<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Parenting</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:57:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:57:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے کی پیدائش کے بعد ہر 3 میں سے ایک خاتون طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنے پر مجبور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218467/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ (یو این) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون بچے کی پیدائش کے بعد سنگین طبی پیچیدگیاں برداشت کرنے پر مجبور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.thelancet.com/journals/langlo/article/PIIS2214-109X(23)00454-0/fulltext#seccestitle10"&gt;&lt;strong&gt;لینسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شائع رپورٹ کے مطابق ماؤں اور بچوں کی صحت سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی عالمی پالیسی تیار کرنے کے لیے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ہر تین میں سے ایک خاتون متعدد طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہے، یہاں تک ان میں ایچ آئی وی جیسی علامات بھی نظر آنے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق تولیدی صحت کی عمر کی دنیا بھر کی تقریبا 4 کروڑ خواتین اپنے ہاں بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن، نفسیاتی مسائل، کمر درد، جسم کے نچلے حصے میں درد، پیشاب اور پاخانے میں مشکلات یا بےقاعدگی، اندام نہانی کے ارد گرد اعضا کے بڑھ جانے اور مباشرت کے درمیان شدید درد جیسی پیچیدگیوں اور مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1099883"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے لیے ماہرین نے دنیا کے متعدد امیر، متوسط اور کم آمدنی والے ممالک سے ان ماؤں کا ڈیٹا حاصل کیا، جنہوں نے بچوں کو جنم دیا اور اس کے بعد طبی پیچیدگیوں کا سامنا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران ماہرین نے بچوں کو جنم دینے کے بعد خواتین میں پیدا ہونے والے طبی مسائل اور پیچیدگیوں کا جائزہ لے کر ان کی فہرست ترتیب دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے نوٹ کیا کہ زیادہ تر متوسط اور غریب ممالک کی خواتین ڈپریشن، نفسیاتی مسائل سمیت جسمانی تکلیف جیسی پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے حیران کن انکشاف سامنے آیا کہ امیر ممالک کی خواتین بچے کی پیدائش کے کئی ہفتوں بعد خطرناک وائرس ایچ آئی وی جیسی علامات کا سامنا بھی کرتی ہیں اور وہ ایچ آئی وی سیروکنورژن (HIV Seroconversion) کا شکار ہوجاتی ہیں، یعنی ان کی اینٹی باڈیز میں خطرناک وائرس کی پیدائش ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایچ آئی وی سیروکنورژن خواتین میں 3 سے 6 ماہ تک جاری رہ سکتا ہے اور وہ شدید بیمار ہوئے بغیر صحت یاب ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے 6 یا 12 ہفتوں بعد خواتین میں متعدد طبی پیچیدگیوں کی علامات نظر آنا شروع ہوتی ہیں اور خواتین ایسی علامات کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس جانے سے بھی شرمساری کے باعث کترانے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد خواتین میں کمر اور اس سے نیچے شدید درد، بچے کو دودھ پلاتے وقت درد، چھاتی میں جلن، خارش اور سوجن سمیت اندام نہانی کے ارد گرد سوجن اور اعضا کے بڑھ جانے سمیت پیشاب اور پاخانے میں تکالیف اور بے قاعدگی جیسی سنگین پیچیدگیاں لاحق ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ (یو این) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون بچے کی پیدائش کے بعد سنگین طبی پیچیدگیاں برداشت کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p>طبی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.thelancet.com/journals/langlo/article/PIIS2214-109X(23)00454-0/fulltext#seccestitle10"><strong>لینسٹ</strong></a> میں شائع رپورٹ کے مطابق ماؤں اور بچوں کی صحت سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی عالمی پالیسی تیار کرنے کے لیے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ہر تین میں سے ایک خاتون متعدد طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہے، یہاں تک ان میں ایچ آئی وی جیسی علامات بھی نظر آنے لگتی ہیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق تولیدی صحت کی عمر کی دنیا بھر کی تقریبا 4 کروڑ خواتین اپنے ہاں بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن، نفسیاتی مسائل، کمر درد، جسم کے نچلے حصے میں درد، پیشاب اور پاخانے میں مشکلات یا بےقاعدگی، اندام نہانی کے ارد گرد اعضا کے بڑھ جانے اور مباشرت کے درمیان شدید درد جیسی پیچیدگیوں اور مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1099883"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق کے لیے ماہرین نے دنیا کے متعدد امیر، متوسط اور کم آمدنی والے ممالک سے ان ماؤں کا ڈیٹا حاصل کیا، جنہوں نے بچوں کو جنم دیا اور اس کے بعد طبی پیچیدگیوں کا سامنا کیا۔</p>
<p>تحقیق کے دوران ماہرین نے بچوں کو جنم دینے کے بعد خواتین میں پیدا ہونے والے طبی مسائل اور پیچیدگیوں کا جائزہ لے کر ان کی فہرست ترتیب دی۔</p>
<p>ماہرین نے نوٹ کیا کہ زیادہ تر متوسط اور غریب ممالک کی خواتین ڈپریشن، نفسیاتی مسائل سمیت جسمانی تکلیف جیسی پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہیں۔</p>
<p>تحقیق سے حیران کن انکشاف سامنے آیا کہ امیر ممالک کی خواتین بچے کی پیدائش کے کئی ہفتوں بعد خطرناک وائرس ایچ آئی وی جیسی علامات کا سامنا بھی کرتی ہیں اور وہ ایچ آئی وی سیروکنورژن (HIV Seroconversion) کا شکار ہوجاتی ہیں، یعنی ان کی اینٹی باڈیز میں خطرناک وائرس کی پیدائش ہوجاتی ہے۔</p>
<p>ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایچ آئی وی سیروکنورژن خواتین میں 3 سے 6 ماہ تک جاری رہ سکتا ہے اور وہ شدید بیمار ہوئے بغیر صحت یاب ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے 6 یا 12 ہفتوں بعد خواتین میں متعدد طبی پیچیدگیوں کی علامات نظر آنا شروع ہوتی ہیں اور خواتین ایسی علامات کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس جانے سے بھی شرمساری کے باعث کترانے لگتی ہیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد خواتین میں کمر اور اس سے نیچے شدید درد، بچے کو دودھ پلاتے وقت درد، چھاتی میں جلن، خارش اور سوجن سمیت اندام نہانی کے ارد گرد سوجن اور اعضا کے بڑھ جانے سمیت پیشاب اور پاخانے میں تکالیف اور بے قاعدگی جیسی سنگین پیچیدگیاں لاحق ہوسکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218467</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Dec 2023 19:37:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/11161410b86e9d9.jpg?r=193811" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/11161410b86e9d9.jpg?r=193811"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے ہکلاہٹ کا شکار کیوں ہوتے ہیں اور والدین ان کی مدد کیسے کرسکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218397/</link>
      <description>&lt;p&gt;گفتگو کے دوران زبان سے مشکل سے الفاظ کا نکلنا، ایک حرف کی آواز کو بار بار دہرانا ’ہکلاہٹ‘ کی نشانیاں ہیں جس کا شکار اکثر چھوٹی عمر کے بچے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبان میں لکنت یا ہکلاہٹ ایسا مرض ہے جس کی کوئی مخصوص وجہ تو نہیں ہے لیکن اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارورڈ ہیلتھ میڈیکل اسکول کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.health.harvard.edu/blog/stuttering-in-children-how-parents-can-help-202110182619"&gt;ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈیفنس اینڈ کمیونیکیشن ڈس آرڈرز کے مطابق عام طور پر 2 سے 6 سال کی عمر کے درمیان 5 سے 10 فیصد بچے ہکلاہٹ یا زبان میں لکنت کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لوگ گفتگو کے دوران بڑی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کرتے ہیں اور اکثر اپنی بات جلد مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ بولنا نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہکلانے کی کیا وجہ ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز اور سائنسدان ہکلانے کی وجہ مکمل طور پر نہیں جان سکے لیکن زیادہ تر کا خیال ہے کہ اس کی کچھ مخصوص وجوہات ہوسکتی ہیں, مثال کے طور پر ہکلاہٹ کا تعلق بول چال سے منسلک خلیوں کی کمزوری سے ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ہکلانا جینیاتی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہکلاہٹ کی ایک اور وجہ بچوں کی نشوونما میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے، یہ مسئلہ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں چار گنا زیادہ ہوتا ہے، نوجوانوں یا بڑی عمر کے افراد میں عموماً اس مسئلے کی وجہ فالج کا دورہ یا دماغ کی چوٹ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/10124405c580e50.jpg?r=124418'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہکلاہٹ کے تین درجے:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضروری نہیں کہ تمام بچے ایک ہی طرح سے ہکلاہٹ کا شکار ہوں، ہر بچے میں اس کی نشانیاں مختلف ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر ایک حروف کو بار بار دہرانا، یعنی انگریزی میں ڈاگ کے لفظ میں ’ڈ‘ کو بار بار دہرائیں گے (جیسا کہ ڈ-ڈ-ڈ-ڈ-ڈ-ڈاگ) یہ کم ہکلاہٹ کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا درجہ معتدل ہکلاہٹ ہے یعنی حروف کو لمبا کھینچتے رہنا، جیسا کہ انگریزی کے لفظ اسٹاپ میں ’س‘ کو ایک ہی بار لمبا کھینچنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا درجہ شدید ہکلاہٹ کا ہے جس میں انہیں الفاظ نکالنے میں مشکل پیش آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کا بچہ 5 سال کا ہے اور پھر بھی ہکلا رہا ہے تو اپنے ڈاکٹر یا اسپیچ لینگویج تھراپسٹ سے رجوع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچوں-میں-ہکلانے-کی-علامات-کیا-ہیں" href="#بچوں-میں-ہکلانے-کی-علامات-کیا-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچوں میں ہکلانے کی علامات کیا ہیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1۔ آپ کا بچہ ایسے حالات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جن میں زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2۔ ہکلانے کے خوف سے الفاظ بدلنے کی کوشش کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3۔ ہکلانے کے ساتھ ساتھ چہرے یا جسم کی حرکت میں تبدیلی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3۔ ہمیشہ کم بولنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/10135417eafe3a1.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="والدین-کیسے-مدد-کر-سکتے-ہیں" href="#والدین-کیسے-مدد-کر-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;والدین کیسے مدد کر سکتے ہیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے بچہ بھی ہکلاہٹ کا شکار ہے تو ان باتوں کا خیال رکھیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1۔ گفتگو کے دوران انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا پورا موقع دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2۔ ان کے جملے کو مکمل یا درست کرنے کی کوشش نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3۔ اس کے علاوہ بولنے کے انداز پر ان پر تنقید کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4۔ ’بولنے سے پہلے سوچیں‘، ’یہ الفاظ دہرائیں‘ بچوں کو یہ کہنے سے بھی گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5۔ ان کی بات کو توجہ سے سنیں، بجائے اس کے کہ وہ بات کیسے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6۔ انہیں اپنی بات مکمل طور پر سمجھانے کا موقع دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گفتگو کے دوران زبان سے مشکل سے الفاظ کا نکلنا، ایک حرف کی آواز کو بار بار دہرانا ’ہکلاہٹ‘ کی نشانیاں ہیں جس کا شکار اکثر چھوٹی عمر کے بچے ہوتے ہیں۔</p>
<p>زبان میں لکنت یا ہکلاہٹ ایسا مرض ہے جس کی کوئی مخصوص وجہ تو نہیں ہے لیکن اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔</p>
<p>ہارورڈ ہیلتھ میڈیکل اسکول کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.health.harvard.edu/blog/stuttering-in-children-how-parents-can-help-202110182619">ویب سائٹ</a></strong> کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈیفنس اینڈ کمیونیکیشن ڈس آرڈرز کے مطابق عام طور پر 2 سے 6 سال کی عمر کے درمیان 5 سے 10 فیصد بچے ہکلاہٹ یا زبان میں لکنت کا شکار ہیں۔</p>
<p>ایسے لوگ گفتگو کے دوران بڑی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کرتے ہیں اور اکثر اپنی بات جلد مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ بولنا نہ پڑے۔</p>
<p><strong>ہکلانے کی کیا وجہ ہے؟</strong></p>
<p>ڈاکٹرز اور سائنسدان ہکلانے کی وجہ مکمل طور پر نہیں جان سکے لیکن زیادہ تر کا خیال ہے کہ اس کی کچھ مخصوص وجوہات ہوسکتی ہیں, مثال کے طور پر ہکلاہٹ کا تعلق بول چال سے منسلک خلیوں کی کمزوری سے ہوسکتا ہے۔</p>
<p>کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ہکلانا جینیاتی ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ہکلاہٹ کی ایک اور وجہ بچوں کی نشوونما میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے، یہ مسئلہ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں چار گنا زیادہ ہوتا ہے، نوجوانوں یا بڑی عمر کے افراد میں عموماً اس مسئلے کی وجہ فالج کا دورہ یا دماغ کی چوٹ ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/10124405c580e50.jpg?r=124418'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>ہکلاہٹ کے تین درجے:</strong></p>
<p>ضروری نہیں کہ تمام بچے ایک ہی طرح سے ہکلاہٹ کا شکار ہوں، ہر بچے میں اس کی نشانیاں مختلف ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر ایک حروف کو بار بار دہرانا، یعنی انگریزی میں ڈاگ کے لفظ میں ’ڈ‘ کو بار بار دہرائیں گے (جیسا کہ ڈ-ڈ-ڈ-ڈ-ڈ-ڈاگ) یہ کم ہکلاہٹ کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>دوسرا درجہ معتدل ہکلاہٹ ہے یعنی حروف کو لمبا کھینچتے رہنا، جیسا کہ انگریزی کے لفظ اسٹاپ میں ’س‘ کو ایک ہی بار لمبا کھینچنا۔</p>
<p>تیسرا درجہ شدید ہکلاہٹ کا ہے جس میں انہیں الفاظ نکالنے میں مشکل پیش آتی ہے۔</p>
<p>اگر آپ کا بچہ 5 سال کا ہے اور پھر بھی ہکلا رہا ہے تو اپنے ڈاکٹر یا اسپیچ لینگویج تھراپسٹ سے رجوع کریں۔</p>
<h3><a id="بچوں-میں-ہکلانے-کی-علامات-کیا-ہیں" href="#بچوں-میں-ہکلانے-کی-علامات-کیا-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچوں میں ہکلانے کی علامات کیا ہیں؟</h3>
<p>1۔ آپ کا بچہ ایسے حالات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جن میں زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>2۔ ہکلانے کے خوف سے الفاظ بدلنے کی کوشش کرتا ہو۔</p>
<p>3۔ ہکلانے کے ساتھ ساتھ چہرے یا جسم کی حرکت میں تبدیلی</p>
<p>3۔ ہمیشہ کم بولنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/10135417eafe3a1.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="والدین-کیسے-مدد-کر-سکتے-ہیں" href="#والدین-کیسے-مدد-کر-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>والدین کیسے مدد کر سکتے ہیں؟</h3>
<p>اگر آپ کے بچہ بھی ہکلاہٹ کا شکار ہے تو ان باتوں کا خیال رکھیں:</p>
<p>1۔ گفتگو کے دوران انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا پورا موقع دیں۔</p>
<p>2۔ ان کے جملے کو مکمل یا درست کرنے کی کوشش نہ کریں۔</p>
<p>3۔ اس کے علاوہ بولنے کے انداز پر ان پر تنقید کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>4۔ ’بولنے سے پہلے سوچیں‘، ’یہ الفاظ دہرائیں‘ بچوں کو یہ کہنے سے بھی گریز کریں۔</p>
<p>5۔ ان کی بات کو توجہ سے سنیں، بجائے اس کے کہ وہ بات کیسے کر رہے ہیں۔</p>
<p>6۔ انہیں اپنی بات مکمل طور پر سمجھانے کا موقع دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218397</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Dec 2023 16:24:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/10135254aefa148.jpg?r=162511" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/10135254aefa148.jpg?r=162511"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسٹاک امیجز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نومولود بچے خراٹے کیوں لیتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217607/</link>
      <description>&lt;p&gt;والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خراٹے لینے والے نومولود بچے گہری نیند میں ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، یہ ایک ایسی طبی علامت ہے جس کا فوری علاج کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ ’ہیلتھ لائن‘ کے مطابق ایک نارمل انسان خراٹے اس وقت لیتا ہے جب وہ نیند کے دوران سانس لیتا اور باہر نکالتا ہے تو وہ اپنی گردن اور سر کے نرم ٹشوز میں لرزش کی وجہ سے خراٹے لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نرم ٹشوز ہماری ناک کے راستے، ٹانسلز میں پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آپ سوتے ہیں تو ہوا کے گزرنے کا راستہ آرام دہ حالت میں ہوتا ہے، پھر ہوا کو اندر اور باہر جانے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان ٹشوز میں لرزش پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈیلی ہیرالڈ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dailyherald.com/entlife/20220206/when-snoring-in-children-and-toddlers-is-cause-for-concern"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق شکاگو کے سرجن ڈاکٹر طاہر والیکا کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 سے 20 فیصد نومولود بچے خراٹے لیتے ہیں، یہ نیند کے مختلف مراحل کے دوران ہو سکتے ہیں، خراٹے لینا بچے کی نیند کی پوزیشن پر بھی منحصر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بچہ اپنی پیٹھ پر لیٹتا ہے تو اس کے خراٹے لینے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس کا تعلق سانس کی نالی کے انفیکشن  یا الرجی کی وجہ سے ہوسکتا ہے جسے انگریزی میں ’پرائمری اسنورنگ‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم والدین کے پریشانی کا لمحہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے اونچی آواز میں خراٹے لے رہے ہوں اور واضح طور پر انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو، اسے طبی اصطلاح میں apnea pauses کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/29150710e9322da.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تحقیق-اس-حوالے-سے-کیا-کہتی-ہے" href="#تحقیق-اس-حوالے-سے-کیا-کہتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تحقیق اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں ایک &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://healthland.time.com/2012/03/05/snoring-babies-troubled-children/"&gt;تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ نومولود بچوں کا خراٹے لینا ان کی نیند کی خرابی کی علامات ہیں جو مستقبل میں بچوں کے لیے رویے، جذباتی تندرستی میں طویل مدتی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق کچھ سال قبل ’پیڈیاٹرکس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی تھی جس میں محققین کا کہنا تھا کہ جو بچے 6 ماہ کی عمر میں خراٹے لیتے ہیں یا نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے ان میں 7 سال کی عمر تک ہائپر ایکٹیویٹی جیسے مسائل کا 20 سے 100 فیصد تک امکان ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق میں انگلینڈ میں 1991 سے 92 میں پیدا ہونے والے 11 ہزار سے زیادہ بچوں کی نیند کی عادات کا تجزیہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں بچوں کے والدین سے بھی سوالات پوچھےگئے، سروے میں بچوں کی نیند کے دوران خراٹے لینے، منہ سے سانس لینے اور سانس لینے میں مختصر وقفے کے بارے میں پوچھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں میں نیند کی خرابی کی شدید علامات تھیں (بالخصوص وہ بچے جو 2.5 سال کی عمر کے قریب تھے) ان میں 4 اور 7 سال کی عمر میں اے ڈی ایچ ڈی (Attention Deficit hyperactivity disorder) کی علامات ظاہر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کی انچارج البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والی کیرن بونک نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے تحقیق کے دوران 15 مختلف عوامل پر غور کرنے کو یقینی بنایا جو خراٹے، نیند کی کمی اور رویے کے مسائل سے منسلک ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عوامل میں ماں کی تعلیم، خاندانی چیلنجز، ماں کے حمل کے دوران سگریٹ نوشی، اور والد کی ملازمت کی نوعیت جیسی چیزیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر ان عوامل میں بچوں میں نیند کے مسائل اور بعد میں ان کے رویے کے مسائل کے درمیان تعلق میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اے ڈی ایچ ڈی کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی ایچ ڈی ایک ایسی بیماری ہے جنہیں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے، یعنی ایسے بچے جو سمجھانے کے باوجود کام پر دھیان نہیں دے پاتے، بار بار چیزوں کو بھول جاتے ہیں، اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کر پاتے، ڈیڈ لائن پر توجہ نہیں دیتے، جلدی بیزار ہو جاتے ہیں اور اسی لیے والدین یا ٹیچرز سے انہیں سخت باتیں سننا پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/2915074205b3255.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچوں-میں-نیند-کی-کمی-کی-کیا-وجہ-ہوسکتی-ہے" href="#بچوں-میں-نیند-کی-کمی-کی-کیا-وجہ-ہوسکتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچوں میں نیند کی کمی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بچوں میں نیند کی کمی ان کے نشوونما کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں وزن میں اضافہ نہ ہونا، ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر، آدھی رات کو پیشاب آجانا، نیند کے دوران ڈر جانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے بچے کو یہ علامات ظاہر ہورہی ہیں تو فوری طور پر ماہر اطفال سے رجوع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خراٹوں-کا-ان-مسائل-سے-کیا-تعلق-ہے" href="#خراٹوں-کا-ان-مسائل-سے-کیا-تعلق-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خراٹوں کا ان مسائل سے کیا تعلق ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کیرن بونک کا کہنا ہے کہ نیند کے دوران دماغ خلیات اور کیمیکلز کے توازن کو بحال کرتا ہے، جب نیند میں خلل آتا ہے، تو دماغ کو اپنی ضرورت کے مطابق آکسیجن حاصل نہیں ہوتی اور وہ ضرورت سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  یہ عدم توازن ممکنہ طور پر ’پریفرنٹل کورٹیکس‘ یعنی شعور و ادراک والے دماغ کے حصے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے، چھوٹی عمر میں آکسیجن حاصل کرنے میں مسائل بڑی عمر میں سنجیدہ مسائل بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے والدین کو چاہیے وہ ماہر اطفال سے رجوع کریں تاکہ مستقبل کے سنگین مسائل سے بچنے کے لیے جلد ہی بچے کا علاج کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خراٹے لینے والے نومولود بچے گہری نیند میں ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، یہ ایک ایسی طبی علامت ہے جس کا فوری علاج کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ ’ہیلتھ لائن‘ کے مطابق ایک نارمل انسان خراٹے اس وقت لیتا ہے جب وہ نیند کے دوران سانس لیتا اور باہر نکالتا ہے تو وہ اپنی گردن اور سر کے نرم ٹشوز میں لرزش کی وجہ سے خراٹے لیتا ہے۔</p>
<p>یہ نرم ٹشوز ہماری ناک کے راستے، ٹانسلز میں پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>جب آپ سوتے ہیں تو ہوا کے گزرنے کا راستہ آرام دہ حالت میں ہوتا ہے، پھر ہوا کو اندر اور باہر جانے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان ٹشوز میں لرزش پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ڈیلی ہیرالڈ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dailyherald.com/entlife/20220206/when-snoring-in-children-and-toddlers-is-cause-for-concern">رپورٹ</a></strong> کے مطابق شکاگو کے سرجن ڈاکٹر طاہر والیکا کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 سے 20 فیصد نومولود بچے خراٹے لیتے ہیں، یہ نیند کے مختلف مراحل کے دوران ہو سکتے ہیں، خراٹے لینا بچے کی نیند کی پوزیشن پر بھی منحصر ہوسکتا ہے۔</p>
<p>جب بچہ اپنی پیٹھ پر لیٹتا ہے تو اس کے خراٹے لینے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس کا تعلق سانس کی نالی کے انفیکشن  یا الرجی کی وجہ سے ہوسکتا ہے جسے انگریزی میں ’پرائمری اسنورنگ‘ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم والدین کے پریشانی کا لمحہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے اونچی آواز میں خراٹے لے رہے ہوں اور واضح طور پر انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو، اسے طبی اصطلاح میں apnea pauses کہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/29150710e9322da.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="تحقیق-اس-حوالے-سے-کیا-کہتی-ہے" href="#تحقیق-اس-حوالے-سے-کیا-کہتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تحقیق اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟</h3>
<p>قبل ازیں ایک <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://healthland.time.com/2012/03/05/snoring-babies-troubled-children/">تحقیق</a></strong> میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ نومولود بچوں کا خراٹے لینا ان کی نیند کی خرابی کی علامات ہیں جو مستقبل میں بچوں کے لیے رویے، جذباتی تندرستی میں طویل مدتی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>یہ تحقیق کچھ سال قبل ’پیڈیاٹرکس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی تھی جس میں محققین کا کہنا تھا کہ جو بچے 6 ماہ کی عمر میں خراٹے لیتے ہیں یا نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے ان میں 7 سال کی عمر تک ہائپر ایکٹیویٹی جیسے مسائل کا 20 سے 100 فیصد تک امکان ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اس تحقیق میں انگلینڈ میں 1991 سے 92 میں پیدا ہونے والے 11 ہزار سے زیادہ بچوں کی نیند کی عادات کا تجزیہ کیا گیا۔</p>
<p>تحقیق میں بچوں کے والدین سے بھی سوالات پوچھےگئے، سروے میں بچوں کی نیند کے دوران خراٹے لینے، منہ سے سانس لینے اور سانس لینے میں مختصر وقفے کے بارے میں پوچھا گیا۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں میں نیند کی خرابی کی شدید علامات تھیں (بالخصوص وہ بچے جو 2.5 سال کی عمر کے قریب تھے) ان میں 4 اور 7 سال کی عمر میں اے ڈی ایچ ڈی (Attention Deficit hyperactivity disorder) کی علامات ظاہر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>تحقیق کی انچارج البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والی کیرن بونک نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے تحقیق کے دوران 15 مختلف عوامل پر غور کرنے کو یقینی بنایا جو خراٹے، نیند کی کمی اور رویے کے مسائل سے منسلک ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ان عوامل میں ماں کی تعلیم، خاندانی چیلنجز، ماں کے حمل کے دوران سگریٹ نوشی، اور والد کی ملازمت کی نوعیت جیسی چیزیں شامل تھیں۔</p>
<p>حیرت انگیز طور پر ان عوامل میں بچوں میں نیند کے مسائل اور بعد میں ان کے رویے کے مسائل کے درمیان تعلق میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔</p>
<p><strong>اے ڈی ایچ ڈی کیا ہے؟</strong></p>
<p>اے ڈی ایچ ڈی ایک ایسی بیماری ہے جنہیں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے، یعنی ایسے بچے جو سمجھانے کے باوجود کام پر دھیان نہیں دے پاتے، بار بار چیزوں کو بھول جاتے ہیں، اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کر پاتے، ڈیڈ لائن پر توجہ نہیں دیتے، جلدی بیزار ہو جاتے ہیں اور اسی لیے والدین یا ٹیچرز سے انہیں سخت باتیں سننا پڑتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/2915074205b3255.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="بچوں-میں-نیند-کی-کمی-کی-کیا-وجہ-ہوسکتی-ہے" href="#بچوں-میں-نیند-کی-کمی-کی-کیا-وجہ-ہوسکتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچوں میں نیند کی کمی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟</h3>
<p>بچوں میں نیند کی کمی ان کے نشوونما کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں وزن میں اضافہ نہ ہونا، ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر، آدھی رات کو پیشاب آجانا، نیند کے دوران ڈر جانا شامل ہے۔</p>
<p>اگر آپ کے بچے کو یہ علامات ظاہر ہورہی ہیں تو فوری طور پر ماہر اطفال سے رجوع کریں۔</p>
<h3><a id="خراٹوں-کا-ان-مسائل-سے-کیا-تعلق-ہے" href="#خراٹوں-کا-ان-مسائل-سے-کیا-تعلق-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خراٹوں کا ان مسائل سے کیا تعلق ہے؟</h3>
<p>کیرن بونک کا کہنا ہے کہ نیند کے دوران دماغ خلیات اور کیمیکلز کے توازن کو بحال کرتا ہے، جب نیند میں خلل آتا ہے، تو دماغ کو اپنی ضرورت کے مطابق آکسیجن حاصل نہیں ہوتی اور وہ ضرورت سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  یہ عدم توازن ممکنہ طور پر ’پریفرنٹل کورٹیکس‘ یعنی شعور و ادراک والے دماغ کے حصے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے، چھوٹی عمر میں آکسیجن حاصل کرنے میں مسائل بڑی عمر میں سنجیدہ مسائل بن سکتے ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے والدین کو چاہیے وہ ماہر اطفال سے رجوع کریں تاکہ مستقبل کے سنگین مسائل سے بچنے کے لیے جلد ہی بچے کا علاج کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217607</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Nov 2023 17:25:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/291506557bece36.jpg?r=172607" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/291506557bece36.jpg?r=172607"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسٹاک امیجز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے والدین بچوں کی پرورش سے متعلق پریشان، سوشل میڈیا سے مدد لینے لگے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217177/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا میں کیے جانے والے ایک منفرد سروے سے معلوم ہوا ہے کہ نئے والدین بچوں کی پرورش، تربیت اور ان کی صحت کا خیال رکھنے سے متعلق پریشان دکھائی دیتے ہیں جو مدد کے لیے مجبور ہو کر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہر پانچ میں سے 4 امریکی والدین بچوں کی پرورش، تربیت اور صحت کا خیال رکھنے سے متعلق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مدد لیتے ہیں اور وہاں دوسرے والدین کی جانب سے شیئر کیے جانے والے مواد سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف مشی گن ہیلتھ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://mottpoll.org/reports/sharing-parenting-getting-advice-through-social-media"&gt;&lt;strong&gt;بچوں سے متعلق ہسپتال&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ماہرین کی جانب سے کیے جانے والے سروے سے معلوم ہوا کہ ہر پانچ میں سے 4 امریکی والدین بچوں کی پرورش، تربیت اور صحت کا خیال رکھنے سے متعلق سوشل میڈیا سے رہنمائی لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران ماہرین نے مرد و خواتین والدین سے سوالات کیے اور ان سے پوچھا کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور انہیں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں شامل زیادہ تر والدین نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر دوسرے والدین کے مواد اور ہدایات سے رہنمائی لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سوشل میڈیا سے رہنمائی لینے والی زیادہ تر مائیں تھیں، تاہم مرد والدین نے بھی اعتراف کیا کہ وہ بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے ان والدین سے کیا گیا تھا جن کے بچوں کی عمر زیادہ سے زیادہ چار سال تک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین نے بتایاکہ وہ زیادہ تر کم سن بچوں کے ٹوائلیٹ کرنے سے متعلق رہنمائی کا مواد سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں شامل 44 فیصد والدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر بچوں کے ٹوائلیٹ کے مسائل میں مدد جب کہ 42 فیصد والدین نے بتایا کہ وہ بچوں کو جلد سلانے کے حوالے سے بتائی جانے والی ترکیبوں کو دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بہت سارے والدین نے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ اور دیگر غذائیں کھلانے کے حوالے سے رہنمائی کے لیے بھی سوشل میڈیا کی مدد لینے کا اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ زیادہ تر والدین نے سوشل میڈیا کو مثبت قرار دیا، تاہم والدین نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ دوسرے والدین اپنے کم سن بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بچوں کی رضامندی کے بغیر شیئر کر رہے ہیں جو کہ اخلاقی طور پر غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بعض افراد نے یہ شکایت بھی کی کہ والدین بچوں کے مسائل کو حل کرنے کا مواد شیئر کرتے وقت کچھ انتہائی ذاتی معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر نئے والدین نے بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کو فائدہ مند قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/11/241850024572156.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا میں کیے جانے والے ایک منفرد سروے سے معلوم ہوا ہے کہ نئے والدین بچوں کی پرورش، تربیت اور ان کی صحت کا خیال رکھنے سے متعلق پریشان دکھائی دیتے ہیں جو مدد کے لیے مجبور ہو کر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہر پانچ میں سے 4 امریکی والدین بچوں کی پرورش، تربیت اور صحت کا خیال رکھنے سے متعلق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مدد لیتے ہیں اور وہاں دوسرے والدین کی جانب سے شیئر کیے جانے والے مواد سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>یونیورسٹی آف مشی گن ہیلتھ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://mottpoll.org/reports/sharing-parenting-getting-advice-through-social-media"><strong>بچوں سے متعلق ہسپتال</strong></a> کے ماہرین کی جانب سے کیے جانے والے سروے سے معلوم ہوا کہ ہر پانچ میں سے 4 امریکی والدین بچوں کی پرورش، تربیت اور صحت کا خیال رکھنے سے متعلق سوشل میڈیا سے رہنمائی لیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق کے دوران ماہرین نے مرد و خواتین والدین سے سوالات کیے اور ان سے پوچھا کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور انہیں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟</p>
<p>سروے میں شامل زیادہ تر والدین نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر دوسرے والدین کے مواد اور ہدایات سے رہنمائی لیتے ہیں۔</p>
<p>بچوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سوشل میڈیا سے رہنمائی لینے والی زیادہ تر مائیں تھیں، تاہم مرد والدین نے بھی اعتراف کیا کہ وہ بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔</p>
<p>سروے ان والدین سے کیا گیا تھا جن کے بچوں کی عمر زیادہ سے زیادہ چار سال تک تھی۔</p>
<p>والدین نے بتایاکہ وہ زیادہ تر کم سن بچوں کے ٹوائلیٹ کرنے سے متعلق رہنمائی کا مواد سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>سروے میں شامل 44 فیصد والدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر بچوں کے ٹوائلیٹ کے مسائل میں مدد جب کہ 42 فیصد والدین نے بتایا کہ وہ بچوں کو جلد سلانے کے حوالے سے بتائی جانے والی ترکیبوں کو دیکھتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح بہت سارے والدین نے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ اور دیگر غذائیں کھلانے کے حوالے سے رہنمائی کے لیے بھی سوشل میڈیا کی مدد لینے کا اعتراف کیا۔</p>
<p>اگرچہ زیادہ تر والدین نے سوشل میڈیا کو مثبت قرار دیا، تاہم والدین نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ دوسرے والدین اپنے کم سن بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بچوں کی رضامندی کے بغیر شیئر کر رہے ہیں جو کہ اخلاقی طور پر غلط ہے۔</p>
<p>اسی طرح بعض افراد نے یہ شکایت بھی کی کہ والدین بچوں کے مسائل کو حل کرنے کا مواد شیئر کرتے وقت کچھ انتہائی ذاتی معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر نئے والدین نے بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کو فائدہ مند قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/11/241850024572156.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217177</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Nov 2023 22:21:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/24185124e5be6ad.png?r=185146" type="image/png" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/24185124e5be6ad.png?r=185146"/>
        <media:title>—فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ کا بچہ بھی اسکول میں اچھا اور گھر میں بُرا برتاؤ کرتا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216148/</link>
      <description>&lt;p&gt;والدین اس بات سے واقف ہوں گے کہ ان کا بچہ اسکول میں استاد اور دیگر لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کر رہا ہے لیکن گھر میں ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے، آخر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ نے بعض اوقات اپنے بچوں میں یہ تبدیلی دیکھی ہے کہ جب وہ اپنے دوستوں کے گھر جاتے ہیں تو ایک دوسرے سے نرم مزاج کے ساتھ ’پلیز‘ یا ’شکریہ‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن گھر آنے کے بعد ان کے مزاج میں تبدیلی آجاتی ہے اور وہ آپ سے کبھی کبھار بدتمیزی کرنے لگ جاتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وہ پڑوسیوں سے ملنے جاتے ہیں تو تمام اصولوں پر عمل کرتے ہیں لیکن اپنے گھر میں زور سے دروازہ بند کرتے ہیں یا تیز آواز میں بولتے ہیں یا پھر انہیں مسلسل تمیز کے دائرے میں رہنے کے اصول یاد کروائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے ایسے رویے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، اسی بارے میں ہم آج یہاں بات کریں گے اور ساتھ ہی ہم اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/1315144128614bc.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچے-فطری-طور-پر-متجسس-ہوتے-ہیں" href="#بچے-فطری-طور-پر-متجسس-ہوتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچے فطری طور پر متجسس ہوتے ہیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گارجین کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/lifeandstyle/2023/nov/13/are-your-kids-good-around-other-people-but-behave-badly-with-you-its-all-about-consequences"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کرٹن یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹرویور میزوچلی کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ کھیلنے کے بعد یا اسکول میں ایک لمبا دن گزارنے کے بعد جب چھوٹے بچے تھک جاتے ہیں تو ان کے اندر توانائی کم رہ جاتی ہے، بچے فطری طور پر متجسس ہوتے ہیں اور وہ بعض اوقات غلط برتاؤ صرف یہ دیکھنے کے لیے کرتے ہیں کہ اب کیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ کچھ بچے دوسروں کے مقابلے بہت زیادہ بُرا برتاؤ کرتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچے اس طرح کا برتاؤ کیوں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شروع سے ہی بچے جو کام کرتے ہیں اس کے پیچھے وجوہات جلد معلوم ہوجاتی ہیں،  مثال کے طور پر بچے رونے کے ذریعے بتاتے ہیں کہ انہیں فلاں چیز چاہیے یا والدین کو فوری طور پر پتا چل جاتا ہے کہ گیلے ڈائپر کو تبدیل کرنے یا انہیں کھانا کھلانے سے بچہ رونا شروع کردے گا، جب بچہ مسکراتا ہے تو آپ بھی عموماً مسکراتے ہیں یا انہیں گلے لگ کر پیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا بچے جلد سمجھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے رویے یا اشاروں سے دوسروں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچے-والدین-کا-بُرا-رویہ-فوری-سیکھ-جاتے-ہیں" href="#بچے-والدین-کا-بُرا-رویہ-فوری-سیکھ-جاتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بچے والدین کا بُرا رویہ فوری سیکھ جاتے ہیں‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر ٹرویور میزوچلی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات جب والدین یا بہن بھائی غلط برتاؤ پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں تو بچے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ برا رویہ یا بُرا سلوک کرنے سے وہ کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں، اس طرح بچے یہ سیکھتے ہیں کہ بُرا رویہ کرنے سے انہیں کیا سزا مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پتا چلتا ہے کہ جب وہ اپنے بڑوں کی ہدایات پر عمل نہیں کریں گے اور اس کے خلاف جائیں گے تو والدین ان پر اضافی توجہ دیتے ہیں، اس توجہ کے نتیجے میں بچے آپ سے بحث کرتے ہیں یا آپ انہیں بار بار کسی بات کے بارے میں یاد دہانی کرواتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران بچے یہ بھی سیکھتے ہیں کہ جب وہ رونا شروع کریں گے تو انہیں ان کی پسند کی چیزیں مل جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/13151442b1bd3d0.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچے-اسکول-میں-اچھا-برتاؤ-کیوں-کرتے-ہیں" href="#بچے-اسکول-میں-اچھا-برتاؤ-کیوں-کرتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بچے اسکول میں اچھا برتاؤ کیوں کرتے ہیں؟‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جب بچے ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے وہ اتنے مانوس نہیں ہوتے ہیں، تو انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لوگ ان کے رویے پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے،  ان حالات میں اچھا برتاؤ کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے گھر کے مقابلے اسکول میں بھی بہتر کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ استاد ہوتا ہے جو جماعت میں بہتر نظام لے کر چلتا ہے، مثال کے طور پر وہ بچوں کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہیں، اچھے برتاؤ کے لیے ان کی تعریف کی جاتی ہے اور انعامات دیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="والدین-کیا-کر-سکتے-ہیں" href="#والدین-کیا-کر-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;والدین کیا کر سکتے ہیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اچھی بات یہ ہے کہ اگر بچے ایک جگہ پر اچھا برتاؤ کرتے ہیں، جیسا کہ اسکول میں، تو وہ گھر میں بھی ایسا ہی برتاؤ کر سکتے ہیں، اگر والدین اپنی طرف سے تھوڑی سے کوشش کریں تو ایسا ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے پروفیسر ٹرویور میزوچلی نے والدین کو مشورے دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچوں-کے-ساتھ-روٹین-مرتب-کریں" href="#بچوں-کے-ساتھ-روٹین-مرتب-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچوں کے ساتھ روٹین مرتب کریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جب آپ کا بچہ اسکول یا باہر سے گھر آتا ہے تو انہیں تھوڑا آرام کرنے دیں، صحت بخش ناشتہ فراہم کریں اور پھر تفریحی اور دلچسپ سرگرمیوں  میں مشغول رہنے کی کوشش کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی سرگرمیوں کے ساتھ آپ بھی ان کے ساتھ حصہ لیں، مثال کے طور پر رنگ بھرنا، ورزش کرنا، بھاگنا وغیرہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/131514423929ca8.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گھر-کے-اصول-طے-کریں" href="#گھر-کے-اصول-طے-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گھر کے اصول طے کریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گھر میں کچھ سادہ اصول طے کریں جس سے یہ واضح ہو کہ آپ ان سے کیسا سلوک کرنے کی توقع رکھتے ہیں، مثال کے طور پر دھیمی آواز میں بات کرنا، کھلونوں سے کھیلنے کے بعد انہیں ڈبے میں رکھ لینا وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچوں-کے-اچھے-سلوک-کو-نوٹ-کریں" href="#بچوں-کے-اچھے-سلوک-کو-نوٹ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچوں کے اچھے سلوک کو نوٹ کریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اپنے بچوں کی اچھی عادات پر ان کی تعریف کریں، انہیں انعام دیں، اگر آپ صرف ان کے بُرے رویے پر توجہ دیں گے تو بچہ مزید چڑچڑاہٹ کا شکار ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اپنے-بچوں-کے-ساتھ-تھوڑا-وقت-گزاریں" href="#اپنے-بچوں-کے-ساتھ-تھوڑا-وقت-گزاریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اپنے بچوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزاریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;والدین کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلے وقت گزاریں، ایسا کرنے سے بچہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ سے مدد طلب کر سکتا ہے، والدین کے اس رویے سے بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والدین ہر وقت ان کے ساتھ موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>والدین اس بات سے واقف ہوں گے کہ ان کا بچہ اسکول میں استاد اور دیگر لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کر رہا ہے لیکن گھر میں ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے، آخر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟</p>
<p>کیا آپ نے بعض اوقات اپنے بچوں میں یہ تبدیلی دیکھی ہے کہ جب وہ اپنے دوستوں کے گھر جاتے ہیں تو ایک دوسرے سے نرم مزاج کے ساتھ ’پلیز‘ یا ’شکریہ‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن گھر آنے کے بعد ان کے مزاج میں تبدیلی آجاتی ہے اور وہ آپ سے کبھی کبھار بدتمیزی کرنے لگ جاتے ہیں؟</p>
<p>جب وہ پڑوسیوں سے ملنے جاتے ہیں تو تمام اصولوں پر عمل کرتے ہیں لیکن اپنے گھر میں زور سے دروازہ بند کرتے ہیں یا تیز آواز میں بولتے ہیں یا پھر انہیں مسلسل تمیز کے دائرے میں رہنے کے اصول یاد کروائے جاتے ہیں۔</p>
<p>بچوں کے ایسے رویے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، اسی بارے میں ہم آج یہاں بات کریں گے اور ساتھ ہی ہم اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/1315144128614bc.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="بچے-فطری-طور-پر-متجسس-ہوتے-ہیں" href="#بچے-فطری-طور-پر-متجسس-ہوتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچے فطری طور پر متجسس ہوتے ہیں</h3>
<p>گارجین کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/lifeandstyle/2023/nov/13/are-your-kids-good-around-other-people-but-behave-badly-with-you-its-all-about-consequences">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کرٹن یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹرویور میزوچلی کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ کھیلنے کے بعد یا اسکول میں ایک لمبا دن گزارنے کے بعد جب چھوٹے بچے تھک جاتے ہیں تو ان کے اندر توانائی کم رہ جاتی ہے، بچے فطری طور پر متجسس ہوتے ہیں اور وہ بعض اوقات غلط برتاؤ صرف یہ دیکھنے کے لیے کرتے ہیں کہ اب کیا ہوتا ہے۔</p>
<p>البتہ کچھ بچے دوسروں کے مقابلے بہت زیادہ بُرا برتاؤ کرتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچے اس طرح کا برتاؤ کیوں کرتے ہیں۔</p>
<p>شروع سے ہی بچے جو کام کرتے ہیں اس کے پیچھے وجوہات جلد معلوم ہوجاتی ہیں،  مثال کے طور پر بچے رونے کے ذریعے بتاتے ہیں کہ انہیں فلاں چیز چاہیے یا والدین کو فوری طور پر پتا چل جاتا ہے کہ گیلے ڈائپر کو تبدیل کرنے یا انہیں کھانا کھلانے سے بچہ رونا شروع کردے گا، جب بچہ مسکراتا ہے تو آپ بھی عموماً مسکراتے ہیں یا انہیں گلے لگ کر پیار کرتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا بچے جلد سمجھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے رویے یا اشاروں سے دوسروں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔</p>
<h3><a id="بچے-والدین-کا-بُرا-رویہ-فوری-سیکھ-جاتے-ہیں" href="#بچے-والدین-کا-بُرا-رویہ-فوری-سیکھ-جاتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بچے والدین کا بُرا رویہ فوری سیکھ جاتے ہیں‘</h3>
<p>پروفیسر ٹرویور میزوچلی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات جب والدین یا بہن بھائی غلط برتاؤ پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں تو بچے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ برا رویہ یا بُرا سلوک کرنے سے وہ کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں، اس طرح بچے یہ سیکھتے ہیں کہ بُرا رویہ کرنے سے انہیں کیا سزا مل سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پتا چلتا ہے کہ جب وہ اپنے بڑوں کی ہدایات پر عمل نہیں کریں گے اور اس کے خلاف جائیں گے تو والدین ان پر اضافی توجہ دیتے ہیں، اس توجہ کے نتیجے میں بچے آپ سے بحث کرتے ہیں یا آپ انہیں بار بار کسی بات کے بارے میں یاد دہانی کرواتے ہیں۔</p>
<p>اس دوران بچے یہ بھی سیکھتے ہیں کہ جب وہ رونا شروع کریں گے تو انہیں ان کی پسند کی چیزیں مل جائیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/13151442b1bd3d0.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="بچے-اسکول-میں-اچھا-برتاؤ-کیوں-کرتے-ہیں" href="#بچے-اسکول-میں-اچھا-برتاؤ-کیوں-کرتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بچے اسکول میں اچھا برتاؤ کیوں کرتے ہیں؟‘</h3>
<p>جب بچے ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے وہ اتنے مانوس نہیں ہوتے ہیں، تو انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لوگ ان کے رویے پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے،  ان حالات میں اچھا برتاؤ کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>بچے گھر کے مقابلے اسکول میں بھی بہتر کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ استاد ہوتا ہے جو جماعت میں بہتر نظام لے کر چلتا ہے، مثال کے طور پر وہ بچوں کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہیں، اچھے برتاؤ کے لیے ان کی تعریف کی جاتی ہے اور انعامات دیے جاتے ہیں۔</p>
<h3><a id="والدین-کیا-کر-سکتے-ہیں" href="#والدین-کیا-کر-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>والدین کیا کر سکتے ہیں؟</h3>
<p>اچھی بات یہ ہے کہ اگر بچے ایک جگہ پر اچھا برتاؤ کرتے ہیں، جیسا کہ اسکول میں، تو وہ گھر میں بھی ایسا ہی برتاؤ کر سکتے ہیں، اگر والدین اپنی طرف سے تھوڑی سے کوشش کریں تو ایسا ممکن ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے پروفیسر ٹرویور میزوچلی نے والدین کو مشورے دیے ہیں۔</p>
<h3><a id="بچوں-کے-ساتھ-روٹین-مرتب-کریں" href="#بچوں-کے-ساتھ-روٹین-مرتب-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچوں کے ساتھ روٹین مرتب کریں</h3>
<p>جب آپ کا بچہ اسکول یا باہر سے گھر آتا ہے تو انہیں تھوڑا آرام کرنے دیں، صحت بخش ناشتہ فراہم کریں اور پھر تفریحی اور دلچسپ سرگرمیوں  میں مشغول رہنے کی کوشش کروائیں۔</p>
<p>بچوں کی سرگرمیوں کے ساتھ آپ بھی ان کے ساتھ حصہ لیں، مثال کے طور پر رنگ بھرنا، ورزش کرنا، بھاگنا وغیرہ</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/131514423929ca8.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="گھر-کے-اصول-طے-کریں" href="#گھر-کے-اصول-طے-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گھر کے اصول طے کریں</h3>
<p>گھر میں کچھ سادہ اصول طے کریں جس سے یہ واضح ہو کہ آپ ان سے کیسا سلوک کرنے کی توقع رکھتے ہیں، مثال کے طور پر دھیمی آواز میں بات کرنا، کھلونوں سے کھیلنے کے بعد انہیں ڈبے میں رکھ لینا وغیرہ۔</p>
<h3><a id="بچوں-کے-اچھے-سلوک-کو-نوٹ-کریں" href="#بچوں-کے-اچھے-سلوک-کو-نوٹ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچوں کے اچھے سلوک کو نوٹ کریں</h3>
<p>اپنے بچوں کی اچھی عادات پر ان کی تعریف کریں، انہیں انعام دیں، اگر آپ صرف ان کے بُرے رویے پر توجہ دیں گے تو بچہ مزید چڑچڑاہٹ کا شکار ہوسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="اپنے-بچوں-کے-ساتھ-تھوڑا-وقت-گزاریں" href="#اپنے-بچوں-کے-ساتھ-تھوڑا-وقت-گزاریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اپنے بچوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزاریں</h3>
<p>والدین کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلے وقت گزاریں، ایسا کرنے سے بچہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ سے مدد طلب کر سکتا ہے، والدین کے اس رویے سے بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والدین ہر وقت ان کے ساتھ موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216148</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Nov 2023 15:48:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/131514417bd48fa.jpg?r=154812" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/131514417bd48fa.jpg?r=154812"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسٹاک امیجز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے کی پیدائش کے بعد والدین پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے کس طرح بچ سکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215341/</link>
      <description>&lt;p&gt;بچے کی پیدائش کے بعد اکثر والدین پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے گزرتے ہیں، یہ ایک ایسی حالت ہے جب زیادہ تر ماؤں کے اندر ہارمونل تبدیلیوں، جذباتی تناؤ، خالی پن، یا ناامیدی کے احساس کی وجہ منفی خیالات آتے ہیں اور ہمارے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کو روکنے کا کوئی واحد حل نہیں ہےلیکن ایسے کئی اقدامات ہیں جس کی مدد سے والدین ڈپریشن سے بچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڑے کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہوتا ہے تو نئی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں، حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد کم از کم پہلے 3 سے 4 ہفتوں کے دوران ڈپریشن کے اثرات نظر آنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لازمی نہیں ہے کہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن صرف ماں پر ہی اثر انداز ہو، اس مرض سے باپ بھی متاثر ہوسکتا ہے، لیکن بعض تحقیق کے مطابق ماں کے متاثر ہونے کا تناسب باپ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق 5 ہزار خواتین پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 4 میں سے ایک خاتون بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چند ہفتے ماں اپنے بچے کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں مصروف رہتی ہے لیکن یہ وہ وقت بھی ہے جب ماں کی صحت نازک ہوتی ہے، ان کی جسمانی، جذباتی اور ذہنی صحت کی مناسب دیکھ بھال کی ضروری ہے، ایسا نہ کرنے سے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/04140904433226b.png'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پوسٹ-پارٹم-ڈپریشن-کیا-ہے" href="#پوسٹ-پارٹم-ڈپریشن-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پوسٹ پارٹم ڈپریشن کیا ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کے لیے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک عام عارضہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپریشن کے دوران ماں کے ذہن میں منفی خیالات، اپنے آپ کو یا اپنے بچے کو نقصان پہنچنے کے خیالات آتے ہیں، اس مرض کا دوسرا سب سے بڑا اثر مریض پر غنودگی طاری ہونا اور منہ خشک ہوجانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="والدین-کو-ایسے-وقت-میں-کیا-کرنا-چاہیے" href="#والدین-کو-ایسے-وقت-میں-کیا-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;والدین کو ایسے وقت میں کیا کرنا چاہیے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;زچگی کے بعد ڈپریشن ایک ذہنی صحت کی حالت ہے جس کا شکار بہت سی نئی مائیں ہوتی ہیں، لیکن اس کی تشخیص اور علاج شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جذباتی، جسمانی، اور رویے کی تبدیلیوں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آپ جسمانی طور پر کمزور اور جذباتی طور پر پریشان محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر ماں یا باپ بچے کی پیدائش کے بعد دو ہفتوں سے زیادہ وقت تک مزاج میں تبدیلی یا افسردگی کے احساس میں مبتلا ہے تو یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہو سکتا ہے، اگر نئی ماؤں کو چار ہفتوں سے زیادہ وقت تک خالی پن یا اداسی کا احساس ہوتا ہے تو وہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے نئے والدین کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں کیا کرنا چاہیے اس حوالے سے نیچے دی گئی کچھ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/health/womens-health/postpartum-depression-support/"&gt;ہدایات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر عمل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/041409493fee3e0.png'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آرام-کریں" href="#آرام-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آرام کریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چند ہفتے یا ایک ماہ تک زیادہ سے زیادہ آرام کریں، نیند کی کمی انزائٹی کو بڑھا سکتی ہے اور مزاج میں چڑچڑاپن بھی آسکتا ہے اور آپ کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائسنس یافتہ کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر اشورینا ریم کا کہنا ہے کہ ذہنی سکون کے لیے ماں کے لیے آرام کرنا بے حد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="صحت-مند-لائف-اسٹائل" href="#صحت-مند-لائف-اسٹائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صحت مند لائف اسٹائل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صحت مند غذا اور ورزش روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور مناسب غذائیت صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاملہ ہونے کے دوران ذہنی طور پر تیار رہیں  کہ نومولود بچے کے ساتھ پہلے کچھ ماہ تھکاوٹ  محسوس کرنا معمول ہے، اس دوران خود پر ذہنی دباؤ ڈالنے سے پرہیز کریں اور اگر کوئی غلطی ہورہی ہے تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ماہر-نفسیات-سے-رجوع-کریں" href="#ماہر-نفسیات-سے-رجوع-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ماہر نفسیات سے رجوع کریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;’اگر کوئی عورت بچے کی پیدائش کے بعد انزائٹی محسوس کرتی ہے تو فوراً اپنے ڈاکٹر کے پاس جائے اور اس کا باقاعدہ علاج کروائے، ماہر نفسیات سے بات کرنے سے یا مشورہ کرنے سے ہی مسئلے حل ہو جائیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ تر لوگ کسی سے مدد طلب نہیں کرتے جس کی وجہ سے انہیں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا معلوم نہیں ہوتا، یہ انتہانی غلط ہے کہ ان بیماریوں کو خود سے ہی گھر میں ٹھیک کرنے کا سوچا جاتا ہے کیونکہ معاشرے میں آگاہی نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ڈاکٹرز یا ماہرین سے رجوع لازمی کریں، ان حالات میں جوڑے کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے احساسات اور خدشات کا بات چیت کے ذریعے حل نکالیں اور بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بچے کی پیدائش کے بعد اکثر والدین پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے گزرتے ہیں، یہ ایک ایسی حالت ہے جب زیادہ تر ماؤں کے اندر ہارمونل تبدیلیوں، جذباتی تناؤ، خالی پن، یا ناامیدی کے احساس کی وجہ منفی خیالات آتے ہیں اور ہمارے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کو روکنے کا کوئی واحد حل نہیں ہےلیکن ایسے کئی اقدامات ہیں جس کی مدد سے والدین ڈپریشن سے بچ سکتے ہیں۔</p>
<p>جوڑے کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہوتا ہے تو نئی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں، حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد کم از کم پہلے 3 سے 4 ہفتوں کے دوران ڈپریشن کے اثرات نظر آنے لگتے ہیں۔</p>
<p>لازمی نہیں ہے کہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن صرف ماں پر ہی اثر انداز ہو، اس مرض سے باپ بھی متاثر ہوسکتا ہے، لیکن بعض تحقیق کے مطابق ماں کے متاثر ہونے کا تناسب باپ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔</p>
<p>نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق 5 ہزار خواتین پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 4 میں سے ایک خاتون بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا رہتی ہیں۔</p>
<p>بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چند ہفتے ماں اپنے بچے کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں مصروف رہتی ہے لیکن یہ وہ وقت بھی ہے جب ماں کی صحت نازک ہوتی ہے، ان کی جسمانی، جذباتی اور ذہنی صحت کی مناسب دیکھ بھال کی ضروری ہے، ایسا نہ کرنے سے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/04140904433226b.png'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="پوسٹ-پارٹم-ڈپریشن-کیا-ہے" href="#پوسٹ-پارٹم-ڈپریشن-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پوسٹ پارٹم ڈپریشن کیا ہے؟</h3>
<p>بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کے لیے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک عام عارضہ ہے۔</p>
<p>ڈپریشن کے دوران ماں کے ذہن میں منفی خیالات، اپنے آپ کو یا اپنے بچے کو نقصان پہنچنے کے خیالات آتے ہیں، اس مرض کا دوسرا سب سے بڑا اثر مریض پر غنودگی طاری ہونا اور منہ خشک ہوجانا ہے۔</p>
<h3><a id="والدین-کو-ایسے-وقت-میں-کیا-کرنا-چاہیے" href="#والدین-کو-ایسے-وقت-میں-کیا-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>والدین کو ایسے وقت میں کیا کرنا چاہیے؟</h3>
<p>زچگی کے بعد ڈپریشن ایک ذہنی صحت کی حالت ہے جس کا شکار بہت سی نئی مائیں ہوتی ہیں، لیکن اس کی تشخیص اور علاج شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ جذباتی، جسمانی، اور رویے کی تبدیلیوں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آپ جسمانی طور پر کمزور اور جذباتی طور پر پریشان محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر ماں یا باپ بچے کی پیدائش کے بعد دو ہفتوں سے زیادہ وقت تک مزاج میں تبدیلی یا افسردگی کے احساس میں مبتلا ہے تو یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہو سکتا ہے، اگر نئی ماؤں کو چار ہفتوں سے زیادہ وقت تک خالی پن یا اداسی کا احساس ہوتا ہے تو وہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>اس لیے نئے والدین کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں کیا کرنا چاہیے اس حوالے سے نیچے دی گئی کچھ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/health/womens-health/postpartum-depression-support/">ہدایات</a></strong> پر عمل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/041409493fee3e0.png'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="آرام-کریں" href="#آرام-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آرام کریں</h3>
<p>بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چند ہفتے یا ایک ماہ تک زیادہ سے زیادہ آرام کریں، نیند کی کمی انزائٹی کو بڑھا سکتی ہے اور مزاج میں چڑچڑاپن بھی آسکتا ہے اور آپ کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>لائسنس یافتہ کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر اشورینا ریم کا کہنا ہے کہ ذہنی سکون کے لیے ماں کے لیے آرام کرنا بے حد ضروری ہے۔</p>
<h3><a id="صحت-مند-لائف-اسٹائل" href="#صحت-مند-لائف-اسٹائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صحت مند لائف اسٹائل</h3>
<p>صحت مند غذا اور ورزش روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور مناسب غذائیت صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔</p>
<p>حاملہ ہونے کے دوران ذہنی طور پر تیار رہیں  کہ نومولود بچے کے ساتھ پہلے کچھ ماہ تھکاوٹ  محسوس کرنا معمول ہے، اس دوران خود پر ذہنی دباؤ ڈالنے سے پرہیز کریں اور اگر کوئی غلطی ہورہی ہے تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔</p>
<h3><a id="ماہر-نفسیات-سے-رجوع-کریں" href="#ماہر-نفسیات-سے-رجوع-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ماہر نفسیات سے رجوع کریں</h3>
<p>’اگر کوئی عورت بچے کی پیدائش کے بعد انزائٹی محسوس کرتی ہے تو فوراً اپنے ڈاکٹر کے پاس جائے اور اس کا باقاعدہ علاج کروائے، ماہر نفسیات سے بات کرنے سے یا مشورہ کرنے سے ہی مسئلے حل ہو جائیں گے۔‘</p>
<p>ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ تر لوگ کسی سے مدد طلب نہیں کرتے جس کی وجہ سے انہیں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا معلوم نہیں ہوتا، یہ انتہانی غلط ہے کہ ان بیماریوں کو خود سے ہی گھر میں ٹھیک کرنے کا سوچا جاتا ہے کیونکہ معاشرے میں آگاہی نہیں ہوتی۔</p>
<p>اس لیے ڈاکٹرز یا ماہرین سے رجوع لازمی کریں، ان حالات میں جوڑے کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اپنے احساسات اور خدشات کا بات چیت کے ذریعے حل نکالیں اور بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215341</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Nov 2023 17:00:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/041408015c4acce.jpg?r=140808" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/041408015c4acce.jpg?r=140808"/>
        <media:title>فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھر سے باہر کھیلنے کی سرگرمی بچوں میں خود اعتمادی کیسے بڑھائی جاسکتی ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214455/</link>
      <description>&lt;p&gt;بچوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو بچے چیلنجز کا سامنا نہیں کرتے، گھر سے باہر مختلف سرگرمیوں میں مشغول نہیں ہوتے انہیں مستقبل میں مسائل حل کرنے، خود اعتمادی، لیڈرشپ کے علاوہ دیگر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے بچوں کے اندر خود اعتمادی بڑھانے اور رسک لینے میں مدد کے لیے ان کا گھر سے باہر کھیلنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/10/13/health/children-risks-outdoor-play-wellness-partner/index.html"&gt;تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں والدین سے پوچھا گیا کہ وہ کھیل کے میدان میں بچوں کے کھیلنے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جس پر کئی والدین کا کہنا تھا کہ آؤٹ ڈور پلے پارکس بچوں کے لیے بہترین ہیں، ایسی جگہوں پر بچے مختلف چیلنجز سے گزرتے ہیں اور بہتر سیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیلنجنگ کام یا رسک لینے کا مطلب ہے کہ ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا جہاں آپ جسمانی، سماجی، جذباتی یا مالی لحاظ سے بےیقینی کا شکار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرات ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ ہے اور یہ کئی شکلوں میں آسکتا ہے، اور ان خطرات کو سمجھنا اور اس کا ردعمل دینا بچوں کی نشوونما کا ایک اہم حصہ ہے، 1998 میں امریکی ماہر تعلیم جیف لڈل نے نشاندہی کی تھی کہ زندگی بھر مختلف چیزیں سیکھنے کے لیے خطرات مول لینا اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے یہ صلاحیت پیدا کرنے کےلیے بچوں کو چھوٹی عمر (تقریباً 6 سے 7 سال کے بعد) سے سکھانا ضروری ہے، مثال کے طور پر درختوں پر چڑھنا، مٹی سے کھیلنا، سیڑھی کی مدد سے دیوار چڑھنا وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/261454527c99f88.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="تحقیق" href="#تحقیق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تحقیق&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;نئی تحقیق میں محققین نے آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلز کے ایک پارک میں بچوں کے رسک لینے سے متعلق والدین سے کچھ سوالات پوچھے، تحقیق میں 302 لوگوں کا سروے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارک میں سلائیڈز اور رسی کی مدد سے دیوار چڑھنا اور اس کے علاوہ پانی، پتھر، لکڑی، ریت کی مختلف سرگرمیاں موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="فائدے" href="#فائدے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فائدے&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں والدین سے چیلنجنگ گیمز یا گھر سے باہر کھیلنے کے بارے پوچھا گیا جس پر انہوں نے بتایا کہ آؤٹ ڈور پلے گیمز بچوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایسی سرگرمیوں سے بچے خود مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خود کو چیلنج کرتے ہیں، قدرتی ماحول سے جڑے رہتے ہیں، نقصان کی ذمہ داری خود لیتے ہیں، جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں، تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، پُراعتماد اور آزاد رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین نے بتایا کہ ’رسک لینے سے متعلق بچوں کو خود فیصلہ کرنے دیں کہ یہ کام انہیں کرنا ہے یا نہیں، یا وہ کتنی تیزی سے یہ کام کرسکتے ہیں۔ ’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/261455165cbfda6.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="گھر-سے-باہر-کھیلنے-میں-بچوں-کی-مدد-کرنے-کے-لیے-آپ-کیا-کرسکتے-ہیں" href="#گھر-سے-باہر-کھیلنے-میں-بچوں-کی-مدد-کرنے-کے-لیے-آپ-کیا-کرسکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گھر سے باہر کھیلنے میں بچوں کی مدد کرنے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;گھر سے باہر کھیلنے میں والدین بچوں کی مختلف طریقوں سے مدد کرسکتے ہیں جن میں کچھ نیچے دی گئی باتیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1۔ کھیل کے میدان جسمانی اور سماجی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے اپنے بچے کے لیے پارک میں نئی ​​چیزیں آزمانے کے لیے تیار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2۔ والدین مدد کرنے کے لیے تیار رہیں:&lt;/strong&gt;  گھر سے باہر کچھ سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں والدین کچھ دور تک بچوں کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں کہ وہ جو چاہے کرسکتے ہیں، لیکن بعض اوقات والدین کو بچوں پر نظر رکھنا ضروری ہے، جہاں زیادہ مدد کی ضرورت ہو وہاں بچوں کے کھیل میں مدخلت کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ انہیں ہر کام کے لیے نہ روکیں کیونکہ بچے آزاد ماحول میں کھیلنا ہی پسند کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کریں:&lt;/strong&gt; اکثر والدین بچوں کو کھیل کے دوران ’آرام سے‘ لازمی کہتے ہیں، محققین کا ماننا ہے یہ بات سچ ہے کہ والدین ایسے الفاظ بچوں کی فکر میں کہتے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے وہ خوفزدہ بھی ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے آپ مختلف طریقوں سے بچوں کو الرٹ رکھ سکتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کہیں سوراخ ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’کیا آپ نے وہاں پر سوراخ دیکھا ہے؟‘، ’چلتے ہوئے اپنی دائیں اور بائیں جانب دیکھو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4۔ بچے کو فیصلہ کرنے دیں:&lt;/strong&gt; کھیل کے دوران بچوں کو خود فیصلہ کرنے دیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، یعنی اگر دیوار پر چڑھ رہے ہیں تو انہیں خود فیصلہ کرنے دیں کہ کتنی لمبائی تک دیوار پر چڑھنا ہے، والدین کو چاہیے کہ بچوں پر اپنے فیصلوں کا دباؤ نہ ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5۔ بچوں کے ساتھ والدین بھی انجوائے کریں:&lt;/strong&gt; بچوں کے کھیل میں والدین بھی خوشی سے حصہ لیں اور اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بچوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو بچے چیلنجز کا سامنا نہیں کرتے، گھر سے باہر مختلف سرگرمیوں میں مشغول نہیں ہوتے انہیں مستقبل میں مسائل حل کرنے، خود اعتمادی، لیڈرشپ کے علاوہ دیگر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس لیے بچوں کے اندر خود اعتمادی بڑھانے اور رسک لینے میں مدد کے لیے ان کا گھر سے باہر کھیلنا ضروری ہے۔</p>
<p>ایک <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/10/13/health/children-risks-outdoor-play-wellness-partner/index.html">تحقیق</a></strong> میں والدین سے پوچھا گیا کہ وہ کھیل کے میدان میں بچوں کے کھیلنے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جس پر کئی والدین کا کہنا تھا کہ آؤٹ ڈور پلے پارکس بچوں کے لیے بہترین ہیں، ایسی جگہوں پر بچے مختلف چیلنجز سے گزرتے ہیں اور بہتر سیکھتے ہیں۔</p>
<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیلنجنگ کام یا رسک لینے کا مطلب ہے کہ ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا جہاں آپ جسمانی، سماجی، جذباتی یا مالی لحاظ سے بےیقینی کا شکار ہوں۔</p>
<p>خطرات ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ ہے اور یہ کئی شکلوں میں آسکتا ہے، اور ان خطرات کو سمجھنا اور اس کا ردعمل دینا بچوں کی نشوونما کا ایک اہم حصہ ہے، 1998 میں امریکی ماہر تعلیم جیف لڈل نے نشاندہی کی تھی کہ زندگی بھر مختلف چیزیں سیکھنے کے لیے خطرات مول لینا اہم ہے۔</p>
<p>اس لیے یہ صلاحیت پیدا کرنے کےلیے بچوں کو چھوٹی عمر (تقریباً 6 سے 7 سال کے بعد) سے سکھانا ضروری ہے، مثال کے طور پر درختوں پر چڑھنا، مٹی سے کھیلنا، سیڑھی کی مدد سے دیوار چڑھنا وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/261454527c99f88.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h4><a id="تحقیق" href="#تحقیق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تحقیق</h4>
<p>نئی تحقیق میں محققین نے آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلز کے ایک پارک میں بچوں کے رسک لینے سے متعلق والدین سے کچھ سوالات پوچھے، تحقیق میں 302 لوگوں کا سروے کیا گیا۔</p>
<p>پارک میں سلائیڈز اور رسی کی مدد سے دیوار چڑھنا اور اس کے علاوہ پانی، پتھر، لکڑی، ریت کی مختلف سرگرمیاں موجود تھیں۔</p>
<h4><a id="فائدے" href="#فائدے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فائدے</h4>
<p>تحقیق میں والدین سے چیلنجنگ گیمز یا گھر سے باہر کھیلنے کے بارے پوچھا گیا جس پر انہوں نے بتایا کہ آؤٹ ڈور پلے گیمز بچوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ایسی سرگرمیوں سے بچے خود مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خود کو چیلنج کرتے ہیں، قدرتی ماحول سے جڑے رہتے ہیں، نقصان کی ذمہ داری خود لیتے ہیں، جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں، تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، پُراعتماد اور آزاد رہتے ہیں۔</p>
<p>والدین نے بتایا کہ ’رسک لینے سے متعلق بچوں کو خود فیصلہ کرنے دیں کہ یہ کام انہیں کرنا ہے یا نہیں، یا وہ کتنی تیزی سے یہ کام کرسکتے ہیں۔ ’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/261455165cbfda6.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<h4><a id="گھر-سے-باہر-کھیلنے-میں-بچوں-کی-مدد-کرنے-کے-لیے-آپ-کیا-کرسکتے-ہیں" href="#گھر-سے-باہر-کھیلنے-میں-بچوں-کی-مدد-کرنے-کے-لیے-آپ-کیا-کرسکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گھر سے باہر کھیلنے میں بچوں کی مدد کرنے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟</h4>
<p>گھر سے باہر کھیلنے میں والدین بچوں کی مختلف طریقوں سے مدد کرسکتے ہیں جن میں کچھ نیچے دی گئی باتیں شامل ہیں۔</p>
<p>1۔ کھیل کے میدان جسمانی اور سماجی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے اپنے بچے کے لیے پارک میں نئی ​​چیزیں آزمانے کے لیے تیار رہیں۔</p>
<p><strong>2۔ والدین مدد کرنے کے لیے تیار رہیں:</strong>  گھر سے باہر کچھ سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں والدین کچھ دور تک بچوں کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں کہ وہ جو چاہے کرسکتے ہیں، لیکن بعض اوقات والدین کو بچوں پر نظر رکھنا ضروری ہے، جہاں زیادہ مدد کی ضرورت ہو وہاں بچوں کے کھیل میں مدخلت کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ انہیں ہر کام کے لیے نہ روکیں کیونکہ بچے آزاد ماحول میں کھیلنا ہی پسند کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>3۔ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کریں:</strong> اکثر والدین بچوں کو کھیل کے دوران ’آرام سے‘ لازمی کہتے ہیں، محققین کا ماننا ہے یہ بات سچ ہے کہ والدین ایسے الفاظ بچوں کی فکر میں کہتے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے وہ خوفزدہ بھی ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بجائے آپ مختلف طریقوں سے بچوں کو الرٹ رکھ سکتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کہیں سوراخ ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’کیا آپ نے وہاں پر سوراخ دیکھا ہے؟‘، ’چلتے ہوئے اپنی دائیں اور بائیں جانب دیکھو‘۔</p>
<p><strong>4۔ بچے کو فیصلہ کرنے دیں:</strong> کھیل کے دوران بچوں کو خود فیصلہ کرنے دیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، یعنی اگر دیوار پر چڑھ رہے ہیں تو انہیں خود فیصلہ کرنے دیں کہ کتنی لمبائی تک دیوار پر چڑھنا ہے، والدین کو چاہیے کہ بچوں پر اپنے فیصلوں کا دباؤ نہ ڈالیں۔</p>
<p><strong>5۔ بچوں کے ساتھ والدین بھی انجوائے کریں:</strong> بچوں کے کھیل میں والدین بھی خوشی سے حصہ لیں اور اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214455</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Oct 2023 17:16:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/26145417a57cfbd.jpg?r=145752" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/26145417a57cfbd.jpg?r=145752"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/261458170d8b0af.jpg?r=171722" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/261458170d8b0af.jpg?r=171722"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑھاپے میں باپ بننے کے کیا خطرات ہوسکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213900/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں سال آپ نے یہ خبر تو سنی ہوگی کہ نامور ہولی وڈ اداکار الپچینو تقریباً 83 سال کی عمر میں باپ بنے ہیں، لیکن بڑھاپے کی عمر میں باپ بننے سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے، آج ہم اس کے بارے میں جانیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال جون میں بولی ووڈ اسٹار اداکار الپچینو کے ہاں 83 برس کی عمر میں چوتھے بچے کی ہیدائش ہوئی تھی، الپچینو کی 29 سالہ گرل فرینڈ نور الفلاح نے ان کے بیٹے رومن کو جنم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھاپے میں باپ بننے کی یہ انوکھی مثال نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی نامور اداکاروں، گلوکاروں یہاں تک کہ سیاستدان بھی بڑھاپے کی عمر میں باپ بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق اب تک کے سب سے بوڑھے والد کی عمر 92 سال تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/191441301c2dc3b.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیجز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20230602-what-are-the-risks-of-being-an-older-father"&gt;بی بی سی فیوچر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی رپورٹ کے مطابق بڑی عمر میں باپ بننا بعض دفعہ متعدد خطرات پیدا کرسکتا ہے، دسمبر 2022 میں یوٹاہ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے محققین کے ایک گروپ نے ’بڑھتی ہوئی پدرانہ عمر‘ اور تولیدی صلاحیت، حمل میں مسائل اور بچے کی صحت پر اس کے اثرات کا ایک جامع جائزہ شائع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بہت سے مطالعات میں الپچینو کی عمر کے مردوں کو شامل نہیں کیا گیا ہوگا، لیکن شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ 40 اور 50 سال کی عمر میں مردوں کے اسپرم پہلے ہی حجم، گنتی، حرکت پذیری کے لحاظ سے کم معیار کے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ بوڑھی عمر میں باپ بننے والے والدین کے بچوں میں جینیاتی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، 1950 کی دہائی سے یہ جانا جاتا ہے کہ عمر رسیدہ مردوں کے بچوں میں جینیاتی عارضے اکونڈروپلاسیا کے ساتھ پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹاہ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی پدرانہ عمر، جیسے ماں کی بڑھتی ہوئی عمر سے اولاد میں صحت کی خرابی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ مردوں کے بچوں کا وزن معمول سے کم ہوتا ہے اور نوزائیدہ بچوں میں دورے پڑنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ صحت اور ممکنہ وجوہات کے مابین تعلق کی جانچ پڑتال کرنے والے ماہرین طریقہ کار مکمل طور پر واضح نہیں ہیں، لہٰذا اس میں دیگر عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ محققین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مردوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے اسپرم بنانے والے خلیات میں تغیرات اور ڈی این اے کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو بعد میں اگلی نسل میں منتقل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں سال آپ نے یہ خبر تو سنی ہوگی کہ نامور ہولی وڈ اداکار الپچینو تقریباً 83 سال کی عمر میں باپ بنے ہیں، لیکن بڑھاپے کی عمر میں باپ بننے سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے، آج ہم اس کے بارے میں جانیں گے۔</p>
<p>رواں سال جون میں بولی ووڈ اسٹار اداکار الپچینو کے ہاں 83 برس کی عمر میں چوتھے بچے کی ہیدائش ہوئی تھی، الپچینو کی 29 سالہ گرل فرینڈ نور الفلاح نے ان کے بیٹے رومن کو جنم دیا تھا۔</p>
<p>بڑھاپے میں باپ بننے کی یہ انوکھی مثال نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی نامور اداکاروں، گلوکاروں یہاں تک کہ سیاستدان بھی بڑھاپے کی عمر میں باپ بنے ہیں۔</p>
<p>گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق اب تک کے سب سے بوڑھے والد کی عمر 92 سال تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/191441301c2dc3b.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیجز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیجز</figcaption>
    </figure></p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20230602-what-are-the-risks-of-being-an-older-father">بی بی سی فیوچر</a></strong> کی رپورٹ کے مطابق بڑی عمر میں باپ بننا بعض دفعہ متعدد خطرات پیدا کرسکتا ہے، دسمبر 2022 میں یوٹاہ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے محققین کے ایک گروپ نے ’بڑھتی ہوئی پدرانہ عمر‘ اور تولیدی صلاحیت، حمل میں مسائل اور بچے کی صحت پر اس کے اثرات کا ایک جامع جائزہ شائع کیا تھا۔</p>
<p>اگرچہ بہت سے مطالعات میں الپچینو کی عمر کے مردوں کو شامل نہیں کیا گیا ہوگا، لیکن شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ 40 اور 50 سال کی عمر میں مردوں کے اسپرم پہلے ہی حجم، گنتی، حرکت پذیری کے لحاظ سے کم معیار کے ہوتے ہیں۔</p>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ بوڑھی عمر میں باپ بننے والے والدین کے بچوں میں جینیاتی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، 1950 کی دہائی سے یہ جانا جاتا ہے کہ عمر رسیدہ مردوں کے بچوں میں جینیاتی عارضے اکونڈروپلاسیا کے ساتھ پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔</p>
<p>یوٹاہ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی پدرانہ عمر، جیسے ماں کی بڑھتی ہوئی عمر سے اولاد میں صحت کی خرابی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ مردوں کے بچوں کا وزن معمول سے کم ہوتا ہے اور نوزائیدہ بچوں میں دورے پڑنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ صحت اور ممکنہ وجوہات کے مابین تعلق کی جانچ پڑتال کرنے والے ماہرین طریقہ کار مکمل طور پر واضح نہیں ہیں، لہٰذا اس میں دیگر عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>البتہ محققین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مردوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے اسپرم بنانے والے خلیات میں تغیرات اور ڈی این اے کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو بعد میں اگلی نسل میں منتقل ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213900</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Oct 2023 18:14:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/19144038d64fbfb.jpg?r=181449" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/19144038d64fbfb.jpg?r=181449"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ٹوئٹر/اسٹینفورڈ یونیورسٹی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کیسے کی جائے ؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213502/</link>
      <description>&lt;p&gt;پیرنٹنگ کا نام سن کر دماغ میں پہلا خیال ’بچوں کی پرورش‘ یا ان کی دیکھ بھال کا آتا ہے لیکن پیرنٹنگ کی تعریف صرف یہاں تک محدود نہیں ہے، اس کا پیمانہ بہت وسیع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی دیکھ بھال کے علاوہ اس میں والدین کی دیکھ بھال کا موضوع بھی شامل ہے، ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر چیز کو بدلنے میں دیر نہیں لگتی یعنی دنیا جدت کی طرف جارہی ہے اور انسان اپنی اپنی زندگیوں میں مزید مصروف ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران اکثر اوقات آپ اپنے والدین کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں، جی ہاں، ہم میں سے بہت سے لوگ، خاص طور پر جن کی اپنی اولاد ہیں اور ایک ہی وقت میں اپنے بچوں اور اپنے والدین کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں سرانجام دینے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں والدین کو سرگرمی میں مصروف رکھنے، دماغ کو چاق و چوبند رکھنے اور صحت مند رکھنے کے کئی طریقوں میں کچھ طریقے ٹیکنالوجی، خوراک میں پروٹین اور روزانہ چہل قدمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو اس کی تیز رفتار ترقی نے خاص طور پر کووڈ-19 کے بعد بہت ساری چیزیں ٹیکنالوجی میں بدل چکی ہیں، جس کی وجہ سے کئی بوڑھے والدین سمیت دیگر افراد الجھن اور مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی کچھ مثالیں یہ ہیں کہ کچھ لوگ اپنے والدین کو اب آن لائن بینکنگ سسٹم کی تعلیم دے رہے ہیں جن کا استعمال کرنا مشکل ہے، اس کے علاوہ فریج الارم کے علاوہ دیگر ایپس اور جدید فون جو عمر رسیدہ والدین کے لیے استعمال کرنا مشکل ہے جنہوں نے چیزوں کے کام کرنے کا طریقہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/12151013c8348ae.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیچز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیچز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گارجین کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/lifeandstyle/2023/oct/10/walks-tech-and-protein-how-to-parent-your-own-parents"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے لیے ٹیکنالوجی بہت زیادہ فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کچھ تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے کچھ فوائد بھ ہوسکتے ہیں مثال کے طور پر یونیورسٹی آف ٹیکساس کی ایک حالیہ تحقیق میں 200 سے زائد بوڑھے افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والوں کی سوچ اور یادداشت ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تھی جو ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیمرک یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر ایمن لیرڈ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ  بوڑھے والدین کو نئی چیزیں آزمانے کی ترغیب دینی چاہیے اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر جتنا وہ زیادہ محسوس کریں گے اتنا ہی بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بوڑھے افراد اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے مثال کے طور پر جب ایک 84 سالہ خاتون انسٹاگرام استعمال کرتی ہیں تو وہ نہ صرف اپنا دماغ استعمال کر رہی ہوتی ہیں بلکہ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر وقت بھی گزارتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے 24 گھنٹوں کے لیے استعمال کریں، اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جو عمر رسیدہ افراد کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/1215092056b923a.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیچز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیچز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بوڑھے-افراد-میں-ڈپریشن-کے-مسائل" href="#بوڑھے-افراد-میں-ڈپریشن-کے-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بوڑھے افراد میں ڈپریشن کے مسائل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جب ٹیکنالوجی کے نقصانات کی بات کی جاتی ہے تو بوڑھے لوگوں میں ڈپریشن تیزی سے بڑھ رہا ہے جسے اکثر لوگ تسلیم نہیں کرتے، عمر رسیدہ افراد کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپریشن بزرگوں میں دماغی صحت کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور تقریباً آدھے کیسز کی نشاندہی تک نہیں کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر عمر رسیدہ والدین ڈپریشن کا شکار ہوبھی جائیں تو اس بیماری سے نکلنے کے لیے کئی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ڈاکٹر لیرڈ کی حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ چہل قدمی کرنا ڈپریشن سے چھٹکارا پانے میں فائدہ مند ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر لیرڈ نے اپنی تحقیق میں  4 ہزار سے زائد بوڑھے افراد کا جائزہ لیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ روزانہ صرف 20 منٹ کی چہل قدمی ڈپریشن کے خطرے کو 43 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیا کہ بوڑھے والدین کو ہفتے میں 5 دن لازمی سیر کے لیے باہر نکلنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈپریشن سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری نہ صرف زندگی کے معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ بوڑھے افراد ڈیمنشیا کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگرچہ آپ اپنے بوڑھے والدین کو ادویات اور ملٹی وٹامن آسانی سے دے سکتے ہیں لیکن ان کی خوراک کا خیال رکھنے بے حد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسان کی عمر جیسے جیسے بڑی ہوتی جاتی ہے ان کی بھوک کم ہوتی جاتی ہے اور چبانا مشکل ہو سکتا ہے اس لیے ایسے لوگوں کی خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار ہونا بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر لیرڈ کا کہنا ہے کہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار مثال کے طور پر  دودھ سے بنی اشیا، مچھلی، یا غیر پروسس شدہ گوشت جیسی غذاؤں کو شامل کرنے سے بوڑھے افراد کے پٹھوں کو فائدہ پہنچے گا اور کمزوری ختم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/12150920d5eb453.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیچز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسٹاک امیچز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پیرنٹنگ کا نام سن کر دماغ میں پہلا خیال ’بچوں کی پرورش‘ یا ان کی دیکھ بھال کا آتا ہے لیکن پیرنٹنگ کی تعریف صرف یہاں تک محدود نہیں ہے، اس کا پیمانہ بہت وسیع ہے۔</p>
<p>بچوں کی دیکھ بھال کے علاوہ اس میں والدین کی دیکھ بھال کا موضوع بھی شامل ہے، ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر چیز کو بدلنے میں دیر نہیں لگتی یعنی دنیا جدت کی طرف جارہی ہے اور انسان اپنی اپنی زندگیوں میں مزید مصروف ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>اس دوران اکثر اوقات آپ اپنے والدین کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں، جی ہاں، ہم میں سے بہت سے لوگ، خاص طور پر جن کی اپنی اولاد ہیں اور ایک ہی وقت میں اپنے بچوں اور اپنے والدین کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں سرانجام دینے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایسے میں والدین کو سرگرمی میں مصروف رکھنے، دماغ کو چاق و چوبند رکھنے اور صحت مند رکھنے کے کئی طریقوں میں کچھ طریقے ٹیکنالوجی، خوراک میں پروٹین اور روزانہ چہل قدمی ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو اس کی تیز رفتار ترقی نے خاص طور پر کووڈ-19 کے بعد بہت ساری چیزیں ٹیکنالوجی میں بدل چکی ہیں، جس کی وجہ سے کئی بوڑھے والدین سمیت دیگر افراد الجھن اور مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔</p>
<p>اس کی کچھ مثالیں یہ ہیں کہ کچھ لوگ اپنے والدین کو اب آن لائن بینکنگ سسٹم کی تعلیم دے رہے ہیں جن کا استعمال کرنا مشکل ہے، اس کے علاوہ فریج الارم کے علاوہ دیگر ایپس اور جدید فون جو عمر رسیدہ والدین کے لیے استعمال کرنا مشکل ہے جنہوں نے چیزوں کے کام کرنے کا طریقہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/12151013c8348ae.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیچز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیچز</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاہم گارجین کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/lifeandstyle/2023/oct/10/walks-tech-and-protein-how-to-parent-your-own-parents">رپورٹ</a></strong> کے مطابق تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے لیے ٹیکنالوجی بہت زیادہ فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>دوسری جانب کچھ تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے کچھ فوائد بھ ہوسکتے ہیں مثال کے طور پر یونیورسٹی آف ٹیکساس کی ایک حالیہ تحقیق میں 200 سے زائد بوڑھے افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والوں کی سوچ اور یادداشت ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تھی جو ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرتے تھے۔</p>
<p>لیمرک یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر ایمن لیرڈ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ  بوڑھے والدین کو نئی چیزیں آزمانے کی ترغیب دینی چاہیے اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر جتنا وہ زیادہ محسوس کریں گے اتنا ہی بہتر ہے۔</p>
<p>اگر بوڑھے افراد اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے مثال کے طور پر جب ایک 84 سالہ خاتون انسٹاگرام استعمال کرتی ہیں تو وہ نہ صرف اپنا دماغ استعمال کر رہی ہوتی ہیں بلکہ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر وقت بھی گزارتی ہیں۔</p>
<p>لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے 24 گھنٹوں کے لیے استعمال کریں، اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جو عمر رسیدہ افراد کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/1215092056b923a.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیچز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیچز</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="بوڑھے-افراد-میں-ڈپریشن-کے-مسائل" href="#بوڑھے-افراد-میں-ڈپریشن-کے-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بوڑھے افراد میں ڈپریشن کے مسائل</h3>
<p>جب ٹیکنالوجی کے نقصانات کی بات کی جاتی ہے تو بوڑھے لوگوں میں ڈپریشن تیزی سے بڑھ رہا ہے جسے اکثر لوگ تسلیم نہیں کرتے، عمر رسیدہ افراد کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپریشن بزرگوں میں دماغی صحت کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور تقریباً آدھے کیسز کی نشاندہی تک نہیں کی جاتی ہے۔</p>
<p>اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر عمر رسیدہ والدین ڈپریشن کا شکار ہوبھی جائیں تو اس بیماری سے نکلنے کے لیے کئی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔</p>
<p>تاہم ڈاکٹر لیرڈ کی حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ چہل قدمی کرنا ڈپریشن سے چھٹکارا پانے میں فائدہ مند ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر لیرڈ نے اپنی تحقیق میں  4 ہزار سے زائد بوڑھے افراد کا جائزہ لیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ روزانہ صرف 20 منٹ کی چہل قدمی ڈپریشن کے خطرے کو 43 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مشورہ دیا کہ بوڑھے والدین کو ہفتے میں 5 دن لازمی سیر کے لیے باہر نکلنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے ڈپریشن سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری نہ صرف زندگی کے معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ بوڑھے افراد ڈیمنشیا کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب اگرچہ آپ اپنے بوڑھے والدین کو ادویات اور ملٹی وٹامن آسانی سے دے سکتے ہیں لیکن ان کی خوراک کا خیال رکھنے بے حد ضروری ہے۔</p>
<p>انسان کی عمر جیسے جیسے بڑی ہوتی جاتی ہے ان کی بھوک کم ہوتی جاتی ہے اور چبانا مشکل ہو سکتا ہے اس لیے ایسے لوگوں کی خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار ہونا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر لیرڈ کا کہنا ہے کہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار مثال کے طور پر  دودھ سے بنی اشیا، مچھلی، یا غیر پروسس شدہ گوشت جیسی غذاؤں کو شامل کرنے سے بوڑھے افراد کے پٹھوں کو فائدہ پہنچے گا اور کمزوری ختم ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/12150920d5eb453.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسٹاک امیچز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسٹاک امیچز</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213502</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Oct 2023 18:14:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/12150920cc7d7d9.jpg?r=181432" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/12150920cc7d7d9.jpg?r=181432"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسٹاک امیجز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ناریل کھانے سے بچہ گورا ہوگا‘، حمل کے دوران عورت کو کونسی باتیں سننی پڑتی ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212863/</link>
      <description>&lt;p&gt;’شادی کب کررہی ہو؟‘، ’شادی کی عمر نکلی جارہی ہے!‘ یہ سوالات وہ ہیں جو پاکستانی معاشرے میں لڑکوں کے مقابلے زیادہ تر لڑکیوں کو  سننے کو ملتے ہیں، اور جب شادی ہوجاتی ہے تو انہی لوگوں کا اگلا سوال بچے سے متعلق ہوتا ہے لیکن سوالات کی بوچھاڑ صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے غیر شادی شدہ پاکستانیوں کو اکثر اس سوال کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی، ایسے وقت میں جب زیادہ سے زیادہ لوگ معاشرتی توقعات یا دباؤ کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جب شادی ہوجاتی ہے تو سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’بچہ کب ہوگا؟‘ ہر تقریب اور دعوت میں ایسے سوالات نہ صرف غیر ضروری بلکہ معاشرے کی سوچ کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جب لڑکی حاملہ ہوتی ہے، تو معاشرے کی تمام خواتین کی جانب سے اپنے مفت مشورے حاملہ خاتون کو دینے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ان میں خاندان کے افراد سمیت ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں آپ جانتے تک نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/02145236f16ca5f.jpg'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ہم ایسے لوگوں کے وہم اور غلط فہمی یا ٹوٹکوں  پر بات کریں گے جنہیں اکثر حاملہ کو سننا پڑتا ہے، ان جملوں سے آپ بھی ضرور واقف ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1۔ ’جب بچہ پیدا ہو تو شروع سے ہی بچے کو کسی کپڑے میں مضبوطی سے لپیٹ لیں! ورنہ آپ کے بچے کے بازو اور ٹانگیں لمبی نہیں ہوں گی!‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نوزائیدہ بچوں کپڑے سے لپیٹنے سے بچے کے بازوں اور ٹانگوں میں نشوونما نہیں ہوتی، تاہم ایسا بالکل نہیں ہے، یہ صرف غلط فہمی پر مبنی خیالات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2۔ ’نومولود بچوں کے کپڑے 40 دن سے زیادہ گھر پر نہ رکھیں، اسے بدقسمتی سمجھا جاتا ہے‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جملے سے لگتا ہے کہ روایتی طور پر یہ جملہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ شوہر بچوں کے نئے کپڑے خرید سکیں، تاہم اس کا بچے کی بدقسمتی یا کسی خطرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ بچے کی پیدائش کے بعد 40 دن تک ماں کو گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے یا حاملہ عورت کو مغرب کے بعد گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے ورنہ ان پر جادوئی اثرات ہوسکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد ماں کا خیال رکھنا ضروری ہے، گھر سے باہر جانے پر پابندی لگا دینا وہم اور غلط فہمی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4۔ حاملہ خواتین اور حال ہی میں بننے والی ماؤں کو چاند گرہن کے دوران محتاط رہنا چاہیے، کچھ بھی ہو سکتا ہے، کمرے کے اندر رہیں۔’&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یا پھر &lt;strong&gt;’چاند گرہن کے دوران حاملہ خواتین قینچی کا استعمال نہ کریں ورنہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کے جسم کا ایک عضو کٹا ہوا ہوسکتا ہے۔‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5۔ ’اگر حاملہ عورت اپنے بچے کی جنس جاننا چاہتی ہے تو اسے چھوٹے بچوں کے پاس جانا چاہیے، وہ بتا سکتے ہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا واقعی آپ ایسی باتوں کو سچ مانتے ہیں؟ کیا بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر کے پاس الٹراساؤنڈ کروانے کے بجائے چھوٹے بچے کے پاس جانا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/021452371925cca.jpg'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;6۔  ’اتنی بڑی عمر میں حاملہ ہونا درست نہیں،بہت زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;7۔ ’میں نے سنا ہے کہ حمل کے دوران یہ مخصوص چیزیں پینے یا کھانے سے بچے کا رنگ گورا ہو جائے گا۔‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8۔ ’خاتون نے مشورہ دیا کہ بچی کی ویکسنگ کر دو، بڑی ہوگی تو بال ختم ہو جائیں گے‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوس کی بات ہے کہ گوری جلد کے بچے پیدا کرنے کے لیے لوگ کئی طریقے آزماتے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں، اور یہ سلسلہ طویل عرصے سے چلا آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کے مشورے اکثر معاشرتی دباؤ اور معاشرے کے غیر حقیقی معیار اور تصوارت کو جنم دیتی ہیں اور حاملہ والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے بچے کی صحت اور تندرستی کو جلد کی رنگت جیسی باتوں پر ترجیح دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام بچے (چاہے ان کی جلد کا رنگ کچھ بھی ہو) خوبصورت ہوتے ہیں، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جلد کی رنگت کا تعین مکمل طور پر جینیات سے ہوتا ہے نہ کہ حمل کے دوران آپ جو کھانا کھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بچوں میں ذہانت اور کردار جیسی خوبیوں کے بجائے بچے کی رنگت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جو بالکل غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق بچے اور حاملہ عورت پر اس طرح کے ٹوٹکے آزمانا ماں اور بچے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ افواہیں/غلط فہمیاں/وہم پر کان دھرنے کے بجائے اگر ماں اپنی صحت اور بچے کی پرورش پر توجہ دے تو معاشرے کی سوچ بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’شادی کب کررہی ہو؟‘، ’شادی کی عمر نکلی جارہی ہے!‘ یہ سوالات وہ ہیں جو پاکستانی معاشرے میں لڑکوں کے مقابلے زیادہ تر لڑکیوں کو  سننے کو ملتے ہیں، اور جب شادی ہوجاتی ہے تو انہی لوگوں کا اگلا سوال بچے سے متعلق ہوتا ہے لیکن سوالات کی بوچھاڑ صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔</p>
<p>بہت سے غیر شادی شدہ پاکستانیوں کو اکثر اس سوال کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی، ایسے وقت میں جب زیادہ سے زیادہ لوگ معاشرتی توقعات یا دباؤ کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتے۔</p>
<p>لیکن جب شادی ہوجاتی ہے تو سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’بچہ کب ہوگا؟‘ ہر تقریب اور دعوت میں ایسے سوالات نہ صرف غیر ضروری بلکہ معاشرے کی سوچ کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم جب لڑکی حاملہ ہوتی ہے، تو معاشرے کی تمام خواتین کی جانب سے اپنے مفت مشورے حاملہ خاتون کو دینے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ان میں خاندان کے افراد سمیت ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں آپ جانتے تک نہیں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/02145236f16ca5f.jpg'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p>آج ہم ایسے لوگوں کے وہم اور غلط فہمی یا ٹوٹکوں  پر بات کریں گے جنہیں اکثر حاملہ کو سننا پڑتا ہے، ان جملوں سے آپ بھی ضرور واقف ہوں گے۔</p>
<p><strong>1۔ ’جب بچہ پیدا ہو تو شروع سے ہی بچے کو کسی کپڑے میں مضبوطی سے لپیٹ لیں! ورنہ آپ کے بچے کے بازو اور ٹانگیں لمبی نہیں ہوں گی!‘</strong></p>
<p>اکثر لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نوزائیدہ بچوں کپڑے سے لپیٹنے سے بچے کے بازوں اور ٹانگوں میں نشوونما نہیں ہوتی، تاہم ایسا بالکل نہیں ہے، یہ صرف غلط فہمی پر مبنی خیالات ہیں۔</p>
<p>2۔ ’نومولود بچوں کے کپڑے 40 دن سے زیادہ گھر پر نہ رکھیں، اسے بدقسمتی سمجھا جاتا ہے‘</p>
<p>اس جملے سے لگتا ہے کہ روایتی طور پر یہ جملہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ شوہر بچوں کے نئے کپڑے خرید سکیں، تاہم اس کا بچے کی بدقسمتی یا کسی خطرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p><strong>3۔ بچے کی پیدائش کے بعد 40 دن تک ماں کو گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے یا حاملہ عورت کو مغرب کے بعد گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے ورنہ ان پر جادوئی اثرات ہوسکتے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد ماں کا خیال رکھنا ضروری ہے، گھر سے باہر جانے پر پابندی لگا دینا وہم اور غلط فہمی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔</p>
<p><strong>4۔ حاملہ خواتین اور حال ہی میں بننے والی ماؤں کو چاند گرہن کے دوران محتاط رہنا چاہیے، کچھ بھی ہو سکتا ہے، کمرے کے اندر رہیں۔’</strong></p>
<p>یا پھر <strong>’چاند گرہن کے دوران حاملہ خواتین قینچی کا استعمال نہ کریں ورنہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کے جسم کا ایک عضو کٹا ہوا ہوسکتا ہے۔‘</strong></p>
<p><strong>5۔ ’اگر حاملہ عورت اپنے بچے کی جنس جاننا چاہتی ہے تو اسے چھوٹے بچوں کے پاس جانا چاہیے، وہ بتا سکتے ہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی‘۔</strong></p>
<p>کیا واقعی آپ ایسی باتوں کو سچ مانتے ہیں؟ کیا بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر کے پاس الٹراساؤنڈ کروانے کے بجائے چھوٹے بچے کے پاس جانا چاہیے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/021452371925cca.jpg'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>6۔  ’اتنی بڑی عمر میں حاملہ ہونا درست نہیں،بہت زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔‘</strong></p>
<p><strong>7۔ ’میں نے سنا ہے کہ حمل کے دوران یہ مخصوص چیزیں پینے یا کھانے سے بچے کا رنگ گورا ہو جائے گا۔‘</strong></p>
<p><strong>8۔ ’خاتون نے مشورہ دیا کہ بچی کی ویکسنگ کر دو، بڑی ہوگی تو بال ختم ہو جائیں گے‘</strong></p>
<p>افسوس کی بات ہے کہ گوری جلد کے بچے پیدا کرنے کے لیے لوگ کئی طریقے آزماتے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں، اور یہ سلسلہ طویل عرصے سے چلا آرہا ہے۔</p>
<p>اس طرح کے مشورے اکثر معاشرتی دباؤ اور معاشرے کے غیر حقیقی معیار اور تصوارت کو جنم دیتی ہیں اور حاملہ والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے بچے کی صحت اور تندرستی کو جلد کی رنگت جیسی باتوں پر ترجیح دیں۔</p>
<p>تمام بچے (چاہے ان کی جلد کا رنگ کچھ بھی ہو) خوبصورت ہوتے ہیں، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جلد کی رنگت کا تعین مکمل طور پر جینیات سے ہوتا ہے نہ کہ حمل کے دوران آپ جو کھانا کھاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بچوں میں ذہانت اور کردار جیسی خوبیوں کے بجائے بچے کی رنگت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جو بالکل غلط ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق بچے اور حاملہ عورت پر اس طرح کے ٹوٹکے آزمانا ماں اور بچے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>مذکورہ افواہیں/غلط فہمیاں/وہم پر کان دھرنے کے بجائے اگر ماں اپنی صحت اور بچے کی پرورش پر توجہ دے تو معاشرے کی سوچ بدل سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212863</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Oct 2023 15:24:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/0214400008c3821.jpg?r=144332" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/0214400008c3821.jpg?r=144332"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/02144258c66632f.jpg?r=152425" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/02144258c66632f.jpg?r=152425"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے کی تربیت میں باپ کا کردار کیوں اہم ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212496/</link>
      <description>&lt;p&gt;19 کی دہائی کی اگر بات کی جائے تو بچوں کی پرورش میں باپ سے زیادہ ماں کے کردار پر توجہ دی جاتی تھی، کیونکہ باپ کا کردار گھر کا چولہا جلانے کے لیے نوکری کرنے تک محدود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرنے کے ساتھ لائف اسٹائل میں جدت آتی گئی، جس طرح آج گھر کا چولہا جلانے کی ذمہ داری کسی مخصوص جنس پر عائد نہیں اسی طرح بچوں کی پرورش میں بھی ماں کے ساتھ ساتھ باپ کے کردار پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی فیوچر) کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20190606-how-to-be-a-good-father-to-a-newborn-son-or-daughter"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق نئی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://horizon-magazine.eu/article/new-fathers-may-undergo-hormonal-neural-and-behavioural-changes.html"&gt;تحقیقات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اس تصور کو تبدیل کر رہی ہیں کہ باپ اپنے بچوں کی زندگی کو کیسے متاثر کر سکتے ہیں، ان تحقیقات میں والدین کے کردار کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا گیا اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ باپ اپنے بچوں کی نشوونما اور بہبود کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/26140328434d8ad.jpg'  alt='فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کے مارین بیکرمنس، جو حال ہی میں بننے والے باپ اور خاندانی تعلقات پر مطالعہ کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ والدین پر تحقیق کا 99 فیصد توجہ ماؤں پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کی بارایلان یونیورسٹی کی ماہر نفسیات روتھ فیلڈمین نے کہا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ماؤں کی طرح باپ کے ہارمونز میں تبدیلیاں آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ باپ کا جذباتی عنصر بھی اہم ہے، جو بچے باپ سے جذباتی طور پر زیادہ قریب ہوتے ہیں ان کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور جو والدین اپنے بچوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں ان کا اپنے بچوں کے ساتھ مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچپن سے ہی بچوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ہونا، ان سے جذباتی طور پر قریب ہونے سے مستقبل میں بچوں کی ذہنی صحت اور ان کے کردار پر اہم اثر ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیمبرج یونیورسٹی کی ماہر پروفیسرپال رام چندانی کا کہنا ہے کہ بچپن میں کھیل کا اپنا مزہ ہوتا ہے، اس طرح بچے دنیا کو سمجھتے ہیں، دوسرے لوگوں سے تعلق قائم کرتے ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ باپ اور بچوں کے درمیان ابتدائی تعلقات کئی زیادہ اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن بچوں کے والد کھیل کے دوران زیادہ متحرک اور مصروف رہتے تھے ان بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور ایسے بچے اپنے رویے دوستانہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/261403483896175.jpg'  alt='فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے زیر تسلط جدید دنیا میں یہ ضروری ہے کہ والدین، بچوں میں پڑھنے کی عادت کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے ساتھ خود بھی پڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچپن سے ہی اپنے بچوں کے ساتھ پڑھنا شروع کریں اور جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جائیں انہیں خود ہی پڑھنے کی ترغیب دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ ایسے باپ ہیں جو صبح گھر سے نکلتے ہیں اور رات کو دیر سے گھر پہنچتے ہیں تو پہلے اپنے وقت کا تعین کریں، بچوں کے ساتھ کچھ گھنٹے وقت گزارنے کے لیے آپ کو اپنے کام کا دباؤ کم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر والدین اپنے کام کے دباؤ کے اثرات بچوں پر نکالتے ہیں جو بالکل درست نہیں ہے، ایسا کرنے سے بچوں کی ذہنی صلاحیت، دماغی صحت اور نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>19 کی دہائی کی اگر بات کی جائے تو بچوں کی پرورش میں باپ سے زیادہ ماں کے کردار پر توجہ دی جاتی تھی، کیونکہ باپ کا کردار گھر کا چولہا جلانے کے لیے نوکری کرنے تک محدود تھا۔</p>
<p>وقت گزرنے کے ساتھ لائف اسٹائل میں جدت آتی گئی، جس طرح آج گھر کا چولہا جلانے کی ذمہ داری کسی مخصوص جنس پر عائد نہیں اسی طرح بچوں کی پرورش میں بھی ماں کے ساتھ ساتھ باپ کے کردار پر زور دیا گیا۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی فیوچر) کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20190606-how-to-be-a-good-father-to-a-newborn-son-or-daughter">رپورٹ</a></strong> کے مطابق نئی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://horizon-magazine.eu/article/new-fathers-may-undergo-hormonal-neural-and-behavioural-changes.html">تحقیقات</a></strong> اس تصور کو تبدیل کر رہی ہیں کہ باپ اپنے بچوں کی زندگی کو کیسے متاثر کر سکتے ہیں، ان تحقیقات میں والدین کے کردار کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا گیا اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ باپ اپنے بچوں کی نشوونما اور بہبود کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/26140328434d8ad.jpg'  alt='فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کے مارین بیکرمنس، جو حال ہی میں بننے والے باپ اور خاندانی تعلقات پر مطالعہ کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ والدین پر تحقیق کا 99 فیصد توجہ ماؤں پر مرکوز ہے۔</p>
<p>اسرائیل کی بارایلان یونیورسٹی کی ماہر نفسیات روتھ فیلڈمین نے کہا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ماؤں کی طرح باپ کے ہارمونز میں تبدیلیاں آتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ باپ کا جذباتی عنصر بھی اہم ہے، جو بچے باپ سے جذباتی طور پر زیادہ قریب ہوتے ہیں ان کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور جو والدین اپنے بچوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں ان کا اپنے بچوں کے ساتھ مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>بچپن سے ہی بچوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ہونا، ان سے جذباتی طور پر قریب ہونے سے مستقبل میں بچوں کی ذہنی صحت اور ان کے کردار پر اہم اثر ڈالتی ہے۔</p>
<p>کیمبرج یونیورسٹی کی ماہر پروفیسرپال رام چندانی کا کہنا ہے کہ بچپن میں کھیل کا اپنا مزہ ہوتا ہے، اس طرح بچے دنیا کو سمجھتے ہیں، دوسرے لوگوں سے تعلق قائم کرتے ہیں</p>
<p>ان کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ باپ اور بچوں کے درمیان ابتدائی تعلقات کئی زیادہ اہم ہیں۔</p>
<p>جن بچوں کے والد کھیل کے دوران زیادہ متحرک اور مصروف رہتے تھے ان بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور ایسے بچے اپنے رویے دوستانہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/261403483896175.jpg'  alt='فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے زیر تسلط جدید دنیا میں یہ ضروری ہے کہ والدین، بچوں میں پڑھنے کی عادت کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے ساتھ خود بھی پڑھیں۔</p>
<p>بچپن سے ہی اپنے بچوں کے ساتھ پڑھنا شروع کریں اور جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جائیں انہیں خود ہی پڑھنے کی ترغیب دیں۔</p>
<p>اگر آپ ایسے باپ ہیں جو صبح گھر سے نکلتے ہیں اور رات کو دیر سے گھر پہنچتے ہیں تو پہلے اپنے وقت کا تعین کریں، بچوں کے ساتھ کچھ گھنٹے وقت گزارنے کے لیے آپ کو اپنے کام کا دباؤ کم کرنا ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر والدین اپنے کام کے دباؤ کے اثرات بچوں پر نکالتے ہیں جو بالکل درست نہیں ہے، ایسا کرنے سے بچوں کی ذہنی صلاحیت، دماغی صحت اور نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212496</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Sep 2023 19:39:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/261403153c9d204.jpg?r=193921" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/261403153c9d204.jpg?r=193921"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: بی بی سی فیوچر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>والدین کیلئے بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں جاننا کتنا ضروری ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212129/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کے جدید دور میں ہر کوئی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوگیا ہے کہ ان کے پاس قریبی رشتے داروں سے میل ملاپ کے لیے وقت نہیں، ایسے میں والدین بھی بچوں کی تربیت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور اپنی اولاد سے سے متلق لاپروائی برتتے ہیں جس کی وجہ سے بچے ذہنی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم والدین کو بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں جاننا انتہائی ضرروی ہے، امریکا میں کیے جانے والے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف 40 فیصد والدین اپنے بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں پریشان  دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pewresearch.org/social-trends/2023/01/24/parenting-in-america-today/"&gt;پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت والدین کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث ہے، جبکہ 35 فیصد والدین سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کے ساتھ اسکول یا کام کی جگہ پر ناانصافی کی جارہی ہے، یہی نہیں بلکہ   بچوں کے اغوا ہونے، منشیات اور جنسی زیادتی جیسے واقعات کے حوالے سے والدین تشویش میں مبتلا تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 2022 میں ایسے 3 ہزار 757 امریکی والدین سے سروے لیا گیا جن کے بچوں کی عمر 18 سال  سے کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بچوں اور نوعمروں میں دماغی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر اطفال اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی ترجمان ڈاکٹر کیتھرین ولیمسن کا کہنا ہے کہ ’میں  پچھلے 10 سال سے ماہر اطفال کے طور پر کام کررہی ہوں، اس دوران میں نے ڈپریشن کے مریضوں اور اس کی تعداد میں اچانک تبدیلی دیکھی ہے اور والدین کا اس بارے میں فکرمند ہونا ایک اہم مسئلہ ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’کووڈ-19 سے پہلے دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے والے بچوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا تاہم کووڈ-19 کے بعد اس تعداد میں دگنا اضافہ دیکھا گیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2015120962ca978.jpg'  alt='فائل فوٹو: اڈوب اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اڈوب اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کووڈ-19  کے دوران 10 سے 14 سال کے بچوں میں خودکشی موت کی دوسری بڑی وجہ تھی، اس دوران ذہنی مسائل کا شکار ہونے والے 5 سے 11 اور 12 سے 17 سال کے نوجوانوں میں بھی بالترتیب 24 فیصد اور 31 فیصد اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے والدین اس وقت بے بسی محسوس کرتے ہیں جب ان کے بچوں کو دماغی صحت کے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس معاملے میں بچوں کی مدد نہیں کرپاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیملی انسٹیٹیوٹ کی ایک فیملی تھراپسٹ ایلن نے کہا کہ اگر بچوں کو اپنے اسکول کے گریڈ یا دیگر مسائل سے متعلق عام چیلنجز کا سامنا ہے تو وہ ان جیسے ذہنی مسائل کو حل کرنے میں مدد نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے والدین جو دوسروں اور خود کے جذبات اور احساسات کو سمجھ سکتے ہیں وہ اس بارے میں بچوں کی زیادہ اچھے طریقے سے مدد کرسکتے ہیں کہ ان کے بچوں کے لیے بارے میں کیا درست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بچوں میں اضطراب اور ڈپریشن کی بات آتی ہے تو ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ والدین بچوں کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی پر غور کریں مثال کے طور پر بچوں کی کام میں دلچسپی کم ہوجانا، خود اعتمادی اور مزاج، بھوک یا نیند میں تبدیلی آنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سوشل میڈیا یا موبائل فون استعمال کرنے کے وقت پر نظر رکھیں کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے بھی دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹینفورڈ میڈیسن چلڈرن ہیلتھ کے ماہر امراض ڈاکٹر میگی سمیل کا کہنا ہے کہ  یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگ ڈپریشن جیسے مسائل کو اہم سمجھ رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے ذہنی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کیتھرین ولیمسن کا کہنا ہے کہ بچوں کے کامیاب اور خوش رہنے میں ایک شخص کا اہم کردار ہوتا ہے جو اس بچے کے ساتھ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  ’ لہذا میں سمجھتی ہوں کہ والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ چاہے وہ تعلیم کا میدان ہو یا کھیل، جسمانی طور پر ہو یا جذباتی طور پر ہر بچہ اپنی منفرد جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، والدین کا بچوں کی زندگی میں کردار انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے، والدین کو چاہیے کہ بچوں کی صلاحیتوں کی تعریف کریں۔’&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹیکنالوجی کے جدید دور میں ہر کوئی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوگیا ہے کہ ان کے پاس قریبی رشتے داروں سے میل ملاپ کے لیے وقت نہیں، ایسے میں والدین بھی بچوں کی تربیت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور اپنی اولاد سے سے متلق لاپروائی برتتے ہیں جس کی وجہ سے بچے ذہنی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔</p>
<p>تاہم والدین کو بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں جاننا انتہائی ضرروی ہے، امریکا میں کیے جانے والے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف 40 فیصد والدین اپنے بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں پریشان  دکھائی دیے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pewresearch.org/social-trends/2023/01/24/parenting-in-america-today/">پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ</a></strong> میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت والدین کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث ہے، جبکہ 35 فیصد والدین سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کے ساتھ اسکول یا کام کی جگہ پر ناانصافی کی جارہی ہے، یہی نہیں بلکہ   بچوں کے اغوا ہونے، منشیات اور جنسی زیادتی جیسے واقعات کے حوالے سے والدین تشویش میں مبتلا تھے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 2022 میں ایسے 3 ہزار 757 امریکی والدین سے سروے لیا گیا جن کے بچوں کی عمر 18 سال  سے کم تھی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بچوں اور نوعمروں میں دماغی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ماہر اطفال اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی ترجمان ڈاکٹر کیتھرین ولیمسن کا کہنا ہے کہ ’میں  پچھلے 10 سال سے ماہر اطفال کے طور پر کام کررہی ہوں، اس دوران میں نے ڈپریشن کے مریضوں اور اس کی تعداد میں اچانک تبدیلی دیکھی ہے اور والدین کا اس بارے میں فکرمند ہونا ایک اہم مسئلہ ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’کووڈ-19 سے پہلے دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے والے بچوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا تاہم کووڈ-19 کے بعد اس تعداد میں دگنا اضافہ دیکھا گیا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2015120962ca978.jpg'  alt='فائل فوٹو: اڈوب اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اڈوب اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p>امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کووڈ-19  کے دوران 10 سے 14 سال کے بچوں میں خودکشی موت کی دوسری بڑی وجہ تھی، اس دوران ذہنی مسائل کا شکار ہونے والے 5 سے 11 اور 12 سے 17 سال کے نوجوانوں میں بھی بالترتیب 24 فیصد اور 31 فیصد اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>بہت سے والدین اس وقت بے بسی محسوس کرتے ہیں جب ان کے بچوں کو دماغی صحت کے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس معاملے میں بچوں کی مدد نہیں کرپاتے۔</p>
<p>فیملی انسٹیٹیوٹ کی ایک فیملی تھراپسٹ ایلن نے کہا کہ اگر بچوں کو اپنے اسکول کے گریڈ یا دیگر مسائل سے متعلق عام چیلنجز کا سامنا ہے تو وہ ان جیسے ذہنی مسائل کو حل کرنے میں مدد نہیں کرسکتے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے والدین جو دوسروں اور خود کے جذبات اور احساسات کو سمجھ سکتے ہیں وہ اس بارے میں بچوں کی زیادہ اچھے طریقے سے مدد کرسکتے ہیں کہ ان کے بچوں کے لیے بارے میں کیا درست ہے۔</p>
<p>جب بچوں میں اضطراب اور ڈپریشن کی بات آتی ہے تو ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ والدین بچوں کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی پر غور کریں مثال کے طور پر بچوں کی کام میں دلچسپی کم ہوجانا، خود اعتمادی اور مزاج، بھوک یا نیند میں تبدیلی آنا شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سوشل میڈیا یا موبائل فون استعمال کرنے کے وقت پر نظر رکھیں کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے بھی دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>اسٹینفورڈ میڈیسن چلڈرن ہیلتھ کے ماہر امراض ڈاکٹر میگی سمیل کا کہنا ہے کہ  یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگ ڈپریشن جیسے مسائل کو اہم سمجھ رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے ذہنی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔</p>
<p>ڈاکٹر کیتھرین ولیمسن کا کہنا ہے کہ بچوں کے کامیاب اور خوش رہنے میں ایک شخص کا اہم کردار ہوتا ہے جو اس بچے کے ساتھ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔’</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  ’ لہذا میں سمجھتی ہوں کہ والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ چاہے وہ تعلیم کا میدان ہو یا کھیل، جسمانی طور پر ہو یا جذباتی طور پر ہر بچہ اپنی منفرد جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، والدین کا بچوں کی زندگی میں کردار انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے، والدین کو چاہیے کہ بچوں کی صلاحیتوں کی تعریف کریں۔’</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212129</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Sep 2023 17:59:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/2015120962ca978.jpg?r=151336" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/2015120962ca978.jpg?r=151336"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/20151212a08ed2f.jpg?r=151336" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/20151212a08ed2f.jpg?r=151336"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں پر بوجھ نہ ڈالیں، انہیں تعلیم کا لطف اٹھانے دیں!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211903/</link>
      <description>&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/650378e8011b3.jpg'  alt='لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں۔   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم اپنے بچوں پر اتنا زیادہ تعلیمی بوجھ کیوں ڈالتے ہیں؟ ہم اس بوجھ کو کم کیوں نہیں کرسکتے؟ ہم اپنے بچوں کو چھوٹی جماعتوں سے ہی اتنے زیادہ مضامین کیوں پڑھاتے ہیں جبکہ ہر سال ہمارے نصاب میں ہر مضمون کے اہداف بھی زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچھی پڑھائی اور اچھی اسکولنگ کے لیے زیادہ تعلیمی بوجھ ٹھیک نہیں۔ یوں بچے ہمیشہ دباؤ میں رہتے ہیں۔ اساتذہ اور ہمارا اسکولنگ کا نظام، امتحانات لینے پر حد سے زیادہ زور دیتا ہے تاکہ بچوں پر دباؤ برقرار رہے اور وہ ’سیکھ‘ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلبہ زیادہ تر وقت امتحانات کی تیاری کررہے ہوتے ہیں جیسے پری پری موکس، پری موکس، موکس، ہفتہ وار ٹیسٹ، ماہانہ ٹیسٹ، ٹرم امتحانات اور فائنلز وغیرہ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسکول میں ایک ناقص نظام ہے جہاں بچوں پر دباؤ ہوتا ہے اور طلبہ کو رٹہ لگانا سکھایا جاتا ہے، یوں اس ناقص نظام میں بچوں کو کچھ سمجھانے کی پروا نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس بات پر توجہ  توجہ دی جاتی ہے کہ بچے سیکھنے کے تجربے کا لطف اٹھائیں۔ اس طرح طلبہ تعلیم کا اصل مقصد یا اچھی تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ نے طلبہ کے کاندھوں پر اکثر بھاری بھرکم بستے دیکھے ہوں گے۔ بعض اوقات تو ان کا وزن 10 کلو سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ آخر یہ کس طرح قابلِ فہم ہے؟ طلبہ اتنا زیادہ بوجھ کیسے اٹھا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ انصاف کیسے کرسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں شروع کی دو یا تین جماعتوں میں انگریزی، اردو اور ریاضی کے علاوہ کوئی مضمون پڑھانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ ابتدائی تعلیمی سالوں میں بچوں کو انہیں مضامین کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں اعداد، پڑھنا، بولنا، سننا اور لکھنا سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اسی پر توجہ دینی چاہیے۔ اے ایس ای آر اور دیگر سرویز ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم بچوں کو اعداد سکھانے اور انہیں خواندہ بنانے میں کوئی کامیاب کردار ادا نہیں کررہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو کیا ان چیزوں پر توجہ دینے کے بجائے ہمارا یوں مذہبی تعلیم، معلوماتِ عامہ اور دیگر مضامین کو نصاب میں شامل کرنا درست ہے؟ ان کے بجائے ہمیں آرٹ، موسیقی، پلے، اور دیگر سماجی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ یوں ہمارے بچوں کی نشوونما مزید بہتر انداز میں ہوگی اور ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور انگریزی، اردو اور ریاضی کے مضامین کو بھی ہمیں آہستہ آہستہ آگے لے کرچلنا چاہیے۔ بچے زبانیں کیسے سیکھتے ہیں؟ وہ سن کر (عموماً ابتدائی سالوں میں بچے والدین سے سیکھتے ہیں)، بول کر، پڑھ کر اور پھر آخر میں لکھ کر نئی زبانیں سیکھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں لکھنے پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور بچے کو ابتدائی تعلیمی سالوں میں ہی لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ آج جو کچھ ہمارے تعلیمی نظام میں ہورہا ہے اس کے برعکس ابتدائی 2 یا 3 جماعتوں میں تو لکھنے کے بجائے زبانی تعلیم پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں چھوٹی جماعتوں میں اتنے سارے مضامین کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہم بچوں کو انگریزی اور اردو زبان میں کہانیاں سنا سکتے ہیں۔ ہم آرٹ، موسیقی اور گانے سے اپنے بچوں کو نئے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ بچوں کو اپنے اسکول اور تعلیم سے لگاؤ ہونا چاہیے۔ انہیں نصاب، اساتذہ یا تعلیمی دباؤ کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے طلبہ بڑی جماعتوں میں جاتے رہیں، ویسے ویسے دیگر مضامین سے انہیں متعارف کروایا جائے لیکن اس عمل میں بھی جو مضامین پڑھائے جائیں ان کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ’بچوں کو سب کچھ آنا چاہیے‘ اس سوچ سے ہم کبھی بھی تعلیمی نظام کو بہتر نہیں بنا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1152236"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چاہے یہ 21ویں صدی کی مہارتیں ہوں، کمپیوٹر سائنس ہو یا حتیٰ کہ مذہبی مواد کے تراجم ہی کیوں نہ ہو، اگر ہمیں نصاب میں کچھ شامل کرنا ہے تو ہمیں نصاب سے کچھ نکالنا بھی پڑے گا اور اس شمولیت اور حذف کرنے کے لیے معقول وجوہات بھی ہونی چاہئیں۔ کسی اسکول، نصابی کونسل یہاں تک کہ وزیراعظم کی خواہش پر مضامین کو شامل یا انہیں حذف نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے جب بھی نصاب پر نظرثانی کی جاتی ہے، اس کے نتیجے میں مزید مضامین یا مواد کو نصاب میں شامل کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ایک اسکولنگ سسٹم کی ویب سائٹ پر درج ہے کہ وہ چھٹی جماعت میں 8 مضامین پڑھاتے ہیں جن میں انگریزی، اردو، ریاضی، سائنس، تاریخ، جغرافیہ، کمپیوٹر سائنس اور مذہبی مضامین شامل ہیں۔ یہ مضامین کافی زیادہ ہیں۔ ان میں آرٹ، موسیقی یا ان جیسے دیگر مضامین شامل نہیں۔ ان سب میں غیرنصابی سرگرمیاں بھی شامل نہیں ہیں۔ آخر ہم اپنے چھٹی جماعت کے بچوں کو بنانا کیا چاہتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتابوں کی تفصیلات میں انگریزی کی 5 کتابیں، اردو کی 3 کتابیں، سائنس کی 2 کتابیں اور بقیہ 5 مضامین کے لیے ایک ایک کتاب شامل ہے۔ یہ بہت زیادہ کتابیں ہیں۔ یہ دیکھنے کے بعد اس امر میں کوئی حیرت کی بات نہیں رہتی کہ بچوں کا بستہ بہت بھاری ہوتا ہے اور وہ سمجھنے کے بجائے رٹے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیا طلبہ کو واقعی اتنی کتابوں کی ضرورت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ماہرینِ تعلیم نے اپنی تحریروں میں اس مسئلے کو  اٹھایا ہے کہ اس سے چیزوں کو سمجھنے اور سیکھنے کے حوالے سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ تدریس، سیکھنے یا سمجھنے سے انتہائی مختلف چیز ہے۔ اساتذہ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ وہ پڑھائی کے عمل کو سست نہیں کرسکتے، جن طلبہ کو سیکھنے میں مشکلات ہورہی ہیں انہیں زیادہ وقت نہیں دے سکتے اور مشکل موضوعات کو بار بار دہرا نہیں سکتے کیونکہ انہیں نصاب پورا کرنا ہوتا ہے اور ان کے پاس اسباق کا ایک پلان ہوتا ہے۔ لیکن یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ کیا کورس اور نصاب مکمل کرنا اسے سمجھنے اور سیکھنے سے زیادہ اہم ہے؟ جواب تو واضح ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جواب کو تسلیم کوئی نہیں کرتا۔ تقریباً تمام اسکولوں اور ہر سطح پر سیکھنے کے بجائے نصاب ختم کرنے کو فوقیت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں جامعات طلبہ کو 3 اے لیولز کی بنیاد پر داخلہ دیتی ہیں لیکن ہم پاکستان میں چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ اسلامیات، اردو اور مطالعہ پاکستان کے امتحانات بھی دیں۔ ہمارے یہاں انٹرمیڈیٹ میں طلبہ کو 7 مضامین (انگریزی، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور 3 میجر مضامین) پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بھی زیادہ نصاب کا مسئلہ ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ متعدد بار یہ تجاویز پیش کیں جاچکی ہیں کہ قرآن اور سیرت کے مطالعے کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ کیا ان مضامین کو اسلامیات میں ضم نہیں کیا جاسکتا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مضامین کا بڑھتا ہوا بوجھ ہمارے نوجوانوں کی نشوونما پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال سے مجھے پینک فلوئڈ کا گانا یاد آتا ہے جس کے بول کچھ یوں ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہمیں تعلیم کی ضرورت نہیں ہے/ ہمیں سوچ پر کنٹرول کی ضرورت نہیں ہے/ ہمیں جماعت میں طنز کی ضرورت نہیں ہے/ اساتذہ بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے بڑوں کو چاہیے کہ براہ کرم ان پر زور نہ ڈالیں اور اپنے بچوں کو سیکھنے اور تعلیمی عمل سے لطف اٹھانے کا موقع دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1775921/how-does-this-make-sense"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 15 ستمبر 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/650378e8011b3.jpg'  alt='لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں۔   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں۔</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>ہم اپنے بچوں پر اتنا زیادہ تعلیمی بوجھ کیوں ڈالتے ہیں؟ ہم اس بوجھ کو کم کیوں نہیں کرسکتے؟ ہم اپنے بچوں کو چھوٹی جماعتوں سے ہی اتنے زیادہ مضامین کیوں پڑھاتے ہیں جبکہ ہر سال ہمارے نصاب میں ہر مضمون کے اہداف بھی زیادہ ہوتے ہیں۔</strong></p>
<p>اچھی پڑھائی اور اچھی اسکولنگ کے لیے زیادہ تعلیمی بوجھ ٹھیک نہیں۔ یوں بچے ہمیشہ دباؤ میں رہتے ہیں۔ اساتذہ اور ہمارا اسکولنگ کا نظام، امتحانات لینے پر حد سے زیادہ زور دیتا ہے تاکہ بچوں پر دباؤ برقرار رہے اور وہ ’سیکھ‘ سکیں۔</p>
<p>طلبہ زیادہ تر وقت امتحانات کی تیاری کررہے ہوتے ہیں جیسے پری پری موکس، پری موکس، موکس، ہفتہ وار ٹیسٹ، ماہانہ ٹیسٹ، ٹرم امتحانات اور فائنلز وغیرہ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسکول میں ایک ناقص نظام ہے جہاں بچوں پر دباؤ ہوتا ہے اور طلبہ کو رٹہ لگانا سکھایا جاتا ہے، یوں اس ناقص نظام میں بچوں کو کچھ سمجھانے کی پروا نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس بات پر توجہ  توجہ دی جاتی ہے کہ بچے سیکھنے کے تجربے کا لطف اٹھائیں۔ اس طرح طلبہ تعلیم کا اصل مقصد یا اچھی تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔</p>
<p>آپ نے طلبہ کے کاندھوں پر اکثر بھاری بھرکم بستے دیکھے ہوں گے۔ بعض اوقات تو ان کا وزن 10 کلو سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ آخر یہ کس طرح قابلِ فہم ہے؟ طلبہ اتنا زیادہ بوجھ کیسے اٹھا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ انصاف کیسے کرسکتے ہیں؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہمیں شروع کی دو یا تین جماعتوں میں انگریزی، اردو اور ریاضی کے علاوہ کوئی مضمون پڑھانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ ابتدائی تعلیمی سالوں میں بچوں کو انہیں مضامین کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں اعداد، پڑھنا، بولنا، سننا اور لکھنا سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اسی پر توجہ دینی چاہیے۔ اے ایس ای آر اور دیگر سرویز ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم بچوں کو اعداد سکھانے اور انہیں خواندہ بنانے میں کوئی کامیاب کردار ادا نہیں کررہے۔</p>
<p>تو کیا ان چیزوں پر توجہ دینے کے بجائے ہمارا یوں مذہبی تعلیم، معلوماتِ عامہ اور دیگر مضامین کو نصاب میں شامل کرنا درست ہے؟ ان کے بجائے ہمیں آرٹ، موسیقی، پلے، اور دیگر سماجی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ یوں ہمارے بچوں کی نشوونما مزید بہتر انداز میں ہوگی اور ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اور انگریزی، اردو اور ریاضی کے مضامین کو بھی ہمیں آہستہ آہستہ آگے لے کرچلنا چاہیے۔ بچے زبانیں کیسے سیکھتے ہیں؟ وہ سن کر (عموماً ابتدائی سالوں میں بچے والدین سے سیکھتے ہیں)، بول کر، پڑھ کر اور پھر آخر میں لکھ کر نئی زبانیں سیکھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں لکھنے پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور بچے کو ابتدائی تعلیمی سالوں میں ہی لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ آج جو کچھ ہمارے تعلیمی نظام میں ہورہا ہے اس کے برعکس ابتدائی 2 یا 3 جماعتوں میں تو لکھنے کے بجائے زبانی تعلیم پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>ہمیں چھوٹی جماعتوں میں اتنے سارے مضامین کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہم بچوں کو انگریزی اور اردو زبان میں کہانیاں سنا سکتے ہیں۔ ہم آرٹ، موسیقی اور گانے سے اپنے بچوں کو نئے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ بچوں کو اپنے اسکول اور تعلیم سے لگاؤ ہونا چاہیے۔ انہیں نصاب، اساتذہ یا تعلیمی دباؤ کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>جیسے جیسے طلبہ بڑی جماعتوں میں جاتے رہیں، ویسے ویسے دیگر مضامین سے انہیں متعارف کروایا جائے لیکن اس عمل میں بھی جو مضامین پڑھائے جائیں ان کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ’بچوں کو سب کچھ آنا چاہیے‘ اس سوچ سے ہم کبھی بھی تعلیمی نظام کو بہتر نہیں بنا سکتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1152236"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چاہے یہ 21ویں صدی کی مہارتیں ہوں، کمپیوٹر سائنس ہو یا حتیٰ کہ مذہبی مواد کے تراجم ہی کیوں نہ ہو، اگر ہمیں نصاب میں کچھ شامل کرنا ہے تو ہمیں نصاب سے کچھ نکالنا بھی پڑے گا اور اس شمولیت اور حذف کرنے کے لیے معقول وجوہات بھی ہونی چاہئیں۔ کسی اسکول، نصابی کونسل یہاں تک کہ وزیراعظم کی خواہش پر مضامین کو شامل یا انہیں حذف نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے جب بھی نصاب پر نظرثانی کی جاتی ہے، اس کے نتیجے میں مزید مضامین یا مواد کو نصاب میں شامل کردیا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ایک اسکولنگ سسٹم کی ویب سائٹ پر درج ہے کہ وہ چھٹی جماعت میں 8 مضامین پڑھاتے ہیں جن میں انگریزی، اردو، ریاضی، سائنس، تاریخ، جغرافیہ، کمپیوٹر سائنس اور مذہبی مضامین شامل ہیں۔ یہ مضامین کافی زیادہ ہیں۔ ان میں آرٹ، موسیقی یا ان جیسے دیگر مضامین شامل نہیں۔ ان سب میں غیرنصابی سرگرمیاں بھی شامل نہیں ہیں۔ آخر ہم اپنے چھٹی جماعت کے بچوں کو بنانا کیا چاہتے ہیں؟</p>
<p>کتابوں کی تفصیلات میں انگریزی کی 5 کتابیں، اردو کی 3 کتابیں، سائنس کی 2 کتابیں اور بقیہ 5 مضامین کے لیے ایک ایک کتاب شامل ہے۔ یہ بہت زیادہ کتابیں ہیں۔ یہ دیکھنے کے بعد اس امر میں کوئی حیرت کی بات نہیں رہتی کہ بچوں کا بستہ بہت بھاری ہوتا ہے اور وہ سمجھنے کے بجائے رٹے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیا طلبہ کو واقعی اتنی کتابوں کی ضرورت ہے؟</p>
<p>بہت سے ماہرینِ تعلیم نے اپنی تحریروں میں اس مسئلے کو  اٹھایا ہے کہ اس سے چیزوں کو سمجھنے اور سیکھنے کے حوالے سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ تدریس، سیکھنے یا سمجھنے سے انتہائی مختلف چیز ہے۔ اساتذہ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ وہ پڑھائی کے عمل کو سست نہیں کرسکتے، جن طلبہ کو سیکھنے میں مشکلات ہورہی ہیں انہیں زیادہ وقت نہیں دے سکتے اور مشکل موضوعات کو بار بار دہرا نہیں سکتے کیونکہ انہیں نصاب پورا کرنا ہوتا ہے اور ان کے پاس اسباق کا ایک پلان ہوتا ہے۔ لیکن یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ کیا کورس اور نصاب مکمل کرنا اسے سمجھنے اور سیکھنے سے زیادہ اہم ہے؟ جواب تو واضح ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جواب کو تسلیم کوئی نہیں کرتا۔ تقریباً تمام اسکولوں اور ہر سطح پر سیکھنے کے بجائے نصاب ختم کرنے کو فوقیت دی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دنیا بھر میں جامعات طلبہ کو 3 اے لیولز کی بنیاد پر داخلہ دیتی ہیں لیکن ہم پاکستان میں چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ اسلامیات، اردو اور مطالعہ پاکستان کے امتحانات بھی دیں۔ ہمارے یہاں انٹرمیڈیٹ میں طلبہ کو 7 مضامین (انگریزی، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور 3 میجر مضامین) پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔</p>
<p>یہاں بھی زیادہ نصاب کا مسئلہ ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ متعدد بار یہ تجاویز پیش کیں جاچکی ہیں کہ قرآن اور سیرت کے مطالعے کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ کیا ان مضامین کو اسلامیات میں ضم نہیں کیا جاسکتا؟</p>
<p>ہمیں یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مضامین کا بڑھتا ہوا بوجھ ہمارے نوجوانوں کی نشوونما پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اس صورتحال سے مجھے پینک فلوئڈ کا گانا یاد آتا ہے جس کے بول کچھ یوں ہیں:</p>
<p>’ہمیں تعلیم کی ضرورت نہیں ہے/ ہمیں سوچ پر کنٹرول کی ضرورت نہیں ہے/ ہمیں جماعت میں طنز کی ضرورت نہیں ہے/ اساتذہ بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں‘۔</p>
<p>ہمارے بڑوں کو چاہیے کہ براہ کرم ان پر زور نہ ڈالیں اور اپنے بچوں کو سیکھنے اور تعلیمی عمل سے لطف اٹھانے کا موقع دیں۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1775921/how-does-this-make-sense">مضمون</a></strong> 15 ستمبر 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211903</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Sep 2023 10:08:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیصل باری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/161410405d8432b.jpg?r=141044" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/161410405d8432b.jpg?r=141044"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسکول جانے والے بچوں کے لیے صبح کا ناشتہ کتنا اہم ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211297/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ کہاوت تو سب ہی نے سنی ہوگی کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم خوراک ہے۔ اس لیے بچوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے دن کا آغاز صحیح ہو۔ 2014ء امریکا میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق جو بچے روزانہ کی بنیاد پر ناشتہ کرتے ہیں ان کے گریجویٹ ہونے کے امکانات 20 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ جو بچے باقاعدگی سے ناشتہ کرتے ہیں وہ ان لوگوں سے زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جو صبح کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشتہ رات بھر کی بھوک کو توڑتا ہے۔ جو لوگ ناشتہ کرتے ہیں وہ ناشتہ نہ کرنے والوں کے مقابلے زیادہ دودھ اور اناج کھاتے ہیں۔ دودھ جسم کے لیے اہم کیلشیم فراہم کرتا ہے۔ یہ پیٹ کو بھی بھرتا ہے اور دن میں زیادہ کھانے اور اسنیکنگ سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بلڈ شوگر لیول میں بھی توازن قائم رکھتا ہے۔ دن بھر گلوکوز کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے، جاگنے کے دو گھنٹے کے اندر پھل، اناج اور ہلکا پھلکا پروٹین کھانے سے میٹابولزم کو شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ میٹابولزم کے جلد کام کرنے سے دن بھر کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے جبکہ صبح کا کھانا چھوڑنے سے آپ کے جسم میں اضافی کیلوریز جمع ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشتہ جسم میں توانائی کی سطح کو بھی بڑھاتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ناشتہ کرنے والوں کی صبح کی جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جسمانی سرگرمی تھکاوٹ اور وزن میں اضافے کو روکنے میں مدد کرتی ہے۔ جو بچے ناشتہ کرتے ہیں وہ زیادہ اسنیک نہیں کھاتے اور جنک فوڈ پر ان کا انحصار بھی کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشتہ دماغ کو بھی متحرک کرتا ہے۔ یہ درحقیقت ذہنی صلاحیتیوں کو بڑھاتا ہے۔ گلوکوز کی مستحکم سطح آپ کی توجہ مرکوز کرنے، سوچ بچار کرنے اور معلومات پر کام کرنے کی صلاحیت میں مدد کر سکتی ہے۔ یہ دل اور کولیسٹرول کی سطح کے لیے بھی فائدے مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/071216386c2f727.jpg'  alt='ناشتہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھاتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناشتہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پوری دنیا میں ہر کوئی صبح ناشتہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ 2017ء میں کیے گئے ایک سروے میں ساتویں جماعت کے 52 طلبہ میں سے کم از کم 40 فیصد نے کہا کہ وہ اسکول میں ناشتہ فراہم کرنے کے پروگرام سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ناشتے کا پروگرام بہت سارے خاندانوں کے لیے مفید ہوگا اور بچوں کو اپنا دن بہتر طریقے سے شروع کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی بچے ناشتے میں کیا کھاتے ہیں اس بارے میں تحقیق کے دوران، میری ٹیم نے حال ہی میں لیاری کے واسین سربازی گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول میں 100 بچیوں کا انٹرویو کیا جن میں سے زیادہ تر کنڈرگارٹن کی طالبات تھیں، ہم نے دیکھا کہ 60 فیصد نے ناشتہ نہیں کیا تھا جبکہ 23 فیصد نے صرف چائے پی تھی۔ 11 فیصد نے چائے اور بسکٹ جبکہ 6 فیصد نے چائے اور پراٹھے سے ناشتہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/64f1108eb5254.jpg'  alt='یہ چارٹ سعودی عرب میں کی گئی ایک تحقیق سے ماخوذ ہے جو اسکول کے بچوں میں ناشتے اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ چارٹ سعودی عرب میں کی گئی ایک تحقیق سے ماخوذ ہے جو اسکول کے بچوں میں ناشتے اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ناشتہ کیوں نہیں کیا، تو ہمیں یہ جوابات ملے کہ وہ صبح اتنی جلدی کھانے کی عادی نہیں، ان کے لیے کھانا پکانے والا کوئی نہیں، وہ دن میں صرف دو وقت کا کھانا کھانے کی عادی ہیں یا وہ ناشتے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگوں اور خاص طور پر خاندانوں کو ناشتے اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کے بارے میں شعور فراہم کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر 2017ء میں ابوظبی کی زید یونیورسٹی کی جانب سے ہائی اسکول کے طلبہ پر ہونے والے مطالعے میں سامنے آیا کہ 130 طالبات میں سے 62 فیصد باقاعدگی سے ناشتہ کرتی تھیں اور یہ صبح ناشتہ نہ کرنے والی طالبات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج اس مفروضے کی تائید کرتے ہیں کہ ناشتہ اسکول جانے والے بچوں کی کارکردگی پر قلیل مدتی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ لہٰذا اسکول جانے والے بچوں میں کھانے کی صحت مند عادات کو فروغ دینے کے لیے اسکولوں میں ناشتہ فراہم کرنے کے پروگراموں کوفروغ دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالدین یونیورسٹی کے پاکستان جرنل آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسٹری میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے اسٹنٹڈ (اپنی عمر کے لحاظ سے کم قد) ہیں اور 17.7 فیصد کمزوری (اپنے قد کے لحاظ سے بہت دبلے) کا شکار ہیں۔ اگرچہ حکومتوں کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم سرمایہ کاری کی جارہی ہے لیکن اس پر مزید اور جلد کام کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/07122012b008d8f.jpg'  alt='پاکستان میں اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز سے متعدد مسائل حل ہوسکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان میں اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز سے متعدد مسائل حل ہوسکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکولوں میں کھانے کے پروگرام متعدد مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ یہ پروگرامز عالمی سطح پر بچوں کی غذائی صحت اور تندرستی کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی کارکردگی میں حصہ ڈالنے کے لیے سب سے موثر  آلے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ممالک میں، اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز قومی سماجی تحفظ کی اسکیموں کا ایک اہم جزو ہیں جس سے انتہائی کمزور خاندانوں کی مدد ہوتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اسکول جانے والے بچے، جن کی تعداد تقریباً 31 کروڑ ہے، اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز سے مستفید ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایف پی کے مطابق بھارت اب 10 کروڑ سے زائد جبکہ برازیل 4 کروڑ 80 لاکھ، چین 4 کروڑ 40 لاکھ اور جنوبی افریقہ اور نائیجیریا 90 لاکھ سے زائد بچوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں۔ یہ خوراک تعلیمی سال کے دوران ہر روز فراہم کی جاتی ہی اور ان تمام ممالک میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں میں سے نصف لڑکیاں ہیں۔ اسکول میں کھانا کھانے سے نہ صرف بچے کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ ان کے تعلیمی نتائج اور زندگی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بنگلہ دیش کی مثال کا مطالعہ کرنا زیادہ مفید ہے۔ 2013ء میں حکومت نے ضلع پٹوکھلی کے 400 سے زیادہ پرائمری اسکولوں کو 93 ہزار ہائی انرجی بسکٹ فراہم کرنے کے لیے مسلم ایڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسکول فیڈنگ پروگرام کے ذریعے بہت سے طلبہ جن کی ناکافی خوراک اسکول میں ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی تھی، اب ضروری وٹامن حاصل کرتے ہیں جو ان کی نشوونما میں مدد فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ پروگرام کامیاب رہا لیکن فی الحال اس پر نظر ثانی کی جارہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسے کس طرح تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اپنے اندر زیادہ توانائی اور بہتر توجہ کے ساتھ طلبہ اپنی صلاحیتوں کو اچھے انداز سے بروئے کار لاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/07122332f94a4fa.jpg'  alt='اچھا ناشتہ کرکے بچے جنک فوڈ سے بھی دور رہتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اچھا ناشتہ کرکے بچے جنک فوڈ سے بھی دور رہتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بہت سی مقامی تنظیمیں، این جی اوز اور سماجی کارکن پاکستان میں طلبہ کو خوراک فراہم کرتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر یہ کافی نہیں ہے۔ حکومت کے تعاون سے ایک منظم پروگرام ان 2 کروڑ 26 لاکھ پاکستانی بچوں کو جو اس وقت اسکول سے باہر ہیں انہیں سیکھنے اور صحت مند نشوونما کی طرف واپس آنے میں مدد کرسکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو خاص طور پر صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور کھانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا دماغ پانچ سال کی عمر تک بڑھتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بہت سے سرکاری اسکولوں کے انتظام کا تجربہ رکھنے اور ایک ڈاکٹر ہونے کے طور پر میں اور میری ٹیم پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں طلبہ کو کھانا فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے خاص طور پر دیہی علاقوں یا پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں داخلے کی شرح کے ساتھ ساتھ زیرِ تعلیم طلبہ کے داخلے برقرار رہنے کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت اسکولوں میں طلبہ کو کھانا فراہم کرنے کا باقاعدہ پروگرام شروع کرتی ہے تو اس سے بچوں کی بہتر نشوونما کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1773386/health-the-breakfast-club"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 3 ستمبر 2023ء کو ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ کہاوت تو سب ہی نے سنی ہوگی کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم خوراک ہے۔ اس لیے بچوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے دن کا آغاز صحیح ہو۔ 2014ء امریکا میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق جو بچے روزانہ کی بنیاد پر ناشتہ کرتے ہیں ان کے گریجویٹ ہونے کے امکانات 20 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ جو بچے باقاعدگی سے ناشتہ کرتے ہیں وہ ان لوگوں سے زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جو صبح کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔</p>
<p>ناشتہ رات بھر کی بھوک کو توڑتا ہے۔ جو لوگ ناشتہ کرتے ہیں وہ ناشتہ نہ کرنے والوں کے مقابلے زیادہ دودھ اور اناج کھاتے ہیں۔ دودھ جسم کے لیے اہم کیلشیم فراہم کرتا ہے۔ یہ پیٹ کو بھی بھرتا ہے اور دن میں زیادہ کھانے اور اسنیکنگ سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔</p>
<p>یہ بلڈ شوگر لیول میں بھی توازن قائم رکھتا ہے۔ دن بھر گلوکوز کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے، جاگنے کے دو گھنٹے کے اندر پھل، اناج اور ہلکا پھلکا پروٹین کھانے سے میٹابولزم کو شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ میٹابولزم کے جلد کام کرنے سے دن بھر کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے جبکہ صبح کا کھانا چھوڑنے سے آپ کے جسم میں اضافی کیلوریز جمع ہوتی ہیں۔</p>
<p>ناشتہ جسم میں توانائی کی سطح کو بھی بڑھاتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ناشتہ کرنے والوں کی صبح کی جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جسمانی سرگرمی تھکاوٹ اور وزن میں اضافے کو روکنے میں مدد کرتی ہے۔ جو بچے ناشتہ کرتے ہیں وہ زیادہ اسنیک نہیں کھاتے اور جنک فوڈ پر ان کا انحصار بھی کم ہوجاتا ہے۔</p>
<p>ناشتہ دماغ کو بھی متحرک کرتا ہے۔ یہ درحقیقت ذہنی صلاحیتیوں کو بڑھاتا ہے۔ گلوکوز کی مستحکم سطح آپ کی توجہ مرکوز کرنے، سوچ بچار کرنے اور معلومات پر کام کرنے کی صلاحیت میں مدد کر سکتی ہے۔ یہ دل اور کولیسٹرول کی سطح کے لیے بھی فائدے مند ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/071216386c2f727.jpg'  alt='ناشتہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھاتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناشتہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاہم پوری دنیا میں ہر کوئی صبح ناشتہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ 2017ء میں کیے گئے ایک سروے میں ساتویں جماعت کے 52 طلبہ میں سے کم از کم 40 فیصد نے کہا کہ وہ اسکول میں ناشتہ فراہم کرنے کے پروگرام سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ناشتے کا پروگرام بہت سارے خاندانوں کے لیے مفید ہوگا اور بچوں کو اپنا دن بہتر طریقے سے شروع کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>پاکستانی بچے ناشتے میں کیا کھاتے ہیں اس بارے میں تحقیق کے دوران، میری ٹیم نے حال ہی میں لیاری کے واسین سربازی گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول میں 100 بچیوں کا انٹرویو کیا جن میں سے زیادہ تر کنڈرگارٹن کی طالبات تھیں، ہم نے دیکھا کہ 60 فیصد نے ناشتہ نہیں کیا تھا جبکہ 23 فیصد نے صرف چائے پی تھی۔ 11 فیصد نے چائے اور بسکٹ جبکہ 6 فیصد نے چائے اور پراٹھے سے ناشتہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/64f1108eb5254.jpg'  alt='یہ چارٹ سعودی عرب میں کی گئی ایک تحقیق سے ماخوذ ہے جو اسکول کے بچوں میں ناشتے اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ چارٹ سعودی عرب میں کی گئی ایک تحقیق سے ماخوذ ہے جو اسکول کے بچوں میں ناشتے اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ناشتہ کیوں نہیں کیا، تو ہمیں یہ جوابات ملے کہ وہ صبح اتنی جلدی کھانے کی عادی نہیں، ان کے لیے کھانا پکانے والا کوئی نہیں، وہ دن میں صرف دو وقت کا کھانا کھانے کی عادی ہیں یا وہ ناشتے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں۔</p>
<p>لوگوں اور خاص طور پر خاندانوں کو ناشتے اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کے بارے میں شعور فراہم کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر 2017ء میں ابوظبی کی زید یونیورسٹی کی جانب سے ہائی اسکول کے طلبہ پر ہونے والے مطالعے میں سامنے آیا کہ 130 طالبات میں سے 62 فیصد باقاعدگی سے ناشتہ کرتی تھیں اور یہ صبح ناشتہ نہ کرنے والی طالبات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تھیں۔</p>
<p>یہ نتائج اس مفروضے کی تائید کرتے ہیں کہ ناشتہ اسکول جانے والے بچوں کی کارکردگی پر قلیل مدتی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ لہٰذا اسکول جانے والے بچوں میں کھانے کی صحت مند عادات کو فروغ دینے کے لیے اسکولوں میں ناشتہ فراہم کرنے کے پروگراموں کوفروغ دینا چاہیے۔</p>
<p>ضیاالدین یونیورسٹی کے پاکستان جرنل آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسٹری میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے اسٹنٹڈ (اپنی عمر کے لحاظ سے کم قد) ہیں اور 17.7 فیصد کمزوری (اپنے قد کے لحاظ سے بہت دبلے) کا شکار ہیں۔ اگرچہ حکومتوں کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم سرمایہ کاری کی جارہی ہے لیکن اس پر مزید اور جلد کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/07122012b008d8f.jpg'  alt='پاکستان میں اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز سے متعدد مسائل حل ہوسکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان میں اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز سے متعدد مسائل حل ہوسکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسکولوں میں کھانے کے پروگرام متعدد مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ یہ پروگرامز عالمی سطح پر بچوں کی غذائی صحت اور تندرستی کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی کارکردگی میں حصہ ڈالنے کے لیے سب سے موثر  آلے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔</p>
<p>بہت سے ممالک میں، اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز قومی سماجی تحفظ کی اسکیموں کا ایک اہم جزو ہیں جس سے انتہائی کمزور خاندانوں کی مدد ہوتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اسکول جانے والے بچے، جن کی تعداد تقریباً 31 کروڑ ہے، اسکولوں میں کھانے کے پروگرامز سے مستفید ہوں گے۔</p>
<p>ڈبلیو ایف پی کے مطابق بھارت اب 10 کروڑ سے زائد جبکہ برازیل 4 کروڑ 80 لاکھ، چین 4 کروڑ 40 لاکھ اور جنوبی افریقہ اور نائیجیریا 90 لاکھ سے زائد بچوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں۔ یہ خوراک تعلیمی سال کے دوران ہر روز فراہم کی جاتی ہی اور ان تمام ممالک میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں میں سے نصف لڑکیاں ہیں۔ اسکول میں کھانا کھانے سے نہ صرف بچے کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ ان کے تعلیمی نتائج اور زندگی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>یہاں بنگلہ دیش کی مثال کا مطالعہ کرنا زیادہ مفید ہے۔ 2013ء میں حکومت نے ضلع پٹوکھلی کے 400 سے زیادہ پرائمری اسکولوں کو 93 ہزار ہائی انرجی بسکٹ فراہم کرنے کے لیے مسلم ایڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسکول فیڈنگ پروگرام کے ذریعے بہت سے طلبہ جن کی ناکافی خوراک اسکول میں ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی تھی، اب ضروری وٹامن حاصل کرتے ہیں جو ان کی نشوونما میں مدد فراہم کریں گے۔</p>
<p>اگرچہ یہ پروگرام کامیاب رہا لیکن فی الحال اس پر نظر ثانی کی جارہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسے کس طرح تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اپنے اندر زیادہ توانائی اور بہتر توجہ کے ساتھ طلبہ اپنی صلاحیتوں کو اچھے انداز سے بروئے کار لاسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/07122332f94a4fa.jpg'  alt='اچھا ناشتہ کرکے بچے جنک فوڈ سے بھی دور رہتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اچھا ناشتہ کرکے بچے جنک فوڈ سے بھی دور رہتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ بہت سی مقامی تنظیمیں، این جی اوز اور سماجی کارکن پاکستان میں طلبہ کو خوراک فراہم کرتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر یہ کافی نہیں ہے۔ حکومت کے تعاون سے ایک منظم پروگرام ان 2 کروڑ 26 لاکھ پاکستانی بچوں کو جو اس وقت اسکول سے باہر ہیں انہیں سیکھنے اور صحت مند نشوونما کی طرف واپس آنے میں مدد کرسکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو خاص طور پر صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور کھانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا دماغ پانچ سال کی عمر تک بڑھتا رہتا ہے۔</p>
<p>کراچی کے بہت سے سرکاری اسکولوں کے انتظام کا تجربہ رکھنے اور ایک ڈاکٹر ہونے کے طور پر میں اور میری ٹیم پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں طلبہ کو کھانا فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے خاص طور پر دیہی علاقوں یا پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں داخلے کی شرح کے ساتھ ساتھ زیرِ تعلیم طلبہ کے داخلے برقرار رہنے کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>اگر حکومت اسکولوں میں طلبہ کو کھانا فراہم کرنے کا باقاعدہ پروگرام شروع کرتی ہے تو اس سے بچوں کی بہتر نشوونما کا موقع ملے گا۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1773386/health-the-breakfast-club">مضمون</a></strong> 3 ستمبر 2023ء کو ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211297</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Sep 2023 09:59:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اصغر نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/11100226dded382.jpg?r=100235" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/11100226dded382.jpg?r=100235"/>
        <media:title>—سارا درانی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بچے والدین کے زیادہ ٹی وی دیکھنے، موبائل کے استعمال سے 3 گنا متاثر ہوسکتے ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211484/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے  اگر والدین ٹیلی ویژن دیکھنے اور موبائل استعمال کرنے میں زیادہ وقت گزارتے ہیں تو بچوں کے ایسا کرنے کا امکان 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل فون، آئی پیڈ یا ٹیلی ویژن کا استعمال ہماری زندگی میں عام ہوگیا ہے، دوستوں سے بات کرنی ہو یا فیملی سے، شاپنگ کرنی ہو یا ویڈیو گیم کھیلنی ہو، تازہ ترین خبریں پڑھنی ہوں یا انٹرٹینمنٹ کے حوالے سے کوئی تبصرہ پڑھنا ہو، والدین سمیت بچے بھی موبائل فون یا ٹیبلٹ کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی وی دیکھنا اور موبائل فون زیادہ استعمال کرنے کے منفی اثرات تو سبھی کو معلوم ہوں گے لیکن اب خطرہ مزید بڑھ گیا ہے، کیونکہ اس کا تعلق اب والدین اور بچے کے تعلق کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنا وقت والدین ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون پر گزاریں گے اس کا اثر ان کے بچوں پر بھی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ijbnpa.biomedcentral.com/"&gt;تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ والدین کی سرگرمیاں بچوں کے اسکرین ٹائم کی عادات کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جب والدین ہفتے کے آخر میں ٹی وی اور فون کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس کا اثر ان کے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلی تحقیق سے یہ معلوم ہوا تھا کہ ٹی وی یا موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم برسٹل یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں شہر کے ایک ہزار خاندانوں کے 5 اور 6 سال کی عمر کے بچوں کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین سے پوچھا گیا کہ وہ اور ان کے بچوں نے ٹی وی دیکھنے اور کمپیوٹر، گیمز یا اسمارٹ فون استعمال کرنے میں کتنا وقت لگایا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل جرنل آف ہیویورل نیوٹریشن اینڈ فزیکل ایکٹیویٹی میں تحقیق کے نتائج شائع ہوئے جس سے معلوم ہوا کہ ہفتے کے دوران 12 فیصد لڑکے، 8 فیصد لڑکیاں اور 30 فیصد والدین ہر روز 2 گھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/10115327a269453.jpg'  alt='&amp;mdash;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی فیملیز جہاں والدین روزانہ دو گھنٹے سے زائد وقت تک ٹی وی دیکھتے ہیں، ان فیملیز کے بچوں میں بھی زیادہ ٹی وی دیکھنے کا امکان 3.4 گنا بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے آخر میں ٹی وی اور موبائل فون استعمال کرنے کا وقت بہت زیادہ ہوتا ہے، جس میں 45 فیصد لڑکے، 43 فیصد  لڑکیاں، 53 فیصد مائیں اور 57 فیصد باپ دو گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے میں گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے آخر میں بچوں کے دو گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے کا امکان تقریباً 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسٹل کے محققین کا کہنا ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرروت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر والد کمپیوٹر کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، تو ان کی بیٹیاں، بیٹوں کے مقابلے میں ایسا کرنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="زیادہ-وقت-ٹی-وی-دیکھنے-کی-وجہ-سے-صحت-پر-کیا-اثرات-مرتب-ہوتے-ہیں" href="#زیادہ-وقت-ٹی-وی-دیکھنے-کی-وجہ-سے-صحت-پر-کیا-اثرات-مرتب-ہوتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) کے مطابق درحقیقت بہت زیادہ موبائل فون اسکرین یا ٹی وی کا استعمال کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں کمزور تعلیمی کارکردگی، موٹاپا، بچوں میں منفی رویے جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے بچوں کو کم از کم 60 منٹ آؤٹ ڈور گیمز یا گھر سے باہر میدان میں کھیلنا چاہیے، جس سے بچوں میں توازن میں بہتری، سماجی مہارت، زبان اور دیگر خوبیاں جنم لیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون استعمال کرنے سے ذہن پر اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم سے دل کے مسائل، ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسٹل یونیورسٹی کے سینٹر فار ایکسرسائز، نیوٹریشن اینڈ ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر روس جاگو کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ ٹی وی دیکھنا بچوں کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق کچھ بچے موبائل فون اور ٹی وی دیکھنے میں بہت زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں، بچوں کے ایسا کرنے کا امکان اس وقت بڑھ جاتا ہے جب والدین بھی اس طرح کی سرگرمی اختیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ والدین کو ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون استعمال کرنے میں کم وقت گزارنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سنجے ٹھاکر نے کہا کہ بہت زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے یا کمپیوٹر گیمز کھیلنے سے دل کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/10115329c86a8f1.jpg'  alt='&amp;mdash;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="والدین-اور-بچے-کون-سی-سرگرمیوں-میں-مشغول-ہوسکتے-ہیں" href="#والدین-اور-بچے-کون-سی-سرگرمیوں-میں-مشغول-ہوسکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;والدین اور بچے کون سی سرگرمیوں میں مشغول ہوسکتے ہیں؟&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;والدین کی عام شکایت یہ ہے کہ ’ہمارے بچے پورا دن ٹی وی، آئی پیڈ یا موبائل فون کے استعمال میں مصروف رہتے ہیں اور ہم ان سے یہ عادت ختم نہیں کر پارہے، تو ہمارا آپ سے سوال ہے کہ آپ ایسے وقت میں کیا کریں گے؟ آپ بچوں کو کون سی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کا مشورہ دیں گے تاکہ بچوں کی نشوونما بہتر ہوسکے اور وہ موبائل فون سے دور رہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے اور ان کی نشوونما کو بہتر کرنے کے لیے کچھ طریقے یہ ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گھر سے باہر وقت گزاریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرونک گیمز اور ٹی وی کے تعلیمی پروگرام بچے کے ذہن کو نکھارنے میں مدد کریں گی لیکن یاد رہے اس کی وجہ سے دماغ اکتا جائے گا، ایسے میں اس کا حل یہ ہے کہ آپ بچوں کو قدرتی مناظر دکھائیں، روزانہ یا ہفتے میں ایک بار اپنے ہمسایے میں ضرور لے کر جائیں یا کسی پارک چلے جائیں، اگر ہائکنگ کرسکتے ہیں تو بہترین ہے، اس سے بچے کا دماغ پُرسکون رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھنے کی عادت ڈالیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضروری نہیں کہ تمام سرگرمیاں گھر سے باہر ہوں، گھر کے اندر بھی آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں، جیسا کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں کے دوران آپ انہیں کتابوں کی فہرست دیں اور انہیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور خود بھی ایسا کرنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑھنے کے بھی چند اصول ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو دنیا جہاں کی کتابیں اٹھا کر نہ دیں بلکہ تقریری مہارتوں پر مبنی، منطقی سوچ کے حوالے سے کتابیں مؤثر ثابت رہیں گی اور جب موقع ملے تو بچوں کو مزاحیہ کتابیں بھی پڑھ کر سنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روڈ ٹِرپ پر جانے کا پلان بنائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوشش کریں ہفتے میں ایک بار ضرور کسی جگہ گھومنے جائیں، کہیں جانے کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا مشکل ہورہا ہو تو آپ نقشے کا استعمال کرسکتے ہیں، ریسرچ کریں اور فیملی سے مشورہ ضرور لیں اور خاص طور پر کہیں گھومنے کا پلان بنائیں تو اپنے بچوں کی رائے لینا ہرگز مت بھولیں، اس طرح بچے موبائل فون سے دور رہیں گے اور فیملی کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موبائل فون استعمال کرنے کا وقت تعین کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل فون کا استعمال محدود کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکٹرونک آلات پر پابندی عائد کردی جائے لیکن جان لیں کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال آپ کے بچے کے دماغ کو غیر فعال کرسکتا ہے، اس لیے حکمت عملی کے ساتھ شیڈول ضروری ہے، صبح کے اوقات میں موبائل فون استعمال نہ کریں کیونکہ اس وقت آپ کا ذہن تازہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے  اگر والدین ٹیلی ویژن دیکھنے اور موبائل استعمال کرنے میں زیادہ وقت گزارتے ہیں تو بچوں کے ایسا کرنے کا امکان 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>موبائل فون، آئی پیڈ یا ٹیلی ویژن کا استعمال ہماری زندگی میں عام ہوگیا ہے، دوستوں سے بات کرنی ہو یا فیملی سے، شاپنگ کرنی ہو یا ویڈیو گیم کھیلنی ہو، تازہ ترین خبریں پڑھنی ہوں یا انٹرٹینمنٹ کے حوالے سے کوئی تبصرہ پڑھنا ہو، والدین سمیت بچے بھی موبائل فون یا ٹیبلٹ کا استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>ٹی وی دیکھنا اور موبائل فون زیادہ استعمال کرنے کے منفی اثرات تو سبھی کو معلوم ہوں گے لیکن اب خطرہ مزید بڑھ گیا ہے، کیونکہ اس کا تعلق اب والدین اور بچے کے تعلق کے درمیان ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنا وقت والدین ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون پر گزاریں گے اس کا اثر ان کے بچوں پر بھی پڑے گا۔</p>
<p>برطانوی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ijbnpa.biomedcentral.com/">تحقیق</a></strong> اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ والدین کی سرگرمیاں بچوں کے اسکرین ٹائم کی عادات کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔</p>
<p>تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جب والدین ہفتے کے آخر میں ٹی وی اور فون کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس کا اثر ان کے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔</p>
<p>پچھلی تحقیق سے یہ معلوم ہوا تھا کہ ٹی وی یا موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم برسٹل یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں شہر کے ایک ہزار خاندانوں کے 5 اور 6 سال کی عمر کے بچوں کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>والدین سے پوچھا گیا کہ وہ اور ان کے بچوں نے ٹی وی دیکھنے اور کمپیوٹر، گیمز یا اسمارٹ فون استعمال کرنے میں کتنا وقت لگایا؟</p>
<p>انٹرنیشنل جرنل آف ہیویورل نیوٹریشن اینڈ فزیکل ایکٹیویٹی میں تحقیق کے نتائج شائع ہوئے جس سے معلوم ہوا کہ ہفتے کے دوران 12 فیصد لڑکے، 8 فیصد لڑکیاں اور 30 فیصد والدین ہر روز 2 گھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/10115327a269453.jpg'  alt='&mdash;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایسی فیملیز جہاں والدین روزانہ دو گھنٹے سے زائد وقت تک ٹی وی دیکھتے ہیں، ان فیملیز کے بچوں میں بھی زیادہ ٹی وی دیکھنے کا امکان 3.4 گنا بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ہفتے کے آخر میں ٹی وی اور موبائل فون استعمال کرنے کا وقت بہت زیادہ ہوتا ہے، جس میں 45 فیصد لڑکے، 43 فیصد  لڑکیاں، 53 فیصد مائیں اور 57 فیصد باپ دو گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے میں گزارتے ہیں۔</p>
<p>ہفتے کے آخر میں بچوں کے دو گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے کا امکان تقریباً 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>برسٹل کے محققین کا کہنا ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرروت ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر والد کمپیوٹر کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، تو ان کی بیٹیاں، بیٹوں کے مقابلے میں ایسا کرنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔</p>
<h4><a id="زیادہ-وقت-ٹی-وی-دیکھنے-کی-وجہ-سے-صحت-پر-کیا-اثرات-مرتب-ہوتے-ہیں" href="#زیادہ-وقت-ٹی-وی-دیکھنے-کی-وجہ-سے-صحت-پر-کیا-اثرات-مرتب-ہوتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟</h4>
<p>جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) کے مطابق درحقیقت بہت زیادہ موبائل فون اسکرین یا ٹی وی کا استعمال کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں کمزور تعلیمی کارکردگی، موٹاپا، بچوں میں منفی رویے جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے بچوں کو کم از کم 60 منٹ آؤٹ ڈور گیمز یا گھر سے باہر میدان میں کھیلنا چاہیے، جس سے بچوں میں توازن میں بہتری، سماجی مہارت، زبان اور دیگر خوبیاں جنم لیتی ہیں۔</p>
<p>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون استعمال کرنے سے ذہن پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم سے دل کے مسائل، ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>برسٹل یونیورسٹی کے سینٹر فار ایکسرسائز، نیوٹریشن اینڈ ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر روس جاگو کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ ٹی وی دیکھنا بچوں کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق کچھ بچے موبائل فون اور ٹی وی دیکھنے میں بہت زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں، بچوں کے ایسا کرنے کا امکان اس وقت بڑھ جاتا ہے جب والدین بھی اس طرح کی سرگرمی اختیار کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ والدین کو ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون استعمال کرنے میں کم وقت گزارنا چاہیے۔</p>
<p>برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سنجے ٹھاکر نے کہا کہ بہت زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے یا کمپیوٹر گیمز کھیلنے سے دل کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/10115329c86a8f1.jpg'  alt='&mdash;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<h4><a id="والدین-اور-بچے-کون-سی-سرگرمیوں-میں-مشغول-ہوسکتے-ہیں" href="#والدین-اور-بچے-کون-سی-سرگرمیوں-میں-مشغول-ہوسکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>والدین اور بچے کون سی سرگرمیوں میں مشغول ہوسکتے ہیں؟</h4>
<p>والدین کی عام شکایت یہ ہے کہ ’ہمارے بچے پورا دن ٹی وی، آئی پیڈ یا موبائل فون کے استعمال میں مصروف رہتے ہیں اور ہم ان سے یہ عادت ختم نہیں کر پارہے، تو ہمارا آپ سے سوال ہے کہ آپ ایسے وقت میں کیا کریں گے؟ آپ بچوں کو کون سی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کا مشورہ دیں گے تاکہ بچوں کی نشوونما بہتر ہوسکے اور وہ موبائل فون سے دور رہیں؟</p>
<p>بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے اور ان کی نشوونما کو بہتر کرنے کے لیے کچھ طریقے یہ ہیں:</p>
<p><strong>گھر سے باہر وقت گزاریں</strong></p>
<p>الیکٹرونک گیمز اور ٹی وی کے تعلیمی پروگرام بچے کے ذہن کو نکھارنے میں مدد کریں گی لیکن یاد رہے اس کی وجہ سے دماغ اکتا جائے گا، ایسے میں اس کا حل یہ ہے کہ آپ بچوں کو قدرتی مناظر دکھائیں، روزانہ یا ہفتے میں ایک بار اپنے ہمسایے میں ضرور لے کر جائیں یا کسی پارک چلے جائیں، اگر ہائکنگ کرسکتے ہیں تو بہترین ہے، اس سے بچے کا دماغ پُرسکون رہے گا۔</p>
<p><strong>پڑھنے کی عادت ڈالیں</strong></p>
<p>اب ضروری نہیں کہ تمام سرگرمیاں گھر سے باہر ہوں، گھر کے اندر بھی آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں، جیسا کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں کے دوران آپ انہیں کتابوں کی فہرست دیں اور انہیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور خود بھی ایسا کرنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>پڑھنے کے بھی چند اصول ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو دنیا جہاں کی کتابیں اٹھا کر نہ دیں بلکہ تقریری مہارتوں پر مبنی، منطقی سوچ کے حوالے سے کتابیں مؤثر ثابت رہیں گی اور جب موقع ملے تو بچوں کو مزاحیہ کتابیں بھی پڑھ کر سنائیں۔</p>
<p><strong>روڈ ٹِرپ پر جانے کا پلان بنائیں</strong></p>
<p>کوشش کریں ہفتے میں ایک بار ضرور کسی جگہ گھومنے جائیں، کہیں جانے کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا مشکل ہورہا ہو تو آپ نقشے کا استعمال کرسکتے ہیں، ریسرچ کریں اور فیملی سے مشورہ ضرور لیں اور خاص طور پر کہیں گھومنے کا پلان بنائیں تو اپنے بچوں کی رائے لینا ہرگز مت بھولیں، اس طرح بچے موبائل فون سے دور رہیں گے اور فیملی کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔</p>
<p><strong>موبائل فون استعمال کرنے کا وقت تعین کریں</strong></p>
<p>موبائل فون کا استعمال محدود کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکٹرونک آلات پر پابندی عائد کردی جائے لیکن جان لیں کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال آپ کے بچے کے دماغ کو غیر فعال کرسکتا ہے، اس لیے حکمت عملی کے ساتھ شیڈول ضروری ہے، صبح کے اوقات میں موبائل فون استعمال نہ کریں کیونکہ اس وقت آپ کا ذہن تازہ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211484</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Sep 2023 16:46:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/10114856ce5b968.jpg?r=164705" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/10114856ce5b968.jpg?r=164705"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: تھنک اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بچے کی پیدائش کے وقت والد بھی ماں کی طرح ڈپریشن کا شکار بن سکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211330/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت ماں کی طرح والد بھی ڈپریشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار بن سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے والد کی پریشانیوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حمل ٹھہرتے ہی والدہ کی پریشانی اور طبی پیچیدگیاں شروع ہوجاتی ہیں اور وہ اس ضمن میں علاج بھی کرواتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایسی صورت حال میں والد اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے اور مرد ہونے کی وجہ سے ایک سماجی رویہ بھی پایا جاتا ہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت باپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش سے قبل اور پہلے ماں کی طرح والد بھی ڈپریشن کا شکار بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’امریکی سائکالوجی ایسوسی ایشن‘ میں شائع ایک منفرد &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.apa.org/news/press/releases/2018/08/men-after-childbirth"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 10 فیصد والد بھی بچوں کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا شکار بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاں بچوں کی پیدائش کے بعد والد ڈپریشن کا شکار بن سکتے ہیں، وہیں اہلیہ کے حاملہ ہونے کے بعد شوہر بھی ایسی طبی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں جو ان کی شریک حیات میں ہوتی ہیں اور ایسے شوہروں کی شرح 18 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی حمل ٹھہرنے کے بعد جس طرح کی طبی پیچیدگیوں کا سامنا خاتون کرتی ہیں، اسی طرح کی بعض پیچیدگیاں مرد کو بھی ہونے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شریک حیات کے حاملہ ہونے کے بعد شوہروں میں بھی متلی، معدے کی شکایت، سینے میں جلن، بے خوابی اور دل کی دھڑکن تیز ہونے سمیت اسی طرح کی دیگر طبی پیچیدگیوں کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں حیران کن دعویٰ کیا گیا کہ شریک حیات کے حاملہ ہونے کے بعد مرد میں بھی کچھ ایسے ہارمونز کی تعداد بڑھ جاتی ہے جو نئی ماں بننے والی خواتین کے لیے دودھ بنانے سمیت اسی طرح کے دیگر کاموں میں کام آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں اعتراف کیا گیا کہ دنیا بھر میں نہ صرف خود مرد حضرات شریک سفر کے حاملہ ہونے اور بچے کی پیدائش کے وقت اپنی ذہنی صحت کا خیال نہیں رکھتے بلکہ ماہرین صحت کی بھی یہی سوچ ہوتی ہے والد کو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت ماں کی طرح والد بھی ڈپریشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار بن سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے والد کی پریشانیوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔</p>
<p>عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حمل ٹھہرتے ہی والدہ کی پریشانی اور طبی پیچیدگیاں شروع ہوجاتی ہیں اور وہ اس ضمن میں علاج بھی کرواتی ہیں۔</p>
<p>لیکن ایسی صورت حال میں والد اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے اور مرد ہونے کی وجہ سے ایک سماجی رویہ بھی پایا جاتا ہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت باپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔</p>
<p>تاہم ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش سے قبل اور پہلے ماں کی طرح والد بھی ڈپریشن کا شکار بن سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’امریکی سائکالوجی ایسوسی ایشن‘ میں شائع ایک منفرد <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.apa.org/news/press/releases/2018/08/men-after-childbirth"><strong>تحقیق</strong></a> کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 10 فیصد والد بھی بچوں کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا شکار بنتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاں بچوں کی پیدائش کے بعد والد ڈپریشن کا شکار بن سکتے ہیں، وہیں اہلیہ کے حاملہ ہونے کے بعد شوہر بھی ایسی طبی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں جو ان کی شریک حیات میں ہوتی ہیں اور ایسے شوہروں کی شرح 18 فیصد تک ہے۔</p>
<p>یعنی حمل ٹھہرنے کے بعد جس طرح کی طبی پیچیدگیوں کا سامنا خاتون کرتی ہیں، اسی طرح کی بعض پیچیدگیاں مرد کو بھی ہونے لگتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق شریک حیات کے حاملہ ہونے کے بعد شوہروں میں بھی متلی، معدے کی شکایت، سینے میں جلن، بے خوابی اور دل کی دھڑکن تیز ہونے سمیت اسی طرح کی دیگر طبی پیچیدگیوں کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں حیران کن دعویٰ کیا گیا کہ شریک حیات کے حاملہ ہونے کے بعد مرد میں بھی کچھ ایسے ہارمونز کی تعداد بڑھ جاتی ہے جو نئی ماں بننے والی خواتین کے لیے دودھ بنانے سمیت اسی طرح کے دیگر کاموں میں کام آتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق میں اعتراف کیا گیا کہ دنیا بھر میں نہ صرف خود مرد حضرات شریک سفر کے حاملہ ہونے اور بچے کی پیدائش کے وقت اپنی ذہنی صحت کا خیال نہیں رکھتے بلکہ ماہرین صحت کی بھی یہی سوچ ہوتی ہے والد کو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211330</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Sep 2023 21:54:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/07195610ee25bb1.jpg?r=195753" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/07195610ee25bb1.jpg?r=195753"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کو روزمرہ کے خطرات سے متعلق آگاہی کیسے دی جائے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210161/</link>
      <description>&lt;p&gt;والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہتے ہیں، اسی لیے انہیں پُرامن علاقے یا جگہ میں بھی خطرہ رہتا ہے کہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کے ابتدائی کچھ سالوں کے دوران انہیں مختلف قسم کی چوٹ لگنے، کسی جانور کے کاٹنے یا زیادہ سے زیادہ اغوا جیسے واقعات کا خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، بچے کو دیگر مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ذہنی مسائل، منشیات کا استعمال، دوستوں کی آپس میں لڑائی جھگڑا وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کار اور موٹر سائیکل حادثات بھی ایک بڑا خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک وقت میں ہم سب ہی کو ان خطرات سے خود نمٹنا ہوتا ہے، ہمیشہ والدین، دوست، رشتہ دار یا عزیز ہماری حفاظت کے لیے ساتھ نہیں رہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی اپنی حفاظت خود کرنے کا سبق کیسے سکھایا جائے اور والدین اس سفر میں بچوں کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کو ممکنہ خطرات کے بارے میں سکھانا اور آگاہ کرنے کا مطلب خوف پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ ذمہ داری اور تنقیدی سوچ کے احساس کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/21121611ea3a5fa.jpg'  alt='فوٹو: نرسری ورلڈ/ٹوئٹر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: نرسری ورلڈ/ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حفاظت-کے-بارے-میں-بات-چیت-کریں" href="#حفاظت-کے-بارے-میں-بات-چیت-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حفاظت کے بارے میں بات چیت کریں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20221101-how-to-teach-kids-to-make-great-choices"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بچوں کو خطرے کے بارے میں سکھانے کا عمل چھوٹی عمر میں ہی شروع ہو جاتا ہے، بچپن بچوں کی صلاحیت نکھارنے کا اہم دور تصور کیا جاتا ہے جو انہیں نوجوانی میں خطرے کے ادراک اور فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین بچوں کی عمر کے لحاظ سے حفاظت (سیفٹی) کے بارے میں بات چیت کریں، ایسی کتابیں پڑھ کر سنائیں جن میں خود کی حفاظت کے بارے میں معلومات ہوں، بچوں کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور روز مرہ کے خطرات کے بارے میں سادہ گفتگو کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سے یہ بھی بات کریں کہ کس طرح خطرناک رویہ ان کے دوستوں، خاندان اور عزیز کو متاثر کر سکتا ہے، یہ بات چیت انہیں حوصلہ افزائی دے گی کہ وہ نہ صرف اپنی حفاظت پر غور کریں گے بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی بھلائی کے لیے بھی سوچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نئی-سرگرمیاں-کرنے-سے-نہ-روکیں" href="#نئی-سرگرمیاں-کرنے-سے-نہ-روکیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نئی سرگرمیاں کرنے سے نہ روکیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بچے فطری طور پر تجسس میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما کے لیے چیزوں  کے بارے میں آگاہی اور معلومات حاصل ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کواپنے اردگرد مختلف سرگرمیاں کرنے سے نہ روکیں، مثال کے طور پر درخت پر چڑھنا، کھیلوں میں مشغول ہونا، روزمرہ سے ہٹ کر نئی سرگرمیاں آزمانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی سرگرمیاں آزمانے سے وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے چھوٹے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں درخت سے نیچے گرنا، کھیل کے دوران چوٹ لگنا یا دوستوں کے ساتھ کھیل کھیل میں لڑائی ہوجانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے مواقع پر بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے ان سے تفصیلی بات کریں، ان سے سوال پوچھیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ انہیں خود فیصلہ کرنے کی ترغیب دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک پر ہونے والے حادثات کی بات کی جائے تو والدین کو چاہیے کہ آپ جب بھی اپنے بچے کے ساتھ سڑک پار کریں تو سڑک کی پہلے بائیں اور پھر دائیں جانب متعدد بار دیکھیں اور ٹریفک لائٹس کے سرخ ہونے کا انتطار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ روٹین اگر ہر بار دہرائی جائے تو بچے بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلیں گے اور سڑک پر اکیلے چلتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/21121757089bece.jpg'  alt='فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے غلطیاں کرتے ہیں، وقتاً فوقتاً چیزوں کو سیکھتے ہیں، اس سیکھنے کے عمل میں زخم بھی آتے ہیں اور درد بھی ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ ایسے خطرات کا مقابلہ کرنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں والدین کی سپورٹ یا حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکھنے کے عمل کے دوران بچوں کی ذہن سازی جیسی مشقیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسا کہ بچوں کو یہ تصور کروائیں کہ ان  کے اعمال کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اس پر ان کے کیا خیالات ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈیجیٹل-دور-میں-آن-لائن-خطرات" href="#ڈیجیٹل-دور-میں-آن-لائن-خطرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈیجیٹل دور میں آن لائن خطرات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;آج کے ڈیجیٹل دور میں بچے بھی آن لائن خطرات سے دوچار ہیں، میڈیا کے بارے میں معلومات اور تعلیم ان کی ڈیجیٹل سیفٹی کے لیے بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کی عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں آن لائن پرائیویسی، سائبر ہراساں، اور آن لائن مواد کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین انہیں اچھے اور فائدہ مند مواد اور نقصان دہ مواد کے بارے میں فرق سمجھانے میں مدد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں سے خطرات کے بارے میں بات چیت کے دوران انہیں دوسروں کے خطرات اور ان کے نتائج کی مثالیں دیں کہ وہ ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اجنبی-افراد-کی-باتوں-میں-آکر-اغوا-ہونے-کے-واقعات" href="#اجنبی-افراد-کی-باتوں-میں-آکر-اغوا-ہونے-کے-واقعات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اجنبی افراد کی باتوں میں آکر اغوا ہونے کے واقعات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک بچوں کے اغوا ہونے کے واقعات کا تعلق ہے تو بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی ایسے واقعات کے بارے میں آگاہی دے دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر والدین کا بچوں کو اجنبی افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنا بے حدضروری ہے، انہیں چاہیے کہ بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سکھا دیں کہ اجنبی افراد سے گھلنا ملنا کسی طور مناسب نہیں خاص طور پر جب وہ اکیلے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگر کوئی شخص اس کے باوجود بچے کے ساتھ زبردستی کرے اور ساتھ چلنے کے لیے ڈرائے دھمکائے تو بچوں کو چاہیے کہ وہ وہاں زور زور سے چلانا شروع کردیں اور اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں ماریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بچوں کو عوامی جگہوں اور راستوں سے متعلق ضرور معلومات فراہم کریں، مثال کے طور پر بچوں کو سمجھائیں کہ اگر آپ کسی عوامی جگہ پر ہوں تو خدا نخواستہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں کس سے رابطہ کرنا چاہیے اور کہاں جانا چاہیے، بچوں کو بتائیں کہ اُن مقامات پر کون سی ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ آپ کے ساتھ اور آپ کے بغیر جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2112191059f63bf.jpg'  alt='فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بچوں کو ہنگامی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً ہاتھ جل جانے، چوٹ لگ جانے، گھر میں اکیلے ہونے، راستہ کھو جانے کی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے، اس بارے میں بچوں کو پہلے سے ہی آگاہی فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کو خطرے کے بارے میں سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے، جب  مشکل وقت ہو  مضبوط رہنا، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی عمر کے بچوں کو محتاط انداز میں رسک لینا سکھائیں تاکہ وہ ان نتائج کے بارے سیکھ سکیں اور آئندہ ایسے خطرات سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہتے ہیں، اسی لیے انہیں پُرامن علاقے یا جگہ میں بھی خطرہ رہتا ہے کہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p>بچے کے ابتدائی کچھ سالوں کے دوران انہیں مختلف قسم کی چوٹ لگنے، کسی جانور کے کاٹنے یا زیادہ سے زیادہ اغوا جیسے واقعات کا خطرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، بچے کو دیگر مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ذہنی مسائل، منشیات کا استعمال، دوستوں کی آپس میں لڑائی جھگڑا وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ کار اور موٹر سائیکل حادثات بھی ایک بڑا خطرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم ایک وقت میں ہم سب ہی کو ان خطرات سے خود نمٹنا ہوتا ہے، ہمیشہ والدین، دوست، رشتہ دار یا عزیز ہماری حفاظت کے لیے ساتھ نہیں رہ سکتے۔</p>
<p>اس لیے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی اپنی حفاظت خود کرنے کا سبق کیسے سکھایا جائے اور والدین اس سفر میں بچوں کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟</p>
<p>بچوں کو ممکنہ خطرات کے بارے میں سکھانا اور آگاہ کرنے کا مطلب خوف پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ ذمہ داری اور تنقیدی سوچ کے احساس کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/21121611ea3a5fa.jpg'  alt='فوٹو: نرسری ورلڈ/ٹوئٹر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: نرسری ورلڈ/ٹوئٹر</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="حفاظت-کے-بارے-میں-بات-چیت-کریں" href="#حفاظت-کے-بارے-میں-بات-چیت-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حفاظت کے بارے میں بات چیت کریں</h3>
<p>بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20221101-how-to-teach-kids-to-make-great-choices">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بچوں کو خطرے کے بارے میں سکھانے کا عمل چھوٹی عمر میں ہی شروع ہو جاتا ہے، بچپن بچوں کی صلاحیت نکھارنے کا اہم دور تصور کیا جاتا ہے جو انہیں نوجوانی میں خطرے کے ادراک اور فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے۔</p>
<p>والدین بچوں کی عمر کے لحاظ سے حفاظت (سیفٹی) کے بارے میں بات چیت کریں، ایسی کتابیں پڑھ کر سنائیں جن میں خود کی حفاظت کے بارے میں معلومات ہوں، بچوں کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور روز مرہ کے خطرات کے بارے میں سادہ گفتگو کریں۔</p>
<p>ان سے یہ بھی بات کریں کہ کس طرح خطرناک رویہ ان کے دوستوں، خاندان اور عزیز کو متاثر کر سکتا ہے، یہ بات چیت انہیں حوصلہ افزائی دے گی کہ وہ نہ صرف اپنی حفاظت پر غور کریں گے بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی بھلائی کے لیے بھی سوچیں گے۔</p>
<h3><a id="نئی-سرگرمیاں-کرنے-سے-نہ-روکیں" href="#نئی-سرگرمیاں-کرنے-سے-نہ-روکیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نئی سرگرمیاں کرنے سے نہ روکیں</h3>
<p>بچے فطری طور پر تجسس میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما کے لیے چیزوں  کے بارے میں آگاہی اور معلومات حاصل ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>بچوں کواپنے اردگرد مختلف سرگرمیاں کرنے سے نہ روکیں، مثال کے طور پر درخت پر چڑھنا، کھیلوں میں مشغول ہونا، روزمرہ سے ہٹ کر نئی سرگرمیاں آزمانا شامل ہے۔</p>
<p>نئی سرگرمیاں آزمانے سے وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے چھوٹے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں درخت سے نیچے گرنا، کھیل کے دوران چوٹ لگنا یا دوستوں کے ساتھ کھیل کھیل میں لڑائی ہوجانا شامل ہے۔</p>
<p>ایسے مواقع پر بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے ان سے تفصیلی بات کریں، ان سے سوال پوچھیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ انہیں خود فیصلہ کرنے کی ترغیب دیں۔</p>
<p>سڑک پر ہونے والے حادثات کی بات کی جائے تو والدین کو چاہیے کہ آپ جب بھی اپنے بچے کے ساتھ سڑک پار کریں تو سڑک کی پہلے بائیں اور پھر دائیں جانب متعدد بار دیکھیں اور ٹریفک لائٹس کے سرخ ہونے کا انتطار کریں۔</p>
<p>یہ روٹین اگر ہر بار دہرائی جائے تو بچے بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلیں گے اور سڑک پر اکیلے چلتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/21121757089bece.jpg'  alt='فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p>بچے غلطیاں کرتے ہیں، وقتاً فوقتاً چیزوں کو سیکھتے ہیں، اس سیکھنے کے عمل میں زخم بھی آتے ہیں اور درد بھی ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ ایسے خطرات کا مقابلہ کرنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں والدین کی سپورٹ یا حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>سیکھنے کے عمل کے دوران بچوں کی ذہن سازی جیسی مشقیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسا کہ بچوں کو یہ تصور کروائیں کہ ان  کے اعمال کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اس پر ان کے کیا خیالات ہیں؟</p>
<h3><a id="ڈیجیٹل-دور-میں-آن-لائن-خطرات" href="#ڈیجیٹل-دور-میں-آن-لائن-خطرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈیجیٹل دور میں آن لائن خطرات</h3>
<p>آج کے ڈیجیٹل دور میں بچے بھی آن لائن خطرات سے دوچار ہیں، میڈیا کے بارے میں معلومات اور تعلیم ان کی ڈیجیٹل سیفٹی کے لیے بہت ضروری ہے۔</p>
<p>بچے کی عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں آن لائن پرائیویسی، سائبر ہراساں، اور آن لائن مواد کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔</p>
<p>والدین انہیں اچھے اور فائدہ مند مواد اور نقصان دہ مواد کے بارے میں فرق سمجھانے میں مدد کریں۔</p>
<p>بچوں سے خطرات کے بارے میں بات چیت کے دوران انہیں دوسروں کے خطرات اور ان کے نتائج کی مثالیں دیں کہ وہ ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔</p>
<h3><a id="اجنبی-افراد-کی-باتوں-میں-آکر-اغوا-ہونے-کے-واقعات" href="#اجنبی-افراد-کی-باتوں-میں-آکر-اغوا-ہونے-کے-واقعات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اجنبی افراد کی باتوں میں آکر اغوا ہونے کے واقعات</h3>
<p>جہاں تک بچوں کے اغوا ہونے کے واقعات کا تعلق ہے تو بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی ایسے واقعات کے بارے میں آگاہی دے دینی چاہیے۔</p>
<p>مثال کے طور پر والدین کا بچوں کو اجنبی افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنا بے حدضروری ہے، انہیں چاہیے کہ بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سکھا دیں کہ اجنبی افراد سے گھلنا ملنا کسی طور مناسب نہیں خاص طور پر جب وہ اکیلے ہوں۔</p>
<p>دوسری جانب اگر کوئی شخص اس کے باوجود بچے کے ساتھ زبردستی کرے اور ساتھ چلنے کے لیے ڈرائے دھمکائے تو بچوں کو چاہیے کہ وہ وہاں زور زور سے چلانا شروع کردیں اور اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں ماریں۔</p>
<p>اپنے بچوں کو عوامی جگہوں اور راستوں سے متعلق ضرور معلومات فراہم کریں، مثال کے طور پر بچوں کو سمجھائیں کہ اگر آپ کسی عوامی جگہ پر ہوں تو خدا نخواستہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں کس سے رابطہ کرنا چاہیے اور کہاں جانا چاہیے، بچوں کو بتائیں کہ اُن مقامات پر کون سی ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ آپ کے ساتھ اور آپ کے بغیر جاسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2112191059f63bf.jpg'  alt='فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>دوسری جانب بچوں کو ہنگامی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً ہاتھ جل جانے، چوٹ لگ جانے، گھر میں اکیلے ہونے، راستہ کھو جانے کی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے، اس بارے میں بچوں کو پہلے سے ہی آگاہی فراہم کریں۔</p>
<p>بچوں کو خطرے کے بارے میں سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے، جب  مشکل وقت ہو  مضبوط رہنا، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنا شامل ہے۔</p>
<p>بڑھتی عمر کے بچوں کو محتاط انداز میں رسک لینا سکھائیں تاکہ وہ ان نتائج کے بارے سیکھ سکیں اور آئندہ ایسے خطرات سے بچ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210161</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Aug 2023 15:31:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/211214352b3f91f.jpg?r=153206" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/211214352b3f91f.jpg?r=153206"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>والدین کے درمیان جھگڑا بچوں کی ذہنی صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209403/</link>
      <description>&lt;p&gt;میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا اور بحث کرنا معمول کی بات ہے لیکن اگر یہ اختلافات معمول بن جائیں تو ان کا بچوں کے ذہن پر گہرا اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر کا ماحول بچوں کی ذہنی صحت اور نشوونما کو متاثر کرتا ہے، گھر میں والدین کا بچوں کے درمیان رشتہ ہی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ میان بیوی کا آپس میں تعلق بھی بچے کی فلاح و بہبود میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر میں میاں بیوی کا آپس میں تعلق بچے کی ذہنی صحت سے لے کر تعلیم کے میدان میں کامیابی اور مستقبل میں دیگر لوگوں سے نئے تعلقات بنانے تک ہر چیز کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ جب دو لوگ مثبت انداز میں بحث کر رہے ہوں، تو اس کے اچھے نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر معاملات میں بحث و مباحثے کا بچوں پر بہت کم یا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن مسائل اس وقت شدت اختیار کرتے ہیں جب والدین چیختے ہیں اور ایک دوسرے سے طویل مدت تک ناراض رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/10144734f21b44a.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اور دنیا بھر کے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/education-43486641"&gt;محققین&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ جب بچے گھر میں لڑائی جھگڑے کو دیکھتے ہیں تو ان کی ذہنی حالت  کیسے متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جاننے کے لیے محققین کئی سالوں سے متعدد گھروں کا ماحول کا جائزہ لے رہے ہیں، ایسا کرنے کے لیے محققین بچوں کی نشوونما پر نظر رکھتے ہیں، اور کچھ خاص ٹیسٹ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ جب اردگرد لڑائی جھگڑا ہو رہا ہو تو بچے 6 ماہ کی عمر تک تناؤ کے  آثار دکھا سکتے ہیں، ایسی صورت میں بچہ گھبرا جاتا ہے اور ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور جسم میں ایسے ہارمون کی افزائش زیادہ ہوتی جو تناؤ سے جڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے بچے بھی جب لوگوں کو جھگڑتا دیکھتے یا سنتے ہیں تو پریشان ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں بیوی کے درمیان مسلسل جھگڑوں سے نوعمر بچے یا 10 سال سے کم عمر بچوں کو دماغی نشوونما میں خلل، نیند میں دشواری، اداس محسوس کرنا، ڈپریشن اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی یا طلاق کے نتیجے میں بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے، اس کے بجائے میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا بچوں کے لیے زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر جب میاں کا کسی بات پر اختلاف ہو اور بات بحث و مباحثے سے بڑھ کر لڑائی جھگڑے اور چیخنے چلانے تک پہنچ جائے تو سامنے بیٹھا بچہ خوفزدہ، اداس اور سہما ہوا محسوس  کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/10144839edfaead.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="والدین-کے-لڑائی-جھگڑے-سے-بچے-خود-کو-نقصان-پہنچا-سکتے-ہیں" href="#والدین-کے-لڑائی-جھگڑے-سے-بچے-خود-کو-نقصان-پہنچا-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’والدین کے لڑائی جھگڑے سے بچے خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے سے بحث کرنا یا اختلاف کرنا بالکل معمول کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جب میاں بیوی کے درمیان تنازعات معمول بن جائیں اور اس کا کوئی حل نظر نہ آئے تو حالات شدت اختیار کرجاتے ہیں، ایسے میں بعض اوقات والدین کے درمیان لڑائی جھگڑے کے لیے بچے خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں بچوں کی نیند میں خلل، دماغی کمزوری، بے چینی، ڈپریشن، خراب  تعلیمی کارکردگی اور دیگر سنگین مسائل میں بچے خود کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ صرف بچے اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ والدین کے خراب تعلقات ایک نسل سے دوسری نسل تک جاری رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچے-والدین-کے-ہر-عمل-کا-جائزہ-لیتے-ہیں" href="#بچے-والدین-کے-ہر-عمل-کا-جائزہ-لیتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بچے والدین کے ہر عمل کا جائزہ لیتے ہیں‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 2 یا اس سے بھی کم عمر کے بچے والدین کے رویے کو غور سے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو نوٹ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں بیوی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ الگ کمرے میں بحث یا لڑائی کریں گے تو اس سے ان کا بچہ محفوظ رہے گا لیکن ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ بچے تنازعات کے اسباب اور ممکنہ نتائج کا ادراک کیسے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے تجربے کی بنیاد پر ممکنہ طور پر مستقبل میں بچوں کے خیالات میں ہر مسئلے کا حل لڑائی جھگڑا ہوسکتا ہے اور وہ مسائل کو لڑائی سے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایسے ماحول میں لڑکے اور لڑکیاں مختلف طریقے سے ردعمل دے سکتے ہیں، لڑکیوں کو جذباتی مسائل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور لڑکوں کو رویے کے مسائل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اوقات بحث کرنا یا اختلاف کرنا معمول کی بات ہے اور جب والدین کے درمیان یہ اختلاقات کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو بچے مثبت ردعمل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں بچے یہ سیکھتے ہیں کہ کسی کے ساتھ جھگڑا یا بحث ہونے کی صورت میں صورتحال کو کیسے کنٹرول کیا جائے اور رشتوں کو کیسے کامیاب بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/10144959061be9b.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا اور بحث کرنا معمول کی بات ہے لیکن اگر یہ اختلافات معمول بن جائیں تو ان کا بچوں کے ذہن پر گہرا اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>گھر کا ماحول بچوں کی ذہنی صحت اور نشوونما کو متاثر کرتا ہے، گھر میں والدین کا بچوں کے درمیان رشتہ ہی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ میان بیوی کا آپس میں تعلق بھی بچے کی فلاح و بہبود میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>گھر میں میاں بیوی کا آپس میں تعلق بچے کی ذہنی صحت سے لے کر تعلیم کے میدان میں کامیابی اور مستقبل میں دیگر لوگوں سے نئے تعلقات بنانے تک ہر چیز کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ جب دو لوگ مثبت انداز میں بحث کر رہے ہوں، تو اس کے اچھے نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔</p>
<p>زیادہ تر معاملات میں بحث و مباحثے کا بچوں پر بہت کم یا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔</p>
<p>لیکن مسائل اس وقت شدت اختیار کرتے ہیں جب والدین چیختے ہیں اور ایک دوسرے سے طویل مدت تک ناراض رہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/10144734f21b44a.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
<p>برطانیہ اور دنیا بھر کے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/education-43486641">محققین</a></strong> اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ جب بچے گھر میں لڑائی جھگڑے کو دیکھتے ہیں تو ان کی ذہنی حالت  کیسے متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>یہ جاننے کے لیے محققین کئی سالوں سے متعدد گھروں کا ماحول کا جائزہ لے رہے ہیں، ایسا کرنے کے لیے محققین بچوں کی نشوونما پر نظر رکھتے ہیں، اور کچھ خاص ٹیسٹ کر رہے ہیں۔</p>
<p>تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ جب اردگرد لڑائی جھگڑا ہو رہا ہو تو بچے 6 ماہ کی عمر تک تناؤ کے  آثار دکھا سکتے ہیں، ایسی صورت میں بچہ گھبرا جاتا ہے اور ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور جسم میں ایسے ہارمون کی افزائش زیادہ ہوتی جو تناؤ سے جڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے بچے بھی جب لوگوں کو جھگڑتا دیکھتے یا سنتے ہیں تو پریشان ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>میاں بیوی کے درمیان مسلسل جھگڑوں سے نوعمر بچے یا 10 سال سے کم عمر بچوں کو دماغی نشوونما میں خلل، نیند میں دشواری، اداس محسوس کرنا، ڈپریشن اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی یا طلاق کے نتیجے میں بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے، اس کے بجائے میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا بچوں کے لیے زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر جب میاں کا کسی بات پر اختلاف ہو اور بات بحث و مباحثے سے بڑھ کر لڑائی جھگڑے اور چیخنے چلانے تک پہنچ جائے تو سامنے بیٹھا بچہ خوفزدہ، اداس اور سہما ہوا محسوس  کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/10144839edfaead.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="والدین-کے-لڑائی-جھگڑے-سے-بچے-خود-کو-نقصان-پہنچا-سکتے-ہیں" href="#والدین-کے-لڑائی-جھگڑے-سے-بچے-خود-کو-نقصان-پہنچا-سکتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’والدین کے لڑائی جھگڑے سے بچے خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘</h3>
<p>سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے سے بحث کرنا یا اختلاف کرنا بالکل معمول کی بات ہے۔</p>
<p>تاہم جب میاں بیوی کے درمیان تنازعات معمول بن جائیں اور اس کا کوئی حل نظر نہ آئے تو حالات شدت اختیار کرجاتے ہیں، ایسے میں بعض اوقات والدین کے درمیان لڑائی جھگڑے کے لیے بچے خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔</p>
<p>ایسے میں بچوں کی نیند میں خلل، دماغی کمزوری، بے چینی، ڈپریشن، خراب  تعلیمی کارکردگی اور دیگر سنگین مسائل میں بچے خود کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>نہ صرف بچے اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ والدین کے خراب تعلقات ایک نسل سے دوسری نسل تک جاری رہتے ہیں۔</p>
<h3><a id="بچے-والدین-کے-ہر-عمل-کا-جائزہ-لیتے-ہیں" href="#بچے-والدین-کے-ہر-عمل-کا-جائزہ-لیتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بچے والدین کے ہر عمل کا جائزہ لیتے ہیں‘</h3>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 2 یا اس سے بھی کم عمر کے بچے والدین کے رویے کو غور سے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو نوٹ کرتے ہیں۔</p>
<p>میاں بیوی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ الگ کمرے میں بحث یا لڑائی کریں گے تو اس سے ان کا بچہ محفوظ رہے گا لیکن ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ بچے تنازعات کے اسباب اور ممکنہ نتائج کا ادراک کیسے کرتے ہیں۔</p>
<p>ماضی کے تجربے کی بنیاد پر ممکنہ طور پر مستقبل میں بچوں کے خیالات میں ہر مسئلے کا حل لڑائی جھگڑا ہوسکتا ہے اور وہ مسائل کو لڑائی سے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایسے ماحول میں لڑکے اور لڑکیاں مختلف طریقے سے ردعمل دے سکتے ہیں، لڑکیوں کو جذباتی مسائل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور لڑکوں کو رویے کے مسائل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>بعض اوقات بحث کرنا یا اختلاف کرنا معمول کی بات ہے اور جب والدین کے درمیان یہ اختلاقات کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو بچے مثبت ردعمل دیتے ہیں۔</p>
<p>ایسی صورت میں بچے یہ سیکھتے ہیں کہ کسی کے ساتھ جھگڑا یا بحث ہونے کی صورت میں صورتحال کو کیسے کنٹرول کیا جائے اور رشتوں کو کیسے کامیاب بنایا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/10144959061be9b.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209403</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Aug 2023 16:47:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/10144525d971664.jpg?r=164813" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/10144525d971664.jpg?r=164813"/>
        <media:title>— فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ ’والدین کے عالمی دن‘ کے بارے میں جانتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208686/</link>
      <description>&lt;p&gt;زیادہ تر لوگ ماؤں کے عالمی دن (مدرز ڈے) اور باپ کے عالمی دن (فادرز ڈے) کے نام سے واقف ہیں، ان ایام میں بچے اپنے ماں اور باپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماؤں کا عالمی دن ہر سال 12 مئی کو منایا جاتا ہے جبکہ فادرز ڈے 16 جون کو منایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیا آپ نے ’والدین کے عالمی دن‘ کے بارے میں سنا ہے؟ یقینی طور پر یہ بہت لوگوں نے سنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عالمی دن مدرز ڈے اور فادرز ڈے کے مقابلے میں مختلف ہے، امریکا سمیت کئی ممالک میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے جہاں سرکاری تنظیمیں اور ادارے بچوں کی پرورش میں والدین کے کردار کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/30145057628768c.jpg'  alt='فائل فوٹو: یونیسیف' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: یونیسیف&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یہ-دن-کب-اور-کیوں-منایا-جاتا-ہے" href="#یہ-دن-کب-اور-کیوں-منایا-جاتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یہ دن کب اور کیوں منایا جاتا ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ دن امریکا میں جولائی کے چوتھے اتوار اور جنوبی کوریا میں 8 مئی کو منایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ دن یکم جون کو منایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی بار والدین کا عالمی دن 1995 میں منایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دن کی تاریخ کے  بارے میں بات کی جائے تو 1980 کی دہائی کے دوران اقوام متحدہ نے خاندان سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنا شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1983 میں اقتصادی اور سماجی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر کمیشن برائے سماجی ترقی نے ترقیاتی عمل میں خاندان کے کردار کے بارے میں اپنی قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ خاندان کے مسائل اور ضروریات کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران امریکا میں بھی 1994 میں سابق صدر بل کلنٹن نے کانگریس کی ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں تنظیموں اور حکومتی اداروں کو ہدایت/ حوصلہ افزائی کی گئی کہ بچوں کی پرورش میں والدین کی مدد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد 15 مئی کو والدین کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا لیکن بعد ازاں 17 ستمبر 2012 کو اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ والدین کا عالمی دن ہر سال یکم جون کو منایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کی پرورش کے لیے والدین کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں اور بچوں کو ایک صحتمند ماحول مہیا کرانے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بچوں پر ماں اور باپ کے علیحدہ علیحدہ حقوق کو یکجا کر کے ایک کردار وضع کیا گیا ہے اور اسی کے تناظر میں والدین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں ماں، باپ اور بچوں کے تعلقات، حقوق اور فرائض پر بحث کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے مطابق خاندان اور والدین بچے کی بہبود اور نشوونما میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، وہ بچوں کو شناخت، محبت، دیکھ بھال اور تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ اور استحکام کا خیال بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے حقوق کے کنونشن کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی پرورش میں والدین کی مدد کو قومی سماجی پالیسیوں اور سماجی سرمایہ کاری کے ایک اہم حصے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس کا مقصد غربت کو کم کرنا، عدم مساوات کو کم کرنا اور والدین اور بچوں کی مثبت بہبود کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زیادہ تر لوگ ماؤں کے عالمی دن (مدرز ڈے) اور باپ کے عالمی دن (فادرز ڈے) کے نام سے واقف ہیں، ان ایام میں بچے اپنے ماں اور باپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>ماؤں کا عالمی دن ہر سال 12 مئی کو منایا جاتا ہے جبکہ فادرز ڈے 16 جون کو منایا جاتا ہے۔</p>
<p>لیکن کیا آپ نے ’والدین کے عالمی دن‘ کے بارے میں سنا ہے؟ یقینی طور پر یہ بہت لوگوں نے سنا ہوگا۔</p>
<p>یہ عالمی دن مدرز ڈے اور فادرز ڈے کے مقابلے میں مختلف ہے، امریکا سمیت کئی ممالک میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے جہاں سرکاری تنظیمیں اور ادارے بچوں کی پرورش میں والدین کے کردار کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/30145057628768c.jpg'  alt='فائل فوٹو: یونیسیف' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: یونیسیف</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="یہ-دن-کب-اور-کیوں-منایا-جاتا-ہے" href="#یہ-دن-کب-اور-کیوں-منایا-جاتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یہ دن کب اور کیوں منایا جاتا ہے؟</h3>
<p>یہ دن امریکا میں جولائی کے چوتھے اتوار اور جنوبی کوریا میں 8 مئی کو منایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ دن یکم جون کو منایا جاتا ہے۔</p>
<p>پہلی بار والدین کا عالمی دن 1995 میں منایا گیا تھا۔</p>
<p>اس دن کی تاریخ کے  بارے میں بات کی جائے تو 1980 کی دہائی کے دوران اقوام متحدہ نے خاندان سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنا شروع کی۔</p>
<p>1983 میں اقتصادی اور سماجی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر کمیشن برائے سماجی ترقی نے ترقیاتی عمل میں خاندان کے کردار کے بارے میں اپنی قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ خاندان کے مسائل اور ضروریات کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔</p>
<p>اسی دوران امریکا میں بھی 1994 میں سابق صدر بل کلنٹن نے کانگریس کی ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں تنظیموں اور حکومتی اداروں کو ہدایت/ حوصلہ افزائی کی گئی کہ بچوں کی پرورش میں والدین کی مدد کریں۔</p>
<p>جس کے بعد 15 مئی کو والدین کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا لیکن بعد ازاں 17 ستمبر 2012 کو اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ والدین کا عالمی دن ہر سال یکم جون کو منایا جائے گا۔</p>
<p>اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کی پرورش کے لیے والدین کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں اور بچوں کو ایک صحتمند ماحول مہیا کرانے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بچوں پر ماں اور باپ کے علیحدہ علیحدہ حقوق کو یکجا کر کے ایک کردار وضع کیا گیا ہے اور اسی کے تناظر میں والدین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں ماں، باپ اور بچوں کے تعلقات، حقوق اور فرائض پر بحث کی جاتی ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے مطابق خاندان اور والدین بچے کی بہبود اور نشوونما میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، وہ بچوں کو شناخت، محبت، دیکھ بھال اور تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ اور استحکام کا خیال بھی رکھتے ہیں۔</p>
<p>بچوں کے حقوق کے کنونشن کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی پرورش میں والدین کی مدد کو قومی سماجی پالیسیوں اور سماجی سرمایہ کاری کے ایک اہم حصے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس کا مقصد غربت کو کم کرنا، عدم مساوات کو کم کرنا اور والدین اور بچوں کی مثبت بہبود کو فروغ دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208686</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Jul 2023 18:05:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/30143345bd04b07.jpg?r=180541" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/30143345bd04b07.jpg?r=180541"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ڈپریشن کے شکار باپ کا بچوں کے رویے میں اہم کردار ہوتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208251/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈاکٹرز اور سائنسدان برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ حمل کے دوران اگر ماں کو ذہنی مسائل کا سامنا ہے تو  زیادہ امکان ہے کہ بچے کو بھی ان جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر باپ بھی ذہنی  مسائل سے دوچار ہے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ہیلتھ میگزین میں شائع ایک &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.health.com/"&gt;تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر والد کو ڈپریشن جیسے مسائل کا سامنا ہے تو بچے میں جذباتی یا طرز عمل کے مسائل پیدا ہونے  میں 70 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ یہ شرح ڈپریشن کی شکار ماؤں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن یہ اب بھی تشویش کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک یونیورسٹی میں بچوں کی ادویات کے پروفیسر اور مذکورہ  تحقیق کے مصنف مائیکل ویٹزمین کہتے ہیں کہ ’ہم برسوں سے زچگی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ یہ کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، لیکن میڈٰکل کمیونٹی نے اس تحقیق میں باپ کو نظر انداز کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/23112304fc80b4c.jpg'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ بچے کے طرز عمل اور ان کے جذبات میں ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دونوں والدین ڈپریشن کا شکار ہوں تو صورتحال ممکنہ طور پر بدتر ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی طور پر صحت مند والدین کے ساتھ صرف 6 فیصد بچوں کو شدید جذباتی رویے کے مسائل ہوتے ہیں، جیسا کہ اداس ہونا یا گھبراہٹ محسوس کرنا، اسکول میں کام نہ کرنا یا خاندان اور دوستوں کے ساتھ جھگڑا کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن والدین میں سے صرف باپ ڈپریشن میں مبتلا ہوں تو یہ شرح 11 فیصد تک بڑھ جاتی ہے اور اگر صرف ماں ڈپریشن کا شکار ہے تو شرح 19 فیصد تک بڑھ جاتی ہے اور اگر دونوں ہی ذہنی مسائل کا سامنا ہے تو یہ شرح 25 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مذکورہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ڈپریشن میں مبتلا والدین براہ راست بچوں کے لیے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں یا نہیں تاہم اس کے برعکس ماں اور بچوں کے بارے میں پچھلی تحقیق سے واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام طور پر مائیں ہی بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکن اکیڈمی آف چائلڈ سائیکاٹری کے ترجمان اور میری لینڈ یونیورسٹی میں امریکن اسٹڈیز کے وزیٹنگ پروفیسر مائیکل بروڈی نے کہا کہ جینز  (genes) اکثر ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کو والدین سے اولاد تک منتقل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ خاندانی ماحول کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/23112347dacf2c6.jpg'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: کینوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اپنے والدین کو مثالی شخصیت کے طور پر دیکھ کر حالات کو اپنانے کا طریقہ سیکھتے ہیں لہذا اگر والدین میں سے کوئی بھی افسردہ ہے تو بچہ بھی اس سے متاثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق پیڈیاٹرکس جریدے میں شائع ہوئی تھی جس میں تقریباً 22 ہزار والدین اور ان کے خاندان کو شامل کیا گیا جنہوں نے 2004 اور 2008 کے درمیان وفاقی صحت کے سروے میں حصہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے ان افراد کے گھر کے ایک فرد (خاص طور پر ماں) سے انٹرویو کیا اور  گھر کے تمام افراد کی ذہنی صحت کے بارے میں سوال کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے والدین کی مجموعی ذہنی صحت اور ڈپریشن کی علامات کو ریکارڈ کرنے کے لیے دو الگ الگ سوالنامے استعمال کیے تھے، یہ سوالنامے صرف اسکریننگ کے مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر باپ کی ذہنی صحت اور ڈپریشن کی علامات اوسط سے کم ہیں، تو بچے کے اسی طرح کے مسائل ہونے کے امکانات بالترتیب 33 فیصد اور 70فیصد بڑھ سکتے ہیں اور اگر باپ کے بجائے ماں کو ان مسائل کا سامنا ہو تو بچے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ یہ مطالعہ ان بچوں تک محدود تھا جو دونوں (ماں اور باپ) کے ساتھ رہتے تھے تاہم اس لیے ضروری نہیں کہ مجموعی طور پر نتائج تمام گھرانوں اور خاندانی حالات پر لاگو ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گھر کا ایک فرد ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو اس گھرانے کو ڈاکٹر یا دماغی صحت کے پیشہ ور سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ڈاکٹر یہ پوچھ سکے کہ بچے کی پرورش میں والد کا کیا کردار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ضروری ہے والدین اپنے بچوں کی زندگی میں اہم ہونے کے ساتھ ساتھ مثبت کردار ادا کریں، اگر ماں اور باپ میں سے کوئی بھی ڈپریشن، افسردگی کا شکار ہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈاکٹرز اور سائنسدان برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ حمل کے دوران اگر ماں کو ذہنی مسائل کا سامنا ہے تو  زیادہ امکان ہے کہ بچے کو بھی ان جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر باپ بھی ذہنی  مسائل سے دوچار ہے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ہیلتھ میگزین میں شائع ایک <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.health.com/">تحقیق</a></strong> کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر والد کو ڈپریشن جیسے مسائل کا سامنا ہے تو بچے میں جذباتی یا طرز عمل کے مسائل پیدا ہونے  میں 70 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ یہ شرح ڈپریشن کی شکار ماؤں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن یہ اب بھی تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p>نیویارک یونیورسٹی میں بچوں کی ادویات کے پروفیسر اور مذکورہ  تحقیق کے مصنف مائیکل ویٹزمین کہتے ہیں کہ ’ہم برسوں سے زچگی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ یہ کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، لیکن میڈٰکل کمیونٹی نے اس تحقیق میں باپ کو نظر انداز کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/23112304fc80b4c.jpg'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ بچے کے طرز عمل اور ان کے جذبات میں ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر دونوں والدین ڈپریشن کا شکار ہوں تو صورتحال ممکنہ طور پر بدتر ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی طور پر صحت مند والدین کے ساتھ صرف 6 فیصد بچوں کو شدید جذباتی رویے کے مسائل ہوتے ہیں، جیسا کہ اداس ہونا یا گھبراہٹ محسوس کرنا، اسکول میں کام نہ کرنا یا خاندان اور دوستوں کے ساتھ جھگڑا کرنا شامل ہے۔</p>
<p>لیکن والدین میں سے صرف باپ ڈپریشن میں مبتلا ہوں تو یہ شرح 11 فیصد تک بڑھ جاتی ہے اور اگر صرف ماں ڈپریشن کا شکار ہے تو شرح 19 فیصد تک بڑھ جاتی ہے اور اگر دونوں ہی ذہنی مسائل کا سامنا ہے تو یہ شرح 25 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ مذکورہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ڈپریشن میں مبتلا والدین براہ راست بچوں کے لیے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں یا نہیں تاہم اس کے برعکس ماں اور بچوں کے بارے میں پچھلی تحقیق سے واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام طور پر مائیں ہی بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔</p>
<p>امریکن اکیڈمی آف چائلڈ سائیکاٹری کے ترجمان اور میری لینڈ یونیورسٹی میں امریکن اسٹڈیز کے وزیٹنگ پروفیسر مائیکل بروڈی نے کہا کہ جینز  (genes) اکثر ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کو والدین سے اولاد تک منتقل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ خاندانی ماحول کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/23112347dacf2c6.jpg'  alt='فائل فوٹو: کینوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: کینوا</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم اپنے والدین کو مثالی شخصیت کے طور پر دیکھ کر حالات کو اپنانے کا طریقہ سیکھتے ہیں لہذا اگر والدین میں سے کوئی بھی افسردہ ہے تو بچہ بھی اس سے متاثر ہوگا۔</p>
<p>یہ تحقیق پیڈیاٹرکس جریدے میں شائع ہوئی تھی جس میں تقریباً 22 ہزار والدین اور ان کے خاندان کو شامل کیا گیا جنہوں نے 2004 اور 2008 کے درمیان وفاقی صحت کے سروے میں حصہ لیا تھا۔</p>
<p>محققین نے ان افراد کے گھر کے ایک فرد (خاص طور پر ماں) سے انٹرویو کیا اور  گھر کے تمام افراد کی ذہنی صحت کے بارے میں سوال کیے۔</p>
<p>محققین نے والدین کی مجموعی ذہنی صحت اور ڈپریشن کی علامات کو ریکارڈ کرنے کے لیے دو الگ الگ سوالنامے استعمال کیے تھے، یہ سوالنامے صرف اسکریننگ کے مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔</p>
<p>اگر باپ کی ذہنی صحت اور ڈپریشن کی علامات اوسط سے کم ہیں، تو بچے کے اسی طرح کے مسائل ہونے کے امکانات بالترتیب 33 فیصد اور 70فیصد بڑھ سکتے ہیں اور اگر باپ کے بجائے ماں کو ان مسائل کا سامنا ہو تو بچے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>محققین کا کہنا تھا کہ یہ مطالعہ ان بچوں تک محدود تھا جو دونوں (ماں اور باپ) کے ساتھ رہتے تھے تاہم اس لیے ضروری نہیں کہ مجموعی طور پر نتائج تمام گھرانوں اور خاندانی حالات پر لاگو ہوں۔</p>
<p>اگر گھر کا ایک فرد ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو اس گھرانے کو ڈاکٹر یا دماغی صحت کے پیشہ ور سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ڈاکٹر یہ پوچھ سکے کہ بچے کی پرورش میں والد کا کیا کردار تھا۔</p>
<p>اس لیے ضروری ہے والدین اپنے بچوں کی زندگی میں اہم ہونے کے ساتھ ساتھ مثبت کردار ادا کریں، اگر ماں اور باپ میں سے کوئی بھی ڈپریشن، افسردگی کا شکار ہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Dawn</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208251</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Jul 2023 15:37:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/23112101e72cf92.jpg?r=153748" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/23112101e72cf92.jpg?r=153748"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نومولود بچوں میں نیند کی کمی سے پریشان والدین آخر کیا کریں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207507/</link>
      <description>&lt;p&gt;جو بچے پُرسکون نیند سوتے ہیں وہ والدین یقینی طور پر خوش قسمت ہیں، کیونکہ کئی بچے ایسے بھی ہیں جو نیند پوری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور والدین کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اطفال والدین کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر جو بچے بہتر نیند نہیں کرتے ان کی نشوونما میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہر حال والدین دن بھر کے کاموں سے فارغ ہو کر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب ان کا بچہ رات کو سو رہا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض نومولود بچے سونے میں زیادہ پریشان نہیں کرتے لیکن جب بچہ 3 ماہ سے زائد عمر کا ہوتا ہے تو انہیں سلانا والدین کے لیے دردِ سر بن جاتا ہے خاص طور پر ماں کے لیے تھکاوٹ اور بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20220131-the-science-of-safe-and-healthy-baby-sleep"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 21ویں صدی میں کچھ لوگ کمرے میں اندھیرا اور خاموشی کرکے مسلسل 8 گھنٹے کی نیند پوری کرنے کے عادی ہوتے ہیں، کیونکہ کچھ لوگ اسی طرح سونے کے عادی ہوچکے ہیں، اس لیے ہمیں بچے کے سونے کے عمل کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ وہ کون سے ماحول میں جلدی سوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/12133745fcb5a14.jpg?r=133755'  alt='فائل فوٹو: الجزیرہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: الجزیرہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی نیند کے حوالے سے والدین ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں، اس حوالے سے پہلی ’سائنسی‘ گائیڈلائن 1897 کے اوائل میں لکھی گئی تھی، جب لندن میں قائم کنٹیمپریری سائنس سیریز کے لیے نیند پر ایک کتاب لکھی گئی جس میں روسی ڈاکٹر نے تجویز کیا کہ نومولود بچوں کو دن میں 22 گھنٹے سونا چاہیے، وقت کے ساتھ ساتھ اس دورانیے میں کمی واقع ہوتی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کے لیے نیند بہت ضروری ہے، نیند کی کمی کارڈیو میٹابولک کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے اور  تعلیمی کامیابی اور معیار زندگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیند اور نشوونما کا آپس میں گہرا تعلق ہے، لندن کی گولڈاسمتھس یونیورسٹی میں نیند کی ماہر نفسیات پروفیسر  ایلس گریگوری کہتی ہیں کہ ’جس طرح بالغ افراد نیند کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں اس طرح مختلف بچوں کی مختلف دورانیے کی نیند ہوتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بتاتی ہیں کہ امریکا کی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کی گائیڈلائن کے مطابق  تین ماہ تک کے بچوں کو 24 گھنٹے کے دوران 14سے 17 گھنٹے کی نیند کرنی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ تین ماہ تک کے بچے کو کم سے کم 11 اور زیادہ سے زیادہ 19 گھنٹے کی پُرسکون نیند کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران امریکی اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کی طرف سے نیند کے دورانیے کے حوالے سے چار ماہ سے کم عمر بچوں کے لیے کوئی گائیڈلائن شیئر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک آسٹریلوی  تحقیق کے مطابق 4 سے 6 ماہ کے 554 بچوں میں 24 گھنٹے کے دوران سونے کا دورانیہ 14 گھنٹے تھا، لیکن اعداد و شمار کو قریب سے دیکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اور کم نیند لینے والوں میں 8 گھنٹے سے زیادہ کا فرق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/121337456495e98.jpg?r=133755'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ممالک کی بات کی جائے تو اکثر ممالک میں بچے شام 7 بچے ہی سونے کے عادی ہوتے ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ میں کچھ بچے رات 10 بجکر 45 منٹ پر ، ایشیا میں رات 9 بجکر 45 منٹ پر اور اٹلی میں رات کو بچے سوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اچھی نیند بہتر تعلیمی کارکردگی اور موٹاپے کے خطرے جیسے مسائل کو روکتی ہے لیکن ان میں اسکول جانے والے بچوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کی نیند اگر پوری نہیں ہورہی تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ والدین نوٹس کریں کہ کوئی چیز بچے کی روٹین میں خلل تو پیدا نہیں کر رہی؟ جبکہ دن کے وقت انہیں زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں تاکہ شام کو جلدی نیند کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/12133854a23cbd0.jpg'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: شٹر اسٹاک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کا بچہ دو یا تین سال کا ہے تو ان کے اسکرین ٹائم اور کھانے میں فاسٹ فوڈ کا استعمال کم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کہتے ہیں کہ والدین کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ بچے کے نہ سونے کے پیچھے وجہ کوئی بیماری تو نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر بچے کا نیٹ خراب ہوسکتا ہے، قے ہوسکتی ہے، پاخانے ہو رہے ہوں، ناک بند ہو، چھاتی بند ہو یعنی سانس لینے میں دشواری ہو، کھانسی ہو یا زکام ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ان میں سے کوئی بھی مسئلہ درپیش نہیں ہے تو ممکن ہے کہ بچے کو کوئی دوسری بیماری ہے، اس لیے آپ کو ڈاکٹر سے رجوع لازمی کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ والدین بچے کو نیند نہ آنے کی صورت میں شربت یا دوائی پلاتے ہیں جو بچے کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، کچھ لوگ گھریلو ٹوٹکے یعنی دیسی گھی یا گڑ بھی پلاتی ہیں جو بچے کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جو بچے پُرسکون نیند سوتے ہیں وہ والدین یقینی طور پر خوش قسمت ہیں، کیونکہ کئی بچے ایسے بھی ہیں جو نیند پوری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور والدین کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین اطفال والدین کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر جو بچے بہتر نیند نہیں کرتے ان کی نشوونما میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔</p>
<p>بہر حال والدین دن بھر کے کاموں سے فارغ ہو کر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب ان کا بچہ رات کو سو رہا ہوتا ہے۔</p>
<p>بعض نومولود بچے سونے میں زیادہ پریشان نہیں کرتے لیکن جب بچہ 3 ماہ سے زائد عمر کا ہوتا ہے تو انہیں سلانا والدین کے لیے دردِ سر بن جاتا ہے خاص طور پر ماں کے لیے تھکاوٹ اور بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20220131-the-science-of-safe-and-healthy-baby-sleep">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 21ویں صدی میں کچھ لوگ کمرے میں اندھیرا اور خاموشی کرکے مسلسل 8 گھنٹے کی نیند پوری کرنے کے عادی ہوتے ہیں، کیونکہ کچھ لوگ اسی طرح سونے کے عادی ہوچکے ہیں، اس لیے ہمیں بچے کے سونے کے عمل کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ وہ کون سے ماحول میں جلدی سوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/12133745fcb5a14.jpg?r=133755'  alt='فائل فوٹو: الجزیرہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: الجزیرہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>بچوں کی نیند کے حوالے سے والدین ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں، اس حوالے سے پہلی ’سائنسی‘ گائیڈلائن 1897 کے اوائل میں لکھی گئی تھی، جب لندن میں قائم کنٹیمپریری سائنس سیریز کے لیے نیند پر ایک کتاب لکھی گئی جس میں روسی ڈاکٹر نے تجویز کیا کہ نومولود بچوں کو دن میں 22 گھنٹے سونا چاہیے، وقت کے ساتھ ساتھ اس دورانیے میں کمی واقع ہوتی گئی۔</p>
<p>ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کے لیے نیند بہت ضروری ہے، نیند کی کمی کارڈیو میٹابولک کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے اور  تعلیمی کامیابی اور معیار زندگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔</p>
<p>نیند اور نشوونما کا آپس میں گہرا تعلق ہے، لندن کی گولڈاسمتھس یونیورسٹی میں نیند کی ماہر نفسیات پروفیسر  ایلس گریگوری کہتی ہیں کہ ’جس طرح بالغ افراد نیند کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں اس طرح مختلف بچوں کی مختلف دورانیے کی نیند ہوتی ہے۔‘</p>
<p>وہ بتاتی ہیں کہ امریکا کی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کی گائیڈلائن کے مطابق  تین ماہ تک کے بچوں کو 24 گھنٹے کے دوران 14سے 17 گھنٹے کی نیند کرنی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ تین ماہ تک کے بچے کو کم سے کم 11 اور زیادہ سے زیادہ 19 گھنٹے کی پُرسکون نیند کرنی چاہیے۔</p>
<p>اسی دوران امریکی اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کی طرف سے نیند کے دورانیے کے حوالے سے چار ماہ سے کم عمر بچوں کے لیے کوئی گائیڈلائن شیئر نہیں کی گئی۔</p>
<p>ایک آسٹریلوی  تحقیق کے مطابق 4 سے 6 ماہ کے 554 بچوں میں 24 گھنٹے کے دوران سونے کا دورانیہ 14 گھنٹے تھا، لیکن اعداد و شمار کو قریب سے دیکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اور کم نیند لینے والوں میں 8 گھنٹے سے زیادہ کا فرق تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/121337456495e98.jpg?r=133755'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p>مختلف ممالک کی بات کی جائے تو اکثر ممالک میں بچے شام 7 بچے ہی سونے کے عادی ہوتے ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ میں کچھ بچے رات 10 بجکر 45 منٹ پر ، ایشیا میں رات 9 بجکر 45 منٹ پر اور اٹلی میں رات کو بچے سوتے ہیں۔</p>
<p>متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اچھی نیند بہتر تعلیمی کارکردگی اور موٹاپے کے خطرے جیسے مسائل کو روکتی ہے لیکن ان میں اسکول جانے والے بچوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>بچے کی نیند اگر پوری نہیں ہورہی تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ والدین نوٹس کریں کہ کوئی چیز بچے کی روٹین میں خلل تو پیدا نہیں کر رہی؟ جبکہ دن کے وقت انہیں زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں تاکہ شام کو جلدی نیند کرسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/12133854a23cbd0.jpg'  alt='فائل فوٹو: شٹر اسٹاک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: شٹر اسٹاک</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگر آپ کا بچہ دو یا تین سال کا ہے تو ان کے اسکرین ٹائم اور کھانے میں فاسٹ فوڈ کا استعمال کم کریں۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ والدین کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ بچے کے نہ سونے کے پیچھے وجہ کوئی بیماری تو نہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر بچے کا نیٹ خراب ہوسکتا ہے، قے ہوسکتی ہے، پاخانے ہو رہے ہوں، ناک بند ہو، چھاتی بند ہو یعنی سانس لینے میں دشواری ہو، کھانسی ہو یا زکام ہو۔</p>
<p>اگر ان میں سے کوئی بھی مسئلہ درپیش نہیں ہے تو ممکن ہے کہ بچے کو کوئی دوسری بیماری ہے، اس لیے آپ کو ڈاکٹر سے رجوع لازمی کرنا چاہیے۔</p>
<p>کچھ والدین بچے کو نیند نہ آنے کی صورت میں شربت یا دوائی پلاتے ہیں جو بچے کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، کچھ لوگ گھریلو ٹوٹکے یعنی دیسی گھی یا گڑ بھی پلاتی ہیں جو بچے کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207507</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Jul 2023 14:30:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/12133227515a298.jpg?r=143035" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/12133227515a298.jpg?r=143035"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں بچوں کی پیدائش پر والدین کو چھٹیاں دینے کا قانون متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206324/</link>
      <description>&lt;p&gt;صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچے کی پیدائش کے بعد ماں اور باپ کی چھٹی کے بل 2023 کی توثیق کردی ہے، بل کی توثیق آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%D9%85%D9%85%D9%84%DA%A9%D8%AA-%D9%86%DB%92-%D8%B2%DA%86%DA%AF%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A8/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بل کے تحت وفاقی حکومت کے اداروں کی خواتین ملازمین سروس میں 3 مرتبہ مکمل تنخواہ کے ساتھ زچگی کے لیے  چھٹی لے سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق خواتین ملازمین پہلے بچے کی پیدائش کے وقت تنخواہ کے ساتھ 180 دن، دوسری مرتبہ میں 120 دن اور تیسری مرتبہ میں 90 دن کی زچگی کی چھٹی لے سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کے تحت والد کو بچے کی پیدائش پر اپنی مدت ملازمت کے دوران 3 دفعہ ایک ماہ کی چھٹیاں لینے کی اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بل کے اہم نکات :&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے بچے کی پیدائس پر ماں کو 180 دن (6 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے بچے کی پیدائش پر ماں کو 120 دن (4 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرے بچے کی پیدائش پر ماں کو 90 دن (3 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کے والد کو بھی تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کی پیدائش کے موقع پر والد کو اپنی مدت ملازمت میں 3 مرتبہ صرف 30 دن کی چھٹی ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قانون کا اطلاق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں سرکاری و غیر سرکاری دونوں طرح کے اداروں پر ہوگا اور اگر ملازمت فراہم کرنے والا اپنے ملازمین کو چھٹی نہیں دے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاف ورزی کی صورت میں 6 ماہ تک قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سنہ 2020 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر قرۃالعین مری کی جانب سے مادریت اور پدریت بل 2018 سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تھا، جبکہ اپوزیشن نے نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر قرۃالعین مری نے اُس وقت کہا تھا کہ سرکاری اداروں میں خواتین کو بچے کی پیدائش کے موقع پر چھٹی نہیں دی جاتی، سینیٹ میں بھی خواتین کو کہہ دیا جاتا ہے کہ اتنے بچے پیدا نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے قانون میں 90 دن کے لیے چھٹی دی جاتی ہے، پٹرنیٹی لیو (پدریت چھٹی) کو کم کرکے 15 دن کیا جائے کیونکہ دنیا کے اکثر ممالک میں والد کو بچے کی پیدائش پر اتنی طویل چھٹی کی اجازت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ سرکاری ملازمین (مرد) کو پہلے ہی 48 دن اور خواتین 3 ماہ کی چھٹی پر جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچے کی پیدائش کے بعد ماں اور باپ کی چھٹی کے بل 2023 کی توثیق کردی ہے، بل کی توثیق آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت کی گئی ہے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%D9%85%D9%85%D9%84%DA%A9%D8%AA-%D9%86%DB%92-%D8%B2%DA%86%DA%AF%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A8/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بل کے تحت وفاقی حکومت کے اداروں کی خواتین ملازمین سروس میں 3 مرتبہ مکمل تنخواہ کے ساتھ زچگی کے لیے  چھٹی لے سکیں گی۔</p>
<p>ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق خواتین ملازمین پہلے بچے کی پیدائش کے وقت تنخواہ کے ساتھ 180 دن، دوسری مرتبہ میں 120 دن اور تیسری مرتبہ میں 90 دن کی زچگی کی چھٹی لے سکیں گی۔</p>
<p>اس قانون کے تحت والد کو بچے کی پیدائش پر اپنی مدت ملازمت کے دوران 3 دفعہ ایک ماہ کی چھٹیاں لینے کی اجازت دی گئی ہے۔</p>
<hr />
<p><strong>بل کے اہم نکات :</strong></p>
<p>پہلے بچے کی پیدائس پر ماں کو 180 دن (6 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی</p>
<p>دوسرے بچے کی پیدائش پر ماں کو 120 دن (4 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی</p>
<p>تیسرے بچے کی پیدائش پر ماں کو 90 دن (3 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی</p>
<p>بچے کے والد کو بھی تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے گی۔</p>
<p>بچے کی پیدائش کے موقع پر والد کو اپنی مدت ملازمت میں 3 مرتبہ صرف 30 دن کی چھٹی ملے گی۔</p>
<hr />
<p>بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قانون کا اطلاق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں سرکاری و غیر سرکاری دونوں طرح کے اداروں پر ہوگا اور اگر ملازمت فراہم کرنے والا اپنے ملازمین کو چھٹی نہیں دے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>خلاف ورزی کی صورت میں 6 ماہ تک قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ سنہ 2020 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر قرۃالعین مری کی جانب سے مادریت اور پدریت بل 2018 سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تھا، جبکہ اپوزیشن نے نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کی تھی۔</p>
<p>سینیٹر قرۃالعین مری نے اُس وقت کہا تھا کہ سرکاری اداروں میں خواتین کو بچے کی پیدائش کے موقع پر چھٹی نہیں دی جاتی، سینیٹ میں بھی خواتین کو کہہ دیا جاتا ہے کہ اتنے بچے پیدا نہ کریں۔</p>
<p>دوسری جانب سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے قانون میں 90 دن کے لیے چھٹی دی جاتی ہے، پٹرنیٹی لیو (پدریت چھٹی) کو کم کرکے 15 دن کیا جائے کیونکہ دنیا کے اکثر ممالک میں والد کو بچے کی پیدائش پر اتنی طویل چھٹی کی اجازت نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ سرکاری ملازمین (مرد) کو پہلے ہی 48 دن اور خواتین 3 ماہ کی چھٹی پر جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206324</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jun 2023 20:16:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/211304208bcbd9b.jpg?r=130520" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/211304208bcbd9b.jpg?r=130520"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/2113051169fee77.jpg?r=154434" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/2113051169fee77.jpg?r=154434"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بچے کی نگہداشت مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205515/</link>
      <description>&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/647fe70ab974d.jpg'  alt='لکھاری  آکسفیم، ایشیا سے منسلک ہیں۔   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری  آکسفیم، ایشیا سے منسلک ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حال ہی میں منظور ہونے والے ایک بل کے تحت ملازمت پیشہ خواتین کو پہلے بچے کی پیدائش پر 6 ماہ، دوسرے کی پیدائش پر 4 ماہ جبکہ تیسرے بچے کی پیدائش پر 3 ماہ کی چھٹیاں لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت والد کو بچے کی پیدائش پر اپنی مدت ملازمت کے دوران 3 دفعہ ایک ماہ کی چھٹیاں لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب پیٹرنل چھٹیوں (بجے کی پیدائش کے بعد والد کو ملنے والی چھٹیاں) کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور یہ قدم دو اہم وجوہات کی بنا پر کافی اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی وجہ یہ ہے کہ اس قانون کا مقصد افرادی قوت میں خواتین کی موجودگی کو برقرار رکھنا ہے جبکہ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے تحت اس خیال کو بھی فروغ دیا گیا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جن ممالک میں خاندانی وجوہات کی بنا پر چھٹیاں دینے کی پالیسیاں ہیں وہاں لیبر فورس میں خواتین کی شرکت کی شرح بھی زیادہ ہے جبکہ اس سے صنفی مساوات کو بھی فروغ ملتا ہے اور پیداواری صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کی حمایت میں قانون سازی کو فروغ دینے کی کوششوں اور اپنی ترقی پسند پالیسیوں کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمت پیشہ خواتین کو بچے کی پیدائش پر  چھٹیاں دینا بنیادی انسانی اور لیبر حقوق کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ زچہ اور بچے کی صحت، حفاظت، دیکھ بھال اور ان کی مالی ضروریات کی تکمیل کے لیے یہ قانون انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کی پیدائش پر ملنے والی چھٹیاں خواتین کے بامعاوضہ کام کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن بچے کی دیکھ بھال میں لگنے والا وقت اکثر ان کے کام یا کریئر کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ گھریلو نگہداشت کے کاموں میں کھانا پکانا، صفائی، کپڑے دھونا جبکہ بچوں، بڑی عمر اور معذور افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گھریلو ذمہ داریاں نہ صرف سماجی کام ہیں بلکہ اگر اسے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اگر کچھ لوگ گھریلو معاملات میں وقت نہیں لگائیں گے تو  بامعاوضہ کام کرنے والے بھی موثر طریقے سے انجام نہیں دے پائیں گے۔ تاہم دنیا بھر میں گھریلو کاموں کی ذمہ داری عموماً خواتین کے کاندھوں پر ہی ڈالی جاتی ہے جو بلامعاوضہ 75 فیصد گھریلو کام کرتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں خواتین مردوں کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ گھریلو کام بلامعاوضہ ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی) کے مطابق پاکستان میں خواتین ایک دن میں اوسطاً 4.4 گھنٹے بلامعاوضہ گھریلو کام کرتی ہیں، جن میں کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں اور گھر میں بڑی عمر کے افراد کی نگہداشت کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تصور کریں کہ خواتین کو 9 سے 5 بجے کی نوکری کرکے 4.4 گھنٹے کا کام گھر میں بھی کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں روایتی طور پر بچے سنبھالنا خالصتاً عورت کی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ عورتوں کو بامعاوضہ ملازمت سے وابستگی کے باوجود بھی گھریلو معاملات سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھانا پڑتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو خواتین کے کاموں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے! گھریلو کاموں کی نوعیت خواتین کو تھکا دیتی ہے جس کے بعد ان کے پاس اپنے لیے انتہائی کم وقت رہ جاتا ہے۔ اس کے منفی اثرات ان کی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ میں منظور ہونے والا حالیہ بل ایک درست قدم ہے۔ اس بات کا احساس کرنا ضروری ہے کہ سماجی روایات کی تشکیل میں قوانین اور پالیسیوں کا کلیدی کرادر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پیٹرنٹی چھٹیوں سے اس خیال کو فروغ ملتا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگلے قدم کے طور پر ایسی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے کہ بچے کی نگہداشت کو اجتماعی ذمہ داری کے طور پر کیسے فروغ دیا جائے۔ گھریلو کاموں کی غیرمساوی تقسیم کے تشویشناک اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ مرد یہ چھٹیاں اپنے آرام کے لیے استعمال کریں گے۔ اس حوالے سے قلیل مدت میں والدین کے لیے کم از کم شرائط شامل کرنے کی ضرورت ہوگی جیسے والد کا اپنے بچے کی پیدائش کو لازمی طور پر رجسٹر کروانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح قانون سازوں کو ایسے قوانین پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے جو حاملہ خواتین سے امتیازی سلوک کو ختم کریں۔ اس حوالے سے ممکنہ قدم یہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ زچگی کی چھٹیوں میں ہونے والے اخراجات کا انفرادی طور پر آجر ذمہ دار نہ ہو بلکہ یہ اخراجات سماجی بیمہ، عوامی فنڈز یا خواتین کے لیے سماجی امداد کے ذریعے فراہم کیے جائیں۔ آجر کے خواتین ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خطرے سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔ مزید یہ کہ قانون سازوں کو میٹرنل اور پیٹرنل چھٹیوں کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے ان میں کانٹریکٹ اور غیر رسمی ملازمین کو بھی شامل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے کی نگہداشت کے علاوہ، ہمیں اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کیسے حکومت اور مارکیٹس کے تعاون سے گھریلو کاموں کی ذمہ داریوں کو تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ترقی پسند پالیسیاں بنانے کے علاوہ ریاست کو اہم انفراسٹکچر اور خدمات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں سفر کے وقت کو کم کرنے کے لیے سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں، اسپتالوں، بچوں اور زائد عمر کے لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے مراکز اور کمیونٹی سینٹرز کا قیام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے آجر بھی کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی چھٹیوں کے بل کے  ساتھ ساتھ ملازمت کے مقامات میں بچوں کی دیکھ بھال کی لازمی سہولیات فراہم کرنے کا بل بھی پاس ہوا ہے جوکہ انتہائی اہم اقدام ہے۔ خواتین جب چھٹیوں کے بعد نوکری پر واپس آئیں تو آجروں کو انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ خواتین کو بچوں دودھ پلانے کے لیے وقفہ دیا جانا چاہیے اور انہیں کام پر واپس آنے کے لیے مناسب وقت بھی دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آجر کو کام کے اوقات میں کمی اور فی گھنٹہ آمدنی کے حساب سے جزوقتی مواقع، اور بچوں اور دیگر گھروالوں کی نگہداشت کے لیے چھٹیاں فراہم کرکے، کام کے لیے دوستانہ ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔ ملازمین کے حوصلہ افزائی،  ٹرن اوور کم کرنے اور بھرتی کے ضابطوں کو بہتر بنانے کے حوالے سے شقوں کو قوانین میں شامل کرکے آجر کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ کام اور گھریلو زندگی میں توازن کے ذریعے کمپنیاں مثبت اور جامع ماحول پیدا کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل معاشی بحران کی صورتحال میں گھریلو اخراجات اٹھانے کے لیے دونوں افراد کو کفالت کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں مردوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور بچوں کی نگہداشت اور گھریلو کاموں میں خواتین کی مدد کرنی چاہیے۔ پیٹرنٹی چھٹیوں کا قانون یہ تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے میں اکثر اس طرح کے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ حکومتوں اور آجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ان قوانین پر عمل کروائے۔ خواتین کے متعلقہ گروپس کی آواز اور گھریلو کام کرنے والوں کی رائے کو پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان لوگوں کے خدشات کو سنا گیا ہے۔ درست پالیسیوں اور درست جگہ سرمایہ کاری کرکے ہم کچھ گھریلو ذمہ داریوں کو کم کرسکتے ہیں اور انہیں معاشرے میں مساوی طور پر تقسیم کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1758411/sharing-responsibilities"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 7 جون 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/647fe70ab974d.jpg'  alt='لکھاری  آکسفیم، ایشیا سے منسلک ہیں۔   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری  آکسفیم، ایشیا سے منسلک ہیں۔</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>حال ہی میں منظور ہونے والے ایک بل کے تحت ملازمت پیشہ خواتین کو پہلے بچے کی پیدائش پر 6 ماہ، دوسرے کی پیدائش پر 4 ماہ جبکہ تیسرے بچے کی پیدائش پر 3 ماہ کی چھٹیاں لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت والد کو بچے کی پیدائش پر اپنی مدت ملازمت کے دوران 3 دفعہ ایک ماہ کی چھٹیاں لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب پیٹرنل چھٹیوں (بجے کی پیدائش کے بعد والد کو ملنے والی چھٹیاں) کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور یہ قدم دو اہم وجوہات کی بنا پر کافی اہمیت کا حامل ہے۔</strong></p>
<p>پہلی وجہ یہ ہے کہ اس قانون کا مقصد افرادی قوت میں خواتین کی موجودگی کو برقرار رکھنا ہے جبکہ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے تحت اس خیال کو بھی فروغ دیا گیا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جن ممالک میں خاندانی وجوہات کی بنا پر چھٹیاں دینے کی پالیسیاں ہیں وہاں لیبر فورس میں خواتین کی شرکت کی شرح بھی زیادہ ہے جبکہ اس سے صنفی مساوات کو بھی فروغ ملتا ہے اور پیداواری صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>خواتین کی حمایت میں قانون سازی کو فروغ دینے کی کوششوں اور اپنی ترقی پسند پالیسیوں کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔</p>
<p>ملازمت پیشہ خواتین کو بچے کی پیدائش پر  چھٹیاں دینا بنیادی انسانی اور لیبر حقوق کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ زچہ اور بچے کی صحت، حفاظت، دیکھ بھال اور ان کی مالی ضروریات کی تکمیل کے لیے یہ قانون انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>بچے کی پیدائش پر ملنے والی چھٹیاں خواتین کے بامعاوضہ کام کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن بچے کی دیکھ بھال میں لگنے والا وقت اکثر ان کے کام یا کریئر کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ گھریلو نگہداشت کے کاموں میں کھانا پکانا، صفائی، کپڑے دھونا جبکہ بچوں، بڑی عمر اور معذور افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>یہ گھریلو ذمہ داریاں نہ صرف سماجی کام ہیں بلکہ اگر اسے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اگر کچھ لوگ گھریلو معاملات میں وقت نہیں لگائیں گے تو  بامعاوضہ کام کرنے والے بھی موثر طریقے سے انجام نہیں دے پائیں گے۔ تاہم دنیا بھر میں گھریلو کاموں کی ذمہ داری عموماً خواتین کے کاندھوں پر ہی ڈالی جاتی ہے جو بلامعاوضہ 75 فیصد گھریلو کام کرتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں خواتین مردوں کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ گھریلو کام بلامعاوضہ ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی) کے مطابق پاکستان میں خواتین ایک دن میں اوسطاً 4.4 گھنٹے بلامعاوضہ گھریلو کام کرتی ہیں، جن میں کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں اور گھر میں بڑی عمر کے افراد کی نگہداشت کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تصور کریں کہ خواتین کو 9 سے 5 بجے کی نوکری کرکے 4.4 گھنٹے کا کام گھر میں بھی کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں روایتی طور پر بچے سنبھالنا خالصتاً عورت کی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ عورتوں کو بامعاوضہ ملازمت سے وابستگی کے باوجود بھی گھریلو معاملات سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھانا پڑتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو خواتین کے کاموں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے! گھریلو کاموں کی نوعیت خواتین کو تھکا دیتی ہے جس کے بعد ان کے پاس اپنے لیے انتہائی کم وقت رہ جاتا ہے۔ اس کے منفی اثرات ان کی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>سینیٹ میں منظور ہونے والا حالیہ بل ایک درست قدم ہے۔ اس بات کا احساس کرنا ضروری ہے کہ سماجی روایات کی تشکیل میں قوانین اور پالیسیوں کا کلیدی کرادر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پیٹرنٹی چھٹیوں سے اس خیال کو فروغ ملتا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگلے قدم کے طور پر ایسی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے کہ بچے کی نگہداشت کو اجتماعی ذمہ داری کے طور پر کیسے فروغ دیا جائے۔ گھریلو کاموں کی غیرمساوی تقسیم کے تشویشناک اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ مرد یہ چھٹیاں اپنے آرام کے لیے استعمال کریں گے۔ اس حوالے سے قلیل مدت میں والدین کے لیے کم از کم شرائط شامل کرنے کی ضرورت ہوگی جیسے والد کا اپنے بچے کی پیدائش کو لازمی طور پر رجسٹر کروانا۔</p>
<p>اسی طرح قانون سازوں کو ایسے قوانین پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے جو حاملہ خواتین سے امتیازی سلوک کو ختم کریں۔ اس حوالے سے ممکنہ قدم یہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ زچگی کی چھٹیوں میں ہونے والے اخراجات کا انفرادی طور پر آجر ذمہ دار نہ ہو بلکہ یہ اخراجات سماجی بیمہ، عوامی فنڈز یا خواتین کے لیے سماجی امداد کے ذریعے فراہم کیے جائیں۔ آجر کے خواتین ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خطرے سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔ مزید یہ کہ قانون سازوں کو میٹرنل اور پیٹرنل چھٹیوں کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے ان میں کانٹریکٹ اور غیر رسمی ملازمین کو بھی شامل کرنا چاہیے۔</p>
<p>بچے کی نگہداشت کے علاوہ، ہمیں اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کیسے حکومت اور مارکیٹس کے تعاون سے گھریلو کاموں کی ذمہ داریوں کو تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ترقی پسند پالیسیاں بنانے کے علاوہ ریاست کو اہم انفراسٹکچر اور خدمات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں سفر کے وقت کو کم کرنے کے لیے سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں، اسپتالوں، بچوں اور زائد عمر کے لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے مراکز اور کمیونٹی سینٹرز کا قیام شامل ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے آجر بھی کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی چھٹیوں کے بل کے  ساتھ ساتھ ملازمت کے مقامات میں بچوں کی دیکھ بھال کی لازمی سہولیات فراہم کرنے کا بل بھی پاس ہوا ہے جوکہ انتہائی اہم اقدام ہے۔ خواتین جب چھٹیوں کے بعد نوکری پر واپس آئیں تو آجروں کو انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ خواتین کو بچوں دودھ پلانے کے لیے وقفہ دیا جانا چاہیے اور انہیں کام پر واپس آنے کے لیے مناسب وقت بھی دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>آجر کو کام کے اوقات میں کمی اور فی گھنٹہ آمدنی کے حساب سے جزوقتی مواقع، اور بچوں اور دیگر گھروالوں کی نگہداشت کے لیے چھٹیاں فراہم کرکے، کام کے لیے دوستانہ ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔ ملازمین کے حوصلہ افزائی،  ٹرن اوور کم کرنے اور بھرتی کے ضابطوں کو بہتر بنانے کے حوالے سے شقوں کو قوانین میں شامل کرکے آجر کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ کام اور گھریلو زندگی میں توازن کے ذریعے کمپنیاں مثبت اور جامع ماحول پیدا کرسکتی ہیں۔</p>
<p>آج کل معاشی بحران کی صورتحال میں گھریلو اخراجات اٹھانے کے لیے دونوں افراد کو کفالت کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں مردوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور بچوں کی نگہداشت اور گھریلو کاموں میں خواتین کی مدد کرنی چاہیے۔ پیٹرنٹی چھٹیوں کا قانون یہ تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔</p>
<p>نجی شعبے میں اکثر اس طرح کے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ حکومتوں اور آجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ان قوانین پر عمل کروائے۔ خواتین کے متعلقہ گروپس کی آواز اور گھریلو کام کرنے والوں کی رائے کو پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان لوگوں کے خدشات کو سنا گیا ہے۔ درست پالیسیوں اور درست جگہ سرمایہ کاری کرکے ہم کچھ گھریلو ذمہ داریوں کو کم کرسکتے ہیں اور انہیں معاشرے میں مساوی طور پر تقسیم کرسکتے ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1758411/sharing-responsibilities">مضمون</a></strong> 7 جون 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205515</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jun 2023 10:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مائرہ نیرین بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/07132826b5137f7.jpg?r=132828" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/07132826b5137f7.jpg?r=132828"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کی نگہداشت کے وارڈ کی 12 نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206075/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ریاست ورجینیا کے ہسپتال میں ایک ہی وارڈ میں ملازمت کرنے والی ایک درجن نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئیں، جس پر انتظامیہ نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://fox8.com/news/12-nicu-team-members-pregnant-at-virginia-hospital/"&gt;&lt;strong&gt;’فاکس 8 نیوز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ریاست ورجینیا کے شہر نیوز پورٹ کے ہسپتال ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر کے بچوں کی نگہداشت کے وارڈ (این آئی سی یو) کی نرسز حاملہ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایک ہی وارڈ کی نرسز کے ہاں بچوں کی متوقع پیدائش پر انتظامیہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہسپتال میں ایک ساتھ اتنی ملازمین پہلی بار حاملہ ہوئیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1100270"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ 12 سے دو نرسز کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی جب کہ مزید تین خواتین کے ہاں آئندہ ماہ جولائی اور اگست میں بچوں کی پیدائش ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق باقی حاملہ نرسز کے ہاں ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں بچوں کی پیدائش ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://people.com/12-women-working-virginia-nicu-pregnant-at-same-time-7546802"&gt;&lt;strong&gt;’پیپلز میگزین‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے بتایا کہ حاملہ ہونے والی تمام 12 ہی نرسز بچوں کی نگہداشت کے وارڈ میں کام کرتی ہیں اور حمل کے دوران بھی وہ اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاملہ ہونے والی خواتین میں 10 نرسز، ایک ٹرینی نرس جب کہ ایک ان کی انچارج شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتطامیہ نے بتایا کہ اُمید سے ہونے والی خواتین میں سے پانچ خواتین ایسی ہیں جو پہلی بار بچوں کو جنم دیں گی جب کہ باقی نرسز کے حوالے سے اس طرح کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُمید سے ہونے والی خواتین نے ایک ساتھ حاملہ ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تمام ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں، سب کی سب خواتین اہم وقت سے گزر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/162019452b78749.jpg'  alt='12 میں سے دو خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی&amp;mdash;فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;12 میں سے دو خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی—فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ورجینیا کے مذکورہ ہسپتال میں پہلی بار ایک ساتھ 12 نرسز حاملہ ہوئی ہیں، تاہم امریکا میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ مئی میں ریاست &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cbsnews.com/newyork/news/long-island-pregnant-nurses-reunion/"&gt;&lt;strong&gt;نیویارک&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ایک ہسپتال نے بھی بتایا تھا کہ ان کے بچوں کی نگہداشت کے وارڈ میں کام کرنے والی 15 نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ریاست &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.saintlukeskc.org/about/news/fox-news-14-maternity-and-nicu-nurses-pregnant-same-time-missouri-hospital"&gt;&lt;strong&gt;مسوری&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ہسپتال میں بھی بچوں کی نگہداشت میں کام کرنے والی 14 نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 2019 میں بھی مسوری کے ایک ہسپتال کے بچوں کی نگہداشت کے وارڈ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://people.com/human-interest/kansas-city-nurses-36-pregnant-birth-baby-boom/"&gt;&lt;strong&gt;36 نرسز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ایک ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2019 میں ہی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ کے ہسپتال کے بچوں کی ہی نگہداشت کے وارڈ کی 9 نرسز بھی ایک ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/1620213411d18ad.jpg'  alt='12 میں سے 5 خواتین ایسی ہیں جن کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوگی&amp;mdash;فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;12 میں سے 5 خواتین ایسی ہیں جن کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوگی—فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ریاست ورجینیا کے ہسپتال میں ایک ہی وارڈ میں ملازمت کرنے والی ایک درجن نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئیں، جس پر انتظامیہ نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://fox8.com/news/12-nicu-team-members-pregnant-at-virginia-hospital/"><strong>’فاکس 8 نیوز‘</strong></a> کے مطابق ریاست ورجینیا کے شہر نیوز پورٹ کے ہسپتال ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر کے بچوں کی نگہداشت کے وارڈ (این آئی سی یو) کی نرسز حاملہ ہوئیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایک ہی وارڈ کی نرسز کے ہاں بچوں کی متوقع پیدائش پر انتظامیہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہسپتال میں ایک ساتھ اتنی ملازمین پہلی بار حاملہ ہوئیں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1100270"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ 12 سے دو نرسز کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی جب کہ مزید تین خواتین کے ہاں آئندہ ماہ جولائی اور اگست میں بچوں کی پیدائش ہوگی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق باقی حاملہ نرسز کے ہاں ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں بچوں کی پیدائش ہوگی۔</p>
<p>اسی حوالے سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://people.com/12-women-working-virginia-nicu-pregnant-at-same-time-7546802"><strong>’پیپلز میگزین‘</strong></a> نے بتایا کہ حاملہ ہونے والی تمام 12 ہی نرسز بچوں کی نگہداشت کے وارڈ میں کام کرتی ہیں اور حمل کے دوران بھی وہ اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔</p>
<p>حاملہ ہونے والی خواتین میں 10 نرسز، ایک ٹرینی نرس جب کہ ایک ان کی انچارج شامل ہیں۔</p>
<p>انتطامیہ نے بتایا کہ اُمید سے ہونے والی خواتین میں سے پانچ خواتین ایسی ہیں جو پہلی بار بچوں کو جنم دیں گی جب کہ باقی نرسز کے حوالے سے اس طرح کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔</p>
<p>اُمید سے ہونے والی خواتین نے ایک ساتھ حاملہ ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تمام ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں، سب کی سب خواتین اہم وقت سے گزر رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/162019452b78749.jpg'  alt='12 میں سے دو خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی&mdash;فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>12 میں سے دو خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی—فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ ورجینیا کے مذکورہ ہسپتال میں پہلی بار ایک ساتھ 12 نرسز حاملہ ہوئی ہیں، تاہم امریکا میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ مئی میں ریاست <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cbsnews.com/newyork/news/long-island-pregnant-nurses-reunion/"><strong>نیویارک</strong></a> کے ایک ہسپتال نے بھی بتایا تھا کہ ان کے بچوں کی نگہداشت کے وارڈ میں کام کرنے والی 15 نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئیں</p>
<p>اس سے قبل ریاست <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.saintlukeskc.org/about/news/fox-news-14-maternity-and-nicu-nurses-pregnant-same-time-missouri-hospital"><strong>مسوری</strong></a> کے ہسپتال میں بھی بچوں کی نگہداشت میں کام کرنے والی 14 نرسز ایک ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں۔</p>
<p>اسی طرح 2019 میں بھی مسوری کے ایک ہسپتال کے بچوں کی نگہداشت کے وارڈ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://people.com/human-interest/kansas-city-nurses-36-pregnant-birth-baby-boom/"><strong>36 نرسز</strong></a> ایک ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں۔</p>
<p>سال 2019 میں ہی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ کے ہسپتال کے بچوں کی ہی نگہداشت کے وارڈ کی 9 نرسز بھی ایک ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/1620213411d18ad.jpg'  alt='12 میں سے 5 خواتین ایسی ہیں جن کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوگی&mdash;فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>12 میں سے 5 خواتین ایسی ہیں جن کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوگی—فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206075</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jun 2023 20:28:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/162018409ab4b22.jpg?r=202219" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/162018409ab4b22.jpg?r=202219"/>
        <media:title>—فوٹو:  ریورس سائیڈ ریجنل میڈیکل سینٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تفریح کے ساتھ متاثرکُن کہانیاں‘، والدین بچوں کے ساتھ یہ فلمیں ضرور دیکھیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205702/</link>
      <description>&lt;p&gt;گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں، گھر سے باہر کھیلنے کے علاوہ گھر کے اندر موبائل فون کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے، جہاں بچے ویڈیو گیمز کھیل کر اور کارٹون دیکھ کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان گرمیوں کی چھٹیوں میں والدین کبھی کبھار سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ موبائل فون کے علاوہ بچوں کو ایسی کونسی سرگرمی میں مصروف رکھیں کہ وہ اس سے سبق بھی سیکھ سکیں، تفریح بھی ہو اور وقت بھی گزر جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ جدید دور میں اینی میٹڈ فلمیں بہت مقبول ہیں، اس کے علاوہ ایکشن فلمیں اور پریوں کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بھی بچے شوق سے دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر والدین بچوں کے لیے  فلموں کے انتخاب میں کافی محتاط رہتے ہیں، لیکن اب فنکاروں کی جانب سے ایسی بہت سی فلمیں بچوں کے لیے بنائی گئی ہیں جو آپ پوری فیملی کے ساتھ انجوائے کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مڈغاسکر" href="#مڈغاسکر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مڈغاسکر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/1014163553cd0b2.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر &amp;rsquo;مڈغاسکر&amp;lsquo;' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اینی میٹڈ فلم پوسٹر ’مڈغاسکر‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی پسندیدہ ’مڈغاسکر‘ فلم دراصل مڈغاسکرکے جنگلوں اور جانوروں سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے،طنزومزاح سے بھرپور اینی میٹڈ فلم 2005 میں ریلیز کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم ریلیز ہونے کے بعد اسے اتنی مقبولیت ملی کہ اس فلم کے مزید دو سیکوئل بھی بنائے گئے جو 2008 اور 2012 میں ریلیز کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلم کی کہانی کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی کہانی  4 جانوروں کے گرد گھومتی ہے جو کہ نیو یارک کے سینٹرل پارک زو سے غائب ہو کر  اپنے آپ کو مڈغاسکر جزیرے میں پاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلم جذبات اور ڈرامے کے علاوہ جانوروں کی شرارتوں سے بھرپور فلم ہے تو یقینی طور پر بچوں کے لیے تفریح کا سبب بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کے بہترین کرداروں میں کنگ جولین اور پینگوئن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فروزن" href="#فروزن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فروزن&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/101416356b326ed.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر فروزن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اینی میٹڈ فلم پوسٹر فروزن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینی میٹڈ فلم ’فروزن 1‘ جب سال 2015 میں ریلیز ہوئی تو اس وقت یہ سال کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اینی میٹڈ فلم بن گئی تھی جس نے مختلف ریکارڈ قائم کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم کو صرف بچوں نے ہی نہیں بلکہ بڑوں نے بھی کافی پسند کیا تھا، فلم کا گانا ’let it go‘ دنیا بھر میں مقبول ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوب پزیرائی ملنے کے بعد 2019 میں اس کا سیکوئل بھی ریلیز کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کے سیکوئل میں ’ایل سا‘ ’اینا‘ ’کرسٹوف‘ اور ’اولف‘ اپنی سلطنت کے قدیم رازوں کو جاننے کیلئے ایک نئے ایڈونچر پر نکلے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="دی-باس-بے-بی" href="#دی-باس-بے-بی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دی باس بے بی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/10141901c6975aa.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر دی باس بے بی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اینی میٹڈ فلم پوسٹر دی باس بے بی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہولی ووڈ کی نئی تھری ڈی اینی میٹڈ کامیڈی فلم ’دی باس بے بی ’ 2017 میں ریلیز کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم میں چھوٹے بچے نے دی باس کا کردارادا کیا ہے جو عقل مند ہے، سوٹ بوٹ پہنا ننھے باس نے ہر جانب ہلچل مچا رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ماں باپ ایک ننھا بچہ گود لیتے ہیں، یہ ننھے میاں تمام گھر والوں سے اپنے نخرے اُٹھواتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑا بھائی اسے نا پسند کرنے لگتا ہے تاہم چھوٹا بچہ اپنے آپ کو کسی باس سے کم نہیں سمجھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم نے اپنے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑے تھے، جس کے بعد اس کا ایک اور سیکوئل 2021 میں جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="چارلی-اینڈ-چاکلیٹ-فیکٹری" href="#چارلی-اینڈ-چاکلیٹ-فیکٹری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/10141636c0e9666.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اینی میٹڈ فلم پوسٹر چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہولی وڈ فلم ’چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری‘ 2005 میں ریلیز کی گئی، فلم کی کہانی  برٹش ناولسٹ رولڈ دہل کے ناول پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی کہانی چارلی بکٹ کے خاندان کے اردگرد گھومتی ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلی اپنے خاندان کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے، جس کا خاندان غریب  ہے، چارلی کی زندگی میں روشنی لانے والے کا کردار مسٹرولی وونکا اداکرتے ہیں ،مسٹر وونکا چارلی کے پڑوسی ہیں جن کی اپنی چاکلیٹ فیکٹری ہے اور وہ ہر سال چارلی کو اس کی سالگرہ پر چاکلیٹ گفٹ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلم بچوں سمیت بڑوں نے بھی خوب پسند کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی فلمیں بچوں کو دکھا سکتے ہیں جن میں ’دل ہوم الون‘، بے بی ڈے آؤٹ’، ’فائنڈنگ نیمو‘، ’ٹینگلکڈ‘ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/10142630d2a0315.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر فائنڈنگ نیمو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اینی میٹڈ فلم پوسٹر فائنڈنگ نیمو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں، گھر سے باہر کھیلنے کے علاوہ گھر کے اندر موبائل فون کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے، جہاں بچے ویڈیو گیمز کھیل کر اور کارٹون دیکھ کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔</p>
<p>ان گرمیوں کی چھٹیوں میں والدین کبھی کبھار سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ موبائل فون کے علاوہ بچوں کو ایسی کونسی سرگرمی میں مصروف رکھیں کہ وہ اس سے سبق بھی سیکھ سکیں، تفریح بھی ہو اور وقت بھی گزر جائے۔</p>
<p>یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ جدید دور میں اینی میٹڈ فلمیں بہت مقبول ہیں، اس کے علاوہ ایکشن فلمیں اور پریوں کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بھی بچے شوق سے دیکھتے ہیں۔</p>
<p>خاص طور پر والدین بچوں کے لیے  فلموں کے انتخاب میں کافی محتاط رہتے ہیں، لیکن اب فنکاروں کی جانب سے ایسی بہت سی فلمیں بچوں کے لیے بنائی گئی ہیں جو آپ پوری فیملی کے ساتھ انجوائے کرسکتے ہیں۔</p>
<h3><a id="مڈغاسکر" href="#مڈغاسکر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مڈغاسکر</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/1014163553cd0b2.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر &rsquo;مڈغاسکر&lsquo;' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اینی میٹڈ فلم پوسٹر ’مڈغاسکر‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>بچوں کی پسندیدہ ’مڈغاسکر‘ فلم دراصل مڈغاسکرکے جنگلوں اور جانوروں سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے،طنزومزاح سے بھرپور اینی میٹڈ فلم 2005 میں ریلیز کی گئی تھی۔</p>
<p>فلم ریلیز ہونے کے بعد اسے اتنی مقبولیت ملی کہ اس فلم کے مزید دو سیکوئل بھی بنائے گئے جو 2008 اور 2012 میں ریلیز کیے گئے۔</p>
<p><strong>فلم کی کہانی کیا ہے؟</strong></p>
<p>فلم کی کہانی  4 جانوروں کے گرد گھومتی ہے جو کہ نیو یارک کے سینٹرل پارک زو سے غائب ہو کر  اپنے آپ کو مڈغاسکر جزیرے میں پاتے ہیں۔</p>
<p>یہ فلم جذبات اور ڈرامے کے علاوہ جانوروں کی شرارتوں سے بھرپور فلم ہے تو یقینی طور پر بچوں کے لیے تفریح کا سبب بنے گی۔</p>
<p>فلم کے بہترین کرداروں میں کنگ جولین اور پینگوئن ہیں۔</p>
<h3><a id="فروزن" href="#فروزن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فروزن</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/101416356b326ed.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر فروزن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اینی میٹڈ فلم پوسٹر فروزن</figcaption>
    </figure></p>
<p>اینی میٹڈ فلم ’فروزن 1‘ جب سال 2015 میں ریلیز ہوئی تو اس وقت یہ سال کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اینی میٹڈ فلم بن گئی تھی جس نے مختلف ریکارڈ قائم کیے تھے۔</p>
<p>اس فلم کو صرف بچوں نے ہی نہیں بلکہ بڑوں نے بھی کافی پسند کیا تھا، فلم کا گانا ’let it go‘ دنیا بھر میں مقبول ہوا تھا۔</p>
<p>خوب پزیرائی ملنے کے بعد 2019 میں اس کا سیکوئل بھی ریلیز کیا گیا۔</p>
<p>فلم کے سیکوئل میں ’ایل سا‘ ’اینا‘ ’کرسٹوف‘ اور ’اولف‘ اپنی سلطنت کے قدیم رازوں کو جاننے کیلئے ایک نئے ایڈونچر پر نکلے تھے۔</p>
<h3><a id="دی-باس-بے-بی" href="#دی-باس-بے-بی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دی باس بے بی</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/10141901c6975aa.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر دی باس بے بی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اینی میٹڈ فلم پوسٹر دی باس بے بی</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہولی ووڈ کی نئی تھری ڈی اینی میٹڈ کامیڈی فلم ’دی باس بے بی ’ 2017 میں ریلیز کی گئی تھی۔</p>
<p>اس فلم میں چھوٹے بچے نے دی باس کا کردارادا کیا ہے جو عقل مند ہے، سوٹ بوٹ پہنا ننھے باس نے ہر جانب ہلچل مچا رکھی ہے۔</p>
<p>فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ماں باپ ایک ننھا بچہ گود لیتے ہیں، یہ ننھے میاں تمام گھر والوں سے اپنے نخرے اُٹھواتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑا بھائی اسے نا پسند کرنے لگتا ہے تاہم چھوٹا بچہ اپنے آپ کو کسی باس سے کم نہیں سمجھتا۔</p>
<p>اس فلم نے اپنے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑے تھے، جس کے بعد اس کا ایک اور سیکوئل 2021 میں جاری کیا گیا۔</p>
<h3><a id="چارلی-اینڈ-چاکلیٹ-فیکٹری" href="#چارلی-اینڈ-چاکلیٹ-فیکٹری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/10141636c0e9666.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اینی میٹڈ فلم پوسٹر چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہولی وڈ فلم ’چارلی اینڈ چاکلیٹ فیکٹری‘ 2005 میں ریلیز کی گئی، فلم کی کہانی  برٹش ناولسٹ رولڈ دہل کے ناول پر مبنی ہے۔</p>
<p>فلم کی کہانی چارلی بکٹ کے خاندان کے اردگرد گھومتی ہے</p>
<p>چارلی اپنے خاندان کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے، جس کا خاندان غریب  ہے، چارلی کی زندگی میں روشنی لانے والے کا کردار مسٹرولی وونکا اداکرتے ہیں ،مسٹر وونکا چارلی کے پڑوسی ہیں جن کی اپنی چاکلیٹ فیکٹری ہے اور وہ ہر سال چارلی کو اس کی سالگرہ پر چاکلیٹ گفٹ کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ فلم بچوں سمیت بڑوں نے بھی خوب پسند کی تھی۔</p>
<p>صرف یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی فلمیں بچوں کو دکھا سکتے ہیں جن میں ’دل ہوم الون‘، بے بی ڈے آؤٹ’، ’فائنڈنگ نیمو‘، ’ٹینگلکڈ‘ شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/10142630d2a0315.gif'  alt='اینی میٹڈ فلم پوسٹر فائنڈنگ نیمو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اینی میٹڈ فلم پوسٹر فائنڈنگ نیمو</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205702</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jun 2023 14:49:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/1014245594fd788.jpg?r=142639" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/1014245594fd788.jpg?r=142639"/>
        <media:title>فوٹو: انسٹاگرام/فلم پوسٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’والدین کو آٹزم میں مبتلا بچوں کی پرورش میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206102/</link>
      <description>&lt;p&gt;والدین کے لیے چھوٹے بچے کی پرورش کرنا ہمیشہ مشکل اور تھکا دینے والا عمل ہوتا، بالخصوص جب آپ کا بچہ آٹزم کا شکار ہو تو چیلنجز مزید بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موضوع کو آگے بڑھانے سے قبل پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ آٹزم کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو ایس اے ٹوڈے کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.usatoday.com/story/opinion/voices/2023/04/28/parenting-child-autism-raising-neurodivergent-kids/11733699002/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ ایک ایسی پیدائشی ذہنی بیماری ہے، جو نسلوں میں منتقل ہو سکتی ہے، بدقسمتی سے اس کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا، بچہ جب پیدا ہوتا ہے، تو دیکھنے میں وہ بالکل نارمل ہی لگتا ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی عادات و رویے کی وجہ سے دوسرے بچوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے بچوں کو اظہار رائے اور والدین کے ساتھ اظہار محبت کرنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے، اس لیے والدین کو ایسے بچوں کی حالت سمجھنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/171134224ca9973.jpg'  alt='فوٹو: طبی ویب سائٹ ہیلتھ ٹوڈے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: طبی ویب سائٹ ہیلتھ ٹوڈے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹزم کے شکار بچے دوسرے لوگوں سے کئی طریقوں سے مختلف ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ان کا دوسروں کے ساتھ بات چیت، ملاقات کرنے کا انداز، بولنے اور ہاتھ کے اشاروں کا انداز عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے،  آٹزم کا دوسرا نام آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین کو ان بچوں کی پرورش میں کافی دشواری کا سامنا رہتا ہے، غصہ، چڑچڑاہٹ اور اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے بچے کی پرورش کرنا کوئی آسان کام نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹزم کا شکار بچے کے والدین ہونے کے ناطے آپ کو دکھ اور غم کا احساس ہوسکتا ہے، آپ کے دماغ میں کئی منفی سوچ آسکتی ہیں مثال کے طور پر آپ نے اپنے لیے جس زندگی کا تصور کیا تھا اسے بدلنا پڑے گا، آپ کے بچے کو وہ زندگی نہیں ملے گی جو آپ چاہتے تھے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے، بس تھوڑی سی توجہ اور اپنائیت سے آپ کا بچہ کامیاب ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ کو بے چینی کا سامنا ہوسکتا ہے، عام بچوں کے مقابلے آٹزم کے شکار بچوں کے والدین کو مستقبل کی فکر لاحق ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/171300200e1683e.jpg?r=130026'  alt='فوٹو: یو ایس اے ٹوڈے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: یو ایس اے ٹوڈے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹزم میں مبتلا بچے سے والدین کو بات چیت کے نئے طریقے سیکھنا ضرروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین کو ایسے بچوں کے ساتھ سماجی تعلقات قائم رکھنے میں محتاط رہتا ہوتا ہے، چونکہ ان بچوں کو لوگوں کے رویے اور انداز سمجھ نہیں آتے تو ایسے میں سماجی دنیا سے رابطے والدین کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں ،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچپن سے ہی ان بچوں کو جذباتی نشوونما کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے، انہیں گھر سے باہر کی دنیا پریشان کرتی رہتی ہے، وہ عام لوگوں کی طرح ہنس نہیں سکتے، نہ بول سکتے ہیں، لہٰذا اس موقع پر والدین کو ان مہارتوں کا علم ہونا چاہیے، جس سے ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹزم میں مبتلا بچے پڑھائی میں ذہین ہوتے ہیں، انہیں ریاضی جیسے مضمون میں قدرتی مہارت حاصل ہوتی ہے، اگر والدین ان کے اردگرد کے ماحول کو سازگار بنائیں تو بچے عام لوگوں کے مقابلے کامیابی کی بلندیوں کو بھی چھو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>والدین کے لیے چھوٹے بچے کی پرورش کرنا ہمیشہ مشکل اور تھکا دینے والا عمل ہوتا، بالخصوص جب آپ کا بچہ آٹزم کا شکار ہو تو چیلنجز مزید بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>موضوع کو آگے بڑھانے سے قبل پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ آٹزم کیا ہے؟</p>
<p>یو ایس اے ٹوڈے کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.usatoday.com/story/opinion/voices/2023/04/28/parenting-child-autism-raising-neurodivergent-kids/11733699002/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ ایک ایسی پیدائشی ذہنی بیماری ہے، جو نسلوں میں منتقل ہو سکتی ہے، بدقسمتی سے اس کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا، بچہ جب پیدا ہوتا ہے، تو دیکھنے میں وہ بالکل نارمل ہی لگتا ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی عادات و رویے کی وجہ سے دوسرے بچوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>ایسے بچوں کو اظہار رائے اور والدین کے ساتھ اظہار محبت کرنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے، اس لیے والدین کو ایسے بچوں کی حالت سمجھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/171134224ca9973.jpg'  alt='فوٹو: طبی ویب سائٹ ہیلتھ ٹوڈے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: طبی ویب سائٹ ہیلتھ ٹوڈے</figcaption>
    </figure></p>
<p>آٹزم کے شکار بچے دوسرے لوگوں سے کئی طریقوں سے مختلف ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ان کا دوسروں کے ساتھ بات چیت، ملاقات کرنے کا انداز، بولنے اور ہاتھ کے اشاروں کا انداز عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے،  آٹزم کا دوسرا نام آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ہے۔</p>
<p>والدین کو ان بچوں کی پرورش میں کافی دشواری کا سامنا رہتا ہے، غصہ، چڑچڑاہٹ اور اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے بچے کی پرورش کرنا کوئی آسان کام نہیں۔</p>
<p>آٹزم کا شکار بچے کے والدین ہونے کے ناطے آپ کو دکھ اور غم کا احساس ہوسکتا ہے، آپ کے دماغ میں کئی منفی سوچ آسکتی ہیں مثال کے طور پر آپ نے اپنے لیے جس زندگی کا تصور کیا تھا اسے بدلنا پڑے گا، آپ کے بچے کو وہ زندگی نہیں ملے گی جو آپ چاہتے تھے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے، بس تھوڑی سی توجہ اور اپنائیت سے آپ کا بچہ کامیاب ہوسکتا ہے۔</p>
<p>آپ کو بے چینی کا سامنا ہوسکتا ہے، عام بچوں کے مقابلے آٹزم کے شکار بچوں کے والدین کو مستقبل کی فکر لاحق ہوسکتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/171300200e1683e.jpg?r=130026'  alt='فوٹو: یو ایس اے ٹوڈے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: یو ایس اے ٹوڈے</figcaption>
    </figure></p>
<p>آٹزم میں مبتلا بچے سے والدین کو بات چیت کے نئے طریقے سیکھنا ضرروری ہے۔</p>
<p>والدین کو ایسے بچوں کے ساتھ سماجی تعلقات قائم رکھنے میں محتاط رہتا ہوتا ہے، چونکہ ان بچوں کو لوگوں کے رویے اور انداز سمجھ نہیں آتے تو ایسے میں سماجی دنیا سے رابطے والدین کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں ،</p>
<p>بچپن سے ہی ان بچوں کو جذباتی نشوونما کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے، انہیں گھر سے باہر کی دنیا پریشان کرتی رہتی ہے، وہ عام لوگوں کی طرح ہنس نہیں سکتے، نہ بول سکتے ہیں، لہٰذا اس موقع پر والدین کو ان مہارتوں کا علم ہونا چاہیے، جس سے ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>آٹزم میں مبتلا بچے پڑھائی میں ذہین ہوتے ہیں، انہیں ریاضی جیسے مضمون میں قدرتی مہارت حاصل ہوتی ہے، اگر والدین ان کے اردگرد کے ماحول کو سازگار بنائیں تو بچے عام لوگوں کے مقابلے کامیابی کی بلندیوں کو بھی چھو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206102</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jun 2023 13:01:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/171135512e8c5ef.jpg?r=130026" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/171135512e8c5ef.jpg?r=130026"/>
        <media:title>فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204169/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر کے بچوں کی طرح  وطنِ عزیز  میں اسکول کی تعطیلات کا بہت انتظار کیا جاتا ہے اور یہ بچوں اور اُن کے والدین کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ میرا بیٹا جو ابھی 5ویں جماعت میں گیا ہے کہتا ہے ’پلیز مما چھٹیاں  انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میں حیران ہوکر اُس کی طرف دیکھتی ہوں تو  وہ اپنے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ پڑھ پڑھ کر تھک گیا ہوں، میں کہتی ہوں اچھا چھٹیاں تو آنے دو اور پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ بچوں کے لیے یہ چھٹیاں بہت اہم ہوتی ہیں اور اس کو وہ بہت سنجیدہ لیتے ہیں، ذہن  میں منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح والدین کے لیے بھی اپنے بچے کے لیے یہ چھٹیاں اہم ہوتی ہیں۔ محمد اسد اللہ  نے ’چھٹی کا زمانہ‘ کے عنوان سے اس لمحے کی خوب عکاسی کی ہے کہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بستہ کتاب کاپی سب چھٹیاں منائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بار گراں سے ان کے ہم بھی نجات پائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بستے میں جو بندھا ہے اس کو جہاں میں دیکھیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا کیا کہاں چھپا ہے آؤ پتا لگائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنتے ہیں کچھ عجب ہے دنیا کا کارخانہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سمت ہر ڈگر پر چھٹی کا راج قائم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنکھوں میں جھلملاتے ہیں سیر کے عزائم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی چاہتا ہے صدیوں زندہ رہیں یہاں ہم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائم رہے یہ چھٹی دائم رہے یہ موسم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس سوچ ہی تو ہے یہ ممکن نہیں یہ مانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کی چھٹی کا یہ وہ وقت ہے جب بچے اسکول کے روز مرہ سخت پابند ماحول سے وقفہ لے سکتے اور کچھ فارغ وقت سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لیکن بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟ یہ ہر والدین کا سوال ہے جس کا کچھ جواب اُن کے پاس ہوتا ہے اور باقی کی وہ تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے پاس بھی اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات کے لحاظ سے چھٹیاں گزارنے کے مختلف منصوبے ہوتے ہیں۔کچھ بچے اپنی موسم گرما کی تعطیلات آرام سے گزارنے اور کچھ نہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان ہی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے مختلف سرگرمیوں میں مشغول رہنا اور اپنے مشاغل کو آگے بڑھانا پسند کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29093308f78fd93.jpg'  alt='بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یہ چھٹیاں کچھ ماؤں کے لیے اچھی خبر ہوتی ہےتو کچھ ان چھٹیوں سے پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اب  بچے پورا دن صرف اور صرف شور شرابا، لڑائی جھگڑے، شرارتیں اور  ہنگامے کرتے رہیں گے۔ اس مضمون میں، ہم یہ دیکھیں گے کہ بچے اپنی اسکول کی چھٹیاں کیسے گزارتے ہیں۔ کیونکہ سمجھدار  والدین کی ہمیشہ  خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی چھٹیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں اور بچوں کا  وقت ضائع نہ ہو۔ بے شک  وہ بہت سخت شیڈول میں نہ ہوں لیکن اپنے وقت کو انجوئے بھی کریں تو صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ کریں جو اُن کی آئندہ زندگی میں کام آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں ہر والدین اور بالخصوص ماں کا یہی سوال ہوتا ہے کہ تو کریں تو کیا کریں اور یہی وہ وقت ہے کہ چھٹیوں سے پہلے ان کی منصوبہ بندی کرلی جائے کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں میں ان کو کیا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" href="#کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کھیل کود میں حصہ لینا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کھیلوں میں مشغول ہونا بچوں کے لیے شخصیت کی تعمیر کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ کھیل ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں اور  یہ  بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک مقبول طریقہ ہے۔ وہ کسی اسپورٹس کلب میں شامل ہو سکتے ہیں یا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تیراکی، گھڑ سواری، مارشل آرٹ، باسکٹ بال، فٹ بال اور ٹینس جیسے کھیل بچوں کو بہت پسند آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29094641bf14ef9.jpg'  alt='چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پیدل-سفر-کرنا" href="#پیدل-سفر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پیدل سفر کرنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پیدل سفر کرنا فطرت کو دریافت کرنے اور کچھ ورزش کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بہت سے والدین اس کے لیے تعطیلات کے دوران پیدل سفر کی سرگرمیاں تلاش کرتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے اور بچوں کے لیے بہت اہم صحت مند سرگرمی ہوتی ہے اور بچے اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095110dd3d5ed.jpg'  alt='پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سفر-پر-نکلنا" href="#سفر-پر-نکلنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سفر پر نکلنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سفر بچوں کے لیے مختلف ثقافتوں کے بارے میں جاننے، تجسس پیدا کرنے اور اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ والدین مختلف شہروں یا ممالک کے دوروں کا منصوبہ بناسکتے ہیں ہمارے ملک میں درجنوں ایسے خوبصورت اور پر فضا مقامات ہیں جہاں جایا جاسکتا ہے اور اپنے بچوں کو مختلف جگہوں اور علاقوں کی تاریخ، ثقافت اور کھانوں کے بارے میں جاننے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095348635fe22.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم مسئلہ والدین کے لیے یہ بھی ہے کہ بچہ گھر میں رہے تو کیا کرے کیونکہ اندرونی سرگرمیوں کا بچوں کے اسکول کی چھٹیاں گزارنے میں اہم کردار ہے  یہ سرگرمیاں خاص طور پر بارش کے دنوں کے لیے بہترین ہیں یا پھر ان دنوں کے لیے جب بچوں کے پاس باہر جانے کا موقع نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پڑھنا-اور-لکھنا" href="#پڑھنا-اور-لکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پڑھنا اور لکھنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پڑھنا اور مطالعہ کرنا بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ ایسی کتابیں پڑھ سکتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی ہو اور وہ اپنی پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے کا عمل بچوں کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور ان کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ کہانیاں، نظمیں لکھ سکتے ہیں اورکسی اخبار یا جریدے میں شائع کرواسکتے ہیں اور اب تو اپنا  بلاگ بھی والدین کی رہنمائی سے  بناسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/290958246a43ba2.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="باغبانی-کرنا" href="#باغبانی-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;باغبانی کرنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;باغبانی بچوں کے لیے صبر، ذمہ داری اور فطرت کی قدردانی پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بچے مختلف قسم کے پودوں اور سبزیوں کو لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کمیونٹی باغبانی کے منصوبوں میں حصہ لینے یا اپنے گھر  کے کسی حصے، چھت یا بالکونی میں پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2910011434bd06e.jpg'  alt='بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" href="#فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فلمیں اور ڈاکومنٹری دیکھنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بچے اپنی چھٹیوں کے دوران فلمیں یا ڈاکومنٹری دیکھ کر بھی اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کرسکتے ہیں اور  وہ یہ کام محدود وقت کے لیے اپنے دوستوں اور کزن کے ساتھ بڑوں کی نگرانی میں کر سکتے ہیں اور میرے بچے کی بھی یہ شکایت دور ہوسکتی کہ ’چھٹیوں کو انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29100436849b828.jpg'  alt='بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" href="#نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اسکول کی چھٹیاں بچوں کے لیے نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت ہوتی ہیں کیونکہ اسکول کی مصروفیت کے دوران انہیں سیکھنے کا موقع نہیں مل سکتا ہے۔ یہ مہارتیں عملی یا تعلیمی ہو سکتی ہیں اور بچوں کو نئی دلچسپیاں اور مشاغل پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29101333f247c3a.jpg'  alt='بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر  بچیاں اپنی چھٹیوں کے دوران کھانا پکانا سیکھ سکتی ہیں، وہ کھانا پکانے کی کلاسوں میں جاسکتی ہیں یا گھر میں اپنے والدہ کے ساتھ کھانا پکا سکتی ہیں۔ یہ مہارت انہیں زیادہ خود مختار بننے اور صحت مند کھانے کی عادات پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاہ کوڈنگ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک قابل قدر مہارت ہے۔ بچے اپنی تعطیلات کے دوران کوڈنگ کی کلاسوں میں جاکر یا آن لائن وسائل استعمال کرکے کوڈ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مہارت مستقبل کے کیریئر میں ان کی مدد کر سکتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم صلاحیت  نئی زبان سیکھنا ہے بچوں کے لیے اپنے خیال کو وسعت دینے اور ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ ہونے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ زبان سیکھنے کی کلاسوں میں شرکت کرسکتے ہیں یا نئی زبان سیکھنے کے لیے زبان سیکھنے والی ایپلی کیشنز کا استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" href="#رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رضاکارانہ اور سماجی سرگرمیاں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی سروس بچوں کے لیے اپنی کمیونٹیز کو واپس دینے اور دنیا میں تبدیلی لانے کے بہترین طریقے ہیں۔ بچے اپنی چھٹیوں کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں یا سماجی سروس کے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سے انہیں دوسروں کے لیے ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/291016222b0c1ce.jpg'  alt='رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین اپنے بچوں کی تعطیلات کے دوران مثبت سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں تاکہ ان کی نئی دلچسپیوں اور مہارتوں کو فروغ دینے اور اچھے افراد بننے میں مدد ملے. والدین کو ان چھٹیوں کو ضائع ہونے نہیں دینا چاہیے میری بھی ان سرگرمیوں  کے ذریعے کوشش ہوگی کہ میرا بچہ اگلے سال  یہ نہ کہے ’پلیز مما چھٹیاں انجوائے کرنے دیجِیے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے بہت سی خوبصورت یادیں اور لمحات سمیٹنے کے لیے آج سے ہی چھٹیوں کی منصوبہ بندی  شروع کرلیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر کے بچوں کی طرح  وطنِ عزیز  میں اسکول کی تعطیلات کا بہت انتظار کیا جاتا ہے اور یہ بچوں اور اُن کے والدین کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ میرا بیٹا جو ابھی 5ویں جماعت میں گیا ہے کہتا ہے ’پلیز مما چھٹیاں  انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔</p>
<p>جب میں حیران ہوکر اُس کی طرف دیکھتی ہوں تو  وہ اپنے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ پڑھ پڑھ کر تھک گیا ہوں، میں کہتی ہوں اچھا چھٹیاں تو آنے دو اور پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ بچوں کے لیے یہ چھٹیاں بہت اہم ہوتی ہیں اور اس کو وہ بہت سنجیدہ لیتے ہیں، ذہن  میں منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح والدین کے لیے بھی اپنے بچے کے لیے یہ چھٹیاں اہم ہوتی ہیں۔ محمد اسد اللہ  نے ’چھٹی کا زمانہ‘ کے عنوان سے اس لمحے کی خوب عکاسی کی ہے کہ</p>
<p>اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانا</p>
<p>لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا</p>
<p>بستہ کتاب کاپی سب چھٹیاں منائیں</p>
<p>بار گراں سے ان کے ہم بھی نجات پائیں</p>
<p>بستے میں جو بندھا ہے اس کو جہاں میں دیکھیں</p>
<p>کیا کیا کہاں چھپا ہے آؤ پتا لگائیں</p>
<p>سنتے ہیں کچھ عجب ہے دنیا کا کارخانہ</p>
<p>لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا</p>
<p>ہر سمت ہر ڈگر پر چھٹی کا راج قائم</p>
<p>آنکھوں میں جھلملاتے ہیں سیر کے عزائم</p>
<p>جی چاہتا ہے صدیوں زندہ رہیں یہاں ہم</p>
<p>قائم رہے یہ چھٹی دائم رہے یہ موسم</p>
<p>بس سوچ ہی تو ہے یہ ممکن نہیں یہ مانا</p>
<p>لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا</p>
<p>گرمیوں کی چھٹی کا یہ وہ وقت ہے جب بچے اسکول کے روز مرہ سخت پابند ماحول سے وقفہ لے سکتے اور کچھ فارغ وقت سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لیکن بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟ یہ ہر والدین کا سوال ہے جس کا کچھ جواب اُن کے پاس ہوتا ہے اور باقی کی وہ تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں۔</p>
<p>بچوں کے پاس بھی اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات کے لحاظ سے چھٹیاں گزارنے کے مختلف منصوبے ہوتے ہیں۔کچھ بچے اپنی موسم گرما کی تعطیلات آرام سے گزارنے اور کچھ نہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان ہی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے مختلف سرگرمیوں میں مشغول رہنا اور اپنے مشاغل کو آگے بڑھانا پسند کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29093308f78fd93.jpg'  alt='بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی طرح یہ چھٹیاں کچھ ماؤں کے لیے اچھی خبر ہوتی ہےتو کچھ ان چھٹیوں سے پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اب  بچے پورا دن صرف اور صرف شور شرابا، لڑائی جھگڑے، شرارتیں اور  ہنگامے کرتے رہیں گے۔ اس مضمون میں، ہم یہ دیکھیں گے کہ بچے اپنی اسکول کی چھٹیاں کیسے گزارتے ہیں۔ کیونکہ سمجھدار  والدین کی ہمیشہ  خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی چھٹیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں اور بچوں کا  وقت ضائع نہ ہو۔ بے شک  وہ بہت سخت شیڈول میں نہ ہوں لیکن اپنے وقت کو انجوئے بھی کریں تو صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ کریں جو اُن کی آئندہ زندگی میں کام آئے۔</p>
<p>اس پس منظر میں ہر والدین اور بالخصوص ماں کا یہی سوال ہوتا ہے کہ تو کریں تو کیا کریں اور یہی وہ وقت ہے کہ چھٹیوں سے پہلے ان کی منصوبہ بندی کرلی جائے کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں میں ان کو کیا کرنا ہے۔</p>
<h1><a id="کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" href="#کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کھیل کود میں حصہ لینا</h1>
<p>کھیلوں میں مشغول ہونا بچوں کے لیے شخصیت کی تعمیر کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ کھیل ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں اور  یہ  بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک مقبول طریقہ ہے۔ وہ کسی اسپورٹس کلب میں شامل ہو سکتے ہیں یا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تیراکی، گھڑ سواری، مارشل آرٹ، باسکٹ بال، فٹ بال اور ٹینس جیسے کھیل بچوں کو بہت پسند آتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29094641bf14ef9.jpg'  alt='چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="پیدل-سفر-کرنا" href="#پیدل-سفر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پیدل سفر کرنا</h1>
<p>پیدل سفر کرنا فطرت کو دریافت کرنے اور کچھ ورزش کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بہت سے والدین اس کے لیے تعطیلات کے دوران پیدل سفر کی سرگرمیاں تلاش کرتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے اور بچوں کے لیے بہت اہم صحت مند سرگرمی ہوتی ہے اور بچے اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095110dd3d5ed.jpg'  alt='پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="سفر-پر-نکلنا" href="#سفر-پر-نکلنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سفر پر نکلنا</h1>
<p>سفر بچوں کے لیے مختلف ثقافتوں کے بارے میں جاننے، تجسس پیدا کرنے اور اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ والدین مختلف شہروں یا ممالک کے دوروں کا منصوبہ بناسکتے ہیں ہمارے ملک میں درجنوں ایسے خوبصورت اور پر فضا مقامات ہیں جہاں جایا جاسکتا ہے اور اپنے بچوں کو مختلف جگہوں اور علاقوں کی تاریخ، ثقافت اور کھانوں کے بارے میں جاننے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095348635fe22.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک اہم مسئلہ والدین کے لیے یہ بھی ہے کہ بچہ گھر میں رہے تو کیا کرے کیونکہ اندرونی سرگرمیوں کا بچوں کے اسکول کی چھٹیاں گزارنے میں اہم کردار ہے  یہ سرگرمیاں خاص طور پر بارش کے دنوں کے لیے بہترین ہیں یا پھر ان دنوں کے لیے جب بچوں کے پاس باہر جانے کا موقع نہیں ہوتا۔</p>
<h1><a id="پڑھنا-اور-لکھنا" href="#پڑھنا-اور-لکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پڑھنا اور لکھنا</h1>
<p>پڑھنا اور مطالعہ کرنا بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ ایسی کتابیں پڑھ سکتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی ہو اور وہ اپنی پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے کا عمل بچوں کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور ان کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ کہانیاں، نظمیں لکھ سکتے ہیں اورکسی اخبار یا جریدے میں شائع کرواسکتے ہیں اور اب تو اپنا  بلاگ بھی والدین کی رہنمائی سے  بناسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/290958246a43ba2.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="باغبانی-کرنا" href="#باغبانی-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>باغبانی کرنا</h1>
<p>باغبانی بچوں کے لیے صبر، ذمہ داری اور فطرت کی قدردانی پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بچے مختلف قسم کے پودوں اور سبزیوں کو لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کمیونٹی باغبانی کے منصوبوں میں حصہ لینے یا اپنے گھر  کے کسی حصے، چھت یا بالکونی میں پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2910011434bd06e.jpg'  alt='بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" href="#فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فلمیں اور ڈاکومنٹری دیکھنا</h1>
<p>بچے اپنی چھٹیوں کے دوران فلمیں یا ڈاکومنٹری دیکھ کر بھی اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کرسکتے ہیں اور  وہ یہ کام محدود وقت کے لیے اپنے دوستوں اور کزن کے ساتھ بڑوں کی نگرانی میں کر سکتے ہیں اور میرے بچے کی بھی یہ شکایت دور ہوسکتی کہ ’چھٹیوں کو انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29100436849b828.jpg'  alt='بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" href="#نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت</h1>
<p>اسکول کی چھٹیاں بچوں کے لیے نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت ہوتی ہیں کیونکہ اسکول کی مصروفیت کے دوران انہیں سیکھنے کا موقع نہیں مل سکتا ہے۔ یہ مہارتیں عملی یا تعلیمی ہو سکتی ہیں اور بچوں کو نئی دلچسپیاں اور مشاغل پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29101333f247c3a.jpg'  alt='بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>مثال کے طور پر  بچیاں اپنی چھٹیوں کے دوران کھانا پکانا سیکھ سکتی ہیں، وہ کھانا پکانے کی کلاسوں میں جاسکتی ہیں یا گھر میں اپنے والدہ کے ساتھ کھانا پکا سکتی ہیں۔ یہ مہارت انہیں زیادہ خود مختار بننے اور صحت مند کھانے کی عادات پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاہ کوڈنگ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک قابل قدر مہارت ہے۔ بچے اپنی تعطیلات کے دوران کوڈنگ کی کلاسوں میں جاکر یا آن لائن وسائل استعمال کرکے کوڈ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مہارت مستقبل کے کیریئر میں ان کی مدد کر سکتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے۔</p>
<p>ایک اہم صلاحیت  نئی زبان سیکھنا ہے بچوں کے لیے اپنے خیال کو وسعت دینے اور ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ ہونے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ زبان سیکھنے کی کلاسوں میں شرکت کرسکتے ہیں یا نئی زبان سیکھنے کے لیے زبان سیکھنے والی ایپلی کیشنز کا استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" href="#رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رضاکارانہ اور سماجی سرگرمیاں</h1>
<p>رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی سروس بچوں کے لیے اپنی کمیونٹیز کو واپس دینے اور دنیا میں تبدیلی لانے کے بہترین طریقے ہیں۔ بچے اپنی چھٹیوں کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں یا سماجی سروس کے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سے انہیں دوسروں کے لیے ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/291016222b0c1ce.jpg'  alt='رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا</figcaption>
    </figure></p>
<p>والدین اپنے بچوں کی تعطیلات کے دوران مثبت سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں تاکہ ان کی نئی دلچسپیوں اور مہارتوں کو فروغ دینے اور اچھے افراد بننے میں مدد ملے. والدین کو ان چھٹیوں کو ضائع ہونے نہیں دینا چاہیے میری بھی ان سرگرمیوں  کے ذریعے کوشش ہوگی کہ میرا بچہ اگلے سال  یہ نہ کہے ’پلیز مما چھٹیاں انجوائے کرنے دیجِیے گا‘۔</p>
<p>آئیے بہت سی خوبصورت یادیں اور لمحات سمیٹنے کے لیے آج سے ہی چھٹیوں کی منصوبہ بندی  شروع کرلیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204169</guid>
      <pubDate>Mon, 29 May 2023 17:21:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر فریحہ عامر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/29102426768995d.jpg?r=145845" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/29102426768995d.jpg?r=145845"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رات کو سونے سے قبل بچوں کو کونسی کہانیاں سنائی جائیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204411/</link>
      <description>&lt;p&gt;کہانیاں بچوں کی دماغی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، یہی نہیں بلکہ کہانیاں سنانے سے بچے اور والدین کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں، بچے کے پڑھنے اور بولنے کے علاوہ سوچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ والدین سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ بچوں کو کون سی کہانیاں سنائی جائیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو آج ہم اسی حوالے سے بات کریں گے کہ والدین اپنے بچوں کو کس طرح کی کہانیاں سنا سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سبق-آموز-کہانیاں" href="#سبق-آموز-کہانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سبق آموز کہانیاں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;فرض کرلیں کہ آپ نے اپنے بچے کو جھوٹ بولتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے تو یہ لازمی بات ہے کہ آپ بچے کو سمجھائیں گے کہ جھوٹ بولنا غلط بات کیوں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جھوٹ نہ بولنے سے متعلق لمبا چوڑا لیکچر تو ہر ماں باپ اپنی اولاد کو دیتے ہیں، اگر آپ اسے کہانی کی شکل میں بچوں کو سکھائیں گے تو وہ یقینی طور پر سمجھ جائے گا کہ جھوٹ بولنا کتنی بُری بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر آپ ’دی بوائے ہو کرائڈ وولف‘ (The Boy Who Cried Wolf) کی کہانی سنا سکتے ہیں، یہ کہانی جھوٹ بولنے کے نتائج کے حوالے سے ہے جس کا مرکزی کردار ایک نوجوان ہے، تو آپ کا بچہ اس کہانی کو قریب سے سمجھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح ایسی کہانیوں سے حاصل کرنے والا سبق بچوں کے ذہن میں ہمیشہ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/26145533242edf6.gif?r=145624'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ذاتی-زندگی-پر-مبنی-کہانیاں" href="#ذاتی-زندگی-پر-مبنی-کہانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ذاتی زندگی پر مبنی کہانیاں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہر خاندان کی اپنی ثقافت ہوتی ہے اور یہ نسل در نسل چلی آرہی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بچوں کو اپنی ذاتی زندگی یعنی بچپن کا کوئی سبق آموز واقعہ، یا خاندان کے دیگر افراد سے منسلک ہونی والی کہانیاں سنانے سے آپ کے بچے کا خاندان کے ساتھ مضبوط رشتہ برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ایسی کہانیوں سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ خاندان کا حصہ بننے کا کیا مطلب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آپ بچوں کو مزاحیہ کہانیاں بھی سنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/26145531a0bd920.gif?r=145624'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بچوں-کی-ذاتی-نشوونما-سے-متعلق-کہانیاں" href="#بچوں-کی-ذاتی-نشوونما-سے-متعلق-کہانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچوں کی ذاتی نشوونما سے متعلق کہانیاں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے لیے کہانیوں کی کوئی کمی نہیں ہے، آپ دنیا کا کوئی بھی موضوع اٹھا کر اس پر اپنے مطلب کی کہانی بنا سکتے ہیں لیکن اگر ایسا کرنا ہے تو اس سے فائدہ حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر آپ کا بچہ غصے میں ہے یا موڈ ہمیشہ خراب رہتا ہے تو ایسی کہانی سنائیں جس میں زیادہ غصہ کرنے کے اثرات اور ہونے والے نتائج کے بارے میں آگاہی دی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/26145531d274526.gif?r=145624'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کتابیں-پڑھنے-کا-شوق" href="#کتابیں-پڑھنے-کا-شوق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کتابیں پڑھنے کا شوق&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بچوں کو کہانیاں سنانے سے ان کو کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، کہانیاں سننے اور پڑھنے میں مزہ آئے گا، وہ نہ صرف فارغ وقت میں خود کتابیں اٹھا کر پڑھیں گے بلکہ اسکول میں بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہانی کا معیار اور اثر خود کہانی پر منحصر ہو سکتا ہے، اس لیے بچوں کو کون سی کہانی سنانی کا اس کا انتخاب دانش مندی سے کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ بچوں کو ایسی کہانیاں سنائیں جو آپ کی ثقافت اور اخلاق کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی نشوونما کے لیے بھی لازم ہو، اس سے نہ صرف وہ ان کہانیاں سے سبق حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ایسی سرگرمیوں سے لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2614553194343a5.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کہانیاں بچوں کی دماغی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، یہی نہیں بلکہ کہانیاں سنانے سے بچے اور والدین کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں، بچے کے پڑھنے اور بولنے کے علاوہ سوچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ والدین سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ بچوں کو کون سی کہانیاں سنائی جائیں؟</p>
<p>تو آج ہم اسی حوالے سے بات کریں گے کہ والدین اپنے بچوں کو کس طرح کی کہانیاں سنا سکتے ہیں؟</p>
<h3><a id="سبق-آموز-کہانیاں" href="#سبق-آموز-کہانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سبق آموز کہانیاں</h3>
<p>فرض کرلیں کہ آپ نے اپنے بچے کو جھوٹ بولتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے تو یہ لازمی بات ہے کہ آپ بچے کو سمجھائیں گے کہ جھوٹ بولنا غلط بات کیوں ہے؟</p>
<p>لیکن جھوٹ نہ بولنے سے متعلق لمبا چوڑا لیکچر تو ہر ماں باپ اپنی اولاد کو دیتے ہیں، اگر آپ اسے کہانی کی شکل میں بچوں کو سکھائیں گے تو وہ یقینی طور پر سمجھ جائے گا کہ جھوٹ بولنا کتنی بُری بات ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر آپ ’دی بوائے ہو کرائڈ وولف‘ (The Boy Who Cried Wolf) کی کہانی سنا سکتے ہیں، یہ کہانی جھوٹ بولنے کے نتائج کے حوالے سے ہے جس کا مرکزی کردار ایک نوجوان ہے، تو آپ کا بچہ اس کہانی کو قریب سے سمجھ سکتا ہے۔</p>
<p>اس طرح ایسی کہانیوں سے حاصل کرنے والا سبق بچوں کے ذہن میں ہمیشہ رہے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/26145533242edf6.gif?r=145624'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="ذاتی-زندگی-پر-مبنی-کہانیاں" href="#ذاتی-زندگی-پر-مبنی-کہانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ذاتی زندگی پر مبنی کہانیاں</h3>
<p>ہر خاندان کی اپنی ثقافت ہوتی ہے اور یہ نسل در نسل چلی آرہی ہوتی ہے۔</p>
<p>اپنے بچوں کو اپنی ذاتی زندگی یعنی بچپن کا کوئی سبق آموز واقعہ، یا خاندان کے دیگر افراد سے منسلک ہونی والی کہانیاں سنانے سے آپ کے بچے کا خاندان کے ساتھ مضبوط رشتہ برقرار رہے گا۔</p>
<p>وہ ایسی کہانیوں سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ خاندان کا حصہ بننے کا کیا مطلب ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ آپ بچوں کو مزاحیہ کہانیاں بھی سنا سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/26145531a0bd920.gif?r=145624'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="بچوں-کی-ذاتی-نشوونما-سے-متعلق-کہانیاں" href="#بچوں-کی-ذاتی-نشوونما-سے-متعلق-کہانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچوں کی ذاتی نشوونما سے متعلق کہانیاں</h3>
<p>بچوں کے لیے کہانیوں کی کوئی کمی نہیں ہے، آپ دنیا کا کوئی بھی موضوع اٹھا کر اس پر اپنے مطلب کی کہانی بنا سکتے ہیں لیکن اگر ایسا کرنا ہے تو اس سے فائدہ حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں۔</p>
<p>مثال کے طور پر اگر آپ کا بچہ غصے میں ہے یا موڈ ہمیشہ خراب رہتا ہے تو ایسی کہانی سنائیں جس میں زیادہ غصہ کرنے کے اثرات اور ہونے والے نتائج کے بارے میں آگاہی دی گئی ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/26145531d274526.gif?r=145624'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="کتابیں-پڑھنے-کا-شوق" href="#کتابیں-پڑھنے-کا-شوق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کتابیں پڑھنے کا شوق</h3>
<p>بچوں کو کہانیاں سنانے سے ان کو کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، کہانیاں سننے اور پڑھنے میں مزہ آئے گا، وہ نہ صرف فارغ وقت میں خود کتابیں اٹھا کر پڑھیں گے بلکہ اسکول میں بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p>کہانی کا معیار اور اثر خود کہانی پر منحصر ہو سکتا ہے، اس لیے بچوں کو کون سی کہانی سنانی کا اس کا انتخاب دانش مندی سے کریں۔</p>
<p>جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ بچوں کو ایسی کہانیاں سنائیں جو آپ کی ثقافت اور اخلاق کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی نشوونما کے لیے بھی لازم ہو، اس سے نہ صرف وہ ان کہانیاں سے سبق حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ایسی سرگرمیوں سے لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2614553194343a5.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204411</guid>
      <pubDate>Fri, 26 May 2023 17:47:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/26145816207ba52.gif?r=174734" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/26145816207ba52.gif?r=174734"/>
        <media:title>— فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ میں تین افراد کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202736/</link>
      <description>&lt;p&gt;صحت سے متعلق معاملات دیکھنے والے برطانوی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ وہاں پہلی بار تین مشترکہ افراد کے بچے کی پیدائش ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی پارلیمنٹ نے 2015 میں  اِن وائٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ترمیمی بل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد وہاں سنگین صورت حال میں تین افراد کے مشترکہ بچے کی پیدائش قانونی قرار دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بھی برطانیہ میں مذکورہ قانون پر بحث جاری رہی اور کئی افراد اسے اخلاقی طور پر غلط قرار دیتے رہے جب کہ بعض افراد کا ماننا تھا کہ اس طرح آنے والی نسلوں کے ڈی این اے تبدیل ہوتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قوانین کی منظوری کے 8 سال بعد اب حکومتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ میں تین افراد کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/science-environment-65538866"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ہیلتھ ریگولیٹری نے تصدیق کی کہ تین افراد کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1016361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے بتایا کہ پیدا ہونے والے بچے کا زیادہ تر ڈی این اے والدہ اور والد کا ہی ہے، تاہم ان کے ڈی این اے میں 1۔0 فیصد حصہ عطیہ کرنے والی خاتون کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/science/2023/may/09/first-uk-baby-with-dna-from-three-people-born-after-new-ivf-procedure"&gt;&lt;strong&gt;’دی گارجین‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عطیہ کرنے والی خاتون کے انڈے ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی جھلی یا انتہائی چھوٹے خلیات کا ڈی این اے حاصل کیا گیا، جسے والدہ کے انڈے میں موجود غیر صحت مند ’مائٹوکونڈریا‘ سے تبدیل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی انتہائی چھوٹی جھلیاں انسانی جسم کے ہر خلیے میں پائی جاتی ہیں جو کہ غذا کو توانائی یا خون سمیت دیگر چیزوں میں تبدیل کرکے انسانی جسم کی نشو و نما میں کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کا کام انسانی جسم میں شامل ہونے والی ہر غذا کو صحت مند خون یا توانائی میں تبدیل کرکے جسم کو صحت مند رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر بعض ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) خراب ہوں تو وہ جسم میں شامل ہونے والی غذا کو خراب کرکے اندر بیماریاں یا پیچیدگیاں پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر خراب ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) دل کے ناکارہ ہونے سمیت دماغ کے ناکارہ ہونے، اعصابی کمزوری اور بینائی کا سبب بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کے خراب ہونے کی وجہ سے ان میں ماں کے پیٹ میں ہی بیماریاں ہوجاتی ہیں یا پھر وہ پیدائش کے کچھ گھنٹوں یا دنوں بعد مرجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں خراب ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی زیادہ اموات ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے طریقے اور قوانین کو ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) بیماریوں کے علاج کے لیے ہی منظور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال برطانیہ میں کم از کم 5 ایسے بچے پیدا ہوئے ہیں جن کے والدین تین تھے، تاہم حکومت اور ادارے اس متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ برطانیہ میں پہلی بار تین افراد کے بچے کی پیدائش کی تصدیق کردی گئی، تاہم امریکا میں 2015 میں ہی تین افراد کے پہلے بچے کی پیدائش ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق تین افراد کے بچوں کا ڈی این اے نسلوں تک تبدیل ہوتا رہے گا اور ان کے ڈی این اے میں والدین کے علاوہ عطیہ کرنے والے شخص کا ڈی این اے بھی شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ طریقے کے تحت بچوں کے چہرے اور جسمانی خدوخال تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ان کی موروثی بیماریاں ختم کرنے کے لیے ان میں تیسرے شخص کے ڈی این اے کا انتہائی چھوٹا حصہ شامل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صحت سے متعلق معاملات دیکھنے والے برطانوی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ وہاں پہلی بار تین مشترکہ افراد کے بچے کی پیدائش ہوگئی۔</p>
<p>برطانوی پارلیمنٹ نے 2015 میں  اِن وائٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ترمیمی بل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد وہاں سنگین صورت حال میں تین افراد کے مشترکہ بچے کی پیدائش قانونی قرار دی گئی تھی۔</p>
<p>پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بھی برطانیہ میں مذکورہ قانون پر بحث جاری رہی اور کئی افراد اسے اخلاقی طور پر غلط قرار دیتے رہے جب کہ بعض افراد کا ماننا تھا کہ اس طرح آنے والی نسلوں کے ڈی این اے تبدیل ہوتے رہیں گے۔</p>
<p>قوانین کی منظوری کے 8 سال بعد اب حکومتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ میں تین افراد کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش ہوگئی۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/science-environment-65538866"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> کے مطابق ہیلتھ ریگولیٹری نے تصدیق کی کہ تین افراد کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش ہوگئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1016361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ادارے نے بتایا کہ پیدا ہونے والے بچے کا زیادہ تر ڈی این اے والدہ اور والد کا ہی ہے، تاہم ان کے ڈی این اے میں 1۔0 فیصد حصہ عطیہ کرنے والی خاتون کا ہے۔</p>
<p>اسی حوالے سے برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/science/2023/may/09/first-uk-baby-with-dna-from-three-people-born-after-new-ivf-procedure"><strong>’دی گارجین‘</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عطیہ کرنے والی خاتون کے انڈے ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی جھلی یا انتہائی چھوٹے خلیات کا ڈی این اے حاصل کیا گیا، جسے والدہ کے انڈے میں موجود غیر صحت مند ’مائٹوکونڈریا‘ سے تبدیل کردیا گیا۔</p>
<p>’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی انتہائی چھوٹی جھلیاں انسانی جسم کے ہر خلیے میں پائی جاتی ہیں جو کہ غذا کو توانائی یا خون سمیت دیگر چیزوں میں تبدیل کرکے انسانی جسم کی نشو و نما میں کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کا کام انسانی جسم میں شامل ہونے والی ہر غذا کو صحت مند خون یا توانائی میں تبدیل کرکے جسم کو صحت مند رکھنا ہے۔</p>
<p>تاہم اگر بعض ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) خراب ہوں تو وہ جسم میں شامل ہونے والی غذا کو خراب کرکے اندر بیماریاں یا پیچیدگیاں پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔</p>
<p>عام طور پر خراب ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) دل کے ناکارہ ہونے سمیت دماغ کے ناکارہ ہونے، اعصابی کمزوری اور بینائی کا سبب بنتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کے خراب ہونے کی وجہ سے ان میں ماں کے پیٹ میں ہی بیماریاں ہوجاتی ہیں یا پھر وہ پیدائش کے کچھ گھنٹوں یا دنوں بعد مرجاتے ہیں۔</p>
<p>برطانیہ کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں خراب ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی زیادہ اموات ہوتی ہیں۔</p>
<p>نئے طریقے اور قوانین کو ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) بیماریوں کے علاج کے لیے ہی منظور کیا گیا تھا۔</p>
<p>بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال برطانیہ میں کم از کم 5 ایسے بچے پیدا ہوئے ہیں جن کے والدین تین تھے، تاہم حکومت اور ادارے اس متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ برطانیہ میں پہلی بار تین افراد کے بچے کی پیدائش کی تصدیق کردی گئی، تاہم امریکا میں 2015 میں ہی تین افراد کے پہلے بچے کی پیدائش ہوچکی تھی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق تین افراد کے بچوں کا ڈی این اے نسلوں تک تبدیل ہوتا رہے گا اور ان کے ڈی این اے میں والدین کے علاوہ عطیہ کرنے والے شخص کا ڈی این اے بھی شامل ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ طریقے کے تحت بچوں کے چہرے اور جسمانی خدوخال تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ان کی موروثی بیماریاں ختم کرنے کے لیے ان میں تیسرے شخص کے ڈی این اے کا انتہائی چھوٹا حصہ شامل کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202736</guid>
      <pubDate>Thu, 11 May 2023 22:28:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/1120162522ba2c5.jpg?r=201645" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/1120162522ba2c5.jpg?r=201645"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>والدین اپنے بچوں کی کامیابیوں کا جشن کس طرح منائیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202128/</link>
      <description>&lt;p&gt;بچوں کی کامیابی کا جشن منانا اہم ہے، یہ جشن صرف سالگرہ، شادی  تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بچوں کی زندگی میں آنے والی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی کو بھی بھرپور انداز سے منانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اکثر لوگ ایک کام مکمل کرکے تیزی سے آگے نکل جاتے ہیں لیکن اس دوران اپنے آپ کو انعام دینا یا اس کامیابی کا جشن منانا بھول جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے بچے نے امتحان میں انتھک محنت سے کامیابی حاصل کی ہے، یا کسی نے گریجویشن مکمل کی ہے، کسی نے آرٹ کلاس میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے یا کوئی کھیل میں کامیاب ہوا ہے، ان کامیابیوں کا جشن منانے سے بچوں کو یہ دکھانے کا موقع ملتا ہے کہ والدین کو ان پر فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی نہیں بلکہ ایسا کرنے سے بچوں میں اعتماد اور بھروسے میں اضافے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی کامیابی چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، بچوں کے لیے ہر لحاظ سے اہم ہوتی ہے، اس سے ان کی مہارت اور صلاحیت کو نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مختلف طرح سے ہوسکتی ہے مثال کے طور پر اگر بچے کے ابتدائی دنوں کی بات کی جائے تو بچے کا پہلا قدم، بات کرنے اور پڑھنے کے انداز میں بہتری یا اس کے علاوہ تعلیمی یا کھیل کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کامیابی-کیسے-منائی-جائے" href="#کامیابی-کیسے-منائی-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کامیابی کیسے منائی جائے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایسے بے شمار طریقے ہیں جن سے والدین اپنے بچے کی کامیابی کو بہتر انداز میں منا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0415011163b8896.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پارٹی" href="#پارٹی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پارٹی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پراگر آپ کا بچہ امتحان میں کامیاب ہوا ہے یا گریجویشن مکمل کرلی ہے، تو آپ قریبی دوستوں اور اہل خانہ کو دعوت دے کر گھر میں ایک چھوٹی سے پارٹی کا اہتمام کرسکتے ہیں، گھر کو غباروں سے سجا سکتے ہیں، کھانے کے لیے ہلکے پھلکے پکوان کا اہتمام کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے گھر آئے مہمان جب بچے کو تحفے تحائف دیں گے تو بچے بھی خوش رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/04150159331da4b.gif'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سیر-و-تفریح" href="#سیر-و-تفریح" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیر و تفریح&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ فیملی کے ساتھ کسی خوبصورت جگہ پر سفر کے لیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لازمی نہیں کہ آپ کسی دوسرے ملک جائیں، میوزیم، پارک، ساحل سمندر یا کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں اور لطف اندوز ہوکر زندگی کے اہم لمحات کو فیملی کے ساتھ یاد گار بناسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/041503110cd5dad.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اسکریپ-بُک-بنائیں" href="#اسکریپ-بُک-بنائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسکریپ بُک بنائیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے بچے کی کامیابی کی بچپن سے لے کر جوانی تک کی تصاویر کو ایک اسکریپ بُک میں چسپاں کرلیں، یہ بچے کے لیے انوکھا اور خاص تحفہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی پرانی کامیابیوں کو یاد کرکے پر اعتماد محسوس کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/04150429946c98d.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خط-لکھیں" href="#خط-لکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خط لکھیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ایک ہنر ہے، اور کئی لوگ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار لکھ کر کرتے ہیں، والدین خط لکھ کر اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے تو والدین کو اپنے بچوں کی کامیابی پر حوصلہ افزائی کے کچھ الفاظ لازمی بولنے چاہئیں تاہم اگر آپ کوئی تحفہ دینا چاہتے ہیں تو کسی کاغذ پر لمبی تحریر کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ آپ کو اپنے بچوں کی کامیابی پر کتنا فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی کامیابی پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کی تعریف کے لیے چند الفاظ کہنے سے بچوں کا حوصلہ بڑھتا ہے، اور مستقبل میں انہیں مزید مشکل راستے طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا کرنے سے والدین اور بچے کے تعلقات مضبوط رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بچوں کی کامیابی کا جشن منانا اہم ہے، یہ جشن صرف سالگرہ، شادی  تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بچوں کی زندگی میں آنے والی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی کو بھی بھرپور انداز سے منانا چاہیے۔</p>
<p>تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اکثر لوگ ایک کام مکمل کرکے تیزی سے آگے نکل جاتے ہیں لیکن اس دوران اپنے آپ کو انعام دینا یا اس کامیابی کا جشن منانا بھول جاتے ہیں۔</p>
<p>اگر آپ کے بچے نے امتحان میں انتھک محنت سے کامیابی حاصل کی ہے، یا کسی نے گریجویشن مکمل کی ہے، کسی نے آرٹ کلاس میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے یا کوئی کھیل میں کامیاب ہوا ہے، ان کامیابیوں کا جشن منانے سے بچوں کو یہ دکھانے کا موقع ملتا ہے کہ والدین کو ان پر فخر ہے۔</p>
<p>یہی نہیں بلکہ ایسا کرنے سے بچوں میں اعتماد اور بھروسے میں اضافے ہوتا ہے۔</p>
<p>کوئی بھی کامیابی چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، بچوں کے لیے ہر لحاظ سے اہم ہوتی ہے، اس سے ان کی مہارت اور صلاحیت کو نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔</p>
<p>یہ مختلف طرح سے ہوسکتی ہے مثال کے طور پر اگر بچے کے ابتدائی دنوں کی بات کی جائے تو بچے کا پہلا قدم، بات کرنے اور پڑھنے کے انداز میں بہتری یا اس کے علاوہ تعلیمی یا کھیل کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔</p>
<h3><a id="کامیابی-کیسے-منائی-جائے" href="#کامیابی-کیسے-منائی-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کامیابی کیسے منائی جائے؟</h3>
<p>ایسے بے شمار طریقے ہیں جن سے والدین اپنے بچے کی کامیابی کو بہتر انداز میں منا سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0415011163b8896.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="پارٹی" href="#پارٹی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پارٹی</h3>
<p>مثال کے طور پراگر آپ کا بچہ امتحان میں کامیاب ہوا ہے یا گریجویشن مکمل کرلی ہے، تو آپ قریبی دوستوں اور اہل خانہ کو دعوت دے کر گھر میں ایک چھوٹی سے پارٹی کا اہتمام کرسکتے ہیں، گھر کو غباروں سے سجا سکتے ہیں، کھانے کے لیے ہلکے پھلکے پکوان کا اہتمام کرسکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے گھر آئے مہمان جب بچے کو تحفے تحائف دیں گے تو بچے بھی خوش رہیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/04150159331da4b.gif'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<h3><a id="سیر-و-تفریح" href="#سیر-و-تفریح" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیر و تفریح</h3>
<p>ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ فیملی کے ساتھ کسی خوبصورت جگہ پر سفر کے لیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>لازمی نہیں کہ آپ کسی دوسرے ملک جائیں، میوزیم، پارک، ساحل سمندر یا کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں اور لطف اندوز ہوکر زندگی کے اہم لمحات کو فیملی کے ساتھ یاد گار بناسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/041503110cd5dad.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="اسکریپ-بُک-بنائیں" href="#اسکریپ-بُک-بنائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسکریپ بُک بنائیں</h3>
<p>بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے بچے کی کامیابی کی بچپن سے لے کر جوانی تک کی تصاویر کو ایک اسکریپ بُک میں چسپاں کرلیں، یہ بچے کے لیے انوکھا اور خاص تحفہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی پرانی کامیابیوں کو یاد کرکے پر اعتماد محسوس کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/04150429946c98d.gif'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="خط-لکھیں" href="#خط-لکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خط لکھیں</h3>
<p>لکھنا ایک ہنر ہے، اور کئی لوگ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار لکھ کر کرتے ہیں، والدین خط لکھ کر اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ویسے تو والدین کو اپنے بچوں کی کامیابی پر حوصلہ افزائی کے کچھ الفاظ لازمی بولنے چاہئیں تاہم اگر آپ کوئی تحفہ دینا چاہتے ہیں تو کسی کاغذ پر لمبی تحریر کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ آپ کو اپنے بچوں کی کامیابی پر کتنا فخر ہے۔</p>
<p>بچوں کی کامیابی پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کی تعریف کے لیے چند الفاظ کہنے سے بچوں کا حوصلہ بڑھتا ہے، اور مستقبل میں انہیں مزید مشکل راستے طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>ایسا کرنے سے والدین اور بچے کے تعلقات مضبوط رہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202128</guid>
      <pubDate>Thu, 04 May 2023 18:27:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/041500113c35a9c.gif?r=182812" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/041500113c35a9c.gif?r=182812"/>
        <media:title>— فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
