<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Kashmir</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 11:09:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 11:09:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد جموں و کشمیر کی کابینہ نے ہیلتھ کارڈ اسکیم کے آغاز اور طلبہ یونین کی بحالی کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274583/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی کابینہ نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ اسکیم کے آغاز اور طلبہ یونین کی بحالی کی منظوری دے دی ہے، ساتھ ہی انتظامی، مالی اور ترقیاتی اقدامات کے پیکیج کی بھی منظوری دی ہے، جن میں جائیداد کی منتقلی پر ٹیکسوں میں کمی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958865/ajk-cabinet-approves-health-card-scheme-revival-of-student-unions"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت گزشتہ شب منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بینک آف اے جے کے کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شیڈول بینک کا درجہ دلانے کے لیے 2 ارب 90 کروڑ روپے ایکویٹی فراہم کی جائے، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین پولیس اسٹیشن قائم کیے جائیں، اور انتظامی محکموں کی تعداد 20 مقرر کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر اہم فیصلوں میں کابینہ نے 5 کلو والٹ اور 60 کلو والٹ صارفین کے لیے یکساں گھریلو اور تجارتی بجلی ٹیرف کی منظوری دی، 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کے واجب الادا بجلی بل معاف کیے، اور مظفرآباد اور راولاکوٹ میں تعلیمی بورڈز کے قیام کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270756'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کے فیصلوں سے میڈیا کو منگل کے روز سینئر وزیر میاں عبدالوحید اور وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب نے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار جاوید ایوب نے بتایا کہ حکومت اسٹیٹ لائف انشورنس کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے فوراً بعد ہیلتھ کارڈ اسکیم کا آغاز کرے گی، صحت کے وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی ہسپتالوں کی نشاندہی کرے گی اور 5 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی اصلاحات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عملے کی کمی کو ایک استاد فی 25 طلبہ کے تناسب کے تحت پورا کیا جائے گا، جہاں ضرورت ہوگی نئی آسامیوں کا قیام عمل میں آئے گا، جب کہ زائد اساتذہ کو اسی یونین کونسل کے اندر منتقل کیا جائے گا، اداروں کو ضرورت کی بنیاد پر اپ گریڈ یا نئے ادارے قائم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک علیحدہ کمیٹی، جس کی سربراہی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کریں گے، 5 دن میں طلبہ یونین کی بحالی پر اپنی سفارشات پیش کرے گی، وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس کم کرنے سے متعلق اپنی تجاویز 5 دن میں دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگلا ڈیم سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو 5 دن میں اپنی رپورٹ دے گی، جس کے بعد متاثرین کو زمین کی الاٹمنٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ نے مظفرآباد میں ریونیو کمپلیکس کے نظرثانی شدہ منصوبے، 9 ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹس کے آغاز اور پونچھ میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کے لیے مشینری کی خریداری کی بھی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں کابینہ ڈیولپمنٹ کمیٹی (سی ڈی سی) کی جانب سے پہلے منظور کیے گئے منصوبوں کی بھی حتمی منظوری دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان منصوبوں میں مظفرآباد میں 500 کلو واٹ پٹھیارلی اور 500 کلو واٹ ہریالہ ہائیڈرو پاور منصوبے شامل ہیں، جن کی لاگت بالترتیب 49 کروڑ 50 لاکھ روپے اور 49 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے، جب کہ کوٹلی میں 220 میٹر طویل گلپور پل کی تعمیر 82 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی کابینہ نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ اسکیم کے آغاز اور طلبہ یونین کی بحالی کی منظوری دے دی ہے، ساتھ ہی انتظامی، مالی اور ترقیاتی اقدامات کے پیکیج کی بھی منظوری دی ہے، جن میں جائیداد کی منتقلی پر ٹیکسوں میں کمی بھی شامل ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1958865/ajk-cabinet-approves-health-card-scheme-revival-of-student-unions"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت گزشتہ شب منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بینک آف اے جے کے کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شیڈول بینک کا درجہ دلانے کے لیے 2 ارب 90 کروڑ روپے ایکویٹی فراہم کی جائے، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین پولیس اسٹیشن قائم کیے جائیں، اور انتظامی محکموں کی تعداد 20 مقرر کی جائے۔</p>
<p>دیگر اہم فیصلوں میں کابینہ نے 5 کلو والٹ اور 60 کلو والٹ صارفین کے لیے یکساں گھریلو اور تجارتی بجلی ٹیرف کی منظوری دی، 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کے واجب الادا بجلی بل معاف کیے، اور مظفرآباد اور راولاکوٹ میں تعلیمی بورڈز کے قیام کی منظوری دی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270756'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کابینہ کے فیصلوں سے میڈیا کو منگل کے روز سینئر وزیر میاں عبدالوحید اور وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب نے آگاہ کیا۔</p>
<p>سردار جاوید ایوب نے بتایا کہ حکومت اسٹیٹ لائف انشورنس کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے فوراً بعد ہیلتھ کارڈ اسکیم کا آغاز کرے گی، صحت کے وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی ہسپتالوں کی نشاندہی کرے گی اور 5 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔</p>
<p>تعلیمی اصلاحات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عملے کی کمی کو ایک استاد فی 25 طلبہ کے تناسب کے تحت پورا کیا جائے گا، جہاں ضرورت ہوگی نئی آسامیوں کا قیام عمل میں آئے گا، جب کہ زائد اساتذہ کو اسی یونین کونسل کے اندر منتقل کیا جائے گا، اداروں کو ضرورت کی بنیاد پر اپ گریڈ یا نئے ادارے قائم کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک علیحدہ کمیٹی، جس کی سربراہی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کریں گے، 5 دن میں طلبہ یونین کی بحالی پر اپنی سفارشات پیش کرے گی، وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس کم کرنے سے متعلق اپنی تجاویز 5 دن میں دے گی۔</p>
<p>منگلا ڈیم سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو 5 دن میں اپنی رپورٹ دے گی، جس کے بعد متاثرین کو زمین کی الاٹمنٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔</p>
<p>کابینہ نے مظفرآباد میں ریونیو کمپلیکس کے نظرثانی شدہ منصوبے، 9 ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹس کے آغاز اور پونچھ میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کے لیے مشینری کی خریداری کی بھی منظوری دی۔</p>
<p>اجلاس میں کابینہ ڈیولپمنٹ کمیٹی (سی ڈی سی) کی جانب سے پہلے منظور کیے گئے منصوبوں کی بھی حتمی منظوری دے دی گئی۔</p>
<p>ان منصوبوں میں مظفرآباد میں 500 کلو واٹ پٹھیارلی اور 500 کلو واٹ ہریالہ ہائیڈرو پاور منصوبے شامل ہیں، جن کی لاگت بالترتیب 49 کروڑ 50 لاکھ روپے اور 49 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے، جب کہ کوٹلی میں 220 میٹر طویل گلپور پل کی تعمیر 82 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274583</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 11:13:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق نقاش)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/03110118fb4cda8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/03110118fb4cda8.webp"/>
        <media:title>اجلاس میں کابینہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے پہلے منظور کیے گئے منصوبوں کی بھی حتمی منظوری دی گئی۔ —فوٹو: طارق نقاش/ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی رپورٹ نے بھارت کےخلاف جنگ میں پاکستان کی جیت پر مہر لگادی، وزیراعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274041/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تپھڑ رسید کیا، جب کہ پاک فوج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور امریکی رپورٹ نے پاکستان کی جیت پر مہر لگادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے باغ، آزاد کشمیر میں دانش اسکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کانگریس کی رپورٹ نے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی جانب سے بھارت کے 7 جہاز گرانے کا بارہا ذکر کیا، جب کہ شاہینوں کی کارکردگی نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 4 دن کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تپھڑ رسید کیا، یہ اللہ کے فضل و کرم اور فیلڈ مارشل کی شاندار اور بلاخوف قیادت کی بدولت ممکن ہوا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بلا خوف مشاورت سے بھرپور فیصلے کیے، افواج پاکستان کی دلیری اور فتوحات کے باعث پاکستان کا دنیا میں وقار بلند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273990/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273990"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت سے نوازا، پاک-بھارت جنگ میں بری افواج نے الفتح میزائل داغے، افواج پاکستان کی دلیری اور فتوحات کے باعث پاکستان کا دنیا میں وقار بلند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دانش گاہ کا سفر ہم نے پنجاب سے شروع کیا تھا، یہ دانش گاہیں پورے ملک میں تعمیروترقی کے ذریعے پھیل رہی ہیں، بھمبر میں دانش اسکول کا 35 فیصد کام مکمل ہوچکا، دانش اسکول کا دائرہ کار وادی نیلم تک پھیل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آزاد کشمیرکی خواہش پر فاروڈ کہوٹہ کے لیے دانش اسکول کا اعلان کرتا ہوں، دانش اسکول پاکستان کے نامور تعلیمی اداروں کے ہم پلہ ہیں، دانش اسکول میں غریبوں کے بچے بہترین تعلیمی سہولیات حاصل کر رہے ہیں، جب کہ دانش اسکول کے ذریعے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کا خواب پورا ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ معاشی میدان میں دن رات محنت کررہے ہیں، جو قومیں معاشی طور پر ترقی نہیں کرتیں وہ کامیاب نہیں ہوتیں، ایک دن آئے گا کہ ہماری قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تپھڑ رسید کیا، جب کہ پاک فوج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور امریکی رپورٹ نے پاکستان کی جیت پر مہر لگادی۔</p>
<p>وزیر اعظم نے باغ، آزاد کشمیر میں دانش اسکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کانگریس کی رپورٹ نے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کردی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی جانب سے بھارت کے 7 جہاز گرانے کا بارہا ذکر کیا، جب کہ شاہینوں کی کارکردگی نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 4 دن کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تپھڑ رسید کیا، یہ اللہ کے فضل و کرم اور فیلڈ مارشل کی شاندار اور بلاخوف قیادت کی بدولت ممکن ہوا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بلا خوف مشاورت سے بھرپور فیصلے کیے، افواج پاکستان کی دلیری اور فتوحات کے باعث پاکستان کا دنیا میں وقار بلند ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273990/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273990"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت سے نوازا، پاک-بھارت جنگ میں بری افواج نے الفتح میزائل داغے، افواج پاکستان کی دلیری اور فتوحات کے باعث پاکستان کا دنیا میں وقار بلند ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دانش گاہ کا سفر ہم نے پنجاب سے شروع کیا تھا، یہ دانش گاہیں پورے ملک میں تعمیروترقی کے ذریعے پھیل رہی ہیں، بھمبر میں دانش اسکول کا 35 فیصد کام مکمل ہوچکا، دانش اسکول کا دائرہ کار وادی نیلم تک پھیل جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آزاد کشمیرکی خواہش پر فاروڈ کہوٹہ کے لیے دانش اسکول کا اعلان کرتا ہوں، دانش اسکول پاکستان کے نامور تعلیمی اداروں کے ہم پلہ ہیں، دانش اسکول میں غریبوں کے بچے بہترین تعلیمی سہولیات حاصل کر رہے ہیں، جب کہ دانش اسکول کے ذریعے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کا خواب پورا ہورہا ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ معاشی میدان میں دن رات محنت کررہے ہیں، جو قومیں معاشی طور پر ترقی نہیں کرتیں وہ کامیاب نہیں ہوتیں، ایک دن آئے گا کہ ہماری قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274041</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 15:51:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2015224522aa289.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2015224522aa289.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر کی 18رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273987/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد جموں کشمیر کی 18 رکنی کابینہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، قائم مقام صدرآزاد کشمیر لطیف اکبر نے کابینہ سے حلف لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے 18 اراکینِ اسمبلی نے وزرا کے طور پر حلف اٹھا لیا، قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کابینہ سے حلف لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم فیصل راٹھور، سابق وزرائے اعظم سردار یعقوب خان اور سردار تنویر الیاس سمیت کئی اہم شخصیات تقریب میں شریک ہوئیں جب کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں کی بڑی تعداد، اور کئی سینئر سرکاری افسران نے بھی تقریب میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر کی نئی کابینہ میں میاں عبد الواحد، سردار جاوید ایوب، جاوید اقبال بدھانوی، چوہدری قاسم مجید، عمار یاسین، سردار ضیاالقمر، سید باذل علی نقوی، نبیلہ ایوب خان، دیوان علی چغتائی، ملک ظفر اقبال، چوہدری ارشد، چوہدری محمد رشید، یاسر سلطان، سردار محمد حسین، چوہدری اخلاق، فہیم اختر ربانی، رفیق نیئر اور علی شان سونی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273913'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273913"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے پہلے 8 اراکین 2021 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، جب کہ باقی اراکین نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور حال ہی میں اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نبیلہ ایوب خان کابینہ کی واحد خاتون وزیر ہیں، جو خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں جب کہ مہاجرین کی نشستوں پر منتخب کسی بھی رکن کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرا کے محکموں کا اعلان فوری طور پر نہیں کیا گیا، تاہم حلف برداری کی تقریب کے دوران حکومت کے دو مشیروں سردار احمد صغیر، اور سردار فہد یعقوب کی تقرری کا نوٹیفکیشن سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمن ظفر محمود  نے پڑھ کر سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر کے آئین میں حکومت کے مشیروں کی تقرری کی اجازت موجود ہے، تاہم ان کی حلف برداری کے بارے میں خاموشی ہے، اس کے باوجود وزیرِ اعظم راتھور نے دونوں نئے مشیروں سے حلف لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے راجا فیصل ممتاز راٹھور پیر کے روز نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے، جب چوہدری انوارالحق کو خطے کی قانون ساز اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد جموں کشمیر کی 18 رکنی کابینہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، قائم مقام صدرآزاد کشمیر لطیف اکبر نے کابینہ سے حلف لیا۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے 18 اراکینِ اسمبلی نے وزرا کے طور پر حلف اٹھا لیا، قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کابینہ سے حلف لیا۔</p>
<p>وزیر اعظم فیصل راٹھور، سابق وزرائے اعظم سردار یعقوب خان اور سردار تنویر الیاس سمیت کئی اہم شخصیات تقریب میں شریک ہوئیں جب کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں کی بڑی تعداد، اور کئی سینئر سرکاری افسران نے بھی تقریب میں شرکت کی۔</p>
<p>آزاد کشمیر کی نئی کابینہ میں میاں عبد الواحد، سردار جاوید ایوب، جاوید اقبال بدھانوی، چوہدری قاسم مجید، عمار یاسین، سردار ضیاالقمر، سید باذل علی نقوی، نبیلہ ایوب خان، دیوان علی چغتائی، ملک ظفر اقبال، چوہدری ارشد، چوہدری محمد رشید، یاسر سلطان، سردار محمد حسین، چوہدری اخلاق، فہیم اختر ربانی، رفیق نیئر اور علی شان سونی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273913'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273913"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان میں سے پہلے 8 اراکین 2021 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، جب کہ باقی اراکین نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور حال ہی میں اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔</p>
<p>نبیلہ ایوب خان کابینہ کی واحد خاتون وزیر ہیں، جو خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں جب کہ مہاجرین کی نشستوں پر منتخب کسی بھی رکن کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>وزرا کے محکموں کا اعلان فوری طور پر نہیں کیا گیا، تاہم حلف برداری کی تقریب کے دوران حکومت کے دو مشیروں سردار احمد صغیر، اور سردار فہد یعقوب کی تقرری کا نوٹیفکیشن سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمن ظفر محمود  نے پڑھ کر سنایا۔</p>
<p>آزاد کشمیر کے آئین میں حکومت کے مشیروں کی تقرری کی اجازت موجود ہے، تاہم ان کی حلف برداری کے بارے میں خاموشی ہے، اس کے باوجود وزیرِ اعظم راتھور نے دونوں نئے مشیروں سے حلف لیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے راجا فیصل ممتاز راٹھور پیر کے روز نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے، جب چوہدری انوارالحق کو خطے کی قانون ساز اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273987</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 16:13:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق نقاش)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/19153110fb25be8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/19153110fb25be8.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: طارق نقاش
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نو منتخب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے حلف اٹھالیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273921/</link>
      <description>&lt;p&gt;راجا فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے 16ویں وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/RR5ZzAUN5PY'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/RR5ZzAUN5PY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلف برداری کی تقریب ایوان صدر مظفرآباد میں منعقد کی گئی، اسپیکر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے حلف لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے راجا فیصل ممتاز راٹھور پیر کے روز نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے، جب چوہدری انوارالحق کو خطے کی قانون ساز اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے یہ ذمہ داری اے جے کے کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کی جانب سے انجام دی، جو اپنی صحت کے مسائل کی وجہ سے دارالحکومت کا سفر نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلف اٹھانے کے بعد راجا فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس بھاری ذمہ داری کو میرے کمزور کندھوں پر ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273841/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان فرائض کو انجام دینا اس انتہائی مشکل دور میں ’آسان کام نہیں ہوگا‘ لیکن یقین تھا کہ اللہ ایسے لوگوں کو طاقت دیتا ہے جنہیں اس طرح کے منصب سونپے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے آج وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نو منتخب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور کو یقین دہانی کرائی کہ خطے کی ترقی و خوشحالی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری چینل ’پی ٹی وی نیوز‘ نے رپورٹ کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کو فون کال میں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دی کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر  کے عوام کی ترقی اور خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اے جے کے کی حکومت کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود، اقتصادی ترقی، خوشحالی، امن اور سیکیورٹی کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یہ بھی یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اے جے کے کی انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، انہوں نے نئے وزیرِ اعظم کے دورِ کے لیے نیک تمنائیں بھی پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجا فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ 4 سال میں اے جے کے کے چوتھے وزیرِ اعظم ہیں اور 1975 میں جب خطے میں پارلیمانی نظام حکومت متعارف ہوا تھا، تب سے 16ویں وزیرِ اعظم منتخب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پیر کے روز منظور ہو گیا تھا، جس میں پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل-این کے 36 ارکان نے ووٹ دیا، جب کہ پی ٹی آئی کے 2 اپوزیشن ارکان نے مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے جے کے کے آئین کے تحت کسی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا نوٹ خود بخود اس رکن کے حق میں شمار ہوتا ہے جسے اسی قرارداد میں ان کا جانشین تجویز کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل اپنے انتخاب کے بعد، 47 سالہ وزیرِ اعظم منتخب ہونے والے فیصل راٹھور نے کئی انتظامی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں عملے میں کمی، افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی اور سیکریٹریز کی تعداد کو 20 تک محدود کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے اور کم تنخواہ والے عملے کی ضروریات پوری کرنے کا بھی وعدہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>راجا فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے 16ویں وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/RR5ZzAUN5PY'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/RR5ZzAUN5PY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حلف برداری کی تقریب ایوان صدر مظفرآباد میں منعقد کی گئی، اسپیکر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے حلف لیا۔</p>
<p>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے راجا فیصل ممتاز راٹھور پیر کے روز نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے، جب چوہدری انوارالحق کو خطے کی قانون ساز اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔</p>
<p>اسپیکر نے یہ ذمہ داری اے جے کے کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کی جانب سے انجام دی، جو اپنی صحت کے مسائل کی وجہ سے دارالحکومت کا سفر نہیں کر سکے۔</p>
<p>حلف اٹھانے کے بعد راجا فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس بھاری ذمہ داری کو میرے کمزور کندھوں پر ڈال دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273841/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان فرائض کو انجام دینا اس انتہائی مشکل دور میں ’آسان کام نہیں ہوگا‘ لیکن یقین تھا کہ اللہ ایسے لوگوں کو طاقت دیتا ہے جنہیں اس طرح کے منصب سونپے جاتے ہیں۔</p>
<p>اس سے پہلے آج وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نو منتخب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور کو یقین دہانی کرائی کہ خطے کی ترقی و خوشحالی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>سرکاری چینل ’پی ٹی وی نیوز‘ نے رپورٹ کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کو فون کال میں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دی کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے ہیں۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر  کے عوام کی ترقی اور خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اے جے کے کی حکومت کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود، اقتصادی ترقی، خوشحالی، امن اور سیکیورٹی کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یہ بھی یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اے جے کے کی انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، انہوں نے نئے وزیرِ اعظم کے دورِ کے لیے نیک تمنائیں بھی پیش کیں۔</p>
<p>راجا فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ 4 سال میں اے جے کے کے چوتھے وزیرِ اعظم ہیں اور 1975 میں جب خطے میں پارلیمانی نظام حکومت متعارف ہوا تھا، تب سے 16ویں وزیرِ اعظم منتخب ہوئے ہیں۔</p>
<p>چوہدری انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پیر کے روز منظور ہو گیا تھا، جس میں پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل-این کے 36 ارکان نے ووٹ دیا، جب کہ پی ٹی آئی کے 2 اپوزیشن ارکان نے مخالفت کی تھی۔</p>
<p>اے جے کے کے آئین کے تحت کسی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا نوٹ خود بخود اس رکن کے حق میں شمار ہوتا ہے جسے اسی قرارداد میں ان کا جانشین تجویز کیا گیا ہو۔</p>
<p>کل اپنے انتخاب کے بعد، 47 سالہ وزیرِ اعظم منتخب ہونے والے فیصل راٹھور نے کئی انتظامی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں عملے میں کمی، افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی اور سیکریٹریز کی تعداد کو 20 تک محدود کرنا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے اور کم تنخواہ والے عملے کی ضروریات پوری کرنے کا بھی وعدہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273921</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 16:18:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1814000474592ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1814000474592ae.webp"/>
        <media:title>نئے وزیراعظم نے عملے میں کمی، افسران کیلئے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی، اور سیکریٹریز کی تعداد کو کرنے کا اعلان کیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا فیصل ممتاز راٹھور سے رابطہ، وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273913/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب وزیرِ اعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور کو مبارکباد دی اور انہیں یقین دلایا کہ خطے کی خوشحالی اور ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو میں شہباز شریف نے راجا فیصل ممتاز راتھوڑ کو اے جے کے کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر دلی مبارک باد پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1990651726958067802?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1990651726958067802?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تھی، اور فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد 36 ووٹوں سے منظور ہوئی، جن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان شامل تھے، جب کہ تحریکِ انصاف کے 2 اپوزیشن اراکین نے تحریک کے خلاف ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی فونک گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آزاد جموں کشمیر کے عوام کی ترقی اور خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273871/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273871"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین دلایا کہ مرکز خطے کے عوام کی فلاح، معاشی ترقی، خوشحالی، اور امن و سلامتی کے لیے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے نومنتخب وزیرِ اعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ 4 برسوں میں آزاد کشمیر کے چوتھے اور 1975 میں خطے میں پارلیمانی نظام متعارف کرائے جانے کے بعد 16ویں وزیرِ اعظم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر کے آئین کے تحت، موجودہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد خود بخود بطور نئے نامزد وزیرِ اعظم کے حق میں ووٹ تصور کی جاتی ہے، اگر اسی قرارداد میں متبادل امیدوار کا نام دیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل ممتاز راٹھور آج مظفرآباد میں ایوانِ صدر میں اے جے کے کے نئے وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ حلف صدر بیرسٹر سلطان محمود لیں گے، تاہم صدر کی علالت کے باعث وہ حلف نہیں لیں گے، اس صورت میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر ان کی جگہ یہ ذمہ داری ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب وزیرِ اعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور کو مبارکباد دی اور انہیں یقین دلایا کہ خطے کی خوشحالی اور ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو میں شہباز شریف نے راجا فیصل ممتاز راتھوڑ کو اے جے کے کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر دلی مبارک باد پیش کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1990651726958067802?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1990651726958067802?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تھی، اور فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے تھے۔</p>
<p>چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد 36 ووٹوں سے منظور ہوئی، جن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان شامل تھے، جب کہ تحریکِ انصاف کے 2 اپوزیشن اراکین نے تحریک کے خلاف ووٹ دیا۔</p>
<p>ٹیلی فونک گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آزاد جموں کشمیر کے عوام کی ترقی اور خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273871/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273871"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے یقین دلایا کہ مرکز خطے کے عوام کی فلاح، معاشی ترقی، خوشحالی، اور امن و سلامتی کے لیے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے نومنتخب وزیرِ اعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔</p>
<p>فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ 4 برسوں میں آزاد کشمیر کے چوتھے اور 1975 میں خطے میں پارلیمانی نظام متعارف کرائے جانے کے بعد 16ویں وزیرِ اعظم ہیں۔</p>
<p>آزاد کشمیر کے آئین کے تحت، موجودہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد خود بخود بطور نئے نامزد وزیرِ اعظم کے حق میں ووٹ تصور کی جاتی ہے، اگر اسی قرارداد میں متبادل امیدوار کا نام دیا گیا ہو۔</p>
<p>فیصل ممتاز راٹھور آج مظفرآباد میں ایوانِ صدر میں اے جے کے کے نئے وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔</p>
<p>قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ حلف صدر بیرسٹر سلطان محمود لیں گے، تاہم صدر کی علالت کے باعث وہ حلف نہیں لیں گے، اس صورت میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر ان کی جگہ یہ ذمہ داری ادا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273913</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 12:37:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/18122832d725570.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/18122832d725570.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انورالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273871/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، اور فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ ان کی حلف برداری کل ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کےامیدوار فیصل ممتاز راٹھور کو 36 ووٹ ملے، تحریک عدم اعتماد کے حق میں 36 ووٹ جبکہ 2 مخالفت میں آئے، اس طرح فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک کی کامیابی کے بعد  وزیراعظم ممتاز راٹھور کی حلف برداری کل ہونے کا امکان  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا ہے کہ علالت کے باعث صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نئے وزیراعظم سے حلف نہیں لیں گے، ان کی جگہ اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نئے وزیر اعظم سے حلف لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، پیپلز پارٹی کے رکن قاسم مجید نے ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریک جمعے کی دوپہر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی تھی، جس پر 25 اراکین نے دستخط کیے تھے، جن میں 23 ارکان کا تعلق پیپلز پارٹی اور 2 کا مسلم لیگ (ن) سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ساتھ ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ فاروق احمد بھی شریک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے آغاز کے کچھ دیر بعد وزیراعظم انوارالحق 4 ارکان کے ہمراہ ایوان میں پہنچے اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار راجا فیصل ممتاز راٹھور سے مصافحہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273726'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے 2 وزرا دیوان علی چغتائی اور تقدیس کوثر گیلانی صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں بھی پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس سے اس کی تعداد 27 تک پہنچی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 27 ارکان درکار ہوتے ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی واضح برتری رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینِ آزاد کشمیر کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ڈالا جانے والا ووٹ اسی رکن کے حق میں شمار ہوتا ہے جو اسی قرارداد میں بطور متبادل وزیراعظم نامزد کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح تحریک کی منظوری کی صورت میں راجا فیصل ممتاز راٹھور بلا مقابلہ نئے وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے، اور موجودہ اسمبلی کی مدت میں یہ وزیراعظم کی چوتھی تبدیلی ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں قائم ہونے والی اس اسمبلی نے 4 برس میں 3 وزرائے اعظم تبدیل کیے ہیں،  ابتدا میں پی ٹی آئی نے عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم منتخب کرایا تھا، جو 35 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، تاہم 9 ماہ بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد سردار تنویر الیاس وزیراعظم بنے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2023 میں توہینِ عدالت کے الزام میں تنویر الیاس کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا، جس کے بعد چوہدری انوارالحق نے منصب سنبھالا تھا، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں راجا فیصل ممتاز راٹھور باقی 6 ماہ کے لیے چوتھے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، اور فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ ان کی حلف برداری کل ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کےامیدوار فیصل ممتاز راٹھور کو 36 ووٹ ملے، تحریک عدم اعتماد کے حق میں 36 ووٹ جبکہ 2 مخالفت میں آئے، اس طرح فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہو گئے۔</p>
<p>تحریک کی کامیابی کے بعد  وزیراعظم ممتاز راٹھور کی حلف برداری کل ہونے کا امکان  ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا ہے کہ علالت کے باعث صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نئے وزیراعظم سے حلف نہیں لیں گے، ان کی جگہ اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نئے وزیر اعظم سے حلف لیں گے۔</p>
<p>قبل ازیں، پیپلز پارٹی کے رکن قاسم مجید نے ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش کی۔</p>
<p>یہ تحریک جمعے کی دوپہر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی تھی، جس پر 25 اراکین نے دستخط کیے تھے، جن میں 23 ارکان کا تعلق پیپلز پارٹی اور 2 کا مسلم لیگ (ن) سے تھا۔</p>
<p>اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ساتھ ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ فاروق احمد بھی شریک ہیں۔</p>
<p>اجلاس کے آغاز کے کچھ دیر بعد وزیراعظم انوارالحق 4 ارکان کے ہمراہ ایوان میں پہنچے اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار راجا فیصل ممتاز راٹھور سے مصافحہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273726'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اتوار کو پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے 2 وزرا دیوان علی چغتائی اور تقدیس کوثر گیلانی صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی۔</p>
<p>اکتوبر میں بھی پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس سے اس کی تعداد 27 تک پہنچی تھی۔</p>
<p>چونکہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 27 ارکان درکار ہوتے ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی واضح برتری رکھتی ہے۔</p>
<p>آئینِ آزاد کشمیر کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ڈالا جانے والا ووٹ اسی رکن کے حق میں شمار ہوتا ہے جو اسی قرارداد میں بطور متبادل وزیراعظم نامزد کیا گیا ہو۔</p>
<p>اس طرح تحریک کی منظوری کی صورت میں راجا فیصل ممتاز راٹھور بلا مقابلہ نئے وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے، اور موجودہ اسمبلی کی مدت میں یہ وزیراعظم کی چوتھی تبدیلی ہو گی۔</p>
<p>2021 میں قائم ہونے والی اس اسمبلی نے 4 برس میں 3 وزرائے اعظم تبدیل کیے ہیں،  ابتدا میں پی ٹی آئی نے عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم منتخب کرایا تھا، جو 35 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، تاہم 9 ماہ بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد سردار تنویر الیاس وزیراعظم بنے تھے۔</p>
<p>اپریل 2023 میں توہینِ عدالت کے الزام میں تنویر الیاس کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا، جس کے بعد چوہدری انوارالحق نے منصب سنبھالا تھا، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں راجا فیصل ممتاز راٹھور باقی 6 ماہ کے لیے چوتھے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273871</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 19:39:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطارق نقاشعرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1722301463ba54a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1722301463ba54a.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: طارق نقاش
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/17160114978408a.webp" type="image/webp" medium="image" height="491" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/17160114978408a.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: طارق نقاش
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چوہدری انوار کی جگہ فیصل ممتاز راٹھور کے آج وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273841/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پیر کے روز قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں موجودہ وزیر اعظم چوہدری انوارالحق کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل راجا فیصل ممتاز راٹھور کو آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955571/haq-to-be-unseated-rathore-installed-in-ajk-today"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیر اعظم انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمعہ کی دوپہر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی گئی، جس کے فوراً بعد اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے اسمبلی کا اجلاس پیر کو سہ پہر 3 بجے طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پیپلز پارٹی پہلے ہی مطلوبہ 27 ارکان کی حمایت حاصل کر چکی تھی، لیکن اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں زور دیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نہ صرف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرے تاکہ بھاری اکثریت یقینی بنائی جا سکے بلکہ آئندہ مخلوط حکومت میں بھی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اعلان کیا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت تو کرے گی، لیکن پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت میں کوئی حصہ نہیں لے گی، چنانچہ پارٹی کے 2 سینئر اے جے کے رہنماؤں شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی کے 23 ارکان کے ساتھ اس قرارداد پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273726/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 5 رکنی پی ٹی آئی، جو اس وقت قائد حزب اختلاف کا منصب رکھتی ہے، اور 2 سنگل سیٹ جماعتیں (مسلم کانفرنس اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس عمل سے دور رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو پی ٹی آئی کے ’فاروڈ بلاک‘ کے مزید 2 اراکین وزیر برائے ابتدائی تعلیم دیوان علی چغتائی اور وزیر برائے اسمال انڈسٹریز کارپوریشن تقدیس کوثر گیلانی نے فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا، جس سے پیپلز پارٹی کی اپنی حمایت 29 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور انوارالحق کی زیر قیادت مخلوط حکومت کے کابینہ رکن چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک بھاری اکثریت سے منظور کرائیں گے، مسلم لیگ (ن) بھی اس سلسلے میں ہماری حمایت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عدم اعتماد تحریک کے محرکین، جنہوں نے وزیر اعظم انوارالحق پر ’طرز حکمرانی، سیاسی بیانئے اور محاذ آرائی والے رویے کے ذریعے ریاست کے آئینی، نظریاتی اور جمہوری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے‘ کا الزام لگایا ہے، پیر کے اجلاس میں اپنے مؤقف کا دفاع کریں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو تحریک عدم اعتماد کے کسی محرک نے خود استعفیٰ دیا اور نہ ہی وزیر اعظم انوارالحق نے ان الزامات کے جواب میں انہیں ہٹانے کی ہمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم انوارالحق نے ان الزامات کو بچگانہ اور من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ جن لوگوں نے یہ الزامات تحریر کیے وہ خود بھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا لکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میرے خلاف چارج شیٹ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے الزامات لگانے والوں کو خود سمجھ نہیں آئی، اگر میرے کابینہ کے ساتھیوں کو اردو لکھنے میں مشکل تھی تو وہ مجھ سے کہہ دیتے، میں خود اپنے خلاف الزامات بہتر الفاظ میں لکھ دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انوارالحق نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ’اسٹیٹس کو‘ کو توڑا اور تمام فیصلوں میں کابینہ کو شامل رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدم اعتماد کے متن میں ’محاذ آرائی کے رویے‘ کے الزام پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی گزشتہ ڈھائی سال کی تقاریر، ویڈیوز اور عوامی بیانات سب ریکارڈ پر موجود ہیں، اور ان میں کہیں بھی ٹکراؤ کی سوچ موجود نہیں ہو سکتی، جس شخص نے یہ جملہ لکھا، اسے کم از کم معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے جے کے آئین کے مطابق موجودہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد خود بخود اس رکن کے حق میں ووٹ شمار ہوتی ہے، جسے اسی قرارداد میں ان کا جانشین تجویز کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کامیاب ہونے کے بعد فیصل راٹھور نئے وزیر اعظم منتخب ہوجائیں گے، جو 2021 میں اس اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد چوتھے وزیر اعظم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری قاسم مجید نے بتایا کہ نئے وزیر اعظم کے منگل کو صدر بیرسٹر سلطان محمود کے سامنے حلف اٹھانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی دیگر معززین کے ہمراہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پیر کے روز قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں موجودہ وزیر اعظم چوہدری انوارالحق کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل راجا فیصل ممتاز راٹھور کو آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955571/haq-to-be-unseated-rathore-installed-in-ajk-today"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیر اعظم انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمعہ کی دوپہر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی گئی، جس کے فوراً بعد اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے اسمبلی کا اجلاس پیر کو سہ پہر 3 بجے طلب کر لیا۔</p>
<p>اگرچہ پیپلز پارٹی پہلے ہی مطلوبہ 27 ارکان کی حمایت حاصل کر چکی تھی، لیکن اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں زور دیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نہ صرف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرے تاکہ بھاری اکثریت یقینی بنائی جا سکے بلکہ آئندہ مخلوط حکومت میں بھی شامل ہو۔</p>
<p>تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اعلان کیا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت تو کرے گی، لیکن پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت میں کوئی حصہ نہیں لے گی، چنانچہ پارٹی کے 2 سینئر اے جے کے رہنماؤں شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی کے 23 ارکان کے ساتھ اس قرارداد پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273726/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب 5 رکنی پی ٹی آئی، جو اس وقت قائد حزب اختلاف کا منصب رکھتی ہے، اور 2 سنگل سیٹ جماعتیں (مسلم کانفرنس اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس عمل سے دور رہیں گی۔</p>
<p>اتوار کو پی ٹی آئی کے ’فاروڈ بلاک‘ کے مزید 2 اراکین وزیر برائے ابتدائی تعلیم دیوان علی چغتائی اور وزیر برائے اسمال انڈسٹریز کارپوریشن تقدیس کوثر گیلانی نے فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا، جس سے پیپلز پارٹی کی اپنی حمایت 29 تک پہنچ گئی۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور انوارالحق کی زیر قیادت مخلوط حکومت کے کابینہ رکن چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک بھاری اکثریت سے منظور کرائیں گے، مسلم لیگ (ن) بھی اس سلسلے میں ہماری حمایت کرے گی۔</p>
<p>تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عدم اعتماد تحریک کے محرکین، جنہوں نے وزیر اعظم انوارالحق پر ’طرز حکمرانی، سیاسی بیانئے اور محاذ آرائی والے رویے کے ذریعے ریاست کے آئینی، نظریاتی اور جمہوری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے‘ کا الزام لگایا ہے، پیر کے اجلاس میں اپنے مؤقف کا دفاع کریں گے یا نہیں۔</p>
<p>ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو تحریک عدم اعتماد کے کسی محرک نے خود استعفیٰ دیا اور نہ ہی وزیر اعظم انوارالحق نے ان الزامات کے جواب میں انہیں ہٹانے کی ہمت کی۔</p>
<p>ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم انوارالحق نے ان الزامات کو بچگانہ اور من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ جن لوگوں نے یہ الزامات تحریر کیے وہ خود بھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا لکھا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میرے خلاف چارج شیٹ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے الزامات لگانے والوں کو خود سمجھ نہیں آئی، اگر میرے کابینہ کے ساتھیوں کو اردو لکھنے میں مشکل تھی تو وہ مجھ سے کہہ دیتے، میں خود اپنے خلاف الزامات بہتر الفاظ میں لکھ دیتا۔</p>
<p>انوارالحق نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ’اسٹیٹس کو‘ کو توڑا اور تمام فیصلوں میں کابینہ کو شامل رکھا تھا۔</p>
<p>عدم اعتماد کے متن میں ’محاذ آرائی کے رویے‘ کے الزام پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی گزشتہ ڈھائی سال کی تقاریر، ویڈیوز اور عوامی بیانات سب ریکارڈ پر موجود ہیں، اور ان میں کہیں بھی ٹکراؤ کی سوچ موجود نہیں ہو سکتی، جس شخص نے یہ جملہ لکھا، اسے کم از کم معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔</p>
<p>اے جے کے آئین کے مطابق موجودہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد خود بخود اس رکن کے حق میں ووٹ شمار ہوتی ہے، جسے اسی قرارداد میں ان کا جانشین تجویز کیا گیا ہو۔</p>
<p>قرارداد کامیاب ہونے کے بعد فیصل راٹھور نئے وزیر اعظم منتخب ہوجائیں گے، جو 2021 میں اس اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد چوتھے وزیر اعظم ہوں گے۔</p>
<p>چوہدری قاسم مجید نے بتایا کہ نئے وزیر اعظم کے منگل کو صدر بیرسٹر سلطان محمود کے سامنے حلف اٹھانے کا امکان ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی دیگر معززین کے ہمراہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273841</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 12:38:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق نقاش)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/17100054ab15537.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/17100054ab15537.webp"/>
        <media:title>بلاول بھٹو زرداری بھی نئے وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر: کوٹلی میں اسکریپ کی دکان میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273825/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد کشمیر کے شہر کوٹلی میں اسکریپ کی دکان میں دھماکا سے 3 افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق مقامی ریسکیو حکام نے بتایا کہ دھماکے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کوٹلی منتقل کردیا گیا ہے جب کہ سیکیورِٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد کے مطابق کچرا اٹھانے والے بچے غلطی سے مائن اٹھا کر دکان پر لائے جو بعد ازاں پھٹ گیا، مقامی رہائشیوں کے مطابق ایل او سی سے کے قریب بچھائے مائنز دریا میں بہہ کر کوٹلی کی جانب آجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد کشمیر کے شہر کوٹلی میں اسکریپ کی دکان میں دھماکا سے 3 افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق مقامی ریسکیو حکام نے بتایا کہ دھماکے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کوٹلی منتقل کردیا گیا ہے جب کہ سیکیورِٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>مقامی افراد کے مطابق کچرا اٹھانے والے بچے غلطی سے مائن اٹھا کر دکان پر لائے جو بعد ازاں پھٹ گیا، مقامی رہائشیوں کے مطابق ایل او سی سے کے قریب بچھائے مائنز دریا میں بہہ کر کوٹلی کی جانب آجاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273825</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 17:15:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/161714392ab6d34.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/161714392ab6d34.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش، فیصل راٹھور وزارت عظمیٰ کے امیدوار نامزد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273726/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے فیصل ممتاز راٹھور کو امیدوار نامزد کرتے ہوئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیر اعظم ہونگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے جمعے کو سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چیئرمین نے فیصلہ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل فیصل راٹھور وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ہم آج ہی عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے جا رہے ہیں، تو انشا اللہ اگلے چند دنوں میں آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجا پرویز اشرف نے کہا کہ فیصل راٹھور پڑھے لکھے، نوجوان اور تجربہ کار رہنما ہیں اور اس سے قبل بھی اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272449'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی، عدم اعتماد کامیاب ہونے پر فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیر اعظم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 28 اکتوبر کو ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین، فیصل راٹھور اور سردار یعقوب کے نام زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد لانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ وزیراعظم کی جگہ نیا امیدوار بھی تجویز کریں، تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حتمی اعلان کے فوراً بعد جمع کرا دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے فیصل ممتاز راٹھور کو امیدوار نامزد کرتے ہوئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیر اعظم ہونگے۔</p>
<p>پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے جمعے کو سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چیئرمین نے فیصلہ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل فیصل راٹھور وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ہم آج ہی عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے جا رہے ہیں، تو انشا اللہ اگلے چند دنوں میں آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو جائے گی۔</p>
<p>راجا پرویز اشرف نے کہا کہ فیصل راٹھور پڑھے لکھے، نوجوان اور تجربہ کار رہنما ہیں اور اس سے قبل بھی اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272449'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعدازاں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی، عدم اعتماد کامیاب ہونے پر فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیر اعظم ہوں گے۔</p>
<p>یاد رہے کہ 28 اکتوبر کو ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین، فیصل راٹھور اور سردار یعقوب کے نام زیر غور ہیں۔</p>
<p>آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد لانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ وزیراعظم کی جگہ نیا امیدوار بھی تجویز کریں، تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حتمی اعلان کے فوراً بعد جمع کرا دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273726</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 15:07:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1414555368fc6b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1414555368fc6b6.webp"/>
        <media:title>فیصل راٹھور— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیپلز پارٹی کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، بلاول بھٹو زرداری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272900/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری جماعت آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، کشمیر کے مسائل کا سیاسی حل موجود ہے اور مسائل کا حل نکالنا ہی پیپلز پارٹی کی پہچان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ کشمیر کی عوام سے وعدہ کرتا ہوں، آپ کو مایوس نہیں کروں گا، نئے وزیراعظم کا اعلان کشمیر سے ہوگا، اسلام آباد سے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے، اسمبلی کا بقیہ جتنا بھی وقت رہ گیا ہے، اس میں ان کی خدمت کریں گے، وزیراعظم اور ہمارے رکن قانون ساز اسمبلی عوام کے لیے دستیاب ہوں گے، اگر خدمت نہ ہو سکی تو اس کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرادری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272623/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کی بنیاد کشمیر کی وجہ سے رکھی گئی، پیپلز پارٹی کشمیر کے لیے 3 نسلوں سے لڑ رہی ہے، ہر فورم پر کشمیر کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو زراداری نے مزید کہا کہ ہم نے گزشتہ الیکشن میں حصہ لیا، اس الیکشن کے وقت عمران خان کی حکومت میں تھی، اسٹیبلشمنٹ کے معاملات آپ کے سامنے تھے، سب حالات کے باوجود ہم نے الیکشن جیتا تھا، تاہم انہوں نے ہماری جیت کو شکست میں تبدیل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ غیر سیاسی سوچ کی وجہ سے کشمیر میں ایک سیاسی خلا پیدا کیا گیا، جس کی وجہ سے کشمیر کی عوام کو مقامی و بین الاقوامی سطح پر نقصان ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 25 اکتوبرکو پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا تھا، بڑا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلزپارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272574/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آزاد کشمیر میں حکمرانی اور پارٹی کے کردار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا تھا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی نے ِان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، صدر زرداری نے آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دے دی تھی، صدر پی پی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم کون بنےگا، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد پیپلزپارٹی کو حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 اکتو بر کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت کے خلاف &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272574/"&gt;&lt;strong&gt;تحریک عدم اعتماد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; لانے کا فیصلہ کیا، ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور نے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننےکا فیصلہ کیا ہے، ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور تحریک عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے، اس حوالے سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری جماعت آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، کشمیر کے مسائل کا سیاسی حل موجود ہے اور مسائل کا حل نکالنا ہی پیپلز پارٹی کی پہچان ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ کشمیر کی عوام سے وعدہ کرتا ہوں، آپ کو مایوس نہیں کروں گا، نئے وزیراعظم کا اعلان کشمیر سے ہوگا، اسلام آباد سے نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے، اسمبلی کا بقیہ جتنا بھی وقت رہ گیا ہے، اس میں ان کی خدمت کریں گے، وزیراعظم اور ہمارے رکن قانون ساز اسمبلی عوام کے لیے دستیاب ہوں گے، اگر خدمت نہ ہو سکی تو اس کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرادری ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272623/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کی بنیاد کشمیر کی وجہ سے رکھی گئی، پیپلز پارٹی کشمیر کے لیے 3 نسلوں سے لڑ رہی ہے، ہر فورم پر کشمیر کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے۔</p>
<p>بلاول بھٹو زراداری نے مزید کہا کہ ہم نے گزشتہ الیکشن میں حصہ لیا، اس الیکشن کے وقت عمران خان کی حکومت میں تھی، اسٹیبلشمنٹ کے معاملات آپ کے سامنے تھے، سب حالات کے باوجود ہم نے الیکشن جیتا تھا، تاہم انہوں نے ہماری جیت کو شکست میں تبدیل کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ غیر سیاسی سوچ کی وجہ سے کشمیر میں ایک سیاسی خلا پیدا کیا گیا، جس کی وجہ سے کشمیر کی عوام کو مقامی و بین الاقوامی سطح پر نقصان ہو رہا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 25 اکتوبرکو پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا تھا، بڑا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان پیپلزپارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272574/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں، آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آزاد کشمیر میں حکمرانی اور پارٹی کے کردار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا تھا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی نے ِان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، صدر زرداری نے آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دے دی تھی، صدر پی پی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم کون بنےگا، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔</p>
<p>26 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد پیپلزپارٹی کو حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی تھی۔</p>
<p>27 اکتو بر کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت کے خلاف <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272574/"><strong>تحریک عدم اعتماد</strong></a> لانے کا فیصلہ کیا، ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور نے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔</p>
<p>جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننےکا فیصلہ کیا ہے، ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور تحریک عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے، اس حوالے سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272900</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 18:56:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/3117315425de5a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/3117315425de5a0.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر میں حکومت سازی: صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی آج ملاقات متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272808/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان آج شام ایوان صدر میں ملاقات متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ اہم ملاقات ایوان صدر میں ہوگی، وزیراعظم کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے وزرا بھی اس ملاقات میں شریک ہوں گے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی پارٹی کے وفد کے ساتھ شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری یٰسین کو امیدوار فائنل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272574/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں چوہدری یٰسین کے نام کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت بھی شریک تھی، جب کہ اجلاس کے دوران وزارتِ عظمیٰ کے لیے 4 ناموں پر غور کیا گیا جن میں چوہدری یٰسین، لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب خان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری یٰسین کو حتمی امیدوار نامزد کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان آج شام ایوان صدر میں ملاقات متوقع ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ اہم ملاقات ایوان صدر میں ہوگی، وزیراعظم کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے وزرا بھی اس ملاقات میں شریک ہوں گے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی پارٹی کے وفد کے ساتھ شرکت کریں گے۔</p>
<p>یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری یٰسین کو امیدوار فائنل کرلیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272574/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں چوہدری یٰسین کے نام کی منظوری دی۔</p>
<p>اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت بھی شریک تھی، جب کہ اجلاس کے دوران وزارتِ عظمیٰ کے لیے 4 ناموں پر غور کیا گیا جن میں چوہدری یٰسین، لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب خان شامل تھے۔</p>
<p>تاہم، بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری یٰسین کو حتمی امیدوار نامزد کر دیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ چند روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی۔</p>
<p>اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272808</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 16:14:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/3014275950532f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/3014275950532f3.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی، پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کیلئے امیدوار فائنل کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272730/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد کشمیر میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری یاسین کو امیدوار فائنل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں چوہدری یاسین کے نام کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت بھی شریک تھی، جبکہ اجلاس کے دوران وزارتِ عظمیٰ کے لیے 4 ناموں پر غور کیا گیا، جن میں چوہدری یاسین، لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب خان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری یاسین کو حتمی امیدوار نامزد کردیا، پارٹی کی جانب سے امیدوار کے نام کا باقاعدہ اعلان آج رات تک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272505'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل  صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور عدم اعتماد کی تحریک میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ’ایک ہی سکے کے دو رخ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کا کوئی ’حقیقی منصوبہ‘ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے، جبکہ قانون سازاسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 17 تھی،  تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جس کے بعد حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد کشمیر میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری یاسین کو امیدوار فائنل کرلیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں چوہدری یاسین کے نام کی منظوری دی۔</p>
<p>اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت بھی شریک تھی، جبکہ اجلاس کے دوران وزارتِ عظمیٰ کے لیے 4 ناموں پر غور کیا گیا، جن میں چوہدری یاسین، لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب خان شامل تھے۔</p>
<p>تاہم، بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری یاسین کو حتمی امیدوار نامزد کردیا، پارٹی کی جانب سے امیدوار کے نام کا باقاعدہ اعلان آج رات تک متوقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272505'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ چند روز قبل  صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا تھا۔</p>
<p>ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور عدم اعتماد کی تحریک میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ’ایک ہی سکے کے دو رخ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کا کوئی ’حقیقی منصوبہ‘ نہیں ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے، جبکہ قانون سازاسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 17 تھی،  تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جس کے بعد حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272730</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 19:09:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2918373337bfdb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2918373337bfdb5.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: پی پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے لیے متحرک، وزیر اعظم کے امیدوار کا فیصلہ آج متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272681/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں نئی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم ہو گئی ہے اور امکان ہے کہ آج وزیر اعظم کے امیدوار کے نام کا فیصلہ کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1951906/ppp-set-to-name-ajk-pm-candidate-today"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق امکان ہے کہ پیپلز پارٹی آج آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے لیے اپنا امیدوار منتخب کرے گی، یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی سعودی عرب سے واپسی پر ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یٰسین، فیصل راٹھور اور سردار یعقوب کے نام اعلیٰ عہدے کے لیے زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے جے کے آئین کے مطابق جو لوگ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہیں، انہیں موجودہ وزیر اعظم کے متبادل کا نام دینا ضروری ہے، پی پی پی کے امیدوار کے حتمی ہونے کے بعد یہ تحریک جلد جمع کرائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی پی کے ایک ذریعے نے کہا کہ نئی حکومت بنانے میں جلدی نہیں ہے اور پی ایم ایل این کے خزانہ بینچز میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کو اس کا جمہوری حق سمجھا جاتا ہے، پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ سب کی رائے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کی مبینہ کارکردگی کی ناکامیوں پر مشتمل تفصیلی چارج شیٹ تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272623/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شکایات میں کابینہ کے اراکین سے مشاورت نہ کرنا، بیوروکریسی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنا، اور وزرا اور اسمبلی اراکین کے لیے ترقیاتی فنڈز میں کمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ان کے یکطرفہ فیصلوں اور عوامی احتجاج کو صحیح طریقے سے نہ سنبھالنے کی وجہ سے اتحادی حکومت میں ناخوشی بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سلسلے میں پی پی پی کی خواتین ونگ اور اے جے کے سیاسی امور ونگ کی سربراہ فریال تالپور نے اے جے کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ملاقات کی تاکہ ان کے گروپ کے چھ اراکین کی حمایت حاصل کی جا سکے، ملاقات کے دوران آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشتاق منہاس نے ’ڈان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم مستعفی ہو جاتے ہیں تو پارٹی پی پی پی کے امیدوار کے لیے ووٹ نہیں دے گی، تاہم اگر عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو اسے حمایت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) پچھلے چھ ماہ سے انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ ان کی حکمرانی کے طریقۂ کار پر تحفظات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پی-ٹی-آئی-ریفرنس-جمع-کرائے-گی" href="#پی-ٹی-آئی-ریفرنس-جمع-کرائے-گی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پی ٹی آئی ریفرنس جمع کرائے گی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے اُن اراکین کے خلاف ریفرنس جمع کرائے گی جو دوسری جماعتوں میں شامل ہو گئے ہیں یا عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی آزاد جموں و کشمیر کے صدر عبدالقیم نیاز نے اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد سے مشورہ کیا اور پارٹی کی قانونی ٹیم کو طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ریفرنس الیکشن ایکٹ 2020 کے سیکشن 30 کے تحت جمع کرائے جائیں گے، جو اراکین کے پارٹی تبدیل کرنے پر نااہلی کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی اس سے پہلے اسپیکر کو چار اراکین کے خلاف ریفرنس بھیج چکی ہے جن میں اکمل سرگالہ، رفیق نیّر اور علی شان سونی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پی ٹی آئی کے 12 اراکین، جو پی پی پی میں شامل ہو گئے ہیں، اگر عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو انہیں نااہلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں نئی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم ہو گئی ہے اور امکان ہے کہ آج وزیر اعظم کے امیدوار کے نام کا فیصلہ کر لیا جائے گا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1951906/ppp-set-to-name-ajk-pm-candidate-today">رپورٹ</a></strong> کے مطابق امکان ہے کہ پیپلز پارٹی آج آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے لیے اپنا امیدوار منتخب کرے گی، یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی سعودی عرب سے واپسی پر ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔</p>
<p>ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یٰسین، فیصل راٹھور اور سردار یعقوب کے نام اعلیٰ عہدے کے لیے زیر غور ہیں۔</p>
<p>اے جے کے آئین کے مطابق جو لوگ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہیں، انہیں موجودہ وزیر اعظم کے متبادل کا نام دینا ضروری ہے، پی پی پی کے امیدوار کے حتمی ہونے کے بعد یہ تحریک جلد جمع کرائی جائے گی۔</p>
<p>پی پی پی کے ایک ذریعے نے کہا کہ نئی حکومت بنانے میں جلدی نہیں ہے اور پی ایم ایل این کے خزانہ بینچز میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کو اس کا جمہوری حق سمجھا جاتا ہے، پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ سب کی رائے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کی مبینہ کارکردگی کی ناکامیوں پر مشتمل تفصیلی چارج شیٹ تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272623/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان شکایات میں کابینہ کے اراکین سے مشاورت نہ کرنا، بیوروکریسی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنا، اور وزرا اور اسمبلی اراکین کے لیے ترقیاتی فنڈز میں کمی شامل ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ان کے یکطرفہ فیصلوں اور عوامی احتجاج کو صحیح طریقے سے نہ سنبھالنے کی وجہ سے اتحادی حکومت میں ناخوشی بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>اسی سلسلے میں پی پی پی کی خواتین ونگ اور اے جے کے سیاسی امور ونگ کی سربراہ فریال تالپور نے اے جے کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ملاقات کی تاکہ ان کے گروپ کے چھ اراکین کی حمایت حاصل کی جا سکے، ملاقات کے دوران آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشتاق منہاس نے ’ڈان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم مستعفی ہو جاتے ہیں تو پارٹی پی پی پی کے امیدوار کے لیے ووٹ نہیں دے گی، تاہم اگر عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو اسے حمایت فراہم کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) پچھلے چھ ماہ سے انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ ان کی حکمرانی کے طریقۂ کار پر تحفظات تھے۔</p>
<h1><a id="پی-ٹی-آئی-ریفرنس-جمع-کرائے-گی" href="#پی-ٹی-آئی-ریفرنس-جمع-کرائے-گی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پی ٹی آئی ریفرنس جمع کرائے گی</h1>
<p>دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے اُن اراکین کے خلاف ریفرنس جمع کرائے گی جو دوسری جماعتوں میں شامل ہو گئے ہیں یا عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی آزاد جموں و کشمیر کے صدر عبدالقیم نیاز نے اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد سے مشورہ کیا اور پارٹی کی قانونی ٹیم کو طلب کر لیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ریفرنس الیکشن ایکٹ 2020 کے سیکشن 30 کے تحت جمع کرائے جائیں گے، جو اراکین کے پارٹی تبدیل کرنے پر نااہلی کی اجازت دیتا ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی اس سے پہلے اسپیکر کو چار اراکین کے خلاف ریفرنس بھیج چکی ہے جن میں اکمل سرگالہ، رفیق نیّر اور علی شان سونی شامل ہیں۔</p>
<p>اب پی ٹی آئی کے 12 اراکین، جو پی پی پی میں شامل ہو گئے ہیں، اگر عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو انہیں نااہلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272681</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 11:24:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/29093337cdb4078.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/29093337cdb4078.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف مشترکہ تحریک عدم اعتماد سیاسی پختگی کی علامت ہے، احسن اقبال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272623/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی حمایت کا مشترکہ فیصلہ علاقے کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی پختگی کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں بھی اتحادی ہیں، ان دونوں جماعتوں نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم حیدر کے خلاف مشترکہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرے گی لیکن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، بلکہ اپوزیشن میں بیٹھے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو قبول کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272574/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
آج احسن اقبال نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اسلام آباد میں اپنی وزارتِ منصوبہ بندی میں مسلم لیگ (ن) کی ’سیاسی رابطہ کمیٹی‘ کے اجلاس کی صدارت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر امیر مقام اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ سمیت دیگر رہنما اجلاس میں شریک تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی پارلیمانی جماعت کی قیادت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’یہ بہت بڑی جمہوری بلوغت کی علامت ہے کہ دو بڑے اسٹیک ہولڈرز کشمیر کی سیاسی صورتِ حال اور وہاں کی بہتر حکمرانی کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانے پر متفق ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/XIMthhHumcw'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/XIMthhHumcw?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک بالغ سیاسی سوچ کی علامت ہے کہ اگر ایک جماعت حکومت میں شامل ہوگی تو دوسری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ بھی مطالبہ کریں گے کہ جو نئی حکومت قائم ہوگی وہ جلد از جلد آزاد، منصفانہ انتخابات کرائے تاکہ ایک مستحکم حکومت قائم ہو سکے جو کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت پچھلی اتحادی حکومت کا حصہ تھی، لیکن وہ ’اقلیتی اسٹیک ہولڈر‘ تھی، اور مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی جماعت نے مسلسل یہ مطالبہ کیا تھا کہ ’ناکام کارکردگی‘ کے باعث انہیں موجودہ حکومت سے علیحدہ کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دیگر جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے بھی مسلم لیگ (ن) کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ ’اتحادی سیٹ اپ آزاد کشمیر کے مسائل کا حل نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صحافی کے سوال کے جواب میں امیر مقام نے کہا کہ اس ماہ کے آغاز میں جو معاہدہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ ہوا تھا، وہ حکومت کوئی بھی ہو، اس پر عمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کے مسلم لیگ (ن) کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272505/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
کل احسن اقبال کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے وفد (جس میں امیر مقام اور رانا ثناءاللہ شامل تھے) نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی تاکہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے امکانات پر مشاورت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں جماعتوں نے آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم پر مستعفی ہونے یا اسمبلی میں عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کل 52 ارکان ہیں، اور سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 27 ووٹ درکار ہیں، پیپلز پارٹی اپنے 27 ارکان اور مسلم لیگ (ن) کے 9 ارکان کی حمایت سے یہ اکثریت آسانی سے حاصل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورت حال کے پیش نظر موجودہ وزیراعظم کو مبینہ طور پر ’باعزت طور پر مستعفی‘ ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے کیوں کہ وہ اکثریت کی حمایت کھو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے پاس تین آپشن ہیں پہلا یہ کہ اسمبلی تحلیل کر دیں تاکہ مخالف جماعت اقتدار میں نہ آ سکے، دوسرا خود مستعفی ہو جائیں، اور تیسرا آپشن عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی حمایت کا مشترکہ فیصلہ علاقے کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی پختگی کی علامت ہے۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں بھی اتحادی ہیں، ان دونوں جماعتوں نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم حیدر کے خلاف مشترکہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرے گی لیکن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، بلکہ اپوزیشن میں بیٹھے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو قبول کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272574/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
آج احسن اقبال نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اسلام آباد میں اپنی وزارتِ منصوبہ بندی میں مسلم لیگ (ن) کی ’سیاسی رابطہ کمیٹی‘ کے اجلاس کی صدارت کی۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر امیر مقام اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ سمیت دیگر رہنما اجلاس میں شریک تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی پارلیمانی جماعت کی قیادت کی۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’یہ بہت بڑی جمہوری بلوغت کی علامت ہے کہ دو بڑے اسٹیک ہولڈرز کشمیر کی سیاسی صورتِ حال اور وہاں کی بہتر حکمرانی کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانے پر متفق ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/XIMthhHumcw'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/XIMthhHumcw?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک بالغ سیاسی سوچ کی علامت ہے کہ اگر ایک جماعت حکومت میں شامل ہوگی تو دوسری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ بھی مطالبہ کریں گے کہ جو نئی حکومت قائم ہوگی وہ جلد از جلد آزاد، منصفانہ انتخابات کرائے تاکہ ایک مستحکم حکومت قائم ہو سکے جو کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے‘۔</p>
<p>احسن اقبال نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت پچھلی اتحادی حکومت کا حصہ تھی، لیکن وہ ’اقلیتی اسٹیک ہولڈر‘ تھی، اور مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی جماعت نے مسلسل یہ مطالبہ کیا تھا کہ ’ناکام کارکردگی‘ کے باعث انہیں موجودہ حکومت سے علیحدہ کر دیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دیگر جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے بھی مسلم لیگ (ن) کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ ’اتحادی سیٹ اپ آزاد کشمیر کے مسائل کا حل نہیں ہے‘۔</p>
<p>ایک صحافی کے سوال کے جواب میں امیر مقام نے کہا کہ اس ماہ کے آغاز میں جو معاہدہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ ہوا تھا، وہ حکومت کوئی بھی ہو، اس پر عمل کیا جائے گا۔</p>
<p>امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کے مسلم لیگ (ن) کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272505/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
کل احسن اقبال کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے وفد (جس میں امیر مقام اور رانا ثناءاللہ شامل تھے) نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی تاکہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے امکانات پر مشاورت کی جا سکے۔</p>
<p>دونوں جماعتوں نے آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم پر مستعفی ہونے یا اسمبلی میں عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کل 52 ارکان ہیں، اور سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 27 ووٹ درکار ہیں، پیپلز پارٹی اپنے 27 ارکان اور مسلم لیگ (ن) کے 9 ارکان کی حمایت سے یہ اکثریت آسانی سے حاصل کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس صورت حال کے پیش نظر موجودہ وزیراعظم کو مبینہ طور پر ’باعزت طور پر مستعفی‘ ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے کیوں کہ وہ اکثریت کی حمایت کھو چکے ہیں۔</p>
<p>ان کے پاس تین آپشن ہیں پہلا یہ کہ اسمبلی تحلیل کر دیں تاکہ مخالف جماعت اقتدار میں نہ آ سکے، دوسرا خود مستعفی ہو جائیں، اور تیسرا آپشن عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272623</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 15:43:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/281535055ff0468.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/281535055ff0468.webp"/>
        <media:title>وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے، استعفیٰ دینے یا عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کا آپشن ہے۔
—فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا آزاد کشمیر حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272574/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ہماری جماعت نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور عدم اعتماد کی تحریک میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے، اس حوالے سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272554/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272554"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نےمزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ’مکمل طور پر ناکام‘ رہی اور یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینا پڑی، جو کشمیر گئی اور بحران کی صورتحال حل کرنے کے لیے بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پورے معاملے میں واضح طور پر یہ سامنے آیا کہ موجودہ سیٹ اپ عوامی توقعات اور کشمیری عوام سے بہتر حکمرانی اور خوشحالی کے وعدوں پر پورا نہیں اُترا، لہٰذا اس صورتحال میں تبدیلی ناگزیر اور یہ تبدیلی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر پیپلز پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ نےکہا کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت، مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل کا باعث بن گئی ہے، 2 مرتبہ ایسے بحران پیدا ہوئے کہ وفاقی حکومت کو مداخلت کر کے انہیں حل کرنا پڑا، اب اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی، جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اکٹھے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی، سیاسی استحکام، مسائل کا حل اور شفاف و منصفانہ انتخابات فراہم کیے جانے چاہیں تاکہ علاقے کے حقیقی نمائندے منتخب ہو کر اپنی حکومت بنا سکیں، تحریک عدم اعتماد کی تحریک کے وقت کا تعین وزیرِ اعظم سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے بھی موجودہ آزاد کشمیر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے سیاسی خلا پیدا ہوا اور مزید مسائل نے جنم لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اتوار کو 10 ارکانِ اسمبلی (عام انتخابات 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے) نے اعلان کیا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں، یہ جماعت آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمی کا منصب حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 اکتوبر (ہفتہ) کو پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا تھا، بڑا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلزپارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں بتایا تھا  کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آزاد کشمیر میں حکمرانی اور پارٹی کے کردار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا تھا کہ  اجلاس میں پیپلز پارٹی نے ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، صدر زرداری نے آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دے دی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پی پی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم کون بنےگا، فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کر لیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما موجود تھے، اہم ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اِن ہاؤس تبدیلی پر غور کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ہماری جماعت نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور عدم اعتماد کی تحریک میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے، اس حوالے سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272554/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272554"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>احسن اقبال نےمزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ’مکمل طور پر ناکام‘ رہی اور یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینا پڑی، جو کشمیر گئی اور بحران کی صورتحال حل کرنے کے لیے بات چیت کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پورے معاملے میں واضح طور پر یہ سامنے آیا کہ موجودہ سیٹ اپ عوامی توقعات اور کشمیری عوام سے بہتر حکمرانی اور خوشحالی کے وعدوں پر پورا نہیں اُترا، لہٰذا اس صورتحال میں تبدیلی ناگزیر اور یہ تبدیلی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے لائی جائے گی۔</p>
<p>اس موقع پر پیپلز پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ نےکہا کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت، مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل کا باعث بن گئی ہے، 2 مرتبہ ایسے بحران پیدا ہوئے کہ وفاقی حکومت کو مداخلت کر کے انہیں حل کرنا پڑا، اب اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی، جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اکٹھے ہوں گے۔</p>
<p>رہنما پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی، سیاسی استحکام، مسائل کا حل اور شفاف و منصفانہ انتخابات فراہم کیے جانے چاہیں تاکہ علاقے کے حقیقی نمائندے منتخب ہو کر اپنی حکومت بنا سکیں، تحریک عدم اعتماد کی تحریک کے وقت کا تعین وزیرِ اعظم سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔</p>
<p>لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے بھی موجودہ آزاد کشمیر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے سیاسی خلا پیدا ہوا اور مزید مسائل نے جنم لیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اتوار کو 10 ارکانِ اسمبلی (عام انتخابات 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے) نے اعلان کیا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں، یہ جماعت آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمی کا منصب حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے،</p>
<p>25 اکتوبر (ہفتہ) کو پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا تھا، بڑا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان پیپلزپارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں بتایا تھا  کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں، آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آزاد کشمیر میں حکمرانی اور پارٹی کے کردار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا تھا کہ  اجلاس میں پیپلز پارٹی نے ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، صدر زرداری نے آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دے دی ۔</p>
<p>صدر پی پی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم کون بنےگا، فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272574</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 23:15:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2722125907e7f35.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2722125907e7f35.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر: پی ٹی آئی کے 10 وزرا پیپلزپارٹی میں شامل، حکومت سازی کیلئے مطلوبہ تعداد پوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272505/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا جس کے بعد پیپلزپارٹی کو حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ابتدائی طور پر آزاد کشمیر حکومت کے 5 وزرا نے پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی مرکزی صدر فریال تالپور سے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/1982118947416895722'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1982118947416895722"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;53 رکنی اسمبلی میں اب پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت حاصل ہے، اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے 9، تحریک انصاف کے 5، اور 2 علاقائی جماعتوں کے ایک ایک رکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم انوارالحق کی قیادت میں پی ٹی آئی کے منحرف گروپ کی تعداد کم ہو کر 10 رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=vCdTjmIhkfE'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/vCdTjmIhkfE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی چوہدری قاسم مجید نے ڈان ڈاٹ کام سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم ایک پُراعتماد پوزیشن میں ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم چوہدری انوارالحق کو رخصت کر کے اپنے ہی اراکین میں سے ایوان کا نیا قائد منتخب کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تصدیق کی کہ اتوار کی شام تک پی ٹی آئی کے 10 ارکانِ اسمبلی نے اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں فریال تالپور سے علیحدہ ملاقاتوں کے دوران پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272449'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں 5 ارکان وہ تھے جو آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں ان کے صاحبزادے یاسر سلطان، برادرِ نسبتی چوہدری ارشد، میرپور ڈویژن سے چوہدری اخلاق، مظفرآباد ڈویژن سے چوہدری محمد رشید، اور پونچھ ڈویژن سے سردار محمد حسین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اظہر اقبال برالوی کے مطابق، صدر کے گروپ کی خاتون رکن صبیحہ صدیق نے فوری طور پر پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی کیونکہ انہیں ممکنہ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی سے متعلق کچھ تحفظات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، کوٹلی سے ظفر اقبال ملک نے بھی علیحدہ طور پر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی، ان کے بعد مہاجر حلقوں سے عبدالمجید خان، چوہدری اکبر ابراہیم، اور عاصم شریف بٹ کے علاوہ پونچھ ڈویژن سے سردار فہیم ربانی نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کر کے اپنی شمولیت کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام 10 ارکان وزیر اعظم انوارالحق کی کابینہ کا حصہ ہیں، ان میں سے صرف 3 مہاجر ارکان نے پہلے ہی کابینہ سے استعفے کا اعلان کیا تھا، تاہم ان کے استعفوں کی کوئی سرکاری اطلاع ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریال تالپور نے رہنماؤں کا خیرمقدم اور ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کی سچی نمائندہ جماعت رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز صدر آصف زرداری نے آزادکشمیر میں عدم اعتماد لانے اور آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جب کہ قانون سازاسمبلی میں اِس وقت پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 17 ہے جو مزید 6 ارکان کے شامل ہونے کے بعد 23 ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) اس وقت 9 ممبران اسمبلی کے ساتھ ایوان میں موجود ہے لیکن (ن) لیگ آزاد کشمیر نے حکومت سازی  کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272492'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کرکے  آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہبازشریف نے مسلم لیگ آزاد کشمیر امور کمیٹی کو پیپلزپارٹی سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی تشکیل دے دی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام کمیٹی میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی آزادکشمیر میں حکومت سازی اور دیگر سیاسی معاملات کو دیکھے گی جب کہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کے لیے نمبرز پورے ہیں؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا جس کے بعد پیپلزپارٹی کو حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ابتدائی طور پر آزاد کشمیر حکومت کے 5 وزرا نے پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی مرکزی صدر فریال تالپور سے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/1982118947416895722'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1982118947416895722"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>53 رکنی اسمبلی میں اب پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت حاصل ہے، اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے 9، تحریک انصاف کے 5، اور 2 علاقائی جماعتوں کے ایک ایک رکن ہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم انوارالحق کی قیادت میں پی ٹی آئی کے منحرف گروپ کی تعداد کم ہو کر 10 رہ گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=vCdTjmIhkfE'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/vCdTjmIhkfE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی چوہدری قاسم مجید نے ڈان ڈاٹ کام سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم ایک پُراعتماد پوزیشن میں ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم چوہدری انوارالحق کو رخصت کر کے اپنے ہی اراکین میں سے ایوان کا نیا قائد منتخب کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے تصدیق کی کہ اتوار کی شام تک پی ٹی آئی کے 10 ارکانِ اسمبلی نے اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں فریال تالپور سے علیحدہ ملاقاتوں کے دوران پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272449'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان میں 5 ارکان وہ تھے جو آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں ان کے صاحبزادے یاسر سلطان، برادرِ نسبتی چوہدری ارشد، میرپور ڈویژن سے چوہدری اخلاق، مظفرآباد ڈویژن سے چوہدری محمد رشید، اور پونچھ ڈویژن سے سردار محمد حسین شامل ہیں۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اظہر اقبال برالوی کے مطابق، صدر کے گروپ کی خاتون رکن صبیحہ صدیق نے فوری طور پر پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی کیونکہ انہیں ممکنہ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی سے متعلق کچھ تحفظات تھے۔</p>
<p>بعد ازاں، کوٹلی سے ظفر اقبال ملک نے بھی علیحدہ طور پر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی، ان کے بعد مہاجر حلقوں سے عبدالمجید خان، چوہدری اکبر ابراہیم، اور عاصم شریف بٹ کے علاوہ پونچھ ڈویژن سے سردار فہیم ربانی نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کر کے اپنی شمولیت کا اعلان کیا۔</p>
<p>یہ تمام 10 ارکان وزیر اعظم انوارالحق کی کابینہ کا حصہ ہیں، ان میں سے صرف 3 مہاجر ارکان نے پہلے ہی کابینہ سے استعفے کا اعلان کیا تھا، تاہم ان کے استعفوں کی کوئی سرکاری اطلاع ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔</p>
<p>فریال تالپور نے رہنماؤں کا خیرمقدم اور ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کی سچی نمائندہ جماعت رہی ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ روز صدر آصف زرداری نے آزادکشمیر میں عدم اعتماد لانے اور آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دی تھی۔</p>
<p>آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جب کہ قانون سازاسمبلی میں اِس وقت پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 17 ہے جو مزید 6 ارکان کے شامل ہونے کے بعد 23 ہوگئی۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) اس وقت 9 ممبران اسمبلی کے ساتھ ایوان میں موجود ہے لیکن (ن) لیگ آزاد کشمیر نے حکومت سازی  کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272492'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل، صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کرکے  آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔</p>
<p>شہبازشریف نے مسلم لیگ آزاد کشمیر امور کمیٹی کو پیپلزپارٹی سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا۔</p>
<p>تاہم، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی تشکیل دے دی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام کمیٹی میں شامل ہیں۔</p>
<p>کمیٹی آزادکشمیر میں حکومت سازی اور دیگر سیاسی معاملات کو دیکھے گی جب کہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کے لیے نمبرز پورے ہیں؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272505</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 23:49:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/262030358d02e56.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/262030358d02e56.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاق نے آزاد کشمیر کیلئے 14 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272512/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے لیے 14 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ منظوری جولائی سے ستمبر اور اکتوبر سے دسمبر 2025 کی 2 سہ ماہیوں کے لیے دی گئی ہے جب کہ پہلی دو سہ ماہیوں کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری کچھ دن پہلے دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=P_yi2t__Utc'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/P_yi2t__Utc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ فنڈز کے لیے وزارت منصوبہ بندی نے اپ فرنٹ ون لائنر اتھارایزیشن دی ہے، ان فنڈز کا آزاد کشمیر میں موجودہ سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ترقیاتی بجٹ میں رواں مالی سال آزاد کشمیر کے لیے مجموعی طور پر 45 ارب روپے مختص ہیں، وفاقی ترقیاتی فنڈز کی منظوری صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں ہے، وفاقی وزارتوں، ڈویژنز سمیت دیگر کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کی پہلی دو سہ ماہیوں میں مجموعی طور پر 335 ارب 43کروڑ کے اجرا کی منظوری دی گئی جب کہ رواں مالی سال مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی بجٹ مختص ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے لیے 14 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ منظوری جولائی سے ستمبر اور اکتوبر سے دسمبر 2025 کی 2 سہ ماہیوں کے لیے دی گئی ہے جب کہ پہلی دو سہ ماہیوں کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری کچھ دن پہلے دی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=P_yi2t__Utc'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/P_yi2t__Utc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ فنڈز کے لیے وزارت منصوبہ بندی نے اپ فرنٹ ون لائنر اتھارایزیشن دی ہے، ان فنڈز کا آزاد کشمیر میں موجودہ سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>وفاقی ترقیاتی بجٹ میں رواں مالی سال آزاد کشمیر کے لیے مجموعی طور پر 45 ارب روپے مختص ہیں، وفاقی ترقیاتی فنڈز کی منظوری صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں ہے، وفاقی وزارتوں، ڈویژنز سمیت دیگر کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>مالی سال کی پہلی دو سہ ماہیوں میں مجموعی طور پر 335 ارب 43کروڑ کے اجرا کی منظوری دی گئی جب کہ رواں مالی سال مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی بجٹ مختص ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272512</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 23:50:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/26223027284aab1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/26223027284aab1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272492/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت بنانے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیےکمیٹی تشکیل دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور دیگر سیاسی معاملات کی نگرانی کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال، مشیر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کمیٹی آزادکشمیر میں حکومت سازی اور دیگر سیاسی معاملات کو دیکھے گی اور اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کےلیے نمبرز پورے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کمیٹی پیپلزپارٹی کی جانب سے آزاد کشمیرمیں حکومت سازی سے متعلق اموردیکھے گی، کمیٹی تمام تر صورتحال پر وزیراعظم کو بریف کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272449/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیپلزپارٹی نےگذشتہ روزآزاد کشمیرمیں حکومت بنانےکا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلزپارٹی نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کیا تھا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آزاد کشمیر میں حکمرانی اور پارٹی کے کردار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے اجلاس کا پہلا سیشن چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں موجودہ وزیراعظم انوارالحق کو عہدے سے ہٹانے اور نئی حکومت بنانے سے متعلق حکمت عملی طے کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی نے ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، صدر زرداری نے آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دے دی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پی پی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے واضح کیا کہ وزیراعظم کون بنےگا، فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت بنانے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیےکمیٹی تشکیل دے دی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور دیگر سیاسی معاملات کی نگرانی کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال، مشیر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کمیٹی آزادکشمیر میں حکومت سازی اور دیگر سیاسی معاملات کو دیکھے گی اور اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کےلیے نمبرز پورے ہیں؟</p>
<p>ذرائع کے مطابق کمیٹی پیپلزپارٹی کی جانب سے آزاد کشمیرمیں حکومت سازی سے متعلق اموردیکھے گی، کمیٹی تمام تر صورتحال پر وزیراعظم کو بریف کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272449/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ پیپلزپارٹی نےگذشتہ روزآزاد کشمیرمیں حکومت بنانےکا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>پیپلزپارٹی نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کیا تھا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آزاد کشمیر میں حکمرانی اور پارٹی کے کردار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔</p>
<p>اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔</p>
<p>اس سے پہلے اجلاس کا پہلا سیشن چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں موجودہ وزیراعظم انوارالحق کو عہدے سے ہٹانے اور نئی حکومت بنانے سے متعلق حکمت عملی طے کی گئی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی نے ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، صدر زرداری نے آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دے دی ۔</p>
<p>صدر پی پی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے واضح کیا کہ وزیراعظم کون بنےگا، فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔</p>
<p>قبل ازیں، پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272492</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 15:29:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2615285770f4c58.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2615285770f4c58.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر کابینہ کے مزید 3 وزرا مستعفیٰ، وزیراعظم سے بھی استعفیٰ دینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271844/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر کابینہ (اے جے کے) کے مزید 3 وزرا مستعفیٰ ہو گئے ہیں، جن میں سے دو نے کشمیری مہاجرین کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوار الحق سے بھی استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے وزیرِ اطلاعات پیر مظہر سعید نے ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا،  تاہم وزیراعظم کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ استعفیٰ موصول تو ہوا ہے، مگر ابھی منظور نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے وزیرِ خزانہ عبدالمجید خان اور وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم نے مظفرآباد پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اپنے استعفوں کا اعلان کیا، جبکہ وزیر کھیل، نوجوانان و ثقافت عاصم شریف بٹ نےاپنا استعفیٰ براہِ راست وزیراعظم کو بھیجا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں افراد 2021 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بالترتیب ایل اے–45، ایل اے–38 اور ایل اے–42 سے منتخب ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں نشستیں اُن کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں جو 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے، تاہم بعد میں ان تینوں وزرا نے وزیراعظم انوارالحق کی قیادت میں 2023 میں پی ٹی آئی کے منحرف گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں وزرا نے وفاقی حکومت اور مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے استعفوں کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ اُن 12 نشستوں کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی تھی، جو پاکستان بھر میں آباد کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران پریس کانفرنس عبدالمجید خان اور چوہدری اکبر ا ابراہیم نے مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو غیر منتخب، لاٹھی بردار گروہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور مشاورت کے بغیر طے پانے والے معاہدے نے دراصل غیر آئینی اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع مطالبے کو قانونی جواز فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ہزاروں کشمیری مہاجرین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور اے جے کے کے آئینی و سیاسی ڈھانچے پر کاری ضرب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرا نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خلاف مہم دراصل چند تاجروں اور خود ساختہ نمائندوں کی بدنیتی پر مبنی سازش ہے، جو اصلاحات کے نام پر اپنے محدود مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستعفیٰ وزرا کا کہنا تھا کہ اصل ہدف حکومت نہیں بلکہ مہاجر کشمیریوں کی شناخت، نمائندگی اور سیاسی حیثیت ہے، وہی برادری جس نے پاکستان اور کشمیر کے الحاق کے مقصد کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزراء نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ نشستیں کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک تاریخی اور شعوری آئینی فیصلہ ہیں، جو 1947 سے اے جے کے کے سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نشستوں کی موجودگی ان لوگوں کی قربانیوں اور طویل جلاوطنی کا آئینی اعتراف ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ عوامی ایکشن کی جانب سے ِان نشستوں کی موجودگی پر سوال اُٹھانا اُن لوگوں کے دکھ، شناخت اور سیاسی جدوجہد سے انکار کے مترادف ہے، جو پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے جلاوطنی کا صبر آزما سفر اختیار کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ صدر پاکستان اور وزیراعظم دونوں کے نوٹس میں تحریری طور پر لایا ہے، اور وہ ہر دروازے پر دستک دیں گے تاکہ اُن عناصر کے عزائم ناکام بنائے جا سکیں، جو مقامی اور مہاجر کشمیریوں کے درمیان دراڑ ڈالنے اور کشمیر کے مقصد کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالمجید خان نے 2 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ آئینی الحاق کے نظریے پر اپنے پختہ ایمان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ موجودہ حکومت کے ساتھ کام جاری رکھنا ناممکن ہو گیا، کیونکہ یہ حکومت کشمیری مہاجرین کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی اور سنگین آئینی خلاف ورزی پر کوئی ذمہ داری لینے یا مؤثر اقدام کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے پاس اخلاقی طور پر کابینہ کا حصہ رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا، لہذا وہ آج سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہیں، تاہم انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے حقوق کے دفاع اور ان کے سیاسی و آئینی کردار کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری اکبر ابراہیم نے بھی اپنے استعفے میں انہی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم انوار الحق مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے غیر قانونی مطالبات کو رد کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے پاکستان میں آنے والے تقریبا 30 لاکھ مہاجرین کے حقوق کا دفاع کرنے میں بھی ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزرا نے وزیراعظم انوارالحق پر مہاجر اراکینِ اسمبلی کے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا اور ان سے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم شریف بٹ نے اپنے استعفے میں کہا کہ معاہدے کے بعد وہ اور ان کے حلقے کے عوام حکومت پر اعتماد کھو بیٹھے ہیں، لہٰذا وہ اس کا حصہ نہیں رہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی، آزاد جموں و کشمیر حکومت اور وفاقی وزرا کے درمیان بااثر طبقے کے لیے خصوصی مراعات اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد مختلف گروہوں نے احتجاج اور ہڑتالیں شروع کر دیں، جن میں تشدد بھی پھوٹ پڑا، ان جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 اکتوبر کو وفاقی حکومت کا ایک وفد خطے میں جاری بدامنی کو ختم کرنے کی خاطر مظفرآباد پہنچا تھا، جس کے بعد مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد جموں و کشمیر کابینہ (اے جے کے) کے مزید 3 وزرا مستعفیٰ ہو گئے ہیں، جن میں سے دو نے کشمیری مہاجرین کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوار الحق سے بھی استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے وزیرِ اطلاعات پیر مظہر سعید نے ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا،  تاہم وزیراعظم کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ استعفیٰ موصول تو ہوا ہے، مگر ابھی منظور نہیں کیا گیا۔</p>
<p>آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے وزیرِ خزانہ عبدالمجید خان اور وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم نے مظفرآباد پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اپنے استعفوں کا اعلان کیا، جبکہ وزیر کھیل، نوجوانان و ثقافت عاصم شریف بٹ نےاپنا استعفیٰ براہِ راست وزیراعظم کو بھیجا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تینوں افراد 2021 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بالترتیب ایل اے–45، ایل اے–38 اور ایل اے–42 سے منتخب ہوئے تھے۔</p>
<p>تینوں نشستیں اُن کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں جو 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے، تاہم بعد میں ان تینوں وزرا نے وزیراعظم انوارالحق کی قیادت میں 2023 میں پی ٹی آئی کے منحرف گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔</p>
<p>تینوں وزرا نے وفاقی حکومت اور مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے استعفوں کا اعلان کیا۔</p>
<p>اس معاہدے میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ اُن 12 نشستوں کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی تھی، جو پاکستان بھر میں آباد کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔</p>
<p>دوران پریس کانفرنس عبدالمجید خان اور چوہدری اکبر ا ابراہیم نے مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو غیر منتخب، لاٹھی بردار گروہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور مشاورت کے بغیر طے پانے والے معاہدے نے دراصل غیر آئینی اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع مطالبے کو قانونی جواز فراہم کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ہزاروں کشمیری مہاجرین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور اے جے کے کے آئینی و سیاسی ڈھانچے پر کاری ضرب ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزرا نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خلاف مہم دراصل چند تاجروں اور خود ساختہ نمائندوں کی بدنیتی پر مبنی سازش ہے، جو اصلاحات کے نام پر اپنے محدود مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>مستعفیٰ وزرا کا کہنا تھا کہ اصل ہدف حکومت نہیں بلکہ مہاجر کشمیریوں کی شناخت، نمائندگی اور سیاسی حیثیت ہے، وہی برادری جس نے پاکستان اور کشمیر کے الحاق کے مقصد کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔</p>
<p>دونوں وزراء نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ نشستیں کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک تاریخی اور شعوری آئینی فیصلہ ہیں، جو 1947 سے اے جے کے کے سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔</p>
<p>ان نشستوں کی موجودگی ان لوگوں کی قربانیوں اور طویل جلاوطنی کا آئینی اعتراف ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ عوامی ایکشن کی جانب سے ِان نشستوں کی موجودگی پر سوال اُٹھانا اُن لوگوں کے دکھ، شناخت اور سیاسی جدوجہد سے انکار کے مترادف ہے، جو پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے جلاوطنی کا صبر آزما سفر اختیار کر چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ صدر پاکستان اور وزیراعظم دونوں کے نوٹس میں تحریری طور پر لایا ہے، اور وہ ہر دروازے پر دستک دیں گے تاکہ اُن عناصر کے عزائم ناکام بنائے جا سکیں، جو مقامی اور مہاجر کشمیریوں کے درمیان دراڑ ڈالنے اور کشمیر کے مقصد کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عبدالمجید خان نے 2 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ آئینی الحاق کے نظریے پر اپنے پختہ ایمان کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ موجودہ حکومت کے ساتھ کام جاری رکھنا ناممکن ہو گیا، کیونکہ یہ حکومت کشمیری مہاجرین کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی اور سنگین آئینی خلاف ورزی پر کوئی ذمہ داری لینے یا مؤثر اقدام کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے پاس اخلاقی طور پر کابینہ کا حصہ رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا، لہذا وہ آج سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہیں، تاہم انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے حقوق کے دفاع اور ان کے سیاسی و آئینی کردار کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔</p>
<p>چوہدری اکبر ابراہیم نے بھی اپنے استعفے میں انہی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم انوار الحق مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے غیر قانونی مطالبات کو رد کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے پاکستان میں آنے والے تقریبا 30 لاکھ مہاجرین کے حقوق کا دفاع کرنے میں بھی ناکام رہے۔</p>
<p>دونوں وزرا نے وزیراعظم انوارالحق پر مہاجر اراکینِ اسمبلی کے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا اور ان سے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>عاصم شریف بٹ نے اپنے استعفے میں کہا کہ معاہدے کے بعد وہ اور ان کے حلقے کے عوام حکومت پر اعتماد کھو بیٹھے ہیں، لہٰذا وہ اس کا حصہ نہیں رہ سکتے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی، آزاد جموں و کشمیر حکومت اور وفاقی وزرا کے درمیان بااثر طبقے کے لیے خصوصی مراعات اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔</p>
<p>جس کے بعد مختلف گروہوں نے احتجاج اور ہڑتالیں شروع کر دیں، جن میں تشدد بھی پھوٹ پڑا، ان جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>2 اکتوبر کو وفاقی حکومت کا ایک وفد خطے میں جاری بدامنی کو ختم کرنے کی خاطر مظفرآباد پہنچا تھا، جس کے بعد مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271844</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 23:04:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق نقاش)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/1722463606304b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/1722463606304b9.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: طارق نقاش
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید کابینہ سے مستعفی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271591/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر کی کابینہ کے رکن پیر مظہر سعید نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’کچھ ناگزیر وجوہات‘ کی بنا پر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1949000/ajk-information-minister-pir-mazhar-saeed-resigns-from-cabinet"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق چوہدری انوارالحق کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت کے وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کو لکھے گئے اپنے تحریری استعفے کی کاپی بھی میڈیا کے سامنے پیش کی، ان کے ساتھ پی آئی ڈی کے ڈائریکٹرز امجد حسین منہاس اور مرزا بشیر بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر مظہر سعید نے اپنے دورِ وزارت کے دوران مکمل تعاون کرنے پر ریاست بھر کے صحافتی حلقوں کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے قومی ترجیحات اور عوامی مفاد کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’بے شمار مشکلات کے باوجود میں نے اطلاعات کے محکمے کو فعال اور مؤثر بنانے کی کوشش کی، بُنیان مرصوص کے مسئلے سے لے کر گزشتہ نومبر کی سول سوسائٹی الائنس کی مہم تک، ہم نے ہر محاذ پر اللہ کے فضل سے کامیابی حاصل کی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر مظہر سعید نے مزید کہا کہ اپنی وزارت کے دوران انہوں نے نہ صرف اندرونی محاذوں پر کام کیا بلکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھی اجاگر کیا، انہوں نے کہا کہ ’میں نے غزہ اور کشمیر دونوں کا مقدمہ 45 ممالک میں پیش کیا اور گلوبل صمود فلوٹیلا میں بھی شرکت کی، جہاں میں نے اہلِ غزہ کے حق میں آواز بلند کی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پی آئی ڈی کے افسران اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک کے نتیجے میں کئی اہم اہداف حاصل کیے گئے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا استعفیٰ ذاتی فیصلہ ہے جو غور و فکر کے بعد کیا گیا، تاہم وہ مستقبل میں بھی قومی مفاد اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر مظہر سعید، تحریک انصاف کے علما کے لیے مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، جب اپریل 2023 میں اُس وقت کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی حکومت بحران کا شکار ہوئی تو وہ پارٹی کے ’فارورڈ بلاک‘ میں شامل ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال مئی میں انہیں وزیر اطلاعات کے طور پر کابینہ میں شامل کیا گیا، اس سے قبل وہ وزیراعظم کی انسپیکشن اور امپلیمنٹیشن کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں وفاقی سطح پر 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ آزاد جموں کشمیر کابینہ کا حجم 36 سے کم کر کے 20 ارکان تک محدود کرنے پر اتفاق ہوا، تاکہ ’اشرافیہ کی مراعات‘ پر قابو پایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات ہیں کہ چوہدری انوارالحق کی جگہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی رکن کو مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پیر مظہر سعید نے یا تو ممکنہ حکومتی تبدیلی یا کابینہ کے حجم میں کمی کے پیش نظر قبل از وقت استعفیٰ دیا، وہ پریس کانفرنس میں سرکاری گاڑی کے بجائے نجی گاڑی میں آئے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان کے استعفے کی منظوری کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ وزیراعظم آفس کے ایک سینیئر افسر نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ ’استعفیٰ موصول ہو گیا ہے لیکن تاحال منظور نہیں کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد جموں و کشمیر کی کابینہ کے رکن پیر مظہر سعید نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’کچھ ناگزیر وجوہات‘ کی بنا پر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1949000/ajk-information-minister-pir-mazhar-saeed-resigns-from-cabinet"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق چوہدری انوارالحق کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت کے وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کو لکھے گئے اپنے تحریری استعفے کی کاپی بھی میڈیا کے سامنے پیش کی، ان کے ساتھ پی آئی ڈی کے ڈائریکٹرز امجد حسین منہاس اور مرزا بشیر بھی موجود تھے۔</p>
<p>پیر مظہر سعید نے اپنے دورِ وزارت کے دوران مکمل تعاون کرنے پر ریاست بھر کے صحافتی حلقوں کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے قومی ترجیحات اور عوامی مفاد کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’بے شمار مشکلات کے باوجود میں نے اطلاعات کے محکمے کو فعال اور مؤثر بنانے کی کوشش کی، بُنیان مرصوص کے مسئلے سے لے کر گزشتہ نومبر کی سول سوسائٹی الائنس کی مہم تک، ہم نے ہر محاذ پر اللہ کے فضل سے کامیابی حاصل کی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیر مظہر سعید نے مزید کہا کہ اپنی وزارت کے دوران انہوں نے نہ صرف اندرونی محاذوں پر کام کیا بلکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھی اجاگر کیا، انہوں نے کہا کہ ’میں نے غزہ اور کشمیر دونوں کا مقدمہ 45 ممالک میں پیش کیا اور گلوبل صمود فلوٹیلا میں بھی شرکت کی، جہاں میں نے اہلِ غزہ کے حق میں آواز بلند کی‘۔</p>
<p>انہوں نے پی آئی ڈی کے افسران اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک کے نتیجے میں کئی اہم اہداف حاصل کیے گئے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا استعفیٰ ذاتی فیصلہ ہے جو غور و فکر کے بعد کیا گیا، تاہم وہ مستقبل میں بھی قومی مفاد اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔</p>
<p>پیر مظہر سعید، تحریک انصاف کے علما کے لیے مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، جب اپریل 2023 میں اُس وقت کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی حکومت بحران کا شکار ہوئی تو وہ پارٹی کے ’فارورڈ بلاک‘ میں شامل ہوگئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ سال مئی میں انہیں وزیر اطلاعات کے طور پر کابینہ میں شامل کیا گیا، اس سے قبل وہ وزیراعظم کی انسپیکشن اور امپلیمنٹیشن کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے تھے۔</p>
<p>حال ہی میں وفاقی سطح پر 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ آزاد جموں کشمیر کابینہ کا حجم 36 سے کم کر کے 20 ارکان تک محدود کرنے پر اتفاق ہوا، تاکہ ’اشرافیہ کی مراعات‘ پر قابو پایا جا سکے۔</p>
<p>اطلاعات ہیں کہ چوہدری انوارالحق کی جگہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی رکن کو مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>سیاسی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پیر مظہر سعید نے یا تو ممکنہ حکومتی تبدیلی یا کابینہ کے حجم میں کمی کے پیش نظر قبل از وقت استعفیٰ دیا، وہ پریس کانفرنس میں سرکاری گاڑی کے بجائے نجی گاڑی میں آئے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان کے استعفے کی منظوری کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>البتہ وزیراعظم آفس کے ایک سینیئر افسر نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ ’استعفیٰ موصول ہو گیا ہے لیکن تاحال منظور نہیں کیا گیا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271591</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 10:49:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق نقاش)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/15093027549bd2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/15093027549bd2b.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن ختم، امن لوٹ آیا، جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ، ملازمت ملے گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270802/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت اور جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے بعد امن لوٹ آیا ہے، حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا ہے، معاہدے کے نکات کے مطابق حکومت مرنے والوں کے ورثا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے برابر معاوضہ اور ایک ایک سرکاری ملازمت دے گی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت چلائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1946704/calm-returns-to-ajk-after-accord"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وفاقی حکومت نے کہا کہ اس نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کر لیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان غلط فہمیوں کو خوش اسلوبی سے دور کر لیا ہے، جن کے باعث گزشتہ چند دنوں سے کشمیر میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے ہفتے کی صبح جے کے جے اے اے سی کے ساتھ مفاہمت حاصل کر لی، جس کے نتیجے میں مظفرآباد میں کئی دور کے مذاکرات کے بعد ایک جامع معاہدے پر دستخط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مانیٹرنگ اور عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں وفاقی وزرا امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، آزاد کشمیر حکومت کے 2 نامزد نمائندے اور جے کے جے اے اے سی کے 2 نمائندے شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمیٹی اس معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی، کمیٹی عدلیہ، سرکاری افسران اور وزرا کی مراعات و سہولتوں کا بھی جائزہ لے گی تاکہ مالی مشکلات کے پیشِ نظر ان میں مناسب کمی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی کامیابی کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سازشیں اور افواہیں آخرکار ختم ہو گئیں، اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں، الحمد للہ، انہوں نے مذاکراتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے جے کے جے اے اے سی کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور آزاد کشمیر کے عوام کو امن کی بحالی پر مبارکباد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حکومت-کا-فتح-کا-دعویٰ" href="#حکومت-کا-فتح-کا-دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکومت کا ’فتح‘ کا دعویٰ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی وژن پر جاری بیان میں حکومتی ٹیم نے اعلان کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی جیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے سربراہ، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال تشویش ناک تھی، لیکن کوئی بھی قوت پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، انجینئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا، اور اس پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر 2 ماہ بعد اجلاس منعقد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق ان واقعات پر جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مظاہرین کی ہلاکت ہوئی، متعلقہ دفعات کے تحت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی سی) کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، اور جہاں ضرورت ہوئی وہاں عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="معاہدے-کی-تفصیلات" href="#معاہدے-کی-تفصیلات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;معاہدے کی تفصیلات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کوہالہ میں موجود مظاہرین نے اس وقت کیمپ ختم کرنے شروع کر دیے، جب جے کے جے اے اے سی کے رہنماؤں نے انہیں معاہدے کی کامیابی سے آگاہ کیا، جس میں سیاسی، معاشی اور انتظامی نوعیت کے متعدد نکات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم اور 2 اکتوبر کے واقعات میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے برابر مالی معاوضہ دیا جائے گا، فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جبکہ جاں بحق افراد کے ایک ایک اہلِ خانہ کو 20 دن کے اندر سرکاری ملازمت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں 12 مہاجر نشستوں کے تنازع پر اتفاق ہوا کہ وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں اور جے کے جے اے اے سی کے دو دو قانونی ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، اس کی حتمی رپورٹ آنے تک مہاجر نشستوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کی مراعات معطل رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کا حجم 20 وزرا تک محدود کیا جائے گا، اور ایک جیسے کام والے محکموں کو ضم کیا جائے گا، احتساب بیورو ایکٹ کو پاکستان کے نیب قوانین کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر حکومت 15 دنوں میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کے لیے فنڈز جاری کرے گی، اور ہر ضلع میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں وفاقی فنڈنگ کے ذریعے مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی، وفاقی حکومت آزاد کشمیر کے بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں دو اضافی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن قائم کیے جائیں گے، اور تینوں بورڈز کو ایک ماہ کے اندر وفاقی تعلیمی بورڈ، اسلام آباد کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگلا ڈیم ریزنگ پروجیکٹ کے تحت میرپور ضلع میں جن خاندانوں کی زمین زیر قبضہ ہے، ان کی ملکیت کو 30 دنوں میں قانونی شکل دی جائے گی، لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو 1990 کے اصل قانون کی روح اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں کے مطابق 90 دنوں میں ہم آہنگ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نیلم ویلی روڈ پر کہوری/کمسار (3.7 کلومیٹر) اور چپلانی (0.6 کلومیٹر) کے مقام پر دو سرنگوں کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کرے گی، جنہیں سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے پی سی ون (مورخہ 6 دسمبر 2022) کے تحت ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ کی دوپہر تک موبائل کمپنیوں نے 6 دن بعد فون اور انٹرنیٹ سروسز بحال کر دیں، تاہم طویل مواصلاتی بندش کے باعث بہت سے شہری معاہدے سے بے خبر رہے اور مظفرآباد کی متعدد مارکیٹیں بند رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے کے جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر نے صحافیوں سے گفتگو میں اعلان کیا کہ
چوں کہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے خلوصِ دل سے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اس لیے ہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، تاہم، شہادتوں کے پیشِ نظر ہم 3 روزہ سوگ منائیں گے، جس دوران کوئی نعرہ لگایا جائے گا نہ جشن منایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت اور جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے بعد امن لوٹ آیا ہے، حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا ہے، معاہدے کے نکات کے مطابق حکومت مرنے والوں کے ورثا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے برابر معاوضہ اور ایک ایک سرکاری ملازمت دے گی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت چلائے جائیں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1946704/calm-returns-to-ajk-after-accord"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وفاقی حکومت نے کہا کہ اس نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کر لیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان غلط فہمیوں کو خوش اسلوبی سے دور کر لیا ہے، جن کے باعث گزشتہ چند دنوں سے کشمیر میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے تھے۔</p>
<p>ان جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل تھے۔</p>
<p>وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے ہفتے کی صبح جے کے جے اے اے سی کے ساتھ مفاہمت حاصل کر لی، جس کے نتیجے میں مظفرآباد میں کئی دور کے مذاکرات کے بعد ایک جامع معاہدے پر دستخط ہوئے۔</p>
<p>ایک مانیٹرنگ اور عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں وفاقی وزرا امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، آزاد کشمیر حکومت کے 2 نامزد نمائندے اور جے کے جے اے اے سی کے 2 نمائندے شامل ہوں گے۔</p>
<p>یہ کمیٹی اس معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی، کمیٹی عدلیہ، سرکاری افسران اور وزرا کی مراعات و سہولتوں کا بھی جائزہ لے گی تاکہ مالی مشکلات کے پیشِ نظر ان میں مناسب کمی کی جا سکے۔</p>
<p>دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی کامیابی کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سازشیں اور افواہیں آخرکار ختم ہو گئیں، اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں، الحمد للہ، انہوں نے مذاکراتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔</p>
<p>شہباز شریف نے جے کے جے اے اے سی کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور آزاد کشمیر کے عوام کو امن کی بحالی پر مبارکباد دی۔</p>
<h1><a id="حکومت-کا-فتح-کا-دعویٰ" href="#حکومت-کا-فتح-کا-دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکومت کا ’فتح‘ کا دعویٰ</h1>
<p>ٹیلی وژن پر جاری بیان میں حکومتی ٹیم نے اعلان کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی جیت ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے سربراہ، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال تشویش ناک تھی، لیکن کوئی بھی قوت پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، انجینئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا، اور اس پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر 2 ماہ بعد اجلاس منعقد ہوں گے۔</p>
<p>معاہدے کے مطابق ان واقعات پر جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مظاہرین کی ہلاکت ہوئی، متعلقہ دفعات کے تحت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی سی) کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، اور جہاں ضرورت ہوئی وہاں عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔</p>
<h1><a id="معاہدے-کی-تفصیلات" href="#معاہدے-کی-تفصیلات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>معاہدے کی تفصیلات</h1>
<p>کوہالہ میں موجود مظاہرین نے اس وقت کیمپ ختم کرنے شروع کر دیے، جب جے کے جے اے اے سی کے رہنماؤں نے انہیں معاہدے کی کامیابی سے آگاہ کیا، جس میں سیاسی، معاشی اور انتظامی نوعیت کے متعدد نکات شامل تھے۔</p>
<p>یکم اور 2 اکتوبر کے واقعات میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے برابر مالی معاوضہ دیا جائے گا، فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جبکہ جاں بحق افراد کے ایک ایک اہلِ خانہ کو 20 دن کے اندر سرکاری ملازمت دی جائے گی۔</p>
<p>پاکستان میں 12 مہاجر نشستوں کے تنازع پر اتفاق ہوا کہ وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں اور جے کے جے اے اے سی کے دو دو قانونی ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، اس کی حتمی رپورٹ آنے تک مہاجر نشستوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کی مراعات معطل رہیں گی۔</p>
<p>کابینہ کا حجم 20 وزرا تک محدود کیا جائے گا، اور ایک جیسے کام والے محکموں کو ضم کیا جائے گا، احتساب بیورو ایکٹ کو پاکستان کے نیب قوانین کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔</p>
<p>آزاد کشمیر حکومت 15 دنوں میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کے لیے فنڈز جاری کرے گی، اور ہر ضلع میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں وفاقی فنڈنگ کے ذریعے مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی، وفاقی حکومت آزاد کشمیر کے بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔</p>
<p>مزید یہ کہ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں دو اضافی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن قائم کیے جائیں گے، اور تینوں بورڈز کو ایک ماہ کے اندر وفاقی تعلیمی بورڈ، اسلام آباد کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔</p>
<p>منگلا ڈیم ریزنگ پروجیکٹ کے تحت میرپور ضلع میں جن خاندانوں کی زمین زیر قبضہ ہے، ان کی ملکیت کو 30 دنوں میں قانونی شکل دی جائے گی، لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو 1990 کے اصل قانون کی روح اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں کے مطابق 90 دنوں میں ہم آہنگ کیا جائے گا۔</p>
<p>وفاقی حکومت نیلم ویلی روڈ پر کہوری/کمسار (3.7 کلومیٹر) اور چپلانی (0.6 کلومیٹر) کے مقام پر دو سرنگوں کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کرے گی، جنہیں سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے پی سی ون (مورخہ 6 دسمبر 2022) کے تحت ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔</p>
<p>ہفتہ کی دوپہر تک موبائل کمپنیوں نے 6 دن بعد فون اور انٹرنیٹ سروسز بحال کر دیں، تاہم طویل مواصلاتی بندش کے باعث بہت سے شہری معاہدے سے بے خبر رہے اور مظفرآباد کی متعدد مارکیٹیں بند رہیں۔</p>
<p>جے کے جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر نے صحافیوں سے گفتگو میں اعلان کیا کہ
چوں کہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے خلوصِ دل سے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اس لیے ہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، تاہم، شہادتوں کے پیشِ نظر ہم 3 روزہ سوگ منائیں گے، جس دوران کوئی نعرہ لگایا جائے گا نہ جشن منایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270802</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 09:50:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علیطارق نقاش)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/05094652b783c12.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/05094652b783c12.webp"/>
        <media:title>کمیٹی کی رپورٹ آنے تک مہاجر نشستوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کی مراعات معطل رہیں گی۔
— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، کشمیری عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے، حکومتی وفد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270772/</link>
      <description>&lt;p&gt;جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے کشمیری عوام کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں جبکہ بھارت کی آزاد کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن آزاد کشمیر میں بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے،  یہ عوام اور پاکستان کی جیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/VjpsrS25rHo?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مذاکرات دونوں فریقین میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے گئے، جو کامیاب ہوگئے اور یہاں امن بحال ہوگیا، جبکہ جن اقدامات پر اتفاق رائے ہوا، اس سے کشمیری عوام کا ترقیاتی ایجنڈے کو پورا کرنے میں ہمیں معاونت ملے گی جس میں حکومت بھی دلچسپی رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ آزاد کشمیر سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں بھی جو انتظامی ڈھانچے میں کمزوریاں ہیں، ہم انہیں نظرانداز نہیں کرسکتے جن سے عوامی شکایات جنم لیتی ہیں، ہمیں انہیں فوری طور پر دور کرنا چاہیے اور حکومتی ڈھانچے کو مؤثر ہونا چاہیے، اس کے لیے ہمیں گڈ گورننس کی اصلاحات کو ملک گیر سطح پر رائج کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام اب باشعور ہوچکے ہیں، میڈیا نے انہیں شعور دیا ہے اور ان کی توقعات بڑھ چکی ہیں، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے اپنے معاشی، اقتصادی مسائل ہیں جس کی وجہ سے ہم محدود وسائل کے اندر ان مشکلات کو حل کرنے کے لیے اپنی پوزیشن میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امید رکھتا ہوں اس معاہدے کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے امن کو جو کامیابی ہوئی ہے وہ آزاد کشمیر کے عوام اور پاکستان کی جیت ہے اور جمہوریت کی جیت ہے جس میں یہ ثابت ہوا جہاں حقیقی جمہوریت ہوتی ہے اور سیاسی حقوق ہوتے ہیں، وہاں پر آپ احتجاج بھی ہوتا ہے اور پھر کھلے دل کے ساتھ مذاکرات بھی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا کہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ آپ ان شکایات کو تشدد، افراتفری اور انتشار کے بجائے میز پر بیٹھ کر حل کرکے ثابت کرتے ہیں جب کہ وہاں کے عوام بھی مبارکباد مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن جو مناظر دیکھنا چاہتے تھے اور وہاں پر بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جو وعدے کیے ہیں، ہم پورے خلوص سے ان پر عمل بھی کریں گے اور 15 روزہ جو میکنزم بنایا گیا ہے، مجھے یقین ہے اس کے بعد یہ شکایات دوبارہ جنم نہیں لیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بعد کشمیری عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہوگا کیوں کہ وہاں جو ٹینشن کا ماحول بنا تھا جس پر سب کو فکر تھی، احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا جس میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  وفاقی حکومت کے بروقت اقدامات سے مذاکرات کامیاب ہوئے، کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کا مفاد عزیز ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر کے عوامی مسائل حل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، تشدد شامل ہونے سے کوئی بھی تحریک منزل کھو دیتی ہے، جمہوریت میں عوامی دباؤ حکومتی اسٹرکچر کو درست رکھنے میں اہم ہوتا ہے لیکن اس تشدد معاملات کو خراب کردیتا ہے اس سے کبھی اچھی چیزیں پیدا نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام نے کہا کہ بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی،  آزاد کشمیر میں خوش اسلوبی سے معاملات طے پاگئے،  آزاد کشمیر میں مذاکرات کی کامیابی پر شہبازشریف کے مشکور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بہن اور بھائی کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مسائل-محبت-سے-حل-ہوتے-ہیں-نفرت-سے-نہیں" href="#مسائل-محبت-سے-حل-ہوتے-ہیں-نفرت-سے-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’مسائل محبت سے حل ہوتے ہیں نفرت سے نہیں‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے رکن اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ جب بھی بڑا مجمع جمع ہوتا ہے تو اس میں وہ لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں جو ملک سے مخلص نہیں ہوتے یا پھر پاکستان سے بغض رکھتے ہیں، اور اس دوران جو بھی نعرہ بازی کی گئی ان لوگوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ بات ہمیں مذاکرات کے دوران بھی بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان اور کشمیر یک جان دو قالب ہیں،  پاکستان اور کشمیر کے عوام نے ایک دوسرے کیلئے قربانیاں دیں، آزاد کشمیر کے عوام کی بہتری کیلئے ہرممکن اقدامات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور جو ان کے مطالبات فوری طور پر حل ہوسکتے تھے وہ کردیے جب کہ باقی کے لیے میکنزم بنایا گیا ہے جب کہ محبت سے ہی مسائل حل ہوتےہیں، نفرت سے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ  پاکستان اور کشمیر کے عوام میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، آزاد کشمیر کے عوام فتنہ اور فساد سے دور رہیں، یہ ملک ہم سب کا ہے، ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کرنی جو نفرت پیدا کرے، لہذا ہم نے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے کیوں کہ ملک ہے تو ہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکراتی کمیٹی کے رکن طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کامیاب مذاکرات کے ذریعے امن بحال ہوا اور مطالبات حل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے کشمیری عوام کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں جبکہ بھارت کی آزاد کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔</p>
<p>حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن آزاد کشمیر میں بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے،  یہ عوام اور پاکستان کی جیت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/VjpsrS25rHo?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ مذاکرات دونوں فریقین میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے گئے، جو کامیاب ہوگئے اور یہاں امن بحال ہوگیا، جبکہ جن اقدامات پر اتفاق رائے ہوا، اس سے کشمیری عوام کا ترقیاتی ایجنڈے کو پورا کرنے میں ہمیں معاونت ملے گی جس میں حکومت بھی دلچسپی رکھتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ آزاد کشمیر سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں بھی جو انتظامی ڈھانچے میں کمزوریاں ہیں، ہم انہیں نظرانداز نہیں کرسکتے جن سے عوامی شکایات جنم لیتی ہیں، ہمیں انہیں فوری طور پر دور کرنا چاہیے اور حکومتی ڈھانچے کو مؤثر ہونا چاہیے، اس کے لیے ہمیں گڈ گورننس کی اصلاحات کو ملک گیر سطح پر رائج کرنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام اب باشعور ہوچکے ہیں، میڈیا نے انہیں شعور دیا ہے اور ان کی توقعات بڑھ چکی ہیں، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے اپنے معاشی، اقتصادی مسائل ہیں جس کی وجہ سے ہم محدود وسائل کے اندر ان مشکلات کو حل کرنے کے لیے اپنی پوزیشن میں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امید رکھتا ہوں اس معاہدے کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے امن کو جو کامیابی ہوئی ہے وہ آزاد کشمیر کے عوام اور پاکستان کی جیت ہے اور جمہوریت کی جیت ہے جس میں یہ ثابت ہوا جہاں حقیقی جمہوریت ہوتی ہے اور سیاسی حقوق ہوتے ہیں، وہاں پر آپ احتجاج بھی ہوتا ہے اور پھر کھلے دل کے ساتھ مذاکرات بھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>مزید کہا کہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ آپ ان شکایات کو تشدد، افراتفری اور انتشار کے بجائے میز پر بیٹھ کر حل کرکے ثابت کرتے ہیں جب کہ وہاں کے عوام بھی مبارکباد مستحق ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن جو مناظر دیکھنا چاہتے تھے اور وہاں پر بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جو وعدے کیے ہیں، ہم پورے خلوص سے ان پر عمل بھی کریں گے اور 15 روزہ جو میکنزم بنایا گیا ہے، مجھے یقین ہے اس کے بعد یہ شکایات دوبارہ جنم نہیں لیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بعد کشمیری عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہوگا کیوں کہ وہاں جو ٹینشن کا ماحول بنا تھا جس پر سب کو فکر تھی، احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا جس میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  وفاقی حکومت کے بروقت اقدامات سے مذاکرات کامیاب ہوئے، کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کا مفاد عزیز ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر کے عوامی مسائل حل کیے جائیں گے۔</p>
<p>پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، تشدد شامل ہونے سے کوئی بھی تحریک منزل کھو دیتی ہے، جمہوریت میں عوامی دباؤ حکومتی اسٹرکچر کو درست رکھنے میں اہم ہوتا ہے لیکن اس تشدد معاملات کو خراب کردیتا ہے اس سے کبھی اچھی چیزیں پیدا نہیں ہوتیں۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام نے کہا کہ بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی،  آزاد کشمیر میں خوش اسلوبی سے معاملات طے پاگئے،  آزاد کشمیر میں مذاکرات کی کامیابی پر شہبازشریف کے مشکور ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بہن اور بھائی کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
<h1><a id="مسائل-محبت-سے-حل-ہوتے-ہیں-نفرت-سے-نہیں" href="#مسائل-محبت-سے-حل-ہوتے-ہیں-نفرت-سے-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’مسائل محبت سے حل ہوتے ہیں نفرت سے نہیں‘</h1>
<p>کمیٹی کے رکن اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ جب بھی بڑا مجمع جمع ہوتا ہے تو اس میں وہ لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں جو ملک سے مخلص نہیں ہوتے یا پھر پاکستان سے بغض رکھتے ہیں، اور اس دوران جو بھی نعرہ بازی کی گئی ان لوگوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ بات ہمیں مذاکرات کے دوران بھی بتائی گئی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان اور کشمیر یک جان دو قالب ہیں،  پاکستان اور کشمیر کے عوام نے ایک دوسرے کیلئے قربانیاں دیں، آزاد کشمیر کے عوام کی بہتری کیلئے ہرممکن اقدامات کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور جو ان کے مطالبات فوری طور پر حل ہوسکتے تھے وہ کردیے جب کہ باقی کے لیے میکنزم بنایا گیا ہے جب کہ محبت سے ہی مسائل حل ہوتےہیں، نفرت سے نہیں۔</p>
<p>پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ  پاکستان اور کشمیر کے عوام میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، آزاد کشمیر کے عوام فتنہ اور فساد سے دور رہیں، یہ ملک ہم سب کا ہے، ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کرنی جو نفرت پیدا کرے، لہذا ہم نے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے کیوں کہ ملک ہے تو ہم ہیں۔</p>
<p>مذاکراتی کمیٹی کے رکن طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کامیاب مذاکرات کے ذریعے امن بحال ہوا اور مطالبات حل کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270772</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Oct 2025 18:58:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/04170920d9dbb10.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/04170920d9dbb10.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: طارق فضل، ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی وفد اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں حتمی معاہدہ، مظاہرین کی گھروں کو واپسی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270756/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/vxTju-hgayU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے مذاکراتی وفد کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں، تمام سڑکیں کھل گئی ہیں اور یہ امن کی فتح ہے، آزاد کشمیر زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سازشیں-اور-افواہیں-آخر-کار-دم-توڑ-گئیں-وزیراعظم" href="#سازشیں-اور-افواہیں-آخر-کار-دم-توڑ-گئیں-وزیراعظم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں، وزیراعظم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا، اراکین کی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور شاباش دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آجانا خوش آئند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے الحمدللہ۔ شہباز شریف نے مذاکرات کی کامیابی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا اور امن کے قیام پر مبارکباد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے، عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کی خدمت کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بھائیوں سے گزارش ہے کہ افواہوں پر کان دھرنے سے گریز کریں، ہم پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیح بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد تھی، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک متاثر ہوئی تھی۔ تاہم حکومت نے مذاکرات کرکے مظاہرین کے متعدد مطالبات تسلیم کرلیے تھے، اور جن مطالبات کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر مزید کچھ وقت بعد عمل در آمد کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/vxTju-hgayU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکومت کے مذاکراتی وفد کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں، تمام سڑکیں کھل گئی ہیں اور یہ امن کی فتح ہے، آزاد کشمیر زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔</p>
<h1><a id="سازشیں-اور-افواہیں-آخر-کار-دم-توڑ-گئیں-وزیراعظم" href="#سازشیں-اور-افواہیں-آخر-کار-دم-توڑ-گئیں-وزیراعظم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں، وزیراعظم</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا، اراکین کی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور شاباش دی۔</p>
<p>انہوں نے اسے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آجانا خوش آئند ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے الحمدللہ۔ شہباز شریف نے مذاکرات کی کامیابی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا اور امن کے قیام پر مبارکباد دی۔</p>
<p>وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے، عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کی خدمت کرتے رہیں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بھائیوں سے گزارش ہے کہ افواہوں پر کان دھرنے سے گریز کریں، ہم پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیح بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔</p>
<p>مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد تھی، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک متاثر ہوئی تھی۔ تاہم حکومت نے مذاکرات کرکے مظاہرین کے متعدد مطالبات تسلیم کرلیے تھے، اور جن مطالبات کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر مزید کچھ وقت بعد عمل در آمد کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270756</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Oct 2025 15:09:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/04133045f1630fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/04133045f1630fc.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے پاگئے، جلد معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، طارق فضل چوہدری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270699/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے  کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے پاگئے ہیں، جلد معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر پارلیمانی امور اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن  ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ  عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر سے معاملات طے پا گئے ہیں اور  جلد حتمی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید لکھا کہ  مذاکرات کا آخری دور جاری ہے،  عوامی مفادات اور امن ہماری ترجیح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1974175295046664408"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس وقت آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے، حکومتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہم کشمیری عوام کے حقوق کے مکمل حامی ہیں، عوامی مفاد کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جاچکے ہیں، چند مطالبات کیلئے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظفر آباد میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی طرف سے مذاکرات میں سینیٹر رانا ثنااللہ، احسن اقبال اور سردار یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور انجینئر امیر مقام شریک ہیں جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ۔سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر کی حکومتی مذاکراتی کمیٹی بھی اجلاس میں شریک ہے جبکہ شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1974049919469302256"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، وفاقی وزیر پارلیمانی امور اور وزیر اعظم کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بیان میں کہا کہ ہم کشمیری عوام کے حقوق کے مکمل حامی ہیں، عوامی مفاد کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں، باقی چند مطالبات جن کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں ان پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر طارق فضل نے واضح کیا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، امید ہے کہ ایکشن کمیٹی تمام مسائل کو پُرامن مکالمے کے ذریعے حل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1973992340319531093"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک متاثر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے  کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے پاگئے ہیں، جلد معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر پارلیمانی امور اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن  ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ  عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر سے معاملات طے پا گئے ہیں اور  جلد حتمی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید لکھا کہ  مذاکرات کا آخری دور جاری ہے،  عوامی مفادات اور امن ہماری ترجیح ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1974175295046664408"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ اس وقت آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے، حکومتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہم کشمیری عوام کے حقوق کے مکمل حامی ہیں، عوامی مفاد کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جاچکے ہیں، چند مطالبات کیلئے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>مظفر آباد میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔</p>
<p>حکومت کی طرف سے مذاکرات میں سینیٹر رانا ثنااللہ، احسن اقبال اور سردار یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور انجینئر امیر مقام شریک ہیں جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ۔سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔</p>
<p>آزاد کشمیر کی حکومتی مذاکراتی کمیٹی بھی اجلاس میں شریک ہے جبکہ شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1974049919469302256"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>قبل ازیں، وفاقی وزیر پارلیمانی امور اور وزیر اعظم کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بیان میں کہا کہ ہم کشمیری عوام کے حقوق کے مکمل حامی ہیں، عوامی مفاد کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں، باقی چند مطالبات جن کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں ان پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر طارق فضل نے واضح کیا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، امید ہے کہ ایکشن کمیٹی تمام مسائل کو پُرامن مکالمے کے ذریعے حل کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1973992340319531093"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک متاثر ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270699</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Oct 2025 00:07:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0316301209dcf37.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0316301209dcf37.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: طارق فضل، ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر پر بھارتی پروپیگنڈا مسترد، بھارت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے، وزارت خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270731/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے آزاد کشمیر پر بھارتی  پروپیگنڈا مسترد کردیا،  ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت عالمی قوانین اور  اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وزارت خارجہ نے جاری اعلامیے میں بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر پر بلاجواز الزام تراشی کرنے کے بجائے بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے کہا کہ  آزاد جموں و کشمیر  کے عوام اپنے شہری اور سیاسی حقوق آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنے جمہوری مستقبل کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں  مزید کہا گیا کہ  پاکستان ان کے وقار کے تحفظ، ان کے حقوق کے دفاع (بشمول پُرامن اجتماع اور احتجاج کے حق)، ان کے جذبات کے احترام اور ان کی سماجی و معاشی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ عزم نہ صرف ہماری آئینی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اہلِ جموں و کشمیر کے ساتھ ہمارے دیرینہ اخلاقی فرض کو بھی اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اس کے برعکس، مقبوضہ کشمیر  میں ہمارے بھائی اور بہنیں اب بھی قبضے کے سائے تلے ایک سنگین حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ طاقت کے بے دریغ استعمال، بنیادی آزادیوں کی نفی، اور انسانی حقوق کی منظم اور سنگین پامالیاں، معصوم کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی پہچان بن چکی ہیں، تاکہ ان کی جائز جدوجہد کو دبایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں، آبادیاتی ساخت میں تبدیلی اور شہری آزادیوں سے انکار صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر پر بلاجواز الزام تراشی کرنے کے بجائے بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق، خاص طور پر ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کا احترام کرنا چاہیے، جیسا کہ متعلقہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کا راستہ کشمیر کے مسئلے کے حل سے ہی گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے آزاد کشمیر پر بھارتی  پروپیگنڈا مسترد کردیا،  ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت عالمی قوانین اور  اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔</p>
<p>ترجمان وزارت خارجہ نے جاری اعلامیے میں بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر پر بلاجواز الزام تراشی کرنے کے بجائے بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے۔</p>
<p>وزارت خارجہ نے کہا کہ  آزاد جموں و کشمیر  کے عوام اپنے شہری اور سیاسی حقوق آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنے جمہوری مستقبل کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں  مزید کہا گیا کہ  پاکستان ان کے وقار کے تحفظ، ان کے حقوق کے دفاع (بشمول پُرامن اجتماع اور احتجاج کے حق)، ان کے جذبات کے احترام اور ان کی سماجی و معاشی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ عزم نہ صرف ہماری آئینی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اہلِ جموں و کشمیر کے ساتھ ہمارے دیرینہ اخلاقی فرض کو بھی اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اس کے برعکس، مقبوضہ کشمیر  میں ہمارے بھائی اور بہنیں اب بھی قبضے کے سائے تلے ایک سنگین حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ طاقت کے بے دریغ استعمال، بنیادی آزادیوں کی نفی، اور انسانی حقوق کی منظم اور سنگین پامالیاں، معصوم کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی پہچان بن چکی ہیں، تاکہ ان کی جائز جدوجہد کو دبایا جا سکے۔</p>
<p>مزید کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں، آبادیاتی ساخت میں تبدیلی اور شہری آزادیوں سے انکار صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔</p>
<p>ترجمان وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر پر بلاجواز الزام تراشی کرنے کے بجائے بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے۔</p>
<p>وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق، خاص طور پر ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کا احترام کرنا چاہیے، جیسا کہ متعلقہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کا راستہ کشمیر کے مسئلے کے حل سے ہی گزرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270731</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 22:28:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ مومند)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/03215955b15ea26.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/03215955b15ea26.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جماعت اسلامی آزاد کشمیر کا عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد سے علیٰحدگی کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270712/</link>
      <description>&lt;p&gt;جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان نے عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد  سے علیٰحدگی کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر  و گلگت بلتستان ڈاکٹر مشتاق خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب عوامی ایکشن کمیٹی نے یہ جدوجہد شروع کی تو جماعت اسلامی کا بڑا حصہ اس کے ساتھ تھا، میں نے خود جماعت اسلامی (آزاد کشمیر) کے امیر کی حیثیت سے مظفر آباد میں ان کے جلسے میں خطاب بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ جب ہمارے دو بڑے اہم مطالبات پورے ہوگئے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہمارا ایجنڈا ختم ہوگیا، لیکن اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ  آپ کی صفوں میں سے کچھ لوگوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگانا شروع کردیے، اور پاکستانی پرچم کو آپ نے نیچے گرانا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پھر تحریک آزادی کشمیر سے متعلق آپ کا لائحہ عمل  ہمارے آزادی کشمیر کے ہیروز سے مطابقت کم رکھتا تھا،  مگر ہمارے قابض اور قاتل  بھارت سے وہ مطابقت زیادہ رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fjiajk.org%2Fvideos%2F1499138867964964%2F&amp;show_text=false&amp;width=476&amp;t=0" width="476" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے کہا کہ یہ چیزیں جب نوٹس میں آئیں تو ہم نے واضح طور پر جماعت اسلامی  سے وابستہ ہر شخص کو یہ ہدایت کردی کہ وہ اپنا پلیٹ فارم جس کا نام جماعت اسلامی اس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خدانخواستہ عوامی ایکشن کمیٹی کے دشمن ہوگئے ہیں،  ہم مثبت  انداز میں اپنا لائحہ عمل لے کر چل رہے ہیں اور اس میں ایکشن کمیٹی کے کسی بھی جائز مطالبے کی مخالفت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاہم  عوامی ایکشن کمیٹی کے جتنے بھی ایسے مطالبات جو ہماری تحریک آزادی کشمیر کے لیے ٹھیک نہیں ہیں، اور پاکستانیت کے لیے ٹھیک نہیں ہیں ہم کسی طور پر بھی ان کی حمایت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان نے عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد  سے علیٰحدگی کا اعلان کردیا۔</p>
<p>امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر  و گلگت بلتستان ڈاکٹر مشتاق خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب عوامی ایکشن کمیٹی نے یہ جدوجہد شروع کی تو جماعت اسلامی کا بڑا حصہ اس کے ساتھ تھا، میں نے خود جماعت اسلامی (آزاد کشمیر) کے امیر کی حیثیت سے مظفر آباد میں ان کے جلسے میں خطاب بھی کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ جب ہمارے دو بڑے اہم مطالبات پورے ہوگئے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہمارا ایجنڈا ختم ہوگیا، لیکن اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ  آپ کی صفوں میں سے کچھ لوگوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگانا شروع کردیے، اور پاکستانی پرچم کو آپ نے نیچے گرانا شروع کردیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پھر تحریک آزادی کشمیر سے متعلق آپ کا لائحہ عمل  ہمارے آزادی کشمیر کے ہیروز سے مطابقت کم رکھتا تھا،  مگر ہمارے قابض اور قاتل  بھارت سے وہ مطابقت زیادہ رکھتا تھا۔</p>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fjiajk.org%2Fvideos%2F1499138867964964%2F&show_text=false&width=476&t=0" width="476" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe>
<p>انہوں  نے کہا کہ یہ چیزیں جب نوٹس میں آئیں تو ہم نے واضح طور پر جماعت اسلامی  سے وابستہ ہر شخص کو یہ ہدایت کردی کہ وہ اپنا پلیٹ فارم جس کا نام جماعت اسلامی اس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔</p>
<p>ڈاکٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خدانخواستہ عوامی ایکشن کمیٹی کے دشمن ہوگئے ہیں،  ہم مثبت  انداز میں اپنا لائحہ عمل لے کر چل رہے ہیں اور اس میں ایکشن کمیٹی کے کسی بھی جائز مطالبے کی مخالفت نہیں کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاہم  عوامی ایکشن کمیٹی کے جتنے بھی ایسے مطالبات جو ہماری تحریک آزادی کشمیر کے لیے ٹھیک نہیں ہیں، اور پاکستانیت کے لیے ٹھیک نہیں ہیں ہم کسی طور پر بھی ان کی حمایت نہیں کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270712</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 21:30:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0319024895e2f82.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0319024895e2f82.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین شاٹ، جماعت اسلامی  آزاد جموں و کشمیر، فیس بک پیج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد پولیس مظاہرین کو گرفتار کرنے کیلئے پریس کلب میں گھس گئی، صحافیوں پر تشدد، کیمرا توڑ دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270644/</link>
      <description>&lt;p&gt;آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے وفاقی پولیس اہلکار نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف چند مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے تھے، پولیس اہلکاروں کے وہاں پہنچنے پر کچھ مظاہرین پریس کلب کے اندر چلے گئے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار بھی زبردستی نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران اسلام آباد پولیس اہلکاروں نے نہ صرف مظاہرین کو گرفتار کیا بلکہ اندر موجود صحافیوں اور کلب ملازمین پر بھی تشددکیا اور ایک فوٹو گرافر کا کیمرا بھی توڑ دیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/mp3GmnsdBGE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صحافتی-تنظیموں-کا-اظہار-مذمت" href="#صحافتی-تنظیموں-کا-اظہار-مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صحافتی تنظیموں کا اظہار مذمت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اپنے مشترکہ بیان میں اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافتی تنظموں نے کلب ملازمین، فوٹو گرافرز اور ویڈیو جرنلسٹس پر پولیس تشدد کو دہشت گردی قرار دیا اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد پریس کلب پر دھاوا صحافیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے، صحافیوں کی کردار کشی، انہیں دباؤ میں لانے اور اظہار رائے کو سلب کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ میڈیا نے جنگ کے دوران ذمہ داری سے ملکی و قومی مفاد کو پیش نظر رکھا اور ملک کی  نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی، رپورٹرز، فری لانسرز کو دہشت گردوں سے تشبیہ دینا آزاد صحافت کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافتی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرنلسٹس کے خلاف اقدامات کی ہر سطح پر مزاحمت اور آئینی و قانونی  جدوجہد کا ہر آپشن استعمال  کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پاکستان-کی-تاریخ-کا-بدترین-واقعہ-ہے-صدر-پی-ایف-یو-جے-کی-پریس-کانفرنس" href="#پاکستان-کی-تاریخ-کا-بدترین-واقعہ-ہے-صدر-پی-ایف-یو-جے-کی-پریس-کانفرنس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، صدر پی ایف یو جے کی پریس کانفرنس&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پولیس اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے خلاف نیشنل پریس کلب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے مارشل لا، ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس دیکھی، اُس دور میں بھی ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نےکہا کہ آج کا یہ واقعہ معمولی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے پریس کلب کے اندر داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا، کچن میں گھس کر برتن توڑے، اس دوران وہاں موجود فوٹو گرافرز او ویڈیو جرنلسٹس پر تشدد کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افضل بٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بات کرنے کے بجائے کلب انتظامیہ اور عہدے داروں پر ہی تشدد شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مزید کہا کہ افسوس ناک واقعے کے خلاف ہنگامی اجلاس کی کال دی، مشاورت کے ساتھ مستقبل کا لاٗئحہ عمل اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف حکومتی کارروائی پر بات کریں گے، پریس کلب کے اس بدترین واقعے پر آنکھیں بند کر دیں تو دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وزیرِ-مملکت-کی-غیر-مشروط-معافی" href="#وزیرِ-مملکت-کی-غیر-مشروط-معافی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وزیرِ مملکت کی غیر مشروط معافی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس واقعے پر ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے انٹرنل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ احتجاج کر رہے تھے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار ان کا پیچھا کرتے ہوئے کلب پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر میں پیر (29 ستمبر) سے مخالف گروہوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے دارالحکومت میں پیر کے روز کم از کم ایک شخص جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے، جب کہ خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران مواصلاتی نظام بھی معطل رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہڑتال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اپنے مطالبات نہ ماننے پر کی تھی، اس دوران مختلف گروہوں نے بیک وقت مظاہرے کیے اور ایک دوسرے پر پرامن احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز دوپہر سے آزاد جموں و کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلاکتیں نیلم پُل کے قریب دوپہر کے بعد اس وقت ہوئیں، جب مسلم کانفرنس کے رہنما راجا ثاقب مجید کی قیادت میں نکالی جانے والی امن ریلی کا تصادم جے کے جے اے اے سی کے مظاہرین سے ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو 3 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیوں کہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے وفاقی پولیس اہلکار نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف چند مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے تھے، پولیس اہلکاروں کے وہاں پہنچنے پر کچھ مظاہرین پریس کلب کے اندر چلے گئے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار بھی زبردستی نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئے۔</p>
<p>اس دوران اسلام آباد پولیس اہلکاروں نے نہ صرف مظاہرین کو گرفتار کیا بلکہ اندر موجود صحافیوں اور کلب ملازمین پر بھی تشددکیا اور ایک فوٹو گرافر کا کیمرا بھی توڑ دیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ بھی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/mp3GmnsdBGE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="صحافتی-تنظیموں-کا-اظہار-مذمت" href="#صحافتی-تنظیموں-کا-اظہار-مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صحافتی تنظیموں کا اظہار مذمت</h1>
<p>دریں اثنا، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اپنے مشترکہ بیان میں اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>صحافتی تنظموں نے کلب ملازمین، فوٹو گرافرز اور ویڈیو جرنلسٹس پر پولیس تشدد کو دہشت گردی قرار دیا اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد پریس کلب پر دھاوا صحافیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے، صحافیوں کی کردار کشی، انہیں دباؤ میں لانے اور اظہار رائے کو سلب کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ میڈیا نے جنگ کے دوران ذمہ داری سے ملکی و قومی مفاد کو پیش نظر رکھا اور ملک کی  نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی، رپورٹرز، فری لانسرز کو دہشت گردوں سے تشبیہ دینا آزاد صحافت کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>صحافتی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرنلسٹس کے خلاف اقدامات کی ہر سطح پر مزاحمت اور آئینی و قانونی  جدوجہد کا ہر آپشن استعمال  کیا جائے گا۔</p>
<h1><a id="پاکستان-کی-تاریخ-کا-بدترین-واقعہ-ہے-صدر-پی-ایف-یو-جے-کی-پریس-کانفرنس" href="#پاکستان-کی-تاریخ-کا-بدترین-واقعہ-ہے-صدر-پی-ایف-یو-جے-کی-پریس-کانفرنس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، صدر پی ایف یو جے کی پریس کانفرنس</h1>
<p>پولیس اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے خلاف نیشنل پریس کلب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے مارشل لا، ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس دیکھی، اُس دور میں بھی ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔</p>
<p>انہوں نےکہا کہ آج کا یہ واقعہ معمولی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے پریس کلب کے اندر داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا، کچن میں گھس کر برتن توڑے، اس دوران وہاں موجود فوٹو گرافرز او ویڈیو جرنلسٹس پر تشدد کرتے رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>افضل بٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بات کرنے کے بجائے کلب انتظامیہ اور عہدے داروں پر ہی تشدد شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مزید کہا کہ افسوس ناک واقعے کے خلاف ہنگامی اجلاس کی کال دی، مشاورت کے ساتھ مستقبل کا لاٗئحہ عمل اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف حکومتی کارروائی پر بات کریں گے، پریس کلب کے اس بدترین واقعے پر آنکھیں بند کر دیں تو دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="وزیرِ-مملکت-کی-غیر-مشروط-معافی" href="#وزیرِ-مملکت-کی-غیر-مشروط-معافی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وزیرِ مملکت کی غیر مشروط معافی</h1>
<p>اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس واقعے پر ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے انٹرنل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔</p>
<p>طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ احتجاج کر رہے تھے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار ان کا پیچھا کرتے ہوئے کلب پہنچے۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>آزاد جموں و کشمیر میں پیر (29 ستمبر) سے مخالف گروہوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے دارالحکومت میں پیر کے روز کم از کم ایک شخص جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے، جب کہ خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران مواصلاتی نظام بھی معطل رہا تھا۔</p>
<p>یہ ہڑتال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اپنے مطالبات نہ ماننے پر کی تھی، اس دوران مختلف گروہوں نے بیک وقت مظاہرے کیے اور ایک دوسرے پر پرامن احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔</p>
<p>اتوار کے روز دوپہر سے آزاد جموں و کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہلاکتیں نیلم پُل کے قریب دوپہر کے بعد اس وقت ہوئیں، جب مسلم کانفرنس کے رہنما راجا ثاقب مجید کی قیادت میں نکالی جانے والی امن ریلی کا تصادم جے کے جے اے اے سی کے مظاہرین سے ہوگیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو 3 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p>3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیوں کہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270644</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 19:55:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شکیل قرار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/02194638e579215.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/02194638e579215.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/02171351f8f6c38.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/02171351f8f6c38.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر میں کشیدگی، حکومتی وفد کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270645/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے آزاد کشمیر  میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ باضابطہ  مذاکرات کا آغاز کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے آج مظفرآباد میں آزادکشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1973692266029179366"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں پر مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے نتیجے میں احتجاج اور پُرتشدد واقعات پھوٹ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو نئے مذاکرات کے لیے مدعو کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج صبح وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مذاکراتی کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر مظفرآباد جائے اور مسائل کا فوری اور دیرپا حل تلاش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف اور احسن اقبال، آزاد کشمیر کے سابق صدر مسعود خان اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق فضل چوہدری کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی تصاویر میں قمر زمان کائرہ، رانا ثنااللہ، احسن اقبال، امیر مقام، راجا پرویز اشرف اور سردار محمد یوسف کو آج کے مذاکرات میں شریک دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد روانگی سے قبل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں زور دیا کہ گزشتہ 3 روز سے آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کا واحد حل صرف بات چیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے کہا کہ خطے اور دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کچھ ’عناصر پاکستان میں امن اور استحکام کو خراب کرکے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن عوام کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کوئی ایسا ماحول پیدا نہ ہو جس سے ’پاکستان کے دشمن‘ فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’اعلیٰ سطح کے وفد‘ کو مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے مظفرآباد بھیجنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان بھی دونوں فریقوں کے درمیان مذاکراتی تعطل کو ختم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہم سب اس صورتحال پر افسردہ اور فکرمند ہیں، ہم پوری کوشش کریں گے کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں اور انہیں موجودہ صورتحال سے جلد از جلد نکالا جائے کیونکہ پاکستان اور کشمیر کے دشمن اپنے اپنے مقاصد رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کا حل صرف بات چیت ہے، وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں، ان کا درد ہمارا درد ہے، ان کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، ہمارا مقصد معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق حل کرنا ہے تاکہ امن قائم اور برقرار رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ جب ہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو تمام غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/1973601479865815075?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر مقام نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کشمیری عوام کا احتجاج اور مشکلات ختم ہوں، ہمیں امید ہے کہ کمیٹی کے ارکان اس پر غور کریں گے اور ہمارے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار محمد یوسف، قمر زمان کائرہ اور طارق فضل چوہدری نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران وزارتِ داخلہ نے بھی آج اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس طلب کیا، جس میں صورتحال کو قابو پانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/F2f2p8zk648?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے آزاد کشمیر  میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ باضابطہ  مذاکرات کا آغاز کر دیا۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے آج مظفرآباد میں آزادکشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DrTariqFazal/status/1973692266029179366"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خصوصی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں پر مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے نتیجے میں احتجاج اور پُرتشدد واقعات پھوٹ پڑے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو نئے مذاکرات کے لیے مدعو کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آج صبح وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مذاکراتی کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر مظفرآباد جائے اور مسائل کا فوری اور دیرپا حل تلاش کرے۔</p>
<p>کمیٹی میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف اور احسن اقبال، آزاد کشمیر کے سابق صدر مسعود خان اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ شامل ہیں۔</p>
<p>طارق فضل چوہدری کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی تصاویر میں قمر زمان کائرہ، رانا ثنااللہ، احسن اقبال، امیر مقام، راجا پرویز اشرف اور سردار محمد یوسف کو آج کے مذاکرات میں شریک دکھایا گیا۔</p>
<p>آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد روانگی سے قبل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں زور دیا کہ گزشتہ 3 روز سے آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کا واحد حل صرف بات چیت ہے۔</p>
<p>احسن اقبال نے کہا کہ خطے اور دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کچھ ’عناصر پاکستان میں امن اور استحکام کو خراب کرکے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن عوام کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کوئی ایسا ماحول پیدا نہ ہو جس سے ’پاکستان کے دشمن‘ فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’اعلیٰ سطح کے وفد‘ کو مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے مظفرآباد بھیجنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان بھی دونوں فریقوں کے درمیان مذاکراتی تعطل کو ختم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔</p>
<p>سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہم سب اس صورتحال پر افسردہ اور فکرمند ہیں، ہم پوری کوشش کریں گے کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں اور انہیں موجودہ صورتحال سے جلد از جلد نکالا جائے کیونکہ پاکستان اور کشمیر کے دشمن اپنے اپنے مقاصد رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کا حل صرف بات چیت ہے، وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں، ان کا درد ہمارا درد ہے، ان کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، ہمارا مقصد معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق حل کرنا ہے تاکہ امن قائم اور برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ جب ہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو تمام غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/1973601479865815075?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>امیر مقام نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کشمیری عوام کا احتجاج اور مشکلات ختم ہوں، ہمیں امید ہے کہ کمیٹی کے ارکان اس پر غور کریں گے اور ہمارے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>سردار محمد یوسف، قمر زمان کائرہ اور طارق فضل چوہدری نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p>اسی دوران وزارتِ داخلہ نے بھی آج اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس طلب کیا، جس میں صورتحال کو قابو پانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/F2f2p8zk648?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270645</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 19:46:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/021646096972419.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/021646096972419.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/02164621c03ac34.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/02164621c03ac34.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/021646161a1588f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/021646161a1588f.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا آزاد کشمیر میں ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات کا حکم، عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270612/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعات کا نوٹس لے لیا، اور تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا ہے، وزیراعظم نے شہریوں سے پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/FgOYt1kD6Ek?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
ڈان نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
وزیراعظم نے مظاہروں کے دوران ہونے والے ناخوشگوار واقعات کی شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا، اور مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی سطح پر مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی میں توسیع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی میں میں سینیٹر رانا ثنااللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف، احسن اقبال، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو فوراً مظفرآباد جاکر مسائل کا فوری اور دیرپا حل نکالنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر میں پیر کے روز مخالف گروہوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے دارالحکومت میں پیر کے روز کم از کم ایک شخص جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے، جب کہ خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران مواصلاتی نظام بھی معطل رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
یہ ہڑتال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اپنے مطالبات نہ ماننے پر کی تھی، اس دوران مختلف گروہوں نے بیک وقت مظاہرے کیے اور ایک دوسرے پر پرامن احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز دوپہر سے آزاد جموں و کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلاکتیں نیلم پُل کے قریب دوپہر کے بعد اس وقت ہوئیں، جب مسلم کانفرنس کے رہنما راجا ثاقب مجید کی قیادت میں نکالی جانے والی امن ریلی کا تصادم جے کے جے اے اے سی کے مظاہرین سے ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو 3 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3  روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیوں کہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعات کا نوٹس لے لیا، اور تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا ہے، وزیراعظم نے شہریوں سے پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/FgOYt1kD6Ek?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
ڈان نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
وزیراعظم نے مظاہروں کے دوران ہونے والے ناخوشگوار واقعات کی شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا، اور مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کردی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی سطح پر مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی میں توسیع کردی۔</p>
<p>کمیٹی میں میں سینیٹر رانا ثنااللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف، احسن اقبال، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو فوراً مظفرآباد جاکر مسائل کا فوری اور دیرپا حل نکالنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>آزاد جموں و کشمیر میں پیر کے روز مخالف گروہوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے دارالحکومت میں پیر کے روز کم از کم ایک شخص جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے، جب کہ خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران مواصلاتی نظام بھی معطل رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
یہ ہڑتال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اپنے مطالبات نہ ماننے پر کی تھی، اس دوران مختلف گروہوں نے بیک وقت مظاہرے کیے اور ایک دوسرے پر پرامن احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔</p>
<p>اتوار کے روز دوپہر سے آزاد جموں و کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔</p>
<p>ہلاکتیں نیلم پُل کے قریب دوپہر کے بعد اس وقت ہوئیں، جب مسلم کانفرنس کے رہنما راجا ثاقب مجید کی قیادت میں نکالی جانے والی امن ریلی کا تصادم جے کے جے اے اے سی کے مظاہرین سے ہوگیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو 3 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p>3  روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیوں کہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270612</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 10:56:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/02105505011d256.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/02105505011d256.webp"/>
        <media:title>شہباز شریف نے مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کی ہدایت کردی۔
— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاق اور حکومت آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کو پھر مذاکرات کی دعوت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270575/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے  احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دے دی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو تین پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال  کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا ہے، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے،  پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا  کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک  متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد جموں و  کشمیر چوہدری انوارالحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات ہماری موجودگی میں تسلیم کیے تھے، امیر مقام اور میں نے ضمانت دی تھی کہ ان مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ایکشن کمیٹی سے 12گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، آخر میں مہاجرین کی نشستیں ختم  کرنا اور آزاد کشمیر کی وزارتوں کی تعداد میں کمی کے مطالبات کیے گئے، ان دونوں مطالبات کے لیے آزاد  کشمیر کے آئین میں ترمیم درکار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ دو مطالبات کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت کی وجہ سے مذاکرات میں ڈیڈلاک آگیا،  پھر 29 ستمبر سے ایکشن کمیٹی نے مختلف اضلاع میں پُرامن احتجاج شروع کیا، جس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کے 90 فیصد مطالبات مانے جا چکے ہیں اور تحریری معاہدے کی شکل میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے، اب ان کا احتجاج پُرامن نہیں اور پرتشدد احتجاج میں بدل چکا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ تشدد کسی بھی معاملے کا حل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہا  کہ ہم آج بھی  عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات اور اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا  کہ ہر مسئلےکا حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں، اشتعال کو منظم قوت کے طور پر استعمال کرنا یہ صرف ریاست میں آرمڈ فورسز ہی اس طاقت کا استعمال کرسکتی ہیں، جب آپ عام شہریوں کے ذریعے اشتعال دلانے کی کوشش کریں گے تو پھر وہ اشتعال انارکی، افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ درخواست ہے کہ وہیں سے بات شروع کی جائے جہاں مذاکرات ٹوٹے تھے۔ جب بھی آپ کو مناسب لگے، جہاں بھی عوامی ایکشن کمیٹی بات کرنا چاہے، ریاستی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ میرے وزراء مظفرآباد، راولا کوٹ اور میرپور میں تیار بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا  کہ آپ کے 90 فیصد مطالبات منظور ہوچکے ہیں اور دونوں وفاقی وزرا اس پر عمل درآمد کی ضمانت دیتے ہیں، باقی 10 فیصد کے لیے میں اور وفاقی حکومت آپ کو مذاکرات کی دعوت دے  رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکاروں کے جاں بحق اور 100 سے زائد کے زخمی ہونے ں پر افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے  کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ احتجاج پُرامن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تشدد کے راستے  سےکسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے، آپ اس مذاکراتی عمل کو بحال کریں، ہمیں انارکی اور تشدد سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے  احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دے دی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو تین پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p>تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال  کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا ہے، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے،  پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا  کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک  متاثر ہوئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد جموں و  کشمیر چوہدری انوارالحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات ہماری موجودگی میں تسلیم کیے تھے، امیر مقام اور میں نے ضمانت دی تھی کہ ان مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ایکشن کمیٹی سے 12گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، آخر میں مہاجرین کی نشستیں ختم  کرنا اور آزاد کشمیر کی وزارتوں کی تعداد میں کمی کے مطالبات کیے گئے، ان دونوں مطالبات کے لیے آزاد  کشمیر کے آئین میں ترمیم درکار تھی۔</p>
<p>طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ دو مطالبات کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت کی وجہ سے مذاکرات میں ڈیڈلاک آگیا،  پھر 29 ستمبر سے ایکشن کمیٹی نے مختلف اضلاع میں پُرامن احتجاج شروع کیا، جس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کے 90 فیصد مطالبات مانے جا چکے ہیں اور تحریری معاہدے کی شکل میں موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے، اب ان کا احتجاج پُرامن نہیں اور پرتشدد احتجاج میں بدل چکا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ تشدد کسی بھی معاملے کا حل نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہا  کہ ہم آج بھی  عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات اور اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا  کہ ہر مسئلےکا حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں، اشتعال کو منظم قوت کے طور پر استعمال کرنا یہ صرف ریاست میں آرمڈ فورسز ہی اس طاقت کا استعمال کرسکتی ہیں، جب آپ عام شہریوں کے ذریعے اشتعال دلانے کی کوشش کریں گے تو پھر وہ اشتعال انارکی، افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ درخواست ہے کہ وہیں سے بات شروع کی جائے جہاں مذاکرات ٹوٹے تھے۔ جب بھی آپ کو مناسب لگے، جہاں بھی عوامی ایکشن کمیٹی بات کرنا چاہے، ریاستی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ میرے وزراء مظفرآباد، راولا کوٹ اور میرپور میں تیار بیٹھے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا  کہ آپ کے 90 فیصد مطالبات منظور ہوچکے ہیں اور دونوں وفاقی وزرا اس پر عمل درآمد کی ضمانت دیتے ہیں، باقی 10 فیصد کے لیے میں اور وفاقی حکومت آپ کو مذاکرات کی دعوت دے  رہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکاروں کے جاں بحق اور 100 سے زائد کے زخمی ہونے ں پر افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے  کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ احتجاج پُرامن نہیں ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تشدد کے راستے  سےکسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے، آپ اس مذاکراتی عمل کو بحال کریں، ہمیں انارکی اور تشدد سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270575</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 23:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/01203555fc9ef72.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/01203555fc9ef72.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
