<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 02:13:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 02:13:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275084/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔</p>
<p>محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔</p>
<p>یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔</p>
<p>انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275084</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:06:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13125733d38128e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13125733d38128e.webp"/>
        <media:title>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا، تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275078/</link>
      <description>&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔</p>
<p>محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔</p>
<p>درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275078</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:47:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121245587f1e6f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121245587f1e6f1.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: شادی والے گھر میں دھماکا، دلہا دلہن سمیت 6 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275073/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ چھ لاشیں اور 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/MuKH0YvA4fU?si=RvKvGpHmM74W9qrb'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/MuKH0YvA4fU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈان کو بتایا کہ واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایات پر پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کیا گیا، جو 20 فیصد جھلسا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر جائے وقوع پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم چار مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دھماکا شادی کی تقریب کے مقام پر ہوا، جہاں مہمان بھی موجود تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے شادی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے گیس سلنڈر دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں، جبکہ غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے، قوانین پر عملدرآمد اور عوام میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ چھ لاشیں اور 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/MuKH0YvA4fU?si=RvKvGpHmM74W9qrb'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/MuKH0YvA4fU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے ڈان کو بتایا کہ واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایات پر پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔</p>
<p>ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کیا گیا، جو 20 فیصد جھلسا ہوا تھا۔</p>
<p>ادھر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر جائے وقوع پر پہنچے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم چار مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دھماکا شادی کی تقریب کے مقام پر ہوا، جہاں مہمان بھی موجود تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے شادی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے گیس سلنڈر دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں، جبکہ غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے، قوانین پر عملدرآمد اور عوام میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275073</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:57:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدیکاشف عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/11125417977336d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/11125417977336d.webp"/>
        <media:title>ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں بے امنی، پاکستانی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275066/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ پڑوسی ملک ایران میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے تک جمہوریہ اسلامی ایران کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، ہوشیار رہنے، غیر ضروری آمد و رفت محدود رکھنے اور تہران، زاہدان اور مشہد میں قائم پاکستانی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی سفارت خانوں کے فون نمبرز بھی جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق جمعے تک 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ پڑوسی ملک ایران میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے تک جمہوریہ اسلامی ایران کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، ہوشیار رہنے، غیر ضروری آمد و رفت محدود رکھنے اور تہران، زاہدان اور مشہد میں قائم پاکستانی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی سفارت خانوں کے فون نمبرز بھی جاری کیے۔</p>
<p>ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔</p>
<p>ایرانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق جمعے تک 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275066</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 13:31:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1013295613f94d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1013295613f94d5.webp"/>
        <media:title>ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے الزام مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275053/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی رہنماؤں سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر گوہر علی خان نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=t4I3fWHqvkQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/t4I3fWHqvkQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ درحقیقت ہمیں دہشت گردی پر ایک واحد موقف اور بیانیہ کی ضرورت ہے، پارٹی اور اس کی قیادت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا سرحدیں نہیں ہوتیں۔ وہ مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ہماری مساجد، عیدگاہوں پر حملہ کرتے ہیں اور ہم ہر ایک حملے کی مذمت کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ پوچھنا ’نامناسب اور خطرناک‘ ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد کیوں نشانہ نہیں بنا رہے، انہوں نے کہا کہ  ’ہمارا ماننا ہے کہ جب بھی کوئی دہشت گرد حملے کی زد میں آتا ہے تو پورے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوہر علی خان نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے تو الزامات لگانے کے لیے ٹویٹر اور پریس کانفرنسوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے، اپنے دلائل متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کی پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور اس مقصد کے لیے 40 ارب روپے بھی خرچ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اپنے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اس کے باوجود ہمیں قصوروار ٹھہرانا، پریس کانفرنسیں کرنا اور ہمیں نشانہ بنانا خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے، جو اس وقت قوم کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ اگلی بار ہمیں ایسی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ ہمارے خلاف بھی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزامات کو ’افسوسناک‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’صرف ایک بے وقوف ہی دہشت گردوں سے ہمدردی رکھ سکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی آپریشنز کے معاملے پر پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور معصوم لوگوں کی نقل مکانی اور شہادت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ’ایکشن پلان طے کرنے میں تعاون کے ساتھ کام کرنے‘ کی پیشکش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں امن جرگہ منعقد کیا، جہاں ’خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں، علماء اور دانشوروں نے متفقہ طور پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی غلط ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے کہا کہ  پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو عوام اور ریاستی ادارے کے درمیان ’خلیج‘ کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی ایک قومی مقصد کے لیے عوام اور اداروں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان اکرم راجا نے یہ موقف بھی دہرایا کہ ’کوئی بھی مذاکرات چاہے وہ دہشت گردی کے بارے میں ہوں یا کسی اور معاملے پر، عمران خان کو باہر رکھ کر نہیں کیے جا سکتے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ مرکز جو بھی پالیسی لائے وہ صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے بنائی جانی چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کی پالیسی مسلسل ناکام ہو رہی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس پر نظرثانی کریں، اس کا دوبارہ جائزہ لیں اور ایسی پالیسی اپنائیں جو اس مسئلے کو ختم کرنے میں مدد دے سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مرکز پر تنقید کی کہ وہ ’خیبر پختونخوا کو اس کے عوام کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ملک کی سب سے بڑی جماعت‘ ہے اور الزام لگایا کہ اسے ’کچلا‘ جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے مزید کہا: ’ہمیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ ہمارا آئینی حق ہے اور اس کے اوپر ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کے بعد جاری ہونے والا ایک بیان دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہیں ہمارا بنیادی موقف ہے،‘ انہوں نے پڑھ کر سنایا: ’امن جرگہ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کوئی بھی جماعت دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے یہ پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی ایک طویل &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275029/"&gt;&lt;strong&gt;پریس کانفرنس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ایک دن بعد کی ہے، جس میں 2021 میں پاکستان میں برسرِ اقتدار ایک سیاسی جماعت پرجو بظاہر پی ٹی آئی کی طرف اشارہ تھا  ’اندرونی طور پر دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی رہنماؤں سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔</p>
<p>اس موقع پر گوہر علی خان نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=t4I3fWHqvkQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/t4I3fWHqvkQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ درحقیقت ہمیں دہشت گردی پر ایک واحد موقف اور بیانیہ کی ضرورت ہے، پارٹی اور اس کی قیادت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔’</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا سرحدیں نہیں ہوتیں۔ وہ مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ہماری مساجد، عیدگاہوں پر حملہ کرتے ہیں اور ہم ہر ایک حملے کی مذمت کرتے ہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ پوچھنا ’نامناسب اور خطرناک‘ ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد کیوں نشانہ نہیں بنا رہے، انہوں نے کہا کہ  ’ہمارا ماننا ہے کہ جب بھی کوئی دہشت گرد حملے کی زد میں آتا ہے تو پورے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘</p>
<p>گوہر علی خان نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے تو الزامات لگانے کے لیے ٹویٹر اور پریس کانفرنسوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے، اپنے دلائل متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کی پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور اس مقصد کے لیے 40 ارب روپے بھی خرچ کیے۔</p>
<p>چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اپنے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اس کے باوجود ہمیں قصوروار ٹھہرانا، پریس کانفرنسیں کرنا اور ہمیں نشانہ بنانا خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے، جو اس وقت قوم کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ اگلی بار ہمیں ایسی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ ہمارے خلاف بھی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔‘</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزامات کو ’افسوسناک‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ نہیں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’صرف ایک بے وقوف ہی دہشت گردوں سے ہمدردی رکھ سکتا ہے۔‘</p>
<p>فوجی آپریشنز کے معاملے پر پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور معصوم لوگوں کی نقل مکانی اور شہادت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ’ایکشن پلان طے کرنے میں تعاون کے ساتھ کام کرنے‘ کی پیشکش کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں امن جرگہ منعقد کیا، جہاں ’خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں، علماء اور دانشوروں نے متفقہ طور پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی غلط ہے۔‘</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے کہا کہ  پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو عوام اور ریاستی ادارے کے درمیان ’خلیج‘ کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی ایک قومی مقصد کے لیے عوام اور اداروں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔‘</p>
<p>سلمان اکرم راجا نے یہ موقف بھی دہرایا کہ ’کوئی بھی مذاکرات چاہے وہ دہشت گردی کے بارے میں ہوں یا کسی اور معاملے پر، عمران خان کو باہر رکھ کر نہیں کیے جا سکتے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ مرکز جو بھی پالیسی لائے وہ صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے بنائی جانی چاہیے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کی پالیسی مسلسل ناکام ہو رہی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس پر نظرثانی کریں، اس کا دوبارہ جائزہ لیں اور ایسی پالیسی اپنائیں جو اس مسئلے کو ختم کرنے میں مدد دے سکے۔‘</p>
<p>انہوں نے مرکز پر تنقید کی کہ وہ ’خیبر پختونخوا کو اس کے عوام کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔‘</p>
<p>اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ملک کی سب سے بڑی جماعت‘ ہے اور الزام لگایا کہ اسے ’کچلا‘ جا رہا ہے۔</p>
<p>اسد قیصر نے مزید کہا: ’ہمیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ ہمارا آئینی حق ہے اور اس کے اوپر ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔‘</p>
<p>اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کے بعد جاری ہونے والا ایک بیان دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہیں ہمارا بنیادی موقف ہے،‘ انہوں نے پڑھ کر سنایا: ’امن جرگہ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘</p>
<p>اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کوئی بھی جماعت دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہی۔‘</p>
<p>پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے یہ پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی ایک طویل <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275029/"><strong>پریس کانفرنس</strong></a> کے ایک دن بعد کی ہے، جس میں 2021 میں پاکستان میں برسرِ اقتدار ایک سیاسی جماعت پرجو بظاہر پی ٹی آئی کی طرف اشارہ تھا  ’اندرونی طور پر دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275053</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 16:52:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0816465934ff796.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0816465934ff796.webp"/>
        <media:title>’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی کابینہ نے پیٹرول ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں اضافے کی منظوری روک دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275047/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:&lt;/strong&gt; وفاقی کابینہ نے ڈیلرز کمیشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں اس اضافے کو روک دیا ہے جس کی منظوری گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965752"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق باخبر ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر 24-2023 اور 25-2024 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کے اشاریہ) کے مطابق 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافے کی حد مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجن میں آدھا اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا، جس پر پیٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے تحت ای سی سی نے دو برابر اقساط میں او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی تھی۔ او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر کا پہلا اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں پر نظرثانی کے ساتھ نافذ ہونا تھا۔ اس سے فوری طور پر او ایم سیز کا مارجن 8.48 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز کا مارجن بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا مساوی اضافہ یکم جون 2026 کو نافذ ہونا تھا، جو ان کے سیلز اور اسٹاک نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن اور سرکاری اداروں جیسے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور یپٹرولیم ڈویژن کے ساتھ لائیو رابطے سے مشروط تھا۔ اس اضافے کے ساتھ او ایم سیز 9.10 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز ہر لیٹر کی فروخت پر تقریباً 9.98 روپے وصول کرتے۔ اس وقت او ایم سیز کو 7.87 روپے اور ڈیلرز کو 8.64 روپے فی لیٹر ادا کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومت نے 15 اور 31 دسمبر کو قیمتوں میں ہونے والی دو سہ ماہی نظرثانی کے دوران ڈیلرز اور او ایم سیز کے لیے شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی حالانکہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم جو پیداوار سے کھپت تک پورے پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’ڈیجیٹل پاکستان انیشیٹو‘ کو ذاتی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے ریٹیل مارجن میں دو مرحلہ وار اضافے کی مخالفت کی اور ای سی سی کے فیصلے کے نفاذ کو 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے جوڑ دیا جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قانون کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد درآمد اور پیداوار کے مرحلے سے لے کر اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فروخت تک تمام پٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نگرانی کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ اور ملاوٹ کو کم کیا جا سکے، جس سے ماحول اور انجن کی خرابی کے علاوہ سالانہ 300 سے 500 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی پر مبنی ٹریکنگ کے لیے نئی دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل اور پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام مقامی ریفائنریز اور بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انفرادی طور پر اور اپنے مشترکہ فورمز سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سرحدوں اور پیداوار و فروخت کے مقامی مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:</strong> وفاقی کابینہ نے ڈیلرز کمیشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں اس اضافے کو روک دیا ہے جس کی منظوری گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی تھی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965752"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق باخبر ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔</p>
<p>9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>ای سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر 24-2023 اور 25-2024 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کے اشاریہ) کے مطابق 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافے کی حد مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجن میں آدھا اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا، جس پر پیٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا‘۔</p>
<p>اس فیصلے کے تحت ای سی سی نے دو برابر اقساط میں او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی تھی۔ او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر کا پہلا اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں پر نظرثانی کے ساتھ نافذ ہونا تھا۔ اس سے فوری طور پر او ایم سیز کا مارجن 8.48 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز کا مارجن بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا۔</p>
<p>دوسرا مساوی اضافہ یکم جون 2026 کو نافذ ہونا تھا، جو ان کے سیلز اور اسٹاک نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن اور سرکاری اداروں جیسے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور یپٹرولیم ڈویژن کے ساتھ لائیو رابطے سے مشروط تھا۔ اس اضافے کے ساتھ او ایم سیز 9.10 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز ہر لیٹر کی فروخت پر تقریباً 9.98 روپے وصول کرتے۔ اس وقت او ایم سیز کو 7.87 روپے اور ڈیلرز کو 8.64 روپے فی لیٹر ادا کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم حکومت نے 15 اور 31 دسمبر کو قیمتوں میں ہونے والی دو سہ ماہی نظرثانی کے دوران ڈیلرز اور او ایم سیز کے لیے شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی حالانکہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم جو پیداوار سے کھپت تک پورے پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’ڈیجیٹل پاکستان انیشیٹو‘ کو ذاتی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے ریٹیل مارجن میں دو مرحلہ وار اضافے کی مخالفت کی اور ای سی سی کے فیصلے کے نفاذ کو 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے جوڑ دیا جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔</p>
<p>یہ اقدام گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قانون کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد درآمد اور پیداوار کے مرحلے سے لے کر اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فروخت تک تمام پٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نگرانی کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ اور ملاوٹ کو کم کیا جا سکے، جس سے ماحول اور انجن کی خرابی کے علاوہ سالانہ 300 سے 500 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی پر مبنی ٹریکنگ کے لیے نئی دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل اور پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔</p>
<p>تمام مقامی ریفائنریز اور بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انفرادی طور پر اور اپنے مشترکہ فورمز سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سرحدوں اور پیداوار و فروخت کے مقامی مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275047</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 12:37:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0813121365c5fce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0813121365c5fce.webp"/>
        <media:title>وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔فوٹو: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275043/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے  یہ بات چین کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں  محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر ژیاؤ ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے کہا کہ چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چینی شہری پاکستان میں متعدد بار حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کے ڈیٹا کے مطابق 2021 سے دسمبر 2024 تک دہشت گردانہ حملوں میں 20 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معلومات اُس وقت شیئر کی گئی تھیں جب ایک سیکیورٹی گارڈ نے کراچی میں دو چینی شہریوں پر فائرنگ کی، جس سے دونوں زخمی ہوئے۔ اکتوبر 2024 میں کراچی ائرپورٹ پر بم دھماکے میں دو چینی انجینئر ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی 2024 میں کہا تھا کہ حکومت چینی شہریوں کے لیے محفوظ اور کاروباری ماحول قائم کرنے کے لیے ان کی سیکیورٹی بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، سی پیک کے تناظر میں چینی شہریوں کی حفاظت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور تمام ائیرپورٹس پر ترجیحی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" href="#سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دونوں فریقین نے سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کا رشتہ ہے اور انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ ہوگی اور سال میں ایک بار وزارتی سطح کی ملاقات ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژیاؤ ہونگ نے بھی پاکستان میں ہر سطح پر تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں، انہوں نے محسن نقوی اور ان کے وفد کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کی میزبانی بھی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے  یہ بات چین کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں  محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہے۔</p>
<p>ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2008820062338326933?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008820062338326933%7Ctwgr%5E44a0aa8424e3add4f127a4d51f48b6acb92d0d9c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965630"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ملاقات میں دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔</p>
<p>محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر ژیاؤ ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے کہا کہ چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ چینی شہری پاکستان میں متعدد بار حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کے ڈیٹا کے مطابق 2021 سے دسمبر 2024 تک دہشت گردانہ حملوں میں 20 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔</p>
<p>یہ معلومات اُس وقت شیئر کی گئی تھیں جب ایک سیکیورٹی گارڈ نے کراچی میں دو چینی شہریوں پر فائرنگ کی، جس سے دونوں زخمی ہوئے۔ اکتوبر 2024 میں کراچی ائرپورٹ پر بم دھماکے میں دو چینی انجینئر ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی 2024 میں کہا تھا کہ حکومت چینی شہریوں کے لیے محفوظ اور کاروباری ماحول قائم کرنے کے لیے ان کی سیکیورٹی بڑھا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، سی پیک کے تناظر میں چینی شہریوں کی حفاظت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور تمام ائیرپورٹس پر ترجیحی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" href="#سائبر-کرائم-کی-روک-تھام-میں-تعاون" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون</h3>
<p>ملاقات میں دونوں فریقین نے سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات کی۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کا رشتہ ہے اور انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔</p>
<p>ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ ہوگی اور سال میں ایک بار وزارتی سطح کی ملاقات ہوگی۔</p>
<p>محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔</p>
<p>ژیاؤ ہونگ نے بھی پاکستان میں ہر سطح پر تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں، انہوں نے محسن نقوی اور ان کے وفد کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کی میزبانی بھی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275043</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 16:40:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07164041fb07e75.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07164041fb07e75.webp"/>
        <media:title>دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ پبلک سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرادی گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275038/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اڈیالہ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان ملاقات 45 منٹ  تک جاری رہی، ملاقات گزشتہ روز کانفرنس روم میں کرائی گئی، دونوں نے ایک دوسرے سے حال دریافت کیا اور مقدمات پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیل ذرائع  کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرائی گئی تھی، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات جیل قوانین کے مطابق کرائی جاتی ہے تاہم بیرون جیل سے کسی عزیز ، رشتہ دار یا رہنما کو ان دونوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے کچھ ضروری سامان گزشتہ روز جیل انتظامیہ نے وصول کیا تھا، ضروری سامان میں کمبل، گرم کپڑے، میوہ جات، کھجوریں اور دیگر سامان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 20 دسمبر کو خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیس مئی 2021 میں سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت پر خریداری سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا جیولری سیٹ محض 2 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں 14 سال قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی۔</p>
<p>اڈیالہ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان ملاقات 45 منٹ  تک جاری رہی، ملاقات گزشتہ روز کانفرنس روم میں کرائی گئی، دونوں نے ایک دوسرے سے حال دریافت کیا اور مقدمات پر گفتگو ہوئی۔</p>
<p>جیل ذرائع  کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرائی گئی تھی، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات جیل قوانین کے مطابق کرائی جاتی ہے تاہم بیرون جیل سے کسی عزیز ، رشتہ دار یا رہنما کو ان دونوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے کچھ ضروری سامان گزشتہ روز جیل انتظامیہ نے وصول کیا تھا، ضروری سامان میں کمبل، گرم کپڑے، میوہ جات، کھجوریں اور دیگر سامان تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 20 دسمبر کو خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p>یہ کیس مئی 2021 میں سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت پر خریداری سے متعلق ہے۔</p>
<p>عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا جیولری سیٹ محض 2 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔</p>
<p>عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں 14 سال قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275038</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:05:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07135544938ad72.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07135544938ad72.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا گیس مہنگی کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی مزید بڑھانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275034/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965589/goverment-mulls-fuel-levy-hike-to-aid-gas-sector"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق منگل کو رکن قومی اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس  میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے تصدیق کی کہ گیس کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، البتہ انہوں نے تجویز کی تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لیے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118 روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لیے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور گیس چوری و نقصانات کم کرنے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ زائد ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام طے پا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بجلی کے شعبے کے مقابلے میں بھی بڑا ہو چکا ہے اور پوچھا کہ کیا پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر لیوی کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے۔ جس کا وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ گیس گردشی قرضے پر تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی غیر حساب شدہ گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی کے مطابق اس کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اور نقصانات اکثر ملی بھگت سے ہوتے ہیں، جس پر وزیر نے بتایا کہ نگرانی سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی دی جا رہی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر یومیہ 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر کے مطابق اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی اشاریاتی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، جن میں نیٹ ورک کے آخری سروں پر ٹاؤن بارڈر اسٹیشنز شامل ہیں، دباؤ میں کمی کی صورت میں خودکار الرٹس جاری کر رہے ہیں، جس سے حقیقی وقت میں کنٹرول اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی استعداد بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965589/goverment-mulls-fuel-levy-hike-to-aid-gas-sector"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق منگل کو رکن قومی اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس  میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے۔</p>
<p>وزیر نے تصدیق کی کہ گیس کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، البتہ انہوں نے تجویز کی تردید نہیں کی۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لیے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118 روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لیے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور گیس چوری و نقصانات کم کرنے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ زائد ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام طے پا گیا ہے۔</p>
<p>رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بجلی کے شعبے کے مقابلے میں بھی بڑا ہو چکا ہے اور پوچھا کہ کیا پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر لیوی کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے۔ جس کا وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ گیس گردشی قرضے پر تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔</p>
<p>سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی غیر حساب شدہ گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>ایس ایس جی سی کے مطابق اس کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اور نقصانات اکثر ملی بھگت سے ہوتے ہیں، جس پر وزیر نے بتایا کہ نگرانی سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی دی جا رہی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر یومیہ 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔</p>
<p>وزیر کے مطابق اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی اشاریاتی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، جن میں نیٹ ورک کے آخری سروں پر ٹاؤن بارڈر اسٹیشنز شامل ہیں، دباؤ میں کمی کی صورت میں خودکار الرٹس جاری کر رہے ہیں، جس سے حقیقی وقت میں کنٹرول اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی استعداد بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275034</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 11:58:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/071149392accd9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="840" width="1400">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/071149392accd9d.webp"/>
        <media:title>پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے۔ فوٹو:پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ترجمان پاک فوج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275029/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=6acszs_H8aM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/6acszs_H8aM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج (منگل کو) سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں گزشتہ سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778  اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" href="#2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’2021 میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے، پریس کانفرنس میں گرفتار کیے گئے ان افغان شہریوں کے ویڈیو بیانات بھی سنائے گئے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کا اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے،  یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانوں نے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2021 میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کی اور ان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ وہاں افغانستان میں ایک بڑی بساط بچھائی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اشارہ اُس وقت کی پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب آپ دہشت گردوں کو اتنی گنجائش اور وسائل فراہم کرتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 2023 میں ریاست نے ان کے خلاف کھڑا ہونا شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وضاحت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" href="#وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے،  یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا  کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=6acszs_H8aM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/6acszs_H8aM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج (منگل کو) سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں.</p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں گزشتہ سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778  اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0/fef3cbfa-419a-4fc2-9421-8d08788c5c7f1767692676-0.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.tribune.com.pk/media/images/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0/8e84f68d-9d87-4785-9aae-a2f7e0318ede1767692999-0.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<h2><a id="2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" href="#2021-میں-برسراقتدار-سیاسی-جماعت-نے-دہشتگردوں-کو-سہولت-فراہم-کی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’2021 میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی‘</h2>
<p>انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے، پریس کانفرنس میں گرفتار کیے گئے ان افغان شہریوں کے ویڈیو بیانات بھی سنائے گئے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کا اعتراف کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے،  یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانوں نے کیے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2021 میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کی اور ان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ وہاں افغانستان میں ایک بڑی بساط بچھائی جا رہی تھی۔</p>
<p>یہ اشارہ اُس وقت کی پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب آپ دہشت گردوں کو اتنی گنجائش اور وسائل فراہم کرتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ نظر آتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 2023 میں ریاست نے ان کے خلاف کھڑا ہونا شروع کیا۔</p>
<p>انہوں نے 2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے۔</p>
<p>اس وضاحت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔</p>
<h2><a id="وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" href="#وزیراعلیٰ-خیبر-پختونخوا-کا-بیانیہ-کھل-کر-سامنے-آگیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا‘</h2>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے،  یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا  کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔</p>
<p>انہوں  نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔</p>
<p>اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔</p>
<p>انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275029</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 18:43:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/061412520ca51b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/061412520ca51b6.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تنقید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275027/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے دو سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم بھی اسی طرح عجلت میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں منظور کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل بدل دی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان شامل کیے گئے اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا، جس سے ججوں کی تقرری کے عمل کے سیاسی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات اور صدر کی جانب سے بھیجے گئے اہم آئینی سوالات پر رائے دینے کا اختیار نئے قائم کردہ آئینی بینچز کو منتقل کیا گیا، اور ان بینچز کو آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام کے ایک سال بعد ہی 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ ختم کر کے ایک الگ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" href="#عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عدلیہ پر حملے پر تشویش&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم ایسے ماحول میں لائی گئیں جب عدلیہ پر حملوں اور دباؤ کے حوالے سے سنگین خدشات موجود تھے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں متعدد ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کی شکایات کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا حوالہ بھی دیا جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھا گیا تھا، جس میں خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات، خفیہ ادارے کی جانب سے دباؤ، ججوں کے اہل خانہ کے اغوا اور گھروں میں نگرانی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے بتایا کہ بعد ازاں اس معاملے پر سپریم کورٹ نے متعلقہ ہائیکورٹس سے جواب طلب کیا، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ عدالتی معاملات میں انتظامیہ کی مداخلت ایک کھلا راز ہے اور ججوں کو سیاسی مقدمات کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ آن لائن اور جسمانی سطح پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے اپریل 2024 کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے متعدد ججوں کو مشتبہ پاؤڈر والے خطوط موصول ہوئے۔ اسی ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف آن لائن کردار کشی کی مہم بھی چلائی گئی، جو اس کھلے خط کے دستخط کنندگان میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مارچ 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک گمنام شکایت دائر کی گئی جس میں ان پر جانبداری اور اقربا پروری کے الزامات لگائے گئے تاہم اس شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یاد دلایا کہ خط پر دستخط کرنے والے ایک اور جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دسمبر 2025 میں ان کی قانون کی ڈگری کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جسٹس جہانگیری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی آئینی طریقہ کار کے بغیر کی گئی اور کیس سننے والے بینچ میں مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="عجلت-میں-منظوری" href="#عجلت-میں-منظوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عجلت میں منظوری&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی 27ویں ترمیم کو عجلت میں منظور شدہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی منظوری کے عمل میں قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے وسیع مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ترمیم کی تیزی سے منظوری اور بامعنی مشاورت کے فقدان پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق ترمیم کا مسودہ 8 نومبر کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہی منظر عام پر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر سول سوسائٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کو رائے دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ترمیم ایسے وقت میں منظور کی گئی جب پارلیمنٹ کی تشکیل خود متنازع تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق اپوزیشن کے متعدد رہنما عمران خان کی 9 مئی 2023 کو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے سزاؤں کے باعث نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا تو پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا اتحاد 114 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم کے بعد قائم آئینی بینچ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور جون 2025 میں بینچ نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔ بعد ازاں یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن میں تقسیم کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" href="#وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سنگین نتائج&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا کہ اس نئے عدالتی ڈھانچے کے قیام سے انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق مقدمات اب اسی نئی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی توثیق اور نظرثانی کا اختیار جو اس سے قبل سپریم کورٹ کے پاس تھا، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی آرٹیکل تنظیم سازی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ حکومت ماضی میں کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی بھی پی ٹی آئی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کی واضح حد بندی نہ ہونے سے یہ ابہام پیدا ہو گیا ہے کہ کون سا مقدمہ کس فورم پر سنا جائے گا، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے اور اس کا براہ راست نقصان سائلین کو پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ نئی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کی پابند نہیں ہو گی، اس لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے مزید انتشار پیدا ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ عدالت کے پہلے ججوں کا تقرر براہ راست انتظامیہ نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر کی، جس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا طریقہ کار مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تقرریاں انتظامیہ کی براہ راست سیاسی مداخلت کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل کے باعث مستقبل کی تقرریوں پر بھی خدشات برقرار ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد عدالتی ارکان سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں وہ آئندہ تمام تقرریوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے عدلیہ و وکلا کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب قوانین کے تحت سیاسی اداروں کو حساس سیاسی مقدمات سننے والے ججوں کے انتخاب میں شامل کیا جائے تو عدالت پر قبضے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کے مطابق صدرمملکت کو نئی عدالت میں ججوں کی تعداد مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے، جس سے حکمران حکومت ناپسندیدہ سمجھے جانے والے ججوں کی موجودگی میں عدالت کی ساخت تبدیل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے کہا کہ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور پہلے چار ججوں نے 14 نومبر 2025 کو حلف اٹھایا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت بعد تھا اور ان تقرریوں کے لیے کوئی معیار یا جواز پیش نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ تنظیم کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کو ججوں کے تبادلے کا مطلق اختیار دے دیا گیا ہے جس کے لیے محض جوڈیشل کمیشن کی سفارش درکار ہے اور اس انتظامیہ پر مبنی اختیار کے باعث ججوں کے تبادلے کو سزا کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے ججوں کے خلاف جو حکومتی مؤقف کے خلاف فیصلے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے مزید کہا کہ ترمیم کے تحت تبادلہ قبول نہ کرنے والے جج کو معطل کر کے اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے، جسے اب آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ایسے جج کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق یہ اقدام عدلیہ کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت جج کو صرف نااہلی یا ایسے طرزِ عمل کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے جو اسے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" href="#تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تاحیات استثنیٰ پر شدید اعتراض&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا کہ یہ استثنیٰ انٹرنیشنل کونوینٹ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 26 کے تحت قانون کے تحت مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جبکہ آرٹیکل 2(3) کے تحت قانونی چارہ جوئی کے حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں محدود استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے تاہم جنگی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق استثنیٰ صرف ’سرکاری کارروائیوں‘  تک محدود ہوتا ہے جبکہ سنگین بین الاقوامی جرائم کو سرکاری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 27ویں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز فوجی افسران کو قومی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار وہی رکھا گیا ہے جو صدرِ مملکت کے مواخذے کے لیے آئین کے آرٹیکل 47 میں درج ہے، جس کے لیے جسمانی یا ذہنی نااہلی، آئین کی خلاف ورزی یا سنگین بدعنوانی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔</p>
<p>منگل کو جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔</p>
<p>تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/amnestysasia/status/2008419656030449828?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008419656030449828%7Ctwgr%5Eb0553856460008d01be130a5cdaacc48f335639d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965443"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔</p>
<p>عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔</p>
<p>تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے دو سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دیا۔</p>
<p>عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔</p>
<p>ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم بھی اسی طرح عجلت میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں منظور کی گئی تھی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل بدل دی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان شامل کیے گئے اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا، جس سے ججوں کی تقرری کے عمل کے سیاسی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات اور صدر کی جانب سے بھیجے گئے اہم آئینی سوالات پر رائے دینے کا اختیار نئے قائم کردہ آئینی بینچز کو منتقل کیا گیا، اور ان بینچز کو آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام کے ایک سال بعد ہی 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ ختم کر کے ایک الگ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی۔</p>
<h2><a id="عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" href="#عدلیہ-پر-حملے-پر-تشویش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عدلیہ پر حملے پر تشویش</h2>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم ایسے ماحول میں لائی گئیں جب عدلیہ پر حملوں اور دباؤ کے حوالے سے سنگین خدشات موجود تھے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں متعدد ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کی شکایات کیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا حوالہ بھی دیا جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھا گیا تھا، جس میں خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات، خفیہ ادارے کی جانب سے دباؤ، ججوں کے اہل خانہ کے اغوا اور گھروں میں نگرانی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔</p>
<p>تنظیم نے بتایا کہ بعد ازاں اس معاملے پر سپریم کورٹ نے متعلقہ ہائیکورٹس سے جواب طلب کیا، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ عدالتی معاملات میں انتظامیہ کی مداخلت ایک کھلا راز ہے اور ججوں کو سیاسی مقدمات کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ آن لائن اور جسمانی سطح پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے اپریل 2024 کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے متعدد ججوں کو مشتبہ پاؤڈر والے خطوط موصول ہوئے۔ اسی ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف آن لائن کردار کشی کی مہم بھی چلائی گئی، جو اس کھلے خط کے دستخط کنندگان میں شامل تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مارچ 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک گمنام شکایت دائر کی گئی جس میں ان پر جانبداری اور اقربا پروری کے الزامات لگائے گئے تاہم اس شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ نہیں دیا۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یاد دلایا کہ خط پر دستخط کرنے والے ایک اور جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دسمبر 2025 میں ان کی قانون کی ڈگری کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جسٹس جہانگیری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی آئینی طریقہ کار کے بغیر کی گئی اور کیس سننے والے بینچ میں مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔</p>
<h2><a id="عجلت-میں-منظوری" href="#عجلت-میں-منظوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عجلت میں منظوری</h2>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی 27ویں ترمیم کو عجلت میں منظور شدہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی منظوری کے عمل میں قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے وسیع مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>تنظیم نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ترمیم کی تیزی سے منظوری اور بامعنی مشاورت کے فقدان پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق ترمیم کا مسودہ 8 نومبر کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہی منظر عام پر آیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر سول سوسائٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کو رائے دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔</p>
<p>بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ترمیم ایسے وقت میں منظور کی گئی جب پارلیمنٹ کی تشکیل خود متنازع تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق اپوزیشن کے متعدد رہنما عمران خان کی 9 مئی 2023 کو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے سزاؤں کے باعث نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا تو پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا اتحاد 114 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن جاتا۔</p>
<p>تاہم ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم کے بعد قائم آئینی بینچ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور جون 2025 میں بینچ نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔ بعد ازاں یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن میں تقسیم کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔</p>
<h2><a id="وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" href="#وفاقی-آئینی-عدالت-کے-قیام-کے-سنگین-نتائج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سنگین نتائج</h2>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا کہ اس نئے عدالتی ڈھانچے کے قیام سے انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق مقدمات اب اسی نئی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی توثیق اور نظرثانی کا اختیار جو اس سے قبل سپریم کورٹ کے پاس تھا، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی آرٹیکل تنظیم سازی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ حکومت ماضی میں کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی بھی پی ٹی آئی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کی واضح حد بندی نہ ہونے سے یہ ابہام پیدا ہو گیا ہے کہ کون سا مقدمہ کس فورم پر سنا جائے گا، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے اور اس کا براہ راست نقصان سائلین کو پہنچے گا۔</p>
<p>تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ نئی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کی پابند نہیں ہو گی، اس لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے مزید انتشار پیدا ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ عدالت کے پہلے ججوں کا تقرر براہ راست انتظامیہ نے کیا۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر کی، جس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا طریقہ کار مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تقرریاں انتظامیہ کی براہ راست سیاسی مداخلت کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل کے باعث مستقبل کی تقرریوں پر بھی خدشات برقرار ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد عدالتی ارکان سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں وہ آئندہ تمام تقرریوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>تنظیم نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے عدلیہ و وکلا کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب قوانین کے تحت سیاسی اداروں کو حساس سیاسی مقدمات سننے والے ججوں کے انتخاب میں شامل کیا جائے تو عدالت پر قبضے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی کے مطابق صدرمملکت کو نئی عدالت میں ججوں کی تعداد مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے، جس سے حکمران حکومت ناپسندیدہ سمجھے جانے والے ججوں کی موجودگی میں عدالت کی ساخت تبدیل کر سکتی ہے۔</p>
<p>تنظیم نے کہا کہ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور پہلے چار ججوں نے 14 نومبر 2025 کو حلف اٹھایا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت بعد تھا اور ان تقرریوں کے لیے کوئی معیار یا جواز پیش نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ تنظیم کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کو ججوں کے تبادلے کا مطلق اختیار دے دیا گیا ہے جس کے لیے محض جوڈیشل کمیشن کی سفارش درکار ہے اور اس انتظامیہ پر مبنی اختیار کے باعث ججوں کے تبادلے کو سزا کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے ججوں کے خلاف جو حکومتی مؤقف کے خلاف فیصلے دیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے مزید کہا کہ ترمیم کے تحت تبادلہ قبول نہ کرنے والے جج کو معطل کر کے اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے، جسے اب آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ایسے جج کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق یہ اقدام عدلیہ کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت جج کو صرف نااہلی یا ایسے طرزِ عمل کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے جو اسے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رکھے۔</p>
<h2><a id="تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" href="#تاحیات-استثنیٰ-پر-شدید-اعتراض" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تاحیات استثنیٰ پر شدید اعتراض</strong></h2>
<p>ایمنسٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ استثنیٰ انٹرنیشنل کونوینٹ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 26 کے تحت قانون کے تحت مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جبکہ آرٹیکل 2(3) کے تحت قانونی چارہ جوئی کے حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں محدود استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے تاہم جنگی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق استثنیٰ صرف ’سرکاری کارروائیوں‘  تک محدود ہوتا ہے جبکہ سنگین بین الاقوامی جرائم کو سرکاری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 27ویں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز فوجی افسران کو قومی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار وہی رکھا گیا ہے جو صدرِ مملکت کے مواخذے کے لیے آئین کے آرٹیکل 47 میں درج ہے، جس کے لیے جسمانی یا ذہنی نااہلی، آئین کی خلاف ورزی یا سنگین بدعنوانی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275027</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 14:01:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06131459868450b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06131459868450b.webp"/>
        <media:title>ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275007/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965004/pia-privatisation-challenged-in-lahore-high-court"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیاب بولی حکومت کی مقررہ قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ کنسورشیم نے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا عمل، بالخصوص 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اس کے بعد 23 دسمبر کو کی گئی فروخت، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ 23 دسمبر کا اقدام پی آئی اے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت نے ای او آئی جاری کرتے وقت اس قانونی پہلو کو نظرانداز کیا کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نجکاری ممکن نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274916'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2016 کے ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے تحت کسی بھی قسم کی تنظیم نو یا اثاثوں کی منتقلی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے اندر ہی رہنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پی آئی اے میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں، اس لیے اسے کسی نجی گروپ کو فروخت کرنا ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق نجکاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے پی آئی اے کو غلط طور پر قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ اس کی مالیت مجموعی نقصانات یعنی تقریباً 800 ارب روپے سے پانچ گنا کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پی آئی اے کو حکومت کی جانب سے گرانٹس یا سبسڈیز نہیں دی جا رہیں بلکہ مالی مشکلات کی وجہ قرضوں کی ادائیگی، بدانتظامی اور پالیسی ناکامیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ اثاثے کی فروخت کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار اختیارات کے ناجائز استعمال، شفافیت کے فقدان اور من مانے فیصلوں کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2023 کو پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس کی شق 28 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا، اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہ درخواست بولی دہندگان کے درمیان نجی تنازع نہیں بلکہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کی عدالتوں میں نمائندگی کے حوالے سے معروف ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اٹھانے پر انہیں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 23 دسمبر 2025 کو طے پانے والے معاہدے سمیت پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید تمام اقدامات معطل کیے جائیں، مئی 2025 کے ای او آئی کے تحت ہونے والی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے اور اگر کسی قسم کی تنظیم نو ناگزیر ہو تو اسے مکمل طور پر سرکاری ملکیت کے اداروں تک محدود رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965004/pia-privatisation-challenged-in-lahore-high-court"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p>درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ کامیاب بولی حکومت کی مقررہ قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ کنسورشیم نے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا عمل، بالخصوص 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اس کے بعد 23 دسمبر کو کی گئی فروخت، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ 23 دسمبر کا اقدام پی آئی اے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت نے ای او آئی جاری کرتے وقت اس قانونی پہلو کو نظرانداز کیا کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نجکاری ممکن نہیں تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274916'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2016 کے ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے تحت کسی بھی قسم کی تنظیم نو یا اثاثوں کی منتقلی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے اندر ہی رہنی چاہیے۔</p>
<p>درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پی آئی اے میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں، اس لیے اسے کسی نجی گروپ کو فروخت کرنا ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق نجکاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے پی آئی اے کو غلط طور پر قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ اس کی مالیت مجموعی نقصانات یعنی تقریباً 800 ارب روپے سے پانچ گنا کم ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پی آئی اے کو حکومت کی جانب سے گرانٹس یا سبسڈیز نہیں دی جا رہیں بلکہ مالی مشکلات کی وجہ قرضوں کی ادائیگی، بدانتظامی اور پالیسی ناکامیاں ہیں۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ اثاثے کی فروخت کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار اختیارات کے ناجائز استعمال، شفافیت کے فقدان اور من مانے فیصلوں کے مترادف ہے۔</p>
<p>ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2023 کو پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس کی شق 28 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا، اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہ درخواست بولی دہندگان کے درمیان نجی تنازع نہیں بلکہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔</p>
<p>ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کی عدالتوں میں نمائندگی کے حوالے سے معروف ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اٹھانے پر انہیں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 23 دسمبر 2025 کو طے پانے والے معاہدے سمیت پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p>ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید تمام اقدامات معطل کیے جائیں، مئی 2025 کے ای او آئی کے تحت ہونے والی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے اور اگر کسی قسم کی تنظیم نو ناگزیر ہو تو اسے مکمل طور پر سرکاری ملکیت کے اداروں تک محدود رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275007</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:54:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/04134642cf698fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/04134642cf698fb.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اپنی دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کے کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274993/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایک بار پھر ایک ایسے ہمسایہ ملک کے طور پر اپنے تشویشناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دفتر خارجہ کے بیان میں بھارتی وزیر کے ریمارکس کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم یہ ردعمل اس کے بعد سامنے آیا جب بھارتی میڈیا نے جمعے کے روز جے شنکر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی بات کرتے ہوئے خراب ہمسایوں کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی ہندو کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے خراب ہمسائے ہیں اور جب خراب ہمسائے ہوں، خاص طور پر مغرب کی طرف دیکھیں، اگر کوئی ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بغیر کسی ندامت کے دہشت گردی جاری رکھے تو ہمیں اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، جو 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازع بن چکا ہے اور جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا، کہا کہ کئی سال پہلے ہم نے پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ اس نیت سے کیا کہ یہ خیرسگالی کا اظہار ہوگا اور اچھے ہمسائیگی کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا، لیکن اگر دہائیوں تک دہشت گردی ہوتی رہے تو نہ اچھے ہمسائیگی باقی رہتی ہے اور نہ ہی اس کے فوائد مل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ بھارت ایک بار پھر بطور ہمسایہ اپنے اس تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے جو دہشت گردی کے فروغ اور علاقائی عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2007347186431078670?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347186431078670%7Ctwgr%5E1ee4081b6a3707ab0d1fdf059373e9ba00e4bc41%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964861'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2007347186431078670?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347186431078670%7Ctwgr%5E1ee4081b6a3707ab0d1fdf059373e9ba00e4bc41%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964861"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق خطے میں، بالخصوص پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھارت کے دستاویزی شواہد پر مبنی کردار سے دنیا واقف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کمانڈر کلبھوشن یادھو کا کیس پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلبھوشن یادھو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ سے وابستگی اور پاکستان میں جاسوسی و دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ وہ اس وقت بھی پاکستان میں قید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک باتیں سرحد پار قتل، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے بار بار سامنے آنے والے واقعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ طرزعمل ہندوتوا کی انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنی غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کی ان کی جائز جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ اور بھاری قیمت ادا کرکے طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں خبردار کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام متاثر ہوگا اور ایک ایسے ملک کے طور پر اس کی ساکھ پر سوالات اٹھیں گے جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویٰ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ بدھ کے روز ڈھاکا میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی تدفین کے موقع پر قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مصافحہ کیا۔ مئی 2025 میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد یہ پاکستانی اور بھارتی اعلیٰ حکام کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح رابطہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایک بار پھر ایک ایسے ہمسایہ ملک کے طور پر اپنے تشویشناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ دفتر خارجہ کے بیان میں بھارتی وزیر کے ریمارکس کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم یہ ردعمل اس کے بعد سامنے آیا جب بھارتی میڈیا نے جمعے کے روز جے شنکر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی بات کرتے ہوئے خراب ہمسایوں کا ذکر کیا۔</p>
<p>دی ہندو کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے خراب ہمسائے ہیں اور جب خراب ہمسائے ہوں، خاص طور پر مغرب کی طرف دیکھیں، اگر کوئی ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بغیر کسی ندامت کے دہشت گردی جاری رکھے تو ہمیں اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، جو 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازع بن چکا ہے اور جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا، کہا کہ کئی سال پہلے ہم نے پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ اس نیت سے کیا کہ یہ خیرسگالی کا اظہار ہوگا اور اچھے ہمسائیگی کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا، لیکن اگر دہائیوں تک دہشت گردی ہوتی رہے تو نہ اچھے ہمسائیگی باقی رہتی ہے اور نہ ہی اس کے فوائد مل سکتے ہیں۔</p>
<p>ہفتے کے روز جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ بھارت ایک بار پھر بطور ہمسایہ اپنے اس تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے جو دہشت گردی کے فروغ اور علاقائی عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2007347186431078670?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347186431078670%7Ctwgr%5E1ee4081b6a3707ab0d1fdf059373e9ba00e4bc41%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964861'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2007347186431078670?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347186431078670%7Ctwgr%5E1ee4081b6a3707ab0d1fdf059373e9ba00e4bc41%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964861"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق خطے میں، بالخصوص پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھارت کے دستاویزی شواہد پر مبنی کردار سے دنیا واقف ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ کمانڈر کلبھوشن یادھو کا کیس پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔</p>
<p>کلبھوشن یادھو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ سے وابستگی اور پاکستان میں جاسوسی و دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ وہ اس وقت بھی پاکستان میں قید ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک باتیں سرحد پار قتل، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے بار بار سامنے آنے والے واقعات ہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ طرزعمل ہندوتوا کی انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنی غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کی ان کی جائز جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت حاصل کر سکیں۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ اور بھاری قیمت ادا کرکے طے پایا تھا۔</p>
<p>بیان میں خبردار کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام متاثر ہوگا اور ایک ایسے ملک کے طور پر اس کی ساکھ پر سوالات اٹھیں گے جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویٰ کرتا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ بدھ کے روز ڈھاکا میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی تدفین کے موقع پر قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مصافحہ کیا۔ مئی 2025 میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد یہ پاکستانی اور بھارتی اعلیٰ حکام کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح رابطہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274993</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 14:26:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/03141509a0dbd44.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/03141509a0dbd44.webp"/>
        <media:title>دی ہندو کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے خراب ہمسائے ہیں۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں تیز انٹرنیٹ اور 5جی کیلئے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی اگلے ماہ ہوگی، شزا فاطمہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274985/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے اور ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کے لیے اگلے ماہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی دو ماہ کے اندر منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیکٹرم کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسپیکٹرم دراصل ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3جی، 4جی اور 5جی جیسے موبائل نیٹ ورکس مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں 5جی سروس شروع ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برسوں سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ نیلامی نہ صرف 3جی اور 4جی سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5جی متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ ماضی میں سڑکوں کی طرح اب ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 600 میگا ہرٹز کی اس سطح کی کنیکٹیوٹی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیوٹی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومتی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں میں انٹرنیٹ کا کردار نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نومبر میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی کارروائی کے باعث تعطل کا شکار رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5جی کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے اور ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کے لیے اگلے ماہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی دو ماہ کے اندر منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیکٹرم کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسپیکٹرم دراصل ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3جی، 4جی اور 5جی جیسے موبائل نیٹ ورکس مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں 5جی سروس شروع ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برسوں سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ نیلامی نہ صرف 3جی اور 4جی سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5جی متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ ماضی میں سڑکوں کی طرح اب ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 600 میگا ہرٹز کی اس سطح کی کنیکٹیوٹی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیوٹی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومتی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں میں انٹرنیٹ کا کردار نہایت اہم ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ نومبر میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی کارروائی کے باعث تعطل کا شکار رہی تھی۔</p>
<p>امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5جی کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274985</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 19:12:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0218553905dbcc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0218553905dbcc4.webp"/>
        <media:title>انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عنبرین جان پیمرا کی نئی چیئرپرسن منتخب، منظوری کے بعد پہلی خاتون سربراہ ہوں گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274987/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سابق سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی نئی چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا ہے، جس کی حتمی منظوری کے بعد وہ ملک کے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر کی پہلی خاتون سربراہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پیمرا کے چیئرمین محمد سلیم بیگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جس کی صدارت شہباز بابر نے کی، پیمرا کے نئے سربراہ کے تقرر کے لیے منعقد ہوا، جس میں عنبرین جان کا انتخاب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کی متفقہ منظوری کے بعد عنبرین جان کا نام حتمی توثیق کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریڈ 22 کی سابق افسر عنبرین جان اس سے قبل سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اس عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے پانچ امیدواروں میں شامل تھیں، جن میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ انور احمد، متین حیدر، عرفان اشرف اور ڈاکٹر حامد خان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سابق سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی نئی چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا ہے، جس کی حتمی منظوری کے بعد وہ ملک کے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر کی پہلی خاتون سربراہ ہوں گی۔</p>
<p>اس وقت پیمرا کے چیئرمین محمد سلیم بیگ ہیں۔</p>
<p>پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جس کی صدارت شہباز بابر نے کی، پیمرا کے نئے سربراہ کے تقرر کے لیے منعقد ہوا، جس میں عنبرین جان کا انتخاب کیا گیا۔</p>
<p>کمیٹی کی متفقہ منظوری کے بعد عنبرین جان کا نام حتمی توثیق کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دیا گیا ہے۔</p>
<p>گریڈ 22 کی سابق افسر عنبرین جان اس سے قبل سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔</p>
<p>وہ اس عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے پانچ امیدواروں میں شامل تھیں، جن میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ انور احمد، متین حیدر، عرفان اشرف اور ڈاکٹر حامد خان شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274987</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 19:25:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0219244524f47be.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0219244524f47be.webp"/>
        <media:title>کمیٹی کی متفقہ منظوری کے بعد عنبرین جان کا نام حتمی توثیق کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دیا گیا ہے۔ فوٹو: پی ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2026 کا پہلا سپر مون 3 اور 4 جنوری کو پاکستان میں نظر آئے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274986/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق 2026 کا پہلا سپر مون، جسے روایتی طور پر وولف مون کہا جاتا ہے، 3 اور 4 جنوری کو پاکستان میں نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپر مون اس وقت بنتا ہے جب چاند اپنے بیضوی مدار میں زمین کے قریب ترین مقام پر ہوتا ہے، جس کے باعث وہ عام پورے چاند کے مقابلے میں غیرمعمولی طور پر بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے، یعنی تقریباً 14 فیصد بڑا اور لگ بھگ 30 فیصد زیادہ روشن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق پاکستان میں سپر مون 3 جنوری کی شام 5 بج کر 51 منٹ پر طلوع ہوگا، اس وقت اس کی روشنی 99.8 فیصد ہوگی، اور یہ 3 اور 4 جنوری کی راتوں میں مسلسل نظر آتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موجودہ فلکیاتی مظہر کے دوران، جو اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے سپر مون کے سلسلے کا آخری مرحلہ ہے، زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار 312 کلومیٹر ہوگا، جس کے باعث چاند عام پورے چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا اور 10 فیصد تک زیادہ روشن دکھائی دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپر مون عموماً تین سے چار مسلسل مواقع پر نظر آتے ہیں، موجودہ سلسلہ 3 جنوری کے سپر مون پر اختتام پذیر ہوگا، جبکہ اگلا سلسلہ نومبر 2026 میں شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں سپر مونز کے سلسلے کا آغاز 7 اکتوبر کو ہوا تھا، جس کے بعد 5 نومبر کو سپر مون نظر آیا جبکہ سال کا آخری سپر مون 4 اور 5 دسمبر کو پاکستان بھر میں دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق 2026 کا پہلا سپر مون، جسے روایتی طور پر وولف مون کہا جاتا ہے، 3 اور 4 جنوری کو پاکستان میں نظر آئے گا۔</p>
<p>سپر مون اس وقت بنتا ہے جب چاند اپنے بیضوی مدار میں زمین کے قریب ترین مقام پر ہوتا ہے، جس کے باعث وہ عام پورے چاند کے مقابلے میں غیرمعمولی طور پر بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے، یعنی تقریباً 14 فیصد بڑا اور لگ بھگ 30 فیصد زیادہ روشن۔</p>
<p>بیان کے مطابق پاکستان میں سپر مون 3 جنوری کی شام 5 بج کر 51 منٹ پر طلوع ہوگا، اس وقت اس کی روشنی 99.8 فیصد ہوگی، اور یہ 3 اور 4 جنوری کی راتوں میں مسلسل نظر آتا رہے گا۔</p>
<p>اس موجودہ فلکیاتی مظہر کے دوران، جو اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے سپر مون کے سلسلے کا آخری مرحلہ ہے، زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار 312 کلومیٹر ہوگا، جس کے باعث چاند عام پورے چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا اور 10 فیصد تک زیادہ روشن دکھائی دے گا۔</p>
<p>سپر مون عموماً تین سے چار مسلسل مواقع پر نظر آتے ہیں، موجودہ سلسلہ 3 جنوری کے سپر مون پر اختتام پذیر ہوگا، جبکہ اگلا سلسلہ نومبر 2026 میں شروع ہوگا۔</p>
<p>2025 میں سپر مونز کے سلسلے کا آغاز 7 اکتوبر کو ہوا تھا، جس کے بعد 5 نومبر کو سپر مون نظر آیا جبکہ سال کا آخری سپر مون 4 اور 5 دسمبر کو پاکستان بھر میں دیکھا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274986</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 19:18:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/02191519e4f307c.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/02191519e4f307c.webp"/>
        <media:title>سپر مون عموماً تین سے چار مسلسل مواقع پر نظر آتے ہیں، اور موجودہ سلسلہ 3 جنوری کے سپر مون پر اختتام پذیر ہوگا، جبکہ اگلا سلسلہ نومبر 2026 میں شروع ہوگا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی قانون سازی کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274982/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کی منظوری دے دی گئی جس کے بعد دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے، آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد میں وارڈز کی تعداد بڑھائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت آج جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے وفاقی کابینہ کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 3 دسمبر اور 30 دسمبر کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈینینس 2025 سے متعلق کارروائی کی توثیق کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست کے اجلاس کے فیصلوں اور آف گرڈ لیوی سے متعلق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف دینے کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پی-آئی-کی-نیلامی-شفاف-تھی-وزیراعظم" href="#پی-آئی-کی-نیلامی-شفاف-تھی-وزیراعظم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پی آئی کی نیلامی شفاف تھی، وزیراعظم&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری انتہائی کامیابی سے طے پائی، پی آئی اے کی بڈنگ کا عمل انتہائی شفاف رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ عزم کیا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، پی آئی اے کی نجکاری اس حوالے سے انتہائی اہم سنگ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے وژن کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ خوش آئند ہے۔ ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کے صدر سے حالیہ ملاقاتیں دو طرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے تناظر میں انتہائی مفید رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر خوشگوار بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کی منظوری دے دی گئی جس کے بعد دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہوگئے۔</p>
<p>وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے، آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد میں وارڈز کی تعداد بڑھائی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت آج جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے وفاقی کابینہ کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 3 دسمبر اور 30 دسمبر کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔</p>
<p>اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈینینس 2025 سے متعلق کارروائی کی توثیق کی گئی۔</p>
<p>وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست کے اجلاس کے فیصلوں اور آف گرڈ لیوی سے متعلق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف دینے کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔</p>
<h2><a id="پی-آئی-کی-نیلامی-شفاف-تھی-وزیراعظم" href="#پی-آئی-کی-نیلامی-شفاف-تھی-وزیراعظم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پی آئی کی نیلامی شفاف تھی، وزیراعظم</h2>
<p>اجلاس سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری انتہائی کامیابی سے طے پائی، پی آئی اے کی بڈنگ کا عمل انتہائی شفاف رہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ عزم کیا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، پی آئی اے کی نجکاری اس حوالے سے انتہائی اہم سنگ میل ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے وژن کا حصہ ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ خوش آئند ہے۔ ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کے صدر سے حالیہ ملاقاتیں دو طرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے تناظر میں انتہائی مفید رہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر خوشگوار بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274982</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 14:27:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0214243764075ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0214243764075ee.webp"/>
        <media:title>وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے، آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد میں وارڈز کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی ڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجا، صابر شاکر، معید پیرزادہ، وجاہت سعید اور حیدر مہدی کو عمر قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274980/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں یوٹیوبر عادل راجا، صحافی وجاہت سعید خان، صابر شاکر اور شاہین صہبائی، اینکر پرسن حیدر رضا مہدی، تجزیہ کار معید پیرزادہ اور سابق فوجی افسر اکبر حسین کو دو، دو عمر قید کی سزائیں سنا دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فسادات 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹ پڑے تھے، جن کے دوران سرکاری اور فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استغاثہ کے مطابق سزا پانے والے افراد پر 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے الزامات تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1202452/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ محفوظ فیصلے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان کے خلاف عدم موجودگی میں مقدمات کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی احکامات کے مطابق عادل راجا، وجاہت سعید خان، شاہین صہبائی اور حیدر رضا مہدی کے خلاف ریاست کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں مقدمات درج کیے گئے تھے، جبکہ صابر شاکر، اکبر حسین اور معید پیرزادہ کے خلاف وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ میں مقدمات قائم کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ملزمان کو پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے یا چھیڑنے کی کوشش اور مجرمانہ سازش کے دو الزامات میں سخت عمر قید کی سزا سنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ہر الزام پر پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی احکامات میں مزید کہا گیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی کے تحت ملزمان کو حراست میں گزارے گئے عرصے کا فائدہ دیا جائے گا، اور ان کے خلاف سنائی گئی تمام سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ مجرم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے سات دن کے اندر معزز اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے متعلقہ تھانوں کے اسٹیشن ہاؤس افسران کو یہ اختیار اور ہدایت بھی دی کہ ملزمان کی دستیابی پر انہیں گرفتار کیا جائے اور سزا پر عمل درآمد کے لیے جیل منتقل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں یوٹیوبر عادل راجا، صحافی وجاہت سعید خان، صابر شاکر اور شاہین صہبائی، اینکر پرسن حیدر رضا مہدی، تجزیہ کار معید پیرزادہ اور سابق فوجی افسر اکبر حسین کو دو، دو عمر قید کی سزائیں سنا دیں۔</p>
<p>یہ فسادات 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹ پڑے تھے، جن کے دوران سرکاری اور فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔</p>
<p>استغاثہ کے مطابق سزا پانے والے افراد پر 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے الزامات تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1202452/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ محفوظ فیصلے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان کے خلاف عدم موجودگی میں مقدمات کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سنائے۔</p>
<p>عدالتی احکامات کے مطابق عادل راجا، وجاہت سعید خان، شاہین صہبائی اور حیدر رضا مہدی کے خلاف ریاست کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں مقدمات درج کیے گئے تھے، جبکہ صابر شاکر، اکبر حسین اور معید پیرزادہ کے خلاف وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ میں مقدمات قائم کیے گئے تھے۔</p>
<p>عدالت نے ملزمان کو پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے یا چھیڑنے کی کوشش اور مجرمانہ سازش کے دو الزامات میں سخت عمر قید کی سزا سنائی۔</p>
<p>اس کے علاوہ ہر الزام پر پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی جائے گی۔</p>
<p>عدالتی احکامات میں مزید کہا گیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی کے تحت ملزمان کو حراست میں گزارے گئے عرصے کا فائدہ دیا جائے گا، اور ان کے خلاف سنائی گئی تمام سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی۔</p>
<p>ہر حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ مجرم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے سات دن کے اندر معزز اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔</p>
<p>عدالت نے متعلقہ تھانوں کے اسٹیشن ہاؤس افسران کو یہ اختیار اور ہدایت بھی دی کہ ملزمان کی دستیابی پر انہیں گرفتار کیا جائے اور سزا پر عمل درآمد کے لیے جیل منتقل کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274980</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 14:32:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021359094e6e0ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021359094e6e0ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2025: پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ، حملے 34 فیصد بڑھ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274979/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔</p>
<p>اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔</p>
<p>دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے</p>
<p>چیلنج تھے۔</p>
<p>بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔</p>
<p>سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔</p>
<p>پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔</p>
<p>گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274979</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 12:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021258263295ebd.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021258263295ebd.webp"/>
        <media:title>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یمن تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہیں، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274975/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہونے والی علاقائی کاوشوں کو اہم سمجھتا ہے اور تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274956'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تبادلہ ہر سال دو مرتبہ، یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جاتا ہے، جو 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح نیوکلیئر تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے درمیان حال ہی میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274971/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس دوران دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارتی-وزیر-خارجہ-سے-مصافحہ-ایاز-صادق-وضاحت-دے-چکے" href="#بھارتی-وزیر-خارجہ-سے-مصافحہ-ایاز-صادق-وضاحت-دے-چکے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بھارتی وزیر خارجہ سے مصافحہ، ایاز صادق وضاحت دے چکے‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکا میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے درمیان مصافحے کی تصویر سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ انہوں نے یہ تصویر دیکھی ہے اور اس معاملے پر ایاز صادق خود ایک ٹی وی چینل پر وضاحت بھی دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بیان میں وہ مزید کوئی اضافہ یا کمی نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ نے چین سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تائیوان سمیت چین کے تمام بنیادی اور حساس امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274968/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274968"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خطے میں موجودہ حالات کے تناظر میں ایسی سرگرمیوں اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ سے متعلق رپورٹس دیکھی گئی ہیں اور پاکستان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو متعدد سوالات ارسال کیے ہیں اور پاکستان ان سوالات کے بروقت اور تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="افغان-علما-و-قیادت-کے-بیانات-مثبت-پیش-رفت" href="#افغان-علما-و-قیادت-کے-بیانات-مثبت-پیش-رفت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;افغان علما و قیادت کے بیانات مثبت پیش رفت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان علما کی جانب سے جاری کیا گیا فتویٰ اور افغان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم پاکستان اب بھی افغانستان کی جانب سے عملی ضمانتوں کا انتظار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد کا ایک قافلہ بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے وزیراعظم کے اعلان کردہ اس امدادی قافلے کو روک لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اس پالیسی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت خارجہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہونے والی علاقائی کاوشوں کو اہم سمجھتا ہے اور تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274956'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان نے بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا۔</p>
<p>طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تبادلہ ہر سال دو مرتبہ، یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جاتا ہے، جو 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح نیوکلیئر تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے درمیان حال ہی میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274971/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس دوران دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔</p>
<h1><a id="بھارتی-وزیر-خارجہ-سے-مصافحہ-ایاز-صادق-وضاحت-دے-چکے" href="#بھارتی-وزیر-خارجہ-سے-مصافحہ-ایاز-صادق-وضاحت-دے-چکے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بھارتی وزیر خارجہ سے مصافحہ، ایاز صادق وضاحت دے چکے‘</h1>
<p>ڈھاکا میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے درمیان مصافحے کی تصویر سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ انہوں نے یہ تصویر دیکھی ہے اور اس معاملے پر ایاز صادق خود ایک ٹی وی چینل پر وضاحت بھی دے چکے ہیں۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بیان میں وہ مزید کوئی اضافہ یا کمی نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ نے چین سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تائیوان سمیت چین کے تمام بنیادی اور حساس امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274968/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274968"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ خطے میں موجودہ حالات کے تناظر میں ایسی سرگرمیوں اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔</p>
<p>بھارت سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ سے متعلق رپورٹس دیکھی گئی ہیں اور پاکستان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو متعدد سوالات ارسال کیے ہیں اور پاکستان ان سوالات کے بروقت اور تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔</p>
<h1><a id="افغان-علما-و-قیادت-کے-بیانات-مثبت-پیش-رفت" href="#افغان-علما-و-قیادت-کے-بیانات-مثبت-پیش-رفت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>افغان علما و قیادت کے بیانات مثبت پیش رفت</h1>
<p>افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان علما کی جانب سے جاری کیا گیا فتویٰ اور افغان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم پاکستان اب بھی افغانستان کی جانب سے عملی ضمانتوں کا انتظار کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد کا ایک قافلہ بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے وزیراعظم کے اعلان کردہ اس امدادی قافلے کو روک لیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اس پالیسی کا حصہ ہے۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت خارجہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274975</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 15:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/011527040e4f396.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/011527040e4f396.webp"/>
        <media:title>پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ فوٹو ڈان نیوذ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274971/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے لیے ایک پرجوش اور امید افزا مستقبل کا تصور پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے ایک روز قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2006546469671809058?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006546469671809058%7Ctwgr%5Ef151d045afa9fef1d3991ad165d807c1157c2833%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964432'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2006546469671809058?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006546469671809058%7Ctwgr%5Ef151d045afa9fef1d3991ad165d807c1157c2833%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964432"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس گفتگو کو نہایت خوشگوار اور دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے قائم برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جو حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں امت کے اندر اتحاد اور مکالمے و سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ وہ سعودی ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا اور آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کے ارادے سے بھی آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ مل کر ہم پاکستان اور سعودی عرب کے لیے ایک پرجوش اور امید افزا مستقبل کا تصور رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی نوعیت کا بیان ایک روز قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے بھی جاری کیا گیا تھا، جب وزیراعظم نے وزیر اعظم ہاؤس میں سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی سے ملاقات کی تھی، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے لیے سعودی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے رواں سال ولی عہد سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کو نہایت مفید قرار دیا، جن کے باعث پاک سعودی تعلقات نئی سطح پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی سفیر نے سعودی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے لیے ایک پرجوش اور امید افزا مستقبل کا تصور پیش کیا ہے۔</p>
<p>جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے ایک روز قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کی توثیق کی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2006546469671809058?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006546469671809058%7Ctwgr%5Ef151d045afa9fef1d3991ad165d807c1157c2833%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964432'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2006546469671809058?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006546469671809058%7Ctwgr%5Ef151d045afa9fef1d3991ad165d807c1157c2833%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964432"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے اس گفتگو کو نہایت خوشگوار اور دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے قائم برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جو حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں امت کے اندر اتحاد اور مکالمے و سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ وہ سعودی ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا اور آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کے ارادے سے بھی آگاہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ مل کر ہم پاکستان اور سعودی عرب کے لیے ایک پرجوش اور امید افزا مستقبل کا تصور رکھتے ہیں۔</p>
<p>اسی نوعیت کا بیان ایک روز قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے بھی جاری کیا گیا تھا، جب وزیراعظم نے وزیر اعظم ہاؤس میں سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی سے ملاقات کی تھی، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی۔</p>
<p>وزیراعظم نے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے لیے سعودی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے رواں سال ولی عہد سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کو نہایت مفید قرار دیا، جن کے باعث پاک سعودی تعلقات نئی سطح پر پہنچے۔</p>
<p>انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔</p>
<p>سعودی سفیر نے سعودی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274971</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 11:44:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/01113625ba0b2c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/01113625ba0b2c2.webp"/>
        <media:title>شہباز شریف نے مشکل وقت میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ فوٹو سعودی گزٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’پاکستان سے آنے والے افغانوں کے مسائل زیادہ، ایران سے واپس لوٹنے والے نسبتاً خوشحال‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274967/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی ’افغانستان پوسٹ ریٹرن مانیٹرنگ سروے رپورٹ‘ کے نتائج کے مطابق ایران سے واپس آنے والے افغان عموماً زیادہ تعلیم یافتہ اور خوراک و رہائش کی بہتر حالت میں ہیں جبکہ پاکستان سے آنے والے افغان شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، زیادہ تر مزدو اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1964226/afghans-returning-from-iran-pakistan-face-different-challenges-un-report"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایران سے واپس آنے والوں کے پاس آمدنی کے کم مواقع  ہیں اور زیادہ تر لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹوں کی شکایت کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے اپریل کے بعد واپس آنے والے زیادہ تر افغان آمدنی کے مواقع ڈھونڈ پائے مگر انہیں کرایہ ادا کرنے اور خوراک کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے مطابق تمام دونوں ممالک سے واپس آنے والے افغان ایسے علاقوں میں آباد ہو رہے ہیں جہاں غربت اور محدود سہولیات کے باعث حالات موافق نہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے اصل علاقوں میں واپس نہیں جا سکتے کیونکہ پناہ، زمین یا روزگار کی کمی ہے۔ نصف سے زیادہ گھروں نے ضروری شہری دستاویزات کی عدم موجودگی کی اطلاع دی، جس سے تعلیم، صحت اور رہائش تک رسائی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273250'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273250"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران سے واپس آنے والے افغان اکثر قوانین اور پالیسیوں کو بنیادی رکاوٹ قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستان سے واپس آنے والے اقتصادی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے مطابق واپس آنے والے 88 فیصد افغان قرض دار ہیں، جو 2024 کے سروے کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران سے واپس آنے والے پاکستان سے واپس آنے والوں کے مقابلے میں نسبتاً کم قرض دار ہیں جبکہ خواتین کی سربراہی والے گھرانوں (90 فیصد) اور مرد کی سربراہی والے گھرانوں (87 فیصد) میں فرق معمولی ہے۔ تقریباً تمام قرض دار گھرانوں نے بتایا کہ ان کا قرض ماہانہ آمدنی سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2025 میں پہلی بار ایران سے واپسی آنے والوں کو بھی مانیٹرنگ میں شامل کیا گیا۔ اس راؤنڈ میں پاکستان اور ایران سے آنے والے ایک ہزار 658 گھرانوں سے انٹرویوز کیے گئے۔ پاکستان سے واپس آنے والوں کے لیے دو نئے ڈیٹا سیٹس متعارف کیے گئے: ایک اپریل 2025 سے پہلے واپس آنے والوں کے لیے اور ایک بعد میں، جب مالی امداد میں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں غیر دستاویزی واپس آنے والوں کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پناہ گزین دستاویزات کے ساتھ اور بغیر افراد میں فرق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269927'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269927"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر کے مطابق نتائج فوری اور طویل مدتی حمایت کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ واپس آنے والوں کی حفاظت اور دوبارہ انضمام میں مدد دی جا سکے۔ واپسی کے بعد مسلسل مانیٹرنگ بھی اہم ہے تاکہ چیلنجز کی نشاندہی، پروگرامنگ کی تطبیق اور طویل مدتی استحکام اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2025 میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر واپسی ہوئی، جن میں جنوری تا نومبر تقریباً 27 لاکھ افغان واپس آئے، جو واپس آنے والوں کے پروفائل میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ بہت سی واپسی دباؤ اور غیر سازگار حالات میں ہوئی، جس کی وجہ ہمسایہ ممالک کی پالیسیاں اور بیرون ملک افغانوں کے لیے خراب حالات تھے، خاص طور پر پاکستان اور ایران میں۔ یہ بڑے پیمانے پر واپسی اکثر اچانک روانگی اور مشکل راستوں کے ساتھ ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک کی کمی اب بھی سنگین ہے، خاص طور پر پاکستان سے واپس آنے والے زیادہ متاثر ہیں۔ رہائش، پانی اور تعلیم تک رسائی میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ پاکستان سے واپس آنے والے خاص طور پر حال ہی میں آنے والے زیادہ  تر کرایے پر رہتے ہیں اور انہیں کرایہ ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا  ہیں جبکہ ایران سے واپسی آنے والے عموماً اپنے گھر کے مالک یا وارث ہوتے ہیں۔ پاکستان سے لوٹنے والوں کے لیے محفوظ پانی اور حفظان صحت تک رسائی بھی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی ’افغانستان پوسٹ ریٹرن مانیٹرنگ سروے رپورٹ‘ کے نتائج کے مطابق ایران سے واپس آنے والے افغان عموماً زیادہ تعلیم یافتہ اور خوراک و رہائش کی بہتر حالت میں ہیں جبکہ پاکستان سے آنے والے افغان شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، زیادہ تر مزدو اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1964226/afghans-returning-from-iran-pakistan-face-different-challenges-un-report"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایران سے واپس آنے والوں کے پاس آمدنی کے کم مواقع  ہیں اور زیادہ تر لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹوں کی شکایت کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے اپریل کے بعد واپس آنے والے زیادہ تر افغان آمدنی کے مواقع ڈھونڈ پائے مگر انہیں کرایہ ادا کرنے اور خوراک کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>سروے کے مطابق تمام دونوں ممالک سے واپس آنے والے افغان ایسے علاقوں میں آباد ہو رہے ہیں جہاں غربت اور محدود سہولیات کے باعث حالات موافق نہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے اصل علاقوں میں واپس نہیں جا سکتے کیونکہ پناہ، زمین یا روزگار کی کمی ہے۔ نصف سے زیادہ گھروں نے ضروری شہری دستاویزات کی عدم موجودگی کی اطلاع دی، جس سے تعلیم، صحت اور رہائش تک رسائی محدود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273250'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273250"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران سے واپس آنے والے افغان اکثر قوانین اور پالیسیوں کو بنیادی رکاوٹ قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستان سے واپس آنے والے اقتصادی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔</p>
<p>سروے کے مطابق واپس آنے والے 88 فیصد افغان قرض دار ہیں، جو 2024 کے سروے کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔</p>
<p>ایران سے واپس آنے والے پاکستان سے واپس آنے والوں کے مقابلے میں نسبتاً کم قرض دار ہیں جبکہ خواتین کی سربراہی والے گھرانوں (90 فیصد) اور مرد کی سربراہی والے گھرانوں (87 فیصد) میں فرق معمولی ہے۔ تقریباً تمام قرض دار گھرانوں نے بتایا کہ ان کا قرض ماہانہ آمدنی سے زیادہ ہے۔</p>
<p>اگست 2025 میں پہلی بار ایران سے واپسی آنے والوں کو بھی مانیٹرنگ میں شامل کیا گیا۔ اس راؤنڈ میں پاکستان اور ایران سے آنے والے ایک ہزار 658 گھرانوں سے انٹرویوز کیے گئے۔ پاکستان سے واپس آنے والوں کے لیے دو نئے ڈیٹا سیٹس متعارف کیے گئے: ایک اپریل 2025 سے پہلے واپس آنے والوں کے لیے اور ایک بعد میں، جب مالی امداد میں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>سروے میں غیر دستاویزی واپس آنے والوں کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پناہ گزین دستاویزات کے ساتھ اور بغیر افراد میں فرق کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269927'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269927"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یو این ایچ سی آر کے مطابق نتائج فوری اور طویل مدتی حمایت کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ واپس آنے والوں کی حفاظت اور دوبارہ انضمام میں مدد دی جا سکے۔ واپسی کے بعد مسلسل مانیٹرنگ بھی اہم ہے تاکہ چیلنجز کی نشاندہی، پروگرامنگ کی تطبیق اور طویل مدتی استحکام اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>سال 2025 میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر واپسی ہوئی، جن میں جنوری تا نومبر تقریباً 27 لاکھ افغان واپس آئے، جو واپس آنے والوں کے پروفائل میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ بہت سی واپسی دباؤ اور غیر سازگار حالات میں ہوئی، جس کی وجہ ہمسایہ ممالک کی پالیسیاں اور بیرون ملک افغانوں کے لیے خراب حالات تھے، خاص طور پر پاکستان اور ایران میں۔ یہ بڑے پیمانے پر واپسی اکثر اچانک روانگی اور مشکل راستوں کے ساتھ ہوئی۔</p>
<p>خوراک کی کمی اب بھی سنگین ہے، خاص طور پر پاکستان سے واپس آنے والے زیادہ متاثر ہیں۔ رہائش، پانی اور تعلیم تک رسائی میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ پاکستان سے واپس آنے والے خاص طور پر حال ہی میں آنے والے زیادہ  تر کرایے پر رہتے ہیں اور انہیں کرایہ ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا  ہیں جبکہ ایران سے واپسی آنے والے عموماً اپنے گھر کے مالک یا وارث ہوتے ہیں۔ پاکستان سے لوٹنے والوں کے لیے محفوظ پانی اور حفظان صحت تک رسائی بھی محدود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274967</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 16:48:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/3116252869a0e64.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/3116252869a0e64.webp"/>
        <media:title>سروے میں غیر دستاویزی واپسی کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پناہ گزین دستاویزات کے ساتھ اور بغیر افراد میں فرق کیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان 2026 میں دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274966/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ پاکستان 2026 میں 22 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایف پی اے پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حقائق کے پیشِ نظر آبادی کو بوجھ کے بجائے پائیدار اور جامع ترقی کا ایک اسٹریٹجک محرک سمجھنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2026 کے تناظر میں یو این ایف پی اے نے مطالبہ کیا کہ خصوصی طور پر این ایف سی فارمولے میں قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلوں میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ صرف آبادی کے حجم کو بنیادی پیمانہ بنانے کے بجائے ایک مستقبل نقطہ نظر اپنایا جانا چاہیے، جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، متوازن آبادی نتائج اور صحت و تعلیم کی خدمات کے معیار میں بہتری جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مراعات دی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایف پی اے کے مطابق ایسی اصلاحات سے مالیاتی مراعات کو انسانی ترقی کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا، جدت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا اور آبادی سے متعلق پالیسیوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر واضح جوابدہی کے نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل کے ساتھ عمل درآمد پر بھی زور دیا، جس کی بنیاد مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ پیش رفت کے باوجود کئی چیلنجز بدستور موجود ہیں، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایف پی اے کے مطابق یہ مسائل شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی اور غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ پاکستان 2026 میں 22 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔</p>
<p>یو این ایف پی اے پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حقائق کے پیشِ نظر آبادی کو بوجھ کے بجائے پائیدار اور جامع ترقی کا ایک اسٹریٹجک محرک سمجھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سال 2026 کے تناظر میں یو این ایف پی اے نے مطالبہ کیا کہ خصوصی طور پر این ایف سی فارمولے میں قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلوں میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ صرف آبادی کے حجم کو بنیادی پیمانہ بنانے کے بجائے ایک مستقبل نقطہ نظر اپنایا جانا چاہیے، جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، متوازن آبادی نتائج اور صحت و تعلیم کی خدمات کے معیار میں بہتری جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مراعات دی جائیں۔</p>
<p>یو این ایف پی اے کے مطابق ایسی اصلاحات سے مالیاتی مراعات کو انسانی ترقی کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا، جدت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا اور آبادی سے متعلق پالیسیوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر واضح جوابدہی کے نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل کے ساتھ عمل درآمد پر بھی زور دیا، جس کی بنیاد مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ پیش رفت کے باوجود کئی چیلنجز بدستور موجود ہیں، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔</p>
<p>یو این ایف پی اے کے مطابق یہ مسائل شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی اور غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274966</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 15:37:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/311530599f9d79e.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/311530599f9d79e.webp"/>
        <media:title>سال 2026 کے تناظر میں یو این ایف پی اے نے مطالبہ کیا کہ خصوصی طور پر این ایف سی فارمولے میں قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلوں میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>8 لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہ جانے کے باوجود 2025 میں پولیو کیسز کم رپورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274965/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سال کی آخری پولیو مہم کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہنے کے باوجود پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے مطابق 2025 میں پاکستان نے پولیو وائرس کے خلاف جدوجہد میں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیو ایک نہایت متعدی اور لاعلاج مرض ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور تمام بنیادی حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام کے بیان کے مطابق سال کے دوران پولیو ویکسینیشن کی 6 مہم چلائی گئیں، جن میں 5 ملک گیر تھیں۔ اس کے نتیجے میں پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 30 رہ گئے جبکہ ستمبر کے بعد ملک بھر میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک پولیو ایکسپرٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وائرس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ چند سال غیر فعال رہتا ہے اور پھر دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ درست ہے کہ 2024 میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے اور جاری سال میں یہ تعداد 30 تک کم ہوئی مگر 2023 میں صرف چھ کیسز تھے جبکہ 2022 میں 20 کیسز سامنے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267406'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ سال تقریباً مکمل ہو چکا ہے، اس کے باوجود کیسز کی تعداد میں اضافے کا امکان موجود ہے کیونکہ کسی بچے میں فالج پولیو کی وجہ سے ہے یا کسی اور سبب سے اس کی تصدیق میں تقریباً تین ہفتے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال لیبارٹری میں فالج کے شکار بچوں کے تقریباً چار ہزار نمونے جانچ کے لیے آتے ہیں، اس لیے جنوری کے اختتام تک 2025 کے حتمی کیسز کی تصدیق ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آخری ملک گیر پولیو مہم کا ہدف پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ54 لاکھ بچوں کو قطرے پلانا تھا، تاہم ملک بھر میں انکار کے واقعات کے باعث مجموعی طور پر چار کروڑ 46 لاکھ  بچوں کو ویکسین دی جا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" href="#پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پولیو وائرس  کی مکمل مانیٹرنگ کی ضرورت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پولیو پروگرام کے بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ پولیو کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، لیکن بیماری کے مکمل خاتمے تک پاکستان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ وائرس اب بھی بعض زیادہ خطرے والے علاقوں میں گردش کر رہا ہے جس کے باعث مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ہر بچے تک رسائی اور کسی بھی ممکنہ واپسی کو روکنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر کمیونٹی روابط اور مسلسل ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سیکیورٹی اہلکار اور مقامی انتظامیہ باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رہے اور پاکستان پولیو فری بننے کی راہ پر گامزن رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی تازہ ترین قومی پولیو مہم کے دوران مزید مضبوط ہوئی، جس میں قومی سطح پر 98 فیصد سے زائد کوریج حاصل کی گئی۔ چاروں صوبوں کے ساتھ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلی مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ خاص طور پر جنوبی خیبرپختونخوا میں رسائی اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260157/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اس کے باوجود کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہر بچے کو تحفظ فراہم نہیں ہو جاتا۔ اگرچہ ان اقدامات سے اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں مگر پولیو کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق کمیونٹیز، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مسلسل روابط اعتماد بڑھانے، غلط معلومات کا تدارک کرنے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مقامی سطح پر رسائی کے مسائل، خصوصاً جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض حصوں میں اب بھی موجود ہیں تاہم ان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ضلعی سطح پر ہدفی اقدامات کے ذریعے انہیں حل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق 2025 میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر پاکستان کا پولیو خاتمے کا پروگرام 2026 میں ہدفی کوششوں کو مزید تیز کر رہا ہے تاکہ باقی ماندہ وائرس کی ترسیل کو روکا جا سکے اور فیصلہ کن طور پر خاتمے کی جانب بڑھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اب جبکہ وائرس کی ترسیل محدود ہو چکی ہے، آبادی میں قوتِ مدافعت بڑھ رہی ہے اور مشکل سمجھے جانے والے علاقوں میں کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، پروگرام ہر بچے کے لیے پولیو فری مستقبل کے حصول کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے، دوسرا ملک افغانستان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سال کی آخری پولیو مہم کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہنے کے باوجود پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے مطابق 2025 میں پاکستان نے پولیو وائرس کے خلاف جدوجہد میں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>پولیو ایک نہایت متعدی اور لاعلاج مرض ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور تمام بنیادی حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل کی جائے۔</p>
<p>پروگرام کے بیان کے مطابق سال کے دوران پولیو ویکسینیشن کی 6 مہم چلائی گئیں، جن میں 5 ملک گیر تھیں۔ اس کے نتیجے میں پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 30 رہ گئے جبکہ ستمبر کے بعد ملک بھر میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>تاہم ایک پولیو ایکسپرٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وائرس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ چند سال غیر فعال رہتا ہے اور پھر دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ درست ہے کہ 2024 میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے اور جاری سال میں یہ تعداد 30 تک کم ہوئی مگر 2023 میں صرف چھ کیسز تھے جبکہ 2022 میں 20 کیسز سامنے آئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267406'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ سال تقریباً مکمل ہو چکا ہے، اس کے باوجود کیسز کی تعداد میں اضافے کا امکان موجود ہے کیونکہ کسی بچے میں فالج پولیو کی وجہ سے ہے یا کسی اور سبب سے اس کی تصدیق میں تقریباً تین ہفتے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال لیبارٹری میں فالج کے شکار بچوں کے تقریباً چار ہزار نمونے جانچ کے لیے آتے ہیں، اس لیے جنوری کے اختتام تک 2025 کے حتمی کیسز کی تصدیق ہو سکے گی۔</p>
<p>یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آخری ملک گیر پولیو مہم کا ہدف پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ54 لاکھ بچوں کو قطرے پلانا تھا، تاہم ملک بھر میں انکار کے واقعات کے باعث مجموعی طور پر چار کروڑ 46 لاکھ  بچوں کو ویکسین دی جا سکی۔</p>
<h2><a id="پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" href="#پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پولیو وائرس  کی مکمل مانیٹرنگ کی ضرورت</h2>
<p>پولیو پروگرام کے بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ پولیو کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، لیکن بیماری کے مکمل خاتمے تک پاکستان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ وائرس اب بھی بعض زیادہ خطرے والے علاقوں میں گردش کر رہا ہے جس کے باعث مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق ہر بچے تک رسائی اور کسی بھی ممکنہ واپسی کو روکنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر کمیونٹی روابط اور مسلسل ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سیکیورٹی اہلکار اور مقامی انتظامیہ باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رہے اور پاکستان پولیو فری بننے کی راہ پر گامزن رہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی تازہ ترین قومی پولیو مہم کے دوران مزید مضبوط ہوئی، جس میں قومی سطح پر 98 فیصد سے زائد کوریج حاصل کی گئی۔ چاروں صوبوں کے ساتھ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔</p>
<p>پچھلی مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ خاص طور پر جنوبی خیبرپختونخوا میں رسائی اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260157/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اس کے باوجود کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہر بچے کو تحفظ فراہم نہیں ہو جاتا۔ اگرچہ ان اقدامات سے اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں مگر پولیو کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔</p>
<p>بیان کے مطابق کمیونٹیز، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مسلسل روابط اعتماد بڑھانے، غلط معلومات کا تدارک کرنے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مقامی سطح پر رسائی کے مسائل، خصوصاً جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض حصوں میں اب بھی موجود ہیں تاہم ان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ضلعی سطح پر ہدفی اقدامات کے ذریعے انہیں حل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق 2025 میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر پاکستان کا پولیو خاتمے کا پروگرام 2026 میں ہدفی کوششوں کو مزید تیز کر رہا ہے تاکہ باقی ماندہ وائرس کی ترسیل کو روکا جا سکے اور فیصلہ کن طور پر خاتمے کی جانب بڑھا جا سکے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اب جبکہ وائرس کی ترسیل محدود ہو چکی ہے، آبادی میں قوتِ مدافعت بڑھ رہی ہے اور مشکل سمجھے جانے والے علاقوں میں کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، پروگرام ہر بچے کے لیے پولیو فری مستقبل کے حصول کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے، دوسرا ملک افغانستان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274965</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 15:09:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/3114595753728e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/3114595753728e7.webp"/>
        <media:title>پچھلی مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نادرا کے بایو میٹرک قوانین میں ترمیم، چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو قانونی شناخت مل گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274964/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے بایومیٹرکس کی تعریف کو وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت فنگر پرنٹس کے علاوہ چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو بھی قانونی طور پر قابلِ قبول بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا کی سفارش پر کی گئی اس ترمیم سے پاکستان میں ملٹی بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی قانونی فریم ورک کی بنیاد پر نادرا نے کنٹیکٹ لیس فنگر پرنٹ اور فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیق کی تکنیکی سہولت متعارف کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا کے مطابق یہ نظام اس وقت نادرا کے رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر دستیاب ہے اور اسے اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بایومیٹرک تصدیق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1250246/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں وفاقی حکومت کے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام کے تحت جاری کیے جائیں گے جبکہ ان ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو مرحلہ وار بڑھایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 جنوری 2026 سے نادرا تمام رجسٹریشن مراکز پر ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری کرنا شروع کرے گا جن کے فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں بھی کسی ادارے کو ایسی تصدیق درکار ہو، شہری 20 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقہ کار کے تحت اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے پاس فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے تو شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جا کر نئی تصویر بنوائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصویر نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے میچ کی جائے گی۔ کامیاب تصدیق کی صورت میں نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی حالیہ تصویر اور ریکارڈ میں موجود تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔ شہری اسے متعلقہ ادارے میں جمع کروائیں گے، جہاں بایومیٹرک تصدیق درکار ہوگی اور ادارہ اسے نادرا کے ذریعے آن لائن ویریفائی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں فیشل امیج پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس نادرا کی ای سہولت فرنچائزز پر بھی دستیاب ہوں گے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے تمام خدمات کے لیے فراہم کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم اس کے مؤثر اطلاق کے لیے ریگولیٹرز، متعلقہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ معیارات کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو مرحلہ وار اپ گریڈ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269533'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269533"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں اداروں کے سافٹ ویئر سسٹمز میں تکنیکی اپ گریڈ درکار ہوں گے تاکہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ فیشل ریکگنیشن بایومیٹرک سرٹیفکیٹس کو ضم کیا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں سروس کاؤنٹرز پر کیمرے نصب کرنا یا موجودہ کے وائی سی بایومیٹرک مشینوں میں کیمرے شامل کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ ان اپ گریڈز کے بغیر نادرا براہِ راست ان مقامات پر یہ سہولت فراہم نہیں کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 20 جنوری 2026 کے بعد شہریوں کو اس سہولت کے حصول میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ متعلقہ ادارے یا محکمے میں شکایت درج کرا سکتے ہیں کیونکہ نادرا کی جانب سے یہ سروس دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سہولت کے جلد از جلد عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نادرا نے وزارتِ داخلہ سے بھی درخواست کی ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں، توقع ہے کہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو فنگر پرنٹس سے متعلق پیچیدگیاں اور مشکلات مؤثر طور پر دور ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو متعلقہ اداروں میں ہی یہ سہولت دستیاب ہوگی اور نادرا رجسٹریشن مرکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد شہری پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بھی خود یہ سہولت حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265956'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمر بڑھنے یا بعض طبی وجوہات کی بنا پر کئی شہریوں کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث بینکوں، سم کارڈ فرنچائزز، ہاؤسنگ سوسائٹیز، جائیداد کی منتقلی اور دیگر لین دین میں جہاں فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق لازمی ہو، انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کئی مقامات پر ناقص یا کم معیار کے فنگر پرنٹ ریڈرز کے باعث بھی بایومیٹرک تصدیق ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایسے شہریوں کے لیے طریقہ کار مقرر کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر مسائل برقرار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا کو ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عمل درآمد کے تحت یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے بایومیٹرکس کی تعریف کو وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت فنگر پرنٹس کے علاوہ چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو بھی قانونی طور پر قابلِ قبول بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>نادرا کی سفارش پر کی گئی اس ترمیم سے پاکستان میں ملٹی بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے۔</p>
<p>اسی قانونی فریم ورک کی بنیاد پر نادرا نے کنٹیکٹ لیس فنگر پرنٹ اور فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیق کی تکنیکی سہولت متعارف کرا دی ہے۔</p>
<p>نادرا کے مطابق یہ نظام اس وقت نادرا کے رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر دستیاب ہے اور اسے اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بایومیٹرک تصدیق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1250246/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مستقبل میں وفاقی حکومت کے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام کے تحت جاری کیے جائیں گے جبکہ ان ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو مرحلہ وار بڑھایا جا رہا ہے۔</p>
<p>20 جنوری 2026 سے نادرا تمام رجسٹریشن مراکز پر ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری کرنا شروع کرے گا جن کے فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں بھی کسی ادارے کو ایسی تصدیق درکار ہو، شہری 20 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>اس طریقہ کار کے تحت اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے پاس فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے تو شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جا کر نئی تصویر بنوائیں گے۔</p>
<p>یہ تصویر نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے میچ کی جائے گی۔ کامیاب تصدیق کی صورت میں نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی حالیہ تصویر اور ریکارڈ میں موجود تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوں گے۔</p>
<p>یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔ شہری اسے متعلقہ ادارے میں جمع کروائیں گے، جہاں بایومیٹرک تصدیق درکار ہوگی اور ادارہ اسے نادرا کے ذریعے آن لائن ویریفائی کرے گا۔</p>
<p>مستقبل میں فیشل امیج پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس نادرا کی ای سہولت فرنچائزز پر بھی دستیاب ہوں گے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے تمام خدمات کے لیے فراہم کر دی جائے گی۔</p>
<p>نادرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم اس کے مؤثر اطلاق کے لیے ریگولیٹرز، متعلقہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ معیارات کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو مرحلہ وار اپ گریڈ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269533'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269533"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پہلے مرحلے میں اداروں کے سافٹ ویئر سسٹمز میں تکنیکی اپ گریڈ درکار ہوں گے تاکہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ فیشل ریکگنیشن بایومیٹرک سرٹیفکیٹس کو ضم کیا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں سروس کاؤنٹرز پر کیمرے نصب کرنا یا موجودہ کے وائی سی بایومیٹرک مشینوں میں کیمرے شامل کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ ان اپ گریڈز کے بغیر نادرا براہِ راست ان مقامات پر یہ سہولت فراہم نہیں کر سکے گا۔</p>
<p>اگر 20 جنوری 2026 کے بعد شہریوں کو اس سہولت کے حصول میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ متعلقہ ادارے یا محکمے میں شکایت درج کرا سکتے ہیں کیونکہ نادرا کی جانب سے یہ سروس دستیاب ہوگی۔</p>
<p>اس سہولت کے جلد از جلد عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نادرا نے وزارتِ داخلہ سے بھی درخواست کی ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں، توقع ہے کہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو فنگر پرنٹس سے متعلق پیچیدگیاں اور مشکلات مؤثر طور پر دور ہو جائیں گی۔</p>
<p>مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو متعلقہ اداروں میں ہی یہ سہولت دستیاب ہوگی اور نادرا رجسٹریشن مرکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد شہری پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بھی خود یہ سہولت حاصل کر سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265956'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عمر بڑھنے یا بعض طبی وجوہات کی بنا پر کئی شہریوں کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث بینکوں، سم کارڈ فرنچائزز، ہاؤسنگ سوسائٹیز، جائیداد کی منتقلی اور دیگر لین دین میں جہاں فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق لازمی ہو، انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کئی مقامات پر ناقص یا کم معیار کے فنگر پرنٹ ریڈرز کے باعث بھی بایومیٹرک تصدیق ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایسے شہریوں کے لیے طریقہ کار مقرر کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر مسائل برقرار رہتے ہیں۔</p>
<p>ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا کو ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عمل درآمد کے تحت یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274964</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 14:27:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/31140134b1b48ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/31140134b1b48ae.webp"/>
        <media:title>نادرا کی سفارش پر کی گئی اس ترمیم سے پاکستان میں ملٹی بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے— فوٹو: فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274959/</link>
      <description>&lt;p&gt;نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے میں موجودہ علاقائی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اسٹریٹجک عسکری تعاون، مشترکہ معاشی مفادات اور اسلامی رشتے پر مبنی ہیں۔ ان روابط میں معاشی امداد اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے جبکہ ریاض اسلام آباد کے لیے مالی معاونت اور تیل کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب نے رواں سال ستمبر میں ایک اہم باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک فریق پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے بات چیت کے دوران اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2005958717796417881?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005958717796417881%7Ctwgr%5Ed464eac7a8c6fbe521ba265b04dba12261cdab8a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964118'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2005958717796417881?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005958717796417881%7Ctwgr%5Ed464eac7a8c6fbe521ba265b04dba12261cdab8a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964118"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے نئے سال کی مناسبت سے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا، جن کا شہزادہ فیصل بن فرحان نے گرم جوشی سے جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل آج سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بندرگاہ مکالا پر جنوبی علیحدگی پسندوں کو بیرونی فوجی معاونت فراہم کیے جانے کے دعوے کے تحت حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور متحدہ عرب امارات کی کاوشوں کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری قیادت نے دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید گہرے کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں عالمی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوئی تھی اور دفاعی تعاون کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے میں موجودہ علاقائی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اسٹریٹجک عسکری تعاون، مشترکہ معاشی مفادات اور اسلامی رشتے پر مبنی ہیں۔ ان روابط میں معاشی امداد اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے جبکہ ریاض اسلام آباد کے لیے مالی معاونت اور تیل کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب نے رواں سال ستمبر میں ایک اہم باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک فریق پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>دفتر خارجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے بات چیت کے دوران اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2005958717796417881?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005958717796417881%7Ctwgr%5Ed464eac7a8c6fbe521ba265b04dba12261cdab8a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964118'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2005958717796417881?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005958717796417881%7Ctwgr%5Ed464eac7a8c6fbe521ba265b04dba12261cdab8a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964118"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسحاق ڈار نے نئے سال کی مناسبت سے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا، جن کا شہزادہ فیصل بن فرحان نے گرم جوشی سے جواب دیا۔</p>
<p>اس سے قبل آج سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بندرگاہ مکالا پر جنوبی علیحدگی پسندوں کو بیرونی فوجی معاونت فراہم کیے جانے کے دعوے کے تحت حملہ کیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور متحدہ عرب امارات کی کاوشوں کو بھی سراہا۔</p>
<p>نومبر میں پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری قیادت نے دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید گہرے کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں عالمی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوئی تھی اور دفاعی تعاون کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274959</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 18:34:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/3018320449d9cc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/3018320449d9cc6.webp"/>
        <media:title>اسحاق ڈار نے نئے سال کی مناسبت سے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا، جن کا شہزادہ فیصل بن فرحان نے گرم جوشی سے جواب دیا۔ فائل فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کیلئے پروازیں بحال کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274957/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ سال کے وقفے کے بعد مارچ 2026 سے لندن کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق قومی ایئرلائن برطانیہ کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کر رہی ہے اور 29 مارچ 2026 سے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار چار پروازیں چلائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ پروازیں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے آپریٹ کی جائیں گی اور چھ سال کے طویل وقفے کے بعد یہ سروس دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق لندن پی آئی اے کی پہلی بین الاقوامی منزل رہی ہے اور آج بھی یہ اس کے اہم ترین روٹس میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن اس وقت مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں پہلے ہی آپریٹ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270780'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270780"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جون 2020 میں یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے حفاظتی خدشات کی بنیاد پر پی آئی اے کی یورپی ممالک میں پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ فیصلہ لاہور سے کراچی آنے والے طیارے کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب حادثے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 100 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد اُس وقت کے وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے پارلیمان میں پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ایوی ایشن ایجنسی نے چار سال سے زائد عرصے بعد 28 نومبر 2024 کو پی آئی اے پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی ایئرلائنز کو برطانیہ میں پروازوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت مل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں پی آئی اے کو تقریباً پانچ سال بعد برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کرنے کی منظوری ملی، جس کے بعد پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ایئرلائن نے یہ بھی کہا تھا کہ مستقبل میں برمنگھم اور لندن کے لیے بھی پروازیں بحال کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ سال کے وقفے کے بعد مارچ 2026 سے لندن کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کر رہی ہے۔</p>
<p>پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق قومی ایئرلائن برطانیہ کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کر رہی ہے اور 29 مارچ 2026 سے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار چار پروازیں چلائی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ پروازیں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے آپریٹ کی جائیں گی اور چھ سال کے طویل وقفے کے بعد یہ سروس دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق لندن پی آئی اے کی پہلی بین الاقوامی منزل رہی ہے اور آج بھی یہ اس کے اہم ترین روٹس میں شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن اس وقت مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں پہلے ہی آپریٹ کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270780'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270780"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جون 2020 میں یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے حفاظتی خدشات کی بنیاد پر پی آئی اے کی یورپی ممالک میں پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ فیصلہ لاہور سے کراچی آنے والے طیارے کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب حادثے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 100 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد اُس وقت کے وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے پارلیمان میں پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دیے تھے۔</p>
<p>یورپی ایوی ایشن ایجنسی نے چار سال سے زائد عرصے بعد 28 نومبر 2024 کو پی آئی اے پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی ایئرلائنز کو برطانیہ میں پروازوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت مل گئی۔</p>
<p>ستمبر میں پی آئی اے کو تقریباً پانچ سال بعد برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کرنے کی منظوری ملی، جس کے بعد پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں۔</p>
<p>اس وقت ایئرلائن نے یہ بھی کہا تھا کہ مستقبل میں برمنگھم اور لندن کے لیے بھی پروازیں بحال کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274957</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 15:50:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/30154602ae3e827.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/30154602ae3e827.webp"/>
        <media:title>قومی ایئرلائن اس وقت مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں پہلے ہی آپریٹ کر رہی ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سزا کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائرکردیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274950/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: بانی تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں الگ الگ اپیلیں دائر کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی عدالت نے 20 دسمبر کو اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ مئی 2021 کے سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے مہنگے بلغاری جیولری سیٹ کو انتہائی کم قیمت پر خریدنے سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی نے تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا زیورات کا سیٹ صرف 29 لاکھ روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان کو دستیاب اپیلوں کی نقول کے مطابق سزا کو سیاسی بنیادوں پر دیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ مقدمے کا بنیادی مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا، ملکی سیاست میں ان کی شرکت روکنا اور ان کے سیاسی کردار و اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اپیلوں میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ یہ کیس ابتدا میں قومی احتساب بیورو نے دائر کیا تھا، جسے بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اختیار کیے گئے تفتیشی طریقۂ کار کو نظر انداز کیا۔ واضح قانونی رہنمائی اور نظائر کی عدم موجودگی میں زیادہ احتیاط اور گہرے جائزے کی ضرورت تھی تاہم تحقیقاتی ادارے اور ٹرائل کورٹ دونوں نے عجلت میں کارروائی کی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ریکارڈ پر کوئی ایف آئی آر موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ ایف آئی اے نے تفتیش شروع ہونے کے صرف دو دن کے اندر چالان جمع کرا دیا، جو شفاف اور منصفانہ تفتیش کے لیے ناکافی وقت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ سے متعلق چوتھا مقدمہ ہے اور یہ دہری سزا کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایک ہی معاملے پر بار بار فوجداری کارروائی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل کے مطابق نیب نے جان بوجھ کر تحائف کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے پر مقدمہ چلایا جبکہ دیگر تحائف پر کارروائی مؤخر یا ترک کر دی، جو قانوناً ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ ون اور ٹو مختلف تحائف سے متعلق تھے، تاہم انہیں ایک ہی مشترکہ مقدمے کے طور پر سنا جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہی ٹرائل کو متعدد کارروائیوں میں تقسیم کرنے کا مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ سزا دیتے وقت 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کو نظر انداز کیا گیا، جس کے مطابق تمام تحائف رپورٹ کر کے توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہے۔ اسی پالیسی کی ایک شق کے تحت 30 ہزار روپے سے زائد مالیت کے تحائف مخصوص فیس ادا کر کے اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270887/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں کہا گیا کہ توشہ خانہ پالیسی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، تحائف جمع کرائے گئے اور انہیں رکھنے کی فیس ادا کی گئی۔ پالیسی میں نہ تو کسی فوجداری شق کا ذکر ہے اور نہ ہی بددیانتی یا مجرمانہ خیانت جیسے جرائم کا، اس لیے سزا غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل کے مطابق ٹرائل جج نے متعلقہ توشہ خانہ پالیسی اور قواعد کو غلط طور پر پڑھا اور ان کا غلط اطلاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں کہا گیا کہ استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف جرم ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، تاہم اس بنیادی خامی کو نظر انداز کر کے سزا سنا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ مجرمانہ خیانت کے جرم کے لیے جائیداد کا سپرد کیا جانا، بددیانتی سے ذاتی استعمال کے لیے اسے ہتھیانا اور دفعہ 409 کے تحت ملزم کا سرکاری ملازم ہونا ضروری ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی ان شرائط پر پورا نہیں اترتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحائف توشہ خانہ پالیسی کے مطابق قانونی طور پر اپنے پاس رکھے گئے اور عمران خان تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 21 کے تحت سرکاری ملازم کے زمرے میں نہیں آتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے دفعہ 21 کی نویں تشریح اور 1957 اور 1961 کے مبہم عدالتی حوالوں کی بنیاد پر انہیں سرکاری ملازم قرار دے کر سنگین قانونی غلطی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1209061/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بشریٰ بی بی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جنہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھا، اس لیے ان کے خلاف فیصلہ قانونی اختیار کے بغیر دیا گیا اور کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اپیلوں میں استدعا کی گئی کہ 20 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس سے بری کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر گزشتہ سال دسمبر2024 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ اکتوبر میں انہوں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سات سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: بانی تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں الگ الگ اپیلیں دائر کر دیں۔</p>
<p>خصوصی عدالت نے 20 دسمبر کو اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ مئی 2021 کے سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے مہنگے بلغاری جیولری سیٹ کو انتہائی کم قیمت پر خریدنے سے متعلق تھا۔</p>
<p>سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی نے تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا زیورات کا سیٹ صرف 29 لاکھ روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھا۔</p>
<p>ڈان کو دستیاب اپیلوں کی نقول کے مطابق سزا کو سیاسی بنیادوں پر دیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ مقدمے کا بنیادی مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا، ملکی سیاست میں ان کی شرکت روکنا اور ان کے سیاسی کردار و اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اپیلوں میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ یہ کیس ابتدا میں قومی احتساب بیورو نے دائر کیا تھا، جسے بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>اپیل میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اختیار کیے گئے تفتیشی طریقۂ کار کو نظر انداز کیا۔ واضح قانونی رہنمائی اور نظائر کی عدم موجودگی میں زیادہ احتیاط اور گہرے جائزے کی ضرورت تھی تاہم تحقیقاتی ادارے اور ٹرائل کورٹ دونوں نے عجلت میں کارروائی کی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ریکارڈ پر کوئی ایف آئی آر موجود نہیں۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ ایف آئی اے نے تفتیش شروع ہونے کے صرف دو دن کے اندر چالان جمع کرا دیا، جو شفاف اور منصفانہ تفتیش کے لیے ناکافی وقت تھا۔</p>
<p>اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ سے متعلق چوتھا مقدمہ ہے اور یہ دہری سزا کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایک ہی معاملے پر بار بار فوجداری کارروائی کی گئی۔</p>
<p>اپیل کے مطابق نیب نے جان بوجھ کر تحائف کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے پر مقدمہ چلایا جبکہ دیگر تحائف پر کارروائی مؤخر یا ترک کر دی، جو قانوناً ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>اپیل میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ ون اور ٹو مختلف تحائف سے متعلق تھے، تاہم انہیں ایک ہی مشترکہ مقدمے کے طور پر سنا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہی ٹرائل کو متعدد کارروائیوں میں تقسیم کرنے کا مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ سزا دیتے وقت 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کو نظر انداز کیا گیا، جس کے مطابق تمام تحائف رپورٹ کر کے توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہے۔ اسی پالیسی کی ایک شق کے تحت 30 ہزار روپے سے زائد مالیت کے تحائف مخصوص فیس ادا کر کے اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270887/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اپیل میں کہا گیا کہ توشہ خانہ پالیسی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، تحائف جمع کرائے گئے اور انہیں رکھنے کی فیس ادا کی گئی۔ پالیسی میں نہ تو کسی فوجداری شق کا ذکر ہے اور نہ ہی بددیانتی یا مجرمانہ خیانت جیسے جرائم کا، اس لیے سزا غیر قانونی ہے۔</p>
<p>اپیل کے مطابق ٹرائل جج نے متعلقہ توشہ خانہ پالیسی اور قواعد کو غلط طور پر پڑھا اور ان کا غلط اطلاق کیا۔</p>
<p>اپیل میں کہا گیا کہ استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف جرم ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، تاہم اس بنیادی خامی کو نظر انداز کر کے سزا سنا دی گئی۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ مجرمانہ خیانت کے جرم کے لیے جائیداد کا سپرد کیا جانا، بددیانتی سے ذاتی استعمال کے لیے اسے ہتھیانا اور دفعہ 409 کے تحت ملزم کا سرکاری ملازم ہونا ضروری ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی ان شرائط پر پورا نہیں اترتے۔</p>
<p>اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحائف توشہ خانہ پالیسی کے مطابق قانونی طور پر اپنے پاس رکھے گئے اور عمران خان تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 21 کے تحت سرکاری ملازم کے زمرے میں نہیں آتے۔</p>
<p>اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے دفعہ 21 کی نویں تشریح اور 1957 اور 1961 کے مبہم عدالتی حوالوں کی بنیاد پر انہیں سرکاری ملازم قرار دے کر سنگین قانونی غلطی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1209061/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بشریٰ بی بی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جنہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھا، اس لیے ان کے خلاف فیصلہ قانونی اختیار کے بغیر دیا گیا اور کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>دونوں اپیلوں میں استدعا کی گئی کہ 20 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس سے بری کیا جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر گزشتہ سال دسمبر2024 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ اکتوبر میں انہوں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔</p>
<p>عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سات سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274950</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 19:56:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/291944535dd6524.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/291944535dd6524.webp"/>
        <media:title>وکلا نے سزا کو سیاسی بنیادوں پر دیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مقدمے کا بنیادی مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا، ملکی سیاست میں ان کی شرکت روکنا اور ان کے سیاسی کردار و اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274945/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل نے  ڈان کو تصدیق کی ہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ وکیل میاں علی اشفاق نے اپیل دائر ہونے کی تصدیق کی تاہم اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیض حمید کو 11 دسمبر کو فوجی عدالت نے رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسروں کو نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ بامشقت کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274798"&gt;&lt;strong&gt;سزا سنائی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 133 بی کے تحت سزا اور فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 40 دن کی مہلت حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل پہلے ایک کورٹ آف اپیلز میں سنی جاتی ہے، جس کی سربراہی میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کا افسر کرتا ہے، جسے آرمی چیف نامزد کرتے ہیں۔ بعد ازاں آرمی چیف کو سزا کی توثیق، ترمیم یا منسوخی کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوجی اپیل کا عمل کئی برسوں پر محیط رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="فیض-حمید-کی-سزا" href="#فیض-حمید-کی-سزا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیض حمید کی سزا&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ 11 دسمبر 2025 کو سزا سناتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بیان میں کہا تھا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع کی گئی، جو 15 ماہ سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ طویل قانونی کارروائی کے بعد ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دے کر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق سزا یافتہ افسر کی سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے میں مبینہ شمولیت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں انہیں ’مسٹر فیض حمید، سابق لیفٹیننٹ جنرل‘ کہا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید ان کا فوجی رینک واپس لے لیا گیا ہے، تاہم آئی ایس پی آر نے اس بارے میں واضح طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;فیض حمید نومبر 2022 میں ریٹائر ہوئے تھے اور وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور دوسرے تین ستارہ جنرل ہیں جنہیں مکمل فوجی ٹرائل کے بعد قید کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیس پراپرٹی ڈویلپر کنور معز خان کے الزامات سے شروع ہوا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2017 میں اس وقت کے میجر جنرل فیض حمید اور دو دیگر افسران نے ان کے گھر اور دفاتر پر چھاپہ مارا، قیمتی سامان ضبط کیا اور 4 کروڑ روپے کی ادائیگی اور ایک نجی ٹی وی چینل کی مالی معاونت پر مجبور کیا۔ یہ معاملہ 2023 میں دوبارہ سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو وزارتِ دفاع کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کا مشورہ دیا، جس کے بعد باضابطہ فوجی انکوائری شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آرمی ایکٹ عام طور پر ریٹائرمنٹ کے چھ ماہ کے اندر کارروائی کی اجازت دیتا ہے تاہم اس کیس میں دفعہ 2 ڈی کے تحت فوجی دائرہ اختیار بڑھایا گیا، جبکہ دفعات 31 اور 40 کے تحت بغاوت، نافرمانی یا جائیداد سے متعلق دھوکا دہی جیسے جرائم میں وقت کی قید کے بغیر کورٹ مارشل کی اجازت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2024 میں کورٹ آف انکوائری نے کارروائی کی سفارش کی، جس کے بعد 12 اگست کو فیض حمید کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں تفصیلی چارج شیٹ دی گئی جس میں ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیاں، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزیاں، 2017 کے چھاپے سمیت اختیارات کا ناجائز استعمال اور کنور معز کے خلاف مبینہ جبر کے ذریعے مالی نقصان پہنچانے کے الزامات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کا دائرہ دیگر ریٹائرڈ افسران تک بھی بڑھایا گیا، جن میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ غفار، بریگیڈیئر ریٹائرڈ نعیم فخر اور کرنل ریٹائرڈ آصف شامل ہیں تاہم فیصلے میں ان کے بارے میں فوجی عدالت کے حتمی نتائج بیان نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل نے  ڈان کو تصدیق کی ہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ وکیل میاں علی اشفاق نے اپیل دائر ہونے کی تصدیق کی تاہم اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔</p>
<p>فیض حمید کو 11 دسمبر کو فوجی عدالت نے رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسروں کو نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ بامشقت کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274798"><strong>سزا سنائی تھی۔</strong></a></p>
<p>پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 133 بی کے تحت سزا اور فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 40 دن کی مہلت حاصل تھی۔</p>
<p>اپیل پہلے ایک کورٹ آف اپیلز میں سنی جاتی ہے، جس کی سربراہی میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کا افسر کرتا ہے، جسے آرمی چیف نامزد کرتے ہیں۔ بعد ازاں آرمی چیف کو سزا کی توثیق، ترمیم یا منسوخی کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوجی اپیل کا عمل کئی برسوں پر محیط رہا ہے۔</p>
<h2><a id="فیض-حمید-کی-سزا" href="#فیض-حمید-کی-سزا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیض حمید کی سزا</h2>
<p>رواں ماہ 11 دسمبر 2025 کو سزا سناتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بیان میں کہا تھا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع کی گئی، جو 15 ماہ سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ طویل قانونی کارروائی کے بعد ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دے کر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق سزا یافتہ افسر کی سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے میں مبینہ شمولیت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں انہیں ’مسٹر فیض حمید، سابق لیفٹیننٹ جنرل‘ کہا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید ان کا فوجی رینک واپس لے لیا گیا ہے، تاہم آئی ایس پی آر نے اس بارے میں واضح طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔</p>
<h2><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h2>
<p>فیض حمید نومبر 2022 میں ریٹائر ہوئے تھے اور وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور دوسرے تین ستارہ جنرل ہیں جنہیں مکمل فوجی ٹرائل کے بعد قید کی سزا سنائی گئی۔</p>
<p>یہ کیس پراپرٹی ڈویلپر کنور معز خان کے الزامات سے شروع ہوا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2017 میں اس وقت کے میجر جنرل فیض حمید اور دو دیگر افسران نے ان کے گھر اور دفاتر پر چھاپہ مارا، قیمتی سامان ضبط کیا اور 4 کروڑ روپے کی ادائیگی اور ایک نجی ٹی وی چینل کی مالی معاونت پر مجبور کیا۔ یہ معاملہ 2023 میں دوبارہ سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو وزارتِ دفاع کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کا مشورہ دیا، جس کے بعد باضابطہ فوجی انکوائری شروع ہوئی۔</p>
<p>اگرچہ آرمی ایکٹ عام طور پر ریٹائرمنٹ کے چھ ماہ کے اندر کارروائی کی اجازت دیتا ہے تاہم اس کیس میں دفعہ 2 ڈی کے تحت فوجی دائرہ اختیار بڑھایا گیا، جبکہ دفعات 31 اور 40 کے تحت بغاوت، نافرمانی یا جائیداد سے متعلق دھوکا دہی جیسے جرائم میں وقت کی قید کے بغیر کورٹ مارشل کی اجازت موجود ہے۔</p>
<p>اپریل 2024 میں کورٹ آف انکوائری نے کارروائی کی سفارش کی، جس کے بعد 12 اگست کو فیض حمید کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں تفصیلی چارج شیٹ دی گئی جس میں ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیاں، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزیاں، 2017 کے چھاپے سمیت اختیارات کا ناجائز استعمال اور کنور معز کے خلاف مبینہ جبر کے ذریعے مالی نقصان پہنچانے کے الزامات شامل تھے۔</p>
<p>تحقیقات کا دائرہ دیگر ریٹائرڈ افسران تک بھی بڑھایا گیا، جن میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ غفار، بریگیڈیئر ریٹائرڈ نعیم فخر اور کرنل ریٹائرڈ آصف شامل ہیں تاہم فیصلے میں ان کے بارے میں فوجی عدالت کے حتمی نتائج بیان نہیں کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274945</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 16:04:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29154549ecc2a49.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29154549ecc2a49.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یو اے ای کے صدر شیخ زاید النہیان پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، پرتپاک استقبال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274924/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان جمعے کی دوپہر ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے صدر کی پاکستان آمد پر ان کا شاندار تاریخی استقبال کیا گیا،  پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے  یو اے ای کے صدر کے طیارے کو حصار میں لیا اور فضائی سلامی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں نور خان ائیر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، متحدہ عرب امارات کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RadioPakistan/status/2004514534300770662'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RadioPakistan/status/2004514534300770662"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےکہ یو اے ای کے صدرکے ہمراہ وزرا اور سینئرحکام پرمشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آیا ہے، دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے اور عالمی سطح کے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WAMNEWS_ENG/status/2004472069262827677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004472069262827677%7Ctwgr%5E2f33c7c31cbefef97d2f40a0b5192ce81bb2e3e2%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WAMNEWS_ENG/status/2004472069262827677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004472069262827677%7Ctwgr%5E2f33c7c31cbefef97d2f40a0b5192ce81bb2e3e2%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ صدر یو اے ای کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی برادرانہ و دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، یہ دورہ تجارت، سرمایہ کاری،  توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام کو مزید تقویت بخشےگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ محمد بن زید النہیان، صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کی دعوت متحدہ عرب امارات کے صدر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صدر متحدہ عرب امارات کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/dcislamabad/status/2003779147408290250?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003779147408290250%7Ctwgr%5E5d6e8e0555c2df6c94c89decf15b2d60ae65ec23%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/dcislamabad/status/2003779147408290250?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003779147408290250%7Ctwgr%5E5d6e8e0555c2df6c94c89decf15b2d60ae65ec23%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی آج چھٹی کا اعلان کردیا ہے، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس 26 دسمبر کو بند رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسلام آباد کی ٹریفک پولیس نے بھی سیکیورٹی کے سبب روٹس لگانے کا پیشگی اعلان کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نیوز کے مطابق پاکستان متحدہ عرب امارات کو اپنے قریبی معاشی اور علاقائی اتحادیوں میں شمار کرتا ہے۔ امارات اسلام آباد کا چین اور امریکا کے بعد تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی نظریں خلیجی ریاستوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر مرکوز ہیں اور دونوں ممالک نے حال ہی میں اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2024 میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ریلوے، اقتصادی زونز اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے تین ارب ڈالر سے زائد کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان جمعے کی دوپہر ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔</p>
<p>یو اے ای کے صدر کی پاکستان آمد پر ان کا شاندار تاریخی استقبال کیا گیا،  پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے  یو اے ای کے صدر کے طیارے کو حصار میں لیا اور فضائی سلامی دی۔</p>
<p>بعد ازاں نور خان ائیر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، متحدہ عرب امارات کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RadioPakistan/status/2004514534300770662'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RadioPakistan/status/2004514534300770662"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےکہ یو اے ای کے صدرکے ہمراہ وزرا اور سینئرحکام پرمشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آیا ہے، دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے اور عالمی سطح کے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WAMNEWS_ENG/status/2004472069262827677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004472069262827677%7Ctwgr%5E2f33c7c31cbefef97d2f40a0b5192ce81bb2e3e2%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WAMNEWS_ENG/status/2004472069262827677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004472069262827677%7Ctwgr%5E2f33c7c31cbefef97d2f40a0b5192ce81bb2e3e2%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ صدر یو اے ای کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی برادرانہ و دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، یہ دورہ تجارت، سرمایہ کاری،  توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام کو مزید تقویت بخشےگا۔</p>
<p>شیخ محمد بن زید النہیان، صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔</p>
<p>قبل ازیں دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کی دعوت متحدہ عرب امارات کے صدر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ صدر متحدہ عرب امارات کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/dcislamabad/status/2003779147408290250?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003779147408290250%7Ctwgr%5E5d6e8e0555c2df6c94c89decf15b2d60ae65ec23%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/dcislamabad/status/2003779147408290250?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003779147408290250%7Ctwgr%5E5d6e8e0555c2df6c94c89decf15b2d60ae65ec23%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963358"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی آج چھٹی کا اعلان کردیا ہے، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس 26 دسمبر کو بند رہیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب اسلام آباد کی ٹریفک پولیس نے بھی سیکیورٹی کے سبب روٹس لگانے کا پیشگی اعلان کر رکھا ہے۔</p>
<p>عرب نیوز کے مطابق پاکستان متحدہ عرب امارات کو اپنے قریبی معاشی اور علاقائی اتحادیوں میں شمار کرتا ہے۔ امارات اسلام آباد کا چین اور امریکا کے بعد تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔</p>
<p>پاکستان کی نظریں خلیجی ریاستوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر مرکوز ہیں اور دونوں ممالک نے حال ہی میں اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>جنوری 2024 میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ریلوے، اقتصادی زونز اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے تین ارب ڈالر سے زائد کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274924</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 17:20:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/26171926edbfc8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="621" width="1020">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/26171926edbfc8e.webp"/>
        <media:title>واضح رہے کہ صدر متحدہ عرب امارات کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
