<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 01:42:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 01:42:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275084/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔</p>
<p>محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔</p>
<p>یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔</p>
<p>انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275084</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:06:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13125733d38128e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13125733d38128e.webp"/>
        <media:title>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا، تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275086/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔</p>
<p>پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔</p>
<p>الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔</p>
<p>لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275086</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13132723a0858db.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13132723a0858db.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا: ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر دھماکا، 6 اہلکار شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275081/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" href="#کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کے پی گورنر کی رپورٹ طلب&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا اور انہوں نے شہدا پر فخر کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" href="#قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری اور ملک کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کے پانچ اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی دی، اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔</p>
<p>ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔</p>
<p>پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔</p>
<p>ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔</p>
<h3><a id="کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" href="#کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کے پی گورنر کی رپورٹ طلب</h3>
<p>گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p>فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا اور انہوں نے شہدا پر فخر کا اظہار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>گورنر نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<h3><a id="قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" href="#قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی</h3>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری اور ملک کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔</p>
<p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کے پانچ اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی دی، اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275081</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 16:00:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عرفان مغل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12155525367fe22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12155525367fe22.webp"/>
        <media:title>پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔ فوٹو: کے پی پولیس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275078/</link>
      <description>&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔</p>
<p>محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔</p>
<p>درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275078</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:47:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121245587f1e6f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121245587f1e6f1.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں اسپتال عملے کیلئے ’باڈی کیمرے‘ لازمی قرار، طبی حلقوں میں تشویش کی لہر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275079/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے  شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابل-یقین-اقدام" href="#ناقابل-یقین-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابل یقین اقدام&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل  قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بے-سود-عمل" href="#بے-سود-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بے سود عمل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" href="#سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’سمجھنے سے قاصرمگر احکامات ماننے ہوں گے‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ممبر اور چلڈرن اسپتال لاہور کی ملازمہ مقدس تسنیم کے مطابق نرسیں اس فیصلے میں ایک اہم فریق تھیں لیکن ان میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ حکومت نے ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا اور خود ہی فیصلہ کرلیا، تاہم ہمیں احکامات کی پیروی کرنی ہے اور ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور جنرل اسپتال میں نرسوں کے علاوہ وارڈ بوائز اور دیگر عملے کے اتحاد ’’الائیڈ ہیلتھ سائنسز‘‘ کے صدر جنید طارق نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا اتحاد کے دیگر اراکین کو بالکل بھی مطلع یا مشورہ نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ہم اس حکم کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں کے ساتھ تو میل کھاتا ہے، لیکن اس سے مریضوں کی رازداری پر سمجھوتہ ہوگا۔ اس سے مریضوں کے طبی ریکارڈ کی رازداری متاثر ہوگی۔ ہمارے کام کی نوعیت سیکیورٹی سے متعلق نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابلِ-فہم-فیصلہ" href="#ناقابلِ-فہم-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابلِ فہم فیصلہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ یہ ناقابل فہم تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ یہ کیسے کریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اکرم نے فیصلے کے عملی پہلو پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ باڈی کیمز والے (طبی عملے) کو کیسے دیکھیں گے یا ان کا تجزیہ کیسے کریں گے؟ کیا ہوگا اگر کیمروں والے ملازمین کو ریسٹ روم جانا پڑے؟ کیا وہ ہر بار کیمرا اتاریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" href="#دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دنیا بھر میں محدود استعمال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمز کے استعمال یا آزمائش کی اجازت دیتے ہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں ہے اور عام طور پر سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرات والی صورتحال تک محدود ہے، روزمرہ کی طبی دیکھ بھال کے لیے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) ہیلتھ پبلک ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کے سرکاری ٹرائلز کر رہا ہے، جس میں منتخب ہسپتالوں میں سیکیورٹی عملے کو تحفظ اور روک تھام کے لیے جارحیت یا تشدد کے واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے ان سے لیس کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں انگلینڈ کے کچھ این ایچ ایس ٹرسٹ بشمول ایسٹ سسیکس کے کیسز جیسے کونکوسٹ اسپتال اور ایسٹ بورن ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نے بدسلوکی اور تشدد کو روکنے کے لیے عملے (زیادہ تر سیکیورٹی اور سینئر نرسوں) کے لیے باڈی کیمروں کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم اس طرح کا ہمہ گیر (blanket) فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نہیں سنا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے  شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔</p>
<p>باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔</p>
<h3><a id="ناقابل-یقین-اقدام" href="#ناقابل-یقین-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابل یقین اقدام</h3>
<p>حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔</p>
<p>انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل  قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے</p>
<h3><a id="بے-سود-عمل" href="#بے-سود-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بے سود عمل</h3>
<p>ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔</p>
<p>وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔</p>
<h3><a id="سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" href="#سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’سمجھنے سے قاصرمگر احکامات ماننے ہوں گے‘</h3>
<p>پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ممبر اور چلڈرن اسپتال لاہور کی ملازمہ مقدس تسنیم کے مطابق نرسیں اس فیصلے میں ایک اہم فریق تھیں لیکن ان میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ حکومت نے ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا اور خود ہی فیصلہ کرلیا، تاہم ہمیں احکامات کی پیروی کرنی ہے اور ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘</p>
<p>لاہور جنرل اسپتال میں نرسوں کے علاوہ وارڈ بوائز اور دیگر عملے کے اتحاد ’’الائیڈ ہیلتھ سائنسز‘‘ کے صدر جنید طارق نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا اتحاد کے دیگر اراکین کو بالکل بھی مطلع یا مشورہ نہیں دیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ہم اس حکم کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں کے ساتھ تو میل کھاتا ہے، لیکن اس سے مریضوں کی رازداری پر سمجھوتہ ہوگا۔ اس سے مریضوں کے طبی ریکارڈ کی رازداری متاثر ہوگی۔ ہمارے کام کی نوعیت سیکیورٹی سے متعلق نہیں ہے۔‘</p>
<h3><a id="ناقابلِ-فہم-فیصلہ" href="#ناقابلِ-فہم-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابلِ فہم فیصلہ</h3>
<p>ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ یہ ناقابل فہم تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ یہ کیسے کریں گے؟‘</p>
<p>ڈاکٹر اکرم نے فیصلے کے عملی پہلو پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ باڈی کیمز والے (طبی عملے) کو کیسے دیکھیں گے یا ان کا تجزیہ کیسے کریں گے؟ کیا ہوگا اگر کیمروں والے ملازمین کو ریسٹ روم جانا پڑے؟ کیا وہ ہر بار کیمرا اتاریں گے؟‘</p>
<h3><a id="دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" href="#دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دنیا بھر میں محدود استعمال</h3>
<p>دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمز کے استعمال یا آزمائش کی اجازت دیتے ہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں ہے اور عام طور پر سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرات والی صورتحال تک محدود ہے، روزمرہ کی طبی دیکھ بھال کے لیے نہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) ہیلتھ پبلک ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کے سرکاری ٹرائلز کر رہا ہے، جس میں منتخب ہسپتالوں میں سیکیورٹی عملے کو تحفظ اور روک تھام کے لیے جارحیت یا تشدد کے واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے ان سے لیس کیا گیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ میں انگلینڈ کے کچھ این ایچ ایس ٹرسٹ بشمول ایسٹ سسیکس کے کیسز جیسے کونکوسٹ اسپتال اور ایسٹ بورن ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نے بدسلوکی اور تشدد کو روکنے کے لیے عملے (زیادہ تر سیکیورٹی اور سینئر نرسوں) کے لیے باڈی کیمروں کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم اس طرح کا ہمہ گیر (blanket) فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نہیں سنا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275079</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 13:24:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121256478e4bb28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121256478e4bb28.webp"/>
        <media:title>حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردی کی شدت میں اضافہ، سندھ میں اسکولوں کے اوقات کار تبدیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275069/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔</p>
<p>وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔</p>
<p>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275069</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 21:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/102151179425b8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/102151179425b8d.webp"/>
        <media:title>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے. فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275080/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔</p>
<p>انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔</p>
<p>میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔</p>
<p>منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔</p>
<p>جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔</p>
<p>اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔</p>
<p>پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔</p>
<p>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275080</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 14:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12140926a232ab1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12140926a232ab1.webp"/>
        <media:title>انفرااسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی—فائل فوٹو: آن لائن/سید آصف علی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی ’تصدیق‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275077/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک قانونی تنازع پھنس گئے، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں استغاثہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فرانزک رپورٹ میں انہیں واقعے کی مبینہ ویڈیو فوٹیجز میں نظر آنے والے مشتبہ افراد میں شامل قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966438/afridi-ex-ministers-identified-in-may-9-radio-pakistan-attack-clips"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ یہ رپورٹ مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں ریڈیو پاکستان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی فوٹیج پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ویڈیو کلپس فرانزک جانچ کے لیے بھجوائے جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وکیل دفاع کی جانب سے فوٹیج کی افادیت یا قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے تجزیے کے لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش اور تحریک انصاف کے دو دیگر رہنماؤں عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس فراہم کیے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی اس کیس میں نامزد نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پی ایف ایس اے نے دو نکات پر رائے دی: آیا یو ایس بی میں موجود ویڈیوز اصلی ہیں اور آیا جن افراد کی پروفائل تصاویر دی گئیں وہ ویڈیو کلپس میں نظر آتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت پانچوں افراد ویڈیوز میں دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق ہیں یا کسی اور واقعے کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی، سوائے مختلف کیمروں سے بنائی گئی فوٹیجز کو یکجا کرنے کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیس سے باخبر ایک قانونی ماہر کے مطابق اس شواہد کے بعد تفتیشی افسر ضمنی چالان کے ذریعے مزید ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں نامزد کر سکتا ہے جبکہ عدالت خود بھی اس معاملے کا نوٹس لے سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن بھی فرانزک رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کی شمولیت کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="غیر-متعلقہ-ویڈیوز" href="#غیر-متعلقہ-ویڈیوز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غیر متعلقہ ویڈیوز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوراً بعد تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان کے اس واقعے کی نہیں ہیں جو 10 مئی 2023 کو اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیش آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ اور ان دیگر افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں کبھی نامزد ہی نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اسکرین شاٹس کے ساتھ شیئر کی جانے والی پوسٹس کا ریڈیو پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی لیب صرف یہ رائے دے رہی ہے کہ ویڈیوز اصلی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پہلی ویڈیو کا اسکرین شاٹ تو پشاور میں فلمایا ہی نہیں گیا بلکہ وہ اسلام آباد میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی مذمت کی ویڈیو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 26 جنوری کو مقرر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس میں 75 ملزمان، جن میں موجودہ اور سابق ارکانِ اسمبلی بھی شامل ہیں، پر 3 جون 2025 کو متعدد الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مقدمہ 10 مئی 2023 کو ایسٹ کنٹونمنٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابل-تردید-شواہد" href="#ناقابل-تردید-شواہد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابل تردید شواہد&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان اور ٹول پلازوں پر تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے حملے ایک منظم سازش کا حصہ تھے اور فرانزک رپورٹ میں ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق رپورٹ میں پشاور کے واقعات کا مکمل فرانزک تجزیہ شامل ہے، جسے ویڈیوز اور تصاویر سے تقویت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ تمام شواہد کسی بھی عدالت میں قابلِ قبول ہیں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;لاہور سے امجد محمود نے بھی اس رپورٹ میں تعاون کیا۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک قانونی تنازع پھنس گئے، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں استغاثہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فرانزک رپورٹ میں انہیں واقعے کی مبینہ ویڈیو فوٹیجز میں نظر آنے والے مشتبہ افراد میں شامل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966438/afridi-ex-ministers-identified-in-may-9-radio-pakistan-attack-clips"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ یہ رپورٹ مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں ریڈیو پاکستان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی فوٹیج پر مبنی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ویڈیو کلپس فرانزک جانچ کے لیے بھجوائے جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔</p>
<p>اس موقع پر وکیل دفاع کی جانب سے فوٹیج کی افادیت یا قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا۔</p>
<p>حکام نے تجزیے کے لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش اور تحریک انصاف کے دو دیگر رہنماؤں عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس فراہم کیے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی اس کیس میں نامزد نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں پی ایف ایس اے نے دو نکات پر رائے دی: آیا یو ایس بی میں موجود ویڈیوز اصلی ہیں اور آیا جن افراد کی پروفائل تصاویر دی گئیں وہ ویڈیو کلپس میں نظر آتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت پانچوں افراد ویڈیوز میں دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق ہیں یا کسی اور واقعے کی ہیں۔</p>
<p>البتہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی، سوائے مختلف کیمروں سے بنائی گئی فوٹیجز کو یکجا کرنے کے۔</p>
<p>اس کیس سے باخبر ایک قانونی ماہر کے مطابق اس شواہد کے بعد تفتیشی افسر ضمنی چالان کے ذریعے مزید ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں نامزد کر سکتا ہے جبکہ عدالت خود بھی اس معاملے کا نوٹس لے سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن بھی فرانزک رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کی شمولیت کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔</p>
<h3><a id="غیر-متعلقہ-ویڈیوز" href="#غیر-متعلقہ-ویڈیوز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غیر متعلقہ ویڈیوز</h3>
<p>رپورٹ کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوراً بعد تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان کے اس واقعے کی نہیں ہیں جو 10 مئی 2023 کو اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیش آیا تھا۔</p>
<p>تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ اور ان دیگر افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں کبھی نامزد ہی نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ان کے مطابق اسکرین شاٹس کے ساتھ شیئر کی جانے والی پوسٹس کا ریڈیو پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی لیب صرف یہ رائے دے رہی ہے کہ ویڈیوز اصلی ہیں یا نہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پہلی ویڈیو کا اسکرین شاٹ تو پشاور میں فلمایا ہی نہیں گیا بلکہ وہ اسلام آباد میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی مذمت کی ویڈیو ہے۔</p>
<p>انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 26 جنوری کو مقرر کی ہے۔</p>
<p>یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس میں 75 ملزمان، جن میں موجودہ اور سابق ارکانِ اسمبلی بھی شامل ہیں، پر 3 جون 2025 کو متعدد الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مقدمہ 10 مئی 2023 کو ایسٹ کنٹونمنٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔</p>
<h3><a id="ناقابل-تردید-شواہد" href="#ناقابل-تردید-شواہد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابل تردید شواہد</h3>
<p>وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان اور ٹول پلازوں پر تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے حملے ایک منظم سازش کا حصہ تھے اور فرانزک رپورٹ میں ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق رپورٹ میں پشاور کے واقعات کا مکمل فرانزک تجزیہ شامل ہے، جسے ویڈیوز اور تصاویر سے تقویت حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ تمام شواہد کسی بھی عدالت میں قابلِ قبول ہیں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<hr />
<p><em>لاہور سے امجد محمود نے بھی اس رپورٹ میں تعاون کیا۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275077</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:30:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121223174363909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121223174363909.webp"/>
        <media:title>تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ اور ان دیگر افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں کبھی نامزد ہی نہیں کیا گیا۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: شادی والے گھر میں دھماکا، دلہا دلہن سمیت 6 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275073/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ چھ لاشیں اور 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/MuKH0YvA4fU?si=RvKvGpHmM74W9qrb'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/MuKH0YvA4fU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈان کو بتایا کہ واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایات پر پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کیا گیا، جو 20 فیصد جھلسا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر جائے وقوع پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم چار مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دھماکا شادی کی تقریب کے مقام پر ہوا، جہاں مہمان بھی موجود تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے شادی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے گیس سلنڈر دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں، جبکہ غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے، قوانین پر عملدرآمد اور عوام میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ چھ لاشیں اور 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/MuKH0YvA4fU?si=RvKvGpHmM74W9qrb'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/MuKH0YvA4fU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے ڈان کو بتایا کہ واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایات پر پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔</p>
<p>ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کیا گیا، جو 20 فیصد جھلسا ہوا تھا۔</p>
<p>ادھر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر جائے وقوع پر پہنچے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم چار مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دھماکا شادی کی تقریب کے مقام پر ہوا، جہاں مہمان بھی موجود تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے شادی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے گیس سلنڈر دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں، جبکہ غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے، قوانین پر عملدرآمد اور عوام میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275073</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:57:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدیکاشف عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/11125417977336d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/11125417977336d.webp"/>
        <media:title>ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا میں دو کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275065/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق یہ کارروائیاں 8 جنوری کو کی گئیں اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فوجی دستوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کرم ضلع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں سرگرم رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیاب کارروائیوں پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، سرکاری ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</p>
<p>فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق یہ کارروائیاں 8 جنوری کو کی گئیں اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔</p>
<p>فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فوجی دستوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کرم ضلع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں سرگرم رہے تھے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیاب کارروائیوں پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، سرکاری ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275065</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 12:51:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1012480529affc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1012480529affc4.webp"/>
        <media:title>بیان کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی وزیرستان: جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما بم دھماکے میں شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275068/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں مدرسے کے قریب بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلطان محمد ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھماکے کے بعد مولانا سلطان محمد کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق جائے وقوع سے حاصل کیے گئے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر تک پہنچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا سلطان محمد پر حملہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جنوبی وزیرستان، بالخصوص وانا اور برمل تحصیل میں جے یو آئی ف کے رہنماؤں اور دینی علماء کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تازہ کڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص اور بہادر رہنما قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ اعتدال، امن اور جمہوری سوچ پر حملہ ہے، اور جے یو آئی ف انہی اقدار کی علمبردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ باجوڑ کے بعد جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی طور پر اہم خطے میں امن اور آزادی کے حامی علماء کو نشانہ بنانا ایک نہایت تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں جنوبی وزیرستان کے امیر ایک بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور تاحال ملتان کے نشتر اسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ جون 2024 میں سابق ضلعی صدر مولانا مرزا جان وزیر بھی ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہو کر بعد ازاں جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف جیسی جماعت، جو اعتدال، برداشت اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علماء پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی ناکامی اور غفلت کا ثبوت ہیں بلکہ اس پُرامن بیانیے کو دبانے کی سازش بھی ہیں جسے جے یو آئی ف برسوں سے ملک بھر میں، خصوصاً قبائلی علاقوں میں فروغ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف نے ہمیشہ ظلم اور تشدد کی مخالفت کی، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی اور ریاستی دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح اور امن کی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، بالخصوص قبائلی اضلاع میں علماء کے تحفظ اور امن کے قیام کو یقینی بنائیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جے یو آئی ف ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد ہر قربانی کے باوجود جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" href="#امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امن کمیٹی کے سربراہ پر حملہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی تحصیل سرویکئی کے علاقے بروند میں امن کمیٹی کے سربراہ قدیم خان کی گاڑی کو بھی دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اپر جنوبی وزیرستان کے ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم قدیم خان معمولی زخمی ہوئے اور محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمی رہنما کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی او نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا اور واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں مدرسے کے قریب بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلطان محمد ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔</p>
<p>دھماکے کے بعد مولانا سلطان محمد کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔</p>
<p>لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق جائے وقوع سے حاصل کیے گئے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p>مولانا سلطان محمد پر حملہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جنوبی وزیرستان، بالخصوص وانا اور برمل تحصیل میں جے یو آئی ف کے رہنماؤں اور دینی علماء کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تازہ کڑی ہے۔</p>
<p>جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص اور بہادر رہنما قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ اعتدال، امن اور جمہوری سوچ پر حملہ ہے، اور جے یو آئی ف انہی اقدار کی علمبردار ہے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ باجوڑ کے بعد جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی طور پر اہم خطے میں امن اور آزادی کے حامی علماء کو نشانہ بنانا ایک نہایت تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں جنوبی وزیرستان کے امیر ایک بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور تاحال ملتان کے نشتر اسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ جون 2024 میں سابق ضلعی صدر مولانا مرزا جان وزیر بھی ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہو کر بعد ازاں جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف جیسی جماعت، جو اعتدال، برداشت اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علماء پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی ناکامی اور غفلت کا ثبوت ہیں بلکہ اس پُرامن بیانیے کو دبانے کی سازش بھی ہیں جسے جے یو آئی ف برسوں سے ملک بھر میں، خصوصاً قبائلی علاقوں میں فروغ دے رہی ہے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف نے ہمیشہ ظلم اور تشدد کی مخالفت کی، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی اور ریاستی دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح اور امن کی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، بالخصوص قبائلی اضلاع میں علماء کے تحفظ اور امن کے قیام کو یقینی بنائیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جے یو آئی ف ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد ہر قربانی کے باوجود جاری رکھے گی۔</p>
<h3><a id="امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" href="#امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امن کمیٹی کے سربراہ پر حملہ</h3>
<p>دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی تحصیل سرویکئی کے علاقے بروند میں امن کمیٹی کے سربراہ قدیم خان کی گاڑی کو بھی دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اپر جنوبی وزیرستان کے ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم قدیم خان معمولی زخمی ہوئے اور محفوظ رہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمی رہنما کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p>ڈی پی او نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا اور واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275068</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 18:36:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آدم خان وزیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1018310599d8a42.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1018310599d8a42.webp"/>
        <media:title>پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔ فوٹو: اے کے وزیر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان جنگجوؤں کو پاکستان میں استعمال نہ کیا جائے، حافظ گل بہادر کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275058/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور: دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے مبینہ طور پر اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں لڑنے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص افغان شہریوں، کی بھرتی اور تعیناتی سے گریز کریں اور خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خراسان ڈائری کے مطابق یہ ہدایت حافظ گل بہادر کی جانب سے دی گئی جو نام نہاد اتحاد المجاہدین پاکستان کے سربراہ ہیں اور یہ پیغام چند روز قبل ایک آڈیو پیغام کے ذریعے ان کے ساتھیوں تک پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایت کابل کے اس مؤقف کے بھی برعکس دکھائی دیتی ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان سرزمین اور جنگجوؤں کے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدید اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے، جو سرحدی جھڑپوں تک جا پہنچا اور بالآخر گزشتہ برس اکتوبر میں پاک افغان سرحد کی بندش پر منتج ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل بہادر کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے پیش نظر افغان طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور یہ کابل میں گزشتہ ماہ کے اوائل میں جاری کیے گئے علما کے ایک فرمان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی غیر ملکی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرمان افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس سے قبل دیے گئے بیان کے بعد جاری کیا گیا تھا، جسے بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور: دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے مبینہ طور پر اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں لڑنے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص افغان شہریوں، کی بھرتی اور تعیناتی سے گریز کریں اور خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔</p>
<p>خراسان ڈائری کے مطابق یہ ہدایت حافظ گل بہادر کی جانب سے دی گئی جو نام نہاد اتحاد المجاہدین پاکستان کے سربراہ ہیں اور یہ پیغام چند روز قبل ایک آڈیو پیغام کے ذریعے ان کے ساتھیوں تک پہنچایا گیا۔</p>
<p>یہ ہدایت کابل کے اس مؤقف کے بھی برعکس دکھائی دیتی ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔</p>
<p>افغان سرزمین اور جنگجوؤں کے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدید اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے، جو سرحدی جھڑپوں تک جا پہنچا اور بالآخر گزشتہ برس اکتوبر میں پاک افغان سرحد کی بندش پر منتج ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔</p>
<p>گل بہادر کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے پیش نظر افغان طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور یہ کابل میں گزشتہ ماہ کے اوائل میں جاری کیے گئے علما کے ایک فرمان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی غیر ملکی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔</p>
<p>یہ فرمان افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس سے قبل دیے گئے بیان کے بعد جاری کیا گیا تھا، جسے بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275058</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:02:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بیورو رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091155104503ff6.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091155104503ff6.webp"/>
        <media:title>حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، علی ظفر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275062/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔</p>
<p>اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔</p>
<p>اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔</p>
<p>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔</p>
<p>صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275062</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:52:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0914471119c7c0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0914471119c7c0c.webp"/>
        <media:title>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے الزام مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275053/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی رہنماؤں سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر گوہر علی خان نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=t4I3fWHqvkQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/t4I3fWHqvkQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ درحقیقت ہمیں دہشت گردی پر ایک واحد موقف اور بیانیہ کی ضرورت ہے، پارٹی اور اس کی قیادت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا سرحدیں نہیں ہوتیں۔ وہ مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ہماری مساجد، عیدگاہوں پر حملہ کرتے ہیں اور ہم ہر ایک حملے کی مذمت کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ پوچھنا ’نامناسب اور خطرناک‘ ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد کیوں نشانہ نہیں بنا رہے، انہوں نے کہا کہ  ’ہمارا ماننا ہے کہ جب بھی کوئی دہشت گرد حملے کی زد میں آتا ہے تو پورے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوہر علی خان نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے تو الزامات لگانے کے لیے ٹویٹر اور پریس کانفرنسوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے، اپنے دلائل متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کی پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور اس مقصد کے لیے 40 ارب روپے بھی خرچ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اپنے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اس کے باوجود ہمیں قصوروار ٹھہرانا، پریس کانفرنسیں کرنا اور ہمیں نشانہ بنانا خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے، جو اس وقت قوم کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ اگلی بار ہمیں ایسی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ ہمارے خلاف بھی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزامات کو ’افسوسناک‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’صرف ایک بے وقوف ہی دہشت گردوں سے ہمدردی رکھ سکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی آپریشنز کے معاملے پر پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور معصوم لوگوں کی نقل مکانی اور شہادت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ’ایکشن پلان طے کرنے میں تعاون کے ساتھ کام کرنے‘ کی پیشکش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں امن جرگہ منعقد کیا، جہاں ’خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں، علماء اور دانشوروں نے متفقہ طور پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی غلط ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے کہا کہ  پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو عوام اور ریاستی ادارے کے درمیان ’خلیج‘ کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی ایک قومی مقصد کے لیے عوام اور اداروں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے یہ موقف بھی دہرایا کہ ’کوئی بھی مذاکرات چاہے وہ دہشت گردی کے بارے میں ہوں یا کسی اور معاملے پر، عمران خان کو باہر رکھ کر نہیں کیے جا سکتے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ مرکز جو بھی پالیسی لائے وہ صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے بنائی جانی چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کی پالیسی مسلسل ناکام ہو رہی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس پر نظرثانی کریں، اس کا دوبارہ جائزہ لیں اور ایسی پالیسی اپنائیں جو اس مسئلے کو ختم کرنے میں مدد دے سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مرکز پر تنقید کی کہ وہ ’خیبر پختونخوا کو اس کے عوام کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ملک کی سب سے بڑی جماعت‘ ہے اور الزام لگایا کہ اسے ’کچلا‘ جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے مزید کہا: ’ہمیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ ہمارا آئینی حق ہے اور اس کے اوپر ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کے بعد جاری ہونے والا ایک بیان دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہیں ہمارا بنیادی موقف ہے،‘ انہوں نے پڑھ کر سنایا: ’امن جرگہ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کوئی بھی جماعت دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے یہ پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی ایک طویل &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275029/"&gt;&lt;strong&gt;پریس کانفرنس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ایک دن بعد کی ہے، جس میں 2021 میں پاکستان میں برسرِ اقتدار ایک سیاسی جماعت پرجو بظاہر پی ٹی آئی کی طرف اشارہ تھا  ’اندرونی طور پر دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی رہنماؤں سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔</p>
<p>اس موقع پر گوہر علی خان نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=t4I3fWHqvkQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/t4I3fWHqvkQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ درحقیقت ہمیں دہشت گردی پر ایک واحد موقف اور بیانیہ کی ضرورت ہے، پارٹی اور اس کی قیادت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔’</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا سرحدیں نہیں ہوتیں۔ وہ مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ہماری مساجد، عیدگاہوں پر حملہ کرتے ہیں اور ہم ہر ایک حملے کی مذمت کرتے ہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ پوچھنا ’نامناسب اور خطرناک‘ ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد کیوں نشانہ نہیں بنا رہے، انہوں نے کہا کہ  ’ہمارا ماننا ہے کہ جب بھی کوئی دہشت گرد حملے کی زد میں آتا ہے تو پورے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘</p>
<p>گوہر علی خان نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے تو الزامات لگانے کے لیے ٹویٹر اور پریس کانفرنسوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے، اپنے دلائل متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کی پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور اس مقصد کے لیے 40 ارب روپے بھی خرچ کیے۔</p>
<p>چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اپنے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اس کے باوجود ہمیں قصوروار ٹھہرانا، پریس کانفرنسیں کرنا اور ہمیں نشانہ بنانا خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے، جو اس وقت قوم کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ اگلی بار ہمیں ایسی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ ہمارے خلاف بھی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔‘</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزامات کو ’افسوسناک‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ نہیں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’صرف ایک بے وقوف ہی دہشت گردوں سے ہمدردی رکھ سکتا ہے۔‘</p>
<p>فوجی آپریشنز کے معاملے پر پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور معصوم لوگوں کی نقل مکانی اور شہادت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ’ایکشن پلان طے کرنے میں تعاون کے ساتھ کام کرنے‘ کی پیشکش کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں امن جرگہ منعقد کیا، جہاں ’خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں، علماء اور دانشوروں نے متفقہ طور پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی غلط ہے۔‘</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے کہا کہ  پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو عوام اور ریاستی ادارے کے درمیان ’خلیج‘ کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی ایک قومی مقصد کے لیے عوام اور اداروں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔‘</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے یہ موقف بھی دہرایا کہ ’کوئی بھی مذاکرات چاہے وہ دہشت گردی کے بارے میں ہوں یا کسی اور معاملے پر، عمران خان کو باہر رکھ کر نہیں کیے جا سکتے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ مرکز جو بھی پالیسی لائے وہ صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے بنائی جانی چاہیے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کی پالیسی مسلسل ناکام ہو رہی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس پر نظرثانی کریں، اس کا دوبارہ جائزہ لیں اور ایسی پالیسی اپنائیں جو اس مسئلے کو ختم کرنے میں مدد دے سکے۔‘</p>
<p>انہوں نے مرکز پر تنقید کی کہ وہ ’خیبر پختونخوا کو اس کے عوام کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔‘</p>
<p>اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ملک کی سب سے بڑی جماعت‘ ہے اور الزام لگایا کہ اسے ’کچلا‘ جا رہا ہے۔</p>
<p>اسد قیصر نے مزید کہا: ’ہمیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ ہمارا آئینی حق ہے اور اس کے اوپر ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔‘</p>
<p>اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کے بعد جاری ہونے والا ایک بیان دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہیں ہمارا بنیادی موقف ہے،‘ انہوں نے پڑھ کر سنایا: ’امن جرگہ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘</p>
<p>اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کوئی بھی جماعت دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہی۔‘</p>
<p>پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے یہ پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی ایک طویل <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275029/"><strong>پریس کانفرنس</strong></a> کے ایک دن بعد کی ہے، جس میں 2021 میں پاکستان میں برسرِ اقتدار ایک سیاسی جماعت پرجو بظاہر پی ٹی آئی کی طرف اشارہ تھا  ’اندرونی طور پر دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275053</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 16:52:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0816465934ff796.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0816465934ff796.webp"/>
        <media:title>’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی کابینہ نے پیٹرول ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں اضافے کی منظوری روک دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275047/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:&lt;/strong&gt; وفاقی کابینہ نے ڈیلرز کمیشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں اس اضافے کو روک دیا ہے جس کی منظوری گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965752"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق باخبر ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر 24-2023 اور 25-2024 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کے اشاریہ) کے مطابق 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافے کی حد مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجن میں آدھا اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا، جس پر پیٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے تحت ای سی سی نے دو برابر اقساط میں او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی تھی۔ او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر کا پہلا اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں پر نظرثانی کے ساتھ نافذ ہونا تھا۔ اس سے فوری طور پر او ایم سیز کا مارجن 8.48 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز کا مارجن بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا مساوی اضافہ یکم جون 2026 کو نافذ ہونا تھا، جو ان کے سیلز اور اسٹاک نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن اور سرکاری اداروں جیسے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور یپٹرولیم ڈویژن کے ساتھ لائیو رابطے سے مشروط تھا۔ اس اضافے کے ساتھ او ایم سیز 9.10 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز ہر لیٹر کی فروخت پر تقریباً 9.98 روپے وصول کرتے۔ اس وقت او ایم سیز کو 7.87 روپے اور ڈیلرز کو 8.64 روپے فی لیٹر ادا کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومت نے 15 اور 31 دسمبر کو قیمتوں میں ہونے والی دو سہ ماہی نظرثانی کے دوران ڈیلرز اور او ایم سیز کے لیے شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی حالانکہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم جو پیداوار سے کھپت تک پورے پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’ڈیجیٹل پاکستان انیشیٹو‘ کو ذاتی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے ریٹیل مارجن میں دو مرحلہ وار اضافے کی مخالفت کی اور ای سی سی کے فیصلے کے نفاذ کو 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے جوڑ دیا جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قانون کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد درآمد اور پیداوار کے مرحلے سے لے کر اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فروخت تک تمام پٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نگرانی کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ اور ملاوٹ کو کم کیا جا سکے، جس سے ماحول اور انجن کی خرابی کے علاوہ سالانہ 300 سے 500 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی پر مبنی ٹریکنگ کے لیے نئی دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل اور پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام مقامی ریفائنریز اور بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انفرادی طور پر اور اپنے مشترکہ فورمز سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سرحدوں اور پیداوار و فروخت کے مقامی مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:</strong> وفاقی کابینہ نے ڈیلرز کمیشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں اس اضافے کو روک دیا ہے جس کی منظوری گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی تھی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965752"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق باخبر ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔</p>
<p>9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>ای سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر 24-2023 اور 25-2024 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کے اشاریہ) کے مطابق 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافے کی حد مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجن میں آدھا اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا، جس پر پیٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا‘۔</p>
<p>اس فیصلے کے تحت ای سی سی نے دو برابر اقساط میں او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی تھی۔ او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر کا پہلا اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں پر نظرثانی کے ساتھ نافذ ہونا تھا۔ اس سے فوری طور پر او ایم سیز کا مارجن 8.48 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز کا مارجن بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا۔</p>
<p>دوسرا مساوی اضافہ یکم جون 2026 کو نافذ ہونا تھا، جو ان کے سیلز اور اسٹاک نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن اور سرکاری اداروں جیسے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور یپٹرولیم ڈویژن کے ساتھ لائیو رابطے سے مشروط تھا۔ اس اضافے کے ساتھ او ایم سیز 9.10 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز ہر لیٹر کی فروخت پر تقریباً 9.98 روپے وصول کرتے۔ اس وقت او ایم سیز کو 7.87 روپے اور ڈیلرز کو 8.64 روپے فی لیٹر ادا کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم حکومت نے 15 اور 31 دسمبر کو قیمتوں میں ہونے والی دو سہ ماہی نظرثانی کے دوران ڈیلرز اور او ایم سیز کے لیے شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی حالانکہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم جو پیداوار سے کھپت تک پورے پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’ڈیجیٹل پاکستان انیشیٹو‘ کو ذاتی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے ریٹیل مارجن میں دو مرحلہ وار اضافے کی مخالفت کی اور ای سی سی کے فیصلے کے نفاذ کو 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے جوڑ دیا جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔</p>
<p>یہ اقدام گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قانون کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد درآمد اور پیداوار کے مرحلے سے لے کر اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فروخت تک تمام پٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نگرانی کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ اور ملاوٹ کو کم کیا جا سکے، جس سے ماحول اور انجن کی خرابی کے علاوہ سالانہ 300 سے 500 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی پر مبنی ٹریکنگ کے لیے نئی دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل اور پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔</p>
<p>تمام مقامی ریفائنریز اور بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انفرادی طور پر اور اپنے مشترکہ فورمز سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سرحدوں اور پیداوار و فروخت کے مقامی مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275047</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 12:37:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0813121365c5fce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0813121365c5fce.webp"/>
        <media:title>وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔فوٹو: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس ایل کی تاریخ کی سب سے بڑی بولی، سیالکوٹ 185 کروڑ اور حیدرآباد175 کروڑ میں فروخت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275055/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوگیا، جہاں او زی ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی فرنچائز 1 ارب 85 کروڑ روپے کی ریکارڈ بولی کے ذریعے حاصل کی، جبکہ اس سے چند لمحے قبل ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں خریدی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بولیاں جمعرات کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی کے دوران سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او زی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان سیالکوٹ ٹیم کے لیے سخت مقابلہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹو سی کی آخری بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے تھی، جس کے بعد او زی ڈویلپرز نے بولی بڑھا کر 1 ارب 85 کروڑ روپے کر دی، جو پی ایس ایل کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی بولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی کے پہلے مرحلے میں ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز حاصل کی، جہاں اس کا مقابلہ بھی آئی ٹو سی سے تھا، جس کی آخری بولی 1 ارب 70 کروڑ روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل میں شامل ہونے والی ساتویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 10 کروڑ روپے جبکہ آٹھویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد اور سیالکوٹ پہلی بار 2015 میں لیگ کے آغاز کے بعد پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرنچائز کے لیے زیر غور شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پی ایس ایل کی ٹیموں میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو نئی ٹیموں کے لیے بولی دینے والوں میں ایف کے ایس، او زی ڈویلپرز، ایم نیکسٹ انک، ڈہرکی شوگر ملز، انویریکس سولر، آئی ٹو سی، جاز، پرزم ڈویلپرز، وی جی او ٹییل اور ولی پاکستان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی کی میزبانی سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم نے کی، جبکہ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر بھی اسٹیج پر ان کے ہمراہ موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کے دس سال ہمیں اس تاریخی لمحے تک لے آئے ہیں۔ وسیم اکرم نے بولی دہندگان کو یہ باور کرایا کہ فرنچائز حاصل کرنا محض ملکیت نہیں بلکہ ٹیم کے لوگو، کِٹس اور کھلاڑیوں سے رابطے سمیت کئی امکانات کا دروازہ کھولتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کا انعام دیا، جبکہ ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو 1 کروڑ 85 لاکھ روپے کا کیش پرائز دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کئی بار توسیع کی گئی تھی، پہلے 15 دسمبر سے 22 دسمبر اور بعد ازاں 24 دسمبر تک، کیونکہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ لندن اور نیویارک میں ہونے والے روڈ شو بھی بنے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوگیا، جہاں او زی ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی فرنچائز 1 ارب 85 کروڑ روپے کی ریکارڈ بولی کے ذریعے حاصل کی، جبکہ اس سے چند لمحے قبل ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں خریدی۔</p>
<p>یہ بولیاں جمعرات کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی کے دوران سامنے آئیں۔</p>
<p>او زی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان سیالکوٹ ٹیم کے لیے سخت مقابلہ ہوا۔</p>
<p>آئی ٹو سی کی آخری بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے تھی، جس کے بعد او زی ڈویلپرز نے بولی بڑھا کر 1 ارب 85 کروڑ روپے کر دی، جو پی ایس ایل کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی بولی ہے۔</p>
<p>نیلامی کے پہلے مرحلے میں ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز حاصل کی، جہاں اس کا مقابلہ بھی آئی ٹو سی سے تھا، جس کی آخری بولی 1 ارب 70 کروڑ روپے رہی۔</p>
<p>پی ایس ایل میں شامل ہونے والی ساتویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 10 کروڑ روپے جبکہ آٹھویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔</p>
<p>حیدرآباد اور سیالکوٹ پہلی بار 2015 میں لیگ کے آغاز کے بعد پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول ہے۔</p>
<p>فرنچائز کے لیے زیر غور شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل تھے۔</p>
<p>اس وقت پی ایس ایل کی ٹیموں میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز شامل ہیں۔</p>
<p>دو نئی ٹیموں کے لیے بولی دینے والوں میں ایف کے ایس، او زی ڈویلپرز، ایم نیکسٹ انک، ڈہرکی شوگر ملز، انویریکس سولر، آئی ٹو سی، جاز، پرزم ڈویلپرز، وی جی او ٹییل اور ولی پاکستان شامل تھے۔</p>
<p>نیلامی کی میزبانی سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم نے کی، جبکہ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر بھی اسٹیج پر ان کے ہمراہ موجود تھے۔</p>
<p>سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کے دس سال ہمیں اس تاریخی لمحے تک لے آئے ہیں۔ وسیم اکرم نے بولی دہندگان کو یہ باور کرایا کہ فرنچائز حاصل کرنا محض ملکیت نہیں بلکہ ٹیم کے لوگو، کِٹس اور کھلاڑیوں سے رابطے سمیت کئی امکانات کا دروازہ کھولتا ہے۔</p>
<p>نیلامی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کا انعام دیا، جبکہ ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو 1 کروڑ 85 لاکھ روپے کا کیش پرائز دیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کئی بار توسیع کی گئی تھی، پہلے 15 دسمبر سے 22 دسمبر اور بعد ازاں 24 دسمبر تک، کیونکہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ لندن اور نیویارک میں ہونے والے روڈ شو بھی بنے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275055</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 21:45:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08213800990beff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08213800990beff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں سے متعلق وہ 6 باتیں جو استاد کو بتانا ضروری ہیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1103268/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب تربیت اور پڑھائی کی بات آئے تو بچوں کے اساتذہ اس حوالے سے خوب مہارت رکھتے ہیں، مگر وہ بچوں کے بارے میں کبھی بھی والدین سے زیادہ نہیں جانتے۔ لہٰذا بطور والدین یہاں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ استاد کو اپنے بچوں سے متعلق ان باتوں سے آگاہ رکھیں جو بچوں کی اسکول میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے۔ نئے اسکول میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی ٹیچر کے ساتھ بات چیت کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ آپ کے بچے کو کہاں کہاں ٹیچر کا تعاون اور مدد درکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102081/"&gt;بہن بھائیوں کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے 6 فوائد &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم یہاں آپ کو وہ 6 باتیں بتاتے ہیں جو آپ کو لازمی طور پر اپنے بچوں سے متعلق ٹیچر کو بتانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe759'&gt;صحت سے متعلق مسائل یا خاص حالات&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کے بچے کو صحت سے متعلق کسی بھی قسم کے خاص مسائل کا سامنا ہے تو پھر اس کے کلاس ٹیچر کو اس بارے میں اطلاع دینا ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک استاد بچے کی صحت سے متعلق حالات سے واقف ہوگا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر بچے کو کسی قسم کی خصوصی طبی معاونت کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی ٹیچر کو آگاہ رکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe777'&gt;گھریلو مسائل&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کے گھریلو معاملات کسی قسم کے تناؤ کا شکار ہیں جو آپ کے بچے کے رویوں کو متاثر کرسکتا ہے تو ہر حال میں ٹیچر کو ان حالات سے مطلع کریں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا بچہ بہتر انداز میں صورتحال کو سنبھال رہا ہو تو بھی اسکول انتظامیہ کو ان معاملات سے آگاہ رکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe78f'&gt;بچے کی شخصیت&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ہر بچہ اپنی مخصوص شخصیت رکھتا ہے۔ اگر ٹیچر آپ کے بچے کی شخصیت کے پہلوؤں کے بارے میں پہلے سے جانتا ہوگا تو وہ آپ کے بچے کو ہر معاملے میں بہتر انداز میں رہنمائی اور مدد کرسکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cda6dbbdd576.jpg"  alt="&amp;mdash;شٹراسٹاک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—شٹراسٹاک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe7a5'&gt;بچہ کہاں پختہ اور کہاں کمزور ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آپ کا بیٹا ریاضی میں بہت اچھا ہوسکتا ہے مگر ممکن ہے کہ انگریزی میں اسے مشکلات پیش آتی ہوں۔ اسی طرح آپ کی بیٹی انگلش کا ہوم ورک تو شوق سے کرتی ہو مگر ممکن ہے کہ سائنس اسے بھاتی نہ ہو۔ یہ تمام باتیں ان کے ٹیچرز کو بتائیے۔ ایسا کرنے سے ٹیچر بچے کی کمزوریوں پر زیادہ توجہ دے گا تاکہ تمام مضامین میں کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101917/"&gt;والدین کی جانب سے بچوں میں فرق کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe7bb'&gt;بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;والدین چونکہ اپنے بچے کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کرتے وقت اچھا خاصا وقت اپنے بچے کے ساتھ گزار چکے ہوتے ہیں اس لیے والد یا والدہ کو یہ بہتر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے۔ آیا آپ کا بچہ ہینڈ ایکٹیوٹی (اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی سرگرمی) کے ذریعے تیزی سے سیکھتا ہے یا پھر ویڈیوز کے ذریعے، بچے کو اسکول بھیجنے سے قبل اس کے ٹیچر کو ان باتوں کے بارے میں بتائیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe7d1'&gt;بچے کی دلچسپی کا محور&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کے بچے میں پینٹنگ کی خداداد صلاحیت ہے یا پھر اگر وہ کسی فن کی تربیت رکھتا ہے تو اس بارے میں اس کے ٹیچر کو ضرور بتائیے۔ آپ کے بچے کے پسندیدہ مشاغل کے بارے میں ٹیچر کو پتہ ہوگا تو انہیں اسکول میں موجود دیگر ایسے افراد یا بچوں سے ملانے میں مدد ملے گی جو ان مشاغل یا سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں یا پھر آپ کے بچے کی رہنمائی کرسکتے ہوں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب تربیت اور پڑھائی کی بات آئے تو بچوں کے اساتذہ اس حوالے سے خوب مہارت رکھتے ہیں، مگر وہ بچوں کے بارے میں کبھی بھی والدین سے زیادہ نہیں جانتے۔ لہٰذا بطور والدین یہاں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ استاد کو اپنے بچوں سے متعلق ان باتوں سے آگاہ رکھیں جو بچوں کی اسکول میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ </p>

<p>اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے۔ نئے اسکول میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی ٹیچر کے ساتھ بات چیت کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ آپ کے بچے کو کہاں کہاں ٹیچر کا تعاون اور مدد درکار ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102081/">بہن بھائیوں کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے 6 فوائد </a></strong></p>

<p>ہم یہاں آپ کو وہ 6 باتیں بتاتے ہیں جو آپ کو لازمی طور پر اپنے بچوں سے متعلق ٹیچر کو بتانی چاہئیں۔</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe759'>صحت سے متعلق مسائل یا خاص حالات</h3>

<p>اگر آپ کے بچے کو صحت سے متعلق کسی بھی قسم کے خاص مسائل کا سامنا ہے تو پھر اس کے کلاس ٹیچر کو اس بارے میں اطلاع دینا ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک استاد بچے کی صحت سے متعلق حالات سے واقف ہوگا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر بچے کو کسی قسم کی خصوصی طبی معاونت کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی ٹیچر کو آگاہ رکھیں۔</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe777'>گھریلو مسائل</h3>

<p>اگر آپ کے گھریلو معاملات کسی قسم کے تناؤ کا شکار ہیں جو آپ کے بچے کے رویوں کو متاثر کرسکتا ہے تو ہر حال میں ٹیچر کو ان حالات سے مطلع کریں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا بچہ بہتر انداز میں صورتحال کو سنبھال رہا ہو تو بھی اسکول انتظامیہ کو ان معاملات سے آگاہ رکھیں۔</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe78f'>بچے کی شخصیت</h3>

<p>ہر بچہ اپنی مخصوص شخصیت رکھتا ہے۔ اگر ٹیچر آپ کے بچے کی شخصیت کے پہلوؤں کے بارے میں پہلے سے جانتا ہوگا تو وہ آپ کے بچے کو ہر معاملے میں بہتر انداز میں رہنمائی اور مدد کرسکے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cda6dbbdd576.jpg"  alt="&mdash;شٹراسٹاک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—شٹراسٹاک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe7a5'>بچہ کہاں پختہ اور کہاں کمزور ہے؟</h3>

<p>آپ کا بیٹا ریاضی میں بہت اچھا ہوسکتا ہے مگر ممکن ہے کہ انگریزی میں اسے مشکلات پیش آتی ہوں۔ اسی طرح آپ کی بیٹی انگلش کا ہوم ورک تو شوق سے کرتی ہو مگر ممکن ہے کہ سائنس اسے بھاتی نہ ہو۔ یہ تمام باتیں ان کے ٹیچرز کو بتائیے۔ ایسا کرنے سے ٹیچر بچے کی کمزوریوں پر زیادہ توجہ دے گا تاکہ تمام مضامین میں کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101917/">والدین کی جانب سے بچوں میں فرق کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟</a></strong></p>

<h3 id='5cdd3d1dbe7bb'>بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے؟</h3>

<p>والدین چونکہ اپنے بچے کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کرتے وقت اچھا خاصا وقت اپنے بچے کے ساتھ گزار چکے ہوتے ہیں اس لیے والد یا والدہ کو یہ بہتر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے۔ آیا آپ کا بچہ ہینڈ ایکٹیوٹی (اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی سرگرمی) کے ذریعے تیزی سے سیکھتا ہے یا پھر ویڈیوز کے ذریعے، بچے کو اسکول بھیجنے سے قبل اس کے ٹیچر کو ان باتوں کے بارے میں بتائیے۔ </p>

<h3 id='5cdd3d1dbe7d1'>بچے کی دلچسپی کا محور</h3>

<p>اگر آپ کے بچے میں پینٹنگ کی خداداد صلاحیت ہے یا پھر اگر وہ کسی فن کی تربیت رکھتا ہے تو اس بارے میں اس کے ٹیچر کو ضرور بتائیے۔ آپ کے بچے کے پسندیدہ مشاغل کے بارے میں ٹیچر کو پتہ ہوگا تو انہیں اسکول میں موجود دیگر ایسے افراد یا بچوں سے ملانے میں مدد ملے گی جو ان مشاغل یا سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں یا پھر آپ کے بچے کی رہنمائی کرسکتے ہوں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1103268</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:37:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cda6b7474651.png?r=754632227" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cda6b7474651.png?r=1235158675"/>
        <media:title>اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے—شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے سعودی قرضے کو جے ایف 17 طیاروں کی ڈیل میں تبدیل کرنے پر مذاکرات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275046/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہیں جب شدید مالی دباؤ ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی وعدوں کے بارے میں بے یقینی  کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے اہداف پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوئے تھے، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے بنیادی آپشن تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269450'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ کل سودا 4 ارب ڈالر کا تھا، جس میں قرض کی تبدیلی کے علاوہ سازوسامان پر اضافی 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ فوجی معاملات سے قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس سودے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں تھے، جس میں ’دونوں فریقوں کے درمیان فوجی تعاون‘ پر بات چیت شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-میں-آزمودہ" href="#جنگ-میں-آزمودہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جنگ میں آزمودہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، لیکن وہ مذاکرات کی کسی تفصیل کی تصدیق نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمایا ہوا ہے اور لڑائی میں استعمال ہو چکا ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258755'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فوج یا وزارت خزانہ اور دفاع نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا جبکہ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے بھی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے نے دونوں فریقوں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کریں گے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان طویل عرصے سے سعودی مملکت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، بشمول تربیت اور مشاورتی تعیناتی جبکہ سعودی عرب نے معاشی دباؤ کے دوران بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 2018 میں، ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروانا اور موخر ادائیگی پر 3 ارب ڈالر کا تیل شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اس کے بعد سے متعدد بار رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس میں پچھلے سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" href="#اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسلحے کی فروخت میں تیزی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی رسائی میں تیزی لایا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانا اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو نفع بخش بنانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا سودا کیا، حکام نے بتایا کہ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ فروخت میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم کو وسعت دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274745'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274745"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہتھیاروں کی صنعت کی کامیابی ملک کے معاشی منظر نامے کو بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے طیاروں کا تجربہ کیا جا چکا ہے، اور ہمیں اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ شاید چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ضرورت نہ رہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو اس کا 24 واں پروگرام ہے، اس سے پہلے ایک مختصر مدت کے 3 ارب ڈالر کے معاہدے نے پاکستان کو 2023 میں ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد کی تھی۔ اس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی جانب سے مالی امداد اور ڈپازٹ رول اوور فراہم کرنے کے بعد فنڈ کی مدد حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہیں جب شدید مالی دباؤ ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی وعدوں کے بارے میں بے یقینی  کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے اہداف پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوئے تھے، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے بنیادی آپشن تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269450'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع نے بتایا کہ کل سودا 4 ارب ڈالر کا تھا، جس میں قرض کی تبدیلی کے علاوہ سازوسامان پر اضافی 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ فوجی معاملات سے قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس سودے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔</p>
<p>سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں تھے، جس میں ’دونوں فریقوں کے درمیان فوجی تعاون‘ پر بات چیت شامل تھی۔</p>
<h3><a id="جنگ-میں-آزمودہ" href="#جنگ-میں-آزمودہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جنگ میں آزمودہ</h3>
<p>ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، لیکن وہ مذاکرات کی کسی تفصیل کی تصدیق نہیں کر سکے۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمایا ہوا ہے اور لڑائی میں استعمال ہو چکا ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258755'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فوج یا وزارت خزانہ اور دفاع نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا جبکہ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے بھی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ستمبر میں دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے نے دونوں فریقوں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کریں گے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔</p>
<p>پاکستان طویل عرصے سے سعودی مملکت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، بشمول تربیت اور مشاورتی تعیناتی جبکہ سعودی عرب نے معاشی دباؤ کے دوران بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 2018 میں، ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروانا اور موخر ادائیگی پر 3 ارب ڈالر کا تیل شامل تھا۔</p>
<p>سعودی عرب اس کے بعد سے متعدد بار رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس میں پچھلے سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔</p>
<h3><a id="اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" href="#اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسلحے کی فروخت میں تیزی</h3>
<p>پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی رسائی میں تیزی لایا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانا اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو نفع بخش بنانا چاہتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا سودا کیا، حکام نے بتایا کہ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ فروخت میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم کو وسعت دے رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274745'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274745"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>منگل کو وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہتھیاروں کی صنعت کی کامیابی ملک کے معاشی منظر نامے کو بدل سکتی ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے طیاروں کا تجربہ کیا جا چکا ہے، اور ہمیں اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ شاید چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ضرورت نہ رہے۔‘</p>
<p>پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو اس کا 24 واں پروگرام ہے، اس سے پہلے ایک مختصر مدت کے 3 ارب ڈالر کے معاہدے نے پاکستان کو 2023 میں ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد کی تھی۔ اس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی جانب سے مالی امداد اور ڈپازٹ رول اوور فراہم کرنے کے بعد فنڈ کی مدد حاصل کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275046</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 12:22:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/081216424e3a80e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/081216424e3a80e.webp"/>
        <media:title>ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔فوٹو: آئی ایس پ آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی سلامتی کو درپیش خطرات پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275045/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاک فوج میں زیرو ٹالرنس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، جبکہ انہیں تربیتی مشقوں، جدید ٹیکنالوجیز اور فوجی سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے فوجی عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=URDnAvttUtM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/URDnAvttUtM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈرلاہور نے سی ڈی ایف کا استقبال کیا اور انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیارات اور جنگی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کلیدی اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک خصوصی فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جو کہ مستقبل کے متحرک میدان جنگ کے مطابق اختراع اور موافقت پر فوج کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے جوانوں کو فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، اور جسمانی فٹنس، حوصلہ اور مجموعی فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی ایف فیلڈ مارشل منیر نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) لاہور میں ایک کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مکمل لیس، جدید ترین طبی سہولت کے قیام میں طبی عملے اور انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سی ڈی ایف کے یہ ریمارکس فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں اور غیر ریاستی عناصر کا گڑھ بن چکا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، بھارت کی جانب سے دیکھی جانے والی جارحیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کے بارے میں بھی طویل گفتگو کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیاسی قوتوں کو احتجاج یا بیان بازی کے ذریعے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی متنبہ کیا تھا، اس کے علاوہ دہشت گردی میں ملوث بھارت کے زیرِ سرپرستی مبینہ پراکسیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاک فوج میں زیرو ٹالرنس ہے۔</p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔</p>
<p>آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، جبکہ انہیں تربیتی مشقوں، جدید ٹیکنالوجیز اور فوجی سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے فوجی عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=URDnAvttUtM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/URDnAvttUtM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔</p>
<p>کمانڈرلاہور نے سی ڈی ایف کا استقبال کیا اور انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیارات اور جنگی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کلیدی اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک خصوصی فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جو کہ مستقبل کے متحرک میدان جنگ کے مطابق اختراع اور موافقت پر فوج کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے جوانوں کو فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، اور جسمانی فٹنس، حوصلہ اور مجموعی فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>سی ڈی ایف فیلڈ مارشل منیر نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) لاہور میں ایک کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مکمل لیس، جدید ترین طبی سہولت کے قیام میں طبی عملے اور انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ سی ڈی ایف کے یہ ریمارکس فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں اور غیر ریاستی عناصر کا گڑھ بن چکا ہے ۔</p>
<p>ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، بھارت کی جانب سے دیکھی جانے والی جارحیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کے بارے میں بھی طویل گفتگو کی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیاسی قوتوں کو احتجاج یا بیان بازی کے ذریعے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی متنبہ کیا تھا، اس کے علاوہ دہشت گردی میں ملوث بھارت کے زیرِ سرپرستی مبینہ پراکسیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275045</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 11:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08114708af63f12.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08114708af63f12.webp"/>
        <media:title>جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط، عمدگی اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے۔رہی ہیں۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275043/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے  یہ بات چین کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں  محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر ژیاؤ ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے کہا کہ چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چینی شہری پاکستان میں متعدد بار حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کے ڈیٹا کے مطابق 2021 سے دسمبر 2024 تک دہشت گردانہ حملوں میں 20 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معلومات اُس وقت شیئر کی گئی تھیں جب ایک سیکیورٹی گارڈ نے کراچی میں دو چینی شہریوں پر فائرنگ کی، جس سے دونوں زخمی ہوئے۔ اکتوبر 2024 میں کراچی ائرپورٹ پر بم دھماکے میں دو چینی انجینئر ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی 2024 میں کہا تھا کہ حکومت چینی شہریوں کے لیے محفوظ اور کاروباری ماحول قائم کرنے کے لیے ان کی سیکیورٹی بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، سی پیک کے تناظر میں چینی شہریوں کی حفاظت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور تمام ائیرپورٹس پر ترجیحی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" href="#سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دونوں فریقین نے سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کا رشتہ ہے اور انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ ہوگی اور سال میں ایک بار وزارتی سطح کی ملاقات ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژیاؤ ہونگ نے بھی پاکستان میں ہر سطح پر تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں، انہوں نے محسن نقوی اور ان کے وفد کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کی میزبانی بھی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے  یہ بات چین کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں  محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہے۔</p>
<p>ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ملاقات میں دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔</p>
<p>محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر ژیاؤ ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے کہا کہ چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ چینی شہری پاکستان میں متعدد بار حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کے ڈیٹا کے مطابق 2021 سے دسمبر 2024 تک دہشت گردانہ حملوں میں 20 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔</p>
<p>یہ معلومات اُس وقت شیئر کی گئی تھیں جب ایک سیکیورٹی گارڈ نے کراچی میں دو چینی شہریوں پر فائرنگ کی، جس سے دونوں زخمی ہوئے۔ اکتوبر 2024 میں کراچی ائرپورٹ پر بم دھماکے میں دو چینی انجینئر ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی 2024 میں کہا تھا کہ حکومت چینی شہریوں کے لیے محفوظ اور کاروباری ماحول قائم کرنے کے لیے ان کی سیکیورٹی بڑھا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، سی پیک کے تناظر میں چینی شہریوں کی حفاظت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور تمام ائیرپورٹس پر ترجیحی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" href="#سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون</h3>
<p>ملاقات میں دونوں فریقین نے سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات کی۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کا رشتہ ہے اور انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔</p>
<p>ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ ہوگی اور سال میں ایک بار وزارتی سطح کی ملاقات ہوگی۔</p>
<p>محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔</p>
<p>ژیاؤ ہونگ نے بھی پاکستان میں ہر سطح پر تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں، انہوں نے محسن نقوی اور ان کے وفد کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کی میزبانی بھی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275043</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 16:40:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07164041fb07e75.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07164041fb07e75.webp"/>
        <media:title>دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ پبلک سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کردیا، وزیر داخلہ سندھ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275039/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم یقینی طور پر ایک بڑے آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجود تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، واضح اہداف مقرر ہوں گے اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے بدنام ڈاکوؤں کے خلاف بے رحم کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائی علاقوں میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے آغاز سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ آپ اسے آج ہی سے شروع سمجھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کو عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم مفرور یا خود کو بڑا طاقتور سمجھنے والے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، ان سے مقابلہ ہوگا اور انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274838'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی، جس کی مدد سے حالیہ ایک کامیاب آپریشن میں کچے کے ایک نو گو ایریا کو خالی کرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کی مدد لینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اہل ہے اور اس آپریشن میں رینجرز ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے اندرونی معاملات میں فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کچے کے علاقے وسطی اور جنوبی سندھ کے کئی اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں، تاہم کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد جیسے اضلاع ڈاکا زنی، تاوان کے لیے اغوا اور قبائلی تنازعات جیسے جرائم کے حوالے سے بدنام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اہلکاروں کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ایک صحافی نے کہا کہ ڈاکو ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ڈرونز وہاں تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی یقینی طور پر کارروائی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ اور پنجاب پولیس کے مشترکہ آپریشن کے امکان پر وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے سندھ کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پنجاب کے ہم منصب اور بہاولپور کے ریجنل پولیس افسر سے اس معاملے پر بات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی مشترکہ کوشش سے ہی ممکن ہوگی، کیونکہ مچکا کا علاقہ پنجاب تک پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ ان ڈاکوؤں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبائلی تنازعات سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اس معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جتوئی اور مہر قبائل کے درمیان تصادم کے حوالے سے متعلقہ رابطے کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272228'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 16 دسمبر2025 کو سندھ-پنجاب سرحد کے قریب تقریباً 25 ڈاکوؤں نے ایک بس پر حملہ کردیا تھا اور ڈرائیور کو زخمی کرنے کے بعد 20 مسافروں کو اغوا کر لیا تھا۔ پولیس نے اگلے روز ایک بڑے آپریشن کے دوران تمام مسافروں کو بحفاظت &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274838"&gt;&lt;strong&gt;بازیاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5 ستمبر 2025 کو صادق آباد تحصیل میں سکھر-ملتان موٹروے (ایم فائیو) پر تنویر اندھڑ گینگ کی جانب سے متعدد گاڑیوں سے کم از کم 10 افراد کے اغوا کے واقعے نے یہ بات واضح کی کہ یہ پہلا رپورٹ شدہ واقعہ تھا جس میں کچے کے ڈاکو پنجاب کی حدود میں موٹروے ایم فائیو تک براہِ راست پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی کے پیش نظر بعد ازاں رحیم یار خان میں پولیس نے ڈاکو گینگز سے مسافروں کو بچانے کے لیے موٹروے ایم فائیو پر رات کے وقت &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272277"&gt;&lt;strong&gt;پولیس کی نگرانی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں قافلوں کی صورت میں ٹریفک چلانا شروع کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے اگست 2024 میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم کیا تھا، جب مچکہ کے علاقے میں ڈاکوؤں کے ایک ہلاکت خیز حملے میں ایک درجن پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔</p>
<p>سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم یقینی طور پر ایک بڑے آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجود تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، واضح اہداف مقرر ہوں گے اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے بدنام ڈاکوؤں کے خلاف بے رحم کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>دریائی علاقوں میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے آغاز سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ آپ اسے آج ہی سے شروع سمجھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کو عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم مفرور یا خود کو بڑا طاقتور سمجھنے والے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، ان سے مقابلہ ہوگا اور انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274838'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی، جس کی مدد سے حالیہ ایک کامیاب آپریشن میں کچے کے ایک نو گو ایریا کو خالی کرایا گیا۔</p>
<p>فوج کی مدد لینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اہل ہے اور اس آپریشن میں رینجرز ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے اندرونی معاملات میں فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ کچے کے علاقے وسطی اور جنوبی سندھ کے کئی اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں، تاہم کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد جیسے اضلاع ڈاکا زنی، تاوان کے لیے اغوا اور قبائلی تنازعات جیسے جرائم کے حوالے سے بدنام ہیں۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اہلکاروں کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>جب ایک صحافی نے کہا کہ ڈاکو ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ڈرونز وہاں تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی یقینی طور پر کارروائی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>سندھ اور پنجاب پولیس کے مشترکہ آپریشن کے امکان پر وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے سندھ کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پنجاب کے ہم منصب اور بہاولپور کے ریجنل پولیس افسر سے اس معاملے پر بات کریں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی مشترکہ کوشش سے ہی ممکن ہوگی، کیونکہ مچکا کا علاقہ پنجاب تک پھیلا ہوا ہے۔</p>
<p>ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ ان ڈاکوؤں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔</p>
<p>قبائلی تنازعات سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اس معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جتوئی اور مہر قبائل کے درمیان تصادم کے حوالے سے متعلقہ رابطے کر لیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272228'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ 16 دسمبر2025 کو سندھ-پنجاب سرحد کے قریب تقریباً 25 ڈاکوؤں نے ایک بس پر حملہ کردیا تھا اور ڈرائیور کو زخمی کرنے کے بعد 20 مسافروں کو اغوا کر لیا تھا۔ پولیس نے اگلے روز ایک بڑے آپریشن کے دوران تمام مسافروں کو بحفاظت <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274838"><strong>بازیاب</strong></a> کرا لیا تھا۔</p>
<p>5 ستمبر 2025 کو صادق آباد تحصیل میں سکھر-ملتان موٹروے (ایم فائیو) پر تنویر اندھڑ گینگ کی جانب سے متعدد گاڑیوں سے کم از کم 10 افراد کے اغوا کے واقعے نے یہ بات واضح کی کہ یہ پہلا رپورٹ شدہ واقعہ تھا جس میں کچے کے ڈاکو پنجاب کی حدود میں موٹروے ایم فائیو تک براہِ راست پہنچے۔</p>
<p>سکیورٹی کے پیش نظر بعد ازاں رحیم یار خان میں پولیس نے ڈاکو گینگز سے مسافروں کو بچانے کے لیے موٹروے ایم فائیو پر رات کے وقت <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272277"><strong>پولیس کی نگرانی</strong></a> میں قافلوں کی صورت میں ٹریفک چلانا شروع کر دی تھی۔</p>
<p>سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے اگست 2024 میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم کیا تھا، جب مچکہ کے علاقے میں ڈاکوؤں کے ایک ہلاکت خیز حملے میں ایک درجن پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275039</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:38:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07142410d8c26fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07142410d8c26fe.webp"/>
        <media:title>ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کو عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جائے گا۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرادی گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275038/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اڈیالہ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان ملاقات 45 منٹ  تک جاری رہی، ملاقات گزشتہ روز کانفرنس روم میں کرائی گئی، دونوں نے ایک دوسرے سے حال دریافت کیا اور مقدمات پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیل ذرائع  کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرائی گئی تھی، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات جیل قوانین کے مطابق کرائی جاتی ہے تاہم بیرون جیل سے کسی عزیز ، رشتہ دار یا رہنما کو ان دونوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے کچھ ضروری سامان گزشتہ روز جیل انتظامیہ نے وصول کیا تھا، ضروری سامان میں کمبل، گرم کپڑے، میوہ جات، کھجوریں اور دیگر سامان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 20 دسمبر کو خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیس مئی 2021 میں سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت پر خریداری سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا جیولری سیٹ محض 2 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں 14 سال قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی۔</p>
<p>اڈیالہ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان ملاقات 45 منٹ  تک جاری رہی، ملاقات گزشتہ روز کانفرنس روم میں کرائی گئی، دونوں نے ایک دوسرے سے حال دریافت کیا اور مقدمات پر گفتگو ہوئی۔</p>
<p>جیل ذرائع  کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرائی گئی تھی، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات جیل قوانین کے مطابق کرائی جاتی ہے تاہم بیرون جیل سے کسی عزیز ، رشتہ دار یا رہنما کو ان دونوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے کچھ ضروری سامان گزشتہ روز جیل انتظامیہ نے وصول کیا تھا، ضروری سامان میں کمبل، گرم کپڑے، میوہ جات، کھجوریں اور دیگر سامان تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 20 دسمبر کو خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p>یہ کیس مئی 2021 میں سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت پر خریداری سے متعلق ہے۔</p>
<p>عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا جیولری سیٹ محض 2 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔</p>
<p>عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں 14 سال قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275038</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:05:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07135544938ad72.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07135544938ad72.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیادت اور پالیسیوں پر مسلسل تنقید سے سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، پی ٹی آئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275037/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف نے اپنی قیادت اور پالیسیوں پر کی جانے والی تنقید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردعمل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی نے  ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا، پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پارٹی، اس کی قیادت اور ایک منتخب صوبائی حکومت کو اس نوعیت کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مسلسل تنقید سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے بلکہ ریاستی نظام کے توازن پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کسی فوجی آپریشن کی مخالفت کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دینا زمینی حقائق کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2008605541241651321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008605541241651321%7Ctwgr%5E055510a220df4be52812c1b454586bc90a3b6150%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965620'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2008605541241651321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008605541241651321%7Ctwgr%5E055510a220df4be52812c1b454586bc90a3b6150%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965620"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے یاد دلایا کہ 12 نومبر 2025 کو صوبائی حکومت کی جانب سے ایک امن جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جہاں شرکا نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ فوجی آپریشن کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں اور دیرپا امن کے لیے ایک جامع، اتفاقِ رائے پر مبنی اور مشترکہ قومی پالیسی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے اس بیان پر بھی اعتراض کیا کہ دہشت گرد پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بناتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ بات مکمل طور پر زمینی حقائق کے برعکس ہے، اور ایسے سوالات اٹھانا شہدا، زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں اضافے کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی سے محفوظ رہی ہے، حقائق سے لاعلمی کا مظہر اور انتہائی افسوسناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے نشاندہی کی کہ ماضی میں متعدد ریاستی اداروں نے پارٹی کے بانی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے لیے کئی مواقع پر سکیورٹی تھریٹ الرٹس جاری کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے عمران خان کو بار بار نشانہ بنائے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں نہ تو ملاقاتوں کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے مطابق ایک ایسے سیاسی رہنما پر سرِعام تنقید کرنا جو ناحق قید میں ہو، جو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم ہو اور جس کی آواز دانستہ طور پر دبائی جا رہی ہو، کسی بھی طور مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے مزید کہا کہ عسکری ترجمان کی پریس بریفنگ میں ایک صوبے اور ایک سیاسی جماعت سے متعلق دکھائی جانے والی تصاویر اور تقاریر ملک کے دفاعی ادارے کے شایانِ شان نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہے، آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کو پریس کانفرنسوں میں لانا عدم استحکام کو مزید ہوا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے زور دیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے پر قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رہنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اندرونی سیاسی اختلافات کے باوجود پی ٹی آئی نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے معاملات میں ریاست کا ساتھ دیا ہے، اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ جب بھی ملک کو بیرونی خطرات یا سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہر فورم پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور حکومت کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف نے اپنی قیادت اور پالیسیوں پر کی جانے والی تنقید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردعمل دیا ہے۔</p>
<p>منگل کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی نے  ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا، پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پارٹی، اس کی قیادت اور ایک منتخب صوبائی حکومت کو اس نوعیت کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مسلسل تنقید سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے بلکہ ریاستی نظام کے توازن پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>پارٹی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کسی فوجی آپریشن کی مخالفت کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دینا زمینی حقائق کے منافی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2008605541241651321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008605541241651321%7Ctwgr%5E055510a220df4be52812c1b454586bc90a3b6150%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965620'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2008605541241651321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008605541241651321%7Ctwgr%5E055510a220df4be52812c1b454586bc90a3b6150%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965620"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پی ٹی آئی نے یاد دلایا کہ 12 نومبر 2025 کو صوبائی حکومت کی جانب سے ایک امن جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جہاں شرکا نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ فوجی آپریشن کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں اور دیرپا امن کے لیے ایک جامع، اتفاقِ رائے پر مبنی اور مشترکہ قومی پالیسی ناگزیر ہے۔</p>
<p>پارٹی نے اس بیان پر بھی اعتراض کیا کہ دہشت گرد پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بناتے۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ بات مکمل طور پر زمینی حقائق کے برعکس ہے، اور ایسے سوالات اٹھانا شہدا، زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں اضافے کا باعث بنے گا۔</p>
<p>پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی سے محفوظ رہی ہے، حقائق سے لاعلمی کا مظہر اور انتہائی افسوسناک ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے نشاندہی کی کہ ماضی میں متعدد ریاستی اداروں نے پارٹی کے بانی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے لیے کئی مواقع پر سکیورٹی تھریٹ الرٹس جاری کیے تھے۔</p>
<p>پارٹی نے عمران خان کو بار بار نشانہ بنائے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں نہ تو ملاقاتوں کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے مطابق ایک ایسے سیاسی رہنما پر سرِعام تنقید کرنا جو ناحق قید میں ہو، جو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم ہو اور جس کی آواز دانستہ طور پر دبائی جا رہی ہو، کسی بھی طور مناسب نہیں۔</p>
<p>پارٹی نے مزید کہا کہ عسکری ترجمان کی پریس بریفنگ میں ایک صوبے اور ایک سیاسی جماعت سے متعلق دکھائی جانے والی تصاویر اور تقاریر ملک کے دفاعی ادارے کے شایانِ شان نہیں تھیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہے، آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>پارٹی نے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کو پریس کانفرنسوں میں لانا عدم استحکام کو مزید ہوا دے گا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے زور دیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے پر قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رہنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اندرونی سیاسی اختلافات کے باوجود پی ٹی آئی نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے معاملات میں ریاست کا ساتھ دیا ہے، اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ جب بھی ملک کو بیرونی خطرات یا سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہر فورم پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور حکومت کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275037</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 13:44:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/071334319a7acb3.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/071334319a7acb3.webp"/>
        <media:title>پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مسلسل تنقید نہ صرف سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کے توازن سے متعلق سوالات بھی جنم دیتی ہے۔ فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا گیس مہنگی کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی مزید بڑھانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275034/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965589/goverment-mulls-fuel-levy-hike-to-aid-gas-sector"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق منگل کو رکن قومی اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس  میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے تصدیق کی کہ گیس کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، البتہ انہوں نے تجویز کی تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لیے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118 روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لیے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور گیس چوری و نقصانات کم کرنے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ زائد ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام طے پا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بجلی کے شعبے کے مقابلے میں بھی بڑا ہو چکا ہے اور پوچھا کہ کیا پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر لیوی کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے۔ جس کا وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ گیس گردشی قرضے پر تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی غیر حساب شدہ گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی کے مطابق اس کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اور نقصانات اکثر ملی بھگت سے ہوتے ہیں، جس پر وزیر نے بتایا کہ نگرانی سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی دی جا رہی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر یومیہ 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر کے مطابق اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی اشاریاتی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، جن میں نیٹ ورک کے آخری سروں پر ٹاؤن بارڈر اسٹیشنز شامل ہیں، دباؤ میں کمی کی صورت میں خودکار الرٹس جاری کر رہے ہیں، جس سے حقیقی وقت میں کنٹرول اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی استعداد بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965589/goverment-mulls-fuel-levy-hike-to-aid-gas-sector"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق منگل کو رکن قومی اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس  میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے۔</p>
<p>وزیر نے تصدیق کی کہ گیس کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، البتہ انہوں نے تجویز کی تردید نہیں کی۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لیے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118 روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لیے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور گیس چوری و نقصانات کم کرنے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ زائد ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام طے پا گیا ہے۔</p>
<p>رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بجلی کے شعبے کے مقابلے میں بھی بڑا ہو چکا ہے اور پوچھا کہ کیا پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر لیوی کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے۔ جس کا وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ گیس گردشی قرضے پر تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔</p>
<p>سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی غیر حساب شدہ گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>ایس ایس جی سی کے مطابق اس کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اور نقصانات اکثر ملی بھگت سے ہوتے ہیں، جس پر وزیر نے بتایا کہ نگرانی سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی دی جا رہی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر یومیہ 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔</p>
<p>وزیر کے مطابق اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی اشاریاتی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، جن میں نیٹ ورک کے آخری سروں پر ٹاؤن بارڈر اسٹیشنز شامل ہیں، دباؤ میں کمی کی صورت میں خودکار الرٹس جاری کر رہے ہیں، جس سے حقیقی وقت میں کنٹرول اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی استعداد بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275034</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 11:58:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/071149392accd9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="840" width="1400">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/071149392accd9d.webp"/>
        <media:title>پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے۔ فوٹو:پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر تعلیم سندھ کی یقین دہانی کے بعد نجی اسکولز نے 9 جنوری کو ہڑتال منسوخ کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275040/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: وزیرتعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے بعد  گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے 9 جنوری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری شپ قانون کے تحت نجی اسکولوں کو اپنے کل داخل شدہ طلبہ میں سے 10 فی صد کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965518/private-school-associations-in-sindh-call-off-jan-9-strike-after-assurances-from-education-minister"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق الائنس کے ایک وفد نے منگل کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال اور نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے انور علی بھٹی، سید طارق شاہ، سید شہزاد اختر، دانش الزمان، ناصر زیدی، حیدر علی اور دیگر شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا مؤقف تھا کہ تفتیش اور ڈیٹا کی تصدیق میں واضح فرق ہے جبکہ بعض علاقوں سے ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول الائنس کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے واضح اور مربوط طریقۂ کار نہ ہونے کے باعث نجی اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط اور شفاف تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ اسکول انتظامیہ اور والدین کے خدشات کا مکمل ازالہ ہو اور کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم نے سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے نجی اسکولوں کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: وزیرتعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے بعد  گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے 9 جنوری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔</p>
<p>فری شپ قانون کے تحت نجی اسکولوں کو اپنے کل داخل شدہ طلبہ میں سے 10 فی صد کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965518/private-school-associations-in-sindh-call-off-jan-9-strike-after-assurances-from-education-minister"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق الائنس کے ایک وفد نے منگل کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال اور نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے انور علی بھٹی، سید طارق شاہ، سید شہزاد اختر، دانش الزمان، ناصر زیدی، حیدر علی اور دیگر شریک تھے۔</p>
<p>وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔</p>
<p>وفد کا مؤقف تھا کہ تفتیش اور ڈیٹا کی تصدیق میں واضح فرق ہے جبکہ بعض علاقوں سے ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول الائنس کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے واضح اور مربوط طریقۂ کار نہ ہونے کے باعث نجی اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور ہو سکیں۔</p>
<p>اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط اور شفاف تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ اسکول انتظامیہ اور والدین کے خدشات کا مکمل ازالہ ہو اور کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>وزیر تعلیم نے سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے نجی اسکولوں کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275040</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:56:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0714473910918e6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0714473910918e6.webp"/>
        <media:title>وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔ فائل فوٹو: مرزا خرم شہزاد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275041/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965521/sindh-govt-to-register-firs-against-those-burning-garbage-on-roads"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔</p>
<p>اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965521/sindh-govt-to-register-firs-against-those-burning-garbage-on-roads"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔</p>
<p>انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔</p>
<p>حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔</p>
<p>مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275041</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 15:27:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0715000951fec2f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0715000951fec2f.webp"/>
        <media:title>کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔ فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چکوال کے قریب مسافر بس کھائی میں جاگری، پانچ افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275035/</link>
      <description>&lt;p&gt;چکوال: تلہ گنگ کے قریب مسافر بس کھائی میں گرنے سے پانچ افراد جاں بحق جبکہ 24 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام کے مطابق بس راولپنڈی سے بہاولپور جا رہی تھی، دھند کے باعث موٹروے بند ہونے پر ڈرائیور نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے تلہ گنگ فتح جنگ روڈ کا انتخاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثہ بدھ کی علی الصبح تقریباً 2 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 کے ترجمان قاضی محمد اکرم کے مطابق جب بس سوان دریا کے کنارے واقع گاؤں ڈھوکے پٹھان کے قریب پہنچی تو تنگ اور بل کھاتی سڑک پر ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا جس کے نتیجے میں بس تقریباً 100 فٹ گہری کھائی میں جاگری۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حادثے میں بس ڈرائیور سمیت پانچ مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 24 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کے 15 اہلکار اور پانچ ایمبولینسز موقع پر پہنچیں اور دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے امدادی آپریشن کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والوں میں 56 سالہ عبد الستار جو بس کے ڈرائیور تھے، 40 سالہ ضیا احمد ساکن کوٹلی ستیاں، 33 سالہ محمد اسحاق ساکن لودھراں اور 45 سالہ رمضان ساکن ملتان شامل ہیں، جبکہ پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر ڈاکٹر محمد عتیق کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تلہ گنگ منتقل کی گئیں جبکہ تمام زخمیوں کو سٹی اسپتال تلہ گنگ پہنچایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ سلیمان منشا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک اعظی نے سٹی اسپتال کا دورہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل ہی 31 دسمبر 2025 کو جھنگ فیصل آباد روڈ پر بس اور وین کے درمیان تصادم میں 14 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہو گئے تھے، بعد ازاں اموات کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر صوبے میں شدید دھند کے باعث ٹریفک حادثات کے خدشے پر متعدد اہم موٹرویز بند کر دی گئی ہیں۔ پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ایک ہزار 81 ٹریفک حادثات پر ریسپانس دیا گیا، جن میں 24 افراد جاں بحق اور 12 سو 51 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چکوال: تلہ گنگ کے قریب مسافر بس کھائی میں گرنے سے پانچ افراد جاں بحق جبکہ 24 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>ریسکیو حکام کے مطابق بس راولپنڈی سے بہاولپور جا رہی تھی، دھند کے باعث موٹروے بند ہونے پر ڈرائیور نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے تلہ گنگ فتح جنگ روڈ کا انتخاب کیا۔</p>
<p>حادثہ بدھ کی علی الصبح تقریباً 2 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔</p>
<p>ریسکیو 1122 کے ترجمان قاضی محمد اکرم کے مطابق جب بس سوان دریا کے کنارے واقع گاؤں ڈھوکے پٹھان کے قریب پہنچی تو تنگ اور بل کھاتی سڑک پر ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا جس کے نتیجے میں بس تقریباً 100 فٹ گہری کھائی میں جاگری۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>حادثے میں بس ڈرائیور سمیت پانچ مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 24 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کے 15 اہلکار اور پانچ ایمبولینسز موقع پر پہنچیں اور دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے امدادی آپریشن کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والوں میں 56 سالہ عبد الستار جو بس کے ڈرائیور تھے، 40 سالہ ضیا احمد ساکن کوٹلی ستیاں، 33 سالہ محمد اسحاق ساکن لودھراں اور 45 سالہ رمضان ساکن ملتان شامل ہیں، جبکہ پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر ڈاکٹر محمد عتیق کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تلہ گنگ منتقل کی گئیں جبکہ تمام زخمیوں کو سٹی اسپتال تلہ گنگ پہنچایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ سلیمان منشا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک اعظی نے سٹی اسپتال کا دورہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>چند روز قبل ہی 31 دسمبر 2025 کو جھنگ فیصل آباد روڈ پر بس اور وین کے درمیان تصادم میں 14 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہو گئے تھے، بعد ازاں اموات کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔</p>
<p>ادھر صوبے میں شدید دھند کے باعث ٹریفک حادثات کے خدشے پر متعدد اہم موٹرویز بند کر دی گئی ہیں۔ پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ایک ہزار 81 ٹریفک حادثات پر ریسپانس دیا گیا، جن میں 24 افراد جاں بحق اور 12 سو 51 زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275035</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 12:16:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نبیل انور)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07120954f9936f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07120954f9936f6.webp"/>
        <media:title>جاں بحق ہونے والوں میں 56 سالہ عبد الستار جو بس کے ڈرائیور تھے، 40 سالہ ضیا احمد ساکن کوٹلی ستیاں، 33 سالہ محمد اسحاق ساکن لودھراں اور 45 سالہ رمضان ساکن ملتان شامل ہیں، جبکہ پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ فوٹو: نبیل انور ڈھکو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ترجمان پاک فوج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275029/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=6acszs_H8aM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/6acszs_H8aM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج (منگل کو) سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں گزشتہ سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778  اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" href="#2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’2021 میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے، پریس کانفرنس میں گرفتار کیے گئے ان افغان شہریوں کے ویڈیو بیانات بھی سنائے گئے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کا اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے،  یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانوں نے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2021 میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کی اور ان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ وہاں افغانستان میں ایک بڑی بساط بچھائی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اشارہ اُس وقت کی پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب آپ دہشت گردوں کو اتنی گنجائش اور وسائل فراہم کرتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 2023 میں ریاست نے ان کے خلاف کھڑا ہونا شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وضاحت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" href="#وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے،  یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا  کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=6acszs_H8aM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/6acszs_H8aM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج (منگل کو) سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں.</p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں گزشتہ سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778  اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<h2><a id="2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" href="#2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’2021 میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی‘</h2>
<p>انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے، پریس کانفرنس میں گرفتار کیے گئے ان افغان شہریوں کے ویڈیو بیانات بھی سنائے گئے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کا اعتراف کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے،  یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانوں نے کیے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2021 میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کی اور ان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ وہاں افغانستان میں ایک بڑی بساط بچھائی جا رہی تھی۔</p>
<p>یہ اشارہ اُس وقت کی پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب آپ دہشت گردوں کو اتنی گنجائش اور وسائل فراہم کرتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ نظر آتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 2023 میں ریاست نے ان کے خلاف کھڑا ہونا شروع کیا۔</p>
<p>انہوں نے 2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے۔</p>
<p>اس وضاحت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔</p>
<h2><a id="وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" href="#وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا‘</h2>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے،  یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا  کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔</p>
<p>انہوں  نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔</p>
<p>اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔</p>
<p>انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275029</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 18:43:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/061412520ca51b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/061412520ca51b6.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوا ایپ پروموشن کیس: یوٹیوبرز رجب بٹ اور نانی والا کی عبوری ضمانت میں توسیع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275028/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی مقامی سیشن عدالت نے  سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپلی کیشنز کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم مبارک عرف نانی والا کی پیشگی ضمانت میں توسیع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ملزمان آج (منگل کو) اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت پہنچے تو پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج منصور احمد نے کیس کی سماعت کی، جس دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این سی سی آئی اے کے وکیل نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے رجب بٹ اور ندیم مبارک کی پیشگی ضمانت 26 جنوری تک بڑھا دی اور این سی سی آئی اے کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل عدالت نے حاضری مکمل ہونے کے بعد دونوں ٹک ٹاکرز کو کمرۂ عدالت سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274768/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں کونٹینٹ کریئیٹرز پہلی بار قانونی مشکلات کا سامنا نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2025 میں این سی سی آئی اے نے رجب بٹ کے خلاف یوٹیوب اور ٹک ٹاک ویڈیوز اور محدود وقت کے لیے انسٹاگرام اسٹوریز میں آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ندیم مبارک کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم انہیں ستمبر میں ایک اور کیس میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ان پر اپنی گاڑی پر جعلی رجسٹریشن نمبر آئی کے 804 لگانے کا الزام تھا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران وہ جعلی نمبر پلیٹ کے بارے میں تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جو کہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے منسوب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="رجب-بٹ-کے-وکیل-کا-لائسنس-بحال" href="#رجب-بٹ-کے-وکیل-کا-لائسنس-بحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;رجب بٹ کے وکیل کا لائسنس بحال&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسی روز پنجاب بار کونسل نے رجب بٹ کے وکیل ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایک روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست کی سماعت کے بعد سامنے آیا، جس میں ایڈووکیٹ علی اشفاق نے اپنا لائسنس معطل کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے پنجاب بار کونسل سے مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے وائس چیئرمین کو ہدایت کی تھی کہ وکیل کو ذاتی سماعت کا موقع دیا جائے اور معاملہ دوپہر دو بجے تک نمٹایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا لائسنس کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی شکایت پر معطل کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ انہوں نے بار کی ہڑتال کے باوجود کراچی کی عدالت میں رجب بٹ کی نمائندگی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد اشفاق نے بتایا کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق کا لائسنس بحال کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد مختصر نوٹس جاری کیا گیا اور مناسب سماعت کا موقع دیے بغیر ہی ایگزیکٹو کمیٹی نے ان کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے اختیار سے متعلق اعتراض کو غلط فہمی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائس چیئرمین نے معاملہ مزید کارروائی کے لیے بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا اور دفتر کو ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب بار کونسل کے حکم نامے کے مطابق ایڈووکیٹ علی اشفاق نے اعتراض کی صورت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 31 دسمبر کا حکم آئین کے آرٹیکل 10 اے اور فطری انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ انہیں سنے بغیر یکطرفہ طور پر لائسنس معطل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ تو وکلا برادری کے خلاف کوئی بدعنوانی کی اور نہ ہی وکالت کے پیشے کے وقار کو مجروح کیا۔ ان کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر شکایت جانبدارانہ، بدنیتی پر مبنی اور چند عہدیداران کی ذاتی مخالفت کا نتیجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی بار ایسوسی ایشن نے یہ ہڑتال اپنے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب بار کونسل کے 31 دسمبر کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ دورانِ وکالت ایڈووکیٹ علی اشفاق نے وکلا برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پیشہ ورانہ بددیانتی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بنیاد پر ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر ان کا وکالت کا لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور مستقل منسوخی کے لیے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے ٹرائل میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی مقامی سیشن عدالت نے  سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپلی کیشنز کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم مبارک عرف نانی والا کی پیشگی ضمانت میں توسیع کر دی۔</p>
<p>دونوں ملزمان آج (منگل کو) اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت پہنچے تو پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔</p>
<p>ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج منصور احمد نے کیس کی سماعت کی، جس دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی میں مصروف ہیں۔</p>
<p>این سی سی آئی اے کے وکیل نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے رجب بٹ اور ندیم مبارک کی پیشگی ضمانت 26 جنوری تک بڑھا دی اور این سی سی آئی اے کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>اس سے قبل عدالت نے حاضری مکمل ہونے کے بعد دونوں ٹک ٹاکرز کو کمرۂ عدالت سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274768/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ دونوں کونٹینٹ کریئیٹرز پہلی بار قانونی مشکلات کا سامنا نہیں کر رہے۔</p>
<p>ستمبر 2025 میں این سی سی آئی اے نے رجب بٹ کے خلاف یوٹیوب اور ٹک ٹاک ویڈیوز اور محدود وقت کے لیے انسٹاگرام اسٹوریز میں آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔</p>
<p>اسی طرح ندیم مبارک کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم انہیں ستمبر میں ایک اور کیس میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ان پر اپنی گاڑی پر جعلی رجسٹریشن نمبر آئی کے 804 لگانے کا الزام تھا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران وہ جعلی نمبر پلیٹ کے بارے میں تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جو کہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے منسوب ہے۔</p>
<h2><a id="رجب-بٹ-کے-وکیل-کا-لائسنس-بحال" href="#رجب-بٹ-کے-وکیل-کا-لائسنس-بحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>رجب بٹ کے وکیل کا لائسنس بحال</strong></h2>
<p>دوسری جانب اسی روز پنجاب بار کونسل نے رجب بٹ کے وکیل ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایک روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست کی سماعت کے بعد سامنے آیا، جس میں ایڈووکیٹ علی اشفاق نے اپنا لائسنس معطل کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے پنجاب بار کونسل سے مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے وائس چیئرمین کو ہدایت کی تھی کہ وکیل کو ذاتی سماعت کا موقع دیا جائے اور معاملہ دوپہر دو بجے تک نمٹایا جائے۔</p>
<p>پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا لائسنس کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی شکایت پر معطل کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ انہوں نے بار کی ہڑتال کے باوجود کراچی کی عدالت میں رجب بٹ کی نمائندگی کی۔</p>
<p>منگل کو پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد اشفاق نے بتایا کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق کا لائسنس بحال کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد مختصر نوٹس جاری کیا گیا اور مناسب سماعت کا موقع دیے بغیر ہی ایگزیکٹو کمیٹی نے ان کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے اختیار سے متعلق اعتراض کو غلط فہمی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔</p>
<p>وائس چیئرمین نے معاملہ مزید کارروائی کے لیے بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا اور دفتر کو ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔</p>
<p>پنجاب بار کونسل کے حکم نامے کے مطابق ایڈووکیٹ علی اشفاق نے اعتراض کی صورت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 31 دسمبر کا حکم آئین کے آرٹیکل 10 اے اور فطری انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ انہیں سنے بغیر یکطرفہ طور پر لائسنس معطل کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ تو وکلا برادری کے خلاف کوئی بدعنوانی کی اور نہ ہی وکالت کے پیشے کے وقار کو مجروح کیا۔ ان کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر شکایت جانبدارانہ، بدنیتی پر مبنی اور چند عہدیداران کی ذاتی مخالفت کا نتیجہ تھی۔</p>
<p>کراچی بار ایسوسی ایشن نے یہ ہڑتال اپنے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی تھی۔</p>
<p>پنجاب بار کونسل کے 31 دسمبر کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ دورانِ وکالت ایڈووکیٹ علی اشفاق نے وکلا برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پیشہ ورانہ بددیانتی قرار دیا گیا۔</p>
<p>اس بنیاد پر ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر ان کا وکالت کا لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور مستقل منسوخی کے لیے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے ٹرائل میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275028</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 17:50:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06140317480cc04.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06140317480cc04.webp"/>
        <media:title>این سی سی آئی اے کے وکیل نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے رجب بٹ اور ندیم مبارک کی پیشگی ضمانت 26 جنوری تک بڑھا دی اور این سی سی آئی اے کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تنقید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275027/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے دو سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم بھی اسی طرح عجلت میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں منظور کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل بدل دی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان شامل کیے گئے اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا، جس سے ججوں کی تقرری کے عمل کے سیاسی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات اور صدر کی جانب سے بھیجے گئے اہم آئینی سوالات پر رائے دینے کا اختیار نئے قائم کردہ آئینی بینچز کو منتقل کیا گیا، اور ان بینچز کو آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام کے ایک سال بعد ہی 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ ختم کر کے ایک الگ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" href="#عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عدلیہ پر حملے پر تشویش&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم ایسے ماحول میں لائی گئیں جب عدلیہ پر حملوں اور دباؤ کے حوالے سے سنگین خدشات موجود تھے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں متعدد ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کی شکایات کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا حوالہ بھی دیا جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھا گیا تھا، جس میں خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات، خفیہ ادارے کی جانب سے دباؤ، ججوں کے اہل خانہ کے اغوا اور گھروں میں نگرانی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے بتایا کہ بعد ازاں اس معاملے پر سپریم کورٹ نے متعلقہ ہائیکورٹس سے جواب طلب کیا، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ عدالتی معاملات میں انتظامیہ کی مداخلت ایک کھلا راز ہے اور ججوں کو سیاسی مقدمات کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ آن لائن اور جسمانی سطح پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے اپریل 2024 کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے متعدد ججوں کو مشتبہ پاؤڈر والے خطوط موصول ہوئے۔ اسی ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف آن لائن کردار کشی کی مہم بھی چلائی گئی، جو اس کھلے خط کے دستخط کنندگان میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مارچ 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک گمنام شکایت دائر کی گئی جس میں ان پر جانبداری اور اقربا پروری کے الزامات لگائے گئے تاہم اس شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یاد دلایا کہ خط پر دستخط کرنے والے ایک اور جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دسمبر 2025 میں ان کی قانون کی ڈگری کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جسٹس جہانگیری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی آئینی طریقہ کار کے بغیر کی گئی اور کیس سننے والے بینچ میں مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="عجلت-میں-منظوری" href="#عجلت-میں-منظوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عجلت میں منظوری&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی 27ویں ترمیم کو عجلت میں منظور شدہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی منظوری کے عمل میں قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے وسیع مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ترمیم کی تیزی سے منظوری اور بامعنی مشاورت کے فقدان پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق ترمیم کا مسودہ 8 نومبر کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہی منظر عام پر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر سول سوسائٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کو رائے دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ترمیم ایسے وقت میں منظور کی گئی جب پارلیمنٹ کی تشکیل خود متنازع تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق اپوزیشن کے متعدد رہنما عمران خان کی 9 مئی 2023 کو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے سزاؤں کے باعث نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا تو پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا اتحاد 114 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم کے بعد قائم آئینی بینچ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور جون 2025 میں بینچ نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔ بعد ازاں یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن میں تقسیم کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" href="#وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سنگین نتائج&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا کہ اس نئے عدالتی ڈھانچے کے قیام سے انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق مقدمات اب اسی نئی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی توثیق اور نظرثانی کا اختیار جو اس سے قبل سپریم کورٹ کے پاس تھا، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی آرٹیکل تنظیم سازی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ حکومت ماضی میں کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی بھی پی ٹی آئی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کی واضح حد بندی نہ ہونے سے یہ ابہام پیدا ہو گیا ہے کہ کون سا مقدمہ کس فورم پر سنا جائے گا، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے اور اس کا براہ راست نقصان سائلین کو پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ نئی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کی پابند نہیں ہو گی، اس لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے مزید انتشار پیدا ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ عدالت کے پہلے ججوں کا تقرر براہ راست انتظامیہ نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر کی، جس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا طریقہ کار مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تقرریاں انتظامیہ کی براہ راست سیاسی مداخلت کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل کے باعث مستقبل کی تقرریوں پر بھی خدشات برقرار ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد عدالتی ارکان سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں وہ آئندہ تمام تقرریوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے عدلیہ و وکلا کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب قوانین کے تحت سیاسی اداروں کو حساس سیاسی مقدمات سننے والے ججوں کے انتخاب میں شامل کیا جائے تو عدالت پر قبضے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کے مطابق صدرمملکت کو نئی عدالت میں ججوں کی تعداد مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے، جس سے حکمران حکومت ناپسندیدہ سمجھے جانے والے ججوں کی موجودگی میں عدالت کی ساخت تبدیل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے کہا کہ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور پہلے چار ججوں نے 14 نومبر 2025 کو حلف اٹھایا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت بعد تھا اور ان تقرریوں کے لیے کوئی معیار یا جواز پیش نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ تنظیم کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کو ججوں کے تبادلے کا مطلق اختیار دے دیا گیا ہے جس کے لیے محض جوڈیشل کمیشن کی سفارش درکار ہے اور اس انتظامیہ پر مبنی اختیار کے باعث ججوں کے تبادلے کو سزا کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے ججوں کے خلاف جو حکومتی مؤقف کے خلاف فیصلے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے مزید کہا کہ ترمیم کے تحت تبادلہ قبول نہ کرنے والے جج کو معطل کر کے اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے، جسے اب آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ایسے جج کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق یہ اقدام عدلیہ کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت جج کو صرف نااہلی یا ایسے طرزِ عمل کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے جو اسے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" href="#تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تاحیات استثنیٰ پر شدید اعتراض&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ یہ استثنیٰ انٹرنیشنل کونوینٹ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 26 کے تحت قانون کے تحت مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جبکہ آرٹیکل 2(3) کے تحت قانونی چارہ جوئی کے حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں محدود استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے تاہم جنگی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق استثنیٰ صرف ’سرکاری کارروائیوں‘  تک محدود ہوتا ہے جبکہ سنگین بین الاقوامی جرائم کو سرکاری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 27ویں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز فوجی افسران کو قومی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار وہی رکھا گیا ہے جو صدرِ مملکت کے مواخذے کے لیے آئین کے آرٹیکل 47 میں درج ہے، جس کے لیے جسمانی یا ذہنی نااہلی، آئین کی خلاف ورزی یا سنگین بدعنوانی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔</p>
<p>منگل کو جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔</p>
<p>تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔</p>
<p>عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔</p>
<p>تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے دو سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دیا۔</p>
<p>عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔</p>
<p>ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم بھی اسی طرح عجلت میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں منظور کی گئی تھی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل بدل دی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان شامل کیے گئے اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا، جس سے ججوں کی تقرری کے عمل کے سیاسی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات اور صدر کی جانب سے بھیجے گئے اہم آئینی سوالات پر رائے دینے کا اختیار نئے قائم کردہ آئینی بینچز کو منتقل کیا گیا، اور ان بینچز کو آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام کے ایک سال بعد ہی 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ ختم کر کے ایک الگ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی۔</p>
<h2><a id="عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" href="#عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عدلیہ پر حملے پر تشویش</h2>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم ایسے ماحول میں لائی گئیں جب عدلیہ پر حملوں اور دباؤ کے حوالے سے سنگین خدشات موجود تھے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں متعدد ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کی شکایات کیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا حوالہ بھی دیا جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھا گیا تھا، جس میں خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات، خفیہ ادارے کی جانب سے دباؤ، ججوں کے اہل خانہ کے اغوا اور گھروں میں نگرانی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔</p>
<p>تنظیم نے بتایا کہ بعد ازاں اس معاملے پر سپریم کورٹ نے متعلقہ ہائیکورٹس سے جواب طلب کیا، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ عدالتی معاملات میں انتظامیہ کی مداخلت ایک کھلا راز ہے اور ججوں کو سیاسی مقدمات کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ آن لائن اور جسمانی سطح پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے اپریل 2024 کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے متعدد ججوں کو مشتبہ پاؤڈر والے خطوط موصول ہوئے۔ اسی ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف آن لائن کردار کشی کی مہم بھی چلائی گئی، جو اس کھلے خط کے دستخط کنندگان میں شامل تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مارچ 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک گمنام شکایت دائر کی گئی جس میں ان پر جانبداری اور اقربا پروری کے الزامات لگائے گئے تاہم اس شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ نہیں دیا۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یاد دلایا کہ خط پر دستخط کرنے والے ایک اور جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دسمبر 2025 میں ان کی قانون کی ڈگری کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جسٹس جہانگیری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی آئینی طریقہ کار کے بغیر کی گئی اور کیس سننے والے بینچ میں مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔</p>
<h2><a id="عجلت-میں-منظوری" href="#عجلت-میں-منظوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عجلت میں منظوری</h2>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی 27ویں ترمیم کو عجلت میں منظور شدہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی منظوری کے عمل میں قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے وسیع مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>تنظیم نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ترمیم کی تیزی سے منظوری اور بامعنی مشاورت کے فقدان پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق ترمیم کا مسودہ 8 نومبر کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہی منظر عام پر آیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر سول سوسائٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کو رائے دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔</p>
<p>بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ترمیم ایسے وقت میں منظور کی گئی جب پارلیمنٹ کی تشکیل خود متنازع تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق اپوزیشن کے متعدد رہنما عمران خان کی 9 مئی 2023 کو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے سزاؤں کے باعث نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا تو پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا اتحاد 114 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن جاتا۔</p>
<p>تاہم ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم کے بعد قائم آئینی بینچ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور جون 2025 میں بینچ نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔ بعد ازاں یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن میں تقسیم کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔</p>
<h2><a id="وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" href="#وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سنگین نتائج</h2>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا کہ اس نئے عدالتی ڈھانچے کے قیام سے انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق مقدمات اب اسی نئی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی توثیق اور نظرثانی کا اختیار جو اس سے قبل سپریم کورٹ کے پاس تھا، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی آرٹیکل تنظیم سازی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ حکومت ماضی میں کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی بھی پی ٹی آئی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کی واضح حد بندی نہ ہونے سے یہ ابہام پیدا ہو گیا ہے کہ کون سا مقدمہ کس فورم پر سنا جائے گا، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے اور اس کا براہ راست نقصان سائلین کو پہنچے گا۔</p>
<p>تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ نئی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کی پابند نہیں ہو گی، اس لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے مزید انتشار پیدا ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ عدالت کے پہلے ججوں کا تقرر براہ راست انتظامیہ نے کیا۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر کی، جس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا طریقہ کار مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تقرریاں انتظامیہ کی براہ راست سیاسی مداخلت کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل کے باعث مستقبل کی تقرریوں پر بھی خدشات برقرار ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد عدالتی ارکان سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں وہ آئندہ تمام تقرریوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>تنظیم نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے عدلیہ و وکلا کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب قوانین کے تحت سیاسی اداروں کو حساس سیاسی مقدمات سننے والے ججوں کے انتخاب میں شامل کیا جائے تو عدالت پر قبضے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی کے مطابق صدرمملکت کو نئی عدالت میں ججوں کی تعداد مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے، جس سے حکمران حکومت ناپسندیدہ سمجھے جانے والے ججوں کی موجودگی میں عدالت کی ساخت تبدیل کر سکتی ہے۔</p>
<p>تنظیم نے کہا کہ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور پہلے چار ججوں نے 14 نومبر 2025 کو حلف اٹھایا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت بعد تھا اور ان تقرریوں کے لیے کوئی معیار یا جواز پیش نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ تنظیم کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کو ججوں کے تبادلے کا مطلق اختیار دے دیا گیا ہے جس کے لیے محض جوڈیشل کمیشن کی سفارش درکار ہے اور اس انتظامیہ پر مبنی اختیار کے باعث ججوں کے تبادلے کو سزا کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے ججوں کے خلاف جو حکومتی مؤقف کے خلاف فیصلے دیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے مزید کہا کہ ترمیم کے تحت تبادلہ قبول نہ کرنے والے جج کو معطل کر کے اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے، جسے اب آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ایسے جج کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق یہ اقدام عدلیہ کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت جج کو صرف نااہلی یا ایسے طرزِ عمل کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے جو اسے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رکھے۔</p>
<h2><a id="تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" href="#تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تاحیات استثنیٰ پر شدید اعتراض</strong></h2>
<p>ایمنسٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ استثنیٰ انٹرنیشنل کونوینٹ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 26 کے تحت قانون کے تحت مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جبکہ آرٹیکل 2(3) کے تحت قانونی چارہ جوئی کے حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں محدود استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے تاہم جنگی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق استثنیٰ صرف ’سرکاری کارروائیوں‘  تک محدود ہوتا ہے جبکہ سنگین بین الاقوامی جرائم کو سرکاری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 27ویں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز فوجی افسران کو قومی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار وہی رکھا گیا ہے جو صدرِ مملکت کے مواخذے کے لیے آئین کے آرٹیکل 47 میں درج ہے، جس کے لیے جسمانی یا ذہنی نااہلی، آئین کی خلاف ورزی یا سنگین بدعنوانی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275027</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 14:01:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06131459868450b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06131459868450b.webp"/>
        <media:title>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
