<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 00:03:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 00:03:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275086/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔</p>
<p>پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔</p>
<p>الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔</p>
<p>لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275086</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13132723a0858db.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13132723a0858db.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، علی ظفر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275062/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔</p>
<p>اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔</p>
<p>اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔</p>
<p>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔</p>
<p>صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275062</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:52:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0914471119c7c0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0914471119c7c0c.webp"/>
        <media:title>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی سلامتی کو درپیش خطرات پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275045/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاک فوج میں زیرو ٹالرنس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، جبکہ انہیں تربیتی مشقوں، جدید ٹیکنالوجیز اور فوجی سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے فوجی عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=URDnAvttUtM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/URDnAvttUtM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈرلاہور نے سی ڈی ایف کا استقبال کیا اور انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیارات اور جنگی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کلیدی اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک خصوصی فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جو کہ مستقبل کے متحرک میدان جنگ کے مطابق اختراع اور موافقت پر فوج کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے جوانوں کو فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، اور جسمانی فٹنس، حوصلہ اور مجموعی فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی ایف فیلڈ مارشل منیر نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) لاہور میں ایک کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مکمل لیس، جدید ترین طبی سہولت کے قیام میں طبی عملے اور انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سی ڈی ایف کے یہ ریمارکس فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں اور غیر ریاستی عناصر کا گڑھ بن چکا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، بھارت کی جانب سے دیکھی جانے والی جارحیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کے بارے میں بھی طویل گفتگو کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیاسی قوتوں کو احتجاج یا بیان بازی کے ذریعے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی متنبہ کیا تھا، اس کے علاوہ دہشت گردی میں ملوث بھارت کے زیرِ سرپرستی مبینہ پراکسیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاک فوج میں زیرو ٹالرنس ہے۔</p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔</p>
<p>آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، جبکہ انہیں تربیتی مشقوں، جدید ٹیکنالوجیز اور فوجی سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے فوجی عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=URDnAvttUtM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/URDnAvttUtM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔</p>
<p>کمانڈرلاہور نے سی ڈی ایف کا استقبال کیا اور انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیارات اور جنگی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کلیدی اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک خصوصی فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جو کہ مستقبل کے متحرک میدان جنگ کے مطابق اختراع اور موافقت پر فوج کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے جوانوں کو فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، اور جسمانی فٹنس، حوصلہ اور مجموعی فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>سی ڈی ایف فیلڈ مارشل منیر نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) لاہور میں ایک کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مکمل لیس، جدید ترین طبی سہولت کے قیام میں طبی عملے اور انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ سی ڈی ایف کے یہ ریمارکس فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں اور غیر ریاستی عناصر کا گڑھ بن چکا ہے ۔</p>
<p>ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، بھارت کی جانب سے دیکھی جانے والی جارحیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کے بارے میں بھی طویل گفتگو کی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیاسی قوتوں کو احتجاج یا بیان بازی کے ذریعے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی متنبہ کیا تھا، اس کے علاوہ دہشت گردی میں ملوث بھارت کے زیرِ سرپرستی مبینہ پراکسیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275045</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 11:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08114708af63f12.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08114708af63f12.webp"/>
        <media:title>جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط، عمدگی اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے۔رہی ہیں۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی ’خود کشی‘ کی کوشش، دوسری منزل سے چھلانگ لگادی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275020/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی نجی جامعہ ’یونیورسٹی آف لاہور‘ میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخی ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز فیصل کامران نے ڈان کو بتایا کہ طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور اس کے والدین کو لاہور آنے کے لیے کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کے مطابق طالبہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کی حالت تشویشناک ہے تاہم سر پر کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ واقعے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں اور اسی دوران انہوں نے چھلانگ لگائی، مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے جو لاک ہے۔ فیصل کامران کے مطابق علاج مکمل ہونے کے بعد طالبہ سے پاس ورڈ طلب کیا جائے گا، بصورت دیگر فون کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ واقعے کا تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور ڈی آئی جی کے مطابق یہ طالبہ کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یونیورسٹی آف لاہور نے کیمپس میں ہونے والی تمام کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق طلبہ کی حفاظت اور عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آن کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ منگل 6 جنوری 2025 سے تاحکمِ ثانی تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی ہے، جس کے بعد آن کیمپس کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق انتظامیہ ہر منزل پر حفاظتی باڑ لگانے یا عملہ تعینات کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ اس سے قبل 19 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جب یونیورسٹی آف لاہور کے ایک 22 سالہ فارم ڈی کے طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلِ خانہ اور ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ کم حاضری کے باعث طالب علم کو ذہنی دباؤ اور تضحیک کا سامنا تھا اور فیس ادا کرنے کے باوجود اس کا پورا سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی نجی جامعہ ’یونیورسٹی آف لاہور‘ میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخی ہوگئیں۔</p>
<p>لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز فیصل کامران نے ڈان کو بتایا کہ طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور اس کے والدین کو لاہور آنے کے لیے کہا گیا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی کے مطابق طالبہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کی حالت تشویشناک ہے تاہم سر پر کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔</p>
<p>ڈی آئی جی نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ واقعے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں اور اسی دوران انہوں نے چھلانگ لگائی، مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>پولیس نے طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے جو لاک ہے۔ فیصل کامران کے مطابق علاج مکمل ہونے کے بعد طالبہ سے پاس ورڈ طلب کیا جائے گا، بصورت دیگر فون کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ واقعے کا تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور ڈی آئی جی کے مطابق یہ طالبہ کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>ادھر یونیورسٹی آف لاہور نے کیمپس میں ہونے والی تمام کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق طلبہ کی حفاظت اور عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آن کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ منگل 6 جنوری 2025 سے تاحکمِ ثانی تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن ہوں گی۔</p>
<p>ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی ہے، جس کے بعد آن کیمپس کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق انتظامیہ ہر منزل پر حفاظتی باڑ لگانے یا عملہ تعینات کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p>یہ واقعہ اس سے قبل 19 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جب یونیورسٹی آف لاہور کے ایک 22 سالہ فارم ڈی کے طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔</p>
<p>اہلِ خانہ اور ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ کم حاضری کے باعث طالب علم کو ذہنی دباؤ اور تضحیک کا سامنا تھا اور فیس ادا کرنے کے باوجود اس کا پورا سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275020</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 17:13:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0517014202baa22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0517014202baa22.webp"/>
        <media:title>فوٹو: یونیورسٹی آف لاہور ایکس اکاؤنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے منسوب گانا گانے پر قوال کے خلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275014/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پولیس نے شالیمار گارڈنز میں سرکاری سرپرستی میں منعقدہ ایک ثقافتی تقریب کے دوران ’قیدی نمبر 804‘ کے عنوان سے گانا گانے پر ایک گلوکار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965137/qawwal-booked-in-lahore-over-song-linked-to-imran-khan"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ملزم جو پیشے کے اعتبار سے قوال ہے، پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے تقریب کو سیاسی رنگ دیا، کیونکہ مذکورہ گانا جیل میں بند پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درج ایف آئی آر میں مدعی شالیمار گارڈنز کے انچارج ضمیر الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ گلوکار فراز خان نے جان بوجھ کر ثقافتی تقریب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی، کیونکہ یہ گانا ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے موسیقی اور ثقافت کی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جو غیر سیاسی تقریب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کا کہنا تھا کہ گلوکار اور اس کے ساتھیوں نے حاضرین میں سے بعض افراد کے مطالبے پر پی ٹی آئی رہنما سے منسوب گانا گایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کے مطابق ملزم کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ یہ تقریب عوام کے لیے تھی اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پولیس نے شالیمار گارڈنز میں سرکاری سرپرستی میں منعقدہ ایک ثقافتی تقریب کے دوران ’قیدی نمبر 804‘ کے عنوان سے گانا گانے پر ایک گلوکار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965137/qawwal-booked-in-lahore-over-song-linked-to-imran-khan"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق ملزم جو پیشے کے اعتبار سے قوال ہے، پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے تقریب کو سیاسی رنگ دیا، کیونکہ مذکورہ گانا جیل میں بند پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>درج ایف آئی آر میں مدعی شالیمار گارڈنز کے انچارج ضمیر الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ گلوکار فراز خان نے جان بوجھ کر ثقافتی تقریب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی، کیونکہ یہ گانا ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے موسیقی اور ثقافت کی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جو غیر سیاسی تقریب تھی۔</p>
<p>تاہم ان کا کہنا تھا کہ گلوکار اور اس کے ساتھیوں نے حاضرین میں سے بعض افراد کے مطالبے پر پی ٹی آئی رہنما سے منسوب گانا گایا۔</p>
<p>مدعی کے مطابق ملزم کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ یہ تقریب عوام کے لیے تھی اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد شریک تھے۔</p>
<p>مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275014</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:43:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05122236b1fbbd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05122236b1fbbd9.webp"/>
        <media:title>مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275007/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965004/pia-privatisation-challenged-in-lahore-high-court"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیاب بولی حکومت کی مقررہ قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ کنسورشیم نے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا عمل، بالخصوص 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اس کے بعد 23 دسمبر کو کی گئی فروخت، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ 23 دسمبر کا اقدام پی آئی اے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت نے ای او آئی جاری کرتے وقت اس قانونی پہلو کو نظرانداز کیا کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نجکاری ممکن نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274916'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2016 کے ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے تحت کسی بھی قسم کی تنظیم نو یا اثاثوں کی منتقلی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے اندر ہی رہنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پی آئی اے میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں، اس لیے اسے کسی نجی گروپ کو فروخت کرنا ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق نجکاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے پی آئی اے کو غلط طور پر قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ اس کی مالیت مجموعی نقصانات یعنی تقریباً 800 ارب روپے سے پانچ گنا کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پی آئی اے کو حکومت کی جانب سے گرانٹس یا سبسڈیز نہیں دی جا رہیں بلکہ مالی مشکلات کی وجہ قرضوں کی ادائیگی، بدانتظامی اور پالیسی ناکامیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ اثاثے کی فروخت کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار اختیارات کے ناجائز استعمال، شفافیت کے فقدان اور من مانے فیصلوں کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2023 کو پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس کی شق 28 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا، اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہ درخواست بولی دہندگان کے درمیان نجی تنازع نہیں بلکہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کی عدالتوں میں نمائندگی کے حوالے سے معروف ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اٹھانے پر انہیں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 23 دسمبر 2025 کو طے پانے والے معاہدے سمیت پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید تمام اقدامات معطل کیے جائیں، مئی 2025 کے ای او آئی کے تحت ہونے والی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے اور اگر کسی قسم کی تنظیم نو ناگزیر ہو تو اسے مکمل طور پر سرکاری ملکیت کے اداروں تک محدود رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965004/pia-privatisation-challenged-in-lahore-high-court"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p>درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ کامیاب بولی حکومت کی مقررہ قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ کنسورشیم نے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا عمل، بالخصوص 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اس کے بعد 23 دسمبر کو کی گئی فروخت، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ 23 دسمبر کا اقدام پی آئی اے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت نے ای او آئی جاری کرتے وقت اس قانونی پہلو کو نظرانداز کیا کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نجکاری ممکن نہیں تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274916'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2016 کے ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے تحت کسی بھی قسم کی تنظیم نو یا اثاثوں کی منتقلی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے اندر ہی رہنی چاہیے۔</p>
<p>درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پی آئی اے میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں، اس لیے اسے کسی نجی گروپ کو فروخت کرنا ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق نجکاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے پی آئی اے کو غلط طور پر قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ اس کی مالیت مجموعی نقصانات یعنی تقریباً 800 ارب روپے سے پانچ گنا کم ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پی آئی اے کو حکومت کی جانب سے گرانٹس یا سبسڈیز نہیں دی جا رہیں بلکہ مالی مشکلات کی وجہ قرضوں کی ادائیگی، بدانتظامی اور پالیسی ناکامیاں ہیں۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ اثاثے کی فروخت کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار اختیارات کے ناجائز استعمال، شفافیت کے فقدان اور من مانے فیصلوں کے مترادف ہے۔</p>
<p>ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2023 کو پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس کی شق 28 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا، اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہ درخواست بولی دہندگان کے درمیان نجی تنازع نہیں بلکہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔</p>
<p>ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کی عدالتوں میں نمائندگی کے حوالے سے معروف ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اٹھانے پر انہیں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 23 دسمبر 2025 کو طے پانے والے معاہدے سمیت پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p>ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید تمام اقدامات معطل کیے جائیں، مئی 2025 کے ای او آئی کے تحت ہونے والی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے اور اگر کسی قسم کی تنظیم نو ناگزیر ہو تو اسے مکمل طور پر سرکاری ملکیت کے اداروں تک محدود رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275007</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:54:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/04134642cf698fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/04134642cf698fb.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن ٹربیونل نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کے خلاف یاسمین راشد کی درخواست مسترد کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274958/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں قائم ایک الیکشن ٹربیونل نے قید میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی وہ درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے 2024 کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹائرڈ جسٹس رانا زاہد محمود  نے یاسمین راشد کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انتخابی عذر داری دائر کرنے کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹربیونل کا تحریری فیصلہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاسمین راشد نے 16 اپریل 2024 کو نواز شریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے یہ درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاسمین راشد نے استدعا کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی کامیابی کالعدم قرار دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج میں ردوبدل کر کے ان کی شکست کو یقینی بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 13 فروری کو جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے مطابق نواز شریف نے این اے 130 سے ایک لاکھ 79 ہزار 310 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ یاسمین راشد ایک لاکھ 4 ہزار 485 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں قائم ایک الیکشن ٹربیونل نے قید میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی وہ درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے 2024 کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔</p>
<p>ریٹائرڈ جسٹس رانا زاہد محمود  نے یاسمین راشد کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انتخابی عذر داری دائر کرنے کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>ٹربیونل کا تحریری فیصلہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>یاسمین راشد نے 16 اپریل 2024 کو نواز شریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے یہ درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔</p>
<p>یاسمین راشد نے استدعا کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی کامیابی کالعدم قرار دی جائے۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج میں ردوبدل کر کے ان کی شکست کو یقینی بنایا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 13 فروری کو جاری کیا تھا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے مطابق نواز شریف نے این اے 130 سے ایک لاکھ 79 ہزار 310 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ یاسمین راشد ایک لاکھ 4 ہزار 485 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274958</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 16:21:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/30161430afcddc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/30161430afcddc4.webp"/>
        <media:title>نواز شریف نے این اے 130 سے 179,310 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ یاسمین راشد 104,485 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ فائل فوٹو ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوا ایپس پروموشن کیس: یوٹیوبر ڈکی بھائی فرد جرم کے لیے طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274999/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی کو جوئے پروموشن کے مقدمے میں فرد جرم کے لیے طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلع کچہری میں سعد الرحمان عرف ڈکی سمیت دیگر کے خلاف آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سعد الرحمان سمیت دیگر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 16 جنوری کو طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ آپ کا بغیر اجازت کے یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنا غیر قانونی ہے، آپ کو وی لاگ کی اجازت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کرنا چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274187'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274187"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جس پر سعد الرحمان نے مؤقف دیا کہ گزشتہ سماعت پر انہوں نے بیانِ حلفی دیا تھا اور ان کے نزدیک وہی اجازت تھی جس پر عدالت نے کہا کہ آپ خود سے کیسے خود کو اجازت دے سکتے ہیں؟کیونکہ اجازت صرف عدالت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وکیل سعدالرحمان نے کہا کہ ہمیں نہیں سمجھ آرہی کہ ہم کس چیز کی اجازت لیں کیونکہ ہم تو اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر عدالت نے واضح کیا کہ سعد الرحمان  کا یوٹیوب چینل مال مقدمہ ہے اور این سی سی آئی نے اس چینل کو ضبط کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ وی لاگنگ کی جاسکتی ہے تاہم ضبط شدہ چینل سے ویڈیوز اپلوڈ کرنا غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;و اضح رہے کہ ڈکی بھائی کو این سی ایس آئی اے نے 17 اگست 2025 میں لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا، ملزم پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کا الزام عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوبر کے خلاف مقدمہ ریاست کی جانب سے این سی سی آئی اے لاہور کے ذریعے درج کیا گیا، جس میں ان پر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی دفعات 13 (الیکٹرانک جعلسازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (اسپامنگ) اور 26 (اسپوفنگ) کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات بی-294 (تجارتی مقاصد کے لیے انعام کی پیشکش) اور 420 (دھوکہ دہی اور جائیداد کی فراہمی کے لیے بدنیتی سے عمل کرنا) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے  24 نومبر 2025 کو ڈکی بھائی کی جوئے کی ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی کو جوئے پروموشن کے مقدمے میں فرد جرم کے لیے طلب کرلیا۔</p>
<p>ضلع کچہری میں سعد الرحمان عرف ڈکی سمیت دیگر کے خلاف آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔</p>
<p>عدالت نے سعد الرحمان سمیت دیگر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 16 جنوری کو طلب کرلیا۔</p>
<p>دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ آپ کا بغیر اجازت کے یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنا غیر قانونی ہے، آپ کو وی لاگ کی اجازت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کرنا چاہیے تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274187'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274187"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جس پر سعد الرحمان نے مؤقف دیا کہ گزشتہ سماعت پر انہوں نے بیانِ حلفی دیا تھا اور ان کے نزدیک وہی اجازت تھی جس پر عدالت نے کہا کہ آپ خود سے کیسے خود کو اجازت دے سکتے ہیں؟کیونکہ اجازت صرف عدالت دیتی ہے۔</p>
<p>اس موقع پر وکیل سعدالرحمان نے کہا کہ ہمیں نہیں سمجھ آرہی کہ ہم کس چیز کی اجازت لیں کیونکہ ہم تو اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔</p>
<p>اس پر عدالت نے واضح کیا کہ سعد الرحمان  کا یوٹیوب چینل مال مقدمہ ہے اور این سی سی آئی نے اس چینل کو ضبط کر رکھا ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ وی لاگنگ کی جاسکتی ہے تاہم ضبط شدہ چینل سے ویڈیوز اپلوڈ کرنا غیر قانونی ہے۔</p>
<p>و اضح رہے کہ ڈکی بھائی کو این سی ایس آئی اے نے 17 اگست 2025 میں لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا، ملزم پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کا الزام عائد ہے۔</p>
<p>یوٹیوبر کے خلاف مقدمہ ریاست کی جانب سے این سی سی آئی اے لاہور کے ذریعے درج کیا گیا، جس میں ان پر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی دفعات 13 (الیکٹرانک جعلسازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (اسپامنگ) اور 26 (اسپوفنگ) کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات بی-294 (تجارتی مقاصد کے لیے انعام کی پیشکش) اور 420 (دھوکہ دہی اور جائیداد کی فراہمی کے لیے بدنیتی سے عمل کرنا) شامل ہیں۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ نے  24 نومبر 2025 کو ڈکی بھائی کی جوئے کی ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کر لی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274999</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 17:59:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/031757331f48b3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/031757331f48b3d.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہڑتال کے باوجود رجب بٹ کی نمائندگی پر وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274977/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کے باوجود کراچی سٹی کورٹ میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا پریکٹس لائسنس معطل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہڑتال کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی گئی تھی، جس کے دوران شہر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین زبیع اللہ نگری کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ اقدام کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا، جس میں ایڈووکیٹ اشفاق کو وکلا کی جاری ہڑتال کے دوران رجب بٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی سٹی کورٹ میں پیش ہوتے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران انہوں نے قانونی برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پنجاب بار کونسل نے سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274963'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکم کے مطابق ان بیانات کے باعث وکلا برادری میں تقسیم، تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے قانونی برادری کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے کہا کہ ایڈووکیٹ اشفاق کا طرزِ عمل اختلاف اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کا باعث بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکارڈ کے جائزے میں بتایا گیا کہ میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ کونسل کے مطابق ایک پریکٹس کرنے والے وکیل پر لازم ہے کہ وہ ہر وقت قانونی پیشے کے وقار اور بلند معیار کو برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ قانون کے مطابق لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے زبیع اللہ نگری نے کہا کہ پنجاب بار کونسل ایک قانونی و ضابطہ جاتی ادارہ ہے اور پیشہ ورانہ بدسلوکی کے معاملات میں لائسنس معطل کرنے سے قبل نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہر اندراج شدہ وکیل کو بار کونسل کے قواعد میں درج ضابطہ اخلاق کا مکمل علم ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پیر کو یوٹیوبر رجب بٹ کو کراچی کی سیشنز کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کی نمائندگی میاں علی اشفاق کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سماعت تشدد اور بدنظمی کا شکار ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میاں علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے مقدمے میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کے باوجود کراچی سٹی کورٹ میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا پریکٹس لائسنس معطل کر دیا۔</p>
<p>یہ ہڑتال کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی گئی تھی، جس کے دوران شہر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین زبیع اللہ نگری کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ اقدام کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد اٹھایا گیا۔</p>
<p>خط میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا، جس میں ایڈووکیٹ اشفاق کو وکلا کی جاری ہڑتال کے دوران رجب بٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی سٹی کورٹ میں پیش ہوتے دیکھا گیا۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران انہوں نے قانونی برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پنجاب بار کونسل نے سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274963'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکم کے مطابق ان بیانات کے باعث وکلا برادری میں تقسیم، تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے قانونی برادری کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا۔</p>
<p>کونسل نے کہا کہ ایڈووکیٹ اشفاق کا طرزِ عمل اختلاف اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کا باعث بنا۔</p>
<p>ریکارڈ کے جائزے میں بتایا گیا کہ میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ کونسل کے مطابق ایک پریکٹس کرنے والے وکیل پر لازم ہے کہ وہ ہر وقت قانونی پیشے کے وقار اور بلند معیار کو برقرار رکھے۔</p>
<p>ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ قانون کے مطابق لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔</p>
<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے زبیع اللہ نگری نے کہا کہ پنجاب بار کونسل ایک قانونی و ضابطہ جاتی ادارہ ہے اور پیشہ ورانہ بدسلوکی کے معاملات میں لائسنس معطل کرنے سے قبل نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہر اندراج شدہ وکیل کو بار کونسل کے قواعد میں درج ضابطہ اخلاق کا مکمل علم ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پیر کو یوٹیوبر رجب بٹ کو کراچی کی سیشنز کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کی نمائندگی میاں علی اشفاق کر رہے تھے۔</p>
<p>یہ سماعت تشدد اور بدنظمی کا شکار ہو گئی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ میاں علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے مقدمے میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274977</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 22:21:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/01221838498b681.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/01221838498b681.webp"/>
        <media:title>حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ کے پی کی آمد پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامے کی انکوائری رپورٹ سیکیورٹی اداروں کو بھیجنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274941/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہفتے کے آخر میں اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق کی گئی انکوائری کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران جمعے کو پنجاب اسمبلی میں خطاب کیا گیا تھا، تاہم اس موقع پر ان کے ہمراہ آنے والے افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور صحافیوں کے درمیان بھی گرما گرم جملوں کا تبادلہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی ایک ریڈ زون ہے جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات لاگو ہیں اور یہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ یا کم از کم شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق لازمی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ شرائط پہلے ہی بتا دی گئی تھیں اور ان کے ہمراہ آنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی فہرست فراہم کی گئی تھی جنہیں سہولت دی گئی، تاہم طے شدہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=mw44poh4WWE'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/mw44poh4WWE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قانون سازی پر اعتراض کرنا جمہوری حق ہے لیکن گھیراؤ، جلاؤ گھیراؤ اور انتشار پھیلانا نااہلی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاسوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور رکاوٹیں عوامی وسائل کا ضیاع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسمبلی آنے سے نہیں روکا گیا، تاہم غنڈہ گردی اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو علاقائی حدود تک محدود کرنے کے بجائے قومی سطح پر پھیلائیں کیونکہ قومی دائرہ کار ہی وفاق کو مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے وزیر اعلیٰ کی آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق متوقع تعداد سے زیادہ افراد ان کے ہمراہ تھے، متعدد افراد فہرست میں شامل نہیں تھے اور شناخت بھی پیش نہ کر سکے، جس سے سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت بگڑی جب روکے جانے پر سیکیورٹی عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر مجاز افراد میں ماضی میں سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات والے افراد بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتیں جلانے والوں کو اسمبلی میں لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اسپیکر سمیت ہر کوئی طریقۂ کار کے ہر لفظ کا پابند ہے اور اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی تمام خلاف ورزیوں پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تمام اداروں سے مکمل تحقیقات کی اپیل کرتے ہوئے جمہوری اقدار کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہفتے کے آخر میں اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق کی گئی انکوائری کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران جمعے کو پنجاب اسمبلی میں خطاب کیا گیا تھا، تاہم اس موقع پر ان کے ہمراہ آنے والے افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور صحافیوں کے درمیان بھی گرما گرم جملوں کا تبادلہ دیکھا گیا۔</p>
<p>لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی ایک ریڈ زون ہے جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات لاگو ہیں اور یہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ یا کم از کم شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق لازمی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ شرائط پہلے ہی بتا دی گئی تھیں اور ان کے ہمراہ آنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی فہرست فراہم کی گئی تھی جنہیں سہولت دی گئی، تاہم طے شدہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=mw44poh4WWE'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/mw44poh4WWE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قانون سازی پر اعتراض کرنا جمہوری حق ہے لیکن گھیراؤ، جلاؤ گھیراؤ اور انتشار پھیلانا نااہلی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاسوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور رکاوٹیں عوامی وسائل کا ضیاع ہیں۔</p>
<p>اسپیکر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسمبلی آنے سے نہیں روکا گیا، تاہم غنڈہ گردی اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو علاقائی حدود تک محدود کرنے کے بجائے قومی سطح پر پھیلائیں کیونکہ قومی دائرہ کار ہی وفاق کو مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے وزیر اعلیٰ کی آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق متوقع تعداد سے زیادہ افراد ان کے ہمراہ تھے، متعدد افراد فہرست میں شامل نہیں تھے اور شناخت بھی پیش نہ کر سکے، جس سے سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت بگڑی جب روکے جانے پر سیکیورٹی عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔</p>
<p>اسپیکر کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر مجاز افراد میں ماضی میں سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات والے افراد بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتیں جلانے والوں کو اسمبلی میں لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ اسپیکر سمیت ہر کوئی طریقۂ کار کے ہر لفظ کا پابند ہے اور اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی تمام خلاف ورزیوں پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تمام اداروں سے مکمل تحقیقات کی اپیل کرتے ہوئے جمہوری اقدار کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274941</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 13:31:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد محمود)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/291318540847815.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/291318540847815.webp"/>
        <media:title>اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا نیا احتجاجی لائحہ عمل، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لاہور پہنچ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274929/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نئی تحریک کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے اور آج شام لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر آج شام چھ بجے شیئر کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے وزیر اعلیٰ کی گاڑی پر پھول نچھاور کیے جب وہ پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;راوی ٹول پلازہ سے گزرنے  کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرچہ انہیں لاہور میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم ان کے ساتھ آنے والی کم از کم سات گاڑیوں کو روک لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ منڈی بہا الدین سے آنے والے پارٹی کارکنوں کو بھیرہ کے راستے لاہور جانے سے روک دیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صحافی نے انہیں بتایا کہ میڈیا کی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوری حکومتیں اس طرح کے اقدامات نہیں کرتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے پیغام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یہ نہیں سمجھ رہیں کہ ایسے اقدامات سے دو صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اُنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نئی تحریک کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے اور آج شام لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع متوقع ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر آج شام چھ بجے شیئر کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے وزیر اعلیٰ کی گاڑی پر پھول نچھاور کیے جب وہ پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر پہنچے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>راوی ٹول پلازہ سے گزرنے  کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرچہ انہیں لاہور میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم ان کے ساتھ آنے والی کم از کم سات گاڑیوں کو روک لیا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ منڈی بہا الدین سے آنے والے پارٹی کارکنوں کو بھیرہ کے راستے لاہور جانے سے روک دیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>ایک صحافی نے انہیں بتایا کہ میڈیا کی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوری حکومتیں اس طرح کے اقدامات نہیں کرتیں۔</p>
<p>پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے پیغام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یہ نہیں سمجھ رہیں کہ ایسے اقدامات سے دو صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اُنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔</p>
<p>دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔</p>
<p>مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں گے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274929</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 18:53:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261841140f1a53b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261841140f1a53b.webp"/>
        <media:title>محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی کے دو مقدمات کا تحریری فیصلہ جاری، محمود الرشید کو 33 سال قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274928/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گلبرگ کے علاقے میں جلاؤ گھیراؤ اور گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے دو مقدمات کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ میاں محمود الرشید کو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1266478'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کا سازش کی میٹنگ میں موجود ہونا ثابت ہوتا ہے، پراسیکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مختلف واٹس ایپ پیغامات اور 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں، جبکہ ملزمان کے خلاف فارنزک رپورٹس بھی کمرہ عدالت میں پیش کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق جے آئی ٹی کی تفتیشی ٹیم نے ملزمان کو قصور وار قرار دیا اور ملزمان نے جے آئی ٹی رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے اپنے حتمی بیانات میں خود کو بے گناہ قرار دیا، تاہم عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پس منظر&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گلبرگ کے علاقے میں جلاؤ گھیراؤ اور گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے دو مقدمات کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔</p>
<p>عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔</p>
<p>عدالت نے  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ میاں محمود الرشید کو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی گئیں۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1266478'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کا سازش کی میٹنگ میں موجود ہونا ثابت ہوتا ہے، پراسیکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مختلف واٹس ایپ پیغامات اور 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں، جبکہ ملزمان کے خلاف فارنزک رپورٹس بھی کمرہ عدالت میں پیش کی گئیں۔</p>
<p>عدالت کے مطابق جے آئی ٹی کی تفتیشی ٹیم نے ملزمان کو قصور وار قرار دیا اور ملزمان نے جے آئی ٹی رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا۔</p>
<p>فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے اپنے حتمی بیانات میں خود کو بے گناہ قرار دیا، تاہم عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائیں۔</p>
<h2><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پس منظر</strong></h2>
<p>یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274928</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 18:16:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/26181325713a96d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/26181325713a96d.webp"/>
        <media:title>عدالت نے قرار دیا کہ میاں محمود الرشید کو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی گئیں۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا نیا احتجاجی لائحہ عمل، لاہور میں کے پی وزیر اعلیٰ کے استقبال اور عوامی اجتماع کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274926/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے جمعے کو نیا اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لاہور میں استقبال اور لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1963317"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ پارٹی بانی عمران خان کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالیہ حمزہ ملک نے لاہور ڈویژن کے تمام ٹکٹ ہولڈرز، عہدیداروں، کارکنوں اور وکلا کو ہدایت کی کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لبرٹی چوک پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالیہ حمزہ ملک کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے لاہور کی مرکزی شاہراہ کو مارچ میں تبدیل کرنا ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ان کے کابینہ ارکان اور صوبائی اسمبلی کے اراکین پنجاب میں اپنا پہلا پڑاؤ بھیرہ میں کریں گے، جہاں سرگودھا اور منڈی بہا الدین ڈویژن کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدیدار ان کا استقبال کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے جمعے کو نیا اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لاہور میں استقبال اور لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1963317"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ پارٹی بانی عمران خان کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔</p>
<p>عالیہ حمزہ ملک نے لاہور ڈویژن کے تمام ٹکٹ ہولڈرز، عہدیداروں، کارکنوں اور وکلا کو ہدایت کی کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لبرٹی چوک پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔</p>
<p>عالیہ حمزہ ملک کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے لاہور کی مرکزی شاہراہ کو مارچ میں تبدیل کرنا ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔</p>
<p>اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ان کے کابینہ ارکان اور صوبائی اسمبلی کے اراکین پنجاب میں اپنا پہلا پڑاؤ بھیرہ میں کریں گے، جہاں سرگودھا اور منڈی بہا الدین ڈویژن کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدیدار ان کا استقبال کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274926</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 14:56:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261452437edf638.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261452437edf638.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: پنجاب میں جائیدادوں کے قبضے سے متعلق ڈپٹی کمشنرز کے فیصلے کالعدم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274925/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 10 اضلاع میں جائیدادوں کا قبضہ دینے سے متعلق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے یہ فیصلے جمعہ کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد واپس لیے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پٹواری بروقت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو ایسے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے تک دیوانی مقدمات کے زیر التوا رہنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ عدالتوں میں کتنے پرانے مقدمات زیر التوا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ازخود جائیدادوں کا قبضہ چھیننے یا بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت کتنے قوانین کو نظرانداز کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنرز نے اس کے باوجود قبضہ ختم کرنے کے احکامات جاری کیے جبکہ معاملات دیوانی عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپال پور کے ایک شہری جنہیں نئے قانون کے تحت قبضہ ملا تھا، بھی عدالت میں پیش ہوئے تاہم چیف جسٹس نے انہیں قبضہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری کے وکیل نے عدالت میں تسلیم کیا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ جب وکیل خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اختیار سے تجاوز کیا تو کمیٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالتی نظام سے انصاف نہ ملے تو لوگ کہاں جائیں اور بتایا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی نے 27 دن میں جائیداد کا قبضہ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل کو سرخیوں کے لیے سنسنی خیز بیانات دینے سے منع کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274901'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ فیصلہ کرنے کا اختیار نئے قانون کے تحت قائم ٹربیونلز کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار جائیداد کے مالک ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ڈپٹی کمشنرز کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے قبضے سے متعلق ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے احکامات پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے درخواستیں مزید سماعت کے لیے ایک فل بینچ کو بھیج دیں، جو ابھی تشکیل دیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا سلیم لطیف، محمد علی اور دیگر افراد نے 10 اضلاع میں قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں ماہ 22 دسمبر کو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو بھی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274892"&gt;&lt;strong&gt;معطل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ معاملے کی سماعت اور فیصلے کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 10 اضلاع میں جائیدادوں کا قبضہ دینے سے متعلق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے یہ فیصلے جمعہ کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد واپس لیے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔</p>
<p>سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پٹواری بروقت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو ایسے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔</p>
<p>طویل عرصے تک دیوانی مقدمات کے زیر التوا رہنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ عدالتوں میں کتنے پرانے مقدمات زیر التوا ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ازخود جائیدادوں کا قبضہ چھیننے یا بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت کتنے قوانین کو نظرانداز کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنرز نے اس کے باوجود قبضہ ختم کرنے کے احکامات جاری کیے جبکہ معاملات دیوانی عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔</p>
<p>دیپال پور کے ایک شہری جنہیں نئے قانون کے تحت قبضہ ملا تھا، بھی عدالت میں پیش ہوئے تاہم چیف جسٹس نے انہیں قبضہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>شہری کے وکیل نے عدالت میں تسلیم کیا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ جب وکیل خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اختیار سے تجاوز کیا تو کمیٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالتی نظام سے انصاف نہ ملے تو لوگ کہاں جائیں اور بتایا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی نے 27 دن میں جائیداد کا قبضہ دے دیا تھا۔</p>
<p>اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل کو سرخیوں کے لیے سنسنی خیز بیانات دینے سے منع کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274901'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ فیصلہ کرنے کا اختیار نئے قانون کے تحت قائم ٹربیونلز کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار جائیداد کے مالک ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ڈپٹی کمشنرز کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے قبضے سے متعلق ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے احکامات پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے درخواستیں مزید سماعت کے لیے ایک فل بینچ کو بھیج دیں، جو ابھی تشکیل دیا جانا ہے۔</p>
<p>رانا سلیم لطیف، محمد علی اور دیگر افراد نے 10 اضلاع میں قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں ماہ 22 دسمبر کو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو بھی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274892"><strong>معطل</strong></a> کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ معاملے کی سماعت اور فیصلے کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274925</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 14:48:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261428402d86355.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261428402d86355.webp"/>
        <media:title>چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ازخود جائیدادوں کا قبضہ چھیننے یا بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت کتنے قوانین کو نظرانداز کرے گی۔ فوٹو: ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفتر سے باہر پیش آنے والی ہراسانی بھی ’ورک پلیس‘ کا حصہ قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274912/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 کے تحت کام کی جگہ کی قانونی تعریف وسیع ہے اور اس میں وہ تمام حالات شامل ہوتے ہیں جو سرکاری یا دفتری سرگرمی سے جڑے ہوں، خواہ ہراسانی دفتر کی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962920/harassment-outside-office-can-still-fall-under-workplace-lhc"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے ایک سرکاری افسر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے الزام پر ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ مذکورہ سزا پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے دی تھی، جسے بعد ازاں گورنر نے بھی برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار عمر شہزاد، جو ڈسٹرکٹ منیجر کے عہدے پر فائز تھے، پر اس کی ماتحت خاتون ملازم، جو ایڈہاک ٹیچر تھیں، نے مسلسل ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کے مطابق عمر شہزاد نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نازیبا نظروں، نامناسب واٹس ایپ پیغامات اور پیشہ ورانہ سہولیات کے بدلے ناجائز تعلقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'  alt='جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ عمر شہزاد زبردستی خاتون کے گھر میں داخل ہوا، زیادتی کی کوشش کی او اس وقت فرار ہوا جب خاتون نے ریسکیو 15 کو کال کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکوائری کے بعد پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے عمر شہزاد کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کی بڑی سزا سنائی، جسے گورنر نے بھی برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ نجی رہائش گاہ پر پیش آیا، اس لیے اسے کام کی جگہ کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جسٹس راحیل کامران نے اس محدود تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب کوئی افسر اپنے ماتحت پر ملازمت کے دباؤ، مثلاً تقرری ختم کرنے کی دھمکی، کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو مقام سے قطع نظر دفتری تعلق واضح طور پر قائم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس راحیل کامران نے واٹس ایپ پیغامات سے متعلق درخواست گزار کے اعتراض کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جواب میں اس نے بالواسطہ طور پر ان پیغامات کا اعتراف کیا تھا اور ان کی فرانزک جانچ کو بھی چیلنج نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے واضح کیا کہ محتسب کے سامنے کارروائی فوجداری نہیں بلکہ انتظامی اور تادیبی نوعیت کی ہوتی ہے، اس لیے وہ ضابطہ دیوانی یا قانونِ شہادت کی سخت تکنیکی پابندیوں کی پابند نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ اسی معاملے پر فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی وجہ سے محتسب کو اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق ڈبل جیوپرڈی کا اصول یہاں لاگو نہیں ہوتا کیونکہ فوجداری مقدمہ اور محکمانہ کارروائی دو الگ قانونی دائرے ہیں، ایک کا تعلق جرم سے ہے اور دوسرے کا کام کی جگہ پر وقار کے تحفظ سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ محتسب اور گورنر کی جانب سے درخواست گزار کو قصوروار ٹھہرانا قانون کے مطابق معقول اور دستیاب شواہد سے اخذ کردہ منطقی نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں فورمز کے نتائج نہ تو ریکارڈ کے خلاف ہیں اور نہ ہی کسی قانونی سقم یا اختیاری خامی کا شکار ہیں، اس لیے عدالت کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 کے تحت کام کی جگہ کی قانونی تعریف وسیع ہے اور اس میں وہ تمام حالات شامل ہوتے ہیں جو سرکاری یا دفتری سرگرمی سے جڑے ہوں، خواہ ہراسانی دفتر کی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1962920/harassment-outside-office-can-still-fall-under-workplace-lhc"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے ایک سرکاری افسر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے الزام پر ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ مذکورہ سزا پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے دی تھی، جسے بعد ازاں گورنر نے بھی برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>درخواست گزار عمر شہزاد، جو ڈسٹرکٹ منیجر کے عہدے پر فائز تھے، پر اس کی ماتحت خاتون ملازم، جو ایڈہاک ٹیچر تھیں، نے مسلسل ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔</p>
<p>شکایت کے مطابق عمر شہزاد نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نازیبا نظروں، نامناسب واٹس ایپ پیغامات اور پیشہ ورانہ سہولیات کے بدلے ناجائز تعلقات کا مطالبہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'  alt='جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا</figcaption>
    </figure>
<hr />
<p>شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ عمر شہزاد زبردستی خاتون کے گھر میں داخل ہوا، زیادتی کی کوشش کی او اس وقت فرار ہوا جب خاتون نے ریسکیو 15 کو کال کی۔</p>
<p>انکوائری کے بعد پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے عمر شہزاد کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کی بڑی سزا سنائی، جسے گورنر نے بھی برقرار رکھا۔</p>
<p>لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ نجی رہائش گاہ پر پیش آیا، اس لیے اسے کام کی جگہ کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔</p>
<p>تاہم جسٹس راحیل کامران نے اس محدود تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔</p>
<p>عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب کوئی افسر اپنے ماتحت پر ملازمت کے دباؤ، مثلاً تقرری ختم کرنے کی دھمکی، کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو مقام سے قطع نظر دفتری تعلق واضح طور پر قائم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>جسٹس راحیل کامران نے واٹس ایپ پیغامات سے متعلق درخواست گزار کے اعتراض کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جواب میں اس نے بالواسطہ طور پر ان پیغامات کا اعتراف کیا تھا اور ان کی فرانزک جانچ کو بھی چیلنج نہیں کیا۔</p>
<p>عدالت نے واضح کیا کہ محتسب کے سامنے کارروائی فوجداری نہیں بلکہ انتظامی اور تادیبی نوعیت کی ہوتی ہے، اس لیے وہ ضابطہ دیوانی یا قانونِ شہادت کی سخت تکنیکی پابندیوں کی پابند نہیں۔</p>
<p>جج نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ اسی معاملے پر فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی وجہ سے محتسب کو اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق ڈبل جیوپرڈی کا اصول یہاں لاگو نہیں ہوتا کیونکہ فوجداری مقدمہ اور محکمانہ کارروائی دو الگ قانونی دائرے ہیں، ایک کا تعلق جرم سے ہے اور دوسرے کا کام کی جگہ پر وقار کے تحفظ سے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ محتسب اور گورنر کی جانب سے درخواست گزار کو قصوروار ٹھہرانا قانون کے مطابق معقول اور دستیاب شواہد سے اخذ کردہ منطقی نتیجہ ہے۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں فورمز کے نتائج نہ تو ریکارڈ کے خلاف ہیں اور نہ ہی کسی قانونی سقم یا اختیاری خامی کا شکار ہیں، اس لیے عدالت کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274912</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:51:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2413301281e236a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2413301281e236a.webp"/>
        <media:title>لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عاصم حفیظ نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا—فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنید صفدر کی دوسری شادی کی تصدیق، تقریبات 16 تا 18 جنوری کو ہوں گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274906/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں حالیہ دنوں ایک اور بڑی شادی کی چہ مگوئیاں گردش کر رہی تھیں۔ افواہیں تھیں کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر، نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سابق رکنِ قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ افواہیں اس وقت درست ثابت ہو گئیں جب شیخ روحیل اصغر نے شادی کی تصدیق کرتے ہوئے آنے والی تقریبات کی تفصیلات بھی بتادیں، انہوں نے یہ انکشاف صحافی شازیہ ذیشان سے گفتگو میں کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1173976/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رشتے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے روحیل اصغر نے بتایا کہ ان کی پوتی شانزے، جنید صفدر کی بہن ماہ نور صفدر کی قریبی دوست ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا رہتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں علم نہیں کہ آیا ماہ نور نے اپنے بھائی کے رشتے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں، تاہم شانزے کی مریم نواز سے اکثر ملاقات رہتی تھی، غالباً اسی وجہ سے مریم نواز نے شانزے کے والد سے شادی کی بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب ان کے بیٹے نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے اللہ کی طرف سے نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ننھی بچی ایک بڑے اور معزز خاندان میں جا رہی ہے، اس لیے رشتہ قبول کر لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ روحیل اصغر کے مطابق وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد ان کے خاندان کو خود نواز شریف نے مدعو کیا، جنہیں انہوں نے ایک شفیق میزبان قرار دیا۔ اسی ملاقات میں شادی کی تاریخیں طے ہوئیں، جو 16، 17 اور 18 جنوری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مہندی اور ولیمہ شریف خاندان کی جانب سے جاتی امرا میں ہوگا جبکہ دلہن کے خاندان کی طرف سے استقبالیہ لاہور کے لیک سٹی گالف اینڈ کنٹری کلب میں دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1213516/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شیخ روحیل اصغر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شانزے گزشتہ تین ماہ میں شادی کرنے والی ان کی تیسری پوتی ہیں، اور انہیں توقع ہے کہ یہ ایک شاندار تقریب ہوگی جس میں تمام روایتی اہتمام ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جنید صفدر کی یہ دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021 میں سیف الرحمن، سابق چیئرمین نیب، کی صاحبزادی عائشہ سیف خان سے شادی کی تھی۔ وہ شادی خاصی پرتعیش تھی، جس میں لندن میں نکاح اور اس کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں ایک ہفتے سے زائد عرصے پر مشتمل چھ تقریبات شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جوڑا 2023 میں علیحدہ ہو گیا تھا اور جنید صفدر نے اسی سال اکتوبر میں انسٹاگرام کے ذریعے طلاق کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں حالیہ دنوں ایک اور بڑی شادی کی چہ مگوئیاں گردش کر رہی تھیں۔ افواہیں تھیں کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر، نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سابق رکنِ قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ افواہیں اس وقت درست ثابت ہو گئیں جب شیخ روحیل اصغر نے شادی کی تصدیق کرتے ہوئے آنے والی تقریبات کی تفصیلات بھی بتادیں، انہوں نے یہ انکشاف صحافی شازیہ ذیشان سے گفتگو میں کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1173976/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رشتے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے روحیل اصغر نے بتایا کہ ان کی پوتی شانزے، جنید صفدر کی بہن ماہ نور صفدر کی قریبی دوست ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا رہتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں علم نہیں کہ آیا ماہ نور نے اپنے بھائی کے رشتے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں، تاہم شانزے کی مریم نواز سے اکثر ملاقات رہتی تھی، غالباً اسی وجہ سے مریم نواز نے شانزے کے والد سے شادی کی بات کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب ان کے بیٹے نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے اللہ کی طرف سے نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ننھی بچی ایک بڑے اور معزز خاندان میں جا رہی ہے، اس لیے رشتہ قبول کر لینا چاہیے۔</p>
<p>شیخ روحیل اصغر کے مطابق وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد ان کے خاندان کو خود نواز شریف نے مدعو کیا، جنہیں انہوں نے ایک شفیق میزبان قرار دیا۔ اسی ملاقات میں شادی کی تاریخیں طے ہوئیں، جو 16، 17 اور 18 جنوری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مہندی اور ولیمہ شریف خاندان کی جانب سے جاتی امرا میں ہوگا جبکہ دلہن کے خاندان کی طرف سے استقبالیہ لاہور کے لیک سٹی گالف اینڈ کنٹری کلب میں دیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1213516/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شیخ روحیل اصغر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شانزے گزشتہ تین ماہ میں شادی کرنے والی ان کی تیسری پوتی ہیں، اور انہیں توقع ہے کہ یہ ایک شاندار تقریب ہوگی جس میں تمام روایتی اہتمام ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ جنید صفدر کی یہ دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021 میں سیف الرحمن، سابق چیئرمین نیب، کی صاحبزادی عائشہ سیف خان سے شادی کی تھی۔ وہ شادی خاصی پرتعیش تھی، جس میں لندن میں نکاح اور اس کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں ایک ہفتے سے زائد عرصے پر مشتمل چھ تقریبات شامل تھیں۔</p>
<p>یہ جوڑا 2023 میں علیحدہ ہو گیا تھا اور جنید صفدر نے اسی سال اکتوبر میں انسٹاگرام کے ذریعے طلاق کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274906</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 15:41:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/231533341b047ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="1350" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/231533341b047ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274901/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ آفس سے منگل کو جاری بیان میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک روز قبل عبوری حکم کے ذریعے نئے نافذ ہونے والے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 پر عمل درآمد معطل کر دیا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں تنازعات کے حل کی کمیٹیاں جائیداد سے متعلق معاملات نمٹانے کی مجاز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات 90 دن کے اندر حل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو دیرینہ ریلیف فراہم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلی بار زمین اور جائیداد کے مقدمات کے فیصلے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کرتا ہے، جو ماضی میں برسوں بلکہ نسلوں تک لٹکے رہتے تھے۔ انہوں نے اسے عام شہریوں کو بااثر لینڈ گریبرز اور مافیا سے تحفظ دینے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ جمہوری طور پر منتخب پنجاب اسمبلی نے یہ قانون عوام کو بااثر لینڈ مافیا کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس قانون کے ذریعے شہریوں کو اپنی قانونی ملکیت والی زمین اور جائیداد کے تحفظ کا اختیار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریم نواز نے کہا کہ یہ قانون شواہد پر مبنی اور جامع تھا، جس میں انتظامی اور قانونی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ کے مطابق اس معطلی سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ ہو گا اور عوام اسے ایسے عناصر کی سرپرستی کے طور پر دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ زمین اور جائیداد سے متعلق مقدمات میں دہائیوں تک حکمِ امتناع کے باعث پیش رفت رک جاتی ہے اور اصل مالکان کو انصاف نہیں مل پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ تو ان کے ذاتی فائدے کے لیے بنایا گیا تھا اور نہ ہی اس کی معطلی سے انہیں ذاتی طور پر کوئی نقصان پہنچے گا، بلکہ اصل نقصان غریبوں، بیواؤں، بے بس افراد اور دیگر محروم طبقات کو ہو گا، جو بالآخر انصاف ملنے کی امید کرنے لگے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگرچہ مریم نواز نے قانون کا دفاع کیا ہے، تاہم لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پیر کو سماعت کے دوران قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیے تھے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار ہوتا تو یہ لوگ آئین کو بھی معطل کر دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پوچھا تھا کہ جب کوئی معاملہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو کوئی ریونیو افسر کیسے جائیداد کا قبضہ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p>وزیراعلیٰ آفس سے منگل کو جاری بیان میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک روز قبل عبوری حکم کے ذریعے نئے نافذ ہونے والے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 پر عمل درآمد معطل کر دیا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں تنازعات کے حل کی کمیٹیاں جائیداد سے متعلق معاملات نمٹانے کی مجاز ہیں۔</p>
<p>یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات 90 دن کے اندر حل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس قانون کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو دیرینہ ریلیف فراہم کرنا تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلی بار زمین اور جائیداد کے مقدمات کے فیصلے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کرتا ہے، جو ماضی میں برسوں بلکہ نسلوں تک لٹکے رہتے تھے۔ انہوں نے اسے عام شہریوں کو بااثر لینڈ گریبرز اور مافیا سے تحفظ دینے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ جمہوری طور پر منتخب پنجاب اسمبلی نے یہ قانون عوام کو بااثر لینڈ مافیا کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے منظور کیا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق اس قانون کے ذریعے شہریوں کو اپنی قانونی ملکیت والی زمین اور جائیداد کے تحفظ کا اختیار دیا گیا۔</p>
<p>مریم نواز نے کہا کہ یہ قانون شواہد پر مبنی اور جامع تھا، جس میں انتظامی اور قانونی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ کے مطابق اس معطلی سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ ہو گا اور عوام اسے ایسے عناصر کی سرپرستی کے طور پر دیکھیں گے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ زمین اور جائیداد سے متعلق مقدمات میں دہائیوں تک حکمِ امتناع کے باعث پیش رفت رک جاتی ہے اور اصل مالکان کو انصاف نہیں مل پاتا۔</p>
<p>مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ تو ان کے ذاتی فائدے کے لیے بنایا گیا تھا اور نہ ہی اس کی معطلی سے انہیں ذاتی طور پر کوئی نقصان پہنچے گا، بلکہ اصل نقصان غریبوں، بیواؤں، بے بس افراد اور دیگر محروم طبقات کو ہو گا، جو بالآخر انصاف ملنے کی امید کرنے لگے تھے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔</p>
<p>دوسری جانب اگرچہ مریم نواز نے قانون کا دفاع کیا ہے، تاہم لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پیر کو سماعت کے دوران قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیے تھے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار ہوتا تو یہ لوگ آئین کو بھی معطل کر دیتے۔</p>
<p>قانون کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پوچھا تھا کہ جب کوئی معاملہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو کوئی ریونیو افسر کیسے جائیداد کا قبضہ دے سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274901</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 14:11:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/231408414ce2d13.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/231408414ce2d13.webp"/>
        <media:title>مریم نواز نے کہا کہ آرڈیننس کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی حملہ کیس: شاہ محمود قریشی بری، یاسمین راشد سمیت چار مرکزی رہنماؤں کو 10، 10 برس قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274874/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت  نے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کو9 مئی کے ایک مقدمے میں بری کردیا جبکہ دیگر چار رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو دس، دس سال قید کی سزا سنادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پی ٹی آئی رہنماؤں کو پہلے ہی پنجاب کی مختلف عدالتوں نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا تھا۔ اس دن پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں نے بانی عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور آگ لگا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل کے اندر فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 852/2023 میں مقدمہ نمٹا دیا، جو گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس-آئی کلب چوک کے داخلی گیٹ پر حملے سے متعلق تھا۔ ریس کورس پولیس نے مقدمہ درج کر کے 25 مشتبہ افراد، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن شامل تھے، کے خلاف چالان جمع کرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پانچواں مقدمہ ہے جس میں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر یاسمین، چیمہ، میاں محمود الرشید اور چوہدری کو سزا سنائی گئی، جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل فیصلے 9 مئی کے احتجاجات کے دوران شادمان پولیس اسٹیشن پر حملہ، شیرپاؤ پل پر تشدد، راحت بیکری کے قریب پولیس گاڑیوں کو آگ لگانا، اور جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ جج کی اسکواڈ گاڑی کو جلا دینے سے متعلق مقدمات میں سنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت  نے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کو9 مئی کے ایک مقدمے میں بری کردیا جبکہ دیگر چار رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو دس، دس سال قید کی سزا سنادی۔</p>
<p>ان پی ٹی آئی رہنماؤں کو پہلے ہی پنجاب کی مختلف عدالتوں نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا تھا۔ اس دن پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں نے بانی عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور آگ لگا دی تھی۔</p>
<p>جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل کے اندر فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 852/2023 میں مقدمہ نمٹا دیا، جو گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس-آئی کلب چوک کے داخلی گیٹ پر حملے سے متعلق تھا۔ ریس کورس پولیس نے مقدمہ درج کر کے 25 مشتبہ افراد، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن شامل تھے، کے خلاف چالان جمع کرایا تھا۔</p>
<p>یہ پانچواں مقدمہ ہے جس میں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر یاسمین، چیمہ، میاں محمود الرشید اور چوہدری کو سزا سنائی گئی، جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا۔</p>
<p>اس سے قبل فیصلے 9 مئی کے احتجاجات کے دوران شادمان پولیس اسٹیشن پر حملہ، شیرپاؤ پل پر تشدد، راحت بیکری کے قریب پولیس گاڑیوں کو آگ لگانا، اور جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ جج کی اسکواڈ گاڑی کو جلا دینے سے متعلق مقدمات میں سنائے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274874</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 16:24:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/191618090e570ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/191618090e570ab.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی کے مرکزی رہنما کو 35 سال قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274841/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ڈپٹی چیف ظہیرالحق حسن شاہ کو اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان  کے خلاف عوام کو اکسانے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا سنا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق لاہور پریس کلب کے باہر ہونے والے ایک اجتماع میں، جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی بھی موجود تھے، ظہیرالحق حسن شاہ نے ایسی تقاریر کیں جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد پر اکسانے کے مترادف تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قِلع گجر سنگھ پولیس نے 2024 میں اس عالمِ دین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جو مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تقریر سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر، جو اسٹیشن ہاؤس آفیسر حماد حسین کی مدعیت میں درج کی گئی، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6 (دہشت گردی)، 7 (دہشت گردی کی سزا) اور 11 ڈبلیو (نفرت انگیز مواد کی طباعت، اشاعت یا ترسیل یا کسی دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ شخص یا کالعدم/زیرِ نگرانی تنظیم کی تشہیر) کے تحت درج کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج ارشد جاوید نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور ملزم کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران استغاثہ نے الزامات کے حق میں 15 گواہان پیش کیے، ڈپٹی پراسیکیوٹر عبدالجبار ڈوگر نے قانون کے مطابق سزا کی استدعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مقصودالحق نے حتمی دلائل دیتے ہوئے عدالت سے اپنے موکل کی بریت کی درخواست کی، تاہم دفاع نے الزامات کی مکمل تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7(1)(b) کے تحت 10 سال قیدِ مشقت، جبکہ دفعات 7(g)، 21(L) اور 11(w) کے تحت پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 505، 117 اور 188 کے تحت بالترتیب سات سال، تین سال اور چھ ماہ قید کی الگ الگ سزائیں بھی دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی رہنما پر مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد کی کال کے بعد مختلف شہروں میں ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں اور علما کی جانب سے سخت مذمت بھی سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی عہدیداروں نے ’جھوٹ پھیلانے والوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ’ذاتی سیاسی مفادات‘ رکھنے والے عناصر مذہب کے نام پر ’خون اور تشدد‘ پھیلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں فیصلہ دیا، مگر متعلقہ عناصر اب بھی جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ کسی کے قتل کا فتویٰ دے۔ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو ریاست کی رِٹ ختم ہو جائے گی۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ معاشرے میں ایسی اشتعال انگیز تقاریر کے لیے ’کوئی گنجائش نہیں‘، اور ان کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایکس پر کہا تھا کہ ’ریاستِ پاکستان میں ایسی باتوں کی کوئی جگہ نہیں اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے اکتوبر میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مذہبی و سیاسی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی تھی، جو غزہ کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے چند دن بعد لگائی گئی۔ ان احتجاجات میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار جان سے گئے اور کراچی سے اسلام آباد تک اہم شاہراہیں اور شہر مفلوج ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ایل پی کی بنیاد 2015 میں ایک تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی، جو 2016 میں ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہوئی۔ اسے 2021 میں عمران خان کی حکومت کے دوران پرتشدد احتجاج کے بعد بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ڈپٹی چیف ظہیرالحق حسن شاہ کو اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان  کے خلاف عوام کو اکسانے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا سنا دی۔</p>
<p>عدالت کے مطابق لاہور پریس کلب کے باہر ہونے والے ایک اجتماع میں، جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی بھی موجود تھے، ظہیرالحق حسن شاہ نے ایسی تقاریر کیں جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد پر اکسانے کے مترادف تھیں۔</p>
<p>قِلع گجر سنگھ پولیس نے 2024 میں اس عالمِ دین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جو مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تقریر سے متعلق تھا۔</p>
<p>ایف آئی آر، جو اسٹیشن ہاؤس آفیسر حماد حسین کی مدعیت میں درج کی گئی، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6 (دہشت گردی)، 7 (دہشت گردی کی سزا) اور 11 ڈبلیو (نفرت انگیز مواد کی طباعت، اشاعت یا ترسیل یا کسی دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ شخص یا کالعدم/زیرِ نگرانی تنظیم کی تشہیر) کے تحت درج کی گئی تھی۔</p>
<p>جج ارشد جاوید نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور ملزم کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔</p>
<p>سماعت کے دوران استغاثہ نے الزامات کے حق میں 15 گواہان پیش کیے، ڈپٹی پراسیکیوٹر عبدالجبار ڈوگر نے قانون کے مطابق سزا کی استدعا کی۔</p>
<p>ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مقصودالحق نے حتمی دلائل دیتے ہوئے عدالت سے اپنے موکل کی بریت کی درخواست کی، تاہم دفاع نے الزامات کی مکمل تردید نہیں کی۔</p>
<p>عدالت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7(1)(b) کے تحت 10 سال قیدِ مشقت، جبکہ دفعات 7(g)، 21(L) اور 11(w) کے تحت پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔</p>
<p>اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 505، 117 اور 188 کے تحت بالترتیب سات سال، تین سال اور چھ ماہ قید کی الگ الگ سزائیں بھی دی گئیں۔</p>
<p>پارٹی رہنما پر مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔</p>
<p>چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد کی کال کے بعد مختلف شہروں میں ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں اور علما کی جانب سے سخت مذمت بھی سامنے آئی۔</p>
<p>حکومتی عہدیداروں نے ’جھوٹ پھیلانے والوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ’ذاتی سیاسی مفادات‘ رکھنے والے عناصر مذہب کے نام پر ’خون اور تشدد‘ پھیلا رہے ہیں۔</p>
<p>وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں فیصلہ دیا، مگر متعلقہ عناصر اب بھی جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ کسی کے قتل کا فتویٰ دے۔ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو ریاست کی رِٹ ختم ہو جائے گی۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ معاشرے میں ایسی اشتعال انگیز تقاریر کے لیے ’کوئی گنجائش نہیں‘، اور ان کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایکس پر کہا تھا کہ ’ریاستِ پاکستان میں ایسی باتوں کی کوئی جگہ نہیں اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘</p>
<p>واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے اکتوبر میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مذہبی و سیاسی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی تھی، جو غزہ کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے چند دن بعد لگائی گئی۔ ان احتجاجات میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار جان سے گئے اور کراچی سے اسلام آباد تک اہم شاہراہیں اور شہر مفلوج ہو گئے تھے۔</p>
<p>ٹی ایل پی کی بنیاد 2015 میں ایک تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی، جو 2016 میں ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہوئی۔ اسے 2021 میں عمران خان کی حکومت کے دوران پرتشدد احتجاج کے بعد بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274841</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 12:22:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1612215015df0c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1612215015df0c5.webp"/>
        <media:title>جج ارشد جاوید نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور ملزم کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری، مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274744/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہوگیا، چوری کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوری کی واردات ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کے چیمبر میں پیش آئی، سیب اور ہینڈ واش چوری کا مقدمہ تھانہ اسلام پورہ میں درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوری کی واردات کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں کہا گیا ہے کہ جج نور محمد بسمل کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہوا،  اسلام پورہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt; مقدمہ عدالت کے ملازم حبیب الرحمٰن کے بیان پر درج کیا گیا ہے، اور چور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہوگیا، چوری کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔</p>
<p>چوری کی واردات ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کے چیمبر میں پیش آئی، سیب اور ہینڈ واش چوری کا مقدمہ تھانہ اسلام پورہ میں درج کیا گیا ہے۔</p>
<p>چوری کی واردات کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں کہا گیا ہے کہ جج نور محمد بسمل کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہوا،  اسلام پورہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا۔</p>
<p> مقدمہ عدالت کے ملازم حبیب الرحمٰن کے بیان پر درج کیا گیا ہے، اور چور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274744</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 10:57:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09105544c7cec38.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09105544c7cec38.webp"/>
        <media:title>اسلام پورہ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کرتے ہوئے چور کی تلاش شروع کر دی۔
—فائل فوٹو: آئی اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاتی امرا میں شریف خاندان کی بیٹھک، تحریک انصاف کے مستقبل پر غور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274716/</link>
      <description>&lt;p&gt;شریف خاندان نے جاتی امرا میں اتوار کے روز اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال، خصوصاً اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل اور پنجاب کی انتظامیہ میں ممکنہ تبدیلیوں پر مشاورت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959872"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حکمران خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274707/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں پی ٹی آئی کی آئندہ چند دنوں میں ممکنہ حکمتِ عملی اور وفاقی و پنجاب حکومتوں کے مؤثر جواب پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کا محور یہ سوال بھی تھا کہ عمران خان کی اپنی جماعت میں موجودہ حیثیت کیا ہے، اور آیا پی ٹی آئی قیادت اپنے قید بانی کی رہنمائی پر انحصار جاری رکھے گی یا پھر سابق وزیرِاعظم کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے اب تک کے سخت ترین ردعمل کے بعد خود کو ان سے دور کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف خاندان نے مختلف سیاسی اور معاشی اقدامات کے بارے میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کا جائزہ لیا، جو مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں اختیار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، مریم نواز نے پنجاب کابینہ کی حال ہی میں تیار کی گئی کارکردگی رپورٹ پر اپنے والد اور چچا کو بریفنگ دی، جس میں آڈٹ کے ذریعے سامنے آنے والی نمایاں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنی کابینہ میں ردوبدل اور نئے وزرا کی شمولیت کے ذریعے حکومت کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے اپنے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شریف خاندان نے جاتی امرا میں اتوار کے روز اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال، خصوصاً اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل اور پنجاب کی انتظامیہ میں ممکنہ تبدیلیوں پر مشاورت کی جا سکے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1959872"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حکمران خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274707/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>2 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں پی ٹی آئی کی آئندہ چند دنوں میں ممکنہ حکمتِ عملی اور وفاقی و پنجاب حکومتوں کے مؤثر جواب پر غور کیا گیا۔</p>
<p>گفتگو کا محور یہ سوال بھی تھا کہ عمران خان کی اپنی جماعت میں موجودہ حیثیت کیا ہے، اور آیا پی ٹی آئی قیادت اپنے قید بانی کی رہنمائی پر انحصار جاری رکھے گی یا پھر سابق وزیرِاعظم کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے اب تک کے سخت ترین ردعمل کے بعد خود کو ان سے دور کرے گی۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف خاندان نے مختلف سیاسی اور معاشی اقدامات کے بارے میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کا جائزہ لیا، جو مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں اختیار کر رہی ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، مریم نواز نے پنجاب کابینہ کی حال ہی میں تیار کی گئی کارکردگی رپورٹ پر اپنے والد اور چچا کو بریفنگ دی، جس میں آڈٹ کے ذریعے سامنے آنے والی نمایاں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنی کابینہ میں ردوبدل اور نئے وزرا کی شمولیت کے ذریعے حکومت کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے اپنے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274716</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 11:50:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد محمود)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/08105936fc8f3e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/08105936fc8f3e2.webp"/>
        <media:title>وزیراعلیٰ ُپنجاب نے کابینہ میں ردوبدل کے ذریعے کارکردگی بہتر بنانے کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔ —فائل فوٹو: اے ایف پی/ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: سول جج سید جہانزیب بخاری نے عہدے سے استعفی دے دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274613/</link>
      <description>&lt;p&gt;سول جج سید جہانزیب بخاری نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا، استعفی کی کاپی ڈان نیوز کو موصول ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول جج سید جہانزیب بخاری  نے اپنے  عہدے  سے استعفی دے دیا، استعفی میں انہوں نے لکھا کہ  26 اور 27 ویں ترمیم کی وجہ سے عہدے سے استعفی دے رہا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید لکھا کہ  میں وہ آخری شخص ہوں گا جو آمریت کو سپورٹ کروں گا، اعلی عدلیہ ملک کے لیے کبھی باعث فخر نہیں بنی،ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر انصاف کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا سول جج سید جہانزیب بخاری  کے استعفی پر لاہور ہائیکورٹ کا ردعمل آگیا، ترجمان لاہور ہائیکور ٹ کا کہنا ہے کہ سول جج سید جہانزیب بخاری نے مسلسل غیر حاضری پر محکمانہ و انضباطی کارروائی کے بعد استعفی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ سول جج سید جہانزیب بخاری اپنی ڈیوٹی سے مسلسل دانستہ طور پر غیر حاضر رہے، جج کی طویل غیر حاضری اور ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر انضباطی کاروائی شروع کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق انتظامی کمیٹی کارروائی کے فیصلے کے بعد  سول جج نے مبینہ استعفی سوشل میڈیا پر جاری کیا،  ہائیکورٹ میں استعفی تاحال موصول نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سول جج سید جہانزیب بخاری نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا، استعفی کی کاپی ڈان نیوز کو موصول ہوگئی۔</p>
<p>سول جج سید جہانزیب بخاری  نے اپنے  عہدے  سے استعفی دے دیا، استعفی میں انہوں نے لکھا کہ  26 اور 27 ویں ترمیم کی وجہ سے عہدے سے استعفی دے رہا ہوں۔</p>
<p>انہوں نے مزید لکھا کہ  میں وہ آخری شخص ہوں گا جو آمریت کو سپورٹ کروں گا، اعلی عدلیہ ملک کے لیے کبھی باعث فخر نہیں بنی،ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر انصاف کرے۔</p>
<p>دریں اثنا سول جج سید جہانزیب بخاری  کے استعفی پر لاہور ہائیکورٹ کا ردعمل آگیا، ترجمان لاہور ہائیکور ٹ کا کہنا ہے کہ سول جج سید جہانزیب بخاری نے مسلسل غیر حاضری پر محکمانہ و انضباطی کارروائی کے بعد استعفی دیا۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ سول جج سید جہانزیب بخاری اپنی ڈیوٹی سے مسلسل دانستہ طور پر غیر حاضر رہے، جج کی طویل غیر حاضری اور ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر انضباطی کاروائی شروع کی گئی۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق انتظامی کمیٹی کارروائی کے فیصلے کے بعد  سول جج نے مبینہ استعفی سوشل میڈیا پر جاری کیا،  ہائیکورٹ میں استعفی تاحال موصول نہیں ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274613</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 19:04:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/031903534d978b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/031903534d978b8.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لیکر لے پالک والدین کو دینے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274593/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی کے کیس میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی حوالگی کے کیس میں انکی خواہش اور زہنی کیفیت کو مقدم رکھاجائے،عدالت نے 13سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لیکر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان نے سید ارشد علی کی درخواست پر 8صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے لے پالک والدین سے بچے کی حوالگی حقیقی والدین کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بچے کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے، موجودہ کیس میں بچے نے لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا، عدالت نے ایک ہفتے کے لیے بچے  کو حقیقی والدین کے ساتھ بھیجا لیکن بچے نے دو بارہ پیشی پر پھر لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی کے کیس میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی حوالگی کے کیس میں انکی خواہش اور زہنی کیفیت کو مقدم رکھاجائے،عدالت نے 13سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لیکر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان نے سید ارشد علی کی درخواست پر 8صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔</p>
<p>عدالت نے لے پالک والدین سے بچے کی حوالگی حقیقی والدین کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔</p>
<p>عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بچے کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے، موجودہ کیس میں بچے نے لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا، عدالت نے ایک ہفتے کے لیے بچے  کو حقیقی والدین کے ساتھ بھیجا لیکن بچے نے دو بارہ پیشی پر پھر لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا۔</p>
<p>عدالت نے بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274593</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 13:09:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/031309363536a5a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/031309363536a5a.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو کم عمر ڈرائیور بچوں کو فوری گرفتار کرنے سے روک دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274567/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی  پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کم عمر ڈرائیور بچوں کو فوری گرفتار کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کم عمر بچوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرنے کا نوٹس لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ کم عمر ڈرائیور بچوں سے متعلق پہلے آگاہی مہم چلائی جائے جب کہ پہلی مرتبہ کم عمر موٹر سائیکل  اور گاڑی چلانے والے بچوں کو وارننگ دی جائے، غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف ٹریفک آفیسر گوجرانولہ کے خصوصی احکامات پر ٹریفک قوانین کے نفاذ اور کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشہرہ ورکاں کے مختلف مقامات اور مرکزی چوک پر ٹریفک وارڈنز نے ناکے لگا کر کم عمر ڈرائیوروں اور بغیر ہیلمٹ سواروں کے خلاف کارروائیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بغیر لائسنس، بغیر ہیلمٹ اور کم عمر ڈرائیونگ پر درجنوں موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کیا گیا جب کہ متعدد موٹر سائیکلیں تحویل میں لے لی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وارڈنز نے واضح کیا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ والدین کی غفلت بھی حادثات کی بڑی وجہ بنتی ہے، کارروائی کے بعد تھانہ نوشہرہ ورکاں کے باہر والدین اور عوام کا ہجوم دیکھنے میں آیا، جہاں شہری اپنے کم عمر ڈرائیور بچوں اور موٹر سائیکلیں چھڑوانے کے لیے پولیس سے درخواستیں کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک وارڈنز کے مطابق یہ مہم شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہے اور والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ کم عمر بچوں کو ہرگز موٹر سائیکل نہ دیں خلاف ورزی کی صورت میں کم عمر ڈرائیوروں کے والدین کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی  پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کم عمر ڈرائیور بچوں کو فوری گرفتار کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کم عمر بچوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرنے کا نوٹس لے لیا۔</p>
<p>چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ کم عمر ڈرائیور بچوں سے متعلق پہلے آگاہی مہم چلائی جائے جب کہ پہلی مرتبہ کم عمر موٹر سائیکل  اور گاڑی چلانے والے بچوں کو وارننگ دی جائے، غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف ٹریفک آفیسر گوجرانولہ کے خصوصی احکامات پر ٹریفک قوانین کے نفاذ اور کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہوا۔</p>
<p>نوشہرہ ورکاں کے مختلف مقامات اور مرکزی چوک پر ٹریفک وارڈنز نے ناکے لگا کر کم عمر ڈرائیوروں اور بغیر ہیلمٹ سواروں کے خلاف کارروائیاں کیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بغیر لائسنس، بغیر ہیلمٹ اور کم عمر ڈرائیونگ پر درجنوں موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کیا گیا جب کہ متعدد موٹر سائیکلیں تحویل میں لے لی گئیں۔</p>
<p>وارڈنز نے واضح کیا ہے کہ کم عمر ڈرائیونگ نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ والدین کی غفلت بھی حادثات کی بڑی وجہ بنتی ہے، کارروائی کے بعد تھانہ نوشہرہ ورکاں کے باہر والدین اور عوام کا ہجوم دیکھنے میں آیا، جہاں شہری اپنے کم عمر ڈرائیور بچوں اور موٹر سائیکلیں چھڑوانے کے لیے پولیس سے درخواستیں کرتے رہے۔</p>
<p>ٹریفک وارڈنز کے مطابق یہ مہم شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہے اور والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ کم عمر بچوں کو ہرگز موٹر سائیکل نہ دیں خلاف ورزی کی صورت میں کم عمر ڈرائیوروں کے والدین کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274567</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 16:27:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/021611093846766.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/021611093846766.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکمل دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو سفر سے نہیں روکا جارہا، محسن نقوی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274555/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایسے مسافروں کو جن کے پاس مکمل دستاویزات ہوں، سفر سے نہیں روکا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نیوز چینل پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منگل کو لاہور ایئرپورٹ کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ ’کوئی بھی مسافر جس کے پاس مکمل سفری دستاویزات ہیں، اسے سفر سے نہیں روکا جا رہا اور نہ ہی روکا جائے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’نامکمل یا جعلی دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو یقیناً سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کی یقین دہانی اور انتباہ حالیہ رپورٹس کے بعد آئے ہیں، جن میں بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو ایئرپورٹس پر بلاجواز آف لوڈ کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، ان رپورٹس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وضاحت کی تھی کہ صرف وہ مسافر جن کے پاس مکمل اور درست دستاویزات نہیں ہیں، انہیں سفر سے روکا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274516/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ نے بھی اسی نوعیت کے بیانات دیے ہیں کہ صرف انہی مسافروں کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی  جن کے پاس اصلی اور مکمل دستاویزات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی نیوز کے مطابق دورہ لاہور ایئرپورٹ کے دوران  یہی بات دہرائی کہ ’ملک کی بدنامی کا سبب بننے والے کسی بھی مسافر کو سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ وزیرِ داخلہ نے امیگریشن کے عمل کا بھی جائزہ لیا اور امیگریشن کاؤنٹرز پر مسافروں کے سفری ریکارڈز کو ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے منسلک کرنے کے نظام کا معائنہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی نیوز کے مطابق، انہوں نے فاسٹ ٹریک سسٹم پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر علی ضیا اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو پر سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، انہوں نے بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانی مسافروں کے لیے مخصوص امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور مسافروں سے پوچھا کہ امیگریشن کا عمل کتنا وقت لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، مسافروں نے امیگریشن کے عمل سے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل صرف دو منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں کئی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں مسافروں کو ایئرپورٹس پر اتار دیا گیا، باوجود اس کے کہ ان کے پاس درست سفری دستاویزات تھیں، یہ اقدامات گزشتہ سال کے یونان میں کشتی سانحے کے بعد غیر قانونی تارکینِ وطن کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کیے گئے تھے، جس میں کئی پاکستانی جان بحق ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا کہ پورے ملک میں روزانہ صرف 50 سے 70 افراد کو اتارا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ نے دوبارہ واضح کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے کچھ غفلت ہو سکتی ہے، لیکن وہ مسافر جن کے پاس تمام ضروری دستاویزات ہیں، انہیں بیرونِ ملک جانے سے نہیں روکا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بوگس دستاویزات رکھنے والے مسافروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے کیونکہ ہم اپنے پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایسے مسافروں کو جن کے پاس مکمل دستاویزات ہوں، سفر سے نہیں روکا جا رہا۔</p>
<p>سرکاری نیوز چینل پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منگل کو لاہور ایئرپورٹ کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ ’کوئی بھی مسافر جس کے پاس مکمل سفری دستاویزات ہیں، اسے سفر سے نہیں روکا جا رہا اور نہ ہی روکا جائے گا‘۔</p>
<p>ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’نامکمل یا جعلی دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو یقیناً سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔</p>
<p>محسن نقوی کی یقین دہانی اور انتباہ حالیہ رپورٹس کے بعد آئے ہیں، جن میں بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو ایئرپورٹس پر بلاجواز آف لوڈ کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، ان رپورٹس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وضاحت کی تھی کہ صرف وہ مسافر جن کے پاس مکمل اور درست دستاویزات نہیں ہیں، انہیں سفر سے روکا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274516/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِ داخلہ نے بھی اسی نوعیت کے بیانات دیے ہیں کہ صرف انہی مسافروں کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی  جن کے پاس اصلی اور مکمل دستاویزات نہیں ہیں۔</p>
<p>پی ٹی وی نیوز کے مطابق دورہ لاہور ایئرپورٹ کے دوران  یہی بات دہرائی کہ ’ملک کی بدنامی کا سبب بننے والے کسی بھی مسافر کو سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔</p>
<p>سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ وزیرِ داخلہ نے امیگریشن کے عمل کا بھی جائزہ لیا اور امیگریشن کاؤنٹرز پر مسافروں کے سفری ریکارڈز کو ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے منسلک کرنے کے نظام کا معائنہ کیا۔</p>
<p>پی ٹی وی نیوز کے مطابق، انہوں نے فاسٹ ٹریک سسٹم پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر علی ضیا اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو پر سراہا۔</p>
<p>مزید برآں، انہوں نے بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانی مسافروں کے لیے مخصوص امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور مسافروں سے پوچھا کہ امیگریشن کا عمل کتنا وقت لیتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، مسافروں نے امیگریشن کے عمل سے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل صرف دو منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں کئی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں مسافروں کو ایئرپورٹس پر اتار دیا گیا، باوجود اس کے کہ ان کے پاس درست سفری دستاویزات تھیں، یہ اقدامات گزشتہ سال کے یونان میں کشتی سانحے کے بعد غیر قانونی تارکینِ وطن کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کیے گئے تھے، جس میں کئی پاکستانی جان بحق ہوئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا کہ پورے ملک میں روزانہ صرف 50 سے 70 افراد کو اتارا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزیرِ داخلہ نے دوبارہ واضح کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے کچھ غفلت ہو سکتی ہے، لیکن وہ مسافر جن کے پاس تمام ضروری دستاویزات ہیں، انہیں بیرونِ ملک جانے سے نہیں روکا جا رہا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بوگس دستاویزات رکھنے والے مسافروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے کیونکہ ہم اپنے پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274555</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 13:06:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0213034270f1712.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0213034270f1712.webp"/>
        <media:title>— اسکرین گریب: پی ٹی وی نیوز آفیشل ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: سی سی ڈی کا مبینہ مقابلوں میں 6 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274550/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ مقابلوں میں 6 منشیات فروش اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی ڈی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی سی ڈی کے صدر، کاہنہ، سول لائنز، کینٹ اور اقبال ٹاون میں منشیات فروش ملزمان سے مقابلے ہوئے، اس دوران ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منشیات فروشوں کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران آصف، محسن فرید، فاروق، رمضان ڈوگر اور وسیم نامی ملزمان مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزمان منشیات فروش تھے، اور اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سےمارے گئے، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جولائی میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مقابلوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ایک دن میں جعلی مقابلوں کی 50، 50 درخواستیں آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ میں سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار فرحت بی بی کی پٹیشن پر سماعت کی تھی، عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پیش ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سی سی ڈی کے آنے کے بعد ایک ہی طرز کے پولیس مقابلے ہورہے ہیں، درخواست گزار کا ایک بیٹا تو مارا گیا، دوسرے کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا تھا کہ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ریکوری کے بعد ملزم کو لے جاتے ہوئے گاڑی پنکچر ہوئی تو ساتھیوں نے حملہ کردیا، آئی جی کو اس لیے بلایا گیا کہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) عدالت کو مطمئن نہیں کر سکا، اب جب پولیس کی رپورٹ آئی ہے تو سارا کیس مختلف نکلا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ مقابلوں میں 6 منشیات فروش اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>سی سی ڈی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی سی ڈی کے صدر، کاہنہ، سول لائنز، کینٹ اور اقبال ٹاون میں منشیات فروش ملزمان سے مقابلے ہوئے، اس دوران ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>منشیات فروشوں کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران آصف، محسن فرید، فاروق، رمضان ڈوگر اور وسیم نامی ملزمان مارے گئے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزمان منشیات فروش تھے، اور اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سےمارے گئے، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جولائی میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مقابلوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ایک دن میں جعلی مقابلوں کی 50، 50 درخواستیں آرہی ہیں۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ میں سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار فرحت بی بی کی پٹیشن پر سماعت کی تھی، عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پیش ہوئے تھے۔</p>
<p>درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سی سی ڈی کے آنے کے بعد ایک ہی طرز کے پولیس مقابلے ہورہے ہیں، درخواست گزار کا ایک بیٹا تو مارا گیا، دوسرے کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا تھا کہ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ریکوری کے بعد ملزم کو لے جاتے ہوئے گاڑی پنکچر ہوئی تو ساتھیوں نے حملہ کردیا، آئی جی کو اس لیے بلایا گیا کہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) عدالت کو مطمئن نہیں کر سکا، اب جب پولیس کی رپورٹ آئی ہے تو سارا کیس مختلف نکلا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274550</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 12:06:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم ریاضویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/02120235aa31bc7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/02120235aa31bc7.webp"/>
        <media:title>مبینہ مقابلوں میں آصف، محسن فرید، فاروق، رمضان ڈوگر اور وسیم نامی منشیات فروش مارے گئے۔ — فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں 32 سالہ نوجوان کا اغوا کے بعد قتل کا ڈراپ سین ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274524/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں 32 سالہ عقیدت علی کے اغوا اور قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے، پولیس نے مقتول کے قریبی دوست ریٹائرڈ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کو گرفتار کر کے لاش برآمد کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لاہور میں 32 سالہ نوجوان کا قاتل مغوی کا دوست ریٹائرڈ اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل نکلا، دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی جس کا انجام خطرناک نکلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;32 سالہ عقیدت علی 7 نومبر کو اغوا ہوا تو پولیس نے تفتیش شروع کی اور پھر مختلف پہلوؤں پر ہونے والی تفتیش اور پھر فون کالز کا ڈیٹا پولیس کو ملزم تک لے گیا جو مقتول کا قریبی دوست ارشد ورائچ نکلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے اپنے ہی دوست کو گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر لاش کھیتوں میں پھینک دی، تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے لاش برآمد کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم سابق اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل ہے، دونوں کے درمیان گزشتہ دو برس سے دوستی تھی، گرفتار ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے اور اگر واردات میں کوئی اور شخص ملوث پایا گیا تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے ابتدائی بیان میں انکشاف کیا کہ وہ بدنامی کے خدشے کے باعث قتل پر مجبور ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں 32 سالہ عقیدت علی کے اغوا اور قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے، پولیس نے مقتول کے قریبی دوست ریٹائرڈ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کو گرفتار کر کے لاش برآمد کرلی ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لاہور میں 32 سالہ نوجوان کا قاتل مغوی کا دوست ریٹائرڈ اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل نکلا، دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی جس کا انجام خطرناک نکلا۔</p>
<p>32 سالہ عقیدت علی 7 نومبر کو اغوا ہوا تو پولیس نے تفتیش شروع کی اور پھر مختلف پہلوؤں پر ہونے والی تفتیش اور پھر فون کالز کا ڈیٹا پولیس کو ملزم تک لے گیا جو مقتول کا قریبی دوست ارشد ورائچ نکلا۔</p>
<p>ملزم نے اپنے ہی دوست کو گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر لاش کھیتوں میں پھینک دی، تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے لاش برآمد کر لی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم سابق اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل ہے، دونوں کے درمیان گزشتہ دو برس سے دوستی تھی، گرفتار ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے اور اگر واردات میں کوئی اور شخص ملوث پایا گیا تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p>ملزم نے ابتدائی بیان میں انکشاف کیا کہ وہ بدنامی کے خدشے کے باعث قتل پر مجبور ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274524</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 17:12:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/01171157934d6b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/01171157934d6b0.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بینک اکاؤنٹس کی اکثریت فعال ہے‘، شوکت خانم ٹرسٹ کا وضاحتی بیان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274453/</link>
      <description>&lt;p&gt;شوکت خانم میموریل ٹرسٹ (ایس کے ایم ٹی)  کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی رپورٹس اور عطیات نہ پہنچنے کی شکایات سامنے آنے کے بعد ادارے نے وضاحت کی ہے کہ اس کے بیشتر بینک اکاؤنٹس مکمل طور پر فعال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹس مبینہ طور پر بند کیے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیرِ بحث رہا اور کچھ لوگوں نے اس سے مریضوں کے متاثر ہونے پر اپنے تشویش کا بھی اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایس کے ایم ٹی نے عطیہ دہندگان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بینک اکاؤنٹس کو بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور مریضوں کو ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SKMCH/status/1994774779224539388?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1994774779224539388%7Ctwgr%5E5da572098feebe754ab4d4a3812b39c3533b4044%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958171'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SKMCH/status/1994774779224539388?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1994774779224539388%7Ctwgr%5E5da572098feebe754ab4d4a3812b39c3533b4044%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958171"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ہم اپنے عطیہ دہندگان اور حمایتیوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے بینک اکاؤنٹس کی بھاری اکثریت مکمل طور پر فعال ہے اور ہمیں عطیات بغیر کسی رکاوٹ کے وصول ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے چند اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور ہم انہیں جلد از جلد ختم کرانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ یہ پابندیاں جلد ہٹا دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرسٹ نے مزید تصدیق کی کہ مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کی تمام خدمات بلا تعطل جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شوکت خانم میموریل ٹرسٹ (ایس کے ایم ٹی)  کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی رپورٹس اور عطیات نہ پہنچنے کی شکایات سامنے آنے کے بعد ادارے نے وضاحت کی ہے کہ اس کے بیشتر بینک اکاؤنٹس مکمل طور پر فعال ہیں۔</p>
<p>ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹس مبینہ طور پر بند کیے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیرِ بحث رہا اور کچھ لوگوں نے اس سے مریضوں کے متاثر ہونے پر اپنے تشویش کا بھی اظہار کیا۔</p>
<p>تاہم ایس کے ایم ٹی نے عطیہ دہندگان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بینک اکاؤنٹس کو بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور مریضوں کو ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SKMCH/status/1994774779224539388?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1994774779224539388%7Ctwgr%5E5da572098feebe754ab4d4a3812b39c3533b4044%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958171'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SKMCH/status/1994774779224539388?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1994774779224539388%7Ctwgr%5E5da572098feebe754ab4d4a3812b39c3533b4044%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958171"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ہم اپنے عطیہ دہندگان اور حمایتیوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے بینک اکاؤنٹس کی بھاری اکثریت مکمل طور پر فعال ہے اور ہمیں عطیات بغیر کسی رکاوٹ کے وصول ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ہمارے چند اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور ہم انہیں جلد از جلد ختم کرانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ یہ پابندیاں جلد ہٹا دی جائیں گی۔</p>
<p>ٹرسٹ نے مزید تصدیق کی کہ مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کی تمام خدمات بلا تعطل جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274453</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 23:33:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29230512856fc84.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29230512856fc84.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ ختم، محمد وسیم نے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کر لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274429/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں 4 روز تک جاری رہنے والی انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ اختتام پذیر ہوگئی، پاکستانی باکسر محمد وسیم نے ٹائٹل کا دفاع کامیابی سے کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی باکسرز کے دلچسپ مقابلے دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لاہور میں 4 روزہ انٹرنیشنل باکسنگ میلے میں مجموعی طور پر 21 فائٹس ہوئیں، جس میں 15 ممالک سے 44 باکسرز نے ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقد چیمپیئن شپ میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری روز ’فائٹ فار گلوری‘ کے نام سے  ڈبلیو بی اے گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل کے لیے قومی باکسر محمد وسیم اور تھائی باکسر جکراوت کے درمیان زور کا جوڑ پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 راؤنڈز تک جاری رہنے والی فائٹ میں محمد وسیم فاتح قرار پائے، جیت کے بعد محمد وسیم نے کہا سپورٹ کرنے پر عوام کا مشکور ہوں، انہوں نے پاک آرمی اور حکومت پنجاب کا بھی شکریہ ادا کیا، غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاک آرمی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر معمولی سیکورٹی فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/boxingkingmedia/status/1994533205798703512'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/boxingkingmedia/status/1994533205798703512"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، چیمپئن شپ میں حصہ لینے کے لیے 15 ممالک کے 44 باکسرز 20 نومبر سے 23 نومبر تک مختلف اوقات میں پاکستان پہنچے تھے، جن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’فائٹ فار گلوری‘ کے مقابلوں کیساتھ ساتھ باکسنگ کنونشن کا انعقاد بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’فائٹ فار گلوری‘ چیمپئن شپ حکومتِ پنجاب، لاہور کور اور فوجی فاونڈیشن کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں جرمنی، تھائی لینڈ، نیدرلینڈز اور پاکستانی باکسر سمیت 4 باکسرز آپس میں مد مقابل ہوئے، 26 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاندار مقابلوں میں فتح یاب ہونے والے باکسرز میں پاکستان کے عاصم زمان اور جرمنی کی زینا نصر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں برطانیہ، گھانا، ڈومینیکن ریپبلک، امریکا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 14 باکسرز مد مقابل ہوئے، کانٹے دار مقابلے میں برطانیہ کے ٹام ڈئرنگ، ڈومینیکن ریپبلک کے یرمی پرالٹا، پاکستان کے محمد وقاص اور جہانگیر خان، امریکا کے سٹیو جیفرارڈ، برطانوی باکسرز عماد نصیب اور رضا حمزہ فتح یاب رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 نومبر کو ہونے والے مقابلے دیکھنے کے لیے چیف سیکریٹری پنجاب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، امریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ارجنٹینا، فلپائن، برطانیہ، نائیجیریا اور بنگلہ دیش کے 12 باکسرز مد مقابل ہوئے، فتح یاب ہونے والے باکسرز میں برطانیہ کے کانر مسٹیاڈز، جیمز مید کاف اور ساحر اقبال، ارجنٹینا کے البرٹو پالمیٹا، امریکہ کے لارنس نیوٹن اور ساؤتھ کوریا کے یےکم سرفہرت رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 نومبر کے مقابلوں کو دیکھنے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج 29 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں پاکستان، تھائی لینڈ، برطانیہ، مراکش، فرانس، میکسیکو اور امریکا سے 12 ملکوں کے باکسرز مد مقابل ہوں گے، 29 نومبر کو سب سے اہم مقابلہ پاکستانی فالکن باکسر وسیم اور حریف کھلاڑی کے درمیان ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں 4 روز تک جاری رہنے والی انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ اختتام پذیر ہوگئی، پاکستانی باکسر محمد وسیم نے ٹائٹل کا دفاع کامیابی سے کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی باکسرز کے دلچسپ مقابلے دیکھے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لاہور میں 4 روزہ انٹرنیشنل باکسنگ میلے میں مجموعی طور پر 21 فائٹس ہوئیں، جس میں 15 ممالک سے 44 باکسرز نے ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقد چیمپیئن شپ میں شرکت کی۔</p>
<p>آخری روز ’فائٹ فار گلوری‘ کے نام سے  ڈبلیو بی اے گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل کے لیے قومی باکسر محمد وسیم اور تھائی باکسر جکراوت کے درمیان زور کا جوڑ پڑا۔</p>
<p>12 راؤنڈز تک جاری رہنے والی فائٹ میں محمد وسیم فاتح قرار پائے، جیت کے بعد محمد وسیم نے کہا سپورٹ کرنے پر عوام کا مشکور ہوں، انہوں نے پاک آرمی اور حکومت پنجاب کا بھی شکریہ ادا کیا، غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاک آرمی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر معمولی سیکورٹی فراہم کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/boxingkingmedia/status/1994533205798703512'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/boxingkingmedia/status/1994533205798703512"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں، چیمپئن شپ میں حصہ لینے کے لیے 15 ممالک کے 44 باکسرز 20 نومبر سے 23 نومبر تک مختلف اوقات میں پاکستان پہنچے تھے، جن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔</p>
<p>’فائٹ فار گلوری‘ کے مقابلوں کیساتھ ساتھ باکسنگ کنونشن کا انعقاد بھی کیا گیا۔</p>
<p>’فائٹ فار گلوری‘ چیمپئن شپ حکومتِ پنجاب، لاہور کور اور فوجی فاونڈیشن کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔</p>
<p>26 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں جرمنی، تھائی لینڈ، نیدرلینڈز اور پاکستانی باکسر سمیت 4 باکسرز آپس میں مد مقابل ہوئے، 26 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔</p>
<p>شاندار مقابلوں میں فتح یاب ہونے والے باکسرز میں پاکستان کے عاصم زمان اور جرمنی کی زینا نصر شامل ہیں۔</p>
<p>27 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں برطانیہ، گھانا، ڈومینیکن ریپبلک، امریکا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 14 باکسرز مد مقابل ہوئے، کانٹے دار مقابلے میں برطانیہ کے ٹام ڈئرنگ، ڈومینیکن ریپبلک کے یرمی پرالٹا، پاکستان کے محمد وقاص اور جہانگیر خان، امریکا کے سٹیو جیفرارڈ، برطانوی باکسرز عماد نصیب اور رضا حمزہ فتح یاب رہے۔</p>
<p>27 نومبر کو ہونے والے مقابلے دیکھنے کے لیے چیف سیکریٹری پنجاب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔</p>
<p>28 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، امریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ارجنٹینا، فلپائن، برطانیہ، نائیجیریا اور بنگلہ دیش کے 12 باکسرز مد مقابل ہوئے، فتح یاب ہونے والے باکسرز میں برطانیہ کے کانر مسٹیاڈز، جیمز مید کاف اور ساحر اقبال، ارجنٹینا کے البرٹو پالمیٹا، امریکہ کے لارنس نیوٹن اور ساؤتھ کوریا کے یےکم سرفہرت رہے۔</p>
<p>28 نومبر کے مقابلوں کو دیکھنے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی۔</p>
<p>آج 29 نومبر کو ہونے والے مقابلوں میں پاکستان، تھائی لینڈ، برطانیہ، مراکش، فرانس، میکسیکو اور امریکا سے 12 ملکوں کے باکسرز مد مقابل ہوں گے، 29 نومبر کو سب سے اہم مقابلہ پاکستانی فالکن باکسر وسیم اور حریف کھلاڑی کے درمیان ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274429</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 22:12:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2920550527f6267.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2920550527f6267.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/291255501c9ac4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/291255501c9ac4c.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی، اسرائیل اور بھارت کیساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے، احسن اقبال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274421/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر احسن اقبال نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ملک دشمن اس وقت ایک پیج پر ہیں، امریکا میں پاکستان کے خلاف قرارداد منظور کروانا کونسی حب الوطنی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں گرین پروڈکٹیوٹی کانفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی، اسرائیل اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1248054'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248054"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ طرز سیاست ملک دشمنی ہے، ماضی میں پیپلز پارٹی ضیاالحق اور ہم نے مشرف کی آمریت برداشت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں ہم جیلوں میں رہے، میڈیا پر بھی پابندیاں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں سب سے زیادہ تکلیف بھارت اور پی ٹی آئی کو ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے خلاف امریکا میں مظاہرے کروائے جاتے ہیں، یہ کیسا شعور ہے کہ فوجی چھاؤنیوں پر حملے کیے جائیں، پی ٹی آئی نفرت میں تمام حدیں پار کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر احسن اقبال نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ملک دشمن اس وقت ایک پیج پر ہیں، امریکا میں پاکستان کے خلاف قرارداد منظور کروانا کونسی حب الوطنی ہے؟</p>
<p>لاہور میں گرین پروڈکٹیوٹی کانفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی، اسرائیل اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1248054'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248054"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ طرز سیاست ملک دشمنی ہے، ماضی میں پیپلز پارٹی ضیاالحق اور ہم نے مشرف کی آمریت برداشت کی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں ہم جیلوں میں رہے، میڈیا پر بھی پابندیاں تھیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں سب سے زیادہ تکلیف بھارت اور پی ٹی آئی کو ہوتی ہے۔</p>
<p>احسن اقبال نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے خلاف امریکا میں مظاہرے کروائے جاتے ہیں، یہ کیسا شعور ہے کہ فوجی چھاؤنیوں پر حملے کیے جائیں، پی ٹی آئی نفرت میں تمام حدیں پار کر چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274421</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 11:44:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/291119063b39ecf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/291119063b39ecf.webp"/>
        <media:title>وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں سب سے زیادہ تکلیف بھارت اور پی ٹی آئی کو ہوتی ہے — فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
