<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 16:05:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 16:05:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275080/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔</p>
<p>انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔</p>
<p>میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔</p>
<p>منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔</p>
<p>جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔</p>
<p>اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔</p>
<p>پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔</p>
<p>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275080</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 14:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12140926a232ab1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12140926a232ab1.webp"/>
        <media:title>انفرااسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی—فائل فوٹو: آن لائن/سید آصف علی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردی کی شدت میں اضافہ، سندھ میں اسکولوں کے اوقات کار تبدیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275069/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔</p>
<p>وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔</p>
<p>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275069</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 21:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/102151179425b8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/102151179425b8d.webp"/>
        <media:title>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے. فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275041/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965521/sindh-govt-to-register-firs-against-those-burning-garbage-on-roads"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔</p>
<p>اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965521/sindh-govt-to-register-firs-against-those-burning-garbage-on-roads"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔</p>
<p>انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔</p>
<p>حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔</p>
<p>مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275041</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 15:27:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0715000951fec2f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0715000951fec2f.webp"/>
        <media:title>کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔ فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر تعلیم سندھ کی یقین دہانی کے بعد نجی اسکولز نے 9 جنوری کو ہڑتال منسوخ کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275040/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: وزیرتعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے بعد  گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے 9 جنوری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری شپ قانون کے تحت نجی اسکولوں کو اپنے کل داخل شدہ طلبہ میں سے 10 فی صد کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965518/private-school-associations-in-sindh-call-off-jan-9-strike-after-assurances-from-education-minister"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق الائنس کے ایک وفد نے منگل کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال اور نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے انور علی بھٹی، سید طارق شاہ، سید شہزاد اختر، دانش الزمان، ناصر زیدی، حیدر علی اور دیگر شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا مؤقف تھا کہ تفتیش اور ڈیٹا کی تصدیق میں واضح فرق ہے جبکہ بعض علاقوں سے ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول الائنس کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے واضح اور مربوط طریقۂ کار نہ ہونے کے باعث نجی اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط اور شفاف تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ اسکول انتظامیہ اور والدین کے خدشات کا مکمل ازالہ ہو اور کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم نے سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے نجی اسکولوں کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: وزیرتعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے بعد  گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے 9 جنوری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔</p>
<p>فری شپ قانون کے تحت نجی اسکولوں کو اپنے کل داخل شدہ طلبہ میں سے 10 فی صد کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965518/private-school-associations-in-sindh-call-off-jan-9-strike-after-assurances-from-education-minister"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق الائنس کے ایک وفد نے منگل کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال اور نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے انور علی بھٹی، سید طارق شاہ، سید شہزاد اختر، دانش الزمان، ناصر زیدی، حیدر علی اور دیگر شریک تھے۔</p>
<p>وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔</p>
<p>وفد کا مؤقف تھا کہ تفتیش اور ڈیٹا کی تصدیق میں واضح فرق ہے جبکہ بعض علاقوں سے ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول الائنس کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے واضح اور مربوط طریقۂ کار نہ ہونے کے باعث نجی اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور ہو سکیں۔</p>
<p>اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط اور شفاف تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ اسکول انتظامیہ اور والدین کے خدشات کا مکمل ازالہ ہو اور کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>وزیر تعلیم نے سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے نجی اسکولوں کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275040</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:56:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0714473910918e6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0714473910918e6.webp"/>
        <media:title>وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔ فائل فوٹو: مرزا خرم شہزاد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، افغانستان سے لایا گیا 2 ہزار کلو بارودی مواد برآمد، 3دہشتگرد گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275018/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لیکر ایک دہشت گرد کو موقع سے گرفتارکرلیا اور بعد ازاں گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر کراچی میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=3PcD37KxmrM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/3PcD37KxmrM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا، دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بارودی مواد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے ڈرمز میں موجود کمرشل ایکسپلوسیو اور مکس بارودی مواد شامل ہے، یہ مواد بالکل تیار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ اس دہشت گردی کے منصوبے کے پیچھے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے، یہ منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا جن کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h5&gt;ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک اور کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے ہے۔&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی رات کو کی اس لیے ماہرین کی رائے اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لیکر ایک دہشت گرد کو موقع سے گرفتارکرلیا اور بعد ازاں گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر کراچی میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=3PcD37KxmrM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/3PcD37KxmrM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا، دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔</p>
<p>انہوں نے بارودی مواد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے ڈرمز میں موجود کمرشل ایکسپلوسیو اور مکس بارودی مواد شامل ہے، یہ مواد بالکل تیار تھا۔</p>
<p>ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ اس دہشت گردی کے منصوبے کے پیچھے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے، یہ منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا جن کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔</p>
<h5>ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک اور کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے ہے۔</h5>
<h5>انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔</h5>
<p>انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی رات کو کی اس لیے ماہرین کی رائے اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275018</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 15:41:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/051437067d8e68a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/051437067d8e68a.webp"/>
        <media:title>سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کالے جادو کی وجہ سے قتل کیے‘ کراچی میں چار تشدد زدہ لاشوں کا قاتل گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275009/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے چار افراد کو قتل کیا، جن کی جزوی طور پر سڑی ہوئی لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں کراچی کے مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک گڑھے سے برآمد ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ چار لاشیں ایک خاتون اور اس کے تین بچوں کی تھیں، جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے اور انہیں کلہاڑی یا کسی تیز دھار آلے سے مارا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجر کے دفتر کے مطابق کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ساؤتھ اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ مقتولہ خاتون کے موبائل فون کی ڈیجیٹل جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملزم اس کے رابطے میں تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کا مقصد مقتولہ کو مارنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ملزم کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ مقتولہ کا طویل عرصے سے دوست تھا۔ ملزم نے الزام لگایا کہ مقتولہ کالا جادو کرتی تھی اور اکثر اس سے مطالبات کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم کے مطابق منگل کی رات اسے کسی کالا جادو کرنے والے کے پاس لے جایا گیا، اور تب اس نے فیصلہ کیا کہ ”یا تو میں خود کو ماروں یا اسے“۔ اس نے خاتون کو قتل کیا اور لاش گڑھے میں پھینک دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد وہ مقتولہ کی ماں کے گھر گیا اور وہاں سے اس کے بچوں کو لیا، جن پر بھی وہ اکثر دباؤ ڈالتی تھی، انہیں بھی قتل کیا اور لاشیں ایک ہی گڑھے میں پھینک دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالحسن لنجر کے دفتر نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کیماڑی امجد شیخ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے چار افراد کو قتل کیا، جن کی جزوی طور پر سڑی ہوئی لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں کراچی کے مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک گڑھے سے برآمد ہوئی تھیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ چار لاشیں ایک خاتون اور اس کے تین بچوں کی تھیں، جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے اور انہیں کلہاڑی یا کسی تیز دھار آلے سے مارا گیا تھا۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجر کے دفتر کے مطابق کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔</p>
<p>ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ساؤتھ اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ مقتولہ خاتون کے موبائل فون کی ڈیجیٹل جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملزم اس کے رابطے میں تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کا مقصد مقتولہ کو مارنا تھا۔</p>
<p>پولیس نے ملزم کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ مقتولہ کا طویل عرصے سے دوست تھا۔ ملزم نے الزام لگایا کہ مقتولہ کالا جادو کرتی تھی اور اکثر اس سے مطالبات کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔</p>
<p>ملزم کے مطابق منگل کی رات اسے کسی کالا جادو کرنے والے کے پاس لے جایا گیا، اور تب اس نے فیصلہ کیا کہ ”یا تو میں خود کو ماروں یا اسے“۔ اس نے خاتون کو قتل کیا اور لاش گڑھے میں پھینک دی۔</p>
<p>اس کے بعد وہ مقتولہ کی ماں کے گھر گیا اور وہاں سے اس کے بچوں کو لیا، جن پر بھی وہ اکثر دباؤ ڈالتی تھی، انہیں بھی قتل کیا اور لاشیں ایک ہی گڑھے میں پھینک دیں۔</p>
<p>ضیاالحسن لنجر کے دفتر نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کیماڑی امجد شیخ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275009</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 16:40:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0416395914088dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0416395914088dd.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں مائی کلاچی روڈ سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274995/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ہفتے کے روز بتایا کہ مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے ملنے والے چار افراد کی بوسیدہ لاشوں پر تشدد کے متعدد واضح نشانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ لاشیں جمعے کو ڈاکس تھانے کی حدود میں جھاڑیوں سے گھری ایک جگہ سے برآمد ہوئیں، جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور لاشیں چار سے پانچ دن پرانی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعے کی رات دیر گئے میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ایک مقتول لڑکا، جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی، کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے۔ ایک اور لڑکا، جس کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی، کے گلے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری مقتول، تقریباً 14 سے 15 سال کی لڑکی، کے بھی سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے، جبکہ چوتھی مقتولہ، تقریباً 40 سالہ خاتون، کے سر کی ہڈی پر شدید چوٹیں موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمیہ کے مطابق نشے اور جنسی تشدد کی جانچ کے لیے تمام متعلقہ نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے بتایا کہ تاحال مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ایدھی مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا کیونکہ تفتیش کار مقتولین کے لواحقین کے سامنے آنے اور لاشیں شناخت کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کے مطابق اگر کوئی سامنے نہ آیا تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر زخم کلہاڑی یا کسی تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ چونکہ تین مقتولین بچے اور چوتھی ایک چالیس سالہ خاتون ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق اس ہولناک قتل کا تعلق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سے بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔</p>
<p>پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ہفتے کے روز بتایا کہ مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے ملنے والے چار افراد کی بوسیدہ لاشوں پر تشدد کے متعدد واضح نشانات موجود ہیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ لاشیں جمعے کو ڈاکس تھانے کی حدود میں جھاڑیوں سے گھری ایک جگہ سے برآمد ہوئیں، جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور لاشیں چار سے پانچ دن پرانی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعے کی رات دیر گئے میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کی گئی۔</p>
<p>ان کے مطابق ایک مقتول لڑکا، جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی، کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے۔ ایک اور لڑکا، جس کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی، کے گلے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔</p>
<p>تیسری مقتول، تقریباً 14 سے 15 سال کی لڑکی، کے بھی سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے، جبکہ چوتھی مقتولہ، تقریباً 40 سالہ خاتون، کے سر کی ہڈی پر شدید چوٹیں موجود تھیں۔</p>
<p>ڈاکٹر سمیہ کے مطابق نشے اور جنسی تشدد کی جانچ کے لیے تمام متعلقہ نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے بتایا کہ تاحال مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ایدھی مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا کیونکہ تفتیش کار مقتولین کے لواحقین کے سامنے آنے اور لاشیں شناخت کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی آئی جی کے مطابق اگر کوئی سامنے نہ آیا تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر زخم کلہاڑی یا کسی تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔</p>
<p>سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ چونکہ تین مقتولین بچے اور چوتھی ایک چالیس سالہ خاتون ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق اس ہولناک قتل کا تعلق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سے بھی ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274995</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 15:29:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0315292305f0777.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0315292305f0777.webp"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لانڈھی میں رکشے میں سوار لڑکی ’اندھی گولی‘ کا نشانہ بن گئی، انکوائری کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274989/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں رکشے میں سفر کے دوران ایک لڑکی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی، جس پر اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ وہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان  فائرنگ کے تبادلے کے دوران ماری گئی۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی نے ڈان کو بتایا کہ 17 سالہ کومل لائق، جو لائنز ایریا کی رہائشی تھیں، اپنی والدہ کے ہمراہ لانڈھی میں نانی سے ملنے گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ والدہ کے ساتھ رکشے میں گھر واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک گولی رکشے کے شیشے توڑتی ہوئی ان کے سینے میں لگی۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ لڑکی کو اسپتال مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ نے میڈیکو لیگل کارروائی کی اجازت نہیں دی اور لاش ساتھ لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انکوائری-کا-حکم" href="#انکوائری-کا-حکم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;انکوائری کا حکم&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جنوری نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سدھر کریں گی، جبکہ کمیٹی میں ایس ایچ او لانڈھی اور ایس آئی او عوامی کالونی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پولیس کے مطابق کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس بیان کے مطابق عوامی کالونی پولیس پارٹی نے کورنگی میں ایک بینک کے باہر ڈکیتی کرنے والے ملزمان کا تعاقب کیا۔ ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں ایک ملزم مولا بخش زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے گرفتار ملزم سے ایک پستول اور موبائل فون برآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں اطلاع ملی کہ 17 سالہ کومل، جو رکشے میں سفر کر رہی تھیں، لانڈھی تھانے کی حدود میں غفور مٹھائی والا کے قریب گولی لگنے سے زخمی ہوئیں اور دم توڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی، جو انکوائری ٹیم کا بھی حصہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں دونوں واقعات کے اوقات میں فرق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق لڑکی کو گولی تقریباً ساڑھے 11 بجے لگی جبکہ عوامی کالونی پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلہ تقریباً ایک بجے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق مقتولہ کے ماموں ریحان نے تحریری بیان میں پولیس اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور وہ اس حوالے سے کسی قانونی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں رکشے میں سفر کے دوران ایک لڑکی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی، جس پر اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ وہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان  فائرنگ کے تبادلے کے دوران ماری گئی۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا۔</p>
<p>لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی نے ڈان کو بتایا کہ 17 سالہ کومل لائق، جو لائنز ایریا کی رہائشی تھیں، اپنی والدہ کے ہمراہ لانڈھی میں نانی سے ملنے گئی تھیں۔</p>
<p>وہ والدہ کے ساتھ رکشے میں گھر واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک گولی رکشے کے شیشے توڑتی ہوئی ان کے سینے میں لگی۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔</p>
<p>مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔</p>
<p>پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ لڑکی کو اسپتال مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ نے میڈیکو لیگل کارروائی کی اجازت نہیں دی اور لاش ساتھ لے گئے۔</p>
<h1><a id="انکوائری-کا-حکم" href="#انکوائری-کا-حکم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>انکوائری کا حکم</strong></h1>
<p>واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جنوری نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سدھر کریں گی، جبکہ کمیٹی میں ایس ایچ او لانڈھی اور ایس آئی او عوامی کالونی شامل ہیں۔</p>
<p>ترجمان پولیس کے مطابق کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔</p>
<p>پولیس بیان کے مطابق عوامی کالونی پولیس پارٹی نے کورنگی میں ایک بینک کے باہر ڈکیتی کرنے والے ملزمان کا تعاقب کیا۔ ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں ایک ملزم مولا بخش زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے گرفتار ملزم سے ایک پستول اور موبائل فون برآمد کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں اطلاع ملی کہ 17 سالہ کومل، جو رکشے میں سفر کر رہی تھیں، لانڈھی تھانے کی حدود میں غفور مٹھائی والا کے قریب گولی لگنے سے زخمی ہوئیں اور دم توڑ گئیں۔</p>
<p>لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی، جو انکوائری ٹیم کا بھی حصہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں دونوں واقعات کے اوقات میں فرق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق لڑکی کو گولی تقریباً ساڑھے 11 بجے لگی جبکہ عوامی کالونی پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلہ تقریباً ایک بجے ہوا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق مقتولہ کے ماموں ریحان نے تحریری بیان میں پولیس اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور وہ اس حوالے سے کسی قانونی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274989</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 20:00:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021959206ce5baa.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021959206ce5baa.webp"/>
        <media:title>مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔ فوٹو: اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274962/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرا دی گئیں، سینئر وزیر و وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ یہ بسیں کل (یکم جنوری) سے عوام کے لیے دستیاب ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں بس سروس کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج شہر میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز ہو رہا ہے، کل سے یہ عوام کے لیے دستیاب ہوں گی جبکہ آج انہیں سڑکوں پر آزمایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ بس سروس کا افتتاح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اکتوبر 2024 میں سندھ حکومت کے اعلان کے ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے، ایسے شہر میں جہاں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی طویل عرصے سے سفری مسائل کا شکار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرجیل انعام میمن نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے دسمبر 2025 تک کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 31 دسمبر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت 2026 میں پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ سال کراچی کی ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کی ہدایت بھی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل ڈبل ڈیکر بسوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا تھا کہ یہ بسیں ملیر سے شارع فیصل تک چلیں گی اور مزید بسیں بھی کراچی لائی جائیں گی تاکہ ٹریفک مسائل میں کمی آ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر وزیر کے ترجمان حسین منصور نے ڈان کو بتایا کہ بسیں صدر کی زینب مارکیٹ سے ماڈل کالونی تک چلیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر شرجیل انعام میمن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کراچی کے لیے 65 سال بعد دوبارہ ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے سندھ، بشمول کراچی میں الیکٹرک بسوں کے لیے نئے روٹس بھی مختص کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ ایک بنیادی ضرورت ہے اور سندھ حکومت اس حوالے سے عوام کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرانسپورٹ سہولیات سبسڈی پر فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت یہ سبسڈی خود ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز بس سروس کے تحت کراچی میں روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق سوال پر میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صنعتی علاقوں کی سڑکوں کے لیے بجٹ سے 9 ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ انہوں نے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے سمیت دیگر منصوبوں پر جاری کام کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاحتی مقامات تک ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹس کے سوال پر سینئر وزیر نے کہا کہ ہدف صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ کراچی کی ہر سڑک کو کور کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرا دی گئیں، سینئر وزیر و وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ یہ بسیں کل (یکم جنوری) سے عوام کے لیے دستیاب ہوں گی۔</p>
<p>کراچی میں بس سروس کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج شہر میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز ہو رہا ہے، کل سے یہ عوام کے لیے دستیاب ہوں گی جبکہ آج انہیں سڑکوں پر آزمایا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ بس سروس کا افتتاح کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت اکتوبر 2024 میں سندھ حکومت کے اعلان کے ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے، ایسے شہر میں جہاں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی طویل عرصے سے سفری مسائل کا شکار رہی ہے۔</p>
<p>شرجیل انعام میمن نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے دسمبر 2025 تک کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 31 دسمبر ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت 2026 میں پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ سال کراچی کی ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کی ہدایت بھی دی ہے۔</p>
<p>ایک روز قبل ڈبل ڈیکر بسوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا تھا کہ یہ بسیں ملیر سے شارع فیصل تک چلیں گی اور مزید بسیں بھی کراچی لائی جائیں گی تاکہ ٹریفک مسائل میں کمی آ سکے۔</p>
<p>سینئر وزیر کے ترجمان حسین منصور نے ڈان کو بتایا کہ بسیں صدر کی زینب مارکیٹ سے ماڈل کالونی تک چلیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ادھر شرجیل انعام میمن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کراچی کے لیے 65 سال بعد دوبارہ ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی جا رہی ہے۔</p>
<p>آج میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے سندھ، بشمول کراچی میں الیکٹرک بسوں کے لیے نئے روٹس بھی مختص کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ ایک بنیادی ضرورت ہے اور سندھ حکومت اس حوالے سے عوام کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرانسپورٹ سہولیات سبسڈی پر فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت یہ سبسڈی خود ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز بس سروس کے تحت کراچی میں روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں۔</p>
<p>سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق سوال پر میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صنعتی علاقوں کی سڑکوں کے لیے بجٹ سے 9 ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ انہوں نے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے سمیت دیگر منصوبوں پر جاری کام کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>سیاحتی مقامات تک ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹس کے سوال پر سینئر وزیر نے کہا کہ ہدف صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ کراچی کی ہر سڑک کو کور کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274962</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 14:30:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/311303557df7ea3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/311303557df7ea3.webp"/>
        <media:title>شرجیل انعام میمن نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے دسمبر 2025 تک کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 31 دسمبر ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ پر حملے کے بعد پولیس اسٹیشن پر ہنگامہ، ایس ایچ او پر تشدد کے الزام میں وکلا کیخلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274963/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں اس مقدمے کے اندراج پر احتجاج کرنے والے متعدد وکلا کے خلاف سٹی کورٹ کے ایس ایچ او پر مبینہ حملے کے الزام میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ پیر کو کراچی کی ایک عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی تشدد کے واقعے پر ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو اور مزید 15 سے 20 نامعلوم وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد وکلا نے سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بول دیا اور مطالبہ کیا کہ یوٹیوبر اور دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ وکلا نے سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایم اے جناح روڈ پر سٹی کورٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ایک نئی ایف آئی آر جس کی کاپی ڈان کے پاس موجود ہے، بدھ کو سٹی کورٹ کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں درج کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-A (شجہ کا جرم)، 504 (جان بوجھ کر توہین)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 186 (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا)، 149 (غیر قانونی طور پر مجمع اکٹھا کرکے فساد کرنا)، 147 (فساد) اور 353 (سرکاری ملازم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) کے تحت درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او کے مطابق 30 دسمبر کو گشت کے دوران انہیں اطلاع ملی کہ تقریباً 40 سے 50 وکلا، جن کی قیادت عبد الفتح چانڈیو، ایڈووکیٹ عبد الوہاب راجپر اور ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کر رہے تھے، نے زبردستی رسالہ پولیس پوسٹ میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے، یہ پولیس پوسٹ عارضی طور پر سٹی کورٹ تھانے میں قائم کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایس ایچ او کے مطابق جب وہ دوپہر دو بجے کے قریب تھانے پہنچے تو وکلا نے ان سے پوچھا کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وکلا مجھ سے رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک مقدمہ درج ہو چکا ہے، جس پر وہ طیش میں آ گئے، گالیاں دینے لگے اور پھر مجھے لاتیں اور گھونسے مارنے شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274954'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او کے مطابق پولیس عملے کی مداخلت پر وکلا وہاں سے چلے گئے، تاہم جاتے ہوئے نعرے بازی کی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایف آئی آر میں عبد الفتح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 50 دیگر افراد کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ریاض علی سولنگی اس مقدمے میں بھی نامزد ہیں جو رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ وہ اس مقدمے کے مدعی بھی ہیں جو یوٹیوبر کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج ہوا، جس کے سلسلے میں رجب بٹ پیر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کے مطابق ملزمان نے انہیں سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، تشدد کیا اور زبانی بدسلوکی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ریاض علی سولنگی، عبد الفتح چانڈیو اور 15 سے 20 دیگر وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 382، 506 اور 337-A کے تحت مقدمہ درج کروایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ صبح نو بجے ضمانت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے، تاہم ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچتے ہی سولنگی اور چانڈیو نے دیگر وکلا کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور تشدد کیا، جس سے یوٹیوبر زخمی ہو گئے۔ میاں اشفاق کے مطابق حملے کے دوران ان پر اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا پر بھی تشدد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ موجود تھا، جو چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا، تاہم رقم غائب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے پیر کو ڈان کو بتایا تھا کہ یوٹیوبر نے 20 دسمبر کو عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایک ولاگ اپ لوڈ کیا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکلا اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں یوٹیوبر نے وکلا سے معذرت کر لی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں اس مقدمے کے اندراج پر احتجاج کرنے والے متعدد وکلا کے خلاف سٹی کورٹ کے ایس ایچ او پر مبینہ حملے کے الزام میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی۔</p>
<p>گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ پیر کو کراچی کی ایک عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی تشدد کے واقعے پر ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو اور مزید 15 سے 20 نامعلوم وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد وکلا نے سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بول دیا اور مطالبہ کیا کہ یوٹیوبر اور دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ وکلا نے سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایم اے جناح روڈ پر سٹی کورٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعد ازاں ایک نئی ایف آئی آر جس کی کاپی ڈان کے پاس موجود ہے، بدھ کو سٹی کورٹ کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں درج کی گئی۔</p>
<p>یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-A (شجہ کا جرم)، 504 (جان بوجھ کر توہین)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 186 (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا)، 149 (غیر قانونی طور پر مجمع اکٹھا کرکے فساد کرنا)، 147 (فساد) اور 353 (سرکاری ملازم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) کے تحت درج کیا گیا۔</p>
<p>ایس ایچ او کے مطابق 30 دسمبر کو گشت کے دوران انہیں اطلاع ملی کہ تقریباً 40 سے 50 وکلا، جن کی قیادت عبد الفتح چانڈیو، ایڈووکیٹ عبد الوہاب راجپر اور ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کر رہے تھے، نے زبردستی رسالہ پولیس پوسٹ میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے، یہ پولیس پوسٹ عارضی طور پر سٹی کورٹ تھانے میں قائم کی گئی تھی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایس ایچ او کے مطابق جب وہ دوپہر دو بجے کے قریب تھانے پہنچے تو وکلا نے ان سے پوچھا کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وکلا مجھ سے رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک مقدمہ درج ہو چکا ہے، جس پر وہ طیش میں آ گئے، گالیاں دینے لگے اور پھر مجھے لاتیں اور گھونسے مارنے شروع کر دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274954'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایس ایچ او کے مطابق پولیس عملے کی مداخلت پر وکلا وہاں سے چلے گئے، تاہم جاتے ہوئے نعرے بازی کی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔</p>
<p>اس ایف آئی آر میں عبد الفتح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 50 دیگر افراد کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ریاض علی سولنگی اس مقدمے میں بھی نامزد ہیں جو رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ وہ اس مقدمے کے مدعی بھی ہیں جو یوٹیوبر کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج ہوا، جس کے سلسلے میں رجب بٹ پیر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے۔</p>
<p>ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کے مطابق ملزمان نے انہیں سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، تشدد کیا اور زبانی بدسلوکی کی۔</p>
<p>دوسری جانب یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ریاض علی سولنگی، عبد الفتح چانڈیو اور 15 سے 20 دیگر وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 382، 506 اور 337-A کے تحت مقدمہ درج کروایا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ صبح نو بجے ضمانت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے، تاہم ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچتے ہی سولنگی اور چانڈیو نے دیگر وکلا کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور تشدد کیا، جس سے یوٹیوبر زخمی ہو گئے۔ میاں اشفاق کے مطابق حملے کے دوران ان پر اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا پر بھی تشدد کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ موجود تھا، جو چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا، تاہم رقم غائب تھی۔</p>
<p>ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے پیر کو ڈان کو بتایا تھا کہ یوٹیوبر نے 20 دسمبر کو عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایک ولاگ اپ لوڈ کیا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکلا اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں یوٹیوبر نے وکلا سے معذرت کر لی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274963</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 13:45:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/31133356f7f33fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="802">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/31133356f7f33fb.webp"/>
        <media:title>وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سٹی کورٹ میں رجب بٹ پر ’تشدد‘ ، درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274954/</link>
      <description>&lt;p&gt;سٹی کورٹ کراچی میں گزشتہ روز پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو رجب بٹ پر کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں بعض وکیلوں نے اس وقت تشدد کیا جب وہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پیش ہوئے تھے۔ بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ایکس پر بیان میں کہا تھا کہ عدالت کے احاطے میں ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں اپنے گرد جمع ہجوم کے درمیان سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کا مقدمہ بعد ازاں رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق کی درخواست پر درج کیا گیا، جس کی کاپی ڈان کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکیلوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ریاض علی سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147 فساد کرنے، 148  مسلح ہو کر فساد، 382 جسمانی نقصان کے بعد چوری، 506 مجرمانہ دھمکی اور 337-A شجہ (سر اور چہرے پر تشدد)  کے تحت درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کے مطابق ان کا مؤکل صبح 9 بجے سٹی کورٹ پہنچا تھا تاکہ اس کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 295-A کے تحت درج مقدمے میں ضمانت حاصل کی جا سکے، جو مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی سے مجروح کرنے سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کا کہنا تھا کہ جب وہ ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچے تو ریاض علی سولنگی، عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکلا نے ان کے مؤکل پر حملہ کر دیا اور اسے مارنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں اشفاق کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس ایک بیگ تھا جس میں تین لاکھ روپے موجود تھے، جو اس سے چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا تاہم اس میں موجود رقم غائب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کے مطابق بعد ازاں ان کے مؤکل کو زبردستی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سینٹرل کے پاس لے جایا گیا، جہاں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ تاحال اس کیس میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے ڈان کو بتایا کہ 20 دسمبر کو قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرنے کے بعد یوٹیوبر نے ایک ولاگ اپ لوڈ کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکیلوں اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں انہوں نے وکلا سے معافی مانگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز میاں علی اشفاق نے کہا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود حملہ آور رجب بٹ کو مارتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویڈیو میں رجب بٹ کو وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا، جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، جبکہ اس گروپ میں ریاض علی سولنگی بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاکر ندیم مبارک جو نانی والا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں نظر آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سٹی کورٹ کراچی میں گزشتہ روز پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔</p>
<p>پیر کو رجب بٹ پر کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں بعض وکیلوں نے اس وقت تشدد کیا جب وہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پیش ہوئے تھے۔ بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ایکس پر بیان میں کہا تھا کہ عدالت کے احاطے میں ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔</p>
<p>واقعے کی ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں اپنے گرد جمع ہجوم کے درمیان سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس واقعے کا مقدمہ بعد ازاں رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق کی درخواست پر درج کیا گیا، جس کی کاپی ڈان کے پاس ہے۔</p>
<p>ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکیلوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ریاض علی سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147 فساد کرنے، 148  مسلح ہو کر فساد، 382 جسمانی نقصان کے بعد چوری، 506 مجرمانہ دھمکی اور 337-A شجہ (سر اور چہرے پر تشدد)  کے تحت درج کیا گیا۔</p>
<p>مدعی کے مطابق ان کا مؤکل صبح 9 بجے سٹی کورٹ پہنچا تھا تاکہ اس کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 295-A کے تحت درج مقدمے میں ضمانت حاصل کی جا سکے، جو مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی سے مجروح کرنے سے متعلق ہے۔</p>
<p>مدعی کا کہنا تھا کہ جب وہ ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچے تو ریاض علی سولنگی، عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکلا نے ان کے مؤکل پر حملہ کر دیا اور اسے مارنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔</p>
<p>میاں اشفاق کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس ایک بیگ تھا جس میں تین لاکھ روپے موجود تھے، جو اس سے چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا تاہم اس میں موجود رقم غائب تھی۔</p>
<p>مدعی کے مطابق بعد ازاں ان کے مؤکل کو زبردستی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سینٹرل کے پاس لے جایا گیا، جہاں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔</p>
<p>جنوبی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ تاحال اس کیس میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔</p>
<p>ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے ڈان کو بتایا کہ 20 دسمبر کو قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرنے کے بعد یوٹیوبر نے ایک ولاگ اپ لوڈ کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکیلوں اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں انہوں نے وکلا سے معافی مانگی۔</p>
<p>اسی روز میاں علی اشفاق نے کہا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود حملہ آور رجب بٹ کو مارتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>ایک اور ویڈیو میں رجب بٹ کو وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا، جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، جبکہ اس گروپ میں ریاض علی سولنگی بھی موجود تھے۔</p>
<p>ٹک ٹاکر ندیم مبارک جو نانی والا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں نظر آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274954</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 13:12:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/30131024f096ec9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/30131024f096ec9.webp"/>
        <media:title>میاں اشفاق کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی ناکام، کم عمر بلوچ طالبہ کو خود کش بمبار بننے سے بچالیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274944/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا، بچی کودہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ldfjQFV8DX0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ldfjQFV8DX0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246137'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گردوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243661'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آزاد خان نے بتایا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ بچی کی شناخت چھپا کر بیان چلایا گیا، جس میں بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا،  جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچی کی والدہ نے اپنے  بیان میں  بتایا کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت اقدامات کریں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا، بچی کودہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔</p>
<p>ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ldfjQFV8DX0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ldfjQFV8DX0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246137'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گردوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243661'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آزاد خان نے بتایا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ بچی کی شناخت چھپا کر بیان چلایا گیا، جس میں بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا،  جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔</p>
<p>متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں۔</p>
<p>بچی کی والدہ نے اپنے  بیان میں  بتایا کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت اقدامات کریں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز کو بہتر بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274944</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 14:37:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29144839861c074.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29144839861c074.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2914300652c9a2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2914300652c9a2d.webp"/>
        <media:title>زیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جامعہ کراچی کے ملازم کی بوری میں بند لاش برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274949/</link>
      <description>&lt;p&gt;جامعہ کراچی کے ایک نوجوان ملازم کی لاش صفورا کے قریب سے برآمد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچل تھانے کے ایس ایچ او شبیر حسین نے بتایا کہ 37 سالہ رحمت علی کی تشدد زدہ لاش الازہر گارڈن کے قریب جھاڑیوں سے ملی، لاش بوری میں بند تھی جبکہ دونوں ٹانگیں تار سے بندھی ہوئی تھیں، سر پر سخت اور نوکیلے آلات سے ضربیں لگائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر کے مطابق مقتول جامعہ کراچی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کا ملازم تھا۔ وہ پہلے جامعہ کے اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا تاہم حال ہی میں سچل گوٹھ منتقل ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اتوار کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے جا رہا ہے، مگر واپس نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رحمت علی کو کہیں اور قتل کیا گیا اور بعد ازاں لاش سنسان علاقے میں لا کر پھینک دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جامعہ کراچی کے ایک نوجوان ملازم کی لاش صفورا کے قریب سے برآمد ہوئی ہے۔</p>
<p>سچل تھانے کے ایس ایچ او شبیر حسین نے بتایا کہ 37 سالہ رحمت علی کی تشدد زدہ لاش الازہر گارڈن کے قریب جھاڑیوں سے ملی، لاش بوری میں بند تھی جبکہ دونوں ٹانگیں تار سے بندھی ہوئی تھیں، سر پر سخت اور نوکیلے آلات سے ضربیں لگائی گئی تھیں۔</p>
<p>لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس افسر کے مطابق مقتول جامعہ کراچی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کا ملازم تھا۔ وہ پہلے جامعہ کے اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا تاہم حال ہی میں سچل گوٹھ منتقل ہوا تھا۔</p>
<p>مقتول کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اتوار کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے جا رہا ہے، مگر واپس نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رحمت علی کو کہیں اور قتل کیا گیا اور بعد ازاں لاش سنسان علاقے میں لا کر پھینک دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274949</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 19:04:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29190259a537948.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29190259a537948.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: سٹی کورٹ کے احاطے میں یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کا تشدد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274942/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران سیشنز کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی حملہ کیا گیا جس کے باعث عدالت کا ماحول بدنظمی کا شکار ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجب بٹ 20 دسمبر کو دی گئی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر آج (پیر کو) سیشنز کورٹ سینٹرل میں پیش ہوئے تھے تاہم سماعت کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی اور ان پر حملہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں الزام لگایا کہ کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں کچھ وکلا نے ان کے موکل پر ان کی موجودگی میں حملہ کیا جس سے رجب بٹ زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود تشدد جاری رکھا گیا جو وکلا کے لیے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میاں علی اشفاق کے مطابق قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اگر وکلا آئے روز فریق بن کر شہریوں پر عدالتوں میں حملے کرتے رہے تو ان کا احترام شدید طور پر متاثر ہوگا۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک رویہ قرار دیا جس کی کسی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گروپ میں مقدمے کے مدعی ریاض سولنگی بھی موجود تھے جو ویڈیو میں یہ کہتے دکھائی دیے کہ رجب بٹ نے وکلا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=DI4DXLOSZkY'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/DI4DXLOSZkY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی ویڈیو میں موجود ایک اور شخص نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا وہ وکلا کے خلاف زبان استعمال کرنے اور بدتمیزی کا نتیجہ ہے اور جو بھی وکلا کے خلاف بولے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ ٹک ٹاکر ندیم مبارک المعروف نانی والا بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور دونوں 10 دسمبر کو لندن سے پاکستان واپس آئے تھے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے اہل خانہ کی درخواست پر 10 روزہ حفاظتی ضمانت دی تھی۔ آج سیشنز کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مقدمے-کا-پس-منظر" href="#مقدمے-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقدمے کا پس منظر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ریاض سولنگی نے جنوری میں حیدری مارکیٹ تھانے میں رجب بٹ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت درخواست دی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ دسمبر 2024 میں انہوں نے یوٹیوبر کی ایک وائرل ویڈیو دیکھی جس میں وہ مبینہ طور پر موسیقی کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایف آئی آر سیشنز کورٹ کی جانب سے دفعہ 22 اے کے تحت درخواست منظور ہونے کے بعد درج کی گئی تھی، جس میں ایس ایچ او کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رجب بٹ نے جنوری میں اپنے فیس بک پیج پر مختلف مسالک کے علما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تین ویڈیوز جاری کیں جن میں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے غیر ارادی عمل سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو انہیں اس پر دلی افسوس ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران سیشنز کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی حملہ کیا گیا جس کے باعث عدالت کا ماحول بدنظمی کا شکار ہوگیا۔</p>
<p>رجب بٹ 20 دسمبر کو دی گئی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر آج (پیر کو) سیشنز کورٹ سینٹرل میں پیش ہوئے تھے تاہم سماعت کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی اور ان پر حملہ کردیا گیا۔</p>
<p>ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں الزام لگایا کہ کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں کچھ وکلا نے ان کے موکل پر ان کی موجودگی میں حملہ کیا جس سے رجب بٹ زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود تشدد جاری رکھا گیا جو وکلا کے لیے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میاں علی اشفاق کے مطابق قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اگر وکلا آئے روز فریق بن کر شہریوں پر عدالتوں میں حملے کرتے رہے تو ان کا احترام شدید طور پر متاثر ہوگا۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک رویہ قرار دیا جس کی کسی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔</p>
<p>اس گروپ میں مقدمے کے مدعی ریاض سولنگی بھی موجود تھے جو ویڈیو میں یہ کہتے دکھائی دیے کہ رجب بٹ نے وکلا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=DI4DXLOSZkY'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/DI4DXLOSZkY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی ویڈیو میں موجود ایک اور شخص نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا وہ وکلا کے خلاف زبان استعمال کرنے اور بدتمیزی کا نتیجہ ہے اور جو بھی وکلا کے خلاف بولے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ ٹک ٹاکر ندیم مبارک المعروف نانی والا بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں دکھائی دیے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور دونوں 10 دسمبر کو لندن سے پاکستان واپس آئے تھے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے اہل خانہ کی درخواست پر 10 روزہ حفاظتی ضمانت دی تھی۔ آج سیشنز کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔</p>
<h2><a id="مقدمے-کا-پس-منظر" href="#مقدمے-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقدمے کا پس منظر</h2>
<p>ریاض سولنگی نے جنوری میں حیدری مارکیٹ تھانے میں رجب بٹ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت درخواست دی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ دسمبر 2024 میں انہوں نے یوٹیوبر کی ایک وائرل ویڈیو دیکھی جس میں وہ مبینہ طور پر موسیقی کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔</p>
<p>یہ ایف آئی آر سیشنز کورٹ کی جانب سے دفعہ 22 اے کے تحت درخواست منظور ہونے کے بعد درج کی گئی تھی، جس میں ایس ایچ او کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی۔</p>
<p>ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رجب بٹ نے جنوری میں اپنے فیس بک پیج پر مختلف مسالک کے علما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تین ویڈیوز جاری کیں جن میں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے غیر ارادی عمل سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو انہیں اس پر دلی افسوس ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274942</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 13:48:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سُمیر عبداللہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/291337012b558fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="802">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/291337012b558fd.webp"/>
        <media:title>واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا، مصطفیٰ کمال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274937/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا ہے کہ عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے قتل کا الزام بانی ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے ان پر 25 سال تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے پیسے لینے کا سنگین الزام بھی عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نشے میں دھت الطاف حسین نے پارٹی کو 40 سال دینے والے عمران فاروق کو ان کی سالگرہ والے دن قتل کروا کر  17 ستمبر 2010 کو خود کو سالگرہ کا تحفہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا بانی ایم کیوایم ڈرامہ باز آدمی ہے، ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی لاش پر بانی ایم کیوایم نے ناٹک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 15 سال قبل 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائشگاہ کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے قتل کا کیس پانچ سال تک عدالت میں چلا جس کے بعد 2015 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا اور تینوں پر 10، دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031776'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کا انتقال ہوا، نام نہاد بانی ایم کیو ایم نے اس لاش کو لے کر واویلا مچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے میت پاکستان بھیجنے کے لیے دنیا بھر سے چندا اکٹھا کیا، میں نے دو سال سے بانی ایم کیوایم پر بات کرنا چھوڑ دی تھی، یہ ڈرامے کر رہا ہے، تکیے کے نیچے سے 5 لاکھ پاؤنڈ نکلے، آفس سے 6 لاکھ پاؤنڈ نکلے، ان کے پاس 6 ہزار پاؤنڈ نہیں تھے عمران فاروق کی بیوی کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے مرنےکے بعد اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بانی ایم کیوایم سے کہتا ہوں وہ کیس کھلوائیں کہ اصل قاتلوں کا پتا لگایا جائے، الطاف حسین ہمت کرے میں اپنے پیسے سے اس کا ساتھ دینے کو تیار ہوں، یہ آدمی خود کو راجا اندر سمجھتا ہے ہم نے بہت سی باتوں پر پردہ ڈالا، جب عمران فاروق کو قتل کیا گیا تھا میں پارٹی کی جانب سے گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں وہاں موجود تھا بانی ایم کیوایم کو نماز جنازہ میں صرف تصویر بنوانی تھی، بانی الطاف حسین نے مسجد میں کیمرے کی اجازت نا ہوتےہوئے بھی لڑکے سے تصویربنوائی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031704'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کا کہنا تھا  بانی ایم کیو ایم مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار ہے، مہاجر قوم بڑی بدقسمت ہے، کیا کرمنل قائد ملا ہے ہمیں، 40 سال میں کتنے لوگوں کو یہ کھا گیا، اب بھی کھا رہا ہے، ہم آئینی ترمیم لے کر گھوم رہے تھے اس کو اللہ نے اتنی طاقت دی تھی، اس وقت اس کو یہ خیال نہیں آیا اب یہ ہمیں کہہ رہا ہے، اس نےآئینی ترمیم کے لیے کبھی ہڑتال کی جب ایک آواز  پر 5 لاکھ لوگ جمع ہو جاتے، 20 سال پہلے یہ سب کرتا تو 10 منٹ میں آئینی ترمیم ہوتی لیکن یہ نہیں چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈیارڈ کو پتا تھا عمران فاروق کو کس نے مارا ہے، اس لیے انہوں نے قتل کے 15 دن تک بچوں کو چھپا کر رکھا تھا، ڈاکٹر عمران فاروق کے بچے ابھی جوان ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے بچوں سے کہتا ہوں لندن میں اس شخض سے بچو، اپنے باپ کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالت جاؤ اور مقدمہ دائر کرو، یہ آدمی خاموشی کو کمزوری سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا اس شخص الطاف حسین نےمیرا شہر تباہ کردیا ہے، ہم ان شاء اللہ اس شہر کو دوبارہ اسی جگہ لے کر جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی ٹریلر دکھایا ہے، چیلنج کرتا ہوں آئے اور الطاف حسین ہم سے بات کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا ہے کہ عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا۔</strong></p>
<p>کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے قتل کا الزام بانی ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے ان پر 25 سال تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے پیسے لینے کا سنگین الزام بھی عائد کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نشے میں دھت الطاف حسین نے پارٹی کو 40 سال دینے والے عمران فاروق کو ان کی سالگرہ والے دن قتل کروا کر  17 ستمبر 2010 کو خود کو سالگرہ کا تحفہ دیا۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا بانی ایم کیوایم ڈرامہ باز آدمی ہے، ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی لاش پر بانی ایم کیوایم نے ناٹک کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 15 سال قبل 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائشگاہ کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کے قتل کا کیس پانچ سال تک عدالت میں چلا جس کے بعد 2015 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا اور تینوں پر 10، دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031776'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کا انتقال ہوا، نام نہاد بانی ایم کیو ایم نے اس لاش کو لے کر واویلا مچایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے میت پاکستان بھیجنے کے لیے دنیا بھر سے چندا اکٹھا کیا، میں نے دو سال سے بانی ایم کیوایم پر بات کرنا چھوڑ دی تھی، یہ ڈرامے کر رہا ہے، تکیے کے نیچے سے 5 لاکھ پاؤنڈ نکلے، آفس سے 6 لاکھ پاؤنڈ نکلے، ان کے پاس 6 ہزار پاؤنڈ نہیں تھے عمران فاروق کی بیوی کے لیے۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے مرنےکے بعد اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بانی ایم کیوایم سے کہتا ہوں وہ کیس کھلوائیں کہ اصل قاتلوں کا پتا لگایا جائے، الطاف حسین ہمت کرے میں اپنے پیسے سے اس کا ساتھ دینے کو تیار ہوں، یہ آدمی خود کو راجا اندر سمجھتا ہے ہم نے بہت سی باتوں پر پردہ ڈالا، جب عمران فاروق کو قتل کیا گیا تھا میں پارٹی کی جانب سے گیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں وہاں موجود تھا بانی ایم کیوایم کو نماز جنازہ میں صرف تصویر بنوانی تھی، بانی الطاف حسین نے مسجد میں کیمرے کی اجازت نا ہوتےہوئے بھی لڑکے سے تصویربنوائی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031704'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی وزیر کا کہنا تھا  بانی ایم کیو ایم مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار ہے، مہاجر قوم بڑی بدقسمت ہے، کیا کرمنل قائد ملا ہے ہمیں، 40 سال میں کتنے لوگوں کو یہ کھا گیا، اب بھی کھا رہا ہے، ہم آئینی ترمیم لے کر گھوم رہے تھے اس کو اللہ نے اتنی طاقت دی تھی، اس وقت اس کو یہ خیال نہیں آیا اب یہ ہمیں کہہ رہا ہے، اس نےآئینی ترمیم کے لیے کبھی ہڑتال کی جب ایک آواز  پر 5 لاکھ لوگ جمع ہو جاتے، 20 سال پہلے یہ سب کرتا تو 10 منٹ میں آئینی ترمیم ہوتی لیکن یہ نہیں چاہتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈیارڈ کو پتا تھا عمران فاروق کو کس نے مارا ہے، اس لیے انہوں نے قتل کے 15 دن تک بچوں کو چھپا کر رکھا تھا، ڈاکٹر عمران فاروق کے بچے ابھی جوان ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے بچوں سے کہتا ہوں لندن میں اس شخض سے بچو، اپنے باپ کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالت جاؤ اور مقدمہ دائر کرو، یہ آدمی خاموشی کو کمزوری سمجھتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا اس شخص الطاف حسین نےمیرا شہر تباہ کردیا ہے، ہم ان شاء اللہ اس شہر کو دوبارہ اسی جگہ لے کر جائیں گے۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی ٹریلر دکھایا ہے، چیلنج کرتا ہوں آئے اور الطاف حسین ہم سے بات کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274937</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 13:11:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/281235359b19e8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/281235359b19e8a.webp"/>
        <media:title>ہم نے ابھی ٹریلر دکھایا ہے، چیلنج کرتا ہوں آئے اور الطاف حسین ہم سے بات کرے۔ فائنل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں 1500 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274940/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سال کے آخری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 74 ہزار کی تاریخی سطح عبور کرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار کی بلند سطح عبور کرتے ہوئے ایک لاکھ 74 ہزار 411 پوائنٹس پر جاپہنچا تھا، بعدازاں تیزی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایچ بی ایل، میزان بینک، اور ایم سی بی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں منافع کا رجحان غالب آگیا جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 173,200 پوائنٹس تک گرگیا، تاہم یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہی کیونکہ دوبارہ خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو نقصان سے نکالا اور سیشن کے باقی حصے میں محدود حد کے اندر ٹریڈنگ جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,495.61 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے سے ایک لاکھ 73 ہزار 8 سو 96 پوائنٹس پربند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ تاریخی سطح پر بند ہوئی جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس اپنی ریکارڈ ساز تیزی کو جاری رکھتے ہوئے 172,400 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 0.6 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ آئندہ سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی توقعات کے باعث ڈالر تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سال کے آخری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 74 ہزار کی تاریخی سطح عبور کرگیا۔</strong></p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار کی بلند سطح عبور کرتے ہوئے ایک لاکھ 74 ہزار 411 پوائنٹس پر جاپہنچا تھا، بعدازاں تیزی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>اہم شعبوں میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریز شامل ہیں۔</p>
<p>اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایچ بی ایل، میزان بینک، اور ایم سی بی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>بعدازاں منافع کا رجحان غالب آگیا جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 173,200 پوائنٹس تک گرگیا، تاہم یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہی کیونکہ دوبارہ خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو نقصان سے نکالا اور سیشن کے باقی حصے میں محدود حد کے اندر ٹریڈنگ جاری رہی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,495.61 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے سے ایک لاکھ 73 ہزار 8 سو 96 پوائنٹس پربند ہوا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ تاریخی سطح پر بند ہوئی جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس اپنی ریکارڈ ساز تیزی کو جاری رکھتے ہوئے 172,400 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 0.6 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ آئندہ سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی توقعات کے باعث ڈالر تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274940</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 18:37:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29130916c443400.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29130916c443400.webp"/>
        <media:title>عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ فوٹو کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قائداعظم کے 149ویں یومِ پیدائش پر ملک بھر میں تقریبات، سول و عسکری قیادت کا خراجِ تحسین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274920/</link>
      <description>&lt;p&gt;سول اور عسکری قائدین نے قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ایک خودمختار، جمہوری اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ریاست کے ان کے وژن کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ فجر کے بعد مساجد میں قائداعظم، ملک کے امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ کراچی میں مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RadioPakistan/status/2004047375665639558/photo/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RadioPakistan/status/2004047375665639558/photo/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پاکستان-کی-سلامتی-و-خوشحالی-کے-لیے-قائداعظم-کی-وراثت-کو-آگے-بڑھانے-کا-عزم" href="#پاکستان-کی-سلامتی-و-خوشحالی-کے-لیے-قائداعظم-کی-وراثت-کو-آگے-بڑھانے-کا-عزم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لیے قائداعظم کی وراثت کو آگے بڑھانے کا عزم&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن قائداعظم کے رہنما اصولوں، جمہوریت، آئین کی بالادستی، سماجی انصاف، مذہبی ہم آہنگی اور مساوات و قانون کی حکمرانی پر مبنی فلاحی ریاست کے وژن سے وابستگی کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/CMShehbaz/status/2004053077050237417?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004053077050237417%7Ctwgr%5Ee8b82345a5627aa1ee8eb500ea6dd4ae68877fbf%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963160'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2004053077050237417?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004053077050237417%7Ctwgr%5Ee8b82345a5627aa1ee8eb500ea6dd4ae68877fbf%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963160"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے دائمی اصول ہماری قومی طاقت کی بنیاد اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم ایک دوراندیش رہنما اور عالمی سطح کے مدبر سیاستدان تھے جن کی سیاسی بصیرت، غیر متزلزل عزم اور بے لوث جدوجہد نے تاریخ کا رخ موڑا اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کے قیام کو ممکن بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے وقار، سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے قائداعظم کی وراثت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="نوجوان-قائد-اعظم-کے-نظریات-اپنائیں-صدر-زرداری" href="#نوجوان-قائد-اعظم-کے-نظریات-اپنائیں-صدر-زرداری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نوجوان قائد اعظم کے نظریات اپنائیں، صدر زرداری&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے قائداعظم کی قیادت کی دائمی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قوم سے جمہوری اور جامع اقدار کے ساتھ وابستگی کی تجدید کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی قیادت، وژن اور اصول آج کے چیلنجز میں بھی قوم کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت، انصاف اور مساوات کے اصول ہماری قومی سمت کا مرکز ہیں اور اداروں و فیصلوں کی بنیاد بننے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کو ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قومی اعتماد کے لیے ناگزیر قرار دیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قائداعظم کے نظریات کو اپنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئندہ سال قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت 2026 کو یومِ قائداعظم کا سال قرار دے گی تاکہ ان کی زندگی، جدوجہد اور وژن پر بامعنی غور اور آنے والی نسلوں تک ان کے اصول منتقل کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مسلح-افواج-قائداعظم-کے-وژن-سے-غیر-متزلزل-وابستگی-کا-اعادہ-کرتی-ہیں" href="#مسلح-افواج-قائداعظم-کے-وژن-سے-غیر-متزلزل-وابستگی-کا-اعادہ-کرتی-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’مسلح افواج قائداعظم کے وژن سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہیں‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;عسکری قیادت نے بھی قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے اصولوں پر قائم ایک مضبوط، خودمختار، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے قائداعظم کے وژن سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور قومی استحکام، امن اور ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سول اور عسکری قائدین نے قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ایک خودمختار، جمہوری اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ریاست کے ان کے وژن کو اجاگر کیا۔</p>
<p>سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ فجر کے بعد مساجد میں قائداعظم، ملک کے امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ کراچی میں مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RadioPakistan/status/2004047375665639558/photo/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RadioPakistan/status/2004047375665639558/photo/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<h2><a id="پاکستان-کی-سلامتی-و-خوشحالی-کے-لیے-قائداعظم-کی-وراثت-کو-آگے-بڑھانے-کا-عزم" href="#پاکستان-کی-سلامتی-و-خوشحالی-کے-لیے-قائداعظم-کی-وراثت-کو-آگے-بڑھانے-کا-عزم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لیے قائداعظم کی وراثت کو آگے بڑھانے کا عزم</h2>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن قائداعظم کے رہنما اصولوں، جمہوریت، آئین کی بالادستی، سماجی انصاف، مذہبی ہم آہنگی اور مساوات و قانون کی حکمرانی پر مبنی فلاحی ریاست کے وژن سے وابستگی کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/CMShehbaz/status/2004053077050237417?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004053077050237417%7Ctwgr%5Ee8b82345a5627aa1ee8eb500ea6dd4ae68877fbf%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963160'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2004053077050237417?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004053077050237417%7Ctwgr%5Ee8b82345a5627aa1ee8eb500ea6dd4ae68877fbf%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963160"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے دائمی اصول ہماری قومی طاقت کی بنیاد اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم ایک دوراندیش رہنما اور عالمی سطح کے مدبر سیاستدان تھے جن کی سیاسی بصیرت، غیر متزلزل عزم اور بے لوث جدوجہد نے تاریخ کا رخ موڑا اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کے قیام کو ممکن بنایا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے وقار، سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے قائداعظم کی وراثت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<h2><a id="نوجوان-قائد-اعظم-کے-نظریات-اپنائیں-صدر-زرداری" href="#نوجوان-قائد-اعظم-کے-نظریات-اپنائیں-صدر-زرداری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نوجوان قائد اعظم کے نظریات اپنائیں، صدر زرداری</h2>
<p>صدر آصف علی زرداری نے قائداعظم کی قیادت کی دائمی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قوم سے جمہوری اور جامع اقدار کے ساتھ وابستگی کی تجدید کی اپیل کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی قیادت، وژن اور اصول آج کے چیلنجز میں بھی قوم کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت، انصاف اور مساوات کے اصول ہماری قومی سمت کا مرکز ہیں اور اداروں و فیصلوں کی بنیاد بننے چاہئیں۔</p>
<p>صدر نے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کو ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قومی اعتماد کے لیے ناگزیر قرار دیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قائداعظم کے نظریات کو اپنائیں۔</p>
<p>انہوں نے آئندہ سال قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت 2026 کو یومِ قائداعظم کا سال قرار دے گی تاکہ ان کی زندگی، جدوجہد اور وژن پر بامعنی غور اور آنے والی نسلوں تک ان کے اصول منتقل کیے جا سکیں۔</p>
<h2><a id="مسلح-افواج-قائداعظم-کے-وژن-سے-غیر-متزلزل-وابستگی-کا-اعادہ-کرتی-ہیں" href="#مسلح-افواج-قائداعظم-کے-وژن-سے-غیر-متزلزل-وابستگی-کا-اعادہ-کرتی-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’مسلح افواج قائداعظم کے وژن سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہیں‘</h2>
<p>عسکری قیادت نے بھی قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے اصولوں پر قائم ایک مضبوط، خودمختار، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے قائداعظم کے وژن سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہیں۔</p>
<p>مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور قومی استحکام، امن اور ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274920</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 12:26:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/25121157f006fbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/25121157f006fbb.webp"/>
        <media:title>مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور قومی استحکام، امن اور ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274911/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک گاڑیوں کی آمدورفت پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی حادثات ڈمپر ٹرکوں اور واٹر ٹینکروں جیسی بھاری گاڑیوں کی ٹکر کے باعث پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی جانب سے منگل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کی درخواست کی تھی تاکہ بھاری گاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے مسائل حل کیے جا سکیں اور سڑک حادثات کی روک تھام ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے مفاد میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت شہر میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے مناسب بنیادیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273439'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273439"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے تحت کمشنر کراچی نے تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپراور دیگر ہیوی ٹریفک پر شہر کے تمام علاقوں میں مکمل پابندی عائد کر دی ہے، تاہم انہیں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک چلنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح شہر میں ہیوی ٹریفک کی مجموعی آمدورفت پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کے علاوہ نافذ رہے گی۔ البتہ ضروری اشیا لے جانے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں پانی، خوردنی تیل، مائع نائٹروجن، گوشت، کھالیں اور طبی گیسیں شامل ہیں جنہیں جان بچانے والی ادویات کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جناح ایونیو پر بھی ہیوی ٹریفک کی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جو سپر ہائی وے ایم نائن کراچی حیدرآباد موٹر وے کے قریب صائمہ پری کلاسک اور روفی گلوبل سٹی سے لے کر ملیر ہالٹ شاہراہ فیصل تک نافذ ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273196'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہیوی ٹریفک کے لیے تین مخصوص راستے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپر شامل نہیں ہوں گے۔ ان راستوں میں سپر ہائی وے کے ذریعے سلپ روڈ سے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا، نیشنل ہائی وے کے ذریعے گودام چورنگی، یونس چورنگی اور داؤد چورنگی شامل ہیں۔ تیسرا راستہ ناردرن بائی پاس ہے، جس کے ذریعے گاڑیاں گل بائی اور ماڑی پور سے ہوتی ہوئی کراچی پورٹ تک جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک متبادل راستہ بھی متعین کیا گیا ہے جو لنک روڈ کٹھور سے سسی ٹول پلازہ تک ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ منظور شدہ ٹریکنگ ڈیوائسز سے لیس ڈمپروں کو، جن کا ڈیٹا کراچی ٹریفک پولیس کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہے، صنعتی علاقوں میں مقررہ اوقات کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندیاں 23 دسمبر سے 22 فروری 2026 تک دو ماہ کے لیے نافذ رہیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273053/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک پر پابندی لگائی گئی ہو۔ فروری میں صوبائی حکومت نے 60 روز کے لیے ہیوی گاڑیوں پر پابندی عائد کی تھی، جس میں رات کے مخصوص اوقات کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ اپریل میں اس پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل ہی 19 دسمبر کو کراچی میں تین الگ الگ ٹریفک حادثات میں تین افراد جاں بحق ہوئے، جن کی وجہ ہیوی گاڑیوں کی غفلت اور لاپروا ڈرائیونگ بتائی گئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ماڑی پور میں بڑا بورڈ پی اے ایف گیٹ کے قریب ایک ٹریلر ٹرک نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو کچل دیا تھا جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک گاڑیوں کی آمدورفت پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی حادثات ڈمپر ٹرکوں اور واٹر ٹینکروں جیسی بھاری گاڑیوں کی ٹکر کے باعث پیش آئے۔</p>
<p>کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی جانب سے منگل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کی درخواست کی تھی تاکہ بھاری گاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے مسائل حل کیے جا سکیں اور سڑک حادثات کی روک تھام ہو۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے مفاد میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت شہر میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے مناسب بنیادیں موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273439'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273439"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے تحت کمشنر کراچی نے تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپراور دیگر ہیوی ٹریفک پر شہر کے تمام علاقوں میں مکمل پابندی عائد کر دی ہے، تاہم انہیں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک چلنے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>اسی طرح شہر میں ہیوی ٹریفک کی مجموعی آمدورفت پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کے علاوہ نافذ رہے گی۔ البتہ ضروری اشیا لے جانے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں پانی، خوردنی تیل، مائع نائٹروجن، گوشت، کھالیں اور طبی گیسیں شامل ہیں جنہیں جان بچانے والی ادویات کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔</p>
<p>جناح ایونیو پر بھی ہیوی ٹریفک کی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جو سپر ہائی وے ایم نائن کراچی حیدرآباد موٹر وے کے قریب صائمہ پری کلاسک اور روفی گلوبل سٹی سے لے کر ملیر ہالٹ شاہراہ فیصل تک نافذ ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273196'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہیوی ٹریفک کے لیے تین مخصوص راستے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپر شامل نہیں ہوں گے۔ ان راستوں میں سپر ہائی وے کے ذریعے سلپ روڈ سے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا، نیشنل ہائی وے کے ذریعے گودام چورنگی، یونس چورنگی اور داؤد چورنگی شامل ہیں۔ تیسرا راستہ ناردرن بائی پاس ہے، جس کے ذریعے گاڑیاں گل بائی اور ماڑی پور سے ہوتی ہوئی کراچی پورٹ تک جا سکیں گی۔</p>
<p>ایک متبادل راستہ بھی متعین کیا گیا ہے جو لنک روڈ کٹھور سے سسی ٹول پلازہ تک ہوگا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ منظور شدہ ٹریکنگ ڈیوائسز سے لیس ڈمپروں کو، جن کا ڈیٹا کراچی ٹریفک پولیس کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہے، صنعتی علاقوں میں مقررہ اوقات کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندیاں 23 دسمبر سے 22 فروری 2026 تک دو ماہ کے لیے نافذ رہیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273053/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک پر پابندی لگائی گئی ہو۔ فروری میں صوبائی حکومت نے 60 روز کے لیے ہیوی گاڑیوں پر پابندی عائد کی تھی، جس میں رات کے مخصوص اوقات کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ اپریل میں اس پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی گئی۔</p>
<p>چند روز قبل ہی 19 دسمبر کو کراچی میں تین الگ الگ ٹریفک حادثات میں تین افراد جاں بحق ہوئے، جن کی وجہ ہیوی گاڑیوں کی غفلت اور لاپروا ڈرائیونگ بتائی گئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ماڑی پور میں بڑا بورڈ پی اے ایف گیٹ کے قریب ایک ٹریلر ٹرک نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو کچل دیا تھا جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہو گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274911</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:25:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/24131751a0395a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/24131751a0395a1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی یوٹیوب مواد کے مجموعی واچ ٹائم میں 60 فیصد بیرون ملک ناظرین کا حصہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274833/</link>
      <description>&lt;p&gt;ویڈیوز کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب کا کہنا ہے کہ پاکستانی تخلیقی سرگرمیوں کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں تخلیق کاروں، فنکاروں اور کہانی سنانے والوں کا ایک متحرک نظام ملک کو ڈیجیٹل مواد کی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے جاری بیان میں پلیٹ فارم نے بتایا کہ جیسے ہی ہم 2026ءمیں داخل ہو رہے ہیں، پاکستانی تخلیقی صلاحیتیں صرف ملک کے اندر ہی نہیں پروان چڑھ رہیں بلکہ دنیا بھر کے دلوں اور اسکرینوں کو مسحور کن بنا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے اعداد و شمار عزم اور کامیابی کی عکاسی کرتےہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنہ 2025ء میں  25 ہزار سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلوں نے 10 ہزار سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا ہے، جبکہ13 ہزار سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی چینلوں نے دس لاکھ سبسکرائبرز کا قابلِ قدر ہدف بھی عبور کیا جو عالمی سطح پر پاکستانی مواد کے معیار، صداقت اور مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر کن پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی ہے، جہاں پاکستانی مواد کے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد سے زائد حصہ بیرونِ ملک ناظرین پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1176450/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے کوالالمپور، لاہور سے لندن تک، پاکستانی تخلیق کار ثقافت، تفریح اور مشترکہ انسانی تجربات کے ایسے پل قائم کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بزنس و آپریشنز، فرحان قریشی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی تخلیق کاروں کی طرف سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف مقامی ناظرین کے لیے مواد تیار کرنے تک محدود نہیں  بلکہ وہ ایسی کہانیاں، نقطۂ نظر اور تفریح تخلیق کر رہے ہیں جو براعظموں کے پار لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہیں، اور ازسرِنو تعریف متعین کر رہی ہیں کہ عالمی مواد تخلیق کار ہونے کا مطلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ویڈیوز کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب کا کہنا ہے کہ پاکستانی تخلیقی سرگرمیوں کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں تخلیق کاروں، فنکاروں اور کہانی سنانے والوں کا ایک متحرک نظام ملک کو ڈیجیٹل مواد کی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔</p>
<p>کراچی سے جاری بیان میں پلیٹ فارم نے بتایا کہ جیسے ہی ہم 2026ءمیں داخل ہو رہے ہیں، پاکستانی تخلیقی صلاحیتیں صرف ملک کے اندر ہی نہیں پروان چڑھ رہیں بلکہ دنیا بھر کے دلوں اور اسکرینوں کو مسحور کن بنا رہی ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے اعداد و شمار عزم اور کامیابی کی عکاسی کرتےہیں۔</p>
<p>سنہ 2025ء میں  25 ہزار سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلوں نے 10 ہزار سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا ہے، جبکہ13 ہزار سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی چینلوں نے دس لاکھ سبسکرائبرز کا قابلِ قدر ہدف بھی عبور کیا جو عالمی سطح پر پاکستانی مواد کے معیار، صداقت اور مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔</p>
<p>سب سے زیادہ متاثر کن پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی ہے، جہاں پاکستانی مواد کے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد سے زائد حصہ بیرونِ ملک ناظرین پر مشتمل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1176450/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی سے کوالالمپور، لاہور سے لندن تک، پاکستانی تخلیق کار ثقافت، تفریح اور مشترکہ انسانی تجربات کے ایسے پل قائم کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہیں۔</p>
<p>گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بزنس و آپریشنز، فرحان قریشی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی تخلیق کاروں کی طرف سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف مقامی ناظرین کے لیے مواد تیار کرنے تک محدود نہیں  بلکہ وہ ایسی کہانیاں، نقطۂ نظر اور تفریح تخلیق کر رہے ہیں جو براعظموں کے پار لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہیں، اور ازسرِنو تعریف متعین کر رہی ہیں کہ عالمی مواد تخلیق کار ہونے کا مطلب کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274833</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 15:56:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/15155508e476337.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/15155508e476337.webp"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈان ٹی وی اور ریڈیو کو سرکاری اشتہارات کی بندش، میڈیا تنظیموں کا شدید اظہار مذمت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274818/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: مختلف میڈیا تنظیموں نے  حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کے ٹی وی اور ریڈیو کو سرکاری اشتہارات کی فراہمی پر بغیر اعلان پابندی کی شدید مذمت کی ہے، یہ پابندی اس سے قبل گروپ کے مرکزی اخبار کو دیے جانے والے اشتہارات محدود کیے جانے کے بعد عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندی فوراً ختم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈان پاکستان کے معتبر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہے اور سرکاری اشتہارات کی بندش ادارے کو مالی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔ سی پی این ای کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے حوالے سے جاری بیان میں یاد دلایا گیا کہ ڈان میڈیا گروپ قیامِ پاکستان سے اب تک غیر جانبدار صحافت کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کرتا آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے بھی ڈان میڈیا گروپ کے اداروں کو سرکاری اشتہارات کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر “شدید مایوس” ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی این ایس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ“گزشتہ 13 ماہ سے روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات کی کٹوتی کا سامنا تھا، مگر اب ڈان میڈیا کے زیرِ ملکیت نیوز چینل اور ریڈیو چینل کو بھی سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیا گیا ہے، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار پر حملہ بھی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی این ایس نے کہا کہ یہ اقدام میڈیا گروپ کو اپنی ادارتی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری اشتہارات چونکہ قومی خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں اختلافی آوازوں کو دبانے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;br&gt;بیان میں کہا گیا کہ اے پی این ایس اس مالی دباؤ کے وقت ڈان میڈیا گروپ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے غیر آئینی فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات بحال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے بھی ڈان کے اداروں پر اشتہاری پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ہمیشہ “اشتہارات کو میڈیا اور آزادیٔ اظہار پر کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے” کی مخالفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی اے نے کہا کہ “ایسے دور میں جب سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا پھیلاؤ عام ہے، روایتی میڈیا کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔”&lt;br&gt;تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے مفاد میں اشتہاری پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد صحافتی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے بھی اس پابندی پر تنقید کی۔ جے اے سی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، اے پی این ایس، سی پی این ای، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز اور پی بی اے کے عہدیداران شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے اے سی کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اس غیر جمہوری اقدام کا سب سے بڑا نشانہ ڈان میڈیا گروپ بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ڈان میڈیا گروپ کو اس کی ادارتی پالیسی اور غیر جانبدار رپورٹنگ کے باعث طویل عرصے سے سرکاری اشتہارات کی بندش کا سامنا ہے، اور اب یہی پابندیاں اس کے ٹی وی اور ریڈیو پلیٹ فارمز پر بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اشتہارات فوراً بحال کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: مختلف میڈیا تنظیموں نے  حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کے ٹی وی اور ریڈیو کو سرکاری اشتہارات کی فراہمی پر بغیر اعلان پابندی کی شدید مذمت کی ہے، یہ پابندی اس سے قبل گروپ کے مرکزی اخبار کو دیے جانے والے اشتہارات محدود کیے جانے کے بعد عائد کی گئی۔</p>
<p>میڈیا اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندی فوراً ختم کی جائے۔</p>
<p>کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈان پاکستان کے معتبر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہے اور سرکاری اشتہارات کی بندش ادارے کو مالی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔ سی پی این ای کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے حوالے سے جاری بیان میں یاد دلایا گیا کہ ڈان میڈیا گروپ قیامِ پاکستان سے اب تک غیر جانبدار صحافت کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کرتا آ رہا ہے۔</p>
<p>آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے بھی ڈان میڈیا گروپ کے اداروں کو سرکاری اشتہارات کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر “شدید مایوس” ہے۔</p>
<p>اے پی این ایس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ“گزشتہ 13 ماہ سے روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات کی کٹوتی کا سامنا تھا، مگر اب ڈان میڈیا کے زیرِ ملکیت نیوز چینل اور ریڈیو چینل کو بھی سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیا گیا ہے، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار پر حملہ بھی ہے۔”</p>
<p>اے پی این ایس نے کہا کہ یہ اقدام میڈیا گروپ کو اپنی ادارتی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری اشتہارات چونکہ قومی خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں اختلافی آوازوں کو دبانے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔<br>بیان میں کہا گیا کہ اے پی این ایس اس مالی دباؤ کے وقت ڈان میڈیا گروپ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے غیر آئینی فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات بحال کریں۔</p>
<p>پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے بھی ڈان کے اداروں پر اشتہاری پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ہمیشہ “اشتہارات کو میڈیا اور آزادیٔ اظہار پر کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے” کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p>پی بی اے نے کہا کہ “ایسے دور میں جب سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا پھیلاؤ عام ہے، روایتی میڈیا کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔”<br>تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے مفاد میں اشتہاری پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔</p>
<p>متعدد صحافتی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے بھی اس پابندی پر تنقید کی۔ جے اے سی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، اے پی این ایس، سی پی این ای، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز اور پی بی اے کے عہدیداران شامل ہیں۔</p>
<p>جے اے سی کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اس غیر جمہوری اقدام کا سب سے بڑا نشانہ ڈان میڈیا گروپ بنا ہوا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ڈان میڈیا گروپ کو اس کی ادارتی پالیسی اور غیر جانبدار رپورٹنگ کے باعث طویل عرصے سے سرکاری اشتہارات کی بندش کا سامنا ہے، اور اب یہی پابندیاں اس کے ٹی وی اور ریڈیو پلیٹ فارمز پر بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اشتہارات فوراً بحال کیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274818</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 13:30:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131329253963aaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131329253963aaa.webp"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274800/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبہ سندھ کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے موسم سرما کی سالانہ چھٹیوں کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے  بھر میں موسمِ سرما کی تعطیلات 22 سے 31 دسمبر تک ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے یکم جنوری سے معمول کے مطابق کھلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان تعطیلات کے دوران بورڈ کے ضمنی امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=gZ-2KPpxG4Y'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/gZ-2KPpxG4Y?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صوبہ سندھ کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا۔</strong></p>
<p>سندھ کے محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے موسم سرما کی سالانہ چھٹیوں کا اعلان کیا۔</p>
<p>ترجمان محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے  بھر میں موسمِ سرما کی تعطیلات 22 سے 31 دسمبر تک ہوں گی۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے یکم جنوری سے معمول کے مطابق کھلیں گے۔</p>
<p>تاہم ان تعطیلات کے دوران بورڈ کے ضمنی امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=gZ-2KPpxG4Y'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/gZ-2KPpxG4Y?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274800</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 16:14:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/11161253318bf3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/11161253318bf3a.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا معاملہ، باپ بیٹے نے اعتراف جرم کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274788/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فلیٹ سے تین خواتین کی لاشیں ملنے کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا، باپ اور بیٹے نے تینوں خواتین کے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست باپ اور بیٹے نے تینوں خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا، اعتراف جرم کے بعد باپ بیٹے کو باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=jInCBrNHHHU'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/jInCBrNHHHU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملی تھیں جبکہ ایک شخص نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی ملا تھا، مرنے والی تینوں خواتین ماں، بیٹی اور بہو تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے معاملہ مشکوک ہونے پر گھر کے سربراہ محمد اقبال اور اسپتال میں زیر علاج بیٹے یاسین کو حراست میں لیا تھا اور دونوں سے تفتیش کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فلیٹ سے تین خواتین کی لاشیں ملنے کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا، باپ اور بیٹے نے تینوں خواتین کے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست باپ اور بیٹے نے تینوں خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا، اعتراف جرم کے بعد باپ بیٹے کو باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=jInCBrNHHHU'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/jInCBrNHHHU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملی تھیں جبکہ ایک شخص نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی ملا تھا، مرنے والی تینوں خواتین ماں، بیٹی اور بہو تھیں۔</p>
<p>پولیس نے معاملہ مشکوک ہونے پر گھر کے سربراہ محمد اقبال اور اسپتال میں زیر علاج بیٹے یاسین کو حراست میں لیا تھا اور دونوں سے تفتیش کی جا رہی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274788</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 16:07:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/101607086404d3b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/101607086404d3b.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی میں ریاست کے اندر ریاست قائم کی گئی، فاروق ستار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی کی شاہراہوں اور مختلف مقامات پر ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ملک دشمنی کا اظہار کیا گیا، اسلحہ لہرا لہرا کر دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 7 دسمبر کو کلچر ڈے کے نام پر ریاستی قانون کو پامال کیا گیا، ثابت کیا گیا کہ 7 دسمبر کو سندھو دیش قائم کیا گیا، کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا، وہاں پولیس مقابلہ ہوا، یہ خوفناک اور خطرناک عمل تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=Qan-33GTr-U'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/Qan-33GTr-U?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فاروق ستار نے کہا کہ مین اسٹریم میڈیا پر سب کچھ ریکارڈ ہے، جو مقدمہ بنایا گیا اس میں دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل ہیں، اس وقت کوئی وہاں سے گزر نہیں سکتا تھا، کوئی بڑا جانی نقصان ہونے کے بعد کیا اسے دہشت گردی کہیں گے، جس طرح نقصان پہنچایا گیا کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی تو پولیس پر بھی حملہ کیا گیا، گرفتار اکثریت کو چھوڑ دیا گیا، جب گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے خود ان کا مقدمہ لڑا، انہیں وکیل کی ضرورت ہی نہیں رہی، جو پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی، عوام کو زدوکوب کیا گیا، میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جاتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274732/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں ریلی میں شریک پُرامن سندھی بھائی، بیٹے، بیٹیوں سے کوئی پرخاش نہیں، کراچی کے امن کو تباہ کر کے فساد کی سازش کی گئی، ایک بار پھر بھائی سے بھائی کو لڑانے کی سازش ہو رہی ہے، ہم انتظار کر رہے تھے حکومت سندھ کا اس پر کیا رد عمل آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ  شہر میں مخصوص زبان بولنے والے وکلا کا ٹولہ زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ذیلی عدالت کے رویے پر اعلیٰ عدالت کو نوٹس لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاروق ستار نے کہا کہ بلاول بھٹو اور صدر آصف زرداری کو بھی کہنا چاہیے، جو گورنر کے خلاف ہوا، کل وزیراعلیٰ کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یہ کوئی 200 اقساط والا ڈراما نہیں ہے، اگر حکومت کھل کر نوٹس نہیں لیتی اور گورنر کے ساتھ نہ کھڑی ہوئی، تو سمجھ جانا کہ 17 سال پہلے جو بیج بویا گیا وہ تناور درخت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی کی شاہراہوں اور مختلف مقامات پر ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کی گئی۔</strong></p>
<p>کراچی میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ملک دشمنی کا اظہار کیا گیا، اسلحہ لہرا لہرا کر دکھایا گیا۔</p>
<p>فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 7 دسمبر کو کلچر ڈے کے نام پر ریاستی قانون کو پامال کیا گیا، ثابت کیا گیا کہ 7 دسمبر کو سندھو دیش قائم کیا گیا، کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا، وہاں پولیس مقابلہ ہوا، یہ خوفناک اور خطرناک عمل تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=Qan-33GTr-U'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/Qan-33GTr-U?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فاروق ستار نے کہا کہ مین اسٹریم میڈیا پر سب کچھ ریکارڈ ہے، جو مقدمہ بنایا گیا اس میں دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل ہیں، اس وقت کوئی وہاں سے گزر نہیں سکتا تھا، کوئی بڑا جانی نقصان ہونے کے بعد کیا اسے دہشت گردی کہیں گے، جس طرح نقصان پہنچایا گیا کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی؟</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی تو پولیس پر بھی حملہ کیا گیا، گرفتار اکثریت کو چھوڑ دیا گیا، جب گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے خود ان کا مقدمہ لڑا، انہیں وکیل کی ضرورت ہی نہیں رہی، جو پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی، عوام کو زدوکوب کیا گیا، میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جاتا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274732/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں ریلی میں شریک پُرامن سندھی بھائی، بیٹے، بیٹیوں سے کوئی پرخاش نہیں، کراچی کے امن کو تباہ کر کے فساد کی سازش کی گئی، ایک بار پھر بھائی سے بھائی کو لڑانے کی سازش ہو رہی ہے، ہم انتظار کر رہے تھے حکومت سندھ کا اس پر کیا رد عمل آتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ  شہر میں مخصوص زبان بولنے والے وکلا کا ٹولہ زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ذیلی عدالت کے رویے پر اعلیٰ عدالت کو نوٹس لینا چاہیے۔</p>
<p>فاروق ستار نے کہا کہ بلاول بھٹو اور صدر آصف زرداری کو بھی کہنا چاہیے، جو گورنر کے خلاف ہوا، کل وزیراعلیٰ کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یہ کوئی 200 اقساط والا ڈراما نہیں ہے، اگر حکومت کھل کر نوٹس نہیں لیتی اور گورنر کے ساتھ نہ کھڑی ہوئی، تو سمجھ جانا کہ 17 سال پہلے جو بیج بویا گیا وہ تناور درخت بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274785</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 15:02:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/10150107d8add65.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/10150107d8add65.webp"/>
        <media:title>فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی پولیس نے شہریوں کو اے ٹی ایم کے ذریعے لوٹنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274770/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے علاقے شاہ لطیف میں پولیس نے خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو اے ٹی ایم کے ذریعے لوٹنے میں ملوث ملزم زاہد علی کو گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق  ملزم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم کے باہر شہریوں کی نگرانی کے بعد شکار بناتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا کہ کہ اے ٹی ایم سے رقم نکالنے میں مشکل کا شکار شہریوں کو مدد کی پیشکش کرتا تھا اور پھر شہری کے ساتھ بوتھ میں داخل ہونے کے بعد ملزم خفیہ طور پر ان کا اصل کارڈ تبدیل کر دیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم کا کہنا تھا کہ پاس ورڈ دیکھنے کے بعد وہ مشین میں کارڈ استعمال کیے بغیر یہ تاثر دیتا کہ رقم نہیں نکل رہی اور شہری کے جانے کے بعد اصل اے ٹی ایم کارڈ اور پاس ورڈ کے ذریعے رقم نکال لیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گرفتار ملزم متعدد شہریوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جب کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین کے کارڈز تبدیل کر کے ان کی رقم بھی نکلوانے کا اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، شہریوں کی شکایات موصول ہونے کے بعد شاہ لطیف پولیس نے فوری کارروائی کی، گرفتار ملزم کے قبضے سے مختلف بینکوں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد کئے ہیں گئے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ گرفتار ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے علاقے شاہ لطیف میں پولیس نے خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو اے ٹی ایم کے ذریعے لوٹنے میں ملوث ملزم زاہد علی کو گرفتار کرلیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق  ملزم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم کے باہر شہریوں کی نگرانی کے بعد شکار بناتا تھا۔</p>
<p>بتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا کہ کہ اے ٹی ایم سے رقم نکالنے میں مشکل کا شکار شہریوں کو مدد کی پیشکش کرتا تھا اور پھر شہری کے ساتھ بوتھ میں داخل ہونے کے بعد ملزم خفیہ طور پر ان کا اصل کارڈ تبدیل کر دیتا تھا۔</p>
<p>ملزم کا کہنا تھا کہ پاس ورڈ دیکھنے کے بعد وہ مشین میں کارڈ استعمال کیے بغیر یہ تاثر دیتا کہ رقم نہیں نکل رہی اور شہری کے جانے کے بعد اصل اے ٹی ایم کارڈ اور پاس ورڈ کے ذریعے رقم نکال لیتا تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق گرفتار ملزم متعدد شہریوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جب کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین کے کارڈز تبدیل کر کے ان کی رقم بھی نکلوانے کا اعتراف کیا۔</p>
<p>دوسری جانب، شہریوں کی شکایات موصول ہونے کے بعد شاہ لطیف پولیس نے فوری کارروائی کی، گرفتار ملزم کے قبضے سے مختلف بینکوں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد کئے ہیں گئے ۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ گرفتار ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274770</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 18:14:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09181342d79eee7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09181342d79eee7.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: گٹر کے ڈھکن، اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یوسی کو ماہانہ ایک لاکھ روپے دینے کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274749/</link>
      <description>&lt;p&gt;2023 میں نئے بلدیاتی نظام کے نافذ ہونے کے بعد محلے کی سطح پر ہونے والی بڑی مداخلتوں میں سے ایک میں، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے 246 یونین کمیٹیوں (یو سیز) کے لیے سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے، یعنی ہر یونین کمیٹی کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے صرف مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے منظور کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960024/karachis-246-ucs-to-get-rs100000-per-month-for-manhole-lids-lights"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ فیصلہ اس عوامی غصے کے بعد کیا گیا ہے، جو نیپا کے قریب نالے میں 3 سالہ بچے کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے بعد سامنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایم سی کی جانب سے جاری اس اعلان کے بارے میں میئر مرتضیٰ وہاب نے ’&lt;em&gt;ڈان‘&lt;/em&gt; کو بتایا کہ یہ رقم اُن مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کے علاوہ ہے، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) اور کے ایم سی خود فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ شہری انتظامیہ مین ہول کورز لگانے یا اسٹریٹ لائٹس ٹھیک کرنے کی اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو رہی، بلکہ یو سیز کو یہ اختیارات دے رہی ہے تاکہ وہ ان کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274499'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان براہِ راست میئر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سامنے آیا، جنہوں نے بتایا کہ یہ نیا طریقہ کار یونین کمیٹیوں کو مالیاتی گنجائش دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو اس وقت ماہانہ 12 لاکھ روپے وصول کر رہی ہیں، جو کچھ عرصہ قبل 5 لاکھ روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز میئر کراچی کی جانب سے منظور کی گئی نئی سمری کے مطابق شہر کی 246 یو سیز کو ہر ماہ اضافی ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر وہاب کے مطابق، کے ایم سی انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال کے لیے یو سیز کو مالی طور پر بااختیار بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مین ہول کورز کے ڈبلیو ایس سی اور کے ایم سی دونوں فراہم کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ اضافی قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا، اس لیے کے ایم سی نے فیصلہ کیا کہ ہر یونین کمیٹی کو اسٹریٹ لائٹس کی مرمت اور مین ہول کورز کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اضافی رقم دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک افسر نے بتایا کہ میئر کی منظور کردہ نئی سمری کے تحت کے ایم سی ہر ماہ 2 کروڑ 46 لاکھ روپے شہر کی 246 یو سیز میں تقسیم کرے گی اور سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی دیکھ بھال کے لیے مختص ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کے ڈبلیو ایس سی پہلے ہی تمام ٹاؤنز اور یو سیز کو مین ہول کورز کی سپلائی کو ہموار بنانے اور عوامی سطح پر رابطے کے لیے نوٹیفائی کر چکی ہے۔ میئر نے ہیلپ لائن 1334 اور ای میل &lt;a href="mailto:complaint@kmc.gos.pk"&gt;complaint@kmc.gos.pk&lt;/a&gt; بھی قائم کر دی ہے، جہاں شہری کھلے مین ہولز کی اطلاع دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام جون 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ کے ایم سی نے براہ راست مالی وسائل یو سی سطح پر منتقل کیے ہیں، جب موجودہ بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا تھا، اس کے بعد سے کے ایم سی زیادہ تر محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے امور نمٹاتی رہی ہے، اور یو سیز کو مالیاتی خودمختاری نہیں دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274595'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274595"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ نیپا سانحے کے بعد عوامی غم و غصے کی شدت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس نے بلدیاتی نظام پر شدید تنقید کو جنم دیا کہ وہ بنیادی شہری انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، تاہم یو سیز کو فنڈز دینے کے باوجود اس بات کا کوئی طریقہ کار سامنے نہیں آیا کہ یہ رقم واقعی اپنے مخصوص مقصد پر خرچ بھی ہوگی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسر کے مطابق، نئی رقم میونسپل یوٹیلٹی چارجز اینڈ ٹیکسز (ایم یو سی ٹی) اکاؤنٹ سے جاری کی جائے گی، جس کے ذریعے ہر یو سی شکایات کا فوری جواب دے سکے گی، محلے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنا سکے گی اور بنیادی بلدیاتی خدمات مؤثر طریقے سے مہیا کر سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2024 میں نافذ کیے گئے ایم یو سی ٹی کے ذریعے کے ایم سی کا سالانہ 4 ارب روپے آمدنی کا ہدف ہے، جو کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے جمع کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر وہاب کو امید ہے کہ یہ نیا اقدام شہر میں ’ناخوشگوار حادثات‘ کو روکنے میں مدد دے گا اور مقامی سطح پر بلدیاتی مسائل کو بروقت اور مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی حفاظت اور فلاح شہر کی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور یہ فیصلہ ایک محفوظ، روشن اور بہتر طور پر منظم کراچی کی جانب ایک اور قدم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>2023 میں نئے بلدیاتی نظام کے نافذ ہونے کے بعد محلے کی سطح پر ہونے والی بڑی مداخلتوں میں سے ایک میں، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے 246 یونین کمیٹیوں (یو سیز) کے لیے سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے، یعنی ہر یونین کمیٹی کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے صرف مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے منظور کر لیے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1960024/karachis-246-ucs-to-get-rs100000-per-month-for-manhole-lids-lights"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ فیصلہ اس عوامی غصے کے بعد کیا گیا ہے، جو نیپا کے قریب نالے میں 3 سالہ بچے کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے بعد سامنے آیا تھا۔</p>
<p>کے ایم سی کی جانب سے جاری اس اعلان کے بارے میں میئر مرتضیٰ وہاب نے ’<em>ڈان‘</em> کو بتایا کہ یہ رقم اُن مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کے علاوہ ہے، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) اور کے ایم سی خود فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ شہری انتظامیہ مین ہول کورز لگانے یا اسٹریٹ لائٹس ٹھیک کرنے کی اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو رہی، بلکہ یو سیز کو یہ اختیارات دے رہی ہے تاکہ وہ ان کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274499'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ اعلان براہِ راست میئر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سامنے آیا، جنہوں نے بتایا کہ یہ نیا طریقہ کار یونین کمیٹیوں کو مالیاتی گنجائش دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو اس وقت ماہانہ 12 لاکھ روپے وصول کر رہی ہیں، جو کچھ عرصہ قبل 5 لاکھ روپے تھا۔</p>
<p>پیر کے روز میئر کراچی کی جانب سے منظور کی گئی نئی سمری کے مطابق شہر کی 246 یو سیز کو ہر ماہ اضافی ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت کر سکیں۔</p>
<p>میئر وہاب کے مطابق، کے ایم سی انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال کے لیے یو سیز کو مالی طور پر بااختیار بنا رہی ہے۔</p>
<p>اگرچہ مین ہول کورز کے ڈبلیو ایس سی اور کے ایم سی دونوں فراہم کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ اضافی قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا، اس لیے کے ایم سی نے فیصلہ کیا کہ ہر یونین کمیٹی کو اسٹریٹ لائٹس کی مرمت اور مین ہول کورز کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اضافی رقم دی جائے۔</p>
<p>ایک افسر نے بتایا کہ میئر کی منظور کردہ نئی سمری کے تحت کے ایم سی ہر ماہ 2 کروڑ 46 لاکھ روپے شہر کی 246 یو سیز میں تقسیم کرے گی اور سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی دیکھ بھال کے لیے مختص ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کے ڈبلیو ایس سی پہلے ہی تمام ٹاؤنز اور یو سیز کو مین ہول کورز کی سپلائی کو ہموار بنانے اور عوامی سطح پر رابطے کے لیے نوٹیفائی کر چکی ہے۔ میئر نے ہیلپ لائن 1334 اور ای میل <a href="mailto:complaint@kmc.gos.pk">complaint@kmc.gos.pk</a> بھی قائم کر دی ہے، جہاں شہری کھلے مین ہولز کی اطلاع دے سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ اقدام جون 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ کے ایم سی نے براہ راست مالی وسائل یو سی سطح پر منتقل کیے ہیں، جب موجودہ بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا تھا، اس کے بعد سے کے ایم سی زیادہ تر محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے امور نمٹاتی رہی ہے، اور یو سیز کو مالیاتی خودمختاری نہیں دی گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274595'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274595"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ فیصلہ نیپا سانحے کے بعد عوامی غم و غصے کی شدت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس نے بلدیاتی نظام پر شدید تنقید کو جنم دیا کہ وہ بنیادی شہری انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، تاہم یو سیز کو فنڈز دینے کے باوجود اس بات کا کوئی طریقہ کار سامنے نہیں آیا کہ یہ رقم واقعی اپنے مخصوص مقصد پر خرچ بھی ہوگی یا نہیں۔</p>
<p>افسر کے مطابق، نئی رقم میونسپل یوٹیلٹی چارجز اینڈ ٹیکسز (ایم یو سی ٹی) اکاؤنٹ سے جاری کی جائے گی، جس کے ذریعے ہر یو سی شکایات کا فوری جواب دے سکے گی، محلے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنا سکے گی اور بنیادی بلدیاتی خدمات مؤثر طریقے سے مہیا کر سکے گی۔</p>
<p>اگست 2024 میں نافذ کیے گئے ایم یو سی ٹی کے ذریعے کے ایم سی کا سالانہ 4 ارب روپے آمدنی کا ہدف ہے، جو کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے جمع کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>میئر وہاب کو امید ہے کہ یہ نیا اقدام شہر میں ’ناخوشگوار حادثات‘ کو روکنے میں مدد دے گا اور مقامی سطح پر بلدیاتی مسائل کو بروقت اور مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی حفاظت اور فلاح شہر کی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور یہ فیصلہ ایک محفوظ، روشن اور بہتر طور پر منظم کراچی کی جانب ایک اور قدم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274749</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 11:43:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09113628354f277.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09113628354f277.webp"/>
        <media:title>یہ رقم اُن مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کے علاوہ ہے، جو کے ڈبلیو ایس سی اور کے ایم سی خود فراہم کرتی ہیں۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: سندھی ثقافت کے دن پُرتشدد ریلی نکالنے پر 400 افراد کیخلاف انسداد دہشتگردی کا مقدمہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274732/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں سندھ کلچر ڈے کے موقع پر اتوار کو نکالی جانے والی کئی ریلیوں میں سے ایک کے پرتشدد ہونے کے بعد دہشت گردی کے الزامات کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے اتوار کو ریلی کے شرکا کو ریڈ زون کی طرف شاہراہ فیصل کے راستے جانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس فائر کی اور 45 افراد کو حراست میں لیا تھا، جن میں سے 12 کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق، ریلی کے شرکا نے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق (جس کی نقل ’ڈان‘ کے پاس موجود ہے) ایک مقدمہ اب موقع پر گرفتار 12 افراد اور 300 سے 400 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1193219'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193219"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کیس پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147، 148، 149 ، 341، 144، 324 (اقدام قتل)، 186، 353، 427 اور اینٹی ٹیررزم ایکٹ کی دفعہ 7 (دہشت گردی کے اقدامات کی سزا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کنندہ، انسپکٹر عبدالمجید ابڑو نے کہا کہ وہ اور دیگر پولیس اہلکار اتوار کو دوپہر ڈھائی بجے فنانس اینڈ ٹریڈ سینٹر (ایف ٹی سی) فلائی اوور کے قریب موجود تھے، جب ایک ریلی (جس میں تقریباً 300 سے 400 افراد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں شامل تھے) ہوائی اڈے کی سمت سے صدر کی طرف بڑھ رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے، پولیس اہلکاروں نے ریلی کے شرکاء کو روکنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ تاہم، ریلی کے شرکاء نے دونوں طرف سے مرکزی شاہراہ بلاک کر دی اور پولیس پر پتھر پھینکنا شروع کر دیے اور فائرنگ بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ریلی کے شرکا نے گزرنے والی گاڑیوں، بشمول ریسکیو ایمبولینس اور پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچایا، اور ’ریاست مخالف‘ نعرے بھی لگائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، پولیس اہلکاروں نے موجود افسران کی مدد سے شرکا کو جائیداد کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کو منایا جانے والا سندھ کلچر ڈے پہلی بار 2009 میں منایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس روز سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی، اور سرکاری ادارے مختلف قسم کے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں، جن میں سیمینار، مباحثے، لوک موسیقی کے پروگرام، تھیٹر اور ادبی محفلیں شامل ہیں تاکہ سندھ کی بھرپور ثقافت اور تاریخ کو اجاگر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے اتوار کے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) جنوبی سید اسد رضا نے ’ڈان‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ریلی کے شرکا سے کہا کہ وہ صدر اور بعد میں کراچی پریس کلب (کے پی سی) میں منعقدہ ریلی کی طرف لائنز ایریا کے راستے جائیں، لیکن وہ جناح پل سے شاہراہ فیصل استعمال کرنے پر مصر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب انہیں روکا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا، جس سے 5 اہلکار زخمی ہوئے، اور اس کے نتیجے میں پولیس نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پوچھا گیا کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ایف ٹی سی فلائی اوور پر سڑک کیوں بلاک کی، تو ڈی آئی جی نے کہا کہ کلچر ڈے کے حوالے سے ایک ہدایت جاری کی گئی تھی، کیوں کہ متوقع تھا کہ ایف ٹی سی پر متعدد ریلیاں اور ثقافتی جلوس جمع ہوں گے اور وہ شاہراہ فیصل کے راستے کے پی سی کی طرف جانا چاہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مختلف حصوں سے تقریباً 10 سے 12 ریلیاں آئیں اور تقریباً 17 ہزار سے 18 ہزار شرکا کے ساتھ فوارہ چوک / کے پی سی پہنچی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں سندھ کلچر ڈے کے موقع پر اتوار کو نکالی جانے والی کئی ریلیوں میں سے ایک کے پرتشدد ہونے کے بعد دہشت گردی کے الزامات کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی ہے۔</p>
<p>پولیس نے اتوار کو ریلی کے شرکا کو ریڈ زون کی طرف شاہراہ فیصل کے راستے جانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس فائر کی اور 45 افراد کو حراست میں لیا تھا، جن میں سے 12 کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق، ریلی کے شرکا نے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق (جس کی نقل ’ڈان‘ کے پاس موجود ہے) ایک مقدمہ اب موقع پر گرفتار 12 افراد اور 300 سے 400 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1193219'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193219"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ کیس پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147، 148، 149 ، 341، 144، 324 (اقدام قتل)، 186، 353، 427 اور اینٹی ٹیررزم ایکٹ کی دفعہ 7 (دہشت گردی کے اقدامات کی سزا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔</p>
<p>شکایت کنندہ، انسپکٹر عبدالمجید ابڑو نے کہا کہ وہ اور دیگر پولیس اہلکار اتوار کو دوپہر ڈھائی بجے فنانس اینڈ ٹریڈ سینٹر (ایف ٹی سی) فلائی اوور کے قریب موجود تھے، جب ایک ریلی (جس میں تقریباً 300 سے 400 افراد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں شامل تھے) ہوائی اڈے کی سمت سے صدر کی طرف بڑھ رہی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے، پولیس اہلکاروں نے ریلی کے شرکاء کو روکنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ تاہم، ریلی کے شرکاء نے دونوں طرف سے مرکزی شاہراہ بلاک کر دی اور پولیس پر پتھر پھینکنا شروع کر دیے اور فائرنگ بھی کی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ریلی کے شرکا نے گزرنے والی گاڑیوں، بشمول ریسکیو ایمبولینس اور پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچایا، اور ’ریاست مخالف‘ نعرے بھی لگائے۔</p>
<p>بعد ازاں، پولیس اہلکاروں نے موجود افسران کی مدد سے شرکا کو جائیداد کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔</p>
<p>ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کو منایا جانے والا سندھ کلچر ڈے پہلی بار 2009 میں منایا گیا تھا۔</p>
<p>اس روز سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی، اور سرکاری ادارے مختلف قسم کے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں، جن میں سیمینار، مباحثے، لوک موسیقی کے پروگرام، تھیٹر اور ادبی محفلیں شامل ہیں تاکہ سندھ کی بھرپور ثقافت اور تاریخ کو اجاگر کیا جا سکے۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے اتوار کے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) جنوبی سید اسد رضا نے ’ڈان‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ریلی کے شرکا سے کہا کہ وہ صدر اور بعد میں کراچی پریس کلب (کے پی سی) میں منعقدہ ریلی کی طرف لائنز ایریا کے راستے جائیں، لیکن وہ جناح پل سے شاہراہ فیصل استعمال کرنے پر مصر تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب انہیں روکا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا، جس سے 5 اہلکار زخمی ہوئے، اور اس کے نتیجے میں پولیس نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔</p>
<p>جب پوچھا گیا کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ایف ٹی سی فلائی اوور پر سڑک کیوں بلاک کی، تو ڈی آئی جی نے کہا کہ کلچر ڈے کے حوالے سے ایک ہدایت جاری کی گئی تھی، کیوں کہ متوقع تھا کہ ایف ٹی سی پر متعدد ریلیاں اور ثقافتی جلوس جمع ہوں گے اور وہ شاہراہ فیصل کے راستے کے پی سی کی طرف جانا چاہیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مختلف حصوں سے تقریباً 10 سے 12 ریلیاں آئیں اور تقریباً 17 ہزار سے 18 ہزار شرکا کے ساتھ فوارہ چوک / کے پی سی پہنچی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274732</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 15:39:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/08151102005c85f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/08151102005c85f.webp"/>
        <media:title>ریلی کے شرکا نے پولیس پر پتھراؤ کیا، اور ریاست مخالف نعرے بھی لگائے تھے۔ —فوٹو: شکیل عادل/وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں سال کراچی کے انفرااسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کے لیے 30 ارب روپے خرچ کریں گے، مرتضیٰ وہاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274722/</link>
      <description>&lt;p&gt;میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اپنے مخالفین کو ’نفرت اور تقسیم کی سیاست‘ کے فروغ دہندگان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سال کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ذریعے شہر کے انفرااسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کے لیے 30 ارب روپے خرچ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959827/kmc-to-spend-rs30bn-on-city-infrastructure-says-mayor-wahab"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ تعصب پر مبنی پریس کانفرنسیں کرنے میں یقین نہیں رکھتے، بلکہ عملی کام کے ذریعے جواب دینے پر یقین رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ٹاؤنز کو 14 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، اوزیڈ ٹی (آکٹرائے اور ضلعی ٹیکس) کے تحت 27 ارب روپے موصول ہوئے اور 6 ارب روپے مزید ’کمپیٹیٹیو اینڈ لیوایبل سٹی آف کراچی (کلک) پراجیکٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274621'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہر یونین کمیٹی کے لیے گرانٹ (جو پہلے 5 لاکھ روپے تھی) بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ٹاؤنز کے پاس روڈ کٹنگ فنڈز کے تحت 70 کروڑ روپے دستیاب ہیں، جن کے مؤثر استعمال کی وہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ عوامی فلاح کے لیے کام ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر نے یہ بات اتوار کو محمد شاہ اسٹریٹ اور دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور معائنہ کرنے کے بعد کہی، یہ ترقیاتی کام شہر کے پرانے علاقے میں ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاقے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تنگ گلیوں میں خالص کنکریٹ بلاکس نصب کیے گئے ہیں، سیوریج سسٹم کو جدید بنایا گیا ہے، اور ترقیاتی عمل کے دوران عملہ تاجروں کی کمیونٹی کے ساتھ مسلسل مشغول رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے زیرِ کنٹرول علاقے میئر کے دائرہ اختیار میں آئیں، لیکن اس کے باوجود، ان کا انتظامیہ ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’شہر ایک ہے، تو اس کا نظام بھی ایک ہونا چاہیے، اور مزید کہا کہ اختیارات کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اپنے مخالفین کو ’نفرت اور تقسیم کی سیاست‘ کے فروغ دہندگان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سال کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ذریعے شہر کے انفرااسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کے لیے 30 ارب روپے خرچ کریں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1959827/kmc-to-spend-rs30bn-on-city-infrastructure-says-mayor-wahab"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ تعصب پر مبنی پریس کانفرنسیں کرنے میں یقین نہیں رکھتے، بلکہ عملی کام کے ذریعے جواب دینے پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ٹاؤنز کو 14 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، اوزیڈ ٹی (آکٹرائے اور ضلعی ٹیکس) کے تحت 27 ارب روپے موصول ہوئے اور 6 ارب روپے مزید ’کمپیٹیٹیو اینڈ لیوایبل سٹی آف کراچی (کلک) پراجیکٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274621'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہر یونین کمیٹی کے لیے گرانٹ (جو پہلے 5 لاکھ روپے تھی) بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ٹاؤنز کے پاس روڈ کٹنگ فنڈز کے تحت 70 کروڑ روپے دستیاب ہیں، جن کے مؤثر استعمال کی وہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ عوامی فلاح کے لیے کام ہو سکے۔</p>
<p>میئر نے یہ بات اتوار کو محمد شاہ اسٹریٹ اور دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور معائنہ کرنے کے بعد کہی، یہ ترقیاتی کام شہر کے پرانے علاقے میں ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تنگ گلیوں میں خالص کنکریٹ بلاکس نصب کیے گئے ہیں، سیوریج سسٹم کو جدید بنایا گیا ہے، اور ترقیاتی عمل کے دوران عملہ تاجروں کی کمیونٹی کے ساتھ مسلسل مشغول رہا۔</p>
<p>مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے زیرِ کنٹرول علاقے میئر کے دائرہ اختیار میں آئیں، لیکن اس کے باوجود، ان کا انتظامیہ ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’شہر ایک ہے، تو اس کا نظام بھی ایک ہونا چاہیے، اور مزید کہا کہ اختیارات کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274722</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 12:34:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/08123054d307b6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/08123054d307b6b.webp"/>
        <media:title>میئر نے کہا کہ ’شہر ایک ہے، تو نظام بھی ایک ہونا چاہیے، اختیارات کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا جانا چاہیے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سندھ کا این سی سی آئی اے کی طرز پر سائبر کرائم یونٹ بنانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274718/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت سندھ نے صوبے میں بڑھتے ہوئے آن لائن جرائم کا مقابلہ کرنے، سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور انٹرنیٹ صارفین کو زیادہ محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنے کے لیے ایک سائبرکرائم یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959632"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ سائبرکرائم یونٹ کا مقصد سائبر جرائم کی تحقیقات اور ان کی روک تھام پر توجہ دینا اور صوبے کی سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ صوبائی سائبرکرائم یونٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا تاکہ مجرموں کا سراغ لگا کر انہیں انصاف کے کٹہرے تک لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272589'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272589"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس وقت، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) وفاقی ادارہ ہے، جو سائبر جرائم کی تحقیقات کا ذمہ دار ہے، جن میں ہراسانی، بینک فراڈ، دھمکیاں، بلیک میلنگ، یا الیکٹرانک آلات کی مدد سے کی جانے والی دھوکا دہی شامل ہیں، یہ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ہاٹ میل یا یوٹیوب وغیرہ کی انتظامیہ سے شواہد کے لیے رابطہ بھی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این سی سی آئی اے نے ایف آئی اے کے سابق سائبر کرائم وِنگ کی جگہ لے کر ایک آزاد ایجنسی کی حیثیت حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وفاق-سے-رجوع-کیا-جائے-گا" href="#وفاق-سے-رجوع-کیا-جائے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;وفاق سے رجوع کیا جائے گا&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ صوبائی حکومت جلد ہی وفاقی حکومت سے اجازت طلب کرے گی تاکہ صوبائی سطح پر سائبر کرائم یونٹ قائم کرنے اور اس کے لیے ضروری قوانین بنانے کے اختیارات حاصل کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ وہ سندھ پولیس کو پیکا 2016 کی دفعات 3 سے 23 کے تحت جرائم پر کارروائی کا مجاز ادارہ قرار دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ (جو قانون اور پارلیمانی امور کا قلم دان بھی رکھتے ہیں) نے کہا کہ صوبائی اسمبلی، وفاقی حکومت کی منظوری سے مشروط، این سی سی آئی اے کی طرز پر صوبائی سائبرکرائم یونٹ کے قیام کے لیے قانون سازی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجوزہ صوبائی سائبرکرائم یونٹ، سائبر جرائم سے نمٹنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا، کیوں کہ سندھ میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم وِنگ سنگین مسائل کا شکار ہے، جن میں تفتیشی افسران کی کمی اور زیر التوا شکایات کا بڑا بوجھ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، مجوزہ یونٹ صوبے میں آن لائن ہراسانی، مالیاتی فراڈ اور شناخت کی چوری جیسے سائبر جرائم کی تحقیقات اور روک تھام پر توجہ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) غلام نبی میمن نے بتایا کہ صوبائی پولیس نے محکمہ داخلہ کو خط لکھا ہے تاکہ وفاقی حکومت سے درخواست کی جا سکے کہ سندھ پولیس کو سائبر جرائم پر کارروائی کا مجاز ادارہ قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سائبر جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور مجرم دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ، بھتہ خوری، ہیکنگ، سافٹ ویئر/ڈیٹا کی چوری، اور دھوکہ دہی، بدنامی اور ہراسانی جیسے چھوٹے جرائم کے لیے بھی سائبر اسپیس استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سائبر اسپیس کی گمنامی اور پولیس کی یہ صلاحیت کہ وہ انٹرنیٹ کے پیچھے چھپے مجرموں کا سراغ نہیں لگا پاتی، قانون کے مؤثر اثر کو کمزور کر رہی ہے، جس سے سائبر جرائم کی روک تھام اور تحقیقات مشکل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی پی نے کہا کہ اس وقت این سی سی آئی اے ہی ملک کی واحد مجاز ایجنسی ہے جو سائبر جرائم کی تحقیقات کرتی ہے، لیکن اسے تفتیشی افسران کی کمی اور زیر التوا شکایات کے بڑے بوجھ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال ان کی تحقیقات کی موثر کارکردگی اور ٹھوس نتائج کے حصول میں رکاوٹ بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت سندھ نے صوبے میں بڑھتے ہوئے آن لائن جرائم کا مقابلہ کرنے، سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور انٹرنیٹ صارفین کو زیادہ محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنے کے لیے ایک سائبرکرائم یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1959632"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ سائبرکرائم یونٹ کا مقصد سائبر جرائم کی تحقیقات اور ان کی روک تھام پر توجہ دینا اور صوبے کی سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ صوبائی سائبرکرائم یونٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا تاکہ مجرموں کا سراغ لگا کر انہیں انصاف کے کٹہرے تک لایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272589'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272589"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس وقت، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) وفاقی ادارہ ہے، جو سائبر جرائم کی تحقیقات کا ذمہ دار ہے، جن میں ہراسانی، بینک فراڈ، دھمکیاں، بلیک میلنگ، یا الیکٹرانک آلات کی مدد سے کی جانے والی دھوکا دہی شامل ہیں، یہ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ہاٹ میل یا یوٹیوب وغیرہ کی انتظامیہ سے شواہد کے لیے رابطہ بھی کرتی ہے۔</p>
<p>این سی سی آئی اے نے ایف آئی اے کے سابق سائبر کرائم وِنگ کی جگہ لے کر ایک آزاد ایجنسی کی حیثیت حاصل کی تھی۔</p>
<h1><a id="وفاق-سے-رجوع-کیا-جائے-گا" href="#وفاق-سے-رجوع-کیا-جائے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>وفاق سے رجوع کیا جائے گا</strong></h1>
<p>وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ صوبائی حکومت جلد ہی وفاقی حکومت سے اجازت طلب کرے گی تاکہ صوبائی سطح پر سائبر کرائم یونٹ قائم کرنے اور اس کے لیے ضروری قوانین بنانے کے اختیارات حاصل کیے جا سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ وہ سندھ پولیس کو پیکا 2016 کی دفعات 3 سے 23 کے تحت جرائم پر کارروائی کا مجاز ادارہ قرار دے۔</p>
<p>وزیرِ داخلہ (جو قانون اور پارلیمانی امور کا قلم دان بھی رکھتے ہیں) نے کہا کہ صوبائی اسمبلی، وفاقی حکومت کی منظوری سے مشروط، این سی سی آئی اے کی طرز پر صوبائی سائبرکرائم یونٹ کے قیام کے لیے قانون سازی کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجوزہ صوبائی سائبرکرائم یونٹ، سائبر جرائم سے نمٹنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا، کیوں کہ سندھ میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم وِنگ سنگین مسائل کا شکار ہے، جن میں تفتیشی افسران کی کمی اور زیر التوا شکایات کا بڑا بوجھ شامل ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، مجوزہ یونٹ صوبے میں آن لائن ہراسانی، مالیاتی فراڈ اور شناخت کی چوری جیسے سائبر جرائم کی تحقیقات اور روک تھام پر توجہ دے گا۔</p>
<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) غلام نبی میمن نے بتایا کہ صوبائی پولیس نے محکمہ داخلہ کو خط لکھا ہے تاکہ وفاقی حکومت سے درخواست کی جا سکے کہ سندھ پولیس کو سائبر جرائم پر کارروائی کا مجاز ادارہ قرار دیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سائبر جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور مجرم دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ، بھتہ خوری، ہیکنگ، سافٹ ویئر/ڈیٹا کی چوری، اور دھوکہ دہی، بدنامی اور ہراسانی جیسے چھوٹے جرائم کے لیے بھی سائبر اسپیس استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سائبر اسپیس کی گمنامی اور پولیس کی یہ صلاحیت کہ وہ انٹرنیٹ کے پیچھے چھپے مجرموں کا سراغ نہیں لگا پاتی، قانون کے مؤثر اثر کو کمزور کر رہی ہے، جس سے سائبر جرائم کی روک تھام اور تحقیقات مشکل ہو گئی ہے۔</p>
<p>آئی جی پی نے کہا کہ اس وقت این سی سی آئی اے ہی ملک کی واحد مجاز ایجنسی ہے جو سائبر جرائم کی تحقیقات کرتی ہے، لیکن اسے تفتیشی افسران کی کمی اور زیر التوا شکایات کے بڑے بوجھ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال ان کی تحقیقات کی موثر کارکردگی اور ٹھوس نتائج کے حصول میں رکاوٹ بن رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274718</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 11:51:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0811220952154e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0811220952154e4.webp"/>
        <media:title>وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ صوبائی حکومت جلد وفاق سے اجازت طلب کرے گی۔ —فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کچھ حکومتی وزرا دوسرے صوبوں سے مزید اختیار اور وسائل لینا چاہتے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274675/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ کچھ حکومتی وزرا دوسرے صوبوں سے مزید اختیار  اور  وسائل لینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی مشکلات بھی ہماری مشکلات ہیں، سندھ حکومت نے سیلز ٹیکس کلیکشن میں تمام صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاق کے لیے مزید ٹیکس بھی جمع کرنے کو تیار ہیں، وفاقی حکومت کے ٹیکس اہداف پورے کریں گے، کچھ وزرا صوبوں سے وسائل لینا چاہتے ہیں، ہمیں وفاق کی مشکلات کا علم ہے، بہتر ٹیکس وصولی کر کے وفاقی حکومت کی مشکلات کم کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے منشور کے مطابق مفت اور معیاری علاج عوام تک پہنچانے کی کوشش کی، سندھ کو صحت کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی ذمہ داری ملی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ کچھ حکومتی وزرا دوسرے صوبوں سے مزید اختیار  اور  وسائل لینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی مشکلات بھی ہماری مشکلات ہیں، سندھ حکومت نے سیلز ٹیکس کلیکشن میں تمام صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وفاق کے لیے مزید ٹیکس بھی جمع کرنے کو تیار ہیں، وفاقی حکومت کے ٹیکس اہداف پورے کریں گے، کچھ وزرا صوبوں سے وسائل لینا چاہتے ہیں، ہمیں وفاق کی مشکلات کا علم ہے، بہتر ٹیکس وصولی کر کے وفاقی حکومت کی مشکلات کم کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>بلاول بھٹو زرداری کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے منشور کے مطابق مفت اور معیاری علاج عوام تک پہنچانے کی کوشش کی، سندھ کو صحت کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی ذمہ داری ملی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274675</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 19:20:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0519184761c7059.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0519184761c7059.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز/ اسکرین گریپ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 12 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم کو 39 برس قید، 20 لاکھ جرمانہ عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274670/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی مقامی عدالت نے 12 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم محمد علی کو جرم ثابت ہونے پر 39 سال قید کی سزا سنا دی، ساتھ ہی مجرم پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں 12 سالہ بچی سے زیادتی کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت نے کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان معتبر اور قانونی تقاضوں کے مطابق قلمبند ہوا، ساتھ ہی گواہوں اور شواہد نے مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ مجرم محمد علی نے اسکول سے واپس آتی ہوئی 12 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم اسی محلے میں رہائش پذیر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر حنا ناز کے مطابق متاثرہ لڑکی کا بیان واضح، قابلِ بھروسہ اور قانون کے مطابق ہے، &lt;br&gt;میڈیکل شواہد اور ریکارڈ شدہ بیان مقدمہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی مقامی عدالت نے 12 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم محمد علی کو جرم ثابت ہونے پر 39 سال قید کی سزا سنا دی، ساتھ ہی مجرم پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں 12 سالہ بچی سے زیادتی کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت نے کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان معتبر اور قانونی تقاضوں کے مطابق قلمبند ہوا، ساتھ ہی گواہوں اور شواہد نے مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کیا۔</p>
<p>دوران سماعت پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ مجرم محمد علی نے اسکول سے واپس آتی ہوئی 12 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم اسی محلے میں رہائش پذیر تھا۔</p>
<p>پراسیکیوٹر حنا ناز کے مطابق متاثرہ لڑکی کا بیان واضح، قابلِ بھروسہ اور قانون کے مطابق ہے، <br>میڈیکل شواہد اور ریکارڈ شدہ بیان مقدمہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔<br><br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274670</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 17:40:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/05173850cf022c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/05173850cf022c2.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
