<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Quetta</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 09:32:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 09:32:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: سبی میں گرینیڈ حملہ، ایک شخص جاں بحق، پانچ زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274976/</link>
      <description>&lt;p&gt;سبی: بلوچستان کے ضلع سبی میں چینک چوک کے قریب جمعرات کی شام ہونے والے دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ شام 7 بج کر 5 منٹ پر گرینیڈ حملے کے نتیجے میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبی میں تعینات اسٹیشن ہاؤس آفیسر غلام علی ابڑو نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ایدھی ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق مجموعی طور پر چھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ایک زخمی راستے میں دم توڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبی ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس برکت کھوسہ نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے وڈھ علاقے میں ایک گھر کے اندر گرینیڈ پھٹنے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق اور دو خواتین سمیت خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو خاندان اس گھر میں موجود تھے جب نامعلوم افراد نے صحن میں دستی بم پھینکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں نومبر 2022 میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کیے جانے کے بعد بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔ 2021 سے مسلسل پانچ برسوں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی دہشت گردی سے جڑی ہلاکتوں میں ہر سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سبی: بلوچستان کے ضلع سبی میں چینک چوک کے قریب جمعرات کی شام ہونے والے دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ شام 7 بج کر 5 منٹ پر گرینیڈ حملے کے نتیجے میں پیش آیا۔</p>
<p>سبی میں تعینات اسٹیشن ہاؤس آفیسر غلام علی ابڑو نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ایدھی ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>ان کے مطابق مجموعی طور پر چھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ایک زخمی راستے میں دم توڑ گیا۔</p>
<p>سبی ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس برکت کھوسہ نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے وڈھ علاقے میں ایک گھر کے اندر گرینیڈ پھٹنے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق اور دو خواتین سمیت خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو خاندان اس گھر میں موجود تھے جب نامعلوم افراد نے صحن میں دستی بم پھینکا۔</p>
<p>پاکستان میں نومبر 2022 میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کیے جانے کے بعد بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔ 2021 سے مسلسل پانچ برسوں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی دہشت گردی سے جڑی ہلاکتوں میں ہر سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274976</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 22:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/01220101b066092.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/01220101b066092.webp"/>
        <media:title>پولیس کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو خاندان اس گھر میں موجود تھے جب نامعلوم افراد نے صحن میں دستی بم پھینکا۔ فوٹو: اسمعیل ساسولی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ بلوچستان کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274784/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی الیکشن التوا کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہوگا، بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی معاونت کرے، تمام اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کی جائے جنہیں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری سونپی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ووٹرز، امیدواروں، عوام اور پولنگ عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں بلا تعطل پُرامن پولنگ کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکن الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ محمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات انعقاد کے لیے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔</strong></p>
<p>الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی الیکشن التوا کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہوگا، بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی معاونت کرے، تمام اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کی جائے جنہیں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری سونپی گئی۔</p>
<p>تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ووٹرز، امیدواروں، عوام اور پولنگ عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں بلا تعطل پُرامن پولنگ کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>رکن الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں۔</p>
<p>شاہ محمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات انعقاد کے لیے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274784</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 13:21:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/101604519e68024.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/101604519e68024.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے الزام میں نادرا کے 3 افسر گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274547/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کوئٹہ نے نادرا کے 3 اہلکاروں کو غیر ملکیوں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے اہلکاروں کی شناخت کوئٹہ ریجنل ہیڈ آفس کے انور شاہ، اور چمن زون کے جونیئر ایگزیکٹو اختر شاہ اور خواجہ وقاص کے طور پر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ گرفتار اہلکار غیر ملکیوں کو بھاری رقوم کے عوض شناختی کارڈ جاری کر رہے تھے، جس کی مدد سے وہ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر کے سعودی عرب سفر کر سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا، اور پاکستانی حکام کو بھی اس معاملے کی مزید چھان بین کے لیے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے حکام نے نادرا افسروں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا اور پوچھ گچھ کے بعد انہیں مزید تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کوئٹہ نے نادرا کے 3 اہلکاروں کو غیر ملکیوں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے اہلکاروں کی شناخت کوئٹہ ریجنل ہیڈ آفس کے انور شاہ، اور چمن زون کے جونیئر ایگزیکٹو اختر شاہ اور خواجہ وقاص کے طور پر ہوئی ہے۔</p>
<p>ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ گرفتار اہلکار غیر ملکیوں کو بھاری رقوم کے عوض شناختی کارڈ جاری کر رہے تھے، جس کی مدد سے وہ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر کے سعودی عرب سفر کر سکتے تھے۔</p>
<p>سعودی حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا، اور پاکستانی حکام کو بھی اس معاملے کی مزید چھان بین کے لیے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>ایف آئی اے حکام نے نادرا افسروں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا اور پوچھ گچھ کے بعد انہیں مزید تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274547</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 11:49:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/021147076f01183.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/021147076f01183.webp"/>
        <media:title>سعودی حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا، پاکستان کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ —فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں ایڈز سے ایک سال میں 452 اموات، مریضوں کی تعداد 3303 تک پہنچ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274504/</link>
      <description>&lt;p&gt;صحت کے شعبے کے اعلیٰ حکام کے مطابق بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 3ہزار 303 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 707 خواتین اور 90 خواجہ سرا بھی شامل ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں 452 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958443/balochistan-reports-3303-registered-aids-cases"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کوئٹہ پریس کلب میں ورلڈ ایڈز ڈے 2025 (یکم دسمبر) سے قبل ’جمود پر قابو پانا اور ایڈز کے ردِعمل کو تبدیل کرنا‘  کے موضوع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سروسز آف ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر ہاشم مینگل نے ایڈز کنٹرول پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سحرین نوشیروانی کے ہمراہ عوامی آگاہی میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے نشاندہی کی کہ اگرچہ کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، مگر یہ ڈیٹا نگرانی کے بہتر ہونے کی وجہ سے ہے، رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2024 میں 2 ہزار 851  سے بڑھ کر 2025 میں 3 ہزار 303 ہو گئی، یعنی سالانہ 452 نئے رجسٹرڈ کیسز سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ زیادہ مریض ٹیسٹنگ اور رجسٹریشن کے لیے آگے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرد مریضوں کی تعداد 2 ہزار 75 سے بڑھ کر 2 ہزار 362 ہوگئی، جب کہ خواتین مریض 600 سے بڑھ کر 707 ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ میں سب سے زیادہ 2 ہزار 164 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 90 خواجہ سرا شامل ہیں، دیگر متاثرہ اضلاع میں تربت (368 کیسز)، حب (158)، نصیرآباد (66) اور لورالائی (96) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینگل اور نوشیروانی نے بتایا کہ انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں ایچ آئی وی کی شرح سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد اور خواجہ سرا آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس، جو مدافعتی نظام کو کمزور کر کے جسم کے دفاعی میکنزم کو تباہ کرتا ہے، بنیادی طور پر 3 راستوں سے پھیلتا ہے، غیر محفوظ جنسی تعلق، ماں سے بچے کو منتقلی، اور خون کے ذریعے، غیر جانچ شدہ خون کی منتقلی، استعمال شدہ سرنجوں کا اشتراک، یا غیر جراثیم کش سرجیکل، ڈینٹل اور نائی کے اوزار بھی اس کے پھیلائو کا سبب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ عوامی آگاہی کی کمی کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، بلوچستان محکمہ صحت نے کوئٹہ، تربت اور 4 دیگر اضلاع میں ایڈز تھراپی مراکز قائم کیے ہیں، جہاں سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج اور اسکریننگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ پروگرام سال بھر آگاہی مہمات بھی چلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ سرخ ربن ایچ آئی وی/ایڈز کے ساتھ زندگی گزارنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کی عالمی علامت ہے، اور اس مرض سے بلوچستان کو نجات دلانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خداداد عثمانی، ڈاکٹر احسان اللہ اور محمد خان زہری بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صحت کے شعبے کے اعلیٰ حکام کے مطابق بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 3ہزار 303 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 707 خواتین اور 90 خواجہ سرا بھی شامل ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں 452 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958443/balochistan-reports-3303-registered-aids-cases"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق کوئٹہ پریس کلب میں ورلڈ ایڈز ڈے 2025 (یکم دسمبر) سے قبل ’جمود پر قابو پانا اور ایڈز کے ردِعمل کو تبدیل کرنا‘  کے موضوع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سروسز آف ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر ہاشم مینگل نے ایڈز کنٹرول پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سحرین نوشیروانی کے ہمراہ عوامی آگاہی میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>حکام نے نشاندہی کی کہ اگرچہ کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، مگر یہ ڈیٹا نگرانی کے بہتر ہونے کی وجہ سے ہے، رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2024 میں 2 ہزار 851  سے بڑھ کر 2025 میں 3 ہزار 303 ہو گئی، یعنی سالانہ 452 نئے رجسٹرڈ کیسز سامنے آئے۔</p>
<p>حکام کے مطابق یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ زیادہ مریض ٹیسٹنگ اور رجسٹریشن کے لیے آگے آ رہے ہیں۔</p>
<p>مرد مریضوں کی تعداد 2 ہزار 75 سے بڑھ کر 2 ہزار 362 ہوگئی، جب کہ خواتین مریض 600 سے بڑھ کر 707 ہو گئیں۔</p>
<p>کوئٹہ میں سب سے زیادہ 2 ہزار 164 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 90 خواجہ سرا شامل ہیں، دیگر متاثرہ اضلاع میں تربت (368 کیسز)، حب (158)، نصیرآباد (66) اور لورالائی (96) شامل ہیں۔</p>
<p>مینگل اور نوشیروانی نے بتایا کہ انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں ایچ آئی وی کی شرح سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد اور خواجہ سرا آتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس، جو مدافعتی نظام کو کمزور کر کے جسم کے دفاعی میکنزم کو تباہ کرتا ہے، بنیادی طور پر 3 راستوں سے پھیلتا ہے، غیر محفوظ جنسی تعلق، ماں سے بچے کو منتقلی، اور خون کے ذریعے، غیر جانچ شدہ خون کی منتقلی، استعمال شدہ سرنجوں کا اشتراک، یا غیر جراثیم کش سرجیکل، ڈینٹل اور نائی کے اوزار بھی اس کے پھیلائو کا سبب ہیں۔</p>
<p>حکام نے کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ عوامی آگاہی کی کمی کو قرار دیا۔</p>
<p>مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، بلوچستان محکمہ صحت نے کوئٹہ، تربت اور 4 دیگر اضلاع میں ایڈز تھراپی مراکز قائم کیے ہیں، جہاں سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج اور اسکریننگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ پروگرام سال بھر آگاہی مہمات بھی چلاتا ہے۔</p>
<p>حکام نے کہا کہ سرخ ربن ایچ آئی وی/ایڈز کے ساتھ زندگی گزارنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کی عالمی علامت ہے، اور اس مرض سے بلوچستان کو نجات دلانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خداداد عثمانی، ڈاکٹر احسان اللہ اور محمد خان زہری بھی موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274504</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 11:12:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/011104086701456.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/011104086701456.gif"/>
        <media:title>مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے محکمہ صحت نے مختلف اضلاع میں ایڈز تھراپی مراکز قائم کیے ہیں۔ —فوٹو: پی پی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.6 ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274454/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے شہر چمن شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ جھٹکوں کی شدت تقریبا 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزے کی گہرائی تقریبا 11 کلومیٹر بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن شہر سے جنوب مشرق میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ماہ بھی 5.0 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے 65 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا۔ &lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے شہر چمن شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ جھٹکوں کی شدت تقریبا 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزے کی گہرائی تقریبا 11 کلومیٹر بتائی گئی۔</p>
<p>زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن شہر سے جنوب مشرق میں تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ماہ بھی 5.0 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ ڈان نیوز کے مطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے 65 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا۔ <br><br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274454</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 00:15:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/292337198cd7679.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/292337198cd7679.webp"/>
        <media:title>— فائل اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: سریاب میں ریلوے ٹریک دھماکے سے اڑا دیا گیا، ٹرینوں کی آمدورفت معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274445/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ریلوے ٹریک دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس بم ڈسپوزل اسکواڈ کی نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274439/"&gt;&lt;strong&gt;یکے بعد دیگرے دو دھماکے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; رپورٹ ہوئے جس میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا دھماکا قمبرانی روڈ کے نزدیک اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا دھماکا، جو ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، اسی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شرپسند عناصر نے پہلے دھماکے کی جگہ کی طرف جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ریلوے ٹریک دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس بم ڈسپوزل اسکواڈ کی نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔</p>
<p>اس سے قبل، کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274439/"><strong>یکے بعد دیگرے دو دھماکے</strong></a> رپورٹ ہوئے جس میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا دھماکا قمبرانی روڈ کے نزدیک اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔</p>
<p>دوسرا دھماکا، جو ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، اسی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شرپسند عناصر نے پہلے دھماکے کی جگہ کی طرف جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274445</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 17:19:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/291718198c41750.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/291718198c41750.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: پولیس پر یکے بعد دیگرے 2 دھماکے، کوئی جانی نقصان نہیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274439/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر یکے بعد دیگرے دو دھماکے رپورٹ ہوئے جس میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا دھماکا قمبرانی روڈ کے نزدیک اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا دھماکا، جو ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، اسی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شرپسند عناصر نے پہلے دھماکے کی جگہ کی طرف جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گاڑی آئی ای ڈی دھماکے سے محفوظ رہی اور تمام سی ٹی ڈی اہلکار خیریت سے ہیں، آئی ای ڈی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھی اور اسے ریموٹ کے ذریعے دھماکے سے اڑایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273831/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور دہشت گردوں نے اپنے حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 3 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں ضلع کچھی کے مچھ ٹاؤن میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا جب کہ ایک اور دو دھماکے ضلع مستونگ کے میجر چوک میں ہوئے، جس کے بعد مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ہفتے جعفر ایکسپریس بولان پاس کے علاقے سے گزرتے ہوئے مسلح حملے سے محفوظ رہی، یہ واقعہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ٹرین پر ہونے والا چھٹا حملہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 ستمبر کو کوئٹہ میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹر کے قریب ایک گلی میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر یکے بعد دیگرے دو دھماکے رپورٹ ہوئے جس میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا دھماکا قمبرانی روڈ کے نزدیک اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔</p>
<p>دوسرا دھماکا، جو ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، اسی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شرپسند عناصر نے پہلے دھماکے کی جگہ کی طرف جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق گاڑی آئی ای ڈی دھماکے سے محفوظ رہی اور تمام سی ٹی ڈی اہلکار خیریت سے ہیں، آئی ای ڈی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھی اور اسے ریموٹ کے ذریعے دھماکے سے اڑایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273831/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور دہشت گردوں نے اپنے حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 3 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں ضلع کچھی کے مچھ ٹاؤن میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا جب کہ ایک اور دو دھماکے ضلع مستونگ کے میجر چوک میں ہوئے، جس کے بعد مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<p>اسی ہفتے جعفر ایکسپریس بولان پاس کے علاقے سے گزرتے ہوئے مسلح حملے سے محفوظ رہی، یہ واقعہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ٹرین پر ہونے والا چھٹا حملہ تھا۔</p>
<p>30 ستمبر کو کوئٹہ میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹر کے قریب ایک گلی میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274439</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 15:35:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/291528575444fb2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/291528575444fb2.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن ٹربیونل نے جے یو آئی (ف) کے ایم این اے سید سمیع اللہ کی کامیابی کالعدم قرار دیدی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274227/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن ٹربیونل نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کی جانب سے این اے 251 کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957214/tribunal-nullifies-jui-f-mnas-victory"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جسٹس محمد عامر نواز رانا کی سربراہی میں قائم ٹربیونل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ہدایت کی کہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹی فکیشن منسوخ کیا جائے اور حلقے کے 22 متنازع پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی درخواست میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خوشحال کاکڑ نے این اے-251 (ژوب/قلعہ سیف اللہ/شرانی) میں عام انتخابات 2024 کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور جعلی ووٹوں کا الزام لگایا تھا، اور مطالبہ کیا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو ڈی سیٹ کیا جائے اور انہیں کامیاب امیدوار قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی سماعت کے بعد ٹربیونل نے اس کے بجائے 22 متنازع پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1194482'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194482"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناقابلِ تردید شواہد، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے تصدیق شدہ ریکارڈ اور خوشحال کاکڑ کی کامیابی کے واضح ثبوت پیش کیے جانے کے باوجود دوبارہ پولنگ کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے کہا کہ اسے توقع تھی کہ ٹربیونل، خوشحال کاکڑ کی کامیابی برقرار رکھے گا، کیونکہ ای سی پی پہلے ہی اپنی ویب سائٹ پر باضابطہ کارروائیوں کے دوران اور ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے ان کی واضح برتری تسلیم کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹربیونل نے پہلے خوشحال کاکڑ کو کامیاب قرار دیا تھا اور مخالف فریق کو مطمئن کرنے کے لیے صرف 22 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوبارہ گنتی نے ایک بار پھر خوشحال کاکڑ کی 4 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری کی تصدیق کی، اور یہ نتیجہ ریٹرننگ افسر نے باقاعدہ طور پر جمع بھی کرا دیا تھا، مزید کہا گیا کہ پولنگ ایجنٹس اور پریزائیڈنگ افسران نے بھی ان کے حق میں گواہی دی، جب کہ ای سی پی نے مکمل ریکارڈ پیش کیا جو ان کے دعوے کی تائید کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے دوبارہ پولنگ کے حکم کو مایوس کن اور انتخابی انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد خوشحال کاکڑ کی 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی اصل برتری کو غیرقانونی طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن ٹربیونل نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کی جانب سے این اے 251 کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1957214/tribunal-nullifies-jui-f-mnas-victory"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جسٹس محمد عامر نواز رانا کی سربراہی میں قائم ٹربیونل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ہدایت کی کہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹی فکیشن منسوخ کیا جائے اور حلقے کے 22 متنازع پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔</p>
<p>اپنی درخواست میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خوشحال کاکڑ نے این اے-251 (ژوب/قلعہ سیف اللہ/شرانی) میں عام انتخابات 2024 کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور جعلی ووٹوں کا الزام لگایا تھا، اور مطالبہ کیا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو ڈی سیٹ کیا جائے اور انہیں کامیاب امیدوار قرار دیا جائے۔</p>
<p>کیس کی سماعت کے بعد ٹربیونل نے اس کے بجائے 22 متنازع پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1194482'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194482"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک بیان میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناقابلِ تردید شواہد، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے تصدیق شدہ ریکارڈ اور خوشحال کاکڑ کی کامیابی کے واضح ثبوت پیش کیے جانے کے باوجود دوبارہ پولنگ کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔</p>
<p>پارٹی نے کہا کہ اسے توقع تھی کہ ٹربیونل، خوشحال کاکڑ کی کامیابی برقرار رکھے گا، کیونکہ ای سی پی پہلے ہی اپنی ویب سائٹ پر باضابطہ کارروائیوں کے دوران اور ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے ان کی واضح برتری تسلیم کر چکا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹربیونل نے پہلے خوشحال کاکڑ کو کامیاب قرار دیا تھا اور مخالف فریق کو مطمئن کرنے کے لیے صرف 22 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>اس دوبارہ گنتی نے ایک بار پھر خوشحال کاکڑ کی 4 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری کی تصدیق کی، اور یہ نتیجہ ریٹرننگ افسر نے باقاعدہ طور پر جمع بھی کرا دیا تھا، مزید کہا گیا کہ پولنگ ایجنٹس اور پریزائیڈنگ افسران نے بھی ان کے حق میں گواہی دی، جب کہ ای سی پی نے مکمل ریکارڈ پیش کیا جو ان کے دعوے کی تائید کرتا تھا۔</p>
<p>پارٹی نے دوبارہ پولنگ کے حکم کو مایوس کن اور انتخابی انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد خوشحال کاکڑ کی 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی اصل برتری کو غیرقانونی طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274227</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 13:34:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/25101932adcb83d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/25101932adcb83d.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: قومی اسمبلی/ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد، سرفراز بگٹی کو اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے، ن لیگ، پی پی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274102/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلم لیگ (ن)&lt;/strong&gt; اور پاکستان &lt;strong&gt;پیپلز پارٹی (پی پی پی)&lt;/strong&gt; دونوں جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے  بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956641/pml-n-ppp-leaders-deny-claims-balochistan-cm-bugti-will-be-removed"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ بظاہر مسلم لیگ (ن) کے میر دوستین خان ڈومکی کی ذاتی خواہش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ تو کیا ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات &lt;strong&gt;میر سلیم کھوسہ&lt;/strong&gt; نے کہا کہ ان کی جماعت کے سینیٹر کا بیان یا تو ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یا وزیراعلیٰ بگٹی کے ساتھ کسی اختلاف کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو امن و امان اور طرز حکمرانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور ان امور کا جائزہ اسمبلی میں ہونے والی ان کیمرا بریفنگ کے دوران لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274014/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ میر دوستین خان ڈومکی کے بیان کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بات کی، اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت یقیناً سینیٹر سے پوچھے گی کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر ایسا بیان کیوں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ذاتی اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دینا مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، اور ہر جماعت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اختلافات خاندانوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہیں، اور ان کی اپنی جماعت (پیپلز پارٹی) کے اراکین بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ سرفراز بگٹی مؤثر اور محنتی انداز میں کام کر رہے ہیں، اور اتحادی حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حال میں وزیراعلیٰ بگٹی کی حمایت جاری رکھے گی، بلوچستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بیرونی خطرات بھی شامل ہیں، مگر صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" href="#پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;‘پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بگٹی کے ساتھ’&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر &lt;strong&gt;میر محمد صادق عمرانی&lt;/strong&gt; نے بھی سینیٹر ڈومکی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بگٹی کو ان کی جماعت کی قیادت کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا فرد جو پیپلز پارٹی کا رکن نہیں ہے، پارٹی کے بارے میں پالیسی بیان دینے کا مجاز نہیں۔&lt;br&gt;
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ مسٹر بگٹی ہی ان کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہی رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صادق عمرانی نے کہا کہ وہ مستقبل کی سیاسی پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق افواہوں کی تردید کرنے کی ہدایت دی تھی، جو انہوں نے کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طاقت کی شراکت داری کے باقی ڈھائی سالوں کا فیصلہ پارٹی قیادت کے ہاتھ میں ہے، پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ اگلے ڈھائی سال بھی ان کے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ 53 سال سے پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، مگر وہ پارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p><strong>مسلم لیگ (ن)</strong> اور پاکستان <strong>پیپلز پارٹی (پی پی پی)</strong> دونوں جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے  بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956641/pml-n-ppp-leaders-deny-claims-balochistan-cm-bugti-will-be-removed"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ بظاہر مسلم لیگ (ن) کے میر دوستین خان ڈومکی کی ذاتی خواہش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ تو کیا ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات <strong>میر سلیم کھوسہ</strong> نے کہا کہ ان کی جماعت کے سینیٹر کا بیان یا تو ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یا وزیراعلیٰ بگٹی کے ساتھ کسی اختلاف کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو امن و امان اور طرز حکمرانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور ان امور کا جائزہ اسمبلی میں ہونے والی ان کیمرا بریفنگ کے دوران لیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274014/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ میر دوستین خان ڈومکی کے بیان کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بات کی، اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت یقیناً سینیٹر سے پوچھے گی کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر ایسا بیان کیوں دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ذاتی اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دینا مناسب نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، اور ہر جماعت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اختلافات خاندانوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اراکین اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہیں، اور ان کی اپنی جماعت (پیپلز پارٹی) کے اراکین بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ سرفراز بگٹی مؤثر اور محنتی انداز میں کام کر رہے ہیں، اور اتحادی حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حال میں وزیراعلیٰ بگٹی کی حمایت جاری رکھے گی، بلوچستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بیرونی خطرات بھی شامل ہیں، مگر صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔</p>
<h3><a id="پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" href="#پیپلز-پارٹی-کی-قیادت-بھی-بگٹی-کے-ساتھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>‘پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بگٹی کے ساتھ’</h3>
<p>پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر <strong>میر محمد صادق عمرانی</strong> نے بھی سینیٹر ڈومکی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بگٹی کو ان کی جماعت کی قیادت کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا فرد جو پیپلز پارٹی کا رکن نہیں ہے، پارٹی کے بارے میں پالیسی بیان دینے کا مجاز نہیں۔<br>
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ مسٹر بگٹی ہی ان کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہی رہیں گے۔</p>
<p>صادق عمرانی نے کہا کہ وہ مستقبل کی سیاسی پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق افواہوں کی تردید کرنے کی ہدایت دی تھی، جو انہوں نے کر دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ طاقت کی شراکت داری کے باقی ڈھائی سالوں کا فیصلہ پارٹی قیادت کے ہاتھ میں ہے، پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ اگلے ڈھائی سال بھی ان کے ہوں گے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ 53 سال سے پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، مگر وہ پارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274102</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 11:16:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/221112227647a12.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/221112227647a12.webp"/>
        <media:title>صادق عمرانی نے دعویٰ کیا کہ آئندہ ڈھائی سال بھی صوبے میں پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ ہی رہے گا۔ —فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیرہ مراد جمالی : جعفر ایکسپریس بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273831/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی میں  جعفر ایکسپریس بم دھماکے میں بال بال بچ گئی، ٹرین گزرنے کے بعد چند منٹ بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر  ڈیرہ مراد جمالی میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے بعد ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا جس سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا، دھماکے سے چند منٹ پہلے پشاور سے کوئٹہ ہونے والی جعفر ایکسپریس ٹریک سے گزری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی میں  جعفر ایکسپریس بم دھماکے میں بال بال بچ گئی، ٹرین گزرنے کے بعد چند منٹ بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر  ڈیرہ مراد جمالی میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے بعد ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا جس سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا، دھماکے سے چند منٹ پہلے پشاور سے کوئٹہ ہونے والی جعفر ایکسپریس ٹریک سے گزری تھی۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273831</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 20:06:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/16200433c8c4fdb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/16200433c8c4fdb.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان اسمبلی نے کم عمری کی شادی کی ممانعت کے بل کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273759/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان اسمبلی نے شدید ہنگامہ آرائی کے باوجود بچپن کی شادی کی ممانعت سے متعلق ’چائلڈ میرج پروہبیشن بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955174/balochistan-assembly-passes-child-marriage-bill"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بل پیش کرنے اور منظوری کے دوران ایوان میں گرما گرم صورتحال پیدا ہو گئی، اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی اور شور شرابا کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت اجلاس کا آغاز بچپن کی شادی پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پیش کرنے سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف یونس زہری (جے یو آئی ف) نے کہا کہ یہ قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف ہے اور صرف ایک غیر سرکاری تنظیم کو خوش کرنے کے لیے لائی جا رہی ہے، اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شریعت کورٹ اس معاملے میں اعلیٰ ترین اتھارٹی ہے اور اس کا فیصلہ پہلے ہی آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1199253'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونس زہری نے احتجاجاً ایجنڈے کی دستاویزات پھاڑ دیں، بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن ارکان احتجاج جاری رکھتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے، شور شرابے کے باوجود چائلڈ میرج پروہیبیشن بل اسمبلی سے منظور ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fpermalink.php%3Fstory_fbid%3Dpfbid0yu82BmTK1C9uf5YfsjFTynZbCivX5UPvM1gSeYSkc5Xe22mjPqaDP9pDi7snr3YCl%26id%3D61560310193086&amp;show_text=true&amp;width=500" width="500" height="665" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین نے کہا کہ اگرچہ بل منظور ہو چکا ہے، اپوزیشن اسے عدالت میں چیلنج کرے گی، اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پنجگور کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تقسیم میں تاخیر، گوادر میں کھیلوں کی سرگرمیوں اور فنڈنگ، متعدد نکاتِ اعتراض اور محکمہ جاتی سوالات پر بھی بات ہوئی، تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث تین قراردادیں پیش نہ کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="عرفان-صدیقی-اور-آغا-سراج-کے-انتقال-پر-تعزیت" href="#عرفان-صدیقی-اور-آغا-سراج-کے-انتقال-پر-تعزیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عرفان صدیقی اور آغا سراج کے انتقال پر تعزیت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایوان نے سینیٹر عرفان صدیقی اور آغا سراج درانی کے انتقال پر تعزیت کی اور ارکان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائدِ حزبِ اختلاف یونس زہری نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات پر اپنے منصوبوں کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، جس سے ان کے اور اسمبلی کے استحقاق کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے رولنگ دی کہ اگلے اجلاس میں مناسب جواب دیا جائے گا اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بچپن کی شادی پر پابندی کے بل کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے آئینی اختیار کو پھر سے واضح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260882'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260882"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قانون سازی حکومت کا آئینی حق ہے اور آج صوبائی اسمبلی نے یہ حق استعمال کیا ہے، بل کثرت رائے سے منظور ہوا ہے جو جمہوری عمل کی مضبوطی کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور حکومت اس کا احترام کرتی ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ بات چیت اور مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMOBalochistan/status/1989311903374639179'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMOBalochistan/status/1989311903374639179"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر قانون سازی ہمیشہ عوام کے بہترین مفاد میں کی جاتی ہے، بل 6 ماہ تک کمیٹی کے جائزے میں رہا اور کابینہ سے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت اتفاقِ رائے پر مبنی قانون سازی کو ترجیح دیتی ہے اور ہر بل وسیع مشاورت اور شفاف عمل کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرفراز بگٹی نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت، بلوچستان کی ترقی اور فلاح کے لیے سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہی ہے اور قانون سازی کا عمل بلا رکاوٹ جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس 17 نومبر تک ملتوی کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان اسمبلی نے شدید ہنگامہ آرائی کے باوجود بچپن کی شادی کی ممانعت سے متعلق ’چائلڈ میرج پروہبیشن بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1955174/balochistan-assembly-passes-child-marriage-bill"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق بل پیش کرنے اور منظوری کے دوران ایوان میں گرما گرم صورتحال پیدا ہو گئی، اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی اور شور شرابا کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔</p>
<p>اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت اجلاس کا آغاز بچپن کی شادی پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پیش کرنے سے ہوا۔</p>
<p>بل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف یونس زہری (جے یو آئی ف) نے کہا کہ یہ قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف ہے اور صرف ایک غیر سرکاری تنظیم کو خوش کرنے کے لیے لائی جا رہی ہے، اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شریعت کورٹ اس معاملے میں اعلیٰ ترین اتھارٹی ہے اور اس کا فیصلہ پہلے ہی آگیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1199253'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یونس زہری نے احتجاجاً ایجنڈے کی دستاویزات پھاڑ دیں، بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن ارکان احتجاج جاری رکھتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے، شور شرابے کے باوجود چائلڈ میرج پروہیبیشن بل اسمبلی سے منظور ہو گیا۔</p>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fpermalink.php%3Fstory_fbid%3Dpfbid0yu82BmTK1C9uf5YfsjFTynZbCivX5UPvM1gSeYSkc5Xe22mjPqaDP9pDi7snr3YCl%26id%3D61560310193086&show_text=true&width=500" width="500" height="665" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share"></iframe>
<p>اپوزیشن کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین نے کہا کہ اگرچہ بل منظور ہو چکا ہے، اپوزیشن اسے عدالت میں چیلنج کرے گی، اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<p>اجلاس میں پنجگور کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تقسیم میں تاخیر، گوادر میں کھیلوں کی سرگرمیوں اور فنڈنگ، متعدد نکاتِ اعتراض اور محکمہ جاتی سوالات پر بھی بات ہوئی، تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث تین قراردادیں پیش نہ کی جا سکیں۔</p>
<h1><a id="عرفان-صدیقی-اور-آغا-سراج-کے-انتقال-پر-تعزیت" href="#عرفان-صدیقی-اور-آغا-سراج-کے-انتقال-پر-تعزیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عرفان صدیقی اور آغا سراج کے انتقال پر تعزیت</h1>
<p>ایوان نے سینیٹر عرفان صدیقی اور آغا سراج درانی کے انتقال پر تعزیت کی اور ارکان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>قائدِ حزبِ اختلاف یونس زہری نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات پر اپنے منصوبوں کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، جس سے ان کے اور اسمبلی کے استحقاق کو نقصان پہنچا۔</p>
<p>اسپیکر نے رولنگ دی کہ اگلے اجلاس میں مناسب جواب دیا جائے گا اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔</p>
<p>اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بچپن کی شادی پر پابندی کے بل کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے آئینی اختیار کو پھر سے واضح کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260882'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260882"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ قانون سازی حکومت کا آئینی حق ہے اور آج صوبائی اسمبلی نے یہ حق استعمال کیا ہے، بل کثرت رائے سے منظور ہوا ہے جو جمہوری عمل کی مضبوطی کی علامت ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور حکومت اس کا احترام کرتی ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ بات چیت اور مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMOBalochistan/status/1989311903374639179'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMOBalochistan/status/1989311903374639179"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر قانون سازی ہمیشہ عوام کے بہترین مفاد میں کی جاتی ہے، بل 6 ماہ تک کمیٹی کے جائزے میں رہا اور کابینہ سے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت اتفاقِ رائے پر مبنی قانون سازی کو ترجیح دیتی ہے اور ہر بل وسیع مشاورت اور شفاف عمل کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔</p>
<p>سرفراز بگٹی نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت، بلوچستان کی ترقی اور فلاح کے لیے سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہی ہے اور قانون سازی کا عمل بلا رکاوٹ جاری رہے گا۔</p>
<p>بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس 17 نومبر تک ملتوی کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273759</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 16:44:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/15104250bca1836.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/15104250bca1836.webp"/>
        <media:title>اپوزیشن کے رکن اصغر ترین نے کہا کہ اگرچہ بل منظور ہو چکا ہے، اپوزیشن اسے عدالت میں چیلنج کرے گی — فوٹو: پی پی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حکومت بلوچستان کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273635/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حکومت بلوچستان کو کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے، سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو خط ارسال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے حکومت بلوچستان کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی تاکید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن نے ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے، انتخابی کارروائیوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273154'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات 28 دسمبر 2025 کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول 3 نومبر کو جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انتخابات-کا-شیدول" href="#انتخابات-کا-شیدول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انتخابات کا شیدول&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 13 سے 17 نومبر تک متعلقہ ریٹرننگ افسران کو جمع کرا سکیں گے، جب کہ ابتدائی فہرست 18 نومبر کو جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 19 سے 24 نومبر تک ہوگی، ریٹرننگ افسران کے فیصلوں (نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے) کے خلاف اپیلیں 28 نومبر تک الیکشن ٹریبونل میں دائر کی جا سکیں گی، جو 3 دسمبر تک ان اپیلوں پر فیصلے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیدواروں کی نظرِ ثانی شدہ فہرست 4 دسمبر کو جاری ہوگی، جب کہ حتمی فہرست اور کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 5 دسمبر ہوگی، انتخابی نشانات 6 دسمبر کو الاٹ کیے جائیں گے، اور پولنگ 28 دسمبر (اتوار) کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی، سرکاری نتائج 31 دسمبر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حکومت بلوچستان کو کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کر دی ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے، سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو خط ارسال کیا ہے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے حکومت بلوچستان کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی تاکید کی ہے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن نے ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے، انتخابی کارروائیوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273154'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔</p>
<p>کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات 28 دسمبر 2025 کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول 3 نومبر کو جاری کیا تھا۔</p>
<h1><a id="انتخابات-کا-شیدول" href="#انتخابات-کا-شیدول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انتخابات کا شیدول</h1>
<p>کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 13 سے 17 نومبر تک متعلقہ ریٹرننگ افسران کو جمع کرا سکیں گے، جب کہ ابتدائی فہرست 18 نومبر کو جاری کی جائے گی۔</p>
<p>کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 19 سے 24 نومبر تک ہوگی، ریٹرننگ افسران کے فیصلوں (نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے) کے خلاف اپیلیں 28 نومبر تک الیکشن ٹریبونل میں دائر کی جا سکیں گی، جو 3 دسمبر تک ان اپیلوں پر فیصلے کرے گا۔</p>
<p>امیدواروں کی نظرِ ثانی شدہ فہرست 4 دسمبر کو جاری ہوگی، جب کہ حتمی فہرست اور کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 5 دسمبر ہوگی، انتخابی نشانات 6 دسمبر کو الاٹ کیے جائیں گے، اور پولنگ 28 دسمبر (اتوار) کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی، سرکاری نتائج 31 دسمبر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273635</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 15:17:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/121508508ce2baa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/121508508ce2baa.webp"/>
        <media:title>ضلع کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات 28 دسمبر 2025 کو ہوں گے، جن کا شیڈول 3 نومبر کو جاری کیا گیا تھا۔
— فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں 30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ، اسلحہ کی نمائش، جلسوں، دھرنوں پر پابندی ہوگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273363/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت بلوچستان  نے صوبے بھر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت اسلحہ کی نمائش،  جلسے جلوس،  دھرنوں اور 5 سے زائد افراد کا اکھٹے گھومنے پر پابندی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نوٹی فکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت صوبے میں اسلحہ کی نمائش، جلسے جلوس، دھرنے اور پانچ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت بلوچستان  نے صوبے بھر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت اسلحہ کی نمائش،  جلسے جلوس،  دھرنوں اور 5 سے زائد افراد کا اکھٹے گھومنے پر پابندی ہوگی۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔</p>
<p>سرکاری نوٹی فکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت صوبے میں اسلحہ کی نمائش، جلسے جلوس، دھرنے اور پانچ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہوگی۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273363</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 20:36:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/06203512196613d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/06203512196613d.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: کچھی میں تھانہ نذر آتش، کوئٹہ میں چیک پوسٹ پر دستی بم کا حملہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273247/</link>
      <description>&lt;p&gt;نامعلوم مسلح افراد نے منگل کی شام ضلع کچھی میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی، جب کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے علاقے میں ایک چیک پوسٹ کو دستی بم (ہینڈ گرینیڈ) سے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953215/police-station-check-post-attacked-in-kachhi-and-quetta"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس تقریباً 2 درجن نامعلوم ملزمان نے کٹھان پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، یہ پولیس اسٹیشن حال ہی میں محکمہ لائیو اسٹاک کی ایک عمارت میں قائم کیا گیا تھا اور لیویز اہلکاروں کے پولیس میں انضمام کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملہ آور دو کمروں پر مشتمل اس پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوئے اور سرکاری ریکارڈز اور فرنیچر کو آگ لگا دی، انہوں نے وہاں سے دو رائفلیں (جن میں ایک ایس ایم جی اور ایک جی-3)، ایک موبائل فون اور ایک نجی موٹر سائیکل لیکر فرار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272563'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
ایک سینئر اہلکار کے مطابق حملہ آوروں کی بڑی تعداد کے باعث قریبی نجی مکان میں موجود سابق لیویز اہلکار مؤثر جواب نہیں دے سکے، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی تحقیقات محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سبی رینج نے شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چیک-پوسٹ-پر-حملہ" href="#چیک-پوسٹ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چیک پوسٹ پر حملہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے علاقے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہینڈ گرینیڈز سے حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق موٹر سائیکل سواروں نے چیک پوسٹ پر 2 گرینیڈ پھینکے، جو قریب ہی پھٹے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیک پوسٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، لیکن حملہ آور گرینیڈ پھینکنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نامعلوم مسلح افراد نے منگل کی شام ضلع کچھی میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی، جب کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے علاقے میں ایک چیک پوسٹ کو دستی بم (ہینڈ گرینیڈ) سے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1953215/police-station-check-post-attacked-in-kachhi-and-quetta"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس تقریباً 2 درجن نامعلوم ملزمان نے کٹھان پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، یہ پولیس اسٹیشن حال ہی میں محکمہ لائیو اسٹاک کی ایک عمارت میں قائم کیا گیا تھا اور لیویز اہلکاروں کے پولیس میں انضمام کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔</p>
<p>حملہ آور دو کمروں پر مشتمل اس پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوئے اور سرکاری ریکارڈز اور فرنیچر کو آگ لگا دی، انہوں نے وہاں سے دو رائفلیں (جن میں ایک ایس ایم جی اور ایک جی-3)، ایک موبائل فون اور ایک نجی موٹر سائیکل لیکر فرار ہو گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272563'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
ایک سینئر اہلکار کے مطابق حملہ آوروں کی بڑی تعداد کے باعث قریبی نجی مکان میں موجود سابق لیویز اہلکار مؤثر جواب نہیں دے سکے، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔</p>
<p>مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا۔</p>
<p>واقعے کی تحقیقات محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سبی رینج نے شروع کر دی ہیں۔</p>
<h1><a id="چیک-پوسٹ-پر-حملہ" href="#چیک-پوسٹ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چیک پوسٹ پر حملہ</h1>
<p>کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے علاقے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہینڈ گرینیڈز سے حملہ کیا۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق موٹر سائیکل سواروں نے چیک پوسٹ پر 2 گرینیڈ پھینکے، جو قریب ہی پھٹے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>چیک پوسٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، لیکن حملہ آور گرینیڈ پھینکنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273247</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 09:49:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/05094118f544f52.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/05094118f544f52.webp"/>
        <media:title>حملے کی زد میں آنے والا کٹھان پولیس اسٹیشن حال ہی میں لائیو اسٹاک کی ایک عمارت میں قائم کیا گیا تھا۔
—فائل فوٹو: عبداللہ زہری/ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: ضلع پشین میں 15 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273237/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان حکومت نے ضلع پشین میں 15 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے ضلع پشین میں دفعہ 144 کے نفاذ کے لیے نوٹی فکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق اسلحے کی نمائش، جلسے جلوس، دھرنوں یا 5 افراد سے زائد کے اکھٹے ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ضلع پشین میں 20 نومبر تک دفعہ 144 نافذ رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268737'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یکم اگست کو حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان کے پیش نظر یکم تا 15 اگست تک دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، جس میں بعد ازاں 15 اگست کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1266875/"&gt;&lt;strong&gt;مزید 15 روز کی توسیع&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفعہ 144 کے دوسری مدت ختم ہونے سے قبل 29 اگست کو ہی حکومت بلوچستان نے اس میں مزید 15 روز کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1267947"&gt;&lt;strong&gt;توسیع&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کر دی تھی، جو 15 ستمبر تک برقرار رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران 8 ستمبر کو  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے 100 سے زائد مظاہرین کو اجتماعات پر پابندی کی خلاف ورزی، مبینہ طور پر زبردستی بازار بند کرانے اور شاہراہیں بلاک کرنے کے الزام میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268737"&gt;&lt;strong&gt;گرفتار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) محمد بلوچ نے ڈان کو بتایا تھا کہ ’100 سے زیادہ افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی، زبردستی بازار بند کرانے اور شاہراہیں بلاک کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان حکومت نے ضلع پشین میں 15 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے ضلع پشین میں دفعہ 144 کے نفاذ کے لیے نوٹی فکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق اسلحے کی نمائش، جلسے جلوس، دھرنوں یا 5 افراد سے زائد کے اکھٹے ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔</p>
<p>محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ضلع پشین میں 20 نومبر تک دفعہ 144 نافذ رہے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268737'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ یکم اگست کو حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان کے پیش نظر یکم تا 15 اگست تک دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، جس میں بعد ازاں 15 اگست کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1266875/"><strong>مزید 15 روز کی توسیع</strong></a> کی گئی تھی۔</p>
<p>دفعہ 144 کے دوسری مدت ختم ہونے سے قبل 29 اگست کو ہی حکومت بلوچستان نے اس میں مزید 15 روز کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1267947"><strong>توسیع</strong></a> کر دی تھی، جو 15 ستمبر تک برقرار رہی تھی۔</p>
<p>اس دوران 8 ستمبر کو  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے 100 سے زائد مظاہرین کو اجتماعات پر پابندی کی خلاف ورزی، مبینہ طور پر زبردستی بازار بند کرانے اور شاہراہیں بلاک کرنے کے الزام میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268737"><strong>گرفتار</strong></a> کر لیا تھا۔</p>
<p>کوئٹہ کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) محمد بلوچ نے ڈان کو بتایا تھا کہ ’100 سے زیادہ افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی، زبردستی بازار بند کرانے اور شاہراہیں بلاک کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273237</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 23:41:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/04232507d4380d9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/04232507d4380d9.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان حکومت کی ضلع کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273154/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بلوچستان حکومت کی کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انتخابات 28 دسمبر کو ہی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953031/balochistan-request-to-delay-lg-polls-turned-down"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بلوچستان حکومت نے صوبائی الیکشن کمشنر کو باضابطہ طور پر ایک خط لکھا تھا، جس میں کوئٹہ میونسپل کارپوریشن (کیو ایم سی) کے انتخابات موسمِ سرما کی سختی اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق الیکشن کمیشن نے حکومت کے خط کا جائزہ لینے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست مسترد کر دی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات کمیشن کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے ایک علیحدہ اعلامیے میں تصدیق کی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں پولنگ ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272189'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272189"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ مکمل غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انتخابات کا انعقاد اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ہی کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی پی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، کوئٹہ ضلع کی شہری یونین کونسلوں کی جنرل نشستوں پر انتخابات 28 دسمبر کو ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کاغذات-نامزدگی" href="#کاغذات-نامزدگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کاغذات نامزدگی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امیدوار اپنے کاغذات  نامزدگی 13 سے 17 نومبر تک متعلقہ ریٹرننگ افسران کو جمع کرا سکیں گے، جب کہ ابتدائی فہرست 18 نومبر کو جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 19 سے 24 نومبر تک ہوگی، ریٹرننگ افسران کے فیصلوں (نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے) کے خلاف اپیلیں 28 نومبر تک الیکشن ٹریبونل میں دائر کی جا سکیں گی، جو 3 دسمبر تک ان اپیلوں پر فیصلے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیدواروں کی نظرِ ثانی شدہ فہرست 4 دسمبر کو جاری ہوگی، جب کہ حتمی فہرست اور کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 5 دسمبر ہوگی، انتخابی نشانات 6 دسمبر کو الاٹ کیے جائیں گے، اور پولنگ 28 دسمبر (اتوار) کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی، سرکاری نتائج 31 دسمبر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بلوچستان حکومت کی کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انتخابات 28 دسمبر کو ہی ہوں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953031/balochistan-request-to-delay-lg-polls-turned-down"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق بلوچستان حکومت نے صوبائی الیکشن کمشنر کو باضابطہ طور پر ایک خط لکھا تھا، جس میں کوئٹہ میونسپل کارپوریشن (کیو ایم سی) کے انتخابات موسمِ سرما کی سختی اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق الیکشن کمیشن نے حکومت کے خط کا جائزہ لینے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست مسترد کر دی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات کمیشن کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے ایک علیحدہ اعلامیے میں تصدیق کی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں پولنگ ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272189'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272189"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ مکمل غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انتخابات کا انعقاد اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ہی کیا جائے گا۔</p>
<p>ای سی پی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، کوئٹہ ضلع کی شہری یونین کونسلوں کی جنرل نشستوں پر انتخابات 28 دسمبر کو ہوں گے۔</p>
<h1><a id="کاغذات-نامزدگی" href="#کاغذات-نامزدگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کاغذات نامزدگی</h1>
<p>امیدوار اپنے کاغذات  نامزدگی 13 سے 17 نومبر تک متعلقہ ریٹرننگ افسران کو جمع کرا سکیں گے، جب کہ ابتدائی فہرست 18 نومبر کو جاری کی جائے گی۔</p>
<p>کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 19 سے 24 نومبر تک ہوگی، ریٹرننگ افسران کے فیصلوں (نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے) کے خلاف اپیلیں 28 نومبر تک الیکشن ٹریبونل میں دائر کی جا سکیں گی، جو 3 دسمبر تک ان اپیلوں پر فیصلے کرے گا۔</p>
<p>امیدواروں کی نظرِ ثانی شدہ فہرست 4 دسمبر کو جاری ہوگی، جب کہ حتمی فہرست اور کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 5 دسمبر ہوگی، انتخابی نشانات 6 دسمبر کو الاٹ کیے جائیں گے، اور پولنگ 28 دسمبر (اتوار) کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی، سرکاری نتائج 31 دسمبر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئٹہ ضلع میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273154</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 10:06:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/04090903ab7207e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/04090903ab7207e.webp"/>
        <media:title>صوبائی حکومت نے موسمِ سرما اور امن و امان کی صورتحال کے باعث الیکشن مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی — فائل فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان : تربت میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 29 غیرملکی شہری گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273042/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے ضلع تربت میں پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مشترکہ کارروائی کے دوران انسانی اسمگلنگ کے اقدام کو ناکام بناتے ہوئے  29 غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور  کرنے  کی کوشش پر گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے تحت افراد کو کسی ملک میں داخل ہونے یا وہاں غیر قانونی طور پر قیام پذیر رہنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف ملک کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس میں ملوث افراد کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کیچ کیپٹن زوہیب محسن نے ڈان نیوز کو بتایا کہ یہ کارروائی تربت کے نواحی علاقے میں کی گئی، جہاں ایک لینڈ کروزر کو روکا گیا جس میں درجنوں افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ’ گرفتار ہونے والوں میں 12 مرد، 13 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں، دو ڈرائیوروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ان افراد کو غیر قانونی راستوں کے ذریعے ایران لے جانے میں ملوث تھے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی زوہیب محسن نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گرفتار افغان شہری بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہو کر یورپ جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270550'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’ تمام گرفتار افراد کو مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد مزید گرفتاریوں کی توقع ہے اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں، اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں ایک ’ مائیگریشن نیٹ ورک’  کا آغاز کیا تھا تاکہ ملک میں نقل و حرکت کے نظم و نسق کو بہتر بنایا جا سکے اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال، بہت سے نوجوان پاکستانی بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے منشیات و جرائم کے ادارے (UNODC) اور یورپی یونین کی 2023 کی ایک تحقیق کے مطابق، گزشتہ تین سالوں میں 24 ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپی یونین کے ممالک میں داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ امریکا اور آسٹریلیا بھی ان کے لیے پسندیدہ منزلوں میں شامل ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے ضلع تربت میں پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مشترکہ کارروائی کے دوران انسانی اسمگلنگ کے اقدام کو ناکام بناتے ہوئے  29 غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور  کرنے  کی کوشش پر گرفتار کر لیا۔</p>
<p>پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے تحت افراد کو کسی ملک میں داخل ہونے یا وہاں غیر قانونی طور پر قیام پذیر رہنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف ملک کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس میں ملوث افراد کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔</p>
<p>سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کیچ کیپٹن زوہیب محسن نے ڈان نیوز کو بتایا کہ یہ کارروائی تربت کے نواحی علاقے میں کی گئی، جہاں ایک لینڈ کروزر کو روکا گیا جس میں درجنوں افراد سوار تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ’ گرفتار ہونے والوں میں 12 مرد، 13 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں، دو ڈرائیوروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ان افراد کو غیر قانونی راستوں کے ذریعے ایران لے جانے میں ملوث تھے۔’</p>
<p>ایس ایس پی زوہیب محسن نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گرفتار افغان شہری بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہو کر یورپ جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270550'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا، ’ تمام گرفتار افراد کو مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔’</p>
<p>عہدیدار نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد مزید گرفتاریوں کی توقع ہے اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ستمبر میں، اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں ایک ’ مائیگریشن نیٹ ورک’  کا آغاز کیا تھا تاکہ ملک میں نقل و حرکت کے نظم و نسق کو بہتر بنایا جا سکے اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>ہر سال، بہت سے نوجوان پاکستانی بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے منشیات و جرائم کے ادارے (UNODC) اور یورپی یونین کی 2023 کی ایک تحقیق کے مطابق، گزشتہ تین سالوں میں 24 ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپی یونین کے ممالک میں داخل ہوئے۔</p>
<p>برطانیہ میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ امریکا اور آسٹریلیا بھی ان کے لیے پسندیدہ منزلوں میں شامل ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273042</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 17:41:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/021740124b2bd9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/021740124b2bd9d.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ ’آف لائن‘ رہا، ای بینکنگ اور دیگر آن لائن خدمات متاثر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272943/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعہ کے روز انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز معطل رہیں، جس کے باعث عوام اور مختلف اداروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1952495/quetta-remains-offline-amid-security-concerns"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سرکاری حکام کے مطابق انٹرنیٹ، ڈیٹا اور موبائل سروسز کو کچھ کالعدم گروہوں کی جانب سے موصول خطرات کے پیشِ نظر معطل کیا گیا تھا، اس اقدام کے نتیجے میں ای بینکنگ اور نجی و سرکاری محکموں کی دیگر آن لائن خدمات بھی متاثر ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256276'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256276"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات اسلام آباد کے سیکریٹری کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جاری کیے گئے ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ کوئٹہ ضلع میں 3G اور 4G سروسز کو بند کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہاں خصوصی قانون، نظم و نسق کی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ کال، ڈیٹا، اور مکمل موبائل سروسز معطل رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ سروسز 31 اکتوبر 2025 کو رات 12 بجے سے 24 گھنٹے تک معطل رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن میں درج خطرات کے پیشِ نظر کوئٹہ میں سخت سیکیورٹی انتظامات دیکھنے میں آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعہ کے روز انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز معطل رہیں، جس کے باعث عوام اور مختلف اداروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1952495/quetta-remains-offline-amid-security-concerns"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سرکاری حکام کے مطابق انٹرنیٹ، ڈیٹا اور موبائل سروسز کو کچھ کالعدم گروہوں کی جانب سے موصول خطرات کے پیشِ نظر معطل کیا گیا تھا، اس اقدام کے نتیجے میں ای بینکنگ اور نجی و سرکاری محکموں کی دیگر آن لائن خدمات بھی متاثر ہوئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256276'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256276"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات اسلام آباد کے سیکریٹری کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جاری کیے گئے ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ کوئٹہ ضلع میں 3G اور 4G سروسز کو بند کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہاں خصوصی قانون، نظم و نسق کی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ کال، ڈیٹا، اور مکمل موبائل سروسز معطل رہیں گی۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ سروسز 31 اکتوبر 2025 کو رات 12 بجے سے 24 گھنٹے تک معطل رہیں گی۔</p>
<p>نوٹی فکیشن میں درج خطرات کے پیشِ نظر کوئٹہ میں سخت سیکیورٹی انتظامات دیکھنے میں آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272943</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 12:20:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/010933029b9a8d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/010933029b9a8d2.webp"/>
        <media:title>سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انٹرنیٹ سروسز 31 اکتوبر کو رات 12 بجے سے 24 گھنٹے تک معطل رہیں — فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: پولیس موبائل پر دستی بم سے حملہ، 2 اہلکاروں سمیت 13 زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272741/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں قومی شاہراہ پر پولیس موبائل پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی میں قومی شاہراہ پر دوران گشت پولیس موبائل پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کر دیا،  حملے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ( ایم ایس ) سول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی ڈاکٹر نصیر احمد عمرانی نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ حملے میں 2پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمیوں کو سول ہسپتال لایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں قومی شاہراہ پر پولیس موبائل پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی میں قومی شاہراہ پر دوران گشت پولیس موبائل پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کر دیا،  حملے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔</p>
<p>میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ( ایم ایس ) سول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی ڈاکٹر نصیر احمد عمرانی نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ حملے میں 2پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمیوں کو سول ہسپتال لایا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272741</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 20:41:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/29201809862c17d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/29201809862c17d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: نصیر آباد میں حملہ آوروں نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ داغ دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272740/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ سے پشاور جانیوالی جعفر ایکسپریس پر نامعلوم افراد نے راکٹ حملہ کیا،  حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرین کو بحفاظت جیکب آباد پہنچا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیئر سپرنٹنڈنٹ  پولیس (ایس ایس پی) نصیرآباد غلام سرور بھیو  نے مقامی صحافیوں کو  بتایا کہ ضلع نصیرآباد میں نوتال کے قریب ریلوے ٹریک پر نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر 4  راکٹ داغ دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق حملہ جعفر ایکسپریس پر کیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ایف سی اور پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ الطاف آباد کے مقام پر پیش آیا جہاں چار راکٹ فائر کیے گئے تاہم ٹرین کو محفوظ طریقے سے ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پہنچا دیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس اور بولان میل کو ڈیرہ مراد جمالی سے کلیئرنس کے بعد جیکب آباد کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے،  واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ریلوے ٹریک کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ سے پشاور جانیوالی جعفر ایکسپریس پر نامعلوم افراد نے راکٹ حملہ کیا،  حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرین کو بحفاظت جیکب آباد پہنچا دیا گیا۔</p>
<p>سینیئر سپرنٹنڈنٹ  پولیس (ایس ایس پی) نصیرآباد غلام سرور بھیو  نے مقامی صحافیوں کو  بتایا کہ ضلع نصیرآباد میں نوتال کے قریب ریلوے ٹریک پر نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر 4  راکٹ داغ دیے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق حملہ جعفر ایکسپریس پر کیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ایف سی اور پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ الطاف آباد کے مقام پر پیش آیا جہاں چار راکٹ فائر کیے گئے تاہم ٹرین کو محفوظ طریقے سے ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پہنچا دیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ایس ایس پی نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس اور بولان میل کو ڈیرہ مراد جمالی سے کلیئرنس کے بعد جیکب آباد کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے،  واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ریلوے ٹریک کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272740</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 20:23:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/29200026afe8f00.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/29200026afe8f00.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز کی چلتن کے پہاڑوں میں کارروائی، 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272704/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن کے پہاڑی سلسلوں میں کارروائی کرتے ہوئے 10 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاروائی کالعدم تنظیم کے کیمپوں کے خلاف کی گئی،  مارے گئے تمام افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270755'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی شب سیکیورٹی نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع کیچ میں 2 الگ الگ کارروائیوں میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270569/"&gt;&lt;strong&gt;13 دہشت گردوں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو ہلاک کردیا تھا، &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270543"&gt;یکم اکتوبر&lt;/a&gt; کو ہی کوئٹہ اور شیرانی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270755/"&gt;&lt;strong&gt;4 اکتوبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کاررائی میں فتنۃالہندوستان کے 14 دہشت گرد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 اکتوبر کو خاران میں پولیس کے قافلے پر حملے میں ایس ایچ او قاسم بلوچ شہید ہوگئے تھے، 19 اکتوبر کو بلوچستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کرنے والا فتنۃ الہندوستان کا انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271956/"&gt;&lt;strong&gt;جمیل عرف ٹیٹک&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; مارا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272128"&gt;&lt;strong&gt;21 اکتوبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سبی ٰمیں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے تھے، &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272233/"&gt;&lt;strong&gt;22 اکتوبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بلوچستان کے علاقے دالبندین میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن کے پہاڑی سلسلوں میں کارروائی کرتے ہوئے 10 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاروائی کالعدم تنظیم کے کیمپوں کے خلاف کی گئی،  مارے گئے تمام افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270755'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>30 ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی شب سیکیورٹی نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع کیچ میں 2 الگ الگ کارروائیوں میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270569/"><strong>13 دہشت گردوں</strong></a> کو ہلاک کردیا تھا، <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270543">یکم اکتوبر</a> کو ہی کوئٹہ اور شیرانی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270755/"><strong>4 اکتوبر</strong></a> کو خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کاررائی میں فتنۃالہندوستان کے 14 دہشت گرد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>17 اکتوبر کو خاران میں پولیس کے قافلے پر حملے میں ایس ایچ او قاسم بلوچ شہید ہوگئے تھے، 19 اکتوبر کو بلوچستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کرنے والا فتنۃ الہندوستان کا انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271956/"><strong>جمیل عرف ٹیٹک</strong></a> مارا گیا تھا۔</p>
<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272128"><strong>21 اکتوبر</strong></a> کو سبی ٰمیں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے تھے، <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272233/"><strong>22 اکتوبر</strong></a> کو بلوچستان کے علاقے دالبندین میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272704</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 16:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/29130254283f829.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/29130254283f829.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: آسمان پر خوبصورت رنگ برنگی روشنیوں کا ہالہ دیکھا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272642/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آسمان پر خوبصورت رنگ برنگی روشنیوں کا ہالہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج صبح کے ابتدائی اوقات میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں پر ’نایاب خوب صورت رنگی برنگی روشنیوں کا ہالہ (lenticular cloud formation) دیکھا گیا، جس نے عوام کو اس مظہر اور اس کے اسباب کے بارے میں حیرت میں مبتلا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں نے فجر کے وقت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اس مظہر کو دیکھنے کی اطلاع دی اور ممکنہ وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس نے اشارہ دیا کہ یہ بادل کسی میزائل تجربے یا فوج کی جانب سے کسی نئی ٹیکنالوجی کے تجربے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ایک پوسٹ میں محکمہ موسمیات پاکستان نے بتایا کہ یہ منظر ’لینٹی کیولر بادلوں کی تشکیل‘ تھا، جو صبح کے وقت کوہِ مردار کے  اوپر دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ ’بادل سورج نکلنے سے پہلے نمودار ہوئے، تقریباً 20 منٹ تک موجود رہے، اور سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر پہلے غائب ہو گئے‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/1983129182491058240'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmdgov/status/1983129182491058240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق لینٹی کیولر بادل عدسہ نما &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://weather.metoffice.gov.uk/learn-about/weather/types-of-weather/clouds/other-clouds/lenticular#:~:text=Lenticular%20clouds%20are%20a%20visible,the%20air%20will%20be%20rising."&gt;&lt;strong&gt;اوروگرافک ویو بادل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوتے ہیں، جو اس وقت بنتے ہیں جب ہوا مستحکم ہو اور پہاڑی یا کوہستانی علاقوں پر ایک ہی یا ملتی جلتی سمت سے مختلف بلندیوں پر گزر رہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ عجیب و غریب اور غیر فطری دکھائی دینے والے بادل بعض اوقات پہاڑوں کے ہوا کے مخالف سمت میں بنتے ہیں، یہ سائنس فکشن میں دکھائے جانے والے اڑن طشتریوں سے بہت مشابہت رکھتے ہیں اور حقیقت میں لینٹی کیولر بادل دنیا بھر میں یو ایف او (غیر شناخت شدہ پرواز کرنے والی اشیا) کی مشاہدات کی سب سے عام وضاحتوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آسمان پر خوبصورت رنگ برنگی روشنیوں کا ہالہ دیکھا گیا۔</p>
<p>آج صبح کے ابتدائی اوقات میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں پر ’نایاب خوب صورت رنگی برنگی روشنیوں کا ہالہ (lenticular cloud formation) دیکھا گیا، جس نے عوام کو اس مظہر اور اس کے اسباب کے بارے میں حیرت میں مبتلا کر دیا۔</p>
<p>شہریوں نے فجر کے وقت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اس مظہر کو دیکھنے کی اطلاع دی اور ممکنہ وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس نے اشارہ دیا کہ یہ بادل کسی میزائل تجربے یا فوج کی جانب سے کسی نئی ٹیکنالوجی کے تجربے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، ایک پوسٹ میں محکمہ موسمیات پاکستان نے بتایا کہ یہ منظر ’لینٹی کیولر بادلوں کی تشکیل‘ تھا، جو صبح کے وقت کوہِ مردار کے  اوپر دیکھا گیا۔</p>
<p>مزید بتایا کہ ’بادل سورج نکلنے سے پہلے نمودار ہوئے، تقریباً 20 منٹ تک موجود رہے، اور سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر پہلے غائب ہو گئے‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/1983129182491058240'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmdgov/status/1983129182491058240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق لینٹی کیولر بادل عدسہ نما <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://weather.metoffice.gov.uk/learn-about/weather/types-of-weather/clouds/other-clouds/lenticular#:~:text=Lenticular%20clouds%20are%20a%20visible,the%20air%20will%20be%20rising."><strong>اوروگرافک ویو بادل</strong></a> ہوتے ہیں، جو اس وقت بنتے ہیں جب ہوا مستحکم ہو اور پہاڑی یا کوہستانی علاقوں پر ایک ہی یا ملتی جلتی سمت سے مختلف بلندیوں پر گزر رہی ہو۔</p>
<p>’یہ عجیب و غریب اور غیر فطری دکھائی دینے والے بادل بعض اوقات پہاڑوں کے ہوا کے مخالف سمت میں بنتے ہیں، یہ سائنس فکشن میں دکھائے جانے والے اڑن طشتریوں سے بہت مشابہت رکھتے ہیں اور حقیقت میں لینٹی کیولر بادل دنیا بھر میں یو ایف او (غیر شناخت شدہ پرواز کرنے والی اشیا) کی مشاہدات کی سب سے عام وضاحتوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272642</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 19:02:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/28185707125e9d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/28185707125e9d1.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: محکمہ موسمیات
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے تینوں افراد اغوا کار تھے، پولیس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272504/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ہفتے کے روز پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے 3 مسلح افراد کو اغوا برائے تاوان کے گروہ کے ارکان کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ کے کلی خالی علاقے میں پیش آیا تھا، جو بریوری پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق 3 مشتبہ افراد فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جائے وقوع سے اسلحہ اور وہ گاڑی بھی برآمد کی گئی جو اغوا کی وارداتوں میں استعمال کی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ عمران قریشی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں جن سے انکشاف ہوا کہ تینوں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اغوا کاروں کے دو ساتھی فائرنگ کے دوران موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جب کہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272440/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ہونے والے 2 ملزمان کی شناخت نواب علی اور احمد سلطان کے نام سے ہوئی جب کہ تیسرے ملزم کی شناخت کے لیے نادرا (قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کی مدد لی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولیس ریکارڈ اور تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ تینوں ملزمان کوئٹہ پولیس کو متعدد اغوا کے مقدمات میں مطلوب تھے اور ایک اغوا برائے تاوان کے گروہ کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس گروہ نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ڈرائیور عبدالرازق کو اغوا کیا تھا، جسے 16 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا، اسی گروہ نے قلعہ عبداللہ کے تاجر بشیر احمد کو 80 لاکھ روپے تاوان کے عوض، جبکہ کوئٹہ کے رہائشی عرفان بیگ کو ایک کروڑ روپے تاوان لینے کے بعد چھوڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ملزمان کے خلاف تھانہ صدر میں دو، جناح ٹاؤن میں تین، اور انڈسٹریل پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کیس کی مزید تفتیش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جنوری میں صوبے کے ایک پکنک پوائنٹ سے 7 افراد جن میں 11 سالہ بچہ بھی شامل تھا، اغوا کر لیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں ایک اور واقعہ سردھاکہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسافروں کو اغوا کیا گیا، جس کے بعد صوبائی حکام نے بڑی سطح پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ہفتے کے روز پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے 3 مسلح افراد کو اغوا برائے تاوان کے گروہ کے ارکان کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ کے کلی خالی علاقے میں پیش آیا تھا، جو بریوری پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق 3 مشتبہ افراد فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جائے وقوع سے اسلحہ اور وہ گاڑی بھی برآمد کی گئی جو اغوا کی وارداتوں میں استعمال کی جاتی تھی۔</p>
<p>سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ عمران قریشی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں جن سے انکشاف ہوا کہ تینوں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اغوا کاروں کے دو ساتھی فائرنگ کے دوران موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جب کہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272440/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ہونے والے 2 ملزمان کی شناخت نواب علی اور احمد سلطان کے نام سے ہوئی جب کہ تیسرے ملزم کی شناخت کے لیے نادرا (قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کی مدد لی جا رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پولیس ریکارڈ اور تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ تینوں ملزمان کوئٹہ پولیس کو متعدد اغوا کے مقدمات میں مطلوب تھے اور ایک اغوا برائے تاوان کے گروہ کا حصہ تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس گروہ نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ڈرائیور عبدالرازق کو اغوا کیا تھا، جسے 16 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا، اسی گروہ نے قلعہ عبداللہ کے تاجر بشیر احمد کو 80 لاکھ روپے تاوان کے عوض، جبکہ کوئٹہ کے رہائشی عرفان بیگ کو ایک کروڑ روپے تاوان لینے کے بعد چھوڑا تھا۔</p>
<p>ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ملزمان کے خلاف تھانہ صدر میں دو، جناح ٹاؤن میں تین، اور انڈسٹریل پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کیس کی مزید تفتیش کر رہا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جنوری میں صوبے کے ایک پکنک پوائنٹ سے 7 افراد جن میں 11 سالہ بچہ بھی شامل تھا، اغوا کر لیے گئے تھے۔</p>
<p>جولائی میں ایک اور واقعہ سردھاکہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسافروں کو اغوا کیا گیا، جس کے بعد صوبائی حکام نے بڑی سطح پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272504</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 19:59:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2618040922dd8df.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2618040922dd8df.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: کسٹمز انفورسمنٹ نے اربوں روپے مالیت کی کرسٹل آئس اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272452/</link>
      <description>&lt;p&gt;کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے اربوں روپے مالیت کی کرسٹل  آئس اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کوئٹہ کی مصدقہ اطلاع پر جو ایڈیشنل کلکٹر کے ذریعے موصول ہوئی، اسسٹنٹ کلکٹر فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ نوشکی نے اپنے عملے کو تافتان سے کوئٹہ کی جانب آنے والے ایک ہینو 6 وہیلر ٹرک  کو   روکنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ  گاڑی کی تفصیلی تلاشی کے دوران ٹرک کے پچھلے حصے کے نیچے نصب ایک تبدیل شدہ فیول ٹینک برآمد ہوا، جس کی مکمل جانچ پڑتال پر ڈبوں میں  بند مشکوک سامان برآمد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق گاڑی میں موجود دو افراد سامان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش وضاحت پیش نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272207/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ نوشکی کے عملے نےگاڑی اور برآمد شدہ ڈبے اپنے دفتر کےاحاطے میں منتقل کیے، مزید تفتیش پر ان ڈبوں سے 300 کلوگرام منشیات کرسٹل / آئس - میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ تین سو کلو گرام کرسٹل/آئس   میتھا مفیٹامائن   کی مالیت کا تخمینہ 18 ارب 65 کروڑ 30 لاکھ روپے لگایا گیا ہے جبکہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ٹرک کی مالیت کا تخمینہ  80 لاکھ روپے لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں بتایا گیا کہ ضبط شدہ  دونوں  اشیا کی مالیت 18.67 ارب روپے  بنتی ہے، دونوں ملزمان  کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 22 اکتوبر کو پاکستان نیوی کے جہاز (پی این ایس یرموک) نے بحیرہ عرب میں کشتیوں سے 97 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات قبضے میں لے لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا سمیت مختلف ممالک کے مشترکہ بحری اتحاد، کمبائنڈ میری ٹائم فورس (سی ایم ایف) نے بتایا کہ پاک بحریہ کے جہاز نے گزشتہ ہفتے 48 گھنٹوں کے اندر 2 الگ الگ کشتیوں کو روکا، یہ کارروائیاں سعودی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس (سی ٹی ایف) 150 کی براہِ راست مدد میں آپریشن ’المسمک‘ کے دوران کی گئیں، جو 16 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے اربوں روپے مالیت کی کرسٹل  آئس اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کوئٹہ کی مصدقہ اطلاع پر جو ایڈیشنل کلکٹر کے ذریعے موصول ہوئی، اسسٹنٹ کلکٹر فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ نوشکی نے اپنے عملے کو تافتان سے کوئٹہ کی جانب آنے والے ایک ہینو 6 وہیلر ٹرک  کو   روکنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ  گاڑی کی تفصیلی تلاشی کے دوران ٹرک کے پچھلے حصے کے نیچے نصب ایک تبدیل شدہ فیول ٹینک برآمد ہوا، جس کی مکمل جانچ پڑتال پر ڈبوں میں  بند مشکوک سامان برآمد ہوا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق گاڑی میں موجود دو افراد سامان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش وضاحت پیش نہ کر سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272207/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایف بی آر کے مطابق فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ نوشکی کے عملے نےگاڑی اور برآمد شدہ ڈبے اپنے دفتر کےاحاطے میں منتقل کیے، مزید تفتیش پر ان ڈبوں سے 300 کلوگرام منشیات کرسٹل / آئس - میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ تین سو کلو گرام کرسٹل/آئس   میتھا مفیٹامائن   کی مالیت کا تخمینہ 18 ارب 65 کروڑ 30 لاکھ روپے لگایا گیا ہے جبکہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ٹرک کی مالیت کا تخمینہ  80 لاکھ روپے لگایا گیا۔</p>
<p>اعلامیے میں بتایا گیا کہ ضبط شدہ  دونوں  اشیا کی مالیت 18.67 ارب روپے  بنتی ہے، دونوں ملزمان  کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 22 اکتوبر کو پاکستان نیوی کے جہاز (پی این ایس یرموک) نے بحیرہ عرب میں کشتیوں سے 97 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات قبضے میں لے لی تھی۔</p>
<p>امریکا سمیت مختلف ممالک کے مشترکہ بحری اتحاد، کمبائنڈ میری ٹائم فورس (سی ایم ایف) نے بتایا کہ پاک بحریہ کے جہاز نے گزشتہ ہفتے 48 گھنٹوں کے اندر 2 الگ الگ کشتیوں کو روکا، یہ کارروائیاں سعودی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس (سی ٹی ایف) 150 کی براہِ راست مدد میں آپریشن ’المسمک‘ کے دوران کی گئیں، جو 16 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272452</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Oct 2025 19:49:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2519465435865e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2519465435865e8.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ایف بی آر بذریعہ طاہر شیرانی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: مبینہ پولیس مقابلے میں 3 ڈاکو ہلاک، اسلحہ برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272440/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے درالاحکومت کوئٹہ میں بروری کے علاقے کلی خلی میں مبینہ پولیس مقابلے میں 3 ڈاکو مارے گئے، ہلاک ڈاکوؤں کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ  مشتبہ ڈاکو ہفتہ کی صبح کوئٹہ کے نواح میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) شوکٹ جدون نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ 3 مسلح ملزمان نے کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی خالی میں پولیس موبائل پر فائرنگ کی، جو بریوری تھانے کی حدود میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس پی جدون کا کہنا تھا کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں تینوں مشتبہ ملزمان ہلاک ہوگئے جب کہ ڈاکوؤں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='%D9%91https://www.dawnnews.tv/news/1271848/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271848"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ تینوں ڈاکوؤں کی لاشوں کو بولان میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی ضابطے کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس پی کے مطابق یہ ملزمان علاقے میں ڈکیتی کی نیت سے موجود تھے، تاہم واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، کوئٹہ میں سریاب لنک روڈ پر رات گئے 2 افراد کو ہاتھ پاؤں باندھ کر تیز دھار آلے سے قتل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے گودام کے چوکیدار اور اس کے دوست کو ہاتھ پاؤں باندھ کر قتل کیا، مقتول چوکیدار ضیاالرحمٰن  لورالائی اور اس کا دوست شاہد لکی مروت کا رہائشی تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے درالاحکومت کوئٹہ میں بروری کے علاقے کلی خلی میں مبینہ پولیس مقابلے میں 3 ڈاکو مارے گئے، ہلاک ڈاکوؤں کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ  مشتبہ ڈاکو ہفتہ کی صبح کوئٹہ کے نواح میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>صدر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) شوکٹ جدون نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ 3 مسلح ملزمان نے کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی خالی میں پولیس موبائل پر فائرنگ کی، جو بریوری تھانے کی حدود میں آتا ہے۔</p>
<p>ڈی ایس پی جدون کا کہنا تھا کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں تینوں مشتبہ ملزمان ہلاک ہوگئے جب کہ ڈاکوؤں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='%D9%91https://www.dawnnews.tv/news/1271848/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271848"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ تینوں ڈاکوؤں کی لاشوں کو بولان میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی ضابطے کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔</p>
<p>ڈی ایس پی کے مطابق یہ ملزمان علاقے میں ڈکیتی کی نیت سے موجود تھے، تاہم واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، کوئٹہ میں سریاب لنک روڈ پر رات گئے 2 افراد کو ہاتھ پاؤں باندھ کر تیز دھار آلے سے قتل کردیا گیا۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے گودام کے چوکیدار اور اس کے دوست کو ہاتھ پاؤں باندھ کر قتل کیا، مقتول چوکیدار ضیاالرحمٰن  لورالائی اور اس کا دوست شاہد لکی مروت کا رہائشی تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272440</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Oct 2025 15:36:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/25152934481d1ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="350" width="583">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/25152934481d1ce.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271948/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) نے کوئٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے 36 ملین ایرانی ریال اور 5  ہزار افغان کرنسی برآمد کرلی گئی جب کہ ملزمان کے قبضے سے مختلف بینکوں کی چیک بکس اور دیگر اشیا بھی برآمد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہے تھے جب کہ ملزمان حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکے، ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی جب کہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) نے کوئٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔</p>
<p>ترجمان ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے 36 ملین ایرانی ریال اور 5  ہزار افغان کرنسی برآمد کرلی گئی جب کہ ملزمان کے قبضے سے مختلف بینکوں کی چیک بکس اور دیگر اشیا بھی برآمد کی گئی ہیں۔</p>
<p>ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہے تھے جب کہ ملزمان حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہیں۔</p>
<p>ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکے، ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی جب کہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271948</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Oct 2025 13:38:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/19142128f607357.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/19142128f607357.webp"/>
        <media:title>—  فوٹو: عبداللہ زہری
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: خاران میں پولیس پارٹی پر حملے میں ایس ایچ او شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271848/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے ضلع خاران میں پولیس پر حملے میں اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) قاسم بلوچ شہید ہوگئے، جبکہ  آل پارٹیز خاران نے  واقعے کے خلاف کل ہڑتال کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع خاران میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر  (ڈی ایچ کیو)  ہسپتال کے قریب پولیس پر  فائرنگ کی گئی، جس کی زد میں آکر ایس ایچ او قاسم بلوچ شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق  ایس ایچ او خاران اہل کاروں کے ساتھ  ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے  کہ نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کی زد میں  صرف ایس ایچ او قاسم بلوچ آئے فائرنگ سے دوسرے اہلکار محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پارٹیز خاران نے واقعے کے خلاف خلاف شہر میں کل شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے ضلع خاران میں پولیس پر حملے میں اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) قاسم بلوچ شہید ہوگئے، جبکہ  آل پارٹیز خاران نے  واقعے کے خلاف کل ہڑتال کا اعلان کردیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع خاران میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر  (ڈی ایچ کیو)  ہسپتال کے قریب پولیس پر  فائرنگ کی گئی، جس کی زد میں آکر ایس ایچ او قاسم بلوچ شہید ہوگئے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق  ایس ایچ او خاران اہل کاروں کے ساتھ  ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے۔</p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے  کہ نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کی زد میں  صرف ایس ایچ او قاسم بلوچ آئے فائرنگ سے دوسرے اہلکار محفوظ رہے۔</p>
<p>آل پارٹیز خاران نے واقعے کے خلاف خلاف شہر میں کل شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دے دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271848</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 23:16:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/17223549c6c4906.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/17223549c6c4906.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ٹی اے کے تحت سزا یافتہ قیدی معافی یا رعایت کے حقدار نہیں، بلوچستان ہائیکورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271419/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 کے تحت سزا یافتہ قیدی کسی بھی قسم کی عام یا خصوصی معافی یا رعایت کے قانونی طور پر حقدار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948516/prisoners-convicted-under-ata-not-entitled-to-pardon-says-bhc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21-ایف واضح طور پر دہشت گردوں کو کسی بھی قسم کی معافی یا سزا میں کمی کے حق سے خارج کرتی ہے، اس حوالے سے کسی تشریح یا نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین منگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 2023 اور 2024 میں دائر کی گئی متعدد آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور تمام درخواستوں کو یکجا کر کے مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق، درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدرِ مملکت کی معافی اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت عام یا خصوصی رعایت کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ 2001 میں دفعہ 21-ایف کا اضافہ خاص طور پر دہشت گردی کے مجرموں کو معافی کے دائرہ کار سے مستقل طور پر خارج کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے مشاہدہ کیا کہ یہ ترمیم ایک سوچا سمجھا قانون ساز اقدام تھا، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ بھی زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے، جو عمومی قوانین مثلاً جیل ایکٹ 1894 پر فوقیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ دہشت گردی کے مجرموں کو رعایت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 25 (قانون کے سامنے برابری) کی خلاف ورزی ہے، عدالت کے مطابق، دہشت گردی کے مجرم ایک منفرد قانونی طبقہ ہیں، اور اس طرح کی درجہ بندی معقول اور آئینی طور پر درست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے مقدمات شروانی کیس، حکومت بلوچستان بنام عزیزاللہ، اور ڈاکٹر مبشر حسن بنام وفاقِ پاکستان کے حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نے قرار دیا کہ معقول درجہ بندی آئین کے تحت جائز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے محکمہ داخلہ، انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات اور متعلقہ سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ وہ فوراً تمام غیرقانونی رعایتیں، جو قانون کے منافی دی گئی ہیں، منسوخ کریں اور متاثرہ قیدیوں کی سزاؤں کا ازسرنو حساب لگائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ کسی بھی معافی یا رعایت کو سختی سے قانونی دفعات کے مطابق دیا جائے اور خبردار کیا کہ جو افسران اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 کے تحت سزا یافتہ قیدی کسی بھی قسم کی عام یا خصوصی معافی یا رعایت کے قانونی طور پر حقدار نہیں ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1948516/prisoners-convicted-under-ata-not-entitled-to-pardon-says-bhc"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21-ایف واضح طور پر دہشت گردوں کو کسی بھی قسم کی معافی یا سزا میں کمی کے حق سے خارج کرتی ہے، اس حوالے سے کسی تشریح یا نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p>جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین منگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 2023 اور 2024 میں دائر کی گئی متعدد آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور تمام درخواستوں کو یکجا کر کے مسترد کر دیا۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق، درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدرِ مملکت کی معافی اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت عام یا خصوصی رعایت کا حق حاصل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ 2001 میں دفعہ 21-ایف کا اضافہ خاص طور پر دہشت گردی کے مجرموں کو معافی کے دائرہ کار سے مستقل طور پر خارج کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔</p>
<p>بینچ نے مشاہدہ کیا کہ یہ ترمیم ایک سوچا سمجھا قانون ساز اقدام تھا، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔</p>
<p>عدالت نے یہ بھی زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے، جو عمومی قوانین مثلاً جیل ایکٹ 1894 پر فوقیت رکھتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ دہشت گردی کے مجرموں کو رعایت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 25 (قانون کے سامنے برابری) کی خلاف ورزی ہے، عدالت کے مطابق، دہشت گردی کے مجرم ایک منفرد قانونی طبقہ ہیں، اور اس طرح کی درجہ بندی معقول اور آئینی طور پر درست ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے مقدمات شروانی کیس، حکومت بلوچستان بنام عزیزاللہ، اور ڈاکٹر مبشر حسن بنام وفاقِ پاکستان کے حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نے قرار دیا کہ معقول درجہ بندی آئین کے تحت جائز ہے۔</p>
<p>عدالت نے محکمہ داخلہ، انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات اور متعلقہ سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ وہ فوراً تمام غیرقانونی رعایتیں، جو قانون کے منافی دی گئی ہیں، منسوخ کریں اور متاثرہ قیدیوں کی سزاؤں کا ازسرنو حساب لگائیں۔</p>
<p>مزید برآں، عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ کسی بھی معافی یا رعایت کو سختی سے قانونی دفعات کے مطابق دیا جائے اور خبردار کیا کہ جو افسران اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271419</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 11:58:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/13095208c9d08fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/13095208c9d08fd.webp"/>
        <media:title>درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں صدرِ کی معافی اور عام یا خصوصی رعایت کا حق حاصل ہے — فوٹو: بلوچستان ہائی کورٹ/ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچ یکجہتی کمیٹی کا انسدادِ دہشت گردی عدالت کے بجائےڈسٹرکٹ جیل میں سماعت پر اظہارتشویش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271408/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی)  کی سربراہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور گروپ کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی تازہ سماعت کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے بجائے کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں ہوئی،  اس پیش رفت کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ’ ریاستی جبر کے منظم مظاہرے‘ کے طور پر تشویشناک قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچ یکجہتی کمیٹی، جو 2018 سے جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم ایک بلوچ تنظیم ہے، نے ایک بیان میں ایکس  پر کہا کہ حراست میں موجود رہنماؤں کے عدالتی ریمانڈ میں مزید دس دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1977044921132425240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور  بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما، جن میں صبغت اللہ بلوچ، بیبو بلوچ، بیبرگ بلوچ اور گل زادی بلوچ شامل ہیں، کو مارچ میں ’ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس‘ (ایم پی او) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے زیر حراست ہیں، جن کے ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ رنگ بلوچ کے وکیل اسرار بلوچ نے ہفتے کے روز کی پیش رفت کی تصدیق  ڈان نیوز سے کی۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1 کے جج محمد علی مبین نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرار بلوچ نے بتایا کہ  بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قانونی ٹیم کو ضلعی جیل کوئٹہ طلب کیا گیا، جہاں مقدمات کی سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر چالان جمع نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے زیرِ حراست  بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنماؤں پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی اور نہ ہی باقاعدہ مقدمے کی کارروائی شروع ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کو 18 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا اور جج محمد علی مبین نے پراسیکیوشن کو ہدایت دی کہ وہ اس تاریخ تک چالان جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی  نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ سماعتوں کو جیل منتقل کرنا شفافیت کو دبانے، عوامی نگرانی کو روکنے اور بلوچستان میں پرامن سیاسی اختلاف کو جرم بنانے کی دانستہ اور سنگین کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ عدالتی کارروائی کو جیل کی دیواروں کے اندر منتقل کر کے ریاست نے مؤثر طور پر خاندانوں، صحافیوں اور غیر جانب دار مبصرین کو سماعت کے مشاہدے سے روک دیا ہے، جو پاکستان کے اپنے آئین اور منصفانہ ٹرائل کے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر بلوچ یکجہتی کمیٹی ارکان کو 22 مارچ کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کوئٹہ سول اسپتال پر حملہ کیا اور عوام کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی۔ یہ گرفتاریاں اُس وقت ہوئیں جب ایک دن قبل پولیس نے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے گروپ پر کریک ڈاؤن کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا، جو حکام کو ایسے افراد کو گرفتار رکھنے کا اختیار دیتا ہے جو عوامی نظم کے لیے خطرہ سمجھے جائیں۔ بعد ازاں بلوچستان ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اپریل میں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں تین ماہ مکمل ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے چوتھا حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت ان کی حراست میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کے بعد، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی)  کی سربراہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور گروپ کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی تازہ سماعت کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے بجائے کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں ہوئی،  اس پیش رفت کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ’ ریاستی جبر کے منظم مظاہرے‘ کے طور پر تشویشناک قرار دیا۔</p>
<p>بلوچ یکجہتی کمیٹی، جو 2018 سے جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم ایک بلوچ تنظیم ہے، نے ایک بیان میں ایکس  پر کہا کہ حراست میں موجود رہنماؤں کے عدالتی ریمانڈ میں مزید دس دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1977044921132425240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور  بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما، جن میں صبغت اللہ بلوچ، بیبو بلوچ، بیبرگ بلوچ اور گل زادی بلوچ شامل ہیں، کو مارچ میں ’ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس‘ (ایم پی او) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے زیر حراست ہیں، جن کے ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع ہو چکی ہے۔</p>
<p>ماہ رنگ بلوچ کے وکیل اسرار بلوچ نے ہفتے کے روز کی پیش رفت کی تصدیق  ڈان نیوز سے کی۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1 کے جج محمد علی مبین نے کی۔</p>
<p>اسرار بلوچ نے بتایا کہ  بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قانونی ٹیم کو ضلعی جیل کوئٹہ طلب کیا گیا، جہاں مقدمات کی سماعت ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر چالان جمع نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے زیرِ حراست  بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنماؤں پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی اور نہ ہی باقاعدہ مقدمے کی کارروائی شروع ہو سکی۔</p>
<p>سماعت کو 18 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا اور جج محمد علی مبین نے پراسیکیوشن کو ہدایت دی کہ وہ اس تاریخ تک چالان جمع کرائے۔</p>
<p>اس سے قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی  نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ سماعتوں کو جیل منتقل کرنا شفافیت کو دبانے، عوامی نگرانی کو روکنے اور بلوچستان میں پرامن سیاسی اختلاف کو جرم بنانے کی دانستہ اور سنگین کوشش ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ عدالتی کارروائی کو جیل کی دیواروں کے اندر منتقل کر کے ریاست نے مؤثر طور پر خاندانوں، صحافیوں اور غیر جانب دار مبصرین کو سماعت کے مشاہدے سے روک دیا ہے، جو پاکستان کے اپنے آئین اور منصفانہ ٹرائل کے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر بلوچ یکجہتی کمیٹی ارکان کو 22 مارچ کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کوئٹہ سول اسپتال پر حملہ کیا اور عوام کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی۔ یہ گرفتاریاں اُس وقت ہوئیں جب ایک دن قبل پولیس نے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے گروپ پر کریک ڈاؤن کیا تھا۔</p>
<p>انہیں ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا، جو حکام کو ایسے افراد کو گرفتار رکھنے کا اختیار دیتا ہے جو عوامی نظم کے لیے خطرہ سمجھے جائیں۔ بعد ازاں بلوچستان ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اپریل میں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی تھی۔</p>
<p>جون میں تین ماہ مکمل ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے چوتھا حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت ان کی حراست میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی گئی۔</p>
<p>ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کے بعد، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271408</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 00:06:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/13000424f2986ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/13000424f2986ce.webp"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سول ہسپتال کوئٹہ کی لاشوں کی حوالگی کے بدلے لواحقین سے پیسے طلب کرنے کی تردید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271050/</link>
      <description>&lt;p&gt;سول ہسپتال کوئٹہ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ ہسپتال کے عملے نے مردہ خانہ سے لاشوں کی حوالگی کے بدلے مرحومین کے لواحقین سے پیسے طلب کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1947344/hospital-denies-extortion-charges-against-mortuary"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الہادی کاکڑ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ ہسپتال اور اس کے مردہ خانے کے عملے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ’ایک کوشش‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے کہا کہ سول ہسپتال کے کسی بھی عملے کے رکن کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے لواحقین سے پیسے وصول کیے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص ہسپتال کا ملازم نہیں تھا، بلکہ ایک فلاحی تنظیم سے وابستہ رضاکار تھا، متعلقہ تنظیم نے اس کی خدمات ختم کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزیرِ صحت بخت کاکڑ کی ہدایت پر کی جانے والی تحقیقات میں بھی ہسپتال کے عملے کی کسی قسم کی شمولیت ثابت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے پیشِ نظر ہسپتال انتظامیہ نے فلاحی تنظیموں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نئے ضابطہ کار (ایس او پیز) تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے مزید بتایا کہ متعلقہ فلاحی تنظیم کی خدمات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جب تک کہ نئے ضابطہ کار نافذ نہیں ہو جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ غیر ملکی میڈیا نے 30 ستمبر کو کوئٹہ میں دھماکے کے بعد مرنے والے ایک شخص کے ورثا کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا کہ ان سے لاشوں کی حوالگی کے لیے ہسپتال میں پیسے طلب کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سول ہسپتال کوئٹہ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ ہسپتال کے عملے نے مردہ خانہ سے لاشوں کی حوالگی کے بدلے مرحومین کے لواحقین سے پیسے طلب کیے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1947344/hospital-denies-extortion-charges-against-mortuary"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الہادی کاکڑ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ ہسپتال اور اس کے مردہ خانے کے عملے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ’ایک کوشش‘ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے کہا کہ سول ہسپتال کے کسی بھی عملے کے رکن کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے لواحقین سے پیسے وصول کیے ہوں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص ہسپتال کا ملازم نہیں تھا، بلکہ ایک فلاحی تنظیم سے وابستہ رضاکار تھا، متعلقہ تنظیم نے اس کی خدمات ختم کر دی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزیرِ صحت بخت کاکڑ کی ہدایت پر کی جانے والی تحقیقات میں بھی ہسپتال کے عملے کی کسی قسم کی شمولیت ثابت نہیں ہوئی۔</p>
<p>اس صورتحال کے پیشِ نظر ہسپتال انتظامیہ نے فلاحی تنظیموں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نئے ضابطہ کار (ایس او پیز) تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے مزید بتایا کہ متعلقہ فلاحی تنظیم کی خدمات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جب تک کہ نئے ضابطہ کار نافذ نہیں ہو جاتے۔</p>
<p>واضح رہے کہ غیر ملکی میڈیا نے 30 ستمبر کو کوئٹہ میں دھماکے کے بعد مرنے والے ایک شخص کے ورثا کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا کہ ان سے لاشوں کی حوالگی کے لیے ہسپتال میں پیسے طلب کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271050</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 10:23:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/080907226019807.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/080907226019807.webp"/>
        <media:title>ڈاکٹر عبدالہادی نے الزامات کو مردہ خانے کے عملے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ’ایک کوشش‘ قرار دیا — فائل فوٹو: محکمہ صحت/بلوچستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
