس پر ان کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے اور اپوزیشن پر مسلسل حملوں کے باعث پردہ پڑ گیا ہے۔</p>
<p>آج بنگلہ دیش ایک فیصلہ کُن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں اور ضروری ہے کہ عبوری حکام جلد از جلد پوری طرح جمہوری حکومت کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ انتخابات کی شفافیت کے لیے ضروری ہے کہ عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔</p>
<p>یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 2024ء کے انتخابات جس کے ذریعے شیخ حسینہ دوبارہ برسراقتدار آئی تھیں اور اپوزیشن نے ان کا بائیکاٹ کیا تھا، منصفانہ تصور نہیں کیے گئے تھے اور یہی ان کے اقتدار کے خاتمے کی بڑی وجہ بنا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ آئندہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت ہو تاکہ عمل کی ساکھ مبہم نہ ہو۔</p>
<p>جن اہلکاروں نے جرائم کیے ہوں، انہیں انصاف کا سامنا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر یہ عمل انتقامی رنگ اختیار کرلے خصوصاً سزائے موت جیسے انتہائی اقدامات جس کی یہ اخبار مخالفت کرتا ہے تو اس سے عدم استحکام مزید بڑھے گا۔ بالغ اور ذمہ دار ریاستیں انصاف کے تقاضوں اور مفاہمت کی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرتی ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955785/sheikh-hasina-verdict">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273892</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 11:37:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/18093642f9ad793.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/18093642f9ad793.webp"/>
        <media:title>—تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: پاکستان کے محفوظ ترین شہر پر حملہ، کیا ہم واقعی حالتِ جنگ میں ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273601/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک طویل وقفے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی واپس آچکی ہے۔ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹ کی عمارت کے باہر گزشتہ روز ہونے والے خودکش بم دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مرکز قرار دیے جانے والے نام نہاد علاقے جیسے خیبرپختونخوا اور بلوچستان تو طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کی پُرتشدد لہر کا سامنا کر ہی رہے تھے، لیکن کل دہشت گردوں نے جہاں حملہ کیا اسے ملک کے سب سے محفوظ شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک دہشت گردی کی حالیہ لہر میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن تازہ ترین اسلام آباد سانحے میں واضح طور پر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد بم دھماکا تشدد کی آخری لہر کی دردناک یادیں واپس لاتا ہے جہاں دہشت گردی کے عفریت کو بےاثر کرنے سے پہلے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں دونوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ منگل کو کیڈٹ کالج وانا میں بھی کلیئرنس آپریشن جاری رہا جو کہ ایک اور سافٹ ٹارگٹ تھا جس پر پیر کو عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اور وانا دونوں حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان حملوں میں ’خطے میں بھارتی اسپانسرڈ ریاستی دہشت گردی‘ کے شواہد ملتے ہیں جو افغانستان کو ان واقعات سے جوڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے مزید کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسندوں سے تعلق رکھنے والے خوارج ان واقعات میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع نے ایک انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273570/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273570"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر ہے کہ دہشت گردی کی دونوں کارروائیوں کے پیچھے ملوث قوتوں کو بے نقاب کرنے اور ان گھناؤنے جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اور اگر ان حملوں میں بھارت اور افغان طالبان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ملتا ہے تو اس معاملے کو فوری طور پر نئی دہلی اور کابل دونوں کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ممکنہ غیر ملکی روابط کی جانچ ہونی چاہیے جبکہ ہماری سرحدوں سے باہر ملوث افراد کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اس وقت ریاست کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اندرونی محاذ کو مضبوط بنائے اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں بحالی کے تناظر میں دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے سے پاکستان کے بڑے شہر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ رہے ہیں۔ یہ حقیقت کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ آور دھماکا کرنے میں کامیاب ہوگیا، یہ ایک بڑی سیکیورٹی کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم واقعی حالت جنگ میں ہیں جیسا کہ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے تو اس بحران سے نمٹنے کے لیے قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز جیسے اپوزیشن، سیکیورٹی ماہرین، سول سوسائٹی، سب کو دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ردعمل کی تشکیل کے لیے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاست، اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اور تمام تنقیدی آوازیں بند ہونی چاہئیں۔ تمام عناصر کی رائے ضرور سنی جائے تاکہ پاکستان اس بحران سے مضبوطی سے نکل سکے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دے سکے۔ موجودہ حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہورہی اور اس کے نتیجے میں باوردی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریک لمحے سے فتح حاصل کرنے کے لیے ہمیں دانشمندانہ قیادت اور عوام کی حمایت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954625/capital-terrorism"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک طویل وقفے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی واپس آچکی ہے۔ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹ کی عمارت کے باہر گزشتہ روز ہونے والے خودکش بم دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>اگرچہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مرکز قرار دیے جانے والے نام نہاد علاقے جیسے خیبرپختونخوا اور بلوچستان تو طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کی پُرتشدد لہر کا سامنا کر ہی رہے تھے، لیکن کل دہشت گردوں نے جہاں حملہ کیا اسے ملک کے سب سے محفوظ شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔</p>
<p>اب تک دہشت گردی کی حالیہ لہر میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن تازہ ترین اسلام آباد سانحے میں واضح طور پر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>اسلام آباد بم دھماکا تشدد کی آخری لہر کی دردناک یادیں واپس لاتا ہے جہاں دہشت گردی کے عفریت کو بےاثر کرنے سے پہلے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں دونوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ منگل کو کیڈٹ کالج وانا میں بھی کلیئرنس آپریشن جاری رہا جو کہ ایک اور سافٹ ٹارگٹ تھا جس پر پیر کو عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اور وانا دونوں حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان حملوں میں ’خطے میں بھارتی اسپانسرڈ ریاستی دہشت گردی‘ کے شواہد ملتے ہیں جو افغانستان کو ان واقعات سے جوڑتے ہیں۔</p>
<p>شہباز شریف نے مزید کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسندوں سے تعلق رکھنے والے خوارج ان واقعات میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع نے ایک انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273570/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273570"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ظاہر ہے کہ دہشت گردی کی دونوں کارروائیوں کے پیچھے ملوث قوتوں کو بے نقاب کرنے اور ان گھناؤنے جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اور اگر ان حملوں میں بھارت اور افغان طالبان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ملتا ہے تو اس معاملے کو فوری طور پر نئی دہلی اور کابل دونوں کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے۔</p>
<p>لیکن دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ممکنہ غیر ملکی روابط کی جانچ ہونی چاہیے جبکہ ہماری سرحدوں سے باہر ملوث افراد کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اس وقت ریاست کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اندرونی محاذ کو مضبوط بنائے اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں بحالی کے تناظر میں دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے۔</p>
<p>طویل عرصے سے پاکستان کے بڑے شہر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ رہے ہیں۔ یہ حقیقت کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ آور دھماکا کرنے میں کامیاب ہوگیا، یہ ایک بڑی سیکیورٹی کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>اگر ہم واقعی حالت جنگ میں ہیں جیسا کہ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے تو اس بحران سے نمٹنے کے لیے قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز جیسے اپوزیشن، سیکیورٹی ماہرین، سول سوسائٹی، سب کو دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ردعمل کی تشکیل کے لیے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سیاست، اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اور تمام تنقیدی آوازیں بند ہونی چاہئیں۔ تمام عناصر کی رائے ضرور سنی جائے تاکہ پاکستان اس بحران سے مضبوطی سے نکل سکے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دے سکے۔ موجودہ حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہورہی اور اس کے نتیجے میں باوردی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔</p>
<p>اس تاریک لمحے سے فتح حاصل کرنے کے لیے ہمیں دانشمندانہ قیادت اور عوام کی حمایت کی ضرورت ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1954625/capital-terrorism">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273601</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 11:00:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/12092301f153eba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/12092301f153eba.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’زہران ممدانی کو ابھی بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہوگا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273317/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیویارک سٹی کے میئر کی دوڑ میں زہران ممدانی نے اپنی جیت کے ساتھ جو کچھ حاصل کیا ہے، اسے امریکی قانون ساز برنی سینڈرز نے اپنے الفاظ میں، ’جدید امریکی تاریخ کے عظیم سیاسی اپ سیٹ میں سے ایک‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زہران ممدانی جو مسلم اور جنوبی ایشیائی نسل کے میئر بنے ہیں، انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے اور متنوع شہروں میں سے ایک کے لوگوں کو اپنی قیادت پر اعتماد پر آمادہ کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی جیت نے دنیا کی ترقی پسند قوتوں میں ایک ایسے وقت میں امیدیں پیدا کی ہیں جب عالمی سطح پر انتہائی دائیں بازو کا زور عروج پر ہے۔ زہران ممدانی صحیح معنوں میں دنیا کے شہری ہیں۔ ان کے والدین کی جڑیں برصغیر میں ہیں، وہ خود یوگنڈا میں پیدا ہوئے جس کے بعد وہ امریکی شہری بنے جبکہ زہران کی اہلیہ کا تعلق شام سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں اندرونی سطح پر انہوں نے کام کرنے والے طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین، تارکین وطن کمیونٹیز اور نوجوان ووٹرز کو جو پیش کش کی ہیں، وہی ان کی شاندار فتح میں مددگار ثابت ہوئیں۔ اپنے طور پر سوشل ڈیموکریٹ کی مہم میں انہوں نے اعلیٰ اشرافیہ پر ٹیکس بڑھا کر زندگی کے بحران کا مقابلہ کرنے کا وعدہ کیا۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر وہ فلسطین کے سخت حامی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263106'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263106"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان کی جیت کا جوش ختم ہوجائے گا اور زہران ممدانی بطور میئر اپنا کام شروع کریں گے تو انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترقی پسند خیالات اور اپنے مذہب اور نسلی پس منظر پر فخر کرنے کی وجہ سے بھی کچھ طاقتور لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’کمیونسٹ‘ کہا اور یہاں تک کہ زہران ممدانی کے میئر بننے کی صورت میں نیو یارک شہر کے لیے وفاقی فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ نے زہران کی توثیق میں سست روی کا مظاہرہ کیا جبکہ نیویارک کے نئے میئر کو انتخابی مہم کے دوران مذہب، نسلی پس منظر حتیٰ کہ کھانے پینے کی عادات کی بنیاد پر بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر طاقتور صہیونی لابی کے خلاف مزاحمت کرنے پر یہود مخالف ہونے کا بھی الزام لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام منفی قوتیں زہران ممدانی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہیں گی۔ اس کے باوجود ان کی جیت اور لندن کے میئر کے طور پر صادق خان کی کامیابی، مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف انتہائی دائیں بازو کے ناروا سلوک کی زبردست مذمت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں کے سیاسی سفر ظاہر کرتے ہیں کہ مغرب میں بہت سے نوجوان ووٹرز ایسے امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں جو سماجی اور اقتصادی انصاف کے پلیٹ فارم کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں امیدواروں کے نسلی یا اعترافی پس منظر کی زیادہ پروا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسل پرست اور اسلاموفوبس اب بھی ایک دوسرے کے خلاف خوف پھیلا رہے ہیں لیکن زہران ممدانی کی جیت نے نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953428"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیویارک سٹی کے میئر کی دوڑ میں زہران ممدانی نے اپنی جیت کے ساتھ جو کچھ حاصل کیا ہے، اسے امریکی قانون ساز برنی سینڈرز نے اپنے الفاظ میں، ’جدید امریکی تاریخ کے عظیم سیاسی اپ سیٹ میں سے ایک‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔</p>
<p>زہران ممدانی جو مسلم اور جنوبی ایشیائی نسل کے میئر بنے ہیں، انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے اور متنوع شہروں میں سے ایک کے لوگوں کو اپنی قیادت پر اعتماد پر آمادہ کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔</p>
<p>ان کی جیت نے دنیا کی ترقی پسند قوتوں میں ایک ایسے وقت میں امیدیں پیدا کی ہیں جب عالمی سطح پر انتہائی دائیں بازو کا زور عروج پر ہے۔ زہران ممدانی صحیح معنوں میں دنیا کے شہری ہیں۔ ان کے والدین کی جڑیں برصغیر میں ہیں، وہ خود یوگنڈا میں پیدا ہوئے جس کے بعد وہ امریکی شہری بنے جبکہ زہران کی اہلیہ کا تعلق شام سے ہے۔</p>
<p>شہر میں اندرونی سطح پر انہوں نے کام کرنے والے طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین، تارکین وطن کمیونٹیز اور نوجوان ووٹرز کو جو پیش کش کی ہیں، وہی ان کی شاندار فتح میں مددگار ثابت ہوئیں۔ اپنے طور پر سوشل ڈیموکریٹ کی مہم میں انہوں نے اعلیٰ اشرافیہ پر ٹیکس بڑھا کر زندگی کے بحران کا مقابلہ کرنے کا وعدہ کیا۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر وہ فلسطین کے سخت حامی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263106'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263106"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب ان کی جیت کا جوش ختم ہوجائے گا اور زہران ممدانی بطور میئر اپنا کام شروع کریں گے تو انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترقی پسند خیالات اور اپنے مذہب اور نسلی پس منظر پر فخر کرنے کی وجہ سے بھی کچھ طاقتور لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’کمیونسٹ‘ کہا اور یہاں تک کہ زہران ممدانی کے میئر بننے کی صورت میں نیو یارک شہر کے لیے وفاقی فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی۔</p>
<p>ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ نے زہران کی توثیق میں سست روی کا مظاہرہ کیا جبکہ نیویارک کے نئے میئر کو انتخابی مہم کے دوران مذہب، نسلی پس منظر حتیٰ کہ کھانے پینے کی عادات کی بنیاد پر بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر طاقتور صہیونی لابی کے خلاف مزاحمت کرنے پر یہود مخالف ہونے کا بھی الزام لگایا گیا۔</p>
<p>یہ تمام منفی قوتیں زہران ممدانی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہیں گی۔ اس کے باوجود ان کی جیت اور لندن کے میئر کے طور پر صادق خان کی کامیابی، مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف انتہائی دائیں بازو کے ناروا سلوک کی زبردست مذمت ہے۔</p>
<p>ان دونوں کے سیاسی سفر ظاہر کرتے ہیں کہ مغرب میں بہت سے نوجوان ووٹرز ایسے امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں جو سماجی اور اقتصادی انصاف کے پلیٹ فارم کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں امیدواروں کے نسلی یا اعترافی پس منظر کی زیادہ پروا نہیں۔</p>
<p>نسل پرست اور اسلاموفوبس اب بھی ایک دوسرے کے خلاف خوف پھیلا رہے ہیں لیکن زہران ممدانی کی جیت نے نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953428">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273317</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 10:41:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/06100608317d2b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/06100608317d2b8.webp"/>
        <media:title>—تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے پاس زیادہ آپشنز نہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271300/</link>
      <description>&lt;p&gt;جیسا کہ کابل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کی ہلاکت کے حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات گردش کررہی ہیں، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کو ایک ایسی پالیسی مرتب کرنا ہوگی جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے، داخلی سلامتی کو مستحکم کرے اور افغانستان کے ساتھ کسی بڑے تنازعے کو روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق جمعرات کو افغان دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ جمعہ کے روز جب آئی ایس پی آر کے سربراہ سے ایک پریس کانفرنس کے دوران نور ولی محسود کی مبینہ ہلاکت پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے نہ اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید، بلکہ اپنا سرکاری مطالبہ دہرایا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کے لیے ’جو بھی ضروری ہو ا‘، کرے گا۔ جمعرات کو وزیر دفاع نے قومی اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا جہاں انہوں نے یہ کہا کہ ریاست ایک اور وفد کو کابل بھیجنے پر غور کر رہی ہے تاکہ طالبان کو وہ ’محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے‘ پر راضی کیا جا سکے جو دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے بارہا انکار کے باوجود اپنی سرزمین پر مختلف النوع کے دہشت گردوں کی میزبانی کی ہے۔ مثال کے طور پر، 2022ء میں افغان دارالحکومت کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے والے امریکی حملے نے طالبان کو مشتعل کیا کیونکہ یہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان ہونے والے دوحہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھی۔ لہٰذا یہ بات قابل یقین ہے کہ نور ولی محسود کو بھی کابل میں ہی ہلاک کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271249"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں پاکستان نے اس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے افغانستان کے اندر اہداف پر حملے کیے ہیں۔ بلاشبہ یہ صورت حال پیچیدہ ہے۔ حکومت کو کارروائی کرنا پڑتی ہے کیونکہ افغانستان میں چھپے ہوئے بہت سے دہشتگرد عام شہریوں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔ لیکن سرحد پار سے ان عسکریت پسندوں پر حملہ کرنا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس اس حوالے سے بہت زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔ بیرونی محاذ پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو طرفہ طور پر اور علاقائی شراکت داروں جیسے چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر افغان طالبان کو یہ پیغام پہنچانا جاری رکھا جائے کہ دہشتگردوں کو پناہ دینے کے نقصانات ہوں گے جیسے تجارتی سرگرمیوں میں کمی، یا سفارتی تعلقات میں کمی وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل کو یہ بتانا ضروری ہے کہ موجودہ صورت حال جس میں دہشتگردوں کا افغان سرزمین پر پناہ لینا مگر طالبان حکومت کا اس سے مسلسل انکار، قابل یقین نہیں ہے۔ افغان طالبان اپنے عسکریت پسند ’مہمانوں‘ کے ساتھ کیا کرتے ہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے باقی ہمسایہ ممالک کو انہیں یقین دلانا چاہیے کہ ان کی سلامتی کو ان مذموم عناصر سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونِ ملک، عسکریت پسندوں سے علاقہ واپس لینے کے لیے متحرک کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، نیشنل ایکشن پلان کے غیر متحرک عناصر کا پیچھا کرنے کی بھی ضرورت ہے جس کی جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اشارہ کیا۔ یہ ایک منصوبہ تھا جس پر تمام ریاستی اداروں نے اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948056"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جیسا کہ کابل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کی ہلاکت کے حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات گردش کررہی ہیں، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کو ایک ایسی پالیسی مرتب کرنا ہوگی جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے، داخلی سلامتی کو مستحکم کرے اور افغانستان کے ساتھ کسی بڑے تنازعے کو روکے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق جمعرات کو افغان دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ جمعہ کے روز جب آئی ایس پی آر کے سربراہ سے ایک پریس کانفرنس کے دوران نور ولی محسود کی مبینہ ہلاکت پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے نہ اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید، بلکہ اپنا سرکاری مطالبہ دہرایا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کے لیے ’جو بھی ضروری ہو ا‘، کرے گا۔ جمعرات کو وزیر دفاع نے قومی اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا جہاں انہوں نے یہ کہا کہ ریاست ایک اور وفد کو کابل بھیجنے پر غور کر رہی ہے تاکہ طالبان کو وہ ’محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے‘ پر راضی کیا جا سکے جو دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ہیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے بارہا انکار کے باوجود اپنی سرزمین پر مختلف النوع کے دہشت گردوں کی میزبانی کی ہے۔ مثال کے طور پر، 2022ء میں افغان دارالحکومت کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے والے امریکی حملے نے طالبان کو مشتعل کیا کیونکہ یہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان ہونے والے دوحہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھی۔ لہٰذا یہ بات قابل یقین ہے کہ نور ولی محسود کو بھی کابل میں ہی ہلاک کیا گیا ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271249"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماضی میں پاکستان نے اس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے افغانستان کے اندر اہداف پر حملے کیے ہیں۔ بلاشبہ یہ صورت حال پیچیدہ ہے۔ حکومت کو کارروائی کرنا پڑتی ہے کیونکہ افغانستان میں چھپے ہوئے بہت سے دہشتگرد عام شہریوں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔ لیکن سرحد پار سے ان عسکریت پسندوں پر حملہ کرنا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس اس حوالے سے بہت زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔ بیرونی محاذ پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو طرفہ طور پر اور علاقائی شراکت داروں جیسے چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر افغان طالبان کو یہ پیغام پہنچانا جاری رکھا جائے کہ دہشتگردوں کو پناہ دینے کے نقصانات ہوں گے جیسے تجارتی سرگرمیوں میں کمی، یا سفارتی تعلقات میں کمی وغیرہ۔</p>
<p>کابل کو یہ بتانا ضروری ہے کہ موجودہ صورت حال جس میں دہشتگردوں کا افغان سرزمین پر پناہ لینا مگر طالبان حکومت کا اس سے مسلسل انکار، قابل یقین نہیں ہے۔ افغان طالبان اپنے عسکریت پسند ’مہمانوں‘ کے ساتھ کیا کرتے ہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے باقی ہمسایہ ممالک کو انہیں یقین دلانا چاہیے کہ ان کی سلامتی کو ان مذموم عناصر سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>اندرونِ ملک، عسکریت پسندوں سے علاقہ واپس لینے کے لیے متحرک کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، نیشنل ایکشن پلان کے غیر متحرک عناصر کا پیچھا کرنے کی بھی ضرورت ہے جس کی جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اشارہ کیا۔ یہ ایک منصوبہ تھا جس پر تمام ریاستی اداروں نے اتفاق کیا تھا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1948056">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271300</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Oct 2025 12:22:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/11103231853c80c.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/11103231853c80c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: علی امین گنڈاپور کی برطرفی کیا پی ٹی آئی کے لیے ’نیا آغاز‘ ثابت ہوگی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271145/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیاست میں خاموشی کا طویل دور شاید کسی نئے طوفان سے پہلے کا سکون تھا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قید بانی عمران خان سے ان کی بہن کے بارے میں شکایت جس میں انہوں نے مبینہ طور پر ان پر ایک خفیہ ایجنسی کی مدد سے پارٹی کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا، کے تقریباً ایک ہفتے بعد انہیں صوبائی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی امین گنڈاپور نے کئی ماہ بعد جیل میں قید سابق وزیر اعظم کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں علیمہ خان کے بارے میں اپنی شکایات کا اظہار کیا تھا، بنیادی طور پر اس پر پارٹی میں ’تقسیم‘ پیدا کرنے اور لوگوں کو تنقید کرنے سے روکنے کے لیے کام نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یہ ملاقات پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے سیاسی جلسے کے فوراً بعد ہوئی تھی جس کے دوران علی امین گنڈاپور کے ہجوم سے خطاب کے دوران پارٹی کارکنان نے شدید احتجاج کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ نے اس توہین کو دل پر لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ عمران خان کو جلد ہی علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا اور اگرچہ انہوں نے انہیں آپس میں لڑنے سے منع کر دیا تھا، لیکن آخرکار لگتا یہی ہے کہ انہیں احساس ہوگیا تھا کہ خون پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معلوم نہیں کہ علی امین گنڈاپور اس برطرفی کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور ریاست کے خلاف زیادہ جارحانہ مؤقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ عمران خان کی سزائے قید بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ دباؤ بھی بڑھتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271142"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عہدے کے لیے پارٹی کے نو نامزد امیدوار سہیل آفریدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ تند مزاج آدمی ہیں لیکن وہ اس عہدے پر کتنا کام کر سکتے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے ناقدین نے کبھی بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ سرکاری عہدے، اکثر اپنے ساتھ بھاری زنجیریں بھی لاتے ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا چاہیے کہ کمان کی تبدیلی پارٹی کے لیے کس پیش رفت کا سبب بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک چیز جو بظاہر نہیں بدلی ہے، وہ مسلسل کشمکش ہے جو پی ٹی آئی کے سربراہ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ اور اس کی وجہ سے اب بھی پارٹی کے ہر کام میں افراتفری نظر آتی ہے۔ ایک بڑا فیصلہ اچانک کیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بہت کم لوگ اس کی وجہ جانتے ہیں کہ کیوں ایسا کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے علی امین گنڈاپور کی حکومت کی جانب سے عمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں ناکامی کے بعد اسے ایک ’نئے آغاز‘ کی امید کے طور پر بیان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ سہیل آفریدی کی نامزدگی کو اس نئی سمت کے اشارے کے طور پر لے رہے ہیں جس کی جانب پی ٹی آئی اپنا رخ کرنے جارہی ہے۔ حال ہی میں پارٹی نے محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈران کے لیے نامزد کیا تھا، جسے بہت سے لوگوں نے اشتعال انگیز قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے اہم ترین نمائندوں کی فہرست میں سہیل آفریدی کے شامل ہونے کے بعد پارٹی کے حوالے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ سخت گیر مؤقف اختیار کرنے والی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1947580/political-upheaval"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیاست میں خاموشی کا طویل دور شاید کسی نئے طوفان سے پہلے کا سکون تھا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قید بانی عمران خان سے ان کی بہن کے بارے میں شکایت جس میں انہوں نے مبینہ طور پر ان پر ایک خفیہ ایجنسی کی مدد سے پارٹی کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا، کے تقریباً ایک ہفتے بعد انہیں صوبائی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔</p>
<p>علی امین گنڈاپور نے کئی ماہ بعد جیل میں قید سابق وزیر اعظم کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں علیمہ خان کے بارے میں اپنی شکایات کا اظہار کیا تھا، بنیادی طور پر اس پر پارٹی میں ’تقسیم‘ پیدا کرنے اور لوگوں کو تنقید کرنے سے روکنے کے لیے کام نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ یہ ملاقات پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے سیاسی جلسے کے فوراً بعد ہوئی تھی جس کے دوران علی امین گنڈاپور کے ہجوم سے خطاب کے دوران پارٹی کارکنان نے شدید احتجاج کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ نے اس توہین کو دل پر لے لیا ہے۔</p>
<p>یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ عمران خان کو جلد ہی علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا اور اگرچہ انہوں نے انہیں آپس میں لڑنے سے منع کر دیا تھا، لیکن آخرکار لگتا یہی ہے کہ انہیں احساس ہوگیا تھا کہ خون پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے۔</p>
<p>معلوم نہیں کہ علی امین گنڈاپور اس برطرفی کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور ریاست کے خلاف زیادہ جارحانہ مؤقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ عمران خان کی سزائے قید بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ دباؤ بھی بڑھتا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271142"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس عہدے کے لیے پارٹی کے نو نامزد امیدوار سہیل آفریدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ تند مزاج آدمی ہیں لیکن وہ اس عہدے پر کتنا کام کر سکتے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے ناقدین نے کبھی بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ سرکاری عہدے، اکثر اپنے ساتھ بھاری زنجیریں بھی لاتے ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا چاہیے کہ کمان کی تبدیلی پارٹی کے لیے کس پیش رفت کا سبب بنے گی۔</p>
<p>ایک چیز جو بظاہر نہیں بدلی ہے، وہ مسلسل کشمکش ہے جو پی ٹی آئی کے سربراہ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ اور اس کی وجہ سے اب بھی پارٹی کے ہر کام میں افراتفری نظر آتی ہے۔ ایک بڑا فیصلہ اچانک کیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بہت کم لوگ اس کی وجہ جانتے ہیں کہ کیوں ایسا کیا گیا۔</p>
<p>پارٹی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے علی امین گنڈاپور کی حکومت کی جانب سے عمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں ناکامی کے بعد اسے ایک ’نئے آغاز‘ کی امید کے طور پر بیان کیا ہے۔</p>
<p>کچھ لوگ سہیل آفریدی کی نامزدگی کو اس نئی سمت کے اشارے کے طور پر لے رہے ہیں جس کی جانب پی ٹی آئی اپنا رخ کرنے جارہی ہے۔ حال ہی میں پارٹی نے محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈران کے لیے نامزد کیا تھا، جسے بہت سے لوگوں نے اشتعال انگیز قرار دیا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے اہم ترین نمائندوں کی فہرست میں سہیل آفریدی کے شامل ہونے کے بعد پارٹی کے حوالے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ سخت گیر مؤقف اختیار کرنے والی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1947580/political-upheaval">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271145</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 13:05:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0909542746b5747.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0909542746b5747.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مسلم دنیا کے ساتھ مذاق کیا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270606/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے کہ مسلم دنیا کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامن نیتن یاہو نے مذاق کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک نے ابتدائی طور پر 20 نکاتی غزہ ’امن‘ منصوبے کا خیرمقدم کیا لیکن جب ان پر اس کے حقائق (کہ یہ فلسطینیوں کو ہتھیار ڈالنے، اسرائیل کو مکمل آزادی اور غزہ کو نوآبادیاتی علاقہ بنانے کے بارے میں ہے) کھلے ہیں تو وضاحتوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے میں چند تبدیلیاں کی ہیں جو پہلے اس مسودے میں پہلے موجود نہ تھیں کہ جب امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں مسلم ممالک کے رہنماؤں کی بیٹھک میں اسے پیش کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاید وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کو منگل کو وضاحت دینا پڑی کہ ’یہ ہماری دستاویز نہیں‘ حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے اس کے لیے پُرجوش تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر مسلم ممالک بشمول سعودی عرب، مصر اور ترکیہ بھی امریکا اور اسرائیل کے اقدام کے لیے تیار نہ تھے۔ اطلاعات کے مطابق قطر نے امریکا سے کہا کہ وہ منصوبے کے اعلان کو مؤخر کرے مگر واشنگٹن نے اس درخواست کو نظر انداز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ اسرائیل نے منصوبے میں ردوبدل کیا ہے اور اس ظالمانہ معاہدے کی مندرجات دیکھ کر شک کی گنجائش باقی بھی نہیں رہی ہے، تو مسلم دنیا کو خود کو چند اہم سوالات پوچھنے چاہیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے تو اسرائیل ایک ایسی ڈیل میں رد و بدل کرنے کا مجاز کیسے ہے جس پر مسلم ممالک پہلے ہی اتفاقِ رائے کرچکے تھے اور امریکا نے اسے ایسا کرنے کیوں دیا؟ دوسری بات یہ کہ فلسطینی جو اسرائیلی جارحیت سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، انہیں مشاورت کے عمل میں شامل کیے بغیر کیسے اس معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270390"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبے حماس کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں اور یہ فلسطینی اتھارٹی کو بھی محدود کردے گا، جب تک وہ اسرائیل کے آگے معافی اور ’گناہوں‘ کی بخشش نہ مانگیں۔ اگر دو اہم فلسطینی انتظامی جماعتوں کو اس معاہدے سے الگ کردیا گیا ہے تو غزہ کو کون سنبھالے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فلسطینی ’ٹیکنوکریٹس‘ جنہیں مقبوضہ پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے ہیں، اسرائیل کی وفاداری کا حلف اٹھا لیتے ہیں اور اپنی آزاد ریاست کے تصور سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو کیا ہوگا؟ اس مایوس کُن دستاویز کو پڑھ کر یہی تاثر ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ اس منصوبے میں دو ریاستی حل کو حقیقت کا روپ دینے کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ جس میں فلسطینی ریاست کا دارالحکومت یروشلم ہوگا۔ اس میں صرف مبہم الفاظ میں ’قابلِ اعتبار راستے‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت تو یہ ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں کچھ بھی قابلِ اعتبار نہیں ہے جبکہ اس کی کامیابی کے امکانات صفر کے برابر ہیں۔ رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ حماس بھی اسے ممکنہ طور پر مسترد کردے گا جبکہ الفتح میں بھی اس منصوبے کو لے کر عدم اطمینان پایا جارہا ہے۔ اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کرتا ہے تو ٹرمپ نے ’انتہائی افسوسناک انجام‘ کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف حماس کی جانب سے ردعمل کے انتظار میں اسرائیل غزہ کے شہریوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ تل ابیب کس قدر امن قائم کرنے کا ’عزم‘ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اور جب یہ منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو مسلم ممالک کے رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ انہیں اسرائیل اور امریکا پر اندھا بھروسہ کرکے بدلے میں آخر کیا ملا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1946022/flawed-scheme"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایسا لگتا ہے کہ مسلم دنیا کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامن نیتن یاہو نے مذاق کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک نے ابتدائی طور پر 20 نکاتی غزہ ’امن‘ منصوبے کا خیرمقدم کیا لیکن جب ان پر اس کے حقائق (کہ یہ فلسطینیوں کو ہتھیار ڈالنے، اسرائیل کو مکمل آزادی اور غزہ کو نوآبادیاتی علاقہ بنانے کے بارے میں ہے) کھلے ہیں تو وضاحتوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے میں چند تبدیلیاں کی ہیں جو پہلے اس مسودے میں پہلے موجود نہ تھیں کہ جب امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں مسلم ممالک کے رہنماؤں کی بیٹھک میں اسے پیش کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاید وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کو منگل کو وضاحت دینا پڑی کہ ’یہ ہماری دستاویز نہیں‘ حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے اس کے لیے پُرجوش تھے۔</p>
<p>دیگر مسلم ممالک بشمول سعودی عرب، مصر اور ترکیہ بھی امریکا اور اسرائیل کے اقدام کے لیے تیار نہ تھے۔ اطلاعات کے مطابق قطر نے امریکا سے کہا کہ وہ منصوبے کے اعلان کو مؤخر کرے مگر واشنگٹن نے اس درخواست کو نظر انداز کیا۔</p>
<p>اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ اسرائیل نے منصوبے میں ردوبدل کیا ہے اور اس ظالمانہ معاہدے کی مندرجات دیکھ کر شک کی گنجائش باقی بھی نہیں رہی ہے، تو مسلم دنیا کو خود کو چند اہم سوالات پوچھنے چاہیے ہیں۔</p>
<p>سب سے پہلے تو اسرائیل ایک ایسی ڈیل میں رد و بدل کرنے کا مجاز کیسے ہے جس پر مسلم ممالک پہلے ہی اتفاقِ رائے کرچکے تھے اور امریکا نے اسے ایسا کرنے کیوں دیا؟ دوسری بات یہ کہ فلسطینی جو اسرائیلی جارحیت سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، انہیں مشاورت کے عمل میں شامل کیے بغیر کیسے اس معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکتی ہے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270390"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ منصوبے حماس کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں اور یہ فلسطینی اتھارٹی کو بھی محدود کردے گا، جب تک وہ اسرائیل کے آگے معافی اور ’گناہوں‘ کی بخشش نہ مانگیں۔ اگر دو اہم فلسطینی انتظامی جماعتوں کو اس معاہدے سے الگ کردیا گیا ہے تو غزہ کو کون سنبھالے گا؟</p>
<p>اگر فلسطینی ’ٹیکنوکریٹس‘ جنہیں مقبوضہ پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے ہیں، اسرائیل کی وفاداری کا حلف اٹھا لیتے ہیں اور اپنی آزاد ریاست کے تصور سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو کیا ہوگا؟ اس مایوس کُن دستاویز کو پڑھ کر یہی تاثر ملتا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ اس منصوبے میں دو ریاستی حل کو حقیقت کا روپ دینے کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ جس میں فلسطینی ریاست کا دارالحکومت یروشلم ہوگا۔ اس میں صرف مبہم الفاظ میں ’قابلِ اعتبار راستے‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔</p>
<p>حقیقت تو یہ ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں کچھ بھی قابلِ اعتبار نہیں ہے جبکہ اس کی کامیابی کے امکانات صفر کے برابر ہیں۔ رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ حماس بھی اسے ممکنہ طور پر مسترد کردے گا جبکہ الفتح میں بھی اس منصوبے کو لے کر عدم اطمینان پایا جارہا ہے۔ اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کرتا ہے تو ٹرمپ نے ’انتہائی افسوسناک انجام‘ کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>دوسری طرف حماس کی جانب سے ردعمل کے انتظار میں اسرائیل غزہ کے شہریوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ تل ابیب کس قدر امن قائم کرنے کا ’عزم‘ رکھتا ہے۔</p>
<p>اگر اور جب یہ منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو مسلم ممالک کے رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ انہیں اسرائیل اور امریکا پر اندھا بھروسہ کرکے بدلے میں آخر کیا ملا؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1946022/flawed-scheme">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270606</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 11:02:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/021043038b8b327.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/021043038b8b327.webp"/>
        <media:title>—تصور: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’اگر مسلم ممالک نیٹو بنانا چاہیں تو اس کا ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269610/</link>
      <description>&lt;p&gt;بدھ کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض میں اسٹریٹجک باہمی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1269450/"&gt;دفاعی معاہدے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر دستخط یقیناً دونوں ریاستوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی تعلقات کم از کم 1960ء کی دہائی سے قائم ہیں اور پاکستانی فوجی مختلف ادوار کے دوران سعودی مملکت میں تعینات رہے ہیں لیکن یہ حالیہ معاہدہ گزشتہ معاہدوں کو تقویت دیتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اس اصول کا اعادہ کیا ہے کہ ’کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند سالوں سے مبینہ طور پر دفاعی معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی لیکن اس پر دستخط کرنے کا وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے جبکہ یہ حقیقت کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے چند دن بعد دونوں میں باہمی معاہدہ طے پایا ہے تو ایسے میں عالمی سطح پر اسے توجہ نہ ملنا ناممکن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب سمیت خلیجی عرب ریاستیں بہ ظاہر یہ سمجھ چکی ہیں کہ امریکا کے ساتھ گہرے تعلقات کے باوجود امریکا کا ان کے دفاع میں آنے کا امکان نہیں ہے۔ اس لیے اب وہ دیگر آپشنز تلاش کر رہی ہیں۔ پاکستان جو خلیجی سلطنتوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتا ہے اور جس کے پاس جنگی تجربہ کار فوج ہے، انہیں ایک فطری شراکت دار دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چند سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ایک تو برصغیر کی صورت حال بدستور غیر مستحکم ہے۔ اگرچہ سعودیہ کے نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہوسکتے ہیں لیکن اگر بھارت، پاکستان پر دوبارہ حملہ کرتا ہے تو کیا ریاض، پاکستان کے دفاع میں مدد کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سوالات کے واضح جوابات کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب بھارت نے پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے ’مضمرات کا مطالعہ‘ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ بلاشبہ پاکستان کی سفارتی اور جغرافیائی سیاسی فتح ہے۔ امید ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ریاستوں کے درمیان پہلے سے موجود خوشگوار تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ دیگر خلیجی ریاستیں مستقبل میں پاکستان کے ساتھ ایسے ہی معاہدوں پر دستخط کر سکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کو دو طرفہ دفاعی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہیے لیکن بڑے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے بالخصوص جہاں تک مشرق وسطیٰ کی اجتماعی سلامتی کا تعلق ہے، اب بھی ایک خلا موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج میں ’اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن‘ جس کی بنیاد 2015ء میں رکھی گئی تھی اور جس کی سربراہی سابق آرمی چیف راحیل شریف کر رہے تھے، اسے مسلم دنیا کے اجتماعی دفاع کے لیے دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال 43 رکنی ادارہ بہت زیادہ متحرک نہیں۔ اگر اس میں ایران اور دیگر مسلم ریاستوں کو شامل کرنے کے لیے توسیع کی گئی، جو اس وقت اس کے رکن نہیں ہیں تو یہ اسرائیل کو ایک مضبوط پیغام دے سکتا ہے جو کہ فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ مسلم اور عرب دنیا کے لیے موجودہ سیکیورٹی کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحاد کے اہداف کا از سرِ نو تعین غزہ میں نسل کشی کو ختم کرنے اور صہیونی ریاست کے علاقائی ممالک پر مزید حملوں کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم نیٹو کا بنیادی ڈھانچہ پہلے سے ہی موجود ہے۔ لیکن باقی تمام مسلم ریاستوں کے لیے اپنے دروازے کھولنا اور باہمی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا باقی ہے۔ پاکستان کی دشمن ریاستوں کو اس طرح کا اتحاد مستقبل میں مزید حملے کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1943070/saudi-defence-pact"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بدھ کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض میں اسٹریٹجک باہمی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1269450/">دفاعی معاہدے</a></strong> پر دستخط یقیناً دونوں ریاستوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>اگرچہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی تعلقات کم از کم 1960ء کی دہائی سے قائم ہیں اور پاکستانی فوجی مختلف ادوار کے دوران سعودی مملکت میں تعینات رہے ہیں لیکن یہ حالیہ معاہدہ گزشتہ معاہدوں کو تقویت دیتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اس اصول کا اعادہ کیا ہے کہ ’کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا‘۔</p>
<p>گزشتہ چند سالوں سے مبینہ طور پر دفاعی معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی لیکن اس پر دستخط کرنے کا وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے جبکہ یہ حقیقت کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے چند دن بعد دونوں میں باہمی معاہدہ طے پایا ہے تو ایسے میں عالمی سطح پر اسے توجہ نہ ملنا ناممکن تھا۔</p>
<p>سعودی عرب سمیت خلیجی عرب ریاستیں بہ ظاہر یہ سمجھ چکی ہیں کہ امریکا کے ساتھ گہرے تعلقات کے باوجود امریکا کا ان کے دفاع میں آنے کا امکان نہیں ہے۔ اس لیے اب وہ دیگر آپشنز تلاش کر رہی ہیں۔ پاکستان جو خلیجی سلطنتوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتا ہے اور جس کے پاس جنگی تجربہ کار فوج ہے، انہیں ایک فطری شراکت دار دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>تاہم چند سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ایک تو برصغیر کی صورت حال بدستور غیر مستحکم ہے۔ اگرچہ سعودیہ کے نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہوسکتے ہیں لیکن اگر بھارت، پاکستان پر دوبارہ حملہ کرتا ہے تو کیا ریاض، پاکستان کے دفاع میں مدد کرے گا؟</p>
<p>ان سوالات کے واضح جوابات کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب بھارت نے پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے ’مضمرات کا مطالعہ‘ کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ بلاشبہ پاکستان کی سفارتی اور جغرافیائی سیاسی فتح ہے۔ امید ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ریاستوں کے درمیان پہلے سے موجود خوشگوار تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ دیگر خلیجی ریاستیں مستقبل میں پاکستان کے ساتھ ایسے ہی معاہدوں پر دستخط کر سکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کو دو طرفہ دفاعی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہیے لیکن بڑے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے بالخصوص جہاں تک مشرق وسطیٰ کی اجتماعی سلامتی کا تعلق ہے، اب بھی ایک خلا موجود ہے۔</p>
<p>خلیج میں ’اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن‘ جس کی بنیاد 2015ء میں رکھی گئی تھی اور جس کی سربراہی سابق آرمی چیف راحیل شریف کر رہے تھے، اسے مسلم دنیا کے اجتماعی دفاع کے لیے دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فی الحال 43 رکنی ادارہ بہت زیادہ متحرک نہیں۔ اگر اس میں ایران اور دیگر مسلم ریاستوں کو شامل کرنے کے لیے توسیع کی گئی، جو اس وقت اس کے رکن نہیں ہیں تو یہ اسرائیل کو ایک مضبوط پیغام دے سکتا ہے جو کہ فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ مسلم اور عرب دنیا کے لیے موجودہ سیکیورٹی کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>اتحاد کے اہداف کا از سرِ نو تعین غزہ میں نسل کشی کو ختم کرنے اور صہیونی ریاست کے علاقائی ممالک پر مزید حملوں کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<p>مسلم نیٹو کا بنیادی ڈھانچہ پہلے سے ہی موجود ہے۔ لیکن باقی تمام مسلم ریاستوں کے لیے اپنے دروازے کھولنا اور باہمی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا باقی ہے۔ پاکستان کی دشمن ریاستوں کو اس طرح کا اتحاد مستقبل میں مزید حملے کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1943070/saudi-defence-pact">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269610</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 10:53:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/19095623fb2bc82.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/19095623fb2bc82.webp"/>
        <media:title>—تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’آج دوحہ ہے، کل کو اسرائیلی حملہ قاہرہ یا ریاض پر بھی ہوسکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268964/</link>
      <description>&lt;p&gt;دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی بمباری صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی۔ یہ اسٹریٹجک اعتبار سے کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو اسرائیل کے جنگی طیاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر بمباری کی جس میں حماس کے جلاوطن قیادت کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی سرپرستی میں ہونے والے غزہ جنگ بندی تجویز پر غور کرنے کے لیے وہاں موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ حملے میں نشانہ بنائے جانے والے رہنما، حماس رہنماؤں کے قتل کے بعد مجبوراً جلاوطن ہوگئے تھے۔ یہ رہنما حماس کے سیاسی بیورو ہیں۔ جن کے لیے حملہ کیا گیا، وہ تو زندہ بچ گئے لیکن دیگر اس حملے میں جانبر نہ ہوسکے۔ جاں بحق افراد میں ان کے محافظین، معاونین اور قطری افسر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک خطرناک روایت قائم ہوگئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنی فوجی مہم کا دائرہ کار غزہ، لبنان، شام اور ایران سے زیادہ وسیع کیا ہے جبکہ اس نے اب ایک ایسے ملک پر حملہ کیا ہے جو عرب دنیا میں امریکا کے سب سے قریبی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں سے اسرائیل نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تنازع کو ایک ایسی کھلی جنگ کے طور پر دیکھا ہے جس کی کوئی سرحدیں نہیں۔ لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد کی سابقہ حکومت، یمن میں حوثی افواج، حتیٰ کہ ایران کی اپنی سرزمین بھی فضائی حملوں، رہنماؤں کے قتل اور تخریب کاری سے محفوظ نہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کارروائیوں سے عدم استحکام پیدا ہوا لیکن انہیں اکثر خطے کے دو طاقتور ممالک کے درمیان خفیہ تنازع کے حصے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ جب تک لڑائی ان گروہوں اور علاقوں تک محدود رہی، دیگر ممالک نے عموماً اسے قبول کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نہیں، قطر تو ایران کی پراکسی نہیں۔ یہ تو ایک دولت مند خلیجی امارات ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے جبکہ یہ ایک ’بڑا نان-نیٹو اتحادی‘ ہے جسے واشنگٹن نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ دوحہ پر حملہ کرکے اسرائیل نے حد عبور کی ہے جس کے علاقائی سلامتی کے لیے گہرے مضمرات ہوں گے۔ یہ کسی بھی خلیجی سلطنت پر بڑا حملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268868"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے نے ایک اشارے کے طور پر کام کیا جس نے ہر عرب ملک کو متبنہ کیا ہے اور انہیں غیر آرام دہ سوالات پوچھنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا کسی بھی ملک کی خودمختاری کا واقعی احترام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی طرح، ترکیہ اور مصر بھی جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کے دوران ثالثی کے دارالحکومت پر بمباری کرنا خود سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورت حال امریکا کو بھی تنازع میں الجھا سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس کی ضرورت ہے تاکہ امریکا، اسرائیل کو سمجھ بوجھ دے سکے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن کو حملے کی پیشگی بریفنگ دی گئی تھی لیکن برطانیہ و دیگر اتحادیوں کو مطلع نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاثر کہ اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، یہاں تک کہ قطر جیسے قریبی اتحادی کی خودمختاری کو نظر انداز کرنا، عرب ریاستوں میں شکوک و شبہات کو بڑھا دے گا کہ کیا مغربی ممالک اسرائیل کو قابو میں کرنے کے قابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کو واضح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔ دہائیوں تک انہوں نے اسرائیلی جارحیت کا الفاظ اور قراردادوں کی صورت میں جواب دیا ہے۔ اور کھوکھلے اعلانات کی یہی وہ ریت ہے جس نے تل ابیب کو جنگی مشین میں تبدیل ہونے کی تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب عرب ممالک میں اجتماعی عزم نہ ہو جیسے اسرائیل کا اقتصادی بائیکاٹ، سفارتی تعلقات منقطع کرنا اور تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو روکنا، تب تک اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ کو سرحد پار دیگر ممالک تک پھیلاتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اسے نہیں روکا جاتا تب تک کوئی بھی ملک چاہے وہ علاقائی اعتبار سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، اسرائیل سے واقعی محفوظ نہیں ہے۔ آج دوحہ پر ہونے والا حملہ کل کو قاہرہ، ریاض یا دیگر ریاستوں پر بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1941109/widening-war"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی بمباری صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی۔ یہ اسٹریٹجک اعتبار سے کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔</p>
<p>منگل کو اسرائیل کے جنگی طیاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر بمباری کی جس میں حماس کے جلاوطن قیادت کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی سرپرستی میں ہونے والے غزہ جنگ بندی تجویز پر غور کرنے کے لیے وہاں موجود تھی۔</p>
<p>حالیہ حملے میں نشانہ بنائے جانے والے رہنما، حماس رہنماؤں کے قتل کے بعد مجبوراً جلاوطن ہوگئے تھے۔ یہ رہنما حماس کے سیاسی بیورو ہیں۔ جن کے لیے حملہ کیا گیا، وہ تو زندہ بچ گئے لیکن دیگر اس حملے میں جانبر نہ ہوسکے۔ جاں بحق افراد میں ان کے محافظین، معاونین اور قطری افسر شامل ہیں۔</p>
<p>یہ ایک خطرناک روایت قائم ہوگئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنی فوجی مہم کا دائرہ کار غزہ، لبنان، شام اور ایران سے زیادہ وسیع کیا ہے جبکہ اس نے اب ایک ایسے ملک پر حملہ کیا ہے جو عرب دنیا میں امریکا کے سب سے قریبی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>برسوں سے اسرائیل نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تنازع کو ایک ایسی کھلی جنگ کے طور پر دیکھا ہے جس کی کوئی سرحدیں نہیں۔ لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد کی سابقہ حکومت، یمن میں حوثی افواج، حتیٰ کہ ایران کی اپنی سرزمین بھی فضائی حملوں، رہنماؤں کے قتل اور تخریب کاری سے محفوظ نہ رہی۔</p>
<p>اگرچہ ان کارروائیوں سے عدم استحکام پیدا ہوا لیکن انہیں اکثر خطے کے دو طاقتور ممالک کے درمیان خفیہ تنازع کے حصے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ جب تک لڑائی ان گروہوں اور علاقوں تک محدود رہی، دیگر ممالک نے عموماً اسے قبول کیا۔</p>
<p>لیکن نہیں، قطر تو ایران کی پراکسی نہیں۔ یہ تو ایک دولت مند خلیجی امارات ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے جبکہ یہ ایک ’بڑا نان-نیٹو اتحادی‘ ہے جسے واشنگٹن نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ دوحہ پر حملہ کرکے اسرائیل نے حد عبور کی ہے جس کے علاقائی سلامتی کے لیے گہرے مضمرات ہوں گے۔ یہ کسی بھی خلیجی سلطنت پر بڑا حملہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268868"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حملے نے ایک اشارے کے طور پر کام کیا جس نے ہر عرب ملک کو متبنہ کیا ہے اور انہیں غیر آرام دہ سوالات پوچھنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا کسی بھی ملک کی خودمختاری کا واقعی احترام کیا جائے گا۔</p>
<p>قطر کی طرح، ترکیہ اور مصر بھی جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کے دوران ثالثی کے دارالحکومت پر بمباری کرنا خود سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔</p>
<p>یہ صورت حال امریکا کو بھی تنازع میں الجھا سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس کی ضرورت ہے تاکہ امریکا، اسرائیل کو سمجھ بوجھ دے سکے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن کو حملے کی پیشگی بریفنگ دی گئی تھی لیکن برطانیہ و دیگر اتحادیوں کو مطلع نہیں کیا گیا۔</p>
<p>یہ تاثر کہ اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، یہاں تک کہ قطر جیسے قریبی اتحادی کی خودمختاری کو نظر انداز کرنا، عرب ریاستوں میں شکوک و شبہات کو بڑھا دے گا کہ کیا مغربی ممالک اسرائیل کو قابو میں کرنے کے قابل ہیں۔</p>
<p>اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کو واضح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔ دہائیوں تک انہوں نے اسرائیلی جارحیت کا الفاظ اور قراردادوں کی صورت میں جواب دیا ہے۔ اور کھوکھلے اعلانات کی یہی وہ ریت ہے جس نے تل ابیب کو جنگی مشین میں تبدیل ہونے کی تقویت دی ہے۔</p>
<p>جب عرب ممالک میں اجتماعی عزم نہ ہو جیسے اسرائیل کا اقتصادی بائیکاٹ، سفارتی تعلقات منقطع کرنا اور تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو روکنا، تب تک اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ کو سرحد پار دیگر ممالک تک پھیلاتا رہے گا۔</p>
<p>جب تک اسے نہیں روکا جاتا تب تک کوئی بھی ملک چاہے وہ علاقائی اعتبار سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، اسرائیل سے واقعی محفوظ نہیں ہے۔ آج دوحہ پر ہونے والا حملہ کل کو قاہرہ، ریاض یا دیگر ریاستوں پر بھی ہوسکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1941109/widening-war">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268964</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 10:41:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/1109545498a81f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/1109545498a81f6.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: نکاسی آب کے مناسب نظام سے محروم، مفلوج شہرِ کراچی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267222/</link>
      <description>&lt;p&gt;مون سون ایک بار پھر کراچی کے لیے موت اور مصائب کے علاوہ کچھ نہیں لایا ہے جہاں منگل کو ہونے والی ’غیرمعمولی‘ بارش نے اس بدقسمت شہر کو مفلوج کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارشوں سے تباہی کے واقعات ملک کے دیگر حصوں جیسے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں جہاں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بنے۔ لیکن کراچی میں اربن فلڈنگ کا مسئلہ اپنے آپ میں کئی حوالوں سے منفرد ہے جو خراب منصوبہ بندی اور غیر منظم ترقی کی وجہ سے بڑھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر نے اس تباہی کی وجہ ’موسمیاتی تبدیلی‘ کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی، غیرمعمولی موسمیاتی خرابی اور گلوبل وارمنگ کی ذمہ دار ہے لیکن اسے کراچی کی حالت زار کا کلیدی مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ہر سال مون سون کے بادل آتے ہی ہمیں شہر میں یہی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب سے بھری سڑکیں، گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے ہوئے لوگ اور گھٹن زدہ موسم میں طویل عرصے تک بجلی کی بندش، منگل کے اسپیل کے کچھ نتائج تھے۔ یقیناً اس بار شہر کے بہت سے حصوں میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں لیکن اس سے قبل بھی نسبتاً کم بارشوں نے بھی شہری زندگی کے پہیے کو جام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹر سائیکل اور کار سوار لوگوں کو گہرے پانی میں پھنسے اور بارش کا پانی گھروں اور اپارٹمنٹ کی عمارتوں میں داخل ہوتے مناظر ظاہر کرتے ہیں کہ شہر کے نکاسی آب کے نظام میں سنگین خرابی ہے۔ اور مسئلہ حل کرنے کی کچھ کوششوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر پوش علاقے ڈی ایچ اے میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی لاگت سے نکاسی کا نظام نصب کیا گیا تھا لیکن پھر بھی یہ علاقے کو شہری سیلاب کی صورت حال سے بچانے میں ناکام رہا۔ ڈی ایچ اے شہری اداروں کے دائرہ اختیار سے باہر، کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر کنٹرول ہے۔ کم آمدنی والے، نشیبی علاقوں کے باسی بھی اسی طرح متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ اور آزاد شہری ماہرین سے لے کر سوشل میڈیا پر اظہارِ برہمی کرتے لوگوں تک، سب ہی نے اس حقیقت پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ کراچی میں مناسب نکاسی آب کا نظام نہیں ہے اور یہ کہ مون سون سے متعلق تباہی ہر سال کا معمول بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے حل طلب ہے اور اس کا الزام صرف موجودہ حکومت کو ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی انتظامیہ نے کراچی کو نظرانداز کیا ہے یا شاذو نادر اس کے شہری مسائل پر لب کشائی کی ہے کیونکہ تجاوزات اور زمین پر قبضہ کرنے والوں نے اس کا چہرہ بگاڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے شہری مسائل بشمول ناقص نکاسی آب پیچیدہ ہیں اور کئی دہائیوں سے نظر انداز کیے جانے کو ہفتوں یا مہینوں میں دور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن شروعات شہر کے اہم مسائل، بنیادی طور پر ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے، پانی کی فراہمی، کام کرنے والا سیوریج سسٹم، زمین کا منصفانہ انتظام وغیرہ سے ہونی چاہیے جوکہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ شہر کے منتظمین اور آزاد ماہرین کو یہ مسائل حل کرنا چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک بہتر بلدیاتی نظام جو مقامی مسائل کا فوری حل کرے اور لوگوں کو جوابدہ ہو، کراچی کی شہریوں کی پریشانیوں کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ کراچی میں زمین کو کنٹرول کرنے والے متعدد ادارے بھی شہری نظم و نسق کو پیچیدہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1932223/paralysed-city"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مون سون ایک بار پھر کراچی کے لیے موت اور مصائب کے علاوہ کچھ نہیں لایا ہے جہاں منگل کو ہونے والی ’غیرمعمولی‘ بارش نے اس بدقسمت شہر کو مفلوج کردیا ہے۔</p>
<p>بارشوں سے تباہی کے واقعات ملک کے دیگر حصوں جیسے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں جہاں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بنے۔ لیکن کراچی میں اربن فلڈنگ کا مسئلہ اپنے آپ میں کئی حوالوں سے منفرد ہے جو خراب منصوبہ بندی اور غیر منظم ترقی کی وجہ سے بڑھا ہے۔</p>
<p>میئر نے اس تباہی کی وجہ ’موسمیاتی تبدیلی‘ کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی، غیرمعمولی موسمیاتی خرابی اور گلوبل وارمنگ کی ذمہ دار ہے لیکن اسے کراچی کی حالت زار کا کلیدی مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ہر سال مون سون کے بادل آتے ہی ہمیں شہر میں یہی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے۔</p>
<p>سیلاب سے بھری سڑکیں، گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے ہوئے لوگ اور گھٹن زدہ موسم میں طویل عرصے تک بجلی کی بندش، منگل کے اسپیل کے کچھ نتائج تھے۔ یقیناً اس بار شہر کے بہت سے حصوں میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں لیکن اس سے قبل بھی نسبتاً کم بارشوں نے بھی شہری زندگی کے پہیے کو جام کیا۔</p>
<p>موٹر سائیکل اور کار سوار لوگوں کو گہرے پانی میں پھنسے اور بارش کا پانی گھروں اور اپارٹمنٹ کی عمارتوں میں داخل ہوتے مناظر ظاہر کرتے ہیں کہ شہر کے نکاسی آب کے نظام میں سنگین خرابی ہے۔ اور مسئلہ حل کرنے کی کچھ کوششوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر پوش علاقے ڈی ایچ اے میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی لاگت سے نکاسی کا نظام نصب کیا گیا تھا لیکن پھر بھی یہ علاقے کو شہری سیلاب کی صورت حال سے بچانے میں ناکام رہا۔ ڈی ایچ اے شہری اداروں کے دائرہ اختیار سے باہر، کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر کنٹرول ہے۔ کم آمدنی والے، نشیبی علاقوں کے باسی بھی اسی طرح متاثر ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سپریم کورٹ اور آزاد شہری ماہرین سے لے کر سوشل میڈیا پر اظہارِ برہمی کرتے لوگوں تک، سب ہی نے اس حقیقت پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ کراچی میں مناسب نکاسی آب کا نظام نہیں ہے اور یہ کہ مون سون سے متعلق تباہی ہر سال کا معمول بن چکی ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے حل طلب ہے اور اس کا الزام صرف موجودہ حکومت کو ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی انتظامیہ نے کراچی کو نظرانداز کیا ہے یا شاذو نادر اس کے شہری مسائل پر لب کشائی کی ہے کیونکہ تجاوزات اور زمین پر قبضہ کرنے والوں نے اس کا چہرہ بگاڑ دیا ہے۔</p>
<p>کراچی کے شہری مسائل بشمول ناقص نکاسی آب پیچیدہ ہیں اور کئی دہائیوں سے نظر انداز کیے جانے کو ہفتوں یا مہینوں میں دور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن شروعات شہر کے اہم مسائل، بنیادی طور پر ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے، پانی کی فراہمی، کام کرنے والا سیوریج سسٹم، زمین کا منصفانہ انتظام وغیرہ سے ہونی چاہیے جوکہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ شہر کے منتظمین اور آزاد ماہرین کو یہ مسائل حل کرنا چاہئیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک بہتر بلدیاتی نظام جو مقامی مسائل کا فوری حل کرے اور لوگوں کو جوابدہ ہو، کراچی کی شہریوں کی پریشانیوں کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ کراچی میں زمین کو کنٹرول کرنے والے متعدد ادارے بھی شہری نظم و نسق کو پیچیدہ بناتے ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1932223/paralysed-city">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267222</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 12:07:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/210916432f82b9e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/210916432f82b9e.jpg"/>
        <media:title>—تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’9 مئی کے مقدمات کو زیادہ احتیاط سے نمٹایا جانا چاہیے تھا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264776/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ ایک اور یاد دہانی تھی کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران کتنا پیچیدہ ہے۔ دو الگ الگ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے منگل کو کئی سیاسی رہنماؤں اور پارٹی کارکنان کو ’اشتعال انگیز‘ تقاریر، ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے اور 9 مئی 2023ء کو دیکھی جانے والی توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں طویل مدتی قید کی سزاؤں کا فیصلہ سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملہ ختم کرے کے بجائے یہ فیصلے پہلے سے جاری سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ کریں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقدمات قابل اعتماد گواہی یا ٹھوس شواہد کے بغیر چلائے گئے جو افراد پر جرائم کو ثابت کرتے اور جب انہیں اعلیٰ عدالتوں میں لے جایا جائے گا تو عدم شواہد پر ان فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئی بات نہیں ہوگی۔ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں پر قتل، غداری، بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلائے جانے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ بری ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سیاست دان جو برسوں حتیٰ کہ دہائیوں تک جیلوں میں بند رہے، بعد ازاں حکومتوں کی قیادت کرنے اور پالیسی تشکیل دینے کے لیے ایک بار پھر منظرنامے میں واپس آئے۔ ایسے بہت سے لوگ آج حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی معاملات عدالتی کمروں میں کم ہی طے پاتے ہیں۔ اکثر ان کا فیصلہ ججز نہیں بلکہ عام لوگ کرتے ہیں جو نہ صرف ملزمان کی بلکہ الزامات لگانے والوں کی بھی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اس لیے 9 مئی کے مقدمات کو زیادہ احتیاط سے نمٹایا جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر سیاسی تقاریر اور سیاسی تشدد کے مقدمات کو انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان پر معیاری فوجداری قوانین کے تحت مقدمہ چلانا ہی کافی ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے ریاست نے سیاسی اختلاف کو دہشتگردی کے طور پر دیکھنے کو ترجیح دی۔ اس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ٹرائلز کو ٹی وی پر نشر نہیں کیا جائے گا جس سے عوام کو ان کی انصاف پسندی پر شک کرنے کی اور وجہ ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر عدالت کے پاس ملزم کے خلاف ’ناقابل تردید ثبوت‘ اور ’ناقابل تردید شہادتیں‘ تھیں، جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے تو اسے عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ ٹرائلز جس طرح چلائے گئے اس میں انصاف کبھی ’دیکھا‘ نہیں گیا اور اس حوالے سے شکوک و شبہات برقرار رہیں گے کہ یہ سزائیں کیسے دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال سے 9 مئی کے مختلف مقدمات کے سلسلے میں زیر حراست مشتبہ افراد زیر حراست ہیں جنہیں بار بار ضمانت دینے سے انکار کیا گیا اور وہ اپنے خلاف مقدمات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ ایسے تمام مقدمات کو ختم کرنے کے لیے آخری تاریخ مقرر نہ کرتی تو لاہور اور سرگودھا انسداد دہشت گردی عدالتوں کی طرف سے سنائے جانے والے فیصلوں میں مزید تاخیر ہوسکتی تھی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ بعد کی کارروائی منظرعام پر ہوگی اور مبصرین کو ان پر آزادانہ رائے قائم کرنے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو ایک سیاسی بحران میں گھسیٹا گیا ہے جس سے وہ فرار ہونے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ حکمرانی کرنے والوں کو یہ سبق سمجھنا چاہیے جو کئی دہائیوں سے بدستور برقرار ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں سے اپنے ناقدین کو کچھ وقت کے لیے خاموش تو کر سکتے ہیں لیکن یہ عوام ہی ہیں جو بلآخر سیاسی فیصلے دیتے ہیں۔ جتنی جلدی انہیں اس بات کا احساس ہو جائے گا اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1926197"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ ایک اور یاد دہانی تھی کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران کتنا پیچیدہ ہے۔ دو الگ الگ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے منگل کو کئی سیاسی رہنماؤں اور پارٹی کارکنان کو ’اشتعال انگیز‘ تقاریر، ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے اور 9 مئی 2023ء کو دیکھی جانے والی توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں طویل مدتی قید کی سزاؤں کا فیصلہ سنایا۔</p>
<p>معاملہ ختم کرے کے بجائے یہ فیصلے پہلے سے جاری سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ کریں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقدمات قابل اعتماد گواہی یا ٹھوس شواہد کے بغیر چلائے گئے جو افراد پر جرائم کو ثابت کرتے اور جب انہیں اعلیٰ عدالتوں میں لے جایا جائے گا تو عدم شواہد پر ان فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔</p>
<p>یہ نئی بات نہیں ہوگی۔ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں پر قتل، غداری، بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلائے جانے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ بری ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>وہ سیاست دان جو برسوں حتیٰ کہ دہائیوں تک جیلوں میں بند رہے، بعد ازاں حکومتوں کی قیادت کرنے اور پالیسی تشکیل دینے کے لیے ایک بار پھر منظرنامے میں واپس آئے۔ ایسے بہت سے لوگ آج حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔</p>
<p>سیاسی معاملات عدالتی کمروں میں کم ہی طے پاتے ہیں۔ اکثر ان کا فیصلہ ججز نہیں بلکہ عام لوگ کرتے ہیں جو نہ صرف ملزمان کی بلکہ الزامات لگانے والوں کی بھی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اس لیے 9 مئی کے مقدمات کو زیادہ احتیاط سے نمٹایا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>مثال کے طور پر سیاسی تقاریر اور سیاسی تشدد کے مقدمات کو انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان پر معیاری فوجداری قوانین کے تحت مقدمہ چلانا ہی کافی ہوتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بجائے ریاست نے سیاسی اختلاف کو دہشتگردی کے طور پر دیکھنے کو ترجیح دی۔ اس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ٹرائلز کو ٹی وی پر نشر نہیں کیا جائے گا جس سے عوام کو ان کی انصاف پسندی پر شک کرنے کی اور وجہ ملی۔</p>
<p>اگر عدالت کے پاس ملزم کے خلاف ’ناقابل تردید ثبوت‘ اور ’ناقابل تردید شہادتیں‘ تھیں، جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے تو اسے عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ ٹرائلز جس طرح چلائے گئے اس میں انصاف کبھی ’دیکھا‘ نہیں گیا اور اس حوالے سے شکوک و شبہات برقرار رہیں گے کہ یہ سزائیں کیسے دی گئیں۔</p>
<p>دو سال سے 9 مئی کے مختلف مقدمات کے سلسلے میں زیر حراست مشتبہ افراد زیر حراست ہیں جنہیں بار بار ضمانت دینے سے انکار کیا گیا اور وہ اپنے خلاف مقدمات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ ایسے تمام مقدمات کو ختم کرنے کے لیے آخری تاریخ مقرر نہ کرتی تو لاہور اور سرگودھا انسداد دہشت گردی عدالتوں کی طرف سے سنائے جانے والے فیصلوں میں مزید تاخیر ہوسکتی تھی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ بعد کی کارروائی منظرعام پر ہوگی اور مبصرین کو ان پر آزادانہ رائے قائم کرنے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو ایک سیاسی بحران میں گھسیٹا گیا ہے جس سے وہ فرار ہونے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ حکمرانی کرنے والوں کو یہ سبق سمجھنا چاہیے جو کئی دہائیوں سے بدستور برقرار ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں سے اپنے ناقدین کو کچھ وقت کے لیے خاموش تو کر سکتے ہیں لیکن یہ عوام ہی ہیں جو بلآخر سیاسی فیصلے دیتے ہیں۔ جتنی جلدی انہیں اس بات کا احساس ہو جائے گا اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہو گا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1926197">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264776</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 13:14:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/24122526e5e5dbb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/24122526e5e5dbb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’خواتین خاندان کی غیرت کی حفاظت کرنے والی اشیا نہیں ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264586/</link>
      <description>&lt;p&gt;’غیرت کے نام پر قتل‘ فرسودہ روایات کی پیروی کرنے کے لیے کیا جانے والا ایسا فعل ہے جو خون سے پروان چڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنفی تشدد کی سب سے گھناؤنی شکل اس وقت دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ایک عورت محبت کرنے کی ہمت کرتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے خاندانی عزت کو پامال کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ عورت اور اس کے ساتھی کو موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں گزشتہ ماہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1264493"&gt;نوجوان جوڑے کو قتل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیے جانے کی ایک دلخراش ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور اس نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ لرزہ خیز فوٹیج میں ایک نوجوان خاتون کو گولیوں سے قتل ہوتے دیکھا گیا جبکہ کئی مرد کھڑے دیکھتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کی جانب سے دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مبینہ طور پر قتل کا حکم دینے والے قبائلی سربراہ سمیت ایک درجن مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔ مقدمہ سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے خاتون کی قبر کشائی کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اٹک میں بھی دو مردوں نے خاندان کی ’غیرت‘ بحال کرنے کے لیے خون بہانے کا سہارا لیا اور نومولود کی ماہ کو اس کے شوہر اور سسر نے ’کردار‘ کے حوالے سے شکوک و شبہات میں متعدد گولیاں مار کر قتل کردیا۔ لوئر دیر میں فرقہ وارانہ غیرت نے ناجائز تعلقات رکھنے کے شبہ میں ایک جوڑے کی جان لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خوفناک جرائم کے تسلسل نے پاکستان میں متوازی نظام عدل اور خواتین کے حقوق کی کمزوری کے بارے میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ ان جرائم کو روایت یا ثقافت کے حصے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جو انہیں کسی طرح قابل قبول قرار دیتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2016ء میں حکومت نے نظام میں موجود ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی کہ جن کے نتیجے میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کسی سزا کے بغیر آزاد گھومتے تھے۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 311 جو ’فساد فی الارض‘ پر بات کرتا ہے، یقینی بناتا ہے کہ جب ’غیرت کے نام پر قتل‘ ہو اور شکایت کنندہ مجرم کو معاف کردے تو اس صورت میں ریاست کو مداخلت کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ترامیم کے باوجود قتل بشمول غیرت کے نام پر قتل کی سزا کو مقتولین کے ورثا معاف کردیتے ہیں۔ عدالتیں شاذ و نادر ہی مجرمان اور لواحقین کے درمیان تصفیہ کو ختم کرنے کے لیے صوابدید کا استعمال کرتی ہیں، اس طرح قاتلوں کو سزا سے استثنیٰ مل جاتا ہے جوکہ اب ایک روایت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کو اپنے شہریوں کو پدرشاہی نظام کے کینسر سے بچانے کا عزم ظاہر کرنا چاہیے۔ جنوری 2024ء سے نومبر 2024ء تک انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ’غیرت‘ کے نام پر 346 افراد مارے گئے۔ گزشتہ دو سالوں میں اس طرح کے قتل کے بڑھتے واقعات کو روکنے کا واحد راستہ ایسی قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے جو انصاف، انسانی حقوق اور ذمہ داری کی حمایت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی کارکنان کی جانب سے صرف بندوق کی نال کا سامنا کرنے والی خاتون کی جرأت کی تعریف کرنا کافی نہیں۔ کسی کو بھی ایسی روایات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ خواتین خاندان کی ساکھ کی حفاظت کرنے والی اشیا نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1925781/honour-kills"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’غیرت کے نام پر قتل‘ فرسودہ روایات کی پیروی کرنے کے لیے کیا جانے والا ایسا فعل ہے جو خون سے پروان چڑھتا ہے۔</p>
<p>صنفی تشدد کی سب سے گھناؤنی شکل اس وقت دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ایک عورت محبت کرنے کی ہمت کرتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے خاندانی عزت کو پامال کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ عورت اور اس کے ساتھی کو موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں گزشتہ ماہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1264493">نوجوان جوڑے کو قتل</a></strong> کیے جانے کی ایک دلخراش ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور اس نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ لرزہ خیز فوٹیج میں ایک نوجوان خاتون کو گولیوں سے قتل ہوتے دیکھا گیا جبکہ کئی مرد کھڑے دیکھتے رہے۔</p>
<p>ریاست کی جانب سے دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مبینہ طور پر قتل کا حکم دینے والے قبائلی سربراہ سمیت ایک درجن مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔ مقدمہ سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے خاتون کی قبر کشائی کا حکم دیا۔</p>
<p>دوسری جانب اٹک میں بھی دو مردوں نے خاندان کی ’غیرت‘ بحال کرنے کے لیے خون بہانے کا سہارا لیا اور نومولود کی ماہ کو اس کے شوہر اور سسر نے ’کردار‘ کے حوالے سے شکوک و شبہات میں متعدد گولیاں مار کر قتل کردیا۔ لوئر دیر میں فرقہ وارانہ غیرت نے ناجائز تعلقات رکھنے کے شبہ میں ایک جوڑے کی جان لے لی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان خوفناک جرائم کے تسلسل نے پاکستان میں متوازی نظام عدل اور خواتین کے حقوق کی کمزوری کے بارے میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ ان جرائم کو روایت یا ثقافت کے حصے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جو انہیں کسی طرح قابل قبول قرار دیتے ہوں۔</p>
<p>2016ء میں حکومت نے نظام میں موجود ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی کہ جن کے نتیجے میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کسی سزا کے بغیر آزاد گھومتے تھے۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 311 جو ’فساد فی الارض‘ پر بات کرتا ہے، یقینی بناتا ہے کہ جب ’غیرت کے نام پر قتل‘ ہو اور شکایت کنندہ مجرم کو معاف کردے تو اس صورت میں ریاست کو مداخلت کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>ان ترامیم کے باوجود قتل بشمول غیرت کے نام پر قتل کی سزا کو مقتولین کے ورثا معاف کردیتے ہیں۔ عدالتیں شاذ و نادر ہی مجرمان اور لواحقین کے درمیان تصفیہ کو ختم کرنے کے لیے صوابدید کا استعمال کرتی ہیں، اس طرح قاتلوں کو سزا سے استثنیٰ مل جاتا ہے جوکہ اب ایک روایت بن چکا ہے۔</p>
<p>ریاست کو اپنے شہریوں کو پدرشاہی نظام کے کینسر سے بچانے کا عزم ظاہر کرنا چاہیے۔ جنوری 2024ء سے نومبر 2024ء تک انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ’غیرت‘ کے نام پر 346 افراد مارے گئے۔ گزشتہ دو سالوں میں اس طرح کے قتل کے بڑھتے واقعات کو روکنے کا واحد راستہ ایسی قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے جو انصاف، انسانی حقوق اور ذمہ داری کی حمایت کریں۔</p>
<p>سماجی کارکنان کی جانب سے صرف بندوق کی نال کا سامنا کرنے والی خاتون کی جرأت کی تعریف کرنا کافی نہیں۔ کسی کو بھی ایسی روایات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ خواتین خاندان کی ساکھ کی حفاظت کرنے والی اشیا نہیں ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1925781/honour-kills">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264586</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jul 2025 12:04:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/2209203981d3146.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/2209203981d3146.jpg"/>
        <media:title>—تصویر: میٹا اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’امریکا کی نئی جنگ کے پوری دنیا پر سنگین جغرافیائی-سیاسی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262445/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے امریکا نے ایک طویل اور تباہ کُن جنگ کا عمل شروع کردیا ہے جو پوری دنیا پر جغرافیائی-سیاسی اور معاشی اعتبار سے اثرانداز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اپریل میں بھی جب عمان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاملے پر بات چیت جاری تھی تو ایرانی سپریم لیڈر نے ’مخالف فریق‘ پر ’بے اعتمادی‘ کا اظہار کیا تھا۔ جیسا کہ ثابت ہوا کہ ان کی مایوسی بےوجہ نہیں تھی۔ سفارت کاری کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف ایک ایسی جارحانہ مہم شروع کردی ہے جو بین الاقوامی نظام کی بنیادیں تک ہلا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اچانک اپنے حملوں کا آغاز کیا لیکن سب سے زیادہ متوقع امریکی حملے اتوار کو شروع ہوئے۔ بہ ظاہر 3 ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حملے جاری رکھنے کی دھمکیاں دیں جب تک کہ ایران امریکا کی شرائط پر امن قائم نہیں کرتا۔ امریکی حملوں کے بعد ٹرمپ نے کہا، ’اب امن کا وقت ہے‘۔ لیکن ایسا بالکل نہیں اور وقت کے ساتھ یہ واضح ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے حلقے بحث کرتے ہیں کہ امریکی-اسرائیلی عسکری مہم مکمل طور پر ایران کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں نہیں حالانکہ ایران تو جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کرتا ہے یا ان ’خطے کو غیرمستحکم کرنے والی سرگرمیوں‘ کو بھی مسترد کرتا ہے جن میں ملوث ہونے کا الزام مغربی بلاک تہران پر لگاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم ممالک اور گلوبل ساؤتھ میں بہت سی اقوام کے خیال میں یہ تنازع دراصل ایک ایسے مسلم ملک کو سزا دینے کے بارے میں ہے جو امریکی طاقت کو ماننے سے انکار کرتا ہے جسے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا تھا لیکن جب طاقتور سلطنت نافرمان قوم کو ’سزا‘ دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ان حقائق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوہرا معیار اس وقت واضح ہوتا ہے جب جوہری ہتھیاروں سے لیس اسرائیل ایک اور ملک پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کا الزام لگاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262442"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دنیا میں کوئی ایسی ریاست ہے جس کے بارے میں عالمی برادری کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے تو وہ اسرائیل ہے جس نے غزہ میں نسل کشی کی ہے اور جو اپنے تقریباً تمام ہمسایوں کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہے۔ لیکن مغربی بلاک میں منافقت جاری ہے جہاں وہ ایران پر تنقید کرتے ہیں جبکہ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ درحقیقت برطانیہ کی طرح انہوں نے بھی ایران پر امریکی حملوں کو پردے کے پیچھے سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوری عالمی برادری کے لیے سنگین خطرے کا لمحہ ہے۔ تمام نظریں اس بات پر ہیں کہ ایران کب اور کیسے جوابی کارروائی کرتا ہے۔ ایرانی مجلس نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایران امریکی افواج کے خلاف فوری فوجی کارروائی نہیں بھی کرتا تب بھی آبنائے ہرمز کی بندش امریکا کو جواب دینے پر مجبور کرسکتی ہے جو خود کو دنیا کا محافظ سمجھتا ہے اور تجارتی راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ اگر امریکی تنصیبات یا اہلکاروں کر نشانہ بنایا جاتا ہے تو کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کو ایک بڑی تباہی میں بدلنے سے روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنی جارحیت فوری طور پر روکیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1919272/us-aggression"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے امریکا نے ایک طویل اور تباہ کُن جنگ کا عمل شروع کردیا ہے جو پوری دنیا پر جغرافیائی-سیاسی اور معاشی اعتبار سے اثرانداز ہوگی۔</p>
<p>اس سے قبل اپریل میں بھی جب عمان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاملے پر بات چیت جاری تھی تو ایرانی سپریم لیڈر نے ’مخالف فریق‘ پر ’بے اعتمادی‘ کا اظہار کیا تھا۔ جیسا کہ ثابت ہوا کہ ان کی مایوسی بےوجہ نہیں تھی۔ سفارت کاری کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف ایک ایسی جارحانہ مہم شروع کردی ہے جو بین الاقوامی نظام کی بنیادیں تک ہلا سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اچانک اپنے حملوں کا آغاز کیا لیکن سب سے زیادہ متوقع امریکی حملے اتوار کو شروع ہوئے۔ بہ ظاہر 3 ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حملے جاری رکھنے کی دھمکیاں دیں جب تک کہ ایران امریکا کی شرائط پر امن قائم نہیں کرتا۔ امریکی حملوں کے بعد ٹرمپ نے کہا، ’اب امن کا وقت ہے‘۔ لیکن ایسا بالکل نہیں اور وقت کے ساتھ یہ واضح ہوگا۔</p>
<p>بہت سے حلقے بحث کرتے ہیں کہ امریکی-اسرائیلی عسکری مہم مکمل طور پر ایران کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں نہیں حالانکہ ایران تو جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کرتا ہے یا ان ’خطے کو غیرمستحکم کرنے والی سرگرمیوں‘ کو بھی مسترد کرتا ہے جن میں ملوث ہونے کا الزام مغربی بلاک تہران پر لگاتا ہے۔</p>
<p>مسلم ممالک اور گلوبل ساؤتھ میں بہت سی اقوام کے خیال میں یہ تنازع دراصل ایک ایسے مسلم ملک کو سزا دینے کے بارے میں ہے جو امریکی طاقت کو ماننے سے انکار کرتا ہے جسے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا تھا لیکن جب طاقتور سلطنت نافرمان قوم کو ’سزا‘ دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ان حقائق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوہرا معیار اس وقت واضح ہوتا ہے جب جوہری ہتھیاروں سے لیس اسرائیل ایک اور ملک پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کا الزام لگاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262442"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر دنیا میں کوئی ایسی ریاست ہے جس کے بارے میں عالمی برادری کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے تو وہ اسرائیل ہے جس نے غزہ میں نسل کشی کی ہے اور جو اپنے تقریباً تمام ہمسایوں کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہے۔ لیکن مغربی بلاک میں منافقت جاری ہے جہاں وہ ایران پر تنقید کرتے ہیں جبکہ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ درحقیقت برطانیہ کی طرح انہوں نے بھی ایران پر امریکی حملوں کو پردے کے پیچھے سراہا۔</p>
<p>یہ پوری عالمی برادری کے لیے سنگین خطرے کا لمحہ ہے۔ تمام نظریں اس بات پر ہیں کہ ایران کب اور کیسے جوابی کارروائی کرتا ہے۔ ایرانی مجلس نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>اگر ایران امریکی افواج کے خلاف فوری فوجی کارروائی نہیں بھی کرتا تب بھی آبنائے ہرمز کی بندش امریکا کو جواب دینے پر مجبور کرسکتی ہے جو خود کو دنیا کا محافظ سمجھتا ہے اور تجارتی راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ اگر امریکی تنصیبات یا اہلکاروں کر نشانہ بنایا جاتا ہے تو کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اس معاملے کو ایک بڑی تباہی میں بدلنے سے روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنی جارحیت فوری طور پر روکیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1919272/us-aggression">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262445</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 10:43:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/23103723e45a052.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/23103723e45a052.jpg"/>
        <media:title>—تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا انتہائی خطرناک دوراہے پر ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1261596/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسرائیل کے اشتعال انگیز رویے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو ایک مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایران پر &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1261520/"&gt;صہیونی ریاست کا حملہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جو جمعے کی صبح سے شروع ہوا تھا، تادم تحریر اس کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ اس تنازع میں پہلے سے ہی نازک صورت حال کا شکار خطے کی آگ کو مزید بھڑکانے اور عالمی معیشت کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور فوجی اہداف کے ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ متاثرین میں ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف کے ساتھ ساتھ طاقتور پاسداران انقلاب کے سربراہ اور کئی سینئر سائنسدان بھی شامل ہیں۔ کئی ایرانی شہروں پر حملے کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کو اہم ایرانی تنصیبات اور سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے گہری انٹیلی جنس اطلاعات تھی۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ تہران نے اسرائیل کی جارحیت کو ’اعلان جنگ‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تل ابیب نے کہا ہے کہ اس نے ’اسرائیل کی بقا‘ کو لاحق خطرے کی وجہ سے ایران پر حملہ کیا۔ یہ حقائق کے منافی ہے۔ یہ اسرائیل ہی ہے جو ایران کو مسلسل اُکساتا رہا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتی تنصیبات پر بمباری اور گزشتہ سال تہران میں حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ کے قتل کے بعد اسرائیل کو نشانہ بنانے کی غرض سے کیے گئے دو الگ الگ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے اس بات کا ثبوت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت اسرائیل گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل دیگر ممالک پر حملے اور لوٹ مار کرکے علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں غزہ میں قتل وغارت گری مچانے کے علاوہ اسرائیل نے شام، لبنان، یمن اور اب ایران پر فوجی حملے کیے ہیں۔ لہٰذا تل ابیب کی ’سیلف ڈیفنس‘ یعنی اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی کا بہانہ اب شاید ہی معتبر رہا ہو۔ سچائی یہ ہے کہ اسرائیل کا رویہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ریاستوں بالخصوص مسلم بلاک کی جانب سے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان کی قیادت اور پارلیمنٹ نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود دیگر ممالک اس معاملے کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کو ’بہترین‘ قرار دیا اور کہا کہ مزید حملے ہو سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے حیرت انگیز طور پر ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو کہا ہے۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اپنے سر پر رکھی بندوق کی وجہ سے ایران مذاکرات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی قیادت نے اس حملے کا انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایران، عراق کے ساتھ ہونے والی 8 سالہ وحشیانہ جنگ سے بھی گزر چکا ہے جبکہ وہ لانگ گیم کھیلنے میں ماہر ہیں۔ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ضرورت ہو حملے جاری رہیں گے۔ اسرائیل کے اس مؤقف کو ایران ایک چیلنج کے طور پر لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا یہاں ایک انتہائی خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگر امریکا، اسرائیل کے ’دفاع‘ میں شامل ہوتا ہے تو معاملات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اجلاس کر رہی ہے۔ اگرچہ اس سے توقعات کم ہونی چاہئیں لیکن اس نئی جنگ کو روکنے کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1917040/declaration-of-war"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسرائیل کے اشتعال انگیز رویے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو ایک مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایران پر <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1261520/">صہیونی ریاست کا حملہ</a></strong> جو جمعے کی صبح سے شروع ہوا تھا، تادم تحریر اس کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ اس تنازع میں پہلے سے ہی نازک صورت حال کا شکار خطے کی آگ کو مزید بھڑکانے اور عالمی معیشت کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور فوجی اہداف کے ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ متاثرین میں ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف کے ساتھ ساتھ طاقتور پاسداران انقلاب کے سربراہ اور کئی سینئر سائنسدان بھی شامل ہیں۔ کئی ایرانی شہروں پر حملے کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کو اہم ایرانی تنصیبات اور سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے گہری انٹیلی جنس اطلاعات تھی۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ تہران نے اسرائیل کی جارحیت کو ’اعلان جنگ‘ قرار دیا ہے۔</p>
<p>تل ابیب نے کہا ہے کہ اس نے ’اسرائیل کی بقا‘ کو لاحق خطرے کی وجہ سے ایران پر حملہ کیا۔ یہ حقائق کے منافی ہے۔ یہ اسرائیل ہی ہے جو ایران کو مسلسل اُکساتا رہا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتی تنصیبات پر بمباری اور گزشتہ سال تہران میں حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ کے قتل کے بعد اسرائیل کو نشانہ بنانے کی غرض سے کیے گئے دو الگ الگ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے اس بات کا ثبوت ہیں۔</p>
<p>درحقیقت اسرائیل گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل دیگر ممالک پر حملے اور لوٹ مار کرکے علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں غزہ میں قتل وغارت گری مچانے کے علاوہ اسرائیل نے شام، لبنان، یمن اور اب ایران پر فوجی حملے کیے ہیں۔ لہٰذا تل ابیب کی ’سیلف ڈیفنس‘ یعنی اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی کا بہانہ اب شاید ہی معتبر رہا ہو۔ سچائی یہ ہے کہ اسرائیل کا رویہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کئی ریاستوں بالخصوص مسلم بلاک کی جانب سے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان کی قیادت اور پارلیمنٹ نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود دیگر ممالک اس معاملے کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کو ’بہترین‘ قرار دیا اور کہا کہ مزید حملے ہو سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے حیرت انگیز طور پر ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو کہا ہے۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اپنے سر پر رکھی بندوق کی وجہ سے ایران مذاکرات کرے گا۔</p>
<p>ایرانی قیادت نے اس حملے کا انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایران، عراق کے ساتھ ہونے والی 8 سالہ وحشیانہ جنگ سے بھی گزر چکا ہے جبکہ وہ لانگ گیم کھیلنے میں ماہر ہیں۔ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ضرورت ہو حملے جاری رہیں گے۔ اسرائیل کے اس مؤقف کو ایران ایک چیلنج کے طور پر لے سکتا ہے۔</p>
<p>دنیا یہاں ایک انتہائی خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگر امریکا، اسرائیل کے ’دفاع‘ میں شامل ہوتا ہے تو معاملات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اجلاس کر رہی ہے۔ اگرچہ اس سے توقعات کم ہونی چاہئیں لیکن اس نئی جنگ کو روکنے کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1917040/declaration-of-war">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1261596</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Jun 2025 09:35:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/14091125cdb91d4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/14091125cdb91d4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’بجٹ 2026 بتاتا ہے کہ معاشی استحکام لوٹ آیا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1261338/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ روز آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا جو کہ ستمبر میں ہونے والے آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالرز کے دوسرے جائزے کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بڑی تبدیلی یہ ہے کہ حکومت بجٹ کے مجموعی خسارے کو ملک کی کُل آمدنی (جی ڈی پی) کے 3.9 فیصد تک کم کرنا چاہتی ہے جو کہ پہلے ہدف 5.9 فیصد سے کم ہے۔ صوبے جن پر عام طور پر وفاقی حکومت کے مالی مسائل میں اضافہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے کیونکہ انہیں این ایف سی معاہدے کے تحت رقم کا بڑا حصہ ملتا ہے، اب وہ تقریباً 15 کھرب روپے کا کیش سرپلس فراہم کریں گے جو کہ گزشتہ مالی سال کے طے شدہ ہدف 10 کھرب روپے سے 50 فیصد زیادہ ہے تاکہ قومی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں کچھ ریلیف بھی دیا ہے لیکن وہ ایسا کرسکتی تھی کیونکہ اس نے قرض کی ادائیگی میں 10 کھرب روپے کی بچت کی۔ یہ بچتیں اس لیے ہوئیں کیونکہ ملک میں شرحِ سود گزشتہ سال کم ہوئی ہے۔ ان بچتوں نے حکام کو ٹیکس میں رعایت کا مطالبہ کرنے والی طاقتور ریئل اسٹیٹ لابیوں کو ریلیف دینے کی بھی اجازت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہا جارہا ہے کہ یہ بجٹ ان لوگوں کے لیے مایوس کن ہے جو امید کر رہے تھے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں آنے والا معاشی استحکام بڑی اور بامعنی اصلاحات کا باعث بنے گا تاکہ طویل مدت میں معیشت کی ترقی میں مدد ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بجٹ میں بڑی ساختی تبدیلیاں کی زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بجٹ دستاویز میں کوئی مثبت بات نہیں۔ مثال کے طور پر یہ کسٹم اور درآمدی ٹیکس میں دیرینہ تبدیلیوں کی نوید سناتا ہے جو امید ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں بعض صنعتوں کو حاصل استثنیٰ کو آہستہ آہستہ روکنا ہے جو حکومتی تعاون سے غیر منصفانہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ میں نان فائلرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسا ایک خاص رقم سے زائد شیئرز خریدنے یا 850 سی سی سے بڑے انجن والی کاریں خریدنے جیسی چیزوں پر حد لگا کر کیا گیا ہے جہاں ٹیکس نہ دینے پر نان فائلرز کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں کاروبار کے لیے سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد پورے ملک میں قوانین کو منصفانہ بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ نے کمپلائنٹ کارپوریٹ سیکٹر کی مشکلات کے بارے میں بات کی لیکن ان کی بجٹ تقریر غیر مساوی کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی جو سرمایہ کاری اور برآمدات کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ متنازع سپر ٹیکس کو قدرے کم کر دیا گیا ہے لیکن بجٹ میں کاروبار کو زیادہ مسابقتی بننے یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد کے لیے اہم اقدامات شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ صنعتیں جو کہ معیشت کا صرف 18 فیصد ہیں، تمام ٹیکسوں کا تقریباً 60 فیصد ادا کر رہی ہیں۔ اس بھاری ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کم ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اپنے اڑان پروگرام کے تحت 5 سالوں میں برآمدات کو 100 ارب ڈالرز تک بڑھانا چاہتی ہے لیکن صنعتی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ایف ڈی آئی کو راغب کیے بغیر اس ہدف کا حصول ممکن نہیں۔ بہت سے لوگ آئندہ سال کے 4.2 فیصد کے نمو کے ہدف کو حاصل کرنے کی حکومت کی صلاحیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے معیشت کے گہرے مسائل کو حل کرنے کے لیے ناکافی کام کیا ہے۔ استحکام لوٹ آیا ہے۔ کیا ترقی بھی استحکام کے ساتھ آئے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1916446/ambitious-goals"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ روز آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا جو کہ ستمبر میں ہونے والے آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالرز کے دوسرے جائزے کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش لگتی ہے۔</p>
<p>ایک بڑی تبدیلی یہ ہے کہ حکومت بجٹ کے مجموعی خسارے کو ملک کی کُل آمدنی (جی ڈی پی) کے 3.9 فیصد تک کم کرنا چاہتی ہے جو کہ پہلے ہدف 5.9 فیصد سے کم ہے۔ صوبے جن پر عام طور پر وفاقی حکومت کے مالی مسائل میں اضافہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے کیونکہ انہیں این ایف سی معاہدے کے تحت رقم کا بڑا حصہ ملتا ہے، اب وہ تقریباً 15 کھرب روپے کا کیش سرپلس فراہم کریں گے جو کہ گزشتہ مالی سال کے طے شدہ ہدف 10 کھرب روپے سے 50 فیصد زیادہ ہے تاکہ قومی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے۔</p>
<p>اگرچہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں کچھ ریلیف بھی دیا ہے لیکن وہ ایسا کرسکتی تھی کیونکہ اس نے قرض کی ادائیگی میں 10 کھرب روپے کی بچت کی۔ یہ بچتیں اس لیے ہوئیں کیونکہ ملک میں شرحِ سود گزشتہ سال کم ہوئی ہے۔ ان بچتوں نے حکام کو ٹیکس میں رعایت کا مطالبہ کرنے والی طاقتور ریئل اسٹیٹ لابیوں کو ریلیف دینے کی بھی اجازت دی ہے۔</p>
<p>کہا جارہا ہے کہ یہ بجٹ ان لوگوں کے لیے مایوس کن ہے جو امید کر رہے تھے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں آنے والا معاشی استحکام بڑی اور بامعنی اصلاحات کا باعث بنے گا تاکہ طویل مدت میں معیشت کی ترقی میں مدد ملے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس بجٹ میں بڑی ساختی تبدیلیاں کی زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بجٹ دستاویز میں کوئی مثبت بات نہیں۔ مثال کے طور پر یہ کسٹم اور درآمدی ٹیکس میں دیرینہ تبدیلیوں کی نوید سناتا ہے جو امید ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں بعض صنعتوں کو حاصل استثنیٰ کو آہستہ آہستہ روکنا ہے جو حکومتی تعاون سے غیر منصفانہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔</p>
<p>بجٹ میں نان فائلرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسا ایک خاص رقم سے زائد شیئرز خریدنے یا 850 سی سی سے بڑے انجن والی کاریں خریدنے جیسی چیزوں پر حد لگا کر کیا گیا ہے جہاں ٹیکس نہ دینے پر نان فائلرز کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں کاروبار کے لیے سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد پورے ملک میں قوانین کو منصفانہ بنانا ہے۔</p>
<p>اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ نے کمپلائنٹ کارپوریٹ سیکٹر کی مشکلات کے بارے میں بات کی لیکن ان کی بجٹ تقریر غیر مساوی کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی جو سرمایہ کاری اور برآمدات کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ متنازع سپر ٹیکس کو قدرے کم کر دیا گیا ہے لیکن بجٹ میں کاروبار کو زیادہ مسابقتی بننے یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد کے لیے اہم اقدامات شامل نہیں ہیں۔</p>
<p>یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ صنعتیں جو کہ معیشت کا صرف 18 فیصد ہیں، تمام ٹیکسوں کا تقریباً 60 فیصد ادا کر رہی ہیں۔ اس بھاری ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کم ہورہی ہے۔</p>
<p>حکومت اپنے اڑان پروگرام کے تحت 5 سالوں میں برآمدات کو 100 ارب ڈالرز تک بڑھانا چاہتی ہے لیکن صنعتی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ایف ڈی آئی کو راغب کیے بغیر اس ہدف کا حصول ممکن نہیں۔ بہت سے لوگ آئندہ سال کے 4.2 فیصد کے نمو کے ہدف کو حاصل کرنے کی حکومت کی صلاحیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے معیشت کے گہرے مسائل کو حل کرنے کے لیے ناکافی کام کیا ہے۔ استحکام لوٹ آیا ہے۔ کیا ترقی بھی استحکام کے ساتھ آئے گی؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1916446/ambitious-goals">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1261338</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Jun 2025 10:20:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/110947336a05a58.png" type="image/png" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/110947336a05a58.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’ہماری جیلیں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260953/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی ملیر ڈسٹرکٹ جیل توڑنے کے حالیہ واقعے کے بعد سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں جیل خانہ جات کے حوالے سے سہولیات کا مکمل آڈٹ جاری ہے۔ پیر اور منگل کو محسوس ہونے والے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد تقریباً 200 قیدی جیل سے فرار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے معمولی جھٹکوں کے بعد قیدیوں کو جیل کے صحن میں جمع کیا گیا تھا اور یہی غلط اقدام ثابت ہوا جہاں سے قیدیوں نے جیل حکام کے اہلکاروں کو قابو میں کیا اور فرار ہوئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق 2 ہزار قیدیوں کی نگرانی پر صرف 28 اہلکار تعینات تھے جبکہ جیل کے کیمرے خراب ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تادمِ تحریر قیدیوں کی بڑی تعداد مفرور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سندھ نے کہا، قیدیوں کا جیل توڑنے کا واقعہ ’مواصلات اور تیاری میں مکمل خرابی‘ کا نتیجہ ہے۔ حکومتِ سندھ نے کہا کہ مفرور قیدی ’معمولی جرائم‘ میں ملوث تھے۔ اگر ان قیدیوں میں سخت گیر عسکریت پسند یا گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد شامل ہوتے تو یہ عوامی تحفظ کے لیے خطرے کا باعث بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہماری جیلیں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔ جیل کے عملے کو قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات میں قیدیوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے تربیت دی جانی چاہیے تھی، ساتھ ہی یہ یقینی بنانا چاہیے تھا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں رہیں۔ اس کے بجائے جو دیکھنے میں آیا، وہ گھبراہٹ اور الجھن تھی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ملک بھر کی جیلوں میں اصلاحات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے واقعات میں ہماری جیلیں اب بھی نوآبادیاتی فریم ورک کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ قیدیوں کا ہجوم ایک ہی جیل میں قید ہوتا ہے جبکہ ان جیلوں میں زیرِ سماعت قیدیوں کے ساتھ ساتھ سزا یافتہ قیدی بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب جیلوں میں محفوظ طریقے سے رکھنے کی گنجائش سے کئی زیادہ قیدی ہوتے ہیں تو ایسے حالات میں بدانتظامی اور افراتفری فطری نتائج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معمولی جرائم میں ملوث افراد کے لیے مقدمات کی سماعت کو تیز کرنے اور پروبیشن کے اختیارات کھلے رکھنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ناقص قانونی اور فوجداری نظام کے نتیجے میں جیلوں میں بھیڑ اور ناقص انتظامات ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیل کی سیکیورٹی کو بھی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ملیر واقعے نے ثابت کیا کہ جیل کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات موجود ہیں۔ سندھ حکام کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام مفرور قیدیوں کو جلد ہی بازیات کرلیا جائے۔ ماضی میں بنوں جیل ٹوٹنے کے واقعے نے بتایا تھا کہ جب ریاست دفاع میں غفلت برتتی ہے توپُرتشدد عناصر خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں جس کے خوفناک نتائج ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان جیل خانہ جات کی اصلاحات کے لیے کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔ ان کوششوں میں قیدیوں کی بہبود اور بحالی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جیلوں کی حفاظت میں خرابیوں کو دور کرنے کے لیے تیار کردہ تمام تجاویز کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان سفارشات کو حتمی شکل دینے کے بعد چیف جسٹس یقینی بنائیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان پر بلا تاخیر عمل درآمد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیر جیل واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کے بعد جیل کی سیکیورٹی اور انتظام میں واضح تبدیلیاں لائی جانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1915527/karachi-jailbreak"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی ملیر ڈسٹرکٹ جیل توڑنے کے حالیہ واقعے کے بعد سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں جیل خانہ جات کے حوالے سے سہولیات کا مکمل آڈٹ جاری ہے۔ پیر اور منگل کو محسوس ہونے والے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد تقریباً 200 قیدی جیل سے فرار ہوئے۔</p>
<p>زلزلے کے معمولی جھٹکوں کے بعد قیدیوں کو جیل کے صحن میں جمع کیا گیا تھا اور یہی غلط اقدام ثابت ہوا جہاں سے قیدیوں نے جیل حکام کے اہلکاروں کو قابو میں کیا اور فرار ہوئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق 2 ہزار قیدیوں کی نگرانی پر صرف 28 اہلکار تعینات تھے جبکہ جیل کے کیمرے خراب ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تادمِ تحریر قیدیوں کی بڑی تعداد مفرور ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ سندھ نے کہا، قیدیوں کا جیل توڑنے کا واقعہ ’مواصلات اور تیاری میں مکمل خرابی‘ کا نتیجہ ہے۔ حکومتِ سندھ نے کہا کہ مفرور قیدی ’معمولی جرائم‘ میں ملوث تھے۔ اگر ان قیدیوں میں سخت گیر عسکریت پسند یا گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد شامل ہوتے تو یہ عوامی تحفظ کے لیے خطرے کا باعث بنتا۔</p>
<p>یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہماری جیلیں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔ جیل کے عملے کو قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات میں قیدیوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے تربیت دی جانی چاہیے تھی، ساتھ ہی یہ یقینی بنانا چاہیے تھا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں رہیں۔ اس کے بجائے جو دیکھنے میں آیا، وہ گھبراہٹ اور الجھن تھی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ملک بھر کی جیلوں میں اصلاحات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>بہت سے واقعات میں ہماری جیلیں اب بھی نوآبادیاتی فریم ورک کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ قیدیوں کا ہجوم ایک ہی جیل میں قید ہوتا ہے جبکہ ان جیلوں میں زیرِ سماعت قیدیوں کے ساتھ ساتھ سزا یافتہ قیدی بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب جیلوں میں محفوظ طریقے سے رکھنے کی گنجائش سے کئی زیادہ قیدی ہوتے ہیں تو ایسے حالات میں بدانتظامی اور افراتفری فطری نتائج ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>معمولی جرائم میں ملوث افراد کے لیے مقدمات کی سماعت کو تیز کرنے اور پروبیشن کے اختیارات کھلے رکھنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ناقص قانونی اور فوجداری نظام کے نتیجے میں جیلوں میں بھیڑ اور ناقص انتظامات ہوتے ہیں۔</p>
<p>جیل کی سیکیورٹی کو بھی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ملیر واقعے نے ثابت کیا کہ جیل کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات موجود ہیں۔ سندھ حکام کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام مفرور قیدیوں کو جلد ہی بازیات کرلیا جائے۔ ماضی میں بنوں جیل ٹوٹنے کے واقعے نے بتایا تھا کہ جب ریاست دفاع میں غفلت برتتی ہے توپُرتشدد عناصر خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں جس کے خوفناک نتائج ہوتے ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس آف پاکستان جیل خانہ جات کی اصلاحات کے لیے کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔ ان کوششوں میں قیدیوں کی بہبود اور بحالی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جیلوں کی حفاظت میں خرابیوں کو دور کرنے کے لیے تیار کردہ تمام تجاویز کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان سفارشات کو حتمی شکل دینے کے بعد چیف جسٹس یقینی بنائیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان پر بلا تاخیر عمل درآمد کریں۔</p>
<p>ملیر جیل واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کے بعد جیل کی سیکیورٹی اور انتظام میں واضح تبدیلیاں لائی جانی چاہئیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1915527/karachi-jailbreak">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260953</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 11:06:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/050924173a6daea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/050924173a6daea.jpg"/>
        <media:title>’اس واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘—تصویر: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’پاکستان کو خضدار میں بھارتی دہشتگردی کے شواہد دنیا کے سامنے رکھنے چاہئیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259904/</link>
      <description>&lt;p&gt;معصوم نہتے شہریوں بالخصوص بچوں کے قتل کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز خصدار میں اسکول بس پر ہونے والا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259821/"&gt;خودکش حملہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; گھناؤنا فعل تھا۔ 5 شہید افراد میں 3 بچے شامل ہیں۔ کئی افراد زخمی ہیں جن میں چند کی حالت تشویش ناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے میڈیا ونگ اور وزیر اعظم کے دفتر سے بیان جاری کیا گیا کہ اس دہشتگرد حملے کے ذمہ دار بھارت اور اس کی پراکسیز ہیں۔ سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بلوچستان میں علحیدگی پسند گروہوں کے حملوں میں متعدد نہتے بےگناہ شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ شرپسندوں کی جانب سے غیربلوچ مزدوروں کا قتل عام بھی بلوچستان میں جاری شورش کا بھیانک پہلو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ بھارت بلوچستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے کارروائیاں کرے گا جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے رواں ہفتے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں ’بھارتی پراکسیز‘ سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کسی تنظیم نے بھی تاحال خضدار حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت اور دیگر ریاست دشمن عناصر پاکستان میں بےامنی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ اس کی سب سے اہم مثال کلبھوشن یادیو ہے۔ اس پیٹرن کو دیکھتے ہوئے ریاست کے پاس جواز ہے کہ وہ گزشتہ روز ہونے والے ظالمانہ حملے کو پراکسیز سے منسلک کرے بالخصوص جب ان کے پاس مضبوط ثبوت ہیں جو ان پراکسیز کے جرم کو ثابت کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259881"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے مشرقی ہمسایے کی حالیہ مثال سبق ہے۔ نئی دہلی نے کسی ثبوت کے بغیر ہی پہلگام حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرادیا۔ مقبوضہ کشمیر میں حملے پر مودی انتظامیہ کے جارحانہ ردعمل نے دونوں ممالک کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ پاکستان کو زیادہ معقول رہنا چاہیے۔ اس کے پاس بھارت کے ملوث ہونے کے جو شواہد ہیں، انہیں نئی دہلی اور بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنا چاہیے۔ یہی درست راستہ ہوگا کیونکہ پہلگام کے بعد بھارتی بیانیے کو اقوامِ عالم نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ یہ ہے کہ بلوچستان میں ایک حقیقی مسئلہ ہے اور پاکستان کو اس کے حل کے لیے طویل مدتی اقدمات لینے کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی یا اندرونی عناصر صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ پاکستانی ریاست کو اس معاملے پر سنجیدگی سے کام لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے عسکریت پسند مسئلے کو حل کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ بےگناہ شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو ان کے جرائم کی سزا دینی چاہیے۔ لیکن دہائیوں پرانی شکایات کے سیاسی ازالے کے بغیر انسداد دہشتگردی کی پائیدار حکمت عملی ترتیب نہیں دی جاسکتی۔ اس کے لیے بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ تمام ناقدین کو ’قوم مخالف‘ یا ’بھارتی ایجنٹس‘ قرار دے کر بلوچستان میں امن نہیں لایا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے میں مفاہمت کے عمل کی سخت ضرورت ہے جس میں عدم تشدد کے حامی سیاسی عناصر شامل ہوں جو آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنے پر راضی ہوں۔ صرف عسکری کارروائیاں ناکافی ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1912553/khuzdar-atrocity"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معصوم نہتے شہریوں بالخصوص بچوں کے قتل کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز خصدار میں اسکول بس پر ہونے والا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259821/">خودکش حملہ</a></strong> گھناؤنا فعل تھا۔ 5 شہید افراد میں 3 بچے شامل ہیں۔ کئی افراد زخمی ہیں جن میں چند کی حالت تشویش ناک ہے۔</p>
<p>پاک فوج کے میڈیا ونگ اور وزیر اعظم کے دفتر سے بیان جاری کیا گیا کہ اس دہشتگرد حملے کے ذمہ دار بھارت اور اس کی پراکسیز ہیں۔ سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بلوچستان میں علحیدگی پسند گروہوں کے حملوں میں متعدد نہتے بےگناہ شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ شرپسندوں کی جانب سے غیربلوچ مزدوروں کا قتل عام بھی بلوچستان میں جاری شورش کا بھیانک پہلو رہا ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ بھارت بلوچستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے کارروائیاں کرے گا جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے رواں ہفتے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں ’بھارتی پراکسیز‘ سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔</p>
<p>اگرچہ کسی تنظیم نے بھی تاحال خضدار حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت اور دیگر ریاست دشمن عناصر پاکستان میں بےامنی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ اس کی سب سے اہم مثال کلبھوشن یادیو ہے۔ اس پیٹرن کو دیکھتے ہوئے ریاست کے پاس جواز ہے کہ وہ گزشتہ روز ہونے والے ظالمانہ حملے کو پراکسیز سے منسلک کرے بالخصوص جب ان کے پاس مضبوط ثبوت ہیں جو ان پراکسیز کے جرم کو ثابت کرتے ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259881"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہمارے مشرقی ہمسایے کی حالیہ مثال سبق ہے۔ نئی دہلی نے کسی ثبوت کے بغیر ہی پہلگام حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرادیا۔ مقبوضہ کشمیر میں حملے پر مودی انتظامیہ کے جارحانہ ردعمل نے دونوں ممالک کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ پاکستان کو زیادہ معقول رہنا چاہیے۔ اس کے پاس بھارت کے ملوث ہونے کے جو شواہد ہیں، انہیں نئی دہلی اور بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنا چاہیے۔ یہی درست راستہ ہوگا کیونکہ پہلگام کے بعد بھارتی بیانیے کو اقوامِ عالم نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔</p>
<p>سچ یہ ہے کہ بلوچستان میں ایک حقیقی مسئلہ ہے اور پاکستان کو اس کے حل کے لیے طویل مدتی اقدمات لینے کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی یا اندرونی عناصر صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ پاکستانی ریاست کو اس معاملے پر سنجیدگی سے کام لینا چاہیے۔</p>
<p>بلوچستان کے عسکریت پسند مسئلے کو حل کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ بےگناہ شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو ان کے جرائم کی سزا دینی چاہیے۔ لیکن دہائیوں پرانی شکایات کے سیاسی ازالے کے بغیر انسداد دہشتگردی کی پائیدار حکمت عملی ترتیب نہیں دی جاسکتی۔ اس کے لیے بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ تمام ناقدین کو ’قوم مخالف‘ یا ’بھارتی ایجنٹس‘ قرار دے کر بلوچستان میں امن نہیں لایا جاسکتا۔</p>
<p>صوبے میں مفاہمت کے عمل کی سخت ضرورت ہے جس میں عدم تشدد کے حامی سیاسی عناصر شامل ہوں جو آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنے پر راضی ہوں۔ صرف عسکری کارروائیاں ناکافی ہوں گی۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1912553/khuzdar-atrocity">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259904</guid>
      <pubDate>Thu, 22 May 2025 11:14:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/2209314176066de.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/2209314176066de.jpg"/>
        <media:title>بےگناہ شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو ان کے جرائم کی سزا دینی چاہیے—تصویر: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر دونوں ممالک تنازعات کے دلدل سے نہیں نکل پائیں گے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1258864/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ برصغیر کے لیے انتہائی خطرناک وقت ہے۔ بدھ کی شب بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر اور پنجاب میں اشتعال انگیز حملہ، پہلگام کے المناک واقعے کے بعد بھارتی رہنماؤں اور میڈیا کی دو ہفتوں کی دھمکیوں اور جارحانہ گفتگو کے بعد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر لگتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے کیونکہ بدھ کی شام وزیر اعظم شہباز شریف نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1258830/"&gt;قوم سے خطاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں کہا کہ بھارت کو اپنے مذموم اقدامات کے ’نتائج بھگتنا ہوں گے‘۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں سیاسی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ دن کا آغاز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے ہوا جس کے اعلامیے میں نئی دہلی کے اقدامات کو ’جنگی کارروائی‘ کے طور پر بیان کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے خلاف نفرت آمیز جارحیت نے دونوں ہمسایوں کو مزید تنازعات میں دھکیل دیا ہے اور جب تک تنازع اور کشمیر کے بنیادی مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نہیں نکال لیا جاتا، دونوں ممالک تنازعات کے دلدل سے نکل نہیں پائیں گے۔ پاکستان نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت کے 5 جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ نئی دہلی پیغام سمجھ گیا ہو اور ایسی مزید ہتک آمیز کوتاہیاں نہ دہرائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر کے مقامات کے علاوہ پنجاب کے کچھ مقامات کو بھی بھارت نے نشانہ بنایا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت کے نام نہاد ’آپریشن سندور‘ میں 31 پاکستانی شہید ہوئے۔ بھارت کی اس جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں شہادتیں زیادہ ہوتیں لیکن دراندازوں کو بروقت جواب دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258836"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فوج کا یہ دعویٰ کہ یہ حملے ’جنگ کو بھڑکانے کی نوعیت کے نہیں‘ تھے، انتہائی گمراہ کُن ہے۔ کسی ملک کی سرحدوں کی پامالی، اس کے شہروں اور قصبوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے شہریوں کو شہید کرنا نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ جنگی اقدام ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی ریاست کے مطابق اگر صرف ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا گیا تو شہری آبادی اور نیلم-جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر حملے کے لیے نئی دہلی کے پاس کیا وضاحت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی ریاست نے پہلگام میں اپنی بڑی سیکیورٹی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف سوچے سمجھے بغیر کارروائی کی۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پر جو کچھ ہوا وہ یقیناً افسوسناک تھا اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے سانحے کو پاکستان کے خلاف جنگی محاذ کھولنے کے لیے استعمال کیا حالانکہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد بھی موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ اسے اب تک منظر عام پر کیوں نہیں لا پایا؟ پہلگام واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے، مودی حکومت کو اندرونِ ملک مضبوط بنانے اور خطے میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے تھا۔ یہ احمقانہ چال ناکام ہوچکی ہے اور جوہری طاقت کے حامل دو ہمسایے جنگ کے دہانے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حملے کے بعد عالمی سطح  پر کشیدگی کم کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں جبکہ بہت سے ممالک ثالثی کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ظاہر کیا ہے کہ وہ ان پیش کش کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن کیا بھارت جنگ کی طرف جانے کے بجائے اس طرح کی کسی پیش کش کا مثبت جواب دے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتوں کے واقعات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مسئلہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے۔ اگرچہ بھارت اس فرضی دنیا میں رہ رہا ہے کہ جس میں مسئلہ کشمیر ’حل‘ ہوچکا ہے لیکن پاکستان، کشمیریوں اور عالمی برادری کو یہ ادراک ہے کہ یہ خطہ متنازع ہے۔ پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلے پر متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب وہ اسی مسئلے پر ایک اور جنگ کے دہانے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جنوبی ایشیا میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے دونوں ریاستوں کو ایک دوسرے سے صاف گو اور معنی خیز بات چیت کرنا ہوگی۔ یہ شاید بی جے پی کی ہندو قوم پرست حکومت کے لیے کڑوا گھونٹ ہوگا جو کہ ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب دیکھتی ہے۔ لیکن یہ اس کا اپنا ہی نقصان ہوگا اگر وہ اپنے نظریاتی تصورات کو نہ چھوڑے اور پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا حل نہ نکالے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو متبادل دائمی دشمنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والے دنوں میں عالمی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کروانے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا جبکہ دونوں اطراف کے میڈیا اور سول سوسائٹیز کو جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1909312"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ برصغیر کے لیے انتہائی خطرناک وقت ہے۔ بدھ کی شب بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر اور پنجاب میں اشتعال انگیز حملہ، پہلگام کے المناک واقعے کے بعد بھارتی رہنماؤں اور میڈیا کی دو ہفتوں کی دھمکیوں اور جارحانہ گفتگو کے بعد ہوا۔</p>
<p>بظاہر لگتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے کیونکہ بدھ کی شام وزیر اعظم شہباز شریف نے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1258830/">قوم سے خطاب</a></strong> میں کہا کہ بھارت کو اپنے مذموم اقدامات کے ’نتائج بھگتنا ہوں گے‘۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں سیاسی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ دن کا آغاز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے ہوا جس کے اعلامیے میں نئی دہلی کے اقدامات کو ’جنگی کارروائی‘ کے طور پر بیان کیا گیا۔</p>
<p>پاکستان کے خلاف نفرت آمیز جارحیت نے دونوں ہمسایوں کو مزید تنازعات میں دھکیل دیا ہے اور جب تک تنازع اور کشمیر کے بنیادی مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نہیں نکال لیا جاتا، دونوں ممالک تنازعات کے دلدل سے نکل نہیں پائیں گے۔ پاکستان نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت کے 5 جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ نئی دہلی پیغام سمجھ گیا ہو اور ایسی مزید ہتک آمیز کوتاہیاں نہ دہرائی جائیں۔</p>
<p>آزاد کشمیر کے مقامات کے علاوہ پنجاب کے کچھ مقامات کو بھی بھارت نے نشانہ بنایا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت کے نام نہاد ’آپریشن سندور‘ میں 31 پاکستانی شہید ہوئے۔ بھارت کی اس جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں شہادتیں زیادہ ہوتیں لیکن دراندازوں کو بروقت جواب دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258836"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی فوج کا یہ دعویٰ کہ یہ حملے ’جنگ کو بھڑکانے کی نوعیت کے نہیں‘ تھے، انتہائی گمراہ کُن ہے۔ کسی ملک کی سرحدوں کی پامالی، اس کے شہروں اور قصبوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے شہریوں کو شہید کرنا نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ جنگی اقدام ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی ریاست کے مطابق اگر صرف ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا گیا تو شہری آبادی اور نیلم-جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر حملے کے لیے نئی دہلی کے پاس کیا وضاحت ہے؟</p>
<p>حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی ریاست نے پہلگام میں اپنی بڑی سیکیورٹی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف سوچے سمجھے بغیر کارروائی کی۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پر جو کچھ ہوا وہ یقیناً افسوسناک تھا اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے سانحے کو پاکستان کے خلاف جنگی محاذ کھولنے کے لیے استعمال کیا حالانکہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد بھی موجود نہیں۔</p>
<p>اگر بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ اسے اب تک منظر عام پر کیوں نہیں لا پایا؟ پہلگام واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے، مودی حکومت کو اندرونِ ملک مضبوط بنانے اور خطے میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے تھا۔ یہ احمقانہ چال ناکام ہوچکی ہے اور جوہری طاقت کے حامل دو ہمسایے جنگ کے دہانے پر ہیں۔</p>
<p>بھارتی حملے کے بعد عالمی سطح  پر کشیدگی کم کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں جبکہ بہت سے ممالک ثالثی کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ظاہر کیا ہے کہ وہ ان پیش کش کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن کیا بھارت جنگ کی طرف جانے کے بجائے اس طرح کی کسی پیش کش کا مثبت جواب دے گا؟</p>
<p>گزشتہ ہفتوں کے واقعات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مسئلہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے۔ اگرچہ بھارت اس فرضی دنیا میں رہ رہا ہے کہ جس میں مسئلہ کشمیر ’حل‘ ہوچکا ہے لیکن پاکستان، کشمیریوں اور عالمی برادری کو یہ ادراک ہے کہ یہ خطہ متنازع ہے۔ پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلے پر متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب وہ اسی مسئلے پر ایک اور جنگ کے دہانے پر ہیں۔</p>
<p>لہٰذا جنوبی ایشیا میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے دونوں ریاستوں کو ایک دوسرے سے صاف گو اور معنی خیز بات چیت کرنا ہوگی۔ یہ شاید بی جے پی کی ہندو قوم پرست حکومت کے لیے کڑوا گھونٹ ہوگا جو کہ ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب دیکھتی ہے۔ لیکن یہ اس کا اپنا ہی نقصان ہوگا اگر وہ اپنے نظریاتی تصورات کو نہ چھوڑے اور پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا حل نہ نکالے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو متبادل دائمی دشمنی ہوگی۔</p>
<p>آنے والے دنوں میں عالمی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کروانے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا جبکہ دونوں اطراف کے میڈیا اور سول سوسائٹیز کو جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1909312">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1258864</guid>
      <pubDate>Thu, 08 May 2025 11:00:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/081019083ef453f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/081019083ef453f.jpg"/>
        <media:title>— تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’مزدور طبقہ بوجھ نہیں بلکہ اہم ملکی اثاثہ ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1258359/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی یومِ مزدور کے موقع پر پاکستان کو تجارتی یونینز کے حوالے سے اپنے بیانیے میں تبدیلی لانا ہوگی جبکہ مزدوروں کے حقوق بھی بحال کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مزدور طبقہ جو پہلے ہی کم اجرت، ملازمت میں عدم استحکام اور آزادانہ تنظیمیں بنانے کی آزادی نہ ہونے جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، انہیں اپنی آواز اٹھانے کے لیے زیادہ سیاسی ماحول فراہم نہیں کیا جارہا۔ یومیہ اجرت کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کے لیے یکم مئی کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ورکرز کے حقوق میں بہتری اور ان کی بہبود کے حوالے سے وعدہ کیا لیکن افسوسناک طور پر جیسے جیسے مصائب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، یہ وعدے بھی کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں کام کے اوقات 8 گھنٹے مختص ہیں لیکن پاکستان میں بہت سے مزدور 16 گھنٹوں تک کام کرتے ہیں جبکہ انہیں اضافی وقت کی اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی۔ معاشی پسماندگی کا شکار ملک جہاں کمر توڑ مہنگائی اور بلز کے بھاری بوجھ کے درمیان تنخواؤں میں کٹوتی اور ملازمتوں سے برطرفی عام ہوتی جارہی ہے، لیبر یونینز کم سماجی اقتصادی پیداواری صلاحیت والے ذہنی اور جسمانی طور پر تھکے ہوئے ورکرز کی نمائندگی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232114"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وہ سابق صدر پرویز مشرف تھے جنہوں نے پاکستان میں لیبر یونینز کو کمزور کیا اور کام کے بہتر ماحول کے حصول کی ان کی جدوجہد کو محدود کیا لیکن آج کی منتخب حکومتیں بھی یہی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اکثر 1952ء کے پاکستان ایسینشئل سروس ایکٹ کو سرکاری اداروں جیسے پی آئی اے میں یونین کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ نتیجتاً حکومت اور صنعتی پالیسیوں میں مزدوروں کو اثاثے کے طور پر نہیں بلکہ بوجھ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ جب کم سے کم تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ویج بورڈز کی جانب سے اس سے متعلق نوٹی فکیشن کے اجرا میں کئی ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ اسی لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو کم تنخواہیں ملتی ہیں۔ غیر رسمی معیشت کا حصہ مزدور جیسے گھریلو ملازمین اور غیر ہنر مند محنت کش طبقہ مکمل طور پر اپنے نجی آجروں پر تنخواہوں کے لیے انحصار کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیے جانے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اصلاحات کا آغاز کرے اور مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہوکر پالیسی سازی میں افرادی قوت کے حقوق کو انسانی حقوق کے طور پر دیکھے۔ تسلی بخش تنخواہوں، کام کے لیے محفوظ ماحول، ورکرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کے لیے صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم میں مدد کے ذریعے مزدور کے وقار کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ معاشی بحران ایک ایسے حساس ماحول کا مطالبہ کرتا ہے جہاں حکومت، شہری اور ورکرز تنظیموں کو ہم آہنگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1907672/labour-rights"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی یومِ مزدور کے موقع پر پاکستان کو تجارتی یونینز کے حوالے سے اپنے بیانیے میں تبدیلی لانا ہوگی جبکہ مزدوروں کے حقوق بھی بحال کرنے چاہئیں۔</p>
<p>پاکستان کا مزدور طبقہ جو پہلے ہی کم اجرت، ملازمت میں عدم استحکام اور آزادانہ تنظیمیں بنانے کی آزادی نہ ہونے جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، انہیں اپنی آواز اٹھانے کے لیے زیادہ سیاسی ماحول فراہم نہیں کیا جارہا۔ یومیہ اجرت کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کے لیے یکم مئی کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔</p>
<p>گزشتہ سال صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ورکرز کے حقوق میں بہتری اور ان کی بہبود کے حوالے سے وعدہ کیا لیکن افسوسناک طور پر جیسے جیسے مصائب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، یہ وعدے بھی کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں کام کے اوقات 8 گھنٹے مختص ہیں لیکن پاکستان میں بہت سے مزدور 16 گھنٹوں تک کام کرتے ہیں جبکہ انہیں اضافی وقت کی اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی۔ معاشی پسماندگی کا شکار ملک جہاں کمر توڑ مہنگائی اور بلز کے بھاری بوجھ کے درمیان تنخواؤں میں کٹوتی اور ملازمتوں سے برطرفی عام ہوتی جارہی ہے، لیبر یونینز کم سماجی اقتصادی پیداواری صلاحیت والے ذہنی اور جسمانی طور پر تھکے ہوئے ورکرز کی نمائندگی کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232114"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ وہ سابق صدر پرویز مشرف تھے جنہوں نے پاکستان میں لیبر یونینز کو کمزور کیا اور کام کے بہتر ماحول کے حصول کی ان کی جدوجہد کو محدود کیا لیکن آج کی منتخب حکومتیں بھی یہی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اکثر 1952ء کے پاکستان ایسینشئل سروس ایکٹ کو سرکاری اداروں جیسے پی آئی اے میں یونین کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ نتیجتاً حکومت اور صنعتی پالیسیوں میں مزدوروں کو اثاثے کے طور پر نہیں بلکہ بوجھ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ جب کم سے کم تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ویج بورڈز کی جانب سے اس سے متعلق نوٹی فکیشن کے اجرا میں کئی ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ اسی لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو کم تنخواہیں ملتی ہیں۔ غیر رسمی معیشت کا حصہ مزدور جیسے گھریلو ملازمین اور غیر ہنر مند محنت کش طبقہ مکمل طور پر اپنے نجی آجروں پر تنخواہوں کے لیے انحصار کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیے جانے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>ریاست کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اصلاحات کا آغاز کرے اور مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہوکر پالیسی سازی میں افرادی قوت کے حقوق کو انسانی حقوق کے طور پر دیکھے۔ تسلی بخش تنخواہوں، کام کے لیے محفوظ ماحول، ورکرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کے لیے صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم میں مدد کے ذریعے مزدور کے وقار کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>موجودہ معاشی بحران ایک ایسے حساس ماحول کا مطالبہ کرتا ہے جہاں حکومت، شہری اور ورکرز تنظیموں کو ہم آہنگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1907672/labour-rights">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1258359</guid>
      <pubDate>Thu, 01 May 2025 10:12:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/0109570210b7a73.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/0109570210b7a73.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اب روایتی بیانات دینے کا وقت گزر چکا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1254978/</link>
      <description>&lt;p&gt;جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کا گھات لگا کر حملہ، ہمارے لیے سخت ویک اپ کال ہے جو ہمیں یاد دہانی کرواتا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ کس طرح کمزور ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کی رات فوجی حکام نے انسدادِ دہشت گردی آپریشن ختم ہونے کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1254952/"&gt;تصدیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی۔ لیکن یہ حقیقت کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گرد ایک ویران علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں مسافروں کو لے جانے والی ٹرین کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب ہوگئے، اپنے آپ میں کافی خوفناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب اس مخصوص ٹرین کو دہشت گردوں نے ہدف بنایا ہو، گزشتہ سال کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ہدف جعفر ایکسپریس ہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان میں نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہوچکا ہے جہاں شرپسند عناصر کی جانب سے ہائی ویز بلاک اور ٹرینوں کو ہائی جیک کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب روایتی بیانات دینے کا وقت گزر چکا۔ بلوچستان کو ایک مضبوط سیکیورٹی منصوبے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے عوام کے لیے امن کو یقینی بنایا جاسکے اور وہ تشدد کے کسی خوف کے بغیر اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ اب تک، ریاست اس حوالے سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہے۔ اگرچہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کے لیے متعدد آپریشنز ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں، لیکن ان کارروائیوں سے کسی طرح کے طویل مدتی استحکام کا حصول ممکن نہیں ہوپایا ہے جس کا مطلب ہے کہ ریاست کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے تو صوبے میں ایسے نوگو ایریاز اور غیر حکومتی مقامات نہیں ہونے چاہئیں جہاں شرپسندوں کو کنٹرول حاصل ہو۔ ریاست کی رٹ پورے صوبے میں چلنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ کہ سیکیورٹی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں اپنے ’سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈز‘ سے رابطے میں تھے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر زبردست انداز میں یہ معاملہ افغان طالبان حکومت کے سامنے اٹھانا چاہیے جبکہ دیگر دشمن ممالک کو بھی تنبیہ کرنی چاہیے کہ وہ غلط مہم جوئی سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;داخلی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اس منظم حملے نے نشان دہی کی ہے کہ علیحدگی پسندوں کو تجربہ کار بیرونی عناصر کی پشت پناہی حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ علیحدگی پسند جن وجوہات کو بنیاد بنا کر بلوچوں کا ذہنی استحصال کرتے ہیں، ان وجوہات کو حل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ ان وجوہات میں جبری گمشدگیاں، صوبے کے بگڑتے سماجی و معاشی اشاریے اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی جواز قابلِ قبول نہیں لیکن ڈان اخبار سمیت بہت سی آوازیں کئی سالوں سے اس مسئلے کو اٹھا رہی ہیں۔ لیکن اس ملک کے پالیسی ساز اور ان پالیسیوں کا نفاذ کرنے والے تجاویز نہیں سنتے۔ سلامتی اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ تاہم بلوچستان میں دیرپا امن اسی صورت میں آسکتا ہے کہ جب صوبے کی گورننس اچھی ہو، صوبے کے عوام کو معدنیاتی و دیگر وسائل میں حصہ دار بنایا جائے اور صوبے کے حقیقی نمائندگان کو جمہوری عمل میں شرکت کا موقع دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جعفر ایکسپریس حملہ ظاہر کرتا ہے کہ علیحدگی پسند تنازع مزید پھیلنے میں شاید زیادہ وقت باقی نہیں رہا۔ بلوچستان کو بچانے کے لیے حکمرانوں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1897599/shocking-ambush"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کا گھات لگا کر حملہ، ہمارے لیے سخت ویک اپ کال ہے جو ہمیں یاد دہانی کرواتا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ کس طرح کمزور ہو رہی ہے۔</p>
<p>بدھ کی رات فوجی حکام نے انسدادِ دہشت گردی آپریشن ختم ہونے کی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1254952/">تصدیق</a></strong> کی۔ لیکن یہ حقیقت کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گرد ایک ویران علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں مسافروں کو لے جانے والی ٹرین کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب ہوگئے، اپنے آپ میں کافی خوفناک ہے۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب اس مخصوص ٹرین کو دہشت گردوں نے ہدف بنایا ہو، گزشتہ سال کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ہدف جعفر ایکسپریس ہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان میں نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہوچکا ہے جہاں شرپسند عناصر کی جانب سے ہائی ویز بلاک اور ٹرینوں کو ہائی جیک کیا جارہا ہے۔</p>
<p>اب روایتی بیانات دینے کا وقت گزر چکا۔ بلوچستان کو ایک مضبوط سیکیورٹی منصوبے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے عوام کے لیے امن کو یقینی بنایا جاسکے اور وہ تشدد کے کسی خوف کے بغیر اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ اب تک، ریاست اس حوالے سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہے۔ اگرچہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کے لیے متعدد آپریشنز ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں، لیکن ان کارروائیوں سے کسی طرح کے طویل مدتی استحکام کا حصول ممکن نہیں ہوپایا ہے جس کا مطلب ہے کہ ریاست کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے تو صوبے میں ایسے نوگو ایریاز اور غیر حکومتی مقامات نہیں ہونے چاہئیں جہاں شرپسندوں کو کنٹرول حاصل ہو۔ ریاست کی رٹ پورے صوبے میں چلنی چاہیے۔</p>
<p>دوسری بات یہ کہ سیکیورٹی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں اپنے ’سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈز‘ سے رابطے میں تھے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر زبردست انداز میں یہ معاملہ افغان طالبان حکومت کے سامنے اٹھانا چاہیے جبکہ دیگر دشمن ممالک کو بھی تنبیہ کرنی چاہیے کہ وہ غلط مہم جوئی سے گریز کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>داخلی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اس منظم حملے نے نشان دہی کی ہے کہ علیحدگی پسندوں کو تجربہ کار بیرونی عناصر کی پشت پناہی حاصل تھی۔</p>
<p>فوجی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ علیحدگی پسند جن وجوہات کو بنیاد بنا کر بلوچوں کا ذہنی استحصال کرتے ہیں، ان وجوہات کو حل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ ان وجوہات میں جبری گمشدگیاں، صوبے کے بگڑتے سماجی و معاشی اشاریے اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی شامل ہے۔</p>
<p>اگرچہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی جواز قابلِ قبول نہیں لیکن ڈان اخبار سمیت بہت سی آوازیں کئی سالوں سے اس مسئلے کو اٹھا رہی ہیں۔ لیکن اس ملک کے پالیسی ساز اور ان پالیسیوں کا نفاذ کرنے والے تجاویز نہیں سنتے۔ سلامتی اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ تاہم بلوچستان میں دیرپا امن اسی صورت میں آسکتا ہے کہ جب صوبے کی گورننس اچھی ہو، صوبے کے عوام کو معدنیاتی و دیگر وسائل میں حصہ دار بنایا جائے اور صوبے کے حقیقی نمائندگان کو جمہوری عمل میں شرکت کا موقع دیا جائے۔</p>
<p>جعفر ایکسپریس حملہ ظاہر کرتا ہے کہ علیحدگی پسند تنازع مزید پھیلنے میں شاید زیادہ وقت باقی نہیں رہا۔ بلوچستان کو بچانے کے لیے حکمرانوں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1897599/shocking-ambush">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1254978</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Mar 2025 12:21:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/131029505fd763c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/131029505fd763c.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: گلوبل ٹیررازم انڈیکس پر پاکستان کی ناقابلِ رشک ’کامیابی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1254592/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے ایک اور ناقابلِ رشک ’کامیابی‘ حاصل کرلی ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025ء کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر آچکا ہے جبکہ اس سے اوپر صرف برکینا فاسو اور اس سے نیچے شام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ فہرست کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جو پاکستان کی ریاست اور عوام کے خلاف خونریز مہم چلا رہی ہے، دنیا کی 4 خطرناک ترین دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحث چھیڑنے سے قبل کہ اس طرح کی رینکنگ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت امیج کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی، اس مطالعے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کو احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار اچھے اشارے نہیں دے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر 2023ء میں 517 دہشت گرد حملے ہوئے لیکن گزشتہ سال ایک ہزار 99 حملے ہوئے جن میں نصف سے بھی زائد حملوں کی ذمہ دار ٹی ٹی پی تھی۔ یہ انڈیکس اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ حصے ہیں جہاں 96 فیصد دہشت گرد حملے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹی ٹی پی نے سب سے زیادہ دہشت گرد حملے کیے لیکن یہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) تھی جو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے خودکش حملے میں ملوث تھی جس میں 2024ء میں کسی بھی ایک حملے میں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ جس پریشان کُن صورتحال کی جانب اشارہ کرتی ہے، وہ ہمیں اس مشکل دور کی یاد دلاتا ہے کہ جس کا پاکستان کو تقریباً 20 سال قبل سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ اسی طرح کی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹ رہا تھا جس کی قیادت ان کے لیے نقصان دہ عناصر نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد ٹی ٹی پی اور دیگر انتہا پسند گروہوں کو پاکستان میں اپنی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کرنے کا حوصلہ ملا ہے۔ انڈیکس اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ مثال کے طور پر پاک فوج نے کہا ہے کہ بنوں کینٹ پر حالیہ حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254518"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جو چیز پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو دشوار بنا رہی ہے، وہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات اب بھی خراب ہیں۔ مثال کے طور پر طورخم بارڈر تنازع پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان کئی دنوں سے جھڑپ جاری ہے۔ بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان عسکریت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ’فوجی، سیاسی اور سماجی اقتصادی اقدامات‘ لے۔ اس کے باوجود سیاسی حلقے آپس میں جھگڑنے میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں احساس نہیں کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے جبکہ دیگر طاقتور ادارے ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ اور اس طرح کے دیگر ’خطرات‘ کے حوالے سے زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم دہشت گردی کے موجودہ خطرے سے نمٹنے کے لیے وقت پر بیدار نہیں ہوئے تو معاشی بحالی اور قومی ہم آہنگی کے خواب چکناچور ہوسکتے ہیں۔ متحرک حکمت عملی اور طویل مدتی اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے سول اور فوجی ایجنسیوں، قانون سازوں اور آزاد ماہرین کی مدد سے ایک مؤثر انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی تیار کرنا انتہائی ضرروی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے بین الاقوامی شرکت داروں کے ساتھ تعاون بھی کلیدی ثابت ہوگا جیسا کہ کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث داعش کے دہشت گرد کی کامیاب گرفتاری نے ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1896299/terrorism-ranking"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے ایک اور ناقابلِ رشک ’کامیابی‘ حاصل کرلی ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025ء کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر آچکا ہے جبکہ اس سے اوپر صرف برکینا فاسو اور اس سے نیچے شام ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ فہرست کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جو پاکستان کی ریاست اور عوام کے خلاف خونریز مہم چلا رہی ہے، دنیا کی 4 خطرناک ترین دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہے۔</p>
<p>یہ بحث چھیڑنے سے قبل کہ اس طرح کی رینکنگ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت امیج کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی، اس مطالعے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کو احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار اچھے اشارے نہیں دے رہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر 2023ء میں 517 دہشت گرد حملے ہوئے لیکن گزشتہ سال ایک ہزار 99 حملے ہوئے جن میں نصف سے بھی زائد حملوں کی ذمہ دار ٹی ٹی پی تھی۔ یہ انڈیکس اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ حصے ہیں جہاں 96 فیصد دہشت گرد حملے ہوئے۔</p>
<p>اگرچہ ٹی ٹی پی نے سب سے زیادہ دہشت گرد حملے کیے لیکن یہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) تھی جو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے خودکش حملے میں ملوث تھی جس میں 2024ء میں کسی بھی ایک حملے میں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں۔</p>
<p>رپورٹ جس پریشان کُن صورتحال کی جانب اشارہ کرتی ہے، وہ ہمیں اس مشکل دور کی یاد دلاتا ہے کہ جس کا پاکستان کو تقریباً 20 سال قبل سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ اسی طرح کی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹ رہا تھا جس کی قیادت ان کے لیے نقصان دہ عناصر نے کی تھی۔</p>
<p>بدقسمتی سے افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد ٹی ٹی پی اور دیگر انتہا پسند گروہوں کو پاکستان میں اپنی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کرنے کا حوصلہ ملا ہے۔ انڈیکس اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ مثال کے طور پر پاک فوج نے کہا ہے کہ بنوں کینٹ پر حالیہ حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254518"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم جو چیز پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو دشوار بنا رہی ہے، وہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات اب بھی خراب ہیں۔ مثال کے طور پر طورخم بارڈر تنازع پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان کئی دنوں سے جھڑپ جاری ہے۔ بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی جائے۔</p>
<p>گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان عسکریت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ’فوجی، سیاسی اور سماجی اقتصادی اقدامات‘ لے۔ اس کے باوجود سیاسی حلقے آپس میں جھگڑنے میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں احساس نہیں کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے جبکہ دیگر طاقتور ادارے ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ اور اس طرح کے دیگر ’خطرات‘ کے حوالے سے زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں۔</p>
<p>اگر ہم دہشت گردی کے موجودہ خطرے سے نمٹنے کے لیے وقت پر بیدار نہیں ہوئے تو معاشی بحالی اور قومی ہم آہنگی کے خواب چکناچور ہوسکتے ہیں۔ متحرک حکمت عملی اور طویل مدتی اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے سول اور فوجی ایجنسیوں، قانون سازوں اور آزاد ماہرین کی مدد سے ایک مؤثر انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی تیار کرنا انتہائی ضرروی ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے بین الاقوامی شرکت داروں کے ساتھ تعاون بھی کلیدی ثابت ہوگا جیسا کہ کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث داعش کے دہشت گرد کی کامیاب گرفتاری نے ظاہر کیا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1896299/terrorism-ranking">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1254592</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Mar 2025 09:55:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/070927348cd8aea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/070927348cd8aea.jpg"/>
        <media:title>20 سال قبل بھی پاکستان کو اسی طرح کی مشکل صورتحال کا سامنا تھا — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: 8 فروری ملکی انتخابی تاریخ کا ’یادگار‘ دن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1252537/</link>
      <description>&lt;p&gt;آج کے دن کو’یادگار’ دن کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ ایک سال قبل آج ہی کے دن تمام مذاہب، ثقافتوں، نسل اور سماجی اقتصادی طبقات سے تعلق رکھنے والے بالغ پاکستانی ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے تفویض کردہ پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قابلِ ذکر تھا کہ اس دن کچھ بھی ہماری توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ یاد کیا جائے تو اس دن تمام موبائل نیٹ ورکس کی غیراعلانیہ بندش تھی جو حکام کی جانب سے پولنگ کا عمل شروع ہونے سے کچھ دیر قبل کی گئی۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو انتخابات سے متعلق اہم معلومات تک رسائی نہ مل سکی جبکہ وہ اپنے دوستوں اور فیملیز سے رابطہ کرنے سے بھی قاصر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دن 5 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ شہریوں کی آواز دبانے کے لیے محض یہ کافی نہیں تھا۔ ٹیلی ویژن پر بیٹھے سیاسی پنڈتوں کی دھواں دار پیش گوئیاں اور انتخابات کے دن میڈیا کو نشر ہونے والے سروے بھی یاد آتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی قوم کو اس بغاوت کے لیے تیار نہیں کیا تھا جو عام پاکستانیوں نے ٹھپے اور بیلٹ پیپر کی مدد سے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی مبصر اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ گزشتہ انتخابات کے نتائج انتہائی غیر متوقع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پارٹی کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ پارٹی کی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا، اس کے کارکنان کو حراست میں لیا گیا، اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا اور اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابات لڑنے پر مجبور کیا گیا جبکہ انہیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اقتدار میں لانے کے لیے شاید انہیں عناصر کی جانب سے پچھلے انتخابات میں جوڑ توڑ کی گئی تھی تو اس بار انہوں نے یقینی بنایا تھا کہ پی ٹی آئی کو کوئی موقع نہ ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی غیرمتوقع طور پر عوامی ووٹوں کا بڑا حصہ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251789"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نتائج نے دو عناصر واضح کیے۔ اول تو یہ کہ پاکستان کے نوجوان بلآخر سیاسی منظر نامے کا حصہ بن چکے ہیں اور دوم یہ کہ عام ووٹرز نے اس وقت کی طاقت پر مبنی بیانیے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 2024ء کے انتخابات واقعی تاریخی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 فروری 2024ء کے بعد بہت کچھ غلط ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستانی ریاست کے ذمہ دار افراد نے ملک کی بدلتے ہوئے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ عام انتخابات کے بعد ہونے والی ناانصافیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ سوچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ اب ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک مسلسل تباہی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ ریاست کو کنٹرول کرنے والے کیا چاہتے ہیں اور عوام اپنے لیے کیا چاہتے ہیں کے درمیان کشمکش کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلاف کو قابو کرنے میں حکام ناکام ہے۔ جب تک یہ بنیادی تنازع حل نہیں کیا جاتا، ملک میں امن قائم نہیں ہوپائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند مٹھی بھر افراد کے درمیان انا کی جنگ کو لاکھوں عام پاکستانیوں کی بھلائی پر فوقیت دی جارہی ہے۔ اس غیر ضروری جنگ کو ختم کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی عوام کے ساتھ بہت عرصے سے ظلم ہو رہا ہے۔ انہیں تبدیلی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1890583/a-year-later"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آج کے دن کو’یادگار’ دن کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ ایک سال قبل آج ہی کے دن تمام مذاہب، ثقافتوں، نسل اور سماجی اقتصادی طبقات سے تعلق رکھنے والے بالغ پاکستانی ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے تفویض کردہ پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ ہوئے تھے۔</p>
<p>یہ قابلِ ذکر تھا کہ اس دن کچھ بھی ہماری توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ یاد کیا جائے تو اس دن تمام موبائل نیٹ ورکس کی غیراعلانیہ بندش تھی جو حکام کی جانب سے پولنگ کا عمل شروع ہونے سے کچھ دیر قبل کی گئی۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو انتخابات سے متعلق اہم معلومات تک رسائی نہ مل سکی جبکہ وہ اپنے دوستوں اور فیملیز سے رابطہ کرنے سے بھی قاصر رہے۔</p>
<p>اس دن 5 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ شہریوں کی آواز دبانے کے لیے محض یہ کافی نہیں تھا۔ ٹیلی ویژن پر بیٹھے سیاسی پنڈتوں کی دھواں دار پیش گوئیاں اور انتخابات کے دن میڈیا کو نشر ہونے والے سروے بھی یاد آتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی قوم کو اس بغاوت کے لیے تیار نہیں کیا تھا جو عام پاکستانیوں نے ٹھپے اور بیلٹ پیپر کی مدد سے کی تھی۔</p>
<p>کوئی بھی مبصر اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ گزشتہ انتخابات کے نتائج انتہائی غیر متوقع تھے۔</p>
<p>ایک پارٹی کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ پارٹی کی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا، اس کے کارکنان کو حراست میں لیا گیا، اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا اور اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابات لڑنے پر مجبور کیا گیا جبکہ انہیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اقتدار میں لانے کے لیے شاید انہیں عناصر کی جانب سے پچھلے انتخابات میں جوڑ توڑ کی گئی تھی تو اس بار انہوں نے یقینی بنایا تھا کہ پی ٹی آئی کو کوئی موقع نہ ملے۔</p>
<p>تاہم ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی غیرمتوقع طور پر عوامی ووٹوں کا بڑا حصہ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251789"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان نتائج نے دو عناصر واضح کیے۔ اول تو یہ کہ پاکستان کے نوجوان بلآخر سیاسی منظر نامے کا حصہ بن چکے ہیں اور دوم یہ کہ عام ووٹرز نے اس وقت کی طاقت پر مبنی بیانیے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 2024ء کے انتخابات واقعی تاریخی تھے۔</p>
<p>8 فروری 2024ء کے بعد بہت کچھ غلط ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستانی ریاست کے ذمہ دار افراد نے ملک کی بدلتے ہوئے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔</p>
<p>اگرچہ گزشتہ عام انتخابات کے بعد ہونے والی ناانصافیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ سوچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ اب ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔</p>
<p>ملک مسلسل تباہی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ ریاست کو کنٹرول کرنے والے کیا چاہتے ہیں اور عوام اپنے لیے کیا چاہتے ہیں کے درمیان کشمکش کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلاف کو قابو کرنے میں حکام ناکام ہے۔ جب تک یہ بنیادی تنازع حل نہیں کیا جاتا، ملک میں امن قائم نہیں ہوپائے گا۔</p>
<p>چند مٹھی بھر افراد کے درمیان انا کی جنگ کو لاکھوں عام پاکستانیوں کی بھلائی پر فوقیت دی جارہی ہے۔ اس غیر ضروری جنگ کو ختم کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی عوام کے ساتھ بہت عرصے سے ظلم ہو رہا ہے۔ انہیں تبدیلی کی ضرورت ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1890583/a-year-later">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1252537</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Feb 2025 11:38:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/08111256a7405fa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/08111256a7405fa.jpg"/>
        <media:title>—تصویر: فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’متنازع پیکا قانون کا مقصد جمہوریت کا گلا گھونٹنا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251866/</link>
      <description>&lt;p&gt;صحافیوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا، انسانی حقوق کی تنظیموں نے ممکنہ خطرناک نتائج کے حوالے سے خبردار کیا اور ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین نے بھی مخالفت میں آوازیں بلند کیں لیکن تمام کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اب صدر کے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1251823/"&gt;دستخط&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے بعد پیکا ترامیم آئین کا حصہ بن چکی ہیں جو ہمارے ملک کی جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جتنی عجلت میں یہ معاملہ نمٹایا گیا وہ انتہائی حیران کُن تھا۔ سول سوسائٹی نے مشاورت کرنے کی درخواست کی، عجلت کے بجائے بغور نظرثانی کرنے کی بات کی لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ اب اس سخت گیر قانون پر دستخط کی سیاہی خشک ہوچکی ہے اور اب یہ حتمی قانون لوگوں کو اظہار رائے کرنے سے خوفزدہ کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قانون میں سیکشن 26 اے متعارف کروایا گیا ہے جس میں نام نہاد فیک نیوز (جس کی تعریف کی وضاحت نہیں کی گئی) پھیلانے والوں کو 3 سال سزا اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔ لیکن جعلی خبر کی تعریف کیا ہے؟ کون فیصلہ کرے گا کہ کون سی معلومات لوگوں میں ’خوف، اضطراب یا بےامنی‘ کا باعث بنیں گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب قوانین کی درست وضاحت نہ کی جائے تو ان کا منصفانہ انداز میں اطلاق نہیں ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو آزادی صحافت کی علم بردار تھی، ایسی ترامیم کی حمایت کرکے اب وہ اس نظریے کے حامی بن چکی ہے جس کے تحت جمہوریت کو محفوظ بنانے کا بہترین راستہ اس کا گلا گھونٹ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات عطا اللہ تاڑر نے جس طرح ’ورکنگ صحافیوں‘ اور ’اپنے فون نکالنے‘ والے شہریوں کے درمیان فرق کو بیان کیا، اس نے اس دور کی یاد تازہ کردی کہ جب گھڑسوار خبروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے تھے. وہ دور کہ جب خبروں کے تبادلے سست اور زیرِ کنٹرول ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251518"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا یہ دعویٰ کہ ان ترامیم کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، مخلص نہیں لگتا۔ درحقیقت نئی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام نے ان کے اصل ارادے کو آشکار کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل ماحول پر ایسا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے کہ جس کی ماضی میں ہمیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس قانون کا مقصد مخالف آوازوں کو دبانا نہیں بلکہ ان کا مکمل خاتمہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ترامیم منظور ہی نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ حکومت کے پاس معنی خیر مذاکرات کا راستہ تھا منصفانہ اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے میڈیا کے ضوابط کو مضبوط کرنے اور بنیادی حقوق کو پامال کیے بغیر غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کی راہ موجود تھی۔ مگر انہوں نے مذاکرات کے بجائے جبر کا راستہ چنا۔ پاکستانی صحافی، ڈیجیٹل کارکنان اور عام شہریوں کو ایسے مذموم قانون کے خلاف طویل جنگ لڑنے کی تیاری کرنی چاہیے جو انہیں خاموش کروانے کے لیے بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ کیا عدالت عوامی حقوق و آزادی کے دفاع کرتے ہوئے قانون کا مقابلہ کریں گی؟ اس سوال کا جواب شاید ملک میں آزادی اظہار کے مستقبل کا تعین کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1888594/death-blow"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صحافیوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا، انسانی حقوق کی تنظیموں نے ممکنہ خطرناک نتائج کے حوالے سے خبردار کیا اور ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین نے بھی مخالفت میں آوازیں بلند کیں لیکن تمام کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔</p>
<p>اور اب صدر کے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1251823/">دستخط</a></strong> کے بعد پیکا ترامیم آئین کا حصہ بن چکی ہیں جو ہمارے ملک کی جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جتنی عجلت میں یہ معاملہ نمٹایا گیا وہ انتہائی حیران کُن تھا۔ سول سوسائٹی نے مشاورت کرنے کی درخواست کی، عجلت کے بجائے بغور نظرثانی کرنے کی بات کی لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ اب اس سخت گیر قانون پر دستخط کی سیاہی خشک ہوچکی ہے اور اب یہ حتمی قانون لوگوں کو اظہار رائے کرنے سے خوفزدہ کررہا ہے۔</p>
<p>نئے قانون میں سیکشن 26 اے متعارف کروایا گیا ہے جس میں نام نہاد فیک نیوز (جس کی تعریف کی وضاحت نہیں کی گئی) پھیلانے والوں کو 3 سال سزا اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔ لیکن جعلی خبر کی تعریف کیا ہے؟ کون فیصلہ کرے گا کہ کون سی معلومات لوگوں میں ’خوف، اضطراب یا بےامنی‘ کا باعث بنیں گی؟</p>
<p>تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب قوانین کی درست وضاحت نہ کی جائے تو ان کا منصفانہ انداز میں اطلاق نہیں ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو آزادی صحافت کی علم بردار تھی، ایسی ترامیم کی حمایت کرکے اب وہ اس نظریے کے حامی بن چکی ہے جس کے تحت جمہوریت کو محفوظ بنانے کا بہترین راستہ اس کا گلا گھونٹ دینا ہے۔</p>
<p>وزیر اطلاعات عطا اللہ تاڑر نے جس طرح ’ورکنگ صحافیوں‘ اور ’اپنے فون نکالنے‘ والے شہریوں کے درمیان فرق کو بیان کیا، اس نے اس دور کی یاد تازہ کردی کہ جب گھڑسوار خبروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے تھے. وہ دور کہ جب خبروں کے تبادلے سست اور زیرِ کنٹرول ہوتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251518"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکومت کا یہ دعویٰ کہ ان ترامیم کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، مخلص نہیں لگتا۔ درحقیقت نئی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام نے ان کے اصل ارادے کو آشکار کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل ماحول پر ایسا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے کہ جس کی ماضی میں ہمیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس قانون کا مقصد مخالف آوازوں کو دبانا نہیں بلکہ ان کا مکمل خاتمہ ہے۔</p>
<p>ایسی ترامیم منظور ہی نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ حکومت کے پاس معنی خیر مذاکرات کا راستہ تھا منصفانہ اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے میڈیا کے ضوابط کو مضبوط کرنے اور بنیادی حقوق کو پامال کیے بغیر غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کی راہ موجود تھی۔ مگر انہوں نے مذاکرات کے بجائے جبر کا راستہ چنا۔ پاکستانی صحافی، ڈیجیٹل کارکنان اور عام شہریوں کو ایسے مذموم قانون کے خلاف طویل جنگ لڑنے کی تیاری کرنی چاہیے جو انہیں خاموش کروانے کے لیے بنایا گیا ہے۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ کیا عدالت عوامی حقوق و آزادی کے دفاع کرتے ہوئے قانون کا مقابلہ کریں گی؟ اس سوال کا جواب شاید ملک میں آزادی اظہار کے مستقبل کا تعین کرسکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1888594/death-blow">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251866</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jan 2025 11:51:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/300956125dd7340.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/300956125dd7340.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: ’جنگ بندی معاہدہ طے ہوچکا لیکن دنیا کو اسرائیلی مظالم بھولنے نہیں چاہئیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250960/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلآخر 15 ماہ بعد غزہ میں جاری نسل کشی کو روک دیا گیا ہے۔ اب یہ معاہدہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مستقل جنگ بندی کا باعث بنتا ہے یا نہیں، اس حوالے سے یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال فلسطینیوں کو اتنا وقفہ ملا ہے کہ وہ اپنے شہدا کا غم منا سکیں جن کی تعداد 46 ہزار سے بھی زائد ہے جبکہ زیادہ تر کی میتیں اب بھی ملبے تلے دبی ہیں۔ وہ اپنے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں اور اس دوران یہ مستقل ڈر نہیں ہوگا کہ وہ کسی وقت بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین مراحل پر مشتمل &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1250833/"&gt;جنگ بندی کا معاہدہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں بدھ کے روز طے پایا جس میں حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے کی شرط شامل ہے، غزہ کے عوام کو امداد کی فراہمی بحال جبکہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا بھی معاہدے کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ تل ابیب کی سنجیدگی پر منحصر ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاس داری کیسے کرتے ہیں۔ البتہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود (جس کا اطلاق اتوار سے ہوگا) اسرائیل کی جانب سے غزہ میں قتل و غارت گری کا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1250950/"&gt;سلسلہ جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور تل ابیب نے فلسطینی مسلح گروہ سے معاہدہ کرلیا۔ اس نے ظاہر کیا کہ جدید امریکی ہتھیاروں سے لیس دنیا کی سب سے مسلح افواج بھی قابض لوگوں کے جذبے کو توڑ نہیں پائیں جنہوں نے ہزاروں جانیں قربان کردیں لیکن اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں یہ امید کی جارہی ہے کہ یہ امن معاہدہ مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہوگا اور غزہ کے عوام کو جلد از جلد امداد کی فراہمی ہوگی وہیں دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسرائیل نے اس چھوٹی سی ساحلی پٹی میں ان 15 ماہ میں کیا مظالم ڈھائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہزاروں افراد شہید ہوگئے، قیدیوں کے ریپ اور ان کے استحصال سے متعلق رپورٹس سامنے آئیں، کمسن بچوں کی سردی سے جم کر اموات ہوئیں، آبادی کے ایک بڑے حصے نے بھوک و افلاس کا سامنا کیا جبکہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں صاف پانی کی رسائی بھی منقطع کردی گئی تھی۔ ان تمام جرائم کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے اور مجرمان کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250893"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) میں جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت اور جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت (آئی سی جے) میں دائر نسل کشی کے مقدمات کی مکمل طور پر پیروی ہونی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل دوبارہ فلسطینی عوام کو ان بہیمانہ جنگی جرائم کا نشانہ نہ بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے بعد کیا ہوگا، اس حوالے سے بہت سی تجاویز دی جاتی ہیں لیکن قضیہ فلسطین کا پائیدار حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے اسرائیل کو تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے قبضہ ختم کرنا ہوگا جبکہ ایک خود مختار عرب ریاست کے قیام کے لیے اتفاق کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹکڑوں میں تقسیم فلسطینی آبادی جنہیں اسرائیل باآسانی اپنی جارحانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا سکتا ہے، مسئلے کا حل نہیں ہے۔ غزہ کی نسل کشی نے فلسطینی اتھارٹی کی مکمل بے بسی کو بھی آشکار کیا کہ کس طرح وہ عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی۔ تمام فلسطینی تنظیمیں بالخصوص حماس اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو متحد ہوکر قابض قوت کا یکجہتی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسرائیل ایک بار پھر اپنے قریبی ساتھی واشنگٹن کا سہارا لے کر اپنی جارحانہ روش پر واپس آتا ہے تو فلسطینیوں کے پاس مزاحمت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1885796/never-again"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلآخر 15 ماہ بعد غزہ میں جاری نسل کشی کو روک دیا گیا ہے۔ اب یہ معاہدہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مستقل جنگ بندی کا باعث بنتا ہے یا نہیں، اس حوالے سے یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔</p>
<p>فی الحال فلسطینیوں کو اتنا وقفہ ملا ہے کہ وہ اپنے شہدا کا غم منا سکیں جن کی تعداد 46 ہزار سے بھی زائد ہے جبکہ زیادہ تر کی میتیں اب بھی ملبے تلے دبی ہیں۔ وہ اپنے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں اور اس دوران یہ مستقل ڈر نہیں ہوگا کہ وہ کسی وقت بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>تین مراحل پر مشتمل <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1250833/">جنگ بندی کا معاہدہ</a></strong> قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں بدھ کے روز طے پایا جس میں حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے کی شرط شامل ہے، غزہ کے عوام کو امداد کی فراہمی بحال جبکہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا بھی معاہدے کا حصہ ہے۔</p>
<p>اب یہ تل ابیب کی سنجیدگی پر منحصر ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاس داری کیسے کرتے ہیں۔ البتہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود (جس کا اطلاق اتوار سے ہوگا) اسرائیل کی جانب سے غزہ میں قتل و غارت گری کا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1250950/">سلسلہ جاری</a></strong> ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور تل ابیب نے فلسطینی مسلح گروہ سے معاہدہ کرلیا۔ اس نے ظاہر کیا کہ جدید امریکی ہتھیاروں سے لیس دنیا کی سب سے مسلح افواج بھی قابض لوگوں کے جذبے کو توڑ نہیں پائیں جنہوں نے ہزاروں جانیں قربان کردیں لیکن اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔</p>
<p>جہاں یہ امید کی جارہی ہے کہ یہ امن معاہدہ مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہوگا اور غزہ کے عوام کو جلد از جلد امداد کی فراہمی ہوگی وہیں دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسرائیل نے اس چھوٹی سی ساحلی پٹی میں ان 15 ماہ میں کیا مظالم ڈھائے ہیں۔</p>
<p>ہزاروں افراد شہید ہوگئے، قیدیوں کے ریپ اور ان کے استحصال سے متعلق رپورٹس سامنے آئیں، کمسن بچوں کی سردی سے جم کر اموات ہوئیں، آبادی کے ایک بڑے حصے نے بھوک و افلاس کا سامنا کیا جبکہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں صاف پانی کی رسائی بھی منقطع کردی گئی تھی۔ ان تمام جرائم کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے اور مجرمان کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250893"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) میں جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت اور جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت (آئی سی جے) میں دائر نسل کشی کے مقدمات کی مکمل طور پر پیروی ہونی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل دوبارہ فلسطینی عوام کو ان بہیمانہ جنگی جرائم کا نشانہ نہ بنا سکے۔</p>
<p>جنگ کے بعد کیا ہوگا، اس حوالے سے بہت سی تجاویز دی جاتی ہیں لیکن قضیہ فلسطین کا پائیدار حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے اسرائیل کو تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے قبضہ ختم کرنا ہوگا جبکہ ایک خود مختار عرب ریاست کے قیام کے لیے اتفاق کرنا ہوگا۔</p>
<p>ٹکڑوں میں تقسیم فلسطینی آبادی جنہیں اسرائیل باآسانی اپنی جارحانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا سکتا ہے، مسئلے کا حل نہیں ہے۔ غزہ کی نسل کشی نے فلسطینی اتھارٹی کی مکمل بے بسی کو بھی آشکار کیا کہ کس طرح وہ عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی۔ تمام فلسطینی تنظیمیں بالخصوص حماس اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو متحد ہوکر قابض قوت کا یکجہتی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>اگر اسرائیل ایک بار پھر اپنے قریبی ساتھی واشنگٹن کا سہارا لے کر اپنی جارحانہ روش پر واپس آتا ہے تو فلسطینیوں کے پاس مزاحمت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1885796/never-again">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250960</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jan 2025 11:41:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/1710064929be002.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/1710064929be002.gif"/>
        <media:title>—تصاویر: اے ایف پی/ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ:’ عوام کو یہ دیکھنے کا حق ہے کہ عمران اور فیض کی کہانی کا انجام کیا ہوتا ہے’</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248383/</link>
      <description>&lt;p&gt;گرفتاری کے تقریباً 4 ماہ بعد خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا سامنا ہے جبکہ ان پر لگائے جانے والی فردِ جرم میں سیاسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام کی تحقیقات ہوں گی جبکہ انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کسی شخص کو ناجائز طور پر نقصان پہنچانے کے لیے محتسب ٹھہرایا جائے گا۔ کیا طویل عرصے سے زیرِالتوا مقدمہ واقعی اس بار  نمٹ جائے گا یا یہ اصل مسئلے کو چھپانے کی ایک اور کوشش ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگ جو جنرل فیض حمید کی سرگرمیوں سے واقف ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ انہوں نے اپنی مدت اقتدار میں چند حدود کی پامالی کی۔ ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی اور پھر ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اپنی مخالفت کرنے والوں کو سزا دی۔ 2018ء کے انتخابات ’منیجنگ‘ میں ان کا نام سامنے آیا جبکہ مخالف سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے اور میڈیا کو خاموش اور کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ ایسا نہیں تھا کہ جب یہ ’جرائم‘ ہورہے تھے، اس وقت یہ کسی کی نظروں میں نہیں آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل فیض حمید یہ سب اس لیے کررہے تھے کیونکہ انہیں نہ صرف اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی حمایت حاصل تھی بلکہ اس وقت انہیں اپنے ادارے اور سربراہ کی سرپرستی بھی حاصل تھی۔ عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے کس طرح اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، اس بارے میں سب جانتے تھے لیکن ادارہ جاتی احتساب تو چھوڑیے، ان کی جانچ نہیں کی گئی۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ اس وقت وہ جن مقاصد کے لیے کارفرما تھے وہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کے مطابق تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248236"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت بدل گیا لیکن جنرل فیض حمید نہ بدلے جس پر ان کے اقدامات کی سنگین جانچ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ بظاہر ان کی سرگرمیوں کی تحقیقات میں جو کچھ سامنے آیا وہ اتنا پریشان کن تھا کہ جنرل فیض حمید کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے پہلے آئی ایس آئی سربراہ بن چکے ہیں۔ یہ مقدمہ فوج کا اندرونی معاملہ ہوتا اگر ان سے صرف فوجی نظم و ضبط  کی خلاف ورزیوں سے متعلق تفتیش کی جارہی ہوتی۔ تاہم ان پر لگائے گئے الزامات میں ان کی سیاست میں مداخلت بھی شامل ہے جس نے معاملات کو پیچیدہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7100"&gt;اعلامیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں ملک میں ’انتشار اور بے امنی سے متعلق پُرتشدد واقعات میں فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق تفتیش بھی جاری ہے جبکہ 9 مئی سے جڑے واقعات میں بھی شامل تفتیش ہیں‘۔ ان پر پُرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایما شامل ہونے کا الزام ہے۔ وسیع پیمانے پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جنرل فیض حمید کے عزائم مختلف تھے اور &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1705151"&gt;اگلا آرمی چیف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; بننے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے مقاصد کے حصول کی کوششوں میں سرگرم تھے تو یہ معاملہ سامنے لایا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے فوجی ٹرائلز کی کارروائی منظرعام پر نہیں لائی جاتی اس لیے ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ جنرل فیض حمید نے ٹرائل کے دوران اپنا دفاع کیسے کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سابق آئی ایس آئی چیف پر عائد الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کے تانے بانے ملک کی بڑی سیاسی جماعت سے جوڑے جاتے ہیں تو فوج کو ان کے ٹرائل کی کارروائی کو منظرعام پر لانے کے لیے غور کرنا چاہیے۔ عوام کو یہ دیکھنے کا حق ہے کہ اس کہانی کا انجام کیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1878241/general-malfeasance"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گرفتاری کے تقریباً 4 ماہ بعد خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔</p>
<p>انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا سامنا ہے جبکہ ان پر لگائے جانے والی فردِ جرم میں سیاسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام کی تحقیقات ہوں گی جبکہ انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کسی شخص کو ناجائز طور پر نقصان پہنچانے کے لیے محتسب ٹھہرایا جائے گا۔ کیا طویل عرصے سے زیرِالتوا مقدمہ واقعی اس بار  نمٹ جائے گا یا یہ اصل مسئلے کو چھپانے کی ایک اور کوشش ہے؟</p>
<p>وہ لوگ جو جنرل فیض حمید کی سرگرمیوں سے واقف ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ انہوں نے اپنی مدت اقتدار میں چند حدود کی پامالی کی۔ ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی اور پھر ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اپنی مخالفت کرنے والوں کو سزا دی۔ 2018ء کے انتخابات ’منیجنگ‘ میں ان کا نام سامنے آیا جبکہ مخالف سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے اور میڈیا کو خاموش اور کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ ایسا نہیں تھا کہ جب یہ ’جرائم‘ ہورہے تھے، اس وقت یہ کسی کی نظروں میں نہیں آئے تھے۔</p>
<p>جنرل فیض حمید یہ سب اس لیے کررہے تھے کیونکہ انہیں نہ صرف اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی حمایت حاصل تھی بلکہ اس وقت انہیں اپنے ادارے اور سربراہ کی سرپرستی بھی حاصل تھی۔ عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے کس طرح اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، اس بارے میں سب جانتے تھے لیکن ادارہ جاتی احتساب تو چھوڑیے، ان کی جانچ نہیں کی گئی۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ اس وقت وہ جن مقاصد کے لیے کارفرما تھے وہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کے مطابق تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248236"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وقت بدل گیا لیکن جنرل فیض حمید نہ بدلے جس پر ان کے اقدامات کی سنگین جانچ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ بظاہر ان کی سرگرمیوں کی تحقیقات میں جو کچھ سامنے آیا وہ اتنا پریشان کن تھا کہ جنرل فیض حمید کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے پہلے آئی ایس آئی سربراہ بن چکے ہیں۔ یہ مقدمہ فوج کا اندرونی معاملہ ہوتا اگر ان سے صرف فوجی نظم و ضبط  کی خلاف ورزیوں سے متعلق تفتیش کی جارہی ہوتی۔ تاہم ان پر لگائے گئے الزامات میں ان کی سیاست میں مداخلت بھی شامل ہے جس نے معاملات کو پیچیدہ بنایا ہے۔</p>
<p>پاک فوج کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7100">اعلامیے</a></strong> میں ملک میں ’انتشار اور بے امنی سے متعلق پُرتشدد واقعات میں فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق تفتیش بھی جاری ہے جبکہ 9 مئی سے جڑے واقعات میں بھی شامل تفتیش ہیں‘۔ ان پر پُرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایما شامل ہونے کا الزام ہے۔ وسیع پیمانے پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جنرل فیض حمید کے عزائم مختلف تھے اور <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1705151">اگلا آرمی چیف</a></strong> بننے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔</p>
<p>تاہم اگر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے مقاصد کے حصول کی کوششوں میں سرگرم تھے تو یہ معاملہ سامنے لایا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے فوجی ٹرائلز کی کارروائی منظرعام پر نہیں لائی جاتی اس لیے ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ جنرل فیض حمید نے ٹرائل کے دوران اپنا دفاع کیسے کیا ہوگا۔</p>
<p>تاہم سابق آئی ایس آئی چیف پر عائد الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کے تانے بانے ملک کی بڑی سیاسی جماعت سے جوڑے جاتے ہیں تو فوج کو ان کے ٹرائل کی کارروائی کو منظرعام پر لانے کے لیے غور کرنا چاہیے۔ عوام کو یہ دیکھنے کا حق ہے کہ اس کہانی کا انجام کیا ہوتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1878241/general-malfeasance">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248383</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Dec 2024 13:14:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/12100150b2a4034.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/12100150b2a4034.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
