<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:27:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:27:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275080/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔</p>
<p>انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔</p>
<p>میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔</p>
<p>منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔</p>
<p>جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔</p>
<p>اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔</p>
<p>پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔</p>
<p>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275080</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 14:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12140926a232ab1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12140926a232ab1.webp"/>
        <media:title>انفرااسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی—فائل فوٹو: آن لائن/سید آصف علی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردی کی شدت میں اضافہ، سندھ میں اسکولوں کے اوقات کار تبدیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275069/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔</p>
<p>وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔</p>
<p>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275069</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 21:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/102151179425b8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/102151179425b8d.webp"/>
        <media:title>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے. فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275041/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965521/sindh-govt-to-register-firs-against-those-burning-garbage-on-roads"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔</p>
<p>اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965521/sindh-govt-to-register-firs-against-those-burning-garbage-on-roads"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔</p>
<p>انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔</p>
<p>حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔</p>
<p>مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275041</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 15:27:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0715000951fec2f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0715000951fec2f.webp"/>
        <media:title>کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔ فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر تعلیم سندھ کی یقین دہانی کے بعد نجی اسکولز نے 9 جنوری کو ہڑتال منسوخ کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275040/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: وزیرتعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے بعد  گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے 9 جنوری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری شپ قانون کے تحت نجی اسکولوں کو اپنے کل داخل شدہ طلبہ میں سے 10 فی صد کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965518/private-school-associations-in-sindh-call-off-jan-9-strike-after-assurances-from-education-minister"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق الائنس کے ایک وفد نے منگل کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال اور نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے انور علی بھٹی، سید طارق شاہ، سید شہزاد اختر، دانش الزمان، ناصر زیدی، حیدر علی اور دیگر شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا مؤقف تھا کہ تفتیش اور ڈیٹا کی تصدیق میں واضح فرق ہے جبکہ بعض علاقوں سے ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول الائنس کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے واضح اور مربوط طریقۂ کار نہ ہونے کے باعث نجی اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط اور شفاف تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ اسکول انتظامیہ اور والدین کے خدشات کا مکمل ازالہ ہو اور کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم نے سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے نجی اسکولوں کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: وزیرتعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے بعد  گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے 9 جنوری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔</p>
<p>فری شپ قانون کے تحت نجی اسکولوں کو اپنے کل داخل شدہ طلبہ میں سے 10 فی صد کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965518/private-school-associations-in-sindh-call-off-jan-9-strike-after-assurances-from-education-minister"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق الائنس کے ایک وفد نے منگل کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال اور نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندے انور علی بھٹی، سید طارق شاہ، سید شہزاد اختر، دانش الزمان، ناصر زیدی، حیدر علی اور دیگر شریک تھے۔</p>
<p>وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔</p>
<p>وفد کا مؤقف تھا کہ تفتیش اور ڈیٹا کی تصدیق میں واضح فرق ہے جبکہ بعض علاقوں سے ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر اسکول انتظامیہ اور والدین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول الائنس کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے واضح اور مربوط طریقۂ کار نہ ہونے کے باعث نجی اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور ہو سکیں۔</p>
<p>اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط اور شفاف تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ اسکول انتظامیہ اور والدین کے خدشات کا مکمل ازالہ ہو اور کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>وزیر تعلیم نے سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے نجی اسکولوں کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275040</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:56:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0714473910918e6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0714473910918e6.webp"/>
        <media:title>وفد نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں فری شپ طلبہ کے ڈیٹا کی تصدیق کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کی جانے والی تصدیق کے عمل پر متعدد خدشات موجود ہیں۔ فائل فوٹو: مرزا خرم شہزاد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کردیا، وزیر داخلہ سندھ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275039/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم یقینی طور پر ایک بڑے آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجود تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، واضح اہداف مقرر ہوں گے اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے بدنام ڈاکوؤں کے خلاف بے رحم کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائی علاقوں میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے آغاز سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ آپ اسے آج ہی سے شروع سمجھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کو عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم مفرور یا خود کو بڑا طاقتور سمجھنے والے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، ان سے مقابلہ ہوگا اور انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274838'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی، جس کی مدد سے حالیہ ایک کامیاب آپریشن میں کچے کے ایک نو گو ایریا کو خالی کرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کی مدد لینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اہل ہے اور اس آپریشن میں رینجرز ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے اندرونی معاملات میں فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کچے کے علاقے وسطی اور جنوبی سندھ کے کئی اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں، تاہم کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد جیسے اضلاع ڈاکا زنی، تاوان کے لیے اغوا اور قبائلی تنازعات جیسے جرائم کے حوالے سے بدنام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اہلکاروں کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ایک صحافی نے کہا کہ ڈاکو ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ڈرونز وہاں تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی یقینی طور پر کارروائی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ اور پنجاب پولیس کے مشترکہ آپریشن کے امکان پر وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے سندھ کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پنجاب کے ہم منصب اور بہاولپور کے ریجنل پولیس افسر سے اس معاملے پر بات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی مشترکہ کوشش سے ہی ممکن ہوگی، کیونکہ مچکا کا علاقہ پنجاب تک پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ ان ڈاکوؤں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبائلی تنازعات سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اس معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جتوئی اور مہر قبائل کے درمیان تصادم کے حوالے سے متعلقہ رابطے کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272228'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 16 دسمبر2025 کو سندھ-پنجاب سرحد کے قریب تقریباً 25 ڈاکوؤں نے ایک بس پر حملہ کردیا تھا اور ڈرائیور کو زخمی کرنے کے بعد 20 مسافروں کو اغوا کر لیا تھا۔ پولیس نے اگلے روز ایک بڑے آپریشن کے دوران تمام مسافروں کو بحفاظت &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274838"&gt;&lt;strong&gt;بازیاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5 ستمبر 2025 کو صادق آباد تحصیل میں سکھر-ملتان موٹروے (ایم فائیو) پر تنویر اندھڑ گینگ کی جانب سے متعدد گاڑیوں سے کم از کم 10 افراد کے اغوا کے واقعے نے یہ بات واضح کی کہ یہ پہلا رپورٹ شدہ واقعہ تھا جس میں کچے کے ڈاکو پنجاب کی حدود میں موٹروے ایم فائیو تک براہِ راست پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی کے پیش نظر بعد ازاں رحیم یار خان میں پولیس نے ڈاکو گینگز سے مسافروں کو بچانے کے لیے موٹروے ایم فائیو پر رات کے وقت &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272277"&gt;&lt;strong&gt;پولیس کی نگرانی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں قافلوں کی صورت میں ٹریفک چلانا شروع کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے اگست 2024 میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم کیا تھا، جب مچکہ کے علاقے میں ڈاکوؤں کے ایک ہلاکت خیز حملے میں ایک درجن پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔</p>
<p>سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم یقینی طور پر ایک بڑے آپریشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجود تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، واضح اہداف مقرر ہوں گے اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے بدنام ڈاکوؤں کے خلاف بے رحم کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>دریائی علاقوں میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے آغاز سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ آپ اسے آج ہی سے شروع سمجھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کو عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم مفرور یا خود کو بڑا طاقتور سمجھنے والے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، ان سے مقابلہ ہوگا اور انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274838'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی، جس کی مدد سے حالیہ ایک کامیاب آپریشن میں کچے کے ایک نو گو ایریا کو خالی کرایا گیا۔</p>
<p>فوج کی مدد لینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اہل ہے اور اس آپریشن میں رینجرز ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے اندرونی معاملات میں فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ کچے کے علاقے وسطی اور جنوبی سندھ کے کئی اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں، تاہم کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد جیسے اضلاع ڈاکا زنی، تاوان کے لیے اغوا اور قبائلی تنازعات جیسے جرائم کے حوالے سے بدنام ہیں۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اہلکاروں کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>جب ایک صحافی نے کہا کہ ڈاکو ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ڈرونز وہاں تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی یقینی طور پر کارروائی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>سندھ اور پنجاب پولیس کے مشترکہ آپریشن کے امکان پر وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے سندھ کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پنجاب کے ہم منصب اور بہاولپور کے ریجنل پولیس افسر سے اس معاملے پر بات کریں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی مشترکہ کوشش سے ہی ممکن ہوگی، کیونکہ مچکا کا علاقہ پنجاب تک پھیلا ہوا ہے۔</p>
<p>ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ ان ڈاکوؤں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔</p>
<p>قبائلی تنازعات سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اس معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جتوئی اور مہر قبائل کے درمیان تصادم کے حوالے سے متعلقہ رابطے کر لیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272228'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ 16 دسمبر2025 کو سندھ-پنجاب سرحد کے قریب تقریباً 25 ڈاکوؤں نے ایک بس پر حملہ کردیا تھا اور ڈرائیور کو زخمی کرنے کے بعد 20 مسافروں کو اغوا کر لیا تھا۔ پولیس نے اگلے روز ایک بڑے آپریشن کے دوران تمام مسافروں کو بحفاظت <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274838"><strong>بازیاب</strong></a> کرا لیا تھا۔</p>
<p>5 ستمبر 2025 کو صادق آباد تحصیل میں سکھر-ملتان موٹروے (ایم فائیو) پر تنویر اندھڑ گینگ کی جانب سے متعدد گاڑیوں سے کم از کم 10 افراد کے اغوا کے واقعے نے یہ بات واضح کی کہ یہ پہلا رپورٹ شدہ واقعہ تھا جس میں کچے کے ڈاکو پنجاب کی حدود میں موٹروے ایم فائیو تک براہِ راست پہنچے۔</p>
<p>سکیورٹی کے پیش نظر بعد ازاں رحیم یار خان میں پولیس نے ڈاکو گینگز سے مسافروں کو بچانے کے لیے موٹروے ایم فائیو پر رات کے وقت <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1272277"><strong>پولیس کی نگرانی</strong></a> میں قافلوں کی صورت میں ٹریفک چلانا شروع کر دی تھی۔</p>
<p>سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے اگست 2024 میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم کیا تھا، جب مچکہ کے علاقے میں ڈاکوؤں کے ایک ہلاکت خیز حملے میں ایک درجن پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275039</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 14:38:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07142410d8c26fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07142410d8c26fe.webp"/>
        <media:title>ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کو عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جائے گا۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، افغانستان سے لایا گیا 2 ہزار کلو بارودی مواد برآمد، 3دہشتگرد گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275018/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لیکر ایک دہشت گرد کو موقع سے گرفتارکرلیا اور بعد ازاں گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر کراچی میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=3PcD37KxmrM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/3PcD37KxmrM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا، دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بارودی مواد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے ڈرمز میں موجود کمرشل ایکسپلوسیو اور مکس بارودی مواد شامل ہے، یہ مواد بالکل تیار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ اس دہشت گردی کے منصوبے کے پیچھے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے، یہ منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا جن کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h5&gt;ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک اور کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے ہے۔&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی رات کو کی اس لیے ماہرین کی رائے اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لیکر ایک دہشت گرد کو موقع سے گرفتارکرلیا اور بعد ازاں گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر کراچی میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=3PcD37KxmrM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/3PcD37KxmrM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا، دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔</p>
<p>انہوں نے بارودی مواد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے ڈرمز میں موجود کمرشل ایکسپلوسیو اور مکس بارودی مواد شامل ہے، یہ مواد بالکل تیار تھا۔</p>
<p>ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ اس دہشت گردی کے منصوبے کے پیچھے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے، یہ منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا جن کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔</p>
<h5>ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک اور کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے ہے۔</h5>
<h5>انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔</h5>
<p>انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی رات کو کی اس لیے ماہرین کی رائے اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275018</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 15:41:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/051437067d8e68a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/051437067d8e68a.webp"/>
        <media:title>سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیئے گئے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں مائی کلاچی روڈ سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274995/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ہفتے کے روز بتایا کہ مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے ملنے والے چار افراد کی بوسیدہ لاشوں پر تشدد کے متعدد واضح نشانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ لاشیں جمعے کو ڈاکس تھانے کی حدود میں جھاڑیوں سے گھری ایک جگہ سے برآمد ہوئیں، جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور لاشیں چار سے پانچ دن پرانی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعے کی رات دیر گئے میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ایک مقتول لڑکا، جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی، کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے۔ ایک اور لڑکا، جس کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی، کے گلے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری مقتول، تقریباً 14 سے 15 سال کی لڑکی، کے بھی سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے، جبکہ چوتھی مقتولہ، تقریباً 40 سالہ خاتون، کے سر کی ہڈی پر شدید چوٹیں موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمیہ کے مطابق نشے اور جنسی تشدد کی جانچ کے لیے تمام متعلقہ نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے بتایا کہ تاحال مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ایدھی مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا کیونکہ تفتیش کار مقتولین کے لواحقین کے سامنے آنے اور لاشیں شناخت کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کے مطابق اگر کوئی سامنے نہ آیا تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر زخم کلہاڑی یا کسی تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ چونکہ تین مقتولین بچے اور چوتھی ایک چالیس سالہ خاتون ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق اس ہولناک قتل کا تعلق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سے بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔</p>
<p>پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ہفتے کے روز بتایا کہ مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے ملنے والے چار افراد کی بوسیدہ لاشوں پر تشدد کے متعدد واضح نشانات موجود ہیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ لاشیں جمعے کو ڈاکس تھانے کی حدود میں جھاڑیوں سے گھری ایک جگہ سے برآمد ہوئیں، جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور لاشیں چار سے پانچ دن پرانی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعے کی رات دیر گئے میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کی گئی۔</p>
<p>ان کے مطابق ایک مقتول لڑکا، جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی، کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے۔ ایک اور لڑکا، جس کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی، کے گلے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔</p>
<p>تیسری مقتول، تقریباً 14 سے 15 سال کی لڑکی، کے بھی سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے، جبکہ چوتھی مقتولہ، تقریباً 40 سالہ خاتون، کے سر کی ہڈی پر شدید چوٹیں موجود تھیں۔</p>
<p>ڈاکٹر سمیہ کے مطابق نشے اور جنسی تشدد کی جانچ کے لیے تمام متعلقہ نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے بتایا کہ تاحال مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ایدھی مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا کیونکہ تفتیش کار مقتولین کے لواحقین کے سامنے آنے اور لاشیں شناخت کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی آئی جی کے مطابق اگر کوئی سامنے نہ آیا تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر زخم کلہاڑی یا کسی تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔</p>
<p>سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ چونکہ تین مقتولین بچے اور چوتھی ایک چالیس سالہ خاتون ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق اس ہولناک قتل کا تعلق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سے بھی ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274995</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 15:29:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0315292305f0777.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0315292305f0777.webp"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کالے جادو کی وجہ سے قتل کیے‘ کراچی میں چار تشدد زدہ لاشوں کا قاتل گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275009/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے چار افراد کو قتل کیا، جن کی جزوی طور پر سڑی ہوئی لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں کراچی کے مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک گڑھے سے برآمد ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ چار لاشیں ایک خاتون اور اس کے تین بچوں کی تھیں، جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے اور انہیں کلہاڑی یا کسی تیز دھار آلے سے مارا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجر کے دفتر کے مطابق کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ساؤتھ اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ مقتولہ خاتون کے موبائل فون کی ڈیجیٹل جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملزم اس کے رابطے میں تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کا مقصد مقتولہ کو مارنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ملزم کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ مقتولہ کا طویل عرصے سے دوست تھا۔ ملزم نے الزام لگایا کہ مقتولہ کالا جادو کرتی تھی اور اکثر اس سے مطالبات کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم کے مطابق منگل کی رات اسے کسی کالا جادو کرنے والے کے پاس لے جایا گیا، اور تب اس نے فیصلہ کیا کہ ”یا تو میں خود کو ماروں یا اسے“۔ اس نے خاتون کو قتل کیا اور لاش گڑھے میں پھینک دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد وہ مقتولہ کی ماں کے گھر گیا اور وہاں سے اس کے بچوں کو لیا، جن پر بھی وہ اکثر دباؤ ڈالتی تھی، انہیں بھی قتل کیا اور لاشیں ایک ہی گڑھے میں پھینک دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالحسن لنجر کے دفتر نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کیماڑی امجد شیخ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے چار افراد کو قتل کیا، جن کی جزوی طور پر سڑی ہوئی لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں کراچی کے مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک گڑھے سے برآمد ہوئی تھیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ چار لاشیں ایک خاتون اور اس کے تین بچوں کی تھیں، جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے اور انہیں کلہاڑی یا کسی تیز دھار آلے سے مارا گیا تھا۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجر کے دفتر کے مطابق کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔</p>
<p>ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ساؤتھ اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ مقتولہ خاتون کے موبائل فون کی ڈیجیٹل جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملزم اس کے رابطے میں تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کا مقصد مقتولہ کو مارنا تھا۔</p>
<p>پولیس نے ملزم کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ مقتولہ کا طویل عرصے سے دوست تھا۔ ملزم نے الزام لگایا کہ مقتولہ کالا جادو کرتی تھی اور اکثر اس سے مطالبات کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔</p>
<p>ملزم کے مطابق منگل کی رات اسے کسی کالا جادو کرنے والے کے پاس لے جایا گیا، اور تب اس نے فیصلہ کیا کہ ”یا تو میں خود کو ماروں یا اسے“۔ اس نے خاتون کو قتل کیا اور لاش گڑھے میں پھینک دی۔</p>
<p>اس کے بعد وہ مقتولہ کی ماں کے گھر گیا اور وہاں سے اس کے بچوں کو لیا، جن پر بھی وہ اکثر دباؤ ڈالتی تھی، انہیں بھی قتل کیا اور لاشیں ایک ہی گڑھے میں پھینک دیں۔</p>
<p>ضیاالحسن لنجر کے دفتر نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کیماڑی امجد شیخ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275009</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 16:40:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0416395914088dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0416395914088dd.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2025: پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ، حملے 34 فیصد بڑھ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274979/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: دہشت گردو  کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔</p>
<p>اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور13 سو 66 زخمی ہوئے، جو 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔</p>
<p>دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے</p>
<p>چیلنج تھے۔</p>
<p>بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔</p>
<p>سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16 شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔</p>
<p>پنجاب میں سات حملے ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔</p>
<p>گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274979</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 12:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021258263295ebd.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021258263295ebd.webp"/>
        <media:title>یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لانڈھی میں رکشے میں سوار لڑکی ’اندھی گولی‘ کا نشانہ بن گئی، انکوائری کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274989/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں رکشے میں سفر کے دوران ایک لڑکی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی، جس پر اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ وہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان  فائرنگ کے تبادلے کے دوران ماری گئی۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی نے ڈان کو بتایا کہ 17 سالہ کومل لائق، جو لائنز ایریا کی رہائشی تھیں، اپنی والدہ کے ہمراہ لانڈھی میں نانی سے ملنے گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ والدہ کے ساتھ رکشے میں گھر واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک گولی رکشے کے شیشے توڑتی ہوئی ان کے سینے میں لگی۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ لڑکی کو اسپتال مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ نے میڈیکو لیگل کارروائی کی اجازت نہیں دی اور لاش ساتھ لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انکوائری-کا-حکم" href="#انکوائری-کا-حکم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;انکوائری کا حکم&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جنوری نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سدھر کریں گی، جبکہ کمیٹی میں ایس ایچ او لانڈھی اور ایس آئی او عوامی کالونی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پولیس کے مطابق کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس بیان کے مطابق عوامی کالونی پولیس پارٹی نے کورنگی میں ایک بینک کے باہر ڈکیتی کرنے والے ملزمان کا تعاقب کیا۔ ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں ایک ملزم مولا بخش زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے گرفتار ملزم سے ایک پستول اور موبائل فون برآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں اطلاع ملی کہ 17 سالہ کومل، جو رکشے میں سفر کر رہی تھیں، لانڈھی تھانے کی حدود میں غفور مٹھائی والا کے قریب گولی لگنے سے زخمی ہوئیں اور دم توڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی، جو انکوائری ٹیم کا بھی حصہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں دونوں واقعات کے اوقات میں فرق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق لڑکی کو گولی تقریباً ساڑھے 11 بجے لگی جبکہ عوامی کالونی پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلہ تقریباً ایک بجے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق مقتولہ کے ماموں ریحان نے تحریری بیان میں پولیس اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور وہ اس حوالے سے کسی قانونی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں رکشے میں سفر کے دوران ایک لڑکی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی، جس پر اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ وہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان  فائرنگ کے تبادلے کے دوران ماری گئی۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا۔</p>
<p>لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی نے ڈان کو بتایا کہ 17 سالہ کومل لائق، جو لائنز ایریا کی رہائشی تھیں، اپنی والدہ کے ہمراہ لانڈھی میں نانی سے ملنے گئی تھیں۔</p>
<p>وہ والدہ کے ساتھ رکشے میں گھر واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک گولی رکشے کے شیشے توڑتی ہوئی ان کے سینے میں لگی۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔</p>
<p>مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔</p>
<p>پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ لڑکی کو اسپتال مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ نے میڈیکو لیگل کارروائی کی اجازت نہیں دی اور لاش ساتھ لے گئے۔</p>
<h1><a id="انکوائری-کا-حکم" href="#انکوائری-کا-حکم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>انکوائری کا حکم</strong></h1>
<p>واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جنوری نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سدھر کریں گی، جبکہ کمیٹی میں ایس ایچ او لانڈھی اور ایس آئی او عوامی کالونی شامل ہیں۔</p>
<p>ترجمان پولیس کے مطابق کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔</p>
<p>پولیس بیان کے مطابق عوامی کالونی پولیس پارٹی نے کورنگی میں ایک بینک کے باہر ڈکیتی کرنے والے ملزمان کا تعاقب کیا۔ ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں ایک ملزم مولا بخش زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے گرفتار ملزم سے ایک پستول اور موبائل فون برآمد کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں اطلاع ملی کہ 17 سالہ کومل، جو رکشے میں سفر کر رہی تھیں، لانڈھی تھانے کی حدود میں غفور مٹھائی والا کے قریب گولی لگنے سے زخمی ہوئیں اور دم توڑ گئیں۔</p>
<p>لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی، جو انکوائری ٹیم کا بھی حصہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں دونوں واقعات کے اوقات میں فرق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق لڑکی کو گولی تقریباً ساڑھے 11 بجے لگی جبکہ عوامی کالونی پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلہ تقریباً ایک بجے ہوا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق مقتولہ کے ماموں ریحان نے تحریری بیان میں پولیس اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور وہ اس حوالے سے کسی قانونی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274989</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 20:00:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021959206ce5baa.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021959206ce5baa.webp"/>
        <media:title>مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔ فوٹو: اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ پر حملے کے بعد پولیس اسٹیشن پر ہنگامہ، ایس ایچ او پر تشدد کے الزام میں وکلا کیخلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274963/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں اس مقدمے کے اندراج پر احتجاج کرنے والے متعدد وکلا کے خلاف سٹی کورٹ کے ایس ایچ او پر مبینہ حملے کے الزام میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ پیر کو کراچی کی ایک عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی تشدد کے واقعے پر ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو اور مزید 15 سے 20 نامعلوم وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد وکلا نے سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بول دیا اور مطالبہ کیا کہ یوٹیوبر اور دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ وکلا نے سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایم اے جناح روڈ پر سٹی کورٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ایک نئی ایف آئی آر جس کی کاپی ڈان کے پاس موجود ہے، بدھ کو سٹی کورٹ کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں درج کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-A (شجہ کا جرم)، 504 (جان بوجھ کر توہین)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 186 (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا)، 149 (غیر قانونی طور پر مجمع اکٹھا کرکے فساد کرنا)، 147 (فساد) اور 353 (سرکاری ملازم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) کے تحت درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او کے مطابق 30 دسمبر کو گشت کے دوران انہیں اطلاع ملی کہ تقریباً 40 سے 50 وکلا، جن کی قیادت عبد الفتح چانڈیو، ایڈووکیٹ عبد الوہاب راجپر اور ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کر رہے تھے، نے زبردستی رسالہ پولیس پوسٹ میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے، یہ پولیس پوسٹ عارضی طور پر سٹی کورٹ تھانے میں قائم کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایس ایچ او کے مطابق جب وہ دوپہر دو بجے کے قریب تھانے پہنچے تو وکلا نے ان سے پوچھا کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وکلا مجھ سے رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک مقدمہ درج ہو چکا ہے، جس پر وہ طیش میں آ گئے، گالیاں دینے لگے اور پھر مجھے لاتیں اور گھونسے مارنے شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274954'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او کے مطابق پولیس عملے کی مداخلت پر وکلا وہاں سے چلے گئے، تاہم جاتے ہوئے نعرے بازی کی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایف آئی آر میں عبد الفتح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 50 دیگر افراد کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ریاض علی سولنگی اس مقدمے میں بھی نامزد ہیں جو رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ وہ اس مقدمے کے مدعی بھی ہیں جو یوٹیوبر کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج ہوا، جس کے سلسلے میں رجب بٹ پیر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کے مطابق ملزمان نے انہیں سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، تشدد کیا اور زبانی بدسلوکی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ریاض علی سولنگی، عبد الفتح چانڈیو اور 15 سے 20 دیگر وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 382، 506 اور 337-A کے تحت مقدمہ درج کروایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ صبح نو بجے ضمانت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے، تاہم ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچتے ہی سولنگی اور چانڈیو نے دیگر وکلا کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور تشدد کیا، جس سے یوٹیوبر زخمی ہو گئے۔ میاں اشفاق کے مطابق حملے کے دوران ان پر اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا پر بھی تشدد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ موجود تھا، جو چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا، تاہم رقم غائب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے پیر کو ڈان کو بتایا تھا کہ یوٹیوبر نے 20 دسمبر کو عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایک ولاگ اپ لوڈ کیا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکلا اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں یوٹیوبر نے وکلا سے معذرت کر لی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں اس مقدمے کے اندراج پر احتجاج کرنے والے متعدد وکلا کے خلاف سٹی کورٹ کے ایس ایچ او پر مبینہ حملے کے الزام میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی۔</p>
<p>گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ پیر کو کراچی کی ایک عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی تشدد کے واقعے پر ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو اور مزید 15 سے 20 نامعلوم وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد وکلا نے سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بول دیا اور مطالبہ کیا کہ یوٹیوبر اور دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ وکلا نے سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ایم اے جناح روڈ پر سٹی کورٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعد ازاں ایک نئی ایف آئی آر جس کی کاپی ڈان کے پاس موجود ہے، بدھ کو سٹی کورٹ کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں درج کی گئی۔</p>
<p>یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-A (شجہ کا جرم)، 504 (جان بوجھ کر توہین)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 186 (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا)، 149 (غیر قانونی طور پر مجمع اکٹھا کرکے فساد کرنا)، 147 (فساد) اور 353 (سرکاری ملازم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) کے تحت درج کیا گیا۔</p>
<p>ایس ایچ او کے مطابق 30 دسمبر کو گشت کے دوران انہیں اطلاع ملی کہ تقریباً 40 سے 50 وکلا، جن کی قیادت عبد الفتح چانڈیو، ایڈووکیٹ عبد الوہاب راجپر اور ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کر رہے تھے، نے زبردستی رسالہ پولیس پوسٹ میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے، یہ پولیس پوسٹ عارضی طور پر سٹی کورٹ تھانے میں قائم کی گئی تھی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایس ایچ او کے مطابق جب وہ دوپہر دو بجے کے قریب تھانے پہنچے تو وکلا نے ان سے پوچھا کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وکلا مجھ سے رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک مقدمہ درج ہو چکا ہے، جس پر وہ طیش میں آ گئے، گالیاں دینے لگے اور پھر مجھے لاتیں اور گھونسے مارنے شروع کر دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274954'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایس ایچ او کے مطابق پولیس عملے کی مداخلت پر وکلا وہاں سے چلے گئے، تاہم جاتے ہوئے نعرے بازی کی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔</p>
<p>اس ایف آئی آر میں عبد الفتح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 50 دیگر افراد کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ریاض علی سولنگی اس مقدمے میں بھی نامزد ہیں جو رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ وہ اس مقدمے کے مدعی بھی ہیں جو یوٹیوبر کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج ہوا، جس کے سلسلے میں رجب بٹ پیر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے۔</p>
<p>ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کے مطابق ملزمان نے انہیں سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، تشدد کیا اور زبانی بدسلوکی کی۔</p>
<p>دوسری جانب یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ریاض علی سولنگی، عبد الفتح چانڈیو اور 15 سے 20 دیگر وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 382، 506 اور 337-A کے تحت مقدمہ درج کروایا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ صبح نو بجے ضمانت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے، تاہم ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچتے ہی سولنگی اور چانڈیو نے دیگر وکلا کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور تشدد کیا، جس سے یوٹیوبر زخمی ہو گئے۔ میاں اشفاق کے مطابق حملے کے دوران ان پر اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا پر بھی تشدد کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ موجود تھا، جو چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا، تاہم رقم غائب تھی۔</p>
<p>ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے پیر کو ڈان کو بتایا تھا کہ یوٹیوبر نے 20 دسمبر کو عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایک ولاگ اپ لوڈ کیا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکلا اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں یوٹیوبر نے وکلا سے معذرت کر لی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274963</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 13:45:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/31133356f7f33fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="802">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/31133356f7f33fb.webp"/>
        <media:title>وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274962/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرا دی گئیں، سینئر وزیر و وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ یہ بسیں کل (یکم جنوری) سے عوام کے لیے دستیاب ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں بس سروس کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج شہر میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز ہو رہا ہے، کل سے یہ عوام کے لیے دستیاب ہوں گی جبکہ آج انہیں سڑکوں پر آزمایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ بس سروس کا افتتاح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اکتوبر 2024 میں سندھ حکومت کے اعلان کے ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے، ایسے شہر میں جہاں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی طویل عرصے سے سفری مسائل کا شکار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرجیل انعام میمن نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے دسمبر 2025 تک کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 31 دسمبر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت 2026 میں پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ سال کراچی کی ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کی ہدایت بھی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل ڈبل ڈیکر بسوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا تھا کہ یہ بسیں ملیر سے شارع فیصل تک چلیں گی اور مزید بسیں بھی کراچی لائی جائیں گی تاکہ ٹریفک مسائل میں کمی آ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر وزیر کے ترجمان حسین منصور نے ڈان کو بتایا کہ بسیں صدر کی زینب مارکیٹ سے ماڈل کالونی تک چلیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر شرجیل انعام میمن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کراچی کے لیے 65 سال بعد دوبارہ ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے سندھ، بشمول کراچی میں الیکٹرک بسوں کے لیے نئے روٹس بھی مختص کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ ایک بنیادی ضرورت ہے اور سندھ حکومت اس حوالے سے عوام کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرانسپورٹ سہولیات سبسڈی پر فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت یہ سبسڈی خود ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز بس سروس کے تحت کراچی میں روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق سوال پر میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صنعتی علاقوں کی سڑکوں کے لیے بجٹ سے 9 ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ انہوں نے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے سمیت دیگر منصوبوں پر جاری کام کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاحتی مقامات تک ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹس کے سوال پر سینئر وزیر نے کہا کہ ہدف صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ کراچی کی ہر سڑک کو کور کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرا دی گئیں، سینئر وزیر و وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ یہ بسیں کل (یکم جنوری) سے عوام کے لیے دستیاب ہوں گی۔</p>
<p>کراچی میں بس سروس کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج شہر میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز ہو رہا ہے، کل سے یہ عوام کے لیے دستیاب ہوں گی جبکہ آج انہیں سڑکوں پر آزمایا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006246291425443882?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006246291425443882%7Ctwgr%5Edbe45caa791e71007ba2c38bf364a3584586b06a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ بس سروس کا افتتاح کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت اکتوبر 2024 میں سندھ حکومت کے اعلان کے ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے، ایسے شہر میں جہاں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی طویل عرصے سے سفری مسائل کا شکار رہی ہے۔</p>
<p>شرجیل انعام میمن نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے دسمبر 2025 تک کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 31 دسمبر ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت 2026 میں پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ سال کراچی کی ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کی ہدایت بھی دی ہے۔</p>
<p>ایک روز قبل ڈبل ڈیکر بسوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا تھا کہ یہ بسیں ملیر سے شارع فیصل تک چلیں گی اور مزید بسیں بھی کراچی لائی جائیں گی تاکہ ٹریفک مسائل میں کمی آ سکے۔</p>
<p>سینئر وزیر کے ترجمان حسین منصور نے ڈان کو بتایا کہ بسیں صدر کی زینب مارکیٹ سے ماڈل کالونی تک چلیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2006257405512794620?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006257405512794620%7Ctwgr%5E8143b44384e721f93e332fb7076f936b913066b8%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964276"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ادھر شرجیل انعام میمن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کراچی کے لیے 65 سال بعد دوبارہ ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی جا رہی ہے۔</p>
<p>آج میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے سندھ، بشمول کراچی میں الیکٹرک بسوں کے لیے نئے روٹس بھی مختص کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ ایک بنیادی ضرورت ہے اور سندھ حکومت اس حوالے سے عوام کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرانسپورٹ سہولیات سبسڈی پر فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت یہ سبسڈی خود ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز بس سروس کے تحت کراچی میں روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں۔</p>
<p>سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق سوال پر میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صنعتی علاقوں کی سڑکوں کے لیے بجٹ سے 9 ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ انہوں نے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے سمیت دیگر منصوبوں پر جاری کام کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>سیاحتی مقامات تک ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹس کے سوال پر سینئر وزیر نے کہا کہ ہدف صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ کراچی کی ہر سڑک کو کور کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274962</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 14:30:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/311303557df7ea3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/311303557df7ea3.webp"/>
        <media:title>شرجیل انعام میمن نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے دسمبر 2025 تک کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 31 دسمبر ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سٹی کورٹ میں رجب بٹ پر ’تشدد‘ ، درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274954/</link>
      <description>&lt;p&gt;سٹی کورٹ کراچی میں گزشتہ روز پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو رجب بٹ پر کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں بعض وکیلوں نے اس وقت تشدد کیا جب وہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پیش ہوئے تھے۔ بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ایکس پر بیان میں کہا تھا کہ عدالت کے احاطے میں ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں اپنے گرد جمع ہجوم کے درمیان سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کا مقدمہ بعد ازاں رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق کی درخواست پر درج کیا گیا، جس کی کاپی ڈان کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکیلوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ریاض علی سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147 فساد کرنے، 148  مسلح ہو کر فساد، 382 جسمانی نقصان کے بعد چوری، 506 مجرمانہ دھمکی اور 337-A شجہ (سر اور چہرے پر تشدد)  کے تحت درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کے مطابق ان کا مؤکل صبح 9 بجے سٹی کورٹ پہنچا تھا تاکہ اس کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 295-A کے تحت درج مقدمے میں ضمانت حاصل کی جا سکے، جو مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی سے مجروح کرنے سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کا کہنا تھا کہ جب وہ ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچے تو ریاض علی سولنگی، عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکلا نے ان کے مؤکل پر حملہ کر دیا اور اسے مارنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں اشفاق کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس ایک بیگ تھا جس میں تین لاکھ روپے موجود تھے، جو اس سے چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا تاہم اس میں موجود رقم غائب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کے مطابق بعد ازاں ان کے مؤکل کو زبردستی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سینٹرل کے پاس لے جایا گیا، جہاں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ تاحال اس کیس میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے ڈان کو بتایا کہ 20 دسمبر کو قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرنے کے بعد یوٹیوبر نے ایک ولاگ اپ لوڈ کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکیلوں اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں انہوں نے وکلا سے معافی مانگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز میاں علی اشفاق نے کہا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود حملہ آور رجب بٹ کو مارتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویڈیو میں رجب بٹ کو وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا، جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، جبکہ اس گروپ میں ریاض علی سولنگی بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاکر ندیم مبارک جو نانی والا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں نظر آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سٹی کورٹ کراچی میں گزشتہ روز پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔</p>
<p>پیر کو رجب بٹ پر کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں بعض وکیلوں نے اس وقت تشدد کیا جب وہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پیش ہوئے تھے۔ بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ایکس پر بیان میں کہا تھا کہ عدالت کے احاطے میں ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔</p>
<p>واقعے کی ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں اپنے گرد جمع ہجوم کے درمیان سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس واقعے کا مقدمہ بعد ازاں رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق کی درخواست پر درج کیا گیا، جس کی کاپی ڈان کے پاس ہے۔</p>
<p>ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکیلوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ریاض علی سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274942/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147 فساد کرنے، 148  مسلح ہو کر فساد، 382 جسمانی نقصان کے بعد چوری، 506 مجرمانہ دھمکی اور 337-A شجہ (سر اور چہرے پر تشدد)  کے تحت درج کیا گیا۔</p>
<p>مدعی کے مطابق ان کا مؤکل صبح 9 بجے سٹی کورٹ پہنچا تھا تاکہ اس کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 295-A کے تحت درج مقدمے میں ضمانت حاصل کی جا سکے، جو مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی سے مجروح کرنے سے متعلق ہے۔</p>
<p>مدعی کا کہنا تھا کہ جب وہ ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں پہنچے تو ریاض علی سولنگی، عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکلا نے ان کے مؤکل پر حملہ کر دیا اور اسے مارنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔</p>
<p>میاں اشفاق کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت رجب بٹ کے پاس ایک بیگ تھا جس میں تین لاکھ روپے موجود تھے، جو اس سے چھین لیا گیا۔ بعد میں سولنگی نے بیگ واپس کر دیا تاہم اس میں موجود رقم غائب تھی۔</p>
<p>مدعی کے مطابق بعد ازاں ان کے مؤکل کو زبردستی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سینٹرل کے پاس لے جایا گیا، جہاں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔</p>
<p>جنوبی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ تاحال اس کیس میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔</p>
<p>ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے ڈان کو بتایا کہ 20 دسمبر کو قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرنے کے بعد یوٹیوبر نے ایک ولاگ اپ لوڈ کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کراچی کے وکیلوں اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا، جہاں انہوں نے وکلا سے معافی مانگی۔</p>
<p>اسی روز میاں علی اشفاق نے کہا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود حملہ آور رجب بٹ کو مارتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>ایک اور ویڈیو میں رجب بٹ کو وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا، جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، جبکہ اس گروپ میں ریاض علی سولنگی بھی موجود تھے۔</p>
<p>ٹک ٹاکر ندیم مبارک جو نانی والا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں نظر آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274954</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 13:12:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/30131024f096ec9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/30131024f096ec9.webp"/>
        <media:title>میاں اشفاق کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں اور ان کے دفتر کے دیگر وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی ناکام، کم عمر بلوچ طالبہ کو خود کش بمبار بننے سے بچالیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274944/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا، بچی کودہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ldfjQFV8DX0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ldfjQFV8DX0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246137'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گردوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243661'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آزاد خان نے بتایا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ بچی کی شناخت چھپا کر بیان چلایا گیا، جس میں بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا،  جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچی کی والدہ نے اپنے  بیان میں  بتایا کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت اقدامات کریں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا، بچی کودہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔</p>
<p>ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ldfjQFV8DX0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ldfjQFV8DX0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پریس کانفرنس کے دوران مستقبل میں خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانے والی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کو دکھائی گئی۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246137'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ محمد آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گردوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243661'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آزاد خان نے بتایا کہ ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ بچی کی شناخت چھپا کر بیان چلایا گیا، جس میں بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا،  جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔</p>
<p>متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں۔</p>
<p>بچی کی والدہ نے اپنے  بیان میں  بتایا کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ نفرت انگیز اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت اقدامات کریں، اکاؤنٹس بند کریں اور الگورتھمز کو بہتر بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274944</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 14:37:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29144839861c074.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29144839861c074.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2914300652c9a2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2914300652c9a2d.webp"/>
        <media:title>زیر داخلہ سندھ کے مطابق اس واقعے میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جامعہ کراچی کے ملازم کی بوری میں بند لاش برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274949/</link>
      <description>&lt;p&gt;جامعہ کراچی کے ایک نوجوان ملازم کی لاش صفورا کے قریب سے برآمد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچل تھانے کے ایس ایچ او شبیر حسین نے بتایا کہ 37 سالہ رحمت علی کی تشدد زدہ لاش الازہر گارڈن کے قریب جھاڑیوں سے ملی، لاش بوری میں بند تھی جبکہ دونوں ٹانگیں تار سے بندھی ہوئی تھیں، سر پر سخت اور نوکیلے آلات سے ضربیں لگائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر کے مطابق مقتول جامعہ کراچی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کا ملازم تھا۔ وہ پہلے جامعہ کے اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا تاہم حال ہی میں سچل گوٹھ منتقل ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اتوار کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے جا رہا ہے، مگر واپس نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رحمت علی کو کہیں اور قتل کیا گیا اور بعد ازاں لاش سنسان علاقے میں لا کر پھینک دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جامعہ کراچی کے ایک نوجوان ملازم کی لاش صفورا کے قریب سے برآمد ہوئی ہے۔</p>
<p>سچل تھانے کے ایس ایچ او شبیر حسین نے بتایا کہ 37 سالہ رحمت علی کی تشدد زدہ لاش الازہر گارڈن کے قریب جھاڑیوں سے ملی، لاش بوری میں بند تھی جبکہ دونوں ٹانگیں تار سے بندھی ہوئی تھیں، سر پر سخت اور نوکیلے آلات سے ضربیں لگائی گئی تھیں۔</p>
<p>لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس افسر کے مطابق مقتول جامعہ کراچی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کا ملازم تھا۔ وہ پہلے جامعہ کے اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا تاہم حال ہی میں سچل گوٹھ منتقل ہوا تھا۔</p>
<p>مقتول کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اتوار کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے جا رہا ہے، مگر واپس نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رحمت علی کو کہیں اور قتل کیا گیا اور بعد ازاں لاش سنسان علاقے میں لا کر پھینک دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274949</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 19:04:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29190259a537948.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29190259a537948.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: سٹی کورٹ کے احاطے میں یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کا تشدد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274942/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران سیشنز کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی حملہ کیا گیا جس کے باعث عدالت کا ماحول بدنظمی کا شکار ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجب بٹ 20 دسمبر کو دی گئی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر آج (پیر کو) سیشنز کورٹ سینٹرل میں پیش ہوئے تھے تاہم سماعت کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی اور ان پر حملہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں الزام لگایا کہ کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں کچھ وکلا نے ان کے موکل پر ان کی موجودگی میں حملہ کیا جس سے رجب بٹ زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود تشدد جاری رکھا گیا جو وکلا کے لیے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میاں علی اشفاق کے مطابق قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اگر وکلا آئے روز فریق بن کر شہریوں پر عدالتوں میں حملے کرتے رہے تو ان کا احترام شدید طور پر متاثر ہوگا۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک رویہ قرار دیا جس کی کسی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گروپ میں مقدمے کے مدعی ریاض سولنگی بھی موجود تھے جو ویڈیو میں یہ کہتے دکھائی دیے کہ رجب بٹ نے وکلا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=DI4DXLOSZkY'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/DI4DXLOSZkY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی ویڈیو میں موجود ایک اور شخص نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا وہ وکلا کے خلاف زبان استعمال کرنے اور بدتمیزی کا نتیجہ ہے اور جو بھی وکلا کے خلاف بولے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ ٹک ٹاکر ندیم مبارک المعروف نانی والا بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور دونوں 10 دسمبر کو لندن سے پاکستان واپس آئے تھے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے اہل خانہ کی درخواست پر 10 روزہ حفاظتی ضمانت دی تھی۔ آج سیشنز کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مقدمے-کا-پس-منظر" href="#مقدمے-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقدمے کا پس منظر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ریاض سولنگی نے جنوری میں حیدری مارکیٹ تھانے میں رجب بٹ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت درخواست دی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ دسمبر 2024 میں انہوں نے یوٹیوبر کی ایک وائرل ویڈیو دیکھی جس میں وہ مبینہ طور پر موسیقی کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایف آئی آر سیشنز کورٹ کی جانب سے دفعہ 22 اے کے تحت درخواست منظور ہونے کے بعد درج کی گئی تھی، جس میں ایس ایچ او کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رجب بٹ نے جنوری میں اپنے فیس بک پیج پر مختلف مسالک کے علما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تین ویڈیوز جاری کیں جن میں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے غیر ارادی عمل سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو انہیں اس پر دلی افسوس ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران سیشنز کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر جسمانی حملہ کیا گیا جس کے باعث عدالت کا ماحول بدنظمی کا شکار ہوگیا۔</p>
<p>رجب بٹ 20 دسمبر کو دی گئی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر آج (پیر کو) سیشنز کورٹ سینٹرل میں پیش ہوئے تھے تاہم سماعت کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی اور ان پر حملہ کردیا گیا۔</p>
<p>ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں الزام لگایا کہ کراچی سٹی کورٹ کے احاطے میں کچھ وکلا نے ان کے موکل پر ان کی موجودگی میں حملہ کیا جس سے رجب بٹ زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار روکنے کے باوجود تشدد جاری رکھا گیا جو وکلا کے لیے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MianAliAshfaq/status/2005511757650083892?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005511757650083892%7Ctwgr%5Ed3178b8b25427c8ace4a3a5dc742a3a45b01b5e6%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1963909"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میاں علی اشفاق کے مطابق قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ملک میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اگر وکلا آئے روز فریق بن کر شہریوں پر عدالتوں میں حملے کرتے رہے تو ان کا احترام شدید طور پر متاثر ہوگا۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک رویہ قرار دیا جس کی کسی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔</p>
<p>اس گروپ میں مقدمے کے مدعی ریاض سولنگی بھی موجود تھے جو ویڈیو میں یہ کہتے دکھائی دیے کہ رجب بٹ نے وکلا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=DI4DXLOSZkY'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/DI4DXLOSZkY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی ویڈیو میں موجود ایک اور شخص نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا وہ وکلا کے خلاف زبان استعمال کرنے اور بدتمیزی کا نتیجہ ہے اور جو بھی وکلا کے خلاف بولے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ ٹک ٹاکر ندیم مبارک المعروف نانی والا بھی اس موقع پر موجود تھے اور ایک ویڈیو میں دکھائی دیے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور دونوں 10 دسمبر کو لندن سے پاکستان واپس آئے تھے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے اہل خانہ کی درخواست پر 10 روزہ حفاظتی ضمانت دی تھی۔ آج سیشنز کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔</p>
<h2><a id="مقدمے-کا-پس-منظر" href="#مقدمے-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقدمے کا پس منظر</h2>
<p>ریاض سولنگی نے جنوری میں حیدری مارکیٹ تھانے میں رجب بٹ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت درخواست دی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ دسمبر 2024 میں انہوں نے یوٹیوبر کی ایک وائرل ویڈیو دیکھی جس میں وہ مبینہ طور پر موسیقی کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔</p>
<p>یہ ایف آئی آر سیشنز کورٹ کی جانب سے دفعہ 22 اے کے تحت درخواست منظور ہونے کے بعد درج کی گئی تھی، جس میں ایس ایچ او کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی۔</p>
<p>ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رجب بٹ نے جنوری میں اپنے فیس بک پیج پر مختلف مسالک کے علما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تین ویڈیوز جاری کیں جن میں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے غیر ارادی عمل سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو انہیں اس پر دلی افسوس ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274942</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 13:48:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سُمیر عبداللہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/291337012b558fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="802">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/291337012b558fd.webp"/>
        <media:title>واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا، مصطفیٰ کمال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274937/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا ہے کہ عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے قتل کا الزام بانی ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے ان پر 25 سال تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے پیسے لینے کا سنگین الزام بھی عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نشے میں دھت الطاف حسین نے پارٹی کو 40 سال دینے والے عمران فاروق کو ان کی سالگرہ والے دن قتل کروا کر  17 ستمبر 2010 کو خود کو سالگرہ کا تحفہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا بانی ایم کیوایم ڈرامہ باز آدمی ہے، ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی لاش پر بانی ایم کیوایم نے ناٹک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 15 سال قبل 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائشگاہ کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے قتل کا کیس پانچ سال تک عدالت میں چلا جس کے بعد 2015 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا اور تینوں پر 10، دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031776'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کا انتقال ہوا، نام نہاد بانی ایم کیو ایم نے اس لاش کو لے کر واویلا مچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے میت پاکستان بھیجنے کے لیے دنیا بھر سے چندا اکٹھا کیا، میں نے دو سال سے بانی ایم کیوایم پر بات کرنا چھوڑ دی تھی، یہ ڈرامے کر رہا ہے، تکیے کے نیچے سے 5 لاکھ پاؤنڈ نکلے، آفس سے 6 لاکھ پاؤنڈ نکلے، ان کے پاس 6 ہزار پاؤنڈ نہیں تھے عمران فاروق کی بیوی کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے مرنےکے بعد اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بانی ایم کیوایم سے کہتا ہوں وہ کیس کھلوائیں کہ اصل قاتلوں کا پتا لگایا جائے، الطاف حسین ہمت کرے میں اپنے پیسے سے اس کا ساتھ دینے کو تیار ہوں، یہ آدمی خود کو راجا اندر سمجھتا ہے ہم نے بہت سی باتوں پر پردہ ڈالا، جب عمران فاروق کو قتل کیا گیا تھا میں پارٹی کی جانب سے گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں وہاں موجود تھا بانی ایم کیوایم کو نماز جنازہ میں صرف تصویر بنوانی تھی، بانی الطاف حسین نے مسجد میں کیمرے کی اجازت نا ہوتےہوئے بھی لڑکے سے تصویربنوائی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031704'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کا کہنا تھا  بانی ایم کیو ایم مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار ہے، مہاجر قوم بڑی بدقسمت ہے، کیا کرمنل قائد ملا ہے ہمیں، 40 سال میں کتنے لوگوں کو یہ کھا گیا، اب بھی کھا رہا ہے، ہم آئینی ترمیم لے کر گھوم رہے تھے اس کو اللہ نے اتنی طاقت دی تھی، اس وقت اس کو یہ خیال نہیں آیا اب یہ ہمیں کہہ رہا ہے، اس نےآئینی ترمیم کے لیے کبھی ہڑتال کی جب ایک آواز  پر 5 لاکھ لوگ جمع ہو جاتے، 20 سال پہلے یہ سب کرتا تو 10 منٹ میں آئینی ترمیم ہوتی لیکن یہ نہیں چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈیارڈ کو پتا تھا عمران فاروق کو کس نے مارا ہے، اس لیے انہوں نے قتل کے 15 دن تک بچوں کو چھپا کر رکھا تھا، ڈاکٹر عمران فاروق کے بچے ابھی جوان ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے بچوں سے کہتا ہوں لندن میں اس شخض سے بچو، اپنے باپ کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالت جاؤ اور مقدمہ دائر کرو، یہ آدمی خاموشی کو کمزوری سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا اس شخص الطاف حسین نےمیرا شہر تباہ کردیا ہے، ہم ان شاء اللہ اس شہر کو دوبارہ اسی جگہ لے کر جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی ٹریلر دکھایا ہے، چیلنج کرتا ہوں آئے اور الطاف حسین ہم سے بات کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا ہے کہ عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا۔</strong></p>
<p>کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے قتل کا الزام بانی ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے ان پر 25 سال تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے پیسے لینے کا سنگین الزام بھی عائد کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نشے میں دھت الطاف حسین نے پارٹی کو 40 سال دینے والے عمران فاروق کو ان کی سالگرہ والے دن قتل کروا کر  17 ستمبر 2010 کو خود کو سالگرہ کا تحفہ دیا۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا بانی ایم کیوایم ڈرامہ باز آدمی ہے، ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی لاش پر بانی ایم کیوایم نے ناٹک کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 15 سال قبل 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائشگاہ کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کے قتل کا کیس پانچ سال تک عدالت میں چلا جس کے بعد 2015 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا اور تینوں پر 10، دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031776'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کا انتقال ہوا، نام نہاد بانی ایم کیو ایم نے اس لاش کو لے کر واویلا مچایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے میت پاکستان بھیجنے کے لیے دنیا بھر سے چندا اکٹھا کیا، میں نے دو سال سے بانی ایم کیوایم پر بات کرنا چھوڑ دی تھی، یہ ڈرامے کر رہا ہے، تکیے کے نیچے سے 5 لاکھ پاؤنڈ نکلے، آفس سے 6 لاکھ پاؤنڈ نکلے، ان کے پاس 6 ہزار پاؤنڈ نہیں تھے عمران فاروق کی بیوی کے لیے۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے مرنےکے بعد اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بانی ایم کیوایم سے کہتا ہوں وہ کیس کھلوائیں کہ اصل قاتلوں کا پتا لگایا جائے، الطاف حسین ہمت کرے میں اپنے پیسے سے اس کا ساتھ دینے کو تیار ہوں، یہ آدمی خود کو راجا اندر سمجھتا ہے ہم نے بہت سی باتوں پر پردہ ڈالا، جب عمران فاروق کو قتل کیا گیا تھا میں پارٹی کی جانب سے گیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں وہاں موجود تھا بانی ایم کیوایم کو نماز جنازہ میں صرف تصویر بنوانی تھی، بانی الطاف حسین نے مسجد میں کیمرے کی اجازت نا ہوتےہوئے بھی لڑکے سے تصویربنوائی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1031704'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی وزیر کا کہنا تھا  بانی ایم کیو ایم مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار ہے، مہاجر قوم بڑی بدقسمت ہے، کیا کرمنل قائد ملا ہے ہمیں، 40 سال میں کتنے لوگوں کو یہ کھا گیا، اب بھی کھا رہا ہے، ہم آئینی ترمیم لے کر گھوم رہے تھے اس کو اللہ نے اتنی طاقت دی تھی، اس وقت اس کو یہ خیال نہیں آیا اب یہ ہمیں کہہ رہا ہے، اس نےآئینی ترمیم کے لیے کبھی ہڑتال کی جب ایک آواز  پر 5 لاکھ لوگ جمع ہو جاتے، 20 سال پہلے یہ سب کرتا تو 10 منٹ میں آئینی ترمیم ہوتی لیکن یہ نہیں چاہتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈیارڈ کو پتا تھا عمران فاروق کو کس نے مارا ہے، اس لیے انہوں نے قتل کے 15 دن تک بچوں کو چھپا کر رکھا تھا، ڈاکٹر عمران فاروق کے بچے ابھی جوان ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عمران فاروق کے بچوں سے کہتا ہوں لندن میں اس شخض سے بچو، اپنے باپ کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالت جاؤ اور مقدمہ دائر کرو، یہ آدمی خاموشی کو کمزوری سمجھتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا اس شخص الطاف حسین نےمیرا شہر تباہ کردیا ہے، ہم ان شاء اللہ اس شہر کو دوبارہ اسی جگہ لے کر جائیں گے۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی ٹریلر دکھایا ہے، چیلنج کرتا ہوں آئے اور الطاف حسین ہم سے بات کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274937</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 13:11:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/281235359b19e8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/281235359b19e8a.webp"/>
        <media:title>ہم نے ابھی ٹریلر دکھایا ہے، چیلنج کرتا ہوں آئے اور الطاف حسین ہم سے بات کرے۔ فائنل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274911/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک گاڑیوں کی آمدورفت پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی حادثات ڈمپر ٹرکوں اور واٹر ٹینکروں جیسی بھاری گاڑیوں کی ٹکر کے باعث پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی جانب سے منگل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کی درخواست کی تھی تاکہ بھاری گاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے مسائل حل کیے جا سکیں اور سڑک حادثات کی روک تھام ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے مفاد میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت شہر میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے مناسب بنیادیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273439'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273439"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے تحت کمشنر کراچی نے تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپراور دیگر ہیوی ٹریفک پر شہر کے تمام علاقوں میں مکمل پابندی عائد کر دی ہے، تاہم انہیں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک چلنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح شہر میں ہیوی ٹریفک کی مجموعی آمدورفت پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کے علاوہ نافذ رہے گی۔ البتہ ضروری اشیا لے جانے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں پانی، خوردنی تیل، مائع نائٹروجن، گوشت، کھالیں اور طبی گیسیں شامل ہیں جنہیں جان بچانے والی ادویات کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جناح ایونیو پر بھی ہیوی ٹریفک کی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جو سپر ہائی وے ایم نائن کراچی حیدرآباد موٹر وے کے قریب صائمہ پری کلاسک اور روفی گلوبل سٹی سے لے کر ملیر ہالٹ شاہراہ فیصل تک نافذ ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273196'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہیوی ٹریفک کے لیے تین مخصوص راستے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپر شامل نہیں ہوں گے۔ ان راستوں میں سپر ہائی وے کے ذریعے سلپ روڈ سے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا، نیشنل ہائی وے کے ذریعے گودام چورنگی، یونس چورنگی اور داؤد چورنگی شامل ہیں۔ تیسرا راستہ ناردرن بائی پاس ہے، جس کے ذریعے گاڑیاں گل بائی اور ماڑی پور سے ہوتی ہوئی کراچی پورٹ تک جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک متبادل راستہ بھی متعین کیا گیا ہے جو لنک روڈ کٹھور سے سسی ٹول پلازہ تک ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ منظور شدہ ٹریکنگ ڈیوائسز سے لیس ڈمپروں کو، جن کا ڈیٹا کراچی ٹریفک پولیس کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہے، صنعتی علاقوں میں مقررہ اوقات کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندیاں 23 دسمبر سے 22 فروری 2026 تک دو ماہ کے لیے نافذ رہیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273053/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک پر پابندی لگائی گئی ہو۔ فروری میں صوبائی حکومت نے 60 روز کے لیے ہیوی گاڑیوں پر پابندی عائد کی تھی، جس میں رات کے مخصوص اوقات کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ اپریل میں اس پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل ہی 19 دسمبر کو کراچی میں تین الگ الگ ٹریفک حادثات میں تین افراد جاں بحق ہوئے، جن کی وجہ ہیوی گاڑیوں کی غفلت اور لاپروا ڈرائیونگ بتائی گئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ماڑی پور میں بڑا بورڈ پی اے ایف گیٹ کے قریب ایک ٹریلر ٹرک نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو کچل دیا تھا جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک گاڑیوں کی آمدورفت پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی حادثات ڈمپر ٹرکوں اور واٹر ٹینکروں جیسی بھاری گاڑیوں کی ٹکر کے باعث پیش آئے۔</p>
<p>کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی جانب سے منگل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کی درخواست کی تھی تاکہ بھاری گاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے مسائل حل کیے جا سکیں اور سڑک حادثات کی روک تھام ہو۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے مفاد میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت شہر میں ہیوی ٹریفک کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے مناسب بنیادیں موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273439'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273439"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے تحت کمشنر کراچی نے تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپراور دیگر ہیوی ٹریفک پر شہر کے تمام علاقوں میں مکمل پابندی عائد کر دی ہے، تاہم انہیں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک چلنے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>اسی طرح شہر میں ہیوی ٹریفک کی مجموعی آمدورفت پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کے علاوہ نافذ رہے گی۔ البتہ ضروری اشیا لے جانے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں پانی، خوردنی تیل، مائع نائٹروجن، گوشت، کھالیں اور طبی گیسیں شامل ہیں جنہیں جان بچانے والی ادویات کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔</p>
<p>جناح ایونیو پر بھی ہیوی ٹریفک کی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جو سپر ہائی وے ایم نائن کراچی حیدرآباد موٹر وے کے قریب صائمہ پری کلاسک اور روفی گلوبل سٹی سے لے کر ملیر ہالٹ شاہراہ فیصل تک نافذ ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273196'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہیوی ٹریفک کے لیے تین مخصوص راستے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپر شامل نہیں ہوں گے۔ ان راستوں میں سپر ہائی وے کے ذریعے سلپ روڈ سے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا، نیشنل ہائی وے کے ذریعے گودام چورنگی، یونس چورنگی اور داؤد چورنگی شامل ہیں۔ تیسرا راستہ ناردرن بائی پاس ہے، جس کے ذریعے گاڑیاں گل بائی اور ماڑی پور سے ہوتی ہوئی کراچی پورٹ تک جا سکیں گی۔</p>
<p>ایک متبادل راستہ بھی متعین کیا گیا ہے جو لنک روڈ کٹھور سے سسی ٹول پلازہ تک ہوگا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ منظور شدہ ٹریکنگ ڈیوائسز سے لیس ڈمپروں کو، جن کا ڈیٹا کراچی ٹریفک پولیس کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہے، صنعتی علاقوں میں مقررہ اوقات کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندیاں 23 دسمبر سے 22 فروری 2026 تک دو ماہ کے لیے نافذ رہیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273053/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک پر پابندی لگائی گئی ہو۔ فروری میں صوبائی حکومت نے 60 روز کے لیے ہیوی گاڑیوں پر پابندی عائد کی تھی، جس میں رات کے مخصوص اوقات کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ اپریل میں اس پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی گئی۔</p>
<p>چند روز قبل ہی 19 دسمبر کو کراچی میں تین الگ الگ ٹریفک حادثات میں تین افراد جاں بحق ہوئے، جن کی وجہ ہیوی گاڑیوں کی غفلت اور لاپروا ڈرائیونگ بتائی گئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ماڑی پور میں بڑا بورڈ پی اے ایف گیٹ کے قریب ایک ٹریلر ٹرک نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو کچل دیا تھا جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہو گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274911</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:25:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/24131751a0395a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/24131751a0395a1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھوٹکی میں مسافروں کے اغوا کے بعد پولیس و رینجرز کی کارروائی، 10 مغوی بازیاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274838/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں مسافروں کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے پولیس اور رینجرز کی کارروائی جاری ہے اور حکام نے اب تک 10 افراد کی بازیابی کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعہ پیر کی شب ضلع گھوٹکی میں اوباڑو کے نزدیک پیش آیا جب صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی ایک بس کو ڈاکوؤں نے روک کر 19 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا ہے اغوا کیے جانے والے مسافروں میں سے اب تک 10 مغویوں کو بازیاب کروایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی سکھر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، پولیس اور رینجرز کی جانب سے ساری رات جاری رہنے والے آپریشن کے دوران کچے کی طرف جانے والے تمام راستے بروقت بند کر دیے گئے جس کے باعث ڈاکو مغویوں کو کچے کی طرف لے کر جانے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TOKCityOfLights/status/2000668737377304933'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TOKCityOfLights/status/2000668737377304933"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے 10 مغوی مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے علاقے میں ناکہ بندی جاری ہے اور ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلہ اور انکا تعاقب جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی سکھر کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں آپریشن میں ایس ایس پی خیرپور، ایس ایس پی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سکھر رینج کے اہلکار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں مسافروں کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے پولیس اور رینجرز کی کارروائی جاری ہے اور حکام نے اب تک 10 افراد کی بازیابی کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>واقعہ پیر کی شب ضلع گھوٹکی میں اوباڑو کے نزدیک پیش آیا جب صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی ایک بس کو ڈاکوؤں نے روک کر 19 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا ہے اغوا کیے جانے والے مسافروں میں سے اب تک 10 مغویوں کو بازیاب کروایا جا چکا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی سکھر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، پولیس اور رینجرز کی جانب سے ساری رات جاری رہنے والے آپریشن کے دوران کچے کی طرف جانے والے تمام راستے بروقت بند کر دیے گئے جس کے باعث ڈاکو مغویوں کو کچے کی طرف لے کر جانے میں ناکام رہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TOKCityOfLights/status/2000668737377304933'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TOKCityOfLights/status/2000668737377304933"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے 10 مغوی مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے علاقے میں ناکہ بندی جاری ہے اور ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلہ اور انکا تعاقب جاری ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی سکھر کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں آپریشن میں ایس ایس پی خیرپور، ایس ایس پی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سکھر رینج کے اہلکار شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274838</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 11:48:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/161142465a2e5b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="365" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/161142465a2e5b9.webp"/>
        <media:title>ڈان نیوز کے مطابق ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا ہے اغوا کیے جانے والے مسافروں میں سے اب تک 10 مغویوں کو بازیاب کروایا جا چکا ہے۔ فوٹو: سندھ پولیس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کچھ حکومتی وزرا دوسرے صوبوں سے مزید اختیار اور وسائل لینا چاہتے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274675/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ کچھ حکومتی وزرا دوسرے صوبوں سے مزید اختیار  اور  وسائل لینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی مشکلات بھی ہماری مشکلات ہیں، سندھ حکومت نے سیلز ٹیکس کلیکشن میں تمام صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاق کے لیے مزید ٹیکس بھی جمع کرنے کو تیار ہیں، وفاقی حکومت کے ٹیکس اہداف پورے کریں گے، کچھ وزرا صوبوں سے وسائل لینا چاہتے ہیں، ہمیں وفاق کی مشکلات کا علم ہے، بہتر ٹیکس وصولی کر کے وفاقی حکومت کی مشکلات کم کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے منشور کے مطابق مفت اور معیاری علاج عوام تک پہنچانے کی کوشش کی، سندھ کو صحت کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی ذمہ داری ملی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ کچھ حکومتی وزرا دوسرے صوبوں سے مزید اختیار  اور  وسائل لینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی مشکلات بھی ہماری مشکلات ہیں، سندھ حکومت نے سیلز ٹیکس کلیکشن میں تمام صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وفاق کے لیے مزید ٹیکس بھی جمع کرنے کو تیار ہیں، وفاقی حکومت کے ٹیکس اہداف پورے کریں گے، کچھ وزرا صوبوں سے وسائل لینا چاہتے ہیں، ہمیں وفاق کی مشکلات کا علم ہے، بہتر ٹیکس وصولی کر کے وفاقی حکومت کی مشکلات کم کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>بلاول بھٹو زرداری کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے منشور کے مطابق مفت اور معیاری علاج عوام تک پہنچانے کی کوشش کی، سندھ کو صحت کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی ذمہ داری ملی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274675</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 19:20:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0519184761c7059.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0519184761c7059.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز/ اسکرین گریپ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 12 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم کو 39 برس قید، 20 لاکھ جرمانہ عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274670/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی مقامی عدالت نے 12 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم محمد علی کو جرم ثابت ہونے پر 39 سال قید کی سزا سنا دی، ساتھ ہی مجرم پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں 12 سالہ بچی سے زیادتی کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت نے کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان معتبر اور قانونی تقاضوں کے مطابق قلمبند ہوا، ساتھ ہی گواہوں اور شواہد نے مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ مجرم محمد علی نے اسکول سے واپس آتی ہوئی 12 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم اسی محلے میں رہائش پذیر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر حنا ناز کے مطابق متاثرہ لڑکی کا بیان واضح، قابلِ بھروسہ اور قانون کے مطابق ہے، &lt;br&gt;میڈیکل شواہد اور ریکارڈ شدہ بیان مقدمہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی مقامی عدالت نے 12 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم محمد علی کو جرم ثابت ہونے پر 39 سال قید کی سزا سنا دی، ساتھ ہی مجرم پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں 12 سالہ بچی سے زیادتی کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت نے کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان معتبر اور قانونی تقاضوں کے مطابق قلمبند ہوا، ساتھ ہی گواہوں اور شواہد نے مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کیا۔</p>
<p>دوران سماعت پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ مجرم محمد علی نے اسکول سے واپس آتی ہوئی 12 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم اسی محلے میں رہائش پذیر تھا۔</p>
<p>پراسیکیوٹر حنا ناز کے مطابق متاثرہ لڑکی کا بیان واضح، قابلِ بھروسہ اور قانون کے مطابق ہے، <br>میڈیکل شواہد اور ریکارڈ شدہ بیان مقدمہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔<br><br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274670</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 17:40:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/05173850cf022c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/05173850cf022c2.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: میئر کراچی نے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والے ابراہیم کے لواحقین سے معافی مانگ لی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274621/</link>
      <description>&lt;p&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274586"&gt;گٹر میں گر کر جاں بحق&lt;/a&gt; ہونے والے ابراہیم کے لواحقین سے معافی مانگ لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق میئرکراچی مرتضٰی وہاب جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے گھر پہنچے، لواحقین سے ملاقات کی اور ساتھ ہی واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بطور میئر کراچی میں کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ندامت کا اظہار کر رہا ہوں، بلیم گیم سے آگے نکل کر ذمہ داری لیتا ہوں، الزام تراشی کو پیچھے رکھ کر اوپر والے سے اور ان کے گھر والوں سے معافی چاہتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی نے کہا کہ معاشرے میں بہتری کے لیے متاثرہ خاندان کی گزارشات پوری کرنے کی کوشش کروں گا، جو کمی کوتاہی ہے ہم چاہتے ہیں آگے نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ابراہیم کے خاندان کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، اتنے بڑے نقصان کے باوجود ابراہیم کے دادا بہت شفقت سے پیش آئے، کسی کی بھی ذمہ داری تھی میں اس میں نہیں جانا چاہتا، میں نے صرف ان سے اپنے لیے معافی مانگی ہے، خاندان کے درد پر اللہ سے ان کے لیےصبر مانگتا ہوں، بحیثیت والد متاثرہ خاندان کے درد کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، کچھ افسران کو معطل کیا گیا، مرتضیٰ وہاب کی یقین دہانی پر اطمینان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب اتوار (30 نومبر) کی رات 3 سالہ ابراہیم نجی ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے باہر گٹر میں گر گیا تھا، بچے کی والدہ کی دردناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلخانہ اور اہل محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت مشینری بلاکر 3 سالہ ابراہیم کی تلاش شروع کی تھی، تاہم پوری رات گزرنے کے باوجود بچہ نہیں مل سکا تھا، پیر کو واقعے کے 14 گھنٹے بعد مقامی نوجوان نے بچے کی لاش جائے حادثہ سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر نالے سے تلاش کرلی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274586">گٹر میں گر کر جاں بحق</a> ہونے والے ابراہیم کے لواحقین سے معافی مانگ لی ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق میئرکراچی مرتضٰی وہاب جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے گھر پہنچے، لواحقین سے ملاقات کی اور ساتھ ہی واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بطور میئر کراچی میں کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ندامت کا اظہار کر رہا ہوں، بلیم گیم سے آگے نکل کر ذمہ داری لیتا ہوں، الزام تراشی کو پیچھے رکھ کر اوپر والے سے اور ان کے گھر والوں سے معافی چاہتا ہوں۔</p>
<p>میئر کراچی نے کہا کہ معاشرے میں بہتری کے لیے متاثرہ خاندان کی گزارشات پوری کرنے کی کوشش کروں گا، جو کمی کوتاہی ہے ہم چاہتے ہیں آگے نہ ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا ابراہیم کے خاندان کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، اتنے بڑے نقصان کے باوجود ابراہیم کے دادا بہت شفقت سے پیش آئے، کسی کی بھی ذمہ داری تھی میں اس میں نہیں جانا چاہتا، میں نے صرف ان سے اپنے لیے معافی مانگی ہے، خاندان کے درد پر اللہ سے ان کے لیےصبر مانگتا ہوں، بحیثیت والد متاثرہ خاندان کے درد کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔</p>
<p>اس موقع پر بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، کچھ افسران کو معطل کیا گیا، مرتضیٰ وہاب کی یقین دہانی پر اطمینان ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب اتوار (30 نومبر) کی رات 3 سالہ ابراہیم نجی ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے باہر گٹر میں گر گیا تھا، بچے کی والدہ کی دردناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔</p>
<p>اہلخانہ اور اہل محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت مشینری بلاکر 3 سالہ ابراہیم کی تلاش شروع کی تھی، تاہم پوری رات گزرنے کے باوجود بچہ نہیں مل سکا تھا، پیر کو واقعے کے 14 گھنٹے بعد مقامی نوجوان نے بچے کی لاش جائے حادثہ سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر نالے سے تلاش کرلی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274621</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 23:05:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/032248215b2c7e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/032248215b2c7e8.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صوبوں کے اختیارات اور آئینی ضمانتوں کو ختم کرنے کی کوشش ’آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274490/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ جو بھی شخص 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات اور آئینی ضمانتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا، وہ ’آگ سے کھیل رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات پارٹی کے 58ویں یوم تاسیس کے موقع پر ویڈیو خطاب میں کہی، جسے ملک بھر کے ’100 سے زائد اضلاع‘ میں بیک وقت نشر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے یاد دلایا کہ حکمران مسلم لیگ (ن) نے بھی قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالیاتی حقوق میں ترامیم کی تجویز دی تھی، جنہیں پیپلز پارٹی نے مسترد کر دیا تھا اور یوں وہ 27ویں آئینی ترمیم کے حتمی مسودے میں شامل نہ ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/1995104295352721899?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995105244838277547%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1995104295352721899?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995105244838277547%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ملک میں کئی خرابیوں کی جڑیں موجود تھیں اور اب بھی ہیں، مزید کہا کہ ماضی میں پی پی پی نے صوبوں کو ان کے حقوق اور نمائندگی دے کر اور جمہوریت کی بحالی کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے خبردار کیا کہ جو لوگ این ایف سی ایوارڈ یا 18ویں ترمیم یا اس نوعیت کے دیگر معاملات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں یا اس کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ دراصل آگ سے کھیل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت ’دیکھ رہی ہے‘ کہ بھارتی وزیر دفاع سندھ کے بارے میں جارحانہ بیانات دے رہا ہے اور افغان سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے یقین دہانی کرائی کہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ پاکستان کے اندرونی مسائل کو ختم کیا جائے، تاکہ کوئی طاقت ہمارے ان مسائل سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر قوم متحد ہو تو وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت ہر دشمن اور ’ہر طرح کی سازشوں‘ کا مقابلہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی پارٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی نے ’صوبوں کے مالی حصے کی آئینی ضمانت‘ کی حفاظت کی، وہ (مسلم لیگ ن) ایگزیکٹیو مجسٹریسی کا نظام واپس لانا چاہتے تھے، وہ تعلیم اور آبادی کنٹرول جیسے شعبے، جو 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہو چکے تھے، واپس لینا چاہتے تھے، اسی طرح حکومت کی اور بھی خواہشات تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/1995105958100709514?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995112914597167596%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1995105958100709514?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995112914597167596%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ میں نے آپ کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور انشا اللہ کرتا رہوں گا اور کہا کہ ان کی جماعت ہر اُس فیصلے کی حمایت کرے گی جو وفاق کو مضبوط کرے لیکن پیپلز پارٹی کبھی بھی ایسے فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتی جو وفاق کو کمزور کرے یا صوبوں کے حقوق چھین لے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایف-سی-سی-اُن-لوگوں-کو-غلط-ثابت-کر-دے-گی-جو-اسے-متنازع-بنا-رہے-ہیں" href="#ایف-سی-سی-اُن-لوگوں-کو-غلط-ثابت-کر-دے-گی-جو-اسے-متنازع-بنا-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ایف سی سی اُن لوگوں کو غلط ثابت کر دے گی جو اسے متنازع بنا رہے ہیں‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے حوالے سے بھی بات کی، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس آئینی عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایف سی سی اپنے کردار کے ذریعے سب کو غلط ثابت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی پی نے سیاسی قوتوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کو برقرار رکھنا یا نہیں رکھنا پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کا اختیار ہے۔&lt;br&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ عدالت یا جج فیصلہ کریں کہ ترمیم برقرار رہے گی یا نہیں، تو یہ ان کا اختیار نہیں اور نہ ہی ہم کسی اور ادارے کو پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کرنے دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27ویں ترمیم اور اس کے تحت قائم کی گئی ایف سی سی اس وقت بحث کا مرکز ہیں، وفاقی آئینی عدالت ملک کا اعلیٰ ترین عدالتی فورم بن گیا ہے، جس پر بین الاقوامی ماہرین اور ججز نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے کہا کہ ایف سی سی کے ادارے اور اس کے ججز پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں ہمارے آئینی معاملات اور عدلیہ کی آزادی کی نگرانی کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف سی سی لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرے گی اور ایک ایسی عدالت بنے گی جو آئین، قانون اور انصاف کو ترجیح دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ آئینی ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہو لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اگر اتفاق نہ بھی ہو، تو یہ کام پارلیمنٹ نے اکثریت سے کیا ہے، لہٰذا صرف پارلیمنٹ ہی اس فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی عدالت ملک کے بڑے آئینی و سیاسی مسائل دیکھے گی، جبکہ ’ہماری پرانی سپریم کورٹ‘ تمام فوجداری معاملات دیکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ کے بعض سرگرم کرداروں پر طنز کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ امید ہے ایف سی سی ایسی عدالت نہیں ہوگی جو ’ڈیم بنانے نکل پڑے، غریب لوگوں کے گھر توڑے، ٹماٹر اور سموسے کی قیمتیں مقرر کرے، جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجے یا وزرائے اعظم کو خط نہ لکھنے پر نااہل کرے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم ایک بڑی عدالتی خرابی کو آئینی عدالت کے ذریعے دور کرنے جا رہے ہیں، اس نئے نظام کے باعث عام شہریوں کو فوجداری مقدمات میں ’فوری ریلیف‘ ملے گا، کیونکہ سپریم کورٹ ان پر توجہ دے سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر خارجہ کا آخر میں کہنا تھا کہ ہم نے نہ صرف آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ پورا کیا بلکہ اس عدالت میں صوبوں کی مساوی نمائندگی بھی یقینی بنائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ جو بھی شخص 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات اور آئینی ضمانتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا، وہ ’آگ سے کھیل رہا ہے‘۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات پارٹی کے 58ویں یوم تاسیس کے موقع پر ویڈیو خطاب میں کہی، جسے ملک بھر کے ’100 سے زائد اضلاع‘ میں بیک وقت نشر کیا گیا۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے یاد دلایا کہ حکمران مسلم لیگ (ن) نے بھی قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالیاتی حقوق میں ترامیم کی تجویز دی تھی، جنہیں پیپلز پارٹی نے مسترد کر دیا تھا اور یوں وہ 27ویں آئینی ترمیم کے حتمی مسودے میں شامل نہ ہو سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/1995104295352721899?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995105244838277547%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1995104295352721899?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995105244838277547%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ملک میں کئی خرابیوں کی جڑیں موجود تھیں اور اب بھی ہیں، مزید کہا کہ ماضی میں پی پی پی نے صوبوں کو ان کے حقوق اور نمائندگی دے کر اور جمہوریت کی بحالی کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>بلاول نے خبردار کیا کہ جو لوگ این ایف سی ایوارڈ یا 18ویں ترمیم یا اس نوعیت کے دیگر معاملات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں یا اس کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ دراصل آگ سے کھیل رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت ’دیکھ رہی ہے‘ کہ بھارتی وزیر دفاع سندھ کے بارے میں جارحانہ بیانات دے رہا ہے اور افغان سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>بلاول نے یقین دہانی کرائی کہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ پاکستان کے اندرونی مسائل کو ختم کیا جائے، تاکہ کوئی طاقت ہمارے ان مسائل سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔</p>
<p>چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر قوم متحد ہو تو وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت ہر دشمن اور ’ہر طرح کی سازشوں‘ کا مقابلہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنی پارٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی نے ’صوبوں کے مالی حصے کی آئینی ضمانت‘ کی حفاظت کی، وہ (مسلم لیگ ن) ایگزیکٹیو مجسٹریسی کا نظام واپس لانا چاہتے تھے، وہ تعلیم اور آبادی کنٹرول جیسے شعبے، جو 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہو چکے تھے، واپس لینا چاہتے تھے، اسی طرح حکومت کی اور بھی خواہشات تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/1995105958100709514?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995112914597167596%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1995105958100709514?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1995112914597167596%7Ctwgr%5Ea15b562c89779dba16065fcfda82e4757d3614dd%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1958337"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ میں نے آپ کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور انشا اللہ کرتا رہوں گا اور کہا کہ ان کی جماعت ہر اُس فیصلے کی حمایت کرے گی جو وفاق کو مضبوط کرے لیکن پیپلز پارٹی کبھی بھی ایسے فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتی جو وفاق کو کمزور کرے یا صوبوں کے حقوق چھین لے۔</p>
<h3><a id="ایف-سی-سی-اُن-لوگوں-کو-غلط-ثابت-کر-دے-گی-جو-اسے-متنازع-بنا-رہے-ہیں" href="#ایف-سی-سی-اُن-لوگوں-کو-غلط-ثابت-کر-دے-گی-جو-اسے-متنازع-بنا-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ایف سی سی اُن لوگوں کو غلط ثابت کر دے گی جو اسے متنازع بنا رہے ہیں‘</h3>
<p>اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے حوالے سے بھی بات کی، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس آئینی عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایف سی سی اپنے کردار کے ذریعے سب کو غلط ثابت کرے گی۔</p>
<p>چیئرمین پی پی نے سیاسی قوتوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کو برقرار رکھنا یا نہیں رکھنا پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کا اختیار ہے۔<br>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ عدالت یا جج فیصلہ کریں کہ ترمیم برقرار رہے گی یا نہیں، تو یہ ان کا اختیار نہیں اور نہ ہی ہم کسی اور ادارے کو پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کرنے دیں گے۔</p>
<p>27ویں ترمیم اور اس کے تحت قائم کی گئی ایف سی سی اس وقت بحث کا مرکز ہیں، وفاقی آئینی عدالت ملک کا اعلیٰ ترین عدالتی فورم بن گیا ہے، جس پر بین الاقوامی ماہرین اور ججز نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>بلاول نے کہا کہ ایف سی سی کے ادارے اور اس کے ججز پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں ہمارے آئینی معاملات اور عدلیہ کی آزادی کی نگرانی کرنا ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف سی سی لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرے گی اور ایک ایسی عدالت بنے گی جو آئین، قانون اور انصاف کو ترجیح دے۔</p>
<p>بلاول نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ آئینی ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہو لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اگر اتفاق نہ بھی ہو، تو یہ کام پارلیمنٹ نے اکثریت سے کیا ہے، لہٰذا صرف پارلیمنٹ ہی اس فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی عدالت ملک کے بڑے آئینی و سیاسی مسائل دیکھے گی، جبکہ ’ہماری پرانی سپریم کورٹ‘ تمام فوجداری معاملات دیکھے گا۔</p>
<p>عدلیہ کے بعض سرگرم کرداروں پر طنز کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ امید ہے ایف سی سی ایسی عدالت نہیں ہوگی جو ’ڈیم بنانے نکل پڑے، غریب لوگوں کے گھر توڑے، ٹماٹر اور سموسے کی قیمتیں مقرر کرے، جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجے یا وزرائے اعظم کو خط نہ لکھنے پر نااہل کرے‘۔</p>
<p>چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم ایک بڑی عدالتی خرابی کو آئینی عدالت کے ذریعے دور کرنے جا رہے ہیں، اس نئے نظام کے باعث عام شہریوں کو فوجداری مقدمات میں ’فوری ریلیف‘ ملے گا، کیونکہ سپریم کورٹ ان پر توجہ دے سکے گی۔</p>
<p>سابق وزیر خارجہ کا آخر میں کہنا تھا کہ ہم نے نہ صرف آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ پورا کیا بلکہ اس عدالت میں صوبوں کی مساوی نمائندگی بھی یقینی بنائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274490</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 19:41:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/30193937d1fe9c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/30193937d1fe9c6.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین گریب/پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: خاتون کے پیٹ سے 15 کلو وزنی ٹیومر نکالنے کی کامیاب سرجری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274443/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے لیاری جنرل ہسپتال میں خاتون کے پیٹ کی کامیاب سرجری کے بعد 15 کلو وزنی ٹیومر نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لیاری جنرل ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر انجم رحمٰن نے بتایا کہ ٹھٹہ کی رہائشی خاتون کے پیٹ سے 15 کلو وزنی ٹیومر بحفاظت نکال دیا گیا، 38 سالہ خاتون 5 بچوں کی ماں کو تشویش ناک حالت میں شعبہ ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ لیاری جنرل ہسپتال کے مطابق خاتون کےابتدائی طبی ٹیسٹ میں ہی ایک بڑی اور وزنی رسولی کی نشاندہی ہوگئی تھی، کیس پیچیدہ تھا، ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سے آپریشن  کے ذریعے رسولی نکال دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر انجم رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد مریضہ کی حالت اب بہتر ہے۔ &lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے لیاری جنرل ہسپتال میں خاتون کے پیٹ کی کامیاب سرجری کے بعد 15 کلو وزنی ٹیومر نکال لیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لیاری جنرل ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر انجم رحمٰن نے بتایا کہ ٹھٹہ کی رہائشی خاتون کے پیٹ سے 15 کلو وزنی ٹیومر بحفاظت نکال دیا گیا، 38 سالہ خاتون 5 بچوں کی ماں کو تشویش ناک حالت میں شعبہ ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔</p>
<p>سربراہ لیاری جنرل ہسپتال کے مطابق خاتون کےابتدائی طبی ٹیسٹ میں ہی ایک بڑی اور وزنی رسولی کی نشاندہی ہوگئی تھی، کیس پیچیدہ تھا، ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سے آپریشن  کے ذریعے رسولی نکال دی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر انجم رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد مریضہ کی حالت اب بہتر ہے۔ <br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274443</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 17:03:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29170140370bee3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29170140370bee3.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: کریٹیو کامنز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سندھ کی عالمی بینک سے سرکلر ریلوے، کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین کیلئے تعاون کی اپیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274310/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت سندھ نے عالمی بینک سے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبوں کے لیے تعاون کی اپیل کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ اطلاعات سندھ کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق عالمی بینک کے وفد نے سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی، دوران ملاقات شرجیل انعام نے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین کو حکومت سندھ کے اہم اہداف قرار عالمی بینک سے ان منصوبوں کے لیے تعاون کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرجیل میمن نے کہا کہ  کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبے سندھ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ عالمی بینک ان منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ملاقات میں صوبے بھر میں اربن موبلٹی کی بہتری، ٹرانسپورٹ سسٹم کی مضبوطی اور مختلف ماڈلز پر تفصیلی گفتگو &lt;br&gt;&lt;br&gt;سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری یلو لائن بی آر ٹی منصوبے پر وفد کو بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر نے کہا کہ ییلو لائن کے اہم حصے تاج حیدر پل کے ایک حصے کا کام مکمل ہو گیا ہے ، دوسرے حصے پر کام تیزی سے جاری  ہے، ییلو لائن  بی آر ٹی سے متعلق فیصلے عوام اور منصوبے کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے عالمی بینک کے مزید اور بروقت تعاون کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عوام کو سستی اور تیز ترین سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت سندھ کا واضح عزم ہے، حالیہ سال وفاقی حکومت کی جانب سے گرین لائن بی آر ٹی سندھ حکومت کے حوالے کی گئی ہے،حکومت سندھ کے زیر انتظام گرین لائن بی آر ٹی  کی یومیہ رائڈرشپ میں 33 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں اربن موبیلٹی کے لیے مزید بسوں کی ضرورت ہے، اس شعبے میں عالمی بینک کی معاونت اہم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نہ صرف یلو لائن بی آر ٹی بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹ منصوبوں میں بھی عالمی بینک کا تعاون درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیئر صوبائی وزیر نے  عالمی بینک کے وفد  کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے درخواست کی کہ ریلوے کے منصوبوں میں بھی آپ کا کردار چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک وفد کے وفد کا کہنا تھا کہ  کراچی خطے کا اہم شہر ہے، کراچی کو سینٹرل ایشیا تک رسائی کے لیے کلیدی مقام حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت سندھ نے عالمی بینک سے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبوں کے لیے تعاون کی اپیل کردی۔</p>
<p>محکمہ اطلاعات سندھ کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق عالمی بینک کے وفد نے سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی، دوران ملاقات شرجیل انعام نے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین کو حکومت سندھ کے اہم اہداف قرار عالمی بینک سے ان منصوبوں کے لیے تعاون کی اپیل کی۔</p>
<p>شرجیل میمن نے کہا کہ  کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبے سندھ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ عالمی بینک ان منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرے۔</p>
<p><br>ملاقات میں صوبے بھر میں اربن موبلٹی کی بہتری، ٹرانسپورٹ سسٹم کی مضبوطی اور مختلف ماڈلز پر تفصیلی گفتگو <br><br>سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری یلو لائن بی آر ٹی منصوبے پر وفد کو بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>صوبائی وزیر نے کہا کہ ییلو لائن کے اہم حصے تاج حیدر پل کے ایک حصے کا کام مکمل ہو گیا ہے ، دوسرے حصے پر کام تیزی سے جاری  ہے، ییلو لائن  بی آر ٹی سے متعلق فیصلے عوام اور منصوبے کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے عالمی بینک کے مزید اور بروقت تعاون کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عوام کو سستی اور تیز ترین سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت سندھ کا واضح عزم ہے، حالیہ سال وفاقی حکومت کی جانب سے گرین لائن بی آر ٹی سندھ حکومت کے حوالے کی گئی ہے،حکومت سندھ کے زیر انتظام گرین لائن بی آر ٹی  کی یومیہ رائڈرشپ میں 33 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں اربن موبیلٹی کے لیے مزید بسوں کی ضرورت ہے، اس شعبے میں عالمی بینک کی معاونت اہم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نہ صرف یلو لائن بی آر ٹی بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹ منصوبوں میں بھی عالمی بینک کا تعاون درکار ہے۔</p>
<p>سینیئر صوبائی وزیر نے  عالمی بینک کے وفد  کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے درخواست کی کہ ریلوے کے منصوبوں میں بھی آپ کا کردار چاہتے ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک وفد کے وفد کا کہنا تھا کہ  کراچی خطے کا اہم شہر ہے، کراچی کو سینٹرل ایشیا تک رسائی کے لیے کلیدی مقام حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274310</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 17:44:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2617241038c14da.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2617241038c14da.webp"/>
        <media:title>فوٹو: اسکرین شاٹ، محکمہ اطلاعات سندھ / ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: سفاری پارک میں مختلف اقسام کے 15 جانوروں کی پیدائش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274319/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے مطابق شہر کے سفاری پارک میں مختلف اقسام کے 15 جانوروں کی پیدائش ہوئی ہے، جسے ایک ’اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت‘ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلدیاتی ادارے کے بیان کے مطابق  پارک میں ایک جنگلی بھیڑ، چار سندھی آئی بیکس( پہاڑی بکرے)، چار کالے ہرن، دو چیتل (چتکبرے ہرن)، ایک گھوڑا، دو فیلو ہرن ( دھبّے دار بھورا ہرن) اور ایک سفید فیلو ہرن کی پیدائش ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایم سی کے ترجمان دانیال سیال کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ ’نومولود جانوروں کا ویٹرنری ٹیم نے مکمل طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ تمام جانور بہترین صحت میں ہیں، اور ان کی مزید نگہداشت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ان پیدائشوں پر خوشی کا اظہار کیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ نومولود جانوروں کی بہتر دیکھ بھال اور پائیدار ماحول کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتضیٰ وہاب نے بیان میں کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سفاری پارک میں 15 جنگلی جانوروں کی پیدائش ہوئی ہے، ان کا آنا نہ صرف پارک کی خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ہم نے ان کے لیے صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ہماری اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہم پارک میں جنگلی حیات کی گنجائش بڑھانا اور مجموعی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر نے مزید کہا کہ یہ سفاری پارک، کراچی کے رہائشیوں اور تمام جانوروں کے شوقین افراد کے لیے خوشی کا لمحہ ہے، اور انہوں نے حکام کو نومولود جانوروں کے لیے نام رکھنے کی تقریب اور رسمی جشن کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کی آمد کا جشن منانا چاہیے تاکہ اپنی توجہ اور محبت کا اظہار کر سکیں، جنگلی حیات بھی انسانوں کی طرح احترام اور حفاظت کی مستحق ہے، اور یہ جشن ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہمارے عزم کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کراچی-چڑیا-گھر-میں-شیر-کے-3-بچوں-کی-پیدائش" href="#کراچی-چڑیا-گھر-میں-شیر-کے-3-بچوں-کی-پیدائش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کراچی چڑیا گھر میں شیر کے 3 بچوں کی پیدائش&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کے ایم سی نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ کراچی چڑیا گھر میں 16 نومبر کو شیر کے تین بچے پیدا ہوئے۔ چڑیا گھر کے طبی عملے کے مطابق، تینوں بچے صحت مند اور فعال ہیں، ان کی ماں بھی صحت مند ہے جس کی مسلسل نگہداشت کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چڑیا گھر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کے ایم سی نے پیدائش کا اعلان کرنے میں تقریباً 10 دن کی تاخیر اس لیے کی کیونکہ شیر کے بچے زندگی کے ابتدائی ہفتوں میں انتہائی کمزور ہوتے ہیں، وہ اندھے پیدا ہوتے ہیں اور مکمل طور پر اپنی ماں پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے کہا:&lt;br&gt;’’اسی لیے ضروری ہے کہ انہیں بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے اور ماں کو بچوں کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں مدد دی جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے مطابق شہر کے سفاری پارک میں مختلف اقسام کے 15 جانوروں کی پیدائش ہوئی ہے، جسے ایک ’اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت‘ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>بلدیاتی ادارے کے بیان کے مطابق  پارک میں ایک جنگلی بھیڑ، چار سندھی آئی بیکس( پہاڑی بکرے)، چار کالے ہرن، دو چیتل (چتکبرے ہرن)، ایک گھوڑا، دو فیلو ہرن ( دھبّے دار بھورا ہرن) اور ایک سفید فیلو ہرن کی پیدائش ہوئی۔</p>
<p>کے ایم سی کے ترجمان دانیال سیال کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ ’نومولود جانوروں کا ویٹرنری ٹیم نے مکمل طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ تمام جانور بہترین صحت میں ہیں، اور ان کی مزید نگہداشت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔‘</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ان پیدائشوں پر خوشی کا اظہار کیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ نومولود جانوروں کی بہتر دیکھ بھال اور پائیدار ماحول کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>مرتضیٰ وہاب نے بیان میں کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سفاری پارک میں 15 جنگلی جانوروں کی پیدائش ہوئی ہے، ان کا آنا نہ صرف پارک کی خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ہم نے ان کے لیے صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ہماری اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہم پارک میں جنگلی حیات کی گنجائش بڑھانا اور مجموعی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>میئر نے مزید کہا کہ یہ سفاری پارک، کراچی کے رہائشیوں اور تمام جانوروں کے شوقین افراد کے لیے خوشی کا لمحہ ہے، اور انہوں نے حکام کو نومولود جانوروں کے لیے نام رکھنے کی تقریب اور رسمی جشن کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کی آمد کا جشن منانا چاہیے تاکہ اپنی توجہ اور محبت کا اظہار کر سکیں، جنگلی حیات بھی انسانوں کی طرح احترام اور حفاظت کی مستحق ہے، اور یہ جشن ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہمارے عزم کی علامت ہے۔</p>
<h3><a id="کراچی-چڑیا-گھر-میں-شیر-کے-3-بچوں-کی-پیدائش" href="#کراچی-چڑیا-گھر-میں-شیر-کے-3-بچوں-کی-پیدائش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کراچی چڑیا گھر میں شیر کے 3 بچوں کی پیدائش</h3>
<p>کے ایم سی نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ کراچی چڑیا گھر میں 16 نومبر کو شیر کے تین بچے پیدا ہوئے۔ چڑیا گھر کے طبی عملے کے مطابق، تینوں بچے صحت مند اور فعال ہیں، ان کی ماں بھی صحت مند ہے جس کی مسلسل نگہداشت کی جارہی ہے۔</p>
<p>چڑیا گھر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کے ایم سی نے پیدائش کا اعلان کرنے میں تقریباً 10 دن کی تاخیر اس لیے کی کیونکہ شیر کے بچے زندگی کے ابتدائی ہفتوں میں انتہائی کمزور ہوتے ہیں، وہ اندھے پیدا ہوتے ہیں اور مکمل طور پر اپنی ماں پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>اہلکار نے کہا:<br>’’اسی لیے ضروری ہے کہ انہیں بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے اور ماں کو بچوں کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں مدد دی جائے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274319</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 20:18:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/261954165f6bf27.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/261954165f6bf27.webp"/>
        <media:title>فوٹو: کے ایم سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے راکھ کا بادل جنوبی پاکستان تک پہنچ سکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274216/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹولوز وولکینک ایش ایڈوائزری سنٹر (وی اے اے سی) نے کہا ہے کہ شمال مشرقی ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے راکھ کا بادل یمن اور عمان کے اوپر سے ہوتا ہوا جنوبی پاکستان تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اریٹیریا کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے شمال مشرق میں 800 کلومیٹر دور  افار علاقے میں واقع ہیلی گوبی آتش فشاں اتوار کو کئی گھنٹوں تک پھٹا، یہ تقریباً 12 ہزار سالوں میں پہلا موقع تھا،جب اسے ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آتش فشاں پھٹنے سے دھوئیں کے گہرے بادل آسمان میں 14 کلومیٹر تک پہنچ گئے، جو قریبی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر بحیرہ عرب کے علاقے کی طرف بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم نے ڈان کو بتایا کہ راکھ کے بادل کے اثرات کراچی میں محسوس نہیں کیے جائیں گے اور یہ بحیرہ عرب کے اوپر سے گزریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینہ کل رات سے ہے اور اس کا اثر گہرے بحیرہ عرب، عمان اور ممبئی ایف آئی آر (فلائٹ ریجن) میں محسوس کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ راکھ کے بادل 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اس علاقے سے گزریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انجم نذیر ضیغم نے واضح کیا کہ راکھ کے بادل کا اثر آج گوادر سے 60 ناٹیکل میل جنوب میں دیکھا گیا، دفتر نے متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کر دی ہے جو تاحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/volcaholic1/status/1992550387652444238'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/volcaholic1/status/1992550387652444238"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقامی رہائشی نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://addisstandard.com/volcanic-eruption-near-erta-ale-in-afar-reported-for-the-first-time-in-thousands-of-years/"&gt;&lt;strong&gt;دی ایڈیس اسٹینڈرڈ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بتایا کہ یہ دھماکا مرکزی پہاڑ سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک رہائشی نے بتایا کہ ہم آواز سے بہت چونک گئے اور خوفزدہ ہوگئے، اسٹیشن کی جانب سے کیے گئے فون انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ آواز اور اس کے اثرات جبوتی، ٹگرے ​​اور وولو کے علاقے کے قصبوں تک محسوس کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی اسٹینڈرڈ نے رپورٹ کیا کہ دھماکے سے آس پاس کے علاقے میں جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کی آواز جبوتی تک سنی گئی، اس کے بعد راکھ کے بادل نے آس پاس کی بستیوں کو تاریکی میں ڈوبو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'  alt='&amp;mdash; فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈچ نیوز ایجنسی بی این او نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے دی اسٹینڈرڈ نے کہا کہ دھماکا صبح 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا اور دوپہر تک دھماکے ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹولوز آتش فشاں راکھ ایڈوائزری سینٹر کی طرف سے جاری ایک ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ راکھ تقریباً 45 ہزار (13.7 کلومیٹر) تک بڑھ گئی ہے، ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ انہیں موصول ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق اب آتش فشاں کے پھٹنے کا عمل رک گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشی گن ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی میں آتش فشاں کے ماہر اور پروفیسر سائمن کارن نے بلوسکی پر تصدیق کی کہ ہیلی گوبی کے پاس ہولوسین کے پھٹنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/flightradar24/status/1992722680370413625'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/flightradar24/status/1992722680370413625"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج صبح 3:31 بجے فلائٹ ٹریکنگ مانیٹر ’فلائٹ ریڈار‘ کی ایک اپ ڈیٹ نے راکھ کے بادل کا متوقع راستہ دکھایا، جو جزیرہ نما عرب اور بحیرہ عرب کی طرف اڑایا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹر نے اپنی پوسٹ میں دکھایا کہ پاکستان براہ راست اس کے راستے میں آئے گا،  راکھ کے بادل کے تقریباً 18 گھنٹے میں پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی اے اے سی کا ایک نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ راکھ کا بادل شمال مشرق کی طرف بھارت جانے سے قبل جنوبی سندھ سے گزرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'  alt=' فوٹو: اسکرین گریب' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: اسکرین گریب&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹولوز وولکینک ایش ایڈوائزری سنٹر (وی اے اے سی) نے کہا ہے کہ شمال مشرقی ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے راکھ کا بادل یمن اور عمان کے اوپر سے ہوتا ہوا جنوبی پاکستان تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>اریٹیریا کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے شمال مشرق میں 800 کلومیٹر دور  افار علاقے میں واقع ہیلی گوبی آتش فشاں اتوار کو کئی گھنٹوں تک پھٹا، یہ تقریباً 12 ہزار سالوں میں پہلا موقع تھا،جب اسے ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>آتش فشاں پھٹنے سے دھوئیں کے گہرے بادل آسمان میں 14 کلومیٹر تک پہنچ گئے، جو قریبی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر بحیرہ عرب کے علاقے کی طرف بڑھ گئے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم نے ڈان کو بتایا کہ راکھ کے بادل کے اثرات کراچی میں محسوس نہیں کیے جائیں گے اور یہ بحیرہ عرب کے اوپر سے گزریں گے۔</p>
<p>ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینہ کل رات سے ہے اور اس کا اثر گہرے بحیرہ عرب، عمان اور ممبئی ایف آئی آر (فلائٹ ریجن) میں محسوس کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ راکھ کے بادل 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اس علاقے سے گزریں گے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انجم نذیر ضیغم نے واضح کیا کہ راکھ کے بادل کا اثر آج گوادر سے 60 ناٹیکل میل جنوب میں دیکھا گیا، دفتر نے متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کر دی ہے جو تاحال برقرار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/volcaholic1/status/1992550387652444238'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/volcaholic1/status/1992550387652444238"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک مقامی رہائشی نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://addisstandard.com/volcanic-eruption-near-erta-ale-in-afar-reported-for-the-first-time-in-thousands-of-years/"><strong>دی ایڈیس اسٹینڈرڈ</strong></a> کو بتایا کہ یہ دھماکا مرکزی پہاڑ سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔</p>
<p>ایک رہائشی نے بتایا کہ ہم آواز سے بہت چونک گئے اور خوفزدہ ہوگئے، اسٹیشن کی جانب سے کیے گئے فون انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ آواز اور اس کے اثرات جبوتی، ٹگرے ​​اور وولو کے علاقے کے قصبوں تک محسوس کیے گئے تھے۔</p>
<p>دی اسٹینڈرڈ نے رپورٹ کیا کہ دھماکے سے آس پاس کے علاقے میں جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کی آواز جبوتی تک سنی گئی، اس کے بعد راکھ کے بادل نے آس پاس کی بستیوں کو تاریکی میں ڈوبو دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/2417190310030f0.webp'  alt='&mdash; فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فوٹو: اسکرین گریب / ولکونک ڈسکوری</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈچ نیوز ایجنسی بی این او نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے دی اسٹینڈرڈ نے کہا کہ دھماکا صبح 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا اور دوپہر تک دھماکے ہوتے رہے۔</p>
<p>ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹولوز آتش فشاں راکھ ایڈوائزری سینٹر کی طرف سے جاری ایک ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ راکھ تقریباً 45 ہزار (13.7 کلومیٹر) تک بڑھ گئی ہے، ایتھوپیا کے آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ انہیں موصول ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق اب آتش فشاں کے پھٹنے کا عمل رک گیا ہے۔</p>
<p>مشی گن ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی میں آتش فشاں کے ماہر اور پروفیسر سائمن کارن نے بلوسکی پر تصدیق کی کہ ہیلی گوبی کے پاس ہولوسین کے پھٹنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/flightradar24/status/1992722680370413625'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/flightradar24/status/1992722680370413625"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>آج صبح 3:31 بجے فلائٹ ٹریکنگ مانیٹر ’فلائٹ ریڈار‘ کی ایک اپ ڈیٹ نے راکھ کے بادل کا متوقع راستہ دکھایا، جو جزیرہ نما عرب اور بحیرہ عرب کی طرف اڑایا جا رہا تھا۔</p>
<p>مانیٹر نے اپنی پوسٹ میں دکھایا کہ پاکستان براہ راست اس کے راستے میں آئے گا،  راکھ کے بادل کے تقریباً 18 گھنٹے میں پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>وی اے اے سی کا ایک نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ راکھ کا بادل شمال مشرق کی طرف بھارت جانے سے قبل جنوبی سندھ سے گزرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/241746398c62ce5.webp'  alt=' فوٹو: اسکرین گریب' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: اسکرین گریب</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274216</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 22:03:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکامتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/24215922a646bc3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/24215922a646bc3.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ایڈس اسٹینڈرڈ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: صحافی کو مبینہ دھمکیاں، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274132/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی پولیس نے سینئر صحافی کے گھر پر  مبینہ طور پر 2 افراد کی جانب سے اہلخانہ کو دھمکیاں دینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) نے اپنے جاری بیان میں سینئر صحافی فراز خان کے فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں واقع گھر پر دو مشکوک افراد کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ واقعے کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سی آر اے نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں افراد واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جو گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اہلِ خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں، جس سے خاندان میں خوف و ہراس پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے نے متاثرہ خاندان اور  صحافتی برادری میں شدید تشویش پیدا کی ہے، جبکہ واقعے کی فوری اطلاع پولیس اور اعلیٰ حکام کو دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) فوری طور پر صحافی کے گھر پہنچے، جہاں پولیس حکام نے شواہد اپنی تحویل میں لیے اور متاثرہ خاندان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی آر اے کے مطابق ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ قانون کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دی جانے والی دھمکیوں کا سدباب ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹرل سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ذیشان شفیق صدیقی نے بھی ڈان کو بتایا کہ پولیس افسران نے متعلقہ رہائش گاہ کا دورہ کیا اور تحقیقات کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تفتیشی حکام مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے صحافی کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ راولپنڈی پولیس نے ڈان نیوز  کے صحافی کی ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی کا ماحول مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا ہے، جہاں صحافیوں کے قاتلوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دولتِ مشترکہ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2006 سے 2023 کے درمیان پاکستان میں 87 صحافی قتل ہوئے، جن میں سے صرف دو کیسز حل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی پولیس نے سینئر صحافی کے گھر پر  مبینہ طور پر 2 افراد کی جانب سے اہلخانہ کو دھمکیاں دینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p>کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) نے اپنے جاری بیان میں سینئر صحافی فراز خان کے فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں واقع گھر پر دو مشکوک افراد کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ واقعے کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سی آر اے نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں افراد واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جو گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اہلِ خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں، جس سے خاندان میں خوف و ہراس پھیل گیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے نے متاثرہ خاندان اور  صحافتی برادری میں شدید تشویش پیدا کی ہے، جبکہ واقعے کی فوری اطلاع پولیس اور اعلیٰ حکام کو دے دی گئی ہے۔</p>
<p>فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) فوری طور پر صحافی کے گھر پہنچے، جہاں پولیس حکام نے شواہد اپنی تحویل میں لیے اور متاثرہ خاندان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>سی آر اے کے مطابق ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ قانون کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دی جانے والی دھمکیوں کا سدباب ہو سکے۔</p>
<p>سینٹرل سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ذیشان شفیق صدیقی نے بھی ڈان کو بتایا کہ پولیس افسران نے متعلقہ رہائش گاہ کا دورہ کیا اور تحقیقات کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تفتیشی حکام مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے صحافی کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کے منتظر ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ راولپنڈی پولیس نے ڈان نیوز  کے صحافی کی ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔</p>
<p>پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی کا ماحول مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا ہے، جہاں صحافیوں کے قاتلوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>دولتِ مشترکہ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2006 سے 2023 کے درمیان پاکستان میں 87 صحافی قتل ہوئے، جن میں سے صرف دو کیسز حل ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274132</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 23:44:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2223400015df25d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2223400015df25d.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: ناظم آباد میں فرار ہوتے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے خاتون جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274210/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے علاقے ناظم آباد میں مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ کے نتیجے میں گولی لگنے سے شادی شدہ خاتون جاں بحق ہوگئی، پولیس نے نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ ایک نوجوان شادی شدہ خاتون کو اُس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں، ابتدائی شبہہ یہ ہے کہ فائرنگ گھبراہٹ کے شکار ڈاکوؤں نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی ضلع وسطی ذیشان شفیق صدیقی کے مطابق دو مشتبہ افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے جنہوں نے انو بھائی پارک کے قریب ایک گلی میں فائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجے میں 35 سالہ ثمینہ گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں، جو اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک آن لائن ٹیکسی میں سفر کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی ذیشان شفیق صدیقی نے امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ مشتبہ افراد ڈاکو ہوں جو شہریوں کی مزاحمت سے گھبرا کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو رہے تھے، انہوں نے وضاحت کی کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ڈکیتی کی کوئی کوشش نہیں ہوئی تھی۔ یہ واقعہ ہفتہ کی رات 10 بجے پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کے گال پر گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دوران علاج وہ دم توڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناظم آباد پولیس نے مقتولہ کے شوہر محمد عدنان (ساکن توحید کالونی اورنگی ٹاؤن) کی مدعیت میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق، شکایت کنندہ اپنی والدہ، بیوی، بہن اور تین بچوں کے ہمراہ اپنے گھر سے ناظم آباد کے فاطمہ لان میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وہ اے او کلینک اور انو بھائی پارک کے درمیان والی گلی میں پہنچے تو اچانک 2 موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد وہاں نمودار ہوئے، وہ فائرنگ کر رہے تھے جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ ثمینہ، جو پچھلی نشست پر بیٹھی تھیں، گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں، انہیں ابتدا میں اے او کلینک لے جایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں عباسی شہید ہسپتال ریفر کیا گیا، جہاں پہنچ کر انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے علاقے ناظم آباد میں مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ کے نتیجے میں گولی لگنے سے شادی شدہ خاتون جاں بحق ہوگئی، پولیس نے نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ ایک نوجوان شادی شدہ خاتون کو اُس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں، ابتدائی شبہہ یہ ہے کہ فائرنگ گھبراہٹ کے شکار ڈاکوؤں نے کی۔</p>
<p>ایس ایس پی ضلع وسطی ذیشان شفیق صدیقی کے مطابق دو مشتبہ افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے جنہوں نے انو بھائی پارک کے قریب ایک گلی میں فائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجے میں 35 سالہ ثمینہ گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں، جو اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک آن لائن ٹیکسی میں سفر کر رہی تھیں۔</p>
<p>ایس ایس پی ذیشان شفیق صدیقی نے امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ مشتبہ افراد ڈاکو ہوں جو شہریوں کی مزاحمت سے گھبرا کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو رہے تھے، انہوں نے وضاحت کی کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ڈکیتی کی کوئی کوشش نہیں ہوئی تھی۔ یہ واقعہ ہفتہ کی رات 10 بجے پیش آیا۔</p>
<p>خاتون کے گال پر گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دوران علاج وہ دم توڑ گئیں۔</p>
<p>ناظم آباد پولیس نے مقتولہ کے شوہر محمد عدنان (ساکن توحید کالونی اورنگی ٹاؤن) کی مدعیت میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق، شکایت کنندہ اپنی والدہ، بیوی، بہن اور تین بچوں کے ہمراہ اپنے گھر سے ناظم آباد کے فاطمہ لان میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔</p>
<p>جب وہ اے او کلینک اور انو بھائی پارک کے درمیان والی گلی میں پہنچے تو اچانک 2 موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد وہاں نمودار ہوئے، وہ فائرنگ کر رہے تھے جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ ثمینہ، جو پچھلی نشست پر بیٹھی تھیں، گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں، انہیں ابتدا میں اے او کلینک لے جایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں عباسی شہید ہسپتال ریفر کیا گیا، جہاں پہنچ کر انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274210</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 19:31:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241918504116e1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241918504116e1b.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی بندش ختم، شہر میں پانی کی فراہمی بحال ہوگئی، واٹر بورڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274163/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) نے  ایک بیان میں کہا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی بندش کے مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور شہر بھر میں پانی کی فراہمی معمول کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو بار بار ہونے والی بجلی کی بندش کے باعث شہر کے واٹر پمپنگ سسٹم متاثر ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں شہری پانی کے بدترین بحران کا سامنا کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ڈبلیو ایس سی نے آج جاری اپنے بیان میں کہا کہ پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے بحران کے دوران کے-الیکٹرک کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا گیا، اور حکام نے تصدیق کی کہ “شہر بھر میں پانی کی خدمات اب معمول پر آ چکی ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ڈبلیو ایس سی نے کہا کہ “آئندہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ نومبر میں کراچی کو شدید پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جب شہر بھر میں طویل دورانیے کی بجلی کی بندش نے پمپنگ کے عمل کو متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ڈبلیو ایس سی کے مطابق شہر کو بجلی میں خلل کے باعث 884 ملین گیلن پانی کی مجموعی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ “دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 132 گھنٹے 20 منٹ کی بجلی کی بندش سے 424 ملین گیلن پانی کی کمی واقع ہوئی، جبکہ ڈملوٹی  میں 146 گھنٹے بجلی کی بندش سے 111 ملین گیلن پانی ضائع ہوا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن میں اکیلے 335 ملین گیلن کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نسبتاً چھوٹے اسٹیشنوں میں کمی کم رہی — ہب اور پپری اسٹیشنوں میں 6 ملین گیلن اور گھارو اسٹیشن میں 2 ملین گیلن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی پمپنگ اسٹیشنوں کے حکام کے مطابق، جاری رہنے والی بجلی کی بندش کے باعث اس ماہ کے دوران کئی گھنٹوں تک آپریشن معطل رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے خبردار کیا کہ “ایک مستحکم اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جانے چاہئیں،” کیونکہ بار بار ہونے والے کیبل فالٹس پمپنگ مشینری کو پہلے ہی نمایاں نقصان پہنچا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں بتایا گیا کہ تجاویز میں متبادل فیڈرز، اسٹینڈ بائی کیبلز اور تکنیکی اپ گریڈ شامل ہیں تاکہ مرکزی اسٹیشنوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) نے  ایک بیان میں کہا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی بندش کے مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور شہر بھر میں پانی کی فراہمی معمول کے مطابق ہے۔</p>
<p>جمعے کو بار بار ہونے والی بجلی کی بندش کے باعث شہر کے واٹر پمپنگ سسٹم متاثر ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں شہری پانی کے بدترین بحران کا سامنا کرتے رہے۔</p>
<p>کے ڈبلیو ایس سی نے آج جاری اپنے بیان میں کہا کہ پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے بحران کے دوران کے-الیکٹرک کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا گیا، اور حکام نے تصدیق کی کہ “شہر بھر میں پانی کی خدمات اب معمول پر آ چکی ہیں۔”</p>
<p>کے ڈبلیو ایس سی نے کہا کہ “آئندہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”</p>
<p>گزشتہ نومبر میں کراچی کو شدید پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جب شہر بھر میں طویل دورانیے کی بجلی کی بندش نے پمپنگ کے عمل کو متاثر کیا تھا۔</p>
<p>کے ڈبلیو ایس سی کے مطابق شہر کو بجلی میں خلل کے باعث 884 ملین گیلن پانی کی مجموعی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>بیان میں ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ “دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 132 گھنٹے 20 منٹ کی بجلی کی بندش سے 424 ملین گیلن پانی کی کمی واقع ہوئی، جبکہ ڈملوٹی  میں 146 گھنٹے بجلی کی بندش سے 111 ملین گیلن پانی ضائع ہوا۔”</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن میں اکیلے 335 ملین گیلن کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نسبتاً چھوٹے اسٹیشنوں میں کمی کم رہی — ہب اور پپری اسٹیشنوں میں 6 ملین گیلن اور گھارو اسٹیشن میں 2 ملین گیلن۔</p>
<p>مرکزی پمپنگ اسٹیشنوں کے حکام کے مطابق، جاری رہنے والی بجلی کی بندش کے باعث اس ماہ کے دوران کئی گھنٹوں تک آپریشن معطل رہے۔</p>
<p>ترجمان نے خبردار کیا کہ “ایک مستحکم اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جانے چاہئیں،” کیونکہ بار بار ہونے والے کیبل فالٹس پمپنگ مشینری کو پہلے ہی نمایاں نقصان پہنچا چکے ہیں۔</p>
<p>بیان میں بتایا گیا کہ تجاویز میں متبادل فیڈرز، اسٹینڈ بائی کیبلز اور تکنیکی اپ گریڈ شامل ہیں تاکہ مرکزی اسٹیشنوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274163</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 17:36:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/23173626dad0979.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/23173626dad0979.webp"/>
        <media:title>فوٹو: کے ڈبلیو ایس سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
