<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 10:31:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 10:31:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275086/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔</p>
<p>پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔</p>
<p>الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔</p>
<p>لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275086</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13132723a0858db.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13132723a0858db.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں اسپتال عملے کیلئے ’باڈی کیمرے‘ لازمی قرار، طبی حلقوں میں تشویش کی لہر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275079/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے  شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابل-یقین-اقدام" href="#ناقابل-یقین-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابل یقین اقدام&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل  قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بے-سود-عمل" href="#بے-سود-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بے سود عمل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" href="#سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’سمجھنے سے قاصرمگر احکامات ماننے ہوں گے‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ممبر اور چلڈرن اسپتال لاہور کی ملازمہ مقدس تسنیم کے مطابق نرسیں اس فیصلے میں ایک اہم فریق تھیں لیکن ان میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ حکومت نے ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا اور خود ہی فیصلہ کرلیا، تاہم ہمیں احکامات کی پیروی کرنی ہے اور ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور جنرل اسپتال میں نرسوں کے علاوہ وارڈ بوائز اور دیگر عملے کے اتحاد ’’الائیڈ ہیلتھ سائنسز‘‘ کے صدر جنید طارق نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا اتحاد کے دیگر اراکین کو بالکل بھی مطلع یا مشورہ نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ہم اس حکم کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں کے ساتھ تو میل کھاتا ہے، لیکن اس سے مریضوں کی رازداری پر سمجھوتہ ہوگا۔ اس سے مریضوں کے طبی ریکارڈ کی رازداری متاثر ہوگی۔ ہمارے کام کی نوعیت سیکیورٹی سے متعلق نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابلِ-فہم-فیصلہ" href="#ناقابلِ-فہم-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابلِ فہم فیصلہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ یہ ناقابل فہم تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ یہ کیسے کریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اکرم نے فیصلے کے عملی پہلو پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ باڈی کیمز والے (طبی عملے) کو کیسے دیکھیں گے یا ان کا تجزیہ کیسے کریں گے؟ کیا ہوگا اگر کیمروں والے ملازمین کو ریسٹ روم جانا پڑے؟ کیا وہ ہر بار کیمرا اتاریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" href="#دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دنیا بھر میں محدود استعمال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمز کے استعمال یا آزمائش کی اجازت دیتے ہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں ہے اور عام طور پر سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرات والی صورتحال تک محدود ہے، روزمرہ کی طبی دیکھ بھال کے لیے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) ہیلتھ پبلک ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کے سرکاری ٹرائلز کر رہا ہے، جس میں منتخب ہسپتالوں میں سیکیورٹی عملے کو تحفظ اور روک تھام کے لیے جارحیت یا تشدد کے واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے ان سے لیس کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں انگلینڈ کے کچھ این ایچ ایس ٹرسٹ بشمول ایسٹ سسیکس کے کیسز جیسے کونکوسٹ اسپتال اور ایسٹ بورن ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نے بدسلوکی اور تشدد کو روکنے کے لیے عملے (زیادہ تر سیکیورٹی اور سینئر نرسوں) کے لیے باڈی کیمروں کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم اس طرح کا ہمہ گیر (blanket) فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نہیں سنا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے  شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔</p>
<p>باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔</p>
<h3><a id="ناقابل-یقین-اقدام" href="#ناقابل-یقین-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابل یقین اقدام</h3>
<p>حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔</p>
<p>انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل  قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے</p>
<h3><a id="بے-سود-عمل" href="#بے-سود-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بے سود عمل</h3>
<p>ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔</p>
<p>وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔</p>
<h3><a id="سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" href="#سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’سمجھنے سے قاصرمگر احکامات ماننے ہوں گے‘</h3>
<p>پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ممبر اور چلڈرن اسپتال لاہور کی ملازمہ مقدس تسنیم کے مطابق نرسیں اس فیصلے میں ایک اہم فریق تھیں لیکن ان میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ حکومت نے ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا اور خود ہی فیصلہ کرلیا، تاہم ہمیں احکامات کی پیروی کرنی ہے اور ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘</p>
<p>لاہور جنرل اسپتال میں نرسوں کے علاوہ وارڈ بوائز اور دیگر عملے کے اتحاد ’’الائیڈ ہیلتھ سائنسز‘‘ کے صدر جنید طارق نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا اتحاد کے دیگر اراکین کو بالکل بھی مطلع یا مشورہ نہیں دیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ہم اس حکم کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں کے ساتھ تو میل کھاتا ہے، لیکن اس سے مریضوں کی رازداری پر سمجھوتہ ہوگا۔ اس سے مریضوں کے طبی ریکارڈ کی رازداری متاثر ہوگی۔ ہمارے کام کی نوعیت سیکیورٹی سے متعلق نہیں ہے۔‘</p>
<h3><a id="ناقابلِ-فہم-فیصلہ" href="#ناقابلِ-فہم-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابلِ فہم فیصلہ</h3>
<p>ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ یہ ناقابل فہم تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ یہ کیسے کریں گے؟‘</p>
<p>ڈاکٹر اکرم نے فیصلے کے عملی پہلو پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ باڈی کیمز والے (طبی عملے) کو کیسے دیکھیں گے یا ان کا تجزیہ کیسے کریں گے؟ کیا ہوگا اگر کیمروں والے ملازمین کو ریسٹ روم جانا پڑے؟ کیا وہ ہر بار کیمرا اتاریں گے؟‘</p>
<h3><a id="دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" href="#دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دنیا بھر میں محدود استعمال</h3>
<p>دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمز کے استعمال یا آزمائش کی اجازت دیتے ہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں ہے اور عام طور پر سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرات والی صورتحال تک محدود ہے، روزمرہ کی طبی دیکھ بھال کے لیے نہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) ہیلتھ پبلک ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کے سرکاری ٹرائلز کر رہا ہے، جس میں منتخب ہسپتالوں میں سیکیورٹی عملے کو تحفظ اور روک تھام کے لیے جارحیت یا تشدد کے واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے ان سے لیس کیا گیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ میں انگلینڈ کے کچھ این ایچ ایس ٹرسٹ بشمول ایسٹ سسیکس کے کیسز جیسے کونکوسٹ اسپتال اور ایسٹ بورن ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نے بدسلوکی اور تشدد کو روکنے کے لیے عملے (زیادہ تر سیکیورٹی اور سینئر نرسوں) کے لیے باڈی کیمروں کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم اس طرح کا ہمہ گیر (blanket) فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نہیں سنا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275079</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 13:24:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121256478e4bb28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121256478e4bb28.webp"/>
        <media:title>حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، علی ظفر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275062/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔</p>
<p>اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔</p>
<p>اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔</p>
<p>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔</p>
<p>صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275062</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:52:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0914471119c7c0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0914471119c7c0c.webp"/>
        <media:title>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی سلامتی کو درپیش خطرات پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275045/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاک فوج میں زیرو ٹالرنس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، جبکہ انہیں تربیتی مشقوں، جدید ٹیکنالوجیز اور فوجی سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے فوجی عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=URDnAvttUtM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/URDnAvttUtM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈرلاہور نے سی ڈی ایف کا استقبال کیا اور انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیارات اور جنگی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کلیدی اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک خصوصی فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جو کہ مستقبل کے متحرک میدان جنگ کے مطابق اختراع اور موافقت پر فوج کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے جوانوں کو فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، اور جسمانی فٹنس، حوصلہ اور مجموعی فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی ایف فیلڈ مارشل منیر نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) لاہور میں ایک کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مکمل لیس، جدید ترین طبی سہولت کے قیام میں طبی عملے اور انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سی ڈی ایف کے یہ ریمارکس فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں اور غیر ریاستی عناصر کا گڑھ بن چکا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، بھارت کی جانب سے دیکھی جانے والی جارحیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کے بارے میں بھی طویل گفتگو کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیاسی قوتوں کو احتجاج یا بیان بازی کے ذریعے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی متنبہ کیا تھا، اس کے علاوہ دہشت گردی میں ملوث بھارت کے زیرِ سرپرستی مبینہ پراکسیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاک فوج میں زیرو ٹالرنس ہے۔</p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔</p>
<p>آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، جبکہ انہیں تربیتی مشقوں، جدید ٹیکنالوجیز اور فوجی سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے فوجی عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=URDnAvttUtM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/URDnAvttUtM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں۔</p>
<p>کمانڈرلاہور نے سی ڈی ایف کا استقبال کیا اور انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیارات اور جنگی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کلیدی اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک خصوصی فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی، جو کہ مستقبل کے متحرک میدان جنگ کے مطابق اختراع اور موافقت پر فوج کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے جوانوں کو فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا، اور جسمانی فٹنس، حوصلہ اور مجموعی فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>سی ڈی ایف فیلڈ مارشل منیر نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) لاہور میں ایک کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مکمل لیس، جدید ترین طبی سہولت کے قیام میں طبی عملے اور انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275029/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ سی ڈی ایف کے یہ ریمارکس فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں اور غیر ریاستی عناصر کا گڑھ بن چکا ہے ۔</p>
<p>ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات، بھارت کی جانب سے دیکھی جانے والی جارحیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کے بارے میں بھی طویل گفتگو کی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیاسی قوتوں کو احتجاج یا بیان بازی کے ذریعے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی متنبہ کیا تھا، اس کے علاوہ دہشت گردی میں ملوث بھارت کے زیرِ سرپرستی مبینہ پراکسیوں سے سختی سے نمٹنے کا عہد کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275045</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 11:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08114708af63f12.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08114708af63f12.webp"/>
        <media:title>جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نظم و ضبط، عمدگی اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے۔رہی ہیں۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چکوال کے قریب مسافر بس کھائی میں جاگری، پانچ افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275035/</link>
      <description>&lt;p&gt;چکوال: تلہ گنگ کے قریب مسافر بس کھائی میں گرنے سے پانچ افراد جاں بحق جبکہ 24 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام کے مطابق بس راولپنڈی سے بہاولپور جا رہی تھی، دھند کے باعث موٹروے بند ہونے پر ڈرائیور نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے تلہ گنگ فتح جنگ روڈ کا انتخاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثہ بدھ کی علی الصبح تقریباً 2 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 کے ترجمان قاضی محمد اکرم کے مطابق جب بس سوان دریا کے کنارے واقع گاؤں ڈھوکے پٹھان کے قریب پہنچی تو تنگ اور بل کھاتی سڑک پر ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا جس کے نتیجے میں بس تقریباً 100 فٹ گہری کھائی میں جاگری۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حادثے میں بس ڈرائیور سمیت پانچ مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 24 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کے 15 اہلکار اور پانچ ایمبولینسز موقع پر پہنچیں اور دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے امدادی آپریشن کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والوں میں 56 سالہ عبد الستار جو بس کے ڈرائیور تھے، 40 سالہ ضیا احمد ساکن کوٹلی ستیاں، 33 سالہ محمد اسحاق ساکن لودھراں اور 45 سالہ رمضان ساکن ملتان شامل ہیں، جبکہ پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر ڈاکٹر محمد عتیق کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تلہ گنگ منتقل کی گئیں جبکہ تمام زخمیوں کو سٹی اسپتال تلہ گنگ پہنچایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ سلیمان منشا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک اعظی نے سٹی اسپتال کا دورہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل ہی 31 دسمبر 2025 کو جھنگ فیصل آباد روڈ پر بس اور وین کے درمیان تصادم میں 14 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہو گئے تھے، بعد ازاں اموات کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر صوبے میں شدید دھند کے باعث ٹریفک حادثات کے خدشے پر متعدد اہم موٹرویز بند کر دی گئی ہیں۔ پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ایک ہزار 81 ٹریفک حادثات پر ریسپانس دیا گیا، جن میں 24 افراد جاں بحق اور 12 سو 51 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چکوال: تلہ گنگ کے قریب مسافر بس کھائی میں گرنے سے پانچ افراد جاں بحق جبکہ 24 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>ریسکیو حکام کے مطابق بس راولپنڈی سے بہاولپور جا رہی تھی، دھند کے باعث موٹروے بند ہونے پر ڈرائیور نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے تلہ گنگ فتح جنگ روڈ کا انتخاب کیا۔</p>
<p>حادثہ بدھ کی علی الصبح تقریباً 2 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔</p>
<p>ریسکیو 1122 کے ترجمان قاضی محمد اکرم کے مطابق جب بس سوان دریا کے کنارے واقع گاؤں ڈھوکے پٹھان کے قریب پہنچی تو تنگ اور بل کھاتی سڑک پر ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا جس کے نتیجے میں بس تقریباً 100 فٹ گہری کھائی میں جاگری۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/071134423382fa9.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>حادثے میں بس ڈرائیور سمیت پانچ مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 24 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کے 15 اہلکار اور پانچ ایمبولینسز موقع پر پہنچیں اور دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے امدادی آپریشن کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والوں میں 56 سالہ عبد الستار جو بس کے ڈرائیور تھے، 40 سالہ ضیا احمد ساکن کوٹلی ستیاں، 33 سالہ محمد اسحاق ساکن لودھراں اور 45 سالہ رمضان ساکن ملتان شامل ہیں، جبکہ پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر ڈاکٹر محمد عتیق کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تلہ گنگ منتقل کی گئیں جبکہ تمام زخمیوں کو سٹی اسپتال تلہ گنگ پہنچایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ سلیمان منشا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک اعظی نے سٹی اسپتال کا دورہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>چند روز قبل ہی 31 دسمبر 2025 کو جھنگ فیصل آباد روڈ پر بس اور وین کے درمیان تصادم میں 14 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہو گئے تھے، بعد ازاں اموات کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔</p>
<p>ادھر صوبے میں شدید دھند کے باعث ٹریفک حادثات کے خدشے پر متعدد اہم موٹرویز بند کر دی گئی ہیں۔ پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ایک ہزار 81 ٹریفک حادثات پر ریسپانس دیا گیا، جن میں 24 افراد جاں بحق اور 12 سو 51 زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275035</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 12:16:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نبیل انور)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07120954f9936f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07120954f9936f6.webp"/>
        <media:title>جاں بحق ہونے والوں میں 56 سالہ عبد الستار جو بس کے ڈرائیور تھے، 40 سالہ ضیا احمد ساکن کوٹلی ستیاں، 33 سالہ محمد اسحاق ساکن لودھراں اور 45 سالہ رمضان ساکن ملتان شامل ہیں، جبکہ پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ فوٹو: نبیل انور ڈھکو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی ’خود کشی‘ کی کوشش، دوسری منزل سے چھلانگ لگادی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275020/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی نجی جامعہ ’یونیورسٹی آف لاہور‘ میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخی ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز فیصل کامران نے ڈان کو بتایا کہ طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور اس کے والدین کو لاہور آنے کے لیے کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کے مطابق طالبہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کی حالت تشویشناک ہے تاہم سر پر کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ واقعے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں اور اسی دوران انہوں نے چھلانگ لگائی، مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے جو لاک ہے۔ فیصل کامران کے مطابق علاج مکمل ہونے کے بعد طالبہ سے پاس ورڈ طلب کیا جائے گا، بصورت دیگر فون کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ واقعے کا تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور ڈی آئی جی کے مطابق یہ طالبہ کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یونیورسٹی آف لاہور نے کیمپس میں ہونے والی تمام کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق طلبہ کی حفاظت اور عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آن کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ منگل 6 جنوری 2025 سے تاحکمِ ثانی تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی ہے، جس کے بعد آن کیمپس کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق انتظامیہ ہر منزل پر حفاظتی باڑ لگانے یا عملہ تعینات کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ اس سے قبل 19 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جب یونیورسٹی آف لاہور کے ایک 22 سالہ فارم ڈی کے طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلِ خانہ اور ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ کم حاضری کے باعث طالب علم کو ذہنی دباؤ اور تضحیک کا سامنا تھا اور فیس ادا کرنے کے باوجود اس کا پورا سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی نجی جامعہ ’یونیورسٹی آف لاہور‘ میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخی ہوگئیں۔</p>
<p>لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز فیصل کامران نے ڈان کو بتایا کہ طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور اس کے والدین کو لاہور آنے کے لیے کہا گیا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی کے مطابق طالبہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کی حالت تشویشناک ہے تاہم سر پر کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔</p>
<p>ڈی آئی جی نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ واقعے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں اور اسی دوران انہوں نے چھلانگ لگائی، مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>پولیس نے طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے جو لاک ہے۔ فیصل کامران کے مطابق علاج مکمل ہونے کے بعد طالبہ سے پاس ورڈ طلب کیا جائے گا، بصورت دیگر فون کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ واقعے کا تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور ڈی آئی جی کے مطابق یہ طالبہ کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>ادھر یونیورسٹی آف لاہور نے کیمپس میں ہونے والی تمام کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق طلبہ کی حفاظت اور عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آن کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ منگل 6 جنوری 2025 سے تاحکمِ ثانی تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن ہوں گی۔</p>
<p>ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی ہے، جس کے بعد آن کیمپس کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق انتظامیہ ہر منزل پر حفاظتی باڑ لگانے یا عملہ تعینات کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p>یہ واقعہ اس سے قبل 19 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جب یونیورسٹی آف لاہور کے ایک 22 سالہ فارم ڈی کے طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔</p>
<p>اہلِ خانہ اور ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ کم حاضری کے باعث طالب علم کو ذہنی دباؤ اور تضحیک کا سامنا تھا اور فیس ادا کرنے کے باوجود اس کا پورا سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275020</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 17:13:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0517014202baa22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0517014202baa22.webp"/>
        <media:title>فوٹو: یونیورسٹی آف لاہور ایکس اکاؤنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے منسوب گانا گانے پر قوال کے خلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275014/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پولیس نے شالیمار گارڈنز میں سرکاری سرپرستی میں منعقدہ ایک ثقافتی تقریب کے دوران ’قیدی نمبر 804‘ کے عنوان سے گانا گانے پر ایک گلوکار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965137/qawwal-booked-in-lahore-over-song-linked-to-imran-khan"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ملزم جو پیشے کے اعتبار سے قوال ہے، پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے تقریب کو سیاسی رنگ دیا، کیونکہ مذکورہ گانا جیل میں بند پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درج ایف آئی آر میں مدعی شالیمار گارڈنز کے انچارج ضمیر الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ گلوکار فراز خان نے جان بوجھ کر ثقافتی تقریب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی، کیونکہ یہ گانا ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے موسیقی اور ثقافت کی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جو غیر سیاسی تقریب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کا کہنا تھا کہ گلوکار اور اس کے ساتھیوں نے حاضرین میں سے بعض افراد کے مطالبے پر پی ٹی آئی رہنما سے منسوب گانا گایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کے مطابق ملزم کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ یہ تقریب عوام کے لیے تھی اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پولیس نے شالیمار گارڈنز میں سرکاری سرپرستی میں منعقدہ ایک ثقافتی تقریب کے دوران ’قیدی نمبر 804‘ کے عنوان سے گانا گانے پر ایک گلوکار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965137/qawwal-booked-in-lahore-over-song-linked-to-imran-khan"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق ملزم جو پیشے کے اعتبار سے قوال ہے، پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے تقریب کو سیاسی رنگ دیا، کیونکہ مذکورہ گانا جیل میں بند پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>درج ایف آئی آر میں مدعی شالیمار گارڈنز کے انچارج ضمیر الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ گلوکار فراز خان نے جان بوجھ کر ثقافتی تقریب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی، کیونکہ یہ گانا ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے موسیقی اور ثقافت کی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جو غیر سیاسی تقریب تھی۔</p>
<p>تاہم ان کا کہنا تھا کہ گلوکار اور اس کے ساتھیوں نے حاضرین میں سے بعض افراد کے مطالبے پر پی ٹی آئی رہنما سے منسوب گانا گایا۔</p>
<p>مدعی کے مطابق ملزم کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ یہ تقریب عوام کے لیے تھی اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد شریک تھے۔</p>
<p>مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275014</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:43:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05122236b1fbbd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05122236b1fbbd9.webp"/>
        <media:title>مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2025: پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ، حملے 34 فیصد بڑھ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274979/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔</p>
<p>اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔</p>
<p>دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے</p>
<p>چیلنج تھے۔</p>
<p>بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔</p>
<p>سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔</p>
<p>پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔</p>
<p>گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274979</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 12:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021258263295ebd.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021258263295ebd.webp"/>
        <media:title>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہڑتال کے باوجود رجب بٹ کی نمائندگی پر وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274977/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کے باوجود کراچی سٹی کورٹ میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا پریکٹس لائسنس معطل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہڑتال کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی گئی تھی، جس کے دوران شہر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین زبیع اللہ نگری کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ اقدام کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا، جس میں ایڈووکیٹ اشفاق کو وکلا کی جاری ہڑتال کے دوران رجب بٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی سٹی کورٹ میں پیش ہوتے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران انہوں نے قانونی برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پنجاب بار کونسل نے سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274963'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکم کے مطابق ان بیانات کے باعث وکلا برادری میں تقسیم، تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے قانونی برادری کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے کہا کہ ایڈووکیٹ اشفاق کا طرزِ عمل اختلاف اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کا باعث بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکارڈ کے جائزے میں بتایا گیا کہ میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ کونسل کے مطابق ایک پریکٹس کرنے والے وکیل پر لازم ہے کہ وہ ہر وقت قانونی پیشے کے وقار اور بلند معیار کو برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ قانون کے مطابق لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے زبیع اللہ نگری نے کہا کہ پنجاب بار کونسل ایک قانونی و ضابطہ جاتی ادارہ ہے اور پیشہ ورانہ بدسلوکی کے معاملات میں لائسنس معطل کرنے سے قبل نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہر اندراج شدہ وکیل کو بار کونسل کے قواعد میں درج ضابطہ اخلاق کا مکمل علم ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پیر کو یوٹیوبر رجب بٹ کو کراچی کی سیشنز کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کی نمائندگی میاں علی اشفاق کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سماعت تشدد اور بدنظمی کا شکار ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میاں علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے مقدمے میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کے باوجود کراچی سٹی کورٹ میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا پریکٹس لائسنس معطل کر دیا۔</p>
<p>یہ ہڑتال کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی گئی تھی، جس کے دوران شہر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین زبیع اللہ نگری کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ اقدام کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد اٹھایا گیا۔</p>
<p>خط میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا، جس میں ایڈووکیٹ اشفاق کو وکلا کی جاری ہڑتال کے دوران رجب بٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی سٹی کورٹ میں پیش ہوتے دیکھا گیا۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران انہوں نے قانونی برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پنجاب بار کونسل نے سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274963'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکم کے مطابق ان بیانات کے باعث وکلا برادری میں تقسیم، تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے قانونی برادری کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا۔</p>
<p>کونسل نے کہا کہ ایڈووکیٹ اشفاق کا طرزِ عمل اختلاف اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کا باعث بنا۔</p>
<p>ریکارڈ کے جائزے میں بتایا گیا کہ میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ کونسل کے مطابق ایک پریکٹس کرنے والے وکیل پر لازم ہے کہ وہ ہر وقت قانونی پیشے کے وقار اور بلند معیار کو برقرار رکھے۔</p>
<p>ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ قانون کے مطابق لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔</p>
<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے زبیع اللہ نگری نے کہا کہ پنجاب بار کونسل ایک قانونی و ضابطہ جاتی ادارہ ہے اور پیشہ ورانہ بدسلوکی کے معاملات میں لائسنس معطل کرنے سے قبل نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہر اندراج شدہ وکیل کو بار کونسل کے قواعد میں درج ضابطہ اخلاق کا مکمل علم ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پیر کو یوٹیوبر رجب بٹ کو کراچی کی سیشنز کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کی نمائندگی میاں علی اشفاق کر رہے تھے۔</p>
<p>یہ سماعت تشدد اور بدنظمی کا شکار ہو گئی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ میاں علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے مقدمے میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274977</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 22:21:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/01221838498b681.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/01221838498b681.webp"/>
        <media:title>حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن ٹربیونل نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کے خلاف یاسمین راشد کی درخواست مسترد کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274958/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں قائم ایک الیکشن ٹربیونل نے قید میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی وہ درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے 2024 کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹائرڈ جسٹس رانا زاہد محمود  نے یاسمین راشد کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انتخابی عذر داری دائر کرنے کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹربیونل کا تحریری فیصلہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاسمین راشد نے 16 اپریل 2024 کو نواز شریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے یہ درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاسمین راشد نے استدعا کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی کامیابی کالعدم قرار دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج میں ردوبدل کر کے ان کی شکست کو یقینی بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 13 فروری کو جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے مطابق نواز شریف نے این اے 130 سے ایک لاکھ 79 ہزار 310 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ یاسمین راشد ایک لاکھ 4 ہزار 485 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں قائم ایک الیکشن ٹربیونل نے قید میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی وہ درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے 2024 کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔</p>
<p>ریٹائرڈ جسٹس رانا زاہد محمود  نے یاسمین راشد کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انتخابی عذر داری دائر کرنے کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>ٹربیونل کا تحریری فیصلہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>یاسمین راشد نے 16 اپریل 2024 کو نواز شریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے یہ درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔</p>
<p>یاسمین راشد نے استدعا کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی کامیابی کالعدم قرار دی جائے۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج میں ردوبدل کر کے ان کی شکست کو یقینی بنایا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 13 فروری کو جاری کیا تھا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے مطابق نواز شریف نے این اے 130 سے ایک لاکھ 79 ہزار 310 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ یاسمین راشد ایک لاکھ 4 ہزار 485 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274958</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 16:21:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/30161430afcddc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/30161430afcddc4.webp"/>
        <media:title>نواز شریف نے این اے 130 سے 179,310 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ یاسمین راشد 104,485 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ فائل فوٹو ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ کے پی کی آمد پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامے کی انکوائری رپورٹ سیکیورٹی اداروں کو بھیجنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274941/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہفتے کے آخر میں اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق کی گئی انکوائری کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران جمعے کو پنجاب اسمبلی میں خطاب کیا گیا تھا، تاہم اس موقع پر ان کے ہمراہ آنے والے افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور صحافیوں کے درمیان بھی گرما گرم جملوں کا تبادلہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی ایک ریڈ زون ہے جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات لاگو ہیں اور یہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ یا کم از کم شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق لازمی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ شرائط پہلے ہی بتا دی گئی تھیں اور ان کے ہمراہ آنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی فہرست فراہم کی گئی تھی جنہیں سہولت دی گئی، تاہم طے شدہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=mw44poh4WWE'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/mw44poh4WWE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قانون سازی پر اعتراض کرنا جمہوری حق ہے لیکن گھیراؤ، جلاؤ گھیراؤ اور انتشار پھیلانا نااہلی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاسوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور رکاوٹیں عوامی وسائل کا ضیاع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسمبلی آنے سے نہیں روکا گیا، تاہم غنڈہ گردی اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو علاقائی حدود تک محدود کرنے کے بجائے قومی سطح پر پھیلائیں کیونکہ قومی دائرہ کار ہی وفاق کو مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے وزیر اعلیٰ کی آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق متوقع تعداد سے زیادہ افراد ان کے ہمراہ تھے، متعدد افراد فہرست میں شامل نہیں تھے اور شناخت بھی پیش نہ کر سکے، جس سے سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت بگڑی جب روکے جانے پر سیکیورٹی عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر مجاز افراد میں ماضی میں سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات والے افراد بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتیں جلانے والوں کو اسمبلی میں لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اسپیکر سمیت ہر کوئی طریقۂ کار کے ہر لفظ کا پابند ہے اور اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی تمام خلاف ورزیوں پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تمام اداروں سے مکمل تحقیقات کی اپیل کرتے ہوئے جمہوری اقدار کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہفتے کے آخر میں اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق کی گئی انکوائری کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران جمعے کو پنجاب اسمبلی میں خطاب کیا گیا تھا، تاہم اس موقع پر ان کے ہمراہ آنے والے افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور صحافیوں کے درمیان بھی گرما گرم جملوں کا تبادلہ دیکھا گیا۔</p>
<p>لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی ایک ریڈ زون ہے جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات لاگو ہیں اور یہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ یا کم از کم شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق لازمی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ شرائط پہلے ہی بتا دی گئی تھیں اور ان کے ہمراہ آنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی فہرست فراہم کی گئی تھی جنہیں سہولت دی گئی، تاہم طے شدہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=mw44poh4WWE'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/mw44poh4WWE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قانون سازی پر اعتراض کرنا جمہوری حق ہے لیکن گھیراؤ، جلاؤ گھیراؤ اور انتشار پھیلانا نااہلی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاسوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور رکاوٹیں عوامی وسائل کا ضیاع ہیں۔</p>
<p>اسپیکر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسمبلی آنے سے نہیں روکا گیا، تاہم غنڈہ گردی اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو علاقائی حدود تک محدود کرنے کے بجائے قومی سطح پر پھیلائیں کیونکہ قومی دائرہ کار ہی وفاق کو مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے وزیر اعلیٰ کی آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق متوقع تعداد سے زیادہ افراد ان کے ہمراہ تھے، متعدد افراد فہرست میں شامل نہیں تھے اور شناخت بھی پیش نہ کر سکے، جس سے سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت بگڑی جب روکے جانے پر سیکیورٹی عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔</p>
<p>اسپیکر کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر مجاز افراد میں ماضی میں سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات والے افراد بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتیں جلانے والوں کو اسمبلی میں لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ اسپیکر سمیت ہر کوئی طریقۂ کار کے ہر لفظ کا پابند ہے اور اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی تمام خلاف ورزیوں پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تمام اداروں سے مکمل تحقیقات کی اپیل کرتے ہوئے جمہوری اقدار کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274941</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 13:31:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد محمود)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/291318540847815.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/291318540847815.webp"/>
        <media:title>اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا نیا احتجاجی لائحہ عمل، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لاہور پہنچ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274929/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نئی تحریک کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے اور آج شام لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر آج شام چھ بجے شیئر کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے وزیر اعلیٰ کی گاڑی پر پھول نچھاور کیے جب وہ پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;راوی ٹول پلازہ سے گزرنے  کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرچہ انہیں لاہور میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم ان کے ساتھ آنے والی کم از کم سات گاڑیوں کو روک لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ منڈی بہا الدین سے آنے والے پارٹی کارکنوں کو بھیرہ کے راستے لاہور جانے سے روک دیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صحافی نے انہیں بتایا کہ میڈیا کی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوری حکومتیں اس طرح کے اقدامات نہیں کرتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے پیغام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یہ نہیں سمجھ رہیں کہ ایسے اقدامات سے دو صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اُنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نئی تحریک کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے اور آج شام لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع متوقع ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر آج شام چھ بجے شیئر کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے وزیر اعلیٰ کی گاڑی پر پھول نچھاور کیے جب وہ پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر پہنچے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2004537743125463517?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004537743125463517%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>راوی ٹول پلازہ سے گزرنے  کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرچہ انہیں لاہور میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم ان کے ساتھ آنے والی کم از کم سات گاڑیوں کو روک لیا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ منڈی بہا الدین سے آنے والے پارٹی کارکنوں کو بھیرہ کے راستے لاہور جانے سے روک دیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>ایک صحافی نے انہیں بتایا کہ میڈیا کی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوری حکومتیں اس طرح کے اقدامات نہیں کرتیں۔</p>
<p>پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے پیغام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یہ نہیں سمجھ رہیں کہ ایسے اقدامات سے دو صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIOfficialLHR/status/2004523486170263559?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2004523486170263559%7Ctwgr%5E88248c183136f1b33fe02e59ec0e3289305b5d1f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اُنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔</p>
<p>دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔</p>
<p>مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں گے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274929</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 18:53:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261841140f1a53b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261841140f1a53b.webp"/>
        <media:title>محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی کے دو مقدمات کا تحریری فیصلہ جاری، محمود الرشید کو 33 سال قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274928/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گلبرگ کے علاقے میں جلاؤ گھیراؤ اور گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے دو مقدمات کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ میاں محمود الرشید کو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1266478'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کا سازش کی میٹنگ میں موجود ہونا ثابت ہوتا ہے، پراسیکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مختلف واٹس ایپ پیغامات اور 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں، جبکہ ملزمان کے خلاف فارنزک رپورٹس بھی کمرہ عدالت میں پیش کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق جے آئی ٹی کی تفتیشی ٹیم نے ملزمان کو قصور وار قرار دیا اور ملزمان نے جے آئی ٹی رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے اپنے حتمی بیانات میں خود کو بے گناہ قرار دیا، تاہم عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پس منظر&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گلبرگ کے علاقے میں جلاؤ گھیراؤ اور گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے دو مقدمات کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔</p>
<p>عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔</p>
<p>عدالت نے  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ میاں محمود الرشید کو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی گئیں۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1266478'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کا سازش کی میٹنگ میں موجود ہونا ثابت ہوتا ہے، پراسیکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مختلف واٹس ایپ پیغامات اور 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں، جبکہ ملزمان کے خلاف فارنزک رپورٹس بھی کمرہ عدالت میں پیش کی گئیں۔</p>
<p>عدالت کے مطابق جے آئی ٹی کی تفتیشی ٹیم نے ملزمان کو قصور وار قرار دیا اور ملزمان نے جے آئی ٹی رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا۔</p>
<p>فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے اپنے حتمی بیانات میں خود کو بے گناہ قرار دیا، تاہم عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائیں۔</p>
<h2><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پس منظر</strong></h2>
<p>یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274928</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 18:16:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/26181325713a96d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/26181325713a96d.webp"/>
        <media:title>عدالت نے قرار دیا کہ میاں محمود الرشید کو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی گئیں۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: پنجاب میں جائیدادوں کے قبضے سے متعلق ڈپٹی کمشنرز کے فیصلے کالعدم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274925/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 10 اضلاع میں جائیدادوں کا قبضہ دینے سے متعلق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے یہ فیصلے جمعہ کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد واپس لیے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پٹواری بروقت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو ایسے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے تک دیوانی مقدمات کے زیر التوا رہنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ عدالتوں میں کتنے پرانے مقدمات زیر التوا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ازخود جائیدادوں کا قبضہ چھیننے یا بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت کتنے قوانین کو نظرانداز کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنرز نے اس کے باوجود قبضہ ختم کرنے کے احکامات جاری کیے جبکہ معاملات دیوانی عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپال پور کے ایک شہری جنہیں نئے قانون کے تحت قبضہ ملا تھا، بھی عدالت میں پیش ہوئے تاہم چیف جسٹس نے انہیں قبضہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری کے وکیل نے عدالت میں تسلیم کیا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ جب وکیل خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اختیار سے تجاوز کیا تو کمیٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالتی نظام سے انصاف نہ ملے تو لوگ کہاں جائیں اور بتایا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی نے 27 دن میں جائیداد کا قبضہ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل کو سرخیوں کے لیے سنسنی خیز بیانات دینے سے منع کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274901'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ فیصلہ کرنے کا اختیار نئے قانون کے تحت قائم ٹربیونلز کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار جائیداد کے مالک ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ڈپٹی کمشنرز کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے قبضے سے متعلق ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے احکامات پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے درخواستیں مزید سماعت کے لیے ایک فل بینچ کو بھیج دیں، جو ابھی تشکیل دیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا سلیم لطیف، محمد علی اور دیگر افراد نے 10 اضلاع میں قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں ماہ 22 دسمبر کو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو بھی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274892"&gt;&lt;strong&gt;معطل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ معاملے کی سماعت اور فیصلے کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 10 اضلاع میں جائیدادوں کا قبضہ دینے سے متعلق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے یہ فیصلے جمعہ کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد واپس لیے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔</p>
<p>سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پٹواری بروقت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو ایسے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔</p>
<p>طویل عرصے تک دیوانی مقدمات کے زیر التوا رہنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ عدالتوں میں کتنے پرانے مقدمات زیر التوا ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ازخود جائیدادوں کا قبضہ چھیننے یا بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت کتنے قوانین کو نظرانداز کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنرز نے اس کے باوجود قبضہ ختم کرنے کے احکامات جاری کیے جبکہ معاملات دیوانی عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔</p>
<p>دیپال پور کے ایک شہری جنہیں نئے قانون کے تحت قبضہ ملا تھا، بھی عدالت میں پیش ہوئے تاہم چیف جسٹس نے انہیں قبضہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>شہری کے وکیل نے عدالت میں تسلیم کیا کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ جب وکیل خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اختیار سے تجاوز کیا تو کمیٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالتی نظام سے انصاف نہ ملے تو لوگ کہاں جائیں اور بتایا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی نے 27 دن میں جائیداد کا قبضہ دے دیا تھا۔</p>
<p>اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل کو سرخیوں کے لیے سنسنی خیز بیانات دینے سے منع کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274901'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ فیصلہ کرنے کا اختیار نئے قانون کے تحت قائم ٹربیونلز کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار جائیداد کے مالک ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ڈپٹی کمشنرز کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے قبضے سے متعلق ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے احکامات پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے درخواستیں مزید سماعت کے لیے ایک فل بینچ کو بھیج دیں، جو ابھی تشکیل دیا جانا ہے۔</p>
<p>رانا سلیم لطیف، محمد علی اور دیگر افراد نے 10 اضلاع میں قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں ماہ 22 دسمبر کو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو بھی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274892"><strong>معطل</strong></a> کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ معاملے کی سماعت اور فیصلے کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274925</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 14:48:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261428402d86355.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261428402d86355.webp"/>
        <media:title>چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ازخود جائیدادوں کا قبضہ چھیننے یا بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت کتنے قوانین کو نظرانداز کرے گی۔ فوٹو: ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا نیا احتجاجی لائحہ عمل، لاہور میں کے پی وزیر اعلیٰ کے استقبال اور عوامی اجتماع کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274926/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے جمعے کو نیا اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لاہور میں استقبال اور لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1963317"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ پارٹی بانی عمران خان کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالیہ حمزہ ملک نے لاہور ڈویژن کے تمام ٹکٹ ہولڈرز، عہدیداروں، کارکنوں اور وکلا کو ہدایت کی کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لبرٹی چوک پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالیہ حمزہ ملک کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے لاہور کی مرکزی شاہراہ کو مارچ میں تبدیل کرنا ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ان کے کابینہ ارکان اور صوبائی اسمبلی کے اراکین پنجاب میں اپنا پہلا پڑاؤ بھیرہ میں کریں گے، جہاں سرگودھا اور منڈی بہا الدین ڈویژن کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدیدار ان کا استقبال کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے جمعے کو نیا اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لاہور میں استقبال اور لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1963317"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ پارٹی بانی عمران خان کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔</p>
<p>عالیہ حمزہ ملک نے لاہور ڈویژن کے تمام ٹکٹ ہولڈرز، عہدیداروں، کارکنوں اور وکلا کو ہدایت کی کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لبرٹی چوک پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔</p>
<p>عالیہ حمزہ ملک کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے لاہور کی مرکزی شاہراہ کو مارچ میں تبدیل کرنا ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔</p>
<p>اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ان کے کابینہ ارکان اور صوبائی اسمبلی کے اراکین پنجاب میں اپنا پہلا پڑاؤ بھیرہ میں کریں گے، جہاں سرگودھا اور منڈی بہا الدین ڈویژن کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدیدار ان کا استقبال کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274926</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 14:56:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261452437edf638.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261452437edf638.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفتر سے باہر پیش آنے والی ہراسانی بھی ’ورک پلیس‘ کا حصہ قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274912/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 کے تحت کام کی جگہ کی قانونی تعریف وسیع ہے اور اس میں وہ تمام حالات شامل ہوتے ہیں جو سرکاری یا دفتری سرگرمی سے جڑے ہوں، خواہ ہراسانی دفتر کی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962920/harassment-outside-office-can-still-fall-under-workplace-lhc"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے ایک سرکاری افسر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے الزام پر ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ مذکورہ سزا پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے دی تھی، جسے بعد ازاں گورنر نے بھی برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار عمر شہزاد، جو ڈسٹرکٹ منیجر کے عہدے پر فائز تھے، پر اس کی ماتحت خاتون ملازم، جو ایڈہاک ٹیچر تھیں، نے مسلسل ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کے مطابق عمر شہزاد نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نازیبا نظروں، نامناسب واٹس ایپ پیغامات اور پیشہ ورانہ سہولیات کے بدلے ناجائز تعلقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'  alt='جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ عمر شہزاد زبردستی خاتون کے گھر میں داخل ہوا، زیادتی کی کوشش کی او اس وقت فرار ہوا جب خاتون نے ریسکیو 15 کو کال کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکوائری کے بعد پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے عمر شہزاد کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کی بڑی سزا سنائی، جسے گورنر نے بھی برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ نجی رہائش گاہ پر پیش آیا، اس لیے اسے کام کی جگہ کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جسٹس راحیل کامران نے اس محدود تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب کوئی افسر اپنے ماتحت پر ملازمت کے دباؤ، مثلاً تقرری ختم کرنے کی دھمکی، کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو مقام سے قطع نظر دفتری تعلق واضح طور پر قائم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس راحیل کامران نے واٹس ایپ پیغامات سے متعلق درخواست گزار کے اعتراض کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جواب میں اس نے بالواسطہ طور پر ان پیغامات کا اعتراف کیا تھا اور ان کی فرانزک جانچ کو بھی چیلنج نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے واضح کیا کہ محتسب کے سامنے کارروائی فوجداری نہیں بلکہ انتظامی اور تادیبی نوعیت کی ہوتی ہے، اس لیے وہ ضابطہ دیوانی یا قانونِ شہادت کی سخت تکنیکی پابندیوں کی پابند نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ اسی معاملے پر فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی وجہ سے محتسب کو اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق ڈبل جیوپرڈی کا اصول یہاں لاگو نہیں ہوتا کیونکہ فوجداری مقدمہ اور محکمانہ کارروائی دو الگ قانونی دائرے ہیں، ایک کا تعلق جرم سے ہے اور دوسرے کا کام کی جگہ پر وقار کے تحفظ سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ محتسب اور گورنر کی جانب سے درخواست گزار کو قصوروار ٹھہرانا قانون کے مطابق معقول اور دستیاب شواہد سے اخذ کردہ منطقی نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں فورمز کے نتائج نہ تو ریکارڈ کے خلاف ہیں اور نہ ہی کسی قانونی سقم یا اختیاری خامی کا شکار ہیں، اس لیے عدالت کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 کے تحت کام کی جگہ کی قانونی تعریف وسیع ہے اور اس میں وہ تمام حالات شامل ہوتے ہیں جو سرکاری یا دفتری سرگرمی سے جڑے ہوں، خواہ ہراسانی دفتر کی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1962920/harassment-outside-office-can-still-fall-under-workplace-lhc"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے ایک سرکاری افسر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے الزام پر ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ مذکورہ سزا پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے دی تھی، جسے بعد ازاں گورنر نے بھی برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>درخواست گزار عمر شہزاد، جو ڈسٹرکٹ منیجر کے عہدے پر فائز تھے، پر اس کی ماتحت خاتون ملازم، جو ایڈہاک ٹیچر تھیں، نے مسلسل ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔</p>
<p>شکایت کے مطابق عمر شہزاد نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نازیبا نظروں، نامناسب واٹس ایپ پیغامات اور پیشہ ورانہ سہولیات کے بدلے ناجائز تعلقات کا مطالبہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2019/12/5e09daea38d89.jpg'  alt='جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔ فوٹو: سوشل میڈیا</figcaption>
    </figure>
<hr />
<p>شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ عمر شہزاد زبردستی خاتون کے گھر میں داخل ہوا، زیادتی کی کوشش کی او اس وقت فرار ہوا جب خاتون نے ریسکیو 15 کو کال کی۔</p>
<p>انکوائری کے بعد پنجاب کی محتسبِ اعلیٰ نے عمر شہزاد کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کی بڑی سزا سنائی، جسے گورنر نے بھی برقرار رکھا۔</p>
<p>لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ نجی رہائش گاہ پر پیش آیا، اس لیے اسے کام کی جگہ کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔</p>
<p>تاہم جسٹس راحیل کامران نے اس محدود تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 2(ن) کے تحت کام کی جگہ میں وہ تمام حالات شامل ہیں جو دفتری کام یا سرگرمی سے جڑے ہوں، چاہے وہ دفتر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔</p>
<p>عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب کوئی افسر اپنے ماتحت پر ملازمت کے دباؤ، مثلاً تقرری ختم کرنے کی دھمکی، کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو مقام سے قطع نظر دفتری تعلق واضح طور پر قائم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>جسٹس راحیل کامران نے واٹس ایپ پیغامات سے متعلق درخواست گزار کے اعتراض کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جواب میں اس نے بالواسطہ طور پر ان پیغامات کا اعتراف کیا تھا اور ان کی فرانزک جانچ کو بھی چیلنج نہیں کیا۔</p>
<p>عدالت نے واضح کیا کہ محتسب کے سامنے کارروائی فوجداری نہیں بلکہ انتظامی اور تادیبی نوعیت کی ہوتی ہے، اس لیے وہ ضابطہ دیوانی یا قانونِ شہادت کی سخت تکنیکی پابندیوں کی پابند نہیں۔</p>
<p>جج نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ اسی معاملے پر فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی وجہ سے محتسب کو اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق ڈبل جیوپرڈی کا اصول یہاں لاگو نہیں ہوتا کیونکہ فوجداری مقدمہ اور محکمانہ کارروائی دو الگ قانونی دائرے ہیں، ایک کا تعلق جرم سے ہے اور دوسرے کا کام کی جگہ پر وقار کے تحفظ سے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ محتسب اور گورنر کی جانب سے درخواست گزار کو قصوروار ٹھہرانا قانون کے مطابق معقول اور دستیاب شواہد سے اخذ کردہ منطقی نتیجہ ہے۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں فورمز کے نتائج نہ تو ریکارڈ کے خلاف ہیں اور نہ ہی کسی قانونی سقم یا اختیاری خامی کا شکار ہیں، اس لیے عدالت کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274912</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:51:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2413301281e236a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2413301281e236a.webp"/>
        <media:title>لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عاصم حفیظ نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا—فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’قانون میرے فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مریم نواز کا پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر اظہار تشویش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274901/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ آفس سے منگل کو جاری بیان میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک روز قبل عبوری حکم کے ذریعے نئے نافذ ہونے والے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 پر عمل درآمد معطل کر دیا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں تنازعات کے حل کی کمیٹیاں جائیداد سے متعلق معاملات نمٹانے کی مجاز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات 90 دن کے اندر حل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو دیرینہ ریلیف فراہم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلی بار زمین اور جائیداد کے مقدمات کے فیصلے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کرتا ہے، جو ماضی میں برسوں بلکہ نسلوں تک لٹکے رہتے تھے۔ انہوں نے اسے عام شہریوں کو بااثر لینڈ گریبرز اور مافیا سے تحفظ دینے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ جمہوری طور پر منتخب پنجاب اسمبلی نے یہ قانون عوام کو بااثر لینڈ مافیا کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس قانون کے ذریعے شہریوں کو اپنی قانونی ملکیت والی زمین اور جائیداد کے تحفظ کا اختیار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریم نواز نے کہا کہ یہ قانون شواہد پر مبنی اور جامع تھا، جس میں انتظامی اور قانونی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ کے مطابق اس معطلی سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ ہو گا اور عوام اسے ایسے عناصر کی سرپرستی کے طور پر دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ زمین اور جائیداد سے متعلق مقدمات میں دہائیوں تک حکمِ امتناع کے باعث پیش رفت رک جاتی ہے اور اصل مالکان کو انصاف نہیں مل پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ تو ان کے ذاتی فائدے کے لیے بنایا گیا تھا اور نہ ہی اس کی معطلی سے انہیں ذاتی طور پر کوئی نقصان پہنچے گا، بلکہ اصل نقصان غریبوں، بیواؤں، بے بس افراد اور دیگر محروم طبقات کو ہو گا، جو بالآخر انصاف ملنے کی امید کرنے لگے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگرچہ مریم نواز نے قانون کا دفاع کیا ہے، تاہم لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پیر کو سماعت کے دوران قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیے تھے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار ہوتا تو یہ لوگ آئین کو بھی معطل کر دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پوچھا تھا کہ جب کوئی معاملہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو کوئی ریونیو افسر کیسے جائیداد کا قبضہ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p>وزیراعلیٰ آفس سے منگل کو جاری بیان میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک روز قبل عبوری حکم کے ذریعے نئے نافذ ہونے والے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 پر عمل درآمد معطل کر دیا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں تنازعات کے حل کی کمیٹیاں جائیداد سے متعلق معاملات نمٹانے کی مجاز ہیں۔</p>
<p>یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات 90 دن کے اندر حل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس قانون کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو دیرینہ ریلیف فراہم کرنا تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلی بار زمین اور جائیداد کے مقدمات کے فیصلے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کرتا ہے، جو ماضی میں برسوں بلکہ نسلوں تک لٹکے رہتے تھے۔ انہوں نے اسے عام شہریوں کو بااثر لینڈ گریبرز اور مافیا سے تحفظ دینے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274892/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ جمہوری طور پر منتخب پنجاب اسمبلی نے یہ قانون عوام کو بااثر لینڈ مافیا کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے منظور کیا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق اس قانون کے ذریعے شہریوں کو اپنی قانونی ملکیت والی زمین اور جائیداد کے تحفظ کا اختیار دیا گیا۔</p>
<p>مریم نواز نے کہا کہ یہ قانون شواہد پر مبنی اور جامع تھا، جس میں انتظامی اور قانونی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ کے مطابق اس معطلی سے تجاوزات اور لینڈ گریبرز مافیا کو فائدہ ہو گا اور عوام اسے ایسے عناصر کی سرپرستی کے طور پر دیکھیں گے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ زمین اور جائیداد سے متعلق مقدمات میں دہائیوں تک حکمِ امتناع کے باعث پیش رفت رک جاتی ہے اور اصل مالکان کو انصاف نہیں مل پاتا۔</p>
<p>مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ تو ان کے ذاتی فائدے کے لیے بنایا گیا تھا اور نہ ہی اس کی معطلی سے انہیں ذاتی طور پر کوئی نقصان پہنچے گا، بلکہ اصل نقصان غریبوں، بیواؤں، بے بس افراد اور دیگر محروم طبقات کو ہو گا، جو بالآخر انصاف ملنے کی امید کرنے لگے تھے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔</p>
<p>دوسری جانب اگرچہ مریم نواز نے قانون کا دفاع کیا ہے، تاہم لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پیر کو سماعت کے دوران قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیے تھے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار ہوتا تو یہ لوگ آئین کو بھی معطل کر دیتے۔</p>
<p>قانون کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پوچھا تھا کہ جب کوئی معاملہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو کوئی ریونیو افسر کیسے جائیداد کا قبضہ دے سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274901</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 14:11:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/231408414ce2d13.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/231408414ce2d13.webp"/>
        <media:title>مریم نواز نے کہا کہ آرڈیننس کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنید صفدر کی دوسری شادی کی تصدیق، تقریبات 16 تا 18 جنوری کو ہوں گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274906/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں حالیہ دنوں ایک اور بڑی شادی کی چہ مگوئیاں گردش کر رہی تھیں۔ افواہیں تھیں کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر، نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سابق رکنِ قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ افواہیں اس وقت درست ثابت ہو گئیں جب شیخ روحیل اصغر نے شادی کی تصدیق کرتے ہوئے آنے والی تقریبات کی تفصیلات بھی بتادیں، انہوں نے یہ انکشاف صحافی شازیہ ذیشان سے گفتگو میں کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1173976/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رشتے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے روحیل اصغر نے بتایا کہ ان کی پوتی شانزے، جنید صفدر کی بہن ماہ نور صفدر کی قریبی دوست ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا رہتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں علم نہیں کہ آیا ماہ نور نے اپنے بھائی کے رشتے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں، تاہم شانزے کی مریم نواز سے اکثر ملاقات رہتی تھی، غالباً اسی وجہ سے مریم نواز نے شانزے کے والد سے شادی کی بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب ان کے بیٹے نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے اللہ کی طرف سے نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ننھی بچی ایک بڑے اور معزز خاندان میں جا رہی ہے، اس لیے رشتہ قبول کر لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ روحیل اصغر کے مطابق وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد ان کے خاندان کو خود نواز شریف نے مدعو کیا، جنہیں انہوں نے ایک شفیق میزبان قرار دیا۔ اسی ملاقات میں شادی کی تاریخیں طے ہوئیں، جو 16، 17 اور 18 جنوری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مہندی اور ولیمہ شریف خاندان کی جانب سے جاتی امرا میں ہوگا جبکہ دلہن کے خاندان کی طرف سے استقبالیہ لاہور کے لیک سٹی گالف اینڈ کنٹری کلب میں دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1213516/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شیخ روحیل اصغر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شانزے گزشتہ تین ماہ میں شادی کرنے والی ان کی تیسری پوتی ہیں، اور انہیں توقع ہے کہ یہ ایک شاندار تقریب ہوگی جس میں تمام روایتی اہتمام ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جنید صفدر کی یہ دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021 میں سیف الرحمن، سابق چیئرمین نیب، کی صاحبزادی عائشہ سیف خان سے شادی کی تھی۔ وہ شادی خاصی پرتعیش تھی، جس میں لندن میں نکاح اور اس کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں ایک ہفتے سے زائد عرصے پر مشتمل چھ تقریبات شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جوڑا 2023 میں علیحدہ ہو گیا تھا اور جنید صفدر نے اسی سال اکتوبر میں انسٹاگرام کے ذریعے طلاق کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں حالیہ دنوں ایک اور بڑی شادی کی چہ مگوئیاں گردش کر رہی تھیں۔ افواہیں تھیں کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر، نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سابق رکنِ قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ افواہیں اس وقت درست ثابت ہو گئیں جب شیخ روحیل اصغر نے شادی کی تصدیق کرتے ہوئے آنے والی تقریبات کی تفصیلات بھی بتادیں، انہوں نے یہ انکشاف صحافی شازیہ ذیشان سے گفتگو میں کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1173976/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رشتے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے روحیل اصغر نے بتایا کہ ان کی پوتی شانزے، جنید صفدر کی بہن ماہ نور صفدر کی قریبی دوست ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا رہتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں علم نہیں کہ آیا ماہ نور نے اپنے بھائی کے رشتے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں، تاہم شانزے کی مریم نواز سے اکثر ملاقات رہتی تھی، غالباً اسی وجہ سے مریم نواز نے شانزے کے والد سے شادی کی بات کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب ان کے بیٹے نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے اللہ کی طرف سے نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ننھی بچی ایک بڑے اور معزز خاندان میں جا رہی ہے، اس لیے رشتہ قبول کر لینا چاہیے۔</p>
<p>شیخ روحیل اصغر کے مطابق وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد ان کے خاندان کو خود نواز شریف نے مدعو کیا، جنہیں انہوں نے ایک شفیق میزبان قرار دیا۔ اسی ملاقات میں شادی کی تاریخیں طے ہوئیں، جو 16، 17 اور 18 جنوری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مہندی اور ولیمہ شریف خاندان کی جانب سے جاتی امرا میں ہوگا جبکہ دلہن کے خاندان کی طرف سے استقبالیہ لاہور کے لیک سٹی گالف اینڈ کنٹری کلب میں دیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1213516/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شیخ روحیل اصغر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شانزے گزشتہ تین ماہ میں شادی کرنے والی ان کی تیسری پوتی ہیں، اور انہیں توقع ہے کہ یہ ایک شاندار تقریب ہوگی جس میں تمام روایتی اہتمام ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ جنید صفدر کی یہ دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021 میں سیف الرحمن، سابق چیئرمین نیب، کی صاحبزادی عائشہ سیف خان سے شادی کی تھی۔ وہ شادی خاصی پرتعیش تھی، جس میں لندن میں نکاح اور اس کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں ایک ہفتے سے زائد عرصے پر مشتمل چھ تقریبات شامل تھیں۔</p>
<p>یہ جوڑا 2023 میں علیحدہ ہو گیا تھا اور جنید صفدر نے اسی سال اکتوبر میں انسٹاگرام کے ذریعے طلاق کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274906</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 15:41:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/231533341b047ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="1350" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/231533341b047ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’قانون برقرار رہتا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرالیا جاتا‘، لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی آرڈیننس معطل کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274892/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نےعبوری حکم کے ذریعے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو معطل کر دیا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے یہ حکم پیر کو عابدہ پروین اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران جاری کیا، جن میں آرڈیننس کے تحت جائیداد سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری حکم کے ذریعے نئے قانون کے تحت جائیدادوں کا قبضہ چھیننے سے متعلق تمام فیصلے بھی معطل کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ کسی کو حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر یہ قانون برقرار رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جا سکتا ہے، بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ منتقل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار حکام کے ہاتھ میں ہو تو وہ آئین کو بھی معطل کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ اگر اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر کسی شخص کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو متاثرہ فرد کو اپیل کا حق بھی حاصل نہیں، ان کے مطابق نئے قانون میں ہائیکورٹ کو بھی ایسے معاملات میں حکمِ امتناع دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکریٹری اور دیگر سرکاری افسران عدالت میں موجود تھے، تاہم پنجاب ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ علالت کے باعث حاضر نہیں ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس عائشہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ وہ خود بھی بیمار ہیں اور انہیں بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا ہے، اس کے باوجود وہ عدالت میں مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ معاملے کی مزید سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ مذکورہ آرڈیننس کو 31 اکتوبر کو پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات کو 90 دن میں نمٹانے کی شرط رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور اس سے قبل ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت قائم نئی فورس کے کردار پر بھی سوال اٹھایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ پٹواری اور اسسٹنٹ کمشنر جج بننے کی خواہش رکھنے لگے ہیں، اور اس بات پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ ایک پٹواری کو ایسے معاملے پر کارروائی کا اختیار کیسے حاصل ہو سکتا ہے جو پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نےعبوری حکم کے ذریعے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو معطل کر دیا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔</p>
<p>چیف جسٹس نے یہ حکم پیر کو عابدہ پروین اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران جاری کیا، جن میں آرڈیننس کے تحت جائیداد سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔</p>
<p>عبوری حکم کے ذریعے نئے قانون کے تحت جائیدادوں کا قبضہ چھیننے سے متعلق تمام فیصلے بھی معطل کر دیے گئے۔</p>
<p>قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ کسی کو حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر یہ قانون برقرار رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جا سکتا ہے، بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ منتقل کر سکتا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار حکام کے ہاتھ میں ہو تو وہ آئین کو بھی معطل کر دیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ اگر اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر کسی شخص کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو متاثرہ فرد کو اپیل کا حق بھی حاصل نہیں، ان کے مطابق نئے قانون میں ہائیکورٹ کو بھی ایسے معاملات میں حکمِ امتناع دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔</p>
<p>سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکریٹری اور دیگر سرکاری افسران عدالت میں موجود تھے، تاہم پنجاب ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ علالت کے باعث حاضر نہیں ہو سکے۔</p>
<p>اس پر چیف جسٹس عائشہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ وہ خود بھی بیمار ہیں اور انہیں بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا ہے، اس کے باوجود وہ عدالت میں مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ معاملے کی مزید سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ مذکورہ آرڈیننس کو 31 اکتوبر کو پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات کو 90 دن میں نمٹانے کی شرط رکھی گئی ہے۔</p>
<p>یہ آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور اس سے قبل ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت قائم نئی فورس کے کردار پر بھی سوال اٹھایا تھا۔</p>
<p>انہوں نے یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ پٹواری اور اسسٹنٹ کمشنر جج بننے کی خواہش رکھنے لگے ہیں، اور اس بات پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ ایک پٹواری کو ایسے معاملے پر کارروائی کا اختیار کیسے حاصل ہو سکتا ہے جو پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274892</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 13:35:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/221331559dbfc67.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/221331559dbfc67.webp"/>
        <media:title>عبوری حکم کے ذریعے نئے قانون کے تحت جائیدادوں کا قبضہ چھیننے سے متعلق تمام فیصلے بھی معطل کر دیے گئے۔ فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توشہ خانہ ٹو کیس کی سزا گزشتہ سزا کے بعد شروع ہوگی، حکومتی وزرا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274879/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آج (ہفتے کو) سنائی گئی سزا ’مسلسل (کنسیکیٹو) سزا‘ ہے جو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں دی گئی سزا پوری ہونے کے بعد شروع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ نے تحائف کی کم قیمت لگوا کر اور انہیں ذاتی استعمال میں رکھ کر ’دھوکہ دہی‘ کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=fz_ATM9AdQU'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/fz_ATM9AdQU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ کے اقدامات ’عوامی اعتماد کی خلاف ورزی‘ کے مترادف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ٹرائل کے دوران جب ان تحائف کی درست انداز میں قیمت لگائی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کی اصل قیمت خاصی زیادہ تھی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں نے تحائف کی کم قیمت ظاہر کر کے اور انہیں ذاتی استعمال میں رکھ کر فراڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اطلاعات نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور تحائف اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عہدے کا غلط استعمال، سرکاری املاک کے ساتھ بددیانتی اور امانت میں خیانت یہ سب کچھ ثابت ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ ’آئین اور قانون کے عین مطابق‘ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اس میں کوئی سیاسی پہلو نہیں، اگر آپ قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو سزا متوقع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 15 سے 16 ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائل کے دوران یہ ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ نے سیٹ کی کم قیمت ظاہر کر کے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ فیصلہ طویل قانونی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کیس توشہ خانہ ون ریفرنس سے ملتا جلتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریاست کو ملنے والا تحفہ جمع نہیں کرایا گیا، حالانکہ توشہ خانہ میں تحائف قبول کرنے اور جمع کرانے کے طریقۂ کار کے مطابق یہ قانونی طور پر لازم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بشریٰ بی بی اور عمران خان نے اس سیٹ کو انتہائی کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کے فیصلے کی روشنی میں تمام حقائق اب ثابت ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آج (ہفتے کو) سنائی گئی سزا ’مسلسل (کنسیکیٹو) سزا‘ ہے جو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں دی گئی سزا پوری ہونے کے بعد شروع ہوگی۔</p>
<p>ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ نے تحائف کی کم قیمت لگوا کر اور انہیں ذاتی استعمال میں رکھ کر ’دھوکہ دہی‘ کی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=fz_ATM9AdQU'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/fz_ATM9AdQU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ کے اقدامات ’عوامی اعتماد کی خلاف ورزی‘ کے مترادف ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ٹرائل کے دوران جب ان تحائف کی درست انداز میں قیمت لگائی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کی اصل قیمت خاصی زیادہ تھی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں نے تحائف کی کم قیمت ظاہر کر کے اور انہیں ذاتی استعمال میں رکھ کر فراڈ کیا۔</p>
<p>وزیرِ اطلاعات نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور تحائف اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عہدے کا غلط استعمال، سرکاری املاک کے ساتھ بددیانتی اور امانت میں خیانت یہ سب کچھ ثابت ہو چکا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ ’آئین اور قانون کے عین مطابق‘ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274876/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے زور دیا کہ اس میں کوئی سیاسی پہلو نہیں، اگر آپ قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو سزا متوقع ہوتی ہے۔</p>
<p>بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 15 سے 16 ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائل کے دوران یہ ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ نے سیٹ کی کم قیمت ظاہر کر کے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔</p>
<p>وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ فیصلہ طویل قانونی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کیس توشہ خانہ ون ریفرنس سے ملتا جلتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریاست کو ملنے والا تحفہ جمع نہیں کرایا گیا، حالانکہ توشہ خانہ میں تحائف قبول کرنے اور جمع کرانے کے طریقۂ کار کے مطابق یہ قانونی طور پر لازم تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بشریٰ بی بی اور عمران خان نے اس سیٹ کو انتہائی کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کی۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کے فیصلے کی روشنی میں تمام حقائق اب ثابت ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274879</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 15:21:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/201518486933b44.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/201518486933b44.webp"/>
        <media:title>وزیرِ اطلاعات نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ نے تحائف کی کم قیمت لگوا کر اور انہیں ذاتی استعمال میں رکھ کر ’دھوکہ دہی‘ کی۔ — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نامناسب اشارے کی ویڈیو وائرل: ملتان نشتر ہسپتال نے ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274890/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ملتان کے نشتر اسپتال نے ایک مریضہ کے اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل ویڈیو میں لواحقین کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے خون کی منتقلی سے انکار کے بعد مریضہ کا انتقال ہو گیا۔ ویڈیو میں بعد ازاں متعلقہ ڈاکٹر کو درمیانی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے وہاں سے جاتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ موقع پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطرف کیے گئے ڈاکٹر کی شناخت قاسم جمال کے نام سے ہوئی ہے جنہیں واقعے کے ایک روز بعد 19 دسمبر کو معطل کیا گیا تھا جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسی روز اسپتال انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ڈاکٹر کو بدانتظامی، اسپتال قوانین اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی پر فوری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے سے متعلق 20 دسمبر کی رپورٹ میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ مریضہ کو جمعرات کو نہایت تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مریضہ کو ایمرجنسی میں علاج کے ذریعے بہتر حالت میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اسے خون کی منتقلی کے لیے دوسرے وارڈ منتقل کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مریضہ کی حالت اس حد تک بگڑ گئی کہ خون کی منتقلی ممکن نہ رہی، جس کے باعث اس کے لواحقین مشتعل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ لواحقین نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور عملے کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے بعد ڈاکٹر نے بھی نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے غیر اخلاقی اشارہ کیا، رپورٹ کے مطابق مریضہ کو مناسب اور بروقت علاج فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈاکٹر قاسم جمال نے 20 دسمبر کو جاری بیان میں اپنے ردعمل کو مسلسل ہراسانی اور حملوں کے خلاف احتجاجی علامت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مریضہ کی حالت نہایت تشویشناک تھی اور اس کا فعال علاج جاری تھا، تاہم بعد میں اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ ان کے مطابق مریضہ کو بچانے کی کوشش کی گئی مگر بعد ازاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کے مطابق مریضہ کے انتقال کے بعد لواحقین نے ایمرجنسی میں ہنگامہ آرائی کی، عملے کو گالیاں دیں اور جسمانی تشدد کی کوشش کی۔ انہوں نے سیکیورٹی عملے پر بھی غفلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بارہ سے زائد افراد کو موبائل فون کے ساتھ ایمرجنسی کے محدود علاقے میں داخل ہونے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بار بار کی تذلیل، زبانی بدسلوکی، جسمانی دھمکیوں اور متعدد حملوں کی کوششوں کے بعد کسی بھی انسان کے لیے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا ردعمل اشتعال کے نتیجے میں تھا،  انہوں نے گالی دی نہ کسی پر حملہ کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نے مزید کہا کہ اسپتال قوانین میں اشاروں کو واضح طور پر خلافِ ضابطہ قرار نہیں دیا گیا، انہوں نے تحقیقات کے بغیر اپنی معطلی کو ناانصافی قرار دیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ تربیت مکمل کرنے کے لیے بحالی کی درخواست بھی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p>ملتان کے نشتر اسپتال نے ایک مریضہ کے اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔</p>
<p>وائرل ویڈیو میں لواحقین کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے خون کی منتقلی سے انکار کے بعد مریضہ کا انتقال ہو گیا۔ ویڈیو میں بعد ازاں متعلقہ ڈاکٹر کو درمیانی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے وہاں سے جاتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ موقع پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔</p>
<p>برطرف کیے گئے ڈاکٹر کی شناخت قاسم جمال کے نام سے ہوئی ہے جنہیں واقعے کے ایک روز بعد 19 دسمبر کو معطل کیا گیا تھا جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں اسی روز اسپتال انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ڈاکٹر کو بدانتظامی، اسپتال قوانین اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی پر فوری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا۔</p>
<p>حادثے سے متعلق 20 دسمبر کی رپورٹ میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ مریضہ کو جمعرات کو نہایت تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مریضہ کو ایمرجنسی میں علاج کے ذریعے بہتر حالت میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اسے خون کی منتقلی کے لیے دوسرے وارڈ منتقل کیا جانا تھا۔</p>
<p>تاہم مریضہ کی حالت اس حد تک بگڑ گئی کہ خون کی منتقلی ممکن نہ رہی، جس کے باعث اس کے لواحقین مشتعل ہو گئے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ لواحقین نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور عملے کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے بعد ڈاکٹر نے بھی نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے غیر اخلاقی اشارہ کیا، رپورٹ کے مطابق مریضہ کو مناسب اور بروقت علاج فراہم کیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب ڈاکٹر قاسم جمال نے 20 دسمبر کو جاری بیان میں اپنے ردعمل کو مسلسل ہراسانی اور حملوں کے خلاف احتجاجی علامت قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مریضہ کی حالت نہایت تشویشناک تھی اور اس کا فعال علاج جاری تھا، تاہم بعد میں اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ ان کے مطابق مریضہ کو بچانے کی کوشش کی گئی مگر بعد ازاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔</p>
<p>ڈاکٹر کے مطابق مریضہ کے انتقال کے بعد لواحقین نے ایمرجنسی میں ہنگامہ آرائی کی، عملے کو گالیاں دیں اور جسمانی تشدد کی کوشش کی۔ انہوں نے سیکیورٹی عملے پر بھی غفلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بارہ سے زائد افراد کو موبائل فون کے ساتھ ایمرجنسی کے محدود علاقے میں داخل ہونے دیا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بار بار کی تذلیل، زبانی بدسلوکی، جسمانی دھمکیوں اور متعدد حملوں کی کوششوں کے بعد کسی بھی انسان کے لیے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا ردعمل اشتعال کے نتیجے میں تھا،  انہوں نے گالی دی نہ کسی پر حملہ کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھے۔</p>
<p>ڈاکٹر نے مزید کہا کہ اسپتال قوانین میں اشاروں کو واضح طور پر خلافِ ضابطہ قرار نہیں دیا گیا، انہوں نے تحقیقات کے بغیر اپنی معطلی کو ناانصافی قرار دیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ تربیت مکمل کرنے کے لیے بحالی کی درخواست بھی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274890</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 12:52:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/22125514af7cabe.webp" type="image/webp" medium="image" height="412" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/22125514af7cabe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/22124702f311a13.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/22124702f311a13.webp"/>
        <media:title>اسپتال انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ڈاکٹر کو بدانتظامی، اسپتال قوانین اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی پر فوری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی حملہ کیس: شاہ محمود قریشی بری، یاسمین راشد سمیت چار مرکزی رہنماؤں کو 10، 10 برس قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274874/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت  نے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کو9 مئی کے ایک مقدمے میں بری کردیا جبکہ دیگر چار رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو دس، دس سال قید کی سزا سنادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پی ٹی آئی رہنماؤں کو پہلے ہی پنجاب کی مختلف عدالتوں نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا تھا۔ اس دن پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں نے بانی عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور آگ لگا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل کے اندر فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 852/2023 میں مقدمہ نمٹا دیا، جو گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس-آئی کلب چوک کے داخلی گیٹ پر حملے سے متعلق تھا۔ ریس کورس پولیس نے مقدمہ درج کر کے 25 مشتبہ افراد، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن شامل تھے، کے خلاف چالان جمع کرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پانچواں مقدمہ ہے جس میں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر یاسمین، چیمہ، میاں محمود الرشید اور چوہدری کو سزا سنائی گئی، جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل فیصلے 9 مئی کے احتجاجات کے دوران شادمان پولیس اسٹیشن پر حملہ، شیرپاؤ پل پر تشدد، راحت بیکری کے قریب پولیس گاڑیوں کو آگ لگانا، اور جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ جج کی اسکواڈ گاڑی کو جلا دینے سے متعلق مقدمات میں سنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت  نے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کو9 مئی کے ایک مقدمے میں بری کردیا جبکہ دیگر چار رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو دس، دس سال قید کی سزا سنادی۔</p>
<p>ان پی ٹی آئی رہنماؤں کو پہلے ہی پنجاب کی مختلف عدالتوں نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا تھا۔ اس دن پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں نے بانی عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور آگ لگا دی تھی۔</p>
<p>جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل کے اندر فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 852/2023 میں مقدمہ نمٹا دیا، جو گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس-آئی کلب چوک کے داخلی گیٹ پر حملے سے متعلق تھا۔ ریس کورس پولیس نے مقدمہ درج کر کے 25 مشتبہ افراد، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن شامل تھے، کے خلاف چالان جمع کرایا تھا۔</p>
<p>یہ پانچواں مقدمہ ہے جس میں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر یاسمین، چیمہ، میاں محمود الرشید اور چوہدری کو سزا سنائی گئی، جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا۔</p>
<p>اس سے قبل فیصلے 9 مئی کے احتجاجات کے دوران شادمان پولیس اسٹیشن پر حملہ، شیرپاؤ پل پر تشدد، راحت بیکری کے قریب پولیس گاڑیوں کو آگ لگانا، اور جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ جج کی اسکواڈ گاڑی کو جلا دینے سے متعلق مقدمات میں سنائے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274874</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 16:24:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/191618090e570ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/191618090e570ab.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اڈیالہ جیل کے قریب پی ٹی آئی کا دھرنا، واٹر کینن کا پھر استعمال، پولیس کا لاٹھی چارج، کئی کارکن گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274849/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک بار پھر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب بدھ کی صبح  پی ٹی آئی کے دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جب سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کی بہنوں، پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے فیکٹری ناکہ پر دھرنا دیا تھا اور پی ٹی آئی کے بانی سے عدالتی حکم کے مطابق ملاقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 24 مارچ کو جاری کیے گئے عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی جانی تھی، تاہم پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی حکم کے باوجود گزشتہ کئی ہفتوں سے عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نیازی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ عمران خان سے ملاقات کی کوشش کرتی رہیں مگر ناکام رہیں۔ گزشتہ منگل کو بھی ملاقات سے انکار کے بعد عمران خان کی بہنوں اور پارٹی حامیوں نے دھرنا دیا تھا، جسے بعد میں واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بدھ کی علی الصبح پولیس نے رات دو بجے کے قریب آپریشن شروع کیا اور ایک بار پھر واٹر کینن کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کیا۔ ابتدا میں واٹر کینن استعمال کیے گئے، بعد ازاں پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، تاہم گرفتاریوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجلس وحدتِ مسلمین کے رہنما علامہ راجا ناصر جو منگل کی رات دیر تک دھرنے میں موجود رہے، نے مظاہرین کے ساتھ کیے گئے غیر انسانی سلوک کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بدھ کی صبح چار بجے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو نظرانداز کرنے اور اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والی ’شدید ریاستی بربریت‘ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001066051807719721?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001066051807719721%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001066051807719721?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001066051807719721%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’یہ اقدامات محض انتظامی ناکامیاں نہیں بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے اختیار پر براہِ راست حملہ ہیں’، اور مزید کہا کہ ‘عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی عملاً سرکاری پالیسی بن چکی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے مطابق، ’حکومت کے کہنے پر پنجاب پولیس نے عمران خان کی بہنوں، علامہ راجہ ناصر عباس، دیگر پارٹی رہنماؤں، پی ٹی آئی کارکنوں اور پُرامن دھرنے کے شرکا کے خلاف کیمیکل ملے پانی والے واٹر کینن استعمال کر کے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’نہ کوئی ہنگامی صورتحال تھی، نہ کوئی قانونی جواز اور نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی۔ اس کے باوجود خواتین، بزرگوں اور پُرامن مظاہرین پر کیمیکل ملا پانی پھینکا گیا، جسمانی تشدد کیا گیا اور متعدد کارکنوں کو زبردستی گرفتار کیا گیا۔ یہ فسطائیت، پولیس تشدد اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے کہا کہ ایسے اقدامات ’ایک خوفزدہ حکومت کی گھبراہٹ، عدم تحفظ اور اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتے ہیں’ اور یہ کہ ‘جبر، ظلم اور فسطائیت ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا، ’تاریخ گواہ ہے کہ چاہے آمریت کتنی ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، انجام کار اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب ان غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے ذمے داروں کو مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں واٹر کینن کو مظاہرین پر پانی پھینکتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001048862455222436?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001048862455222436%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001048862455222436?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001048862455222436%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویڈیو میں ایک بھیگا ہوا مظاہرہ کرنے والا شخص نظر آیا، جو کہہ رہا تھا کہ اس کے ‘سینے میں جلن ہو رہی ہے’ اور اس کی آنکھیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001047699290743047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047699290743047%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001047699290743047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047699290743047%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ ویڈیو میں عمران خان کی بہن علیمہ خان، جن کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے، اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے کہتی نظر آئیں، ‘انہوں نے کیمیکل استعمال کیا ہے، یہ بہت جل رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا نے ایکس پر لکھا، ’زہریلا، کیمیکل ملا پانی استعمال کیا گیا‘۔ ان کے مطابق واٹر کینن عمران خان کی بہنوں اور دیگر مظاہرین پر چلایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001047046317383838?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047046317383838%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001047046317383838?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047046317383838%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’میں خود گر پڑا، بہت سے کارکن گرے، اور کئی کو گرفتار بھی کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NaeemPanjuthaa/status/2001050856616308896?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001050856616308896%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NaeemPanjuthaa/status/2001050856616308896?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001050856616308896%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دھرنے کے دوران کچھ مظاہرین نے احتجاجی مقام کے قریب پیٹرول پمپوں اور دیگر عمارتوں کی دیواروں پر پی ٹی آئی کے حق میں نعرے اور تحریریں لکھیں، جن میں ‘804’ کا عدد بھی شامل تھا، جو مبینہ طور پر عمران خان کا قیدی نمبر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک بار پھر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب بدھ کی صبح  پی ٹی آئی کے دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جب سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔</p>
<p>عمران خان کی بہنوں، پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے فیکٹری ناکہ پر دھرنا دیا تھا اور پی ٹی آئی کے بانی سے عدالتی حکم کے مطابق ملاقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 24 مارچ کو جاری کیے گئے عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی جانی تھی، تاہم پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا۔</p>
<p>عدالتی حکم کے باوجود گزشتہ کئی ہفتوں سے عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نیازی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ عمران خان سے ملاقات کی کوشش کرتی رہیں مگر ناکام رہیں۔ گزشتہ منگل کو بھی ملاقات سے انکار کے بعد عمران خان کی بہنوں اور پارٹی حامیوں نے دھرنا دیا تھا، جسے بعد میں واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا۔</p>
<p>آج بدھ کی علی الصبح پولیس نے رات دو بجے کے قریب آپریشن شروع کیا اور ایک بار پھر واٹر کینن کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کیا۔ ابتدا میں واٹر کینن استعمال کیے گئے، بعد ازاں پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔</p>
<p>کچھ پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، تاہم گرفتاریوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>مجلس وحدتِ مسلمین کے رہنما علامہ راجا ناصر جو منگل کی رات دیر تک دھرنے میں موجود رہے، نے مظاہرین کے ساتھ کیے گئے غیر انسانی سلوک کی مذمت کی۔</p>
<p>ادھر بدھ کی صبح چار بجے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو نظرانداز کرنے اور اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والی ’شدید ریاستی بربریت‘ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001066051807719721?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001066051807719721%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001066051807719721?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001066051807719721%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا، ’یہ اقدامات محض انتظامی ناکامیاں نہیں بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے اختیار پر براہِ راست حملہ ہیں’، اور مزید کہا کہ ‘عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی عملاً سرکاری پالیسی بن چکی ہے‘۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے مطابق، ’حکومت کے کہنے پر پنجاب پولیس نے عمران خان کی بہنوں، علامہ راجہ ناصر عباس، دیگر پارٹی رہنماؤں، پی ٹی آئی کارکنوں اور پُرامن دھرنے کے شرکا کے خلاف کیمیکل ملے پانی والے واٹر کینن استعمال کر کے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں‘۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا، ’نہ کوئی ہنگامی صورتحال تھی، نہ کوئی قانونی جواز اور نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی۔ اس کے باوجود خواتین، بزرگوں اور پُرامن مظاہرین پر کیمیکل ملا پانی پھینکا گیا، جسمانی تشدد کیا گیا اور متعدد کارکنوں کو زبردستی گرفتار کیا گیا۔ یہ فسطائیت، پولیس تشدد اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے‘۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے کہا کہ ایسے اقدامات ’ایک خوفزدہ حکومت کی گھبراہٹ، عدم تحفظ اور اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتے ہیں’ اور یہ کہ ‘جبر، ظلم اور فسطائیت ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی‘۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا، ’تاریخ گواہ ہے کہ چاہے آمریت کتنی ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، انجام کار اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب ان غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے ذمے داروں کو مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے گا‘۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں واٹر کینن کو مظاہرین پر پانی پھینکتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001048862455222436?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001048862455222436%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001048862455222436?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001048862455222436%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور ویڈیو میں ایک بھیگا ہوا مظاہرہ کرنے والا شخص نظر آیا، جو کہہ رہا تھا کہ اس کے ‘سینے میں جلن ہو رہی ہے’ اور اس کی آنکھیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001047699290743047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047699290743047%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001047699290743047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047699290743047%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک علیحدہ ویڈیو میں عمران خان کی بہن علیمہ خان، جن کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے، اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے کہتی نظر آئیں، ‘انہوں نے کیمیکل استعمال کیا ہے، یہ بہت جل رہا ہے‘۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا نے ایکس پر لکھا، ’زہریلا، کیمیکل ملا پانی استعمال کیا گیا‘۔ ان کے مطابق واٹر کینن عمران خان کی بہنوں اور دیگر مظاہرین پر چلایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTIofficial/status/2001047046317383838?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047046317383838%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/2001047046317383838?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001047046317383838%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا، ’میں خود گر پڑا، بہت سے کارکن گرے، اور کئی کو گرفتار بھی کیا گیا‘۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NaeemPanjuthaa/status/2001050856616308896?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001050856616308896%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NaeemPanjuthaa/status/2001050856616308896?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2001050856616308896%7Ctwgr%5Eb726c54378c860deedcea4cffc72ab83d41f527b%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961466"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دھرنے کے دوران کچھ مظاہرین نے احتجاجی مقام کے قریب پیٹرول پمپوں اور دیگر عمارتوں کی دیواروں پر پی ٹی آئی کے حق میں نعرے اور تحریریں لکھیں، جن میں ‘804’ کا عدد بھی شامل تھا، جو مبینہ طور پر عمران خان کا قیدی نمبر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274849</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 11:52:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیراکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/171149497a2d261.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/171149497a2d261.webp"/>
        <media:title>دھرنے کے دوران کچھ مظاہرین نے احتجاجی مقام کے قریب پیٹرول پمپوں اور دیگر عمارتوں کی دیواروں پر پی ٹی آئی کے حق میں نعرے اور تحریریں لکھیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی کے مرکزی رہنما کو 35 سال قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274841/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ڈپٹی چیف ظہیرالحق حسن شاہ کو اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان  کے خلاف عوام کو اکسانے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا سنا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق لاہور پریس کلب کے باہر ہونے والے ایک اجتماع میں، جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی بھی موجود تھے، ظہیرالحق حسن شاہ نے ایسی تقاریر کیں جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد پر اکسانے کے مترادف تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قِلع گجر سنگھ پولیس نے 2024 میں اس عالمِ دین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جو مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تقریر سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر، جو اسٹیشن ہاؤس آفیسر حماد حسین کی مدعیت میں درج کی گئی، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6 (دہشت گردی)، 7 (دہشت گردی کی سزا) اور 11 ڈبلیو (نفرت انگیز مواد کی طباعت، اشاعت یا ترسیل یا کسی دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ شخص یا کالعدم/زیرِ نگرانی تنظیم کی تشہیر) کے تحت درج کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج ارشد جاوید نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور ملزم کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران استغاثہ نے الزامات کے حق میں 15 گواہان پیش کیے، ڈپٹی پراسیکیوٹر عبدالجبار ڈوگر نے قانون کے مطابق سزا کی استدعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مقصودالحق نے حتمی دلائل دیتے ہوئے عدالت سے اپنے موکل کی بریت کی درخواست کی، تاہم دفاع نے الزامات کی مکمل تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7(1)(b) کے تحت 10 سال قیدِ مشقت، جبکہ دفعات 7(g)، 21(L) اور 11(w) کے تحت پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 505، 117 اور 188 کے تحت بالترتیب سات سال، تین سال اور چھ ماہ قید کی الگ الگ سزائیں بھی دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی رہنما پر مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد کی کال کے بعد مختلف شہروں میں ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں اور علما کی جانب سے سخت مذمت بھی سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی عہدیداروں نے ’جھوٹ پھیلانے والوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ’ذاتی سیاسی مفادات‘ رکھنے والے عناصر مذہب کے نام پر ’خون اور تشدد‘ پھیلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں فیصلہ دیا، مگر متعلقہ عناصر اب بھی جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ کسی کے قتل کا فتویٰ دے۔ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو ریاست کی رِٹ ختم ہو جائے گی۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ معاشرے میں ایسی اشتعال انگیز تقاریر کے لیے ’کوئی گنجائش نہیں‘، اور ان کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایکس پر کہا تھا کہ ’ریاستِ پاکستان میں ایسی باتوں کی کوئی جگہ نہیں اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے اکتوبر میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مذہبی و سیاسی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی تھی، جو غزہ کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے چند دن بعد لگائی گئی۔ ان احتجاجات میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار جان سے گئے اور کراچی سے اسلام آباد تک اہم شاہراہیں اور شہر مفلوج ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ایل پی کی بنیاد 2015 میں ایک تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی، جو 2016 میں ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہوئی۔ اسے 2021 میں عمران خان کی حکومت کے دوران پرتشدد احتجاج کے بعد بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ڈپٹی چیف ظہیرالحق حسن شاہ کو اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان  کے خلاف عوام کو اکسانے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا سنا دی۔</p>
<p>عدالت کے مطابق لاہور پریس کلب کے باہر ہونے والے ایک اجتماع میں، جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی بھی موجود تھے، ظہیرالحق حسن شاہ نے ایسی تقاریر کیں جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد پر اکسانے کے مترادف تھیں۔</p>
<p>قِلع گجر سنگھ پولیس نے 2024 میں اس عالمِ دین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جو مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تقریر سے متعلق تھا۔</p>
<p>ایف آئی آر، جو اسٹیشن ہاؤس آفیسر حماد حسین کی مدعیت میں درج کی گئی، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6 (دہشت گردی)، 7 (دہشت گردی کی سزا) اور 11 ڈبلیو (نفرت انگیز مواد کی طباعت، اشاعت یا ترسیل یا کسی دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ شخص یا کالعدم/زیرِ نگرانی تنظیم کی تشہیر) کے تحت درج کی گئی تھی۔</p>
<p>جج ارشد جاوید نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور ملزم کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔</p>
<p>سماعت کے دوران استغاثہ نے الزامات کے حق میں 15 گواہان پیش کیے، ڈپٹی پراسیکیوٹر عبدالجبار ڈوگر نے قانون کے مطابق سزا کی استدعا کی۔</p>
<p>ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مقصودالحق نے حتمی دلائل دیتے ہوئے عدالت سے اپنے موکل کی بریت کی درخواست کی، تاہم دفاع نے الزامات کی مکمل تردید نہیں کی۔</p>
<p>عدالت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7(1)(b) کے تحت 10 سال قیدِ مشقت، جبکہ دفعات 7(g)، 21(L) اور 11(w) کے تحت پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔</p>
<p>اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 505، 117 اور 188 کے تحت بالترتیب سات سال، تین سال اور چھ ماہ قید کی الگ الگ سزائیں بھی دی گئیں۔</p>
<p>پارٹی رہنما پر مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔</p>
<p>چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد کی کال کے بعد مختلف شہروں میں ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں اور علما کی جانب سے سخت مذمت بھی سامنے آئی۔</p>
<p>حکومتی عہدیداروں نے ’جھوٹ پھیلانے والوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ’ذاتی سیاسی مفادات‘ رکھنے والے عناصر مذہب کے نام پر ’خون اور تشدد‘ پھیلا رہے ہیں۔</p>
<p>وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں فیصلہ دیا، مگر متعلقہ عناصر اب بھی جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ کسی کے قتل کا فتویٰ دے۔ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو ریاست کی رِٹ ختم ہو جائے گی۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1817586584398749769"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ معاشرے میں ایسی اشتعال انگیز تقاریر کے لیے ’کوئی گنجائش نہیں‘، اور ان کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایکس پر کہا تھا کہ ’ریاستِ پاکستان میں ایسی باتوں کی کوئی جگہ نہیں اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘</p>
<p>واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے اکتوبر میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مذہبی و سیاسی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی تھی، جو غزہ کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کے چند دن بعد لگائی گئی۔ ان احتجاجات میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار جان سے گئے اور کراچی سے اسلام آباد تک اہم شاہراہیں اور شہر مفلوج ہو گئے تھے۔</p>
<p>ٹی ایل پی کی بنیاد 2015 میں ایک تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی، جو 2016 میں ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہوئی۔ اسے 2021 میں عمران خان کی حکومت کے دوران پرتشدد احتجاج کے بعد بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274841</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 12:22:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1612215015df0c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1612215015df0c5.webp"/>
        <media:title>جج ارشد جاوید نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور ملزم کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جماعت اسلامی کا با اختیار بلدیاتی نظام کیلئے 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنے دینے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274828/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنے دینے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961143/ji-for-fair-polls-under-proportional-representation"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں حالیہ عوامی اجتماع کے انعقاد میں خدمات انجام دینے والے منتظمین اور کارکنان کے اعزاز میں اتوار کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ متناسب نمائندگی عوام کو بااثر اشرافیہ کی سیاسی یرغمالی سے نجات دلانے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے موجودہ پولیس اور عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ کچہری کا نظام چند طاقتور طبقات کی خدمت کرتا ہے اور عام شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ان کے مطابق جامع پولیس اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر جماعتِ اسلامی نے بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان بھی کیا، انہوں نے  بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے کیے گئے معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک کی ازسرِنو تنظیم کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا حکومت نئی احتجاجی مہم کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی اس مسئلے کو حل کر لے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273027'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حالیہ عوامی اجتماع فرسودہ نظام کے خلاف ملک گیر جدوجہد کے آغاز کی علامت ہے۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی آئندہ ایک سال میں 50 ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دے گی اور 50 لاکھ نئے ارکان شامل کرے گی۔ ان کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اصلاح اور بہتری پر مبنی تعمیری اقدامات بھی جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوانوں سے متعلق پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے زیڈ کنیکٹ (Z-Connect) منصوبے کو نوجوان نسل کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا، جس کے تحت نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مختلف فنی مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرضے دیے جائیں گے، کھیلوں کے مواقع میں اضافہ کیا جائے گا اور اخلاقی و کردار سازی کی تربیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ بلدیاتی حکومتیں کسی بھی جمہوری نظام کی سب سے مؤثر سطح ہوتی ہیں، مگر پاکستان میں آنے والی حکومتوں نے مسلسل انہیں نظرانداز کیا ہے۔ انہوں نے نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاندانی اور شخصی سیاست کے زیرِ اثر ہیں، جہاں کارکنوں کا کوئی مؤثر کردار نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کو اس کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندانی جماعتیں اختیارات عوام کو منتقل کرنے پر آمادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے نہ صرف پنجاب کے بلدیاتی نظام سے متعلق ’سیاہ قانون‘ کے خلاف بلکہ ملک بھر میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی تحریک شروع کر رکھی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار (21 دسمبر) کو ملک بھر میں تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر دھرنے دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمران اشرافیہ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومتیں محض دکھاوے کے لیے چند فلاحی اقدامات کرتی ہیں، جبکہ ادارہ جاتی زوال اور عوامی استحصال کی وہ بھی برابر ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی ’غلط‘ پالیسیوں کی نقالی کرتی ہیں، جس کی مثال سندھ کے بعد پنجاب میں بھاری ٹریفک جرمانوں کا نفاذ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتساب پر سوال اٹھاتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی کرنے والوں سے کون پوچھے گا، اور ’فارم 47‘ کے ذریعے مسلط کیے جانے والوں اور ان کے سہولت کاروں کا احتساب کون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعتِ اسلامی عوام، بالخصوص نوجوانوں کی حمایت سے فرسودہ نظام اور اس کے سرپرستوں کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنے دینے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1961143/ji-for-fair-polls-under-proportional-representation"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں حالیہ عوامی اجتماع کے انعقاد میں خدمات انجام دینے والے منتظمین اور کارکنان کے اعزاز میں اتوار کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ متناسب نمائندگی عوام کو بااثر اشرافیہ کی سیاسی یرغمالی سے نجات دلانے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے موجودہ پولیس اور عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ کچہری کا نظام چند طاقتور طبقات کی خدمت کرتا ہے اور عام شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ان کے مطابق جامع پولیس اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔</p>
<p>امیر جماعتِ اسلامی نے بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان بھی کیا، انہوں نے  بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے کیے گئے معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک کی ازسرِنو تنظیم کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا حکومت نئی احتجاجی مہم کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی اس مسئلے کو حل کر لے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273027'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ حالیہ عوامی اجتماع فرسودہ نظام کے خلاف ملک گیر جدوجہد کے آغاز کی علامت ہے۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی آئندہ ایک سال میں 50 ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دے گی اور 50 لاکھ نئے ارکان شامل کرے گی۔ ان کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اصلاح اور بہتری پر مبنی تعمیری اقدامات بھی جاری رہیں گے۔</p>
<p>نوجوانوں سے متعلق پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے زیڈ کنیکٹ (Z-Connect) منصوبے کو نوجوان نسل کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا، جس کے تحت نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مختلف فنی مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرضے دیے جائیں گے، کھیلوں کے مواقع میں اضافہ کیا جائے گا اور اخلاقی و کردار سازی کی تربیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ بلدیاتی حکومتیں کسی بھی جمہوری نظام کی سب سے مؤثر سطح ہوتی ہیں، مگر پاکستان میں آنے والی حکومتوں نے مسلسل انہیں نظرانداز کیا ہے۔ انہوں نے نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاندانی اور شخصی سیاست کے زیرِ اثر ہیں، جہاں کارکنوں کا کوئی مؤثر کردار نہیں ہوتا۔</p>
<p>انہوں نے پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کو اس کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندانی جماعتیں اختیارات عوام کو منتقل کرنے پر آمادہ نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے نہ صرف پنجاب کے بلدیاتی نظام سے متعلق ’سیاہ قانون‘ کے خلاف بلکہ ملک بھر میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی تحریک شروع کر رکھی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار (21 دسمبر) کو ملک بھر میں تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر دھرنے دیے جائیں گے۔</p>
<p>حکمران اشرافیہ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومتیں محض دکھاوے کے لیے چند فلاحی اقدامات کرتی ہیں، جبکہ ادارہ جاتی زوال اور عوامی استحصال کی وہ بھی برابر ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی ’غلط‘ پالیسیوں کی نقالی کرتی ہیں، جس کی مثال سندھ کے بعد پنجاب میں بھاری ٹریفک جرمانوں کا نفاذ ہے۔</p>
<p>احتساب پر سوال اٹھاتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی کرنے والوں سے کون پوچھے گا، اور ’فارم 47‘ کے ذریعے مسلط کیے جانے والوں اور ان کے سہولت کاروں کا احتساب کون کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعتِ اسلامی عوام، بالخصوص نوجوانوں کی حمایت سے فرسودہ نظام اور اس کے سرپرستوں کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274828</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 11:51:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/151146360e901eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/151146360e901eb.webp"/>
        <media:title>حافظ نعیم الرحمن نے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک کی ازسرِنو تنظیم کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا حکومت نئی احتجاجی مہم کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی اس مسئلے کو حل کر لے۔ فائل فوٹو: جماعت اسلامی سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اطمینان ہے پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا، وزیراعظم شہباز شریف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274821/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں سے خواہش تھی۔ سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بےقابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔</p>
<p>نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں سے خواہش تھی۔ سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بےقابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا۔</p>
<p>وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔</p>
<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274821</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 15:20:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131520192c966b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131520192c966b2.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں، فیلڈ مارشل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274820/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی چیلنجز، انتہاپسندانہ نظریات اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=m5acNattz-Y'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/m5acNattz-Y?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈمارشل کو فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کیے گئے اہم اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز اور جدید سمیولیٹر ٹریننگ سہولت کا مشاہدہ کیا، فیلڈمارشل نے فارمیشن کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور مجموعی تیاری کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فیلڈمارشل نے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا، جدید جنگی ماحول میں حالات سے باخبر رہنا اور بروقت فیصلے کرنا ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل نے افسران اور جوانوں سے گفتگو کی اور ان کے بلند حوصلے اور قومی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا، فیلڈ مارشل نے سخت، مقصد پر مبنی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی چیلنجز، انتہاپسندانہ نظریات اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوجرانوالہ پہنچنے پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا استقبال کور کمانڈر گوجرانوالہ نے کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی چیلنجز، انتہاپسندانہ نظریات اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔</p>
<p>چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=m5acNattz-Y'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/m5acNattz-Y?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈمارشل کو فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کیے گئے اہم اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز اور جدید سمیولیٹر ٹریننگ سہولت کا مشاہدہ کیا، فیلڈمارشل نے فارمیشن کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور مجموعی تیاری کی تعریف کی۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فیلڈمارشل نے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا، جدید جنگی ماحول میں حالات سے باخبر رہنا اور بروقت فیصلے کرنا ناگزیر ہیں۔</p>
<p>فیلڈ مارشل نے افسران اور جوانوں سے گفتگو کی اور ان کے بلند حوصلے اور قومی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا، فیلڈ مارشل نے سخت، مقصد پر مبنی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی چیلنجز، انتہاپسندانہ نظریات اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔</p>
<p>گوجرانوالہ پہنچنے پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا استقبال کور کمانڈر گوجرانوالہ نے کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274820</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 15:18:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/13151822ff636f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/13151822ff636f6.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں، خواجہ آصف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274819/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید  پر مزید الزامات بھی ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی، عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا پراجیکٹ تقریباً 12 سال قبل زور و شور سے شروع ہوا، جس میں لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا اور قید کیا گیا، جبکہ بانی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا،فیض حمید اس پراجیکٹ کے انچارج تھے اور بانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے، ان دونوں نے مل کر ملک کو برباد کیا اور عوام جانتے ہیں کہ بانی نے وعدے پورے نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض حمید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے اور ان کے تعلقات ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کے مطابق تبادلے کے بعد فیض حمید ایکسپوز ہونا شروع ہوئے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے انہیں سہولتیں فراہم کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید کا دماغ تھا اور اس کی پلاننگ انہوں نے ہی کی تھی جبکہ افرادی قوت پی ٹی آئی نے فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سازشی عناصر آج بھی بانی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور فیض حمید کے آلہ کار اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج نے بنیان المرصوص میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا اور اگر فیض اور بانی کا منصوبہ کامیاب ہوتا تو ملک کی صورتحال خطرناک ہو سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ابھینندن کی گرفتاری پر فیض اور بانی کے کانپیں ٹانگ رہی تھیں اور اگر یہ گٹھ جوڑ موجود رہتا تو نہ جانے پاکستان کا کیا ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ملک دشمنوں کا احتساب جاری رہے گا، چاہے وہ وردی میں ہوں یا سادہ لباس میں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید فوجی عدالت اور آرمی چیف کے سامنے اپیل دے سکتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں، جبکہ مغربی سرحد پر بھارت کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید  پر مزید الزامات بھی ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی، عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں۔</p>
<p>خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا پراجیکٹ تقریباً 12 سال قبل زور و شور سے شروع ہوا، جس میں لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا اور قید کیا گیا، جبکہ بانی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا،فیض حمید اس پراجیکٹ کے انچارج تھے اور بانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے، ان دونوں نے مل کر ملک کو برباد کیا اور عوام جانتے ہیں کہ بانی نے وعدے پورے نہیں کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274798'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض حمید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے اور ان کے تعلقات ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔</p>
<p>خواجہ آصف کے مطابق تبادلے کے بعد فیض حمید ایکسپوز ہونا شروع ہوئے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے انہیں سہولتیں فراہم کی گئیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید کا دماغ تھا اور اس کی پلاننگ انہوں نے ہی کی تھی جبکہ افرادی قوت پی ٹی آئی نے فراہم کی۔</p>
<p>وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سازشی عناصر آج بھی بانی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور فیض حمید کے آلہ کار اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج نے بنیان المرصوص میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا اور اگر فیض اور بانی کا منصوبہ کامیاب ہوتا تو ملک کی صورتحال خطرناک ہو سکتی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ابھینندن کی گرفتاری پر فیض اور بانی کے کانپیں ٹانگ رہی تھیں اور اگر یہ گٹھ جوڑ موجود رہتا تو نہ جانے پاکستان کا کیا ہوتا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ملک دشمنوں کا احتساب جاری رہے گا، چاہے وہ وردی میں ہوں یا سادہ لباس میں ہوں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید فوجی عدالت اور آرمی چیف کے سامنے اپیل دے سکتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں، جبکہ مغربی سرحد پر بھارت کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274819</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 13:49:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/13134740178c23f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/13134740178c23f.webp"/>
        <media:title>خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب: دھند کی وجہ سے 6 ٹریلر ٹرک آپس میں ٹکراگئے، 7 افراد زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274758/</link>
      <description>&lt;p&gt;ریسکیو 1122 کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دھند کی وجہ سے حدنگاہ کم ہونے کے باعث منگل کو ملتان-سکھر موٹروے (ایم فائیو) پر 6 ٹریلر ٹرکوں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹروے کے ظاہرپیر (رحیم یار خان) سے ملتان شیر شاہ انٹرچینج تک کے حصے (جہاں ٹکراؤ ہوا) کو صبح کے وقت دھند کی وجہ سے کم نظر آنے کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا، جسے بعد میں کھول دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NHMPofficial/status/1998279074159132690'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NHMPofficial/status/1998279074159132690"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 کے بیان کے مطابق موٹروے پر چلنے والے ٹرک دھند کی وجہ سے رکے ہوئے ٹرکوں سے ٹکرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تفصیل دیتے ہوئے ملتان ریسکیو 1122 کے ترجمان ارشد حسین نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ یہ حادثہ چھ ٹرکوں کے درمیان پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو سروس کے بیان میں بتایا گیا کہ حادثے میں 7 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 2 کو ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ٹرک سے نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="متبادل-راستے" href="#متبادل-راستے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;متبادل راستے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کے ترجمان عمران شاہ نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ دھند کی وجہ سے صبح 6 بجے سے ساڑھے 11 بجے تک ایم فائیو کا حصہ ملتان شیر شاہ انٹرچینج سے ظاہر پیر (رحیم یار خان) تک بند کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NHMPofficial/status/1998275675057459537'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NHMPofficial/status/1998275675057459537"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایم فائیو لاہور-کراچی موٹروے نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ سکھر تک فعال ہے، منگل کی عارضی بندش کے باعث ہزاروں مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نیشنل ہائی وے استعمال کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندش کے بعد ٹریفک کو ظاہر پیر سے اوچ شریف، علی پور اور مظفرگڑھ کے راستے موصولہ مقامات تک پہنچنے کے لیے نیشنل ہائی وے پر منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رکاوٹ ملتان ضلع کے جلال پور پیر والا اور شجاع آباد تحصیل جانے والے مسافروں کے لیے مشکلات کا باعث بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹروے بند ہونے کے بعد کئی انٹرچینجز کے قریب شدید ٹریفک جام بھی رپورٹ کیا گیا، جن میں ظاہر پیر، اوچ شریف، جھنگرا، جلال پور پیر والا اور شجاع آباد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایچ ایم پی کے ترجمان نے کہا کہ ایم فائیو کے ایک حصے کو بند کرنے کا فیصلہ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، کیوں کہ متاثرہ علاقے میں حد نگاہ نمایاں طور پر کم ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ دھند میں لین کی خلاف ورزی سنگین حادثات کا سبب بن سکتی ہے اور موٹر ویکل ڈرائیورز پر زور دیا کہ وہ سختی سے لین ڈسپلن پر عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ دن کے وقت 10 بجے سے 6 بجے تک سفر کریں، فوگ لائٹس استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دیگر گاڑیوں سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور زیادہ رفتار سے گزرنے سے بچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="موسم-کا-حال" href="#موسم-کا-حال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;موسم کا حال&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ادھر، محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے جمعرات تک پنجاب کے متعدد علاقوں میں دھند چھائے رہنے کی توقع ہے، جن میں ساہیوال، بہاولپور، ملتان، فیصل آباد اور لاہور شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/1998273958433673633'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmdgov/status/1998273958433673633"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دھند کا موسم بدھ اور جمعرات کو ڈیرہ غازی خان، سرگودھا اور جہلم میں بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، میٹ آفس کی ویب سائٹ کے مطابق ایم فائیو موٹروے کے لیے دھند کی اطلاع کم از کم رات 11 بجے تک متوقع نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/1998324289486135620'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmdgov/status/1998324289486135620"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند کی وجہ سے سفر میں رکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں، جس کے باعث موٹروے کے کچھ حصے بند کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید دھند کی وجہ سے کئی پروازیں یا تو ملتوی، منسوخ یا متبادل راستوں پر چلی گئیں اور ریلوے کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ریسکیو 1122 کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دھند کی وجہ سے حدنگاہ کم ہونے کے باعث منگل کو ملتان-سکھر موٹروے (ایم فائیو) پر 6 ٹریلر ٹرکوں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔</p>
<p>موٹروے کے ظاہرپیر (رحیم یار خان) سے ملتان شیر شاہ انٹرچینج تک کے حصے (جہاں ٹکراؤ ہوا) کو صبح کے وقت دھند کی وجہ سے کم نظر آنے کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا، جسے بعد میں کھول دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NHMPofficial/status/1998279074159132690'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NHMPofficial/status/1998279074159132690"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ریسکیو 1122 کے بیان کے مطابق موٹروے پر چلنے والے ٹرک دھند کی وجہ سے رکے ہوئے ٹرکوں سے ٹکرائے۔</p>
<p>مزید تفصیل دیتے ہوئے ملتان ریسکیو 1122 کے ترجمان ارشد حسین نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ یہ حادثہ چھ ٹرکوں کے درمیان پیش آیا۔</p>
<p>ریسکیو سروس کے بیان میں بتایا گیا کہ حادثے میں 7 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 2 کو ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ٹرک سے نکالا گیا۔</p>
<h1><a id="متبادل-راستے" href="#متبادل-راستے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>متبادل راستے</strong></h1>
<p>نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کے ترجمان عمران شاہ نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ دھند کی وجہ سے صبح 6 بجے سے ساڑھے 11 بجے تک ایم فائیو کا حصہ ملتان شیر شاہ انٹرچینج سے ظاہر پیر (رحیم یار خان) تک بند کر دیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NHMPofficial/status/1998275675057459537'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NHMPofficial/status/1998275675057459537"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایم فائیو لاہور-کراچی موٹروے نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ سکھر تک فعال ہے، منگل کی عارضی بندش کے باعث ہزاروں مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نیشنل ہائی وے استعمال کرنا پڑا۔</p>
<p>بندش کے بعد ٹریفک کو ظاہر پیر سے اوچ شریف، علی پور اور مظفرگڑھ کے راستے موصولہ مقامات تک پہنچنے کے لیے نیشنل ہائی وے پر منتقل کیا گیا۔</p>
<p>یہ رکاوٹ ملتان ضلع کے جلال پور پیر والا اور شجاع آباد تحصیل جانے والے مسافروں کے لیے مشکلات کا باعث بنی۔</p>
<p>موٹروے بند ہونے کے بعد کئی انٹرچینجز کے قریب شدید ٹریفک جام بھی رپورٹ کیا گیا، جن میں ظاہر پیر، اوچ شریف، جھنگرا، جلال پور پیر والا اور شجاع آباد شامل ہیں۔</p>
<p>این ایچ ایم پی کے ترجمان نے کہا کہ ایم فائیو کے ایک حصے کو بند کرنے کا فیصلہ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، کیوں کہ متاثرہ علاقے میں حد نگاہ نمایاں طور پر کم ہو گئی تھی۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ دھند میں لین کی خلاف ورزی سنگین حادثات کا سبب بن سکتی ہے اور موٹر ویکل ڈرائیورز پر زور دیا کہ وہ سختی سے لین ڈسپلن پر عمل کریں۔</p>
<p>انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ دن کے وقت 10 بجے سے 6 بجے تک سفر کریں، فوگ لائٹس استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دیگر گاڑیوں سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور زیادہ رفتار سے گزرنے سے بچیں۔</p>
<h1><a id="موسم-کا-حال" href="#موسم-کا-حال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>موسم کا حال</strong></h1>
<p>ادھر، محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے جمعرات تک پنجاب کے متعدد علاقوں میں دھند چھائے رہنے کی توقع ہے، جن میں ساہیوال، بہاولپور، ملتان، فیصل آباد اور لاہور شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/1998273958433673633'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmdgov/status/1998273958433673633"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دھند کا موسم بدھ اور جمعرات کو ڈیرہ غازی خان، سرگودھا اور جہلم میں بھی متوقع ہے۔</p>
<p>تاہم، میٹ آفس کی ویب سائٹ کے مطابق ایم فائیو موٹروے کے لیے دھند کی اطلاع کم از کم رات 11 بجے تک متوقع نہیں تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/1998324289486135620'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmdgov/status/1998324289486135620"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جنوری میں بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند کی وجہ سے سفر میں رکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں، جس کے باعث موٹروے کے کچھ حصے بند کیے گئے تھے۔</p>
<p>شدید دھند کی وجہ سے کئی پروازیں یا تو ملتوی، منسوخ یا متبادل راستوں پر چلی گئیں اور ریلوے کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274758</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 14:47:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091434110665520.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091434110665520.webp"/>
        <media:title>حادثے کے بعد ریسکیو ورکرز نے ٹرک می پھنسے 2 افراد کو آپریشن کرکے نکالا۔ —فوٹو: ریسکیو 1122
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091434239488b2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091434239488b2e.webp"/>
        <media:title>عارضی بندش کے باعث ہزاروں مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نیشنل ہائی وے استعمال کرنا پڑا۔ —فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی ٹی ڈی کی پنجاب میں کارروائیاں، ’را‘ سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگرد گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274725/</link>
      <description>&lt;p&gt;محکہ انسداد دہشتگردی پنجاب (سی ٹی ڈی) نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے دوران 12 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے ہیں، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینالیسیس ونگ‘ (را) کے لیے کام کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ گرفتاریاں حساس اداروں کے تعاون سے عمل میں آئیں، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ افراد سے تصاویر، ویڈیوز، ہتھیار اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے مذکورہ شہروں میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کارروائیوں کو ناکام بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد میں حساس مقامات، ایک مذہبی مدرسے کی تصاویر اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد صوبے میں ’خوف اور مذہبی منافرت‘ پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ان کا ہدف عبادت گاہیں اور دیگر اہم مقامات تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272979'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، لاہور میں گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کی شناخت سکھدیپ سنگھ، اعظم، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز کے طور پر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل آباد میں ایک مشتبہ شخص دانش گرفتار ہوا، جبکہ بہاولپور سے 4 دیگر مبینہ دہشتگردوں رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں اس کے بعد عمل میں آئی ہیں، جب سی ٹی ڈی نے ایک فیس بک اکاؤنٹ کی تحقیقات کی تھی، جو مبینہ طور پر بھارت سے دہشت گردی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے چلایا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، ان تمام دہشت گردوں کو بھارتی ایجنسی ’را‘ کی جانب سے مالی مدد فراہم کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے 7 خود ساختہ دھماکا خیز آلات، 2 ڈیٹونیٹرز، 102 فٹ کی سیفٹی فیوز وائر، دھماکا خیز مواد، ہتھیار، موبائل فونز اور نقد رقم برآمد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی پاکستان بھر میں باقاعدگی سے کارروائیاں کرتی ہے تاکہ دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی روک تھام اور تحقیقات کی جا سکیں اور انٹیلی جنس حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں، سی ٹی ڈی سندھ نے ضلع بدین میں ایک شخص کو ہدف بناکر قتل کرنے کے بعد واردات میں را کے ملوث ہونے کا پتہ لگایا تھا، اور اس کیس میں 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں مبینہ طور پر ’را‘ کی مالی معاونت حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں، کراچی کے علاقے قائدآباد میں چھاپہ مار کارروائی میں 4 مشتبہ بھارتی ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>محکہ انسداد دہشتگردی پنجاب (سی ٹی ڈی) نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے دوران 12 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے ہیں، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینالیسیس ونگ‘ (را) کے لیے کام کر رہے تھے۔</p>
<p>سی ٹی ڈی کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ گرفتاریاں حساس اداروں کے تعاون سے عمل میں آئیں، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ افراد سے تصاویر، ویڈیوز، ہتھیار اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے مذکورہ شہروں میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کارروائیوں کو ناکام بنا دیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد میں حساس مقامات، ایک مذہبی مدرسے کی تصاویر اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی شامل تھیں۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد صوبے میں ’خوف اور مذہبی منافرت‘ پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ان کا ہدف عبادت گاہیں اور دیگر اہم مقامات تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272979'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، لاہور میں گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کی شناخت سکھدیپ سنگھ، اعظم، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز کے طور پر کی گئی۔</p>
<p>فیصل آباد میں ایک مشتبہ شخص دانش گرفتار ہوا، جبکہ بہاولپور سے 4 دیگر مبینہ دہشتگردوں رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں اس کے بعد عمل میں آئی ہیں، جب سی ٹی ڈی نے ایک فیس بک اکاؤنٹ کی تحقیقات کی تھی، جو مبینہ طور پر بھارت سے دہشت گردی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے چلایا جا رہا تھا۔</p>
<p>سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، ان تمام دہشت گردوں کو بھارتی ایجنسی ’را‘ کی جانب سے مالی مدد فراہم کی جا رہی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے 7 خود ساختہ دھماکا خیز آلات، 2 ڈیٹونیٹرز، 102 فٹ کی سیفٹی فیوز وائر، دھماکا خیز مواد، ہتھیار، موبائل فونز اور نقد رقم برآمد ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>سی ٹی ڈی پاکستان بھر میں باقاعدگی سے کارروائیاں کرتی ہے تاکہ دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی روک تھام اور تحقیقات کی جا سکیں اور انٹیلی جنس حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>اگست میں، سی ٹی ڈی سندھ نے ضلع بدین میں ایک شخص کو ہدف بناکر قتل کرنے کے بعد واردات میں را کے ملوث ہونے کا پتہ لگایا تھا، اور اس کیس میں 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں مبینہ طور پر ’را‘ کی مالی معاونت حاصل تھی۔</p>
<p>جون میں، کراچی کے علاقے قائدآباد میں چھاپہ مار کارروائی میں 4 مشتبہ بھارتی ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274725</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 13:28:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/081319453166e8f.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/081319453166e8f.webp"/>
        <media:title>گرفتاریاں سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک فیس بک اکاؤنٹ کی تحقیقات کے بعد عمل میں آئیں۔ —فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
