<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Features</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 15:04:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 15:04:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بےروزگاری کی شرح میں ہوش ربا اضافہ معاشی ناکامی یا بدعنوانی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274513/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہوتا تو وہ مایوسی محسوس کرتے ہیں۔ اگر وہ سرنگ کے اختتام پر روشنی نہیں دیکھتے تو یہی مایوسی گہری ناامیدی میں بدل جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کئی ناپسندیدہ رویوں میں ملوث ہوسکتے ہیں جن میں گداگری، چوری، گینگز بنانا یا ریاست مخالف عناصر کا آلہ کار بن جانا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر فورس سروے 2025ء-2024ء کے مطابق، گزشتہ 4 سالوں میں مزید 14 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں 59 لاکھ مرد اور خواتین بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب آبادی میں اب بھی اسی طرح 2 فیصد سے زیادہ سالانہ کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک بات یہ ہے کہ بے روزگاری کی شرح 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ ہے جوکہ 2025ء-2024ء میں 12.8 فیصد ہے جبکہ 2021ء-2020ء میں 11.1 فیصد تھی۔ لہٰذا یہ حیران کُن نہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مایوس، ناامید، دل شکستہ اور بعض اوقات پُرتشدد نوجوان سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہوتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ چھوٹے جرائم کی جانب مائل ہوتے ہیں اور کچھ کو خفیہ طور پر ریاست مخالف نیٹ ورکس بھرتی کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ تمام نوجوان مرد اور خواتین جو بے روزگار ہیں اسی زمرے میں آتے ہیں کیونکہ ایسا بالکل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر نوجوان غیر رسمی ملازمتیں کرتے ہیں جہاں وہ صرف گزر بسر کے لیے قومی سطح پر مقررہ کم از کم اُجرت کا نصف ہی کما پاتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس سے احتیاط سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی حمایت یافتہ اور مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف کوششیں جاری رکھتے ہوئے، حکومت کو اس مسئلے کے سماجی اور اقتصادی پہلو کو بھی حل کرنا چاہیے۔ اشرافیہ کو وسائل پر قابو پانے سے روکنے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر اقتصادی منصوبہ بندی اور مضبوط سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس صدی کے ابتدائی 25 سالوں میں پاکستانی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں۔ وہ فوجی حکمرانی، کمزور اور ناکارہ جمہوری نظام اور ہائبرڈ حکومتوں کے ماتحت رہ چکے ہیں۔ اب سنجیدہ خود شناسی کا وقت ہے۔ یہ اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ریاست عوام کے لیے مؤثر خدمات فراہم نہ کرے اور انہیں محترم محسوس نہ کروائے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے مستفید ہو سکیں جو 1973ء کے آئین میں درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرامز کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہ معاشی استحکام اور موسمیاتی آفات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہ جزوی طور پر درست بیان ہے۔ ہر حکومت گزشتہ حکومت کو خسارے کا باعث بننے والے مالی اور گورننس کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے لیکن پھر بھی ہر حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے ان مسائل کو دیرپا حل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ملکی و غیر ملکی قرضے بڑھتے رہتے ہیں۔ حکومت کا زیادہ سے زیادہ بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں میں خرچ ہوجاتا ہے جبکہ دفاعی اخراجات کے بعد عوامی ترقی کے لیے بہت کم رقم باقی رہ جاتی ہے۔ چونکہ ترقیاتی اخراجات بہت کم ہیں، پاکستان کی معیشت مضبوط، دیرپا ترقی حاصل کرنے کے بجائے جدوجہد کر رہی ہے اور بقا کی جنگ لڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستحکم، پائیدار معاشی ترقی نہ ہونا، سخت بے روزگاری کو جنم دیتا ہے جسے بڑھتی ہوئی بدعنوانی مزید بڑھا دیتی ہے جو نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے اور اس کے نتیجے میں صحت، تعلیم، ہنرمندوں کی تربیت، سستی سہولیات، سڑکوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی پر حقیقی خرچ مزید کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آبادی کی شرح 2 فیصد سے زائد ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع مزید کم ہوجاتے ہیں کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی سیکٹر کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیے بغیر بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنا ممکن نہیں۔ لیکن سیاسی اور معاشی مسائل کی وجہ سے یہ بہت مشکل ہے جیسے کہ نجی شعبے اور فوج کے تعاون سے چلنے والے کاروباروں کے درمیان غیر واضح تعلقات کی وجہ سے جہاں کئی دہائیوں سے سرکاری کمپنیاں پیسہ کھو رہی ہیں وہیں بعض صنعتوں کو سیاسی اور مالی طور پر ضرورت سے زیادہ سپورٹ بھی کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملازمتیں اس صورت میں بڑھ سکتی ہیں کہ اگر نجی شعبہ زیادہ سرمایہ کاری کرے اور غیرملکی سرمایہ کاری ایسی صنعتوں میں کی جائے جو بہت سی ملازمتیں پیدا کرتی ہیں۔ لیکن جب سیاسی نظام غیر مستحکم ہو تو کیا مقامی کاروبار سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور کیا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی ختم کیے بغیر اور کراچی جو ملک کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، اسے قابلِ رہائش بنائے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر زراعت اور مال کی تیاری میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے؟ خدمات کے شعبے میں؟ کیا کسی بھی شخص کے لیے یہ سوچنا ممکن ہے کہ خدمات کا شعبہ کیسے ترقی کرے گا جب تک کہ زراعت اور صنعت اس کی مضبوط بنیاد فراہم نہ کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سنگین سوالات ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ پالیسی ساز انہیں اپنے نعروں اور چمکدار پریزنٹیشن سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی یافتہ ممالک میں آٹومیشن (خودکار آلات)، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے ترقی انسانی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہے جوکہ دولت اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں نئے اسباق پیش کر رہا ہے۔ پالیسی سازوں کو اس پر غور کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں خودکاری اور اے آئی کی موجودگی میں انسانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہوگا خاص طور پر اگر مقامی سرمایہ کار بھی ان ٹیکنالوجیز کا استعمال زیادہ تیز کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958327"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہوتا تو وہ مایوسی محسوس کرتے ہیں۔ اگر وہ سرنگ کے اختتام پر روشنی نہیں دیکھتے تو یہی مایوسی گہری ناامیدی میں بدل جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کئی ناپسندیدہ رویوں میں ملوث ہوسکتے ہیں جن میں گداگری، چوری، گینگز بنانا یا ریاست مخالف عناصر کا آلہ کار بن جانا شامل ہیں۔</p>
<p>لیبر فورس سروے 2025ء-2024ء کے مطابق، گزشتہ 4 سالوں میں مزید 14 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں 59 لاکھ مرد اور خواتین بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب آبادی میں اب بھی اسی طرح 2 فیصد سے زیادہ سالانہ کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>تشویشناک بات یہ ہے کہ بے روزگاری کی شرح 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ ہے جوکہ 2025ء-2024ء میں 12.8 فیصد ہے جبکہ 2021ء-2020ء میں 11.1 فیصد تھی۔ لہٰذا یہ حیران کُن نہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مایوس، ناامید، دل شکستہ اور بعض اوقات پُرتشدد نوجوان سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہے ہوتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ چھوٹے جرائم کی جانب مائل ہوتے ہیں اور کچھ کو خفیہ طور پر ریاست مخالف نیٹ ورکس بھرتی کر لیتے ہیں۔</p>
<p>یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ تمام نوجوان مرد اور خواتین جو بے روزگار ہیں اسی زمرے میں آتے ہیں کیونکہ ایسا بالکل نہیں۔</p>
<p>زیادہ تر نوجوان غیر رسمی ملازمتیں کرتے ہیں جہاں وہ صرف گزر بسر کے لیے قومی سطح پر مقررہ کم از کم اُجرت کا نصف ہی کما پاتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس سے احتیاط سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>غیر ملکی حمایت یافتہ اور مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف کوششیں جاری رکھتے ہوئے، حکومت کو اس مسئلے کے سماجی اور اقتصادی پہلو کو بھی حل کرنا چاہیے۔ اشرافیہ کو وسائل پر قابو پانے سے روکنے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر اقتصادی منصوبہ بندی اور مضبوط سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس صدی کے ابتدائی 25 سالوں میں پاکستانی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں۔ وہ فوجی حکمرانی، کمزور اور ناکارہ جمہوری نظام اور ہائبرڈ حکومتوں کے ماتحت رہ چکے ہیں۔ اب سنجیدہ خود شناسی کا وقت ہے۔ یہ اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ریاست عوام کے لیے مؤثر خدمات فراہم نہ کرے اور انہیں محترم محسوس نہ کروائے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے مستفید ہو سکیں جو 1973ء کے آئین میں درج ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرامز کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہ معاشی استحکام اور موسمیاتی آفات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہ جزوی طور پر درست بیان ہے۔ ہر حکومت گزشتہ حکومت کو خسارے کا باعث بننے والے مالی اور گورننس کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے لیکن پھر بھی ہر حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے ان مسائل کو دیرپا حل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً ملکی و غیر ملکی قرضے بڑھتے رہتے ہیں۔ حکومت کا زیادہ سے زیادہ بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں میں خرچ ہوجاتا ہے جبکہ دفاعی اخراجات کے بعد عوامی ترقی کے لیے بہت کم رقم باقی رہ جاتی ہے۔ چونکہ ترقیاتی اخراجات بہت کم ہیں، پاکستان کی معیشت مضبوط، دیرپا ترقی حاصل کرنے کے بجائے جدوجہد کر رہی ہے اور بقا کی جنگ لڑتی ہے۔</p>
<p>مستحکم، پائیدار معاشی ترقی نہ ہونا، سخت بے روزگاری کو جنم دیتا ہے جسے بڑھتی ہوئی بدعنوانی مزید بڑھا دیتی ہے جو نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے اور اس کے نتیجے میں صحت، تعلیم، ہنرمندوں کی تربیت، سستی سہولیات، سڑکوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی پر حقیقی خرچ مزید کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ آبادی کی شرح 2 فیصد سے زائد ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع مزید کم ہوجاتے ہیں کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں۔</p>
<p>نجی سیکٹر کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیے بغیر بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنا ممکن نہیں۔ لیکن سیاسی اور معاشی مسائل کی وجہ سے یہ بہت مشکل ہے جیسے کہ نجی شعبے اور فوج کے تعاون سے چلنے والے کاروباروں کے درمیان غیر واضح تعلقات کی وجہ سے جہاں کئی دہائیوں سے سرکاری کمپنیاں پیسہ کھو رہی ہیں وہیں بعض صنعتوں کو سیاسی اور مالی طور پر ضرورت سے زیادہ سپورٹ بھی کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملازمتیں اس صورت میں بڑھ سکتی ہیں کہ اگر نجی شعبہ زیادہ سرمایہ کاری کرے اور غیرملکی سرمایہ کاری ایسی صنعتوں میں کی جائے جو بہت سی ملازمتیں پیدا کرتی ہیں۔ لیکن جب سیاسی نظام غیر مستحکم ہو تو کیا مقامی کاروبار سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟</p>
<p>اور کیا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی ختم کیے بغیر اور کراچی جو ملک کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، اسے قابلِ رہائش بنائے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آسکتی ہے؟</p>
<p>اگر زراعت اور مال کی تیاری میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے؟ خدمات کے شعبے میں؟ کیا کسی بھی شخص کے لیے یہ سوچنا ممکن ہے کہ خدمات کا شعبہ کیسے ترقی کرے گا جب تک کہ زراعت اور صنعت اس کی مضبوط بنیاد فراہم نہ کریں؟</p>
<p>یہ سنگین سوالات ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ پالیسی ساز انہیں اپنے نعروں اور چمکدار پریزنٹیشن سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ترقی یافتہ ممالک میں آٹومیشن (خودکار آلات)، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے ترقی انسانی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہے جوکہ دولت اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں نئے اسباق پیش کر رہا ہے۔ پالیسی سازوں کو اس پر غور کرنا ہوگا۔</p>
<p>مستقبل میں خودکاری اور اے آئی کی موجودگی میں انسانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہوگا خاص طور پر اگر مقامی سرمایہ کار بھی ان ٹیکنالوجیز کا استعمال زیادہ تیز کردیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958327"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274513</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 15:00:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محی الدین اعظم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/01133913e6510aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/01133913e6510aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یو اے ای ویزا کے حصول میں پریشانیوں کا سامنا کرتے پاکستانی کیسا محسوس کرتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274392/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;لاہور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ندیم جوکہ مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، نے جب رواں سال اپنے پہلے تفریحی دبئی کے دورے کی منصوبہ بندی کی تو انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ سفر مہینوں کی طویل آزمائش میں بدل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک ٹریول ایجنسی کے ذریعے وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ یہ ایک ‘معمول کا عمل‘ ہے۔ لیکن ان کی درخواست پہلی مرتبہ جنوری میں اور پھر دوبارہ نومبر کے آغاز میں دو بار مسترد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس ایجنسی نے ان کا کیس سنبھالا تھا، اس نے سادہ سا سبب بتایا کہ وہ ’40 سال سے کم عمر‘ ہیں اور کم عمر درخواست گزاروں کو زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ندیم جنہوں نے اپنا پہلا نام ظاہر کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ وضاحت الجھن میں مزید اضافے کا باعث بنی جبکہ بہت سے مسافر بھی اس سے پریشان تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا۔ میری عمر کا اس سے کیا تعلق؟ میں فل ٹائم ملازم ہوں اور میں نے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ بھی جمع کروایا تھا۔ میرا ایک دوست فری لانسر ہے، پہلی کوشش میں ہی اسے ویزا مل گیا۔ میں نے تیسری بار درخواست دی ہے، دعا ہے کہ اس بار منظور ہو جائے لیکن یہ بہت تھکا دینے والا عمل رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانیوں کے لیے ویزا مسترد کیے جانے کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں حالانکہ خلیجی ملک کے پاکستان کے ساتھ قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ابوظبی مشرق وسطیٰ میں اسلام آباد کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ترسیلاتِ زر کا بڑا ذریعہ بھی جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی انسانی حقوق کی فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستانی پاسپورٹس پر کوئی رسمی پابندی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274356/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274356"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری جو کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ یہ پابندیاں اس وجہ سے لگائی گئی ہیں کہ مسافروں کے ‘جرائم میں ملوث ہونے‘ کے خدشات ہیں اور کہا کہ حال ہی میں بہت پیچیدگیوں کے بعد ہی چند ویزے جاری کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ جنوری 2025ء میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تارکین وطن پاکستانیوں کو بتایا گیا کہ بعض ممالک کے ویزے ’غیر رسمی طور پر بند‘ کر دیے گئے ہیں۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر اعصام بیگ نے کہا کہ یو اے ای کو پاکستان سے آنے والے وزٹ ویزہ رکھنے والے افراد کے حوالے سے خدشات ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر ’گداگری‘ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اگلے ماہ پاکستان کے سابق سفیر برائے یو اے ای فیصل نیاز ترمذی نے پاکستانی شہریوں کو ویزا نہ دینے کے معاملے کو ایک ’سنگین اور اہم‘ مسئلہ قرار دیا۔ عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام نے دستاویزات کی صداقت، بشمول تعلیمی اسناد اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے درخواست دہندگان کے معاملات پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل ترمذی نے کہا، ’اگر کہیں بھی تضاد پایا گیا، پھر چاہے دستاویز اصلی ہی کیوں نہ ہوں مگر پاکستان یا یو اے ای میں تصدیق اصلی نہ ہو تو یہ ویزے رد کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیقی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں یو اے ای کے سفیر برائے پاکستان حمد عبید ابراہیم سالم الزعابی نے اعلان کیا کہ ویزا کے مسائل حل ہو گئے ہیں اور پاکستانی شہری اب پانچ سالہ ویزے سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان یقین دہانیوں کے باوجود، جولائی کے شروع میں دوبارہ مسائل سامنے آئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ معاملہ اپنے یو اے ای ہم منصب کے ساتھ اٹھایا اور 11 جولائی کی ملاقات میں یو اے ای کے لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی تیز تر پروسیسنگ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کے باوجود مسافروں کو اب بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافی فاطمہ عطاروالہ نے دبئی میں ہونے والے بڑے ایونٹ گل فوڈ کی کوریج کے لیے اپنی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’میرا ویزا دو بار مسترد ہوا۔ پہلے ہم ایک ایجنسی کے ذریعے گئے پھر اس ایونٹ کی کوآرڈینیٹنگ آفیشل ایجنسی کے پاس گئے لیکن 45 سال سے کم عمر کے ہر درخواست دہندہ کا ویزا مسترد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہاں تک کہ کمپنی ڈائریکٹرز کے ویزے بھی پہلے راؤنڈ میں منظور نہیں ہوئے۔ دوسرے راؤنڈ میں صرف 45 سال سے زائد عمر کے درخواست دہندگان کے ویزے دیے گئے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، افریقہ اور دیگر ممالک کے لوگوں کو بھی یہی صورت حال دیکھنے کو ملی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 سالہ سید عباس رضا نقوی جو ایک امریکی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں نے کہا کہ انہیں کمپنی کی اسپانسر شپ کے باوجود ان کا ویزا بار بار رد کیا گیا۔ ’میں نے گزشتہ سال ستمبر میں جنوری میں ہونے والی ایک کانفرنس کے لیے درخواست دینا شروع کی۔ میری کمپنی نے دعوت نامہ اور تمام معاون دستاویزات فراہم کیں لیکن پھر بھی کامیابی نہ ملی۔ میں نے تین بار کوشش کی۔ آخرکار ایک ’گارنٹی شدہ ویزا‘ زیادہ فیس پر جاری کیا گیا لیکن یہ عمل اب بھی غیر شفاف اور پریشان کن ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس رضا نے اس سال ستمبر میں پانچ سالہ، ملٹی پل انٹری وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی لیکن اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256672/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256672"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘ویزے کی قیمت ایک ہزار 200 ڈالر (3  لاکھ 39 ہزار روپے) تھی۔ مجھے 650 ڈالر واپس کیے گئے لیکن پھر بھی مجھے ایک بڑا مالی نقصان ہوا۔ خوش قسمتی سے، میری کمپنی نے اخراجات برداشت کیے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک مایوس کن تجربہ رہا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے ایک 36 سالہ ٹیک کاروباری صاحب کا ویزا بھی مسترد ہوا، انہوں نے ڈان کو نام نہ ظاہر کرنے شرط پر بتایا کہ انہوں نے اس سال ستمبر میں کوشش کی تھی۔ اس کے بعد میں نے پہلی درخواست کے بجائے نئی ویزا کے لیے درخواست دی۔ حیرت انگیز طور پر اسی مہینے میں ویزا جاری کر دیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزمل آصف ایک اسپورٹس جرنلسٹ ہیں جو دبئی میں ایشیا کپ کی کوریج کے لیے تعینات تھے، اپنے ویزا مسترد ہونے کی وجہ سے سفر نہ کر سکے حالانکہ ان کے پاس تمام ضروری اجازت نامے اور دستاویزات موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہمارے ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ دبئی ویزوں کے رد کیے جانے کی شرح ’100 فیصد‘ ہے۔ ہر ایجنسی نے درخواست دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابو ظبی کے ذریعے درخواست دینے کی ہدایت دی لیکن پھر بھی منظوری غیر یقینی تھی۔ آخرکار میرا ویزا اس لیے مسترد کر دیا گیا کیونکہ میں 35 سال سے کم عمر اور غیرشادی شدہ ہوں۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی اور میری نیوز ایجنسی کو تقریباً ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریول ایجنسیز نے اس رجحان کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا ایکسپریس کراچی کی کسٹمر سروسز نمائندہ سحر نصیر نے ڈان کو بتایا کہ ’دبئی کے لیے پہلی بار اور سنگل انٹری ویزا کی درخواستوں کو 70 سے 80 فیصد تک مسترد کر دیا جاتا ہے جبکہ یو اے ای میں خاندانی تعلقات رکھنے والے افراد کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیجر ٹرِپس ٹریول اینڈ ٹورز ظہیر زبیر نے کہا کہ سنگل ویزوں کی منظوری کی شرح صرف 20 فیصد ہے جبکہ فیملی ویزوں کی منظوری تقریباً 80 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ای جی ویزا کے ایک ٹریول ایجنٹ عبید سجاد نے ویزا حاصل کرنے کے لیے سخت مالی تقاضوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر آپ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ تقریباً 30 لاکھ روپے جمع کرواتے ہیں تو آپ کے امکانات بہتر ہیں۔ سنگل ویزا مسترد ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناکافی فنڈز ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پریمیو ٹریول اینڈ ٹورز کی ایجنٹ قرۃ العین نے کہا کہ گزشتہ زائد قیام یا غیر واضح مالی دستاویزات‘ ویزا مسترد ہونے کی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سوشل میڈیا پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں وسیع پیمانے پر مایوسی پائی جاتی ہے۔ ریڈٹ صارفین نے بلاک شدہ ٹرانزٹ ویزے اور ایجنسیز جیسے VFS گلوبل کی متضاد اطلاعات کا ذکر کیا اور ایک صارف نے بتایا کہ پیشہ ورانہ حیثیت یا عمر اکثر ویزا منظوری کا تعین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین نے کہا کہ ’پاکستانیوں کے لیے دبئی میں وزٹ ویزے پر عملی طور پر پابندی‘ ہے جس کی وجہ مبینہ غیر قانونی ہجرت کے خدشات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یو اے ای ایمبیسی کے ایک سینئر سفارتکار جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، نے اس قیاس آرائی کو مسترد کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ’پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’یو اے ای حکومت مختلف کیٹیگریز کے تحت درخواست دہندگان کو روزانہ ویزے جاری کرتی ہے۔ البتہ بعض پاکستانی ٹریول ایجنٹس نے ماضی میں درخواست دہندگان کے ڈیٹا میں تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے جس کے بعد مرکزی ویزا نظام متعارف کروایا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتکار نے مزید بتایا کہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایمبیسی میں تین بایومیٹرک ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’یو اے ای میں 22 لاکھ 70 ہزار پاکستانی مقیم ہیں جو نئے قانون کے تحت اپنے خاندانوں کی اسپانسرشپ کر سکتے ہیں۔ تاہم جن لوگوں کا کریمنل ریکارڈ ہے یا جنہوں نے اپنا ڈیٹا تبدیل کیا تھا، انہیں اپنے ریکارڈ درست کرنے کو کہا جا رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یو اے ای کے سفیر سالم الزعابی نے جمعرات کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ویزا سہولت کاری میں بڑے اصلاحات سے آگاہ کیا جن میں آن لائن پروسیسنگ، پاسپورٹ اسٹیمپ کے بغیر ای ویزے اور سسٹم ٹو سسٹم لنکیجز کی تیز رفتار سہولت شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں نئے قائم شدہ یو اے ای ویزا سینٹر میں روزانہ تقریباً 500 ویزا پراسیس کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی یقین دہانیوں اور حال ہی میں اعلان شدہ اصلاحات کے باوجود ندیم اور دیگر پاکستانی ویزا درخواست دہندگان کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ عمل پر اب بھی غیریقینی صورت حال پائی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندیم نے فون پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہا، ’ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنے منصوبوں، کام کی ذمہ داریوں اور پیسوں کے ساتھ لاٹری کھیل رہے ہیں۔ میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں جا سکتا ہوں یا نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;اضافی رپورٹنگ: عبداللہ مہمند&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: خالی شیخ زائد روڈ ’دبئی رن 2025‘ کی صبح سویرے شروعات کے لیے تیار ہے جو دبئی فٹنس چیلنج کے نویں ایڈیشن کے حصے کے طور پر 23 نومبر 2025 کو دبئی میں منعقد ہوا — تصویر: اے ایف پی&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957715/rising-uae-visa-rejections-leave-pakistani-travellers-in-limbo"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>لاہور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ندیم جوکہ مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، نے جب رواں سال اپنے پہلے تفریحی دبئی کے دورے کی منصوبہ بندی کی تو انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ سفر مہینوں کی طویل آزمائش میں بدل جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے ایک ٹریول ایجنسی کے ذریعے وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ یہ ایک ‘معمول کا عمل‘ ہے۔ لیکن ان کی درخواست پہلی مرتبہ جنوری میں اور پھر دوبارہ نومبر کے آغاز میں دو بار مسترد ہوگئی۔</p>
<p>جس ایجنسی نے ان کا کیس سنبھالا تھا، اس نے سادہ سا سبب بتایا کہ وہ ’40 سال سے کم عمر‘ ہیں اور کم عمر درخواست گزاروں کو زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ندیم جنہوں نے اپنا پہلا نام ظاہر کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ وضاحت الجھن میں مزید اضافے کا باعث بنی جبکہ بہت سے مسافر بھی اس سے پریشان تھے۔</p>
<p>انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا۔ میری عمر کا اس سے کیا تعلق؟ میں فل ٹائم ملازم ہوں اور میں نے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ بھی جمع کروایا تھا۔ میرا ایک دوست فری لانسر ہے، پہلی کوشش میں ہی اسے ویزا مل گیا۔ میں نے تیسری بار درخواست دی ہے، دعا ہے کہ اس بار منظور ہو جائے لیکن یہ بہت تھکا دینے والا عمل رہا ہے‘۔</p>
<p>حال ہی میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانیوں کے لیے ویزا مسترد کیے جانے کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں حالانکہ خلیجی ملک کے پاکستان کے ساتھ قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ابوظبی مشرق وسطیٰ میں اسلام آباد کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ترسیلاتِ زر کا بڑا ذریعہ بھی جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی انسانی حقوق کی فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستانی پاسپورٹس پر کوئی رسمی پابندی نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274356/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274356"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری جو کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ یہ پابندیاں اس وجہ سے لگائی گئی ہیں کہ مسافروں کے ‘جرائم میں ملوث ہونے‘ کے خدشات ہیں اور کہا کہ حال ہی میں بہت پیچیدگیوں کے بعد ہی چند ویزے جاری کیے گئے ہیں۔</p>
<p>یہ مسئلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ جنوری 2025ء میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تارکین وطن پاکستانیوں کو بتایا گیا کہ بعض ممالک کے ویزے ’غیر رسمی طور پر بند‘ کر دیے گئے ہیں۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر اعصام بیگ نے کہا کہ یو اے ای کو پاکستان سے آنے والے وزٹ ویزہ رکھنے والے افراد کے حوالے سے خدشات ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر ’گداگری‘ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے اگلے ماہ پاکستان کے سابق سفیر برائے یو اے ای فیصل نیاز ترمذی نے پاکستانی شہریوں کو ویزا نہ دینے کے معاملے کو ایک ’سنگین اور اہم‘ مسئلہ قرار دیا۔ عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام نے دستاویزات کی صداقت، بشمول تعلیمی اسناد اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے درخواست دہندگان کے معاملات پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔</p>
<p>فیصل ترمذی نے کہا، ’اگر کہیں بھی تضاد پایا گیا، پھر چاہے دستاویز اصلی ہی کیوں نہ ہوں مگر پاکستان یا یو اے ای میں تصدیق اصلی نہ ہو تو یہ ویزے رد کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیقی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اپریل میں یو اے ای کے سفیر برائے پاکستان حمد عبید ابراہیم سالم الزعابی نے اعلان کیا کہ ویزا کے مسائل حل ہو گئے ہیں اور پاکستانی شہری اب پانچ سالہ ویزے سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ان یقین دہانیوں کے باوجود، جولائی کے شروع میں دوبارہ مسائل سامنے آئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ معاملہ اپنے یو اے ای ہم منصب کے ساتھ اٹھایا اور 11 جولائی کی ملاقات میں یو اے ای کے لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی تیز تر پروسیسنگ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔</p>
<p>اس سب کے باوجود مسافروں کو اب بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>صحافی فاطمہ عطاروالہ نے دبئی میں ہونے والے بڑے ایونٹ گل فوڈ کی کوریج کے لیے اپنی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’میرا ویزا دو بار مسترد ہوا۔ پہلے ہم ایک ایجنسی کے ذریعے گئے پھر اس ایونٹ کی کوآرڈینیٹنگ آفیشل ایجنسی کے پاس گئے لیکن 45 سال سے کم عمر کے ہر درخواست دہندہ کا ویزا مسترد کر دیا گیا۔</p>
<p>’یہاں تک کہ کمپنی ڈائریکٹرز کے ویزے بھی پہلے راؤنڈ میں منظور نہیں ہوئے۔ دوسرے راؤنڈ میں صرف 45 سال سے زائد عمر کے درخواست دہندگان کے ویزے دیے گئے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، افریقہ اور دیگر ممالک کے لوگوں کو بھی یہی صورت حال دیکھنے کو ملی‘۔</p>
<p>25 سالہ سید عباس رضا نقوی جو ایک امریکی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں نے کہا کہ انہیں کمپنی کی اسپانسر شپ کے باوجود ان کا ویزا بار بار رد کیا گیا۔ ’میں نے گزشتہ سال ستمبر میں جنوری میں ہونے والی ایک کانفرنس کے لیے درخواست دینا شروع کی۔ میری کمپنی نے دعوت نامہ اور تمام معاون دستاویزات فراہم کیں لیکن پھر بھی کامیابی نہ ملی۔ میں نے تین بار کوشش کی۔ آخرکار ایک ’گارنٹی شدہ ویزا‘ زیادہ فیس پر جاری کیا گیا لیکن یہ عمل اب بھی غیر شفاف اور پریشان کن ہے‘۔</p>
<p>عباس رضا نے اس سال ستمبر میں پانچ سالہ، ملٹی پل انٹری وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی لیکن اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256672/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256672"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘ویزے کی قیمت ایک ہزار 200 ڈالر (3  لاکھ 39 ہزار روپے) تھی۔ مجھے 650 ڈالر واپس کیے گئے لیکن پھر بھی مجھے ایک بڑا مالی نقصان ہوا۔ خوش قسمتی سے، میری کمپنی نے اخراجات برداشت کیے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک مایوس کن تجربہ رہا‘۔</p>
<p>کراچی کے ایک 36 سالہ ٹیک کاروباری صاحب کا ویزا بھی مسترد ہوا، انہوں نے ڈان کو نام نہ ظاہر کرنے شرط پر بتایا کہ انہوں نے اس سال ستمبر میں کوشش کی تھی۔ اس کے بعد میں نے پہلی درخواست کے بجائے نئی ویزا کے لیے درخواست دی۔ حیرت انگیز طور پر اسی مہینے میں ویزا جاری کر دیا گیا‘۔</p>
<p>مزمل آصف ایک اسپورٹس جرنلسٹ ہیں جو دبئی میں ایشیا کپ کی کوریج کے لیے تعینات تھے، اپنے ویزا مسترد ہونے کی وجہ سے سفر نہ کر سکے حالانکہ ان کے پاس تمام ضروری اجازت نامے اور دستاویزات موجود تھیں۔</p>
<p>’ہمارے ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ دبئی ویزوں کے رد کیے جانے کی شرح ’100 فیصد‘ ہے۔ ہر ایجنسی نے درخواست دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابو ظبی کے ذریعے درخواست دینے کی ہدایت دی لیکن پھر بھی منظوری غیر یقینی تھی۔ آخرکار میرا ویزا اس لیے مسترد کر دیا گیا کیونکہ میں 35 سال سے کم عمر اور غیرشادی شدہ ہوں۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی اور میری نیوز ایجنسی کو تقریباً ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا‘۔</p>
<p>ٹریول ایجنسیز نے اس رجحان کی تصدیق کی۔</p>
<p>ویزا ایکسپریس کراچی کی کسٹمر سروسز نمائندہ سحر نصیر نے ڈان کو بتایا کہ ’دبئی کے لیے پہلی بار اور سنگل انٹری ویزا کی درخواستوں کو 70 سے 80 فیصد تک مسترد کر دیا جاتا ہے جبکہ یو اے ای میں خاندانی تعلقات رکھنے والے افراد کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں‘۔</p>
<p>منیجر ٹرِپس ٹریول اینڈ ٹورز ظہیر زبیر نے کہا کہ سنگل ویزوں کی منظوری کی شرح صرف 20 فیصد ہے جبکہ فیملی ویزوں کی منظوری تقریباً 80 فیصد ہے۔</p>
<p>اے ای جی ویزا کے ایک ٹریول ایجنٹ عبید سجاد نے ویزا حاصل کرنے کے لیے سخت مالی تقاضوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر آپ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ تقریباً 30 لاکھ روپے جمع کرواتے ہیں تو آپ کے امکانات بہتر ہیں۔ سنگل ویزا مسترد ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناکافی فنڈز ہیں‘۔</p>
<p>ادھر پریمیو ٹریول اینڈ ٹورز کی ایجنٹ قرۃ العین نے کہا کہ گزشتہ زائد قیام یا غیر واضح مالی دستاویزات‘ ویزا مسترد ہونے کی وجوہات ہیں۔</p>
<p>پاکستانی سوشل میڈیا پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں وسیع پیمانے پر مایوسی پائی جاتی ہے۔ ریڈٹ صارفین نے بلاک شدہ ٹرانزٹ ویزے اور ایجنسیز جیسے VFS گلوبل کی متضاد اطلاعات کا ذکر کیا اور ایک صارف نے بتایا کہ پیشہ ورانہ حیثیت یا عمر اکثر ویزا منظوری کا تعین کرتی ہے۔</p>
<p>کچھ صارفین نے کہا کہ ’پاکستانیوں کے لیے دبئی میں وزٹ ویزے پر عملی طور پر پابندی‘ ہے جس کی وجہ مبینہ غیر قانونی ہجرت کے خدشات ہیں۔</p>
<p>تاہم یو اے ای ایمبیسی کے ایک سینئر سفارتکار جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، نے اس قیاس آرائی کو مسترد کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ’پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’یو اے ای حکومت مختلف کیٹیگریز کے تحت درخواست دہندگان کو روزانہ ویزے جاری کرتی ہے۔ البتہ بعض پاکستانی ٹریول ایجنٹس نے ماضی میں درخواست دہندگان کے ڈیٹا میں تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے جس کے بعد مرکزی ویزا نظام متعارف کروایا گیا‘۔</p>
<p>سفارتکار نے مزید بتایا کہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایمبیسی میں تین بایومیٹرک ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’یو اے ای میں 22 لاکھ 70 ہزار پاکستانی مقیم ہیں جو نئے قانون کے تحت اپنے خاندانوں کی اسپانسرشپ کر سکتے ہیں۔ تاہم جن لوگوں کا کریمنل ریکارڈ ہے یا جنہوں نے اپنا ڈیٹا تبدیل کیا تھا، انہیں اپنے ریکارڈ درست کرنے کو کہا جا رہا ہے‘۔</p>
<p>دوسری جانب یو اے ای کے سفیر سالم الزعابی نے جمعرات کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ویزا سہولت کاری میں بڑے اصلاحات سے آگاہ کیا جن میں آن لائن پروسیسنگ، پاسپورٹ اسٹیمپ کے بغیر ای ویزے اور سسٹم ٹو سسٹم لنکیجز کی تیز رفتار سہولت شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں نئے قائم شدہ یو اے ای ویزا سینٹر میں روزانہ تقریباً 500 ویزا پراسیس کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سفارتی یقین دہانیوں اور حال ہی میں اعلان شدہ اصلاحات کے باوجود ندیم اور دیگر پاکستانی ویزا درخواست دہندگان کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ عمل پر اب بھی غیریقینی صورت حال پائی جارہی ہے۔</p>
<p>ندیم نے فون پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہا، ’ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنے منصوبوں، کام کی ذمہ داریوں اور پیسوں کے ساتھ لاٹری کھیل رہے ہیں۔ میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں جا سکتا ہوں یا نہیں‘۔</p>
<hr />
<p><em>اضافی رپورٹنگ: عبداللہ مہمند</em></p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: خالی شیخ زائد روڈ ’دبئی رن 2025‘ کی صبح سویرے شروعات کے لیے تیار ہے جو دبئی فٹنس چیلنج کے نویں ایڈیشن کے حصے کے طور پر 23 نومبر 2025 کو دبئی میں منعقد ہوا — تصویر: اے ایف پی</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957715/rising-uae-visa-rejections-leave-pakistani-travellers-in-limbo"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274392</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 14:57:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سارہ بی حیدر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/28145903dcb474f.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/28145903dcb474f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ایک آنکھ زمین ایک آسمان پر‘، بنوں پولیس عسکریت پسندوں کے جدید حربوں سے کیسے نمٹ رہی ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274280/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;جون یا یہ کہہ لیجیے کہ گزشتہ 5 ماہ سے خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کی پولیس نہ صرف زمینی سطح پر عسکریت پسندوں سے نبرد آزما ہے بلکہ انہیں فضا سے ہونے والے دشمن کے حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم اپنی ایک آنکھ بندوق کی نالی جبکہ دوسری آنکھ آسمان پر رکھتے ہیں‘، بنوں کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے تبصرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ماہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے آنے والے شرپسندوں نے پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملے کی کوشش میں متعدد مسلح کواڈ کاپٹر پروازیں لانچ کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید بتاتے ہیں، ’ایک ہی ہفتے میں 50 ایسی کوششیں کی گئیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے 200 سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں عسکریت پسندوں نے عام سطح پر دستیاب کم قیمت کے ڈرونز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حکمت-عملی-میں-تبدیلی" href="#حکمت-عملی-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکمت عملی میں تبدیلی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دہشتگرد عموماً کواڈ کاپٹر حملوں کے دوران دیسی ساختہ گولہ بارود استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پسندیدہ ہتھیار روسی ساخت کے انڈر بیرل گرینیڈ لانچرز جیسے GP-25 میں استعمال ہونے والے گرینیڈ اور چھوٹے کیلیبر کے مارٹر راؤنڈ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشتگردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے اس استعمال جن میں ہدف پر دیسی ساختہ گولہ بارود گرانے کے لیے ترمیم کیا گیا تھا، اس حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس نے اپنی تنصیبات کے اوپر جال بچھانا شروع کیے، ایک چھت نما شیلٹر نصب کیا تاکہ گولہ بارود کو ٹکرانے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنوں کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (اے آئی جی) سجاد خان نے کہا، ’ہمیں کسی بھی قریب آتی ہوئی شے کو مار گرانے کے لیے چھتوں پر اسنائپر تعینات کرنا پڑے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک موقع پر ایک ڈرون نے اُس گاڑی کا پیچھا کیا جو شہر کے نواح میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 11 پولیس اہلکار جن میں سے ایک زخمی بھی شامل تھا، کو منتقل کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 60.0000%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;"&gt;
  &lt;iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5xhghAkQ/urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen"&gt;
  &lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;a href="https:&amp;#x2F;&amp;#x2F;www.canva.com&amp;#x2F;design&amp;#x2F;DAG5xhghAkQ&amp;#x2F;urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg&amp;#x2F;view?utm_content=DAG5xhghAkQ&amp;amp;utm_campaign=designshare&amp;amp;utm_medium=embeds&amp;amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener"&gt;&lt;/a&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;اس وقت گاڑی چلانے والے بنوں پولیس کے نائب کمانڈنٹ عباد وزیر یاد کرکے بتاتے ہیں کہ ’ڈرون منڈلا رہا تھا اور پیچھا کر رہا تھا‘۔ عسکریت پسندوں نے اس تعاقب کی ویڈیو بھی بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون کا استعمال جو پاکستانی فورسز کے خلاف پہلی بار ہوا، نے دہائیوں پر محیط جنگ میں ایک نئے مرحلے اور شاید سب سے مہلک تبدیلی کو ظاہر کیا جس میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جان سے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہونے ہر مجبور ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیٹ سینسنگ کیمرے یا تھرمل امیجنگ سے لیس یہ کواڈ کاپٹرز ہدف کی نگرانی کرنے اور بم گرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دہشتگرد بھی جدید جنگی حالات سے خود کو موافق کررہے ہیں جبکہ اب وہ باقاعدہ اپنے ڈرونز کی آپریٹنگ فریکوئنسی تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے استعمال ہونے والے جیمرز سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خفیہ ایجنسی اور پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ایسی حکمتِ عملی اور معلومات کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے اور یہ مہارت صرف ایسے تجربہ کار دہشت گردوں سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جو اس بارے میں مکمل مہارت رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پیچیدہ خودکش حملوں میں استعمال کی جانے والی حکمتِ عملی بھی اسی بات کی واضح علامتیں ظاہر کرتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے خطے میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا ہے اور کہا کہ اس نوعیت کی مہارت کی تربیت کے ممکنہ ذرائع وہی ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="برتری-کھونا" href="#برتری-کھونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;برتری کھونا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تقریباً دو دہائیوں یعنی اگست 2021ء تک، اسلام آباد اور اس کی فورسز کو ہتھیاروں اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے برتری حاصل تھی۔ اگرچہ پولیس کے لیے یہ اب بھی تقریباً برابر کی جنگ تھی جہاں وہ اے کے–47 رائفلز سے لیس ہو کر قریبی فاصلے کے مقابلے لڑتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب اُس وقت بدل گیا جب امریکا نے افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد، نہ ختم ہونے والی جنگ سے تھک کر انخلا کا فیصلہ کیا اور امریکی افواج نے اپنے پیچھے &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1905209"&gt;&lt;strong&gt;7.1 ارب ڈالر مالیت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا فوجی ساز و سامان اور دفاعی آلات چھوڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2022ء کی ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sigar.mil/Portals/147/Files/Reports/Audits-and-Inspections/Evaluation/SIGAR-23-04-IP.pdf"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے چھوڑے گئے ہتھیاروں میں M-4، 16، M-24 اور M-249 جیسی 3 لاکھ بندوقیں شامل تھیں۔ 48 ہزار خصوصی آلات بھی تھے جیسے نائٹ وژن چشمے، تھرمل امیجنگ اسکوپس اور ریڈیو نگرانی کے آلات بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’امریکا نے جان بوجھ کر افغانستان کو انتشار کی حالت میں چھوڑا‘، یہ کہنا تھا ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کا جو اُس وقت کابل میں تین فریقی کمیشن کے رکن کے طور پر تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے کچھ حلقوں میں خوشیوں کا ماحول زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور یہ جلد ہی برے خواب میں بدل گیا۔ نہ صرف عسکریت پسندوں کے حملے کئی گنا بڑھ گئے بلکہ ان حملوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے میدان کا منظرنامہ ڈرامائی طور پر بدل گیا۔ نائٹ وژن اور تھرمل صلاحیتوں والے امریکی ہتھیاروں سے لیس اسنائپرز نے ایک ہزار 500 میٹر دور سے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور شہید کیا جبکہ اسٹیل کور سے 5.56 ملی میٹر کی گولیاں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ سے بھی گزر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اہلکار نے کہا، ’وہ ہمارے لوگوں کو بہت آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'  alt='  جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات &amp;mdash; تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات — تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ فوجی فراہم کردہ G-3 رائفلز جو 7.62 ملی میٹر نیٹو کیلیبر میں ہیں، امریکی M-4 اور M-16 کے مقابلے میں مؤثریت میں کمزور ثابت ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اہلکار نے مزید کہا، ’انہیں ہم پر برتری حاصل تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اموات کی تعداد بڑھنے لگی اور عسکریت پسند تھرمل امیجنگ اسکوپس سے لاعلم اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے لگے تو پالیسی سازوں نے غور کرنا شروع کیا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر پولیس افسران کے مطابق اس کے بعد غور و فکر کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس میں انٹرویوز اور بریفنگز ہوئیں جن میں اُن کے درجنوں باوردی ساتھی شامل تھے جنہوں نے دہشت گروں کے رات کے حملوں کا سامنا کیا تاکہ عسکریت پسندوں کی حکمتِ عملی اور حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو سمجھا جا سکے اور ’اپنی حکمتِ عملی کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا سکے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ دیر نہ گزری کہ یہ احساس پیدا ہو گیا کہ نہ صرف عسکریت پسندوں نے اپنی حکمتِ عملی اور طریقۂ کار بہتر کیے تھے بلکہ ان کے پاس ہتھیار بھی کہیں زیادہ بہتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم نے نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں کافی دیر کردی‘، آئی جی نے اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اہلکار کے پاس نہ صرف بہتر ہتھیاروں کی کمی تھی بلکہ اُن ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی کافی نہ تھا۔ ہتھیار حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کے لیے ایک ٹیم تیار کرنے میں وقت کی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوویت دور کی مخصوص نشانہ باز دراگونوف رائفلز جن پر بہت سے فوجی اعتماد کیا کرتے ہیں اور آج بھی انہیں استعمال کیا جاتا ہے، زیادہ درستی کے ساتھ طویل فاصلے تک دیکھنے والے تھرمل اسکوپس سے آراستہ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="توازن-میں-تبدیلی" href="#توازن-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;توازن میں تبدیلی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد فوج کی مدد سے بین الاقوامی مارکیٹ سے مختلف ہتھیاروں اور آلات کی خریداری کی کوششیں فوراً شروع کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اربوں روپے خرچ کیے گئے اور آئندہ مالی سال کے اختتام تک مزید کئی ارب روپے ہتھیاروں اور آلات کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے تاکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے اس دیوہیکل چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک خریدے گئے سسٹمز کی فہرست میں امریکی M-16 رائفلز، M-24 اسنائپر رائفلز، M-249 مشین گنز، لائٹ اسنائپر رائفلز، تھرمل ویپن سائٹس، اینٹی ڈرون گنز، درمیانی اور طویل فاصلے تک نگرانی اور حملے کے ڈرونز اور ہائی فریکوئنسی جیمرز شامل ہیں جو بکتربند گاڑیوں کو سڑک کنارے دھماکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'  alt='  خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی&amp;mdash; تصویر: ڈان نیوز ٹی وی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی— تصویر: ڈان نیوز ٹی وی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکاروں کو نشانہ بازی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے اور ڈویژن کی سطح پر اسپیشل آپریشن ٹیمز تشکیل دی جا رہی ہیں۔ بعدازاں انہیں ضلعی سطح تک توسیع دی جائے گی اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور اپنی پوزیشن کا دفاع کرنے کے لیے انہیں جدید ترین ہتھیاروں اور آلات سے لیس کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ بہتر ہتھیاروں کی دستیابی کا اثر جنگی میدان میں نظر آنے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی نے کہا، ’ہم طاقت کا توازن پلٹ رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ اینٹی ڈرون گنز کی بدولت اب اُن کے تھانوں پر کواڈ کاپٹر حملے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مہینے میں 5 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا، ایک ڈرون کو پولیس کے اسنائپر نے مار گرایا جبکہ دو دیگر کو اینٹی ڈرون گنز کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 141.4286%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;"&gt;
  &lt;iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5tn2ykyk/yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen"&gt;
  &lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;a href="https:&amp;#x2F;&amp;#x2F;www.canva.com&amp;#x2F;design&amp;#x2F;DAG5tn2ykyk&amp;#x2F;yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ&amp;#x2F;view?utm_content=DAG5tn2ykyk&amp;amp;utm_campaign=designshare&amp;amp;utm_medium=embeds&amp;amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener"&gt;Blue and White Non Profit Organization Report&lt;/a&gt; by Dawn
&lt;/raw-html&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ان علاقوں میں جہاں عسکریت پسندوں کو معلوم ہے کہ ریاستی فورسز کے پاس نائٹ وژن اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں ہیں، وہاں ڈرون اور رات کے اندھیرے میں حملوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جیسا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، یہ ایک طویل جدوجہد تھی، ایک ایسی لڑائی جس میں حوصلہ، وسائل اور حکمتِ عملی سب کی آزمائش تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہو سکتا ہے ہم انہیں مار رہے ہوں لیکن کیا ہم اصل مسئلے کو حل کر رہے ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: پاکستانی فوج کے جوان 2 ستمبر 2025ء کو بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری  (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد علاقے کو محفوظ بنا رہے ہیں — تصویر: رائٹرز&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957290/one-eye-on-the-barrel-the-other-on-the-sky-how-police-in-bannu-are-dealing-with-evolving-militant-tactics"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>جون یا یہ کہہ لیجیے کہ گزشتہ 5 ماہ سے خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کی پولیس نہ صرف زمینی سطح پر عسکریت پسندوں سے نبرد آزما ہے بلکہ انہیں فضا سے ہونے والے دشمن کے حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>’ہم اپنی ایک آنکھ بندوق کی نالی جبکہ دوسری آنکھ آسمان پر رکھتے ہیں‘، بنوں کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے تبصرہ کیا۔</p>
<p>کئی ماہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے آنے والے شرپسندوں نے پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملے کی کوشش میں متعدد مسلح کواڈ کاپٹر پروازیں لانچ کی ہیں۔</p>
<p>خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید بتاتے ہیں، ’ایک ہی ہفتے میں 50 ایسی کوششیں کی گئیں‘۔</p>
<p>بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے 200 سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں عسکریت پسندوں نے عام سطح پر دستیاب کم قیمت کے ڈرونز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔</p>
<h1><a id="حکمت-عملی-میں-تبدیلی" href="#حکمت-عملی-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکمت عملی میں تبدیلی</h1>
<p>دہشتگرد عموماً کواڈ کاپٹر حملوں کے دوران دیسی ساختہ گولہ بارود استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پسندیدہ ہتھیار روسی ساخت کے انڈر بیرل گرینیڈ لانچرز جیسے GP-25 میں استعمال ہونے والے گرینیڈ اور چھوٹے کیلیبر کے مارٹر راؤنڈ ہوتے ہیں۔</p>
<p>دہشتگردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے اس استعمال جن میں ہدف پر دیسی ساختہ گولہ بارود گرانے کے لیے ترمیم کیا گیا تھا، اس حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس نے اپنی تنصیبات کے اوپر جال بچھانا شروع کیے، ایک چھت نما شیلٹر نصب کیا تاکہ گولہ بارود کو ٹکرانے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔</p>
<p>بنوں کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (اے آئی جی) سجاد خان نے کہا، ’ہمیں کسی بھی قریب آتی ہوئی شے کو مار گرانے کے لیے چھتوں پر اسنائپر تعینات کرنا پڑے‘۔</p>
<p>ایک موقع پر ایک ڈرون نے اُس گاڑی کا پیچھا کیا جو شہر کے نواح میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 11 پولیس اہلکار جن میں سے ایک زخمی بھی شامل تھا، کو منتقل کر رہی تھی۔</p>
<raw-html>
<div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 60.0000%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;">
  <iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5xhghAkQ/urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen">
  </iframe>
</div>
<a href="https:&#x2F;&#x2F;www.canva.com&#x2F;design&#x2F;DAG5xhghAkQ&#x2F;urHz_XYcdAbNvS1sts7YIg&#x2F;view?utm_content=DAG5xhghAkQ&amp;utm_campaign=designshare&amp;utm_medium=embeds&amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener"></a>
</raw-html>
<p>اس وقت گاڑی چلانے والے بنوں پولیس کے نائب کمانڈنٹ عباد وزیر یاد کرکے بتاتے ہیں کہ ’ڈرون منڈلا رہا تھا اور پیچھا کر رہا تھا‘۔ عسکریت پسندوں نے اس تعاقب کی ویڈیو بھی بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔</p>
<p>عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون کا استعمال جو پاکستانی فورسز کے خلاف پہلی بار ہوا، نے دہائیوں پر محیط جنگ میں ایک نئے مرحلے اور شاید سب سے مہلک تبدیلی کو ظاہر کیا جس میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جان سے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہونے ہر مجبور ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ہیٹ سینسنگ کیمرے یا تھرمل امیجنگ سے لیس یہ کواڈ کاپٹرز ہدف کی نگرانی کرنے اور بم گرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دہشتگرد بھی جدید جنگی حالات سے خود کو موافق کررہے ہیں جبکہ اب وہ باقاعدہ اپنے ڈرونز کی آپریٹنگ فریکوئنسی تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے استعمال ہونے والے جیمرز سے بچ سکیں۔</p>
<p>خفیہ ایجنسی اور پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ایسی حکمتِ عملی اور معلومات کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے اور یہ مہارت صرف ایسے تجربہ کار دہشت گردوں سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جو اس بارے میں مکمل مہارت رکھتے ہوں۔</p>
<p>’پیچیدہ خودکش حملوں میں استعمال کی جانے والی حکمتِ عملی بھی اسی بات کی واضح علامتیں ظاہر کرتی ہے‘۔</p>
<p>حکام نے خطے میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا ہے اور کہا کہ اس نوعیت کی مہارت کی تربیت کے ممکنہ ذرائع وہی ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="برتری-کھونا" href="#برتری-کھونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>برتری کھونا</h1>
<p>تقریباً دو دہائیوں یعنی اگست 2021ء تک، اسلام آباد اور اس کی فورسز کو ہتھیاروں اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے برتری حاصل تھی۔ اگرچہ پولیس کے لیے یہ اب بھی تقریباً برابر کی جنگ تھی جہاں وہ اے کے–47 رائفلز سے لیس ہو کر قریبی فاصلے کے مقابلے لڑتے تھے۔</p>
<p>سب اُس وقت بدل گیا جب امریکا نے افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد، نہ ختم ہونے والی جنگ سے تھک کر انخلا کا فیصلہ کیا اور امریکی افواج نے اپنے پیچھے <a href="https://www.dawn.com/news/1905209"><strong>7.1 ارب ڈالر مالیت</strong></a> کا فوجی ساز و سامان اور دفاعی آلات چھوڑے۔</p>
<p>نومبر 2022ء کی ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sigar.mil/Portals/147/Files/Reports/Audits-and-Inspections/Evaluation/SIGAR-23-04-IP.pdf"><strong>رپورٹ</strong></a> میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے چھوڑے گئے ہتھیاروں میں M-4، 16، M-24 اور M-249 جیسی 3 لاکھ بندوقیں شامل تھیں۔ 48 ہزار خصوصی آلات بھی تھے جیسے نائٹ وژن چشمے، تھرمل امیجنگ اسکوپس اور ریڈیو نگرانی کے آلات بھی شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/26115104d1797f8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>’امریکا نے جان بوجھ کر افغانستان کو انتشار کی حالت میں چھوڑا‘، یہ کہنا تھا ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کا جو اُس وقت کابل میں تین فریقی کمیشن کے رکن کے طور پر تعینات تھے۔</p>
<p>پاکستان کے کچھ حلقوں میں خوشیوں کا ماحول زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور یہ جلد ہی برے خواب میں بدل گیا۔ نہ صرف عسکریت پسندوں کے حملے کئی گنا بڑھ گئے بلکہ ان حملوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔</p>
<p>جنگ کے میدان کا منظرنامہ ڈرامائی طور پر بدل گیا۔ نائٹ وژن اور تھرمل صلاحیتوں والے امریکی ہتھیاروں سے لیس اسنائپرز نے ایک ہزار 500 میٹر دور سے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور شہید کیا جبکہ اسٹیل کور سے 5.56 ملی میٹر کی گولیاں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ سے بھی گزر سکتی ہیں۔</p>
<p>پولیس اہلکار نے کہا، ’وہ ہمارے لوگوں کو بہت آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2517194820bc663.webp'  alt='  جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات &mdash; تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جنوری 2016ء سے پشاور میں قبضے میں لی گئی M4A1 رائفلز اور دیگر امریکی آلات — تصویر:علی اکبر/فائل فوٹو</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں تک کہ فوجی فراہم کردہ G-3 رائفلز جو 7.62 ملی میٹر نیٹو کیلیبر میں ہیں، امریکی M-4 اور M-16 کے مقابلے میں مؤثریت میں کمزور ثابت ہوئیں۔</p>
<p>پولیس اہلکار نے مزید کہا، ’انہیں ہم پر برتری حاصل تھی‘۔</p>
<p>جب اموات کی تعداد بڑھنے لگی اور عسکریت پسند تھرمل امیجنگ اسکوپس سے لاعلم اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے لگے تو پالیسی سازوں نے غور کرنا شروع کیا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔</p>
<p>سینئر پولیس افسران کے مطابق اس کے بعد غور و فکر کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس میں انٹرویوز اور بریفنگز ہوئیں جن میں اُن کے درجنوں باوردی ساتھی شامل تھے جنہوں نے دہشت گروں کے رات کے حملوں کا سامنا کیا تاکہ عسکریت پسندوں کی حکمتِ عملی اور حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو سمجھا جا سکے اور ’اپنی حکمتِ عملی کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا سکے‘۔</p>
<p>زیادہ دیر نہ گزری کہ یہ احساس پیدا ہو گیا کہ نہ صرف عسکریت پسندوں نے اپنی حکمتِ عملی اور طریقۂ کار بہتر کیے تھے بلکہ ان کے پاس ہتھیار بھی کہیں زیادہ بہتر ہیں۔</p>
<p>’ہم نے نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں کافی دیر کردی‘، آئی جی نے اعتراف کیا۔</p>
<p>ان کے اہلکار کے پاس نہ صرف بہتر ہتھیاروں کی کمی تھی بلکہ اُن ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی کافی نہ تھا۔ ہتھیار حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کے لیے ایک ٹیم تیار کرنے میں وقت کی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش کررہے تھے۔</p>
<p>سوویت دور کی مخصوص نشانہ باز دراگونوف رائفلز جن پر بہت سے فوجی اعتماد کیا کرتے ہیں اور آج بھی انہیں استعمال کیا جاتا ہے، زیادہ درستی کے ساتھ طویل فاصلے تک دیکھنے والے تھرمل اسکوپس سے آراستہ کی گئیں۔</p>
<h1><a id="توازن-میں-تبدیلی" href="#توازن-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>توازن میں تبدیلی</h1>
<p>اس کے بعد فوج کی مدد سے بین الاقوامی مارکیٹ سے مختلف ہتھیاروں اور آلات کی خریداری کی کوششیں فوراً شروع کر دی گئیں۔</p>
<p>اربوں روپے خرچ کیے گئے اور آئندہ مالی سال کے اختتام تک مزید کئی ارب روپے ہتھیاروں اور آلات کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے تاکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے اس دیوہیکل چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p>اب تک خریدے گئے سسٹمز کی فہرست میں امریکی M-16 رائفلز، M-24 اسنائپر رائفلز، M-249 مشین گنز، لائٹ اسنائپر رائفلز، تھرمل ویپن سائٹس، اینٹی ڈرون گنز، درمیانی اور طویل فاصلے تک نگرانی اور حملے کے ڈرونز اور ہائی فریکوئنسی جیمرز شامل ہیں جو بکتربند گاڑیوں کو سڑک کنارے دھماکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/07/07114735cb29769.jpg'  alt='  خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی&mdash; تصویر: ڈان نیوز ٹی وی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی عاشورہ کی جلوس کے دوران اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی استعمال کی— تصویر: ڈان نیوز ٹی وی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اہلکاروں کو نشانہ بازی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے اور ڈویژن کی سطح پر اسپیشل آپریشن ٹیمز تشکیل دی جا رہی ہیں۔ بعدازاں انہیں ضلعی سطح تک توسیع دی جائے گی اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور اپنی پوزیشن کا دفاع کرنے کے لیے انہیں جدید ترین ہتھیاروں اور آلات سے لیس کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ بہتر ہتھیاروں کی دستیابی کا اثر جنگی میدان میں نظر آنے لگا ہے۔</p>
<p>آئی جی نے کہا، ’ہم طاقت کا توازن پلٹ رہے ہیں‘۔</p>
<p>بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ اینٹی ڈرون گنز کی بدولت اب اُن کے تھانوں پر کواڈ کاپٹر حملے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مہینے میں 5 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا، ایک ڈرون کو پولیس کے اسنائپر نے مار گرایا جبکہ دو دیگر کو اینٹی ڈرون گنز کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔</p>
<raw-html>
<div style="position: relative; width: 100%; height: 0; padding-top: 141.4286%;
 padding-bottom: 0; box-shadow: 0 2px 8px 0 rgba(63,69,81,0.16); margin-top: 1.6em; margin-bottom: 0.9em; overflow: hidden;
 border-radius: 8px; will-change: transform;">
  <iframe loading="lazy" style="position: absolute; width: 100%; height: 100%; top: 0; left: 0; border: none; padding: 0;margin: 0;"
    src="https://www.canva.com/design/DAG5tn2ykyk/yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ/view?embed" allowfullscreen="allowfullscreen" allow="fullscreen">
  </iframe>
</div>
<a href="https:&#x2F;&#x2F;www.canva.com&#x2F;design&#x2F;DAG5tn2ykyk&#x2F;yyTZG2AkmkQOurH_ZsIsmQ&#x2F;view?utm_content=DAG5tn2ykyk&amp;utm_campaign=designshare&amp;utm_medium=embeds&amp;utm_source=link" target="_blank" rel="noopener">Blue and White Non Profit Organization Report</a> by Dawn
</raw-html>
<hr />
<p>ان علاقوں میں جہاں عسکریت پسندوں کو معلوم ہے کہ ریاستی فورسز کے پاس نائٹ وژن اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں ہیں، وہاں ڈرون اور رات کے اندھیرے میں حملوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔</p>
<p>لیکن جیسا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، یہ ایک طویل جدوجہد تھی، ایک ایسی لڑائی جس میں حوصلہ، وسائل اور حکمتِ عملی سب کی آزمائش تھی۔</p>
<p>’ہو سکتا ہے ہم انہیں مار رہے ہوں لیکن کیا ہم اصل مسئلے کو حل کر رہے ہیں؟‘</p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: پاکستانی فوج کے جوان 2 ستمبر 2025ء کو بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری  (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد علاقے کو محفوظ بنا رہے ہیں — تصویر: رائٹرز</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957290/one-eye-on-the-barrel-the-other-on-the-sky-how-police-in-bannu-are-dealing-with-evolving-militant-tactics"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274280</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 13:37:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسماعیل خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/261058438629288.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/261058438629288.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں نئی فٹبال لیگ کی تیاری، کیا ہم بھارت کی غلطیاں دہرانے جارہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274063/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) حال ہی میں منتخب ہونے والے اپنے سربراہ محسن گیلانی کے ماتحت ایک نئی ڈومیسٹک لیگ شروع کرنے کے لیے شرکت کے خواہشمند پارٹنرز تلاش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے جاری پبلک نوٹس میں پی ایف ایف نے ممکنہ شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ لیگ میں اپنی دلچسپی اور تفصیلی تجویز اگلے ماہ کے آغاز تک فیڈریشن کو جمع کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ نیا مقابلہ پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے پرانے ماڈل پر مبنی ہوگا جوکہ محکمہ جات اور چند کلبز کا مرکب تھا جبکہ 2019ء کے بعد سے یہ ایونٹ منعقد ہی نہیں ہوا یا پھر یہ فرنچائز پر مبنی ٹورنامنٹ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں متعدد فرنچائز لیگ کے تاجر فوراً اس لیگ کا حصہ بننے کے لیے قدم بڑھانے کو تیار ہیں کیونکہ ان کے منصوبے برسوں سے زیرِ عمل ہیں۔ صرف ایک چیز کی کمی تھی اور وہ پی ایف ایف کی منظوری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جات جن میں سے کئی نے اپنی کھیلوں کی سرگرمیاں بدلتی ہوئی ملکی پالیسیز اور پی ایف ایف میں ایک دہائی کے مسائل کی وجہ سے روک دی ہیں اور کلبز کے لیے، تجویز تیار کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔ تجویز میں ان ٹیمز پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہوگی جنہیں دوسرے درجے کی پاکستان فٹبال فیڈریشن لیگ کے آخری ایڈیشن سے ترقی دی گئی تھی جو 2020ء میں پی ایف ایف کے لیے فیفا کی مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے تحت منعقد ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایف ایف کی لیگ شروع کرنے کی عجلت کو گزشتہ ہفتے ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کے دورہ پاکستان نے مزید بڑھا دیا ہے۔ شیخ سلمان جو فیفا کے سینئر نائب صدر بھی ہیں، نے لیگ کے انعقاد کے لیے اے ایف سی کی حمایت کو ایک بار پھر واضح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے سربراہ نے اپنے دورے کے دوران ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، ’ہم لیگ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ ضروری نہیں کہ ابتدا میں یہ پیشہ ورانہ لیگ ہو لیکن مستقبل میں یہ ایک پیشہ ورانہ لیگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اور اس کا انحصار مارکیٹ کی قدر اور اس کے برقرار رہنے پر ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’حل یہ ہے کہ صحیح افراد کو لایا جائے جو رہنمائی فراہم کریں اور مشورہ دیں کہ آپ کے ملک میں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہر ملک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے شاید وہ فارمولا جو جاپان کے لیے فائدہ مند ہے، پاکستان کے لیے کارگر نہ ہو۔ اگر ہم قدم بہ قدم آگے بڑھیں تو ہمیں فرق نظر آئے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/161511180452ded.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/161511180452ded.webp'  alt='2016ء میں پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے ایک میچ کے دوران ایک عمومی منظر&amp;mdash;تصویر: فائل فوٹو/ڈان' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;2016ء میں پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے ایک میچ کے دوران ایک عمومی منظر—تصویر: فائل فوٹو/ڈان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں شور شرابہ اس بات پر ہے کہ فٹبال لیگ بھی کرکٹ کی بے حد مقبول پاکستان سپر لیگ کی طرز پر فرنچائز ماڈل پر مبنی ٹورنامنٹ ہوگا۔ سرحد پار بھارت میں انڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل) کے نام پر طویل مدتی جنون برقرار رہا جو بظاہر ایک دہائی بعد اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ تاہم پاکستان میں اب بھی لوگ اسی ماڈل کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم شیخ سلمان نے کچھ مشورے بھی دیے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت سے سبق کیسے لیا جائے تو انہوں نے کہا، ’یہ ایک مکمل لیگ ہونی چاہیے جو پورے فٹبال سیزن چلے، ایسی نہیں جو صرف تین ماہ چلے۔ فٹبال کے پہلو اور تجارتی پہلو کے درمیان اچھا توازن ہونا ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں تعاون سے آگے بڑھیں اور ایک دوسرے پر حاوی نہ ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انڈین-سپر-لیگ-کے-مسائل" href="#انڈین-سپر-لیگ-کے-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انڈین سپر لیگ کے مسائل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;2014ء میں بھارت میں آئی ایس ایل کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، وہ بھی اس امید کے ساتھ کہ یہ بھارت میں فٹبال کو بلند مقام تک لے جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور اس کے بجائے یہ زوال کے دہانے پر پہنچ گئی کیونکہ آل انڈیا فٹبال فیڈریشن کو اپنے نئے تجارتی شراکت دار کے لیے ٹینڈر پر پچھلے ہفتے کی مقررہ تاریخ تک کوئی بولی موصول ہی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایل کے ناقدین کا کہنا تھا کہ اس لیگ کی تشکیل نے گراؤنڈ لیول کے کھلاڑیوں کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بند کر دیے ہیں جبکہ فرنچائز مالکان زیادہ تر شعلہ بیانی اور دکھاوے میں دلچسپی رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی قومی ٹیم کے سابق کوچ اسٹیفن کانسٹنٹائن جنہوں نے بعد میں پاکستان کو فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں پہلی فتح دلائی، نے کہا کہ وہ ’ایسی آئی ایس ایل میچ نہیں دیکھیں گے جس میں ٹیم میں 7 غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/211049354f5e25a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/211049354f5e25a.webp'  alt='بھارتی فٹبال لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی شرکت کی وجہ سے یہ لیگ کامیاب نہیں ہوپائی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بھارتی فٹبال لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی شرکت کی وجہ سے یہ لیگ کامیاب نہیں ہوپائی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیفن کانسٹنٹائن کی دلیل واضح تھی۔ بھارتی ٹیم کے کوچ کے طور پر وہ چاہتے تھے کہ زیادہ بھارتی کھلاڑی لیگ میں کھیلیں۔ دیگر بھارتی کوچز جیسے کہ شنامگم وینکٹیش جو اسٹیفن کانسٹنٹائن کے جانشین ایگور اسٹیمک کے اسسٹنٹ تھے، نے کہا کہ آئی ایس ایل مقامی کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر تفریح مقاصد کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس ایل کی مختصر مدت (جو کم ہوکر آخر میں 6 ماہ کے ایونٹ تک پہنچ گئی تھی) ہمیشہ زیرِ بحث رہی۔ بھارت کو اپنے موجودہ اندرونی نظام میں تبدیلی کرنا پڑی تاکہ اس کے لیے جگہ بنائی جا سکے اور اسے بلآخر اعلیٰ درجے کی لیگ کے طور پر تسلیم کیا جا سکے۔ اب اس کا وجود خود ہی خطرے میں پڑ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے کوچ کے طور پر اپنے دورِ ملازمت کے دوران، اسٹیفن کانسٹنٹائن نے مقامی کھلاڑیوں کو مناسب مقابلہ نہ ملنے پر اپنی مستقل بے چینی کا اظہار کیا۔ وہ اکثر کہتے تھے، ’کچھ بھی ہو، بس لیگ شروع کرو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال باقی ہے کہ فرنچائز لیگ میں مقامی کھلاڑیوں کی نمائندگی کتنی ہوگی۔ فرنچائز مالکان چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرمایہ کاری پر جلد منافع حاصل کریں اور زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے وہ سب سے زیادہ امکانات غیر ملکی کھلاڑیوں کی لیگ میں شرکت کو دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ ممکنہ فرنچائز مالکان کی خواہش کیا ہے اور کیا وہ فرنچائز لیگ کے ذریعے مقامی کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کر سکتے ہیں تاکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے کئی ہزار کلبز کے لیے راہیں ہموار ہوں اور وہ اعلٰی معیار تک پہنچ سکیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ کے برعکس جہاں پی ایس ایل ایک اچھے فعال ڈومیسٹک سسٹم میں خاص اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں فٹبال کو فی الوقت اہرام کی طرح تعمیر کرتے ہوئے سب سے نچلے درجے سے شروع کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ازبک-ماڈل" href="#ازبک-ماڈل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ازبک ماڈل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شیخ سلمان نے اپنے انٹرویو کے دوران صبر کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مستقل پیش رفت کی بھی بات کی اور ایسے ممالک کی ترقی کو اجاگر کیا جیسے ازبکستان اور اردن جنہوں نے اس سال اپنی تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ فائنلز کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/1930734901172555871'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/1930734901172555871"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’جب آپ ازبکستان جیسے ملک کو دیکھتے ہیں تو انہوں نے رواں سال انڈر 17 ایشین کپ اور 2023ء میں انڈر 20 ایشین کپ جیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پیش رفت مستقل سامنے آتی ہے جوکہ شاندار ہے۔ یہ ایشین فٹبال کے لیے اچھا ہے۔ تاجکستان نے گزشتہ ایشین کپ میں اچھا کھیل پیش کیا جو یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وسطی ایشیا میں فٹبال ترقی کر رہا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں ایسا کچھ نہیں ہوا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ازبکستان اور اردن دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ یہاں دکھاوے کے لیے کوئی لیگ نہیں بلکہ ایک مستحکم ڈومیسٹک لیگ ہے۔ ازبکستان نے 2009ء میں اپنے کلب بُنیادکور کے برے تجربے کو پیچھے چھوڑ دیا کہ جب وہ برازیل کے عظیم فٹبالر ریوالڈو کو لا کر خود کو ’سپر کلب‘ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ قومی ٹیم کی کامیابیوں کا سہرا، عمر کے اعتبار سے مختلف سطحوں پر کھیلی جانے والی لیگز میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو جاتا ہے جس میں ایک کلب انتہائی نمایاں ہے جس کا نام اولمپک تاشقند ہے۔ یہ کلب ازبک اولمپک ایسوسی ایشن کے زیرِملکیت ہے اور مکمل طور پر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور اعلیٰ درجے کی لیگ میں کھیلتا ہے۔ یہ ایک طرح سے کھلاڑیوں کی نرسری کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ ٹاپ انڈر 23 ٹیلنٹس کی مقابلے میں شرکت کو یقینی بناتا ہے جو بڑے کلبز کے لیے بینچ پر بیٹھنے پر مجبور ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="لیگز-سے-حاصل-اسباق" href="#لیگز-سے-حاصل-اسباق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;لیگز سے حاصل اسباق&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دہائی کے بحران کے بعد نیا پی ایف ایف ایک شفاف شروعات کے لیے تیار ہے لیکن اس کا کام صرف لیگ کو بحال کرنا نہیں بلکہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کے مقابلے کو بھی زندہ رکھنا ہے۔ نیشنل چیلنج کپ آخری بار 2024ء میں نارملائزیشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا تھا جس میں محکمہ جات اور کلبز نے شرکت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فرنچائز لیگ ہی ایجنڈے پر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہا ہے کیونکہ ڈان کی تحقیق میں پچھلے سال یہ سامنے آیا تھا کہ عالمی فٹبال ادارے فیفا کے اہلکار بھی اس منصوبے میں شامل تھے جبکہ اہلکار کی جانب سے مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین کی مدتِ ملازمت کے دوران ہی اسے شروع کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اہلکار بھی فرنچائز لیگ کے منصوبے سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جلد ہی شروع ہو جائے گی۔ بس یہ فیصلہ باقی ہے کہ پی ایف ایف کس شراکت دار کو منتخب کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ اسے واقعی کیا چاہیے اور اسے کیا نتائج ملیں گے۔ ہمیں دیگر کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955259/football-what-kind-of-league"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) حال ہی میں منتخب ہونے والے اپنے سربراہ محسن گیلانی کے ماتحت ایک نئی ڈومیسٹک لیگ شروع کرنے کے لیے شرکت کے خواہشمند پارٹنرز تلاش کر رہی ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے جاری پبلک نوٹس میں پی ایف ایف نے ممکنہ شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ لیگ میں اپنی دلچسپی اور تفصیلی تجویز اگلے ماہ کے آغاز تک فیڈریشن کو جمع کروائیں۔</p>
<p>سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ نیا مقابلہ پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے پرانے ماڈل پر مبنی ہوگا جوکہ محکمہ جات اور چند کلبز کا مرکب تھا جبکہ 2019ء کے بعد سے یہ ایونٹ منعقد ہی نہیں ہوا یا پھر یہ فرنچائز پر مبنی ٹورنامنٹ ہوگا۔</p>
<p>پاکستان میں متعدد فرنچائز لیگ کے تاجر فوراً اس لیگ کا حصہ بننے کے لیے قدم بڑھانے کو تیار ہیں کیونکہ ان کے منصوبے برسوں سے زیرِ عمل ہیں۔ صرف ایک چیز کی کمی تھی اور وہ پی ایف ایف کی منظوری تھی۔</p>
<p>محکمہ جات جن میں سے کئی نے اپنی کھیلوں کی سرگرمیاں بدلتی ہوئی ملکی پالیسیز اور پی ایف ایف میں ایک دہائی کے مسائل کی وجہ سے روک دی ہیں اور کلبز کے لیے، تجویز تیار کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔ تجویز میں ان ٹیمز پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہوگی جنہیں دوسرے درجے کی پاکستان فٹبال فیڈریشن لیگ کے آخری ایڈیشن سے ترقی دی گئی تھی جو 2020ء میں پی ایف ایف کے لیے فیفا کی مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے تحت منعقد ہوئی تھی۔</p>
<p>پی ایف ایف کی لیگ شروع کرنے کی عجلت کو گزشتہ ہفتے ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کے دورہ پاکستان نے مزید بڑھا دیا ہے۔ شیخ سلمان جو فیفا کے سینئر نائب صدر بھی ہیں، نے لیگ کے انعقاد کے لیے اے ایف سی کی حمایت کو ایک بار پھر واضح کیا۔</p>
<p>ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے سربراہ نے اپنے دورے کے دوران ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، ’ہم لیگ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ ضروری نہیں کہ ابتدا میں یہ پیشہ ورانہ لیگ ہو لیکن مستقبل میں یہ ایک پیشہ ورانہ لیگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اور اس کا انحصار مارکیٹ کی قدر اور اس کے برقرار رہنے پر ہوگا‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’حل یہ ہے کہ صحیح افراد کو لایا جائے جو رہنمائی فراہم کریں اور مشورہ دیں کہ آپ کے ملک میں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہر ملک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے شاید وہ فارمولا جو جاپان کے لیے فائدہ مند ہے، پاکستان کے لیے کارگر نہ ہو۔ اگر ہم قدم بہ قدم آگے بڑھیں تو ہمیں فرق نظر آئے گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/161511180452ded.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/161511180452ded.webp'  alt='2016ء میں پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے ایک میچ کے دوران ایک عمومی منظر&mdash;تصویر: فائل فوٹو/ڈان' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>2016ء میں پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے ایک میچ کے دوران ایک عمومی منظر—تصویر: فائل فوٹو/ڈان</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان میں شور شرابہ اس بات پر ہے کہ فٹبال لیگ بھی کرکٹ کی بے حد مقبول پاکستان سپر لیگ کی طرز پر فرنچائز ماڈل پر مبنی ٹورنامنٹ ہوگا۔ سرحد پار بھارت میں انڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل) کے نام پر طویل مدتی جنون برقرار رہا جو بظاہر ایک دہائی بعد اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ تاہم پاکستان میں اب بھی لوگ اسی ماڈل کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>تاہم شیخ سلمان نے کچھ مشورے بھی دیے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت سے سبق کیسے لیا جائے تو انہوں نے کہا، ’یہ ایک مکمل لیگ ہونی چاہیے جو پورے فٹبال سیزن چلے، ایسی نہیں جو صرف تین ماہ چلے۔ فٹبال کے پہلو اور تجارتی پہلو کے درمیان اچھا توازن ہونا ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں تعاون سے آگے بڑھیں اور ایک دوسرے پر حاوی نہ ہو‘۔</p>
<h1><a id="انڈین-سپر-لیگ-کے-مسائل" href="#انڈین-سپر-لیگ-کے-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انڈین سپر لیگ کے مسائل</h1>
<p>2014ء میں بھارت میں آئی ایس ایل کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، وہ بھی اس امید کے ساتھ کہ یہ بھارت میں فٹبال کو بلند مقام تک لے جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور اس کے بجائے یہ زوال کے دہانے پر پہنچ گئی کیونکہ آل انڈیا فٹبال فیڈریشن کو اپنے نئے تجارتی شراکت دار کے لیے ٹینڈر پر پچھلے ہفتے کی مقررہ تاریخ تک کوئی بولی موصول ہی نہیں ہوئی۔</p>
<p>آئی ایس ایل کے ناقدین کا کہنا تھا کہ اس لیگ کی تشکیل نے گراؤنڈ لیول کے کھلاڑیوں کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بند کر دیے ہیں جبکہ فرنچائز مالکان زیادہ تر شعلہ بیانی اور دکھاوے میں دلچسپی رکھتے تھے۔</p>
<p>بھارتی قومی ٹیم کے سابق کوچ اسٹیفن کانسٹنٹائن جنہوں نے بعد میں پاکستان کو فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں پہلی فتح دلائی، نے کہا کہ وہ ’ایسی آئی ایس ایل میچ نہیں دیکھیں گے جس میں ٹیم میں 7 غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/211049354f5e25a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/211049354f5e25a.webp'  alt='بھارتی فٹبال لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی شرکت کی وجہ سے یہ لیگ کامیاب نہیں ہوپائی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بھارتی فٹبال لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی شرکت کی وجہ سے یہ لیگ کامیاب نہیں ہوپائی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسٹیفن کانسٹنٹائن کی دلیل واضح تھی۔ بھارتی ٹیم کے کوچ کے طور پر وہ چاہتے تھے کہ زیادہ بھارتی کھلاڑی لیگ میں کھیلیں۔ دیگر بھارتی کوچز جیسے کہ شنامگم وینکٹیش جو اسٹیفن کانسٹنٹائن کے جانشین ایگور اسٹیمک کے اسسٹنٹ تھے، نے کہا کہ آئی ایس ایل مقامی کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر تفریح مقاصد کے لیے ہے۔</p>
<p>آئی ایس ایل کی مختصر مدت (جو کم ہوکر آخر میں 6 ماہ کے ایونٹ تک پہنچ گئی تھی) ہمیشہ زیرِ بحث رہی۔ بھارت کو اپنے موجودہ اندرونی نظام میں تبدیلی کرنا پڑی تاکہ اس کے لیے جگہ بنائی جا سکے اور اسے بلآخر اعلیٰ درجے کی لیگ کے طور پر تسلیم کیا جا سکے۔ اب اس کا وجود خود ہی خطرے میں پڑ چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے کوچ کے طور پر اپنے دورِ ملازمت کے دوران، اسٹیفن کانسٹنٹائن نے مقامی کھلاڑیوں کو مناسب مقابلہ نہ ملنے پر اپنی مستقل بے چینی کا اظہار کیا۔ وہ اکثر کہتے تھے، ’کچھ بھی ہو، بس لیگ شروع کرو‘۔</p>
<p>یہ سوال باقی ہے کہ فرنچائز لیگ میں مقامی کھلاڑیوں کی نمائندگی کتنی ہوگی۔ فرنچائز مالکان چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرمایہ کاری پر جلد منافع حاصل کریں اور زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے وہ سب سے زیادہ امکانات غیر ملکی کھلاڑیوں کی لیگ میں شرکت کو دیکھتے ہیں۔</p>
<p>یہ سب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ ممکنہ فرنچائز مالکان کی خواہش کیا ہے اور کیا وہ فرنچائز لیگ کے ذریعے مقامی کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کر سکتے ہیں تاکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے کئی ہزار کلبز کے لیے راہیں ہموار ہوں اور وہ اعلٰی معیار تک پہنچ سکیں؟</p>
<p>کرکٹ کے برعکس جہاں پی ایس ایل ایک اچھے فعال ڈومیسٹک سسٹم میں خاص اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں فٹبال کو فی الوقت اہرام کی طرح تعمیر کرتے ہوئے سب سے نچلے درجے سے شروع کرنا ہوگا۔</p>
<h1><a id="ازبک-ماڈل" href="#ازبک-ماڈل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ازبک ماڈل</h1>
<p>شیخ سلمان نے اپنے انٹرویو کے دوران صبر کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مستقل پیش رفت کی بھی بات کی اور ایسے ممالک کی ترقی کو اجاگر کیا جیسے ازبکستان اور اردن جنہوں نے اس سال اپنی تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ فائنلز کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/1930734901172555871'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/1930734901172555871"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا، ’جب آپ ازبکستان جیسے ملک کو دیکھتے ہیں تو انہوں نے رواں سال انڈر 17 ایشین کپ اور 2023ء میں انڈر 20 ایشین کپ جیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پیش رفت مستقل سامنے آتی ہے جوکہ شاندار ہے۔ یہ ایشین فٹبال کے لیے اچھا ہے۔ تاجکستان نے گزشتہ ایشین کپ میں اچھا کھیل پیش کیا جو یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وسطی ایشیا میں فٹبال ترقی کر رہا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں ایسا کچھ نہیں ہوا‘۔</p>
<p>ازبکستان اور اردن دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ یہاں دکھاوے کے لیے کوئی لیگ نہیں بلکہ ایک مستحکم ڈومیسٹک لیگ ہے۔ ازبکستان نے 2009ء میں اپنے کلب بُنیادکور کے برے تجربے کو پیچھے چھوڑ دیا کہ جب وہ برازیل کے عظیم فٹبالر ریوالڈو کو لا کر خود کو ’سپر کلب‘ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ قومی ٹیم کی کامیابیوں کا سہرا، عمر کے اعتبار سے مختلف سطحوں پر کھیلی جانے والی لیگز میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو جاتا ہے جس میں ایک کلب انتہائی نمایاں ہے جس کا نام اولمپک تاشقند ہے۔ یہ کلب ازبک اولمپک ایسوسی ایشن کے زیرِملکیت ہے اور مکمل طور پر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور اعلیٰ درجے کی لیگ میں کھیلتا ہے۔ یہ ایک طرح سے کھلاڑیوں کی نرسری کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ ٹاپ انڈر 23 ٹیلنٹس کی مقابلے میں شرکت کو یقینی بناتا ہے جو بڑے کلبز کے لیے بینچ پر بیٹھنے پر مجبور ہوتے۔</p>
<h1><a id="لیگز-سے-حاصل-اسباق" href="#لیگز-سے-حاصل-اسباق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>لیگز سے حاصل اسباق</h1>
<p>دہائی کے بحران کے بعد نیا پی ایف ایف ایک شفاف شروعات کے لیے تیار ہے لیکن اس کا کام صرف لیگ کو بحال کرنا نہیں بلکہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کے مقابلے کو بھی زندہ رکھنا ہے۔ نیشنل چیلنج کپ آخری بار 2024ء میں نارملائزیشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا تھا جس میں محکمہ جات اور کلبز نے شرکت کی تھی۔</p>
<p>تاہم فرنچائز لیگ ہی ایجنڈے پر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہا ہے کیونکہ ڈان کی تحقیق میں پچھلے سال یہ سامنے آیا تھا کہ عالمی فٹبال ادارے فیفا کے اہلکار بھی اس منصوبے میں شامل تھے جبکہ اہلکار کی جانب سے مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین کی مدتِ ملازمت کے دوران ہی اسے شروع کرنا تھا۔</p>
<p>حکومت کے اہلکار بھی فرنچائز لیگ کے منصوبے سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جلد ہی شروع ہو جائے گی۔ بس یہ فیصلہ باقی ہے کہ پی ایف ایف کس شراکت دار کو منتخب کرے گا۔</p>
<p>پاکستان کو یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ اسے واقعی کیا چاہیے اور اسے کیا نتائج ملیں گے۔ ہمیں دیگر کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1955259/football-what-kind-of-league"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274063</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 13:49:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/21104329f2c8e28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/21104329f2c8e28.webp"/>
        <media:title>پی ایف ایف کی پاکستان پریمیئر لیگ کے دوران میچ کی ایک پرانی تصویر— پاکستان فٹبال فیڈریشن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کمزور ممالک پر قابض ہوتی القاعدہ ختم نہیں ہوئی بلکہ ارتقا پا چکی ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273970/</link>
      <description>&lt;p&gt;حالیہ ویڈیو رپورٹ میں جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) نیوز نے مشاہدہ کیا کہ ’9/11 کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد، القاعدہ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس نے خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تشخیص دنیا کے معتبر ترین عالمی ذرائع ابلاغ جن میں وال اسٹریٹ جرنل اور الجزیرہ نمایاں ہیں، کی حالیہ رپورٹس سے تقویت پاتی ہے جن کے مطابق القاعدہ کی علاقائی شاخوں میں سے ایک تصور کی جانے والی جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (جے این آئی ایم) مالی کے دارالحکومت بماکو پر قبضہ کرنے کے بہت قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی افریقہ کے ساحلی خطے بالخصوص مالی، برکینا فاسو اور نائجر میں سرگرم جے این آئی ایم ایندھن کے ٹینکرز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے راستوں کو بند کرکے دارالحکومت کا اقتصادی محاصرہ کررہا ہے جس کے نتیجے میں ملک عملی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاک-افغان خطے میں اپنی اعلیٰ سے درمیانی سطح کی قیادت کی ہلاکت یا گرفتاری جو امریکا کی قیادت میں پاک-افغان، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں وسیع پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں ممکن ہوئیں، کے باوجود القاعدہ ایک اہم حکمتِ عملی اختیار کرکے اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے یعنی وہ مرحلہ وار ایک مرکزی تنظیمی ڈھانچے سے غیر مرکزی نیٹ ورک میں تبدیل ہوئی ہے جس میں مختلف شاخیں سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272027/afghanistan-mein-pakistan-ki-strategic-depth-ka-tasawwur-kyon-khatarnak-saabit-hua'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شاخوں کو عملی طور پر خود مختاری دی گئی ہے جبکہ وہ القاعدہ سینٹرل (اے کیو سی) کی عمومی نظریاتی لائن کی پابندی کرتی ہیں۔ اس حکمتِ عملی میں تبدیلی نے القاعدہ کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے اور اپنی کارروائیاں جاری رکھے، چاہے اسے قیادت کے نمایاں نقصانات ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے این آئی ایم کے علاوہ، الشباب جو القاعدہ کی ایک اور مضبوط شاخ ہے، جنوبی اور وسطی صومالیہ کے بڑے حصوں پر قابض ہے۔ یہ گروہ حال ہی میں دوبارہ اپنے قدم جما چکا ہے اور اس نے حال ہی میں 2023ء-2022ء میں صومالیہ کی حکومت کی فوجی مہم کے دوران ہونے والے بہت سے نقصانات کو ختم کرتے ہوئے علاقہ واپس لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں، کئی خفیہ انتہا پسند چینلز جیسے از-زالقاہ فاؤنڈیشن جو جے این آئی ایم کے سرکاری میڈیا گروپ کے پروپیگنڈے کا اشتراک کرتے ہیں، نے ایک مضبوط پیش گوئی کے ساتھ ایک ہی پیغام پوسٹ کیا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اس سال کے آخر تک، جہادیوں کی جانب سے مالی، صومالیہ یا دونوں میں ایک اسلامی ریاست یا امارت قائم کر لی جائے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="القاعدہ-کی-شاخوں-کا-ارتقا" href="#القاعدہ-کی-شاخوں-کا-ارتقا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;القاعدہ کی شاخوں کا ارتقا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت علیحدہ واقعات نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع تر انتہا پسندانہ رجحان کا حصہ ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے نے ایک اہم محرک کا کردار ادا کیا ہے جو نظریاتی طور پر انتہا پسند گروہوں اور علاقائی ادارے جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ جیسے عالمی نیٹ ورکس کی علاقائی کنٹرول کے حصول کے لیے عملی طور پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بنیادی طور پر القاعدہ اپنی شاخوں کے ذریعے کام کررہی ہے جبکہ اس کی مرکزی قیادت عمومی ہدایات جاری کرنے کے کردار تک محدود ہے۔ اپنے ایک اعلیٰ رہنما ایمن الظواہری کے قتل کے بعد سے تنظیم نے اپنے جانشین کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی شاخ 2004ء میں القاعدہ اِن عراق (اے کیو آئی) قائم کی گئی جس کے بعد 2007ء-2006ء میں شمالی افریقہ میں القاعدہ اِن دی اسلامک مغرب (اے کیو آئی ایم) اور 2009ء میں عرب جزیرہ نما میں القاعدہ ان دی عربین پینسلوینیا (اے کیو اے پی) قائم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الشباب جو 2012ء میں اُبھری، القاعدہ کی سب سے مال دار شاخ کے طور پر جانی جاتی ہے اور جس کی متوقع سالانہ آمدنی 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد القاعدہ برصغیر (آئی کیو آئی ایس) ستمبر 2014ء میں قائم کی گئی اور جے این آئی ایم جس میں اے کیو آئی ایم اور مالی کی 4 مسلح جماعتیں شامل ہیں، 2017ء میں قائم ہوئی۔ اس کے علاوہ حرّاس الدین (ایچ اے ڈی) 2018ء کے آغاز میں شام میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ شاخوں میں سے کئی یا تو بتدریج مکمل طور پر ختم یا تو دیگر کے ساتھ ضم ہو چکی ہیں یا تحلیل ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر اے کیو آئی ایم، جے این آئی ایم میں ضم ہو گئی، ایچ اے ڈی کو القاعدہ نے تحلیل قرار دیا جبکہ اے کیو آئی نے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) میں ارتقا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القاعدہ اور داعش کے درمیان اختلاف فروری 2014ء میں باضابطہ طور پر سامنے آئے کہ جب القاعدہ نے عوامی طور پر داعش کے ساتھ کسی بھی تعلق کی تردید کی۔ یہ دونوں گروہوں کے درمیان کئی ماہ کے تناؤ کے بعد ہوا جو ابوبکر البغدادی کی القاعدہ کی مرکزی قیادت جس کی سربراہی ایمن الظواہری کر رہے تھے، کی ہدایات کی پیروی کرنے سے انکار کی وجہ سے پیدا ہوا اور یہ اختلاف نظریاتی، عملی اور تنظیمی امور پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272608/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272608"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے خطے میں سب سے دلچسپ معاملہ القاعدہ کی شاخ اے کیو آئی ایس کا ہے جو ایک وقت میں پاکستان بھر میں اہم سیکیورٹی تنصیبات پر ہونے والے تقریباً تمام بڑے حملوں میں ملوث تھی اور یہ کام وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کرتی تھی۔ اے کیو آئی ایس نے نظریاتی، عملی اور پروپیگنڈا اقدامات میں ٹی ٹی پی کی معاونت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اب یہ بنیادی طور پر صرف پروپیگنڈا مواد پھیلانے تک محدود ہوچکی ہے جو عملی طور پر غیر فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دوحہ-امن-معاہدے-کے-اثرات" href="#دوحہ-امن-معاہدے-کے-اثرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دوحہ امن معاہدے کے اثرات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اے کیو سی اور اے کیو آئی ایس، 2020ء میں امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ امن معاہدے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس معاہدے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ القاعدہ کو افغان زمین کا استعمال کرتے ہوئے ’امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے‘ سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دو طرفہ انتظامات کے نتیجے میں اے کیو سی اپنے رہنما ایمن الظواہری کی جولائی 2022ء میں کابل میں ہلاکت کو تسلیم کرنے سے بھی قاصر ہے اور نہ ہی باقاعدہ طور پر اپنے جانشین کا اعلان کر سکتی ہے جبکہ اے کیو آئی ایس کی کارروائیاں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ معاہدے نے القاعدہ کے لیے ایک متضاد صورت حال پیدا کی۔ یہ بات میرے ساتھی اور دی خراسان ڈائری (جو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو انتہا پسند گروہوں اور تنازعات پر مرکوز ہے) کے تحقیقی سربراہ ریکارڈو ویلے نے بھی بتائی۔ وہ کہتے ہیں، ’اس معاہدے نے طالبان کو افغانستان میں مضبوط بنانے کے بنیادی مقصد کو حاصل کر لیا لیکن اس کے ساتھ ہی اے کیو سی اور اے کیو آئی ایس کو اپنی موجودگی کم کرنا پڑی تاکہ وہ امریکیوں کو اشتعال دلانے سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس کے نتیجے میں اے کیو آئی ایس نے اپنی توجہ پاکستان کی جانب منتقل کردی جہاں اس نے ریاست کے خلاف مہم میں پاکستانی طالبان کی حمایت کی اور اس نے ایسا اکثر نئے اتحادوں کے ذریعے کیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="القاعدہ-ایک-مضبوط-خطرہ" href="#القاعدہ-ایک-مضبوط-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;القاعدہ، ایک مضبوط خطرہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;القاعدہ نے اپنی حکمتِ عملی اور تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے مگر اس کا بنیادی نظریہ برقرار ہے۔ یہ تنظیم بظاہر بڑے حملے کرنے سے گریز کر رہی ہے خاص طور پر مغربی ممالک میں تاکہ ردعمل سے بچا جا سکے جبکہ یہ مشرقی و مغربی افریقہ میں اپنے علاقائی پھیلاؤ کو بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محتاط، صبر آزما انداز القاعدہ کو 2017ء-2014ء میں اسلامک اسٹیٹ کی حکمت عملی سے الگ کر دیتا ہے۔ اس وقت اسلامک اسٹیٹ نے زمین پر قبضہ کرنے اور ایک ہی وقت میں بڑے بین الاقوامی حملے کرنے کی کوشش کی۔ یہ نقطہ نظر ایک مضبوط فوجی کارروائی کا باعث بنا اور آخرکار انہیں اپنے بیشتر علاقوں سے محروم ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273601/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273601"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس، افغان طالبان کی انٹیلی جنس سروس، افغانستان میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں بشمول القاعدہ کے انتظام کے لیے ایک مخصوص شعبہ رکھتی ہے۔ ان تنظیموں کو مبینہ طور پر سیکیورٹی، رہائش، ماہانہ وظیفہ اور حتیٰ کہ بعض صورتوں میں قومی شہریت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ تاجمیر جواد جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نائب ڈائریکٹر ہیں، مبینہ طور پر افغانستان میں ان غیر ملکی گروہوں بالخصوص القاعدہ کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بنیادی تحقیق کرے تو ایک اہم عنصر سامنے آئے گا جو ان تمام القاعدہ کی شاخوں کے متعلقہ ممالک میں اُبھرنے اور پروان چڑھنے کی بنیادی وجہ بیان کرتا ہے۔ کمزور ریاستیں جو غیر ملکی مداخلت، ناکافی حکمرانی، سیاسی اخراج، جاری تنازعات اور اقتصادی عدم مساوات جیسے مسائل سے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ ملیشیائی تنظیموں کو پنپنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مضبوط نظریاتی فریم ورک کے ساتھ یہ گروہ عوام کے سامنے خود کو موجودہ حکمران طبقے کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی وہ حکومتوں کے متبادل کے طور پر جنہوں نے برسوں عوام کی شکایات کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کمزور ہو سکتی ہے لیکن اس کا اثر انتہا پسند منظرنامے میں بڑھ رہا ہے کیونکہ اس کی شاخوں کی علاقائی طاقت میں مختلف خطوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ شاخیں اے کیو سی کے ساتھ مضبوط نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہیں لیکن یہ کسی حد تک خودمختار ہیں، القاعدہ کی مرکزی قیادت کو فنڈنگ، بھرتی اور عملی مراکز کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گی اور اس طرح اسے عالمی سطح پر موجودگی برقرار رکھنے کی اجازت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ افغانستان میں طالبان کو کسی حد تک بین الاقوامی سطح پر قبولیت حاصل ہوئی ہے اور شام میں احمد الشارع کی زیرِقیادت حکومت (الشارع جو کبھی اے کیو آئی کا حصہ تھے اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کی قیادت کرتے تھے) کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور ان کا دوسرے ممالک کی جانب سے پُرتپاک استقبال کیا گیا ہے۔ اس سے القاعدہ کو گمان ہوسکتا ہے کہ اگر وہ کسی ملک کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو وہ بین الاقوامی برادری سے بھی اسی طرح کی پہچان اور قبولیت حاصل کر سکتے ہیں جو شام کے نئے صدر اور افغان طالبان کو ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورت حال میں القاعدہ ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرسکتی ہے جہاں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی چالوں کے ساتھ ساتھ جنگ بھی کرسکتی ہے جبکہ وہ 9/11 کے بعد کی طرح براہ راست عسکریت پسندانہ حملوں سے گریز کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955261/militancy-the-new-face-of-al-qaeda"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حالیہ ویڈیو رپورٹ میں جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) نیوز نے مشاہدہ کیا کہ ’9/11 کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد، القاعدہ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس نے خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے‘۔</p>
<p>یہ تشخیص دنیا کے معتبر ترین عالمی ذرائع ابلاغ جن میں وال اسٹریٹ جرنل اور الجزیرہ نمایاں ہیں، کی حالیہ رپورٹس سے تقویت پاتی ہے جن کے مطابق القاعدہ کی علاقائی شاخوں میں سے ایک تصور کی جانے والی جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (جے این آئی ایم) مالی کے دارالحکومت بماکو پر قبضہ کرنے کے بہت قریب ہے۔</p>
<p>مغربی افریقہ کے ساحلی خطے بالخصوص مالی، برکینا فاسو اور نائجر میں سرگرم جے این آئی ایم ایندھن کے ٹینکرز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے راستوں کو بند کرکے دارالحکومت کا اقتصادی محاصرہ کررہا ہے جس کے نتیجے میں ملک عملی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاک-افغان خطے میں اپنی اعلیٰ سے درمیانی سطح کی قیادت کی ہلاکت یا گرفتاری جو امریکا کی قیادت میں پاک-افغان، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں وسیع پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں ممکن ہوئیں، کے باوجود القاعدہ ایک اہم حکمتِ عملی اختیار کرکے اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے یعنی وہ مرحلہ وار ایک مرکزی تنظیمی ڈھانچے سے غیر مرکزی نیٹ ورک میں تبدیل ہوئی ہے جس میں مختلف شاخیں سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272027/afghanistan-mein-pakistan-ki-strategic-depth-ka-tasawwur-kyon-khatarnak-saabit-hua'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان شاخوں کو عملی طور پر خود مختاری دی گئی ہے جبکہ وہ القاعدہ سینٹرل (اے کیو سی) کی عمومی نظریاتی لائن کی پابندی کرتی ہیں۔ اس حکمتِ عملی میں تبدیلی نے القاعدہ کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے اور اپنی کارروائیاں جاری رکھے، چاہے اسے قیادت کے نمایاں نقصانات ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔</p>
<p>جے این آئی ایم کے علاوہ، الشباب جو القاعدہ کی ایک اور مضبوط شاخ ہے، جنوبی اور وسطی صومالیہ کے بڑے حصوں پر قابض ہے۔ یہ گروہ حال ہی میں دوبارہ اپنے قدم جما چکا ہے اور اس نے حال ہی میں 2023ء-2022ء میں صومالیہ کی حکومت کی فوجی مہم کے دوران ہونے والے بہت سے نقصانات کو ختم کرتے ہوئے علاقہ واپس لے لیا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں، کئی خفیہ انتہا پسند چینلز جیسے از-زالقاہ فاؤنڈیشن جو جے این آئی ایم کے سرکاری میڈیا گروپ کے پروپیگنڈے کا اشتراک کرتے ہیں، نے ایک مضبوط پیش گوئی کے ساتھ ایک ہی پیغام پوسٹ کیا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اس سال کے آخر تک، جہادیوں کی جانب سے مالی، صومالیہ یا دونوں میں ایک اسلامی ریاست یا امارت قائم کر لی جائے گی‘۔</p>
<h1><a id="القاعدہ-کی-شاخوں-کا-ارتقا" href="#القاعدہ-کی-شاخوں-کا-ارتقا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>القاعدہ کی شاخوں کا ارتقا</h1>
<p>یہ پیش رفت علیحدہ واقعات نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع تر انتہا پسندانہ رجحان کا حصہ ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے نے ایک اہم محرک کا کردار ادا کیا ہے جو نظریاتی طور پر انتہا پسند گروہوں اور علاقائی ادارے جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ جیسے عالمی نیٹ ورکس کی علاقائی کنٹرول کے حصول کے لیے عملی طور پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔</p>
<p>اب بنیادی طور پر القاعدہ اپنی شاخوں کے ذریعے کام کررہی ہے جبکہ اس کی مرکزی قیادت عمومی ہدایات جاری کرنے کے کردار تک محدود ہے۔ اپنے ایک اعلیٰ رہنما ایمن الظواہری کے قتل کے بعد سے تنظیم نے اپنے جانشین کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔</p>
<p>پہلی شاخ 2004ء میں القاعدہ اِن عراق (اے کیو آئی) قائم کی گئی جس کے بعد 2007ء-2006ء میں شمالی افریقہ میں القاعدہ اِن دی اسلامک مغرب (اے کیو آئی ایم) اور 2009ء میں عرب جزیرہ نما میں القاعدہ ان دی عربین پینسلوینیا (اے کیو اے پی) قائم کی گئی۔</p>
<p>الشباب جو 2012ء میں اُبھری، القاعدہ کی سب سے مال دار شاخ کے طور پر جانی جاتی ہے اور جس کی متوقع سالانہ آمدنی 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد القاعدہ برصغیر (آئی کیو آئی ایس) ستمبر 2014ء میں قائم کی گئی اور جے این آئی ایم جس میں اے کیو آئی ایم اور مالی کی 4 مسلح جماعتیں شامل ہیں، 2017ء میں قائم ہوئی۔ اس کے علاوہ حرّاس الدین (ایچ اے ڈی) 2018ء کے آغاز میں شام میں سامنے آئی۔</p>
<p>مذکورہ شاخوں میں سے کئی یا تو بتدریج مکمل طور پر ختم یا تو دیگر کے ساتھ ضم ہو چکی ہیں یا تحلیل ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر اے کیو آئی ایم، جے این آئی ایم میں ضم ہو گئی، ایچ اے ڈی کو القاعدہ نے تحلیل قرار دیا جبکہ اے کیو آئی نے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) میں ارتقا کیا۔</p>
<p>القاعدہ اور داعش کے درمیان اختلاف فروری 2014ء میں باضابطہ طور پر سامنے آئے کہ جب القاعدہ نے عوامی طور پر داعش کے ساتھ کسی بھی تعلق کی تردید کی۔ یہ دونوں گروہوں کے درمیان کئی ماہ کے تناؤ کے بعد ہوا جو ابوبکر البغدادی کی القاعدہ کی مرکزی قیادت جس کی سربراہی ایمن الظواہری کر رہے تھے، کی ہدایات کی پیروی کرنے سے انکار کی وجہ سے پیدا ہوا اور یہ اختلاف نظریاتی، عملی اور تنظیمی امور پر تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272608/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272608"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہمارے خطے میں سب سے دلچسپ معاملہ القاعدہ کی شاخ اے کیو آئی ایس کا ہے جو ایک وقت میں پاکستان بھر میں اہم سیکیورٹی تنصیبات پر ہونے والے تقریباً تمام بڑے حملوں میں ملوث تھی اور یہ کام وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کرتی تھی۔ اے کیو آئی ایس نے نظریاتی، عملی اور پروپیگنڈا اقدامات میں ٹی ٹی پی کی معاونت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اب یہ بنیادی طور پر صرف پروپیگنڈا مواد پھیلانے تک محدود ہوچکی ہے جو عملی طور پر غیر فعال ہے۔</p>
<h1><a id="دوحہ-امن-معاہدے-کے-اثرات" href="#دوحہ-امن-معاہدے-کے-اثرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دوحہ امن معاہدے کے اثرات</h1>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اے کیو سی اور اے کیو آئی ایس، 2020ء میں امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ امن معاہدے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس معاہدے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ القاعدہ کو افغان زمین کا استعمال کرتے ہوئے ’امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے‘ سے روکا جائے۔</p>
<p>ان دو طرفہ انتظامات کے نتیجے میں اے کیو سی اپنے رہنما ایمن الظواہری کی جولائی 2022ء میں کابل میں ہلاکت کو تسلیم کرنے سے بھی قاصر ہے اور نہ ہی باقاعدہ طور پر اپنے جانشین کا اعلان کر سکتی ہے جبکہ اے کیو آئی ایس کی کارروائیاں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔</p>
<p>دوحہ معاہدے نے القاعدہ کے لیے ایک متضاد صورت حال پیدا کی۔ یہ بات میرے ساتھی اور دی خراسان ڈائری (جو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو انتہا پسند گروہوں اور تنازعات پر مرکوز ہے) کے تحقیقی سربراہ ریکارڈو ویلے نے بھی بتائی۔ وہ کہتے ہیں، ’اس معاہدے نے طالبان کو افغانستان میں مضبوط بنانے کے بنیادی مقصد کو حاصل کر لیا لیکن اس کے ساتھ ہی اے کیو سی اور اے کیو آئی ایس کو اپنی موجودگی کم کرنا پڑی تاکہ وہ امریکیوں کو اشتعال دلانے سے بچ سکیں۔</p>
<p>’اس کے نتیجے میں اے کیو آئی ایس نے اپنی توجہ پاکستان کی جانب منتقل کردی جہاں اس نے ریاست کے خلاف مہم میں پاکستانی طالبان کی حمایت کی اور اس نے ایسا اکثر نئے اتحادوں کے ذریعے کیا‘۔</p>
<h1><a id="القاعدہ-ایک-مضبوط-خطرہ" href="#القاعدہ-ایک-مضبوط-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>القاعدہ، ایک مضبوط خطرہ</h1>
<p>القاعدہ نے اپنی حکمتِ عملی اور تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے مگر اس کا بنیادی نظریہ برقرار ہے۔ یہ تنظیم بظاہر بڑے حملے کرنے سے گریز کر رہی ہے خاص طور پر مغربی ممالک میں تاکہ ردعمل سے بچا جا سکے جبکہ یہ مشرقی و مغربی افریقہ میں اپنے علاقائی پھیلاؤ کو بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>یہ محتاط، صبر آزما انداز القاعدہ کو 2017ء-2014ء میں اسلامک اسٹیٹ کی حکمت عملی سے الگ کر دیتا ہے۔ اس وقت اسلامک اسٹیٹ نے زمین پر قبضہ کرنے اور ایک ہی وقت میں بڑے بین الاقوامی حملے کرنے کی کوشش کی۔ یہ نقطہ نظر ایک مضبوط فوجی کارروائی کا باعث بنا اور آخرکار انہیں اپنے بیشتر علاقوں سے محروم ہونا پڑا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273601/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273601"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹس کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس، افغان طالبان کی انٹیلی جنس سروس، افغانستان میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں بشمول القاعدہ کے انتظام کے لیے ایک مخصوص شعبہ رکھتی ہے۔ ان تنظیموں کو مبینہ طور پر سیکیورٹی، رہائش، ماہانہ وظیفہ اور حتیٰ کہ بعض صورتوں میں قومی شہریت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ تاجمیر جواد جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نائب ڈائریکٹر ہیں، مبینہ طور پر افغانستان میں ان غیر ملکی گروہوں بالخصوص القاعدہ کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>اگر کوئی بنیادی تحقیق کرے تو ایک اہم عنصر سامنے آئے گا جو ان تمام القاعدہ کی شاخوں کے متعلقہ ممالک میں اُبھرنے اور پروان چڑھنے کی بنیادی وجہ بیان کرتا ہے۔ کمزور ریاستیں جو غیر ملکی مداخلت، ناکافی حکمرانی، سیاسی اخراج، جاری تنازعات اور اقتصادی عدم مساوات جیسے مسائل سے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ ملیشیائی تنظیموں کو پنپنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>ایک مضبوط نظریاتی فریم ورک کے ساتھ یہ گروہ عوام کے سامنے خود کو موجودہ حکمران طبقے کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی وہ حکومتوں کے متبادل کے طور پر جنہوں نے برسوں عوام کی شکایات کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔</p>
<p>اگرچہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کمزور ہو سکتی ہے لیکن اس کا اثر انتہا پسند منظرنامے میں بڑھ رہا ہے کیونکہ اس کی شاخوں کی علاقائی طاقت میں مختلف خطوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ شاخیں اے کیو سی کے ساتھ مضبوط نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہیں لیکن یہ کسی حد تک خودمختار ہیں، القاعدہ کی مرکزی قیادت کو فنڈنگ، بھرتی اور عملی مراکز کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گی اور اس طرح اسے عالمی سطح پر موجودگی برقرار رکھنے کی اجازت ملے گی۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ افغانستان میں طالبان کو کسی حد تک بین الاقوامی سطح پر قبولیت حاصل ہوئی ہے اور شام میں احمد الشارع کی زیرِقیادت حکومت (الشارع جو کبھی اے کیو آئی کا حصہ تھے اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کی قیادت کرتے تھے) کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور ان کا دوسرے ممالک کی جانب سے پُرتپاک استقبال کیا گیا ہے۔ اس سے القاعدہ کو گمان ہوسکتا ہے کہ اگر وہ کسی ملک کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو وہ بین الاقوامی برادری سے بھی اسی طرح کی پہچان اور قبولیت حاصل کر سکتے ہیں جو شام کے نئے صدر اور افغان طالبان کو ملی ہے۔</p>
<p>اس صورت حال میں القاعدہ ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرسکتی ہے جہاں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی چالوں کے ساتھ ساتھ جنگ بھی کرسکتی ہے جبکہ وہ 9/11 کے بعد کی طرح براہ راست عسکریت پسندانہ حملوں سے گریز کرسکتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955261/militancy-the-new-face-of-al-qaeda">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273970</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 15:51:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (احسان اللہ ٹیپو محسود)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1911341544a8b85.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1911341544a8b85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعلیم سے سیاست تک: اپنے گاؤں کی خواتین کی تقدیر بدلنے کے لیے پُرعزم نوشابہ رونجھو کی کہانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273714/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ کے قدامت پسند گاؤں سے تعلق رکھنے والی نوشابہ رونجھو سال 2007 میں اپنے گاؤں کی ایک عورت کے طور پر تقریباً ناقابلِ تصور قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک غیرمعمولی عزم ہے اُس 33 سالہ خاتون کے لیے جنہیں گھر سے باہر کام کرنے کے جرم میں کم و بیش ایک دہائی قبل اپنے ہی گھر سے بےدخل کردیا گیا تھا۔ لیکن نوشابہ کے لیے انتخاب لڑنا دراصل اُس سفر کی منطقی تکمیل ہے جو ایک بغاوت سے شروع ہوا تھا جہاں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا جبکہ اُن کی برادری کی کسی لڑکی نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;‘میں عام خواتین کی طرح نہیں رہنا چاہتی تھی جو اپنے والدین یا شوہروں پر منحصر ہوتی ہیں،’ اپنے سادہ سے گھر میں جو سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے دھول مٹی سے بھرے گاؤں شیخ سومار میں واقع ہے  میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’میں نے ایک مختلف اور مشکل زندگی کا انتخاب کیا۔‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="روایات-کو-توڑتے-ہوئے" href="#روایات-کو-توڑتے-ہوئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;روایات کو توڑتے ہوئے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شیخ سومار گاؤں جھِرّک قصبے سے 10 کلومیٹر دور واقع ہے اور مٹی کی اینٹوں سے بنے  150 گھروں پر مشتمل ہے جہاں زیادہ تر لڑکیاں تعلیم حاصل کریں بھی تو ان کی تعلیم پرائمری کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ نوشابہ نے بھی گاؤں کے اسکول میں پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنی قدامت پسند رونجھو برادری کی اکثر لڑکیوں کی طرح ان کی پڑھائی کا سلسلی بھی اچانک روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جہاں دیگر لڑکیوں نے اس تقدیر کو قبول کر لیا وہیں نوشابہ نے گھر پر ہی اپنی تعلیم جاری رکھی۔ گھر کے کام نمٹانے کے بعد چراغ کی روشنی میں وہ پڑھا کرتی تھیں۔ 2010ء میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے میٹرک کا امتحان بطور نجی امیدوار دیا جس میں وہ پاس بھی ہوگئیں۔ یوں وہ اپنی برادری کی پہلی لڑکی بن گئیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سال ان کی شادی ان کے کزن محمد عُریس سے کر دی گئی جو دیہاڑی دار مزدور تھے اور گاؤں کے بیشتر مردوں کے برعکس ان کے تعلیمی عزائم کی حمایت کرتا تھے۔ 44 سالہ عُریس کہتے ہیں، ‘مجھے اس میں کچھ مختلف نظر آیا۔ وہ اس زندگی پر مطمئن نہیں تھی جسے زیادہ تر عورتیں قبول کر لیتی ہیں۔ میں نے سوچا، میں اسے آگے بڑھنے سے کیوں روکوں؟’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے 7 برسوں تک نوشابہ نے وہی زندگی گزاری جس کی ان سے توقع کی جاتی تھی۔ تین بچوں کی پرورش کی، گھر کے کام کاج سنبھالے اور اپنے شوہر کی قلیل آمدنی میں خاندان کا گزارا کرتی تھیں۔ لیکن وہ سب پرکھ رہی تھیں۔ انہوں نے عورتوں کو زچگی کے دوران قابلِ علاج پیچیدگیوں کی وجہ سے مرتے دیکھا۔ انہوں نے لڑکیوں کو بلوغت کے بعد اسکول چھوڑتے دیکھا۔ انہوں نے غربت اور روایت کو قابلیت کا گلا گھونٹتے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/1412040176d3ef9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/1412040176d3ef9.webp'  alt='لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک اسکول ہونے کی وجہ سے والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیجتے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک اسکول ہونے کی وجہ سے والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیجتے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب 2017ء میں نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (این آر ایس پی) نے کمیونٹی ورکرز کے لیے اشتہارات دیے تو نوشابہ کو موقع نظر آیا۔ انہوں نے اپنی برادری کے بڑوں کو بتائے بغیر درخواست دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سفر-میں-کامیابیاں-اور-رکاوٹیں" href="#سفر-میں-کامیابیاں-اور-رکاوٹیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سفر میں کامیابیاں اور رکاوٹیں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;‘میری پہلی تنخواہ 6 ہزار روپے تھی’، وہ یاد کرتی ہیں۔ ایک ایسی عورت کے لیے جس نے کبھی پیسے پر کنٹرول نہیں رکھا تھا، یہ تجربہ زندگی بدل دینے والا تھا۔ ان کے کام میں گھر گھر جا کر صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی دینا شامل تھا ور جلد ہی دیگر کمیونٹی تنظیموں نے بھی اسی طرح کے پروجیکٹس کے لیے انہیں رکھنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کامیابی کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ 44 سالہ عُریس کہتے ہیں، ‘جب نوشابہ نے بطور سماجی کارکن کام شروع کیا تو لوگ مجھے طعنے دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کوئی شریف آدمی کبھی اپنی بیوی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ کہ وہ ہمارے خاندان کی عزت خراب کر دے گی۔ مگر میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ہر حال میں اس کا ساتھ دوں گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دباؤ بڑھتا گیا۔ 2019ء میں نوشابہ کے خاندان نے دھمکی دے دی کہ کام چھوڑ دو یا پھر خاندانی گھر چھوڑ دو۔ وہی گھر جہاں نوشابہ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ رہتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشابہ بتاتی ہیں کہ ’وہ کہتے تھے کہ میں خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی ہوں۔ وہ کہتے تھے کہ میں دیگر لڑکیوں کے لیے بُری مثال قائم کر رہی ہوں کیونکہ میں ہماری روایات کو تباہ کر رہی ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات میں نوشابہ نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی جمع پونجی اور عُریس کی آمدنی کو ملا کر انہوں نے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر ایک کمرے کا گھر بنا لیا۔ وہ تنگ اور سادہ سا تھا لیکن وہ ان کا اپنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جدوجہد نے نوشابہ کو مالی خودمختاری کی اہمیت سکھائی۔ ایس آر ایس او کے ذریعے انہیں 3 لاکھ روپے کا قرض ملا جو انہوں نے مویشیوں میں سرمایہ کاری کر کے استعمال کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ‘میں نے مویشی خریدے اور ایک سال بعد فروخت کردیے۔ ہم نے یہ رقم اپنے کچے گھر کی مرمت اور آئندہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ویکسی نیشن مہمات، پانی اور صفائی کے منصوبوں اور صحت کے پروگرامز میں کئی گاؤں میں کام شروع کیا۔ لیکن ایک مشن ایسا تھا جو دوسروں سے بڑھ کر ان کے دل کے قریب تھا اور وہ تھا لڑکیوں کو اسکول بھیجنا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تعلیم-کے-لیے-جدوجہد" href="#تعلیم-کے-لیے-جدوجہد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تعلیم کے لیے جدوجہد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شیخ سومار میں ایک سرکاری اسکول ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے ہے۔ یہی حقیقت بہت سی لڑکیوں کو گھروں تک محدود رکھتی ہے کیونکہ والدین انہیں مخلوط ماحول میں بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشابہ بتاتی ہیں، ‘ہمارے پاس لڑکیوں کے لیے الگ اسکول نہیں ہے جو والدین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے’۔ اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے وہ گھر گھر جا کر والدین کو اپنی بیٹیوں کا اندراج کروانے پر آمادہ کرتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول کے ایک استاد اکرم رونجھو، کہتے ہیں کہ نوشابہ کی کوششوں سے پچھلے چند برسوں میں 100 سے زائد لڑکیوں کا اسکول میں داخلہ ہوا ہے۔ نوشابہ کی اپنی بیٹیاں 13 سالہ نائلہ اور 11 سالہ نادیہ بھی ان ہی طالبات میں شامل ہیں، ساتھ ہی ان کا 8 سالہ بیٹا بھی اسکول جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود اسکول میں اب بھی لڑکیوں کے لیے علیحدہ عمارت نہیں ہے جو قدامت پسند خاندانوں میں تعلیم کے حصول کی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ نوشابہ کئی بار مقامی یونین کونسل کے نمائندوں سے لڑکیوں کے لیے الگ اسکول کی درخواست کر چکی ہیں مگر ان کی بات سنی نہیں گئی اور یہی محرومی ان کے سیاسی عزائم کو مزید تقویت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272949/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ماؤں-اور-بچوں-کی-صحت" href="#ماؤں-اور-بچوں-کی-صحت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ماؤں اور بچوں کی صحت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماں اور بچے کی اموات ایک اور مسئلہ ہے جو نوشابہ کو بے چین رکھتا ہے۔ وہ ڈان کو بتاتی ہیں، ‘گاؤں کی زیادہ تر عورتیں اپنی صحت کے مسائل پر توجہ نہیں دیتیں اور سومار شیخ گاؤں کی کئی عورتیں زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میٹرنل موریٹالیٹی سروے 2019ء کے مطابق سندھ میں ہر ایک لاکھ پیدائش پر 224 عورتیں جان کی بازی ہار جاتی ہیں جو قوم کی اوسط 186 تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور دیہی علاقوں میں یہ المیے زیادہ عام ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق صوبے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح بھی زیادہ ہے جہاں ہر ایک ہزار پیدائش پر 77 اموات ہوتی ہیں جو قومی اعداد و شمار سے بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشابہ نے اس مسئلے کا حل اس وقت تلاش کیا جب وہ فلاحی ادارے ’ہینڈز‘ کے ایک میڈیکل کیمپ میں شریک ہوئیں۔ مقامی کمیونٹی آرگنائزر قاسم دال کے ساتھ مل کر انہوں نے ادارے کو قائل کیا کہ وہ شیخ سومار میں باقاعدہ خدمات شروع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہر 15 دن بعد ایک سونولوجسٹ اور ایک ڈاکٹر گاؤں کا دورہ کرتے ہیں۔ تاہم ابتدا میں مقامی لوگ اپنی عورتوں کو ڈاکٹر کے پاس بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ پھر ایک بار نوشابہ نے مداخلت کی۔ مردوں کو خواتین کی صحت کے مسائل سمجھایا اور انہیں آمادہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو پیشہ ور ڈاکٹروں سے مشورہ اور علاج کروانے دیں۔ اس کے بعد سے نوشابہ نے اپنے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں دو دیگر عورتوں کو بھی اس طرح کے سیشن کروانے کی تربیت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشابہ بتاتی ہیں، ‘ڈاکٹروں سے ماہرانہ مشورہ لینے کے بعد، عورتیں مانع حمل گولیاں استعمال کر رہی ہیں اور بچوں کو دوائی اور غذائیت پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر مل رہی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273377/pakistan-mein-ghairat-ke-naam-par-qatal-kanoon-mein-majood-saqam-qatilon-ko-kaise-bachate-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سیاست-میں-قدم" href="#سیاست-میں-قدم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیاست میں قدم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;2024ء تک نوشابہ اپنے علاقے کی سب سے مؤثر کمیونٹی کارکنان میں شمار ہونے لگی تھیں۔ مگر ایک موقع ایسا آیا جہاں وہ رک گئیں۔ وہ لوگوں کو منظم کر سکتی تھیں، آگاہی دے سکتی تھیں لیکن مقامی سرکاری عہدیداروں کو حل پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی احساس نے انہیں 2027ء کے اوائل میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ڈان کو بتاتی ہیں، ‘میں نے اپنے گاؤں کے لیے بہت کوشش کی ہے لیکن یہ کوششیں اُس وقت تک کافی نہیں جب تک مجھے سیاست میں آنے کا موقع نہ ملے۔ ہم نے ہمیشہ ووٹ دیا لیکن کوئی اثر نہیں دیکھا۔ ہمارے مقامی سیاسی رہنما ہماری بنیادی ضروریات اور مسائل سے بے پروا دکھائی دیتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک جرأت مندانہ قدم ہے وہ بھی اُس عورت کے لیے جسے محض گھر سے باہر کام کرنے پر چند سال پہلے ہی سماجی طور پر تنہا کر دیا گیا تھا۔ اب وہ ایسے مضبوط اثر و رسوخ والے سیاستدانوں کے مقابلے میں کھڑی ہوں گی جن کے پاس وسائل بھی ہیں اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کے طریقے بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آر ایس او کے کارکن خادم شر کا ماننا ہے کہ نوشابہ جیسی خواتین معاشرتی تبدیلی کی اہم محرک ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ‘ایسے معاشروں میں جہاں ثقافتی پابندیاں اور سخت روایات غالب ہوں، اس کی کہانی ایک طاقتور مثال کے طور پر سامنے آتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشابہ کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ ایک سادہ سی حقیقت سے پیدا ہوا جو یہ تھی کہ ادارہ جاتی طاقت کے بغیر جدوجہد بھی محدود ہوتی ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور مقامی رہنما مسلسل ان کی برادری کے مسائل کو نظر انداز کرتے آئے ہیں اور وہ سیاسی میدان میں ایک مضبوط آواز بننا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتی ہیں، ‘میرا گاؤں میری دنیا ہے اور میں یہاں رہنے والے ہر فرد کے لیے اسے بہتر بنانا چاہتی ہوں۔ ہماری خواتین مختلف مسائل میں مبتلا ہیں۔ یہ ان کی تقدیر نہیں بلکہ انتظامی خامیوں کی وجہ سے ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہم زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی لا سکیں گے’۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953908/society-a-woman-on-the-verge"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ کے قدامت پسند گاؤں سے تعلق رکھنے والی نوشابہ رونجھو سال 2007 میں اپنے گاؤں کی ایک عورت کے طور پر تقریباً ناقابلِ تصور قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔</p>
<p>یہ ایک غیرمعمولی عزم ہے اُس 33 سالہ خاتون کے لیے جنہیں گھر سے باہر کام کرنے کے جرم میں کم و بیش ایک دہائی قبل اپنے ہی گھر سے بےدخل کردیا گیا تھا۔ لیکن نوشابہ کے لیے انتخاب لڑنا دراصل اُس سفر کی منطقی تکمیل ہے جو ایک بغاوت سے شروع ہوا تھا جہاں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا جبکہ اُن کی برادری کی کسی لڑکی نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔</p>
<p>‘میں عام خواتین کی طرح نہیں رہنا چاہتی تھی جو اپنے والدین یا شوہروں پر منحصر ہوتی ہیں،’ اپنے سادہ سے گھر میں جو سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے دھول مٹی سے بھرے گاؤں شیخ سومار میں واقع ہے  میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’میں نے ایک مختلف اور مشکل زندگی کا انتخاب کیا۔‘۔</p>
<h1><a id="روایات-کو-توڑتے-ہوئے" href="#روایات-کو-توڑتے-ہوئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>روایات کو توڑتے ہوئے</h1>
<p>شیخ سومار گاؤں جھِرّک قصبے سے 10 کلومیٹر دور واقع ہے اور مٹی کی اینٹوں سے بنے  150 گھروں پر مشتمل ہے جہاں زیادہ تر لڑکیاں تعلیم حاصل کریں بھی تو ان کی تعلیم پرائمری کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ نوشابہ نے بھی گاؤں کے اسکول میں پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنی قدامت پسند رونجھو برادری کی اکثر لڑکیوں کی طرح ان کی پڑھائی کا سلسلی بھی اچانک روک دیا گیا۔</p>
<p>لیکن جہاں دیگر لڑکیوں نے اس تقدیر کو قبول کر لیا وہیں نوشابہ نے گھر پر ہی اپنی تعلیم جاری رکھی۔ گھر کے کام نمٹانے کے بعد چراغ کی روشنی میں وہ پڑھا کرتی تھیں۔ 2010ء میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے میٹرک کا امتحان بطور نجی امیدوار دیا جس میں وہ پاس بھی ہوگئیں۔ یوں وہ اپنی برادری کی پہلی لڑکی بن گئیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔</p>
<p>اسی سال ان کی شادی ان کے کزن محمد عُریس سے کر دی گئی جو دیہاڑی دار مزدور تھے اور گاؤں کے بیشتر مردوں کے برعکس ان کے تعلیمی عزائم کی حمایت کرتا تھے۔ 44 سالہ عُریس کہتے ہیں، ‘مجھے اس میں کچھ مختلف نظر آیا۔ وہ اس زندگی پر مطمئن نہیں تھی جسے زیادہ تر عورتیں قبول کر لیتی ہیں۔ میں نے سوچا، میں اسے آگے بڑھنے سے کیوں روکوں؟’</p>
<p>اگلے 7 برسوں تک نوشابہ نے وہی زندگی گزاری جس کی ان سے توقع کی جاتی تھی۔ تین بچوں کی پرورش کی، گھر کے کام کاج سنبھالے اور اپنے شوہر کی قلیل آمدنی میں خاندان کا گزارا کرتی تھیں۔ لیکن وہ سب پرکھ رہی تھیں۔ انہوں نے عورتوں کو زچگی کے دوران قابلِ علاج پیچیدگیوں کی وجہ سے مرتے دیکھا۔ انہوں نے لڑکیوں کو بلوغت کے بعد اسکول چھوڑتے دیکھا۔ انہوں نے غربت اور روایت کو قابلیت کا گلا گھونٹتے دیکھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/1412040176d3ef9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/1412040176d3ef9.webp'  alt='لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک اسکول ہونے کی وجہ سے والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیجتے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک اسکول ہونے کی وجہ سے والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیجتے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جب 2017ء میں نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (این آر ایس پی) نے کمیونٹی ورکرز کے لیے اشتہارات دیے تو نوشابہ کو موقع نظر آیا۔ انہوں نے اپنی برادری کے بڑوں کو بتائے بغیر درخواست دے دی۔</p>
<h1><a id="سفر-میں-کامیابیاں-اور-رکاوٹیں" href="#سفر-میں-کامیابیاں-اور-رکاوٹیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سفر میں کامیابیاں اور رکاوٹیں</h1>
<p>‘میری پہلی تنخواہ 6 ہزار روپے تھی’، وہ یاد کرتی ہیں۔ ایک ایسی عورت کے لیے جس نے کبھی پیسے پر کنٹرول نہیں رکھا تھا، یہ تجربہ زندگی بدل دینے والا تھا۔ ان کے کام میں گھر گھر جا کر صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی دینا شامل تھا ور جلد ہی دیگر کمیونٹی تنظیموں نے بھی اسی طرح کے پروجیکٹس کے لیے انہیں رکھنا شروع کر دیا۔</p>
<p>لیکن کامیابی کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ 44 سالہ عُریس کہتے ہیں، ‘جب نوشابہ نے بطور سماجی کارکن کام شروع کیا تو لوگ مجھے طعنے دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کوئی شریف آدمی کبھی اپنی بیوی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ کہ وہ ہمارے خاندان کی عزت خراب کر دے گی۔ مگر میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ہر حال میں اس کا ساتھ دوں گا‘۔</p>
<p>دباؤ بڑھتا گیا۔ 2019ء میں نوشابہ کے خاندان نے دھمکی دے دی کہ کام چھوڑ دو یا پھر خاندانی گھر چھوڑ دو۔ وہی گھر جہاں نوشابہ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ رہتی تھیں۔</p>
<p>نوشابہ بتاتی ہیں کہ ’وہ کہتے تھے کہ میں خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی ہوں۔ وہ کہتے تھے کہ میں دیگر لڑکیوں کے لیے بُری مثال قائم کر رہی ہوں کیونکہ میں ہماری روایات کو تباہ کر رہی ہوں‘۔</p>
<p>ان حالات میں نوشابہ نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>اپنی جمع پونجی اور عُریس کی آمدنی کو ملا کر انہوں نے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر ایک کمرے کا گھر بنا لیا۔ وہ تنگ اور سادہ سا تھا لیکن وہ ان کا اپنا تھا۔</p>
<p>اس جدوجہد نے نوشابہ کو مالی خودمختاری کی اہمیت سکھائی۔ ایس آر ایس او کے ذریعے انہیں 3 لاکھ روپے کا قرض ملا جو انہوں نے مویشیوں میں سرمایہ کاری کر کے استعمال کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ‘میں نے مویشی خریدے اور ایک سال بعد فروخت کردیے۔ ہم نے یہ رقم اپنے کچے گھر کی مرمت اور آئندہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی‘۔</p>
<p>انہوں نے ویکسی نیشن مہمات، پانی اور صفائی کے منصوبوں اور صحت کے پروگرامز میں کئی گاؤں میں کام شروع کیا۔ لیکن ایک مشن ایسا تھا جو دوسروں سے بڑھ کر ان کے دل کے قریب تھا اور وہ تھا لڑکیوں کو اسکول بھیجنا۔</p>
<h1><a id="تعلیم-کے-لیے-جدوجہد" href="#تعلیم-کے-لیے-جدوجہد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تعلیم کے لیے جدوجہد</h1>
<p>شیخ سومار میں ایک سرکاری اسکول ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے ہے۔ یہی حقیقت بہت سی لڑکیوں کو گھروں تک محدود رکھتی ہے کیونکہ والدین انہیں مخلوط ماحول میں بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔</p>
<p>نوشابہ بتاتی ہیں، ‘ہمارے پاس لڑکیوں کے لیے الگ اسکول نہیں ہے جو والدین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے’۔ اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے وہ گھر گھر جا کر والدین کو اپنی بیٹیوں کا اندراج کروانے پر آمادہ کرتی رہیں۔</p>
<p>اسکول کے ایک استاد اکرم رونجھو، کہتے ہیں کہ نوشابہ کی کوششوں سے پچھلے چند برسوں میں 100 سے زائد لڑکیوں کا اسکول میں داخلہ ہوا ہے۔ نوشابہ کی اپنی بیٹیاں 13 سالہ نائلہ اور 11 سالہ نادیہ بھی ان ہی طالبات میں شامل ہیں، ساتھ ہی ان کا 8 سالہ بیٹا بھی اسکول جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود اسکول میں اب بھی لڑکیوں کے لیے علیحدہ عمارت نہیں ہے جو قدامت پسند خاندانوں میں تعلیم کے حصول کی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ نوشابہ کئی بار مقامی یونین کونسل کے نمائندوں سے لڑکیوں کے لیے الگ اسکول کی درخواست کر چکی ہیں مگر ان کی بات سنی نہیں گئی اور یہی محرومی ان کے سیاسی عزائم کو مزید تقویت دیتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272949/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="ماؤں-اور-بچوں-کی-صحت" href="#ماؤں-اور-بچوں-کی-صحت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ماؤں اور بچوں کی صحت</h1>
<p>ماں اور بچے کی اموات ایک اور مسئلہ ہے جو نوشابہ کو بے چین رکھتا ہے۔ وہ ڈان کو بتاتی ہیں، ‘گاؤں کی زیادہ تر عورتیں اپنی صحت کے مسائل پر توجہ نہیں دیتیں اور سومار شیخ گاؤں کی کئی عورتیں زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں‘۔</p>
<p>پاکستان میٹرنل موریٹالیٹی سروے 2019ء کے مطابق سندھ میں ہر ایک لاکھ پیدائش پر 224 عورتیں جان کی بازی ہار جاتی ہیں جو قوم کی اوسط 186 تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور دیہی علاقوں میں یہ المیے زیادہ عام ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق صوبے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح بھی زیادہ ہے جہاں ہر ایک ہزار پیدائش پر 77 اموات ہوتی ہیں جو قومی اعداد و شمار سے بلند ہے۔</p>
<p>نوشابہ نے اس مسئلے کا حل اس وقت تلاش کیا جب وہ فلاحی ادارے ’ہینڈز‘ کے ایک میڈیکل کیمپ میں شریک ہوئیں۔ مقامی کمیونٹی آرگنائزر قاسم دال کے ساتھ مل کر انہوں نے ادارے کو قائل کیا کہ وہ شیخ سومار میں باقاعدہ خدمات شروع کرے۔</p>
<p>اب ہر 15 دن بعد ایک سونولوجسٹ اور ایک ڈاکٹر گاؤں کا دورہ کرتے ہیں۔ تاہم ابتدا میں مقامی لوگ اپنی عورتوں کو ڈاکٹر کے پاس بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ پھر ایک بار نوشابہ نے مداخلت کی۔ مردوں کو خواتین کی صحت کے مسائل سمجھایا اور انہیں آمادہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو پیشہ ور ڈاکٹروں سے مشورہ اور علاج کروانے دیں۔ اس کے بعد سے نوشابہ نے اپنے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں دو دیگر عورتوں کو بھی اس طرح کے سیشن کروانے کی تربیت دی ہے۔</p>
<p>نوشابہ بتاتی ہیں، ‘ڈاکٹروں سے ماہرانہ مشورہ لینے کے بعد، عورتیں مانع حمل گولیاں استعمال کر رہی ہیں اور بچوں کو دوائی اور غذائیت پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر مل رہی ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273377/pakistan-mein-ghairat-ke-naam-par-qatal-kanoon-mein-majood-saqam-qatilon-ko-kaise-bachate-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="سیاست-میں-قدم" href="#سیاست-میں-قدم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیاست میں قدم</h1>
<p>2024ء تک نوشابہ اپنے علاقے کی سب سے مؤثر کمیونٹی کارکنان میں شمار ہونے لگی تھیں۔ مگر ایک موقع ایسا آیا جہاں وہ رک گئیں۔ وہ لوگوں کو منظم کر سکتی تھیں، آگاہی دے سکتی تھیں لیکن مقامی سرکاری عہدیداروں کو حل پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتی تھیں۔</p>
<p>اسی احساس نے انہیں 2027ء کے اوائل میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔</p>
<p>وہ ڈان کو بتاتی ہیں، ‘میں نے اپنے گاؤں کے لیے بہت کوشش کی ہے لیکن یہ کوششیں اُس وقت تک کافی نہیں جب تک مجھے سیاست میں آنے کا موقع نہ ملے۔ ہم نے ہمیشہ ووٹ دیا لیکن کوئی اثر نہیں دیکھا۔ ہمارے مقامی سیاسی رہنما ہماری بنیادی ضروریات اور مسائل سے بے پروا دکھائی دیتے ہیں‘۔</p>
<p>یہ ایک جرأت مندانہ قدم ہے وہ بھی اُس عورت کے لیے جسے محض گھر سے باہر کام کرنے پر چند سال پہلے ہی سماجی طور پر تنہا کر دیا گیا تھا۔ اب وہ ایسے مضبوط اثر و رسوخ والے سیاستدانوں کے مقابلے میں کھڑی ہوں گی جن کے پاس وسائل بھی ہیں اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کے طریقے بھی۔</p>
<p>ایس آر ایس او کے کارکن خادم شر کا ماننا ہے کہ نوشابہ جیسی خواتین معاشرتی تبدیلی کی اہم محرک ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ‘ایسے معاشروں میں جہاں ثقافتی پابندیاں اور سخت روایات غالب ہوں، اس کی کہانی ایک طاقتور مثال کے طور پر سامنے آتی ہے‘۔</p>
<p>نوشابہ کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ ایک سادہ سی حقیقت سے پیدا ہوا جو یہ تھی کہ ادارہ جاتی طاقت کے بغیر جدوجہد بھی محدود ہوتی ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور مقامی رہنما مسلسل ان کی برادری کے مسائل کو نظر انداز کرتے آئے ہیں اور وہ سیاسی میدان میں ایک مضبوط آواز بننا چاہتی ہیں۔</p>
<p>وہ کہتی ہیں، ‘میرا گاؤں میری دنیا ہے اور میں یہاں رہنے والے ہر فرد کے لیے اسے بہتر بنانا چاہتی ہوں۔ ہماری خواتین مختلف مسائل میں مبتلا ہیں۔ یہ ان کی تقدیر نہیں بلکہ انتظامی خامیوں کی وجہ سے ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہم زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی لا سکیں گے’۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953908/society-a-woman-on-the-verge">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273714</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 14:04:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اختر حفیظ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1411143672d0258.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1411143672d0258.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں بقا کی جدوجہد کرتے نایاب پرندے جن کے وجود سے ہم ناآشنا ہیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273672/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ سب ایک عام سی شام میں رات کے کھانے کے بعد بھاپ اٹھتے چائے کے کپ سے شروع ہوا۔ میں نے ایک لمبے درخت پر ہریال نامی پیلے پنجوں والے سبز کبوتر کی احتیاط سے اپنا گھونسلا بناتے ہوئے ایک ویڈیو اپنے دوستوں کو دکھائی۔ میرے دوستوں کا ردعمل یہ تھا کہ وہ ششدر تھے اور وہ یقین نہ کرنے کی کیفیت میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کیا ایسا کبوتر پایا جاتا ہے؟ اور پاکستان میں؟‘ ان کے چہروں کے تاثرات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اگرچہ ہم ایشیا کے سب سے زرخیز پرندوں والے ماحولیاتی نظام میں رہتے ہیں لیکن یہاں پائے جانے والے بیشتر پرندے اب بھی ہمارے لیے اجنبی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم شاہین کو سراہتے ہیں، فاختہ کو محبت کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ چڑیوں کی کم ہوتی تعداد پر افسوس کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں 700 سے زائد پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر ہماری ثقافتی یادداشت کا حصہ نہیں جنہیں ہم جانتے بھی نہیں۔ اس ماحولیاتی نظام میں ہمارے ان بھولے بسرے ہمسایوں میں تین پرندے اپنی انفرادیت کے باعث نمایاں ہیں جوکہ ہریال، رولر اور ہارن بل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے ہر ایک پرندہ ہمارے ماحولیاتی نظام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے اور ہر ایک ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ہمیں فطرت کے ساتھ بقائے باہمی کا مطلب سمجھاتی ہے خاص طور پر ایسے دور میں کہ جب ہم نے اپنے اردگرد کے ماحول پر توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سایہ-دار-درختوں-پر-بسیرا-کرنے-والے-ہریال" href="#سایہ-دار-درختوں-پر-بسیرا-کرنے-والے-ہریال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سایہ دار درختوں پر بسیرا کرنے والے ہریال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112700b6d015e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112700b6d015e.webp'  alt='ہریال اپنی رنگت کی وجہ سے ماحول میں پوشیدہ ہونے کا فن رکھتا ہے&amp;mdash;تصویر: لکھاری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہریال اپنی رنگت کی وجہ سے ماحول میں پوشیدہ ہونے کا فن رکھتا ہے—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام کبوتروں کے برعکس جو لاہور کی لبرٹی مارکیٹ یا صدر میں زمین پر ٹکڑے چن کر کھاتے ہیں، ہریال کا سائنسی نام Treron phoenicoptera ہے جوکہ چھتری دار درختوں پر بسیرا کرنے والی مخلوق ہے۔ زیتون جیسی سبز رنگت کے ساتھ ان کبوتروں کا قدرتی ماحول کے ساتھ ایسا امتزاج بنتا ہے کہ یہ اکثر نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود اوجھل ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ جب یہ کُھلی جگہ پر بیٹھے ہوں تب بھی وہ نظر نہیں آ پاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہریال ایسے پرندے ہیں جو صرف پھلوں کی خوراک پر زندہ رہتے ہیں۔ یہ برگد، پیپل (مقدس برگد)، نیم اور دیگر پھل دار درختوں سے غذائیت حاصل کرتے ہیں اور انجیر اور بیریز کو بغیر چبائے نگل جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجوں کو طویل فاصلے تک پھیلانے کا کام کرکے یہ پاکستان کے باغات میں باغبان کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ ان کے گھونسلے چَھڑیوں سے بنے ہوتے ہیں جو اکثر بلند درختوں پر بنائے جاتے ہیں۔ مادہ دو سفید انڈے دیتی ہے جنہیں دونوں والدین باری باری سینکتے ہیں۔ ان کی نرم کو کو کی آواز شہر کے کبوتروں کی نسبت زیادہ پُرسکون اور مراقبے کی طرح لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہریال زیادہ تر اپنے گھونسلوں کے قریب رہنے والے پرندے ہیں لیکن جب پھل دار درخت پھل دیتے ہیں تو وہ مقامی طور پر گھومتے ہیں۔ جب کچھ درخت پک جاتے ہیں تو پورے ریوڑ خوراک کے لیے حرکت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) انہیں مجموعی طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار قرار نہیں دیتی اور یہ جنوبی ایشیا میں اب بھی عام ہیں۔ لیکن پاکستان میں ان کے گھر ختم کیے جا رہے ہیں۔ دیہاتوں اور قصبوں میں پرانے درختوں کو کاٹنے کا مطلب ہے کہ ان کے گھونسلوں اور خوراک کے لیے درختوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ چونکہ وہ نظر نہیں آتے اور لوگ انہیں درپیش خطرات کو نہیں دیکھتے، اس لیے ان کی نسل اور بھی زیادہ کمزور ہوتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہریال کا خاموش وجود یاد دلاتا ہے کہ تمام کبوتر دھول اور کنکریٹ کے درمیان نہیں رہتے۔ ان میں سے کچھ جنگلات کے احساس اور پھل دار درختوں کی یاد میں مسکن بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آسمان-میں-کرتب-دکھانے-والے-رولرز" href="#آسمان-میں-کرتب-دکھانے-والے-رولرز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آسمان میں کرتب دکھانے والے رولرز&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13113156272c54d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13113156272c54d.webp'  alt='رولرز کھیتوں کو کیڑوں سے پاک کرنے کا اہم کام کرتا ہے&amp;mdash;تصویر: پن ٹرسٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رولرز کھیتوں کو کیڑوں سے پاک کرنے کا اہم کام کرتا ہے—تصویر: پن ٹرسٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں ہریال اپنی رنگت کی وجہ سے ماحول میں پوشیدہ رہتا ہے وہیں رولر (Coracias benghalensis) طمطراق سے نمایاں ہوتا ہے۔ یہ پرندہ اپنی فیروزی، کوبالٹ اور بھوری رنگت کی وجہ سے سورج کی روشنی میں چمکتا ہے کہ جب یہ اپنے ساتھی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوا میں کرتب کرتے ہوئے گھومتا ہے۔ ایکروبیٹک پروازوں کی وجہ سے اسے ’رولر‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رولر بڑے کیڑے مکوڑوں، بھنبھوروں، ٹڈی دل اور کبھی کبھار چھوٹے رینگنے والے جانوروں کو بطور غذا استعمال کرتے ہیں۔ کھیتوں کے کنارے بجلی کے تاروں یا کھمبوں پر بیٹھ کر یہ شکار پر حیران کُن رفتار سے جھپٹتے ہیں۔ کسان کیڑوں سے نجات دلانے کی وجہ سے خاموشی سے رولر کی قدر کرتے ہیں اور وہ اس بارے میں کم ہی بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رولر اپنے گھونسلے درختوں کے سوراخوں میں یا کبھی کبھار عمارتوں کی دراڑوں میں بناتے ہیں۔ یہ تقریباً تین سے پانچ انڈے دیتے ہیں۔ افزائشِ نسل کے موسم میں رولر کے ہوائی کرتب اور بھی شاندار ہو جاتے ہیں اور ان کے لیے کھیتوں کا آسمان ایک اسٹیج میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رولر زیادہ تر پاکستان کے میدانی علاقوں میں رہتے ہیں حالانکہ بعض اوقات موسم سرما میں شمال سے پرندے جنوب کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔ یہ شاہراہوں اور کھیتوں سے گزرتے  آسانی سے نظر آجاتے ہیں۔ آئی یو سی این ان کی معدومیت کے حوالے سے تشویش ظاہر نہیں کرتا، اس لیے یہ بھی عام ہیں۔ تاہم بہت سے کھیتوں کے پرندوں کی طرح، انہیں کیڑے مار ادویات کے بھاری استعمال سے خطرہ لاحق ہے۔ ان علاقوں میں جہاں کیمیکلز کی وجہ سے کیڑے مر جاتے ہیں، رولر کی تعداد میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رولر پاکستان میں اپنا الگ ایئرشو پیش کرتے ہیں جہاں وہ زرعی زمینوں کے اوپر آسمان میں رنگوں اور کرتب کا مظاہرہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم میں سے بیشتر انہیں دیکھ کر بھی نظر انداز کردیتے ہیں کیونکہ ہماری نظریں سڑکوں پر جمی ہوتی ہیں جن پر ہم سفر کررہے ہوتے ہیں اور اوپر اُڑتے چھوٹے پرندوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے کرتب پر ہم نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قدیم-جنگلات-کا-نگہبان-ہارن-بل" href="#قدیم-جنگلات-کا-نگہبان-ہارن-بل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قدیم جنگلات کا نگہبان، ہارن بل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112341e333b66.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112341e333b66.webp'  alt='ہارن بل کے پروں کی آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے&amp;mdash;تصویر: لکھاری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہارن بل کے پروں کی آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں رولر اپنی رنگت سے محظوظ کرتا ہے اور ہریال چھپ جاتا ہے، وہیں ہارن بل سب کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اپنے بڑی خمیدہ چونچ اور اوپر سجے کسک کے ساتھ، ہارن بل ایسا پرندہ لگتا ہے کہ گویا اس کا تعلق قبل از تاریخ کے وقت سے ہو جیسے وہ ڈایناسورز کے دور کی بازگشت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ پاکستان میں ہندوستانی گرے ہارن بل (Ocyceros birostris) سب سے زیادہ عام ہیں جو سندھ، جنوبی پنجاب اور دیگر مقامات کے پرانے درختوں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارن بل ویسے تو پھل خور پرندے ہیں لیکن یہ کیڑے مکوڑے، چھپکلیاں اور حتیٰ کہ چھوٹے ممالیہ جانور بھی کھاتے ہیں۔ پھلوں کے بیج پھیلانے میں ان کا کردار بھی بےمثال ہے۔ یہ بڑے پھل بغیر چبائے نگل جاتے ہیں اور بیج کو اصل درخت سے دور پھینک دیتے ہیں جس سے جنگل کی تجدید یقینی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارن بل پرندوں میں گھونسلے بنانے کی سب سے حیرت انگیز عادت ہے۔ مادہ درخت کے ایک سوراخ میں جاتی ہے اور اپنے آپ کو کیچڑ سے اندر بند کر لیتی ہے جس سے صرف ایک چھوٹا سا کٹا ہوا حصہ رہ جاتا ہے۔ نر اس کے لیے کھانا لاتا ہے اور بعد میں بچوں کو بھی اسی سوراخ سے خوراک دیتا ہے۔ وہ اس وقت تک بند رہتی ہے جب تک کہ بچے اتنے مضبوط نہ ہوجائیں کہ وہ گھونسلے سے نکل جائیں۔ یہ غیرمعمولی طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہارن بل زندہ رہنے کے لیے ٹیم ورک اور پرانے بڑے درختوں پر کتنا انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارن بل ہجرت نہیں کرتے، وہ پورا سال ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں۔ جب جنگلات کاٹے جاتے ہیں تو اس سے ان کے ٹھکانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہندوستانی گرے ہارن بل کو اب بھی معدومیت کے خطرات سے دوچار نہیں سمجھا جاتا لیکن چونکہ یہ بڑے، پرانے درختوں پر منحصر ہے، اس لیے درختوں کی کٹائی کا معاملہ ان کے لیے حساس ہے۔ شہری ترقی اور پرانے درختوں کی کٹائی ان پرندوں کو آہستہ آہستہ ان مقامات سے باہر جانے پر مجبور کر رہی ہے جو کبھی ان کے مسکن ہوا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُڑتے ہارن بل کے پروں کی مضبوط آوازیں اور اس کی شان سے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی قدیم زمانے کا حصہ ہیں۔ انہیں کھونے کا مطلب فطرت کی ایک زندہ کہانی کو کھونا ہوگا جو ابھی تک ہمارے جنگلات میں چل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب لوگ پاکستان کے ماحول کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ عام طور پر ڈرامائی مثالوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جیسے برفانی چیتے، انڈس ڈولفن یا مینگروو کے جنگلات وغیرہ۔ ان پرندوں کی پُرسکون زندگی اس ماحولیاتی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ ہریال پھلدار درختوں کی نمائندگی کرتے ہیں، رولر کیڑوں والے کھیتوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ہارن بل پرانے جنگلات کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان پر دھیان دینے کا مطلب ہمارے اردگرد فطرت میں اب بھی کیا مخلوقات زندہ ہیں، ان پر توجہ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا مسئلہ صرف انواع ختم ہونا نہیں بلکہ توجہ ختم ہونا بھی ہے۔ ہماری ثقافت میں جب کوئی پرندہ پوشیدہ ہوجاتا ہے تو اس کے زوال پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اگر میرے پڑھے لکھے دوست بھی ہریال کبوتر کے بارے میں نہیں جانتے تو ہم ان سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ جب اس کے باغات کاٹے جائیں گے تو انہیں بچانے کے لیے مدد کو کوئی آئے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم انہیں نظرانداز کرنا چھوڑ سکتے ہیں جس کے لیے ہمیں زیادہ کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ پھلدار درختوں پر نظر رکھنا ہوگی جہاں زیتون رنگ کی ایک جھلک بھی ہریال ہوسکتا ہے۔ گندم کے کھیت کے پاس گاڑی روک کر فیروزی رنگ کے رولر کے کرتب کا مشاہدہ کرنا ہوگا۔ سندھ کے کسی پرانے باغ میں چلے جائیں اور اگر قسمت نے اجازت دی تو آپ ہارن بل کے پھڑپھڑاتے پَر کی گہری آوازیں بھی سن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرندے یہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ سے یہیں ہیں۔ جو چیز نہیں ہے وہ ہماری توجہ نہ دینے کی عادت ہے۔ اور توجہ دے کر ہی ہم ان کے تحفظ کے لیے پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953904/wildlife-the-fading-birds-of-pakistan"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ سب ایک عام سی شام میں رات کے کھانے کے بعد بھاپ اٹھتے چائے کے کپ سے شروع ہوا۔ میں نے ایک لمبے درخت پر ہریال نامی پیلے پنجوں والے سبز کبوتر کی احتیاط سے اپنا گھونسلا بناتے ہوئے ایک ویڈیو اپنے دوستوں کو دکھائی۔ میرے دوستوں کا ردعمل یہ تھا کہ وہ ششدر تھے اور وہ یقین نہ کرنے کی کیفیت میں تھے۔</p>
<p>’کیا ایسا کبوتر پایا جاتا ہے؟ اور پاکستان میں؟‘ ان کے چہروں کے تاثرات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اگرچہ ہم ایشیا کے سب سے زرخیز پرندوں والے ماحولیاتی نظام میں رہتے ہیں لیکن یہاں پائے جانے والے بیشتر پرندے اب بھی ہمارے لیے اجنبی ہیں۔</p>
<p>ہم شاہین کو سراہتے ہیں، فاختہ کو محبت کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ چڑیوں کی کم ہوتی تعداد پر افسوس کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں 700 سے زائد پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر ہماری ثقافتی یادداشت کا حصہ نہیں جنہیں ہم جانتے بھی نہیں۔ اس ماحولیاتی نظام میں ہمارے ان بھولے بسرے ہمسایوں میں تین پرندے اپنی انفرادیت کے باعث نمایاں ہیں جوکہ ہریال، رولر اور ہارن بل ہیں۔</p>
<p>ان میں سے ہر ایک پرندہ ہمارے ماحولیاتی نظام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے اور ہر ایک ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ہمیں فطرت کے ساتھ بقائے باہمی کا مطلب سمجھاتی ہے خاص طور پر ایسے دور میں کہ جب ہم نے اپنے اردگرد کے ماحول پر توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔</p>
<h1><a id="سایہ-دار-درختوں-پر-بسیرا-کرنے-والے-ہریال" href="#سایہ-دار-درختوں-پر-بسیرا-کرنے-والے-ہریال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سایہ دار درختوں پر بسیرا کرنے والے ہریال</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112700b6d015e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112700b6d015e.webp'  alt='ہریال اپنی رنگت کی وجہ سے ماحول میں پوشیدہ ہونے کا فن رکھتا ہے&mdash;تصویر: لکھاری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہریال اپنی رنگت کی وجہ سے ماحول میں پوشیدہ ہونے کا فن رکھتا ہے—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>عام کبوتروں کے برعکس جو لاہور کی لبرٹی مارکیٹ یا صدر میں زمین پر ٹکڑے چن کر کھاتے ہیں، ہریال کا سائنسی نام Treron phoenicoptera ہے جوکہ چھتری دار درختوں پر بسیرا کرنے والی مخلوق ہے۔ زیتون جیسی سبز رنگت کے ساتھ ان کبوتروں کا قدرتی ماحول کے ساتھ ایسا امتزاج بنتا ہے کہ یہ اکثر نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود اوجھل ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ جب یہ کُھلی جگہ پر بیٹھے ہوں تب بھی وہ نظر نہیں آ پاتے۔</p>
<p>ہریال ایسے پرندے ہیں جو صرف پھلوں کی خوراک پر زندہ رہتے ہیں۔ یہ برگد، پیپل (مقدس برگد)، نیم اور دیگر پھل دار درختوں سے غذائیت حاصل کرتے ہیں اور انجیر اور بیریز کو بغیر چبائے نگل جاتے ہیں۔</p>
<p>بیجوں کو طویل فاصلے تک پھیلانے کا کام کرکے یہ پاکستان کے باغات میں باغبان کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ ان کے گھونسلے چَھڑیوں سے بنے ہوتے ہیں جو اکثر بلند درختوں پر بنائے جاتے ہیں۔ مادہ دو سفید انڈے دیتی ہے جنہیں دونوں والدین باری باری سینکتے ہیں۔ ان کی نرم کو کو کی آواز شہر کے کبوتروں کی نسبت زیادہ پُرسکون اور مراقبے کی طرح لگتی ہے۔</p>
<p>ہریال زیادہ تر اپنے گھونسلوں کے قریب رہنے والے پرندے ہیں لیکن جب پھل دار درخت پھل دیتے ہیں تو وہ مقامی طور پر گھومتے ہیں۔ جب کچھ درخت پک جاتے ہیں تو پورے ریوڑ خوراک کے لیے حرکت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) انہیں مجموعی طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار قرار نہیں دیتی اور یہ جنوبی ایشیا میں اب بھی عام ہیں۔ لیکن پاکستان میں ان کے گھر ختم کیے جا رہے ہیں۔ دیہاتوں اور قصبوں میں پرانے درختوں کو کاٹنے کا مطلب ہے کہ ان کے گھونسلوں اور خوراک کے لیے درختوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ چونکہ وہ نظر نہیں آتے اور لوگ انہیں درپیش خطرات کو نہیں دیکھتے، اس لیے ان کی نسل اور بھی زیادہ کمزور ہوتی جارہی ہے۔</p>
<p>ہریال کا خاموش وجود یاد دلاتا ہے کہ تمام کبوتر دھول اور کنکریٹ کے درمیان نہیں رہتے۔ ان میں سے کچھ جنگلات کے احساس اور پھل دار درختوں کی یاد میں مسکن بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<h1><a id="آسمان-میں-کرتب-دکھانے-والے-رولرز" href="#آسمان-میں-کرتب-دکھانے-والے-رولرز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آسمان میں کرتب دکھانے والے رولرز</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13113156272c54d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13113156272c54d.webp'  alt='رولرز کھیتوں کو کیڑوں سے پاک کرنے کا اہم کام کرتا ہے&mdash;تصویر: پن ٹرسٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رولرز کھیتوں کو کیڑوں سے پاک کرنے کا اہم کام کرتا ہے—تصویر: پن ٹرسٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>جہاں ہریال اپنی رنگت کی وجہ سے ماحول میں پوشیدہ رہتا ہے وہیں رولر (Coracias benghalensis) طمطراق سے نمایاں ہوتا ہے۔ یہ پرندہ اپنی فیروزی، کوبالٹ اور بھوری رنگت کی وجہ سے سورج کی روشنی میں چمکتا ہے کہ جب یہ اپنے ساتھی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوا میں کرتب کرتے ہوئے گھومتا ہے۔ ایکروبیٹک پروازوں کی وجہ سے اسے ’رولر‘ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>رولر بڑے کیڑے مکوڑوں، بھنبھوروں، ٹڈی دل اور کبھی کبھار چھوٹے رینگنے والے جانوروں کو بطور غذا استعمال کرتے ہیں۔ کھیتوں کے کنارے بجلی کے تاروں یا کھمبوں پر بیٹھ کر یہ شکار پر حیران کُن رفتار سے جھپٹتے ہیں۔ کسان کیڑوں سے نجات دلانے کی وجہ سے خاموشی سے رولر کی قدر کرتے ہیں اور وہ اس بارے میں کم ہی بات کرتے ہیں۔</p>
<p>رولر اپنے گھونسلے درختوں کے سوراخوں میں یا کبھی کبھار عمارتوں کی دراڑوں میں بناتے ہیں۔ یہ تقریباً تین سے پانچ انڈے دیتے ہیں۔ افزائشِ نسل کے موسم میں رولر کے ہوائی کرتب اور بھی شاندار ہو جاتے ہیں اور ان کے لیے کھیتوں کا آسمان ایک اسٹیج میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>رولر زیادہ تر پاکستان کے میدانی علاقوں میں رہتے ہیں حالانکہ بعض اوقات موسم سرما میں شمال سے پرندے جنوب کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔ یہ شاہراہوں اور کھیتوں سے گزرتے  آسانی سے نظر آجاتے ہیں۔ آئی یو سی این ان کی معدومیت کے حوالے سے تشویش ظاہر نہیں کرتا، اس لیے یہ بھی عام ہیں۔ تاہم بہت سے کھیتوں کے پرندوں کی طرح، انہیں کیڑے مار ادویات کے بھاری استعمال سے خطرہ لاحق ہے۔ ان علاقوں میں جہاں کیمیکلز کی وجہ سے کیڑے مر جاتے ہیں، رولر کی تعداد میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔</p>
<p>یہ رولر پاکستان میں اپنا الگ ایئرشو پیش کرتے ہیں جہاں وہ زرعی زمینوں کے اوپر آسمان میں رنگوں اور کرتب کا مظاہرہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم میں سے بیشتر انہیں دیکھ کر بھی نظر انداز کردیتے ہیں کیونکہ ہماری نظریں سڑکوں پر جمی ہوتی ہیں جن پر ہم سفر کررہے ہوتے ہیں اور اوپر اُڑتے چھوٹے پرندوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے کرتب پر ہم نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔</p>
<h1><a id="قدیم-جنگلات-کا-نگہبان-ہارن-بل" href="#قدیم-جنگلات-کا-نگہبان-ہارن-بل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قدیم جنگلات کا نگہبان، ہارن بل</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112341e333b66.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/13112341e333b66.webp'  alt='ہارن بل کے پروں کی آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے&mdash;تصویر: لکھاری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہارن بل کے پروں کی آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>جہاں رولر اپنی رنگت سے محظوظ کرتا ہے اور ہریال چھپ جاتا ہے، وہیں ہارن بل سب کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اپنے بڑی خمیدہ چونچ اور اوپر سجے کسک کے ساتھ، ہارن بل ایسا پرندہ لگتا ہے کہ گویا اس کا تعلق قبل از تاریخ کے وقت سے ہو جیسے وہ ڈایناسورز کے دور کی بازگشت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ پاکستان میں ہندوستانی گرے ہارن بل (Ocyceros birostris) سب سے زیادہ عام ہیں جو سندھ، جنوبی پنجاب اور دیگر مقامات کے پرانے درختوں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>ہارن بل ویسے تو پھل خور پرندے ہیں لیکن یہ کیڑے مکوڑے، چھپکلیاں اور حتیٰ کہ چھوٹے ممالیہ جانور بھی کھاتے ہیں۔ پھلوں کے بیج پھیلانے میں ان کا کردار بھی بےمثال ہے۔ یہ بڑے پھل بغیر چبائے نگل جاتے ہیں اور بیج کو اصل درخت سے دور پھینک دیتے ہیں جس سے جنگل کی تجدید یقینی ہوتی ہے۔</p>
<p>ہارن بل پرندوں میں گھونسلے بنانے کی سب سے حیرت انگیز عادت ہے۔ مادہ درخت کے ایک سوراخ میں جاتی ہے اور اپنے آپ کو کیچڑ سے اندر بند کر لیتی ہے جس سے صرف ایک چھوٹا سا کٹا ہوا حصہ رہ جاتا ہے۔ نر اس کے لیے کھانا لاتا ہے اور بعد میں بچوں کو بھی اسی سوراخ سے خوراک دیتا ہے۔ وہ اس وقت تک بند رہتی ہے جب تک کہ بچے اتنے مضبوط نہ ہوجائیں کہ وہ گھونسلے سے نکل جائیں۔ یہ غیرمعمولی طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہارن بل زندہ رہنے کے لیے ٹیم ورک اور پرانے بڑے درختوں پر کتنا انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>ہارن بل ہجرت نہیں کرتے، وہ پورا سال ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں۔ جب جنگلات کاٹے جاتے ہیں تو اس سے ان کے ٹھکانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہندوستانی گرے ہارن بل کو اب بھی معدومیت کے خطرات سے دوچار نہیں سمجھا جاتا لیکن چونکہ یہ بڑے، پرانے درختوں پر منحصر ہے، اس لیے درختوں کی کٹائی کا معاملہ ان کے لیے حساس ہے۔ شہری ترقی اور پرانے درختوں کی کٹائی ان پرندوں کو آہستہ آہستہ ان مقامات سے باہر جانے پر مجبور کر رہی ہے جو کبھی ان کے مسکن ہوا کرتے تھے۔</p>
<p>اُڑتے ہارن بل کے پروں کی مضبوط آوازیں اور اس کی شان سے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی قدیم زمانے کا حصہ ہیں۔ انہیں کھونے کا مطلب فطرت کی ایک زندہ کہانی کو کھونا ہوگا جو ابھی تک ہمارے جنگلات میں چل رہی ہے۔</p>
<p>جب لوگ پاکستان کے ماحول کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ عام طور پر ڈرامائی مثالوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جیسے برفانی چیتے، انڈس ڈولفن یا مینگروو کے جنگلات وغیرہ۔ ان پرندوں کی پُرسکون زندگی اس ماحولیاتی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ ہریال پھلدار درختوں کی نمائندگی کرتے ہیں، رولر کیڑوں والے کھیتوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ہارن بل پرانے جنگلات کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان پر دھیان دینے کا مطلب ہمارے اردگرد فطرت میں اب بھی کیا مخلوقات زندہ ہیں، ان پر توجہ دینا ہے۔</p>
<p>ہمارا مسئلہ صرف انواع ختم ہونا نہیں بلکہ توجہ ختم ہونا بھی ہے۔ ہماری ثقافت میں جب کوئی پرندہ پوشیدہ ہوجاتا ہے تو اس کے زوال پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اگر میرے پڑھے لکھے دوست بھی ہریال کبوتر کے بارے میں نہیں جانتے تو ہم ان سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ جب اس کے باغات کاٹے جائیں گے تو انہیں بچانے کے لیے مدد کو کوئی آئے گا؟</p>
<p>ہم انہیں نظرانداز کرنا چھوڑ سکتے ہیں جس کے لیے ہمیں زیادہ کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ پھلدار درختوں پر نظر رکھنا ہوگی جہاں زیتون رنگ کی ایک جھلک بھی ہریال ہوسکتا ہے۔ گندم کے کھیت کے پاس گاڑی روک کر فیروزی رنگ کے رولر کے کرتب کا مشاہدہ کرنا ہوگا۔ سندھ کے کسی پرانے باغ میں چلے جائیں اور اگر قسمت نے اجازت دی تو آپ ہارن بل کے پھڑپھڑاتے پَر کی گہری آوازیں بھی سن سکتے ہیں۔</p>
<p>پرندے یہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ سے یہیں ہیں۔ جو چیز نہیں ہے وہ ہماری توجہ نہ دینے کی عادت ہے۔ اور توجہ دے کر ہی ہم ان کے تحفظ کے لیے پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953904/wildlife-the-fading-birds-of-pakistan">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273672</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 13:20:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صہیب ایاز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/13112930ae1a4b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/13112930ae1a4b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل: قانون میں موجود سقم قاتلوں کو کیسے بچاتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273377/pakistan-mein-ghairat-ke-naam-par-qatal-kanoon-mein-majood-saqam-qatilon-ko-kaise-bachate-hain</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ اکتوبر، بلال نے کراچی کے لیاری تھانے میں بیٹھ کر بتایا کہ اس نے اپنے خاندان کی چار خواتین کو کیوں قتل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو کچھ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا، اس کے مطابق یہ غیرت کا معاملہ نہیں تھا۔ اس کی گرل فرینڈ گھر کے کاغذات پر اپنا نام چاہتی تھی جس سے اس کی ماں نے انکار کر دیا تھا۔ اس کی بہنوں نے ٹک ٹاک پر اس کا مذاق اڑایا۔ چنانچہ اس نے ان سب کو قتل کر دیا، مقتولین میں اس کی ماں شمشاد، بہنیں مدیحہ اور عائشہ اور اس کی 9 سالہ بھانجی شامل ہیں۔ قتل کے بعد بلال نے خنجر کو سمندر میں پھینک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیس کے تفتیش کار کراچی کے ضلع جنوبی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عارف عزیز کا کہنا ہے کہ ’بلال نے اسے غیرت کا معاملہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ قتل جائیداد اور کنٹرول کے لیے کیا گیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ڈان کو بتاتے ہیں کہ ’بلال کا خاندان روشن خیال اور طاقتور تھا جو مردانہ تسلط کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال پر الزامات کی چارج شیٹ کے مطابق، اس نے قتل کے ثبوت چھوڑنے سے بچنے کے لیے بھارتی کرائم سیریز کرائم پیٹرول دیکھی تھی۔ یہ مقدمہ ابھی عدالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ بلال کا معاملہ ایک پریشان کُن ارتقا کو ظاہر کرتا ہے جہاں غیرت اب جائیداد کے تنازعات، مردانہ عدم تحفظ اور پدرشاہی نظام کو اہمیت نہ ملنے کے باعث غصے میں کیے جانے والے قتل کے لیے ایک قانونی ڈھال بن چکی ہے۔ اب کچھ دعویٰ کریں گے کہ ایسا تو ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غیرت-قتل-کے-لیے-ڈھال" href="#غیرت-قتل-کے-لیے-ڈھال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غیرت، قتل کے لیے ڈھال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بلال کے معاملے سے دو سال قبل، پاکستان کے شمال مغرب میں قبائلی ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان جوڑا اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے بعد کراچی فرار ہوگیا تھا۔ یوں وہ ایک جرگے سے بچ گئے تھے جس نے ان کی موت کا حکم دیا تھا۔ جوڑے نے شہر بدلے۔ پہلے وہ لاہور، پھر کراچی گئے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ دور جانے سے ان کی جان بچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 اکتوبر 2024ء کو مسلح افراد نے انہیں لیاری کے ایک بھرے بازار میں دیکھ لیا اور گولی مار کر وہیں قتل کر دیا۔ کسی نے مداخلت نہیں کی۔ کسی نے گواہی نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’باجوڑ تک قاتلوں کا پیچھا کون کرے گا؟‘ نیپئر پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بیان دیا جس کی حدودِ تھانہ میں یہ قتل ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264623'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپئر تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) فدا مروت نے ڈان کو بتایا کہ مقتول کے رشتہ داروں نے لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا۔ ساتھ ہی ایس ایچ نے بتایا کہ ’ورثا نے کہا کہ یہ اچھا ہی ہوا کہ وہ مارا گیا کیونکہ اس نے انہیں شرمندہ کیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 ماہ قبل، کراچی میں گلشن اقبال کے قریب معزز معالج ڈاکٹر رفیق احمد شیخ نے اپنی 16 سالہ بیٹی اور اس کے 17 سالہ بوائے فرینڈ کو ان کا رشتہ معلوم ہونے پر قتل کر دیا۔ ڈاکٹر نے خود پولیس کو قتل کا اعتراف کرنے کے لیے بلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیر جیل میں مقدمے کی سماعت کا انتظار کرتے ڈاکٹر رفیق ڈان کو بتاتے ہیں، ’انہوں نے (لڑکے کے اہل خانہ) نے رشتہ کیوں نہیں بھیجا؟ میں ایک باپ ہوں جس نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ذوالفقار پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رفیق اور قتل میں ساتھ دینے والے ان کے بیٹے، جیل میں آرام دہ وقت گزار رہے ہیں وہ کہتے ہیں، ’ان کے پاس پیسہ اور روابط ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وہ بچ جائیں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید وہ بچ بھی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قانونی-چارہ-جوئی" href="#قانونی-چارہ-جوئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قانونی چارہ جوئی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا قانونی ضابطہ اب بھی غیرت کے نام پر قتل کرنے والے قاتلوں کو ’اسلامی‘ انصاف کے لبادے میں فرار کا راستہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 309 اور 310 کی سابقہ دفعات قصاص اور دیت کی دفعات کے تحت مقتول کا خاندان اکثر خون کے بدلے میں قاتل کو معاف کر سکتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل میں، اس نے ایک مضحکہ خیز تضاد پیدا کیا ہے کیونکہ زیادہ تر معاملات میں قاتل خاندان کے افراد ہی ہوتے ہیں۔ وہ تو خود کو معاف کر سکتے تھے۔ دفعہ 306 میں واضح طور پر ان والدین کو مستثنیٰ قرار دیا گیا جنہوں نے اپنے بچوں کو قصاص یا انتقام میں قتل کیا۔ اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے باپ کو ’اسلامی‘ قانون کے تحت پھانسی نہیں دی جا سکتی، چاہے وہ مجرم ثابت ہی کیوں نہ ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264586'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ علی برکت بلوچ ڈان کو بتاتے ہیں، ’ان دفعات سے قاتلوں کو آزاد ہونے کا موقع ملا۔ قاتل، وارث اور معاف کرنے والے اکثر ایک ہی لوگ ہوتے ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2004ء اور 2005ء میں، پاکستان نے اپنے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے قوانین میں ترمیم کی تاکہ اس خامی کو ٹھیک کیا جاسکے۔ یہ اصلاحات ناکام ہوگئیں۔ لیکن 2016ء میں، سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے قتل کے بعد، پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون (مجرمانہ ترمیمی ایکٹ) پاس کیا تاکہ اس فرق کو ختم کیا جا سکے اور عمر قید کی سزا کا حکم دیا جا سکے پھر چاہے قاتل کو اہل خانہ معاف ہی کیوں نہ کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ صباحت رضوی ڈان کو بتاتی ہیں کہ اس کا مثبت اثر ہوا ہے، ’اس نے استغاثہ کے مقدمات کو تقویت بخشی اور سزا کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ اب، یہ ایک ریاستی جرم ہے، یہاں تک کہ جب فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ یا سمجھوتہ طے پا گیا ہو تب بھی یہ قابلِ سزا جرم ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق، اب بھی سالانہ سیکڑوں خواتین کو ’غیرت‘ کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ کمیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں کم از کم 894 واقعات رونما ہوئے جن میں سندھ اور پنجاب میں 80 فیصد اموات ہوئیں۔ 2025ء میں پاکستان بھر میں اب تک ایسے 690 قتل دستاویز ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں سے نصف کے قریب قتل سندھ میں ہوئے ہیں جن میں 27 قتل کراچی میں ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کے ہیڈکوارٹر سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ، میپنگ جینڈر بیسڈ وائلنس (جی بی وی) 2024ء کے مطابق سزا کا معیار بھی ناقص ہے جس میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے معاملات میں سزا کی شرح 0.5 فیصد پائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شہری-علاقوں-میں-پنجے-گاڑھ-رہا-ہے" href="#شہری-علاقوں-میں-پنجے-گاڑھ-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’شہری علاقوں میں پنجے گاڑھ رہا ہے‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر کریم احمد خواجہ کا استدلال ہے کہ کراچی میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ ایک سنگین بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ پدرشاہی نظام شہر کاری کے بوجھ تلے منہدم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کریم کہتے ہیں، ’دیہی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا سے نقل مکانی کی وجہ سے کراچی میں جاگیردارانہ ذہنیت پروان چڑھی ہے۔ لیکن شہر خواتین کو تعلیم، نوکریاں، نقل و حرکت فراہم کرتے ہیں جوکہ ایسی چیزیں ہیں جو اسے مردوں کے کنٹرول کے لیے خطرہ بناتی ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کریم احمد خواجہ موجودہ بحران کو 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کی ’اسلامائزیشن‘ پالیسیز سے جوڑتے ہیں جس نے خواتین کی شائستگی اور خودمختاری کو سماجی نظام کے لیے خطرات کے طور پر دوبارہ بیان کیا۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’خواتین اجتماعی نفسیات میں کم انسان تصور کی جانے لگیں۔ معاشرے نے آزاد خواتین کو بے حیائی، سزا کی مستحق کے طور پر دیکھنا شروع کردیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا علاج کرنے کے لیے قاتلوں کو پناہ دینے والے خاندانوں کے لیے اجتماعی سزا کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعہ سماجیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر ریاض احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ریاست کو سزا سے آگے بڑھ کر روک تھام میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ ڈان کو بتاتے ہیں، ’ان جوڑوں کے لیے پناہ گاہیں اور امدادی گھر بنائے جائیں جو اپنی پسند سے شادی کرتے ہیں۔ خاندانوں کے ساتھ مشاورت، ہنر کی تربیت اور ثالثی فراہم کی جائے اور انہیں اپنے گھر واپسی کا راستہ دیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ریاض نے زور دیا کہ صرف تعلیم سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ’کراچی یونیورسٹی ڈریس کوڈ پر بحث کرتی ہے جبکہ پڑھے لکھے ڈاکٹرز اپنی بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں۔ یہ خواندگی کے بارے میں نہیں ہے، یہ مسلسل سماجی مداخلت کے ذریعے بننے والی ذہنی سوچ میں اصلاح کے بارے میں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پناہ شیلٹر ہوم چلانے والی عظمیٰ نورانی کہتی ہیں کہ ان کی تنظیم روزانہ اوسطاً 5 سے 8 خواتین کو پناہ دیتی ہے جو ’غیرت کے نام پر قتل‘ سمیت کسی نہ کسی طرح کے تشدد سے فرار کی راہ تلاش کررہی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ڈان کو بتاتی ہیں، ’ہم انہیں تحفظ، ایک محفوظ پناہ، قانونی امداد فراہم کرتے ہیں اور زندگی کی تعمیر نو میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ نجی ادارہ ہونے کی حیثیت سے ہم مدد کے خواہاں فرد کو آسانی سے یہاں پناہ دے سکتے ہیں۔ سرکاری پناہ گاہوں میں یہ عدالتی حکم کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عظمیٰ نورانی کہتی ہیں کہ ’لیکن ایک بار جب لڑکیاں پناہ گاہ سے باہر زندگی کی خواہش میں یہاں سے چلی جاتی ہیں تو وہ دوبارہ معاشرے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یوں ان کی خیریت پر نظر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1249908'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اب-کیا-کیا-جاسکتا-ہے" href="#اب-کیا-کیا-جاسکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اب کیا کیا جاسکتا ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بلال کا مقدمہ کراچی کی عدالتوں میں چل رہا ہے، اس کے والد جو بلال کے دعوے کے مطابق اسے ’بچانا‘ چاہتے ہیں، نے عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر رفیق ملیر جیل میں اپنے سیل میں آرام سے اپنے مقدمے کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں۔ باجوڑ جوڑے کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں جہاں وہ قبائلی جغرافیہ اور سرکاری بے حسی کی وجہ سے محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پاکستان کا قانونی ضابطہ اور سماجی روایات زندگیوں پر سمجھوتے کو آسان بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکلا کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی کے لیے سیکشن 306 میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ ورثا کی جانب سے اپنے قاتل بچوں یا والدین کو قتل سے استثنیٰ دیے جانے کو ختم کیا جا سکے۔ 2016ء کے قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے اور خطرے میں پڑنے والی خواتین اور جوڑوں کے لیے ریاستی فنڈز سے چلنے والی پناہ گاہوں کا ایک قومی نیٹ ورک تشکیل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی اصلاحات مستقبل قریب میں ہوتی نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں غیرت ہتھیار اور ڈھال دونوں بنی ہوئی ہے۔ یہ طاقت کا دعویٰ کرنے کے لیے ہتھیار ہے جبکہ قانون اور ثقافت کے ذریعے ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب تک تبدیلی نہیں آتی تب تک خواتین اور مرد اپنی جانوں کے ساتھ اس جرم کی ادائیگی کرتے رہیں گے۔ جبکہ ان کے قاتل یونہی آزاد گھومتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1952567/society-the-shield-of-honour"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ اکتوبر، بلال نے کراچی کے لیاری تھانے میں بیٹھ کر بتایا کہ اس نے اپنے خاندان کی چار خواتین کو کیوں قتل کیا۔</p>
<p>جو کچھ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا، اس کے مطابق یہ غیرت کا معاملہ نہیں تھا۔ اس کی گرل فرینڈ گھر کے کاغذات پر اپنا نام چاہتی تھی جس سے اس کی ماں نے انکار کر دیا تھا۔ اس کی بہنوں نے ٹک ٹاک پر اس کا مذاق اڑایا۔ چنانچہ اس نے ان سب کو قتل کر دیا، مقتولین میں اس کی ماں شمشاد، بہنیں مدیحہ اور عائشہ اور اس کی 9 سالہ بھانجی شامل ہیں۔ قتل کے بعد بلال نے خنجر کو سمندر میں پھینک دیا۔</p>
<p>اس کیس کے تفتیش کار کراچی کے ضلع جنوبی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عارف عزیز کا کہنا ہے کہ ’بلال نے اسے غیرت کا معاملہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ قتل جائیداد اور کنٹرول کے لیے کیا گیا تھا‘۔</p>
<p>وہ ڈان کو بتاتے ہیں کہ ’بلال کا خاندان روشن خیال اور طاقتور تھا جو مردانہ تسلط کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا‘۔</p>
<p>بلال پر الزامات کی چارج شیٹ کے مطابق، اس نے قتل کے ثبوت چھوڑنے سے بچنے کے لیے بھارتی کرائم سیریز کرائم پیٹرول دیکھی تھی۔ یہ مقدمہ ابھی عدالت میں ہے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ بلال کا معاملہ ایک پریشان کُن ارتقا کو ظاہر کرتا ہے جہاں غیرت اب جائیداد کے تنازعات، مردانہ عدم تحفظ اور پدرشاہی نظام کو اہمیت نہ ملنے کے باعث غصے میں کیے جانے والے قتل کے لیے ایک قانونی ڈھال بن چکی ہے۔ اب کچھ دعویٰ کریں گے کہ ایسا تو ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔</p>
<h1><a id="غیرت-قتل-کے-لیے-ڈھال" href="#غیرت-قتل-کے-لیے-ڈھال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غیرت، قتل کے لیے ڈھال</h1>
<p>بلال کے معاملے سے دو سال قبل، پاکستان کے شمال مغرب میں قبائلی ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان جوڑا اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے بعد کراچی فرار ہوگیا تھا۔ یوں وہ ایک جرگے سے بچ گئے تھے جس نے ان کی موت کا حکم دیا تھا۔ جوڑے نے شہر بدلے۔ پہلے وہ لاہور، پھر کراچی گئے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ دور جانے سے ان کی جان بچ جائے گی۔</p>
<p>2 اکتوبر 2024ء کو مسلح افراد نے انہیں لیاری کے ایک بھرے بازار میں دیکھ لیا اور گولی مار کر وہیں قتل کر دیا۔ کسی نے مداخلت نہیں کی۔ کسی نے گواہی نہیں دی۔</p>
<p>’باجوڑ تک قاتلوں کا پیچھا کون کرے گا؟‘ نیپئر پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بیان دیا جس کی حدودِ تھانہ میں یہ قتل ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264623'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیپئر تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) فدا مروت نے ڈان کو بتایا کہ مقتول کے رشتہ داروں نے لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا۔ ساتھ ہی ایس ایچ نے بتایا کہ ’ورثا نے کہا کہ یہ اچھا ہی ہوا کہ وہ مارا گیا کیونکہ اس نے انہیں شرمندہ کیا تھا‘۔</p>
<p>8 ماہ قبل، کراچی میں گلشن اقبال کے قریب معزز معالج ڈاکٹر رفیق احمد شیخ نے اپنی 16 سالہ بیٹی اور اس کے 17 سالہ بوائے فرینڈ کو ان کا رشتہ معلوم ہونے پر قتل کر دیا۔ ڈاکٹر نے خود پولیس کو قتل کا اعتراف کرنے کے لیے بلایا۔</p>
<p>ملیر جیل میں مقدمے کی سماعت کا انتظار کرتے ڈاکٹر رفیق ڈان کو بتاتے ہیں، ’انہوں نے (لڑکے کے اہل خانہ) نے رشتہ کیوں نہیں بھیجا؟ میں ایک باپ ہوں جس نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی ہے‘۔</p>
<p>جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ذوالفقار پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رفیق اور قتل میں ساتھ دینے والے ان کے بیٹے، جیل میں آرام دہ وقت گزار رہے ہیں وہ کہتے ہیں، ’ان کے پاس پیسہ اور روابط ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وہ بچ جائیں گے‘۔</p>
<p>اور شاید وہ بچ بھی جائیں۔</p>
<h1><a id="قانونی-چارہ-جوئی" href="#قانونی-چارہ-جوئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قانونی چارہ جوئی</h1>
<p>پاکستان کا قانونی ضابطہ اب بھی غیرت کے نام پر قتل کرنے والے قاتلوں کو ’اسلامی‘ انصاف کے لبادے میں فرار کا راستہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 309 اور 310 کی سابقہ دفعات قصاص اور دیت کی دفعات کے تحت مقتول کا خاندان اکثر خون کے بدلے میں قاتل کو معاف کر سکتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل میں، اس نے ایک مضحکہ خیز تضاد پیدا کیا ہے کیونکہ زیادہ تر معاملات میں قاتل خاندان کے افراد ہی ہوتے ہیں۔ وہ تو خود کو معاف کر سکتے تھے۔ دفعہ 306 میں واضح طور پر ان والدین کو مستثنیٰ قرار دیا گیا جنہوں نے اپنے بچوں کو قصاص یا انتقام میں قتل کیا۔ اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے باپ کو ’اسلامی‘ قانون کے تحت پھانسی نہیں دی جا سکتی، چاہے وہ مجرم ثابت ہی کیوں نہ ہوجائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264586'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264586"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایڈووکیٹ علی برکت بلوچ ڈان کو بتاتے ہیں، ’ان دفعات سے قاتلوں کو آزاد ہونے کا موقع ملا۔ قاتل، وارث اور معاف کرنے والے اکثر ایک ہی لوگ ہوتے ہیں’۔</p>
<p>2004ء اور 2005ء میں، پاکستان نے اپنے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے قوانین میں ترمیم کی تاکہ اس خامی کو ٹھیک کیا جاسکے۔ یہ اصلاحات ناکام ہوگئیں۔ لیکن 2016ء میں، سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے قتل کے بعد، پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون (مجرمانہ ترمیمی ایکٹ) پاس کیا تاکہ اس فرق کو ختم کیا جا سکے اور عمر قید کی سزا کا حکم دیا جا سکے پھر چاہے قاتل کو اہل خانہ معاف ہی کیوں نہ کر دیں۔</p>
<p>ایڈووکیٹ صباحت رضوی ڈان کو بتاتی ہیں کہ اس کا مثبت اثر ہوا ہے، ’اس نے استغاثہ کے مقدمات کو تقویت بخشی اور سزا کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ اب، یہ ایک ریاستی جرم ہے، یہاں تک کہ جب فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ یا سمجھوتہ طے پا گیا ہو تب بھی یہ قابلِ سزا جرم ہے‘۔</p>
<p>اس کے باوجود انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق، اب بھی سالانہ سیکڑوں خواتین کو ’غیرت‘ کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ کمیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں کم از کم 894 واقعات رونما ہوئے جن میں سندھ اور پنجاب میں 80 فیصد اموات ہوئیں۔ 2025ء میں پاکستان بھر میں اب تک ایسے 690 قتل دستاویز ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں سے نصف کے قریب قتل سندھ میں ہوئے ہیں جن میں 27 قتل کراچی میں ہوئے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد کے ہیڈکوارٹر سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ، میپنگ جینڈر بیسڈ وائلنس (جی بی وی) 2024ء کے مطابق سزا کا معیار بھی ناقص ہے جس میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے معاملات میں سزا کی شرح 0.5 فیصد پائی گئی۔</p>
<h1><a id="شہری-علاقوں-میں-پنجے-گاڑھ-رہا-ہے" href="#شہری-علاقوں-میں-پنجے-گاڑھ-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’شہری علاقوں میں پنجے گاڑھ رہا ہے‘</h1>
<p>سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر کریم احمد خواجہ کا استدلال ہے کہ کراچی میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ ایک سنگین بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ پدرشاہی نظام شہر کاری کے بوجھ تلے منہدم ہو رہا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر کریم کہتے ہیں، ’دیہی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا سے نقل مکانی کی وجہ سے کراچی میں جاگیردارانہ ذہنیت پروان چڑھی ہے۔ لیکن شہر خواتین کو تعلیم، نوکریاں، نقل و حرکت فراہم کرتے ہیں جوکہ ایسی چیزیں ہیں جو اسے مردوں کے کنٹرول کے لیے خطرہ بناتی ہیں’۔</p>
<p>ڈاکٹر کریم احمد خواجہ موجودہ بحران کو 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کی ’اسلامائزیشن‘ پالیسیز سے جوڑتے ہیں جس نے خواتین کی شائستگی اور خودمختاری کو سماجی نظام کے لیے خطرات کے طور پر دوبارہ بیان کیا۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’خواتین اجتماعی نفسیات میں کم انسان تصور کی جانے لگیں۔ معاشرے نے آزاد خواتین کو بے حیائی، سزا کی مستحق کے طور پر دیکھنا شروع کردیا‘۔</p>
<p>انہوں نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا علاج کرنے کے لیے قاتلوں کو پناہ دینے والے خاندانوں کے لیے اجتماعی سزا کی تجویز پیش کی۔</p>
<p>مطالعہ سماجیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر ریاض احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ریاست کو سزا سے آگے بڑھ کر روک تھام میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ ڈان کو بتاتے ہیں، ’ان جوڑوں کے لیے پناہ گاہیں اور امدادی گھر بنائے جائیں جو اپنی پسند سے شادی کرتے ہیں۔ خاندانوں کے ساتھ مشاورت، ہنر کی تربیت اور ثالثی فراہم کی جائے اور انہیں اپنے گھر واپسی کا راستہ دیں‘۔</p>
<p>ڈاکٹر ریاض نے زور دیا کہ صرف تعلیم سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ’کراچی یونیورسٹی ڈریس کوڈ پر بحث کرتی ہے جبکہ پڑھے لکھے ڈاکٹرز اپنی بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں۔ یہ خواندگی کے بارے میں نہیں ہے، یہ مسلسل سماجی مداخلت کے ذریعے بننے والی ذہنی سوچ میں اصلاح کے بارے میں ہے‘۔</p>
<p>کراچی میں پناہ شیلٹر ہوم چلانے والی عظمیٰ نورانی کہتی ہیں کہ ان کی تنظیم روزانہ اوسطاً 5 سے 8 خواتین کو پناہ دیتی ہے جو ’غیرت کے نام پر قتل‘ سمیت کسی نہ کسی طرح کے تشدد سے فرار کی راہ تلاش کررہی ہوتی ہیں۔</p>
<p>وہ ڈان کو بتاتی ہیں، ’ہم انہیں تحفظ، ایک محفوظ پناہ، قانونی امداد فراہم کرتے ہیں اور زندگی کی تعمیر نو میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ نجی ادارہ ہونے کی حیثیت سے ہم مدد کے خواہاں فرد کو آسانی سے یہاں پناہ دے سکتے ہیں۔ سرکاری پناہ گاہوں میں یہ عدالتی حکم کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا‘۔</p>
<p>عظمیٰ نورانی کہتی ہیں کہ ’لیکن ایک بار جب لڑکیاں پناہ گاہ سے باہر زندگی کی خواہش میں یہاں سے چلی جاتی ہیں تو وہ دوبارہ معاشرے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یوں ان کی خیریت پر نظر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1249908'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="اب-کیا-کیا-جاسکتا-ہے" href="#اب-کیا-کیا-جاسکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اب کیا کیا جاسکتا ہے؟</h1>
<p>اگرچہ بلال کا مقدمہ کراچی کی عدالتوں میں چل رہا ہے، اس کے والد جو بلال کے دعوے کے مطابق اسے ’بچانا‘ چاہتے ہیں، نے عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر رفیق ملیر جیل میں اپنے سیل میں آرام سے اپنے مقدمے کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں۔ باجوڑ جوڑے کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں جہاں وہ قبائلی جغرافیہ اور سرکاری بے حسی کی وجہ سے محفوظ ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ پاکستان کا قانونی ضابطہ اور سماجی روایات زندگیوں پر سمجھوتے کو آسان بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>وکلا کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی کے لیے سیکشن 306 میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ ورثا کی جانب سے اپنے قاتل بچوں یا والدین کو قتل سے استثنیٰ دیے جانے کو ختم کیا جا سکے۔ 2016ء کے قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے اور خطرے میں پڑنے والی خواتین اور جوڑوں کے لیے ریاستی فنڈز سے چلنے والی پناہ گاہوں کا ایک قومی نیٹ ورک تشکیل دیا جائے۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی اصلاحات مستقبل قریب میں ہوتی نظر نہیں آتی۔</p>
<p>پاکستان میں غیرت ہتھیار اور ڈھال دونوں بنی ہوئی ہے۔ یہ طاقت کا دعویٰ کرنے کے لیے ہتھیار ہے جبکہ قانون اور ثقافت کے ذریعے ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب تک تبدیلی نہیں آتی تب تک خواتین اور مرد اپنی جانوں کے ساتھ اس جرم کی ادائیگی کرتے رہیں گے۔ جبکہ ان کے قاتل یونہی آزاد گھومتے رہیں گے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1952567/society-the-shield-of-honour">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273377</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 13:23:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی اوسط)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0709461207d6210.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0709461207d6210.webp"/>
        <media:title>—السٹریشن: رادیہ درانی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی کے باوجود کیا سونے کی قیمتوں میں ٹھہراؤ ممکن ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273180/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں تاجر اور ماہرین سونے کی مارکیٹ میں جلد استحکام کا بہت کم امکان ظاہر کرتے ہیں جہاں حال ہی میں مجموعی قیمتوں میں اضافے کا رجحان اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی اور مقامی عوامل کے نایاب امتزاج کو قرار دیتے ہیں۔ وہ مسلح تنازعات میں اضافے، صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی ٹیرف کے دباؤ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور گھریلو اقتصادی پالیسیز میں اچانک تبدیلیوں کو بھی  سونے کی عالمی قیمتوں میں تیز تبدیلی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے فیصلے انفرادی سرمایہ کاروں پر منحصر ہوتے ہیں کیونکہ پاکستان کے سونے کے شعبے کے بارے میں پیش گوئیاں زیادہ تر حقائق پر نہیں بلکہ تاجروں اور ماہرین کے اندازوں پر مبنی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی سونے کی مارکیٹ کے بارے میں مکمل اور جامع اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں حالانکہ مختلف اداروں کے پاس مالیاتی لین دین اور قیمتی دھاتوں کی درآمدات اور برآمدات کے حوالے سے جزوی معلومات موجود ہیں لیکن سونے کی مارکیٹ زیادہ تر غیر رسمی ہے جو خود کو منظم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ و تجارت یا پاکستان کے ادارہ شماریات سمیت کوئی بھی مارکیٹ کے سائز، طلب، رسد یا قیمت کے رجحانات کے حوالے سے معتبر، مستحکم اعداد و شمار فراہم نہیں کرپایا ہے۔ اس کے علاوہ سونے کی مختلف اقسام کے لیے قیمتیں، ہر روز تاجر گروپس کی جانب سے مقرر کی جاتی ہیں جن کا اعلان بھی وہی کرتے ہیں یعنی یہ قیمتیں اصل طلب اور رسد پر مبنی نہیں ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2000ء کے بعد سے پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2001ء میں 10 گرام سونا تقریباً 5 ہزار روپے میں فروخت ہوتا تھا۔ آج اس کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے جوکہ حیرت انگیز طور پر قیمتوں میں 70 گنا اضافہ ہے۔ تاہم دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری جیسے کہ ریئل اسٹیٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں بھی اسی عرصے کے دوران تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سونے کی مارکیٹ نے گزشتہ ماہ شدید اتار چڑھاؤ دیکھا۔ 10 گرام سونے کی قیمت ایک وسیع دائرے میں گردش کرتی رہی۔ اکتوبر کا آغاز سونے کی قیمت 3 لاکھ 43 ہزار 200 روپے سے ہوا، 17 اکتوبر کو قیمت سب سے زیادہ 4 لاکھ 2 ہزار 100 روپے تک پہنچی اور اکتوبر کے آخر میں یہ کم ہو کر 3 لاکھ 61 ہزار 800 روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاہے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کتنے ہی شعبے کیوں نہ دستیاب ہوں، سونا آج بھی ایک اہم وجودی اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ رقم کو ذخیرہ کرنے کا ایک قابل اعتماد طریقہ ہے بالخصوص ایک ایسے وقت میں کہ جب معیشت کی صورت حال بے یقینی کا شکار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی مالی قدر کے علاوہ، اس قیمتی پیلی دھات کی خطے میں اہم ثقافتی اہمیت بھی ہے جسے طویل عرصے سے زیورات کی صورت میں دولت، سلامتی اور حیثیت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ماہرِ اقتصادیات جو آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، نے حالیہ اتار چڑھاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’سونے کی قیمتیں عالمی عوامل جیسے امریکی شرح سود، مرکزی بینک کی خریداری اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) سے متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مقامی عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں جن میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں تبدیلی، درآمدی پابندی جیسے حکومتی قوانین، اسمگلنگ، شادیوں کے موسم اور تہواروں کے دوران زیادہ مانگ اور زیورات کی مارکیٹ میں تبدیلی کے رجحانات شامل ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/6907fa0051fc1.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/6907fa0051fc1.jpg'  alt='&amp;mdash;ورلڈ گولڈ کونسل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—ورلڈ گولڈ کونسل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کی مارکیٹ سے منسلک ای ٹی ایفز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حقیقی سرمایہ کاری میں سونے کی کتنی زیادہ قدر ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے اور یہی لندن اور دبئی میں بینچ مارک قیمتوں کے ساتھ ساتھ، موجودہ روپے-ڈالر کی شرح تبادلہ کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی جی جے ایس اے کے رہنما نے کہا، ’بین الاقوامی مالیاتی پالیسی میں تبدیلی، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ملکی کمزوریوں جیسے غیر مستحکم زر مبادلہ، غیر رسمی تجارت اور سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل کے پیش نظر، مستقبل میں سونے کی قیمتوں میں ٹھہراؤ کے بجائے اتار چڑھاؤ کے امکانات زیادہ ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے مئی میں سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی عائد کرنے اور اکتوبر میں اس پابندی کو ختم کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک افسر نے ذاتی طور پر ہمیں بتایا کہ یہ ابتدائی اقدام بھارت کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد کیا گیا تھا جس کا مقصد دبئی کے راستے بھارت کو سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کی فروخت کے بہاؤ کو روکنا تھا جبکہ غیر ضروری مہنگی اشیا کی خریداری کو محدود کرکے زرمبادلہ کی بچت بھی مقصود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ گزشتہ ماہ جیولرز کے دباؤ اور سرمایہ کاروں کی شدید طلب کے باعث یہ پابندی ہٹا دی گئی جس کی وجہ سے ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراطِ زر میں اضافے اور کشیدہ سرحدی سلامتی کی صورت حال نے لوگوں کو سونے کی جانب راغب کیا ہے جہاں وہ اسے دولت ذخیرہ کرنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ ان کا تجزیہ یہ بھی کہتا ہےکہ سونے جیسے وجودی اثاثوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کی عکاس ہے کہ شہری دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کے ساتھ منسلک خطرات کو اب پہلے سے زیادہ محسوس کرنے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ سرکاری اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع نہیں ہوتے ہیں، اس لیے مختلف ذرائع جیسے کسٹمز، اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعداد کو یکجا کرنا مشکل ہے۔ ری سائیکل کیے جانے والے سونے، غیر رسمی یا غیر قانونی تجارت اور ملک میں کان سے ہونے والی پیداوار کے بارے میں بھی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں ورلڈ گولڈ کونسل کا ڈیٹا چاہے حقیقی اعداد و شمار سے کم کیوں نہ ہو، پھر بھی ایک بنیادی حوالے کے طور پر کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ برسوں میں پاکستان میں سونے کی طلب میں 60 سے 90 ٹن کے درمیان اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ مالی سال 2017ء کے دوران طلب مبینہ طور پر عروج پر تھی جوکہ زیورات کی تیاری اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے تھی لیکن کورونا وبا کے باعث اس شرح میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سونے کے بارز اور سکوں میں سرمایہ کاری کی طلب زیورات کے مقابلے میں بڑھ چکی ہے لیکن مجموعی طور پر صارفین میں سونے کی خریداری کا رجحان سُست ہوچکا ہے جس کی وجہ ریکارڈ بلند قیمتیں، روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی پابندیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/0412294213c770e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/0412294213c770e.webp'  alt='سرمایہ کاری کے لیے زیورات سے زیادہ سونے کی بارز اور سکوں کی طلب ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سرمایہ کاری کے لیے زیورات سے زیادہ سونے کی بارز اور سکوں کی طلب ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق، زیورات پاکستان کی کُل سونے کی طلب کا تقریباً 24 تا 39 فیصد بنتے ہیں جبکہ 2010ء میں سرمایہ کاری کی طلب تقریباً 11 فیصد سے بڑھ کر 2024ء تک تقریباً 26 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ دونوں شعبے مل کر سونے کی کُل کھپت کا تقریباً نصف بنتے ہیں جبکہ بقیہ حصہ صنعتی اور دیگر استعمال پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زیورات بنانے سے سرمایہ کاری کی جانب بتدریج منتقلی کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ سونا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں حکومت کی اقتصادی ٹیم کے اراکین سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن اس تحریر کی اشاعت تک ان کے جوابات موصول نہیں ہوئے تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا کہ استفسارات متعلقہ محکمے کو بھیج دیے گئے ہیں، تاہم ہمیں معلومات بروقت موصول نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر نے کہا ہے کہ سونے کی تجارت سے متعلق کسٹم اعداد و شمار اور گھریلو آمدنی و اخراجات کے سروے سے گھریلو سونے کی ملکیت کے تخمینے فراہم کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اعداد پوری طرح درست نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگ اکثر اپنے اثاثوں کو کم ہی رپورٹ کرتے ہیں۔ تاہم یہ متعلقہ ڈیٹا بھی وقت پر شیئر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1952826/all-that-glitters-is-an-investment-opportunity"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں تاجر اور ماہرین سونے کی مارکیٹ میں جلد استحکام کا بہت کم امکان ظاہر کرتے ہیں جہاں حال ہی میں مجموعی قیمتوں میں اضافے کا رجحان اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>ماہرین قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی اور مقامی عوامل کے نایاب امتزاج کو قرار دیتے ہیں۔ وہ مسلح تنازعات میں اضافے، صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی ٹیرف کے دباؤ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور گھریلو اقتصادی پالیسیز میں اچانک تبدیلیوں کو بھی  سونے کی عالمی قیمتوں میں تیز تبدیلی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>مارکیٹ کے فیصلے انفرادی سرمایہ کاروں پر منحصر ہوتے ہیں کیونکہ پاکستان کے سونے کے شعبے کے بارے میں پیش گوئیاں زیادہ تر حقائق پر نہیں بلکہ تاجروں اور ماہرین کے اندازوں پر مبنی ہوتی ہیں۔</p>
<p>ملک کی سونے کی مارکیٹ کے بارے میں مکمل اور جامع اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں حالانکہ مختلف اداروں کے پاس مالیاتی لین دین اور قیمتی دھاتوں کی درآمدات اور برآمدات کے حوالے سے جزوی معلومات موجود ہیں لیکن سونے کی مارکیٹ زیادہ تر غیر رسمی ہے جو خود کو منظم کرتی ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ و تجارت یا پاکستان کے ادارہ شماریات سمیت کوئی بھی مارکیٹ کے سائز، طلب، رسد یا قیمت کے رجحانات کے حوالے سے معتبر، مستحکم اعداد و شمار فراہم نہیں کرپایا ہے۔ اس کے علاوہ سونے کی مختلف اقسام کے لیے قیمتیں، ہر روز تاجر گروپس کی جانب سے مقرر کی جاتی ہیں جن کا اعلان بھی وہی کرتے ہیں یعنی یہ قیمتیں اصل طلب اور رسد پر مبنی نہیں ہوتی ہیں۔</p>
<p>سال 2000ء کے بعد سے پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2001ء میں 10 گرام سونا تقریباً 5 ہزار روپے میں فروخت ہوتا تھا۔ آج اس کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے جوکہ حیرت انگیز طور پر قیمتوں میں 70 گنا اضافہ ہے۔ تاہم دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری جیسے کہ ریئل اسٹیٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں بھی اسی عرصے کے دوران تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی سونے کی مارکیٹ نے گزشتہ ماہ شدید اتار چڑھاؤ دیکھا۔ 10 گرام سونے کی قیمت ایک وسیع دائرے میں گردش کرتی رہی۔ اکتوبر کا آغاز سونے کی قیمت 3 لاکھ 43 ہزار 200 روپے سے ہوا، 17 اکتوبر کو قیمت سب سے زیادہ 4 لاکھ 2 ہزار 100 روپے تک پہنچی اور اکتوبر کے آخر میں یہ کم ہو کر 3 لاکھ 61 ہزار 800 روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>چاہے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کتنے ہی شعبے کیوں نہ دستیاب ہوں، سونا آج بھی ایک اہم وجودی اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ رقم کو ذخیرہ کرنے کا ایک قابل اعتماد طریقہ ہے بالخصوص ایک ایسے وقت میں کہ جب معیشت کی صورت حال بے یقینی کا شکار ہو۔</p>
<p>اپنی مالی قدر کے علاوہ، اس قیمتی پیلی دھات کی خطے میں اہم ثقافتی اہمیت بھی ہے جسے طویل عرصے سے زیورات کی صورت میں دولت، سلامتی اور حیثیت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ایک ماہرِ اقتصادیات جو آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، نے حالیہ اتار چڑھاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’سونے کی قیمتیں عالمی عوامل جیسے امریکی شرح سود، مرکزی بینک کی خریداری اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) سے متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>’مقامی عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں جن میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں تبدیلی، درآمدی پابندی جیسے حکومتی قوانین، اسمگلنگ، شادیوں کے موسم اور تہواروں کے دوران زیادہ مانگ اور زیورات کی مارکیٹ میں تبدیلی کے رجحانات شامل ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/6907fa0051fc1.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/6907fa0051fc1.jpg'  alt='&mdash;ورلڈ گولڈ کونسل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—ورلڈ گولڈ کونسل</figcaption>
    </figure></p>
<p>سونے کی مارکیٹ سے منسلک ای ٹی ایفز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حقیقی سرمایہ کاری میں سونے کی کتنی زیادہ قدر ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے اور یہی لندن اور دبئی میں بینچ مارک قیمتوں کے ساتھ ساتھ، موجودہ روپے-ڈالر کی شرح تبادلہ کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔</p>
<p>اے پی جی جے ایس اے کے رہنما نے کہا، ’بین الاقوامی مالیاتی پالیسی میں تبدیلی، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ملکی کمزوریوں جیسے غیر مستحکم زر مبادلہ، غیر رسمی تجارت اور سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل کے پیش نظر، مستقبل میں سونے کی قیمتوں میں ٹھہراؤ کے بجائے اتار چڑھاؤ کے امکانات زیادہ ہیں‘۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے مئی میں سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی عائد کرنے اور اکتوبر میں اس پابندی کو ختم کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک افسر نے ذاتی طور پر ہمیں بتایا کہ یہ ابتدائی اقدام بھارت کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد کیا گیا تھا جس کا مقصد دبئی کے راستے بھارت کو سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کی فروخت کے بہاؤ کو روکنا تھا جبکہ غیر ضروری مہنگی اشیا کی خریداری کو محدود کرکے زرمبادلہ کی بچت بھی مقصود تھی۔</p>
<p>البتہ گزشتہ ماہ جیولرز کے دباؤ اور سرمایہ کاروں کی شدید طلب کے باعث یہ پابندی ہٹا دی گئی جس کی وجہ سے ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراطِ زر میں اضافے اور کشیدہ سرحدی سلامتی کی صورت حال نے لوگوں کو سونے کی جانب راغب کیا ہے جہاں وہ اسے دولت ذخیرہ کرنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ ان کا تجزیہ یہ بھی کہتا ہےکہ سونے جیسے وجودی اثاثوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کی عکاس ہے کہ شہری دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کے ساتھ منسلک خطرات کو اب پہلے سے زیادہ محسوس کرنے لگے ہیں۔</p>
<p>چونکہ سرکاری اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع نہیں ہوتے ہیں، اس لیے مختلف ذرائع جیسے کسٹمز، اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعداد کو یکجا کرنا مشکل ہے۔ ری سائیکل کیے جانے والے سونے، غیر رسمی یا غیر قانونی تجارت اور ملک میں کان سے ہونے والی پیداوار کے بارے میں بھی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں ورلڈ گولڈ کونسل کا ڈیٹا چاہے حقیقی اعداد و شمار سے کم کیوں نہ ہو، پھر بھی ایک بنیادی حوالے کے طور پر کام کرتا ہے۔</p>
<p>ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ برسوں میں پاکستان میں سونے کی طلب میں 60 سے 90 ٹن کے درمیان اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ مالی سال 2017ء کے دوران طلب مبینہ طور پر عروج پر تھی جوکہ زیورات کی تیاری اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے تھی لیکن کورونا وبا کے باعث اس شرح میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اگرچہ سونے کے بارز اور سکوں میں سرمایہ کاری کی طلب زیورات کے مقابلے میں بڑھ چکی ہے لیکن مجموعی طور پر صارفین میں سونے کی خریداری کا رجحان سُست ہوچکا ہے جس کی وجہ ریکارڈ بلند قیمتیں، روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی پابندیاں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/11/0412294213c770e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/11/0412294213c770e.webp'  alt='سرمایہ کاری کے لیے زیورات سے زیادہ سونے کی بارز اور سکوں کی طلب ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سرمایہ کاری کے لیے زیورات سے زیادہ سونے کی بارز اور سکوں کی طلب ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق، زیورات پاکستان کی کُل سونے کی طلب کا تقریباً 24 تا 39 فیصد بنتے ہیں جبکہ 2010ء میں سرمایہ کاری کی طلب تقریباً 11 فیصد سے بڑھ کر 2024ء تک تقریباً 26 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ دونوں شعبے مل کر سونے کی کُل کھپت کا تقریباً نصف بنتے ہیں جبکہ بقیہ حصہ صنعتی اور دیگر استعمال پر مشتمل ہے۔</p>
<p>یہ زیورات بنانے سے سرمایہ کاری کی جانب بتدریج منتقلی کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ سونا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں حکومت کی اقتصادی ٹیم کے اراکین سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن اس تحریر کی اشاعت تک ان کے جوابات موصول نہیں ہوئے تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا کہ استفسارات متعلقہ محکمے کو بھیج دیے گئے ہیں، تاہم ہمیں معلومات بروقت موصول نہیں ہوئیں۔</p>
<p>چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر نے کہا ہے کہ سونے کی تجارت سے متعلق کسٹم اعداد و شمار اور گھریلو آمدنی و اخراجات کے سروے سے گھریلو سونے کی ملکیت کے تخمینے فراہم کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اعداد پوری طرح درست نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگ اکثر اپنے اثاثوں کو کم ہی رپورٹ کرتے ہیں۔ تاہم یہ متعلقہ ڈیٹا بھی وقت پر شیئر نہیں کیا گیا۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1952826/all-that-glitters-is-an-investment-opportunity">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273180</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 10:13:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افشاں صبوحی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/04122800dd48d08.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/04122800dd48d08.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمسی انقلاب یا درآمدی انحصار؟ پاکستان میں لیتھیم بیٹریز کا بڑھتا بوجھ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272876/</link>
      <description>&lt;p&gt;نکو دوست محمد کی راتیں تقریباً ایک دہائی سے تاریکی کا شکار تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرحد سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ میں تمپ کی گرد آلود پہاڑیوں میں واقع دور دراز گاؤں کولاہو میں اندھیرا زندگی کا مستقل حصہ تھا جہاں پنکھے کی آواز، فریج میں رکھی ادویات کی حفاظت اور مکمل روشن کمرے محض خواب بن کر رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات میں بچھو کا ڈنک ایک ایسا مسئلہ تھا جس کا حل مٹی کے تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں تلاش کرنا پڑتا تھا۔ گاؤں کے اسکول سے لے کر قریب واقع ڈسپنسری تک، کسی کے پاس بھی بجلی کی سہولت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورت حال چند ماہ پہلے اس وقت بدل گئی کہ جب ایک ٹرک کی گاؤں آمد ہوئی جس پر کچھ اجنبی آلات اور ایک حیرت انگیز، مینٹیننس سے آزاد بیٹری لدی ہوئی تھی۔ یہ تمام ایک گھریلو شمسی توانائی کے نظام کے اہم اجزا تھے جو بلوچستان کے محکمہ توانائی کی ایک نئی اسکیم کے تحت فراہم کیے گئے تھے۔ نکو دوست محمد اُن 40 خوش نصیب افراد میں سے ایک تھا جنہیں یہ ’گھریلو سولر حل‘ فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شمسی-توانائی-ایک-نعمت" href="#شمسی-توانائی-ایک-نعمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;شمسی توانائی، ایک نعمت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سب سے بڑے مگر توانائی سے محروم صوبہ بلوچستان کے وسیع اور سورج کی تپش سے جھلستے علاقوں میں قومی بجلی کے گرڈ تک رسائی کسی نایاب چیز سے کم نہیں۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق، صوبے کے صرف تقریباً ایک تہائی حصے کو ہی بجلی کے گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے جبکہ جو منسلک ہیں، وہ علاقے بھی بجلی کی غیر یقینی فراہمی کا شکار ہیں جہاں بجلی منقطع بھی ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں ایک بڑی تبدیلی آرہی ہے جو چین کی جانب سے متعارف کردہ اسکیم کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ یہ پروگرام بلوچستان کے محکمہ توانائی اور چین کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد صوبے کے دور دراز علاقوں میں 15 ہزار گھریلو سولر سسٹمز کی فراہمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر کِٹ بجلی کی خودمختار پیداوار کا ذریعہ ہے جس میں 250 واٹ کا سولر پینل، ایک چارج کنٹرولر اور سب سے اہم، ایک کمپیکٹ لیتھیم آئن بیٹری شامل ہے جوکہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو کراچی میں برقی موٹر سائیکلز اور لاہور میں لیپ ٹاپس کو توانائی فراہم کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناکو دوست محمد کے لیے یہ تمام تکنیکی اصلاحات بےمعنی ہیں۔ وہ ’لیتھیم آئن‘ یا بیٹری پر درج ’گوانگ ڈونگ‘ صوبے کے نام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ ان کی سمجھ بوجھ سادہ سی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی نظر میں یہ نظام ایک پینل پر مشتمل ہے جو سورج کی روشنی جذب کرتا ہے، ایک ڈبہ ہے جو دن بھر پیدا ہونے والی توانائی کو محفوظ رکھتا ہے جس کی بنیاد پر انہیں یقین ہے کہ شام تک ایک کمرے پر مشتمل اُس کے مٹی کے گھر کے لیے اتنی بجلی بن جائے گی کہ دو بلب مسلسل روشنی فراہم کرسکیں جبکہ پنکھا بھی دھیرے دھیرے ہوا دے سکے۔ ان کی نظر میں یہ جدید دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/3111441917456fb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/3111441917456fb.webp'  alt='دیہاتوں میں مٹی کے بنے گھروں میں یہ شمسی نظام بجلی کی فراہمی میں کسی نعمت سے کم نہیں&amp;mdash;تصویر: آئی یو سی این پاکستان' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دیہاتوں میں مٹی کے بنے گھروں میں یہ شمسی نظام بجلی کی فراہمی میں کسی نعمت سے کم نہیں—تصویر: آئی یو سی این پاکستان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انقلاب-کا-پیمانہ" href="#انقلاب-کا-پیمانہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انقلاب کا پیمانہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ناکو دوست محمد کا یہ چھوٹا سا گھریلو شمسی نظام دراصل ملک بھر میں جاری ایک بڑے رجحان کی ایک معمولی مثال پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تجارتی ڈیٹا پلیٹ فارم Volza کے مطابق، پاکستان نے اپریل 2024ء سے مارچ 2025ء کے دوران اپنی تقریباً 70 فیصد لیتھیم آئن بیٹریز چین سے درآمد کی ہیں جبکہ باقی بیٹریز امریکا اور ویتنام سے درآمد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025ء میں انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (آئی ای ای ایف اے) کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا کہ پاکستان نے 2024ء میں تقریباً 1.25 گیگا واٹ-ہاورز (جی ڈبلیو ایچ) کی لیتھیم آئن بیٹریز درآمد کیں اور اضافی طور پر 2025ء کے پہلے دو ماہ میں 400 جی ڈبلیو ایچ کی بیٹریز درآمد ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اگر موجودہ کاروباری رجحان قائم رہا‘، تو یہ درآمدات 2030ء تک 8.75 جی ڈبلیو ایچ تک بڑھ سکتی ہیں جو ملک کی متوقع سب سے زیادہ بجلی کی طلب کا تقریباً 26 فیصد پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹریز کی طلب میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان کی نئی الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پالیسی برائے 2025ء-2020ء کا مقصد 2030ء تک تمام گاڑیوں کو 30 فیصد تک الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی BYD جیسی بڑی کمپنیز 2026ء تک پاکستان میں برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو مقامی سطح پر اسمبل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں جس سے محدود تعداد میں بیٹریز کی سپلائی میں مقابلہ مزید سخت ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مقامی-منظرنامہ" href="#مقامی-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقامی منظرنامہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ابھی کے لیے چین سے بیٹریز کی درآمدات کسی غنیمت سے کم نہیں لیکن اس سہولت کی ایک قیمت بھی ادا کرنی ہے۔ پاکستان بیٹریز کے لیے مکمل طور پر کسی دوسرے ملک ہر انحصار کررہا ہے جوکہ ٹھیک نہیں۔ حالانکہ بیٹری پلانٹس قائم کرنے کے حوالے سے کچھ اعلانات ہوئے ہیں لیکن اب تک ملک میں مقامی سطح پر لیتھیم کی کان کنی نہیں اور نہ ہی سیل تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ الیکٹرونک ویسٹ کو ری سائیکل کرنے کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ تک موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف تربت میں الیکٹریکل انجینئر اسومی ہیبیٹن خبردار کرتے ہیں کہ ’اگر بیجنگ کی برآمداتی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے، شپنگ میں کوئی مسائل پیش آتے ہیں یا جغرافیائی سیاسی بحران کی وجہ سے سروس بند ہو جاتی ہے تو پاکستان کے پاس بیٹریز کا کوئی متبادل سپلائر موجود نہیں ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی خطرات کے علاوہ اسومی ہیبیٹن ایک فوری انصاف کے مسئلے کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں۔ ایک 5 کلو واٹ گھنٹے کے لیتھیم آئن سولر سسٹم کی قیمت 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہوسکتی ہے جس کا خرچہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’بلوچستان کے محکمہ توانائی کی جانب سے پیش کردہ یہ اسکیمز فرق پیدا کرتی ہیں جہاں بہت سے غریب اور پسماندہ کمیونٹیز اب بھی ان اسکیمز سے محروم ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31114921b8ff615.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31114921b8ff615.webp'  alt='کم آمدنی والے بہت سے گھرانوں کے لیے یہ شمسی نظام کے اخراجات قابلِ برداشت نہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کم آمدنی والے بہت سے گھرانوں کے لیے یہ شمسی نظام کے اخراجات قابلِ برداشت نہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فضلے-کا-بڑھتا-بحران" href="#فضلے-کا-بڑھتا-بحران" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فضلے کا بڑھتا بحران&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لیکن مسائل یہیں ختم نہیں ہوتے۔ فی الحال پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری ری سائیکلنگ کی کوئی باقاعدہ سہولت موجود نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم شدہ بیٹریز جن میں عموماً زہریلی دھاتیں جیسے کوبالٹ، مینگنیز، نکل اور لیتھیم کے نمک شامل ہوتے ہیں، کچرے کے ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گی جس سے زمین اور پانی کی آلودگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیتھیم کے فضلے کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے کسی پالیسی کے بغیر پاکستان سر سبز ہونے کی کوشش میں اپنے ماحول کو آلودہ بنانے کا خطرہ مول رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اور عالمی توانائی ایجنسی جیسی تنظیموں نے لیتھیم آئن بیٹریز کو ری سائیکل کرنے کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق، اگر ان بیٹریز کو ری سائیکلنگ مراکز میں مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا جاتا تو وہ ’تھرمل رن وے‘ سے گزر سکتی ہیں یہ ایک خطرناک عمل ہے جہاں خراب شدہ بیٹریز کچلے جانے، پنکچر ہونے یا زیادہ گرم ہونے سے ہائیڈروجن فلورائیڈ جیسی زہریلی گیسز کے اخراج کی وجہ سے شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے اور گرم ہونے کے باعث پھٹ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خطرات میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کا ری سائیکلنگ سسٹم ان تمام بیٹریز کے لیے تیار نہیں ہے۔ فوربس کا تخمینہ ہے کہ آج تقریباً 5 فیصد لیتھیم آئن بیٹریز کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے طلب میں 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے، بہت سی پرانی بیٹریز کی صلاحیتیں بھی ختم شد ہوجائیں گی جس سے حفاظت اور ماحولیاتی مسائل مزید بڑھ جائیں گے اور اس کافی حد تک نظام پر دباؤ بڑھے گا جو پہلے سے ہی ناکامی کا شکار ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی یونیورسٹیز جیسے لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یا کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی، بیٹری ری سائیکلنگ اور مینجمنٹ پر کوئی خصوصی کورسز فراہم نہیں کرتیں۔ اس تعلیمی خلا کی وجہ سے بڑے منصوبوں کے لیے پاکستان یونہی غیر ملکی ماہرین پر انحصار کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115622f331fe7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115622f331fe7.webp'  alt='بیٹری کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بیٹری کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ زمینی سرویز چاغی اور گلگت بلتستان میں ممکنہ لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن یہ امکان انتہائی کم ہے۔ اخراج کے چینی ماڈلز، مقامی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے خدشات ایسی اہم رکاوٹیں ہیں جن کے تدارک کے بغیر پاکستان، صارف سے فراہم کنندہ کے کردار میں منتقل نہیں ہوسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ساختہ بیٹریز کی مسلسل درآمدات پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا ملک کوگرین ٹیکنالوجی کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا چاہیے یا اپنی مقامی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں؟ اور جب یہ لاکھوں بیٹریز ری سائیکلنگ کے منصوبے کی عدم موجودگی کے سبب کچرے کے ڈھیر میں شامل ہو جائیں گی تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے ہمسایے تو ان سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ بھارت مقامی طور پر بیٹریز بنانے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس نے 2022ء کا بیٹری ویسٹ مینجمنٹ رول بھی متعارف کروایا ہے۔ بنگلہ دیش اور یہاں تک کہ روانڈا بھی بیٹری کی پیداوار کے چھوٹے منصوبوں کا آغاز کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان توانائی کے میدان میں اب بھی صرف بیٹریز کی درآمدات پر انحصار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک محفوظ مستقبل کے لیے مربوط کارروائی ضروری ہے۔ حکومت کو مقامی بیٹریز کی پیداوار میں مدد کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر تربیتی مراعات کو فروغ دینا چاہیے۔ چین کے ساتھ معاہدوں میں تجارت کو وسعت دیتے ہوئے خصوصی اقتصادی زونز میں مشترکہ ٹیکنالوجی کے منصوبوں کو شامل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں بیٹریز کے فضلے کے لیے پہلے سے تیاری کرنی ہے تو اس کے لیے ملک بھر میں بیٹری کی تمام تنصیبات کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ لوگوں کو بیٹری کی حفاظت اور معیار کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ مختلف ممالک سے بیٹریز خریدے تاکہ سپلائی کے لیے ایک ملک پر انحصار کرنے جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بجلی-کی-قیمت" href="#بجلی-کی-قیمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بجلی کی قیمت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تمب میں ہر گزرتا دن گرم سے گرم تر ہوتا جارہا ہے۔ ناکو دوست محمد اپنے گھر آنے والے لوگوں کو فخر سے بتاتے ہیں کہ انہیں اب راتوں سے خوف محسوس نہیں ہوتا۔ ان کا پوتا اب اندھیرے کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے اور اُن کی بیوی اب غروب آفتاب سے پہلے کھانا پکانے کی پابند بھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115228be0b0fd.gif'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115228be0b0fd.gif'  alt='ایسے علاقوں میں قومی گرڈ سے بجلی نہیں پہنچتی جس سے یہاں سولر سسٹم کارآمد ثابت ہوتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایسے علاقوں میں قومی گرڈ سے بجلی نہیں پہنچتی جس سے یہاں سولر سسٹم کارآمد ثابت ہوتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر بیٹری کے بارے میں ایک نیا خوف بھی پیدا ہو گیا ہے۔ گاؤں کے ایک استاد نے نکو دوست محمد کو بتایا ہے کہ یہ بیٹریز شدید گرمی میں آگ پکڑ سکتی ہیں۔ وہ تشویش میں مبتلا ہیں کہ وہ ڈبہ جس پر چینی حروف لکھے ہیں، آخر کب تک چل پائے گا؟ کیونکہ انہیں نہ اس کے ساتھ کوئی رسید ملی ہے نہ کوئی وارنٹی جبکہ انہیں اسے تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہیں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بیٹریز میں موجود لیتھیم ایک طویل سفر طے کرچکا ہے۔ وہ چلی کی ایک کان سے، گوانگ ڈونگ کی ایک فیکٹری تک پہنچا جہاں سے وہ کراچی کی بندرگاہ آیا ہے اور پھر آخر میں ایک کچے راستے پر سفر کرتے ہوئے اسے ایک گاؤں میں پہنچایا گیا ہے جو طویل عرصے سے قومی بجلی گرڈ تک رسائی سے محروم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیتھیم آئن بیٹریز پاکستان جیسے ملک کے لیے کارآمد ہیں جہاں بجلی کی فراہمی کے تسلسل کے حوالے سے خدشات موجود ہیں جبکہ وہ سبز توانائی کے حصول کا عزم بھی رکھتا ہے۔ لیکن اس وقت پاکستان صرف ان بیٹریز کو درآمد کر رہا ہے جبکہ ختم شد بیٹریز کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل خطرناک بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا پاکستان صرف دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی استعمال کرے گا یا وہ ایک ایسا ملک بننے کا انتخاب کرے گا جو اپنی گرین ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر تیار کرتا ہے، اسے منظم کرتا ہے اور اس میں اختراعات لے کر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1951174/infrastructure-pakistans-lithium-revolution"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نکو دوست محمد کی راتیں تقریباً ایک دہائی سے تاریکی کا شکار تھیں۔</p>
<p>ایران کی سرحد سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ میں تمپ کی گرد آلود پہاڑیوں میں واقع دور دراز گاؤں کولاہو میں اندھیرا زندگی کا مستقل حصہ تھا جہاں پنکھے کی آواز، فریج میں رکھی ادویات کی حفاظت اور مکمل روشن کمرے محض خواب بن کر رہ گئے تھے۔</p>
<p>رات میں بچھو کا ڈنک ایک ایسا مسئلہ تھا جس کا حل مٹی کے تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں تلاش کرنا پڑتا تھا۔ گاؤں کے اسکول سے لے کر قریب واقع ڈسپنسری تک، کسی کے پاس بھی بجلی کی سہولت نہیں تھی۔</p>
<p>یہ صورت حال چند ماہ پہلے اس وقت بدل گئی کہ جب ایک ٹرک کی گاؤں آمد ہوئی جس پر کچھ اجنبی آلات اور ایک حیرت انگیز، مینٹیننس سے آزاد بیٹری لدی ہوئی تھی۔ یہ تمام ایک گھریلو شمسی توانائی کے نظام کے اہم اجزا تھے جو بلوچستان کے محکمہ توانائی کی ایک نئی اسکیم کے تحت فراہم کیے گئے تھے۔ نکو دوست محمد اُن 40 خوش نصیب افراد میں سے ایک تھا جنہیں یہ ’گھریلو سولر حل‘ فراہم کیا گیا۔</p>
<h1><a id="شمسی-توانائی-ایک-نعمت" href="#شمسی-توانائی-ایک-نعمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>شمسی توانائی، ایک نعمت</h1>
<p>پاکستان کے سب سے بڑے مگر توانائی سے محروم صوبہ بلوچستان کے وسیع اور سورج کی تپش سے جھلستے علاقوں میں قومی بجلی کے گرڈ تک رسائی کسی نایاب چیز سے کم نہیں۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق، صوبے کے صرف تقریباً ایک تہائی حصے کو ہی بجلی کے گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے جبکہ جو منسلک ہیں، وہ علاقے بھی بجلی کی غیر یقینی فراہمی کا شکار ہیں جہاں بجلی منقطع بھی ہوجاتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں ایک بڑی تبدیلی آرہی ہے جو چین کی جانب سے متعارف کردہ اسکیم کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ یہ پروگرام بلوچستان کے محکمہ توانائی اور چین کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد صوبے کے دور دراز علاقوں میں 15 ہزار گھریلو سولر سسٹمز کی فراہمی ہے۔</p>
<p>ہر کِٹ بجلی کی خودمختار پیداوار کا ذریعہ ہے جس میں 250 واٹ کا سولر پینل، ایک چارج کنٹرولر اور سب سے اہم، ایک کمپیکٹ لیتھیم آئن بیٹری شامل ہے جوکہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو کراچی میں برقی موٹر سائیکلز اور لاہور میں لیپ ٹاپس کو توانائی فراہم کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>ناکو دوست محمد کے لیے یہ تمام تکنیکی اصلاحات بےمعنی ہیں۔ وہ ’لیتھیم آئن‘ یا بیٹری پر درج ’گوانگ ڈونگ‘ صوبے کے نام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ ان کی سمجھ بوجھ سادہ سی ہے۔</p>
<p>ان کی نظر میں یہ نظام ایک پینل پر مشتمل ہے جو سورج کی روشنی جذب کرتا ہے، ایک ڈبہ ہے جو دن بھر پیدا ہونے والی توانائی کو محفوظ رکھتا ہے جس کی بنیاد پر انہیں یقین ہے کہ شام تک ایک کمرے پر مشتمل اُس کے مٹی کے گھر کے لیے اتنی بجلی بن جائے گی کہ دو بلب مسلسل روشنی فراہم کرسکیں جبکہ پنکھا بھی دھیرے دھیرے ہوا دے سکے۔ ان کی نظر میں یہ جدید دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/3111441917456fb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/3111441917456fb.webp'  alt='دیہاتوں میں مٹی کے بنے گھروں میں یہ شمسی نظام بجلی کی فراہمی میں کسی نعمت سے کم نہیں&mdash;تصویر: آئی یو سی این پاکستان' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دیہاتوں میں مٹی کے بنے گھروں میں یہ شمسی نظام بجلی کی فراہمی میں کسی نعمت سے کم نہیں—تصویر: آئی یو سی این پاکستان</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="انقلاب-کا-پیمانہ" href="#انقلاب-کا-پیمانہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انقلاب کا پیمانہ</h1>
<p>ناکو دوست محمد کا یہ چھوٹا سا گھریلو شمسی نظام دراصل ملک بھر میں جاری ایک بڑے رجحان کی ایک معمولی مثال پیش کرتا ہے۔</p>
<p>عالمی تجارتی ڈیٹا پلیٹ فارم Volza کے مطابق، پاکستان نے اپریل 2024ء سے مارچ 2025ء کے دوران اپنی تقریباً 70 فیصد لیتھیم آئن بیٹریز چین سے درآمد کی ہیں جبکہ باقی بیٹریز امریکا اور ویتنام سے درآمد کی گئی ہیں۔</p>
<p>جون 2025ء میں انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (آئی ای ای ایف اے) کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا کہ پاکستان نے 2024ء میں تقریباً 1.25 گیگا واٹ-ہاورز (جی ڈبلیو ایچ) کی لیتھیم آئن بیٹریز درآمد کیں اور اضافی طور پر 2025ء کے پہلے دو ماہ میں 400 جی ڈبلیو ایچ کی بیٹریز درآمد ہوئیں۔</p>
<p>’اگر موجودہ کاروباری رجحان قائم رہا‘، تو یہ درآمدات 2030ء تک 8.75 جی ڈبلیو ایچ تک بڑھ سکتی ہیں جو ملک کی متوقع سب سے زیادہ بجلی کی طلب کا تقریباً 26 فیصد پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>بیٹریز کی طلب میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان کی نئی الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پالیسی برائے 2025ء-2020ء کا مقصد 2030ء تک تمام گاڑیوں کو 30 فیصد تک الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنا ہے۔</p>
<p>چین کی BYD جیسی بڑی کمپنیز 2026ء تک پاکستان میں برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو مقامی سطح پر اسمبل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں جس سے محدود تعداد میں بیٹریز کی سپلائی میں مقابلہ مزید سخت ہو جائے گی۔</p>
<h1><a id="مقامی-منظرنامہ" href="#مقامی-منظرنامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقامی منظرنامہ</h1>
<p>ابھی کے لیے چین سے بیٹریز کی درآمدات کسی غنیمت سے کم نہیں لیکن اس سہولت کی ایک قیمت بھی ادا کرنی ہے۔ پاکستان بیٹریز کے لیے مکمل طور پر کسی دوسرے ملک ہر انحصار کررہا ہے جوکہ ٹھیک نہیں۔ حالانکہ بیٹری پلانٹس قائم کرنے کے حوالے سے کچھ اعلانات ہوئے ہیں لیکن اب تک ملک میں مقامی سطح پر لیتھیم کی کان کنی نہیں اور نہ ہی سیل تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ الیکٹرونک ویسٹ کو ری سائیکل کرنے کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ تک موجود نہیں ہے۔</p>
<p>یونیورسٹی آف تربت میں الیکٹریکل انجینئر اسومی ہیبیٹن خبردار کرتے ہیں کہ ’اگر بیجنگ کی برآمداتی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے، شپنگ میں کوئی مسائل پیش آتے ہیں یا جغرافیائی سیاسی بحران کی وجہ سے سروس بند ہو جاتی ہے تو پاکستان کے پاس بیٹریز کا کوئی متبادل سپلائر موجود نہیں ہوگا‘۔</p>
<p>تجارتی خطرات کے علاوہ اسومی ہیبیٹن ایک فوری انصاف کے مسئلے کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں۔ ایک 5 کلو واٹ گھنٹے کے لیتھیم آئن سولر سسٹم کی قیمت 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہوسکتی ہے جس کا خرچہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’بلوچستان کے محکمہ توانائی کی جانب سے پیش کردہ یہ اسکیمز فرق پیدا کرتی ہیں جہاں بہت سے غریب اور پسماندہ کمیونٹیز اب بھی ان اسکیمز سے محروم ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31114921b8ff615.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31114921b8ff615.webp'  alt='کم آمدنی والے بہت سے گھرانوں کے لیے یہ شمسی نظام کے اخراجات قابلِ برداشت نہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کم آمدنی والے بہت سے گھرانوں کے لیے یہ شمسی نظام کے اخراجات قابلِ برداشت نہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="فضلے-کا-بڑھتا-بحران" href="#فضلے-کا-بڑھتا-بحران" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فضلے کا بڑھتا بحران</h1>
<p>لیکن مسائل یہیں ختم نہیں ہوتے۔ فی الحال پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری ری سائیکلنگ کی کوئی باقاعدہ سہولت موجود نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم شدہ بیٹریز جن میں عموماً زہریلی دھاتیں جیسے کوبالٹ، مینگنیز، نکل اور لیتھیم کے نمک شامل ہوتے ہیں، کچرے کے ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گی جس سے زمین اور پانی کی آلودگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>لیتھیم کے فضلے کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے کسی پالیسی کے بغیر پاکستان سر سبز ہونے کی کوشش میں اپنے ماحول کو آلودہ بنانے کا خطرہ مول رہا ہے۔</p>
<p>امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اور عالمی توانائی ایجنسی جیسی تنظیموں نے لیتھیم آئن بیٹریز کو ری سائیکل کرنے کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق، اگر ان بیٹریز کو ری سائیکلنگ مراکز میں مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا جاتا تو وہ ’تھرمل رن وے‘ سے گزر سکتی ہیں یہ ایک خطرناک عمل ہے جہاں خراب شدہ بیٹریز کچلے جانے، پنکچر ہونے یا زیادہ گرم ہونے سے ہائیڈروجن فلورائیڈ جیسی زہریلی گیسز کے اخراج کی وجہ سے شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے اور گرم ہونے کے باعث پھٹ سکتی ہیں۔</p>
<p>ان خطرات میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کا ری سائیکلنگ سسٹم ان تمام بیٹریز کے لیے تیار نہیں ہے۔ فوربس کا تخمینہ ہے کہ آج تقریباً 5 فیصد لیتھیم آئن بیٹریز کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے طلب میں 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے، بہت سی پرانی بیٹریز کی صلاحیتیں بھی ختم شد ہوجائیں گی جس سے حفاظت اور ماحولیاتی مسائل مزید بڑھ جائیں گے اور اس کافی حد تک نظام پر دباؤ بڑھے گا جو پہلے سے ہی ناکامی کا شکار ہورہا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی یونیورسٹیز جیسے لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یا کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی، بیٹری ری سائیکلنگ اور مینجمنٹ پر کوئی خصوصی کورسز فراہم نہیں کرتیں۔ اس تعلیمی خلا کی وجہ سے بڑے منصوبوں کے لیے پاکستان یونہی غیر ملکی ماہرین پر انحصار کرتا رہے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115622f331fe7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115622f331fe7.webp'  alt='بیٹری کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بیٹری کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ زمینی سرویز چاغی اور گلگت بلتستان میں ممکنہ لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن یہ امکان انتہائی کم ہے۔ اخراج کے چینی ماڈلز، مقامی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے خدشات ایسی اہم رکاوٹیں ہیں جن کے تدارک کے بغیر پاکستان، صارف سے فراہم کنندہ کے کردار میں منتقل نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>چینی ساختہ بیٹریز کی مسلسل درآمدات پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا ملک کوگرین ٹیکنالوجی کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا چاہیے یا اپنی مقامی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں؟ اور جب یہ لاکھوں بیٹریز ری سائیکلنگ کے منصوبے کی عدم موجودگی کے سبب کچرے کے ڈھیر میں شامل ہو جائیں گی تو کیا ہوگا؟</p>
<p>ہمارے ہمسایے تو ان سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ بھارت مقامی طور پر بیٹریز بنانے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس نے 2022ء کا بیٹری ویسٹ مینجمنٹ رول بھی متعارف کروایا ہے۔ بنگلہ دیش اور یہاں تک کہ روانڈا بھی بیٹری کی پیداوار کے چھوٹے منصوبوں کا آغاز کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان توانائی کے میدان میں اب بھی صرف بیٹریز کی درآمدات پر انحصار کر رہا ہے۔</p>
<p>ایک محفوظ مستقبل کے لیے مربوط کارروائی ضروری ہے۔ حکومت کو مقامی بیٹریز کی پیداوار میں مدد کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر تربیتی مراعات کو فروغ دینا چاہیے۔ چین کے ساتھ معاہدوں میں تجارت کو وسعت دیتے ہوئے خصوصی اقتصادی زونز میں مشترکہ ٹیکنالوجی کے منصوبوں کو شامل کرنا چاہیے۔</p>
<p>مستقبل میں بیٹریز کے فضلے کے لیے پہلے سے تیاری کرنی ہے تو اس کے لیے ملک بھر میں بیٹری کی تمام تنصیبات کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ لوگوں کو بیٹری کی حفاظت اور معیار کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ مختلف ممالک سے بیٹریز خریدے تاکہ سپلائی کے لیے ایک ملک پر انحصار کرنے جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔</p>
<h1><a id="بجلی-کی-قیمت" href="#بجلی-کی-قیمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بجلی کی قیمت</h1>
<p>تمب میں ہر گزرتا دن گرم سے گرم تر ہوتا جارہا ہے۔ ناکو دوست محمد اپنے گھر آنے والے لوگوں کو فخر سے بتاتے ہیں کہ انہیں اب راتوں سے خوف محسوس نہیں ہوتا۔ ان کا پوتا اب اندھیرے کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے اور اُن کی بیوی اب غروب آفتاب سے پہلے کھانا پکانے کی پابند بھی نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115228be0b0fd.gif'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/31115228be0b0fd.gif'  alt='ایسے علاقوں میں قومی گرڈ سے بجلی نہیں پہنچتی جس سے یہاں سولر سسٹم کارآمد ثابت ہوتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایسے علاقوں میں قومی گرڈ سے بجلی نہیں پہنچتی جس سے یہاں سولر سسٹم کارآمد ثابت ہوتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>مگر بیٹری کے بارے میں ایک نیا خوف بھی پیدا ہو گیا ہے۔ گاؤں کے ایک استاد نے نکو دوست محمد کو بتایا ہے کہ یہ بیٹریز شدید گرمی میں آگ پکڑ سکتی ہیں۔ وہ تشویش میں مبتلا ہیں کہ وہ ڈبہ جس پر چینی حروف لکھے ہیں، آخر کب تک چل پائے گا؟ کیونکہ انہیں نہ اس کے ساتھ کوئی رسید ملی ہے نہ کوئی وارنٹی جبکہ انہیں اسے تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہیں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>ان بیٹریز میں موجود لیتھیم ایک طویل سفر طے کرچکا ہے۔ وہ چلی کی ایک کان سے، گوانگ ڈونگ کی ایک فیکٹری تک پہنچا جہاں سے وہ کراچی کی بندرگاہ آیا ہے اور پھر آخر میں ایک کچے راستے پر سفر کرتے ہوئے اسے ایک گاؤں میں پہنچایا گیا ہے جو طویل عرصے سے قومی بجلی گرڈ تک رسائی سے محروم ہے۔</p>
<p>لیتھیم آئن بیٹریز پاکستان جیسے ملک کے لیے کارآمد ہیں جہاں بجلی کی فراہمی کے تسلسل کے حوالے سے خدشات موجود ہیں جبکہ وہ سبز توانائی کے حصول کا عزم بھی رکھتا ہے۔ لیکن اس وقت پاکستان صرف ان بیٹریز کو درآمد کر رہا ہے جبکہ ختم شد بیٹریز کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل خطرناک بن چکا ہے۔</p>
<p>ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا پاکستان صرف دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی استعمال کرے گا یا وہ ایک ایسا ملک بننے کا انتخاب کرے گا جو اپنی گرین ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر تیار کرتا ہے، اسے منظم کرتا ہے اور اس میں اختراعات لے کر آتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1951174/infrastructure-pakistans-lithium-revolution">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272876</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 14:20:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذیشان ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/31111047be74a22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/31111047be74a22.webp"/>
        <media:title>نکو دوست محمد اگست 202ء کو تمپ میں اپنے مٹی کے گھر کے باہر اپنے گھریلو شمسی نظام کے ساتھ بیٹھے ہیں— تصویر: لکھاری
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ جھٹکا جو کے الیکٹرک کو ’ٹرپ‘ کرسکتا ہے!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272536/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسا جھٹکا ہے جو ٹائٹینک جیسے جہاز کو بھی ڈبو دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ہی دنوں میں کے الیکٹرک کے شیئرز کی قیمتیں گر گئیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بین الاقوامی ثالثی پر غور شروع کر دیا اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ کبھی منافع بخش سمجھی جانے والی یوٹیلٹی شدید نقصان میں جا سکتی ہے جس سے نہ صرف کراچی کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ ممکنہ طور پر حکومت کے نجکاری منصوبے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دھچکے کی وجہ کے الیکٹرک کے کئی سالہ ٹیرف میں اچانک کٹوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دو سال سے زائد مشاورت اور سماعتوں کے بعد مئی میں کیے گئے اپنے فیصلے کو مؤثر طریقے سے واپس لیتے ہوئے بجلی کی قیمت 7.6 روپے فی یونٹ سے کم کرتے ہوئے 32.37 روپے کر دی ہے جوکہ پہلے 39.97 روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی وزارت توانائی اور دیگر کی جانب سے نظرثانی کی درخواست کے بعد یہ کہتے ہوئے کی گئی ہے کہ جیسا کہ دیگر نجی توانائی کمپنیز کے ساتھ بات چیت کی گئی تھی، کے الیکٹرک کے نرخ توانائی سیکٹر کے دیگر تقسیم کاروں میں استعمال ہونے والے نرخوں کے برابر ہونے چاہئیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ کراچی کے لوگوں کے لیے بجلی کی قیمتوں کو منصفانہ اور مزید مستحکم بنانے میں ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026ء-2025ء کے لیے ریاست کی ملکیت میں آنے والی تقسیم کار کمپنیز (ڈسکوز) کی قومی اوسط ٹیرف 28 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں کے الیکٹرک کے سابقہ ٹیرف سے تقریباً 40  فیصد زیادہ تھا۔ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے صارفین کو سبسڈی فراہم کرکے یہ فرق پورا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹینک کی مثال کی جانب واپس آئیں تو کے الیکٹرک ایک کثیر منزلہ کروز شپ کی مانند ہے جس میں کئی سطحیں ہیں جہاں مختلف حصے عمودی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اور کروز شپ کے مسافروں کی طرح، اس کے گاہک بھی مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جہاں ان کی بجلی تک رسائی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنی رقم کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اب چونکہ یہ بڑا بحری جہاز برفانی تودے سے ٹکرا چکا ہے تو اس کے مالیاتی حصہ دار اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ کیا یہ ادارہ اس بڑے جھٹکے سے بچ سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک، پاکستان کی واحد نجی اور غیر ملکی ملکیت والی بجلی کی سہولیات فراہم کرنے والا یوٹیلیٹی ادارہ ہے جس میں سعودی عرب اور کوویت کے سرمایہ کاروں کے 66.4 فیصد شیئرز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272116/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے نرخوں میں اچانک تبدیلی سرمایہ کاروں کو غیرمتوقع قواعد و ضوابط اور سیاسی مداخلت کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خطرات پہلے ہی مستقبل میں سرمایہ کاری میں اضافے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جبکہ یہ عمل حکومت کے لیے خسارے میں کام کرنے والی سرکاری توانائی تقسیم کار کمپنیز کی نجکاری کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی نقطہ نظر سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان خدشات کی بنیاد پر کے الیکٹرک کے غیرملکی مالکان کی جانب سے حکومت کو کسی بین الاقوامی عدالتی فورم میں لے جانے کی دھمکی دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف میں کمی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں کے الیکٹرک کے شیئرز میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنے شیئرز فروخت کردیے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ٹیرف میں کمی، غیر واضح ضوابط اور ممکنہ قانونی کارروائیاں، کمپنی کے مالیات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور توانائی سیکٹر کی نجکاری کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ اور سیکٹر کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ نئے ٹیرف سے کے الیکٹرک کو 2030ء تک اپنی 7 سالہ مدت میں بہت کم یا بالکل بھی منافع حاصل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ واضح ہے کہ اس ٹیرف پر کمپنی کی بقا ممکن نہیں‘، یہ کہنا تھا ٹاپ لائنز سیکیورٹیز کے شنکر تلریجا کا جو کمپنی کے کام جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے کے ڈی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار محمد علی اسے ’خسارہ کمانے والا‘ ٹیرف قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ’نیپرا کا نظرثانی شدہ ٹیرف کا تعین، کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی کے عوامل میں نمایاں تبدیلیوں کا باعث بنے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے نوٹ کیا ہے کہ گزشتہ ٹیرف کی منظوری کے بعد مالی سال 2024ء میں کے الیکٹرک کا 4 ارب روپے کا منافع، اکاؤنٹس ری سیٹ ہونے کے بعد 70 سے 80 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ شنکر تلریجا کمپنی کو تقریباً 70 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے غیر ملکی شراکت داروں سعودی عرب کے الجُمیح گروپ اور کوویت کے ڈینہم انویسٹمنٹس کا تخمینہ ہے کہ 2024ء سے 2030ء کے دوران کمپنی کا سالانہ خسارہ 100 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی کا کہنا ہے کہ ’یہ کمپنی کو ایک انتہائی نازک پوزیشن میں ڈال دیتا ہے۔ آئندہ سالوں میں معاملات کس طرح سامنے آتے ہیں، اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ کے الیکٹرک اس صورت حال کو کس طرح سنبھالتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سخت-معیارات" href="#سخت-معیارات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سخت معیارات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;نیا ٹیرف کے الیکٹرک کے متوقع منافع یعنی ایکویٹی پر منافع، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات، چوری کے نقصان کے اہداف اور بل کی ادائیگیوں کے بارے میں مفروضوں کو تبدیل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف میں ہر ایک روپے کی کٹوتی پر کمپنی کو سالانہ تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ مزید سنگین رخ اختیار کرلے گا کیونکہ حکومت کے الیکٹرک کو اپنی سبسڈی کی ادائیگیوں میں بھی 7.6 روپے فی یونٹ کی کمی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اس سبسڈی کی ختم کرنے کا جواز یہ فراہم کررہی ہے کہ اس سے وفاقی بجٹ پر 7 سال میں تقریباً 700 ارب روپے کے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ اس کے بجائے اس لاگت کا بوجھ کمپنی پر ڈال دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272244/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ نظرثانی شدہ نیا ٹیرف کے الیکٹرک کی جنریشن کے ڈالر پر مبنی منافع کو برقرار رکھتا ہے لیکن نیپرا نے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن ریٹ کو ڈالر سے روپے میں تبدیل کر دیا ہے جس سے کمپنی کے ایکویٹی پر منافع کی شرح بہت کم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے کمپنی کے 4 پرانے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے غیرفعال کردیا ہے اور باقی دو پلانٹس سے بجلی خریدنے کے لیے قیمتوں کا فارمولا تبدیل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صرف 35 فیصد صلاحیت کی ادائیگی کی ضمانت دی جائے گی۔ باقی ادائیگیاں پرانے ’لینے یا قیمت دینے‘ کے سسٹم کی بجائے ’لینے اور قیمت ادا‘ کرنے کے سسٹم پر مبنی ہوں گی جیسا کہ آزاد توانائی کے پیداواری اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ٹیرف کے تحت کے الیکٹرک کا ریکوری کا معیار تقریباً 93.3 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کردیا گیا ہے جبکہ رائٹ آف کلیمز 3.5 فیصد تک محدود ہیں۔ یہ حد 2030ء تک مزید کم کرکے ایک فیصد کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کے الیکٹرک کو اپنے صارفین سے انوائس بلز میں 100 روپے وصول کرنے تھے لیکن وہ صرف 91.5 روپے ہی وصول کر پاتی ہے (جوکہ مالی سال 2024ء میں اصل ریکوری کی شرح ہے) تو اب وہ اس میکنزم کے تحت صرف 3.5 روپے کی وصول کرپائے گی تاکہ وہ صارفین کے قرضوں یا ناقابل وصول بلز کو معاف کر سکے جبکہ یہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ جب کے الیکٹرک ضروری شرائط پوری کرے اور رقم کی سخت ریکوری کی کوششوں کے شواہد فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقیہ 5 روپے کمپنی کے خسارے کے کھاتے میں جائیں گے۔ بنیادی طور پر رائٹ آف کلیم کرنے کے قوانین اتنے سخت ہیں کہ کے الیکٹرک ممکنہ طور پر صارف سے کوئی رقم وصول ہی نہ کرپائے یعنی اسے بل کی وصولی میں نقصان کو مکمل طور پر خود ہی پورا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنکر تیلراجا کا کہنا ہے کہ ’رائٹ آف کلیمز کے قوانین کے تحت کمپنی سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ بجلی کے نادہندگان سے واجبات وصول کرنے کی کوششوں کا ناقابل تردید، دستاویزی ثبوت فراہم کرے جو کمپنی کے لیے تقریباً ناممکن ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کے معیارات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تقسیم کے نقصان کا ہدف اب 9 فیصد ہے جو 13.9 فیصد سے کم ہے، 8 فیصد تکنیکی نقصانات کے ساتھ امن و امان کے مسائل کے لیے ایک فیصد کی اجازت دی گئی ہے۔ مالی سال 2030ء تک مجموعی طور پر اس میں 0.97 فیصد کمی ہوگی۔ ٹرانسمیشن خسارہ اب 1.3 فیصد سے کم ہوکر 0.75 فیصد ہے اور امن و امان کی شرح مالی سال 2024ء میں 3.39 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں حکومت کے سالانہ سبسڈی کے بوجھ کو 100 یا 150 ارب روپے سے کم کرکے مکمل طور پر یوٹیلیٹی کے کھاتے میں ڈال دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جھٹکے سے صرف کے الیکٹرک کو ہی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔ نیا ٹیرف مالی سال 2024ء کی ایندھن کی لاگت کو بھی 15.99 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 14.50 روپے فی یونٹ کر دے گا جس سے گزشتہ بینچ مارک کے مقابلے میں 28 ارب روپے کا شارٹ فال پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں مقیم کاروباری رہنما ریحان جاوید کا کہنا ہے کہ نئے ٹیرف کے مطابق کے الیکٹرک کے صارفین سے اس شارٹ فال کی قیمت وصول کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مالی سال 2025ء کے لیے ایندھن کی قیمت میں تبدیلی کی صورت میں صارفین پر مزید 24 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان جاوید کا کہنا ہے کہ ’چونکہ کمپنی مالی سال 2024ء اور مالی سال 2025ء میں فروخت ہونے والے یونٹس کے 52 ارب روپے کے بھاری بوجھ کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں اس لیے اسے صارفین تک پہنچانے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے خیال کے متصادم، نیا ٹیرف صارفین کے لیے بالکل بھی غیرجانبدار نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک حکومت لاگت کو برداشت کرنے اور کراچی کے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے قدم نہیں اٹھاتی تب تک نظرثانی شدہ ٹیرف بھی خود تسلیم کرتا ہے کہ صارفین پر بوجھ بڑھے گا جبکہ اے کے ڈی سیکیورٹیز کے محمد علی بھی اس کی توثیق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غیرمعمولی-فیصلہ" href="#غیرمعمولی-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غیرمعمولی فیصلہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;معاملے کی حساسیت کے سبب کے الیکٹرک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک سینئر اہلکار نے مسکراہٹ کے ساتھ طنزیہ انداز میں کہا، ’آپ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میرا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہو‘۔ انہوں نے یہ بیان اس اشارے کے ساتھ دیا کہ ماضی میں سیاستدانوں، صحافیوں اور کاروباری افراد کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور انہیں صرف اس وقت رہائی ملی کہ جب انہوں نے حکمت عملی کے مطابق چلنے یا خاموش رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کا واحد سرکاری بیان سی ای او مونس علوی کے ویڈیو پیغام کی صورت میں سامنے آیا ہےجس میں انہوں نے متنبہ کیا کہ نیپرا کے حالیہ فیصلے کے کمپنی کے ٹیرف پر سنگین مالی نتائج مرتب ہوں گے جو اس کے آپریشنز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوٹیلیٹی ’وہ راستہ اختیار کرے گی جو کراچی کے عوام کے لیے ممکنہ طور پر بہترین ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AsmatMallick/status/1981268382621323550'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AsmatMallick/status/1981268382621323550"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا، ’ڈھائی سال کی تفصیلی بات چیت اور تجزیات کے بعد فیصلے کی اس طرح واپسی غیر معمولی ہے اور یہ فیصلہ کمپنی کی سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور طویل مدتی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف کا فیصلہ دو دیگر دھچکوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ سب سے پہلے سرمایہ کار ضیا چشتی کی کے الیکٹرک کی پیرنٹ کمپنی، کے ای ایس پاور لمیٹڈ کو آف شور اداروں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش، انکشافات کے خدشات کی وجہ سے ناکام ہوگئی جسے کے الیکٹرک کے غیرملکی مالکان نے ’قبضے کی طے شدہ کوشش‘ قرار دیا۔ اس کے بعد شنگھائی الیکٹرک پاور، ریگولیٹری مسائل اور بگڑتے ہوئے کاروباری ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کے الیکٹرک کو خریدنے کے طویل عرصے سے زیرِالتوا اپنے 1.77 ارب ڈالر کے منصوبے سے دستبردار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خط میں کے الیکٹرک کے غیرملکی شیئر ہولڈرز، سرمایہ کاری کے تحفظات کی مبینہ خلاف ورزیوں جیسے کہ لین دین کو روکنے، ریگولیٹری عمل میں مداخلت کرنے اور تیسرے فریق کے غیر قانونی اقدامات سے کمپنی کو بچانے میں ناکامی کے بدلے 2 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شنگھائی الیکٹرک کی فروخت کے التوا سے کم از کم 2 ارب ڈالر کے مجموعی نقصانات ہوئے ہیں جن میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی، زیادہ قرضوں کے اخراجات اور شہرت کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایکویٹی پر مبنی منافع اور سخت نقصانات کے معیارات کے تعین سے کمپنی کو سالانہ تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے جو کمپنی کی مالی پائیداری کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نیپرا-کی-ساکھ" href="#نیپرا-کی-ساکھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیپرا کی ساکھ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے ٹیرف میں ترمیم کرکے نیپرا نے اپنی ہی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ تبدیلی جو وسیع پیمانے پر حکومت کے دباؤ کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے، ریگولیٹرز کی خود مختاری، تسلسل اور صلاحیت پر سوالات اٹھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے ریاست کے ماتحت آنے والی تقسیم کار کمپنیز کی نجکاری کرنے کے حکومت کے منصوبوں پر بھی تشویش کو جنم دیا ہے کیونکہ سرمایہ کار بغور دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اپنے پاس موجودہ واحد نجی یوٹیلیٹی ادارے کے ساتھ کس طرح کا سلوک کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سابق نیپرا چیئرمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’یا ریگولیٹر جب اصل ٹیرف کا اعلان کر رہا تھا تو تب وہ غلط تھا یا اب وہ غلط ہے۔ یہ نااہلی اور دباؤ کا امتزاج ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان جاوید نے متنبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک اب نقصانات کو کم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر قومی گرڈ سے خریداری کو محدود کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی طویل بندش کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272539/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوٹ کیا کہ کے الیکٹرک اس وقت گرڈ سے تقریباً 2 ہزار میگاواٹ بجلی درآمد کرتی ہے جو اضافی پیداوار کو استعمال میں لانے اور غیر فعال پلانٹس پر صلاحیت کے چارجز کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر کے الیکٹرک مالی دباؤ کی وجہ سے خریداری میں کمی لاتی ہے تو اضافی بجلی پھر بھی کم استعمال ہوگی حالانکہ طلب بڑھانے کے لیے رعایتی نرخ پیش کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان جاوید نے خبردار کیا، ’اب اصل سوال یہ ہے کہ ایسی شرائط کے ساتھ بھلا ڈسکوز کو کون خریدے گا؟ اس صورت حال نے غیرملکی سرمایہ کاروں بالخصوص سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے لیے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے جو پاکستان میں مواقع کی تلاش میں ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مزید کہتے ہیں کہ ڈسکوز کے لیے اصل ٹیرف دراصل 34 روپے فی یونٹ نہیں بلکہ تقریباً 39 روپے فی یونٹ ہے کیونکہ حکومت ہر سال ٹیرف کے فرق کی سبسڈی کے ذریعے 500 سے 600 ارب روپے کے نقصانات کو برداشت کرتی ہے جو بلآخر گردشی قرضے میں شامل ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان جاوید دلیل دیتے ہیں کہ ’ستم ظریفی یہ ہے کہ کراچی گردشی قرضوں میں حصہ نہیں ڈال رہا لیکن اس کے شہریوں کو ہر سال تقریباً 40 ارب روپے ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو کہ 3.5 روپے فی یونٹ کی اضافی سرچارج ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرچارج پورے ملک میں یکساں طور پر عائد کیا گیا ہے جوکہ حکومت کے ماتحت آنے والی ڈسکوز کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے میں مدد دینے کے لیے ہے۔ چونکہ کے الیکٹرک کے صارفین اس قرضے میں اضافہ نہیں کرتے، اس لیے اضافی ادائیگی دراصل کراچی کے بجلی کے صارفین کو قومی گرڈ میں ہونے والی خرابیوں اور مالی نقصانات کی قیمت کسی سزا کی طرح ادا کرنا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان جاوید کہتے ہیں، ’اگرچہ نیپرا حکومت کے لیے سبسڈی کے مسئلے کو حل کررہی ہے لیکن اسے چاہیے کہ وہ کے الیکٹرک کے صارفین پر سرچارج کے اس اضافی بوجھ کو ہٹائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حکومتی-مؤقف" href="#حکومتی-مؤقف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکومتی مؤقف&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے کے الیکٹرک کے کئی سالہ ٹیرف پر نیپرا کے جائزے کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے جو ’کراچی کے صارفین کے لیے انصاف اور ریگولیٹری تسلسل کو فروغ دیتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی ڈویژن کے مطابق، نیپرا کے جائزے نے ایسے ٹیرف کو ہٹا دیا ہے جو قومی ریگولیٹری معیارات سے متصادم تھے جیسے غیرملکی کرنسی پر مبنی ریٹرن اور زیادہ نقصان والے الاؤنس اور ایکویٹی پر منافع کو ڈالر سے روپے میں تبدیل کر دیا  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات اور ورکنگ کیپیٹل کو ایڈجسٹ کرنے کا مقصد کے الیکٹرک کے جائز اخراجات کو متاثر کیے بغیر ساختی مسائل کو ٹھیک کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی نے کے الیکٹرک کے لیے مقرر کردہ ٹیرف کو چیلنج کیا تھا اور اسے قومی خزانے اور بجلی کے صارفین پر ایک ناجائز مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی نے یہ دلیل دی کہ کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی کے لیے منظور شدہ ٹیرف دیگر تقسیم کار کمپنیز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھا اور خبردار کیا کہ یہ فرق اگلے دو سالوں میں وفاقی بجٹ کو تقریباً 59 ارب روپے کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس درخواست میں کے الیکٹرک کے ٹیرف میں ریکوری نقصانات کو شامل کرنے پر بھی اعتراض کیا گیا جس کے حوالے سے دلیل دی گئی کہ یہ 7 سالہ مدت میں صارفین پر 200 ارب روپے کا اضافی اخراجات کا بوجھ ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے ایکویٹی پر ڈالر میں منافع کی منظوری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس سے بوجھ میں مزید 37 ارب روپے کا اضافہ متوقع تھا۔ کمپنی کے پاور پلانٹس کو صلاحیت کی ادائیگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا جن کا تخمینہ 82 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے اور قلیل مدتی مالی ریلیف کے لیے طویل مدتی استحکام کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے جس سے مبہم اشارے ملتے ہیں کیونکہ پاکستان اپنے توانائی کے سیکٹر میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کی پالیسی کی  بے یقینی ڈسکوز کی نجکاری میں دلچسپی کو کم کر دے گی جبکہ کے الیکٹرک کا معاملہ اب ایک انتباہ کے طور پر کام کرتا ہے کہ کس طرح تجارتی فیصلے شفاف و منصفانہ ضوابط کے بجائے سیاست اور بیوروکریسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1951534"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>یہ ایک ایسا جھٹکا ہے جو ٹائٹینک جیسے جہاز کو بھی ڈبو دے۔</p>
<p>چند ہی دنوں میں کے الیکٹرک کے شیئرز کی قیمتیں گر گئیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بین الاقوامی ثالثی پر غور شروع کر دیا اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ کبھی منافع بخش سمجھی جانے والی یوٹیلٹی شدید نقصان میں جا سکتی ہے جس سے نہ صرف کراچی کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ ممکنہ طور پر حکومت کے نجکاری منصوبے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس دھچکے کی وجہ کے الیکٹرک کے کئی سالہ ٹیرف میں اچانک کٹوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دو سال سے زائد مشاورت اور سماعتوں کے بعد مئی میں کیے گئے اپنے فیصلے کو مؤثر طریقے سے واپس لیتے ہوئے بجلی کی قیمت 7.6 روپے فی یونٹ سے کم کرتے ہوئے 32.37 روپے کر دی ہے جوکہ پہلے 39.97 روپے تھی۔</p>
<p>یہ تبدیلی وزارت توانائی اور دیگر کی جانب سے نظرثانی کی درخواست کے بعد یہ کہتے ہوئے کی گئی ہے کہ جیسا کہ دیگر نجی توانائی کمپنیز کے ساتھ بات چیت کی گئی تھی، کے الیکٹرک کے نرخ توانائی سیکٹر کے دیگر تقسیم کاروں میں استعمال ہونے والے نرخوں کے برابر ہونے چاہئیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ کراچی کے لوگوں کے لیے بجلی کی قیمتوں کو منصفانہ اور مزید مستحکم بنانے میں ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>2026ء-2025ء کے لیے ریاست کی ملکیت میں آنے والی تقسیم کار کمپنیز (ڈسکوز) کی قومی اوسط ٹیرف 28 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں کے الیکٹرک کے سابقہ ٹیرف سے تقریباً 40  فیصد زیادہ تھا۔ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے صارفین کو سبسڈی فراہم کرکے یہ فرق پورا کیا۔</p>
<p>ٹائٹینک کی مثال کی جانب واپس آئیں تو کے الیکٹرک ایک کثیر منزلہ کروز شپ کی مانند ہے جس میں کئی سطحیں ہیں جہاں مختلف حصے عمودی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اور کروز شپ کے مسافروں کی طرح، اس کے گاہک بھی مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جہاں ان کی بجلی تک رسائی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنی رقم کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اور اب چونکہ یہ بڑا بحری جہاز برفانی تودے سے ٹکرا چکا ہے تو اس کے مالیاتی حصہ دار اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ کیا یہ ادارہ اس بڑے جھٹکے سے بچ سکتا ہے؟</p>
<p>کے الیکٹرک، پاکستان کی واحد نجی اور غیر ملکی ملکیت والی بجلی کی سہولیات فراہم کرنے والا یوٹیلیٹی ادارہ ہے جس میں سعودی عرب اور کوویت کے سرمایہ کاروں کے 66.4 فیصد شیئرز ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272116/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بجلی کے نرخوں میں اچانک تبدیلی سرمایہ کاروں کو غیرمتوقع قواعد و ضوابط اور سیاسی مداخلت کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خطرات پہلے ہی مستقبل میں سرمایہ کاری میں اضافے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جبکہ یہ عمل حکومت کے لیے خسارے میں کام کرنے والی سرکاری توانائی تقسیم کار کمپنیز کی نجکاری کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی نقطہ نظر سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان خدشات کی بنیاد پر کے الیکٹرک کے غیرملکی مالکان کی جانب سے حکومت کو کسی بین الاقوامی عدالتی فورم میں لے جانے کی دھمکی دی جارہی ہے۔</p>
<p>ٹیرف میں کمی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں کے الیکٹرک کے شیئرز میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنے شیئرز فروخت کردیے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ٹیرف میں کمی، غیر واضح ضوابط اور ممکنہ قانونی کارروائیاں، کمپنی کے مالیات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور توانائی سیکٹر کی نجکاری کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دے سکتی ہیں۔</p>
<p>مارکیٹ اور سیکٹر کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ نئے ٹیرف سے کے الیکٹرک کو 2030ء تک اپنی 7 سالہ مدت میں بہت کم یا بالکل بھی منافع حاصل نہیں ہوگا۔</p>
<p>’یہ واضح ہے کہ اس ٹیرف پر کمپنی کی بقا ممکن نہیں‘، یہ کہنا تھا ٹاپ لائنز سیکیورٹیز کے شنکر تلریجا کا جو کمپنی کے کام جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>اے کے ڈی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار محمد علی اسے ’خسارہ کمانے والا‘ ٹیرف قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ’نیپرا کا نظرثانی شدہ ٹیرف کا تعین، کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی کے عوامل میں نمایاں تبدیلیوں کا باعث بنے گا‘۔</p>
<p>محمد علی نے نوٹ کیا ہے کہ گزشتہ ٹیرف کی منظوری کے بعد مالی سال 2024ء میں کے الیکٹرک کا 4 ارب روپے کا منافع، اکاؤنٹس ری سیٹ ہونے کے بعد 70 سے 80 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ شنکر تلریجا کمپنی کو تقریباً 70 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگاتے ہیں۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے غیر ملکی شراکت داروں سعودی عرب کے الجُمیح گروپ اور کوویت کے ڈینہم انویسٹمنٹس کا تخمینہ ہے کہ 2024ء سے 2030ء کے دوران کمپنی کا سالانہ خسارہ 100 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>محمد علی کا کہنا ہے کہ ’یہ کمپنی کو ایک انتہائی نازک پوزیشن میں ڈال دیتا ہے۔ آئندہ سالوں میں معاملات کس طرح سامنے آتے ہیں، اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ کے الیکٹرک اس صورت حال کو کس طرح سنبھالتی ہے‘۔</p>
<h1><a id="سخت-معیارات" href="#سخت-معیارات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سخت معیارات</h1>
<p>نیا ٹیرف کے الیکٹرک کے متوقع منافع یعنی ایکویٹی پر منافع، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات، چوری کے نقصان کے اہداف اور بل کی ادائیگیوں کے بارے میں مفروضوں کو تبدیل کرتا ہے۔</p>
<p>ٹیرف میں ہر ایک روپے کی کٹوتی پر کمپنی کو سالانہ تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ مزید سنگین رخ اختیار کرلے گا کیونکہ حکومت کے الیکٹرک کو اپنی سبسڈی کی ادائیگیوں میں بھی 7.6 روپے فی یونٹ کی کمی کر رہی ہے۔</p>
<p>حکومت اس سبسڈی کی ختم کرنے کا جواز یہ فراہم کررہی ہے کہ اس سے وفاقی بجٹ پر 7 سال میں تقریباً 700 ارب روپے کے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ اس کے بجائے اس لاگت کا بوجھ کمپنی پر ڈال دیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272244/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ نظرثانی شدہ نیا ٹیرف کے الیکٹرک کی جنریشن کے ڈالر پر مبنی منافع کو برقرار رکھتا ہے لیکن نیپرا نے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن ریٹ کو ڈالر سے روپے میں تبدیل کر دیا ہے جس سے کمپنی کے ایکویٹی پر منافع کی شرح بہت کم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے کمپنی کے 4 پرانے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے غیرفعال کردیا ہے اور باقی دو پلانٹس سے بجلی خریدنے کے لیے قیمتوں کا فارمولا تبدیل کردیا ہے۔</p>
<p>اب صرف 35 فیصد صلاحیت کی ادائیگی کی ضمانت دی جائے گی۔ باقی ادائیگیاں پرانے ’لینے یا قیمت دینے‘ کے سسٹم کی بجائے ’لینے اور قیمت ادا‘ کرنے کے سسٹم پر مبنی ہوں گی جیسا کہ آزاد توانائی کے پیداواری اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>نئے ٹیرف کے تحت کے الیکٹرک کا ریکوری کا معیار تقریباً 93.3 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کردیا گیا ہے جبکہ رائٹ آف کلیمز 3.5 فیصد تک محدود ہیں۔ یہ حد 2030ء تک مزید کم کرکے ایک فیصد کر دی جائے گی۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کے الیکٹرک کو اپنے صارفین سے انوائس بلز میں 100 روپے وصول کرنے تھے لیکن وہ صرف 91.5 روپے ہی وصول کر پاتی ہے (جوکہ مالی سال 2024ء میں اصل ریکوری کی شرح ہے) تو اب وہ اس میکنزم کے تحت صرف 3.5 روپے کی وصول کرپائے گی تاکہ وہ صارفین کے قرضوں یا ناقابل وصول بلز کو معاف کر سکے جبکہ یہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ جب کے الیکٹرک ضروری شرائط پوری کرے اور رقم کی سخت ریکوری کی کوششوں کے شواہد فراہم کرے۔</p>
<p>بقیہ 5 روپے کمپنی کے خسارے کے کھاتے میں جائیں گے۔ بنیادی طور پر رائٹ آف کلیم کرنے کے قوانین اتنے سخت ہیں کہ کے الیکٹرک ممکنہ طور پر صارف سے کوئی رقم وصول ہی نہ کرپائے یعنی اسے بل کی وصولی میں نقصان کو مکمل طور پر خود ہی پورا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>شنکر تیلراجا کا کہنا ہے کہ ’رائٹ آف کلیمز کے قوانین کے تحت کمپنی سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ بجلی کے نادہندگان سے واجبات وصول کرنے کی کوششوں کا ناقابل تردید، دستاویزی ثبوت فراہم کرے جو کمپنی کے لیے تقریباً ناممکن ہے‘۔</p>
<p>اسی طرح ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کے معیارات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تقسیم کے نقصان کا ہدف اب 9 فیصد ہے جو 13.9 فیصد سے کم ہے، 8 فیصد تکنیکی نقصانات کے ساتھ امن و امان کے مسائل کے لیے ایک فیصد کی اجازت دی گئی ہے۔ مالی سال 2030ء تک مجموعی طور پر اس میں 0.97 فیصد کمی ہوگی۔ ٹرانسمیشن خسارہ اب 1.3 فیصد سے کم ہوکر 0.75 فیصد ہے اور امن و امان کی شرح مالی سال 2024ء میں 3.39 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد رہ گیا ہے۔</p>
<p>محمد علی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں حکومت کے سالانہ سبسڈی کے بوجھ کو 100 یا 150 ارب روپے سے کم کرکے مکمل طور پر یوٹیلیٹی کے کھاتے میں ڈال دے گی۔</p>
<p>تاہم اس جھٹکے سے صرف کے الیکٹرک کو ہی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔ نیا ٹیرف مالی سال 2024ء کی ایندھن کی لاگت کو بھی 15.99 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 14.50 روپے فی یونٹ کر دے گا جس سے گزشتہ بینچ مارک کے مقابلے میں 28 ارب روپے کا شارٹ فال پیدا ہوگا۔</p>
<p>کراچی میں مقیم کاروباری رہنما ریحان جاوید کا کہنا ہے کہ نئے ٹیرف کے مطابق کے الیکٹرک کے صارفین سے اس شارٹ فال کی قیمت وصول کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مالی سال 2025ء کے لیے ایندھن کی قیمت میں تبدیلی کی صورت میں صارفین پر مزید 24 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔</p>
<p>ریحان جاوید کا کہنا ہے کہ ’چونکہ کمپنی مالی سال 2024ء اور مالی سال 2025ء میں فروخت ہونے والے یونٹس کے 52 ارب روپے کے بھاری بوجھ کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں اس لیے اسے صارفین تک پہنچانے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے خیال کے متصادم، نیا ٹیرف صارفین کے لیے بالکل بھی غیرجانبدار نہیں ہے‘۔</p>
<p>جب تک حکومت لاگت کو برداشت کرنے اور کراچی کے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے قدم نہیں اٹھاتی تب تک نظرثانی شدہ ٹیرف بھی خود تسلیم کرتا ہے کہ صارفین پر بوجھ بڑھے گا جبکہ اے کے ڈی سیکیورٹیز کے محمد علی بھی اس کی توثیق کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="غیرمعمولی-فیصلہ" href="#غیرمعمولی-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غیرمعمولی فیصلہ</h1>
<p>معاملے کی حساسیت کے سبب کے الیکٹرک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک سینئر اہلکار نے مسکراہٹ کے ساتھ طنزیہ انداز میں کہا، ’آپ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میرا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہو‘۔ انہوں نے یہ بیان اس اشارے کے ساتھ دیا کہ ماضی میں سیاستدانوں، صحافیوں اور کاروباری افراد کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور انہیں صرف اس وقت رہائی ملی کہ جب انہوں نے حکمت عملی کے مطابق چلنے یا خاموش رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔</p>
<p>کے الیکٹرک کا واحد سرکاری بیان سی ای او مونس علوی کے ویڈیو پیغام کی صورت میں سامنے آیا ہےجس میں انہوں نے متنبہ کیا کہ نیپرا کے حالیہ فیصلے کے کمپنی کے ٹیرف پر سنگین مالی نتائج مرتب ہوں گے جو اس کے آپریشنز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوٹیلیٹی ’وہ راستہ اختیار کرے گی جو کراچی کے عوام کے لیے ممکنہ طور پر بہترین ہو‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AsmatMallick/status/1981268382621323550'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AsmatMallick/status/1981268382621323550"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا، ’ڈھائی سال کی تفصیلی بات چیت اور تجزیات کے بعد فیصلے کی اس طرح واپسی غیر معمولی ہے اور یہ فیصلہ کمپنی کی سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور طویل مدتی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے‘۔</p>
<p>ٹیرف کا فیصلہ دو دیگر دھچکوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ سب سے پہلے سرمایہ کار ضیا چشتی کی کے الیکٹرک کی پیرنٹ کمپنی، کے ای ایس پاور لمیٹڈ کو آف شور اداروں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش، انکشافات کے خدشات کی وجہ سے ناکام ہوگئی جسے کے الیکٹرک کے غیرملکی مالکان نے ’قبضے کی طے شدہ کوشش‘ قرار دیا۔ اس کے بعد شنگھائی الیکٹرک پاور، ریگولیٹری مسائل اور بگڑتے ہوئے کاروباری ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کے الیکٹرک کو خریدنے کے طویل عرصے سے زیرِالتوا اپنے 1.77 ارب ڈالر کے منصوبے سے دستبردار ہو گیا۔</p>
<p>اپنے خط میں کے الیکٹرک کے غیرملکی شیئر ہولڈرز، سرمایہ کاری کے تحفظات کی مبینہ خلاف ورزیوں جیسے کہ لین دین کو روکنے، ریگولیٹری عمل میں مداخلت کرنے اور تیسرے فریق کے غیر قانونی اقدامات سے کمپنی کو بچانے میں ناکامی کے بدلے 2 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شنگھائی الیکٹرک کی فروخت کے التوا سے کم از کم 2 ارب ڈالر کے مجموعی نقصانات ہوئے ہیں جن میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی، زیادہ قرضوں کے اخراجات اور شہرت کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایکویٹی پر مبنی منافع اور سخت نقصانات کے معیارات کے تعین سے کمپنی کو سالانہ تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے جو کمپنی کی مالی پائیداری کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے گا۔</p>
<h1><a id="نیپرا-کی-ساکھ" href="#نیپرا-کی-ساکھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیپرا کی ساکھ</h1>
<p>ناقدین کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے ٹیرف میں ترمیم کرکے نیپرا نے اپنی ہی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ تبدیلی جو وسیع پیمانے پر حکومت کے دباؤ کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے، ریگولیٹرز کی خود مختاری، تسلسل اور صلاحیت پر سوالات اٹھاتی ہے۔</p>
<p>اس نے ریاست کے ماتحت آنے والی تقسیم کار کمپنیز کی نجکاری کرنے کے حکومت کے منصوبوں پر بھی تشویش کو جنم دیا ہے کیونکہ سرمایہ کار بغور دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اپنے پاس موجودہ واحد نجی یوٹیلیٹی ادارے کے ساتھ کس طرح کا سلوک کررہا ہے۔</p>
<p>ایک سابق نیپرا چیئرمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’یا ریگولیٹر جب اصل ٹیرف کا اعلان کر رہا تھا تو تب وہ غلط تھا یا اب وہ غلط ہے۔ یہ نااہلی اور دباؤ کا امتزاج ہے‘۔</p>
<p>ریحان جاوید نے متنبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک اب نقصانات کو کم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر قومی گرڈ سے خریداری کو محدود کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی طویل بندش کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272539/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے نوٹ کیا کہ کے الیکٹرک اس وقت گرڈ سے تقریباً 2 ہزار میگاواٹ بجلی درآمد کرتی ہے جو اضافی پیداوار کو استعمال میں لانے اور غیر فعال پلانٹس پر صلاحیت کے چارجز کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر کے الیکٹرک مالی دباؤ کی وجہ سے خریداری میں کمی لاتی ہے تو اضافی بجلی پھر بھی کم استعمال ہوگی حالانکہ طلب بڑھانے کے لیے رعایتی نرخ پیش کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ریحان جاوید نے خبردار کیا، ’اب اصل سوال یہ ہے کہ ایسی شرائط کے ساتھ بھلا ڈسکوز کو کون خریدے گا؟ اس صورت حال نے غیرملکی سرمایہ کاروں بالخصوص سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے لیے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے جو پاکستان میں مواقع کی تلاش میں ہیں‘۔</p>
<p>وہ مزید کہتے ہیں کہ ڈسکوز کے لیے اصل ٹیرف دراصل 34 روپے فی یونٹ نہیں بلکہ تقریباً 39 روپے فی یونٹ ہے کیونکہ حکومت ہر سال ٹیرف کے فرق کی سبسڈی کے ذریعے 500 سے 600 ارب روپے کے نقصانات کو برداشت کرتی ہے جو بلآخر گردشی قرضے میں شامل ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>ریحان جاوید دلیل دیتے ہیں کہ ’ستم ظریفی یہ ہے کہ کراچی گردشی قرضوں میں حصہ نہیں ڈال رہا لیکن اس کے شہریوں کو ہر سال تقریباً 40 ارب روپے ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو کہ 3.5 روپے فی یونٹ کی اضافی سرچارج ہے‘۔</p>
<p>یہ سرچارج پورے ملک میں یکساں طور پر عائد کیا گیا ہے جوکہ حکومت کے ماتحت آنے والی ڈسکوز کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے میں مدد دینے کے لیے ہے۔ چونکہ کے الیکٹرک کے صارفین اس قرضے میں اضافہ نہیں کرتے، اس لیے اضافی ادائیگی دراصل کراچی کے بجلی کے صارفین کو قومی گرڈ میں ہونے والی خرابیوں اور مالی نقصانات کی قیمت کسی سزا کی طرح ادا کرنا پڑتی ہے۔</p>
<p>ریحان جاوید کہتے ہیں، ’اگرچہ نیپرا حکومت کے لیے سبسڈی کے مسئلے کو حل کررہی ہے لیکن اسے چاہیے کہ وہ کے الیکٹرک کے صارفین پر سرچارج کے اس اضافی بوجھ کو ہٹائے‘۔</p>
<h1><a id="حکومتی-مؤقف" href="#حکومتی-مؤقف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکومتی مؤقف</h1>
<p>حکومت نے کے الیکٹرک کے کئی سالہ ٹیرف پر نیپرا کے جائزے کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے جو ’کراچی کے صارفین کے لیے انصاف اور ریگولیٹری تسلسل کو فروغ دیتا ہے‘۔</p>
<p>توانائی ڈویژن کے مطابق، نیپرا کے جائزے نے ایسے ٹیرف کو ہٹا دیا ہے جو قومی ریگولیٹری معیارات سے متصادم تھے جیسے غیرملکی کرنسی پر مبنی ریٹرن اور زیادہ نقصان والے الاؤنس اور ایکویٹی پر منافع کو ڈالر سے روپے میں تبدیل کر دیا  ہے۔</p>
<p>اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات اور ورکنگ کیپیٹل کو ایڈجسٹ کرنے کا مقصد کے الیکٹرک کے جائز اخراجات کو متاثر کیے بغیر ساختی مسائل کو ٹھیک کرنا تھا۔</p>
<p>وزارت توانائی نے کے الیکٹرک کے لیے مقرر کردہ ٹیرف کو چیلنج کیا تھا اور اسے قومی خزانے اور بجلی کے صارفین پر ایک ناجائز مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>وزارت توانائی نے یہ دلیل دی کہ کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی کے لیے منظور شدہ ٹیرف دیگر تقسیم کار کمپنیز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھا اور خبردار کیا کہ یہ فرق اگلے دو سالوں میں وفاقی بجٹ کو تقریباً 59 ارب روپے کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p>اس درخواست میں کے الیکٹرک کے ٹیرف میں ریکوری نقصانات کو شامل کرنے پر بھی اعتراض کیا گیا جس کے حوالے سے دلیل دی گئی کہ یہ 7 سالہ مدت میں صارفین پر 200 ارب روپے کا اضافی اخراجات کا بوجھ ڈالے گا۔</p>
<p>اس نے ایکویٹی پر ڈالر میں منافع کی منظوری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس سے بوجھ میں مزید 37 ارب روپے کا اضافہ متوقع تھا۔ کمپنی کے پاور پلانٹس کو صلاحیت کی ادائیگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا جن کا تخمینہ 82 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔</p>
<p>تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے اور قلیل مدتی مالی ریلیف کے لیے طویل مدتی استحکام کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے جس سے مبہم اشارے ملتے ہیں کیونکہ پاکستان اپنے توانائی کے سیکٹر میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔</p>
<p>وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کی پالیسی کی  بے یقینی ڈسکوز کی نجکاری میں دلچسپی کو کم کر دے گی جبکہ کے الیکٹرک کا معاملہ اب ایک انتباہ کے طور پر کام کرتا ہے کہ کس طرح تجارتی فیصلے شفاف و منصفانہ ضوابط کے بجائے سیاست اور بیوروکریسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1951534">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272536</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 17:45:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصر جمال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/27153858d55f232.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/27153858d55f232.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/27133429323107d.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/27133429323107d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ پر کم عمر لڑکوں کا جنسی استحصال اور اس سے جڑے تلخ حقائق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272360/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیف اللہ کی عمر 10 سال ہے۔ جب بھی اس کا آجر جوکہ بلال نامی طویل مسافت پر ٹرک چلانے والا ڈرائیور ہے، ’موڈ‘ میں ہوتا ہے تب سیف اللہ کہتا ہے کہ اس کے پاس بلال کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال گزشتہ 3 دہائیوں سے ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ پر کام کررہا ہے جبکہ ملک بھر کی قومی شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے وہ سامان کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ اس دوران اس نے کئی نوجوان لڑکوں کو اپنے ساتھ بطور شاگرد کام کرنے کے لیے ’رکھا‘ ہوا ہے۔ سیف اللہ ان لڑکوں میں تازہ شمولیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے مغربی حصے میں 100 ایکڑ پر پھیلا ہوا ماڑی پور اسٹینڈ، مصروف اوقات میں ڈیزل کے دھوئیں بھر جاتا ہے جبکہ ہارن کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ سندھ اور اس سے باہر کے راستوں پر جانے والے ٹرک اپنی باری کا یہیں رک کر انتظار کرتے ہیں۔ مگر یہاں صرف ٹرانسپورٹ کا کاروبار نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="استحصال-کا-رجحان" href="#استحصال-کا-رجحان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;استحصال کا رجحان&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گلیوں اور مرمت خانوں میں ایک تشویشناک کلچر پایا جاتا ہے۔ سیف اللہ جیسے کم عمر کام سیکھنے والے لڑکے، کم عمری کی مزدوری، جسمانی تشدد اور جنسی استحصال کی ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جوکہ بچوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والے حضرات کے مطابق عام ہیں مگر شاذ و نادر ہی مجرمان کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 سالہ وزیر بھی بلال کے شاگردوں میں سے ایک ہے۔ وہ ٹرک کے مکینک کی زیرِ نگرانی کام کرتا ہے جہاں وہ انجن کی مرمت اور ٹائر بدلنے کا کام سیکھ رہا ہے۔ دونوں لڑکے کیبن صاف کرتے ہیں، اوزار لاتے ہیں اور مختلف چھوٹے معمولی امور انجام دیتے ہیں تاکہ وہ وہاں کام کرتے رہیں۔ یہی کام کرکے وہ طویل سفر کے لیے جانے والے ٹرک میں سوار ہوسکتے ہیں لیکن یہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ بلال کی پہنچ میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ظلم صرف ایک فرد تک محدود نہیں۔ ماڑی پور میں کئی ڈرائیور اسی طرح کے استحصال میں ملوث ہیں جبکہ متاثرہ لڑکوں کے مطابق بعض اوقات ڈرائیورز ایک دوسرے کے نوجوان مددگار لڑکوں کو آپس میں شیئر بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/241037271b971f7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/241037271b971f7.webp'  alt='ماڑی پور جو کراچی کو بندرگاہ سے جوڑتا ہے&amp;mdash;تصویر: گیٹی ایمیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماڑی پور جو کراچی کو بندرگاہ سے جوڑتا ہے—تصویر: گیٹی ایمیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیف اللہ کا کہنا ہے کہ انکار کرنے پر اس کے ہاتھ میں جو بھی اوزار ہوتا ہے، اسی سے سیف اللہ کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ وہ اپنے خاندانی پس منظر کو ’پریشان کُن‘ بیان کرتا ہے اور اس کے پاس کہیں جانے کے لیے جگہ نہیں ہے۔ یومیہ اجرت کی بنیاد پر وہ یہاں کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیف اللہ نے ڈان کو بتایا، ’باقی امور تو صرف کام کا حصہ ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے خیال میں ایک ناقابلِ برداشت حالات سے نجات کی کوشش میں وہ دوسری مشکل صورت حال میں پھنس چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آمدنی-کا-انحصار" href="#آمدنی-کا-انحصار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آمدنی کا انحصار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لکھاری نے کراچی کے ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ پر ایک چھوٹے پیمانے پر غیر رسمی تحقیقات کی جس میں ان کی جمع کردہ کہانیوں سے ایک واضح نمونہ ظاہر ہوا ہے۔ بہت سے ڈرائیورز نے غیررسمی گفتگو میں اتفاق کیا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان لڑکوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کے لیے تفریح کا بنیادی ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال سمیت بہت سے ڈرائیورز نے کہا کہ انہیں ایسا کرنا ضروری لگا کیونکہ لمبی مسافت کی ڈرائیونگ میں وہ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سفر انہیں اپنے خاندانوں سے دور رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلسل یہ دعویٰ کیا کہ ان تعلقات میں لڑکوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بات چیت سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ صورت حال زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سے لڑکے جن کا خاندانی پس منظر اچھا نہیں ہوتا، وہ ان تعلقات کو دیکھ بھال اور وفاداری سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ڈرائیورز کے ’ضرورت کے تحت‘ قائم کیے جانے والے تعلقات کے بیانیے کو پیچیدہ رخ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ’خاص‘ تعلقات کے احساس کو اکثر چھوٹے اور علامتی اشاروں کے ذریعے مضبوط کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ شاگرد لڑکے اپنے ڈرائیور کا پرفیوم استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ اسے ایک خاص چیز کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا اشتراک وہ اور ان کا آجر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/24104557607064c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/24104557607064c.webp'  alt='بچے رقم کے لیے تمام چھوٹے موٹے کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچے رقم کے لیے تمام چھوٹے موٹے کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر سیف اللہ اپنی انگلی میں پتھر کی ایک انگوٹھی پہنتا ہے جوکہ اسے بلال نے دی ہے۔ اگرچہ اس انگوٹھی کا سائز بڑا ہے لیکن اس نے اسے اپنے مطابق ایڈجسٹ کرلیا ہے اور اب وہ بڑے فخر سے اسے سب کو دکھاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے چھوٹے تحائف ڈرائیور اور شاگرد لڑکے کے درمیان ایک قریبی اور زیادہ ذاتی تعلق پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تعلق اکثر والدین اور بچوں کے درمیان رشتے کی صورت اختیار کرلیتا ہے لیکن یہ جعلی رشتہ نقصان دہ جذباتی بندھن کی بنیاد پر بنتا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر طاہرہ یوسف بتاتی ہیں کہ بچہ جو پہلے سے ہی آمدنی کے لیے بالغ پر منحصر ہوتا ہے، وہ اس شخص سے جذباتی وابستگی قائم کرلیتا ہے جو اس کا استحصال کرتا ہے۔ اس صورت حال سے بچے کے لیے نجات بہت مشکل ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="طاقت-کا-کھیل" href="#طاقت-کا-کھیل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;طاقت کا کھیل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سیف اللہ کی کہانی اس کی مثال ہے۔ وہ اپنے بیمار والد کی مالی مدد کے لیے سندھ کے گاؤں سے کراچی آیا ہے۔ بلال نے اسے گھر اور کام دیا لیکن جلد ہی صورت حال خوفناک ہوگئی۔ ایک ہفتے میں ہی سیف اللہ کا ریپ ہوگیا اور اسے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ اگرچہ ابتدائی ہفتے خوفناک تھے کیونکہ بلال، سیف اللہ کی زندگی کے ہر پہلو پر قابض ہوچکا تھا۔ کھانے سے لے کر اس کے خاندان سے رابطے تک، تمام معاملات بلال کے کنٹرول میں تھے۔ سیف اللہ کے لیے فرار کی کوئی راہ نہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تعلقات ایک سخت طاقت کا ڈھانچہ قائم کرتے ہیں۔ ڈرائیور کے پاس پورا کنٹرول ہوتا ہے اور لڑکا، اپنی کمزوری کی وجہ سے اس دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ جیسے جیسے لڑکے بڑے ہوتے جاتے ہیں اور فرار ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے اس جال سے نکلنا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کی کمیونٹی میں، ان کی مردانگی کا تعلق ان کے جنسی کردار سے ہے۔ غیر فعال کردار پر مجبور کیے جانے کی وجہ سے وہ کمزور دکھائی دیتے ہیں اور یہ ان سے ان کے اختیارات چھین لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرائیور ذاتی معلومات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ اگر لڑکے کبھی انکار کریں یا فرار کی کوشش کریں گے تو ان کے خاندان اور برادری کے سامنے ان کے راز فاش کر دیے جائیں گے۔ جیسے ایک شاگرد بیان کرتا ہے، لڑکوں میں معاشرے میں مسترد کیے جانے کا خوف ایک طاقتور ہتھیار ہے جس کی بنیاد پر لڑکوں کو حکم ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2021/10/6164e63f00a39.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2021/10/6164e63f00a39.jpg'  alt='معاشرے میں مسترد کیے جانے کی خوف کی وجہ سے وہ اس چکر سے نجات کی کوشش نہیں کرتے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;معاشرے میں مسترد کیے جانے کی خوف کی وجہ سے وہ اس چکر سے نجات کی کوشش نہیں کرتے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لڑکے حالات کو قبول کرنے لگتے ہیں۔ وزیر اضافی رقم کے لیے بلال کی بات مانتا ہے جس سے وہ چپل جیسی اشیا خریدتا ہے۔ وہ اسے ایک کاروباری ڈیل کے طور پر دیکھتا ہے جس پر یقین کرنا اس کے لیے یہ تسلیم کرنے سے زیادہ آسان ہے کہ اس کا جنسی استحصال ہو رہا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے گھر یاد آتا ہے تو اس نے ڈان سے کہا، ’یہاں جو کچھ ہوتا ہے، اس کے بعد آپ گھر کیسے جا سکتے ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کچھ لڑکے یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جنسی استحصال پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کے لیے انہوں نے پیسے یا ذاتی لطف کو جواز کے طور پر پیش کیا۔ سیف اللہ کہتے ہیں، ’یہ فعل یک طرفہ نہیں ہے‘۔ لیکن جواز پیش کرنے کا یہ طریقہ انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ اس سے لڑکے خود کو متاثرہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس فعل میں ان کی رضامندی شامل ہے۔ یہ سوچ انہیں مدد مانگنے یا یہ محسوس کرنے سے روکتی ہے کہ ان کا استحصال ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="متعلقہ-اداروں-کی-خاموشی" href="#متعلقہ-اداروں-کی-خاموشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;متعلقہ اداروں کی خاموشی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سندھ پروبیشن آف ایمپلائمنٹ آف چلڈرن بل 2017ء جیسے قوانین بچوں کی جسم فروشی کو غیر قانونی اور قابل سزا قرار دیتے ہیں لیکن ماڑی پور جیسے مقامات پر ان قوانین کو شاید ہی کبھی نافذ کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرک کمیونٹی میں ڈرائیورز اور مددگار لڑکوں کے درمیان جنسی تعلقات کو عام سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اکثر اس معاملے پر آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی ہے۔ لوگ کبھی کبھی لڑکوں کو ڈرائیور کے خاندان کا فرد سمجھتے ہیں، لہٰذا کسی کو شک نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ سب کو معلوم ہے، حکام کچھ نہیں کرتے، لڑکوں کو یونہی غیر محفوظ چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لڑکوں کے استحصال کا ایک اور ذریعہ منشیات ہے۔ ٹرکنگ کمیونٹی میں منشیات کا استعمال عام ہے۔ ڈرائیور طویل سفر پر جاگتے رہنے کے لیے چرس اور میتھمفیٹامین (جسے مقامی طور پر ’آئس‘ کہا جاتا ہے) جیسی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ لڑکوں کا پالا بھی منشیات اور شراب سے پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی ان کے استعمال کے عادی ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے صحت کا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ تر جنسی سرگرمیوں میں حفاظتی اشیا کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ 2014ء کے ثقافت، صحت اور صنف کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے بتایا کہ صرف 8 فیصد ٹرک ڈرائیورز کنڈوم استعمال کرتے ہیں۔ ایچ آئی وی اور جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والے دیگر انفیکشنز کے بارے میں آگاہی بھی بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر بلال کا خیال ہے کہ اس کا عقیدہ اسے ’مغربی برائیوں‘ سے محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر طاہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ جب تک لوگ ان کے بارے میں کھل کر بات نہیں کریں گے، بدسلوکی اور صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات بلا روک تھام یونہی جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1949539/society-the-kept-boys-of-mauripur"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیف اللہ کی عمر 10 سال ہے۔ جب بھی اس کا آجر جوکہ بلال نامی طویل مسافت پر ٹرک چلانے والا ڈرائیور ہے، ’موڈ‘ میں ہوتا ہے تب سیف اللہ کہتا ہے کہ اس کے پاس بلال کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔</p>
<p>بلال گزشتہ 3 دہائیوں سے ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ پر کام کررہا ہے جبکہ ملک بھر کی قومی شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے وہ سامان کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ اس دوران اس نے کئی نوجوان لڑکوں کو اپنے ساتھ بطور شاگرد کام کرنے کے لیے ’رکھا‘ ہوا ہے۔ سیف اللہ ان لڑکوں میں تازہ شمولیت ہے۔</p>
<p>کراچی کے مغربی حصے میں 100 ایکڑ پر پھیلا ہوا ماڑی پور اسٹینڈ، مصروف اوقات میں ڈیزل کے دھوئیں بھر جاتا ہے جبکہ ہارن کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ سندھ اور اس سے باہر کے راستوں پر جانے والے ٹرک اپنی باری کا یہیں رک کر انتظار کرتے ہیں۔ مگر یہاں صرف ٹرانسپورٹ کا کاروبار نہیں ہوتا۔</p>
<h1><a id="استحصال-کا-رجحان" href="#استحصال-کا-رجحان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>استحصال کا رجحان</h1>
<p>گلیوں اور مرمت خانوں میں ایک تشویشناک کلچر پایا جاتا ہے۔ سیف اللہ جیسے کم عمر کام سیکھنے والے لڑکے، کم عمری کی مزدوری، جسمانی تشدد اور جنسی استحصال کی ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جوکہ بچوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والے حضرات کے مطابق عام ہیں مگر شاذ و نادر ہی مجرمان کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے۔</p>
<p>12 سالہ وزیر بھی بلال کے شاگردوں میں سے ایک ہے۔ وہ ٹرک کے مکینک کی زیرِ نگرانی کام کرتا ہے جہاں وہ انجن کی مرمت اور ٹائر بدلنے کا کام سیکھ رہا ہے۔ دونوں لڑکے کیبن صاف کرتے ہیں، اوزار لاتے ہیں اور مختلف چھوٹے معمولی امور انجام دیتے ہیں تاکہ وہ وہاں کام کرتے رہیں۔ یہی کام کرکے وہ طویل سفر کے لیے جانے والے ٹرک میں سوار ہوسکتے ہیں لیکن یہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ بلال کی پہنچ میں رہتے ہیں۔</p>
<p>یہ ظلم صرف ایک فرد تک محدود نہیں۔ ماڑی پور میں کئی ڈرائیور اسی طرح کے استحصال میں ملوث ہیں جبکہ متاثرہ لڑکوں کے مطابق بعض اوقات ڈرائیورز ایک دوسرے کے نوجوان مددگار لڑکوں کو آپس میں شیئر بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/241037271b971f7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/241037271b971f7.webp'  alt='ماڑی پور جو کراچی کو بندرگاہ سے جوڑتا ہے&mdash;تصویر: گیٹی ایمیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماڑی پور جو کراچی کو بندرگاہ سے جوڑتا ہے—تصویر: گیٹی ایمیجز</figcaption>
    </figure></p>
<p>سیف اللہ کا کہنا ہے کہ انکار کرنے پر اس کے ہاتھ میں جو بھی اوزار ہوتا ہے، اسی سے سیف اللہ کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ وہ اپنے خاندانی پس منظر کو ’پریشان کُن‘ بیان کرتا ہے اور اس کے پاس کہیں جانے کے لیے جگہ نہیں ہے۔ یومیہ اجرت کی بنیاد پر وہ یہاں کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیف اللہ نے ڈان کو بتایا، ’باقی امور تو صرف کام کا حصہ ہیں‘۔</p>
<p>اس کے خیال میں ایک ناقابلِ برداشت حالات سے نجات کی کوشش میں وہ دوسری مشکل صورت حال میں پھنس چکا ہے۔</p>
<h1><a id="آمدنی-کا-انحصار" href="#آمدنی-کا-انحصار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آمدنی کا انحصار</h1>
<p>لکھاری نے کراچی کے ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ پر ایک چھوٹے پیمانے پر غیر رسمی تحقیقات کی جس میں ان کی جمع کردہ کہانیوں سے ایک واضح نمونہ ظاہر ہوا ہے۔ بہت سے ڈرائیورز نے غیررسمی گفتگو میں اتفاق کیا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان لڑکوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کے لیے تفریح کا بنیادی ذریعہ ہے۔</p>
<p>بلال سمیت بہت سے ڈرائیورز نے کہا کہ انہیں ایسا کرنا ضروری لگا کیونکہ لمبی مسافت کی ڈرائیونگ میں وہ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سفر انہیں اپنے خاندانوں سے دور رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلسل یہ دعویٰ کیا کہ ان تعلقات میں لڑکوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>تاہم بات چیت سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ صورت حال زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سے لڑکے جن کا خاندانی پس منظر اچھا نہیں ہوتا، وہ ان تعلقات کو دیکھ بھال اور وفاداری سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ڈرائیورز کے ’ضرورت کے تحت‘ قائم کیے جانے والے تعلقات کے بیانیے کو پیچیدہ رخ دیتا ہے۔</p>
<p>ان ’خاص‘ تعلقات کے احساس کو اکثر چھوٹے اور علامتی اشاروں کے ذریعے مضبوط کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ شاگرد لڑکے اپنے ڈرائیور کا پرفیوم استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ اسے ایک خاص چیز کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا اشتراک وہ اور ان کا آجر کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/24104557607064c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/24104557607064c.webp'  alt='بچے رقم کے لیے تمام چھوٹے موٹے کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچے رقم کے لیے تمام چھوٹے موٹے کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>مثال کے طور پر سیف اللہ اپنی انگلی میں پتھر کی ایک انگوٹھی پہنتا ہے جوکہ اسے بلال نے دی ہے۔ اگرچہ اس انگوٹھی کا سائز بڑا ہے لیکن اس نے اسے اپنے مطابق ایڈجسٹ کرلیا ہے اور اب وہ بڑے فخر سے اسے سب کو دکھاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے چھوٹے تحائف ڈرائیور اور شاگرد لڑکے کے درمیان ایک قریبی اور زیادہ ذاتی تعلق پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ تعلق اکثر والدین اور بچوں کے درمیان رشتے کی صورت اختیار کرلیتا ہے لیکن یہ جعلی رشتہ نقصان دہ جذباتی بندھن کی بنیاد پر بنتا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر طاہرہ یوسف بتاتی ہیں کہ بچہ جو پہلے سے ہی آمدنی کے لیے بالغ پر منحصر ہوتا ہے، وہ اس شخص سے جذباتی وابستگی قائم کرلیتا ہے جو اس کا استحصال کرتا ہے۔ اس صورت حال سے بچے کے لیے نجات بہت مشکل ہوجاتی ہے۔</p>
<h1><a id="طاقت-کا-کھیل" href="#طاقت-کا-کھیل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>طاقت کا کھیل</h1>
<p>سیف اللہ کی کہانی اس کی مثال ہے۔ وہ اپنے بیمار والد کی مالی مدد کے لیے سندھ کے گاؤں سے کراچی آیا ہے۔ بلال نے اسے گھر اور کام دیا لیکن جلد ہی صورت حال خوفناک ہوگئی۔ ایک ہفتے میں ہی سیف اللہ کا ریپ ہوگیا اور اسے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ اگرچہ ابتدائی ہفتے خوفناک تھے کیونکہ بلال، سیف اللہ کی زندگی کے ہر پہلو پر قابض ہوچکا تھا۔ کھانے سے لے کر اس کے خاندان سے رابطے تک، تمام معاملات بلال کے کنٹرول میں تھے۔ سیف اللہ کے لیے فرار کی کوئی راہ نہ تھی۔</p>
<p>یہ تعلقات ایک سخت طاقت کا ڈھانچہ قائم کرتے ہیں۔ ڈرائیور کے پاس پورا کنٹرول ہوتا ہے اور لڑکا، اپنی کمزوری کی وجہ سے اس دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ جیسے جیسے لڑکے بڑے ہوتے جاتے ہیں اور فرار ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے اس جال سے نکلنا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کی کمیونٹی میں، ان کی مردانگی کا تعلق ان کے جنسی کردار سے ہے۔ غیر فعال کردار پر مجبور کیے جانے کی وجہ سے وہ کمزور دکھائی دیتے ہیں اور یہ ان سے ان کے اختیارات چھین لیتے ہیں۔</p>
<p>ڈرائیور ذاتی معلومات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ اگر لڑکے کبھی انکار کریں یا فرار کی کوشش کریں گے تو ان کے خاندان اور برادری کے سامنے ان کے راز فاش کر دیے جائیں گے۔ جیسے ایک شاگرد بیان کرتا ہے، لڑکوں میں معاشرے میں مسترد کیے جانے کا خوف ایک طاقتور ہتھیار ہے جس کی بنیاد پر لڑکوں کو حکم ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2021/10/6164e63f00a39.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2021/10/6164e63f00a39.jpg'  alt='معاشرے میں مسترد کیے جانے کی خوف کی وجہ سے وہ اس چکر سے نجات کی کوشش نہیں کرتے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>معاشرے میں مسترد کیے جانے کی خوف کی وجہ سے وہ اس چکر سے نجات کی کوشش نہیں کرتے</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ لڑکے حالات کو قبول کرنے لگتے ہیں۔ وزیر اضافی رقم کے لیے بلال کی بات مانتا ہے جس سے وہ چپل جیسی اشیا خریدتا ہے۔ وہ اسے ایک کاروباری ڈیل کے طور پر دیکھتا ہے جس پر یقین کرنا اس کے لیے یہ تسلیم کرنے سے زیادہ آسان ہے کہ اس کا جنسی استحصال ہو رہا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے گھر یاد آتا ہے تو اس نے ڈان سے کہا، ’یہاں جو کچھ ہوتا ہے، اس کے بعد آپ گھر کیسے جا سکتے ہیں؟‘</p>
<p>یہاں تک کچھ لڑکے یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جنسی استحصال پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کے لیے انہوں نے پیسے یا ذاتی لطف کو جواز کے طور پر پیش کیا۔ سیف اللہ کہتے ہیں، ’یہ فعل یک طرفہ نہیں ہے‘۔ لیکن جواز پیش کرنے کا یہ طریقہ انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ اس سے لڑکے خود کو متاثرہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس فعل میں ان کی رضامندی شامل ہے۔ یہ سوچ انہیں مدد مانگنے یا یہ محسوس کرنے سے روکتی ہے کہ ان کا استحصال ہو رہا ہے۔</p>
<h1><a id="متعلقہ-اداروں-کی-خاموشی" href="#متعلقہ-اداروں-کی-خاموشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>متعلقہ اداروں کی خاموشی</h1>
<p>سندھ پروبیشن آف ایمپلائمنٹ آف چلڈرن بل 2017ء جیسے قوانین بچوں کی جسم فروشی کو غیر قانونی اور قابل سزا قرار دیتے ہیں لیکن ماڑی پور جیسے مقامات پر ان قوانین کو شاید ہی کبھی نافذ کیا گیا ہو۔</p>
<p>ٹرک کمیونٹی میں ڈرائیورز اور مددگار لڑکوں کے درمیان جنسی تعلقات کو عام سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اکثر اس معاملے پر آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی ہے۔ لوگ کبھی کبھی لڑکوں کو ڈرائیور کے خاندان کا فرد سمجھتے ہیں، لہٰذا کسی کو شک نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ سب کو معلوم ہے، حکام کچھ نہیں کرتے، لڑکوں کو یونہی غیر محفوظ چھوڑ دیتے ہیں۔</p>
<p>لڑکوں کے استحصال کا ایک اور ذریعہ منشیات ہے۔ ٹرکنگ کمیونٹی میں منشیات کا استعمال عام ہے۔ ڈرائیور طویل سفر پر جاگتے رہنے کے لیے چرس اور میتھمفیٹامین (جسے مقامی طور پر ’آئس‘ کہا جاتا ہے) جیسی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ لڑکوں کا پالا بھی منشیات اور شراب سے پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی ان کے استعمال کے عادی ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے صحت کا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ تر جنسی سرگرمیوں میں حفاظتی اشیا کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ 2014ء کے ثقافت، صحت اور صنف کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے بتایا کہ صرف 8 فیصد ٹرک ڈرائیورز کنڈوم استعمال کرتے ہیں۔ ایچ آئی وی اور جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والے دیگر انفیکشنز کے بارے میں آگاہی بھی بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر بلال کا خیال ہے کہ اس کا عقیدہ اسے ’مغربی برائیوں‘ سے محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر طاہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ جب تک لوگ ان کے بارے میں کھل کر بات نہیں کریں گے، بدسلوکی اور صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات بلا روک تھام یونہی جاری رہیں گے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1949539/society-the-kept-boys-of-mauripur">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272360</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Oct 2025 13:33:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مطیع الرحمٰن)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/24102431df4a7b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/24102431df4a7b3.webp"/>
        <media:title>—السٹریشن: رادیہ درانی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیاقت علی خان سے بےنظیر بھٹو تک: ’ہر سیاسی قتل کے پیچھے سازشیں ہوتی ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272219/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان مسئلے کے خصوصی سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/balochistanmasla"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;’وقت مقررہ پر میں راولپنڈی میں وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گیا جہاں وزیر اعظم کے اے ڈی سی افضل سعید خان میرے منتظر تھے۔ افضل سعید خان ایک برآمدے سے گزر کر مجھے وزیر اعظم کے سٹنگ روم لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے ساتھ ان کے دو سینئر وزیر عبد الحفیظ پیرزاہ اور رفیع رضا کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ بھٹو صاحب سے ماضی میں جو ملاقاتیں ہوئی تھیں، وہ ون آن ون ہوا کرتی تھیں۔ بھٹو صاحب نے حسبِ روایت کشادہ ہاتھوں سے ملتے ہوئے حفیظ پیرزادہ اور رفیع رضا سے میرا تعارف یوں کروایا، ’آؤ میرے دوست، بلوچستان سے کیرالہ کے سوشلسٹ کٹی صاحب!‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میں حفیظ پیرزادہ سے ایک حد تک واقف تھا کہ 1973ء کے آئین کے حوالے سے وہ بھٹو صاحب کے بعد دوسرے نمبر پر سمجھے جاتے تھے۔ مگر رفیع رضا سے میں پہلی مرتبہ مل رہا تھا۔ بھٹو صاحب نے ذرا چبھتے ہوئے انداز میں اپنے وزرا کا تعارف کرواتے ہوئے کہا، ’یہ رفیع رضا ہیں، مشہور سیاستدان جن کے تعارف کی ضرورت نہیں۔ یہ حفیظ پیرزادہ ہیں، وفاقی وزیر برائے انٹرپروینشل کوآرڈینیس‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بھٹو صاحب کے تعارف کے انداز سے گمان ہوا کہ وہ رفیع رضا کو حفیظ پیرزادہ پر ترجیح دے کر ان کی سبکی کرنا چاہتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے میرے بیٹھتے ہی پوچھا کہ ’میانوالی والی جیل میں بزنجو صاحب سے ملاقات کے دوران کیا بلوچستان میں سوویت یونین کے کردار پر کوئی بات ہوئی تھی؟ اور کیا بلوچستان اور پیپلز پارٹی خاص طور پر بھٹو مخالف تحریک شروع کرنے میں ماسکو سے رابطہ کرنے کا ذکر آیا تھا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میں نے بھٹو صاحب کا سوال سن کر حیرت سے کہا، ’ہماری اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی‘۔ بھٹو صاحب عبدالحفیظ پیزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ’تمہاری انٹیلی جنس رپورٹ غلط تھی‘۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے جواب میں کہا، ’مگر کٹی صاحب یہ تو تسلیم کریں گے کہ نیپ کی قیادت میں اس مسئلے پر اختلاف ہے‘، جس پر بھٹو صاحب نے کہا، ’یہ تو ہر پارٹی میں ہوتا ہے، کیا ہماری پارٹی میں مسائل پر اختلاف نہیں پایا جاتا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231222340adc95f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231222340adc95f.webp'  alt='  ذوالفقار علی بھٹو عبدالحفیظ پیزادہ کے ہمراہ&amp;mdash;تصویر: فلیکر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ذوالفقار علی بھٹو عبدالحفیظ پیزادہ کے ہمراہ—تصویر: فلیکر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ کہہ کر بھٹو صاحب نے اپنے دونوں وزرا سے کہا کہ وہ جا سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ میں بھی اٹھنے لگا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ بھٹو صاحب نے مجھ سے کہا، ’تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں نے بزنجو کے بارے میں اپنے وزرا کی موجودگی میں یہ سوال کیوں کیا؟ عبدالحفیظ پیرزادہ اور وزیر داخلہ عبدالقیوم خان نے میانوالی جیل میں تمہارے اور بزنجو کے درمیان ہونے والی گفتگو کی جو انٹیلی جنس رپورٹ دی تھی، اس میں بزنجو نے تمہیں ماسکو سے بلوچستان کے حوالے سے رابطہ رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ میرے پاس ان لوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا اسکرپٹ لے کر آئے تھے اور تم نے دیکھا کہ جب میں نے یہ سوال کیا تو پیرزادہ کا چہرہ اتر گیا تھا‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بھٹو صاحب کہنے لگے کہ ’میں اپنے تجربے کی بنیاد پر پرکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ بزنجو متعصب نہیں۔ وہ اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور اگلی ملاقات میں تم اس کا بزنجو سے ضرور ذکر کرنا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقتباس بی ایم کٹی کی کتاب ’سکسٹی ایئرز ان ایگزائل‘ سے لی گئی ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے بھٹو صاحب کی بابائے بلوچستان میر بزنجو کے مشیرِ خاص بی ایم کٹی سے یہ ملاقات جنوری 1975ء میں ہوئی تھی۔ اگلے ہی مہینے فروری میں پشاور یونیورسٹی کی ایک تقریب میں پیپلزپارٹی صوبہ سرحد کے رہنما حیات محمد خان شیر پاؤ کا قتل ہوگیا جس کا ذکر میں اپنے گزشتہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268970/"&gt;بلاگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں تفصیل سے کرچکا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ ہر سیاسی قتل کے پیچھے ایک سازش ہوتی ہے۔ سازشی عناصر مستقبل کے حوالے سے پوری منصوبہ بندی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے ایک جلسے میں چند فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ اس وقت کے پولیس افسران کی کارکردگی دیکھیں کہ سید اکبر نامی افغان نژاد قاتل کو جائے وقوعہ پر ہی گولیوں سے بھون دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271708/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271708"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کا اصل فائدہ کسے پہنچا؟ جسمانی طور پر مفلوج گورنر غلام محمد جنہوں نے پہلی دستور ساز اسمبلی توڑی، انگریز کے پروردہ سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا جو بعد میں نام نہاد جمہوریت کی بساط لپیٹ کر 8 اکتوبر 1958ء کو صدر بن گئے اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی یا پھر قیام پاکستان کے بعد ہی سے اقتدار میں آنے کی تیاری کرنے والے فیلڈ مارشل ایوب خان جن کے بارے میں پہلے بھی میں لکھ چکا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل شیر علی خان پٹودی نے اپنی کتاب The Story of Soldiering and Politics in India and Pakistan, میں لکھا ہے کہ ’انگریز جنرل ڈگلس گریسی جاتے جاتے جنرل ایوب خان کو یہ نصیحت کی تھی کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم پر ہمیشہ فوج کے جنرل کی بالادستی رہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذوالفقار بھٹو کا تو عدالتی قتل ہی ہوا، ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کے قتل، ان کے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کی مبینہ پولیس مقابلے میں موت جبکہ میر شاہنواز بھٹو کی پُراسرار موت میں تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ بیرونی سازشی ہاتھ بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس دن بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں خطاب کرنا تھا، اس دن صبح افغان صدر حامد کرزئی نے زور دے کر کہا تھا کہ وہ جلسے میں نہ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے چاروں جانب سے خودکش حملے کی تیاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ذہانت اور دانشمندی پر ہمیشہ ان کی ضدی طبیعت غالب رہی۔ صدر آصف علی زرداری کے دور میں جو اقوام متحدہ سے تفتیشی ٹیم آئی تھی، اس نے اپنی تحقیقات کو ایک کتاب ’گیٹنگ آوے ود مرڈر‘ کے نام سے شائع کیا تھا جو اردو میں ’قاتل پھر بچ نکلا‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں ان تمام افراد کی نشاندہی کی گئی تھی جو  بے نظیر بھٹو کے قتل میں بالواسطہ ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بے نظیر بھٹو کےدور میں ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کا بیرون ملک سے آنا اور دن دیہاڑے کراچی کی شارع پر قتل ہوجانا تو ایک کھلی سازش ہی تھی جس کے بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت رخصت کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیات محمد شیر پاؤ کا قتل بھی ایک ایسی سازش تھی جس نے ملک کا سیاسی نقشہ ہی بدل دیا۔ سقوط ڈھاکا کے بعد نئے پاکستان میں پیپلزپارٹی، نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے اتحاد سے جو مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی، اگر وہ اپنی مدت پوری کر لیتی تو آج کا سیاسی منظر نامہ مختلف ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123008459e310.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123008459e310.webp'  alt='  اپریل 1973ء میں آئین کی توثیق کے بعد چاروں طرف مسکراہٹیں۔ بائیں طرف سے نظر آنے والے خان عبدالولی خان، شیخ رحید، سردار شوکت حیات، عبدالحفیظ پیرزادہ اور میر غوث بخش بزنجو (انتہائی دائیں) جبکہ مفتی محمود صاحب بیٹھے ہوئے ہیں&amp;mdash;تصویر: قومی اسمبلی آرکائیوز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اپریل 1973ء میں آئین کی توثیق کے بعد چاروں طرف مسکراہٹیں۔ بائیں طرف سے نظر آنے والے خان عبدالولی خان، شیخ رحید، سردار شوکت حیات، عبدالحفیظ پیرزادہ اور میر غوث بخش بزنجو (انتہائی دائیں) جبکہ مفتی محمود صاحب بیٹھے ہوئے ہیں—تصویر: قومی اسمبلی آرکائیوز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معذرت کے ساتھ حیات محمد خان شیر پاؤ کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا جب پیپلزپارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نیپ کی قیادت سے رابطہ قائم کرچکے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک نیپ کے حیدرآباد جیل میں قید رہنما انتقام کی حد تک بھٹو مخالف ہوچکے تھے۔ صرف ایک میر غوث بخش بزنجو ہی تھے جو بھٹو صاحب سے مفاہمت کے حق میں تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ضیا کی فوجی آمریت سے بھٹو کی بدترین جمہوریت بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر غوث بخش بزنجو اپنی سوانح عمری ’مقصد سیاست‘ کے صفحہ 180 پر لکھتے ہیں کہ ’جب تک بھٹو صاحب کو یہ بات سمجھ آئی کہ اگر انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ تصفیہ نہ کیا تو مسلح افواج کو آگے بڑھنے کی ترغیب ملے گی، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حکومت کی جانب سے دھاندلی کرنے کے سنگین الزامات کے بعد پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کی ملک گیر ہڑتال کی کال نے فوج کے لیے آگے بڑھنے کا سازگار ماحول پیدا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھٹو صاحب پی این اے کے ساتھ مذاکرات کی آنکھ مچولی کھیل رہے تھے تب ان کے منتخب کردہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیا الحق اور ان کے ساتھی جرنیل ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھے۔ اس سے قبل کہ بھٹو صاحب ان کے خلاف قدم اٹھاتے، انہوں نے پہلے قدم اٹھا لیا اور 5 جولائی 1977ء کو اقتدار پر قابض ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2014/11/54558e15dd10e.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2014/11/54558e15dd10e.jpg'  alt='  پی این اے کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی ضیاالحق حکومت پر قابض ہوگئے&amp;mdash;تصویر: ایکس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پی این اے کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی ضیاالحق حکومت پر قابض ہوگئے—تصویر: ایکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ واقعات کے یہ بدقسمت رخ اختیار کرنے کا تعلق زیادہ تر جرنیلوں کی حرص اقتدار سے ہے لیکن اُس وقت بیشتر سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کی نفرت میں اس حد تک اندھے ہوچکے تھے کہ اگر شیطان بھی بھٹو کو چھٹکارا دلانے میں ان کی مدد کو آتا تو وہ اس سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہوجاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’وہ یہ بات سمجھنے میں ناکام رہے کہ اپنی ذاتی خامیوں اور ان کی حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کیے جانے کے باوجود جمہوری طرزِ حکومت بہرحال آمریت سے بہتر تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر غوث بخش بزنجو اپنی سوانح عمری میں مزید لکھتے ہیں کہ ’ایک دو کامریڈز کے علاوہ باقی سب بھی بھٹو صاحب کی حکومت ہٹانے پر متفق  تھے۔ جہاں تک بلوچ قیادت کا تعلق ہے تو وہ ایک فیصلہ کن نکتے پر پہنچ چکی تھی۔ جیل میں جب ہماری میٹنگ ہوئی تو بلوچ قیادت کے دو مؤقف سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ایک مؤقف پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہوئے قومی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا، مزاحمتی تحریک روک دینا تھا جو پُرتشدد تحریک کا رخ اختیار کرچکی ہے جبکہ پہاڑوں سے لڑنے والوں کو واپس بلانا بھی اس میں شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دوسری رائے موجودہ تحریک کو علیحدگی کی تحریک میں مکمل طور پر تبدیل کردینا تھی جو پہاڑوں میں انہیں وہیں رہ کر دوبارہ منظم کرنا نواب خیر بخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچ سمیت کسی بھی قومیت کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں کیونکہ پنجاب کسی دوسری قومیت کو عزت اور وقار دینے کو تیار نہیں تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرغوث بخش بزنجو کی تمام تر کوششوں کے باوجود مری، مینگل خاص طور پر بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او) کے عسکریت پسند علیحدگی کی تحریک پر ڈٹے ہوئے تھے۔ جیل سے باہر بی ایس او کا ایک بڑا گروپ چمن اور طورخم کے راستے کابل اور ماسکو پہنچ چکا تھا اور وہاں باقاعدہ مسلح جدوجہد کی تربیت لے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نیپ کی پشتون قیادت نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کی بنیاد رکھی جس کے صدر ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ سردار شیر سرباز خان مزاری تھے بلکہ اس کی اصل قیادت نسیم ولی خان کے ہاتھ میں تھی۔ نیپ کی پشتون قیادت یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ انہیں بلوچستان کے تین بڑوں بزنجو، مینگل اور مری کی سیاست کے ساتھ نہیں چلنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123311ba6ea20.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123311ba6ea20.webp'  alt='  میر غوث بخش بزنجو آمریت پر بھٹو کی جمہوریت کو ترجیح دیتے تھے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میر غوث بخش بزنجو آمریت پر بھٹو کی جمہوریت کو ترجیح دیتے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی این اے کی تحریک کے آخری دنوں میں این ڈی پی کے صدر شیر سرباز خان مزاری اور بیگم نسیم ولی خان جرنیلوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہوئی تو جنرل ضیا الحق اپنے جرنیلوں کے ہمراہ حیدرآباد جیل پہنچ گئے اور فوجی آپریشن کا سارا ملبہ بھٹو صاحب پر ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر صحافی فاروق عادل نے بی بی سی میں جنرل ضیا الحق کی متعدد ملاقاتوں میں پہلی ملاقات کا بڑے دلچسپ انداز میں ذکر کیا ہے۔ جنرل ضیا الحق جب ایک دن حیدرآباد جیل پہنچے اور سازش کیس کے 55 ملزمان سے 4 کو ملاقات کا شرف بخشا تو ان میں کالعدم نیپ کے سربراہ خان عبد الولی خان، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار عطا اللہ مینگل، میر بخش بزجو اور نواب بخش علی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواب صاحب خاموش طبع لیکن بھاری بھرکم شخصیت رکھنے والے بزرگ تھے۔ وہ سفید کھدر کے کرتے پاجامے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتے سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں داخل ہوئے تو جنرل ضیا نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ ان کے سینے پر سوویت یونین کے بانی ولادیمیر لینن کی تصویر والا بڑا سا سنہری بیج چمک رہا تھا۔ اس منظر نے ان کے اور ملنے والوں کے درمیان جھجھک کی دیوار کھڑی کردی۔ جنرل ضیا نے ان سے معذرت کی تو نواب صاحب نے بےنیازی سے جواب دیا کہ ’سیاست میں تو اس طرح ہوتا ہے آپ پریشان نہ ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر جنرل ضیا کی جو ملاقاتیں ہوتی تھیں، بڑی طویل ہوتی تھیں جن میں وہ مذہبی معاملات پر روانی سے گفتگو کرتے اور نیپ قائدین سے کہا کرتے تھے کہ وہ مستقبل میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ جنرل ضیا الحق کا زور اس بات پر ہوتا تھا کہ فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اپنے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1267162/"&gt;بلاگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; تفصیل سے لکھ چکا ہوں کہ جنرل ضیا الحق نے اپریل 1974ء میں اسد اللہ مینگل کو قتل کرکے دفن کرنے والے جرنیلوں کا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو  سے کہا تھا تو اس واقعے کو بھول جائیں کیونکہ اگر اس پر تفتیش ہوئی تو پہاڑوں پر لڑنے والی فوج کا مورال ڈاؤن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2312153590503ab.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2312153590503ab.webp'  alt='  اسداللہ مینگل کے قتل کو دبانے کی بات ضیاالحق نے وزیراعظم بھٹو سے کی تھی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسداللہ مینگل کے قتل کو دبانے کی بات ضیاالحق نے وزیراعظم بھٹو سے کی تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد ٹربیونل ختم ہوجاتا ہے، نیپ کی قیادت جب جیل سے باہر نکلتی ہے تو ہر ایک کا راستہ مختلف ہوتا ہے۔ المیہ دیکھیے کہ ایک ساتھ برسوں جیل کی سختیاں برداشت کرنے والے جب باہر نکلتے ہیں تو گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالے ان رہنماؤں کا راستہ جدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیماری کے سبب خان عبدالولی خان کا راولپنڈی کے اسپتال میں علاج ہوا اور پھر وہ پشاور چلے گئے۔ عطااللہ مینگل اور خیر بخش مری کچھ عرصے بعد کابل اور لندن چلے گئے جبکہ واحد میر غوث بخش بزنجو ہی ہیں جو کوئٹہ واپس آئے اور ایک بار پھر کوشش کی جبکہ نیشل پارٹی کے نام سے جمہوری راستہ اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;(جاری ہے)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: میٹا اے آئی&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان مسئلے کے خصوصی سلسلے کی گزشتہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/balochistanmasla">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>’وقت مقررہ پر میں راولپنڈی میں وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گیا جہاں وزیر اعظم کے اے ڈی سی افضل سعید خان میرے منتظر تھے۔ افضل سعید خان ایک برآمدے سے گزر کر مجھے وزیر اعظم کے سٹنگ روم لے گئے۔</p>
<p>’ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے ساتھ ان کے دو سینئر وزیر عبد الحفیظ پیرزاہ اور رفیع رضا کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ بھٹو صاحب سے ماضی میں جو ملاقاتیں ہوئی تھیں، وہ ون آن ون ہوا کرتی تھیں۔ بھٹو صاحب نے حسبِ روایت کشادہ ہاتھوں سے ملتے ہوئے حفیظ پیرزادہ اور رفیع رضا سے میرا تعارف یوں کروایا، ’آؤ میرے دوست، بلوچستان سے کیرالہ کے سوشلسٹ کٹی صاحب!‘</p>
<p>’میں حفیظ پیرزادہ سے ایک حد تک واقف تھا کہ 1973ء کے آئین کے حوالے سے وہ بھٹو صاحب کے بعد دوسرے نمبر پر سمجھے جاتے تھے۔ مگر رفیع رضا سے میں پہلی مرتبہ مل رہا تھا۔ بھٹو صاحب نے ذرا چبھتے ہوئے انداز میں اپنے وزرا کا تعارف کرواتے ہوئے کہا، ’یہ رفیع رضا ہیں، مشہور سیاستدان جن کے تعارف کی ضرورت نہیں۔ یہ حفیظ پیرزادہ ہیں، وفاقی وزیر برائے انٹرپروینشل کوآرڈینیس‘۔</p>
<p>’بھٹو صاحب کے تعارف کے انداز سے گمان ہوا کہ وہ رفیع رضا کو حفیظ پیرزادہ پر ترجیح دے کر ان کی سبکی کرنا چاہتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے میرے بیٹھتے ہی پوچھا کہ ’میانوالی والی جیل میں بزنجو صاحب سے ملاقات کے دوران کیا بلوچستان میں سوویت یونین کے کردار پر کوئی بات ہوئی تھی؟ اور کیا بلوچستان اور پیپلز پارٹی خاص طور پر بھٹو مخالف تحریک شروع کرنے میں ماسکو سے رابطہ کرنے کا ذکر آیا تھا؟‘</p>
<p>’میں نے بھٹو صاحب کا سوال سن کر حیرت سے کہا، ’ہماری اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی‘۔ بھٹو صاحب عبدالحفیظ پیزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ’تمہاری انٹیلی جنس رپورٹ غلط تھی‘۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے جواب میں کہا، ’مگر کٹی صاحب یہ تو تسلیم کریں گے کہ نیپ کی قیادت میں اس مسئلے پر اختلاف ہے‘، جس پر بھٹو صاحب نے کہا، ’یہ تو ہر پارٹی میں ہوتا ہے، کیا ہماری پارٹی میں مسائل پر اختلاف نہیں پایا جاتا؟‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231222340adc95f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231222340adc95f.webp'  alt='  ذوالفقار علی بھٹو عبدالحفیظ پیزادہ کے ہمراہ&mdash;تصویر: فلیکر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ذوالفقار علی بھٹو عبدالحفیظ پیزادہ کے ہمراہ—تصویر: فلیکر</figcaption>
    </figure></p>
<p>’یہ کہہ کر بھٹو صاحب نے اپنے دونوں وزرا سے کہا کہ وہ جا سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ میں بھی اٹھنے لگا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ بھٹو صاحب نے مجھ سے کہا، ’تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں نے بزنجو کے بارے میں اپنے وزرا کی موجودگی میں یہ سوال کیوں کیا؟ عبدالحفیظ پیرزادہ اور وزیر داخلہ عبدالقیوم خان نے میانوالی جیل میں تمہارے اور بزنجو کے درمیان ہونے والی گفتگو کی جو انٹیلی جنس رپورٹ دی تھی، اس میں بزنجو نے تمہیں ماسکو سے بلوچستان کے حوالے سے رابطہ رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ میرے پاس ان لوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا اسکرپٹ لے کر آئے تھے اور تم نے دیکھا کہ جب میں نے یہ سوال کیا تو پیرزادہ کا چہرہ اتر گیا تھا‘‘۔</p>
<p>’بھٹو صاحب کہنے لگے کہ ’میں اپنے تجربے کی بنیاد پر پرکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ بزنجو متعصب نہیں۔ وہ اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور اگلی ملاقات میں تم اس کا بزنجو سے ضرور ذکر کرنا‘۔</p>
<p>یہ اقتباس بی ایم کٹی کی کتاب ’سکسٹی ایئرز ان ایگزائل‘ سے لی گئی ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے بھٹو صاحب کی بابائے بلوچستان میر بزنجو کے مشیرِ خاص بی ایم کٹی سے یہ ملاقات جنوری 1975ء میں ہوئی تھی۔ اگلے ہی مہینے فروری میں پشاور یونیورسٹی کی ایک تقریب میں پیپلزپارٹی صوبہ سرحد کے رہنما حیات محمد خان شیر پاؤ کا قتل ہوگیا جس کا ذکر میں اپنے گزشتہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268970/">بلاگ</a></strong> میں تفصیل سے کرچکا ہوں۔</p>
<p>ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ ہر سیاسی قتل کے پیچھے ایک سازش ہوتی ہے۔ سازشی عناصر مستقبل کے حوالے سے پوری منصوبہ بندی کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے ایک جلسے میں چند فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ اس وقت کے پولیس افسران کی کارکردگی دیکھیں کہ سید اکبر نامی افغان نژاد قاتل کو جائے وقوعہ پر ہی گولیوں سے بھون دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271708/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271708"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کا اصل فائدہ کسے پہنچا؟ جسمانی طور پر مفلوج گورنر غلام محمد جنہوں نے پہلی دستور ساز اسمبلی توڑی، انگریز کے پروردہ سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا جو بعد میں نام نہاد جمہوریت کی بساط لپیٹ کر 8 اکتوبر 1958ء کو صدر بن گئے اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی یا پھر قیام پاکستان کے بعد ہی سے اقتدار میں آنے کی تیاری کرنے والے فیلڈ مارشل ایوب خان جن کے بارے میں پہلے بھی میں لکھ چکا ہوں۔</p>
<p>جنرل شیر علی خان پٹودی نے اپنی کتاب The Story of Soldiering and Politics in India and Pakistan, میں لکھا ہے کہ ’انگریز جنرل ڈگلس گریسی جاتے جاتے جنرل ایوب خان کو یہ نصیحت کی تھی کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم پر ہمیشہ فوج کے جنرل کی بالادستی رہے‘۔</p>
<p>ذوالفقار بھٹو کا تو عدالتی قتل ہی ہوا، ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کے قتل، ان کے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کی مبینہ پولیس مقابلے میں موت جبکہ میر شاہنواز بھٹو کی پُراسرار موت میں تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ بیرونی سازشی ہاتھ بھی شامل تھا۔</p>
<p>جس دن بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں خطاب کرنا تھا، اس دن صبح افغان صدر حامد کرزئی نے زور دے کر کہا تھا کہ وہ جلسے میں نہ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے چاروں جانب سے خودکش حملے کی تیاری کی ہے۔</p>
<p>مگر بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ذہانت اور دانشمندی پر ہمیشہ ان کی ضدی طبیعت غالب رہی۔ صدر آصف علی زرداری کے دور میں جو اقوام متحدہ سے تفتیشی ٹیم آئی تھی، اس نے اپنی تحقیقات کو ایک کتاب ’گیٹنگ آوے ود مرڈر‘ کے نام سے شائع کیا تھا جو اردو میں ’قاتل پھر بچ نکلا‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں ان تمام افراد کی نشاندہی کی گئی تھی جو  بے نظیر بھٹو کے قتل میں بالواسطہ ملوث تھے۔</p>
<p>بے نظیر بھٹو کےدور میں ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کا بیرون ملک سے آنا اور دن دیہاڑے کراچی کی شارع پر قتل ہوجانا تو ایک کھلی سازش ہی تھی جس کے بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت رخصت کردی گئی تھی۔</p>
<p>حیات محمد شیر پاؤ کا قتل بھی ایک ایسی سازش تھی جس نے ملک کا سیاسی نقشہ ہی بدل دیا۔ سقوط ڈھاکا کے بعد نئے پاکستان میں پیپلزپارٹی، نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے اتحاد سے جو مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی، اگر وہ اپنی مدت پوری کر لیتی تو آج کا سیاسی منظر نامہ مختلف ہوتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123008459e310.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123008459e310.webp'  alt='  اپریل 1973ء میں آئین کی توثیق کے بعد چاروں طرف مسکراہٹیں۔ بائیں طرف سے نظر آنے والے خان عبدالولی خان، شیخ رحید، سردار شوکت حیات، عبدالحفیظ پیرزادہ اور میر غوث بخش بزنجو (انتہائی دائیں) جبکہ مفتی محمود صاحب بیٹھے ہوئے ہیں&mdash;تصویر: قومی اسمبلی آرکائیوز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اپریل 1973ء میں آئین کی توثیق کے بعد چاروں طرف مسکراہٹیں۔ بائیں طرف سے نظر آنے والے خان عبدالولی خان، شیخ رحید، سردار شوکت حیات، عبدالحفیظ پیرزادہ اور میر غوث بخش بزنجو (انتہائی دائیں) جبکہ مفتی محمود صاحب بیٹھے ہوئے ہیں—تصویر: قومی اسمبلی آرکائیوز</figcaption>
    </figure></p>
<p>معذرت کے ساتھ حیات محمد خان شیر پاؤ کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا جب پیپلزپارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نیپ کی قیادت سے رابطہ قائم کرچکے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک نیپ کے حیدرآباد جیل میں قید رہنما انتقام کی حد تک بھٹو مخالف ہوچکے تھے۔ صرف ایک میر غوث بخش بزنجو ہی تھے جو بھٹو صاحب سے مفاہمت کے حق میں تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ضیا کی فوجی آمریت سے بھٹو کی بدترین جمہوریت بہتر ہے۔</p>
<p>میر غوث بخش بزنجو اپنی سوانح عمری ’مقصد سیاست‘ کے صفحہ 180 پر لکھتے ہیں کہ ’جب تک بھٹو صاحب کو یہ بات سمجھ آئی کہ اگر انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ تصفیہ نہ کیا تو مسلح افواج کو آگے بڑھنے کی ترغیب ملے گی، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حکومت کی جانب سے دھاندلی کرنے کے سنگین الزامات کے بعد پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کی ملک گیر ہڑتال کی کال نے فوج کے لیے آگے بڑھنے کا سازگار ماحول پیدا کیا۔</p>
<p>جب بھٹو صاحب پی این اے کے ساتھ مذاکرات کی آنکھ مچولی کھیل رہے تھے تب ان کے منتخب کردہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیا الحق اور ان کے ساتھی جرنیل ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھے۔ اس سے قبل کہ بھٹو صاحب ان کے خلاف قدم اٹھاتے، انہوں نے پہلے قدم اٹھا لیا اور 5 جولائی 1977ء کو اقتدار پر قابض ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2014/11/54558e15dd10e.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2014/11/54558e15dd10e.jpg'  alt='  پی این اے کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی ضیاالحق حکومت پر قابض ہوگئے&mdash;تصویر: ایکس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پی این اے کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی ضیاالحق حکومت پر قابض ہوگئے—تصویر: ایکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ واقعات کے یہ بدقسمت رخ اختیار کرنے کا تعلق زیادہ تر جرنیلوں کی حرص اقتدار سے ہے لیکن اُس وقت بیشتر سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کی نفرت میں اس حد تک اندھے ہوچکے تھے کہ اگر شیطان بھی بھٹو کو چھٹکارا دلانے میں ان کی مدد کو آتا تو وہ اس سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہوجاتے۔</p>
<p>’وہ یہ بات سمجھنے میں ناکام رہے کہ اپنی ذاتی خامیوں اور ان کی حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کیے جانے کے باوجود جمہوری طرزِ حکومت بہرحال آمریت سے بہتر تھی‘۔</p>
<p>میر غوث بخش بزنجو اپنی سوانح عمری میں مزید لکھتے ہیں کہ ’ایک دو کامریڈز کے علاوہ باقی سب بھی بھٹو صاحب کی حکومت ہٹانے پر متفق  تھے۔ جہاں تک بلوچ قیادت کا تعلق ہے تو وہ ایک فیصلہ کن نکتے پر پہنچ چکی تھی۔ جیل میں جب ہماری میٹنگ ہوئی تو بلوچ قیادت کے دو مؤقف سامنے آئے۔</p>
<p>’ایک مؤقف پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہوئے قومی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا، مزاحمتی تحریک روک دینا تھا جو پُرتشدد تحریک کا رخ اختیار کرچکی ہے جبکہ پہاڑوں سے لڑنے والوں کو واپس بلانا بھی اس میں شامل تھا۔</p>
<p>’دوسری رائے موجودہ تحریک کو علیحدگی کی تحریک میں مکمل طور پر تبدیل کردینا تھی جو پہاڑوں میں انہیں وہیں رہ کر دوبارہ منظم کرنا نواب خیر بخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچ سمیت کسی بھی قومیت کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں کیونکہ پنجاب کسی دوسری قومیت کو عزت اور وقار دینے کو تیار نہیں تھا‘۔</p>
<p>میرغوث بخش بزنجو کی تمام تر کوششوں کے باوجود مری، مینگل خاص طور پر بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او) کے عسکریت پسند علیحدگی کی تحریک پر ڈٹے ہوئے تھے۔ جیل سے باہر بی ایس او کا ایک بڑا گروپ چمن اور طورخم کے راستے کابل اور ماسکو پہنچ چکا تھا اور وہاں باقاعدہ مسلح جدوجہد کی تربیت لے رہا تھا۔</p>
<p>ادھر نیپ کی پشتون قیادت نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کی بنیاد رکھی جس کے صدر ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ سردار شیر سرباز خان مزاری تھے بلکہ اس کی اصل قیادت نسیم ولی خان کے ہاتھ میں تھی۔ نیپ کی پشتون قیادت یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ انہیں بلوچستان کے تین بڑوں بزنجو، مینگل اور مری کی سیاست کے ساتھ نہیں چلنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123311ba6ea20.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23123311ba6ea20.webp'  alt='  میر غوث بخش بزنجو آمریت پر بھٹو کی جمہوریت کو ترجیح دیتے تھے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میر غوث بخش بزنجو آمریت پر بھٹو کی جمہوریت کو ترجیح دیتے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پی این اے کی تحریک کے آخری دنوں میں این ڈی پی کے صدر شیر سرباز خان مزاری اور بیگم نسیم ولی خان جرنیلوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہوئی تو جنرل ضیا الحق اپنے جرنیلوں کے ہمراہ حیدرآباد جیل پہنچ گئے اور فوجی آپریشن کا سارا ملبہ بھٹو صاحب پر ڈال دیا۔</p>
<p>سینئر صحافی فاروق عادل نے بی بی سی میں جنرل ضیا الحق کی متعدد ملاقاتوں میں پہلی ملاقات کا بڑے دلچسپ انداز میں ذکر کیا ہے۔ جنرل ضیا الحق جب ایک دن حیدرآباد جیل پہنچے اور سازش کیس کے 55 ملزمان سے 4 کو ملاقات کا شرف بخشا تو ان میں کالعدم نیپ کے سربراہ خان عبد الولی خان، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار عطا اللہ مینگل، میر بخش بزجو اور نواب بخش علی شامل تھے۔</p>
<p>نواب صاحب خاموش طبع لیکن بھاری بھرکم شخصیت رکھنے والے بزرگ تھے۔ وہ سفید کھدر کے کرتے پاجامے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتے سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں داخل ہوئے تو جنرل ضیا نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ ان کے سینے پر سوویت یونین کے بانی ولادیمیر لینن کی تصویر والا بڑا سا سنہری بیج چمک رہا تھا۔ اس منظر نے ان کے اور ملنے والوں کے درمیان جھجھک کی دیوار کھڑی کردی۔ جنرل ضیا نے ان سے معذرت کی تو نواب صاحب نے بےنیازی سے جواب دیا کہ ’سیاست میں تو اس طرح ہوتا ہے آپ پریشان نہ ہوں‘۔</p>
<p>عام طور پر جنرل ضیا کی جو ملاقاتیں ہوتی تھیں، بڑی طویل ہوتی تھیں جن میں وہ مذہبی معاملات پر روانی سے گفتگو کرتے اور نیپ قائدین سے کہا کرتے تھے کہ وہ مستقبل میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ جنرل ضیا الحق کا زور اس بات پر ہوتا تھا کہ فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>میں اپنے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1267162/">بلاگ</a></strong> تفصیل سے لکھ چکا ہوں کہ جنرل ضیا الحق نے اپریل 1974ء میں اسد اللہ مینگل کو قتل کرکے دفن کرنے والے جرنیلوں کا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو  سے کہا تھا تو اس واقعے کو بھول جائیں کیونکہ اگر اس پر تفتیش ہوئی تو پہاڑوں پر لڑنے والی فوج کا مورال ڈاؤن ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2312153590503ab.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2312153590503ab.webp'  alt='  اسداللہ مینگل کے قتل کو دبانے کی بات ضیاالحق نے وزیراعظم بھٹو سے کی تھی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسداللہ مینگل کے قتل کو دبانے کی بات ضیاالحق نے وزیراعظم بھٹو سے کی تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>حیدرآباد ٹربیونل ختم ہوجاتا ہے، نیپ کی قیادت جب جیل سے باہر نکلتی ہے تو ہر ایک کا راستہ مختلف ہوتا ہے۔ المیہ دیکھیے کہ ایک ساتھ برسوں جیل کی سختیاں برداشت کرنے والے جب باہر نکلتے ہیں تو گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالے ان رہنماؤں کا راستہ جدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بیماری کے سبب خان عبدالولی خان کا راولپنڈی کے اسپتال میں علاج ہوا اور پھر وہ پشاور چلے گئے۔ عطااللہ مینگل اور خیر بخش مری کچھ عرصے بعد کابل اور لندن چلے گئے جبکہ واحد میر غوث بخش بزنجو ہی ہیں جو کوئٹہ واپس آئے اور ایک بار پھر کوشش کی جبکہ نیشل پارٹی کے نام سے جمہوری راستہ اختیار کیا۔</p>
<p><strong>(جاری ہے)</strong></p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: میٹا اے آئی</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272219</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Oct 2025 17:33:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مجاہد بریلوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/23141225fb6007c.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/23141225fb6007c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2314074306e8e63.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2314074306e8e63.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آن لائن فراڈ کے نئے حربے، آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272276/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں گلوبل اسٹیٹ آف اسکیمر (scams) 2025ء نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستانی ہر سال 9 ارب ڈالر سے زائد کے آن لائن فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن بات صرف اتنی سادہ نہیں۔ یہ رقم پاکستان کی کُل جی ڈی پی کا 2.5 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کا ہر 10 میں سے 7واں فرد کسی نہ کسی فراڈ کا شکار ہوا ہے جو تقریباً 57 فیصد آبادی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 442 ارب ڈالر ڈیجیٹل فراڈ کے ذریعے لوٹے جا چکے ہیں جبکہ 0.05 فیصد ہی مجرمان پکڑے جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے 42 ممالک کے 46 ہزار افراد کے سروے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر سائبر رسک مینجمنٹ ریحان مسعود کا کہنا ہے کہ پیپر لیس مارکیٹ یقیناً ایک سیکیورٹی رسک ہے لیکن جب تک صارف اپنے ہاتھوں سے اسکیمرز کو اپنا متعلقہ پن نہیں دیں گے تب تک فراڈ مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اسٹیٹ بینک اپنے تمام بینکوں کو ہدایت دیتا ہے کہ اپنے صارف کی سائبر سیکیورٹی کو ہر صورت ممکن بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ کے بعد ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)  بھی ان اسکیمرز اور فراڈی ٹولے کے کام کو آسان بنا رہا ہے کیونکہ کہیں آپ جیسے سادہ لوگ چھوٹی موٹی اور سادہ سی کہانی کا شکار ہورہے ہیں وہیں پروفیشنل حضرات کو جھانسے میں لینے کے لیے اب اے آئی سے مدد لی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی آپ کی بہن بھائی یا کسی دوست کی آواز میں پیغام بھیجے کہ اسے ایمرجنسی میں پیسوں کی اشد ضرورت ہے یا اسے آپ کے اے ٹی ایم کے پاس ورڈ کی ضرورت ہے۔ آپ کو شک بھی نہیں ہوگا کہ یہ اے آئی کی مدد سے بنائی گئی انسانی آواز ہے جو بالکل آپ کے قریبی افراد سے مماثلت رکھتی ہے۔ ہیکنگ کرکے آپ کے خاندان کو بھیجے ہوئی ذاتی معلومات سے بینک اور دیگر ایپلی کیشن تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی نے جہاں طرز زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں کلوننگ سے اب آپ چہرہ ہی نہیں بلکہ آواز بھی نقل کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اس سے بچنے کا طریقہ صرف ان خطرات کے بارے میں جان کر جینے میں ہی ہے۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ آگاہی کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آن لائن فراڈ ہو یا فیشنگ (phishing) کے ذریعہ ہونے والے جرائم، یہ اس لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ سڑک پر ہونے والے کسی بھی حادثے کا ہمیں اندازہ ہوتا ہے اور ہم احتیاط کرتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خطرہ کیا ہے اور کس سے ہے؟ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اپنے بچوں اور گھر والوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرتے ہیں تاکہ ان سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ دور میں اب لوٹنے کا نیا انداز اپنا لیا گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جانیں کہ بعض گروہ سادہ لوح افراد کو کیسے اپنے جال میں پھنسا کر ان سے پیسہ اور مال بٹورتے ہیں لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ پاکستانی کن ڈیجیٹل جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے سائبر کرائم آسلام آباد کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر آن لائن سائبر کرائم ایسے جرائم کو کہا جاتا ہے جو انٹرنیٹ، کمپیوٹر، موبائل فون یا کسی بھی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے کیے جائیں۔ پاکستان میں یہ جرائم پیکا ایکٹ 2016ءکے تحت آتے ہیں اور ان کی تفتیش ایف آئی اے کا سائبر ونگ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231019077f58870.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231019077f58870.webp'  alt='  پاکستان میں آن لائن جرائم میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان میں آن لائن جرائم میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color:BLACK;"&gt;
&lt;font size="6"&gt;&lt;p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"&gt; ڈیجیٹل اور آن لائن فراڈ کی چند کہانیاں&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;سرکاری جامعہ کی ایک استاد نے بتایا کہ مجھے پیغام ملا کہ آپ کا اے ٹی ایم کارڈ، ویریفائیڈ نہیں لہٰذا اسٹیٹ بینک کی جانب سے آپ کا اے ٹی ایم بلاک کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ اپنا کارڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو درجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں اور ساتھ ہی موبائل نمبر درج تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صحافی نے بتایا کہ ان کے پاس جسٹس وجیہ الدین کے واٹس ایپ سے میسج آیا کہ میں ایک صاحب کا نمبر بھیج رہا ہوں، 50 ہزار ٹرانسفر کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو نقد دیتا ہوا چلا جاتا ہوں، اکاؤنٹ میں پیسے نہیں۔ ہیکر نے ایک چیک کی تصویر بھیجی کہ اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیں جو ملتان کے پتے پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں ایک قریبی دوست نے بتایا کہ انہیں فیس بک پر اپنے ایک دوست کا میسج ملا کہ وہ کچھ پیسے بھیج رہے ہیں۔ یہ 17 لاکھ روپے ان کے والدین تک پہنچا دیں۔ منی گرام کی سلپ تھی۔ یہ صاحب غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے پیسے آنے پر وہ یہ روپے ان کے والدین تک پہنچا دیں گے لیکن پھر 3 گھنٹے بعد میسج آیا کہ انہیں ایمرجنسی ہے ایجنٹ فوری پیسے مانگ رہا ہے۔ اگر اسے پیسے نہیں دیے تو ان کا ویزا کینسل ہو جائے گا۔ لہٰذا انہیں فوری پیسے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تو بس چند ہزار ہی پڑے ہیں اور وہ بھیج دیے۔ کہا کہ باقی صبح جب پیسے آجائیں گے تو ٹرانسفر کر دیں گے لیکن صبح ہونے پر اس دوست کی پوسٹ تھی کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے۔ وہ شکر کرتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے کم تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی رہائشی نسیم حمزہ ایک ریٹائرڈ خاتون ہیں۔ اخبار پڑھتی ہیں، وہ اپنے ساتھ ہونے والےآن لائن فراڈ کا قصہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ایک دن بینک سےکال آئی کہ آپ کا اے ٹی ایم بند ہو رہا ہے لہٰذا اپنا نمبر دیں۔ انہوں نے دے بھی دیا، جو جو وہ پوچھتے رہے سب معلومات بھی دیتی رہیں۔ کال ختم ہوتے ہی تھوڑی دیر میں بیٹی آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بینک سے کال تھی۔ بیٹی نے فورا کہا اماں یہ کوئی فراڈ کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے بینک فون کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے کوئی کال نہیں کی تھی۔ ہم نے فوراً ہی اے ٹی ایم بلاک کروادیا۔ اگر بیٹی بروقت نہیں آتی تو میں یقیناً اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو چکی ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231032554db999a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231032554db999a.webp'  alt='  اے ٹی ایم کی معلومات بینک کبھی صارف سے نہیں مانگتا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اے ٹی ایم کی معلومات بینک کبھی صارف سے نہیں مانگتا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی سی آئی اے کراچی، محمد آصف رضا بلوچ کا کہنا ہےکہ ہنی ٹریپ کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ کئی گروہ سوشل میڈیا یا فون کال پر ٹریپ کرکے اغوا اور پیسے بٹور لیتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ مجھے ہنی ٹریپ کرکے شادی کے لیے بلایا گیا لیکن وہاں خاتون نہیں بلکہ آدمی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی مقدس حیدر کا کہنا تھا کہ اس ہی طرح مختلف ای کامرس سائٹ پر جاب کے حوالے سے اشتہار لگائے جاتے ہیں تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color:BLACK;"&gt;
&lt;font size="6"&gt;&lt;p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"&gt;آخر ہمارا ڈیٹا اسکیمر تک پہنچتا کیسے ہے؟ &lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;ریاض اینڈی، معاشی امور اور بینک سے متعلق اہم نام ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’ڈیٹا تک رسائی کے کئی طریقے ہیں۔ ہم جگہ جگہ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دے رہے ہوتے ہیں۔ راہ چلتے لوگوں سے سم خرید کر اپنے شناختی نمبر اور فنگر پرنٹ دے دیتے ہیں۔ کہیں کارڈ سے شاپنگ کرتے ہیں اور کہیں آن لائن خریداری کرتے ہوئے اپنی بنیادی معلومات دے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے اپنی ڈیوائسز کی پرائویسی کو داؤ پر لگا دیتے ہیں اور اپنا ڈیٹا ان اپیس کو پہنچا دیتے ہیں۔ کسی نامعلوم ای میل کا جواب دے دیتے ہیں۔ یہی نہیں ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہر گزرتے دن ڈیٹا تک رسائی کے نئے طریقے دریافت ہورہے ہیں لیکن آخری ضرب لگانے کے لیے انہیں آپ کی پن یا پاس ورڈ اور او ٹی پی کی ضرورت پڑتی ہے جو آپ ہی فراہم کرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231037289472fb3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231037289472fb3.webp'  alt='  اسکیمرز ہماری ذاتی ڈیٹا چوری کرنے میں اب اے آئی کا استعمال کررہے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکیمرز ہماری ذاتی ڈیٹا چوری کرنے میں اب اے آئی کا استعمال کررہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color:BLACK;"&gt;
&lt;font size="6"&gt;&lt;p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"&gt;ایف آئی اے سائبر کرائم کیا کہتا ہے؟  &lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے اسلام آباد سائبر کرائم برانچ نے بتایا کہ بنیادی طور پر آج کل ایک طریقہ کار نہیں بلکہ طرح طرح کے فراڈ ہمارے سامنے آتے ہیں جیسے آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ۔ خواتین یا مردوں کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دھمکانا یا بلیک میل کرنا بھی اسی زمرے میں آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر اخلاقی یا دھمکی آمیز پیغامات، ای میلز یا فون کالز، سوشل میڈیا کرائمز، فیک آئی ڈیز بنانا، فنانشل/آن لائن فراڈ، بینک اکاؤنٹ ہیک کرنا، اے ٹی ایم، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کا فراڈ، آن لائن شاپنگ یا سرمایہ کاری کے اسکیمز، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری، ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنا، بچوں سے متعلق جرائم جیسے پورنوگرافی، ممنوعہ اور غیر قانونی مواد آن لائن پھیلانا، یہ سب ہی آن لائن فراڈ کی فہرست میں نمایاں ہیں اور پاکستان بھر میں یہ واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ آن لائن گیمز بھی اس کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کیسز کس طرح رپورٹ ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے سائبر کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ ہم شکایت کنندہ کو کہتے ہیں کہ جب کبھی کسی بھی قسم کا ڈیجیٹل فراڈ کا سامنا ہو تو فورا آن لائن شکایت درج کروائیں۔ ایف آئی اے کی ویب سائٹ complaint.nccia.gov.pk پر فارم موجود ہے اسے پُر کریں اور وہ ای میل کے ذریعے &lt;a href="mailto:helpdesk@nccia.gov.pk"&gt;helpdesk@nccia.gov.pk&lt;/a&gt; بھی بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو قریبی سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر یا قریبی ایف آئی اے یا سائبر ونگ کے دفتر جا کر بھی اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے ہیلپ لائن نمبر 1799 پر بھی کال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color:BLACK;"&gt;
&lt;font size="6"&gt;&lt;p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"&gt;ڈیجیٹل فراڈ سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے نے واضح کیا کہ جس طرح ہم ظاہری خطرے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپناتے ہیں، اس ہی طرح ڈیجیٹل چوری سے بچنے کی پہلی شرط احتیاط ہے۔ اور اسے نظر انداز نہ کریں۔ وہ تاکید کرتے ہیں کہ ہمیشہ مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔ جو کم از کم 12 سے 16 حروف، چھوٹے بڑے حروف، اعداد اور علامات ملا کر بنایا جائے۔ کوشش کریں کہ ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاسورڈ رکھیں یعنی ایک پاسورڈ سب جگہ استعمال نہ کریں۔ اکثر محفوظ رہنے والے اکاؤنٹ  Two-Factor Authentication (2FA) نظام کو فعال رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جتنے بھی اہم اکاؤنٹس ہیں (ای میل، بینکنگ، سوشل میڈیا) ان میں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن آن کریں۔ شک اور احتیاط کم از کم اس معاملے میں اچھی بات ہے۔ ہر لنک اور اٹیچمنٹ کو مشکوک نگاہ سے دیکھیں۔ نامعلوم ای میلز یا پیغامات میں آنے والے لنکس کو نہ کھولیں۔ ایک اور مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا یو آر ایل (ویب سائٹ یا ایپلی کیشن کا ایڈریس) ضرور چیک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23102339ec7b3e8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23102339ec7b3e8.webp'  alt='  اسکیمرز سے بچنے کا مؤثر طریقہ احتیاط ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکیمرز سے بچنے کا مؤثر طریقہ احتیاط ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ZIP/PDF/EXE اٹیچمنٹ تب ہی کھولیں جب بھیجنے والے کو آپ جانتے ہوں۔ ذاتی بنیادی معلومات شیئر نہ کریں۔ اہم ترین بات کی نشان دہی کرتے ہوئے افسر کا کہنا تھا کہ کبھی ایس ایم ایس یا ای میل میں پاس ورڈ، شناختی کارڈ نمبر، بینک کی تفصیلات یا او ٹی پی شیئر نہ کریں۔ یہ نہ بھولیں کہ بینک کبھی ایسی معلومات طلب نہیں کرتے۔ اپنے سافٹ ویئر اور موبائل OS اپ ڈیٹ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق تمام بغیر آن لائن منی ٹرانسفر سسٹم کم از کم دو گھنٹے تک ٹرانسفر نہیں ہوسکتے یعنی اگر کوئی موبائل والٹ سے پیسے نکالتا ہے اور آپ کو الرٹ کا پیغام آتا ہے تو آپ اپنی کمپنی کو اس رقم کی منتقلی کو روکنے کا کہہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال کہ پاکستان کے کن شہروں و علاقوں میں آن لائن فراڈ زیادہ ہوتے ہیں، سائبر کرائم افسر نے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی ڈیٹا دینا مشکل ہے۔ سال بھر میں کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس کا ریکارڈ سال کے آخر میں جاری ہونے والی رپورٹ میں ہی مل سکتا ہے۔ تاہم پنجاب اس کا گڑھ بن چکا ہے۔ خاص طور پر سرگودھا، خوشاب، خانیوال، شیخوپورہ اور قصور میں یہ عام ہیں۔ یہ علاقے پنجاب کے زیادہ آبادی والے علاقے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہ چھوٹے شہر نظر آتے ہیں لیکن اکثر آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل چوری میں جب کبھی کوئی بڑا گروہ پکڑا جاتا ہے تو یہ علاقے خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی طرح کے آن لائن فراڈ کیے جارہے ہیں۔ کچھ لوگ مقامی، بین الاقوامی فراڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص متعدد بار پکڑا جا چکا ہے۔ جیل بھی مدت بھی کاٹی لیکن واپس آ کر وہ پھر وہی کام کر رہا ہے۔ فراڈیا بار بار جیل جانے کے باوجود اسکیم اور فراڈ سے اتنی رقم بٹور لیتا ہے کہ اس کام میں اسے مزہ آنے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color:BLACK;"&gt;
&lt;font size="6"&gt;&lt;p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"&gt;کیا بینک اپنے صارف کی حفاظت کرتا ہے؟&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے مقامی بینک کی ایک خاتون اسسٹنٹ منیجر نے بتایا کہ ’ہاں فراڈ ہوتے ہیں۔ جب پیسے نکل جاتے ہیں تو لوگ شکایت لے کر ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہم انہیں شکایت درج کرنے کے لیے فارم دے دیتے ہیں لیکن بینک اپنی پالیسی کے مطابق عمل کرتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ ’یقیناً ڈیٹا تک رسائی اندرون خانہ ہی ممکن ہے۔ ان کے پورے بینکنگ کریئر میں کئی افراد فراڈ کیس میں شمولیت کی وجہ سے جیل گئے کیونکہ آن لائن ڈیٹا تک رسائی دینے میں ان کا اپنا حصہ بھی شامل ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ اگر بیرون ملک سے کوئی فراڈ کیا جائے جس میں کوئی او ٹی پی کال نہیں آتی بلکہ وہاں زیادہ بڑے پیمانے پر منظم جرائم کیے جارہے ہیں جس میں کارڈ ہولڈرز کا نقصان بینک کی طرف سے پورا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں موجود بینک اکاؤنٹ ہولڈر کے کارڈ سے چین کے اسٹور سے تقریباً 18 لاکھ روپے کی آن لائن شاپنگ کی گئی۔ بینک نے یہ پیسے صارف کو ادا کیے کیونکہ کارڈ کی مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا بینک کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2310462585d3aac.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2310462585d3aac.webp'  alt='  آن لائن سائٹس پر ہم اپنے کارڈ کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں جوکہ اسکیمرز کے ہاتھ لگ سکتی ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آن لائن سائٹس پر ہم اپنے کارڈ کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں جوکہ اسکیمرز کے ہاتھ لگ سکتی ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color:BLACK;"&gt;
&lt;font size="6"&gt;&lt;p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"&gt;کیا شکایت کنندہ ایف آئی اے سے مطمئن ہیں؟&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی مقامی خاتون ثنا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ہزاروں روپے کے ڈیجیٹل فراڈ کی رپورٹ جب ایف آئی اے سائبر کرائم کی ویب سائٹ پر کی، جس  میں انہوں نے ایک فارم پُر کیا، مگر ویب سائٹ پر شکایتی فارم بھرنے کے بعد درخواست کا کوئی نمبر، ای میل پر یا ان کے فون نمبر پر موصول نہیں ہوا۔ اور نہ ہی کبھی اس درخواست پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے متعلق انہیں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کا حوالہ ایک اور صاحب نے بھی دیا کہ جب انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کی کہانی محکمہ کو دی تو ان کا کہنا تھا وہ یہ چھوٹے موٹے آن لائن غبن اور فراڈ کو نہیں دیکھتے بڑے بڑے فراڈ پر کام کرتے ہیں۔ یقیناً سرکاری ادارے کو اپنی ٹیم میں اضافہ کرنا پڑے گا تاکہ شکایت کنندہ صارف کی شکایت بروقت دور کی جاسکے۔ آن لائن جرائم چھوٹا ہو یا بڑا، مجروم پکڑے جانے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں آن لائن فراڈ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اب سستی ٹیلی فون ڈیوائسز موجود ہیں جن سے آپ کا موبائل، کمپنی کا ٹاور سمجھ کر جڑ جاتا ہے۔ یہ ڈیوائس اتنی طاقتور ہے کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک لاکھ سے زائد فون کو پیغام بھیج سکتی ہے۔ خطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ اسکیمرز آپ کے موبائل میں موجود آپ کے لاگنگ تفصیلات اور بینک کی بنیادی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسا دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.facebook.com/reel/725427940513971'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/725427940513971" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام باتوں کے بعد سمجھ یہی آتا ہے کہ آگاہی ضروری ہے جبکہ احتیاط اور خطروں کی پہچان بھی آپ کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ جان لیں کہ بینک کبھی آپ کو فون نہیں کرے گا۔ یاد رکھیں کہ نہ اس قرعہ اندازی میں آپ کا انعام نکلے گا جس میں آپ نے رجسٹریشن ہی نہیں کروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیشہ ایسی کالوں پر کچھ دیر غور کریں کہ جو چیز آپ نے آن لائن خریدی ہی نہیں اس کی وصولی کا فون آپ کو کیوں آئے گا؟ جو پارسل آپ کو کسی اور نے بھیجا ہے، اس کے لیے کسی کو آپ کی معلومات کیوں چاہئیں؟ لہٰذا بچ کر رہیے!&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>حال ہی میں گلوبل اسٹیٹ آف اسکیمر (scams) 2025ء نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستانی ہر سال 9 ارب ڈالر سے زائد کے آن لائن فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن بات صرف اتنی سادہ نہیں۔ یہ رقم پاکستان کی کُل جی ڈی پی کا 2.5 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کا ہر 10 میں سے 7واں فرد کسی نہ کسی فراڈ کا شکار ہوا ہے جو تقریباً 57 فیصد آبادی ہے۔</p>
<p>ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 442 ارب ڈالر ڈیجیٹل فراڈ کے ذریعے لوٹے جا چکے ہیں جبکہ 0.05 فیصد ہی مجرمان پکڑے جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے 42 ممالک کے 46 ہزار افراد کے سروے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر سائبر رسک مینجمنٹ ریحان مسعود کا کہنا ہے کہ پیپر لیس مارکیٹ یقیناً ایک سیکیورٹی رسک ہے لیکن جب تک صارف اپنے ہاتھوں سے اسکیمرز کو اپنا متعلقہ پن نہیں دیں گے تب تک فراڈ مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اسٹیٹ بینک اپنے تمام بینکوں کو ہدایت دیتا ہے کہ اپنے صارف کی سائبر سیکیورٹی کو ہر صورت ممکن بنائیں۔</p>
<p>اس رپورٹ کے بعد ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)  بھی ان اسکیمرز اور فراڈی ٹولے کے کام کو آسان بنا رہا ہے کیونکہ کہیں آپ جیسے سادہ لوگ چھوٹی موٹی اور سادہ سی کہانی کا شکار ہورہے ہیں وہیں پروفیشنل حضرات کو جھانسے میں لینے کے لیے اب اے آئی سے مدد لی جارہی ہے۔</p>
<p>یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی آپ کی بہن بھائی یا کسی دوست کی آواز میں پیغام بھیجے کہ اسے ایمرجنسی میں پیسوں کی اشد ضرورت ہے یا اسے آپ کے اے ٹی ایم کے پاس ورڈ کی ضرورت ہے۔ آپ کو شک بھی نہیں ہوگا کہ یہ اے آئی کی مدد سے بنائی گئی انسانی آواز ہے جو بالکل آپ کے قریبی افراد سے مماثلت رکھتی ہے۔ ہیکنگ کرکے آپ کے خاندان کو بھیجے ہوئی ذاتی معلومات سے بینک اور دیگر ایپلی کیشن تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی نے جہاں طرز زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں کلوننگ سے اب آپ چہرہ ہی نہیں بلکہ آواز بھی نقل کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اس سے بچنے کا طریقہ صرف ان خطرات کے بارے میں جان کر جینے میں ہی ہے۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ آگاہی کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔</p>
<p>آن لائن فراڈ ہو یا فیشنگ (phishing) کے ذریعہ ہونے والے جرائم، یہ اس لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ سڑک پر ہونے والے کسی بھی حادثے کا ہمیں اندازہ ہوتا ہے اور ہم احتیاط کرتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خطرہ کیا ہے اور کس سے ہے؟ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اپنے بچوں اور گھر والوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرتے ہیں تاکہ ان سے بچ سکیں۔</p>
<p>موجودہ دور میں اب لوٹنے کا نیا انداز اپنا لیا گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جانیں کہ بعض گروہ سادہ لوح افراد کو کیسے اپنے جال میں پھنسا کر ان سے پیسہ اور مال بٹورتے ہیں لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ پاکستانی کن ڈیجیٹل جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ایف آئی اے سائبر کرائم آسلام آباد کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر آن لائن سائبر کرائم ایسے جرائم کو کہا جاتا ہے جو انٹرنیٹ، کمپیوٹر، موبائل فون یا کسی بھی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے کیے جائیں۔ پاکستان میں یہ جرائم پیکا ایکٹ 2016ءکے تحت آتے ہیں اور ان کی تفتیش ایف آئی اے کا سائبر ونگ کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231019077f58870.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231019077f58870.webp'  alt='  پاکستان میں آن لائن جرائم میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان میں آن لائن جرائم میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<div style="background-color:BLACK;">
<font size="6"><p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px"> ڈیجیٹل اور آن لائن فراڈ کی چند کہانیاں</font></p></div>
<p>سرکاری جامعہ کی ایک استاد نے بتایا کہ مجھے پیغام ملا کہ آپ کا اے ٹی ایم کارڈ، ویریفائیڈ نہیں لہٰذا اسٹیٹ بینک کی جانب سے آپ کا اے ٹی ایم بلاک کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ اپنا کارڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو درجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں اور ساتھ ہی موبائل نمبر درج تھا۔</p>
<p>ایک صحافی نے بتایا کہ ان کے پاس جسٹس وجیہ الدین کے واٹس ایپ سے میسج آیا کہ میں ایک صاحب کا نمبر بھیج رہا ہوں، 50 ہزار ٹرانسفر کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو نقد دیتا ہوا چلا جاتا ہوں، اکاؤنٹ میں پیسے نہیں۔ ہیکر نے ایک چیک کی تصویر بھیجی کہ اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیں جو ملتان کے پتے پر تھا۔</p>
<p>ہمیں ایک قریبی دوست نے بتایا کہ انہیں فیس بک پر اپنے ایک دوست کا میسج ملا کہ وہ کچھ پیسے بھیج رہے ہیں۔ یہ 17 لاکھ روپے ان کے والدین تک پہنچا دیں۔ منی گرام کی سلپ تھی۔ یہ صاحب غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے پیسے آنے پر وہ یہ روپے ان کے والدین تک پہنچا دیں گے لیکن پھر 3 گھنٹے بعد میسج آیا کہ انہیں ایمرجنسی ہے ایجنٹ فوری پیسے مانگ رہا ہے۔ اگر اسے پیسے نہیں دیے تو ان کا ویزا کینسل ہو جائے گا۔ لہٰذا انہیں فوری پیسے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تو بس چند ہزار ہی پڑے ہیں اور وہ بھیج دیے۔ کہا کہ باقی صبح جب پیسے آجائیں گے تو ٹرانسفر کر دیں گے لیکن صبح ہونے پر اس دوست کی پوسٹ تھی کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے۔ وہ شکر کرتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے کم تھے۔</p>
<p>کراچی کی رہائشی نسیم حمزہ ایک ریٹائرڈ خاتون ہیں۔ اخبار پڑھتی ہیں، وہ اپنے ساتھ ہونے والےآن لائن فراڈ کا قصہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ایک دن بینک سےکال آئی کہ آپ کا اے ٹی ایم بند ہو رہا ہے لہٰذا اپنا نمبر دیں۔ انہوں نے دے بھی دیا، جو جو وہ پوچھتے رہے سب معلومات بھی دیتی رہیں۔ کال ختم ہوتے ہی تھوڑی دیر میں بیٹی آگئی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بینک سے کال تھی۔ بیٹی نے فورا کہا اماں یہ کوئی فراڈ کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے بینک فون کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے کوئی کال نہیں کی تھی۔ ہم نے فوراً ہی اے ٹی ایم بلاک کروادیا۔ اگر بیٹی بروقت نہیں آتی تو میں یقیناً اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو چکی ہوتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231032554db999a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231032554db999a.webp'  alt='  اے ٹی ایم کی معلومات بینک کبھی صارف سے نہیں مانگتا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اے ٹی ایم کی معلومات بینک کبھی صارف سے نہیں مانگتا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایس ایس پی سی آئی اے کراچی، محمد آصف رضا بلوچ کا کہنا ہےکہ ہنی ٹریپ کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ کئی گروہ سوشل میڈیا یا فون کال پر ٹریپ کرکے اغوا اور پیسے بٹور لیتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ مجھے ہنی ٹریپ کرکے شادی کے لیے بلایا گیا لیکن وہاں خاتون نہیں بلکہ آدمی تھا۔</p>
<p>ڈی آئی جی مقدس حیدر کا کہنا تھا کہ اس ہی طرح مختلف ای کامرس سائٹ پر جاب کے حوالے سے اشتہار لگائے جاتے ہیں تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔</p>
<div style="background-color:BLACK;">
<font size="6"><p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px">آخر ہمارا ڈیٹا اسکیمر تک پہنچتا کیسے ہے؟ </font></p></div>
<p>ریاض اینڈی، معاشی امور اور بینک سے متعلق اہم نام ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’ڈیٹا تک رسائی کے کئی طریقے ہیں۔ ہم جگہ جگہ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دے رہے ہوتے ہیں۔ راہ چلتے لوگوں سے سم خرید کر اپنے شناختی نمبر اور فنگر پرنٹ دے دیتے ہیں۔ کہیں کارڈ سے شاپنگ کرتے ہیں اور کہیں آن لائن خریداری کرتے ہوئے اپنی بنیادی معلومات دے دیتے ہیں۔</p>
<p>’کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے اپنی ڈیوائسز کی پرائویسی کو داؤ پر لگا دیتے ہیں اور اپنا ڈیٹا ان اپیس کو پہنچا دیتے ہیں۔ کسی نامعلوم ای میل کا جواب دے دیتے ہیں۔ یہی نہیں ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہر گزرتے دن ڈیٹا تک رسائی کے نئے طریقے دریافت ہورہے ہیں لیکن آخری ضرب لگانے کے لیے انہیں آپ کی پن یا پاس ورڈ اور او ٹی پی کی ضرورت پڑتی ہے جو آپ ہی فراہم کرتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231037289472fb3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/231037289472fb3.webp'  alt='  اسکیمرز ہماری ذاتی ڈیٹا چوری کرنے میں اب اے آئی کا استعمال کررہے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکیمرز ہماری ذاتی ڈیٹا چوری کرنے میں اب اے آئی کا استعمال کررہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<div style="background-color:BLACK;">
<font size="6"><p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px">ایف آئی اے سائبر کرائم کیا کہتا ہے؟  </font></p></div>
<p>ایف آئی اے اسلام آباد سائبر کرائم برانچ نے بتایا کہ بنیادی طور پر آج کل ایک طریقہ کار نہیں بلکہ طرح طرح کے فراڈ ہمارے سامنے آتے ہیں جیسے آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ۔ خواتین یا مردوں کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دھمکانا یا بلیک میل کرنا بھی اسی زمرے میں آئے گا۔</p>
<p>غیر اخلاقی یا دھمکی آمیز پیغامات، ای میلز یا فون کالز، سوشل میڈیا کرائمز، فیک آئی ڈیز بنانا، فنانشل/آن لائن فراڈ، بینک اکاؤنٹ ہیک کرنا، اے ٹی ایم، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کا فراڈ، آن لائن شاپنگ یا سرمایہ کاری کے اسکیمز، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری، ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنا، بچوں سے متعلق جرائم جیسے پورنوگرافی، ممنوعہ اور غیر قانونی مواد آن لائن پھیلانا، یہ سب ہی آن لائن فراڈ کی فہرست میں نمایاں ہیں اور پاکستان بھر میں یہ واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ آن لائن گیمز بھی اس کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں کیسز کس طرح رپورٹ ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے سائبر کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ ہم شکایت کنندہ کو کہتے ہیں کہ جب کبھی کسی بھی قسم کا ڈیجیٹل فراڈ کا سامنا ہو تو فورا آن لائن شکایت درج کروائیں۔ ایف آئی اے کی ویب سائٹ complaint.nccia.gov.pk پر فارم موجود ہے اسے پُر کریں اور وہ ای میل کے ذریعے <a href="mailto:helpdesk@nccia.gov.pk">helpdesk@nccia.gov.pk</a> بھی بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو قریبی سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر یا قریبی ایف آئی اے یا سائبر ونگ کے دفتر جا کر بھی اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے ہیلپ لائن نمبر 1799 پر بھی کال کر سکتے ہیں۔</p>
<div style="background-color:BLACK;">
<font size="6"><p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px">ڈیجیٹل فراڈ سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟</font></p></div>
<p>ایف آئی اے نے واضح کیا کہ جس طرح ہم ظاہری خطرے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپناتے ہیں، اس ہی طرح ڈیجیٹل چوری سے بچنے کی پہلی شرط احتیاط ہے۔ اور اسے نظر انداز نہ کریں۔ وہ تاکید کرتے ہیں کہ ہمیشہ مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔ جو کم از کم 12 سے 16 حروف، چھوٹے بڑے حروف، اعداد اور علامات ملا کر بنایا جائے۔ کوشش کریں کہ ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاسورڈ رکھیں یعنی ایک پاسورڈ سب جگہ استعمال نہ کریں۔ اکثر محفوظ رہنے والے اکاؤنٹ  Two-Factor Authentication (2FA) نظام کو فعال رکھتے ہیں۔</p>
<p>جتنے بھی اہم اکاؤنٹس ہیں (ای میل، بینکنگ، سوشل میڈیا) ان میں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن آن کریں۔ شک اور احتیاط کم از کم اس معاملے میں اچھی بات ہے۔ ہر لنک اور اٹیچمنٹ کو مشکوک نگاہ سے دیکھیں۔ نامعلوم ای میلز یا پیغامات میں آنے والے لنکس کو نہ کھولیں۔ ایک اور مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا یو آر ایل (ویب سائٹ یا ایپلی کیشن کا ایڈریس) ضرور چیک کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23102339ec7b3e8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/23102339ec7b3e8.webp'  alt='  اسکیمرز سے بچنے کا مؤثر طریقہ احتیاط ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکیمرز سے بچنے کا مؤثر طریقہ احتیاط ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ZIP/PDF/EXE اٹیچمنٹ تب ہی کھولیں جب بھیجنے والے کو آپ جانتے ہوں۔ ذاتی بنیادی معلومات شیئر نہ کریں۔ اہم ترین بات کی نشان دہی کرتے ہوئے افسر کا کہنا تھا کہ کبھی ایس ایم ایس یا ای میل میں پاس ورڈ، شناختی کارڈ نمبر، بینک کی تفصیلات یا او ٹی پی شیئر نہ کریں۔ یہ نہ بھولیں کہ بینک کبھی ایسی معلومات طلب نہیں کرتے۔ اپنے سافٹ ویئر اور موبائل OS اپ ڈیٹ رکھیں۔</p>
<p>ساتھ ہی اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق تمام بغیر آن لائن منی ٹرانسفر سسٹم کم از کم دو گھنٹے تک ٹرانسفر نہیں ہوسکتے یعنی اگر کوئی موبائل والٹ سے پیسے نکالتا ہے اور آپ کو الرٹ کا پیغام آتا ہے تو آپ اپنی کمپنی کو اس رقم کی منتقلی کو روکنے کا کہہ سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ سوال کہ پاکستان کے کن شہروں و علاقوں میں آن لائن فراڈ زیادہ ہوتے ہیں، سائبر کرائم افسر نے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی ڈیٹا دینا مشکل ہے۔ سال بھر میں کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس کا ریکارڈ سال کے آخر میں جاری ہونے والی رپورٹ میں ہی مل سکتا ہے۔ تاہم پنجاب اس کا گڑھ بن چکا ہے۔ خاص طور پر سرگودھا، خوشاب، خانیوال، شیخوپورہ اور قصور میں یہ عام ہیں۔ یہ علاقے پنجاب کے زیادہ آبادی والے علاقے ہیں۔</p>
<p>بظاہر یہ چھوٹے شہر نظر آتے ہیں لیکن اکثر آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل چوری میں جب کبھی کوئی بڑا گروہ پکڑا جاتا ہے تو یہ علاقے خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔</p>
<p>ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی طرح کے آن لائن فراڈ کیے جارہے ہیں۔ کچھ لوگ مقامی، بین الاقوامی فراڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص متعدد بار پکڑا جا چکا ہے۔ جیل بھی مدت بھی کاٹی لیکن واپس آ کر وہ پھر وہی کام کر رہا ہے۔ فراڈیا بار بار جیل جانے کے باوجود اسکیم اور فراڈ سے اتنی رقم بٹور لیتا ہے کہ اس کام میں اسے مزہ آنے لگتا ہے۔</p>
<div style="background-color:BLACK;">
<font size="6"><p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px">کیا بینک اپنے صارف کی حفاظت کرتا ہے؟</font></p></div>
<p>کراچی کے مقامی بینک کی ایک خاتون اسسٹنٹ منیجر نے بتایا کہ ’ہاں فراڈ ہوتے ہیں۔ جب پیسے نکل جاتے ہیں تو لوگ شکایت لے کر ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہم انہیں شکایت درج کرنے کے لیے فارم دے دیتے ہیں لیکن بینک اپنی پالیسی کے مطابق عمل کرتا ہے‘۔</p>
<p>شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ ’یقیناً ڈیٹا تک رسائی اندرون خانہ ہی ممکن ہے۔ ان کے پورے بینکنگ کریئر میں کئی افراد فراڈ کیس میں شمولیت کی وجہ سے جیل گئے کیونکہ آن لائن ڈیٹا تک رسائی دینے میں ان کا اپنا حصہ بھی شامل ہوتا ہے‘۔</p>
<p>ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ اگر بیرون ملک سے کوئی فراڈ کیا جائے جس میں کوئی او ٹی پی کال نہیں آتی بلکہ وہاں زیادہ بڑے پیمانے پر منظم جرائم کیے جارہے ہیں جس میں کارڈ ہولڈرز کا نقصان بینک کی طرف سے پورا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں موجود بینک اکاؤنٹ ہولڈر کے کارڈ سے چین کے اسٹور سے تقریباً 18 لاکھ روپے کی آن لائن شاپنگ کی گئی۔ بینک نے یہ پیسے صارف کو ادا کیے کیونکہ کارڈ کی مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا بینک کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2310462585d3aac.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/2310462585d3aac.webp'  alt='  آن لائن سائٹس پر ہم اپنے کارڈ کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں جوکہ اسکیمرز کے ہاتھ لگ سکتی ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آن لائن سائٹس پر ہم اپنے کارڈ کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں جوکہ اسکیمرز کے ہاتھ لگ سکتی ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<div style="background-color:BLACK;">
<font size="6"><p style="color:White; text-align: center; padding: 0 0 14px">کیا شکایت کنندہ ایف آئی اے سے مطمئن ہیں؟</font></p></div>
<p>کراچی کی مقامی خاتون ثنا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ہزاروں روپے کے ڈیجیٹل فراڈ کی رپورٹ جب ایف آئی اے سائبر کرائم کی ویب سائٹ پر کی، جس  میں انہوں نے ایک فارم پُر کیا، مگر ویب سائٹ پر شکایتی فارم بھرنے کے بعد درخواست کا کوئی نمبر، ای میل پر یا ان کے فون نمبر پر موصول نہیں ہوا۔ اور نہ ہی کبھی اس درخواست پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے متعلق انہیں بتایا گیا۔</p>
<p>اسی طرح کا حوالہ ایک اور صاحب نے بھی دیا کہ جب انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کی کہانی محکمہ کو دی تو ان کا کہنا تھا وہ یہ چھوٹے موٹے آن لائن غبن اور فراڈ کو نہیں دیکھتے بڑے بڑے فراڈ پر کام کرتے ہیں۔ یقیناً سرکاری ادارے کو اپنی ٹیم میں اضافہ کرنا پڑے گا تاکہ شکایت کنندہ صارف کی شکایت بروقت دور کی جاسکے۔ آن لائن جرائم چھوٹا ہو یا بڑا، مجروم پکڑے جانے چاہئیں۔</p>
<p>جرمن ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں آن لائن فراڈ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اب سستی ٹیلی فون ڈیوائسز موجود ہیں جن سے آپ کا موبائل، کمپنی کا ٹاور سمجھ کر جڑ جاتا ہے۔ یہ ڈیوائس اتنی طاقتور ہے کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک لاکھ سے زائد فون کو پیغام بھیج سکتی ہے۔ خطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ اسکیمرز آپ کے موبائل میں موجود آپ کے لاگنگ تفصیلات اور بینک کی بنیادی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسا دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.facebook.com/reel/725427940513971'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/725427940513971" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>ان تمام باتوں کے بعد سمجھ یہی آتا ہے کہ آگاہی ضروری ہے جبکہ احتیاط اور خطروں کی پہچان بھی آپ کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ جان لیں کہ بینک کبھی آپ کو فون نہیں کرے گا۔ یاد رکھیں کہ نہ اس قرعہ اندازی میں آپ کا انعام نکلے گا جس میں آپ نے رجسٹریشن ہی نہیں کروائی۔</p>
<p>ہمیشہ ایسی کالوں پر کچھ دیر غور کریں کہ جو چیز آپ نے آن لائن خریدی ہی نہیں اس کی وصولی کا فون آپ کو کیوں آئے گا؟ جو پارسل آپ کو کسی اور نے بھیجا ہے، اس کے لیے کسی کو آپ کی معلومات کیوں چاہئیں؟ لہٰذا بچ کر رہیے!</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272276</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 13:57:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شیما صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/23112107634cb1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/23112107634cb1b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/231102513cbcfd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/231102513cbcfd5.webp"/>
        <media:title>—ہیڈر: میٹا اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: صدیوں کی کتھا! (انتالیسویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271729/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/karachisadiyonkikatha"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تیسرے معاہدے کے چند برسوں بعد یعنی 1823ء میں پھر انگریزوں نے کھوسوں کے حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر خرچے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی سندھ اور کَچھ کی سرحد پر کمپنی سرکار نے اپنی چوکیاں بھی قائم کر دیں۔ پھر وہی کہانی دہرائی گئی کہ میر کرم علی تالپور نے ان مسائل کے حل کے لیے مرزا خسرو بیگ کو سفیر بنا کر بمبئی بھیجا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری سفر کے بعد سندھ کے حاکموں کے اس وفد میں دو اور اہم لوگ، آخوند محمد بقا اور محمد عابد ٹھٹوی بھی شامل تھے۔ اس وفد نے بمبئی کے گورنر ایلفنسٹن سے اس حوالے سے بات چیت کی جس کا کمپنی سرکار نے مثبت جواب دیا اور معاملات ایک بار پھر حل ہوگئے اور وفد حیدرآباد لوٹ گیا۔ اس طرح کمپنی سرکار اور سندھ سرکار میں دھوپ چھاؤں کا سلسلہ چلتا رہا اور وقت کا کام تھا چلنا سو وہ چلتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153925c2d5500.webp'  alt='    لارڈ ولیم ایمبرسٹ 1823ء سے  تک 1828ء تک بنگال کے گورنر جنرل رہے    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لارڈ ولیم ایمبرسٹ 1823ء سے  تک 1828ء تک بنگال کے گورنر جنرل رہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 فروری 1827ء کو گورنر جنرل بنگال لارڈ ولیم ایمہرسٹ (Lord William Amherst) مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے بیٹے اکبر شاہ ثانی سے ملا اور جس تلخ اور تذلیل بھرے لہجے میں گفتگو کی وہ مغل شہزادے پر گراں گزری اور اس نے اس کی شکایت کرنے کے لیے راجا رام موہن رائے کو انگلستان بھیجا۔ دہلی سے اکبر شاہ کی تذلیل کرنے کے بعد گورنر جنرل شملہ روانہ ہوا جہاں رنجیت سنگھ کے ایک وفد سے اسے تفصیلی ملاقات کرنا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161539333965ffc.webp'  alt='    مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کا بیٹا اکبر شاہ ثانی    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کا بیٹا اکبر شاہ ثانی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی برس یعنی 1827ء اکتوبر کی 23 تاریخ منگل کے دن کَچھ کے سفارت خانہ کو سندھ کے امیروں کا ایک خط موصول ہوا جس میں دوستی شہد کی طرح ٹپک رہی تھی۔ اس میں استدعا کی گئی تھی کہ میر مراد سخت بیمار ہیں، ڈاکٹر جیمس برنس کو اس کے علاج کے لیے حیدرآباد بھیجا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالات کے برعکس اس خط کی وجہ سے سفارت خانے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے کیونکہ لارڈ ولیم ایمہرسٹ نے جو 1824ء میں برما سے جنگ چھیڑی تھی وہ ختم ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے 1818ء میں اَودھ بھی اب کمپنی کے قبضہ میں تھا۔ روس، ایران میں داخل ہوچکا تھا اور ہندوستان میں فی الوقت کوئی بڑا اُدھم بھی نہیں تھا اور میر مراد کی بیماری کے متعلق کمپنی کے جاسوسوں نے جو رپورٹ دی تھی اس کے مطابق میاں نور محمد اتنے شدید بیمار بھی نہیں تھے۔ ایسی صورت حال میں تالپوروں کے اس خط نے  پُراسراریت پیدا کی جس کے باعث منظرنامہ دھندلا سا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153944f2a9f2d.webp'  alt='    جیمس برنس    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جیمس برنس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمس برنس اس خط کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’ آخرکار انگریز سرکار نے 1819ء میں کَچھ پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ اور کَچھ بھج پر ہمارے قبضے سے سندھ کے حاکم کبھی خوش نہیں تھے کیونکہ وہ کلہوڑا زمانے سے اسے اپنے ملک کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے حاکموں سے ان کے رشتے بھی رہے ہیں اور  مشکل وقت میں وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہمارا تالپوروں سے لڑائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر پھر بھی دو موقع پر ایک 1825ء میں، کَچھ میں فوجیں تیار کر رکھی تھیں کہ وہ بھرت پور اور برما کی کشیدگی کا فائدہ اٹھا کر ہمارے علاقوں میں نہ گُھس آئیں کیونکہ اسی برس سندھ کے کَچھ ڈاکوؤں جن میں میانوں کے ٹولے بھی شامل تھے، انہوں نے کَچھ میں لوٹ مار کی کئی وارداتیں کیں اور ہمارے جاسوسوں کی رپورٹ کے مطابق انہیں سندھ کے امیروں کی مدد حاصل تھی۔ اس سے یہ لگتا تھا کہ تالپور ہم سے تعلقات رکھنا نہیں چاہتے۔ ایسی صورت حال میں سندھ سے کسی انگریز عملدار کو دعوت دے کر بلایا جائے تو یہ شک اور حیرت کی بات تو ضرور تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم 1827ء میں جانے سے پہلے کچھ دیر کے لیے ٹھہرتے ہیں اور پرتگیزوں کے ہندوستان کے مختلف بندرگاہوں اور بیوپار  پر قبضے، انگلینڈ کے سیاسی حالات اور بیوپاریوں کی اس ایسٹ انڈیا کمپنی کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں کہ آخر دو ڈھائی صدیوں تک وہ ہمیں کس جرم کی سزا دے کر گئے یہاں سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153923c4199c9.webp'  alt='   15ویں صدی میں کالی کٹ پر واسکوڈے گاما کی آمد   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;15ویں صدی میں کالی کٹ پر واسکوڈے گاما کی آمد&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کے گزرے زمانوں کو سمجنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ قارئین کے سامنے تقابلی جائزوں کے ذریعے اُن زمانوں کے مختلف منظرنامے کو رکھیں جیسے ہم اگر قبل از تاریخ کی بات کریں تو ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ جس مقام کے لیے ہم یہ بات کر رہے ہیں بالکل ان دنوں میں ہمارے موضوع سے منسلک دیگر مقامات پر جو ہو رہا تھا، اس کا بھی ذکر کر سکیں تو یہ تاریخ کو سمجھنے کی ایک اچھی کوشش ہوگی۔ میں آپ کو برطانیہ کے جزیروں اور وہاں کی سیاسی اُتھل پُتھل کے متعلق ایک مختصر سے حقائق سنانے والا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روم کے جولیس سیزر (پیدائش: 100 قبل از مسیح - موت: 44 قبل از مسیح) کا 300 برس تک جنوبی برطانیہ کے جزائر پر قبضہ رہا۔ سلطنت روما کے کمزور ہونے کے بعد 5ویں صدی میں رومیوں نے ان جزائر سے واپسی کی اس کے بعد شمالی جرمن قبائل نے برطانیہ کا رخ کیا اور بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ان جزائر پر قبضہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوٹس، اینگلز اور سکینز قبیلوں نے برطانیہ پر قبضہ کر لیا اور آگے چل کر ان تینوں قبیلوں کو ایک نام ’اینگلز‘ سے پکارا گیا اور اس نسبت سے برطانیہ کا نام انگلینڈ (انگلستان) مشہور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153927ec1ee57.webp'  alt='    ہینری ہشتم    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہینری ہشتم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ پر ’ٹیوڈر خاندان‘ (1485ء سے 1603ء) کی حکومت تھی اور سیاسی و تجارتی حوالے سے افراتفری تھی۔ ہنری ہشتم نے پارلیمنٹ کے سہارے ایک مضبوط حکومت قائم کی اور قانون بنا کر جاگیرداروں کی طاقت کو کچل دیا۔ اسی زمانے میں نئے نئے سمندری راستوں کی کھوج ہوئی جو آگے چل کر بیوپار کے راستے بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باری علیگ لکھتے ہیں کہ ’ہینری ہشتم نہ کیتھولک تھا اور نہ پروٹسٹنٹ، وہ پروٹسٹنٹ کو بے دینی کے الزام میں اور کیتھولک کو یورپ کے تابع ہونے کے الزام میں قتل کرواتا تھا۔ ہینری نے اپنے وزیراعظم کو اس لیے موت کی سزا دی کیونکہ ہینری نے اس سے سوال کیا کہ انگلستان کے کلیسا کا حاکم اعلیٰ کون ہے؟ وزیراعظم مُور ’پوپ‘ کا نام لینے کی وجہ سے مارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153949ad8797b.webp'  alt='    تھامس کرامویل    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تھامس کرامویل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو عشرے کے بعد ’تھامس کرامویل‘ کا بھی یہی حشر ہوا۔ ہینری کے بعد ’میری ٹیڈر‘ اور پھر اس کی بہن ’الزبیتھ‘ تخت نشین ہوئیں اور یہاں اکبر بادشاہ حکومت کے تخت پر بیٹھا۔ اکبر نے 1605ء میں یہ جہان چھوڑا جبکہ ملکہ الزبتھ مارچ 1603ء میں وفات پا چکی تھیں۔ ملکہ کے زمانے میں انگریز تاجروں نے ہندوستان سے تجارت کرنے کی کوشش کی اور ملکہ نے کمپنی کو 15 برس کے لیے ہندوستان سے تجارت کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے زمانے میں ہسپانیہ کے ’آرمیدہ‘ کی شکست نے انگلستان میں کیتھولک مذہب کو شکست دی جبکہ اس کے بعد انگریز ملاحوں کے لیے سمندر کے راستے کھل گئے اور ساتھ میں آرمیدہ کی شکست کے بعد انگلستان نے اپنی بحری طاقت کو بہت زیادہ مضبوط کیا اور انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان طویل کشمکش کا خاتمہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153955e94f654.webp'  alt='    الزبتھ اول کی 1575ء میں بنائی گئی تصویر    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;الزبتھ اول کی 1575ء میں بنائی گئی تصویر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکہ الزبتھ کے بعد جیمس اول کے زمانے میں کمپنی نے ’تھامس رو‘ کو جہانگیر کے زمانے میں سفیر بنا کر بھیجا اور اسے ’سورت‘ میں فیکٹری قائم کرنے کی اجازت ملی جبکہ جہانگیر نے اپنے دوسرے فرمان میں کمپنی کو اپنی سلطنت میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی اور اسی زمانے میں آگرہ، احمد آباد اور بھڑوچ میں کمپنی کی تجارتی کوٹھیاں قائم ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمس کے بعد چارلس اول حکومت میں آیا۔ چارلس اول کے زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے خوب دولت سمیٹی۔ اُس نے ایک پرتگیزی شہزادی سے شادی کی۔ یہ شہزادی اپنے جہیز میں جو جزیرہ لائی اسے چارلس دوم نے کمپنی کو 10 پاؤنڈ سالانہ لگان پر دے دیا۔ اس جزیرے نے بعد میں بمبئی یا ممبئی کی صورت اختیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161539598e69f34.webp'  alt='   تھامس رو جہانگیر کی دربار میں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تھامس رو جہانگیر کی دربار میں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلس اول نے اسے کوئی عزت نہیں دی جس کو ان حرکتوں کی وجہ سے پارلیمنٹ نے اس پر ظالم اور ملک دشمن ہونے کا الزام لگا کر اسے وائٹ ہال میں (30 جنوری 1649ء) قتل کردیا۔ اس کے بعد انگلستان میں آمرانہ جمہوریت کا زمانہ آیا۔ ’کرامویل‘ انگلستان کا آمر تھا۔ یہ دور کچھ زیادہ عرصے تک نہیں چل سکا۔ مگر کرامویل نے ابتدا میں نئے نئے تاجروں کو ہندوستان سے تجارت کرنے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرامویل کی موت (1658ء) کے بعد چارلس اول کا بیٹا جو دیارِ غیر میں پناہ گزین تھا، وہ انگلستان آیا اور تخت پر چارلس دوم کے نام سے بیٹھا۔ چارلس دوم 1649ء سے 1651ء تک اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ اور بادشاہت کی بحالی سے 1658ء تک، انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کا بادشاہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1652ء سے 1654ء کے درمیان کے 2 برسوں میں ڈچوں نے انگریزوں کے 3 جہازوں پر قبضہ کیا اور ان میں سے ایک کو تو انہوں نے بالکل برباد کردیا۔ 1672ء سے 1674ء تک کے عرصے میں انگریزوں نے بنگال کے کناروں سے 3 جہاز پکڑ لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سورت اور بمبئی کے درمیان والے علاقے سے اور جہازوں کو بھی پکڑا مگر افسران سے رویہ ٹھیک رکھا وہ بھی صرف اس لیے کیونکہ انگریزوں نے مقامی حکمرانوں (ریاستوں) سے مختلف معاہدے کر رکھے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ڈچوں کو ہندوستان کے ساحلوں سے نکال دیا جائے۔ مگر ڈچ اپنی بیوپاری حیثیت کو 18ویں صدی کے پہلے نصف تک بحال رکھتے آئے۔ 1750ء میں انگریزوں اور ڈچوں کی ایک طویل جنگ چنسورا کے مقام پر لڑی گئی (جسے بیٹل آف بیڈرا یا بیٹل آف ہوگلی بھی کہا جاتا ہے)۔ اس جنگ میں انگریز جیتے اور ڈچوں کو شکست ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16154004deefc59.webp'  alt='   16ویں صدی میں پرتگالی دور میں گوا کی مارکیٹ&amp;mdash;اسکیچ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;16ویں صدی میں پرتگالی دور میں گوا کی مارکیٹ—اسکیچ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1795ء میں جب فرانس نے نیدرلینڈز فتح کرلیا تو برطانیہ نے ڈچ کولونیوں پر قبضہ کر لیا۔ نیدرلینڈز کے بڑے بینکار (Hope)  لندن منتقل ہو گئے اور اس طرح مالیاتی مرکز ایمسٹرڈیم سے لندن منتقل ہوگیا۔ 1858ء میں کمپنی کے اختیارات تاج برطانیہ کے کنٹرول میں دے دیے گئے مگر 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کمپنی کے پاس 2 ہزار 690 چھوٹے بڑے جہاز تھے۔ انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی لمیٹڈ کمپنی تھی جس کے 125 شیئر ہولڈرز تھے اور یہ 72 ہزار پاؤنڈ کے سرمایے سے شروع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہراری‘ لکھتے ہیں کہ چین افیون پر پابندی لگا چکا تھا۔ برطانیہ آزاد تجارت کے نام پر چین سے جو جنگ کرنے والا تھا، اُس میں ابھی 10 برس باقی تھے۔ سرمایہ کاروں کے مفادات میں یہ جنگ نہیں تھی بلکہ افیون کی مانند جنگ خود ایک حقیقت بن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1821ء میں یونانیوں نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کردی۔ اس بغاوت کو آزاد خیال اور رومان پرست برطانوی حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی شاعر لارڈ بائرن، یونان جا کر باغیوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا لیکن لندن کے سرمایہ کاروں کو بھی ایک موقع نظر آیا۔ انہوں نے باغی رہنماؤں کو پیشکش کی کہ قابل تجارت ’بغاوت بانڈ‘ لندن کے حصص بازار سے جاری کریں۔ اگر باغی یہ جنگ جیت جاتے ہیں تو یہ بانڈ رقم کی بمع سود واپسی کا وعدہ کرتے ہیں۔ نجی سرمایہ کار کُچھ نفع کی ہوس میں، یونانیوں سے ہمدردی میں اور کچھ دونوں وجوہات سے بانڈ خریدتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بانڈ کی قیمت لندن کے حصص بازاروں  میں ہیلاس کے جنگی میدانوں میں ہار جیت کے ساتھ اترتی اور چڑھتی رہی۔ آخر ترکوں نے برتری حاصل کرلی۔ باغیوں کی شکست یقینی ہوئی تو بانڈ کے خریداروں کو اپنی رقم ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ بانڈ خریداروں کا مفاد قومی مفاد تھا۔ لہٰذا برطانیہ نے ایک بین الاقوامی بیڑہ مرتب کیا اور 1827ء میں جنگ ناوارینوِ میں، عثمانیوں کا اہم بیڑہ ڈبو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ کے بعد سرمایہ دار خود کو محفوظ سمجھنے لگا کہ اگر بیرون ملک قرضہ واپس کرنے سے انکار کرے گا تو ملکہ کی فوج رقم کی واپسی کو یقینی بنادیتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کار اپنی رقم زیادہ خطرناک غیرملکی معاہدوں پر لگانے کے لیے تیار ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161539382653a1e.webp'  alt='    ایسٹ انڈیا کمپنی کا لوگو    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایسٹ انڈیا کمپنی کا لوگو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17ویں صدی میں انگریزوں نے بیوپار اور اس کے راستوں پر زیادہ توجہ دی جس کی وجہ سے انہوں نے سورت کو چھوڑ کر بمبئی اور مدراس میں جاکر بیوپاری مراکز قائم کیے اور اس صدی کے آخر میں انہوں نے کلکتہ میں اپنا مرکز قائم کردیا۔ انگریز دھیرے دھیرے آکاس بیل کی طرح ہندوستانی وسائل پر اپنی جڑیں لپیٹتے رہے اور آکاس بیل دیکھنے میں کتنی بھی خوبصورت نظر آئے مگر اس کا یہ کام ہے کہ جس درخت پر اس کی جڑیں پہنچ جائیں وہ اس ہرے بھرے درخت کو نچوڑ کر مار ڈالتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ول ڈیورانٹ (Will Durant) جو 1930ء میں ہندوستان آیا تھا اور 11 جلدوں پر مشتمل ضخیم تحقیقی کتاب ’تہذیب کی کہانی‘ تحریر کی وہ برطانیہ کی لوٹ مار اور یہاں کے معاشی ڈھانچے کی بربادی کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’ہندوستان پر برطانیہ کا قبضہ، کسی بھی جواز یا اصول کے بغیر ایک تجارتی کمپنی (برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی) کی ایک اعلیٰ تہذیب پر یلغار اور تباہی تھی۔ فن سے بے نیاز اور غلے کے حریص، عارضی طور پر منتشر اور بے یار و مددگار مملکت کو آگ اور تلوار سے تاراج کرنے، رشوت دینے اور قتل کرنے، الحاق کرنے اور قانونی و غیر قانونی لوٹ مار کے اس پیشے کا آغاز 173 برسوں سے آج تک (1930ء) بے رحمی سے جاری و ساری ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18ویں صدی کے ابتدائی برسوں کی برطانوی معاشی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ’انگس میڈیسن‘ (Angus Maddison)  تحریر کرتے ہیں کہ ’عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 23 فیصد تھا۔ اتنا بڑا جتنا کہ تمام یورپ کا مشترکہ تھا۔ (1700ء میں جب مغل شہنشاہ اورنگزیب کے خزانہ میں صرف محصولات کی آمدن 10 کروڑ پونڈ تک پہنچ چکی تھی تو یہ 27 فیصد تھا۔) جب برطانیہ ہندوستان سے نکلا تو یہ محض 3 فیصد یا اس سے تھوڑا سا زیادہ رہ گیا تھا۔ وجہ عام فہم تھی۔ ہندوستان پر  برطانوی بیوپاریوں اور حکومت کے مفادات کے لیے حکومت کی گئی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16154008f862b2c.webp'  alt='   کلکتہ میں قائم کمپنی کی تجارتی کوٹھی   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کلکتہ میں قائم کمپنی کی تجارتی کوٹھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے کمپنی سرکار کی لوٹ مار اور بے رحمی کی بہت ساری داستانیں ہم آگے چل کر سننے والے ہیں۔ مگر جہاں سے یہ ملٹی نیشنل کمپنی آئی تھی وہاں بھی کوئی تھیمس ندی کے کنارے سکون سے بانسری نہیں بجا رہا تھا۔ وہاں بھی ایک دوسرے کو گلے سے پکڑنے اور کشت و خون کی راند جاری تھی۔ مگر یہاں وہ ملازمت کی صورت میں حاکم تھے۔ بہرحال کَچھ بھج چلتے ہیں جہاں جیمس برنس سندھو دریا دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خط کے حوالے سے برنس صاحب کا ردعمل کچھ اس طرح سے تھا کہ ’میں اس بلاوے پر بے حد خوش تھا اور اس انتظار میں تھا کہ سرحد کے اس پار جا کر سندھ کے تاریخی دریا کو دیکھوں، اس لیے یہ دعوت میرے لیے خوشگوار تھی’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برنس یقیناً کوئی لکھاری نہیں تھے اس لیے ہمیں ان سے منظرناموں کی عکاسی کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ وہ ہر بات سیدھی کرتا ہے۔ اگر زیادہ متاثر یا پریشان ہوتا ہے تو کچھ الفاظ میں اپنی کیفیت کا اظہار کردیتا ہے۔ وہ دو تین ماہ سے زیادہ عرصہ یہاں نہیں رہا مگر یہ اہم اس لیے تھے کیونکہ میروں کو جس طرح حکومت ملی، وہ اپنے کمال کے دن جو 40 برس سے بھی زیادہ تھے شاید گزار چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم برنس صاحب کا یہ سفرنامہ غور سے مطالعہ کریں تو باتوں باتوں میں ہمیں ان حقائق کا پتا چل جائے گا کہ 19ویں صدی کی پہلی چوتھائی میں ان کے زوال کی ابتدا ہو چکی تھی۔ اس لیے سندھ کے ان شب و روز کو سمجھنے کے لیے برنس کی کتاب ’A Narrative of a visit to the Court of Sinde‘ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے ہم بھی آج سے تقریباً 200 برس پہلے آئے ہوئے سرجن جیمس برنس کے قافلے کا حصہ بنتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ 200 برس پہلے سندھ کے صدر مقام تک پہنچنے کے لیے کیسی سواریاں اور راستے تھے۔ زراعت کیسی تھی اور لوگ کیسے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161540102a92e25.webp'  alt='   جیمس برنس کی کتاب سے لیا گیا لکھپت بندرگاہ کا واٹرکلر اسکیچ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جیمس برنس کی کتاب سے لیا گیا لکھپت بندرگاہ کا واٹرکلر اسکیچ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برنس 28 اکتوبر 1827ء کو بھُج سے  لکھپت پہنچا۔ لکھپت کے متعلق وہ لکھتا ہے کہ ’لکھپت کا قلعہ کَچھ کے مغربی کونے میں ایک پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ یہ کوری کھاری کے کنارے پر ہے جب سمندر میں پانی چڑھتا ہے تب بڑی بڑی کشتیاں شہر تک آ سکتی ہیں۔ یہ شہر 70 برس پہلے رائے گور (Rao Gore) نے آباد کروایا تھا۔ جبکہ یہ قلعہ کَچھ کے مشہور وزیر  یا جمعدار فتح محمد نے تعمیر کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس نے بڑی کوشش کی کہ یہ شہر آبادی اور بیوپار کے حوالے سے ترقی کرے مگر اس کا یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ اس وقت بھی اس شہر کی آبادی 6 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ یہاں بسے لوگ الگ الگ ممالک اور شہروں سے آئے ہیں جبکہ سندھ سے آئے بہت سارے خاندان یہاں آباد ہیں۔ 1819ء میں جو زلزلہ آیا تھا اُس میں اس قلعے کو بہت نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کے شمال مغرب میں جو کَچھ کا علاقہ ہے ان دونوں کے درمیان خلیج اور ریگستان ہے، کچھ کا مرکزی شہر بھج ہے جس کی بندرگاہ مانڈوی مشہور ہے۔ یہاں سے سنگ مرمر نکلتا ہے اور لوہے کا کام شاندار ہوتا ہے۔ احمدآباد میں کَچھ، سندھ اور کاٹھیاواڑ کے گھوڑے زیادہ فروخت ہوتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16154012187cffa.webp'  alt='   مانڈوی کا خستہ حال قلعہ&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مانڈوی کا خستہ حال قلعہ—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھپت کے کوٹ سے وہ 3 نومبر کو نکلا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’ہم تیاریوں کے بعد دوپہر کو کشتیوں پر نکلے۔ موسم اچھا تھا اس لیے دوسری طرف ہم ’کوٹری‘ گھاٹ پر شام 5 بجے پہنچ گئے۔ ہمیں یہاں 100 اونٹوں کا قافلہ ملا جن پر دیسی گھی کے ڈبے لدے ہوئے تھے اور وہ کَچھ کی طرف جا رہے تھے۔ ہم نے چاندنی رات میں سفر شروع کیا۔ (آپ اگر کیلنڈر دیکھیں تو 3 نومبر 1827ء، ہفتے کا دن تھا اور جمادی الثانی 1243ھ کی 13ویں تاریخ تھی۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ چاند کی کتنی تیز اور ٹھنڈی روشنی میں برنس کے قافلے نے سفر کیا ہوگا۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’5 نومبر کو قافلہ رڑی پہنچا۔ رڑی جو اپنے زمانے میں کپاس اور اونٹوں کے کاروبار کا بڑا مرکز تھا، مگر اچھے دن کسی موسم کی طرح رڑی سے روٹھ گئے تھے، برنس لکھتے ہیں کہ’ کوٹڑی گھاٹ سے رڑی 50 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک شہر تھا مگر اب اپنے آخری ایام گزر رہا ہے۔ یہاں قرب و جوار میں جھیلیں بہت ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رڑی کے آخری دن ضرور تھے مگر سیکڑوں خاندان تھے جو یہاں بستے تھے اور دھان کی فصلیں کھیتوں میں لہلہاتی تھیں اس لیے برنس کے قافلے کے گھوڑوں کو  ہری دھان دی گئی تھی۔ یہاں میروں نے برنس کے استقبال کے لیے دو معززین حیدر خان لغاری اور بہادر خان کو بھیجا تھا اور ساتھ میں 50 اونٹ بھی بھیجے تھے تاکہ برنس کے قافلے کا کوئی بھی آدمی پیدل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برنس لکھتے ہیں کہ ’رڑی کے بعد سارا خرچہ میروں نے بھرا اور مجھے خرچ کرنے سے منع کیا گیا۔ ہمیں خوراک کے لیے جو سامان ملتا تھا وہ انتہائی اعلیٰ درجے کا تھا۔ روزانہ وافر مقدار میں چینی، مٹھائیاں اور آفیم دیا جاتا تھا’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کَچھ ایک زمانے میں سندھ کا انتہائی اہم قریبی حصہ رہا پھر کلہوڑا دور حکومت میں بھی کَچھ کا بہت سا حصہ سندھ کی حکومت میں تھا۔ چونکہ قریب ہونے اور ایک طرح کے معروضی حالات ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں اور اب تک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو کراچی کی بہت ساری آبادی کَچھ کے طرف سے آکر یہاں آباد ہوئی ہے۔ تو کراچی اور کَچھ کے گہرے تعلقات کا ذکر ہم مسٹر ایسٹوک (1839ء) کے سفر میں تفصیل سے کریں گے جب وہ کَچھ سے ہوتا ہوا کراچی آیا تھا۔ چلیے جیمس برنس کے قافلے کو رڑی میں آرام کرنے دیتے ہیں اور جلدی واپس آ کر ان کے سفر میں شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حوالہ جات&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;’کمپنی کی حکومت‘۔ باری علیگ۔ لاہور بک سٹی، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’سندھو گھاٹی اور سمندر‘ ۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’کتھائیں جادوگر بستیوں کی‘ ۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ گُجرات‘۔ سید ابو ظفر ندوی۔ ندوہ المصنفین۔ دہلی 1958&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;A Narrative of a visit to the Court of Sinde. By: James Burns. 1831.&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;British Policy towards Sindh. C.L. Marriwalla. 1947.&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;The World Economy: Historical Statistics. Angus Maddison.&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی گزشتہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/karachisadiyonkikatha">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>تیسرے معاہدے کے چند برسوں بعد یعنی 1823ء میں پھر انگریزوں نے کھوسوں کے حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر خرچے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی سندھ اور کَچھ کی سرحد پر کمپنی سرکار نے اپنی چوکیاں بھی قائم کر دیں۔ پھر وہی کہانی دہرائی گئی کہ میر کرم علی تالپور نے ان مسائل کے حل کے لیے مرزا خسرو بیگ کو سفیر بنا کر بمبئی بھیجا۔</p>
<p>سمندری سفر کے بعد سندھ کے حاکموں کے اس وفد میں دو اور اہم لوگ، آخوند محمد بقا اور محمد عابد ٹھٹوی بھی شامل تھے۔ اس وفد نے بمبئی کے گورنر ایلفنسٹن سے اس حوالے سے بات چیت کی جس کا کمپنی سرکار نے مثبت جواب دیا اور معاملات ایک بار پھر حل ہوگئے اور وفد حیدرآباد لوٹ گیا۔ اس طرح کمپنی سرکار اور سندھ سرکار میں دھوپ چھاؤں کا سلسلہ چلتا رہا اور وقت کا کام تھا چلنا سو وہ چلتا رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153925c2d5500.webp'  alt='    لارڈ ولیم ایمبرسٹ 1823ء سے  تک 1828ء تک بنگال کے گورنر جنرل رہے    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لارڈ ولیم ایمبرسٹ 1823ء سے  تک 1828ء تک بنگال کے گورنر جنرل رہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>17 فروری 1827ء کو گورنر جنرل بنگال لارڈ ولیم ایمہرسٹ (Lord William Amherst) مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے بیٹے اکبر شاہ ثانی سے ملا اور جس تلخ اور تذلیل بھرے لہجے میں گفتگو کی وہ مغل شہزادے پر گراں گزری اور اس نے اس کی شکایت کرنے کے لیے راجا رام موہن رائے کو انگلستان بھیجا۔ دہلی سے اکبر شاہ کی تذلیل کرنے کے بعد گورنر جنرل شملہ روانہ ہوا جہاں رنجیت سنگھ کے ایک وفد سے اسے تفصیلی ملاقات کرنا تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161539333965ffc.webp'  alt='    مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کا بیٹا اکبر شاہ ثانی    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کا بیٹا اکبر شاہ ثانی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی برس یعنی 1827ء اکتوبر کی 23 تاریخ منگل کے دن کَچھ کے سفارت خانہ کو سندھ کے امیروں کا ایک خط موصول ہوا جس میں دوستی شہد کی طرح ٹپک رہی تھی۔ اس میں استدعا کی گئی تھی کہ میر مراد سخت بیمار ہیں، ڈاکٹر جیمس برنس کو اس کے علاج کے لیے حیدرآباد بھیجا جائے۔</p>
<p>حالات کے برعکس اس خط کی وجہ سے سفارت خانے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے کیونکہ لارڈ ولیم ایمہرسٹ نے جو 1824ء میں برما سے جنگ چھیڑی تھی وہ ختم ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے 1818ء میں اَودھ بھی اب کمپنی کے قبضہ میں تھا۔ روس، ایران میں داخل ہوچکا تھا اور ہندوستان میں فی الوقت کوئی بڑا اُدھم بھی نہیں تھا اور میر مراد کی بیماری کے متعلق کمپنی کے جاسوسوں نے جو رپورٹ دی تھی اس کے مطابق میاں نور محمد اتنے شدید بیمار بھی نہیں تھے۔ ایسی صورت حال میں تالپوروں کے اس خط نے  پُراسراریت پیدا کی جس کے باعث منظرنامہ دھندلا سا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153944f2a9f2d.webp'  alt='    جیمس برنس    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جیمس برنس</figcaption>
    </figure></p>
<p>جیمس برنس اس خط کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’ آخرکار انگریز سرکار نے 1819ء میں کَچھ پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ اور کَچھ بھج پر ہمارے قبضے سے سندھ کے حاکم کبھی خوش نہیں تھے کیونکہ وہ کلہوڑا زمانے سے اسے اپنے ملک کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے حاکموں سے ان کے رشتے بھی رہے ہیں اور  مشکل وقت میں وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>’ہمارا تالپوروں سے لڑائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر پھر بھی دو موقع پر ایک 1825ء میں، کَچھ میں فوجیں تیار کر رکھی تھیں کہ وہ بھرت پور اور برما کی کشیدگی کا فائدہ اٹھا کر ہمارے علاقوں میں نہ گُھس آئیں کیونکہ اسی برس سندھ کے کَچھ ڈاکوؤں جن میں میانوں کے ٹولے بھی شامل تھے، انہوں نے کَچھ میں لوٹ مار کی کئی وارداتیں کیں اور ہمارے جاسوسوں کی رپورٹ کے مطابق انہیں سندھ کے امیروں کی مدد حاصل تھی۔ اس سے یہ لگتا تھا کہ تالپور ہم سے تعلقات رکھنا نہیں چاہتے۔ ایسی صورت حال میں سندھ سے کسی انگریز عملدار کو دعوت دے کر بلایا جائے تو یہ شک اور حیرت کی بات تو ضرور تھی‘۔</p>
<p>ہم 1827ء میں جانے سے پہلے کچھ دیر کے لیے ٹھہرتے ہیں اور پرتگیزوں کے ہندوستان کے مختلف بندرگاہوں اور بیوپار  پر قبضے، انگلینڈ کے سیاسی حالات اور بیوپاریوں کی اس ایسٹ انڈیا کمپنی کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں کہ آخر دو ڈھائی صدیوں تک وہ ہمیں کس جرم کی سزا دے کر گئے یہاں سے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153923c4199c9.webp'  alt='   15ویں صدی میں کالی کٹ پر واسکوڈے گاما کی آمد   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>15ویں صدی میں کالی کٹ پر واسکوڈے گاما کی آمد</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاریخ کے گزرے زمانوں کو سمجنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ قارئین کے سامنے تقابلی جائزوں کے ذریعے اُن زمانوں کے مختلف منظرنامے کو رکھیں جیسے ہم اگر قبل از تاریخ کی بات کریں تو ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ جس مقام کے لیے ہم یہ بات کر رہے ہیں بالکل ان دنوں میں ہمارے موضوع سے منسلک دیگر مقامات پر جو ہو رہا تھا، اس کا بھی ذکر کر سکیں تو یہ تاریخ کو سمجھنے کی ایک اچھی کوشش ہوگی۔ میں آپ کو برطانیہ کے جزیروں اور وہاں کی سیاسی اُتھل پُتھل کے متعلق ایک مختصر سے حقائق سنانے والا ہوں۔</p>
<p>روم کے جولیس سیزر (پیدائش: 100 قبل از مسیح - موت: 44 قبل از مسیح) کا 300 برس تک جنوبی برطانیہ کے جزائر پر قبضہ رہا۔ سلطنت روما کے کمزور ہونے کے بعد 5ویں صدی میں رومیوں نے ان جزائر سے واپسی کی اس کے بعد شمالی جرمن قبائل نے برطانیہ کا رخ کیا اور بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ان جزائر پر قبضہ کرلیا۔</p>
<p>جوٹس، اینگلز اور سکینز قبیلوں نے برطانیہ پر قبضہ کر لیا اور آگے چل کر ان تینوں قبیلوں کو ایک نام ’اینگلز‘ سے پکارا گیا اور اس نسبت سے برطانیہ کا نام انگلینڈ (انگلستان) مشہور ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153927ec1ee57.webp'  alt='    ہینری ہشتم    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہینری ہشتم</figcaption>
    </figure></p>
<p>برطانیہ پر ’ٹیوڈر خاندان‘ (1485ء سے 1603ء) کی حکومت تھی اور سیاسی و تجارتی حوالے سے افراتفری تھی۔ ہنری ہشتم نے پارلیمنٹ کے سہارے ایک مضبوط حکومت قائم کی اور قانون بنا کر جاگیرداروں کی طاقت کو کچل دیا۔ اسی زمانے میں نئے نئے سمندری راستوں کی کھوج ہوئی جو آگے چل کر بیوپار کے راستے بنے۔</p>
<p>باری علیگ لکھتے ہیں کہ ’ہینری ہشتم نہ کیتھولک تھا اور نہ پروٹسٹنٹ، وہ پروٹسٹنٹ کو بے دینی کے الزام میں اور کیتھولک کو یورپ کے تابع ہونے کے الزام میں قتل کرواتا تھا۔ ہینری نے اپنے وزیراعظم کو اس لیے موت کی سزا دی کیونکہ ہینری نے اس سے سوال کیا کہ انگلستان کے کلیسا کا حاکم اعلیٰ کون ہے؟ وزیراعظم مُور ’پوپ‘ کا نام لینے کی وجہ سے مارا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153949ad8797b.webp'  alt='    تھامس کرامویل    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تھامس کرامویل</figcaption>
    </figure></p>
<p>دو عشرے کے بعد ’تھامس کرامویل‘ کا بھی یہی حشر ہوا۔ ہینری کے بعد ’میری ٹیڈر‘ اور پھر اس کی بہن ’الزبیتھ‘ تخت نشین ہوئیں اور یہاں اکبر بادشاہ حکومت کے تخت پر بیٹھا۔ اکبر نے 1605ء میں یہ جہان چھوڑا جبکہ ملکہ الزبتھ مارچ 1603ء میں وفات پا چکی تھیں۔ ملکہ کے زمانے میں انگریز تاجروں نے ہندوستان سے تجارت کرنے کی کوشش کی اور ملکہ نے کمپنی کو 15 برس کے لیے ہندوستان سے تجارت کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا۔</p>
<p>ان کے زمانے میں ہسپانیہ کے ’آرمیدہ‘ کی شکست نے انگلستان میں کیتھولک مذہب کو شکست دی جبکہ اس کے بعد انگریز ملاحوں کے لیے سمندر کے راستے کھل گئے اور ساتھ میں آرمیدہ کی شکست کے بعد انگلستان نے اپنی بحری طاقت کو بہت زیادہ مضبوط کیا اور انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان طویل کشمکش کا خاتمہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16153955e94f654.webp'  alt='    الزبتھ اول کی 1575ء میں بنائی گئی تصویر    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>الزبتھ اول کی 1575ء میں بنائی گئی تصویر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ملکہ الزبتھ کے بعد جیمس اول کے زمانے میں کمپنی نے ’تھامس رو‘ کو جہانگیر کے زمانے میں سفیر بنا کر بھیجا اور اسے ’سورت‘ میں فیکٹری قائم کرنے کی اجازت ملی جبکہ جہانگیر نے اپنے دوسرے فرمان میں کمپنی کو اپنی سلطنت میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی اور اسی زمانے میں آگرہ، احمد آباد اور بھڑوچ میں کمپنی کی تجارتی کوٹھیاں قائم ہوئیں۔</p>
<p>جیمس کے بعد چارلس اول حکومت میں آیا۔ چارلس اول کے زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے خوب دولت سمیٹی۔ اُس نے ایک پرتگیزی شہزادی سے شادی کی۔ یہ شہزادی اپنے جہیز میں جو جزیرہ لائی اسے چارلس دوم نے کمپنی کو 10 پاؤنڈ سالانہ لگان پر دے دیا۔ اس جزیرے نے بعد میں بمبئی یا ممبئی کی صورت اختیار کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161539598e69f34.webp'  alt='   تھامس رو جہانگیر کی دربار میں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تھامس رو جہانگیر کی دربار میں</figcaption>
    </figure></p>
<p>چارلس اول نے اسے کوئی عزت نہیں دی جس کو ان حرکتوں کی وجہ سے پارلیمنٹ نے اس پر ظالم اور ملک دشمن ہونے کا الزام لگا کر اسے وائٹ ہال میں (30 جنوری 1649ء) قتل کردیا۔ اس کے بعد انگلستان میں آمرانہ جمہوریت کا زمانہ آیا۔ ’کرامویل‘ انگلستان کا آمر تھا۔ یہ دور کچھ زیادہ عرصے تک نہیں چل سکا۔ مگر کرامویل نے ابتدا میں نئے نئے تاجروں کو ہندوستان سے تجارت کرنے کی اجازت دی۔</p>
<p>کرامویل کی موت (1658ء) کے بعد چارلس اول کا بیٹا جو دیارِ غیر میں پناہ گزین تھا، وہ انگلستان آیا اور تخت پر چارلس دوم کے نام سے بیٹھا۔ چارلس دوم 1649ء سے 1651ء تک اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ اور بادشاہت کی بحالی سے 1658ء تک، انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کا بادشاہ رہا۔</p>
<p>1652ء سے 1654ء کے درمیان کے 2 برسوں میں ڈچوں نے انگریزوں کے 3 جہازوں پر قبضہ کیا اور ان میں سے ایک کو تو انہوں نے بالکل برباد کردیا۔ 1672ء سے 1674ء تک کے عرصے میں انگریزوں نے بنگال کے کناروں سے 3 جہاز پکڑ لیے۔</p>
<p>اس کے علاوہ سورت اور بمبئی کے درمیان والے علاقے سے اور جہازوں کو بھی پکڑا مگر افسران سے رویہ ٹھیک رکھا وہ بھی صرف اس لیے کیونکہ انگریزوں نے مقامی حکمرانوں (ریاستوں) سے مختلف معاہدے کر رکھے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ڈچوں کو ہندوستان کے ساحلوں سے نکال دیا جائے۔ مگر ڈچ اپنی بیوپاری حیثیت کو 18ویں صدی کے پہلے نصف تک بحال رکھتے آئے۔ 1750ء میں انگریزوں اور ڈچوں کی ایک طویل جنگ چنسورا کے مقام پر لڑی گئی (جسے بیٹل آف بیڈرا یا بیٹل آف ہوگلی بھی کہا جاتا ہے)۔ اس جنگ میں انگریز جیتے اور ڈچوں کو شکست ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16154004deefc59.webp'  alt='   16ویں صدی میں پرتگالی دور میں گوا کی مارکیٹ&mdash;اسکیچ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>16ویں صدی میں پرتگالی دور میں گوا کی مارکیٹ—اسکیچ</figcaption>
    </figure></p>
<p>1795ء میں جب فرانس نے نیدرلینڈز فتح کرلیا تو برطانیہ نے ڈچ کولونیوں پر قبضہ کر لیا۔ نیدرلینڈز کے بڑے بینکار (Hope)  لندن منتقل ہو گئے اور اس طرح مالیاتی مرکز ایمسٹرڈیم سے لندن منتقل ہوگیا۔ 1858ء میں کمپنی کے اختیارات تاج برطانیہ کے کنٹرول میں دے دیے گئے مگر 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔</p>
<p>اس وقت کمپنی کے پاس 2 ہزار 690 چھوٹے بڑے جہاز تھے۔ انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی لمیٹڈ کمپنی تھی جس کے 125 شیئر ہولڈرز تھے اور یہ 72 ہزار پاؤنڈ کے سرمایے سے شروع کی گئی تھی۔</p>
<p>’ہراری‘ لکھتے ہیں کہ چین افیون پر پابندی لگا چکا تھا۔ برطانیہ آزاد تجارت کے نام پر چین سے جو جنگ کرنے والا تھا، اُس میں ابھی 10 برس باقی تھے۔ سرمایہ کاروں کے مفادات میں یہ جنگ نہیں تھی بلکہ افیون کی مانند جنگ خود ایک حقیقت بن گئی۔</p>
<p>1821ء میں یونانیوں نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کردی۔ اس بغاوت کو آزاد خیال اور رومان پرست برطانوی حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔</p>
<p>برطانوی شاعر لارڈ بائرن، یونان جا کر باغیوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا لیکن لندن کے سرمایہ کاروں کو بھی ایک موقع نظر آیا۔ انہوں نے باغی رہنماؤں کو پیشکش کی کہ قابل تجارت ’بغاوت بانڈ‘ لندن کے حصص بازار سے جاری کریں۔ اگر باغی یہ جنگ جیت جاتے ہیں تو یہ بانڈ رقم کی بمع سود واپسی کا وعدہ کرتے ہیں۔ نجی سرمایہ کار کُچھ نفع کی ہوس میں، یونانیوں سے ہمدردی میں اور کچھ دونوں وجوہات سے بانڈ خریدتے رہے۔</p>
<p>اس بانڈ کی قیمت لندن کے حصص بازاروں  میں ہیلاس کے جنگی میدانوں میں ہار جیت کے ساتھ اترتی اور چڑھتی رہی۔ آخر ترکوں نے برتری حاصل کرلی۔ باغیوں کی شکست یقینی ہوئی تو بانڈ کے خریداروں کو اپنی رقم ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ بانڈ خریداروں کا مفاد قومی مفاد تھا۔ لہٰذا برطانیہ نے ایک بین الاقوامی بیڑہ مرتب کیا اور 1827ء میں جنگ ناوارینوِ میں، عثمانیوں کا اہم بیڑہ ڈبو دیا۔</p>
<p>اس جنگ کے بعد سرمایہ دار خود کو محفوظ سمجھنے لگا کہ اگر بیرون ملک قرضہ واپس کرنے سے انکار کرے گا تو ملکہ کی فوج رقم کی واپسی کو یقینی بنادیتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کار اپنی رقم زیادہ خطرناک غیرملکی معاہدوں پر لگانے کے لیے تیار ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161539382653a1e.webp'  alt='    ایسٹ انڈیا کمپنی کا لوگو    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایسٹ انڈیا کمپنی کا لوگو</figcaption>
    </figure></p>
<p>17ویں صدی میں انگریزوں نے بیوپار اور اس کے راستوں پر زیادہ توجہ دی جس کی وجہ سے انہوں نے سورت کو چھوڑ کر بمبئی اور مدراس میں جاکر بیوپاری مراکز قائم کیے اور اس صدی کے آخر میں انہوں نے کلکتہ میں اپنا مرکز قائم کردیا۔ انگریز دھیرے دھیرے آکاس بیل کی طرح ہندوستانی وسائل پر اپنی جڑیں لپیٹتے رہے اور آکاس بیل دیکھنے میں کتنی بھی خوبصورت نظر آئے مگر اس کا یہ کام ہے کہ جس درخت پر اس کی جڑیں پہنچ جائیں وہ اس ہرے بھرے درخت کو نچوڑ کر مار ڈالتی ہیں۔</p>
<p>ول ڈیورانٹ (Will Durant) جو 1930ء میں ہندوستان آیا تھا اور 11 جلدوں پر مشتمل ضخیم تحقیقی کتاب ’تہذیب کی کہانی‘ تحریر کی وہ برطانیہ کی لوٹ مار اور یہاں کے معاشی ڈھانچے کی بربادی کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’ہندوستان پر برطانیہ کا قبضہ، کسی بھی جواز یا اصول کے بغیر ایک تجارتی کمپنی (برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی) کی ایک اعلیٰ تہذیب پر یلغار اور تباہی تھی۔ فن سے بے نیاز اور غلے کے حریص، عارضی طور پر منتشر اور بے یار و مددگار مملکت کو آگ اور تلوار سے تاراج کرنے، رشوت دینے اور قتل کرنے، الحاق کرنے اور قانونی و غیر قانونی لوٹ مار کے اس پیشے کا آغاز 173 برسوں سے آج تک (1930ء) بے رحمی سے جاری و ساری ہے‘۔</p>
<p>18ویں صدی کے ابتدائی برسوں کی برطانوی معاشی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ’انگس میڈیسن‘ (Angus Maddison)  تحریر کرتے ہیں کہ ’عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 23 فیصد تھا۔ اتنا بڑا جتنا کہ تمام یورپ کا مشترکہ تھا۔ (1700ء میں جب مغل شہنشاہ اورنگزیب کے خزانہ میں صرف محصولات کی آمدن 10 کروڑ پونڈ تک پہنچ چکی تھی تو یہ 27 فیصد تھا۔) جب برطانیہ ہندوستان سے نکلا تو یہ محض 3 فیصد یا اس سے تھوڑا سا زیادہ رہ گیا تھا۔ وجہ عام فہم تھی۔ ہندوستان پر  برطانوی بیوپاریوں اور حکومت کے مفادات کے لیے حکومت کی گئی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16154008f862b2c.webp'  alt='   کلکتہ میں قائم کمپنی کی تجارتی کوٹھی   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کلکتہ میں قائم کمپنی کی تجارتی کوٹھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>چلیے کمپنی سرکار کی لوٹ مار اور بے رحمی کی بہت ساری داستانیں ہم آگے چل کر سننے والے ہیں۔ مگر جہاں سے یہ ملٹی نیشنل کمپنی آئی تھی وہاں بھی کوئی تھیمس ندی کے کنارے سکون سے بانسری نہیں بجا رہا تھا۔ وہاں بھی ایک دوسرے کو گلے سے پکڑنے اور کشت و خون کی راند جاری تھی۔ مگر یہاں وہ ملازمت کی صورت میں حاکم تھے۔ بہرحال کَچھ بھج چلتے ہیں جہاں جیمس برنس سندھو دریا دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس خط کے حوالے سے برنس صاحب کا ردعمل کچھ اس طرح سے تھا کہ ’میں اس بلاوے پر بے حد خوش تھا اور اس انتظار میں تھا کہ سرحد کے اس پار جا کر سندھ کے تاریخی دریا کو دیکھوں، اس لیے یہ دعوت میرے لیے خوشگوار تھی’۔</p>
<p>برنس یقیناً کوئی لکھاری نہیں تھے اس لیے ہمیں ان سے منظرناموں کی عکاسی کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ وہ ہر بات سیدھی کرتا ہے۔ اگر زیادہ متاثر یا پریشان ہوتا ہے تو کچھ الفاظ میں اپنی کیفیت کا اظہار کردیتا ہے۔ وہ دو تین ماہ سے زیادہ عرصہ یہاں نہیں رہا مگر یہ اہم اس لیے تھے کیونکہ میروں کو جس طرح حکومت ملی، وہ اپنے کمال کے دن جو 40 برس سے بھی زیادہ تھے شاید گزار چکے تھے۔</p>
<p>اگر ہم برنس صاحب کا یہ سفرنامہ غور سے مطالعہ کریں تو باتوں باتوں میں ہمیں ان حقائق کا پتا چل جائے گا کہ 19ویں صدی کی پہلی چوتھائی میں ان کے زوال کی ابتدا ہو چکی تھی۔ اس لیے سندھ کے ان شب و روز کو سمجھنے کے لیے برنس کی کتاب ’A Narrative of a visit to the Court of Sinde‘ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p>چلیے ہم بھی آج سے تقریباً 200 برس پہلے آئے ہوئے سرجن جیمس برنس کے قافلے کا حصہ بنتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ 200 برس پہلے سندھ کے صدر مقام تک پہنچنے کے لیے کیسی سواریاں اور راستے تھے۔ زراعت کیسی تھی اور لوگ کیسے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161540102a92e25.webp'  alt='   جیمس برنس کی کتاب سے لیا گیا لکھپت بندرگاہ کا واٹرکلر اسکیچ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جیمس برنس کی کتاب سے لیا گیا لکھپت بندرگاہ کا واٹرکلر اسکیچ</figcaption>
    </figure></p>
<p>برنس 28 اکتوبر 1827ء کو بھُج سے  لکھپت پہنچا۔ لکھپت کے متعلق وہ لکھتا ہے کہ ’لکھپت کا قلعہ کَچھ کے مغربی کونے میں ایک پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ یہ کوری کھاری کے کنارے پر ہے جب سمندر میں پانی چڑھتا ہے تب بڑی بڑی کشتیاں شہر تک آ سکتی ہیں۔ یہ شہر 70 برس پہلے رائے گور (Rao Gore) نے آباد کروایا تھا۔ جبکہ یہ قلعہ کَچھ کے مشہور وزیر  یا جمعدار فتح محمد نے تعمیر کروایا تھا۔</p>
<p>’اس نے بڑی کوشش کی کہ یہ شہر آبادی اور بیوپار کے حوالے سے ترقی کرے مگر اس کا یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ اس وقت بھی اس شہر کی آبادی 6 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ یہاں بسے لوگ الگ الگ ممالک اور شہروں سے آئے ہیں جبکہ سندھ سے آئے بہت سارے خاندان یہاں آباد ہیں۔ 1819ء میں جو زلزلہ آیا تھا اُس میں اس قلعے کو بہت نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>’جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کے شمال مغرب میں جو کَچھ کا علاقہ ہے ان دونوں کے درمیان خلیج اور ریگستان ہے، کچھ کا مرکزی شہر بھج ہے جس کی بندرگاہ مانڈوی مشہور ہے۔ یہاں سے سنگ مرمر نکلتا ہے اور لوہے کا کام شاندار ہوتا ہے۔ احمدآباد میں کَچھ، سندھ اور کاٹھیاواڑ کے گھوڑے زیادہ فروخت ہوتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16154012187cffa.webp'  alt='   مانڈوی کا خستہ حال قلعہ&mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مانڈوی کا خستہ حال قلعہ—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>لکھپت کے کوٹ سے وہ 3 نومبر کو نکلا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’ہم تیاریوں کے بعد دوپہر کو کشتیوں پر نکلے۔ موسم اچھا تھا اس لیے دوسری طرف ہم ’کوٹری‘ گھاٹ پر شام 5 بجے پہنچ گئے۔ ہمیں یہاں 100 اونٹوں کا قافلہ ملا جن پر دیسی گھی کے ڈبے لدے ہوئے تھے اور وہ کَچھ کی طرف جا رہے تھے۔ ہم نے چاندنی رات میں سفر شروع کیا۔ (آپ اگر کیلنڈر دیکھیں تو 3 نومبر 1827ء، ہفتے کا دن تھا اور جمادی الثانی 1243ھ کی 13ویں تاریخ تھی۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ چاند کی کتنی تیز اور ٹھنڈی روشنی میں برنس کے قافلے نے سفر کیا ہوگا۔)</p>
<p>’5 نومبر کو قافلہ رڑی پہنچا۔ رڑی جو اپنے زمانے میں کپاس اور اونٹوں کے کاروبار کا بڑا مرکز تھا، مگر اچھے دن کسی موسم کی طرح رڑی سے روٹھ گئے تھے، برنس لکھتے ہیں کہ’ کوٹڑی گھاٹ سے رڑی 50 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک شہر تھا مگر اب اپنے آخری ایام گزر رہا ہے۔ یہاں قرب و جوار میں جھیلیں بہت ہیں‘۔</p>
<p>رڑی کے آخری دن ضرور تھے مگر سیکڑوں خاندان تھے جو یہاں بستے تھے اور دھان کی فصلیں کھیتوں میں لہلہاتی تھیں اس لیے برنس کے قافلے کے گھوڑوں کو  ہری دھان دی گئی تھی۔ یہاں میروں نے برنس کے استقبال کے لیے دو معززین حیدر خان لغاری اور بہادر خان کو بھیجا تھا اور ساتھ میں 50 اونٹ بھی بھیجے تھے تاکہ برنس کے قافلے کا کوئی بھی آدمی پیدل نہ ہو۔</p>
<p>برنس لکھتے ہیں کہ ’رڑی کے بعد سارا خرچہ میروں نے بھرا اور مجھے خرچ کرنے سے منع کیا گیا۔ ہمیں خوراک کے لیے جو سامان ملتا تھا وہ انتہائی اعلیٰ درجے کا تھا۔ روزانہ وافر مقدار میں چینی، مٹھائیاں اور آفیم دیا جاتا تھا’۔</p>
<p>کَچھ ایک زمانے میں سندھ کا انتہائی اہم قریبی حصہ رہا پھر کلہوڑا دور حکومت میں بھی کَچھ کا بہت سا حصہ سندھ کی حکومت میں تھا۔ چونکہ قریب ہونے اور ایک طرح کے معروضی حالات ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں اور اب تک ہیں۔</p>
<p>اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو کراچی کی بہت ساری آبادی کَچھ کے طرف سے آکر یہاں آباد ہوئی ہے۔ تو کراچی اور کَچھ کے گہرے تعلقات کا ذکر ہم مسٹر ایسٹوک (1839ء) کے سفر میں تفصیل سے کریں گے جب وہ کَچھ سے ہوتا ہوا کراچی آیا تھا۔ چلیے جیمس برنس کے قافلے کو رڑی میں آرام کرنے دیتے ہیں اور جلدی واپس آ کر ان کے سفر میں شامل ہوتے ہیں۔</p>
<h1><a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حوالہ جات</h1>
<ul>
<li>’کمپنی کی حکومت‘۔ باری علیگ۔ لاہور بک سٹی، لاہور</li>
<li>’سندھو گھاٹی اور سمندر‘ ۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور</li>
<li>’کتھائیں جادوگر بستیوں کی‘ ۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور</li>
<li>’تاریخ گُجرات‘۔ سید ابو ظفر ندوی۔ ندوہ المصنفین۔ دہلی 1958</li>
<li>A Narrative of a visit to the Court of Sinde. By: James Burns. 1831.</li>
<li>British Policy towards Sindh. C.L. Marriwalla. 1947.</li>
<li>The World Economy: Historical Statistics. Angus Maddison.</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271729</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 14:30:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/17091312c8acf51.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/17091312c8acf51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گدھوں کی فارمنگ پاکستان کی لڑکھڑاتی معیشت کو کس طرح سہارا دے سکتی ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271698/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں سرمایہ کاری کا مرکز بنیادی طور پر کان کنی، سیاحت یا توانائی کے منصوبے ہوتے ہیں جو زیادہ تر پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ماتحت آتے ہیں۔ تاہم مویشیوں کے شعبے میں ہمارے لیے ایک غیرمتوقع موقع قریب ہے جس نے پالیسی سازوں، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات کی توجہ حاصل کر لی ہے اور یہ ہے گدھوں کی فارمنگ!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گدھے کو ایک وقت صرف باربرداری کے جانور کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن آج یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مارکیٹ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ چین میں گدھوں کی کھال کی بڑھتی ہوئی طلب ہے جوکہ ’ایجیاؤ‘ (Ejiao) نامی ایک روایتی دوا بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ اس دوا کو صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جہاں تقریباً 59 لاکھ بار بردار گدھے موجود ہیں، یہ ملک کے لیے ایک غیر روایتی لیکن ممکنہ طور پر منافع بخش معاشی مواقع پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی کچھ عرصے پہلے تک پاکستان میں گدھوں کی باقاعدہ صنعت قائم کرنے کا خیال ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔ 2015ء میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس وقت گدھوں کی کھال کی برآمد پر پابندی عائد کردی تھی کہ جب یہ انکشاف ہوا کہ مقامی بازاروں میں گدھے کا گوشت گائے اور بکرے کے گوشت کے نام پر فروخت جا رہا ہے۔ تاہم اب حکومت نے اس پالیسی کو واپس لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے گدھوں کی کھال کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے مگر اس کے لیے سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ 2 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے تحت برآمدات کے پالیسی آرڈر میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت اب برآمدات صرف گوادر فری زون میں منظور شدہ مذبح خانوں کے ذریعے ہی کی جا سکیں گی۔ برآمدات کو ایک باقاعدہ اور منظم زون تک محدود کرنے کا مقصد نگرانی کو مؤثر بنانا ہے جبکہ ساتھ ہی معاشی و سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/1610551215cde41.webp'  alt='پاکستان درست اقدامات سے ملک میں گدھے کی صنعت کو وسعت دے سکتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان درست اقدامات سے ملک میں گدھے کی صنعت کو وسعت دے سکتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گدھوں کی بڑھتی ہوئی صنعت، برآمدات کو متنوع بنانے، دیہی آمدنی اور چین کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات میں غیر متوقع طور پر معاونت کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی اس شعبے میں دلچسپی محض قیاس آرائی نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ’پاک-چین ڈونکی انڈسٹری ڈیولپمنٹ فورم‘ کا انعقاد ہوا جس کا موضوع ’مل کر مواقع پیدا کرنا، مل کر کامیاب مستقبل بنانا‘، تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب میں بڑی تعداد میں شرکا موجود تھے جن میں دونوں ممالک کے سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم اور کاروباری شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور سانگ یانگ انڈسٹریل کے درمیان ایک مفاہمتی یادادشت بھی شامل ہے۔ اس چینی کمپنی نے پہلے ہی پاکستان میں گدھوں کی صنعت کے فروغ کے لیے کنٹریکٹ فارمنگ ماڈل کا معاہدہ متعارف کروانے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ریگولیٹری نظام کا جائزہ لینے سے سامنے آیا کہ گدھوں کی صنعت کو فعال بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی موجود ہے۔ کمپنیز، کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹر کی جا سکتی ہیں، گوادر فری زون  اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں کسٹمز کی چھوٹ اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات دستیاب ہیں جبکہ مویشیوں کے ذبح اور پروسیسنگ کے لیے حفظانِ صحت اور قرنطینہ کے قواعد و ضوابط بھی لاگو ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیز، لائسنسنگ اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ گدھوں کی فارمنگ پاکستان کے لیے ایک غیر روایتی شعبہ ہے لیکن پھر بھی اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ قانونی حیثیت کا نہیں بلکہ ربط، مؤثریت اور شفافیت کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی امکانات بھی قابلِ غور ہیں۔ دیہی علاقوں میں گدھوں کو ملکی اقتصادیات میں معاون کے طور پر نہیں بلکہ اکثر کم قیمت والے اثاثے اور عام امور انجام دینے والے جانور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم اگر چینی سرمایہ کاری معاہدے کے مطابق فارمنگ ماڈل متعارف کروایا جائے تو یہی گدھے آمدنی پیدا کرنے والے ملکی اثاثوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گدھوں کے گوشت اور کھالوں کو حفظانِ صحت کے اصولوں اور تصدیق شدہ معیار کے تحت پروسیس کیا جائے تو اس سے پاکستان، چین کو ایک مستقل برآمدی گاہک بنا سکتا ہے۔ یہ شعبہ افزائش، نقل و حمل، ویٹرنیری خدمات اور پروسیسنگ کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے جبکہ پاکستانی یونیورسٹیز اور چینی تحقیقی اداروں کے درمیان جانوروں کی جینیات، افزائش اور خوراک کی مؤثریت پر تعاون کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161049439537756.webp'  alt='اگر معاملات کو ٹھیک سے سنبھالا گیا تو یہ ملک کی بڑی صنعت بن سکتی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اگر معاملات کو ٹھیک سے سنبھالا گیا تو یہ ملک کی بڑی صنعت بن سکتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بڑھ کر یہ شعبہ پاکستان کے وسیع تر سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے نظام کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور اسلام آباد میں قائم کاروبار سہولت کاری کے سینٹر جیسے اقدامات پہلے ہی اہم منصوبوں کو تیزی سے وسعت دینے کا کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں گدھوں کی پروسیسنگ کی صنعت کو بھی زرعی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کی طرح قومی سرمایہ کاری ایجنڈے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خطرات بھی موجود ہیں۔ جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے اس صنعت کی پائیداری سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں موجود تقریباً 5  کروڑ 50 لاکھ گدھوں میں سے سالانہ تقریباً 60 لاکھ صرف کھال کے حصول کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گدھے غریب گھرانوں کی معمولاتِ زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں جو پانی، ایندھن و دیگر سامان لاد کر لے جانے میں کام آتے ہیں۔ ایسے میں اگر بڑے پیمانے پر گدھوں کی تجارتی بنیادوں پر افزائش اور انہیں ذبح کرنا شروع کر دیا جاتا ہے تو یہ صنعت کمزور اور پسماندہ طبقات پر اضافی بوجھ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca6e484ada4c.jpg'  alt='پاکستان میں لوگ روزگار کے لیے گدھوں پر انحصار کرتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان میں لوگ روزگار کے لیے گدھوں پر انحصار کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثقافتی حساسیت بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی گدھے کے گوشت کی وجہ سے بدنام ہے جسے اکثر فراڈ یا غیر قانونی سرگرمیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ گدھوں کی صنعت کے حوالے سے رائے عامہ میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور اگر اس بیانیے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو یہ معاملہ سیاسی ردعمل کا سبب بھی بنس سکتا ہے جو نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا گوادر فری زون میں منظور شدہ مذبح خانوں تک برآمدات کو محدود کرنے کا فیصلہ ایک مثبت آغاز ہے مگر یہ صرف پہلا قدم ہے۔ غیر قانونی تجارت کو روکنے اور ملکی و بین الاقوامی خریداروں کا اعتماد جیتنے کے لیے لازمی ہے کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے. ہر گدھے کی پہچان اور سپلائی چین کی نگرانی کو ممکن بنایا جائے اور حفظانِ صحت کے سخت معیارات پر عمل درآمد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ گدھوں کی افزائش کو کاروبار میں تبدیل کرنے سے نچلے طبقے کو نقصان نہ پہنچے جو اپنی معمولاتِ زندگی کے لیے گدھوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کسی بھی طویل مدتی منصوبے میں افزائش کا پروگرام، جانوروں کی مناسب دیکھ بھال اور کسانوں کے لیے منصفانہ معاہدے کو شامل ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16104559a548b92.webp'  alt='گدھوں کی مارکیٹ کو پروان چڑھانے کے لیے پاکستان کو نگرانی کا عمل سخت کرنا ہوگا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گدھوں کی مارکیٹ کو پروان چڑھانے کے لیے پاکستان کو نگرانی کا عمل سخت کرنا ہوگا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب گدھوں کی فارمنگ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک قابل عمل شعبہ بن پاتی ہے یا نہیں، اس کا دارومدار چینی طلب پر کم بلکہ پاکستان کی اس صلاحیت پر زیادہ ہوگا کہ وہ ایک ایسا نگرانی کا ماڈل تیار کرے جو شفاف ہو، قابلِ نفاذ ہو اور عوامی سطح پر قابل قبول ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس معاملے کو احتیاط اور دانشمندی سے سنبھالا جائے تو یہ برآمدات کو متنوع بنانے، دیہی آمدنی، اور چین کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات میں ایک غیر متوقع معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے غلط انداز میں ڈیل کیا گیا تو یہ پاکستان کی معاشی کہانی کے دیرینہ مسئلے یعنی مختصر مدتی مواقع پسندی اور بدانتظامی کے فرسودہ تصورات کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گدھا شاید پُرکشش جانور نہ ہو لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت کو کسی حد تک بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948409/the-potential-of-donkey-farming-in-pakistan"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں سرمایہ کاری کا مرکز بنیادی طور پر کان کنی، سیاحت یا توانائی کے منصوبے ہوتے ہیں جو زیادہ تر پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ماتحت آتے ہیں۔ تاہم مویشیوں کے شعبے میں ہمارے لیے ایک غیرمتوقع موقع قریب ہے جس نے پالیسی سازوں، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات کی توجہ حاصل کر لی ہے اور یہ ہے گدھوں کی فارمنگ!</p>
<p>گدھے کو ایک وقت صرف باربرداری کے جانور کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن آج یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مارکیٹ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ چین میں گدھوں کی کھال کی بڑھتی ہوئی طلب ہے جوکہ ’ایجیاؤ‘ (Ejiao) نامی ایک روایتی دوا بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ اس دوا کو صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان جہاں تقریباً 59 لاکھ بار بردار گدھے موجود ہیں، یہ ملک کے لیے ایک غیر روایتی لیکن ممکنہ طور پر منافع بخش معاشی مواقع پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>ابھی کچھ عرصے پہلے تک پاکستان میں گدھوں کی باقاعدہ صنعت قائم کرنے کا خیال ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔ 2015ء میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس وقت گدھوں کی کھال کی برآمد پر پابندی عائد کردی تھی کہ جب یہ انکشاف ہوا کہ مقامی بازاروں میں گدھے کا گوشت گائے اور بکرے کے گوشت کے نام پر فروخت جا رہا ہے۔ تاہم اب حکومت نے اس پالیسی کو واپس لے لیا ہے۔</p>
<p>حکومت نے گدھوں کی کھال کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے مگر اس کے لیے سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ 2 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے تحت برآمدات کے پالیسی آرڈر میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت اب برآمدات صرف گوادر فری زون میں منظور شدہ مذبح خانوں کے ذریعے ہی کی جا سکیں گی۔ برآمدات کو ایک باقاعدہ اور منظم زون تک محدود کرنے کا مقصد نگرانی کو مؤثر بنانا ہے جبکہ ساتھ ہی معاشی و سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/1610551215cde41.webp'  alt='پاکستان درست اقدامات سے ملک میں گدھے کی صنعت کو وسعت دے سکتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان درست اقدامات سے ملک میں گدھے کی صنعت کو وسعت دے سکتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>گدھوں کی بڑھتی ہوئی صنعت، برآمدات کو متنوع بنانے، دیہی آمدنی اور چین کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات میں غیر متوقع طور پر معاونت کرسکتی ہے۔</p>
<p>چین کی اس شعبے میں دلچسپی محض قیاس آرائی نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ’پاک-چین ڈونکی انڈسٹری ڈیولپمنٹ فورم‘ کا انعقاد ہوا جس کا موضوع ’مل کر مواقع پیدا کرنا، مل کر کامیاب مستقبل بنانا‘، تھا۔</p>
<p>اس تقریب میں بڑی تعداد میں شرکا موجود تھے جن میں دونوں ممالک کے سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم اور کاروباری شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور سانگ یانگ انڈسٹریل کے درمیان ایک مفاہمتی یادادشت بھی شامل ہے۔ اس چینی کمپنی نے پہلے ہی پاکستان میں گدھوں کی صنعت کے فروغ کے لیے کنٹریکٹ فارمنگ ماڈل کا معاہدہ متعارف کروانے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے ریگولیٹری نظام کا جائزہ لینے سے سامنے آیا کہ گدھوں کی صنعت کو فعال بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی موجود ہے۔ کمپنیز، کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹر کی جا سکتی ہیں، گوادر فری زون  اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں کسٹمز کی چھوٹ اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات دستیاب ہیں جبکہ مویشیوں کے ذبح اور پروسیسنگ کے لیے حفظانِ صحت اور قرنطینہ کے قواعد و ضوابط بھی لاگو ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیز، لائسنسنگ اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ گدھوں کی فارمنگ پاکستان کے لیے ایک غیر روایتی شعبہ ہے لیکن پھر بھی اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ قانونی حیثیت کا نہیں بلکہ ربط، مؤثریت اور شفافیت کا ہے۔</p>
<p>معاشی امکانات بھی قابلِ غور ہیں۔ دیہی علاقوں میں گدھوں کو ملکی اقتصادیات میں معاون کے طور پر نہیں بلکہ اکثر کم قیمت والے اثاثے اور عام امور انجام دینے والے جانور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم اگر چینی سرمایہ کاری معاہدے کے مطابق فارمنگ ماڈل متعارف کروایا جائے تو یہی گدھے آمدنی پیدا کرنے والے ملکی اثاثوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اگر گدھوں کے گوشت اور کھالوں کو حفظانِ صحت کے اصولوں اور تصدیق شدہ معیار کے تحت پروسیس کیا جائے تو اس سے پاکستان، چین کو ایک مستقل برآمدی گاہک بنا سکتا ہے۔ یہ شعبہ افزائش، نقل و حمل، ویٹرنیری خدمات اور پروسیسنگ کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے جبکہ پاکستانی یونیورسٹیز اور چینی تحقیقی اداروں کے درمیان جانوروں کی جینیات، افزائش اور خوراک کی مؤثریت پر تعاون کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/161049439537756.webp'  alt='اگر معاملات کو ٹھیک سے سنبھالا گیا تو یہ ملک کی بڑی صنعت بن سکتی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اگر معاملات کو ٹھیک سے سنبھالا گیا تو یہ ملک کی بڑی صنعت بن سکتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس سے بڑھ کر یہ شعبہ پاکستان کے وسیع تر سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے نظام کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور اسلام آباد میں قائم کاروبار سہولت کاری کے سینٹر جیسے اقدامات پہلے ہی اہم منصوبوں کو تیزی سے وسعت دینے کا کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسی تناظر میں گدھوں کی پروسیسنگ کی صنعت کو بھی زرعی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کی طرح قومی سرمایہ کاری ایجنڈے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم خطرات بھی موجود ہیں۔ جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے اس صنعت کی پائیداری سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں موجود تقریباً 5  کروڑ 50 لاکھ گدھوں میں سے سالانہ تقریباً 60 لاکھ صرف کھال کے حصول کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں گدھے غریب گھرانوں کی معمولاتِ زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں جو پانی، ایندھن و دیگر سامان لاد کر لے جانے میں کام آتے ہیں۔ ایسے میں اگر بڑے پیمانے پر گدھوں کی تجارتی بنیادوں پر افزائش اور انہیں ذبح کرنا شروع کر دیا جاتا ہے تو یہ صنعت کمزور اور پسماندہ طبقات پر اضافی بوجھ بن سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca6e484ada4c.jpg'  alt='پاکستان میں لوگ روزگار کے لیے گدھوں پر انحصار کرتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان میں لوگ روزگار کے لیے گدھوں پر انحصار کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ثقافتی حساسیت بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی گدھے کے گوشت کی وجہ سے بدنام ہے جسے اکثر فراڈ یا غیر قانونی سرگرمیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ گدھوں کی صنعت کے حوالے سے رائے عامہ میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور اگر اس بیانیے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو یہ معاملہ سیاسی ردعمل کا سبب بھی بنس سکتا ہے جو نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p>حکومت کا گوادر فری زون میں منظور شدہ مذبح خانوں تک برآمدات کو محدود کرنے کا فیصلہ ایک مثبت آغاز ہے مگر یہ صرف پہلا قدم ہے۔ غیر قانونی تجارت کو روکنے اور ملکی و بین الاقوامی خریداروں کا اعتماد جیتنے کے لیے لازمی ہے کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے. ہر گدھے کی پہچان اور سپلائی چین کی نگرانی کو ممکن بنایا جائے اور حفظانِ صحت کے سخت معیارات پر عمل درآمد کیا جائے۔</p>
<p>اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ گدھوں کی افزائش کو کاروبار میں تبدیل کرنے سے نچلے طبقے کو نقصان نہ پہنچے جو اپنی معمولاتِ زندگی کے لیے گدھوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کسی بھی طویل مدتی منصوبے میں افزائش کا پروگرام، جانوروں کی مناسب دیکھ بھال اور کسانوں کے لیے منصفانہ معاہدے کو شامل ہونے چاہئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/16104559a548b92.webp'  alt='گدھوں کی مارکیٹ کو پروان چڑھانے کے لیے پاکستان کو نگرانی کا عمل سخت کرنا ہوگا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گدھوں کی مارکیٹ کو پروان چڑھانے کے لیے پاکستان کو نگرانی کا عمل سخت کرنا ہوگا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اب گدھوں کی فارمنگ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک قابل عمل شعبہ بن پاتی ہے یا نہیں، اس کا دارومدار چینی طلب پر کم بلکہ پاکستان کی اس صلاحیت پر زیادہ ہوگا کہ وہ ایک ایسا نگرانی کا ماڈل تیار کرے جو شفاف ہو، قابلِ نفاذ ہو اور عوامی سطح پر قابل قبول ہو۔</p>
<p>اگر اس معاملے کو احتیاط اور دانشمندی سے سنبھالا جائے تو یہ برآمدات کو متنوع بنانے، دیہی آمدنی، اور چین کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات میں ایک غیر متوقع معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے غلط انداز میں ڈیل کیا گیا تو یہ پاکستان کی معاشی کہانی کے دیرینہ مسئلے یعنی مختصر مدتی مواقع پسندی اور بدانتظامی کے فرسودہ تصورات کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔</p>
<p>گدھا شاید پُرکشش جانور نہ ہو لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت کو کسی حد تک بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1948409/the-potential-of-donkey-farming-in-pakistan">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271698</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 11:51:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لاریب ساجد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/16105823d57a679.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/16105823d57a679.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/16104439e48fa41.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/16104439e48fa41.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-افغان جھڑپوں کی خوفناک رات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271415/</link>
      <description>&lt;p&gt;تقریباً 7 گھنٹوں تک پاکستان نے چترال کے ارندو سے لے کر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈے تک پورے سرحدی حصے میں افغانستان کے اندر اہداف پر گولہ باری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب افغان طالبان نے رات 9 بجے کے قریب کرم میں گاوی سرحدی بیلٹ کے ساتھ پاکستانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ سرحد پار اشتعال انگیزی ظاہری طور پر پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں کی گئی جس میں پاکستانی حدود میں 27 دہشت گرد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال سے شروع ہونے والی صورت حال جلد ہی پوری سرحد تک پھیل گئی جہاں افغان فورسز نے کنڑ، ننگرہار اور نورستان صوبوں سے کئی پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے ایک گاؤں میں گرنے کے بعد وادی تیراہ بھی حملے کی زد میں آگیا جس سے ایک شہری جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع جنہوں نے رات بھر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے تصادم کی قریب سے نگرانی کی، بتایا کہ آدھی رات سے پہلے ہی دونوں طرف سے شدید جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں اور پاکستانی افواج نے سرحد پار مخالف چوکیوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن توپ خانے اور فضائی حملے شروع کر دیے تھے جس سے طالبان جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بھاری آرٹلری کے علاوہ، پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے متعدد افغان پوسٹوں اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں افغان صوبے ہلمند، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنگی طیاروں نے اپنے درست حملوں سے سیکنڈ کنڈک کے ہیڈکوارٹر اور عزیز، روات اور ناکہ کے مضبوط قلعوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آدھی رات تک، 11 افغان پوسٹوں کو غیرفعال بنادیا گیا تھا اور دشمن کے 27 اہداف کو تباہ کر دیا گیا جس سے افغان سرزمین کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی طالبان کی سرحدی چوکیوں اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے افغان فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی گونج سنائی دی، طالبان افواج نے جنگ بندی کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا لیکن پاکستان کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا اور اتوار کی صبح تک فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی الصبح 2 بجے سے 4 بجے تک، پاک فضائیہ کے ساتھ توپ خانوں نے بھی افغان پوزیشنز پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا جس سے اطلاعات کے مطابق بربچہ، علی دوست، ملگئی کوہ، ترکمان زئی ٹاپ اور خراچار قلعہ میں دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں نے افغان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد کئی اگلی پوسٹوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سرحد-کے-ساتھ-حملے" href="#سرحد-کے-ساتھ-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سرحد کے ساتھ حملے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لوئر دیر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شاہی بن شاہی بارڈر پر افغان فورسز کو بھرپور جواب دیا، حملوں کو پسپا کر دیا گیا اور طالبان فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیریں جنوبی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ ساتھ کئی دیہات افغان فائرنگ کی زد میں آئے۔ اس اقدام کے جواب میں فورسز کی طرف سے جوابی کارروائی کی گئی جس سے افغانستان کو کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی کے دوران ایک افغان پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا، بعدازاں قبضے کی جگہ پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے درمیان، آدھی رات کے فوراً بعد دراندازی کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ طالبان نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں سری کوند سے دراندازی کی کوشش کی مگر اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھنٹوں کی بمباری اور فائرنگ کے بعد صبح 4 بجے کے قریب حالات معمول پر آگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ ’صورت حال بدستور کشیدہ ہے لیکن پاکستان مکمل کنٹرول میں ہے کیونکہ پاک فضائیہ کے طیارے اور آرٹلری یونٹ ہائی الرٹ پر ہیں۔ مبینہ طور پر 4 بجے کے بعد سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ کم ہوا لیکن مغربی سرحد پر نگرانی کو بڑھا دیا گیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271368"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے بعد حکام نے انگور اڈہ بارڈر کو فوری طور پر بند کردیا جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئیں۔ اچانک بندش سے درجنوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ انگور اڈہ سرحد دو سال کی بندش کے بعد صرف 10 روز قبل ہی دوبارہ کھولا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر میں طورخم بارڈر کراسنگ بھی بند کر دی گئی۔ تاہم اس کراسنگ پر صورت حال پُرامن رہی۔ باچا مینہ کے رہائشی احاطے کے رہائشیوں نے ڈان کو بتایا کہ سرحدی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آدھی رات کو سرحد بند کرنے کے حکم کے بعد کچھ خاندان لنڈی کوتل منتقل ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد غلام خان بارڈر بھی بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرم میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور افغانستان کے ساتھ خرلاچی بارڈر کو بند کر دیا گیا۔ ضلع میں قبائلی جنگجو مبینہ طور پر خرلاچی اور منوجابا قلعوں کے قریب آرٹلری کی مسلسل جھڑپوں کے درمیان فرنٹ لائن پر سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے منتقل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;دیر، خیبر اور جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور کرم میں ہمارے نامہ نگاروں کی مدد بھی اس تحریر میں شامل ہے۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948511/situationer-a-night-of-deadly-clashes"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تقریباً 7 گھنٹوں تک پاکستان نے چترال کے ارندو سے لے کر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈے تک پورے سرحدی حصے میں افغانستان کے اندر اہداف پر گولہ باری کی۔</p>
<p>جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب افغان طالبان نے رات 9 بجے کے قریب کرم میں گاوی سرحدی بیلٹ کے ساتھ پاکستانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ سرحد پار اشتعال انگیزی ظاہری طور پر پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں کی گئی جس میں پاکستانی حدود میں 27 دہشت گرد مارے گئے تھے۔</p>
<p>شمال سے شروع ہونے والی صورت حال جلد ہی پوری سرحد تک پھیل گئی جہاں افغان فورسز نے کنڑ، ننگرہار اور نورستان صوبوں سے کئی پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے ایک گاؤں میں گرنے کے بعد وادی تیراہ بھی حملے کی زد میں آگیا جس سے ایک شہری جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔</p>
<p>ذرائع جنہوں نے رات بھر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے تصادم کی قریب سے نگرانی کی، بتایا کہ آدھی رات سے پہلے ہی دونوں طرف سے شدید جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں اور پاکستانی افواج نے سرحد پار مخالف چوکیوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن توپ خانے اور فضائی حملے شروع کر دیے تھے جس سے طالبان جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بھاری آرٹلری کے علاوہ، پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے متعدد افغان پوسٹوں اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں افغان صوبے ہلمند، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنگی طیاروں نے اپنے درست حملوں سے سیکنڈ کنڈک کے ہیڈکوارٹر اور عزیز، روات اور ناکہ کے مضبوط قلعوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آدھی رات تک، 11 افغان پوسٹوں کو غیرفعال بنادیا گیا تھا اور دشمن کے 27 اہداف کو تباہ کر دیا گیا جس سے افغان سرزمین کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جیسے ہی طالبان کی سرحدی چوکیوں اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے افغان فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی گونج سنائی دی، طالبان افواج نے جنگ بندی کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا لیکن پاکستان کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا اور اتوار کی صبح تک فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p>علی الصبح 2 بجے سے 4 بجے تک، پاک فضائیہ کے ساتھ توپ خانوں نے بھی افغان پوزیشنز پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا جس سے اطلاعات کے مطابق بربچہ، علی دوست، ملگئی کوہ، ترکمان زئی ٹاپ اور خراچار قلعہ میں دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں نے افغان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد کئی اگلی پوسٹوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔</p>
<h1><a id="سرحد-کے-ساتھ-حملے" href="#سرحد-کے-ساتھ-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سرحد کے ساتھ حملے</h1>
<p>لوئر دیر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شاہی بن شاہی بارڈر پر افغان فورسز کو بھرپور جواب دیا، حملوں کو پسپا کر دیا گیا اور طالبان فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔</p>
<p>زیریں جنوبی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ ساتھ کئی دیہات افغان فائرنگ کی زد میں آئے۔ اس اقدام کے جواب میں فورسز کی طرف سے جوابی کارروائی کی گئی جس سے افغانستان کو کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی کے دوران ایک افغان پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا، بعدازاں قبضے کی جگہ پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے درمیان، آدھی رات کے فوراً بعد دراندازی کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ طالبان نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں سری کوند سے دراندازی کی کوشش کی مگر اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔</p>
<p>گھنٹوں کی بمباری اور فائرنگ کے بعد صبح 4 بجے کے قریب حالات معمول پر آگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ ’صورت حال بدستور کشیدہ ہے لیکن پاکستان مکمل کنٹرول میں ہے کیونکہ پاک فضائیہ کے طیارے اور آرٹلری یونٹ ہائی الرٹ پر ہیں۔ مبینہ طور پر 4 بجے کے بعد سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ کم ہوا لیکن مغربی سرحد پر نگرانی کو بڑھا دیا گیا تھا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271368"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے بعد حکام نے انگور اڈہ بارڈر کو فوری طور پر بند کردیا جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئیں۔ اچانک بندش سے درجنوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ انگور اڈہ سرحد دو سال کی بندش کے بعد صرف 10 روز قبل ہی دوبارہ کھولا گیا تھا۔</p>
<p>خیبر میں طورخم بارڈر کراسنگ بھی بند کر دی گئی۔ تاہم اس کراسنگ پر صورت حال پُرامن رہی۔ باچا مینہ کے رہائشی احاطے کے رہائشیوں نے ڈان کو بتایا کہ سرحدی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آدھی رات کو سرحد بند کرنے کے حکم کے بعد کچھ خاندان لنڈی کوتل منتقل ہو گئے تھے۔</p>
<p>شمالی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد غلام خان بارڈر بھی بند کردیا گیا تھا۔</p>
<p>کرم میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور افغانستان کے ساتھ خرلاچی بارڈر کو بند کر دیا گیا۔ ضلع میں قبائلی جنگجو مبینہ طور پر خرلاچی اور منوجابا قلعوں کے قریب آرٹلری کی مسلسل جھڑپوں کے درمیان فرنٹ لائن پر سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے منتقل ہوئے۔</p>
<hr />
<p><em>دیر، خیبر اور جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور کرم میں ہمارے نامہ نگاروں کی مدد بھی اس تحریر میں شامل ہے۔</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1948511/situationer-a-night-of-deadly-clashes">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271415</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 10:33:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمر فاروق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/13091759d42a4ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/13091759d42a4ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ، کیا پاکستان رواں سال اسموگ سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271240/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے 2025ء کا موسمِ سرما قریب آتا جارہا ہے، جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں اسموگ کا بےقابو جن بوتل سے نکلنے کی تیاری کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ ہر سال موسم خزاں کے آخر اور سردیوں کے مہینوں میں سر اٹھاتا ہے کہ جب درجہ حرارت میں تبدیلی سے دھندلی چادر سندھ اور گنگا کے میدانی علاقوں کی نچلی سطح کو ڈھانپ لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضا میں آلودگی اور نقصان دہ ہواؤں کے ساتھ، علاقوں میں آسمان کے نیچے زمین کے قریب اخراج جمع ہو جاتا ہے جو آبادی کے لیے صحت کے شدید خطرات کا باعث بنتا ہے۔ صحت کا بنیادی مسئلہ ہوا میں موجود چھوٹے ذرات سے پیدا ہوتا ہے اور یہ اکثر زمین کے قریب نقصان دہ اوزون کی وجہ سے بدتر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ipcc.ch/assessment-report/ar6/"&gt;چھٹی تشخیصی رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; (IPCC AR6) کے مطابق، یہ آلودگی دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں پیدا کرنے میں کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر بوڑھے افراد اور بچوں کو اس سے زیادہ مضر خطرات لاحق ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حکام اور رہنما اس لیے پریشان ہیں کیونکہ انہوں نے اسموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں کی ہے جو ملک کے بہت سے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور ان کے قریبی علاقوں کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جو-پہلے-ہو-چکا-دوبارہ-کیا-جا-سکتا-ہے" href="#جو-پہلے-ہو-چکا-دوبارہ-کیا-جا-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جو پہلے ہو چکا، دوبارہ کیا جا سکتا ہے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 700 سے اوپر چلا گیا تھا۔ نومبر 2024ء میں، یہ 1500 سے بھی تجاوز کر گیا جس سے یہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک بن گیا۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسے کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ جوابات تلاش کرنے کے لیے، آئیے چین اور انگلینڈ کی دو بڑی مثالیں دیکھتے ہیں جہاں 1950ء کی دہائی میں اسموگ اور آلودگی پر قابو پانے کی پالیسیز لاگو کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247023"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 1952ء میں، لندن میں خشک موسم کی وجہ سے کوئلے کا دھواں کئی دنوں تک شہر کی فضا میں معلق رہا۔ فضا دھندلی ہوئی، حدنگاہ کم ہوگئی جبکہ ہزاروں لوگ سانس اور دل کی تکالیف سے ہلاک ہوئے۔ صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، برطانوی حکومت نے 1956ء میں &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.legislation.gov.uk/ukpga/Eliz2/4-5/52/enacted"&gt;کلین ایئر ایکٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پاس کیا۔ اس اہم قانون نے ظاہر کیا کہ مضبوط قوانین پر تیزی سے عمل کرنے سے اسموگ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں بعد چین کے کئی بڑے شہر اسموگ کے سنگین مسائل سے گزرے۔ حکومت نے ایندھن اور فیکٹری قوانین کو سخت کرکے اسموگ سے نمٹنے کے لیے کارروائی کی۔ چند سالوں میں وہ لوگ جو پارٹیکل میٹر 2.5 کے مطابق بہت آلودہ ہوا میں سانس لے رہے تھے، انہوں نے فضائی معیار میں بڑی بہتری دیکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دو مثالیں پاکستان کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اپنا منصوبہ تشکیل دینے میں اہم مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ پاکستان میں موسم کی صورت حال یکساں ہے اور وہ یکساں پالیسی استعمال کر سکتے ہیں، چاہے ان کی آلودگی مختلف ذرائع کا نتیجہ کیوں نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان میں کچھ فریم ورکس موجود ہیں، پھر بھی وہ ان قوانین کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ مؤثر عمل درآمد کے لیے ملک کو مضبوط قیادت، ہنر مند اور سرشار حکام، عوام کی حمایت اور قوانین کے منصفانہ نفاذ کی ضرورت ہے لیکن ان تمام عوامل کی کمی ہے۔ نتیجتاً اسموگ اور فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلے کے طور پر برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پاکستان-میں-گاڑیوں-سے-اسموگ" href="#پاکستان-میں-گاڑیوں-سے-اسموگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان میں گاڑیوں سے اسموگ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اسموگ کی سب سے بڑی وجہ گاڑیاں ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ایندھن کے جدید معیار کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن سڑک پر چلنے والی زیادہ تر گاڑیاں اور ٹرک پرانے ہیں اور انہیں مناسب طریقے سے کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں طویل فاصلے کا سفر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے زیادہ تر ٹرک اور بسیں پرانی ہیں اور اخراج کے جدید معیار پر پورا نہیں اترتی ہیں۔ گاڑیوں کی جانچ اور دیکھ بھال بھی باقاعدگی سے نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ کم معیار کے تیل اور ڈیزل، جنریٹرز کا زیادہ استعمال آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ شہروں میں موٹر سائیکلز، رکشے اور چھوٹے انجن والی گاڑیاں بہت زیادہ کالا دھواں اور نقصان دہ گیسیز خارج کرتی ہیں۔ یہ سردیوں میں اسموگ اور فضا آلودہ کرنے والے چھوٹے ذرات کی بڑی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پنجاب کے شہروں کے اردگرد اینٹوں کے بھٹے اکثر کم معیار کا کوئلہ جلاتے ہیں اور یہ بہت زیادہ آلودگی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ مسلسل چلتے رہتے ہیں جبکہ ایندھن میں گندھک، نمی اور بھاری دھاتیں جیسے نقصان دہ مواد ہوتے ہیں۔ آلودگی کو کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے ایک آسان اقدام یہ ہے کہ پرانے طرز کے بھٹوں کو زیادہ کارآمد زگ زیگ کی شکل میں تبدیل کیا جائے تاکہ اخراج کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتوں جیسے سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، فاؤنڈری اور شیشے کے کارخانے، ہوا میں بڑی مقدار میں سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور دیگر نقصان دہ گیسز اور ذرات خارج کرتے ہیں۔ اگرچہ ان اخراج کو محدود کرنے کے قواعد موجود ہیں لیکن باقاعدہ جانچ پڑتال اور معائنہ تقریباً کبھی نہیں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلٹریشن سسٹم اور کم نائٹروجن آکسائیڈ ٹیکنالوجیز جہاں انسٹال ہیں، وہ اکثر خراب دیکھ بھال یا غیر مستقل طور پر چلائی جاتی ہیں۔جب موسم کی وجہ سے آلودگی زمین کے قریب ہی فضا میں اکٹھا ہوجاتی ہے تو ان صنعتوں سے اخراج پورے خطوں میں ہوا کو خطرناک حد تک غیرصحت بخش بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور شفاف رپورٹنگ کو یقینی بنانا ہوگا۔ حالیہ حکومت میں پالیسی دستاویزات اور ہوا کے معیار کے جائزوں میں یہ نگرانی کے نظام، کلیدی ترجیحات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ کاشتکاری بھی ہے۔ ہر سال اکتوبر اور نومبر میں کسان فصلوں کے فضلے کو کھلے میدانوں میں جلا دیتے ہیں جس سے آلودگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے۔ پنجاب میں یہ اکثر اسی وقت ہوتا ہے کہ جب بھارتی پنجاب میں سرحد پار بھی فصلوں کو جلایا جارہا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب شمال مشرق سے ٹھنڈی، مستحکم ہوائیں چلتی ہیں تو فصلوں کی باقیات کا دھواں لاہور اور وسطی پاکستان کے بیشتر حصوں میں پھیل جاتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ یہ موسم سرما میں اسموگ کی صورت حال کو مزید بگاڑتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کھیتوں میں فصل کی باقیات کا متبادل انتظام کرنے کی ضرورت ہے یا اس کے دیگر استعمال تلاش کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صاف-فضا-کے-لیے-کیا-کرنا-ہوگا" href="#صاف-فضا-کے-لیے-کیا-کرنا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صاف فضا کے لیے کیا کرنا ہوگا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اسموگ صرف سانس لینے میں دشواری کا باعث نہیں بنتی۔ ہوا میں چھوٹے ذرات پھیپھڑوں میں سرایت کرجاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ خون میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے دل کے دورے، فالج، دمہ، پھیپھڑوں کے کینسر، حمل کے مسائل اور دیگر طویل مدتی صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زائد عمر لوگ، باہر کام کرنے والے شہری، بچے اور دل یا پھیپھڑوں کے مسائل کا شکار افراد اسموگ کے مختصر موسم کے دوران بھی زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ جبکہ کراچی جیسے ساحلی شہروں میں گرمی اور نمی ان صحت کے خطرات کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی اکثر ایک ہی ذرائع سے ہوتی ہیں جیسے کارخانوں کی چمنی اور گاڑیوں کا اخراج اس کے کلیدی محرکات ہیں۔ کچھ آلودگی جیسے بلیک کاربن، میتھین اور گیسز جو اوزون کو نقصان پہنچاتی ہیں، نہ صرف ہوا کو مضر بناتی ہیں بلکہ کرہ ارض کو گرم کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورت حال کتنی سنگین ہے، اس کے پیش نظر پاکستان کو اپنی نقل و حمل، صنعت اور کاشتکاری میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کو صاف ستھرا اور بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 13 کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کارروائی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ کے مطابق، ان نقصان دہ آلودگیوں کے خاتمے سے صحت تیزی سے بہتر ہوسکتی ہے اور یہ آب و ہوا کی بہتری میں مدد کر سکتا ہے خاص طور پر جب کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کے اخراج میں بتدریخ کمی لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو کاروں، موٹر سائیکل اور رکشوں کی باقاعدگی سے جانچ اور دیکھ بھال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پرانے، آلودگی پھیلانے والے ٹرکوں کے سڑکوں پر نکلنے پر پابنی ہونی چاہیے اور تمام گاڑیوں کو مناسب رجسٹریشن اور ٹول قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہی وقت میں جدید یورو 5 اور یورو 6 کے معیارات پر پورا اترنے کے لیے آئل ریفائنریز میں ایندھن کے معیار کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔ صحت عامہ کی حفاظت کے لیے مصروف شاہراہوں پر صاف، کم اخراج والی بسیں لانا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کے لیے پاکستان کو مکمل طور پر صاف ستھرے اینٹوں کے بھٹے کے ڈیزائن پر کام کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ اس تحریر میں پہلے زگ زیگ ماڈل کا ذکر کیا گیا ہے۔ بڑی فیکٹریوں کو بھی اپنے اخراج کی حقیقی وقت میں مسلسل نگرانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آلودگی کی سطح کو ٹریک کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر مسائل کو جلد حل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے پاکستان کو معیاری تھرڈ پارٹی آڈٹ مرتب کرنا چاہیے اور رپورٹ شائع کرنی چاہیے کہ آیا صنعتیں قواعد پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں۔ اس سے ریگولیٹرز، مقامی کمیونٹیز اور سرمایہ کاروں کو یہ دیکھنے میں مدد ملے گی کہ صنعتی علاقے آلودگی کو کم کرنے میں کتنا مؤثر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو فصلوں کی باقیات کو جلانے پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس پابندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے معاملات کو قریب سے دیکھا جائے اور کھلے عام رپورٹ کیا جائے۔ جلانے کے بجائے کسانوں کو کھیتوں میں بچ جانے والی فصل کا انتظام کرنے یا اسے صنعتوں میں استعمال کے لیے فروخت کرنے جیسے بائیو گیس کی پیداوار اور گولیاں بنانے جیسے بہتر اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ دھواں سرحدوں سے گزرتا ہے۔ یہ سرحدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن نے دنیا کو دکھایا کہ جب قوانین سائنسی مشوروں کے مطابق ہوں تو فضائی آلودگی تیزی سے بہتر ہو سکتی ہے۔ چین نے ظاہر کیا کہ بڑی تبدیلیاں اس وقت ممکن ہیں کہ جب قوانین، نگرانی اور نفاذ سب مل کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لی گاڑیوں سے آلودگی کو کم کرنے، اینٹوں کے بھٹوں اور کارخانوں کو اپ گریڈ کرنے، فصلوں کی باقیات کو کھلے عام جلانے پر پابندی لگا کر اور لوگوں کو اپنی عادات بدلنے کی ترغیب دے کر بھی صاف ہوا کے ہدف کا حصول ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس تو واضح ہے لیکن کارروائی کرنے کی خواہش ابھی تک غائب ہے۔ اگر ہم یہ تبدیلیاں کرنا شروع کر دیں اور ثابت قدم رہیں تو ہمارے ابر آلود آسمان دوبارہ نیلے ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: 24 نومبر 2021ء کو لاہور میں اسموگ کے درمیان گاڑیاں نظر آرہی ہیں—تصویر: رائٹرز/ محسن رضا&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1947429/pakistan-must-clear-the-air-on-smog-heres-how"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>جیسے جیسے 2025ء کا موسمِ سرما قریب آتا جارہا ہے، جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں اسموگ کا بےقابو جن بوتل سے نکلنے کی تیاری کررہا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ ہر سال موسم خزاں کے آخر اور سردیوں کے مہینوں میں سر اٹھاتا ہے کہ جب درجہ حرارت میں تبدیلی سے دھندلی چادر سندھ اور گنگا کے میدانی علاقوں کی نچلی سطح کو ڈھانپ لیتی ہے۔</p>
<p>فضا میں آلودگی اور نقصان دہ ہواؤں کے ساتھ، علاقوں میں آسمان کے نیچے زمین کے قریب اخراج جمع ہو جاتا ہے جو آبادی کے لیے صحت کے شدید خطرات کا باعث بنتا ہے۔ صحت کا بنیادی مسئلہ ہوا میں موجود چھوٹے ذرات سے پیدا ہوتا ہے اور یہ اکثر زمین کے قریب نقصان دہ اوزون کی وجہ سے بدتر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ipcc.ch/assessment-report/ar6/">چھٹی تشخیصی رپورٹ</a></strong> (IPCC AR6) کے مطابق، یہ آلودگی دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں پیدا کرنے میں کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر بوڑھے افراد اور بچوں کو اس سے زیادہ مضر خطرات لاحق ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں حکام اور رہنما اس لیے پریشان ہیں کیونکہ انہوں نے اسموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں کی ہے جو ملک کے بہت سے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور ان کے قریبی علاقوں کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<h1><a id="جو-پہلے-ہو-چکا-دوبارہ-کیا-جا-سکتا-ہے" href="#جو-پہلے-ہو-چکا-دوبارہ-کیا-جا-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جو پہلے ہو چکا، دوبارہ کیا جا سکتا ہے</h1>
<p>گزشتہ سال لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 700 سے اوپر چلا گیا تھا۔ نومبر 2024ء میں، یہ 1500 سے بھی تجاوز کر گیا جس سے یہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک بن گیا۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسے کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ جوابات تلاش کرنے کے لیے، آئیے چین اور انگلینڈ کی دو بڑی مثالیں دیکھتے ہیں جہاں 1950ء کی دہائی میں اسموگ اور آلودگی پر قابو پانے کی پالیسیز لاگو کی گئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247023"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دسمبر 1952ء میں، لندن میں خشک موسم کی وجہ سے کوئلے کا دھواں کئی دنوں تک شہر کی فضا میں معلق رہا۔ فضا دھندلی ہوئی، حدنگاہ کم ہوگئی جبکہ ہزاروں لوگ سانس اور دل کی تکالیف سے ہلاک ہوئے۔ صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، برطانوی حکومت نے 1956ء میں <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.legislation.gov.uk/ukpga/Eliz2/4-5/52/enacted">کلین ایئر ایکٹ</a></strong> پاس کیا۔ اس اہم قانون نے ظاہر کیا کہ مضبوط قوانین پر تیزی سے عمل کرنے سے اسموگ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>برسوں بعد چین کے کئی بڑے شہر اسموگ کے سنگین مسائل سے گزرے۔ حکومت نے ایندھن اور فیکٹری قوانین کو سخت کرکے اسموگ سے نمٹنے کے لیے کارروائی کی۔ چند سالوں میں وہ لوگ جو پارٹیکل میٹر 2.5 کے مطابق بہت آلودہ ہوا میں سانس لے رہے تھے، انہوں نے فضائی معیار میں بڑی بہتری دیکھی۔</p>
<p>یہ دو مثالیں پاکستان کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اپنا منصوبہ تشکیل دینے میں اہم مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ پاکستان میں موسم کی صورت حال یکساں ہے اور وہ یکساں پالیسی استعمال کر سکتے ہیں، چاہے ان کی آلودگی مختلف ذرائع کا نتیجہ کیوں نہ ہو۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان میں کچھ فریم ورکس موجود ہیں، پھر بھی وہ ان قوانین کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ مؤثر عمل درآمد کے لیے ملک کو مضبوط قیادت، ہنر مند اور سرشار حکام، عوام کی حمایت اور قوانین کے منصفانہ نفاذ کی ضرورت ہے لیکن ان تمام عوامل کی کمی ہے۔ نتیجتاً اسموگ اور فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلے کے طور پر برقرار ہے۔</p>
<h1><a id="پاکستان-میں-گاڑیوں-سے-اسموگ" href="#پاکستان-میں-گاڑیوں-سے-اسموگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان میں گاڑیوں سے اسموگ</h1>
<p>پاکستان میں اسموگ کی سب سے بڑی وجہ گاڑیاں ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ایندھن کے جدید معیار کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن سڑک پر چلنے والی زیادہ تر گاڑیاں اور ٹرک پرانے ہیں اور انہیں مناسب طریقے سے کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں طویل فاصلے کا سفر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے زیادہ تر ٹرک اور بسیں پرانی ہیں اور اخراج کے جدید معیار پر پورا نہیں اترتی ہیں۔ گاڑیوں کی جانچ اور دیکھ بھال بھی باقاعدگی سے نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ کم معیار کے تیل اور ڈیزل، جنریٹرز کا زیادہ استعمال آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ شہروں میں موٹر سائیکلز، رکشے اور چھوٹے انجن والی گاڑیاں بہت زیادہ کالا دھواں اور نقصان دہ گیسیز خارج کرتی ہیں۔ یہ سردیوں میں اسموگ اور فضا آلودہ کرنے والے چھوٹے ذرات کی بڑی وجوہات ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ پنجاب کے شہروں کے اردگرد اینٹوں کے بھٹے اکثر کم معیار کا کوئلہ جلاتے ہیں اور یہ بہت زیادہ آلودگی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ مسلسل چلتے رہتے ہیں جبکہ ایندھن میں گندھک، نمی اور بھاری دھاتیں جیسے نقصان دہ مواد ہوتے ہیں۔ آلودگی کو کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے ایک آسان اقدام یہ ہے کہ پرانے طرز کے بھٹوں کو زیادہ کارآمد زگ زیگ کی شکل میں تبدیل کیا جائے تاکہ اخراج کم ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صنعتوں جیسے سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، فاؤنڈری اور شیشے کے کارخانے، ہوا میں بڑی مقدار میں سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور دیگر نقصان دہ گیسز اور ذرات خارج کرتے ہیں۔ اگرچہ ان اخراج کو محدود کرنے کے قواعد موجود ہیں لیکن باقاعدہ جانچ پڑتال اور معائنہ تقریباً کبھی نہیں ہوتا ہے۔</p>
<p>فلٹریشن سسٹم اور کم نائٹروجن آکسائیڈ ٹیکنالوجیز جہاں انسٹال ہیں، وہ اکثر خراب دیکھ بھال یا غیر مستقل طور پر چلائی جاتی ہیں۔جب موسم کی وجہ سے آلودگی زمین کے قریب ہی فضا میں اکٹھا ہوجاتی ہے تو ان صنعتوں سے اخراج پورے خطوں میں ہوا کو خطرناک حد تک غیرصحت بخش بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور شفاف رپورٹنگ کو یقینی بنانا ہوگا۔ حالیہ حکومت میں پالیسی دستاویزات اور ہوا کے معیار کے جائزوں میں یہ نگرانی کے نظام، کلیدی ترجیحات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ کاشتکاری بھی ہے۔ ہر سال اکتوبر اور نومبر میں کسان فصلوں کے فضلے کو کھلے میدانوں میں جلا دیتے ہیں جس سے آلودگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے۔ پنجاب میں یہ اکثر اسی وقت ہوتا ہے کہ جب بھارتی پنجاب میں سرحد پار بھی فصلوں کو جلایا جارہا ہوتا ہے۔</p>
<p>جب شمال مشرق سے ٹھنڈی، مستحکم ہوائیں چلتی ہیں تو فصلوں کی باقیات کا دھواں لاہور اور وسطی پاکستان کے بیشتر حصوں میں پھیل جاتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ یہ موسم سرما میں اسموگ کی صورت حال کو مزید بگاڑتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کھیتوں میں فصل کی باقیات کا متبادل انتظام کرنے کی ضرورت ہے یا اس کے دیگر استعمال تلاش کیے جائیں۔</p>
<h1><a id="صاف-فضا-کے-لیے-کیا-کرنا-ہوگا" href="#صاف-فضا-کے-لیے-کیا-کرنا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صاف فضا کے لیے کیا کرنا ہوگا؟</h1>
<p>اسموگ صرف سانس لینے میں دشواری کا باعث نہیں بنتی۔ ہوا میں چھوٹے ذرات پھیپھڑوں میں سرایت کرجاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ خون میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے دل کے دورے، فالج، دمہ، پھیپھڑوں کے کینسر، حمل کے مسائل اور دیگر طویل مدتی صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>زائد عمر لوگ، باہر کام کرنے والے شہری، بچے اور دل یا پھیپھڑوں کے مسائل کا شکار افراد اسموگ کے مختصر موسم کے دوران بھی زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ جبکہ کراچی جیسے ساحلی شہروں میں گرمی اور نمی ان صحت کے خطرات کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔</p>
<p>فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی اکثر ایک ہی ذرائع سے ہوتی ہیں جیسے کارخانوں کی چمنی اور گاڑیوں کا اخراج اس کے کلیدی محرکات ہیں۔ کچھ آلودگی جیسے بلیک کاربن، میتھین اور گیسز جو اوزون کو نقصان پہنچاتی ہیں، نہ صرف ہوا کو مضر بناتی ہیں بلکہ کرہ ارض کو گرم کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔</p>
<p>صورت حال کتنی سنگین ہے، اس کے پیش نظر پاکستان کو اپنی نقل و حمل، صنعت اور کاشتکاری میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کو صاف ستھرا اور بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 13 کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کارروائی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ کے مطابق، ان نقصان دہ آلودگیوں کے خاتمے سے صحت تیزی سے بہتر ہوسکتی ہے اور یہ آب و ہوا کی بہتری میں مدد کر سکتا ہے خاص طور پر جب کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کے اخراج میں بتدریخ کمی لائی جائے۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو کاروں، موٹر سائیکل اور رکشوں کی باقاعدگی سے جانچ اور دیکھ بھال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پرانے، آلودگی پھیلانے والے ٹرکوں کے سڑکوں پر نکلنے پر پابنی ہونی چاہیے اور تمام گاڑیوں کو مناسب رجسٹریشن اور ٹول قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔</p>
<p>ایک ہی وقت میں جدید یورو 5 اور یورو 6 کے معیارات پر پورا اترنے کے لیے آئل ریفائنریز میں ایندھن کے معیار کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔ صحت عامہ کی حفاظت کے لیے مصروف شاہراہوں پر صاف، کم اخراج والی بسیں لانا بھی ضروری ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کے لیے پاکستان کو مکمل طور پر صاف ستھرے اینٹوں کے بھٹے کے ڈیزائن پر کام کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ اس تحریر میں پہلے زگ زیگ ماڈل کا ذکر کیا گیا ہے۔ بڑی فیکٹریوں کو بھی اپنے اخراج کی حقیقی وقت میں مسلسل نگرانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آلودگی کی سطح کو ٹریک کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر مسائل کو جلد حل کر سکیں۔</p>
<p>ان کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے پاکستان کو معیاری تھرڈ پارٹی آڈٹ مرتب کرنا چاہیے اور رپورٹ شائع کرنی چاہیے کہ آیا صنعتیں قواعد پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں۔ اس سے ریگولیٹرز، مقامی کمیونٹیز اور سرمایہ کاروں کو یہ دیکھنے میں مدد ملے گی کہ صنعتی علاقے آلودگی کو کم کرنے میں کتنا مؤثر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو فصلوں کی باقیات کو جلانے پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس پابندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے معاملات کو قریب سے دیکھا جائے اور کھلے عام رپورٹ کیا جائے۔ جلانے کے بجائے کسانوں کو کھیتوں میں بچ جانے والی فصل کا انتظام کرنے یا اسے صنعتوں میں استعمال کے لیے فروخت کرنے جیسے بائیو گیس کی پیداوار اور گولیاں بنانے جیسے بہتر اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔</p>
<p>ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ دھواں سرحدوں سے گزرتا ہے۔ یہ سرحدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔</p>
<p>لندن نے دنیا کو دکھایا کہ جب قوانین سائنسی مشوروں کے مطابق ہوں تو فضائی آلودگی تیزی سے بہتر ہو سکتی ہے۔ چین نے ظاہر کیا کہ بڑی تبدیلیاں اس وقت ممکن ہیں کہ جب قوانین، نگرانی اور نفاذ سب مل کر کام کریں۔</p>
<p>پاکستان کے لی گاڑیوں سے آلودگی کو کم کرنے، اینٹوں کے بھٹوں اور کارخانوں کو اپ گریڈ کرنے، فصلوں کی باقیات کو کھلے عام جلانے پر پابندی لگا کر اور لوگوں کو اپنی عادات بدلنے کی ترغیب دے کر بھی صاف ہوا کے ہدف کا حصول ممکن ہے۔</p>
<p>سائنس تو واضح ہے لیکن کارروائی کرنے کی خواہش ابھی تک غائب ہے۔ اگر ہم یہ تبدیلیاں کرنا شروع کر دیں اور ثابت قدم رہیں تو ہمارے ابر آلود آسمان دوبارہ نیلے ہو سکتے ہیں۔</p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: 24 نومبر 2021ء کو لاہور میں اسموگ کے درمیان گاڑیاں نظر آرہی ہیں—تصویر: رائٹرز/ محسن رضا</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1947429/pakistan-must-clear-the-air-on-smog-heres-how">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271240</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Oct 2025 14:38:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد سعید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/10112015a6ba869.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/10112015a6ba869.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مونسٹر سیریز: اپنے سفاک جرائم سے امریکی معاشرے کو بدلنے والا ایڈ گین کون تھا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270966/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ 1957ء کی بات ہے۔ امریکی ریاست وسکونسن کے مقامی ڈپٹی شیرف فرینک کی والدہ لاپتا ہوگئیں جوکہ ٹاؤن کا ہارڈ ویئر اسٹور چلاتی تھیں۔ اسٹور کی دیواروں پر خون کے چھینٹے دیکھنے کے بعد فرینک کو دکان کے پچھلے حصے میں ایک ڈبہ ملا جس پر ایک شخص کا نام لکھا ہوا تھا۔ شیرف کے ہمراہ فرینک متعلقہ شخص کے گھر پوچھ گچھ کے لیے جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر میں داخل ہونے پر دونوں کو ایک غیرمعمولی منظر کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر موجود تھے جبکہ کیڑوں کی بہتات تھی۔ بدبو کے باوجود دونوں گھر کا جائزہ لیتے ہیں اور شیرف کو چولہے پر پتیلے میں کچھ اُبلتا ہوا نظر آتا ہے۔ شیرف دیکھتا ہے کہ یہ دل ہے، جبکہ پاس ہی خون سے لت پت انتڑیاں موجود تھیں۔ شیرف کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ پولیس کی نفری طلب کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا مکمل جائزہ ہولناک حقائق پر سے پردہ اٹھاتا ہے۔ گھر میں انسانی کھال سے بنی کرسیاں، کپڑے، بیلٹ، باسکٹ اور چہروں سے بنے ماسک موجود تھے۔ انہیں ڈائننگ ٹیبل پر انسانی کھوپڑی سے بنے پیالے ملے۔ ہڈیاں، دانتوں اور انسانی ناخن کے علاوہ گھر میں ایک ڈبے میں نسوانی اعضا موجود ہوتے ہیں کہ گویا جیسے انہیں محفوظ کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کے کپڑے اور بال اشارہ تھے کہ اس گھر میں جو کچھ ہوا ہے، وہ انسانی تاریخ کا ایسا ہولناک باب بن جائے گا جو امریکا اور دنیا میں کئی افراد کو جرائم کی دنیا کی جانب راغب کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران فرینک اپنی ماں کی تلاش میں گھر کے احاطے میں واقع ایک فارم میں جاتا ہے جہاں اسے ایک انسانی دھڑ الٹا لٹکا ہوا ملا جس کا سر نہیں ہوتا جبکہ دھڑ کو بیچ سے ایسے کاٹا گیا تھا جیسے کسی نے مشین کی آری کا استعمال کیا ہو۔ فرینک پہچان لیتا ہے کہ یہ اس کی ماں ہے اور اس کی چیخ و پکار کے درمیان گھر کا مالک واپس آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شخص ایڈ گین تھا جس کے سفاک جرائم پر گزشتہ ہفتے نیٹ فلکس کی مونسٹر سیریز ریلیز ہوئی ہے جس میں مرکزی کردار ادا کرنے والے چارلی ہینم کی بےمثال اداکاری جبکہ پروڈیوسر ریان مرفی کی جانب سے حقائق کو کہانی کی صورت میں پیش کیے جانے نے دیکھنے والوں کو باور کروایا کہ حقیقی واقعات پر مبنی کہانیاں آج بھی صنفِ ہارر کی دنیا میں اپنی دھاک بٹھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/T8FeHSoTHs8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریر میں آگے بڑھنے سے پہلے میں اسپائلر الرٹ دینا چاہوں گی مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہاں میں سیریز میں شامل حقیقی واقعات بیان کررہی ہوں جبکہ سیریز کس طرح اس شخص کی عکاسی کرتی ہے، اس پر ہم تحریر میں آگے چل کر بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایڈ-گین--پلین-فیلڈ-کا-قصائی" href="#ایڈ-گین--پلین-فیلڈ-کا-قصائی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایڈ گین- پلین فیلڈ کا قصائی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مذہبی والدہ کے زیرِاثر رہنے والا ایڈ گین بچپن سے شرمیلا تھا اور اس کی آواز اور بھولے پن کی وجہ سے ٹاؤن کے لوگ اسے بہت شریف سمجھتے تھے۔ ناکام شادی کا شکار والدہ اوگسٹین ہمیشہ ایڈ کو کہتی تھیں کہ شادی صرف بچے پیدا کرنے کے لیے ہونی چاہیے اور وہ کبھی بھی شادی نہیں کرے گا کیونکہ وہ ’عجیب‘ بچہ ہے جس سے ’صرف اس کی ماں ہی پیار کرسکتی ہے‘۔ ماں اپنے علاوہ تمام عورتوں کو بدکردار سمجھتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netflix/status/1974112202408734835"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈ اپنی ماں کو ہی اپنی دنیا سمجھتا تھا۔ اس کی خوشنودی کے لیے سب کرتا تھا۔ ایڈ کا 43 سالہ بڑا بھائی ہینری ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن ماں کی مخالفت کی وجہ سے وہ اپنے بھائی ایڈ سے اکثر ماں کی برائی کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دن ماں کی برائی سن کر ایڈ کو غصہ آجاتا ہے اور وہ ہینری کے سر پر لکڑی کا وار کرکے اسے قتل کردیتا ہے اور اس کی لاش جھاڑیوں میں لگی آگ میں پھینک کر خود پولیس کو اطلاع دیتا ہے اور سب سمجھتے ہیں کہ ہینری کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ ایڈ کی ماں کو ہینری کی موت کا شدید دکھ ہوتا ہے اور اسے فالج ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ عرصے بعد اوگسٹین کا انتقال ہوجاتا ہے جو ایڈ کے لیے شدید صدمہ تھا۔ اسے اکیلے گھر میں اپنی ماں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو اس سے کہتی ہے کہ وہ اسے قبر سے نکال لائے۔ وہ کھدائی کرکے کوشش کرتا ہے لیکن وہ برابر والی قبر سے عورت کی لاش گھر لے آتا ہے اور اسے ماں کی کرسی پر بٹھا دیتا ہے جس میں وہ اپنی ماں کا روپ دیکھتا ہے اور اس سے باتیں کرتا ہے۔ اس کی نظر میں اس کی ماں زندہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch?v=1251424666738291" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، وہ اس قدر اپنی ماں کے زیرِاثر تھا کہ اپنی ماں کی عمر کی خواتین جو اس کی ماں کی طرح مذہبی یا اس کی ماں کے نزدیک اچھی انسان نہیں تھیں، انہیں قتل کرنے لگتا ہے۔ ان میں مقامی پب میں کام کرنے والی میری اور فرینک کی والدہ برنیس شامل تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے 14 سالہ بیبی سٹر لڑکی ایویلین کو بھی قتل کیا جبکہ ان دو شکاری مردوں کو بھی قتل کیا جو بھٹک کر اس کے گھر آگئے تھے اور انہوں نے برنیس کی لاش کو دیکھ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/071317049ca02e3.webp'  alt='تصاویر میں ایڈ گین کے گھر سے ملنے والے انسانی کھال کی بنی کرسی اور گھر کی خراب حالت کی عکاسی کی گئی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصاویر میں ایڈ گین کے گھر سے ملنے والے انسانی کھال کی بنی کرسی اور گھر کی خراب حالت کی عکاسی کی گئی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انسانی-کھال-اور-دیگر-لرزہ-خیز-جرائم" href="#انسانی-کھال-اور-دیگر-لرزہ-خیز-جرائم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انسانی کھال اور دیگر لرزہ خیز جرائم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ دور دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ کا تھا جہاں ایسے جریدے چھاپے جاتے تھے جن میں یہودیوں کے قتل کرنے والوں کو ہیرو کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔ ان میں سے ایک عورت ایلسی کوچ تھی جو نازی حکومت کی قید میں موجود یہودی غلاموں کی لاشوں کی کھال اتار کر اس سے لیمپ، کرسی، بیلٹ و دیگر چیزیں بناتی تھی۔ اس کی کامک بک سے ایڈ اس قدر متاثر ہوگیا کہ وہ مُردوں کی لاشیں نکال کر ان کی کھال اتارتا اور اس سے چیزیں بنانے لگا جس میں کھوپڑی سے بنے پیالے اور ایش ٹرے شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلسی کو ہیرو مانتے ہوئے وہ بھی انسانی ماسک اور کپڑے بناتا جبکہ اس نے کھال اتارنے کا طریقہ اور اسے محفوظ کرنا بھی اسی سے سیکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جنگِ عظیم ختم ہونے کے بعد ایلسی کا ٹرائل ہوا مگر اس نے ان تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیا اور وہ کہتی تھی کہ کوئی بھی انسان ایسا گھناؤنا فعل نہیں کرسکتا۔ تاہم اس نے یہودیوں کے قتل عام کو جائز قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈ گین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ فعل اس لیے کیا کیونکہ اس کی ماں نے اسے عورت ذات سے دور رہنے کو کہا تھا جس کی وجہ سے وہ کبھی ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہیں کرپاتا تھا۔ لہٰذا عورت کی جلد اور چہرے پر ماسک لگا کر اسے لگتا تھا جیسے وہ عورت ہے اور یہ اس کی جنسی تسکین کا ذریعہ تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ ٹرانسجینڈر ہے لیکن وہ نہیں تھا۔ تاہم اس نکتے پر یہی لگا کہ شاید ریان مرفی ایک ٹرانسجینڈر کو قاتل کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہ رہے ورنہ لگتا یہی تھا کہ ایڈ گین عورت بننا چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netflix/status/1974852078112539021"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گرفتاری-اور-ٹرائل" href="#گرفتاری-اور-ٹرائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گرفتاری اور ٹرائل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی شیرف کی والدہ کے قتل میں ایڈ گین کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کو ایڈ کے گھر میں برنیس کا کٹا ہوا سر بھی ملا۔ تفتیش میں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے 9 قبروں سے لاشوں کو نکالا تاہم اس نے لوگوں کو قتل کرنے سے انکار کیا۔ اس پر 9 افراد کے قتل کا الزام تھا جن میں سے دو ثابت ہوئے جبکہ بقیہ 7 نہ ثابت ہوئے اور نہ اس نے اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/07125639da3b5c5.webp'  alt='ایڈ گین کی گرفتاری کے وقت لی گئی ایک تصویر جس میں وہ مسکرا رہا ہے&amp;mdash;تصویر: لائف میگزین' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایڈ گین کی گرفتاری کے وقت لی گئی ایک تصویر جس میں وہ مسکرا رہا ہے—تصویر: لائف میگزین&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتا تھا کہ اسے یاد نہیں کہ اس نے ان لوگوں کو قتل کیا تھا یا نہیں۔ جھوٹ پکڑنے والے آلات بھی کچھ ثابت نہ کرسکے۔ خراب ذہنی حالت کے باعث اس کا ٹرائل بھی نہ ہوسکا جبکہ عدالت نے اسے نقسیاتی ہسپتال میں نظربند کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے شیزوفرینیا کا علاج ہوا جس کے بعد 1968ء میں اس کا ٹرائل بھی ہوا اور اس پر برنیس کا قتل ثابت ہوا۔ اسے سزا بھی دی گئی لیکن ذہنی بیماری کے باعث اسے ہسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ دیا گیا۔ سانس کی تکلیف کے بعد 1984ء میں وہ اس کی نفسیاتی ہسپتال میں موت ہوئی۔ اس کی موت کا سبب پھیپھڑوں کا کینسر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1958ء میں یعنی ایڈ گین کی گرفتاری کے ایک سال بعد، اس کے گھر اور فارم میں موجود سامان کی نیلامی کا فیصلہ کیا گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے دلچسپی ظاہر کی جس نے امریکی معاشرے کے بدلتے اور تشویش ناک رجحان کی نشاندہی کی جہاں لوگ قاتلوں سے متاثر ہونے لگے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ جس دن نیلامی ہونی تھی، اس دن پولیس کو اطلاع ملی کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی ہے۔ جان بوجھ کر آگ لگائے جانے کے بارے میں شکوک ظاہر کیے گئے لیکن یہ کبھی ثابت نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالوں اس کی قبر پر لگے کتبے پر لوگوں نے نامناسب الفاظ لکھے، اس کے ٹکڑے چوری کیے اور پھر بلآخر اس کے کتبے کو جگہ سے اکھاڑ کر چوری کرلیا گیا۔ اب اپنے بھائی اور ماں کے پاس مدفون ایڈ گین کی قبر پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مونسٹر---ایڈ-گین-اسٹوری" href="#مونسٹر---ایڈ-گین-اسٹوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مونسٹر - ایڈ گین اسٹوری&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;17 افراد کو قتل اور انسانی گوشت کھانے والے بدنامِ زمانہ سیریل کلر جیفری ڈاہمر کی کہانی سے شروع ہونے والی مونسٹر سیریز کے تیسرے حصے میں ایڈ گین کے سفاک جرائم کو عکاس کیا گیا ہے۔ ریان مرفی کی یہ سیریز جمعے کو ریلیز ہوئی ہے جبکہ پاکستان سمیت 60 سے زائد ممالک میں ٹرینڈنگ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیریز میں عکس بند کیا گیا ایڈ گین کا کردار چارلی ہینم نے ادا کیا ہے بلکہ ادا کرنا کہنا ان کی جاندار ایکٹنگ کے ساتھ ناانصافی ہوگی کیونکہ انہوں نے خود کو اس کردار میں ڈھال لیا گویا کہ وہ شوٹنگ کے دوران خود کو واقعی ایڈ گین سمجھ بیٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہری شخصیت سے لے کر آواز تک، انہوں نے جس طرح ایڈ گین کی نقل کی ہے، اس نے دیکھنے والوں پر لرزہ طاری کیا۔ کہا جارہا ہے کہ اس کردار کے لیے انہوں نے 30 پاؤنڈ وزن کم کیا اور فلمنگ ختم ہونے کے بعد وہ ایڈ گین کی قبر پر اسے الوداع بھی کہنے گئے جبکہ ایک ہفتے تک وہ تنہائی میں رہے تاکہ اس کردار سے خود کو آزاد کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک انٹرویو میں چارلی نے کہا کہ اس سیریز کا مقصد اسے ایک قاتل کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر پیش کرنا تھا جس کے اندر ایک حیوان رہتا ہے اور وہ چاہ کر بھی اپنے ذہن کی آوازوں کو خاموش نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکاری دیکھ کر لگتا نہیں کہ حقیقی انسان سے مشابہت اس قدر ممکن ہے۔ انہیں ابھی سے ہی اگلے ایمی ایوارڈ جیتنے کے لیے پسندیدہ قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/796989799589510" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی کھال سے لے کر چین ساو (مشین کی آری) سے قتل تک، اس فلم نے جس طرح ان مناظر کو عکس بند کیا ہے، اسے دیکھنے والے کچھ عرصے تک اس کے خوف سے نہیں نکل پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاں یہ بات دیکھنے والوں کو سمجھنی چاہیے کہ یہ کوئی دستاویزی سیریز نہیں ہے جس میں واقعات کو ویسا ہی بیان کیا جائے جیسے وہ حقیقت میں رونما ہوئے ہیں۔ یعنی اگر اس سیریز میں ڈرامائی انداز میں مناظر دکھائے گئے ہیں تو ان میں کی گئی تبدیلیوں کو بھی ہمیں قبول کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیریز میں ایک اور اہم کردار ایڈیلین (سوزین سن) کا ہے جسے ایڈ گین پسند کرتا تھا اور وہ اس کی بہت پرانی دوست تھی لیکن ایڈ کی ماں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس سے شادی کرے کیونکہ ماں کے نزدیک وہ بری عورت تھی۔ ایڈیلین خود بھی ذہنی مریضہ تھی جسے بگڑے ہوئے چہروں والی لاشوں کی تصاویر لینا پسند تھا اور وہ کرائم فوٹوگرافر بننا چاہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایڈ کے جرائم پتا ہونے کے باوجود وہ خاموش رہی اور قبر سے لاش نکالنے میں اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہی۔ تاہم ایڈ کی گرفتاری کے بعد اس نے ایڈ سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اسے جرم چھپانے کی کوئی سزا نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/07134107f17e81d.webp'  alt='ایڈیلین خود بھی ذہنی مریضہ تھی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایڈیلین خود بھی ذہنی مریضہ تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے سیریز سے ایک اختلاف ہے۔ سیریز کی اختتامی دو اقساط میں ایڈ گین کو ایک مظلوم دماغی مریض کے طور پر دکھایا گیا ہے جوکہ شیزو فرینیا کا شکار ہے اور نہیں جانتا کہ اس نے لاشعوری میں کیا کیا ہے۔ علاج کے بعد جب وہ بہتر ہوتا ہے تو اسے کسی ہیرو کی طرح دکھایا گیا ہے جس نے دیگر سیریل کلر پکڑنے میں ایف بی آئی کی مدد کی۔ اس سلسلے میں دکھایا گیا ہے کہ ایڈ نے ٹیڈ بنڈی کو پکڑنے میں مدد کی۔ اب اس میں کتنی سچائی ہے، اس حوالے سے کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم سیریز میں یہی لگتا ہے کہ یہ اس کے ذہن کا تخیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس سیریز کو ایڈ کے نظریے سے دکھایا گیا ہے کیونکہ جب اس کا وقت مرگ قریب ہوتا ہے تو وہ خود کو ایک ہیرو سمجھتا ہے جس نے دنیا میں دیگر لوگوں کو متاثر کیا اور خواب میں اس کی ماں اس پر فخر کرتی ہے جس نے دنیا میں گین خاندان کا نام مشہور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ اس نے ایک عورت کی لاش کو قبر سے نکال کر اپنی ماں کی کرسی پر بٹھایا رکھا لیکن حقیقی واقعات ایسے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ اس نے قبر سے نکالی ہوئی لاش کا جنسی استحصال کیا لیکن حقائق کہتے ہیں کہ اس نے کبھی بھی لاشوں کے ساتھ بدفعلی نہیں کی اور اس نے خود اس سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے شدید بدبو آتی تھی۔ جبکہ اپنی ماں کی آواز کی تعمیل کرتے ہوئے وہ لاشوں کی کھال و دیگر اعضا نکالنے اور کچھ عرصے بعد ان کی ہڈیوں کو واپس قبر میں ڈال کر قبر کو بند کردیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/071245143963cc7.webp'  alt='سیریز میں ایڈ گین کو اپنی ماں کے شدید زیرِ اثر دکھایا گیا ہے&amp;mdash;تصویر: نیٹ فلیکس' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سیریز میں ایڈ گین کو اپنی ماں کے شدید زیرِ اثر دکھایا گیا ہے—تصویر: نیٹ فلیکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیریز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایڈ گین کے گھر سے انسانی دل پتیلے میں ابلتے ملے تھے لیکن تفتیش میں اس نے انسانی گوشت کھانے سے انکار کیا۔ تاہم یہ دکھایا گیا ہے کہ اس نے اپنے دوستوں کو ہرن کا گوشت کہہ کر انسانی گوشت دیا تھا جسے انہوں نے کھایا بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشہور ہے کہ ولن بنتے نہیں بلکہ بنائے جاتے ہیں۔ ایڈ گین کی ماں نے بچپن سے اسے اتنا زیرتسلط رکھا کہ وہ اپنی کُل دنیا اپنی ماں کو سمجھ بیٹھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس دنیا میں ماں کے علاوہ کوئی مخلص نہیں اور کوئی اس سے محبت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس کی ماں کا انتقال ہوا تو وہ اسے قبول نہیں کرپایا اور مردے کو قبر سے لا کر اپنے ماں کے کپڑے پہنا کر اسے اپنی ماں سمجھ کر باتیں کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز میں ایف بی آئی کے ایجنٹس جب ٹیڈ بنڈی کا سراغ لگانے میں مدد کے لیے ایڈ گین کی مدد لینے گئے تو وہ کہتا ہے کہ ’یہ قاتل بھی تنہائی کا شکار ہے، تنہائی انسان سے بہت غلط کام کرواتی ہے‘۔ جو واضح طور پر اشارہ تھا کہ اپنی ماں کی موت کے بعد وہ تنہائی کا شکار تھا اور اسی نے اسے ذہنی مریض بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیریز کا ایک اور بہترین سین جس نے ناظرین کو چارلی ہینم کی اداکاری کا مداح بنایا، وہ ایڈ گین کی اپنی سائیکولوجسٹ سے گفتگو تھی جس میں اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ شیزوفرینیا کا شکار ہے۔ وہ خوب روتا ہے اور کہتا ہے تب ہی اس کی ذہن کی آوازیں اس سے قتل کرنے کو کہتی ہیں اور وہ سمجھتا تھا کہ شیطان اس سے غلط کام کرنے کا کہتا ہے۔ مجموعی طور پر یہی وہ سین ہے جس نے انہیں ایمی کے لیے مضبوط امیدوار بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایڈ-گین-جس-نے-کروڑوں-کو-متاثر-کیا" href="#ایڈ-گین-جس-نے-کروڑوں-کو-متاثر-کیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایڈ گین جس نے کروڑوں کو متاثر کیا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں ایڈ گین سیریل کلر کے طور پر نہیں بلکہ وہ انسانی لاشوں کے ساتھ جو کرتا تھا، وہی اس کی وجہ شہرت بنی۔ اسے ’پلین فلیڈ کے قصائی‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جرائم سے متاثر ہوکر متعدد امریکی فلمیں بنائی گئیں۔ جس طرح ایڈ گین انسانی چہرے کی کھال اتار کر اسے ماسک کی صورت پہنا کرتا تھا، اس سے متاثر فلم ’لیدر فیس‘ (2017ء) بنائی گئی۔ جس طرح وہ خواتین کی کھال سے بنے کپڑے پہن کر ناچتا تھا، اسے ’سائلنس آف لیمبس‘ (1991ء) میں عکس بند کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مشہور زمانہ فلم سیریز ’سائیکو‘ (1960ء، 1983ء، 1986ء) کے مرکزی کردار نورمین بیٹس بھی ایڈ گین سے متاثر تھا۔ ’ٹیکسس چین ساؤ میسیکر‘ جس میں ایک انسانی کھال کا ماسک پہنے شخص کو میشن کی آری سے لوگوں کو قتل کرتے دکھایا گیا، یہ بھی ایڈ گین سے متاثر ہے جو اسی طرح لوگوں کو قتل کیا کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/07125034aa12aad.webp'  alt='ہالی وڈ کے چند مشہور ولن جن میں ایڈ گین کی خصوصیات تھیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہالی وڈ کے چند مشہور ولن جن میں ایڈ گین کی خصوصیات تھیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈ گین نے امریکا کے معاشرے کو تبدیل کیا۔ 1950ء کی دہائی میں جب اس کی ہولناکیاں سامنے آئیں تو اس کے قصوں نے دیگر افراد کو جرائم کرنے پر راغب کیا۔ 30 سے زائد نوجوان لڑکیوں کا قاتل ٹیڈ بنڈی، نرسوں کو قتل کرنے والے ریچرڈ اسپیک سے متاثر تھا جبکہ رچرڈ ایڈ گین کو اپنا پسندیدہ بتاتا تھا، اس کے نزدیک ذہنی مریض کا ناٹک کرکے وہ ٹرائل سے بچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایڈورڈ کیمپر نے بھی ایڈ گین سے متاثر ہوکر قتل کئے اور وہ کہتا تھا کہ اسے ایڈ گین کے خواتین کے سروں کو اسٹیک پر سجانے کے بیان نے متاثر کیا۔ ایڈ کیمپر نے اپنی والدہ، نانا نانی سمیت 10 افراد کو قتل کیا اور ایڈ گین کی طرح ان کے ٹکڑے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ جان وین گیسی جو 33 افراد کے قتل کا مجرم تھا، وہ بھی خود کو ایڈ گین کا مداح بتاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/071253575eb2d4f.webp'  alt='ٹیڈ بنڈی (دائیں جانب اوپر)، ایڈ کمپر (دائیں جانب نیچے)، جان وین گیسی (بائیں جانب اوپر)، ریچرڈ اسپیک (بائیں جانب نیچے)' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹیڈ بنڈی (دائیں جانب اوپر)، ایڈ کمپر (دائیں جانب نیچے)، جان وین گیسی (بائیں جانب اوپر)، ریچرڈ اسپیک (بائیں جانب نیچے)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو یوں کہا جاسکتا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 1957ء کے دوران ایڈ گین کے لرزہ خیز جرائم نے امریکا کو کافی حد تک تبدیل کیا۔ اس سے قبل امریکا میں سیریل کلر پر مبنی ہارر کلاسک فلمیں نہیں بنا کرتی تھیں، لوگ انہیں دیکھ کر ڈرتے تھے لیکن پھر الفریڈ ہچکوک کی سائیکو کے بعد جب ایسی فلمیں بننے لگیں تو فلم بینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور لوگ ایسے کرداروں سے متاثر ہونے لگے اور انہیں سنیما کے پردے پر دیکھنا پسند کرنے لگے جوکہ درحقیقت تاریخ کے سیاہ باب کا حصہ، ایڈ گین سے متاثر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حرفِ-آخر" href="#حرفِ-آخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حرفِ آخر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کمزور دل کے افراد کو میں یہ سیریز دیکھنے کی ترغیب ہرگز نہیں دوں گی۔ حتیٰ کہ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ جب رات میں سونے کے لیے آنکھیں بند کریں گے تو آپ چاہے کتنے ہی بہادر کیوں نہ ہوں، عورت کی کھال کا ماسک پہنے ایڈ گین کا کردار ضرور ذہن کے پردے پر اُبھرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی معاشرہ پاک نہیں ہوتا، ہر معاشرے میں اچھے اور برے کردار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے اندر برائی لے کر پیدا نہیں ہوتا، اچھے یا برے کا انتخاب اس کا اپنا اختیار ہوتا ہے۔ جس طرح ہولوکاسٹ نے ایڈ گین کو متاثر کیا اور ایڈ گین نے دیگر مجرمان کو، لرزہ خیز جرائم اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ وہ ایک معاشرے کو اپنے زیراثر کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کا مقصد کسی سفاک مجرم کی کہانی کو دلچسپ انداز میں سنانا نہیں، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے خوفناک جرائم دنیا اور انسانوں پر کتنے خطرناک اثرات ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ 1957ء کی بات ہے۔ امریکی ریاست وسکونسن کے مقامی ڈپٹی شیرف فرینک کی والدہ لاپتا ہوگئیں جوکہ ٹاؤن کا ہارڈ ویئر اسٹور چلاتی تھیں۔ اسٹور کی دیواروں پر خون کے چھینٹے دیکھنے کے بعد فرینک کو دکان کے پچھلے حصے میں ایک ڈبہ ملا جس پر ایک شخص کا نام لکھا ہوا تھا۔ شیرف کے ہمراہ فرینک متعلقہ شخص کے گھر پوچھ گچھ کے لیے جاتا ہے۔</p>
<p>گھر میں داخل ہونے پر دونوں کو ایک غیرمعمولی منظر کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر موجود تھے جبکہ کیڑوں کی بہتات تھی۔ بدبو کے باوجود دونوں گھر کا جائزہ لیتے ہیں اور شیرف کو چولہے پر پتیلے میں کچھ اُبلتا ہوا نظر آتا ہے۔ شیرف دیکھتا ہے کہ یہ دل ہے، جبکہ پاس ہی خون سے لت پت انتڑیاں موجود تھیں۔ شیرف کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ پولیس کی نفری طلب کرتا ہے۔</p>
<p>پولیس کا مکمل جائزہ ہولناک حقائق پر سے پردہ اٹھاتا ہے۔ گھر میں انسانی کھال سے بنی کرسیاں، کپڑے، بیلٹ، باسکٹ اور چہروں سے بنے ماسک موجود تھے۔ انہیں ڈائننگ ٹیبل پر انسانی کھوپڑی سے بنے پیالے ملے۔ ہڈیاں، دانتوں اور انسانی ناخن کے علاوہ گھر میں ایک ڈبے میں نسوانی اعضا موجود ہوتے ہیں کہ گویا جیسے انہیں محفوظ کیا گیا ہو۔</p>
<p>خواتین کے کپڑے اور بال اشارہ تھے کہ اس گھر میں جو کچھ ہوا ہے، وہ انسانی تاریخ کا ایسا ہولناک باب بن جائے گا جو امریکا اور دنیا میں کئی افراد کو جرائم کی دنیا کی جانب راغب کرے گا۔</p>
<p>اسی دوران فرینک اپنی ماں کی تلاش میں گھر کے احاطے میں واقع ایک فارم میں جاتا ہے جہاں اسے ایک انسانی دھڑ الٹا لٹکا ہوا ملا جس کا سر نہیں ہوتا جبکہ دھڑ کو بیچ سے ایسے کاٹا گیا تھا جیسے کسی نے مشین کی آری کا استعمال کیا ہو۔ فرینک پہچان لیتا ہے کہ یہ اس کی ماں ہے اور اس کی چیخ و پکار کے درمیان گھر کا مالک واپس آجاتا ہے۔</p>
<p>یہ شخص ایڈ گین تھا جس کے سفاک جرائم پر گزشتہ ہفتے نیٹ فلکس کی مونسٹر سیریز ریلیز ہوئی ہے جس میں مرکزی کردار ادا کرنے والے چارلی ہینم کی بےمثال اداکاری جبکہ پروڈیوسر ریان مرفی کی جانب سے حقائق کو کہانی کی صورت میں پیش کیے جانے نے دیکھنے والوں کو باور کروایا کہ حقیقی واقعات پر مبنی کہانیاں آج بھی صنفِ ہارر کی دنیا میں اپنی دھاک بٹھا رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/T8FeHSoTHs8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحریر میں آگے بڑھنے سے پہلے میں اسپائلر الرٹ دینا چاہوں گی مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہاں میں سیریز میں شامل حقیقی واقعات بیان کررہی ہوں جبکہ سیریز کس طرح اس شخص کی عکاسی کرتی ہے، اس پر ہم تحریر میں آگے چل کر بات کریں گے۔</p>
<h1><a id="ایڈ-گین--پلین-فیلڈ-کا-قصائی" href="#ایڈ-گین--پلین-فیلڈ-کا-قصائی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایڈ گین- پلین فیلڈ کا قصائی</h1>
<p>مذہبی والدہ کے زیرِاثر رہنے والا ایڈ گین بچپن سے شرمیلا تھا اور اس کی آواز اور بھولے پن کی وجہ سے ٹاؤن کے لوگ اسے بہت شریف سمجھتے تھے۔ ناکام شادی کا شکار والدہ اوگسٹین ہمیشہ ایڈ کو کہتی تھیں کہ شادی صرف بچے پیدا کرنے کے لیے ہونی چاہیے اور وہ کبھی بھی شادی نہیں کرے گا کیونکہ وہ ’عجیب‘ بچہ ہے جس سے ’صرف اس کی ماں ہی پیار کرسکتی ہے‘۔ ماں اپنے علاوہ تمام عورتوں کو بدکردار سمجھتی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netflix/status/1974112202408734835"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایڈ اپنی ماں کو ہی اپنی دنیا سمجھتا تھا۔ اس کی خوشنودی کے لیے سب کرتا تھا۔ ایڈ کا 43 سالہ بڑا بھائی ہینری ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن ماں کی مخالفت کی وجہ سے وہ اپنے بھائی ایڈ سے اکثر ماں کی برائی کرتا تھا۔</p>
<p>ایک دن ماں کی برائی سن کر ایڈ کو غصہ آجاتا ہے اور وہ ہینری کے سر پر لکڑی کا وار کرکے اسے قتل کردیتا ہے اور اس کی لاش جھاڑیوں میں لگی آگ میں پھینک کر خود پولیس کو اطلاع دیتا ہے اور سب سمجھتے ہیں کہ ہینری کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ ایڈ کی ماں کو ہینری کی موت کا شدید دکھ ہوتا ہے اور اسے فالج ہوجاتا ہے۔</p>
<p>کچھ عرصے بعد اوگسٹین کا انتقال ہوجاتا ہے جو ایڈ کے لیے شدید صدمہ تھا۔ اسے اکیلے گھر میں اپنی ماں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو اس سے کہتی ہے کہ وہ اسے قبر سے نکال لائے۔ وہ کھدائی کرکے کوشش کرتا ہے لیکن وہ برابر والی قبر سے عورت کی لاش گھر لے آتا ہے اور اسے ماں کی کرسی پر بٹھا دیتا ہے جس میں وہ اپنی ماں کا روپ دیکھتا ہے اور اس سے باتیں کرتا ہے۔ اس کی نظر میں اس کی ماں زندہ ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch?v=1251424666738291" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ، وہ اس قدر اپنی ماں کے زیرِاثر تھا کہ اپنی ماں کی عمر کی خواتین جو اس کی ماں کی طرح مذہبی یا اس کی ماں کے نزدیک اچھی انسان نہیں تھیں، انہیں قتل کرنے لگتا ہے۔ ان میں مقامی پب میں کام کرنے والی میری اور فرینک کی والدہ برنیس شامل تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے 14 سالہ بیبی سٹر لڑکی ایویلین کو بھی قتل کیا جبکہ ان دو شکاری مردوں کو بھی قتل کیا جو بھٹک کر اس کے گھر آگئے تھے اور انہوں نے برنیس کی لاش کو دیکھ لیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/071317049ca02e3.webp'  alt='تصاویر میں ایڈ گین کے گھر سے ملنے والے انسانی کھال کی بنی کرسی اور گھر کی خراب حالت کی عکاسی کی گئی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصاویر میں ایڈ گین کے گھر سے ملنے والے انسانی کھال کی بنی کرسی اور گھر کی خراب حالت کی عکاسی کی گئی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="انسانی-کھال-اور-دیگر-لرزہ-خیز-جرائم" href="#انسانی-کھال-اور-دیگر-لرزہ-خیز-جرائم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انسانی کھال اور دیگر لرزہ خیز جرائم</h1>
<p>یہ دور دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ کا تھا جہاں ایسے جریدے چھاپے جاتے تھے جن میں یہودیوں کے قتل کرنے والوں کو ہیرو کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔ ان میں سے ایک عورت ایلسی کوچ تھی جو نازی حکومت کی قید میں موجود یہودی غلاموں کی لاشوں کی کھال اتار کر اس سے لیمپ، کرسی، بیلٹ و دیگر چیزیں بناتی تھی۔ اس کی کامک بک سے ایڈ اس قدر متاثر ہوگیا کہ وہ مُردوں کی لاشیں نکال کر ان کی کھال اتارتا اور اس سے چیزیں بنانے لگا جس میں کھوپڑی سے بنے پیالے اور ایش ٹرے شامل تھیں۔</p>
<p>ایلسی کو ہیرو مانتے ہوئے وہ بھی انسانی ماسک اور کپڑے بناتا جبکہ اس نے کھال اتارنے کا طریقہ اور اسے محفوظ کرنا بھی اسی سے سیکھا تھا۔</p>
<p>دوسری جنگِ عظیم ختم ہونے کے بعد ایلسی کا ٹرائل ہوا مگر اس نے ان تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیا اور وہ کہتی تھی کہ کوئی بھی انسان ایسا گھناؤنا فعل نہیں کرسکتا۔ تاہم اس نے یہودیوں کے قتل عام کو جائز قرار دیا تھا۔</p>
<p>ایڈ گین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ فعل اس لیے کیا کیونکہ اس کی ماں نے اسے عورت ذات سے دور رہنے کو کہا تھا جس کی وجہ سے وہ کبھی ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہیں کرپاتا تھا۔ لہٰذا عورت کی جلد اور چہرے پر ماسک لگا کر اسے لگتا تھا جیسے وہ عورت ہے اور یہ اس کی جنسی تسکین کا ذریعہ تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ ٹرانسجینڈر ہے لیکن وہ نہیں تھا۔ تاہم اس نکتے پر یہی لگا کہ شاید ریان مرفی ایک ٹرانسجینڈر کو قاتل کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہ رہے ورنہ لگتا یہی تھا کہ ایڈ گین عورت بننا چاہتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netflix/status/1974852078112539021"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="گرفتاری-اور-ٹرائل" href="#گرفتاری-اور-ٹرائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گرفتاری اور ٹرائل</h1>
<p>ڈپٹی شیرف کی والدہ کے قتل میں ایڈ گین کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کو ایڈ کے گھر میں برنیس کا کٹا ہوا سر بھی ملا۔ تفتیش میں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے 9 قبروں سے لاشوں کو نکالا تاہم اس نے لوگوں کو قتل کرنے سے انکار کیا۔ اس پر 9 افراد کے قتل کا الزام تھا جن میں سے دو ثابت ہوئے جبکہ بقیہ 7 نہ ثابت ہوئے اور نہ اس نے اعتراف کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/07125639da3b5c5.webp'  alt='ایڈ گین کی گرفتاری کے وقت لی گئی ایک تصویر جس میں وہ مسکرا رہا ہے&mdash;تصویر: لائف میگزین' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایڈ گین کی گرفتاری کے وقت لی گئی ایک تصویر جس میں وہ مسکرا رہا ہے—تصویر: لائف میگزین</figcaption>
    </figure></p>
<p>وہ کہتا تھا کہ اسے یاد نہیں کہ اس نے ان لوگوں کو قتل کیا تھا یا نہیں۔ جھوٹ پکڑنے والے آلات بھی کچھ ثابت نہ کرسکے۔ خراب ذہنی حالت کے باعث اس کا ٹرائل بھی نہ ہوسکا جبکہ عدالت نے اسے نقسیاتی ہسپتال میں نظربند کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>اس کے شیزوفرینیا کا علاج ہوا جس کے بعد 1968ء میں اس کا ٹرائل بھی ہوا اور اس پر برنیس کا قتل ثابت ہوا۔ اسے سزا بھی دی گئی لیکن ذہنی بیماری کے باعث اسے ہسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ دیا گیا۔ سانس کی تکلیف کے بعد 1984ء میں وہ اس کی نفسیاتی ہسپتال میں موت ہوئی۔ اس کی موت کا سبب پھیپھڑوں کا کینسر تھا۔</p>
<p>1958ء میں یعنی ایڈ گین کی گرفتاری کے ایک سال بعد، اس کے گھر اور فارم میں موجود سامان کی نیلامی کا فیصلہ کیا گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے دلچسپی ظاہر کی جس نے امریکی معاشرے کے بدلتے اور تشویش ناک رجحان کی نشاندہی کی جہاں لوگ قاتلوں سے متاثر ہونے لگے تھے۔</p>
<p>البتہ جس دن نیلامی ہونی تھی، اس دن پولیس کو اطلاع ملی کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی ہے۔ جان بوجھ کر آگ لگائے جانے کے بارے میں شکوک ظاہر کیے گئے لیکن یہ کبھی ثابت نہیں ہوسکا۔</p>
<p>سالوں اس کی قبر پر لگے کتبے پر لوگوں نے نامناسب الفاظ لکھے، اس کے ٹکڑے چوری کیے اور پھر بلآخر اس کے کتبے کو جگہ سے اکھاڑ کر چوری کرلیا گیا۔ اب اپنے بھائی اور ماں کے پاس مدفون ایڈ گین کی قبر پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔</p>
<h1><a id="مونسٹر---ایڈ-گین-اسٹوری" href="#مونسٹر---ایڈ-گین-اسٹوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مونسٹر - ایڈ گین اسٹوری</h1>
<p>17 افراد کو قتل اور انسانی گوشت کھانے والے بدنامِ زمانہ سیریل کلر جیفری ڈاہمر کی کہانی سے شروع ہونے والی مونسٹر سیریز کے تیسرے حصے میں ایڈ گین کے سفاک جرائم کو عکاس کیا گیا ہے۔ ریان مرفی کی یہ سیریز جمعے کو ریلیز ہوئی ہے جبکہ پاکستان سمیت 60 سے زائد ممالک میں ٹرینڈنگ پر ہے۔</p>
<p>اس سیریز میں عکس بند کیا گیا ایڈ گین کا کردار چارلی ہینم نے ادا کیا ہے بلکہ ادا کرنا کہنا ان کی جاندار ایکٹنگ کے ساتھ ناانصافی ہوگی کیونکہ انہوں نے خود کو اس کردار میں ڈھال لیا گویا کہ وہ شوٹنگ کے دوران خود کو واقعی ایڈ گین سمجھ بیٹھے۔</p>
<p>ظاہری شخصیت سے لے کر آواز تک، انہوں نے جس طرح ایڈ گین کی نقل کی ہے، اس نے دیکھنے والوں پر لرزہ طاری کیا۔ کہا جارہا ہے کہ اس کردار کے لیے انہوں نے 30 پاؤنڈ وزن کم کیا اور فلمنگ ختم ہونے کے بعد وہ ایڈ گین کی قبر پر اسے الوداع بھی کہنے گئے جبکہ ایک ہفتے تک وہ تنہائی میں رہے تاکہ اس کردار سے خود کو آزاد کرسکیں۔</p>
<p>ایک انٹرویو میں چارلی نے کہا کہ اس سیریز کا مقصد اسے ایک قاتل کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر پیش کرنا تھا جس کے اندر ایک حیوان رہتا ہے اور وہ چاہ کر بھی اپنے ذہن کی آوازوں کو خاموش نہیں کرسکتا۔</p>
<p>اداکاری دیکھ کر لگتا نہیں کہ حقیقی انسان سے مشابہت اس قدر ممکن ہے۔ انہیں ابھی سے ہی اگلے ایمی ایوارڈ جیتنے کے لیے پسندیدہ قرار دیا جارہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/796989799589510" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>انسانی کھال سے لے کر چین ساو (مشین کی آری) سے قتل تک، اس فلم نے جس طرح ان مناظر کو عکس بند کیا ہے، اسے دیکھنے والے کچھ عرصے تک اس کے خوف سے نہیں نکل پائیں گے۔</p>
<p>ہاں یہ بات دیکھنے والوں کو سمجھنی چاہیے کہ یہ کوئی دستاویزی سیریز نہیں ہے جس میں واقعات کو ویسا ہی بیان کیا جائے جیسے وہ حقیقت میں رونما ہوئے ہیں۔ یعنی اگر اس سیریز میں ڈرامائی انداز میں مناظر دکھائے گئے ہیں تو ان میں کی گئی تبدیلیوں کو بھی ہمیں قبول کرنا ہوگا۔</p>
<p>اس سیریز میں ایک اور اہم کردار ایڈیلین (سوزین سن) کا ہے جسے ایڈ گین پسند کرتا تھا اور وہ اس کی بہت پرانی دوست تھی لیکن ایڈ کی ماں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس سے شادی کرے کیونکہ ماں کے نزدیک وہ بری عورت تھی۔ ایڈیلین خود بھی ذہنی مریضہ تھی جسے بگڑے ہوئے چہروں والی لاشوں کی تصاویر لینا پسند تھا اور وہ کرائم فوٹوگرافر بننا چاہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایڈ کے جرائم پتا ہونے کے باوجود وہ خاموش رہی اور قبر سے لاش نکالنے میں اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہی۔ تاہم ایڈ کی گرفتاری کے بعد اس نے ایڈ سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اسے جرم چھپانے کی کوئی سزا نہیں ملی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/07134107f17e81d.webp'  alt='ایڈیلین خود بھی ذہنی مریضہ تھی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایڈیلین خود بھی ذہنی مریضہ تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>مجھے سیریز سے ایک اختلاف ہے۔ سیریز کی اختتامی دو اقساط میں ایڈ گین کو ایک مظلوم دماغی مریض کے طور پر دکھایا گیا ہے جوکہ شیزو فرینیا کا شکار ہے اور نہیں جانتا کہ اس نے لاشعوری میں کیا کیا ہے۔ علاج کے بعد جب وہ بہتر ہوتا ہے تو اسے کسی ہیرو کی طرح دکھایا گیا ہے جس نے دیگر سیریل کلر پکڑنے میں ایف بی آئی کی مدد کی۔ اس سلسلے میں دکھایا گیا ہے کہ ایڈ نے ٹیڈ بنڈی کو پکڑنے میں مدد کی۔ اب اس میں کتنی سچائی ہے، اس حوالے سے کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم سیریز میں یہی لگتا ہے کہ یہ اس کے ذہن کا تخیل ہے۔</p>
<p>لیکن ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس سیریز کو ایڈ کے نظریے سے دکھایا گیا ہے کیونکہ جب اس کا وقت مرگ قریب ہوتا ہے تو وہ خود کو ایک ہیرو سمجھتا ہے جس نے دنیا میں دیگر لوگوں کو متاثر کیا اور خواب میں اس کی ماں اس پر فخر کرتی ہے جس نے دنیا میں گین خاندان کا نام مشہور کیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ اس نے ایک عورت کی لاش کو قبر سے نکال کر اپنی ماں کی کرسی پر بٹھایا رکھا لیکن حقیقی واقعات ایسے نہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ اس نے قبر سے نکالی ہوئی لاش کا جنسی استحصال کیا لیکن حقائق کہتے ہیں کہ اس نے کبھی بھی لاشوں کے ساتھ بدفعلی نہیں کی اور اس نے خود اس سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے شدید بدبو آتی تھی۔ جبکہ اپنی ماں کی آواز کی تعمیل کرتے ہوئے وہ لاشوں کی کھال و دیگر اعضا نکالنے اور کچھ عرصے بعد ان کی ہڈیوں کو واپس قبر میں ڈال کر قبر کو بند کردیتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/071245143963cc7.webp'  alt='سیریز میں ایڈ گین کو اپنی ماں کے شدید زیرِ اثر دکھایا گیا ہے&mdash;تصویر: نیٹ فلیکس' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سیریز میں ایڈ گین کو اپنی ماں کے شدید زیرِ اثر دکھایا گیا ہے—تصویر: نیٹ فلیکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس سیریز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایڈ گین کے گھر سے انسانی دل پتیلے میں ابلتے ملے تھے لیکن تفتیش میں اس نے انسانی گوشت کھانے سے انکار کیا۔ تاہم یہ دکھایا گیا ہے کہ اس نے اپنے دوستوں کو ہرن کا گوشت کہہ کر انسانی گوشت دیا تھا جسے انہوں نے کھایا بھی تھا۔</p>
<p>یہ مشہور ہے کہ ولن بنتے نہیں بلکہ بنائے جاتے ہیں۔ ایڈ گین کی ماں نے بچپن سے اسے اتنا زیرتسلط رکھا کہ وہ اپنی کُل دنیا اپنی ماں کو سمجھ بیٹھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس دنیا میں ماں کے علاوہ کوئی مخلص نہیں اور کوئی اس سے محبت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس کی ماں کا انتقال ہوا تو وہ اسے قبول نہیں کرپایا اور مردے کو قبر سے لا کر اپنے ماں کے کپڑے پہنا کر اسے اپنی ماں سمجھ کر باتیں کرتا رہا۔</p>
<p>سیریز میں ایف بی آئی کے ایجنٹس جب ٹیڈ بنڈی کا سراغ لگانے میں مدد کے لیے ایڈ گین کی مدد لینے گئے تو وہ کہتا ہے کہ ’یہ قاتل بھی تنہائی کا شکار ہے، تنہائی انسان سے بہت غلط کام کرواتی ہے‘۔ جو واضح طور پر اشارہ تھا کہ اپنی ماں کی موت کے بعد وہ تنہائی کا شکار تھا اور اسی نے اسے ذہنی مریض بنایا۔</p>
<p>اس سیریز کا ایک اور بہترین سین جس نے ناظرین کو چارلی ہینم کی اداکاری کا مداح بنایا، وہ ایڈ گین کی اپنی سائیکولوجسٹ سے گفتگو تھی جس میں اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ شیزوفرینیا کا شکار ہے۔ وہ خوب روتا ہے اور کہتا ہے تب ہی اس کی ذہن کی آوازیں اس سے قتل کرنے کو کہتی ہیں اور وہ سمجھتا تھا کہ شیطان اس سے غلط کام کرنے کا کہتا ہے۔ مجموعی طور پر یہی وہ سین ہے جس نے انہیں ایمی کے لیے مضبوط امیدوار بنایا ہے۔</p>
<h1><a id="ایڈ-گین-جس-نے-کروڑوں-کو-متاثر-کیا" href="#ایڈ-گین-جس-نے-کروڑوں-کو-متاثر-کیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایڈ گین جس نے کروڑوں کو متاثر کیا</h1>
<p>امریکا میں ایڈ گین سیریل کلر کے طور پر نہیں بلکہ وہ انسانی لاشوں کے ساتھ جو کرتا تھا، وہی اس کی وجہ شہرت بنی۔ اسے ’پلین فلیڈ کے قصائی‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے جرائم سے متاثر ہوکر متعدد امریکی فلمیں بنائی گئیں۔ جس طرح ایڈ گین انسانی چہرے کی کھال اتار کر اسے ماسک کی صورت پہنا کرتا تھا، اس سے متاثر فلم ’لیدر فیس‘ (2017ء) بنائی گئی۔ جس طرح وہ خواتین کی کھال سے بنے کپڑے پہن کر ناچتا تھا، اسے ’سائلنس آف لیمبس‘ (1991ء) میں عکس بند کیا گیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ مشہور زمانہ فلم سیریز ’سائیکو‘ (1960ء، 1983ء، 1986ء) کے مرکزی کردار نورمین بیٹس بھی ایڈ گین سے متاثر تھا۔ ’ٹیکسس چین ساؤ میسیکر‘ جس میں ایک انسانی کھال کا ماسک پہنے شخص کو میشن کی آری سے لوگوں کو قتل کرتے دکھایا گیا، یہ بھی ایڈ گین سے متاثر ہے جو اسی طرح لوگوں کو قتل کیا کرتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/07125034aa12aad.webp'  alt='ہالی وڈ کے چند مشہور ولن جن میں ایڈ گین کی خصوصیات تھیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہالی وڈ کے چند مشہور ولن جن میں ایڈ گین کی خصوصیات تھیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایڈ گین نے امریکا کے معاشرے کو تبدیل کیا۔ 1950ء کی دہائی میں جب اس کی ہولناکیاں سامنے آئیں تو اس کے قصوں نے دیگر افراد کو جرائم کرنے پر راغب کیا۔ 30 سے زائد نوجوان لڑکیوں کا قاتل ٹیڈ بنڈی، نرسوں کو قتل کرنے والے ریچرڈ اسپیک سے متاثر تھا جبکہ رچرڈ ایڈ گین کو اپنا پسندیدہ بتاتا تھا، اس کے نزدیک ذہنی مریض کا ناٹک کرکے وہ ٹرائل سے بچ گیا تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایڈورڈ کیمپر نے بھی ایڈ گین سے متاثر ہوکر قتل کئے اور وہ کہتا تھا کہ اسے ایڈ گین کے خواتین کے سروں کو اسٹیک پر سجانے کے بیان نے متاثر کیا۔ ایڈ کیمپر نے اپنی والدہ، نانا نانی سمیت 10 افراد کو قتل کیا اور ایڈ گین کی طرح ان کے ٹکڑے کیے تھے۔</p>
<p>اس کے علاوہ جان وین گیسی جو 33 افراد کے قتل کا مجرم تھا، وہ بھی خود کو ایڈ گین کا مداح بتاتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/071253575eb2d4f.webp'  alt='ٹیڈ بنڈی (دائیں جانب اوپر)، ایڈ کمپر (دائیں جانب نیچے)، جان وین گیسی (بائیں جانب اوپر)، ریچرڈ اسپیک (بائیں جانب نیچے)' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹیڈ بنڈی (دائیں جانب اوپر)، ایڈ کمپر (دائیں جانب نیچے)، جان وین گیسی (بائیں جانب اوپر)، ریچرڈ اسپیک (بائیں جانب نیچے)</figcaption>
    </figure></p>
<p>تو یوں کہا جاسکتا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 1957ء کے دوران ایڈ گین کے لرزہ خیز جرائم نے امریکا کو کافی حد تک تبدیل کیا۔ اس سے قبل امریکا میں سیریل کلر پر مبنی ہارر کلاسک فلمیں نہیں بنا کرتی تھیں، لوگ انہیں دیکھ کر ڈرتے تھے لیکن پھر الفریڈ ہچکوک کی سائیکو کے بعد جب ایسی فلمیں بننے لگیں تو فلم بینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور لوگ ایسے کرداروں سے متاثر ہونے لگے اور انہیں سنیما کے پردے پر دیکھنا پسند کرنے لگے جوکہ درحقیقت تاریخ کے سیاہ باب کا حصہ، ایڈ گین سے متاثر تھے۔</p>
<h1><a id="حرفِ-آخر" href="#حرفِ-آخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حرفِ آخر</h1>
<p>کمزور دل کے افراد کو میں یہ سیریز دیکھنے کی ترغیب ہرگز نہیں دوں گی۔ حتیٰ کہ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ جب رات میں سونے کے لیے آنکھیں بند کریں گے تو آپ چاہے کتنے ہی بہادر کیوں نہ ہوں، عورت کی کھال کا ماسک پہنے ایڈ گین کا کردار ضرور ذہن کے پردے پر اُبھرے گا۔</p>
<p>کوئی معاشرہ پاک نہیں ہوتا، ہر معاشرے میں اچھے اور برے کردار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے اندر برائی لے کر پیدا نہیں ہوتا، اچھے یا برے کا انتخاب اس کا اپنا اختیار ہوتا ہے۔ جس طرح ہولوکاسٹ نے ایڈ گین کو متاثر کیا اور ایڈ گین نے دیگر مجرمان کو، لرزہ خیز جرائم اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ وہ ایک معاشرے کو اپنے زیراثر کرسکتے ہیں۔</p>
<p>اس تحریر کا مقصد کسی سفاک مجرم کی کہانی کو دلچسپ انداز میں سنانا نہیں، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے خوفناک جرائم دنیا اور انسانوں پر کتنے خطرناک اثرات ڈالتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270966</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 18:16:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خولہ اعجاز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0713263129d92df.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0713263129d92df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: صدیوں کی کتھا! (اڑتیسویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270623/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/karachisadiyonkikatha"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ کتنا حیرت انگیز، شاندار اور گہرائی سے سوچنے جیسا ہے کہ چند لمحوں کی الٹ پھیر سے سورج روز اُگتا ہے صبح، دوپہر اور شام ہوتے ہیں۔ مگر ایک دن دوسرے دن جیسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ ایک پَل بھی دوسرے پل جیسا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ آپ کی اور ہماری کیفیت جو کل صبح 8 بج کر 50 منٹ پر تھی، وہ آج نہیں ہوگی بلکہ جب تک ہماری سانس کی ڈوری زندگی کے لمحات کو دُھنکتی رہے گی تب تک وہ کیفیت کبھی واپس نہیں لوٹے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فطرت اور ہمارے صدیوں کے ساتھ کا نتیجہ ہے کہ ہم بہت سے ناممکن معاملات کو ممکنات کے دائرے میں لا کر ایک تسلسل اور یکسوئی کے ساتھ دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے سندھ کے امیروں کو انتہائی پریشان کر دینے والے حالات میں حیدرآباد کے اس شاندار قلعے کے وسیع دالانوں اور آنگنوں میں چھوڑا تھا۔ کَچھ کا علاقہ ریت کی طرح دھیرے دھیرے ان کے ہاتھوں سے کِھسکتا جا رہا ہے۔ مگر کَچھ والا مسئلہ کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فی الوقت تالپور اس کے لیے پریشان نہیں ہیں۔ زیادہ پریشانی رنجیت سنگھ کے حملے کی ہے، اگر وقت پر تدارک نہ کیا گیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد کے قلعے میں اس قسم کی باتیں ہیں جو دہرائی جا رہی ہیں کیونکہ تالپور جانتے ہیں کہ رنجیت سنگھ رات کو سوتا کم ہے اور اپنی ریاست کو وسعت دینے کے لیے چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر قبضہ زیادہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213045705b4a0b.webp'  alt='   حیدآباد کا قلعہ&amp;mdash; تصویر: بشکریہ سندھ آرکائیوز   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حیدآباد کا قلعہ— تصویر: بشکریہ سندھ آرکائیوز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1818ء میں تالپوروں تک یہ خبر پہنچی کہ رنجیت سنگھ نے مٹھن کوٹ پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ سندھ پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے بلکہ وہ خود سندھ پر حملہ کرے، اس سے پہلے اس نے اپنے پوتے نو نہال سنگھ کو بڑے لشکر اور جنگی سامان کے ساتھ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ خود رنجیت سنگھ بھی بول پڑا کہ ’سندھ کے امیر جو پہلے خراج کے 12 لاکھ روپے کابل سرکار کو دیتے تھے اب لاہور سرکار کو دیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی سندھ پر حملہ کرنے کے لیے ماحول تیار کرنے کے لیے ملتان کے نائب دیوان سانون مل اور کنور نونہال سنگھ نے مٹھن کوٹ (ضلع راجن پور کے جنوب میں 17 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے) کے مقام پر خالصہ فوج کے توپ خانے کا مظاہرہ کیا۔ توپوں میں بھرے بارود کی آواز ان زمانوں میں کچھ میلوں تک ضرور سنائی دیتی ہوگی مگر توپیں چلنے کے ڈر سے لبریز باتیں سیکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے سندھ کے امیروں تک پہنچیں تو بے چینیوں اور پریشانیوں کے کرگس پکے قلعے کے منڈیروں پر آ کر بیٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021303595d04f38.webp'  alt='    رنجیت سنگھ کا پوتا نو نہال سنگھ&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رنجیت سنگھ کا پوتا نو نہال سنگھ— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر کرم علی خان اور اس کے ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ شکارپور سے آگے سکھوں سے جنگ کرنی چاہیے۔ مگر میر مراد علی خان جو سیاسی حوالے سے کچھ سنجیدگی سے سوچتا تھا، اس نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور اپنے بھائی کو سمجھایا کہ ’رنجیت سنگھ سے لڑائی کرنا ان حالات میں مشکل ہے کیونکہ وہ پشاور سے کشمیر تک، کشمیر سے کرنال، ملتان، مٹھن کوٹ، دیرہ جات جو افغانوں کے قبضے میں تھے وہ سارے اب رنجیت سنگھ کی حکومت میں شامل ہیں جبکہ دیرہ جات کے بلوچ سردار بھی سکھوں سے لڑنا نہیں چاہتے، اس لیے اس وقت مناسب یہی ہے کہ انگریز سرکار سے مدد لی جائے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی سرکار بھی یہ چاہتی تھی کہ سندھ کے امیر اسی صورت میں ان کی جھولی میں آ گریں گے کہ جب جنوب سے کَچھ بُھج اور شمال مشرق سے سکھوں کی صورت میں دباؤ ڈالا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021304304ad14a4.webp'  alt='   مہاراجا رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا ایک اسکیچ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مہاراجا رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا ایک اسکیچ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار میر کرم علی خان اور پورا دربار اس بات پر متفق ہوا کہ انگریز سرکار سے مدد لی جائے اور اس کے لیے آغا اسمعٰیل شاہ جو ملک کے باہر کے مسائل حل کرنے پر معمور تھا، بمبئی کے گورنر ماؤنٹ اسٹوراٹ ایلفن اسٹون کے پاس ایلچی بنا کر بھیجا گیا اور شمال میں سرحد کی حفاظت کے لیے 30 ہزار کا لشکر جنگی سامان کے ساتھ بھیجا گیا جو شکارپور پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے امیروں کی یہ حکمت عملی ایک مثبت اور سنجیدہ فیصلہ تھا کہ یہ بات دونوں طرف پہنچنی چاہیے کہ گوری سرکار اور رنجیت سنگھ سے اگر بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو جنگ ہوگی۔ کہتے ہیں کہ سانپ کا زہر نہیں اس کا خوف مارتا ہے۔ جب تک جنگی لشکر موجود ہو اور جنگ لڑنے کے لیے میدان میں موجود ہو تو سامنے والے کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213035204e1dc6.webp'  alt='    بمبئی کے گورنر ماؤنٹ سٹوراٹ ایلفن اسٹون&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بمبئی کے گورنر ماؤنٹ سٹوراٹ ایلفن اسٹون—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آغا نے بمبئی کے گورنر کو حالات سے تفصیلی آگاہی دی۔ بمبئی کے گورنر نے یہ احوال تحریر کی صورت میں کلکتہ بھیجا۔ وہاں کے گورنر جنرل نے لدھیانہ کے برٹش پولیٹیکل ایجنٹ کپتان ویڈ کو تحریر کی صورت میں ہدایات دیں کہ ’خالصہ سرکار تک یہ بات پہنچائی جائے کہ سندھ پر حملہ کرنے کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ سندھ کے امیروں سے برٹش سرکار کے دوستانہ تعلقات ہیں، ایسا عہدنامہ ہم سندھ سے کر چکے ہیں’۔ یہ بالکل ایسا تھا جیسے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور  دکھانے کے اور۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ہدایات کے بعد رنجیت سنگھ نے فوری رنگ بدلا اور برٹش سرکار کو یقین دلایا کہ ’میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ میں سندھ پر حملہ کروں گا۔ میں خود تالپوروں کو اپنا دوست سمجھتا ہوں۔ جہاں تک توپوں کے مظاہرے کا تعلق ہے تو میرا پوتا نو نہال سنگھ تفریح کرنے کے لیے ملتان، مٹھن کوٹ و دیرہ جات کی طرف دسہرے کے دن شغل میلہ کرنے گیا تھا’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی ملتان کے گورنر دیوان سانون مل نے بھی ایک دوستانہ خط لکھ کر حیدرآباد بھیجا جس میں رنجیت سنگھ سے پرانے روابط اور واسطوں کی بات تحریر تھی۔ دیوان سانون مل کے ہاتھوں تحریر کیا ہوا یہ خط سندھ کے امیروں کو شکارپور میں پہنچا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ ایک آفت ان کے سر سے ٹلی اور وہ حیدرآباد لوٹ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130411040514a.webp'  alt='    امیر دوست محمد خان&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;امیر دوست محمد خان—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رنجیت سنگھ والی پریشانی سے ابھی تالپوروں نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ شاہ شجاع نے پھلیلی کے کنارے آکر شامیانے لگائے۔ اس دلچسپ ذکر سے پہلے ہم شاہ شجاع کے متعلق کچھ اور بات بھی کریں گے کیونکہ یہ آنے والے وقتوں 1834ء میں افغانستان کا پھر سے بادشاہ بننے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رنجیت سنگھ کی قید سے شاہ شجاع کا چھپ کر بھاگنا، فیروز پور سے لدھیانہ پہنچنا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں گوری سرکار کی اندرونی مدد شامل تھی۔ کمپنی سرکار دکھاوے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی مگر اندرونی طور پر وہ دیے گئے روڈ میپ پر ہی عمل کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریز آج میں بیٹھ کر 100 برس آگے کی سوچ رکھنے والا جتھا تھا۔ اس لیے اس خطے میں آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا تھا، اس کے لیے کمپنی سرکار نے  سیاسی شطرنج کی بساط بچھا دی تھی اور اس پر وقت کے ساتھ مہرے جمانے کا وقت تھا جس میں شاہ شجاع ایک اہم مہرا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تخت و تاج کی بھی عجیب دیوانگی ہے جس نے بھی اس کی حاکمیت اور غرور کا ذائقہ چکھا، وہ اپنی آخری سانس تک اس دیوانگی میں مبتلا رہتا ہے اور یہاں اتفاق یہ ہوا کہ شاہ شجاع کی دیوانگی کو حیات دینے کے لیے سندھ کے وسائل کی آمدنی نے مدد کی یا زبردستی یہ مدد لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1820ء میں جب پیسے کم پڑنے لگے تو شاہ شجاع، درگاہ شہباز قلندر پر حاضری دینے کے بہانے پہنچ جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ سیہون تک آئے ہیں تو حیدرآباد کتنا دور ہے! اور حیدرآباد آ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے سے پہلے سیاسی حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ آج کل میں خراسان کے سرداروں، سردار محمد عظیم خان اور سردار دوست محمد خان نے اپنے بھائیوں کے ساتھ شاہ شجاع کو حکومت دینے کا سوچ رہے ہیں۔ اس لیے شاہ شجاع جیسے ہی حیدرآباد دریائے سندھ کے پھلیلی بہاؤ کے کنارے شامیانے لگاتے ہیں، میر صاحبان اس کی خدمت میں جٹ جاتے ہیں کہ کسی حوالے سے کوئی کمی نہ رہ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021304386ae35e7.webp'  alt='   شاہ شجاع اور  میر سہراب خان&amp;mdash; تصویر: بشکریہ &amp;rsquo;تاریخ تازہ نواء معارک&amp;lsquo;   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہ شجاع اور  میر سہراب خان— تصویر: بشکریہ ’تاریخ تازہ نواء معارک‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تالپوروں نے اپنے اندر چھپے ہوئے اس خوف اور ڈر کا کبھی تدارک نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ خود تو پریشان رہتے ہی تھے اور اس بے خبری کی وجہ سے سندھ کی سرحدیں سکڑنے لگی تھیں۔ شاہ شجاع میروں سے ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا کہ ’میر اور وہ ایک طاقت ہوں گے۔ جب بھی اس پر مشکل وقت آئے گا تو میر فوری مدد کریں گے’۔ حیدرآباد کے میر تو یہ معاہدہ کرنے پر آمادہ تھے مگر خیرپور کے میروں میں سے میر سہراب خان نے اس کی شدید مخالف کی اور یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یقیناً، شاہ شجاع کے لیے مایوس کُن صورت حال تھی۔ ایسی صورت حال میں انہیں دو برس تک شکارپور میں ہی رہنا پڑا۔ اور فوج و جنگی سامان تیار کرنے میں مصروف رہا۔ شکارپور کے ’ہزاری دروازے‘ کے باہر، ہفتے میں دو بار فوجی پریڈ ہوتی تھی اور توپیں چلائی جاتی تھیں تاکہ خوف کا ماحول بنا رہے۔ خراسان کا بھگوڑا بادشاہ جس کے پاس تخت تھا، نہ تاج مگر وہ خوف کی آندھیوں کو تخلیق کرنے کا ماہر تھا اور اس خوف سے ہی اس کی عیاشیاں پوری ہوتیں اور شاندار خوراک سے اپنا شکم بھرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213044556dd734.webp'  alt='   شکارپور 20ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں&amp;mdash;تصویر: بشکریہ عامر عباس سومرو   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شکارپور 20ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں—تصویر: بشکریہ عامر عباس سومرو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر صاحبان نے اس صورت حال سے بیزار ہوکر اس مصیبت سے جان چھڑوانے کے لیے دوسری مصیبت اپنے گلے میں خوشی خوشی ڈال لی۔ انہوں نے خراسان کے بادشاہ ’سردار محمد عظیم خان‘ کی طرف اپنے ایلچی سید کاظم علی شاہ کو ایک خط کے ساتھ بھیجا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط کا آخری جملہ کچھ اس طرح تحریر تھا، ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ اپنی فوج سمیت شکارپور آجائیں تو ہم دونوں مل کر اس شاہ شجاع سے جان چھڑائیں اور اسے اس طرف بھگادیں جس طرف سے وہ  آیا ہے۔ آپ کو راہ کے خرچہ کے علاوہ خراج بھی دیا جائے گا جس کی آپ بالکل بھی کوئی پریشانی نہ لیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر کو خراسان بھیجنے والی بات، شاہ شجاع کو اچھی نہیں لگی کیونکہ خط ملتے ہی سردار عظیم خان نکل پڑا تھا۔ یہ 1821ء تھا اور شاہ شجاع، جیسلمیر کے راستے سے لدھیانہ چلا گیا۔ مگر شکارپور کے نصیب میں سکھ لکھا ہی نہیں تھا۔ وہ گیا تو شاہی باغ میں آکر سردار عظیم نے شامیانے لگائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہی تھکان اتارنے کے لیے مطربوں کی شیریں آوازیں فضا میں گھلنے لگیں۔ تھکان اتری تو خراج لے کر سردار جیکب آباد اور سبی کے راستے سے خراسان روانہ ہوا۔ روانگی سے پہلے شکارپور میں ’سردار شیر خان‘ کو اپنی طرف سے گورنر مقرر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت تو شاہ شجاع لدھیانہ چلا گیا ہے مگر وہ ایک بار پھر 1832ء میں سندھ کے امیروں سے، اسے شکارپور سے بھگانے کا بدلہ لینے ضرور آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130451c015837.webp'  alt='   کابل کے قلعہ سے کابل شہر کا نظارہ&amp;mdash; ایک اسکیچ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کابل کے قلعہ سے کابل شہر کا نظارہ— ایک اسکیچ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم آ پہنچے ہیں کمپنی سرکار اور سندھ کے امیروں کے درمیان تیسرے معاہدے کرنے کے دنوں میں۔ چیتن لال ماڑیوالا ہمیں بتاتے ہیں، ’ان برسوں میں ننگرپارکر  ڈاکوؤں کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہاں کے کھوسے ان دنوں اس حوالے سے بہت مشہور تھے۔ جو کَچھ بھُج اور اطراف کی آبادیوں کو لوٹتے پھرتے تھے جس کی وجہ سے انگریز سرکار نے ان کے خلاف کارروائیاں کرنا شروع کر دی تھیں اور کَچھ کی سرحد پر اپنی چوکیاں قائم کرنا شروع کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ان ڈکیتیوں کے حوالے سے کمپنی سرکار اور سندھ سرکار میں بات چیت بھی ہوتی رہتی تھی۔ آخر تالپوروں نے اپنی فوج ننگر پارکر سے آگے سرحد پر بھیجی کہ وہ کھوسوں کی کارروائیوں کو روک سکے۔ مگر پھر کچھ غلط فہمیوں کی بنیاد پر لیفٹیننٹ کرنل برکلی نے یہ محسوس کیا کہ تالپوروں کی فوج کھوسوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کی مدد کرنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال ایک رات کرنل برکلی نے کھوسوں کے جتھے پر حملہ کیا جس میں سندھ حکومت کے کچھ سپاہی بھی مارے گئے جس کی وجہ سے سندھ کے سپاہی واپس حیدرآباد لوٹے اور سندھ کے حکمرانوں نے کمپنی سرکار سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی سرکار نے سرحد پار کرکے ہمارے لوگوں پر حملہ کیا ہے جو کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130518b325e48.webp'  alt='   ننگرپارکر میں جین دھرم کا مندر&amp;mdash;تصویر: لکھاری   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ننگرپارکر میں جین دھرم کا مندر—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنل برکلی کے حملے کا بدلہ لینے کے لیے سندھ کے حکمرانوں نے ایک طاقتور فوج کا جتھا روانہ کیا جس نے کَچھ کی سرحد میں داخل ہو کر بھج سے 50 کوس دور ایک بستی لونا پر حملہ کیا اور اطراف میں جو چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں، ان کو بھی لوٹ لیا۔ کمپنی سرکار تک یہ خبر پہنچی کہ سندھ نے کَچھ پر حملہ کر دیا ہے۔ اس کے بدلے کے لیے بٹالین بھیجی گئی مگر تالپوروں کی بھیجی گئی فوج واپس سندھ لوٹ آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی سرکار نے اس حرکت کا  تاوان طلب کیا اور ساتھ میں یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تاوان نہ دیا گیا تو فوج کی پوری ڈویژن سندھ کی طرف بھیجی جائے گی۔ سندھ کے حکمرانوں نے کہا زیادتی کمپنی سرکار کی طرف سے ہوئی ہے اور بات چیت کے لیے دو وفد ایک بُھج اور دوسرا بمبئی بھیجا۔ ان کے درمیان بات چیت باتوں تک ہی محدود رہی، مسئلے نے زیادہ طُول نہیں پکڑا۔ مگر یہ ضرور ہوا کہ کمپنی سرکار نے کہا کہ اب نیا معاہدہ ہوگا اس لیے ہم اپنا وفد سندھ بھیج رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریز سرکار کا وفد جس میں کیپٹن سیڈلیئر  (Captain Sadlier)، ڈبلیو سائمن (Mr. W. Simon)، ڈاکٹر ہال (Dr. Hall) اور میجر ووڈ ہاؤس (Mejor Woodhouse) شامل تھے، کَچھ کے راستے سے سندھ میں داخل ہوئے۔ سرحد پر تالپوروں کے نمائندوں نے ان کا شاندار استقبال کیا جبکہ وفد بھی حاکموں کے لیے تحفے تحائف لایا تھا جو کہ سفارتکاری کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات چیت کے بعد 9 نومبر 1820ء کو تیسرا عہدنامہ تحریر کی صورت میں آیا جو کُچھ اس طرح تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;انگریز سرکار، میر کرم علی خان اور میر مراد علی خان کے درمیان
دوستی کا رشتہ ہمیشہ کی طرح قائم رہے گا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;دونوں حکومتوں کے درمیان وکلا کا تقرر بحال رکھا جائے گا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سندھ کے امیر اپنے ملک میں (انگریزوں کے سوا) کسی بھی اہلِ یورپ اور اہل
امریکا کو رہائش کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی کسی وجہ سے
کچھ دن یہاں عارضی رہنا چاہے، کسی نیک مقصد کے لیے تو اس کی اجازت
ہوگی۔دوسری صورت میں اگر وہ مجرم نکلا تو جہاں وہ قیام پذیر ہے، وہاں کی
حکومت کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے پکڑ کر سزا دے اور پھر جلا وطن کر دے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اس کے علاوہ ننگر پارکر کے کھوسوں پر تالپور حکمران سخت نگرانی رکھے گی
جو لوٹ مار کرتے پھرتے ہیں اور ان کو سختی سے روکے گی کہ وہ کمپنی حکومت
کی سرحدوں میں جا کر کوئی لوٹ مار نہیں کریں گے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021304227820a7a.webp'  alt='    سندھ کا سفیر آغا اسمعٰیل شاہ &amp;mdash; تصویر: بشکریہ &amp;rsquo;تاریخ تازہ نواء معارک&amp;lsquo;    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سندھ کا سفیر آغا اسمعٰیل شاہ — تصویر: بشکریہ ’تاریخ تازہ نواء معارک‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میجر اسکین بات چیت اور معاہدے کے بعد وفد کے ساتھ بمبئی کے لیے روانہ ہوا تو ساتھ میں سندھ کے آغا اسمعٰیل شاہ بھی سندھ کے نمائندے کے طور پر موجود تھے کیونکہ سندھ کے امیروں کی طرف سے آغا کو باوقت ضرورت بات کرنے کے اختیار دیے گئے تھے۔ بمبئی پہنچنے کے بعد آغا نے بمبئی کے گورنر کو معاہدے کی تحریر کے کاغذات پیش کیے جن کی مرکزی حکومت کی طرف سے 10 فروری 1821ء کو مہر لگا کر تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے بعد سندھ اور بمبئی کے درمیان بیوپار یا سفر کے دوران جو تکالیف تھیں وہ فی الوقت ختم ہوگئیں اور بیوپار میں مثبت پڑھوتری ہوئی۔ لیکن یہ سب وقتی تھا۔ ننگر پارکر کے کھوسے ڈاکے ڈالنے کی روش زیادہ عرصے تک ترک نہ کر سکے۔ میں آپ کو کھوسہ جو بلوچ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بلوچستان سے یہاں ننگرپارکر کیسے پہنچے اس پہیلی کو سلجھانے کے لیے چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلطان محمود غزنوی نے 1030ء میں وفات پائی جس سے 6 برس پہلے یعنی 1024ء میں اس نے سومناتھ کے مندر پر حملہ کیا۔ اس وقت بھی موجودہ کَچھ جو رن کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ سمندر کی یہاں حکمرانی تھی۔ غزنوی سومناتھ پر حملہ کرنے کے بعد واپسی پر جب ننگر پارکر پہنچا اور  پہاڑیوں کے دامن میں ایک تالاب کو دیکھا جسے مقامی لوگ بھوڈیسر تالاب کے نام سے پکارتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تالاب اب بھی ہے اور خوبصورت بھی ہے۔ وہ اس بھوڈیسر تالاب کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر دو دن تک یہاں رہا۔ اس کے 202 برس کے بعد یعنی 1226ء میں ایک زلزلے کی وجہ سے زمین اتھل پُتھل ہوئی، سمندر والی زمین اوپر آنے کی وجہ سے سمندر پیچھے چلا گیا اور اسی طرح رن آف کَچھ وجود میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021305241255116.webp'  alt='   کچھ جو رن&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کچھ جو رن—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213051114604ac.webp'  alt='   کچھ جو رن&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کچھ جو رن—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ننگر پارکر میں محمود شاہ بیگڑہ اور یہاں کے سوڈھوں کے درمیان جنگ بھی اس قدیم تالاب کے کنارے پر لگی تھی۔ گجرات کے پہلے مسلمان حاکم مظفر شاہ کو اس کے پوتے احمد شاہ نے 1410ء میں زہر دے کر مار ڈالا اور وہ تخت پر بیٹھ کر گجرات کا حاکم بنا۔ ’احمد آباد‘ شہر کی بنیاد اس نے رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اس کا بیٹا ’محمود شاہ‘ تخت پر بیٹھا (حکومت 1458ء سے 1511ء) جو ’بیگڑہ‘ کے لقب سے مشہور ہوا۔ اس لفظ کے متعلق بہت ساری باتیں تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں۔ اس کو ’بیگڑہ‘ اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے راجپوتوں کے دو قلعے ’گرنار‘ اور ’پاوا گڈھ‘ ساتھ جیتے تھے اس لیے دو قلعوں کو جیتنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ ’جہانگیر‘ اپنی توزک میں لکھتا ہے کہ ’اہل گجرات زبان میں بیگڑہ خمدار موچھوں کو کہتے ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130532859c138.webp'  alt='   محمود بیگڑہ کا مزار، سرکھیج احمد آباد گجرات&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;محمود بیگڑہ کا مزار، سرکھیج احمد آباد گجرات—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمود شاہ جب گجرات کے حاکم تھے، اس وقت سندھ پر سمہ سرداروں کی حکومت (1350ء سے 1520ء)  تھی، سمہ حکمرانوں کو گجرات کی طرف سے ہمیشہ حملہ کا ایک ڈر لگا رہتا تھا۔ اس ڈر کی وجہ سے انہوں نے بلوچوں کے 4 ہزار کے قریب خاندانوں کو ننگرپارکر میں بسایا تھا۔ ان کا زیادہ گزر بسر کا ذریعہ مال مویشی تھے۔ وہ بارشوں کے موسم میں مویشی چرانے رادھن پور اور پالن پور تک چلے جاتے تھے اور ضرورت پڑنے پر وہ بیوپاری قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر مقامی سوڈھے اور بلوچ مل کر یہ لوٹ مار کرتے مگر پھر یہ لوٹ مار اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ احمد آباد اور پارکر کے بیچ میں بیوپاری قافلوں کی آمدورفت بند ہوگئی۔ تب ان شکایات کو سامنے رکھ کر سلطان محمود نے ملک جلال الدین کو ’کوتوال‘ مقرر کیا جس نے پارکر پر حملہ کرکے 500 کے قریب ڈاکوؤں کو پکڑ لیا اور پھانسی پر چڑھا دیا۔ اس عمل نے ان پر الٹا اثر کیا اور انہوں نے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو اور تیز کر دیا جس کی وجہ سے حالات ملک جلال الدین کے قابو سے باہر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213054714f3714.webp'  alt='   بھوڈیسر تالاب، ننگرپارکر&amp;mdash;تصویر: لکھاری   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بھوڈیسر تالاب، ننگرپارکر—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر حالات اتنے بگڑے کہ 1504ء میں اپنے زبردست توپ خانے کے ساتھ شاہ محمود نے پارکر پر حملہ کیا۔ مقامی بلوچوں اور سوڈھوں کا 24 ہزار کا لشکر تھا مگر توپ خانے کی وجہ سے ان میں ڈر بیٹھ گیا اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور بیگڑہ نے پارکر پر قبضہ کرلیا۔ مگر یہ لوٹ مار بند نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر تیسری بار 1505ء میں محمود شاہ نے پارکر بھوڈیسر پر حملہ کیا اور ایک خونی معرکہ ہوا جس میں کئی سلطان کے لوگ اور مقامی سوڈھوں کا خون بہا۔ مگر کچھ وقت کے بعد سوڈھوں اور کھوسوں نے پھر سے لوٹ مار شروع کردی۔ یہاں تک کہ بات جو سمہ سرکار سے چلی تھی وہ کمپنی سرکار تک آ پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لہو کی لکیر جو سمہ دور سے شروع ہوئی تھیں، وہ 19ویں صدی تک آ پہنچی تھی۔ یہ اور دیگر ایسی پریشانیاں سندھ کے امیروں کے لیے اپنے پر تول رہی تھیں۔ گوری سرکار کی پارلیمنٹ اجلاسوں میں دھینگا مشتی زوروں پر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان کے لیے جو نیا گورنر جنرل آتا وہ نئی ہدایات لے کر آتا، اس لیے پہلے والے گورنر جنرل کی پالیسیز کو ایک طرف رکھ کر وہ اپنے تجربات اور سوچ کے مطابق نئی پالیسیز لاگو کرتا اور ہندوستان میں پہلے گورنر جنرل والا منظرنامہ تبدیل ہونے لگتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیر ہم تو محض دیکھنے اور سننے والوں میں شامل ہیں۔ جلد ہی لوٹتے ہیں وقت کی گزری ان پگڈنڈیوں کی ٹیڑھی گزارگاہوں پر۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حوالہ جات&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;British Policy towards Sindh. C.L. Marriwalla. 1947&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’مہاراجا رنجیت سنگھ‘۔ پروفیسر سیتارام کوہلی۔ سنگ میل پبلیکیشنز،
لاہور۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ سندھ تالپور دور‘۔ مرزا عباس علی بیگ۔ تالپور پبلیکیشن، لطیف
آباد حیدرآباد&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ تازہ نواء معارک‘۔ منشی عطا محمد شکارپوری۔سندھی ادبی بورڈ،
حیدرآباد&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’نگری نگری پھرا مُسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ گُجرات‘۔ پروفیسر سید ابو ظفر ندوی۔ ندوۃ المصنفین، دہلی&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی گزشتہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/karachisadiyonkikatha">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>یہ کتنا حیرت انگیز، شاندار اور گہرائی سے سوچنے جیسا ہے کہ چند لمحوں کی الٹ پھیر سے سورج روز اُگتا ہے صبح، دوپہر اور شام ہوتے ہیں۔ مگر ایک دن دوسرے دن جیسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ ایک پَل بھی دوسرے پل جیسا نہیں ہوتا۔</p>
<p>حتیٰ کہ آپ کی اور ہماری کیفیت جو کل صبح 8 بج کر 50 منٹ پر تھی، وہ آج نہیں ہوگی بلکہ جب تک ہماری سانس کی ڈوری زندگی کے لمحات کو دُھنکتی رہے گی تب تک وہ کیفیت کبھی واپس نہیں لوٹے گی۔</p>
<p>یہ فطرت اور ہمارے صدیوں کے ساتھ کا نتیجہ ہے کہ ہم بہت سے ناممکن معاملات کو ممکنات کے دائرے میں لا کر ایک تسلسل اور یکسوئی کے ساتھ دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں۔</p>
<p>ہم نے سندھ کے امیروں کو انتہائی پریشان کر دینے والے حالات میں حیدرآباد کے اس شاندار قلعے کے وسیع دالانوں اور آنگنوں میں چھوڑا تھا۔ کَچھ کا علاقہ ریت کی طرح دھیرے دھیرے ان کے ہاتھوں سے کِھسکتا جا رہا ہے۔ مگر کَچھ والا مسئلہ کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فی الوقت تالپور اس کے لیے پریشان نہیں ہیں۔ زیادہ پریشانی رنجیت سنگھ کے حملے کی ہے، اگر وقت پر تدارک نہ کیا گیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حیدرآباد کے قلعے میں اس قسم کی باتیں ہیں جو دہرائی جا رہی ہیں کیونکہ تالپور جانتے ہیں کہ رنجیت سنگھ رات کو سوتا کم ہے اور اپنی ریاست کو وسعت دینے کے لیے چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر قبضہ زیادہ کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213045705b4a0b.webp'  alt='   حیدآباد کا قلعہ&mdash; تصویر: بشکریہ سندھ آرکائیوز   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حیدآباد کا قلعہ— تصویر: بشکریہ سندھ آرکائیوز</figcaption>
    </figure></p>
<p>1818ء میں تالپوروں تک یہ خبر پہنچی کہ رنجیت سنگھ نے مٹھن کوٹ پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ سندھ پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے بلکہ وہ خود سندھ پر حملہ کرے، اس سے پہلے اس نے اپنے پوتے نو نہال سنگھ کو بڑے لشکر اور جنگی سامان کے ساتھ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ خود رنجیت سنگھ بھی بول پڑا کہ ’سندھ کے امیر جو پہلے خراج کے 12 لاکھ روپے کابل سرکار کو دیتے تھے اب لاہور سرکار کو دیں’۔</p>
<p>ساتھ ہی سندھ پر حملہ کرنے کے لیے ماحول تیار کرنے کے لیے ملتان کے نائب دیوان سانون مل اور کنور نونہال سنگھ نے مٹھن کوٹ (ضلع راجن پور کے جنوب میں 17 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے) کے مقام پر خالصہ فوج کے توپ خانے کا مظاہرہ کیا۔ توپوں میں بھرے بارود کی آواز ان زمانوں میں کچھ میلوں تک ضرور سنائی دیتی ہوگی مگر توپیں چلنے کے ڈر سے لبریز باتیں سیکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے سندھ کے امیروں تک پہنچیں تو بے چینیوں اور پریشانیوں کے کرگس پکے قلعے کے منڈیروں پر آ کر بیٹھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021303595d04f38.webp'  alt='    رنجیت سنگھ کا پوتا نو نہال سنگھ&mdash; تصویر: وکی پیڈیا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رنجیت سنگھ کا پوتا نو نہال سنگھ— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>میر کرم علی خان اور اس کے ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ شکارپور سے آگے سکھوں سے جنگ کرنی چاہیے۔ مگر میر مراد علی خان جو سیاسی حوالے سے کچھ سنجیدگی سے سوچتا تھا، اس نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور اپنے بھائی کو سمجھایا کہ ’رنجیت سنگھ سے لڑائی کرنا ان حالات میں مشکل ہے کیونکہ وہ پشاور سے کشمیر تک، کشمیر سے کرنال، ملتان، مٹھن کوٹ، دیرہ جات جو افغانوں کے قبضے میں تھے وہ سارے اب رنجیت سنگھ کی حکومت میں شامل ہیں جبکہ دیرہ جات کے بلوچ سردار بھی سکھوں سے لڑنا نہیں چاہتے، اس لیے اس وقت مناسب یہی ہے کہ انگریز سرکار سے مدد لی جائے’۔</p>
<p>کمپنی سرکار بھی یہ چاہتی تھی کہ سندھ کے امیر اسی صورت میں ان کی جھولی میں آ گریں گے کہ جب جنوب سے کَچھ بُھج اور شمال مشرق سے سکھوں کی صورت میں دباؤ ڈالا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021304304ad14a4.webp'  alt='   مہاراجا رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا ایک اسکیچ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مہاراجا رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا ایک اسکیچ</figcaption>
    </figure></p>
<p>آخرکار میر کرم علی خان اور پورا دربار اس بات پر متفق ہوا کہ انگریز سرکار سے مدد لی جائے اور اس کے لیے آغا اسمعٰیل شاہ جو ملک کے باہر کے مسائل حل کرنے پر معمور تھا، بمبئی کے گورنر ماؤنٹ اسٹوراٹ ایلفن اسٹون کے پاس ایلچی بنا کر بھیجا گیا اور شمال میں سرحد کی حفاظت کے لیے 30 ہزار کا لشکر جنگی سامان کے ساتھ بھیجا گیا جو شکارپور پہنچا۔</p>
<p>سندھ کے امیروں کی یہ حکمت عملی ایک مثبت اور سنجیدہ فیصلہ تھا کہ یہ بات دونوں طرف پہنچنی چاہیے کہ گوری سرکار اور رنجیت سنگھ سے اگر بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو جنگ ہوگی۔ کہتے ہیں کہ سانپ کا زہر نہیں اس کا خوف مارتا ہے۔ جب تک جنگی لشکر موجود ہو اور جنگ لڑنے کے لیے میدان میں موجود ہو تو سامنے والے کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213035204e1dc6.webp'  alt='    بمبئی کے گورنر ماؤنٹ سٹوراٹ ایلفن اسٹون&mdash;تصویر: وکی پیڈیا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بمبئی کے گورنر ماؤنٹ سٹوراٹ ایلفن اسٹون—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>آغا نے بمبئی کے گورنر کو حالات سے تفصیلی آگاہی دی۔ بمبئی کے گورنر نے یہ احوال تحریر کی صورت میں کلکتہ بھیجا۔ وہاں کے گورنر جنرل نے لدھیانہ کے برٹش پولیٹیکل ایجنٹ کپتان ویڈ کو تحریر کی صورت میں ہدایات دیں کہ ’خالصہ سرکار تک یہ بات پہنچائی جائے کہ سندھ پر حملہ کرنے کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ سندھ کے امیروں سے برٹش سرکار کے دوستانہ تعلقات ہیں، ایسا عہدنامہ ہم سندھ سے کر چکے ہیں’۔ یہ بالکل ایسا تھا جیسے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور  دکھانے کے اور۔</p>
<p>ان ہدایات کے بعد رنجیت سنگھ نے فوری رنگ بدلا اور برٹش سرکار کو یقین دلایا کہ ’میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ میں سندھ پر حملہ کروں گا۔ میں خود تالپوروں کو اپنا دوست سمجھتا ہوں۔ جہاں تک توپوں کے مظاہرے کا تعلق ہے تو میرا پوتا نو نہال سنگھ تفریح کرنے کے لیے ملتان، مٹھن کوٹ و دیرہ جات کی طرف دسہرے کے دن شغل میلہ کرنے گیا تھا’۔</p>
<p>ساتھ ہی ملتان کے گورنر دیوان سانون مل نے بھی ایک دوستانہ خط لکھ کر حیدرآباد بھیجا جس میں رنجیت سنگھ سے پرانے روابط اور واسطوں کی بات تحریر تھی۔ دیوان سانون مل کے ہاتھوں تحریر کیا ہوا یہ خط سندھ کے امیروں کو شکارپور میں پہنچا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ ایک آفت ان کے سر سے ٹلی اور وہ حیدرآباد لوٹ آئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130411040514a.webp'  alt='    امیر دوست محمد خان&mdash;تصویر: وکی پیڈیا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>امیر دوست محمد خان—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>رنجیت سنگھ والی پریشانی سے ابھی تالپوروں نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ شاہ شجاع نے پھلیلی کے کنارے آکر شامیانے لگائے۔ اس دلچسپ ذکر سے پہلے ہم شاہ شجاع کے متعلق کچھ اور بات بھی کریں گے کیونکہ یہ آنے والے وقتوں 1834ء میں افغانستان کا پھر سے بادشاہ بننے والا ہے۔</p>
<p>رنجیت سنگھ کی قید سے شاہ شجاع کا چھپ کر بھاگنا، فیروز پور سے لدھیانہ پہنچنا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں گوری سرکار کی اندرونی مدد شامل تھی۔ کمپنی سرکار دکھاوے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی مگر اندرونی طور پر وہ دیے گئے روڈ میپ پر ہی عمل کرتی تھی۔</p>
<p>انگریز آج میں بیٹھ کر 100 برس آگے کی سوچ رکھنے والا جتھا تھا۔ اس لیے اس خطے میں آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا تھا، اس کے لیے کمپنی سرکار نے  سیاسی شطرنج کی بساط بچھا دی تھی اور اس پر وقت کے ساتھ مہرے جمانے کا وقت تھا جس میں شاہ شجاع ایک اہم مہرا تھا۔</p>
<p>تخت و تاج کی بھی عجیب دیوانگی ہے جس نے بھی اس کی حاکمیت اور غرور کا ذائقہ چکھا، وہ اپنی آخری سانس تک اس دیوانگی میں مبتلا رہتا ہے اور یہاں اتفاق یہ ہوا کہ شاہ شجاع کی دیوانگی کو حیات دینے کے لیے سندھ کے وسائل کی آمدنی نے مدد کی یا زبردستی یہ مدد لی گئی۔</p>
<p>1820ء میں جب پیسے کم پڑنے لگے تو شاہ شجاع، درگاہ شہباز قلندر پر حاضری دینے کے بہانے پہنچ جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ سیہون تک آئے ہیں تو حیدرآباد کتنا دور ہے! اور حیدرآباد آ نکلتے ہیں۔</p>
<p>آنے سے پہلے سیاسی حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ آج کل میں خراسان کے سرداروں، سردار محمد عظیم خان اور سردار دوست محمد خان نے اپنے بھائیوں کے ساتھ شاہ شجاع کو حکومت دینے کا سوچ رہے ہیں۔ اس لیے شاہ شجاع جیسے ہی حیدرآباد دریائے سندھ کے پھلیلی بہاؤ کے کنارے شامیانے لگاتے ہیں، میر صاحبان اس کی خدمت میں جٹ جاتے ہیں کہ کسی حوالے سے کوئی کمی نہ رہ جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021304386ae35e7.webp'  alt='   شاہ شجاع اور  میر سہراب خان&mdash; تصویر: بشکریہ &rsquo;تاریخ تازہ نواء معارک&lsquo;   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہ شجاع اور  میر سہراب خان— تصویر: بشکریہ ’تاریخ تازہ نواء معارک‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>تالپوروں نے اپنے اندر چھپے ہوئے اس خوف اور ڈر کا کبھی تدارک نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ خود تو پریشان رہتے ہی تھے اور اس بے خبری کی وجہ سے سندھ کی سرحدیں سکڑنے لگی تھیں۔ شاہ شجاع میروں سے ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا کہ ’میر اور وہ ایک طاقت ہوں گے۔ جب بھی اس پر مشکل وقت آئے گا تو میر فوری مدد کریں گے’۔ حیدرآباد کے میر تو یہ معاہدہ کرنے پر آمادہ تھے مگر خیرپور کے میروں میں سے میر سہراب خان نے اس کی شدید مخالف کی اور یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔</p>
<p>یہ یقیناً، شاہ شجاع کے لیے مایوس کُن صورت حال تھی۔ ایسی صورت حال میں انہیں دو برس تک شکارپور میں ہی رہنا پڑا۔ اور فوج و جنگی سامان تیار کرنے میں مصروف رہا۔ شکارپور کے ’ہزاری دروازے‘ کے باہر، ہفتے میں دو بار فوجی پریڈ ہوتی تھی اور توپیں چلائی جاتی تھیں تاکہ خوف کا ماحول بنا رہے۔ خراسان کا بھگوڑا بادشاہ جس کے پاس تخت تھا، نہ تاج مگر وہ خوف کی آندھیوں کو تخلیق کرنے کا ماہر تھا اور اس خوف سے ہی اس کی عیاشیاں پوری ہوتیں اور شاندار خوراک سے اپنا شکم بھرتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213044556dd734.webp'  alt='   شکارپور 20ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں&mdash;تصویر: بشکریہ عامر عباس سومرو   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شکارپور 20ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں—تصویر: بشکریہ عامر عباس سومرو</figcaption>
    </figure></p>
<p>میر صاحبان نے اس صورت حال سے بیزار ہوکر اس مصیبت سے جان چھڑوانے کے لیے دوسری مصیبت اپنے گلے میں خوشی خوشی ڈال لی۔ انہوں نے خراسان کے بادشاہ ’سردار محمد عظیم خان‘ کی طرف اپنے ایلچی سید کاظم علی شاہ کو ایک خط کے ساتھ بھیجا۔</p>
<p>خط کا آخری جملہ کچھ اس طرح تحریر تھا، ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ اپنی فوج سمیت شکارپور آجائیں تو ہم دونوں مل کر اس شاہ شجاع سے جان چھڑائیں اور اسے اس طرف بھگادیں جس طرف سے وہ  آیا ہے۔ آپ کو راہ کے خرچہ کے علاوہ خراج بھی دیا جائے گا جس کی آپ بالکل بھی کوئی پریشانی نہ لیں’۔</p>
<p>سفیر کو خراسان بھیجنے والی بات، شاہ شجاع کو اچھی نہیں لگی کیونکہ خط ملتے ہی سردار عظیم خان نکل پڑا تھا۔ یہ 1821ء تھا اور شاہ شجاع، جیسلمیر کے راستے سے لدھیانہ چلا گیا۔ مگر شکارپور کے نصیب میں سکھ لکھا ہی نہیں تھا۔ وہ گیا تو شاہی باغ میں آکر سردار عظیم نے شامیانے لگائے۔</p>
<p>وہی تھکان اتارنے کے لیے مطربوں کی شیریں آوازیں فضا میں گھلنے لگیں۔ تھکان اتری تو خراج لے کر سردار جیکب آباد اور سبی کے راستے سے خراسان روانہ ہوا۔ روانگی سے پہلے شکارپور میں ’سردار شیر خان‘ کو اپنی طرف سے گورنر مقرر کیا۔</p>
<p>فی الوقت تو شاہ شجاع لدھیانہ چلا گیا ہے مگر وہ ایک بار پھر 1832ء میں سندھ کے امیروں سے، اسے شکارپور سے بھگانے کا بدلہ لینے ضرور آئے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130451c015837.webp'  alt='   کابل کے قلعہ سے کابل شہر کا نظارہ&mdash; ایک اسکیچ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کابل کے قلعہ سے کابل شہر کا نظارہ— ایک اسکیچ</figcaption>
    </figure></p>
<p>اب ہم آ پہنچے ہیں کمپنی سرکار اور سندھ کے امیروں کے درمیان تیسرے معاہدے کرنے کے دنوں میں۔ چیتن لال ماڑیوالا ہمیں بتاتے ہیں، ’ان برسوں میں ننگرپارکر  ڈاکوؤں کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہاں کے کھوسے ان دنوں اس حوالے سے بہت مشہور تھے۔ جو کَچھ بھُج اور اطراف کی آبادیوں کو لوٹتے پھرتے تھے جس کی وجہ سے انگریز سرکار نے ان کے خلاف کارروائیاں کرنا شروع کر دی تھیں اور کَچھ کی سرحد پر اپنی چوکیاں قائم کرنا شروع کر دی تھیں۔</p>
<p>’ان ڈکیتیوں کے حوالے سے کمپنی سرکار اور سندھ سرکار میں بات چیت بھی ہوتی رہتی تھی۔ آخر تالپوروں نے اپنی فوج ننگر پارکر سے آگے سرحد پر بھیجی کہ وہ کھوسوں کی کارروائیوں کو روک سکے۔ مگر پھر کچھ غلط فہمیوں کی بنیاد پر لیفٹیننٹ کرنل برکلی نے یہ محسوس کیا کہ تالپوروں کی فوج کھوسوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کی مدد کرنے آئی ہے۔</p>
<p>بہرحال ایک رات کرنل برکلی نے کھوسوں کے جتھے پر حملہ کیا جس میں سندھ حکومت کے کچھ سپاہی بھی مارے گئے جس کی وجہ سے سندھ کے سپاہی واپس حیدرآباد لوٹے اور سندھ کے حکمرانوں نے کمپنی سرکار سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی سرکار نے سرحد پار کرکے ہمارے لوگوں پر حملہ کیا ہے جو کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130518b325e48.webp'  alt='   ننگرپارکر میں جین دھرم کا مندر&mdash;تصویر: لکھاری   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ننگرپارکر میں جین دھرم کا مندر—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>کرنل برکلی کے حملے کا بدلہ لینے کے لیے سندھ کے حکمرانوں نے ایک طاقتور فوج کا جتھا روانہ کیا جس نے کَچھ کی سرحد میں داخل ہو کر بھج سے 50 کوس دور ایک بستی لونا پر حملہ کیا اور اطراف میں جو چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں، ان کو بھی لوٹ لیا۔ کمپنی سرکار تک یہ خبر پہنچی کہ سندھ نے کَچھ پر حملہ کر دیا ہے۔ اس کے بدلے کے لیے بٹالین بھیجی گئی مگر تالپوروں کی بھیجی گئی فوج واپس سندھ لوٹ آئی۔</p>
<p>کمپنی سرکار نے اس حرکت کا  تاوان طلب کیا اور ساتھ میں یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تاوان نہ دیا گیا تو فوج کی پوری ڈویژن سندھ کی طرف بھیجی جائے گی۔ سندھ کے حکمرانوں نے کہا زیادتی کمپنی سرکار کی طرف سے ہوئی ہے اور بات چیت کے لیے دو وفد ایک بُھج اور دوسرا بمبئی بھیجا۔ ان کے درمیان بات چیت باتوں تک ہی محدود رہی، مسئلے نے زیادہ طُول نہیں پکڑا۔ مگر یہ ضرور ہوا کہ کمپنی سرکار نے کہا کہ اب نیا معاہدہ ہوگا اس لیے ہم اپنا وفد سندھ بھیج رہے ہیں۔</p>
<p>انگریز سرکار کا وفد جس میں کیپٹن سیڈلیئر  (Captain Sadlier)، ڈبلیو سائمن (Mr. W. Simon)، ڈاکٹر ہال (Dr. Hall) اور میجر ووڈ ہاؤس (Mejor Woodhouse) شامل تھے، کَچھ کے راستے سے سندھ میں داخل ہوئے۔ سرحد پر تالپوروں کے نمائندوں نے ان کا شاندار استقبال کیا جبکہ وفد بھی حاکموں کے لیے تحفے تحائف لایا تھا جو کہ سفارتکاری کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>بات چیت کے بعد 9 نومبر 1820ء کو تیسرا عہدنامہ تحریر کی صورت میں آیا جو کُچھ اس طرح تھا۔</p>
<ul>
<li>انگریز سرکار، میر کرم علی خان اور میر مراد علی خان کے درمیان
دوستی کا رشتہ ہمیشہ کی طرح قائم رہے گا۔</li>
<li>دونوں حکومتوں کے درمیان وکلا کا تقرر بحال رکھا جائے گا۔</li>
<li>سندھ کے امیر اپنے ملک میں (انگریزوں کے سوا) کسی بھی اہلِ یورپ اور اہل
امریکا کو رہائش کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی کسی وجہ سے
کچھ دن یہاں عارضی رہنا چاہے، کسی نیک مقصد کے لیے تو اس کی اجازت
ہوگی۔دوسری صورت میں اگر وہ مجرم نکلا تو جہاں وہ قیام پذیر ہے، وہاں کی
حکومت کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے پکڑ کر سزا دے اور پھر جلا وطن کر دے۔</li>
<li>اس کے علاوہ ننگر پارکر کے کھوسوں پر تالپور حکمران سخت نگرانی رکھے گی
جو لوٹ مار کرتے پھرتے ہیں اور ان کو سختی سے روکے گی کہ وہ کمپنی حکومت
کی سرحدوں میں جا کر کوئی لوٹ مار نہیں کریں گے۔</li>
</ul>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021304227820a7a.webp'  alt='    سندھ کا سفیر آغا اسمعٰیل شاہ &mdash; تصویر: بشکریہ &rsquo;تاریخ تازہ نواء معارک&lsquo;    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سندھ کا سفیر آغا اسمعٰیل شاہ — تصویر: بشکریہ ’تاریخ تازہ نواء معارک‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>جب میجر اسکین بات چیت اور معاہدے کے بعد وفد کے ساتھ بمبئی کے لیے روانہ ہوا تو ساتھ میں سندھ کے آغا اسمعٰیل شاہ بھی سندھ کے نمائندے کے طور پر موجود تھے کیونکہ سندھ کے امیروں کی طرف سے آغا کو باوقت ضرورت بات کرنے کے اختیار دیے گئے تھے۔ بمبئی پہنچنے کے بعد آغا نے بمبئی کے گورنر کو معاہدے کی تحریر کے کاغذات پیش کیے جن کی مرکزی حکومت کی طرف سے 10 فروری 1821ء کو مہر لگا کر تصدیق کی۔</p>
<p>اس معاہدے کے بعد سندھ اور بمبئی کے درمیان بیوپار یا سفر کے دوران جو تکالیف تھیں وہ فی الوقت ختم ہوگئیں اور بیوپار میں مثبت پڑھوتری ہوئی۔ لیکن یہ سب وقتی تھا۔ ننگر پارکر کے کھوسے ڈاکے ڈالنے کی روش زیادہ عرصے تک ترک نہ کر سکے۔ میں آپ کو کھوسہ جو بلوچ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بلوچستان سے یہاں ننگرپارکر کیسے پہنچے اس پہیلی کو سلجھانے کے لیے چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں۔</p>
<p>سلطان محمود غزنوی نے 1030ء میں وفات پائی جس سے 6 برس پہلے یعنی 1024ء میں اس نے سومناتھ کے مندر پر حملہ کیا۔ اس وقت بھی موجودہ کَچھ جو رن کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ سمندر کی یہاں حکمرانی تھی۔ غزنوی سومناتھ پر حملہ کرنے کے بعد واپسی پر جب ننگر پارکر پہنچا اور  پہاڑیوں کے دامن میں ایک تالاب کو دیکھا جسے مقامی لوگ بھوڈیسر تالاب کے نام سے پکارتے تھے۔</p>
<p>یہ تالاب اب بھی ہے اور خوبصورت بھی ہے۔ وہ اس بھوڈیسر تالاب کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر دو دن تک یہاں رہا۔ اس کے 202 برس کے بعد یعنی 1226ء میں ایک زلزلے کی وجہ سے زمین اتھل پُتھل ہوئی، سمندر والی زمین اوپر آنے کی وجہ سے سمندر پیچھے چلا گیا اور اسی طرح رن آف کَچھ وجود میں آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021305241255116.webp'  alt='   کچھ جو رن&mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کچھ جو رن—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213051114604ac.webp'  alt='   کچھ جو رن&mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کچھ جو رن—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ننگر پارکر میں محمود شاہ بیگڑہ اور یہاں کے سوڈھوں کے درمیان جنگ بھی اس قدیم تالاب کے کنارے پر لگی تھی۔ گجرات کے پہلے مسلمان حاکم مظفر شاہ کو اس کے پوتے احمد شاہ نے 1410ء میں زہر دے کر مار ڈالا اور وہ تخت پر بیٹھ کر گجرات کا حاکم بنا۔ ’احمد آباد‘ شہر کی بنیاد اس نے رکھی۔</p>
<p>اس کے بعد اس کا بیٹا ’محمود شاہ‘ تخت پر بیٹھا (حکومت 1458ء سے 1511ء) جو ’بیگڑہ‘ کے لقب سے مشہور ہوا۔ اس لفظ کے متعلق بہت ساری باتیں تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں۔ اس کو ’بیگڑہ‘ اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے راجپوتوں کے دو قلعے ’گرنار‘ اور ’پاوا گڈھ‘ ساتھ جیتے تھے اس لیے دو قلعوں کو جیتنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ ’جہانگیر‘ اپنی توزک میں لکھتا ہے کہ ’اہل گجرات زبان میں بیگڑہ خمدار موچھوں کو کہتے ہیں’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02130532859c138.webp'  alt='   محمود بیگڑہ کا مزار، سرکھیج احمد آباد گجرات&mdash;تصویر: وکی پیڈیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>محمود بیگڑہ کا مزار، سرکھیج احمد آباد گجرات—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>محمود شاہ جب گجرات کے حاکم تھے، اس وقت سندھ پر سمہ سرداروں کی حکومت (1350ء سے 1520ء)  تھی، سمہ حکمرانوں کو گجرات کی طرف سے ہمیشہ حملہ کا ایک ڈر لگا رہتا تھا۔ اس ڈر کی وجہ سے انہوں نے بلوچوں کے 4 ہزار کے قریب خاندانوں کو ننگرپارکر میں بسایا تھا۔ ان کا زیادہ گزر بسر کا ذریعہ مال مویشی تھے۔ وہ بارشوں کے موسم میں مویشی چرانے رادھن پور اور پالن پور تک چلے جاتے تھے اور ضرورت پڑنے پر وہ بیوپاری قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے۔</p>
<p>پھر مقامی سوڈھے اور بلوچ مل کر یہ لوٹ مار کرتے مگر پھر یہ لوٹ مار اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ احمد آباد اور پارکر کے بیچ میں بیوپاری قافلوں کی آمدورفت بند ہوگئی۔ تب ان شکایات کو سامنے رکھ کر سلطان محمود نے ملک جلال الدین کو ’کوتوال‘ مقرر کیا جس نے پارکر پر حملہ کرکے 500 کے قریب ڈاکوؤں کو پکڑ لیا اور پھانسی پر چڑھا دیا۔ اس عمل نے ان پر الٹا اثر کیا اور انہوں نے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو اور تیز کر دیا جس کی وجہ سے حالات ملک جلال الدین کے قابو سے باہر ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0213054714f3714.webp'  alt='   بھوڈیسر تالاب، ننگرپارکر&mdash;تصویر: لکھاری   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بھوڈیسر تالاب، ننگرپارکر—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>آخر حالات اتنے بگڑے کہ 1504ء میں اپنے زبردست توپ خانے کے ساتھ شاہ محمود نے پارکر پر حملہ کیا۔ مقامی بلوچوں اور سوڈھوں کا 24 ہزار کا لشکر تھا مگر توپ خانے کی وجہ سے ان میں ڈر بیٹھ گیا اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور بیگڑہ نے پارکر پر قبضہ کرلیا۔ مگر یہ لوٹ مار بند نہ ہو سکی۔</p>
<p>پھر تیسری بار 1505ء میں محمود شاہ نے پارکر بھوڈیسر پر حملہ کیا اور ایک خونی معرکہ ہوا جس میں کئی سلطان کے لوگ اور مقامی سوڈھوں کا خون بہا۔ مگر کچھ وقت کے بعد سوڈھوں اور کھوسوں نے پھر سے لوٹ مار شروع کردی۔ یہاں تک کہ بات جو سمہ سرکار سے چلی تھی وہ کمپنی سرکار تک آ پہنچی۔</p>
<p>یہ لہو کی لکیر جو سمہ دور سے شروع ہوئی تھیں، وہ 19ویں صدی تک آ پہنچی تھی۔ یہ اور دیگر ایسی پریشانیاں سندھ کے امیروں کے لیے اپنے پر تول رہی تھیں۔ گوری سرکار کی پارلیمنٹ اجلاسوں میں دھینگا مشتی زوروں پر تھی۔</p>
<p>ہندوستان کے لیے جو نیا گورنر جنرل آتا وہ نئی ہدایات لے کر آتا، اس لیے پہلے والے گورنر جنرل کی پالیسیز کو ایک طرف رکھ کر وہ اپنے تجربات اور سوچ کے مطابق نئی پالیسیز لاگو کرتا اور ہندوستان میں پہلے گورنر جنرل والا منظرنامہ تبدیل ہونے لگتا۔</p>
<p>خیر ہم تو محض دیکھنے اور سننے والوں میں شامل ہیں۔ جلد ہی لوٹتے ہیں وقت کی گزری ان پگڈنڈیوں کی ٹیڑھی گزارگاہوں پر۔</p>
<h1><a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حوالہ جات</h1>
<ul>
<li>British Policy towards Sindh. C.L. Marriwalla. 1947</li>
<li>’مہاراجا رنجیت سنگھ‘۔ پروفیسر سیتارام کوہلی۔ سنگ میل پبلیکیشنز،
لاہور۔</li>
<li>’تاریخ سندھ تالپور دور‘۔ مرزا عباس علی بیگ۔ تالپور پبلیکیشن، لطیف
آباد حیدرآباد</li>
<li>’تاریخ تازہ نواء معارک‘۔ منشی عطا محمد شکارپوری۔سندھی ادبی بورڈ،
حیدرآباد</li>
<li>’نگری نگری پھرا مُسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور</li>
<li>’تاریخ گُجرات‘۔ پروفیسر سید ابو ظفر ندوی۔ ندوۃ المصنفین، دہلی</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270623</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 14:02:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0213120520bd92a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0213120520bd92a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بھٹو صاحب کو جب تک بلوچستان آپریشن کی غلطی کا احساس ہوا، بہت دیر ہوچکی تھی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270545/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان مسئلے کے خصوصی سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/balochistanmasla"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;حیدر آباد ٹربیونل کے مقدمے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر جج صاحبان ابھی اپنی نشستوں بیٹھے ہی تھے کہ کالعدم قرار دی جانے والی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے سربراہ خان عبدالولی خان کی رگ ظرافت پھڑکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے عبدالولی خان نے کہا ’یہ تو سیدھا اور صاف حساب کا سوال ہے، ایک سال میں صرف 5 گواہ بھگتائے گئے ہیں۔ جس رفتار سے یہ مقدمہ چل رہا ہے اس میں تو 200 یا 300 سال تو لگ ہی جائیں گے کیونکہ حکومت کے گواہوں کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔ اتنے ہی گواہ ہماری طرف سے آئیں گے یوں 30 یا 40 سال بحث میں لگ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آپ ایسا کریں کہ بھٹو صاحب سے کہیں کہ آبِ حیات لاکر خود بھی پئیں، ججز کو بھی پلائیں اور ہمیں بھی۔۔۔ تاکہ جب فیصلہ آئے تو ہم سب زندہ ہوں‘۔ عبدالولی خان کی اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0211012861cc14f.webp'  alt='  غوث بخش بزنجو اور عبدالولی خان آپس میں خوشگوار گفتگو کررہے ہیں جبکہ ان کے عقب میں قسور گردیزی موجود ہیں&amp;mdash;تصویر فیس بک  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غوث بخش بزنجو اور عبدالولی خان آپس میں خوشگوار گفتگو کررہے ہیں جبکہ ان کے عقب میں قسور گردیزی موجود ہیں—تصویر فیس بک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے پاکستان کی 78 سال تاریخ سازشوں سے بھرپور ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن پر غداری اور ملک دشمنی کے مقدمے چلے اور مرکزی ملزمان کو طویل قید و بند کی سزائیں دی گئیں بعد میں وہ رہا ہوکر سرکاری عہدوں اور اعزازات سے بھی نوازے گئے جبکہ تاریخ کا جبر دیکھیں کہ ان پر مقدمہ چلانے والے حکمران بدنامی اور رسوائی کے ساتھ اقتدار سے نکالے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھڑوں کا چھتہ ہے۔ بلوچستان مسئلہ کیا ہے کی گرہیں کھولنے بیٹھا، ابھی حیدرآباد سازش کیس پر پہنچا ہی تھا تو پاکستان بننے کے محض تین سال بعد مارچ 1951ء کا پنڈی سازش کیس یاد آگیا جس میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ کشمیر جنگ میں لڑنے والے 17 فوجی افسران کے ساتھ مل کر ایک ایسی سازش کررہی تھی کہ جس میں اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا تختہ الٹ کر کیمونسٹ نواز حکومت کو لانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260264"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنڈی سازش کیس بھی حیدرآباد جیل میں چلا جس کے ملزمان جنرل اکبر خان اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد سمیت باقی ملزمان کو 5 سے 6 سال کی سزائیں بھگتنا پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیض احمد فیض کی شہرت تو پنڈی سازش کیس سے پہلے ہی ملکی سرحدوں سے باہر نکل چکی تھی۔ انہیں روس سے لینن امن ایوارڈ ملا اور پھر وہ ایوب خان کے دور میں سرکاری قومی ثقافتی ادارے کے سربراہ بھی بنے۔ جنرل اکبر خان نے رہائی کے بعد دہائی سے زائد عرصہ گوشہ عافیت میں گزارا اور پھر جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو انہیں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مشیر قومی سلامتی بننے کا اعزاز ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنڈی سازش کیس کے اصل آرکیٹیکٹ جنرل محمد ایوب خان ہی تھے۔ پاکستان میں لنگڑی لولی جمہوریت کو لپیٹ کر اکتوبر 1958ء میں پہلا مارشل لا لگا کر مکمل اقتدار کے مالک بن گئے۔ اکتوبر 1968ء میں اپنے اقتدار کا 10 سالہ جشن منا رہے تھے تو مشرقی اور مغربی بازو میں ایسی عوامی تحریک چلی کہ بستر سے جا لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوب خان کے اے ڈی سی نے اپنی یادداشتوں میں ان کے آخری دنوں کے بارے میں لکھا ہے کہ کراچی کے میٹروپول ہوٹل میں سرکاری تقریب تھی جہاں انہوں نے صدارتی کلمات کہے۔ ایوان صدر واپس لوٹے تو دل کا دورہ پڑ چکا تھا۔ جانشینی کے لیے جنرل یحییٰ خان کو پہنچنے میں گھنٹہ بھی نہیں لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سقوط ڈھاکا کے بعد جنرل یحییٰ کو بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1970ء کے الیکشن کے نتائج کو بوٹوں سے روندنے والے یحییٰ خان خود اپنے ہی جرنیلوں کے ہاتھوں اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ آخری دن قید تنہائی میں گزارے۔ باہر نکلتے تو ایک ہجوم ان کا پیچھا کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرتلہ سازش کیس اگر حقیقت تھا بھی تو بپھرے ہوئے بنگالیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا، مقدمے کو چلانے والے چیف جسٹس کو ڈھاکا کی سڑکوں پر پیدل فرار ہونا پڑا۔ اور ہاں یہ بھی المیہ ہے کہ کروڑوں بنگالیوں پر راج کرنے والے بنگلا بندھو شیخ مجیب الرحمٰن جب آمریت کے راستے پر چلے تو مٹھی بھر فوجیوں نے دھان منڈی میں خاندان سمیت قتل کردیا اور 48 گھنٹے ان کی لاش اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کچھے پاکستان میں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان میں اقتدار ملا انہیں یقیناً اس بات کا موقع ملا تھا کہ ایک نئے دور کا آغاز کرتے۔ بھارتی قید میں 90 ہزار فوجیوں کی واپسی شملہ معاہدہ، اسلامی سربراہی کانفرنس اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے جیسے کارناموں کے سبب بھٹو اگر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی جذبے پر قابو پا جاتے تو یقیناً اپنے اقتدار کی مدت پوری کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال نہیں ہوا تھا کہ اپنے نظریاتی ساتھی معراج محمد خان، جے رحیم، مختار رانا، تالپور برادارن، مبشر حسن حتیٰ کہ مصطفیٰ اور حنیف رامے تک کے خلاف انہوں نے محاذ کھول دیا۔ بھٹو کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کی تحریک یقیناً ایک مقبول تحریک تھی جس میں دائیں بائیں سب ہی ان کے خلاف ڈٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021050322015c09.webp'  alt='  ذوالفقار علی بھٹو، پی این اے کے رہنماؤں کے ہمراہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ذوالفقار علی بھٹو، پی این اے کے رہنماؤں کے ہمراہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 1977ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار ختم ہوا اور اپریل 1979ء میں انہیں پھانسی ہوئی تو ہمالیہ نہیں رویا۔ بھٹو کو پھانسی دینے والے اور 10 سال تک اقتدار کے مالک بننے والے جنرل ضیا الحق کی موت بھی کیسے ہوئی، سب جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لیجیے ایک بار پھر میں اپنے بھٹکنے کا اعتراف کرتا ہوں۔ بلوچسستان مسئلہ کیا ہے کی تاریخ میں جاتے ہوئے حیدرآباد سازش کیس پر آجاتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت کو ختم کرنے پر محض بھٹو کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ نیپ کے قائد خان عبدالولی خان نے ذوالفقار بھٹو کا اقتدار کبھی تسلیم نہیں کیا تھا جس کے نتیجے میں پشاور کنوینشن میں نیپ نے بھٹو حکومت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کے خاتمے کے باوجود نیپ سیاسی محاذ پر معروف اصطلاح میں کھلی سیاست کررہی تھی مگر حیات محمد خان شیر پاؤ کے قتل کے بعد بھٹو کا نیپ پر پابندی لگانے کے فیصلے اور پھر حیدرآباد ٹربیونل کا قیام ایک ایسا قدم تھا کہ جس کے بعد اسلام آباد میں حکمرانی کے خلاف دو صوبوں یعنی بلوچستان اور صوبہ سرحد میں ایک ایسی لڑائی کا آغاز ہوا کہ جس کا اختتام بھٹو کی حکومت کے خاتمے پر ہی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ ایک مثالی منظرنامہ تھا۔ جنرل ضیاالحق کا اقتدار میں آنا بڑی سوچی سمجھی سازش تھی جس کی بنیاد ذوالفقار بھٹو کے مارچ 1977ء کے انتخابات سے قبل ہی رکھ دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود ذوالفقار بھٹو نے اپنی کتاب ‘اگر میں قتل کردیا گیا’ میں اعتراف کیا ہے کہ انتخابات کے اعلان کے اگلے دن ہی ان کے وزیر رفیع رضا ان سے ملنے آئے۔ وہ اس وقت ان کے خوف سے سفید ہورہا تھا۔ رفیع رضا کو امریکا کا خاص آدمی سمجھا جاتا تھا، انہوں نے بھٹو  سے کہا کہ آپ الیکشن ملتوی کردیں۔ انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے جس پر رفیع رضا نے کہا کہ ’اس الیکشن کے نتیجے میں آپ کو ایک خوفناک انجام سے گزرنا پڑے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اس وقت پی این اے تحریک میں امریکی کردار کا ذکر نہیں کروں گا کہ اس پر کئی تصانیف میں کہی ان کہی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ بانی پاکستان کے بعد پاکستان کے سب سے سحر انگیز سیاستدان اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنے کے بعد کتنے بے بس ہوچکے تھے، اس کا ذکر میں اس سلسلے کے اپنے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1267162/"&gt;چوتھے بلاگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں کرچکا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل ضیا الحق کا وزیراعظم بھٹو سے یہ کہنا کہ اسداللہ مینگل کے واقعے کو اپنے ذہن سے کھرچ دیں، کتنی دلیرانہ تنبیہ تھی۔ نیپ کی حکومت کے خاتمے اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنے پر غلطی یا شرمندگی کا احساس اس وقت بھٹو کو ہوا جب بہت دیر ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c22f9c00efa.jpg'  alt='  پاکستان کے سحر انگیز سیاستدان ذوالفقار بھٹو اپنی اقتدار کی مدت پوری کرنے میں بےبس ہوچکے تھے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان کے سحر انگیز سیاستدان ذوالفقار بھٹو اپنی اقتدار کی مدت پوری کرنے میں بےبس ہوچکے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے قریبی مشیر اور مارکسسٹ بی ایم کٹی نے اپنی کتاب ‘60 ایئرز ان سیلف ایگزائل’ میں ذوالفقار بھٹو کے ساتھ اپنی ایک سے زائد ملاقاتوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ بی ایم کٹی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس سے قبل وزیراعظم بھٹو کے سیکریٹری افضل سعید خان نے انہیں فوری طور پر لاہور پہنچنے کا حکم دیا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس کے سبب لاہور میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات تھے۔ لاہور میں غلام مصطفیٰ کھر کی گلبرگ کی کوٹھی میں بی ایم کٹی کی ذوالفقار بھٹو سے ملاقات ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم کٹی کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ وزیراعظم نے کہا کہ میں فوری طور پر میانوالی جیل میں میر غوث بخش بزنجو سے ملوں اور انہیں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02104743cbd762b.webp'  alt='  ذوالفقار علی بھٹو میر غوث بزنجو سے گفتگو کرتے ہوئے&amp;mdash;تصویر: وکی میڈیا کامنز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ذوالفقار علی بھٹو میر غوث بزنجو سے گفتگو کرتے ہوئے—تصویر: وکی میڈیا کامنز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم کٹی نے میرغوث بزنجو سے اپنی ملاقات اور پھر اس کے بعد کم و بیش 4 ملاقاتوں میں بھٹو کی جانب سے پیش کی جانے والی مفاہمت کی جو تفصیلات لکھی ہیں، اسے ایک الگ باب میں سمیٹنا پڑے گا جسے میں آئندہ کے لیے چھوڑتا ہوں کیونکہ بھٹو کی میرغوث بخش بزنجو کے ذریعے بات چیت اور سمجھوتا کوئی آسان بات نہیں تھی جبکہ اس وقت تک بلوچ اور پشتون قیادت ایک دوسرے سے بہت دور جا چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر جنرل ضیاالحق کا کردار دیکھیں کہ وہ خود پس پردہ حیدرآباد جیل میں عبدالولی خان سمیت نیپ کی قیادت سے رابطہ قائم کرکے یہ پیغام پہنچا چکے تھے کہ فوج حیدرآباد ٹربیونل کو ختم کرنے اور نیپ قیادت کی رہائی میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;(جاری ہے)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان مسئلے کے خصوصی سلسلے کی گزشتہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/balochistanmasla">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>حیدر آباد ٹربیونل کے مقدمے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر جج صاحبان ابھی اپنی نشستوں بیٹھے ہی تھے کہ کالعدم قرار دی جانے والی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے سربراہ خان عبدالولی خان کی رگ ظرافت پھڑکی۔</p>
<p>جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے عبدالولی خان نے کہا ’یہ تو سیدھا اور صاف حساب کا سوال ہے، ایک سال میں صرف 5 گواہ بھگتائے گئے ہیں۔ جس رفتار سے یہ مقدمہ چل رہا ہے اس میں تو 200 یا 300 سال تو لگ ہی جائیں گے کیونکہ حکومت کے گواہوں کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔ اتنے ہی گواہ ہماری طرف سے آئیں گے یوں 30 یا 40 سال بحث میں لگ جائیں گے۔</p>
<p>’آپ ایسا کریں کہ بھٹو صاحب سے کہیں کہ آبِ حیات لاکر خود بھی پئیں، ججز کو بھی پلائیں اور ہمیں بھی۔۔۔ تاکہ جب فیصلہ آئے تو ہم سب زندہ ہوں‘۔ عبدالولی خان کی اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/0211012861cc14f.webp'  alt='  غوث بخش بزنجو اور عبدالولی خان آپس میں خوشگوار گفتگو کررہے ہیں جبکہ ان کے عقب میں قسور گردیزی موجود ہیں&mdash;تصویر فیس بک  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غوث بخش بزنجو اور عبدالولی خان آپس میں خوشگوار گفتگو کررہے ہیں جبکہ ان کے عقب میں قسور گردیزی موجود ہیں—تصویر فیس بک</figcaption>
    </figure></p>
<p>بدقسمتی سے پاکستان کی 78 سال تاریخ سازشوں سے بھرپور ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن پر غداری اور ملک دشمنی کے مقدمے چلے اور مرکزی ملزمان کو طویل قید و بند کی سزائیں دی گئیں بعد میں وہ رہا ہوکر سرکاری عہدوں اور اعزازات سے بھی نوازے گئے جبکہ تاریخ کا جبر دیکھیں کہ ان پر مقدمہ چلانے والے حکمران بدنامی اور رسوائی کے ساتھ اقتدار سے نکالے گئے۔</p>
<p>تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھڑوں کا چھتہ ہے۔ بلوچستان مسئلہ کیا ہے کی گرہیں کھولنے بیٹھا، ابھی حیدرآباد سازش کیس پر پہنچا ہی تھا تو پاکستان بننے کے محض تین سال بعد مارچ 1951ء کا پنڈی سازش کیس یاد آگیا جس میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ کشمیر جنگ میں لڑنے والے 17 فوجی افسران کے ساتھ مل کر ایک ایسی سازش کررہی تھی کہ جس میں اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا تختہ الٹ کر کیمونسٹ نواز حکومت کو لانا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260264"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پنڈی سازش کیس بھی حیدرآباد جیل میں چلا جس کے ملزمان جنرل اکبر خان اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد سمیت باقی ملزمان کو 5 سے 6 سال کی سزائیں بھگتنا پڑیں۔</p>
<p>فیض احمد فیض کی شہرت تو پنڈی سازش کیس سے پہلے ہی ملکی سرحدوں سے باہر نکل چکی تھی۔ انہیں روس سے لینن امن ایوارڈ ملا اور پھر وہ ایوب خان کے دور میں سرکاری قومی ثقافتی ادارے کے سربراہ بھی بنے۔ جنرل اکبر خان نے رہائی کے بعد دہائی سے زائد عرصہ گوشہ عافیت میں گزارا اور پھر جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو انہیں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مشیر قومی سلامتی بننے کا اعزاز ملا۔</p>
<p>پنڈی سازش کیس کے اصل آرکیٹیکٹ جنرل محمد ایوب خان ہی تھے۔ پاکستان میں لنگڑی لولی جمہوریت کو لپیٹ کر اکتوبر 1958ء میں پہلا مارشل لا لگا کر مکمل اقتدار کے مالک بن گئے۔ اکتوبر 1968ء میں اپنے اقتدار کا 10 سالہ جشن منا رہے تھے تو مشرقی اور مغربی بازو میں ایسی عوامی تحریک چلی کہ بستر سے جا لگے۔</p>
<p>ایوب خان کے اے ڈی سی نے اپنی یادداشتوں میں ان کے آخری دنوں کے بارے میں لکھا ہے کہ کراچی کے میٹروپول ہوٹل میں سرکاری تقریب تھی جہاں انہوں نے صدارتی کلمات کہے۔ ایوان صدر واپس لوٹے تو دل کا دورہ پڑ چکا تھا۔ جانشینی کے لیے جنرل یحییٰ خان کو پہنچنے میں گھنٹہ بھی نہیں لگا۔</p>
<p>سقوط ڈھاکا کے بعد جنرل یحییٰ کو بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1970ء کے الیکشن کے نتائج کو بوٹوں سے روندنے والے یحییٰ خان خود اپنے ہی جرنیلوں کے ہاتھوں اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ آخری دن قید تنہائی میں گزارے۔ باہر نکلتے تو ایک ہجوم ان کا پیچھا کرتا۔</p>
<p>اگرتلہ سازش کیس اگر حقیقت تھا بھی تو بپھرے ہوئے بنگالیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا، مقدمے کو چلانے والے چیف جسٹس کو ڈھاکا کی سڑکوں پر پیدل فرار ہونا پڑا۔ اور ہاں یہ بھی المیہ ہے کہ کروڑوں بنگالیوں پر راج کرنے والے بنگلا بندھو شیخ مجیب الرحمٰن جب آمریت کے راستے پر چلے تو مٹھی بھر فوجیوں نے دھان منڈی میں خاندان سمیت قتل کردیا اور 48 گھنٹے ان کی لاش اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔</p>
<p>بچے کچھے پاکستان میں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان میں اقتدار ملا انہیں یقیناً اس بات کا موقع ملا تھا کہ ایک نئے دور کا آغاز کرتے۔ بھارتی قید میں 90 ہزار فوجیوں کی واپسی شملہ معاہدہ، اسلامی سربراہی کانفرنس اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے جیسے کارناموں کے سبب بھٹو اگر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی جذبے پر قابو پا جاتے تو یقیناً اپنے اقتدار کی مدت پوری کرتے۔</p>
<p>سال نہیں ہوا تھا کہ اپنے نظریاتی ساتھی معراج محمد خان، جے رحیم، مختار رانا، تالپور برادارن، مبشر حسن حتیٰ کہ مصطفیٰ اور حنیف رامے تک کے خلاف انہوں نے محاذ کھول دیا۔ بھٹو کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کی تحریک یقیناً ایک مقبول تحریک تھی جس میں دائیں بائیں سب ہی ان کے خلاف ڈٹ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/021050322015c09.webp'  alt='  ذوالفقار علی بھٹو، پی این اے کے رہنماؤں کے ہمراہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ذوالفقار علی بھٹو، پی این اے کے رہنماؤں کے ہمراہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>جولائی 1977ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار ختم ہوا اور اپریل 1979ء میں انہیں پھانسی ہوئی تو ہمالیہ نہیں رویا۔ بھٹو کو پھانسی دینے والے اور 10 سال تک اقتدار کے مالک بننے والے جنرل ضیا الحق کی موت بھی کیسے ہوئی، سب جانتے ہیں۔</p>
<p>یہ لیجیے ایک بار پھر میں اپنے بھٹکنے کا اعتراف کرتا ہوں۔ بلوچسستان مسئلہ کیا ہے کی تاریخ میں جاتے ہوئے حیدرآباد سازش کیس پر آجاتا ہوں۔</p>
<p>بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت کو ختم کرنے پر محض بھٹو کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ نیپ کے قائد خان عبدالولی خان نے ذوالفقار بھٹو کا اقتدار کبھی تسلیم نہیں کیا تھا جس کے نتیجے میں پشاور کنوینشن میں نیپ نے بھٹو حکومت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>بہرحال بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کے خاتمے کے باوجود نیپ سیاسی محاذ پر معروف اصطلاح میں کھلی سیاست کررہی تھی مگر حیات محمد خان شیر پاؤ کے قتل کے بعد بھٹو کا نیپ پر پابندی لگانے کے فیصلے اور پھر حیدرآباد ٹربیونل کا قیام ایک ایسا قدم تھا کہ جس کے بعد اسلام آباد میں حکمرانی کے خلاف دو صوبوں یعنی بلوچستان اور صوبہ سرحد میں ایک ایسی لڑائی کا آغاز ہوا کہ جس کا اختتام بھٹو کی حکومت کے خاتمے پر ہی ہوا۔</p>
<p>سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ ایک مثالی منظرنامہ تھا۔ جنرل ضیاالحق کا اقتدار میں آنا بڑی سوچی سمجھی سازش تھی جس کی بنیاد ذوالفقار بھٹو کے مارچ 1977ء کے انتخابات سے قبل ہی رکھ دی گئی تھی۔</p>
<p>خود ذوالفقار بھٹو نے اپنی کتاب ‘اگر میں قتل کردیا گیا’ میں اعتراف کیا ہے کہ انتخابات کے اعلان کے اگلے دن ہی ان کے وزیر رفیع رضا ان سے ملنے آئے۔ وہ اس وقت ان کے خوف سے سفید ہورہا تھا۔ رفیع رضا کو امریکا کا خاص آدمی سمجھا جاتا تھا، انہوں نے بھٹو  سے کہا کہ آپ الیکشن ملتوی کردیں۔ انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے جس پر رفیع رضا نے کہا کہ ’اس الیکشن کے نتیجے میں آپ کو ایک خوفناک انجام سے گزرنا پڑے گا‘۔</p>
<p>میں اس وقت پی این اے تحریک میں امریکی کردار کا ذکر نہیں کروں گا کہ اس پر کئی تصانیف میں کہی ان کہی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ بانی پاکستان کے بعد پاکستان کے سب سے سحر انگیز سیاستدان اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنے کے بعد کتنے بے بس ہوچکے تھے، اس کا ذکر میں اس سلسلے کے اپنے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1267162/">چوتھے بلاگ</a></strong> میں کرچکا ہوں۔</p>
<p>جنرل ضیا الحق کا وزیراعظم بھٹو سے یہ کہنا کہ اسداللہ مینگل کے واقعے کو اپنے ذہن سے کھرچ دیں، کتنی دلیرانہ تنبیہ تھی۔ نیپ کی حکومت کے خاتمے اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنے پر غلطی یا شرمندگی کا احساس اس وقت بھٹو کو ہوا جب بہت دیر ہوچکی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c22f9c00efa.jpg'  alt='  پاکستان کے سحر انگیز سیاستدان ذوالفقار بھٹو اپنی اقتدار کی مدت پوری کرنے میں بےبس ہوچکے تھے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان کے سحر انگیز سیاستدان ذوالفقار بھٹو اپنی اقتدار کی مدت پوری کرنے میں بےبس ہوچکے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے قریبی مشیر اور مارکسسٹ بی ایم کٹی نے اپنی کتاب ‘60 ایئرز ان سیلف ایگزائل’ میں ذوالفقار بھٹو کے ساتھ اپنی ایک سے زائد ملاقاتوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ بی ایم کٹی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس سے قبل وزیراعظم بھٹو کے سیکریٹری افضل سعید خان نے انہیں فوری طور پر لاہور پہنچنے کا حکم دیا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس کے سبب لاہور میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات تھے۔ لاہور میں غلام مصطفیٰ کھر کی گلبرگ کی کوٹھی میں بی ایم کٹی کی ذوالفقار بھٹو سے ملاقات ہوئی۔</p>
<p>بی ایم کٹی کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ وزیراعظم نے کہا کہ میں فوری طور پر میانوالی جیل میں میر غوث بخش بزنجو سے ملوں اور انہیں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/02104743cbd762b.webp'  alt='  ذوالفقار علی بھٹو میر غوث بزنجو سے گفتگو کرتے ہوئے&mdash;تصویر: وکی میڈیا کامنز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ذوالفقار علی بھٹو میر غوث بزنجو سے گفتگو کرتے ہوئے—تصویر: وکی میڈیا کامنز</figcaption>
    </figure></p>
<p>بی ایم کٹی نے میرغوث بزنجو سے اپنی ملاقات اور پھر اس کے بعد کم و بیش 4 ملاقاتوں میں بھٹو کی جانب سے پیش کی جانے والی مفاہمت کی جو تفصیلات لکھی ہیں، اسے ایک الگ باب میں سمیٹنا پڑے گا جسے میں آئندہ کے لیے چھوڑتا ہوں کیونکہ بھٹو کی میرغوث بخش بزنجو کے ذریعے بات چیت اور سمجھوتا کوئی آسان بات نہیں تھی جبکہ اس وقت تک بلوچ اور پشتون قیادت ایک دوسرے سے بہت دور جا چکی تھی۔</p>
<p>پھر جنرل ضیاالحق کا کردار دیکھیں کہ وہ خود پس پردہ حیدرآباد جیل میں عبدالولی خان سمیت نیپ کی قیادت سے رابطہ قائم کرکے یہ پیغام پہنچا چکے تھے کہ فوج حیدرآباد ٹربیونل کو ختم کرنے اور نیپ قیادت کی رہائی میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔</p>
<p><strong>(جاری ہے)</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270545</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 15:02:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مجاہد بریلوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0212062326021e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0212062326021e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0212090827219a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0212090827219a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اضافی پروٹین صحت کو کس طرح نقصان پہنچا رہا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270094/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے جیسے زیادہ پروٹین کھانے کا رجحان کبھی بھی ختم نہیں ہونے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا ایسے لوگوں سے بھرا ہے جو آپ کو زیادہ پروٹین کھانے کی تلقین کرتے ہیں جبکہ پروٹین شیک جیسے سپلیمنٹس کا استعمال بھی تجویز کرتے ہیں۔ فوڈ کمپنیز نے بھی فروخت کو فروغ دینے کے لیے فوڈ پیکجز پر پروٹین کی شرح کو نمایاں کرنا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیا اضافی پروٹین ہمیں فائدہ دے رہے ہیں؟ یا یہ کہیں کہ کیا آپ بہت زیادہ پروٹین کھا سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً یہ اہم ہیں لیکن بہت سے لوگ ضرورت سے زیادہ پروٹین کھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسم کی ضرورت کے مطابق پروٹین کھانا ضروری ہے۔ یہ پٹھوں کے ٹشوز، خامروں اور ہارمونز کی تشکیل میں مدد کرتا ہے اور یہ مدافعتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ آپ کو توانائی بھی دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا میں صحت مند کھانے کے رہنما اصول جنہیں ماہرین نے ترتیب دیا ہے اور حکومت کے تعاون سے بنائے گئے ہیں، تجویز کرتے ہیں کہ ہم اپنی یومیہ توانائی کی ضروریات کا 15 سے 25 فیصد پروٹین سے حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1224957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالغ افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ مرد ہیں تو اپنے جسمانی وزن کے فی کلوگرام 0.84 گرام پروٹین اور اگر خاتون ہیں تو 0.75 گرام فی کلوگرام پروٹین کھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ ایک 90 کلو وزنی مرد کو روزانہ تقریباً 76 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اور 70 کلو وزنی عورت کو تقریباً 53 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ (یہ مقدار 70 سے زائد وزن کے بچوں یا بڑوں کے لیے زیادہ ہے)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر بالغ پہلے ہی کافی مقدار میں پروٹین کھاتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اب بھی اپنی غذا میں مزید پروٹین شامل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ وزن اٹھا کر مسلز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ زیادہ پروٹین سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں ہر روز اپنے جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 1.6 گرام تک پروٹین کھانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جس کا وزن 90 کلوگرام ہے، اسے مضبوط اور بڑے مسلز بنانے میں مدد کے لیے روزانہ تقریباً 144 گرام پروٹین کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن تحقیقات بتاتی ہیں کہ مسلز بنانے کے لیے اضافی پروٹین کھانا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے تجویز کردہ سطح سے زیادہ پروٹین کھانے کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ درحقیقت زیادہ پروٹین صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/261213009b31a90.webp'  alt='مسلز بنانے کے خواہشمند افراد زیادہ پروٹین کھا سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مسلز بنانے کے خواہشمند افراد زیادہ پروٹین کھا سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بہت-زیادہ-پروٹین-کھانے-سے-کیا-ہوتا-ہے" href="#بہت-زیادہ-پروٹین-کھانے-سے-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بہت زیادہ پروٹین کھانے سے کیا ہوتا ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ہمارے جسم میں موجود زائد پروٹین پیشاب یا فضلے کی صورت میں خارج نہیں ہوتا ہے۔ یہ جسم میں ہی رہتا ہے اور اس کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروٹین توانائی کا ذریعہ ہے تو زیادہ پروٹین کھانے کا مطلب زیادہ توانائی اپنے جسم میں لینا ہے۔ جب ہم اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی لیتے ہیں تو ہمارا جسم اس اضافی توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے فیٹی ٹیشوز میں بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ طبی حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں اضافی پروٹین لینے سے اجتناب کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گردے کی مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد کو پروٹین کھانے میں محتاط رہنا پڑتا ہے اور انہیں اپنے معالج کی تجویز پر پروٹین کھانا چاہیے تاکہ ان کے گردوں کو نقصان نہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروٹین پوائزننگ نامی ایک حالت ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب آپ بہت زیادہ پروٹین کھاتے ہیں اور جسمانی ضرورت کے مطابق چربی، کاربوہائیڈریٹس یا دیگر اہم غذائی اجزا نہیں کھاتے ہیں۔ اسے ’خرگوش فاقہ کشی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح ولہجالمر اسٹیفنسن نامی ایک ایکسپلورر سے منسلک ہے۔ اس نے دیکھا تھا کہ جو لوگ زیادہ تر خرگوش کا گوشت کھاتے تھے (جس میں چربی بہت کم ہوتی ہے) وہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد شدید بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آپ-پروٹین-کہاں-سے-لے-سکتے-ہیں" href="#آپ-پروٹین-کہاں-سے-لے-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آپ پروٹین کہاں سے لے سکتے ہیں؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ہم اپنی خوراک میں پروٹین پودوں کے ذرائع (جیسے پھلیاں، دال، اناج) اور جانوروں (جیسے انڈے، دودھ، گوشت یا مچھلی) سے حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوشت کھانے سے ملنے والے پروٹین کی زیادہ مقدار نے بوڑھے آسٹریلوی باشندوں میں قبل از وقت موت (خاص طور پر کینسر سے اموات) کے بڑھتے ہوئے خطرے کو اجاگر کیا ہے۔ جانوروں کے پروٹین کی زیادہ مقدار کا تعلق بھی ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے سے بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/261217351a7f3dd.webp'  alt='ہم پروٹین دالوں اور گوشت دونوں سے حاصل کرسکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہم پروٹین دالوں اور گوشت دونوں سے حاصل کرسکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پودوں کے ذرائع سے زیادہ پروٹین لینا ان درج ذیل مسائل سے منسلک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;اس سے کینسر سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;خون میں کولیسٹرول کی شرح میں بہتری آتی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;جانوروں سے حاصل کیے جانے والے پروٹین کے بہت سے ذرائع میں نسبتاً چربی خاص طور پر سیر شدہ چربی زیادہ ہوتی ہے۔ سیر شدہ چکنائی کا زیادہ استعمال انسانوں میں امراضِ قلب جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ بہت سے لوگ پہلے ہی جسمانی ضرورت سے زیادہ سیر شدہ چربی کھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین کی خوراک میں فائبر بھی ہوتا ہے جسے زیادہ تر لوگ نہیں کھاتے۔ زیادہ فائبر کھانے سے دائمی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے جبکہ یہ ہاضمے کے نظام کے لیے بھی بہترین ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="توازن-اہم-ہے" href="#توازن-اہم-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;توازن اہم ہے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر آپ کو پروٹین کہاں سے ملتی ہے پھر چاہے وہ جانوروں سے ملے یا پودوں سے، ہمیں ان دنوں ذرائع کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ توازن اپنی غذا میں مزید پروٹین شامل کرنے کی کوشش سے کہیں زیادہ اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروٹین، فیٹس اور کاربوہائیڈریٹس سب مل کر آپ کے جسم کو صحت مند رکھنے اور جسم کے انجن کو آسانی سے چلانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی صحت کو سہارا دینے کے لیے وٹامنز اور منرلز کے ساتھ ساتھ ان تمام میکرو نیوٹرینٹس کی بھی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایسا لگتا ہے جیسے زیادہ پروٹین کھانے کا رجحان کبھی بھی ختم نہیں ہونے والا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا ایسے لوگوں سے بھرا ہے جو آپ کو زیادہ پروٹین کھانے کی تلقین کرتے ہیں جبکہ پروٹین شیک جیسے سپلیمنٹس کا استعمال بھی تجویز کرتے ہیں۔ فوڈ کمپنیز نے بھی فروخت کو فروغ دینے کے لیے فوڈ پیکجز پر پروٹین کی شرح کو نمایاں کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>لیکن کیا اضافی پروٹین ہمیں فائدہ دے رہے ہیں؟ یا یہ کہیں کہ کیا آپ بہت زیادہ پروٹین کھا سکتے ہیں؟</p>
<p>یقیناً یہ اہم ہیں لیکن بہت سے لوگ ضرورت سے زیادہ پروٹین کھاتے ہیں۔</p>
<p>جسم کی ضرورت کے مطابق پروٹین کھانا ضروری ہے۔ یہ پٹھوں کے ٹشوز، خامروں اور ہارمونز کی تشکیل میں مدد کرتا ہے اور یہ مدافعتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ آپ کو توانائی بھی دے سکتا ہے۔</p>
<p>آسٹریلیا میں صحت مند کھانے کے رہنما اصول جنہیں ماہرین نے ترتیب دیا ہے اور حکومت کے تعاون سے بنائے گئے ہیں، تجویز کرتے ہیں کہ ہم اپنی یومیہ توانائی کی ضروریات کا 15 سے 25 فیصد پروٹین سے حاصل کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1224957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بالغ افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ مرد ہیں تو اپنے جسمانی وزن کے فی کلوگرام 0.84 گرام پروٹین اور اگر خاتون ہیں تو 0.75 گرام فی کلوگرام پروٹین کھائیں۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ ایک 90 کلو وزنی مرد کو روزانہ تقریباً 76 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اور 70 کلو وزنی عورت کو تقریباً 53 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ (یہ مقدار 70 سے زائد وزن کے بچوں یا بڑوں کے لیے زیادہ ہے)</p>
<p>زیادہ تر بالغ پہلے ہی کافی مقدار میں پروٹین کھاتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اب بھی اپنی غذا میں مزید پروٹین شامل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>جو لوگ وزن اٹھا کر مسلز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ زیادہ پروٹین سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں ہر روز اپنے جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 1.6 گرام تک پروٹین کھانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جس کا وزن 90 کلوگرام ہے، اسے مضبوط اور بڑے مسلز بنانے میں مدد کے لیے روزانہ تقریباً 144 گرام پروٹین کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>لیکن تحقیقات بتاتی ہیں کہ مسلز بنانے کے لیے اضافی پروٹین کھانا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے تجویز کردہ سطح سے زیادہ پروٹین کھانے کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ درحقیقت زیادہ پروٹین صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/261213009b31a90.webp'  alt='مسلز بنانے کے خواہشمند افراد زیادہ پروٹین کھا سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مسلز بنانے کے خواہشمند افراد زیادہ پروٹین کھا سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="بہت-زیادہ-پروٹین-کھانے-سے-کیا-ہوتا-ہے" href="#بہت-زیادہ-پروٹین-کھانے-سے-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بہت زیادہ پروٹین کھانے سے کیا ہوتا ہے؟</h1>
<p>ہمارے جسم میں موجود زائد پروٹین پیشاب یا فضلے کی صورت میں خارج نہیں ہوتا ہے۔ یہ جسم میں ہی رہتا ہے اور اس کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں۔</p>
<p>پروٹین توانائی کا ذریعہ ہے تو زیادہ پروٹین کھانے کا مطلب زیادہ توانائی اپنے جسم میں لینا ہے۔ جب ہم اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی لیتے ہیں تو ہمارا جسم اس اضافی توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے فیٹی ٹیشوز میں بدل دیتا ہے۔</p>
<p>کچھ طبی حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں اضافی پروٹین لینے سے اجتناب کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گردے کی مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد کو پروٹین کھانے میں محتاط رہنا پڑتا ہے اور انہیں اپنے معالج کی تجویز پر پروٹین کھانا چاہیے تاکہ ان کے گردوں کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p>پروٹین پوائزننگ نامی ایک حالت ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب آپ بہت زیادہ پروٹین کھاتے ہیں اور جسمانی ضرورت کے مطابق چربی، کاربوہائیڈریٹس یا دیگر اہم غذائی اجزا نہیں کھاتے ہیں۔ اسے ’خرگوش فاقہ کشی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح ولہجالمر اسٹیفنسن نامی ایک ایکسپلورر سے منسلک ہے۔ اس نے دیکھا تھا کہ جو لوگ زیادہ تر خرگوش کا گوشت کھاتے تھے (جس میں چربی بہت کم ہوتی ہے) وہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد شدید بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔</p>
<h1><a id="آپ-پروٹین-کہاں-سے-لے-سکتے-ہیں" href="#آپ-پروٹین-کہاں-سے-لے-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آپ پروٹین کہاں سے لے سکتے ہیں؟</h1>
<p>ہم اپنی خوراک میں پروٹین پودوں کے ذرائع (جیسے پھلیاں، دال، اناج) اور جانوروں (جیسے انڈے، دودھ، گوشت یا مچھلی) سے حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>گوشت کھانے سے ملنے والے پروٹین کی زیادہ مقدار نے بوڑھے آسٹریلوی باشندوں میں قبل از وقت موت (خاص طور پر کینسر سے اموات) کے بڑھتے ہوئے خطرے کو اجاگر کیا ہے۔ جانوروں کے پروٹین کی زیادہ مقدار کا تعلق بھی ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے سے بھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/261217351a7f3dd.webp'  alt='ہم پروٹین دالوں اور گوشت دونوں سے حاصل کرسکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہم پروٹین دالوں اور گوشت دونوں سے حاصل کرسکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>دوسری جانب پودوں کے ذرائع سے زیادہ پروٹین لینا ان درج ذیل مسائل سے منسلک ہے۔</p>
<ul>
<li>اس سے کینسر سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</li>
<li>ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔</li>
<li>خون میں کولیسٹرول کی شرح میں بہتری آتی ہے۔</li>
</ul>
<p>جانوروں سے حاصل کیے جانے والے پروٹین کے بہت سے ذرائع میں نسبتاً چربی خاص طور پر سیر شدہ چربی زیادہ ہوتی ہے۔ سیر شدہ چکنائی کا زیادہ استعمال انسانوں میں امراضِ قلب جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ بہت سے لوگ پہلے ہی جسمانی ضرورت سے زیادہ سیر شدہ چربی کھاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین کی خوراک میں فائبر بھی ہوتا ہے جسے زیادہ تر لوگ نہیں کھاتے۔ زیادہ فائبر کھانے سے دائمی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے جبکہ یہ ہاضمے کے نظام کے لیے بھی بہترین ہوتا ہے۔</p>
<h1><a id="توازن-اہم-ہے" href="#توازن-اہم-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>توازن اہم ہے</h1>
<p>مجموعی طور پر آپ کو پروٹین کہاں سے ملتی ہے پھر چاہے وہ جانوروں سے ملے یا پودوں سے، ہمیں ان دنوں ذرائع کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ توازن اپنی غذا میں مزید پروٹین شامل کرنے کی کوشش سے کہیں زیادہ اہم ہے۔</p>
<p>پروٹین، فیٹس اور کاربوہائیڈریٹس سب مل کر آپ کے جسم کو صحت مند رکھنے اور جسم کے انجن کو آسانی سے چلانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی صحت کو سہارا دینے کے لیے وٹامنز اور منرلز کے ساتھ ساتھ ان تمام میکرو نیوٹرینٹس کی بھی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270094</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 17:20:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مارگریٹ مرے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/26121617aaf6a1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/26121617aaf6a1e.webp"/>
        <media:title>ضرورت سے زیادہ پروٹین کھانا صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل محاذ پر دہشتگردوں کا بڑھتا اثرورسوخ، ’ہمیں ان سے حقیقی و مجازی دونوں دنیاؤں میں لڑنا پڑ رہا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270014/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ستمبر میں عسکریت پسندوں نے ضلع سوات میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ بذات خود کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں تھا کیونکہ سوات میں دہشتگردانہ حملے کوئی نئی بات نہیں۔ اس حملے میں جو چیز مختلف تھی وہ عسکریت پسندوں کی جانب سے اختیار کردہ طریقہ کار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے کئی دنوں کے دوران تفتیش کاروں نے حملے کے بارے میں سراغ حاصل کیے جس کی بعد میں انہوں نے تصدیق کی کہ یہ حملہ ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ پولیس افسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے بعدازاں ڈان کو بتایا کہ ’انہوں نے ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ استعمال کیا تھا جسے پاور بینک سے بنایا گیا تھا جو عموماً موبائل فونز کو چارج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زاہد اللہ نے کہا کہ تفتیش کاروں نے دہشت گردوں میں سے ایک کی تلاش کے لیے گھنٹوں سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کیا جس شخص نے بعد میں پھر انہیں دو اور مشتبہ افراد کے نام بتائے۔ لیکن سب سے اہم پیش رفت تفتیش میں اس وقت ہوئی کہ جب عسکریت پسندوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے عام طریقے استعمال نہیں کرتے تھے۔ اس کے بجائے انہوں نے پب جی (PUBG) نامی ایک مشہور ویڈیو گیم میں چیٹ کی سہولت کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس ویڈیو گیم کو اپنے نئے اراکین کی حوصلہ افزائی اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا۔ ڈی پی او نے وضاحت کی کہ ’عسکریت پسند اپنے گروپ کی تربیت اور حوصلہ افزائی کے لیے پب جی کھیلتے تھے اور وہ خفیہ طور پر آپس میں بات چیت کرنے کے لیے گیم کے چیٹ روم کا استعمال کرتے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انکشاف سے اقتدار کی راہداریوں میں خطرے کی گھنٹی بجنی چاہیے تھی کہ ایک دہشت گرد تنظیم کا ایک مقامی ساتھی گیمنگ پلیٹ فارم کو نہ صرف اپنی تنظیم میں بھرتیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا بلکہ حملوں کی منصوبہ بندی بھی اسی ایپلیکیشن پر ہورہی تھی، وہ بھی اس لیے کیونکہ ان چیٹ رومز تک رسائی یا نگرانی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیار میں کچھ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/2510453696c585b.webp'  alt='  گیمنگ چیٹ رومز کے استعمال سے قانون کی گرفت میں آنے کے امکانات کم ہوتے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گیمنگ چیٹ رومز کے استعمال سے قانون کی گرفت میں آنے کے امکانات کم ہوتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کی بات آتی ہے تو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ آنکھ مچولی کا یہ کھیل نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں عام ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پروپیگنڈا-کا-بطور-ہتھیار-استعمال" href="#پروپیگنڈا-کا-بطور-ہتھیار-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پروپیگنڈا کا بطور ہتھیار استعمال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک وقت تھا جب عسکریت پسند اپنا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اخبارات، رسالے، پوسٹرز، میگزین شائع کرتے تھے اور سی ڈیز تقسیم کرتے تھے۔ تاہم حالیہ برسوں میں وہ ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال میں ریاستی اداروں سے اگر زیادہ نہیں تو انہی کی طرح لیس ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انتہا پسند دیگر ممالک میں اپنے ہم خیال جنگجوؤں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں اپنا پیغام پھیلانے اور حکومت کے واقعات کے ورژن کو چیلنج کرنے کے لیے جدید طریقے تیار کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ آن لائن لڑائی، زمینی جنگ کے ساتھ لڑی جا رہی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگ کس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے جہاں ریاستی اور غیر ریاستی اداکار دونوں ایک جیسے آلات اور حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک نیا اور متعلقہ رجحان سامنے آیا ہے جس میں پاکستان میں حکومت کے زیرِانتظام سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو گزشتہ کچھ برسوں میں بنائے گئے ہیں، اب عسکریت پسندی کے حوالے سے پوسٹس کا اشتراک کر رہے ہیں، عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ریاست کی پیغام رسانی کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنے ہی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nacta.gov.pk/wp-content/uploads/2021/09/A-Study-of-TTP-Pakistan-Social-Media-Communication-1.pdf"&gt;سوشل میڈیا اکاؤنٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; بنا لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گرد تنظیم کے تحت چلائے جانے والے بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بالخصوص ’ایکس‘ پر خبروں اور تحقیقی پلیٹ فارمز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ وہ اکاؤنٹس ہوتے ہیں جن پر اکثر نیلے رنگ کے ٹک بھی موجود ہوتے ہیں جن سے وہ رسمی معلوم ہوتے ہیں۔ اُن صارفین کی جانب سے ان اکاؤنٹس کو فالو کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جن کا خیال ہے کہ اکاؤنٹس حقیقی طور پر خبروں اور تحقیقی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ’ایکس‘ پر ریاست سے منسلک کئی اکاؤنٹس، عسکریت پسندوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کے لنکس پوسٹ کیے اور پلیٹ فارم پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے پروپیگنڈے کو پھیلانے والے ان اکاؤنٹس کو بلاک کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25104939abed8a9.webp'  alt='  اپنے پروپیگنڈا کی تشہیر کے لیے دہشتگرد اے آئی کا استعمال بھی کررہے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اپنے پروپیگنڈا کی تشہیر کے لیے دہشتگرد اے آئی کا استعمال بھی کررہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی معاملات میں دہشت گردوں کا پروپیگنڈا اتنا ہی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جتنا کہ ان کے عسکریت پسند حملے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے عروج کے ساتھ جہاں پلیٹ فارم اکثر ریاستی اور عسکریت پسند گروپوں کے اکاؤنٹس کے درمیان فرق واضح طور پر نہیں بتا سکتے ہیں، وہیں دہشت گرد مقامی لوگوں کے غصے یا حکومت کے ساتھ ان کی ناراضی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس سے انہیں نئے اراکین بھرتی کرنے اور اپنی سرگرمیوں کے لیے رقم جمع کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آف-لائن-بمقابلہ-آن-لائن" href="#آف-لائن-بمقابلہ-آن-لائن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آف لائن بمقابلہ آن لائن&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت ہر عسکریت پسند گروپ چاہے وہ جہادی تنظیمیں ہوں یا بلوچ علیحدگی پسند گروپ، سب نے پروپیگنڈا ٹیمیں بنا رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر ٹی ٹی پی کی پروپیگنڈا ٹیم مکمل طور پر زمینی کارروائیوں میں حصہ لیے بغیر تنظیم کی پروپیگنڈا کوششوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹی پی کے بعد تین پاکستانی جہادی دھڑوں کا ابھرتا ہوا اتحاد، اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) بھی اپنی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thekhorasandiary.com/en/2025/07/08/tkd-monitoring-imp-initiates-an-aggressive-propaganda-campaign"&gt;پروپیگنڈا کوششوں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں نمایاں پیش رفت لایا ہے۔ یہ اتحاد اعلیٰ معیار کا کثیر لسانی مواد تیار کرتا ہے جس میں انفوگرافکس، تربیت اور حملوں پر مشتمل ویڈیوز، اپنے متعلقہ حلقوں کو متاثر کرنے کے لیے مخصوص سیاق و سباق اور واقعات کے مطابق بنائے گئے پوسٹرز اور اتحاد کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بارے میں روزانہ اپ ڈیٹ فراہم کرنے والے بیانات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں جہادی اپنے ایجنڈے کا عالمی سطح پر پرچار کرنے کی صلاحیتوں میں کافی حد تک اچھے ہوچکے ہیں جس سے کسی کے لیے بھی رضاکارانہ طور پر ’ڈیجیٹل‘ جہاد کا حصہ بننے کا در کھل چکا ہے۔ یہ رضاکار ایک دوسرے سے ذاتی طور پر مل نہیں سکتے لیکن پھر بھی وہ جہادی پیغامات شیئر کرنے میں مدد کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے اور جہادی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں اور بدلے میں مالی منافع کی توقع بھی نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں داعش اور اس کے علاقائی گروہ جیسے داعش خراسان نے دیگر افراد کو متاثر کرنے کے لیے ڈیجیٹل پروپیگنڈے کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے، روس سے لے کر امریکا تک پوری دنیا میں حملوں کی منصوبہ بندی یا کوشش کی ہے۔ وہ بات چیت کے لیے جدید، خفیہ طریقے بھی استعمال کرتے ہیں جن کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ اس کی وجہ سے انہوں نے ہر جگہ اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا ہے جس سے حکومتوں کے لیے انہیں قابو کرنا مشکل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25112904fee5c1a.webp'  alt='  داعش خراسان بھی آن لائن پرچار کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر ہوچکی ہے&amp;mdash;تصویر: ایکس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;داعش خراسان بھی آن لائن پرچار کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر ہوچکی ہے—تصویر: ایکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سیکیورٹی تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بیانیے کی جنگ جیتنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زمینی جنگ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے رجحان میں اضافے نے عسکریت پسند گروہوں کو اپنے خیالات کو تیزی سے اور بہت سے لوگوں تک پہنچانے میں مدد کی ہے، چاہے زبان یا علاقہ کچھ بھی ہو۔ یہ ان کے لیے سستا اور محفوظ طریقہ ہے کیونکہ اسے ٹریک کرنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کی حقیقی کارروائیاں کمزور ہوں تب بھی وہ آن لائن محاذ پر اپنے پیغامات پھیلا سکتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد دیگر لوگوں کو اپنے پروپیگنڈے سے ترغیب دینا اور اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گیمنگ-ایپس-سے-خفیہ-چیٹ-رومز-تک" href="#گیمنگ-ایپس-سے-خفیہ-چیٹ-رومز-تک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گیمنگ ایپس سے خفیہ چیٹ رومز تک&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جہادیوں نے تیزی سے آن لائن گیمنگ ایپلی کیشنز کو محفوظ مواصلات کے ذرائع میں تبدیل کیا ہے جس کا مقصد ٹریک ہونے سے بچنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہم سے بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے، کہا کہ ’پب جی کے بعد اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ دہشت گرد اب لوڈو اسٹار کو مواصلات کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’عسکریت پسند خاص طور پر بین الاقوامی گروہ، ملک کے اندرونی گروہوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں، تاہم یہ بین الاقوامی گروپ اکثر تربیت دینے کا کام کرتے ہیں اور وہ اپنی تکنیکی مہارت مقامی گروپس کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ ہمیں مختلف مسائل کا سامنا ہے اور ہم اس سے روزانہ کی بنیاد پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان سے حقیقی و مجازی دونوں دنیاؤں میں لڑنا پڑ رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;داعش خراسان ایک اہم مثال ہے جس نے حالیہ برسوں میں نمایاں ناکامیوں کا سامنا کرنے کے باوجود بھرتی ہونے والوں کو راغب کرنے اور اس طرح عالمی سطح پر سب سے زیادہ خوفناک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر اپنا مؤقف برقرار رکھنے کے لیے ایک شدید پروپیگنڈا مہم جاری رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25113337c87f3af.webp'  alt='  دہشتگردوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام ہوچکا ہے&amp;mdash;تصویر: فیس بک  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دہشتگردوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام ہوچکا ہے—تصویر: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی تازہ ترین &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://docs.un.org/en/S/2025/482"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جو رکن ممالک کی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہے، نے پروپیگنڈا اور بھرتی کے مقاصد کے لیے اے آئی ٹولز اور مختلف مواصلاتی پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے جس سے دہشت گرد گروہوں کو ریاستی حکام کی گرفت سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ’القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل (لیونٹ میں عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ) دونوں نے مختلف مواصلاتی پلیٹ فارمز کے ساتھ تشدد کو بڑھاوا دینے اور اپنی حکمرانی کے تحت ایک مثالی زندگی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا جاری رکھا ہے۔ آئی ایس آئی ایل نے بھرتی کے لیے ٹک ٹاک کی رسائی اور الگورتھم کی طاقت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’القاعدہ نے فائدہ اٹھانے کی کوشش جاری رکھی اور اس نے گیمنگ پلیٹ فارمز کو ممکنہ مواصلات کے پلیٹ فارم میں تبدیل کردیا ہے۔ انکرپٹڈ ایپس (جیسے ٹیلی گرام، ایلیمنٹ، ڈسکارڈ، تھریما، یا زنگی) کو ہدایت دی گئی ہیں کہ ٹاسکنگ کے لیے (یہ) گروپ بھی اے آئی کے ساتھ تجربہ کرتے ہیں اور وہ ایسا زیادہ تر بھرتی کے لیے کرتے ہیں اور پروپیگنڈے کو بڑھانے کے لیے بھی ان کا استعمال جاری ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القاعدہ اپنے پروپیگنڈا کو شیئر کرنے کے لیے جدید آلات کا استعمال کرتی ہے اور یہ طریقے ٹی ٹی پی جیسے گروپوں تک پھیل چکے ہیں۔ القاعدہ کو افغان اور پاکستانی طالبان دونوں کے لیے پروپیگنڈا کی حکمت عملیوں میں مرکزی خالق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;داعش خراسان، القاعدہ اور ان کے مقامی جہادی شراکت داروں کا خیال ہے کہ پروپیگنڈا پھیلانا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ان کی اصل کارروائیاں اور آپریشنز اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وہ-جنگ-جو-پاکستان-تنہا-نہیں-لڑ-سکتا" href="#وہ-جنگ-جو-پاکستان-تنہا-نہیں-لڑ-سکتا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وہ جنگ جو پاکستان تنہا نہیں لڑ سکتا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں عسکریت پسند گروپ متعدد محاذوں پر قانون نافذ کرنے والے حکام سے بہتر رہے ہیں۔ وہ شاطر انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں، پیسہ کمانے کے نئے طریقے تلاش کرتے ہیں اور اکثر خیبر پختونخوا و بلوچستان میں اپنی سرگرمیوں کی حکمت عملیوں کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت انہیں روکنے کے لیے اب بھی روایتی طریقے استعمال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے پیغامات کو آن لائن پھیلانے کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروپس کے لیے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مقامی لوگوں تک پہنچنا آسان ہو چکا ہے جبکہ وہیں دوسری جانب حکومتی اہلکار ان کمیونٹیز تک کم جسمانی رسائی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25112707b1e4d0c.webp'  alt='  ان دہشتگردوں سے صرف اسلحے کے زور پر لڑا نہیں جاسکتا&amp;mdash;تصویر: ایکس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ان دہشتگردوں سے صرف اسلحے کے زور پر لڑا نہیں جاسکتا—تصویر: ایکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے مقامات پر جہاں بہت سے عسکریت پسند موجود ہیں، سرکاری اہلکار اکثر اپنے دفاتر یا عمارتوں تک محدود ہیں جبکہ مقامی لوگ شدت پسندوں سے تواتر سے ملتے رہتے ہیں جوکہ ریاستی نمائندوں اور مقامی افراد کے درمیان ایک خلیج پیدا کر رہا ہے۔ یہ خیلج عسکریت پسندوں کو اپنی موجودگی اور نظریاتی تبلیغ کی تقویت دیتا ہے اور انہیں فوائد پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکریت پسندی کے لاحق خطرے کو کوئی ایک ملک تنہا شکست نہیں دے سکتا۔ اس کی کثیر جہتی نوعیت متعدد اقوام پر مشتمل ایک باہمی تعاون کے نقطہ نظر کا مطالبہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی تنہا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تو ایسے میں کم وسائل والے پاکستان سے تنہا ان مسائل سے نمٹنے کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراکسی جنگوں کا بڑھتا ہوا استعمال خطے میں ایک معمول بن چکا ہے جہاں حریف ریاستوں سے براہ راست تصادم میں جائے بغیر عسکریت پسندوں کو حریف کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک بھنور کی صورت میں اختیار کرچکا ہے کیونکہ اس رجحان میں ہدف ریاست جوابی کارروائی بھی ضرور کرتی ہے جو کہ مزید عدم استحکام کا باعث بنتا ہے اور نادانستہ طور پر انتہا پسندوں کے خطرے کو مزید تقویت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان کو عسکریت پسندی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنا ہے تو اسے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد بنانے کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈے اور ڈیجیٹل جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید بین الاقوامی نقطہ نظر کی شمولیت کے لیے مؤثر طریقے سے کام کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکریت پسند اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں پہلے سے زیادہ ماہر ہوچکے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ریاست بھی ان سے جدید مہارتوں کے ذریعے نمٹے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: تصویر کینوا اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1937964/digital-battlefield-militants-vs-the-state-in-the-war-of-narratives"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>گزشتہ سال ستمبر میں عسکریت پسندوں نے ضلع سوات میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ بذات خود کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں تھا کیونکہ سوات میں دہشتگردانہ حملے کوئی نئی بات نہیں۔ اس حملے میں جو چیز مختلف تھی وہ عسکریت پسندوں کی جانب سے اختیار کردہ طریقہ کار تھا۔</p>
<p>اگلے کئی دنوں کے دوران تفتیش کاروں نے حملے کے بارے میں سراغ حاصل کیے جس کی بعد میں انہوں نے تصدیق کی کہ یہ حملہ ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا تھا۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ پولیس افسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے بعدازاں ڈان کو بتایا کہ ’انہوں نے ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ استعمال کیا تھا جسے پاور بینک سے بنایا گیا تھا جو عموماً موبائل فونز کو چارج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے‘۔</p>
<p>ڈاکٹر زاہد اللہ نے کہا کہ تفتیش کاروں نے دہشت گردوں میں سے ایک کی تلاش کے لیے گھنٹوں سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کیا جس شخص نے بعد میں پھر انہیں دو اور مشتبہ افراد کے نام بتائے۔ لیکن سب سے اہم پیش رفت تفتیش میں اس وقت ہوئی کہ جب عسکریت پسندوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے عام طریقے استعمال نہیں کرتے تھے۔ اس کے بجائے انہوں نے پب جی (PUBG) نامی ایک مشہور ویڈیو گیم میں چیٹ کی سہولت کا استعمال کیا۔</p>
<p>انہوں نے اس ویڈیو گیم کو اپنے نئے اراکین کی حوصلہ افزائی اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا۔ ڈی پی او نے وضاحت کی کہ ’عسکریت پسند اپنے گروپ کی تربیت اور حوصلہ افزائی کے لیے پب جی کھیلتے تھے اور وہ خفیہ طور پر آپس میں بات چیت کرنے کے لیے گیم کے چیٹ روم کا استعمال کرتے تھے‘۔</p>
<p>اس انکشاف سے اقتدار کی راہداریوں میں خطرے کی گھنٹی بجنی چاہیے تھی کہ ایک دہشت گرد تنظیم کا ایک مقامی ساتھی گیمنگ پلیٹ فارم کو نہ صرف اپنی تنظیم میں بھرتیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا بلکہ حملوں کی منصوبہ بندی بھی اسی ایپلیکیشن پر ہورہی تھی، وہ بھی اس لیے کیونکہ ان چیٹ رومز تک رسائی یا نگرانی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیار میں کچھ نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/2510453696c585b.webp'  alt='  گیمنگ چیٹ رومز کے استعمال سے قانون کی گرفت میں آنے کے امکانات کم ہوتے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گیمنگ چیٹ رومز کے استعمال سے قانون کی گرفت میں آنے کے امکانات کم ہوتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاہم جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کی بات آتی ہے تو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ آنکھ مچولی کا یہ کھیل نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں عام ہو چکا ہے۔</p>
<h1><a id="پروپیگنڈا-کا-بطور-ہتھیار-استعمال" href="#پروپیگنڈا-کا-بطور-ہتھیار-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پروپیگنڈا کا بطور ہتھیار استعمال</h1>
<p>ایک وقت تھا جب عسکریت پسند اپنا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اخبارات، رسالے، پوسٹرز، میگزین شائع کرتے تھے اور سی ڈیز تقسیم کرتے تھے۔ تاہم حالیہ برسوں میں وہ ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال میں ریاستی اداروں سے اگر زیادہ نہیں تو انہی کی طرح لیس ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ انتہا پسند دیگر ممالک میں اپنے ہم خیال جنگجوؤں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں اپنا پیغام پھیلانے اور حکومت کے واقعات کے ورژن کو چیلنج کرنے کے لیے جدید طریقے تیار کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ آن لائن لڑائی، زمینی جنگ کے ساتھ لڑی جا رہی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگ کس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے جہاں ریاستی اور غیر ریاستی اداکار دونوں ایک جیسے آلات اور حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ایک نیا اور متعلقہ رجحان سامنے آیا ہے جس میں پاکستان میں حکومت کے زیرِانتظام سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو گزشتہ کچھ برسوں میں بنائے گئے ہیں، اب عسکریت پسندی کے حوالے سے پوسٹس کا اشتراک کر رہے ہیں، عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ریاست کی پیغام رسانی کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنے ہی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nacta.gov.pk/wp-content/uploads/2021/09/A-Study-of-TTP-Pakistan-Social-Media-Communication-1.pdf">سوشل میڈیا اکاؤنٹس</a></strong> بنا لیے ہیں۔</p>
<p>دہشت گرد تنظیم کے تحت چلائے جانے والے بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بالخصوص ’ایکس‘ پر خبروں اور تحقیقی پلیٹ فارمز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ وہ اکاؤنٹس ہوتے ہیں جن پر اکثر نیلے رنگ کے ٹک بھی موجود ہوتے ہیں جن سے وہ رسمی معلوم ہوتے ہیں۔ اُن صارفین کی جانب سے ان اکاؤنٹس کو فالو کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جن کا خیال ہے کہ اکاؤنٹس حقیقی طور پر خبروں اور تحقیقی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ’ایکس‘ پر ریاست سے منسلک کئی اکاؤنٹس، عسکریت پسندوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کے لنکس پوسٹ کیے اور پلیٹ فارم پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے پروپیگنڈے کو پھیلانے والے ان اکاؤنٹس کو بلاک کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25104939abed8a9.webp'  alt='  اپنے پروپیگنڈا کی تشہیر کے لیے دہشتگرد اے آئی کا استعمال بھی کررہے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اپنے پروپیگنڈا کی تشہیر کے لیے دہشتگرد اے آئی کا استعمال بھی کررہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>کئی معاملات میں دہشت گردوں کا پروپیگنڈا اتنا ہی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جتنا کہ ان کے عسکریت پسند حملے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے عروج کے ساتھ جہاں پلیٹ فارم اکثر ریاستی اور عسکریت پسند گروپوں کے اکاؤنٹس کے درمیان فرق واضح طور پر نہیں بتا سکتے ہیں، وہیں دہشت گرد مقامی لوگوں کے غصے یا حکومت کے ساتھ ان کی ناراضی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس سے انہیں نئے اراکین بھرتی کرنے اور اپنی سرگرمیوں کے لیے رقم جمع کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<h1><a id="آف-لائن-بمقابلہ-آن-لائن" href="#آف-لائن-بمقابلہ-آن-لائن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آف لائن بمقابلہ آن لائن</h1>
<p>فی الوقت ہر عسکریت پسند گروپ چاہے وہ جہادی تنظیمیں ہوں یا بلوچ علیحدگی پسند گروپ، سب نے پروپیگنڈا ٹیمیں بنا رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر ٹی ٹی پی کی پروپیگنڈا ٹیم مکمل طور پر زمینی کارروائیوں میں حصہ لیے بغیر تنظیم کی پروپیگنڈا کوششوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>ٹی ٹی پی کے بعد تین پاکستانی جہادی دھڑوں کا ابھرتا ہوا اتحاد، اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) بھی اپنی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thekhorasandiary.com/en/2025/07/08/tkd-monitoring-imp-initiates-an-aggressive-propaganda-campaign">پروپیگنڈا کوششوں</a></strong> میں نمایاں پیش رفت لایا ہے۔ یہ اتحاد اعلیٰ معیار کا کثیر لسانی مواد تیار کرتا ہے جس میں انفوگرافکس، تربیت اور حملوں پر مشتمل ویڈیوز، اپنے متعلقہ حلقوں کو متاثر کرنے کے لیے مخصوص سیاق و سباق اور واقعات کے مطابق بنائے گئے پوسٹرز اور اتحاد کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بارے میں روزانہ اپ ڈیٹ فراہم کرنے والے بیانات شامل ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں جہادی اپنے ایجنڈے کا عالمی سطح پر پرچار کرنے کی صلاحیتوں میں کافی حد تک اچھے ہوچکے ہیں جس سے کسی کے لیے بھی رضاکارانہ طور پر ’ڈیجیٹل‘ جہاد کا حصہ بننے کا در کھل چکا ہے۔ یہ رضاکار ایک دوسرے سے ذاتی طور پر مل نہیں سکتے لیکن پھر بھی وہ جہادی پیغامات شیئر کرنے میں مدد کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے اور جہادی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں اور بدلے میں مالی منافع کی توقع بھی نہیں کرتے۔</p>
<p>اس تناظر میں داعش اور اس کے علاقائی گروہ جیسے داعش خراسان نے دیگر افراد کو متاثر کرنے کے لیے ڈیجیٹل پروپیگنڈے کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے، روس سے لے کر امریکا تک پوری دنیا میں حملوں کی منصوبہ بندی یا کوشش کی ہے۔ وہ بات چیت کے لیے جدید، خفیہ طریقے بھی استعمال کرتے ہیں جن کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ اس کی وجہ سے انہوں نے ہر جگہ اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا ہے جس سے حکومتوں کے لیے انہیں قابو کرنا مشکل ہوگیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25112904fee5c1a.webp'  alt='  داعش خراسان بھی آن لائن پرچار کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر ہوچکی ہے&mdash;تصویر: ایکس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>داعش خراسان بھی آن لائن پرچار کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر ہوچکی ہے—تصویر: ایکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سیکیورٹی تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بیانیے کی جنگ جیتنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زمینی جنگ۔</p>
<p>سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے رجحان میں اضافے نے عسکریت پسند گروہوں کو اپنے خیالات کو تیزی سے اور بہت سے لوگوں تک پہنچانے میں مدد کی ہے، چاہے زبان یا علاقہ کچھ بھی ہو۔ یہ ان کے لیے سستا اور محفوظ طریقہ ہے کیونکہ اسے ٹریک کرنا مشکل ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کی حقیقی کارروائیاں کمزور ہوں تب بھی وہ آن لائن محاذ پر اپنے پیغامات پھیلا سکتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد دیگر لوگوں کو اپنے پروپیگنڈے سے ترغیب دینا اور اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کرنا ہے۔</p>
<h1><a id="گیمنگ-ایپس-سے-خفیہ-چیٹ-رومز-تک" href="#گیمنگ-ایپس-سے-خفیہ-چیٹ-رومز-تک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گیمنگ ایپس سے خفیہ چیٹ رومز تک</h1>
<p>پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جہادیوں نے تیزی سے آن لائن گیمنگ ایپلی کیشنز کو محفوظ مواصلات کے ذرائع میں تبدیل کیا ہے جس کا مقصد ٹریک ہونے سے بچنا ہے۔</p>
<p>ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہم سے بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے، کہا کہ ’پب جی کے بعد اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ دہشت گرد اب لوڈو اسٹار کو مواصلات کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘۔</p>
<p>’عسکریت پسند خاص طور پر بین الاقوامی گروہ، ملک کے اندرونی گروہوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں، تاہم یہ بین الاقوامی گروپ اکثر تربیت دینے کا کام کرتے ہیں اور وہ اپنی تکنیکی مہارت مقامی گروپس کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ ہمیں مختلف مسائل کا سامنا ہے اور ہم اس سے روزانہ کی بنیاد پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان سے حقیقی و مجازی دونوں دنیاؤں میں لڑنا پڑ رہا ہے‘۔</p>
<p>داعش خراسان ایک اہم مثال ہے جس نے حالیہ برسوں میں نمایاں ناکامیوں کا سامنا کرنے کے باوجود بھرتی ہونے والوں کو راغب کرنے اور اس طرح عالمی سطح پر سب سے زیادہ خوفناک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر اپنا مؤقف برقرار رکھنے کے لیے ایک شدید پروپیگنڈا مہم جاری رکھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25113337c87f3af.webp'  alt='  دہشتگردوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام ہوچکا ہے&mdash;تصویر: فیس بک  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دہشتگردوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام ہوچکا ہے—تصویر: فیس بک</figcaption>
    </figure></p>
<p>اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی تازہ ترین <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://docs.un.org/en/S/2025/482">رپورٹ</a></strong> جو رکن ممالک کی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہے، نے پروپیگنڈا اور بھرتی کے مقاصد کے لیے اے آئی ٹولز اور مختلف مواصلاتی پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے جس سے دہشت گرد گروہوں کو ریاستی حکام کی گرفت سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، ’القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل (لیونٹ میں عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ) دونوں نے مختلف مواصلاتی پلیٹ فارمز کے ساتھ تشدد کو بڑھاوا دینے اور اپنی حکمرانی کے تحت ایک مثالی زندگی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا جاری رکھا ہے۔ آئی ایس آئی ایل نے بھرتی کے لیے ٹک ٹاک کی رسائی اور الگورتھم کی طاقت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔</p>
<p>’القاعدہ نے فائدہ اٹھانے کی کوشش جاری رکھی اور اس نے گیمنگ پلیٹ فارمز کو ممکنہ مواصلات کے پلیٹ فارم میں تبدیل کردیا ہے۔ انکرپٹڈ ایپس (جیسے ٹیلی گرام، ایلیمنٹ، ڈسکارڈ، تھریما، یا زنگی) کو ہدایت دی گئی ہیں کہ ٹاسکنگ کے لیے (یہ) گروپ بھی اے آئی کے ساتھ تجربہ کرتے ہیں اور وہ ایسا زیادہ تر بھرتی کے لیے کرتے ہیں اور پروپیگنڈے کو بڑھانے کے لیے بھی ان کا استعمال جاری ہے‘۔</p>
<p>القاعدہ اپنے پروپیگنڈا کو شیئر کرنے کے لیے جدید آلات کا استعمال کرتی ہے اور یہ طریقے ٹی ٹی پی جیسے گروپوں تک پھیل چکے ہیں۔ القاعدہ کو افغان اور پاکستانی طالبان دونوں کے لیے پروپیگنڈا کی حکمت عملیوں میں مرکزی خالق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>داعش خراسان، القاعدہ اور ان کے مقامی جہادی شراکت داروں کا خیال ہے کہ پروپیگنڈا پھیلانا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ان کی اصل کارروائیاں اور آپریشنز اہم ہیں۔</p>
<h1><a id="وہ-جنگ-جو-پاکستان-تنہا-نہیں-لڑ-سکتا" href="#وہ-جنگ-جو-پاکستان-تنہا-نہیں-لڑ-سکتا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وہ جنگ جو پاکستان تنہا نہیں لڑ سکتا</h1>
<p>حالیہ مہینوں میں عسکریت پسند گروپ متعدد محاذوں پر قانون نافذ کرنے والے حکام سے بہتر رہے ہیں۔ وہ شاطر انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں، پیسہ کمانے کے نئے طریقے تلاش کرتے ہیں اور اکثر خیبر پختونخوا و بلوچستان میں اپنی سرگرمیوں کی حکمت عملیوں کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت انہیں روکنے کے لیے اب بھی روایتی طریقے استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p>اپنے پیغامات کو آن لائن پھیلانے کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروپس کے لیے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مقامی لوگوں تک پہنچنا آسان ہو چکا ہے جبکہ وہیں دوسری جانب حکومتی اہلکار ان کمیونٹیز تک کم جسمانی رسائی رکھتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/25112707b1e4d0c.webp'  alt='  ان دہشتگردوں سے صرف اسلحے کے زور پر لڑا نہیں جاسکتا&mdash;تصویر: ایکس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ان دہشتگردوں سے صرف اسلحے کے زور پر لڑا نہیں جاسکتا—تصویر: ایکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایسے مقامات پر جہاں بہت سے عسکریت پسند موجود ہیں، سرکاری اہلکار اکثر اپنے دفاتر یا عمارتوں تک محدود ہیں جبکہ مقامی لوگ شدت پسندوں سے تواتر سے ملتے رہتے ہیں جوکہ ریاستی نمائندوں اور مقامی افراد کے درمیان ایک خلیج پیدا کر رہا ہے۔ یہ خیلج عسکریت پسندوں کو اپنی موجودگی اور نظریاتی تبلیغ کی تقویت دیتا ہے اور انہیں فوائد پہنچاتا ہے۔</p>
<p>عسکریت پسندی کے لاحق خطرے کو کوئی ایک ملک تنہا شکست نہیں دے سکتا۔ اس کی کثیر جہتی نوعیت متعدد اقوام پر مشتمل ایک باہمی تعاون کے نقطہ نظر کا مطالبہ کرتی ہے۔</p>
<p>دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی تنہا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تو ایسے میں کم وسائل والے پاکستان سے تنہا ان مسائل سے نمٹنے کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔</p>
<p>پراکسی جنگوں کا بڑھتا ہوا استعمال خطے میں ایک معمول بن چکا ہے جہاں حریف ریاستوں سے براہ راست تصادم میں جائے بغیر عسکریت پسندوں کو حریف کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک بھنور کی صورت میں اختیار کرچکا ہے کیونکہ اس رجحان میں ہدف ریاست جوابی کارروائی بھی ضرور کرتی ہے جو کہ مزید عدم استحکام کا باعث بنتا ہے اور نادانستہ طور پر انتہا پسندوں کے خطرے کو مزید تقویت دیتا ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان کو عسکریت پسندی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنا ہے تو اسے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد بنانے کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈے اور ڈیجیٹل جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید بین الاقوامی نقطہ نظر کی شمولیت کے لیے مؤثر طریقے سے کام کرنا چاہیے۔</p>
<p>عسکریت پسند اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں پہلے سے زیادہ ماہر ہوچکے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ریاست بھی ان سے جدید مہارتوں کے ذریعے نمٹے۔</p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: تصویر کینوا اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1937964/digital-battlefield-militants-vs-the-state-in-the-war-of-narratives">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270014</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 13:47:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (احسان اللہ ٹیپو محسود)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/25140321c043ef8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/25140321c043ef8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ کا سیلاب جو انڈس ڈیلٹا کے لیے خوشحالی کا پروانہ ہوتا ہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269557/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ہم جب ننگر ٹھٹہ سے نکلے تھے تو ابھی سورج  طلوع نہیں ہوا تھا، مسلسل بارشوں کی وجہ سے تاحدِ نگاہ مکلی کی پہاڑی، راستے، تعمیرات بھیگے سے دکھائی دے رہے تھے۔ مون سون کا برساتی سلسلہ 4 دن خوب برسنے کے بعد ختم ہو گیا تھا مگر دھوپ کم نکلنے کی وجہ سے نظر جہاں تک جاتی ہر منظر بھیگا نظر آتا جبکہ سمندر کے نزدیک ہونے اور پانی کی نظر نہ آنے والی بوندوں کی وجہ سے منظرنامے پر ہلکی نیلے رنگ کی ایک تہہ بچھی ہوئی نظر آرہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے ٹھٹہ شہر میں ایک ہوٹل پر ناشتہ کیا دو دو کپ شیریں چائے کے اُنڈیلے اور جب شہر سے شاہ بندر اور کیٹی بندر  کے لیے نکلے تو راستوں کے کناروں پر پانی تھا۔ مگر راستے کے کناروں پر موجود کیکر کے درختوں پر بہار چھائی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268320"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ دنوں پر بات کرنے سے پہلے سندھ کے سمندر کنارے کے متعلق ابن بطوطہ کی کچھ باتیں میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں تاکہ موجودہ زمانے کی تصویر ہمیں صاف نظر آئے۔ ابن بطوطہ 1333ء یعنی آج سے 652 برس پہلے سیہون سے سندھو دریا کے راستے انڈس ڈیلٹا میں اپنے ایک دوست کے ساتھ آیا تھا۔ وہ اپنے سفرنامے میں تحریر کرتے ہیں کہ ’سندھو دریا دنیا کے بہت بڑے دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے جس طرح مصر کی زراعت کا دار و مدار نیل کی تغیانی پر ہے، اسی طرح یہاں کے باشندے بھی اس کی طغیانی پر جیتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکل ایسی بات عبدالرحیم خان خاناں نے 1592ء میں کہی تھی جب وہ اکبر کے حکم کو مانتے ہوئے ٹھٹہ پر قبضہ کرنے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ جنوبی سندھ میں پانی کی نہروں کا ایک جال بچھا ہوا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی زمانے میں بغداد نہروں کی بہتات کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں بہت سارے گھاٹ ہیں اور سمندری کنارہ چھوٹی بڑی بندرگاہوں سے بھرا پڑا ہے۔ دھان، گنا، نیر  یہاں بہت اُگایا جاتا ہے۔ جھیلیں بہت ہیں جن کی وجہ سے مچھلی اور پرندوں کی فراوانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/181459044e06639.webp'  alt='  دریائے سندھ کا کنارہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے سندھ کا کنارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابن بطوطہ کے دنوں میں سندھو دریا کا مرکزی بہاؤ، برہمن آباد سے شمال اور مغرب میں دو حصوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ ایک بہاؤ جنوب میں نصرپور کے مشرق سے، جنوب مغرب میں ٹنڈو محمد خان کے قریب سے گزرتا ہوا ٹھٹہ کے شمال میں دیبل اور لاڑی بندر کے شمال میں جاکر سمندر میں گرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابن بطوطہ لاڑی بندر کے  متعلق لکھتے ہیں کہ ’یہ خوبصورت شہر سمندر کے کنارے واقع ہے۔ قریب ہی سندھو دریا سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ شہر بڑی بندرگاہ ہے۔ یہاں یمن اور فارس کے جہاز اور تاجر زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ شہر بہت مالدار ہے اور اس کا محاصل بھی زیادہ ہے۔ علاء الملک مجھ سے کہتے تھے کہ اس بندر کا محاصل 60 لاکھ دینار ہے۔ امیر الملک کو اس کا 20واں حصہ ملتا ہے باقی مرکزی حکومت میں جمع ہوتا ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم جب کوٹری ڈاؤن اسٹریم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تب ہم انڈس ڈیلٹا کی بات کر رہے ہوتے ہیں اور کوٹری کے جنوب میں ہزاروں گاؤں اور لاکھوں انسان بستے ہیں جن کا ذریعہ معاش دریا کے بہاؤ پر ہے۔ جب دریا کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تب پانی کی جگہ تیز ریت بہتی ہے اور  وہاں رہنے والے لوگ اپنے گاؤں خالی کرکے نقل مکانی کے درد کی گٹھڑیاں اپنے سینے پر رکھ کر بھٹکتے پھرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی روکنے کی داستان کی ابتدا 1830ء میں ہوئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں آب پاشی کا نظام بنایا کہ زراعت زیادہ ہو اور اُن کے کارخانوں کو خام مال مسلسل ملتا رہے۔ 1932ء میں انگریزوں نے ’سکھر بیراج‘  تعمیر کیا۔ یہ سمجھیں کہ دریا کی خوبصورت دیوانگی کو روکنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔ پھر 1955 میں ’کوٹری بیراج‘ بنا، 1967ء میں ’منگلا‘ اور پھر 1976ء میں ’تربیلا ڈیم‘  بنا۔ ان تمام منصوبوں کے منفی اثرات انڈس ڈیلٹا پر پڑنے تھے اور پڑے بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤن اسٹریم دریا کا وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں دریا کا سفر اختتام کو پہنچتا ہے۔ یہاں فطرت کی رنگارنگی کا اپنا ایک الگ حُسن ہے۔ جنوبی سندھ کی سمندر کنارے والی زمین کو دریا کی مٹی اور ریت نے بنایا ہے۔ جہاں کا منظر نامہ پورے ملک سے مختلف ہے کہ یہاں جھیلوں کی بہتات ہے (تھی) اور کیوں نہ ہو آخر دریائے سندھ کا ہزاروں کلومیٹرز کا سفر یہاں اس ساحلی پٹی پر آکر جو ختم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر تک پہنچنے کے لیے جتنے راستے اور بہاؤ دریائے سندھ نے تبدیل کیے ہیں وہ کسی دوسرے دریا نے شاید ہی کیے ہوں۔ ’انسائیکلوپیڈیا سندھیانا‘ اس حوالے سے تحریر کرتی ہے کہ ’دریائے سندھ کے سفر کی آخری منزل سے آگے سمندر تک کافی تعداد میں کھاڑیاں یا کریکس (Creeks) جاتی ہیں۔ جنوب مشرق میں ’سیر‘ نامی کھاڑی ہے جو پانی میں پاک و ہند سرحد کا کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھارک، کوچی واڑی، کاجھر، مل، کانہر، ادھیاڑی، سنہڑی، گھوڑو، کھوبر، قلندری، مٹنی، ترچھان، حجامڑو، چھان، دبو، پئٹانی، کھائی، وڈی کُھڈی، ننڈھی کُھڈی، پھٹی، کورنگی اور گزری کریکس ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145918789cbd4.webp'  alt='  آہستہ آہستہ سمندر کی جانب جاتے دریا کے پانی میں کمی آچکی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے سیلاب رحمت ہوتا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آہستہ آہستہ سمندر کی جانب جاتے دریا کے پانی میں کمی آچکی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے سیلاب رحمت ہوتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کھاڑیاں وہ راستے ہیں جو دریا سمندر تک پہنچنے کے لیے جنوبی سندھ میں آ کر بناتا ہے۔دریاؤں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جن میں ریت اور مٹی کم آتی ہے اور دوسرے وہ جو اپنے ساتھ بڑی مقدار میں ریت اور مٹی لاتے ہیں۔ ایسے دریاؤں میں ’دریائے نیل‘ اور ’دریائے سندھ‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان دونوں میں سے دریائے سندھ اپنے ساتھ سب سے زیادہ زرخیز ریت اور مٹی لانے والا دریا رہا ہے۔ اگر آپ اس تحریر میں شامل تصاویر کو دھیان سے دیکھیں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ پانی کتنا گاڑھا اور مٹیالا ہے۔ یہ پانی زرخیز ریٹ اور خوراک کی ذرات سے بھرا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا اپنی ریت سے جو زمین بناتا ہے، ہم اسے ڈیلٹا کہتے ہیں۔ دریا زمین کیسے بناتا ہے؟ میں مختصراً  آپ کو بتاتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا کا پانی سمندر کو آگے آتا دیکھ کر چھوٹے پنکھے (بادکش) کی صورت میں پھیل جاتا ہے اور اپنے ساتھ لائی ہوئی ریت پھیلاتا جاتا ہے جو دھیرے دھیرے سے زمین بنتی جاتی ہے اور جیسے جیسے زمین بنتی جاتی ہے سمندر پیچھے کی جانب ہٹتا چلا جاتا ہے مگر اس کی سطح وہی رہتی ہے۔ جب تیز ہواؤں کے دنوں میں سمندر کی مدافعت بڑھتی ہے تو دریا شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے لیکن اپنے ساتھ لائی ہوئی ریت سمندر کے اندر پھینکتا رہتا ہے۔ اسی طرح سمندر کے اندر ریت کے ٹیلے بنتے جاتے ہیں اور زمین بنتی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ہم یہ بخوبی کہہ سکتے ہیں کہ ماضی میں جنوبی سندھ کا مشرق کی جانب والا حصہ (بدین) ایکٹیو ڈیلٹا تھا اور اب مغرب کی طرف (ٹھٹہ) والا حصہ ایکٹیو ڈیلٹا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق، جب دریائے سندھ میں طغیانی آتی تھی تو اس طغیانی کے 100 دنوں میں یہ ریت کے 11کروڑ 90 لاکھ معکب گز سمندر کی طرف لے چلتا ہے۔ اگر اس ریت کا مقابلہ ہم نیل ندی سے کریں جو خود ایک زیادہ ریت لانے والا دریا ہے تو یہ پورے ایک برس میں 4 کروڑ معکب گز ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دریائے سندھ میں ریت کی مقدار دریائے نیل سے تین گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145909cf13349.webp'  alt='  پانی کا ریلا اپنے ساتھ ریت لاتا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پانی کا ریلا اپنے ساتھ ریت لاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل ہیگ اپنی کتاب ’انڈس ڈیلٹا کنٹری‘ میں دریا سے بنی ہوئی نئی زمین کے متعلق تحریر کرتے ہیں، ’برٹش راج کے بعد سمندر کی طرف زمین کے بڑھ جانے کے متعلق جاننے کے لیے ہماری بڑی دلچسپی رہی۔ ہم نے اس پر سروے بھی کیے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دریائے سندھ جن مختلف ندیوں کی صورت میں سمندر کی طرف سفر کرتا سمندر سے جا ملتا ہے، وہاں نئی زمین بڑی تیزی سے بن رہی ہوتی ہے اور سمندر کو مسلسل پیچھے دھکیل رہی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم نے پہلے 1877ء میں اس پر کام کیا تھا۔ جس سے ہمیں پتا لگا کہ گزشتہ 10 برسوں میں ان نہروں کے سمندر میں پانی ڈالنے سے ساڑھے تین مربع میل نئی زمین بنی ہے۔ اور زمین بڑھنے کی رفتار ہر بہاؤ میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کہیں زمین زیادہ بنتی ہے اور کہیں کم‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس ڈیلٹا اپنی زرخیزی کے حوالے سے خوشحال بھی تھی اور مشہور بھی۔ دھان اُگانے کے لیے اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ دھان کے بیج زمینوں میں ڈال دیے جاتے اور دھان کی فصل کے جیسے جنگل اُگ آتے۔ اس کے متعلق جیمز میکمرڈو لکھتے ہیں، ’پانی کے ساتھ دھان بھی بڑھتی جاتی، کسی علاقے میں تو یہ تین سے چار فٹ تک بڑی ہو جاتی‘۔ اور دھان اتنی اراضی میں ہوتی کہ فصل کی کٹائی کے لیے کَچھ اور ملتان سے لوگ یہاں فصل کی کٹائی کے لیے آتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145919cc62e20.webp'  alt='  دریا میں ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریا میں ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19 ویں صدی کی ابتدا میں ڈیلٹا کے متعلق جیمس برنس لکھتے ہیں کہ ’یہاں کے مرکزی بہاؤ اور دیگر ندیوں میں سفر کرتے آپ کو پرندوں کی میٹھی آوازیں سننے کو ملیں گی۔ کناروں پر آپ کو گنے کے کھیت ملیں گے جنہیں پانی دینے کے لیے رہٹوں کا استعمال عام ہے۔ ان رہٹوں کو اونٹ اور بیل بھی کھینچتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ٹھنڈے دنوں میں پرندوں کی اتنی بہتات ہے کہ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ مچھلی کے شکار کی تو کیا بات ہے، ایسا لگتا ہے کہ مچھلی پیدا ہی یہاں ہوئی ہے۔ یہاں کیکر اور لئی کے بڑے درختوں کے جنگل ہیں جو یقیناً ایک ڈیلٹا کی خوبصورتی کے زیور ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;Empires of the Indus کی مصنفہ Alice Albinia ڈیلٹا کی تباہی کے متعلق تحریر کرتی ہیں کہ ’1958ء میں کوٹری بیراج مکمل ہونے کے بعد 3500 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی انڈس ڈیلٹا 250 کلومیٹر تک سُکڑ گئی۔ پانی صرف نام کو سمندر کو جاتا تھا۔ میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے تمر کے جنگل اجڑ گئے، چاول کی فصلیں دینے والی زمینیں سفید نمک میں بدل گئیں۔ کاشتکاروں کے پاس مچھلی کے شکار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلٹا کی اُجڑتی ہوئی دنیا کے متعلق محمد علی شاہ تحریر کرتے ہیں کہ ’گزشتہ کئی برسوں سے حکومت، آبپاشی کے ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور سول سوسائٹی کے درمیان یہ بات زیربحث ہے کہ انڈس ڈیلٹا کے لیے کوٹری ڈاؤن اسٹریم سے کتنے پانی کی ضرورت ہے۔ ماحولیات پر کام کرنے والی عالمی تنظیم ’آئی یو سی این‘ کی تحقیق کے مطابق، تمر کے جنگلات اور سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم جو ماہی گیروں کے لیے کام کرتے ہیں تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ 35 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی کی ضرورت ہے جبکہ 1991ء کے معاہدے کے مطابق ڈاؤن اسٹریم میں ایک کروڑ ایکڑ فٹ پانی چھوڑا جانا تھا مگر اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ پاکستان آب پاشی نظام پر 3 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ  زراعت ہوتی ہے، اس کے لیے دریائی بہاؤ پر پانی جمع کرنے کے تین ڈیم بنائے گئے ہیں جن میں 20 ایم اے ایف تک پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145901697078f.webp'  alt='  کھارے پانی نے ڈیلٹا میں تمر کے جنگلات اجاڑ دیے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کھارے پانی نے ڈیلٹا میں تمر کے جنگلات اجاڑ دیے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس کے علاوہ 12 لنک کینال تعمیر کئے گئے ہیں، ایک تخمینہ کے مطابق دریائے سندھ کا سالانہ بہاؤ سراسری 150 ایم اے ایف ہے۔ اب اس تمام صورت حال کو دیکھیں تو سارا نزلہ آپ کو کوٹری ڈاؤن اسٹریم پر گرتا نظر آئے گا جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد ہوئی ہے اور ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دریا کا میٹھا پانی سمندر کے آگے بڑھتے ہوئے پانی کو روکتا ہے بلکہ اس کو پیچھے دھکیلتا ہے، تمر کے جنگلات کو اُگاتا ہے جو ایک دیوار کی طرح ساحل کے میدانی علاقوں کو تحفظ کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم جو Sub-Tropical Country میں رہتے ہیں تو سب ٹراپیکل کنٹریز کا درجہ حرارت بھاری ہوتا ہے، اب ہمارے ملک کے درجہ حرارت کو فقط دریائے سندھ کا تازہ پانی ہی برقرار رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جب تازہ پانی ڈیلٹا میں داخل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ریت بھی آتی ہے اور اس ریت میں غذائی اجزا ہوتے ہیں جنہیں ہم نیوٹرنٹس بھی کہتے ہیں۔ یہ نیوٹرنٹس مچھلی کو پروٹین اور خوراک مہیا کرتے ہیں اور فطرت اس طریقے سے ایک بریڈنگ شیٹ مہیا کرتی ہے۔ اس لیے سندھ کے سمندر کی مچھلیاں اس پر زندہ رہتی ہیں۔ اگر دریائے سندھ کا پانی وہاں نہیں جائے گا تو وہاں کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور مچھلیاں زندہ نہیں رہ پائیں گی۔ وہ یا تو مر جائیں گی یا دوسری جگہ چلی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145858e1e49c4.webp'  alt='  پانی سے پہلے پانی کے لیے سرگرداں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پانی سے پہلے پانی کے لیے سرگرداں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس لیے میٹھا تازہ پانی آپ کے سمندری درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور ساتھ میں ایک ’کانٹینینٹل شیلف‘  بھی بناتا ہے۔ سندھ کے ساحل کا  ’کانٹینینٹل شیلف‘ 110 کلومیٹر ہے۔ یہ کانٹینینٹل شیلف دریائے سندھ بناتا ہے۔ آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بلوچستان کا ساحلی علاقہ تو سندھ کے کوسٹ سے بڑی اراضی میں پھیلا ہوا ہے مگر وہاں مچھلی سندھ کے ساحل سے کم کیوں ہے؟ وہ اس لیے ہے کیونکہ وہاں کا کانٹینینٹل شیلف فقط 30 سے 35 کلومیٹر تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جتنا یہ شیلف وسیع ہوگا، اتنی زیادہ مچھلی وہاں ہوگی اور ساتھ میں اس سلٹ کی وجہ سے تمر کے جنگلات کی خوب افزائش ہوتی ہے اور مینگروز کے جنگلات مسلسل پھلنے پھولنے کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر اب یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دریائے سندھ کی سمت میں تبدیلی اور سمندر میں پانی نہ چھوڑنے کے سبب، اس وقت فقط 70 ہزار ہیکڑز پر تمر بچے باقی رہ گئے ہیں جو ایک زمانے میں لاکھوں ہیکٹرز پر پھیلے ہوئے تھے۔ یہی تمر کے جنگلات مچھلی اور جھینگوں کی جو کمرشل species ہیں ان کی نرسریز ہوتی ہیں۔ اگر ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہیں چھوڑا جاتا تو مچھلی کی صنعت برباد ہو جائے گی اور انڈس ڈیلٹا فقط سمندر کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں آب گاہیں، قدرتی جنگل اور زراعت بھی آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145855f2f3e51.webp'  alt='  دریا کنارے تمر کے جنگلات  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریا کنارے تمر کے جنگلات&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’1980ء  تک ریونیو ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 12 لاکھ زرعی زمین سمندر کے نذر ہوگئی تھیں اور اب  تک ڈیلٹا کی 35 لاکھ زرعی زمین یا تو سمندر نگل گیا ہے یا سمندر کے کھارے پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے۔ یہاں تک کہ گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اُگتا۔ لاکھوں لوگوں کو انتہائی مجبوری کی حالت میں نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ جھیلوں کا کلچر برباد ہوا ہے وہ الگ جبکہ جنگلی حیات کی سیکڑوں نسلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ یہ ایک سانحے سے کم نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم جب کیٹی بندر سے واپسی پر جھالو کی بستی پہنچے تو وہاں کے سماجی کارکن گلاب شاہ سے میں نے سوال کیا کہ موجودہ وقت جو مون سون کا پانی دریائے سندھ کے راستے سمندر میں داخل ہو رہا ہے، اس سے ڈیلٹا کو کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں؟ جواب میں اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا، ’جس طرح ہم کہتے ہیں کہ ’وٹھا بھلا‘ (بارشیں کتنی بھی برسیں وہ نعمت ہیں) تو ہم یہاں کے بسنے والوں کے لیے تو وہ دن عید کے ہوتے ہیں جب دریا میں پانی آتا ہے تب سب کچھ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ وہ میدان، جنگل اور چھوٹی بڑی جھیلیں سوکھی ہوتی ہیں، وہ بھر جاتی ہیں اور گھاس اور درختوں میں جان پڑ جاتی ہے۔ سمندر کے کنارے سے کئی کلومیٹر اندر تک سمندر کے پانی کو یہ میٹھا پانی دھکیل دے دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ آپ اگر بگھان (کیٹی بندر اور کھارو چھان سے پہلے ایک چھوٹا سا شہر) سے کھارو چھان جائیں تو سمندر میں آپ کو نمک سے بھرا پانی نہیں ملے گا بلکہ سندھو دریا کا میٹھا پانی ملے گا جسے ہم تو پیاس لگنے پر پیتے ہیں اور یہ میٹھا پانی آپ کو سمندری کنارے سے کئی میل آگے تک ملے گا۔ جہاں جہاں تک یہ میٹھا پانی جائے گا وہاں جھینگے اور دوسری مچھلیوں کی پیداوار میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ مطلب کے تین ماہ کے بعد سمندر سے مچھلی پکڑنے کا تناسب گزشتہ برس اگر 30 فیصد تھا تو وہاں اب 90 فیصد ہوگا جس سے مقامی لوگوں پر معاشی حوالے سے اچھے دن آنے والا ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145848e069be2.webp'  alt='   ڈیلٹا کے اچھے دن آنے والے ہیں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ڈیلٹا کے اچھے دن آنے والے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی اور ماحولیات کے حوالے سے جب ٹھٹہ کے محترم انجینئر اوبھایو خشک سے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے انتہائی تفصیل سے جواب دیا، ’موجودہ دنوں دریائے سندھ سے تین  لاکھ کیوسک جو اندازاً 60 لاکھ ایکڑ فٹ بنتا ہے، وہ مختلف راستوں (کریکس) سے سمندر میں داخل ہو رہا ہے۔ ٹھٹہ کی دولہہ دریا خان پُل سے آتھرکی تک پہنچ کر یہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ایک روہڑو، کھارو چھان سے ہوتا ہوا شاہ بندر پہنچتا ہے جبکہ دوسرا بہاؤ کیٹی بندر سے ہو کر کھوبر کریک پہنچتا ہے وہاں سے تُرچھان اور پھر حجامڑو کریک تک چلا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 80 کلومیٹر سے زیادہ علاقہ ہے جس سے میٹھا پانی سمندری پانی کی جگہ لے لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس سے ماحولیاتی اور خوراک کے حوالے سے فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ ان دنوں جب میٹھا پانی اور زرخیز ریت تمر کے جڑوں تک پہنچتی ہے تو اس کے پھلنے پھولنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور ساتھ میں اس کے بیج اس پانی کے بہاؤ میں دور دور تک جاتے ہیں۔ چونکہ تمر کاربن ڈائی آکسائیڈ بہت زیادہ جذب کرنے والی جھاڑ ہے، اس کا بڑھنا ماحولیات کے لیے سب سے مثبت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اور ساتھ میں ان کے جنگلات کی جڑوں میں جھینگے اور مچھلیاں انڈے دیتی ہیں تو وہاں ریت اور غذائی اجزا سے بھری ریت موجود ہوتی ہے جس سے ان کی پیداوار بڑھے گی۔ ساتھ میں جہاں جہاں سے سندھو دریا آرہا ہے وہاں کے قرب و جوار میں میٹھے پانی کی سطح بڑھائے گا۔ مطلب یہ کہ ان دنوں ڈیلٹا کے لوگ بے تحاشا خوش ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145850eef0228.webp'  alt='   یہ پانی انڈس ڈیلٹا میں مچھلیاں اور جھینگوں کی پیداوار بڑھائے گا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ پانی انڈس ڈیلٹا میں مچھلیاں اور جھینگوں کی پیداوار بڑھائے گا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر خطے کی اپنے معروضی حالات اور احساسات ہوتی ہیں۔ پھر لوگ اُن اثاثوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معاشی راستے تلاش کرتے ہیں کیونکہ دو نوالوں کے سوا ایمان اور احترام کا درخت کبھی نہیں اُگتا پھر ان کے روزگار کے وسائل، وہاں موجود منظرناموں اور موسموں کی کوکھ سے وہاں کا کلچر جنم لیتا ہے۔ زبان کو بیان کی طاقت ملتی ہے اور لہجے اور رویے جنم لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگ جو  ان حالات میں جنم لیتے ہیں، وہیں پر جوان ہوتے ہیں، وہیں پر ان کے اپنوں کے جنازے اُٹھتے ہیں، ان ہی آنگنوں پر خوشیوں کے ڈھول بجتے ہیں، مطلب ہزاروں برسوں کی فطرت، معروضی حالات اور انسان کے میل میلاپ اور ایک دوسرے کو قبول کرکے ایک کلچر پنپ کر جوان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم کسی مچھلی کے شکار کرنے والے کو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ سمندر یا جھیل کے کنارے گَنا کیوں کاشت نہیں کرتے؟ یا یہ کہ آپ کے پاس مچھلی کے شکار کے بعد جو وقت ملتا ہے، اس میں ان کناروں پر ضرور گندم کاشت کردیا کریں تو شاید یہ کسی بھی کیفیت میں ممکن نہیں ہوگا۔ تو ایک کلچر ہے جس کو ہم موہانہ کلچر کا نام دیتے ہے۔ ڈیلٹا کے اچھے دن اور ڈیلٹا کے بُرے دن ایک کلچر کو زندہ رکھنے یا برباد کرنے کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;—تصاویر بشکریہ: اطہر مصطفیٰ سومرو&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: ماہی گیر سبحان علی اپنے چھوٹے جال سے حسین آباد میں دریائے سندھ پر کوٹری-حیدرآباد ریلوے پل کے قریب پلا مچھلی پکڑنے کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں—تصویر: عمیر راجپوت&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>ہم جب ننگر ٹھٹہ سے نکلے تھے تو ابھی سورج  طلوع نہیں ہوا تھا، مسلسل بارشوں کی وجہ سے تاحدِ نگاہ مکلی کی پہاڑی، راستے، تعمیرات بھیگے سے دکھائی دے رہے تھے۔ مون سون کا برساتی سلسلہ 4 دن خوب برسنے کے بعد ختم ہو گیا تھا مگر دھوپ کم نکلنے کی وجہ سے نظر جہاں تک جاتی ہر منظر بھیگا نظر آتا جبکہ سمندر کے نزدیک ہونے اور پانی کی نظر نہ آنے والی بوندوں کی وجہ سے منظرنامے پر ہلکی نیلے رنگ کی ایک تہہ بچھی ہوئی نظر آرہی تھی۔</p>
<p>ہم نے ٹھٹہ شہر میں ایک ہوٹل پر ناشتہ کیا دو دو کپ شیریں چائے کے اُنڈیلے اور جب شہر سے شاہ بندر اور کیٹی بندر  کے لیے نکلے تو راستوں کے کناروں پر پانی تھا۔ مگر راستے کے کناروں پر موجود کیکر کے درختوں پر بہار چھائی ہوئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268320"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>موجودہ دنوں پر بات کرنے سے پہلے سندھ کے سمندر کنارے کے متعلق ابن بطوطہ کی کچھ باتیں میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں تاکہ موجودہ زمانے کی تصویر ہمیں صاف نظر آئے۔ ابن بطوطہ 1333ء یعنی آج سے 652 برس پہلے سیہون سے سندھو دریا کے راستے انڈس ڈیلٹا میں اپنے ایک دوست کے ساتھ آیا تھا۔ وہ اپنے سفرنامے میں تحریر کرتے ہیں کہ ’سندھو دریا دنیا کے بہت بڑے دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے جس طرح مصر کی زراعت کا دار و مدار نیل کی تغیانی پر ہے، اسی طرح یہاں کے باشندے بھی اس کی طغیانی پر جیتے ہیں‘۔</p>
<p>بالکل ایسی بات عبدالرحیم خان خاناں نے 1592ء میں کہی تھی جب وہ اکبر کے حکم کو مانتے ہوئے ٹھٹہ پر قبضہ کرنے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ جنوبی سندھ میں پانی کی نہروں کا ایک جال بچھا ہوا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی زمانے میں بغداد نہروں کی بہتات کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں بہت سارے گھاٹ ہیں اور سمندری کنارہ چھوٹی بڑی بندرگاہوں سے بھرا پڑا ہے۔ دھان، گنا، نیر  یہاں بہت اُگایا جاتا ہے۔ جھیلیں بہت ہیں جن کی وجہ سے مچھلی اور پرندوں کی فراوانی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/181459044e06639.webp'  alt='  دریائے سندھ کا کنارہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے سندھ کا کنارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ابن بطوطہ کے دنوں میں سندھو دریا کا مرکزی بہاؤ، برہمن آباد سے شمال اور مغرب میں دو حصوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ ایک بہاؤ جنوب میں نصرپور کے مشرق سے، جنوب مغرب میں ٹنڈو محمد خان کے قریب سے گزرتا ہوا ٹھٹہ کے شمال میں دیبل اور لاڑی بندر کے شمال میں جاکر سمندر میں گرتا تھا۔</p>
<p>ابن بطوطہ لاڑی بندر کے  متعلق لکھتے ہیں کہ ’یہ خوبصورت شہر سمندر کے کنارے واقع ہے۔ قریب ہی سندھو دریا سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ شہر بڑی بندرگاہ ہے۔ یہاں یمن اور فارس کے جہاز اور تاجر زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ شہر بہت مالدار ہے اور اس کا محاصل بھی زیادہ ہے۔ علاء الملک مجھ سے کہتے تھے کہ اس بندر کا محاصل 60 لاکھ دینار ہے۔ امیر الملک کو اس کا 20واں حصہ ملتا ہے باقی مرکزی حکومت میں جمع ہوتا ہے’۔</p>
<p>ہم جب کوٹری ڈاؤن اسٹریم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تب ہم انڈس ڈیلٹا کی بات کر رہے ہوتے ہیں اور کوٹری کے جنوب میں ہزاروں گاؤں اور لاکھوں انسان بستے ہیں جن کا ذریعہ معاش دریا کے بہاؤ پر ہے۔ جب دریا کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تب پانی کی جگہ تیز ریت بہتی ہے اور  وہاں رہنے والے لوگ اپنے گاؤں خالی کرکے نقل مکانی کے درد کی گٹھڑیاں اپنے سینے پر رکھ کر بھٹکتے پھرتے ہیں۔</p>
<p>پانی کی روکنے کی داستان کی ابتدا 1830ء میں ہوئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں آب پاشی کا نظام بنایا کہ زراعت زیادہ ہو اور اُن کے کارخانوں کو خام مال مسلسل ملتا رہے۔ 1932ء میں انگریزوں نے ’سکھر بیراج‘  تعمیر کیا۔ یہ سمجھیں کہ دریا کی خوبصورت دیوانگی کو روکنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔ پھر 1955 میں ’کوٹری بیراج‘ بنا، 1967ء میں ’منگلا‘ اور پھر 1976ء میں ’تربیلا ڈیم‘  بنا۔ ان تمام منصوبوں کے منفی اثرات انڈس ڈیلٹا پر پڑنے تھے اور پڑے بھی۔</p>
<p>ڈاؤن اسٹریم دریا کا وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں دریا کا سفر اختتام کو پہنچتا ہے۔ یہاں فطرت کی رنگارنگی کا اپنا ایک الگ حُسن ہے۔ جنوبی سندھ کی سمندر کنارے والی زمین کو دریا کی مٹی اور ریت نے بنایا ہے۔ جہاں کا منظر نامہ پورے ملک سے مختلف ہے کہ یہاں جھیلوں کی بہتات ہے (تھی) اور کیوں نہ ہو آخر دریائے سندھ کا ہزاروں کلومیٹرز کا سفر یہاں اس ساحلی پٹی پر آکر جو ختم ہوتا ہے۔</p>
<p>سمندر تک پہنچنے کے لیے جتنے راستے اور بہاؤ دریائے سندھ نے تبدیل کیے ہیں وہ کسی دوسرے دریا نے شاید ہی کیے ہوں۔ ’انسائیکلوپیڈیا سندھیانا‘ اس حوالے سے تحریر کرتی ہے کہ ’دریائے سندھ کے سفر کی آخری منزل سے آگے سمندر تک کافی تعداد میں کھاڑیاں یا کریکس (Creeks) جاتی ہیں۔ جنوب مشرق میں ’سیر‘ نامی کھاڑی ہے جو پانی میں پاک و ہند سرحد کا کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھارک، کوچی واڑی، کاجھر، مل، کانہر، ادھیاڑی، سنہڑی، گھوڑو، کھوبر، قلندری، مٹنی، ترچھان، حجامڑو، چھان، دبو، پئٹانی، کھائی، وڈی کُھڈی، ننڈھی کُھڈی، پھٹی، کورنگی اور گزری کریکس ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145918789cbd4.webp'  alt='  آہستہ آہستہ سمندر کی جانب جاتے دریا کے پانی میں کمی آچکی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے سیلاب رحمت ہوتا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آہستہ آہستہ سمندر کی جانب جاتے دریا کے پانی میں کمی آچکی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے سیلاب رحمت ہوتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ کھاڑیاں وہ راستے ہیں جو دریا سمندر تک پہنچنے کے لیے جنوبی سندھ میں آ کر بناتا ہے۔دریاؤں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جن میں ریت اور مٹی کم آتی ہے اور دوسرے وہ جو اپنے ساتھ بڑی مقدار میں ریت اور مٹی لاتے ہیں۔ ایسے دریاؤں میں ’دریائے نیل‘ اور ’دریائے سندھ‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان دونوں میں سے دریائے سندھ اپنے ساتھ سب سے زیادہ زرخیز ریت اور مٹی لانے والا دریا رہا ہے۔ اگر آپ اس تحریر میں شامل تصاویر کو دھیان سے دیکھیں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ پانی کتنا گاڑھا اور مٹیالا ہے۔ یہ پانی زرخیز ریٹ اور خوراک کی ذرات سے بھرا پڑا ہے۔</p>
<p>دریا اپنی ریت سے جو زمین بناتا ہے، ہم اسے ڈیلٹا کہتے ہیں۔ دریا زمین کیسے بناتا ہے؟ میں مختصراً  آپ کو بتاتا ہوں۔</p>
<p>دریا کا پانی سمندر کو آگے آتا دیکھ کر چھوٹے پنکھے (بادکش) کی صورت میں پھیل جاتا ہے اور اپنے ساتھ لائی ہوئی ریت پھیلاتا جاتا ہے جو دھیرے دھیرے سے زمین بنتی جاتی ہے اور جیسے جیسے زمین بنتی جاتی ہے سمندر پیچھے کی جانب ہٹتا چلا جاتا ہے مگر اس کی سطح وہی رہتی ہے۔ جب تیز ہواؤں کے دنوں میں سمندر کی مدافعت بڑھتی ہے تو دریا شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے لیکن اپنے ساتھ لائی ہوئی ریت سمندر کے اندر پھینکتا رہتا ہے۔ اسی طرح سمندر کے اندر ریت کے ٹیلے بنتے جاتے ہیں اور زمین بنتی جاتی ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے ہم یہ بخوبی کہہ سکتے ہیں کہ ماضی میں جنوبی سندھ کا مشرق کی جانب والا حصہ (بدین) ایکٹیو ڈیلٹا تھا اور اب مغرب کی طرف (ٹھٹہ) والا حصہ ایکٹیو ڈیلٹا ہے۔</p>
<p>ایک اندازے کے مطابق، جب دریائے سندھ میں طغیانی آتی تھی تو اس طغیانی کے 100 دنوں میں یہ ریت کے 11کروڑ 90 لاکھ معکب گز سمندر کی طرف لے چلتا ہے۔ اگر اس ریت کا مقابلہ ہم نیل ندی سے کریں جو خود ایک زیادہ ریت لانے والا دریا ہے تو یہ پورے ایک برس میں 4 کروڑ معکب گز ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دریائے سندھ میں ریت کی مقدار دریائے نیل سے تین گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145909cf13349.webp'  alt='  پانی کا ریلا اپنے ساتھ ریت لاتا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پانی کا ریلا اپنے ساتھ ریت لاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جنرل ہیگ اپنی کتاب ’انڈس ڈیلٹا کنٹری‘ میں دریا سے بنی ہوئی نئی زمین کے متعلق تحریر کرتے ہیں، ’برٹش راج کے بعد سمندر کی طرف زمین کے بڑھ جانے کے متعلق جاننے کے لیے ہماری بڑی دلچسپی رہی۔ ہم نے اس پر سروے بھی کیے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دریائے سندھ جن مختلف ندیوں کی صورت میں سمندر کی طرف سفر کرتا سمندر سے جا ملتا ہے، وہاں نئی زمین بڑی تیزی سے بن رہی ہوتی ہے اور سمندر کو مسلسل پیچھے دھکیل رہی ہوتی ہے۔</p>
<p>’ہم نے پہلے 1877ء میں اس پر کام کیا تھا۔ جس سے ہمیں پتا لگا کہ گزشتہ 10 برسوں میں ان نہروں کے سمندر میں پانی ڈالنے سے ساڑھے تین مربع میل نئی زمین بنی ہے۔ اور زمین بڑھنے کی رفتار ہر بہاؤ میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کہیں زمین زیادہ بنتی ہے اور کہیں کم‘۔</p>
<p>انڈس ڈیلٹا اپنی زرخیزی کے حوالے سے خوشحال بھی تھی اور مشہور بھی۔ دھان اُگانے کے لیے اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ دھان کے بیج زمینوں میں ڈال دیے جاتے اور دھان کی فصل کے جیسے جنگل اُگ آتے۔ اس کے متعلق جیمز میکمرڈو لکھتے ہیں، ’پانی کے ساتھ دھان بھی بڑھتی جاتی، کسی علاقے میں تو یہ تین سے چار فٹ تک بڑی ہو جاتی‘۔ اور دھان اتنی اراضی میں ہوتی کہ فصل کی کٹائی کے لیے کَچھ اور ملتان سے لوگ یہاں فصل کی کٹائی کے لیے آتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145919cc62e20.webp'  alt='  دریا میں ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریا میں ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>19 ویں صدی کی ابتدا میں ڈیلٹا کے متعلق جیمس برنس لکھتے ہیں کہ ’یہاں کے مرکزی بہاؤ اور دیگر ندیوں میں سفر کرتے آپ کو پرندوں کی میٹھی آوازیں سننے کو ملیں گی۔ کناروں پر آپ کو گنے کے کھیت ملیں گے جنہیں پانی دینے کے لیے رہٹوں کا استعمال عام ہے۔ ان رہٹوں کو اونٹ اور بیل بھی کھینچتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ٹھنڈے دنوں میں پرندوں کی اتنی بہتات ہے کہ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ مچھلی کے شکار کی تو کیا بات ہے، ایسا لگتا ہے کہ مچھلی پیدا ہی یہاں ہوئی ہے۔ یہاں کیکر اور لئی کے بڑے درختوں کے جنگل ہیں جو یقیناً ایک ڈیلٹا کی خوبصورتی کے زیور ہیں‘۔</p>
<p>Empires of the Indus کی مصنفہ Alice Albinia ڈیلٹا کی تباہی کے متعلق تحریر کرتی ہیں کہ ’1958ء میں کوٹری بیراج مکمل ہونے کے بعد 3500 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی انڈس ڈیلٹا 250 کلومیٹر تک سُکڑ گئی۔ پانی صرف نام کو سمندر کو جاتا تھا۔ میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے تمر کے جنگل اجڑ گئے، چاول کی فصلیں دینے والی زمینیں سفید نمک میں بدل گئیں۔ کاشتکاروں کے پاس مچھلی کے شکار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا‘۔</p>
<p>ڈیلٹا کی اُجڑتی ہوئی دنیا کے متعلق محمد علی شاہ تحریر کرتے ہیں کہ ’گزشتہ کئی برسوں سے حکومت، آبپاشی کے ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور سول سوسائٹی کے درمیان یہ بات زیربحث ہے کہ انڈس ڈیلٹا کے لیے کوٹری ڈاؤن اسٹریم سے کتنے پانی کی ضرورت ہے۔ ماحولیات پر کام کرنے والی عالمی تنظیم ’آئی یو سی این‘ کی تحقیق کے مطابق، تمر کے جنگلات اور سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>’ہم جو ماہی گیروں کے لیے کام کرتے ہیں تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ 35 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی کی ضرورت ہے جبکہ 1991ء کے معاہدے کے مطابق ڈاؤن اسٹریم میں ایک کروڑ ایکڑ فٹ پانی چھوڑا جانا تھا مگر اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ پاکستان آب پاشی نظام پر 3 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ  زراعت ہوتی ہے، اس کے لیے دریائی بہاؤ پر پانی جمع کرنے کے تین ڈیم بنائے گئے ہیں جن میں 20 ایم اے ایف تک پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145901697078f.webp'  alt='  کھارے پانی نے ڈیلٹا میں تمر کے جنگلات اجاڑ دیے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کھارے پانی نے ڈیلٹا میں تمر کے جنگلات اجاڑ دیے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>’اس کے علاوہ 12 لنک کینال تعمیر کئے گئے ہیں، ایک تخمینہ کے مطابق دریائے سندھ کا سالانہ بہاؤ سراسری 150 ایم اے ایف ہے۔ اب اس تمام صورت حال کو دیکھیں تو سارا نزلہ آپ کو کوٹری ڈاؤن اسٹریم پر گرتا نظر آئے گا جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد ہوئی ہے اور ہو رہی ہے۔</p>
<p>’دریا کا میٹھا پانی سمندر کے آگے بڑھتے ہوئے پانی کو روکتا ہے بلکہ اس کو پیچھے دھکیلتا ہے، تمر کے جنگلات کو اُگاتا ہے جو ایک دیوار کی طرح ساحل کے میدانی علاقوں کو تحفظ کا کام کرتے ہیں۔</p>
<p>’ہم جو Sub-Tropical Country میں رہتے ہیں تو سب ٹراپیکل کنٹریز کا درجہ حرارت بھاری ہوتا ہے، اب ہمارے ملک کے درجہ حرارت کو فقط دریائے سندھ کا تازہ پانی ہی برقرار رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>’جب تازہ پانی ڈیلٹا میں داخل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ریت بھی آتی ہے اور اس ریت میں غذائی اجزا ہوتے ہیں جنہیں ہم نیوٹرنٹس بھی کہتے ہیں۔ یہ نیوٹرنٹس مچھلی کو پروٹین اور خوراک مہیا کرتے ہیں اور فطرت اس طریقے سے ایک بریڈنگ شیٹ مہیا کرتی ہے۔ اس لیے سندھ کے سمندر کی مچھلیاں اس پر زندہ رہتی ہیں۔ اگر دریائے سندھ کا پانی وہاں نہیں جائے گا تو وہاں کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور مچھلیاں زندہ نہیں رہ پائیں گی۔ وہ یا تو مر جائیں گی یا دوسری جگہ چلی جائیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145858e1e49c4.webp'  alt='  پانی سے پہلے پانی کے لیے سرگرداں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پانی سے پہلے پانی کے لیے سرگرداں</figcaption>
    </figure></p>
<p>’اس لیے میٹھا تازہ پانی آپ کے سمندری درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور ساتھ میں ایک ’کانٹینینٹل شیلف‘  بھی بناتا ہے۔ سندھ کے ساحل کا  ’کانٹینینٹل شیلف‘ 110 کلومیٹر ہے۔ یہ کانٹینینٹل شیلف دریائے سندھ بناتا ہے۔ آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بلوچستان کا ساحلی علاقہ تو سندھ کے کوسٹ سے بڑی اراضی میں پھیلا ہوا ہے مگر وہاں مچھلی سندھ کے ساحل سے کم کیوں ہے؟ وہ اس لیے ہے کیونکہ وہاں کا کانٹینینٹل شیلف فقط 30 سے 35 کلومیٹر تک ہے۔</p>
<p>’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جتنا یہ شیلف وسیع ہوگا، اتنی زیادہ مچھلی وہاں ہوگی اور ساتھ میں اس سلٹ کی وجہ سے تمر کے جنگلات کی خوب افزائش ہوتی ہے اور مینگروز کے جنگلات مسلسل پھلنے پھولنے کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر اب یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔</p>
<p>’دریائے سندھ کی سمت میں تبدیلی اور سمندر میں پانی نہ چھوڑنے کے سبب، اس وقت فقط 70 ہزار ہیکڑز پر تمر بچے باقی رہ گئے ہیں جو ایک زمانے میں لاکھوں ہیکٹرز پر پھیلے ہوئے تھے۔ یہی تمر کے جنگلات مچھلی اور جھینگوں کی جو کمرشل species ہیں ان کی نرسریز ہوتی ہیں۔ اگر ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہیں چھوڑا جاتا تو مچھلی کی صنعت برباد ہو جائے گی اور انڈس ڈیلٹا فقط سمندر کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں آب گاہیں، قدرتی جنگل اور زراعت بھی آجاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145855f2f3e51.webp'  alt='  دریا کنارے تمر کے جنگلات  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریا کنارے تمر کے جنگلات</figcaption>
    </figure></p>
<p>’1980ء  تک ریونیو ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 12 لاکھ زرعی زمین سمندر کے نذر ہوگئی تھیں اور اب  تک ڈیلٹا کی 35 لاکھ زرعی زمین یا تو سمندر نگل گیا ہے یا سمندر کے کھارے پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے۔ یہاں تک کہ گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اُگتا۔ لاکھوں لوگوں کو انتہائی مجبوری کی حالت میں نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ جھیلوں کا کلچر برباد ہوا ہے وہ الگ جبکہ جنگلی حیات کی سیکڑوں نسلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ یہ ایک سانحے سے کم نہیں ہے‘۔</p>
<p>ہم جب کیٹی بندر سے واپسی پر جھالو کی بستی پہنچے تو وہاں کے سماجی کارکن گلاب شاہ سے میں نے سوال کیا کہ موجودہ وقت جو مون سون کا پانی دریائے سندھ کے راستے سمندر میں داخل ہو رہا ہے، اس سے ڈیلٹا کو کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں؟ جواب میں اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا، ’جس طرح ہم کہتے ہیں کہ ’وٹھا بھلا‘ (بارشیں کتنی بھی برسیں وہ نعمت ہیں) تو ہم یہاں کے بسنے والوں کے لیے تو وہ دن عید کے ہوتے ہیں جب دریا میں پانی آتا ہے تب سب کچھ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ وہ میدان، جنگل اور چھوٹی بڑی جھیلیں سوکھی ہوتی ہیں، وہ بھر جاتی ہیں اور گھاس اور درختوں میں جان پڑ جاتی ہے۔ سمندر کے کنارے سے کئی کلومیٹر اندر تک سمندر کے پانی کو یہ میٹھا پانی دھکیل دے دیتا ہے۔</p>
<p>’ آپ اگر بگھان (کیٹی بندر اور کھارو چھان سے پہلے ایک چھوٹا سا شہر) سے کھارو چھان جائیں تو سمندر میں آپ کو نمک سے بھرا پانی نہیں ملے گا بلکہ سندھو دریا کا میٹھا پانی ملے گا جسے ہم تو پیاس لگنے پر پیتے ہیں اور یہ میٹھا پانی آپ کو سمندری کنارے سے کئی میل آگے تک ملے گا۔ جہاں جہاں تک یہ میٹھا پانی جائے گا وہاں جھینگے اور دوسری مچھلیوں کی پیداوار میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ مطلب کے تین ماہ کے بعد سمندر سے مچھلی پکڑنے کا تناسب گزشتہ برس اگر 30 فیصد تھا تو وہاں اب 90 فیصد ہوگا جس سے مقامی لوگوں پر معاشی حوالے سے اچھے دن آنے والا ہیں’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145848e069be2.webp'  alt='   ڈیلٹا کے اچھے دن آنے والے ہیں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ڈیلٹا کے اچھے دن آنے والے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>پانی اور ماحولیات کے حوالے سے جب ٹھٹہ کے محترم انجینئر اوبھایو خشک سے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے انتہائی تفصیل سے جواب دیا، ’موجودہ دنوں دریائے سندھ سے تین  لاکھ کیوسک جو اندازاً 60 لاکھ ایکڑ فٹ بنتا ہے، وہ مختلف راستوں (کریکس) سے سمندر میں داخل ہو رہا ہے۔ ٹھٹہ کی دولہہ دریا خان پُل سے آتھرکی تک پہنچ کر یہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ایک روہڑو، کھارو چھان سے ہوتا ہوا شاہ بندر پہنچتا ہے جبکہ دوسرا بہاؤ کیٹی بندر سے ہو کر کھوبر کریک پہنچتا ہے وہاں سے تُرچھان اور پھر حجامڑو کریک تک چلا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 80 کلومیٹر سے زیادہ علاقہ ہے جس سے میٹھا پانی سمندری پانی کی جگہ لے لیتا ہے۔</p>
<p>’اس سے ماحولیاتی اور خوراک کے حوالے سے فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ ان دنوں جب میٹھا پانی اور زرخیز ریت تمر کے جڑوں تک پہنچتی ہے تو اس کے پھلنے پھولنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور ساتھ میں اس کے بیج اس پانی کے بہاؤ میں دور دور تک جاتے ہیں۔ چونکہ تمر کاربن ڈائی آکسائیڈ بہت زیادہ جذب کرنے والی جھاڑ ہے، اس کا بڑھنا ماحولیات کے لیے سب سے مثبت ہے۔</p>
<p>’اور ساتھ میں ان کے جنگلات کی جڑوں میں جھینگے اور مچھلیاں انڈے دیتی ہیں تو وہاں ریت اور غذائی اجزا سے بھری ریت موجود ہوتی ہے جس سے ان کی پیداوار بڑھے گی۔ ساتھ میں جہاں جہاں سے سندھو دریا آرہا ہے وہاں کے قرب و جوار میں میٹھے پانی کی سطح بڑھائے گا۔ مطلب یہ کہ ان دنوں ڈیلٹا کے لوگ بے تحاشا خوش ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/18145850eef0228.webp'  alt='   یہ پانی انڈس ڈیلٹا میں مچھلیاں اور جھینگوں کی پیداوار بڑھائے گا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ پانی انڈس ڈیلٹا میں مچھلیاں اور جھینگوں کی پیداوار بڑھائے گا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہر خطے کی اپنے معروضی حالات اور احساسات ہوتی ہیں۔ پھر لوگ اُن اثاثوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معاشی راستے تلاش کرتے ہیں کیونکہ دو نوالوں کے سوا ایمان اور احترام کا درخت کبھی نہیں اُگتا پھر ان کے روزگار کے وسائل، وہاں موجود منظرناموں اور موسموں کی کوکھ سے وہاں کا کلچر جنم لیتا ہے۔ زبان کو بیان کی طاقت ملتی ہے اور لہجے اور رویے جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>وہ لوگ جو  ان حالات میں جنم لیتے ہیں، وہیں پر جوان ہوتے ہیں، وہیں پر ان کے اپنوں کے جنازے اُٹھتے ہیں، ان ہی آنگنوں پر خوشیوں کے ڈھول بجتے ہیں، مطلب ہزاروں برسوں کی فطرت، معروضی حالات اور انسان کے میل میلاپ اور ایک دوسرے کو قبول کرکے ایک کلچر پنپ کر جوان ہوتا ہے۔</p>
<p>ہم کسی مچھلی کے شکار کرنے والے کو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ سمندر یا جھیل کے کنارے گَنا کیوں کاشت نہیں کرتے؟ یا یہ کہ آپ کے پاس مچھلی کے شکار کے بعد جو وقت ملتا ہے، اس میں ان کناروں پر ضرور گندم کاشت کردیا کریں تو شاید یہ کسی بھی کیفیت میں ممکن نہیں ہوگا۔ تو ایک کلچر ہے جس کو ہم موہانہ کلچر کا نام دیتے ہے۔ ڈیلٹا کے اچھے دن اور ڈیلٹا کے بُرے دن ایک کلچر کو زندہ رکھنے یا برباد کرنے کا کام کرتے ہیں۔</p>
<p><em>—تصاویر بشکریہ: اطہر مصطفیٰ سومرو</em></p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: ماہی گیر سبحان علی اپنے چھوٹے جال سے حسین آباد میں دریائے سندھ پر کوٹری-حیدرآباد ریلوے پل کے قریب پلا مچھلی پکڑنے کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں—تصویر: عمیر راجپوت</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269557</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 11:34:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/18145855f2f3e51.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/18145855f2f3e51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/191338538450404.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/191338538450404.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ دن جب کٹھمنڈو جل اٹھا!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269070/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;8 ستمبر 2025ء کا ہفتہ کانتی پور ٹیلی ویژن میں چھوٹے موٹے کام کرنے والے آر سی گوتم کے لیے کسی طور غیرمعمولی نہیں تھا۔ دو دہائیوں تک اسٹیشن میں ملازمت کے دوران انہوں نے سڑکوں پر متعدد مظاہرے دیکھے، خطرناک سیاسی صورت حال کا سامنا کیا، خانہ جنگی دیکھی، فائرنگ کے واقعات، پُرتشدد حالات، حتیٰ کہ چینل کے ہیڈکوارٹر پر حملہ بھی دیکھا۔ لیکن 9 ستمبر کو جو کچھ ہوا، وہ ان کے لیے قدرے مختلف تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فون پر مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ کتنے لوگوں نے ہمارے اسٹیشن پر دھاوا بولا۔ یہ سب بہت اچانک ہوا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشتعل ہجوم نے منگل کو کانتی پور ٹی وی کی عمارت میں گھس کر احاطے میں موجود تین عمارتوں کو آگ لگادی جبکہ درجن بھر موٹر سائیکلز اور درجن سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔ یہ اسٹیشن اُن سیکڑوں عمارتوں اور گھروں میں سے ایک تھا جو نیپال میں ’جین زی‘ کے مظاہروں کے نتیجے میں حملے کی زد میں آیا جو 8 ستمبر کو تیزی سے بےقابو ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/11120115c01e0fd.webp'  alt='لوگ 10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں سپریم کورٹ کی جلی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑے ہیں&amp;mdash; تصویر: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لوگ 10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں سپریم کورٹ کی جلی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑے ہیں— تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر حالیہ پابندی کی وجہ سے مشتعل مظاہرین بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268754/"&gt;سڑکوں پر نکل آئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔ ہر روز تقریباً 2 ہزار نیپالی کام کے سلسلے میں خلیجی ممالک، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں منتقل ہو رہے ہیں جبکہ نیپال ترسیلاتِ زر کی معیشت پر منحصر ہے، سیاستدان اور رہنماؤں کے بچوں کاطرزِ زندگی شاہانہ ہے، یہی وہ عوامل ہیں جن پر سوشل میڈیا پر جین زی کے نوجوان تنقید کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پیر کو مظاہرین سڑکوں پر آئے تو توقع تھی کہ وہ پُرامن رہیں گے۔ ابتدائی طور پر وہ موسیقی پر رقص کررہے تھے جبکہ تحریک کی حمایت میں چند مقامی مشہور شخصیات نے بھی شرکت کی۔ لیکن حالات تب تیزی سے بےقابو ہونے لگے کہ جب ہجوم میں موجود چند بڑی عمر کے افراد نے پارلیمنٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد کٹھمنڈو کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر نے فائر کھولنے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں 22 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ اموات کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا۔ ان میں سے چند ہلاک مظاہرین نے اسکول کے یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ 10 سمتبر تک رپورٹ کے مطابق 30 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ مظاہروں میں زخمی ہونے والے ایک ہزار سے زائد افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کہا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد جتنی بتائی جارہی ہے، اس سے کئی زیادہ ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اسی طرح کے واقعات میں کئی لوگ لاپتا بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کٹھمنڈو-میں-جہنم-کا-منظر" href="#کٹھمنڈو-میں-جہنم-کا-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کٹھمنڈو میں جہنم کا منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;9 ستمبر کو تشدد میں اس وقت اضافہ ہوا کہ جب آتش زنی کرنے والے گروہ سڑکوں پر نمودار ہوئے جنہوں نے وزرا کی نجی رہائش گاہوں اور حکومت کے قریب سمجھے جانے والے کاروباری اداروں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اور نذرِ آتش کیا۔ وزارتی کوارٹرز، سرکاری عمارتیں، پولیس اسٹیشنز، سپریم کورٹ اور ملک کا اہم انتظامی بلاک ’سنگھا دربار‘ آگ کی زد میں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو کٹھمنڈو جل اُٹھا کہ جہاں اشتعال کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ فضا میں دھواں ہی دھواں تھا جس میں سانس لینا دوبھر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب دارالحکومت کے شمال میں واقع بدھانیلکانتھا کے علاقے میں جہاں میں رہتی ہوں، دھوئیں کے بادل چھانے لگے اور فوج کے ہیلی کاپٹرز آسمان پر اڑتے نظر آئے تو سابق رپورٹر کی حیثیت سے میری پرانی عادت نے مجھے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/111226486b96d1a.webp'  alt='10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کی جانب سے آگ لگانے کے ایک دن بعد، نیپال کی مشہور ریٹیل چین بھٹ بھٹینی کی جلتی ہوئی سپر مارکیٹ کی عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک فوجی اہلکار سڑک پر گشت کر رہا ہے&amp;mdash;تصویر: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کی جانب سے آگ لگانے کے ایک دن بعد، نیپال کی مشہور ریٹیل چین بھٹ بھٹینی کی جلتی ہوئی سپر مارکیٹ کی عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک فوجی اہلکار سڑک پر گشت کر رہا ہے—تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور ان کی اہلیہ ارجو دیوبا جوکہ خود بھی سابق وزیر رہ چکی ہیں، دونوں کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کی رہائش گاہ سے دھوئیں کے بادل اٹھے جو شیواپور پہاڑی تک گئے۔ ہیلی کاپٹرز نے سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو ایئر لفٹ کرنے کی کوشش میں کئی چکر لگائے جنہیں ہجوم نے زد و کوب کیا اور وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ گولیوں کی آوازیں سنی گئیں اور ہمسایوں نے بتایا کہ دو افراد مارے گئے ہیں جبکہ ان کی اموات کی تصدیق نہیں ہوئی۔ شیر بہادر دیوبا اور ارجو دیوبا کو زخمی حالت میں گھر کے پچھلے دروازے سے ریسکیو کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے گھر کے پار سڑک پر، دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا اور ہوا میں آگ کی بُو تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میں جائے وقوع پر پہنچی تو آتشزدگی کرنے والے جا چکے تھے اور عوام کو سابق صدر بدھیا بھنڈاری کے گھر تک کھلی رسائی حاصل تھی جوکہ شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ باہر ہجوم جمع تھا جو آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھا۔ چند باتیں میری سماعت سے بھی ٹکرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تم نے کیا لیا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مجھے کچھ نہیں مل سکا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہاں 2 لاکھ 40 ہزار نیپالی روپے تھے اور کچھ امریکی ڈالر بھی۔۔۔ کچھ لوگوں نے وہ لے لیے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کوئی اپنے ساتھ گدا لے گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میں نے صرف کیک اٹھایا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کو چہل قدمی کرتے ہوئے میں بدھیا بھنڈاری کے گھر سے گزرتے ہوئے اکثر جائزہ لیتی کہ سابق صدر کی رہائش گاہ پر مسلح گارڈز چوکیوں پر تعینات ہوتے تھے۔ منگل کو جب گھر جل رہا تھا اور مکینوں کو نکال لیا گیا تھا تو میں نے دیکھا کہ گارڈز اب بھی گیٹ کے باہر موجود تھے اور انتظار کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’یہ ہماری ڈیوٹی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے کٹھمنڈو کی حالت بدھیا بھنڈاری کی رہائش گاہ سے مختلف نہ تھی کیونکہ آتش زنی کرنے والے گروہ، ایک محلے سے دوسرے محلے میں جاتے رہے اور وزرا اور منتظمین کے گھروں کو نذرِ آتش کرکے لوٹ مار کرتے، انہیں مارتے  پیٹتے اور انہیں برہنہ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 ستمبر کو کٹھمنڈو جہنم کا منظر پیش کررہا تھا کیونکہ پولیس نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر فائر بریگیڈ کو حرکت کرنے سے روکا ہوا تھا۔ اگر وہ آگ بجھانے کے لیے متحرک بھی ہو جاتے تو وہ اتنی بڑی نوعیت کی آگ سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ کسی کو بھی اتنی بڑی سطح پر بدامنی پھیلنے اور پُرتشدد صورت حال کا اندازہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نیند-کی-کمی" href="#نیند-کی-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیند کی کمی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;8 ستمبر کی ہلاکتوں کے بعد زیادہ تر نیپالی ٹھیک سے سو نہیں پائے ہیں۔ زیادہ تر لوگ یا تو بہت غصے میں ہیں، بہت اداس ہیں، تھکے ہوئے ہیں یا یہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خوفزدہ ہیں۔ پہلے تو اشتعال براہ راست کے پی اولی کی حکومت اور حکمران اتحاد کے لیے تھا جنہوں نے نہتے مظاہرین کو قتل کیا۔ لیکن اگلے دن تک لوگوں کے جذبات الجھن کا شکار ہوچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کوئی نہیں جانتا کہ آتش زنی کرنے والوں کی پشت پناہی کون کر رہا تھا یا ایسا لگتا ہے کہ وہ مخصوص گھروں اور اداروں کو اس طرح نشانہ بنا رہے کہ گویا وہ کسی فہرست پر عمل درآمد کررہے ہوں یعنی یہ حملے پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹرسائیکلز پر سوار افراد گھر گھر جا رہے تھے، آگ لگا رہے تھے اور ایسے زور زور سے نعرے لگاتے جیسے وہ جنگ میں فتح کا جشن منارہے ہوں۔ ان میں سے کچھ کے پاس بندوقیں تھیں جو انہوں نے اُن تھانوں سے چرائی تھیں جہاں انہوں نے دھاوا بولا تھا۔ مہاراج گنج چکرپاتھ وہ محلہ ہے جہاں میں پلی بڑھی، وہاں ایک اعلیٰ پولیس عہدے دار کو ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کر دیا۔ کچھ پولیس والوں کو فوج کے ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو سلنگز کا استعمال کرتے ہوئے باہر نکالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/111228189785e6f.webp'  alt='10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کے ہاتھوں نذر آتش کیے جانے کے ایک دن بعد فضائی منظر میں فائر فائٹرز نیپال کی حکومت کی مرکزی انتظامی عمارت سنگھا دربار میں لگی آگ کو بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے&amp;mdash;تصویر: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کے ہاتھوں نذر آتش کیے جانے کے ایک دن بعد فضائی منظر میں فائر فائٹرز نیپال کی حکومت کی مرکزی انتظامی عمارت سنگھا دربار میں لگی آگ کو بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے—تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ تھانہ تھا جہاں میں اور میرے اہل خانہ اپنی شکایات لے کر جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ’جین زی‘ جنہوں نے احتجاج کا آغاز کیا تھا، نے سوشل میڈیا پر پُرسکون رہنے کی اپیل کی اور فسادات کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار دیا، تب تک ملک کا بہت زیادہ نقصان ہو چکا تھا۔ ان کی کال کرپشن کے خلاف پُرامن احتجاج کی تھی۔ لیکن حالات ان کے قابو سے باہر ہوتے چلے گئے۔ ان کی تحریک کو ہائی جیک کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب 9 ستمبر کی شام نیپال کے آرمی چیف نے خطاب کیا تو لوگوں نے کسی حد تک سکھ کا سانس لیا کہ اگر حالات مزید نہ بگڑے تو کم از کم اب ہنگامہ آرائی رُک جائے گی۔ آرمی چیف نے اپنے خطاب میں سخت احکامات کے ساتھ سیکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کی بات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمی کے ٹرکس &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1940983/soldiers-guard-nepals-parliament-patrol-streets-after-two-days-of-deadly-protests"&gt;شہر میں گشت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کرتے نظر آئے لیکن پھر بھی عوام نے خوف کے باعث آنکھوں میں رات کاٹی۔ کچھ مقامات پر نامعلوم گروہ نجی رہائش گاہوں میں گھس گئے جبکہ کچھ گھروں میں لوٹ مار کی اطلاعات ملیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں قیدی فرار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب شہر تباہی کا منظر پیش کررہا تھا، میں اپنے ساتھی نوجوان صحافی کو میسج کررہی تھی جس کا تعلق کٹھمنڈو سے نہیں لیکن وہ کام اور تعلیم کے سلسلے میں دارالحکومت میں رہائش پذیر ہے۔ اس نے کہا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں شاید رات میں احتیاط کے طور پر اپنے تکیے کے نیچے قینچی رکھ کر سوؤں گی۔ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ مردوں کے گھروں میں گھسنے اور خواتین کا ریپ کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کی تصدیق بعدازاں فوج نے اپنے اعلامیے میں بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میڈیا-خانہ-جنگی-کا-شکار" href="#میڈیا-خانہ-جنگی-کا-شکار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;میڈیا خانہ جنگی کا شکار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;منگل کو کانتی پور ٹی وی پر حملے کے دوران، میرے سابق کولیگ آر سی گوتم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن تادمِ تحریر وہ فوج کے لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے گھر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اس کے بجائے وہ قریب ہی کسی جاننے والے کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’اب کیا ہوگا، دیدی؟ میں بچوں کو کیسے کھلاؤں گا؟ میں انہیں کیسے تعلیم دوں گا؟ میں جس دفتر میں کام کرتا تھا وہ تو ختم ہو گیا ہے‘۔ میرے پاس آر سی گوتم کو دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا لیکن میں نے ان کے ساتھ اپنے سابقہ دفتر کو کھو دینے پر سوگ منایا جو اُن بہت سی دیگر عناصر میں سے ایک تھا جنہیں دو دنوں کے دوران ہم نے کھو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانتی پور ٹی وی نجی میڈیا کی سب سے بڑی میراث ہے جوکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ اگرچہ میڈیا کمپنیز اپنے مالکان اور مشتہرین سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان کا زیادہ تر انحصار ان صحافیوں پر ہوتا ہے جو میڈیا ہاؤس چلاتے ہیں۔ خاص طور پر وہ غیر جانبدار لوگ جو اپنی زندگی صحافت کو دے دیتے ہیں تاکہ وہ اعلیٰ معیار کو برقرار رکھ سکیں۔ کانتی پور میڈیا گروپ میں کئی سالوں کے دوران اس طرح کے بہت سے صحافیوں نے کام کیا جنہوں نے اس وقت سخت مؤقف اختیار کیا کہ جب قوم کو ان کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/111232005b5d32d.webp'  alt='ایک آدمی ایک گرافٹی کے پاس سے گزر رہا ہے جس پر لکھا ہے &amp;rsquo;قاتل کو پھانسی دو!&amp;lsquo;&amp;mdash; تصویر: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایک آدمی ایک گرافٹی کے پاس سے گزر رہا ہے جس پر لکھا ہے ’قاتل کو پھانسی دو!‘— تصویر: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2006ء کو سڑکوں پر ہونے والے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/186744/hundreds-held-as-strike-grips-nepal"&gt;احتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے دوران، سیکڑوں لوگ ٹنکونے کے کانتی پور کمپلیکس کے باہر جمع ہوئے تھے اور انہوں نے تالیاں بجا کر مؤثر صحافت پر شکریہ ادا کیا تھا۔ ہم میں سے جو لوگ اس وقت وہاں کام کرتے تھے وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے اور ہم میں سے کچھ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب اسی ادارے کے ساتھ بالکل مختلف سلوک کیا گیا۔ کانتی پور میں کام کرنے والے بہت سے صحافیوں کے لیے، ان کا دفتر ان کا گھر تھا جہاں سے انہوں نے دنیا میں مقالے شروع کیے، سخت سوالات پوچھے اور نیپالی لوگوں کو سوچنےکی ترغیب دی۔ کانتی پور اسٹیشن پر حملہ نیپال کی تاریخ میں ایک پریشان کن موڑ کا اشارہ کرتا ہے جہاں حقیقی صحافت کے عزم کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقینی طور پر کچھ صحافی شارٹ کٹس لیتے ہیں اور میڈیا کو کاروبار کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے لیکن یہاں ایسے صحافی بھی ہیں جو سچ بولنے پر یقین رکھتے ہیں۔ آزاد اور منصفانہ صحافت جمہوریت کی بنیاد ہے اور کانتی پور جیسے میڈیا ہاؤس کو نذرِآتش کرنا، اس دور کے خاتمے کا اشارہ کرتا ہے کہ جہاں آزاد میڈیا پر بھروسہ کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سوالات-کی-بھرمار" href="#سوالات-کی-بھرمار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سوالات کی بھرمار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ تحریک جس چیز کا مطالبہ کر رہی ہے، ان میں سے ایک آزادی اظہار رائے کی بحالی ہے تو میڈیا ہاؤس کو نشانہ بنانا ایک علامتی تضاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو ہمیں پھر اسی اہم سوال کی جانب واپس لاتا ہے۔ نیپال میں اب کیا ہوگا؟ اس حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں ہے۔ کیا اس معاملے میں بیرونی عناصر ملوث ہیں؟ کیا اس کے پیچھے خفیہ سیاسی گروہ ہیں جو اپنے مفادات کے لیے کام کررہے ہیں؟ فسادات کس نے بھڑکائے؟ اب نیپال کی قیادت کس کو کرنی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 ستمبر کا پورا دن جین زی کے نوجوانوں نے اس بات پر بحث کرنے میں گزارا کہ وہ کس کو عبوری حکمران منتخب کریں۔ لیکن قانونی پیچیدگیوں اور آپس میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے تھے جبکہ قوم منتظر تھی۔ نیپال کے عوام کے ذہنوں میں لاتعداد سوالات ہیں۔ اگرچہ جوابات تو بہت ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب واضح طور پر صحیح یا غلط نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/11123336d8660fe.webp'  alt='پس منظر میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والا ہلٹن کٹھمنڈو ہوٹل سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک سپاہی کے ساتھ قیدی سامان لے کر دلی بازار جیل کی جانب جا رہے ہیں۔ احتجاج کے بعد مفرور قیدیوں کو نیپالی فوج نے جیل بھیجا&amp;mdash; تصویر: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پس منظر میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والا ہلٹن کٹھمنڈو ہوٹل سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک سپاہی کے ساتھ قیدی سامان لے کر دلی بازار جیل کی جانب جا رہے ہیں۔ احتجاج کے بعد مفرور قیدیوں کو نیپالی فوج نے جیل بھیجا— تصویر: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت ملک کی سابق چیف جسٹس سُشیلا کرکی نے نوجوان مظاہرین کی درخواست پر عبوری حکومت کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268971"&gt;قیادت کرنے پر رضامندی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ظاہر کردی ہے۔ انہوں نے بھارتی چینل سی این این نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’جب انہوں نے مجھ سے درخواست کی تو میں نے اسے قبول کرلیا‘۔ نوجوان مظاہرین کے نمائندگان نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے بعد میں فوجی حکام سے ملاقات کی اور سشیلا کرکی کو عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے اپنے انتخاب کے طور پر تجویز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی میڈیا اور دوست جاننا چاہتے ہیں کہ نیپال میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں خیریت پوچھنے والوں اور متجسس لوگوں کے لاتعداد پیغامات موصول ہورہے ہیں لیکن ہمارے لوگ اس وقت بہت تھک چکے ہیں۔ ہم نے گھروں کو جلتے دیکھا، ہم اپنے پیاروں کی اچانک موت کے شاہد بنے، ہمارے ساتھیوں کو گولیاں ماری گئیں، مارا پیٹا گیا اور ہمارے دوستوں اور خاندانوں کو لوٹا گیا۔ ہم نے لوگوں کو بندوقوں اور خکوریاں (ایک روایتی چاقو جو نیپال کا قومی ہتھیار بھی ہے) کا استعمال کرتے ہوئے، معصوموں کو دھمکاتے ہوئے بھی دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں کون متحرک کر رہا ہے؟ سابق وزرا کہاں بھاگ گئے؟ وہ کہاں ہیں جو بہ حفاظت فرار ہو کر روپوش ہو گئے؟ فوجی بیرکوں میں کس کو پناہ دی جا رہی ہے؟ فوج کے اقدام سے کیا صورت حال پیدا ہونے کا امکان ہے؟ قوم اپنا نیا لیڈر کس کو چنے گی؟ کیا صدر فوری انتخابات کا مطالبہ کریں گے؟ کیا آئین میں ترمیم ہوگی؟ ان ماؤں کو کون تسلی دے گا جن کے بچے احتجاج میں مارے گئے؟ ان تمام لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے اپنی ملازمتیں کھو دی ہیں کیونکہ وہ جن عمارتوں میں کام کرتے تھے وہ اب ختم ہو چکی ہیں؟ سوالات کی بھرمار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ابھی  بس کچھ لمحے کے لیے ان سوالات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نیپالی عوام کو آرام، مدد اور طاقت کی ضرورت ہے کہ جب یہ تمام افراتفری ختم اور حالات معمول پر آجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: 8 ستمبر کو نیپال کے کٹھمنڈو میں بدعنوانی اور حکومت کے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے دوران پارلیمنٹ کے داخلی دروازے کے قریب ایک گاڑی کے اوپر کھڑا مظاہرین میں شامل نوجوان جھنڈا لہرا رہا ہے— تصویر: رائٹرز&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1941168/the-day-kathmandu-burned"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>8 ستمبر 2025ء کا ہفتہ کانتی پور ٹیلی ویژن میں چھوٹے موٹے کام کرنے والے آر سی گوتم کے لیے کسی طور غیرمعمولی نہیں تھا۔ دو دہائیوں تک اسٹیشن میں ملازمت کے دوران انہوں نے سڑکوں پر متعدد مظاہرے دیکھے، خطرناک سیاسی صورت حال کا سامنا کیا، خانہ جنگی دیکھی، فائرنگ کے واقعات، پُرتشدد حالات، حتیٰ کہ چینل کے ہیڈکوارٹر پر حملہ بھی دیکھا۔ لیکن 9 ستمبر کو جو کچھ ہوا، وہ ان کے لیے قدرے مختلف تھا۔</p>
<p>انہوں نے فون پر مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ کتنے لوگوں نے ہمارے اسٹیشن پر دھاوا بولا۔ یہ سب بہت اچانک ہوا‘۔</p>
<p>مشتعل ہجوم نے منگل کو کانتی پور ٹی وی کی عمارت میں گھس کر احاطے میں موجود تین عمارتوں کو آگ لگادی جبکہ درجن بھر موٹر سائیکلز اور درجن سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔ یہ اسٹیشن اُن سیکڑوں عمارتوں اور گھروں میں سے ایک تھا جو نیپال میں ’جین زی‘ کے مظاہروں کے نتیجے میں حملے کی زد میں آیا جو 8 ستمبر کو تیزی سے بےقابو ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/11120115c01e0fd.webp'  alt='لوگ 10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں سپریم کورٹ کی جلی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑے ہیں&mdash; تصویر: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لوگ 10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں سپریم کورٹ کی جلی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑے ہیں— تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>سوشل میڈیا پر حالیہ پابندی کی وجہ سے مشتعل مظاہرین بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268754/">سڑکوں پر نکل آئے</a></strong>۔ ہر روز تقریباً 2 ہزار نیپالی کام کے سلسلے میں خلیجی ممالک، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں منتقل ہو رہے ہیں جبکہ نیپال ترسیلاتِ زر کی معیشت پر منحصر ہے، سیاستدان اور رہنماؤں کے بچوں کاطرزِ زندگی شاہانہ ہے، یہی وہ عوامل ہیں جن پر سوشل میڈیا پر جین زی کے نوجوان تنقید کررہے تھے۔</p>
<p>جب پیر کو مظاہرین سڑکوں پر آئے تو توقع تھی کہ وہ پُرامن رہیں گے۔ ابتدائی طور پر وہ موسیقی پر رقص کررہے تھے جبکہ تحریک کی حمایت میں چند مقامی مشہور شخصیات نے بھی شرکت کی۔ لیکن حالات تب تیزی سے بےقابو ہونے لگے کہ جب ہجوم میں موجود چند بڑی عمر کے افراد نے پارلیمنٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>یوں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد کٹھمنڈو کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر نے فائر کھولنے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں 22 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ اموات کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا۔ ان میں سے چند ہلاک مظاہرین نے اسکول کے یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ 10 سمتبر تک رپورٹ کے مطابق 30 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ مظاہروں میں زخمی ہونے والے ایک ہزار سے زائد افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔</p>
<p>لیکن کہا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد جتنی بتائی جارہی ہے، اس سے کئی زیادہ ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اسی طرح کے واقعات میں کئی لوگ لاپتا بھی ہوئے۔</p>
<h1><a id="کٹھمنڈو-میں-جہنم-کا-منظر" href="#کٹھمنڈو-میں-جہنم-کا-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کٹھمنڈو میں جہنم کا منظر</h1>
<p>9 ستمبر کو تشدد میں اس وقت اضافہ ہوا کہ جب آتش زنی کرنے والے گروہ سڑکوں پر نمودار ہوئے جنہوں نے وزرا کی نجی رہائش گاہوں اور حکومت کے قریب سمجھے جانے والے کاروباری اداروں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اور نذرِ آتش کیا۔ وزارتی کوارٹرز، سرکاری عمارتیں، پولیس اسٹیشنز، سپریم کورٹ اور ملک کا اہم انتظامی بلاک ’سنگھا دربار‘ آگ کی زد میں آئے۔</p>
<p>منگل کو کٹھمنڈو جل اُٹھا کہ جہاں اشتعال کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ فضا میں دھواں ہی دھواں تھا جس میں سانس لینا دوبھر تھا۔</p>
<p>جب دارالحکومت کے شمال میں واقع بدھانیلکانتھا کے علاقے میں جہاں میں رہتی ہوں، دھوئیں کے بادل چھانے لگے اور فوج کے ہیلی کاپٹرز آسمان پر اڑتے نظر آئے تو سابق رپورٹر کی حیثیت سے میری پرانی عادت نے مجھے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/111226486b96d1a.webp'  alt='10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کی جانب سے آگ لگانے کے ایک دن بعد، نیپال کی مشہور ریٹیل چین بھٹ بھٹینی کی جلتی ہوئی سپر مارکیٹ کی عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک فوجی اہلکار سڑک پر گشت کر رہا ہے&mdash;تصویر: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کی جانب سے آگ لگانے کے ایک دن بعد، نیپال کی مشہور ریٹیل چین بھٹ بھٹینی کی جلتی ہوئی سپر مارکیٹ کی عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک فوجی اہلکار سڑک پر گشت کر رہا ہے—تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور ان کی اہلیہ ارجو دیوبا جوکہ خود بھی سابق وزیر رہ چکی ہیں، دونوں کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کی رہائش گاہ سے دھوئیں کے بادل اٹھے جو شیواپور پہاڑی تک گئے۔ ہیلی کاپٹرز نے سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو ایئر لفٹ کرنے کی کوشش میں کئی چکر لگائے جنہیں ہجوم نے زد و کوب کیا اور وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ گولیوں کی آوازیں سنی گئیں اور ہمسایوں نے بتایا کہ دو افراد مارے گئے ہیں جبکہ ان کی اموات کی تصدیق نہیں ہوئی۔ شیر بہادر دیوبا اور ارجو دیوبا کو زخمی حالت میں گھر کے پچھلے دروازے سے ریسکیو کیا گیا۔</p>
<p>میرے گھر کے پار سڑک پر، دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا اور ہوا میں آگ کی بُو تھی۔</p>
<p>جب میں جائے وقوع پر پہنچی تو آتشزدگی کرنے والے جا چکے تھے اور عوام کو سابق صدر بدھیا بھنڈاری کے گھر تک کھلی رسائی حاصل تھی جوکہ شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ باہر ہجوم جمع تھا جو آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھا۔ چند باتیں میری سماعت سے بھی ٹکرائیں۔</p>
<p>’تم نے کیا لیا؟‘</p>
<p>’مجھے کچھ نہیں مل سکا‘۔</p>
<p>وہاں 2 لاکھ 40 ہزار نیپالی روپے تھے اور کچھ امریکی ڈالر بھی۔۔۔ کچھ لوگوں نے وہ لے لیے’۔</p>
<p>’کوئی اپنے ساتھ گدا لے گیا‘۔</p>
<p>’میں نے صرف کیک اٹھایا‘۔</p>
<p>شام کو چہل قدمی کرتے ہوئے میں بدھیا بھنڈاری کے گھر سے گزرتے ہوئے اکثر جائزہ لیتی کہ سابق صدر کی رہائش گاہ پر مسلح گارڈز چوکیوں پر تعینات ہوتے تھے۔ منگل کو جب گھر جل رہا تھا اور مکینوں کو نکال لیا گیا تھا تو میں نے دیکھا کہ گارڈز اب بھی گیٹ کے باہر موجود تھے اور انتظار کررہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’یہ ہماری ڈیوٹی ہے‘۔</p>
<p>پورے کٹھمنڈو کی حالت بدھیا بھنڈاری کی رہائش گاہ سے مختلف نہ تھی کیونکہ آتش زنی کرنے والے گروہ، ایک محلے سے دوسرے محلے میں جاتے رہے اور وزرا اور منتظمین کے گھروں کو نذرِ آتش کرکے لوٹ مار کرتے، انہیں مارتے  پیٹتے اور انہیں برہنہ کرتے رہے۔</p>
<p>9 ستمبر کو کٹھمنڈو جہنم کا منظر پیش کررہا تھا کیونکہ پولیس نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر فائر بریگیڈ کو حرکت کرنے سے روکا ہوا تھا۔ اگر وہ آگ بجھانے کے لیے متحرک بھی ہو جاتے تو وہ اتنی بڑی نوعیت کی آگ سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ کسی کو بھی اتنی بڑی سطح پر بدامنی پھیلنے اور پُرتشدد صورت حال کا اندازہ نہیں تھا۔</p>
<h1><a id="نیند-کی-کمی" href="#نیند-کی-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیند کی کمی</h1>
<p>8 ستمبر کی ہلاکتوں کے بعد زیادہ تر نیپالی ٹھیک سے سو نہیں پائے ہیں۔ زیادہ تر لوگ یا تو بہت غصے میں ہیں، بہت اداس ہیں، تھکے ہوئے ہیں یا یہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خوفزدہ ہیں۔ پہلے تو اشتعال براہ راست کے پی اولی کی حکومت اور حکمران اتحاد کے لیے تھا جنہوں نے نہتے مظاہرین کو قتل کیا۔ لیکن اگلے دن تک لوگوں کے جذبات الجھن کا شکار ہوچکے تھے۔</p>
<p>اب تک کوئی نہیں جانتا کہ آتش زنی کرنے والوں کی پشت پناہی کون کر رہا تھا یا ایسا لگتا ہے کہ وہ مخصوص گھروں اور اداروں کو اس طرح نشانہ بنا رہے کہ گویا وہ کسی فہرست پر عمل درآمد کررہے ہوں یعنی یہ حملے پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوتے دکھائی دیے۔</p>
<p>موٹرسائیکلز پر سوار افراد گھر گھر جا رہے تھے، آگ لگا رہے تھے اور ایسے زور زور سے نعرے لگاتے جیسے وہ جنگ میں فتح کا جشن منارہے ہوں۔ ان میں سے کچھ کے پاس بندوقیں تھیں جو انہوں نے اُن تھانوں سے چرائی تھیں جہاں انہوں نے دھاوا بولا تھا۔ مہاراج گنج چکرپاتھ وہ محلہ ہے جہاں میں پلی بڑھی، وہاں ایک اعلیٰ پولیس عہدے دار کو ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کر دیا۔ کچھ پولیس والوں کو فوج کے ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو سلنگز کا استعمال کرتے ہوئے باہر نکالا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/111228189785e6f.webp'  alt='10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کے ہاتھوں نذر آتش کیے جانے کے ایک دن بعد فضائی منظر میں فائر فائٹرز نیپال کی حکومت کی مرکزی انتظامی عمارت سنگھا دربار میں لگی آگ کو بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے&mdash;تصویر: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>10 ستمبر 2025ء کو کٹھمنڈو میں مظاہرین کے ہاتھوں نذر آتش کیے جانے کے ایک دن بعد فضائی منظر میں فائر فائٹرز نیپال کی حکومت کی مرکزی انتظامی عمارت سنگھا دربار میں لگی آگ کو بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے—تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ وہ تھانہ تھا جہاں میں اور میرے اہل خانہ اپنی شکایات لے کر جاتے تھے۔</p>
<p>جب تک ’جین زی‘ جنہوں نے احتجاج کا آغاز کیا تھا، نے سوشل میڈیا پر پُرسکون رہنے کی اپیل کی اور فسادات کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار دیا، تب تک ملک کا بہت زیادہ نقصان ہو چکا تھا۔ ان کی کال کرپشن کے خلاف پُرامن احتجاج کی تھی۔ لیکن حالات ان کے قابو سے باہر ہوتے چلے گئے۔ ان کی تحریک کو ہائی جیک کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>جب 9 ستمبر کی شام نیپال کے آرمی چیف نے خطاب کیا تو لوگوں نے کسی حد تک سکھ کا سانس لیا کہ اگر حالات مزید نہ بگڑے تو کم از کم اب ہنگامہ آرائی رُک جائے گی۔ آرمی چیف نے اپنے خطاب میں سخت احکامات کے ساتھ سیکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کی بات کی تھی۔</p>
<p>آرمی کے ٹرکس <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1940983/soldiers-guard-nepals-parliament-patrol-streets-after-two-days-of-deadly-protests">شہر میں گشت</a></strong> کرتے نظر آئے لیکن پھر بھی عوام نے خوف کے باعث آنکھوں میں رات کاٹی۔ کچھ مقامات پر نامعلوم گروہ نجی رہائش گاہوں میں گھس گئے جبکہ کچھ گھروں میں لوٹ مار کی اطلاعات ملیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں قیدی فرار ہوئے۔</p>
<p>جب شہر تباہی کا منظر پیش کررہا تھا، میں اپنے ساتھی نوجوان صحافی کو میسج کررہی تھی جس کا تعلق کٹھمنڈو سے نہیں لیکن وہ کام اور تعلیم کے سلسلے میں دارالحکومت میں رہائش پذیر ہے۔ اس نے کہا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں شاید رات میں احتیاط کے طور پر اپنے تکیے کے نیچے قینچی رکھ کر سوؤں گی۔ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ مردوں کے گھروں میں گھسنے اور خواتین کا ریپ کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کی تصدیق بعدازاں فوج نے اپنے اعلامیے میں بھی کی۔</p>
<h1><a id="میڈیا-خانہ-جنگی-کا-شکار" href="#میڈیا-خانہ-جنگی-کا-شکار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>میڈیا خانہ جنگی کا شکار</h1>
<p>منگل کو کانتی پور ٹی وی پر حملے کے دوران، میرے سابق کولیگ آر سی گوتم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن تادمِ تحریر وہ فوج کے لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے گھر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اس کے بجائے وہ قریب ہی کسی جاننے والے کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’اب کیا ہوگا، دیدی؟ میں بچوں کو کیسے کھلاؤں گا؟ میں انہیں کیسے تعلیم دوں گا؟ میں جس دفتر میں کام کرتا تھا وہ تو ختم ہو گیا ہے‘۔ میرے پاس آر سی گوتم کو دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا لیکن میں نے ان کے ساتھ اپنے سابقہ دفتر کو کھو دینے پر سوگ منایا جو اُن بہت سی دیگر عناصر میں سے ایک تھا جنہیں دو دنوں کے دوران ہم نے کھو دیا۔</p>
<p>کانتی پور ٹی وی نجی میڈیا کی سب سے بڑی میراث ہے جوکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ اگرچہ میڈیا کمپنیز اپنے مالکان اور مشتہرین سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان کا زیادہ تر انحصار ان صحافیوں پر ہوتا ہے جو میڈیا ہاؤس چلاتے ہیں۔ خاص طور پر وہ غیر جانبدار لوگ جو اپنی زندگی صحافت کو دے دیتے ہیں تاکہ وہ اعلیٰ معیار کو برقرار رکھ سکیں۔ کانتی پور میڈیا گروپ میں کئی سالوں کے دوران اس طرح کے بہت سے صحافیوں نے کام کیا جنہوں نے اس وقت سخت مؤقف اختیار کیا کہ جب قوم کو ان کی ضرورت تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/111232005b5d32d.webp'  alt='ایک آدمی ایک گرافٹی کے پاس سے گزر رہا ہے جس پر لکھا ہے &rsquo;قاتل کو پھانسی دو!&lsquo;&mdash; تصویر: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایک آدمی ایک گرافٹی کے پاس سے گزر رہا ہے جس پر لکھا ہے ’قاتل کو پھانسی دو!‘— تصویر: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>اپریل 2006ء کو سڑکوں پر ہونے والے <strong><a href="https://www.dawn.com/news/186744/hundreds-held-as-strike-grips-nepal">احتجاج</a></strong> کے دوران، سیکڑوں لوگ ٹنکونے کے کانتی پور کمپلیکس کے باہر جمع ہوئے تھے اور انہوں نے تالیاں بجا کر مؤثر صحافت پر شکریہ ادا کیا تھا۔ ہم میں سے جو لوگ اس وقت وہاں کام کرتے تھے وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے اور ہم میں سے کچھ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔</p>
<p>لیکن اب اسی ادارے کے ساتھ بالکل مختلف سلوک کیا گیا۔ کانتی پور میں کام کرنے والے بہت سے صحافیوں کے لیے، ان کا دفتر ان کا گھر تھا جہاں سے انہوں نے دنیا میں مقالے شروع کیے، سخت سوالات پوچھے اور نیپالی لوگوں کو سوچنےکی ترغیب دی۔ کانتی پور اسٹیشن پر حملہ نیپال کی تاریخ میں ایک پریشان کن موڑ کا اشارہ کرتا ہے جہاں حقیقی صحافت کے عزم کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔</p>
<p>یقینی طور پر کچھ صحافی شارٹ کٹس لیتے ہیں اور میڈیا کو کاروبار کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے لیکن یہاں ایسے صحافی بھی ہیں جو سچ بولنے پر یقین رکھتے ہیں۔ آزاد اور منصفانہ صحافت جمہوریت کی بنیاد ہے اور کانتی پور جیسے میڈیا ہاؤس کو نذرِآتش کرنا، اس دور کے خاتمے کا اشارہ کرتا ہے کہ جہاں آزاد میڈیا پر بھروسہ کیا جاتا تھا۔</p>
<h1><a id="سوالات-کی-بھرمار" href="#سوالات-کی-بھرمار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سوالات کی بھرمار</h1>
<p>اگر یہ تحریک جس چیز کا مطالبہ کر رہی ہے، ان میں سے ایک آزادی اظہار رائے کی بحالی ہے تو میڈیا ہاؤس کو نشانہ بنانا ایک علامتی تضاد ہے۔</p>
<p>جو ہمیں پھر اسی اہم سوال کی جانب واپس لاتا ہے۔ نیپال میں اب کیا ہوگا؟ اس حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں ہے۔ کیا اس معاملے میں بیرونی عناصر ملوث ہیں؟ کیا اس کے پیچھے خفیہ سیاسی گروہ ہیں جو اپنے مفادات کے لیے کام کررہے ہیں؟ فسادات کس نے بھڑکائے؟ اب نیپال کی قیادت کس کو کرنی چاہیے؟</p>
<p>10 ستمبر کا پورا دن جین زی کے نوجوانوں نے اس بات پر بحث کرنے میں گزارا کہ وہ کس کو عبوری حکمران منتخب کریں۔ لیکن قانونی پیچیدگیوں اور آپس میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے تھے جبکہ قوم منتظر تھی۔ نیپال کے عوام کے ذہنوں میں لاتعداد سوالات ہیں۔ اگرچہ جوابات تو بہت ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب واضح طور پر صحیح یا غلط نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/11123336d8660fe.webp'  alt='پس منظر میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والا ہلٹن کٹھمنڈو ہوٹل سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک سپاہی کے ساتھ قیدی سامان لے کر دلی بازار جیل کی جانب جا رہے ہیں۔ احتجاج کے بعد مفرور قیدیوں کو نیپالی فوج نے جیل بھیجا&mdash; تصویر: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پس منظر میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والا ہلٹن کٹھمنڈو ہوٹل سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ ایک سپاہی کے ساتھ قیدی سامان لے کر دلی بازار جیل کی جانب جا رہے ہیں۔ احتجاج کے بعد مفرور قیدیوں کو نیپالی فوج نے جیل بھیجا— تصویر: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>فی الوقت ملک کی سابق چیف جسٹس سُشیلا کرکی نے نوجوان مظاہرین کی درخواست پر عبوری حکومت کی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268971">قیادت کرنے پر رضامندی</a></strong> ظاہر کردی ہے۔ انہوں نے بھارتی چینل سی این این نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’جب انہوں نے مجھ سے درخواست کی تو میں نے اسے قبول کرلیا‘۔ نوجوان مظاہرین کے نمائندگان نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے بعد میں فوجی حکام سے ملاقات کی اور سشیلا کرکی کو عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے اپنے انتخاب کے طور پر تجویز کیا۔</p>
<p>بین الاقوامی میڈیا اور دوست جاننا چاہتے ہیں کہ نیپال میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں خیریت پوچھنے والوں اور متجسس لوگوں کے لاتعداد پیغامات موصول ہورہے ہیں لیکن ہمارے لوگ اس وقت بہت تھک چکے ہیں۔ ہم نے گھروں کو جلتے دیکھا، ہم اپنے پیاروں کی اچانک موت کے شاہد بنے، ہمارے ساتھیوں کو گولیاں ماری گئیں، مارا پیٹا گیا اور ہمارے دوستوں اور خاندانوں کو لوٹا گیا۔ ہم نے لوگوں کو بندوقوں اور خکوریاں (ایک روایتی چاقو جو نیپال کا قومی ہتھیار بھی ہے) کا استعمال کرتے ہوئے، معصوموں کو دھمکاتے ہوئے بھی دیکھا۔</p>
<p>یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں کون متحرک کر رہا ہے؟ سابق وزرا کہاں بھاگ گئے؟ وہ کہاں ہیں جو بہ حفاظت فرار ہو کر روپوش ہو گئے؟ فوجی بیرکوں میں کس کو پناہ دی جا رہی ہے؟ فوج کے اقدام سے کیا صورت حال پیدا ہونے کا امکان ہے؟ قوم اپنا نیا لیڈر کس کو چنے گی؟ کیا صدر فوری انتخابات کا مطالبہ کریں گے؟ کیا آئین میں ترمیم ہوگی؟ ان ماؤں کو کون تسلی دے گا جن کے بچے احتجاج میں مارے گئے؟ ان تمام لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے اپنی ملازمتیں کھو دی ہیں کیونکہ وہ جن عمارتوں میں کام کرتے تھے وہ اب ختم ہو چکی ہیں؟ سوالات کی بھرمار ہے۔</p>
<p>لیکن ابھی  بس کچھ لمحے کے لیے ان سوالات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نیپالی عوام کو آرام، مدد اور طاقت کی ضرورت ہے کہ جب یہ تمام افراتفری ختم اور حالات معمول پر آجائیں۔</p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: 8 ستمبر کو نیپال کے کٹھمنڈو میں بدعنوانی اور حکومت کے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے دوران پارلیمنٹ کے داخلی دروازے کے قریب ایک گاڑی کے اوپر کھڑا مظاہرین میں شامل نوجوان جھنڈا لہرا رہا ہے— تصویر: رائٹرز</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1941168/the-day-kathmandu-burned">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269070</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Sep 2025 14:36:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پراتیبھا تولادھر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/1211515179461df.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/1211515179461df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’حیدر آباد سازش کیس‘ جس نے ملک میں انتقامی سیاست کا نیا باب کھولا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268970/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان مسئلے کے خصوصی سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/balochistanmasla"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ججز کے بیٹھتے ہی نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ عبد الولی خان اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ ہم سمجھتے تھے کہ جج ہمیں انصاف دیں گے لیکن حکمرانوں نے ہماری طرح آپ کو بھی جیل بھیج دیا۔ اس مشکل میں ہمیں آپ کے ساتھ ہمدردی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالولی خان کے اس بیان پر عدالت میں قہقہے بلند ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;’8 فروری 1975ء کی شام کو دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشنز سے یہ خبر نشر ہوئی کہ پشاور یونیورسٹی کے ہسٹری ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں دھماکا ہوا ہے جس میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر اور سینئر وزیر حیات محمد خان شیر پاؤ جاں بحق ہوگئے۔ جب یہ خبر نشر ہوئی تو صدر سردار داؤد نے فوری طور پر اجمل خٹک سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کہا کہ یہ کام آپ لوگوں نے کیا ہے جس پر اجمل خٹک نے لاعلمی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اجمل خٹک کے انکار کے باوجود اس واقعے کے دوسرے ہی دن اس تخریب کاری کے دونوں مرکزی کردار، چارسدہ کے برج نامی گاؤں کے بلا خان (حبیب اللہ خان) اور اس کے بھائی معز اللہ خان کے ساتھ افغانستان فرار ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پورے واقعے اور سانحے کی روداد یہ ہے کہ منصوبہ بندی کے مطابق انور اور امجد نے ایک ٹیپ ریکارڈر میں بم نصب کرلیا تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ 7 فروری کو ٹیکنیکل کالج پشاور میں طلبہ کی ایک تقریب جس میں حیات محمد خان شیرپاؤ شرکت کررہے تھے، بم دھماکا کرنا تھا۔ لیکن اس دن ہوا یہ کہ پشاور یونیورسٹی کے صدر افراسیاب خٹک بھی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے چنانچہ منصوبے پر عمل نہ ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس تقریب کے دوسرے دن شیر پاؤ ہسٹری ڈپارٹمنٹ کی نومنتخب اسٹوڈنٹ یونین کی تقریب حلف برداری میں مدعو تھے انور اور امجد نے ٹیپ ریکارڈر روسٹرم پر مائیک کے ساتھ بہ ظاہر اس غرض سے رکھ لیا تھا کہ شیر پاؤ کی تقریر ریکارڈ ہو۔ جب شیر پاؤ تقریر اور سوالات و جوابات کے لیے روسٹرم پر آئے تو ایک زور دار دھماکا ہوا اور حیات محمد خان شیر پاؤ دھماکے کی نذر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس دن بارش ہورہی تھی۔ دھماکے سے پہلے امجد اور انور بے خبری کے عالم میں کھیتوں سے ہوتے ہوئے چارسدہ روانہ ہوئے۔ راستے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور لوگوں کی تلاشی ہورہی تھی۔ جب یہ دونوں چارسدہ سے کچھ فاصلے پر عمومی سڑک پر آئے تو پولیس انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار کرکے تھانے لے گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پولیس اور بھی کئی لوگوں کو گرفتار کرکے لائی تھی۔ وہاں تھانے میں انہیں علم ہوا کہ شیر پاؤ جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے وہاں بلا خان کے ایک نوکر کو دیکھا اور اسے اشارے سے اپنے قریب بلا لیا اور ان سے بلا خان کو خبر دینے کو کہا۔ بلا خان ایک نڈر اور ہوشیار آدمی تھے۔ وہ آئے پولیس کو ڈرایا دھمکایا کہ تم لوگوں نے میرے معزز مہمانوں کو کیوں گرفتار کیا ہے۔ یوں انور اور امجد رہا ہوگئے اور بلا خان نے انہیں اپنے اور اپنے بھائی معز اللہ خان کے ہمراہ براستہ مہمند ایجنسی افغانستان روانہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’انور اور امجد نے شروع کے چند دن شمالی افغانستان میں قندوز وغیرہ کے علاقوں میں چھپتے چھپاتے خاموشی کے دن گزارے۔ چونکہ افغانستان ایک پسماندہ اور تنگ وترش ملک تھا جہاں کابل ایک ایسا شہر تھا جو زندگی گزارنے کے قابل تھا، اس لیے یہ دونوں چند دن کے بعد کابل چلے آئے اور کابل میں ہمارے ہاں (اجمل خٹک کی رہائش گاہ) قیام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دوسری جانب پاکستان میں پولیس کو راستے میں دو شیروانیاں پڑی ملیں اور ان شیروانیوں کے توسط سے اس درزی کے پاس پہنچ گئی جس نے ان کی سلائی کی تھی۔ تفتیش درزی سے ہوتے ہوئے ان کے مالکان تک پہنچ گئی۔ یعنی باچا اور امجد باچا کے نام منظر عام پر آگئے۔ اس قتل کا الزام بیگم نسیم ولی خان، اسفند یار ولی اور نثار محمد خان آف گل آباد پر لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نثار محمد خان خود پیپلزپارٹی میں شامل تھے اور شاید سیاسی اور خان ہونے کی وجہ سے حیات محمد خان سے شاکی تھی۔ نثار محمد خان اور اسفند یار گرفتار کیے گئے جنہوں نے سختی کے نتیجے میں اعتراف بھی کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/1111424832363d4.webp'  alt='  حیدرآباد سازش کیس میں عبدالولی خان عدالتی سماعت کے دوران&amp;mdash;تصویر: فاروق عادل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حیدرآباد سازش کیس میں عبدالولی خان عدالتی سماعت کے دوران—تصویر: فاروق عادل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’البتہ نثار محمد خان اور اسفند یار پشتو زبان کے محاورے کے مطابق ‘املوک کے مول’ یعنی مفت میں ماخوذ ہوگئے۔ کمانڈر حیات اللہ کے مطابق 1973ء میں ولی خان نے انہیں تاکید کی تھی کہ پختون زلمے کی کارروائیوں سے دو افراد کو کسی طور کوئی خبر نہ ہو یعنی ایک اسفند یار ولی اور دوسرے افراسیاب خٹک۔ اگرچہ افراسیاب بہ ظاہر کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کی بنیاد پر تمام باتوں سے آگاہ تھے اور عبدالولی خان اصلیت جانتے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقتباس جمعہ خان صوفی کی کتاب ’فریب ناتمام‘ سے لینا پڑا کیونکہ بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کی تاریخ ہی ایسی ہے جسے محض ذاتی یادداشت اور سنی سنائی بات پر نہیں لکھا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ خان صوفی کی کتاب کے 5 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں لیکن میں ان سے معذرت سے کہوں گا کہ وہ اپنے تاثرات اور مشاہدات لکھتے ہوئے بہت آگے بڑھ گئے۔ حقائق بیان کرتے ہوئے ان پر تلخی غالب آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جمعہ خان صوفی سے میری پہلی ملاقات مارچ 1978ء میں ہوئی تھی۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں، میں جس ہفت روزہ ‘معیار’ میں کام کرتا تھا، اس پر پابندی لگ چکی تھی۔ ہفت روزہ معیار کے مدیر اشرف شاد میری نیشنل عوامی پارٹی قیادت سے قربت سے واقف تھے۔ ایک دن کہنے لگے کہ ہم ایک نیا رسالہ نکال رہے ہیں، آپ کابل چلے جائیں، اجمل خٹک وہاں آپ کی میزبانی بھی کریں گے اور رہنمائی بھی’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زمانے میں کابل جانا مشکل کام نہ تھا۔ باقاعدہ کراچی کے افغان قونصل خانے سے ویزا لیا۔ بہ ذریعہ ٹرین پشاور پہنچا جہاں اجمل خٹک کے ایک معتمد ڈاکٹر شیرافضل ملک کے توسط سے پشاور سے کابل جانے کا انتظام ہوا۔ اس زمانے میں سرکاری ٹرانسپورٹ کی بسیں چلتی تھیں۔ پشاور سے کابل کا کرایہ صرف 50 روپے تھا اور سفر صرف 8 گھنٹے کا تھا۔ تاہم اس دور میں طالبان کی ہلکی پھلکی کارروائیاں شروع ہوچکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس میں شاید میں واحد پاکستانی سوار تھا۔ دریائے کابل کے ساتھ ساتھ جلال آباد میں کھانا کھانے کے بعد کابل پہنچا تو شام ہورہی تھی ایک پبلک کال آفس سے اجمل خٹک کے گھر فون کیا۔ پتا لے کر پہنچا تو اجمل خٹک کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ ہاں جمعہ خان صوفی میزبانی کے لیے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ خان صوفی طالب علمی کے زمانے سے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) بلکہ کمیونسٹ پارٹی سے زیادہ قریب تھے۔ انہی کی ہدایت پر وہ 1970ء کی دہائی کی ابتدا میں کابل آگئے تھے۔ سردار داؤد کی حکومت ختم ہوئی تو وہ ماسکو نواز حکومت کے بھی انتہائی قریب تھے۔ کابل میں افغان صدر نور محمد ترکئی سے انٹرویو کا اہتمام صوفی جمعہ کے توسط سے ہی ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/111115112d550be.webp'  alt='  لکھاری افغان صدر نور محمد ترکئی سے انٹرویو لیتے ہوئے&amp;mdash;تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری افغان صدر نور محمد ترکئی سے انٹرویو لیتے ہوئے—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپسی پر میں نے ایک کتاب ‘طورخم کے اس طرف’ لکھی تھی جس کی تقریب رونمائی کراچی پریس کلب میں ہوئی تھی۔ مہمان خصوصی ہمارے مارکسسٹ استاد سید سبط حسن اور صدارت شیر محمد مری عرف جنرل شیروف نے کی تھی۔ یہ لیجیے میں ایک بار پھر موضوع سے بھٹکتا ہوا آگے بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں بھی فیض احمد فیض صاحب کی زبان میں ’اپنے حوالے سے گفتگو کو بیان کرنا ایک بور بات ہے‘، مگر بہرحال یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ افغانستان میں جو اتار چڑھاؤ آتے رہے، مجھے اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1989ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور میں بھی کابل کا سفر کیا۔ پھر حامد کرزئی کے زمانے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ بھی بہ حیثیت صحافی وہاں جانے کا موقع ملا۔ ہاں میں نے کوشش ضرور کی مگر طالبان دور میں جانے کا کوئی راستہ نہیں مل سکا۔ اپنے پس منظر کے سبب راستہ نکلتا بھی تو کیسے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ پہلے ہی ایک کے بعد دوسری تمہید نے اتنی طول دے دی ہے کہ بلوچستان کی 5ویں تحریک پس منظر میں چلی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیات محمد شیر پاؤ کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے نیپ پر پابندی لگادی۔ اس وقت کی سپریم کورٹ آف پاکستان جس کے سربراہ چیف جسٹس حمود الرحمٰن اور جس کے اراکین جسٹس انوار الحق اور جسٹس یعقوب خان نے نیپ پر پابندی کو جائز قرار دیا جس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر جسٹس اسلم ریاض کی سربراہی میں ایک 4 رکنی ٹریبونل تشکیل دیا گیا۔ دلچسپ اور عجیب اتفاق ہے کہ اس ٹریبونل کے لیے عدالتی کارروائی کے لیے بھی سندھ کا شہر حیدرآباد منتخب کیا گیا جہاں کم وبیش دو دہائی قبل پنڈی سازش کیس چلا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/11113257e3f8c4e.webp'  alt='  پی پی پی کی حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پی پی پی کی حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک اور دلچسپ اتفاق اپنی ذات کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ دو سال بعد اسی حیدرآباد جیل اور اسی بیرک میں مجھے بھی 1978ء میں جنرل ضیا الحق کی فوجی عدالت سے صحافیوں کی تحریک کے حوالے سے اسیر زنداں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدر آباد سازش کیس چھ پھاٹکوں کے اندر چلتا تھا۔ ملاقاتوں پر کوئی زیادہ پابندیاں نہیں تھیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے سابق سیکریٹری مجید بلوچ کی ہمراہ ایک دن مجھے بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ عدالت میں پہنچے تو مقدمے کی کارروائی جاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کی کارروائی کیا ایک شور و غوغا تھا۔ استغاثہ یعنی حکومت کے وکیل کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے یحییٰ بختیار تھے اور وکیل صفائی میاں محمود علی قصوری تھے جو پنجاب نیپ کے صدر رہ چکے تھے لیکن 1970ء میں جب بھٹو کی لہر چلی تو پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ لاہور سے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی خالی نشست پر رکن قومی اسمبلی اور وزیر قانون بھی بنے مگر 1973ء کے آئین کی ابتدائی تیاریوں میں چند اختلافات کے سبب مستعفی ہوگئے۔ یوں 1973ء کے آئین کے خالق ہونے کا اعزاز ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کو مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے اندر نظر دوڑاتے ہی مجھے ایسا لگا کہ گویا میں خود بھی قید میں ہوں۔ ملاقاتیوں اور قیدیوں کے درمیان ایک لوہے کی دیوار تھی۔ جج صاحبان اور ملزمان بھی مشکل سے نظر آئے۔ کارروائی ختم ہوئی تو ملاقاتیوں کے کمرے میں پہلی بار میر غوث بخش بزنجو سے تعارف ہوا۔ میر صاحب سے ان کے لیے ان کا ملاقاتی ایک مرتبان مچھلیاں لایا ہوا تھا۔ میر صاحب مرتبان میں ہاتھ ڈال کر مرچولی مچھلی مزے لے کر کھا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہ طور صحافی اپوزیشن خاص طور پر نیپ میری بیٹ تھی۔ میں نے میر صاحب سے انٹرویو کے لیے کہا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ’تم تو بھٹو کے رسالے میں کام کرتے ہو، کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہو، انٹرویو چھوڑو! یہ میرا کورٹ میں دیا ہوا بیان چھاپ دو‘۔ آج کی طرح سیاست اور صحافت پابندی نہیں تھی تو پیپلزپارٹی کے ترجمان رسالے میں میر صاحب کا بیان لفظ بہ لفظ شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/1111125103c41df.webp'  alt='  لکھاری کی میر غوث بزنجو سے انٹرویو لینے کی ایک تصویر&amp;mdash;تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری کی میر غوث بزنجو سے انٹرویو لینے کی ایک تصویر—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد سازش کیس میں 54 ملزمان نامزد تھے جن میں نیپ کی پوری سینٹرل کمیٹی شامل تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے نیپ کے پشاور کنونشن میں جو قرارداد پاس کی تھی وہ بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ ان 54 ملزمان میں سے چند کا تعلق پنجاب سے تھا جن میں سید قسور گردیزی اور حبیب جالب کے نام مجھے یاد آرہے ہیں، باقی کا تعلق بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی شاعر حبیب جالب کو جس دن گرفتار کیاگیا، اس دن ان کے بڑے بیٹے کا سوئم تھا۔تھانے میں ایس پی نے کہا، ’جالب صاحب آپ کے پنجاب کے کامریڈوں سے بات ہوگئی ہے، آپ بھی معافی مانگ لیں تو ابھی رہا کردوں‘۔ جالب صاحب سے قریب رہنے والوں کو علم ہے کہ ان کا اپنا ایک خاص مزاج تھا۔ جالب صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، ’معافی مانگ لوں تو چند ماہ زندہ نہیں رہ سکوں گا‘۔ اس پر ایس پی نے ہتھکڑی پہناتے ہوئے کہا، ‘اب اس پر کیا کہہ سکتے ہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے حوالے سے نیپ کی پشتون قیادت اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ایک الگ مضمون باندھنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5557aa85845.jpg?r=979119430'  alt='  حبیب جالب نے اپنے مزاج کے مطابق معافی مانگنے سے انکار کیا&amp;mdash;تصویر: اظہر جعفری/ ڈان ہیرالڈ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حبیب جالب نے اپنے مزاج کے مطابق معافی مانگنے سے انکار کیا—تصویر: اظہر جعفری/ ڈان ہیرالڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد سازش کیس کو سمیٹتے ہوئے بتاؤں کہ اس مقدمے کے نتیجے میں جہاں ایک نئی سیاسی تقسیم ہوئی وہیں انتقامی سیاست کا بھی ایک ایسا باب کھلا کہ جب بھٹو حکومت کا جولائی 1977ء میں خاتمہ ہوا اور 4 اپریل 1979ء کو بھٹو صاحب پھانسی چڑھے تو اس کارروائی پر بھٹو مخالفین جن میں نیپ بھی شامل تھی، نے معروف اصطلاح میں مٹھائیاں نہیں بانٹیں مگر تالیاں ضرور بجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے 4 اپریل 1979ء کو بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا جو کچھ کہا اسے ضبط تحریر میں لانا نہیں چاہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد جیل کے اس تاریخی ہال میں مقدمے کی کارروائی کے دوران کئی دلچسپ واقعات رونما ہوئے جن میں سے ایک واقعے کا تحریر کے آغاز میں جج صاحبان کی جانب سے جیل میں مقدمے کی سماعت کرنے پر عبدالولی خان کے تاریخی تبصرے کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد سازش کیس کی روداد طویل ہے جسے آئندہ کے لیے رکھتا ہوں مگر آپ شاعر عوام حبیب جالب کے اس شعر سے لطف اندوز ہوں جو انہوں نے عدالت میں ججز کے سامنے پڑھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ منصف بھی تو قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;(جاری ہے)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: جسٹس اسلم ریاض حسین، عبدالحکیم خان اور مشتاق علی قاضی پر مبنی بینچ کے سامنے وکلا میاں محمود علی قصوری اور غلام علی میمن کھڑے ہیں جبکہ ملزمان کے باکس میں عبدالولی خان، سردار عطا اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو اور بیرسٹر عزیز اللہ شیخ بیٹھے ہیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان مسئلے کے خصوصی سلسلے کی گزشتہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/balochistanmasla">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>ججز کے بیٹھتے ہی نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ عبد الولی خان اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ ہم سمجھتے تھے کہ جج ہمیں انصاف دیں گے لیکن حکمرانوں نے ہماری طرح آپ کو بھی جیل بھیج دیا۔ اس مشکل میں ہمیں آپ کے ساتھ ہمدردی ہے‘۔</p>
<p>عبدالولی خان کے اس بیان پر عدالت میں قہقہے بلند ہوگئے۔</p>
<hr />
<p>’8 فروری 1975ء کی شام کو دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشنز سے یہ خبر نشر ہوئی کہ پشاور یونیورسٹی کے ہسٹری ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں دھماکا ہوا ہے جس میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر اور سینئر وزیر حیات محمد خان شیر پاؤ جاں بحق ہوگئے۔ جب یہ خبر نشر ہوئی تو صدر سردار داؤد نے فوری طور پر اجمل خٹک سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کہا کہ یہ کام آپ لوگوں نے کیا ہے جس پر اجمل خٹک نے لاعلمی کا اظہار کیا۔</p>
<p>’اجمل خٹک کے انکار کے باوجود اس واقعے کے دوسرے ہی دن اس تخریب کاری کے دونوں مرکزی کردار، چارسدہ کے برج نامی گاؤں کے بلا خان (حبیب اللہ خان) اور اس کے بھائی معز اللہ خان کے ساتھ افغانستان فرار ہوگئے تھے۔</p>
<p>’پورے واقعے اور سانحے کی روداد یہ ہے کہ منصوبہ بندی کے مطابق انور اور امجد نے ایک ٹیپ ریکارڈر میں بم نصب کرلیا تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ 7 فروری کو ٹیکنیکل کالج پشاور میں طلبہ کی ایک تقریب جس میں حیات محمد خان شیرپاؤ شرکت کررہے تھے، بم دھماکا کرنا تھا۔ لیکن اس دن ہوا یہ کہ پشاور یونیورسٹی کے صدر افراسیاب خٹک بھی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے چنانچہ منصوبے پر عمل نہ ہوسکا۔</p>
<p>’اس تقریب کے دوسرے دن شیر پاؤ ہسٹری ڈپارٹمنٹ کی نومنتخب اسٹوڈنٹ یونین کی تقریب حلف برداری میں مدعو تھے انور اور امجد نے ٹیپ ریکارڈر روسٹرم پر مائیک کے ساتھ بہ ظاہر اس غرض سے رکھ لیا تھا کہ شیر پاؤ کی تقریر ریکارڈ ہو۔ جب شیر پاؤ تقریر اور سوالات و جوابات کے لیے روسٹرم پر آئے تو ایک زور دار دھماکا ہوا اور حیات محمد خان شیر پاؤ دھماکے کی نذر ہوگئے۔</p>
<p>’اس دن بارش ہورہی تھی۔ دھماکے سے پہلے امجد اور انور بے خبری کے عالم میں کھیتوں سے ہوتے ہوئے چارسدہ روانہ ہوئے۔ راستے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور لوگوں کی تلاشی ہورہی تھی۔ جب یہ دونوں چارسدہ سے کچھ فاصلے پر عمومی سڑک پر آئے تو پولیس انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار کرکے تھانے لے گئی۔</p>
<p>’پولیس اور بھی کئی لوگوں کو گرفتار کرکے لائی تھی۔ وہاں تھانے میں انہیں علم ہوا کہ شیر پاؤ جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے وہاں بلا خان کے ایک نوکر کو دیکھا اور اسے اشارے سے اپنے قریب بلا لیا اور ان سے بلا خان کو خبر دینے کو کہا۔ بلا خان ایک نڈر اور ہوشیار آدمی تھے۔ وہ آئے پولیس کو ڈرایا دھمکایا کہ تم لوگوں نے میرے معزز مہمانوں کو کیوں گرفتار کیا ہے۔ یوں انور اور امجد رہا ہوگئے اور بلا خان نے انہیں اپنے اور اپنے بھائی معز اللہ خان کے ہمراہ براستہ مہمند ایجنسی افغانستان روانہ کیا۔</p>
<p>’انور اور امجد نے شروع کے چند دن شمالی افغانستان میں قندوز وغیرہ کے علاقوں میں چھپتے چھپاتے خاموشی کے دن گزارے۔ چونکہ افغانستان ایک پسماندہ اور تنگ وترش ملک تھا جہاں کابل ایک ایسا شہر تھا جو زندگی گزارنے کے قابل تھا، اس لیے یہ دونوں چند دن کے بعد کابل چلے آئے اور کابل میں ہمارے ہاں (اجمل خٹک کی رہائش گاہ) قیام کیا۔</p>
<p>’دوسری جانب پاکستان میں پولیس کو راستے میں دو شیروانیاں پڑی ملیں اور ان شیروانیوں کے توسط سے اس درزی کے پاس پہنچ گئی جس نے ان کی سلائی کی تھی۔ تفتیش درزی سے ہوتے ہوئے ان کے مالکان تک پہنچ گئی۔ یعنی باچا اور امجد باچا کے نام منظر عام پر آگئے۔ اس قتل کا الزام بیگم نسیم ولی خان، اسفند یار ولی اور نثار محمد خان آف گل آباد پر لگا۔</p>
<p>’نثار محمد خان خود پیپلزپارٹی میں شامل تھے اور شاید سیاسی اور خان ہونے کی وجہ سے حیات محمد خان سے شاکی تھی۔ نثار محمد خان اور اسفند یار گرفتار کیے گئے جنہوں نے سختی کے نتیجے میں اعتراف بھی کرلیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/1111424832363d4.webp'  alt='  حیدرآباد سازش کیس میں عبدالولی خان عدالتی سماعت کے دوران&mdash;تصویر: فاروق عادل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حیدرآباد سازش کیس میں عبدالولی خان عدالتی سماعت کے دوران—تصویر: فاروق عادل</figcaption>
    </figure></p>
<p>’البتہ نثار محمد خان اور اسفند یار پشتو زبان کے محاورے کے مطابق ‘املوک کے مول’ یعنی مفت میں ماخوذ ہوگئے۔ کمانڈر حیات اللہ کے مطابق 1973ء میں ولی خان نے انہیں تاکید کی تھی کہ پختون زلمے کی کارروائیوں سے دو افراد کو کسی طور کوئی خبر نہ ہو یعنی ایک اسفند یار ولی اور دوسرے افراسیاب خٹک۔ اگرچہ افراسیاب بہ ظاہر کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کی بنیاد پر تمام باتوں سے آگاہ تھے اور عبدالولی خان اصلیت جانتے تھے‘۔</p>
<p>یہ اقتباس جمعہ خان صوفی کی کتاب ’فریب ناتمام‘ سے لینا پڑا کیونکہ بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کی تاریخ ہی ایسی ہے جسے محض ذاتی یادداشت اور سنی سنائی بات پر نہیں لکھا جاسکتا۔</p>
<p>جمعہ خان صوفی کی کتاب کے 5 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں لیکن میں ان سے معذرت سے کہوں گا کہ وہ اپنے تاثرات اور مشاہدات لکھتے ہوئے بہت آگے بڑھ گئے۔ حقائق بیان کرتے ہوئے ان پر تلخی غالب آگئی۔</p>
<p>یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جمعہ خان صوفی سے میری پہلی ملاقات مارچ 1978ء میں ہوئی تھی۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں، میں جس ہفت روزہ ‘معیار’ میں کام کرتا تھا، اس پر پابندی لگ چکی تھی۔ ہفت روزہ معیار کے مدیر اشرف شاد میری نیشنل عوامی پارٹی قیادت سے قربت سے واقف تھے۔ ایک دن کہنے لگے کہ ہم ایک نیا رسالہ نکال رہے ہیں، آپ کابل چلے جائیں، اجمل خٹک وہاں آپ کی میزبانی بھی کریں گے اور رہنمائی بھی’۔</p>
<p>اس زمانے میں کابل جانا مشکل کام نہ تھا۔ باقاعدہ کراچی کے افغان قونصل خانے سے ویزا لیا۔ بہ ذریعہ ٹرین پشاور پہنچا جہاں اجمل خٹک کے ایک معتمد ڈاکٹر شیرافضل ملک کے توسط سے پشاور سے کابل جانے کا انتظام ہوا۔ اس زمانے میں سرکاری ٹرانسپورٹ کی بسیں چلتی تھیں۔ پشاور سے کابل کا کرایہ صرف 50 روپے تھا اور سفر صرف 8 گھنٹے کا تھا۔ تاہم اس دور میں طالبان کی ہلکی پھلکی کارروائیاں شروع ہوچکی تھیں۔</p>
<p>بس میں شاید میں واحد پاکستانی سوار تھا۔ دریائے کابل کے ساتھ ساتھ جلال آباد میں کھانا کھانے کے بعد کابل پہنچا تو شام ہورہی تھی ایک پبلک کال آفس سے اجمل خٹک کے گھر فون کیا۔ پتا لے کر پہنچا تو اجمل خٹک کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ ہاں جمعہ خان صوفی میزبانی کے لیے موجود تھے۔</p>
<p>جمعہ خان صوفی طالب علمی کے زمانے سے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) بلکہ کمیونسٹ پارٹی سے زیادہ قریب تھے۔ انہی کی ہدایت پر وہ 1970ء کی دہائی کی ابتدا میں کابل آگئے تھے۔ سردار داؤد کی حکومت ختم ہوئی تو وہ ماسکو نواز حکومت کے بھی انتہائی قریب تھے۔ کابل میں افغان صدر نور محمد ترکئی سے انٹرویو کا اہتمام صوفی جمعہ کے توسط سے ہی ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/111115112d550be.webp'  alt='  لکھاری افغان صدر نور محمد ترکئی سے انٹرویو لیتے ہوئے&mdash;تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری افغان صدر نور محمد ترکئی سے انٹرویو لیتے ہوئے—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>واپسی پر میں نے ایک کتاب ‘طورخم کے اس طرف’ لکھی تھی جس کی تقریب رونمائی کراچی پریس کلب میں ہوئی تھی۔ مہمان خصوصی ہمارے مارکسسٹ استاد سید سبط حسن اور صدارت شیر محمد مری عرف جنرل شیروف نے کی تھی۔ یہ لیجیے میں ایک بار پھر موضوع سے بھٹکتا ہوا آگے بڑھ گیا۔</p>
<p>یوں بھی فیض احمد فیض صاحب کی زبان میں ’اپنے حوالے سے گفتگو کو بیان کرنا ایک بور بات ہے‘، مگر بہرحال یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ افغانستان میں جو اتار چڑھاؤ آتے رہے، مجھے اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔</p>
<p>1989ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور میں بھی کابل کا سفر کیا۔ پھر حامد کرزئی کے زمانے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ بھی بہ حیثیت صحافی وہاں جانے کا موقع ملا۔ ہاں میں نے کوشش ضرور کی مگر طالبان دور میں جانے کا کوئی راستہ نہیں مل سکا۔ اپنے پس منظر کے سبب راستہ نکلتا بھی تو کیسے؟</p>
<p>اس سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ پہلے ہی ایک کے بعد دوسری تمہید نے اتنی طول دے دی ہے کہ بلوچستان کی 5ویں تحریک پس منظر میں چلی گئی ہے۔</p>
<p>حیات محمد شیر پاؤ کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے نیپ پر پابندی لگادی۔ اس وقت کی سپریم کورٹ آف پاکستان جس کے سربراہ چیف جسٹس حمود الرحمٰن اور جس کے اراکین جسٹس انوار الحق اور جسٹس یعقوب خان نے نیپ پر پابندی کو جائز قرار دیا جس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر جسٹس اسلم ریاض کی سربراہی میں ایک 4 رکنی ٹریبونل تشکیل دیا گیا۔ دلچسپ اور عجیب اتفاق ہے کہ اس ٹریبونل کے لیے عدالتی کارروائی کے لیے بھی سندھ کا شہر حیدرآباد منتخب کیا گیا جہاں کم وبیش دو دہائی قبل پنڈی سازش کیس چلا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/11113257e3f8c4e.webp'  alt='  پی پی پی کی حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پی پی پی کی حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں ایک اور دلچسپ اتفاق اپنی ذات کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ دو سال بعد اسی حیدرآباد جیل اور اسی بیرک میں مجھے بھی 1978ء میں جنرل ضیا الحق کی فوجی عدالت سے صحافیوں کی تحریک کے حوالے سے اسیر زنداں رکھا گیا۔</p>
<p>حیدر آباد سازش کیس چھ پھاٹکوں کے اندر چلتا تھا۔ ملاقاتوں پر کوئی زیادہ پابندیاں نہیں تھیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے سابق سیکریٹری مجید بلوچ کی ہمراہ ایک دن مجھے بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ عدالت میں پہنچے تو مقدمے کی کارروائی جاری تھی۔</p>
<p>مقدمے کی کارروائی کیا ایک شور و غوغا تھا۔ استغاثہ یعنی حکومت کے وکیل کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے یحییٰ بختیار تھے اور وکیل صفائی میاں محمود علی قصوری تھے جو پنجاب نیپ کے صدر رہ چکے تھے لیکن 1970ء میں جب بھٹو کی لہر چلی تو پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ لاہور سے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی خالی نشست پر رکن قومی اسمبلی اور وزیر قانون بھی بنے مگر 1973ء کے آئین کی ابتدائی تیاریوں میں چند اختلافات کے سبب مستعفی ہوگئے۔ یوں 1973ء کے آئین کے خالق ہونے کا اعزاز ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کو مل گیا۔</p>
<p>عدالت کے اندر نظر دوڑاتے ہی مجھے ایسا لگا کہ گویا میں خود بھی قید میں ہوں۔ ملاقاتیوں اور قیدیوں کے درمیان ایک لوہے کی دیوار تھی۔ جج صاحبان اور ملزمان بھی مشکل سے نظر آئے۔ کارروائی ختم ہوئی تو ملاقاتیوں کے کمرے میں پہلی بار میر غوث بخش بزنجو سے تعارف ہوا۔ میر صاحب سے ان کے لیے ان کا ملاقاتی ایک مرتبان مچھلیاں لایا ہوا تھا۔ میر صاحب مرتبان میں ہاتھ ڈال کر مرچولی مچھلی مزے لے کر کھا رہے تھے۔</p>
<p>بہ طور صحافی اپوزیشن خاص طور پر نیپ میری بیٹ تھی۔ میں نے میر صاحب سے انٹرویو کے لیے کہا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ’تم تو بھٹو کے رسالے میں کام کرتے ہو، کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہو، انٹرویو چھوڑو! یہ میرا کورٹ میں دیا ہوا بیان چھاپ دو‘۔ آج کی طرح سیاست اور صحافت پابندی نہیں تھی تو پیپلزپارٹی کے ترجمان رسالے میں میر صاحب کا بیان لفظ بہ لفظ شائع ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/1111125103c41df.webp'  alt='  لکھاری کی میر غوث بزنجو سے انٹرویو لینے کی ایک تصویر&mdash;تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری کی میر غوث بزنجو سے انٹرویو لینے کی ایک تصویر—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>حیدرآباد سازش کیس میں 54 ملزمان نامزد تھے جن میں نیپ کی پوری سینٹرل کمیٹی شامل تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے نیپ کے پشاور کنونشن میں جو قرارداد پاس کی تھی وہ بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ ان 54 ملزمان میں سے چند کا تعلق پنجاب سے تھا جن میں سید قسور گردیزی اور حبیب جالب کے نام مجھے یاد آرہے ہیں، باقی کا تعلق بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد سے تھا۔</p>
<p>عوامی شاعر حبیب جالب کو جس دن گرفتار کیاگیا، اس دن ان کے بڑے بیٹے کا سوئم تھا۔تھانے میں ایس پی نے کہا، ’جالب صاحب آپ کے پنجاب کے کامریڈوں سے بات ہوگئی ہے، آپ بھی معافی مانگ لیں تو ابھی رہا کردوں‘۔ جالب صاحب سے قریب رہنے والوں کو علم ہے کہ ان کا اپنا ایک خاص مزاج تھا۔ جالب صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، ’معافی مانگ لوں تو چند ماہ زندہ نہیں رہ سکوں گا‘۔ اس پر ایس پی نے ہتھکڑی پہناتے ہوئے کہا، ‘اب اس پر کیا کہہ سکتے ہیں’۔</p>
<p>بلوچستان کے حوالے سے نیپ کی پشتون قیادت اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ایک الگ مضمون باندھنا پڑے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5557aa85845.jpg?r=979119430'  alt='  حبیب جالب نے اپنے مزاج کے مطابق معافی مانگنے سے انکار کیا&mdash;تصویر: اظہر جعفری/ ڈان ہیرالڈ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حبیب جالب نے اپنے مزاج کے مطابق معافی مانگنے سے انکار کیا—تصویر: اظہر جعفری/ ڈان ہیرالڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>حیدرآباد سازش کیس کو سمیٹتے ہوئے بتاؤں کہ اس مقدمے کے نتیجے میں جہاں ایک نئی سیاسی تقسیم ہوئی وہیں انتقامی سیاست کا بھی ایک ایسا باب کھلا کہ جب بھٹو حکومت کا جولائی 1977ء میں خاتمہ ہوا اور 4 اپریل 1979ء کو بھٹو صاحب پھانسی چڑھے تو اس کارروائی پر بھٹو مخالفین جن میں نیپ بھی شامل تھی، نے معروف اصطلاح میں مٹھائیاں نہیں بانٹیں مگر تالیاں ضرور بجائیں۔</p>
<p>نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے 4 اپریل 1979ء کو بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا جو کچھ کہا اسے ضبط تحریر میں لانا نہیں چاہتا۔</p>
<p>حیدرآباد جیل کے اس تاریخی ہال میں مقدمے کی کارروائی کے دوران کئی دلچسپ واقعات رونما ہوئے جن میں سے ایک واقعے کا تحریر کے آغاز میں جج صاحبان کی جانب سے جیل میں مقدمے کی سماعت کرنے پر عبدالولی خان کے تاریخی تبصرے کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔</p>
<p>حیدرآباد سازش کیس کی روداد طویل ہے جسے آئندہ کے لیے رکھتا ہوں مگر آپ شاعر عوام حبیب جالب کے اس شعر سے لطف اندوز ہوں جو انہوں نے عدالت میں ججز کے سامنے پڑھا تھا۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">یہ منصف بھی تو قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے</div></strong></p>
<p><strong>(جاری ہے)</strong></p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: جسٹس اسلم ریاض حسین، عبدالحکیم خان اور مشتاق علی قاضی پر مبنی بینچ کے سامنے وکلا میاں محمود علی قصوری اور غلام علی میمن کھڑے ہیں جبکہ ملزمان کے باکس میں عبدالولی خان، سردار عطا اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو اور بیرسٹر عزیز اللہ شیخ بیٹھے ہیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268970</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 15:02:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مجاہد بریلوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/1111312985182b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/1111312985182b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/111137343ca02f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/111137343ca02f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دی بنگال فائلز: تاریخ مسخ کرنے کے سلسلے کی ایک اور کڑی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268718/</link>
      <description>&lt;p&gt;جس برس لینن کی قیادت میں سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا، یورپ اور امریکا میں سنیما اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ بالخصوص ہولی وڈ کے قیام کے بعد امریکا میں فلم اسٹوڈیوز اور سپر اسٹارز کا تصور فروغ پا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب لینن اور سوویت تجزیہ کاروں نے سنیما کا بہ طور ذرائع ابلاغ جائزہ لیا تو وہ فوراً جان گئے کہ یہ سیاسی نظریات کی ترویج کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی تناظر میں سوویت یونین نے سنیما کے قیام اور ترویج کی اجازت دی۔ اس میڈیم کی اثر پذیری کے باعث یہ جلد ہی دنیا کے بااثر طبقات کی توجہ کا محور بن گیا۔ سوشلسٹس کی طرح کیپٹلسٹس نے بھی اسے اپنے مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سنیما-اور-بھارت" href="#سنیما-اور-بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سنیما اور بھارت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان برسوں تک  برطانوی نوآبادیات رہا اور نوآبادیات بھی ایسا کہ جسے دونوں ہاتھوں سے لُوٹا گیا۔ البتہ اسی سرکار انگلشیہ کی وجہ سے دنیا کی جدید ایجادات وقت سے پہلے ہندوستان پہنچ گئیں جن میں سے ایک سنیما بھی تھا۔ بٹوارے تک ہندوستان میں سنیما اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ بالخصوص بمبئی، بنگال اور لاہور میں اس نے اپنے پاؤں جما لیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1947ء کے بعد بمبئی فلم نگری نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ بولی وڈ کہلانے والی اس فلم انڈسٹری نے جلد عالمی سنیما میں جگہ بنا لی۔ دنیا کے دیگر سنیماؤں کی طرح یہ بھی بھارتی سرکار، بالخصوص پنڈت جواہر لال نہرو کے سوشلسٹ، سیکی جیولر اور روشن خیال نظریات کی ترویج کا ذریعہ بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گو بعد کے عشروں میں کانگریس نے نہرو کے نظریات  ترک کر کے قومی، مذہبی اور اکثریتی بیانیہ اختیار کر لیا۔ پاکستان مخالف فلموں کی بنیاد پڑ گئی اور مسلم کرداروں کی پیش کش اور اردو زبان کا استعمال دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نریندر-مودی-کی-آمد" href="#نریندر-مودی-کی-آمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نریندر مودی کی آمد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تو پہلے بھی اقتدار میں آئی مگر نریندر مودی کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد بھارت کے سوشل فیبرک میں پریشان کن تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ ان تبدیلیوں نے بولی وڈ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خانز جو کل تک بولی وڈ پر راج کرتے تھے، پہلے پہل بی جے پی کی قیادت اور حامیوں کی جانب سے تنقید کے رگڑے میں آئے اور پھر بائیکاٹ گینگ کی دھونس اور دھمکیوں کی زد میں آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پردے کے پیچھے ہونے والے واقعات کا اثر جلد سنیما کے پردے پر بھی ظاہر ہونے لگا۔ وہ بھارتی میڈیا جو کل تک اکبر اور ٹیپو سلطان کو ہیرو کے طور پر پیش کرتا تھا، اُس کے لیے اچانک مسلمان ’غیر‘ اور مغل ’ہندو دشمن‘ ہو گئے۔ علا الدین خلجی، احمد شاہ ابدالی، اورنگ زیب اور اکبر جیسے تاریخی مسلم کرداروں کی پیش کش میں فکشن کا ٹانکا لگا کر نہ صرف  اُنہیں مسخ کیا گیا بلکہ ان کے مدمقابل ہندو کرداروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ لکھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/09121637ce543a6.webp'  alt='مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلم مخالف فلموں کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلم مخالف فلموں کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179799"&gt;دی کشمیر فائلز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;‘ اور ’&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1202433"&gt;دی کیرالا اسٹوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;‘ سمیت ایسی متعدد فلمیں بنیں جنہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے خلاف نفرت، بالخصوص اسلاموفوبیا کو فروغ دیا۔ مودی سرکار میں پروپیگنڈا فلموں کے میدان میں سب سے نمایاں کردار ہدایت کار اور کہانی کار، وویک اگنی ہوتری نے ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وویک-اگنی-ہوتری" href="#وویک-اگنی-ہوتری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وویک اگنی ہوتری&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;51 سالہ وویک اگنی ہوتری کی کہانی دلچسپ ہے۔ اداکارہ کنگنا رناوت کے برعکس یہ ہمیشہ سے دائیں بازو کے ترجمان نہیں تھے۔ ’چاکلیٹ‘،’گول‘ اور ’ہیٹ اسٹوری‘ جیسی کمرشل اور کامیاب فلمیں دینے والے اس ہدایت کار نے سال 2019ء میں ’دی تاشقند فائلز‘ نامی فلم بنا کر اپنے ایک نئے رخ سے ناقدین کو متعارف کروایا۔ یہ فلم بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی اچانک اور پُراسرار موت کا احاطہ کرتے ہوئے ایک متوازی تاریخ بیان کرنے کی سعی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0911594559f9b9e.webp'  alt='وویک اگنی ہوتری اس سے قبل بھی اپنی پروپیگنڈا فلمز سے نفرت کا پرچار کرچکے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وویک اگنی ہوتری اس سے قبل بھی اپنی پروپیگنڈا فلمز سے نفرت کا پرچار کرچکے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2022ء میں ’دی کشمیر فائلز‘ بنا کر وویک  نے سنسنی پھیلا دی۔ یہ فلم ہندوتوا کے نقطہ نظر سے، 90ء کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی بے دخلی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ ہدایت کار کی جانب سے اس واقعے کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ وہ تاریخ ہے جس پر خاموشی کا پردہ ڈالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض 20 کروڑ میں بننے والی اس فلم نے 300 کروڑ سے زائد کا بزنس کرکے نئی تاریخ رقم کر دی۔ البتہ اس نے کئی تنازعات کو جنم دیا۔ اس فلم میں وویک اگنی ہوتری کے پیش کردہ نقطہ نظر کو تاریخ سے متصادم اور مبالغہ آرائی پر مبنی  ٹھہراتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ فلم بی جے پی کے مؤقف سے ہم آہنگی تھی، اس لیے اسے ٹیکس فری قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تشہیر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم کی شہرت کے بعد وویک اگنی ہوتری ایک متنازع شخص کے طور پر ابھرے۔ سال 2023ء میں یہ  ہدایت کار ’دی ویکسین وار‘ کے ساتھ واپس آیا جو کوویڈ-19 کے دوران بھارتی سائنسدانوں کی ویکسین کی تیاری کی کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ فلم ناقدین اور ناظرین، دونوں ہی کی توجہ حاصل نہیں کرسکی۔ اس کے بعد انہوں نے’دی  بنگال فائلز’ بنانے کا اعلان کیا،جس نے بے چینی پھیلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/3MfsZFAeNO8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اقلیتوں-کے-خلاف-اشتعال-انگیز-پروپیگنڈا" href="#اقلیتوں-کے-خلاف-اشتعال-انگیز-پروپیگنڈا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز پروپیگنڈا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فلم کے اعلان اور اس سے متعلق بیانات نے ایک بڑے تنازع کو جنم دیا۔ رہی سہی کسر ٹریلر نے پوری کر دی جس سے واضح ہوگیا تھا کہ وویک اگنی ہوتری ’دی کشمیر فائلز‘ والا متنازع فارمولا  آزمانے کو تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ٹائم لائنز پر مبنی یہ فلم انتہائی متنازع ہے۔ اس میں بنگال کو کمیونل یا مذہبی سیاست کا گڑھ قرار دیتے ہوئے، ہندوؤں کے لیے نیا کشمیر ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک سمت یہ موجودہ بنگال میں ایک دلت لڑکی کے اغوا کے کیس کا احاطہ کرتی ہے وہیں دوسری جانب اسی کیس سے جڑی ایک بوڑھی عورت کی کہانی فلیش بیک میں بیان کی گئی ہے جو اگست 1946ء میں بنگال میں پھوٹ پڑنے والے ہولناک ہندو مسلم فسادات کا نشانہ بنی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/deepdownanlyz/status/1964590802019242178"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ کی کال پر ہونے والا ایکشن ڈے اور اس دوران  ہونے والے فسادات حقیقت ہیں۔ البتہ وویک اگنی ہوتری نے توقع کے عین مطابق اس کا سارا الزام مسلمانوں پر عائد کرتے ہوئے، اسے ہندو نسل کشی کی سازش سے تعبیر کیا ہے۔ ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ بنگال کے اسی پُرتشدد واقعے کے ذریعے مسلم لیگ نے ہندوستان کی تقسیم کی بنیاد رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلم تشدد کی انتہائی جانبدارانہ شکل پیش کرتے ہوئے، ہندوستان کی مسلم اقلیت کے خلاف اشتعال اور نفرت کو بڑھاوا دیتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس نفرت کو صرف بٹوارے کی ٹائم لائن تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ موجودہ بنگال تک کھینچ کر لایا گیا ہے اور بنگال کی سیاست اور وہاں کے مسلمانوں کی شبیہ کو مسخ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج مغربی بنگال بی جے پی کی نظریاتی حریف آل انڈیا ترنمول کانگریس کا گڑھ ہے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی مودی سرکار کی سب سے بڑی ناقد سمجھی جاتی ہیں۔ یہ فلم بی جے پی اور ہندو انتہاپسندوں کے نزدیک سچ تو ہوسکتی ہے مگر بنگال کی نظر میں محض پروپیگنڈا ہے۔ اسی لیے فلم پر مغربی بنگال میں غیراعلانیہ پابندی عائد ہے اور اسے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/vivekagnihotri/status/1964744117646483931"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 1946ء میں مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اور بعدازاں وزیر اعظم پاکستان بننے والے حسین شہید سہروردی بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے جو ان فسادات کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے۔ وویک اگنی ہوتری نے اس قتل عام کا براہ راست ذمے دار مسلم لیگ اور سہروردی کو قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فلم-تجزیہ-کے-کسوٹی-پر" href="#فلم-تجزیہ-کے-کسوٹی-پر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فلم تجزیہ کے کسوٹی پر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چند ناقدین کے مطابق فلم میں قتل و غارت گری اور اموات کے معاملے میں وویک اگنی ہوتری نے ایک بار پھر مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے جس کا مقصد بنگال کی سیاست اور وہاں کے مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم میں مسلمانوں کے خلاف کہیں واضح اور کہیں ڈھکا چھپا پروپیگنڈا دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسے فلم میں جہاں ظلم  کے سامنے قانون کی بے بسی کو منظر کیا گیا ہے، اس کے پس منظر میں اذان کی آواز اور مسجد کے گنبد دکھا کر مسلم مخالف نظریات کی ترویج دی گئی ہے۔ فلم میں مسلمانوں کی جانب سے فسادات اور قتل و غارت گری سے قبل کی جانے والی تقاریر کو مذہبی حوالوں سے مزین کرکے اسلاموفوبیا کا رنگ شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کردار نگاری میں خامیاں واضح ہیں۔ متھن چکرورتی کا کردار ہو یا انوپم کھیر کا گاندھی کا کردار نبھانے کی کوشش، اُن میں گہرائی کا فقدان نظر آتا ہے۔ فلم کے کردار بنگالی اور ہندی کے درمیان جس طرح سوئچ کرتے ہیں، اس سے چیزیں مصنوعی محسوس ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی جناح  اور حسین شہید سہروردی کے کرداروں کو فقط مسلمانوں اور مسلم لیگ کی کردار کشی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک طویل سین میں گاندھی اور محمد علی جناح کے درمیان ہونے والا مکالمہ روایتی اور جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ مکالمے گویا وویک اگنی ہوتری کی زبان سے ادا ہوتے محسوس ہوئے اور بی جے پی کے نظریات کی ترجمانی کرتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0911575670a51f8.webp'  alt='گاندھی کا کردار انوپم کھیر نے ادا کیا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گاندھی کا کردار انوپم کھیر نے ادا کیا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حرف-آخر" href="#حرف-آخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حرف آخر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فلم کو ناقدین سے ملا جلا ردعمل ملا ہے کیونکہ یہ فلم متعدد فلموں کے ساتھ ریلیز ہوئی، اس لیے ابتدائی دنوں کے باکس آفس نمبر اتنے حوصلہ افزا نہیں۔ ایسے میں جب بی جے پی اور نریندر مودی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے، کیا اپنے فن کے ذریعے ہندوتوا کے سیاسی نظریے کی پشت پناہی کرنے والے وویک اگنی ہوتری کی نئی فلم ناظرین کو متوجہ کر پائے گی؟ اس کا فیصلہ چند روز میں واضح ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جس برس لینن کی قیادت میں سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا، یورپ اور امریکا میں سنیما اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ بالخصوص ہولی وڈ کے قیام کے بعد امریکا میں فلم اسٹوڈیوز اور سپر اسٹارز کا تصور فروغ پا رہا تھا۔</p>
<p>جب لینن اور سوویت تجزیہ کاروں نے سنیما کا بہ طور ذرائع ابلاغ جائزہ لیا تو وہ فوراً جان گئے کہ یہ سیاسی نظریات کی ترویج کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی تناظر میں سوویت یونین نے سنیما کے قیام اور ترویج کی اجازت دی۔ اس میڈیم کی اثر پذیری کے باعث یہ جلد ہی دنیا کے بااثر طبقات کی توجہ کا محور بن گیا۔ سوشلسٹس کی طرح کیپٹلسٹس نے بھی اسے اپنے مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔</p>
<h1><a id="سنیما-اور-بھارت" href="#سنیما-اور-بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سنیما اور بھارت</h1>
<p>ہندوستان برسوں تک  برطانوی نوآبادیات رہا اور نوآبادیات بھی ایسا کہ جسے دونوں ہاتھوں سے لُوٹا گیا۔ البتہ اسی سرکار انگلشیہ کی وجہ سے دنیا کی جدید ایجادات وقت سے پہلے ہندوستان پہنچ گئیں جن میں سے ایک سنیما بھی تھا۔ بٹوارے تک ہندوستان میں سنیما اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ بالخصوص بمبئی، بنگال اور لاہور میں اس نے اپنے پاؤں جما لیے تھے۔</p>
<p>1947ء کے بعد بمبئی فلم نگری نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ بولی وڈ کہلانے والی اس فلم انڈسٹری نے جلد عالمی سنیما میں جگہ بنا لی۔ دنیا کے دیگر سنیماؤں کی طرح یہ بھی بھارتی سرکار، بالخصوص پنڈت جواہر لال نہرو کے سوشلسٹ، سیکی جیولر اور روشن خیال نظریات کی ترویج کا ذریعہ بنا۔</p>
<p>گو بعد کے عشروں میں کانگریس نے نہرو کے نظریات  ترک کر کے قومی، مذہبی اور اکثریتی بیانیہ اختیار کر لیا۔ پاکستان مخالف فلموں کی بنیاد پڑ گئی اور مسلم کرداروں کی پیش کش اور اردو زبان کا استعمال دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔</p>
<h1><a id="نریندر-مودی-کی-آمد" href="#نریندر-مودی-کی-آمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نریندر مودی کی آمد</h1>
<p>بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تو پہلے بھی اقتدار میں آئی مگر نریندر مودی کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد بھارت کے سوشل فیبرک میں پریشان کن تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ ان تبدیلیوں نے بولی وڈ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خانز جو کل تک بولی وڈ پر راج کرتے تھے، پہلے پہل بی جے پی کی قیادت اور حامیوں کی جانب سے تنقید کے رگڑے میں آئے اور پھر بائیکاٹ گینگ کی دھونس اور دھمکیوں کی زد میں آگئے۔</p>
<p>پردے کے پیچھے ہونے والے واقعات کا اثر جلد سنیما کے پردے پر بھی ظاہر ہونے لگا۔ وہ بھارتی میڈیا جو کل تک اکبر اور ٹیپو سلطان کو ہیرو کے طور پر پیش کرتا تھا، اُس کے لیے اچانک مسلمان ’غیر‘ اور مغل ’ہندو دشمن‘ ہو گئے۔ علا الدین خلجی، احمد شاہ ابدالی، اورنگ زیب اور اکبر جیسے تاریخی مسلم کرداروں کی پیش کش میں فکشن کا ٹانکا لگا کر نہ صرف  اُنہیں مسخ کیا گیا بلکہ ان کے مدمقابل ہندو کرداروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ لکھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/09121637ce543a6.webp'  alt='مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلم مخالف فلموں کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلم مخالف فلموں کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>’<strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179799">دی کشمیر فائلز</a></strong>‘ اور ’<strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1202433">دی کیرالا اسٹوری</a></strong>‘ سمیت ایسی متعدد فلمیں بنیں جنہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے خلاف نفرت، بالخصوص اسلاموفوبیا کو فروغ دیا۔ مودی سرکار میں پروپیگنڈا فلموں کے میدان میں سب سے نمایاں کردار ہدایت کار اور کہانی کار، وویک اگنی ہوتری نے ادا کیا۔</p>
<h1><a id="وویک-اگنی-ہوتری" href="#وویک-اگنی-ہوتری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وویک اگنی ہوتری</h1>
<p>51 سالہ وویک اگنی ہوتری کی کہانی دلچسپ ہے۔ اداکارہ کنگنا رناوت کے برعکس یہ ہمیشہ سے دائیں بازو کے ترجمان نہیں تھے۔ ’چاکلیٹ‘،’گول‘ اور ’ہیٹ اسٹوری‘ جیسی کمرشل اور کامیاب فلمیں دینے والے اس ہدایت کار نے سال 2019ء میں ’دی تاشقند فائلز‘ نامی فلم بنا کر اپنے ایک نئے رخ سے ناقدین کو متعارف کروایا۔ یہ فلم بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی اچانک اور پُراسرار موت کا احاطہ کرتے ہوئے ایک متوازی تاریخ بیان کرنے کی سعی کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0911594559f9b9e.webp'  alt='وویک اگنی ہوتری اس سے قبل بھی اپنی پروپیگنڈا فلمز سے نفرت کا پرچار کرچکے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وویک اگنی ہوتری اس سے قبل بھی اپنی پروپیگنڈا فلمز سے نفرت کا پرچار کرچکے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>سال 2022ء میں ’دی کشمیر فائلز‘ بنا کر وویک  نے سنسنی پھیلا دی۔ یہ فلم ہندوتوا کے نقطہ نظر سے، 90ء کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی بے دخلی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ ہدایت کار کی جانب سے اس واقعے کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ وہ تاریخ ہے جس پر خاموشی کا پردہ ڈالا گیا۔</p>
<p>محض 20 کروڑ میں بننے والی اس فلم نے 300 کروڑ سے زائد کا بزنس کرکے نئی تاریخ رقم کر دی۔ البتہ اس نے کئی تنازعات کو جنم دیا۔ اس فلم میں وویک اگنی ہوتری کے پیش کردہ نقطہ نظر کو تاریخ سے متصادم اور مبالغہ آرائی پر مبنی  ٹھہراتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ فلم بی جے پی کے مؤقف سے ہم آہنگی تھی، اس لیے اسے ٹیکس فری قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تشہیر کی گئی۔</p>
<p>اس فلم کی شہرت کے بعد وویک اگنی ہوتری ایک متنازع شخص کے طور پر ابھرے۔ سال 2023ء میں یہ  ہدایت کار ’دی ویکسین وار‘ کے ساتھ واپس آیا جو کوویڈ-19 کے دوران بھارتی سائنسدانوں کی ویکسین کی تیاری کی کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ فلم ناقدین اور ناظرین، دونوں ہی کی توجہ حاصل نہیں کرسکی۔ اس کے بعد انہوں نے’دی  بنگال فائلز’ بنانے کا اعلان کیا،جس نے بے چینی پھیلا دی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/3MfsZFAeNO8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="اقلیتوں-کے-خلاف-اشتعال-انگیز-پروپیگنڈا" href="#اقلیتوں-کے-خلاف-اشتعال-انگیز-پروپیگنڈا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز پروپیگنڈا</h1>
<p>فلم کے اعلان اور اس سے متعلق بیانات نے ایک بڑے تنازع کو جنم دیا۔ رہی سہی کسر ٹریلر نے پوری کر دی جس سے واضح ہوگیا تھا کہ وویک اگنی ہوتری ’دی کشمیر فائلز‘ والا متنازع فارمولا  آزمانے کو تیار ہیں۔</p>
<p>دو ٹائم لائنز پر مبنی یہ فلم انتہائی متنازع ہے۔ اس میں بنگال کو کمیونل یا مذہبی سیاست کا گڑھ قرار دیتے ہوئے، ہندوؤں کے لیے نیا کشمیر ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک سمت یہ موجودہ بنگال میں ایک دلت لڑکی کے اغوا کے کیس کا احاطہ کرتی ہے وہیں دوسری جانب اسی کیس سے جڑی ایک بوڑھی عورت کی کہانی فلیش بیک میں بیان کی گئی ہے جو اگست 1946ء میں بنگال میں پھوٹ پڑنے والے ہولناک ہندو مسلم فسادات کا نشانہ بنی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/deepdownanlyz/status/1964590802019242178"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>مسلم لیگ کی کال پر ہونے والا ایکشن ڈے اور اس دوران  ہونے والے فسادات حقیقت ہیں۔ البتہ وویک اگنی ہوتری نے توقع کے عین مطابق اس کا سارا الزام مسلمانوں پر عائد کرتے ہوئے، اسے ہندو نسل کشی کی سازش سے تعبیر کیا ہے۔ ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ بنگال کے اسی پُرتشدد واقعے کے ذریعے مسلم لیگ نے ہندوستان کی تقسیم کی بنیاد رکھی۔</p>
<p>یہ فلم تشدد کی انتہائی جانبدارانہ شکل پیش کرتے ہوئے، ہندوستان کی مسلم اقلیت کے خلاف اشتعال اور نفرت کو بڑھاوا دیتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس نفرت کو صرف بٹوارے کی ٹائم لائن تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ موجودہ بنگال تک کھینچ کر لایا گیا ہے اور بنگال کی سیاست اور وہاں کے مسلمانوں کی شبیہ کو مسخ کیا گیا ہے۔</p>
<p>آج مغربی بنگال بی جے پی کی نظریاتی حریف آل انڈیا ترنمول کانگریس کا گڑھ ہے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی مودی سرکار کی سب سے بڑی ناقد سمجھی جاتی ہیں۔ یہ فلم بی جے پی اور ہندو انتہاپسندوں کے نزدیک سچ تو ہوسکتی ہے مگر بنگال کی نظر میں محض پروپیگنڈا ہے۔ اسی لیے فلم پر مغربی بنگال میں غیراعلانیہ پابندی عائد ہے اور اسے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/vivekagnihotri/status/1964744117646483931"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ 1946ء میں مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اور بعدازاں وزیر اعظم پاکستان بننے والے حسین شہید سہروردی بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے جو ان فسادات کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے۔ وویک اگنی ہوتری نے اس قتل عام کا براہ راست ذمے دار مسلم لیگ اور سہروردی کو قرار دیا ہے۔</p>
<h1><a id="فلم-تجزیہ-کے-کسوٹی-پر" href="#فلم-تجزیہ-کے-کسوٹی-پر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فلم تجزیہ کے کسوٹی پر</h1>
<p>چند ناقدین کے مطابق فلم میں قتل و غارت گری اور اموات کے معاملے میں وویک اگنی ہوتری نے ایک بار پھر مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے جس کا مقصد بنگال کی سیاست اور وہاں کے مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کرنا تھا۔</p>
<p>فلم میں مسلمانوں کے خلاف کہیں واضح اور کہیں ڈھکا چھپا پروپیگنڈا دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسے فلم میں جہاں ظلم  کے سامنے قانون کی بے بسی کو منظر کیا گیا ہے، اس کے پس منظر میں اذان کی آواز اور مسجد کے گنبد دکھا کر مسلم مخالف نظریات کی ترویج دی گئی ہے۔ فلم میں مسلمانوں کی جانب سے فسادات اور قتل و غارت گری سے قبل کی جانے والی تقاریر کو مذہبی حوالوں سے مزین کرکے اسلاموفوبیا کا رنگ شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>کردار نگاری میں خامیاں واضح ہیں۔ متھن چکرورتی کا کردار ہو یا انوپم کھیر کا گاندھی کا کردار نبھانے کی کوشش، اُن میں گہرائی کا فقدان نظر آتا ہے۔ فلم کے کردار بنگالی اور ہندی کے درمیان جس طرح سوئچ کرتے ہیں، اس سے چیزیں مصنوعی محسوس ہوتی ہیں۔</p>
<p>محمد علی جناح  اور حسین شہید سہروردی کے کرداروں کو فقط مسلمانوں اور مسلم لیگ کی کردار کشی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک طویل سین میں گاندھی اور محمد علی جناح کے درمیان ہونے والا مکالمہ روایتی اور جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ مکالمے گویا وویک اگنی ہوتری کی زبان سے ادا ہوتے محسوس ہوئے اور بی جے پی کے نظریات کی ترجمانی کرتے نظر آئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0911575670a51f8.webp'  alt='گاندھی کا کردار انوپم کھیر نے ادا کیا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گاندھی کا کردار انوپم کھیر نے ادا کیا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="حرف-آخر" href="#حرف-آخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حرف آخر</h1>
<p>فلم کو ناقدین سے ملا جلا ردعمل ملا ہے کیونکہ یہ فلم متعدد فلموں کے ساتھ ریلیز ہوئی، اس لیے ابتدائی دنوں کے باکس آفس نمبر اتنے حوصلہ افزا نہیں۔ ایسے میں جب بی جے پی اور نریندر مودی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے، کیا اپنے فن کے ذریعے ہندوتوا کے سیاسی نظریے کی پشت پناہی کرنے والے وویک اگنی ہوتری کی نئی فلم ناظرین کو متوجہ کر پائے گی؟ اس کا فیصلہ چند روز میں واضح ہوجائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268718</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 13:29:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صائمہ اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/091155210dc8018.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/091155210dc8018.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: صدیوں کی کتھا! (سینتیسویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268420/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/karachisadiyonkikatha"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;مجھ سے اگر کوئی کہے یا پوچھے کہ انسان جو دیگر جانداروں سے مختلف ہے اور شعور کی گٹھڑی اس کے سر پر فطرت نے رکھی ہے، شعور، لاشعور اور تحت الشعور کا دھنی ہے، اچھے برے کی پرکھ رکھتا ہے مگر یہ کیا ہے کہ جب وہ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے نکلتا ہے تو پھر اس کے آگے نہ اچھا نہ کچھ برا نظر آتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم جو گزشتہ زمانوں کی جنگوں اور وحشتوں پر حیران ہوتے ہیں، حالیہ شب و روز میں جو ہماری دھرتی پر ہو رہا ہے کیا وہ ماضی کی وحشتوں سے کسی طور کم ہے؟ ہم اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھیں اور گزرے وقتوں کا جائزہ لیں تو ہمیں اپنے آپ سے ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے یہ سمجھنے سمجھانے کا سلسلہ تو چلتا رہے گا۔ ہم گزشتہ قسط میں تالپور حکمرانوں اور ایران کے بادشاہوں کی دوستی کا ذکر کر رہے تھے۔ تو میر فتح علی خان تالپور کے بعد میر غلام علی تالپور کے بھی ایران کے بادشاہ فتح علی شاہ قاچار (حکومت 17 جون 1797ء سے 23 اکتوبر 1834ء) سے اچھے روابط رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے درمیاں خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہتا اور ان تحریروں میں ایک دوسرے کو اپنے ملک کے حالات سے آگاہی ملتی۔ یہی سبب ہے کہ اسی زمانے میں ایران سے نقاش، صراف، کاتب اور بندوق ساز یہاں آئے اور سندھ کے حاکموں نے ان کی ہمت اور عزت افزائی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ انہیں رہنے کے لیے قلعہ میں بڑی فراخ دلی سے رہائش دی۔ 1805ء میں فتح علی قاچار نے اپنا ایک سفیر سید مرزا اسمٰعیل، میر غلام علی کے دربار میں بھیجا تھا، سید مرزا اسمٰعیل اس سے پہلے بھی 1799ء میں سندھ کے دربار میں سفیر کے طور پر آیا تھا۔ بہرحال یہ کہ ایران کی دوستی سندھ کے امیروں کے ساتھ گہری اور مضبوط رہی یہاں تک کہ آگے چل کر ایک زمانے میں باتیں رشتہ داریوں تک جا پہنچی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102904617bbaf.webp'  alt='    فتح&amp;zwnj; علی شاہ قاچار&amp;lrm;، فارس کے قاچار خاندان کا دوسرا شاہ تھا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فتح‌ علی شاہ قاچار‎، فارس کے قاچار خاندان کا دوسرا شاہ تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے امیروں کا سب سے بڑا سر کا درد کابل کو سالانہ خراج دینا تھا۔ اس سے جان چھڑوانے کے لیے تالپور سرکار انگریز سرکار سے امید لگا بیٹھی تھی مگر یہاں کے بیوپاری اور عوام، گوروں کے حق میں نہیں تھے۔ دریانو مل جب 1812ء میں کراچی سے حیدرآباد کی ایک شادی میں شرکت کرنے کے لیے گیا تھا تب سندھ کے حاکموں کو کہا تھا کہ انگریز کتنے بھی دوستی کے معاہدے کرلیں وہ انہیں کبھی پورے نہیں کریں گے۔ اور کچھ بھی کرکے سندھ پر قبضہ کر ہی لیں گے۔ جبکہ تالپوروں کی سب سے بڑی کمزوری جو ابھی تک ہم سمجھ سکے ہیں وہ ایک پیشہ ورانہ فوج کا نہ ہونا تھا۔ دوسرا سبب ان کی آپس میں جو اختلافات تھے، وہ ان کے لیے سیاسی طور پر مستحکم ہونے میں بڑی رکاوٹ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے پاس سندھ کو بہتر بنانے کے لیے خواب اور تمنائیں ضرور تھیں۔ اگرچہ گاؤ تکیہ پر ٹیک لگائے اچھے خواب ضرور دیکھے جا سکتے ہیں لیکن عملی میدان میں یہ اچھی تمنائیں اور سپنے کھوٹے سِکوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ کھوٹے سکے کی بدقسمتی یہ ہے کہ وقت اس کو زنگ آلود کر دیتا ہے اور جب سکہ زنگ آلود ہوجائے تو اس سے وقت کھنک بھی چھین لیتا ہے جس کے بعد وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0410292119f5391.webp'  alt='    تالپوروں کی پہلی چویاری کے تیسرے حاکم، میر کرم علی تالپور کا مقبرہ حیدرآباد&amp;mdash; تصویر: انڈومنٹ فنڈ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تالپوروں کی پہلی چویاری کے تیسرے حاکم، میر کرم علی تالپور کا مقبرہ حیدرآباد— تصویر: انڈومنٹ فنڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19ویں صدی کی دوسری دہائی سندھ کے حاکموں کے لیے پُرسکون نہیں گزرنے والی تھی۔ کبھی کبھار یہ ہوتا ہے کہ پریشانیوں، بیوقوفیوں اور مجبوریوں کے بیج کوئی اور بوتا ہے مگر ان خاردار جنگلات کو کاٹنا کسی اور کو پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں کی سیاست اور کرسی کی کہانی خراج کے کھنکتے سِکوں کے گرد ہی چکر کاٹتی نظر آتی ہے۔ ہم اگر دور نہ جائیں اور صرف کلہوڑوں کے دور حکومت کا تجزیہ کریں تو ہمیں ایک تکون نظر آتا ہے۔ سندھ کے جنوب مشرق میں کَچھ بھج جہاں رائے خاندانوں کی حکومت تھی جن پر کلہوڑا حاکم حملے بھی کرتے تھے اور خراج بھی لیتے تھے۔ سندھ کے شمال مشرق میں کابل قندھار کے افغان حاکم تھے جو سندھ پر حملہ آور بھی ہوتے تھے اور خراج بھی لیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فطرت کے اصول کے مطابق طاقت کے توازن کا کھیل تھا۔ جو زیادہ طاقتور ہوگا وہ کمزور کو نگل جائے گا۔ ان حملوں میں نہ ذاتی بنیادوں پر دشمنیاں ہوتی ہیں اور نہ دوستیاں۔ وقت کے ساتھ سب بدلتا رہتا ہے۔ جو وقت پر طاقتور کو خراج (غنڈہ ٹیکس) دے گا وہ اس کا اچھا پڑوسی اور دوست ہوگا اگر وہی حکومت خراج دینے میں آنا کانی کرے تو وہ دشمن ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم چونکہ سندھ کا ذکر کر رہے ہیں تو ہم اپنی باتوں کا دائرہ وہیں تک محدود رکھتے ہیں۔ میں پہلے 17ویں صدی کے خراج کی مختصر سی تاریخ آپ کو بتاؤں گا۔ اس کے بعد پھر تالپور سرکار کے زمانے میں خراج کے سلسلے میں ہونے والی ایک دلچسپ واقعات سے بھری کہانی آپ کو سناؤں گا۔ ایک ایسے حاکم کی جس کے پاس تخت نہیں تھا مگر وہ پھر بھی خراج لینے کے لیے نگر نگر پھرتا تھا کیونکہ اس کے پاس اس کی طاقتور فوج تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0410291607304c9.webp'  alt='    میاں نور محمد کلہوڑو    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میاں نور محمد کلہوڑو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلہوڑا دور حکومت (1620ء سے 1783ء) کے سیاسی حالات اور باہر کے حاکموں کے حملوں اور خراج کا ذکر مختصراً کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ کلہوڑا دور حکومت کے بعد تالپوروں کا زمانہ آیا تو خراج طاقتور اور کمزور کے بیچ میں ایک روایت کی حیثیت حاصل کر چکا تھا۔ جیسے کلہوڑا خاندان کا خزانہ جو میاں نور محمد نے 1740ء میں نادر شاہ افشار کو دیا اس کی مالیت ایک کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محقق محمد ابراہیم جویو صاحب لکھتے ہیں کہ ’سندھ پر اچانک ایک مصیبت نادر شاہ ایرانی کی صورت میں آ کر نازل ہوئی، میاں یار محمد اور میاں نور محمد کلہوڑو نے تقریباً 40 برسوں میں جو آبپاشی اور زراعت کو بہتر بنانے پر توجہ دی تھی جس کے نتیجے میں زمینیں سونا اُگلنے لگی تھیں، اور ان برسوں میں جو جمع پونجی سرکاری خزانے میں جمع تھی وہ نادر شاہ کے حوالے کر دی گئی‘۔ ساتھ ہی سالانہ 20 لاکھ خراج بھی مقرر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/041029015840a4d.webp'  alt='    نادر شاہ افشار ایرانی    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نادر شاہ افشار ایرانی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1752ء میں احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر تیسرا حملہ کیا جس کا مقصد لاہور اور ملتان تک پہلے والے ناظم معین الملک کا اقتدار ختم کرکے مغل سلطنت سے لاہور کو الگ کرنا تھا۔ اس کامیاب افغان حملے میں معین الملک گرفتار بھی ہوا مگر بات چیت کے دروازے کہاں بند ہوتے ہیں۔ بات چیت ہوئی اور معین الملک عرف میر مَنو کو پھر سے وہی ذمہ داری دی گئی کہ وہ ملتان اور لاہور کا ناظم بنا رہے کیونکہ تان کھنکتے سکوں پر ہی آ کر ٹوٹی اور خراج کی رقم کو بڑھا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام رسول مہر ’تاریخ کلہوڑا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس حملے کے بعد جب ابدالی نے خراج دینے کے لیے سندھ کے حاکم کو پیغام بھیجا تو میاں نور محمد نے کوئی انکار نہیں کیا بلکہ اس کے پیغام کے جواب میں بڑی رقم، بہت سارے تحائف کے ساتھ معتبر امیروں کا ایک وفد بھی خیرسگالی کے طور پر بھیجا جس کی قیادت اس کے بھائی نے کی۔ اس طرح ابدالی سے میاں نے خوشگوار تعلقات قائم کیے اور شیخ محمد محفوظ ’سرخوش‘ قندھار میں سندھ کا وکیل مقرر ہوا’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102858ac549b3.webp'  alt='    درانی سلطنت کا بانی احمد شاہ ابدالی    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;درانی سلطنت کا بانی احمد شاہ ابدالی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں نور محمد کلہوڑو کی وفات 7 دسمبر جمعہ کو ہوئی تھی۔ 11 دسمبر 1753ء منگل کی شب امیروں نے کٹھ بلایا اور فیصلہ کرکے میاں نور محمد کے بڑے بیٹے محمد مرادیاب خان کو سندھ کا نیا حاکم مقرر کیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جب تک افغانستان سے حکومت کرنے کے لیے پروانہ جاری نہ ہوتا تب تک مرادیاب کو بطور حاکم تسلیم نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پروانہ جاری کرنے کے لیے لین دین تو کرنا پڑتی ہے اور لین دین کچھ اس طرح سے ہوئی کہ دیوان گدومل نے وکیل کی حیثیت سے قندھار حکومت سے بات کی۔ پہلے سے زیادہ خراج دینے کا وعدہ کیا گیا، تحفے تحائف کے اونٹ لد کر افغان بادشاہ کے لیے پہنچے اور بات اتنے پر ہی نہیں رکی بلکہ ضمانت کی بھی مانگ کی گئی۔ مطلب وہی کہانی دنیا میں ہر جگہ پر دہرائی جا سکتی ہے۔ عرب اور اونٹ والی!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام شاہ کلہوڑو دوسری بار عید کے دن یعنی یکم شوال 1171ھ یا بدھ 7 جون 1758ء میں سندھ کا حاکم بنا۔ وہ 6 یا 7 ماہ سے زائد حکومت نہیں کرسکا کیونکہ عطر خان نے احمد شاہ ابدالی کو اپنے حاکم ہونے کے لیے راضی کرکے اس کی پوری توجہ اور مدد حاصل کرلی اور پروانہ حاصل کرلیا تھا۔ مگر پھر وقت بدلا اور غلام شاہ کلہوڑو نے خراج اور تحائف سے بھرے اونٹوں کی قطار جو ابدالی سرکار کی رضامندی کے لیے بھیجی تو سِکوں کی چمک اور دوسرے بھیجے گئے تحائف نے اپنا جلوہ دکھایا اور پروانہ میاں کے نام کا نکلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دنوں قندھار میں سندھ دربار کا سفیر گدومل تھا۔ خراج ملنے کے بعد افغان سرکار نے میاں غلام شاہ کو 2 خطابات بھی عطا کیے۔ پہلا خطاب ’ہزیر جنگ شاہ ویردی خان‘ تھا جو 1761ء میں ملا جبکہ خطاب کے ساتھ ایک ہاتھی اور ساتھ میں تحفے تحائف بھی ملے تھے۔ دوسرا خطاب ’صمصام الدولہ‘ تھا یہ تب ملا جب غلام شاہ نے نیا ’شاہ پور‘ (سکرنڈ کے قریب) آباد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم 1815ء یعنی تالپوروں کے زمانے میں لوٹتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے مختصر ذکر افغانستان کے سیاسی اُتھل پتھل کا کریں گے کیونکہ افغانستان، ایران، بلوچستان، پنجاب، راجستھان اور کَچھ کے سیاسی ذکر کے علاوہ ہم اس خطے کی تاریخ کے سیاسی و معاشی حالات کو اچھی طرح سمجھ نہیں پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام سندھ کے چاروں جانب نزدیک ترین حکومتیں تھیں جن کے سیاسی اور معاشی حالات کا براہ راست اثر سندھ کی سیاست اور اقتصادیات پر پڑتا تھا۔ اس لیے ہم اگر ان ممالک یا علاقوں میں جنم لینے والے اہم واقعات کا ذکر نہیں کریں گے تو آنے والے دنوں میں ہمیں کچھ حقائق کو سمجھنے میں پریشانی پیش آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102911630a8dd.webp'  alt='    تیمور شاہ درانی    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تیمور شاہ درانی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خراسان (افغانستان) جہاں تیمور شاہ درانی کی وفات کے بعد اس کی اولاد (8 بیٹے) تخت و تاج کے لیے دست و گریباں تھے، آخرکار تیمور کے بعد شاہ شجاع کا بڑا بھائی زمان شاہ اسی دن تخت پر بیٹھا جس دن اس کے باپ نے وفات (ہفتہ 18 مئی 1793ء) پائی۔ اس نے تقریباً دو برس تک حکومت کی اور 25 جولائی 1801ء میں اس کے بھائی محمود شاہ نے اسے معزول کرکے آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر اندھا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتفاق یہ کہ محمود شاہ بھی دو برس تک ہی حکومت کر سکا۔ اسے اس کے بھائی شاہ شجاع نے 13 جولائی 1803ء میں معزول کرکے خود تخت پر بیٹھ گیا۔ 6 برس کی حکومت کے بعد محمود شاہ، شاہ شجاع کو 3 مئی 1809ء میں معزول کرکے پھر تخت پر بیٹھ گیا اور تقریباً 9 برس تک حکومت کی۔ اس کے بعد مزید دو درانی حاکم آئے اور اس طرح 1823ء تک درانی دور حکومت چلا۔ اس کے بعد ’بارکزئی‘ قبیلے کا امیر دوست محمد خان تخت پر بیٹھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/041029067dd10d1.webp'  alt='    احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کا بیٹا شاہ شجاع    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کا بیٹا شاہ شجاع&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ شجاع کی خراج کے پیچھے بھاگ دوڑ اور کوہ نور ہیرا گنوانے کی دلچسپ کہانی میں آپ کو سناتا ہوں۔ وہ شاید پہلی بار 1806ء میں اپنے وزیر شیر محمد کے ساتھ خراج کی وصولی کے لیے شکارپور آیا تھا۔ ان شب و روز میں شکارپور افغان سرکار کا ایک حصہ تھا۔ وہاں کے گورنر کابل سے مقرر ہوتے تھے۔ شاہ شجاع نے بڑے طمطراق سے شکارپور کے شاہی باغ میں آ کر ڈیرا ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ماہ تک سندھ کے حاکموں نے خراج دینے کے ساتھ تحائف دے کر اسے واپس خراسان بھیجا۔ یہ سب شاہ شجاع کو اچھا لگا۔ واپس جاتے وقت اس نے اپنے بھائی کے مقرر کیے گئے گورنر سکو سنگھ کو معطل کر کے اپنا آدمی نواب محمد خان پوپلزئی کو گورنر مقرر کیا اور بنوں کے راستے کابل روانہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ شجاع دوسری بار 1810ء میں شکارپور آیا ساتھ میں اس کے وزرا بھی تھے۔ ان دنوں کابل کے تخت پر محمود شاہ حاکم تھا مگر کچھ قبائل کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شاہ شجاع کے پاس اپنی الگ فوج تھی تو طاقت اور خراسان سلطنت کے نام پر وہ دندناتا پھرتا تھا اور شکارپور بھی وہ سندھ کے حاکموں سے خراج لینے ہی آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خراج حاصل کرنے کے لیے بس طاقت کا ہونا ضروری ہے۔ کوئی حاکم ہو نہ ہو اگر اس کے پاس اپنی فوج کی طاقت ہے تو وہ تھوڑے سے کمزور حکومت کے حاکموں کو گلے سے پکڑ کر پیسے لے سکتا تھا۔ اس بار یعنی 1810ء میں سندھ کے حاکموں نے خراج نہ دینے کے بہت بہانے بنائے کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ کل تخت پر بیٹھا ہوا محمود شاہ بھی خراج کے لیے آن دھمکے گا۔ جب شجاع نے محسوس کیا کہ خراج ملنے کی امید نہیں ہے تو دیدہ دلیری یہ دکھائی کہ سندھ کے وزیراعظم نواب ولی محمد لغاری کو اپنے ساتھ یرغمال بنا کر ساتھ لے گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیرہ غازی خان پہنچنے تک تالپوروں نے مل کر مکمل خراج جو 20 لاکھ بنتا تھا، دے کر نواب ولی محمد کو آزاد کروایا۔ تاریخ کے صفحات لکھتے ہیں کہ نواب لغاری صاحب انتہائی شیرین زبان اور ٹھنڈی طبیعت کے شائستہ انسان تھے۔ ممکن ہے کہ انہیں جو تکلیف پہنچی تو ان کے دل سے کوئی بد دعا نکلی کہ شاہ شجاع کا واپسی کا سفر خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپسی پر شجاع کا وزیر فتح محمد اس سے ناراض ہو گیا اور پھر دوسرے وزیر شیر محمد سے بھی وہ لڑ پڑا۔ شجاع جب ’نملی‘ (کابل سے 16 میل مشرق میں جلال آباد کی طرف) پہنچا تو فتح محمد اور شاہ شجاع کے لشکر میں جنگ ہو گئی۔ منشی عطا محمد لکھتے ہیں کہ ’دونوں کی لڑائی میں شجاع ہار کر بھاگ کھڑا ہوا، اٹک قلعہ والا گھاٹ پار کرکے لاہور کی طرف گیا جہاں رنجیت سنگھ کے پاس جا کر پناہ لی، رنجیت سنگھ نے اس کی خوب آؤ بھگت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102913ee3b893.webp'  alt='    تالپوروں کا وزیراعظم نواب ولی محمد خان لغاری    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تالپوروں کا وزیراعظم نواب ولی محمد خان لغاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لاہور کے بعد شاہ شجاع کچھ ماہ کشمیر میں قید رہا۔ یہ بھی اس کے کیے گئے اعمال کی سزا تھی جو اس نے بھگتی۔ کشمیر سے آزاد ہوکر وہ پھر لاہور رنجیت سنگھ کے پاس پہنچا۔ رنجیت سنگھ کو پتا چلا کہ کوہ نور ہیرا شجاع کے پاس ہے تو جیسے شجاع پہنچا اسے قید میں ڈال دیا گیا۔ مگر شاہ شجاع نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ یہ ہیرا رنجیت سنگھ کو کسی بھی حالت میں نہیں دے گا۔ اور دوسری طرف رنجیت سنگھ نے بھی ٹھان لی تھی کہ کچھ بھی ہو وہ ہیرا لے کر رہے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تازہ نوائے معارک‘ کے مصنف تحریر کرتے ہیں کہ ’آخر رنجیت سنگھ نے یہ کیا کہ شاہ شجاع کے شہزادے تیمور جو ابھی بچہ تھا، کو تپتے دنوں میں ایک عمارت کی سیڑھیوں پر چڑھنے اور اترنے کا حکم دیا۔ کچھ وقت کے بعد وہ مرنے جیسا ہوگیا اور رونے اور چیخ و پکار کرنے لگا۔ یہ حال دیکھ کر شاہ شجاع نے مجبواً کوہ نور ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس روداد کے بعد شجاع کا دل لاہور اور رنجیت سنگھ سے بھر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تخت سے بے دخل ہونے کے بعد شاہ شجاع پورے 30 برس لاہور، شکارپور، حیدرآباد، خیرپور اور لدھیانے تک سفر کرتا رہا۔ 1818ء میں شاہ شجاع اور اس کا بیٹا رستم ہمیں شکارپور میں نظر آتے ہیں جہاں بغیر تخت کے حاکم نے کیمپ لگایا  ہے اور وہاں شاہی باغ میں موسیقی کے سُر فضا میں بکھرتے ہیں اور ناریوں کی نِرت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکارپور شہر پر خوف کا ماحول ہے کہ نہ جانے کب بادشاہوں کی طبیعت کا اونٹ کس طرف کروٹ بدلے اور وہ تماشا بن جائیں۔ بیوپاری اس لیے سورج ڈوبتے ہی دکانیں بند کرکے گھروں کو چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر نظروں میں آ گئے تو زیادہ ٹیکس دینے کے احکامات جاری ہوسکتے ہیں۔ حالت یہ تھی کہ نوجوان عورتوں نے گھروں سے نکلنا بند کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102930ecfdeb3.webp'  alt='  شکارپور کے شاہی باغ میں شاہ شجاع کا محفل&amp;mdash;اسکیچ: کتاب تاریخ تازہ نواء معارک  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شکارپور کے شاہی باغ میں شاہ شجاع کا محفل—اسکیچ: کتاب تاریخ تازہ نواء معارک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ شجاع انہیں راستوں کا مسافر ہے اور ہم بھی اس سے ملتے رہیں گے خاص طور پر 1820ء میں جب وہ خراج لینے کے لیے حیدرآباد تک آ پہنچا تھا۔ تالپوروں کی نرم طبیعت اور حالات کی بے بسی نے ان کے لیے پریشانیوں کا ایک بھنور تخلیق کردیا تھا۔ 1818ء میں سندھ کے امیروں کے آنگن دو اور پریشانیاں آ کر اُتریں۔ پہلی رنجیت سنگھ کی دھمکی اور دوسری کَچھ بھج کی طرف کمپنی سرکار کی بڑھتی دلچسپی۔ لیکن ہم پہلے رنجیت سنگھ کا ذکر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/041029235f4e1cf.webp'  alt='    مہاراجا رنجیت سنگھ    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مہاراجا رنجیت سنگھ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب رنجیت سنگھ کے چھوٹی بڑی ریاستوں پر قبضہ کرنے کی خبریں یہاں تک پہنچیں تو تالپور حکمران بڑی خاموشی سے اس منظرنامے کا تجزیہ کرتے رہے۔ وہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ کمپنی سرکار کا رویہ رنجیت سنگھ سے انتہائی اپنائیت والا ہے۔ امیروں نے مناسب یہ سمجھا کہ رنجیت سنگھ کے ساتھ روابط اچھے ہونے چاہئیں اس لیے انہوں نے اپنے ایلچی کے ہاتھوں بیش بہا سوغاتیں دربار تک بھیجتے تھے جن کے بدلے رنجیت سنگھ بھی سالانہ تحفے تحائف بھیجتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1818ء میں جب کمپنی سرکار نے مرہٹوں کو تیسری اور آخری جنگ میں شکست دی (پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ 1775ء سے 1782ء تک، دوسری اینگلو مرہٹہ جنگ 1803ء سے 1805ء تک جبکہ آخری اینگلو مرہٹہ جنگ 1817ء سے 1818ء)۔ مرہٹہ یا مراٹھا سلطنت جو 1674ء سے 1818ء تک قائم رہی، اپنے عروج کے زمانے میں ان کی حکومت ہندوستان کے ایک بہت بڑے حصہ پر رہی۔ مرہٹوں سے جیت کر کمپنی سرکار نے کَچھ کی جانب توجہ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1816ء میں کمپنی سرکار کی طرف سے بھج میں ریزیڈنسی قائم ہو چکی تھی۔ کمپنی کو یہ موقع وہاں کی خانہ جنگی نے دیا تھا کہ جن میں صلح صفائی کے لیے کمپنی سرکار بڑے جوش و خروش سے ڈرامائی کردار ادا کر رہی تھی۔ یہ سندھ کے امیروں کو بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ کَچھ میں انگریز کوئی کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خبریں جب کمپنی سرکار تک پہنچیں کہ سندھ کے امیر کَچھ کے معاملات میں انگریزوں سے خوش نہیں ہیں۔ یہ بات جب کمپنی سرکار کے کانوں تک پہنچی تب گورنر جنرل نے 1818ء میں اعلان کیا کہ اب برٹش حکومت کی حدود دریائے سندھ تک ہیں اور کمپنی سرکار نے رنجیت سنگھ کو اس طرح استعمال کیا کہ سندھ حکومت مجبور ہوکر برٹش سرکار سے مدد مانگنے پر مجبور ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم سندھ کے امیروں کو انتہائی پریشانی والی کیفیت میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ شام کو حیدرآباد کے قلعے میں امیروں نے ایک بیٹھک بلائی ہے کہ جس پر وہ غور کریں گے کہ رنجیت سنگھ کے نئے روپ سے کیسے نمٹا جائے کیونکہ وہ سندھ کی سرحدوں تک آ پہنچا ہے۔ چلیے ہم جلدی لوٹیں گے حیدرآباد کے اس شاندار پکے قلعہ کے ایوانوں میں اور دیکھتے ہیں تب تک رنجیت سنگھ سے جان چھڑانے کے لیے سندھ کے امیر کونسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حوالہ جات&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ سندھ و افغانستان‘۔ مرتب: میر اشرف علی گلشن آبادی۔ 1845۔ بمبئی&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’جنت السندھ‘۔ رحیمداد مولائی شیدائی۔ سندھیکا اکیڈمی، کراچی&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ شکارپور‘۔ ڈاکٹر عبدالخالق راز سومرو۔ پیکاک پبلشر، کراچی&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’شاہ سچل سامی: ایک مطالع‘۔ محمد ابراہیم جویو۔ روشنی پبلیکیشن،
حیدرآباد۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ تازہ نواء معارک‘۔ منشی عطا محمد شکارپوری۔ سندھی ادبی بورڈ،
حیدرآباد&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی گزشتہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/karachisadiyonkikatha">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>مجھ سے اگر کوئی کہے یا پوچھے کہ انسان جو دیگر جانداروں سے مختلف ہے اور شعور کی گٹھڑی اس کے سر پر فطرت نے رکھی ہے، شعور، لاشعور اور تحت الشعور کا دھنی ہے، اچھے برے کی پرکھ رکھتا ہے مگر یہ کیا ہے کہ جب وہ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے نکلتا ہے تو پھر اس کے آگے نہ اچھا نہ کچھ برا نظر آتا ہے؟</p>
<p>ہم جو گزشتہ زمانوں کی جنگوں اور وحشتوں پر حیران ہوتے ہیں، حالیہ شب و روز میں جو ہماری دھرتی پر ہو رہا ہے کیا وہ ماضی کی وحشتوں سے کسی طور کم ہے؟ ہم اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھیں اور گزرے وقتوں کا جائزہ لیں تو ہمیں اپنے آپ سے ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔</p>
<p>چلیے یہ سمجھنے سمجھانے کا سلسلہ تو چلتا رہے گا۔ ہم گزشتہ قسط میں تالپور حکمرانوں اور ایران کے بادشاہوں کی دوستی کا ذکر کر رہے تھے۔ تو میر فتح علی خان تالپور کے بعد میر غلام علی تالپور کے بھی ایران کے بادشاہ فتح علی شاہ قاچار (حکومت 17 جون 1797ء سے 23 اکتوبر 1834ء) سے اچھے روابط رہے۔</p>
<p>ان کے درمیاں خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہتا اور ان تحریروں میں ایک دوسرے کو اپنے ملک کے حالات سے آگاہی ملتی۔ یہی سبب ہے کہ اسی زمانے میں ایران سے نقاش، صراف، کاتب اور بندوق ساز یہاں آئے اور سندھ کے حاکموں نے ان کی ہمت اور عزت افزائی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ انہیں رہنے کے لیے قلعہ میں بڑی فراخ دلی سے رہائش دی۔ 1805ء میں فتح علی قاچار نے اپنا ایک سفیر سید مرزا اسمٰعیل، میر غلام علی کے دربار میں بھیجا تھا، سید مرزا اسمٰعیل اس سے پہلے بھی 1799ء میں سندھ کے دربار میں سفیر کے طور پر آیا تھا۔ بہرحال یہ کہ ایران کی دوستی سندھ کے امیروں کے ساتھ گہری اور مضبوط رہی یہاں تک کہ آگے چل کر ایک زمانے میں باتیں رشتہ داریوں تک جا پہنچی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102904617bbaf.webp'  alt='    فتح&zwnj; علی شاہ قاچار&lrm;، فارس کے قاچار خاندان کا دوسرا شاہ تھا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فتح‌ علی شاہ قاچار‎، فارس کے قاچار خاندان کا دوسرا شاہ تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>سندھ کے امیروں کا سب سے بڑا سر کا درد کابل کو سالانہ خراج دینا تھا۔ اس سے جان چھڑوانے کے لیے تالپور سرکار انگریز سرکار سے امید لگا بیٹھی تھی مگر یہاں کے بیوپاری اور عوام، گوروں کے حق میں نہیں تھے۔ دریانو مل جب 1812ء میں کراچی سے حیدرآباد کی ایک شادی میں شرکت کرنے کے لیے گیا تھا تب سندھ کے حاکموں کو کہا تھا کہ انگریز کتنے بھی دوستی کے معاہدے کرلیں وہ انہیں کبھی پورے نہیں کریں گے۔ اور کچھ بھی کرکے سندھ پر قبضہ کر ہی لیں گے۔ جبکہ تالپوروں کی سب سے بڑی کمزوری جو ابھی تک ہم سمجھ سکے ہیں وہ ایک پیشہ ورانہ فوج کا نہ ہونا تھا۔ دوسرا سبب ان کی آپس میں جو اختلافات تھے، وہ ان کے لیے سیاسی طور پر مستحکم ہونے میں بڑی رکاوٹ تھے۔</p>
<p>ان کے پاس سندھ کو بہتر بنانے کے لیے خواب اور تمنائیں ضرور تھیں۔ اگرچہ گاؤ تکیہ پر ٹیک لگائے اچھے خواب ضرور دیکھے جا سکتے ہیں لیکن عملی میدان میں یہ اچھی تمنائیں اور سپنے کھوٹے سِکوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ کھوٹے سکے کی بدقسمتی یہ ہے کہ وقت اس کو زنگ آلود کر دیتا ہے اور جب سکہ زنگ آلود ہوجائے تو اس سے وقت کھنک بھی چھین لیتا ہے جس کے بعد وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0410292119f5391.webp'  alt='    تالپوروں کی پہلی چویاری کے تیسرے حاکم، میر کرم علی تالپور کا مقبرہ حیدرآباد&mdash; تصویر: انڈومنٹ فنڈ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تالپوروں کی پہلی چویاری کے تیسرے حاکم، میر کرم علی تالپور کا مقبرہ حیدرآباد— تصویر: انڈومنٹ فنڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>19ویں صدی کی دوسری دہائی سندھ کے حاکموں کے لیے پُرسکون نہیں گزرنے والی تھی۔ کبھی کبھار یہ ہوتا ہے کہ پریشانیوں، بیوقوفیوں اور مجبوریوں کے بیج کوئی اور بوتا ہے مگر ان خاردار جنگلات کو کاٹنا کسی اور کو پڑتا ہے۔</p>
<p>یہاں کی سیاست اور کرسی کی کہانی خراج کے کھنکتے سِکوں کے گرد ہی چکر کاٹتی نظر آتی ہے۔ ہم اگر دور نہ جائیں اور صرف کلہوڑوں کے دور حکومت کا تجزیہ کریں تو ہمیں ایک تکون نظر آتا ہے۔ سندھ کے جنوب مشرق میں کَچھ بھج جہاں رائے خاندانوں کی حکومت تھی جن پر کلہوڑا حاکم حملے بھی کرتے تھے اور خراج بھی لیتے تھے۔ سندھ کے شمال مشرق میں کابل قندھار کے افغان حاکم تھے جو سندھ پر حملہ آور بھی ہوتے تھے اور خراج بھی لیتے تھے۔</p>
<p>یہ فطرت کے اصول کے مطابق طاقت کے توازن کا کھیل تھا۔ جو زیادہ طاقتور ہوگا وہ کمزور کو نگل جائے گا۔ ان حملوں میں نہ ذاتی بنیادوں پر دشمنیاں ہوتی ہیں اور نہ دوستیاں۔ وقت کے ساتھ سب بدلتا رہتا ہے۔ جو وقت پر طاقتور کو خراج (غنڈہ ٹیکس) دے گا وہ اس کا اچھا پڑوسی اور دوست ہوگا اگر وہی حکومت خراج دینے میں آنا کانی کرے تو وہ دشمن ہو جائے گی۔</p>
<p>ہم چونکہ سندھ کا ذکر کر رہے ہیں تو ہم اپنی باتوں کا دائرہ وہیں تک محدود رکھتے ہیں۔ میں پہلے 17ویں صدی کے خراج کی مختصر سی تاریخ آپ کو بتاؤں گا۔ اس کے بعد پھر تالپور سرکار کے زمانے میں خراج کے سلسلے میں ہونے والی ایک دلچسپ واقعات سے بھری کہانی آپ کو سناؤں گا۔ ایک ایسے حاکم کی جس کے پاس تخت نہیں تھا مگر وہ پھر بھی خراج لینے کے لیے نگر نگر پھرتا تھا کیونکہ اس کے پاس اس کی طاقتور فوج تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/0410291607304c9.webp'  alt='    میاں نور محمد کلہوڑو    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میاں نور محمد کلہوڑو</figcaption>
    </figure></p>
<p>کلہوڑا دور حکومت (1620ء سے 1783ء) کے سیاسی حالات اور باہر کے حاکموں کے حملوں اور خراج کا ذکر مختصراً کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ کلہوڑا دور حکومت کے بعد تالپوروں کا زمانہ آیا تو خراج طاقتور اور کمزور کے بیچ میں ایک روایت کی حیثیت حاصل کر چکا تھا۔ جیسے کلہوڑا خاندان کا خزانہ جو میاں نور محمد نے 1740ء میں نادر شاہ افشار کو دیا اس کی مالیت ایک کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے۔</p>
<p>محقق محمد ابراہیم جویو صاحب لکھتے ہیں کہ ’سندھ پر اچانک ایک مصیبت نادر شاہ ایرانی کی صورت میں آ کر نازل ہوئی، میاں یار محمد اور میاں نور محمد کلہوڑو نے تقریباً 40 برسوں میں جو آبپاشی اور زراعت کو بہتر بنانے پر توجہ دی تھی جس کے نتیجے میں زمینیں سونا اُگلنے لگی تھیں، اور ان برسوں میں جو جمع پونجی سرکاری خزانے میں جمع تھی وہ نادر شاہ کے حوالے کر دی گئی‘۔ ساتھ ہی سالانہ 20 لاکھ خراج بھی مقرر کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/041029015840a4d.webp'  alt='    نادر شاہ افشار ایرانی    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نادر شاہ افشار ایرانی</figcaption>
    </figure></p>
<p>1752ء میں احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر تیسرا حملہ کیا جس کا مقصد لاہور اور ملتان تک پہلے والے ناظم معین الملک کا اقتدار ختم کرکے مغل سلطنت سے لاہور کو الگ کرنا تھا۔ اس کامیاب افغان حملے میں معین الملک گرفتار بھی ہوا مگر بات چیت کے دروازے کہاں بند ہوتے ہیں۔ بات چیت ہوئی اور معین الملک عرف میر مَنو کو پھر سے وہی ذمہ داری دی گئی کہ وہ ملتان اور لاہور کا ناظم بنا رہے کیونکہ تان کھنکتے سکوں پر ہی آ کر ٹوٹی اور خراج کی رقم کو بڑھا دیا گیا۔</p>
<p>غلام رسول مہر ’تاریخ کلہوڑا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس حملے کے بعد جب ابدالی نے خراج دینے کے لیے سندھ کے حاکم کو پیغام بھیجا تو میاں نور محمد نے کوئی انکار نہیں کیا بلکہ اس کے پیغام کے جواب میں بڑی رقم، بہت سارے تحائف کے ساتھ معتبر امیروں کا ایک وفد بھی خیرسگالی کے طور پر بھیجا جس کی قیادت اس کے بھائی نے کی۔ اس طرح ابدالی سے میاں نے خوشگوار تعلقات قائم کیے اور شیخ محمد محفوظ ’سرخوش‘ قندھار میں سندھ کا وکیل مقرر ہوا’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102858ac549b3.webp'  alt='    درانی سلطنت کا بانی احمد شاہ ابدالی    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>درانی سلطنت کا بانی احمد شاہ ابدالی</figcaption>
    </figure></p>
<p>میاں نور محمد کلہوڑو کی وفات 7 دسمبر جمعہ کو ہوئی تھی۔ 11 دسمبر 1753ء منگل کی شب امیروں نے کٹھ بلایا اور فیصلہ کرکے میاں نور محمد کے بڑے بیٹے محمد مرادیاب خان کو سندھ کا نیا حاکم مقرر کیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جب تک افغانستان سے حکومت کرنے کے لیے پروانہ جاری نہ ہوتا تب تک مرادیاب کو بطور حاکم تسلیم نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>اب پروانہ جاری کرنے کے لیے لین دین تو کرنا پڑتی ہے اور لین دین کچھ اس طرح سے ہوئی کہ دیوان گدومل نے وکیل کی حیثیت سے قندھار حکومت سے بات کی۔ پہلے سے زیادہ خراج دینے کا وعدہ کیا گیا، تحفے تحائف کے اونٹ لد کر افغان بادشاہ کے لیے پہنچے اور بات اتنے پر ہی نہیں رکی بلکہ ضمانت کی بھی مانگ کی گئی۔ مطلب وہی کہانی دنیا میں ہر جگہ پر دہرائی جا سکتی ہے۔ عرب اور اونٹ والی!</p>
<p>غلام شاہ کلہوڑو دوسری بار عید کے دن یعنی یکم شوال 1171ھ یا بدھ 7 جون 1758ء میں سندھ کا حاکم بنا۔ وہ 6 یا 7 ماہ سے زائد حکومت نہیں کرسکا کیونکہ عطر خان نے احمد شاہ ابدالی کو اپنے حاکم ہونے کے لیے راضی کرکے اس کی پوری توجہ اور مدد حاصل کرلی اور پروانہ حاصل کرلیا تھا۔ مگر پھر وقت بدلا اور غلام شاہ کلہوڑو نے خراج اور تحائف سے بھرے اونٹوں کی قطار جو ابدالی سرکار کی رضامندی کے لیے بھیجی تو سِکوں کی چمک اور دوسرے بھیجے گئے تحائف نے اپنا جلوہ دکھایا اور پروانہ میاں کے نام کا نکلا۔</p>
<p>ان دنوں قندھار میں سندھ دربار کا سفیر گدومل تھا۔ خراج ملنے کے بعد افغان سرکار نے میاں غلام شاہ کو 2 خطابات بھی عطا کیے۔ پہلا خطاب ’ہزیر جنگ شاہ ویردی خان‘ تھا جو 1761ء میں ملا جبکہ خطاب کے ساتھ ایک ہاتھی اور ساتھ میں تحفے تحائف بھی ملے تھے۔ دوسرا خطاب ’صمصام الدولہ‘ تھا یہ تب ملا جب غلام شاہ نے نیا ’شاہ پور‘ (سکرنڈ کے قریب) آباد کیا تھا۔</p>
<p>اب ہم 1815ء یعنی تالپوروں کے زمانے میں لوٹتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے مختصر ذکر افغانستان کے سیاسی اُتھل پتھل کا کریں گے کیونکہ افغانستان، ایران، بلوچستان، پنجاب، راجستھان اور کَچھ کے سیاسی ذکر کے علاوہ ہم اس خطے کی تاریخ کے سیاسی و معاشی حالات کو اچھی طرح سمجھ نہیں پائیں گے۔</p>
<p>یہ تمام سندھ کے چاروں جانب نزدیک ترین حکومتیں تھیں جن کے سیاسی اور معاشی حالات کا براہ راست اثر سندھ کی سیاست اور اقتصادیات پر پڑتا تھا۔ اس لیے ہم اگر ان ممالک یا علاقوں میں جنم لینے والے اہم واقعات کا ذکر نہیں کریں گے تو آنے والے دنوں میں ہمیں کچھ حقائق کو سمجھنے میں پریشانی پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102911630a8dd.webp'  alt='    تیمور شاہ درانی    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تیمور شاہ درانی</figcaption>
    </figure></p>
<p>خراسان (افغانستان) جہاں تیمور شاہ درانی کی وفات کے بعد اس کی اولاد (8 بیٹے) تخت و تاج کے لیے دست و گریباں تھے، آخرکار تیمور کے بعد شاہ شجاع کا بڑا بھائی زمان شاہ اسی دن تخت پر بیٹھا جس دن اس کے باپ نے وفات (ہفتہ 18 مئی 1793ء) پائی۔ اس نے تقریباً دو برس تک حکومت کی اور 25 جولائی 1801ء میں اس کے بھائی محمود شاہ نے اسے معزول کرکے آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر اندھا کر دیا۔</p>
<p>اتفاق یہ کہ محمود شاہ بھی دو برس تک ہی حکومت کر سکا۔ اسے اس کے بھائی شاہ شجاع نے 13 جولائی 1803ء میں معزول کرکے خود تخت پر بیٹھ گیا۔ 6 برس کی حکومت کے بعد محمود شاہ، شاہ شجاع کو 3 مئی 1809ء میں معزول کرکے پھر تخت پر بیٹھ گیا اور تقریباً 9 برس تک حکومت کی۔ اس کے بعد مزید دو درانی حاکم آئے اور اس طرح 1823ء تک درانی دور حکومت چلا۔ اس کے بعد ’بارکزئی‘ قبیلے کا امیر دوست محمد خان تخت پر بیٹھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/041029067dd10d1.webp'  alt='    احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کا بیٹا شاہ شجاع    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کا بیٹا شاہ شجاع</figcaption>
    </figure></p>
<p>شاہ شجاع کی خراج کے پیچھے بھاگ دوڑ اور کوہ نور ہیرا گنوانے کی دلچسپ کہانی میں آپ کو سناتا ہوں۔ وہ شاید پہلی بار 1806ء میں اپنے وزیر شیر محمد کے ساتھ خراج کی وصولی کے لیے شکارپور آیا تھا۔ ان شب و روز میں شکارپور افغان سرکار کا ایک حصہ تھا۔ وہاں کے گورنر کابل سے مقرر ہوتے تھے۔ شاہ شجاع نے بڑے طمطراق سے شکارپور کے شاہی باغ میں آ کر ڈیرا ڈالا۔</p>
<p>تین ماہ تک سندھ کے حاکموں نے خراج دینے کے ساتھ تحائف دے کر اسے واپس خراسان بھیجا۔ یہ سب شاہ شجاع کو اچھا لگا۔ واپس جاتے وقت اس نے اپنے بھائی کے مقرر کیے گئے گورنر سکو سنگھ کو معطل کر کے اپنا آدمی نواب محمد خان پوپلزئی کو گورنر مقرر کیا اور بنوں کے راستے کابل روانہ ہوا۔</p>
<p>شاہ شجاع دوسری بار 1810ء میں شکارپور آیا ساتھ میں اس کے وزرا بھی تھے۔ ان دنوں کابل کے تخت پر محمود شاہ حاکم تھا مگر کچھ قبائل کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شاہ شجاع کے پاس اپنی الگ فوج تھی تو طاقت اور خراسان سلطنت کے نام پر وہ دندناتا پھرتا تھا اور شکارپور بھی وہ سندھ کے حاکموں سے خراج لینے ہی آیا تھا۔</p>
<p>خراج حاصل کرنے کے لیے بس طاقت کا ہونا ضروری ہے۔ کوئی حاکم ہو نہ ہو اگر اس کے پاس اپنی فوج کی طاقت ہے تو وہ تھوڑے سے کمزور حکومت کے حاکموں کو گلے سے پکڑ کر پیسے لے سکتا تھا۔ اس بار یعنی 1810ء میں سندھ کے حاکموں نے خراج نہ دینے کے بہت بہانے بنائے کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ کل تخت پر بیٹھا ہوا محمود شاہ بھی خراج کے لیے آن دھمکے گا۔ جب شجاع نے محسوس کیا کہ خراج ملنے کی امید نہیں ہے تو دیدہ دلیری یہ دکھائی کہ سندھ کے وزیراعظم نواب ولی محمد لغاری کو اپنے ساتھ یرغمال بنا کر ساتھ لے گیا۔</p>
<p>ڈیرہ غازی خان پہنچنے تک تالپوروں نے مل کر مکمل خراج جو 20 لاکھ بنتا تھا، دے کر نواب ولی محمد کو آزاد کروایا۔ تاریخ کے صفحات لکھتے ہیں کہ نواب لغاری صاحب انتہائی شیرین زبان اور ٹھنڈی طبیعت کے شائستہ انسان تھے۔ ممکن ہے کہ انہیں جو تکلیف پہنچی تو ان کے دل سے کوئی بد دعا نکلی کہ شاہ شجاع کا واپسی کا سفر خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔</p>
<p>واپسی پر شجاع کا وزیر فتح محمد اس سے ناراض ہو گیا اور پھر دوسرے وزیر شیر محمد سے بھی وہ لڑ پڑا۔ شجاع جب ’نملی‘ (کابل سے 16 میل مشرق میں جلال آباد کی طرف) پہنچا تو فتح محمد اور شاہ شجاع کے لشکر میں جنگ ہو گئی۔ منشی عطا محمد لکھتے ہیں کہ ’دونوں کی لڑائی میں شجاع ہار کر بھاگ کھڑا ہوا، اٹک قلعہ والا گھاٹ پار کرکے لاہور کی طرف گیا جہاں رنجیت سنگھ کے پاس جا کر پناہ لی، رنجیت سنگھ نے اس کی خوب آؤ بھگت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102913ee3b893.webp'  alt='    تالپوروں کا وزیراعظم نواب ولی محمد خان لغاری    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تالپوروں کا وزیراعظم نواب ولی محمد خان لغاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>’لاہور کے بعد شاہ شجاع کچھ ماہ کشمیر میں قید رہا۔ یہ بھی اس کے کیے گئے اعمال کی سزا تھی جو اس نے بھگتی۔ کشمیر سے آزاد ہوکر وہ پھر لاہور رنجیت سنگھ کے پاس پہنچا۔ رنجیت سنگھ کو پتا چلا کہ کوہ نور ہیرا شجاع کے پاس ہے تو جیسے شجاع پہنچا اسے قید میں ڈال دیا گیا۔ مگر شاہ شجاع نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ یہ ہیرا رنجیت سنگھ کو کسی بھی حالت میں نہیں دے گا۔ اور دوسری طرف رنجیت سنگھ نے بھی ٹھان لی تھی کہ کچھ بھی ہو وہ ہیرا لے کر رہے گا‘۔</p>
<p>’تازہ نوائے معارک‘ کے مصنف تحریر کرتے ہیں کہ ’آخر رنجیت سنگھ نے یہ کیا کہ شاہ شجاع کے شہزادے تیمور جو ابھی بچہ تھا، کو تپتے دنوں میں ایک عمارت کی سیڑھیوں پر چڑھنے اور اترنے کا حکم دیا۔ کچھ وقت کے بعد وہ مرنے جیسا ہوگیا اور رونے اور چیخ و پکار کرنے لگا۔ یہ حال دیکھ کر شاہ شجاع نے مجبواً کوہ نور ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا‘۔</p>
<p>اس روداد کے بعد شجاع کا دل لاہور اور رنجیت سنگھ سے بھر گیا۔</p>
<p>تخت سے بے دخل ہونے کے بعد شاہ شجاع پورے 30 برس لاہور، شکارپور، حیدرآباد، خیرپور اور لدھیانے تک سفر کرتا رہا۔ 1818ء میں شاہ شجاع اور اس کا بیٹا رستم ہمیں شکارپور میں نظر آتے ہیں جہاں بغیر تخت کے حاکم نے کیمپ لگایا  ہے اور وہاں شاہی باغ میں موسیقی کے سُر فضا میں بکھرتے ہیں اور ناریوں کی نِرت جاری ہے۔</p>
<p>شکارپور شہر پر خوف کا ماحول ہے کہ نہ جانے کب بادشاہوں کی طبیعت کا اونٹ کس طرف کروٹ بدلے اور وہ تماشا بن جائیں۔ بیوپاری اس لیے سورج ڈوبتے ہی دکانیں بند کرکے گھروں کو چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر نظروں میں آ گئے تو زیادہ ٹیکس دینے کے احکامات جاری ہوسکتے ہیں۔ حالت یہ تھی کہ نوجوان عورتوں نے گھروں سے نکلنا بند کر دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/04102930ecfdeb3.webp'  alt='  شکارپور کے شاہی باغ میں شاہ شجاع کا محفل&mdash;اسکیچ: کتاب تاریخ تازہ نواء معارک  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شکارپور کے شاہی باغ میں شاہ شجاع کا محفل—اسکیچ: کتاب تاریخ تازہ نواء معارک</figcaption>
    </figure></p>
<p>شاہ شجاع انہیں راستوں کا مسافر ہے اور ہم بھی اس سے ملتے رہیں گے خاص طور پر 1820ء میں جب وہ خراج لینے کے لیے حیدرآباد تک آ پہنچا تھا۔ تالپوروں کی نرم طبیعت اور حالات کی بے بسی نے ان کے لیے پریشانیوں کا ایک بھنور تخلیق کردیا تھا۔ 1818ء میں سندھ کے امیروں کے آنگن دو اور پریشانیاں آ کر اُتریں۔ پہلی رنجیت سنگھ کی دھمکی اور دوسری کَچھ بھج کی طرف کمپنی سرکار کی بڑھتی دلچسپی۔ لیکن ہم پہلے رنجیت سنگھ کا ذکر کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/09/041029235f4e1cf.webp'  alt='    مہاراجا رنجیت سنگھ    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مہاراجا رنجیت سنگھ</figcaption>
    </figure></p>
<p>جب رنجیت سنگھ کے چھوٹی بڑی ریاستوں پر قبضہ کرنے کی خبریں یہاں تک پہنچیں تو تالپور حکمران بڑی خاموشی سے اس منظرنامے کا تجزیہ کرتے رہے۔ وہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ کمپنی سرکار کا رویہ رنجیت سنگھ سے انتہائی اپنائیت والا ہے۔ امیروں نے مناسب یہ سمجھا کہ رنجیت سنگھ کے ساتھ روابط اچھے ہونے چاہئیں اس لیے انہوں نے اپنے ایلچی کے ہاتھوں بیش بہا سوغاتیں دربار تک بھیجتے تھے جن کے بدلے رنجیت سنگھ بھی سالانہ تحفے تحائف بھیجتا تھا۔</p>
<p>1818ء میں جب کمپنی سرکار نے مرہٹوں کو تیسری اور آخری جنگ میں شکست دی (پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ 1775ء سے 1782ء تک، دوسری اینگلو مرہٹہ جنگ 1803ء سے 1805ء تک جبکہ آخری اینگلو مرہٹہ جنگ 1817ء سے 1818ء)۔ مرہٹہ یا مراٹھا سلطنت جو 1674ء سے 1818ء تک قائم رہی، اپنے عروج کے زمانے میں ان کی حکومت ہندوستان کے ایک بہت بڑے حصہ پر رہی۔ مرہٹوں سے جیت کر کمپنی سرکار نے کَچھ کی جانب توجہ دی۔</p>
<p>1816ء میں کمپنی سرکار کی طرف سے بھج میں ریزیڈنسی قائم ہو چکی تھی۔ کمپنی کو یہ موقع وہاں کی خانہ جنگی نے دیا تھا کہ جن میں صلح صفائی کے لیے کمپنی سرکار بڑے جوش و خروش سے ڈرامائی کردار ادا کر رہی تھی۔ یہ سندھ کے امیروں کو بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ کَچھ میں انگریز کوئی کردار ادا کریں۔</p>
<p>یہ خبریں جب کمپنی سرکار تک پہنچیں کہ سندھ کے امیر کَچھ کے معاملات میں انگریزوں سے خوش نہیں ہیں۔ یہ بات جب کمپنی سرکار کے کانوں تک پہنچی تب گورنر جنرل نے 1818ء میں اعلان کیا کہ اب برٹش حکومت کی حدود دریائے سندھ تک ہیں اور کمپنی سرکار نے رنجیت سنگھ کو اس طرح استعمال کیا کہ سندھ حکومت مجبور ہوکر برٹش سرکار سے مدد مانگنے پر مجبور ہو جائے۔</p>
<p>ہم سندھ کے امیروں کو انتہائی پریشانی والی کیفیت میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ شام کو حیدرآباد کے قلعے میں امیروں نے ایک بیٹھک بلائی ہے کہ جس پر وہ غور کریں گے کہ رنجیت سنگھ کے نئے روپ سے کیسے نمٹا جائے کیونکہ وہ سندھ کی سرحدوں تک آ پہنچا ہے۔ چلیے ہم جلدی لوٹیں گے حیدرآباد کے اس شاندار پکے قلعہ کے ایوانوں میں اور دیکھتے ہیں تب تک رنجیت سنگھ سے جان چھڑانے کے لیے سندھ کے امیر کونسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حوالہ جات</h1>
<ul>
<li>’تاریخ سندھ و افغانستان‘۔ مرتب: میر اشرف علی گلشن آبادی۔ 1845۔ بمبئی</li>
<li>’جنت السندھ‘۔ رحیمداد مولائی شیدائی۔ سندھیکا اکیڈمی، کراچی</li>
<li>’تاریخ شکارپور‘۔ ڈاکٹر عبدالخالق راز سومرو۔ پیکاک پبلشر، کراچی</li>
<li>’شاہ سچل سامی: ایک مطالع‘۔ محمد ابراہیم جویو۔ روشنی پبلیکیشن،
حیدرآباد۔</li>
<li>’تاریخ تازہ نواء معارک‘۔ منشی عطا محمد شکارپوری۔ سندھی ادبی بورڈ،
حیدرآباد</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268420</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 16:01:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/041031285213235.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/041031285213235.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کراچی کبھی پاکستان کا پانچواں صوبہ بنے گا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268163/</link>
      <description>&lt;p&gt;حالیہ دنوں پاکستان میں مزید صوبے بنانے کی ضرورت پر بحث نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے۔ یہ موضوع مختلف وقتوں میں زیرِ بحث آتا رہا ہے اور اب یہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 اگست 2025 کو ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں، تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے بانی صدر احمد بلال محبوب نے مؤقف اپنایا کہ جو لوگ زیادہ صوبوں کے حق میں ہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’جب ہم مزید صوبے بنا لیں گے تو عملی طور پر ہمارے تمام گورننس کے مسائل حل ہو جائیں گے‘۔ انہوں نے بجا سوال کیا کہ کیا یہ خیال واقعی عملی ہے اور کیا اتنا بڑا دعویٰ سچ ثابت ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تجزیہ کار نجم سیٹھی، اگرچہ مزید صوبوں کے حق میں ہیں مگر وہ اتنے حقیقت پسند ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کوئی امکان کس حد تک شکوک و شبہات کا شکار ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے بیشتر نسلی گروہوں میں ذیلی قوم پرستی کے جذبات اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ گروہوں اور ان کے رہنماؤں کو وفاقی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی تصفیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں جو اکثر قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن نشستوں پر قابض رہتی ہیں، اس موضوع پر بات کرنے سے بڑی حد تک کتراتی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا پنجاب بشمول ’سرائیکی بولنے والے بیلٹ‘ میں اپنا ووٹ بینک کھو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کو، موجودہ صوبوں پر وفاقی حکومت کو کچھ مراعات دینے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک مضبوط وفاقی حکومت کو ترجیح دیتی ہے جہاں صوبوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم کا جائزہ لیا جانا چاہیے بالخصوص اب کہ جب بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ’پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت‘ میں وفاقی حکومت اور فوج کو کافی رقم کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ جہاں بہت سے پاکستانی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت نہیں کرتے (اپنے متعلقہ لسانی مفادات کی بنیاد پر) وہیں چند مخصوص جماعتوں کے سیاستدان اور کارکنان اس کے حامی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اردو بولنے والوں کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1079169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1984ء میں قیام میں آنے والی یہ جماعت 1980ء کی دہائی کے اواخر میں کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن چکی تھی۔ ان کے سب سے اہم مطالبات میں سے ایک سندھ کے دارالحکومت، کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم کیو ایم اور زیادہ تر غیرسندھی متوسط طبقے کے شہریوں نے اس مطالبے کی حمایت کی۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف اس لیے پورا کیا جائے کیونکہ کراچی میں مہاجروں کی آبادی زیادہ ہے تو اس حساب سے ایک اور سوال اٹھتا ہے جوکہ شہر میں مہاجروں کی تعداد میں مسلسل کمی کے حوالے سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1951ء میں جہاں مہاجروں کا تناسب 60 فیصد تھا، 1998ء میں کم ہوکر 48 فیصد ہوگیا جبکہ 2017ء میں یہ شہر کی آبادی کا 42 فیصد تھے۔ تاہم 2023ء میں ان کی آبادی 50 فیصد پر واپس آگئی۔ لیکن اب شہر میں پختون برادری کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پختون اب کراچی میں دوسرا سب سے بڑا لسانی گروہ ہے جس کے بعد سندھی، پنجابی، بلوچی اور سرائیکی آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19ویں صدی کے پہلے نصف میں انگریزوں کے قبضے تک، کراچی ایک چھوٹا ساحلی شہر تھا جس کی آبادی 50 ہزار سے زیادہ تھی۔ ان میں سے زیادہ تر سندھی اور بلوچ تھے جبکہ یہ قصبہ سندھی حکمرانوں کے ہاتھ میں تھا جو سندھ کے اس وقت کے دارالحکومت حیدرآباد سے اس پر حکومت کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1840ء میں انگریزوں نے کراچی کو سندھ کا نیا دارالخلافہ بنایا۔ تاہم تین سال بعد انگریزوں نے سندھ اور اس کے نئے دارالحکومت کو ’بمبئی پریزیڈنسی‘ میں شامل کر لیا جوکہ برطانوی ہندوستان کا ایک بڑا انتظامی ذیلی حصہ تھا جس کا مرکز بمبئی شہر (موجودہ ممبئی) تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اس فیصلے کے خلاف طویل جدوجہد شروع کی لیکن جب انگریزوں نے اسے ایک جدید شہر میں تبدیل کرنا شروع کیا کہ جہاں بندرگاہ تھی تو شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ تاہم 1936ء میں جب بمبئی پریزیڈنسی ختم ہوگئی تو کراچی کے بہت سے سیاستدانوں اور کاروباری حضرات کراچی کو دوبارہ سندھ کے دارالحکومت کے طور پر بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے اور سندھ دوبارہ صوبہ بن گیا جبکہ کراچی اپنی طاقتور معیشت کی وجہ سے ’سرپلس سٹی‘ بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1941ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی سندھی تھی۔ صرف 6 فیصد اردو بولنے والے تھے۔ لیکن 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد، لاکھوں اردو بولنے والے ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے۔ یوں شہر کی آبادی میں ڈرامائی تبدیلی دیکھی گئی۔ 1951ء تک کراچی کی 60 فیصد سے زائد آبادی اردو بولنے والے مہاجروں پر مشتمل تھی اور سندھی آبادی کم ہوکر صرف 6 فیصد رہ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ 1948ء میں وفاقی حکومت نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی تجویز دی اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بنایا۔ سندھی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ وہ اس ’تکبرانہ انداز‘ پر بھی نالاں تھے۔ مرحوم تاریخ دان ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے مطابق، جب وزیر اعظم لیاقت علی خان کا اس معاملے پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ایم ایوب کھوڑو سے سامنا ہوا تو انہوں نے وزیر سے کہا، ’سندھ حکومت کو (کراچی سے) باہر جانا ہوگا۔۔۔ جاؤ اپنا دارالحکومت حیدرآباد کو بنا لو’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/08/68b1d5a399171.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھیوں کے متعدد مظاہروں کے باوجود بلآخر  حکومت سندھ کو ہی پیچھے ہٹنا پڑا لیکن ایسا بانی پاکستان محمد علی جناح کے اس وعدہ کے بعد ممکن ہوسکا کہ جس کے تحت کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت مال دار دارالحکومت کی علیحدگی کی وجہ سے  حکومت سندھ کو ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کرے گی۔ تاہم یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1955ء میں وزیر اعظم محمد علی بوگرا اور ریاست کے قائم مقام سربراہ اسکندر مرزا نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ختم کرکے اسے ’ون یونٹ‘ بنا دیا۔ اسے ریاست کی جانب سے سندھی، بلوچ، پختون اور بنگالی برادریوں کے سیاسی اور ثقافتی مفادات کو پس پشت ڈالنے یا ختم کرنے کی ایک چال کے طور پر دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر 1959ء میں کراچی وفاقی دارالحکومت بھی نہ رہا۔ اسلام آباد نیا دارالحکومت بنا اور جب اس کی تعمیر ہورہی تھی تب پنجاب میں راولپنڈی 1967ء تک عبوری دارالحکومت رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل ایوب خان کی آمریت کے آخری سالوں میں ’ون یونٹ‘ کے خلاف مخالفت میں شدت آئی۔ اگرچہ اس دوران کراچی نے تیزی سے صنعتی ترقی کی لیکن اس کی مہاجر اکثریت نے سیاسی اور معاشی طاقت کھونا شروع کر دی تھی۔ پھر بھی مہاجروں کا اشرافیہ طبقہ ایوب خان کی معاشی پالیسیز سے مستفید ہوتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965ء کے اوائل میں شہر میں پہلا بڑا نسلی فساد (پختونوں اور مہاجروں کے درمیان) ہوا ۔ مارچ 1969ء میں ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئے آمر جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ کو ختم کر کے صوبے بحال کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر یکم جولائی 1970ء کو ملک کے پہلے بڑے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل کراچی کو ایک بار پھر سندھ کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس دن ریڈیو پاکستان کے کراچی کے اسٹوڈیوز میں سندھی موسیقی چلائی گئی جس کی اس سے پہلے اکثر اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ موسیقی کے پروگرام کا آغاز مشہور سندھی شاعر شاہ عبداللطیف کے کلام سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین بار کراچی کو سندھ کا دارالحکومت بنایا گیا اور دو بار اس سے یہ درجہ چھین لیا گیا۔ شہر اب پوری طرح سے کاسموپولیٹن ہے جبکہ نسلی اعتبار سے متنوع ہے۔ اس کے باوجود سندھ کی تاریخ میں اس کی تاریخی جڑیں ابھی تک گہری طرح پیوست ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے سے اس کی حیثیت کو بدلنے کی سوچ حماقت ہوگی۔ تاریخ چوتھی بار ایسا کرنے کا خواب دیکھنے والوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1938203/smokers-corner-karachi-and-the-province-question"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حالیہ دنوں پاکستان میں مزید صوبے بنانے کی ضرورت پر بحث نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے۔ یہ موضوع مختلف وقتوں میں زیرِ بحث آتا رہا ہے اور اب یہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔</p>
<p>23 اگست 2025 کو ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں، تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے بانی صدر احمد بلال محبوب نے مؤقف اپنایا کہ جو لوگ زیادہ صوبوں کے حق میں ہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’جب ہم مزید صوبے بنا لیں گے تو عملی طور پر ہمارے تمام گورننس کے مسائل حل ہو جائیں گے‘۔ انہوں نے بجا سوال کیا کہ کیا یہ خیال واقعی عملی ہے اور کیا اتنا بڑا دعویٰ سچ ثابت ہو سکتا ہے؟</p>
<p>سیاسی تجزیہ کار نجم سیٹھی، اگرچہ مزید صوبوں کے حق میں ہیں مگر وہ اتنے حقیقت پسند ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کوئی امکان کس حد تک شکوک و شبہات کا شکار ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے بیشتر نسلی گروہوں میں ذیلی قوم پرستی کے جذبات اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ گروہوں اور ان کے رہنماؤں کو وفاقی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی تصفیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔</p>
<p>یہاں تک کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں جو اکثر قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن نشستوں پر قابض رہتی ہیں، اس موضوع پر بات کرنے سے بڑی حد تک کتراتی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا پنجاب بشمول ’سرائیکی بولنے والے بیلٹ‘ میں اپنا ووٹ بینک کھو سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کو، موجودہ صوبوں پر وفاقی حکومت کو کچھ مراعات دینے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک مضبوط وفاقی حکومت کو ترجیح دیتی ہے جہاں صوبوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم کا جائزہ لیا جانا چاہیے بالخصوص اب کہ جب بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ’پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت‘ میں وفاقی حکومت اور فوج کو کافی رقم کی ضرورت ہے۔</p>
<p>چنانچہ جہاں بہت سے پاکستانی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت نہیں کرتے (اپنے متعلقہ لسانی مفادات کی بنیاد پر) وہیں چند مخصوص جماعتوں کے سیاستدان اور کارکنان اس کے حامی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اردو بولنے والوں کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1079169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>1984ء میں قیام میں آنے والی یہ جماعت 1980ء کی دہائی کے اواخر میں کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن چکی تھی۔ ان کے سب سے اہم مطالبات میں سے ایک سندھ کے دارالحکومت، کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانا تھا۔</p>
<p>ایم کیو ایم اور زیادہ تر غیرسندھی متوسط طبقے کے شہریوں نے اس مطالبے کی حمایت کی۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف اس لیے پورا کیا جائے کیونکہ کراچی میں مہاجروں کی آبادی زیادہ ہے تو اس حساب سے ایک اور سوال اٹھتا ہے جوکہ شہر میں مہاجروں کی تعداد میں مسلسل کمی کے حوالے سے ہے۔</p>
<p>1951ء میں جہاں مہاجروں کا تناسب 60 فیصد تھا، 1998ء میں کم ہوکر 48 فیصد ہوگیا جبکہ 2017ء میں یہ شہر کی آبادی کا 42 فیصد تھے۔ تاہم 2023ء میں ان کی آبادی 50 فیصد پر واپس آگئی۔ لیکن اب شہر میں پختون برادری کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پختون اب کراچی میں دوسرا سب سے بڑا لسانی گروہ ہے جس کے بعد سندھی، پنجابی، بلوچی اور سرائیکی آتے ہیں۔</p>
<p>19ویں صدی کے پہلے نصف میں انگریزوں کے قبضے تک، کراچی ایک چھوٹا ساحلی شہر تھا جس کی آبادی 50 ہزار سے زیادہ تھی۔ ان میں سے زیادہ تر سندھی اور بلوچ تھے جبکہ یہ قصبہ سندھی حکمرانوں کے ہاتھ میں تھا جو سندھ کے اس وقت کے دارالحکومت حیدرآباد سے اس پر حکومت کرتے تھے۔</p>
<p>1840ء میں انگریزوں نے کراچی کو سندھ کا نیا دارالخلافہ بنایا۔ تاہم تین سال بعد انگریزوں نے سندھ اور اس کے نئے دارالحکومت کو ’بمبئی پریزیڈنسی‘ میں شامل کر لیا جوکہ برطانوی ہندوستان کا ایک بڑا انتظامی ذیلی حصہ تھا جس کا مرکز بمبئی شہر (موجودہ ممبئی) تھا۔</p>
<p>سندھی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اس فیصلے کے خلاف طویل جدوجہد شروع کی لیکن جب انگریزوں نے اسے ایک جدید شہر میں تبدیل کرنا شروع کیا کہ جہاں بندرگاہ تھی تو شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ تاہم 1936ء میں جب بمبئی پریزیڈنسی ختم ہوگئی تو کراچی کے بہت سے سیاستدانوں اور کاروباری حضرات کراچی کو دوبارہ سندھ کے دارالحکومت کے طور پر بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے اور سندھ دوبارہ صوبہ بن گیا جبکہ کراچی اپنی طاقتور معیشت کی وجہ سے ’سرپلس سٹی‘ بن گیا۔</p>
<p>1941ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی سندھی تھی۔ صرف 6 فیصد اردو بولنے والے تھے۔ لیکن 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد، لاکھوں اردو بولنے والے ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے۔ یوں شہر کی آبادی میں ڈرامائی تبدیلی دیکھی گئی۔ 1951ء تک کراچی کی 60 فیصد سے زائد آبادی اردو بولنے والے مہاجروں پر مشتمل تھی اور سندھی آبادی کم ہوکر صرف 6 فیصد رہ گئی تھی۔</p>
<p>مزید یہ کہ 1948ء میں وفاقی حکومت نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی تجویز دی اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بنایا۔ سندھی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ وہ اس ’تکبرانہ انداز‘ پر بھی نالاں تھے۔ مرحوم تاریخ دان ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے مطابق، جب وزیر اعظم لیاقت علی خان کا اس معاملے پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ایم ایوب کھوڑو سے سامنا ہوا تو انہوں نے وزیر سے کہا، ’سندھ حکومت کو (کراچی سے) باہر جانا ہوگا۔۔۔ جاؤ اپنا دارالحکومت حیدرآباد کو بنا لو’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/08/68b1d5a399171.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>سندھیوں کے متعدد مظاہروں کے باوجود بلآخر  حکومت سندھ کو ہی پیچھے ہٹنا پڑا لیکن ایسا بانی پاکستان محمد علی جناح کے اس وعدہ کے بعد ممکن ہوسکا کہ جس کے تحت کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت مال دار دارالحکومت کی علیحدگی کی وجہ سے  حکومت سندھ کو ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کرے گی۔ تاہم یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہوا۔</p>
<p>1955ء میں وزیر اعظم محمد علی بوگرا اور ریاست کے قائم مقام سربراہ اسکندر مرزا نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ختم کرکے اسے ’ون یونٹ‘ بنا دیا۔ اسے ریاست کی جانب سے سندھی، بلوچ، پختون اور بنگالی برادریوں کے سیاسی اور ثقافتی مفادات کو پس پشت ڈالنے یا ختم کرنے کی ایک چال کے طور پر دیکھا گیا۔</p>
<p>پھر 1959ء میں کراچی وفاقی دارالحکومت بھی نہ رہا۔ اسلام آباد نیا دارالحکومت بنا اور جب اس کی تعمیر ہورہی تھی تب پنجاب میں راولپنڈی 1967ء تک عبوری دارالحکومت رہا۔</p>
<p>جنرل ایوب خان کی آمریت کے آخری سالوں میں ’ون یونٹ‘ کے خلاف مخالفت میں شدت آئی۔ اگرچہ اس دوران کراچی نے تیزی سے صنعتی ترقی کی لیکن اس کی مہاجر اکثریت نے سیاسی اور معاشی طاقت کھونا شروع کر دی تھی۔ پھر بھی مہاجروں کا اشرافیہ طبقہ ایوب خان کی معاشی پالیسیز سے مستفید ہوتا رہا۔</p>
<p>1965ء کے اوائل میں شہر میں پہلا بڑا نسلی فساد (پختونوں اور مہاجروں کے درمیان) ہوا ۔ مارچ 1969ء میں ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئے آمر جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ کو ختم کر کے صوبے بحال کر دیے۔</p>
<p>پھر یکم جولائی 1970ء کو ملک کے پہلے بڑے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل کراچی کو ایک بار پھر سندھ کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس دن ریڈیو پاکستان کے کراچی کے اسٹوڈیوز میں سندھی موسیقی چلائی گئی جس کی اس سے پہلے اکثر اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ موسیقی کے پروگرام کا آغاز مشہور سندھی شاعر شاہ عبداللطیف کے کلام سے ہوا۔</p>
<p>تین بار کراچی کو سندھ کا دارالحکومت بنایا گیا اور دو بار اس سے یہ درجہ چھین لیا گیا۔ شہر اب پوری طرح سے کاسموپولیٹن ہے جبکہ نسلی اعتبار سے متنوع ہے۔ اس کے باوجود سندھ کی تاریخ میں اس کی تاریخی جڑیں ابھی تک گہری طرح پیوست ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے سے اس کی حیثیت کو بدلنے کی سوچ حماقت ہوگی۔ تاریخ چوتھی بار ایسا کرنے کا خواب دیکھنے والوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1938203/smokers-corner-karachi-and-the-province-question">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268163</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 13:20:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ندیم ایف پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/011508268d25d8f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/011508268d25d8f.webp"/>
        <media:title>—السٹریشن: ابڑو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں متوقع سیلاب، کچھ لوگوں کے لیے رحمت تو کچھ کے لیے تباہی کا سامان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268320/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوجوان ماہی گیر سبحان علی کے جال میں دریائے سندھ میں ایک بھی مچھلی نہ پھنس سکی۔ کئی گھنٹوں تک وہ ندی کے کنارے انتظار کرتے رہے جو حیدرآباد کے نواح میں واقع قصبہ لطیف آباد کے حسین آباد محلے کو چھوتا ہے لیکن ان کی عارضی مچھلی پکڑنے کی چھڑی (فشنگ راڈ) کوئی مچھلی نہ پکڑ پائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم اسے چمبی کہتے ہیں‘،  دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر حیدرآباد-کوٹری ریلوے پل کے نیچے کی جانب جاتے ہوئے انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو عارضی فشنگ راڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا۔ یہ ایک لکڑی کا فریم تھا کہ جو لکڑی کے متعدد ٹکڑوں سے چپکا ہوا تھا اور ایک سرے پر جال بندھا ہوا تھا۔ سبحان علی نے فوم کا ایک ٹکڑا اپنی کمر کے گرد رسی سے باندھ رکھا تھا جس کے بارے میں انہوں نے بتایا، ’یہ (فوم) مجھے دریا میں تیرنے میں مدد دیتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141841c557477.webp'  alt='  نوجوان ماہی گیروں کا ایک گروپ جال کے ایک سرے کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ ان کے ساتھی دریائے سندھ میں جا رہے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نوجوان ماہی گیروں کا ایک گروپ جال کے ایک سرے کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ ان کے ساتھی دریائے سندھ میں جا رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیشتر دنوں وہ کم بہاؤ اور تیز بہاؤ والے دریا کے دونوں حصوں میں تیراکی کرتے ہیں۔ جب وہ پانی میں جاتے ہیں تو سبحان علی چمپی کو کَس کر پکڑ لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’جیسے ہی مچھلی (جال سے) ٹکراتی ہے، میرا ہاتھ حرکت محسوس کرلیتا ہے۔ لیکن ان دنوں ہم پلا مچھلی پکڑنے کی امید کررہے ہیں جوکہ ایک نایاب قسم کی مچھلی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اچھے دنوں میں وہ تقریباً 5 سے 6 چھوٹی مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک 200 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ حال ہی میں سبحان علی اور ان جیسے دیگر ماہی گیر کئی گھنٹے دریا میں گزار رہے ہیں۔ کوٹری کے علاقے سے نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ بڑھنے سے دریا کا پاٹ بڑا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141903339af0a.webp'  alt='  ماہی گیروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد پلا مچھلی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماہی گیروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد پلا مچھلی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دریا-زندگی-کی-امید" href="#دریا-زندگی-کی-امید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دریا، زندگی کی امید&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے لوگوں کے دلوں میں دریائے سندھ ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس کی اہمیت کو سراہا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کی ڈور اس سے جڑی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ رواں سال اپریل تک صوبے میں دریا میں نہر بنانے  کے خلاف ایک بڑی تحریک چلی تھی جس کی قیادت وکلا اور سیاسی قوتوں نے کی۔ یہ منصوبہ وزیراعظم کی زیرِقیادت مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے اس اعلان پر ختم ہوا کہ جب تک صوبوں کے درمیان باہمی مفاہمت نہیں ہو جاتی تب تک دریا پر کوئی نئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے نائب صدر نبی بخش ستھیو جوکہ ایک ترقی پسند کاشتکار ہیں، نے وضاحت کی کہ ’سندھ میں سیلاب کو ایک مثبت علامت کے طور پر لیا جاتا ہے کیونکہ یہ صوبہ سندھ طاس آبپاشی کے نظام (آئی بی آئی ایس) کے بالکل آخر میں واقع ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’میرے خیال میں ان دنوں دریائے سندھ میں بہت زیادہ پانی ہے۔ اس سے یقینی طور پر ان تمام علاقوں کو فائدہ پہنچے گا کہ جہاں سے تین بیراجوں سے پانی کا ریلا گزرے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/021418467b1b5d2.webp'  alt='  شہری ادارے کے عملہ کے دو بزرگ اراکین لطیف آباد کے لیے پینے کا پانی اٹھانے کے لیے دریائے سندھ کے کنارے قائم پانی کی سہولت کے قریب بیٹھے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شہری ادارے کے عملہ کے دو بزرگ اراکین لطیف آباد کے لیے پینے کا پانی اٹھانے کے لیے دریائے سندھ کے کنارے قائم پانی کی سہولت کے قریب بیٹھے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نبی بخش ستھیو کے مطابق، بالائی پنجاب کے برعکس سندھ میں زیرِزمین پانی عموماً کھارا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’موجودہ پانی کے بہاؤ سے زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے اور اسے تھوڑا سا بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ 4 اضلاع، ٹنڈو محمد خان، سجاول، ٹھٹہ اور بدین میں نکاسی آب کے نظام کے قریب واقع زرعی زمینیں اپنی زرخیزی کھو چکی ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے دو کناروں کے درمیان بہنے والا پانی تمام قریبی علاقوں میں زمین کی زرخیزی کو واپس لانے میں معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی پانی کا بڑا ریلا بیراجوں سے گزرتا ہے تو دریائے سندھ کے ساتھ واقع علاقوں میں سیلاب آجاتا ہے جسے زمین کے لیے اچھا قرار دیا جاتا ہے۔ اس پانی سے جنگلات بھی مستفید ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جنگلات کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sindhforests.gov.pk/"&gt;ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق، سندھ کا کُل رقبہ ایک کروڑ 40 لاکھ 99 ہزار ہیکٹر (یا 3 کروڑ 48 لاکھ 40 ہزار ایکڑ) ہے۔ اس میں سے ایک کروڑ 38 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر (یا 3 کروڑ 42 لاکھ 60 ہزار ایکڑ) محکمہ جنگلات کے زیر انتظام ہے جوکہ صوبے کی کُل اراضی کا تقریباً 9.83 فیصد ہے۔ تاہم دریا کے جنگلات اور سیراب شدہ شجرکاری زمین کا صرف 2.29 فیصد بنتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں جنگلات کے زیادہ وسائل موجود نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/0214184348e80d4.webp'  alt='  لطیف آباد یونٹ 10 میں بھینسوں کا ریوڑ ندی کے پانی میں نہا رہا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لطیف آباد یونٹ 10 میں بھینسوں کا ریوڑ ندی کے پانی میں نہا رہا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا کے کنارے واقع علاقوں میں فصل اچھی طرح اُگتی ہے اور جب زیادہ پانی بہتا ہے تو یہ قدرتی طور پر مٹی کو بہتر بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاشتکاروں کے گروپ سندھ آبگدار بورڈ (ایس اے بی) کے صدر محمود نواز شاہ نے کہا، ’اگر پانی کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اسے اونچا سیلاب کہا جاتا ہے تو دریا کا علاقہ جسے دریا کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، پانی سے بھر جاتا ہے۔ یہ مکمل طور پر معمول کی بات ہے۔ درحقیقت یہ دریا کے لیے ضروری ہے۔ یہ ماحول کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتا ہے، جنگلی حیات، جنگلات اور زیرِزمین پانی کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’تو ایسے میں کچھ فصلوں کا پانی سے متاثر ہونا معمول کی بات ہے جوکہ دریا کے کنارے موجود ہوتی ہیں۔ پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ بات دریا کے لیے غیرمعمولی نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سیلاب-سے-خطرہ" href="#سیلاب-سے-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیلاب سے خطرہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دریاؤں میں سیلاب، کچے کے مکینوں کی نقل مکانی اور گھروں سے محرومی کا باعث بنتا ہے۔ کچا ایک ایسی اصطلاح ہے جو ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مراد وہ علاقے ہیں جو دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر واقع ہیں۔ گڈو سے کوٹری بیراج تک، ان علاقوں میں صدیوں سے لاکھوں لوگ آباد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/0214190429f5c44.webp'  alt='  خانہ بدوش خاندان کی ایک عورت گندم کا آٹا گوندھ رہی ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;خانہ بدوش خاندان کی ایک عورت گندم کا آٹا گوندھ رہی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کچے کے علاقے میں رہنے والی آبادی کے لیے انخلا کی حکمت عملی کا اعلان کیا جس میں تین بیراجوں سے گزرنے والے دریا کے بہاؤ میں فرق کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268074"&gt;پریس کانفرنس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں بتایا کہ ’یہ ہمارے ذہن میں ہے کہ کسی بھی حالت میں انسانی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت کی جائے۔ چاہے پانی 8 لاکھ کیوسک، 9 لاکھ کیوسک ہو یا اس سے خدا نخواستہ اس سے زائد ہو، اس سے ہمارے تمام کچے کے علاقے ڈوب جائیں گے تو ہمیں ان علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کی ضرورت ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خانہ بدوش برادری سے تعلق رکھنے والی شمع باگڑی اپنے خاندان کے ساتھ پالاری گاؤں میں رہتی ہیں جو حسین آباد کے علاقے میں واقع ہے۔ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر رنگ برنگے پھٹے پرانے کپڑوں سے ڈھکی ایک چھوٹی سی جھونپڑی ان کی پناہ گاہ ہے۔ شمع نے بتایا، ’ہم ٹنڈو محمد خان سے یہاں آکر  آباد ہوئے تاکہ پھل فروخت کرکے یا یومیہ مزدوری کر کے روزی کما سکیں‘۔ ان کی جھونپڑی دریا سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے ٹیلے پر بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141852edc8de9.webp'  alt='  دریا کے کنارے آباد علاقے لطیف آباد یونٹ-4 میں خانہ بدوشوں کی عارضی بستی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریا کے کنارے آباد علاقے لطیف آباد یونٹ-4 میں خانہ بدوشوں کی عارضی بستی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حصے میں تقریباً 35 باگڑی خاندان رہتے ہیں۔ پریمو باگڑی ان میں سے ایک ہیں۔ ابھی کے لیے انہیں یقین ہے کہ دریا انہیں اور ان کی برادری کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ انہوں نے میونسپل باڈی کے زیرِ انتظام شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی کرنے والے واٹر پمپنگ کی سہولت کے قریب پتھروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’پچھلے سال جب پانی کا بہاؤ سب سے زیادہ تھا تو دریا کی سطح اتنی بلندی پر پہنچ گئی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے لیے واٹر پمپنگ اسٹیشن پانی کی سطح کی پیمائش کا کام کرتا ہے کہ جب پانی ایک مخصوص سطح کو عبور کرتا ہے تو وہ ان کے لیے عارضی طور کسی اور جگہ منتقل ہونے کا عندیہ ہوتا ہے۔ پریمو نے کہا، ’جب پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو ہم یہ بھانپ لیتے ہیں۔ میں پھر یہاں سے دریائے سندھ کو دیکھتا ہوں اور اپنا اندازہ لگاتا ہوں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ فی الوقت میں پریشان نہیں ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پانی-کی-سطح-کا-تخمینہ-لگانا" href="#پانی-کی-سطح-کا-تخمینہ-لگانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پانی کی سطح کا تخمینہ لگانا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پچھلے کچھ دنوں سے حکام یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب کے مشرقی دریاؤں سے آنے والا سیلابی پانی کب سندھ پہنچتا ہے۔ آبپاشی حکام ملک کے مشرقی دریاؤں میں پانی کے اخراج کا جائزہ لینے کے بعد تخمینہ لگا رہے ہیں۔ دریائے چناب گزشتہ ہفتے تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار کیوسک کی بلندی پر پہنچ گیا تھا جس نے سندھ حکومت کو ’سپر فلڈ‘ کے لیے تیار رہنے کے لیے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے طاقتور دریا میں کوٹری آخری بیراج ہے۔ بیراج سے دریا گزرنے کے بعد مختلف کھاڑیوں کے ذریعے ساحلی ضلع ٹھٹہ سے بحیرہ عرب میں داخل ہوتا ہے۔ جولائی سے دریائے سندھ سیلاب کی حالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/021418440647957.webp'  alt='  سندھ کے کوٹری بیراج کے نیچے دریائے ماہی گیروں کے ساتھ لکڑی کی کئی کشتیاں ماہی گیری میں مصروف ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سندھ کے کوٹری بیراج کے نیچے دریائے ماہی گیروں کے ساتھ لکڑی کی کئی کشتیاں ماہی گیری میں مصروف ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال سندھ کے دو اہم گڈو اور سکھر بیراجوں میں جولائی اور اگست کے مہینوں میں درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب آیا تھا۔ اب حکام ایک اور سیلاب کی تیاری کررہے ہیں جس کے حوالے سے اتوار کو وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی پریس کانفرنس میں روشنی ڈالی کہ گڈو بیراج میں پہلے ہی 24 اگست کو دریائے سندھ میں 5 لاکھ 50 ہزارکیوسک کا زیادہ بہاؤ دیکھا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بدترین صورت حال کے لیے تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’موسم کسی بھی سمت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ پہاڑیوں سے آنے والا پانی کیسا ہوگا جیسا کہ کوہِ سلیمان رینج سے جب 2010ء میں سیلاب سندھ میں داخل ہوا‘۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ حکومت 9 لاکھ کیوسک یا زائد کے سپر فلڈ کے لیے خود کو تیار کررہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/021418416a69419.webp'  alt='  ماہی گیر سبحان علی اپنے چھوٹے جال سے حسین آباد میں دریائے سندھ پر کوٹری-حیدرآباد ریلوے پل کے قریب پلا پکڑنے کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماہی گیر سبحان علی اپنے چھوٹے جال سے حسین آباد میں دریائے سندھ پر کوٹری-حیدرآباد ریلوے پل کے قریب پلا پکڑنے کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے اعداد و شمار کے مطابق، سندھ میں گڈو بیراج سے 12 لاکھ کیوسک پانی کے اخراج کی گنجائش موجود ہے جس کے بعد سکھر بیراج آتا ہے کہ جس سے 9 لاکھ کیوسک اور کوٹری میں 8 لاکھ 75 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش موجود ہے۔ سکھر بیراج کی تعمیر کے وقت 15 لاکھ کیوسک کے پانی کے اخراج کی گنجائش تھی لیکن اوپر کی طرف گاد جمع ہونے کی وجہ سے، اس کے 10 دروازے بند کرنے پڑے۔ اس طرح اس کی گنجائش کم ہو کر 9 لاکھ کیوسک رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری بار گڈو اور سکھر بیراج سے 15 سال قبل &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/857759/exceptionally-high-floods-at-two-barrages"&gt;سپر فلڈ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; گزرے تھے۔ 8 اگست 2010ء کو گڈو سے 11 لاکھ 48 ہزار 200 کیوسک کا بہاؤ ڈاون اسٹریم (دریا کا نچلا حصہ) سے گزرا تھا جس کے بعد اپ اسٹریم (بالائی حصہ) میں 11 لاکھ 48 ہزار 738 کیوسک کا بہاؤ تھا۔ سکھر بیراج میں اسی دن 11 لاکھ 30 ہزار 995 کیوسک اپ اسٹریم ہونے کے بعد 11 لاکھ 8 ہزار 795 کیوسک ڈاون اسٹریم سے گزرا۔ اس کے علاوہ کوٹری بیراج نے 27 اگست 2010ء کو 9 لاکھ 39 ہزار 442 کیوسک نیچے کی جانب سے گزرا جس کے بعد 9 لاکھ 64 ہزار897 کیوسک اپ اسٹریم سے گزرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ سیلاب تباہی لے کر آیا تھا۔ 7 اگست 2010ء کو گڈو بیراج کے اوپری حصے میں دریائے سندھ کے دائیں جانب &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/634684/officials-take-flak-for-tori-dyke-breach-2"&gt;توری ڈیک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر ایک بڑا بریک ہوا تھا جوکہ دریا کے دائیں کنارے پر واقع اضلاع کے لیے تباہی کا پروانہ ثابت ہوا۔ 20 روز بعد کوٹ المو ڈاون اسٹریم کوٹری بیراج پر ایک اور شگاف نے مزید تباہی مچا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141859dbfddde.webp'  alt='  کوٹری بیراج کے نیچے سہرش نگر کے علاقے میں ماہی گیر سے پلا خریدنے کے لیے ایک گاہک ماہی گیر سے بھاؤ تاؤ میں مشغول ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کوٹری بیراج کے نیچے سہرش نگر کے علاقے میں ماہی گیر سے پلا خریدنے کے لیے ایک گاہک ماہی گیر سے بھاؤ تاؤ میں مشغول ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت صوبائی حکام اس بات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب میں تریموں اور پنجند بیراجوں پر پانی کس طرح گزر رہا ہے۔ پاکستان کے دریائی نظام کے نقشے کے مطابق، پنجند بیراج وہ مقام ہے جہاں سے تمام بڑے دریاؤں جہلم، چناب، راوی اور ستلج کا پانی جمع ہوتا ہے جس کے بعد وہ گڈو بیراج کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے۔ اس مقام پر دریائے چناب کا پانی، راوی اور ستلج کے پانی سے پہلے گڈو تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) کے چارٹ کے مطابق تریموں بیراج پر پانی کی سطح پیر کی رات تک بڑھ رہی تھی لیکن اب مسلسل نیچے جارہی ہے۔ اس میں 8 لاکھ 75 ہزار کیوسک کے اخراج کی گنجائش ہے۔ اس وقت اس میں دریائے چناب سے سیلابی پانی جمع ہورہا ہے جوکہ تقریباً 10 لاکھ 77 ہزار 951 کیوسک پانی ہے جو اس سے پہلے گزشتہ ہفتے خانکی اور قادر آباد بیراجوں سے گزرا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کو تریموں سے پنجند تک سفر کرنے میں تقریباً 48 گھنٹے لگتے ہیں جو کہ دریائے سندھ میں پانی کے بہنے سے پہلے پنجاب کا آخری پڑاؤ ہے۔ اس کے بعد پانی کو مٹھن کوٹ تک پہنچنے میں مزید 24 گھنٹے لگتے ہیں جہاں سے یہ گڈو بیراج پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141843c208a54.webp'  alt='  کوٹری بیراج کے نیچے دریائے سندھ میں ماہی گیر اپنی لکڑی کی کشتیوں میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کوٹری بیراج کے نیچے دریائے سندھ میں ماہی گیر اپنی لکڑی کی کشتیوں میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ایف ڈی ندی کے پانی کے بہاؤ کے چارٹ کے مطابق، پیر کی شام 4 بجے تریموں سے نیچے کی جانب پانی کا اخراج 5 لاکھ 50 ہزار 655 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن منگل کی دوپہر تک ڈاون اسٹریم اخراج صبح 8 بجے 5 لاکھ 16 ہزار 313 کیوسک تک پہنچنے کے بعد 4 لاکھ 45 ہزار 712 کیوسک رہ گیا۔ اس بہاؤ کے ساتھ، تریمو میں شاید پانی کی سطح کم ریکارڈ ہورہی ہے جس سے گڈو پر  حکام کے لیے دباؤ میں کمی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب منگل کی دوپہر پنجند ڈاؤن اسٹریم کا اخراج 10 لاکھ ایک ہزار 664 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ گڈو بیراج سے بہاؤ بڑھنا شروع ہوا جس کے ساتھ ہی بہاؤ 3 لاکھ 60 ہزار 777 کیوسک اپ اسٹریم اور 3 لاکھ 45 ہزار 373 کیوسک بہاؤ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا کے بہاؤ کی بنیاد پر بیان کردہ مختلف زمروں وک دیکھا جائے تو کسی بھی بیراج سے نیچے کی جانب گزرنے والے بہاؤ کو سیلاب کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلڈ فورکاسٹنگ سینٹر کے مطابق، تربیلا ڈیم جو سندھ کے لیے پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، کی بہترین سطح ایک ہزار 500 فٹ پر ہے اس کے علاوہ دریائے سندھ پر چشمہ بیراج بھی کچھ پانی روک رہا ہے۔ اس کے پانی کی سطح حال ہی میں 647 فٹ سے بڑھ کر 648 فٹ ہوگئی تھی تاکہ سندھ کو مشرقی دریاؤں سے آنے والے سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سیلاب نے خطے کے کاشتکاروں اور دیگر ماہی گیروں میں امیدیں جگائی ہیں لیکن کچے کے باشندے تباہی اور بے گھر ہونے کے ایک اور سال کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے متوقع آبی ریلے کا انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;ہیڈر: کشتیاں دریائے سندھ کے کنارے کھڑی ہیں، کوٹری بیراج کے نیچے دریا کے کنارے کے اس حصے میں ابھی پانی داخل نہیں ہوا تھا— اس تحریر میں شامل تمام تصاویر عمیر راجپوت نے عکس بند کی ہیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1938959/flooding-on-the-indus-boon-for-some-pain-for-others"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>نوجوان ماہی گیر سبحان علی کے جال میں دریائے سندھ میں ایک بھی مچھلی نہ پھنس سکی۔ کئی گھنٹوں تک وہ ندی کے کنارے انتظار کرتے رہے جو حیدرآباد کے نواح میں واقع قصبہ لطیف آباد کے حسین آباد محلے کو چھوتا ہے لیکن ان کی عارضی مچھلی پکڑنے کی چھڑی (فشنگ راڈ) کوئی مچھلی نہ پکڑ پائی۔</p>
<p>’ہم اسے چمبی کہتے ہیں‘،  دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر حیدرآباد-کوٹری ریلوے پل کے نیچے کی جانب جاتے ہوئے انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو عارضی فشنگ راڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا۔ یہ ایک لکڑی کا فریم تھا کہ جو لکڑی کے متعدد ٹکڑوں سے چپکا ہوا تھا اور ایک سرے پر جال بندھا ہوا تھا۔ سبحان علی نے فوم کا ایک ٹکڑا اپنی کمر کے گرد رسی سے باندھ رکھا تھا جس کے بارے میں انہوں نے بتایا، ’یہ (فوم) مجھے دریا میں تیرنے میں مدد دیتا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141841c557477.webp'  alt='  نوجوان ماہی گیروں کا ایک گروپ جال کے ایک سرے کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ ان کے ساتھی دریائے سندھ میں جا رہے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نوجوان ماہی گیروں کا ایک گروپ جال کے ایک سرے کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ ان کے ساتھی دریائے سندھ میں جا رہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>بیشتر دنوں وہ کم بہاؤ اور تیز بہاؤ والے دریا کے دونوں حصوں میں تیراکی کرتے ہیں۔ جب وہ پانی میں جاتے ہیں تو سبحان علی چمپی کو کَس کر پکڑ لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’جیسے ہی مچھلی (جال سے) ٹکراتی ہے، میرا ہاتھ حرکت محسوس کرلیتا ہے۔ لیکن ان دنوں ہم پلا مچھلی پکڑنے کی امید کررہے ہیں جوکہ ایک نایاب قسم کی مچھلی ہے‘۔</p>
<p>اپنے اچھے دنوں میں وہ تقریباً 5 سے 6 چھوٹی مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک 200 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ حال ہی میں سبحان علی اور ان جیسے دیگر ماہی گیر کئی گھنٹے دریا میں گزار رہے ہیں۔ کوٹری کے علاقے سے نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ بڑھنے سے دریا کا پاٹ بڑا ہوگیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141903339af0a.webp'  alt='  ماہی گیروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد پلا مچھلی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماہی گیروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد پلا مچھلی</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="دریا-زندگی-کی-امید" href="#دریا-زندگی-کی-امید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دریا، زندگی کی امید</h1>
<p>سندھ کے لوگوں کے دلوں میں دریائے سندھ ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس کی اہمیت کو سراہا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کی ڈور اس سے جڑی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ رواں سال اپریل تک صوبے میں دریا میں نہر بنانے  کے خلاف ایک بڑی تحریک چلی تھی جس کی قیادت وکلا اور سیاسی قوتوں نے کی۔ یہ منصوبہ وزیراعظم کی زیرِقیادت مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے اس اعلان پر ختم ہوا کہ جب تک صوبوں کے درمیان باہمی مفاہمت نہیں ہو جاتی تب تک دریا پر کوئی نئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی۔</p>
<p>سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے نائب صدر نبی بخش ستھیو جوکہ ایک ترقی پسند کاشتکار ہیں، نے وضاحت کی کہ ’سندھ میں سیلاب کو ایک مثبت علامت کے طور پر لیا جاتا ہے کیونکہ یہ صوبہ سندھ طاس آبپاشی کے نظام (آئی بی آئی ایس) کے بالکل آخر میں واقع ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’میرے خیال میں ان دنوں دریائے سندھ میں بہت زیادہ پانی ہے۔ اس سے یقینی طور پر ان تمام علاقوں کو فائدہ پہنچے گا کہ جہاں سے تین بیراجوں سے پانی کا ریلا گزرے گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/021418467b1b5d2.webp'  alt='  شہری ادارے کے عملہ کے دو بزرگ اراکین لطیف آباد کے لیے پینے کا پانی اٹھانے کے لیے دریائے سندھ کے کنارے قائم پانی کی سہولت کے قریب بیٹھے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شہری ادارے کے عملہ کے دو بزرگ اراکین لطیف آباد کے لیے پینے کا پانی اٹھانے کے لیے دریائے سندھ کے کنارے قائم پانی کی سہولت کے قریب بیٹھے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>نبی بخش ستھیو کے مطابق، بالائی پنجاب کے برعکس سندھ میں زیرِزمین پانی عموماً کھارا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’موجودہ پانی کے بہاؤ سے زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے اور اسے تھوڑا سا بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ 4 اضلاع، ٹنڈو محمد خان، سجاول، ٹھٹہ اور بدین میں نکاسی آب کے نظام کے قریب واقع زرعی زمینیں اپنی زرخیزی کھو چکی ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے دو کناروں کے درمیان بہنے والا پانی تمام قریبی علاقوں میں زمین کی زرخیزی کو واپس لانے میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p>جب بھی پانی کا بڑا ریلا بیراجوں سے گزرتا ہے تو دریائے سندھ کے ساتھ واقع علاقوں میں سیلاب آجاتا ہے جسے زمین کے لیے اچھا قرار دیا جاتا ہے۔ اس پانی سے جنگلات بھی مستفید ہوتے ہیں۔</p>
<p>محکمہ جنگلات کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sindhforests.gov.pk/">ویب سائٹ</a></strong> کے مطابق، سندھ کا کُل رقبہ ایک کروڑ 40 لاکھ 99 ہزار ہیکٹر (یا 3 کروڑ 48 لاکھ 40 ہزار ایکڑ) ہے۔ اس میں سے ایک کروڑ 38 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر (یا 3 کروڑ 42 لاکھ 60 ہزار ایکڑ) محکمہ جنگلات کے زیر انتظام ہے جوکہ صوبے کی کُل اراضی کا تقریباً 9.83 فیصد ہے۔ تاہم دریا کے جنگلات اور سیراب شدہ شجرکاری زمین کا صرف 2.29 فیصد بنتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں جنگلات کے زیادہ وسائل موجود نہیں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/0214184348e80d4.webp'  alt='  لطیف آباد یونٹ 10 میں بھینسوں کا ریوڑ ندی کے پانی میں نہا رہا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لطیف آباد یونٹ 10 میں بھینسوں کا ریوڑ ندی کے پانی میں نہا رہا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>دریا کے کنارے واقع علاقوں میں فصل اچھی طرح اُگتی ہے اور جب زیادہ پانی بہتا ہے تو یہ قدرتی طور پر مٹی کو بہتر بناتا ہے۔</p>
<p>کاشتکاروں کے گروپ سندھ آبگدار بورڈ (ایس اے بی) کے صدر محمود نواز شاہ نے کہا، ’اگر پانی کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اسے اونچا سیلاب کہا جاتا ہے تو دریا کا علاقہ جسے دریا کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، پانی سے بھر جاتا ہے۔ یہ مکمل طور پر معمول کی بات ہے۔ درحقیقت یہ دریا کے لیے ضروری ہے۔ یہ ماحول کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتا ہے، جنگلی حیات، جنگلات اور زیرِزمین پانی کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’تو ایسے میں کچھ فصلوں کا پانی سے متاثر ہونا معمول کی بات ہے جوکہ دریا کے کنارے موجود ہوتی ہیں۔ پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ بات دریا کے لیے غیرمعمولی نہیں‘۔</p>
<h1><a id="سیلاب-سے-خطرہ" href="#سیلاب-سے-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیلاب سے خطرہ</h1>
<p>دوسری جانب دریاؤں میں سیلاب، کچے کے مکینوں کی نقل مکانی اور گھروں سے محرومی کا باعث بنتا ہے۔ کچا ایک ایسی اصطلاح ہے جو ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مراد وہ علاقے ہیں جو دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر واقع ہیں۔ گڈو سے کوٹری بیراج تک، ان علاقوں میں صدیوں سے لاکھوں لوگ آباد ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/0214190429f5c44.webp'  alt='  خانہ بدوش خاندان کی ایک عورت گندم کا آٹا گوندھ رہی ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>خانہ بدوش خاندان کی ایک عورت گندم کا آٹا گوندھ رہی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>حال ہی میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کچے کے علاقے میں رہنے والی آبادی کے لیے انخلا کی حکمت عملی کا اعلان کیا جس میں تین بیراجوں سے گزرنے والے دریا کے بہاؤ میں فرق کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268074">پریس کانفرنس</a></strong> میں بتایا کہ ’یہ ہمارے ذہن میں ہے کہ کسی بھی حالت میں انسانی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت کی جائے۔ چاہے پانی 8 لاکھ کیوسک، 9 لاکھ کیوسک ہو یا اس سے خدا نخواستہ اس سے زائد ہو، اس سے ہمارے تمام کچے کے علاقے ڈوب جائیں گے تو ہمیں ان علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کی ضرورت ہے’۔</p>
<p>خانہ بدوش برادری سے تعلق رکھنے والی شمع باگڑی اپنے خاندان کے ساتھ پالاری گاؤں میں رہتی ہیں جو حسین آباد کے علاقے میں واقع ہے۔ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر رنگ برنگے پھٹے پرانے کپڑوں سے ڈھکی ایک چھوٹی سی جھونپڑی ان کی پناہ گاہ ہے۔ شمع نے بتایا، ’ہم ٹنڈو محمد خان سے یہاں آکر  آباد ہوئے تاکہ پھل فروخت کرکے یا یومیہ مزدوری کر کے روزی کما سکیں‘۔ ان کی جھونپڑی دریا سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے ٹیلے پر بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141852edc8de9.webp'  alt='  دریا کے کنارے آباد علاقے لطیف آباد یونٹ-4 میں خانہ بدوشوں کی عارضی بستی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریا کے کنارے آباد علاقے لطیف آباد یونٹ-4 میں خانہ بدوشوں کی عارضی بستی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس حصے میں تقریباً 35 باگڑی خاندان رہتے ہیں۔ پریمو باگڑی ان میں سے ایک ہیں۔ ابھی کے لیے انہیں یقین ہے کہ دریا انہیں اور ان کی برادری کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ انہوں نے میونسپل باڈی کے زیرِ انتظام شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی کرنے والے واٹر پمپنگ کی سہولت کے قریب پتھروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’پچھلے سال جب پانی کا بہاؤ سب سے زیادہ تھا تو دریا کی سطح اتنی بلندی پر پہنچ گئی تھی‘۔</p>
<p>ان کے لیے واٹر پمپنگ اسٹیشن پانی کی سطح کی پیمائش کا کام کرتا ہے کہ جب پانی ایک مخصوص سطح کو عبور کرتا ہے تو وہ ان کے لیے عارضی طور کسی اور جگہ منتقل ہونے کا عندیہ ہوتا ہے۔ پریمو نے کہا، ’جب پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو ہم یہ بھانپ لیتے ہیں۔ میں پھر یہاں سے دریائے سندھ کو دیکھتا ہوں اور اپنا اندازہ لگاتا ہوں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ فی الوقت میں پریشان نہیں ہوں‘۔</p>
<h1><a id="پانی-کی-سطح-کا-تخمینہ-لگانا" href="#پانی-کی-سطح-کا-تخمینہ-لگانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پانی کی سطح کا تخمینہ لگانا</h1>
<p>پچھلے کچھ دنوں سے حکام یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب کے مشرقی دریاؤں سے آنے والا سیلابی پانی کب سندھ پہنچتا ہے۔ آبپاشی حکام ملک کے مشرقی دریاؤں میں پانی کے اخراج کا جائزہ لینے کے بعد تخمینہ لگا رہے ہیں۔ دریائے چناب گزشتہ ہفتے تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار کیوسک کی بلندی پر پہنچ گیا تھا جس نے سندھ حکومت کو ’سپر فلڈ‘ کے لیے تیار رہنے کے لیے خبردار کیا۔</p>
<p>سندھ کے طاقتور دریا میں کوٹری آخری بیراج ہے۔ بیراج سے دریا گزرنے کے بعد مختلف کھاڑیوں کے ذریعے ساحلی ضلع ٹھٹہ سے بحیرہ عرب میں داخل ہوتا ہے۔ جولائی سے دریائے سندھ سیلاب کی حالت میں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/021418440647957.webp'  alt='  سندھ کے کوٹری بیراج کے نیچے دریائے ماہی گیروں کے ساتھ لکڑی کی کئی کشتیاں ماہی گیری میں مصروف ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سندھ کے کوٹری بیراج کے نیچے دریائے ماہی گیروں کے ساتھ لکڑی کی کئی کشتیاں ماہی گیری میں مصروف ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>رواں سال سندھ کے دو اہم گڈو اور سکھر بیراجوں میں جولائی اور اگست کے مہینوں میں درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب آیا تھا۔ اب حکام ایک اور سیلاب کی تیاری کررہے ہیں جس کے حوالے سے اتوار کو وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی پریس کانفرنس میں روشنی ڈالی کہ گڈو بیراج میں پہلے ہی 24 اگست کو دریائے سندھ میں 5 لاکھ 50 ہزارکیوسک کا زیادہ بہاؤ دیکھا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بدترین صورت حال کے لیے تیاری کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’موسم کسی بھی سمت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ پہاڑیوں سے آنے والا پانی کیسا ہوگا جیسا کہ کوہِ سلیمان رینج سے جب 2010ء میں سیلاب سندھ میں داخل ہوا‘۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ حکومت 9 لاکھ کیوسک یا زائد کے سپر فلڈ کے لیے خود کو تیار کررہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/021418416a69419.webp'  alt='  ماہی گیر سبحان علی اپنے چھوٹے جال سے حسین آباد میں دریائے سندھ پر کوٹری-حیدرآباد ریلوے پل کے قریب پلا پکڑنے کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماہی گیر سبحان علی اپنے چھوٹے جال سے حسین آباد میں دریائے سندھ پر کوٹری-حیدرآباد ریلوے پل کے قریب پلا پکڑنے کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے اعداد و شمار کے مطابق، سندھ میں گڈو بیراج سے 12 لاکھ کیوسک پانی کے اخراج کی گنجائش موجود ہے جس کے بعد سکھر بیراج آتا ہے کہ جس سے 9 لاکھ کیوسک اور کوٹری میں 8 لاکھ 75 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش موجود ہے۔ سکھر بیراج کی تعمیر کے وقت 15 لاکھ کیوسک کے پانی کے اخراج کی گنجائش تھی لیکن اوپر کی طرف گاد جمع ہونے کی وجہ سے، اس کے 10 دروازے بند کرنے پڑے۔ اس طرح اس کی گنجائش کم ہو کر 9 لاکھ کیوسک رہ گئی۔</p>
<p>آخری بار گڈو اور سکھر بیراج سے 15 سال قبل <strong><a href="https://www.dawn.com/news/857759/exceptionally-high-floods-at-two-barrages">سپر فلڈ</a></strong> گزرے تھے۔ 8 اگست 2010ء کو گڈو سے 11 لاکھ 48 ہزار 200 کیوسک کا بہاؤ ڈاون اسٹریم (دریا کا نچلا حصہ) سے گزرا تھا جس کے بعد اپ اسٹریم (بالائی حصہ) میں 11 لاکھ 48 ہزار 738 کیوسک کا بہاؤ تھا۔ سکھر بیراج میں اسی دن 11 لاکھ 30 ہزار 995 کیوسک اپ اسٹریم ہونے کے بعد 11 لاکھ 8 ہزار 795 کیوسک ڈاون اسٹریم سے گزرا۔ اس کے علاوہ کوٹری بیراج نے 27 اگست 2010ء کو 9 لاکھ 39 ہزار 442 کیوسک نیچے کی جانب سے گزرا جس کے بعد 9 لاکھ 64 ہزار897 کیوسک اپ اسٹریم سے گزرا۔</p>
<p>تاہم یہ سیلاب تباہی لے کر آیا تھا۔ 7 اگست 2010ء کو گڈو بیراج کے اوپری حصے میں دریائے سندھ کے دائیں جانب <strong><a href="https://www.dawn.com/news/634684/officials-take-flak-for-tori-dyke-breach-2">توری ڈیک</a></strong> پر ایک بڑا بریک ہوا تھا جوکہ دریا کے دائیں کنارے پر واقع اضلاع کے لیے تباہی کا پروانہ ثابت ہوا۔ 20 روز بعد کوٹ المو ڈاون اسٹریم کوٹری بیراج پر ایک اور شگاف نے مزید تباہی مچا دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141859dbfddde.webp'  alt='  کوٹری بیراج کے نیچے سہرش نگر کے علاقے میں ماہی گیر سے پلا خریدنے کے لیے ایک گاہک ماہی گیر سے بھاؤ تاؤ میں مشغول ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کوٹری بیراج کے نیچے سہرش نگر کے علاقے میں ماہی گیر سے پلا خریدنے کے لیے ایک گاہک ماہی گیر سے بھاؤ تاؤ میں مشغول ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس وقت صوبائی حکام اس بات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب میں تریموں اور پنجند بیراجوں پر پانی کس طرح گزر رہا ہے۔ پاکستان کے دریائی نظام کے نقشے کے مطابق، پنجند بیراج وہ مقام ہے جہاں سے تمام بڑے دریاؤں جہلم، چناب، راوی اور ستلج کا پانی جمع ہوتا ہے جس کے بعد وہ گڈو بیراج کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے۔ اس مقام پر دریائے چناب کا پانی، راوی اور ستلج کے پانی سے پہلے گڈو تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) کے چارٹ کے مطابق تریموں بیراج پر پانی کی سطح پیر کی رات تک بڑھ رہی تھی لیکن اب مسلسل نیچے جارہی ہے۔ اس میں 8 لاکھ 75 ہزار کیوسک کے اخراج کی گنجائش ہے۔ اس وقت اس میں دریائے چناب سے سیلابی پانی جمع ہورہا ہے جوکہ تقریباً 10 لاکھ 77 ہزار 951 کیوسک پانی ہے جو اس سے پہلے گزشتہ ہفتے خانکی اور قادر آباد بیراجوں سے گزرا تھا۔</p>
<p>پانی کو تریموں سے پنجند تک سفر کرنے میں تقریباً 48 گھنٹے لگتے ہیں جو کہ دریائے سندھ میں پانی کے بہنے سے پہلے پنجاب کا آخری پڑاؤ ہے۔ اس کے بعد پانی کو مٹھن کوٹ تک پہنچنے میں مزید 24 گھنٹے لگتے ہیں جہاں سے یہ گڈو بیراج پہنچتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/09/02141843c208a54.webp'  alt='  کوٹری بیراج کے نیچے دریائے سندھ میں ماہی گیر اپنی لکڑی کی کشتیوں میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کوٹری بیراج کے نیچے دریائے سندھ میں ماہی گیر اپنی لکڑی کی کشتیوں میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایف ایف ڈی ندی کے پانی کے بہاؤ کے چارٹ کے مطابق، پیر کی شام 4 بجے تریموں سے نیچے کی جانب پانی کا اخراج 5 لاکھ 50 ہزار 655 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن منگل کی دوپہر تک ڈاون اسٹریم اخراج صبح 8 بجے 5 لاکھ 16 ہزار 313 کیوسک تک پہنچنے کے بعد 4 لاکھ 45 ہزار 712 کیوسک رہ گیا۔ اس بہاؤ کے ساتھ، تریمو میں شاید پانی کی سطح کم ریکارڈ ہورہی ہے جس سے گڈو پر  حکام کے لیے دباؤ میں کمی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب منگل کی دوپہر پنجند ڈاؤن اسٹریم کا اخراج 10 لاکھ ایک ہزار 664 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ گڈو بیراج سے بہاؤ بڑھنا شروع ہوا جس کے ساتھ ہی بہاؤ 3 لاکھ 60 ہزار 777 کیوسک اپ اسٹریم اور 3 لاکھ 45 ہزار 373 کیوسک بہاؤ ہے۔</p>
<p>دریا کے بہاؤ کی بنیاد پر بیان کردہ مختلف زمروں وک دیکھا جائے تو کسی بھی بیراج سے نیچے کی جانب گزرنے والے بہاؤ کو سیلاب کہا جاتا ہے۔</p>
<p>فلڈ فورکاسٹنگ سینٹر کے مطابق، تربیلا ڈیم جو سندھ کے لیے پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، کی بہترین سطح ایک ہزار 500 فٹ پر ہے اس کے علاوہ دریائے سندھ پر چشمہ بیراج بھی کچھ پانی روک رہا ہے۔ اس کے پانی کی سطح حال ہی میں 647 فٹ سے بڑھ کر 648 فٹ ہوگئی تھی تاکہ سندھ کو مشرقی دریاؤں سے آنے والے سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے۔</p>
<p>اگرچہ سیلاب نے خطے کے کاشتکاروں اور دیگر ماہی گیروں میں امیدیں جگائی ہیں لیکن کچے کے باشندے تباہی اور بے گھر ہونے کے ایک اور سال کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے متوقع آبی ریلے کا انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<hr />
<p><em>ہیڈر: کشتیاں دریائے سندھ کے کنارے کھڑی ہیں، کوٹری بیراج کے نیچے دریا کے کنارے کے اس حصے میں ابھی پانی داخل نہیں ہوا تھا— اس تحریر میں شامل تمام تصاویر عمیر راجپوت نے عکس بند کی ہیں۔</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1938959/flooding-on-the-indus-boon-for-some-pain-for-others">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268320</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Sep 2025 14:28:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد حسین خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/03105445893a1b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/03105445893a1b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
