<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Technology</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 13:04:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 13:04:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں تیز انٹرنیٹ اور 5جی کیلئے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی اگلے ماہ ہوگی، شزا فاطمہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274985/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے اور ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کے لیے اگلے ماہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی دو ماہ کے اندر منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیکٹرم کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسپیکٹرم دراصل ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3جی، 4جی اور 5جی جیسے موبائل نیٹ ورکس مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں 5جی سروس شروع ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برسوں سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ نیلامی نہ صرف 3جی اور 4جی سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5جی متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ ماضی میں سڑکوں کی طرح اب ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 600 میگا ہرٹز کی اس سطح کی کنیکٹیوٹی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیوٹی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومتی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں میں انٹرنیٹ کا کردار نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نومبر میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی کارروائی کے باعث تعطل کا شکار رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5جی کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے اور ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کے لیے اگلے ماہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی دو ماہ کے اندر منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیکٹرم کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسپیکٹرم دراصل ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3جی، 4جی اور 5جی جیسے موبائل نیٹ ورکس مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں 5جی سروس شروع ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برسوں سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ نیلامی نہ صرف 3جی اور 4جی سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5جی متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ ماضی میں سڑکوں کی طرح اب ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 600 میگا ہرٹز کی اس سطح کی کنیکٹیوٹی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیوٹی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومتی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں میں انٹرنیٹ کا کردار نہایت اہم ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ نومبر میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی کارروائی کے باعث تعطل کا شکار رہی تھی۔</p>
<p>امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5جی کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274985</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 19:12:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0218553905dbcc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0218553905dbcc4.webp"/>
        <media:title>انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی:&lt;/strong&gt; ٹک ٹاک نے پاکستان میں ایک نیا سیلف سروس ایڈورٹائزنگ حل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے برانڈ کی ترقی کے لیے اس پلیٹ فارم کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک فار بزنس ایڈز منیجر کے نام سے یہ سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو ایسے ٹولز فراہم کرتا ہے جن کی مدد سے وہ ٹک ٹاک کمیونٹی کی تخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، نئی آڈئینس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ایک آسان اور استعمال میں سہل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مارکیٹنگ مہمات کو مؤثر انداز میں بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کا تعارف مقامی کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے  لیے ٹک ٹاک کے جاری عزم کا تسلسل ہے، جس میں  &lt;a href="/trends/GrowWithTikTok"&gt;#GrowWithTikTok&lt;/a&gt;  ماسٹرکلاس جیسے اقدامات شامل ہیں جو پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے سائز کے  پاکستانی کاروباری اداروں کو عملی تربیت، تخلیقی ٹولز اور بہترین طریقۂ کار فراہم کر چکے ہیں تاکہ وہ پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کو بہتر اور مضبوط بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ عالمی جائزے کے مطابق، ٹک ٹاک کے 73 فیصد صارفین نے بتایا کہ انہوں نے ٹک ٹاک پر اشتہارات کے ذریعے ایسی نئی مصنوعات دریافت کیں جن پر انہوں نے پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا، جبکہ 78 فیصد صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے نئے برانڈز کے بارے میں معلوم ہوا جن کے بارے میں وہ پہلے نہیں جانتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی:</strong> ٹک ٹاک نے پاکستان میں ایک نیا سیلف سروس ایڈورٹائزنگ حل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے برانڈ کی ترقی کے لیے اس پلیٹ فارم کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>ٹک ٹاک فار بزنس ایڈز منیجر کے نام سے یہ سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کو ایسے ٹولز فراہم کرتا ہے جن کی مدد سے وہ ٹک ٹاک کمیونٹی کی تخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، نئی آڈئینس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ایک آسان اور استعمال میں سہل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مارکیٹنگ مہمات کو مؤثر انداز میں بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>اس فیچر کا تعارف مقامی کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے  لیے ٹک ٹاک کے جاری عزم کا تسلسل ہے، جس میں  <a href="/trends/GrowWithTikTok">#GrowWithTikTok</a>  ماسٹرکلاس جیسے اقدامات شامل ہیں جو پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے سائز کے  پاکستانی کاروباری اداروں کو عملی تربیت، تخلیقی ٹولز اور بہترین طریقۂ کار فراہم کر چکے ہیں تاکہ وہ پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کو بہتر اور مضبوط بنا سکیں۔</p>
<p>ایک حالیہ عالمی جائزے کے مطابق، ٹک ٹاک کے 73 فیصد صارفین نے بتایا کہ انہوں نے ٹک ٹاک پر اشتہارات کے ذریعے ایسی نئی مصنوعات دریافت کیں جن پر انہوں نے پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا، جبکہ 78 فیصد صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے نئے برانڈز کے بارے میں معلوم ہوا جن کے بارے میں وہ پہلے نہیں جانتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274861</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:19:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18131810eebb307.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18131810eebb307.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی یوٹیوب مواد کے مجموعی واچ ٹائم میں 60 فیصد بیرون ملک ناظرین کا حصہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274833/</link>
      <description>&lt;p&gt;ویڈیوز کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب کا کہنا ہے کہ پاکستانی تخلیقی سرگرمیوں کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں تخلیق کاروں، فنکاروں اور کہانی سنانے والوں کا ایک متحرک نظام ملک کو ڈیجیٹل مواد کی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے جاری بیان میں پلیٹ فارم نے بتایا کہ جیسے ہی ہم 2026ءمیں داخل ہو رہے ہیں، پاکستانی تخلیقی صلاحیتیں صرف ملک کے اندر ہی نہیں پروان چڑھ رہیں بلکہ دنیا بھر کے دلوں اور اسکرینوں کو مسحور کن بنا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے اعداد و شمار عزم اور کامیابی کی عکاسی کرتےہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنہ 2025ء میں  25 ہزار سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلوں نے 10 ہزار سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا ہے، جبکہ13 ہزار سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی چینلوں نے دس لاکھ سبسکرائبرز کا قابلِ قدر ہدف بھی عبور کیا جو عالمی سطح پر پاکستانی مواد کے معیار، صداقت اور مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر کن پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی ہے، جہاں پاکستانی مواد کے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد سے زائد حصہ بیرونِ ملک ناظرین پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1176450/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے کوالالمپور، لاہور سے لندن تک، پاکستانی تخلیق کار ثقافت، تفریح اور مشترکہ انسانی تجربات کے ایسے پل قائم کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بزنس و آپریشنز، فرحان قریشی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی تخلیق کاروں کی طرف سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف مقامی ناظرین کے لیے مواد تیار کرنے تک محدود نہیں  بلکہ وہ ایسی کہانیاں، نقطۂ نظر اور تفریح تخلیق کر رہے ہیں جو براعظموں کے پار لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہیں، اور ازسرِنو تعریف متعین کر رہی ہیں کہ عالمی مواد تخلیق کار ہونے کا مطلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ویڈیوز کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب کا کہنا ہے کہ پاکستانی تخلیقی سرگرمیوں کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں تخلیق کاروں، فنکاروں اور کہانی سنانے والوں کا ایک متحرک نظام ملک کو ڈیجیٹل مواد کی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔</p>
<p>کراچی سے جاری بیان میں پلیٹ فارم نے بتایا کہ جیسے ہی ہم 2026ءمیں داخل ہو رہے ہیں، پاکستانی تخلیقی صلاحیتیں صرف ملک کے اندر ہی نہیں پروان چڑھ رہیں بلکہ دنیا بھر کے دلوں اور اسکرینوں کو مسحور کن بنا رہی ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے اعداد و شمار عزم اور کامیابی کی عکاسی کرتےہیں۔</p>
<p>سنہ 2025ء میں  25 ہزار سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلوں نے 10 ہزار سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا ہے، جبکہ13 ہزار سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی چینلوں نے دس لاکھ سبسکرائبرز کا قابلِ قدر ہدف بھی عبور کیا جو عالمی سطح پر پاکستانی مواد کے معیار، صداقت اور مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔</p>
<p>سب سے زیادہ متاثر کن پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی ہے، جہاں پاکستانی مواد کے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد سے زائد حصہ بیرونِ ملک ناظرین پر مشتمل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1176450/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی سے کوالالمپور، لاہور سے لندن تک، پاکستانی تخلیق کار ثقافت، تفریح اور مشترکہ انسانی تجربات کے ایسے پل قائم کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہیں۔</p>
<p>گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بزنس و آپریشنز، فرحان قریشی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی تخلیق کاروں کی طرف سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف مقامی ناظرین کے لیے مواد تیار کرنے تک محدود نہیں  بلکہ وہ ایسی کہانیاں، نقطۂ نظر اور تفریح تخلیق کر رہے ہیں جو براعظموں کے پار لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہیں، اور ازسرِنو تعریف متعین کر رہی ہیں کہ عالمی مواد تخلیق کار ہونے کا مطلب کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274833</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 15:56:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/15155508e476337.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/15155508e476337.webp"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274776/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے  بھارت کی مصنوعی ذہانت (AI) انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں مدد کے لیے 17.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق سی ای او ستیا نڈیلا کے مطابق یہ کمپنی کی ایشیا میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کئی عالمی کارپوریشنز نے جنوبی ایشیائی ملک بھارت میں بڑی سرمایہ کاریاں کرنے کا اعلان کیا، جہاں سال کے اختتام تک انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 90 کروڑ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستیا نڈیلا نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے اہداف کی تکمیل کے لیے، مائیکرو سافٹ 17.5 ارب امریکی ڈالر (ایشیا میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری) کا عہد کرتی ہے، تاکہ بھارت کے اے آئی فرسٹ مستقبل کے لیے درکار انفرااسٹرکچر، مہارتیں اور خودمختار صلاحیتیں تعمیر کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستیا نڈیلا نے یہ اعلان نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر کیا اور بھارت میں مصنوعی ذہانت کے مواقع پر حوصلہ افزا گفتگو پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/satyanadella/status/1998376337938039091'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/satyanadella/status/1998376337938039091"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسافٹ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری چار برسوں پر محیط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق آنے والی دہائی میں مائیکروسافٹ اور بھارت مل کر ایسے نئے معیارات قائم کرنے کے لیے تیار ہیں جو ملک کو ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے AI پبلک انفراسٹرکچر کے دور میں لے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ اس سرمایہ کاری کا ایک بڑا ہدف محفوظ، خودمختار-تیار ہائپر اسکیل انفرااسٹرکچر کی تعمیر ہے، جو بھارت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ممکن بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسافٹ نے مزید کہا کہ اس مقصد کے مرکز میں حیدرآباد میں قائم ہونے والا ‘انڈیا ساؤتھ سنٹرل کلاؤڈ ریجن’ ہے، جو 2026 کے وسط تک فعال ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقررہ کلاؤڈ ریجن کی جسامت بھارت کے مشہور ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم سے دو گنا ہوگی، جس کی گنجائش 65 ہزار سے زیادہ افراد کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ مائیکروسافٹ نے ایشیا میں اپنی سب سے بڑی سرمایہ کاری کے لیے بھارت کا انتخاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی نوجوان نسل اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اختراع کرے گی اور مصنوعی ذہانت کی طاقت کو بہتر دنیا کے لیے استعمال کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے  بھارت کی مصنوعی ذہانت (AI) انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں مدد کے لیے 17.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا اعلان کیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق سی ای او ستیا نڈیلا کے مطابق یہ کمپنی کی ایشیا میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔</p>
<p>اس سال کئی عالمی کارپوریشنز نے جنوبی ایشیائی ملک بھارت میں بڑی سرمایہ کاریاں کرنے کا اعلان کیا، جہاں سال کے اختتام تک انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 90 کروڑ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ستیا نڈیلا نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے اہداف کی تکمیل کے لیے، مائیکرو سافٹ 17.5 ارب امریکی ڈالر (ایشیا میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری) کا عہد کرتی ہے، تاکہ بھارت کے اے آئی فرسٹ مستقبل کے لیے درکار انفرااسٹرکچر، مہارتیں اور خودمختار صلاحیتیں تعمیر کی جا سکیں۔</p>
<p>ستیا نڈیلا نے یہ اعلان نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر کیا اور بھارت میں مصنوعی ذہانت کے مواقع پر حوصلہ افزا گفتگو پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/satyanadella/status/1998376337938039091'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/satyanadella/status/1998376337938039091"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مائیکروسافٹ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری چار برسوں پر محیط ہوگی۔</p>
<p>بیان کے مطابق آنے والی دہائی میں مائیکروسافٹ اور بھارت مل کر ایسے نئے معیارات قائم کرنے کے لیے تیار ہیں جو ملک کو ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے AI پبلک انفراسٹرکچر کے دور میں لے جائیں گے۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ اس سرمایہ کاری کا ایک بڑا ہدف محفوظ، خودمختار-تیار ہائپر اسکیل انفرااسٹرکچر کی تعمیر ہے، جو بھارت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ممکن بنائے گا۔</p>
<p>مائیکروسافٹ نے مزید کہا کہ اس مقصد کے مرکز میں حیدرآباد میں قائم ہونے والا ‘انڈیا ساؤتھ سنٹرل کلاؤڈ ریجن’ ہے، جو 2026 کے وسط تک فعال ہو جائے گا۔</p>
<p>مقررہ کلاؤڈ ریجن کی جسامت بھارت کے مشہور ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم سے دو گنا ہوگی، جس کی گنجائش 65 ہزار سے زیادہ افراد کی ہے۔</p>
<p>ادھر، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ مائیکروسافٹ نے ایشیا میں اپنی سب سے بڑی سرمایہ کاری کے لیے بھارت کا انتخاب کیا۔</p>
<p>انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی نوجوان نسل اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اختراع کرے گی اور مصنوعی ذہانت کی طاقت کو بہتر دنیا کے لیے استعمال کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274776</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 23:50:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0919542295e3b75.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0919542295e3b75.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسان مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات پر کیسے قابو پاسکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274724/</link>
      <description>&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک ایسا تکنیکی تبدیلی کا مرحلہ پیش کرتی ہے، جو ماضی کی کسی بھی ایجاد سے مختلف ہے، جہاں دیگر اوزار صرف جسمانی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں، وہیں اے آئی انسان کی بنیادی خصوصیت (یعنی علم پیدا کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت) کے قابل مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ اور ’چائنا ڈیلی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959887/how-humans-can-control-risks-arising-from-ai"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ طاقت اے آئی کو انفرادی شناخت، اقتصادی ڈھانچوں اور سماجی تنظیم کو گہرائی سے بدلنے کی صلاحیت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اس کے بے پناہ فوائد کے ساتھ ساتھ سنگین خطرات بھی ہیں، جن کے پیشِ نظر اس کے انتظام کے لیے ایک جامع اور عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارکردگی اور حفاظت کے درمیان صرف سادہ مباحثہ ناکافی ہے، ہمیں اے آئی کی مختلف شکلوں، استعمال اور مستقبل کی ترقیات کو جامع طور پر دیکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1262958'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262958"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر عوامی مباحثہ مصنوعی عمومی ذہانت (اے جی آئی) پر مرکوز ہے، جو ایک مبہم تصور ہے اور تمام علمی کاموں میں انسانی سطح کی کارکردگی کا وعدہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، خود یہ اصطلاح مبہم ہے، کیوں کہ یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ انسان کن علمی کاموں کے قابل ہیں، اور یہ انسانی ذہانت کی اہم خصوصیات کو نظر انداز کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی ذہانت کے قریب پہنچنے کے لیے یہ کافی نہیں کہ مشینیں مخصوص کاموں میں انسان سے بہتر کارکردگی دکھائیں، اصل اہمیت خودمختاری کی صلاحیت کی ہے، یعنی دنیا کو سمجھنے اور مختلف مہارتوں کو یکجا کرکے مقاصد حاصل کرنے کی لچکدار صلاحیت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مکالماتی اے آئی سسٹمز اور ایسے خودمختار نظاموں کے درمیان جو پیچیدہ تنظیموں میں انسانی آپریٹرز کی جگہ لے سکیں، ایک قابل ذکر خلا موجود ہے، جیسا کہ انٹرنیٹ آف تھنگز کے تصور میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر خودکار ڈرائیونگ سسٹمز، اسمارٹ گرڈز، اسمارٹ فیکٹریاں، اسمارٹ شہر، یا خودکار ٹیلی کمیونیکیشن سسٹمز انتہائی پیچیدہ اور اکثر اہم نظام ہیں، جو مختلف ایجنٹس پر مشتمل ہوتے ہیں، ہر ایک اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے (انفرادی ذہانت) اور ساتھ ہی مجموعی نظامی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہم آہنگی پیدا کرتا ہے (اجتماعی ذہانت)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وژن کو حاصل کرنے میں تکنیکی رکاوٹیں بہت بڑی ہیں اور یہ موجودہ مشین لرننگ کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ خودکار گاڑیوں کی صنعت کی ناکامیوں سے ظاہر ہوتا ہے، جن میں سے کچھ نے 2020 تک مکمل خودمختاری کا وعدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ اے آئی ایجنٹس صرف کم خطرے والے، ڈیجیٹل کاموں تک محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272825'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کے اے آئی سسٹمز کو اعتماد کے قابل بنانے کے لیے مضبوط استدلال کی صلاحیت، تکنیکی، قانونی اور اخلاقی معیارات کے مطابق مقاصد کا حصول، اور وہ معیار کی قابل بھروسہ کارکردگی حاصل کرنا ضروری ہے جو فی الحال ایک ’نہایت مشکل خواب‘ تصور کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلے کا بنیادی سبب مضبوط بھروسہ مندگی کے ضمانتی اصول حاصل کرنے میں موجود داخلی محدودیت ہے، اے آئی سسٹمز ڈیٹا سے علم پیدا کرنے میں انتہائی مؤثر ہیں، مگر وہ غیر واضح ہیں، جس سے حفاظت کے لیے درکار اعلیٰ معیار کی بھروسہ مندی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ اے آئی کی حفاظت روایتی نظاموں جیسے لفٹ یا ہوائی جہاز کے لیے استعمال ہونے والے منطقی سرٹیفیکیشن عمل سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تکنیکی خصوصیات کے علاوہ، اے آئی سسٹمز انسانی مشابہت کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور انہیں انسانی مرکزیت والے علمی خصائص پر بھی پورا اترنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی مطالعے ذمہ دار اے آئی، ہم آہنگ اے آئی، اور خاص طور پر اخلاقی اے آئی پر مبنی ہیں، تاہم زیادہ تر مطالعے سطحی ہیں اور سائنسی بنیاد سے خالی ہیں، کیوں کہ یہ خصائص تکنیکی طور پر سمجھنا مشکل ہیں اور انسانی پیچیدہ علمی عمل پر منحصر ہیں، جسے ہم بھی مکمل طور پر نہیں سمجھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اے آئی، جو میڈیکل امتحان پاس کر لے، انسانی ڈاکٹر کی طرح سمجھ یا ذمہ داری نہیں رکھتا، ایسے اے آئی سسٹمز تیار کرنا جو واقعی سماجی اصولوں کا احترام کریں اور ذمہ دار اجتماعی ذہانت دکھائیں ایک بڑا چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کے خطرات 3 آپس میں جڑے ہوئے شعبوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں، تکنیکی خطرات اے آئی سسٹمز کی ’بلیک باکس‘ خصوصیات سے بڑھ جاتے ہیں، جس میں نئی حفاظت/سیکیورٹی کے خطرات شامل ہیں جو کم سمجھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ خطرات کے انتظام کے اصول اعلیٰ بھروسہ مندی کا تقاضا کرتے ہیں، اگر ان پر سختی سے عمل کیا جائے تو وہ موجودہ اے آئی کی تخلیقات کو خارج کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تکنیکی معیارات کی ترقی، جو ہماری موجودہ تہذیب کی بنیاد ہے، اعتماد پیدا کرنے کے لیے لازمی ہے، لیکن یہ کوشش تکنیکی حدود اور بڑی ٹیک کمپنیوں اور امریکی حکام کی مخالفت سے متاثر ہو رہی ہے، جو معیارات کو جدت میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ناکافی خود تصدیق کی حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی خطرات تکنیکی خطرات سے مختلف ہیں کیونکہ یہ مکمل یا زیادہ تر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں غلط استعمال، زیادتی یا تعمیل میں ناکامی شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خودکار ڈرائیونگ میں مہارت کی کمی، زیادہ اعتماد اور موڈ کنفیوژن غلط استعمال کی مثالیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعمیلی خطرات مینوفیکچرر کی حکمرانی سے جڑے ہیں، جو تجارتی ترقی کو حفاظت اور شفافیت پر ترجیح دیتے ہیں، ٹیسلا کا ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ سسٹم، جو اپنے نام کے باوجود فعال انسانی نگرانی کا تقاضا کرتا ہے، مارکیٹنگ کے وعدوں اور تکنیکی حقیقت کے درمیان فرق کے خطرات کی مثال ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271936'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271936"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آخر میں اے آئی میں وسیع پیمانے پر یا طویل مدتی نظامی خطرات شامل ہیں جو سماجی، اقتصادی، ثقافتی، ماحولیاتی اور حکومتی نظاموں میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کچھ خطرات جیسے تکنیکی اجارہ داری، روزگار کی کمی اور ماحولیاتی لاگت کی نشاندہی کی گئی ہے، باقی خطرات کم سمجھے گئے ہیں، ایک اہم مگر کم سراہا جانے والا خطرہ علمی کاموں کو مشینوں پر منتقل کرنا ہے، جس سے تنقیدی سوچ کا زوال، ذاتی ذمہ داری کی کمزوری اور سوچ کا یکسانیت پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خفیہ علمی خساروں کے بارے میں اجتماعی آگاہی پیدا کرنا ان کے کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیچیدہ خطرات کے منظرنامے سے نمٹنے کے لیے ہمیں اے آئی کے لیے ایک جامع، انسانی مرکزیت والا وژن تیار کرنا ہوگا، جو ٹیک کمپنیوں کی طرف سے فروغ دیے جانے والے اے جی آئی کے محدود مقصد سے آگے بڑھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وژن اے آئی ٹیکنالوجی کی موجودہ کمزوریوں کا ایمانداری سے جائزہ لے اور بین الاقوامی تحقیق کو نئے راستوں کی تلاش میں متحرک کرے، تاکہ سائنس، صنعت اور خدمات میں اے آئی کے نئے استعمالات کو تلاش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1205629'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ نظریاتی سطح پر، ہمیں ’جلدی کرنا اور قواعد توڑنا‘ والے رویے کو مسترد کرنا ہوگا، کیوں کہ یہ تکنیکی قرض اور طویل مدتی ناپائیداری کا باعث بنتا ہے، یہ اکثر ’ٹیکنالوجیکل ڈیٹرمینزم‘ کے عقیدے کے ساتھ جڑتا ہے جو انسان کی کردار کو ٹیکنالوجی میں نظر انداز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اس نئے وژن میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے موزوں ہے، جو صرف سب سے طاقتور اے آئی بنانے کے بارے میں نہیں بلکہ سماج کی خدمت پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے پاس مضبوط صنعتی بنیاد موجود ہے، جس میں ایسے شعبے شامل ہیں جو زیادہ ذہین مصنوعات اور خدمات کی ضرورت رکھتے ہیں، عالمی معیارات اور ضوابط کی ترقی اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، چین عالمی طاقت کے توازن کو درست کرنے میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے، اور اے آئی کی ترقی کو بھروسہ مندی اور حفاظت کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائنا اے آئی سیفٹی اینڈ ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن اور ’ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن‘ جیسے اقدامات اس اہم سمت کی ابتدائی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک ایسا تکنیکی تبدیلی کا مرحلہ پیش کرتی ہے، جو ماضی کی کسی بھی ایجاد سے مختلف ہے، جہاں دیگر اوزار صرف جسمانی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں، وہیں اے آئی انسان کی بنیادی خصوصیت (یعنی علم پیدا کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت) کے قابل مقابلہ ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ اور ’چائنا ڈیلی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1959887/how-humans-can-control-risks-arising-from-ai"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ طاقت اے آئی کو انفرادی شناخت، اقتصادی ڈھانچوں اور سماجی تنظیم کو گہرائی سے بدلنے کی صلاحیت دیتی ہے۔</p>
<p>چنانچہ اس کے بے پناہ فوائد کے ساتھ ساتھ سنگین خطرات بھی ہیں، جن کے پیشِ نظر اس کے انتظام کے لیے ایک جامع اور عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کارکردگی اور حفاظت کے درمیان صرف سادہ مباحثہ ناکافی ہے، ہمیں اے آئی کی مختلف شکلوں، استعمال اور مستقبل کی ترقیات کو جامع طور پر دیکھنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1262958'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262958"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>زیادہ تر عوامی مباحثہ مصنوعی عمومی ذہانت (اے جی آئی) پر مرکوز ہے، جو ایک مبہم تصور ہے اور تمام علمی کاموں میں انسانی سطح کی کارکردگی کا وعدہ کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، خود یہ اصطلاح مبہم ہے، کیوں کہ یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ انسان کن علمی کاموں کے قابل ہیں، اور یہ انسانی ذہانت کی اہم خصوصیات کو نظر انداز کرتی ہے۔</p>
<p>انسانی ذہانت کے قریب پہنچنے کے لیے یہ کافی نہیں کہ مشینیں مخصوص کاموں میں انسان سے بہتر کارکردگی دکھائیں، اصل اہمیت خودمختاری کی صلاحیت کی ہے، یعنی دنیا کو سمجھنے اور مختلف مہارتوں کو یکجا کرکے مقاصد حاصل کرنے کی لچکدار صلاحیت۔</p>
<p>موجودہ مکالماتی اے آئی سسٹمز اور ایسے خودمختار نظاموں کے درمیان جو پیچیدہ تنظیموں میں انسانی آپریٹرز کی جگہ لے سکیں، ایک قابل ذکر خلا موجود ہے، جیسا کہ انٹرنیٹ آف تھنگز کے تصور میں ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر خودکار ڈرائیونگ سسٹمز، اسمارٹ گرڈز، اسمارٹ فیکٹریاں، اسمارٹ شہر، یا خودکار ٹیلی کمیونیکیشن سسٹمز انتہائی پیچیدہ اور اکثر اہم نظام ہیں، جو مختلف ایجنٹس پر مشتمل ہوتے ہیں، ہر ایک اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے (انفرادی ذہانت) اور ساتھ ہی مجموعی نظامی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہم آہنگی پیدا کرتا ہے (اجتماعی ذہانت)۔</p>
<p>اس وژن کو حاصل کرنے میں تکنیکی رکاوٹیں بہت بڑی ہیں اور یہ موجودہ مشین لرننگ کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ خودکار گاڑیوں کی صنعت کی ناکامیوں سے ظاہر ہوتا ہے، جن میں سے کچھ نے 2020 تک مکمل خودمختاری کا وعدہ کیا تھا۔</p>
<p>موجودہ اے آئی ایجنٹس صرف کم خطرے والے، ڈیجیٹل کاموں تک محدود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272825'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مستقبل کے اے آئی سسٹمز کو اعتماد کے قابل بنانے کے لیے مضبوط استدلال کی صلاحیت، تکنیکی، قانونی اور اخلاقی معیارات کے مطابق مقاصد کا حصول، اور وہ معیار کی قابل بھروسہ کارکردگی حاصل کرنا ضروری ہے جو فی الحال ایک ’نہایت مشکل خواب‘ تصور کی جاتی ہے۔</p>
<p>مسئلے کا بنیادی سبب مضبوط بھروسہ مندگی کے ضمانتی اصول حاصل کرنے میں موجود داخلی محدودیت ہے، اے آئی سسٹمز ڈیٹا سے علم پیدا کرنے میں انتہائی مؤثر ہیں، مگر وہ غیر واضح ہیں، جس سے حفاظت کے لیے درکار اعلیٰ معیار کی بھروسہ مندی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ اے آئی کی حفاظت روایتی نظاموں جیسے لفٹ یا ہوائی جہاز کے لیے استعمال ہونے والے منطقی سرٹیفیکیشن عمل سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔</p>
<p>تکنیکی خصوصیات کے علاوہ، اے آئی سسٹمز انسانی مشابہت کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور انہیں انسانی مرکزیت والے علمی خصائص پر بھی پورا اترنا چاہیے۔</p>
<p>کئی مطالعے ذمہ دار اے آئی، ہم آہنگ اے آئی، اور خاص طور پر اخلاقی اے آئی پر مبنی ہیں، تاہم زیادہ تر مطالعے سطحی ہیں اور سائنسی بنیاد سے خالی ہیں، کیوں کہ یہ خصائص تکنیکی طور پر سمجھنا مشکل ہیں اور انسانی پیچیدہ علمی عمل پر منحصر ہیں، جسے ہم بھی مکمل طور پر نہیں سمجھتے۔</p>
<p>ایک اے آئی، جو میڈیکل امتحان پاس کر لے، انسانی ڈاکٹر کی طرح سمجھ یا ذمہ داری نہیں رکھتا، ایسے اے آئی سسٹمز تیار کرنا جو واقعی سماجی اصولوں کا احترام کریں اور ذمہ دار اجتماعی ذہانت دکھائیں ایک بڑا چیلنج ہے۔</p>
<p>اے آئی کے خطرات 3 آپس میں جڑے ہوئے شعبوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں، تکنیکی خطرات اے آئی سسٹمز کی ’بلیک باکس‘ خصوصیات سے بڑھ جاتے ہیں، جس میں نئی حفاظت/سیکیورٹی کے خطرات شامل ہیں جو کم سمجھے گئے ہیں۔</p>
<p>موجودہ خطرات کے انتظام کے اصول اعلیٰ بھروسہ مندی کا تقاضا کرتے ہیں، اگر ان پر سختی سے عمل کیا جائے تو وہ موجودہ اے آئی کی تخلیقات کو خارج کر دیں گے۔</p>
<p>عالمی تکنیکی معیارات کی ترقی، جو ہماری موجودہ تہذیب کی بنیاد ہے، اعتماد پیدا کرنے کے لیے لازمی ہے، لیکن یہ کوشش تکنیکی حدود اور بڑی ٹیک کمپنیوں اور امریکی حکام کی مخالفت سے متاثر ہو رہی ہے، جو معیارات کو جدت میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ناکافی خود تصدیق کی حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>انسانی خطرات تکنیکی خطرات سے مختلف ہیں کیونکہ یہ مکمل یا زیادہ تر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں غلط استعمال، زیادتی یا تعمیل میں ناکامی شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>خودکار ڈرائیونگ میں مہارت کی کمی، زیادہ اعتماد اور موڈ کنفیوژن غلط استعمال کی مثالیں ہیں۔</p>
<p>تعمیلی خطرات مینوفیکچرر کی حکمرانی سے جڑے ہیں، جو تجارتی ترقی کو حفاظت اور شفافیت پر ترجیح دیتے ہیں، ٹیسلا کا ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ سسٹم، جو اپنے نام کے باوجود فعال انسانی نگرانی کا تقاضا کرتا ہے، مارکیٹنگ کے وعدوں اور تکنیکی حقیقت کے درمیان فرق کے خطرات کی مثال ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271936'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271936"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آخر میں اے آئی میں وسیع پیمانے پر یا طویل مدتی نظامی خطرات شامل ہیں جو سماجی، اقتصادی، ثقافتی، ماحولیاتی اور حکومتی نظاموں میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ کچھ خطرات جیسے تکنیکی اجارہ داری، روزگار کی کمی اور ماحولیاتی لاگت کی نشاندہی کی گئی ہے، باقی خطرات کم سمجھے گئے ہیں، ایک اہم مگر کم سراہا جانے والا خطرہ علمی کاموں کو مشینوں پر منتقل کرنا ہے، جس سے تنقیدی سوچ کا زوال، ذاتی ذمہ داری کی کمزوری اور سوچ کا یکسانیت پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ان خفیہ علمی خساروں کے بارے میں اجتماعی آگاہی پیدا کرنا ان کے کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>اس پیچیدہ خطرات کے منظرنامے سے نمٹنے کے لیے ہمیں اے آئی کے لیے ایک جامع، انسانی مرکزیت والا وژن تیار کرنا ہوگا، جو ٹیک کمپنیوں کی طرف سے فروغ دیے جانے والے اے جی آئی کے محدود مقصد سے آگے بڑھتا ہو۔</p>
<p>یہ وژن اے آئی ٹیکنالوجی کی موجودہ کمزوریوں کا ایمانداری سے جائزہ لے اور بین الاقوامی تحقیق کو نئے راستوں کی تلاش میں متحرک کرے، تاکہ سائنس، صنعت اور خدمات میں اے آئی کے نئے استعمالات کو تلاش کیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1205629'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مزید یہ کہ نظریاتی سطح پر، ہمیں ’جلدی کرنا اور قواعد توڑنا‘ والے رویے کو مسترد کرنا ہوگا، کیوں کہ یہ تکنیکی قرض اور طویل مدتی ناپائیداری کا باعث بنتا ہے، یہ اکثر ’ٹیکنالوجیکل ڈیٹرمینزم‘ کے عقیدے کے ساتھ جڑتا ہے جو انسان کی کردار کو ٹیکنالوجی میں نظر انداز کرتا ہے۔</p>
<p>چین اس نئے وژن میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے موزوں ہے، جو صرف سب سے طاقتور اے آئی بنانے کے بارے میں نہیں بلکہ سماج کی خدمت پر مرکوز ہے۔</p>
<p>چین کے پاس مضبوط صنعتی بنیاد موجود ہے، جس میں ایسے شعبے شامل ہیں جو زیادہ ذہین مصنوعات اور خدمات کی ضرورت رکھتے ہیں، عالمی معیارات اور ضوابط کی ترقی اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم ہوگی۔</p>
<p>دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، چین عالمی طاقت کے توازن کو درست کرنے میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے، اور اے آئی کی ترقی کو بھروسہ مندی اور حفاظت کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہے۔</p>
<p>چائنا اے آئی سیفٹی اینڈ ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن اور ’ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن‘ جیسے اقدامات اس اہم سمت کی ابتدائی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274724</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 14:45:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/08124901f8c2e9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/08124901f8c2e9d.webp"/>
        <media:title>چین دیگر ممالک کiساتھ ملکر کام کرتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کو درست کرنے میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ —فوٹو: چائنا ڈیلی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپن اے آئی نے آسٹریلیا میں 4.6 ارب ڈالر مالیت کے اے آئی سینٹر کے قیام کا معاہدہ کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274659/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی اور ایک آسٹریلوی ڈیٹا سینٹر آپریٹر نے سڈنی میں اربوں ڈالر مالیت کے اے آئی مرکز کے قیام کا معاہدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959290/chatgpt-maker-strikes-deal-on-46bn-ai-centre-in-australia"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق برسبین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والی کمپنی نیکسٹ ڈی سی نے جمعہ کو کہا کہ اس نے اوپن اے آئی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کیمپس اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس کے ’سپر کلسٹر‘ کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیکسٹ ڈی سی کے مطابق دونوں کمپنیاں مغربی سڈنی میں اے آئی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، ترقی اور آپریشن پر تعاون کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیکسٹ ڈی سی کے حصص جمعے کے ابتدائی اوقات میں 4.1 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی حکومت نے کہا کہ یہ 7 ارب آسٹریلوی ڈالر (4.6 ارب امریکی ڈالر) کا منصوبہ تعمیراتی مراحل کے دوران ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا، اور بعد ازاں تکنیکی، مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور آپریشنل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے بتایا کہ اس منصوبے میں نئی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے لیے طویل مدتی پاور پرچیز ایگریمنٹس استعمال کیے جائیں گے اور ایسے نیکسٹ جنریشن فیچرز شامل ہوں گے جن میں ٹھنڈک کے لیے پینے کے پانی کی ضرورت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خزانچی جم چالمرز نے کہا کہ ’یہ مزید ثبوت ہے کہ آسٹریلیا کے پاس ٹیلنٹ، صاف توانائی کی صلاحیت، تجارتی شراکت داری، اور پالیسی کے انتظامات موجود ہیں جو اسے اے آئی کے شعبے میں بڑے کامیاب ممالک میں شامل کر سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’اس قسم کی شراکت داریاں اچھی ملازمتیں پیدا کرنے، مہارتیں بڑھانے، اور اے آئی کو ہماری معیشت میں وسیع پیمانے پر اپنانے میں مدد کریں گی‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی اور ایک آسٹریلوی ڈیٹا سینٹر آپریٹر نے سڈنی میں اربوں ڈالر مالیت کے اے آئی مرکز کے قیام کا معاہدہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی <a href="https://www.dawn.com/news/1959290/chatgpt-maker-strikes-deal-on-46bn-ai-centre-in-australia"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق برسبین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والی کمپنی نیکسٹ ڈی سی نے جمعہ کو کہا کہ اس نے اوپن اے آئی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کیمپس اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس کے ’سپر کلسٹر‘ کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>نیکسٹ ڈی سی کے مطابق دونوں کمپنیاں مغربی سڈنی میں اے آئی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، ترقی اور آپریشن پر تعاون کریں گی۔</p>
<p>نیکسٹ ڈی سی کے حصص جمعے کے ابتدائی اوقات میں 4.1 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>آسٹریلوی حکومت نے کہا کہ یہ 7 ارب آسٹریلوی ڈالر (4.6 ارب امریکی ڈالر) کا منصوبہ تعمیراتی مراحل کے دوران ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا، اور بعد ازاں تکنیکی، مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور آپریشنل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کرے گا۔</p>
<p>حکومت نے بتایا کہ اس منصوبے میں نئی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے لیے طویل مدتی پاور پرچیز ایگریمنٹس استعمال کیے جائیں گے اور ایسے نیکسٹ جنریشن فیچرز شامل ہوں گے جن میں ٹھنڈک کے لیے پینے کے پانی کی ضرورت نہیں ہوگی۔</p>
<p>خزانچی جم چالمرز نے کہا کہ ’یہ مزید ثبوت ہے کہ آسٹریلیا کے پاس ٹیلنٹ، صاف توانائی کی صلاحیت، تجارتی شراکت داری، اور پالیسی کے انتظامات موجود ہیں جو اسے اے آئی کے شعبے میں بڑے کامیاب ممالک میں شامل کر سکتے ہیں‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’اس قسم کی شراکت داریاں اچھی ملازمتیں پیدا کرنے، مہارتیں بڑھانے، اور اے آئی کو ہماری معیشت میں وسیع پیمانے پر اپنانے میں مدد کریں گی‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274659</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 11:38:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/051134576e732f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/051134576e732f8.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوائلٹ میں تصاویر کھینچنے کے لیے بنائے گئے کیمرا کے ڈیٹا تک دوسروں کو رسائی کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274651/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشہور ٹیکنالاجی کمپنی کولر نے اس سال کے شروع میں ایک عجیب پروڈکٹ لانچ کیا جس کا نام ڈیکوڈا ہے۔ یہ ایک اسمارٹ کیمرہ تھا جو ٹوائلٹ کی دیوار پر لگایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی رپورٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/12/03/end-to-end-encrypted-smart-toilet-camera-is-not-actually-end-to-end-encrypted/"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کمپنی کے مطابق مذکورہ کیمرہ ٹوائلٹ میں موجود مواد کی تصاویر لیتا ہے اور پھر ان کا تجزیہ کر کے استعمال کنندہ کو آنتوں کی صحت کے بارے میں مشورے دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا تھا کہ مذکورہ کیمرا سینسر صرف ٹوائلٹ کے اندر دیکھتا ہے اور تمام ڈیٹا اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی پرائیویسی کے خدشات دور کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن سیکیورٹی ریسرچر سائمن فونڈری ٹیٹلر نے اپنی بلاگ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ کولر کا یہ دعویٰ غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کمپنی کی پرائیویسی پالیسی کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کولر دراصل ٹی ایل ایس انکرپشن کی بات کر رہا ہے جو انٹرنیٹ پر ڈیٹا کی منتقلی کے دوران تحفظ فراہم کرتی ہے، جیسے کہ ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائمن نے واضح کیا کہ ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کا مطلب عام طور پر ایسی انکرپشن ہوتا ہے جو صرف بھیجنے والے اور وصول کنندہ کو ہی ڈیٹا تک رسائی دیتا ہے، جیسے آئی میسیج، سگنل یا واٹس ایپ میں سہولت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ اس اصطلاح کا غلط استعمال لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات ٹوائلٹ کیمرہ جیسی حساس چیز کی ہو اور وہ سوچیں کہ کمپنی ان کی تصاویر تک رسائی نہیں رکھ سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولر کی پرائیویسی پالیسی میں لکھا ہے کہ استعمال کنندہ کے موبائل فون، ٹوائلٹ اٹیچمنٹ اور کمپنی کے سسٹمز پر ڈیٹا کو ریسٹ پر انکرپٹ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ڈیوائسز اور سرورز کے درمیان منتقلی کے دوران ڈیٹا کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کہا گیا ہے لیکن یہ سرورز پر ڈی کریپٹ ہو جاتا ہے اور سروس فراہم کرنے کے لیے پروسیس کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے پرائیویسی کانٹیکٹ نے سائمن کو بتایا کہ ڈیٹا انہی طریقوں سے محفوظ ہے لیکن ریسرچر کا کہنا ہے کہ چونکہ کولر اپنے سرورز پر ڈیٹا تک رسائی رکھ سکتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ ٹوائلٹ کی تصاویر کو اے آئی ماڈلز ٹرین کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولر نے جواب دیا کہ ان کے الگورتھم صرف غیر شناخت شدہ (ڈی آئیڈنٹیفائیڈ) ڈیٹا پر ٹرین کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروڈکٹ 599 ڈالر میں دستیاب ہے اور کم از کم 6.99 ڈالر ماہانہ سبسکرپشن لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشہور ٹیکنالاجی کمپنی کولر نے اس سال کے شروع میں ایک عجیب پروڈکٹ لانچ کیا جس کا نام ڈیکوڈا ہے۔ یہ ایک اسمارٹ کیمرہ تھا جو ٹوائلٹ کی دیوار پر لگایا جاتا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی رپورٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/12/03/end-to-end-encrypted-smart-toilet-camera-is-not-actually-end-to-end-encrypted/"><strong>مطابق</strong></a> کمپنی کے مطابق مذکورہ کیمرہ ٹوائلٹ میں موجود مواد کی تصاویر لیتا ہے اور پھر ان کا تجزیہ کر کے استعمال کنندہ کو آنتوں کی صحت کے بارے میں مشورے دیتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا تھا کہ مذکورہ کیمرا سینسر صرف ٹوائلٹ کے اندر دیکھتا ہے اور تمام ڈیٹا اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی پرائیویسی کے خدشات دور کیے جائیں۔</p>
<p>لیکن سیکیورٹی ریسرچر سائمن فونڈری ٹیٹلر نے اپنی بلاگ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ کولر کا یہ دعویٰ غلط ہے۔</p>
<p>انہوں نے کمپنی کی پرائیویسی پالیسی کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کولر دراصل ٹی ایل ایس انکرپشن کی بات کر رہا ہے جو انٹرنیٹ پر ڈیٹا کی منتقلی کے دوران تحفظ فراہم کرتی ہے، جیسے کہ ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس پر ہوتا ہے۔</p>
<p>سائمن نے واضح کیا کہ ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کا مطلب عام طور پر ایسی انکرپشن ہوتا ہے جو صرف بھیجنے والے اور وصول کنندہ کو ہی ڈیٹا تک رسائی دیتا ہے، جیسے آئی میسیج، سگنل یا واٹس ایپ میں سہولت موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ اس اصطلاح کا غلط استعمال لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات ٹوائلٹ کیمرہ جیسی حساس چیز کی ہو اور وہ سوچیں کہ کمپنی ان کی تصاویر تک رسائی نہیں رکھ سکتی۔</p>
<p>کولر کی پرائیویسی پالیسی میں لکھا ہے کہ استعمال کنندہ کے موبائل فون، ٹوائلٹ اٹیچمنٹ اور کمپنی کے سسٹمز پر ڈیٹا کو ریسٹ پر انکرپٹ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں ڈیوائسز اور سرورز کے درمیان منتقلی کے دوران ڈیٹا کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کہا گیا ہے لیکن یہ سرورز پر ڈی کریپٹ ہو جاتا ہے اور سروس فراہم کرنے کے لیے پروسیس کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے پرائیویسی کانٹیکٹ نے سائمن کو بتایا کہ ڈیٹا انہی طریقوں سے محفوظ ہے لیکن ریسرچر کا کہنا ہے کہ چونکہ کولر اپنے سرورز پر ڈیٹا تک رسائی رکھ سکتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ ٹوائلٹ کی تصاویر کو اے آئی ماڈلز ٹرین کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔</p>
<p>کولر نے جواب دیا کہ ان کے الگورتھم صرف غیر شناخت شدہ (ڈی آئیڈنٹیفائیڈ) ڈیٹا پر ٹرین کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ پروڈکٹ 599 ڈالر میں دستیاب ہے اور کم از کم 6.99 ڈالر ماہانہ سبسکرپشن لازمی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274651</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 23:56:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/04195421437d601.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/04195421437d601.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: ٹیک کرنچ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب کا نیا ری کیپ فیچر، صارفین اب سال بھر دیکھی گئی ویڈیوز کا خلاصہ دیکھ سکیں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274602/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنے صارفین کے لیے ایک منفرد اور معلوماتی فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے وہ پورے سال میں دیکھی گئی ویڈیوز کی مکمل تفصیل ایک ہی جگہ پر دیکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/12/02/youtube-releases-its-first-ever-recap-of-videos-youve-watched/"&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/a&gt; کے مطابق یوٹیوب نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر یوٹیوب ریکیپ متعارف کرایا ہے، جو اس سال دیکھی گئی تمام ویڈیوز کا خلاصہ پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب ریکیپ صارفین کو یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے 2025 میں کون سے چینلز زیادہ دیکھے، ان کی دلچسپی کس قسم کے مواد میں زیادہ تھی اور ان کے دیکھنے کے رحجانات میں کس حد تک تبدیلی آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271629'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر میں صارفین کو ان کی ویڈیو دیکھنے کی عادات کے مطابق ایک خاص کیٹیگری بھی دی جائے گی، جس کے ذریعے یوٹیوب ان کی پسند اور دیکھنے کے انداز کے مطابق ان کی شخصیت کو ایک نام دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ اس فیچر کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یوٹیوب کے ہوم پیج یا ’یو‘ ٹیب پر جائیں، وہاں ریکیپ کا بینر نظر آئے گا، اس کے ذریعے آپ اپنی مکمل 2025 کی دیکھنے کی عادات دیکھ سکتے ہیں اور چاہیں تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب ریکیپ فیچر موبائل اور ڈیسک ٹاپ دونوں پر دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنے صارفین کے لیے ایک منفرد اور معلوماتی فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے وہ پورے سال میں دیکھی گئی ویڈیوز کی مکمل تفصیل ایک ہی جگہ پر دیکھ سکیں گے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/12/02/youtube-releases-its-first-ever-recap-of-videos-youve-watched/">ٹیکنالوجی ویب سائٹ</a> کے مطابق یوٹیوب نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر یوٹیوب ریکیپ متعارف کرایا ہے، جو اس سال دیکھی گئی تمام ویڈیوز کا خلاصہ پیش کرے گا۔</p>
<p>یوٹیوب ریکیپ صارفین کو یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے 2025 میں کون سے چینلز زیادہ دیکھے، ان کی دلچسپی کس قسم کے مواد میں زیادہ تھی اور ان کے دیکھنے کے رحجانات میں کس حد تک تبدیلی آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271629'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس فیچر میں صارفین کو ان کی ویڈیو دیکھنے کی عادات کے مطابق ایک خاص کیٹیگری بھی دی جائے گی، جس کے ذریعے یوٹیوب ان کی پسند اور دیکھنے کے انداز کے مطابق ان کی شخصیت کو ایک نام دے گا۔</p>
<p>اگر آپ اس فیچر کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یوٹیوب کے ہوم پیج یا ’یو‘ ٹیب پر جائیں، وہاں ریکیپ کا بینر نظر آئے گا، اس کے ذریعے آپ اپنی مکمل 2025 کی دیکھنے کی عادات دیکھ سکتے ہیں اور چاہیں تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>یوٹیوب ریکیپ فیچر موبائل اور ڈیسک ٹاپ دونوں پر دستیاب ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274602</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 16:18:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/031613379688a95.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/031613379688a95.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں پہلی بار مقامی اے آئی ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274543/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں پہلی بار مقامی طور پر ہوسٹ کیا گیا اے آئی ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ متعارف کروا دیا گیا ہے، جس سے ملک میں صحت، مالیات، عوامی تحفظ اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آنے کی توقع ہے اور ساتھ ہی سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا شفافیت بھی مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958664/pakistans-ai-potential-being-unlocked-with-local-data-centre"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹیلی نار نے ڈیٹا والٹ کے تعاون سے ملک میں پہلی بار مقامی طور پر ہوسٹ کیا گیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹر اور خودمختار اے آئی کلاؤڈ لانچ کردیا ہے، جس سے صحت، مالیات اور عوامی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں اے آئی کے استعمال میں تیزی آنے کی توقع ہے، جب کہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا شفافیت بھی مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نویدیا کے سرکٹس کی دستیابی سے کاروباری اداروں کو ترقی یافتہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) تک رسائی حاصل ہوگی، جو کمپیوٹنگ اور مقامی طور پر ہوسٹ کی گئی اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے تجارتی جنگ کے باعث نویدیا کو خاص طور پر چین کو اپنے اے آئی چپس برآمد کرنے سے روک رکھا ہے، تاہم ڈیٹا والٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے جی پی یوز کے لیے نویدیا سے خصوصی منظوری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی پابندیوں کے علاوہ عالمی سطح پر جی پی یوز کی کمی اور درآمدی لاگت میں اضافے نے بھی پاکستان کی اعلیٰ معیار کی اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت کو محدود کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سخت جانچ پڑتال کے بعد منظور ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان کو نویدیا ایکسلریٹرز سے فائدہ اٹھا کر اپنی اے آئی صلاحیت کو اُجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے مالیات، صحت، مینوفیکچرنگ، عوامی تحفظ، لاجسٹکس، زراعت اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے اے آئی استعمال میں نمایاں بہتری آئے گی، کیونکہ اس سے جدید اے آئی ایپلیکیشنز کے لیے درکار ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ طاقت اور مطابقت رکھنے والا ماحول میسر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا والٹ کی سی ای او مہوش سلمان علی نے بتایا کہ ڈیٹا والٹ پاکستان کا واحد ڈیٹا سینٹر ہے جو جی پی یو سروسز فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ مشکل ہے، لیکن ہم نے 3 ہزار سے زائد جی پی یوز حاصل کیے ہیں اور انہیں بطور سروس فراہم کر رہے ہیں اور مزید کہا کہ اس طرح ہم ملک کا واحد اے آئی فعال ڈیٹا سینٹر بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہوش علی کے مطابق ڈیٹا والٹ پاکستان کے پاس نویدیا کی جانب سے جی پی یوز کے لیے باضابطہ اور خصوصی منظوری موجود ہے اور یہ جی پی یوز وہ نویدیا کے پارٹنرز سے خریدتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جی پی یوز کی شدید کمی ہے اور امریکی برآمدی پابندیاں بھی موجود ہیں، پاکستان بھی پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس لیے عام حالات میں کوئی بھی پاکستانی کمپنی قانونی طور پر ان جی پی یوز کو نہیں خرید سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی نے اس مقصد کے لیے بہت سخت تکنیکی، تعمیل اور مالی جانچ کا سامنا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ عمل بہت پہلے شروع کیا، کئی سال کے پروگرام کے لیے عزم ظاہر کیا اور نویدیا کے مجاز پارٹنرز کے ذریعے کام کیا، اسی لیے ہمارا منصوبہ منظور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی پی یو ایک خصوصی الیکٹرانک سرکٹ ہے جو ڈیجیٹل امیج پروسیسنگ اور کمپیوٹر گرافکس کی رفتار بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ یا تو ڈسکریٹ گرافکس کارڈ پر نصب ہوتا ہے یا مدربورڈ، موبائل فونز، پرسنل کمپیوٹرز، ورک سٹیشنز اور گیم کنسولز میں استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈیٹا-پروٹیکشن" href="#ڈیٹا-پروٹیکشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈیٹا پروٹیکشن&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب خودمختار جی پی یو انفراسٹرکچر سے پاکستانی محققین، اسٹارٹ اپس، کاروباری اداروں اور یونیورسٹیوں کو اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ایل ایل ایمز تیار کرنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی فِن ٹیک سمیت شعبہ جاتی ضروریات پر مبنی اے آئی بھی بنائی جا سکے گی، چونکہ اے آئی ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اس انقلاب کی بنیاد جی پی یو کمپیوٹنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ تمام ڈیٹا کو پاکستان کے اندر رکھنے سے سائبر سیکیورٹی، دفاع، شفافیت، آڈٹ کے قابل عمل نظام، رسائی کنٹرول، آئیڈنٹیٹی منیجمنٹ، پرائیویسی اور قومی ڈیٹا پروٹیکشن مضبوط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ڈیٹا پروسیسنگ مکمل طور پر پاکستان کی سرحدوں کے اندر ہوگی اور ڈیٹا والٹ کے ہائی ڈینسٹی اے آئی ڈیٹا سینٹر میں ہوسٹ کیا جائے گا، اس لیے حساس ڈیٹا جیسے مالیاتی لین دین، ہیلتھ کیئر امیجنگ، ٹیلی کام ڈیٹا اور سرکاری ریکارڈ کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے خطرات ختم ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ملک میں کئی خودمختار کلاوڈ سروسز موجود ہیں، جنہیں بنیادی طور پر ٹیلی کام کمپنیاں چلاتی ہیں، جن میں ریاستی ملکیت پی ٹی سی ایل اور نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن (این ٹی سی) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پاکستانی کاروباری ادارے اور سرکاری ادارے اے آئی ورک لوڈز کے لیے اب بھی آف شور کلاوڈ ریجنز پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں پہلی بار مقامی طور پر ہوسٹ کیا گیا اے آئی ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ متعارف کروا دیا گیا ہے، جس سے ملک میں صحت، مالیات، عوامی تحفظ اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آنے کی توقع ہے اور ساتھ ہی سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا شفافیت بھی مضبوط ہوگی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958664/pakistans-ai-potential-being-unlocked-with-local-data-centre"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ٹیلی نار نے ڈیٹا والٹ کے تعاون سے ملک میں پہلی بار مقامی طور پر ہوسٹ کیا گیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹر اور خودمختار اے آئی کلاؤڈ لانچ کردیا ہے، جس سے صحت، مالیات اور عوامی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں اے آئی کے استعمال میں تیزی آنے کی توقع ہے، جب کہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا شفافیت بھی مضبوط ہوگی۔</p>
<p>نویدیا کے سرکٹس کی دستیابی سے کاروباری اداروں کو ترقی یافتہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) تک رسائی حاصل ہوگی، جو کمپیوٹنگ اور مقامی طور پر ہوسٹ کی گئی اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے اہم ہیں۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے تجارتی جنگ کے باعث نویدیا کو خاص طور پر چین کو اپنے اے آئی چپس برآمد کرنے سے روک رکھا ہے، تاہم ڈیٹا والٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے جی پی یوز کے لیے نویدیا سے خصوصی منظوری حاصل ہے۔</p>
<p>برآمدی پابندیوں کے علاوہ عالمی سطح پر جی پی یوز کی کمی اور درآمدی لاگت میں اضافے نے بھی پاکستان کی اعلیٰ معیار کی اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت کو محدود کیا ہے۔</p>
<p>تاہم، سخت جانچ پڑتال کے بعد منظور ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان کو نویدیا ایکسلریٹرز سے فائدہ اٹھا کر اپنی اے آئی صلاحیت کو اُجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اس اقدام سے مالیات، صحت، مینوفیکچرنگ، عوامی تحفظ، لاجسٹکس، زراعت اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے اے آئی استعمال میں نمایاں بہتری آئے گی، کیونکہ اس سے جدید اے آئی ایپلیکیشنز کے لیے درکار ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ طاقت اور مطابقت رکھنے والا ماحول میسر آئے گا۔</p>
<p>ڈیٹا والٹ کی سی ای او مہوش سلمان علی نے بتایا کہ ڈیٹا والٹ پاکستان کا واحد ڈیٹا سینٹر ہے جو جی پی یو سروسز فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ مشکل ہے، لیکن ہم نے 3 ہزار سے زائد جی پی یوز حاصل کیے ہیں اور انہیں بطور سروس فراہم کر رہے ہیں اور مزید کہا کہ اس طرح ہم ملک کا واحد اے آئی فعال ڈیٹا سینٹر بن چکے ہیں۔</p>
<p>مہوش علی کے مطابق ڈیٹا والٹ پاکستان کے پاس نویدیا کی جانب سے جی پی یوز کے لیے باضابطہ اور خصوصی منظوری موجود ہے اور یہ جی پی یوز وہ نویدیا کے پارٹنرز سے خریدتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جی پی یوز کی شدید کمی ہے اور امریکی برآمدی پابندیاں بھی موجود ہیں، پاکستان بھی پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس لیے عام حالات میں کوئی بھی پاکستانی کمپنی قانونی طور پر ان جی پی یوز کو نہیں خرید سکتی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی نے اس مقصد کے لیے بہت سخت تکنیکی، تعمیل اور مالی جانچ کا سامنا کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ عمل بہت پہلے شروع کیا، کئی سال کے پروگرام کے لیے عزم ظاہر کیا اور نویدیا کے مجاز پارٹنرز کے ذریعے کام کیا، اسی لیے ہمارا منصوبہ منظور ہوا۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی پی یو ایک خصوصی الیکٹرانک سرکٹ ہے جو ڈیجیٹل امیج پروسیسنگ اور کمپیوٹر گرافکس کی رفتار بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ یا تو ڈسکریٹ گرافکس کارڈ پر نصب ہوتا ہے یا مدربورڈ، موبائل فونز، پرسنل کمپیوٹرز، ورک سٹیشنز اور گیم کنسولز میں استعمال ہوتا ہے۔</p>
<h1><a id="ڈیٹا-پروٹیکشن" href="#ڈیٹا-پروٹیکشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈیٹا پروٹیکشن</h1>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب خودمختار جی پی یو انفراسٹرکچر سے پاکستانی محققین، اسٹارٹ اپس، کاروباری اداروں اور یونیورسٹیوں کو اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ایل ایل ایمز تیار کرنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی فِن ٹیک سمیت شعبہ جاتی ضروریات پر مبنی اے آئی بھی بنائی جا سکے گی، چونکہ اے آئی ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اس انقلاب کی بنیاد جی پی یو کمپیوٹنگ ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ تمام ڈیٹا کو پاکستان کے اندر رکھنے سے سائبر سیکیورٹی، دفاع، شفافیت، آڈٹ کے قابل عمل نظام، رسائی کنٹرول، آئیڈنٹیٹی منیجمنٹ، پرائیویسی اور قومی ڈیٹا پروٹیکشن مضبوط ہوگا۔</p>
<p>چونکہ ڈیٹا پروسیسنگ مکمل طور پر پاکستان کی سرحدوں کے اندر ہوگی اور ڈیٹا والٹ کے ہائی ڈینسٹی اے آئی ڈیٹا سینٹر میں ہوسٹ کیا جائے گا، اس لیے حساس ڈیٹا جیسے مالیاتی لین دین، ہیلتھ کیئر امیجنگ، ٹیلی کام ڈیٹا اور سرکاری ریکارڈ کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے خطرات ختم ہو جائیں گے۔</p>
<p>اس وقت ملک میں کئی خودمختار کلاوڈ سروسز موجود ہیں، جنہیں بنیادی طور پر ٹیلی کام کمپنیاں چلاتی ہیں، جن میں ریاستی ملکیت پی ٹی سی ایل اور نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن (این ٹی سی) شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم، پاکستانی کاروباری ادارے اور سرکاری ادارے اے آئی ورک لوڈز کے لیے اب بھی آف شور کلاوڈ ریجنز پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274543</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 11:04:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0211003142b5759.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0211003142b5759.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’اصل اور نقل کی پہچان مشکل‘ گوگل کا جدید امیج جنریشن ماڈل نینو بنانا پرو متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274521/</link>
      <description>&lt;p&gt;جی پی ٹی امیج، گروک اور نینو بنانا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، گوگل نے اب اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی امیج جنریشن ماڈل ’نینو بنانا پرو‘ (جیمینی تھری پرو امیج) جاری کر دیا ہے، اور سچ بتائیں تو نتائج اتنے حقیقی لگتے ہیں کہ حیران کن سے زیادہ &lt;strong&gt;خوفناک&lt;/strong&gt; معلوم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;Nano Banana Pro کو ’جدید ترین امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ ماڈل‘ قرار دیا جا رہا ہے، جو بصری ڈیزائن، عمومی معلومات اور ٹیکسٹ رینڈرنگ میں غیر معمولی کارکردگی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تخلیقی افراد اور کاروباروں کے لیے ایک نئی دنیا کھولتا ہے، بشرطیکہ اسے ذمہ داری سے استعمال کیا جائے، لیکن اس کا جس درجے کا حقیقت جیسا نتیجہ ہے، وہ ہمارے دور میں انتہائی تشویش ناک بھی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269635'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269635"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ وہی پرانا سوال پھر سے، اور اس بار کہیں زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے کہ  &lt;strong&gt;ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ کیا اصل ہے اور کیا نہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر عمر کے لوگ آن لائن آدھی سچائیوں پر بھی یقین کر لیتے ہیں، Nano Banana Pro جیسی ٹیکنالوجی اس بحرانِ صداقت کو ایک بالکل نئی سطح پر لے جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اوپن اے آئی نے مارچ میں اپنا ’اب تک کا سب سے جدید امیج جنریٹر‘ متعارف کرایا تھا، جو جی پی ٹی-40 میں شامل تھا، تو ہمارے فیڈز اسٹوڈیو گھبلی اسٹائل کی اینیمیشنز سے بھر گئے تھے، جنہوں نے سنگین کاپی رائٹ اور اخلاقی سوالات کھڑے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں، تصویر بنانے والی اے آئی نے نہ صرف فن اور فنکاروں بلکہ عام انسان کے لیے بھی خطرات پیدا کیے ہیں، جعلی عریاں تصاویر سے لے کر کسی کے بارے میں من گھڑت دعوے کرنے تک، اے آئی  کے غلط استعمال کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 نومبر کو پاک ووکلز ‘PakVocals’ نامی ایک اکاؤنٹ نے ایکس (ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ صحافی بینظیر شاہ ایک نائٹ کلب میں ڈانس کر رہی ہیں، تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس ویڈیو نے 5 لاکھ سے زیادہ ویوز لے لیے تھے، بعد میں یہ ویڈیو جعلی ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی انٹرنیٹ پر موجود لاکھوں تصاویر سے سیکھتی ہے اور ان سے منسلک متن کو ذہن نشین کرتی ہے، ’ڈفیوژن‘ نامی عمل میں، اے آئی تصویر کو بے معنی پکسلز میں توڑتی ہے اور پھر اس عمل کو الٹ کر تصویر دوبارہ تشکیل دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کاپی رائٹ کا خیال نہیں رکھتی، اس لیے فنکارانہ اسلوب بھی بغیر اجازت استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;Midjourney، DALL-E، اور Canva جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اب کوئی بھی شخص ایک ماہانہ سبسکرپشن اور انٹرنیٹ کنیکشن کے ساتھ کسی بھی فنکار کے انداز میں بغیر یہ پوچھے کہ فنکار راضی ہے یا نہیں، یا اسے کریڈٹ دیئے بغیر تصویر بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی دنیا میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;Marrakech International Film Festival میں جج کی حیثیت سے شریک اداکارہ &lt;strong&gt;جینا اورٹیگا&lt;/strong&gt; (ساتھ ہی ‘Parasite’ کے ڈائریکٹر بونگ جون ہو بھی موجود تھے) نے خبردار کیا کہ سنیما میں اے آئی کی لائی ہوئی ’گہری غیر یقینی صورتحال‘ سے ڈر جانا بہت آسان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزفیڈ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے پینڈورا بکس کھول دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اے آئی کبھی نقل نہیں کر سکتی، مشکل میں جو خوبصورتی ہے، غلطیوں میں جو حسن ہے، کمپیوٹر وہ نہیں کر سکتا، کمپیوٹر کی کوئی روح نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ چیز نہیں جس سے ہم واقعی جڑ سکیں۔ ناظرین کے بارے میں کوئی مفروضہ قائم نہیں کرنا چاہیے، مگر امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اے آئی ذہنی جنک فوڈ بن جائے گا، اور ہم بے چینی محسوس کریں گے مگر وجہ سمجھ نہیں پائیں گے، کبھی کبھار، ناظرین کو کسی چیز سے محروم ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ اسے دوبارہ سراہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسی دنیا میں جہاں ہم پہلے ہی عجیب و غریب چیزیں دیکھ رہے ہیں، بچوں کی اسکن کیئر لائنز، اے آئی سے بنی ہوئی فلمیں، ڈرائیور لیس گاڑیاں، اور سائنسی فکشن جیسی ٹیکنالوجی، کون جانتا ہے آگے کیا آنے والا ہے؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جی پی ٹی امیج، گروک اور نینو بنانا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، گوگل نے اب اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی امیج جنریشن ماڈل ’نینو بنانا پرو‘ (جیمینی تھری پرو امیج) جاری کر دیا ہے، اور سچ بتائیں تو نتائج اتنے حقیقی لگتے ہیں کہ حیران کن سے زیادہ <strong>خوفناک</strong> معلوم ہوتے ہیں۔</p>
<p>Nano Banana Pro کو ’جدید ترین امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ ماڈل‘ قرار دیا جا رہا ہے، جو بصری ڈیزائن، عمومی معلومات اور ٹیکسٹ رینڈرنگ میں غیر معمولی کارکردگی رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ تخلیقی افراد اور کاروباروں کے لیے ایک نئی دنیا کھولتا ہے، بشرطیکہ اسے ذمہ داری سے استعمال کیا جائے، لیکن اس کا جس درجے کا حقیقت جیسا نتیجہ ہے، وہ ہمارے دور میں انتہائی تشویش ناک بھی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269635'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269635"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ وہی پرانا سوال پھر سے، اور اس بار کہیں زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے کہ  <strong>ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ کیا اصل ہے اور کیا نہیں؟</strong></p>
<p>ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر عمر کے لوگ آن لائن آدھی سچائیوں پر بھی یقین کر لیتے ہیں، Nano Banana Pro جیسی ٹیکنالوجی اس بحرانِ صداقت کو ایک بالکل نئی سطح پر لے جاتی ہے۔</p>
<p>جب اوپن اے آئی نے مارچ میں اپنا ’اب تک کا سب سے جدید امیج جنریٹر‘ متعارف کرایا تھا، جو جی پی ٹی-40 میں شامل تھا، تو ہمارے فیڈز اسٹوڈیو گھبلی اسٹائل کی اینیمیشنز سے بھر گئے تھے، جنہوں نے سنگین کاپی رائٹ اور اخلاقی سوالات کھڑے کیے تھے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں، تصویر بنانے والی اے آئی نے نہ صرف فن اور فنکاروں بلکہ عام انسان کے لیے بھی خطرات پیدا کیے ہیں، جعلی عریاں تصاویر سے لے کر کسی کے بارے میں من گھڑت دعوے کرنے تک، اے آئی  کے غلط استعمال کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔</p>
<p>8 نومبر کو پاک ووکلز ‘PakVocals’ نامی ایک اکاؤنٹ نے ایکس (ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ صحافی بینظیر شاہ ایک نائٹ کلب میں ڈانس کر رہی ہیں، تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔</p>
<p>دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس ویڈیو نے 5 لاکھ سے زیادہ ویوز لے لیے تھے، بعد میں یہ ویڈیو جعلی ثابت ہوئی۔</p>
<p>اے آئی انٹرنیٹ پر موجود لاکھوں تصاویر سے سیکھتی ہے اور ان سے منسلک متن کو ذہن نشین کرتی ہے، ’ڈفیوژن‘ نامی عمل میں، اے آئی تصویر کو بے معنی پکسلز میں توڑتی ہے اور پھر اس عمل کو الٹ کر تصویر دوبارہ تشکیل دیتی ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کاپی رائٹ کا خیال نہیں رکھتی، اس لیے فنکارانہ اسلوب بھی بغیر اجازت استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>Midjourney، DALL-E، اور Canva جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اب کوئی بھی شخص ایک ماہانہ سبسکرپشن اور انٹرنیٹ کنیکشن کے ساتھ کسی بھی فنکار کے انداز میں بغیر یہ پوچھے کہ فنکار راضی ہے یا نہیں، یا اسے کریڈٹ دیئے بغیر تصویر بنا سکتا ہے۔</p>
<p>فلم کی دنیا میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔</p>
<p>Marrakech International Film Festival میں جج کی حیثیت سے شریک اداکارہ <strong>جینا اورٹیگا</strong> (ساتھ ہی ‘Parasite’ کے ڈائریکٹر بونگ جون ہو بھی موجود تھے) نے خبردار کیا کہ سنیما میں اے آئی کی لائی ہوئی ’گہری غیر یقینی صورتحال‘ سے ڈر جانا بہت آسان ہے۔</p>
<p>بزفیڈ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے پینڈورا بکس کھول دیا ہے۔</p>
<p>کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اے آئی کبھی نقل نہیں کر سکتی، مشکل میں جو خوبصورتی ہے، غلطیوں میں جو حسن ہے، کمپیوٹر وہ نہیں کر سکتا، کمپیوٹر کی کوئی روح نہیں ہوتی۔</p>
<p>یہ وہ چیز نہیں جس سے ہم واقعی جڑ سکیں۔ ناظرین کے بارے میں کوئی مفروضہ قائم نہیں کرنا چاہیے، مگر امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اے آئی ذہنی جنک فوڈ بن جائے گا، اور ہم بے چینی محسوس کریں گے مگر وجہ سمجھ نہیں پائیں گے، کبھی کبھار، ناظرین کو کسی چیز سے محروم ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ اسے دوبارہ سراہ سکیں۔</p>
<p>ایک ایسی دنیا میں جہاں ہم پہلے ہی عجیب و غریب چیزیں دیکھ رہے ہیں، بچوں کی اسکن کیئر لائنز، اے آئی سے بنی ہوئی فلمیں، ڈرائیور لیس گاڑیاں، اور سائنسی فکشن جیسی ٹیکنالوجی، کون جانتا ہے آگے کیا آنے والا ہے؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274521</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 15:22:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/01151107b9d9ce3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/01151107b9d9ce3.webp"/>
        <media:title>یہ وہی پرانا سوال پھر سے، اور زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے کہ  ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ کیا اصل ہے اور کیا نہیں؟ —فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل میپس کا نیا فیچر، اب ٹریفک اور راستے کی معلومات مزید آسان ہوگئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274466/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس میں بڑی اپڈیٹ کردی ہے، جس سے صارفین اب صرف بول کر راستے اور ٹریفک کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/google-maps-just-got-a-major-overhaul-for-smarter-hands-free-navigation/"&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل میپس کو ایک نئے انداز سے اپ ڈیٹ کر دیا ہے، جس سے یہ اب صرف نقشہ نہیں بلکہ ایک معاون ساتھی کی طرح کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فیچرز کے ذریعے صارفین اب بغیر موبائل ہاتھ میں لیے صرف بول کر راستہ تلاش کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ گوگل، قریب ترین ہسپتال دکھاؤ یا پیٹرول پمپ دکھاؤ جس کے پاس پارکنگ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر راستے میں ٹریفک نہ ہو تو گوگل فوراً مناسب راستہ دکھا دے گا اور نقشے کی ہدایات اب کسی مشہور جگہ یا عمارت کی بنیاد پر دی جائیں گی، جیسے کہ تھائی سیام ریسٹورنٹ کے بعد دائیں مڑیں، اس سے راستہ یاد رکھنا اور ڈرائیو کے دوران نیوی گیشن سمجھنا آسان ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1223632'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ اگر راستے میں ٹریفک، سڑک بند یا کوئی حادثہ ہو تو صارف بول کر رپورٹ کر سکتا ہے اور گوگل میپس فوری طور پر دیگر ڈرائیورز کو بھی اطلاع دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فیچر کے فوائد میں ڈرائیو کے دوران موبائل ہاتھ میں رکھنے کی ضرورت ختم، یعنی زیادہ محفوظ سفر، مصروف یا غیر مانوس راستوں میں آسانی سے راستہ تلاش کرنا ممکن اور ٹریفک اور حادثات کی معلومات بروقت حاصل کر کے بہتر پلاننگ کی سہولت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر فی الحال اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے اور جلد آئی او ایس اور کار میں استعمال ہونے والے گوگل آٹو سسٹم کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس میں بڑی اپڈیٹ کردی ہے، جس سے صارفین اب صرف بول کر راستے اور ٹریفک کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/google-maps-just-got-a-major-overhaul-for-smarter-hands-free-navigation/"><strong>ٹیکنالوجی ویب سائٹ</strong></a> کے مطابق گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل میپس کو ایک نئے انداز سے اپ ڈیٹ کر دیا ہے، جس سے یہ اب صرف نقشہ نہیں بلکہ ایک معاون ساتھی کی طرح کام کرے گا۔</p>
<p>نئے فیچرز کے ذریعے صارفین اب بغیر موبائل ہاتھ میں لیے صرف بول کر راستہ تلاش کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ گوگل، قریب ترین ہسپتال دکھاؤ یا پیٹرول پمپ دکھاؤ جس کے پاس پارکنگ ہو۔</p>
<p>اگر راستے میں ٹریفک نہ ہو تو گوگل فوراً مناسب راستہ دکھا دے گا اور نقشے کی ہدایات اب کسی مشہور جگہ یا عمارت کی بنیاد پر دی جائیں گی، جیسے کہ تھائی سیام ریسٹورنٹ کے بعد دائیں مڑیں، اس سے راستہ یاد رکھنا اور ڈرائیو کے دوران نیوی گیشن سمجھنا آسان ہو جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1223632'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی کے ساتھ اگر راستے میں ٹریفک، سڑک بند یا کوئی حادثہ ہو تو صارف بول کر رپورٹ کر سکتا ہے اور گوگل میپس فوری طور پر دیگر ڈرائیورز کو بھی اطلاع دے گا۔</p>
<p>نئے فیچر کے فوائد میں ڈرائیو کے دوران موبائل ہاتھ میں رکھنے کی ضرورت ختم، یعنی زیادہ محفوظ سفر، مصروف یا غیر مانوس راستوں میں آسانی سے راستہ تلاش کرنا ممکن اور ٹریفک اور حادثات کی معلومات بروقت حاصل کر کے بہتر پلاننگ کی سہولت شامل ہیں۔</p>
<p>یہ فیچر فی الحال اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے اور جلد آئی او ایس اور کار میں استعمال ہونے والے گوگل آٹو سسٹم کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274466</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 19:57:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/301154056c59372.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/301154056c59372.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک گروپس میں ’نِک نیم‘ کے ساتھ پوسٹ کرنے کی سہولت متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274381/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے فیس بک گروپس میں پوسٹ کرتے وقت اصلی نام کے بجائے نِک نیم استعمال کرنے کی سہولت متعارف کرائی ہے، جس کے لیے گروپ ایڈمن کی اجازت ضروری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/facebook-now-allows-you-to-keep-a-nickname-for-posting-in-groups/"&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ اب فیس بک گروپس میں پوسٹ کرتے وقت اصلی نام کے بجائے اپنی مرضی کا ’نِک نیم‘ استعمال کیا جا سکے گا، جس کے لیے گروپ کے ایڈمن کی اجازت ضروری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب گروپ ایڈمن اجازت دے گا تو ممبرز اپنی پوسٹ، کمنٹ یا ری ایکشن اصل نام کے بجائے نِک نیم اور اواتار تصویر کے ساتھ کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنائے گئے نِک نیم صرف اسی گروپ تک محدود رہیں گے، جب کہ دوسرے گروپس میں ممبر کا اصلی نام نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ نِک نیم منتخب کرتے ہیں تو فیس بک آپ کی پرانی پوسٹ کو بھی نئے نِک نیم سے اپ ڈیٹ کر دے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260909'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260909"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نِک نیم کے دوران لائیو ویڈیو، نجی میسجنگ یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر پوسٹ شیئر کرنے جیسے فیچرز عارضی طور پر بند ہو جائیں گے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ ایڈمنز کو اختیار ہوگا کہ وہ نِک نیم فیچر آن یا آف کریں یا ہر نئے نِک نیم کی انفرادی منظوری لیں تاکہ گروپ کی شرائط و ضوابط برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اُن افراد کے لیے ہے جو اپنی ذاتی شناخت چھپانا چاہتے ہیں یا حقیقی نام کے ساتھ جھجھک محسوس کرتے ہیں، مثلاً صحت، ذاتی مسائل یا دیگر حساس معاملات پر بحث کرتے وقت، اس طرح لوگ زیادہ آزادانہ اور باخوفی اظہارِ رائے کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے فیس بک گروپس میں پوسٹ کرتے وقت اصلی نام کے بجائے نِک نیم استعمال کرنے کی سہولت متعارف کرائی ہے، جس کے لیے گروپ ایڈمن کی اجازت ضروری ہوگی۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/facebook-now-allows-you-to-keep-a-nickname-for-posting-in-groups/"><strong>ٹیکنالوجی ویب سائٹ</strong></a> کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ اب فیس بک گروپس میں پوسٹ کرتے وقت اصلی نام کے بجائے اپنی مرضی کا ’نِک نیم‘ استعمال کیا جا سکے گا، جس کے لیے گروپ کے ایڈمن کی اجازت ضروری ہوگی۔</p>
<p>جب گروپ ایڈمن اجازت دے گا تو ممبرز اپنی پوسٹ، کمنٹ یا ری ایکشن اصل نام کے بجائے نِک نیم اور اواتار تصویر کے ساتھ کر سکیں گے۔</p>
<p>بنائے گئے نِک نیم صرف اسی گروپ تک محدود رہیں گے، جب کہ دوسرے گروپس میں ممبر کا اصلی نام نظر آئے گا۔</p>
<p>اگر آپ نِک نیم منتخب کرتے ہیں تو فیس بک آپ کی پرانی پوسٹ کو بھی نئے نِک نیم سے اپ ڈیٹ کر دے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260909'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260909"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نِک نیم کے دوران لائیو ویڈیو، نجی میسجنگ یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر پوسٹ شیئر کرنے جیسے فیچرز عارضی طور پر بند ہو جائیں گے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔</p>
<p>گروپ ایڈمنز کو اختیار ہوگا کہ وہ نِک نیم فیچر آن یا آف کریں یا ہر نئے نِک نیم کی انفرادی منظوری لیں تاکہ گروپ کی شرائط و ضوابط برقرار رہیں۔</p>
<p>میٹا کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اُن افراد کے لیے ہے جو اپنی ذاتی شناخت چھپانا چاہتے ہیں یا حقیقی نام کے ساتھ جھجھک محسوس کرتے ہیں، مثلاً صحت، ذاتی مسائل یا دیگر حساس معاملات پر بحث کرتے وقت، اس طرح لوگ زیادہ آزادانہ اور باخوفی اظہارِ رائے کر سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274381</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 19:19:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/281041481ca21aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/281041481ca21aa.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسٹاگرام کے ریلز کیمرے میں بڑی اپڈیٹ، ویڈیوز بنانا اور ایڈٹ کرنا مزید آسان ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274233/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام نے اپنے ریلز کیمرے میں بڑی اپڈیٹ متعارف کروائی ہے، جس سے صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور انہیں ایڈٹ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/instagram-brings-an-overhaul-to-its-reels-camera-with-major-editing-upgrades/"&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انسٹاگرام نے اپنے ریلز کیمرے میں بڑی اپڈیٹ کر دی ہے، جس سے صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور انہیں ایڈٹ کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئی اپڈیٹ کے بعد صارفین اب انسٹاگرام پر 20 منٹ تک کی ویڈیو براہِ راست ریلز کیمرے سے ریکارڈ کر سکتے ہیں، جو پہلے کی محدود حد سے کافی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیٹنگ کے حوالے سے انڈو (Undo) کا آپشن بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس سے اگر کوئی کلپ ریلز سلسلے میں شامل کی جائے اور پچھلی کلپ ہٹانی ہو تو اسے آسانی سے ہٹایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRR5Ol2ACna/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" data-instgrm-version="14" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRR5Ol2ACna/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt;View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DRR5Ol2ACna/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;A post shared by Instagram’s @design (@design)&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;script async src="//www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ ساتھ ’ٹچ اپ‘ موڈ کے لیے ایک سلائیڈر دیا گیا ہے، جس سے جیول نظر آنے والی فلٹر یا پالش کی شدت صارفین اپنی مرضی سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید براں گرین اسکرین فیچر کو بہتر بنایا گیا ہے اور کاؤنٹ ڈاؤن اور ٹائمنگ ٹولز کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ ویڈیو ریکارڈنگ زیادہ ہموار اور درست ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ انسٹاگرام پر پرانے اصول اب بھی کچھ حد تک برقرار ہیں، اگرچہ اب لمبی ویڈیوز ریکارڈ کی جا سکتی ہیں، مگر انسٹاگرام کا الگورتھم ابھی بھی 3 منٹ سے کم ریِلز کو ترجیح دیتا ہے، یعنی زیادہ لمبی ویڈیوز اتنی زیادہ دکھائی نہیں جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے یہ نیا فیچر ان لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے جو کہانی، ٹیوٹوریل یا قسط وار مواد بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام نے اپنے ریلز کیمرے میں بڑی اپڈیٹ متعارف کروائی ہے، جس سے صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور انہیں ایڈٹ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/instagram-brings-an-overhaul-to-its-reels-camera-with-major-editing-upgrades/"><strong>ٹیکنالوجی ویب سائٹ</strong></a> کے مطابق انسٹاگرام نے اپنے ریلز کیمرے میں بڑی اپڈیٹ کر دی ہے، جس سے صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور انہیں ایڈٹ کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p>اس نئی اپڈیٹ کے بعد صارفین اب انسٹاگرام پر 20 منٹ تک کی ویڈیو براہِ راست ریلز کیمرے سے ریکارڈ کر سکتے ہیں، جو پہلے کی محدود حد سے کافی زیادہ ہے۔</p>
<p>ایڈیٹنگ کے حوالے سے انڈو (Undo) کا آپشن بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس سے اگر کوئی کلپ ریلز سلسلے میں شامل کی جائے اور پچھلی کلپ ہٹانی ہو تو اسے آسانی سے ہٹایا جا سکتا ہے۔</p>
<raw-html>
<blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DRR5Ol2ACna/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-instgrm-version="14" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DRR5Ol2ACna/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;">View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DRR5Ol2ACna/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank">A post shared by Instagram’s @design (@design)</a></p></div></blockquote>
<script async src="//www.instagram.com/embed.js"></script>
</raw-html>
<p>اسی کے ساتھ ساتھ ’ٹچ اپ‘ موڈ کے لیے ایک سلائیڈر دیا گیا ہے، جس سے جیول نظر آنے والی فلٹر یا پالش کی شدت صارفین اپنی مرضی سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مزید براں گرین اسکرین فیچر کو بہتر بنایا گیا ہے اور کاؤنٹ ڈاؤن اور ٹائمنگ ٹولز کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ ویڈیو ریکارڈنگ زیادہ ہموار اور درست ہو سکے۔</p>
<p>واضح رہے کہ انسٹاگرام پر پرانے اصول اب بھی کچھ حد تک برقرار ہیں، اگرچہ اب لمبی ویڈیوز ریکارڈ کی جا سکتی ہیں، مگر انسٹاگرام کا الگورتھم ابھی بھی 3 منٹ سے کم ریِلز کو ترجیح دیتا ہے، یعنی زیادہ لمبی ویڈیوز اتنی زیادہ دکھائی نہیں جائیں گی۔</p>
<p>اسی لیے یہ نیا فیچر ان لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے جو کہانی، ٹیوٹوریل یا قسط وار مواد بناتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274233</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 19:15:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/25114022d055ac9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/25114022d055ac9.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی ساختہ انسان نما روبوٹ نے بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر چل کر گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274188/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک چینی ساختہ ہیومینائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے ملک کے مشرقی شہروں کے درمیان بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر پیدل چل کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956999/humanoid-robot-sets-guinness-record-with-106km-walk"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق شنگھائی کی کمپنی اگی بوٹ (Agibot) کے تیار کردہ اینڈرائیڈ اے 2 نے 10 نومبر کی رات سُوزو سے اپنا سفر شروع کیا اور 13 نومبر کی صبح کے اوائل میں شنگھائی کے علاقے بند پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگی بوٹ کے تیز رفتار ہاٹ-سوآپ بیٹری سسٹم کی مدد سے روبوٹ پورے سفر کے دوران متحرک رہا، اور جمعرات کو سرکاری طور پر تصدیق کے مطابق اس نے 106.3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267115'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267115"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر وانگ چوآنگ نے کہا کہ سوزو سے شنگھائی تک پیدل چلنا بہت سے انسانوں کے لیے بھی مشکل ہے، لیکن روبوٹ نے یہ کارنامہ سرانجام دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی روبوٹ کے ہارڈویئر، توازن برقرار رکھنے کے ’سریبیلر‘ الگورتھم اور برداشت کی صلاحیت کی پختگی کو ثابت کرتی ہے، جو بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی راہ ہموار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوہری جی پی ایس ٹیکنالوجی، لیڈار اور انفراریڈ ڈیپتھ سینسرز سے لیس ’اے 2‘ نے ٹریفک سگنلز، تنگ گزرگاہوں اور بھیڑ بھاڑ والے فٹ پاتھ جیسی پیچیدہ صورتحال میں بھی سفر جاری رکھا، اور دن و رات مستحکم ادراک برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبوٹ نے اسفالٹ سڑکوں، ٹائل والے راستوں، پُلوں، نابینا افراد کے لیے بنے مخصوص راستوں اور ریمپس پر چلتے ہوئے ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی پہنچنے پر شِنہوا کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روبوٹ نے اس سفر کو اپنی ’مشینی زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ‘ قرار دیا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید اسے ’نئے جوتوں کی ضرورت ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں بیجنگ ہیومینائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ تیئن کنگ الٹرا نے 21 کلومیٹر کی ہاف میراتھن 2 گھنٹے 40 منٹ میں مکمل کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک چینی ساختہ ہیومینائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے ملک کے مشرقی شہروں کے درمیان بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر پیدل چل کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956999/humanoid-robot-sets-guinness-record-with-106km-walk"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق شنگھائی کی کمپنی اگی بوٹ (Agibot) کے تیار کردہ اینڈرائیڈ اے 2 نے 10 نومبر کی رات سُوزو سے اپنا سفر شروع کیا اور 13 نومبر کی صبح کے اوائل میں شنگھائی کے علاقے بند پہنچا۔</p>
<p>اگی بوٹ کے تیز رفتار ہاٹ-سوآپ بیٹری سسٹم کی مدد سے روبوٹ پورے سفر کے دوران متحرک رہا، اور جمعرات کو سرکاری طور پر تصدیق کے مطابق اس نے 106.3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267115'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267115"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر وانگ چوآنگ نے کہا کہ سوزو سے شنگھائی تک پیدل چلنا بہت سے انسانوں کے لیے بھی مشکل ہے، لیکن روبوٹ نے یہ کارنامہ سرانجام دے دیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی روبوٹ کے ہارڈویئر، توازن برقرار رکھنے کے ’سریبیلر‘ الگورتھم اور برداشت کی صلاحیت کی پختگی کو ثابت کرتی ہے، جو بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی راہ ہموار کرتی ہے۔</p>
<p>دوہری جی پی ایس ٹیکنالوجی، لیڈار اور انفراریڈ ڈیپتھ سینسرز سے لیس ’اے 2‘ نے ٹریفک سگنلز، تنگ گزرگاہوں اور بھیڑ بھاڑ والے فٹ پاتھ جیسی پیچیدہ صورتحال میں بھی سفر جاری رکھا، اور دن و رات مستحکم ادراک برقرار رکھا۔</p>
<p>روبوٹ نے اسفالٹ سڑکوں، ٹائل والے راستوں، پُلوں، نابینا افراد کے لیے بنے مخصوص راستوں اور ریمپس پر چلتے ہوئے ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کی۔</p>
<p>شنگھائی پہنچنے پر شِنہوا کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روبوٹ نے اس سفر کو اپنی ’مشینی زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ‘ قرار دیا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید اسے ’نئے جوتوں کی ضرورت ہو‘۔</p>
<p>اپریل میں بیجنگ ہیومینائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ تیئن کنگ الٹرا نے 21 کلومیٹر کی ہاف میراتھن 2 گھنٹے 40 منٹ میں مکمل کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274188</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 16:40:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241156495b1bbd0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241156495b1bbd0.webp"/>
        <media:title>’اے 2‘ نے ٹریفک سگنلز، تنگ گزرگاہوں، رش والے فٹ پاتھ پر بھی سفر جاری رکھا — فوٹو: اگی بوٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ نے سرگرمی بتانے کا نیا طریقہ پیش کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274137/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے اب وہ اپنی موجودہ سرگرمی مختصر نوٹس کی صورت میں دوسروں تک پہنچا سکیں گے، یہ نوٹس 24 گھنٹے تک چیٹ لسٹ کے اوپر نظر آئے گا اور اس کی پرائیویسی بھی صارف خود طے کرسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/whatsapp-launches-activity-notes-for-quick-status-updates-on-profiles/"&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/a&gt; کے مطابق واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا اور دلچسپ فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا نام ”ایکٹیویٹی نوٹس“ ہے، اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنی موجودہ سرگرمی یا حالت کے بارے میں مختصر اپ ڈیٹ شیئر کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکٹیویٹی نوٹس دراصل ایک چھوٹا سا نوٹ ہوتا ہے جو پروفائل پر لکھا جاتا ہے، صارف اس میں ایسے جملے لکھ سکتا ہے جیسے آفس میں ہوں، مصروف ہوں، سفر پر ہوں یا موڈ بہت اچھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوٹ صارف کی تصویر کے قریب اور چیٹ لسٹ کے اوپر ایک چھوٹے بلبلے کی شکل میں نظر آئے گا، بالکل اسی طرح جیسے انسٹاگرام کے نوٹس دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1273868/"&gt;واٹس ایپ میں یکساں یوزرنیم کا فیچر جلد متعارف کرایا جائے گا&lt;/a&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1273868/"&gt;   &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ پر یہ نوٹس 24 گھنٹے تک دکھائی دے گا، جس کے بعد یہ خودبخود غائب ہوجائے گا، اگر صارف چاہے تو اس نوٹ کی سیٹنگ تبدیل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے اس فیچر میں پرائیویسی کا بھی خاص خیال رکھا ہے، صارف یہ طے کرسکتا ہے کہ اس کا ایکٹیویٹی نوٹ سب کے لیے نظر آئے، صرف منتخب لوگوں کو دکھائی دے یا کچھ لوگوں سے چھپا دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی شخص صارف کا نوٹ دیکھے اور اس پر بات کرنا چاہے تو وہ اسی نوٹ پر ٹیپ کرکے براہ راست میسج بھیج سکتا ہے، جس سے بات چیت شروع کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آج کے نوجوان لمبے پیغامات کے بجائے مختصر اور ہلکی اپ ڈیٹس شیئر کرنا پسند کرتے ہیں، اسی لیے واٹس ایپ چاہتا ہے کہ لوگ زیادہ جڑے رہیں لیکن ایپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرح پیچیدہ بھی نہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کے درمیان رابطے کو مزید قدرتی اور دوستانہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر مرحلہ وار دنیا بھر میں صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے، کچھ صارفین کو دستیاب ہوچکا ہے، جب کہ باقی صارفین کو بھی جلد فراہم کردیا جائے گا، یہ اپ ڈیٹ واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں ورژنز میں شامل کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے اب وہ اپنی موجودہ سرگرمی مختصر نوٹس کی صورت میں دوسروں تک پہنچا سکیں گے، یہ نوٹس 24 گھنٹے تک چیٹ لسٹ کے اوپر نظر آئے گا اور اس کی پرائیویسی بھی صارف خود طے کرسکے گا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/whatsapp-launches-activity-notes-for-quick-status-updates-on-profiles/">ٹیکنالوجی ویب سائٹ</a> کے مطابق واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا اور دلچسپ فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا نام ”ایکٹیویٹی نوٹس“ ہے، اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنی موجودہ سرگرمی یا حالت کے بارے میں مختصر اپ ڈیٹ شیئر کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ایکٹیویٹی نوٹس دراصل ایک چھوٹا سا نوٹ ہوتا ہے جو پروفائل پر لکھا جاتا ہے، صارف اس میں ایسے جملے لکھ سکتا ہے جیسے آفس میں ہوں، مصروف ہوں، سفر پر ہوں یا موڈ بہت اچھا ہے۔</p>
<p>یہ نوٹ صارف کی تصویر کے قریب اور چیٹ لسٹ کے اوپر ایک چھوٹے بلبلے کی شکل میں نظر آئے گا، بالکل اسی طرح جیسے انسٹاگرام کے نوٹس دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1273868/">واٹس ایپ میں یکساں یوزرنیم کا فیچر جلد متعارف کرایا جائے گا</a><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1273868/">   </a></p>
<p>واٹس ایپ پر یہ نوٹس 24 گھنٹے تک دکھائی دے گا، جس کے بعد یہ خودبخود غائب ہوجائے گا، اگر صارف چاہے تو اس نوٹ کی سیٹنگ تبدیل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔</p>
<p>واٹس ایپ نے اس فیچر میں پرائیویسی کا بھی خاص خیال رکھا ہے، صارف یہ طے کرسکتا ہے کہ اس کا ایکٹیویٹی نوٹ سب کے لیے نظر آئے، صرف منتخب لوگوں کو دکھائی دے یا کچھ لوگوں سے چھپا دیا جائے۔</p>
<p>اگر کوئی شخص صارف کا نوٹ دیکھے اور اس پر بات کرنا چاہے تو وہ اسی نوٹ پر ٹیپ کرکے براہ راست میسج بھیج سکتا ہے، جس سے بات چیت شروع کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آج کے نوجوان لمبے پیغامات کے بجائے مختصر اور ہلکی اپ ڈیٹس شیئر کرنا پسند کرتے ہیں، اسی لیے واٹس ایپ چاہتا ہے کہ لوگ زیادہ جڑے رہیں لیکن ایپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرح پیچیدہ بھی نہ بنے۔</p>
<p>واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کے درمیان رابطے کو مزید قدرتی اور دوستانہ بنا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ فیچر مرحلہ وار دنیا بھر میں صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے، کچھ صارفین کو دستیاب ہوچکا ہے، جب کہ باقی صارفین کو بھی جلد فراہم کردیا جائے گا، یہ اپ ڈیٹ واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں ورژنز میں شامل کی جارہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274137</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 18:21:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2310134236ca129.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2310134236ca129.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: واٹس ایپ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں نئی انٹرنیٹ کیبل بچھا دی گئی، کنیکٹیویٹی میں بہتری آئے گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274126/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیا–مشرقِ وسطیٰ–مغربی یورپ (SEA-ME-WE) 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تعیناتی کے ساتھ اپنے عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو مضبوط کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ 19 ہزار 200 کلومیٹر اعلیٰ صلاحیت کا فائبر نیٹ ورک ہے، جو پاکستان کو سنگاپور اور فرانس کے درمیان ممالک سے جوڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ مجموعی  صلاحیت کے 100 ٹی بی پی ایس  سے زیادہ کی پیشکش کرتے ہوئے، یہ کیبل جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مغربی یورپ کے درمیان سب سے کم تاخیر والے راستوں میں سے ایک فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت آئی ٹی سے جاری بیان کے مطابق کنسورشیم میں ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پاکستان)، بنگلہ دیش سب میرین کیبل کمپنی، بھارتی ایئرٹیل، دھیراگو، جبوتی ٹیلی کام، موبیلی، اورنج، سنگٹیل، سری لنکا ٹیلی کام، ٹیلی کام مصر، ٹیلی کام ملائیشیا، اور ٹیلن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ SEA-ME-WE 6 میں فائبر کے جوڑے اور پچھلے SEA-ME-WE سسٹمز کی صلاحیت سے دوگنا زیادہ خصوصیات ہیں، جو ٹرانس مصر متنوع  جغرافیائی  کراسنگ اور لینڈنگ پوائنٹس کے ذریعے ہائی ٹریفک ایشیا-یورپ کے راستوں پر ریزیلینٹ  اور تنوع کو بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام تیزی سے اسکیل ایبلٹی، بہتر فالٹ پروٹیکشن اور حصہ لینے والے سروس فراہم کنندگان کے لیے نیٹ ورک کی ملکیت کی کل لاگت  میں کمی کے  قابل بناتا ہے جبکہ عالمی انٹرنیٹ ریڑھ کی ہڈی میں ایک ضروری نئی اضافی صلاحیت  کا اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شمولیت  کے تحت پاکستان کے لیے کل 13.2 ٹی بی پی ایس  مختص کیا گیا ہے جس میں 4 ٹی بی پی ایس  کو فوری طور پر فعال کیا جا رہا ہے جس کا مقصد  ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ کی صلاحیت کو بڑھانا اور کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، فنٹیک، ای کامرس، اسٹریمنگ، اور وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے لیے سپورٹ کو بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیا–مشرقِ وسطیٰ–مغربی یورپ (SEA-ME-WE) 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تعیناتی کے ساتھ اپنے عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو مضبوط کیا ہے۔</p>
<p>وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ 19 ہزار 200 کلومیٹر اعلیٰ صلاحیت کا فائبر نیٹ ورک ہے، جو پاکستان کو سنگاپور اور فرانس کے درمیان ممالک سے جوڑتا ہے۔</p>
<p>مزید بتایا کہ مجموعی  صلاحیت کے 100 ٹی بی پی ایس  سے زیادہ کی پیشکش کرتے ہوئے، یہ کیبل جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مغربی یورپ کے درمیان سب سے کم تاخیر والے راستوں میں سے ایک فراہم کرے گا۔</p>
<p>وزارت آئی ٹی سے جاری بیان کے مطابق کنسورشیم میں ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پاکستان)، بنگلہ دیش سب میرین کیبل کمپنی، بھارتی ایئرٹیل، دھیراگو، جبوتی ٹیلی کام، موبیلی، اورنج، سنگٹیل، سری لنکا ٹیلی کام، ٹیلی کام مصر، ٹیلی کام ملائیشیا، اور ٹیلن شامل ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ SEA-ME-WE 6 میں فائبر کے جوڑے اور پچھلے SEA-ME-WE سسٹمز کی صلاحیت سے دوگنا زیادہ خصوصیات ہیں، جو ٹرانس مصر متنوع  جغرافیائی  کراسنگ اور لینڈنگ پوائنٹس کے ذریعے ہائی ٹریفک ایشیا-یورپ کے راستوں پر ریزیلینٹ  اور تنوع کو بڑھاتا ہے۔</p>
<p>یہ نظام تیزی سے اسکیل ایبلٹی، بہتر فالٹ پروٹیکشن اور حصہ لینے والے سروس فراہم کنندگان کے لیے نیٹ ورک کی ملکیت کی کل لاگت  میں کمی کے  قابل بناتا ہے جبکہ عالمی انٹرنیٹ ریڑھ کی ہڈی میں ایک ضروری نئی اضافی صلاحیت  کا اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>اس شمولیت  کے تحت پاکستان کے لیے کل 13.2 ٹی بی پی ایس  مختص کیا گیا ہے جس میں 4 ٹی بی پی ایس  کو فوری طور پر فعال کیا جا رہا ہے جس کا مقصد  ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ کی صلاحیت کو بڑھانا اور کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، فنٹیک، ای کامرس، اسٹریمنگ، اور وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے لیے سپورٹ کو بڑھانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274126</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 21:44:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/222137315e3dde9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/222137315e3dde9.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکس پر اکاؤنٹ کی معلومات سے متعلق فیچر پیش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274121/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے پروفائلز پر ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا، جس کے بعد اب اکاؤنٹس پر مزید تفصیل نظر آنے لگے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/11/21/x-begins-rolling-out-the-about-this-account-feature-to-users-profiles/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق ایکس نے ’اس اکاؤنٹ کے بارے میں‘ سیکشن میں اکاؤنٹ کی بنیادی معلومات کو ظاہر کرنے کی سہولت متعارف کرادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیچر کے تحت اکاؤنٹ کی بنیاد کا ملک یا خطہ، صارف کا نام کتنی بار تبدیل ہوا، اکاؤنٹ کی تخلیق کی تاریخ اور ایکس ایپ کیسے، کب ڈاؤن لوڈ کی گئی تھی جیسی معلومات شامل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیچر کے تحت جیسے ہی کوئی صارف پروفائل پر ’جوائنڈ‘ کے لنک پر کلک کرے گا تو ایک الگ صفحہ کھلے گا، جہاں تمام تفصیلات درج ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیچر میں صارفین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے بجائے صرف خطہ دکھائیں جو کہ ڈیفالٹ طور پر ملک ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کا بنیادی ہدف جعلی یا مشکوک اکاؤنٹس جیسے بوٹس یا غلط معلومات پھیلانے والوں کی نشاندہی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کے پروڈکٹ ہیڈ کے مطابق مذکورہ معلومات کو سامنے لانے سے صارفین یہ طے کر سکتے ہیں کہ وہ حقیقی اکاؤنٹ سے رابطہ کر رہے ہیں یا جعلی اکاؤنٹ سے رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر کسی اکاؤنٹ کا بائیو امریکا کا دعویٰ کرے مگر اس کی بنیاد کا ملک مختلف ہو تو یہ مشکوک ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ایکس پر ایک ایسے فیچر پر بھی کام کیا جا رہا ہے کہ جس کے تحت وی پی این استعمال کرنے والے اکاؤنٹس پر لوکیشن کی درستگی کی وارننگ ظاہر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر پہلے سے موجود ہے اور سوشل میڈیا پر شفافیت اور صارفین کی حفاظت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے پروفائلز پر ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا، جس کے بعد اب اکاؤنٹس پر مزید تفصیل نظر آنے لگے گی۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/11/21/x-begins-rolling-out-the-about-this-account-feature-to-users-profiles/">رپورٹ</a> کے مطابق ایکس نے ’اس اکاؤنٹ کے بارے میں‘ سیکشن میں اکاؤنٹ کی بنیادی معلومات کو ظاہر کرنے کی سہولت متعارف کرادی۔</p>
<p>فیچر کے تحت اکاؤنٹ کی بنیاد کا ملک یا خطہ، صارف کا نام کتنی بار تبدیل ہوا، اکاؤنٹ کی تخلیق کی تاریخ اور ایکس ایپ کیسے، کب ڈاؤن لوڈ کی گئی تھی جیسی معلومات شامل ہوگی۔</p>
<p>فیچر کے تحت جیسے ہی کوئی صارف پروفائل پر ’جوائنڈ‘ کے لنک پر کلک کرے گا تو ایک الگ صفحہ کھلے گا، جہاں تمام تفصیلات درج ہوگی۔</p>
<p>فیچر میں صارفین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے بجائے صرف خطہ دکھائیں جو کہ ڈیفالٹ طور پر ملک ہوتا ہے۔</p>
<p>اس فیچر کا بنیادی ہدف جعلی یا مشکوک اکاؤنٹس جیسے بوٹس یا غلط معلومات پھیلانے والوں کی نشاندہی کرنا ہے۔</p>
<p>ایکس کے پروڈکٹ ہیڈ کے مطابق مذکورہ معلومات کو سامنے لانے سے صارفین یہ طے کر سکتے ہیں کہ وہ حقیقی اکاؤنٹ سے رابطہ کر رہے ہیں یا جعلی اکاؤنٹ سے رابطے میں ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر اگر کسی اکاؤنٹ کا بائیو امریکا کا دعویٰ کرے مگر اس کی بنیاد کا ملک مختلف ہو تو یہ مشکوک ہو سکتا ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں ایکس پر ایک ایسے فیچر پر بھی کام کیا جا رہا ہے کہ جس کے تحت وی پی این استعمال کرنے والے اکاؤنٹس پر لوکیشن کی درستگی کی وارننگ ظاہر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ فیچر انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر پہلے سے موجود ہے اور سوشل میڈیا پر شفافیت اور صارفین کی حفاظت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274121</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 18:34:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/22181902f733d3c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/22181902f733d3c.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مائیکرو سافٹ نے کام کی جگہوں پر اے آئی کی نگرانی کیلئے ٹریکر متعارف کرادیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273965/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائیکروسافٹ کا مانناہے کہ کام کی جگہ پر صرف انسانوں کو ہی انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو بھی ایک مینیجر چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955907/microsoft-tracker-to-manage-ai-in-the-workplace"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق منگل کو سافٹ ویئر کمپنی نے ’مائیکرو سافٹ ایجنٹ 365‘ کا اعلان کیا، جو اس کے صارفین کو اُن 1.3 ارب ایجنٹس کی نگرانی کے قابل بنائے گا جن کے بارے میں مائیکروسافٹ کا اندازہ ہے کہ وہ 2028 تک دفتری کام خودکار کر رہے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنٹس مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو انسانوں کی جانب سے مختلف کام انجام دیتے ہیں، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیاں اس قسم کے ایجنٹ سافٹ ویئر کو تیزی سے مارکیٹ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین نے کوڈ جنریشن جیسے کاموں کے لیے اِن سسٹمز کو کامیابی سے استعمال کیا ہے، جب کہ دیگر اسے نافذ کرنے میں مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، جس سے اس شعبے میں ممکنہ خلا کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسافٹ کے مطابق، جس طرح آئی ٹی عملہ دیکھ سکتا ہے کہ کون کمپنی کے نیٹ ورک پر موجود ہے اور وہ کن وسائل تک رسائی رکھتا ہے، اسی طرح اس کا نیا سافٹ ویئر اے آئی ایجنٹس کی نگرانی کے لیے بھی ایسے ہی کنٹرول فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام آئی ٹی اہلکاروں کو ’باغی‘ ایجنٹس کو الگ (قرنطینہ) کرنے اور مجاز ایجنٹس کو مختلف پیداواریت کے ٹولز فراہم کرنے کی سہولت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائیکروسافٹ کا مانناہے کہ کام کی جگہ پر صرف انسانوں کو ہی انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو بھی ایک مینیجر چاہیے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955907/microsoft-tracker-to-manage-ai-in-the-workplace"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق منگل کو سافٹ ویئر کمپنی نے ’مائیکرو سافٹ ایجنٹ 365‘ کا اعلان کیا، جو اس کے صارفین کو اُن 1.3 ارب ایجنٹس کی نگرانی کے قابل بنائے گا جن کے بارے میں مائیکروسافٹ کا اندازہ ہے کہ وہ 2028 تک دفتری کام خودکار کر رہے ہوں گے۔</p>
<p>ایجنٹس مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو انسانوں کی جانب سے مختلف کام انجام دیتے ہیں، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیاں اس قسم کے ایجنٹ سافٹ ویئر کو تیزی سے مارکیٹ کر رہی ہیں۔</p>
<p>کچھ صارفین نے کوڈ جنریشن جیسے کاموں کے لیے اِن سسٹمز کو کامیابی سے استعمال کیا ہے، جب کہ دیگر اسے نافذ کرنے میں مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، جس سے اس شعبے میں ممکنہ خلا کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔</p>
<p>مائیکروسافٹ کے مطابق، جس طرح آئی ٹی عملہ دیکھ سکتا ہے کہ کون کمپنی کے نیٹ ورک پر موجود ہے اور وہ کن وسائل تک رسائی رکھتا ہے، اسی طرح اس کا نیا سافٹ ویئر اے آئی ایجنٹس کی نگرانی کے لیے بھی ایسے ہی کنٹرول فراہم کرے گا۔</p>
<p>مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام آئی ٹی اہلکاروں کو ’باغی‘ ایجنٹس کو الگ (قرنطینہ) کرنے اور مجاز ایجنٹس کو مختلف پیداواریت کے ٹولز فراہم کرنے کی سہولت دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273965</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 16:38:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/19101818e411814.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/19101818e411814.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کلاؤڈ فلیئر کی سروسز میں تعطل، عالمی سطح پر انٹرنیٹ میں خلل، ویب سائٹس تک رسائی میں مشکلات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273938/</link>
      <description>&lt;p&gt;کلاؤڈ فلیئر  کی سروسز میں تعطل کے بعد عالمی سطح پر  انٹرنیٹ تک  رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خدمات بحال کرنے پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک اور ڈومین نیم سرور (ڈی این ایس) سروس فراہم کرنے والی کمپنی کلاؤڈ فلیئر  نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سروسز میں تعطل کی اطلاعات کے بعد وہ اپنی خدمات بحال کرنے پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج انٹرنیٹ تک رسائی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹوں کی اطلاع ملی، کیونکہ کلاؤڈ فلیئر  نے اپنے عالمی نیٹ ورک میں مسائل کا سامنا کرنے کی تصدیق کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام 6 بج کر 09 منٹ پر جاری کی گئی تازہ ترین صورتحال میں، کمپنی نے کہا کہ ہم نے تبدیلیاں کی ہیں جس کی بدولت کلاؤڈ فلیئر  ایکسیس اور وارپ کی بحالی ممکن ہو سکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ ایکسیس اور وارپ استعمال کرنے والوں کے لیے ایرر لیول واقعے سے پہلے کی شرح پر واپس آ گئے ہیں، ہم نے لندن میں وارپ تک رسائی کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، ہم دیگر سروسز کو بحال کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلاؤڈ فلیئر  نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ ایک مسئلے سے آگاہ اور اس کی تحقیقات کر رہی ہے، جو متعدد صارفین کو بڑے پیمانے پر 500 ایررز کے ساتھ متاثر کر رہا ہے، اس کے علاوہ کلاؤڈ فلیئر ڈیش بورڈ اور اے پی آئی میں بھی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی انٹرنیٹ واچ ڈاگ نیٹ بلاکس نے بھی کہا کہ کلاؤڈ فلیئر کے عالمی نیٹ ورک کو متاثر کرنے والے ایک تکنیکی مسئلے کی وجہ سے آن لائن سروسز کی ایک وسیع رینج میں اس وقت تعطل کا سامنا ہے، اس نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ’ملکی سطح پر انٹرنیٹ میں تعطل یا فلٹرنگ‘ سے متعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤن ڈیٹیکٹر  نے دکھایا کہ پاکستان سے صارفین کی رپورٹس کلاؤڈ فلیئر  میں مسائل کی نشاندہی کر رہی ہیں، شکایات کا آغاز تقریباً شام 4 بج کر 10 منٹ پر ہوا، اوپن اے آئی، ایمیزون ویب سروسز اور فیس بک میں بھی مسائل کی اطلاع دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آؤٹیج ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر  کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس بھی امریکا  اور دنیا بھر میں ہزاروں صارفین کے لیے ڈاؤن ہو گیا، ڈاؤن ڈیٹیکٹر جو کئی ذرائع سے اسٹیٹس رپورٹس اکٹھی کر کے آؤٹیج کو ٹریک کرتا ہے، کے مطابق مشرقی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 41 منٹ تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ 11,500 سے زیادہ مسائل کی رپورٹس تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ آؤٹیجز ایک دوسرے سے متعلق تھے، ایکس اور کلاؤڈ فلیئر  نے تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلاؤڈ فلیئر  نے جون 2022 میں بھی ایک بڑے پیمانے پر آؤٹیج کی اطلاع دی تھی اور کئی مقبول ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی این ایس  سرور ایک ایڈریس بک ہے جو کسی ویب سائٹ کے نام کو اس کے اصل آئی پی (نمبروں کے ایک سیٹ) سے ملاتی ہے، ملک گیر استعمال کے لیے، آپ کو ایسے ڈی این ایس سرورز کی ضرورت ہوتی ہے جو بہت زیادہ ٹریفک کو سنبھال سکیں اور تیزی سے جواب دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ترجمان  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) نے کہا ہے کہ ایکس (ٹوئٹر) اور کلاؤڈ فلیئر کی سروسز عالمی سطح پر متاثر ہوئی ہیں،  پی ٹی اے ایکس اور کلاؤڈ فلیئر کو متاثر کرنے والی عالمی خرابی کی نگرانی کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے عالمی پلیٹ فارمز اور مقامی آپریٹرز سے رابطے میں ہے،سروسز کی بحالی تک پی ٹی اے صورتحال کا جائزہ جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کلاؤڈ فلیئر  کی سروسز میں تعطل کے بعد عالمی سطح پر  انٹرنیٹ تک  رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خدمات بحال کرنے پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>کونٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک اور ڈومین نیم سرور (ڈی این ایس) سروس فراہم کرنے والی کمپنی کلاؤڈ فلیئر  نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سروسز میں تعطل کی اطلاعات کے بعد وہ اپنی خدمات بحال کرنے پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>آج انٹرنیٹ تک رسائی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹوں کی اطلاع ملی، کیونکہ کلاؤڈ فلیئر  نے اپنے عالمی نیٹ ورک میں مسائل کا سامنا کرنے کی تصدیق کی تھی۔</p>
<p>شام 6 بج کر 09 منٹ پر جاری کی گئی تازہ ترین صورتحال میں، کمپنی نے کہا کہ ہم نے تبدیلیاں کی ہیں جس کی بدولت کلاؤڈ فلیئر  ایکسیس اور وارپ کی بحالی ممکن ہو سکی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ ایکسیس اور وارپ استعمال کرنے والوں کے لیے ایرر لیول واقعے سے پہلے کی شرح پر واپس آ گئے ہیں، ہم نے لندن میں وارپ تک رسائی کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، ہم دیگر سروسز کو بحال کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>کلاؤڈ فلیئر  نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ ایک مسئلے سے آگاہ اور اس کی تحقیقات کر رہی ہے، جو متعدد صارفین کو بڑے پیمانے پر 500 ایررز کے ساتھ متاثر کر رہا ہے، اس کے علاوہ کلاؤڈ فلیئر ڈیش بورڈ اور اے پی آئی میں بھی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔</p>
<p>عالمی انٹرنیٹ واچ ڈاگ نیٹ بلاکس نے بھی کہا کہ کلاؤڈ فلیئر کے عالمی نیٹ ورک کو متاثر کرنے والے ایک تکنیکی مسئلے کی وجہ سے آن لائن سروسز کی ایک وسیع رینج میں اس وقت تعطل کا سامنا ہے، اس نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ’ملکی سطح پر انٹرنیٹ میں تعطل یا فلٹرنگ‘ سے متعلق نہیں ہے۔</p>
<p>ڈاؤن ڈیٹیکٹر  نے دکھایا کہ پاکستان سے صارفین کی رپورٹس کلاؤڈ فلیئر  میں مسائل کی نشاندہی کر رہی ہیں، شکایات کا آغاز تقریباً شام 4 بج کر 10 منٹ پر ہوا، اوپن اے آئی، ایمیزون ویب سروسز اور فیس بک میں بھی مسائل کی اطلاع دی گئی۔</p>
<p>آؤٹیج ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر  کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس بھی امریکا  اور دنیا بھر میں ہزاروں صارفین کے لیے ڈاؤن ہو گیا، ڈاؤن ڈیٹیکٹر جو کئی ذرائع سے اسٹیٹس رپورٹس اکٹھی کر کے آؤٹیج کو ٹریک کرتا ہے، کے مطابق مشرقی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 41 منٹ تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ 11,500 سے زیادہ مسائل کی رپورٹس تھیں۔</p>
<p>یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ آؤٹیجز ایک دوسرے سے متعلق تھے، ایکس اور کلاؤڈ فلیئر  نے تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>کلاؤڈ فلیئر  نے جون 2022 میں بھی ایک بڑے پیمانے پر آؤٹیج کی اطلاع دی تھی اور کئی مقبول ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔</p>
<p>ڈی این ایس  سرور ایک ایڈریس بک ہے جو کسی ویب سائٹ کے نام کو اس کے اصل آئی پی (نمبروں کے ایک سیٹ) سے ملاتی ہے، ملک گیر استعمال کے لیے، آپ کو ایسے ڈی این ایس سرورز کی ضرورت ہوتی ہے جو بہت زیادہ ٹریفک کو سنبھال سکیں اور تیزی سے جواب دے سکیں۔</p>
<p>دریں اثنا ترجمان  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) نے کہا ہے کہ ایکس (ٹوئٹر) اور کلاؤڈ فلیئر کی سروسز عالمی سطح پر متاثر ہوئی ہیں،  پی ٹی اے ایکس اور کلاؤڈ فلیئر کو متاثر کرنے والی عالمی خرابی کی نگرانی کررہا ہے۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے عالمی پلیٹ فارمز اور مقامی آپریٹرز سے رابطے میں ہے،سروسز کی بحالی تک پی ٹی اے صورتحال کا جائزہ جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273938</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 19:24:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعمید علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/181854466dd872b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/181854466dd872b.webp"/>
        <media:title>فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ میں یکساں یوزرنیم کا فیچر جلد متعارف کرایا جائے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273868/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ جلد ایسا نیا فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے، جس کے ذریعے صارفین میٹا کی مختلف ایپس، جیسے فیس بک اور انسٹاگرام پر ایک جیسے یوزرنیم استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/whatsapp-will-let-you-reserve-the-same-username-across-instagram-facebook/"&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق واٹس ایپ جلد ایسا فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین میٹا کی مختلف ایپس، جیسے انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک جیسے یوزرنیم حاصل کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کے تحت صارفین آئندہ سال اپنا طویل عرصے سے زیرِ بحث یوزرنیم بھی بنا سکیں گے، جس کے بعد وہ اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر صرف یوزرنیم کے ذریعے رابطہ کر پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا فیچر صارفین کو یہ سہولت بھی دے گا کہ وہ واٹس ایپ پر وہی ہینڈل استعمال کر سکیں جو پہلے سے ان کے انسٹاگرام یا فیس بک پر موجود ہے، جس سے میٹا پلیٹ فارمز پر یکساں شناخت برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273781/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273781"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ ایک ریزرویشن آپشن بھی پیش کرے گا، جس کے ذریعے صارفین عام دستیابی سے پہلے اپنے پسندیدہ یوزرنیم کو محفوظ کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوزرنیم ریزرو کروانے کے لیے میٹا اکاؤنٹ سینٹر کے ذریعے ویری فکیشن لازمی ہوگی اور ایک بار ریزرو ہونے کے بعد وہ مخصوص ہینڈل دوسرے صارفین کے لیے دستیاب نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریزروریشن پیریڈ ختم ہونے کے بعد تمام صارفین واٹس ایپ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق اپنا یوزرنیم بنا اور حاصل کر سکیں گے، ان اصولوں کے مطابق یوزرنیم www یا com سے شروع نہیں ہوسکتا، کم از کم ایک حرف ضروری ہوگا اور صرف چھوٹے حروف، اعداد، ڈاٹس اور انڈراسکور شامل کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوزرنیم نہ تو ڈاٹ سے شروع ہو سکتا ہے اور نہ ہی ڈاٹ پر ختم، نہ ہی ڈاٹ کام یا ڈاٹ نیٹ جیسے ڈومین پر مشتمل ہو سکتا ہے، جب کہ اس کی لمبائی 3 سے 30 حروف تک ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا فیچر فون نمبر شیئر کرنے کے مسئلے کا جدید حل پیش کرتا ہے اور صارفین کے لیے زیادہ سہل اور محفوظ رابطے کا طریقہ فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ جلد ایسا نیا فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے، جس کے ذریعے صارفین میٹا کی مختلف ایپس، جیسے فیس بک اور انسٹاگرام پر ایک جیسے یوزرنیم استعمال کر سکیں گے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techjuice.pk/whatsapp-will-let-you-reserve-the-same-username-across-instagram-facebook/">ٹیکنالوجی ویب سائٹ</a></strong> کے مطابق واٹس ایپ جلد ایسا فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین میٹا کی مختلف ایپس، جیسے انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک جیسے یوزرنیم حاصل کرسکیں گے۔</p>
<p>اس فیچر کے تحت صارفین آئندہ سال اپنا طویل عرصے سے زیرِ بحث یوزرنیم بھی بنا سکیں گے، جس کے بعد وہ اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر صرف یوزرنیم کے ذریعے رابطہ کر پائیں گے۔</p>
<p>نیا فیچر صارفین کو یہ سہولت بھی دے گا کہ وہ واٹس ایپ پر وہی ہینڈل استعمال کر سکیں جو پہلے سے ان کے انسٹاگرام یا فیس بک پر موجود ہے، جس سے میٹا پلیٹ فارمز پر یکساں شناخت برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273781/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273781"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واٹس ایپ ایک ریزرویشن آپشن بھی پیش کرے گا، جس کے ذریعے صارفین عام دستیابی سے پہلے اپنے پسندیدہ یوزرنیم کو محفوظ کرسکیں گے۔</p>
<p>یوزرنیم ریزرو کروانے کے لیے میٹا اکاؤنٹ سینٹر کے ذریعے ویری فکیشن لازمی ہوگی اور ایک بار ریزرو ہونے کے بعد وہ مخصوص ہینڈل دوسرے صارفین کے لیے دستیاب نہیں رہے گا۔</p>
<p>ریزروریشن پیریڈ ختم ہونے کے بعد تمام صارفین واٹس ایپ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق اپنا یوزرنیم بنا اور حاصل کر سکیں گے، ان اصولوں کے مطابق یوزرنیم www یا com سے شروع نہیں ہوسکتا، کم از کم ایک حرف ضروری ہوگا اور صرف چھوٹے حروف، اعداد، ڈاٹس اور انڈراسکور شامل کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>یوزرنیم نہ تو ڈاٹ سے شروع ہو سکتا ہے اور نہ ہی ڈاٹ پر ختم، نہ ہی ڈاٹ کام یا ڈاٹ نیٹ جیسے ڈومین پر مشتمل ہو سکتا ہے، جب کہ اس کی لمبائی 3 سے 30 حروف تک ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ نیا فیچر فون نمبر شیئر کرنے کے مسئلے کا جدید حل پیش کرتا ہے اور صارفین کے لیے زیادہ سہل اور محفوظ رابطے کا طریقہ فراہم کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273868</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 19:24:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/171518508c13087.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/171518508c13087.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: واٹس ایپ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی جیوری کا ایپل کو پیٹنٹ کیس میں کمپنی کو 63.4 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273808/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیلیفورنیا کی ایک وفاقی جیوری نے فیصلہ دیا ہے کہ ایپل کو میڈیکل مانیٹرنگ ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنی ’میسی مو‘ کو 63 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ اس نے خون میں آکسیجن کی پیمائش سے متعلق اس کا پیٹنٹ استعمال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955368/us-jury-orders-apple-to-pay-firm-634-million-in-patent-case"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جیوری نے ’میسی مو‘ کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ ایپل واچ کے ورزش والے فیچر اور دل کی دھڑکن سے متعلق نوٹیفکیشنز نے ’میسی مو‘ کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی ہے، کمپنی کے ترجمان نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اپیل کرے گی، ترجمان کے مطابق گزشتہ 6 سال میں ’میسی مو‘ نے مختلف عدالتوں میں ایپل کے خلاف 25 سے زائد پیٹنٹس کی خلاف ورزی کا دعویٰ کیا، جن میں سے زیادہ تر کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اس مقدمے میں جس پیٹنٹ کی بات ہو رہی ہے، وہ 2022 میں ختم ہو گیا تھا اور کئی دہائیاں پرانی پیشنٹ مانیٹرنگ ٹیکنالوجی سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی مو نے اپنے بیان میں اس فیصلے کو اپنی جدت اور دانشورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273593'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273593"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ ایپل اور کیلیفورنیا کے شہر اِرووائن میں قائم میسی مو کے درمیان جاری پیٹنٹ تنازع کا ایک حصہ ہے، میسی مو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایپل نے اس کے ملازمین کو بھرتی کرکے اس کی پلس آکسی میٹری ٹیکنالوجی چرائی اور اسے ایپل واچ میں استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تنازع کے باعث امریکا کی ایک تجارتی عدالت نے 2023 میں ایپل کی سیریز 9 اور الٹرا 2 اسمارٹ واچز کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی، کیونکہ ان میں میسی مو کی ٹیکنالوجی کی خلاف ورزی پائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندی سے بچنے کے لیے ایپل نے اپنی گھڑیوں میں خون کی آکسیجن ماپنے والا فیچر نکال دیا تھا اور پھر اگست میں اس فیچر کا نیا ورژن امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کی منظوری کے بعد دوبارہ متعارف کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیلیفورنیا کی ایک وفاقی جیوری نے فیصلہ دیا ہے کہ ایپل کو میڈیکل مانیٹرنگ ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنی ’میسی مو‘ کو 63 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ اس نے خون میں آکسیجن کی پیمائش سے متعلق اس کا پیٹنٹ استعمال کیا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955368/us-jury-orders-apple-to-pay-firm-634-million-in-patent-case"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جیوری نے ’میسی مو‘ کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ ایپل واچ کے ورزش والے فیچر اور دل کی دھڑکن سے متعلق نوٹیفکیشنز نے ’میسی مو‘ کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی ہے، کمپنی کے ترجمان نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی۔</p>
<p>ایپل کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اپیل کرے گی، ترجمان کے مطابق گزشتہ 6 سال میں ’میسی مو‘ نے مختلف عدالتوں میں ایپل کے خلاف 25 سے زائد پیٹنٹس کی خلاف ورزی کا دعویٰ کیا، جن میں سے زیادہ تر کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اس مقدمے میں جس پیٹنٹ کی بات ہو رہی ہے، وہ 2022 میں ختم ہو گیا تھا اور کئی دہائیاں پرانی پیشنٹ مانیٹرنگ ٹیکنالوجی سے متعلق تھا۔</p>
<p>میسی مو نے اپنے بیان میں اس فیصلے کو اپنی جدت اور دانشورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273593'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273593"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ مقدمہ ایپل اور کیلیفورنیا کے شہر اِرووائن میں قائم میسی مو کے درمیان جاری پیٹنٹ تنازع کا ایک حصہ ہے، میسی مو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایپل نے اس کے ملازمین کو بھرتی کرکے اس کی پلس آکسی میٹری ٹیکنالوجی چرائی اور اسے ایپل واچ میں استعمال کیا۔</p>
<p>اسی تنازع کے باعث امریکا کی ایک تجارتی عدالت نے 2023 میں ایپل کی سیریز 9 اور الٹرا 2 اسمارٹ واچز کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی، کیونکہ ان میں میسی مو کی ٹیکنالوجی کی خلاف ورزی پائی گئی تھی۔</p>
<p>پابندی سے بچنے کے لیے ایپل نے اپنی گھڑیوں میں خون کی آکسیجن ماپنے والا فیچر نکال دیا تھا اور پھر اگست میں اس فیچر کا نیا ورژن امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کی منظوری کے بعد دوبارہ متعارف کروایا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273808</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 12:06:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/16114317853584b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/16114317853584b.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فرم نے فائیو جی نیلامی کی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273800/</link>
      <description>&lt;p&gt;فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے مقرر کردہ امریکی کنسلٹنٹ نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے، مگر عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال کے باعث اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی (ایس اے سی) کا اجلاس ہفتے کے روز نہیں ہو سکا، تاہم، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام پُراعتماد ہے کہ وہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے مقرر کردہ 15 فروری کی ڈیڈلائن تک عمل مکمل کر لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955349/us-expert-submits-5g-auction-report-to-govt"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نیلامی کے عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 2 ہزار 600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق عدالت میں ایک مقدمہ ہے، جس کا فیصلہ ہفتے کے روز سنائے جانے  کی توقع تھی، تاہم وکلا کی ہڑتال کے باعث مؤخر ہو گیا، وزارتِ آئی ٹی کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق اب یہ فیصلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنسلٹنٹ کی رپورٹ پہلے ہی دو اہم وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار تھی، ایک وجہ عدالت کا زیرِ التوا فیصلہ اور دوسری وجہ ٹیلی نار پاکستان کا پی ٹی سی ایل کے ساتھ جاری انضمام، مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی منظوری کے بعد اس وقت موبائل ٹیلی کام مارکیٹ میں صرف 3 آپریٹر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس انک (این ای آر اے) نے اپنی حتمی رپورٹ جمعے کے روز ایس اے سی کے اجلاس میں پیش کی، اجلاس کی صدارت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کی تھی، جب کہ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے)، فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اور جی ایچ کیو و آئی ایس آئی کے نمائندے بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اسپیکٹرم-ایڈوائزری-کمیٹی-کا-اجلاس-ملتوی" href="#اسپیکٹرم-ایڈوائزری-کمیٹی-کا-اجلاس-ملتوی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ملتوی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273267'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
نیلامی کے عمل میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے امریکی فرم نے فائیو جی خدمات کے آغاز کے لیے متعدد ماڈلز تجویز کیے، اس کی رپورٹ میں اہم پالیسی تجاویز شامل ہیں، جن میں نیلامی کا ڈیزائن، طریقہ کار، بنیادی قیمت، لائسنس کی مدت اور دیگر شرائط شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ دو بڑے راستے تجویز کرتی ہے، نمبر ایک بنیادی قیمت بڑھا کر حکومت کے لیے زیادہ فوری آمدنی حاصل کی جائے، یا نمبر دو کم بنیادی قیمت رکھی جائے تاکہ ٹیلی کام آپریٹرز کو انفرااسٹرکچر میں جلد سرمایہ کاری کی گنجائش مل سکے اور سروسز بہتر ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع کے مطابق رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیلی کام شعبے پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے، جو 37 فیصد تک ہے، اور صنعت کی آمدنی میں ہر 100 ارب روپے اضافے پر 37 ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال میں صنعت کی آمدنی 800 ارب روپے رہی، جو مزید اسپیکٹرم دستیاب ہونے کے بعد بڑھنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے ایک اہلکار نے کہا کہ پاکستان میں اوسط ڈیٹا استعمال 6GB فی صارف ماہانہ ہے، لیکن طلب 9GB تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے، پاکستان اسپیکٹرم کی شدید کمی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای آر اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 6 بڑے بینڈز میں 606MHz کا نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جن میں 700MHz، 1800MHz، 2100MHz، 2300MHz، 2600MHz اور 3500MHz شامل ہیں، ان میں سے 2600MHz بینڈ کو فائیو جی کے لیے سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے، اور ممکن ہے کہ اس میں سے تقریباً 190MHz نیلامی کے لیے پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ سرمایہ کاروں نے 2600MHz بینڈ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے، اور حکومت کو جلد فیصلے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ آئی ٹی کے ایک اہلکار کے مطابق عدالتی فیصلہ آتے ہی اور اگر اسپیکٹرم قانونی پیچیدگیوں سے پاک ہو گیا، تو ایس اے سی اندرونی مشاورت کر کے حتمی پلان اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیجے گی، وہاں سے یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے پاس جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کی منظوری کے بعد، وزارتِ آئی ٹی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پالیسی ہدایات جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے مقرر کردہ امریکی کنسلٹنٹ نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے، مگر عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال کے باعث اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی (ایس اے سی) کا اجلاس ہفتے کے روز نہیں ہو سکا، تاہم، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام پُراعتماد ہے کہ وہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے مقرر کردہ 15 فروری کی ڈیڈلائن تک عمل مکمل کر لے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955349/us-expert-submits-5g-auction-report-to-govt"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق نیلامی کے عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 2 ہزار 600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق عدالت میں ایک مقدمہ ہے، جس کا فیصلہ ہفتے کے روز سنائے جانے  کی توقع تھی، تاہم وکلا کی ہڑتال کے باعث مؤخر ہو گیا، وزارتِ آئی ٹی کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق اب یہ فیصلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔</p>
<p>کنسلٹنٹ کی رپورٹ پہلے ہی دو اہم وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار تھی، ایک وجہ عدالت کا زیرِ التوا فیصلہ اور دوسری وجہ ٹیلی نار پاکستان کا پی ٹی سی ایل کے ساتھ جاری انضمام، مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی منظوری کے بعد اس وقت موبائل ٹیلی کام مارکیٹ میں صرف 3 آپریٹر موجود ہیں۔</p>
<p>امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس انک (این ای آر اے) نے اپنی حتمی رپورٹ جمعے کے روز ایس اے سی کے اجلاس میں پیش کی، اجلاس کی صدارت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کی تھی، جب کہ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے)، فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اور جی ایچ کیو و آئی ایس آئی کے نمائندے بھی موجود تھے۔</p>
<h1><a id="اسپیکٹرم-ایڈوائزری-کمیٹی-کا-اجلاس-ملتوی" href="#اسپیکٹرم-ایڈوائزری-کمیٹی-کا-اجلاس-ملتوی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ملتوی</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273267'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
نیلامی کے عمل میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے امریکی فرم نے فائیو جی خدمات کے آغاز کے لیے متعدد ماڈلز تجویز کیے، اس کی رپورٹ میں اہم پالیسی تجاویز شامل ہیں، جن میں نیلامی کا ڈیزائن، طریقہ کار، بنیادی قیمت، لائسنس کی مدت اور دیگر شرائط شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ دو بڑے راستے تجویز کرتی ہے، نمبر ایک بنیادی قیمت بڑھا کر حکومت کے لیے زیادہ فوری آمدنی حاصل کی جائے، یا نمبر دو کم بنیادی قیمت رکھی جائے تاکہ ٹیلی کام آپریٹرز کو انفرااسٹرکچر میں جلد سرمایہ کاری کی گنجائش مل سکے اور سروسز بہتر ہوں۔</p>
<p>سرکاری ذرائع کے مطابق رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیلی کام شعبے پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے، جو 37 فیصد تک ہے، اور صنعت کی آمدنی میں ہر 100 ارب روپے اضافے پر 37 ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال میں صنعت کی آمدنی 800 ارب روپے رہی، جو مزید اسپیکٹرم دستیاب ہونے کے بعد بڑھنے کی توقع ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے کے ایک اہلکار نے کہا کہ پاکستان میں اوسط ڈیٹا استعمال 6GB فی صارف ماہانہ ہے، لیکن طلب 9GB تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے، پاکستان اسپیکٹرم کی شدید کمی کا شکار ہے۔</p>
<p>این ای آر اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 6 بڑے بینڈز میں 606MHz کا نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جن میں 700MHz، 1800MHz، 2100MHz، 2300MHz، 2600MHz اور 3500MHz شامل ہیں، ان میں سے 2600MHz بینڈ کو فائیو جی کے لیے سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے، اور ممکن ہے کہ اس میں سے تقریباً 190MHz نیلامی کے لیے پیش کیا جائے۔</p>
<p>کچھ سرمایہ کاروں نے 2600MHz بینڈ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے، اور حکومت کو جلد فیصلے کی امید ہے۔</p>
<p>وزارتِ آئی ٹی کے ایک اہلکار کے مطابق عدالتی فیصلہ آتے ہی اور اگر اسپیکٹرم قانونی پیچیدگیوں سے پاک ہو گیا، تو ایس اے سی اندرونی مشاورت کر کے حتمی پلان اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیجے گی، وہاں سے یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے پاس جائے گا۔</p>
<p>کابینہ کی منظوری کے بعد، وزارتِ آئی ٹی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پالیسی ہدایات جاری کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273800</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 10:38:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/16102314a637c74.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/16102314a637c74.webp"/>
        <media:title>کچھ سرمایہ کاروں نے 2600MHz بینڈ کو چیلنج کر رکھا ہے، اور حکومت کو جلد فیصلے کی امید ہے۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اب تک کی بڑی تبدیلی، واٹس ایپ سے دوسری ایپلی کیشن پر میسیج بھیجنا ممکن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273781/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے یورپ میں ایسا فیچر متعارف کرادیا، جس کا کئی سال سے انتطار کیا جا رہا تھا، اب خیال کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ فیچر کو دیگر خطوں میں بھی پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://wabetainfo.com/whatsapp-launches-third-party-chats-integration-in-the-european-region/"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایپلی کیشن پر کسی دوسری میسیج ایپ پر بھی میسیج بھیج سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272141'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272141"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے دوسری ایپلی کیشن پر براہ راست میسیجز بھیجنے کا فیچر ابتدائی طور پر صرف یورپ میں پیش کیا ہے اور فوری طور پر صرف آئی او ایس صارفین ہی اسے استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیچر کے تحت واٹس ایپ سے صارفین کسی بھی اسی طرح کی دوسری میسیج ایپ پر میسیج بھیج سکیں گے، تاہم فوری طور پر صارفین صرف ایک ہی ایپ پر میسیج بھیج سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جلد ہی صارفین مزید ایپلی کیشن پر بھی واٹس ایپ سے براہ راست دوسری ایپلی کیشنز پر میسیجز بھیج سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین وائس نوٹ، تصاویر اور ویڈیوز سمیت ٹیکسٹ اور فائل بھی دوسری ایپلی کیشنز پر بھیج سکیں گے، تاہم واٹس ایپ اسٹیٹس کو نہیں بھیجا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی مذکورہ فیچر صرف یورپین یونین کے رکن ممالک میں پیش کیا گیا ہے اور اسے محدود پیمانے پر متعارف کرایا گیا ہے، تاہم امکان ہے کہ اسے پہلے یورپ میں عام کرنے کے بعد دیگر خطوں میں بھی پیش کیاجائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کردی گئی۔</p>
<p>واٹس ایپ نے یورپ میں ایسا فیچر متعارف کرادیا، جس کا کئی سال سے انتطار کیا جا رہا تھا، اب خیال کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ فیچر کو دیگر خطوں میں بھی پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://wabetainfo.com/whatsapp-launches-third-party-chats-integration-in-the-european-region/"><strong>ویب سائٹ</strong></a> کے مطابق ایپلی کیشن پر کسی دوسری میسیج ایپ پر بھی میسیج بھیج سکیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272141'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272141"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے دوسری ایپلی کیشن پر براہ راست میسیجز بھیجنے کا فیچر ابتدائی طور پر صرف یورپ میں پیش کیا ہے اور فوری طور پر صرف آئی او ایس صارفین ہی اسے استعمال کر سکیں گے۔</p>
<p>فیچر کے تحت واٹس ایپ سے صارفین کسی بھی اسی طرح کی دوسری میسیج ایپ پر میسیج بھیج سکیں گے، تاہم فوری طور پر صارفین صرف ایک ہی ایپ پر میسیج بھیج سکیں گے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جلد ہی صارفین مزید ایپلی کیشن پر بھی واٹس ایپ سے براہ راست دوسری ایپلی کیشنز پر میسیجز بھیج سکیں گے۔</p>
<p>صارفین وائس نوٹ، تصاویر اور ویڈیوز سمیت ٹیکسٹ اور فائل بھی دوسری ایپلی کیشنز پر بھیج سکیں گے، تاہم واٹس ایپ اسٹیٹس کو نہیں بھیجا جائے گا۔</p>
<p>ابھی مذکورہ فیچر صرف یورپین یونین کے رکن ممالک میں پیش کیا گیا ہے اور اسے محدود پیمانے پر متعارف کرایا گیا ہے، تاہم امکان ہے کہ اسے پہلے یورپ میں عام کرنے کے بعد دیگر خطوں میں بھی پیش کیاجائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273781</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 17:44:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/151710192842cfc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/151710192842cfc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں 2025 کے دوران 53 لاکھ سے زائد سائبر حملے رپورٹ ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273727/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں 2025 کی تین سہ ماہیوں کے دوران 53 لاکھ سے زائد سائبر حملے رپورٹ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں 27 فیصد صارفین میل ویئر حملوں کا شکار ہوئے، جب کہ 24 فیصد کارپوریٹ اداروں کو متاثرہ ڈیوائسز کے باعث مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ 25 لاکھ سے زائد ویب بیسڈ سائبر حملے ناکام بنائے گئے، جب کہ پاکستان میں فشنگ، بوٹ نیٹ اور جعلی وائی فائی حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیسپرسکی کے مطابق 3 لاکھ 54 ہزار ایکسپلائٹ اٹیمپٹس بلاک کیے گئے، 1 لاکھ 66 ہزار بینکنگ میل ویئر حملے روکے گئے اور اسپائی ویئر کے 1 لاکھ 26 ہزار حملے ناکام بنائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260182'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں رینسم ویئر کے 42 ہزار سے زائد حملے بھی رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سائبر حملوں کے ذریعے ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہیکرز نے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس نہ ہونے کے باعث ون رار، آفس اور وی ایل سی میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پر سات مختلف اے پی ٹی گروپس نے حملے کیے جن میں ’مِسٹریئس ایلیفینٹ‘ گروپ کی جانب سے حساس اداروں کے خلاف ٹارگٹڈ مہم بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ اور خفیہ دستاویزات کی چوری کے لیے جدید طریقے استعمال کیے گئے، جب کہ صارفین کو بنیادی سائبر ہائجین اپنانے اور اپنے سسٹمز کو اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں 2025 کی تین سہ ماہیوں کے دوران 53 لاکھ سے زائد سائبر حملے رپورٹ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔</p>
<p>عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں 27 فیصد صارفین میل ویئر حملوں کا شکار ہوئے، جب کہ 24 فیصد کارپوریٹ اداروں کو متاثرہ ڈیوائسز کے باعث مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ 25 لاکھ سے زائد ویب بیسڈ سائبر حملے ناکام بنائے گئے، جب کہ پاکستان میں فشنگ، بوٹ نیٹ اور جعلی وائی فائی حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p>کیسپرسکی کے مطابق 3 لاکھ 54 ہزار ایکسپلائٹ اٹیمپٹس بلاک کیے گئے، 1 لاکھ 66 ہزار بینکنگ میل ویئر حملے روکے گئے اور اسپائی ویئر کے 1 لاکھ 26 ہزار حملے ناکام بنائے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260182'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک میں رینسم ویئر کے 42 ہزار سے زائد حملے بھی رپورٹ ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سائبر حملوں کے ذریعے ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہیکرز نے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس نہ ہونے کے باعث ون رار، آفس اور وی ایل سی میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>پاکستان پر سات مختلف اے پی ٹی گروپس نے حملے کیے جن میں ’مِسٹریئس ایلیفینٹ‘ گروپ کی جانب سے حساس اداروں کے خلاف ٹارگٹڈ مہم بھی شامل ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ اور خفیہ دستاویزات کی چوری کے لیے جدید طریقے استعمال کیے گئے، جب کہ صارفین کو بنیادی سائبر ہائجین اپنانے اور اپنے سسٹمز کو اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273727</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 15:18:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/14145007f39b199.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/14145007f39b199.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: کیسپرکی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے نے وی پی این سروس لائسنسنگ کا آغاز کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273732/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)  نے  وی پی این سروس لائسنسنگ کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی ویژن کے ایکس اکاؤنٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق  پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)  نے  اہم پیشرفت کرتے ہوئے  وی پی این سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے کا آغاز کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد محفوظ اور قانونی وی پی این سروسز کی فراہمی کو منظم بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے وی پی این سروسز کے اجرا کیلئے پانچ سے زائد مختلف کمپنیوں کو کلاس لائسنس جاری کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے سے  لائسنس یافتہ کمپنیاں اب قانونی ومجاز مقاصد کے لیے وی پی این سروس فراہم کر سکیں گی اور صارفین اب رجسٹریشن، لائسنس یافتہ کمپنیوں سے براہ راست حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1989269436348440898'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1989269436348440898"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام صارفین کی سہولت، ریگولیٹری بہتری اور سائبر سیکیورٹی کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)  نے  وی پی این سروس لائسنسنگ کا آغاز کردیا۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی ویژن کے ایکس اکاؤنٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق  پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)  نے  اہم پیشرفت کرتے ہوئے  وی پی این سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے کا آغاز کر دیا۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد محفوظ اور قانونی وی پی این سروسز کی فراہمی کو منظم بنانا ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے وی پی این سروسز کے اجرا کیلئے پانچ سے زائد مختلف کمپنیوں کو کلاس لائسنس جاری کر دیے۔</p>
<p>پی ٹی اے سے  لائسنس یافتہ کمپنیاں اب قانونی ومجاز مقاصد کے لیے وی پی این سروس فراہم کر سکیں گی اور صارفین اب رجسٹریشن، لائسنس یافتہ کمپنیوں سے براہ راست حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1989269436348440898'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1989269436348440898"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ اقدام صارفین کی سہولت، ریگولیٹری بہتری اور سائبر سیکیورٹی کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273732</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 17:44:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/14164017ed41776.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/14164017ed41776.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل فوٹوز میں جدید اے آئی فیچرز متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273640/</link>
      <description>&lt;p&gt;گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل فوٹوز میں جدید اے آئی فیچرز متعارف کرادیے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کو بہتر بنانا اور ان میں موجود اشخاص یا اشیا کو تبدیل کرنا آسان ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/11/11/google-photos-adds-new-ai-features-for-editing-expands-ai-powered-search-to-over-100-countries/"&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق گوگل فوٹوز میں صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے اے آئی فیچرز شامل کیے گئے ہیں اور اب دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں اے آئی کی مدد سے تصاویر تلاش کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی ایڈیٹنگ فیچر کی مدد سے صارفین اپنی تصاویر میں موجود اشخاص یا اشیا (objects) کو تبدیل یا بہتر بنا سکتے ہیں، جیسے چشمے ہٹانا، مسکان بڑھانا یا آنکھیں کھولنا وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک نیا بٹن ’آسک‘ بھی متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارف تصویر کے متعلق سوال پوچھ سکتا ہے، تجاویز حاصل کر سکتا ہے یا اس کی ایڈیٹنگ کی درخواست دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267253'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپ میں اے آئی ٹیمپلیٹس بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کو مختلف انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جیسے قدیم پورٹریٹ یا کارٹون اسٹائل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرچ فیچر کو 100 سے زائد ممالک تک پھیلایا گیا ہے اور اب 17 سے زائد نئی زبانیں بھی معاونت کر رہی ہیں، جن میں عربی، ہندی، بنگالی اور پرتگالی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچرز صارفین کو تصویر میں اپنے پوز اور اسٹائل کو بہتر بنانے اور اپنے خدوخال کو زیادہ خوبصورت بنانے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچرز صرف تفریح یا سوشل میڈیا کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یادوں کی قدر بڑھانے اور تصاویر کو مزید پیشہ وارانہ انداز دینے میں بھی مددگار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ فیچرز مرحلہ وار دستیاب ہو رہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان میں ابھی تک سب صارفین کے لیے دستیاب نہ ہوں، اس لیے ایپ کی اپ ڈیٹس چیک کرتے رہنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل فوٹوز میں جدید اے آئی فیچرز متعارف کرادیے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کو بہتر بنانا اور ان میں موجود اشخاص یا اشیا کو تبدیل کرنا آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/11/11/google-photos-adds-new-ai-features-for-editing-expands-ai-powered-search-to-over-100-countries/">ٹیکنالوجی ویب سائٹ</a></strong> کے مطابق گوگل فوٹوز میں صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے اے آئی فیچرز شامل کیے گئے ہیں اور اب دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں اے آئی کی مدد سے تصاویر تلاش کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہو گئی ہے۔</p>
<p>اے آئی ایڈیٹنگ فیچر کی مدد سے صارفین اپنی تصاویر میں موجود اشخاص یا اشیا (objects) کو تبدیل یا بہتر بنا سکتے ہیں، جیسے چشمے ہٹانا، مسکان بڑھانا یا آنکھیں کھولنا وغیرہ۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک نیا بٹن ’آسک‘ بھی متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارف تصویر کے متعلق سوال پوچھ سکتا ہے، تجاویز حاصل کر سکتا ہے یا اس کی ایڈیٹنگ کی درخواست دے سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267253'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایپ میں اے آئی ٹیمپلیٹس بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کو مختلف انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جیسے قدیم پورٹریٹ یا کارٹون اسٹائل۔</p>
<p>سرچ فیچر کو 100 سے زائد ممالک تک پھیلایا گیا ہے اور اب 17 سے زائد نئی زبانیں بھی معاونت کر رہی ہیں، جن میں عربی، ہندی، بنگالی اور پرتگالی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ فیچرز صارفین کو تصویر میں اپنے پوز اور اسٹائل کو بہتر بنانے اور اپنے خدوخال کو زیادہ خوبصورت بنانے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>یہ فیچرز صرف تفریح یا سوشل میڈیا کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یادوں کی قدر بڑھانے اور تصاویر کو مزید پیشہ وارانہ انداز دینے میں بھی مددگار ہیں۔</p>
<p>چونکہ یہ فیچرز مرحلہ وار دستیاب ہو رہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان میں ابھی تک سب صارفین کے لیے دستیاب نہ ہوں، اس لیے ایپ کی اپ ڈیٹس چیک کرتے رہنا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273640</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 19:25:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/121619134beff11.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/121619134beff11.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: گوگل فوٹوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی سے تیار اور انسانوں کی ترتیب کردہ موسیقی میں فرق کرنا ممکن نہیں رہا، سروے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273633/</link>
      <description>&lt;p&gt;اب لوگوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار موسیقی اور انسانوں کی بنائی ہوئی موسیقی میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سروے کمپنی اپسوس نے فرانس کی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’ڈیذر‘ کے لیے کیے گئے ایک سروے میں 9 ہزار افراد کواے آئی سے تیار کردہ موسیقی کے 2 اور انسانی تخلیق کردہ ایک موسیقی سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیذر کے مطابق ’97 فیصد لوگ اے آئی سے مکمل طور پر تیار کردہ اور انسانوں کی بنائی گئی موسیقی کے درمیان فرق نہیں بتا سکے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں پہلی بار ایک ملک سطح کی موسیقی کا گانا، جس میں مرد گلوکار کی آواز مصنوعی ذہانت سے تخلیق کی گئی تھی، چارٹ میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا کے مطابق ’بریکنگ رسٹ‘ نامی آرٹسٹ کا اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تخؒیق کردہ گانا ’واک مائی واک‘ پیر کو شائع ہونے والے ڈیٹا کے مطابق ’بل بورڈ‘ میگزین کے ڈیجیٹل کنٹری میوزک کے سیلز چارٹ میں پہلے نمبر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273558'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیذر نے بتایا کہ سروے میں شامل نصف سے زائد افراد نے اس بات پر عدم اطمینان ظاہر کیا کہ وہ اے آئی اور انسانی موسیقی میں فرق نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اے آئی کے اثرات کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے، 51 فیصد نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے کم معیار کی موسیقی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بڑھے گی، جبکہ تقریباً دو تہائی کا ماننا تھا کہ اس سے تخلیقی صلاحیت میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیذر کے سی ای او الیکسس لانترنیئر نے کہا کہ ’سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ لوگ موسیقی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ جو سن رہے ہیں وہ انسان نے بنایا ہے یا اے آئی نے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیذر کے مطابق، اب نہ صرف پلیٹ فارم پر اے آئی سے تیار کردہ مواد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ صارفین میں مقبول بھی ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں پلیٹ فارم پر روزانہ چلنے والے گانوں میں سے ہر 10 میں سے ایک مکمل طور پر اے آئی سے تخلیق شدہ تھا، دس ماہ بعد یہ شرح بڑھ کر ہر 3 میں سے ایک ہو گئی، یعنی روزانہ تقریباً 40 ہزار گانے اے آئی سے بنائے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں شامل 80 فیصد افراد نے مطالبہ کیا کہ مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ موسیقی کو واضح طور پر لیبل کیا جائے تاکہ سامعین جان سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیذر اس وقت واحد بڑا میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہے جو اپنے صارفین کے لیے اے آئی سے مکمل طور پر تیار شدہ مواد کو واضح طور پر شناخت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں یہ مسئلہ اُس وقت نمایاں ہوا جب ”دی ویلویٹ سن ڈاؤن“ نامی ایک بینڈ اچانک ”اسپاٹیفائی“ پر وائرل ہوگیا اور ایک ماہ بعد تصدیق کی کہ ان کا سارا مواد دراصل اے آئی سے تیار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی بینڈ کا سب سے مقبول گانا تین ملین سے زیادہ بار سنا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ردعمل میں، اسپاٹیفائی نے کہا کہ وہ فنکاروں اور پبلشرز کو موسیقی کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کے بارے میں ایک رضاکارانہ ضابطے پر دستخط کرنے کی ترغیب دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیذر کا یہ سروے 6 سے 10 اکتوبر کے درمیان آٹھ ممالک میں کیا گیا: برازیل، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، نیدرلینڈز اور امریکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اب لوگوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار موسیقی اور انسانوں کی بنائی ہوئی موسیقی میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سروے کمپنی اپسوس نے فرانس کی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’ڈیذر‘ کے لیے کیے گئے ایک سروے میں 9 ہزار افراد کواے آئی سے تیار کردہ موسیقی کے 2 اور انسانی تخلیق کردہ ایک موسیقی سنائی گئی۔</p>
<p>ڈیذر کے مطابق ’97 فیصد لوگ اے آئی سے مکمل طور پر تیار کردہ اور انسانوں کی بنائی گئی موسیقی کے درمیان فرق نہیں بتا سکے‘۔</p>
<p>یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں پہلی بار ایک ملک سطح کی موسیقی کا گانا، جس میں مرد گلوکار کی آواز مصنوعی ذہانت سے تخلیق کی گئی تھی، چارٹ میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>امریکی میڈیا کے مطابق ’بریکنگ رسٹ‘ نامی آرٹسٹ کا اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تخؒیق کردہ گانا ’واک مائی واک‘ پیر کو شائع ہونے والے ڈیٹا کے مطابق ’بل بورڈ‘ میگزین کے ڈیجیٹل کنٹری میوزک کے سیلز چارٹ میں پہلے نمبر پر آگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273558'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈیذر نے بتایا کہ سروے میں شامل نصف سے زائد افراد نے اس بات پر عدم اطمینان ظاہر کیا کہ وہ اے آئی اور انسانی موسیقی میں فرق نہیں کر سکتے۔</p>
<p>سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اے آئی کے اثرات کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے، 51 فیصد نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے کم معیار کی موسیقی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بڑھے گی، جبکہ تقریباً دو تہائی کا ماننا تھا کہ اس سے تخلیقی صلاحیت میں کمی آئے گی۔</p>
<p>ڈیذر کے سی ای او الیکسس لانترنیئر نے کہا کہ ’سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ لوگ موسیقی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ جو سن رہے ہیں وہ انسان نے بنایا ہے یا اے آئی نے‘۔</p>
<p>ڈیذر کے مطابق، اب نہ صرف پلیٹ فارم پر اے آئی سے تیار کردہ مواد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ صارفین میں مقبول بھی ہو رہا ہے۔</p>
<p>جنوری میں پلیٹ فارم پر روزانہ چلنے والے گانوں میں سے ہر 10 میں سے ایک مکمل طور پر اے آئی سے تخلیق شدہ تھا، دس ماہ بعد یہ شرح بڑھ کر ہر 3 میں سے ایک ہو گئی، یعنی روزانہ تقریباً 40 ہزار گانے اے آئی سے بنائے جارہے ہیں۔</p>
<p>سروے میں شامل 80 فیصد افراد نے مطالبہ کیا کہ مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ موسیقی کو واضح طور پر لیبل کیا جائے تاکہ سامعین جان سکیں۔</p>
<p>ڈیذر اس وقت واحد بڑا میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہے جو اپنے صارفین کے لیے اے آئی سے مکمل طور پر تیار شدہ مواد کو واضح طور پر شناخت کرتا ہے۔</p>
<p>جون میں یہ مسئلہ اُس وقت نمایاں ہوا جب ”دی ویلویٹ سن ڈاؤن“ نامی ایک بینڈ اچانک ”اسپاٹیفائی“ پر وائرل ہوگیا اور ایک ماہ بعد تصدیق کی کہ ان کا سارا مواد دراصل اے آئی سے تیار کیا گیا تھا۔</p>
<p>اے آئی بینڈ کا سب سے مقبول گانا تین ملین سے زیادہ بار سنا جا چکا ہے۔</p>
<p>اس کے ردعمل میں، اسپاٹیفائی نے کہا کہ وہ فنکاروں اور پبلشرز کو موسیقی کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کے بارے میں ایک رضاکارانہ ضابطے پر دستخط کرنے کی ترغیب دے گا۔</p>
<p>ڈیذر کا یہ سروے 6 سے 10 اکتوبر کے درمیان آٹھ ممالک میں کیا گیا: برازیل، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، نیدرلینڈز اور امریکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273633</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 14:52:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/121450160dc0c55.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/121450160dc0c55.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپاٹیفائی کا نیا فیچر، اب گانے براہِ راست واٹس ایپ اسٹیٹس پر شیئر کرانا ممکن ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273582/</link>
      <description>&lt;p&gt;مقبول میوزک اسٹریمنگ سروس اسپاٹیفائی نے نیا فیچر متعارف کروا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techlusive.in/apps/you-can-now-share-spotify-songs-directly-to-whatsapp-status-heres-how-1618950/"&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اسپاٹیفائی نے نئے فیچر کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے اینڈرائیڈ صارفین اپنی پسندیدہ گانے، البم، پلے لسٹ یا پوڈکاسٹس کو براہِ راست واٹس ایپ کے اسٹیٹس پر شیئر کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب بھی صارفین اسپاٹیفائی پر کوئی ٹریک، البم یا پلے لسٹ چلائیں گے، تو شیئر کے آپشن سے واٹس ایپ کو منتخب کر کے اسے اسٹیٹس پر پوسٹ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹس میں پوسٹ ہونے والا مواد ایک خوبصورت کارڈ کی شکل میں دکھائی دے گا، جس میں گانے کا کور آرٹ، عنوان اور آرٹسٹ کا نام شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271455'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اسٹیٹس دیکھنے والوں کے لیے ایک مختصر آڈیو پریویو بھی دستیاب ہوگا اور ’اوپن ان اسپاٹیفائی‘ کا بٹن بھی موجود ہوگا، جس پر کلک کرنے سے وہ براہِ راست اسپاٹیفائی ایپ میں جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اسپاٹیفائی کی ایپ کھولنی ہوگی اور وہ گانا، البم یا پلے لسٹ منتخب کریں جو وہ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد شیئر کا آئیکن دبائیں، واٹس ایپ کا انتخاب کریں اور اسے اسٹیٹس پر پوسٹ کریں، جس کے بعد منتخب کردہ اسپاٹیفائی مواد واٹس ایپ اسٹیٹس پر دکھائی دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال یہ فیچر صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے، مگر امکان ہے کہ جلد ہی یہ آئی او ایس صارفین کے لیے بھی جاری کردیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ابھی صارفین کو یہ آپشن اینڈرائیڈ میں نظر نہیں آ رہا، تو انہیں پہلے گوگل پلے اسٹور سے اسپاٹیفائی ایپ کو اپڈیٹ کرنا ہوگا، پھر یہ آپشن دستیاب ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مقبول میوزک اسٹریمنگ سروس اسپاٹیفائی نے نیا فیچر متعارف کروا دیا۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techlusive.in/apps/you-can-now-share-spotify-songs-directly-to-whatsapp-status-heres-how-1618950/">ٹیکنالوجی ویب سائٹ</a></strong> کے مطابق اسپاٹیفائی نے نئے فیچر کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے اینڈرائیڈ صارفین اپنی پسندیدہ گانے، البم، پلے لسٹ یا پوڈکاسٹس کو براہِ راست واٹس ایپ کے اسٹیٹس پر شیئر کرسکیں گے۔</p>
<p>اب جب بھی صارفین اسپاٹیفائی پر کوئی ٹریک، البم یا پلے لسٹ چلائیں گے، تو شیئر کے آپشن سے واٹس ایپ کو منتخب کر کے اسے اسٹیٹس پر پوسٹ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹس میں پوسٹ ہونے والا مواد ایک خوبصورت کارڈ کی شکل میں دکھائی دے گا، جس میں گانے کا کور آرٹ، عنوان اور آرٹسٹ کا نام شامل ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271455'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ، اسٹیٹس دیکھنے والوں کے لیے ایک مختصر آڈیو پریویو بھی دستیاب ہوگا اور ’اوپن ان اسپاٹیفائی‘ کا بٹن بھی موجود ہوگا، جس پر کلک کرنے سے وہ براہِ راست اسپاٹیفائی ایپ میں جا سکتے ہیں۔</p>
<p>اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اسپاٹیفائی کی ایپ کھولنی ہوگی اور وہ گانا، البم یا پلے لسٹ منتخب کریں جو وہ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد شیئر کا آئیکن دبائیں، واٹس ایپ کا انتخاب کریں اور اسے اسٹیٹس پر پوسٹ کریں، جس کے بعد منتخب کردہ اسپاٹیفائی مواد واٹس ایپ اسٹیٹس پر دکھائی دے گا۔</p>
<p>فی الحال یہ فیچر صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے، مگر امکان ہے کہ جلد ہی یہ آئی او ایس صارفین کے لیے بھی جاری کردیا جائے۔</p>
<p>اگر ابھی صارفین کو یہ آپشن اینڈرائیڈ میں نظر نہیں آ رہا، تو انہیں پہلے گوگل پلے اسٹور سے اسپاٹیفائی ایپ کو اپڈیٹ کرنا ہوگا، پھر یہ آپشن دستیاب ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273582</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 18:53:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/111641510a84111.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/111641510a84111.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اسپاٹیفائی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل نے آئی فون رکھنے کے لیے 42 ہزار روپے کی قیمت کی جرابیں متعارف کروادیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273593/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر متعارف کرانے والی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون رکھنے کے لیے دیدہ زیب جرابیں متعارف کرادیں، جن کی پاکستانی قیمت محض 42 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کی آفیشل &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.apple.com/shop/product/hs8p2zm/a/iphone-pocket-by-issey-miyake-long-sapphire"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر متعارف کرائی گئی جرابوں کے ڈیزائن اور قیمت کا اعلان کیا گیا، تاہم متعدد ممالک میں ان کی ڈیلیوری متعارف نہیں کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے جاپانی ڈیزائنر برانڈ آئسے میاکیا (ISSEY MIYAKE) کے ساتھ مل کر ایک نئی ’پوکنگ‘ متعارف کرائی ہے جو اصل میں ایک چھوٹی سی بیگ جیسی چیز ہے جو دکھنے میں جرابوں جیسی لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ’آئی فون پوکنگ‘ (iPhone Pocket) دراصل ایک لچکدار تھری ڈی ٹیکنالوجی پر کپڑے کی ساخت سے بنائی گئی ہے، جس میں آئی فون، ایئر پوڈز اور دیگر چھوٹی چیزیں آسانی سے رکھی جا سکتی ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی اسے کلائی پر لٹکانا نہ چاہے تو مذکورہ جرابوں نما بیگ کا بڑا سائز بھی دستیاب ہے جسے جسم پر لٹکایا جا سکتا ہے اور بڑے سائز کے جرابے کی قیمت محض 230 ڈالر (تقریباً 65 ہزار روپے) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کی پریس ریلیز کے مطابق مذکورہ ڈیزائن ’ایک ٹکڑے کپڑے‘ (a piece of cloth) کے تصور سے متاثر ہے جو آئسے میاکیہ کی مشہور پلیٹڈ کپڑوں کی طرز پر بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مذکورہ پروڈکٹ جاپان میں تیار کی گئی اور ایپل کے ڈیزائن اسٹوڈیو اور میاکیہ کی ٹیم کے قریبی تعاون کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ جرابیں محدود تعداد میں بنائی گئی ہیں اور انہیں صرف امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور کچھ منتخب ایپل اسٹورز پر پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ جراب جیسا ایک چھوٹا بیگ پاکستانی 42 ہزار جب کہ بڑا بیگ پاکستانی 65 ہزار روپے میں فروخت کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر متعارف کرانے والی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون رکھنے کے لیے دیدہ زیب جرابیں متعارف کرادیں، جن کی پاکستانی قیمت محض 42 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔</p>
<p>ایپل کی آفیشل <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.apple.com/shop/product/hs8p2zm/a/iphone-pocket-by-issey-miyake-long-sapphire"><strong>ویب سائٹ</strong></a> پر متعارف کرائی گئی جرابوں کے ڈیزائن اور قیمت کا اعلان کیا گیا، تاہم متعدد ممالک میں ان کی ڈیلیوری متعارف نہیں کرائی گئی۔</p>
<p>ایپل نے جاپانی ڈیزائنر برانڈ آئسے میاکیا (ISSEY MIYAKE) کے ساتھ مل کر ایک نئی ’پوکنگ‘ متعارف کرائی ہے جو اصل میں ایک چھوٹی سی بیگ جیسی چیز ہے جو دکھنے میں جرابوں جیسی لگتی ہے۔</p>
<p>یہ ’آئی فون پوکنگ‘ (iPhone Pocket) دراصل ایک لچکدار تھری ڈی ٹیکنالوجی پر کپڑے کی ساخت سے بنائی گئی ہے، جس میں آئی فون، ایئر پوڈز اور دیگر چھوٹی چیزیں آسانی سے رکھی جا سکتی ہیں</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی اسے کلائی پر لٹکانا نہ چاہے تو مذکورہ جرابوں نما بیگ کا بڑا سائز بھی دستیاب ہے جسے جسم پر لٹکایا جا سکتا ہے اور بڑے سائز کے جرابے کی قیمت محض 230 ڈالر (تقریباً 65 ہزار روپے) ہے۔</p>
<p>ایپل کی پریس ریلیز کے مطابق مذکورہ ڈیزائن ’ایک ٹکڑے کپڑے‘ (a piece of cloth) کے تصور سے متاثر ہے جو آئسے میاکیہ کی مشہور پلیٹڈ کپڑوں کی طرز پر بنایا گیا ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مذکورہ پروڈکٹ جاپان میں تیار کی گئی اور ایپل کے ڈیزائن اسٹوڈیو اور میاکیہ کی ٹیم کے قریبی تعاون کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ جرابیں محدود تعداد میں بنائی گئی ہیں اور انہیں صرف امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور کچھ منتخب ایپل اسٹورز پر پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>مذکورہ جراب جیسا ایک چھوٹا بیگ پاکستانی 42 ہزار جب کہ بڑا بیگ پاکستانی 65 ہزار روپے میں فروخت کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273593</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 11:50:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/112018103096f13.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/112018103096f13.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: کمپنی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273558/</link>
      <description>&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سبقت کی دوڑ میں، امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے پاس پیسہ اور چپس تو ہیں، لیکن ان کی خواہشات کو بجلی کی کے بحران کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954389/the-artificial-intelligence-revolution-has-a-power-problem"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ستیا نڈیلا نے حال ہی میں اوپن اے آئی کے چیف سیم آلٹمین کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں اعتراف کیا کہ اب ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ کمپیوٹ کی کمی ہے، بلکہ بجلی اور بلڈنگز کو تیزی سے مکمل کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نڈیلا نے کہا کہ اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو ممکن ہے کہ آپ کے پاس انوینٹری میں چپس تو ہوں لیکن میں انہیں لگا ہی نہ سکوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کی دہائی کے ڈاٹ کام جنون کی طرح انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے آج کی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی سلیکن ریڑھ کی ہڈی تعمیر کرنے کے لیے بے مثال رقم خرچ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل، مائیکروسافٹ، اے ڈبلیو ایس (ایمازون) اور میٹا (فیس بک) اپنے بڑے کیش ریزروز استعمال کرتے ہوئے 2025 میں تقریباً 400 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں اور 2026 میں اس سے بھی زیادہ خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور فی الحال پرجوش سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام پیسہ ابتدائی رکاوٹ کو دور کرنے میں مددگار رہا ہے، ضروری کمپیوٹنگ پاور کے لیے لاکھوں چپس حاصل کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اپنے اندرونی پروسیسر کی پیداوار تیز کر رہی ہیں، تاکہ عالمی رہنما این ویڈیا سے پیچھے نہ رہ جائیں، یہ چپس ان ریکس میں جائیں گی جو بڑے ڈیٹا سینٹرز کو بھرتی ہیں، جو ٹھنڈک کے لیے بے حد مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں بڑے انفارمیشن ویئر ہاؤس بنانے میں اوسطاً دو سال لگتے ہیں جب کہ نئی ہائی وولٹیج پاور لائنز کو فعال کرنے میں 5 سے 10 سال لگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="توانائی-کی-رکاوٹ" href="#توانائی-کی-رکاوٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;توانائی کی رکاوٹ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سلیکن ویلی میں بڑی ٹیک کمپنیوں کو ’ہائپر اسکیلرز‘ کہا جاتا ہے، توانائی کی رکاوٹ آنے کی پیش گوئی کر چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سال قبل ورجینیا کے اہم یوٹیلیٹی فراہم کنندہ، ڈومینین انرجی کے پاس پہلے ہی 40 گیگا واٹ کے ڈیٹا سینٹرز کے آرڈر بُک موجود تھے، جو 40 نیوکلیئر ری ایکٹرز کے پیداوار کے مساوی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورجینیا دنیا کا سب سے بڑا کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز ہے، اس کی صلاحیت اب بڑھ کر 47 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جیسا کہ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں گھریلو بجلی کے بل بڑھانے کا الزام پہلے ہی ڈیٹا سینٹرز پر عائد کیا جاچکا ہے، اور مختلف مطالعات کے مطابق 2030 تک ڈیٹا سینٹرز قومی بجلی کی کھپت کا 7 فیصد سے 12 فیصد حصہ لے سکتے ہیں، جو آج 4 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اندازے بڑھا چڑھا کر بیان کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو سی برکلے کے معروف ماہر جوناتھن کومی نے ستمبر میں خبردار کیا کہ  یوٹیلیٹیز اور ٹیک کمپنیوں دونوں کے لیے یہ فائدہ مند ہے کہ وہ بجلی کے استعمال کی تیز رفتار ترقی کی پیش گوئی کو اپنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہنگامی-کوئلہ" href="#ہنگامی-کوئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہنگامی کوئلہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مورگن اسٹینلے کے مطابق اگر متوقع ترقی حقیقت بن جاتی ہے، تو 2028 تک 45 گیگاواٹ کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جو 33 ملین امریکی گھروں کے استعمال کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی امریکی یوٹیلیٹیز نے پہلے ہی کوئلے کے پلانٹس بند کرنے میں تاخیر کی ہے، حالانکہ کوئلہ سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والا توانائی کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق قدرتی گیس، جو دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے 40 فیصد کو طاقت فراہم کرتی ہے، دوبارہ مقبول ہو رہی ہے کیونکہ اسے تیزی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی ریاست جارجیا میں، جہاں ڈیٹا سینٹرز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ایک یوٹیلیٹی نے 10 گیگاواٹ گیس سے چلنے والے جنریٹرز نصب کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سبقت کی دوڑ میں، امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے پاس پیسہ اور چپس تو ہیں، لیکن ان کی خواہشات کو بجلی کی کے بحران کا سامنا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1954389/the-artificial-intelligence-revolution-has-a-power-problem"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ستیا نڈیلا نے حال ہی میں اوپن اے آئی کے چیف سیم آلٹمین کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں اعتراف کیا کہ اب ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ کمپیوٹ کی کمی ہے، بلکہ بجلی اور بلڈنگز کو تیزی سے مکمل کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔</p>
<p>نڈیلا نے کہا کہ اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو ممکن ہے کہ آپ کے پاس انوینٹری میں چپس تو ہوں لیکن میں انہیں لگا ہی نہ سکوں۔</p>
<p>1990 کی دہائی کے ڈاٹ کام جنون کی طرح انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے آج کی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی سلیکن ریڑھ کی ہڈی تعمیر کرنے کے لیے بے مثال رقم خرچ کر رہی ہیں۔</p>
<p>گوگل، مائیکروسافٹ، اے ڈبلیو ایس (ایمازون) اور میٹا (فیس بک) اپنے بڑے کیش ریزروز استعمال کرتے ہوئے 2025 میں تقریباً 400 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں اور 2026 میں اس سے بھی زیادہ خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور فی الحال پرجوش سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>یہ تمام پیسہ ابتدائی رکاوٹ کو دور کرنے میں مددگار رہا ہے، ضروری کمپیوٹنگ پاور کے لیے لاکھوں چپس حاصل کی جارہی ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اپنے اندرونی پروسیسر کی پیداوار تیز کر رہی ہیں، تاکہ عالمی رہنما این ویڈیا سے پیچھے نہ رہ جائیں، یہ چپس ان ریکس میں جائیں گی جو بڑے ڈیٹا سینٹرز کو بھرتی ہیں، جو ٹھنڈک کے لیے بے حد مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>امریکا میں بڑے انفارمیشن ویئر ہاؤس بنانے میں اوسطاً دو سال لگتے ہیں جب کہ نئی ہائی وولٹیج پاور لائنز کو فعال کرنے میں 5 سے 10 سال لگ جاتے ہیں۔</p>
<h1><a id="توانائی-کی-رکاوٹ" href="#توانائی-کی-رکاوٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>توانائی کی رکاوٹ</h1>
<p>سلیکن ویلی میں بڑی ٹیک کمپنیوں کو ’ہائپر اسکیلرز‘ کہا جاتا ہے، توانائی کی رکاوٹ آنے کی پیش گوئی کر چکے تھے۔</p>
<p>ایک سال قبل ورجینیا کے اہم یوٹیلیٹی فراہم کنندہ، ڈومینین انرجی کے پاس پہلے ہی 40 گیگا واٹ کے ڈیٹا سینٹرز کے آرڈر بُک موجود تھے، جو 40 نیوکلیئر ری ایکٹرز کے پیداوار کے مساوی ہے۔</p>
<p>ورجینیا دنیا کا سب سے بڑا کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز ہے، اس کی صلاحیت اب بڑھ کر 47 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جیسا کہ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا۔</p>
<p>امریکا میں گھریلو بجلی کے بل بڑھانے کا الزام پہلے ہی ڈیٹا سینٹرز پر عائد کیا جاچکا ہے، اور مختلف مطالعات کے مطابق 2030 تک ڈیٹا سینٹرز قومی بجلی کی کھپت کا 7 فیصد سے 12 فیصد حصہ لے سکتے ہیں، جو آج 4 فیصد ہے۔</p>
<p>لیکن کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اندازے بڑھا چڑھا کر بیان کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>یو سی برکلے کے معروف ماہر جوناتھن کومی نے ستمبر میں خبردار کیا کہ  یوٹیلیٹیز اور ٹیک کمپنیوں دونوں کے لیے یہ فائدہ مند ہے کہ وہ بجلی کے استعمال کی تیز رفتار ترقی کی پیش گوئی کو اپنائیں۔</p>
<h1><a id="ہنگامی-کوئلہ" href="#ہنگامی-کوئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہنگامی کوئلہ</h1>
<p>مورگن اسٹینلے کے مطابق اگر متوقع ترقی حقیقت بن جاتی ہے، تو 2028 تک 45 گیگاواٹ کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جو 33 ملین امریکی گھروں کے استعمال کے برابر ہے۔</p>
<p>کئی امریکی یوٹیلیٹیز نے پہلے ہی کوئلے کے پلانٹس بند کرنے میں تاخیر کی ہے، حالانکہ کوئلہ سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والا توانائی کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق قدرتی گیس، جو دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے 40 فیصد کو طاقت فراہم کرتی ہے، دوبارہ مقبول ہو رہی ہے کیونکہ اسے تیزی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>امریکا کی ریاست جارجیا میں، جہاں ڈیٹا سینٹرز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ایک یوٹیلیٹی نے 10 گیگاواٹ گیس سے چلنے والے جنریٹرز نصب کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273558</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Nov 2025 12:50:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1110331394469a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1110331394469a0.webp"/>
        <media:title>گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون اور میٹا 2025 میں تقریباً 400 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں —فائل فوٹو: اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
