<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 02:54:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 02:54:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2025: پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ، حملے 34 فیصد بڑھ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274979/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔</p>
<p>اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔</p>
<p>دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے</p>
<p>چیلنج تھے۔</p>
<p>بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔</p>
<p>سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔</p>
<p>پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔</p>
<p>گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274979</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 12:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021258263295ebd.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021258263295ebd.webp"/>
        <media:title>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: سبی میں گرینیڈ حملہ، ایک شخص جاں بحق، پانچ زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274976/</link>
      <description>&lt;p&gt;سبی: بلوچستان کے ضلع سبی میں چینک چوک کے قریب جمعرات کی شام ہونے والے دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ شام 7 بج کر 5 منٹ پر گرینیڈ حملے کے نتیجے میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبی میں تعینات اسٹیشن ہاؤس آفیسر غلام علی ابڑو نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ایدھی ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق مجموعی طور پر چھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ایک زخمی راستے میں دم توڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبی ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس برکت کھوسہ نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے وڈھ علاقے میں ایک گھر کے اندر گرینیڈ پھٹنے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق اور دو خواتین سمیت خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو خاندان اس گھر میں موجود تھے جب نامعلوم افراد نے صحن میں دستی بم پھینکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں نومبر 2022 میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کیے جانے کے بعد بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔ 2021 سے مسلسل پانچ برسوں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی دہشت گردی سے جڑی ہلاکتوں میں ہر سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سبی: بلوچستان کے ضلع سبی میں چینک چوک کے قریب جمعرات کی شام ہونے والے دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ شام 7 بج کر 5 منٹ پر گرینیڈ حملے کے نتیجے میں پیش آیا۔</p>
<p>سبی میں تعینات اسٹیشن ہاؤس آفیسر غلام علی ابڑو نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ایدھی ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>ان کے مطابق مجموعی طور پر چھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ایک زخمی راستے میں دم توڑ گیا۔</p>
<p>سبی ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس برکت کھوسہ نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے وڈھ علاقے میں ایک گھر کے اندر گرینیڈ پھٹنے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق اور دو خواتین سمیت خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو خاندان اس گھر میں موجود تھے جب نامعلوم افراد نے صحن میں دستی بم پھینکا۔</p>
<p>پاکستان میں نومبر 2022 میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کیے جانے کے بعد بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔ 2021 سے مسلسل پانچ برسوں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی دہشت گردی سے جڑی ہلاکتوں میں ہر سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274976</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 22:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/01220101b066092.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/01220101b066092.webp"/>
        <media:title>پولیس کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو خاندان اس گھر میں موجود تھے جب نامعلوم افراد نے صحن میں دستی بم پھینکا۔ فوٹو: اسمعیل ساسولی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی ناکام، کم عمر بلوچ طالبہ کو خود کش بمبار بننے سے بچالیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274944/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا، بچی کودہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ldfjQFV8DX0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ldfjQFV8DX0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246137'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گردوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243661'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آزاد خان نے بتایا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ بچی کی شناخت چھپا کر بیان چلایا گیا، جس میں بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا،  جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچی کی والدہ نے اپنے  بیان میں  بتایا کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت اقدامات کریں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا، بچی کودہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔</p>
<p>ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ldfjQFV8DX0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ldfjQFV8DX0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246137'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گردوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243661'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آزاد خان نے بتایا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ بچی کی شناخت چھپا کر بیان چلایا گیا، جس میں بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا،  جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔</p>
<p>متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں۔</p>
<p>بچی کی والدہ نے اپنے  بیان میں  بتایا کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت اقدامات کریں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز کو بہتر بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274944</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 14:37:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29144839861c074.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29144839861c074.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2914300652c9a2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2914300652c9a2d.webp"/>
        <media:title>زیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے ساحلوں پر سمندری پانی سبز ہوگیا، ماہرین کیا کہتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274936/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً بلوچستان کے شہروں گوادر، پسنی، جیوانی اور اورماڑا کے قریب سمندری پانی کائی کے باعث سبز ہو گیا ہے، تاہم سمندری ماہرین کے مطابق اس سے کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالرحیم کے مطابق تیز ہواؤں اور سمندری لہروں نے بڑی مقدار میں کائی کو ساحل کے قریب دھکیل دیا ہے، جس کے ساتھ گل سڑ جانے والی سمندری گھاس بھی جمع ہو گئی ہے، جس کے باعث ساحلوں پر بدبو پھیل گئی۔ ان کے مطابق یہ افزائش ایک سمندری جاندار نوکٹیلُوکا کی وجہ سے ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ کائی کی افزائش پانی میں الجی کے تیز رفتار اضافے کو کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا رنگ سرخ، بھورا، سبز یا نیلا ہو سکتا ہے، جو الجی کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ڈی اے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بلوچستان کے ساحل پر ان افزائشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ایک یا دو سال میں ایک بار ایسا ہوتا تھا، جبکہ اب سال میں دو سے تین مرتبہ یہ صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ رجحان دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اور محققین اسے سمندروں کے تیزی سے گرم ہونے سے جوڑتے ہیں، جس سے ان جانداروں کو بڑھنے کے لیے موزوں حالات مل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان نے بتایا کہ نوکٹیلُوکا کی یہ افزائش ہمسایہ ملک ایران تک بھی پھیل چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق رواں سال یہ افزائش نومبر میں پاکستانی پانیوں میں شروع ہوئی اور کراچی کے ساحل تک پھیل گئی۔ اس وقت یہ پاکستان کے پورے ساحل پر مختلف حصوں میں موجود ہے، خاص طور پر پسنی اور جیوانی کے درمیان یہ زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساحل پر سبز رنگ کی افزائش کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف 2012 سے نوکٹیلُوکا کی نگرانی کر رہا ہے اور ہر سال موسم سرما میں، یعنی نومبر سے فروری کے درمیان، اس کی موجودگی رپورٹ ہوتی رہی ہے، تاہم بعض برسوں میں یہ وسیع علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق موسم سرما میں ہونے والی یہ افزائش شمالی بحیرہ عرب کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افزائش بحیرہ عرب کے بعض حصوں میں ٹھنڈے پانی کے اوپر آنے اور اس عرصے میں بھنوروں کی تشکیل کے زیر اثر پھیلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس افزائش کو غذائی آلودگی سے جوڑنا سائنسی طور پر درست ثابت نہیں۔ نوکٹیلُوکا اسکنٹی لینس ایک چھوٹا آزاد تیرنے والا جاندار ہے جو سرخ، نارنجی، سبز یا بے رنگ شکل میں بھی نظر آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد معظم خان کے مطابق موجودہ افزائش زہریلا خطرہ نہیں رکھتی اور ساحل کے ساتھ کسی قسم کی مچھلیوں کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2012 سے جاری مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر پائی جانے والی تقریباً تمام نوکٹیلُوکا افزائشیں غیر زہریلی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 2017 میں نوکٹیلُوکا کی افزائش اس قدر شدید تھی کہ اس نے پورے بحیرہ عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس میں ایران، پاکستان، بھارت، عمان اور خلیج فارس کے علاقے شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بعض رپورٹس میں موجودہ افزائش کو غلط طور پر آلودگی سے جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ایک قدرتی سمندری مظہر ہے اور اس کا تعلق آلودگی سے نہیں۔ پاکستان کے ساحل پر یہ افزائش عموماً سبز یا نارنجی رنگ کی ہوتی ہے اور موسمی حالات کے مطابق وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ جاندار بذاتِ خود سبز نہیں ہوتا، لیکن اس کے اندر موجود ہم زیست جاندار پروٹویوگلینا نوکٹیلُوکے کی وجہ سے رنگ سبز نظر آتا ہے۔ چونکہ نوکٹیلُوکا قدرتی طور پر روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے رات کے وقت سمندر میں چمکدار مناظر بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً بلوچستان کے شہروں گوادر، پسنی، جیوانی اور اورماڑا کے قریب سمندری پانی کائی کے باعث سبز ہو گیا ہے، تاہم سمندری ماہرین کے مطابق اس سے کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔</p>
<p>گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالرحیم کے مطابق تیز ہواؤں اور سمندری لہروں نے بڑی مقدار میں کائی کو ساحل کے قریب دھکیل دیا ہے، جس کے ساتھ گل سڑ جانے والی سمندری گھاس بھی جمع ہو گئی ہے، جس کے باعث ساحلوں پر بدبو پھیل گئی۔ ان کے مطابق یہ افزائش ایک سمندری جاندار نوکٹیلُوکا کی وجہ سے ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ کائی کی افزائش پانی میں الجی کے تیز رفتار اضافے کو کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا رنگ سرخ، بھورا، سبز یا نیلا ہو سکتا ہے، جو الجی کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔</p>
<p>جی ڈی اے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بلوچستان کے ساحل پر ان افزائشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ایک یا دو سال میں ایک بار ایسا ہوتا تھا، جبکہ اب سال میں دو سے تین مرتبہ یہ صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق یہ رجحان دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اور محققین اسے سمندروں کے تیزی سے گرم ہونے سے جوڑتے ہیں، جس سے ان جانداروں کو بڑھنے کے لیے موزوں حالات مل رہے ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان نے بتایا کہ نوکٹیلُوکا کی یہ افزائش ہمسایہ ملک ایران تک بھی پھیل چکی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق رواں سال یہ افزائش نومبر میں پاکستانی پانیوں میں شروع ہوئی اور کراچی کے ساحل تک پھیل گئی۔ اس وقت یہ پاکستان کے پورے ساحل پر مختلف حصوں میں موجود ہے، خاص طور پر پسنی اور جیوانی کے درمیان یہ زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساحل پر سبز رنگ کی افزائش کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف 2012 سے نوکٹیلُوکا کی نگرانی کر رہا ہے اور ہر سال موسم سرما میں، یعنی نومبر سے فروری کے درمیان، اس کی موجودگی رپورٹ ہوتی رہی ہے، تاہم بعض برسوں میں یہ وسیع علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق موسم سرما میں ہونے والی یہ افزائش شمالی بحیرہ عرب کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افزائش بحیرہ عرب کے بعض حصوں میں ٹھنڈے پانی کے اوپر آنے اور اس عرصے میں بھنوروں کی تشکیل کے زیر اثر پھیلتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس افزائش کو غذائی آلودگی سے جوڑنا سائنسی طور پر درست ثابت نہیں۔ نوکٹیلُوکا اسکنٹی لینس ایک چھوٹا آزاد تیرنے والا جاندار ہے جو سرخ، نارنجی، سبز یا بے رنگ شکل میں بھی نظر آ سکتا ہے۔</p>
<p>محمد معظم خان کے مطابق موجودہ افزائش زہریلا خطرہ نہیں رکھتی اور ساحل کے ساتھ کسی قسم کی مچھلیوں کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔</p>
<p>2012 سے جاری مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر پائی جانے والی تقریباً تمام نوکٹیلُوکا افزائشیں غیر زہریلی رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 2017 میں نوکٹیلُوکا کی افزائش اس قدر شدید تھی کہ اس نے پورے بحیرہ عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس میں ایران، پاکستان، بھارت، عمان اور خلیج فارس کے علاقے شامل تھے۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بعض رپورٹس میں موجودہ افزائش کو غلط طور پر آلودگی سے جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ایک قدرتی سمندری مظہر ہے اور اس کا تعلق آلودگی سے نہیں۔ پاکستان کے ساحل پر یہ افزائش عموماً سبز یا نارنجی رنگ کی ہوتی ہے اور موسمی حالات کے مطابق وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ جاندار بذاتِ خود سبز نہیں ہوتا، لیکن اس کے اندر موجود ہم زیست جاندار پروٹویوگلینا نوکٹیلُوکے کی وجہ سے رنگ سبز نظر آتا ہے۔ چونکہ نوکٹیلُوکا قدرتی طور پر روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے رات کے وقت سمندر میں چمکدار مناظر بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274936</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 12:18:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ الیاس)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/281216237b4f06a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/281216237b4f06a.webp"/>
        <media:title>ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بعض رپورٹس میں موجودہ افزائش کو غلط طور پر آلودگی سے جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ایک قدرتی سمندری مظہر ہے اور اس کا تعلق آلودگی سے نہیں۔ فوٹو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ سمیت 10 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274921/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے ضلع قلات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی الگ الگ کارروائیوں میں ایک ہائی ویلیو ہدف سمیت 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جمعرات کو الگ الگ بیانات میں بتایا کہ 24 دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو خوارج مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خوارج کا رنگ لیڈر دلاور بھی ہلاک ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ دلاور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گرد سرگرمیوں میں مطلوب تھا اور حکومت نے اس کے سر کی قیمت 40 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ 24 دسمبر کو قلات میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست نے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو فتنہ الہندستان کا نام دیا ہے تاکہ پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام میں بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد آٹھ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا، جو علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں مزید بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل رواں ماہ قلات میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں شائع ہونے والے گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رہا، جہاں دہشت گرد حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نے کہا تھا کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں شدت پسند حملوں میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی کے باعث تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے ضلع قلات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی الگ الگ کارروائیوں میں ایک ہائی ویلیو ہدف سمیت 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</p>
<p>فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جمعرات کو الگ الگ بیانات میں بتایا کہ 24 دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو خوارج مارے گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خوارج کا رنگ لیڈر دلاور بھی ہلاک ہو گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ دلاور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گرد سرگرمیوں میں مطلوب تھا اور حکومت نے اس کے سر کی قیمت 40 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔</p>
<p>ایک علیحدہ بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ 24 دسمبر کو قلات میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔</p>
<p>ریاست نے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو فتنہ الہندستان کا نام دیا ہے تاکہ پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام میں بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔</p>
<p>بیان کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد آٹھ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد مارے گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا، جو علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں مزید بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔</p>
<p>اس سے قبل رواں ماہ قلات میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد مارے گئے تھے۔</p>
<p>مارچ میں شائع ہونے والے گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رہا، جہاں دہشت گرد حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>اکتوبر میں اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نے کہا تھا کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں شدت پسند حملوں میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی کے باعث تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274921</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 21:27:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/25212453f1347f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/25212453f1347f9.webp"/>
        <media:title>دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا، جو علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ بلوچستان کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274784/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی الیکشن التوا کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہوگا، بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی معاونت کرے، تمام اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کی جائے جنہیں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری سونپی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ووٹرز، امیدواروں، عوام اور پولنگ عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں بلا تعطل پُرامن پولنگ کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکن الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ محمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات انعقاد کے لیے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔</strong></p>
<p>الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی الیکشن التوا کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہوگا، بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی معاونت کرے، تمام اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کی جائے جنہیں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری سونپی گئی۔</p>
<p>تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ووٹرز، امیدواروں، عوام اور پولنگ عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں بلا تعطل پُرامن پولنگ کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>رکن الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں۔</p>
<p>شاہ محمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات انعقاد کے لیے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274784</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 13:21:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/101604519e68024.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/101604519e68024.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر اعظم نے گوادر اور گلگت بلتستان کیلئے بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274726/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان کے لیے بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=F-yFKsIUgFU'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/F-yFKsIUgFU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.radio.gov.pk/08-12-2025/pm-approves-electricity-projects-for-gwadar-gb"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وہ آج اسلام آباد میں پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کے فوری نفاذ کی منظوری دی، انہوں نے کہا کہ گوادر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی بلا شبہ گھریلو اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کی ترقی کا باعث بنے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274631'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گوادر کا بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ بن جائے گی، اور بلا تعطل بجلی اور دیگر سہولیات کے ساتھ مستقبل کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے زور دیا کہ گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ کا سولر منصوبہ ماحول دوست صاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنائے، انہوں نے ہدایت کی کہ سولر منصوبے کے نفاذ کا فوری آغاز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و اقتصادی ترقی وفاقی حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی اور وزارت توانائی کی بجلی کے مسائل حل کرنے کے لیے پیش کردہ سفارشات کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزارت توانائی کو ہدایت کی کہ وہ جامع حکمت عملی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے، جس میں فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر میں گھریلو اور کاروباری صارفین کو بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کے لیے زمین، رابطہ، بنیادی ڈھانچہ اور دیگر ضروری سہولتیں مقررہ مدت کے اندر فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان کے لیے بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=F-yFKsIUgFU'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/F-yFKsIUgFU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریڈیو پاکستان کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.radio.gov.pk/08-12-2025/pm-approves-electricity-projects-for-gwadar-gb"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وہ آج اسلام آباد میں پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کے فوری نفاذ کی منظوری دی، انہوں نے کہا کہ گوادر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی بلا شبہ گھریلو اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کی ترقی کا باعث بنے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274631'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ گوادر کا بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ بن جائے گی، اور بلا تعطل بجلی اور دیگر سہولیات کے ساتھ مستقبل کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بنے گی۔</p>
<p>وزیر اعظم نے زور دیا کہ گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ کا سولر منصوبہ ماحول دوست صاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنائے، انہوں نے ہدایت کی کہ سولر منصوبے کے نفاذ کا فوری آغاز کیا جائے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و اقتصادی ترقی وفاقی حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی اور وزارت توانائی کی بجلی کے مسائل حل کرنے کے لیے پیش کردہ سفارشات کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے وزارت توانائی کو ہدایت کی کہ وہ جامع حکمت عملی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے، جس میں فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبے شامل ہیں۔</p>
<p>اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر میں گھریلو اور کاروباری صارفین کو بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کے لیے زمین، رابطہ، بنیادی ڈھانچہ اور دیگر ضروری سہولتیں مقررہ مدت کے اندر فراہم کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274726</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 14:23:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/081339431c9b55b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/081339431c9b55b.webp"/>
        <media:title>شہباز شریف نے گلگت میں 100 میگاواٹ کا سولر منصوبہ شروع کرنے کی ہدایت دی۔ —فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: قلات میں فورسز کا آپریشن 12 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور بارود برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274702/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے علاقے قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک کر دیے، دہشتگردوں  کے قبضے سے اسلحہ اور گولا بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)  کے مطابق آپریشن بھارتی پراکسی فِتنۃ الہندوستان کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، دہشتگردوں سے اسلحہ، ایمونیشن اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271956'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہلاک دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے، علاقے میں کلیئرنس و سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وزیراعظم-کا-فورسز-کو-خراج-تحسین" href="#وزیراعظم-کا-فورسز-کو-خراج-تحسین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وزیراعظم کا فورسز کو خراج تحسین&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  قلات میں کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی قیادت نے باور کرایاکہ عزم استحکام کے وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔۔پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور ہم سب ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے علاقے قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک کر دیے، دہشتگردوں  کے قبضے سے اسلحہ اور گولا بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔</p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)  کے مطابق آپریشن بھارتی پراکسی فِتنۃ الہندوستان کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، دہشتگردوں سے اسلحہ، ایمونیشن اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271956'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہلاک دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے، علاقے میں کلیئرنس و سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔</p>
<h1><a id="وزیراعظم-کا-فورسز-کو-خراج-تحسین" href="#وزیراعظم-کا-فورسز-کو-خراج-تحسین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وزیراعظم کا فورسز کو خراج تحسین</h1>
<p>وزیراعظم شہبازشریف اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  قلات میں کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p>قومی قیادت نے باور کرایاکہ عزم استحکام کے وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔۔پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور ہم سب ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274702</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 13:54:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/07135353d13fd73.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/07135353d13fd73.webp"/>
        <media:title>وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیرہ بگٹی: سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنۃ الہندستان کے 5 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274693/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الہندستان کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد بھارت کے منظورِ نظر نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے، دوران آپریشن مارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ دہشت گرد مقامی سطح پر متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے، کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الہندستان کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد بھارت کے منظورِ نظر نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے، دوران آپریشن مارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ دہشت گرد مقامی سطح پر متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے، کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274693</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Dec 2025 19:55:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/06191445d13fd73.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/06191445d13fd73.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: کوئٹہ-کراچی نیشنل ہائی وے پر گولیوں سے چھلنی 4 لاشیں ملیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274662/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعرات کو ضلع قلات کے علاقے بدا رنگ اور ضلع خضدار کے علاقے زہری میں کوئٹہ—کراچی نیشنل ہائی وے پر گولیوں سے چھلنی 4 لاشیں ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959221/four-bullet-riddled-bodies-found-in-kalat-khuzdar"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مقامی رہائشیوں نے دو مختلف مقامات پر پھینکی گئی لاشوں کے بارے میں انتظامیہ کو اطلاع دی، پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو ضلعی اسپتال منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274420/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274420"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;3 لاشیں سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں، ان تینوں افراد کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کیا، پولیس کے مطابق تینوں افراد لہڑی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور آپس میں کزن تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور گولیوں سے چھلنی لاش زہری تحصیل کے سموآنی علاقے سے برآمد ہوئی، پولیس نے لاش تحویل میں لے کر اسے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعرات کو ضلع قلات کے علاقے بدا رنگ اور ضلع خضدار کے علاقے زہری میں کوئٹہ—کراچی نیشنل ہائی وے پر گولیوں سے چھلنی 4 لاشیں ملی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1959221/four-bullet-riddled-bodies-found-in-kalat-khuzdar"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مقامی رہائشیوں نے دو مختلف مقامات پر پھینکی گئی لاشوں کے بارے میں انتظامیہ کو اطلاع دی، پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو ضلعی اسپتال منتقل کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274420/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274420"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>3 لاشیں سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں، ان تینوں افراد کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کیا، پولیس کے مطابق تینوں افراد لہڑی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور آپس میں کزن تھے۔</p>
<p>ایک اور گولیوں سے چھلنی لاش زہری تحصیل کے سموآنی علاقے سے برآمد ہوئی، پولیس نے لاش تحویل میں لے کر اسے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274662</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 12:36:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالواحد شاہوانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/051159510211bb8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/051159510211bb8.webp"/>
        <media:title>پولیس کے مطابق 3 افراد لہڑی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور آپس میں کزن تھے۔
—فوٹو: بنارس خان/ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: نوکنڈی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں خاتون بمبار ملوث نکلی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274546/</link>
      <description>&lt;p&gt;چاغی ضلع کے قصبے نوکنڈی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر (جس پر اتوار کی شب حملہ ہوا تھا) کو ایک خاتون خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958659/woman-bomber-involved-in-nokundi-fc-hq-attack"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حکام نے بتایا کہ خاتون نے رات 8 بج کر 40 منٹ پر ’خودکش حملہ کیا‘ اور ہدف پیراملٹری فورس کا ہیڈکوارٹر تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملہ آور کی تصویر جاری کی اور اس کی شناخت زینت رفیق کے طور پر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ 3 حملہ آور قلعے میں داخل ہوتے ہی مارے گئے، جب کہ دیگر کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں کمپاؤنڈ کو کلیئر کر دیا گیا تھا،  تاہم مقامی افراد کے مطابق پیر کی شام تک وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چاغی ضلع کے قصبے نوکنڈی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر (جس پر اتوار کی شب حملہ ہوا تھا) کو ایک خاتون خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1958659/woman-bomber-involved-in-nokundi-fc-hq-attack"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حکام نے بتایا کہ خاتون نے رات 8 بج کر 40 منٹ پر ’خودکش حملہ کیا‘ اور ہدف پیراملٹری فورس کا ہیڈکوارٹر تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملہ آور کی تصویر جاری کی اور اس کی شناخت زینت رفیق کے طور پر کی۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ 3 حملہ آور قلعے میں داخل ہوتے ہی مارے گئے، جب کہ دیگر کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں کمپاؤنڈ کو کلیئر کر دیا گیا تھا،  تاہم مقامی افراد کے مطابق پیر کی شام تک وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274546</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 11:45:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/02113940cc2e840.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/02113940cc2e840.webp"/>
        <media:title>3 حملہ آور قلعے میں داخل ہوتے ہی مارے گئے، دیگر کمپاؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’شہرِ کوئٹہ کی خاموشی کو حکمران طبقہ استحکام سمجھ بیٹھا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274506/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ کی اداسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ خوف سے زیادہ، ایک ایسی بھاری خاموشی ہے جو شہر اور اس کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے جبکہ ایک پُراسرار سکوت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی گرفت سخت کیے جارہا ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد، سڑکوں کی بندش، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی معطلی، سیکیورٹی انتباہات کے باعث اسکولز کی بندش، ‘حساس’ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سرکاری عمارتوں پر تاروں کا جال، مضبوط حفاظتی انتظامات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی، یہ سب عناصر مل کر کوئٹہ کو بے چین اور کشیدگی سے بھرپور شہر بنا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوتا رہا یعنی سیکیورٹی کی صورت حال جیسی بھی رہی، کوئٹہ شہر کا اپنا رنگ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے تھے، نجی اور عوامی سطح پر غصے کا اظہار کرتے تھے، تقدیر سے بحث کرتے تھے لیکن پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال میں کوئٹہ نے تواتر سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اب لوگ احتجاج نہیں کرتے، وہ اپنے گرد بڑھتی پابندیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ وہ اب بس خاموش رہتے ہیں۔ وہ چپ سادھے زندگی گزارتے ہیں اور یہی خاموشی شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر احمد فراز زندہ ہوتے تو شاید وہ اس لمحے کے لیے ایک شہرِ آشوب لکھتے۔ مگر حکومت اس خاموشی میں سکون تلاش کرتی ہے اور وہ اسے غلطی سے استحکام سمجھ بیٹھی ہے۔ آخرکار اعداد و شمار بھی ان کے اسی خیال کے حق میں نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ میں رواں ماہ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے صرف 10 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جوکہ کم شدت کے تھے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم گزشتہ تین ماہ میں صوبے بھر میں قوم پرست شدت پسندوں سے منسوب 52 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 49 جانیں لقمہ اجل بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر کا تاریک رخ یہ ہے کہ ان گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دائر کار کو وسیع کر لیا ہے جہاں وہ خاص طور پر سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے پولیس یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ تبدیل ہو رہا ہے یعنی وہ زیادہ وسعت اختیار کررہا ہے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغی گروہوں نے صوبے بھر میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اغوا کرنا شامل ہے جن پر وہ جاسوسی یا ان کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اغوا ان لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہوئے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مخبر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغی نفسیاتی حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں بند کر رہے ہیں اور مختصر طور پر بڑی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ بار بار دہشت گردانہ حملے کرنے سے زیادہ، سڑکوں کی ناکہ بندیوں سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی حد تک خطرات پر قابو پانے کے لیے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے باغیوں کو پسپا کیا، ان کے سپلائی نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے اور ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر عسکری اقدامات، ان کا بنیادی دائرۂ کار نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیڈران کے پاس طاقت کے استعمال کیے بغیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جو امر پریشان کُن ہے، وہ یہ ہے کہ تشدد کی روک تھام کے طریقوں کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے وہ طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگوں کا ان پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور اداروں کے لیے باغیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ خاموش رہ کر کسی کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح سے ریاست کو ہائبرڈ نظام کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ عوام کتنے ناخوش ہیں جبکہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست کو اچھی طرح سے کام کرنے والے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب لوگ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ حقیقت میں یہ معاشرے میں ایک گہرے، چھپے ہوئے درد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن نوجوانوں کے لاپتا ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ لوگوں کے خاموش رہنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ صوبے کے مشترکہ مصائب کو مزید بدتر بناتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما جیل میں قید ہونے کی وجہ سے احتجاجاً آواز اٹھانے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاموشی زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ لوگ جو خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ چھوٹی سی حرکت پر بھی چوکنا ہوجاتے ہیں۔ نومبر کئی غیر تشدد پسند قوم پرست گروہوں اور مسلح علیحدگی پسند نیٹ ورکس کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے، چاہے وہ صوبے کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک پھیلے ہوئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ نومبر سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ کوئٹہ میں ممکنہ تشدد کے خطرات کے پیش نظر، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے اندر بسوں اور ٹرینوں سمیت تمام مسافروں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ انہوں نے کئی اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا۔ بڑے شہروں میں کچھ خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر کے وسط میں لیے گئے ان اقدامات کا سلسلہ مہینے کے آخر تک جاری رہا۔ اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معمول بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ، دوسرے علاقوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے مخالفت میں اٹھنی والی آوازیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ان سے توقع تھی کہ وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام آدمی کیا کہتا ہے، یہ طاقت کے مراکز کے لیے اہم نہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ریاست اور باغیوں دونوں نے دیوار سے لگا دیا ہے جبکہ جو رہی سہی جگہ ہے اس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قبضے کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مذہبی جماعتیں اس بات پر اُلجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کس جانب جانا چاہیے کیونکہ صوبے میں ریاست کی سخت گیر پالیسی ان کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ باغی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست ریاست کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ بات چیت کا درمیانی راستہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراتفری کے باوجود عام لوگوں میں امید اب بھی موجود ہے۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے کے مسائل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو ان کے سامنے کھڑا ہے، وہ صوبے کی سیاسی اور معاشی صورت حال ہے۔ عدم استحکام پھیلانے کے خواہش مند عناصر، تنازعات والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جوکہ افغان اور ایرانی سرحدوں سے شیرانی ژوب اور نیچے ضلع حب تک پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن خراب کرنے والے کون ہیں۔ جو بات ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں کیوں تسلیم نہیں کرتے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ کیوں وہ ان پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید کسی کے پاس اس کا جواب ہو مگر اس خاموشی میں کوئی بھی بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ جنہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں، وہ بس دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو سمجھے اور اس درد کا مداوا پیش کرے جو ان کی روحوں میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958245/silence-which-speaks"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ کی اداسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ خوف سے زیادہ، ایک ایسی بھاری خاموشی ہے جو شہر اور اس کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے جبکہ ایک پُراسرار سکوت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی گرفت سخت کیے جارہا ہے۔ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>چیک پوسٹس کی بڑھتی تعداد، سڑکوں کی بندش، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی معطلی، سیکیورٹی انتباہات کے باعث اسکولز کی بندش، ‘حساس’ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سرکاری عمارتوں پر تاروں کا جال، مضبوط حفاظتی انتظامات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی، یہ سب عناصر مل کر کوئٹہ کو بے چین اور کشیدگی سے بھرپور شہر بنا چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کوئٹہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوتا رہا یعنی سیکیورٹی کی صورت حال جیسی بھی رہی، کوئٹہ شہر کا اپنا رنگ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے تھے، نجی اور عوامی سطح پر غصے کا اظہار کرتے تھے، تقدیر سے بحث کرتے تھے لیکن پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال میں کوئٹہ نے تواتر سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اب لوگ احتجاج نہیں کرتے، وہ اپنے گرد بڑھتی پابندیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ وہ اب بس خاموش رہتے ہیں۔ وہ چپ سادھے زندگی گزارتے ہیں اور یہی خاموشی شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔</p>
<p>اگر احمد فراز زندہ ہوتے تو شاید وہ اس لمحے کے لیے ایک شہرِ آشوب لکھتے۔ مگر حکومت اس خاموشی میں سکون تلاش کرتی ہے اور وہ اسے غلطی سے استحکام سمجھ بیٹھی ہے۔ آخرکار اعداد و شمار بھی ان کے اسی خیال کے حق میں نظر آتے ہیں۔</p>
<p>کوئٹہ میں رواں ماہ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے صرف 10 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جوکہ کم شدت کے تھے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم گزشتہ تین ماہ میں صوبے بھر میں قوم پرست شدت پسندوں سے منسوب 52 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 49 جانیں لقمہ اجل بنیں۔</p>
<p>تصویر کا تاریک رخ یہ ہے کہ ان گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دائر کار کو وسیع کر لیا ہے جہاں وہ خاص طور پر سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بلوچ ری پبلکن گارڈز کی جانب سے پولیس یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ تبدیل ہو رہا ہے یعنی وہ زیادہ وسعت اختیار کررہا ہے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>باغی گروہوں نے صوبے بھر میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اغوا کرنا شامل ہے جن پر وہ جاسوسی یا ان کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اغوا ان لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہوئے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مخبر ہیں۔</p>
<p>باغی نفسیاتی حربے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں بند کر رہے ہیں اور مختصر طور پر بڑی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ بار بار دہشت گردانہ حملے کرنے سے زیادہ، سڑکوں کی ناکہ بندیوں سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی حد تک خطرات پر قابو پانے کے لیے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے باغیوں کو پسپا کیا، ان کے سپلائی نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے اور ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>غیر عسکری اقدامات، ان کا بنیادی دائرۂ کار نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیڈران کے پاس طاقت کے استعمال کیے بغیر صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274503/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274503"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جو امر پریشان کُن ہے، وہ یہ ہے کہ تشدد کی روک تھام کے طریقوں کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے وہ طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگوں کا ان پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور اداروں کے لیے باغیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ خاموش رہ کر کسی کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>جس طرح سے ریاست کو ہائبرڈ نظام کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ عوام کتنے ناخوش ہیں جبکہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست کو اچھی طرح سے کام کرنے والے سیاسی، معاشی، قانونی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔</p>
<p>لہٰذا جب لوگ خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ حقیقت میں یہ معاشرے میں ایک گہرے، چھپے ہوئے درد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن نوجوانوں کے لاپتا ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ لوگوں کے خاموش رہنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ صوبے کے مشترکہ مصائب کو مزید بدتر بناتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما جیل میں قید ہونے کی وجہ سے احتجاجاً آواز اٹھانے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔</p>
<p>خاموشی زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ لوگ جو خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ چھوٹی سی حرکت پر بھی چوکنا ہوجاتے ہیں۔ نومبر کئی غیر تشدد پسند قوم پرست گروہوں اور مسلح علیحدگی پسند نیٹ ورکس کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے، چاہے وہ صوبے کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک پھیلے ہوئے ہوں۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ نومبر سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ کوئٹہ میں ممکنہ تشدد کے خطرات کے پیش نظر، حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے اندر بسوں اور ٹرینوں سمیت تمام مسافروں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ انہوں نے کئی اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی محدود کر دیا۔ بڑے شہروں میں کچھ خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>نومبر کے وسط میں لیے گئے ان اقدامات کا سلسلہ مہینے کے آخر تک جاری رہا۔ اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں معمول بن سکتی ہیں کیونکہ مقامی لوگ، دوسرے علاقوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے مخالفت میں اٹھنی والی آوازیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ان سے توقع تھی کہ وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p>عام آدمی کیا کہتا ہے، یہ طاقت کے مراکز کے لیے اہم نہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ریاست اور باغیوں دونوں نے دیوار سے لگا دیا ہے جبکہ جو رہی سہی جگہ ہے اس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قبضے کرلیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مذہبی جماعتیں اس بات پر اُلجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کس جانب جانا چاہیے کیونکہ صوبے میں ریاست کی سخت گیر پالیسی ان کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ باغی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست ریاست کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ بات چیت کا درمیانی راستہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p>افراتفری کے باوجود عام لوگوں میں امید اب بھی موجود ہے۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے کے مسائل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مسئلہ جو ان کے سامنے کھڑا ہے، وہ صوبے کی سیاسی اور معاشی صورت حال ہے۔ عدم استحکام پھیلانے کے خواہش مند عناصر، تنازعات والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جوکہ افغان اور ایرانی سرحدوں سے شیرانی ژوب اور نیچے ضلع حب تک پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن خراب کرنے والے کون ہیں۔ جو بات ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے انہیں کیوں تسلیم نہیں کرتے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ کیوں وہ ان پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>شاید کسی کے پاس اس کا جواب ہو مگر اس خاموشی میں کوئی بھی بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ جنہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں، وہ بس دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو سمجھے اور اس درد کا مداوا پیش کرے جو ان کی روحوں میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958245/silence-which-speaks"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274506</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 13:19:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عامر رانا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/011255197370f9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/011255197370f9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوکنڈی اور پنجگور میں ایف سی پر حملے ناکام بنادیے گئے، متعدد دہشتگرد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274503/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات نوشکی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہونے والے مسلح حملے کو ناکام بنا دیا اور 3 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958450/attacks-on-fc-in-nokundi-panjgur-thwarted"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایف سی جنوبی کے ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کے ایک گروہ نے نوکنڈی ٹاؤن میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، اور دھماکے کے فوراً بعد کم از کم 6 مسلح دہشت گرد کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایف سی کی کوئیک رسپانس فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف سی قلعے میں داخل ہونے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق قلعے کے اندر سے شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایف سی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، ترجمان نے بتایا کہ قلعے کے اندر کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور صورتحال کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پنجگور-میں-چیک-پوسٹ-پر-حملہ" href="#پنجگور-میں-چیک-پوسٹ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پنجگور میں چیک پوسٹ پر حملہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، دہشت گردوں نے شام کے وقت ضلع پنجگور کے علاقے گرمکان میں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو رات گئے تک جاری رہا۔ حکام نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات نوشکی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہونے والے مسلح حملے کو ناکام بنا دیا اور 3 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958450/attacks-on-fc-in-nokundi-panjgur-thwarted"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایف سی جنوبی کے ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کے ایک گروہ نے نوکنڈی ٹاؤن میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، اور دھماکے کے فوراً بعد کم از کم 6 مسلح دہشت گرد کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایف سی کی کوئیک رسپانس فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف سی قلعے میں داخل ہونے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق قلعے کے اندر سے شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایف سی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، ترجمان نے بتایا کہ قلعے کے اندر کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور صورتحال کنٹرول میں ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔</p>
<h1><a id="پنجگور-میں-چیک-پوسٹ-پر-حملہ" href="#پنجگور-میں-چیک-پوسٹ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پنجگور میں چیک پوسٹ پر حملہ</h1>
<p>دریں اثنا، دہشت گردوں نے شام کے وقت ضلع پنجگور کے علاقے گرمکان میں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو رات گئے تک جاری رہا۔ حکام نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کر لی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274503</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 11:37:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/011055114e8e318.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/011055114e8e318.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان دھماکوں سے گونج اٹھا، ریلوے لائن تباہ کردی گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274459/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ اور ڈیرہ مراد جمالی میں ہفتہ کو 7 دھماکوں نے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا، ایک دھماکے میں صوبائی دارالحکومت کے قریب ریلوے ٹریک کا حصہ تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں ملک کے دیگر حصوں کے لیے ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958283/rail-line-blown-up-as-wave-of-blasts-rocks-balochistan"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پہلا دھماکا قمبرانی روڈ پر پولیس چیک پوسٹ کے قریب اس وقت ہوا جب نامعلوم حملہ آوروں نے دستی بم پھینکا، دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق کچھ دیر بعد اسی سڑک پر دوسرا دھماکا اس وقت ہوا جب مسلح افراد نے ایک موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد کو اُس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو پہلے دھماکے کے مقام پر لے جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی آپریشنز کیپٹن (ر) آصف خان نے بتایا کہ شرپسندوں نے موٹر سائیکل پر آئی ای ڈی نصب کر رکھی تھی جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس وقت دھماکے سے اُڑایا گیا جب سی ٹی ڈی کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق سی ٹی ڈی کی گاڑی دھماکے سے محفوظ رہی اور دونوں دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی آصف خان نے بتایا کہ شام کے وقت بھی مزید دو دھماکے رپورٹ ہوئے، ایک دھماکا لوہر کریز کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، جس سے مین لائن کا حصہ تباہ ہوگیا جو کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ٹریک پر نصب آئی ای ڈی کو اس وقت دھماکے سے اُڑایا گیا جب ایک ٹرین کوئٹہ پہنچنے والی تھی، ایک اہلکار نے بتایا کہ ٹریک کا تقریباً ڈیڑھ فٹ حصہ دھماکے میں اڑ گیا، ریلوے ٹریفک معطل کر کے مرمت کا کام شروع کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور واقعے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے منظور شہید پولیس اسٹیشن پر دستی بم پھینکا، جو پھٹ نہ سکا، بعد میں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے ناکارہ بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی شام کیچی بیگ کے علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس کی  گشتی پارٹی پر بھی دستی بم پھینکا، تاہم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ڈیرہ مراد جمالی میں ڈی سی چوک پر مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی کو دستی بم سے نشانہ بنایا، تاہم خوش قسمتی سے یہ بم بھی نہیں پھٹا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے ناکارہ بنا دیا، پولیس کے مطابق حملے کے وقت گاڑی معمول کی گشت پر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گئے ایک اور واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ کے سریاب علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا، پولیس نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں نے کیمپ پر دستی بم پھینکا، جس سے مشینری کو نقصان پہنچا اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوا، جسے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا، مذکورہ کمپنی سریاب روڈ کی تعمیر پر کام کر رہی ہے، تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ اور ڈیرہ مراد جمالی میں ہفتہ کو 7 دھماکوں نے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا، ایک دھماکے میں صوبائی دارالحکومت کے قریب ریلوے ٹریک کا حصہ تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں ملک کے دیگر حصوں کے لیے ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958283/rail-line-blown-up-as-wave-of-blasts-rocks-balochistan"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پہلا دھماکا قمبرانی روڈ پر پولیس چیک پوسٹ کے قریب اس وقت ہوا جب نامعلوم حملہ آوروں نے دستی بم پھینکا، دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق کچھ دیر بعد اسی سڑک پر دوسرا دھماکا اس وقت ہوا جب مسلح افراد نے ایک موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد کو اُس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو پہلے دھماکے کے مقام پر لے جا رہی تھی۔</p>
<p>ایس ایس پی آپریشنز کیپٹن (ر) آصف خان نے بتایا کہ شرپسندوں نے موٹر سائیکل پر آئی ای ڈی نصب کر رکھی تھی جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس وقت دھماکے سے اُڑایا گیا جب سی ٹی ڈی کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔</p>
<p>ان کے مطابق سی ٹی ڈی کی گاڑی دھماکے سے محفوظ رہی اور دونوں دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>ایس ایس پی آصف خان نے بتایا کہ شام کے وقت بھی مزید دو دھماکے رپورٹ ہوئے، ایک دھماکا لوہر کریز کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، جس سے مین لائن کا حصہ تباہ ہوگیا جو کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ٹریک پر نصب آئی ای ڈی کو اس وقت دھماکے سے اُڑایا گیا جب ایک ٹرین کوئٹہ پہنچنے والی تھی، ایک اہلکار نے بتایا کہ ٹریک کا تقریباً ڈیڑھ فٹ حصہ دھماکے میں اڑ گیا، ریلوے ٹریفک معطل کر کے مرمت کا کام شروع کر دیا گیا۔</p>
<p>ایک اور واقعے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے منظور شہید پولیس اسٹیشن پر دستی بم پھینکا، جو پھٹ نہ سکا، بعد میں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے ناکارہ بنا دیا۔</p>
<p>اسی شام کیچی بیگ کے علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس کی  گشتی پارٹی پر بھی دستی بم پھینکا، تاہم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>ادھر ڈیرہ مراد جمالی میں ڈی سی چوک پر مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی کو دستی بم سے نشانہ بنایا، تاہم خوش قسمتی سے یہ بم بھی نہیں پھٹا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے ناکارہ بنا دیا، پولیس کے مطابق حملے کے وقت گاڑی معمول کی گشت پر تھی۔</p>
<p>رات گئے ایک اور واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ کے سریاب علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا، پولیس نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں نے کیمپ پر دستی بم پھینکا، جس سے مشینری کو نقصان پہنچا اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوا، جسے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا، مذکورہ کمپنی سریاب روڈ کی تعمیر پر کام کر رہی ہے، تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274459</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 10:44:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/30104334b8e1365.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/30104334b8e1365.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: ایک ہفتے کے دوران ایک ارب روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا ضبط</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274458/</link>
      <description>&lt;p&gt;کسٹمز انفورسمنٹ گڈانی کلکٹریٹ نے ساحلی پٹی اور آر سی ڈی ہائی وے پر اسمگلنگ کے خلاف اپنی سخت کارروائیوں کے دوران گزشتہ ہفتے کے اندر ایک ارب روپے مالیت کی متعدد بڑی کارروائیاں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958262/contraband-worth-rs1bn-seized"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ایک بڑی کامیابی کے دوران وندر کے کھُرکھیرہ چیک پوسٹ پر کسٹمز ٹیموں نے ایک کنٹینر سے 188 کلو گرام چرس برآمد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جب کہ مزید تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی چیک پوسٹ پر ایک اور کارروائی میں افسران نے ایک مسافر بس کو روکا، جو اسمگل شدہ سامان لے جا رہی تھی، اس سامان کی مالیت 7 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشل اسمگلنگ پریونشن اسکواڈ نے 4 ریفریجریٹڈ کنٹینرز (ریفَر) بھی قبضے میں لیے، جن میں 76 ٹن اسمگل شدہ انار منتقل کیے جا رہے تھے، ضبط شدہ مال کی نیلامی کی گئی جس سے قومی خزانے میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جمع ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورماڑہ میں کسٹمز ٹیموں نے 2  مسافر بسوں کو روکا، جو 14 ہزار لیٹر اسمگل شدہ ایرانی پی او ایل لے جا رہی تھیں، جب کہ بوانی حب کے ایک گودام پر چھاپے کے دوران 10 ہزار 650 لیٹر اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل برآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایف ای یو خضدار میں ایک ہینو ٹرک کو قبضے میں لیا گیا، جو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے اسمگل شدہ خشخاش کے بیج لے جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ کامیاب کارروائیاں ایف بی آر کے اسمگلنگ کے خاتمے کے عزم، سرحدی نگرانی کو مضبوط بنانے، قانونی تجارت کے تحفظ اور قومی معیشت کو محفوظ رکھنے کے پختہ ارادے کا ثبوت ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کسٹمز انفورسمنٹ گڈانی کلکٹریٹ نے ساحلی پٹی اور آر سی ڈی ہائی وے پر اسمگلنگ کے خلاف اپنی سخت کارروائیوں کے دوران گزشتہ ہفتے کے اندر ایک ارب روپے مالیت کی متعدد بڑی کارروائیاں کی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1958262/contraband-worth-rs1bn-seized"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ایک بڑی کامیابی کے دوران وندر کے کھُرکھیرہ چیک پوسٹ پر کسٹمز ٹیموں نے ایک کنٹینر سے 188 کلو گرام چرس برآمد کی۔</p>
<p>اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جب کہ مزید تفتیش جاری ہے۔</p>
<p>اسی چیک پوسٹ پر ایک اور کارروائی میں افسران نے ایک مسافر بس کو روکا، جو اسمگل شدہ سامان لے جا رہی تھی، اس سامان کی مالیت 7 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔</p>
<p>اسپیشل اسمگلنگ پریونشن اسکواڈ نے 4 ریفریجریٹڈ کنٹینرز (ریفَر) بھی قبضے میں لیے، جن میں 76 ٹن اسمگل شدہ انار منتقل کیے جا رہے تھے، ضبط شدہ مال کی نیلامی کی گئی جس سے قومی خزانے میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جمع ہوئے۔</p>
<p>اورماڑہ میں کسٹمز ٹیموں نے 2  مسافر بسوں کو روکا، جو 14 ہزار لیٹر اسمگل شدہ ایرانی پی او ایل لے جا رہی تھیں، جب کہ بوانی حب کے ایک گودام پر چھاپے کے دوران 10 ہزار 650 لیٹر اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل برآمد کیا گیا۔</p>
<p>مزید برآں، ایف ای یو خضدار میں ایک ہینو ٹرک کو قبضے میں لیا گیا، جو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے اسمگل شدہ خشخاش کے بیج لے جا رہا تھا۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ کامیاب کارروائیاں ایف بی آر کے اسمگلنگ کے خاتمے کے عزم، سرحدی نگرانی کو مضبوط بنانے، قانونی تجارت کے تحفظ اور قومی معیشت کو محفوظ رکھنے کے پختہ ارادے کا ثبوت ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274458</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 10:27:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/301022447dc1d74.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/301022447dc1d74.webp"/>
        <media:title>ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسمگلنگ کے خاتمے کے عزم، سرحدی نگرانی کو مضبوط بنانےکے عزم کا ثبوت ہیں۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.6 ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274454/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے شہر چمن شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ جھٹکوں کی شدت تقریبا 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزے کی گہرائی تقریبا 11 کلومیٹر بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن شہر سے جنوب مشرق میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ماہ بھی 5.0 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے 65 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا۔ &lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے شہر چمن شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ جھٹکوں کی شدت تقریبا 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزے کی گہرائی تقریبا 11 کلومیٹر بتائی گئی۔</p>
<p>زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن شہر سے جنوب مشرق میں تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ماہ بھی 5.0 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے 65 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا۔ <br><br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274454</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 00:15:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/292337198cd7679.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/292337198cd7679.webp"/>
        <media:title>— فائل اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: مچھ اور مستونگ میں 3 دھماکے، گوادر اور تربت سے 5 لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274420/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبہ بلوچستان کے مچھ ٹاؤن اور مستونگ میں جمعہ کے روز 3 دھماکے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958099/three-blasts-rock-balochistans-mach-and-mastung"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پولیس نے بتایا کہ مچھ ٹاؤن میں ایک زوردار دھماکا ہوا، جس میں ایک شخص زخمی ہوا، جب کہ مستونگ میں 2 الگ دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ آدا مچھ بازار میں دھماکا نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے نصب کردہ دھماکا خیز مواد کی وجہ سے ہوا، جس میں ایک شخص زخمی ہوا اور قریبی دکانوں اور گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مستونگ کے میجر چوک میں 2 دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے دونوں دھماکوں کی تصدیق کی اور کہا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، دھماکوں کے بعد مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گوادر-سے-3-لاشیں-ملیں" href="#گوادر-سے-3-لاشیں-ملیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گوادر سے 3 لاشیں ملیں&lt;/h1&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274273/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274273"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958098/three-bodies-with-gunshot-wounds-found-in-gwadar"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ضلع گوادر کی تحصیل تُمپ کے علاقے میں گولیوں سے چھلنی 3 لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک حال ہی میں شادی شدہ شخص کی لاش بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق، مقامی لوگوں کی اطلاع پر لاشیں 2 مختلف مقامات سے برآمد کی گئیں، جہاں انہیں گومازی اور ڈازان علاقوں میں پھینکا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاع ملنے پر پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاشیں مزید تفتیش کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں شادی شدہ شخص (جس کی شناخت عمران نادِل کے طور پر ہوئی) کو نامعلوم مسلح افراد نے گومازی علاقے میں اس کے گھر سے اغوا کر لیا تھا، بعد میں اس کی لاش ڈازان کراس کے قریب پھینکی گئی، عمران کی شادی صرف ایک ہفتہ پہلے ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی لوگوں نے بتایا کہ عمران کو تاوان  کے لیے اغوا کیا گیا اور رقم نہ دینے پر قتل کر دیا گیا، متعدد گولیوں کے زخم اس کی موت کا سبب بنے، شناخت کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مزید-لاشیں-برآمد" href="#مزید-لاشیں-برآمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مزید لاشیں برآمد&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ادھر تربت کے نواح میں بھی 2 مزید لاشیں برآمد ہوئیں اور ضلعی ہسپتال منتقل کر دی گئیں، ان کی شناخت ابو بکر اور طاہر احمد کے طور پر ہوئی، جو دشت کندان کے علاقوں بالنگر اور شولی کے رہائشی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی لوگوں کے مطابق یہ دونوں مرد کئی ہفتوں سے لاپتا تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکو-لیگل کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، پولیس ان مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان کے مچھ ٹاؤن اور مستونگ میں جمعہ کے روز 3 دھماکے ہوئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958099/three-blasts-rock-balochistans-mach-and-mastung"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پولیس نے بتایا کہ مچھ ٹاؤن میں ایک زوردار دھماکا ہوا، جس میں ایک شخص زخمی ہوا، جب کہ مستونگ میں 2 الگ دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ آدا مچھ بازار میں دھماکا نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے نصب کردہ دھماکا خیز مواد کی وجہ سے ہوا، جس میں ایک شخص زخمی ہوا اور قریبی دکانوں اور گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔</p>
<p>ادھر مستونگ کے میجر چوک میں 2 دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔</p>
<p>حکام نے دونوں دھماکوں کی تصدیق کی اور کہا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، دھماکوں کے بعد مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<h1><a id="گوادر-سے-3-لاشیں-ملیں" href="#گوادر-سے-3-لاشیں-ملیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گوادر سے 3 لاشیں ملیں</h1>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274273/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274273"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دریں اثنا ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958098/three-bodies-with-gunshot-wounds-found-in-gwadar"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق ضلع گوادر کی تحصیل تُمپ کے علاقے میں گولیوں سے چھلنی 3 لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک حال ہی میں شادی شدہ شخص کی لاش بھی شامل تھی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق، مقامی لوگوں کی اطلاع پر لاشیں 2 مختلف مقامات سے برآمد کی گئیں، جہاں انہیں گومازی اور ڈازان علاقوں میں پھینکا گیا تھا۔</p>
<p>اطلاع ملنے پر پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاشیں مزید تفتیش کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔</p>
<p>حال ہی میں شادی شدہ شخص (جس کی شناخت عمران نادِل کے طور پر ہوئی) کو نامعلوم مسلح افراد نے گومازی علاقے میں اس کے گھر سے اغوا کر لیا تھا، بعد میں اس کی لاش ڈازان کراس کے قریب پھینکی گئی، عمران کی شادی صرف ایک ہفتہ پہلے ہوئی تھی۔</p>
<p>مقامی لوگوں نے بتایا کہ عمران کو تاوان  کے لیے اغوا کیا گیا اور رقم نہ دینے پر قتل کر دیا گیا، متعدد گولیوں کے زخم اس کی موت کا سبب بنے، شناخت کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔</p>
<h1><a id="مزید-لاشیں-برآمد" href="#مزید-لاشیں-برآمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مزید لاشیں برآمد</strong></h1>
<p>ادھر تربت کے نواح میں بھی 2 مزید لاشیں برآمد ہوئیں اور ضلعی ہسپتال منتقل کر دی گئیں، ان کی شناخت ابو بکر اور طاہر احمد کے طور پر ہوئی، جو دشت کندان کے علاقوں بالنگر اور شولی کے رہائشی تھے۔</p>
<p>مقامی لوگوں کے مطابق یہ دونوں مرد کئی ہفتوں سے لاپتا تھے۔</p>
<p>میڈیکو-لیگل کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، پولیس ان مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274420</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 11:11:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی جان منگیبہرام بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29110158a20c2e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29110158a20c2e4.webp"/>
        <media:title>سرکاری حکام نے مستونگ کے میجر چوک میں 2 دھماکوں کی تصدیق کی۔ — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے ضلع بولان میں گھر میں بارودی سرنگ کا دھماکا، 3 بچے جاں بحق، 3 زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274329/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے ضلع بولان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 3 بچے جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق بدھ کو ضلع بولان کے علاقے سنی شوران میں ایک بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا، پولیس کے مطابق یہ ڈیوائس مقامی شخص عبدالحئی جتوی کے گھر کے اندر نصب کی گئی تھی، دھماکا اُس وقت ہوا جب بچے گھر میں کھیل رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر پولیس افسر جان محمد کھوسہ نے &lt;em&gt;ڈان&lt;/em&gt; کو بتایا کہ بچوں میں سے ایک نے بارودی سرنگ پر قدم رکھا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا، تین بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک کم عمر لڑکی سمیت 3 دیگر بچوں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو ضلع اسپتال منتقل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت ندیم احمد، سوما خان اور ایک کمسن لڑکی بختاور بی بی کے ناموں سے ہوئی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ بارودی سرنگ گھر کے اندر کیسے نصب کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے ضلع بولان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 3 بچے جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق بدھ کو ضلع بولان کے علاقے سنی شوران میں ایک بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا، پولیس کے مطابق یہ ڈیوائس مقامی شخص عبدالحئی جتوی کے گھر کے اندر نصب کی گئی تھی، دھماکا اُس وقت ہوا جب بچے گھر میں کھیل رہے تھے۔</p>
<p>سینئر پولیس افسر جان محمد کھوسہ نے <em>ڈان</em> کو بتایا کہ بچوں میں سے ایک نے بارودی سرنگ پر قدم رکھا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا، تین بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک کم عمر لڑکی سمیت 3 دیگر بچوں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p>واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو ضلع اسپتال منتقل کردیا۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت ندیم احمد، سوما خان اور ایک کمسن لڑکی بختاور بی بی کے ناموں سے ہوئی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ بارودی سرنگ گھر کے اندر کیسے نصب کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274329</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 09:19:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی جان منگی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/270918066e2f9d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/270918066e2f9d3.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیرہ مراد جمالی: جعفر ایکسپریس کو 24 گھنٹے میں دوسری بار نشانہ بنانے کی کوشش ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274273/</link>
      <description>&lt;p&gt;جعفر ایکسپریس کو 24 گھنٹے کے اندر دوسری بار نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، شرپسند عناصر نے منگل کو ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک کے ساتھ بم نصب کیا تھا، تاہم ٹرین کسی بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957372/another-attack-on-jaffar-express-foiled-in-dera-murad-jamali"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پولیس نے بتایا کہ علاقے کے لوگوں نے مقامی انتظامیہ کو ریلوے ٹریک کے قریب مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا، جو ڈیرہ مراد جمالی سے گزرتا ہے اور بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274223/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی اہلکار، جن میں پولیس افسران بھی شامل تھے، فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کی تلاشی شروع کی، جس کے دوران ایک دیسی ساختہ بم ریلوے ٹریک کے قریب نصب ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصیرآباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) غلام سرور بھیو نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے فوری طور پر آئی ای ڈی کو ناکارہ بنا دیا، جس کا وزن تقریباً 3.5 کلوگرام تھا،  اور مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ای ڈی کا مقصد پشاور سے آنے والی اور کوئٹہ جانے والی مسافر ٹرین کو نشانہ بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ایک روز قبل، مسلح افراد نے مچھ اور آبِ گم کے درمیانی علاقے میں ٹرین پر پہاڑوں سے فائرنگ کی تھی، تاہم، ٹرین پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جس پر حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جعفر ایکسپریس کو 24 گھنٹے کے اندر دوسری بار نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، شرپسند عناصر نے منگل کو ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک کے ساتھ بم نصب کیا تھا، تاہم ٹرین کسی بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1957372/another-attack-on-jaffar-express-foiled-in-dera-murad-jamali"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پولیس نے بتایا کہ علاقے کے لوگوں نے مقامی انتظامیہ کو ریلوے ٹریک کے قریب مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا، جو ڈیرہ مراد جمالی سے گزرتا ہے اور بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274223/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سکیورٹی اہلکار، جن میں پولیس افسران بھی شامل تھے، فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کی تلاشی شروع کی، جس کے دوران ایک دیسی ساختہ بم ریلوے ٹریک کے قریب نصب ملا۔</p>
<p>نصیرآباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) غلام سرور بھیو نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے فوری طور پر آئی ای ڈی کو ناکارہ بنا دیا، جس کا وزن تقریباً 3.5 کلوگرام تھا،  اور مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی ای ڈی کا مقصد پشاور سے آنے والی اور کوئٹہ جانے والی مسافر ٹرین کو نشانہ بنانا تھا۔</p>
<p>صرف ایک روز قبل، مسلح افراد نے مچھ اور آبِ گم کے درمیانی علاقے میں ٹرین پر پہاڑوں سے فائرنگ کی تھی، تاہم، ٹرین پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جس پر حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274273</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 09:46:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی جان منگی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/26094200a6524b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/26094200a6524b0.webp"/>
        <media:title>ایک روز قبل، مسلح افراد نے مچھ اور آبِ گم کے درمیانی علاقے میں ٹرین پر پہاڑوں سے فائرنگ کی تھی. —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: بولان پاس پر جعفر ایکسپریس پر پہاڑوں سے فائرنگ، جوابی کارروائی پر دہشتگرد فرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274223/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پیر کے روز ایک بار پھر بلوچستان کے ضلع کچھی کے بولان پاس کے علاقے میں مسلح حملے سے بال بال بچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957218/jaffar-express-comes-under-attack-at-bolan-pass"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران کوئٹہ اور سبی کے درمیان جعفر ایکسپریس پر یہ چھٹا حملہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلوے حکام نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے اپنے مقررہ وقت پر پشاور کے لیے روانہ ہوئی، اور مچھ اسٹیشن سے گزرنے کے بعد جب یہ آبِ گم کے قریب پہنچی تو قریب ہی کے پہاڑوں سے مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273831'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی اہلکاروں اور ٹرین میں موجود ریلوے پولیس نے فوری طور پر جوابی فائرنگ کی، تاہم مختصر فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلوے حکام کے مطابق مسلح حملے میں جعفر ایکسپریس کی تمام بوگیاں محفوظ رہیں، ایک سینئر ریلوے افسر نے بتایا کہ فائرنگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرین میں سفر کرنے والے تمام مسافر محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرین کو روکا گیا اور بعد ازاں سیکیورٹی کلیئرنس ملنے پر اسے اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا، ٹرین پر ہونے والے مسلح حملے کے بعد ریلوے ٹریک پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جعفر ایکسپریس کو مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے، جن میں کوئٹہ اور جیکب آباد کے درمیان ریلوے ٹریک پر ہونے والا بم دھماکا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پیر کے روز ایک بار پھر بلوچستان کے ضلع کچھی کے بولان پاس کے علاقے میں مسلح حملے سے بال بال بچ گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1957218/jaffar-express-comes-under-attack-at-bolan-pass"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران کوئٹہ اور سبی کے درمیان جعفر ایکسپریس پر یہ چھٹا حملہ تھا۔</p>
<p>ریلوے حکام نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے اپنے مقررہ وقت پر پشاور کے لیے روانہ ہوئی، اور مچھ اسٹیشن سے گزرنے کے بعد جب یہ آبِ گم کے قریب پہنچی تو قریب ہی کے پہاڑوں سے مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر دی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273831'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سیکیورٹی اہلکاروں اور ٹرین میں موجود ریلوے پولیس نے فوری طور پر جوابی فائرنگ کی، تاہم مختصر فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p>ریلوے حکام کے مطابق مسلح حملے میں جعفر ایکسپریس کی تمام بوگیاں محفوظ رہیں، ایک سینئر ریلوے افسر نے بتایا کہ فائرنگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرین میں سفر کرنے والے تمام مسافر محفوظ رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرین کو روکا گیا اور بعد ازاں سیکیورٹی کلیئرنس ملنے پر اسے اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا، ٹرین پر ہونے والے مسلح حملے کے بعد ریلوے ٹریک پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔</p>
<p>جعفر ایکسپریس کو مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے، جن میں کوئٹہ اور جیکب آباد کے درمیان ریلوے ٹریک پر ہونے والا بم دھماکا بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274223</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 09:53:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/25094246d3d934d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/25094246d3d934d.webp"/>
        <media:title>گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران کوئٹہ اور سبی کے درمیان جعفر ایکسپریس پر یہ چھٹا حملہ تھا۔
—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: ڈیرہ مراد جمالی میں بینظیر بھٹو میڈیکل کالج پر حملہ ناکام، 3 دہشتگرد زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274183/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈیرہ مراد جمالی کے قریب سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 3 مبینہ دہشت گرد زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957001/attack-on-medical-college-campus-foiled-near-dera-murad-jamali"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا کہ مسلح افراد علاقے میں پہنچے اور ڈیرہ مراد جمالی کے قریب بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے زیر تعمیر کیمپس پر حملہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالج کیمپس پر حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لیا اور حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کی، کچھ دیر تک بھاری فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں 3 شدت پسند زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273831/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، فائرنگ کے بعد حملہ آور اپنے تین زخمی ساتھیوں کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے دوران ڈرونز کا بھی استعمال کیا، کالج کیمپس پر فائرنگ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="منگوچر-سے-2-لاشیں-برآمد" href="#منگوچر-سے-2-لاشیں-برآمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;منگوچر سے 2 لاشیں برآمد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ادھر منگوچر کے علاقے بدرنگ کی پہاڑی رینج میں 2 افراد مردہ حالت میں ملے، جنہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقہ مکینوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لیا اور لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا، ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق ’اموات کی وجہ جسم پر متعدد گولیوں کے زخم تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں مقتولین کی شناخت شیخری گاؤں کے رہائشی قطب علی اور ضلع قلات کے جوہان علاقے سے تعلق رکھنے والے علی محمد کے طور پر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حب-میں-خاتون-اور-مرد-قتل" href="#حب-میں-خاتون-اور-مرد-قتل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حب میں خاتون اور مرد قتل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;حب میں الگ الگ مسلح حملوں میں ایک خاتون اور ایک مرد کو قتل کر دیا گیا، پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک خاتون پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جیم کالونی میں ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا، دونوں مقتولین کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زیارت-میں-حملہ-ناکام-5-افغان-گرفتار" href="#زیارت-میں-حملہ-ناکام-5-افغان-گرفتار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;زیارت میں حملہ ناکام، 5 افغان گرفتار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273452/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیارت میں سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی شام ایک مشتبہ دہشت گرد حملہ ناکام بنا کر 5 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ گرفتاریاں زیارت ٹاؤن کے مضافات میں قائم ایک چیک پوسٹ پر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیارت کے ڈپٹی کمشنر ریاض داوڑ نے تصدیق کی کہ ’سیکیورٹی فورسز نے اسپیرہ راغلا چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کو روک کر ان کی فرار کی کوشش ناکام بنا دی، اور مزید بتایا کہ مشتبہ افراد افغانستان کے صوبہ قندھار سے تعلق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرحراست افراد سے قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں میں 11 دستی بم، 3 سب مشین گنز، 2 ایم-4 رائفلیں، ایک گرینیڈ لانچر، بھاری مقدار میں گولا بارود اور کمیونیکیشن کا سامان شامل ہے، ایک موٹرسائیکل اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق لٹریچر بھی برآمد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثنا اللہ بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ’سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی اور بلوچستان کے عوام کے تحفظ کے لیے ان کی قربانیاں ہمارا فخر ہیں‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈیرہ مراد جمالی کے قریب سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 3 مبینہ دہشت گرد زخمی ہو گئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1957001/attack-on-medical-college-campus-foiled-near-dera-murad-jamali"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا کہ مسلح افراد علاقے میں پہنچے اور ڈیرہ مراد جمالی کے قریب بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے زیر تعمیر کیمپس پر حملہ کر دیا۔</p>
<p>کالج کیمپس پر حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لیا اور حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کی، کچھ دیر تک بھاری فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں 3 شدت پسند زخمی ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273831/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم، فائرنگ کے بعد حملہ آور اپنے تین زخمی ساتھیوں کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے دوران ڈرونز کا بھی استعمال کیا، کالج کیمپس پر فائرنگ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<h1><a id="منگوچر-سے-2-لاشیں-برآمد" href="#منگوچر-سے-2-لاشیں-برآمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>منگوچر سے 2 لاشیں برآمد</h1>
<p>ادھر منگوچر کے علاقے بدرنگ کی پہاڑی رینج میں 2 افراد مردہ حالت میں ملے، جنہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔</p>
<p>علاقہ مکینوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لیا اور لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا، ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق ’اموات کی وجہ جسم پر متعدد گولیوں کے زخم تھے‘۔</p>
<p>بعدازاں مقتولین کی شناخت شیخری گاؤں کے رہائشی قطب علی اور ضلع قلات کے جوہان علاقے سے تعلق رکھنے والے علی محمد کے طور پر ہوئی۔</p>
<h1><a id="حب-میں-خاتون-اور-مرد-قتل" href="#حب-میں-خاتون-اور-مرد-قتل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حب میں خاتون اور مرد قتل</h1>
<p>حب میں الگ الگ مسلح حملوں میں ایک خاتون اور ایک مرد کو قتل کر دیا گیا، پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک خاتون پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔</p>
<p>اسی طرح جیم کالونی میں ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا، دونوں مقتولین کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔</p>
<h1><a id="زیارت-میں-حملہ-ناکام-5-افغان-گرفتار" href="#زیارت-میں-حملہ-ناکام-5-افغان-گرفتار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>زیارت میں حملہ ناکام، 5 افغان گرفتار</h1>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273452/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>زیارت میں سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی شام ایک مشتبہ دہشت گرد حملہ ناکام بنا کر 5 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ گرفتاریاں زیارت ٹاؤن کے مضافات میں قائم ایک چیک پوسٹ پر کی گئیں۔</p>
<p>زیارت کے ڈپٹی کمشنر ریاض داوڑ نے تصدیق کی کہ ’سیکیورٹی فورسز نے اسپیرہ راغلا چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کو روک کر ان کی فرار کی کوشش ناکام بنا دی، اور مزید بتایا کہ مشتبہ افراد افغانستان کے صوبہ قندھار سے تعلق رکھتے ہیں۔</p>
<p>زیرحراست افراد سے قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں میں 11 دستی بم، 3 سب مشین گنز، 2 ایم-4 رائفلیں، ایک گرینیڈ لانچر، بھاری مقدار میں گولا بارود اور کمیونیکیشن کا سامان شامل ہے، ایک موٹرسائیکل اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق لٹریچر بھی برآمد ہوا۔</p>
<p>بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثنا اللہ بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ’سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی اور بلوچستان کے عوام کے تحفظ کے لیے ان کی قربانیاں ہمارا فخر ہیں‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274183</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 16:36:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالواحد شاہوانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/24112246c823969.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/24112246c823969.webp"/>
        <media:title>فورسز نے فائرنگ کے دوران ڈرونز کا بھی استعمال کیا، کالج کیمپس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد، سرفراز بگٹی کو اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے، ن لیگ، پی پی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274102/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلم لیگ (ن)&lt;/strong&gt; اور پاکستان &lt;strong&gt;پیپلز پارٹی (پی پی پی)&lt;/strong&gt; دونوں جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے  بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956641/pml-n-ppp-leaders-deny-claims-balochistan-cm-bugti-will-be-removed"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ بظاہر مسلم لیگ (ن) کے میر دوستین خان ڈومکی کی ذاتی خواہش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ تو کیا ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات &lt;strong&gt;میر سلیم کھوسہ&lt;/strong&gt; نے کہا کہ ان کی جماعت کے سینیٹر کا بیان یا تو ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یا وزیراعلیٰ بگٹی کے ساتھ کسی اختلاف کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو امن و امان اور طرز حکمرانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور ان امور کا جائزہ اسمبلی میں ہونے والی ان کیمرا بریفنگ کے دوران لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274014/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ میر دوستین خان ڈومکی کے بیان کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بات کی، اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت یقیناً سینیٹر سے پوچھے گی کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر ایسا بیان کیوں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ذاتی اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دینا مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، اور ہر جماعت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اختلافات خاندانوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہیں، اور ان کی اپنی جماعت (پیپلز پارٹی) کے اراکین بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ سرفراز بگٹی مؤثر اور محنتی انداز میں کام کر رہے ہیں، اور اتحادی حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حال میں وزیراعلیٰ بگٹی کی حمایت جاری رکھے گی، بلوچستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بیرونی خطرات بھی شامل ہیں، مگر صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" href="#پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;‘پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بگٹی کے ساتھ’&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر &lt;strong&gt;میر محمد صادق عمرانی&lt;/strong&gt; نے بھی سینیٹر ڈومکی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بگٹی کو ان کی جماعت کی قیادت کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا فرد جو پیپلز پارٹی کا رکن نہیں ہے، پارٹی کے بارے میں پالیسی بیان دینے کا مجاز نہیں۔&lt;br&gt;
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ مسٹر بگٹی ہی ان کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہی رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صادق عمرانی نے کہا کہ وہ مستقبل کی سیاسی پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق افواہوں کی تردید کرنے کی ہدایت دی تھی، جو انہوں نے کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طاقت کی شراکت داری کے باقی ڈھائی سالوں کا فیصلہ پارٹی قیادت کے ہاتھ میں ہے، پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ اگلے ڈھائی سال بھی ان کے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ 53 سال سے پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، مگر وہ پارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p><strong>مسلم لیگ (ن)</strong> اور پاکستان <strong>پیپلز پارٹی (پی پی پی)</strong> دونوں جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے  بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956641/pml-n-ppp-leaders-deny-claims-balochistan-cm-bugti-will-be-removed"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ بظاہر مسلم لیگ (ن) کے میر دوستین خان ڈومکی کی ذاتی خواہش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ تو کیا ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات <strong>میر سلیم کھوسہ</strong> نے کہا کہ ان کی جماعت کے سینیٹر کا بیان یا تو ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یا وزیراعلیٰ بگٹی کے ساتھ کسی اختلاف کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو امن و امان اور طرز حکمرانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور ان امور کا جائزہ اسمبلی میں ہونے والی ان کیمرا بریفنگ کے دوران لیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274014/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ میر دوستین خان ڈومکی کے بیان کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بات کی، اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت یقیناً سینیٹر سے پوچھے گی کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر ایسا بیان کیوں دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ذاتی اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دینا مناسب نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، اور ہر جماعت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اختلافات خاندانوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اراکین اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہیں، اور ان کی اپنی جماعت (پیپلز پارٹی) کے اراکین بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ سرفراز بگٹی مؤثر اور محنتی انداز میں کام کر رہے ہیں، اور اتحادی حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حال میں وزیراعلیٰ بگٹی کی حمایت جاری رکھے گی، بلوچستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بیرونی خطرات بھی شامل ہیں، مگر صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔</p>
<h3><a id="پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" href="#پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>‘پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بگٹی کے ساتھ’</h3>
<p>پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر <strong>میر محمد صادق عمرانی</strong> نے بھی سینیٹر ڈومکی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بگٹی کو ان کی جماعت کی قیادت کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا فرد جو پیپلز پارٹی کا رکن نہیں ہے، پارٹی کے بارے میں پالیسی بیان دینے کا مجاز نہیں۔<br>
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ مسٹر بگٹی ہی ان کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہی رہیں گے۔</p>
<p>صادق عمرانی نے کہا کہ وہ مستقبل کی سیاسی پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق افواہوں کی تردید کرنے کی ہدایت دی تھی، جو انہوں نے کر دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ طاقت کی شراکت داری کے باقی ڈھائی سالوں کا فیصلہ پارٹی قیادت کے ہاتھ میں ہے، پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ اگلے ڈھائی سال بھی ان کے ہوں گے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ 53 سال سے پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، مگر وہ پارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274102</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 11:16:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/221112227647a12.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/221112227647a12.webp"/>
        <media:title>صادق عمرانی نے دعویٰ کیا کہ آئندہ ڈھائی سال بھی صوبے میں پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ ہی رہے گا۔ —فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے متعلق (ن) لیگ کے شکوے کھل کر سامنے آگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274014/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے بارے میں کھل کر تحفظات اور شکوے ظاہر کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956184/pml-n-grouse-with-balochistan-cm-bugti-out-in-the-open"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی بالآخر منظرِ عام پر آگئی، جہاں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے صوبائی چیف ایگزیکٹو کے مستقبل کے بارے میں متضاد دعوے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے دعویٰ کیا کہ میر سرفراز بگٹی کو آئندہ چند دنوں میں وزارتِ اعلیٰ سے ہٹا دیا جائے گا اور نئے وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب پیپلز پارٹی کرے گی، تاہم ان کے اس دعوے کو بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے ایک اردو خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ نئے امیدوار کے انتخاب کے لیے مشاورت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مایوس کیا ہے، کیونکہ وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271541'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271541"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، جب کہ وزیرِ اعلیٰ کرپشن میں ملوث ہیں اور مؤثر طریقے سے حکمرانی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ڈھائی سال کا پاور شیئرنگ فارمولا اگلے سال اگست میں مکمل ہو جائے گا، طے یہ پایا تھا کہ ڈھائی سالہ مدت پوری کرنے کے لیے پیپلز پارٹی سے نیا وزیرِ اعلیٰ لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بے-بنیاد" href="#بے-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بے بنیاد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سردار عمر گورگیج اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بدھ کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اس حوالے سے تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور صرف ایک (ن) لیگی سینیٹر کی خواہشات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی وزرائے اعلیٰ کی تبدیلی پر یقین نہیں رکھتی، تمام اتحادی جماعتیں سرفراز بگٹی کے ساتھ ہیں اور پیپلز پارٹی کے وزیرِ اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کو کوئی تحفظات یا شکایات ہیں تو وہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی سے رابطہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار عمر گورگیج نے کہا کہ وہ ایسے تمام دعوؤں اور افواہوں کو مسترد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے بارے میں کھل کر تحفظات اور شکوے ظاہر کیے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1956184/pml-n-grouse-with-balochistan-cm-bugti-out-in-the-open">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی بالآخر منظرِ عام پر آگئی، جہاں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے صوبائی چیف ایگزیکٹو کے مستقبل کے بارے میں متضاد دعوے کیے ہیں۔</p>
<p>بدھ کے روز مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے دعویٰ کیا کہ میر سرفراز بگٹی کو آئندہ چند دنوں میں وزارتِ اعلیٰ سے ہٹا دیا جائے گا اور نئے وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب پیپلز پارٹی کرے گی، تاہم ان کے اس دعوے کو بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے مسترد کر دیا۔</p>
<p>سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے ایک اردو خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ نئے امیدوار کے انتخاب کے لیے مشاورت جاری ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مایوس کیا ہے، کیونکہ وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271541'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271541"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، جب کہ وزیرِ اعلیٰ کرپشن میں ملوث ہیں اور مؤثر طریقے سے حکمرانی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ڈھائی سال کا پاور شیئرنگ فارمولا اگلے سال اگست میں مکمل ہو جائے گا، طے یہ پایا تھا کہ ڈھائی سالہ مدت پوری کرنے کے لیے پیپلز پارٹی سے نیا وزیرِ اعلیٰ لایا جائے گا۔</p>
<h1><a id="بے-بنیاد" href="#بے-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بے بنیاد</h1>
<p>تاہم، پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سردار عمر گورگیج اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے بدھ کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اس حوالے سے تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور صرف ایک (ن) لیگی سینیٹر کی خواہشات ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی وزرائے اعلیٰ کی تبدیلی پر یقین نہیں رکھتی، تمام اتحادی جماعتیں سرفراز بگٹی کے ساتھ ہیں اور پیپلز پارٹی کے وزیرِ اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کو کوئی تحفظات یا شکایات ہیں تو وہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی سے رابطہ کریں۔</p>
<p>سردار عمر گورگیج نے کہا کہ وہ ایسے تمام دعوؤں اور افواہوں کو مسترد کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274014</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 11:15:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/20100303f6f0e92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/20100303f6f0e92.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیرہ مراد جمالی : جعفر ایکسپریس بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273831/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی میں  جعفر ایکسپریس بم دھماکے میں بال بال بچ گئی، ٹرین گزرنے کے بعد چند منٹ بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر  ڈیرہ مراد جمالی میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے بعد ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا جس سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا، دھماکے سے چند منٹ پہلے پشاور سے کوئٹہ ہونے والی جعفر ایکسپریس ٹریک سے گزری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی میں  جعفر ایکسپریس بم دھماکے میں بال بال بچ گئی، ٹرین گزرنے کے بعد چند منٹ بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر  ڈیرہ مراد جمالی میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے بعد ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا جس سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا، دھماکے سے چند منٹ پہلے پشاور سے کوئٹہ ہونے والی جعفر ایکسپریس ٹریک سے گزری تھی۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273831</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 20:06:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/16200433c8c4fdb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/16200433c8c4fdb.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مچھ میں پائپ لائن پھٹنے سے کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں گیس کی فراہمی معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273799/</link>
      <description>&lt;p&gt;مچھ میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی ایک ہائی پریشر ٹرانسمیشن پائپ لائن پھٹنے کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی دیگر اضلاع میں گیس کی فراہمی وقت معطل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955372/pipeline-rupture-halts-gas-supply-to-quetta-other-areas"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایس ایس جی سی کے ترجمان سلمان احمد صدیقی نے بتایا کہ تقریباً صبح 5 بجے 18 انچ قطر کی کیو پی سی ای پی پائپ لائن پھٹ گئی تھی، جس کے باعث صوبے کے متعدد اضلاع میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1249558'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
گیس کی بندش سے پشین، کچلاک، زیارت، بوستان، ہرمزئی، مستونگ، قلات، منگوچر، کڈ کوچہ اور آس پاس کے علاقے متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ عبوری انتظام کے طور پر محدود سطح پر گیس کی فراہمی برقرار رکھی جا رہی ہے، کمپنی کی 12 انچ قطر کی کیو پی ایل لائن کے ذریعے کوئٹہ کے کچھ مضافاتی علاقوں(ناواں کلی، ہنہ، سرا گھُرگئی، پشتون آباد اور ایسٹرن بائی پاس) کو کم پریشر پر گیس فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایس ایس جی سی کی تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ روانہ کر دیا گیا ہے اور پائپ لائن کی مرمت کے لیے کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ مرمت کا کام کب تک مکمل ہوگا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے کہا کہ کمپنی اپنے صارفین کو صورتِ حال سے مسلسل آگاہ کرتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مچھ میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی ایک ہائی پریشر ٹرانسمیشن پائپ لائن پھٹنے کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی دیگر اضلاع میں گیس کی فراہمی وقت معطل ہوگئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955372/pipeline-rupture-halts-gas-supply-to-quetta-other-areas"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایس ایس جی سی کے ترجمان سلمان احمد صدیقی نے بتایا کہ تقریباً صبح 5 بجے 18 انچ قطر کی کیو پی سی ای پی پائپ لائن پھٹ گئی تھی، جس کے باعث صوبے کے متعدد اضلاع میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1249558'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
گیس کی بندش سے پشین، کچلاک، زیارت، بوستان، ہرمزئی، مستونگ، قلات، منگوچر، کڈ کوچہ اور آس پاس کے علاقے متاثر ہوئے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ عبوری انتظام کے طور پر محدود سطح پر گیس کی فراہمی برقرار رکھی جا رہی ہے، کمپنی کی 12 انچ قطر کی کیو پی ایل لائن کے ذریعے کوئٹہ کے کچھ مضافاتی علاقوں(ناواں کلی، ہنہ، سرا گھُرگئی، پشتون آباد اور ایسٹرن بائی پاس) کو کم پریشر پر گیس فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ایس ایس جی سی کی تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ روانہ کر دیا گیا ہے اور پائپ لائن کی مرمت کے لیے کام جاری ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ مرمت کا کام کب تک مکمل ہوگا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے کہا کہ کمپنی اپنے صارفین کو صورتِ حال سے مسلسل آگاہ کرتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273799</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 10:23:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/161015453907e9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/161015453907e9f.webp"/>
        <media:title>ایس ایس جی سی کی تکنیکی ٹیموں نے متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کر دیا ہے۔ —فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں سال پاکستان بھر میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں 10 گنا اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273797/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے چاغی اور کوئٹہ، اور پنجاب کے اٹک وہ سرفہرست 3 اضلاع ہیں، جہاں افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والے یا غیر دستاویزی افغان شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد میں گرفتاریاں یا حراست عمل میں آئی ہے، یہ کارروائیاں رواں سال کے 10 ماہ سے زائد عرصے میں ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955358/tenfold-rise-in-arrest-of-afghans-across-pakistan-this-year"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں گرفتاریوں اور حراست میں لینے کے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ رہی، یکم جنوری سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 971 افغان شہری گرفتار ہوئے، جب کہ 2024 میں 9,006 اور 2023 میں 26 ہزار 299 افغان شہری گرفتار کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو جاری کی گئی یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے پہلے اے سی سی رکھنے والے یا غیر دستاویزی افغان شہریوں کی گرفتاریوں یا حراست کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، جنوری 2023 سے بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم ) نے یہ ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 سے 8 نومبر کے دوران کل 13 ہزار 380 افغان شہری گرفتار یا حراست میں لیے گئے، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 72 فیصد زیادہ ہیں، 2 سے 8 نومبر کے تمام واقعات میں 76 فیصد گرفتار شدگان اے سی سی ہولڈرز یا غیر دستاویزی افغان تھے، جب کہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے 24 فیصد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چاغی-کوئٹہ-اور-اٹک-کے-اضلاع-سر-فہرست" href="#چاغی-کوئٹہ-اور-اٹک-کے-اضلاع-سر-فہرست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چاغی، کوئٹہ اور اٹک کے اضلاع سر فہرست&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271366'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 سے 8 نومبر تک کی رپورٹنگ مدت میں 41 فیصد گرفتاریاں بلوچستان میں اور 43 فیصد پنجاب میں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے اہم نکات کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 17 لاکھ 23 ہزار 481 افغان شہری افغانستان واپس چلے گئے، 2 سے 8 نومبر کے دوران یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کے مطابق 55 ہزار 768 افغان شہری طورخم، غلام خان (خیبر پختونخوا)، چمن، بادینی اور بہرامچہ (بلوچستان) کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے واپس افغانستان گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 سے 8 نومبر میں واپسی اور ملک بدری کے کیسز میں پچھلے ہفتے (26 اکتوبر تا یکم نومبر) کے مقابلے میں بالترتیب 49 فیصد اور 75 فیصد اضافہ ہوا، جب 37 ہزار 448 افغانوں کی واپسی ہوئی تھی، جن میں 7 ہزار 733 ملک بدری والے شامل تھے، 2 سے 8 نومبر کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 55 ہزار 768 ہوگئی، جن میں 13 ہزار 548 ملک بدری کے واقعات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپسی کی تعداد میں اضافہ یکم نومبر کو طورخم بارڈر کے دوبارہ کھلنے کی وجہ سے ہوا، جس سے زیادہ افغان شہریوں کو اپنے ملک جانے کی اجازت ملی، تاہم اس عرصے کے دوران واپسیوں کی تعداد اب بھی اگست اور ستمبر کے آخری ہفتوں میں دیکھی گئی بلند ترین سطح سے کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 سے 8 نومبر کے دوران واپس جانے والوں میں سب سے زیادہ پی او آر ہولڈرز (48 فیصد) تھے، اس کے بعد غیر دستاویزی (43 فیصد) اور اے سی سی ہولڈرز (9 فیصد) تھے، پی او آر ہولڈرز کی اکثریت یو این ایچ سی آر کے رضاکارانہ واپسی مراکز کے ذریعے واپس گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 سے 8 نومبر کے ملک بدری کیسز میں زیادہ تر غیر دستاویزی (84 فیصد)، اس کے بعد پی او آر ہولڈرز (13 فیصد) اور اے سی سی ہولڈرز (3 فیصد) شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم اپریل سے اب تک مجموعی طور پر8 لاکھ 69 ہزار 448 افغان شہری واپس گئے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 15 ہزار 159 (13 فیصد) کو ملک بدر کیا گیا، اس عرصے میں گرفتاری کے خوف کو غیر دستاویزی افراد، اے سی سی ہولڈرز (93 فیصد) اور پی او آر ہولڈرز (47 فیصد) کے واپس جانے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں واپس جانے والوں کی زیادہ تعداد کوئٹہ (20 فیصد)، اٹک (13 فیصد) اور اسلام آباد (9 فیصد) سے تھی، جب کہ ان کی منزل افغانستان میں کنڑ، ننگرہار اور کابل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273418'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273418"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
2025 میں حکومتِ پاکستان نے افغان شہریوں سے متعلق کئی اقدامات کیے، جنوری میں حکومت نے اعلان کیا کہ افغان شہری اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) اور راولپنڈی سے نکل جائیں، ورنہ انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں مزید اعلانات کیے گئے کہ دوسرے مرحلے آئی ایف آر پی کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا ہدف اے سی سی ہولڈرز اور غیر دستاویزی افغان ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں حکومت نے ایک ایس آر او جاری کیا تھا، جس میں پی او آر کارڈ ہولڈرز کی واپسی/ملک بدری کا حکم دیا گیا تھا، کیوں کہ پی او آر کارڈ کی مدت 30 جون کو ختم ہو چکی تھی، بعد میں حکومت نے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن دی کہ پی او آر ہولڈرز پاکستان چھوڑ دیں، ورنہ ملک بدری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پولیس چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 434 افغان شہریوں کو نوکنڈی میں حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کلی برہان آباد، نوکنڈی میں ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں افغان باشندے چھپے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کو دیکھ کر گھر کا مالک، برہان زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والا سرفراز، 3 نامعلوم افراد کے ساتھ فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے کارروائی کے دوران تقریباً 200 افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں پولیس نے شیر علی کے بیٹوں، خلیل احمد اور عطا اللہ، کے گھروں پر چھاپہ مارا اور کم از کم 234 افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا، تمام گرفتار افراد کو بعد ازاں پولیس کی نگرانی میں گردی جنگل پناہ گزین کیمپ منتقل کر دیا گیا تاکہ ملک بدری کے مراحل شروع کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے چاغی اور کوئٹہ، اور پنجاب کے اٹک وہ سرفہرست 3 اضلاع ہیں، جہاں افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والے یا غیر دستاویزی افغان شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد میں گرفتاریاں یا حراست عمل میں آئی ہے، یہ کارروائیاں رواں سال کے 10 ماہ سے زائد عرصے میں ہوئی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1955358/tenfold-rise-in-arrest-of-afghans-across-pakistan-this-year"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں گرفتاریوں اور حراست میں لینے کے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ رہی، یکم جنوری سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 971 افغان شہری گرفتار ہوئے، جب کہ 2024 میں 9,006 اور 2023 میں 26 ہزار 299 افغان شہری گرفتار کیے گئے تھے۔</p>
<p>جمعے کو جاری کی گئی یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے پہلے اے سی سی رکھنے والے یا غیر دستاویزی افغان شہریوں کی گرفتاریوں یا حراست کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، جنوری 2023 سے بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم ) نے یہ ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا تھا۔</p>
<p>2 سے 8 نومبر کے دوران کل 13 ہزار 380 افغان شہری گرفتار یا حراست میں لیے گئے، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 72 فیصد زیادہ ہیں، 2 سے 8 نومبر کے تمام واقعات میں 76 فیصد گرفتار شدگان اے سی سی ہولڈرز یا غیر دستاویزی افغان تھے، جب کہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے 24 فیصد تھے۔</p>
<h1><a id="چاغی-کوئٹہ-اور-اٹک-کے-اضلاع-سر-فہرست" href="#چاغی-کوئٹہ-اور-اٹک-کے-اضلاع-سر-فہرست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چاغی، کوئٹہ اور اٹک کے اضلاع سر فہرست</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271366'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>2 سے 8 نومبر تک کی رپورٹنگ مدت میں 41 فیصد گرفتاریاں بلوچستان میں اور 43 فیصد پنجاب میں ہوئیں۔</p>
<p>یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے اہم نکات کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 17 لاکھ 23 ہزار 481 افغان شہری افغانستان واپس چلے گئے، 2 سے 8 نومبر کے دوران یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کے مطابق 55 ہزار 768 افغان شہری طورخم، غلام خان (خیبر پختونخوا)، چمن، بادینی اور بہرامچہ (بلوچستان) کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے واپس افغانستان گئے۔</p>
<p>2 سے 8 نومبر میں واپسی اور ملک بدری کے کیسز میں پچھلے ہفتے (26 اکتوبر تا یکم نومبر) کے مقابلے میں بالترتیب 49 فیصد اور 75 فیصد اضافہ ہوا، جب 37 ہزار 448 افغانوں کی واپسی ہوئی تھی، جن میں 7 ہزار 733 ملک بدری والے شامل تھے، 2 سے 8 نومبر کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 55 ہزار 768 ہوگئی، جن میں 13 ہزار 548 ملک بدری کے واقعات تھے۔</p>
<p>واپسی کی تعداد میں اضافہ یکم نومبر کو طورخم بارڈر کے دوبارہ کھلنے کی وجہ سے ہوا، جس سے زیادہ افغان شہریوں کو اپنے ملک جانے کی اجازت ملی، تاہم اس عرصے کے دوران واپسیوں کی تعداد اب بھی اگست اور ستمبر کے آخری ہفتوں میں دیکھی گئی بلند ترین سطح سے کم رہی۔</p>
<p>2 سے 8 نومبر کے دوران واپس جانے والوں میں سب سے زیادہ پی او آر ہولڈرز (48 فیصد) تھے، اس کے بعد غیر دستاویزی (43 فیصد) اور اے سی سی ہولڈرز (9 فیصد) تھے، پی او آر ہولڈرز کی اکثریت یو این ایچ سی آر کے رضاکارانہ واپسی مراکز کے ذریعے واپس گئی۔</p>
<p>2 سے 8 نومبر کے ملک بدری کیسز میں زیادہ تر غیر دستاویزی (84 فیصد)، اس کے بعد پی او آر ہولڈرز (13 فیصد) اور اے سی سی ہولڈرز (3 فیصد) شامل تھے۔</p>
<p>یکم اپریل سے اب تک مجموعی طور پر8 لاکھ 69 ہزار 448 افغان شہری واپس گئے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 15 ہزار 159 (13 فیصد) کو ملک بدر کیا گیا، اس عرصے میں گرفتاری کے خوف کو غیر دستاویزی افراد، اے سی سی ہولڈرز (93 فیصد) اور پی او آر ہولڈرز (47 فیصد) کے واپس جانے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>اسی عرصے میں واپس جانے والوں کی زیادہ تعداد کوئٹہ (20 فیصد)، اٹک (13 فیصد) اور اسلام آباد (9 فیصد) سے تھی، جب کہ ان کی منزل افغانستان میں کنڑ، ننگرہار اور کابل تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273418'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273418"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
2025 میں حکومتِ پاکستان نے افغان شہریوں سے متعلق کئی اقدامات کیے، جنوری میں حکومت نے اعلان کیا کہ افغان شہری اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) اور راولپنڈی سے نکل جائیں، ورنہ انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔</p>
<p>اپریل میں مزید اعلانات کیے گئے کہ دوسرے مرحلے آئی ایف آر پی کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا ہدف اے سی سی ہولڈرز اور غیر دستاویزی افغان ہوں گے۔</p>
<p>جولائی میں حکومت نے ایک ایس آر او جاری کیا تھا، جس میں پی او آر کارڈ ہولڈرز کی واپسی/ملک بدری کا حکم دیا گیا تھا، کیوں کہ پی او آر کارڈ کی مدت 30 جون کو ختم ہو چکی تھی، بعد میں حکومت نے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن دی کہ پی او آر ہولڈرز پاکستان چھوڑ دیں، ورنہ ملک بدری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔</p>
<p>حکام کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پولیس چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 434 افغان شہریوں کو نوکنڈی میں حراست میں لیا گیا۔</p>
<p>اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کلی برہان آباد، نوکنڈی میں ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں افغان باشندے چھپے ہوئے تھے۔</p>
<p>پولیس کو دیکھ کر گھر کا مالک، برہان زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والا سرفراز، 3 نامعلوم افراد کے ساتھ فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے کارروائی کے دوران تقریباً 200 افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر لی۔</p>
<p>بعد میں پولیس نے شیر علی کے بیٹوں، خلیل احمد اور عطا اللہ، کے گھروں پر چھاپہ مارا اور کم از کم 234 افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا، تمام گرفتار افراد کو بعد ازاں پولیس کی نگرانی میں گردی جنگل پناہ گزین کیمپ منتقل کر دیا گیا تاکہ ملک بدری کے مراحل شروع کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273797</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 10:05:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/160948404f363a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/160948404f363a2.webp"/>
        <media:title>15 ستمبر 2023 سے 8 نومبر 2025 تک 17 لاکھ 23 ہزار 481 افغان شہری افغانستان واپس گئے۔ —فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس کامران ملاخیل قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273792/</link>
      <description>&lt;p&gt;جسٹس کامران ملاخیل کو قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وفاقی محکمہ وزارت قانون نے تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس کامران ملا خیل مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک بطور قائم مقام چیف جسٹس خدمات سرانجام دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ روزی خان بڑئچ کی وفاقی آئینی عدالت کے جج تعینات ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جسٹس کامران ملاخیل کو قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کردیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وفاقی محکمہ وزارت قانون نے تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس کامران ملا خیل مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک بطور قائم مقام چیف جسٹس خدمات سرانجام دیں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ روزی خان بڑئچ کی وفاقی آئینی عدالت کے جج تعینات ہوگئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273792</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 21:57:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/15214922e386f95.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/15214922e386f95.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: بلوچستان ہائیکورٹ / ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’پاکستان اور عمان کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی منظوری مل گئی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273751/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور عمان جلد ہی فیری لنک کے قیام کے لیے مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نشریاتی ادارے ’پی ٹی وی‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ptv.com.pk/ptvnews/urdunewsdetail/16069"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وفاقی کابینہ نے گوادر اور عمان کے درمیان فیری سروس کے آغاز کی منظوری دے دی ہے، اس حوالے سے محمد جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ گوادر، عمان فیری سروس جلد شروع کی جا رہی ہے، جس کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے عمان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نئے فیری روٹ کے آغاز سے پاکستان اور عمان کے درمیان تجارتی حجم اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جبکہ پاکستانی تارکین وطن کے لیے سفر بھی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا کہ فیری سروس نہ صرف سیاحت اور ثقافتی روابط کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے کے ممالک کو وسط ایشیا کی منڈیوں تک رسائی بھی فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ نئی سمندری راہداریوں کے قیام سے گوادر اقتصادی سرگرمیوں کا نیا مرکز بننے کی جانب اہم پیش رفت ہو گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور عمان جلد ہی فیری لنک کے قیام کے لیے مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کریں گے۔</p>
<p>سرکاری نشریاتی ادارے ’پی ٹی وی‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ptv.com.pk/ptvnews/urdunewsdetail/16069"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وفاقی کابینہ نے گوادر اور عمان کے درمیان فیری سروس کے آغاز کی منظوری دے دی ہے، اس حوالے سے محمد جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ گوادر، عمان فیری سروس جلد شروع کی جا رہی ہے، جس کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے عمان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نئے فیری روٹ کے آغاز سے پاکستان اور عمان کے درمیان تجارتی حجم اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جبکہ پاکستانی تارکین وطن کے لیے سفر بھی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔</p>
<p>مزید کہا کہ فیری سروس نہ صرف سیاحت اور ثقافتی روابط کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے کے ممالک کو وسط ایشیا کی منڈیوں تک رسائی بھی فراہم کرے گی۔</p>
<p>جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ نئی سمندری راہداریوں کے قیام سے گوادر اقتصادی سرگرمیوں کا نیا مرکز بننے کی جانب اہم پیش رفت ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273751</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 17:34:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/14222209a85f238.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/14222209a85f238.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: پی ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے تمام 36 اضلاع میں 10 سے 16 نومبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273658/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت بلوچستان نے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں 10 سے 16 نومبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی، جبکہ نیشنل ہائی وے این-70 کے لورالائی سیکشن پر تمام ٹرانسپورٹ سروسز کی آمدورفت 14 نومبر تک معطل رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی محکمہ داخلہ نے بتایا کہ سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ سروسز معطل رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ صوبے کے تمام دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی، جبکہ کوئٹہ  کو اس پابندی سے استثنیٰ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، شہریوں نے شکایت کی کہ کوئٹہ کے کئی علاقوں میں سگنلز دستیاب نہیں اور انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت نے سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث نیشنل ہائی وے این -70 کے لورالائی سیکشن پر تمام ٹرانسپورٹ سروسز بشمول ٹیکسیاں اور نجی گاڑیوں کی آمدورفت 14 نومبر 2025 تک عارضی طور پر معطل کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ پابندی مقامی یا شہر کے اندر سفر پر لاگو نہیں ہوگی، تاکہ شہری اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے اپنے علاقوں میں آمدورفت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل انتظامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ لورالائی روٹ پر کسی بھی سفر کی منصوبہ بندی سے پہلے سرکاری سفری ہدایات کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، آج کوئٹہ کے کینٹ ایریا میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے، حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث 12 سے 16 نومبر تک اس علاقے کے اسکول اور کالجز بند رہیں گے، تاہم کوئٹہ کے کچھ سرکاری اسکول کھلے رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت بلوچستان نے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں 10 سے 16 نومبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی، جبکہ نیشنل ہائی وے این-70 کے لورالائی سیکشن پر تمام ٹرانسپورٹ سروسز کی آمدورفت 14 نومبر تک معطل رہے گی۔</p>
<p>صوبائی محکمہ داخلہ نے بتایا کہ سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ سروسز معطل رہیں گی۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ صوبے کے تمام دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی، جبکہ کوئٹہ  کو اس پابندی سے استثنیٰ ہوگا۔</p>
<p>تاہم، شہریوں نے شکایت کی کہ کوئٹہ کے کئی علاقوں میں سگنلز دستیاب نہیں اور انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔</p>
<p>صوبائی حکومت نے سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث نیشنل ہائی وے این -70 کے لورالائی سیکشن پر تمام ٹرانسپورٹ سروسز بشمول ٹیکسیاں اور نجی گاڑیوں کی آمدورفت 14 نومبر 2025 تک عارضی طور پر معطل کر دی۔</p>
<p>تاہم، یہ پابندی مقامی یا شہر کے اندر سفر پر لاگو نہیں ہوگی، تاکہ شہری اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے اپنے علاقوں میں آمدورفت کر سکیں۔</p>
<p>محکمہ داخلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل انتظامات کریں۔</p>
<p>شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ لورالائی روٹ پر کسی بھی سفر کی منصوبہ بندی سے پہلے سرکاری سفری ہدایات کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔</p>
<p>دریں اثنا، آج کوئٹہ کے کینٹ ایریا میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے، حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث 12 سے 16 نومبر تک اس علاقے کے اسکول اور کالجز بند رہیں گے، تاہم کوئٹہ کے کچھ سرکاری اسکول کھلے رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273658</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 11:36:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/122309371672a81.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/122309371672a81.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان حکومت نے بدعنوانیوں کی اطلاعات پر حب میں زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273499/</link>
      <description>&lt;p&gt;بدعنوانیوں کی اطلاعات کے بعد بلوچستان حکومت نے حب کے علاقے موضع بیروٹ میں تقریباً 400 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرتے ہوئے اسے ریاستی اراضی قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954184/balochistan-govt-cancels-hub-land-allotment"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حکام نے بتایا کہ محکمہ ریونیو بورڈ کی جانب سے اس زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق جاری کردہ نوٹی فکیشن کو فوری طور پر اس کی تاریخِ اجرا سے واپس لے لیا گیا ہے، اور نئی تعمیر شدہ بائی پاس کے قریب جن افراد کو زمین دی گئی تھی، ان کی الاٹمنٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سال 2023 سے 2025 کے دوران نجی افراد کو دی گئی زمین اب منسوخ تصور کی جائے گی، اور متعلقہ سیٹلمنٹ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ منسوخ شدہ زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق تمام رپورٹس ڈپٹی کمشنر حب کے حوالے کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان حکومت نے حب میں زمین کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی منسوخی کے احکامات جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ موضع بیروٹ کی زمین ایسے افراد کو الاٹ کی گئی تھی جو علاقے کے مقامی نہیں تھے، بلکہ بائی پاس کی تعمیر کے بعد زمین کی قیمت بڑھنے سے منافع حاصل کرنا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق تقریباً 400 سے 500 ایکڑ زمین ان افراد کو دی گئی تھی، ابتدا میں لوگوں نے لینڈ ایکٹ 1967 کے تحت اس زمین میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی، لیکن بائی پاس کی تعمیر کے بعد اس کی قیمت فی ایکڑ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی، جس کے بعد زمین کی فروخت مقامی سیٹلمنٹ افسران کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بدعنوانیوں کی اطلاعات کے بعد بلوچستان حکومت نے حب کے علاقے موضع بیروٹ میں تقریباً 400 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرتے ہوئے اسے ریاستی اراضی قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1954184/balochistan-govt-cancels-hub-land-allotment"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حکام نے بتایا کہ محکمہ ریونیو بورڈ کی جانب سے اس زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق جاری کردہ نوٹی فکیشن کو فوری طور پر اس کی تاریخِ اجرا سے واپس لے لیا گیا ہے، اور نئی تعمیر شدہ بائی پاس کے قریب جن افراد کو زمین دی گئی تھی، ان کی الاٹمنٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق سال 2023 سے 2025 کے دوران نجی افراد کو دی گئی زمین اب منسوخ تصور کی جائے گی، اور متعلقہ سیٹلمنٹ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ منسوخ شدہ زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق تمام رپورٹس ڈپٹی کمشنر حب کے حوالے کی جائیں۔</p>
<p>بلوچستان حکومت نے حب میں زمین کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی منسوخی کے احکامات جاری کیے ہیں۔</p>
<p>دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ موضع بیروٹ کی زمین ایسے افراد کو الاٹ کی گئی تھی جو علاقے کے مقامی نہیں تھے، بلکہ بائی پاس کی تعمیر کے بعد زمین کی قیمت بڑھنے سے منافع حاصل کرنا چاہتے تھے۔</p>
<p>حکام کے مطابق تقریباً 400 سے 500 ایکڑ زمین ان افراد کو دی گئی تھی، ابتدا میں لوگوں نے لینڈ ایکٹ 1967 کے تحت اس زمین میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی، لیکن بائی پاس کی تعمیر کے بعد اس کی قیمت فی ایکڑ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی، جس کے بعد زمین کی فروخت مقامی سیٹلمنٹ افسران کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر کی گئی۔</p>
<p>اس عمل کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273499</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Nov 2025 11:15:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/10101554e294af7.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/10101554e294af7.webp"/>
        <media:title>سیٹلمنٹ افسران منسوخ الاٹمنٹ سے متعلق تمام رپورٹس ڈپٹی کمشنر حب کے حوالے کریں گے— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
