<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Travel</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:47:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:47:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اُبھرتے سورج کی سرزمین سے: پرانی کتابوں کے بازار اور شاہی محل کی سیر (دوسری قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1220952/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/from-the-land-of-the-rising-sun"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تہذیب یافتہ، دیانت دار، محنتی اور بہادر لوگوں کا خطہ جہاں حالات کیسے بھی ہوں، وہ کسی مصیبت یا آفت سے نہیں گھبراتے۔ اس کی تازہ ترین مثال یکم جنوری 2024ء کو جاپان میں آنے والا زلزلہ تھا جہاں پورے ملک کے اخلاص اور بہادری کا میں عینی شاہد بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے سال کے پہلے ہی دن جاپانیوں کو دو ناگہانی آفات کا سامنا کرنا پڑا۔ جاپان کے پریفیکچر ’ایشی کاوا‘ میں شدید زلزلہ اور سونامی کی وارننگ جبکہ اس پر بالائے ستم ٹوکیو کے ہنیدا ایئرپورٹ پر دو طیاروں کا تصادم، ان دونوں حادثات میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں جن سے اٹھنے والی اداسی کی لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملک کچھ لمحات پہلے نئے سال کی آمد اور اس کے استقبال کی خوشی میں رقص کناں تھا۔ پورے ملک میں لوگ چھٹیاں منا رہے تھے اور گھروں میں عید کا سا سماں تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ مندروں اور درگاہوں کا رخ کررہے تھے تاکہ نئے سال کے لیے خیر اور خوشیوں کی دعائیں مانگیں۔ دفاتر اور بازار بند تھے۔ دوست احباب آپس میں ملاقاتیں کررہے تھے، نت نئے پکوان اور ان کی مہک سے پورا ماحول معطر تھا۔ ایسے میں جاپان کا بیشتر علاقہ زلزلے سے لرز اٹھا اور اس کے بعد ایک اداسی کی کیفیت برپا ہوگئی۔ جاپانی سرکار کے سوٹ بوٹ والے وزیراعظم اور دیگر وزرا نے اپنے کپڑوں پر نیلے رنگ کا کوٹ نما لباس پہن لیا جس کا مطلب تھا پوری قیادت اس وقت ہنگامی حالات کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان-میں-زلزلے-کا-مرکز-اور-مجموعی-فضا" href="#جاپان-میں-زلزلے-کا-مرکز-اور-مجموعی-فضا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپان میں زلزلے کا مرکز اور مجموعی فضا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جاپان چار بڑے اور ہزاروں چھوٹےجزائر پر مشتمل ملک ہے۔ ان چار بڑے جزائربشمول دیگر چھوٹےجزائر کو آٹھ ریجن میں تقسیم کرکے 47 پریفیکچرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستانی  پریفیکچرکو صوبے کے متبادل سمجھ سکتے ہیں۔ ان پریفیکچرز میں مزید ذیلی تقسیم کے ذریعے علاقوں کو شہروں اور دیہات میں تقسیم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081354238164a89.jpg'  alt='  زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے دور تھا لیکن وہاں بھی شدت سے اسے محسوس کیا گیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے دور تھا لیکن وہاں بھی شدت سے اسے محسوس کیا گیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے سال پر آنے والا زلزلہ چار بڑے جزائر میں سے ایک ہونشو جزیرے کے ریجن ’چوہبو‘ کے پریفیکچر ’ایشی کاوا‘ میں آیا۔ عددی اعتبار سے یہ 17 واں پریفیکچر ہے جو جاپان کی مغربی ساحلی پٹی پر واقع ہے جس کے سامنے اگر ہم سمندر کو عبور کریں تو دوسری طرف روس، چین، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ متعلقہ ممالک بھی سونامی کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر تیار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں آنے والے اس زلزلے سے پورا ملک لرز اٹھا۔ ایشی کاوا پریفیکچر میں آنے والے اس زلزلے نے قریبی پریفیکچرز اور ان کے شہروں کو بری طرح ہلادیا جبکہ اس کی شدت ٹوکیو تک محسوس کی گئی جوکہ زلزلے کے مرکز سے سیکڑوں میل دور تھا۔ جاپان کا دوسرا بڑا شہر ’اوساکا‘ اس زلزلے کے مرکز سے قریب تھا جہاں میں کچھ دن پہلے تک مقیم تھا۔ وہاں رہنے والے میرے جاپانی دوستوں نے بتایا کہ اس زلزلے کا دورانیہ خاصا طویل تھا اور یہ چند لمحات صدیوں پر بھاری محسوس ہوئے کہ جب پورا شہر ایک گیند کی مانند جھول رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2024/01/0315441598538fc.jpg'  alt='  جاپان میں زلزلے کے بعد کا منظر&amp;mdash;تصویر: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان میں زلزلے کے بعد کا منظر—تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زلزلے-کا-الرٹ-اور-مہربان-جاپانی" href="#زلزلے-کا-الرٹ-اور-مہربان-جاپانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;زلزلے کا الرٹ اور مہربان جاپانی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس زلزلے کی آمد کا وقت سہ پہر کا تھا۔ اس وقت میں جاپان میں اپنا کام ختم کرکے ٹرین کے ذریعے گھر واپس جارہا تھا۔ جاپان میں زلزلے کا الرٹ ہر جاپانی کے فون پر پیغام کی صورت میں آتا ہے۔ اس پیغام کو ملنے اور زلزلہ آنے میں صرف چند سیکنڈز کا وقفہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جیسے ہی یہ پیغام آیا تو اوساکا میں موجود ایک جاپانی دوست نے فوری مجھے پیغام بھیجا۔ اس دوران انہیں زلزلے کی شدت کا سامنا بھی تھا کیونکہ زلزلہ مسلسل آرہا تھا اور ایسی صورتحال میں بھی انہیں میں یاد تھا، یہ بلاشبہ جاپانیوں کی فرض شناسی اور مہمان نوازی کی اعلیٰ مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0813494681e50f9.jpg'  alt='  زلزلے سے کچھ وقت قبل  شہریوں کو موبائل پر الرٹ دیا جاتا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;زلزلے سے کچھ وقت قبل  شہریوں کو موبائل پر الرٹ دیا جاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اپنی اس مہربان جاپانی دوست سے پوچھا کہ آخر کیوں آپ نے اس وقت خود کی پروا کیے بغیر مجھے فوری مطلع کیا تو ان کا کہنا تھا ’آپ جاپان میں مہمان ہیں، آپ نے ہماری طرح زلزلوں سے نمٹنے کی تربیت حاصل نہیں کی اور نہ ہی آپ کے پاس سرکاری سطح پر الرٹ وصول کرنے کی کوئی سہولت ہے تو ایسے میں یہ میرا فرض تھا کہ میں آپ کی مدد کو آتی‘۔ یہ بات مجھے ساری زندگی یاد رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سونامی-کی-وارننگ-کے-تاریک-سائے-میں-گزرے-دن" href="#سونامی-کی-وارننگ-کے-تاریک-سائے-میں-گزرے-دن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سونامی کی وارننگ کے تاریک سائے میں گزرے دن&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے ساتھ ساتھ ٹوکیو کے ہنیدا ایئرپورٹ پر دو طیاروں کے تصادم نے ملک کی فضا کو مزید افسردہ کردیا۔ ان دونوں واقعات کے رونما ہونے کے بعد اگلے چند دن جاپانی حکومت  کی طرف سے جاری کردہ سونامی وارننگ کے تاریک سائے تلے گزرے جوکہ آخر کار ٹل گئی۔ اگر آپ کو 2011ء میں آنے والا سونامی یاد ہے تو آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ سونامی کی وارننگ اہلِ جاپان کے لیے کس قدر خوفناک حیثیت رکھتی ہے لیکن اس  کے باوجود جاپانی ایک بہادر اور نڈر قوم ہے۔ حالات کس قدر خراب ہوجائیں وہ ڈٹ کر ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس بار میں نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/1742125977352696047"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ کوئی کمیٹی بنی اور نہ ہی کوئی کمیشن اور نہ ہی کسی وزیر کا کوئی سرکاری فوٹوسیشن ہوا، بس جھٹ پٹ راتوں رات متاثرہ علاقے کو امداد پہنچائی گئی جن میں سب سے ضروری چیز پینے کا پانی تھا اور متاثرین کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا۔ اسے کہتے ہیں قوم اور قوم کا دکھ محسوس کرنا۔ کاش ایسے مناظر ہمیں بھی اپنے ملک میں کبھی دیکھنے کو ملیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نئے-سال-کی-آمد-اور-منچلے" href="#نئے-سال-کی-آمد-اور-منچلے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نئے سال کی آمد اور منچلے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس بار میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ٹوکیو میں موجود ’ٹوکیو ٹاور‘ ضرور جاؤں گا اور وہاں سے فیس بک لائیو کروں گا۔ ٹوکیو میں یہ میرا سب سے پسندیدہ سیاحتی مقام ہے۔ یہاں جانا کافی مشکل فیصلہ تھا کیونکہ یہ سیاحتی مقام میری رہائش گاہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ بہرحال نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو ہی جاتی ہے۔ جاپان میں میرے پاکستانی میزبان جناب خاور کھوکھرصاحب نے مجھے معروف پاکستانی ریسٹورنٹ پہنچایا جہاں ہمارے دوست راشد صمد خان نے ہمیں ظہرانہ دینا تھا۔ اس موقع پر جاپان میں پاکستانی کھانوں کی معروف بزنس چین ’صدیق ریسٹورنٹ‘ کے مالک اور محب الوطن پاکستانی جناب میاں رمضان بھی اس محفل میں شریک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/090944229945676.jpg?r=100628'  alt='  تہیہ کر رکھا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ٹوکیو میں موجود &amp;rsquo;ٹوکیو ٹاور&amp;lsquo; ضرور جاؤں گا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تہیہ کر رکھا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ٹوکیو میں موجود ’ٹوکیو ٹاور‘ ضرور جاؤں گا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران وہ کہنے لگے کہ ’آپ جانتے ہوں گے کہ ٹوکیو ٹاور کے اندر صرف چند منتخب ریسٹورنٹس ہی ہیں جن میں سے ایک ہمارا ریسٹورنٹ ہے اس لیے جب بھی کوئی سیاح یا جاپانی شہری ٹوکیو ٹاور جائے گا تو اسے اس ریسٹورنٹ کے ذریعے پاکستان کے بارے میں بھی شناسائی ملے گی تو ابھی ہم وہاں چلتے ہیں‘۔ تو لیجیے جناب سال کے آخری دن ہم ٹوکیو ٹاور کے اندر موجود تھے۔ بہرحال وہاں سے ہم میاں رمضان کے ایک اور ریسٹورنٹ گئے جہاں چائے اور سموسوں سے ہماری تواضع کی گئی۔ بڑے دنوں بعد اتنی اصلی کراچی والی کڑک چائے پینے کو ملی۔ یقین جانیے اس چائے کی قدر وہی جان سکتا ہے جسے ایک مہینے سے دودھ پتی پینے کو نہ ملی ہو بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ دیکھنے کو بھی نہ ملی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/090944235c38c33.jpg'  alt='   جاپان کا ٹوکیو ٹاور میرا پسندیدہ سیاحتی مقام ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان کا ٹوکیو ٹاور میرا پسندیدہ سیاحتی مقام ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں ہی پاکستانی ریسٹورنٹ کی ایک اور مشہور چین ’نواب ریسٹورنٹ ’کے شاکر بھائی سے ہماری پہلے ہی دوستی ہوگئی تھی اس لیے انہوں نے ہمیں نئے سال کی پارٹی میں مدعو کیا جہاں وہ اپنے دوستوں اور ملازمین کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں اور خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔ یہاں ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والی کئی جاپانی شخصیات بھی ملیں جن سے ہم نے پاکستان کے کھانوں، لباس، زبان، ثقافت کے ساتھ ساتھ جاپانی ادب اور ادیبوں کی بہت ساری باتیں کیں۔ یہ محفل بہت پُرلطف اور ہنگامہ خیز رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹوکیو-میں-ٹرین-کی-بندش-اور-نئے-سال-کی-رات" href="#ٹوکیو-میں-ٹرین-کی-بندش-اور-نئے-سال-کی-رات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹوکیو میں ٹرین کی بندش اور نئے سال کی رات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;رات گئے پارٹی سے فارغ ہوکر میں دوبارہ ٹوکیو ٹاور پہنچا۔ ٹرین سے اتر کر جب میں اس کی جانب جارہا تھا تو سیکڑوں سیاح بھی میرے ساتھ ساتھ رواں دواں تھے مگر ہم سب جلدی میں بھی تھے کیونکہ ہمیں 12 بجے والی آخری ٹرین پکڑنی تھی تاکہ ہم سب اپنے اپنے گھروں یا ہوٹلز میں واپس پہنچ سکیں۔ جاپانی سرکار اس موقع پر پہلے ساری رات ٹرین چلایا کرتی تھی مگر اب جیسے کراچی میں سی ویو کے راستے نئے سال کی آمد پر بند کردیے جاتے ہیں اسی طرح ٹوکیو میں ٹرینیں بھی بند کردی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0812235743e70d9.jpg?r=122453'  alt='  نئے سال کی رات جاپان میں بھی ٹرین کی بندش ہوتی ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نئے سال کی رات جاپان میں بھی ٹرین کی بندش ہوتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرین بندش کے پیچھے بھی یہی مقصد کار فرما ہے کہ منچلے کہیں زیادہ شوخ و چنچل نہ ہوجائیں مگر وہ منچلا ہی کیا جو راستے یا ٹرین بند ہونے کی پروا کرے۔ پاکستان ہو یا جاپان، منچلوں کا جذبہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ جاپان میں روپونگی، گنزا، شیبیا کراسنگ، ٹوکیو ٹاور، اسکائی ٹری سمیت متعدد سیاحتی مقامات پر نیو ایئر پر منچلوں اور سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اس نئے سال کی خوشی میں پاکستانی کمیونٹی ایک دوسرے سے ملنے کا پروگرام بناتی ہے، میں نے ایسی کئی دیگر محفلوں میں شرکت کی اور خوب ہلہ گلہ کیا۔ یوں جانیے ہزاروں میل دور وطن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0812240740e800c.jpg?r=122453'  alt='  نئے سال کا جشن جاپان میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نئے سال کا جشن جاپان میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان-میں-گزرتے-ہوئے-دنوں-کے-اہداف" href="#جاپان-میں-گزرتے-ہوئے-دنوں-کے-اہداف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپان میں گزرتے ہوئے دنوں کے اہداف&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آپ جب بھی جاپان میں سیاحت کی غرض سے آئیں گے تو بڑے ریجن میں آپ کو اپنی سیاحت کی منازل تقسیم کرنا پڑیں گی۔ ایک ہے کانتو ریجن اور دوسرا ہے کانسائی ریجن۔ پہلے ریجن کا مرکزی شہر ٹوکیو ہے جس کے گردونواح میں اتنا کچھ ہے کہ آپ پورا مہینہ بھی سیاحت کرتے رہیں تو سیاحتی مقامات ختم نہ ہوں۔ اس مرتبہ میرے سامنے چار سیاحتی وعلمی اہداف ہیں جن میں پہلا یہ ہے کہ میں جاپان کے مختلف سیاحتی مقامات کی تصویر کشی کروں، ویڈیوز بناؤں، وی لاگز تیار کروں اور اسے قلم بند بھی کروں۔ اس غرض سے میں مختلف سیاحتی مقامات کے بارے میں جانتا پہچانتا آگے بڑھ رہا ہوں۔ آپ قارئین بھی اس سفر میں میرے ساتھ ہیں۔ اس سفر میں جاپانی جامعات، کتب خانے، میوزیمز، ریسٹورنٹس، بازار اورمشہور درگاہیں، مندر، گزرگاہیں اور ٹاورز وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081337256daebd2.jpg?r=133736'  alt='  جاپان آنے کے میرے چار اہداف ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان آنے کے میرے چار اہداف ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا ہدف جاپانی دوستوں سے ملاقات، پاکستان اور پاکستانی زبانوں پر کام کرنے والے مشاہیر، اساتذہ، طلبہ، محققین، مترجمین اور مورخین سے ملنا مقصود ہے۔ ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے جن کا احوال بھی آگے چل کر تفصیل سے گوش گزاروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا ہدف جاپان کی شہری اور دیہی زندگی کے فرق کو سمجھنا ہے۔ اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں اور سب سے عملی کوشش یہ ہے کہ اس بار میں شہر میں کہیں رہنے کی بجائے ایک دیہی  علاقے میں رہائش پذیر ہوں۔ چوتھا اور آخری ہدف یہ ہے کہ دنیا کے سب سے پہلے ناول ’گینجی مونوگتاری‘ کے اردو ترجمے کو جاپانی ادبی وعلمی حلقوں میں متعارف کروانا ہے۔ یہ ناول ایک ہزار سال سے  قبل لکھا گیا تھا۔ آپ گوگل سے یہ پوچھیں کہ ’دنیا کا پہلا ناول کون سا ہے؟ باقی ساری تفصیل وہ خود آپ کو بتادے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کی 32 زبانوں میں ترجمہ ہونے والا جاپان کا یہ مقبول ترین ناول اب اردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/13200715105d307.jpg'  alt='    گینجی مونوگتاری دنیا کا پہلا ناول ہے جسے 11ویں صدی میں لکھا گیا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گینجی مونوگتاری دنیا کا پہلا ناول ہے جسے 11ویں صدی میں لکھا گیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ناول کو جاپانی خاتون ناول نگار ’موراساکی شیکیبو‘ نے لکھا جبکہ اردو میں اس کے مترجم باقری نقوی، شریک مترجم اور مدیر ومدن راقم ہیں۔ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کی طرف سے اس ناول کے منصوبے کو پانچ سال کے عرصے میں مکمل کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس اردو ترجمے کے لیے پیغامات درج کروائے اور ساتھ ساتھ جاپان میں اردو تدریس سے وابستہ اساتذہ نے بھی اپنے پیغامات دیے۔ یہ ناول دونوں ممالک کے درمیان ادبی دوستی کا شاندار مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹوکیو-میں-واقع-شاہی-محل" href="#ٹوکیو-میں-واقع-شاہی-محل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹوکیو میں واقع شاہی محل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے شہر ٹوکیو میں جب سیاحت شروع کی جائے تو وہ ختم ہونے کو نہیں آتی لیکن مختصر طور پر بتاتا ہوں کہ میں ان دنوں کن خوبصورت اور تخلیقی تجربات سے گزر رہا ہوں۔ جاپان میں آتے ہی مجھے ٹوکیو میں واقع ’شہنشاہ کے محل‘ کے مقام کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ سال میں ایک دو بار کھلتا ہے جس میں محل کے اردگرد کے مخصوص حصے سے گزرنے کی اجازت ملتی ہے۔ عام حالات میں تو آپ اس کے درودیوار کے قریب بھی نہیں آسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081226061c7ff1a.jpg?r=125757'  alt='   لکھاری جاپان کے شاہی محل کی جانب جاتے راستے پر کھڑے ہیں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری جاپان کے شاہی محل کی جانب جاتے راستے پر کھڑے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے اس طرح کے مواقع کو اہم جانتے ہیں اور اب غیر جاپانی سیاحوں کو بھی اس سیر کو کرنے کی اجازت ہے تو ہم نے اپنے جاپانی دوستوں کے ساتھ اس کی سیر کی۔ دوران تلاشی  سیکیورٹی پر مامور حفاظتی دستے کی خاتون اہلکار نے ہم سے اصرار کیا کہ پانی کی بوتل میں پانی ہی ہے یا کچھ اور؟ تو جواب کی مزید تصدیق کے لیے کہنے لگیں ’پانی پی کر دکھائیں۔‘ میں نے پانی پی کر ان کا شکریہ ادا کیا کہ کافی دیر سے ہم پیدل چل رہے تھے اور پانی پینے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ آپ نے ہماری رمز سمجھی اس کے لیے دل کی گہرائی سے آپ کا شکریہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قارئین یہ محل ٹوکیو شہر کے مرکز میں واقع ہے اور عام دنوں میں اسے باہر سے دیکھا جاسکتا ہے یا پھر اس سے متصل پارک میں آپ سیرو تفریح کے لیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081229426636312.jpg?r=125757'  alt='  جاپان کا شاہی محل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان کا شاہی محل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان-کا-اردو-بازار" href="#جاپان-کا-اردو-بازار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپان کا اردو بازار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہاں جاپان کے اردو بازار سے مراد ایک ایسا بازار ہے جہاں جاپانی زبان کی پرانی کتابیں، مخطوطے اور بیش قیمت تصاویر، پینٹنگز وغیرہ ملتی ہیں۔ میں نے ایک دن وہاں جانے کی ٹھانی۔ یہ ’کاندا‘ کا علاقہ ہے جو ٹوکیو میں کافی مشہور ہے۔ میں جب اسٹیشن سے اتر کر بازار کی طرف چلنا شروع ہوا تو میرے دائیں بائیں میوزیکل انسٹرومنٹس، الیکٹرونکس کی دکانیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0812251176b1a59.jpg?r=122524'  alt='  کتب بازار کی طرف جاتے ہوئے میوزک انسٹرومنٹس کی دکانیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کتب بازار کی طرف جاتے ہوئے میوزک انسٹرومنٹس کی دکانیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کافی چلنے کے بعد اندازہ ہوا کہ شاید ہم راستہ بھٹک چکے ہیں لہٰذا سوچا کہ کسی سے مدد لی جائے تو ایسے میں ہمیں ایک انڈین ریسٹورنٹ دکھائی دیا۔ میں اندر گیا اور استقبالیے پر موجود بنگالی بھائی نے نہ صرف ہمیں ریسٹورنٹ سے باہر آکر خالص پاکستانی انڈین انداز میں راستہ سمجھایا بلکہ دعوت دی کہ ہمارے پاس حلال کھانا ہوتا ہے جو جاپان کے اردو بازار سے واپسی پر ہم نے کھایا۔ وہ واقعی حلال تھا اور لذیذ بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/08122431417650a.jpg?r=122453'  alt='  راستہ بھٹک گئے لیکن ایک انڈین ریسٹورنٹ مل گیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راستہ بھٹک گئے لیکن ایک انڈین ریسٹورنٹ مل گیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081226204e598e9.jpg?r=125757'  alt='   انڈین ریسٹونٹ کا کھانا حلال اور کافی اچھا تھا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انڈین ریسٹونٹ کا کھانا حلال اور کافی اچھا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے اس اردو بازار کو آپ جاپانی بازار بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں درجنوں دکانیں ہیں جہاں پرانی کتابیں، رسالے اور مخطوطات کم نرخوں پر دستیاب ہیں۔ 80 فیصد کتابیں جاپانی زبان میں جبکہ دس فیصد انگریزی زبان میں ہیں۔ باقی چینی، کورین اور مختلف زبانوں میں کتب تھیں۔ کئی نایاب ثقافتی تصاویر بھی اور پوسٹرز بھی فروخت کے لیے دستیاب تھے۔ وہاں جاپانی ادب کے پرانے ایڈیشنز کی کتابیں اور مخطوطوں کی ایک دکان تھی جہاں ہم نے ’گینجی مونوگتاری‘کے ایک تاریخی اور نایاب ایڈیشن کی قیمت پوچھی تو وہ پاکستانی روپے میں تقریباً ایک لاکھ روپے تھے۔ یہاں رکھی ہوئی کتب کئی کئی لاکھ کی تھیں مگر دیگر عام دکانوں پر معاملہ اس سے مختلف اور انتہائی سستا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081358500cc0e76.jpg'  alt='  جاپان کے کتب بازار میں 80 فیصد کتابیں جاپانی زبان میں تھیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان کے کتب بازار میں 80 فیصد کتابیں جاپانی زبان میں تھیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی میں نے اپنے جاپانی اور پاکستانی دوستوں کے ہمراہ ایک چینی مسلم ریسٹورنٹ پر ’حلال رامین‘کھایا جو عمومی طور پر جاپان کی مشہور ترین ڈش ہے مگر اس میں جو گوشت شامل ہوتا ہے وہ  حلال نہیں ہوتا لیکن اس چینی ریسٹورنٹ نے یہ معاملہ بھی بخوبی حل کردیا۔ سستے داموں پرانی کتابیں ملنا اور حلال رامین کھانا ایک ایسی خوشی تھی جو ہم پر کئی دن طاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=1311080386518527" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حرفِ-آخر" href="#حرفِ-آخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حرفِ آخر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوستوں جاپان میں گزرتے دنوں کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جس میں ہم آپ کو بہت کچھ بتائیں گے۔ جاپان دنیا کے چند ایسے ممالک میں سے ایک ہے جو بیک وقت روایتی اور جدید ملک ہے۔ دونوں تہذیبوں کا سنگم اگر کہیں ملتا ہے تو وہ صرف جاپان ہے۔ ابھرتے سورج کی یہ سرزمین جہاں حیرت زدہ ہونے کو کافی کچھ ہے۔ تھوڑا انتظار فرمائیے، اگلی اقساط میں آپ کو ان مزید نت نئی حیرتوں سے متعارف کرواؤں گا جن سے اس ملک  کے حُسن کا مزید حُسنِ بیاں ہوگا۔ بقول احمد ندیم قاسمی،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/from-the-land-of-the-rising-sun">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>تہذیب یافتہ، دیانت دار، محنتی اور بہادر لوگوں کا خطہ جہاں حالات کیسے بھی ہوں، وہ کسی مصیبت یا آفت سے نہیں گھبراتے۔ اس کی تازہ ترین مثال یکم جنوری 2024ء کو جاپان میں آنے والا زلزلہ تھا جہاں پورے ملک کے اخلاص اور بہادری کا میں عینی شاہد بنا۔</p>
<p>نئے سال کے پہلے ہی دن جاپانیوں کو دو ناگہانی آفات کا سامنا کرنا پڑا۔ جاپان کے پریفیکچر ’ایشی کاوا‘ میں شدید زلزلہ اور سونامی کی وارننگ جبکہ اس پر بالائے ستم ٹوکیو کے ہنیدا ایئرپورٹ پر دو طیاروں کا تصادم، ان دونوں حادثات میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں جن سے اٹھنے والی اداسی کی لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>یہ ملک کچھ لمحات پہلے نئے سال کی آمد اور اس کے استقبال کی خوشی میں رقص کناں تھا۔ پورے ملک میں لوگ چھٹیاں منا رہے تھے اور گھروں میں عید کا سا سماں تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ مندروں اور درگاہوں کا رخ کررہے تھے تاکہ نئے سال کے لیے خیر اور خوشیوں کی دعائیں مانگیں۔ دفاتر اور بازار بند تھے۔ دوست احباب آپس میں ملاقاتیں کررہے تھے، نت نئے پکوان اور ان کی مہک سے پورا ماحول معطر تھا۔ ایسے میں جاپان کا بیشتر علاقہ زلزلے سے لرز اٹھا اور اس کے بعد ایک اداسی کی کیفیت برپا ہوگئی۔ جاپانی سرکار کے سوٹ بوٹ والے وزیراعظم اور دیگر وزرا نے اپنے کپڑوں پر نیلے رنگ کا کوٹ نما لباس پہن لیا جس کا مطلب تھا پوری قیادت اس وقت ہنگامی حالات کے لیے تیار ہے۔</p>
<h1><a id="جاپان-میں-زلزلے-کا-مرکز-اور-مجموعی-فضا" href="#جاپان-میں-زلزلے-کا-مرکز-اور-مجموعی-فضا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپان میں زلزلے کا مرکز اور مجموعی فضا</h1>
<p>جاپان چار بڑے اور ہزاروں چھوٹےجزائر پر مشتمل ملک ہے۔ ان چار بڑے جزائربشمول دیگر چھوٹےجزائر کو آٹھ ریجن میں تقسیم کرکے 47 پریفیکچرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستانی  پریفیکچرکو صوبے کے متبادل سمجھ سکتے ہیں۔ ان پریفیکچرز میں مزید ذیلی تقسیم کے ذریعے علاقوں کو شہروں اور دیہات میں تقسیم کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081354238164a89.jpg'  alt='  زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے دور تھا لیکن وہاں بھی شدت سے اسے محسوس کیا گیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے دور تھا لیکن وہاں بھی شدت سے اسے محسوس کیا گیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>نئے سال پر آنے والا زلزلہ چار بڑے جزائر میں سے ایک ہونشو جزیرے کے ریجن ’چوہبو‘ کے پریفیکچر ’ایشی کاوا‘ میں آیا۔ عددی اعتبار سے یہ 17 واں پریفیکچر ہے جو جاپان کی مغربی ساحلی پٹی پر واقع ہے جس کے سامنے اگر ہم سمندر کو عبور کریں تو دوسری طرف روس، چین، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ متعلقہ ممالک بھی سونامی کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر تیار تھے۔</p>
<p>جاپان میں آنے والے اس زلزلے سے پورا ملک لرز اٹھا۔ ایشی کاوا پریفیکچر میں آنے والے اس زلزلے نے قریبی پریفیکچرز اور ان کے شہروں کو بری طرح ہلادیا جبکہ اس کی شدت ٹوکیو تک محسوس کی گئی جوکہ زلزلے کے مرکز سے سیکڑوں میل دور تھا۔ جاپان کا دوسرا بڑا شہر ’اوساکا‘ اس زلزلے کے مرکز سے قریب تھا جہاں میں کچھ دن پہلے تک مقیم تھا۔ وہاں رہنے والے میرے جاپانی دوستوں نے بتایا کہ اس زلزلے کا دورانیہ خاصا طویل تھا اور یہ چند لمحات صدیوں پر بھاری محسوس ہوئے کہ جب پورا شہر ایک گیند کی مانند جھول رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2024/01/0315441598538fc.jpg'  alt='  جاپان میں زلزلے کے بعد کا منظر&mdash;تصویر: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان میں زلزلے کے بعد کا منظر—تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="زلزلے-کا-الرٹ-اور-مہربان-جاپانی" href="#زلزلے-کا-الرٹ-اور-مہربان-جاپانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>زلزلے کا الرٹ اور مہربان جاپانی</h1>
<p>اس زلزلے کی آمد کا وقت سہ پہر کا تھا۔ اس وقت میں جاپان میں اپنا کام ختم کرکے ٹرین کے ذریعے گھر واپس جارہا تھا۔ جاپان میں زلزلے کا الرٹ ہر جاپانی کے فون پر پیغام کی صورت میں آتا ہے۔ اس پیغام کو ملنے اور زلزلہ آنے میں صرف چند سیکنڈز کا وقفہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جیسے ہی یہ پیغام آیا تو اوساکا میں موجود ایک جاپانی دوست نے فوری مجھے پیغام بھیجا۔ اس دوران انہیں زلزلے کی شدت کا سامنا بھی تھا کیونکہ زلزلہ مسلسل آرہا تھا اور ایسی صورتحال میں بھی انہیں میں یاد تھا، یہ بلاشبہ جاپانیوں کی فرض شناسی اور مہمان نوازی کی اعلیٰ مثال ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0813494681e50f9.jpg'  alt='  زلزلے سے کچھ وقت قبل  شہریوں کو موبائل پر الرٹ دیا جاتا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>زلزلے سے کچھ وقت قبل  شہریوں کو موبائل پر الرٹ دیا جاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں نے اپنی اس مہربان جاپانی دوست سے پوچھا کہ آخر کیوں آپ نے اس وقت خود کی پروا کیے بغیر مجھے فوری مطلع کیا تو ان کا کہنا تھا ’آپ جاپان میں مہمان ہیں، آپ نے ہماری طرح زلزلوں سے نمٹنے کی تربیت حاصل نہیں کی اور نہ ہی آپ کے پاس سرکاری سطح پر الرٹ وصول کرنے کی کوئی سہولت ہے تو ایسے میں یہ میرا فرض تھا کہ میں آپ کی مدد کو آتی‘۔ یہ بات مجھے ساری زندگی یاد رہے گی۔</p>
<h1><a id="سونامی-کی-وارننگ-کے-تاریک-سائے-میں-گزرے-دن" href="#سونامی-کی-وارننگ-کے-تاریک-سائے-میں-گزرے-دن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سونامی کی وارننگ کے تاریک سائے میں گزرے دن</h1>
<p>زلزلے کے ساتھ ساتھ ٹوکیو کے ہنیدا ایئرپورٹ پر دو طیاروں کے تصادم نے ملک کی فضا کو مزید افسردہ کردیا۔ ان دونوں واقعات کے رونما ہونے کے بعد اگلے چند دن جاپانی حکومت  کی طرف سے جاری کردہ سونامی وارننگ کے تاریک سائے تلے گزرے جوکہ آخر کار ٹل گئی۔ اگر آپ کو 2011ء میں آنے والا سونامی یاد ہے تو آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ سونامی کی وارننگ اہلِ جاپان کے لیے کس قدر خوفناک حیثیت رکھتی ہے لیکن اس  کے باوجود جاپانی ایک بہادر اور نڈر قوم ہے۔ حالات کس قدر خراب ہوجائیں وہ ڈٹ کر ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس بار میں نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/1742125977352696047"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>نہ کوئی کمیٹی بنی اور نہ ہی کوئی کمیشن اور نہ ہی کسی وزیر کا کوئی سرکاری فوٹوسیشن ہوا، بس جھٹ پٹ راتوں رات متاثرہ علاقے کو امداد پہنچائی گئی جن میں سب سے ضروری چیز پینے کا پانی تھا اور متاثرین کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا۔ اسے کہتے ہیں قوم اور قوم کا دکھ محسوس کرنا۔ کاش ایسے مناظر ہمیں بھی اپنے ملک میں کبھی دیکھنے کو ملیں۔</p>
<h1><a id="نئے-سال-کی-آمد-اور-منچلے" href="#نئے-سال-کی-آمد-اور-منچلے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نئے سال کی آمد اور منچلے</h1>
<p>اس بار میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ٹوکیو میں موجود ’ٹوکیو ٹاور‘ ضرور جاؤں گا اور وہاں سے فیس بک لائیو کروں گا۔ ٹوکیو میں یہ میرا سب سے پسندیدہ سیاحتی مقام ہے۔ یہاں جانا کافی مشکل فیصلہ تھا کیونکہ یہ سیاحتی مقام میری رہائش گاہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ بہرحال نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو ہی جاتی ہے۔ جاپان میں میرے پاکستانی میزبان جناب خاور کھوکھرصاحب نے مجھے معروف پاکستانی ریسٹورنٹ پہنچایا جہاں ہمارے دوست راشد صمد خان نے ہمیں ظہرانہ دینا تھا۔ اس موقع پر جاپان میں پاکستانی کھانوں کی معروف بزنس چین ’صدیق ریسٹورنٹ‘ کے مالک اور محب الوطن پاکستانی جناب میاں رمضان بھی اس محفل میں شریک ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/090944229945676.jpg?r=100628'  alt='  تہیہ کر رکھا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ٹوکیو میں موجود &rsquo;ٹوکیو ٹاور&lsquo; ضرور جاؤں گا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تہیہ کر رکھا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ٹوکیو میں موجود ’ٹوکیو ٹاور‘ ضرور جاؤں گا</figcaption>
    </figure></p>
<p>گفتگو کے دوران وہ کہنے لگے کہ ’آپ جانتے ہوں گے کہ ٹوکیو ٹاور کے اندر صرف چند منتخب ریسٹورنٹس ہی ہیں جن میں سے ایک ہمارا ریسٹورنٹ ہے اس لیے جب بھی کوئی سیاح یا جاپانی شہری ٹوکیو ٹاور جائے گا تو اسے اس ریسٹورنٹ کے ذریعے پاکستان کے بارے میں بھی شناسائی ملے گی تو ابھی ہم وہاں چلتے ہیں‘۔ تو لیجیے جناب سال کے آخری دن ہم ٹوکیو ٹاور کے اندر موجود تھے۔ بہرحال وہاں سے ہم میاں رمضان کے ایک اور ریسٹورنٹ گئے جہاں چائے اور سموسوں سے ہماری تواضع کی گئی۔ بڑے دنوں بعد اتنی اصلی کراچی والی کڑک چائے پینے کو ملی۔ یقین جانیے اس چائے کی قدر وہی جان سکتا ہے جسے ایک مہینے سے دودھ پتی پینے کو نہ ملی ہو بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ دیکھنے کو بھی نہ ملی ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/090944235c38c33.jpg'  alt='   جاپان کا ٹوکیو ٹاور میرا پسندیدہ سیاحتی مقام ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان کا ٹوکیو ٹاور میرا پسندیدہ سیاحتی مقام ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جاپان میں ہی پاکستانی ریسٹورنٹ کی ایک اور مشہور چین ’نواب ریسٹورنٹ ’کے شاکر بھائی سے ہماری پہلے ہی دوستی ہوگئی تھی اس لیے انہوں نے ہمیں نئے سال کی پارٹی میں مدعو کیا جہاں وہ اپنے دوستوں اور ملازمین کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں اور خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔ یہاں ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والی کئی جاپانی شخصیات بھی ملیں جن سے ہم نے پاکستان کے کھانوں، لباس، زبان، ثقافت کے ساتھ ساتھ جاپانی ادب اور ادیبوں کی بہت ساری باتیں کیں۔ یہ محفل بہت پُرلطف اور ہنگامہ خیز رہی۔</p>
<h1><a id="ٹوکیو-میں-ٹرین-کی-بندش-اور-نئے-سال-کی-رات" href="#ٹوکیو-میں-ٹرین-کی-بندش-اور-نئے-سال-کی-رات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹوکیو میں ٹرین کی بندش اور نئے سال کی رات</h1>
<p>رات گئے پارٹی سے فارغ ہوکر میں دوبارہ ٹوکیو ٹاور پہنچا۔ ٹرین سے اتر کر جب میں اس کی جانب جارہا تھا تو سیکڑوں سیاح بھی میرے ساتھ ساتھ رواں دواں تھے مگر ہم سب جلدی میں بھی تھے کیونکہ ہمیں 12 بجے والی آخری ٹرین پکڑنی تھی تاکہ ہم سب اپنے اپنے گھروں یا ہوٹلز میں واپس پہنچ سکیں۔ جاپانی سرکار اس موقع پر پہلے ساری رات ٹرین چلایا کرتی تھی مگر اب جیسے کراچی میں سی ویو کے راستے نئے سال کی آمد پر بند کردیے جاتے ہیں اسی طرح ٹوکیو میں ٹرینیں بھی بند کردی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0812235743e70d9.jpg?r=122453'  alt='  نئے سال کی رات جاپان میں بھی ٹرین کی بندش ہوتی ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نئے سال کی رات جاپان میں بھی ٹرین کی بندش ہوتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹرین بندش کے پیچھے بھی یہی مقصد کار فرما ہے کہ منچلے کہیں زیادہ شوخ و چنچل نہ ہوجائیں مگر وہ منچلا ہی کیا جو راستے یا ٹرین بند ہونے کی پروا کرے۔ پاکستان ہو یا جاپان، منچلوں کا جذبہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ جاپان میں روپونگی، گنزا، شیبیا کراسنگ، ٹوکیو ٹاور، اسکائی ٹری سمیت متعدد سیاحتی مقامات پر نیو ایئر پر منچلوں اور سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اس نئے سال کی خوشی میں پاکستانی کمیونٹی ایک دوسرے سے ملنے کا پروگرام بناتی ہے، میں نے ایسی کئی دیگر محفلوں میں شرکت کی اور خوب ہلہ گلہ کیا۔ یوں جانیے ہزاروں میل دور وطن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0812240740e800c.jpg?r=122453'  alt='  نئے سال کا جشن جاپان میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نئے سال کا جشن جاپان میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="جاپان-میں-گزرتے-ہوئے-دنوں-کے-اہداف" href="#جاپان-میں-گزرتے-ہوئے-دنوں-کے-اہداف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپان میں گزرتے ہوئے دنوں کے اہداف</h1>
<p>آپ جب بھی جاپان میں سیاحت کی غرض سے آئیں گے تو بڑے ریجن میں آپ کو اپنی سیاحت کی منازل تقسیم کرنا پڑیں گی۔ ایک ہے کانتو ریجن اور دوسرا ہے کانسائی ریجن۔ پہلے ریجن کا مرکزی شہر ٹوکیو ہے جس کے گردونواح میں اتنا کچھ ہے کہ آپ پورا مہینہ بھی سیاحت کرتے رہیں تو سیاحتی مقامات ختم نہ ہوں۔ اس مرتبہ میرے سامنے چار سیاحتی وعلمی اہداف ہیں جن میں پہلا یہ ہے کہ میں جاپان کے مختلف سیاحتی مقامات کی تصویر کشی کروں، ویڈیوز بناؤں، وی لاگز تیار کروں اور اسے قلم بند بھی کروں۔ اس غرض سے میں مختلف سیاحتی مقامات کے بارے میں جانتا پہچانتا آگے بڑھ رہا ہوں۔ آپ قارئین بھی اس سفر میں میرے ساتھ ہیں۔ اس سفر میں جاپانی جامعات، کتب خانے، میوزیمز، ریسٹورنٹس، بازار اورمشہور درگاہیں، مندر، گزرگاہیں اور ٹاورز وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081337256daebd2.jpg?r=133736'  alt='  جاپان آنے کے میرے چار اہداف ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان آنے کے میرے چار اہداف ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>دوسرا ہدف جاپانی دوستوں سے ملاقات، پاکستان اور پاکستانی زبانوں پر کام کرنے والے مشاہیر، اساتذہ، طلبہ، محققین، مترجمین اور مورخین سے ملنا مقصود ہے۔ ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے جن کا احوال بھی آگے چل کر تفصیل سے گوش گزاروں گا۔</p>
<p>تیسرا ہدف جاپان کی شہری اور دیہی زندگی کے فرق کو سمجھنا ہے۔ اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں اور سب سے عملی کوشش یہ ہے کہ اس بار میں شہر میں کہیں رہنے کی بجائے ایک دیہی  علاقے میں رہائش پذیر ہوں۔ چوتھا اور آخری ہدف یہ ہے کہ دنیا کے سب سے پہلے ناول ’گینجی مونوگتاری‘ کے اردو ترجمے کو جاپانی ادبی وعلمی حلقوں میں متعارف کروانا ہے۔ یہ ناول ایک ہزار سال سے  قبل لکھا گیا تھا۔ آپ گوگل سے یہ پوچھیں کہ ’دنیا کا پہلا ناول کون سا ہے؟ باقی ساری تفصیل وہ خود آپ کو بتادے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کی 32 زبانوں میں ترجمہ ہونے والا جاپان کا یہ مقبول ترین ناول اب اردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/13200715105d307.jpg'  alt='    گینجی مونوگتاری دنیا کا پہلا ناول ہے جسے 11ویں صدی میں لکھا گیا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گینجی مونوگتاری دنیا کا پہلا ناول ہے جسے 11ویں صدی میں لکھا گیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس ناول کو جاپانی خاتون ناول نگار ’موراساکی شیکیبو‘ نے لکھا جبکہ اردو میں اس کے مترجم باقری نقوی، شریک مترجم اور مدیر ومدن راقم ہیں۔ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کی طرف سے اس ناول کے منصوبے کو پانچ سال کے عرصے میں مکمل کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس اردو ترجمے کے لیے پیغامات درج کروائے اور ساتھ ساتھ جاپان میں اردو تدریس سے وابستہ اساتذہ نے بھی اپنے پیغامات دیے۔ یہ ناول دونوں ممالک کے درمیان ادبی دوستی کا شاندار مظہر ہے۔</p>
<h1><a id="ٹوکیو-میں-واقع-شاہی-محل" href="#ٹوکیو-میں-واقع-شاہی-محل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹوکیو میں واقع شاہی محل</h1>
<p>جاپان کے شہر ٹوکیو میں جب سیاحت شروع کی جائے تو وہ ختم ہونے کو نہیں آتی لیکن مختصر طور پر بتاتا ہوں کہ میں ان دنوں کن خوبصورت اور تخلیقی تجربات سے گزر رہا ہوں۔ جاپان میں آتے ہی مجھے ٹوکیو میں واقع ’شہنشاہ کے محل‘ کے مقام کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ سال میں ایک دو بار کھلتا ہے جس میں محل کے اردگرد کے مخصوص حصے سے گزرنے کی اجازت ملتی ہے۔ عام حالات میں تو آپ اس کے درودیوار کے قریب بھی نہیں آسکتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081226061c7ff1a.jpg?r=125757'  alt='   لکھاری جاپان کے شاہی محل کی جانب جاتے راستے پر کھڑے ہیں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری جاپان کے شاہی محل کی جانب جاتے راستے پر کھڑے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>جاپانی اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے اس طرح کے مواقع کو اہم جانتے ہیں اور اب غیر جاپانی سیاحوں کو بھی اس سیر کو کرنے کی اجازت ہے تو ہم نے اپنے جاپانی دوستوں کے ساتھ اس کی سیر کی۔ دوران تلاشی  سیکیورٹی پر مامور حفاظتی دستے کی خاتون اہلکار نے ہم سے اصرار کیا کہ پانی کی بوتل میں پانی ہی ہے یا کچھ اور؟ تو جواب کی مزید تصدیق کے لیے کہنے لگیں ’پانی پی کر دکھائیں۔‘ میں نے پانی پی کر ان کا شکریہ ادا کیا کہ کافی دیر سے ہم پیدل چل رہے تھے اور پانی پینے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ آپ نے ہماری رمز سمجھی اس کے لیے دل کی گہرائی سے آپ کا شکریہ۔</p>
<p>قارئین یہ محل ٹوکیو شہر کے مرکز میں واقع ہے اور عام دنوں میں اسے باہر سے دیکھا جاسکتا ہے یا پھر اس سے متصل پارک میں آپ سیرو تفریح کے لیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081229426636312.jpg?r=125757'  alt='  جاپان کا شاہی محل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان کا شاہی محل</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="جاپان-کا-اردو-بازار" href="#جاپان-کا-اردو-بازار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپان کا اردو بازار</h1>
<p>یہاں جاپان کے اردو بازار سے مراد ایک ایسا بازار ہے جہاں جاپانی زبان کی پرانی کتابیں، مخطوطے اور بیش قیمت تصاویر، پینٹنگز وغیرہ ملتی ہیں۔ میں نے ایک دن وہاں جانے کی ٹھانی۔ یہ ’کاندا‘ کا علاقہ ہے جو ٹوکیو میں کافی مشہور ہے۔ میں جب اسٹیشن سے اتر کر بازار کی طرف چلنا شروع ہوا تو میرے دائیں بائیں میوزیکل انسٹرومنٹس، الیکٹرونکس کی دکانیں تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/0812251176b1a59.jpg?r=122524'  alt='  کتب بازار کی طرف جاتے ہوئے میوزک انسٹرومنٹس کی دکانیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کتب بازار کی طرف جاتے ہوئے میوزک انسٹرومنٹس کی دکانیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>کافی چلنے کے بعد اندازہ ہوا کہ شاید ہم راستہ بھٹک چکے ہیں لہٰذا سوچا کہ کسی سے مدد لی جائے تو ایسے میں ہمیں ایک انڈین ریسٹورنٹ دکھائی دیا۔ میں اندر گیا اور استقبالیے پر موجود بنگالی بھائی نے نہ صرف ہمیں ریسٹورنٹ سے باہر آکر خالص پاکستانی انڈین انداز میں راستہ سمجھایا بلکہ دعوت دی کہ ہمارے پاس حلال کھانا ہوتا ہے جو جاپان کے اردو بازار سے واپسی پر ہم نے کھایا۔ وہ واقعی حلال تھا اور لذیذ بھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/08122431417650a.jpg?r=122453'  alt='  راستہ بھٹک گئے لیکن ایک انڈین ریسٹورنٹ مل گیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راستہ بھٹک گئے لیکن ایک انڈین ریسٹورنٹ مل گیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081226204e598e9.jpg?r=125757'  alt='   انڈین ریسٹونٹ کا کھانا حلال اور کافی اچھا تھا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انڈین ریسٹونٹ کا کھانا حلال اور کافی اچھا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>جاپان کے اس اردو بازار کو آپ جاپانی بازار بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں درجنوں دکانیں ہیں جہاں پرانی کتابیں، رسالے اور مخطوطات کم نرخوں پر دستیاب ہیں۔ 80 فیصد کتابیں جاپانی زبان میں جبکہ دس فیصد انگریزی زبان میں ہیں۔ باقی چینی، کورین اور مختلف زبانوں میں کتب تھیں۔ کئی نایاب ثقافتی تصاویر بھی اور پوسٹرز بھی فروخت کے لیے دستیاب تھے۔ وہاں جاپانی ادب کے پرانے ایڈیشنز کی کتابیں اور مخطوطوں کی ایک دکان تھی جہاں ہم نے ’گینجی مونوگتاری‘کے ایک تاریخی اور نایاب ایڈیشن کی قیمت پوچھی تو وہ پاکستانی روپے میں تقریباً ایک لاکھ روپے تھے۔ یہاں رکھی ہوئی کتب کئی کئی لاکھ کی تھیں مگر دیگر عام دکانوں پر معاملہ اس سے مختلف اور انتہائی سستا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/081358500cc0e76.jpg'  alt='  جاپان کے کتب بازار میں 80 فیصد کتابیں جاپانی زبان میں تھیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان کے کتب بازار میں 80 فیصد کتابیں جاپانی زبان میں تھیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ساتھ ہی میں نے اپنے جاپانی اور پاکستانی دوستوں کے ہمراہ ایک چینی مسلم ریسٹورنٹ پر ’حلال رامین‘کھایا جو عمومی طور پر جاپان کی مشہور ترین ڈش ہے مگر اس میں جو گوشت شامل ہوتا ہے وہ  حلال نہیں ہوتا لیکن اس چینی ریسٹورنٹ نے یہ معاملہ بھی بخوبی حل کردیا۔ سستے داموں پرانی کتابیں ملنا اور حلال رامین کھانا ایک ایسی خوشی تھی جو ہم پر کئی دن طاری رہے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=1311080386518527" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="حرفِ-آخر" href="#حرفِ-آخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حرفِ آخر</h1>
<p>دوستوں جاپان میں گزرتے دنوں کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جس میں ہم آپ کو بہت کچھ بتائیں گے۔ جاپان دنیا کے چند ایسے ممالک میں سے ایک ہے جو بیک وقت روایتی اور جدید ملک ہے۔ دونوں تہذیبوں کا سنگم اگر کہیں ملتا ہے تو وہ صرف جاپان ہے۔ ابھرتے سورج کی یہ سرزمین جہاں حیرت زدہ ہونے کو کافی کچھ ہے۔ تھوڑا انتظار فرمائیے، اگلی اقساط میں آپ کو ان مزید نت نئی حیرتوں سے متعارف کرواؤں گا جن سے اس ملک  کے حُسن کا مزید حُسنِ بیاں ہوگا۔ بقول احمد ندیم قاسمی،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1220952</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jan 2024 20:08:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم سہیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/090840378372d0d.jpg?r=084042" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/090840378372d0d.jpg?r=084042"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/09084259b05c16c.jpg?r=100628" type="image/jpeg" medium="image" height="1000" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/09084259b05c16c.jpg?r=100628"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: شاہراہِ قراقرم اور عطاآباد کا المیہ (تیرہویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218629/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;قلعہ التت کے دروازے تک راستہ کچی سیڑھیوں سے ہوتا ہوا اوپر اٹھ رہا تھا۔ سیڑھیوں کے برابر والی چٹانی زمین سفید سنگِ مرمر کی طرح تھی جس پر دودھیا سنگریزے بکھرے ہوئے تھے۔ قلعے کی اونچی دیوار میں لکڑی کا ایک سالخوردہ چھوٹا سا دروازہ تھا۔ لڑکے نے تالا کھول کر اسے اندر کی طرف دھکیلا اور ہم ایک نیم تاریک کمرے میں داخل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمرے میں سے ایک بھول بھلیاں جیسا راستہ آگے جارہا تھا۔ یہاں دیواریں اور چھت سیاہ ہورہی تھی۔ کچھ آگے ایک اور دروازہ تھا، اس کے اندر بھی اندھیرا تھا۔ لڑکا اس کے اندر گھسا تو پیچھے پیچھے میں بھی گھسنے لگا مگر سیدھا نہ جا سکا کیونکہ وہ سیڑھی تھی۔ ہم سیڑھی چڑھ کراوپر دوسری منزل پر آگئے۔ یہاں طعام گاہ، باورچی خانہ اور والی  ہنزہ کی خواب گاہ تھی۔ خواب گاہ قلعے کی پچھلی دیوار کے ساتھ تھی جس کے باہر ہزاروں فٹ گہری کھائی تھی۔ سامنے کی دیوار میں دو سوراخ تھے جن سے غالباً کھڑکیوں کا کام لیا جاتا تھا۔ میں نے ایک سوراخ میں سے باہر جھانکا تو جھرجھری آگئی۔ یہاں سے دریائے ہنزہ اتنا نیچے گہرائی میں تھا کہ یہاں تک اس کی زوردار آواز بھی نہیں پہنچ رہی تھی۔ دریا کے دوسرے کنارے پر شاہراہ قراقرم پہاڑوں میں بل کھاتی نظر آرہی تھی۔ اس کھڑکی سے شاید چین کی طرف سے آنے والے قافلوں پر نظر رکھی جاتی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412201744538bd.jpg?r=122240'  alt='  قلعہ التت 900 سال قبل تعمیر ہوا تھا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قلعہ التت 900 سال قبل تعمیر ہوا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلعہ التت کو والیانِ ہنزہ نے 900 سال قبل تعمیر کروایا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق اس قلعے کو تعمیر کرنے والے کاریگر بلتستان سے آئے تھے۔ غالباً اسی لیے اس قلعے میں بلتستانی طرزِ تعمیر نمایاں ہے۔ 900 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ قلعہ اب تک صحیح سلامت موجود ہے۔ یہ نہ صرف کئی حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے بلکہ زلزلوں میں بھی اس نے اپنا وجود قائم رکھا ہے۔ یہ قلعہ دریائے ہنزہ سے ایک ہزار فٹ کی بلندی پر تقریباً معلق ہے اور اس اونچائی سے اردگرد کے سارے علاقے پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141220310ff58a6.jpg?r=122240'  alt='  یہ قلعہ کئی زلزلوں کے باوجود اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ قلعہ کئی زلزلوں کے باوجود اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم خواب گاہ سے باہر نکلے تو دائیں طرف ایک اور درواز ے میں داخل ہوگئے۔ یہاں ایک طویل بالکونی تھی جس کا چوبی جنگلہ اب بھی خوبصورت نظر آتا تھا۔ اس بالکونی میں کئی کمروں کے دروازے کھلتے تھے۔ بالکونی سے نیچے التت کا عجیب و غریب گاؤں پھیلا ہوا تھا۔ کچی مٹی کے لاتعداد گھر اور ہر گھر کی چھت میں ایک مربع نما سوراخ۔ یہ چکور سوراخ شاید ان گھروں کا لازمی حصہ تھے۔ گاؤں کے بیچ میں پانی کا ایک تالاب بھی نظر آرہا تھا۔ مکانات سے پرے کھیت تھے اور دور وہ پولو گراؤنڈ بھی نظر آرہا تھا جس کے پاس سے ہم گزر کر یہاں پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکونی کے ایک سرے پرتخت بچھا ہوا تھا اور اس کے سامنے سے ایک سیڑھی قلعے کی چھت تک جارہی تھی۔ تخت کے اوپر قلعے کا بُرج تھا جو کافی اوپر تک چلا گیا تھا۔ برج کی دیواروں میں بندوقوں کے لیے سوراخ تھے۔ برج کے اوپر مارخور کا حنوط شدہ سر اپنے سینگ پھیلائے ایستادہ تھا۔ قلعے کی چھت مٹی کی تھی اوراس کی منڈیریں نہیں تھیں اس لیے ہزاروں فٹ نیچے دریائے ہنزہ تک بڑے آرام سے صرف چند قدم اٹھا کر ہی پہنچا جاسکتا تھا۔ یہاں ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔ ہم کچھ دیر کھڑے تیز ہوا میں جھولتے رہے اور پھر واپسی کے لیے سیڑھیوں سے اترنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14130219ce496f5.jpg'  alt='  التت قلعے کا برج  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;التت قلعے کا برج&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلتت سے التت آنے والا راستہ مزید آگے جاکر پھر بلندیوں کی طرف اٹھتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ راستہ یہاں سے اونچا ہوتا ہوا ساڑھے نو ہزار فٹ کی بلندی پر دوئیکر کے مقام تک جاتا ہے جہاں مشہور مقام ایگلز نیسٹ Eagle’s Nest  ہے۔ اس جگہ کا نام ایگلز نیسٹ یہاں موجود ایک ایسی چٹان کی وجہ سے پڑا ہے جس کی شکل ہو بہو کسی شاہین سے ملتی جلتی ہے۔ شاہین کے اسی قدرتی مجسمے کی وجہ سے اس مقام کو ایگلز نیسٹ (یعنی شاہیں کا آشیانہ) کہا جاتا ہے جہاں پہنچ کر اقبالؒ کے یہ اشعار یاد آتے ہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;نظر آتی ہے اُس کو اپنی منزل آسمانوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412190379dc9ac.jpg?r=122240'  alt='  ایگلز نیسٹ کی چٹان قدرتی طور پر شاہین کا مجسمہ ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایگلز نیسٹ کی چٹان قدرتی طور پر شاہین کا مجسمہ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگلز نیسٹ کی اس قدر بلندی کے باعث یہاں سے راکاپوشی، لیڈی فنگر پیک اور گولڈن پیک سمیت 11 چوٹیوں کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اُس وقت تو ہمیں ایگلز نیسٹ کا پتا ہی نہیں تھا، البتہ بعد کے دوروں میں مجھے ادھر جانے کا بھی موقع ملا۔ اس وقت تو ہم نے صرف قلعہ التت ہی پر اکتفا کیا اور اسے دیکھ کر واپس کریم آباد کا راستہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم آباد پہنچتے پہنچتے سورج غروب ہوگیا اور یہ ہماری ہنزہ میں آخری رات تھی۔ اگلے دن ہم نے واپسی کا قصد کیا۔ انڈے پراٹھے کا ناشتہ کرکے ہوٹل ہنزہ اِن سے چیک آؤٹ کیا۔ تھیلے کاندھوں پر لادے، پیدل لڑھکتے نیچے شاہراہ قراقرم پر گنیش بس اسٹاپ پر پہنچے اور گلگت جانے والی سواری کے انتظار میں بیٹھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412204481136ec.jpg?r=122240'  alt='  کریم آباد اور عطا آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کریم آباد اور عطا آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک کے پار کھیت تھے، کھیتوں سے پرے گہرائی تھی اور گہرائی میں کہیں دریائے ہنزہ بہہ رہا تھا۔ دریا کے پار بھورے پہاڑوں کے پیچھے سفید راکاپوشی سر اٹھائے کھڑی تھی۔ دریا کے پرلے کنارے نگر کے پہاڑوں میں سے ایک اور دریا بھی آکر دریائے ہنزہ میں شامل ہوتا ہے۔ یہ وادی ہوپر کی طرف سے بہتا ہوا آتا ہے۔ وادی ہوپر اپنے گلیشیئر کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس وقت تو ہم گلگت واپس جارہے تھے، البتہ 30 سال بعد 2021ء میں مجھے ہوپر گلیشیئر دیکھنے کا بھی موقع ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ہی دیر میں گلگت جانے والی وین آگئی۔ ہم نے ہنزہ کی فضاؤں کو دوبارہ آنے کے وعدے کے ساتھ الوداع کہا اور گلگت روانہ ہوگئے۔ اگلے دن گلگت سے 18 گھنٹے سفر کرکے راولپنڈی اور پھر راولپنڈی سے دو دن کا سفر کرکے کراچی واپس پہنچ گئے۔ ہم کراچی پہنچ تو گئے تھے لیکن اپنا دل وہیں گلگت و ہنزہ میں چھوڑ آئے تھے۔ اب ہم ہنزہ سے مزید آگے پاک چین سرحد پر درّہ خنجراب تک جانا چاہتے تھے بلکہ ہمارا دل تو خنجراب سے بھی آگے چین جانے کے لیے مچل رہا تھا کیونکہ گلگت و ہنزہ میں ہمیں ایسے سیاح ملے تھے جنہوں نے ہمیں کچھ اور ہی داستانیں سنا دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121917fde8448.jpg?r=122240'  alt='  شاہرہِ قراقرم کی سرنگ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہرہِ قراقرم کی سرنگ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور چین کے درمیان شاہراہ قراقرم کی تعمیر کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا بلکہ ابھی تو یہ صرف پاکستانی حدود میں ہی مکمل ہوئی تھی، چینی حدود میں اس پر کام تو ابتدائی مراحل میں تھا۔ البتہ اس نامکمل راستے پر بھی دنیا بھر کے سیاحوں نے سفر شروع کردیے تھے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ، تبت کے دارالحکومت لہاسا یا پھر ہانگ کانگ سے سفر شروع کرنے والے سیاح پورے چین سے گزر کر سنکیانگ کے آخری شہر کاشغر پہنچتے۔ پھر آگے بڑھتے ہوئے دنیا کے بلند ترین خطے ’پامیر‘ کے برف زاروں سے گزرتے ہوئے درّہ خنجراب پہنچ کر پاکستان میں داخل ہوتے اور اپنے سفر کو مزید جاری رکھتے ہوئے پاکستان سے ایران، ترکیہ، یونان، یوگوسلاویہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ سے ہوتے ہوئے اپنی منزلوں پر جا پہنچتے۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے اس طرح کے سفر ممکن ہی نہیں تھے۔ ہم نے جب ان سیاحوں سے قراقرم کے پاربسنے والی دنیا، سنکیانگ، کاشغر اور اُرومچی کی داستانیں سنیں تو ہمارا دل بھی وہاں جانے کو مچل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121933d577797.jpg?r=122240'  alt='  شاہراہِ قراقرم سے چین کو جاتا راستہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہراہِ قراقرم سے چین کو جاتا راستہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی واپس آتے ہی باسط، وسیم اور میں نے پہلی فرصت میں اپنے اپنے پاسپورٹ بنوائے اور بائی روڈ چین جانے کی تیاریوں میں لگ گئے۔ اس زمانے میں کراچی میں چین کا سفارت خانہ کینٹ اسٹیشن جانے والی سڑک پر ہوٹل مہران کے سامنے ہوا کرتا تھا۔ ہم ویزا لگوانے کے لیے گئے تو چینی ویزا آفیسر نے ہمیں یونیورسٹی سے ضمانتی خط لانے کو کہا۔ مجھے اور باسط کو این ای ڈی یونیورسٹی اور وسیم کو کراچی یونیورسٹی سے باآسانی لیٹر مل گئے۔ ہم نے چینی ویزا اپلائی کیا جس کی فیس ان دنوں شاید 50 روپے تھی یا کچھ بھی نہیں تھی۔ چند دن میں ہی ویزا لگ گیا اور جون 1987ء میں، باسط، وسیم اور میں ایک بار پھر شمال کے بلندوبالا پہاڑوں کی طرف جارہے تھے، لیکن اب ہماری منزل ان پہاڑوں سے آگے، قراقرم کے پار، کاشغر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14122234ab762bb.jpg?r=122240'  alt='  1987ء میں چین کا ویزا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;1987ء میں چین کا ویزا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے کی طرح ہم ریل گاڑی کے ذریعے راولپنڈی پہنچے اور راولپنڈی سے نیٹکو کی بس میں شاہراہ قراقرم پر 18 گھنٹے کا سفر کرکے گلگت اور پھر ہنزہ پہنچ گئے۔ کریم آباد میں ایک دن قیام کرکے اگلے دن ہم نیچے گنیش اسٹاپ پر آگئے اور پاکستان کے آخری قصبے سُست کی بس کا انتظار کرنے لگے۔ سُست پہنچ کر ہمیں چین جانے والی گاڑی میں بیٹھنا تھا۔ نئی اور اجنبی منزلوں کا سوچ کر ہمارا دل ایک عجیب ہیجان میں مبتلا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑی دیر بعد مقامی مسافروں اور ان کے اناپ شناپ سامان سے بھری ایک پرانی کھٹارا بس گلگت سے آنے والے راستے پر نمودار ہوئی اور چند جھٹکے لےکر ہمارے سامنے کھڑی ہوگئی۔ گنیش تک آنے والے یہاں اتر گئے اور آگے جانے والے نئے مسافر یہاں سے سوار ہوگئے۔ بس پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ پچھلے دروازے کے پاس مسافروں کے ٹرنک، بوریاں، کنستر اور گٹھڑیاں ایک ڈھیر کی صورت پڑی ہوئی تھیں۔ مجھے ایک کھڑکی والی سیٹ خالی مل گئی اور میں پھنس پھنسا کر اس میں فٹ ہوگیا۔ تھیلے کو میں نے سیٹ کے نیچے دھکیل دیا۔ باسط اور وسیم کو آخری سیٹ ملی۔ بس نے کچھ دیر وہیں گھر گھرانے کے بعد ایک جھری جھری لی اور حرکت میں آگئی۔ شاہراہِ قراقرم نے ایک طویل موڑ لیا۔ موڑ کے خاتمے پر دریائے ہنزہ کا پل آگیا۔ بس نے پل عبور کیا اور ہم دریا کے دوسرے کنارے پر رواں ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141221089d73295.jpg?r=122240'  alt='  ہنزہ کا علاقہ گنیش  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہنزہ کا علاقہ گنیش&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم دریائے ہنزہ کے بہاؤ کی مخالف سمت جا رہے تھے۔ دریا کے پار ایک پہاڑ سیدھی دیوار کی طرح کھڑا تھا اور اس کی ہزار فٹ اونچی منڈیر سے التت کا قلعہ جھانک رہا تھا اور یہاں سے گڑیا کا گھروندہ لگتا تھا۔ چند ہی ماہ پہلے تو ہم نے اس قلعے سے نیچے جھانکا تھا جہاں ہمیں شاہراہِ قراقرم ایک باریک لکیر اور اس پر چلنے والی گاڑیاں ننھے کھلونے سی محسوس ہوئی تھیں۔ التت قلعے کے پیچھے اُلتر گلیشیئر سے اٹھنے والے سفید بادل ڈھلوانوں سے پھسلتے ہوئے نیچے تک آرہے تھے اور فضا میں بیک وقت ایک خوش کن مگر ساتھ ہی اداس کردینے والا خوابناک اندھیرا پھیل رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیرمیں بارش شروع ہوگئی۔ بس کی کھڑکیوں میں نصب بڑے بڑے سلائڈنگ شیشے کھٹاک کھٹاک کرکے نیچے گرادیے گئے اور ان کی بیرونی سطح پر بارش کے قطرے آنسوؤں کی طرح لڑھکنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14122058521681f.jpg?r=122240'  alt='  التت قلعے کے پیچھے اُلتر گلیشیئر سے اٹھنے والے سفید بادل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;التت قلعے کے پیچھے اُلتر گلیشیئر سے اٹھنے والے سفید بادل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم شاہراہ قراقرام کی مزید بلندیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔ بس میں عطا آباد، ششکٹ، گلمت، پھسّو، مارخُن، گِرچہ اور سُست تک کے مقامی مسافر سوار تھے۔ یہ سب مقامی زبانوں گوجال، شینا، بروشسکی اور واخی میں مسلسل بولے جارہے تھے۔ میں کھڑکی سے ناک چپکائے باہر دیکھ رہا تھا۔ باہر پہاڑوں اور دریا کی رفاقت کو تو بارش نے دھندلا دیا تھا جبکہ بس کے اندر ایک باہمی شناسا دنیا آباد تھی۔ بارش کے قطروں کی لڑھکتی لہروں سے بھرے شیشوں کی وجہ سے یہ بس ہمیں پانی کے اندر تیرتی آبدوز لگ رہی تھی اور برساتی آنسوؤں والے اس سمندر کے پیچھے کہیں دور دریائے ہنزہ بہہ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141218548d3a97e.jpg?r=122240'  alt='  قلعہ التت، بلتت اور دریائے ہنزہ کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قلعہ التت، بلتت اور دریائے ہنزہ کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آپ کہاں جارہے ہیں جی؟‘ میرے برابر میں بیٹھے چمکتی آنکھوں والے ایک مقامی شخص نے مجھ سے سوال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سُست‘ میں بولا۔’اور پھر آگے خنجراب‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس کی آنکھیں مزید چمکنے لگیں۔’میرا نام نذیر ہے جی‘ وہ بولا۔ ’میں اُدھر سست میں دکان کرتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میرا نام عبیداللہ ہے۔ پیچھے میرے دوست ہیں باسط اور وسیم۔ ہم کراچی سے آئے ہیں‘۔ میں نے مختصراً بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کراچی سے!۔۔۔ ہو شاباشے‘ وہ اپنی سیٹ پراچھل سا گیا۔’بڑالمبا سفر کیا جی ’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر اپنا چہرہ میرے قریب لاکر بولا، ’اُدھر سست میں ہوٹل وغیرہ کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اُدھر میرے رشتے داروں کے ہوٹل ہیں، سب اپنے آدمی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اسے بتایا کہ میں کراچی سے یہاں تک تقریباً سارا پاکستان عبور کرکے پہنچا ہوں اور مجھے ہر جگہ اپنے ہی آدمی ملے ہیں۔ اس ملک میں سب اپنے آدمی ہیں اس لیے میں بالکل پریشان نہیں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش کی وجہ سے بس کے شیشے دھندلے ہوچکے تھے اور اس رم جھم اندھیرے نے بس کی دنیا کو بھی نیم تاریک کردیا تھا۔ ہم عطاآباد کے پاس سے گزر رہے تھے۔ اس وقت تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آج سے 24 سال بعد اس جگہ زلزلہ آئے گا، پہاڑ ٹوٹ کر دریائے ہنزہ میں گرے گا، دریا کا بہاؤ رک جائے گا اور شاہراہِ قراقرم گہرے پانیوں میں ڈوب جائے گی۔ 4 جنوری 2010ء کا دن عطاآباد والوں کے لیے قیامت سے کم نہیں تھا۔ اس دن جب یہاں ایک پہاڑ ٹوٹ کر دریا میں گرا تھا تو اس میں جہاں 19 افراد ہلاک ہوئے وہیں شاہراہ قراقرم کا 24 کلومیٹرز کا حصہ بھی ملبے میں دب گیا تھا اور دریا کا بہاؤ بھی پانچ مہینے کے لیے رک گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141220136aeca0f.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد میں پہاڑ گرنے کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عطاآباد میں پہاڑ گرنے کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہاؤ رک جانے کے باعث پانی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف بڑھتا چلا گیا اور کچھ ہی دنوں میں ایک طویل جھیل کی شکل اختیار کرلی۔ اس جھیل کی وجہ سے میلوں علاقہ زیرِآب آگیا۔ جھیل میں نہ صرف شاہراہ قراقرم ڈوبی بلکہ عطاآباد بھی ڈوبا اور ہزاروں افراد بھی بے گھر ہوئے جبکہ اس جھیل کا نام عطاآباد جھیل پڑ گیا۔ آج ہنزہ کریم آباد سے 30 کلومیٹرز آگے آئیں تو نیلے پانی کی یہ سمندر نما جھیل سامنے آجاتی ہے۔ عطاآباد جھیل 21 کلومیٹرز طویل اور ساڑھے تین سو فٹ سے زیادہ گہری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412200157b6b1a.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد جھیل ساڑھے تین سو فٹ گہری ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عطاآباد جھیل ساڑھے تین سو فٹ گہری ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہاڑی علاقوں میں دریا تیزی کے ساتھ بلندیوں کی طرف سے نیچے اترتے ہیں۔ انہی بلندیوں کے باعث پہاڑی دریاؤں کا پانی تیزی سے نیچے کی طرف لپکتا ہوا پاکستان کے میدانی علاقوں میں داخل ہوتا ہے۔ جب دریائے ہنزہ کے راستے میں پہاڑ گرا تو پانی رک گیا تھا اور اس کی سطح آہستہ آہستہ بلند ہونا شروع ہوئی۔ یہاں پانی کے ایک انچ بلند ہونے کا مطلب پیچھے پھیلاؤ میں کئی میٹر پھیل جانا ہوتا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے پانی چڑھتا رہا، پیچھے وادی میں بھی اس کا پھیلاؤ بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ وہ پورا پانی تقریباً 20 کلومیٹرز کے علاقے میں پھیل گیا۔ یہ پانی اس وقت تک چڑھتا رہا جب تک کہ وہ دریا میں گرنے والے پہاڑ کے ملبے کو عبور کرنے کے قابل نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121944e936cb5.jpg?r=122240'  alt='  جیسے جیسے پانی بڑھتا گیا اس نے لوگوں کو یہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جیسے جیسے پانی بڑھتا گیا اس نے لوگوں کو یہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ایک ایسی طویل جھیل نمودار ہوئی کہ جس کا پاٹ باقی دریا سے کئی گنا زیادہ وسیع تھا۔ پانی کے اس بلندی پر آنے کی وجہ سے پیچھے کئی گاؤں بھی ڈوبے اور شاہراہ قراقرم بھی اس میں غائب ہوگئی۔ اگلے 5 سال یہاں کے باسیوں کے لیے کڑی آزمائش تھے کیونکہ یہاں سے گزرنے کا بس ایک ہی ذریعہ رہ گیا تھا۔ اب مال و اسباب سمیت صرف کشتیوں کے ذریعے ہی وادی کے اگلے حصوں تک پہنچنا ممکن تھا۔ پھر یہاں سے آگے وادی کے نشیبی علاقوں کے لیے بھی یہ خطرہ منڈلا رہا تھا کہ اگر دریا کے راستے میں گرے پہاڑ کا ملبہ کسی وقت پانی کے زور سے اچانک ہٹ گیا تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سیلابی ریلہ آگے والے علاقوں کے لیے بھی تباہی لا سکتا تھا لیکن اللہ کی مہربانی سے ایسا نہ ہوا اور ایک دن دریا کے پانی نے گرے ہوئے پہاڑ کے ملبے کو آہستگی سے عبور کیا اور آگے کی طرف سکون سے بہنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121922e08f8a3.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد جھیل میں کشتیوں سے نقل و حمل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عطاآباد جھیل میں کشتیوں سے نقل و حمل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141219277667f76.jpg?r=122240'  alt='  پہاڑ گرنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے یہاں سے گزرنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پہاڑ گرنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے یہاں سے گزرنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب دریا میں پہاڑ گرا تھا اور پانی بھرنا شروع ہوا تھا تو جو لوگ صدیوں سے یہاں رہ رہے تھے انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اس صورت میں کیا ہوتا ہے۔ جب پانی پھیلتا ہے تو سب کچھ نگل جاتا ہے۔ ہر چیز اس کے اندر ڈوب جاتی ہے۔ حکومت نے اعلان کردیا کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل جائیں کیونکہ یہ سب پانی میں ڈوب جائیں گے۔ لوگوں کو سرکار کی طرف سے متبادل جگہیں فراہم کی گئیں تاکہ وہ وہاں جا کر آباد ہوسکیں۔ انہوں نے اپنے ہرے بھرے باغات، آباد مکانوں اور آبائی قبرستانوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چھوڑا اور رفتہ رفتہ سب یہاں سے کوچ کرگئے۔ آج یہاں آنے والے سیاح عطاآباد جھیل کی دلکشی میں کھو کر رہ جاتے ہیں لیکن انہیں اس المیے کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ جس سے یہاں کے لوگ گزرے۔ ان لوگوں کو تو یہاں اپنا سب کچھ پانی میں ڈوبتا چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121857da24df1.jpg?r=122240'  alt='  رفتہ رفتہ ڈوبتا عطاآباد  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رفتہ رفتہ ڈوبتا عطاآباد&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہراہ قراقرم کو دوبارہ رواں کرنے کے لیے چین کی مدد سے پہاڑوں کے اندر چار حصوں میں 8 کلومیٹرز طویل سرنگیں بھی تعمیر کی گئیں جو خود ایک عجوبے سے کم نہیں۔ ستمبر 2015ء میں ان سرنگوں کا افتتاح ہوا اور زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر چل پڑی۔ آج عطاآباد جھیل اپنے خوبصورت فیروزی رنگ کے باعث ایک ایسا حسین و دلفریب منظر پیش کرتی ہے کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ وہ علاقہ کہ جہاں اس جھیل کی تشکیل سے پہلے لوگ دائیں بائیں دیکھے بغیر اونگھتے ہوئے گزر جاتے تھے، اب یہاں ان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ اب یہ جگہ دنیا کی خوبصورت ترین سیر گاہ بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141219075eaa9b1.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد کی سیر کو آئے سیاح اس جھیل کے المیے سے ناواقف ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عطاآباد کی سیر کو آئے سیاح اس جھیل کے المیے سے ناواقف ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121913da7347c.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد جھیل اور شاہراہ قراقرم کی سرنگ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عطاآباد جھیل اور شاہراہ قراقرم کی سرنگ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلوں وسعت میں پھیلا ہوا یہ خوبصورت نیلگوں پانی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں، اس کے کنارے پر بنے عالیشان ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں، رنگ برنگی کشتیوں میں جھیل کی سیر کرتے ہیں، کناروں پر چہل قدمی کرتے ہیں اور یہاں سے خوش ہوکر واپس جاتے ہیں۔ یہاں گزارے گئے وقت کو وہ وہ زندگی کے یادگار لمحات سمجھتے ہیں۔ بہت کم ہی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس جھیل کے نیچے بہت کچھ ایسا دفن ہے کہ جس کے لیے یہاں والوں نے آنسو بہائے تھے۔ لیکن یہ تو میں نے کئی سال بعد کی بات کردی۔ اِس وقت تو ہم ایک صحیح سلامت شاہراہ قراقرم پر سفر کررہے تھے اور اب ششکٹ کا اسٹاپ آنے والا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a></strong> پڑھیں۔</p>
<hr />
<p>قلعہ التت کے دروازے تک راستہ کچی سیڑھیوں سے ہوتا ہوا اوپر اٹھ رہا تھا۔ سیڑھیوں کے برابر والی چٹانی زمین سفید سنگِ مرمر کی طرح تھی جس پر دودھیا سنگریزے بکھرے ہوئے تھے۔ قلعے کی اونچی دیوار میں لکڑی کا ایک سالخوردہ چھوٹا سا دروازہ تھا۔ لڑکے نے تالا کھول کر اسے اندر کی طرف دھکیلا اور ہم ایک نیم تاریک کمرے میں داخل ہوگئے۔</p>
<p>اس کمرے میں سے ایک بھول بھلیاں جیسا راستہ آگے جارہا تھا۔ یہاں دیواریں اور چھت سیاہ ہورہی تھی۔ کچھ آگے ایک اور دروازہ تھا، اس کے اندر بھی اندھیرا تھا۔ لڑکا اس کے اندر گھسا تو پیچھے پیچھے میں بھی گھسنے لگا مگر سیدھا نہ جا سکا کیونکہ وہ سیڑھی تھی۔ ہم سیڑھی چڑھ کراوپر دوسری منزل پر آگئے۔ یہاں طعام گاہ، باورچی خانہ اور والی  ہنزہ کی خواب گاہ تھی۔ خواب گاہ قلعے کی پچھلی دیوار کے ساتھ تھی جس کے باہر ہزاروں فٹ گہری کھائی تھی۔ سامنے کی دیوار میں دو سوراخ تھے جن سے غالباً کھڑکیوں کا کام لیا جاتا تھا۔ میں نے ایک سوراخ میں سے باہر جھانکا تو جھرجھری آگئی۔ یہاں سے دریائے ہنزہ اتنا نیچے گہرائی میں تھا کہ یہاں تک اس کی زوردار آواز بھی نہیں پہنچ رہی تھی۔ دریا کے دوسرے کنارے پر شاہراہ قراقرم پہاڑوں میں بل کھاتی نظر آرہی تھی۔ اس کھڑکی سے شاید چین کی طرف سے آنے والے قافلوں پر نظر رکھی جاتی ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412201744538bd.jpg?r=122240'  alt='  قلعہ التت 900 سال قبل تعمیر ہوا تھا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قلعہ التت 900 سال قبل تعمیر ہوا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>قلعہ التت کو والیانِ ہنزہ نے 900 سال قبل تعمیر کروایا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق اس قلعے کو تعمیر کرنے والے کاریگر بلتستان سے آئے تھے۔ غالباً اسی لیے اس قلعے میں بلتستانی طرزِ تعمیر نمایاں ہے۔ 900 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ قلعہ اب تک صحیح سلامت موجود ہے۔ یہ نہ صرف کئی حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے بلکہ زلزلوں میں بھی اس نے اپنا وجود قائم رکھا ہے۔ یہ قلعہ دریائے ہنزہ سے ایک ہزار فٹ کی بلندی پر تقریباً معلق ہے اور اس اونچائی سے اردگرد کے سارے علاقے پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141220310ff58a6.jpg?r=122240'  alt='  یہ قلعہ کئی زلزلوں کے باوجود اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ قلعہ کئی زلزلوں کے باوجود اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم خواب گاہ سے باہر نکلے تو دائیں طرف ایک اور درواز ے میں داخل ہوگئے۔ یہاں ایک طویل بالکونی تھی جس کا چوبی جنگلہ اب بھی خوبصورت نظر آتا تھا۔ اس بالکونی میں کئی کمروں کے دروازے کھلتے تھے۔ بالکونی سے نیچے التت کا عجیب و غریب گاؤں پھیلا ہوا تھا۔ کچی مٹی کے لاتعداد گھر اور ہر گھر کی چھت میں ایک مربع نما سوراخ۔ یہ چکور سوراخ شاید ان گھروں کا لازمی حصہ تھے۔ گاؤں کے بیچ میں پانی کا ایک تالاب بھی نظر آرہا تھا۔ مکانات سے پرے کھیت تھے اور دور وہ پولو گراؤنڈ بھی نظر آرہا تھا جس کے پاس سے ہم گزر کر یہاں پہنچے تھے۔</p>
<p>بالکونی کے ایک سرے پرتخت بچھا ہوا تھا اور اس کے سامنے سے ایک سیڑھی قلعے کی چھت تک جارہی تھی۔ تخت کے اوپر قلعے کا بُرج تھا جو کافی اوپر تک چلا گیا تھا۔ برج کی دیواروں میں بندوقوں کے لیے سوراخ تھے۔ برج کے اوپر مارخور کا حنوط شدہ سر اپنے سینگ پھیلائے ایستادہ تھا۔ قلعے کی چھت مٹی کی تھی اوراس کی منڈیریں نہیں تھیں اس لیے ہزاروں فٹ نیچے دریائے ہنزہ تک بڑے آرام سے صرف چند قدم اٹھا کر ہی پہنچا جاسکتا تھا۔ یہاں ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔ ہم کچھ دیر کھڑے تیز ہوا میں جھولتے رہے اور پھر واپسی کے لیے سیڑھیوں سے اترنے لگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14130219ce496f5.jpg'  alt='  التت قلعے کا برج  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>التت قلعے کا برج</figcaption>
    </figure></p>
<p>بلتت سے التت آنے والا راستہ مزید آگے جاکر پھر بلندیوں کی طرف اٹھتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ راستہ یہاں سے اونچا ہوتا ہوا ساڑھے نو ہزار فٹ کی بلندی پر دوئیکر کے مقام تک جاتا ہے جہاں مشہور مقام ایگلز نیسٹ Eagle’s Nest  ہے۔ اس جگہ کا نام ایگلز نیسٹ یہاں موجود ایک ایسی چٹان کی وجہ سے پڑا ہے جس کی شکل ہو بہو کسی شاہین سے ملتی جلتی ہے۔ شاہین کے اسی قدرتی مجسمے کی وجہ سے اس مقام کو ایگلز نیسٹ (یعنی شاہیں کا آشیانہ) کہا جاتا ہے جہاں پہنچ کر اقبالؒ کے یہ اشعار یاد آتے ہیں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">نظر آتی ہے اُس کو اپنی منزل آسمانوں میں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412190379dc9ac.jpg?r=122240'  alt='  ایگلز نیسٹ کی چٹان قدرتی طور پر شاہین کا مجسمہ ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایگلز نیسٹ کی چٹان قدرتی طور پر شاہین کا مجسمہ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایگلز نیسٹ کی اس قدر بلندی کے باعث یہاں سے راکاپوشی، لیڈی فنگر پیک اور گولڈن پیک سمیت 11 چوٹیوں کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اُس وقت تو ہمیں ایگلز نیسٹ کا پتا ہی نہیں تھا، البتہ بعد کے دوروں میں مجھے ادھر جانے کا بھی موقع ملا۔ اس وقت تو ہم نے صرف قلعہ التت ہی پر اکتفا کیا اور اسے دیکھ کر واپس کریم آباد کا راستہ لیا۔</p>
<p>کریم آباد پہنچتے پہنچتے سورج غروب ہوگیا اور یہ ہماری ہنزہ میں آخری رات تھی۔ اگلے دن ہم نے واپسی کا قصد کیا۔ انڈے پراٹھے کا ناشتہ کرکے ہوٹل ہنزہ اِن سے چیک آؤٹ کیا۔ تھیلے کاندھوں پر لادے، پیدل لڑھکتے نیچے شاہراہ قراقرم پر گنیش بس اسٹاپ پر پہنچے اور گلگت جانے والی سواری کے انتظار میں بیٹھ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412204481136ec.jpg?r=122240'  alt='  کریم آباد اور عطا آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کریم آباد اور عطا آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم</figcaption>
    </figure></p>
<p>سڑک کے پار کھیت تھے، کھیتوں سے پرے گہرائی تھی اور گہرائی میں کہیں دریائے ہنزہ بہہ رہا تھا۔ دریا کے پار بھورے پہاڑوں کے پیچھے سفید راکاپوشی سر اٹھائے کھڑی تھی۔ دریا کے پرلے کنارے نگر کے پہاڑوں میں سے ایک اور دریا بھی آکر دریائے ہنزہ میں شامل ہوتا ہے۔ یہ وادی ہوپر کی طرف سے بہتا ہوا آتا ہے۔ وادی ہوپر اپنے گلیشیئر کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس وقت تو ہم گلگت واپس جارہے تھے، البتہ 30 سال بعد 2021ء میں مجھے ہوپر گلیشیئر دیکھنے کا بھی موقع ملا۔</p>
<p>کچھ ہی دیر میں گلگت جانے والی وین آگئی۔ ہم نے ہنزہ کی فضاؤں کو دوبارہ آنے کے وعدے کے ساتھ الوداع کہا اور گلگت روانہ ہوگئے۔ اگلے دن گلگت سے 18 گھنٹے سفر کرکے راولپنڈی اور پھر راولپنڈی سے دو دن کا سفر کرکے کراچی واپس پہنچ گئے۔ ہم کراچی پہنچ تو گئے تھے لیکن اپنا دل وہیں گلگت و ہنزہ میں چھوڑ آئے تھے۔ اب ہم ہنزہ سے مزید آگے پاک چین سرحد پر درّہ خنجراب تک جانا چاہتے تھے بلکہ ہمارا دل تو خنجراب سے بھی آگے چین جانے کے لیے مچل رہا تھا کیونکہ گلگت و ہنزہ میں ہمیں ایسے سیاح ملے تھے جنہوں نے ہمیں کچھ اور ہی داستانیں سنا دی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121917fde8448.jpg?r=122240'  alt='  شاہرہِ قراقرم کی سرنگ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہرہِ قراقرم کی سرنگ</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان اور چین کے درمیان شاہراہ قراقرم کی تعمیر کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا بلکہ ابھی تو یہ صرف پاکستانی حدود میں ہی مکمل ہوئی تھی، چینی حدود میں اس پر کام تو ابتدائی مراحل میں تھا۔ البتہ اس نامکمل راستے پر بھی دنیا بھر کے سیاحوں نے سفر شروع کردیے تھے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ، تبت کے دارالحکومت لہاسا یا پھر ہانگ کانگ سے سفر شروع کرنے والے سیاح پورے چین سے گزر کر سنکیانگ کے آخری شہر کاشغر پہنچتے۔ پھر آگے بڑھتے ہوئے دنیا کے بلند ترین خطے ’پامیر‘ کے برف زاروں سے گزرتے ہوئے درّہ خنجراب پہنچ کر پاکستان میں داخل ہوتے اور اپنے سفر کو مزید جاری رکھتے ہوئے پاکستان سے ایران، ترکیہ، یونان، یوگوسلاویہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ سے ہوتے ہوئے اپنی منزلوں پر جا پہنچتے۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے اس طرح کے سفر ممکن ہی نہیں تھے۔ ہم نے جب ان سیاحوں سے قراقرم کے پاربسنے والی دنیا، سنکیانگ، کاشغر اور اُرومچی کی داستانیں سنیں تو ہمارا دل بھی وہاں جانے کو مچل گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121933d577797.jpg?r=122240'  alt='  شاہراہِ قراقرم سے چین کو جاتا راستہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہراہِ قراقرم سے چین کو جاتا راستہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>کراچی واپس آتے ہی باسط، وسیم اور میں نے پہلی فرصت میں اپنے اپنے پاسپورٹ بنوائے اور بائی روڈ چین جانے کی تیاریوں میں لگ گئے۔ اس زمانے میں کراچی میں چین کا سفارت خانہ کینٹ اسٹیشن جانے والی سڑک پر ہوٹل مہران کے سامنے ہوا کرتا تھا۔ ہم ویزا لگوانے کے لیے گئے تو چینی ویزا آفیسر نے ہمیں یونیورسٹی سے ضمانتی خط لانے کو کہا۔ مجھے اور باسط کو این ای ڈی یونیورسٹی اور وسیم کو کراچی یونیورسٹی سے باآسانی لیٹر مل گئے۔ ہم نے چینی ویزا اپلائی کیا جس کی فیس ان دنوں شاید 50 روپے تھی یا کچھ بھی نہیں تھی۔ چند دن میں ہی ویزا لگ گیا اور جون 1987ء میں، باسط، وسیم اور میں ایک بار پھر شمال کے بلندوبالا پہاڑوں کی طرف جارہے تھے، لیکن اب ہماری منزل ان پہاڑوں سے آگے، قراقرم کے پار، کاشغر تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14122234ab762bb.jpg?r=122240'  alt='  1987ء میں چین کا ویزا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>1987ء میں چین کا ویزا</figcaption>
    </figure></p>
<p>پہلے کی طرح ہم ریل گاڑی کے ذریعے راولپنڈی پہنچے اور راولپنڈی سے نیٹکو کی بس میں شاہراہ قراقرم پر 18 گھنٹے کا سفر کرکے گلگت اور پھر ہنزہ پہنچ گئے۔ کریم آباد میں ایک دن قیام کرکے اگلے دن ہم نیچے گنیش اسٹاپ پر آگئے اور پاکستان کے آخری قصبے سُست کی بس کا انتظار کرنے لگے۔ سُست پہنچ کر ہمیں چین جانے والی گاڑی میں بیٹھنا تھا۔ نئی اور اجنبی منزلوں کا سوچ کر ہمارا دل ایک عجیب ہیجان میں مبتلا تھا۔</p>
<p>تھوڑی دیر بعد مقامی مسافروں اور ان کے اناپ شناپ سامان سے بھری ایک پرانی کھٹارا بس گلگت سے آنے والے راستے پر نمودار ہوئی اور چند جھٹکے لےکر ہمارے سامنے کھڑی ہوگئی۔ گنیش تک آنے والے یہاں اتر گئے اور آگے جانے والے نئے مسافر یہاں سے سوار ہوگئے۔ بس پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ پچھلے دروازے کے پاس مسافروں کے ٹرنک، بوریاں، کنستر اور گٹھڑیاں ایک ڈھیر کی صورت پڑی ہوئی تھیں۔ مجھے ایک کھڑکی والی سیٹ خالی مل گئی اور میں پھنس پھنسا کر اس میں فٹ ہوگیا۔ تھیلے کو میں نے سیٹ کے نیچے دھکیل دیا۔ باسط اور وسیم کو آخری سیٹ ملی۔ بس نے کچھ دیر وہیں گھر گھرانے کے بعد ایک جھری جھری لی اور حرکت میں آگئی۔ شاہراہِ قراقرم نے ایک طویل موڑ لیا۔ موڑ کے خاتمے پر دریائے ہنزہ کا پل آگیا۔ بس نے پل عبور کیا اور ہم دریا کے دوسرے کنارے پر رواں ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141221089d73295.jpg?r=122240'  alt='  ہنزہ کا علاقہ گنیش  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہنزہ کا علاقہ گنیش</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم دریائے ہنزہ کے بہاؤ کی مخالف سمت جا رہے تھے۔ دریا کے پار ایک پہاڑ سیدھی دیوار کی طرح کھڑا تھا اور اس کی ہزار فٹ اونچی منڈیر سے التت کا قلعہ جھانک رہا تھا اور یہاں سے گڑیا کا گھروندہ لگتا تھا۔ چند ہی ماہ پہلے تو ہم نے اس قلعے سے نیچے جھانکا تھا جہاں ہمیں شاہراہِ قراقرم ایک باریک لکیر اور اس پر چلنے والی گاڑیاں ننھے کھلونے سی محسوس ہوئی تھیں۔ التت قلعے کے پیچھے اُلتر گلیشیئر سے اٹھنے والے سفید بادل ڈھلوانوں سے پھسلتے ہوئے نیچے تک آرہے تھے اور فضا میں بیک وقت ایک خوش کن مگر ساتھ ہی اداس کردینے والا خوابناک اندھیرا پھیل رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیرمیں بارش شروع ہوگئی۔ بس کی کھڑکیوں میں نصب بڑے بڑے سلائڈنگ شیشے کھٹاک کھٹاک کرکے نیچے گرادیے گئے اور ان کی بیرونی سطح پر بارش کے قطرے آنسوؤں کی طرح لڑھکنے لگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14122058521681f.jpg?r=122240'  alt='  التت قلعے کے پیچھے اُلتر گلیشیئر سے اٹھنے والے سفید بادل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>التت قلعے کے پیچھے اُلتر گلیشیئر سے اٹھنے والے سفید بادل</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم شاہراہ قراقرام کی مزید بلندیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔ بس میں عطا آباد، ششکٹ، گلمت، پھسّو، مارخُن، گِرچہ اور سُست تک کے مقامی مسافر سوار تھے۔ یہ سب مقامی زبانوں گوجال، شینا، بروشسکی اور واخی میں مسلسل بولے جارہے تھے۔ میں کھڑکی سے ناک چپکائے باہر دیکھ رہا تھا۔ باہر پہاڑوں اور دریا کی رفاقت کو تو بارش نے دھندلا دیا تھا جبکہ بس کے اندر ایک باہمی شناسا دنیا آباد تھی۔ بارش کے قطروں کی لڑھکتی لہروں سے بھرے شیشوں کی وجہ سے یہ بس ہمیں پانی کے اندر تیرتی آبدوز لگ رہی تھی اور برساتی آنسوؤں والے اس سمندر کے پیچھے کہیں دور دریائے ہنزہ بہہ رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141218548d3a97e.jpg?r=122240'  alt='  قلعہ التت، بلتت اور دریائے ہنزہ کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قلعہ التت، بلتت اور دریائے ہنزہ کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>’آپ کہاں جارہے ہیں جی؟‘ میرے برابر میں بیٹھے چمکتی آنکھوں والے ایک مقامی شخص نے مجھ سے سوال کیا۔</p>
<p>’سُست‘ میں بولا۔’اور پھر آگے خنجراب‘۔</p>
<p>اُس کی آنکھیں مزید چمکنے لگیں۔’میرا نام نذیر ہے جی‘ وہ بولا۔ ’میں اُدھر سست میں دکان کرتا ہوں‘۔</p>
<p>’میرا نام عبیداللہ ہے۔ پیچھے میرے دوست ہیں باسط اور وسیم۔ ہم کراچی سے آئے ہیں‘۔ میں نے مختصراً بتایا۔</p>
<p>’کراچی سے!۔۔۔ ہو شاباشے‘ وہ اپنی سیٹ پراچھل سا گیا۔’بڑالمبا سفر کیا جی ’۔</p>
<p>پھر اپنا چہرہ میرے قریب لاکر بولا، ’اُدھر سست میں ہوٹل وغیرہ کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اُدھر میرے رشتے داروں کے ہوٹل ہیں، سب اپنے آدمی ہیں‘۔</p>
<p>میں نے اسے بتایا کہ میں کراچی سے یہاں تک تقریباً سارا پاکستان عبور کرکے پہنچا ہوں اور مجھے ہر جگہ اپنے ہی آدمی ملے ہیں۔ اس ملک میں سب اپنے آدمی ہیں اس لیے میں بالکل پریشان نہیں ہوں۔</p>
<p>بارش کی وجہ سے بس کے شیشے دھندلے ہوچکے تھے اور اس رم جھم اندھیرے نے بس کی دنیا کو بھی نیم تاریک کردیا تھا۔ ہم عطاآباد کے پاس سے گزر رہے تھے۔ اس وقت تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آج سے 24 سال بعد اس جگہ زلزلہ آئے گا، پہاڑ ٹوٹ کر دریائے ہنزہ میں گرے گا، دریا کا بہاؤ رک جائے گا اور شاہراہِ قراقرم گہرے پانیوں میں ڈوب جائے گی۔ 4 جنوری 2010ء کا دن عطاآباد والوں کے لیے قیامت سے کم نہیں تھا۔ اس دن جب یہاں ایک پہاڑ ٹوٹ کر دریا میں گرا تھا تو اس میں جہاں 19 افراد ہلاک ہوئے وہیں شاہراہ قراقرم کا 24 کلومیٹرز کا حصہ بھی ملبے میں دب گیا تھا اور دریا کا بہاؤ بھی پانچ مہینے کے لیے رک گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141220136aeca0f.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد میں پہاڑ گرنے کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عطاآباد میں پہاڑ گرنے کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>بہاؤ رک جانے کے باعث پانی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف بڑھتا چلا گیا اور کچھ ہی دنوں میں ایک طویل جھیل کی شکل اختیار کرلی۔ اس جھیل کی وجہ سے میلوں علاقہ زیرِآب آگیا۔ جھیل میں نہ صرف شاہراہ قراقرم ڈوبی بلکہ عطاآباد بھی ڈوبا اور ہزاروں افراد بھی بے گھر ہوئے جبکہ اس جھیل کا نام عطاآباد جھیل پڑ گیا۔ آج ہنزہ کریم آباد سے 30 کلومیٹرز آگے آئیں تو نیلے پانی کی یہ سمندر نما جھیل سامنے آجاتی ہے۔ عطاآباد جھیل 21 کلومیٹرز طویل اور ساڑھے تین سو فٹ سے زیادہ گہری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/1412200157b6b1a.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد جھیل ساڑھے تین سو فٹ گہری ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عطاآباد جھیل ساڑھے تین سو فٹ گہری ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پہاڑی علاقوں میں دریا تیزی کے ساتھ بلندیوں کی طرف سے نیچے اترتے ہیں۔ انہی بلندیوں کے باعث پہاڑی دریاؤں کا پانی تیزی سے نیچے کی طرف لپکتا ہوا پاکستان کے میدانی علاقوں میں داخل ہوتا ہے۔ جب دریائے ہنزہ کے راستے میں پہاڑ گرا تو پانی رک گیا تھا اور اس کی سطح آہستہ آہستہ بلند ہونا شروع ہوئی۔ یہاں پانی کے ایک انچ بلند ہونے کا مطلب پیچھے پھیلاؤ میں کئی میٹر پھیل جانا ہوتا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے پانی چڑھتا رہا، پیچھے وادی میں بھی اس کا پھیلاؤ بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ وہ پورا پانی تقریباً 20 کلومیٹرز کے علاقے میں پھیل گیا۔ یہ پانی اس وقت تک چڑھتا رہا جب تک کہ وہ دریا میں گرنے والے پہاڑ کے ملبے کو عبور کرنے کے قابل نہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121944e936cb5.jpg?r=122240'  alt='  جیسے جیسے پانی بڑھتا گیا اس نے لوگوں کو یہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جیسے جیسے پانی بڑھتا گیا اس نے لوگوں کو یہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>نتیجتاً ایک ایسی طویل جھیل نمودار ہوئی کہ جس کا پاٹ باقی دریا سے کئی گنا زیادہ وسیع تھا۔ پانی کے اس بلندی پر آنے کی وجہ سے پیچھے کئی گاؤں بھی ڈوبے اور شاہراہ قراقرم بھی اس میں غائب ہوگئی۔ اگلے 5 سال یہاں کے باسیوں کے لیے کڑی آزمائش تھے کیونکہ یہاں سے گزرنے کا بس ایک ہی ذریعہ رہ گیا تھا۔ اب مال و اسباب سمیت صرف کشتیوں کے ذریعے ہی وادی کے اگلے حصوں تک پہنچنا ممکن تھا۔ پھر یہاں سے آگے وادی کے نشیبی علاقوں کے لیے بھی یہ خطرہ منڈلا رہا تھا کہ اگر دریا کے راستے میں گرے پہاڑ کا ملبہ کسی وقت پانی کے زور سے اچانک ہٹ گیا تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سیلابی ریلہ آگے والے علاقوں کے لیے بھی تباہی لا سکتا تھا لیکن اللہ کی مہربانی سے ایسا نہ ہوا اور ایک دن دریا کے پانی نے گرے ہوئے پہاڑ کے ملبے کو آہستگی سے عبور کیا اور آگے کی طرف سکون سے بہنے لگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121922e08f8a3.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد جھیل میں کشتیوں سے نقل و حمل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عطاآباد جھیل میں کشتیوں سے نقل و حمل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141219277667f76.jpg?r=122240'  alt='  پہاڑ گرنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے یہاں سے گزرنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پہاڑ گرنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے یہاں سے گزرنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>جب دریا میں پہاڑ گرا تھا اور پانی بھرنا شروع ہوا تھا تو جو لوگ صدیوں سے یہاں رہ رہے تھے انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اس صورت میں کیا ہوتا ہے۔ جب پانی پھیلتا ہے تو سب کچھ نگل جاتا ہے۔ ہر چیز اس کے اندر ڈوب جاتی ہے۔ حکومت نے اعلان کردیا کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل جائیں کیونکہ یہ سب پانی میں ڈوب جائیں گے۔ لوگوں کو سرکار کی طرف سے متبادل جگہیں فراہم کی گئیں تاکہ وہ وہاں جا کر آباد ہوسکیں۔ انہوں نے اپنے ہرے بھرے باغات، آباد مکانوں اور آبائی قبرستانوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چھوڑا اور رفتہ رفتہ سب یہاں سے کوچ کرگئے۔ آج یہاں آنے والے سیاح عطاآباد جھیل کی دلکشی میں کھو کر رہ جاتے ہیں لیکن انہیں اس المیے کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ جس سے یہاں کے لوگ گزرے۔ ان لوگوں کو تو یہاں اپنا سب کچھ پانی میں ڈوبتا چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121857da24df1.jpg?r=122240'  alt='  رفتہ رفتہ ڈوبتا عطاآباد  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رفتہ رفتہ ڈوبتا عطاآباد</figcaption>
    </figure></p>
<p>شاہراہ قراقرم کو دوبارہ رواں کرنے کے لیے چین کی مدد سے پہاڑوں کے اندر چار حصوں میں 8 کلومیٹرز طویل سرنگیں بھی تعمیر کی گئیں جو خود ایک عجوبے سے کم نہیں۔ ستمبر 2015ء میں ان سرنگوں کا افتتاح ہوا اور زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر چل پڑی۔ آج عطاآباد جھیل اپنے خوبصورت فیروزی رنگ کے باعث ایک ایسا حسین و دلفریب منظر پیش کرتی ہے کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ وہ علاقہ کہ جہاں اس جھیل کی تشکیل سے پہلے لوگ دائیں بائیں دیکھے بغیر اونگھتے ہوئے گزر جاتے تھے، اب یہاں ان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ اب یہ جگہ دنیا کی خوبصورت ترین سیر گاہ بن گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/141219075eaa9b1.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد کی سیر کو آئے سیاح اس جھیل کے المیے سے ناواقف ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عطاآباد کی سیر کو آئے سیاح اس جھیل کے المیے سے ناواقف ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/14121913da7347c.jpg?r=122240'  alt='  عطاآباد جھیل اور شاہراہ قراقرم کی سرنگ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عطاآباد جھیل اور شاہراہ قراقرم کی سرنگ</figcaption>
    </figure></p>
<p>میلوں وسعت میں پھیلا ہوا یہ خوبصورت نیلگوں پانی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں، اس کے کنارے پر بنے عالیشان ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں، رنگ برنگی کشتیوں میں جھیل کی سیر کرتے ہیں، کناروں پر چہل قدمی کرتے ہیں اور یہاں سے خوش ہوکر واپس جاتے ہیں۔ یہاں گزارے گئے وقت کو وہ وہ زندگی کے یادگار لمحات سمجھتے ہیں۔ بہت کم ہی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس جھیل کے نیچے بہت کچھ ایسا دفن ہے کہ جس کے لیے یہاں والوں نے آنسو بہائے تھے۔ لیکن یہ تو میں نے کئی سال بعد کی بات کردی۔ اِس وقت تو ہم ایک صحیح سلامت شاہراہ قراقرم پر سفر کررہے تھے اور اب ششکٹ کا اسٹاپ آنے والا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218629</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jan 2024 10:12:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/1415083057b6b1a.jpg?r=150835" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/1415083057b6b1a.jpg?r=150835"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/1414582753f2b0b.jpg?r=150835" type="image/jpeg" medium="image" height="1000" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/1414582753f2b0b.jpg?r=150835"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: ہنزہ کا قدیم قلعہِ بلتت (بارہویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214255/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;گھنٹہ بھر مزید چڑھائی کے بعد کریم آباد آگیا۔ ہم ’ویلکم ٹو ہنزہ اِن ہوٹل‘ کے بورڈ کے سامنے کھڑے ہوکر ہانپنے لگے۔ ہمارے دائیں طرف بہت اوپر، گھنے سبز درختوں میں گھرا ہوا والی ہنزہ کا خوبصورت محل دکھائی دے رہا تھا اور سامنے ہنزہ اِن ہوٹل کی عمارت تھی جو دو حصوں میں تقسیم ہوکر پگڈنڈی کے دونوں طرف موجود تھی۔ ایک طرف رہائشی کمرے اور دوسری طرف ریسٹورنٹ تھا۔ ریسٹورنٹ دائیں طرف کافی اوپر جبکہ رہائشی حصہ بائیں طرف اتنا نیچے تھا کہ اس کی چھت اور راستہ ہم سطح ہورہے تھے۔ دونوں عمارتوں کا رخ راکاپوشی کی طرف تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کمرہ چاہیے صاحب؟‘ ایک طویل قامت اور نرم نقوش والا بوڑھا ہنزہ اِن ریسٹورنٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جی بالکل چاہیے‘، میں اپنی پھولی سانس پر بامشکل قابو پاکر کہا اور تھیلا کندھوں سے اتار کر اس کے حوالے کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک کے دوسری طرف نیچے والی عمارت میں ہمیں کمرہ ملا جہاں ایک قطار میں چار کمرے تھے جن میں سے تیسرا ہمارے حصے میں آیا۔ دروازوں کے سامنے والی راہداری ایک بلند چبوترے کی مانند تھی جس کے فوراً بعد والی ڈھلوان نیچے دریائے ہنزہ تک چلتی چلی گئی تھی اور پھر دریا کی تہہ سے گزر کر دوبارہ ہزاروں فٹ بلند ہوتی ہوئی راکاپوشی کی چوٹی تک پہنچ رہی تھی۔ راکاپوشی کی سفید چوٹی اس ہوٹل کے کمروں کے عین سامنے ہمہ وقت ایسے موجود تھی جیسے وہ بھی اسی ہوٹل میں مقیم ہو۔ ہر دروازے اور ہر کھڑکی میں اس کا وجود ایک تصویر کی طرح موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/24162306650740b.jpg?r=162331'  alt='  ہوٹل ہنزہ اِن کے سامنے&amp;mdash;تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہوٹل ہنزہ اِن کے سامنے—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس ہوٹل کانام ہنزہ اِن کے بجائے راکاپوشی اِن ہونا چاہیے‘، میں نے سوچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات آئی تو ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ ایسا سناٹا جو دل کی دھڑکن کی گونج بڑھاتا ہے اور پھر آدمی خود اپنے آپ سے ڈرنے لگتا ہے۔ اس سناٹے میں کہیں دوردیس سے آتی ہوئی ایک مدھم سی گرج بھی شامل تھی جو شاید دور گہرائی میں بہتے دریائے ہنزہ کی آواز تھی۔ اس مدھم گرج نے ایک لوری کا کام کیا اور کچھ دیر میں ہمیں نیند کی وادیوں میں دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح میں جلدی اٹھ گیا۔ باسط، وسیم اور اشفاق نیند کی وادیوں میں ہنوز کہیں دور بھٹک رہے تھے اس لیے کریم آباد میں چہل قدمی کے لیے میں اکیلا ہی باہر نکل آیا۔ سورج بلند ہوا اور اس کی زرد شعائیں راکاپوشی کی برف سے پھسل کر التر گلیشیئر سے ٹکرائیں اور ہنزہ کے اندر پھیل گئیں۔ ہوٹل کی دونوں عمارتوں کے درمیان سے گزرنے والا راستہ مزید آگے جارہا تھا جہاں اس کے اطراف میں دکانیں، ہوٹل اور ہنزہ باسیوں کے گھر تھے۔ راستے کے دونوں اطراف تیر کی طرح سیدھے ایستادہ سفیدے کے اونچے اونچے درخت تھے۔ دائیں طرف سے سیاہی مائل ریت ملے پانی کی ایک نالی تیزی سے بہتی ہوئی نیچے آرہی تھی۔ یہ نالی ’قل‘ کہلاتی ہے اور کہتے ہیں کہ ہنزہ والوں کی قابلِ رشک صحت کا راز معدنیات کی آمیزش سے کالے پڑتے اسی پانی میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی ہنزہ ایک قدرتی ریفریجریٹر ہے کیونکہ یہاں کھانے پینے کی چیزیں جلدی خراب نہیں ہوتیں۔ ہم اپنے شہروں میں جن اشیا کو زیادہ عرصے تک محفوظ کرنے کے لیے ریفریجریٹر میں رکھتے ہیں، ہنزہ والے انہیں اٹھا کر صرف طاق پر رکھ دیتے ہیں اور جب چاہیں انہیں اٹھا کر استعمال کرلیتے ہیں۔ اسی طرح شہروں میں مشروبات کی جن بوتلوں کو فریزر میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے، یہاں وہ ٹھنڈے پانی کی قل میں پڑی ہوئی خود ہی ٹھنڈی ہورہی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/2416231035e002d.jpg?r=162331'  alt='  وادی ہنزہ قدرتی ریفریجریٹر ہے، یہاں کھانے پینے کی چیزیں جلدی خراب نہیں ہوتیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی ہنزہ قدرتی ریفریجریٹر ہے، یہاں کھانے پینے کی چیزیں جلدی خراب نہیں ہوتیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پگڈنڈی مزید آگے بڑھتی ہوئی کچے پکے مکانوں میں گم ہورہی تھی۔ دور بلندی پر تمام گھروں سے اوپر اور اُلتر گلیشیئر کی برفانی بلندیوں سے کچھ نیچے ہنزہ کا قدیم قلعہ بلتت دکھائی دے رہا تھا۔ یہ قلعہ ہنزہ کی علامت ہے۔ پرنس کریم آغا خان کی عقیدت میں اس گاؤں کا نام تو بلتت سے بدل کر ’کریم آباد‘ کردیا گیا ہے لیکن قلعہ بلتت ابھی تک قلعہ بلتت ہی ہے۔ میں چھوٹی چھوٹی دکانوں اور چائے خانوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ہنزہ کی اس علامت کی طرف بڑھنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241623013e9df3e.jpg?r=162331'  alt='  گنیش اسٹاپ کریم آباد&amp;mdash;تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گنیش اسٹاپ کریم آباد—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنزہ کے مرد، عورتیں اور بچے میرے آگے پیچھے، نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے کی طرف آ اور جا رہے تھے۔ اچانک ان چہروں میں مجھے ایک یورپی چہرہ نظر آیا۔ یہ ہماری سیاح برادری سے لگتا تھا۔ میں نے ’ہیلو‘ کہہ کر اپنائیت کا اظہار کیا لیکن اگلے ہی لمحے شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ اس نے میری ہیلو کا جواب ایک زور دار ’السلام علیکم‘ سے دیا۔ میں نے ٹھٹک کر جواباً ایک زوردار ’وعلیکم اسلام‘ کیا۔ مصافحہ کے بعد کچی پکی سی انگریزی میں گفتگو ہوئی کیونکہ وہ جرمن تھا اور میں پاکستانی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہنزہ بہت ونڈر فل ہے‘، وہ چاروں طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’میں گزشتہ 8 ماہ سے یہاں کرائے پر ایک مکان لے کر رہ رہا ہوں مگر میرا دل ابھی تک نہیں بھرا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا اور اس بات پر بےحد مسرور تھا کہ وہ ہنزہ میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میں چین کی طرف سے شاہراہِ قراقرم پر سفر کرتا ہوا ادھر تک آیا تھا مگر ہنزہ سے مزید آگے جانے کی ہمت اپنے اندر نہیں پائی اس لیے جرمنی سے مزید خرچ منگوا کر ابھی تک یہیں ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے چہرے سے مکمل آسودگی ٹپک رہی تھی اور میں بھی اس سے مل کر بہت آسودہ ہوا۔ میں ہنزہ کی علامت دیکھنے آگے جا رہا تھا مگر اس سے تو یہیں ملاقات ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241622571393c74.jpg?r=162331'  alt='  والیانِ ہنزہ بلتت کے قلعے میں رہائش پذیر ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;والیانِ ہنزہ بلتت کے قلعے میں رہائش پذیر ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیدے کے درختوں میں گھری اور گول پتھروں سے اٹی پگڈنڈی پر ایک دوراہا آگیا۔ ایک راستہ دکانوں اور مکانوں کے بیچ سیدھا سامنے چلا گیا تھا اور دوسرا ڈھلوان کی صورت اوپر اٹھ رہا تھا۔ میں اوپر والے راستے پر چل دیا۔ اس راستے کے شروع میں ایک اور شاخ نکل کر دائیں طرف کو اوپر بڑھ رہی تھی۔ اس کچے راستے پر جیپ کے ٹائروں کے نشانات تھے۔ یہ راستہ اوپر سابق والی ہنزہ کے جدید محل کی طرف جارہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اپنے راستے پر مزید آگے بڑھا جو دائیں طرف ایک بلند پتھریلی دیوار کی طرف گھوم گیا۔ اس دیوار میں ایک بلند محراب نما راستہ کسی موکھے کی مانند کھلا ہوا تھا۔ میں نے اس موکھے میں سے نکل کر دوسری طرف جھانکا تو ہڑبڑا گیا۔ یہاں تو جہان دیگر تھا۔ راستہ یہاں سے آگے میلوں تک بل کھاتا ہوا ایک وسیع و عریض وادی میں اتر رہا تھا۔ دور نیچے ایک پولو گراؤنڈ میں نظر آرہا تھا۔ وہ ایک وسیع میدان تھا مگر یہاں سے زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ محسوس ہوتا تھا۔ پولو گراؤنڈ کی دائیں طرف کھیت تھے اور کھیتوں کے کنارے پر کچھ بلندی پر ایک قدیم اور پُراسرار سی عمارت نظر آرہی تھی۔ وہ سارا علاقہ ہنزہ کا قدیم گاؤں’التت’ تھا اور یہ قدیم پُراسرار عمارت التت کا قلعہ تھی یعنی والی ہنزہ کا پہلا محل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محل ایک ایسی جگہ بنا ہوا ہے کہ جہاں سے ایک طرف پورا التت نظر آتا تھا اور دوسری طرف دریائے ہنزہ کے کنارے چین کی طرف سے آنے والا راستہ (جو اب شاہراہِ قراقرم ہے) نگاہوں کے سامنے تھا۔ قلعہ التت کے بعد والی ہنزہ بلتت کے قلعے میں منتقل ہوگئے کیونکہ اس محل کا وقوع زیادہ بہتر تھا۔ یہاں سے التت اور بلتت دونوں پر نظر رکھی جاسکتی تھی اور ساتھ ہی چین اور گلگت سے آنے والے راستے بھی نگاہ میں رہتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب والی ہنزہ کی ولایت عروج پر تھی۔ ہر سال کھیتوں میں بوائی کی ابتدا والی ہنزہ اپنے محل کے جھرو کے سے پہلا بیج پھینک کر کرتا اور پھر ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوتا تھا لیکن جب ریاست ہنزہ پاکستان میں ضم ہوگئی تو والی ہنزہ بھی بس ایک معزز شخصیت کے طور پر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/2416225113926d7.jpg?r=162331'  alt='  قلعہِ التت کے بعد ہنزہ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قلعہِ التت کے بعد ہنزہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی ہنزہ یورپ باسیوں میں ایک جنتِ ارضی کے طور پر معروف ہے اور والی ہنزہ اس جنت کا شہزادہ کہلاتا تھا۔ اب اس کا تیسرا محل ایک ایسی جگہ پر بنا ہوا ہے جہاں سے صرف گلگت کی طرف سے آنے والی شاہراہ قراقرام نظر آتی ہے۔ اس نئے محل کی تعمیر کے بعد التت اور بلتت کے بوسیدہ قلعے اب صرف جنوں کی آماجگاہ محسوس ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/24162314c52d0c2.png?r=162331'  alt='  والیانِ ہنزہ کا پرچم  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;والیانِ ہنزہ کا پرچم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں التت اور بلتت کے درمیان کھڑا تھا۔ التت مجھے اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں، ابھی نہیں‘، میں نے سوچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت بلتت قریب تھا۔ میں واپس پیچھے آیا دوبارہ دوراہے پر پہنچ کر دوسرے راستے پر چل دیا۔ دکانوں اور مکانوں سے آگے ایک میدان تھا۔ میدان کے دائیں طرف ایک اسکول تھا اور اس سے آگے چند مکانات کی چھتوں کے اوپر قلعہ بلتت نظر آرہا تھا۔ راستے کے موڑ پر دستکاری کی ایک چھوٹی سے دکان تھی جسے عورتیں چلا رہی تھیں۔ وہ سر پرخاص قسم کی کڑھائی والی رنگین ٹوپیاں پہنے اور جھالروں والے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھیں اور اسی طرح کی چیزیں وہ فروخت بھی کررہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/2416222562033ab.jpg?r=162331'  alt='  التت سے بلتت جانے والا راستہ&amp;mdash;تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;التت سے بلتت جانے والا راستہ—تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں ڈھلوان راستے پر اوپر بڑھتا گیا اور جیسے ہی مڑا بلتت کا قلعہ سامنے آگیا۔ میں کریم آباد کے اوپر اور قلعے کے سامنے آچکا تھا۔ یہاں سے اُلتر کی برف قریب محسوس ہوتی تھی۔ میں نے قلعے کے سامنے کھڑے ہوکر پیچھے دیکھا۔ قلعے کے دامن میں کریم آباد پھیلا ہوا تھا اور راکاپوشی کی سفید چوٹی اس سارے منظر کو جھک کر دیکھ رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلعے کا دروازہ اونچا تھا اور اس پر ایک بڑا تالا لٹک رہا تھا۔ میں قلعے کی فصیل کے ساتھ ساتھ گھومتا ہوا اس کے پیچھے آیا اور ٹھٹک گیا۔ میرے سامنے ہزاروں فٹ گہری کھائی تھی۔ میں گھبرا کر کچھ پیچھے ہوا۔ اُلترگلیشیئر سے بہہ کر آنے والا نالا دور ایک آبشار کی طرح گرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ قلعے کے اردگرد پھیلی خاموشی میں اس آبشار کی دبی دبی سرسراہٹ بسی ہوئی تھی۔ اُلتر کی بے ہنگم چوٹیاں ایک دیوار کی طرح تھیں اور اس دیوار کے خاتمے پر جو وسیع ڈھلوان تھی اس پر پورا التت آباد تھا۔ التت کے مکانات سرسبز کھیتوں اور باغوں کے گھیرے میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241622453298aca.jpg?r=162331'  alt='  قلعہِ بلتت کا منفرد فنِ تعمیر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قلعہِ بلتت کا منفرد فنِ تعمیر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں ایک محویت کے عالم میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کہ اچانک کہیں سے ایک چھوٹا سا لڑکا نکل کر سامنے آگیا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک پوٹلی نکالی، اسے کھول کر چند سیاہی مائل سرخ پتھر نکالے اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر میرے سامنے کر دیے اور کہا ’بابو صاحب، یہ اچھا پتھر ہے۔ خریدو گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اس کی ہتھیلی سے کچھ گول پتھر اٹھائے۔ یہ ہنزہ میں پایا جانے والا یاقوت تھا۔ میں نے ایک ذرا بہتر ساخت کے پتھر کا دام پوچھا تو وہ بولا، ’100 روپے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’50 روپے‘ میں نے کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ٹھیک ہے‘، وہ بولا اور پتھر میرے حوالے کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;50 روپے کا نوٹ اور پوٹلی جیب میں ڈال کر وہ وہیں ٹہلنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے قلعے پر آخری نظر ڈالی اور واپسی کے لیے مڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنزہ اِن ہوٹل کا ریسٹورنٹ ایک بوسیدہ سے ہال میں تھا اور اس میں داخلے کا ایک ہی دروازہ تھا۔ دروازے کے برابر میں دیوار پر کسی نے بھدے حروف میں ’Welcome‘ لکھ دیا تھا۔ ہم چاروں دروازہ کھول کرہال میں داخل ہوگئے۔ دروازے کا اسپرنگ بردار پٹ واپس آکر چوکھٹ سے ٹکرایا اور کھٹاک کھٹاک کی آوازیں نکالتا ہوا کچھ دیر تک کاننپے کے بعد خاموش ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہال ایک تنگ سے مستطیل کمرے پر مشتمل تھا جس کا بیشتر حصہ اس کے طول و عرض سے کچھ ہی کم سائز کی ایک میز نے گھیر رکھا تھا۔ میز سے بچا ہوا حصہ کرسیوں نے گھیرا ہوا تھا۔ میز پر ریگزین منڈھی ہوئی تھی جس کا رنگ غالباً کسی زمانے میں سبز رہا ہوگا۔ داخلی دروازے کے سامنے والی دیوار میں ایک اور دروازہ تھا جہاں ہوٹل کا کچن تھا۔ اندر کی فضا باورچی خانے کی ہمسائیگی کے باعث گرم تھی۔ دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آوازیں سن کر ہوٹل کے بزرگ منیجر نے باورچی خانے سے سر نکال کر ہال میں جھانکا اور ہمیں دیکھ کر خوش دلی سے مسکرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241622301c7efa3.jpg?r=162331'  alt='  التت کا فضائی منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;التت کا فضائی منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک کی طرف جاتی دیوار میں چھت تک کھڑکی تھی اور اس کی مخالف دیوار پرایک شوکیس موجود تھا۔ یہ شوکیس بھانت بھانت کی دلچسپ اشیا سے بھرا ہوا تھا۔ مختلف برانڈ کے بسکٹ، جام جیلی کی بوتلیں، کافی اور چائے کے پیکٹ، کارن فلیکس کے ڈبے اور نہ جانے کیا الا بلا تو تھا ہی، ساتھ ہی انٹرنیشنل سیاحوں کی آمد کے لاتعداد ثبوت بھی اس کے مختلف خانوں سے جھانک رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم یہاں پہلے سیاح تو تھے نہیں، ہزاروں آچکے ہوں گے۔ ان ہزاروں میں سے شاید کچھ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ جس طرح وہ ہنزہ اِن ہوٹل کو یاد رکھیں گے اسی طرح ہنزہ اِن بھی اُنہیں یاد رکھے۔ چنانچہ اس خواہش کے تحت آسٹریلیا کے کسی سیاح نے سڈنی ہاربر برج کی رنگین تصویر شیشے پر اندرکی طرف سے چپکادی تھی تو کسی کوہ پیما نے اُلتر گلیشیئر تک جانے والے ٹریک کی تفصیلات لکھ کر چسپاں کردی تھیں۔ ایک یورپی حسینہ نے البتہ یہاں اپنی یاد برقرار رکھنے کے لیے سب سے کامیاب کوشش کی تھی۔ اس نے شوکیس میں خود اپنی ہی خوبصورت تصویر سجادی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوکیس کے نچلے خانے میں گلگت اور ہنزہ سے متعلق کچھ انگریزی اور اردو کتابیں رکھی تھیں۔ ان کتابوں کے جابہ جا حاشیہ زدہ صفحات میلے اور بوسیدہ ہوچکے تھے۔ تیسری دیوار پر لاہور کے کسی مصور نے ایک بڑی سی پینٹنگ آویزاں کردی تھی جس میں اس نے والی ہنزہ کے نئے محل کی مصوری کی تھی۔ یہ ڈائننگ ہال سے زیادہ سیاحوں کا عجائب گھر معلوم ہورہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈے پراٹھے کا ناشتہ کرکے ہم باہر نکل آئے۔ راکاپوشی اور اُلتر کی چوٹیوں سے بادلوں کے سفید مرغولے اٹھ رہے تھے۔ ہم راستے کی بُھربھری مٹی پر جوتے مارتے ہوئے اوپر کی طرف چل دیے۔ کریم آباد کے گاؤں سے نکل کر یہ راستہ ایک اونچی دیوار میں بنی ہوئی بلند محراب میں داخل ہوتا ہے۔ محراب کی دوسری طرف یہ ایک ڈھلوان پر اترتا دور گہرائی میں ہنزہ کے قدیم گاؤں التت تک چلا جاتا ہے۔ ہم محراب کے اندر سے گزر کر دوسری طرف نکلے تو نیچے پہاڑ کی ڈھلوان پر پھیلا التت کا گاؤں ہمارے سامنے آگیا۔ راستہ بل کھاتا ہوا نیچے اتررہا تھا۔ یہاں سے اُلتر کا درمیانی حصہ ایک برفانی شہر کی مانند نظر آتا تھا۔ اُلتر سے بہہ کر آنے والا نالا یہاں شور مچاتا ایک آبشار کی صورت گررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/24162235b9d4212.jpg?r=162331'  alt='  التت کا گاؤں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;التت کا گاؤں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم کچھ اور نیچے اترے تو نالے کا چوبی پل آگیا۔ پل کے برابر میں ایک درخت کے نیچے 3 بوڑھے بیٹھے گپے لگا رہے تھے۔ پل کے نیچے نالے کا پانی پتھروں پر سر پٹکتا بہے جارہا تھا۔ راستہ اب نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ کچھ دور چلے تو التت کے سیڑھی نما کھیت شروع ہوگئے جن کی منڈیروں پر سفیدے کے تیر کی مانند سیدھے درختوں کی پھننگیں آسمان کے اندر کھبی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ کچھ آگے چل کر نالے نے اپنا رخ تبدیل کرلیا اور دائیں طرف سفیدے کے جنگل میں کھو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیتوں کے اوپر اور درختوں کے اندر عجیب وضع کے رنگ برنگے اور خوبصورت پرندے اڑ رہے تھے۔ ایسے پنچھی جو آج سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کالے پیلے رنگوں اور لمبی دم والا ایک بڑا خوبصورت پرندہ فضا میں تیرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے قریب آتا محسوس ہوتا مگر اگلے ہی لمحے واپس جاتا نظر آتا۔ کھیتوں کا سلسلہ ختم ہوا تو راستہ التت کے گھروں میں داخل ہوکر ایک گلی بن گیا۔ پولو گراؤنڈ کے اطراف میں میچ دیکھنے والوں کے لیے سیڑھی نما نشستیں بنی ہوئی تھیں اور اس کے ایک طرف اسٹیج نما چبوترہ تھا۔ پولو گراؤنڈ کے دائیں طرف کھیت تھے اور کھیتوں کے پار التت کا قدیم قلعہ نظر آرہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/12/567d35e36f44c.jpg'  alt='  التت کا قدیم قلعہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;التت کا قدیم قلعہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑا آگے جاکر دیوار میں ایک بڑا سا گیٹ نظر آیا۔ اس احاطے کے اندر زمین خودرو گھاس کے مہین سبز ریشوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور اس پر خوبانیوں کے سبز درختوں اور کچے پھلوں والی ٹہنیوں نے سائبان تانے ہوئے تھے۔ یہاں ایک لڑکا اچانک کہیں سے نکل کر ہمارے قریب آیا اور کہا ’قلعہ دیکھنے کے لیے آپ کو ٹکٹ لینا پڑے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’وہ چوکیدار کا گھر ہے، پہلے ادھر چلیں‘۔ اس نے باغ کے کنارے پر بنی ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم کوٹھری کے قریب پہنچے ہی تھے کہ گھر کے پیچھے سے ایک سفید جھبرا کتا بھونکتا ہوا برآمد ہوا اور ہماری طرف لپکا مگر پھر لڑکے کی ایک ہی گھرکی سے دور ہٹ کر کھڑا ہوگیا اور ہولے ہولے غرانے لگا۔ ہم کوٹھری کے اندر داخل ہوگئے۔ سامنے ایک عورت ہنزہ کا مخصوص لباس اور ٹوپی پہنے بیٹھی سبزی کاٹنے میں مشغول تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ مسکرائی۔ یہ چوکیدار کی بیوی تھی۔ میں نے اسے ٹکٹ کے پیسے دیے تو اس نے قلعے کی چابیاں لڑکے کے حوالے کردیں۔ یہ لڑکا قلعے کا گائیڈ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a> پڑھیے۔</strong></p>
<hr />
<p>گھنٹہ بھر مزید چڑھائی کے بعد کریم آباد آگیا۔ ہم ’ویلکم ٹو ہنزہ اِن ہوٹل‘ کے بورڈ کے سامنے کھڑے ہوکر ہانپنے لگے۔ ہمارے دائیں طرف بہت اوپر، گھنے سبز درختوں میں گھرا ہوا والی ہنزہ کا خوبصورت محل دکھائی دے رہا تھا اور سامنے ہنزہ اِن ہوٹل کی عمارت تھی جو دو حصوں میں تقسیم ہوکر پگڈنڈی کے دونوں طرف موجود تھی۔ ایک طرف رہائشی کمرے اور دوسری طرف ریسٹورنٹ تھا۔ ریسٹورنٹ دائیں طرف کافی اوپر جبکہ رہائشی حصہ بائیں طرف اتنا نیچے تھا کہ اس کی چھت اور راستہ ہم سطح ہورہے تھے۔ دونوں عمارتوں کا رخ راکاپوشی کی طرف تھا۔</p>
<p>’کمرہ چاہیے صاحب؟‘ ایک طویل قامت اور نرم نقوش والا بوڑھا ہنزہ اِن ریسٹورنٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔</p>
<p>’جی بالکل چاہیے‘، میں اپنی پھولی سانس پر بامشکل قابو پاکر کہا اور تھیلا کندھوں سے اتار کر اس کے حوالے کردیا۔</p>
<p>سڑک کے دوسری طرف نیچے والی عمارت میں ہمیں کمرہ ملا جہاں ایک قطار میں چار کمرے تھے جن میں سے تیسرا ہمارے حصے میں آیا۔ دروازوں کے سامنے والی راہداری ایک بلند چبوترے کی مانند تھی جس کے فوراً بعد والی ڈھلوان نیچے دریائے ہنزہ تک چلتی چلی گئی تھی اور پھر دریا کی تہہ سے گزر کر دوبارہ ہزاروں فٹ بلند ہوتی ہوئی راکاپوشی کی چوٹی تک پہنچ رہی تھی۔ راکاپوشی کی سفید چوٹی اس ہوٹل کے کمروں کے عین سامنے ہمہ وقت ایسے موجود تھی جیسے وہ بھی اسی ہوٹل میں مقیم ہو۔ ہر دروازے اور ہر کھڑکی میں اس کا وجود ایک تصویر کی طرح موجود تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/24162306650740b.jpg?r=162331'  alt='  ہوٹل ہنزہ اِن کے سامنے&mdash;تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہوٹل ہنزہ اِن کے سامنے—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>’اس ہوٹل کانام ہنزہ اِن کے بجائے راکاپوشی اِن ہونا چاہیے‘، میں نے سوچا۔</p>
<p>رات آئی تو ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ ایسا سناٹا جو دل کی دھڑکن کی گونج بڑھاتا ہے اور پھر آدمی خود اپنے آپ سے ڈرنے لگتا ہے۔ اس سناٹے میں کہیں دوردیس سے آتی ہوئی ایک مدھم سی گرج بھی شامل تھی جو شاید دور گہرائی میں بہتے دریائے ہنزہ کی آواز تھی۔ اس مدھم گرج نے ایک لوری کا کام کیا اور کچھ دیر میں ہمیں نیند کی وادیوں میں دھکیل دیا۔</p>
<p>صبح میں جلدی اٹھ گیا۔ باسط، وسیم اور اشفاق نیند کی وادیوں میں ہنوز کہیں دور بھٹک رہے تھے اس لیے کریم آباد میں چہل قدمی کے لیے میں اکیلا ہی باہر نکل آیا۔ سورج بلند ہوا اور اس کی زرد شعائیں راکاپوشی کی برف سے پھسل کر التر گلیشیئر سے ٹکرائیں اور ہنزہ کے اندر پھیل گئیں۔ ہوٹل کی دونوں عمارتوں کے درمیان سے گزرنے والا راستہ مزید آگے جارہا تھا جہاں اس کے اطراف میں دکانیں، ہوٹل اور ہنزہ باسیوں کے گھر تھے۔ راستے کے دونوں اطراف تیر کی طرح سیدھے ایستادہ سفیدے کے اونچے اونچے درخت تھے۔ دائیں طرف سے سیاہی مائل ریت ملے پانی کی ایک نالی تیزی سے بہتی ہوئی نیچے آرہی تھی۔ یہ نالی ’قل‘ کہلاتی ہے اور کہتے ہیں کہ ہنزہ والوں کی قابلِ رشک صحت کا راز معدنیات کی آمیزش سے کالے پڑتے اسی پانی میں ہے۔</p>
<p>وادی ہنزہ ایک قدرتی ریفریجریٹر ہے کیونکہ یہاں کھانے پینے کی چیزیں جلدی خراب نہیں ہوتیں۔ ہم اپنے شہروں میں جن اشیا کو زیادہ عرصے تک محفوظ کرنے کے لیے ریفریجریٹر میں رکھتے ہیں، ہنزہ والے انہیں اٹھا کر صرف طاق پر رکھ دیتے ہیں اور جب چاہیں انہیں اٹھا کر استعمال کرلیتے ہیں۔ اسی طرح شہروں میں مشروبات کی جن بوتلوں کو فریزر میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے، یہاں وہ ٹھنڈے پانی کی قل میں پڑی ہوئی خود ہی ٹھنڈی ہورہی ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/2416231035e002d.jpg?r=162331'  alt='  وادی ہنزہ قدرتی ریفریجریٹر ہے، یہاں کھانے پینے کی چیزیں جلدی خراب نہیں ہوتیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی ہنزہ قدرتی ریفریجریٹر ہے، یہاں کھانے پینے کی چیزیں جلدی خراب نہیں ہوتیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>پگڈنڈی مزید آگے بڑھتی ہوئی کچے پکے مکانوں میں گم ہورہی تھی۔ دور بلندی پر تمام گھروں سے اوپر اور اُلتر گلیشیئر کی برفانی بلندیوں سے کچھ نیچے ہنزہ کا قدیم قلعہ بلتت دکھائی دے رہا تھا۔ یہ قلعہ ہنزہ کی علامت ہے۔ پرنس کریم آغا خان کی عقیدت میں اس گاؤں کا نام تو بلتت سے بدل کر ’کریم آباد‘ کردیا گیا ہے لیکن قلعہ بلتت ابھی تک قلعہ بلتت ہی ہے۔ میں چھوٹی چھوٹی دکانوں اور چائے خانوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ہنزہ کی اس علامت کی طرف بڑھنے لگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241623013e9df3e.jpg?r=162331'  alt='  گنیش اسٹاپ کریم آباد&mdash;تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گنیش اسٹاپ کریم آباد—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہنزہ کے مرد، عورتیں اور بچے میرے آگے پیچھے، نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے کی طرف آ اور جا رہے تھے۔ اچانک ان چہروں میں مجھے ایک یورپی چہرہ نظر آیا۔ یہ ہماری سیاح برادری سے لگتا تھا۔ میں نے ’ہیلو‘ کہہ کر اپنائیت کا اظہار کیا لیکن اگلے ہی لمحے شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ اس نے میری ہیلو کا جواب ایک زور دار ’السلام علیکم‘ سے دیا۔ میں نے ٹھٹک کر جواباً ایک زوردار ’وعلیکم اسلام‘ کیا۔ مصافحہ کے بعد کچی پکی سی انگریزی میں گفتگو ہوئی کیونکہ وہ جرمن تھا اور میں پاکستانی۔</p>
<p>’ہنزہ بہت ونڈر فل ہے‘، وہ چاروں طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’میں گزشتہ 8 ماہ سے یہاں کرائے پر ایک مکان لے کر رہ رہا ہوں مگر میرا دل ابھی تک نہیں بھرا‘۔</p>
<p>وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا اور اس بات پر بےحد مسرور تھا کہ وہ ہنزہ میں ہے۔</p>
<p>’میں چین کی طرف سے شاہراہِ قراقرم پر سفر کرتا ہوا ادھر تک آیا تھا مگر ہنزہ سے مزید آگے جانے کی ہمت اپنے اندر نہیں پائی اس لیے جرمنی سے مزید خرچ منگوا کر ابھی تک یہیں ہوں‘۔</p>
<p>اس کے چہرے سے مکمل آسودگی ٹپک رہی تھی اور میں بھی اس سے مل کر بہت آسودہ ہوا۔ میں ہنزہ کی علامت دیکھنے آگے جا رہا تھا مگر اس سے تو یہیں ملاقات ہوگئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241622571393c74.jpg?r=162331'  alt='  والیانِ ہنزہ بلتت کے قلعے میں رہائش پذیر ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>والیانِ ہنزہ بلتت کے قلعے میں رہائش پذیر ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>سفیدے کے درختوں میں گھری اور گول پتھروں سے اٹی پگڈنڈی پر ایک دوراہا آگیا۔ ایک راستہ دکانوں اور مکانوں کے بیچ سیدھا سامنے چلا گیا تھا اور دوسرا ڈھلوان کی صورت اوپر اٹھ رہا تھا۔ میں اوپر والے راستے پر چل دیا۔ اس راستے کے شروع میں ایک اور شاخ نکل کر دائیں طرف کو اوپر بڑھ رہی تھی۔ اس کچے راستے پر جیپ کے ٹائروں کے نشانات تھے۔ یہ راستہ اوپر سابق والی ہنزہ کے جدید محل کی طرف جارہا تھا۔</p>
<p>میں اپنے راستے پر مزید آگے بڑھا جو دائیں طرف ایک بلند پتھریلی دیوار کی طرف گھوم گیا۔ اس دیوار میں ایک بلند محراب نما راستہ کسی موکھے کی مانند کھلا ہوا تھا۔ میں نے اس موکھے میں سے نکل کر دوسری طرف جھانکا تو ہڑبڑا گیا۔ یہاں تو جہان دیگر تھا۔ راستہ یہاں سے آگے میلوں تک بل کھاتا ہوا ایک وسیع و عریض وادی میں اتر رہا تھا۔ دور نیچے ایک پولو گراؤنڈ میں نظر آرہا تھا۔ وہ ایک وسیع میدان تھا مگر یہاں سے زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ محسوس ہوتا تھا۔ پولو گراؤنڈ کی دائیں طرف کھیت تھے اور کھیتوں کے کنارے پر کچھ بلندی پر ایک قدیم اور پُراسرار سی عمارت نظر آرہی تھی۔ وہ سارا علاقہ ہنزہ کا قدیم گاؤں’التت’ تھا اور یہ قدیم پُراسرار عمارت التت کا قلعہ تھی یعنی والی ہنزہ کا پہلا محل۔</p>
<p>یہ محل ایک ایسی جگہ بنا ہوا ہے کہ جہاں سے ایک طرف پورا التت نظر آتا تھا اور دوسری طرف دریائے ہنزہ کے کنارے چین کی طرف سے آنے والا راستہ (جو اب شاہراہِ قراقرم ہے) نگاہوں کے سامنے تھا۔ قلعہ التت کے بعد والی ہنزہ بلتت کے قلعے میں منتقل ہوگئے کیونکہ اس محل کا وقوع زیادہ بہتر تھا۔ یہاں سے التت اور بلتت دونوں پر نظر رکھی جاسکتی تھی اور ساتھ ہی چین اور گلگت سے آنے والے راستے بھی نگاہ میں رہتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب والی ہنزہ کی ولایت عروج پر تھی۔ ہر سال کھیتوں میں بوائی کی ابتدا والی ہنزہ اپنے محل کے جھرو کے سے پہلا بیج پھینک کر کرتا اور پھر ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوتا تھا لیکن جب ریاست ہنزہ پاکستان میں ضم ہوگئی تو والی ہنزہ بھی بس ایک معزز شخصیت کے طور پر رہ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/2416225113926d7.jpg?r=162331'  alt='  قلعہِ التت کے بعد ہنزہ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قلعہِ التت کے بعد ہنزہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>وادی ہنزہ یورپ باسیوں میں ایک جنتِ ارضی کے طور پر معروف ہے اور والی ہنزہ اس جنت کا شہزادہ کہلاتا تھا۔ اب اس کا تیسرا محل ایک ایسی جگہ پر بنا ہوا ہے جہاں سے صرف گلگت کی طرف سے آنے والی شاہراہ قراقرام نظر آتی ہے۔ اس نئے محل کی تعمیر کے بعد التت اور بلتت کے بوسیدہ قلعے اب صرف جنوں کی آماجگاہ محسوس ہوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/24162314c52d0c2.png?r=162331'  alt='  والیانِ ہنزہ کا پرچم  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>والیانِ ہنزہ کا پرچم</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں التت اور بلتت کے درمیان کھڑا تھا۔ التت مجھے اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔</p>
<p>’نہیں، ابھی نہیں‘، میں نے سوچا۔</p>
<p>اس وقت بلتت قریب تھا۔ میں واپس پیچھے آیا دوبارہ دوراہے پر پہنچ کر دوسرے راستے پر چل دیا۔ دکانوں اور مکانوں سے آگے ایک میدان تھا۔ میدان کے دائیں طرف ایک اسکول تھا اور اس سے آگے چند مکانات کی چھتوں کے اوپر قلعہ بلتت نظر آرہا تھا۔ راستے کے موڑ پر دستکاری کی ایک چھوٹی سے دکان تھی جسے عورتیں چلا رہی تھیں۔ وہ سر پرخاص قسم کی کڑھائی والی رنگین ٹوپیاں پہنے اور جھالروں والے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھیں اور اسی طرح کی چیزیں وہ فروخت بھی کررہی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/2416222562033ab.jpg?r=162331'  alt='  التت سے بلتت جانے والا راستہ&mdash;تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>التت سے بلتت جانے والا راستہ—تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں ڈھلوان راستے پر اوپر بڑھتا گیا اور جیسے ہی مڑا بلتت کا قلعہ سامنے آگیا۔ میں کریم آباد کے اوپر اور قلعے کے سامنے آچکا تھا۔ یہاں سے اُلتر کی برف قریب محسوس ہوتی تھی۔ میں نے قلعے کے سامنے کھڑے ہوکر پیچھے دیکھا۔ قلعے کے دامن میں کریم آباد پھیلا ہوا تھا اور راکاپوشی کی سفید چوٹی اس سارے منظر کو جھک کر دیکھ رہی تھی۔</p>
<p>قلعے کا دروازہ اونچا تھا اور اس پر ایک بڑا تالا لٹک رہا تھا۔ میں قلعے کی فصیل کے ساتھ ساتھ گھومتا ہوا اس کے پیچھے آیا اور ٹھٹک گیا۔ میرے سامنے ہزاروں فٹ گہری کھائی تھی۔ میں گھبرا کر کچھ پیچھے ہوا۔ اُلترگلیشیئر سے بہہ کر آنے والا نالا دور ایک آبشار کی طرح گرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ قلعے کے اردگرد پھیلی خاموشی میں اس آبشار کی دبی دبی سرسراہٹ بسی ہوئی تھی۔ اُلتر کی بے ہنگم چوٹیاں ایک دیوار کی طرح تھیں اور اس دیوار کے خاتمے پر جو وسیع ڈھلوان تھی اس پر پورا التت آباد تھا۔ التت کے مکانات سرسبز کھیتوں اور باغوں کے گھیرے میں تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241622453298aca.jpg?r=162331'  alt='  قلعہِ بلتت کا منفرد فنِ تعمیر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قلعہِ بلتت کا منفرد فنِ تعمیر</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں ایک محویت کے عالم میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کہ اچانک کہیں سے ایک چھوٹا سا لڑکا نکل کر سامنے آگیا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک پوٹلی نکالی، اسے کھول کر چند سیاہی مائل سرخ پتھر نکالے اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر میرے سامنے کر دیے اور کہا ’بابو صاحب، یہ اچھا پتھر ہے۔ خریدو گے؟‘</p>
<p>میں نے اس کی ہتھیلی سے کچھ گول پتھر اٹھائے۔ یہ ہنزہ میں پایا جانے والا یاقوت تھا۔ میں نے ایک ذرا بہتر ساخت کے پتھر کا دام پوچھا تو وہ بولا، ’100 روپے‘۔</p>
<p>’50 روپے‘ میں نے کہا۔</p>
<p>’ٹھیک ہے‘، وہ بولا اور پتھر میرے حوالے کردیا۔</p>
<p>50 روپے کا نوٹ اور پوٹلی جیب میں ڈال کر وہ وہیں ٹہلنے لگا۔</p>
<p>میں نے قلعے پر آخری نظر ڈالی اور واپسی کے لیے مڑ گیا۔</p>
<p>ہنزہ اِن ہوٹل کا ریسٹورنٹ ایک بوسیدہ سے ہال میں تھا اور اس میں داخلے کا ایک ہی دروازہ تھا۔ دروازے کے برابر میں دیوار پر کسی نے بھدے حروف میں ’Welcome‘ لکھ دیا تھا۔ ہم چاروں دروازہ کھول کرہال میں داخل ہوگئے۔ دروازے کا اسپرنگ بردار پٹ واپس آکر چوکھٹ سے ٹکرایا اور کھٹاک کھٹاک کی آوازیں نکالتا ہوا کچھ دیر تک کاننپے کے بعد خاموش ہوگیا۔</p>
<p>یہ ہال ایک تنگ سے مستطیل کمرے پر مشتمل تھا جس کا بیشتر حصہ اس کے طول و عرض سے کچھ ہی کم سائز کی ایک میز نے گھیر رکھا تھا۔ میز سے بچا ہوا حصہ کرسیوں نے گھیرا ہوا تھا۔ میز پر ریگزین منڈھی ہوئی تھی جس کا رنگ غالباً کسی زمانے میں سبز رہا ہوگا۔ داخلی دروازے کے سامنے والی دیوار میں ایک اور دروازہ تھا جہاں ہوٹل کا کچن تھا۔ اندر کی فضا باورچی خانے کی ہمسائیگی کے باعث گرم تھی۔ دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آوازیں سن کر ہوٹل کے بزرگ منیجر نے باورچی خانے سے سر نکال کر ہال میں جھانکا اور ہمیں دیکھ کر خوش دلی سے مسکرایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/241622301c7efa3.jpg?r=162331'  alt='  التت کا فضائی منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>التت کا فضائی منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>سڑک کی طرف جاتی دیوار میں چھت تک کھڑکی تھی اور اس کی مخالف دیوار پرایک شوکیس موجود تھا۔ یہ شوکیس بھانت بھانت کی دلچسپ اشیا سے بھرا ہوا تھا۔ مختلف برانڈ کے بسکٹ، جام جیلی کی بوتلیں، کافی اور چائے کے پیکٹ، کارن فلیکس کے ڈبے اور نہ جانے کیا الا بلا تو تھا ہی، ساتھ ہی انٹرنیشنل سیاحوں کی آمد کے لاتعداد ثبوت بھی اس کے مختلف خانوں سے جھانک رہے تھے۔</p>
<p>ہم یہاں پہلے سیاح تو تھے نہیں، ہزاروں آچکے ہوں گے۔ ان ہزاروں میں سے شاید کچھ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ جس طرح وہ ہنزہ اِن ہوٹل کو یاد رکھیں گے اسی طرح ہنزہ اِن بھی اُنہیں یاد رکھے۔ چنانچہ اس خواہش کے تحت آسٹریلیا کے کسی سیاح نے سڈنی ہاربر برج کی رنگین تصویر شیشے پر اندرکی طرف سے چپکادی تھی تو کسی کوہ پیما نے اُلتر گلیشیئر تک جانے والے ٹریک کی تفصیلات لکھ کر چسپاں کردی تھیں۔ ایک یورپی حسینہ نے البتہ یہاں اپنی یاد برقرار رکھنے کے لیے سب سے کامیاب کوشش کی تھی۔ اس نے شوکیس میں خود اپنی ہی خوبصورت تصویر سجادی تھی۔</p>
<p>شوکیس کے نچلے خانے میں گلگت اور ہنزہ سے متعلق کچھ انگریزی اور اردو کتابیں رکھی تھیں۔ ان کتابوں کے جابہ جا حاشیہ زدہ صفحات میلے اور بوسیدہ ہوچکے تھے۔ تیسری دیوار پر لاہور کے کسی مصور نے ایک بڑی سی پینٹنگ آویزاں کردی تھی جس میں اس نے والی ہنزہ کے نئے محل کی مصوری کی تھی۔ یہ ڈائننگ ہال سے زیادہ سیاحوں کا عجائب گھر معلوم ہورہا تھا۔</p>
<p>انڈے پراٹھے کا ناشتہ کرکے ہم باہر نکل آئے۔ راکاپوشی اور اُلتر کی چوٹیوں سے بادلوں کے سفید مرغولے اٹھ رہے تھے۔ ہم راستے کی بُھربھری مٹی پر جوتے مارتے ہوئے اوپر کی طرف چل دیے۔ کریم آباد کے گاؤں سے نکل کر یہ راستہ ایک اونچی دیوار میں بنی ہوئی بلند محراب میں داخل ہوتا ہے۔ محراب کی دوسری طرف یہ ایک ڈھلوان پر اترتا دور گہرائی میں ہنزہ کے قدیم گاؤں التت تک چلا جاتا ہے۔ ہم محراب کے اندر سے گزر کر دوسری طرف نکلے تو نیچے پہاڑ کی ڈھلوان پر پھیلا التت کا گاؤں ہمارے سامنے آگیا۔ راستہ بل کھاتا ہوا نیچے اتررہا تھا۔ یہاں سے اُلتر کا درمیانی حصہ ایک برفانی شہر کی مانند نظر آتا تھا۔ اُلتر سے بہہ کر آنے والا نالا یہاں شور مچاتا ایک آبشار کی صورت گررہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/24162235b9d4212.jpg?r=162331'  alt='  التت کا گاؤں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>التت کا گاؤں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم کچھ اور نیچے اترے تو نالے کا چوبی پل آگیا۔ پل کے برابر میں ایک درخت کے نیچے 3 بوڑھے بیٹھے گپے لگا رہے تھے۔ پل کے نیچے نالے کا پانی پتھروں پر سر پٹکتا بہے جارہا تھا۔ راستہ اب نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ کچھ دور چلے تو التت کے سیڑھی نما کھیت شروع ہوگئے جن کی منڈیروں پر سفیدے کے تیر کی مانند سیدھے درختوں کی پھننگیں آسمان کے اندر کھبی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ کچھ آگے چل کر نالے نے اپنا رخ تبدیل کرلیا اور دائیں طرف سفیدے کے جنگل میں کھو گیا۔</p>
<p>کھیتوں کے اوپر اور درختوں کے اندر عجیب وضع کے رنگ برنگے اور خوبصورت پرندے اڑ رہے تھے۔ ایسے پنچھی جو آج سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کالے پیلے رنگوں اور لمبی دم والا ایک بڑا خوبصورت پرندہ فضا میں تیرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے قریب آتا محسوس ہوتا مگر اگلے ہی لمحے واپس جاتا نظر آتا۔ کھیتوں کا سلسلہ ختم ہوا تو راستہ التت کے گھروں میں داخل ہوکر ایک گلی بن گیا۔ پولو گراؤنڈ کے اطراف میں میچ دیکھنے والوں کے لیے سیڑھی نما نشستیں بنی ہوئی تھیں اور اس کے ایک طرف اسٹیج نما چبوترہ تھا۔ پولو گراؤنڈ کے دائیں طرف کھیت تھے اور کھیتوں کے پار التت کا قدیم قلعہ نظر آرہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/12/567d35e36f44c.jpg'  alt='  التت کا قدیم قلعہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>التت کا قدیم قلعہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>تھوڑا آگے جاکر دیوار میں ایک بڑا سا گیٹ نظر آیا۔ اس احاطے کے اندر زمین خودرو گھاس کے مہین سبز ریشوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور اس پر خوبانیوں کے سبز درختوں اور کچے پھلوں والی ٹہنیوں نے سائبان تانے ہوئے تھے۔ یہاں ایک لڑکا اچانک کہیں سے نکل کر ہمارے قریب آیا اور کہا ’قلعہ دیکھنے کے لیے آپ کو ٹکٹ لینا پڑے گا‘۔</p>
<p>’وہ چوکیدار کا گھر ہے، پہلے ادھر چلیں‘۔ اس نے باغ کے کنارے پر بنی ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا۔</p>
<p>ہم کوٹھری کے قریب پہنچے ہی تھے کہ گھر کے پیچھے سے ایک سفید جھبرا کتا بھونکتا ہوا برآمد ہوا اور ہماری طرف لپکا مگر پھر لڑکے کی ایک ہی گھرکی سے دور ہٹ کر کھڑا ہوگیا اور ہولے ہولے غرانے لگا۔ ہم کوٹھری کے اندر داخل ہوگئے۔ سامنے ایک عورت ہنزہ کا مخصوص لباس اور ٹوپی پہنے بیٹھی سبزی کاٹنے میں مشغول تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ مسکرائی۔ یہ چوکیدار کی بیوی تھی۔ میں نے اسے ٹکٹ کے پیسے دیے تو اس نے قلعے کی چابیاں لڑکے کے حوالے کردیں۔ یہ لڑکا قلعے کا گائیڈ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214255</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Dec 2023 08:47:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/241622453298aca.jpg?r=103255" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/241622453298aca.jpg?r=103255"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/25103259a5f32b2.jpg?r=103303" type="image/jpeg" medium="image" height="700" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/25103259a5f32b2.jpg?r=103303"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اُبھرتے سورج کی سرزمین سے: سفرنامہ جاپان (پہلی قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218076/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/from-the-land-of-the-rising-sun"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس وقت جاپان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت منفی ہوچکا ہے جبکہ میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں موجود ہوں۔ یہاں شدید سردی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہاں بھی درجہ حرارت منفی کے ہندسے کو چھونے والا ہے۔ دنیا میں جاپان تیسری بڑی معاشی قوت ہے جبکہ بہترین پاسپورٹ کی درجہ بندی میں جاپان گزشتہ 5 برس سے اولین تھا، البتہ رواں برس اس کا درجہ تیسرا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا کا ایک محفوظ ملک ہے اور سیاحوں کے لیے شاندار منزلِ مقصود ہے۔ آئیے آپ کو اس خوبصورت ملک کا تازہ ترین احوال بتاتے ہیں کیونکہ میں ابھی یہاں کئی دنوں تک موجود رہوں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کراچی-ایئرپورٹ-کا-اعزاز" href="#کراچی-ایئرپورٹ-کا-اعزاز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کراچی ایئرپورٹ کا اعزاز&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سے میں جب جاپان کے لیے روانہ ہوا، توکراچی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی روانگی کے دروازے تک اہل خانہ نے مجھے رخصت کیا۔ اس موقع پر ہم نے دیکھا کہ ایئرپورٹ کے اندر کسٹم کے استقبالیہ کے دائیں طرف آٹھ دس ممالک کی گھڑیاں آویزاں تھیں جن پر اکثر ممالک کے ٹائم غلط چل رہے تھے جس میں جاپان کا مقررہ وقت بھی غلط تھا۔ جاپان کا وقت پاکستان سے چار گھنٹے آگے ہے جبکہ اس گھڑی کے مطابق جاپان پاکستان سے دوگھنٹے آگے تھا۔ یہ اعزاز صرف کراچی ہوائی اڈے کا ہی ہے اور شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ ایئرپورٹ حکام کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کس قدر افسوس ناک امر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05121125929fdb7.jpg?r=122444'  alt='  غلط وقت بتانے والی گھڑیاں رکھنے کا اعزاز بھی کراچی ایئرپورٹ کے پاس ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غلط وقت بتانے والی گھڑیاں رکھنے کا اعزاز بھی کراچی ایئرپورٹ کے پاس ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع کی سب سے اہم اور اچھی بات، تمام اسٹاف اور حکام کا مثبت اور دوستانہ رویہ تھا بلکہ مجھ سے کسٹم والے صاحب نے ہنسی مذاق بھی کیا جب انہیں پتا چلا کہ میں جاپانی ادب وثقافت کا محقق ہوں۔ یوں میں وطن سے رخصت ہوا اور جاپان پہنچنے سے پہلے متبادل پرواز سے ابوظبی ایئرپورٹ پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ابوظبی-ایئرپورٹ-جدید-طرزِتعمیر-کا-شاہکار" href="#ابوظبی-ایئرپورٹ-جدید-طرزِتعمیر-کا-شاہکار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ابوظبی ایئرپورٹ: جدید طرزِتعمیر کا شاہکار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ابوظبی ایئرپورٹ انتہائی صاف ستھرا، جدید اور پُرسکون ایئرپورٹ تھا جہاں کا عملہ بااخلاق جبکہ وہاں کوئی افراتفری بھی نہیں تھی۔ چند گھنٹوں کے بعد اسی ملک کی ایئرلائن سے پرواز بھری۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پاکستان سے آنے والے جہاز اور اب ہمیں جس جہاز میں بٹھایا گیا تھا وہاں کھانے اور عملے سمیت سب کچھ مختلف تھا یعنی اب سب کچھ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور معیاری تھا۔ پاکستانی مسافروں سے یہ تضاد مجھے سمجھ میں نہیں آیا، یہ اکثر ایئرلائنز کرتی ہیں جس پر حکومتِ پاکستان اور متعلقہ شعبوں کوغور کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان-میرادل-میری-جان" href="#جاپان-میرادل-میری-جان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپان: میرادل، میری جان&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے شہر ٹوکیو کے دو ایئرپورٹ ’ہانیدا‘ اور’ناریتا’ ہیں، ہم ناریتا پر اترے۔ اس پرواز میں میرے برابر والی نشست پر جاپانی فوٹوگرافر ’کازوکی واتاناوے‘ براجمان تھے جن سے دوستی ہوگئی۔ وہ اسپین سے اپنا خصوصی فوٹو شوٹ پروجیکٹ مکمل کرکے آرہے تھے جبکہ ان دنوں ان کی تصاویر کی نمائش بھی ٹوکیو میں جاری ہے جس کو دیکھنے میں ضرور جاؤں گا۔ انہوں نے دورانِ سفر مجھے اپنی ایک تصویر دوستانہ کلمات لکھ کر اپنے دستخط کے ساتھ عنایت کی۔ جاپان میں اپنے سفر کی ابتدا میں یہ میرے لیے ایک عمدہ آغاز تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں پاکستانی مسافروں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ سختی برتی جاتی ہے جس کا میں بھی عینی شاہد ہوں مگر اس مرتبہ میں اپنی فلائٹ میں اکیلا پاکستانی مسافر تھا اس لیے جاپانی کسٹم کے حکام نے مجھے خوش آمدید کہا۔ شاید تواتر سے جاپان آنے جانے کا یہ ایک پوشیدہ فائدہ تھا وگرنہ نئے مسافروں کو یہ سہولت کم ہی ملتی ہے۔ بہرحال ایئرپورٹ سے میں نے انٹرنیٹ سم خریدی، ٹرین کا ٹکٹ لیا اورجاپان کے ایئرپورٹ سے مرکزی ٹوکیو کی جانب روانہ ہوا۔ ناریتا ایئرپورٹ شہر سے باہر بنا ہوا ہے۔ اس بار جہاز کی کھڑکی والی سیٹ ملی تھی تو مجھے جاپان کا سب سے مشہور پہاڑ ’فُوجی ساں‘ دیکھنے کا نادر موقع بھی میسر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05121613791c903.jpg?r=122444'  alt='  ونڈو سیٹ کی وجہ سے جہاز سے ماؤنٹ فُوجی دیکھنے کا موقع میسر آیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ونڈو سیٹ کی وجہ سے جہاز سے ماؤنٹ فُوجی دیکھنے کا موقع میسر آیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرتبہ میں اپنے دورے میں جاپانی دوستوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملوں گا۔ اس لیے جاپان میں تین دہائیوں سے مقیم اور پاکستان کے ایک نجی نیوز چینل کے نمائندہ جاپان اور ہمارے پیارے دوست جناب راشد صمد خان نے میرا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے میری تواضع ’چائے کافی‘ سے کی کیونکہ جاپان کا موسم ٹھنڈ کا احساس دلارہا تھا۔ ٹوکیو سے تھوڑی مسافت پر ایک دیہی علاقے ’گھما‘ میں میرا قیام تھا جہاں ہم سب دوست ’مصطفیٰ خاورکھوکھر‘ کے گھر پہنچے۔ خاور بھائی بھی گزشتہ تین چار دہائیوں سے جاپان میں مقیم ہیں اور جاپانی زبان کو اپنے آبائی علاقے گوجرانوالہ کی پنجابی کی طرح روانی سے بولتے ہیں۔ ٹوکیو کے بعد مضافاتی علاقوں میں سائی تاما، اباراکی اورگھما قابلِ ذکر ہیں، مرکزی ٹوکیو کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے حوالے سے بھی سیروسیاحت کا تذکرہ پیش نظر رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان-کی-دیہی-زندگی-اور-شہری-طرزِ-حیات" href="#جاپان-کی-دیہی-زندگی-اور-شہری-طرزِ-حیات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپان کی دیہی زندگی اور شہری طرزِ حیات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جاپان کی شہری زندگی سے تو دنیا واقف ہی ہے اور ہم بھی آپ کو سیر کروائیں گے لیکن ساتھ ساتھ جاپان کے دیہی علاقوں کا تذکرہ بھی جاری رہے گا تاکہ آپ شہری اور دیہی زندگی کا فرق بھی محسوس کرسکیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پورے جاپان میں ایک جیسی ملیں گی جیسے لوگوں کا اخلاق، صفائی کا خیال رکھنا وغیرہ۔ میں جاپان کے بہت سے شہروں اور مضافاتی علاقوں میں گیا مگر مجال ہے کہ انتظام وانصرام میں کوئی فرق ملا ہو۔ چاہے وہ گھر ہوں، دفاتر ہوں، سڑکیں ہوں، اسٹیشنز ہوں، یا پھر کھیت کھلیان ہوں، پورا جاپان ریلوے لائنز کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ سفر کرتا ہے۔ جس نے یہاں آکر ٹرینوں کا نظام سمجھ لیا وہ سمجھیں کم خرچے میں زیادہ جاپان دیکھ لے گا اور جو نہیں سمجھ پایا اس کے لیے جاپان میں محو سفر ہونا مشکل ہوجائے گا۔ مجھے بھی ابتدائی دوروں میں مشکلات ہوئیں مگر اب میں کافی سمجھ گیا ہوں اور آپ کو بھی سمجھا سکتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/051206248d49215.jpg?r=122444'  alt='  میرا قیام ٹوکیو کے قریب واقع ایک دیہات میں ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میرا قیام ٹوکیو کے قریب واقع ایک دیہات میں ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام بہت سادہ ہے جو بظاہر بہت پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔ کئی طرح کی ٹرینیں اور ان کے روٹس ہیں جن میں لوکل اور سُست رو ٹرینیں بھی ہیں اور تیز سے تیز ترین ٹرینیں بھی ہیں حتیٰ کہ دنیا کی تیز ترین ٹرینوں میں سے ایک ’شنکانسین‘ ٹرین بھی شامل ہے جسے عرف عام میں بلٹ ٹرین کہتے ہیں۔ پورے جاپان میں ہر چھوٹے بڑے علاقے میں اسٹیشنز بنے ہوئے ہیں۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہو یا پھر ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک، جاپان کے تمام لوگ ٹرینوں کا ہی استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ کو گوگل پر صرف اپنی منزل کا نام لکھنا ہوتا ہے۔ ایپ کے ذریعے آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ جہاں آپ جانا چاہتے ہیں وہاں تک کتنی ٹرینیں بدلنی ہوں گی، کہاں سے بدلیں گی، ان کے اوقات کار کیا ہوں گے، اس پر کُل خرچہ کتنا آئے گا، یہ ایپ سب کچھ بتاتی ہے۔ اس کو جس نے جتنی جلدی سمجھ لیا، وہ سکھ میں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے تو پورے جاپان میں بسیں بھی چلتی ہیں مگر لوگ ٹرین کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ آمدورفت میں ٹیکسی سب سے مہنگی سواری ہے۔ عام جاپانی بھی بحالت مجبوری ٹیکسی میں سفر کرتا ہے اور اگر آپ کی اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل ہے تب بھی آپ کو جاپان کی مہنگی ترین پارکنگ فیس ذہن میں رکھنا ہوگی جہاں گھنٹوں کے حساب سے پارکنگ فیس چارج کی جاتی ہے۔ آپ کو بہت سے جاپانی شہری اور طلبہ سائیکلز چلاتے بھی دکھائی دیں گے، یہاں تک کہ ایک مخصوص آبادی سائیکلز پر سفر کرکے اسٹیشن تک آتی ہے۔ جاپان میں ایسا نظارہ باربار دیکھنے کو ملتا ہے اسی لیے ہائی وے یا عام سڑک کنارے سائیکل برداروں کے لیے جگہ مختص کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دنوں جاپان میں سردی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اس لیے یہاں شام 5 بجے رات کا سماں ہوجاتا ہے جبکہ رات 11 بجے تک شہری علاقوں میں دکانیں کھلی رہتی ہیں البتہ دیہی علاقوں میں چھ سات بجے تک رات ہوجاتی ہے۔ جاپانی لوگ علی الصبح بیدار ہوتے ہیں۔ صبح 8 بجے سے اسٹیشنز پر ہزاروں افراد آتے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرینوں کے اندر اکثریت کتاب پڑھتی ہے یا پھر موبائل دیکھنے میں مشغول ہوتی ہے۔ ٹرین میں آپس میں گفت و شنید مناسب خیال تصور نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05125957282ebab.jpg'  alt='    ٹرین میں جاپانی شہری یا تو کتاب پڑھتے ہیں یا پھر موبائل استعمال کرتے ہیں    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹرین میں جاپانی شہری یا تو کتاب پڑھتے ہیں یا پھر موبائل استعمال کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرعام سگریٹ پینا بھی ممنوع ہے اور جلدی ہونے کے باوجود ہزاروں لاکھوں افراد کا مجمع ٹرینوں میں سوار ہوتے ہوئے لائن بنانا نہیں بھولتا۔ گاڑی چلاتے ہوئے بیلٹ باندھنا اور ڈرائیو کرتے وقت سامنے سے اگر سائیکل سوار یا پیدل چلتے ہوئے کوئی آجائے تو گاڑی والے کو رکنا ہوگا جیسے یہ اس کا فرض ہے۔ یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سگنل توڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چاہے کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہو یا نہیں۔ جاپانی اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتتے اور قانون سے ڈرنے کے بجائے اس کی پاس داری کرتے ہیں جوکہ ان کی کامیاب سماجی زندگی کا راز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اردو-زبان-کے-جاپانی-طلبہ-کا-اردو-ڈراما" href="#اردو-زبان-کے-جاپانی-طلبہ-کا-اردو-ڈراما" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اردو زبان کے جاپانی طلبہ کا اردو ڈراما&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/332601379519299" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپانی طلبہ کا پیش کردہ ڈراما— ویڈیو راشد صمد خان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان پہنچتے ہی ہمیں سب سے پہلے جو دعوت نامہ موصول ہوا وہ ’ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز‘ کے شعبہ اردو کی طرف سے تھا۔ اس شعبے سے منسلک جناب پروفیسر مامیاکین ساکو جو خود بھی اردو اور سندھی زبانوں کے دانشور اور استاد ہیں، انہوں نے ہمیں یہ دعوت دی جبکہ ڈرامے کے منتظمین میں بھی وہی پیش پیش ہیں۔ اس یونیورسٹی میں ہر سال اردو زبان پڑھنے والے جاپانی طلبہ اردو میں ڈراما پیش کرتے ہیں۔ اس بار جو ڈراما پیش کیا گیا اس کا نام ’آشیانہ‘ تھا جس کے ڈرامانگار ’ڈاکٹر محمد حسن‘ تھے۔ اس کھیل کو جاپانی طلبہ نے بہت عمدگی اور مہارت سے پیش کیا۔ ڈرامے کے اختتام پر جاپان میں پاکستان کے سفیر جناب ’رضا بشیر تارڑ‘ نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے اردو زبان کے جاپانی طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/314341811426546/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپانی طلبہ کا پیش کردہ ڈراما— ویڈیو راشد صمد خان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹوکیویونیورسٹی-آف-فارن-اسٹڈیز-کا-ثقافتی-میلہ" href="#ٹوکیویونیورسٹی-آف-فارن-اسٹڈیز-کا-ثقافتی-میلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹوکیویونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کا ثقافتی میلہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر یونیورسٹی کی طرف سے تمام زبانوں کے طلبہ نے اسٹالز بھی لگائے اور اُن ممالک کی ثقافت اور روایتی کھانا پیش کیا جن کی زبان وہ سیکھ رہے تھے۔ اردو زبان کے طلبہ نے پاکستانی اسٹال لگایا ہوا تھا جہاں چائے اور سموسے فروخت ہورہے تھے۔ میں نے اپنے پاکستانی دوست عرفان امبے اور ان کی جاپانی بیگم ’یوشی اے امبے‘ جو جاپانی زبان کی طالبہ بھی ہیں، ان کے ساتھ دیسی کھانے کھائے، فیسٹیول سے بھی خوب لطف اٹھایا اور اردو ڈرامے میں بھی ایک دوسرے کے سنگ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/051255226b35280.jpg'  alt='    ٹوکیویونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے شعبہ اردو کی طرف سے لگائے گئے فوڈ اسٹال کا ایک بینر جو اردو اور جاپانی زبان میں لکھا گیا ہے    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹوکیویونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے شعبہ اردو کی طرف سے لگائے گئے فوڈ اسٹال کا ایک بینر جو اردو اور جاپانی زبان میں لکھا گیا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں سفیر پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کے دیگر افراد سے بھی دلچسپ گفتگو رہی جو اس موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے جبکہ شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ بھی ہمراہ تھے۔ برابر میں بنگلادیش اور کچھ فاصلے پر بھارت کے اسٹالز بھی موجود تھے۔ میں نے خیرسگالی کے طور پر ان کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا اور ان کے کام کی تعریف کی جس پر وہ طلبہ بے حد خوش ہوئے۔ اس ثقافتی میلے میں ایک ساتھ اتنے سارے ممالک کا کلچر دیکھنے کا اتفاق ہوا جوکہ ایک اچھی سرگرمی ہے۔ میرے نزدیک پاکستانی جامعات میں بھی اسی طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05120621ba66fbc.jpg?r=122444'  alt='  اردو زبان کے جاپانی طلبا،جنہوں نے اردو ڈراما بھی پیش کیا،وہ اپنے پروفیسر مامیاکین ساکو لکھاری کے ہمراہ ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اردو زبان کے جاپانی طلبا،جنہوں نے اردو ڈراما بھی پیش کیا،وہ اپنے پروفیسر مامیاکین ساکو لکھاری کے ہمراہ ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قدم-بہ-قدم-جانب-منزل" href="#قدم-بہ-قدم-جانب-منزل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قدم بہ قدم جانب منزل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جاپان چار بڑے جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے اور اگر اس کے ساتھ دیگر چھوٹے بڑے جزیرے گنے جائیں تو کم وبیش جزائر کی کُل تعداد 14 ہزار 125 بنتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے جاپان کو 8 ریجن میں تقسیم کیا گیا ہے اور 47 پریفیکچر (صوبے) بنائے گئے ہیں۔ 790 شہروں اور دیہات پر مشتمل اس ملک میں ہر جگہ دیکھنے کے قابل ہے۔ پورا ملک ایک نظام کی لڑی میں پرویا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک کونے سے دوسرے کونے تک سب کچھ ایک جیسا ہے، ہر طرف قانون کی حکمرانی ہے، اس ملک کا دارالحکومت تو ٹوکیو ہے لیکن اوساکا جیسے شہر بھی اپنی پوری چمک اور آب وتاب رکھتے ہیں اور جاپانیوں کی دیہی زندگی بھی اتنی ہی خوبصورت اور شاندار ہے جتنی شہری زندگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05124847ae30509.jpg'  alt='  پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے لیے جاپان مہنگا ترین ملک ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے لیے جاپان مہنگا ترین ملک ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سفرنامے میں آپ کو ایسی مزید جھلکیاں ملتی رہیں گی۔ اگرچہ جاپان مہنگا ترین ملک ہے لیکن یہاں جس چیز کی جو قیمت طے اور مقرر ہے اس سے ایک ین بھی اوپر کوئی نہیں لے سکتا۔ ناانصافی، چوری، ڈکیتی، دھوکا دہی اور چھینا جھپٹی جیسے الفاظ اور تصورات جاپانی معاشرے میں بے معنی ہیں۔ یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ پورے ملک میں آپ کہیں بھی چلے جائیں چاہے عورت ہیں یا مرد بلاتفریق آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ یہ جاپان کی ترقی کی اصل روح ہے۔ باہر سے آئے ہوئے سیاحوں کے لیے یہ ملک بہت مہنگا ہے لیکن اگر ان سیاحوں کا تعلق پاکستان یا بھارت جیسے ممالک سے ہے تو پھر بہت سوچ سمجھ کر جاپان کا سفر کریں ورنہ مہنگائی کے ہاتھوں جان کے لالے پڑجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے لیے دونوں ممالک میں تخلیقی وتحقیقی کام کرتا ہوں اور اسی سلسلے میں جاپان آیا ہوں۔ کام کی تفصیل بھی آپ کو بتائیں گے لیکن فی الحال تو کام کرتے ہوئے کئی دن ہوچکے تھے اسی لیے سوچا کہ تفریح کی جائے تو ہم نے اپنے رہائشی علاقے ’اتاکوراماچی‘ میں اپنے میزبان خاور بھائی کے ہمراہ دیہی طرز زندگی میں حصہ لیا کیونکہ خاور بھائی ایک کسان اور زمیندار ہیں۔ ہم نے ایک جاپانی خاتون کے جاپانی پھلوں کے درختوں کی کانٹ چھانٹ کی پھر اپنی زمین کے قطعے پر کام کیا اور ایک دوسری زمین پر فارم ہاؤس بنانے کے لیے اراضی کی صفائی کے کام میں حصہ لیا۔ جاپان میں تمام لوگ اپنا کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپانی-ادبی-میوزیم-اور-نپولین-فلم" href="#جاپانی-ادبی-میوزیم-اور-نپولین-فلم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپانی ادبی میوزیم اور نپولین فلم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چونکہ میں کافی دنوں سے مسلسل کام کررہا تھا تو سوچا کہ کیوں نہ چھٹی کی جائے۔ چھٹی کرکے میں نے دو کام کیے، ایک تو میری رہائش گاہ سے قریبی شہر میں واقع ’کوگالٹریچرمیوزیم‘ کا دورہ تھا۔ جاپان میں ہر چھوٹے بڑے شہر میں مقامی ادیبوں، شعرا، مصوروں اور فلم سازوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے میوزیمز قائم کیے گئے ہیں، مذکورہ میوزیم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس میوزیم میں سب سے زیادہ مجھے جن ادیبوں کی شخصیت نے متاثر کیا ان میں جاپانی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ادیبہ ’ناگائی می چیکو‘ اور ادیب ہونے کے ساتھ اسکرین پلے رائٹر کے طور پر شہرت پانے والے ’کوبایاشی کیوزو‘ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/051224297e5decc.jpg?r=122444'  alt='  جاپان کے شہر &amp;rsquo;کوگا&amp;lsquo; میں &amp;rsquo;جاپان لٹریچرمیوزیم&amp;lsquo; کامرکزی دروازہ اورگزرگاہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان کے شہر ’کوگا‘ میں ’جاپان لٹریچرمیوزیم‘ کامرکزی دروازہ اورگزرگاہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میوزیم کا حسنِ انتظام دیکھ کر یہ گماں ہورہا تھا کہ یہ گویا کسی یورپی ملک کا کوئی میوزیم ہو۔ میوزیم کا مقام بھی انتہائی خوبصورت تھا جو اس شہر ’کوگا‘ کا قدیم علاقہ ہے۔ میں نے اس میوزیم سے جاپانی سینما کے معروف اسکرین پلے رائٹر اور ادیب ’کوبایاشی کیوزو‘ کی ایک کتاب بھی خریدی اور وہاں کافی پیتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ ہم کب سعادت حسن منٹو، خواجہ خورشید انور، میڈم نورجہاں اور دیگر مشاہیر کے لیے میوزیم بنائیں گے؟ جواب میں صرف خاموشی تھی جس کے سنگ میں کافی کی چسکیاں لے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ ٹوکیو کے علاقے ’آکیہ بارا‘ میں موجود سینما میں ہم فلم ’نپولین‘ دیکھنے گئے۔ اس فلم کا مرکزی کردار ’جیکوئن فینکس‘ نے ادا کیا ہے جو اس سے پہلے فلم ’جوکر‘ کے لیے بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس فلم کے ہدایت کار، برطانوی فلم ساز’ریڈلی اسکاٹ’ ہیں۔ جاپان میں سینما دیکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا جو بہت شاندار رہا۔ سینما کا معیار، دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح مہنگا اور بہترین ہے۔ جاپان میں دیکھی ہوئی یہ فلم یادگار رہے گی۔ جاپان کی اپنی فلمی صنعت بہت مضبوط ہے جس پر آگے چل کر بات ہوگی۔ اس کے علاوہ چھٹی کے موقع پر گھر والوں کے لیے تھوڑی بہت خریداری بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/0512344076edd58.jpg'  alt='  جاپان میں مانگا،اینی میشن،کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرونکس چیزوں کے لیے مشہور علاقہ &amp;rsquo;آکیہ بارا&amp;lsquo; کے اسٹیشن کا اندرونی منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان میں مانگا،اینی میشن،کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرونکس چیزوں کے لیے مشہور علاقہ ’آکیہ بارا‘ کے اسٹیشن کا اندرونی منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپانی-اور-پاکستانی-کھانے" href="#جاپانی-اور-پاکستانی-کھانے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جاپانی اور پاکستانی کھانے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جاپان لٹریچرفورم کے پیٹرن اِن چیف، سابق جاپانی سفارت کار اور میرے استاد جناب توشی کازو ایسومورا صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ ٹوکیو اسٹیشن کی زیرِزمین فوڈ اسٹریٹس میں بنے ایک بھارتی ریسٹورنٹ میں پاکستانی کھانا کھایا اور تبادلہ خیال کیا۔ ان کے علاوہ ٹوکیو میں مشہور پاکستانی ریسٹورنٹ ’صدیق‘ پر راشد صمد خان اور جاپان میں پاکستانی طلبہ تنظیم کے صدر، جناب مناظر حسین کے ہمراہ بھی کھانا کھایا جبکہ جاپان کی مشہور ڈش ’سوشی‘ کھانے کے لیے ایک معروف سوشی ریسٹورنٹ بھی گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05120909f4d9996.jpg?r=122444'  alt='  ٹوکیو میں معروف &amp;rsquo;صدیق ریسٹورنٹ جہاں پاکستانی جاپانی کھانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے کھانے بھی دستیاب ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹوکیو میں معروف ’صدیق ریسٹورنٹ جہاں پاکستانی جاپانی کھانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے کھانے بھی دستیاب ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05121013a5715fa.jpg?r=122444'  alt='  جاپان کے شہر &amp;rsquo;تاتے باشی&amp;lsquo; کا ایک معروف سوشی ریسٹورنٹ جہاں قطار میں لگ کر سوشی کھانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپان کے شہر ’تاتے باشی‘ کا ایک معروف سوشی ریسٹورنٹ جہاں قطار میں لگ کر سوشی کھانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جاپان کو بازیافت کرنے کے عمل سے گزر رہا ہوں، امید کرتا ہوں کہ آپ قارئین بھی میرے اس سفر میں برابر کے شریک رہیں گے۔ بقول شاعر،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;وہ لطف اٹھائے گا سفر کا &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;آپ اپنے میں جو سفر کرے گا &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/from-the-land-of-the-rising-sun">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>اس وقت جاپان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت منفی ہوچکا ہے جبکہ میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں موجود ہوں۔ یہاں شدید سردی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہاں بھی درجہ حرارت منفی کے ہندسے کو چھونے والا ہے۔ دنیا میں جاپان تیسری بڑی معاشی قوت ہے جبکہ بہترین پاسپورٹ کی درجہ بندی میں جاپان گزشتہ 5 برس سے اولین تھا، البتہ رواں برس اس کا درجہ تیسرا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا کا ایک محفوظ ملک ہے اور سیاحوں کے لیے شاندار منزلِ مقصود ہے۔ آئیے آپ کو اس خوبصورت ملک کا تازہ ترین احوال بتاتے ہیں کیونکہ میں ابھی یہاں کئی دنوں تک موجود رہوں گا۔</p>
<h1><a id="کراچی-ایئرپورٹ-کا-اعزاز" href="#کراچی-ایئرپورٹ-کا-اعزاز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کراچی ایئرپورٹ کا اعزاز</h1>
<p>پاکستان سے میں جب جاپان کے لیے روانہ ہوا، توکراچی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی روانگی کے دروازے تک اہل خانہ نے مجھے رخصت کیا۔ اس موقع پر ہم نے دیکھا کہ ایئرپورٹ کے اندر کسٹم کے استقبالیہ کے دائیں طرف آٹھ دس ممالک کی گھڑیاں آویزاں تھیں جن پر اکثر ممالک کے ٹائم غلط چل رہے تھے جس میں جاپان کا مقررہ وقت بھی غلط تھا۔ جاپان کا وقت پاکستان سے چار گھنٹے آگے ہے جبکہ اس گھڑی کے مطابق جاپان پاکستان سے دوگھنٹے آگے تھا۔ یہ اعزاز صرف کراچی ہوائی اڈے کا ہی ہے اور شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ ایئرپورٹ حکام کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کس قدر افسوس ناک امر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05121125929fdb7.jpg?r=122444'  alt='  غلط وقت بتانے والی گھڑیاں رکھنے کا اعزاز بھی کراچی ایئرپورٹ کے پاس ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غلط وقت بتانے والی گھڑیاں رکھنے کا اعزاز بھی کراچی ایئرپورٹ کے پاس ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس موقع کی سب سے اہم اور اچھی بات، تمام اسٹاف اور حکام کا مثبت اور دوستانہ رویہ تھا بلکہ مجھ سے کسٹم والے صاحب نے ہنسی مذاق بھی کیا جب انہیں پتا چلا کہ میں جاپانی ادب وثقافت کا محقق ہوں۔ یوں میں وطن سے رخصت ہوا اور جاپان پہنچنے سے پہلے متبادل پرواز سے ابوظبی ایئرپورٹ پہنچا۔</p>
<h1><a id="ابوظبی-ایئرپورٹ-جدید-طرزِتعمیر-کا-شاہکار" href="#ابوظبی-ایئرپورٹ-جدید-طرزِتعمیر-کا-شاہکار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ابوظبی ایئرپورٹ: جدید طرزِتعمیر کا شاہکار</h1>
<p>ابوظبی ایئرپورٹ انتہائی صاف ستھرا، جدید اور پُرسکون ایئرپورٹ تھا جہاں کا عملہ بااخلاق جبکہ وہاں کوئی افراتفری بھی نہیں تھی۔ چند گھنٹوں کے بعد اسی ملک کی ایئرلائن سے پرواز بھری۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پاکستان سے آنے والے جہاز اور اب ہمیں جس جہاز میں بٹھایا گیا تھا وہاں کھانے اور عملے سمیت سب کچھ مختلف تھا یعنی اب سب کچھ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور معیاری تھا۔ پاکستانی مسافروں سے یہ تضاد مجھے سمجھ میں نہیں آیا، یہ اکثر ایئرلائنز کرتی ہیں جس پر حکومتِ پاکستان اور متعلقہ شعبوں کوغور کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<h1><a id="جاپان-میرادل-میری-جان" href="#جاپان-میرادل-میری-جان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپان: میرادل، میری جان</h1>
<p>جاپان کے شہر ٹوکیو کے دو ایئرپورٹ ’ہانیدا‘ اور’ناریتا’ ہیں، ہم ناریتا پر اترے۔ اس پرواز میں میرے برابر والی نشست پر جاپانی فوٹوگرافر ’کازوکی واتاناوے‘ براجمان تھے جن سے دوستی ہوگئی۔ وہ اسپین سے اپنا خصوصی فوٹو شوٹ پروجیکٹ مکمل کرکے آرہے تھے جبکہ ان دنوں ان کی تصاویر کی نمائش بھی ٹوکیو میں جاری ہے جس کو دیکھنے میں ضرور جاؤں گا۔ انہوں نے دورانِ سفر مجھے اپنی ایک تصویر دوستانہ کلمات لکھ کر اپنے دستخط کے ساتھ عنایت کی۔ جاپان میں اپنے سفر کی ابتدا میں یہ میرے لیے ایک عمدہ آغاز تھا۔</p>
<p>جاپان میں پاکستانی مسافروں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ سختی برتی جاتی ہے جس کا میں بھی عینی شاہد ہوں مگر اس مرتبہ میں اپنی فلائٹ میں اکیلا پاکستانی مسافر تھا اس لیے جاپانی کسٹم کے حکام نے مجھے خوش آمدید کہا۔ شاید تواتر سے جاپان آنے جانے کا یہ ایک پوشیدہ فائدہ تھا وگرنہ نئے مسافروں کو یہ سہولت کم ہی ملتی ہے۔ بہرحال ایئرپورٹ سے میں نے انٹرنیٹ سم خریدی، ٹرین کا ٹکٹ لیا اورجاپان کے ایئرپورٹ سے مرکزی ٹوکیو کی جانب روانہ ہوا۔ ناریتا ایئرپورٹ شہر سے باہر بنا ہوا ہے۔ اس بار جہاز کی کھڑکی والی سیٹ ملی تھی تو مجھے جاپان کا سب سے مشہور پہاڑ ’فُوجی ساں‘ دیکھنے کا نادر موقع بھی میسر آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05121613791c903.jpg?r=122444'  alt='  ونڈو سیٹ کی وجہ سے جہاز سے ماؤنٹ فُوجی دیکھنے کا موقع میسر آیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ونڈو سیٹ کی وجہ سے جہاز سے ماؤنٹ فُوجی دیکھنے کا موقع میسر آیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس مرتبہ میں اپنے دورے میں جاپانی دوستوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملوں گا۔ اس لیے جاپان میں تین دہائیوں سے مقیم اور پاکستان کے ایک نجی نیوز چینل کے نمائندہ جاپان اور ہمارے پیارے دوست جناب راشد صمد خان نے میرا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے میری تواضع ’چائے کافی‘ سے کی کیونکہ جاپان کا موسم ٹھنڈ کا احساس دلارہا تھا۔ ٹوکیو سے تھوڑی مسافت پر ایک دیہی علاقے ’گھما‘ میں میرا قیام تھا جہاں ہم سب دوست ’مصطفیٰ خاورکھوکھر‘ کے گھر پہنچے۔ خاور بھائی بھی گزشتہ تین چار دہائیوں سے جاپان میں مقیم ہیں اور جاپانی زبان کو اپنے آبائی علاقے گوجرانوالہ کی پنجابی کی طرح روانی سے بولتے ہیں۔ ٹوکیو کے بعد مضافاتی علاقوں میں سائی تاما، اباراکی اورگھما قابلِ ذکر ہیں، مرکزی ٹوکیو کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے حوالے سے بھی سیروسیاحت کا تذکرہ پیش نظر رہے گا۔</p>
<h1><a id="جاپان-کی-دیہی-زندگی-اور-شہری-طرزِ-حیات" href="#جاپان-کی-دیہی-زندگی-اور-شہری-طرزِ-حیات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپان کی دیہی زندگی اور شہری طرزِ حیات</h1>
<p>جاپان کی شہری زندگی سے تو دنیا واقف ہی ہے اور ہم بھی آپ کو سیر کروائیں گے لیکن ساتھ ساتھ جاپان کے دیہی علاقوں کا تذکرہ بھی جاری رہے گا تاکہ آپ شہری اور دیہی زندگی کا فرق بھی محسوس کرسکیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پورے جاپان میں ایک جیسی ملیں گی جیسے لوگوں کا اخلاق، صفائی کا خیال رکھنا وغیرہ۔ میں جاپان کے بہت سے شہروں اور مضافاتی علاقوں میں گیا مگر مجال ہے کہ انتظام وانصرام میں کوئی فرق ملا ہو۔ چاہے وہ گھر ہوں، دفاتر ہوں، سڑکیں ہوں، اسٹیشنز ہوں، یا پھر کھیت کھلیان ہوں، پورا جاپان ریلوے لائنز کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ سفر کرتا ہے۔ جس نے یہاں آکر ٹرینوں کا نظام سمجھ لیا وہ سمجھیں کم خرچے میں زیادہ جاپان دیکھ لے گا اور جو نہیں سمجھ پایا اس کے لیے جاپان میں محو سفر ہونا مشکل ہوجائے گا۔ مجھے بھی ابتدائی دوروں میں مشکلات ہوئیں مگر اب میں کافی سمجھ گیا ہوں اور آپ کو بھی سمجھا سکتا ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/051206248d49215.jpg?r=122444'  alt='  میرا قیام ٹوکیو کے قریب واقع ایک دیہات میں ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میرا قیام ٹوکیو کے قریب واقع ایک دیہات میں ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ نظام بہت سادہ ہے جو بظاہر بہت پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔ کئی طرح کی ٹرینیں اور ان کے روٹس ہیں جن میں لوکل اور سُست رو ٹرینیں بھی ہیں اور تیز سے تیز ترین ٹرینیں بھی ہیں حتیٰ کہ دنیا کی تیز ترین ٹرینوں میں سے ایک ’شنکانسین‘ ٹرین بھی شامل ہے جسے عرف عام میں بلٹ ٹرین کہتے ہیں۔ پورے جاپان میں ہر چھوٹے بڑے علاقے میں اسٹیشنز بنے ہوئے ہیں۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہو یا پھر ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک، جاپان کے تمام لوگ ٹرینوں کا ہی استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>آپ کو گوگل پر صرف اپنی منزل کا نام لکھنا ہوتا ہے۔ ایپ کے ذریعے آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ جہاں آپ جانا چاہتے ہیں وہاں تک کتنی ٹرینیں بدلنی ہوں گی، کہاں سے بدلیں گی، ان کے اوقات کار کیا ہوں گے، اس پر کُل خرچہ کتنا آئے گا، یہ ایپ سب کچھ بتاتی ہے۔ اس کو جس نے جتنی جلدی سمجھ لیا، وہ سکھ میں رہے گا۔</p>
<p>ویسے تو پورے جاپان میں بسیں بھی چلتی ہیں مگر لوگ ٹرین کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ آمدورفت میں ٹیکسی سب سے مہنگی سواری ہے۔ عام جاپانی بھی بحالت مجبوری ٹیکسی میں سفر کرتا ہے اور اگر آپ کی اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل ہے تب بھی آپ کو جاپان کی مہنگی ترین پارکنگ فیس ذہن میں رکھنا ہوگی جہاں گھنٹوں کے حساب سے پارکنگ فیس چارج کی جاتی ہے۔ آپ کو بہت سے جاپانی شہری اور طلبہ سائیکلز چلاتے بھی دکھائی دیں گے، یہاں تک کہ ایک مخصوص آبادی سائیکلز پر سفر کرکے اسٹیشن تک آتی ہے۔ جاپان میں ایسا نظارہ باربار دیکھنے کو ملتا ہے اسی لیے ہائی وے یا عام سڑک کنارے سائیکل برداروں کے لیے جگہ مختص کی جاتی ہے۔</p>
<p>ان دنوں جاپان میں سردی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اس لیے یہاں شام 5 بجے رات کا سماں ہوجاتا ہے جبکہ رات 11 بجے تک شہری علاقوں میں دکانیں کھلی رہتی ہیں البتہ دیہی علاقوں میں چھ سات بجے تک رات ہوجاتی ہے۔ جاپانی لوگ علی الصبح بیدار ہوتے ہیں۔ صبح 8 بجے سے اسٹیشنز پر ہزاروں افراد آتے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرینوں کے اندر اکثریت کتاب پڑھتی ہے یا پھر موبائل دیکھنے میں مشغول ہوتی ہے۔ ٹرین میں آپس میں گفت و شنید مناسب خیال تصور نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05125957282ebab.jpg'  alt='    ٹرین میں جاپانی شہری یا تو کتاب پڑھتے ہیں یا پھر موبائل استعمال کرتے ہیں    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹرین میں جاپانی شہری یا تو کتاب پڑھتے ہیں یا پھر موبائل استعمال کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>سرعام سگریٹ پینا بھی ممنوع ہے اور جلدی ہونے کے باوجود ہزاروں لاکھوں افراد کا مجمع ٹرینوں میں سوار ہوتے ہوئے لائن بنانا نہیں بھولتا۔ گاڑی چلاتے ہوئے بیلٹ باندھنا اور ڈرائیو کرتے وقت سامنے سے اگر سائیکل سوار یا پیدل چلتے ہوئے کوئی آجائے تو گاڑی والے کو رکنا ہوگا جیسے یہ اس کا فرض ہے۔ یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سگنل توڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چاہے کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہو یا نہیں۔ جاپانی اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتتے اور قانون سے ڈرنے کے بجائے اس کی پاس داری کرتے ہیں جوکہ ان کی کامیاب سماجی زندگی کا راز ہے۔</p>
<h1><a id="اردو-زبان-کے-جاپانی-طلبہ-کا-اردو-ڈراما" href="#اردو-زبان-کے-جاپانی-طلبہ-کا-اردو-ڈراما" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اردو زبان کے جاپانی طلبہ کا اردو ڈراما</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/332601379519299" data-width="auto"></div></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپانی طلبہ کا پیش کردہ ڈراما— ویڈیو راشد صمد خان</figcaption>
    </figure></p>
<p>جاپان پہنچتے ہی ہمیں سب سے پہلے جو دعوت نامہ موصول ہوا وہ ’ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز‘ کے شعبہ اردو کی طرف سے تھا۔ اس شعبے سے منسلک جناب پروفیسر مامیاکین ساکو جو خود بھی اردو اور سندھی زبانوں کے دانشور اور استاد ہیں، انہوں نے ہمیں یہ دعوت دی جبکہ ڈرامے کے منتظمین میں بھی وہی پیش پیش ہیں۔ اس یونیورسٹی میں ہر سال اردو زبان پڑھنے والے جاپانی طلبہ اردو میں ڈراما پیش کرتے ہیں۔ اس بار جو ڈراما پیش کیا گیا اس کا نام ’آشیانہ‘ تھا جس کے ڈرامانگار ’ڈاکٹر محمد حسن‘ تھے۔ اس کھیل کو جاپانی طلبہ نے بہت عمدگی اور مہارت سے پیش کیا۔ ڈرامے کے اختتام پر جاپان میں پاکستان کے سفیر جناب ’رضا بشیر تارڑ‘ نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے اردو زبان کے جاپانی طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/314341811426546/" data-width="auto"></div></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپانی طلبہ کا پیش کردہ ڈراما— ویڈیو راشد صمد خان</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="ٹوکیویونیورسٹی-آف-فارن-اسٹڈیز-کا-ثقافتی-میلہ" href="#ٹوکیویونیورسٹی-آف-فارن-اسٹڈیز-کا-ثقافتی-میلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹوکیویونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کا ثقافتی میلہ</h1>
<p>اس موقع پر یونیورسٹی کی طرف سے تمام زبانوں کے طلبہ نے اسٹالز بھی لگائے اور اُن ممالک کی ثقافت اور روایتی کھانا پیش کیا جن کی زبان وہ سیکھ رہے تھے۔ اردو زبان کے طلبہ نے پاکستانی اسٹال لگایا ہوا تھا جہاں چائے اور سموسے فروخت ہورہے تھے۔ میں نے اپنے پاکستانی دوست عرفان امبے اور ان کی جاپانی بیگم ’یوشی اے امبے‘ جو جاپانی زبان کی طالبہ بھی ہیں، ان کے ساتھ دیسی کھانے کھائے، فیسٹیول سے بھی خوب لطف اٹھایا اور اردو ڈرامے میں بھی ایک دوسرے کے سنگ رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/051255226b35280.jpg'  alt='    ٹوکیویونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے شعبہ اردو کی طرف سے لگائے گئے فوڈ اسٹال کا ایک بینر جو اردو اور جاپانی زبان میں لکھا گیا ہے    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹوکیویونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے شعبہ اردو کی طرف سے لگائے گئے فوڈ اسٹال کا ایک بینر جو اردو اور جاپانی زبان میں لکھا گیا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں سفیر پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کے دیگر افراد سے بھی دلچسپ گفتگو رہی جو اس موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے جبکہ شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ بھی ہمراہ تھے۔ برابر میں بنگلادیش اور کچھ فاصلے پر بھارت کے اسٹالز بھی موجود تھے۔ میں نے خیرسگالی کے طور پر ان کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا اور ان کے کام کی تعریف کی جس پر وہ طلبہ بے حد خوش ہوئے۔ اس ثقافتی میلے میں ایک ساتھ اتنے سارے ممالک کا کلچر دیکھنے کا اتفاق ہوا جوکہ ایک اچھی سرگرمی ہے۔ میرے نزدیک پاکستانی جامعات میں بھی اسی طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد ہونا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05120621ba66fbc.jpg?r=122444'  alt='  اردو زبان کے جاپانی طلبا،جنہوں نے اردو ڈراما بھی پیش کیا،وہ اپنے پروفیسر مامیاکین ساکو لکھاری کے ہمراہ ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اردو زبان کے جاپانی طلبا،جنہوں نے اردو ڈراما بھی پیش کیا،وہ اپنے پروفیسر مامیاکین ساکو لکھاری کے ہمراہ ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="قدم-بہ-قدم-جانب-منزل" href="#قدم-بہ-قدم-جانب-منزل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قدم بہ قدم جانب منزل</h1>
<p>جاپان چار بڑے جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے اور اگر اس کے ساتھ دیگر چھوٹے بڑے جزیرے گنے جائیں تو کم وبیش جزائر کی کُل تعداد 14 ہزار 125 بنتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے جاپان کو 8 ریجن میں تقسیم کیا گیا ہے اور 47 پریفیکچر (صوبے) بنائے گئے ہیں۔ 790 شہروں اور دیہات پر مشتمل اس ملک میں ہر جگہ دیکھنے کے قابل ہے۔ پورا ملک ایک نظام کی لڑی میں پرویا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک کونے سے دوسرے کونے تک سب کچھ ایک جیسا ہے، ہر طرف قانون کی حکمرانی ہے، اس ملک کا دارالحکومت تو ٹوکیو ہے لیکن اوساکا جیسے شہر بھی اپنی پوری چمک اور آب وتاب رکھتے ہیں اور جاپانیوں کی دیہی زندگی بھی اتنی ہی خوبصورت اور شاندار ہے جتنی شہری زندگی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05124847ae30509.jpg'  alt='  پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے لیے جاپان مہنگا ترین ملک ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے لیے جاپان مہنگا ترین ملک ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس سفرنامے میں آپ کو ایسی مزید جھلکیاں ملتی رہیں گی۔ اگرچہ جاپان مہنگا ترین ملک ہے لیکن یہاں جس چیز کی جو قیمت طے اور مقرر ہے اس سے ایک ین بھی اوپر کوئی نہیں لے سکتا۔ ناانصافی، چوری، ڈکیتی، دھوکا دہی اور چھینا جھپٹی جیسے الفاظ اور تصورات جاپانی معاشرے میں بے معنی ہیں۔ یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ پورے ملک میں آپ کہیں بھی چلے جائیں چاہے عورت ہیں یا مرد بلاتفریق آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ یہ جاپان کی ترقی کی اصل روح ہے۔ باہر سے آئے ہوئے سیاحوں کے لیے یہ ملک بہت مہنگا ہے لیکن اگر ان سیاحوں کا تعلق پاکستان یا بھارت جیسے ممالک سے ہے تو پھر بہت سوچ سمجھ کر جاپان کا سفر کریں ورنہ مہنگائی کے ہاتھوں جان کے لالے پڑجائیں گے۔</p>
<p>میں پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے لیے دونوں ممالک میں تخلیقی وتحقیقی کام کرتا ہوں اور اسی سلسلے میں جاپان آیا ہوں۔ کام کی تفصیل بھی آپ کو بتائیں گے لیکن فی الحال تو کام کرتے ہوئے کئی دن ہوچکے تھے اسی لیے سوچا کہ تفریح کی جائے تو ہم نے اپنے رہائشی علاقے ’اتاکوراماچی‘ میں اپنے میزبان خاور بھائی کے ہمراہ دیہی طرز زندگی میں حصہ لیا کیونکہ خاور بھائی ایک کسان اور زمیندار ہیں۔ ہم نے ایک جاپانی خاتون کے جاپانی پھلوں کے درختوں کی کانٹ چھانٹ کی پھر اپنی زمین کے قطعے پر کام کیا اور ایک دوسری زمین پر فارم ہاؤس بنانے کے لیے اراضی کی صفائی کے کام میں حصہ لیا۔ جاپان میں تمام لوگ اپنا کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="جاپانی-ادبی-میوزیم-اور-نپولین-فلم" href="#جاپانی-ادبی-میوزیم-اور-نپولین-فلم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپانی ادبی میوزیم اور نپولین فلم</h1>
<p>چونکہ میں کافی دنوں سے مسلسل کام کررہا تھا تو سوچا کہ کیوں نہ چھٹی کی جائے۔ چھٹی کرکے میں نے دو کام کیے، ایک تو میری رہائش گاہ سے قریبی شہر میں واقع ’کوگالٹریچرمیوزیم‘ کا دورہ تھا۔ جاپان میں ہر چھوٹے بڑے شہر میں مقامی ادیبوں، شعرا، مصوروں اور فلم سازوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے میوزیمز قائم کیے گئے ہیں، مذکورہ میوزیم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس میوزیم میں سب سے زیادہ مجھے جن ادیبوں کی شخصیت نے متاثر کیا ان میں جاپانی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ادیبہ ’ناگائی می چیکو‘ اور ادیب ہونے کے ساتھ اسکرین پلے رائٹر کے طور پر شہرت پانے والے ’کوبایاشی کیوزو‘ تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/051224297e5decc.jpg?r=122444'  alt='  جاپان کے شہر &rsquo;کوگا&lsquo; میں &rsquo;جاپان لٹریچرمیوزیم&lsquo; کامرکزی دروازہ اورگزرگاہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان کے شہر ’کوگا‘ میں ’جاپان لٹریچرمیوزیم‘ کامرکزی دروازہ اورگزرگاہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس میوزیم کا حسنِ انتظام دیکھ کر یہ گماں ہورہا تھا کہ یہ گویا کسی یورپی ملک کا کوئی میوزیم ہو۔ میوزیم کا مقام بھی انتہائی خوبصورت تھا جو اس شہر ’کوگا‘ کا قدیم علاقہ ہے۔ میں نے اس میوزیم سے جاپانی سینما کے معروف اسکرین پلے رائٹر اور ادیب ’کوبایاشی کیوزو‘ کی ایک کتاب بھی خریدی اور وہاں کافی پیتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ ہم کب سعادت حسن منٹو، خواجہ خورشید انور، میڈم نورجہاں اور دیگر مشاہیر کے لیے میوزیم بنائیں گے؟ جواب میں صرف خاموشی تھی جس کے سنگ میں کافی کی چسکیاں لے رہا تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ ٹوکیو کے علاقے ’آکیہ بارا‘ میں موجود سینما میں ہم فلم ’نپولین‘ دیکھنے گئے۔ اس فلم کا مرکزی کردار ’جیکوئن فینکس‘ نے ادا کیا ہے جو اس سے پہلے فلم ’جوکر‘ کے لیے بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس فلم کے ہدایت کار، برطانوی فلم ساز’ریڈلی اسکاٹ’ ہیں۔ جاپان میں سینما دیکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا جو بہت شاندار رہا۔ سینما کا معیار، دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح مہنگا اور بہترین ہے۔ جاپان میں دیکھی ہوئی یہ فلم یادگار رہے گی۔ جاپان کی اپنی فلمی صنعت بہت مضبوط ہے جس پر آگے چل کر بات ہوگی۔ اس کے علاوہ چھٹی کے موقع پر گھر والوں کے لیے تھوڑی بہت خریداری بھی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/0512344076edd58.jpg'  alt='  جاپان میں مانگا،اینی میشن،کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرونکس چیزوں کے لیے مشہور علاقہ &rsquo;آکیہ بارا&lsquo; کے اسٹیشن کا اندرونی منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان میں مانگا،اینی میشن،کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرونکس چیزوں کے لیے مشہور علاقہ ’آکیہ بارا‘ کے اسٹیشن کا اندرونی منظر</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="جاپانی-اور-پاکستانی-کھانے" href="#جاپانی-اور-پاکستانی-کھانے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جاپانی اور پاکستانی کھانے</h1>
<p>پاکستان جاپان لٹریچرفورم کے پیٹرن اِن چیف، سابق جاپانی سفارت کار اور میرے استاد جناب توشی کازو ایسومورا صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ ٹوکیو اسٹیشن کی زیرِزمین فوڈ اسٹریٹس میں بنے ایک بھارتی ریسٹورنٹ میں پاکستانی کھانا کھایا اور تبادلہ خیال کیا۔ ان کے علاوہ ٹوکیو میں مشہور پاکستانی ریسٹورنٹ ’صدیق‘ پر راشد صمد خان اور جاپان میں پاکستانی طلبہ تنظیم کے صدر، جناب مناظر حسین کے ہمراہ بھی کھانا کھایا جبکہ جاپان کی مشہور ڈش ’سوشی‘ کھانے کے لیے ایک معروف سوشی ریسٹورنٹ بھی گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05120909f4d9996.jpg?r=122444'  alt='  ٹوکیو میں معروف &rsquo;صدیق ریسٹورنٹ جہاں پاکستانی جاپانی کھانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے کھانے بھی دستیاب ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹوکیو میں معروف ’صدیق ریسٹورنٹ جہاں پاکستانی جاپانی کھانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے کھانے بھی دستیاب ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/05121013a5715fa.jpg?r=122444'  alt='  جاپان کے شہر &rsquo;تاتے باشی&lsquo; کا ایک معروف سوشی ریسٹورنٹ جہاں قطار میں لگ کر سوشی کھانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپان کے شہر ’تاتے باشی‘ کا ایک معروف سوشی ریسٹورنٹ جہاں قطار میں لگ کر سوشی کھانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جاپان کو بازیافت کرنے کے عمل سے گزر رہا ہوں، امید کرتا ہوں کہ آپ قارئین بھی میرے اس سفر میں برابر کے شریک رہیں گے۔ بقول شاعر،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">وہ لطف اٹھائے گا سفر کا </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">آپ اپنے میں جو سفر کرے گا </div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218076</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jan 2024 08:48:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم سہیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/081107542518036.jpg?r=110800" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/081107542518036.jpg?r=110800"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/0811165134daa87.png?r=111704" type="image/png" medium="image" height="875" width="1750">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/0811165134daa87.png?r=111704"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: وادی ہنزہ اور التِت بلتِت (گیارہویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212766/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ہماری گاڑی شاہراہِ قراقرم پر خشک پہاڑوں کے دامن میں ہنزہ کی طرف دوڑتی جارہی تھی۔ مناظر کی یکسانیت دل کو بیزار کررہی تھی کہ یکایک ایک جھماکا ہوا۔ اردگرد کے سارے خشک پہاڑ یکبارگی ایک پُرعظمت و شعلہ صفت ہستی کی قدم بوسی کو جھکے، ایک لمحے کے لیے وہ برف کی شہزادی ہم پر آشکار ہوئی لیکن ہم ابھی اس کے سحر میں پوری طرح گرفتار بھی نہ ہوئے تھے کہ خشک پہاڑوں نے پھر آگے بڑھ کر اس برف کی شہزادی کو نگاہوں سے اوجھل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک زبردست جلوہ تھا جس سے ہماری آنکھیں چندھیا گئیں، ایک واہمے کی صورت سامنے آیا اور اگلے ہی لمحے پہاڑوں کے پیچھے کہیں کھو گیا۔ میں حیرت سے آنکھیں کھولے ان ظالم پہاڑوں کی دیوار کو تک ہی رہا تھا کہ وہ دیواریں ایک بار پھر اس حسنِ  بے پروا کی قدم بوسی کو جھکیں اور وہ برف کی حویلی، وہ سفید محل پھر نمودار ہوا کہ جس کی مرمریں دیواریں دھوپ میں دھواں دیتی ایک بلند نوکدار چوٹی کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وادی نگر کی مشہور چوٹی ’راکاپوشی‘ تھی کہ جو وقفے وقفے سے اپنے جلوے دکھا کر سیاحوں کو اپنے حسن و جمال کا لحظہ بہ لحظہ قائل کرتی ہے اور انہیں آہستہ آہستہ اپنا عادی بناتی ہے کیونکہ اتنا حسن و جمال ہمارا بدصورتی کا مارا دل یک بہ یک برداشت نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم سب سٹپٹائے اور آنکھیں پھیلائے راکاپوشی کی طرف دیکھ رہے تھے مگر اگلے لمحے وہ پھر اوجھل ہوگئی۔ مگر پھر غلمت آ گیا جہاں راکاپوشی ویو پوائنٹ تھا۔ شاہراہِ قراقرم پر اس واقع مقام سے راکاپوشی کا پہاڑ اس قدر قریب نظر آتا ہے کہ لگتا ہے ہم وہیں کھڑے کھڑے صرف اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی ازلی برفوں کو چھو لیں گے۔ ہنزہ جانے والا ہر سیاح یہاں ضرور رکتا ہے اور راکاپوشی کا یہ دلفریب نظارہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124752465fd68.jpg?r=125312'  alt='  راکاپوشی کا دلفریب نظارہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راکاپوشی کا دلفریب نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 ہزار 551 فٹ بلند راکاپوشی، پاکستان کی 12 ویں اور دنیا کی 27 ویں بلند ترین چوٹی ہے۔ راکاپوشی دنیا کا واحد پہاڑ ہے جو اپنے دامن سے لے کر اپنی 25 ہزار فٹ بلند چوٹی تک پورا کا پورا ایک ہی نگاہ میں نظر آجاتا ہے۔ لفظ ’راکاپوشی‘ کا مطلب ہے چمکتی دیوار۔ اس کا دوسرا نام ’دومانی‘ بھی ہے یعنیٰ بادلوں کی ماں۔ راکاپوشی کو پہلی بار 1958ء میں دو برطانوی کوہ پیماؤں مائک بینکس اور تھامس والٹن نے سر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے کچھ دیر راکاپوشی ویو پوائنٹ سے برفیلی بلندیوں کا نظارہ کیا اور پھر آگے چل پڑے۔ ابھی چند کلومیٹر ہی آگے آئے ہوں گے کہ سڑک نے بائیں طرف ایک موڑ لیا اور دریائے ہنزہ کو ایک بے ستون محرابی پل سے عبور کرکے دوسرے کنارے پر آگئے۔ یعنی ہم وادی نگر سے نکل کر وادی ہنزہ میں داخل ہوگئے۔ اب ہماری گاڑی وادی ہنزہ میں دوڑ رہی تھی۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں گزر رہے تھے۔ دریا کے کنارے پہاڑی ڈھلوانیں بلندی تک سبزے سے ڈھکے سیڑھی نما کھیتوں میں چھپی ہوئی تھیں اور یہ منظر اتنا عجیب اور پراسرار تھا کہ جس کا اندازہ میدانوں میں رہنے والے، دیواروں میں مقید نگاہوں والے بالکل بھی نہیں کرسکتے۔ یہ دیکھنے والے کو پہلی نظر میں ایک ہی منظر لگتا ہے حالانکہ یہ لا تعداد مناظر کا مجموعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012483442bc0bb.jpg?r=125312'  alt='  وادی ہنزہ کا پُرکیف منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی ہنزہ کا پُرکیف منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا اس منظر کے بارے میں صرف یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ یہ بس دو پہاڑوں کے بیچ دریا کنارے ایک سڑک، کچھ ڈھلوانی کھیت ہیں اور کچھ پہاڑی گھروندے ہیں؟ بس؟ لیکن کیا واقعی بس؟ کیا اس پورے منظر کو واضح کرنے کے لیے بس یہ چند الفاظ کافی ہیں؟ کیا ان دو طرفہ پہاڑوں کے درمیانی علاقے کی چوڑائی، ان ڈھلوانوں پر موجود آبادیوں کی اونچائی اور اس وسیع پھیلاؤ کا یہ تھری ڈی منظر، کیا کسی کے سامنے صرف چند الفاظ کہہ دینے سے اس پر واضح ہوجائے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لینڈاسکیپ ایک واحد منظر بن کر نگاہوں کے سامنے بالکل اسی طرح دھرا ہوتا ہے جس طرح حبیب بینک پلازا کی 22ویں منزل سے دیکھیں تو پورا کراچی نظروں کے سامنے دھرا ہوتا ہے تو کیا ہم حبیب بینک پلازا پر کھڑے ہوکر کراچی کوایک چھوٹا شہر کہہ سکتے ہیں؟ راکاپوشی کی چھاؤں میں ہنزہ جانے والی ایک ویگن کی کھڑکی سے سارا منظر ایک ہی جھلک میں نظرآ رہا تھا، یہ منظر اتنا بڑا تھا کہ نظروں میں سمانے کے لیے اسے مائیکرو بنانا پڑتا ہے اور پھر اس کی یاد عمر بھر کے لیے ایک مائیکرو فلم کی طرح ذہن میں محفوظ رہ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012475746007ca.jpg?r=125312'  alt='  راکاپوشی اور وادی ہنزہ کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راکاپوشی اور وادی ہنزہ کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامنے بہت دور، مگر بالکل قریب نظر آنے والا ایک بے ہنگم و بلند قلعہ نما پہاڑ اُلتر ہے جس کی کٹی پھٹی منڈیروں پر برف ڈھیروں کی صورت جمع رہتی ہے۔ ان برفانی منڈیروں کے قریب آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ یہ منظر ویسے تو نگاہوں کے بالکل سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح موجود ہے لیکن آج تک کوئی بھی وہاں نہیں پہنچ سکا۔ آخرکیوں؟ کیا وہ بہت دور ہے؟ اگر دور ہے تو پھر اتنا قریب کیوں نظر آتا ہے؟ اس سوچ میں ہی عقل چکرا کر رہ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے ہنزہ میں بائیں طرف سے ایک نالا آکر شامل ہورہا تھا۔ وہ پہاڑوں کے کافی اندر سے نکل کر دریا سے ملنے آرہا تھا اور ہمیں اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے اسے عبور کرنا تھا۔ یہ نالا عبور کرنے کے لیے سڑک کو ایک پل پر سے گزرنا ہے مگر وہ پل خاصا اندر جا کر پہاڑوں کی جڑ میں ہے۔ اس پل تک جانے کے لیے گاڑی نے جیسے ہی اپنا رخ اندر کی جانب موڑا، ایک زبردست دھماکے کی آواز آئی۔ گاڑی سے کچھ آگے گردوغبار کے مرغولے فضا میں ابھرنے لگے۔ ڈرائیور نے فوراً بریک لگایا اور گاڑی روک دی۔ مسافر اس دھماکے سے بدحواس ہوکر باہر نکل آئے تھے۔ ہمارے پیچھے آنے والی گاڑیاں بھی رک گئی تھیں۔ ڈرائیور سڑک کے کنارے ایک پتھر پر جا کر اطمینان سے بیٹھ گیا تھا، میں اس کے پاس گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124746d73dfb8.jpg?r=125312'  alt='  دریائے ہنزہ پر وادئ ہنزہ اور وادی نگر کے درمیان پل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے ہنزہ پر وادئ ہنزہ اور وادی نگر کے درمیان پل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لینڈ سلائڈنگ ہوئی ہے صاحب، سڑک بند ہوگئی ہے‘، وہ میری طرف دیکھ کریوں بولا جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تو اب کیا ہوگا؟ کیا ہمیں واپس جانا ہوگا؟‘ میں تشویش سے بولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جی صاحب ہمیں تو واپس جانا ہوگا کیونکہ یہ کافی بڑا لینڈ سلائڈ ہے۔ ابھی تو بلڈوزر بھی نہیں آیا۔ صفائی میں دو تین گھنٹے لگ سکتے ہیں، لیکن آپ پریشان نہیں ہوں۔ آپ لوگ تو پیدل اس سلائڈ سے گزر سکتے ہیں۔ دوسری طرف سے آپ کو سوزوکی مل جائے گی‘، اس نے مجھے تسلی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے دیکھا کہ مقامی مسافر اپنے بال بچوں اور سازو سامان سمیت گاڑیوں سے اتر کر پیدل ہی سلائڈنگ ایریا کو عبور کرنے جارہے ہیں۔ گاڑیاں تقریباً خالی ہوچکی تھیں۔ لاچار ہم تینوں دوستوں نے بھی اپنے اپنے تھیلے کاندھوں پر لادے اور ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ کچھ آگے ایک موڑ تھا جس کے پیچھے کہیں سے گردوغبار اٹھ رہا تھا۔ ہم جیسے ہی اس موڑ سے آگے آئے، پورا ماجرا سامنے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے لیے ماضی میں جو بارودی دھماکے کرکے یہ راستہ نکالا گیا تھا، وہ دراصل دھماکے ان چٹانوں کی فطرت میں دخل اندازی تھے۔ اس دخل اندازی نے ان پہاڑوں کے دل توڑ کر انہیں کھوکھلا اور شکستہ کردیا ہے چنانچہ یہ بُھربھری چٹانیں گاہے بہ گاہے ریزہ ریزہ ہوکر بکھرتی ہیں اورلڑھکتی ہوئی شاہراہِ قراقرم پر آکر سجدہ ریز ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت بھی سڑک پر لاتعداد بڑے بڑے پتھر اوپر سے لڑھک کر آرہے تھے اور ان کے زور سے سڑک کا کچھ حصہ ٹوٹ کر سیکڑوں فٹ نیچے دریا کی طرف بہہ گیا تھا۔ یہ خشک لینڈ سلائڈنگ تھی۔ بارش میں گیلی لینڈ سلائڈز بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہر طرف بری طرح کیچڑ پھیل جاتی ہے۔ اب تک پہاڑ سے مٹی اور پتھر خوفناک آوازوں کے ساتھ گررہے تھے۔ یہ آوازیں مزید سلائڈنگ کا پیش خیمہ تھیں مگر لوگ مٹی پتھر کی اس بوچھاڑ کے باوجود بچتے بچاتے سلائڈ پر سے تیز تیز گزرتے جارہے تھے کیونکہ دوسری طرف سوزوکیاں اور ویگنیں آچکی تھیں جو ان مسافروں کو بھر بھر کر آگے روانہ ہورہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124828380a41d.jpg?r=125312'  alt='  وادی ہنزہ میں صبح کا دلکش منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی ہنزہ میں صبح کا دلکش منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند لمحوں کے لیے سنگ باری کا یہ سلسلہ تھما تو ہم نے بھی اللہ کا نام لیا اور کار زارِ عشق میں کود پڑے۔ بڑے بڑے پتھروں کو پھلانگتے ہوئے دل بھی سینکڑوں ضربات فی منٹ کے حساب سے دھڑکنے لگا۔ نگاہیں سامنے تھیں اور کان معمولی سے معمولی آہٹ کو بھی فوراً سن لینے کے لیے چوکنے تھے۔ زبان آیت الکرسی کا ورد کررہی تھی۔ اچانک ایک گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ میری آنکھیں فوراً پہاڑ کی طرف متوجہ ہوئیں اور میں نے دیکھا کہ اوپر سے گردوغبار کا ایک نیا ریلا پھر نیچے کی طرف آرہا ہے۔ دل کی دھڑکنوں نے اچانک دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برسنا شروع کردیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے کاندھوں کو پر لگ گئے ہوں۔ چند لمحوں میں ہی میں کسی ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا ہوا صدیوں کی اس مسافت کو سیکنڈز میں عبور کرکے سلائڈ ایریا سے باہر آ چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باسط، وسیم، اشفاق بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہوئے آ پہنچے۔ محفوظ جگہ پر آکر ہم نے اپنے پیچھے دیکھا تو خوف سے آنکھیں پھیل گئیں۔ چند لمحے پہلے ہم جس جگہ سے گزرے تھے، وہاں اب دھڑا دھڑ پتھر برس رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ابھی وہیں کھڑے تھے کہ اتنے میں ایف ڈبلیو او کے بلڈوزر آگئے اور سڑک کی صفائی کا کام شروع ہوگیا۔ طاقتور ایکس کیویٹر منہ زوری کے ساتھ بڑے بڑے وزنی پتھروں کو دریا کی طرف دھکیل رہا تھا۔ ایک فوجی منہ میں سیٹی لیے اوپر کی جانب نظریں جمائے کھڑا ہوگیا۔ جیسے ہی اوپر کوئی گڑبڑ محسوس ہوتی اور کوئی پتھر لڑھکتا نظر آتا، وہ فوراًسیٹی بجا دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے ہنزہ کے دوسرے کنارے پر سیڑھی در سیڑھی کھیتوں کا ایک وسیع سلسلہ پھیلا ہوا تھا جس میں کہیں کہیں مکانات گھروندوں جیسے نظر آرہے تھے۔ ایک مقامی مسافر میرے قریب کھڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہاں سے ہنزہ کتنی دور ہے؟‘ میں نے اس سے پوچھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مسکرا کر بولا کہ ’یہ تو پورا ہی ہنزہ ہے جی۔ ہنزہ کسی ایک جگہ کا نام نہیں، یہ تو پوری وادی ہے۔ یہاں حسن آباد ہے، مرتضیٰ آباد ہے، علی آباد ہے، گنیش ہے، کریم آباد ہے۔ یہ سب ہنزہ ہے‘، اس نے اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے مختلف مقامات کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ جو اوپر آپ کو برف نظر آرہی ہے، یہ اُلتر گلیشیئر ہے۔ اس کے نیچے کریم آباد ہے اور کریم آباد کے نیچے گنیش اور علی آباد ہے۔ آپ کریم آباد جائیں گے جو گنیش سے اوپر ہے۔ وہاں کے لیے گنیش سے ایک راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124740bc4064c.jpg?r=125312'  alt='  ہنزہ کریم آباد میں اُلتر کی چوٹی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہنزہ کریم آباد میں اُلتر کی چوٹی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچانک ہمیں مسلسل سیٹی کی آواز نے چونکا دیا۔ راستہ صاف ہوچکا تھا اور ایک فوجی سیٹی بجا کر گاڑیوں کو گزرنے کا اشارہ کررہا تھا۔ ہماری گفتگو کے دوران بلڈوزر نے بڑے پتھر ہٹا کر اتنا راستہ کھول دیا تھا کہ ایک وقت میں ایک گاڑی نکل سکے۔ ہماری گاڑی بھی پتھروں کے ڈھیر پر ہچکولے کھاتی ہوئی آرہی تھی۔ ڈرائیور نے ہمیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ہم فوراً لپک گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بھی سڑک بہت بلند تھی اور دائیں طرف نیچے گہرائیوں میں بہتا دریائے ہنزہ یہاں سے ہمیں ایک ایسا مختصر دھارا نظر آتا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اسے محض چند چھلانگیں لگا کر عبور کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سامنے اُلتر کی بے ہنگم بلندیوں کے دامن میں بسا کریم آباد  یہاں سے بس ایک ڈیڑھ کلومیٹر ہی دور لگتا تھا حالانکہ وہ یہاں سے کم از کم 20 کلومیٹر دور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑی دیر میں ایک شہر نما چھوٹا سا قصبہ علی آباد آگیا۔ علی آباد کے بعد شاہراہ کے دونوں طرف سبز ڈھلوانیں اور اونچے اونچے سفیدے کے درخت شروع ہوگئے مگر پھر فوراً گنیش آگیا جوکہ ہمارا آخری اسٹاپ تھا۔ گاڑی کھڑی ہوئی تو اس کے انجن سے زور سے گھڑ گھڑ کی آواز آئی اور پھر وہ خاموش ہوگیا۔ ہم ہنزہ پہنچ چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124736f53895d.jpg?r=125312'  alt='  اُلتر کی بے ہنگم بلندیوں کے دامن میں بسا کریم آباد  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اُلتر کی بے ہنگم بلندیوں کے دامن میں بسا کریم آباد&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہراہِ قراقرم یہاں سے ایک بڑا سا دائرہ بناتی ہوئی آگے کی طرف ایک پہاڑ کے پیچھے گم ہورہی تھی۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف کھیت تھے اور کھیتوں میں گندم کے سنہری خوشے لہلہا رہے تھے۔ بس اسٹاپ کے پاس شاہراہِ قرقرام کی تعمیر کے دوران جاں بحق ہونے والے ہنزہ کے جوانوں کی یادگار بنی ہوئی تھی۔ یادگار کے پہلو میں سے ایک کچا راستہ اوپر کی طرف اٹھ رہا تھا۔ اوپر جہاں کریم آباد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم آباد وادی ہنزہ کا صدر مقام ہے جہاں والیانِ ہنزہ کے نئے اور پرانے محلات بھی ہیں اور ہوٹلز اور سیاحتی سہولیات بھی وہیں پائی جاتی ہیں۔ کچے راستے کے شروع میں ’کریم آباد 3 کلومیٹر‘ کا سنگ میل اس عمودی مسافت کی نشاندہی کررہا تھا۔ کریم آباد کا قدیم نام ’بلتت‘ تھا۔ یہاں بلتت کے ساتھ ہی دوسرا قصبہ ’التت‘ بھی ہے۔ ہنزہ قدیم خودمختار ریاست تھی جس کا سربراہ ’میر‘ کہلاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124904af6d040.png?r=140057'  alt='  میر آف ہنزہ کا جھنڈا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میر آف ہنزہ کا جھنڈا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124842b9ab68c.jpg?r=125312'  alt='  والیانِ ہنزہ کا دربار  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;والیانِ ہنزہ کا دربار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;900 سال قدیم ریاستِ ہنزہ کی حدود شاہراہِ قراقرم پر موجود قصبے نومل سے شروع ہوکر درّہ خنجراب سے آگے سطح مرتفع پامیر تک ہوا کرتی تھیں۔ تاریخ کے مطابق 17ویں صدی میں میر شہباز خان، میر شاہ بیگ خان، میر شاہ خسرو خان، میر مرزا خان، میر سالم خان، میر غضنفر علی خان اور میر غزن خان سے لےکر 19ویں صدی کے آخر یعنیٰ 1891ء تک میر صفدر علی خان والیانِ ہنزہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124853f6b8bd3.jpg?r=125312'  alt='   میر غزن خان بھی ہنزہ کے والی رہ چکے ہیں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میر غزن خان بھی ہنزہ کے والی رہ چکے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1891ء میں جب انگریزوں نے ہنزہ پر حملہ کیا تو میر صفدر علی خان سنکیانگ کی طرف چلے گئے۔ ان کی غیرموجودگی میں انگریزوں نے ریاست پر قبضہ کرلیا اور 1892ء میں میر نظیم خان کو ایک بے اختیار والی ہنزہ کے طور پرتعینات کردیا گیا۔ میرنظیم خان کے بعد 1938ء میں میر غزن خان دوم اور 1945ء میں میر محمد جمال خان کی بطور والی ہنزہ تعیناتی ہوئی۔ پاکستان بننے کے بعد میر جمال خان 1976ء تک والی رہے۔ یہ آخری والی ہنزہ تھے کیونکہ 1974ء میں ریاست ہنزہ کا پاکستان سے الحاق ہوگیا تھا اور گلگت و بلتستان کو وفاقِ کے زیرِ انتظام کردیا گیا تھا۔ موجودہ علامتی والی ہنزہ میر غضنفر علی خان دوم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124858673f281.jpg?r=125312'  alt='  1892ء میں میر نظیم خان کو ایک بے اختیار والی ہنزہ کے طور پرتعینات کیا گیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;1892ء میں میر نظیم خان کو ایک بے اختیار والی ہنزہ کے طور پرتعینات کیا گیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124847d4acdb2.jpg?r=125312'  alt='   ہنزہ کے والی میر جمال خان   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہنزہ کے والی میر جمال خان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی ہنزہ سطح سمندر سے 8 ہزار فٹ بلند ہے۔ یہ علاقہ صدیوں سے وسطی ایشیا، چین اور کشمیر کے درمیان ایک اہم تجارتی پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔ بلتت یعنی کریم آباد پون صدی تک ریاست ہنزہ کا دارالحکومت رہا۔ اس سے پہلے ریاست کا صدر مقام التت ہوا کرتا تھا۔ اس دور کی دو عمارتیں قلعہ التت اور قلعہ بلتت جوکہ والیانِ ریاست کی قیام گاہیں تھیں، آج بھی یہاں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ مقامی روایات کے مطابق التت اور بلتت کے باسیوں کا آبائی تعلق ترکستانی قبیلے ’ہُن‘ سے تھا اور اس بستی کا قدیم نام بھی ’ہنوکوشل‘ (یعنی ہنوں کا گاؤں) تھا۔ ممکن ہے اسی ہُن قوم سے نسبت کی وجہ سے یہ علاقہ ہنزہ کہلایا ہو۔ خیر یہ تو تاریخ کی گنجلک باتیں ہیں۔ ہم حال میں واپس آتے ہیں جہاں اس وقت ہم شاہراہِ قراقرم پر گنیش کے بس اسٹاپ پر کھڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012482359f71e7.jpg?r=125312'  alt='   موجودہ علامتی والیٔ ہنزہ میر غضنفر علی خان دوم   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;موجودہ علامتی والیٔ ہنزہ میر غضنفر علی خان دوم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس وقت کریم آباد تک جانے کے دو ذرائع تھے۔ ایک تو جیپ تھی جو اوپر پہنچانے کا اچھا خاصا معاوضہ لے رہی تھی اور دوسرا ذریعہ یہی تھا کہ ہم اپنے تھیلے کاندھوں پر چڑھا کرخود کو سانس پُھلا دینے والے ایک عمودی سفر کے لیے تیار کرلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012480939e695e.jpg?r=125312'  alt='  کریم آباد میں والیانِ ہنزہ کا قلعہِ بلتت  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کریم آباد میں والیانِ ہنزہ کا قلعہِ بلتت&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جیپیں سیرو تفریح کرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں اور پیدل سفر سیاحوں کا شیوہ رہا ہے کیونکہ سیاح صرف تفریح نہیں کرتا بلکہ تکلیف بھی اٹھاتا ہے‘، یہ سوچ کر ہم نے خود کو سیاح کے عظیم مرتبے پر فائز کیا اور اللہ کا نام لے کر پیدل اس کچی پگڈنڈی پر چل دیے جو خوبانی کے درختوں میں گھری بل کھاتی ہوئی اوپر اٹھ رہی تھی۔ پگڈنڈی کے ساتھ ساتھ ایک گدلے مٹیالے پانی کا تیز رفتار نالا شور مچاتا نیچے جارہا تھا۔ یہ نالا کہیں کہیں آبشار کی صورت میں گررہا تھا جہاں اس کی پھواریں دور دور تک بکھر کر راستے کو کیچڑ زدہ کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/301248154d824a6.jpg'  alt='   اونچائی سے شاہراہِ قراقرم یوں لگ رہی تھی جیسے کھیتوں سے سانپ گزر رہا ہو   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اونچائی سے شاہراہِ قراقرم یوں لگ رہی تھی جیسے کھیتوں سے سانپ گزر رہا ہو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ایک جگہ پھولتی سانس پر قابو پانے کے لیے رکے اور پیچھے طے کیے ہوئے راستے کو دیکھنے لگے۔ گنیش کا بس اسٹاپ اب بہت نیچے نظر آتا تھا اور کھیتوں میں کروٹیں لیتی شاہراہِ قراقرم یوں لگ رہی تھی جیسے گھاس میں سے کوئی سانپ گزررہا ہو۔ شاہراہِ قراقرم یہاں سے آگے گلمت، پھسّو اور سست سے گزرتی ہوئی 16 ہزار فٹ بلند درّہ خنجراب کی طرف چلی جاتی ہے۔ دریائے ہنزہ کے پار والے پہاڑوں کے اوپر سے راکاپوشی کی چوٹی جھانک رہی تھی۔ شام کی زرد ہوتی روشنی میں اس کی برفانی چوٹی کسی بلب کی طرح چمک رہی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>ہماری گاڑی شاہراہِ قراقرم پر خشک پہاڑوں کے دامن میں ہنزہ کی طرف دوڑتی جارہی تھی۔ مناظر کی یکسانیت دل کو بیزار کررہی تھی کہ یکایک ایک جھماکا ہوا۔ اردگرد کے سارے خشک پہاڑ یکبارگی ایک پُرعظمت و شعلہ صفت ہستی کی قدم بوسی کو جھکے، ایک لمحے کے لیے وہ برف کی شہزادی ہم پر آشکار ہوئی لیکن ہم ابھی اس کے سحر میں پوری طرح گرفتار بھی نہ ہوئے تھے کہ خشک پہاڑوں نے پھر آگے بڑھ کر اس برف کی شہزادی کو نگاہوں سے اوجھل کردیا۔</p>
<p>یہ ایک زبردست جلوہ تھا جس سے ہماری آنکھیں چندھیا گئیں، ایک واہمے کی صورت سامنے آیا اور اگلے ہی لمحے پہاڑوں کے پیچھے کہیں کھو گیا۔ میں حیرت سے آنکھیں کھولے ان ظالم پہاڑوں کی دیوار کو تک ہی رہا تھا کہ وہ دیواریں ایک بار پھر اس حسنِ  بے پروا کی قدم بوسی کو جھکیں اور وہ برف کی حویلی، وہ سفید محل پھر نمودار ہوا کہ جس کی مرمریں دیواریں دھوپ میں دھواں دیتی ایک بلند نوکدار چوٹی کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھیں۔</p>
<p>یہی وادی نگر کی مشہور چوٹی ’راکاپوشی‘ تھی کہ جو وقفے وقفے سے اپنے جلوے دکھا کر سیاحوں کو اپنے حسن و جمال کا لحظہ بہ لحظہ قائل کرتی ہے اور انہیں آہستہ آہستہ اپنا عادی بناتی ہے کیونکہ اتنا حسن و جمال ہمارا بدصورتی کا مارا دل یک بہ یک برداشت نہیں کرسکتا۔</p>
<p>ہم سب سٹپٹائے اور آنکھیں پھیلائے راکاپوشی کی طرف دیکھ رہے تھے مگر اگلے لمحے وہ پھر اوجھل ہوگئی۔ مگر پھر غلمت آ گیا جہاں راکاپوشی ویو پوائنٹ تھا۔ شاہراہِ قراقرم پر اس واقع مقام سے راکاپوشی کا پہاڑ اس قدر قریب نظر آتا ہے کہ لگتا ہے ہم وہیں کھڑے کھڑے صرف اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی ازلی برفوں کو چھو لیں گے۔ ہنزہ جانے والا ہر سیاح یہاں ضرور رکتا ہے اور راکاپوشی کا یہ دلفریب نظارہ کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124752465fd68.jpg?r=125312'  alt='  راکاپوشی کا دلفریب نظارہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راکاپوشی کا دلفریب نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>25 ہزار 551 فٹ بلند راکاپوشی، پاکستان کی 12 ویں اور دنیا کی 27 ویں بلند ترین چوٹی ہے۔ راکاپوشی دنیا کا واحد پہاڑ ہے جو اپنے دامن سے لے کر اپنی 25 ہزار فٹ بلند چوٹی تک پورا کا پورا ایک ہی نگاہ میں نظر آجاتا ہے۔ لفظ ’راکاپوشی‘ کا مطلب ہے چمکتی دیوار۔ اس کا دوسرا نام ’دومانی‘ بھی ہے یعنیٰ بادلوں کی ماں۔ راکاپوشی کو پہلی بار 1958ء میں دو برطانوی کوہ پیماؤں مائک بینکس اور تھامس والٹن نے سر کیا تھا۔</p>
<p>ہم نے کچھ دیر راکاپوشی ویو پوائنٹ سے برفیلی بلندیوں کا نظارہ کیا اور پھر آگے چل پڑے۔ ابھی چند کلومیٹر ہی آگے آئے ہوں گے کہ سڑک نے بائیں طرف ایک موڑ لیا اور دریائے ہنزہ کو ایک بے ستون محرابی پل سے عبور کرکے دوسرے کنارے پر آگئے۔ یعنی ہم وادی نگر سے نکل کر وادی ہنزہ میں داخل ہوگئے۔ اب ہماری گاڑی وادی ہنزہ میں دوڑ رہی تھی۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں گزر رہے تھے۔ دریا کے کنارے پہاڑی ڈھلوانیں بلندی تک سبزے سے ڈھکے سیڑھی نما کھیتوں میں چھپی ہوئی تھیں اور یہ منظر اتنا عجیب اور پراسرار تھا کہ جس کا اندازہ میدانوں میں رہنے والے، دیواروں میں مقید نگاہوں والے بالکل بھی نہیں کرسکتے۔ یہ دیکھنے والے کو پہلی نظر میں ایک ہی منظر لگتا ہے حالانکہ یہ لا تعداد مناظر کا مجموعہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012483442bc0bb.jpg?r=125312'  alt='  وادی ہنزہ کا پُرکیف منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی ہنزہ کا پُرکیف منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>کیا اس منظر کے بارے میں صرف یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ یہ بس دو پہاڑوں کے بیچ دریا کنارے ایک سڑک، کچھ ڈھلوانی کھیت ہیں اور کچھ پہاڑی گھروندے ہیں؟ بس؟ لیکن کیا واقعی بس؟ کیا اس پورے منظر کو واضح کرنے کے لیے بس یہ چند الفاظ کافی ہیں؟ کیا ان دو طرفہ پہاڑوں کے درمیانی علاقے کی چوڑائی، ان ڈھلوانوں پر موجود آبادیوں کی اونچائی اور اس وسیع پھیلاؤ کا یہ تھری ڈی منظر، کیا کسی کے سامنے صرف چند الفاظ کہہ دینے سے اس پر واضح ہوجائے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟</p>
<p>یہ لینڈاسکیپ ایک واحد منظر بن کر نگاہوں کے سامنے بالکل اسی طرح دھرا ہوتا ہے جس طرح حبیب بینک پلازا کی 22ویں منزل سے دیکھیں تو پورا کراچی نظروں کے سامنے دھرا ہوتا ہے تو کیا ہم حبیب بینک پلازا پر کھڑے ہوکر کراچی کوایک چھوٹا شہر کہہ سکتے ہیں؟ راکاپوشی کی چھاؤں میں ہنزہ جانے والی ایک ویگن کی کھڑکی سے سارا منظر ایک ہی جھلک میں نظرآ رہا تھا، یہ منظر اتنا بڑا تھا کہ نظروں میں سمانے کے لیے اسے مائیکرو بنانا پڑتا ہے اور پھر اس کی یاد عمر بھر کے لیے ایک مائیکرو فلم کی طرح ذہن میں محفوظ رہ جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012475746007ca.jpg?r=125312'  alt='  راکاپوشی اور وادی ہنزہ کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راکاپوشی اور وادی ہنزہ کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>سامنے بہت دور، مگر بالکل قریب نظر آنے والا ایک بے ہنگم و بلند قلعہ نما پہاڑ اُلتر ہے جس کی کٹی پھٹی منڈیروں پر برف ڈھیروں کی صورت جمع رہتی ہے۔ ان برفانی منڈیروں کے قریب آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ یہ منظر ویسے تو نگاہوں کے بالکل سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح موجود ہے لیکن آج تک کوئی بھی وہاں نہیں پہنچ سکا۔ آخرکیوں؟ کیا وہ بہت دور ہے؟ اگر دور ہے تو پھر اتنا قریب کیوں نظر آتا ہے؟ اس سوچ میں ہی عقل چکرا کر رہ جاتی ہے۔</p>
<p>دریائے ہنزہ میں بائیں طرف سے ایک نالا آکر شامل ہورہا تھا۔ وہ پہاڑوں کے کافی اندر سے نکل کر دریا سے ملنے آرہا تھا اور ہمیں اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے اسے عبور کرنا تھا۔ یہ نالا عبور کرنے کے لیے سڑک کو ایک پل پر سے گزرنا ہے مگر وہ پل خاصا اندر جا کر پہاڑوں کی جڑ میں ہے۔ اس پل تک جانے کے لیے گاڑی نے جیسے ہی اپنا رخ اندر کی جانب موڑا، ایک زبردست دھماکے کی آواز آئی۔ گاڑی سے کچھ آگے گردوغبار کے مرغولے فضا میں ابھرنے لگے۔ ڈرائیور نے فوراً بریک لگایا اور گاڑی روک دی۔ مسافر اس دھماکے سے بدحواس ہوکر باہر نکل آئے تھے۔ ہمارے پیچھے آنے والی گاڑیاں بھی رک گئی تھیں۔ ڈرائیور سڑک کے کنارے ایک پتھر پر جا کر اطمینان سے بیٹھ گیا تھا، میں اس کے پاس گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124746d73dfb8.jpg?r=125312'  alt='  دریائے ہنزہ پر وادئ ہنزہ اور وادی نگر کے درمیان پل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے ہنزہ پر وادئ ہنزہ اور وادی نگر کے درمیان پل</figcaption>
    </figure></p>
<p>’لینڈ سلائڈنگ ہوئی ہے صاحب، سڑک بند ہوگئی ہے‘، وہ میری طرف دیکھ کریوں بولا جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ہو۔</p>
<p>’تو اب کیا ہوگا؟ کیا ہمیں واپس جانا ہوگا؟‘ میں تشویش سے بولا۔</p>
<p>’جی صاحب ہمیں تو واپس جانا ہوگا کیونکہ یہ کافی بڑا لینڈ سلائڈ ہے۔ ابھی تو بلڈوزر بھی نہیں آیا۔ صفائی میں دو تین گھنٹے لگ سکتے ہیں، لیکن آپ پریشان نہیں ہوں۔ آپ لوگ تو پیدل اس سلائڈ سے گزر سکتے ہیں۔ دوسری طرف سے آپ کو سوزوکی مل جائے گی‘، اس نے مجھے تسلی دی۔</p>
<p>میں نے دیکھا کہ مقامی مسافر اپنے بال بچوں اور سازو سامان سمیت گاڑیوں سے اتر کر پیدل ہی سلائڈنگ ایریا کو عبور کرنے جارہے ہیں۔ گاڑیاں تقریباً خالی ہوچکی تھیں۔ لاچار ہم تینوں دوستوں نے بھی اپنے اپنے تھیلے کاندھوں پر لادے اور ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ کچھ آگے ایک موڑ تھا جس کے پیچھے کہیں سے گردوغبار اٹھ رہا تھا۔ ہم جیسے ہی اس موڑ سے آگے آئے، پورا ماجرا سامنے آگیا۔</p>
<p>شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے لیے ماضی میں جو بارودی دھماکے کرکے یہ راستہ نکالا گیا تھا، وہ دراصل دھماکے ان چٹانوں کی فطرت میں دخل اندازی تھے۔ اس دخل اندازی نے ان پہاڑوں کے دل توڑ کر انہیں کھوکھلا اور شکستہ کردیا ہے چنانچہ یہ بُھربھری چٹانیں گاہے بہ گاہے ریزہ ریزہ ہوکر بکھرتی ہیں اورلڑھکتی ہوئی شاہراہِ قراقرم پر آکر سجدہ ریز ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>اس وقت بھی سڑک پر لاتعداد بڑے بڑے پتھر اوپر سے لڑھک کر آرہے تھے اور ان کے زور سے سڑک کا کچھ حصہ ٹوٹ کر سیکڑوں فٹ نیچے دریا کی طرف بہہ گیا تھا۔ یہ خشک لینڈ سلائڈنگ تھی۔ بارش میں گیلی لینڈ سلائڈز بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہر طرف بری طرح کیچڑ پھیل جاتی ہے۔ اب تک پہاڑ سے مٹی اور پتھر خوفناک آوازوں کے ساتھ گررہے تھے۔ یہ آوازیں مزید سلائڈنگ کا پیش خیمہ تھیں مگر لوگ مٹی پتھر کی اس بوچھاڑ کے باوجود بچتے بچاتے سلائڈ پر سے تیز تیز گزرتے جارہے تھے کیونکہ دوسری طرف سوزوکیاں اور ویگنیں آچکی تھیں جو ان مسافروں کو بھر بھر کر آگے روانہ ہورہی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124828380a41d.jpg?r=125312'  alt='  وادی ہنزہ میں صبح کا دلکش منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی ہنزہ میں صبح کا دلکش منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>چند لمحوں کے لیے سنگ باری کا یہ سلسلہ تھما تو ہم نے بھی اللہ کا نام لیا اور کار زارِ عشق میں کود پڑے۔ بڑے بڑے پتھروں کو پھلانگتے ہوئے دل بھی سینکڑوں ضربات فی منٹ کے حساب سے دھڑکنے لگا۔ نگاہیں سامنے تھیں اور کان معمولی سے معمولی آہٹ کو بھی فوراً سن لینے کے لیے چوکنے تھے۔ زبان آیت الکرسی کا ورد کررہی تھی۔ اچانک ایک گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ میری آنکھیں فوراً پہاڑ کی طرف متوجہ ہوئیں اور میں نے دیکھا کہ اوپر سے گردوغبار کا ایک نیا ریلا پھر نیچے کی طرف آرہا ہے۔ دل کی دھڑکنوں نے اچانک دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برسنا شروع کردیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے کاندھوں کو پر لگ گئے ہوں۔ چند لمحوں میں ہی میں کسی ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا ہوا صدیوں کی اس مسافت کو سیکنڈز میں عبور کرکے سلائڈ ایریا سے باہر آ چکا تھا۔</p>
<p>باسط، وسیم، اشفاق بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہوئے آ پہنچے۔ محفوظ جگہ پر آکر ہم نے اپنے پیچھے دیکھا تو خوف سے آنکھیں پھیل گئیں۔ چند لمحے پہلے ہم جس جگہ سے گزرے تھے، وہاں اب دھڑا دھڑ پتھر برس رہے تھے۔</p>
<p>ہم ابھی وہیں کھڑے تھے کہ اتنے میں ایف ڈبلیو او کے بلڈوزر آگئے اور سڑک کی صفائی کا کام شروع ہوگیا۔ طاقتور ایکس کیویٹر منہ زوری کے ساتھ بڑے بڑے وزنی پتھروں کو دریا کی طرف دھکیل رہا تھا۔ ایک فوجی منہ میں سیٹی لیے اوپر کی جانب نظریں جمائے کھڑا ہوگیا۔ جیسے ہی اوپر کوئی گڑبڑ محسوس ہوتی اور کوئی پتھر لڑھکتا نظر آتا، وہ فوراًسیٹی بجا دیتا۔</p>
<p>دریائے ہنزہ کے دوسرے کنارے پر سیڑھی در سیڑھی کھیتوں کا ایک وسیع سلسلہ پھیلا ہوا تھا جس میں کہیں کہیں مکانات گھروندوں جیسے نظر آرہے تھے۔ ایک مقامی مسافر میرے قریب کھڑا تھا۔</p>
<p>’یہاں سے ہنزہ کتنی دور ہے؟‘ میں نے اس سے پوچھا۔</p>
<p>وہ مسکرا کر بولا کہ ’یہ تو پورا ہی ہنزہ ہے جی۔ ہنزہ کسی ایک جگہ کا نام نہیں، یہ تو پوری وادی ہے۔ یہاں حسن آباد ہے، مرتضیٰ آباد ہے، علی آباد ہے، گنیش ہے، کریم آباد ہے۔ یہ سب ہنزہ ہے‘، اس نے اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے مختلف مقامات کی نشاندہی کی۔</p>
<p>’یہ جو اوپر آپ کو برف نظر آرہی ہے، یہ اُلتر گلیشیئر ہے۔ اس کے نیچے کریم آباد ہے اور کریم آباد کے نیچے گنیش اور علی آباد ہے۔ آپ کریم آباد جائیں گے جو گنیش سے اوپر ہے۔ وہاں کے لیے گنیش سے ایک راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124740bc4064c.jpg?r=125312'  alt='  ہنزہ کریم آباد میں اُلتر کی چوٹی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہنزہ کریم آباد میں اُلتر کی چوٹی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اچانک ہمیں مسلسل سیٹی کی آواز نے چونکا دیا۔ راستہ صاف ہوچکا تھا اور ایک فوجی سیٹی بجا کر گاڑیوں کو گزرنے کا اشارہ کررہا تھا۔ ہماری گفتگو کے دوران بلڈوزر نے بڑے پتھر ہٹا کر اتنا راستہ کھول دیا تھا کہ ایک وقت میں ایک گاڑی نکل سکے۔ ہماری گاڑی بھی پتھروں کے ڈھیر پر ہچکولے کھاتی ہوئی آرہی تھی۔ ڈرائیور نے ہمیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ہم فوراً لپک گئے۔</p>
<p>یہاں بھی سڑک بہت بلند تھی اور دائیں طرف نیچے گہرائیوں میں بہتا دریائے ہنزہ یہاں سے ہمیں ایک ایسا مختصر دھارا نظر آتا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اسے محض چند چھلانگیں لگا کر عبور کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سامنے اُلتر کی بے ہنگم بلندیوں کے دامن میں بسا کریم آباد  یہاں سے بس ایک ڈیڑھ کلومیٹر ہی دور لگتا تھا حالانکہ وہ یہاں سے کم از کم 20 کلومیٹر دور ہوگا۔</p>
<p>تھوڑی دیر میں ایک شہر نما چھوٹا سا قصبہ علی آباد آگیا۔ علی آباد کے بعد شاہراہ کے دونوں طرف سبز ڈھلوانیں اور اونچے اونچے سفیدے کے درخت شروع ہوگئے مگر پھر فوراً گنیش آگیا جوکہ ہمارا آخری اسٹاپ تھا۔ گاڑی کھڑی ہوئی تو اس کے انجن سے زور سے گھڑ گھڑ کی آواز آئی اور پھر وہ خاموش ہوگیا۔ ہم ہنزہ پہنچ چکے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124736f53895d.jpg?r=125312'  alt='  اُلتر کی بے ہنگم بلندیوں کے دامن میں بسا کریم آباد  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اُلتر کی بے ہنگم بلندیوں کے دامن میں بسا کریم آباد</figcaption>
    </figure></p>
<p>شاہراہِ قراقرم یہاں سے ایک بڑا سا دائرہ بناتی ہوئی آگے کی طرف ایک پہاڑ کے پیچھے گم ہورہی تھی۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف کھیت تھے اور کھیتوں میں گندم کے سنہری خوشے لہلہا رہے تھے۔ بس اسٹاپ کے پاس شاہراہِ قرقرام کی تعمیر کے دوران جاں بحق ہونے والے ہنزہ کے جوانوں کی یادگار بنی ہوئی تھی۔ یادگار کے پہلو میں سے ایک کچا راستہ اوپر کی طرف اٹھ رہا تھا۔ اوپر جہاں کریم آباد تھا۔</p>
<p>کریم آباد وادی ہنزہ کا صدر مقام ہے جہاں والیانِ ہنزہ کے نئے اور پرانے محلات بھی ہیں اور ہوٹلز اور سیاحتی سہولیات بھی وہیں پائی جاتی ہیں۔ کچے راستے کے شروع میں ’کریم آباد 3 کلومیٹر‘ کا سنگ میل اس عمودی مسافت کی نشاندہی کررہا تھا۔ کریم آباد کا قدیم نام ’بلتت‘ تھا۔ یہاں بلتت کے ساتھ ہی دوسرا قصبہ ’التت‘ بھی ہے۔ ہنزہ قدیم خودمختار ریاست تھی جس کا سربراہ ’میر‘ کہلاتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124904af6d040.png?r=140057'  alt='  میر آف ہنزہ کا جھنڈا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میر آف ہنزہ کا جھنڈا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124842b9ab68c.jpg?r=125312'  alt='  والیانِ ہنزہ کا دربار  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>والیانِ ہنزہ کا دربار</figcaption>
    </figure></p>
<p>900 سال قدیم ریاستِ ہنزہ کی حدود شاہراہِ قراقرم پر موجود قصبے نومل سے شروع ہوکر درّہ خنجراب سے آگے سطح مرتفع پامیر تک ہوا کرتی تھیں۔ تاریخ کے مطابق 17ویں صدی میں میر شہباز خان، میر شاہ بیگ خان، میر شاہ خسرو خان، میر مرزا خان، میر سالم خان، میر غضنفر علی خان اور میر غزن خان سے لےکر 19ویں صدی کے آخر یعنیٰ 1891ء تک میر صفدر علی خان والیانِ ہنزہ رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124853f6b8bd3.jpg?r=125312'  alt='   میر غزن خان بھی ہنزہ کے والی رہ چکے ہیں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میر غزن خان بھی ہنزہ کے والی رہ چکے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>1891ء میں جب انگریزوں نے ہنزہ پر حملہ کیا تو میر صفدر علی خان سنکیانگ کی طرف چلے گئے۔ ان کی غیرموجودگی میں انگریزوں نے ریاست پر قبضہ کرلیا اور 1892ء میں میر نظیم خان کو ایک بے اختیار والی ہنزہ کے طور پرتعینات کردیا گیا۔ میرنظیم خان کے بعد 1938ء میں میر غزن خان دوم اور 1945ء میں میر محمد جمال خان کی بطور والی ہنزہ تعیناتی ہوئی۔ پاکستان بننے کے بعد میر جمال خان 1976ء تک والی رہے۔ یہ آخری والی ہنزہ تھے کیونکہ 1974ء میں ریاست ہنزہ کا پاکستان سے الحاق ہوگیا تھا اور گلگت و بلتستان کو وفاقِ کے زیرِ انتظام کردیا گیا تھا۔ موجودہ علامتی والی ہنزہ میر غضنفر علی خان دوم ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124858673f281.jpg?r=125312'  alt='  1892ء میں میر نظیم خان کو ایک بے اختیار والی ہنزہ کے طور پرتعینات کیا گیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>1892ء میں میر نظیم خان کو ایک بے اختیار والی ہنزہ کے طور پرتعینات کیا گیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/30124847d4acdb2.jpg?r=125312'  alt='   ہنزہ کے والی میر جمال خان   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہنزہ کے والی میر جمال خان</figcaption>
    </figure></p>
<p>وادی ہنزہ سطح سمندر سے 8 ہزار فٹ بلند ہے۔ یہ علاقہ صدیوں سے وسطی ایشیا، چین اور کشمیر کے درمیان ایک اہم تجارتی پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔ بلتت یعنی کریم آباد پون صدی تک ریاست ہنزہ کا دارالحکومت رہا۔ اس سے پہلے ریاست کا صدر مقام التت ہوا کرتا تھا۔ اس دور کی دو عمارتیں قلعہ التت اور قلعہ بلتت جوکہ والیانِ ریاست کی قیام گاہیں تھیں، آج بھی یہاں موجود ہیں۔</p>
<p>کچھ مقامی روایات کے مطابق التت اور بلتت کے باسیوں کا آبائی تعلق ترکستانی قبیلے ’ہُن‘ سے تھا اور اس بستی کا قدیم نام بھی ’ہنوکوشل‘ (یعنی ہنوں کا گاؤں) تھا۔ ممکن ہے اسی ہُن قوم سے نسبت کی وجہ سے یہ علاقہ ہنزہ کہلایا ہو۔ خیر یہ تو تاریخ کی گنجلک باتیں ہیں۔ ہم حال میں واپس آتے ہیں جہاں اس وقت ہم شاہراہِ قراقرم پر گنیش کے بس اسٹاپ پر کھڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012482359f71e7.jpg?r=125312'  alt='   موجودہ علامتی والیٔ ہنزہ میر غضنفر علی خان دوم   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>موجودہ علامتی والیٔ ہنزہ میر غضنفر علی خان دوم</figcaption>
    </figure></p>
<p>اُس وقت کریم آباد تک جانے کے دو ذرائع تھے۔ ایک تو جیپ تھی جو اوپر پہنچانے کا اچھا خاصا معاوضہ لے رہی تھی اور دوسرا ذریعہ یہی تھا کہ ہم اپنے تھیلے کاندھوں پر چڑھا کرخود کو سانس پُھلا دینے والے ایک عمودی سفر کے لیے تیار کرلیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/3012480939e695e.jpg?r=125312'  alt='  کریم آباد میں والیانِ ہنزہ کا قلعہِ بلتت  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کریم آباد میں والیانِ ہنزہ کا قلعہِ بلتت</figcaption>
    </figure></p>
<p>’جیپیں سیرو تفریح کرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں اور پیدل سفر سیاحوں کا شیوہ رہا ہے کیونکہ سیاح صرف تفریح نہیں کرتا بلکہ تکلیف بھی اٹھاتا ہے‘، یہ سوچ کر ہم نے خود کو سیاح کے عظیم مرتبے پر فائز کیا اور اللہ کا نام لے کر پیدل اس کچی پگڈنڈی پر چل دیے جو خوبانی کے درختوں میں گھری بل کھاتی ہوئی اوپر اٹھ رہی تھی۔ پگڈنڈی کے ساتھ ساتھ ایک گدلے مٹیالے پانی کا تیز رفتار نالا شور مچاتا نیچے جارہا تھا۔ یہ نالا کہیں کہیں آبشار کی صورت میں گررہا تھا جہاں اس کی پھواریں دور دور تک بکھر کر راستے کو کیچڑ زدہ کر رہی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/301248154d824a6.jpg'  alt='   اونچائی سے شاہراہِ قراقرم یوں لگ رہی تھی جیسے کھیتوں سے سانپ گزر رہا ہو   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اونچائی سے شاہراہِ قراقرم یوں لگ رہی تھی جیسے کھیتوں سے سانپ گزر رہا ہو</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم ایک جگہ پھولتی سانس پر قابو پانے کے لیے رکے اور پیچھے طے کیے ہوئے راستے کو دیکھنے لگے۔ گنیش کا بس اسٹاپ اب بہت نیچے نظر آتا تھا اور کھیتوں میں کروٹیں لیتی شاہراہِ قراقرم یوں لگ رہی تھی جیسے گھاس میں سے کوئی سانپ گزررہا ہو۔ شاہراہِ قراقرم یہاں سے آگے گلمت، پھسّو اور سست سے گزرتی ہوئی 16 ہزار فٹ بلند درّہ خنجراب کی طرف چلی جاتی ہے۔ دریائے ہنزہ کے پار والے پہاڑوں کے اوپر سے راکاپوشی کی چوٹی جھانک رہی تھی۔ شام کی زرد ہوتی روشنی میں اس کی برفانی چوٹی کسی بلب کی طرح چمک رہی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212766</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Nov 2023 16:03:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/30124736f53895d.jpg?r=125312" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/30124736f53895d.jpg?r=125312"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/301400384e399cd.jpg?r=140410" type="image/jpeg" medium="image" height="700" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/301400384e399cd.jpg?r=140410"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفرنامہ ہسپانیہ: بارسلونا میں مٹرگشت (ساتویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214646/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ریان ایئر کا طیارہ اور سروس اتنی حوصلہ افزا تو نہیں لیکن سستے ٹکٹ کی وجہ سے پورے یورپ میں ریان ایئر کے ڈومیسٹک آپریشن سب سے زیادہ ہیں اور یورپی عوام کی بڑی تعداد ان کی سروسز سے مستفید ہورہی ہیں۔ اشبیلیہ سے بارسلونا ہماری تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز تھی۔ 8 بج کر 15 منٹ پر جہاز میں اعلان کیا گیا کہ جوزف ٹراڈیلاس بارسلونا ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ کھڑکی سے بارسلونا کے آسمان پر سورج طلوع ہوکر اپنی زردی پھیلا چکا تھا اور دور تک بارسلونا شہر کی خوبصورت آبادی نظر آرہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281521449f57510.jpg'  alt='ریان ایئر کی سروس سے یورپ کی بڑی آبادی مستفید ہوتی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ریان ایئر کی سروس سے یورپ کی بڑی آبادی مستفید ہوتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28152505004d227.jpg'  alt='بارسلونا کے اسمان پر سورج طلوع ہوکر اپنے زردی پھیلا چکا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کے اسمان پر سورج طلوع ہوکر اپنے زردی پھیلا چکا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرپورٹ کے باہر ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر ہم افغان دوست فرہاد ہمت کے فلیٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹیکسی بارسلونا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھی۔ ایئرپورٹ چونکہ آبادی سے دور تھا اس لیے راستے کے دونوں طرف سرسبز میدانی علاقہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم شہر کی آبادی میں داخل ہوچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281530384449518.jpg'  alt='بارسلونا کا ایئرپورٹ شہر سے دور واقع ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کا ایئرپورٹ شہر سے دور واقع ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعی ایک جدید اور خوبصورت شہر تھا۔ ہسپانوی طرزِ تعمیر کی بلند عمارتیں کشادہ سڑکیں اور شاپنگ مالز اس شہر کو منفرد بنا رہی تھیں۔ اسپین کے دلکش ترین شہروں میں اس کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اسپین سے آزادی حاصل کرنے کے لیے احتجاج کرنے والے شہروں میں بھی اس شہر کا نام بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2815285776b932f.jpg?r=153133'  alt='ہماری ٹیکسی بارسلونا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہماری ٹیکسی بارسلونا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28153333a8dc5ef.jpg'  alt='فرہاد ہمت کا رہائشی علاقہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فرہاد ہمت کا رہائشی علاقہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری ٹیکسی تقریباً 15 منٹ بعد فرہاد ہمت کے اپارٹمنٹ پہنچی جہاں وہ پہلے سے ہی ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ وہ افغانستان کے صوبے لغمان سے تعلق رکھنے والا ایک خوبصورت نوجوان تھا جس نے پختونوں کے روایتی انداز میں ہمارا استقبال کرتے ہوئے اپنے اپارٹمنٹ میں خوش آمدید کہا۔ یہ دو کمروں، ڈرائنگ روم اور کچن پر مشتمل ایک خوبصورت اپارٹمنٹ تھا۔ حال احوال پوچھنے کے بعد فرہاد نے ہمیں کچھ دیر آرام کرنے کو کہا اور ناشتہ تیار کرنے میں مصروف ہوگیا۔ تقریباً  آدھے گھنٹے کے بعد ڈرائنگ روم کی میز سری پائے، انڈا کڑاہی، فروٹ، خبز اور سلیمانی چائے کی صورت میں بہترین ناشتے سے سج چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28153557bc5f1ff.jpg'  alt='فرہاد نے ہمیں افغان ناشتہ کروایا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فرہاد نے ہمیں افغان ناشتہ کروایا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281536039714b9b.jpg'  alt='پردیس میں ہم نے طویل عرصے بعد دیسی کھانا کھایا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پردیس میں ہم نے طویل عرصے بعد دیسی کھانا کھایا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عرصے بعد دیسی ناشتے کی خوشبو نے ہماری بھوک میں اضافہ کردیا۔ اس لیے بلا تاخیر ہم پردیس میں دیسی ناشتے کے مزے لوٹنے لگے۔ ناشتے کے بعد ہم نے فرہاد ہمت کو بارسلونا شہر گھومنے کے اپنے دو روزہ منصوبے اور پہلے سے بُک کی ہوئی اپنی رہائش کے ایڈریس کے بارے میں آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد ہمت نے رہائش کی بکنگ کینسل کرنے اور اپنے گھر قیام کرنے پر زور دیا۔ عبداللہ شاہ صاحب نے آج کی رات اپنی رہائش پر گزارنے اور اگلی رات ان کے ہاں قیام کرنے کا وعدہ کرکے انہیں مطمئن کیا اور دو دن بارسلونا شہر کی سیر کروانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی زیادہ مصروفیات نہ ہوں تو فرہاد ہمیں بارسلونا شہر کی مشہور مقامات کی سیر کروائیں۔ فرہاد ہمت نے ہماری درخواست خوشی قبول سے کرتے ہوئے ہمیں اسی دن بارسلونا شہر کی ایک سائٹ وزٹ کروانے کو کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281547440b3d422.jpg'  alt='ناشتے کے بعد ہم بارسلونا کو کھنگلانے کے لیے نکل پڑے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناشتے کے بعد ہم بارسلونا کو کھنگلانے کے لیے نکل پڑے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281547274a76352.jpg?r=154819'  alt='بارسلونا کی سڑکیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کی سڑکیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈرڈ کے بعد بارسلونا اسپین کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ اسپین کے خودمختار علاقے کاتالونیا کا دارالحکومت اور اسپین کے شمال مشرق میں بحیرہ روم کے کنارے پر آباد ہے۔ 2016ء کی مردم شماری کے مطابق بارسلونا کی آبادی 17 لاکھ تھی جبکہ یہاں ہسپانوی باشندوں کے بعد سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی سرحد سے 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارسلونا، سیاحوں میں مقبولیت کے لحاظ سے یورپ کا چوتھا اور دنیا کا 14واں شہر ہے۔ اسے ’City of Beaches‘ یعنیٰ ساحلوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ بارسلونا 85 سال تک مسلمانوں کے زیرِ انتظام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2815565143ec830.jpg'  alt='بارسلونا یورپ کا چوتھا مقبول ترین شہر ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا یورپ کا چوتھا مقبول ترین شہر ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محنتی اور جفاکش قوم ’کتالونین‘ کا خوبصورت اور جدید شہر بارسلونا نہ صرف تاریخی اعتبار سے مشہور ہے بلکہ سرسبز پہاڑوں کے درمیان بحیرہ روم کے ساحل پر آباد یہ خوبصورت شہر بہت سے عجائب گھروں، چرچ اور فٹبال گراؤنڈز کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ چاہے آپ ساحل کے کنارے بیٹھ کر فرانسیسی سرحد کا نظارہ کرنا چاہتے ہوں یا فنِ تعمیر کے کمالات دیکھنا پسند کرتے ہوں، قرون اولیٰ کی تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہوں یا فٹبال کے کھیل کے مداح ہوں، سیاحت کے لیے بارسلونا ہی آپ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ہم بھی آج اس خوبصورت شہر کو کنگھالنے کے لیے نکل پڑے تھے۔ فرہاد کی رہائش سے ہم 15 منٹ کی پیدل واک پر ’پلازہ ناؤ‘ کے خوبصورت مین اسکوائر میں پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281559200f0e465.jpg'  alt='پلازہ ناؤ کا خوبصورت اسکوائر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلازہ ناؤ کا خوبصورت اسکوائر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281601318127e0f.jpg'  alt='بارسلونا میں پلازہ ناؤ کا مین اسکوائر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا میں پلازہ ناؤ کا مین اسکوائر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2816012370b906a.jpg?r=160158'  alt='مین اسکوائر پر واقع ارینا سیاحتی مرکز ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مین اسکوائر پر واقع ارینا سیاحتی مرکز ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد ہمت کے مطابق یہ بارسلونا کا سب سے خوبصورت سیاحتی مقام ہے اور اگر آپ اسے بارسلونا کا مونال یا سوہاوہ کہیں تو مناسب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2816183487fb79a.jpg'  alt='مونٹیجک فاؤنٹین بارسلونا کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو اسلام آباد کے لیے مونال کی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مونٹیجک فاؤنٹین بارسلونا کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو اسلام آباد کے لیے مونال کی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28162850082ea67.jpg'  alt='یہ بارسلونا کا پُرکشش مقام ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ بارسلونا کا پُرکشش مقام ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دیر بعد ہم اس خوبصورت عمارت کے سامنے موجود فوارے (مونٹیجک فاؤنٹین) کے ساتھ تصاویر بنوانے میں مصروف تھے۔ سطح سمندر سے 173 میٹر کی اونچائی پر اور سمندر کے عین قریب واقع ’مونٹیجک فاؤنٹین‘ بارسلونا کا ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے جس کے ساتھ ہی پلازہ ڈی جوزف موجود ہے۔ یہاں سے نہ صرف آپ شہر کا نظارہ کرسکتے ہے بلکہ آپ اوپر سے ساحل سمندر کا بھی دیدار کرسکتے ہیں۔ بارسلونا کے تمام مشہور سیاحتی مقامات یہاں سے نظر آتے ہیں۔ ہل ٹاپ پر موجود عمارت نیشنل آرٹ میوزیم کی تھی جو 17ویں صدی میں تعمیر کیے گئے ایک قلعے کی عمارت تھی بارسلونا کی اونچی جگہ پر اس قلعے کو فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281611339cec384.jpg'  alt='سیاحوں کی بڑی تعداد &amp;rsquo;پلازہ ڈی جوزف&amp;lsquo; کی تصاویر بنانے میں مصروف تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سیاحوں کی بڑی تعداد ’پلازہ ڈی جوزف‘ کی تصاویر بنانے میں مصروف تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28161153f1e90fd.jpg'  alt='&amp;rsquo;مونٹیجک ماؤنٹین&amp;lsquo; بارسلونا کا ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’مونٹیجک ماؤنٹین‘ بارسلونا کا ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت سے لےکر اس قلعے کو فوجی بیس کیمپ اور ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران جیل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ آج یہ ایک بہت ہی شاندار میوزیم ہے جس میں عہد ماضی کے بہت سے اوراق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کچھ دیر میوزیم اور اس کی عمارت کے اردگرد گھومنے کے بعد ہم میوزیم کے دائیں طرف سے بارسلونا کے دلفریب نظاروں سے محظوظ ہونے لگے۔ یہاں سے شہر کا نظارہ دیدنی تھا اور شہر کے تمام مشہور سیاحتی مقامات نظر آرہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30091704dccb779.jpg'  alt='شہر کا پُرکشش منظر سیاحوں کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شہر کا پُرکشش منظر سیاحوں کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2816340832d84fc.jpg'  alt='پلازہ ڈی جوزف سے شہر کا نظارہ دیدنی تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلازہ ڈی جوزف سے شہر کا نظارہ دیدنی تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281639346be6c7a.jpg'  alt='بارسلونا کا خوبصورت منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کا خوبصورت منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں کچھ دیر رُک کر نظاروں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے بعد ہم میوزیم کی عمارت کی پشت پر بنائے گئے مشہور اولپمک گراؤنڈ پہنچے۔ اولمپک کھیلوں کے لیے ’مونٹجیک ہل‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ 1992ء میں اسی مقام پر اولمپک کھیلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مقام سے بھی بارسلونا کے ساحل کا نظارہ دلکش اور منفرد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281642102e7ccf0.jpg'  alt='بارسلونا کا اولمپک گراونڈ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کا اولمپک گراونڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281643552ad3a6a.jpg'  alt='اولمپنگ کھیلوں کے لیے &amp;rsquo;مونٹجیک ہل&amp;lsquo; کو کلیدی حیثیت حاصل ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اولمپنگ کھیلوں کے لیے ’مونٹجیک ہل‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28164508b19ffd8.jpg'  alt='اولمپک گراؤنڈ کا دلکش منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اولمپک گراؤنڈ کا دلکش منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دیر منظرکشی کے بعد عبداللہ شاہ صاحب نے فرہاد ہمت کو ہماری اگلی منزل بارسلونیٹا کے ساحل کے قریب موجود مشہور مقامات کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔ ہمارے میزبان فرہاد ہمت نے دائیں جانب دونوں طرف درختوں سے مزین ایک دلکش راستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ ’بوٹینیکل گارڈن‘ کی طرف جاتا ہے اور یہاں پر بھی سیاح بڑی تعداد میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28170035df9ec75.jpg'  alt='&amp;rsquo;بوٹینیکل گارڈن&amp;lsquo; کا راستہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’بوٹینیکل گارڈن‘ کا راستہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے ہم یہاں جانے کے بجائے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ تھوڑی دیر میں ہم ٹیکسی کے ذریعے بحیرہ روم کے ساحل بارسلونیٹا پہنچ چکے تھے۔ بارسلونیٹا ساحل، بارسلونا شہر کا خوبصورت ترین ساحل ہے اور یہاں ساحل سمندر تک جانے کا آسان ترین راستہ ’پیلے رنگ کی میٹرو‘ ہے۔ اسے شہر سے چلنے میں 20 منٹ کا وقت لگتا ہے لیکن ہم میٹرو کی بجائے ٹیکسی کے ذریعے یہاں پہنچ چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30092245eb9d974.jpg'  alt='بارسلونیٹا ساحل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونیٹا ساحل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونیٹا ایک وسیع ساحل ہے جو مختلف ریسٹورنٹس سے بھرا ہوا ہے جوکہ زیادہ تر امریکی طرز کے ہیں جبکہ یہاں جگہ جگہ پر بار بھی موجود ہیں۔ سیاحوں کا ایک جمِ غفیر اس ساحل پر موجود ہوتا ہے۔ فرہاد ہمت کے مطابق یہاں موسم گرما میں سیاحوں کے رش کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس ساحل میں قدم رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی لیکن جب ہم گئے تب سردیاں تھیں اس لیے یہاں پر سیاحوں کا رش کم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30093219b18e86e.jpg'  alt='ساحل کا خوبصورت منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ساحل کا خوبصورت منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد ہمت نے کہا کہ آج ہم ساحل کی طرف نہیں جاتے بلکہ عظیم ایکسپلورر کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے کے پاس چلتے ہیں وہاں سے پھر بارسلونا شہر کی مشہور اسٹریٹ ’لا رمبلا‘ کا رخ کریں گے۔ ہم فرہاد کے پیچھے ساحل پر چہل قدمی کرتے ہوئے کرسٹوفر کولمبس کے یادگاری مجسمے کے پاس پہنچ گئے۔ چونکہ کولمبس کا تعلق اسپین سے تھا اسی لیے اس مجسمے کے بالکل قریب بحیرہ روم کےکنارے ان کی زیرِاستعمال وہ کشتی بھی موجود ہے جس میں بیٹھ کر کولمبس نے امریکا دریافت کرکے اسپین کے عوام کو مالا مال کردیا تھا۔ کولمبس کا مجسمہ ایک بلند ستون پر نصب کیا گیا ہے، یہ اس ’نئی دنیا‘ کی طرف اشارہ کررہا ہے جو اس نے دریافت کی تھی۔ اس مجسمے کے نیچے 3 سے 4 شیروں کے مجسمے بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3009363777878c3.jpg'  alt='  عظیم ایکسپلوررکرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عظیم ایکسپلوررکرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یادگارِ کولمبس کی عکس بندی کے بعد ہم بارسلونا کے وسط میں لارمبلا (La Rambla) کی مشہور گلی میں داخل ہوگئے۔ گلی کے آغاز پر دونوں طرف فن کار مختلف صورتیں بناکر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کررہے تھے۔ دونوں طرف مختلف برانڈز کے ریسٹورنٹ میں سیاح خوش گپیوں میں مصروف نظر آرہے تھے۔ ریسٹورنٹ کے بعد سڑک کے آخر تک خوبصورت دکانیں اور شاپنگ مالز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جبکہ سردیوں کے باوجود سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/300943431e159e4.jpg'  alt='بارسلونا کے وسط میں واقع لارمبلا کی مشہور گلی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کے وسط میں واقع لارمبلا کی مشہور گلی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30094615dde2712.jpg'  alt='فن کار مختلف صورتیں بنا کر سیاحوں کو اپنے طرف متوجہ کر رہے تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فن کار مختلف صورتیں بنا کر سیاحوں کو اپنے طرف متوجہ کر رہے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گلی کے ساتھ ہی El Raval میں ایک علاقہ ہے جس میں 1974ء میں تعمیر کی گئی ایک خوبصورت مسجد طارق بن زیاد کے نام سے موجود ہے۔ فرہاد ہمت کے مطابق اس علاقے کو افغان اور پاکستانی ’پریشان رمبلا‘ کہتے ہیں کیونکہ بارسلونا میں جب کوئی نئے پاکستانی یا افغان آتے تھے تو وہ اس علاقے میں موجود پاکستانی ریسٹورنٹس اور دکانوں پر بیٹھ کر اپنی پریشانیاں اور مسائل پر بات کرتے تھے، اسی مناسبت سے اس کا نام ’پریشان لارمبلا‘ مشہور ہے۔ ’لا رمبلا‘ ایک بہت بڑا بولیورڈ ہے جو پلازہ ڈی کاتالونیا سے لےکر بارسلونا کے ساحل تک جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3009472706e00e8.jpg'  alt='&amp;rsquo;لا رمبلا &amp;rsquo; ایک بہت بڑا بولیورڈ ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’لا رمبلا ’ ایک بہت بڑا بولیورڈ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرون وسطیٰ کے دوران لارمبلا شہر کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعدازاں کیفے، دکانوں اور بلاشبہ لابوکیریا فوڈ مارکیٹ سے بھری یہ ایک مشہور گلی بن گئی۔ ہم لارمبلا میں ایک گھنٹے کی مٹر گشت کے بعد اس گلی کے آخر میں بارسلونا کا مرکز سمجھے جانے والے پلازہ ڈی کاتالونیا (کاتالونیا اسکوائر) پہنچ گئے۔ فرہاد کے مطابق بارسلونا کا دل سمجھے جانے والا یہ اسکوائر بارسلونا کے دو بڑے اضلاع سییوٹ ویلا اور ایکسیمپل کو اس مقام پر الگ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30121550400ae3e.jpg'  alt='کاتالونیا اسکوائر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کاتالونیا اسکوائر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/301003321efa8a7.jpg?r=100348'  alt='کاتالونیا اسکوائر پر سیاحوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کاتالونیا اسکوائر پر سیاحوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/301003419d95b7f.jpg?r=100348'  alt='پلازہ ڈی کاتالونیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلازہ ڈی کاتالونیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقام کاتالان کے دارالحکومت کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے جس کے اردگرد بڑے بڑے شاپنگ مالز اور ڈیپارٹمنٹل اسٹور موجود تھے۔ ویسے شاپنگ مالز اور دکانوں کی آرائش سے لگ رہا تھا کہ یہاں شاپنگ کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے جیب میں روپے نہیں بلکہ بے حساب یورو یا ڈالرز ہونے چاہئیں۔ اس جگہ کو یہاں کے عوام جلسوں، مظاہروں کے لیے بھی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ہسپانوی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی کاتالان آزادی تحریک کا مرکز بھی یہی جگہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30100645bf85a27.jpg'  alt='پلازہ ڈی کاتالونیا کا منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلازہ ڈی کاتالونیا کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;50 ہزار مربع گز رقبے پر مشتمل اس جگہ کی تعمیر 1927ء میں کی گئی تھی۔ پہلے اس جگہ پر دیواروں میں دو شہر بند تھے جن کے دروازوں کے سامنے کھلی جگہ کو ایک بہترین شاہکار بنانے کے لیے آرکیٹیکٹ پیری فالق، پِیگ آئی کڈافچ اور فرانسیسی ڈی پاؤلا نیبوٹ نے منصوبہ بندی کی اور پھر اس کو عملی جامہ بھی پہنایا۔ اس جگہ پر کلارہ اور للمونا جیسے مشہور فنکاروں کے مجسمے بھی موجود ہیں۔ اسکوائر کے چاروں اطراف مجسمہ سازی کے 6 گروپس ہیں جو کاتالان کے چار شہروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلازہ کے ایک کونے پر آپ جوزپ ماریا سبیراچس اور کاتالان حکومت کے صدر فرانسس میکسی کے یادگاری مجسمے دیکھ سکتے ہیں۔ جب یہ شہر 1929ء کی بین الاقوامی نمائش کے لیے تیاری کر رہا تھا تو بارسلونا کے کچھ انتہائی پُرکشش ہوٹل، بار اور تھیٹر اس اسکوائر کے آس پاس بنائے گئے تھے۔ اس اسکوائر پر بارسلونا کی تمام سڑکیں اور مقامات آملتے ہیں۔ اسکوائر کے اردگرد کچھ دیر فوٹوگرافی اور دیگر سرگرمیوں کے بعد تھکاوٹ سے ہمارا بُرا حال ہوچکا تھا اس لیے واپسی کا فیصلہ کیا۔ اسکوائر سے ہی ہم ٹیکسی کے ذریعے فرہاد کی رہائش گاہ کی جانب روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3010105518f0a1f.jpg'  alt='بارسلونا کی تمام اہم سڑکیں اسی اسکوائر پر آملتی ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کی تمام اہم سڑکیں اسی اسکوائر پر آملتی ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد کے گھر نماز کی ادائیگی، دن کا کھانا کھانے اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد مغرب کو میں اور فرہاد بس کا ٹکٹ لینے بس اسٹیشن روانہ ہوئے تاکہ ٹکٹ خریدنے کے ساتھ ساتھ بارسلونا کی رنگین راتوں کو بھی انجوائے کیا جاسکے۔ تھوڑی دیر میں ہم بارسلونا کی سڑکوں پر تھے۔ بارسلونا کی راتیں دن سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ سڑکوں اور بازاروں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ فرہاد سے ان کے خاندان اور یہاں تک پہنچنے کے بارے میں دریافت کیا تو پتا چلا کہ صبح سے ہمارے ساتھ گھوم پھرنے والا اور ہنستا مسکراتا فرہاد ہمت تو سینے میں غموں کے انبار لیے پھر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد ہمت کا تعلق افغانستان کے شاہی قبیلے ’درانی‘ سے ہے۔ دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد فرہاد ہمت درانی کا پہلے لغمان اور پھر کابل میں قالینوں کی درآمدات اور برآمدات کا کاروبار تھا جو بہترین انداز میں چل رہا تھا۔ 2017ء میں ملکی حالات ابتر ہونے اور طالبان کی طرف سے دھمکی اور کروڑوں روپے کے مطالبے نے فرہاد کو اپنا کاروبار سمیٹنے اور ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد ستمبر 2018ء کو اسپین پہنچا۔ بارسلونا شہر میں اس کا گزربسر چند ٹیکسی کاروں کو مختلف ڈرائیورز کا کنٹریکٹ دے کر، سیاحوں کو سائیکلز کی فراہمی اور ٹور گائیڈ کی سروس فراہم کرنے سے ہورہا ہے۔ فرہاد ہمت کے مطابق ان سروسز سے ان کو ایک معقول منافع ہوجاتا ہے جس سے وہ نہ صرف یہاں کے اخراجات بھی پورے کرتا ہے بلکہ افغانستان میں مقیم اپنے خاندان کو بھی ماہانہ اخراجات بجھواتا ہے۔ فرہاد کے مطابق اس کی اسپین کی نیشنیلٹی کے کاغذات ابھی تک پروسس میں ہیں۔ نیشنیلٹی پیپرز ملتے ہی وہ یہاں ایک بڑا کاروباری سیٹ اپ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں سیاحوں کے لیے ٹور گائیڈ سروس سے لے کر ٹرانسپورٹ اور ہوٹلز کا سیٹ اپ بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرہاد کی باتیں سنتے سنتے ایک جگہ مجھے دائرے میں کھڑے تماشائی اور درمیان میں رقص کرنے والی ہسپانوی دوشیزائیں نظر آئیں۔ ہم قریب پہنچے تو فرہاد نے بتایا کہ یہ اسپین کا مشہور روایتی رقص ’فلیمنکو‘ ہے جو ملک کے کونے کونے میں اسٹیج سے لےکر سڑکوں پر کیا جاتا ہے اور یہ مختلف تہواروں کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30101352777e47a.jpg?r=101355'  alt='&amp;rsquo;فلیمنکو&amp;lsquo;  اسپین کا روایتی رقص ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’فلیمنکو‘  اسپین کا روایتی رقص ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے سامنے ہسپانوی دوشیزائیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر پنجوں کے بل، تالی بجاتے ہوئے گٹار کی دھن پر جھوم جھوم کر دیوانہ وار رقص کر رہی تھیں۔ اردگرد کھڑے لوگ بڑے جوش میں آکر ’اولے اولے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلیمنکو رقص کسی زمانے میں خانہ بدوشوں کا رقص ہوا کرتا تھا اور یہ اسپین کے جنوبی حصے اندلس اور مرسیا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے خانہ بندوشوں سے وابستہ تھا لیکن اب یہ اسپین کی پہچان بن چکا ہے۔ اس وقت اس رقص کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 2010ء میں لازوال ثقافتی ورثے کا درجہ دیا ہوا ہے۔ فرہاد کے مطابق میوزک سے ہسپانوی قوم کو انتہا درجے کا عشق ہے اور یہ عشق بھی انہیں عربوں سے ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کے مطابق یورپ اور اسپین کے میوزک میں جو تپش موجود ہے وہ عربوں کی لگائی ہوئی آگ کی ہے اور رقص دیکھ کر مجھے بھی یہی محسوس ہورہا تھا کیونکہ اس رقص نے مجھے بھی محسور کردیا تھا۔ رقص کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ میں بھی تماشائیوں کے ساتھ مل کر ’اولے اولے‘ کی آوازیں لگانے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/301015595ed57f4.jpg'  alt='فلیمنکو رقص کسی زمانے میں خانہ بدوشوں کا رقص ہوا کرتا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فلیمنکو رقص کسی زمانے میں خانہ بدوشوں کا رقص ہوا کرتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچانک گٹار کی آواز مدھم ہونے لگی۔ رقص کرتے جوڑوں نے سر پیچھے ڈال دیے اور پنجوں کے بل تھرکتے تھرکتے بڑی نپی تلی رفتار سے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ جوڑوں نے دائرے میں ایک چکر لگا کر تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا اور پھر کچھ دیر کے لیے بارسلونا خاموش ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’چلیں اب بس اسٹیشن، کیا خیال ہے؟‘ فرہاد نے مجھ سے پوچھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں جو ہسپانوی رقص اور موسیقی کے سحر میں مبتلا تھا، فرہاد کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا ’چلیں میرے دوست، اسپین کے اس سفر میں یہ مشہور رقص اور میوزک دیکھنا ایک خواہش تھی۔ پہلے ہسپانوی اور کئی انگریزی فلموں میں اس رقص کو دیکھا تھا لیکن اس طرح سڑک پر رقص اپنی آنکھوں سے دیکھ کر مزا آیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم باتیں کرتے کرتے بارسلونا کے ’نورڈ اسٹیشن‘ پہنچ گئے۔ اسٹیشن پر موجود ایک بوتھ سے پتا چلا کہ میڈرڈ کے لیے جانے والی بس کا ٹکٹ کل صبح 8 بجے کے قریب اسٹیشن سے لے سکتے ہیں یا آن لائن بکنگ بھی کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281703099fc388b.jpg'  alt='بارسلونا کا بس اسٹیشن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارسلونا کا بس اسٹیشن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس اسٹیشن سے ٹکٹ لیے بغیر ہم فرہاد کی رہائش گاہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں آرام کے بعد ہم شہر کے وسط میں پہلے سے بک اپنے اپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ بارسلونا میں ہمارا اپارٹمنٹ ایک فیملی کے ساتھ شراکت میں تھا، اس لیے ایک ہی کمرے میں ہمیں تین عدد بیڈ ملے۔ تھکاوٹ زیادہ تھی۔ اس لیے جلد ہی سونے کا فیصلہ کیا تاکہ اگلے دن ہم بارسلونا کی سیر کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>ریان ایئر کا طیارہ اور سروس اتنی حوصلہ افزا تو نہیں لیکن سستے ٹکٹ کی وجہ سے پورے یورپ میں ریان ایئر کے ڈومیسٹک آپریشن سب سے زیادہ ہیں اور یورپی عوام کی بڑی تعداد ان کی سروسز سے مستفید ہورہی ہیں۔ اشبیلیہ سے بارسلونا ہماری تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز تھی۔ 8 بج کر 15 منٹ پر جہاز میں اعلان کیا گیا کہ جوزف ٹراڈیلاس بارسلونا ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ کھڑکی سے بارسلونا کے آسمان پر سورج طلوع ہوکر اپنی زردی پھیلا چکا تھا اور دور تک بارسلونا شہر کی خوبصورت آبادی نظر آرہی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281521449f57510.jpg'  alt='ریان ایئر کی سروس سے یورپ کی بڑی آبادی مستفید ہوتی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ریان ایئر کی سروس سے یورپ کی بڑی آبادی مستفید ہوتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28152505004d227.jpg'  alt='بارسلونا کے اسمان پر سورج طلوع ہوکر اپنے زردی پھیلا چکا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کے اسمان پر سورج طلوع ہوکر اپنے زردی پھیلا چکا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایئرپورٹ کے باہر ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر ہم افغان دوست فرہاد ہمت کے فلیٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹیکسی بارسلونا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھی۔ ایئرپورٹ چونکہ آبادی سے دور تھا اس لیے راستے کے دونوں طرف سرسبز میدانی علاقہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم شہر کی آبادی میں داخل ہوچکے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281530384449518.jpg'  alt='بارسلونا کا ایئرپورٹ شہر سے دور واقع ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کا ایئرپورٹ شہر سے دور واقع ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ واقعی ایک جدید اور خوبصورت شہر تھا۔ ہسپانوی طرزِ تعمیر کی بلند عمارتیں کشادہ سڑکیں اور شاپنگ مالز اس شہر کو منفرد بنا رہی تھیں۔ اسپین کے دلکش ترین شہروں میں اس کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اسپین سے آزادی حاصل کرنے کے لیے احتجاج کرنے والے شہروں میں بھی اس شہر کا نام بھی شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2815285776b932f.jpg?r=153133'  alt='ہماری ٹیکسی بارسلونا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہماری ٹیکسی بارسلونا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28153333a8dc5ef.jpg'  alt='فرہاد ہمت کا رہائشی علاقہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فرہاد ہمت کا رہائشی علاقہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہماری ٹیکسی تقریباً 15 منٹ بعد فرہاد ہمت کے اپارٹمنٹ پہنچی جہاں وہ پہلے سے ہی ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ وہ افغانستان کے صوبے لغمان سے تعلق رکھنے والا ایک خوبصورت نوجوان تھا جس نے پختونوں کے روایتی انداز میں ہمارا استقبال کرتے ہوئے اپنے اپارٹمنٹ میں خوش آمدید کہا۔ یہ دو کمروں، ڈرائنگ روم اور کچن پر مشتمل ایک خوبصورت اپارٹمنٹ تھا۔ حال احوال پوچھنے کے بعد فرہاد نے ہمیں کچھ دیر آرام کرنے کو کہا اور ناشتہ تیار کرنے میں مصروف ہوگیا۔ تقریباً  آدھے گھنٹے کے بعد ڈرائنگ روم کی میز سری پائے، انڈا کڑاہی، فروٹ، خبز اور سلیمانی چائے کی صورت میں بہترین ناشتے سے سج چکا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28153557bc5f1ff.jpg'  alt='فرہاد نے ہمیں افغان ناشتہ کروایا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فرہاد نے ہمیں افغان ناشتہ کروایا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281536039714b9b.jpg'  alt='پردیس میں ہم نے طویل عرصے بعد دیسی کھانا کھایا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پردیس میں ہم نے طویل عرصے بعد دیسی کھانا کھایا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک عرصے بعد دیسی ناشتے کی خوشبو نے ہماری بھوک میں اضافہ کردیا۔ اس لیے بلا تاخیر ہم پردیس میں دیسی ناشتے کے مزے لوٹنے لگے۔ ناشتے کے بعد ہم نے فرہاد ہمت کو بارسلونا شہر گھومنے کے اپنے دو روزہ منصوبے اور پہلے سے بُک کی ہوئی اپنی رہائش کے ایڈریس کے بارے میں آگاہ کیا۔</p>
<p>فرہاد ہمت نے رہائش کی بکنگ کینسل کرنے اور اپنے گھر قیام کرنے پر زور دیا۔ عبداللہ شاہ صاحب نے آج کی رات اپنی رہائش پر گزارنے اور اگلی رات ان کے ہاں قیام کرنے کا وعدہ کرکے انہیں مطمئن کیا اور دو دن بارسلونا شہر کی سیر کروانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی زیادہ مصروفیات نہ ہوں تو فرہاد ہمیں بارسلونا شہر کی مشہور مقامات کی سیر کروائیں۔ فرہاد ہمت نے ہماری درخواست خوشی قبول سے کرتے ہوئے ہمیں اسی دن بارسلونا شہر کی ایک سائٹ وزٹ کروانے کو کہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281547440b3d422.jpg'  alt='ناشتے کے بعد ہم بارسلونا کو کھنگلانے کے لیے نکل پڑے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناشتے کے بعد ہم بارسلونا کو کھنگلانے کے لیے نکل پڑے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281547274a76352.jpg?r=154819'  alt='بارسلونا کی سڑکیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کی سڑکیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>میڈرڈ کے بعد بارسلونا اسپین کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ اسپین کے خودمختار علاقے کاتالونیا کا دارالحکومت اور اسپین کے شمال مشرق میں بحیرہ روم کے کنارے پر آباد ہے۔ 2016ء کی مردم شماری کے مطابق بارسلونا کی آبادی 17 لاکھ تھی جبکہ یہاں ہسپانوی باشندوں کے بعد سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں۔</p>
<p>فرانس کی سرحد سے 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارسلونا، سیاحوں میں مقبولیت کے لحاظ سے یورپ کا چوتھا اور دنیا کا 14واں شہر ہے۔ اسے ’City of Beaches‘ یعنیٰ ساحلوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ بارسلونا 85 سال تک مسلمانوں کے زیرِ انتظام رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2815565143ec830.jpg'  alt='بارسلونا یورپ کا چوتھا مقبول ترین شہر ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا یورپ کا چوتھا مقبول ترین شہر ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>محنتی اور جفاکش قوم ’کتالونین‘ کا خوبصورت اور جدید شہر بارسلونا نہ صرف تاریخی اعتبار سے مشہور ہے بلکہ سرسبز پہاڑوں کے درمیان بحیرہ روم کے ساحل پر آباد یہ خوبصورت شہر بہت سے عجائب گھروں، چرچ اور فٹبال گراؤنڈز کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ چاہے آپ ساحل کے کنارے بیٹھ کر فرانسیسی سرحد کا نظارہ کرنا چاہتے ہوں یا فنِ تعمیر کے کمالات دیکھنا پسند کرتے ہوں، قرون اولیٰ کی تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہوں یا فٹبال کے کھیل کے مداح ہوں، سیاحت کے لیے بارسلونا ہی آپ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ہم بھی آج اس خوبصورت شہر کو کنگھالنے کے لیے نکل پڑے تھے۔ فرہاد کی رہائش سے ہم 15 منٹ کی پیدل واک پر ’پلازہ ناؤ‘ کے خوبصورت مین اسکوائر میں پہنچ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281559200f0e465.jpg'  alt='پلازہ ناؤ کا خوبصورت اسکوائر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلازہ ناؤ کا خوبصورت اسکوائر</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281601318127e0f.jpg'  alt='بارسلونا میں پلازہ ناؤ کا مین اسکوائر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا میں پلازہ ناؤ کا مین اسکوائر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2816012370b906a.jpg?r=160158'  alt='مین اسکوائر پر واقع ارینا سیاحتی مرکز ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مین اسکوائر پر واقع ارینا سیاحتی مرکز ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>فرہاد ہمت کے مطابق یہ بارسلونا کا سب سے خوبصورت سیاحتی مقام ہے اور اگر آپ اسے بارسلونا کا مونال یا سوہاوہ کہیں تو مناسب ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2816183487fb79a.jpg'  alt='مونٹیجک فاؤنٹین بارسلونا کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو اسلام آباد کے لیے مونال کی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مونٹیجک فاؤنٹین بارسلونا کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو اسلام آباد کے لیے مونال کی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28162850082ea67.jpg'  alt='یہ بارسلونا کا پُرکشش مقام ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ بارسلونا کا پُرکشش مقام ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ دیر بعد ہم اس خوبصورت عمارت کے سامنے موجود فوارے (مونٹیجک فاؤنٹین) کے ساتھ تصاویر بنوانے میں مصروف تھے۔ سطح سمندر سے 173 میٹر کی اونچائی پر اور سمندر کے عین قریب واقع ’مونٹیجک فاؤنٹین‘ بارسلونا کا ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے جس کے ساتھ ہی پلازہ ڈی جوزف موجود ہے۔ یہاں سے نہ صرف آپ شہر کا نظارہ کرسکتے ہے بلکہ آپ اوپر سے ساحل سمندر کا بھی دیدار کرسکتے ہیں۔ بارسلونا کے تمام مشہور سیاحتی مقامات یہاں سے نظر آتے ہیں۔ ہل ٹاپ پر موجود عمارت نیشنل آرٹ میوزیم کی تھی جو 17ویں صدی میں تعمیر کیے گئے ایک قلعے کی عمارت تھی بارسلونا کی اونچی جگہ پر اس قلعے کو فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281611339cec384.jpg'  alt='سیاحوں کی بڑی تعداد &rsquo;پلازہ ڈی جوزف&lsquo; کی تصاویر بنانے میں مصروف تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سیاحوں کی بڑی تعداد ’پلازہ ڈی جوزف‘ کی تصاویر بنانے میں مصروف تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28161153f1e90fd.jpg'  alt='&rsquo;مونٹیجک ماؤنٹین&lsquo; بارسلونا کا ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’مونٹیجک ماؤنٹین‘ بارسلونا کا ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس وقت سے لےکر اس قلعے کو فوجی بیس کیمپ اور ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران جیل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ آج یہ ایک بہت ہی شاندار میوزیم ہے جس میں عہد ماضی کے بہت سے اوراق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کچھ دیر میوزیم اور اس کی عمارت کے اردگرد گھومنے کے بعد ہم میوزیم کے دائیں طرف سے بارسلونا کے دلفریب نظاروں سے محظوظ ہونے لگے۔ یہاں سے شہر کا نظارہ دیدنی تھا اور شہر کے تمام مشہور سیاحتی مقامات نظر آرہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30091704dccb779.jpg'  alt='شہر کا پُرکشش منظر سیاحوں کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شہر کا پُرکشش منظر سیاحوں کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/2816340832d84fc.jpg'  alt='پلازہ ڈی جوزف سے شہر کا نظارہ دیدنی تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلازہ ڈی جوزف سے شہر کا نظارہ دیدنی تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281639346be6c7a.jpg'  alt='بارسلونا کا خوبصورت منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کا خوبصورت منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں کچھ دیر رُک کر نظاروں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے بعد ہم میوزیم کی عمارت کی پشت پر بنائے گئے مشہور اولپمک گراؤنڈ پہنچے۔ اولمپک کھیلوں کے لیے ’مونٹجیک ہل‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ 1992ء میں اسی مقام پر اولمپک کھیلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مقام سے بھی بارسلونا کے ساحل کا نظارہ دلکش اور منفرد تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281642102e7ccf0.jpg'  alt='بارسلونا کا اولمپک گراونڈ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کا اولمپک گراونڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281643552ad3a6a.jpg'  alt='اولمپنگ کھیلوں کے لیے &rsquo;مونٹجیک ہل&lsquo; کو کلیدی حیثیت حاصل ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اولمپنگ کھیلوں کے لیے ’مونٹجیک ہل‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28164508b19ffd8.jpg'  alt='اولمپک گراؤنڈ کا دلکش منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اولمپک گراؤنڈ کا دلکش منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ دیر منظرکشی کے بعد عبداللہ شاہ صاحب نے فرہاد ہمت کو ہماری اگلی منزل بارسلونیٹا کے ساحل کے قریب موجود مشہور مقامات کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔ ہمارے میزبان فرہاد ہمت نے دائیں جانب دونوں طرف درختوں سے مزین ایک دلکش راستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ ’بوٹینیکل گارڈن‘ کی طرف جاتا ہے اور یہاں پر بھی سیاح بڑی تعداد میں موجود تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28170035df9ec75.jpg'  alt='&rsquo;بوٹینیکل گارڈن&lsquo; کا راستہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’بوٹینیکل گارڈن‘ کا راستہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>چونکہ ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے ہم یہاں جانے کے بجائے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ تھوڑی دیر میں ہم ٹیکسی کے ذریعے بحیرہ روم کے ساحل بارسلونیٹا پہنچ چکے تھے۔ بارسلونیٹا ساحل، بارسلونا شہر کا خوبصورت ترین ساحل ہے اور یہاں ساحل سمندر تک جانے کا آسان ترین راستہ ’پیلے رنگ کی میٹرو‘ ہے۔ اسے شہر سے چلنے میں 20 منٹ کا وقت لگتا ہے لیکن ہم میٹرو کی بجائے ٹیکسی کے ذریعے یہاں پہنچ چکے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30092245eb9d974.jpg'  alt='بارسلونیٹا ساحل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونیٹا ساحل</figcaption>
    </figure></p>
<p>بارسلونیٹا ایک وسیع ساحل ہے جو مختلف ریسٹورنٹس سے بھرا ہوا ہے جوکہ زیادہ تر امریکی طرز کے ہیں جبکہ یہاں جگہ جگہ پر بار بھی موجود ہیں۔ سیاحوں کا ایک جمِ غفیر اس ساحل پر موجود ہوتا ہے۔ فرہاد ہمت کے مطابق یہاں موسم گرما میں سیاحوں کے رش کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس ساحل میں قدم رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی لیکن جب ہم گئے تب سردیاں تھیں اس لیے یہاں پر سیاحوں کا رش کم تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30093219b18e86e.jpg'  alt='ساحل کا خوبصورت منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ساحل کا خوبصورت منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>فرہاد ہمت نے کہا کہ آج ہم ساحل کی طرف نہیں جاتے بلکہ عظیم ایکسپلورر کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے کے پاس چلتے ہیں وہاں سے پھر بارسلونا شہر کی مشہور اسٹریٹ ’لا رمبلا‘ کا رخ کریں گے۔ ہم فرہاد کے پیچھے ساحل پر چہل قدمی کرتے ہوئے کرسٹوفر کولمبس کے یادگاری مجسمے کے پاس پہنچ گئے۔ چونکہ کولمبس کا تعلق اسپین سے تھا اسی لیے اس مجسمے کے بالکل قریب بحیرہ روم کےکنارے ان کی زیرِاستعمال وہ کشتی بھی موجود ہے جس میں بیٹھ کر کولمبس نے امریکا دریافت کرکے اسپین کے عوام کو مالا مال کردیا تھا۔ کولمبس کا مجسمہ ایک بلند ستون پر نصب کیا گیا ہے، یہ اس ’نئی دنیا‘ کی طرف اشارہ کررہا ہے جو اس نے دریافت کی تھی۔ اس مجسمے کے نیچے 3 سے 4 شیروں کے مجسمے بھی موجود ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3009363777878c3.jpg'  alt='  عظیم ایکسپلوررکرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عظیم ایکسپلوررکرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>یادگارِ کولمبس کی عکس بندی کے بعد ہم بارسلونا کے وسط میں لارمبلا (La Rambla) کی مشہور گلی میں داخل ہوگئے۔ گلی کے آغاز پر دونوں طرف فن کار مختلف صورتیں بناکر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کررہے تھے۔ دونوں طرف مختلف برانڈز کے ریسٹورنٹ میں سیاح خوش گپیوں میں مصروف نظر آرہے تھے۔ ریسٹورنٹ کے بعد سڑک کے آخر تک خوبصورت دکانیں اور شاپنگ مالز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جبکہ سردیوں کے باوجود سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/300943431e159e4.jpg'  alt='بارسلونا کے وسط میں واقع لارمبلا کی مشہور گلی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کے وسط میں واقع لارمبلا کی مشہور گلی</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30094615dde2712.jpg'  alt='فن کار مختلف صورتیں بنا کر سیاحوں کو اپنے طرف متوجہ کر رہے تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فن کار مختلف صورتیں بنا کر سیاحوں کو اپنے طرف متوجہ کر رہے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس گلی کے ساتھ ہی El Raval میں ایک علاقہ ہے جس میں 1974ء میں تعمیر کی گئی ایک خوبصورت مسجد طارق بن زیاد کے نام سے موجود ہے۔ فرہاد ہمت کے مطابق اس علاقے کو افغان اور پاکستانی ’پریشان رمبلا‘ کہتے ہیں کیونکہ بارسلونا میں جب کوئی نئے پاکستانی یا افغان آتے تھے تو وہ اس علاقے میں موجود پاکستانی ریسٹورنٹس اور دکانوں پر بیٹھ کر اپنی پریشانیاں اور مسائل پر بات کرتے تھے، اسی مناسبت سے اس کا نام ’پریشان لارمبلا‘ مشہور ہے۔ ’لا رمبلا‘ ایک بہت بڑا بولیورڈ ہے جو پلازہ ڈی کاتالونیا سے لےکر بارسلونا کے ساحل تک جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3009472706e00e8.jpg'  alt='&rsquo;لا رمبلا &rsquo; ایک بہت بڑا بولیورڈ ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’لا رمبلا ’ ایک بہت بڑا بولیورڈ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>قرون وسطیٰ کے دوران لارمبلا شہر کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعدازاں کیفے، دکانوں اور بلاشبہ لابوکیریا فوڈ مارکیٹ سے بھری یہ ایک مشہور گلی بن گئی۔ ہم لارمبلا میں ایک گھنٹے کی مٹر گشت کے بعد اس گلی کے آخر میں بارسلونا کا مرکز سمجھے جانے والے پلازہ ڈی کاتالونیا (کاتالونیا اسکوائر) پہنچ گئے۔ فرہاد کے مطابق بارسلونا کا دل سمجھے جانے والا یہ اسکوائر بارسلونا کے دو بڑے اضلاع سییوٹ ویلا اور ایکسیمپل کو اس مقام پر الگ کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30121550400ae3e.jpg'  alt='کاتالونیا اسکوائر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کاتالونیا اسکوائر</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/301003321efa8a7.jpg?r=100348'  alt='کاتالونیا اسکوائر پر سیاحوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کاتالونیا اسکوائر پر سیاحوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/301003419d95b7f.jpg?r=100348'  alt='پلازہ ڈی کاتالونیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلازہ ڈی کاتالونیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ مقام کاتالان کے دارالحکومت کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے جس کے اردگرد بڑے بڑے شاپنگ مالز اور ڈیپارٹمنٹل اسٹور موجود تھے۔ ویسے شاپنگ مالز اور دکانوں کی آرائش سے لگ رہا تھا کہ یہاں شاپنگ کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے جیب میں روپے نہیں بلکہ بے حساب یورو یا ڈالرز ہونے چاہئیں۔ اس جگہ کو یہاں کے عوام جلسوں، مظاہروں کے لیے بھی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ہسپانوی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی کاتالان آزادی تحریک کا مرکز بھی یہی جگہ تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30100645bf85a27.jpg'  alt='پلازہ ڈی کاتالونیا کا منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلازہ ڈی کاتالونیا کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>50 ہزار مربع گز رقبے پر مشتمل اس جگہ کی تعمیر 1927ء میں کی گئی تھی۔ پہلے اس جگہ پر دیواروں میں دو شہر بند تھے جن کے دروازوں کے سامنے کھلی جگہ کو ایک بہترین شاہکار بنانے کے لیے آرکیٹیکٹ پیری فالق، پِیگ آئی کڈافچ اور فرانسیسی ڈی پاؤلا نیبوٹ نے منصوبہ بندی کی اور پھر اس کو عملی جامہ بھی پہنایا۔ اس جگہ پر کلارہ اور للمونا جیسے مشہور فنکاروں کے مجسمے بھی موجود ہیں۔ اسکوائر کے چاروں اطراف مجسمہ سازی کے 6 گروپس ہیں جو کاتالان کے چار شہروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>پلازہ کے ایک کونے پر آپ جوزپ ماریا سبیراچس اور کاتالان حکومت کے صدر فرانسس میکسی کے یادگاری مجسمے دیکھ سکتے ہیں۔ جب یہ شہر 1929ء کی بین الاقوامی نمائش کے لیے تیاری کر رہا تھا تو بارسلونا کے کچھ انتہائی پُرکشش ہوٹل، بار اور تھیٹر اس اسکوائر کے آس پاس بنائے گئے تھے۔ اس اسکوائر پر بارسلونا کی تمام سڑکیں اور مقامات آملتے ہیں۔ اسکوائر کے اردگرد کچھ دیر فوٹوگرافی اور دیگر سرگرمیوں کے بعد تھکاوٹ سے ہمارا بُرا حال ہوچکا تھا اس لیے واپسی کا فیصلہ کیا۔ اسکوائر سے ہی ہم ٹیکسی کے ذریعے فرہاد کی رہائش گاہ کی جانب روانہ ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3010105518f0a1f.jpg'  alt='بارسلونا کی تمام اہم سڑکیں اسی اسکوائر پر آملتی ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کی تمام اہم سڑکیں اسی اسکوائر پر آملتی ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>فرہاد کے گھر نماز کی ادائیگی، دن کا کھانا کھانے اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد مغرب کو میں اور فرہاد بس کا ٹکٹ لینے بس اسٹیشن روانہ ہوئے تاکہ ٹکٹ خریدنے کے ساتھ ساتھ بارسلونا کی رنگین راتوں کو بھی انجوائے کیا جاسکے۔ تھوڑی دیر میں ہم بارسلونا کی سڑکوں پر تھے۔ بارسلونا کی راتیں دن سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ سڑکوں اور بازاروں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ فرہاد سے ان کے خاندان اور یہاں تک پہنچنے کے بارے میں دریافت کیا تو پتا چلا کہ صبح سے ہمارے ساتھ گھوم پھرنے والا اور ہنستا مسکراتا فرہاد ہمت تو سینے میں غموں کے انبار لیے پھر رہا ہے۔</p>
<p>فرہاد ہمت کا تعلق افغانستان کے شاہی قبیلے ’درانی‘ سے ہے۔ دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد فرہاد ہمت درانی کا پہلے لغمان اور پھر کابل میں قالینوں کی درآمدات اور برآمدات کا کاروبار تھا جو بہترین انداز میں چل رہا تھا۔ 2017ء میں ملکی حالات ابتر ہونے اور طالبان کی طرف سے دھمکی اور کروڑوں روپے کے مطالبے نے فرہاد کو اپنا کاروبار سمیٹنے اور ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔</p>
<p>فرہاد ستمبر 2018ء کو اسپین پہنچا۔ بارسلونا شہر میں اس کا گزربسر چند ٹیکسی کاروں کو مختلف ڈرائیورز کا کنٹریکٹ دے کر، سیاحوں کو سائیکلز کی فراہمی اور ٹور گائیڈ کی سروس فراہم کرنے سے ہورہا ہے۔ فرہاد ہمت کے مطابق ان سروسز سے ان کو ایک معقول منافع ہوجاتا ہے جس سے وہ نہ صرف یہاں کے اخراجات بھی پورے کرتا ہے بلکہ افغانستان میں مقیم اپنے خاندان کو بھی ماہانہ اخراجات بجھواتا ہے۔ فرہاد کے مطابق اس کی اسپین کی نیشنیلٹی کے کاغذات ابھی تک پروسس میں ہیں۔ نیشنیلٹی پیپرز ملتے ہی وہ یہاں ایک بڑا کاروباری سیٹ اپ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں سیاحوں کے لیے ٹور گائیڈ سروس سے لے کر ٹرانسپورٹ اور ہوٹلز کا سیٹ اپ بھی ہوگا۔</p>
<p>فرہاد کی باتیں سنتے سنتے ایک جگہ مجھے دائرے میں کھڑے تماشائی اور درمیان میں رقص کرنے والی ہسپانوی دوشیزائیں نظر آئیں۔ ہم قریب پہنچے تو فرہاد نے بتایا کہ یہ اسپین کا مشہور روایتی رقص ’فلیمنکو‘ ہے جو ملک کے کونے کونے میں اسٹیج سے لےکر سڑکوں پر کیا جاتا ہے اور یہ مختلف تہواروں کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/30101352777e47a.jpg?r=101355'  alt='&rsquo;فلیمنکو&lsquo;  اسپین کا روایتی رقص ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’فلیمنکو‘  اسپین کا روایتی رقص ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہمارے سامنے ہسپانوی دوشیزائیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر پنجوں کے بل، تالی بجاتے ہوئے گٹار کی دھن پر جھوم جھوم کر دیوانہ وار رقص کر رہی تھیں۔ اردگرد کھڑے لوگ بڑے جوش میں آکر ’اولے اولے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔</p>
<p>فلیمنکو رقص کسی زمانے میں خانہ بدوشوں کا رقص ہوا کرتا تھا اور یہ اسپین کے جنوبی حصے اندلس اور مرسیا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے خانہ بندوشوں سے وابستہ تھا لیکن اب یہ اسپین کی پہچان بن چکا ہے۔ اس وقت اس رقص کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 2010ء میں لازوال ثقافتی ورثے کا درجہ دیا ہوا ہے۔ فرہاد کے مطابق میوزک سے ہسپانوی قوم کو انتہا درجے کا عشق ہے اور یہ عشق بھی انہیں عربوں سے ملا ہے۔</p>
<p>ناقدین کے مطابق یورپ اور اسپین کے میوزک میں جو تپش موجود ہے وہ عربوں کی لگائی ہوئی آگ کی ہے اور رقص دیکھ کر مجھے بھی یہی محسوس ہورہا تھا کیونکہ اس رقص نے مجھے بھی محسور کردیا تھا۔ رقص کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ میں بھی تماشائیوں کے ساتھ مل کر ’اولے اولے‘ کی آوازیں لگانے لگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/301015595ed57f4.jpg'  alt='فلیمنکو رقص کسی زمانے میں خانہ بدوشوں کا رقص ہوا کرتا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فلیمنکو رقص کسی زمانے میں خانہ بدوشوں کا رقص ہوا کرتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اچانک گٹار کی آواز مدھم ہونے لگی۔ رقص کرتے جوڑوں نے سر پیچھے ڈال دیے اور پنجوں کے بل تھرکتے تھرکتے بڑی نپی تلی رفتار سے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ جوڑوں نے دائرے میں ایک چکر لگا کر تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا اور پھر کچھ دیر کے لیے بارسلونا خاموش ہوگیا۔</p>
<p>’چلیں اب بس اسٹیشن، کیا خیال ہے؟‘ فرہاد نے مجھ سے پوچھا۔</p>
<p>میں جو ہسپانوی رقص اور موسیقی کے سحر میں مبتلا تھا، فرہاد کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا ’چلیں میرے دوست، اسپین کے اس سفر میں یہ مشہور رقص اور میوزک دیکھنا ایک خواہش تھی۔ پہلے ہسپانوی اور کئی انگریزی فلموں میں اس رقص کو دیکھا تھا لیکن اس طرح سڑک پر رقص اپنی آنکھوں سے دیکھ کر مزا آیا‘۔</p>
<p>ہم باتیں کرتے کرتے بارسلونا کے ’نورڈ اسٹیشن‘ پہنچ گئے۔ اسٹیشن پر موجود ایک بوتھ سے پتا چلا کہ میڈرڈ کے لیے جانے والی بس کا ٹکٹ کل صبح 8 بجے کے قریب اسٹیشن سے لے سکتے ہیں یا آن لائن بکنگ بھی کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/281703099fc388b.jpg'  alt='بارسلونا کا بس اسٹیشن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارسلونا کا بس اسٹیشن</figcaption>
    </figure></p>
<p>بس اسٹیشن سے ٹکٹ لیے بغیر ہم فرہاد کی رہائش گاہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں آرام کے بعد ہم شہر کے وسط میں پہلے سے بک اپنے اپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ بارسلونا میں ہمارا اپارٹمنٹ ایک فیملی کے ساتھ شراکت میں تھا، اس لیے ایک ہی کمرے میں ہمیں تین عدد بیڈ ملے۔ تھکاوٹ زیادہ تھی۔ اس لیے جلد ہی سونے کا فیصلہ کیا تاکہ اگلے دن ہم بارسلونا کی سیر کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214646</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Oct 2023 16:28:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/30130845e60086e.jpg?r=130849" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/30130845e60086e.jpg?r=130849"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/301207146efab8e.jpg?r=130849" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/301207146efab8e.jpg?r=130849"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: راکاپوشی کے سائے میں (دسویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212201/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;شام گئے دینیور سے گلگت واپسی ہوئی۔ گلگت کی سیر تقریباً پوری ہوئی۔ اب صبح ہمیں ہنزہ کے لیے نکلنا تھا اس لیے ہم ایک ریسٹورنٹ سے جلدی کھانا کھا کر اپنے ہوٹل واپس پہنچے اور سو گئے۔ اگلے دن صبح سویرے گلگت کے ویگن اڈے پہنچے اور ہنزہ جانے والی وین میں سوار ہوگئے۔ ہنزہ جانے کے لیے ہمیں آج دوبارہ شاہراہ قراقرم پر دینیور سے گزرنا تھا لیکن آج دینیور کے لیے ہمیں سرنگ والے پل کے راستے نہیں جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں گلگت شہر سے پنڈی کی طرف جانے والے راستے پر اُس پل تک جا کر شاہراہ قراقرم پر چڑھنا تھا جو دریائے گلگت کو عبور کرکے دینیور کی طرف جاتی ہے۔ اس پل سے کچھ پہلے دریائے ہنزہ اور دریائے گلگت آپس میں مل چکے ہوتے ہیں اور ان دونوں دریاؤں کا مشترک پانی یہاں پل کے نیچے سے گزرتا ہے۔ گلگت شہر سے باہر آنے والی یہ سڑک اس پل سے ذرا پہلے پنڈی سے آنے والی شاہراہ قراقرم سے مل جاتی ہے اور پل عبور کرکے تھوڑا ہی آگے بڑھیں تو پہلے دائیں ہاتھ پر چینی شہدا کی یادگار آتی ہے اور پھر دینیور شروع ہوجاتا ہے۔ ہماری گاڑی مسافروں سے بھری ہوئی تھی اس لیے دینیور میں رکے بغیر آگے نکلتی چلی گئی اور دریائے ہنزہ کے کنارے کنارے بلندیوں کی طرف دوڑنے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑی دیر میں ہم نومل کے قصبے تک پہنچ گئے۔ نومل میں شاہراہ قراقرم سے بائیں ہاتھ کو ایک سڑک نیچے دریائے ہنزہ کی طرف اترتی ہے جو گہرائی میں دریا تک جا کر اسے ایک پل سے عبور کرکے دوسری طرف کے بلند و بالا پہاڑوں میں چھپی حسین وادی ’نلتر‘ کی طرف چلی جاتی ہے۔ وادی نلتر جو گرمیوں میں سیاحوں کے لیے سرسبز و دل فریب ہوتی ہے اور سردیوں میں اس کی برف پوش ڈھلوانیں اسکی اِنگ کے لیے دلکش ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150407f6a7e2a.jpg?r=150419'  alt='  ہنزہ جانے کے لیے ہم گلگت سے بس میں سوار ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہنزہ جانے کے لیے ہم گلگت سے بس میں سوار ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت تو ہماری گاڑی نومل میں رکے بغیر سیدھی ہنزہ کی طرف دوڑتی چلی گئی لیکن اس کے 16 سال بعد 2002ء میں مجھے وادی نلتر جانے کا بھی موقع ملا۔ اس وقت میں اسلام آباد سے اپنے دوستوں ڈاکٹر قیصر اور ڈاکٹر اکرم کے ساتھ آیا تھا اور ہماری جیپ یہاں نومل میں شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر نیچے دریائے ہنزہ کی طرف اتر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت شہر دو دریاؤں یعنی دریائے گلگت اور دریائے ہنزہ کے مقام اتصال پر آباد ہے۔ دریائے گلگت شندور اور وادی یاسین کی طرف سے بہتا ہوا آتا ہے جبکہ دریائے ہنزہ خنجر اب اور ہنزہ کی طرف سے آتا ہے۔ یہ دونوں دریا گلگت شہر کے قریب باہم مدغم ہوکر مزید آگے بڑھتے ہیں اورتقریباً 30 کلومیٹر آگے جا کر جگلوٹ کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ وادی نلتر انہی دونوں دریاؤں یعنی دریائے گلگت اور دریائے ہنزہ کے درمیان والے پہاڑوں میں ایک سر سبز و شاداب وادی ہے جو اپنی بلند و بالا ست رنگی جھیل اور اپنے ’اسکی اِنگ ریزورٹ‘ کی وجہ سے مشہور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115054479a7770.jpg?r=160133'  alt='  نلتر ویلی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نلتر ویلی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 2002ء کا جون تھا جب طے پایا کہ اس دفعہ ہم وادی نلتر جائیں گے۔ ڈاکٹر اکرم نے تجویز دی تھی کہ وادی نلتر میں ہم کسی ہوٹل کے کمرے میں رکنے کی بجائے وہاں کسی سبز ڈھلوان پر خیمہ لگائیں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ کہیں سے ایک خاکی خیمہ بھی لے آئے۔ میں نے اور قیصر نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور ہم سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر اکرم اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اساتذہ ہیں اور میں اُس وقت شفا اسپتال میں ملازم تھا۔ ہم سِلک روٹ ٹرانسپورٹ کی بس میں 18 گھنٹے کا سفر کرکے اسلام آباد سے گلگت پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150557ec9f95e.jpg?r=150628'  alt='  ہماری جیب شاہراہِ قراقرم چھوڑ کر بائیں جانب کچی سڑک پر اتر گئی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہماری جیب شاہراہِ قراقرم چھوڑ کر بائیں جانب کچی سڑک پر اتر گئی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے دن صبح سویرے ایک جیپ ہمیں وادی نلتر لے جانے کے لیے تیار تھی۔ ہمیں لے کر جیپ گلگت سے باہر نکلی اور شاہراہِ قراقرم پر آگئی۔ دریائے گلگت کو عبور کرکے ہم دینیور سے گزرے اور دریائے ہنزہ کے کنارے کنارے آگے آئے اور یہاں نومل میں جیپ شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر بائیں ہاتھ ایک کچی سڑک پر اتر گئی۔ نیچے دریا تک پہنچ کر اسے ایک آہنی رسوں سے معلق پل سے عبور کیا اور دوسرے کنارے پر پہنچ کر ایک پہاڑی نالے کے ساتھ ساتھ بلندی کو جاتی ہوئی کچی سڑک پر چڑھنا شروع کردیا۔ یہ نالہ وادی نلتر ہی سے بہہ کر آتا ہے اور یہاں دریائے ہنزہ میں شامل ہوتا ہے۔ نالے کے ساتھ ساتھ بلندیوں کی طرف چڑھتا یہ ایک کچا اور تنگ راستہ تھا جس پر کہیں دور ہماری منزل ہمارا انتظار کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/211504531869e9f.jpg?r=160133'  alt='   نلتر جھیل کا دلکش منظر&amp;mdash;تصویر: ٹوئٹر   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نلتر جھیل کا دلکش منظر—تصویر: ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھنٹہ بھر تو یہ راستہ ویران رہا، پھر ایک پہاڑی گاؤں کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ ڈھلوانوں پر سیڑھی نما سرسبز کھیت، کچے پکے مکان، راستے کے دونوں اطراف جا بہ جا سرخ خوبانیوں سے لدے پھندے درخت جن کی شاخیں سڑک پر اس قدر جھکی ہوئی تھیں کہ کھلی جیپ میں سے لپک کر خوبانیاں توڑی جاسکتی تھیں۔ اکرم نے لپک جھپک کر کئی خوبانیاں توڑیں اور قیصر اور میں مزے لے لے کر کھاتے رہے۔ پھر نلتر آگیا اور ایک عارضی سے ہوٹل کے سامنے جیپ رک گئی۔ سامنے سڑک پر لکڑی کے بڑے بڑے شہتیروں سے ایک گیٹ بنایا گیا تھا جس پر ’ویلکم ٹونلتر‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ ہوٹل صرف کھانا چائے وغیرہ کے لیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115054971f0d95.jpg?r=150628'  alt='  ان دنوں نلتر میں ہوٹل نہیں تھا بلکہ صرف ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس تھا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ان دنوں نلتر میں ہوٹل نہیں تھا بلکہ صرف ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دنوں نلتر میں رہائشی ہوٹل کوئی بھی نہیں تھا، بس ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس تھا جس کی بکنگ گلگت سے ہی کروانا پڑتی تھی لیکن ہمیں تو کوئی پروا نہیں تھی کیونکہ ہمارے پاس ایک عدد خیمہ تھا۔ جیپ کچھ اور آگے چلی اور نالا عبور کرکے دوسری طرف ایک دل فریب لینڈ اسکیپ میں داخل ہوگئی۔ یہاں پہاڑ کے دامن میں ایک گھنا جنگل تھا جس کے سامنے ایک وسیع سرسبز میدان تھا اور اس میدان کے ایک طرف ریسٹ ہاؤس کی عمارت نظر آرہی تھی۔ سرسبز گھاس کے اس وسیع میدان کے بیچوں بیچ ایک گول فرش تھا جس پر بڑا سا ’H‘ کا حرف پینٹ کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ہیلی پیڈ تھا جہاں برف میں اسکی اِنگ کے شائقین وزرا و سفرا کے ہیلی کاپٹر اترتے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/211505041b435d6.jpg?r=160133'  alt='  نلتر جھیل قدرت کا حسین نظارہ پیش کرتی ہے&amp;mdash;تصویر: ویکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نلتر جھیل قدرت کا حسین نظارہ پیش کرتی ہے—تصویر: ویکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبز میدان کے کنارے کنارے ایک شفاف پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا۔ ہم نے اسی چشمے کے کنارے خیمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیپ کے ڈرائیور اور ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے بھی ہماری مدد کی اور ہمارا مختصر سا خاکی خیمہ ایستادہ ہوکر ڈھلتے سورج کی پیلی روشنی میں چمکنے لگا۔ ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے مناسب معاوضے پر چکن کڑاہی اور روٹیاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ ڈرائیور رخصت ہوگیا۔ اب ہم تھے اور ہماری پہلی کیمپنگ کے سنسنی خیز جذبات۔ ہم خواہ مخواہ بار بار خیمے کے اندر جاتے اور باہر آتے۔ مغرب کی نماز پڑھ کے خیمے میں گھسے ہی ہوں گے کہ کھانا آگیا۔ بھوک شدید اور سماں سہانا، بس کھانے کا مزا ہی آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150423e875fcc.jpg?r=150628'  alt='  یہ ہماری پہلی کیمپنگ تھی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ ہماری پہلی کیمپنگ تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کھانا کھا کر باہر نکلے تو سماں دیکھ کر چونک گئے۔ آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ سب کچھ گھپ اندھیرے میں گم تھا، بس دور ایک زرد روشن نقطہ نظر آتا تھا جو ریسٹ ہاؤس کے دروازے کا بلب تھا۔ جنگل کی طرف سے سائیں سائیں کی آوازیں آ رہی تھیں اور نیچے گہرائی سے نلتر نالے کا شور بھی کانوں تک پہنچ رہا تھا۔ ایک نامعلوم سی گھبراہٹ نے ہمیں فوراً واپس خیمے میں جانے پر مجبور کردیا۔ اندر ایمرجنسی لائٹ کی روشنی بہرحال کچھ رونق تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیمے کا نچلا حصہ پیراشوٹ کلاتھ سے بنے ہوئے فرش پر مشتمل تھا جس پر ہم نے اپنے سلیپنگ بیگ بچھا رکھے تھے اور اپنے تھیلے بطور تکیہ پیچھے جمائے ہوئے تھے۔ بلند پہاڑوں کی ایک پوشیدہ وادی میں سنسان جنگل کے کنارے ایک خیمے میں موجودگی کی سنسنی کا مزہ لیتے ہوئے ہم اپنے اپنے سلیپنگ بیگ میں زور زور سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکا ہوا۔ اگلے ہی لمحے ایک خیرہ کن چمک نے خیمے کی دیواروں کویکبارگی روشن کردیا۔ ہم اچھل پڑے۔ بادلوں نے گرجنا چمکنا شروع کردیا تھا اور بارش کسی بھی لمحے متوقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یار یہ خیمہ واٹر پروف ہے نا؟‘ میں نے تشویش سے پوچھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115043259db0c3.jpg?r=150628'  alt='  آندھی آئی تو ہمیں فکر لاحق ہوئی کہ خیمہ واٹر پروف ہے یا نہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آندھی آئی تو ہمیں فکر لاحق ہوئی کہ خیمہ واٹر پروف ہے یا نہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہاں ہے تو!‘ اکرم نے یقین اور بے یقینی کے ملے جلے لہجے میں کہا اور خیمے کی اندرونی سطح پرہاتھ پھیرنے لگا۔ ہماری لاپروا  گپ شپ کی شگفتگی میں کچھ کمی سی آگئی۔ اچانک ٹپاٹپ کی تیز آواز نے ماحول کو گرفت میں لے لیا اور پھر گرج، چمک اور چنگھاڑتی ہوا کے شور نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے۔ اچانک لائٹ کی بیٹری نے بھی کام چھوڑ دیا اور ہم گھپ اندھیرے میں گم ہو کر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وقت طوفانی ہوا کا ایک ایسا زور دار جھکڑ آیا کہ یوں لگا جیسے خیمہ ہم تینوں کو ساتھ لیتا ہوا نلتر نالے کی گہرائیوں میں جا پڑے گا۔ ہم نے گھبرا کر خیمے کے کناروں پر پیر جمادیے کہ کہیں خیمے کی میخیں ہی نہ اکھڑ جائیں۔ میں نے خیمے کی زپ ذرا سی کھول کر باہر دیکھا تو اندھیرے کی ایک مہیب دیوار آنکھوں کے آگے کھڑی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کا زرد بلب بھی بجلی بند ہونے سے گم گشتہ ہوچکا تھا اور اب باہر تیز ہوا اور موسلادھار بارش کے سوا کچھ نہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150538a48e0eb.jpg?r=160133'  alt='  وادی نلتر میں ہماری کیمپنگ سائٹ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی نلتر میں ہماری کیمپنگ سائٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچانک بجلی کا ایک کوندا لپکا۔ میدان، ہیلی پیڈ اور ریسٹ ہاؤس کی عمارت اس جھماکے میں یکبارگی نمودار ہوئی اور آنکھوں پر نیگیٹیو فوٹو جیسا عکس چھوڑ کر پھر اندھیرے میں گم ہوگئے۔ میں نے جلدی سے منہ اندر کرکے زپ چڑھا دی۔ اکرم اور قیصر اب بالکل چپ تھے۔ اندھیرے کے باوجود ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں دیکھ سکتے تھے۔ ہوا کا ایک اور زوردار جھکڑ آیا اور خیمے کا چوتھا کونا، فٹ بھر زمین سے اوپر اٹھ کر دوبارہ نیچے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یا اللہ خیر۔۔۔‘ قیصر گھبرا کر بولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم تینوں نے اس طرح پوزیشنز سنبھالنے کی کوشش کی کہ خیمے کے چاروں کونے زمین سے لگ جائیں اور ہوا انہیں دوبارہ زمین سے اوپر نہ اٹھاسکے کیونکہ اگر خیمہ اکھڑ جاتا تو پھر یہ طوفانی رات ہمیں نازک کھلونوں کی طرح توڑ مروڑ کر رکھ دیتی۔ کچھ ہی دیر میں خیمہ ٹپکنے لگا۔ بارش کے ٹھنڈے قطرے خیمے کی اندرونی سطح پر تیرتے ہوئے وقفے وقفے سے ہمارے چہروں پر گرنے لگے۔ یہ ایک نئی مصیبت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21153527052f1f0.jpg'  alt='  اس آندھی میں ہمیں فکر تھی کہ خیمہ نہ اکھڑ جائے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اس آندھی میں ہمیں فکر تھی کہ خیمہ نہ اکھڑ جائے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے تھیلوں میں ٹٹول ٹٹول کر اپنے اپنے تولیے نکالے اور بار بار خیمے کی اندرونی سطح پر پھیرنے لگے۔ ہوا کا ہر جھکڑ ہمیں خیمے سمیت اچھال دینا چاہتا تھا اور ہم مضبوطی سے زمین سے چپکے ہوئے تھے۔ خدانخواستہ خیمہ گر جانے کی صورت میں بھی ہم نے اسی طرح زمین سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹھے بیٹھے صدیاں گزر گئیں۔ میں نے وقت دیکھنے کے لیے بیگ میں سے موبائل فون نکال کر آن کیا تو خیمے میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل گئی۔ اکرم اور قیصر کے دھندلے نظر آنے والے چہرے پریشان تھے۔ ان کو دیکھ کرمجھے اپنے چہرے پر عیاں دہشت کا بھی اندازہ ہورہا تھا۔ اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا۔ ابھی نصف شب بھی نہیں گزری تھی مگر ہمیں یوں لگ رہا تھا جیسے ہم کئی دنوں سے اس خیمے میں بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150534b37032e.jpg?r=160133'  alt='  نلتر ویلی کا پُرکشش منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نلتر ویلی کا پُرکشش منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات آہستہ آہستہ رینگتی رہی۔ خدا جانے کس وقت بارش بند ہوئی اور ہوا کا زور ٹوٹا۔ ہم بیٹھے بیٹھے نیند کی وادیوں میں جاچکے تھے۔ پرندوں کی آواز نے سماعت پر دستک دی تو میں چونکا اور خیمے سے باہر نکل آیا۔ سورج طلوع ہورہا تھا اور ایک دُھلی ہوئی، نکھری نکھری شفاف وادی ہمارے سامنے پھیلی ہوئی تھی۔ رات بھر گرجنے، چمکنے اور برسنے والے بادل دور ایک برف پوش چوٹی کی طرف سمٹ رہے تھے۔ اکرم اور قیصر بھی باہر نکل آئے۔ ہم اپنے نازک مگر پامردی سے ایستادہ خیمے کو الوداعی نظروں دیکھا۔ بے چارہ ننھا سا خیمہ۔ اب اس کے نصیب میں کم از کم ہمارے ہاتھوں دوبارہ ایستادہ ہونا نہیں لکھا تھا۔ ہم نے توبہ کر لی تھی کہ آئندہ کبھی پہاڑی علاقوں میں کیمپنگ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ تو میں نے کئی سال بعد کا قصہ بیان کردیا۔ اس وقت تو ہماری گاڑی نومل سے آگے چھلت اور وادی نگر کی طرف دوڑی جا رہی تھی۔ چھلت سے وادی نگر کی حدود شروع ہوتی ہیں جو شاہراہ قراقرم پر 105 کلومیٹر آگے پسن کے قصبے پر ختم ہوتی ہیں جہاں دریائے ہنزہ کو عبور کرکے مسافر دوسرے کنارے پر وادی ہنزہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150436a1bdc25.jpg?r=150628'  alt='  وادی نگر کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم&amp;mdash;تصویر: ویکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی نگر کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم—تصویر: ویکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگر قراقرم کی ایک قدیم ریاست ہے۔ دنیا کی مشہور اور خوبصورت چوٹی راکاپوشی بھی ریاست نگر کی حدود میں آتی ہے لیکن ہنزہ والوں کی خوش قسمتی ہے کہ اس چوٹی کا واضح اور خوبصورت منظر دریا پارہنزہ کریم آباد سے نظر آتا ہے، اس لیے راکاپوشی کو دیکھنے والے نگر میں رکنے کی بجائے سیدھے ہنزہ کریم آباد جاتے ہیں۔ ہماری وین بھی ہمیں اپنی آرام دہ نشستوں کی نرم آغوش میں سمیٹے فراٹے بھرتی ہنزہ کی جانب محو سفر تھی۔ سڑک پر تیزی سے بہتے ہوئے کسی جھرنے کا پانی اچانک ٹائروں کے نیچے آیا۔ ایک زوردار بوچھاڑ کی آواز پیدا ہوئی اور پانی کے لاکھوں قطرے فضا میں ابھر کر دوبارہ نیچے گرگئے۔ انجن کی یکساں آواز یکبارگی بدلی، مگر اگلے ہی لمحے میں پھر اسی یکساں زوں زوں میں بدل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150447982ec9c.jpg?r=150628'  alt='   نگر قراقرم کی ایک قدیم ریاست ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نگر قراقرم کی ایک قدیم ریاست ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک کے دائیں طرف پہاڑ تھے اور بائیں طرف ایک میلوں وسیع میدان پر  دریا، دوسرے کنارے والے پہاڑوں تک چلا گیا تھا اور دریائے ہنزہ کا پانی دور اس وسیع میدان کے بیچ ایک چھوٹے برساتی نالے کی طرف بہتا نظر آتا تھا۔ شاہراہِ قراقرام اس میدانی پاٹ کے دائیں کنارے پر ایک کالی پٹی کی طرح میلوں دور تک چلی جارہی تھی۔ دریا کے پاٹ میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے سبز ٹکڑے بھی نظر آتے تھے مگر ان اکا دکا سبز نقطوں کے علاوہ ہرطرف ریت ہی ریت تھی۔ پہاڑوں پر بھی سبزہ نہیں تھا اور وہ لوہے کی زنگ آلود سطح کی مانند بھورے ہورہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس یک رنگی و بدرنگی سے دل اوبنے لگا تو رحیم آباد آگیا جہاں سفر میں وقفہ تھا۔ گاڑی رک گئی اور مسافر باہر نکل آئے۔ سڑک کے دائیں طرف چند دکانیں اور چائے خانے تھے جن کے درمیان میں ایک جگہ پر سیب کے درختوں کا جھنڈ تھا۔ فضا میں پانی بہنے کا ہلکا ہلکا شور بھی شامل تھا۔ سیبوں کے جھنڈ میں یہ شور بڑھ گیا تھا کیونکہ یہاں ایک پہاڑی چشمے کا پانی پرنالے کی صورت میں گرتا اور شور مچاتا نیچے جا رہا تھا۔ سیبوں اور انگوروں کی میٹھی میٹھی خوشبو اس سبز چھاؤں والے ماحول کی تاثیر میں اضافہ کررہی تھیں۔ سیبوں کی چھاؤں میں آباد اس ہوٹل کی روٹیاں بڑی بڑی اور خوشبودار تھیں۔ لوبیہ کا سالن چٹ پٹا اور مزیدار تھا اور سبز چائے کی تو کیا ہی بات تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150440a3d7664.jpg?r=150628'  alt='  نگر ویلی کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نگر ویلی کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رحیم آباد سے چلے تو دریا کا پاٹ سمٹنے لگا اور دوسری طرف کے پہاڑ قریب آگئے۔ ان پہاڑوں کے دامن میں ہرے بھرے کھیت تھے۔ کھیتوں میں گھرے چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے جن کو شاہراہِ قراقرم سے ملانے کے لیے لکڑی کے قدیم معلق پل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہراہِ قراقرام کی تعمیر سے پہلے گلگت اور ہنزہ کا رابطہ بس ایک پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے ہوا کرتا تھا جس پر مسافر خچروں اور گھوڑوں پرسوار ہفتوں بھٹکنے کے بعد کہیں جاکر منزل پر پہنچ پاتے تھے یا پھر کسی جگہ گھوڑے کا پاؤں رپٹ جاتا تھا تو وہ ہزاروں فٹ گہری کھائی میں گر کر اپنی آخری منزل پہنچ جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115060861f79df.jpg?r=160140'  alt='  شاہراہِ قراقرام کی تعمیر سے پہلے گلگت اور ہنزہ کا رابطہ بس ایک پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے ہوا کرتا تھا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہراہِ قراقرام کی تعمیر سے پہلے گلگت اور ہنزہ کا رابطہ بس ایک پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے ہوا کرتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پگڈنڈی کو ’ہنزہ روڈ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ وہ راستہ شاہراہِ قراقرام کی بائیں طرف دریا کے پار والے پہاڑوں سے ہزاروں فٹ بلندی پر کسی منحنی لکیر کی مانند چمٹا ہوا نظر آتا تھا۔ ہنزہ روڈ کے ان شکستہ آثار سے اس کی ہیبت کا بھرپوراندازہ ہوتا تھا۔ اس ہیبت ناک راستے کو گاڑی کی کھڑکی میں سے سر کو عموداً اوپراٹھا کر ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پر پڑنے والی پہلی ہی نظر دیکھنے والوں پر لرزہ طاری کردیتی ہے اور اسے شاہراہِ قراقرم فوراً ہی ایک نعمت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہفتوں کا جان لیوا سفر شاہراہِ قراقرم کی تعمیر سے اب چند گھنٹوں کی راحت افزا مسافت میں بدل گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ہیڈر: وکی پیڈیا&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>شام گئے دینیور سے گلگت واپسی ہوئی۔ گلگت کی سیر تقریباً پوری ہوئی۔ اب صبح ہمیں ہنزہ کے لیے نکلنا تھا اس لیے ہم ایک ریسٹورنٹ سے جلدی کھانا کھا کر اپنے ہوٹل واپس پہنچے اور سو گئے۔ اگلے دن صبح سویرے گلگت کے ویگن اڈے پہنچے اور ہنزہ جانے والی وین میں سوار ہوگئے۔ ہنزہ جانے کے لیے ہمیں آج دوبارہ شاہراہ قراقرم پر دینیور سے گزرنا تھا لیکن آج دینیور کے لیے ہمیں سرنگ والے پل کے راستے نہیں جانا تھا۔</p>
<p>ہمیں گلگت شہر سے پنڈی کی طرف جانے والے راستے پر اُس پل تک جا کر شاہراہ قراقرم پر چڑھنا تھا جو دریائے گلگت کو عبور کرکے دینیور کی طرف جاتی ہے۔ اس پل سے کچھ پہلے دریائے ہنزہ اور دریائے گلگت آپس میں مل چکے ہوتے ہیں اور ان دونوں دریاؤں کا مشترک پانی یہاں پل کے نیچے سے گزرتا ہے۔ گلگت شہر سے باہر آنے والی یہ سڑک اس پل سے ذرا پہلے پنڈی سے آنے والی شاہراہ قراقرم سے مل جاتی ہے اور پل عبور کرکے تھوڑا ہی آگے بڑھیں تو پہلے دائیں ہاتھ پر چینی شہدا کی یادگار آتی ہے اور پھر دینیور شروع ہوجاتا ہے۔ ہماری گاڑی مسافروں سے بھری ہوئی تھی اس لیے دینیور میں رکے بغیر آگے نکلتی چلی گئی اور دریائے ہنزہ کے کنارے کنارے بلندیوں کی طرف دوڑنے لگی۔</p>
<p>تھوڑی دیر میں ہم نومل کے قصبے تک پہنچ گئے۔ نومل میں شاہراہ قراقرم سے بائیں ہاتھ کو ایک سڑک نیچے دریائے ہنزہ کی طرف اترتی ہے جو گہرائی میں دریا تک جا کر اسے ایک پل سے عبور کرکے دوسری طرف کے بلند و بالا پہاڑوں میں چھپی حسین وادی ’نلتر‘ کی طرف چلی جاتی ہے۔ وادی نلتر جو گرمیوں میں سیاحوں کے لیے سرسبز و دل فریب ہوتی ہے اور سردیوں میں اس کی برف پوش ڈھلوانیں اسکی اِنگ کے لیے دلکش ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150407f6a7e2a.jpg?r=150419'  alt='  ہنزہ جانے کے لیے ہم گلگت سے بس میں سوار ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہنزہ جانے کے لیے ہم گلگت سے بس میں سوار ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس وقت تو ہماری گاڑی نومل میں رکے بغیر سیدھی ہنزہ کی طرف دوڑتی چلی گئی لیکن اس کے 16 سال بعد 2002ء میں مجھے وادی نلتر جانے کا بھی موقع ملا۔ اس وقت میں اسلام آباد سے اپنے دوستوں ڈاکٹر قیصر اور ڈاکٹر اکرم کے ساتھ آیا تھا اور ہماری جیپ یہاں نومل میں شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر نیچے دریائے ہنزہ کی طرف اتر گئی تھی۔</p>
<p>گلگت شہر دو دریاؤں یعنی دریائے گلگت اور دریائے ہنزہ کے مقام اتصال پر آباد ہے۔ دریائے گلگت شندور اور وادی یاسین کی طرف سے بہتا ہوا آتا ہے جبکہ دریائے ہنزہ خنجر اب اور ہنزہ کی طرف سے آتا ہے۔ یہ دونوں دریا گلگت شہر کے قریب باہم مدغم ہوکر مزید آگے بڑھتے ہیں اورتقریباً 30 کلومیٹر آگے جا کر جگلوٹ کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ وادی نلتر انہی دونوں دریاؤں یعنی دریائے گلگت اور دریائے ہنزہ کے درمیان والے پہاڑوں میں ایک سر سبز و شاداب وادی ہے جو اپنی بلند و بالا ست رنگی جھیل اور اپنے ’اسکی اِنگ ریزورٹ‘ کی وجہ سے مشہور ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115054479a7770.jpg?r=160133'  alt='  نلتر ویلی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نلتر ویلی</figcaption>
    </figure></p>
<p>وہ 2002ء کا جون تھا جب طے پایا کہ اس دفعہ ہم وادی نلتر جائیں گے۔ ڈاکٹر اکرم نے تجویز دی تھی کہ وادی نلتر میں ہم کسی ہوٹل کے کمرے میں رکنے کی بجائے وہاں کسی سبز ڈھلوان پر خیمہ لگائیں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ کہیں سے ایک خاکی خیمہ بھی لے آئے۔ میں نے اور قیصر نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور ہم سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر اکرم اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اساتذہ ہیں اور میں اُس وقت شفا اسپتال میں ملازم تھا۔ ہم سِلک روٹ ٹرانسپورٹ کی بس میں 18 گھنٹے کا سفر کرکے اسلام آباد سے گلگت پہنچ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150557ec9f95e.jpg?r=150628'  alt='  ہماری جیب شاہراہِ قراقرم چھوڑ کر بائیں جانب کچی سڑک پر اتر گئی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہماری جیب شاہراہِ قراقرم چھوڑ کر بائیں جانب کچی سڑک پر اتر گئی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگلے دن صبح سویرے ایک جیپ ہمیں وادی نلتر لے جانے کے لیے تیار تھی۔ ہمیں لے کر جیپ گلگت سے باہر نکلی اور شاہراہِ قراقرم پر آگئی۔ دریائے گلگت کو عبور کرکے ہم دینیور سے گزرے اور دریائے ہنزہ کے کنارے کنارے آگے آئے اور یہاں نومل میں جیپ شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر بائیں ہاتھ ایک کچی سڑک پر اتر گئی۔ نیچے دریا تک پہنچ کر اسے ایک آہنی رسوں سے معلق پل سے عبور کیا اور دوسرے کنارے پر پہنچ کر ایک پہاڑی نالے کے ساتھ ساتھ بلندی کو جاتی ہوئی کچی سڑک پر چڑھنا شروع کردیا۔ یہ نالہ وادی نلتر ہی سے بہہ کر آتا ہے اور یہاں دریائے ہنزہ میں شامل ہوتا ہے۔ نالے کے ساتھ ساتھ بلندیوں کی طرف چڑھتا یہ ایک کچا اور تنگ راستہ تھا جس پر کہیں دور ہماری منزل ہمارا انتظار کر رہی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/211504531869e9f.jpg?r=160133'  alt='   نلتر جھیل کا دلکش منظر&mdash;تصویر: ٹوئٹر   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نلتر جھیل کا دلکش منظر—تصویر: ٹوئٹر</figcaption>
    </figure></p>
<p>گھنٹہ بھر تو یہ راستہ ویران رہا، پھر ایک پہاڑی گاؤں کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ ڈھلوانوں پر سیڑھی نما سرسبز کھیت، کچے پکے مکان، راستے کے دونوں اطراف جا بہ جا سرخ خوبانیوں سے لدے پھندے درخت جن کی شاخیں سڑک پر اس قدر جھکی ہوئی تھیں کہ کھلی جیپ میں سے لپک کر خوبانیاں توڑی جاسکتی تھیں۔ اکرم نے لپک جھپک کر کئی خوبانیاں توڑیں اور قیصر اور میں مزے لے لے کر کھاتے رہے۔ پھر نلتر آگیا اور ایک عارضی سے ہوٹل کے سامنے جیپ رک گئی۔ سامنے سڑک پر لکڑی کے بڑے بڑے شہتیروں سے ایک گیٹ بنایا گیا تھا جس پر ’ویلکم ٹونلتر‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ ہوٹل صرف کھانا چائے وغیرہ کے لیے تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115054971f0d95.jpg?r=150628'  alt='  ان دنوں نلتر میں ہوٹل نہیں تھا بلکہ صرف ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس تھا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ان دنوں نلتر میں ہوٹل نہیں تھا بلکہ صرف ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان دنوں نلتر میں رہائشی ہوٹل کوئی بھی نہیں تھا، بس ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس تھا جس کی بکنگ گلگت سے ہی کروانا پڑتی تھی لیکن ہمیں تو کوئی پروا نہیں تھی کیونکہ ہمارے پاس ایک عدد خیمہ تھا۔ جیپ کچھ اور آگے چلی اور نالا عبور کرکے دوسری طرف ایک دل فریب لینڈ اسکیپ میں داخل ہوگئی۔ یہاں پہاڑ کے دامن میں ایک گھنا جنگل تھا جس کے سامنے ایک وسیع سرسبز میدان تھا اور اس میدان کے ایک طرف ریسٹ ہاؤس کی عمارت نظر آرہی تھی۔ سرسبز گھاس کے اس وسیع میدان کے بیچوں بیچ ایک گول فرش تھا جس پر بڑا سا ’H‘ کا حرف پینٹ کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ہیلی پیڈ تھا جہاں برف میں اسکی اِنگ کے شائقین وزرا و سفرا کے ہیلی کاپٹر اترتے ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/211505041b435d6.jpg?r=160133'  alt='  نلتر جھیل قدرت کا حسین نظارہ پیش کرتی ہے&mdash;تصویر: ویکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نلتر جھیل قدرت کا حسین نظارہ پیش کرتی ہے—تصویر: ویکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>سبز میدان کے کنارے کنارے ایک شفاف پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا۔ ہم نے اسی چشمے کے کنارے خیمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیپ کے ڈرائیور اور ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے بھی ہماری مدد کی اور ہمارا مختصر سا خاکی خیمہ ایستادہ ہوکر ڈھلتے سورج کی پیلی روشنی میں چمکنے لگا۔ ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے مناسب معاوضے پر چکن کڑاہی اور روٹیاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ ڈرائیور رخصت ہوگیا۔ اب ہم تھے اور ہماری پہلی کیمپنگ کے سنسنی خیز جذبات۔ ہم خواہ مخواہ بار بار خیمے کے اندر جاتے اور باہر آتے۔ مغرب کی نماز پڑھ کے خیمے میں گھسے ہی ہوں گے کہ کھانا آگیا۔ بھوک شدید اور سماں سہانا، بس کھانے کا مزا ہی آگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150423e875fcc.jpg?r=150628'  alt='  یہ ہماری پہلی کیمپنگ تھی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ ہماری پہلی کیمپنگ تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>لیکن کھانا کھا کر باہر نکلے تو سماں دیکھ کر چونک گئے۔ آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ سب کچھ گھپ اندھیرے میں گم تھا، بس دور ایک زرد روشن نقطہ نظر آتا تھا جو ریسٹ ہاؤس کے دروازے کا بلب تھا۔ جنگل کی طرف سے سائیں سائیں کی آوازیں آ رہی تھیں اور نیچے گہرائی سے نلتر نالے کا شور بھی کانوں تک پہنچ رہا تھا۔ ایک نامعلوم سی گھبراہٹ نے ہمیں فوراً واپس خیمے میں جانے پر مجبور کردیا۔ اندر ایمرجنسی لائٹ کی روشنی بہرحال کچھ رونق تھی۔</p>
<p>خیمے کا نچلا حصہ پیراشوٹ کلاتھ سے بنے ہوئے فرش پر مشتمل تھا جس پر ہم نے اپنے سلیپنگ بیگ بچھا رکھے تھے اور اپنے تھیلے بطور تکیہ پیچھے جمائے ہوئے تھے۔ بلند پہاڑوں کی ایک پوشیدہ وادی میں سنسان جنگل کے کنارے ایک خیمے میں موجودگی کی سنسنی کا مزہ لیتے ہوئے ہم اپنے اپنے سلیپنگ بیگ میں زور زور سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکا ہوا۔ اگلے ہی لمحے ایک خیرہ کن چمک نے خیمے کی دیواروں کویکبارگی روشن کردیا۔ ہم اچھل پڑے۔ بادلوں نے گرجنا چمکنا شروع کردیا تھا اور بارش کسی بھی لمحے متوقع تھی۔</p>
<p>’یار یہ خیمہ واٹر پروف ہے نا؟‘ میں نے تشویش سے پوچھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115043259db0c3.jpg?r=150628'  alt='  آندھی آئی تو ہمیں فکر لاحق ہوئی کہ خیمہ واٹر پروف ہے یا نہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آندھی آئی تو ہمیں فکر لاحق ہوئی کہ خیمہ واٹر پروف ہے یا نہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>’ہاں ہے تو!‘ اکرم نے یقین اور بے یقینی کے ملے جلے لہجے میں کہا اور خیمے کی اندرونی سطح پرہاتھ پھیرنے لگا۔ ہماری لاپروا  گپ شپ کی شگفتگی میں کچھ کمی سی آگئی۔ اچانک ٹپاٹپ کی تیز آواز نے ماحول کو گرفت میں لے لیا اور پھر گرج، چمک اور چنگھاڑتی ہوا کے شور نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے۔ اچانک لائٹ کی بیٹری نے بھی کام چھوڑ دیا اور ہم گھپ اندھیرے میں گم ہو کر رہ گئے۔</p>
<p>اسی وقت طوفانی ہوا کا ایک ایسا زور دار جھکڑ آیا کہ یوں لگا جیسے خیمہ ہم تینوں کو ساتھ لیتا ہوا نلتر نالے کی گہرائیوں میں جا پڑے گا۔ ہم نے گھبرا کر خیمے کے کناروں پر پیر جمادیے کہ کہیں خیمے کی میخیں ہی نہ اکھڑ جائیں۔ میں نے خیمے کی زپ ذرا سی کھول کر باہر دیکھا تو اندھیرے کی ایک مہیب دیوار آنکھوں کے آگے کھڑی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کا زرد بلب بھی بجلی بند ہونے سے گم گشتہ ہوچکا تھا اور اب باہر تیز ہوا اور موسلادھار بارش کے سوا کچھ نہ تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150538a48e0eb.jpg?r=160133'  alt='  وادی نلتر میں ہماری کیمپنگ سائٹ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی نلتر میں ہماری کیمپنگ سائٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>اچانک بجلی کا ایک کوندا لپکا۔ میدان، ہیلی پیڈ اور ریسٹ ہاؤس کی عمارت اس جھماکے میں یکبارگی نمودار ہوئی اور آنکھوں پر نیگیٹیو فوٹو جیسا عکس چھوڑ کر پھر اندھیرے میں گم ہوگئے۔ میں نے جلدی سے منہ اندر کرکے زپ چڑھا دی۔ اکرم اور قیصر اب بالکل چپ تھے۔ اندھیرے کے باوجود ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں دیکھ سکتے تھے۔ ہوا کا ایک اور زوردار جھکڑ آیا اور خیمے کا چوتھا کونا، فٹ بھر زمین سے اوپر اٹھ کر دوبارہ نیچے آیا۔</p>
<p>’یا اللہ خیر۔۔۔‘ قیصر گھبرا کر بولا۔</p>
<p>اب ہم تینوں نے اس طرح پوزیشنز سنبھالنے کی کوشش کی کہ خیمے کے چاروں کونے زمین سے لگ جائیں اور ہوا انہیں دوبارہ زمین سے اوپر نہ اٹھاسکے کیونکہ اگر خیمہ اکھڑ جاتا تو پھر یہ طوفانی رات ہمیں نازک کھلونوں کی طرح توڑ مروڑ کر رکھ دیتی۔ کچھ ہی دیر میں خیمہ ٹپکنے لگا۔ بارش کے ٹھنڈے قطرے خیمے کی اندرونی سطح پر تیرتے ہوئے وقفے وقفے سے ہمارے چہروں پر گرنے لگے۔ یہ ایک نئی مصیبت تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21153527052f1f0.jpg'  alt='  اس آندھی میں ہمیں فکر تھی کہ خیمہ نہ اکھڑ جائے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اس آندھی میں ہمیں فکر تھی کہ خیمہ نہ اکھڑ جائے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم نے تھیلوں میں ٹٹول ٹٹول کر اپنے اپنے تولیے نکالے اور بار بار خیمے کی اندرونی سطح پر پھیرنے لگے۔ ہوا کا ہر جھکڑ ہمیں خیمے سمیت اچھال دینا چاہتا تھا اور ہم مضبوطی سے زمین سے چپکے ہوئے تھے۔ خدانخواستہ خیمہ گر جانے کی صورت میں بھی ہم نے اسی طرح زمین سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>بیٹھے بیٹھے صدیاں گزر گئیں۔ میں نے وقت دیکھنے کے لیے بیگ میں سے موبائل فون نکال کر آن کیا تو خیمے میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل گئی۔ اکرم اور قیصر کے دھندلے نظر آنے والے چہرے پریشان تھے۔ ان کو دیکھ کرمجھے اپنے چہرے پر عیاں دہشت کا بھی اندازہ ہورہا تھا۔ اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا۔ ابھی نصف شب بھی نہیں گزری تھی مگر ہمیں یوں لگ رہا تھا جیسے ہم کئی دنوں سے اس خیمے میں بند ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150534b37032e.jpg?r=160133'  alt='  نلتر ویلی کا پُرکشش منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نلتر ویلی کا پُرکشش منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>رات آہستہ آہستہ رینگتی رہی۔ خدا جانے کس وقت بارش بند ہوئی اور ہوا کا زور ٹوٹا۔ ہم بیٹھے بیٹھے نیند کی وادیوں میں جاچکے تھے۔ پرندوں کی آواز نے سماعت پر دستک دی تو میں چونکا اور خیمے سے باہر نکل آیا۔ سورج طلوع ہورہا تھا اور ایک دُھلی ہوئی، نکھری نکھری شفاف وادی ہمارے سامنے پھیلی ہوئی تھی۔ رات بھر گرجنے، چمکنے اور برسنے والے بادل دور ایک برف پوش چوٹی کی طرف سمٹ رہے تھے۔ اکرم اور قیصر بھی باہر نکل آئے۔ ہم اپنے نازک مگر پامردی سے ایستادہ خیمے کو الوداعی نظروں دیکھا۔ بے چارہ ننھا سا خیمہ۔ اب اس کے نصیب میں کم از کم ہمارے ہاتھوں دوبارہ ایستادہ ہونا نہیں لکھا تھا۔ ہم نے توبہ کر لی تھی کہ آئندہ کبھی پہاڑی علاقوں میں کیمپنگ نہیں کریں گے۔</p>
<p>لیکن یہ تو میں نے کئی سال بعد کا قصہ بیان کردیا۔ اس وقت تو ہماری گاڑی نومل سے آگے چھلت اور وادی نگر کی طرف دوڑی جا رہی تھی۔ چھلت سے وادی نگر کی حدود شروع ہوتی ہیں جو شاہراہ قراقرم پر 105 کلومیٹر آگے پسن کے قصبے پر ختم ہوتی ہیں جہاں دریائے ہنزہ کو عبور کرکے مسافر دوسرے کنارے پر وادی ہنزہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150436a1bdc25.jpg?r=150628'  alt='  وادی نگر کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم&mdash;تصویر: ویکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی نگر کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم—تصویر: ویکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>نگر قراقرم کی ایک قدیم ریاست ہے۔ دنیا کی مشہور اور خوبصورت چوٹی راکاپوشی بھی ریاست نگر کی حدود میں آتی ہے لیکن ہنزہ والوں کی خوش قسمتی ہے کہ اس چوٹی کا واضح اور خوبصورت منظر دریا پارہنزہ کریم آباد سے نظر آتا ہے، اس لیے راکاپوشی کو دیکھنے والے نگر میں رکنے کی بجائے سیدھے ہنزہ کریم آباد جاتے ہیں۔ ہماری وین بھی ہمیں اپنی آرام دہ نشستوں کی نرم آغوش میں سمیٹے فراٹے بھرتی ہنزہ کی جانب محو سفر تھی۔ سڑک پر تیزی سے بہتے ہوئے کسی جھرنے کا پانی اچانک ٹائروں کے نیچے آیا۔ ایک زوردار بوچھاڑ کی آواز پیدا ہوئی اور پانی کے لاکھوں قطرے فضا میں ابھر کر دوبارہ نیچے گرگئے۔ انجن کی یکساں آواز یکبارگی بدلی، مگر اگلے ہی لمحے میں پھر اسی یکساں زوں زوں میں بدل گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150447982ec9c.jpg?r=150628'  alt='   نگر قراقرم کی ایک قدیم ریاست ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نگر قراقرم کی ایک قدیم ریاست ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>سڑک کے دائیں طرف پہاڑ تھے اور بائیں طرف ایک میلوں وسیع میدان پر  دریا، دوسرے کنارے والے پہاڑوں تک چلا گیا تھا اور دریائے ہنزہ کا پانی دور اس وسیع میدان کے بیچ ایک چھوٹے برساتی نالے کی طرف بہتا نظر آتا تھا۔ شاہراہِ قراقرام اس میدانی پاٹ کے دائیں کنارے پر ایک کالی پٹی کی طرح میلوں دور تک چلی جارہی تھی۔ دریا کے پاٹ میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے سبز ٹکڑے بھی نظر آتے تھے مگر ان اکا دکا سبز نقطوں کے علاوہ ہرطرف ریت ہی ریت تھی۔ پہاڑوں پر بھی سبزہ نہیں تھا اور وہ لوہے کی زنگ آلود سطح کی مانند بھورے ہورہے تھے۔</p>
<p>اس یک رنگی و بدرنگی سے دل اوبنے لگا تو رحیم آباد آگیا جہاں سفر میں وقفہ تھا۔ گاڑی رک گئی اور مسافر باہر نکل آئے۔ سڑک کے دائیں طرف چند دکانیں اور چائے خانے تھے جن کے درمیان میں ایک جگہ پر سیب کے درختوں کا جھنڈ تھا۔ فضا میں پانی بہنے کا ہلکا ہلکا شور بھی شامل تھا۔ سیبوں کے جھنڈ میں یہ شور بڑھ گیا تھا کیونکہ یہاں ایک پہاڑی چشمے کا پانی پرنالے کی صورت میں گرتا اور شور مچاتا نیچے جا رہا تھا۔ سیبوں اور انگوروں کی میٹھی میٹھی خوشبو اس سبز چھاؤں والے ماحول کی تاثیر میں اضافہ کررہی تھیں۔ سیبوں کی چھاؤں میں آباد اس ہوٹل کی روٹیاں بڑی بڑی اور خوشبودار تھیں۔ لوبیہ کا سالن چٹ پٹا اور مزیدار تھا اور سبز چائے کی تو کیا ہی بات تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/21150440a3d7664.jpg?r=150628'  alt='  نگر ویلی کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نگر ویلی کی جانب جاتی شاہراہِ قراقرم</figcaption>
    </figure></p>
<p>رحیم آباد سے چلے تو دریا کا پاٹ سمٹنے لگا اور دوسری طرف کے پہاڑ قریب آگئے۔ ان پہاڑوں کے دامن میں ہرے بھرے کھیت تھے۔ کھیتوں میں گھرے چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے جن کو شاہراہِ قراقرم سے ملانے کے لیے لکڑی کے قدیم معلق پل تھے۔</p>
<p>شاہراہِ قراقرام کی تعمیر سے پہلے گلگت اور ہنزہ کا رابطہ بس ایک پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے ہوا کرتا تھا جس پر مسافر خچروں اور گھوڑوں پرسوار ہفتوں بھٹکنے کے بعد کہیں جاکر منزل پر پہنچ پاتے تھے یا پھر کسی جگہ گھوڑے کا پاؤں رپٹ جاتا تھا تو وہ ہزاروں فٹ گہری کھائی میں گر کر اپنی آخری منزل پہنچ جاتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/2115060861f79df.jpg?r=160140'  alt='  شاہراہِ قراقرام کی تعمیر سے پہلے گلگت اور ہنزہ کا رابطہ بس ایک پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے ہوا کرتا تھا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہراہِ قراقرام کی تعمیر سے پہلے گلگت اور ہنزہ کا رابطہ بس ایک پتلی سی پگڈنڈی کے ذریعے ہوا کرتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس پگڈنڈی کو ’ہنزہ روڈ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ وہ راستہ شاہراہِ قراقرام کی بائیں طرف دریا کے پار والے پہاڑوں سے ہزاروں فٹ بلندی پر کسی منحنی لکیر کی مانند چمٹا ہوا نظر آتا تھا۔ ہنزہ روڈ کے ان شکستہ آثار سے اس کی ہیبت کا بھرپوراندازہ ہوتا تھا۔ اس ہیبت ناک راستے کو گاڑی کی کھڑکی میں سے سر کو عموداً اوپراٹھا کر ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پر پڑنے والی پہلی ہی نظر دیکھنے والوں پر لرزہ طاری کردیتی ہے اور اسے شاہراہِ قراقرم فوراً ہی ایک نعمت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہفتوں کا جان لیوا سفر شاہراہِ قراقرم کی تعمیر سے اب چند گھنٹوں کی راحت افزا مسافت میں بدل گیا ہے۔</p>
<hr />
<p>ہیڈر: وکی پیڈیا</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212201</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Oct 2023 13:16:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/21170054b37032e.jpg?r=170101" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/21170054b37032e.jpg?r=170101"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/2312503879d1269.jpg?r=075126" type="image/jpeg" medium="image" height="700" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/2312503879d1269.jpg?r=075126"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفرنامہ ہسپانیہ: ایک رات اشبیلیہ میں۔۔۔ (چھٹی قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211759/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسے کی بقیہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ہمیں غرناطہ کے بس اسٹیشن پر ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا اور اگلی بس کے لیے مزید ایک گھنٹہ انتظار کرنا تھا۔ بس اسٹیشن پر کافی گہما گہمی تھی۔ بڑی تعداد میں سیاح اس تاریخی شہر کو دیکھنے کے لیے آرہے تھے اور بس اسٹیشن پر موجود مختلف ٹور کمپنی کے بوتھ پر موجود ہسپانوی خواتین سیاحوں کو ٹور پیکجز دینے میں مصروف تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے ساتھی عبد اللہ شاہ صاحب حسبِ روایت گھر والوں کے ساتھ فون پر گفتگو کرنے میں مصروف تھے جبکہ افتخار صاحب مجھ سے اگلے سفر کے بارے میں معلومات لے رہے تھے۔ میں نے افتخار صاحب کو تفصیلات بتانا شروع کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہمارا سفر اب اشبیلیہ (Seville) کی طرف ہے۔ اشبیلیہ اندلس حکومت کے صوبائی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ اُس دور میں مسلمانوں کی سلطنت کا دوسرا بڑا شہر تھا۔ یہ شہر قرطبہ مسجد کے قریب بہنے والے دریائے الکبیر کے دونوں کناروں پر تقریباً دو ہزار سال سے آباد ہے۔ رومنز نے یہاں کافی عرصے تک حکومت کی۔ لیکن مسلمانوں کے دور میں اس شہر کو عروج حاصل ہوا اور یہ ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا۔ اس شہر کو اشبیلیہ کا نام بھی عربوں نے دیا۔ جسے بعد میں عیسائیوں نے سیویا کردیا۔ جب قرطبہ شہر کا زوال ہوا اور اس کی مرکزیت ختم ہوئی اور اندلس کی سلطنت کئی حصوں میں بٹ گئی تب اشبیلیہ ہی وہ واحد شہر تھا جو سب سے امیر تھا۔ اس شہر سے مسلمانوں کی حکومت، عیسائی حکمران فرینڈو سوم نے 1248ء میں ختم کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/141511340aa33d8.jpg?r=151257'  alt='غرناطہ کا بس اسٹیشن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غرناطہ کا بس اسٹیشن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اشبیلیہ کا تاریخی محل اور جامع مسجد دیکھنے کے قابل ہے۔ اشبیلیہ کی تاریخی مسجد سلطان ابو یعقوب یوسف نے 1172ء میں تعمیر کروائی تھی، آج کل یہ مسجد چرچ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ہم انشااللہ کوشش کریں گے کہ ان یادگاروں کو قریب سے دیکھ سکیں لیکن مجھے نہیں لگ رہا کہ دن کی روشنی میں ہم ان یادگاروں کا نظارہ کرپائیں گے‘، میں نے افتخار صاحب کو اپنے اگلے سفر سے متعلق مختصر تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اچھا کیوں؟ ہمارے پاس کل کا دن تو ہے۔ ہم کل صبح ان مقامات کو دیکھ کر بارسلونا کے لیے روانہ ہوجائیں گے؟‘ افتخار صاحب نے قدرے پریشانی میں مجھ سے سوال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں، ہمارے پاس اب صرف آج کی رات کے چند گھنٹے ہیں اور کل صبح 7 بجے انشااللہ ہمیں بارسلونا کے لیے فلائٹ لےکر نکلنا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اوہ اچھا یعنی ہم اشبیلیہ دیکھنے کے لیے مختص تین گھنٹے اپنی غلطی کی وجہ سے ضائع کرچکے ہیں‘، افتخار صاحب نے منہ بناکر کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہم مقررہ پوائنٹ پر اپنی بس کی جانب بڑھ گئے۔ شاندار سڑکیں، طویل اور بلند فلائی اوورز، ہلکی ہلکی بارش اور ہر طرف سر سبز باغات۔ غرناطہ شہر ہمیں الوادع کہہ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14151143fe0be0e.jpg?r=151257'  alt='تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم آخر کار اشبیلیہ کے لیے نکل پڑے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم آخر کار اشبیلیہ کے لیے نکل پڑے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415114984c3919.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ کے راستے پر رواں دواں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اشبیلیہ کے راستے پر رواں دواں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری بس دریائے شنیل کے کنارے کنارے آہستہ آہستہ سفر کررہی تھی۔ ہم نے غرناطہ کی فضاؤں میں دو دن گزارے لیکن ہماری پیاس نہ بجھ سکی۔ نہ تسکین ملی اور نہ ہی آنکھوں کو ٹھنڈک۔ یہاں مہینوں قیام کرکے ہی جستجو کی اس پیاس کو بجھایا جاسکتا ہے۔ اس کیفیت میں رہتے ہوئے میرے ذہن میں علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار گونج رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے، و لیکن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ، حضر میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دیکھا بھی دکھایا بھی، سنایا بھی سُنا بھی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ہے دل کی تسلی نہ نظر میں، نہ خبر میں &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14151153d0351ed.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ کے راستے میں ایک شہر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اشبیلیہ کے راستے میں ایک شہر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری بس غرناطہ سے اشبیلیہ کے لیے شاہراہ اے 92 پر رواں دواں تھی۔ غرناطہ سے اشبیلیہ تک ہمارا سفر تقریباً 290 کلومیٹر بنتا ہے۔ بس کے اس سفر سے ہم نے راستے میں گاؤں گاؤں کی سیر کی۔ ہم تقریباً دو گھنٹے میں اشبیلیہ کے مضافات میں داخل ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سورج آہستہ آہستہ آسمان پر اپنا قبضہ چھوڑ رہا تھا۔ اشبیلیہ شہر ایک خوبصورت اور میدانی علاقے پر مشتمل شہر تھا۔ یہاں جدید شہر کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ شہر کے عین وسط میں موجود بس اسٹیشن پر ہماری بس رک گئی۔ ہم بس سے نکل کر باہر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ سامنے اشبیلیہ کا تاریخی شہر اور تاریخی گولڈن مینار نظر آرہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسی شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتے گزرتے شہر کے آخری کونے میں رُک گئی اور ہم دوسری منزل پر اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچ گئے۔ اندر ایک خوبصورت ہسپانوی بوڑھی خاتون نے ہمیں ہسپانوی زبان میں’ ہولا’ کہہ کر خوش آمدید کہا اور اپنا سامان رکھنے سے پہلے رجسٹریشن کرنے کے لیے اپنی دستاویزات دکھانے کو کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14154021d116001.jpg'  alt='   اپارٹمنٹ کی مالکن کو دستاویزات دکھاتے ہوئے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اپارٹمنٹ کی مالکن کو دستاویزات دکھاتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کی تصدیق کے بعد اپنے کمرے میں شفٹ ہونے میں ہمیں کافی وقت لگا جبکہ باہر اشبیلیہ کے خوبصورت شہر پر اندھیرے نے اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ اس لیے تھوڑی دیرتازہ دم ہونے، نماز پڑھنے اور آرام کرنے کے بعد تقریباً رات کے 9 بجے ہم نے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تب تک اشبیلیہ مکمل طور پر پردہ کرچکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم شہر کی ویران سڑکوں پر مٹر گشت کررہے تھے۔ اس وقت سڑکیں بالکل ویران تھیں۔ باہر سڑکوں پر اسپین کے باقی شہروں کی طرح گہما گہمی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لوگوں کی تعداد بھی کافی کم نظر آرہی تھی۔ شاید یہاں کے باسی بھی اشبیلیہ کو صرف ایک رات کے لیے منتخب کرنے پر ہم سے ناراض تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415120050f98f2.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ کی سڑکوں پر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اشبیلیہ کی سڑکوں پر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری منزل اشبیلیہ کے خوبصورت مقامات میں نمایاں مقام رکھنے والی پلازہ ڈی ہسپانیہ کی خوبصورت بلڈنگ تھی۔ اشبیلیہ کی سڑکیں اس وقت ہلکی ہلکی بارش سے بھیگ چکی تھیں۔ ہماری ٹیکسی پارک ڈی ماریا لوئیسہ کی کار پارکنگ میں ہمیں اتار کر چلی گئی۔ ہمارے ساتھ چند جاپانی سیاح بھی پلازہ دی ہسپانیہ کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے یہاں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/141529197ebcb3c.jpg'  alt='ہم پلازہ ڈی ہسپانیہ کی عمارت کو رات میں ہی دیکھ پائے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہم پلازہ ڈی ہسپانیہ کی عمارت کو رات میں ہی دیکھ پائے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلازہ ڈی ہسپانیہ 50 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ایک پرشکوہ عمارت ہے جس کی فنی تعمیر بھی مسلمانوں کی طرز تعمیر سے متاثر ہوکر کی گئی تھی۔ عمارت کو ایک نہر کے اردگرد تعمیر کیا گیا ہے جس میں دوپہر کے وقت سیاح کشتیوں میں سیر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام تھا۔ خوبصورت تاریخی عمارتیں، جگہ جگہ پر سیاحوں کے لیے قیام و طعام کی سہولتیں اور خوابیدہ ماحول یہاں پر دیر تک سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتے ہیں۔ پلازہ ڈی ہسپانیہ کے ساتھ منسلک پارک ڈی ماریا لوئسیہ بھی دیکھنے کے قابل تھا۔ یہ پارک 1893ء میں بنایا گیا تھا جہاں کھجوروں، مالٹوں اور بحیرہ روم کے دیودار درختوں کی بہتات تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/28140538f768a45.jpg'  alt='پلازہ ڈی ہسپانیہ&amp;mdash;تصویر: وکیپیڈیا/کارلوس ڈیلگاڈو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلازہ ڈی ہسپانیہ—تصویر: وکیپیڈیا/کارلوس ڈیلگاڈو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم پارک سے پلازہ ڈی ہسپانیہ کے مین گیٹ کی طرف روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ ساتھ جاپانی سیاح بھی تھے۔ مین گیٹ پر پہنچے تو ایک بڑے تالے نے ہمارا استقبال کیا۔ دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ کافی دیر تک ہم گیٹ پر کسی فرد کا انتظار کرتے رہے۔ پھر کسی دوسرے گیٹ کے لیے پلازہ کی بلند عمارت کے ساتھ ساتھ پیدل واک شروع کردی لیکن ہمیں اس عمارت کا کوئی گیٹ کھلا نہ ملا اور نہ ہی کوئی بندہ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مایوسی ہر سو پھیل گئی۔ تھکاوٹ سے بھی برا حال ہوچکا تھا اور اوپر سے بھوک کی شدت بھی ہمارا منہ دیکھ رہی تھی۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ٹیکسی کے ذریعے کوئی حلال ریسٹورنٹ تلاش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل میپ نے قریب ایک حلال ریسٹورنٹ کی نشاندہی کی۔ جس کے بعد ہم ٹیکسی میں سوار ہوئے اور مراکشی ریسٹورنٹ پہنچ گئے۔ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کے ساتھ ایک ٹیبل پر مراکشی خاندان عربی زبان میں خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ ہم ساتھ والی ٹیبل پر براجمان ہوگئے اور چکن اور گوشت کے باربی کیو کے ساتھ  چاول کا آرڈر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415084507ee9a7.jpg?r=151257'  alt='مراکشی ریسٹورنٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مراکشی ریسٹورنٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غرناطہ سے آنے کے بعد پیٹ بھر کر کھانے کے انتظار میں ہم ٹیبل پر بیٹھے اشبیلیہ کے سفر کے آغاز سے لےکر اب تک پیش آنے والے واقعات پر گپ شپ کررہے تھے۔ اتنے میں ویٹر نے ہمارے سامنے مراکشی طرز پر بنا ہوا سوپ رکھ دیا جوکہ واقعی مزے کا تھا۔ سوپ نوش کرنے کے بعد ہماری جان میں جان آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاول عربی اسٹائل میں بنائے گئے تھے جوکہ انتہائی لذیذ تھے لیکن جیسے ہی ایک چکن تکہ کی بوٹی منہ میں ڈالی تو اندازہ ہوا کہ یہاں پر بھی ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔ گوشت اور چکن باسی لگ رہا تھا جس کا ذائقہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ عبد اللہ شاہ نے بھی مزید گوشت کھانے سے منع کیا اور مزید چاول کا آرڈر دےکر ہم نے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے پر اکتفا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپارٹمنٹ تک واپسی کا سفر خاموشی کے ساتھ گزرا کیونکہ کھانا ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے سب کا موڈ خراب ہوچکا تھا۔ ٹیکسی اب اشبیلیہ کے پرانے شہر کے ساتھ دریائے الکبیر کے کنارے سے گزررہی تھی اور ہمارے سامنے ایک بلند مینار تھا۔ میرے پوچھنے پر ڈرائیور نے بتایا کہ یہ ٹوری ڈل گرو یعنی گولڈن ٹاور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/281417510602a28.jpg'  alt='گولڈن مینار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گولڈن مینار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈن مینار کو مسلمانوں نے 1220ء میں دفاعی نقطہ نظر کے تحت تعمیر کیا تھا جس پر ہر وقت فوجی پہرا دار ہوتے تھے تاکہ دور سے دشمن کی آمد کا پتا چل سکے۔ اس کے سامنے دریائے الکبیر کی دوسری طرف بھی ایک مینار تھا جس کو سلور مینار کہا جاتا تھا لیکن بعد میں یہ منہدم ہوگیا اور اب اس کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمانہ قدیم میں دونوں میناروں کے درمیان بڑی بڑی آہنی زنجیریں لگا دی جاتی تھیں تاکہ باہر سے آنے والے جہازوں کو روکا جاسکے۔ اس مینار کے بارے یہ بات بہت اہم ہے کہ جب کولمبس نے امریکا دریافت کیا اور وہاں سے بذریعہ سمندری جہازوں اور کشتیوں کے دولت کو اسپین منتقل کیا جانے لگا تو وہ اشبیلیہ میں اسی مقام پر اتاری جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جگہ گولڈن ٹاور کے نام سے مشہور ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دیر بعد ٹیکسی کا ڈرائیور ہمیں اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے اتار چکا تھا اور کمرے میں جانے کے بعد جلد ہی نیند کی وادی کے مزے لوٹنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اشبیلیہ-سے-بارسلونا" href="#اشبیلیہ-سے-بارسلونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اشبیلیہ سے بارسلونا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;صبح 5 بج 15 منٹ پر ہماری ٹیکسی اشبیلیہ کے ائیرپورٹ کی طرف گامزن تھی۔ دور سے اشبیلیہ کا سینٹ ماریہ چرچ نظر آرہا تھا۔ اس چرچ کوغرناطہ و قرطبہ کی طرح یہاں کی اُس دور کی جامع مسجد کو تبدیل کرکے بنایا گیا تھا۔ یہ مسجد سلطان أبو یعقوب یوسف نے 1172ء میں تعمیر کروائی تھی۔ 1248ء مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور عیسائی حکمران آئے تو تقریباً 250 سال تک مسجد کی ہی عمارت کو چرچ میں تبدیل کردیا تھا۔ پھر 1515ء میں مسجد کی عمارت کو منہدم کرکے اس کی جگہ سینٹ ماریہ چرچ تعمیر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس تاریخی مسجد و چرچ کے قریب سے گزرے۔ یہ ایک پُررونق علاقہ معلوم ہورہا تھا جہاں پر ٹرام اسٹیشن اور سیاحوں کے لیے تانگے و بھگیاں کھڑی تھیں۔ چونکہ صبح کا وقت تھا اس لیے اشبیلیہ کے باسی اور یہاں پر سیاح خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اور ہماری ٹیکسی دریائے الکبیر کے ساتھ ایئرپورٹ کی جانب رواں دواں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14150853a14f763.jpg?r=151257'  alt='ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرائیور سے میں نے سوال کیا کہ ’اس چرچ کے قریب ایک شاہی محل بھی ہے، وہ کہاں پر ہے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر ڈرائیور نے ہمیں چرچ سے جنوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہی محل کی عمارت دکھائی۔ گاڑی سے اس کی عمارت تو پوری طرح نظر نہیں آرہی تھی لیکن اس خوبصورت شاہی محل کے کچھ حصے ہماری نظروں کو خیرہ کرنے کے لیے کافی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/141510539e79966.jpg'  alt='اشبیلہ کا چرچ&amp;mdash;تصویر: سوسانیشونگ ڈاٹ کام' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اشبیلہ کا چرچ—تصویر: سوسانیشونگ ڈاٹ کام&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشبیلیہ کا شاہی محل بھی مسلمانوں کی عالیشان حکومت کا ایک شاہکار ہے۔ اس کا طرز تعمیر، اس دور کے مسلمان کاریگروں کے بہترین کام کی گواہی دیتا ہے۔ اس کی فنی تعمیر اور آرٹ بھی الحمرا محل سے کچھ مشابہت رکھتا ہے۔ اشبیلیہ کے اس خوبصورت محل اور دیگر تاریخی مقامات کو قریب سے دیکھنے کی آرزو کے ساتھ ہم اشبیلیہ ایئرپورٹ کی خوبصورت ترین عمارت کے سامنے اپنا سامان اتار کر ٹیکسی والے کو 50 یوروز پکڑاتے ہوئے ایئرپورٹ میں داخل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ کی مشہور ایئرلائن ریان ایئر کی فلائٹ کو ساڑھے 7 بجے اشبیلیہ سے بارسلونا کے لیے روانہ ہونا تھا اور ابھی فلائٹ میں ایک گھنٹہ اور 45 منٹ کا وقت باقی تھا۔ مطلوبہ بوتھ سے بورڈنگ پاس اور سامان جمع کروا کر ہم ایئرپورٹ پر ناشتے کے لیے ایک کیفے میں چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415090639d1628.jpg?r=151257'  alt='طیارے کے اندرونی مناظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;طیارے کے اندرونی مناظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14151025f2c7f12.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ سے طیارہ بارسلونا کی جانب پرواز کررہا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اشبیلیہ سے طیارہ بارسلونا کی جانب پرواز کررہا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشتے میں کافی کے ساتھ کیک رسک لیا۔ بارسلونا میں ہمارے اپارٹمنٹ کا چیک اِن ٹائم دن کے 12 بجے تھا۔ اس لیے افتخار صاحب نے بارسلونا میں موجود ایک افغان دوست فرہاد ہمت سے رابطہ کیا جنہوں نے ایئرپورٹ سے اپنے گھر آنے کو کہا۔ یہ دعوت بصد خوشی قبول کرتے ہوئے ہم نے ناشتہ ان کے فلیٹ پر کرنے کی ہامی بھرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑی دیر بعد ہم فٹ بال اور بل فائیٹنگ کے لیے پوری دنیا میں مشہور شہر بارسلونا کی طرف محوپرواز ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسے کی بقیہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>ہمیں غرناطہ کے بس اسٹیشن پر ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا اور اگلی بس کے لیے مزید ایک گھنٹہ انتظار کرنا تھا۔ بس اسٹیشن پر کافی گہما گہمی تھی۔ بڑی تعداد میں سیاح اس تاریخی شہر کو دیکھنے کے لیے آرہے تھے اور بس اسٹیشن پر موجود مختلف ٹور کمپنی کے بوتھ پر موجود ہسپانوی خواتین سیاحوں کو ٹور پیکجز دینے میں مصروف تھیں۔</p>
<p>میرے ساتھی عبد اللہ شاہ صاحب حسبِ روایت گھر والوں کے ساتھ فون پر گفتگو کرنے میں مصروف تھے جبکہ افتخار صاحب مجھ سے اگلے سفر کے بارے میں معلومات لے رہے تھے۔ میں نے افتخار صاحب کو تفصیلات بتانا شروع کیں۔</p>
<p>’ہمارا سفر اب اشبیلیہ (Seville) کی طرف ہے۔ اشبیلیہ اندلس حکومت کے صوبائی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ اُس دور میں مسلمانوں کی سلطنت کا دوسرا بڑا شہر تھا۔ یہ شہر قرطبہ مسجد کے قریب بہنے والے دریائے الکبیر کے دونوں کناروں پر تقریباً دو ہزار سال سے آباد ہے۔ رومنز نے یہاں کافی عرصے تک حکومت کی۔ لیکن مسلمانوں کے دور میں اس شہر کو عروج حاصل ہوا اور یہ ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا۔ اس شہر کو اشبیلیہ کا نام بھی عربوں نے دیا۔ جسے بعد میں عیسائیوں نے سیویا کردیا۔ جب قرطبہ شہر کا زوال ہوا اور اس کی مرکزیت ختم ہوئی اور اندلس کی سلطنت کئی حصوں میں بٹ گئی تب اشبیلیہ ہی وہ واحد شہر تھا جو سب سے امیر تھا۔ اس شہر سے مسلمانوں کی حکومت، عیسائی حکمران فرینڈو سوم نے 1248ء میں ختم کردی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/141511340aa33d8.jpg?r=151257'  alt='غرناطہ کا بس اسٹیشن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غرناطہ کا بس اسٹیشن</figcaption>
    </figure></p>
<p>’اشبیلیہ کا تاریخی محل اور جامع مسجد دیکھنے کے قابل ہے۔ اشبیلیہ کی تاریخی مسجد سلطان ابو یعقوب یوسف نے 1172ء میں تعمیر کروائی تھی، آج کل یہ مسجد چرچ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ہم انشااللہ کوشش کریں گے کہ ان یادگاروں کو قریب سے دیکھ سکیں لیکن مجھے نہیں لگ رہا کہ دن کی روشنی میں ہم ان یادگاروں کا نظارہ کرپائیں گے‘، میں نے افتخار صاحب کو اپنے اگلے سفر سے متعلق مختصر تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔</p>
<p>’اچھا کیوں؟ ہمارے پاس کل کا دن تو ہے۔ ہم کل صبح ان مقامات کو دیکھ کر بارسلونا کے لیے روانہ ہوجائیں گے؟‘ افتخار صاحب نے قدرے پریشانی میں مجھ سے سوال کیا۔</p>
<p>’نہیں، ہمارے پاس اب صرف آج کی رات کے چند گھنٹے ہیں اور کل صبح 7 بجے انشااللہ ہمیں بارسلونا کے لیے فلائٹ لےکر نکلنا ہے‘۔</p>
<p>’اوہ اچھا یعنی ہم اشبیلیہ دیکھنے کے لیے مختص تین گھنٹے اپنی غلطی کی وجہ سے ضائع کرچکے ہیں‘، افتخار صاحب نے منہ بناکر کہا۔</p>
<p>اس کے بعد ہم مقررہ پوائنٹ پر اپنی بس کی جانب بڑھ گئے۔ شاندار سڑکیں، طویل اور بلند فلائی اوورز، ہلکی ہلکی بارش اور ہر طرف سر سبز باغات۔ غرناطہ شہر ہمیں الوادع کہہ رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14151143fe0be0e.jpg?r=151257'  alt='تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم آخر کار اشبیلیہ کے لیے نکل پڑے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم آخر کار اشبیلیہ کے لیے نکل پڑے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415114984c3919.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ کے راستے پر رواں دواں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اشبیلیہ کے راستے پر رواں دواں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہماری بس دریائے شنیل کے کنارے کنارے آہستہ آہستہ سفر کررہی تھی۔ ہم نے غرناطہ کی فضاؤں میں دو دن گزارے لیکن ہماری پیاس نہ بجھ سکی۔ نہ تسکین ملی اور نہ ہی آنکھوں کو ٹھنڈک۔ یہاں مہینوں قیام کرکے ہی جستجو کی اس پیاس کو بجھایا جاسکتا ہے۔ اس کیفیت میں رہتے ہوئے میرے ذہن میں علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار گونج رہے تھے۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے، و لیکن</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ، حضر میں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دیکھا بھی دکھایا بھی، سنایا بھی سُنا بھی</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ہے دل کی تسلی نہ نظر میں، نہ خبر میں </div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14151153d0351ed.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ کے راستے میں ایک شہر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اشبیلیہ کے راستے میں ایک شہر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہماری بس غرناطہ سے اشبیلیہ کے لیے شاہراہ اے 92 پر رواں دواں تھی۔ غرناطہ سے اشبیلیہ تک ہمارا سفر تقریباً 290 کلومیٹر بنتا ہے۔ بس کے اس سفر سے ہم نے راستے میں گاؤں گاؤں کی سیر کی۔ ہم تقریباً دو گھنٹے میں اشبیلیہ کے مضافات میں داخل ہوگئے تھے۔</p>
<p>سورج آہستہ آہستہ آسمان پر اپنا قبضہ چھوڑ رہا تھا۔ اشبیلیہ شہر ایک خوبصورت اور میدانی علاقے پر مشتمل شہر تھا۔ یہاں جدید شہر کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ شہر کے عین وسط میں موجود بس اسٹیشن پر ہماری بس رک گئی۔ ہم بس سے نکل کر باہر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ سامنے اشبیلیہ کا تاریخی شہر اور تاریخی گولڈن مینار نظر آرہا تھا۔</p>
<p>ٹیکسی شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتے گزرتے شہر کے آخری کونے میں رُک گئی اور ہم دوسری منزل پر اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچ گئے۔ اندر ایک خوبصورت ہسپانوی بوڑھی خاتون نے ہمیں ہسپانوی زبان میں’ ہولا’ کہہ کر خوش آمدید کہا اور اپنا سامان رکھنے سے پہلے رجسٹریشن کرنے کے لیے اپنی دستاویزات دکھانے کو کہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14154021d116001.jpg'  alt='   اپارٹمنٹ کی مالکن کو دستاویزات دکھاتے ہوئے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اپارٹمنٹ کی مالکن کو دستاویزات دکھاتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>دستاویزات کی تصدیق کے بعد اپنے کمرے میں شفٹ ہونے میں ہمیں کافی وقت لگا جبکہ باہر اشبیلیہ کے خوبصورت شہر پر اندھیرے نے اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ اس لیے تھوڑی دیرتازہ دم ہونے، نماز پڑھنے اور آرام کرنے کے بعد تقریباً رات کے 9 بجے ہم نے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تب تک اشبیلیہ مکمل طور پر پردہ کرچکا تھا۔</p>
<p>ہم شہر کی ویران سڑکوں پر مٹر گشت کررہے تھے۔ اس وقت سڑکیں بالکل ویران تھیں۔ باہر سڑکوں پر اسپین کے باقی شہروں کی طرح گہما گہمی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لوگوں کی تعداد بھی کافی کم نظر آرہی تھی۔ شاید یہاں کے باسی بھی اشبیلیہ کو صرف ایک رات کے لیے منتخب کرنے پر ہم سے ناراض تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415120050f98f2.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ کی سڑکوں پر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اشبیلیہ کی سڑکوں پر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہماری منزل اشبیلیہ کے خوبصورت مقامات میں نمایاں مقام رکھنے والی پلازہ ڈی ہسپانیہ کی خوبصورت بلڈنگ تھی۔ اشبیلیہ کی سڑکیں اس وقت ہلکی ہلکی بارش سے بھیگ چکی تھیں۔ ہماری ٹیکسی پارک ڈی ماریا لوئیسہ کی کار پارکنگ میں ہمیں اتار کر چلی گئی۔ ہمارے ساتھ چند جاپانی سیاح بھی پلازہ دی ہسپانیہ کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے یہاں موجود تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/141529197ebcb3c.jpg'  alt='ہم پلازہ ڈی ہسپانیہ کی عمارت کو رات میں ہی دیکھ پائے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہم پلازہ ڈی ہسپانیہ کی عمارت کو رات میں ہی دیکھ پائے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پلازہ ڈی ہسپانیہ 50 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ایک پرشکوہ عمارت ہے جس کی فنی تعمیر بھی مسلمانوں کی طرز تعمیر سے متاثر ہوکر کی گئی تھی۔ عمارت کو ایک نہر کے اردگرد تعمیر کیا گیا ہے جس میں دوپہر کے وقت سیاح کشتیوں میں سیر کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام تھا۔ خوبصورت تاریخی عمارتیں، جگہ جگہ پر سیاحوں کے لیے قیام و طعام کی سہولتیں اور خوابیدہ ماحول یہاں پر دیر تک سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتے ہیں۔ پلازہ ڈی ہسپانیہ کے ساتھ منسلک پارک ڈی ماریا لوئسیہ بھی دیکھنے کے قابل تھا۔ یہ پارک 1893ء میں بنایا گیا تھا جہاں کھجوروں، مالٹوں اور بحیرہ روم کے دیودار درختوں کی بہتات تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/28140538f768a45.jpg'  alt='پلازہ ڈی ہسپانیہ&mdash;تصویر: وکیپیڈیا/کارلوس ڈیلگاڈو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلازہ ڈی ہسپانیہ—تصویر: وکیپیڈیا/کارلوس ڈیلگاڈو</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم پارک سے پلازہ ڈی ہسپانیہ کے مین گیٹ کی طرف روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ ساتھ جاپانی سیاح بھی تھے۔ مین گیٹ پر پہنچے تو ایک بڑے تالے نے ہمارا استقبال کیا۔ دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ کافی دیر تک ہم گیٹ پر کسی فرد کا انتظار کرتے رہے۔ پھر کسی دوسرے گیٹ کے لیے پلازہ کی بلند عمارت کے ساتھ ساتھ پیدل واک شروع کردی لیکن ہمیں اس عمارت کا کوئی گیٹ کھلا نہ ملا اور نہ ہی کوئی بندہ ملا۔</p>
<p>مایوسی ہر سو پھیل گئی۔ تھکاوٹ سے بھی برا حال ہوچکا تھا اور اوپر سے بھوک کی شدت بھی ہمارا منہ دیکھ رہی تھی۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ٹیکسی کے ذریعے کوئی حلال ریسٹورنٹ تلاش کیا جائے۔</p>
<p>گوگل میپ نے قریب ایک حلال ریسٹورنٹ کی نشاندہی کی۔ جس کے بعد ہم ٹیکسی میں سوار ہوئے اور مراکشی ریسٹورنٹ پہنچ گئے۔ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کے ساتھ ایک ٹیبل پر مراکشی خاندان عربی زبان میں خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ ہم ساتھ والی ٹیبل پر براجمان ہوگئے اور چکن اور گوشت کے باربی کیو کے ساتھ  چاول کا آرڈر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415084507ee9a7.jpg?r=151257'  alt='مراکشی ریسٹورنٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مراکشی ریسٹورنٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>غرناطہ سے آنے کے بعد پیٹ بھر کر کھانے کے انتظار میں ہم ٹیبل پر بیٹھے اشبیلیہ کے سفر کے آغاز سے لےکر اب تک پیش آنے والے واقعات پر گپ شپ کررہے تھے۔ اتنے میں ویٹر نے ہمارے سامنے مراکشی طرز پر بنا ہوا سوپ رکھ دیا جوکہ واقعی مزے کا تھا۔ سوپ نوش کرنے کے بعد ہماری جان میں جان آگئی۔</p>
<p>چاول عربی اسٹائل میں بنائے گئے تھے جوکہ انتہائی لذیذ تھے لیکن جیسے ہی ایک چکن تکہ کی بوٹی منہ میں ڈالی تو اندازہ ہوا کہ یہاں پر بھی ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔ گوشت اور چکن باسی لگ رہا تھا جس کا ذائقہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ عبد اللہ شاہ نے بھی مزید گوشت کھانے سے منع کیا اور مزید چاول کا آرڈر دےکر ہم نے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے پر اکتفا کیا۔</p>
<p>اپارٹمنٹ تک واپسی کا سفر خاموشی کے ساتھ گزرا کیونکہ کھانا ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے سب کا موڈ خراب ہوچکا تھا۔ ٹیکسی اب اشبیلیہ کے پرانے شہر کے ساتھ دریائے الکبیر کے کنارے سے گزررہی تھی اور ہمارے سامنے ایک بلند مینار تھا۔ میرے پوچھنے پر ڈرائیور نے بتایا کہ یہ ٹوری ڈل گرو یعنی گولڈن ٹاور ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/281417510602a28.jpg'  alt='گولڈن مینار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گولڈن مینار</figcaption>
    </figure></p>
<p>گولڈن مینار کو مسلمانوں نے 1220ء میں دفاعی نقطہ نظر کے تحت تعمیر کیا تھا جس پر ہر وقت فوجی پہرا دار ہوتے تھے تاکہ دور سے دشمن کی آمد کا پتا چل سکے۔ اس کے سامنے دریائے الکبیر کی دوسری طرف بھی ایک مینار تھا جس کو سلور مینار کہا جاتا تھا لیکن بعد میں یہ منہدم ہوگیا اور اب اس کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔</p>
<p>زمانہ قدیم میں دونوں میناروں کے درمیان بڑی بڑی آہنی زنجیریں لگا دی جاتی تھیں تاکہ باہر سے آنے والے جہازوں کو روکا جاسکے۔ اس مینار کے بارے یہ بات بہت اہم ہے کہ جب کولمبس نے امریکا دریافت کیا اور وہاں سے بذریعہ سمندری جہازوں اور کشتیوں کے دولت کو اسپین منتقل کیا جانے لگا تو وہ اشبیلیہ میں اسی مقام پر اتاری جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جگہ گولڈن ٹاور کے نام سے مشہور ہوئی۔</p>
<p>کچھ دیر بعد ٹیکسی کا ڈرائیور ہمیں اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے اتار چکا تھا اور کمرے میں جانے کے بعد جلد ہی نیند کی وادی کے مزے لوٹنے لگے۔</p>
<h1><a id="اشبیلیہ-سے-بارسلونا" href="#اشبیلیہ-سے-بارسلونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اشبیلیہ سے بارسلونا</h1>
<p>صبح 5 بج 15 منٹ پر ہماری ٹیکسی اشبیلیہ کے ائیرپورٹ کی طرف گامزن تھی۔ دور سے اشبیلیہ کا سینٹ ماریہ چرچ نظر آرہا تھا۔ اس چرچ کوغرناطہ و قرطبہ کی طرح یہاں کی اُس دور کی جامع مسجد کو تبدیل کرکے بنایا گیا تھا۔ یہ مسجد سلطان أبو یعقوب یوسف نے 1172ء میں تعمیر کروائی تھی۔ 1248ء مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور عیسائی حکمران آئے تو تقریباً 250 سال تک مسجد کی ہی عمارت کو چرچ میں تبدیل کردیا تھا۔ پھر 1515ء میں مسجد کی عمارت کو منہدم کرکے اس کی جگہ سینٹ ماریہ چرچ تعمیر کیا گیا۔</p>
<p>ہم اس تاریخی مسجد و چرچ کے قریب سے گزرے۔ یہ ایک پُررونق علاقہ معلوم ہورہا تھا جہاں پر ٹرام اسٹیشن اور سیاحوں کے لیے تانگے و بھگیاں کھڑی تھیں۔ چونکہ صبح کا وقت تھا اس لیے اشبیلیہ کے باسی اور یہاں پر سیاح خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اور ہماری ٹیکسی دریائے الکبیر کے ساتھ ایئرپورٹ کی جانب رواں دواں تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14150853a14f763.jpg?r=151257'  alt='ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈرائیور سے میں نے سوال کیا کہ ’اس چرچ کے قریب ایک شاہی محل بھی ہے، وہ کہاں پر ہے؟‘</p>
<p>اس پر ڈرائیور نے ہمیں چرچ سے جنوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہی محل کی عمارت دکھائی۔ گاڑی سے اس کی عمارت تو پوری طرح نظر نہیں آرہی تھی لیکن اس خوبصورت شاہی محل کے کچھ حصے ہماری نظروں کو خیرہ کرنے کے لیے کافی تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/141510539e79966.jpg'  alt='اشبیلہ کا چرچ&mdash;تصویر: سوسانیشونگ ڈاٹ کام' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اشبیلہ کا چرچ—تصویر: سوسانیشونگ ڈاٹ کام</figcaption>
    </figure></p>
<p>اشبیلیہ کا شاہی محل بھی مسلمانوں کی عالیشان حکومت کا ایک شاہکار ہے۔ اس کا طرز تعمیر، اس دور کے مسلمان کاریگروں کے بہترین کام کی گواہی دیتا ہے۔ اس کی فنی تعمیر اور آرٹ بھی الحمرا محل سے کچھ مشابہت رکھتا ہے۔ اشبیلیہ کے اس خوبصورت محل اور دیگر تاریخی مقامات کو قریب سے دیکھنے کی آرزو کے ساتھ ہم اشبیلیہ ایئرپورٹ کی خوبصورت ترین عمارت کے سامنے اپنا سامان اتار کر ٹیکسی والے کو 50 یوروز پکڑاتے ہوئے ایئرپورٹ میں داخل ہوگئے۔</p>
<p>یورپ کی مشہور ایئرلائن ریان ایئر کی فلائٹ کو ساڑھے 7 بجے اشبیلیہ سے بارسلونا کے لیے روانہ ہونا تھا اور ابھی فلائٹ میں ایک گھنٹہ اور 45 منٹ کا وقت باقی تھا۔ مطلوبہ بوتھ سے بورڈنگ پاس اور سامان جمع کروا کر ہم ایئرپورٹ پر ناشتے کے لیے ایک کیفے میں چلے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/1415090639d1628.jpg?r=151257'  alt='طیارے کے اندرونی مناظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>طیارے کے اندرونی مناظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/09/14151025f2c7f12.jpg?r=151257'  alt='اشبیلیہ سے طیارہ بارسلونا کی جانب پرواز کررہا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اشبیلیہ سے طیارہ بارسلونا کی جانب پرواز کررہا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ناشتے میں کافی کے ساتھ کیک رسک لیا۔ بارسلونا میں ہمارے اپارٹمنٹ کا چیک اِن ٹائم دن کے 12 بجے تھا۔ اس لیے افتخار صاحب نے بارسلونا میں موجود ایک افغان دوست فرہاد ہمت سے رابطہ کیا جنہوں نے ایئرپورٹ سے اپنے گھر آنے کو کہا۔ یہ دعوت بصد خوشی قبول کرتے ہوئے ہم نے ناشتہ ان کے فلیٹ پر کرنے کی ہامی بھرلی۔</p>
<p>تھوڑی دیر بعد ہم فٹ بال اور بل فائیٹنگ کے لیے پوری دنیا میں مشہور شہر بارسلونا کی طرف محوپرواز ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211759</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Oct 2023 10:39:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/281417510602a28.jpg?r=142324" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/281417510602a28.jpg?r=142324"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/14150047e94db6c.jpg?r=142324" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/14150047e94db6c.jpg?r=142324"/>
        <media:title>ہیڈر: سوسانیشونگ ڈاٹ کام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیری کا مندر اور خیبرپختونخوا میں مذہبی سیاحت کے مواقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208717/</link>
      <description>&lt;p&gt;شان دار پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کے درمیان واقع، خیبر پختونخوا کا خطہ گہری مذہبی اہمیت کا حامل ہے، جہاں دنیا بھرکے ہندو، بدھ مت اور سکھ زائرین کے لیے کئی مقدس مقامات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاحت کی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں۔ یہاں بدھ مت کے قدیم مقامات بھی موجود ہیں جو تخت بھائی، صوابی، مردان میں ہیں جہاں ہر سال زائرین آتے ہیں۔ یہ مقامات یہاں ایک زمانے میں پروان چڑھنے والی گندھارا تہذیب کے گواہ ہیں اور اس خطے میں بدھ مت کے اثر و رسوخ کا ثبوت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی سوات اپنے دل کش منظرنامے کے ساتھ، ماضی کے آثار سے مزین ہے۔ ان میں بٹکارہ اسٹوپا بھی شامل ہے۔ اس طرح ہندو مذہب کے پیروکاروں کے لیے خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس شہر میں کئی اہم ہندو مندر ہیں، جن میں گور کھتری اور بالمیکی مندر بھی شامل ہیں۔ یہ مندر علاقے میں مذہبی رواداری اور ثقافتی تنوع کی علامت  ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16144706bfdbabe.jpg'  alt='گورکھتری، پشاور کا اہم ہندو مندر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گورکھتری، پشاور کا اہم ہندو مندر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکھ مذہب کا بھی خیبر پختونخوا کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ حسن ابدال میں واقع پنجہ صاحب گردوارے کو دنیا بھر کے سکھ اس لیے عزت دیتے ہیں کیونکہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی نے اپنے روحانی سفر کے دوران اس مقدس مقام کا دورہ کیا تھا۔ گرودوارے کا ماحول روحانی سکون اور اپنے عقیدے کی تاریخ کے متلاشی زائرین کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثقافتی طور پر متنوع مذہبی منظرنامے کے درمیان، پشاور میں پشتو کے معروف صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار عوام کے لیے ایک قابل قدر مقام رکھتا ہے۔ جہاں اس خطے کی مذہبی اہمیت کو اچھی طرح سے منایا جاتا ہے، وہیں ضلع چترال کی وادی کالاش میں ایک ثقافتی عجوبہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/04/5520a42894c18.jpg'  alt='پشاور میں معروف صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار&amp;mdash;تصویر: ڈان/فائل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پشاور میں معروف صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار—تصویر: ڈان/فائل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کرک میں ہندوؤں کی واحد سمادھی ٹیری مندر سیاحوں کے لیے بہت پُرکشش ہے۔ شری پرم ہنس جی مہاراج کی یہ سمادھی نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کے مختلف حصوں اور اس سے باہر ہندو برادری کے لیے مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹیری کا یہ مندر ایک مقدس مقام کے طور پر ہندو عقیدت مندوں اور یاتریوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جو یہاں تعظیم دینے، آشیرواد حاصل کرنے اور مذہبی رسومات میں حصہ لینے کے لیے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقام شری پرم ہنس جی مہاراج سے روحانی تعلق اور عقیدت کی جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ علاقے میں ہندو برادری کے بھرپور مذہبی اور ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر کام کررہا ہے۔ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1150432"&gt;&lt;strong&gt;2020ء میں اس کو جلایا دیا گیا تھا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اور اس سے قبل 1997ء میں بھی اس پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب اس کی دوبارہ تعمیر کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614373815a6310.jpg?r=143805'  alt='کرک میں ہندوؤں کی واحد سمادھی ٹیری مندر سیاحوں کے لیے بہت پُرکشش ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کرک میں ہندوؤں کی واحد سمادھی ٹیری مندر سیاحوں کے لیے بہت پُرکشش ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زائرین اب  بےخوف و خطر ہوکر اپنی رسومات ادا کرتے ہیں جس سے ٹیری میں مذہبی سیاحت کا آغاز ہوگیا ہے کیونکہ ہندو کثیر تعداد میں ٹیری کی زیارت کرتے ہیں اور کچھ دن گزار کر واپس چلے جاتے ہیں۔ پہلے یہ سمادھی کے نام سے جانی جاتی تھی اب یہ سمادھی مندر کے نام سے مشہور ہے جس میں ہندو زائرین اپنی پوجا کرتے ہیں اور گرو پرم ہنس کو یاد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614415210451d0.jpg?r=144237'  alt='  اس مندر میں زائرین بےخوف ہوکر رسومات ادا کرتے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اس مندر میں زائرین بےخوف ہوکر رسومات ادا کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کچھ تعارف گرو پرم ہنس کا بھی ہوجائے۔ شری پرم ہنس سوامی ادویتانند جی مہاراج (پیدائش شری رام یاد)  جنہیں شری پرم ہنس دیال مہاراج جی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، شری تلسی داس جی پاٹھک کے بیٹے تھے۔ آپ چھپرا شہر میں ضلع سارن، بہار، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ شری پرم ہنس دیال مہاراج جی کو شری پرم ہنس ادویت کے پہلے روحانی استاد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شری پرم ہنس دیال جی نے جگہ جگہ سفر کیا اور سہج یوگا، بھکتی اور انسانیت کی خدمت کا پیغام سب تک پہنچایا۔ شری پرم ہنس دیال جی کافی وقت تک جے پور میں رہے اور وہاں کے لوگوں کی روحانی تبلیغ اور ترقی کا کام شروع کیا۔ وہاں ان کے پیروکاروں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ شری پرم ہنس دیال جی نے 10 جولائی 1919ء کو سوامی سوارو پانند جی کو جانشینی منتقل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614423288a4df9.jpg?r=144237'  alt='  شری پرم ہنس سوامی ادویتانند جی مہاراج  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شری پرم ہنس سوامی ادویتانند جی مہاراج&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرو پر ماہانس نے ٹیری میں کافی وقت گزار اور یہاں ان کے کافی مرید بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیری میں ایک مقدس سمادھی مزار بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی کھوج میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے، خیبر پختونخوا میں شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی جیسے مقدس مقامات کا دورہ کرنا روحانی اور ثقافتی طور پر عمیق تجربہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اور مقامی حکام زائرین کے لیے انفرااسٹرکچر اور سہولیات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ اس حوالے سے ٹیری کرک کے مندر (سمادھی) کے دیکھ بھال کرنے والے ایڈووکیٹ روہت کمار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی سیاحت کو تو فروغ نہیں مل پارہا مگر مذہبی سیاحت کے حوالے سے پاکستان خاص طور پر خیبر پختونخوا بہت زیادہ مالامال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16143635a9fb998.jpg?r=143702'  alt='حکومت خیبرپختونخوا میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حکومت خیبرپختونخوا میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روہت کمار کا کہنا تھا کہ ’ٹیری کی حیثیت بھی ایک طرح سے کرتار پور جیسی ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرو پرم ہنس کے مرید پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر خیبر پختونخوا میں اس پر کام کیا جائے تو ٹیری میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوگی۔ اس کی دوبارہ تعمیر کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان خود آئے تھے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ’سنگارپور، بھارت، امریکا اور کینیڈا سے لوگ اس مندر کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس سے صوبے کی معیشت بہتر ہوسکتی ہے‘۔ اس حوالے سے پریم تلریجا (ریٹائرڈ) سینیئر چیف انجنیئر کا کہنا ہے کہ ’بابا کے مرید پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ نیویارک، شکاگو، نیو جرسی اور باسٹن سمیت پورے امریکا میں ان کے 12 آشرم ہیں۔ لندن، سنگاپور، منیلا اور بھارت کے تو ہر کونے میں بابا کے آشرم موجود ہے مگر ان کی سمادھی ٹیری میں ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر کا مقام ہے کہ ہم اس کے نزدیک رہتے ہیں اور جب جی چاہتا ہے ہم آجاتے ہیں مگر دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مرید وسائل ہونے کے باوجود بھی زیارت کے لیے یہاں نہیں آسکتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16144201e3f5766.jpg?r=144237'  alt='  مندر میں زائرین شری پرم ہنس جی مہاراج کی تصویر پر پھول چڑھاتے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مندر میں زائرین شری پرم ہنس جی مہاراج کی تصویر پر پھول چڑھاتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریم تلریجا کہتے ہیں کہ ’بیرونِ ملک سے زائرین کے یہاں آنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم یہاں ٹیری میں کتنے افراد کو ٹھہرا سکتے ہیں اور یہاں انتظامات کیسے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس 3 سو سے 4 سو افراد کی رہائش، کھانے پینے اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کا انتظام موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لیکن ان 3 سو سے 4 سو لوگوں میں سے تقریباً 2 سو زائرین تو پاکستان کے ہی ہوجاتے ہیں یوں بیرونِ ملک سے ڈیڑھ یا 2 سو سے زیادہ زائرین کے آنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے ہر ملک سے بس چند لوگ ہی زیارت کے لیے آتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دو، تین مرتبہ بیرونِ ملک سے زائرین بڑی تعداد میں اس مندر کی زیارت کے لیے آئے ہیں۔ ہر مرتبہ ان زائرین کی تعداد 100 سے 200 کے درمیان تھی۔ تاہم ٹیری میں مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پشاور اور اسلام آباد کے ہوٹلوں میں ٹھہرانا پڑتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16144227d8c5573.jpg?r=144237'  alt='  سمادھی کے صحن میں موجود زائرین  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سمادھی کے صحن میں موجود زائرین&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہندو برادری نے ٹیری میں ایک زمین خرید کر وہاں گیسٹ ہاؤس کی تعمیر شروع کی ہے۔ 6 منزلہ اس عمارت میں کُل 90 کمرے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس میں 70 کے قریب گاڑیوں کو پارک کرنے کی بھی گنجائش ہوگی۔ یہ گیسٹ ہاؤس بیرون ملک یا پاکستان سے ہی آنے والے زائرین کو ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تعمیر کا کُل تخمینہ 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614362138ca459.jpg?r=143702'  alt='زائرین کے لیے ہندو برادری گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کررہی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;زائرین کے لیے ہندو برادری گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کررہی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16143641a65044a.jpg?r=143702'  alt='گیسٹ ہاؤس میں کُل 90 کمرے ہوں گے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گیسٹ ہاؤس میں کُل 90 کمرے ہوں گے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریم تلریجا کے مطابق ’اگر حکومت کوشش کرے تو ٹیری کو ایک اچھا سیاحتی مقام بنایا جاسکتا ہے۔ جس طرح تیل اور گیس کی وجہ سے علاقے کی قسمت بدل رہی ہے اسی طرح سیاحت سے بھی یہ علاقہ ترقی کرے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’بھارت میں موجود شری پرم ہنس کے مریدوں کو بھارتی پاسپورٹ کی وجہ سے ویزا ملنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ہم بھی بھارت جاتے ہیں تو ہمیں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے اور ویزا آسانی سے ملنا شروع ہوجائیں تو گرو جی کے لاکھوں پیروکار زیارت کے لیے ہرسال یہاں کا رخ کریں گے۔ ان میں بیرونِ ملک سے آنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی اور یہ علاقہ مذہبی سیاحت کے حوالے سے ایک مقام حاصل کرلے گا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شان دار پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کے درمیان واقع، خیبر پختونخوا کا خطہ گہری مذہبی اہمیت کا حامل ہے، جہاں دنیا بھرکے ہندو، بدھ مت اور سکھ زائرین کے لیے کئی مقدس مقامات موجود ہیں۔</p>
<p>خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاحت کی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں۔ یہاں بدھ مت کے قدیم مقامات بھی موجود ہیں جو تخت بھائی، صوابی، مردان میں ہیں جہاں ہر سال زائرین آتے ہیں۔ یہ مقامات یہاں ایک زمانے میں پروان چڑھنے والی گندھارا تہذیب کے گواہ ہیں اور اس خطے میں بدھ مت کے اثر و رسوخ کا ثبوت ہیں۔</p>
<p>وادی سوات اپنے دل کش منظرنامے کے ساتھ، ماضی کے آثار سے مزین ہے۔ ان میں بٹکارہ اسٹوپا بھی شامل ہے۔ اس طرح ہندو مذہب کے پیروکاروں کے لیے خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس شہر میں کئی اہم ہندو مندر ہیں، جن میں گور کھتری اور بالمیکی مندر بھی شامل ہیں۔ یہ مندر علاقے میں مذہبی رواداری اور ثقافتی تنوع کی علامت  ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16144706bfdbabe.jpg'  alt='گورکھتری، پشاور کا اہم ہندو مندر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گورکھتری، پشاور کا اہم ہندو مندر</figcaption>
    </figure></p>
<p>سکھ مذہب کا بھی خیبر پختونخوا کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ حسن ابدال میں واقع پنجہ صاحب گردوارے کو دنیا بھر کے سکھ اس لیے عزت دیتے ہیں کیونکہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی نے اپنے روحانی سفر کے دوران اس مقدس مقام کا دورہ کیا تھا۔ گرودوارے کا ماحول روحانی سکون اور اپنے عقیدے کی تاریخ کے متلاشی زائرین کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔</p>
<p>ثقافتی طور پر متنوع مذہبی منظرنامے کے درمیان، پشاور میں پشتو کے معروف صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار عوام کے لیے ایک قابل قدر مقام رکھتا ہے۔ جہاں اس خطے کی مذہبی اہمیت کو اچھی طرح سے منایا جاتا ہے، وہیں ضلع چترال کی وادی کالاش میں ایک ثقافتی عجوبہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/04/5520a42894c18.jpg'  alt='پشاور میں معروف صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار&mdash;تصویر: ڈان/فائل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پشاور میں معروف صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار—تصویر: ڈان/فائل</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی طرح کرک میں ہندوؤں کی واحد سمادھی ٹیری مندر سیاحوں کے لیے بہت پُرکشش ہے۔ شری پرم ہنس جی مہاراج کی یہ سمادھی نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کے مختلف حصوں اور اس سے باہر ہندو برادری کے لیے مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹیری کا یہ مندر ایک مقدس مقام کے طور پر ہندو عقیدت مندوں اور یاتریوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جو یہاں تعظیم دینے، آشیرواد حاصل کرنے اور مذہبی رسومات میں حصہ لینے کے لیے آتے ہیں۔</p>
<p>یہ مقام شری پرم ہنس جی مہاراج سے روحانی تعلق اور عقیدت کی جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ علاقے میں ہندو برادری کے بھرپور مذہبی اور ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر کام کررہا ہے۔ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1150432"><strong>2020ء میں اس کو جلایا دیا گیا تھا</strong></a> اور اس سے قبل 1997ء میں بھی اس پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب اس کی دوبارہ تعمیر کردی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614373815a6310.jpg?r=143805'  alt='کرک میں ہندوؤں کی واحد سمادھی ٹیری مندر سیاحوں کے لیے بہت پُرکشش ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کرک میں ہندوؤں کی واحد سمادھی ٹیری مندر سیاحوں کے لیے بہت پُرکشش ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>زائرین اب  بےخوف و خطر ہوکر اپنی رسومات ادا کرتے ہیں جس سے ٹیری میں مذہبی سیاحت کا آغاز ہوگیا ہے کیونکہ ہندو کثیر تعداد میں ٹیری کی زیارت کرتے ہیں اور کچھ دن گزار کر واپس چلے جاتے ہیں۔ پہلے یہ سمادھی کے نام سے جانی جاتی تھی اب یہ سمادھی مندر کے نام سے مشہور ہے جس میں ہندو زائرین اپنی پوجا کرتے ہیں اور گرو پرم ہنس کو یاد کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614415210451d0.jpg?r=144237'  alt='  اس مندر میں زائرین بےخوف ہوکر رسومات ادا کرتے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اس مندر میں زائرین بےخوف ہوکر رسومات ادا کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اب کچھ تعارف گرو پرم ہنس کا بھی ہوجائے۔ شری پرم ہنس سوامی ادویتانند جی مہاراج (پیدائش شری رام یاد)  جنہیں شری پرم ہنس دیال مہاراج جی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، شری تلسی داس جی پاٹھک کے بیٹے تھے۔ آپ چھپرا شہر میں ضلع سارن، بہار، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ شری پرم ہنس دیال مہاراج جی کو شری پرم ہنس ادویت کے پہلے روحانی استاد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔</p>
<p>شری پرم ہنس دیال جی نے جگہ جگہ سفر کیا اور سہج یوگا، بھکتی اور انسانیت کی خدمت کا پیغام سب تک پہنچایا۔ شری پرم ہنس دیال جی کافی وقت تک جے پور میں رہے اور وہاں کے لوگوں کی روحانی تبلیغ اور ترقی کا کام شروع کیا۔ وہاں ان کے پیروکاروں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ شری پرم ہنس دیال جی نے 10 جولائی 1919ء کو سوامی سوارو پانند جی کو جانشینی منتقل کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614423288a4df9.jpg?r=144237'  alt='  شری پرم ہنس سوامی ادویتانند جی مہاراج  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شری پرم ہنس سوامی ادویتانند جی مہاراج</figcaption>
    </figure></p>
<p>گرو پر ماہانس نے ٹیری میں کافی وقت گزار اور یہاں ان کے کافی مرید بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیری میں ایک مقدس سمادھی مزار بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی کھوج میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے، خیبر پختونخوا میں شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی جیسے مقدس مقامات کا دورہ کرنا روحانی اور ثقافتی طور پر عمیق تجربہ ہوتا ہے۔</p>
<p>حکومت اور مقامی حکام زائرین کے لیے انفرااسٹرکچر اور سہولیات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ اس حوالے سے ٹیری کرک کے مندر (سمادھی) کے دیکھ بھال کرنے والے ایڈووکیٹ روہت کمار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی سیاحت کو تو فروغ نہیں مل پارہا مگر مذہبی سیاحت کے حوالے سے پاکستان خاص طور پر خیبر پختونخوا بہت زیادہ مالامال ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16143635a9fb998.jpg?r=143702'  alt='حکومت خیبرپختونخوا میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حکومت خیبرپختونخوا میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>روہت کمار کا کہنا تھا کہ ’ٹیری کی حیثیت بھی ایک طرح سے کرتار پور جیسی ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرو پرم ہنس کے مرید پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر خیبر پختونخوا میں اس پر کام کیا جائے تو ٹیری میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوگی۔ اس کی دوبارہ تعمیر کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان خود آئے تھے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ’سنگارپور، بھارت، امریکا اور کینیڈا سے لوگ اس مندر کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس سے صوبے کی معیشت بہتر ہوسکتی ہے‘۔ اس حوالے سے پریم تلریجا (ریٹائرڈ) سینیئر چیف انجنیئر کا کہنا ہے کہ ’بابا کے مرید پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ نیویارک، شکاگو، نیو جرسی اور باسٹن سمیت پورے امریکا میں ان کے 12 آشرم ہیں۔ لندن، سنگاپور، منیلا اور بھارت کے تو ہر کونے میں بابا کے آشرم موجود ہے مگر ان کی سمادھی ٹیری میں ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر کا مقام ہے کہ ہم اس کے نزدیک رہتے ہیں اور جب جی چاہتا ہے ہم آجاتے ہیں مگر دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مرید وسائل ہونے کے باوجود بھی زیارت کے لیے یہاں نہیں آسکتے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16144201e3f5766.jpg?r=144237'  alt='  مندر میں زائرین شری پرم ہنس جی مہاراج کی تصویر پر پھول چڑھاتے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مندر میں زائرین شری پرم ہنس جی مہاراج کی تصویر پر پھول چڑھاتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>پریم تلریجا کہتے ہیں کہ ’بیرونِ ملک سے زائرین کے یہاں آنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم یہاں ٹیری میں کتنے افراد کو ٹھہرا سکتے ہیں اور یہاں انتظامات کیسے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس 3 سو سے 4 سو افراد کی رہائش، کھانے پینے اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کا انتظام موجود ہے۔</p>
<p>’لیکن ان 3 سو سے 4 سو لوگوں میں سے تقریباً 2 سو زائرین تو پاکستان کے ہی ہوجاتے ہیں یوں بیرونِ ملک سے ڈیڑھ یا 2 سو سے زیادہ زائرین کے آنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے ہر ملک سے بس چند لوگ ہی زیارت کے لیے آتے ہیں‘۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دو، تین مرتبہ بیرونِ ملک سے زائرین بڑی تعداد میں اس مندر کی زیارت کے لیے آئے ہیں۔ ہر مرتبہ ان زائرین کی تعداد 100 سے 200 کے درمیان تھی۔ تاہم ٹیری میں مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پشاور اور اسلام آباد کے ہوٹلوں میں ٹھہرانا پڑتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16144227d8c5573.jpg?r=144237'  alt='  سمادھی کے صحن میں موجود زائرین  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سمادھی کے صحن میں موجود زائرین</figcaption>
    </figure></p>
<p>اب ہندو برادری نے ٹیری میں ایک زمین خرید کر وہاں گیسٹ ہاؤس کی تعمیر شروع کی ہے۔ 6 منزلہ اس عمارت میں کُل 90 کمرے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس میں 70 کے قریب گاڑیوں کو پارک کرنے کی بھی گنجائش ہوگی۔ یہ گیسٹ ہاؤس بیرون ملک یا پاکستان سے ہی آنے والے زائرین کو ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تعمیر کا کُل تخمینہ 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1614362138ca459.jpg?r=143702'  alt='زائرین کے لیے ہندو برادری گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کررہی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>زائرین کے لیے ہندو برادری گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کررہی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/16143641a65044a.jpg?r=143702'  alt='گیسٹ ہاؤس میں کُل 90 کمرے ہوں گے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گیسٹ ہاؤس میں کُل 90 کمرے ہوں گے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پریم تلریجا کے مطابق ’اگر حکومت کوشش کرے تو ٹیری کو ایک اچھا سیاحتی مقام بنایا جاسکتا ہے۔ جس طرح تیل اور گیس کی وجہ سے علاقے کی قسمت بدل رہی ہے اسی طرح سیاحت سے بھی یہ علاقہ ترقی کرے گا‘۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’بھارت میں موجود شری پرم ہنس کے مریدوں کو بھارتی پاسپورٹ کی وجہ سے ویزا ملنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ہم بھی بھارت جاتے ہیں تو ہمیں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے اور ویزا آسانی سے ملنا شروع ہوجائیں تو گرو جی کے لاکھوں پیروکار زیارت کے لیے ہرسال یہاں کا رخ کریں گے۔ ان میں بیرونِ ملک سے آنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی اور یہ علاقہ مذہبی سیاحت کے حوالے سے ایک مقام حاصل کرلے گا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208717</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Aug 2023 13:59:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالوسیم خٹک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/1914003976b8848.jpg?r=140055" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/1914003976b8848.jpg?r=140055"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفرنامہ ہسپانیہ:’غرناطہ بھی دیکھا میری آنکھوں نے۔۔۔‘ (چوتھی قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208587/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;دوسرے دن علی الصبح قرطبہ شہر بارش کی بوندوں سے پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ غمگین آنکھوں اور اداس دل کے ساتھ ہم اپنی رہائش گاہ سے چند منٹ کے فاصلے پر موجود ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف رواں دواں تھے۔ اسپین آکر ہمیں یورپ کی تیز بارشوں کا اندازہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/011056315e01187.jpg'  alt='بارش کی وجہ سے قرطبہ شہر کی سڑکیں مزید خوبصورت ہوگئی تھیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بارش کی وجہ سے قرطبہ شہر کی سڑکیں مزید خوبصورت ہوگئی تھیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھتری نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسی میں بیٹھنے تک گالوں سے پانی ٹپکنا شروع ہوگیا تھا۔ بارش کی وجہ سے قرطبہ کی سڑکیں مزید خوبصورت ہوگئی تھیں۔ چند گلیوں میں گھومتے ہوئے ہماری ٹیکسی 10 منٹ میں قرطبہ شہر کے مرکزی بس اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ سامان اتارنے کے ساتھ ہی ہم نے بس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کی جانب دوڑ لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/0111070811ddb50.jpg'  alt='قرطبہ کا بس اسٹیشن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قرطبہ کا بس اسٹیشن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ہمارے پاس گرینیڈا (غرناطہ) جانے کے لیے ٹکٹس موجود نہیں تھے۔ اس لیے بس اسٹیشن پر موجود انفارمیشن سینٹر سے غرناطہ کے بس ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ کاؤنٹر کا پتا کیا تو انفارمیشن ڈیسک پر موجود خاتون آفیسر نے غرناطہ کے لیے اسٹینڈ پر موجود بس میں خالی نشستیں چیک کرکے بتایا کہ، ’15 منٹ بعد نکلنی والی بس میں  تو صرف ایک سیٹ خالی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لیکن ہم تو تین ہیں‘، آفیسر کی بات کاٹتے ہوئے افتخار صاحب پریشانی کی حالت میں بول پڑے۔ خاتون آفیسر مسکرائی اور کہا کہ ’اگلی بس 45 منٹ بعد جائے گی۔ اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس اسٹیشن پر جگہ جگہ ٹکٹ بکنگ کے لیے خودکار بوتھ بھی نصب کیے گئے تھے جن پر مقامی ہسپانوی لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ ہم غرناطہ کے لیے مختص کاؤنٹر سے 45 یوروز کے عوض تین ٹکٹ خرید کر بس اسٹیشن پر موجود کیفے ٹیریا کی طرف چل پڑے۔ چونکہ ہم نے ناشتہ نہیں کیا تھا اس لیے بھوک بھی ستانے لگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیفے میں رش کے باعث ایک چھوٹی میز کے ساتھ تین مختلف جگہوں سے کرسیاں اکٹھی کرکے  ناشتے کا آرڈر دیا۔ ناشتے میں کیک، بریڈ اور سلیمانی چائے آرڈر کی۔ سلیمانی چائے میڈریڈ سے لے کر یہاں تک کے ہمارے ناشتے کا مستقل مینیو تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد تقریباً 5 منٹ پہلے ہی ہم بس میں اپنی سیٹوں پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس مسافروں سے بھر چکی تھی اس لیے اپنے مقررہ وقت پر قرطبہ شہر کی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01111040d72fe3a.jpg'  alt='قرطبہ سے غرناطہ کی جانب سفر کا آغاز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قرطبہ سے غرناطہ کی جانب سفر کا آغاز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے مجھے ونڈو سیٹ ملی۔ ساتھ والی سیٹ پر افتخار صاحب جبکہ دوسری طرف سیٹوں پر عبداللہ شاہ صاحب کے ساتھ ایک بوڑھی ہسپانوی خاتون بیٹھی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’قرطبہ سے غرناطہ کا سفر کتنا ہوگا؟ افتخار صاحب نے مجھے  مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔ ’تقریباً 3 گھنٹے اور 10 منٹ کا، ان شااللہ۔ دوپہر 12 بجے تک ہم غرناطہ شہر پہنچ جائیں گے‘، میں نے جواباً کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس قرطبہ شہر سے نکل کر سرسبز  پہاڑی علاقے میں داخل ہوگئی۔ سڑک کے دونوں اطراف سرسبز وسیع وادیوں میں زیتون، انجیر اور مالٹوں کے باغات دور دور تک نظر آرہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم غرناطہ میں کیا دیکھنے جارہے ہیں‘، افتخار صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتخار صاحب تاریخ سے نابلد تھے لیکن سیاحت کا شوق اور نئی جگہوں کے بارے میں جاننے کا شوق انہیں اسپین لے آیا تھا۔ اس سے پہلے وہ عبداللہ شاہ صاحب کے ساتھ مصر، ترکی اور لیبیا کا سفر بھی کرچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے افتخار صاحب کو اپنی طرف متوجہ کرکے غرناطہ کے بارے میں بتانا شروع کیا کہ ’غرناطہ اسپین کے صوبے اندلوسیہ کا مرکزی اور اہم  شہر ہے جس کی اس وقت آبادی 2 لاکھ 36 ہزار نفوس ہے۔ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے جو سیرہ انوادہ پہاڑی سلسلے کے دامن میں سیکڑوں سالوں سے آباد ہے۔ مسلمانوں کے دور سے قبل اس شہر کا نام البیرہ (Albira) تھا۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں یہ یونان کا صوبہ تھا اور اس کی سلطنت میں شمار ہوتا تھا۔ پہلی صدی میں رومنز نے یونانیوں کو یہاں سے بے دخل کیا تو پھر یہاں گوتھ (عیسائی) حکمران آئے۔ اس کے بعد غرناطہ نے طارق بن زیاد کا استقبال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’موحدین کا دور جب اندلس میں ختم ہوا اور اُندلس میں مسلمانوں کے اختلافات سے ملک کئی ریاستوں میں تقسیم ہوا تو غرناطہ کو بھی ایک الگ ریاست کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا عروج بنو نصر قبائل کے حکمرانوں کے دور سے شروع ہوا۔ بنو نصر حکمرانوں نے غرناطہ شہر کی سب سے بلند جگہ پر الحمرا محل جیسا شاہ کار تعمیر کیا جوکہ 800 سالوں تک پوری شان سے قائم ہے اور دنیا کے عجائب میں 10ویں نمبر پر ہے۔ اس کو دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح  آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’الحمرا محل سمیت بہت سی یادگاریں اور اس شہر کا چپہ چپہ مسلمانوں کے شاندار ماضی اور مختلف تہذیبوں کے ادوار کی گواہی دیتا ہے۔ بس ہمیں ان مقامات کا دورہ کرنا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’تو پھر ہمیں کتنے دن وہاں گزارنے ہیں؟‘ افتحار صاحب نے ایک اور سوال پوچھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’غرناطہ شہر اور اس کے اردگرد تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے تقریباً ایک ہفتہ تو درکار ہوگا لیکن ہم کوشش کریں گے کہ دو دنوں میں زیادہ سے زیادہ مقامات دیکھ سکیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جی ٹھیک ہے‘، میرا جواب سن کر افتخار صاحب کچھ مطمئن ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم 2 گھنٹے اور 30 منٹ کا سفر طے کرچکے تھے۔ ہماری بس غرناطہ کی جانب رواں دواں تھی۔ سرسبز وادیاں کھیت اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلے گزر رہے تھے۔ خوشگوار موسم اور نیلا آسمان سفر کو مزید حسین بنا رہا تھا۔ خوبصورت سرسبز وادیوں میں دور دور تک زیتوں کی فارمنگ کی گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم دنیا کے ایسے کونے پر آگئے ہیں جہاں زیتوں کےعلاوہ کوئی چیز اُگ ہی نہیں سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01111543711bddb.jpg'  alt='خوبصورت سر سبز وادیوں میں دور دور تک زیتوں کی فارمنگ کی گئی تھی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;خوبصورت سر سبز وادیوں میں دور دور تک زیتوں کی فارمنگ کی گئی تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 45 منٹ مزید سفر کرنے کے بعد ہم غرناطہ شہر کے مضافات میں داخل ہوچکے تھے۔ سیرانوار یا سیرہ انوادہ کے پہاڑوں کے دامن میں واقع غرناطہ کے خوبصورت اور جدید شہر کے نظارے اب ہم سے صرف چند منٹوں کے فاصلے پر تھے۔ اس پہاڑی سلسلے میں دو دریا، ’جینل‘ اور ’ڈورو‘ بہتے ہیں جو بعد میں دغا کے مقام پر مل کر ایک دریا کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ان دریاؤں سے غرناطہ شہر اور مضافات کی آب پاشی کا پورا نظام مسلمانوں کے دور میں ہی بنایا گیا تھا جو اب تک ہسپانوی لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنے میں بس ڈرائیور نے اعلان کیا کہ ہم گرینیڈا (غرناطہ) پہنچ چکے ہیں۔ بس سے اترتے ہی ہم سردی سے کپکپانے لگے قرطبہ اور میڈریڈ کے مقابلے میں یہاں کا موسم ٹھنڈا اور ہوا خشک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01111937039a430.jpg'  alt='اور ہم غرناطہ پہنچ گئے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اور ہم غرناطہ پہنچ گئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ الحمرا پیلس اور اس سے ملحقہ مقامات کو دیکھنے کے لیے پہلے سے ٹکٹ لینا ضروری ہوتا ہے اس لیے الحمرا محل کے مین گیٹ پر ٹکٹ لینے کے لیے آپ کو گھنٹوں پہلے جانا پڑتا ہے لیکن ہمارے پاس آن لائن بکنگ کا آپشن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس اسٹیشن پر موجود غرناطہ کی سیر کے لیے ٹورازم ایجنسی کی ڈیسک موجود تھی۔ یہاں سے معلومات لی تو ڈیسک پر موجود خاتون نے الحمرا محل کے ٹکٹ(15 یورو)  کے علاوہ 35 یورو فی کس ٹور کے چارجز کا کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے پوچھنے پر ٹور کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے خاتون فرمانے لگیں کہ ’یہ ٹور پیدل ہوگا جس میں ہمارا گائیڈ آپ کو غرناطہ میں مسلمانوں کی پرانی آبادی البشین یا البایزین، یونیورسٹی آف گرینیڈا (اسلامی یونیورسٹی)، چرچ آف گرینیڈا اور اگلے دن الحمرا محل اور اس سے ملحقہ مقامات کے وزٹ کروائے گا جبکہ اس ٹور پیکچ میں مِیل (خوراک) شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’میرے خیال میں تو آج اور کل کا دن ہم ٹور کمپنی کے ذریعے ہی ٹور کریں‘، افتخار صاحب نے بھی میرے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ ’بالکل ٹھیک ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01114541917abc7.jpg'  alt='غرناطہ شہر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غرناطہ شہر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں میرے خیال میں ہمیں میڈریڈ اور قرطبہ کی طرح آپ کی قیادت میں خود ہی ٹور کرنا چاہیے اور الحمرا محل کی ٹکٹ تم بیلجیئم یا روسی دوست کے ذریعے آن لائن کروالینا اور ویسے بھی ہم پھر ٹور کمپنی کے دیے گئے شیڈول کے پابند ہوں گے‘۔ عبداللہ شاہ کی رائے مجھے مناسب لگی۔ اس لیے ٹور بک نہ کرنے پر معذرت کرکے ہم غرناطہ کا نقشہ لے کر بس اسٹیشن سے باہر نکلے اور قریب ہی برگر کنگ کے ایک ریسٹورنٹ میں بھوک مٹانے کے لیے چپس اور بریڈ کا آرڈر دے کر غرناطہ کا نقشہ چھاننے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آدھے گھنٹے کے بعد ہماری ٹیکسی غرناطہ شہر کی سڑکوں پر اپارٹمنٹ کی جانب رواں دواں تھی۔ یہاں بھی شہر کے مرکز میں بیلجیئم میں مقیم دوست تاج الدین نے آن لائن ایپ ’ایئر بی این بی‘ کے ذریعے  ہمارا اپارٹمنٹ بُک کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01120516985367f.jpg'  alt='برگر کنگ کا خوبصورت ریستوران' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;برگر کنگ کا خوبصورت ریستوران&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی زمانے میں اندلس کے مسلمانوں کا عظیم شہر غرناطہ آج یورپ کے ایک جدید شہر گرینیڈا میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اونچی اونچی عمارتیں، کشادہ سڑکیں، شاپنگ مالز، کلبز  اور سیاحوں کا جمِ غفیر جگہ جگہ پر نظر آرہا تھا۔ لیکن قصر الحمرا کے آس پاس پرانے غرناطہ شہر کی یادیں آج بھی اپنے پرانے محرابی دروازوں، حویلیوں اور فواروں والے صحن کے مکانوں کی صورت میں دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01120902172d087.jpg?r=120912'  alt='گرینیڈا کا خوبصورت شہر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گرینیڈا کا خوبصورت شہر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی اور ٹیکسی کے ڈرائیور رچرڈ نے سامنے پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ رہا الحمرا محل اور الحمرا کا قلعہ یہ آپ کی رہائش سے چند منٹ کی دوری پر ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الحمرا کا قلعہ غرناطہ کی پہاڑیوں کے اوپر بالکل ہمارے سامنے تھا۔ اس قلعے میں غرناطہ پر حکومت کرنے والے بنو نصر حکمرانوں کے محلات موجود ہیں۔ غرناطہ کا شہر ان پہاڑوں کے دامن میں آباد ہے۔ قصر شاہی  اس قلعے کا ایک حصہ ہے اور قلعے کے اندر موجود ایوان اور باغات آج بھی دنیا بھر کے لیے جنت کی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 ندیوں، سنگرو، جنیل، موناچیل اور بیرو کے سنگم پر واقع یہ شہر سطح سمندر سے اوسطاً 738 میٹر (2421 فٹ) کی بلندی پر ہے اس کے باوجود بحیرہ روم کے ساحل یہاں سے کار میں صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ رہی آپ کی رہائش‘، رچرڈ نے سامنے اسٹریٹ میں ایک اپارٹمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور ہمارا سامان اتارنے لگا۔ رہائش کے سامنے دو کمروں پر مشتمل خوبصورت اپارٹمنٹ کے مالک نے ڈور لاک کوڈ سمجھاتے ہوئے خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/0112105441287ad.jpg'  alt='غرناطہ کی ایک خوبصورت اسٹریٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غرناطہ کی ایک خوبصورت اسٹریٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو کمروں پر مشتمل اس اپارٹمنٹ میں ہر قسم کی سہولت موجود تھی۔ اب تک کی تمام رہائشوں میں یہ بہترین رہائش تھی۔ اپارٹمنٹ کے مالک سے وائے فائے پاسورڈ، قریب حلال ریسٹورنٹ اور نقشے پر موجود سیاحتی مقامات تک پہنچنے کے لیے رہنمائی لےکر رخصت لی۔ نماز کی ادائیگی اور تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم رہائش کے قریب ہی مرکزی چوک میں پہنچے تو دیکھا کہ چوک کے درمیان میں ملکہ ازابیل اور مشہور مہم جو اور امریکا کو دریافت کرنے والے کولمبس کے مجسمے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مجسموں میں ملکہ تخت پر تاج پہن کر بیٹھی کولمبس کو ایک کاغذ پر لکھا اپنا فرمان دے رہی ہے۔ کولمبس شاہی فرمان کو شاہی آداب کے مطابق جھک کر وصول کررہا ہے، یہی وہ اجازت نامہ ہے جس کے ذریعے کولمبس نے امریکا کی دریافت کو ممکن بنایا اور دنیا کی تاریخ بدل ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01124503fb708ef.jpg'  alt='ملکہ ازابیل اور کولمبس کے مجسمے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ملکہ ازابیل اور کولمبس کے مجسمے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/011309272f43890.jpg'  alt='شاہی کیتھڈرل یعنی چرچ آف گرینیڈا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہی کیتھڈرل یعنی چرچ آف گرینیڈا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس چوک سے کچھ ہی فاصلے پر اسلامی دور کے قدیم مرکزی علاقے میں پہنچے جو باب رملہ کہلاتا ہے جہاں پر غرناطہ کا مرکزی شاہی کیتھڈرل یعنی چرچ آف گرینیڈا موجود ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہم اس مرکزی چرچ کے عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ چرچ کے مین گیٹ کے سامنے لگے بورڈ سے معلوم ہوا کہ اس جگہ پہلے غرناطہ کے مسلمانوں کی مرکزی جامع مسجد تھی لیکن مسلمانوں کی شکست کے بعد مسجد کی عمارت کو چرچ میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ دنیا کا چوتھا بڑا کیتھیڈرل ہے۔ اس کے اندر 5 چیپل یعنی عیسائی مذہب کے مختلف مکاتب فکر کی عبادت گاہیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چرچ کے مین گیٹ کے سامنے 10ویں صدی میں تعمیر کردہ اسلامی درسگاہ (مدرسہ) موجود ہے جو کہ آج کل یونیورسٹی آف گرینیڈا کا حصہ ہے۔ مدرسے کی اس عمارت میں اس دور کی یادگاریں بھی موجود ہیں۔ اس درس گاہ کو خلیفہ یوسف اول نے 1349ء میں قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05094627e4252c4.jpg'  alt='   اسلامی درس گاہ (مدرسہ) جو کہ آج کل یونیورسٹی آف گرینیڈا کا حصہ ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسلامی درس گاہ (مدرسہ) جو کہ آج کل یونیورسٹی آف گرینیڈا کا حصہ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں پر قرآن پاک، تفسیر حدیث، تاریخ، فلسفہ اور منطق جیسے علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ غرناطہ کے مسلمانوں کی تقریباً 800 برس کی عالیشان حکومت نے علم وادب کے میدان میں ایسی شمعیں روشن کی تھیں جس کی روشنی نے پورے یورپ کو علم و ادب کے نئی منزلوں کا سراغ دیا اور اس مدرسے کی یہ خوبصورت عمارت اس کی ایک تابندہ مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عظیم فلسفی ابن خلدون جب تیونس سے غرناطہ آئے تو جہاں وہ یہاں پر قیام کے دوران سلطان محمد پنجم کے سفیر کے طور پر کام کرنے لگے وہاں اس درس گاہ میں اُس دور کے طالب علموں میں علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ یونیورسٹی آف گرینیڈا کے اس وقت اندلوسیہ ریجن میں 5 کیمپس ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات یہاں سے مختلف علوم میں ڈگریاں حاصل کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چرچ اور یونیورسٹی کے ساتھ متصل گلی میں اسلامی دور کی قدیم مارکیٹ ’قیصریا‘ بھی تھی۔ اس وقت اس مارکیٹ میں ریشم کا کاروبار کیا جاتا تھا۔ اس مارکیٹ میں سیاحوں کی ضرورت کی مختلف اشیا کی دکانیں سلیقے کے ساتھ سجائی گئی تھیں۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم اندھیرے سے پہلے غرناطہ میں مسلمانوں کی پرانی بستی البایزین کو دیکھ لیں اور غروب آفتاب کے مناظر دیکھنے کے لیے غرناطہ کے ویو پوائنٹ پر پہنچ جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے قیصریا کی قدیم مارکیٹ کی طرف جانے کی بجائے ہم اپنی اگلی منزل البایزین روانہ ہوئے۔ گوگل میپ کے مطابق البایزین کی بستی 10 منٹ کے فاصلے پر تھی۔ اس لیے مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے ہم البایزین کے خوبصورت بازار میں پہنچے جہاں بازار کے دونوں اطراف مراکشی اور ترکش مسلمانوں کی خوبصورت دکانیں موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/050951126652d8c.jpg'  alt='البایزین کا خوبصورت بازار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;البایزین کا خوبصورت بازار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھوک کی شدت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے عبداللہ شاہ صاحب کے مشورے کے مطابق ہم نے حلال ریسٹورنٹ کی تلاش شروع کردی۔ چونکہ یہاں بڑی تعداد میں مراکش، ترکی اور عرب کے دوسرے ممالک سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف کاروباروں میں مصروف عمل نظر آرہے تھے اس لیے ہمیں چند قدم پر ہی حلال ریسٹورنٹ  نظر آنا شروع ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ہم ایک مراکشی ریسٹورنٹ میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ مراکش سے تعلق رکھنے والے اس ریسٹورنٹ کے مالک حبیب نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ چاول اور گوشت سے جب خوب سیر ہوگئے تو حبیب سے گپ شپ کے دوران پتا چلا کہ اس وقت غرناطہ میں 15 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں جن کی اکثریت مراکش اور دیگر ممالک سے روزگار کی تلاش کے لیے یہاں پہنچی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05100554acf5535.jpg'  alt='   مراکشی ریسٹورنٹ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مراکشی ریسٹورنٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051005539dbc10e.jpg'  alt='حبیب کا خوبصورت ریستوران' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حبیب کا خوبصورت ریستوران&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیڑھ ہزار کے قریب مقامی عیسائی بھی مسلمان ہوئے ہیں جن میں کچھ طلبہ بھی ہیں جو مقامی یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے اپنے اپنے ملک سے آئے ہیں۔ اس ریسٹورنٹ سے اوپر کی طرف پہاڑی کے عین اوپر بستی میں سان نکلس چرچ موجود ہے جوکہ غرناطہ کا ویو پوائنٹ بھی ہے۔ اسی کی قریب ایک گلی میں اب مسلمانوں نے خوبصورت جامع مسجد بھی تعمیر کروادی ہے اور اسی مسجد کے اردگرد زیادہ مسلمان آباد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھانے کے بعد ہم البایزین کی تاریخی آبادی کو کھنگالنے نکل پڑے۔ عمودی چڑھائی پر واقع یہ 10 کلو میٹر طویل علاقہ 700ء سے لےکر 1600ء تک کی جانے والی تعمیرات پر مشتمل ہے جنہیں اپنی اصل حالت میں رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ البائزین بستی میں پرانے محرابی دروازے، اسلامک آرٹ سے مزین درودیوار اور مکانوں کے صحن میں لگے فوارے آج بھی شان سے موجود ہیں اور عہد ماضی کے درخشاں دور کی یاد دلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمودی چڑھائی چڑھتے چڑھتے میرے ہم سفر ساتھیوں کا برا حال ہوچکا تھا۔ اس پورے سفر میں مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میرے ساتھ بزرگوں کی ٹیم ہے اور میں مسلسل ان کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051011216772510.jpg'  alt='البایزین کی قدیم بستی اور پس منظر میں الحمرا کا خوبصورت محل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;البایزین کی قدیم بستی اور پس منظر میں الحمرا کا خوبصورت محل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راستے میں چرچ آف سان سیلواڈور کی عمارت کے ساتھ کچھ دیر رکے۔ یہ چرچ سولہویں صدی میں البایزین مسجد کے اوپر تعمیر ہوا تھا جو اپنے غیر معمولی محرابوں، عرب طرز کی چھتوں اور روایتی انداز کے پانی کے اسٹوریج کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس چرچ کا فنِ تعمیر بھی اپنی مثال آپ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر کار ہم البائزین بستی کے بلند ترین مقام سان نکلس چرچ پر پہنچ چکے تھے۔ سان نکلس چرچ آج سے 600 سال قبل مسجد تھا لیکن جب مسلمانوں کا زوال ہوا تو کچھ عرصے بعد عیسائیوں نے اس کو عبادت گاہ کے طور پر منتخب کیا اور پھر مسجد کو چرچ میں بدل دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051039029f45498.jpg?r=105536'  alt='سان نکلس چرچ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سان نکلس چرچ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چرچ کے صحن میں سیکڑوں سیاح گھوم رہے تھے کیونکہ یہ شہر کو دیکھنے کے لیے سب سے بہترین مقام تھا۔ اگر اس مقام کو اسلام آباد کے مونال (پیر سوہاوہ) سے تشبیہ دی جائے تو مناسب ہوگا۔ یہاں سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051042461f20caa.jpg'  alt='یہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں سے نہ صرف الحمرا محل کا نظارہ کیا جاسکتا ہے بلکہ یہاں سے غروب اور طلوع آفتاب کے مناظر بھی سیاحوں کو دیر تک مقید رکھتے ہیں۔ ہم چرچ کے صحن میں موجود سیاحوں کے ساتھ شامل ہوئے۔ یہاں سے الحمرا محل، غرناطہ شہر اور دور مولائے حسن کے پہاڑی سلسلے کے مناظر مدہوش کن تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05103836b0d4988.jpg'  alt='البائزین کی بستی سے الحمرا محل کا خوبصورت نظارہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;البائزین کی بستی سے الحمرا محل کا خوبصورت نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں پر نظر آنے والے غروب آفتاب کے مناظر نے مجھے کافی دیر تک سکتے میں رکھا کیونکہ اس سے پہلے ایسا خوبصورت منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ تھکاوٹ سے برا حال تھا اور یہ جگہ پرسکون اور دلکش نظاروں سے بھرپور تھی اس لیے کافی دیر فوٹوگرافی کرنے کے بعد ہم قصر الحمرا کی طرف ڈھلوانی میدان میں قدیم وجدید بازار کی طرف چل پڑے۔ البایزین کی تمام گلیوں کو چھوٹے چھوٹے پتھروں پر سیمنٹ لگا کر پختہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں سے ایک راستہ البایزین سے متصل جپسی لوگوں کی سیکرو مینٹو نامی غاروں کی طرف جاتا ہے۔ جپسی وہ مظلوم قوم ہیں جن پر تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑا ظلم ہوا اور انہیں غلام بنا کر رکھا گیا جبکہ ہٹلر نے ان کا قتل عام کیا۔ جپسی نسل ہزاروں سال پہلے پنجاب اور اس سے قریبی علاقوں سے ہجرت کرکے افغانستان سے ترکی اور پھر یورپ آئے۔ غرناطہ پر جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی تو عیسائیوں نے انہیں تنگ کرنا شروع کردیا۔ عیسائیوں کے خوف سے جپسیوں نے ان غاروں میں پناہ لی اور ابھی تک انہی غاروں میں مقیم ہیں۔ ان میں زیادہ تر عیسائی مذہب سے وابستہ ہیں جبکہ کچھ مسلمان بھی ہیں۔ ان غاروں میں جپسی مرد اور عورتیں شام ہوتے ہی اسپین کے مشہور روایتی ڈانس سے سیاحوں کا دل بہلاتے ہیں اور شام ہوتے ہی ان غاروں میں ہلا گلا شروع ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی زیادہ تر سیاحوں کا رخ ان غاروں کی طرف ہی تھا لیکن ہم غاروں کی طرف جانے کی بجائے نیچے ڈھلوان کی طرف حدرہ ندی کے کنارے پر پہنچ گئے۔ الحمرا محل کے نچلے کنارے پر واقع اس ندی کو عرب حدرہ اور رومن اسے دارو کہتے تھے۔ رومن زبان میں دارو (Darro) کا مطلب سونا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں اس ندی میں لوگ سونا تلاش کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس ندی کا نام دارو پڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/0510581200a45a5.jpg'  alt='غروب آفتاب کے وقت الحمرا محل کا نظارہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غروب آفتاب کے وقت الحمرا محل کا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندی کے کنارے ایک قدیم محل تھا۔ یہ شاہی خاندان کے بچوں کے لیے درس گاہ تھی۔ چونکہ رات ہوچکی تھی اس لیے ہمیں محل کے اندر جانے کا موقع نہیں مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05110308a8cbaa3.jpg'  alt='رات کی رنگینیاں اس وقت بازاروں پر غالب ہوچکی تھیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رات کی رنگینیاں اس وقت بازاروں پر غالب ہوچکی تھیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریب ایک ترکش ریسٹورنٹ میں چائے پینے کے بعد ہم واپس مرکزی چوک پہنچ چکے تھے۔ دن کا کھانا دیر سے کھایا تھا اس لیے مزید کھانے کی طلب نہ ہونے کی وجہ سے ہم واپس اپنے اپارٹمنٹ پہنچ گئے۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد دونوں ہم سفر دوست آرام کے لیے اپنے کمروں میں گھس گئے جبکہ میں اگلے دن الحمرا محل میں داخلے کے آن لائن ٹکٹ اور اشبیلیہ سے بارسلونا کی فضائی ٹکٹس بک کروا کر لاؤنج میں ہی صوفے پر تھوڑی دیر میں خراٹے لینے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تصاویر بشکریہ لکھاری&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>دوسرے دن علی الصبح قرطبہ شہر بارش کی بوندوں سے پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ غمگین آنکھوں اور اداس دل کے ساتھ ہم اپنی رہائش گاہ سے چند منٹ کے فاصلے پر موجود ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف رواں دواں تھے۔ اسپین آکر ہمیں یورپ کی تیز بارشوں کا اندازہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/011056315e01187.jpg'  alt='بارش کی وجہ سے قرطبہ شہر کی سڑکیں مزید خوبصورت ہوگئی تھیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بارش کی وجہ سے قرطبہ شہر کی سڑکیں مزید خوبصورت ہوگئی تھیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>چھتری نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسی میں بیٹھنے تک گالوں سے پانی ٹپکنا شروع ہوگیا تھا۔ بارش کی وجہ سے قرطبہ کی سڑکیں مزید خوبصورت ہوگئی تھیں۔ چند گلیوں میں گھومتے ہوئے ہماری ٹیکسی 10 منٹ میں قرطبہ شہر کے مرکزی بس اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ سامان اتارنے کے ساتھ ہی ہم نے بس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کی جانب دوڑ لگا دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/0111070811ddb50.jpg'  alt='قرطبہ کا بس اسٹیشن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قرطبہ کا بس اسٹیشن</figcaption>
    </figure></p>
<p>چونکہ ہمارے پاس گرینیڈا (غرناطہ) جانے کے لیے ٹکٹس موجود نہیں تھے۔ اس لیے بس اسٹیشن پر موجود انفارمیشن سینٹر سے غرناطہ کے بس ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ کاؤنٹر کا پتا کیا تو انفارمیشن ڈیسک پر موجود خاتون آفیسر نے غرناطہ کے لیے اسٹینڈ پر موجود بس میں خالی نشستیں چیک کرکے بتایا کہ، ’15 منٹ بعد نکلنی والی بس میں  تو صرف ایک سیٹ خالی ہے‘۔</p>
<p>’لیکن ہم تو تین ہیں‘، آفیسر کی بات کاٹتے ہوئے افتخار صاحب پریشانی کی حالت میں بول پڑے۔ خاتون آفیسر مسکرائی اور کہا کہ ’اگلی بس 45 منٹ بعد جائے گی۔ اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>بس اسٹیشن پر جگہ جگہ ٹکٹ بکنگ کے لیے خودکار بوتھ بھی نصب کیے گئے تھے جن پر مقامی ہسپانوی لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ ہم غرناطہ کے لیے مختص کاؤنٹر سے 45 یوروز کے عوض تین ٹکٹ خرید کر بس اسٹیشن پر موجود کیفے ٹیریا کی طرف چل پڑے۔ چونکہ ہم نے ناشتہ نہیں کیا تھا اس لیے بھوک بھی ستانے لگی تھی۔</p>
<p>کیفے میں رش کے باعث ایک چھوٹی میز کے ساتھ تین مختلف جگہوں سے کرسیاں اکٹھی کرکے  ناشتے کا آرڈر دیا۔ ناشتے میں کیک، بریڈ اور سلیمانی چائے آرڈر کی۔ سلیمانی چائے میڈریڈ سے لے کر یہاں تک کے ہمارے ناشتے کا مستقل مینیو تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد تقریباً 5 منٹ پہلے ہی ہم بس میں اپنی سیٹوں پر پہنچ گئے۔</p>
<p>بس مسافروں سے بھر چکی تھی اس لیے اپنے مقررہ وقت پر قرطبہ شہر کی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01111040d72fe3a.jpg'  alt='قرطبہ سے غرناطہ کی جانب سفر کا آغاز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قرطبہ سے غرناطہ کی جانب سفر کا آغاز</figcaption>
    </figure></p>
<p>خوش قسمتی سے مجھے ونڈو سیٹ ملی۔ ساتھ والی سیٹ پر افتخار صاحب جبکہ دوسری طرف سیٹوں پر عبداللہ شاہ صاحب کے ساتھ ایک بوڑھی ہسپانوی خاتون بیٹھی تھیں۔</p>
<p>’قرطبہ سے غرناطہ کا سفر کتنا ہوگا؟ افتخار صاحب نے مجھے  مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔ ’تقریباً 3 گھنٹے اور 10 منٹ کا، ان شااللہ۔ دوپہر 12 بجے تک ہم غرناطہ شہر پہنچ جائیں گے‘، میں نے جواباً کہا۔</p>
<p>بس قرطبہ شہر سے نکل کر سرسبز  پہاڑی علاقے میں داخل ہوگئی۔ سڑک کے دونوں اطراف سرسبز وسیع وادیوں میں زیتون، انجیر اور مالٹوں کے باغات دور دور تک نظر آرہے تھے۔</p>
<p>’ہم غرناطہ میں کیا دیکھنے جارہے ہیں‘، افتخار صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا۔</p>
<p>افتخار صاحب تاریخ سے نابلد تھے لیکن سیاحت کا شوق اور نئی جگہوں کے بارے میں جاننے کا شوق انہیں اسپین لے آیا تھا۔ اس سے پہلے وہ عبداللہ شاہ صاحب کے ساتھ مصر، ترکی اور لیبیا کا سفر بھی کرچکے تھے۔</p>
<p>میں نے افتخار صاحب کو اپنی طرف متوجہ کرکے غرناطہ کے بارے میں بتانا شروع کیا کہ ’غرناطہ اسپین کے صوبے اندلوسیہ کا مرکزی اور اہم  شہر ہے جس کی اس وقت آبادی 2 لاکھ 36 ہزار نفوس ہے۔ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے جو سیرہ انوادہ پہاڑی سلسلے کے دامن میں سیکڑوں سالوں سے آباد ہے۔ مسلمانوں کے دور سے قبل اس شہر کا نام البیرہ (Albira) تھا۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں یہ یونان کا صوبہ تھا اور اس کی سلطنت میں شمار ہوتا تھا۔ پہلی صدی میں رومنز نے یونانیوں کو یہاں سے بے دخل کیا تو پھر یہاں گوتھ (عیسائی) حکمران آئے۔ اس کے بعد غرناطہ نے طارق بن زیاد کا استقبال کیا۔</p>
<p>’موحدین کا دور جب اندلس میں ختم ہوا اور اُندلس میں مسلمانوں کے اختلافات سے ملک کئی ریاستوں میں تقسیم ہوا تو غرناطہ کو بھی ایک الگ ریاست کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا عروج بنو نصر قبائل کے حکمرانوں کے دور سے شروع ہوا۔ بنو نصر حکمرانوں نے غرناطہ شہر کی سب سے بلند جگہ پر الحمرا محل جیسا شاہ کار تعمیر کیا جوکہ 800 سالوں تک پوری شان سے قائم ہے اور دنیا کے عجائب میں 10ویں نمبر پر ہے۔ اس کو دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح  آتے ہیں۔</p>
<p>’الحمرا محل سمیت بہت سی یادگاریں اور اس شہر کا چپہ چپہ مسلمانوں کے شاندار ماضی اور مختلف تہذیبوں کے ادوار کی گواہی دیتا ہے۔ بس ہمیں ان مقامات کا دورہ کرنا ہے‘۔</p>
<p>’تو پھر ہمیں کتنے دن وہاں گزارنے ہیں؟‘ افتحار صاحب نے ایک اور سوال پوچھا۔</p>
<p>’غرناطہ شہر اور اس کے اردگرد تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے تقریباً ایک ہفتہ تو درکار ہوگا لیکن ہم کوشش کریں گے کہ دو دنوں میں زیادہ سے زیادہ مقامات دیکھ سکیں‘۔</p>
<p>’جی ٹھیک ہے‘، میرا جواب سن کر افتخار صاحب کچھ مطمئن ہوگئے۔</p>
<p>ہم 2 گھنٹے اور 30 منٹ کا سفر طے کرچکے تھے۔ ہماری بس غرناطہ کی جانب رواں دواں تھی۔ سرسبز وادیاں کھیت اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلے گزر رہے تھے۔ خوشگوار موسم اور نیلا آسمان سفر کو مزید حسین بنا رہا تھا۔ خوبصورت سرسبز وادیوں میں دور دور تک زیتوں کی فارمنگ کی گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم دنیا کے ایسے کونے پر آگئے ہیں جہاں زیتوں کےعلاوہ کوئی چیز اُگ ہی نہیں سکتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01111543711bddb.jpg'  alt='خوبصورت سر سبز وادیوں میں دور دور تک زیتوں کی فارمنگ کی گئی تھی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>خوبصورت سر سبز وادیوں میں دور دور تک زیتوں کی فارمنگ کی گئی تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>تقریباً 45 منٹ مزید سفر کرنے کے بعد ہم غرناطہ شہر کے مضافات میں داخل ہوچکے تھے۔ سیرانوار یا سیرہ انوادہ کے پہاڑوں کے دامن میں واقع غرناطہ کے خوبصورت اور جدید شہر کے نظارے اب ہم سے صرف چند منٹوں کے فاصلے پر تھے۔ اس پہاڑی سلسلے میں دو دریا، ’جینل‘ اور ’ڈورو‘ بہتے ہیں جو بعد میں دغا کے مقام پر مل کر ایک دریا کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ان دریاؤں سے غرناطہ شہر اور مضافات کی آب پاشی کا پورا نظام مسلمانوں کے دور میں ہی بنایا گیا تھا جو اب تک ہسپانوی لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>اتنے میں بس ڈرائیور نے اعلان کیا کہ ہم گرینیڈا (غرناطہ) پہنچ چکے ہیں۔ بس سے اترتے ہی ہم سردی سے کپکپانے لگے قرطبہ اور میڈریڈ کے مقابلے میں یہاں کا موسم ٹھنڈا اور ہوا خشک تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01111937039a430.jpg'  alt='اور ہم غرناطہ پہنچ گئے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اور ہم غرناطہ پہنچ گئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>چونکہ الحمرا پیلس اور اس سے ملحقہ مقامات کو دیکھنے کے لیے پہلے سے ٹکٹ لینا ضروری ہوتا ہے اس لیے الحمرا محل کے مین گیٹ پر ٹکٹ لینے کے لیے آپ کو گھنٹوں پہلے جانا پڑتا ہے لیکن ہمارے پاس آن لائن بکنگ کا آپشن تھا۔</p>
<p>بس اسٹیشن پر موجود غرناطہ کی سیر کے لیے ٹورازم ایجنسی کی ڈیسک موجود تھی۔ یہاں سے معلومات لی تو ڈیسک پر موجود خاتون نے الحمرا محل کے ٹکٹ(15 یورو)  کے علاوہ 35 یورو فی کس ٹور کے چارجز کا کہا۔</p>
<p>میرے پوچھنے پر ٹور کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے خاتون فرمانے لگیں کہ ’یہ ٹور پیدل ہوگا جس میں ہمارا گائیڈ آپ کو غرناطہ میں مسلمانوں کی پرانی آبادی البشین یا البایزین، یونیورسٹی آف گرینیڈا (اسلامی یونیورسٹی)، چرچ آف گرینیڈا اور اگلے دن الحمرا محل اور اس سے ملحقہ مقامات کے وزٹ کروائے گا جبکہ اس ٹور پیکچ میں مِیل (خوراک) شامل نہیں۔</p>
<p>میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’میرے خیال میں تو آج اور کل کا دن ہم ٹور کمپنی کے ذریعے ہی ٹور کریں‘، افتخار صاحب نے بھی میرے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ ’بالکل ٹھیک ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01114541917abc7.jpg'  alt='غرناطہ شہر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غرناطہ شہر</figcaption>
    </figure></p>
<p>’نہیں میرے خیال میں ہمیں میڈریڈ اور قرطبہ کی طرح آپ کی قیادت میں خود ہی ٹور کرنا چاہیے اور الحمرا محل کی ٹکٹ تم بیلجیئم یا روسی دوست کے ذریعے آن لائن کروالینا اور ویسے بھی ہم پھر ٹور کمپنی کے دیے گئے شیڈول کے پابند ہوں گے‘۔ عبداللہ شاہ کی رائے مجھے مناسب لگی۔ اس لیے ٹور بک نہ کرنے پر معذرت کرکے ہم غرناطہ کا نقشہ لے کر بس اسٹیشن سے باہر نکلے اور قریب ہی برگر کنگ کے ایک ریسٹورنٹ میں بھوک مٹانے کے لیے چپس اور بریڈ کا آرڈر دے کر غرناطہ کا نقشہ چھاننے لگے۔</p>
<p>آدھے گھنٹے کے بعد ہماری ٹیکسی غرناطہ شہر کی سڑکوں پر اپارٹمنٹ کی جانب رواں دواں تھی۔ یہاں بھی شہر کے مرکز میں بیلجیئم میں مقیم دوست تاج الدین نے آن لائن ایپ ’ایئر بی این بی‘ کے ذریعے  ہمارا اپارٹمنٹ بُک کروایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01120516985367f.jpg'  alt='برگر کنگ کا خوبصورت ریستوران' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>برگر کنگ کا خوبصورت ریستوران</figcaption>
    </figure></p>
<p>کسی زمانے میں اندلس کے مسلمانوں کا عظیم شہر غرناطہ آج یورپ کے ایک جدید شہر گرینیڈا میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اونچی اونچی عمارتیں، کشادہ سڑکیں، شاپنگ مالز، کلبز  اور سیاحوں کا جمِ غفیر جگہ جگہ پر نظر آرہا تھا۔ لیکن قصر الحمرا کے آس پاس پرانے غرناطہ شہر کی یادیں آج بھی اپنے پرانے محرابی دروازوں، حویلیوں اور فواروں والے صحن کے مکانوں کی صورت میں دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01120902172d087.jpg?r=120912'  alt='گرینیڈا کا خوبصورت شہر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گرینیڈا کا خوبصورت شہر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی اور ٹیکسی کے ڈرائیور رچرڈ نے سامنے پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ رہا الحمرا محل اور الحمرا کا قلعہ یہ آپ کی رہائش سے چند منٹ کی دوری پر ہے‘۔</p>
<p>الحمرا کا قلعہ غرناطہ کی پہاڑیوں کے اوپر بالکل ہمارے سامنے تھا۔ اس قلعے میں غرناطہ پر حکومت کرنے والے بنو نصر حکمرانوں کے محلات موجود ہیں۔ غرناطہ کا شہر ان پہاڑوں کے دامن میں آباد ہے۔ قصر شاہی  اس قلعے کا ایک حصہ ہے اور قلعے کے اندر موجود ایوان اور باغات آج بھی دنیا بھر کے لیے جنت کی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>4 ندیوں، سنگرو، جنیل، موناچیل اور بیرو کے سنگم پر واقع یہ شہر سطح سمندر سے اوسطاً 738 میٹر (2421 فٹ) کی بلندی پر ہے اس کے باوجود بحیرہ روم کے ساحل یہاں سے کار میں صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔</p>
<p>’یہ رہی آپ کی رہائش‘، رچرڈ نے سامنے اسٹریٹ میں ایک اپارٹمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور ہمارا سامان اتارنے لگا۔ رہائش کے سامنے دو کمروں پر مشتمل خوبصورت اپارٹمنٹ کے مالک نے ڈور لاک کوڈ سمجھاتے ہوئے خوش آمدید کہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/0112105441287ad.jpg'  alt='غرناطہ کی ایک خوبصورت اسٹریٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غرناطہ کی ایک خوبصورت اسٹریٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>دو کمروں پر مشتمل اس اپارٹمنٹ میں ہر قسم کی سہولت موجود تھی۔ اب تک کی تمام رہائشوں میں یہ بہترین رہائش تھی۔ اپارٹمنٹ کے مالک سے وائے فائے پاسورڈ، قریب حلال ریسٹورنٹ اور نقشے پر موجود سیاحتی مقامات تک پہنچنے کے لیے رہنمائی لےکر رخصت لی۔ نماز کی ادائیگی اور تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم رہائش کے قریب ہی مرکزی چوک میں پہنچے تو دیکھا کہ چوک کے درمیان میں ملکہ ازابیل اور مشہور مہم جو اور امریکا کو دریافت کرنے والے کولمبس کے مجسمے ہیں۔</p>
<p>ان مجسموں میں ملکہ تخت پر تاج پہن کر بیٹھی کولمبس کو ایک کاغذ پر لکھا اپنا فرمان دے رہی ہے۔ کولمبس شاہی فرمان کو شاہی آداب کے مطابق جھک کر وصول کررہا ہے، یہی وہ اجازت نامہ ہے جس کے ذریعے کولمبس نے امریکا کی دریافت کو ممکن بنایا اور دنیا کی تاریخ بدل ڈالی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/01124503fb708ef.jpg'  alt='ملکہ ازابیل اور کولمبس کے مجسمے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ملکہ ازابیل اور کولمبس کے مجسمے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/011309272f43890.jpg'  alt='شاہی کیتھڈرل یعنی چرچ آف گرینیڈا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہی کیتھڈرل یعنی چرچ آف گرینیڈا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس چوک سے کچھ ہی فاصلے پر اسلامی دور کے قدیم مرکزی علاقے میں پہنچے جو باب رملہ کہلاتا ہے جہاں پر غرناطہ کا مرکزی شاہی کیتھڈرل یعنی چرچ آف گرینیڈا موجود ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہم اس مرکزی چرچ کے عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ چرچ کے مین گیٹ کے سامنے لگے بورڈ سے معلوم ہوا کہ اس جگہ پہلے غرناطہ کے مسلمانوں کی مرکزی جامع مسجد تھی لیکن مسلمانوں کی شکست کے بعد مسجد کی عمارت کو چرچ میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ دنیا کا چوتھا بڑا کیتھیڈرل ہے۔ اس کے اندر 5 چیپل یعنی عیسائی مذہب کے مختلف مکاتب فکر کی عبادت گاہیں موجود ہیں۔</p>
<p>چرچ کے مین گیٹ کے سامنے 10ویں صدی میں تعمیر کردہ اسلامی درسگاہ (مدرسہ) موجود ہے جو کہ آج کل یونیورسٹی آف گرینیڈا کا حصہ ہے۔ مدرسے کی اس عمارت میں اس دور کی یادگاریں بھی موجود ہیں۔ اس درس گاہ کو خلیفہ یوسف اول نے 1349ء میں قائم کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05094627e4252c4.jpg'  alt='   اسلامی درس گاہ (مدرسہ) جو کہ آج کل یونیورسٹی آف گرینیڈا کا حصہ ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسلامی درس گاہ (مدرسہ) جو کہ آج کل یونیورسٹی آف گرینیڈا کا حصہ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں پر قرآن پاک، تفسیر حدیث، تاریخ، فلسفہ اور منطق جیسے علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ غرناطہ کے مسلمانوں کی تقریباً 800 برس کی عالیشان حکومت نے علم وادب کے میدان میں ایسی شمعیں روشن کی تھیں جس کی روشنی نے پورے یورپ کو علم و ادب کے نئی منزلوں کا سراغ دیا اور اس مدرسے کی یہ خوبصورت عمارت اس کی ایک تابندہ مثال ہے۔</p>
<p>عظیم فلسفی ابن خلدون جب تیونس سے غرناطہ آئے تو جہاں وہ یہاں پر قیام کے دوران سلطان محمد پنجم کے سفیر کے طور پر کام کرنے لگے وہاں اس درس گاہ میں اُس دور کے طالب علموں میں علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ یونیورسٹی آف گرینیڈا کے اس وقت اندلوسیہ ریجن میں 5 کیمپس ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات یہاں سے مختلف علوم میں ڈگریاں حاصل کررہے ہیں۔</p>
<p>چرچ اور یونیورسٹی کے ساتھ متصل گلی میں اسلامی دور کی قدیم مارکیٹ ’قیصریا‘ بھی تھی۔ اس وقت اس مارکیٹ میں ریشم کا کاروبار کیا جاتا تھا۔ اس مارکیٹ میں سیاحوں کی ضرورت کی مختلف اشیا کی دکانیں سلیقے کے ساتھ سجائی گئی تھیں۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم اندھیرے سے پہلے غرناطہ میں مسلمانوں کی پرانی بستی البایزین کو دیکھ لیں اور غروب آفتاب کے مناظر دیکھنے کے لیے غرناطہ کے ویو پوائنٹ پر پہنچ جائیں۔</p>
<p>اس لیے قیصریا کی قدیم مارکیٹ کی طرف جانے کی بجائے ہم اپنی اگلی منزل البایزین روانہ ہوئے۔ گوگل میپ کے مطابق البایزین کی بستی 10 منٹ کے فاصلے پر تھی۔ اس لیے مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے ہم البایزین کے خوبصورت بازار میں پہنچے جہاں بازار کے دونوں اطراف مراکشی اور ترکش مسلمانوں کی خوبصورت دکانیں موجود تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/050951126652d8c.jpg'  alt='البایزین کا خوبصورت بازار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>البایزین کا خوبصورت بازار</figcaption>
    </figure></p>
<p>بھوک کی شدت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے عبداللہ شاہ صاحب کے مشورے کے مطابق ہم نے حلال ریسٹورنٹ کی تلاش شروع کردی۔ چونکہ یہاں بڑی تعداد میں مراکش، ترکی اور عرب کے دوسرے ممالک سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف کاروباروں میں مصروف عمل نظر آرہے تھے اس لیے ہمیں چند قدم پر ہی حلال ریسٹورنٹ  نظر آنا شروع ہوگئے۔</p>
<p>یوں ہم ایک مراکشی ریسٹورنٹ میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ مراکش سے تعلق رکھنے والے اس ریسٹورنٹ کے مالک حبیب نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ چاول اور گوشت سے جب خوب سیر ہوگئے تو حبیب سے گپ شپ کے دوران پتا چلا کہ اس وقت غرناطہ میں 15 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں جن کی اکثریت مراکش اور دیگر ممالک سے روزگار کی تلاش کے لیے یہاں پہنچی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05100554acf5535.jpg'  alt='   مراکشی ریسٹورنٹ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مراکشی ریسٹورنٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051005539dbc10e.jpg'  alt='حبیب کا خوبصورت ریستوران' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حبیب کا خوبصورت ریستوران</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈیڑھ ہزار کے قریب مقامی عیسائی بھی مسلمان ہوئے ہیں جن میں کچھ طلبہ بھی ہیں جو مقامی یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے اپنے اپنے ملک سے آئے ہیں۔ اس ریسٹورنٹ سے اوپر کی طرف پہاڑی کے عین اوپر بستی میں سان نکلس چرچ موجود ہے جوکہ غرناطہ کا ویو پوائنٹ بھی ہے۔ اسی کی قریب ایک گلی میں اب مسلمانوں نے خوبصورت جامع مسجد بھی تعمیر کروادی ہے اور اسی مسجد کے اردگرد زیادہ مسلمان آباد ہیں۔</p>
<p>کھانے کے بعد ہم البایزین کی تاریخی آبادی کو کھنگالنے نکل پڑے۔ عمودی چڑھائی پر واقع یہ 10 کلو میٹر طویل علاقہ 700ء سے لےکر 1600ء تک کی جانے والی تعمیرات پر مشتمل ہے جنہیں اپنی اصل حالت میں رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ البائزین بستی میں پرانے محرابی دروازے، اسلامک آرٹ سے مزین درودیوار اور مکانوں کے صحن میں لگے فوارے آج بھی شان سے موجود ہیں اور عہد ماضی کے درخشاں دور کی یاد دلاتے ہیں۔</p>
<p>عمودی چڑھائی چڑھتے چڑھتے میرے ہم سفر ساتھیوں کا برا حال ہوچکا تھا۔ اس پورے سفر میں مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میرے ساتھ بزرگوں کی ٹیم ہے اور میں مسلسل ان کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051011216772510.jpg'  alt='البایزین کی قدیم بستی اور پس منظر میں الحمرا کا خوبصورت محل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>البایزین کی قدیم بستی اور پس منظر میں الحمرا کا خوبصورت محل</figcaption>
    </figure></p>
<p>راستے میں چرچ آف سان سیلواڈور کی عمارت کے ساتھ کچھ دیر رکے۔ یہ چرچ سولہویں صدی میں البایزین مسجد کے اوپر تعمیر ہوا تھا جو اپنے غیر معمولی محرابوں، عرب طرز کی چھتوں اور روایتی انداز کے پانی کے اسٹوریج کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس چرچ کا فنِ تعمیر بھی اپنی مثال آپ ہے۔</p>
<p>آخر کار ہم البائزین بستی کے بلند ترین مقام سان نکلس چرچ پر پہنچ چکے تھے۔ سان نکلس چرچ آج سے 600 سال قبل مسجد تھا لیکن جب مسلمانوں کا زوال ہوا تو کچھ عرصے بعد عیسائیوں نے اس کو عبادت گاہ کے طور پر منتخب کیا اور پھر مسجد کو چرچ میں بدل دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051039029f45498.jpg?r=105536'  alt='سان نکلس چرچ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سان نکلس چرچ</figcaption>
    </figure></p>
<p>چرچ کے صحن میں سیکڑوں سیاح گھوم رہے تھے کیونکہ یہ شہر کو دیکھنے کے لیے سب سے بہترین مقام تھا۔ اگر اس مقام کو اسلام آباد کے مونال (پیر سوہاوہ) سے تشبیہ دی جائے تو مناسب ہوگا۔ یہاں سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/051042461f20caa.jpg'  alt='یہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہاں پر سیاحوں کا رش دیدنی تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں سے نہ صرف الحمرا محل کا نظارہ کیا جاسکتا ہے بلکہ یہاں سے غروب اور طلوع آفتاب کے مناظر بھی سیاحوں کو دیر تک مقید رکھتے ہیں۔ ہم چرچ کے صحن میں موجود سیاحوں کے ساتھ شامل ہوئے۔ یہاں سے الحمرا محل، غرناطہ شہر اور دور مولائے حسن کے پہاڑی سلسلے کے مناظر مدہوش کن تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05103836b0d4988.jpg'  alt='البائزین کی بستی سے الحمرا محل کا خوبصورت نظارہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>البائزین کی بستی سے الحمرا محل کا خوبصورت نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں پر نظر آنے والے غروب آفتاب کے مناظر نے مجھے کافی دیر تک سکتے میں رکھا کیونکہ اس سے پہلے ایسا خوبصورت منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔</p>
<p>چونکہ تھکاوٹ سے برا حال تھا اور یہ جگہ پرسکون اور دلکش نظاروں سے بھرپور تھی اس لیے کافی دیر فوٹوگرافی کرنے کے بعد ہم قصر الحمرا کی طرف ڈھلوانی میدان میں قدیم وجدید بازار کی طرف چل پڑے۔ البایزین کی تمام گلیوں کو چھوٹے چھوٹے پتھروں پر سیمنٹ لگا کر پختہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>یہاں سے ایک راستہ البایزین سے متصل جپسی لوگوں کی سیکرو مینٹو نامی غاروں کی طرف جاتا ہے۔ جپسی وہ مظلوم قوم ہیں جن پر تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑا ظلم ہوا اور انہیں غلام بنا کر رکھا گیا جبکہ ہٹلر نے ان کا قتل عام کیا۔ جپسی نسل ہزاروں سال پہلے پنجاب اور اس سے قریبی علاقوں سے ہجرت کرکے افغانستان سے ترکی اور پھر یورپ آئے۔ غرناطہ پر جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی تو عیسائیوں نے انہیں تنگ کرنا شروع کردیا۔ عیسائیوں کے خوف سے جپسیوں نے ان غاروں میں پناہ لی اور ابھی تک انہی غاروں میں مقیم ہیں۔ ان میں زیادہ تر عیسائی مذہب سے وابستہ ہیں جبکہ کچھ مسلمان بھی ہیں۔ ان غاروں میں جپسی مرد اور عورتیں شام ہوتے ہی اسپین کے مشہور روایتی ڈانس سے سیاحوں کا دل بہلاتے ہیں اور شام ہوتے ہی ان غاروں میں ہلا گلا شروع ہوجاتا ہے۔</p>
<p>آج بھی زیادہ تر سیاحوں کا رخ ان غاروں کی طرف ہی تھا لیکن ہم غاروں کی طرف جانے کی بجائے نیچے ڈھلوان کی طرف حدرہ ندی کے کنارے پر پہنچ گئے۔ الحمرا محل کے نچلے کنارے پر واقع اس ندی کو عرب حدرہ اور رومن اسے دارو کہتے تھے۔ رومن زبان میں دارو (Darro) کا مطلب سونا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں اس ندی میں لوگ سونا تلاش کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس ندی کا نام دارو پڑ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/0510581200a45a5.jpg'  alt='غروب آفتاب کے وقت الحمرا محل کا نظارہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غروب آفتاب کے وقت الحمرا محل کا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ندی کے کنارے ایک قدیم محل تھا۔ یہ شاہی خاندان کے بچوں کے لیے درس گاہ تھی۔ چونکہ رات ہوچکی تھی اس لیے ہمیں محل کے اندر جانے کا موقع نہیں مل سکا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/05110308a8cbaa3.jpg'  alt='رات کی رنگینیاں اس وقت بازاروں پر غالب ہوچکی تھیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رات کی رنگینیاں اس وقت بازاروں پر غالب ہوچکی تھیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>قریب ایک ترکش ریسٹورنٹ میں چائے پینے کے بعد ہم واپس مرکزی چوک پہنچ چکے تھے۔ دن کا کھانا دیر سے کھایا تھا اس لیے مزید کھانے کی طلب نہ ہونے کی وجہ سے ہم واپس اپنے اپارٹمنٹ پہنچ گئے۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد دونوں ہم سفر دوست آرام کے لیے اپنے کمروں میں گھس گئے جبکہ میں اگلے دن الحمرا محل میں داخلے کے آن لائن ٹکٹ اور اشبیلیہ سے بارسلونا کی فضائی ٹکٹس بک کروا کر لاؤنج میں ہی صوفے پر تھوڑی دیر میں خراٹے لینے لگا۔</p>
<hr />
<p>تصاویر بشکریہ لکھاری</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208587</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Aug 2023 15:03:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/05111158df3c07f.jpg?r=121730" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/05111158df3c07f.jpg?r=121730"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرہوس: ایک نئی منزل سے ملاقات کی خوشی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206338/</link>
      <description>&lt;p&gt;آرہوس ڈنمارک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ وائکنگ کے ابتدائی دور میں اس شہر کی بنیاد رکھی گئی اور دریا کنارے ہونے کی وجہ سے یہ جلد ہی ایک اہم تجارتی مرکز بنتا چلا گیا۔ 12 سال سے زائد عرصہ ڈنمارک میں رہتے ہوئے بھی کبھی مجھے اس شہر میں آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ میرے بڑے بھائی پاکستان میں انڈسٹریل کمپریسر کی پاکستان سپلائیز کے حوالے سے آرہوس میں ایک مقامی کمپنی سے ملنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ سو ہم نے بھی ساتھ ہولینے کو سعادت سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوپن ہیگن جس جزیزے پر واقع ہے اس کا نام شی لینڈ ہے اور آرہوس جس جزیرے پر واقع ہے اس کا نام یولینڈ ہے۔ شی لینڈ سے یولینڈ آنے کے لیے اوڈنسے شہر کے پاس ایک بڑا پل ہے جبکہ شی لینڈ سے بذریعہ فیری بھی آرہوس آیا جاسکتا ہے۔ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183651"&gt;اوڈنسے شہر سے پل کے ذریعے تو آپ ملاقات پہلے ہی کر چکے ہیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اس لیے ہم نے فیری کے ذریعے جانے کا فیصلہ کیا۔ شی لینڈ سے ہر گھنٹے بعد آرہوس کے لیے فیری چلتی ہے اور فیری کا یہ سفر ایک گھنٹہ 20 منٹ کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارادہ تو یہی تھا کہ ہم فیری میں بیٹھ کر ڈھلتے ہوئے سورج کا نظارہ کریں گے اسی لیے ہم نے شام 8 بج کر 10 منٹ والی فیری کی بکنگ کروائی۔ لیکن گھر سے فیری تک کا یہ سفر ہماری توقع سے کم نکلا اور ہم 6 بجے ہی فیری ٹرمینل پر جا پہنچے، لہٰذا ہم 7 بجے والی فیری لےکر آرہوس چلے آئے۔ آپ نے 8 بجے والی شام کا تذکرہ اسکینڈے نیویا کے ذکر کے ساتھ جڑا ہوا پہلے بھی سنا ہوگا کیونکہ آج کل غروبِ آفتاب رات کے ساڑھے 9 بجے کے قریب ہوتا ہے اور یہ آنے والے مہینوں میں 10 بجے کے قریب ہوتا چلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/221043400868e08.jpg'  alt='آرہوس شہر کی گلی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آرہوس شہر کی گلی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا قیام شہر کے مرکز میں ہی ایک ہوٹل میں تھا۔ چیک اِن کیا اور سوچا کہ رات کے کھانے کا بندوبست کرلیا جائے۔ ابھی شام کے ساڑھے 9 ہی بجے تھے لیکن کھانے پینے کی اکثر دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ کچھ ایک دو جگہیں 10 بجے تک کھلی تھیں لیکن ان کے پاس بھی اس وقت بیچنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ خیر 10 بجے کے قریب ایک ترک بھائی کی برگر شاپ سے ہمیں گزارے کا سامان مل ہی گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی صبح ناشتے کے بعد ہم نے شہر کی سیر کا فیصلہ کیا۔ ہمارا ہوٹل آرہوس کانگریس سینٹر کے اندر ہی واقع تھا۔ یہ کانفرنسز اور میٹنگ کے لیے ایک بڑی جگہ ہے جہاں 4 ہزار لوگوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس سینٹر کے اندر چند نمائشی شو روم بھی بنائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/220941480b9d385.jpg?r=094519'  alt='کانگریس سینٹر  آرہوس' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کانگریس سینٹر  آرہوس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کانفرنس سینٹر کا نزدیک ترین ہمسایہ میوزک ہاؤس آرہوس ہے۔ آپ اسے ایک تھیٹر بھی کہہ سکتے ہیں جہاں مقامی سے لےکر بین الاقوامی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ گزشتہ شام بھی درجنوں لوگ میوزک ہاؤس کے باہر موجود تھے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ جگہ آباد ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق اس جگہ پر سال میں 15 سو سے زائد تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094120999bed0.jpg?r=094519'  alt='میوزک ہاؤس آرہوس' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میوزک ہاؤس آرہوس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس سینٹر کی عمارت کے اندر سے گزرتے ہوئے ہم آرہوس آرکٹیکٹ اسکول کی طرف نکل آئے۔ یہاں ریل کی پٹری کا اختتام ہو رہا تھا۔ آگے جائیں تو دائیں طرف ایک بڑی دیوار پر شوخ رنگوں سے پینٹنگز کی گئی ہیں یہاں سے گزرتے ہوئے دائیں جانب گلی میں داخل ہوں تو سامنے ایک گلی کا آغاز ہوتا ہے جس کے دونوں اطراف پھولوں کی جھاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094220136861a.jpg?r=094519'  alt='سڑک کی دونوں جانب پھولوں کی جھاڑیاں ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سڑک کی دونوں جانب پھولوں کی جھاڑیاں ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جھاڑیاں آج کل پورے جوبن پر ہیں۔ شہر کے اندر پھولوں والی گلیاں، لکھنے والوں اور دیکھنے والوں کو ہمیشہ سے ہی اپنی جانب کھینچتی چلی آئیں ہیں۔ یہاں سے شہر کے مرکز کو تصور کرتے ہوئے دائیں طرف جاتے جائیں تو ایک سڑک شروع ہوتی ہے جہاں سائیکل گننے والی ڈیجیٹل اسکرین نصب ہے۔ سائیکل سواروں کے لیے الگ راستے تو پہلے ہی ڈنمارک کی پہچان ہیں، اب اس طرز کے ڈیجیٹل ڈسپلے کا مقصد دیگر لوگوں کو سائیکل سواری کی طرف راغب کرنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2209431600407df.jpg?r=094519'  alt='سائیکل سواروں کے لیے الگ راستہ ڈنمارک کی پہچان ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سائیکل سواروں کے لیے الگ راستہ ڈنمارک کی پہچان ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے پہلے بھی اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ یورپ کو بحیثیت مجموعی دیکھیں تو لگتا ہے کہ جیسے اسے ایک ہی مستری نے بنایا ہو۔ شہر کے اندر ایک کینال بہت سارے بڑے شہروں کا مشترکہ فیچر ہے یہاں پر بھی ایک مرکزی نہر ہے جو شہر کے مرکز کے آس پاس بہتی ہے یا یہ کہہ لیں کہ شہر کا مرکز ایک نہر کے کنارے واقع ہے۔ ہم بھی اس نہر کے ساتھ ساتھ ہو لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094236e33523c.jpg?r=094519'  alt='یورپ کے بہت سے شہروں کے اندر کینال موجود ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یورپ کے بہت سے شہروں کے اندر کینال موجود ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بات جو مجھے ڈنمارک کے حوالے سے صادق لگتی ہے یا پھر شاید دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی ہو، وہ بات یہ ہے کہ یہاں گلیوں کے نام ایک جیسے ہیں بس پوسٹ کوڈ کا فرق ہے۔ جیسے پارک ایلی اور پارک وائے کے نام سے سڑک آپ کو درجنوں شہروں میں ملے گی۔ سٹرانڈ وائے یعنی ساحل والا راستہ بھی درجنوں شہروں میں ملیں گے۔ ایسے ہی نہر کنارے چلتے چلتے ہم نے کئی گلیوں کے نام کوپن ہیگن کی گلیوں سے ملتے جلتے پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نہر کنارے ایک نخلستان میں پہنچے جس کا نام ملاپارکن ہے اور اس سے آگے شہر کی طرف جانے والی گلی کا نام او بلیوارڈ ہے۔ اسی نام سے مرکزی کوپن ہیگن میں ایک بڑی سڑک اور پارک کے نام جیسا ایک مشہور محلہ بھی ہے۔ اس طرز کے بہت سے شہری نخلستان یورپی ممالک کے لینڈ اسکیپ کا لازمی حصہ ہیں۔ گنجان شہروں میں اس طرز کے گھنے قطعات بنانا انسانوں اور قدرتی ماحول کے لیے یکساں مفید ہیں۔ اس چھوٹے سے قطعے میں چہچہاتے پرندوں کی آوازیں آپ کو قدرت کے مسکرانے کا پتا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094133f34fe82.jpg?r=094519'  alt='ملاپارکن نامی نخلستان' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ملاپارکن نامی نخلستان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2209424225ba4bf.jpg?r=095755'  alt='شہر کی طرف جانے والی گلی کا نام او بلیوارڈ ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شہر کی طرف جانے والی گلی کا نام او بلیوارڈ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں سے او بلیوارڈ پر چلتے ہوئے ہم شہر کی جانب چل پڑے۔ آپ کو پتا ہی ہوگا کہ بلیوارڈ کا مطلب ہی ایسی سڑک ہوتا ہے جس کے ساتھ درختوں کی قطار ہو۔ ہم اسی بلیوارڈ اور نہر کے ساتھ چلتے واکنگ اسٹریٹ کی طرف چلے آئے۔ یہاں پر شناسا ناموں والی دکانیں موجود تھیں جوکہ ڈنمارک کے سب ہی بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔ یہاں سے کچھ آگے ایک راستہ اولڈ ٹاؤن کی طرف جا رہا تھا اور دوسرا واکنگ اسٹریٹ سے سینٹرل اسٹیشن کی طرف جاتا ہے۔ ہم نے اولڈ ٹاؤن کو دور سے ہی سلام کیا اور سینٹرل اسٹیشن کی طرف جاتی ہوئی واکنگ اسٹریٹ کی طرف مڑگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094204b575d0c.jpg?r=095755'  alt='اولڈ ٹاؤن کی جانب جاتی سڑک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اولڈ ٹاؤن کی جانب جاتی سڑک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094156d2880ce.jpg?r=095755'  alt='آرہوس کا سینٹر اسٹیشن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آرہوس کا سینٹر اسٹیشن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی صبح کے تقریباً 10 بجے کا وقت ہوگا۔ کچھ دکانیں ابھی کھل رہی تھیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی خاصی تعداد واکنگ اسٹریٹ پر موجود تھی۔ ویسے بھی ایسی خوبصورت دھوپ اسکینڈے نیویا کے باسیوں پر کم ہی اترتی ہے اسی لیے تو وہ اس دھوپ کے ذرے ذرے کو بدن میں اتار لینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں آج کل بازار جلد بند کرنے پر بحث جاری ہے جبکہ آرہوس میں دکانیں شام 8 بجے تک بند ہوجاتی ہیں۔ زندگی اور کام میں توازن کا اسکینڈے نیویا کا فلسفہ دیگر ممالک میں بھی رشک بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور ویسے عمل کرنے کو تو ہم بھی باآسانی پوری قوم کا راستہ تبدیل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/220941420fcd42d.jpg?r=095755'  alt='آرہوس کی ایک شام' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آرہوس کی ایک شام&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگوں اور دکانوں کے ساتھ واکنگ اسٹریٹ میں چلتے چلتے ہم ایک قدیم چرچ کی عمارت کے پاس آ پہنچے۔ چرچ سے واکنگ اسٹریٹ سینٹرل اسٹیشن کے پاس جاکر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اسٹیشن سے دائیں طرف ایک چھوٹا سا چوراہا ہے یہاں سے واکنگ اسٹریٹ کے متوازی مڑیں تو ٹاؤن ہال کی عمارت نظر آتی ہے۔ یہ شہر کا نیا ٹاؤن ہال ہے جو تقریباً 41ء-1940ء میں مکمل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ساخت جدید زمانے کی عمارتوں جیسی ہے۔ رات کھانے کی تلاش میں ہم اسی جگہ تو بھٹک رہے تھے لیکن اب دن کی روشنی میں پتا چلا ہے کہ یہاں کا ٹاؤن ہال یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2209422879617eb.jpg?r=095755'  alt='   سڑک کنارے واقع چرچ کی عمارت   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سڑک کنارے واقع چرچ کی عمارت&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094303f621c2e.jpg?r=095755'  alt='   چرچ کا داخلی دروازہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چرچ کا داخلی دروازہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094113194add9.jpg?r=094519'  alt='   ٹاؤن ہال   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاؤن ہال&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094212faf5606.jpg?r=095755'  alt='ٹاؤن ہال کے ساتھ باغیچہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاؤن ہال کے ساتھ باغیچہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاؤن ہال کے ساتھ ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے۔ شہر کی کسی کمپنی کا اسٹاف کارپوریٹ تصویر بنانے کے لیے یہاں موجود تھا۔ کچھ لوگ بینچوں پر بیٹھ کر موسم گرما کا لطف لے رہے تھے جبکہ یہاں سے 300 یا 400 میٹر کے فاصلے پر ہی ہمارا ہوٹل تھا۔ لہذا ہم نے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ ڈنمارک کے دیگر  شہروں کی طرح آرہوس میں بھی تقریبا ویسی ہی دکانیں اور عمارتیں ہیں جیسی باقی شہروں میں ہیں لیکن پھر بھی ایک نئی منزل سے ملاقات کی خوشی ہمارے دل میں تھی۔ اگر ایک اچھی ملاقات کا اختتام ایک اچھے کھانے سے ہو تو کیا ہی بات ہے۔ ایک دوست کے مشورے پر ہم سرے کباب جا پہنچے۔ گرم گرم کباب اور دیسی اسٹائل کی توے کی روٹی نے شہر کے رنگوں میں رس بھر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپسی کی فیری کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ اگلی فیری چلنے میں 2 گھنٹے باقی ہیں۔ بڑے بھائی نے کوپن ہیگن سے کچھ خریداری کرنی تھی اس لیے ہم نے بذریعہ پل واپسی کا سفر اختیار کیا اور ایک خوبصورت یاد کے ساتھ ہم شام تک اپنے گھر آ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تصاویر بشکریہ لکھاری&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آرہوس ڈنمارک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ وائکنگ کے ابتدائی دور میں اس شہر کی بنیاد رکھی گئی اور دریا کنارے ہونے کی وجہ سے یہ جلد ہی ایک اہم تجارتی مرکز بنتا چلا گیا۔ 12 سال سے زائد عرصہ ڈنمارک میں رہتے ہوئے بھی کبھی مجھے اس شہر میں آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ میرے بڑے بھائی پاکستان میں انڈسٹریل کمپریسر کی پاکستان سپلائیز کے حوالے سے آرہوس میں ایک مقامی کمپنی سے ملنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ سو ہم نے بھی ساتھ ہولینے کو سعادت سمجھا۔</p>
<p>کوپن ہیگن جس جزیزے پر واقع ہے اس کا نام شی لینڈ ہے اور آرہوس جس جزیرے پر واقع ہے اس کا نام یولینڈ ہے۔ شی لینڈ سے یولینڈ آنے کے لیے اوڈنسے شہر کے پاس ایک بڑا پل ہے جبکہ شی لینڈ سے بذریعہ فیری بھی آرہوس آیا جاسکتا ہے۔ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183651">اوڈنسے شہر سے پل کے ذریعے تو آپ ملاقات پہلے ہی کر چکے ہیں</a></strong> اس لیے ہم نے فیری کے ذریعے جانے کا فیصلہ کیا۔ شی لینڈ سے ہر گھنٹے بعد آرہوس کے لیے فیری چلتی ہے اور فیری کا یہ سفر ایک گھنٹہ 20 منٹ کا ہے۔</p>
<p>ارادہ تو یہی تھا کہ ہم فیری میں بیٹھ کر ڈھلتے ہوئے سورج کا نظارہ کریں گے اسی لیے ہم نے شام 8 بج کر 10 منٹ والی فیری کی بکنگ کروائی۔ لیکن گھر سے فیری تک کا یہ سفر ہماری توقع سے کم نکلا اور ہم 6 بجے ہی فیری ٹرمینل پر جا پہنچے، لہٰذا ہم 7 بجے والی فیری لےکر آرہوس چلے آئے۔ آپ نے 8 بجے والی شام کا تذکرہ اسکینڈے نیویا کے ذکر کے ساتھ جڑا ہوا پہلے بھی سنا ہوگا کیونکہ آج کل غروبِ آفتاب رات کے ساڑھے 9 بجے کے قریب ہوتا ہے اور یہ آنے والے مہینوں میں 10 بجے کے قریب ہوتا چلا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/221043400868e08.jpg'  alt='آرہوس شہر کی گلی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آرہوس شہر کی گلی</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہمارا قیام شہر کے مرکز میں ہی ایک ہوٹل میں تھا۔ چیک اِن کیا اور سوچا کہ رات کے کھانے کا بندوبست کرلیا جائے۔ ابھی شام کے ساڑھے 9 ہی بجے تھے لیکن کھانے پینے کی اکثر دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ کچھ ایک دو جگہیں 10 بجے تک کھلی تھیں لیکن ان کے پاس بھی اس وقت بیچنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ خیر 10 بجے کے قریب ایک ترک بھائی کی برگر شاپ سے ہمیں گزارے کا سامان مل ہی گیا۔</p>
<p>اگلی صبح ناشتے کے بعد ہم نے شہر کی سیر کا فیصلہ کیا۔ ہمارا ہوٹل آرہوس کانگریس سینٹر کے اندر ہی واقع تھا۔ یہ کانفرنسز اور میٹنگ کے لیے ایک بڑی جگہ ہے جہاں 4 ہزار لوگوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس سینٹر کے اندر چند نمائشی شو روم بھی بنائے گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/220941480b9d385.jpg?r=094519'  alt='کانگریس سینٹر  آرہوس' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کانگریس سینٹر  آرہوس</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کانفرنس سینٹر کا نزدیک ترین ہمسایہ میوزک ہاؤس آرہوس ہے۔ آپ اسے ایک تھیٹر بھی کہہ سکتے ہیں جہاں مقامی سے لےکر بین الاقوامی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ گزشتہ شام بھی درجنوں لوگ میوزک ہاؤس کے باہر موجود تھے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ جگہ آباد ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق اس جگہ پر سال میں 15 سو سے زائد تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094120999bed0.jpg?r=094519'  alt='میوزک ہاؤس آرہوس' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میوزک ہاؤس آرہوس</figcaption>
    </figure></p>
<p>کانگریس سینٹر کی عمارت کے اندر سے گزرتے ہوئے ہم آرہوس آرکٹیکٹ اسکول کی طرف نکل آئے۔ یہاں ریل کی پٹری کا اختتام ہو رہا تھا۔ آگے جائیں تو دائیں طرف ایک بڑی دیوار پر شوخ رنگوں سے پینٹنگز کی گئی ہیں یہاں سے گزرتے ہوئے دائیں جانب گلی میں داخل ہوں تو سامنے ایک گلی کا آغاز ہوتا ہے جس کے دونوں اطراف پھولوں کی جھاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094220136861a.jpg?r=094519'  alt='سڑک کی دونوں جانب پھولوں کی جھاڑیاں ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سڑک کی دونوں جانب پھولوں کی جھاڑیاں ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ جھاڑیاں آج کل پورے جوبن پر ہیں۔ شہر کے اندر پھولوں والی گلیاں، لکھنے والوں اور دیکھنے والوں کو ہمیشہ سے ہی اپنی جانب کھینچتی چلی آئیں ہیں۔ یہاں سے شہر کے مرکز کو تصور کرتے ہوئے دائیں طرف جاتے جائیں تو ایک سڑک شروع ہوتی ہے جہاں سائیکل گننے والی ڈیجیٹل اسکرین نصب ہے۔ سائیکل سواروں کے لیے الگ راستے تو پہلے ہی ڈنمارک کی پہچان ہیں، اب اس طرز کے ڈیجیٹل ڈسپلے کا مقصد دیگر لوگوں کو سائیکل سواری کی طرف راغب کرنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2209431600407df.jpg?r=094519'  alt='سائیکل سواروں کے لیے الگ راستہ ڈنمارک کی پہچان ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سائیکل سواروں کے لیے الگ راستہ ڈنمارک کی پہچان ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں نے پہلے بھی اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ یورپ کو بحیثیت مجموعی دیکھیں تو لگتا ہے کہ جیسے اسے ایک ہی مستری نے بنایا ہو۔ شہر کے اندر ایک کینال بہت سارے بڑے شہروں کا مشترکہ فیچر ہے یہاں پر بھی ایک مرکزی نہر ہے جو شہر کے مرکز کے آس پاس بہتی ہے یا یہ کہہ لیں کہ شہر کا مرکز ایک نہر کے کنارے واقع ہے۔ ہم بھی اس نہر کے ساتھ ساتھ ہو لیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094236e33523c.jpg?r=094519'  alt='یورپ کے بہت سے شہروں کے اندر کینال موجود ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یورپ کے بہت سے شہروں کے اندر کینال موجود ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک اور بات جو مجھے ڈنمارک کے حوالے سے صادق لگتی ہے یا پھر شاید دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی ہو، وہ بات یہ ہے کہ یہاں گلیوں کے نام ایک جیسے ہیں بس پوسٹ کوڈ کا فرق ہے۔ جیسے پارک ایلی اور پارک وائے کے نام سے سڑک آپ کو درجنوں شہروں میں ملے گی۔ سٹرانڈ وائے یعنی ساحل والا راستہ بھی درجنوں شہروں میں ملیں گے۔ ایسے ہی نہر کنارے چلتے چلتے ہم نے کئی گلیوں کے نام کوپن ہیگن کی گلیوں سے ملتے جلتے پائے۔</p>
<p>ہم نہر کنارے ایک نخلستان میں پہنچے جس کا نام ملاپارکن ہے اور اس سے آگے شہر کی طرف جانے والی گلی کا نام او بلیوارڈ ہے۔ اسی نام سے مرکزی کوپن ہیگن میں ایک بڑی سڑک اور پارک کے نام جیسا ایک مشہور محلہ بھی ہے۔ اس طرز کے بہت سے شہری نخلستان یورپی ممالک کے لینڈ اسکیپ کا لازمی حصہ ہیں۔ گنجان شہروں میں اس طرز کے گھنے قطعات بنانا انسانوں اور قدرتی ماحول کے لیے یکساں مفید ہیں۔ اس چھوٹے سے قطعے میں چہچہاتے پرندوں کی آوازیں آپ کو قدرت کے مسکرانے کا پتا دیتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094133f34fe82.jpg?r=094519'  alt='ملاپارکن نامی نخلستان' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ملاپارکن نامی نخلستان</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2209424225ba4bf.jpg?r=095755'  alt='شہر کی طرف جانے والی گلی کا نام او بلیوارڈ ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شہر کی طرف جانے والی گلی کا نام او بلیوارڈ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں سے او بلیوارڈ پر چلتے ہوئے ہم شہر کی جانب چل پڑے۔ آپ کو پتا ہی ہوگا کہ بلیوارڈ کا مطلب ہی ایسی سڑک ہوتا ہے جس کے ساتھ درختوں کی قطار ہو۔ ہم اسی بلیوارڈ اور نہر کے ساتھ چلتے واکنگ اسٹریٹ کی طرف چلے آئے۔ یہاں پر شناسا ناموں والی دکانیں موجود تھیں جوکہ ڈنمارک کے سب ہی بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔ یہاں سے کچھ آگے ایک راستہ اولڈ ٹاؤن کی طرف جا رہا تھا اور دوسرا واکنگ اسٹریٹ سے سینٹرل اسٹیشن کی طرف جاتا ہے۔ ہم نے اولڈ ٹاؤن کو دور سے ہی سلام کیا اور سینٹرل اسٹیشن کی طرف جاتی ہوئی واکنگ اسٹریٹ کی طرف مڑگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094204b575d0c.jpg?r=095755'  alt='اولڈ ٹاؤن کی جانب جاتی سڑک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اولڈ ٹاؤن کی جانب جاتی سڑک</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094156d2880ce.jpg?r=095755'  alt='آرہوس کا سینٹر اسٹیشن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آرہوس کا سینٹر اسٹیشن</figcaption>
    </figure></p>
<p>ابھی صبح کے تقریباً 10 بجے کا وقت ہوگا۔ کچھ دکانیں ابھی کھل رہی تھیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی خاصی تعداد واکنگ اسٹریٹ پر موجود تھی۔ ویسے بھی ایسی خوبصورت دھوپ اسکینڈے نیویا کے باسیوں پر کم ہی اترتی ہے اسی لیے تو وہ اس دھوپ کے ذرے ذرے کو بدن میں اتار لینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں آج کل بازار جلد بند کرنے پر بحث جاری ہے جبکہ آرہوس میں دکانیں شام 8 بجے تک بند ہوجاتی ہیں۔ زندگی اور کام میں توازن کا اسکینڈے نیویا کا فلسفہ دیگر ممالک میں بھی رشک بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور ویسے عمل کرنے کو تو ہم بھی باآسانی پوری قوم کا راستہ تبدیل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/220941420fcd42d.jpg?r=095755'  alt='آرہوس کی ایک شام' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آرہوس کی ایک شام</figcaption>
    </figure></p>
<p>لوگوں اور دکانوں کے ساتھ واکنگ اسٹریٹ میں چلتے چلتے ہم ایک قدیم چرچ کی عمارت کے پاس آ پہنچے۔ چرچ سے واکنگ اسٹریٹ سینٹرل اسٹیشن کے پاس جاکر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اسٹیشن سے دائیں طرف ایک چھوٹا سا چوراہا ہے یہاں سے واکنگ اسٹریٹ کے متوازی مڑیں تو ٹاؤن ہال کی عمارت نظر آتی ہے۔ یہ شہر کا نیا ٹاؤن ہال ہے جو تقریباً 41ء-1940ء میں مکمل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ساخت جدید زمانے کی عمارتوں جیسی ہے۔ رات کھانے کی تلاش میں ہم اسی جگہ تو بھٹک رہے تھے لیکن اب دن کی روشنی میں پتا چلا ہے کہ یہاں کا ٹاؤن ہال یہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2209422879617eb.jpg?r=095755'  alt='   سڑک کنارے واقع چرچ کی عمارت   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سڑک کنارے واقع چرچ کی عمارت</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094303f621c2e.jpg?r=095755'  alt='   چرچ کا داخلی دروازہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چرچ کا داخلی دروازہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094113194add9.jpg?r=094519'  alt='   ٹاؤن ہال   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاؤن ہال</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/22094212faf5606.jpg?r=095755'  alt='ٹاؤن ہال کے ساتھ باغیچہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاؤن ہال کے ساتھ باغیچہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹاؤن ہال کے ساتھ ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے۔ شہر کی کسی کمپنی کا اسٹاف کارپوریٹ تصویر بنانے کے لیے یہاں موجود تھا۔ کچھ لوگ بینچوں پر بیٹھ کر موسم گرما کا لطف لے رہے تھے جبکہ یہاں سے 300 یا 400 میٹر کے فاصلے پر ہی ہمارا ہوٹل تھا۔ لہذا ہم نے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ ڈنمارک کے دیگر  شہروں کی طرح آرہوس میں بھی تقریبا ویسی ہی دکانیں اور عمارتیں ہیں جیسی باقی شہروں میں ہیں لیکن پھر بھی ایک نئی منزل سے ملاقات کی خوشی ہمارے دل میں تھی۔ اگر ایک اچھی ملاقات کا اختتام ایک اچھے کھانے سے ہو تو کیا ہی بات ہے۔ ایک دوست کے مشورے پر ہم سرے کباب جا پہنچے۔ گرم گرم کباب اور دیسی اسٹائل کی توے کی روٹی نے شہر کے رنگوں میں رس بھر دیا۔</p>
<p>واپسی کی فیری کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ اگلی فیری چلنے میں 2 گھنٹے باقی ہیں۔ بڑے بھائی نے کوپن ہیگن سے کچھ خریداری کرنی تھی اس لیے ہم نے بذریعہ پل واپسی کا سفر اختیار کیا اور ایک خوبصورت یاد کے ساتھ ہم شام تک اپنے گھر آ پہنچے۔</p>
<hr />
<p>تصاویر بشکریہ لکھاری</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206338</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Jul 2023 15:13:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رمضان رفیق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/221038200fbd10f.gif?r=103846" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/221038200fbd10f.gif?r=103846"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/22094156d2880ce.jpg?r=083725" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/22094156d2880ce.jpg?r=083725"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمندر کی گہرائیوں میں اترنا خلائی سفر سے زیادہ مشکل کیوں ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206482/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر میں صرف کچھ لوگوں نے بحرِ اوقیانوس میں 3800 میٹر گہرائی میں موجود تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر کیا ہے، کیونکہ چند لوگ ہی اس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر کی گہرائی کا سفر کرنے کے لیے صرف مالی وسائل ہونا کافی نہیں بلکہ سیاحتی سفر سے ہم آہنگی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں علم ہونا بھی بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/06/21/business/oceangate-expeditions-titanic-tourism-cost-dangers/index.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سیاحت کے شوقین افراد کو سیاحتی سفر پر  لے جانے کے لیے 2009 میں سیاحت اور تحقیقی کمپنی اوشن گیٹ  کی بنیاد رکھی گئی  جو ٹائیٹنک جہاز کے ملبے تک تفریحی سفر کے لیے 8 دن کے سفر کی پیشکش کررہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق زندگی میں ایک بار اس انوکھے اور دلچسپ ایڈوینچر کی لاگت 250 ہزار ڈالر  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/240920021abd7e3.jpg'  alt='فوٹو: بی بی سی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: بی بی سی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارپوریٹ کمپنی تارا انکو کے مالک نک اننزیو کہتے ہیں کہ ’امیر لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ جب تجربے کی بات آتی ہے تو پیسہ معنی نہیں رکھتا، یہ لوگ وہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ لوگ ہزاروں سال سے سمندر کی سطح کو تلاش کر رہے ہیں، لیکن انسان سمندری سطح کا صرف 20 فیصد کا نقشہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین اکثر کہتے ہیں کہ خلا میں سفر کرنا سمندر کی تہہ میں جانے سے زیادہ آسان ہے،  &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/06/21/world/ocean-exploration-explainer-missing-titanic-sub-scn/index.html"&gt;ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایک جانب جہاں 12 خلابازوں نے چاند پر 300 گھنٹے گزارے ہیں، تو دوسری طرف صرف 3 لوگوں نے سمندر کی گہرائی کو تلاش کرنے کے لیے سمندر کی تہہ میں تین گھنٹے گزارے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی ایجنسی میں 30 سال سے زیادہ عرصہ گزارنے والے ڈاکٹر جین فیلڈمین کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس زمین کے مقابلے میں چاند اور مریخ کے نقشے بہتر ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتہائی محدود پیمانے پر انسان سمندر کی گہرائی تک سفر کرتا ہے، اس کی بھی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ یہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں سفر کرنے کا مطلب آپ جتنی گہرائی میں جائیں گے آپ کے اوپر پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا، خلا کے مقابلے سمندر میں جانے کے کئی چیلنجز ہیں، سمندر میں اندھیرا ہوتا ہے، وہاں تقریباً کچھ بھی نظر نہیں آتا، سورج کی روشنی پانی کے اندر بہت تیزی سے جذب ہو جاتی ہے اور سطح سے تقریباً ایک ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی میں جانے سے قاصر رہتی ہے اس کے علاوہ سمندر کا درجہ حرارت انتہائی کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سمندر-کے-سفر-کی-تاریخ" href="#سمندر-کے-سفر-کی-تاریخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سمندر کے سفر کی تاریخ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی پہلی آبدوز ڈچ انجینئر کارنیلیس ڈریبل نے 1620 میں بنائی تھی، جو کم گہرے پانی میں پھنس گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں ٹائٹینک جہاز حادثے کے بعد جب سونار ٹیکنالوجی ایجاد ہوئی تو سائنسدانوں کو  300 سال لگے تب جاکر سمندر کی گہرائی کی واضح تصویر کا پتا چلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف چار غوطہ خوروں نے سمندر کی سب سے زیادہ گہرائیوں کو دریافت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/24092002d2ac7fb.jpg'  alt='فوٹو: بی بی سی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: بی بی سی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1960 میں سمندر کے نامور ایکسپلورر جیکس پیکارڈ اور امریکی بحریہ کے لیفٹیننٹ ڈان والش نے ٹریسٹ نامی آبدوز میں سمندر کی گرائی کا تجربہ کیا تھا،  انتہائی دباؤ کی وجہ سے ان کی غوطہ خوری صرف 20 منٹ تک جاری رہی اورانہوں نے سمندری فرش سے اتنا ملبہ اٹھا لیا کہ وہ وہاں کی تصاویر لینے سے قاصر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر کی گہرائی کا اگلا ایڈونچرر  50 سال سے زیادہ کا عرصہ کے بعد ہوا، فلمساز جیمز کیمرون نے 2012 میں ایک آبدوز کے ذریعے ٹائٹینک کے سفر کا تجربہ کیا تھا، یہ آبدوز  انہوں نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ سمندر میں جانے کے تین گھنٹے بعد سمندری دباؤ نے جیمز کیمرون کے سامان کو نقصان پہنچایا، بیٹریاں اور سونار کا سامان خراب ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد 2019 میں ایڈونچرر وکٹر ویسکووو نے سمندری گہرائی کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا، انہوں نے آبدوز کے ذریعے سولو ڈائیو پر 10 ہزار 928 میٹر تک پہنچنےمیں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درجنوں دیگر  پائلٹ نے سمندری گہرائی کو جاننے کے لیے اس کی گہرائی تک جانے کی کوشش کی لیکن سمندر کے بارے انسان کا علم اب بھی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/240920039531ed9.jpg'  alt='فوٹو: بی بی سی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: بی بی سی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سمندر-کی-تہہ-میں-کیا-ہے" href="#سمندر-کی-تہہ-میں-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سمندر کی تہہ میں کیا ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;میساچوسٹس میں ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن کے مطابق 1948 میں سائنسدان پہلی بار یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے کہ سمندر کی 19 ہزار 685 فٹ گہرائی میں بھی جاندار موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/06/21/us/how-deep-titanic-submersible-ocean-dive-dg/index.html"&gt;ٹائٹینک سطح&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سمندر سے تقریباً 12ہزار 500 فٹ نیچے ہے، سمندر کی گہرائی پر اگر روشنی ڈالی جائے تو سکوبا ڈائیو 2022 میں سمندر کی ایک ہزار 90 فٹ گہرائی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ سمندر میں صرف 2 ہزار 717 فٹ تک پہنچ سکتی ہے، جو ٹائٹینک کے ملبے تک پہنچنے سے تقریباً 9 ہزار 700 فٹ دور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر کی گہرائی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ نیچے دی گئی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/UwVNkfCov1k?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر میں صرف کچھ لوگوں نے بحرِ اوقیانوس میں 3800 میٹر گہرائی میں موجود تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر کیا ہے، کیونکہ چند لوگ ہی اس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>سمندر کی گہرائی کا سفر کرنے کے لیے صرف مالی وسائل ہونا کافی نہیں بلکہ سیاحتی سفر سے ہم آہنگی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں علم ہونا بھی بہت ضروری ہے۔</p>
<p>سی این این کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/06/21/business/oceangate-expeditions-titanic-tourism-cost-dangers/index.html">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سیاحت کے شوقین افراد کو سیاحتی سفر پر  لے جانے کے لیے 2009 میں سیاحت اور تحقیقی کمپنی اوشن گیٹ  کی بنیاد رکھی گئی  جو ٹائیٹنک جہاز کے ملبے تک تفریحی سفر کے لیے 8 دن کے سفر کی پیشکش کررہی تھی۔</p>
<p>کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق زندگی میں ایک بار اس انوکھے اور دلچسپ ایڈوینچر کی لاگت 250 ہزار ڈالر  ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/240920021abd7e3.jpg'  alt='فوٹو: بی بی سی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: بی بی سی</figcaption>
    </figure></p>
<p>کارپوریٹ کمپنی تارا انکو کے مالک نک اننزیو کہتے ہیں کہ ’امیر لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ جب تجربے کی بات آتی ہے تو پیسہ معنی نہیں رکھتا، یہ لوگ وہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔</p>
<p>نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ لوگ ہزاروں سال سے سمندر کی سطح کو تلاش کر رہے ہیں، لیکن انسان سمندری سطح کا صرف 20 فیصد کا نقشہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔</p>
<p>محققین اکثر کہتے ہیں کہ خلا میں سفر کرنا سمندر کی تہہ میں جانے سے زیادہ آسان ہے،  <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/06/21/world/ocean-exploration-explainer-missing-titanic-sub-scn/index.html">ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن</a></strong> کے مطابق ایک جانب جہاں 12 خلابازوں نے چاند پر 300 گھنٹے گزارے ہیں، تو دوسری طرف صرف 3 لوگوں نے سمندر کی گہرائی کو تلاش کرنے کے لیے سمندر کی تہہ میں تین گھنٹے گزارے ہیں۔</p>
<p>خلائی ایجنسی میں 30 سال سے زیادہ عرصہ گزارنے والے ڈاکٹر جین فیلڈمین کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس زمین کے مقابلے میں چاند اور مریخ کے نقشے بہتر ہیں۔‘</p>
<p>انتہائی محدود پیمانے پر انسان سمندر کی گہرائی تک سفر کرتا ہے، اس کی بھی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ یہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں سفر کرنے کا مطلب آپ جتنی گہرائی میں جائیں گے آپ کے اوپر پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا، خلا کے مقابلے سمندر میں جانے کے کئی چیلنجز ہیں، سمندر میں اندھیرا ہوتا ہے، وہاں تقریباً کچھ بھی نظر نہیں آتا، سورج کی روشنی پانی کے اندر بہت تیزی سے جذب ہو جاتی ہے اور سطح سے تقریباً ایک ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی میں جانے سے قاصر رہتی ہے اس کے علاوہ سمندر کا درجہ حرارت انتہائی کم ہوتا ہے۔</p>
<h3><a id="سمندر-کے-سفر-کی-تاریخ" href="#سمندر-کے-سفر-کی-تاریخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سمندر کے سفر کی تاریخ</h3>
<p>دنیا کی پہلی آبدوز ڈچ انجینئر کارنیلیس ڈریبل نے 1620 میں بنائی تھی، جو کم گہرے پانی میں پھنس گئی تھی۔</p>
<p>بعدازاں ٹائٹینک جہاز حادثے کے بعد جب سونار ٹیکنالوجی ایجاد ہوئی تو سائنسدانوں کو  300 سال لگے تب جاکر سمندر کی گہرائی کی واضح تصویر کا پتا چلا۔</p>
<p>صرف چار غوطہ خوروں نے سمندر کی سب سے زیادہ گہرائیوں کو دریافت کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/24092002d2ac7fb.jpg'  alt='فوٹو: بی بی سی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: بی بی سی</figcaption>
    </figure></p>
<p>1960 میں سمندر کے نامور ایکسپلورر جیکس پیکارڈ اور امریکی بحریہ کے لیفٹیننٹ ڈان والش نے ٹریسٹ نامی آبدوز میں سمندر کی گرائی کا تجربہ کیا تھا،  انتہائی دباؤ کی وجہ سے ان کی غوطہ خوری صرف 20 منٹ تک جاری رہی اورانہوں نے سمندری فرش سے اتنا ملبہ اٹھا لیا کہ وہ وہاں کی تصاویر لینے سے قاصر رہے۔</p>
<p>سمندر کی گہرائی کا اگلا ایڈونچرر  50 سال سے زیادہ کا عرصہ کے بعد ہوا، فلمساز جیمز کیمرون نے 2012 میں ایک آبدوز کے ذریعے ٹائٹینک کے سفر کا تجربہ کیا تھا، یہ آبدوز  انہوں نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ سمندر میں جانے کے تین گھنٹے بعد سمندری دباؤ نے جیمز کیمرون کے سامان کو نقصان پہنچایا، بیٹریاں اور سونار کا سامان خراب ہو گیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد 2019 میں ایڈونچرر وکٹر ویسکووو نے سمندری گہرائی کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا، انہوں نے آبدوز کے ذریعے سولو ڈائیو پر 10 ہزار 928 میٹر تک پہنچنےمیں کامیاب ہوئے۔</p>
<p>درجنوں دیگر  پائلٹ نے سمندری گہرائی کو جاننے کے لیے اس کی گہرائی تک جانے کی کوشش کی لیکن سمندر کے بارے انسان کا علم اب بھی محدود ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/240920039531ed9.jpg'  alt='فوٹو: بی بی سی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: بی بی سی</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="سمندر-کی-تہہ-میں-کیا-ہے" href="#سمندر-کی-تہہ-میں-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سمندر کی تہہ میں کیا ہے؟</h3>
<p>میساچوسٹس میں ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن کے مطابق 1948 میں سائنسدان پہلی بار یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے کہ سمندر کی 19 ہزار 685 فٹ گہرائی میں بھی جاندار موجود ہیں۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/06/21/us/how-deep-titanic-submersible-ocean-dive-dg/index.html">ٹائٹینک سطح</a></strong> سمندر سے تقریباً 12ہزار 500 فٹ نیچے ہے، سمندر کی گہرائی پر اگر روشنی ڈالی جائے تو سکوبا ڈائیو 2022 میں سمندر کی ایک ہزار 90 فٹ گہرائی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔</p>
<p>جبکہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ سمندر میں صرف 2 ہزار 717 فٹ تک پہنچ سکتی ہے، جو ٹائٹینک کے ملبے تک پہنچنے سے تقریباً 9 ہزار 700 فٹ دور ہے۔</p>
<p>سمندر کی گہرائی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ نیچے دی گئی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/UwVNkfCov1k?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206482</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jun 2023 12:34:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/24090324d9bedfa.png?r=092312" type="image/png" medium="image" height="486" width="811">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/24090324d9bedfa.png?r=092312"/>
        <media:title>دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ سمندر میں صرف 2 ہزار 717 فٹ تک پہنچ سکتی ہے—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفرنامہِ ہسپانیہ: میڈریڈ کی سیر (دوسری قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206270/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;میڈریڈ کا ہوائی اڈہ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے میڈریڈ کا ADOLFO SUAREZ BARAJAS ایئرپورٹ اور پیرس کا چارلس ڈیگال ایئرپورٹ یورپ کے سب سے بڑے ہوائی اڈے تصور کیے جاتے ہیں۔ اکثر بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو اپنے متعلقہ گیٹ پر جانے اور دیگر چیزوں کی تلاش میں کچھ دقت پیش آتی ہے لیکن میڈریڈ کا ہوائی اڈہ اس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں بھول بھلیاں نہیں ہیں اور یہ ایک ریلوے پلیٹ فارم کی طرح سیدھا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20151008168c58b.jpg'  alt='  میڈریڈ  شہر کا فضائی منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میڈریڈ  شہر کا فضائی منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201510534a2318e.jpg'  alt='  میڈریڈ کا ہوائی اڈہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میڈریڈ کا ہوائی اڈہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے سے ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر تک پہنچنے میں ہمیں 20 منٹ کا وقت لگا۔ امیگریشن کا عمل مکمل ہونے اور اپنے سامان کی وصولی کے بعد ہم ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے کی طرف روانہ ہوئے۔ مرکزی دروازے سے باہر نکلتے ہی اسپین کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت میڈریڈ نے سرد اور خشک ہواؤں کے جھونکوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نومبر کے مہینے میں ناران کی یخ بستہ وادی میں داخل ہوگیا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے تقریباً 30 یوروز کے عوض ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ میڈریڈ شہر کے مرکز پیورٹا ڈے سول (purta del sole) میں اپنی رہائش کے لیے روانہ ہوئے۔ میڈریڈ شہر کی سڑکیں، چوراہے اور راستے حیرت انگیز حد تک کشادہ اور خوبصورت تھے۔ چوراہے اتنے خوشنما اور دیدہ زیب بنائے گئے ہیں کہ صحیح معنوں میں دل موہ لینے والے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/23161430e273429.jpg'  alt=' ایئرپورٹ سے میڈریڈ شہر کی طرف سفر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایئرپورٹ سے میڈریڈ شہر کی طرف سفر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہیں پر یادگاروں کی تعمیر تو کہیں مختلف چوراہوں میں مجسمے اور فواروں کے دلکش مناظر۔ کہیں پر آزادی کے حوالے سے  باب الفتح کی یادگار، کہیں آرٹ کے نمونے تو کہیں خوبصورت پھولوں سے سجا فٹ پاتھ۔ اتنی دلکشی شاید یورپ کے کسی اور شہر میں ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/231510527215db4.jpg'  alt='  شہر کی تزئین و آرائش ایسی تھی جیسے ہمارے استقبال کے لیے تیار کیا گیا ہو  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شہر کی تزئین و آرائش ایسی تھی جیسے ہمارے استقبال کے لیے تیار کیا گیا ہو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شہر میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی تزئین و آرائش ہمارے آنے سے پہلے کی گئی ہو۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں تھا، میڈریڈ شہر کو بنایا ہی ایسا گیا ہے کہ ہر آنے والے کا یہ شہر بھرپور انداز میں استقبال کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر شہری آبادی کی بہترین شکل اور سڑکوں و گلیوں کی تعمیر کے حوالے سے بات کی جائے تو بلاشبہ میڈریڈ شہر کو آپ دنیا کے خوبصورت شہروں میں شامل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میڈریڈ-شہر-میں-چند-ساعتیں" href="#میڈریڈ-شہر-میں-چند-ساعتیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;میڈریڈ شہر میں چند ساعتیں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے نکلے ہوئے ہمیں 20 منٹ ہوچکے تھے۔ شہر کے ایک مشہور الکالی اسٹریٹ اور  پیسیو ڈی لا کاسٹیلانا سے گزرتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور (جس کا تعلق پنجاب کے شہر جہلم سے تھا) نے شہر کے مشہور سیاحتی مقامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 65 لاکھ آبادی پر مشتمل عظیم ثقافت اور تاریخی فن تعمیر کے لیے مشہور اسپین کا خوبصورت شہر میڈریڈ سطح سمندر سے 650 میٹر کی اوسط اونچائی پر واقع ہے۔ میڈریڈ کو پیرس کے ائفل ٹاور، روم کی کیتھولک تاریخ، بارسلونا کی ماڈرنسٹا کے شاہکاروں اور لا سگراڈا فیمیلیہ کی طرح شہرت تو حاصل نہیں، لیکن ہسپانیہ کی تاریخ میں قرون وسطیٰ کی حویلیوں اور شاہی محلوں سے لےکر ہسپانوی عصری فنِ تعمیر کے ناقابل تصور زاویوں پر بنا شہری زندگی کا ایک شاندار پس منظر ضرور رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201509260d8da11.jpg'  alt='  میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے نکلے ہوئے ہمیں 20 منٹ ہوچکے تھے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے نکلے ہوئے ہمیں 20 منٹ ہوچکے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ کو عرب ’المجریط‘ کہتے تھے جس پر مسلمانوں کی طویل عرصے تک حکومت رہی۔ الفونسو پنجم نے میڈریڈ سے مسلمانوں کی حکمرانی کا خاتمہ کیا اور شہر کی جامع مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ پر چرچ تعمیر کیا۔ میڈریڈ میں محمد اول نے ایک محل بھی تعمیر کیا تھا جوکہ آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح اس خوبصورت شہر میں مختلف تہذیبوں کے کئی تاریخی مقامات موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے سالانہ 60 لاکھ سے زائد سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ہماری رہائش کے قریب شہر کے وسط میں مشہور سیاحتی مقامات پورٹا ڈی سول، پلازہ میئر، پلازہ ڈی ٹورس، اور پلازہ ڈی کولن موجود تھے۔ ہم نے سوچا کہ مغرب کے بعد ان مقامات کا دورہ ضرور کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/23162047db5c888.jpg'  alt='  پلازہ ڈی ٹورس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلازہ ڈی ٹورس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرائیور کی باتوں کو ہم غور سے سن رہے تھے لیکن اس وقت میرا دھیان صرف اپنے موبائل کے کیمرے سےمنظر کشی کرنے پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور سیاحتی مقامات کی فہرست تو ویسے بھی میرے پاس پہلے سے ہی موجود تھی۔ بہرحال شہر کی مختلف گلیوں اور سڑکوں پر دوڑتی ہوئی کار بلآخر ہماری مطلوبہ منزل پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201509329d089a7.jpg'  alt='  میڈریڈ شہر کا خوبصورت منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میڈریڈ شہر کا خوبصورت منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسی ڈرائیور نے اپنے فون سے اپارٹمنٹ کے مالک سے ایڈریس کنفرم کرنے کے بعد ہمیں اپارٹمنٹ اور قریبی پاکستانی انڈین ریسٹورنٹ کی نشاندہی کی اور کرایہ وصول کرنے کے بعد اپنی راہ لی۔ تھوڑی دیر میں ہم میڈریڈ کے مرکزی علاقے میں موجود ایک خوبصورت اپارٹمنٹ میں براجمان ہوئے۔ سفر کی تھکاوٹ اتارنے کے لیے آرام کی عرض سے لیٹ گئے اور چونکہ بھوک سے برا حال تھا اس لیے مغرب کی نماز کے فوراً بعد ہم پاکستانی کھانے کی تلاش میں نکل پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2015103060d6d06.jpg'  alt='   پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مقام   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مقام&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈریڈ شہر کے سب سے گنجان اور مشہور سیاحتی مقام پورٹا ڈی سول میں موبائل سم خریدنے اور کچھ دیر فوٹوگرافی کرنے کے بعد ہم قریبی حلال ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لیے روانہ ہوئے۔ میڈریڈ شہر کو اپنے روایتی کھانوں کی وجہ سے بھی پورے یورپ میں خاص مقام حاصل ہے۔ چونکہ ہمیں حلال کھانے کی تلاش تھی، اس لیے جہاں ہم قیام کررہے تھے وہاں سے 15 منٹ کی پیدل واک پر واقع ایک بنگلادیشی ریسٹورنٹ میں ہم نے شوارما نما برگر کا آرڈر دیا اور اسی ریسٹورنٹ کے کونے میں موجود ٹیبل پر انتظار کی گھڑیاں گننے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے دن صبح سویرے ہمیں قرطبہ شہر کی طرف نکلنا تھا۔ اس لیے میٹرو اسٹیشن قریب ہونے کی وجہ سے صبح سویرے ہماری رہائش کے قریب مشہور سیاحتی مقامات وزٹ کرنے کے بعد فاسٹ ٹرین کے ذریعے قرطبہ شہر کی طرف روانگی کا پروگرام فائنل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈریڈ کی رات اپنے جوبن پر تھی۔ پورٹا ڈی سول کے تجارتی مرکز میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کا رش دیدنی تھا۔ دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر میڈریڈ کی رات رنگینیوں کا مزہ بھی لیا جائے لیکن ایک طرف سرد اور خشک ہوا وہاں قدم جمنے نہیں دے رہی تھی تو دوسری طرف سفر کی تھکان نے بھی برا حال کردیا تھا۔ اس لیے بنگلادیشی شوارما نوش کرنے کے بعد ہم نے اپنی رہائش پر پہنچنے پراکتفا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح نماز فجر کے بعد  تقریباً 7 بجے کے قریب ہم ناشتے کے لیے میڈریڈ شہر میں انڈین کھانوں والی گلی ’کالے ڈی پیلار‘ کی طرف پیدل مارچ کرنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2015084197c83b7.jpg'  alt='  انڈین کھانوں کے لیے گلی &amp;rsquo;کالے ڈی پیلار&amp;lsquo;  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انڈین کھانوں کے لیے گلی ’کالے ڈی پیلار‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل میپ ہماری رہائش سے ریسٹورنٹ کا فاصلہ 20 منٹ بتا رہا تھا۔ صبح کے ساڑھے 7 بج چکے تھے لیکن اس وقت بھی رات کی تاریکی پوری طرح قابض تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم رات کے آخری پہر میں میڈریڈ کا نظارہ کررہے ہیں۔ سنسان و ویران گلیاں، پورٹا ڈی سول کا گنجان مرکزی بازار جہاں رات کو تِل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اس وقت بالکل سنسان تھا۔ ایک دفعہ تو ارادہ کیا کہ واپس اپنی رہائش پر چلے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد نکلیں گے لیکن ہم کچھ دیر بعد افتخار علی کے اصرار پر ریسٹورنٹ کے بند دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20150922f58d5e0.jpg'  alt='  میڈریڈ شہر میں پہلا ناشتہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میڈریڈ شہر میں پہلا ناشتہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹورنٹ بند ہونے کی وجہ سے ہمارے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ قریب واقع ایک بڑے اسٹور سے چائے کے ایک کپ کے ساتھ کوئی سوئٹ ڈش لے لیں جبکہ باقی ناشتہ اتوچہ کے ٹرین اسٹیشن پر کیا جائے۔ اس لیے اسٹور پر ایک کپ چائے اور بریڈ کھا کر واپس پورٹا ڈی سول کے سیاحتی مقام کے لیے روانہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹا ڈیل سول میڈریڈ کا سب سے مشہور اور وسطی اسکوائر ہے۔ 1854ء سے 1860ء میں ہونے والی تزئین و آرائش کے بعد اس کی موجودہ شکل فنِ تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ یہ اس شہر کا سب سے مشہور اور مصروف ترین مقام ہے۔ پورٹا ڈیل سول کا مطلب ہسپانوی زبان میں ’سورج کا دروازہ‘ ہے۔ 15ویں صدی میں میڈریڈ شہر کے اردگرد تعمیر کی گئی دیوار کے دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام یہ تھا جو مشرق کی جانب کُھلتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201510038fcfa6c.jpg'  alt='  پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مرکز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مرکز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پورے اسپین کے سڑکوں کے نیٹ ورک کا مرکزی پوائنٹ (0کلومیٹر ) بھی ہے۔ اسکوائر میں مشہور اور تاریخی گھڑی کی گھنٹیاں ہسپانوی ثقافت کے 12 انگور پر مشتمل روایتی کھانے اور نئے سال کے آغاز کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈریڈ میں بہترین اصلاحات اور مثالی تعمیر کی وجہ سے عوامی مطالبے پر ان کی خدمات کو سراہنے کے لیے پورٹا ڈی سول اسکوائر کے وسط میں شاہ کارلوس سوم کا مجسمہ نصب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20150916b3f738e.jpg'  alt='   شاہ کارلوس سوم کا مجسمہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہ کارلوس سوم کا مجسمہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساڑھے 8 بج چکے تھے۔ صبح کی کرنوں نے بھی رات کی تاریکیوں کا قبضہ ختم کرنا شروع کردیا تھا۔ اس تاریخی اور سیاحتی مقام کی منظرکشی کرنے کے بعد قریب ہی ایک اور مقام ’اسٹرابیری کے پودے کے ساتھ ریچھ کے یادگاری مجسمے‘ کی جانب بڑھ گئے۔ ایک درخت سے پھل کھاتے ہوئے ریچھ کا یہ 20 ٹن وزنی مجسمہ میڈریڈ کے اصل نام ’عرساریہ‘ کے ساتھ منسوب ہے جس کا لاطینی زبان میں مطلب ہے ’ریچھوں کی سرزمین۔‘ تاریخ دانوں کے مطابق شہر سے ملحقہ جنگلات میں بہت زیادہ ریچھ اور اسٹرابیری کے درخت موجود تھے جو قرون وسطیٰ کے دور سے ہی اس شہر کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20151021d1f4578.jpg'  alt='   ریچھ کا 20 ٹن وزنی مجسمہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ریچھ کا 20 ٹن وزنی مجسمہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ہم اپنی رہائش سے سامان لےکر میٹرو اسٹیشن پہنچ گئے جہاں سے خودکار مشین سے اتوچہ ٹرین اسٹیشن کے لیے ٹکٹ خرید کر مطلوبہ ٹرین کے ذریعے 15 منٹ میں ہم اتوچہ اسٹیشن پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201510267d6db1c.jpg'  alt='  اتوچہ کا ٹرین اسٹیشن  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اتوچہ کا ٹرین اسٹیشن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑی سی تاخیر کی وجہ سے پہلے تو ساڑھے 10 بجے والی ٹرین نکل گئی۔ پھر فی کس کے حساب سے 25 یوروز کا ٹکٹ بھی مہنگا ملا۔ خیر ساڑھے 11 بجے کے قریب تیز رفتار ٹرین کے ذریعے ہم قرطبہ (کوردوبہ) کی طرف گامزن ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تصاویر بشکریہ لکھاری&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>میڈریڈ کا ہوائی اڈہ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے میڈریڈ کا ADOLFO SUAREZ BARAJAS ایئرپورٹ اور پیرس کا چارلس ڈیگال ایئرپورٹ یورپ کے سب سے بڑے ہوائی اڈے تصور کیے جاتے ہیں۔ اکثر بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو اپنے متعلقہ گیٹ پر جانے اور دیگر چیزوں کی تلاش میں کچھ دقت پیش آتی ہے لیکن میڈریڈ کا ہوائی اڈہ اس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں بھول بھلیاں نہیں ہیں اور یہ ایک ریلوے پلیٹ فارم کی طرح سیدھا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20151008168c58b.jpg'  alt='  میڈریڈ  شہر کا فضائی منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میڈریڈ  شہر کا فضائی منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201510534a2318e.jpg'  alt='  میڈریڈ کا ہوائی اڈہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میڈریڈ کا ہوائی اڈہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>طیارے سے ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر تک پہنچنے میں ہمیں 20 منٹ کا وقت لگا۔ امیگریشن کا عمل مکمل ہونے اور اپنے سامان کی وصولی کے بعد ہم ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے کی طرف روانہ ہوئے۔ مرکزی دروازے سے باہر نکلتے ہی اسپین کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت میڈریڈ نے سرد اور خشک ہواؤں کے جھونکوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نومبر کے مہینے میں ناران کی یخ بستہ وادی میں داخل ہوگیا ہوں۔</p>
<p>میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے تقریباً 30 یوروز کے عوض ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ میڈریڈ شہر کے مرکز پیورٹا ڈے سول (purta del sole) میں اپنی رہائش کے لیے روانہ ہوئے۔ میڈریڈ شہر کی سڑکیں، چوراہے اور راستے حیرت انگیز حد تک کشادہ اور خوبصورت تھے۔ چوراہے اتنے خوشنما اور دیدہ زیب بنائے گئے ہیں کہ صحیح معنوں میں دل موہ لینے والے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/23161430e273429.jpg'  alt=' ایئرپورٹ سے میڈریڈ شہر کی طرف سفر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایئرپورٹ سے میڈریڈ شہر کی طرف سفر</figcaption>
    </figure></p>
<p>کہیں پر یادگاروں کی تعمیر تو کہیں مختلف چوراہوں میں مجسمے اور فواروں کے دلکش مناظر۔ کہیں پر آزادی کے حوالے سے  باب الفتح کی یادگار، کہیں آرٹ کے نمونے تو کہیں خوبصورت پھولوں سے سجا فٹ پاتھ۔ اتنی دلکشی شاید یورپ کے کسی اور شہر میں ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/231510527215db4.jpg'  alt='  شہر کی تزئین و آرائش ایسی تھی جیسے ہمارے استقبال کے لیے تیار کیا گیا ہو  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شہر کی تزئین و آرائش ایسی تھی جیسے ہمارے استقبال کے لیے تیار کیا گیا ہو</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس شہر میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی تزئین و آرائش ہمارے آنے سے پہلے کی گئی ہو۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں تھا، میڈریڈ شہر کو بنایا ہی ایسا گیا ہے کہ ہر آنے والے کا یہ شہر بھرپور انداز میں استقبال کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر شہری آبادی کی بہترین شکل اور سڑکوں و گلیوں کی تعمیر کے حوالے سے بات کی جائے تو بلاشبہ میڈریڈ شہر کو آپ دنیا کے خوبصورت شہروں میں شامل کرسکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="میڈریڈ-شہر-میں-چند-ساعتیں" href="#میڈریڈ-شہر-میں-چند-ساعتیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>میڈریڈ شہر میں چند ساعتیں</h1>
<p>میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے نکلے ہوئے ہمیں 20 منٹ ہوچکے تھے۔ شہر کے ایک مشہور الکالی اسٹریٹ اور  پیسیو ڈی لا کاسٹیلانا سے گزرتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور (جس کا تعلق پنجاب کے شہر جہلم سے تھا) نے شہر کے مشہور سیاحتی مقامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 65 لاکھ آبادی پر مشتمل عظیم ثقافت اور تاریخی فن تعمیر کے لیے مشہور اسپین کا خوبصورت شہر میڈریڈ سطح سمندر سے 650 میٹر کی اوسط اونچائی پر واقع ہے۔ میڈریڈ کو پیرس کے ائفل ٹاور، روم کی کیتھولک تاریخ، بارسلونا کی ماڈرنسٹا کے شاہکاروں اور لا سگراڈا فیمیلیہ کی طرح شہرت تو حاصل نہیں، لیکن ہسپانیہ کی تاریخ میں قرون وسطیٰ کی حویلیوں اور شاہی محلوں سے لےکر ہسپانوی عصری فنِ تعمیر کے ناقابل تصور زاویوں پر بنا شہری زندگی کا ایک شاندار پس منظر ضرور رکھتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201509260d8da11.jpg'  alt='  میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے نکلے ہوئے ہمیں 20 منٹ ہوچکے تھے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میڈریڈ کے ہوائی اڈے سے نکلے ہوئے ہمیں 20 منٹ ہوچکے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ کو عرب ’المجریط‘ کہتے تھے جس پر مسلمانوں کی طویل عرصے تک حکومت رہی۔ الفونسو پنجم نے میڈریڈ سے مسلمانوں کی حکمرانی کا خاتمہ کیا اور شہر کی جامع مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ پر چرچ تعمیر کیا۔ میڈریڈ میں محمد اول نے ایک محل بھی تعمیر کیا تھا جوکہ آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح اس خوبصورت شہر میں مختلف تہذیبوں کے کئی تاریخی مقامات موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے سالانہ 60 لاکھ سے زائد سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ہماری رہائش کے قریب شہر کے وسط میں مشہور سیاحتی مقامات پورٹا ڈی سول، پلازہ میئر، پلازہ ڈی ٹورس، اور پلازہ ڈی کولن موجود تھے۔ ہم نے سوچا کہ مغرب کے بعد ان مقامات کا دورہ ضرور کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/23162047db5c888.jpg'  alt='  پلازہ ڈی ٹورس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلازہ ڈی ٹورس</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈرائیور کی باتوں کو ہم غور سے سن رہے تھے لیکن اس وقت میرا دھیان صرف اپنے موبائل کے کیمرے سےمنظر کشی کرنے پر تھا۔</p>
<p>مشہور سیاحتی مقامات کی فہرست تو ویسے بھی میرے پاس پہلے سے ہی موجود تھی۔ بہرحال شہر کی مختلف گلیوں اور سڑکوں پر دوڑتی ہوئی کار بلآخر ہماری مطلوبہ منزل پر پہنچ گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201509329d089a7.jpg'  alt='  میڈریڈ شہر کا خوبصورت منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میڈریڈ شہر کا خوبصورت منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹیکسی ڈرائیور نے اپنے فون سے اپارٹمنٹ کے مالک سے ایڈریس کنفرم کرنے کے بعد ہمیں اپارٹمنٹ اور قریبی پاکستانی انڈین ریسٹورنٹ کی نشاندہی کی اور کرایہ وصول کرنے کے بعد اپنی راہ لی۔ تھوڑی دیر میں ہم میڈریڈ کے مرکزی علاقے میں موجود ایک خوبصورت اپارٹمنٹ میں براجمان ہوئے۔ سفر کی تھکاوٹ اتارنے کے لیے آرام کی عرض سے لیٹ گئے اور چونکہ بھوک سے برا حال تھا اس لیے مغرب کی نماز کے فوراً بعد ہم پاکستانی کھانے کی تلاش میں نکل پڑے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2015103060d6d06.jpg'  alt='   پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مقام   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مقام</figcaption>
    </figure></p>
<p>میڈریڈ شہر کے سب سے گنجان اور مشہور سیاحتی مقام پورٹا ڈی سول میں موبائل سم خریدنے اور کچھ دیر فوٹوگرافی کرنے کے بعد ہم قریبی حلال ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لیے روانہ ہوئے۔ میڈریڈ شہر کو اپنے روایتی کھانوں کی وجہ سے بھی پورے یورپ میں خاص مقام حاصل ہے۔ چونکہ ہمیں حلال کھانے کی تلاش تھی، اس لیے جہاں ہم قیام کررہے تھے وہاں سے 15 منٹ کی پیدل واک پر واقع ایک بنگلادیشی ریسٹورنٹ میں ہم نے شوارما نما برگر کا آرڈر دیا اور اسی ریسٹورنٹ کے کونے میں موجود ٹیبل پر انتظار کی گھڑیاں گننے لگے۔</p>
<p>اگلے دن صبح سویرے ہمیں قرطبہ شہر کی طرف نکلنا تھا۔ اس لیے میٹرو اسٹیشن قریب ہونے کی وجہ سے صبح سویرے ہماری رہائش کے قریب مشہور سیاحتی مقامات وزٹ کرنے کے بعد فاسٹ ٹرین کے ذریعے قرطبہ شہر کی طرف روانگی کا پروگرام فائنل ہوا۔</p>
<p>میڈریڈ کی رات اپنے جوبن پر تھی۔ پورٹا ڈی سول کے تجارتی مرکز میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کا رش دیدنی تھا۔ دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر میڈریڈ کی رات رنگینیوں کا مزہ بھی لیا جائے لیکن ایک طرف سرد اور خشک ہوا وہاں قدم جمنے نہیں دے رہی تھی تو دوسری طرف سفر کی تھکان نے بھی برا حال کردیا تھا۔ اس لیے بنگلادیشی شوارما نوش کرنے کے بعد ہم نے اپنی رہائش پر پہنچنے پراکتفا کیا۔</p>
<p>صبح نماز فجر کے بعد  تقریباً 7 بجے کے قریب ہم ناشتے کے لیے میڈریڈ شہر میں انڈین کھانوں والی گلی ’کالے ڈی پیلار‘ کی طرف پیدل مارچ کرنے لگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/2015084197c83b7.jpg'  alt='  انڈین کھانوں کے لیے گلی &rsquo;کالے ڈی پیلار&lsquo;  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انڈین کھانوں کے لیے گلی ’کالے ڈی پیلار‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>گوگل میپ ہماری رہائش سے ریسٹورنٹ کا فاصلہ 20 منٹ بتا رہا تھا۔ صبح کے ساڑھے 7 بج چکے تھے لیکن اس وقت بھی رات کی تاریکی پوری طرح قابض تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم رات کے آخری پہر میں میڈریڈ کا نظارہ کررہے ہیں۔ سنسان و ویران گلیاں، پورٹا ڈی سول کا گنجان مرکزی بازار جہاں رات کو تِل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اس وقت بالکل سنسان تھا۔ ایک دفعہ تو ارادہ کیا کہ واپس اپنی رہائش پر چلے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد نکلیں گے لیکن ہم کچھ دیر بعد افتخار علی کے اصرار پر ریسٹورنٹ کے بند دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20150922f58d5e0.jpg'  alt='  میڈریڈ شہر میں پہلا ناشتہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میڈریڈ شہر میں پہلا ناشتہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ریسٹورنٹ بند ہونے کی وجہ سے ہمارے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ قریب واقع ایک بڑے اسٹور سے چائے کے ایک کپ کے ساتھ کوئی سوئٹ ڈش لے لیں جبکہ باقی ناشتہ اتوچہ کے ٹرین اسٹیشن پر کیا جائے۔ اس لیے اسٹور پر ایک کپ چائے اور بریڈ کھا کر واپس پورٹا ڈی سول کے سیاحتی مقام کے لیے روانہ ہوگئے۔</p>
<p>پورٹا ڈیل سول میڈریڈ کا سب سے مشہور اور وسطی اسکوائر ہے۔ 1854ء سے 1860ء میں ہونے والی تزئین و آرائش کے بعد اس کی موجودہ شکل فنِ تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ یہ اس شہر کا سب سے مشہور اور مصروف ترین مقام ہے۔ پورٹا ڈیل سول کا مطلب ہسپانوی زبان میں ’سورج کا دروازہ‘ ہے۔ 15ویں صدی میں میڈریڈ شہر کے اردگرد تعمیر کی گئی دیوار کے دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام یہ تھا جو مشرق کی جانب کُھلتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201510038fcfa6c.jpg'  alt='  پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مرکز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پورٹا ڈی سول کا مشہور سیاحتی مرکز</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ پورے اسپین کے سڑکوں کے نیٹ ورک کا مرکزی پوائنٹ (0کلومیٹر ) بھی ہے۔ اسکوائر میں مشہور اور تاریخی گھڑی کی گھنٹیاں ہسپانوی ثقافت کے 12 انگور پر مشتمل روایتی کھانے اور نئے سال کے آغاز کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>میڈریڈ میں بہترین اصلاحات اور مثالی تعمیر کی وجہ سے عوامی مطالبے پر ان کی خدمات کو سراہنے کے لیے پورٹا ڈی سول اسکوائر کے وسط میں شاہ کارلوس سوم کا مجسمہ نصب کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20150916b3f738e.jpg'  alt='   شاہ کارلوس سوم کا مجسمہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہ کارلوس سوم کا مجسمہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ساڑھے 8 بج چکے تھے۔ صبح کی کرنوں نے بھی رات کی تاریکیوں کا قبضہ ختم کرنا شروع کردیا تھا۔ اس تاریخی اور سیاحتی مقام کی منظرکشی کرنے کے بعد قریب ہی ایک اور مقام ’اسٹرابیری کے پودے کے ساتھ ریچھ کے یادگاری مجسمے‘ کی جانب بڑھ گئے۔ ایک درخت سے پھل کھاتے ہوئے ریچھ کا یہ 20 ٹن وزنی مجسمہ میڈریڈ کے اصل نام ’عرساریہ‘ کے ساتھ منسوب ہے جس کا لاطینی زبان میں مطلب ہے ’ریچھوں کی سرزمین۔‘ تاریخ دانوں کے مطابق شہر سے ملحقہ جنگلات میں بہت زیادہ ریچھ اور اسٹرابیری کے درخت موجود تھے جو قرون وسطیٰ کے دور سے ہی اس شہر کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/20151021d1f4578.jpg'  alt='   ریچھ کا 20 ٹن وزنی مجسمہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ریچھ کا 20 ٹن وزنی مجسمہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں ہم اپنی رہائش سے سامان لےکر میٹرو اسٹیشن پہنچ گئے جہاں سے خودکار مشین سے اتوچہ ٹرین اسٹیشن کے لیے ٹکٹ خرید کر مطلوبہ ٹرین کے ذریعے 15 منٹ میں ہم اتوچہ اسٹیشن پہنچ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/201510267d6db1c.jpg'  alt='  اتوچہ کا ٹرین اسٹیشن  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اتوچہ کا ٹرین اسٹیشن</figcaption>
    </figure></p>
<p>تھوڑی سی تاخیر کی وجہ سے پہلے تو ساڑھے 10 بجے والی ٹرین نکل گئی۔ پھر فی کس کے حساب سے 25 یوروز کا ٹکٹ بھی مہنگا ملا۔ خیر ساڑھے 11 بجے کے قریب تیز رفتار ٹرین کے ذریعے ہم قرطبہ (کوردوبہ) کی طرف گامزن ہوئے۔</p>
<hr />
<p>تصاویر بشکریہ لکھاری</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206270</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jun 2023 16:21:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/22091951d01dc67.jpg?r=151133" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/22091951d01dc67.jpg?r=151133"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک فضائی میزبان کی آپ بیتی: ’جاپانیوں کو برصغیر کے لوگ ایک جیسے لگتے ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205886/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی گزشتہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/fizaeeaapbiti"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;پہلی مرتبہ سال 2008ء میں ٹوکیو سے 80 کلومیٹر دور ناریتا شہر (Narita) کے ہوائی اڈے پر اترتے وقت مجھے جاپان کے بارے میں صرف دو چیزیں معلوم تھیں۔ ایک یہ کہ یہاں ایٹم بم گرایا گیا تھا اور دوسری بات یہ کہ اگر گھر میں وی سی آر رکھنا ہے تو بس جاپانی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ سے ٹوکیو کی پرواز کے دوران جاپانی لوگوں سے مل کر میں نے حساب لگایا کہ ان کو کمر درد بالکل نہیں ہوتا ہوگا۔ سلام دعا میں ہی یہ اتنا جھک جاتے ہیں کہ ان کی کمر ہمیشہ چست رہتی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورانِ پرواز ایک جاپانی نوجوان سے بات کرتے ہوئے جس کو انگریزی کافی اچھی بولنی آتی تھی، پوچھا کہ کیا آپ لوگ چینی، جاپانی، تائیوانی اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کو آسانی سے پہچان لیتے ہیں کیونکہ ہمیں تو آپ سب ایک جیسے لگتے ہیں؟ کہنے لگے کہ ’ہمارے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں البتہ آپ یعنی پاکستانی، انڈین اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کو پہچاننے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔ آپ سب ایک جیسے لگتے ہیں‘۔ پرواز پر کام زیادہ تھا اس لیے ہوٹل جاکر مجھے اس بات پر واقعی بہت حیرت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناریتا کے ہوائی اڈے پر جو عملہ جہاز کی صفائی کرنے کے لیے آیا وہ ایسے جہاز کو صاف کرنے لگا جیسے بھل صفائی کی مہم پر آیا ہو۔ مجھے لگتا ہے صفائی ان کے یہاں ’مکمل ایمان‘ ہے۔ جہاز کی نشستیں، قالین اور یہاں تک کہ ٹوائلٹ ایسے چمکا گئے کہ باقاعدہ اندر جاکر بیٹھنے کو دل کرنے لگا۔ ہم نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو روکا اور سامان اٹھا کر جہاز سے باہر نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانیوں کو آپس میں بات کرتے سنا تو مجھے ان کا لہجہ کافی غصیلا لگا۔ چینی لوگ بولتے ہوئے یاں پاں زیادہ کرتے ہیں اور الفاظ کو لمبا کھینچتے ہیں جبکہ جاپانی ایک دم ہی پوری بات کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل پہنچنے تک مایوسی نے میرے ساتھیوں کو آہستہ آہستہ چاروں طرف سے گھیرنا شروع کردیا کیونکہ ناریتا شہر بہت ہی پرسکون نظر آ رہا تھا جبکہ ہم سب ٹوکیو جیسے عروس البلاد کا نقشہ آرڈر پر بنوائے اور آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے۔ صاف ستھرا اور اتنا خاموش شہر کہ لوگ بھی اکا دکا ہی نظر آئے یا شاید وہ وقت ایسا تھا کہ سڑکوں پر اتنا ٹریفک بھی نہیں تھا۔ البتہ میرے چہرے پر اطمینان دیکھ کر سب نے میرے سامنے اپنے آپ کو حاسدین کے روپ میں پیش کیا کیوں کہ مجھے پرانی، پُرسکون اور تاریخی جگہیں بہت پسند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح ناشتہ کرنے لاؤنج میں آئے تو شکر ادا کیا کہ چین کے ہوٹل کی طرح یہاں عجیب سی بدبو نہیں آرہی تھی۔ چینی تو معلوم نہیں کیا کیا پکا کر کھا جاتے ہیں۔ حلال کھانے کا مسئلہ یہاں بھی رہا اس لیے چاول، مچھلی اور انڈوں وغیرہ سے انصاف کرتے رہے۔ ایک رات کھانے میں وہاں کے خانساماں اعظم نے اسپیشل سلاد بنائی اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس میں کہیں کہیں چنے بھی نظر آرہے تھے جو سبزیوں میں سے جھانک رہے تھے۔ میری عادت ہے کہ بوفے ہو تو ایک بار کھانا مکمل طور پر پلیٹ میں ڈال کر کھانے بیٹھتا ہوں۔ میرے ساتھ جو دوست تھے وہ کھانا ڈالنے کے دوران ہی چکھنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/15114351e5c8d9f.jpg'  alt='ہمارے ساتھی چنے بھی پھونک پھونک کر کھاتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہمارے ساتھی چنے بھی پھونک پھونک کر کھاتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی میز پر آکر بیٹھا ہی تھا کہ سینیئر آگئے۔ سلام دعا کی اور پوچھا آج کیا کھا رہے ہو۔ میں نے کہا سر وہی چاول اور مچھلی البتہ سلاد زبردست لگ رہا ہے۔ کہنے لگے چلو میں بھی لے کر آتا ہوں۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں ساتھی کھانے کی پلیٹیں رکھ کر ٹوائلٹ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ میں نے اٹھ کر سینیئر سے پوچھا سر کیا ہوا ان دونوں کو؟ انہوں نے بتایا کہ یہ جس کو چنا سلاد (Chickpeas Salad) سمجھ کر کھائے جا رہے ہیں وہ دراصل ’لحم الخنزیر کے پارچہ جات‘ ہیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنا سلاد کا پیالا بوفے کی میز پر ہی واپس رکھ آیا۔ بعد میں ان دو ساتھیوں کا اتنا مذاق بنا کہ اب وہ عام چنے بھی پھونک پھونک کر کھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/15110918ce35524.jpg?r=111022'  alt='ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کے مرکزی ہال میں داخل ہونے کا راستہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کے مرکزی ہال میں داخل ہونے کا راستہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل سے کچھ فاصلے پر ایک دکان تھی جہاں استعمال شدہ اشیا برائے فروخت تھیں۔ وہاں سے ایک ساتھی نے گھڑی خریدی اور آج 15 سال بعد بھی اس کا کہنا ہے کہ میرا ٹائم خراب چل رہا ہے لیکن گھڑی کا ٹائم اب بھی بالکل ٹھیک ہے۔ شہر میں واقع قدیم عبادت گاہیں بھی دیکھیں جن کی دیواروں پر بنے نقش و نگار حیرت انگیز تھے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل تھا جو ہوائی اڈے سے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151108486072b69.jpg?r=110904'  alt='مقدس پانی کی سبیل سے ہاتھ دھو کر سان شنشوجی ٹیمپل میں داخل ہوتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مقدس پانی کی سبیل سے ہاتھ دھو کر سان شنشوجی ٹیمپل میں داخل ہوتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151131400e32a80.jpg'  alt='ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کا مرکزی دروازہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کا مرکزی دروازہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/1511093458f35bb.jpg?r=111022'  alt='عبادت گاہ کا نیا ہال' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عبادت گاہ کا نیا ہال&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ مذہب کی یہ وسیع و عریض عبادت گاہ مختلف عمارتوں کا مجموعہ ہے جو سن 940ء میں قائم کی گئی تھی۔ ان عمارتوں میں نئے اور پرانے مرکزی ہال کے علاوہ ایک 3 منزلہ ’پگوڈا‘ اور طاہٹو طرزِ تعمیر کا بہت بڑا پگوڈا شامل ہیں۔ پگوڈا کثیر المنزلہ عبادت گاہ کو کہا جاتا ہے جو بدھ مذہب میں عام ہیں۔ بس اگر کسی پگوڈے پر چڑھنا پڑ جائے تو انسان کے ’گوڈے‘ رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا نیچے ہی کھڑے ہو کر تصویر لی اور آگے بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151109414097ce7.jpg?r=111022'  alt='  تین منزلہ پگوڈا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تین منزلہ پگوڈا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/15110910bc91ab6.jpg?r=111022'  alt='عبادت گاہ کے مرکزی ہال کی جانب جاتی سیڑھیاں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عبادت گاہ کے مرکزی ہال کی جانب جاتی سیڑھیاں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151109507e3bb2b.jpg?r=111022'  alt='  تین منزلہ پگوڈے کا قریبی منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تین منزلہ پگوڈے کا قریبی منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو کی ’نائٹ لائف‘ دیکھنے کی بڑی خواہش تھی لیکن ایک ساتھی کی طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے ٹوکیو کے ’ڈانس کدوں‘ میں رقصاں ہونے کا خواب بھی ادھورا رہ گیا۔ 2011ء میں وہی ساتھی جب میرے بغیر ٹوکیو پہنچا تو قدرت نے اس کو ’سونامی‘ کی شکل میں پھر عیاشی کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151109294081cb6.jpg?r=111022'  alt='طاہٹو طرزِ تعمیر کا بہت بڑا پگوڈا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;طاہٹو طرزِ تعمیر کا بہت بڑا پگوڈا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں اس نے بتایا کہ کے جے بھائی سڑکوں میں ایسے گہرے شگاف پڑے کہ جیسے شرمندگی کے وقت ہم دعا کرتے ہیں کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں۔ پل ایسے لہرا رہے تھے جیسے رنگ ساز دوپٹے سکھاتے ہیں۔ جاپانی دوشیزاؤں کی جگہ سڑکیں اور عمارتیں لہرا اور بل کھا رہی تھیں۔ ہوٹل والوں نے لابی میں ہی بستر ڈال کر سونے کا انتظام کردیا، کمروں میں سونا منع تھا کیونکہ اگر پھر زلزلہ آ گیا تو ’پکا پکایا‘ مقبرہ بننے کا ڈر تھا۔ لیکن دوسرے دن ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باوجود تمام لوگ ہر جگہ ڈیوٹی پر موجود تھے۔ سب سائیکلوں پر دفتر آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/1511095766efbee.jpg?r=111022'  alt='  ناریتا شہر کا پل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناریتا شہر کا پل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3 دن ناریتا میں ہی رکے اور جاپانیوں نے جان لگا کر رن وے چالو کرکے فضائی آپریشن بحال کردیا۔ شکر خدا کا اس دوران تمام عملہ محفوظ رہا اور واپسی کی پرواز پر پاکستان پہنچے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی گزشتہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/fizaeeaapbiti">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>پہلی مرتبہ سال 2008ء میں ٹوکیو سے 80 کلومیٹر دور ناریتا شہر (Narita) کے ہوائی اڈے پر اترتے وقت مجھے جاپان کے بارے میں صرف دو چیزیں معلوم تھیں۔ ایک یہ کہ یہاں ایٹم بم گرایا گیا تھا اور دوسری بات یہ کہ اگر گھر میں وی سی آر رکھنا ہے تو بس جاپانی۔</p>
<p>بیجنگ سے ٹوکیو کی پرواز کے دوران جاپانی لوگوں سے مل کر میں نے حساب لگایا کہ ان کو کمر درد بالکل نہیں ہوتا ہوگا۔ سلام دعا میں ہی یہ اتنا جھک جاتے ہیں کہ ان کی کمر ہمیشہ چست رہتی ہوگی۔</p>
<p>دورانِ پرواز ایک جاپانی نوجوان سے بات کرتے ہوئے جس کو انگریزی کافی اچھی بولنی آتی تھی، پوچھا کہ کیا آپ لوگ چینی، جاپانی، تائیوانی اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کو آسانی سے پہچان لیتے ہیں کیونکہ ہمیں تو آپ سب ایک جیسے لگتے ہیں؟ کہنے لگے کہ ’ہمارے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں البتہ آپ یعنی پاکستانی، انڈین اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کو پہچاننے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔ آپ سب ایک جیسے لگتے ہیں‘۔ پرواز پر کام زیادہ تھا اس لیے ہوٹل جاکر مجھے اس بات پر واقعی بہت حیرت ہوئی۔</p>
<p>ناریتا کے ہوائی اڈے پر جو عملہ جہاز کی صفائی کرنے کے لیے آیا وہ ایسے جہاز کو صاف کرنے لگا جیسے بھل صفائی کی مہم پر آیا ہو۔ مجھے لگتا ہے صفائی ان کے یہاں ’مکمل ایمان‘ ہے۔ جہاز کی نشستیں، قالین اور یہاں تک کہ ٹوائلٹ ایسے چمکا گئے کہ باقاعدہ اندر جاکر بیٹھنے کو دل کرنے لگا۔ ہم نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو روکا اور سامان اٹھا کر جہاز سے باہر نکلے۔</p>
<p>جاپانیوں کو آپس میں بات کرتے سنا تو مجھے ان کا لہجہ کافی غصیلا لگا۔ چینی لوگ بولتے ہوئے یاں پاں زیادہ کرتے ہیں اور الفاظ کو لمبا کھینچتے ہیں جبکہ جاپانی ایک دم ہی پوری بات کر دیتے ہیں۔</p>
<p>ہوٹل پہنچنے تک مایوسی نے میرے ساتھیوں کو آہستہ آہستہ چاروں طرف سے گھیرنا شروع کردیا کیونکہ ناریتا شہر بہت ہی پرسکون نظر آ رہا تھا جبکہ ہم سب ٹوکیو جیسے عروس البلاد کا نقشہ آرڈر پر بنوائے اور آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے۔ صاف ستھرا اور اتنا خاموش شہر کہ لوگ بھی اکا دکا ہی نظر آئے یا شاید وہ وقت ایسا تھا کہ سڑکوں پر اتنا ٹریفک بھی نہیں تھا۔ البتہ میرے چہرے پر اطمینان دیکھ کر سب نے میرے سامنے اپنے آپ کو حاسدین کے روپ میں پیش کیا کیوں کہ مجھے پرانی، پُرسکون اور تاریخی جگہیں بہت پسند ہیں۔</p>
<p>صبح ناشتہ کرنے لاؤنج میں آئے تو شکر ادا کیا کہ چین کے ہوٹل کی طرح یہاں عجیب سی بدبو نہیں آرہی تھی۔ چینی تو معلوم نہیں کیا کیا پکا کر کھا جاتے ہیں۔ حلال کھانے کا مسئلہ یہاں بھی رہا اس لیے چاول، مچھلی اور انڈوں وغیرہ سے انصاف کرتے رہے۔ ایک رات کھانے میں وہاں کے خانساماں اعظم نے اسپیشل سلاد بنائی اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس میں کہیں کہیں چنے بھی نظر آرہے تھے جو سبزیوں میں سے جھانک رہے تھے۔ میری عادت ہے کہ بوفے ہو تو ایک بار کھانا مکمل طور پر پلیٹ میں ڈال کر کھانے بیٹھتا ہوں۔ میرے ساتھ جو دوست تھے وہ کھانا ڈالنے کے دوران ہی چکھنے لگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/15114351e5c8d9f.jpg'  alt='ہمارے ساتھی چنے بھی پھونک پھونک کر کھاتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہمارے ساتھی چنے بھی پھونک پھونک کر کھاتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ابھی میز پر آکر بیٹھا ہی تھا کہ سینیئر آگئے۔ سلام دعا کی اور پوچھا آج کیا کھا رہے ہو۔ میں نے کہا سر وہی چاول اور مچھلی البتہ سلاد زبردست لگ رہا ہے۔ کہنے لگے چلو میں بھی لے کر آتا ہوں۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں ساتھی کھانے کی پلیٹیں رکھ کر ٹوائلٹ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ میں نے اٹھ کر سینیئر سے پوچھا سر کیا ہوا ان دونوں کو؟ انہوں نے بتایا کہ یہ جس کو چنا سلاد (Chickpeas Salad) سمجھ کر کھائے جا رہے ہیں وہ دراصل ’لحم الخنزیر کے پارچہ جات‘ ہیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنا سلاد کا پیالا بوفے کی میز پر ہی واپس رکھ آیا۔ بعد میں ان دو ساتھیوں کا اتنا مذاق بنا کہ اب وہ عام چنے بھی پھونک پھونک کر کھاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/15110918ce35524.jpg?r=111022'  alt='ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کے مرکزی ہال میں داخل ہونے کا راستہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کے مرکزی ہال میں داخل ہونے کا راستہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہوٹل سے کچھ فاصلے پر ایک دکان تھی جہاں استعمال شدہ اشیا برائے فروخت تھیں۔ وہاں سے ایک ساتھی نے گھڑی خریدی اور آج 15 سال بعد بھی اس کا کہنا ہے کہ میرا ٹائم خراب چل رہا ہے لیکن گھڑی کا ٹائم اب بھی بالکل ٹھیک ہے۔ شہر میں واقع قدیم عبادت گاہیں بھی دیکھیں جن کی دیواروں پر بنے نقش و نگار حیرت انگیز تھے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل تھا جو ہوائی اڈے سے قریب ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151108486072b69.jpg?r=110904'  alt='مقدس پانی کی سبیل سے ہاتھ دھو کر سان شنشوجی ٹیمپل میں داخل ہوتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مقدس پانی کی سبیل سے ہاتھ دھو کر سان شنشوجی ٹیمپل میں داخل ہوتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151131400e32a80.jpg'  alt='ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کا مرکزی دروازہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناریتاسان شنشوجی ٹیمپل کا مرکزی دروازہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/1511093458f35bb.jpg?r=111022'  alt='عبادت گاہ کا نیا ہال' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عبادت گاہ کا نیا ہال</figcaption>
    </figure></p>
<p>بدھ مذہب کی یہ وسیع و عریض عبادت گاہ مختلف عمارتوں کا مجموعہ ہے جو سن 940ء میں قائم کی گئی تھی۔ ان عمارتوں میں نئے اور پرانے مرکزی ہال کے علاوہ ایک 3 منزلہ ’پگوڈا‘ اور طاہٹو طرزِ تعمیر کا بہت بڑا پگوڈا شامل ہیں۔ پگوڈا کثیر المنزلہ عبادت گاہ کو کہا جاتا ہے جو بدھ مذہب میں عام ہیں۔ بس اگر کسی پگوڈے پر چڑھنا پڑ جائے تو انسان کے ’گوڈے‘ رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا نیچے ہی کھڑے ہو کر تصویر لی اور آگے بڑھ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151109414097ce7.jpg?r=111022'  alt='  تین منزلہ پگوڈا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تین منزلہ پگوڈا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/15110910bc91ab6.jpg?r=111022'  alt='عبادت گاہ کے مرکزی ہال کی جانب جاتی سیڑھیاں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عبادت گاہ کے مرکزی ہال کی جانب جاتی سیڑھیاں</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151109507e3bb2b.jpg?r=111022'  alt='  تین منزلہ پگوڈے کا قریبی منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تین منزلہ پگوڈے کا قریبی منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹوکیو کی ’نائٹ لائف‘ دیکھنے کی بڑی خواہش تھی لیکن ایک ساتھی کی طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے ٹوکیو کے ’ڈانس کدوں‘ میں رقصاں ہونے کا خواب بھی ادھورا رہ گیا۔ 2011ء میں وہی ساتھی جب میرے بغیر ٹوکیو پہنچا تو قدرت نے اس کو ’سونامی‘ کی شکل میں پھر عیاشی کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/151109294081cb6.jpg?r=111022'  alt='طاہٹو طرزِ تعمیر کا بہت بڑا پگوڈا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>طاہٹو طرزِ تعمیر کا بہت بڑا پگوڈا</figcaption>
    </figure></p>
<p>بعد میں اس نے بتایا کہ کے جے بھائی سڑکوں میں ایسے گہرے شگاف پڑے کہ جیسے شرمندگی کے وقت ہم دعا کرتے ہیں کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں۔ پل ایسے لہرا رہے تھے جیسے رنگ ساز دوپٹے سکھاتے ہیں۔ جاپانی دوشیزاؤں کی جگہ سڑکیں اور عمارتیں لہرا اور بل کھا رہی تھیں۔ ہوٹل والوں نے لابی میں ہی بستر ڈال کر سونے کا انتظام کردیا، کمروں میں سونا منع تھا کیونکہ اگر پھر زلزلہ آ گیا تو ’پکا پکایا‘ مقبرہ بننے کا ڈر تھا۔ لیکن دوسرے دن ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باوجود تمام لوگ ہر جگہ ڈیوٹی پر موجود تھے۔ سب سائیکلوں پر دفتر آئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/1511095766efbee.jpg?r=111022'  alt='  ناریتا شہر کا پل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناریتا شہر کا پل</figcaption>
    </figure></p>
<p>3 دن ناریتا میں ہی رکے اور جاپانیوں نے جان لگا کر رن وے چالو کرکے فضائی آپریشن بحال کردیا۔ شکر خدا کا اس دوران تمام عملہ محفوظ رہا اور واپسی کی پرواز پر پاکستان پہنچے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205886</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jun 2023 16:03:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خاور جمال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/19122641f9078be.jpg?r=122718" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/19122641f9078be.jpg?r=122718"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈس فلوٹیلا، جو دریائے سندھ پر سفر کا اہم ذریعہ تھا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205888/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1205884"&gt;https://www.dawnnews.tv/news/1205884&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1205884">https://www.dawnnews.tv/news/1205884</a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Travel</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205888</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jun 2023 14:38:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/13151803253c78b.jpg?r=151807" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/13151803253c78b.jpg?r=151807"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بامیان، جو کبھی بلند و بالا مجسموں کا گھر ہوا کرتا تھا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200691/</link>
      <description>&lt;p&gt;وہ لوگ جو اپنی تاریخ کو نظرانداز کرتے ہیں وہ اسے بھلا بھی دیتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی تاریخ کو مسخ کرتے ہیں وہ خود بھی بھلا دیے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے کہ جب تہذیبیں تباہ ہوئیں، خاص طور پر 330 قبلِ مسیح میں جب سکندراعظم نے ایران کے شہر تختِ جمشید کو تباہ کیا، تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کی عظیم لائبریری کی تباہی، 1860ء میں بیجنگ کے باہر واقع پرانے سمر پیلس میں چینی خزانوں کی لوٹ مار، اور حال میں 2003ء میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے کے دوران عراقی میوزیم کی بے دریغ لوٹ مار جس کے دوران 5 ہزار سال قدیم مجسموں سمیت ایک لاکھ 70 ہزار اشیا لوٹ لی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1960ء کی دہائی میں اسوان ڈیم کی تعمیر کے بعد دریائے نیل کی پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا تھا جس سے 1244 قبلِ مسیح میں ابو سمبل میں فرعون رمسیس کی جانب سے دریا کے کنارے تعمیر کردہ مندر کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ مندر کو توڑا گیا جس کے بعد اسے ایک بلند مقام پر  دوبارہ جوڑا گیا جہاں ہر سال 22 اکتوبر اور 22 فروری کو سورج کی شعاعیں اس کے اندرونی حصے میں داخل ہوسکتی ہیں جیسا کہ صدیوں قبل ہونے والی تعمیر میں ہوتا تھا۔ اس طرح کی تعمیر نو میں صرف منصوبہ بندی اور تفصیلی انجینیئرنگ کے لیے یونیسکو  اور مصری ماہرین کو تقریباً 5 سال کا عرصہ لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2001ء میں افغان طالبان کو بامیان میں بدھا کے عظیم مجسموں کو تباہ کرنے میں 5 دنوں سے بھی کم وقت لگا۔ طالبان نے بدھا کے مجسموں کی توڑ پھوڑ سے زیادہ بین الاقوامی برادری میں اپنی ساکھ کو تباہ کیا۔ آج وہ مقامات خالی ہیں جہاں کبھی بدھا کے مجسمے ہوا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے 19ویں صدی کے اختتام پر برطانوی سیاحوں کی طرف سے کھینچی گئی تصاویر ہمیں یہ یاددہانی کرواتی ہیں کہ بامیان شہر اپنی بھرپور شان و شوکت میں کیسا لگتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 اکتوبر 1878ء کو برطانوی آرٹسٹ ولیم سمپسن لندن سے افغانستان کے لیے روانہ ہوا۔ اسے دی السٹریٹڈ لندن نیوز نے افغان جنگ کے خاکے بنانے کے لیے بھیجا تھا۔ وہ لاہور، پشاور اور درہ خیبر سے گزرتے ہوئے افغانستان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راستے میں اس نے بدھ مت کے اسٹوپا اور دیگر مقامات دیکھے جس کے بعد اس نے بامیان میں بدھا کے مجسمے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے اس حوالے سے چینی سیاح فاہیان (400 قبلِ مسیح) اور ہیون سانگ (632 قبلِ مسیح) کی تحریروں میں پڑھا تھا۔ اس دورے پر وہ ان مجسموں کو نہیں دیکھ پایا اور جب وہ 86ء-1884ء میں افغان باؤنڈری کمیشن کے ساتھ واپس آیا تب بھی وہ بامیان میں بدھا کے مجسمے دیکھنے سے محروم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2023/04/6430e3751bef0.jpg'  alt='  بامیان کا پہلا  مجسمہ، 173 فٹ اونچا&amp;mdash; تصویر: آئی ایل این  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بامیان کا پہلا  مجسمہ، 173 فٹ اونچا— تصویر: آئی ایل این&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ولیم سمپسن خود سے بہتر لوگوں سے مدد لینے میں جھجھکتا نہیں تھا۔ اس نے برطانوی افسر، کیپٹن پیلہم جیمز میٹ لینڈ (جو بعد میں عدن میں 1901ء سے 1904ء تک برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ رہا) کی جانب سے بامیان کے مجسموں کے بنائے ہوئے خاکوں تک رسائی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز میٹ لینڈ کے خاکوں سے اخذ کردہ ولیم سمپسن کے خاکوں کو (جیمز میٹ لینڈ کے بنائے ہوئے خاکوں کا اعتراف کرتے ہوئے) 6 اور 13 نومبر 1886ء کے السٹریٹڈ لندن نیوز کے  شماروں میں شائع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولیم سمپسن نے خاکوں کے ساتھ اپنے تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ ’ہندوستان کے ماہرینِ آثار قدیمہ کو طویل عرصے سے بامیان میں موجود بدھا کے عظیم مجسموں کے حوالے سے معلوم ہے لیکن انہوں نے اس کے درست خاکے نہیں بنائے اور نہ ہی قابلِ اعتبار پیمائش کی۔ اب ان خاکوں کو ایسے بنایا اور ان مجسموں کو ایسے ناپا گیا ہے کہ ان پر بھروسہ کیا جاسکے۔ یہ افغان باؤنڈری کمیشن کے کئی اہم نتائج میں سے ایک ہے۔ ہم کیپٹن میٹ لینڈ کے بنائے گئے خاکوں اور طاقوں اور غاروں کی دیواروں پر پینٹنگز کی باقیات کے بھی مقروض ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بامیان کابل اور بلخ کے درمیان سڑک پر واقع ہے، جہاں یہ پاروپامیسس پہاڑی سلسلے کو عبور کرتی ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 8 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں پڈنگ پتھر پائے جاتے ہیں جس کی وادی میں ایک اونچی چٹان موجود ہے۔ ابتدائی دور میں، غالباً مسیحی دور کی ابتدائی صدیوں کے دوران ان چٹانوں میں بدھسٹ راہبوں نے غاروں بنائے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2023/04/6430e375194e8.jpg'  alt='   مجسموں کا موازنہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مجسموں کا موازنہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بامیان میں غاروں کی بڑی تعداد میلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ کئی غار ایسے ہیں جو شمال کی جانب سڑک کے ساتھ ہیبک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وادی جلال آباد میں موجود آثار کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غار صرف وہار یا خانقاہیں نہیں ہوں گی بلکہ یہ باقاعدہ بنی عمارتیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جب چینی زائر ہیون سانگ نے 630 قبل مسیح میں بامیان کا دورہ کیا تو وہ بتاتا ہے کہ یہاں  بدھ مت کے ایک ہزار راہب رہتے تھے اور ان کے لیے یہاں 10 عمارتیں مختص تھیں۔ وہ بامیان کو ایک مملکت کے طور پر بیان کرتا ہے لیکن ہم اسے صرف اس کے غاروں اور عظیم مجسموں کی وجہ سے جانتے ہیں، جو بدھ مت کی باقیات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بامیان میں 5 مجسمے ہیں، ان میں سے 3 طاقوں میں ہیں۔ یہ مجسمے طاق کے اندر چٹان میں بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سب سے بڑا مجسمہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کے سائز کا اندازہ مسافروں نے مختلف انداز سے لگایا ہے، کچھ نے اسے 100 فٹ اور بعض نے اسے 150 فٹ تک بلند قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کیپٹن ٹیلبوٹ نے تھیوڈولائٹ کے استعمال سے پتا چلایا کہ پچھلے تمام اندازے درست نہیں تھے۔ یہ مجسمہ 173 فٹ بلند ہے۔ یہ لندن مانیومنٹ سے 29 فٹ چھوٹا ہے جس کی درست پیمائش 202 فٹ ہے۔ ٹریفلگر اسکوائر میں نیلسن کالم 176 فٹ بلند ہے اور یوں بامیان کا یہ مجسمہ تقریبا اس کے برابر ہی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2023/04/6430e3750db0b.jpg'  alt='   بامیان کا دوسرا عظیم مجسمہ، 120 فٹ&amp;mdash;تصویر: آئی ایل این   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بامیان کا دوسرا عظیم مجسمہ، 120 فٹ—تصویر: آئی ایل این&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اگر دنیا کے تمام عظیم مجسموں کو ایک جگہ جمع کیا جاسکے، اگر دریائے نیل کے کنارے سے میمنن کے مجسمے آسکیں (جوکہ 51 فٹ بلند ہیں اور یہ کھڑے ہوتے تو اس سے بھی زیادہ بلند ہوتے)، اِپسمبول (ابو سمبل) میں مندر کے سامنے واقع 4 عظیم محافظوں کے مجسمے، جاپان کا کانسی کا ڈائی بوٹز، ایتھین کا مجسمہ جسے فیڈیاس نے پارتھینن کے لیے بنایا تھا، جس کی اونچائی 39 فٹ تھی، یا پھر رہوڈز کے عظیم مجسمے کو ایک مقام پر جمع کیا جائے تو ان سب کے درمیان بامیان کا عظیم مجسمہ ایک بڑے دیوہیکل مجسمے کی طرح کھڑا ہوگا جس کی بلندی کا کوئی ثانی نہیں ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولیم سمپسن نے بعض مورخین کے اس تصور کو مسترد کردیا ہے کہ بامیان کے مجسمے بدھ مت سے پہلے کے ہیں۔ اس کے نزدیک، بالوں کا انداز، لمبے کان اور مجسمے کے لباس میں تہیں واضح طور پر اسے بدھا کے طور پر بیان کرتے ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ’مجسمے کے پیروں میں داخلی راستے ہیں جو سیڑھیوں اور گیلریوں سے جڑے ہوئے ہیں، تاکہ چوٹی تک پہنچا جاسکے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں کبھی سب سے بڑے مجسمے کو جواہرات سے آراستہ کیا گیا تھا اور اس پر رنگ کیا گیا تھا۔ چینی زائرین نے لکھا ہے کہ ’اس کی سنہری رنگت ہر طرف چمکتی ہے اور اس کے قیمتی زیورات کی چمک سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمپسن نے مقامی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جب تیمور کے سپاہی ہندوستان پر حملے کے لیے جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تو انہوں نے بتوں پر تیر برسائے اور نادر شاہ کے دستوں نے بھی ان پر توپ کے گولے داغے‘۔ وہ پیش گوئی کے انداز میں کہتا ہے کہ ’(مسلمان) بت پرستی کی ایسی چیزوں کو ضرور تباہ کردیں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان نے 2001ء میں ایسا ہی کیا۔ اس لیے آج کے دور کے زائرین کو خالی طاقوں میں پیش کردہ ہولوگرام سے ہی مطمئن ہوجانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوچنے کی بات ہے کہ بدھا نے ان لوگوں کے لیے کیا کہا ہوگا جنہوں نے ان کے مجسموں کو تباہ کیا؟ پھر ہمارے بارے میں ان کا کیا خیال ہوگا جنہوں نے اپنے ماضی کو بےدردی سے بھلا دیا ہے؟ شاید وہ یہی کہتے ہوں گے کہ ’میں اس تقدیر پر یقین نہیں رکھتا جو لوگوں کے کچھ کرنے سے بنتی ہے۔ لیکن میں اس تقدیر پر یقین رکھتا ہوں جو کچھ نہ کرنے کی نتیجے میں بنتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1746562/heritage-a-history-forfeited"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 9 اپریل 2023ء کو ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وہ لوگ جو اپنی تاریخ کو نظرانداز کرتے ہیں وہ اسے بھلا بھی دیتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی تاریخ کو مسخ کرتے ہیں وہ خود بھی بھلا دیے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔</p>
<p>تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے کہ جب تہذیبیں تباہ ہوئیں، خاص طور پر 330 قبلِ مسیح میں جب سکندراعظم نے ایران کے شہر تختِ جمشید کو تباہ کیا، تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کی عظیم لائبریری کی تباہی، 1860ء میں بیجنگ کے باہر واقع پرانے سمر پیلس میں چینی خزانوں کی لوٹ مار، اور حال میں 2003ء میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے کے دوران عراقی میوزیم کی بے دریغ لوٹ مار جس کے دوران 5 ہزار سال قدیم مجسموں سمیت ایک لاکھ 70 ہزار اشیا لوٹ لی گئی تھیں۔</p>
<p>1960ء کی دہائی میں اسوان ڈیم کی تعمیر کے بعد دریائے نیل کی پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا تھا جس سے 1244 قبلِ مسیح میں ابو سمبل میں فرعون رمسیس کی جانب سے دریا کے کنارے تعمیر کردہ مندر کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ مندر کو توڑا گیا جس کے بعد اسے ایک بلند مقام پر  دوبارہ جوڑا گیا جہاں ہر سال 22 اکتوبر اور 22 فروری کو سورج کی شعاعیں اس کے اندرونی حصے میں داخل ہوسکتی ہیں جیسا کہ صدیوں قبل ہونے والی تعمیر میں ہوتا تھا۔ اس طرح کی تعمیر نو میں صرف منصوبہ بندی اور تفصیلی انجینیئرنگ کے لیے یونیسکو  اور مصری ماہرین کو تقریباً 5 سال کا عرصہ لگا۔</p>
<p>2001ء میں افغان طالبان کو بامیان میں بدھا کے عظیم مجسموں کو تباہ کرنے میں 5 دنوں سے بھی کم وقت لگا۔ طالبان نے بدھا کے مجسموں کی توڑ پھوڑ سے زیادہ بین الاقوامی برادری میں اپنی ساکھ کو تباہ کیا۔ آج وہ مقامات خالی ہیں جہاں کبھی بدھا کے مجسمے ہوا کرتے تھے۔</p>
<p>خوش قسمتی سے 19ویں صدی کے اختتام پر برطانوی سیاحوں کی طرف سے کھینچی گئی تصاویر ہمیں یہ یاددہانی کرواتی ہیں کہ بامیان شہر اپنی بھرپور شان و شوکت میں کیسا لگتا تھا۔</p>
<p>15 اکتوبر 1878ء کو برطانوی آرٹسٹ ولیم سمپسن لندن سے افغانستان کے لیے روانہ ہوا۔ اسے دی السٹریٹڈ لندن نیوز نے افغان جنگ کے خاکے بنانے کے لیے بھیجا تھا۔ وہ لاہور، پشاور اور درہ خیبر سے گزرتے ہوئے افغانستان پہنچا۔</p>
<p>راستے میں اس نے بدھ مت کے اسٹوپا اور دیگر مقامات دیکھے جس کے بعد اس نے بامیان میں بدھا کے مجسمے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے اس حوالے سے چینی سیاح فاہیان (400 قبلِ مسیح) اور ہیون سانگ (632 قبلِ مسیح) کی تحریروں میں پڑھا تھا۔ اس دورے پر وہ ان مجسموں کو نہیں دیکھ پایا اور جب وہ 86ء-1884ء میں افغان باؤنڈری کمیشن کے ساتھ واپس آیا تب بھی وہ بامیان میں بدھا کے مجسمے دیکھنے سے محروم رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2023/04/6430e3751bef0.jpg'  alt='  بامیان کا پہلا  مجسمہ، 173 فٹ اونچا&mdash; تصویر: آئی ایل این  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بامیان کا پہلا  مجسمہ، 173 فٹ اونچا— تصویر: آئی ایل این</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاہم ولیم سمپسن خود سے بہتر لوگوں سے مدد لینے میں جھجھکتا نہیں تھا۔ اس نے برطانوی افسر، کیپٹن پیلہم جیمز میٹ لینڈ (جو بعد میں عدن میں 1901ء سے 1904ء تک برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ رہا) کی جانب سے بامیان کے مجسموں کے بنائے ہوئے خاکوں تک رسائی حاصل کی۔</p>
<p>جیمز میٹ لینڈ کے خاکوں سے اخذ کردہ ولیم سمپسن کے خاکوں کو (جیمز میٹ لینڈ کے بنائے ہوئے خاکوں کا اعتراف کرتے ہوئے) 6 اور 13 نومبر 1886ء کے السٹریٹڈ لندن نیوز کے  شماروں میں شائع کیا گیا۔</p>
<p>ولیم سمپسن نے خاکوں کے ساتھ اپنے تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ ’ہندوستان کے ماہرینِ آثار قدیمہ کو طویل عرصے سے بامیان میں موجود بدھا کے عظیم مجسموں کے حوالے سے معلوم ہے لیکن انہوں نے اس کے درست خاکے نہیں بنائے اور نہ ہی قابلِ اعتبار پیمائش کی۔ اب ان خاکوں کو ایسے بنایا اور ان مجسموں کو ایسے ناپا گیا ہے کہ ان پر بھروسہ کیا جاسکے۔ یہ افغان باؤنڈری کمیشن کے کئی اہم نتائج میں سے ایک ہے۔ ہم کیپٹن میٹ لینڈ کے بنائے گئے خاکوں اور طاقوں اور غاروں کی دیواروں پر پینٹنگز کی باقیات کے بھی مقروض ہیں۔</p>
<p>’بامیان کابل اور بلخ کے درمیان سڑک پر واقع ہے، جہاں یہ پاروپامیسس پہاڑی سلسلے کو عبور کرتی ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 8 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں پڈنگ پتھر پائے جاتے ہیں جس کی وادی میں ایک اونچی چٹان موجود ہے۔ ابتدائی دور میں، غالباً مسیحی دور کی ابتدائی صدیوں کے دوران ان چٹانوں میں بدھسٹ راہبوں نے غاروں بنائے ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2023/04/6430e375194e8.jpg'  alt='   مجسموں کا موازنہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مجسموں کا موازنہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>’بامیان میں غاروں کی بڑی تعداد میلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ کئی غار ایسے ہیں جو شمال کی جانب سڑک کے ساتھ ہیبک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وادی جلال آباد میں موجود آثار کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غار صرف وہار یا خانقاہیں نہیں ہوں گی بلکہ یہ باقاعدہ بنی عمارتیں ہوں گی۔</p>
<p>’جب چینی زائر ہیون سانگ نے 630 قبل مسیح میں بامیان کا دورہ کیا تو وہ بتاتا ہے کہ یہاں  بدھ مت کے ایک ہزار راہب رہتے تھے اور ان کے لیے یہاں 10 عمارتیں مختص تھیں۔ وہ بامیان کو ایک مملکت کے طور پر بیان کرتا ہے لیکن ہم اسے صرف اس کے غاروں اور عظیم مجسموں کی وجہ سے جانتے ہیں، جو بدھ مت کی باقیات ہیں۔</p>
<p>’بامیان میں 5 مجسمے ہیں، ان میں سے 3 طاقوں میں ہیں۔ یہ مجسمے طاق کے اندر چٹان میں بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سب سے بڑا مجسمہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کے سائز کا اندازہ مسافروں نے مختلف انداز سے لگایا ہے، کچھ نے اسے 100 فٹ اور بعض نے اسے 150 فٹ تک بلند قرار دیا ہے۔</p>
<p>’کیپٹن ٹیلبوٹ نے تھیوڈولائٹ کے استعمال سے پتا چلایا کہ پچھلے تمام اندازے درست نہیں تھے۔ یہ مجسمہ 173 فٹ بلند ہے۔ یہ لندن مانیومنٹ سے 29 فٹ چھوٹا ہے جس کی درست پیمائش 202 فٹ ہے۔ ٹریفلگر اسکوائر میں نیلسن کالم 176 فٹ بلند ہے اور یوں بامیان کا یہ مجسمہ تقریبا اس کے برابر ہی ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2023/04/6430e3750db0b.jpg'  alt='   بامیان کا دوسرا عظیم مجسمہ، 120 فٹ&mdash;تصویر: آئی ایل این   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بامیان کا دوسرا عظیم مجسمہ، 120 فٹ—تصویر: آئی ایل این</figcaption>
    </figure></p>
<p>’اگر دنیا کے تمام عظیم مجسموں کو ایک جگہ جمع کیا جاسکے، اگر دریائے نیل کے کنارے سے میمنن کے مجسمے آسکیں (جوکہ 51 فٹ بلند ہیں اور یہ کھڑے ہوتے تو اس سے بھی زیادہ بلند ہوتے)، اِپسمبول (ابو سمبل) میں مندر کے سامنے واقع 4 عظیم محافظوں کے مجسمے، جاپان کا کانسی کا ڈائی بوٹز، ایتھین کا مجسمہ جسے فیڈیاس نے پارتھینن کے لیے بنایا تھا، جس کی اونچائی 39 فٹ تھی، یا پھر رہوڈز کے عظیم مجسمے کو ایک مقام پر جمع کیا جائے تو ان سب کے درمیان بامیان کا عظیم مجسمہ ایک بڑے دیوہیکل مجسمے کی طرح کھڑا ہوگا جس کی بلندی کا کوئی ثانی نہیں ہوگا‘۔</p>
<p>ولیم سمپسن نے بعض مورخین کے اس تصور کو مسترد کردیا ہے کہ بامیان کے مجسمے بدھ مت سے پہلے کے ہیں۔ اس کے نزدیک، بالوں کا انداز، لمبے کان اور مجسمے کے لباس میں تہیں واضح طور پر اسے بدھا کے طور پر بیان کرتے ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ’مجسمے کے پیروں میں داخلی راستے ہیں جو سیڑھیوں اور گیلریوں سے جڑے ہوئے ہیں، تاکہ چوٹی تک پہنچا جاسکے‘۔</p>
<p>ماضی میں کبھی سب سے بڑے مجسمے کو جواہرات سے آراستہ کیا گیا تھا اور اس پر رنگ کیا گیا تھا۔ چینی زائرین نے لکھا ہے کہ ’اس کی سنہری رنگت ہر طرف چمکتی ہے اور اس کے قیمتی زیورات کی چمک سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں‘۔</p>
<p>سمپسن نے مقامی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جب تیمور کے سپاہی ہندوستان پر حملے کے لیے جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تو انہوں نے بتوں پر تیر برسائے اور نادر شاہ کے دستوں نے بھی ان پر توپ کے گولے داغے‘۔ وہ پیش گوئی کے انداز میں کہتا ہے کہ ’(مسلمان) بت پرستی کی ایسی چیزوں کو ضرور تباہ کردیں گے‘۔</p>
<p>طالبان نے 2001ء میں ایسا ہی کیا۔ اس لیے آج کے دور کے زائرین کو خالی طاقوں میں پیش کردہ ہولوگرام سے ہی مطمئن ہوجانا چاہیے۔</p>
<p>سوچنے کی بات ہے کہ بدھا نے ان لوگوں کے لیے کیا کہا ہوگا جنہوں نے ان کے مجسموں کو تباہ کیا؟ پھر ہمارے بارے میں ان کا کیا خیال ہوگا جنہوں نے اپنے ماضی کو بےدردی سے بھلا دیا ہے؟ شاید وہ یہی کہتے ہوں گے کہ ’میں اس تقدیر پر یقین نہیں رکھتا جو لوگوں کے کچھ کرنے سے بنتی ہے۔ لیکن میں اس تقدیر پر یقین رکھتا ہوں جو کچھ نہ کرنے کی نتیجے میں بنتی ہے‘۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1746562/heritage-a-history-forfeited">مضمون</a></strong> 9 اپریل 2023ء کو ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200691</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Jun 2023 10:59:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایف ایس اعجازالدین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/12131941f254298.jpg?r=132001" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/12131941f254298.jpg?r=132001"/>
        <media:title>آج کا بامیان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفرنامہِ ہسپانیہ: ’اے گلستانِ اندلس۔۔۔‘ (پہلی قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204961/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;شمالی افریقہ کے ملک کینیا، صومالیہ، تنزانیہ، جنوب مشرقی ایشیا کے ملک فلپائن، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر عرب ممالک کے سفر کے بعد ہسپانیہ (اسپین) اور ترکیہ کی سیاحت کی خواہش ایک عرصے سے دل میں نقش ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018ء میں والدین کے ساتھ عثمانیوں کے عروج و زوال کے امین شہر استنبول اور اس کے بعد حجاز مقدس کے سفر کرنے کا موقع بھی رب کائنات نے میسر کیا۔ اب اس خوبصورت سفر کے بعد اندلس یعنی ہسپانیہ (اسپین) کو دیکھنے اور تاریخی مسجد قرطبہ کی خاموش اذانیں سننے کی خواہش دل میں امڈنے لگی۔ لیکن مالی پریشانیوں کی وجہ سے یہ خواہش پوری ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے۔ پھر بھی مجھے یقین تھا کہ میں وہاں ضرور جاؤں گا، کب جاؤں گا کیسے جاؤں گا اس کا جواب  رب کائنات ہر چھوڑ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خوابوں-کی-تعبیر" href="#خوابوں-کی-تعبیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خوابوں کی تعبیر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2019ء میں میرے قریبی سیاح دوست حاجی عبداللہ شاہ صاحب کی آفس آمد ہوئی۔ انہوں نے آتے ہی اسپین اور مراکش کے وزٹ کی خواہش کا اظہار کیا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا بلکہ میرے ساتھ جانے کی شرط پر ہی ویزا اپلائی کرنے کا کہا ساتھ ہی میرے سفری اخراجات کی ذمہ داری ایک سال کے لیے قرضہ کے طور پر ادا کرنے کی آفر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہسپانیہ کی خاک چھاننے کی تڑپ مجھے 2 سالوں سے مجبور کر رہی تھی۔ سفر کے اخراجات کا معاملہ حل ہونے کے بعد یورپ کے اس خوبصورت ملک اور مسلمانوں کی تقریباً 800 سالہ عظیم سلطنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی آرزو پوری ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔ عبد اللہ صاحب نے اپنے دوست افتخار علی صاحب کو بھی اس سفر میں ہم سفر بنا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دن بعد عبداللہ شاہ صاحب نے میرے ویزے کا اسکرین شاٹ بھیج کر سفر کی تیاری کرنے کی تاکید کرتے ہوئے دسمبر کے دوسرے ہفتے میں صرف ایک ہفتے کے لیے اسپین اور 10 دن عمرہ کا ٹور شیڈول بنانے کے لیے کہا۔ 7 دن تو بہت کم تھے، ایک ایسے ملک کے لیے جہاں ہر قدم پر تاریخ کے اوراق بکھرے پڑے ہوں۔ وہاں تو مہینوں کا ٹور ہونا چاہیے تھا۔ خیر ان کی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے مجھے بھی اپنے ٹور کو ان کے شیڈول کے مطابق سیٹ کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اسپین-کا-فضائی-سفر" href="#اسپین-کا-فضائی-سفر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسپین کا فضائی سفر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار روپے کے عوض سعودی ایئر لائن کے دو طرفہ ٹکٹس لینے کے بعد 16 دسمبر کی رات 9 بج کر 15 منٹ پر اسلام آباد ایئرپورٹ سے سعودی ایئر لائن کے طیارے میں جدہ کی جانب روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے لیے 17 دن کا یہ سفر اس لیے بھی مختلف تھا کیونکہ اس سفر میں جو ہم سفر ساتھ تھے ان کی عمریں 60 سال سے اوپر تھیں۔ چونکہ حد سے زیادہ فوٹوگرافی کا میرا شوق میرے ساتھ سفر کرنے والوں کی برداشت ختم کر دیتا ہے تو مجھے لگا کہ شاید میں اس سفر میں فوٹوگرافی نہ کرسکوں گا۔ لیکن اسلام آباد ایئرپورٹ پر دونوں ہم سفر دوستوں کی تصویرکشی کے شوق کو دیکھ کر میرا یہ گمان بھی دور ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134312588528e.jpg'  alt='  سعودی ایئرلائن کے طیارے میں جدہ کی جانب سفر جاری ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سعودی ایئرلائن کے طیارے میں جدہ کی جانب سفر جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 5 گھنٹے اور 15 منٹ کی پرواز کے بعد ہمیں جدہ کے خوبصورت شہر کے آثار دکھائی دیے۔ اتنی اونچائی سے جدہ میں ہونی والی نئی تعمیرات اور جدہ کے قریب بحیرہ عرب کے ساحل کے دلکش مناظر بار بار مجھے موبائل کیمرا نکالنے پر مجبور کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنے میں پائلٹ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ہم سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچنے والے ہے۔ چند منٹ بعد سعودی ایئرلائن کا یہ طیارہ رقبے کے لحاظ سے عرب دنیا کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر اتر چکا تھا۔ سب سے پہلے عمرہ زائرین کو 3 عدد بسوں کے ذریعے حج ٹرمینل روانہ کیا گیا جبکہ باقی مسافروں کو ٹرانزٹ لاؤنج شفٹ کیا گیا۔ ہماری اگلی پرواز 17 دسمبر کو دن کے 11 بجے روانہ ہونی تھی۔ اس لیے آرام کے لیے ہمارے پاس جدہ ایئرپورٹ کی مسجد ہی ایک بہترین آپشن تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134254a9da079.jpg?r=134512'  alt='  جدہ کے قریب بحیرہ احمر کے ساحل کے دلکش مناظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جدہ کے قریب بحیرہ احمر کے ساحل کے دلکش مناظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/0713431876a9052.jpg?r=134512'  alt='  ہمارے جہاز نے جدہ ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہمارے جہاز نے جدہ ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وضو کرکے مسجد میں تہجد پڑھنے کے بعد ہم کچھ دیر کے لیے محو خواب ہوئے۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ہماری آنکھ کھلی نماز پڑھنے اور ایئرپورٹ لاؤنج میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم انتظار گاہ میں ایئرپورٹ کے فری انٹرنیٹ کے مزے لوٹنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134402f15d2da.jpg?r=134512'  alt='  آرام کے لیے جدہ ایئرپورٹ کی مسجد  بہترین آپشن تھی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آرام کے لیے جدہ ایئرپورٹ کی مسجد  بہترین آپشن تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 بج کر 5 منٹ پر سعودی ایئرلائن کا جدید سہولیات پر مبنی طیارے اور ہسپانوی ومراکشی فضائی عملے کے ساتھ، ہم نے اپنی اگلی منزل جنوب مغربی یورپ کے خوبصورت ترین ملک اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ کی جانب سفر کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134306f657349.jpg?r=134512'  alt='  ہم صبح 11 بجے میڈریڈ کی جانب سفر کا آغاز کیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہم صبح 11 بجے میڈریڈ کی جانب سفر کا آغاز کیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ راستہ بائیں جانب بحیرہ احمر اور دائیں جانب سیاہ مائل پہاڑوں کا سلسلہ دکھائی دیتا رہا۔ پھر سمندر میری نگاہوں سے اوجھل ہوتا گیا اور اب دونوں طرف کھلی وادیوں اور صحراؤں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ان صحراؤں کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بلوچستان کی خدوخال پیش کررہی تھیں۔ بہت کم مقامات ایسے تھے جہاں انسانی آبادی کے آثار دکھائی دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/0713424860e84a1.jpg?r=134512'  alt='  جدہ شہر اور بحیرہ احمر کا خوبصورت منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جدہ شہر اور بحیرہ احمر کا خوبصورت منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے جتنی دیر میں ہم میڈریڈ شہر پہنچتے ہیں، ہم آپ کو اسپین کی تاریخ کے بارے میں آگاہ کردیں کیونکہ اسپین کی سیاحت سے پہلے آپ کے لیے سرزمین ہسپانیہ کا تاریخی اور جغرافیائی جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ہمارے سفر میں آنے والے مقامات اور اس کی تاریخ سے آپ کو پہلے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہسپانیہ-اسپین-منفرد-تہذیبوں-کی-سرزمین" href="#ہسپانیہ-اسپین-منفرد-تہذیبوں-کی-سرزمین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہسپانیہ (اسپین): منفرد تہذیبوں کی سرزمین&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کے کنارے برِاعظم یورپ کے جنوب میں واقع اس پُرامن ملک اسپین کو ہسپانیہ بھی کہا جاتا ہے جس کے ایک صوبے کا نام اندلس ہے۔ ہزاروں سال قدیم تاریخ رکھنے والے اس خطے نے بے شمار قوموں کا عروج و زوال دیکھا ہے۔ یہ منفرد تہذیبوں، ثقافتوں اور بولیوں کا مسکن رہ چکا ہے۔ مسلمانوں کے دور میں عرب اسے اندلس جبکہ ہسپانوی لوگ اسے اندلوسیہ کہتے تھے۔ جرمن قوم نے اسے واندلس کے نام سے موسوم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈورا، فرانس، جبرالٹر، پرتگال، اور مراکش کے ساتھ سرحدیں رکھنے والا 4 کروڑ 66 لاکھ نفوس پر مشتمل اسپین آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا 7واں جبکہ دنیا کا 30واں بڑا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/011029311ee4c24.jpg'  alt='  آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین دنیا کا 30واں بڑا ملک ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین دنیا کا 30واں بڑا ملک ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے نقشے پر موجود 21 ممالک نے اسپین سے آزادی حاصل کی تھی۔ اسپین کے موجودہ صوبے اندلس کے ساحل سمندر کے اُس پار براعظم افریقہ کے شمالی ممالک مراکش، لیبیا اور الجزائر کی سرحدیں ہیں۔ مراکش اور اسپین کی سرحدیں انتہائی نزدیک ہیں جو بعض مقامات پر 15 کلومیٹر جبکہ بعض پر 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ان دونوں براعظموں کی تاریخ بھی ہمیشہ جنگوں اور ایک دوسرے کو زیرنگیں کرنے سے بھری پڑی ہیں اور صدیوں تک یہ ایک دوسرے کی تاک میں رہے ہیں اور موقع ملتے ہی ایک دوسرے کے شکار کے لیے آگے بڑھتے رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں کبھی ایک سرنگوں ہوا اور کبھی دوسرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک زمانہ تھا جب یونان کو اپنے علم و طاقت کی بنیاد پر پوری دنیا میں سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی۔ یونان نے جہاں اپنی طاقت کی بنیاد پر یورپ کے تمام ممالک کو اپنی ریاست میں شامل کیا وہاں اسپین سمیت سمندر پار افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اپنی طاقت کا جھنڈا لہرایا۔ جب یونانیوں کا زوال ہوا تو ان کی جگہ رومن حکرانوں نے لے لی۔ رومن حکمرانوں نے جہاں برطانیہ سے لے کر اسپین تک کے علاقے اپنی فوج کے ذریعے فتح کیے تھے وہاں شمالی افریقی ممالک میں مراکش سے لے کر مصر تک اور بحیرہ روم کے کنارے آباد تمام ممالک کو زیر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رومیوں کے عروج کو بھی زوال جرمن قوم گاتھ کی وجہ سے نصیب ہوا۔ رومی ترکی، شام اور عراق تک محدود ہوگئے جبکہ اسپین سمیت یورپ کے دیگر علاقوں پر گاتھ حکمرانوں نے قبضہ جمالیا۔ جب اسلام کا سورج طلوع ہوا اور عرب کی سرزمین پر جہاں اور باطل قوتوں کا صفایا ہوا وہاں رومن حکمرانوں کا عروج بھی زوال میں تبدیل ہونے لگا اور قدرت کے اُصول ’ہر کمالے را زوال‘ کے مطابق وہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ آج بشمول اسپین دنیا کے کئی ممالک میں رومن حکمرانوں کے قلعے، سڑکیں اور پُل، رومن دور کی اس عظیم سلطنت کی یاد تازہ کرتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین میں گاتھ حکمرانوں کی حکومت کا دارالحکومت طلیطہ ( تولیدو) میں قائم تھا۔ فوجی حکمران راڈرک، گاتھ حکمران کاؤنٹ جولین کی بادشاہت کو بغاوت کے ذریعے ختم کرکے اسپین کی حکومت پر قابض ہوچکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راڈرک ایک انتہائی چلاک فوجی جنرل کے ساتھ ساتھ عیاش اور آوارہ انسان بھی تھا۔ اس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شاہی اور راجگان خاندان کے بچوں کی تعلیم و تربیت طلیطہ کے شاہی محل میں کرنے لگا اور راجگان کو اس پر قائل کیا کہ حکومت کے زیرِانتظام شاہی خاندان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اعلیٰ اور شاہی روایات و اداب کے مطابق کی جائے گی۔ لیکن پس پردہ ان بچوں کے ذریعے راجگان شاہی خاندان کو  دباؤ میں رکھنا تھا تاکہ اس کے جابرانہ حکومت کے خلاف راجگان خاندان بغاوت نہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلیطہ کے سابق حکمران کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا بھی محل میں زیرِتعلیم تھی۔ فلورنڈا انتہائی خوبصورت تھی۔ جس کے حسن کا راڈرک جلد ہی شکار ہوگیا۔ ایک رات راڈرک نے شراب کے نشے میں دُھت جولین کی بیٹی فلورنڈا ریپ کیا، فلورنڈا نے اگلے دن اپنے باپ کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم سے آگاہ کیا۔ جس پر جولین نے راڈرک سے بدلا لینے اور اس کو سبق سکھانے کے لیے سمندر پار شمالی افریقہ میں مسلمانوں کے حکومت کے گورنر موسیٰ بن نصیر سے راڈرک کے خلاف مدد مانگی۔ اس نے موسیٰ بن نصیر کو اپنے ساتھ ہونے والے اور طلیطہ میں راڈرک کی طرف سے روا رکھے جانے والے ظلم کے بارے میں آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولین نے موسی بن نصیر کو قائل کرلیا کہ اسپین کے لوگ بادشاہ اور پادریوں کے گرفت میں اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک کے تمام وسائل اور زمینوں پر پادریوں اور بادشاہ کا قبضہ ہے۔ انہوں نے اپنے بنائے ہوئے قانون کے تحت عام انسانوں کا جینا محال کردیا ہے۔ عام رعایا اب کسی غیبی مسیحا کی تلاش میں ہے اور ایسے میں اگر آپ ہمارے مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو راجگان سمیت ہسپانیہ کے عوام آپ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسٰی بن نصیر نے جولین کی پیشکش پر غور کیا اور اپنی فوج کے طریف ابن ملوک نامی سپہ سالار کو 300 فوجیوں کے ہمراہ اسپین کی صورتحال کا جائزہ لینے اور حقائق معلوم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ طریف اسپین کے جنوبی ساحل پر لنگرانداز ہوا۔ جس مقام پر طریف نے اپنے لشکر کے ساتھ اسپین کی سرزمین پرقدم رکھا، وہ مقام آج بھی Tarif کے نام سے جانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طریف نے واپس آکر موسیٰ بن نصیر کو حقائق سے آگاہ کیا۔ یورپ کی طرف سے ہمیشہ افریقہ کو زیر کرنے کے لیے حملے کیے جاتے رہے لیکن اب شمالی افریقہ کی باری تھی۔ موسیٰ بن نصیر نے اسپین پر حملے کے لیے اپنے سب سے قابل اعتماد جنرل طارق بن زیاد کا انتخاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/091020111fea253.jpg'  alt='   ہسپانیہ میں اموی فتوحات کا نقشہ&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہسپانیہ میں اموی فتوحات کا نقشہ— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق بن زیاد 29 اپریل 711ء بروز بدھ کو اسلامی لشکر لے کر جبلِ طارق پر اترے اور قدوس شہر کے قریب دریائے الکبیر کے کنارے آباد شریش نامی قصبہ میں راڈرک کی ایک لاکھ فوج کے ساتھ پہلی لڑائی ہوئی جس میں راڈرک کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔  اس طرح طارق بن زیاد اور بعد میں موسیٰ بن نصیر کی فوج کے ساتھ مل کر  آگے بڑھتے ہوئے ہسپانیہ کے باقی علاقوں میں فتح حاصل کرنے کے بعد یورپ کی سرزمین پر اسلامی تہذیب وتمدن پر مبنی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس منظر کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کچھ بیان کیا تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے گلستان اُندلس، وہ دن ہیں یاد تجھ کو&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھا تیرے ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/01104244822cbd6.jpg'  alt='  اندلس کی اسلامی حکومت کا نقشہ&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اندلس کی اسلامی حکومت کا نقشہ— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندلس میں مسلمانوں کی حکومت (711ء میں طارق بن زیاد کی آمد سے لےکر 754ء تک) میں جہاں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا وہاں وہ دور مدنی، یمنی، مضری، اور بربر قبائل کی آپس میں قبائلی چپقلش میں بھی گزرا۔ اس دوران دمشق کی اسلامی حکومت کی طرف سے یہاں حاکم نامزد ہوتے رہے۔ کسی نے چند سال، کسی نے چند ماہ اور کسی نے چند دن حکومت کی۔ ہسپانیہ کی اس خوبصورت سرزمین پر مسلمانوں سے پہلے کوئی مستحکم حکومت نہیں گزری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;754ء میں عبد الرحمٰن اول اندلس کے حاکم بنے۔ وہ اپنے آپ کو سلطان کہتے تھے اور یہ سلسلہ عبدالرحمٰن سوم تک جاری رہا۔ عبدالرحمٰن سوم اندلس کا پہلا حکمران تھا جس نے خلافت قائم کی اور اپنے آپ کو خلیفہ کہلوانا شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندلس میں عبدالرحمٰن اول اور ان کے خاندان نے (754ء سے 1009ء تک) 250 سال حکومت کی اور یہ ایک ایسا دور تھا جس میں جہاں ہسپانیہ کے کونے کونے میں اسلامی اقدار کا بول بالا تھا وہاں فنی تعمیر کا شاہکار مسجدِ قرطبہ اور مدینہ الازہر نامی شہر بھی تعمیر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/09084102dc9bd61.jpg'  alt='  عبدالرحمٰن سوئم کے دور کے سکے&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عبدالرحمٰن سوئم کے دور کے سکے— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنو امیہ کی حکومت ختم ہوتے ہی اندلس کی عظیم سلطنت 30 سے زائد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔ غلاموں وزیروں سے لے کر سردان عرب اور بربر قبائل نے اپنے اپنے علاقوں میں خودمحتار حکومتیں قائم کیں۔ صدیوں سے تاک میں بیٹھے عیسائی حکمرانوں نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر شمال کی جانب سے کمزور ریاستوں پر حملے شروع کیے اور کئی ریاستوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ یہ طوائف الملوکی کا دور تھا۔ اس زمانے میں اشبیلیہ کے حکمران دوسروں کی نسبت بہتر تھے۔ اشبیلیہ کے اُس وقت کے حکمران عباد بن ابوقاسم  نے عیسائی فوج کے خلاف شمالی افریقہ کے بادشاہ یوسف بن تاشفین سے مدد طلب کی۔ یوسف بن تاشفین نے 1086ء میں اندلس پر حملہ کرکے عیسائی افواج کو شکست دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/09084551b274d19.png'  alt='   یوسف بن تاشفین اور بادشاہ الفانسو کے درمیان ہونے والی جنگ زلاقہ کامنظر&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یوسف بن تاشفین اور بادشاہ الفانسو کے درمیان ہونے والی جنگ زلاقہ کامنظر— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد یوسف بن تاشفین نے 1091ء میں تمام مقامی ریاستوں کو ختم کرکے پورے اندلس کو ایک بار پھر اسلام کے جھنڈے تلے جمع کیا۔ جبکہ اندلس کو شمالی افریقہ میں شامل کرکے دارالحکومت کو مراکش منتقل کردیا۔ 1104ء میں یوسف بن تاشفین کی وفات کے بعد اس کا بیٹا علی ابن یوسف حکمران بنا لیکن اس کی گرفت اپنے باپ کی طرح نہ رہی اور 1145ء میں جب اس خاندان کی حکومت مراکش، الجزائر اور لیبیا سے ختم ہوئی تو وہ اندلس سے بھی محروم ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اندلس پر موحدین کا دور آیا جو کہ 1249ء عیسوی تک جاری رہا۔ موحدین بادشاہوں کے دور کے بعد مسلمان قبائل نے ایک بار پھر پورا ملک ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں نے عیسائی بادشاہوں کے ساتھ دفاعی معاہدے کرلیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان آخر میں اپنے تمام علاقوں سے محروم ہوتے ہوتے غرناطہ تک محدود ہوگئے۔ اندلس میں مسلمانوں کا آخری دور 1238ء سے 1492ء تک رہا جبکہ غرناطہ کی حکومت بھی آخرکار 2 جنوری 1492ء میں چھن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/01110825cbfd243.jpg'  alt='  اندلس کو عیسائیوں کے حوالے کیا گیا&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اندلس کو عیسائیوں کے حوالے کیا گیا— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے اب اسپین کی جانب اپنے سفر کی رُوداد جاری رکھتے ہیں۔ تقریباً 6 گھنٹے اور 25 منٹ کی پرواز کے بعد جبلِ طارق (جبرالٹر) کے چھوٹے ملک کے اوپر ہمارا طیارہ پرواز کررہا تھا۔ جی ہاں جبلِ طارق اسپین کا وہ ساحلی جزیرہ ہے جو آج  برطانیہ کے زیرِانتظام ایک علیحدہ ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134259304b352.jpg?r=134512'  alt='  جبلِ طارق ( جبرالٹر ) کے چھوٹے سے ملک  کے اوپر ہمارا طیارہ پرواز رہا تھا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جبلِ طارق ( جبرالٹر ) کے چھوٹے سے ملک  کے اوپر ہمارا طیارہ پرواز رہا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبلِ طارق سے گزرتے ہوئے ہمارا طیارہ بادلوں کو کاٹتا ہوا ایک وسیع آبادی کے اوپر سفر کرنے لگا۔ یہ آثار اسپین (ہسپانیہ) کے دارالحکومت میڈریڈ شہر کے دکھائی دے رہے تھے۔ اتنے میں طیارے کے پائلٹ نے میڈریڈ شہر پہنچنے کی نوید سنائی اور تھوڑی دیرمیں ہم میڈریڈ کے ہوائی اڈے ADOLFO SUAREZ BARAJAS پر لینڈ کرچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(جاری ہے۔)&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/spaintravelogue">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>شمالی افریقہ کے ملک کینیا، صومالیہ، تنزانیہ، جنوب مشرقی ایشیا کے ملک فلپائن، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر عرب ممالک کے سفر کے بعد ہسپانیہ (اسپین) اور ترکیہ کی سیاحت کی خواہش ایک عرصے سے دل میں نقش ہوچکی تھی۔</p>
<p>2018ء میں والدین کے ساتھ عثمانیوں کے عروج و زوال کے امین شہر استنبول اور اس کے بعد حجاز مقدس کے سفر کرنے کا موقع بھی رب کائنات نے میسر کیا۔ اب اس خوبصورت سفر کے بعد اندلس یعنی ہسپانیہ (اسپین) کو دیکھنے اور تاریخی مسجد قرطبہ کی خاموش اذانیں سننے کی خواہش دل میں امڈنے لگی۔ لیکن مالی پریشانیوں کی وجہ سے یہ خواہش پوری ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے۔ پھر بھی مجھے یقین تھا کہ میں وہاں ضرور جاؤں گا، کب جاؤں گا کیسے جاؤں گا اس کا جواب  رب کائنات ہر چھوڑ دیا تھا۔</p>
<h1><a id="خوابوں-کی-تعبیر" href="#خوابوں-کی-تعبیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خوابوں کی تعبیر</h1>
<p>اکتوبر 2019ء میں میرے قریبی سیاح دوست حاجی عبداللہ شاہ صاحب کی آفس آمد ہوئی۔ انہوں نے آتے ہی اسپین اور مراکش کے وزٹ کی خواہش کا اظہار کیا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا بلکہ میرے ساتھ جانے کی شرط پر ہی ویزا اپلائی کرنے کا کہا ساتھ ہی میرے سفری اخراجات کی ذمہ داری ایک سال کے لیے قرضہ کے طور پر ادا کرنے کی آفر کی۔</p>
<p>ہسپانیہ کی خاک چھاننے کی تڑپ مجھے 2 سالوں سے مجبور کر رہی تھی۔ سفر کے اخراجات کا معاملہ حل ہونے کے بعد یورپ کے اس خوبصورت ملک اور مسلمانوں کی تقریباً 800 سالہ عظیم سلطنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی آرزو پوری ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔ عبد اللہ صاحب نے اپنے دوست افتخار علی صاحب کو بھی اس سفر میں ہم سفر بنا لیا تھا۔</p>
<p>کچھ دن بعد عبداللہ شاہ صاحب نے میرے ویزے کا اسکرین شاٹ بھیج کر سفر کی تیاری کرنے کی تاکید کرتے ہوئے دسمبر کے دوسرے ہفتے میں صرف ایک ہفتے کے لیے اسپین اور 10 دن عمرہ کا ٹور شیڈول بنانے کے لیے کہا۔ 7 دن تو بہت کم تھے، ایک ایسے ملک کے لیے جہاں ہر قدم پر تاریخ کے اوراق بکھرے پڑے ہوں۔ وہاں تو مہینوں کا ٹور ہونا چاہیے تھا۔ خیر ان کی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے مجھے بھی اپنے ٹور کو ان کے شیڈول کے مطابق سیٹ کرنا پڑا۔</p>
<h1><a id="اسپین-کا-فضائی-سفر" href="#اسپین-کا-فضائی-سفر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسپین کا فضائی سفر</h1>
<p>تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار روپے کے عوض سعودی ایئر لائن کے دو طرفہ ٹکٹس لینے کے بعد 16 دسمبر کی رات 9 بج کر 15 منٹ پر اسلام آباد ایئرپورٹ سے سعودی ایئر لائن کے طیارے میں جدہ کی جانب روانہ ہوئے۔</p>
<p>میرے لیے 17 دن کا یہ سفر اس لیے بھی مختلف تھا کیونکہ اس سفر میں جو ہم سفر ساتھ تھے ان کی عمریں 60 سال سے اوپر تھیں۔ چونکہ حد سے زیادہ فوٹوگرافی کا میرا شوق میرے ساتھ سفر کرنے والوں کی برداشت ختم کر دیتا ہے تو مجھے لگا کہ شاید میں اس سفر میں فوٹوگرافی نہ کرسکوں گا۔ لیکن اسلام آباد ایئرپورٹ پر دونوں ہم سفر دوستوں کی تصویرکشی کے شوق کو دیکھ کر میرا یہ گمان بھی دور ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134312588528e.jpg'  alt='  سعودی ایئرلائن کے طیارے میں جدہ کی جانب سفر جاری ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سعودی ایئرلائن کے طیارے میں جدہ کی جانب سفر جاری ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>تقریباً 5 گھنٹے اور 15 منٹ کی پرواز کے بعد ہمیں جدہ کے خوبصورت شہر کے آثار دکھائی دیے۔ اتنی اونچائی سے جدہ میں ہونی والی نئی تعمیرات اور جدہ کے قریب بحیرہ عرب کے ساحل کے دلکش مناظر بار بار مجھے موبائل کیمرا نکالنے پر مجبور کر رہے تھے۔</p>
<p>اتنے میں پائلٹ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ہم سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچنے والے ہے۔ چند منٹ بعد سعودی ایئرلائن کا یہ طیارہ رقبے کے لحاظ سے عرب دنیا کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر اتر چکا تھا۔ سب سے پہلے عمرہ زائرین کو 3 عدد بسوں کے ذریعے حج ٹرمینل روانہ کیا گیا جبکہ باقی مسافروں کو ٹرانزٹ لاؤنج شفٹ کیا گیا۔ ہماری اگلی پرواز 17 دسمبر کو دن کے 11 بجے روانہ ہونی تھی۔ اس لیے آرام کے لیے ہمارے پاس جدہ ایئرپورٹ کی مسجد ہی ایک بہترین آپشن تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134254a9da079.jpg?r=134512'  alt='  جدہ کے قریب بحیرہ احمر کے ساحل کے دلکش مناظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جدہ کے قریب بحیرہ احمر کے ساحل کے دلکش مناظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/0713431876a9052.jpg?r=134512'  alt='  ہمارے جہاز نے جدہ ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہمارے جہاز نے جدہ ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی</figcaption>
    </figure></p>
<p>وضو کرکے مسجد میں تہجد پڑھنے کے بعد ہم کچھ دیر کے لیے محو خواب ہوئے۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ہماری آنکھ کھلی نماز پڑھنے اور ایئرپورٹ لاؤنج میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم انتظار گاہ میں ایئرپورٹ کے فری انٹرنیٹ کے مزے لوٹنے لگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134402f15d2da.jpg?r=134512'  alt='  آرام کے لیے جدہ ایئرپورٹ کی مسجد  بہترین آپشن تھی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آرام کے لیے جدہ ایئرپورٹ کی مسجد  بہترین آپشن تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>11 بج کر 5 منٹ پر سعودی ایئرلائن کا جدید سہولیات پر مبنی طیارے اور ہسپانوی ومراکشی فضائی عملے کے ساتھ، ہم نے اپنی اگلی منزل جنوب مغربی یورپ کے خوبصورت ترین ملک اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ کی جانب سفر کا آغاز کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134306f657349.jpg?r=134512'  alt='  ہم صبح 11 بجے میڈریڈ کی جانب سفر کا آغاز کیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہم صبح 11 بجے میڈریڈ کی جانب سفر کا آغاز کیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ راستہ بائیں جانب بحیرہ احمر اور دائیں جانب سیاہ مائل پہاڑوں کا سلسلہ دکھائی دیتا رہا۔ پھر سمندر میری نگاہوں سے اوجھل ہوتا گیا اور اب دونوں طرف کھلی وادیوں اور صحراؤں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ان صحراؤں کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بلوچستان کی خدوخال پیش کررہی تھیں۔ بہت کم مقامات ایسے تھے جہاں انسانی آبادی کے آثار دکھائی دیتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/0713424860e84a1.jpg?r=134512'  alt='  جدہ شہر اور بحیرہ احمر کا خوبصورت منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جدہ شہر اور بحیرہ احمر کا خوبصورت منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>چلیے جتنی دیر میں ہم میڈریڈ شہر پہنچتے ہیں، ہم آپ کو اسپین کی تاریخ کے بارے میں آگاہ کردیں کیونکہ اسپین کی سیاحت سے پہلے آپ کے لیے سرزمین ہسپانیہ کا تاریخی اور جغرافیائی جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ہمارے سفر میں آنے والے مقامات اور اس کی تاریخ سے آپ کو پہلے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔</p>
<h1><a id="ہسپانیہ-اسپین-منفرد-تہذیبوں-کی-سرزمین" href="#ہسپانیہ-اسپین-منفرد-تہذیبوں-کی-سرزمین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہسپانیہ (اسپین): منفرد تہذیبوں کی سرزمین</h1>
<p>بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کے کنارے برِاعظم یورپ کے جنوب میں واقع اس پُرامن ملک اسپین کو ہسپانیہ بھی کہا جاتا ہے جس کے ایک صوبے کا نام اندلس ہے۔ ہزاروں سال قدیم تاریخ رکھنے والے اس خطے نے بے شمار قوموں کا عروج و زوال دیکھا ہے۔ یہ منفرد تہذیبوں، ثقافتوں اور بولیوں کا مسکن رہ چکا ہے۔ مسلمانوں کے دور میں عرب اسے اندلس جبکہ ہسپانوی لوگ اسے اندلوسیہ کہتے تھے۔ جرمن قوم نے اسے واندلس کے نام سے موسوم کیا تھا۔</p>
<p>انڈورا، فرانس، جبرالٹر، پرتگال، اور مراکش کے ساتھ سرحدیں رکھنے والا 4 کروڑ 66 لاکھ نفوس پر مشتمل اسپین آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا 7واں جبکہ دنیا کا 30واں بڑا ملک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/011029311ee4c24.jpg'  alt='  آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین دنیا کا 30واں بڑا ملک ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین دنیا کا 30واں بڑا ملک ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>دنیا کے نقشے پر موجود 21 ممالک نے اسپین سے آزادی حاصل کی تھی۔ اسپین کے موجودہ صوبے اندلس کے ساحل سمندر کے اُس پار براعظم افریقہ کے شمالی ممالک مراکش، لیبیا اور الجزائر کی سرحدیں ہیں۔ مراکش اور اسپین کی سرحدیں انتہائی نزدیک ہیں جو بعض مقامات پر 15 کلومیٹر جبکہ بعض پر 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ان دونوں براعظموں کی تاریخ بھی ہمیشہ جنگوں اور ایک دوسرے کو زیرنگیں کرنے سے بھری پڑی ہیں اور صدیوں تک یہ ایک دوسرے کی تاک میں رہے ہیں اور موقع ملتے ہی ایک دوسرے کے شکار کے لیے آگے بڑھتے رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں کبھی ایک سرنگوں ہوا اور کبھی دوسرا۔</p>
<p>ایک زمانہ تھا جب یونان کو اپنے علم و طاقت کی بنیاد پر پوری دنیا میں سپر پاور کی حیثیت حاصل تھی۔ یونان نے جہاں اپنی طاقت کی بنیاد پر یورپ کے تمام ممالک کو اپنی ریاست میں شامل کیا وہاں اسپین سمیت سمندر پار افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اپنی طاقت کا جھنڈا لہرایا۔ جب یونانیوں کا زوال ہوا تو ان کی جگہ رومن حکرانوں نے لے لی۔ رومن حکمرانوں نے جہاں برطانیہ سے لے کر اسپین تک کے علاقے اپنی فوج کے ذریعے فتح کیے تھے وہاں شمالی افریقی ممالک میں مراکش سے لے کر مصر تک اور بحیرہ روم کے کنارے آباد تمام ممالک کو زیر کیا تھا۔</p>
<p>رومیوں کے عروج کو بھی زوال جرمن قوم گاتھ کی وجہ سے نصیب ہوا۔ رومی ترکی، شام اور عراق تک محدود ہوگئے جبکہ اسپین سمیت یورپ کے دیگر علاقوں پر گاتھ حکمرانوں نے قبضہ جمالیا۔ جب اسلام کا سورج طلوع ہوا اور عرب کی سرزمین پر جہاں اور باطل قوتوں کا صفایا ہوا وہاں رومن حکمرانوں کا عروج بھی زوال میں تبدیل ہونے لگا اور قدرت کے اُصول ’ہر کمالے را زوال‘ کے مطابق وہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ آج بشمول اسپین دنیا کے کئی ممالک میں رومن حکمرانوں کے قلعے، سڑکیں اور پُل، رومن دور کی اس عظیم سلطنت کی یاد تازہ کرتی رہتی ہیں۔</p>
<p>اسپین میں گاتھ حکمرانوں کی حکومت کا دارالحکومت طلیطہ ( تولیدو) میں قائم تھا۔ فوجی حکمران راڈرک، گاتھ حکمران کاؤنٹ جولین کی بادشاہت کو بغاوت کے ذریعے ختم کرکے اسپین کی حکومت پر قابض ہوچکا تھا۔</p>
<p>راڈرک ایک انتہائی چلاک فوجی جنرل کے ساتھ ساتھ عیاش اور آوارہ انسان بھی تھا۔ اس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شاہی اور راجگان خاندان کے بچوں کی تعلیم و تربیت طلیطہ کے شاہی محل میں کرنے لگا اور راجگان کو اس پر قائل کیا کہ حکومت کے زیرِانتظام شاہی خاندان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اعلیٰ اور شاہی روایات و اداب کے مطابق کی جائے گی۔ لیکن پس پردہ ان بچوں کے ذریعے راجگان شاہی خاندان کو  دباؤ میں رکھنا تھا تاکہ اس کے جابرانہ حکومت کے خلاف راجگان خاندان بغاوت نہ کرسکے۔</p>
<p>طلیطہ کے سابق حکمران کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا بھی محل میں زیرِتعلیم تھی۔ فلورنڈا انتہائی خوبصورت تھی۔ جس کے حسن کا راڈرک جلد ہی شکار ہوگیا۔ ایک رات راڈرک نے شراب کے نشے میں دُھت جولین کی بیٹی فلورنڈا ریپ کیا، فلورنڈا نے اگلے دن اپنے باپ کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم سے آگاہ کیا۔ جس پر جولین نے راڈرک سے بدلا لینے اور اس کو سبق سکھانے کے لیے سمندر پار شمالی افریقہ میں مسلمانوں کے حکومت کے گورنر موسیٰ بن نصیر سے راڈرک کے خلاف مدد مانگی۔ اس نے موسیٰ بن نصیر کو اپنے ساتھ ہونے والے اور طلیطہ میں راڈرک کی طرف سے روا رکھے جانے والے ظلم کے بارے میں آگاہ کیا۔</p>
<p>جولین نے موسی بن نصیر کو قائل کرلیا کہ اسپین کے لوگ بادشاہ اور پادریوں کے گرفت میں اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک کے تمام وسائل اور زمینوں پر پادریوں اور بادشاہ کا قبضہ ہے۔ انہوں نے اپنے بنائے ہوئے قانون کے تحت عام انسانوں کا جینا محال کردیا ہے۔ عام رعایا اب کسی غیبی مسیحا کی تلاش میں ہے اور ایسے میں اگر آپ ہمارے مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو راجگان سمیت ہسپانیہ کے عوام آپ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>موسٰی بن نصیر نے جولین کی پیشکش پر غور کیا اور اپنی فوج کے طریف ابن ملوک نامی سپہ سالار کو 300 فوجیوں کے ہمراہ اسپین کی صورتحال کا جائزہ لینے اور حقائق معلوم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ طریف اسپین کے جنوبی ساحل پر لنگرانداز ہوا۔ جس مقام پر طریف نے اپنے لشکر کے ساتھ اسپین کی سرزمین پرقدم رکھا، وہ مقام آج بھی Tarif کے نام سے جانا جاتا ہے۔</p>
<p>طریف نے واپس آکر موسیٰ بن نصیر کو حقائق سے آگاہ کیا۔ یورپ کی طرف سے ہمیشہ افریقہ کو زیر کرنے کے لیے حملے کیے جاتے رہے لیکن اب شمالی افریقہ کی باری تھی۔ موسیٰ بن نصیر نے اسپین پر حملے کے لیے اپنے سب سے قابل اعتماد جنرل طارق بن زیاد کا انتخاب کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/091020111fea253.jpg'  alt='   ہسپانیہ میں اموی فتوحات کا نقشہ&mdash; تصویر: وکی پیڈیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہسپانیہ میں اموی فتوحات کا نقشہ— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>طارق بن زیاد 29 اپریل 711ء بروز بدھ کو اسلامی لشکر لے کر جبلِ طارق پر اترے اور قدوس شہر کے قریب دریائے الکبیر کے کنارے آباد شریش نامی قصبہ میں راڈرک کی ایک لاکھ فوج کے ساتھ پہلی لڑائی ہوئی جس میں راڈرک کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔  اس طرح طارق بن زیاد اور بعد میں موسیٰ بن نصیر کی فوج کے ساتھ مل کر  آگے بڑھتے ہوئے ہسپانیہ کے باقی علاقوں میں فتح حاصل کرنے کے بعد یورپ کی سرزمین پر اسلامی تہذیب وتمدن پر مبنی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس منظر کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کچھ بیان کیا تھا:</p>
<p>مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری</p>
<p>تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا</p>
<p>اے گلستان اُندلس، وہ دن ہیں یاد تجھ کو</p>
<p>تھا تیرے ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/01104244822cbd6.jpg'  alt='  اندلس کی اسلامی حکومت کا نقشہ&mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اندلس کی اسلامی حکومت کا نقشہ— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اندلس میں مسلمانوں کی حکومت (711ء میں طارق بن زیاد کی آمد سے لےکر 754ء تک) میں جہاں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا وہاں وہ دور مدنی، یمنی، مضری، اور بربر قبائل کی آپس میں قبائلی چپقلش میں بھی گزرا۔ اس دوران دمشق کی اسلامی حکومت کی طرف سے یہاں حاکم نامزد ہوتے رہے۔ کسی نے چند سال، کسی نے چند ماہ اور کسی نے چند دن حکومت کی۔ ہسپانیہ کی اس خوبصورت سرزمین پر مسلمانوں سے پہلے کوئی مستحکم حکومت نہیں گزری۔</p>
<p>754ء میں عبد الرحمٰن اول اندلس کے حاکم بنے۔ وہ اپنے آپ کو سلطان کہتے تھے اور یہ سلسلہ عبدالرحمٰن سوم تک جاری رہا۔ عبدالرحمٰن سوم اندلس کا پہلا حکمران تھا جس نے خلافت قائم کی اور اپنے آپ کو خلیفہ کہلوانا شروع کیا۔</p>
<p>اندلس میں عبدالرحمٰن اول اور ان کے خاندان نے (754ء سے 1009ء تک) 250 سال حکومت کی اور یہ ایک ایسا دور تھا جس میں جہاں ہسپانیہ کے کونے کونے میں اسلامی اقدار کا بول بالا تھا وہاں فنی تعمیر کا شاہکار مسجدِ قرطبہ اور مدینہ الازہر نامی شہر بھی تعمیر ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/09084102dc9bd61.jpg'  alt='  عبدالرحمٰن سوئم کے دور کے سکے&mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عبدالرحمٰن سوئم کے دور کے سکے— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>بنو امیہ کی حکومت ختم ہوتے ہی اندلس کی عظیم سلطنت 30 سے زائد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔ غلاموں وزیروں سے لے کر سردان عرب اور بربر قبائل نے اپنے اپنے علاقوں میں خودمحتار حکومتیں قائم کیں۔ صدیوں سے تاک میں بیٹھے عیسائی حکمرانوں نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر شمال کی جانب سے کمزور ریاستوں پر حملے شروع کیے اور کئی ریاستوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ یہ طوائف الملوکی کا دور تھا۔ اس زمانے میں اشبیلیہ کے حکمران دوسروں کی نسبت بہتر تھے۔ اشبیلیہ کے اُس وقت کے حکمران عباد بن ابوقاسم  نے عیسائی فوج کے خلاف شمالی افریقہ کے بادشاہ یوسف بن تاشفین سے مدد طلب کی۔ یوسف بن تاشفین نے 1086ء میں اندلس پر حملہ کرکے عیسائی افواج کو شکست دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/09084551b274d19.png'  alt='   یوسف بن تاشفین اور بادشاہ الفانسو کے درمیان ہونے والی جنگ زلاقہ کامنظر&mdash; تصویر: وکی پیڈیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یوسف بن تاشفین اور بادشاہ الفانسو کے درمیان ہونے والی جنگ زلاقہ کامنظر— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کے بعد یوسف بن تاشفین نے 1091ء میں تمام مقامی ریاستوں کو ختم کرکے پورے اندلس کو ایک بار پھر اسلام کے جھنڈے تلے جمع کیا۔ جبکہ اندلس کو شمالی افریقہ میں شامل کرکے دارالحکومت کو مراکش منتقل کردیا۔ 1104ء میں یوسف بن تاشفین کی وفات کے بعد اس کا بیٹا علی ابن یوسف حکمران بنا لیکن اس کی گرفت اپنے باپ کی طرح نہ رہی اور 1145ء میں جب اس خاندان کی حکومت مراکش، الجزائر اور لیبیا سے ختم ہوئی تو وہ اندلس سے بھی محروم ہوگئے۔</p>
<p>اس کے بعد اندلس پر موحدین کا دور آیا جو کہ 1249ء عیسوی تک جاری رہا۔ موحدین بادشاہوں کے دور کے بعد مسلمان قبائل نے ایک بار پھر پورا ملک ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں نے عیسائی بادشاہوں کے ساتھ دفاعی معاہدے کرلیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان آخر میں اپنے تمام علاقوں سے محروم ہوتے ہوتے غرناطہ تک محدود ہوگئے۔ اندلس میں مسلمانوں کا آخری دور 1238ء سے 1492ء تک رہا جبکہ غرناطہ کی حکومت بھی آخرکار 2 جنوری 1492ء میں چھن گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/01110825cbfd243.jpg'  alt='  اندلس کو عیسائیوں کے حوالے کیا گیا&mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اندلس کو عیسائیوں کے حوالے کیا گیا— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>چلیے اب اسپین کی جانب اپنے سفر کی رُوداد جاری رکھتے ہیں۔ تقریباً 6 گھنٹے اور 25 منٹ کی پرواز کے بعد جبلِ طارق (جبرالٹر) کے چھوٹے ملک کے اوپر ہمارا طیارہ پرواز کررہا تھا۔ جی ہاں جبلِ طارق اسپین کا وہ ساحلی جزیرہ ہے جو آج  برطانیہ کے زیرِانتظام ایک علیحدہ ملک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/06/07134259304b352.jpg?r=134512'  alt='  جبلِ طارق ( جبرالٹر ) کے چھوٹے سے ملک  کے اوپر ہمارا طیارہ پرواز رہا تھا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جبلِ طارق ( جبرالٹر ) کے چھوٹے سے ملک  کے اوپر ہمارا طیارہ پرواز رہا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>جبلِ طارق سے گزرتے ہوئے ہمارا طیارہ بادلوں کو کاٹتا ہوا ایک وسیع آبادی کے اوپر سفر کرنے لگا۔ یہ آثار اسپین (ہسپانیہ) کے دارالحکومت میڈریڈ شہر کے دکھائی دے رہے تھے۔ اتنے میں طیارے کے پائلٹ نے میڈریڈ شہر پہنچنے کی نوید سنائی اور تھوڑی دیرمیں ہم میڈریڈ کے ہوائی اڈے ADOLFO SUAREZ BARAJAS پر لینڈ کرچکے تھے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204961</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jun 2023 09:16:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/09081418a80edc2.jpg?r=102037" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/09081418a80edc2.jpg?r=102037"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوٹری: انڈس فلوٹیلا، سندھ ریلوے اور برٹن کے دو سفر (دوسرا حصہ)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204310/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی دیگر اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/BURTONANDINDUSFLOTILLA"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برٹن ٹھٹہ سے گھوم پھر کر مکلی کے قریب لگے اپنے کیمپ میں واپس آیا۔ رات کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور پھر رات کو ان کا قافلہ ٹھٹہ سے شمال مشرق کی طرف چل پڑا تھا۔ سورج اُگنے میں ابھی وقت تھا کہ اس قافلے نے دریائے سندھ کے بہاؤ کے مغرب میں سُونڈا کے قدیم قبرستان کے قریب اپنا کیمپ لگا لیا تھا اور برٹن نے اپنے (تصوراتی کردار) ساتھی مسٹر بُل کے ساتھ ناشتہ کیا اور پھر باتیں کرتے سوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹن کی یہ انتہائی شاندار تکنیک تھی کہ وہ جو کچھ دیکھتا، محسوس کرتا یا جو کچھ کہنا چاہتا، وہ اکثر مسٹر بُل کی زبان سے کہلوا دیتا ہے۔ اور ہم پڑھنے والے ان دونوں کی گفتگو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اب جب جاڑوں کا سورج دوپہر کے مقام سے ہٹ کر کچھ مغرب کی طرف چلا گیا ہے تو برٹن صاحب اور مسٹر جان بُل اُٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹن ہمیں بتاتے ہیں کہ ’ہماری آنکھ دن کے دو بجے کُھلی۔ کیا خوبصورت شام تھی موسم اور منظر کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ تین بجے دوپہر کا کھانا کھایا اور چار بجے کے قریب ہم اپنے کیمپ سے دو میل دور کچھ مقبرے دیکھنے گئے۔ وہاں پہنچنے پر ہمیں بھکاریوں کی ٹولیوں نے گھیر لیا جیسے وہ بالکل فارغ بیٹھے تھے اور ہمارے ہی انتظار میں تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170051fa4322a.jpg?r=170117'  alt='    رچرڈ فرانسس برٹن    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رچرڈ فرانسس برٹن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹن کا کیمپ دریا کنارے تھا مگر سونڈا کا قبرستان اس سے مغرب میں تھا۔ چونکہ اس وسیع اور قدیم قبرستان کے جنوب میں ایک چھوٹی سی بستی بھی تھی اس لیے بھکاری وہاں قبروں اور گنبدی قبروں پر جلدی پہنچ جاتے ہوں گے۔ آپ آج بھی جب ٹھٹہ سے حیدرآباد جانے والے راستے پر سفر کریں تو ٹھٹہ سے 35 کلومیٹر شمال میں یہ قدیم قبرستان آپ کو اس مصروف راستے کے مشرق میں نظر آئے گا۔ یہاں کی گنبدی قبروں اور ہزاروں برس کے قدیم قبرستان کے متعلق برٹن ہمیں کچھ نہیں بتاتا۔ چونکہ میں وہاں کئی بار گیا ہوں اور اس وسیع قبرستان کی باریک سی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے میں نے تپتے دن اور ٹھنڈی شامیں بھی گزاری ہیں۔ تو اس گورستان کی قدیم قبروں کے متعلق میں آپ کو مختصراً بتا دیتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر احمد حسن دانی صاحب کی تحقیق کے مطابق ’وادی سندھ ہندوستان کا وہ حصہ ہے جہاں انسانی تہذیب نے سب سے پہلے آنکھیں کھولیں۔ سندھ میں بُدھ مت، جین مت اور برہمنوں کے زوردار اثرات موجود رہے اس لیے ان سب کی تعمیرات کا اثر بھی یہاں کی فنی تعمیر پر رہا۔ اگر ہم اسلام کے بعد مسجدوں اور مقبروں کی تعمیرات کو دیکھیں تو ان پر ترکی، ایران، مصر اور ہند کی تعمیرات کا اثر ہمیں نظر آئے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ اور بلوچستان میں ان قدیم قبرستانوں پر تحقیق کرنے والے سلمان رشید صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ’اس طرح کے قبرستانوں کا ایک وسیع سلسلہ ہے جو ایران کے راستوں سے بلوچستان اور سندھ میں بکھرا ہوا ہے جیسے مکلی، سونڈا، جھرک، راج ملک، شاہ کپور، چوکنڈی، میمن گوٹھ، ملیر میں بلوچوں کے مقبرے، تونگ اور ایسے 100 سے بھی زائد قبرستان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2517001690a9abc.jpg?r=170046'  alt='   سونڈا کا تاریخی قبرستان   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سونڈا کا تاریخی قبرستان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ تاریخ کے صفحات کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کلمتی، جوکھیا اور نومڑیا (برفت) مغلوں کے دور حکومت میں بے حد طاقتور قبیلے رہے ہیں۔ اور وہ اکثر تجارتی قافلوں پر حملے کرکے اُن کو لُوٹ لیتے تھے۔ ہم اگر کلہوڑا دور میں بھی دیکھیں تو گبول، لاشاری، پنہور اور جاکھرا بھی ان کے مددگار رہے ہیں۔ ان قبیلوں کے قبرستانوں کی اپنی ایک الگ پہچان ہے اور ان پر بہت سارے محققین نے تحقیقی کام بھی کیا ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251700221e585eb.jpg?r=170046'  alt='   سونڈا کی حیرت انگیز اور شاندار قبریں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سونڈا کی حیرت انگیز اور شاندار قبریں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر غلام علی الانا اپنی تحقیقی تھیسز میں رقم طراز ہیں کہ ’سُونڈا کے قبرستان میں پتھر سے بنی ہوئی کچھ قبروں کے دائیں جانب نچلی طرف گھڑسوار کی تصویریں تراشی گئی ہیں جن کے ایک ہاتھ میں ڈھال اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ ہے۔ کُچھ قبروں پر دستار کی شبیہہ تراشی گئی ہے۔ ان کے متعلق کارٹر کا خیال ہے کہ یہ سرداروں کی قبروں کی نشانیاں ہیں۔ عورتوں کی قبروں کی پہچان کے لیے تاڑ کی ڈالیوں کی شکلیں تراشی گئی ہیں اور وہ قبریں جن پر 7 فٹ اُونچے پتھر کے سُتون گاڑے گئے ہیں، وہ قبریں جنگ میں مارے جانے والوں کی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170026ee2647a.jpg?r=170046'  alt='       سونڈا کی تاریخی گنبد والی قبریں       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سونڈا کی تاریخی گنبد والی قبریں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگتراشی کے ان قبرستانوں کی قدامت سے متعلق محققین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ یہ فن سَمہ دور میں یہاں جنوب سے آیا یعنی گُجرات سے آیا اس لیے اس فنِ تعمیر پر گجرات کی عمارت سازی کا بہت گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔ سندھ میں فنِ تعمیر کے لحاظ سے سمہ دور ایک شاندار زمانہ ثابت ہوا۔ مکلی اور اس کے اطراف میں زیادہ تر تعمیرات اس دور کی یادگار ہیں۔ پیر پٹھو کا قبرستان جہاں زیادہ تر سمہ سرداروں کی قبریں ہیں اور سنگتراشی کے ضمن میں یہ قبرستان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر اس حوالے سے برٹن کچھ نہیں لکھتا۔ اب شاید یہ اس کی مرضی تھی، ہم اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ اُس شام کی سردی کا ذکر وہ ضرور کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ’قبرستان سے واپسی پر تھکان اُتارنے کے لیے چائے پی۔ شمال کی تیز ہواؤں میں غضب کی ٹھنڈ تھی، ہواؤں کے جھکڑ بھی اتنے تیز تھے کہ ہمارے ٹینٹ کی ایک دو بار میخیں تک نکل گئیں۔ انگلینڈ سے نکلنے کے بعد یہ پہلی رات تھی جب ہم کپاس کی بھری گرم رضائیوں میں سوئے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170056bc04455.jpg?r=170117'  alt='   سونڈا کے قبرستان اور چھوٹے سے شہر کا منظر   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سونڈا کے قبرستان اور چھوٹے سے شہر کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد برٹن دریا کے کنارے گھنے جنگلات کی بات کرتا ہے جو بہاؤ کے دونوں کناروں پر تھے۔ دریا کے بہاؤ کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جب عام حالات میں دریا بہتا ہے جیسے میلٹنگ کے موسم میں جو تقریباً اپریل مئی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد جولائی سے ستمبر تک بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو اُن دنوں میں دریا میں تغیانی کی کیفیت ہوتی ہے۔ ہم اُس دریا کی بات کررہے ہیں جب دریا پر کوئی ڈیم یا بیراج نہیں بنا تھا۔ دریا آزاد تھا ان دنوں میں دریا میں 150 ایم اے ایف سے بھی زیادہ پانی آتا تھا اور اس اضافی پانی کی وجہ سے دریا کا پاٹ پھیل جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بہاؤ سے کہیں کہیں تو میلوں میں پانی ہی پانی ہوتا ہے جس کو مقامی زبان میں ’کچو‘ (وہ اراضی جس میں دریا کا پانی اپنی زرخیز مٹی سے پھیل جاتا ہے اور تغیانی اُترنے کے بعد وہاں درخت اور جھاڑیاں اُگ آتی ہیں اور گھنے جنگل آباد ہوجاتے ہیں) کہتے ہیں، وہاں گھنے جنگل اُگ جاتے ہیں۔ برٹن ان گھنے جنگلات اور اُن میں اُگے درختوں کی اقسام، جھاڑیوں اور جنگلی حیات کے پنپنے کا بڑے تفصیل سے ذکر کرتا ہے۔ ساتھ میں خشک موسم میں جنگلات کو کس طرح آگ لگ جاتی ہے اُس کا ذکر بھی وہ بڑے دلچسپ اور سائنسی بنیادوں پر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ میں وہ سندھو ندی کی وسعت، خوبصورتی اور تقدس کے متعلق بہت تفصیل سے بات کرتا ہے۔ وہ ’دیوالی‘ کے جشن کا ذکر بھی کرتا ہے جو فصلوں کی کٹائی اور جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں آتا ہے۔ میں آپ کو برٹن صاحب کی آنکھوں اور الفاظ سے اُس جشن کے مناظر دکھانا اور سُنانا چاہوں گا جو اُس نے دیکھے، محسوس کیے اور تحریر کیے۔ برٹن پڑھنے والوں کو بتانے کے لیے مسٹر جان بُل سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ’مسٹر بُل آپ شاید گھاس پُھوس کے بنے ہوئے بیڑے (Raft) کو دیکھ رہے ہیں جسے رات کو کئی دیوں کی روشنی سے روشن کیا گیا تھا اور اب دن ہونے پر انہیں بُجھایا جا رہا ہے۔ یہ بیڑا کنارے کے ساتھ کھڑا ہے جس کنارے پر اس وقت ہم چہل قدمی کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آپ کو یاد ہوگا کہ کل 6 نومبر تھی اور دیوالی کے بڑے تہوار کا دن تھا۔ یہ سندھیوں کے لیے ہر برس آنے والا ایک بڑا دن ہے جو ہر برس انہیں دنوں میں آتا ہے۔ ان غریب لوگوں نے اس تہوار کو منانے کے لیے بڑی محبت اور محنت سے کوششیں کی ہیں جن کو آپ ابھی دیکھ رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ ’بابا سندھو‘ کی پُوجا کرتے ہیں، دِیوں سے گھر روشن کرنے کے علاوہ، ہر آدمی دیے کو روشن کرکے دریا کے لہروں کے حوالے کرتا ہے اور ساتھ میں دریا بادشاہ کے غصے کو قابو میں رکھنے اور اُسے راضی کرنے کے لیے سندھو بابا کو چاول پیش کیے جاتے ہیں۔ ساتھ میں دیوی لکشمی کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251700071afd813.jpg?r=170046'  alt='   دیوالی پر دیے روشن کرکے دریا کے حوالے کیے جاتے ہیں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دیوالی پر دیے روشن کرکے دریا کے حوالے کیے جاتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دیے جلانے کا مقصد یہ ہے کہ دیا جلانے والے کی حیات کا دیپک آنے والے برس تک جلتا رہے۔ اگر پانی کی لہر یا پانی کے چھینٹے اُس کے دریا میں داخل کیے ہوئے دیے کو بُجھادیں تو وہ مایوس ہوجاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کو مشکلات پیش آنے والی ہیں۔ سندھ کے شہروں میں دیوالی کا یہ جشن بڑی دھام دھوم سے منایا جاتا ہے اور ہر طرف آپ کو دیپک ہی دیپک نظر آئیں گے جیسے آسمان میں ستارے۔ اور دریا کا کنارا تو ہزاروں دیوں کی ٹمٹماتی روشنی سے بھرا ہوتا ہے۔ اور اس دن بیوپاری لیکھے چوکھے کی پرانی پوتِھیوں کو بند کر کے نئی پوتِھیاں کھولتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر یہ موسموں اور فصلوں سے جُڑے دن ہیں کیونکہ ان دنوں میں اکثر فصلیں پک چکی ہوتی ہیں تو اُن کو کاٹ کر اور صاف کرکے مارکیٹوں میں لایا جاتا ہے جس سے خوراک اور پیسوں کی پریشانی کم ہوجاتی ہے۔ اور یہی دن ہوتے ہیں جب اس گرم خطے میں جاڑوں کی ٹھنڈی ہوائیں مہمان بن کر آتی ہیں۔ جاڑوں کا یہ موسم ہند اور سندھ کے لیے ایک شاندار تفریح کا موسم رہا ہے۔ اکثر میلے اسی موسم میں لگتے ہیں۔ سفر اور بیوپاری قافلوں کے لیے بھی یہ شاندار موسم ہوتا ہے۔ رات کو گاؤں کی چوپالوں میں الاؤ جلتے اور بھٹ، بھان اور چارن قدیم قصے کہانیاں کہنے والے آپہنچتے اور قصے کہانیاں سُناتے۔ کبھی کبھی رات گزر جاتی اور کچھ قصے تو اتنے طویل ہوتے کہ وہ کئی کئی راتوں تک لوگوں کو تفریح مہیا کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونڈا کے بعد برٹن کا قافلہ آگے بڑھتا ہے۔ اس سفر کا ذکر کرتے وہ یہاں کے وڈیروں کی زندگی، ان کی خوراک اور شکار کے شوق کے متعلق معلومات دیتا جاتا ہے۔ ساتھ میں وہ یہاں کے گھروں کی بناوٹ، غریب لوگوں کی بستیوں اور ان کے مسائل کے متعلق بھی وہ حقائق سے ہمیں آگاہ کرتا جاتا ہے۔ وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دریا کے دونوں کناروں پر جو گھنے جنگل ہیں اُن میں سے اکثر تالپور حاکموں نے اپنے شکار کے لیے مختص کر رکھے تھے۔ اور ساتھ میں وہ جنگلی حیات اور اُن دنوں کے ماحولیاتی منظرناموں کو بھی نہیں بھولتا۔ سونڈا کے بعد ایک دو منزلیں طے کرکے  وہ’جھرک’ پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170104fb0df66.jpg?r=170117'  alt='   دریا کنارے جنگلات میں تالپور حکمران شکار کرتے تھے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریا کنارے جنگلات میں تالپور حکمران شکار کرتے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس کی پہلی نظر میں جھرک جس طرح نظر آیا وہ ہم اگر برٹن کے الفاظ میں سُن لیں تو یہ زیادہ مناسب رہے گا۔ ’آپ نے دیکھا کہ جھرک دریائے سندھ کے کنارے پر ایک شہر ہے مگر یہ سندھ کے باقی میدانی لینڈاسکیپ سے الگ پہاڑی کے بالکل اوپر بنا ہوا ہے۔ یہ وہی پہاڑی سلسلہ ہے جس کے کنارے سفر کرکے ہم یہاں پہنچے ہیں۔ یہ سلسلہ کوئی بڑی پہاڑیوں کا نہیں ہے اگر ہم غور سے دیکھیں تو میدانی سطح سے یہ زیادہ سے زیادہ 100 فٹ اونچی پہاڑی ہوگی۔ جس پہاڑی پر یہ شہر ہے جس کی اراضی آدھے میل تک ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہاں فوجی چھاؤنی کو دیوار دی گئی ہے۔ یہاں مستقل طور پر ایک وسیع فوجی چھاؤنی قائم کی جا سکتی ہے کیونکہ یہاں پینے کے پانی کی کمی نہیں، ہوا زبردست اور صحت بخش ہے جبکہ کھانے پینے کی چیزوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ اس شہر میں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے اس لیے بلوچستان کے لوگ بھی گھومنے اور خریداری کرنے کے لیے یہاں آتے رہتے ہیں۔ اس وقت جھرک ایک فوجی آؤٹ پوسٹ ہے جہاں فقط ایک کمپنی رہتی ہے جبکہ اس کی ریجمنٹ حیدرآباد میں رہتی ہے۔ کچھ برس پہلے اونٹ سوار فوج یہاں رہتی تھی اور اس کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251700136e67faf.jpg?r=170046'  alt='   جھرک ایک شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے ایک پہاڑی پر بنا ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھرک ایک شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے ایک پہاڑی پر بنا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس دن برٹن کا قافلہ جھرک پہنچا تھا اُس دن یا شاید دوسرے دن وہاں کا کمانڈنگ آفیسر اُس سے ملنے آیا تھا اور وہ شاید کچھ زیادہ ہی دیر اُن کے پاس گپے مارنے بیٹھ گیا جو برٹن کو اچھا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ برٹن کے پروگرام میں اس دن جھرک شہر کو دیکھنے کے لیے جانا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’یہ کمانڈنگ آفیسر جس کو میرے آنے کی اطلاع دی گئی تھی اُس کو پڑھ کر وہ مجھ سے ملنے آیا۔ آیا تو آیا پر جانے کا نام نہیں لے رہا تھا بالکل ایسے جیسے وہ جس جگہ پر بیٹھا تھا، گُوند سے چپک گیا تھا۔ وہ شکار کا شوقین تھا جیسے اکثر انگریز ہوتے ہیں۔ پہلے اُس نے اپنے شکار کی طویل داستانیں سنائیں وہ ختم ہوئیں تو اپنی دوسری دلچسپیوں کے قصے شروع ہوئے۔ وہ ختم ہوئے تو اپنی پلٹن کی خبریں شروع ہوگئیں۔ اس کے بعد میری جاسوسی کرنے والی عینک (دوربین) لگا کر وہ ان انگریز عورتوں کو تاکنے لگا جو دریا کے کنارے  بنے تالاب میں نہا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس کے بعد ہم شہر گھومنے کے لیے نکلے جس طرف جائیں شہر کے کُتے ہمارے پیچھے جیسے ہم دوسرے سیارے سے آئے تھے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ چھوٹے بچوں کا ایک ٹولہ بھی ہمارے پیچھے۔ ہمیں بازار میں خوبصورت عورتوں کی ایک ٹولی بھی ملی جو شاید کسی اور محلے میں جا رہی تھی، وہ یقیناً خوبصورت تھیں۔ آخرکار شام ہونے کو آئی اور ہم اپنے کیمپ کو لوٹے۔ تب جا کر کمانڈنگ آفیسر سے جان چھوٹی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹن کا کیمپ دریا کے بہاؤ کے مغربی کنارے پر ہے۔ یہ 10 نومبر یا 28 شوال 1260ھ، اتوار کا دن ہے۔ چونکہ آسمان پر چاند کہیں بھی نہیں ہے اس لیے اندھیرا چہار سُو پھیلتا ہے۔ کسی کسی وقت کوئی بادبانوں والی کشتی ٹھٹہ یا کوٹری کی طرف نکل جاتی ہے یا پھر جھرک کے گھاٹ پر آلگتی ہے۔ بہتے دریا پر جاڑوں کے ٹھنڈے موسم کی وجہ سے لہریں بالکل بھی نہیں ہیں کیونکہ دور شمال مشرق میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر برف پڑنے لگی ہے تو وہاں سے پانی کی آمد کم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251701087edfa86.jpg?r=170117'  alt='   جھرک سے دیائے سندہ کا نظارہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھرک سے دیائے سندہ کا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا کا بہاؤ اپنی رمز میں بہہ رہا ہے اور اس کے کنارے لگے برٹن کے کیمپ میں الاؤ جل رہے ہیں۔ شاید رات کے کھانے کی تیاری ہے۔ ایک الاؤ جو ٹینٹ کے جنوب میں قریب ہے اُس پر شاید برٹن کا ڈنر تیار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرا الاؤ اس سے بھی تھوڑا جنوب میں ہے جہاں سے کچھ لوگوں کی آوازیں اور کبھی کبھار کھانسی کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ اس الاؤ پر قافلے کے دوسرے لوگ اپنا کھانا پکانے میں مشغول ہیں۔ برٹن کے ٹینٹ میں بھی روشنی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آج کے دن کی کار گزاری تحریر کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قافلہ شاید کل سویرے یہاں سے اگلی منزل کے لیے شمال کی طرف نکل پڑے۔ اور برٹن صاحب دوسرے سفر میں یہاں جھرک میں نہیں آئیں گے اور جھرک کے ذکر کے سوا ’انڈس فلوٹیلا‘ کا ذکر بالکل نامکمل ہوگا۔ تو ہم جب انڈس فلوٹیلا کا ذکر کریں گے تو ایک بار پھر ہمیں اکیلے یہاں آنا پڑے گا کیونکہ تب برٹن صاحب سندھ ریلوے پر سفر کرتے کراچی پہنچ چکے ہوں گے۔ اور جھرک سے ریلوے لائن مغرب میں تقریباً 35 کلومیٹر دور گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے دن یہ قافلہ جھرک سے آگے بڑھا۔ برٹن بتاتا ہے کہ ’جھرک کراچی سے 100 میل دُور ہے اور حیدرآباد جانے والے راستے کے مشرق میں ہے۔ ہم اب سندھ کے لاڑ (لوئر سندھ، جنوبی سندھ) والے حصے سے آگے نکل آئے ہیں۔ ہم جس علاقے سے سفر کررہے ہیں اس کو ’وچولو‘ (سینٹر: جنوبی اور شمالی سندھ کے بیچ والا علاقہ) پکارا جاتا ہے۔ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ ہم شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد برٹن لوئر سندھ کے ڈیلٹا کے متعلق سائنسی بنیادوں پر بات کرتا ہے، وہ لکھتا ہے کہ ’جنوبی سندھ کا یہ حصہ انتہائی ڈھلانی ہے چونکہ اس زمین کو دریا نے اپنے ساتھ لائی ہوئی زرخیز مٹی سے بنایا ہے اس لیے جہاں سے چاہے دریا اپنی مرضی سے راستہ بناتا سمندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہاں اگر دریا کے بہاؤ کے آگے ایک چھوٹا پشتہ بھی بنا دیا جائے تو یہ اپنا راستہ تبدیل کرلے گا۔ اور کچھ برسوں سے وہ جہاں سے بہہ رہا تھا وہ راستہ چھوڑ دے گا اور اس کے کنارے پر چاہے شہر، بستیاں، فصلیں اور باغات آباد ہوں، وہ بیابانوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک گزرے وقتوں میں دریائے سندھ کے جنوبی حصے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق اتنا لکھا جا چکا ہے کہ بات سلجھنے کے بجائے مزید اُلجھ گئی ہے۔ انڈس ڈیلٹا کی زمین کس طرح بنی اس کے متعلق ہم تھوڑا بہت جانتے ہیں۔ دریا سندھ ایک سیکنڈ میں 300 کیوبک فٹ مٹی سمندر میں پھینکتا ہے۔ اسی مٹی کی مقدار سے یہاں 7 ماہ کے مختصر عرصے میں 42 میل لمبا اور 17 میل چوڑا ایک جزیرہ بن سکتا ہے جبکہ کنارے پر سمندر فقط 5 فیدم گہرا ہوتا ہے۔ اگر کوئی ذہین انسان چاہے تو آرام سے حساب لگا سکتا ہے کہ مٹی کے اتنی مقدار سے انڈس ڈیلٹا کی زمین کتنے عرصے میں بنی ہوگی’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھرک اور کوٹری کے بیچ میں (برٹن چونکہ دریا کا کنارا لےکر گیا تھا تو جھرک اور کوٹری کے بیچ میں اندازاً 50 کلومیٹر کا فاصلہ تو ضرور ہے) جو علاقہ پڑتا ہے، اُس کے لینڈ اسکیپ، لوگوں، فصلوں اور جنگلی حیات کے متعلق انتہائی اہم معلوماتی تجزیہ تحریر کرتے ہوئے برٹن ہمیں بتاتا ہے کہ ’یہاں کی زمین سیدھی ہے البتہ کہیں کہیں پر دریا کے چھوڑے ہوئے ریت کے ٹیلے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ علاقہ آپ کو خشک نظر نہیں آئے گا بلکہ بہت ساری جنگلی جھاڑیاں اُگی ہوئی نظر آئیں گی اور فصلیں بھی نظر آئیں گی جن کے لیے پانی دریا کے مرکزی بہاؤ سے نہروں کے ذریعے لایا جاتا ہے۔ یہاں کہیں کہیں پانی کو گہرائی سے اوپر کھینچنے کے لیے رہٹ بھی نظر آئیں گے۔ یہاں گندم، باجرے، جَو، مکئی کی فصلیں اُگائی جاتی ہیں۔ یہاں بہت سارے گاؤں ہیں۔ یہاں کے لوگ آپ کو صحت مند اور موٹے دیکھنے کو ملیں گے۔ جبکہ سمندر کنارے رہنے والے لوگ آپ کو کمزور اور دھان پان سے ملیں گے۔ ان کی زبان پر ہمیشہ یہی جملہ ہوتا ہے جو اکثر میں نے سُنا ہے کہ ’آج تو طبیعت ایسی ہے جیسے بخار ہوگیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170001c573ecc.jpg?r=170046'  alt='   دریائے سندھ کنارے اونٹ پانی کھینچتے ہوئے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے سندھ کنارے اونٹ پانی کھینچتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹن نے آبادیوں سے دور کیمپ لگایا ہے۔ جاڑوں کی وجہ سے دریا کا پانی تو اُتر گیا ہے مگر کہیں کہیں اُسے جوہڑوں میں پانی اب بھی نظر آرہا تھا۔ وہ دودھ کی فراوانی کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے یہاں کچھ اور ملے نہ ملے دودھ آپ کو ہر جگہ بے تحاشا مل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے سورج ڈوبنے کو ہے۔ کیمپ کا ٹینٹ لگ چکا ہے اور قافلے کے لوگ سارا سامان ایک مقررہ ترتیب سے جما چکے ہیں۔ ایک دو لوگ آگ جلانے کی تیاری کررہے ہیں۔ ایک طرف برٹن کا خاص باورچی اس کی خوراک بنانے میں مشغول ہے۔ آج اُن کو راستے میں 7، 8 اچھی مُرغابیاں شکاریوں سے مل گئی تھیں جو انہوں نے خرید لیں۔ آج قافلے کے لوگ بہت خوش ہیں کیونکہ انہیں مرغابیوں کے چاول کھانے کو ملیں گے۔ کچھ لوگ پڑے سامان پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور سُلفی پی رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے فی الوقت ہم اس قافلے کے لوگوں کو خوراک پکانے اور کھانے کے لیے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ برٹن صاحب نے کہا ہے کہ آج اس دریائی راستے پر ان کے پڑاؤ کی آخری رات ہے کل تک وہ کوٹری یقیناً پہنچ جائیں گے۔ چلیے ہم بھی جلد لوٹ کر اس قافلے سے آ ملتے ہیں کیونکہ جب تک ہم نہیں پہنچیں گے یہ قافلہ اپنا سفر شروع نہیں کرے گا!&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حوالہ جات&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;Scinde or The Unhappy Valley. Richard F. Burton, Vol: 1. London 1851&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی دیگر اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/BURTONANDINDUSFLOTILLA">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p><strong>برٹن ٹھٹہ سے گھوم پھر کر مکلی کے قریب لگے اپنے کیمپ میں واپس آیا۔ رات کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور پھر رات کو ان کا قافلہ ٹھٹہ سے شمال مشرق کی طرف چل پڑا تھا۔ سورج اُگنے میں ابھی وقت تھا کہ اس قافلے نے دریائے سندھ کے بہاؤ کے مغرب میں سُونڈا کے قدیم قبرستان کے قریب اپنا کیمپ لگا لیا تھا اور برٹن نے اپنے (تصوراتی کردار) ساتھی مسٹر بُل کے ساتھ ناشتہ کیا اور پھر باتیں کرتے سوگیا۔</strong></p>
<p>برٹن کی یہ انتہائی شاندار تکنیک تھی کہ وہ جو کچھ دیکھتا، محسوس کرتا یا جو کچھ کہنا چاہتا، وہ اکثر مسٹر بُل کی زبان سے کہلوا دیتا ہے۔ اور ہم پڑھنے والے ان دونوں کی گفتگو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اب جب جاڑوں کا سورج دوپہر کے مقام سے ہٹ کر کچھ مغرب کی طرف چلا گیا ہے تو برٹن صاحب اور مسٹر جان بُل اُٹھے ہیں۔</p>
<p>برٹن ہمیں بتاتے ہیں کہ ’ہماری آنکھ دن کے دو بجے کُھلی۔ کیا خوبصورت شام تھی موسم اور منظر کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ تین بجے دوپہر کا کھانا کھایا اور چار بجے کے قریب ہم اپنے کیمپ سے دو میل دور کچھ مقبرے دیکھنے گئے۔ وہاں پہنچنے پر ہمیں بھکاریوں کی ٹولیوں نے گھیر لیا جیسے وہ بالکل فارغ بیٹھے تھے اور ہمارے ہی انتظار میں تھے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170051fa4322a.jpg?r=170117'  alt='    رچرڈ فرانسس برٹن    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رچرڈ فرانسس برٹن</figcaption>
    </figure></p>
<p>برٹن کا کیمپ دریا کنارے تھا مگر سونڈا کا قبرستان اس سے مغرب میں تھا۔ چونکہ اس وسیع اور قدیم قبرستان کے جنوب میں ایک چھوٹی سی بستی بھی تھی اس لیے بھکاری وہاں قبروں اور گنبدی قبروں پر جلدی پہنچ جاتے ہوں گے۔ آپ آج بھی جب ٹھٹہ سے حیدرآباد جانے والے راستے پر سفر کریں تو ٹھٹہ سے 35 کلومیٹر شمال میں یہ قدیم قبرستان آپ کو اس مصروف راستے کے مشرق میں نظر آئے گا۔ یہاں کی گنبدی قبروں اور ہزاروں برس کے قدیم قبرستان کے متعلق برٹن ہمیں کچھ نہیں بتاتا۔ چونکہ میں وہاں کئی بار گیا ہوں اور اس وسیع قبرستان کی باریک سی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے میں نے تپتے دن اور ٹھنڈی شامیں بھی گزاری ہیں۔ تو اس گورستان کی قدیم قبروں کے متعلق میں آپ کو مختصراً بتا دیتا ہوں۔</p>
<p>ڈاکٹر احمد حسن دانی صاحب کی تحقیق کے مطابق ’وادی سندھ ہندوستان کا وہ حصہ ہے جہاں انسانی تہذیب نے سب سے پہلے آنکھیں کھولیں۔ سندھ میں بُدھ مت، جین مت اور برہمنوں کے زوردار اثرات موجود رہے اس لیے ان سب کی تعمیرات کا اثر بھی یہاں کی فنی تعمیر پر رہا۔ اگر ہم اسلام کے بعد مسجدوں اور مقبروں کی تعمیرات کو دیکھیں تو ان پر ترکی، ایران، مصر اور ہند کی تعمیرات کا اثر ہمیں نظر آئے گا‘۔</p>
<p>سندھ اور بلوچستان میں ان قدیم قبرستانوں پر تحقیق کرنے والے سلمان رشید صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ’اس طرح کے قبرستانوں کا ایک وسیع سلسلہ ہے جو ایران کے راستوں سے بلوچستان اور سندھ میں بکھرا ہوا ہے جیسے مکلی، سونڈا، جھرک، راج ملک، شاہ کپور، چوکنڈی، میمن گوٹھ، ملیر میں بلوچوں کے مقبرے، تونگ اور ایسے 100 سے بھی زائد قبرستان ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2517001690a9abc.jpg?r=170046'  alt='   سونڈا کا تاریخی قبرستان   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سونڈا کا تاریخی قبرستان</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگر آپ تاریخ کے صفحات کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کلمتی، جوکھیا اور نومڑیا (برفت) مغلوں کے دور حکومت میں بے حد طاقتور قبیلے رہے ہیں۔ اور وہ اکثر تجارتی قافلوں پر حملے کرکے اُن کو لُوٹ لیتے تھے۔ ہم اگر کلہوڑا دور میں بھی دیکھیں تو گبول، لاشاری، پنہور اور جاکھرا بھی ان کے مددگار رہے ہیں۔ ان قبیلوں کے قبرستانوں کی اپنی ایک الگ پہچان ہے اور ان پر بہت سارے محققین نے تحقیقی کام بھی کیا ہے’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251700221e585eb.jpg?r=170046'  alt='   سونڈا کی حیرت انگیز اور شاندار قبریں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سونڈا کی حیرت انگیز اور شاندار قبریں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر غلام علی الانا اپنی تحقیقی تھیسز میں رقم طراز ہیں کہ ’سُونڈا کے قبرستان میں پتھر سے بنی ہوئی کچھ قبروں کے دائیں جانب نچلی طرف گھڑسوار کی تصویریں تراشی گئی ہیں جن کے ایک ہاتھ میں ڈھال اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ ہے۔ کُچھ قبروں پر دستار کی شبیہہ تراشی گئی ہے۔ ان کے متعلق کارٹر کا خیال ہے کہ یہ سرداروں کی قبروں کی نشانیاں ہیں۔ عورتوں کی قبروں کی پہچان کے لیے تاڑ کی ڈالیوں کی شکلیں تراشی گئی ہیں اور وہ قبریں جن پر 7 فٹ اُونچے پتھر کے سُتون گاڑے گئے ہیں، وہ قبریں جنگ میں مارے جانے والوں کی ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170026ee2647a.jpg?r=170046'  alt='       سونڈا کی تاریخی گنبد والی قبریں       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سونڈا کی تاریخی گنبد والی قبریں</figcaption>
    </figure></p>
<p>سنگتراشی کے ان قبرستانوں کی قدامت سے متعلق محققین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ یہ فن سَمہ دور میں یہاں جنوب سے آیا یعنی گُجرات سے آیا اس لیے اس فنِ تعمیر پر گجرات کی عمارت سازی کا بہت گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔ سندھ میں فنِ تعمیر کے لحاظ سے سمہ دور ایک شاندار زمانہ ثابت ہوا۔ مکلی اور اس کے اطراف میں زیادہ تر تعمیرات اس دور کی یادگار ہیں۔ پیر پٹھو کا قبرستان جہاں زیادہ تر سمہ سرداروں کی قبریں ہیں اور سنگتراشی کے ضمن میں یہ قبرستان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p>مگر اس حوالے سے برٹن کچھ نہیں لکھتا۔ اب شاید یہ اس کی مرضی تھی، ہم اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ اُس شام کی سردی کا ذکر وہ ضرور کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ’قبرستان سے واپسی پر تھکان اُتارنے کے لیے چائے پی۔ شمال کی تیز ہواؤں میں غضب کی ٹھنڈ تھی، ہواؤں کے جھکڑ بھی اتنے تیز تھے کہ ہمارے ٹینٹ کی ایک دو بار میخیں تک نکل گئیں۔ انگلینڈ سے نکلنے کے بعد یہ پہلی رات تھی جب ہم کپاس کی بھری گرم رضائیوں میں سوئے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170056bc04455.jpg?r=170117'  alt='   سونڈا کے قبرستان اور چھوٹے سے شہر کا منظر   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سونڈا کے قبرستان اور چھوٹے سے شہر کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کے بعد برٹن دریا کے کنارے گھنے جنگلات کی بات کرتا ہے جو بہاؤ کے دونوں کناروں پر تھے۔ دریا کے بہاؤ کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جب عام حالات میں دریا بہتا ہے جیسے میلٹنگ کے موسم میں جو تقریباً اپریل مئی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد جولائی سے ستمبر تک بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو اُن دنوں میں دریا میں تغیانی کی کیفیت ہوتی ہے۔ ہم اُس دریا کی بات کررہے ہیں جب دریا پر کوئی ڈیم یا بیراج نہیں بنا تھا۔ دریا آزاد تھا ان دنوں میں دریا میں 150 ایم اے ایف سے بھی زیادہ پانی آتا تھا اور اس اضافی پانی کی وجہ سے دریا کا پاٹ پھیل جاتا تھا۔</p>
<p>مرکزی بہاؤ سے کہیں کہیں تو میلوں میں پانی ہی پانی ہوتا ہے جس کو مقامی زبان میں ’کچو‘ (وہ اراضی جس میں دریا کا پانی اپنی زرخیز مٹی سے پھیل جاتا ہے اور تغیانی اُترنے کے بعد وہاں درخت اور جھاڑیاں اُگ آتی ہیں اور گھنے جنگل آباد ہوجاتے ہیں) کہتے ہیں، وہاں گھنے جنگل اُگ جاتے ہیں۔ برٹن ان گھنے جنگلات اور اُن میں اُگے درختوں کی اقسام، جھاڑیوں اور جنگلی حیات کے پنپنے کا بڑے تفصیل سے ذکر کرتا ہے۔ ساتھ میں خشک موسم میں جنگلات کو کس طرح آگ لگ جاتی ہے اُس کا ذکر بھی وہ بڑے دلچسپ اور سائنسی بنیادوں پر کرتا ہے۔</p>
<p>ساتھ میں وہ سندھو ندی کی وسعت، خوبصورتی اور تقدس کے متعلق بہت تفصیل سے بات کرتا ہے۔ وہ ’دیوالی‘ کے جشن کا ذکر بھی کرتا ہے جو فصلوں کی کٹائی اور جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں آتا ہے۔ میں آپ کو برٹن صاحب کی آنکھوں اور الفاظ سے اُس جشن کے مناظر دکھانا اور سُنانا چاہوں گا جو اُس نے دیکھے، محسوس کیے اور تحریر کیے۔ برٹن پڑھنے والوں کو بتانے کے لیے مسٹر جان بُل سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ’مسٹر بُل آپ شاید گھاس پُھوس کے بنے ہوئے بیڑے (Raft) کو دیکھ رہے ہیں جسے رات کو کئی دیوں کی روشنی سے روشن کیا گیا تھا اور اب دن ہونے پر انہیں بُجھایا جا رہا ہے۔ یہ بیڑا کنارے کے ساتھ کھڑا ہے جس کنارے پر اس وقت ہم چہل قدمی کررہے ہیں۔</p>
<p>’آپ کو یاد ہوگا کہ کل 6 نومبر تھی اور دیوالی کے بڑے تہوار کا دن تھا۔ یہ سندھیوں کے لیے ہر برس آنے والا ایک بڑا دن ہے جو ہر برس انہیں دنوں میں آتا ہے۔ ان غریب لوگوں نے اس تہوار کو منانے کے لیے بڑی محبت اور محنت سے کوششیں کی ہیں جن کو آپ ابھی دیکھ رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ ’بابا سندھو‘ کی پُوجا کرتے ہیں، دِیوں سے گھر روشن کرنے کے علاوہ، ہر آدمی دیے کو روشن کرکے دریا کے لہروں کے حوالے کرتا ہے اور ساتھ میں دریا بادشاہ کے غصے کو قابو میں رکھنے اور اُسے راضی کرنے کے لیے سندھو بابا کو چاول پیش کیے جاتے ہیں۔ ساتھ میں دیوی لکشمی کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251700071afd813.jpg?r=170046'  alt='   دیوالی پر دیے روشن کرکے دریا کے حوالے کیے جاتے ہیں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دیوالی پر دیے روشن کرکے دریا کے حوالے کیے جاتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>’دیے جلانے کا مقصد یہ ہے کہ دیا جلانے والے کی حیات کا دیپک آنے والے برس تک جلتا رہے۔ اگر پانی کی لہر یا پانی کے چھینٹے اُس کے دریا میں داخل کیے ہوئے دیے کو بُجھادیں تو وہ مایوس ہوجاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کو مشکلات پیش آنے والی ہیں۔ سندھ کے شہروں میں دیوالی کا یہ جشن بڑی دھام دھوم سے منایا جاتا ہے اور ہر طرف آپ کو دیپک ہی دیپک نظر آئیں گے جیسے آسمان میں ستارے۔ اور دریا کا کنارا تو ہزاروں دیوں کی ٹمٹماتی روشنی سے بھرا ہوتا ہے۔ اور اس دن بیوپاری لیکھے چوکھے کی پرانی پوتِھیوں کو بند کر کے نئی پوتِھیاں کھولتے ہیں‘۔</p>
<p>بنیادی طور پر یہ موسموں اور فصلوں سے جُڑے دن ہیں کیونکہ ان دنوں میں اکثر فصلیں پک چکی ہوتی ہیں تو اُن کو کاٹ کر اور صاف کرکے مارکیٹوں میں لایا جاتا ہے جس سے خوراک اور پیسوں کی پریشانی کم ہوجاتی ہے۔ اور یہی دن ہوتے ہیں جب اس گرم خطے میں جاڑوں کی ٹھنڈی ہوائیں مہمان بن کر آتی ہیں۔ جاڑوں کا یہ موسم ہند اور سندھ کے لیے ایک شاندار تفریح کا موسم رہا ہے۔ اکثر میلے اسی موسم میں لگتے ہیں۔ سفر اور بیوپاری قافلوں کے لیے بھی یہ شاندار موسم ہوتا ہے۔ رات کو گاؤں کی چوپالوں میں الاؤ جلتے اور بھٹ، بھان اور چارن قدیم قصے کہانیاں کہنے والے آپہنچتے اور قصے کہانیاں سُناتے۔ کبھی کبھی رات گزر جاتی اور کچھ قصے تو اتنے طویل ہوتے کہ وہ کئی کئی راتوں تک لوگوں کو تفریح مہیا کرتے۔</p>
<p>سونڈا کے بعد برٹن کا قافلہ آگے بڑھتا ہے۔ اس سفر کا ذکر کرتے وہ یہاں کے وڈیروں کی زندگی، ان کی خوراک اور شکار کے شوق کے متعلق معلومات دیتا جاتا ہے۔ ساتھ میں وہ یہاں کے گھروں کی بناوٹ، غریب لوگوں کی بستیوں اور ان کے مسائل کے متعلق بھی وہ حقائق سے ہمیں آگاہ کرتا جاتا ہے۔ وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دریا کے دونوں کناروں پر جو گھنے جنگل ہیں اُن میں سے اکثر تالپور حاکموں نے اپنے شکار کے لیے مختص کر رکھے تھے۔ اور ساتھ میں وہ جنگلی حیات اور اُن دنوں کے ماحولیاتی منظرناموں کو بھی نہیں بھولتا۔ سونڈا کے بعد ایک دو منزلیں طے کرکے  وہ’جھرک’ پہنچتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170104fb0df66.jpg?r=170117'  alt='   دریا کنارے جنگلات میں تالپور حکمران شکار کرتے تھے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریا کنارے جنگلات میں تالپور حکمران شکار کرتے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اُس کی پہلی نظر میں جھرک جس طرح نظر آیا وہ ہم اگر برٹن کے الفاظ میں سُن لیں تو یہ زیادہ مناسب رہے گا۔ ’آپ نے دیکھا کہ جھرک دریائے سندھ کے کنارے پر ایک شہر ہے مگر یہ سندھ کے باقی میدانی لینڈاسکیپ سے الگ پہاڑی کے بالکل اوپر بنا ہوا ہے۔ یہ وہی پہاڑی سلسلہ ہے جس کے کنارے سفر کرکے ہم یہاں پہنچے ہیں۔ یہ سلسلہ کوئی بڑی پہاڑیوں کا نہیں ہے اگر ہم غور سے دیکھیں تو میدانی سطح سے یہ زیادہ سے زیادہ 100 فٹ اونچی پہاڑی ہوگی۔ جس پہاڑی پر یہ شہر ہے جس کی اراضی آدھے میل تک ہوگی۔</p>
<p>’یہاں فوجی چھاؤنی کو دیوار دی گئی ہے۔ یہاں مستقل طور پر ایک وسیع فوجی چھاؤنی قائم کی جا سکتی ہے کیونکہ یہاں پینے کے پانی کی کمی نہیں، ہوا زبردست اور صحت بخش ہے جبکہ کھانے پینے کی چیزوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ اس شہر میں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے اس لیے بلوچستان کے لوگ بھی گھومنے اور خریداری کرنے کے لیے یہاں آتے رہتے ہیں۔ اس وقت جھرک ایک فوجی آؤٹ پوسٹ ہے جہاں فقط ایک کمپنی رہتی ہے جبکہ اس کی ریجمنٹ حیدرآباد میں رہتی ہے۔ کچھ برس پہلے اونٹ سوار فوج یہاں رہتی تھی اور اس کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں تھا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251700136e67faf.jpg?r=170046'  alt='   جھرک ایک شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے ایک پہاڑی پر بنا ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھرک ایک شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے ایک پہاڑی پر بنا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جس دن برٹن کا قافلہ جھرک پہنچا تھا اُس دن یا شاید دوسرے دن وہاں کا کمانڈنگ آفیسر اُس سے ملنے آیا تھا اور وہ شاید کچھ زیادہ ہی دیر اُن کے پاس گپے مارنے بیٹھ گیا جو برٹن کو اچھا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ برٹن کے پروگرام میں اس دن جھرک شہر کو دیکھنے کے لیے جانا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’یہ کمانڈنگ آفیسر جس کو میرے آنے کی اطلاع دی گئی تھی اُس کو پڑھ کر وہ مجھ سے ملنے آیا۔ آیا تو آیا پر جانے کا نام نہیں لے رہا تھا بالکل ایسے جیسے وہ جس جگہ پر بیٹھا تھا، گُوند سے چپک گیا تھا۔ وہ شکار کا شوقین تھا جیسے اکثر انگریز ہوتے ہیں۔ پہلے اُس نے اپنے شکار کی طویل داستانیں سنائیں وہ ختم ہوئیں تو اپنی دوسری دلچسپیوں کے قصے شروع ہوئے۔ وہ ختم ہوئے تو اپنی پلٹن کی خبریں شروع ہوگئیں۔ اس کے بعد میری جاسوسی کرنے والی عینک (دوربین) لگا کر وہ ان انگریز عورتوں کو تاکنے لگا جو دریا کے کنارے  بنے تالاب میں نہا رہی تھیں۔</p>
<p>’اس کے بعد ہم شہر گھومنے کے لیے نکلے جس طرف جائیں شہر کے کُتے ہمارے پیچھے جیسے ہم دوسرے سیارے سے آئے تھے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ چھوٹے بچوں کا ایک ٹولہ بھی ہمارے پیچھے۔ ہمیں بازار میں خوبصورت عورتوں کی ایک ٹولی بھی ملی جو شاید کسی اور محلے میں جا رہی تھی، وہ یقیناً خوبصورت تھیں۔ آخرکار شام ہونے کو آئی اور ہم اپنے کیمپ کو لوٹے۔ تب جا کر کمانڈنگ آفیسر سے جان چھوٹی‘۔</p>
<p>برٹن کا کیمپ دریا کے بہاؤ کے مغربی کنارے پر ہے۔ یہ 10 نومبر یا 28 شوال 1260ھ، اتوار کا دن ہے۔ چونکہ آسمان پر چاند کہیں بھی نہیں ہے اس لیے اندھیرا چہار سُو پھیلتا ہے۔ کسی کسی وقت کوئی بادبانوں والی کشتی ٹھٹہ یا کوٹری کی طرف نکل جاتی ہے یا پھر جھرک کے گھاٹ پر آلگتی ہے۔ بہتے دریا پر جاڑوں کے ٹھنڈے موسم کی وجہ سے لہریں بالکل بھی نہیں ہیں کیونکہ دور شمال مشرق میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر برف پڑنے لگی ہے تو وہاں سے پانی کی آمد کم ہوگئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/251701087edfa86.jpg?r=170117'  alt='   جھرک سے دیائے سندہ کا نظارہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھرک سے دیائے سندہ کا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>دریا کا بہاؤ اپنی رمز میں بہہ رہا ہے اور اس کے کنارے لگے برٹن کے کیمپ میں الاؤ جل رہے ہیں۔ شاید رات کے کھانے کی تیاری ہے۔ ایک الاؤ جو ٹینٹ کے جنوب میں قریب ہے اُس پر شاید برٹن کا ڈنر تیار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرا الاؤ اس سے بھی تھوڑا جنوب میں ہے جہاں سے کچھ لوگوں کی آوازیں اور کبھی کبھار کھانسی کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ اس الاؤ پر قافلے کے دوسرے لوگ اپنا کھانا پکانے میں مشغول ہیں۔ برٹن کے ٹینٹ میں بھی روشنی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آج کے دن کی کار گزاری تحریر کررہا ہے۔</p>
<p>یہ قافلہ شاید کل سویرے یہاں سے اگلی منزل کے لیے شمال کی طرف نکل پڑے۔ اور برٹن صاحب دوسرے سفر میں یہاں جھرک میں نہیں آئیں گے اور جھرک کے ذکر کے سوا ’انڈس فلوٹیلا‘ کا ذکر بالکل نامکمل ہوگا۔ تو ہم جب انڈس فلوٹیلا کا ذکر کریں گے تو ایک بار پھر ہمیں اکیلے یہاں آنا پڑے گا کیونکہ تب برٹن صاحب سندھ ریلوے پر سفر کرتے کراچی پہنچ چکے ہوں گے۔ اور جھرک سے ریلوے لائن مغرب میں تقریباً 35 کلومیٹر دور گزرتی ہے۔</p>
<p>دوسرے دن یہ قافلہ جھرک سے آگے بڑھا۔ برٹن بتاتا ہے کہ ’جھرک کراچی سے 100 میل دُور ہے اور حیدرآباد جانے والے راستے کے مشرق میں ہے۔ ہم اب سندھ کے لاڑ (لوئر سندھ، جنوبی سندھ) والے حصے سے آگے نکل آئے ہیں۔ ہم جس علاقے سے سفر کررہے ہیں اس کو ’وچولو‘ (سینٹر: جنوبی اور شمالی سندھ کے بیچ والا علاقہ) پکارا جاتا ہے۔ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ ہم شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں‘۔</p>
<p>اس کے بعد برٹن لوئر سندھ کے ڈیلٹا کے متعلق سائنسی بنیادوں پر بات کرتا ہے، وہ لکھتا ہے کہ ’جنوبی سندھ کا یہ حصہ انتہائی ڈھلانی ہے چونکہ اس زمین کو دریا نے اپنے ساتھ لائی ہوئی زرخیز مٹی سے بنایا ہے اس لیے جہاں سے چاہے دریا اپنی مرضی سے راستہ بناتا سمندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہاں اگر دریا کے بہاؤ کے آگے ایک چھوٹا پشتہ بھی بنا دیا جائے تو یہ اپنا راستہ تبدیل کرلے گا۔ اور کچھ برسوں سے وہ جہاں سے بہہ رہا تھا وہ راستہ چھوڑ دے گا اور اس کے کنارے پر چاہے شہر، بستیاں، فصلیں اور باغات آباد ہوں، وہ بیابانوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔</p>
<p>جہاں تک گزرے وقتوں میں دریائے سندھ کے جنوبی حصے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق اتنا لکھا جا چکا ہے کہ بات سلجھنے کے بجائے مزید اُلجھ گئی ہے۔ انڈس ڈیلٹا کی زمین کس طرح بنی اس کے متعلق ہم تھوڑا بہت جانتے ہیں۔ دریا سندھ ایک سیکنڈ میں 300 کیوبک فٹ مٹی سمندر میں پھینکتا ہے۔ اسی مٹی کی مقدار سے یہاں 7 ماہ کے مختصر عرصے میں 42 میل لمبا اور 17 میل چوڑا ایک جزیرہ بن سکتا ہے جبکہ کنارے پر سمندر فقط 5 فیدم گہرا ہوتا ہے۔ اگر کوئی ذہین انسان چاہے تو آرام سے حساب لگا سکتا ہے کہ مٹی کے اتنی مقدار سے انڈس ڈیلٹا کی زمین کتنے عرصے میں بنی ہوگی’۔</p>
<p>جھرک اور کوٹری کے بیچ میں (برٹن چونکہ دریا کا کنارا لےکر گیا تھا تو جھرک اور کوٹری کے بیچ میں اندازاً 50 کلومیٹر کا فاصلہ تو ضرور ہے) جو علاقہ پڑتا ہے، اُس کے لینڈ اسکیپ، لوگوں، فصلوں اور جنگلی حیات کے متعلق انتہائی اہم معلوماتی تجزیہ تحریر کرتے ہوئے برٹن ہمیں بتاتا ہے کہ ’یہاں کی زمین سیدھی ہے البتہ کہیں کہیں پر دریا کے چھوڑے ہوئے ریت کے ٹیلے ہیں۔</p>
<p>یہ علاقہ آپ کو خشک نظر نہیں آئے گا بلکہ بہت ساری جنگلی جھاڑیاں اُگی ہوئی نظر آئیں گی اور فصلیں بھی نظر آئیں گی جن کے لیے پانی دریا کے مرکزی بہاؤ سے نہروں کے ذریعے لایا جاتا ہے۔ یہاں کہیں کہیں پانی کو گہرائی سے اوپر کھینچنے کے لیے رہٹ بھی نظر آئیں گے۔ یہاں گندم، باجرے، جَو، مکئی کی فصلیں اُگائی جاتی ہیں۔ یہاں بہت سارے گاؤں ہیں۔ یہاں کے لوگ آپ کو صحت مند اور موٹے دیکھنے کو ملیں گے۔ جبکہ سمندر کنارے رہنے والے لوگ آپ کو کمزور اور دھان پان سے ملیں گے۔ ان کی زبان پر ہمیشہ یہی جملہ ہوتا ہے جو اکثر میں نے سُنا ہے کہ ’آج تو طبیعت ایسی ہے جیسے بخار ہوگیا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/25170001c573ecc.jpg?r=170046'  alt='   دریائے سندھ کنارے اونٹ پانی کھینچتے ہوئے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے سندھ کنارے اونٹ پانی کھینچتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>برٹن نے آبادیوں سے دور کیمپ لگایا ہے۔ جاڑوں کی وجہ سے دریا کا پانی تو اُتر گیا ہے مگر کہیں کہیں اُسے جوہڑوں میں پانی اب بھی نظر آرہا تھا۔ وہ دودھ کی فراوانی کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے یہاں کچھ اور ملے نہ ملے دودھ آپ کو ہر جگہ بے تحاشا مل جائے گا۔</p>
<p>چلیے سورج ڈوبنے کو ہے۔ کیمپ کا ٹینٹ لگ چکا ہے اور قافلے کے لوگ سارا سامان ایک مقررہ ترتیب سے جما چکے ہیں۔ ایک دو لوگ آگ جلانے کی تیاری کررہے ہیں۔ ایک طرف برٹن کا خاص باورچی اس کی خوراک بنانے میں مشغول ہے۔ آج اُن کو راستے میں 7، 8 اچھی مُرغابیاں شکاریوں سے مل گئی تھیں جو انہوں نے خرید لیں۔ آج قافلے کے لوگ بہت خوش ہیں کیونکہ انہیں مرغابیوں کے چاول کھانے کو ملیں گے۔ کچھ لوگ پڑے سامان پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور سُلفی پی رہے ہیں۔</p>
<p>چلیے فی الوقت ہم اس قافلے کے لوگوں کو خوراک پکانے اور کھانے کے لیے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ برٹن صاحب نے کہا ہے کہ آج اس دریائی راستے پر ان کے پڑاؤ کی آخری رات ہے کل تک وہ کوٹری یقیناً پہنچ جائیں گے۔ چلیے ہم بھی جلد لوٹ کر اس قافلے سے آ ملتے ہیں کیونکہ جب تک ہم نہیں پہنچیں گے یہ قافلہ اپنا سفر شروع نہیں کرے گا!</p>
<h1><a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حوالہ جات</h1>
<ul>
<li>Scinde or The Unhappy Valley. Richard F. Burton, Vol: 1. London 1851</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204310</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jun 2023 12:38:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/261140431bed993.jpg?r=114059" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/261140431bed993.jpg?r=114059"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204169/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر کے بچوں کی طرح  وطنِ عزیز  میں اسکول کی تعطیلات کا بہت انتظار کیا جاتا ہے اور یہ بچوں اور اُن کے والدین کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ میرا بیٹا جو ابھی 5ویں جماعت میں گیا ہے کہتا ہے ’پلیز مما چھٹیاں  انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میں حیران ہوکر اُس کی طرف دیکھتی ہوں تو  وہ اپنے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ پڑھ پڑھ کر تھک گیا ہوں، میں کہتی ہوں اچھا چھٹیاں تو آنے دو اور پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ بچوں کے لیے یہ چھٹیاں بہت اہم ہوتی ہیں اور اس کو وہ بہت سنجیدہ لیتے ہیں، ذہن  میں منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح والدین کے لیے بھی اپنے بچے کے لیے یہ چھٹیاں اہم ہوتی ہیں۔ محمد اسد اللہ  نے ’چھٹی کا زمانہ‘ کے عنوان سے اس لمحے کی خوب عکاسی کی ہے کہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بستہ کتاب کاپی سب چھٹیاں منائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بار گراں سے ان کے ہم بھی نجات پائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بستے میں جو بندھا ہے اس کو جہاں میں دیکھیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا کیا کہاں چھپا ہے آؤ پتا لگائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنتے ہیں کچھ عجب ہے دنیا کا کارخانہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سمت ہر ڈگر پر چھٹی کا راج قائم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنکھوں میں جھلملاتے ہیں سیر کے عزائم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی چاہتا ہے صدیوں زندہ رہیں یہاں ہم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائم رہے یہ چھٹی دائم رہے یہ موسم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس سوچ ہی تو ہے یہ ممکن نہیں یہ مانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کی چھٹی کا یہ وہ وقت ہے جب بچے اسکول کے روز مرہ سخت پابند ماحول سے وقفہ لے سکتے اور کچھ فارغ وقت سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لیکن بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟ یہ ہر والدین کا سوال ہے جس کا کچھ جواب اُن کے پاس ہوتا ہے اور باقی کی وہ تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے پاس بھی اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات کے لحاظ سے چھٹیاں گزارنے کے مختلف منصوبے ہوتے ہیں۔کچھ بچے اپنی موسم گرما کی تعطیلات آرام سے گزارنے اور کچھ نہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان ہی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے مختلف سرگرمیوں میں مشغول رہنا اور اپنے مشاغل کو آگے بڑھانا پسند کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29093308f78fd93.jpg'  alt='بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یہ چھٹیاں کچھ ماؤں کے لیے اچھی خبر ہوتی ہےتو کچھ ان چھٹیوں سے پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اب  بچے پورا دن صرف اور صرف شور شرابا، لڑائی جھگڑے، شرارتیں اور  ہنگامے کرتے رہیں گے۔ اس مضمون میں، ہم یہ دیکھیں گے کہ بچے اپنی اسکول کی چھٹیاں کیسے گزارتے ہیں۔ کیونکہ سمجھدار  والدین کی ہمیشہ  خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی چھٹیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں اور بچوں کا  وقت ضائع نہ ہو۔ بے شک  وہ بہت سخت شیڈول میں نہ ہوں لیکن اپنے وقت کو انجوئے بھی کریں تو صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ کریں جو اُن کی آئندہ زندگی میں کام آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں ہر والدین اور بالخصوص ماں کا یہی سوال ہوتا ہے کہ تو کریں تو کیا کریں اور یہی وہ وقت ہے کہ چھٹیوں سے پہلے ان کی منصوبہ بندی کرلی جائے کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں میں ان کو کیا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" href="#کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کھیل کود میں حصہ لینا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کھیلوں میں مشغول ہونا بچوں کے لیے شخصیت کی تعمیر کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ کھیل ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں اور  یہ  بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک مقبول طریقہ ہے۔ وہ کسی اسپورٹس کلب میں شامل ہو سکتے ہیں یا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تیراکی، گھڑ سواری، مارشل آرٹ، باسکٹ بال، فٹ بال اور ٹینس جیسے کھیل بچوں کو بہت پسند آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29094641bf14ef9.jpg'  alt='چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پیدل-سفر-کرنا" href="#پیدل-سفر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پیدل سفر کرنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پیدل سفر کرنا فطرت کو دریافت کرنے اور کچھ ورزش کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بہت سے والدین اس کے لیے تعطیلات کے دوران پیدل سفر کی سرگرمیاں تلاش کرتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے اور بچوں کے لیے بہت اہم صحت مند سرگرمی ہوتی ہے اور بچے اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095110dd3d5ed.jpg'  alt='پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سفر-پر-نکلنا" href="#سفر-پر-نکلنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سفر پر نکلنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سفر بچوں کے لیے مختلف ثقافتوں کے بارے میں جاننے، تجسس پیدا کرنے اور اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ والدین مختلف شہروں یا ممالک کے دوروں کا منصوبہ بناسکتے ہیں ہمارے ملک میں درجنوں ایسے خوبصورت اور پر فضا مقامات ہیں جہاں جایا جاسکتا ہے اور اپنے بچوں کو مختلف جگہوں اور علاقوں کی تاریخ، ثقافت اور کھانوں کے بارے میں جاننے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095348635fe22.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم مسئلہ والدین کے لیے یہ بھی ہے کہ بچہ گھر میں رہے تو کیا کرے کیونکہ اندرونی سرگرمیوں کا بچوں کے اسکول کی چھٹیاں گزارنے میں اہم کردار ہے  یہ سرگرمیاں خاص طور پر بارش کے دنوں کے لیے بہترین ہیں یا پھر ان دنوں کے لیے جب بچوں کے پاس باہر جانے کا موقع نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پڑھنا-اور-لکھنا" href="#پڑھنا-اور-لکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پڑھنا اور لکھنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پڑھنا اور مطالعہ کرنا بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ ایسی کتابیں پڑھ سکتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی ہو اور وہ اپنی پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے کا عمل بچوں کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور ان کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ کہانیاں، نظمیں لکھ سکتے ہیں اورکسی اخبار یا جریدے میں شائع کرواسکتے ہیں اور اب تو اپنا  بلاگ بھی والدین کی رہنمائی سے  بناسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/290958246a43ba2.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="باغبانی-کرنا" href="#باغبانی-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;باغبانی کرنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;باغبانی بچوں کے لیے صبر، ذمہ داری اور فطرت کی قدردانی پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بچے مختلف قسم کے پودوں اور سبزیوں کو لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کمیونٹی باغبانی کے منصوبوں میں حصہ لینے یا اپنے گھر  کے کسی حصے، چھت یا بالکونی میں پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2910011434bd06e.jpg'  alt='بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" href="#فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فلمیں اور ڈاکومنٹری دیکھنا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بچے اپنی چھٹیوں کے دوران فلمیں یا ڈاکومنٹری دیکھ کر بھی اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کرسکتے ہیں اور  وہ یہ کام محدود وقت کے لیے اپنے دوستوں اور کزن کے ساتھ بڑوں کی نگرانی میں کر سکتے ہیں اور میرے بچے کی بھی یہ شکایت دور ہوسکتی کہ ’چھٹیوں کو انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29100436849b828.jpg'  alt='بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" href="#نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اسکول کی چھٹیاں بچوں کے لیے نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت ہوتی ہیں کیونکہ اسکول کی مصروفیت کے دوران انہیں سیکھنے کا موقع نہیں مل سکتا ہے۔ یہ مہارتیں عملی یا تعلیمی ہو سکتی ہیں اور بچوں کو نئی دلچسپیاں اور مشاغل پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29101333f247c3a.jpg'  alt='بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر  بچیاں اپنی چھٹیوں کے دوران کھانا پکانا سیکھ سکتی ہیں، وہ کھانا پکانے کی کلاسوں میں جاسکتی ہیں یا گھر میں اپنے والدہ کے ساتھ کھانا پکا سکتی ہیں۔ یہ مہارت انہیں زیادہ خود مختار بننے اور صحت مند کھانے کی عادات پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاہ کوڈنگ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک قابل قدر مہارت ہے۔ بچے اپنی تعطیلات کے دوران کوڈنگ کی کلاسوں میں جاکر یا آن لائن وسائل استعمال کرکے کوڈ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مہارت مستقبل کے کیریئر میں ان کی مدد کر سکتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم صلاحیت  نئی زبان سیکھنا ہے بچوں کے لیے اپنے خیال کو وسعت دینے اور ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ ہونے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ زبان سیکھنے کی کلاسوں میں شرکت کرسکتے ہیں یا نئی زبان سیکھنے کے لیے زبان سیکھنے والی ایپلی کیشنز کا استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" href="#رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رضاکارانہ اور سماجی سرگرمیاں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی سروس بچوں کے لیے اپنی کمیونٹیز کو واپس دینے اور دنیا میں تبدیلی لانے کے بہترین طریقے ہیں۔ بچے اپنی چھٹیوں کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں یا سماجی سروس کے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سے انہیں دوسروں کے لیے ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/291016222b0c1ce.jpg'  alt='رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین اپنے بچوں کی تعطیلات کے دوران مثبت سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں تاکہ ان کی نئی دلچسپیوں اور مہارتوں کو فروغ دینے اور اچھے افراد بننے میں مدد ملے. والدین کو ان چھٹیوں کو ضائع ہونے نہیں دینا چاہیے میری بھی ان سرگرمیوں  کے ذریعے کوشش ہوگی کہ میرا بچہ اگلے سال  یہ نہ کہے ’پلیز مما چھٹیاں انجوائے کرنے دیجِیے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے بہت سی خوبصورت یادیں اور لمحات سمیٹنے کے لیے آج سے ہی چھٹیوں کی منصوبہ بندی  شروع کرلیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر کے بچوں کی طرح  وطنِ عزیز  میں اسکول کی تعطیلات کا بہت انتظار کیا جاتا ہے اور یہ بچوں اور اُن کے والدین کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ میرا بیٹا جو ابھی 5ویں جماعت میں گیا ہے کہتا ہے ’پلیز مما چھٹیاں  انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔</p>
<p>جب میں حیران ہوکر اُس کی طرف دیکھتی ہوں تو  وہ اپنے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ پڑھ پڑھ کر تھک گیا ہوں، میں کہتی ہوں اچھا چھٹیاں تو آنے دو اور پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ بچوں کے لیے یہ چھٹیاں بہت اہم ہوتی ہیں اور اس کو وہ بہت سنجیدہ لیتے ہیں، ذہن  میں منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح والدین کے لیے بھی اپنے بچے کے لیے یہ چھٹیاں اہم ہوتی ہیں۔ محمد اسد اللہ  نے ’چھٹی کا زمانہ‘ کے عنوان سے اس لمحے کی خوب عکاسی کی ہے کہ</p>
<p>اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانا</p>
<p>لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا</p>
<p>بستہ کتاب کاپی سب چھٹیاں منائیں</p>
<p>بار گراں سے ان کے ہم بھی نجات پائیں</p>
<p>بستے میں جو بندھا ہے اس کو جہاں میں دیکھیں</p>
<p>کیا کیا کہاں چھپا ہے آؤ پتا لگائیں</p>
<p>سنتے ہیں کچھ عجب ہے دنیا کا کارخانہ</p>
<p>لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا</p>
<p>ہر سمت ہر ڈگر پر چھٹی کا راج قائم</p>
<p>آنکھوں میں جھلملاتے ہیں سیر کے عزائم</p>
<p>جی چاہتا ہے صدیوں زندہ رہیں یہاں ہم</p>
<p>قائم رہے یہ چھٹی دائم رہے یہ موسم</p>
<p>بس سوچ ہی تو ہے یہ ممکن نہیں یہ مانا</p>
<p>لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا</p>
<p>گرمیوں کی چھٹی کا یہ وہ وقت ہے جب بچے اسکول کے روز مرہ سخت پابند ماحول سے وقفہ لے سکتے اور کچھ فارغ وقت سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لیکن بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟ یہ ہر والدین کا سوال ہے جس کا کچھ جواب اُن کے پاس ہوتا ہے اور باقی کی وہ تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں۔</p>
<p>بچوں کے پاس بھی اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات کے لحاظ سے چھٹیاں گزارنے کے مختلف منصوبے ہوتے ہیں۔کچھ بچے اپنی موسم گرما کی تعطیلات آرام سے گزارنے اور کچھ نہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان ہی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے مختلف سرگرمیوں میں مشغول رہنا اور اپنے مشاغل کو آگے بڑھانا پسند کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29093308f78fd93.jpg'  alt='بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچوں کے پاس بھی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے ہوتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی طرح یہ چھٹیاں کچھ ماؤں کے لیے اچھی خبر ہوتی ہےتو کچھ ان چھٹیوں سے پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اب  بچے پورا دن صرف اور صرف شور شرابا، لڑائی جھگڑے، شرارتیں اور  ہنگامے کرتے رہیں گے۔ اس مضمون میں، ہم یہ دیکھیں گے کہ بچے اپنی اسکول کی چھٹیاں کیسے گزارتے ہیں۔ کیونکہ سمجھدار  والدین کی ہمیشہ  خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی چھٹیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں اور بچوں کا  وقت ضائع نہ ہو۔ بے شک  وہ بہت سخت شیڈول میں نہ ہوں لیکن اپنے وقت کو انجوئے بھی کریں تو صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ کریں جو اُن کی آئندہ زندگی میں کام آئے۔</p>
<p>اس پس منظر میں ہر والدین اور بالخصوص ماں کا یہی سوال ہوتا ہے کہ تو کریں تو کیا کریں اور یہی وہ وقت ہے کہ چھٹیوں سے پہلے ان کی منصوبہ بندی کرلی جائے کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں میں ان کو کیا کرنا ہے۔</p>
<h1><a id="کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" href="#کھیل-کود-میں-حصہ-لینا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کھیل کود میں حصہ لینا</h1>
<p>کھیلوں میں مشغول ہونا بچوں کے لیے شخصیت کی تعمیر کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ کھیل ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں اور  یہ  بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک مقبول طریقہ ہے۔ وہ کسی اسپورٹس کلب میں شامل ہو سکتے ہیں یا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تیراکی، گھڑ سواری، مارشل آرٹ، باسکٹ بال، فٹ بال اور ٹینس جیسے کھیل بچوں کو بہت پسند آتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29094641bf14ef9.jpg'  alt='چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چھٹیاں گزارنے کے لیے بچے تیراکی کو پسند کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="پیدل-سفر-کرنا" href="#پیدل-سفر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پیدل سفر کرنا</h1>
<p>پیدل سفر کرنا فطرت کو دریافت کرنے اور کچھ ورزش کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بہت سے والدین اس کے لیے تعطیلات کے دوران پیدل سفر کی سرگرمیاں تلاش کرتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے اور بچوں کے لیے بہت اہم صحت مند سرگرمی ہوتی ہے اور بچے اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095110dd3d5ed.jpg'  alt='پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پیدل چلنے سے بچے خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="سفر-پر-نکلنا" href="#سفر-پر-نکلنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سفر پر نکلنا</h1>
<p>سفر بچوں کے لیے مختلف ثقافتوں کے بارے میں جاننے، تجسس پیدا کرنے اور اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ والدین مختلف شہروں یا ممالک کے دوروں کا منصوبہ بناسکتے ہیں ہمارے ملک میں درجنوں ایسے خوبصورت اور پر فضا مقامات ہیں جہاں جایا جاسکتا ہے اور اپنے بچوں کو مختلف جگہوں اور علاقوں کی تاریخ، ثقافت اور کھانوں کے بارے میں جاننے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29095348635fe22.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چھٹیوں میں بچوں کو سفر پر لے کر جانا چاہیے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک اہم مسئلہ والدین کے لیے یہ بھی ہے کہ بچہ گھر میں رہے تو کیا کرے کیونکہ اندرونی سرگرمیوں کا بچوں کے اسکول کی چھٹیاں گزارنے میں اہم کردار ہے  یہ سرگرمیاں خاص طور پر بارش کے دنوں کے لیے بہترین ہیں یا پھر ان دنوں کے لیے جب بچوں کے پاس باہر جانے کا موقع نہیں ہوتا۔</p>
<h1><a id="پڑھنا-اور-لکھنا" href="#پڑھنا-اور-لکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پڑھنا اور لکھنا</h1>
<p>پڑھنا اور مطالعہ کرنا بچوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ ایسی کتابیں پڑھ سکتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی ہو اور وہ اپنی پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے کا عمل بچوں کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور ان کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ کہانیاں، نظمیں لکھ سکتے ہیں اورکسی اخبار یا جریدے میں شائع کرواسکتے ہیں اور اب تو اپنا  بلاگ بھی والدین کی رہنمائی سے  بناسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/290958246a43ba2.jpg'  alt='چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چھٹیوں میں بچے اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بناسکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="باغبانی-کرنا" href="#باغبانی-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>باغبانی کرنا</h1>
<p>باغبانی بچوں کے لیے صبر، ذمہ داری اور فطرت کی قدردانی پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ بچے مختلف قسم کے پودوں اور سبزیوں کو لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کمیونٹی باغبانی کے منصوبوں میں حصہ لینے یا اپنے گھر  کے کسی حصے، چھت یا بالکونی میں پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2910011434bd06e.jpg'  alt='بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچوں کو پودے لگانے کی ترغیب دے سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" href="#فلمیں-اور-ڈاکومنٹری-دیکھنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فلمیں اور ڈاکومنٹری دیکھنا</h1>
<p>بچے اپنی چھٹیوں کے دوران فلمیں یا ڈاکومنٹری دیکھ کر بھی اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کرسکتے ہیں اور  وہ یہ کام محدود وقت کے لیے اپنے دوستوں اور کزن کے ساتھ بڑوں کی نگرانی میں کر سکتے ہیں اور میرے بچے کی بھی یہ شکایت دور ہوسکتی کہ ’چھٹیوں کو انجوائے کرنے دیجیے گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29100436849b828.jpg'  alt='بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچے بڑوں کی نگرانی میں فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" href="#نئی-مہارتیں-سیکھنے-کا-بہترین-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت</h1>
<p>اسکول کی چھٹیاں بچوں کے لیے نئی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت ہوتی ہیں کیونکہ اسکول کی مصروفیت کے دوران انہیں سیکھنے کا موقع نہیں مل سکتا ہے۔ یہ مہارتیں عملی یا تعلیمی ہو سکتی ہیں اور بچوں کو نئی دلچسپیاں اور مشاغل پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/29101333f247c3a.jpg'  alt='بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>مثال کے طور پر  بچیاں اپنی چھٹیوں کے دوران کھانا پکانا سیکھ سکتی ہیں، وہ کھانا پکانے کی کلاسوں میں جاسکتی ہیں یا گھر میں اپنے والدہ کے ساتھ کھانا پکا سکتی ہیں۔ یہ مہارت انہیں زیادہ خود مختار بننے اور صحت مند کھانے کی عادات پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاہ کوڈنگ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک قابل قدر مہارت ہے۔ بچے اپنی تعطیلات کے دوران کوڈنگ کی کلاسوں میں جاکر یا آن لائن وسائل استعمال کرکے کوڈ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مہارت مستقبل کے کیریئر میں ان کی مدد کر سکتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے۔</p>
<p>ایک اہم صلاحیت  نئی زبان سیکھنا ہے بچوں کے لیے اپنے خیال کو وسعت دینے اور ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ ہونے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ وہ زبان سیکھنے کی کلاسوں میں شرکت کرسکتے ہیں یا نئی زبان سیکھنے کے لیے زبان سیکھنے والی ایپلی کیشنز کا استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" href="#رضاکارانہ-اور-سماجی-سرگرمیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رضاکارانہ اور سماجی سرگرمیاں</h1>
<p>رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی سروس بچوں کے لیے اپنی کمیونٹیز کو واپس دینے اور دنیا میں تبدیلی لانے کے بہترین طریقے ہیں۔ بچے اپنی چھٹیوں کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں یا سماجی سروس کے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سے انہیں دوسروں کے لیے ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/291016222b0c1ce.jpg'  alt='رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رضاکارانہ کام کرکے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا</figcaption>
    </figure></p>
<p>والدین اپنے بچوں کی تعطیلات کے دوران مثبت سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں تاکہ ان کی نئی دلچسپیوں اور مہارتوں کو فروغ دینے اور اچھے افراد بننے میں مدد ملے. والدین کو ان چھٹیوں کو ضائع ہونے نہیں دینا چاہیے میری بھی ان سرگرمیوں  کے ذریعے کوشش ہوگی کہ میرا بچہ اگلے سال  یہ نہ کہے ’پلیز مما چھٹیاں انجوائے کرنے دیجِیے گا‘۔</p>
<p>آئیے بہت سی خوبصورت یادیں اور لمحات سمیٹنے کے لیے آج سے ہی چھٹیوں کی منصوبہ بندی  شروع کرلیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204169</guid>
      <pubDate>Mon, 29 May 2023 17:21:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر فریحہ عامر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/29102426768995d.jpg?r=145845" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/29102426768995d.jpg?r=145845"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: گلگت شہر اور وادی غذر (آٹھویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204152/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;دریائے گلگت پر راجا بازار پل کے برابر سے درختوں میں گھری ہوئی ایک خاموش سڑک دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ آگے جا رہی تھی۔ ہم بھی خاموشی سے اس سڑک پر چل دیے اور چلتے چلتے دریا کنارے چنار باغ تک پہنچ گئے۔ دریائے گلگت کا پانی اپنے طویل پاٹ میں شور مچاتا بہے جارہا تھا۔ دریا کے پرلے کنارے پر ایک پہاڑ پھیلا ہوا تھا اور ہمارے کنارے پر چنار باغ پھیلا ہوا تھا۔ باغ کے دائیں حصے میں سرخ چھت والی ایک خوبصورت عمارت تھی جبکہ بائیں جانب کچھ بلندی پر ایک یادگار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم بائیں طرف بڑھے اور سیڑھیاں چڑھ کر یادگار تک پہنچ گئے۔ ایک ہشت پہلو چبوترے کے بیچ میں ایک ہشت پہلو ستون، جس کے اوپر والا سِرا ایک پگڑی کی طرح ہے اور اس پگڑی پر تانبے سے ڈھلا ہوا ایک مارخور کا مجسمہ جو اپنے چاروں پاؤں جمائے، سر اوپر کی طرف اٹھائے، ایک شانِ بے نیازی سے کھڑا تھا۔ یہ مجسمہ گلگت اسکاؤٹس کا نشان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162257107509f.jpg?r=162631'  alt='   یہ مجسمہ گلگت اسکاؤٹس کا نشان ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ مجسمہ گلگت اسکاؤٹس کا نشان ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162250de2fc11.jpg?r=162631'  alt='  مارخور کا مجسمہ شہدا کی یادگار ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مارخور کا مجسمہ شہدا کی یادگار ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیمِ ہند سے قبل گلگت، ریاست جموں وکشمیر کے ڈوگرہ راج کے زیر انتظام تھا۔ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے اپنا علاقہ پاکستان میں شامل کرنے کے لیے جدوجہد تیز کردی۔ ڈوگرہ فوج اور گلگت اسکاؤٹس کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی۔ اسکاؤٹس نے اپنی جانوں کے نذرانے دےکر گلگت و بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا اور قائداعظم کو پیغام بھجوایا کہ آئیے ہم آپ کے منتظر ہیں۔ اس ستون پر مضبوطی سے جما ہوا یہ مارخور اُنہی شہدا کی یادگار ہے۔ ستون کے پہلوؤں پر معرکۂ آزادی کے شہدا کے نام کندہ ہیں۔ چنار اور سفیدے کے درختوں میں گھری اس یادگار کو اطراف کے پہاڑ بھی جھک کر سلام کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24163021a5b1f19.jpg?r=163854'  alt='  یہ گلگت بلتستان کی آزادی کا نشان ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ گلگت بلتستان کی آزادی کا نشان ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241621402902912.jpg?r=162631'  alt='  گلگت اسکاؤٹس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت اسکاؤٹس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162149076a469.jpg?r=162631'  alt='  اسکاؤٹس نے اپنی جانوں کے نذرانے دےکر گلگت و بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکاؤٹس نے اپنی جانوں کے نذرانے دےکر گلگت و بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغ سے دریا کے پانی تک جانے کے لیے ایک پُل نما راستہ تھا جو دریا کے پاٹ میں کافی اندر تک چلا گیا تھا۔ ہم اس پل پر چلتے ہوئے دریا کے جوشیلے بہاؤ کے اوپر تک آگئے۔ یہاں سے دائیں سمت جس طرف دریا بہہ کر جارہا تھا وہاں دور دو معلق پل نظر آرہے تھے۔ ان میں سے ایک تو قدیم چوبی پل تھا اور دوسرا جدید آہنی پل۔ ایک آنے والی ٹریفک کے لیے جبکہ دوسرا جانے کے لیے استعمال ہورہا تھا۔ جب کوئی گاڑی  پُل پر چڑھتی ہے تو رسوں کے ذریعے معلق یہ بے ستون پل جھولنے لگتے تھے۔ اس مقام پر دریا بائیں طرف سے ایک موڑ لےکر گھومتا ہوا اچانک سامنے آجاتا ہے اور چنار باغ کے قدموں میں سے بہتا ہوا ان جڑواں پلوں کی طرف چلا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241624080dfa8bb.jpg?r=162631'  alt='  گلگت شہر کی سڑک کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت شہر کی سڑک کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں کھڑے ہوکر پیچھے کی طرف نظر دوڑائیں تو دور دور تک گلگت کے درو بام نظر آتے ہیں اور ان پر مسجدوں کے مینار سایہ فگن ہیں۔ میناروں کے پس منظر میں پہاڑ ہیں جن کی چوٹیوں پر برف چاندی کے تاروں کی مانند اٹکی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام ہونے لگی تو ہم دوبارہ شہر کی جانب پلٹے۔ تھوڑی دیر میں اندھیرا چھا گیا جس کا مقابلہ ایئرپورٹ روڈ کی پیلی کمزور بتیاں بمشکل کرنے لگیں۔  ایئرپورٹ روڈ اور راجہ بازار کے سنگم پر ایک بوسیدہ سا ریسٹورنٹ تھا  لیکن اس میں خوب رونق تھی۔ ہم بھی اس میں گھس گئے اور باورچی خانے کے قریب ایک ٹیبل پر قبضہ جمایا۔ ہوٹل میں گاہکوں کی گفتگو، بیروں کی چیخ پکار اور برتنوں کی کھنکناہٹ کا شور برپا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ایک بیرا  ہماری ٹیبل پر بھی آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241624544a943eb.jpg?r=162631'  alt='  گلگت کی ایئرپورٹ روڈ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت کی ایئرپورٹ روڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’جی صاحب ؟‘ وہ ہم سے گویا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کھانے میں کیا کیا ہے کپتان؟‘ باسط بولا۔ کپتان لفظ پر بیرے نے اسے چونک کر دیکھا تو ہم ہنسنے لگے۔ ’کپتان‘ باسط کا تکیہ کلام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’صاحب سادہ گوشت، بھونا گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، پالک گوشت، دال گوشت، سبزی، دال ماش، دال چنا، لوبیہ، انڈہ ٹماٹر‘۔ وہ فراٹے دار بولتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دوبارہ بتانا بھائی‘ وسیم بولا۔ بیرے نے پھر وہی آموختہ دہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اچھا ایسا کرو کہ ایک بھنڈی گوشت، ایک آلو گوشت اور ایک دال گوشت لے آؤ‘۔ میں جلدی سے بولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرا فوراً پلٹ کر ہمارے سامنے ہی اوپن ایئر باورچی خانے میں گھس گیا۔ اس نے تین خالی پلیٹیں اٹھائیں۔ ایک پلیٹ میں ایک دیگچے سے دال، دوسری پلیٹ میں دوسرے دیگچے سے آلو اور تیسری پلیٹ میں تیسرے دیگچے سے بھنڈی کا سالن ڈالا اور پھر چوتھے دیگچے کی طرف بڑھا جس میں گوشت کا سالن تھا۔ اس میں سے دو دو بوٹیاں نکال کر ہر پلیٹ میں ڈالیں اور سیدھا ہماری طرف واپس آکر تینوں پلیٹیں ہماری ٹیبل پر پٹخ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لو صاحب، بھنڈی گوشت، آلو گوشت اور دال گوشت۔۔۔ روٹیاں ابھی لایا‘۔ یہ کہہ کر وہ تندور کی طرف دوڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم چاروں نے ایک دوسرے کی طرف کچھ مایوسی سے دیکھا اور پھر یہ اداسی محسوس کی کہ ہم  اپنے شہر اور اپنے گھر سے بہت دور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھانا کھا کر نکلے اور نیم اندھیری ایئرپورٹ روڈ پر ٹامک ٹوئیاں کرتے اپنے ہوٹل پہنچ کر سوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت میں وہ رات بہت ڈراؤنی تھی۔ میں نیم غنودگی میں بستر پر کروٹیں بدل رہا تھا۔ رات کے 3 بج رہے ہوں گے کہ اچانک یہاں تک آنے والا دریا کی لہروں کا مدھم شور تیز ہوتا چلا گیا اور کچھ ہی دیر میں اتنا شدید ہوگیا کہ سارا ماحول اس کی لپیٹ میں آگیا۔ میں خوفزدہ ہوکر اُٹھ بیٹھا۔ یوں لگتا تھا جیسے باہر کی ساری چیزیں اُڑ اُڑ کر کمرے کی کھڑکیوں سے ٹکرا رہی ہیں۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یہ شور دریا کی لہروں کا نہیں بلکہ ہوا کے طوفان کا ہے جو دریا کے شور پر حاوی ہوچکا ہے۔ ایک وحشی ہوا تھی کہ جس نے ہر طرف اودھم مچا رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162659af03ac6.jpg?r=16271%DA%AF'  alt='  لکھاری گلگت ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری گلگت ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درختوں کے پتوں میں سیٹیاں بج رہی تھیں اور لگتا تھا کہ پہاڑوں سے اترنے والی یہ سر پھری ہوا ہمیں در و دیوار سمیت کہیں دور اُڑا لے جائے گی۔ اچانک بجلی کڑکی اور کھڑکیوں کے شیشے آنکھوں کو خیرہ کردینے والی سفید روشنی سے یک بارگی چمک اٹھے۔ بادل گرج رہے تھے اور بجلی چمک رہی تھی۔ چند لمحوں میں ٹپا ٹپ بوندیں گرنا شروع ہوگئیں اور آندھی کا شور مدھم پڑ کر بارش کی بوچھاڑ میں بدل گیا۔ میں جو چند لمحے پہلے اپنے اُڑ جانے کے اندیشے میں مبتلا ہوگیا تھا، اب بھیگ جانے کے خیال سے ہراساں ہوکر دوبارہ غنودگی میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی صبح البتہ بڑی روشن تھی۔ سورج کی شفاف شعاعوں میں سارا ماحول نکھر رہا تھا۔ رات کی بارش نے ہر چیز کو دھو دھو کر چمکادیا تھا۔ سبزہ و گل ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہوگئے تھے۔ چاروں طرف کے پہاڑ ہلکی دھند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ نیلے آسمان پر بادلوں کے روئی جیسے گالے آوارہ بھیڑوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے تھے۔ ہوٹل کے خوبصورت لان میں گھاس اور پتوں پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح مسکرا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں انڈا آملیٹ، جام اور خمیری پراٹھوں کا ناشتہ کرکے ہم باہر نکل آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنار باغ کے سامنے سے بائیں طرف مڑ کر ہم ان کھیتوں میں آگئے جن کے سبز پھیلاؤ میں جا بہ جا چھوٹے چھوٹے مکانات گڑیا کے گھروندوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ یہ مکانات تھے تو بڑے بڑے ہی مگر چھوٹے اس لیے لگتے تھے کیونکہ ان کے اطراف والے پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند تھے۔ پہاڑوں کی بلندی کے سامنے مکانوں اور انسانوں کی حیثیت کم ہورہی تھی۔ کھیتوں اور درختوں سے پرے دریائے گلگت کی لہریں جھلک دکھا رہی تھیں۔ ہم کافی دیر تک چلتے رہے اور پھر بائیں طرف ایک پتلی سی سٹرک پر سے ہوتے ہوئے ایئرپورٹ روڈ پر نکل آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162544e19dd1a.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کا پانی شور مچاتے ہوئے بہتا ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے گلگت کا پانی شور مچاتے ہوئے بہتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241625561e16e06.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کے گرد پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے گلگت کے گرد پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرپورٹ روڈ گلگت کی مرکزی سڑک ہے بالکل ویسے ہی جیسے کراچی میں شارعِ فیصل ہے۔ گلگت ایئرپورٹ روڈ کے دونوں طرف پھیلا ہوا ہے۔ ہوٹل، بیکریاں، چینی سازو سامان، کپڑے اور ڈرائی فروٹ کی دکانیں سڑک کی رونقیں بڑھاتی ہیں۔ گلگت ایک قدیم شہر ہے جہاں اکثر مکانات پتھروں سے بنے ہوئے ہیں۔ البتہ جدید دور کی خوشحالی کے سبب ان کچے پکے مکانات میں سے جدید عمارتیں بھی سراٹھا رہی ہیں۔ راولپنڈی سے اگر گلگت شہر میں داخل ہوں تو سب سے پہلے ’جوٹیال‘ کا محلہ آتا ہے۔ جوٹیال کے ساتھ ہی ’خومر‘ محلہ ہے۔ خومر سے آگے آئیں تو سیدھے ہاتھ پر گلگت ایئرپورٹ کا مختصر رن وے دکھائی دیتا ہے اور یہاں سے ایئر پورٹ روڈ شروع ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162415b4d63d0.jpg?r=162631'  alt='  گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162357997dc24.jpg?r=162631'  alt='  پہاڑوں سے گھرے گلگت شہر کا سحرانگیز نظارہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پہاڑوں سے گھرے گلگت شہر کا سحرانگیز نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کے زیادہ تر محلے ایئرپورٹ روڈ کے اطراف میں ہی واقع ہیں۔ سونی کوٹ، کشروٹ اور مجینی کے بڑے محلے اسی سڑک پر ہیں۔ ایئرپورٹ روڈ کے متوازی دریائے گلگت بہہ رہا ہے۔ دریائے گلگت اورایئرپورٹ روڈ کے درمیان زرعی زمینیں اور آبادیاں ہیں۔ راجہ بازار اور جماعت خانہ بازار سے آگے گلگت کی مضافاتی آبادیاں آمپھری، نپورہ، بیسن اور جاگیر واقع  ہیں جبکہ دریا کے پار کونوداس کالونی اور سکارکوئی محلے آباد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162504328d56f.jpg?r=162631'  alt='  گلگت کا جماعت خانہ بازار  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت کا جماعت خانہ بازار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت کا قدیم راجہ بازار، جماعت خانہ بازار اور صدر بازار ایئرپورٹ روڈ کے اختتام پر شروع ہوتے ہیں۔ آمپھری محلہ ان بازاروں سے آگے ہے جہاں شہر ختم ہونے لگتا ہے۔ وہاں پہاڑوں پر سے نیلے شفاف پانی کا ایک جھرنا شور مچاتا نیچے بہتا آرہا ہے۔ یہ کارگاہ نالا ہے۔ اس جگہ کی شہرت کی ایک وجہ یہاں پہاڑ پر کندہ ساتویں صدی عیسوی کی مہاتما بدھ کی شبیہہ ہے جو ’کارگاہ بدھا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ کارگاہ سے مزید آگے بڑھیں تو سڑک دریائے گلگت کے کنارے کنارے چلتی ہوئی وادی غذر کی طرف بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241622316df088c.jpg?r=162631'  alt='    ساتویں صدی عیسوی کی مہاتما بدھ کی شبیہہ &amp;rsquo;کارگاہ بدھا&amp;lsquo; کے نام سے مشہور ہے    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ساتویں صدی عیسوی کی مہاتما بدھ کی شبیہہ ’کارگاہ بدھا‘ کے نام سے مشہور ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/2416223711ab57a.jpg?r=162631'  alt='  مہاتما بدھ کی شبیہہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مہاتما بدھ کی شبیہہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت اور چترال کے درمیان 12 ہزار فٹ بلند مشہور درّہ شندور تک بھی یہی راستہ جاتا ہے۔ دریائے گلگت بھی شندور جھیل سے نکلتا ہے اور وادی غذر میں سے بہتا ہوا گلگت شہر تک آتا ہے۔ وادی غذر شمال میں تاجکستان سے ملتی ہے۔ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صرف افغانستان کے علاقے واخان کی تنگ پٹی حائل ہے جس کی اوسط چوڑائی تقریباً 15 کلومیٹر ہے۔ یعنی یہاں پاکستان اور تاجکستان کا درمیانی فاصلہ صرف 15 کلومیٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162208ea78118.jpg?r=162631'  alt='  وادی غذر شمال میں تاجکستان سے ملتی ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی غذر شمال میں تاجکستان سے ملتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے بہت بعد میں 1999ء میں وادی غذر جانے کا موقع ملا۔ ہم نے یہاں ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ شیر قلعہ، گاہکوچ، گوپس کے قصبوں اور وادی اشکومن، وادی یاسین اور وادی طاؤس میں فری میڈیکل کیمپ منعقد کیے تھے۔ بلند و بالا پہاڑوں، دریاؤں، ندی نالوں، ٹھنڈے میٹھے چشموں اور انواع و اقسام کے پھلوں سے لدی ہوئی یہ سرسبز وادیاں دنیا میں ہی جنت کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اس لیے وادی غذر کا وہ سفر بڑا یادگار رہا۔ وہ 1999ء کا جون تھا جب میں کراچی کی ایک این جی او کارساز ٹرسٹ کے ساتھ اس کے فلاحی کاموں کی دستاویزی فلم بنانے کے سلسلے میں یہاں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162213441e590.jpg?r=162631'  alt='  وادی غذر دنیا میں جنت کا منظر پیش کرتی ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی غذر دنیا میں جنت کا منظر پیش کرتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/2416221949e1d62.jpg?r=162631'  alt='  دریائے غذر کا پُر کشش منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے غذر کا پُر کشش منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اسلام آباد سے براستہ شاہراہ قراقرم 18 گھنٹے کا طویل سفر طے کرکے گلگت آئے تھے۔ اس بار فلاحی کام کے لیے دریائے گلگت کے کنارے کنارے گلگت سے وادی یاسین تک کا علاقہ منتخب کیا گیا تھا۔ چنانچہ ہم وادی غذر کے چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہات میں کیمپ لگاتے ہوئے آہستہ آہستہ وادی یاسین کی طرف بڑھ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے ہم سفر کارساز ٹرسٹ کے سربراہ اخلاق احمد (مرحوم) کے علاوہ اس وقت ماہنامہ رابطہ کے ایڈیٹر عبدالسلام سلامی بھی تھے۔ چند رضاکاروں سمیت یہ قافلہ دو جیپوں پر مشتمل تھا۔ ہمارا پروگرام غذر روڈ پر مختلف قصبوں اور دیہات میں کیمپنگ کرتے ہوئے واد یاسین تک جانے کا تھا۔ آخری کیمپ دریائے یاسین کے کنارے طاؤس نامی گاؤں میں ہونا تھا۔ ان کیمپوں میں ضرورت مندوں میں دواؤں، کپڑوں، سلائی مشین وغیرہ کی تقسیم ہونا تھی اور آئی کیمپ کا انعقاد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162158b36355d.jpg?r=162631'  alt='  دریائے یاسین کا خوبصورت منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے یاسین کا خوبصورت منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت سے دریا کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اس راستے پر چلیں تو کچھ ہی دیر میں شہر پیچھے رہ جاتا ہے۔ گلگت سے نصف گھنٹہ سفر کرکے ہم ایک پل کے قریب پہنچے جہاں دریا کے پار والے پہاڑوں کے دامن میں ایک سرسبز اور خوبصورت قصبہ نظر آرہا تھا۔ یہ ’شیر قلعہ‘ تھا جہاں  ہمارا پہلا پڑاؤ تھا۔ جیپوں نے پل پر سے دریا کو عبور کیا اور دوسرے کنارے پر پہنچ کر قصبے میں داخل ہوگئیں۔ یہاں لوگوں کو ہمارے آنے کی اطلاع پیشگی دی جاچکی تھی اس لیے وہ ہمارے منتظر تھے۔ میزبان ہمیں اپنے گھر کے ایک صاف ستھرے اور خنک کمرے میں لے گئے جہاں فرش پر اونی نمدے بچھے ہوئے تھے اور دیواریں روایتی دستکاریوں سے سجی ہوئی تھیں۔ میزبان و مہمان کچھ دیر تک ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتے رہے۔ پھر میزبان اٹھ کر چلے گئے اور ایک لوٹا پانی اور چلمچی لےکر واپس آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/2416244098d05d9.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کے پل پر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے گلگت کے پل پر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آئیں جی ہاتھ دھولیں‘۔ انہوں نے چلمچی میرے سامنے رکھ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لیکن ابھی کھانے کا وقت تونہیں ہوا‘۔ میں نے حیرت سے کہا کیونکہ اس وقت صبح کے 10، 11 بج رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں جی ابھی تو چائے پئیں گے‘۔ میزبان نے جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو یہاں چائے پینے کے لیے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے دل ہی دل میں سوچا اور کنکھیوں سے سلامی صاحب کی طرف دیکھا۔ وہ بھی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باری باری سب نے ہاتھ دھوئے اور گیلے ہاتھ دھونے کے لیے تولیہ پیش کیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد میزبان ایک بڑا سا دسترخوان لے آیا اور ہمارے سامنے بچھا دیا۔ ہم پھر اچنبھے میں پڑ گئے۔ چائے کے لیے اتنے بڑے دسترخوان کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔ میزبان پھر اندر گیا اور واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چنگیر تھی جس میں رکھی گندم کی مکھن لگی گرم تندوری روٹیاں اشتہا انگیز خوشبو بکھیر رہی تھیں۔ روٹیوں کے ساتھ پیالیوں میں شہد اور مکھن بھی تھا۔ اس نے یہ لوازمات ہمارے سامنے رکھ دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ چائے تو نہیں‘۔ میں مسکراکر بولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’چائے بس ابھی آرہی ہے جی‘۔ میزبان فوراً بولا اور دوبارہ اندر چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی ہم نے روٹی کے چند نوالے ہی لیے ہوں گے کہ وہ دو پلیٹوں میں خشک خوبانیاں اور شہتوت لے آیا۔ ہم نے ان کے ساتھ بھی انصاف کیا۔ اب ہم چائے کے منتظر تھے لیکن کچھ اور ابھی باقی تھا۔ میزبان اب آیا توگھر کے بنے ہوئے بسکٹ اور مکئی کے آٹے کی سوندھی سوندھی خوشبو والی روٹیاں بھی ساتھ لایا۔ یہ تازہ، خستہ، مزیدار چیزیں کھا کھا کر جب ہم مکمل سیر ہوگئے تو کہیں جاکر چائے کا تھرماس اور کپ آئے۔ پہلے نوش جاں کی گئی اشیا کے بعد اب چائے تو ایک تہمت ہی لگ رہی تھی۔ اب تک ہمیں یہ بھی سمجھ آچکا تھا کہ چائے سے پہلے ہمارے  ہاتھ کیوں دھلوائے گئے تھے۔ یہ چائے کوئی معمولی چائے نہیں تھی ’ہاتھ دھونے والی‘ چائے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162432dc375ea.jpg?r=162631'  alt='  گلگت شہر کا بازار  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت شہر کا بازار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیر قلعہ سے آگے ہماری منزلیں دریائے گلگت کے ساتھ وادی غذر میں سینگل، گاہکوچ اور گوپس کے قصبے تھے۔ آخری کیمپ وادئ طاؤس میں تھا۔ طاؤس جانے کے لیے ہمیں گوپس میں دریائے گلگت کو عبور کرکے پہاڑوں کے اندر سفر کرنا پڑا۔ یہ سفر ایک نسبتاً چھوٹے دریا، دریائے یاسین کے کنارے کنارے تھا جہاں سڑک کے دونوں اطراف بلند پہاڑ، سر سبز کھیت اور لہلہاتے درخت تھے۔ وادی کے بیچوں بیچ شفاف اور تیز رفتار دریائے یاسین ان مناظر کی جان تھا۔ وادی یاسین والی سڑک مزید آگے بڑھتے ہوئے درّہ درکوت کی طرف چلی جاتی ہے جس کے پار واخان اور تاجکستان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162536d399499.jpg?r=162631'  alt='  درّہ درکوت، واخان اور تاجکستان  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;درّہ درکوت، واخان اور تاجکستان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی یاسین تک جاری رہنے والے اس سفر میں زیادہ تر مقامات پر اسی ’ہاتھ دھونے والی چائے‘ سے ہماری میزبانی کی گئی۔ حتیٰ کہ یہ چائے ہمارے منہ کو ایسی لگی کہ جب بھی کہیں ہم سے چائے کا پوچھا جاتا تو ہم فوراً کہہ اٹھتے کہ ’بھیا یہ ہاتھ دھونے والی چائے ہے یا صرف چائے ہے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162622a8eb641.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کے کنارے یادگار تصویر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے گلگت کے کنارے یادگار تصویر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سن کر میزبان ہنستے اور جن کا ارادہ صرف چائے پیش کرنے کا ہوتا وہ کھسیانے ہوجاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی علاقوں کے اس سہانے سفر سے کراچی آکر خاصا عرصہ اس ہاتھ دھونے والی چائے کا چرچا رہا اور ہم کراچی کے ’صرف اور صرف چائے‘ پیش کرنے والے میزبانوں کو اس ہاتھ دھونے والی چائے کا ذکر کرکے غیرت دلانے کی کوشش کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال یہ واقعات تو بعد میں ہونے تھے۔ اس وقت تو ہم چاروں گلگت کے ایئرپورٹ روڈ پر مٹرگشت کرتے ہوئے جماعت خانہ بازار تک پہنچ چکے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a></strong> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>دریائے گلگت پر راجا بازار پل کے برابر سے درختوں میں گھری ہوئی ایک خاموش سڑک دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ آگے جا رہی تھی۔ ہم بھی خاموشی سے اس سڑک پر چل دیے اور چلتے چلتے دریا کنارے چنار باغ تک پہنچ گئے۔ دریائے گلگت کا پانی اپنے طویل پاٹ میں شور مچاتا بہے جارہا تھا۔ دریا کے پرلے کنارے پر ایک پہاڑ پھیلا ہوا تھا اور ہمارے کنارے پر چنار باغ پھیلا ہوا تھا۔ باغ کے دائیں حصے میں سرخ چھت والی ایک خوبصورت عمارت تھی جبکہ بائیں جانب کچھ بلندی پر ایک یادگار۔</p>
<p>ہم بائیں طرف بڑھے اور سیڑھیاں چڑھ کر یادگار تک پہنچ گئے۔ ایک ہشت پہلو چبوترے کے بیچ میں ایک ہشت پہلو ستون، جس کے اوپر والا سِرا ایک پگڑی کی طرح ہے اور اس پگڑی پر تانبے سے ڈھلا ہوا ایک مارخور کا مجسمہ جو اپنے چاروں پاؤں جمائے، سر اوپر کی طرف اٹھائے، ایک شانِ بے نیازی سے کھڑا تھا۔ یہ مجسمہ گلگت اسکاؤٹس کا نشان تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162257107509f.jpg?r=162631'  alt='   یہ مجسمہ گلگت اسکاؤٹس کا نشان ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ مجسمہ گلگت اسکاؤٹس کا نشان ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162250de2fc11.jpg?r=162631'  alt='  مارخور کا مجسمہ شہدا کی یادگار ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مارخور کا مجسمہ شہدا کی یادگار ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>تقسیمِ ہند سے قبل گلگت، ریاست جموں وکشمیر کے ڈوگرہ راج کے زیر انتظام تھا۔ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے اپنا علاقہ پاکستان میں شامل کرنے کے لیے جدوجہد تیز کردی۔ ڈوگرہ فوج اور گلگت اسکاؤٹس کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی۔ اسکاؤٹس نے اپنی جانوں کے نذرانے دےکر گلگت و بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا اور قائداعظم کو پیغام بھجوایا کہ آئیے ہم آپ کے منتظر ہیں۔ اس ستون پر مضبوطی سے جما ہوا یہ مارخور اُنہی شہدا کی یادگار ہے۔ ستون کے پہلوؤں پر معرکۂ آزادی کے شہدا کے نام کندہ ہیں۔ چنار اور سفیدے کے درختوں میں گھری اس یادگار کو اطراف کے پہاڑ بھی جھک کر سلام کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24163021a5b1f19.jpg?r=163854'  alt='  یہ گلگت بلتستان کی آزادی کا نشان ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ گلگت بلتستان کی آزادی کا نشان ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241621402902912.jpg?r=162631'  alt='  گلگت اسکاؤٹس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت اسکاؤٹس</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162149076a469.jpg?r=162631'  alt='  اسکاؤٹس نے اپنی جانوں کے نذرانے دےکر گلگت و بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکاؤٹس نے اپنی جانوں کے نذرانے دےکر گلگت و بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا</figcaption>
    </figure></p>
<p>باغ سے دریا کے پانی تک جانے کے لیے ایک پُل نما راستہ تھا جو دریا کے پاٹ میں کافی اندر تک چلا گیا تھا۔ ہم اس پل پر چلتے ہوئے دریا کے جوشیلے بہاؤ کے اوپر تک آگئے۔ یہاں سے دائیں سمت جس طرف دریا بہہ کر جارہا تھا وہاں دور دو معلق پل نظر آرہے تھے۔ ان میں سے ایک تو قدیم چوبی پل تھا اور دوسرا جدید آہنی پل۔ ایک آنے والی ٹریفک کے لیے جبکہ دوسرا جانے کے لیے استعمال ہورہا تھا۔ جب کوئی گاڑی  پُل پر چڑھتی ہے تو رسوں کے ذریعے معلق یہ بے ستون پل جھولنے لگتے تھے۔ اس مقام پر دریا بائیں طرف سے ایک موڑ لےکر گھومتا ہوا اچانک سامنے آجاتا ہے اور چنار باغ کے قدموں میں سے بہتا ہوا ان جڑواں پلوں کی طرف چلا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241624080dfa8bb.jpg?r=162631'  alt='  گلگت شہر کی سڑک کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت شہر کی سڑک کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں کھڑے ہوکر پیچھے کی طرف نظر دوڑائیں تو دور دور تک گلگت کے درو بام نظر آتے ہیں اور ان پر مسجدوں کے مینار سایہ فگن ہیں۔ میناروں کے پس منظر میں پہاڑ ہیں جن کی چوٹیوں پر برف چاندی کے تاروں کی مانند اٹکی ہوئی ہے۔</p>
<p>شام ہونے لگی تو ہم دوبارہ شہر کی جانب پلٹے۔ تھوڑی دیر میں اندھیرا چھا گیا جس کا مقابلہ ایئرپورٹ روڈ کی پیلی کمزور بتیاں بمشکل کرنے لگیں۔  ایئرپورٹ روڈ اور راجہ بازار کے سنگم پر ایک بوسیدہ سا ریسٹورنٹ تھا  لیکن اس میں خوب رونق تھی۔ ہم بھی اس میں گھس گئے اور باورچی خانے کے قریب ایک ٹیبل پر قبضہ جمایا۔ ہوٹل میں گاہکوں کی گفتگو، بیروں کی چیخ پکار اور برتنوں کی کھنکناہٹ کا شور برپا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ایک بیرا  ہماری ٹیبل پر بھی آگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241624544a943eb.jpg?r=162631'  alt='  گلگت کی ایئرپورٹ روڈ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت کی ایئرپورٹ روڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>’جی صاحب ؟‘ وہ ہم سے گویا ہوا۔</p>
<p>’کھانے میں کیا کیا ہے کپتان؟‘ باسط بولا۔ کپتان لفظ پر بیرے نے اسے چونک کر دیکھا تو ہم ہنسنے لگے۔ ’کپتان‘ باسط کا تکیہ کلام تھا۔</p>
<p>’صاحب سادہ گوشت، بھونا گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، پالک گوشت، دال گوشت، سبزی، دال ماش، دال چنا، لوبیہ، انڈہ ٹماٹر‘۔ وہ فراٹے دار بولتا چلا گیا۔</p>
<p>’دوبارہ بتانا بھائی‘ وسیم بولا۔ بیرے نے پھر وہی آموختہ دہرا دیا۔</p>
<p>’اچھا ایسا کرو کہ ایک بھنڈی گوشت، ایک آلو گوشت اور ایک دال گوشت لے آؤ‘۔ میں جلدی سے بولا۔</p>
<p>بیرا فوراً پلٹ کر ہمارے سامنے ہی اوپن ایئر باورچی خانے میں گھس گیا۔ اس نے تین خالی پلیٹیں اٹھائیں۔ ایک پلیٹ میں ایک دیگچے سے دال، دوسری پلیٹ میں دوسرے دیگچے سے آلو اور تیسری پلیٹ میں تیسرے دیگچے سے بھنڈی کا سالن ڈالا اور پھر چوتھے دیگچے کی طرف بڑھا جس میں گوشت کا سالن تھا۔ اس میں سے دو دو بوٹیاں نکال کر ہر پلیٹ میں ڈالیں اور سیدھا ہماری طرف واپس آکر تینوں پلیٹیں ہماری ٹیبل پر پٹخ دیں۔</p>
<p>’لو صاحب، بھنڈی گوشت، آلو گوشت اور دال گوشت۔۔۔ روٹیاں ابھی لایا‘۔ یہ کہہ کر وہ تندور کی طرف دوڑ گیا۔</p>
<p>ہم چاروں نے ایک دوسرے کی طرف کچھ مایوسی سے دیکھا اور پھر یہ اداسی محسوس کی کہ ہم  اپنے شہر اور اپنے گھر سے بہت دور ہیں۔</p>
<p>کھانا کھا کر نکلے اور نیم اندھیری ایئرپورٹ روڈ پر ٹامک ٹوئیاں کرتے اپنے ہوٹل پہنچ کر سوگئے۔</p>
<p>گلگت میں وہ رات بہت ڈراؤنی تھی۔ میں نیم غنودگی میں بستر پر کروٹیں بدل رہا تھا۔ رات کے 3 بج رہے ہوں گے کہ اچانک یہاں تک آنے والا دریا کی لہروں کا مدھم شور تیز ہوتا چلا گیا اور کچھ ہی دیر میں اتنا شدید ہوگیا کہ سارا ماحول اس کی لپیٹ میں آگیا۔ میں خوفزدہ ہوکر اُٹھ بیٹھا۔ یوں لگتا تھا جیسے باہر کی ساری چیزیں اُڑ اُڑ کر کمرے کی کھڑکیوں سے ٹکرا رہی ہیں۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یہ شور دریا کی لہروں کا نہیں بلکہ ہوا کے طوفان کا ہے جو دریا کے شور پر حاوی ہوچکا ہے۔ ایک وحشی ہوا تھی کہ جس نے ہر طرف اودھم مچا رکھا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162659af03ac6.jpg?r=16271%DA%AF'  alt='  لکھاری گلگت ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری گلگت ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ</figcaption>
    </figure></p>
<p>درختوں کے پتوں میں سیٹیاں بج رہی تھیں اور لگتا تھا کہ پہاڑوں سے اترنے والی یہ سر پھری ہوا ہمیں در و دیوار سمیت کہیں دور اُڑا لے جائے گی۔ اچانک بجلی کڑکی اور کھڑکیوں کے شیشے آنکھوں کو خیرہ کردینے والی سفید روشنی سے یک بارگی چمک اٹھے۔ بادل گرج رہے تھے اور بجلی چمک رہی تھی۔ چند لمحوں میں ٹپا ٹپ بوندیں گرنا شروع ہوگئیں اور آندھی کا شور مدھم پڑ کر بارش کی بوچھاڑ میں بدل گیا۔ میں جو چند لمحے پہلے اپنے اُڑ جانے کے اندیشے میں مبتلا ہوگیا تھا، اب بھیگ جانے کے خیال سے ہراساں ہوکر دوبارہ غنودگی میں چلا گیا۔</p>
<p>اگلی صبح البتہ بڑی روشن تھی۔ سورج کی شفاف شعاعوں میں سارا ماحول نکھر رہا تھا۔ رات کی بارش نے ہر چیز کو دھو دھو کر چمکادیا تھا۔ سبزہ و گل ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہوگئے تھے۔ چاروں طرف کے پہاڑ ہلکی دھند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ نیلے آسمان پر بادلوں کے روئی جیسے گالے آوارہ بھیڑوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے تھے۔ ہوٹل کے خوبصورت لان میں گھاس اور پتوں پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح مسکرا رہے تھے۔</p>
<p>ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں انڈا آملیٹ، جام اور خمیری پراٹھوں کا ناشتہ کرکے ہم باہر نکل آئے۔</p>
<p>چنار باغ کے سامنے سے بائیں طرف مڑ کر ہم ان کھیتوں میں آگئے جن کے سبز پھیلاؤ میں جا بہ جا چھوٹے چھوٹے مکانات گڑیا کے گھروندوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ یہ مکانات تھے تو بڑے بڑے ہی مگر چھوٹے اس لیے لگتے تھے کیونکہ ان کے اطراف والے پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند تھے۔ پہاڑوں کی بلندی کے سامنے مکانوں اور انسانوں کی حیثیت کم ہورہی تھی۔ کھیتوں اور درختوں سے پرے دریائے گلگت کی لہریں جھلک دکھا رہی تھیں۔ ہم کافی دیر تک چلتے رہے اور پھر بائیں طرف ایک پتلی سی سٹرک پر سے ہوتے ہوئے ایئرپورٹ روڈ پر نکل آئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162544e19dd1a.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کا پانی شور مچاتے ہوئے بہتا ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے گلگت کا پانی شور مچاتے ہوئے بہتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241625561e16e06.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کے گرد پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے گلگت کے گرد پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایئرپورٹ روڈ گلگت کی مرکزی سڑک ہے بالکل ویسے ہی جیسے کراچی میں شارعِ فیصل ہے۔ گلگت ایئرپورٹ روڈ کے دونوں طرف پھیلا ہوا ہے۔ ہوٹل، بیکریاں، چینی سازو سامان، کپڑے اور ڈرائی فروٹ کی دکانیں سڑک کی رونقیں بڑھاتی ہیں۔ گلگت ایک قدیم شہر ہے جہاں اکثر مکانات پتھروں سے بنے ہوئے ہیں۔ البتہ جدید دور کی خوشحالی کے سبب ان کچے پکے مکانات میں سے جدید عمارتیں بھی سراٹھا رہی ہیں۔ راولپنڈی سے اگر گلگت شہر میں داخل ہوں تو سب سے پہلے ’جوٹیال‘ کا محلہ آتا ہے۔ جوٹیال کے ساتھ ہی ’خومر‘ محلہ ہے۔ خومر سے آگے آئیں تو سیدھے ہاتھ پر گلگت ایئرپورٹ کا مختصر رن وے دکھائی دیتا ہے اور یہاں سے ایئر پورٹ روڈ شروع ہوجاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162415b4d63d0.jpg?r=162631'  alt='  گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162357997dc24.jpg?r=162631'  alt='  پہاڑوں سے گھرے گلگت شہر کا سحرانگیز نظارہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پہاڑوں سے گھرے گلگت شہر کا سحرانگیز نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>شہر کے زیادہ تر محلے ایئرپورٹ روڈ کے اطراف میں ہی واقع ہیں۔ سونی کوٹ، کشروٹ اور مجینی کے بڑے محلے اسی سڑک پر ہیں۔ ایئرپورٹ روڈ کے متوازی دریائے گلگت بہہ رہا ہے۔ دریائے گلگت اورایئرپورٹ روڈ کے درمیان زرعی زمینیں اور آبادیاں ہیں۔ راجہ بازار اور جماعت خانہ بازار سے آگے گلگت کی مضافاتی آبادیاں آمپھری، نپورہ، بیسن اور جاگیر واقع  ہیں جبکہ دریا کے پار کونوداس کالونی اور سکارکوئی محلے آباد ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162504328d56f.jpg?r=162631'  alt='  گلگت کا جماعت خانہ بازار  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت کا جماعت خانہ بازار</figcaption>
    </figure></p>
<p>گلگت کا قدیم راجہ بازار، جماعت خانہ بازار اور صدر بازار ایئرپورٹ روڈ کے اختتام پر شروع ہوتے ہیں۔ آمپھری محلہ ان بازاروں سے آگے ہے جہاں شہر ختم ہونے لگتا ہے۔ وہاں پہاڑوں پر سے نیلے شفاف پانی کا ایک جھرنا شور مچاتا نیچے بہتا آرہا ہے۔ یہ کارگاہ نالا ہے۔ اس جگہ کی شہرت کی ایک وجہ یہاں پہاڑ پر کندہ ساتویں صدی عیسوی کی مہاتما بدھ کی شبیہہ ہے جو ’کارگاہ بدھا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ کارگاہ سے مزید آگے بڑھیں تو سڑک دریائے گلگت کے کنارے کنارے چلتی ہوئی وادی غذر کی طرف بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/241622316df088c.jpg?r=162631'  alt='    ساتویں صدی عیسوی کی مہاتما بدھ کی شبیہہ &rsquo;کارگاہ بدھا&lsquo; کے نام سے مشہور ہے    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ساتویں صدی عیسوی کی مہاتما بدھ کی شبیہہ ’کارگاہ بدھا‘ کے نام سے مشہور ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/2416223711ab57a.jpg?r=162631'  alt='  مہاتما بدھ کی شبیہہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مہاتما بدھ کی شبیہہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>گلگت اور چترال کے درمیان 12 ہزار فٹ بلند مشہور درّہ شندور تک بھی یہی راستہ جاتا ہے۔ دریائے گلگت بھی شندور جھیل سے نکلتا ہے اور وادی غذر میں سے بہتا ہوا گلگت شہر تک آتا ہے۔ وادی غذر شمال میں تاجکستان سے ملتی ہے۔ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صرف افغانستان کے علاقے واخان کی تنگ پٹی حائل ہے جس کی اوسط چوڑائی تقریباً 15 کلومیٹر ہے۔ یعنی یہاں پاکستان اور تاجکستان کا درمیانی فاصلہ صرف 15 کلومیٹر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162208ea78118.jpg?r=162631'  alt='  وادی غذر شمال میں تاجکستان سے ملتی ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی غذر شمال میں تاجکستان سے ملتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>مجھے بہت بعد میں 1999ء میں وادی غذر جانے کا موقع ملا۔ ہم نے یہاں ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ شیر قلعہ، گاہکوچ، گوپس کے قصبوں اور وادی اشکومن، وادی یاسین اور وادی طاؤس میں فری میڈیکل کیمپ منعقد کیے تھے۔ بلند و بالا پہاڑوں، دریاؤں، ندی نالوں، ٹھنڈے میٹھے چشموں اور انواع و اقسام کے پھلوں سے لدی ہوئی یہ سرسبز وادیاں دنیا میں ہی جنت کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اس لیے وادی غذر کا وہ سفر بڑا یادگار رہا۔ وہ 1999ء کا جون تھا جب میں کراچی کی ایک این جی او کارساز ٹرسٹ کے ساتھ اس کے فلاحی کاموں کی دستاویزی فلم بنانے کے سلسلے میں یہاں آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162213441e590.jpg?r=162631'  alt='  وادی غذر دنیا میں جنت کا منظر پیش کرتی ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی غذر دنیا میں جنت کا منظر پیش کرتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/2416221949e1d62.jpg?r=162631'  alt='  دریائے غذر کا پُر کشش منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے غذر کا پُر کشش منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم اسلام آباد سے براستہ شاہراہ قراقرم 18 گھنٹے کا طویل سفر طے کرکے گلگت آئے تھے۔ اس بار فلاحی کام کے لیے دریائے گلگت کے کنارے کنارے گلگت سے وادی یاسین تک کا علاقہ منتخب کیا گیا تھا۔ چنانچہ ہم وادی غذر کے چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہات میں کیمپ لگاتے ہوئے آہستہ آہستہ وادی یاسین کی طرف بڑھ رہے تھے۔</p>
<p>میرے ہم سفر کارساز ٹرسٹ کے سربراہ اخلاق احمد (مرحوم) کے علاوہ اس وقت ماہنامہ رابطہ کے ایڈیٹر عبدالسلام سلامی بھی تھے۔ چند رضاکاروں سمیت یہ قافلہ دو جیپوں پر مشتمل تھا۔ ہمارا پروگرام غذر روڈ پر مختلف قصبوں اور دیہات میں کیمپنگ کرتے ہوئے واد یاسین تک جانے کا تھا۔ آخری کیمپ دریائے یاسین کے کنارے طاؤس نامی گاؤں میں ہونا تھا۔ ان کیمپوں میں ضرورت مندوں میں دواؤں، کپڑوں، سلائی مشین وغیرہ کی تقسیم ہونا تھی اور آئی کیمپ کا انعقاد تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162158b36355d.jpg?r=162631'  alt='  دریائے یاسین کا خوبصورت منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے یاسین کا خوبصورت منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>گلگت سے دریا کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اس راستے پر چلیں تو کچھ ہی دیر میں شہر پیچھے رہ جاتا ہے۔ گلگت سے نصف گھنٹہ سفر کرکے ہم ایک پل کے قریب پہنچے جہاں دریا کے پار والے پہاڑوں کے دامن میں ایک سرسبز اور خوبصورت قصبہ نظر آرہا تھا۔ یہ ’شیر قلعہ‘ تھا جہاں  ہمارا پہلا پڑاؤ تھا۔ جیپوں نے پل پر سے دریا کو عبور کیا اور دوسرے کنارے پر پہنچ کر قصبے میں داخل ہوگئیں۔ یہاں لوگوں کو ہمارے آنے کی اطلاع پیشگی دی جاچکی تھی اس لیے وہ ہمارے منتظر تھے۔ میزبان ہمیں اپنے گھر کے ایک صاف ستھرے اور خنک کمرے میں لے گئے جہاں فرش پر اونی نمدے بچھے ہوئے تھے اور دیواریں روایتی دستکاریوں سے سجی ہوئی تھیں۔ میزبان و مہمان کچھ دیر تک ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتے رہے۔ پھر میزبان اٹھ کر چلے گئے اور ایک لوٹا پانی اور چلمچی لےکر واپس آگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/2416244098d05d9.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کے پل پر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے گلگت کے پل پر</figcaption>
    </figure></p>
<p>’آئیں جی ہاتھ دھولیں‘۔ انہوں نے چلمچی میرے سامنے رکھ دی۔</p>
<p>’لیکن ابھی کھانے کا وقت تونہیں ہوا‘۔ میں نے حیرت سے کہا کیونکہ اس وقت صبح کے 10، 11 بج رہے تھے۔</p>
<p>’نہیں جی ابھی تو چائے پئیں گے‘۔ میزبان نے جواب دیا۔</p>
<p>تو یہاں چائے پینے کے لیے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں؟</p>
<p>میں نے دل ہی دل میں سوچا اور کنکھیوں سے سلامی صاحب کی طرف دیکھا۔ وہ بھی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔</p>
<p>باری باری سب نے ہاتھ دھوئے اور گیلے ہاتھ دھونے کے لیے تولیہ پیش کیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد میزبان ایک بڑا سا دسترخوان لے آیا اور ہمارے سامنے بچھا دیا۔ ہم پھر اچنبھے میں پڑ گئے۔ چائے کے لیے اتنے بڑے دسترخوان کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔ میزبان پھر اندر گیا اور واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چنگیر تھی جس میں رکھی گندم کی مکھن لگی گرم تندوری روٹیاں اشتہا انگیز خوشبو بکھیر رہی تھیں۔ روٹیوں کے ساتھ پیالیوں میں شہد اور مکھن بھی تھا۔ اس نے یہ لوازمات ہمارے سامنے رکھ دیے۔</p>
<p>’یہ چائے تو نہیں‘۔ میں مسکراکر بولا۔</p>
<p>’چائے بس ابھی آرہی ہے جی‘۔ میزبان فوراً بولا اور دوبارہ اندر چلا گیا۔</p>
<p>ابھی ہم نے روٹی کے چند نوالے ہی لیے ہوں گے کہ وہ دو پلیٹوں میں خشک خوبانیاں اور شہتوت لے آیا۔ ہم نے ان کے ساتھ بھی انصاف کیا۔ اب ہم چائے کے منتظر تھے لیکن کچھ اور ابھی باقی تھا۔ میزبان اب آیا توگھر کے بنے ہوئے بسکٹ اور مکئی کے آٹے کی سوندھی سوندھی خوشبو والی روٹیاں بھی ساتھ لایا۔ یہ تازہ، خستہ، مزیدار چیزیں کھا کھا کر جب ہم مکمل سیر ہوگئے تو کہیں جاکر چائے کا تھرماس اور کپ آئے۔ پہلے نوش جاں کی گئی اشیا کے بعد اب چائے تو ایک تہمت ہی لگ رہی تھی۔ اب تک ہمیں یہ بھی سمجھ آچکا تھا کہ چائے سے پہلے ہمارے  ہاتھ کیوں دھلوائے گئے تھے۔ یہ چائے کوئی معمولی چائے نہیں تھی ’ہاتھ دھونے والی‘ چائے تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162432dc375ea.jpg?r=162631'  alt='  گلگت شہر کا بازار  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت شہر کا بازار</figcaption>
    </figure></p>
<p>شیر قلعہ سے آگے ہماری منزلیں دریائے گلگت کے ساتھ وادی غذر میں سینگل، گاہکوچ اور گوپس کے قصبے تھے۔ آخری کیمپ وادئ طاؤس میں تھا۔ طاؤس جانے کے لیے ہمیں گوپس میں دریائے گلگت کو عبور کرکے پہاڑوں کے اندر سفر کرنا پڑا۔ یہ سفر ایک نسبتاً چھوٹے دریا، دریائے یاسین کے کنارے کنارے تھا جہاں سڑک کے دونوں اطراف بلند پہاڑ، سر سبز کھیت اور لہلہاتے درخت تھے۔ وادی کے بیچوں بیچ شفاف اور تیز رفتار دریائے یاسین ان مناظر کی جان تھا۔ وادی یاسین والی سڑک مزید آگے بڑھتے ہوئے درّہ درکوت کی طرف چلی جاتی ہے جس کے پار واخان اور تاجکستان ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162536d399499.jpg?r=162631'  alt='  درّہ درکوت، واخان اور تاجکستان  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>درّہ درکوت، واخان اور تاجکستان</figcaption>
    </figure></p>
<p>وادی یاسین تک جاری رہنے والے اس سفر میں زیادہ تر مقامات پر اسی ’ہاتھ دھونے والی چائے‘ سے ہماری میزبانی کی گئی۔ حتیٰ کہ یہ چائے ہمارے منہ کو ایسی لگی کہ جب بھی کہیں ہم سے چائے کا پوچھا جاتا تو ہم فوراً کہہ اٹھتے کہ ’بھیا یہ ہاتھ دھونے والی چائے ہے یا صرف چائے ہے؟‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/24162622a8eb641.jpg?r=162631'  alt='  دریائے گلگت کے کنارے یادگار تصویر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے گلگت کے کنارے یادگار تصویر</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ سن کر میزبان ہنستے اور جن کا ارادہ صرف چائے پیش کرنے کا ہوتا وہ کھسیانے ہوجاتے۔</p>
<p>شمالی علاقوں کے اس سہانے سفر سے کراچی آکر خاصا عرصہ اس ہاتھ دھونے والی چائے کا چرچا رہا اور ہم کراچی کے ’صرف اور صرف چائے‘ پیش کرنے والے میزبانوں کو اس ہاتھ دھونے والی چائے کا ذکر کرکے غیرت دلانے کی کوشش کرتے رہے۔</p>
<p>بہرحال یہ واقعات تو بعد میں ہونے تھے۔ اس وقت تو ہم چاروں گلگت کے ایئرپورٹ روڈ پر مٹرگشت کرتے ہوئے جماعت خانہ بازار تک پہنچ چکے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204152</guid>
      <pubDate>Fri, 26 May 2023 14:59:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/24162357997dc24.jpg?r=195512" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/24162357997dc24.jpg?r=195512"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/251955169b4855b.jpg?r=195528" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/251955169b4855b.jpg?r=195528"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جھبو لگون: کہ حیات کے دن کا سورج ڈوب چکا!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202256/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر کڑی سے کڑی ملائیں تو زندگی کا تانا بانا لاکھوں بلکہ کروڑوں برسوں کی زمین پر کسی گورکھ دھندے کی طرح بچھا ہوا ہے۔ مگر سمندر کو کوزے میں اگر بند کرنے پر آئیں تو انسان کے ذہن نے ترقی بھی کی ہے اور دو الفاظ میں ساری کہانی بیان بھی کی جاسکتی ہے۔ ہم دُور کی پگڈنڈیاں بھی نہیں پکڑتے۔ ہم فقط ہاں اور نا، اچھا اور بُرا، مثبت اور منفی، دن اور رات، میٹھا اور کڑوا کے الفاظ تک ہی محدود کردیتے ہیں تاکہ ہمیں اس فلسفوں سے بھری حیات کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دسمبر 1992ء کے ابتدائی دنوں کا ذکر ہے۔ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اُس زمانے کی مشہور جھیل جھبو دیکھنے کے لیے نکل پڑا تھا۔ ہم تقریباً 2 بجے گولاڑچی شہر پہنچے، وہاں سے ہمیں پہلے اسمٰعیل تھہیمور کے گاؤں پہنچنا تھا جبکہ وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں کچے راستے کی وجہ سے چھکڑے پر سفر کرنا تھا۔ ہم تینوں دوست چھکڑے کی چھت پر بیٹھ گئے۔ جہاں تک پکا راستہ تھا وہ اتنا اُدھڑا ہوا تھا کہ اس کا نہ ہونا ہی اچھا ہوتا۔ اس کے بعد جب ہمارا سفر احمد راجو سے پہلے گرھڑی پوسٹ سے مغرب کی طرف شروع ہوا تو راستہ کچا تھا، جاڑے کے دنوں میں کچے راستے کی مٹی خشک ہوتی ہے تو اُڑتی بہت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال ہم نے مغرب کی طرف اندازاً 6، 7 کلومیٹر سفر کیا جس کے بعد ایک راستہ جنوب کی جانب مڑا اور سیم و تھور کی وجہ سے زمین کا رنگ سفید سے سیاہ ہوا تو راستہ ایک سیاہ سڑک کی طرح ہوگیا جیسے کہ مٹی میں نمک اور نمی کی وجہ سے مٹی چپک جاتی ہے اور اُڑتی نہیں ہے۔ سورج ڈوبنے والا تھا تو چھکڑے نے اپنی آخری منزل کا اعلان کیا اور ہم 2 کلومیٹر پیدل چل کر جب اسمٰعیل تھہیمور کے گاؤں کی اوطاق تک پہنچے تو مغرب کی طرف ڈوبے ہوئے سورج کی ہلکی سی سُرخی رہ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06121932afcfae4.jpg?r=122025'  alt='    سال 2001ء میں جھبو لگون    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سال 2001ء میں جھبو لگون&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھنڈ تھی مگر تھکان نہیں تھی۔ گھاس پھوس کی اوطاق کے بیچ میں کیکر کی لکڑیوں کا الاؤ جل رہا تھا اور ہم فرشی نشست پر بیٹھے گپے لگارہے تھے۔ رات کے کھانے میں مجھے یاد ہے کہ مرچیں کچھ زیادہ تھیں۔ مگر چونکہ چاول کی روٹی میں دیسی گھی ایسا رچا ہوا تھا اس لیے اُس کی مہک اور لذت کی وجہ سے آپ بغیر سالن کے بھی روٹی کھا سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کے کھانے کے بعد اسماعیل تھہیمور (اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، خدا کی اُس پر رحمتیں ہوں)  آئے۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے حافظ تھے۔ جب وہ لطیف سائیں کا کوئی شعر پڑھتے تو ایسا لگتا جیسے ایک ایک لفظ اُن کی زبان سے کھنکتا ہوا نکل رہا ہو۔ شاہ عبداللطیف کی شاعری پڑھنے میں بہت زیادہ مشکل ہے کیونکہ زیر، زبر، پیش کے اوپر نیچے ہونے سے شعر کے معنیٰ تبدیل ہوجاتے ہیں مگر اسمٰعیل کو اس پر کمال حاصل تھا۔ اور پھر جب وہ ’سُر سسئی‘ کے شعر سنانے لگا جس میں سسئی کے اُس سفر کا ذکر لطیف سائیں نے کیا ہے جو اُس نے اکیلے پنوں کے لیے کیچ مکران کی طرف کیا تھا۔ اسمٰعیل شعر پڑھتے اور آنسو اُن کی آنکھوں سے کسی جھرنے کی طرح بہتے۔ پھر جب محفل اپنے جوبن کو پہنچی تب اسمٰعیل نے لطیف سائیں کا یہ شعر پڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئون نہ گڏي پرينءَ کي تون ٿو لھين سج&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئون جي ڏيانءِ سَنيھا نيئي پِريان کي ڏِجُ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وڃي ڪيچ چئج تہ ويچاري واٽ مُئي. (لطيف سائين)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(سسئی سفر میں ہے اور سورج ڈوبنے والا ہے، سسئی سورج سے مخاطب ہوتی ہے اور ایک تو اُس سے شکایت کرتی ہے کہ اے سورج، میں اپنے محبوب سے ابھی نہیں ملی اور تم مجھے اکیلا چھوڑ کر ڈوب رہے ہو۔ یہ سسئی کے سفر کا وہ اختتام ہے جو محبوبوں سے ملنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اور اُسے یہ بھی پتا ہے کہ سورج تو ڈوبے گا۔ تب وہ سورج کو کہتی ہے کہ تم تو ڈوب رہے ہو میرا یہ کام تو کرو کہ میں جو یہ پیغام دے رہی ہوں وہ میرے محبوب تک پہنچا دینا۔ میں اپنے راستے پر ثابت قدم رہی، جتنا مجھ سے ہوسکتا تھا وہ میں نے تم تک پہنچنے کے لیے کیا۔ بس پنوں کو یہ کہنا کہ میں تمہاری یاد میں تمہاری طرف آنے والے راستے میں بے بس اور لاچار ہوکر مری)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ساتھ ہی اسمٰعیل کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ لطیف سائیں کو جس نے بھی روح سے پڑھا ہے میں نے اُن لوگوں کی آنکھیں بھیگی ہی دیکھی ہیں۔ اسمٰعیل ہچکیاں لیتا ہوا گاؤں کی طرف چلا گیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ مگر کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ درد ہمیشہ آپ کو آنسو اور خاموشی دیتا ہے۔ باہر ٹھنڈ تھی، ہم نے الاؤ میں کیکر کی لکڑی ڈالی، لکڑی سوکھی تھی تو آگ کی لپٹوں نے اُسے جلد ہی لپیٹ میں لے لیا کیونکہ جہاں پانی نہیں ہوتا وہاں فقط بربادی کی آگ جلتی ہے جس کو بھسم کرنے سوا کچھ نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے دن صبح کو ہم جلدی اُٹھے۔ چائے پی ناشتہ کیا، اسمٰعیل تھہیمور سے اجازت لی اور اُس کے گاؤں کے دو آدمیوں کو ساتھ لے کر ہم اُس جھیل کے لیے نکل گئے جسے دیکھنے کے لیے ہم یہاں آئے تھے۔ یہ جھیل اس گاؤں سے 3 کلومیٹر مغرب میں تھی۔ ہم گپے لگاتے پیدل چلتے گئے۔ ہمارے ساتھ جو لوگ گاؤں سے آئے تھے اُن کے پاس بندوقیں تھیں اور ہم مہمان تھے تو پرندوں کا شکار تو لازمی ہونا تھا۔ ہم گھومتے گھامتے شام کے 4 بجے جھیل کے شمال میں بنی گھاس پھوس کی جونپڑی میں پہنچے جہاں 2، 3 چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ایک کونے میں لکڑی کا صندوق تھا جس میں کھانا پکانے کا سارا راشن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو جنگل میں منگل تھا۔ یہ جھونپڑی جھبو جھیل سے مچھلی پکڑنے اور بیچنے والے ٹھیکے دار کی تھی، ہمارے واسطے 3 دنوں کے لیے ان گاؤں والوں نے جھونپڑی ٹھیکے دار سے لے لی تھی۔ ٹھیکے دار نے مہمانوں کا سنا تو گھی، چاول، آٹے سے لے کر چائے اور چینی تک کے سامان سے صندوق کو بھردیا تھا۔ نزدیک میں یعنی جھونپڑی کے شمال مغرب میں بلاول نہر جو جھبو کو میٹھا پانی فراہم کرتی تھی اُس پر بنے پُل پر ایک چھوٹا سا چائے کا ہوٹل تھا، جو نزدیکی گاؤں والوں کے لیے کچہری کا زبردست ٹھکانہ بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06122010ab63268.jpg?r=122025'  alt='    جھبو لگون، جو کبھی ہجرت کرنے والے پرندوں کا عارضی مسکن ہوا کرتا تھا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھبو لگون، جو کبھی ہجرت کرنے والے پرندوں کا عارضی مسکن ہوا کرتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی سندھ کے اس دریائی کنارے کی اپنی ایک الگ دنیا ہے۔ چونکہ یہاں دریا کا مرکزی بہاؤ بہت سارے چھوٹے بڑے بہاؤں کی صورت اختیار کرلیتا تھا یہی وجہ تھی کہ یہاں ندیوں کا ایک جال سا بچھ جاتا تھا۔ سندھو دریا کے وہ بھی دن تھے جب طغیانی کے موسم میں 150 ملین ایکڑ فٹ تک پانی آتا تھا۔ تو اتنے بے تحاشا پانی کو سمندر میں جانے کے لیے بہت سارے راستے بنانے پڑتے تھے۔ ہم اور زیادہ قدیم نہیں فقط 400 برس پہلے کی بات کررہے ہیں جب ٹھٹہ دریائے سندھ کا ایکٹو ڈیلٹا ہوا کرتا تھا۔ تب دریا 17 بہاؤں کی صورت میں سمندر میں جا گرتا تھا اور نئی زمین بناتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا کے یہ راستے مستقل نہیں ہوتے تھے بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ تو دریا جو راستے چھوڑ دیتا تھا وہاں اکثر چھوٹی بڑی جھیلیں وجود میں آجاتیں۔ کبھی آسمان مہربان ہوتا کبھی کبھار دریا کا پانی آنکلتا۔ تو پانی کے ان راستوں میں مسلسل رہنے سے فطرت نے اُن کو اپنی عنایتوں سے گھاس پھوس، مچھلیوں، دوسری آبی حیات اور اس کے کنارے رہنے والے پرندوں اور جانوروں کا مسکن بنادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلٹا کے اس قدرتی نظام کی قدامت اور زرخیزی کے لیے ہم ’انڈس فلائے وے زون‘ (انڈس فلائی وے زون دنیا بھر کے ان 7 راستوں میں سے ایک ہے جو پرندے شدید موسمی حالات سے بچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں خوراک کی تلاش  اور افزائشِ نسل کرتے ہیں۔ ہجرت کرنے والے پرندے روس اور چین میں سخت سردی سے بچنے کے لیے شمال سے پاکستان میں داخل ہونے کے لیے 4 ہزار 500 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرتے ہیں اور جنوب کی طرف طاقتور دریائے سندھ کا پیچھا کرتے ہوئے زمین پر 300 سے زیادہ آبی ذخائر اور دوسرے پانی والے علاقوں میں رک جاتے ہیں) کو شاہد بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر فطرت کے تحفظ کے لیے یہاں حالات بہتر نہیں رہے ہیں۔ اگر بہتر رہتے تو آج سمندر، دریائے سندھ کے راستوں میں کبھی اپنا راستہ نہیں بناتا۔ جن کو آج کل ہم کریکس یا کھاڑیاں کہتے ہیں جن میں سمندر کا پانی بہتا ہے یہی دریائے سندھ کے سمندر میں جانے کے بہاؤ تھے۔ یہ اُن ڈیموں اور بیراجوں کی مہربانی ہے کہ انڈس ڈیلٹا کی اراضی جو ایک لاکھ ہیکٹر سے زیادہ پر پھیلی ہوئی تھی، اب سکڑ کر 6 ہزار ہیکٹر رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/061219392714ba6.jpg?r=122025'  alt='    جھبو جھیل جس کی گہرائی 10 سے 12 فٹ ہوا کرتی تھی    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھبو جھیل جس کی گہرائی 10 سے 12 فٹ ہوا کرتی تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھبو فقط ایک عام سی جھیل نہیں تھی، میں جب 1992ء میں یہاں گیا تھا تب یہ میٹھے پانی کی شاندار جھیل تھی۔ میرے پاس جھبو کے نیلگوں پانی اور اُس پر تیرتی کشتی جس پر میں بیٹھا ہوں کی یہ اکیلی تصویر ہے جو زمانے کی دھوپ چھاؤں سے بچ گئی ہے۔ میری جہاں تک نظر جاتی پانی ہی پانی تھا اور جھیل کے مرکز میں پانی کی گہرائی شاید 10، 12 فٹ تو یقیناً ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06121955c4ba94d.jpg?r=133647'  alt='    جھبو لگون میں میٹھے پانی کی ایک شاندار جھیل ہوا کرتی تھی لیکن اب یہاں کی زمین خشک ہے    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھبو لگون میں میٹھے پانی کی ایک شاندار جھیل ہوا کرتی تھی لیکن اب یہاں کی زمین خشک ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر جیسے کنارے نزدیک آتے جاتے پانی کم ہوتا جاتا اور پھر وہاں کناروں پر سرکنڈوں اور پھوس  (Reeds) کی ہریالی کی ایک دنیا اُگی ہوتی، جن میں کئی پرندوں کے گھونسلے بنے ہوئے تھے۔ یہاں پرندے اور مچھلی اتنی بے تحاشا کہ میں بھی یقیناً حیران تھا کہ اتنی وافر تعداد و مقدار میں پرندے اور مچھلیاں بھی ہوسکتی ہیں کیا؟ مگر جھبو جو قدرتی حیات اور خوبصورتی سے بھری جھیل تھی وہاں یہ سب بے حساب تھا۔ میں نے وہاں بگلوں، آڑیوں (Coots) مرغابیوں کے کئی جُھنڈ دیکھے اور بھی کئی مقامی پرندے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے وہاں کچھ آسمان پر اُڑتے Marsh  harrier اور  Hen harrier بھی دیکھے تھے۔ میں جب اس جھیل کے کنارے 3 دن اور راتیں گزار کر واپس گھر لوٹا تھا تو کئی دنوں تک کانوں میں پرندوں کی آوازیں، شمال کی تیز ٹھنڈی ہوا سے سرکنڈے کے جھولنے کی ایک عجیب سرسراہٹ اور مچھلی پکڑنے کے لیے پانی میں جال پھینکنے کی مخصوص آوازیں میرے ساتھ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نہر جو 1988ء میں اس جھیل کو پانی دینے کے لیے کھودی گئی تھی، جب میں وہاں گیا تھا تب اس نہر کا پانی جھیل میں بہتا تھا اور خوب بہتا تھا۔ مگر 1995ء تک اُس نہر میں ریت جمع ہوگئی۔ ایریگیشن والوں نے بل ضرور بنائے مگر ریت نہیں نکالی اس لیے اس نہر میں پانی آنا کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1997ء تک تو وہ بالکل ہی ناکارہ ہوگئی اور جھبو میں میٹھا پانی کم آنے کی وجہ سے جنوب میں سمندر کی موجودگی اور کوٹڑی ڈاؤن اسٹریم سے پانی نہ جانے کے باعث سمندر کا پانی شمال کی طرف آگے بڑھنے لگا۔ زرخیز زمینوں کو روندتا ہوا وہ جنوبی سندھ کی ان جھیلوں تک آپہنچا۔ یہ جھیلیں نہ صرف قدرتی طور پر مقامی لوگوں کی خوراک اور روزگار کا ذریعہ تھیں بلکہ سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی زمین کے نیچے میٹھے پانی کی ایک دیوار بنا کر یہ سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کا کام بھی کرتیں۔ مگر میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے یہ جھیلیں لگون میں تبدیل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتفاق یہ ہوا کہ جنوبی سندھ کے ساحلی کنارے پر موجود جھیلیں جیسے پٹیجی، واریارو، نریڑی اور جھبو اسی صورتحال سے گزر رہی تھیں۔ اُن دنوں آئی یو سی این نے انڈس ڈیلٹا کا ایک ماحولیاتی سروے کیا جس میں جھبو کی سروے رپورٹ کچھ اس طرح بنی کہ ’جھبو 706 ہیکٹر پر پھیلا ایک شاندار لگون ہے جہاں مقامی لوگ ماہی گیری کرتے ہیں اور لگون میں موجود گھاس یہاں کے مویشیوں کے لیے اچھا چارہ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سردیوں کے موسم میں انڈس فلائی وے زون کے راستے ہزاروں کی تعداد میں پرندے یہاں آتے ہیں اور ساتھ ہی یہ مقامی پرندوں کی رہائش اور تحفظ کے لیے ایک اچھی جگہ ہے۔ جھبو یہاں کی دوسری جھیلوں جیسے چولری، پٹیجی، نریڑی اور واریارو کے سلسلے سے جڑی ہوئی لگون ہے۔‘ اس سروے کے بعد اس کو اہم لگون جانا گیا اور رامسر (RAMSAR) سائیٹ قرار دینے کے لیے اس کا ڈیٹا اس ادارے کو بھیجا گیا۔ اور مئی 2001ء کو اس لگون کو 1067 ریفرنس نمبر دے کر ’رامسر سائیٹ‘ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0612200200d5a59.jpg?r=122025'  alt='    جھبو لگون مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ تھا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھبو لگون مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر جب اس کو رامسر سائیٹ قرار دیا گیا تب تک بہت کچھ تبدیل ہوگیا تھا۔ سائیکلون اے ٹو 1999ء نے یہاں کی ان میٹھے اور سمندری پانی کی جھیلوں کا حلیہ ہی تبدیل کردیا۔ زیادہ تر جھیلیں اور نہریں اس سائیکلون میں ریت سے بھر گئی تھیں۔ اگر گورنمنٹ چاہتی تو اس سائیکلون کی بربادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکال سکتی تھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ جھبو اور نریڑی کے پاس فقط رامسر سائیٹ ہونے کے اعزاز رہ گئے۔ باقی جس بنیاد پر وہ اعزاز ملا تھا وہ وجہ برباد ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں 2011ء میں، یو این او کے مسعود لوہار صاحب کے ساتھ اس رامسر سائیٹ جھبو لگون دیکھنے کے لیے گیا۔ جون کا مہینہ تھا۔ ہم بلاول نہر کے اُس پل پر پہنچے جہاں 1992ء میں چائے کے ہوٹل پر چائے پی تھی۔ اطراف کے چھوٹے چھوٹے گاؤں ہونے کی وجہ سے لوگ ہوٹل پر آتے، بیٹھتے، چائے پیتے، کچھ زمانے کی باتیں کرتے اور چلے جاتے۔ اب وہاں کچھ نہیں تھا، بلاول شاخ کو سوکھے برسوں ہوگئے تھے۔ وہاں ہوٹل تو کیا، دُور دُور تک کسی انسان کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ وہ گھاس پھوس کی جھونپڑی جہاں ہم نے 2، 3 دن گزارے تھے۔ وہاں جنگلی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔ جھیل کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ میری نظر جہاں تک جاتی جنگلی جھاڑیاں اور سوکھی زمین پھیلی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے یقین کرنے میں بہت وقت لگا کہ یہی وہ جھبو ہے۔ جس کے نیلگون پانی کی سطح پر میں نے کشتی میں سارا دن گزارا تھا۔ جہاں میٹھے پانی کی گہرائی 10، 12 فٹ تھی۔ آپ  سوچیں اور اندازہ کریں کہ ایک ایسی جھیل جو 706 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی تھی، جس کو ’رامسر سائیٹ‘ کا اعزاز اس لیے ملا تھا کہ یہاں سرد علاقوں سے آنے والے ہزاروں پرندے جاڑے کے دن گزارتے اور سردیاں ختم ہوتے واپس لوٹ جاتے تھے۔ ساتھ میں مقامی جنگلی حیات کو رہنے اور پھلنے پھولنے کے مواقع یہ جھیل مہیا کرتی تھی۔ جو جھیل 100 سے زائد ماہی گیر خاندانوں کو روزگار فراہم کرتی تھی، وہ ہماری غیر ذمہ داری اور لالچ کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگ جن کے سیکڑوں گھر اور خاندان اس جھیل کے کنارے پر آباد تھے اُن کو ذریعہ معاش کی پریشانی نہیں تھی۔ بلکہ وہ بڑے خوش تھے۔ مچھلی اور پرندوں کی صورت میں جہاں اُن کو روزگار ملتا وہاں اُن کے لیے ایک اچھی خوراک کا بھی فطرت نے بندوبست کردیا تھا۔ ساتھ میں گائیں اور بکریوں کو چارہ جھیل سے ملتا اور مکھن چھاچھ اُن کو آسانی سے دستیاب ہوجاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا ذہن فقط  زراعت تک کیوں محدود ہے؟ کیا زراعت کے سوا اور کچھ بھی ضروری نہیں ہے؟ نہ سمندر کے کنارے، جھیلیں، جنگل ان میں سے کچھ بھی اہم نہیں ہیں کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/061220144d3e960.jpg?r=122025'  alt='    سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے آبپاشی نظام پر 3 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ پر کاشتکاری کی جاتی ہے، پاکستان میں دریائی بہاؤ پر پانی جمع کرنے کے 3 ڈیم بنائے گئے ہیں، جن میں 20 ایم اے ایف تک پانی اسٹور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 12 لنک کینال تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دریائے سندھ کا سالانہ بہاؤ اوسطاً 150 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اب اس پوری صورتحال کو دیکھیں تو سارا نزلہ آپ کو کوٹری ڈاؤن اسٹریم پر گرتا نظر آئے گا، جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد ہوچکی ہے اور ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ریوینیو کی رپورٹ کے مطابق 1980ء تک 12 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندر کی نذر ہوگئی تھی اور اب 2018ء تک ڈیلٹا کی 35 لاکھ ایکڑ زرعی زمین یا تو سمندر نگل گیا ہے یا سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے، یہاں تک کہ اب گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اُگتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جھیل کی بربادی ایک کلچر کی بربادی ہے۔ سیکڑوں خاندانوں کو بے روزگار اور بے گھر کرنے کا گناہ ہے۔ یہ ماحولیات کی بربادی ہے جس کے اثرات پڑنے کی ابتدا ہوگئی ہے۔ ماحولیاتی بربادیاں لاکھوں لوگوں کو انتہائی لاچاری کی حالت میں نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے شہروں پر دباؤ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ قدرت نے جس طرح اپنے طریقوں سے انسانوں کو آباد کیا ہے۔ اُن وسائل کو برباد نہ ہونے دیں بلکہ کوشش کریں کہ وہ وسائل جو ہماری کم عقلی اور غلطیوں کی وجہ سے برباد ہوگئے ہیں اُن کو نئے سرے سے پھر آباد کریں۔ یہ سب کرنے سے جہاں ماحولیات میں آئی ہوئی منفی شدت کم ہوگی وہاں ہم نقل مکانی اور کئی نفسیاتی مسائل کو بھی روک سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب فیصلہ آپ کریں کہ ایک جھیل یا جھیلوں کا مرنا، صحیح ہے یا غلط؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر کڑی سے کڑی ملائیں تو زندگی کا تانا بانا لاکھوں بلکہ کروڑوں برسوں کی زمین پر کسی گورکھ دھندے کی طرح بچھا ہوا ہے۔ مگر سمندر کو کوزے میں اگر بند کرنے پر آئیں تو انسان کے ذہن نے ترقی بھی کی ہے اور دو الفاظ میں ساری کہانی بیان بھی کی جاسکتی ہے۔ ہم دُور کی پگڈنڈیاں بھی نہیں پکڑتے۔ ہم فقط ہاں اور نا، اچھا اور بُرا، مثبت اور منفی، دن اور رات، میٹھا اور کڑوا کے الفاظ تک ہی محدود کردیتے ہیں تاکہ ہمیں اس فلسفوں سے بھری حیات کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔</p>
<p>یہ دسمبر 1992ء کے ابتدائی دنوں کا ذکر ہے۔ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اُس زمانے کی مشہور جھیل جھبو دیکھنے کے لیے نکل پڑا تھا۔ ہم تقریباً 2 بجے گولاڑچی شہر پہنچے، وہاں سے ہمیں پہلے اسمٰعیل تھہیمور کے گاؤں پہنچنا تھا جبکہ وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں کچے راستے کی وجہ سے چھکڑے پر سفر کرنا تھا۔ ہم تینوں دوست چھکڑے کی چھت پر بیٹھ گئے۔ جہاں تک پکا راستہ تھا وہ اتنا اُدھڑا ہوا تھا کہ اس کا نہ ہونا ہی اچھا ہوتا۔ اس کے بعد جب ہمارا سفر احمد راجو سے پہلے گرھڑی پوسٹ سے مغرب کی طرف شروع ہوا تو راستہ کچا تھا، جاڑے کے دنوں میں کچے راستے کی مٹی خشک ہوتی ہے تو اُڑتی بہت ہے۔</p>
<p>بہرحال ہم نے مغرب کی طرف اندازاً 6، 7 کلومیٹر سفر کیا جس کے بعد ایک راستہ جنوب کی جانب مڑا اور سیم و تھور کی وجہ سے زمین کا رنگ سفید سے سیاہ ہوا تو راستہ ایک سیاہ سڑک کی طرح ہوگیا جیسے کہ مٹی میں نمک اور نمی کی وجہ سے مٹی چپک جاتی ہے اور اُڑتی نہیں ہے۔ سورج ڈوبنے والا تھا تو چھکڑے نے اپنی آخری منزل کا اعلان کیا اور ہم 2 کلومیٹر پیدل چل کر جب اسمٰعیل تھہیمور کے گاؤں کی اوطاق تک پہنچے تو مغرب کی طرف ڈوبے ہوئے سورج کی ہلکی سی سُرخی رہ گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06121932afcfae4.jpg?r=122025'  alt='    سال 2001ء میں جھبو لگون    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سال 2001ء میں جھبو لگون</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹھنڈ تھی مگر تھکان نہیں تھی۔ گھاس پھوس کی اوطاق کے بیچ میں کیکر کی لکڑیوں کا الاؤ جل رہا تھا اور ہم فرشی نشست پر بیٹھے گپے لگارہے تھے۔ رات کے کھانے میں مجھے یاد ہے کہ مرچیں کچھ زیادہ تھیں۔ مگر چونکہ چاول کی روٹی میں دیسی گھی ایسا رچا ہوا تھا اس لیے اُس کی مہک اور لذت کی وجہ سے آپ بغیر سالن کے بھی روٹی کھا سکتے تھے۔</p>
<p>رات کے کھانے کے بعد اسماعیل تھہیمور (اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، خدا کی اُس پر رحمتیں ہوں)  آئے۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے حافظ تھے۔ جب وہ لطیف سائیں کا کوئی شعر پڑھتے تو ایسا لگتا جیسے ایک ایک لفظ اُن کی زبان سے کھنکتا ہوا نکل رہا ہو۔ شاہ عبداللطیف کی شاعری پڑھنے میں بہت زیادہ مشکل ہے کیونکہ زیر، زبر، پیش کے اوپر نیچے ہونے سے شعر کے معنیٰ تبدیل ہوجاتے ہیں مگر اسمٰعیل کو اس پر کمال حاصل تھا۔ اور پھر جب وہ ’سُر سسئی‘ کے شعر سنانے لگا جس میں سسئی کے اُس سفر کا ذکر لطیف سائیں نے کیا ہے جو اُس نے اکیلے پنوں کے لیے کیچ مکران کی طرف کیا تھا۔ اسمٰعیل شعر پڑھتے اور آنسو اُن کی آنکھوں سے کسی جھرنے کی طرح بہتے۔ پھر جب محفل اپنے جوبن کو پہنچی تب اسمٰعیل نے لطیف سائیں کا یہ شعر پڑھا۔</p>
<p>آئون نہ گڏي پرينءَ کي تون ٿو لھين سج</p>
<p>آئون جي ڏيانءِ سَنيھا نيئي پِريان کي ڏِجُ</p>
<p>وڃي ڪيچ چئج تہ ويچاري واٽ مُئي. (لطيف سائين)</p>
<p>(سسئی سفر میں ہے اور سورج ڈوبنے والا ہے، سسئی سورج سے مخاطب ہوتی ہے اور ایک تو اُس سے شکایت کرتی ہے کہ اے سورج، میں اپنے محبوب سے ابھی نہیں ملی اور تم مجھے اکیلا چھوڑ کر ڈوب رہے ہو۔ یہ سسئی کے سفر کا وہ اختتام ہے جو محبوبوں سے ملنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اور اُسے یہ بھی پتا ہے کہ سورج تو ڈوبے گا۔ تب وہ سورج کو کہتی ہے کہ تم تو ڈوب رہے ہو میرا یہ کام تو کرو کہ میں جو یہ پیغام دے رہی ہوں وہ میرے محبوب تک پہنچا دینا۔ میں اپنے راستے پر ثابت قدم رہی، جتنا مجھ سے ہوسکتا تھا وہ میں نے تم تک پہنچنے کے لیے کیا۔ بس پنوں کو یہ کہنا کہ میں تمہاری یاد میں تمہاری طرف آنے والے راستے میں بے بس اور لاچار ہوکر مری)۔</p>
<p>اور ساتھ ہی اسمٰعیل کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ لطیف سائیں کو جس نے بھی روح سے پڑھا ہے میں نے اُن لوگوں کی آنکھیں بھیگی ہی دیکھی ہیں۔ اسمٰعیل ہچکیاں لیتا ہوا گاؤں کی طرف چلا گیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ مگر کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ درد ہمیشہ آپ کو آنسو اور خاموشی دیتا ہے۔ باہر ٹھنڈ تھی، ہم نے الاؤ میں کیکر کی لکڑی ڈالی، لکڑی سوکھی تھی تو آگ کی لپٹوں نے اُسے جلد ہی لپیٹ میں لے لیا کیونکہ جہاں پانی نہیں ہوتا وہاں فقط بربادی کی آگ جلتی ہے جس کو بھسم کرنے سوا کچھ نہیں آتا۔</p>
<p>دوسرے دن صبح کو ہم جلدی اُٹھے۔ چائے پی ناشتہ کیا، اسمٰعیل تھہیمور سے اجازت لی اور اُس کے گاؤں کے دو آدمیوں کو ساتھ لے کر ہم اُس جھیل کے لیے نکل گئے جسے دیکھنے کے لیے ہم یہاں آئے تھے۔ یہ جھیل اس گاؤں سے 3 کلومیٹر مغرب میں تھی۔ ہم گپے لگاتے پیدل چلتے گئے۔ ہمارے ساتھ جو لوگ گاؤں سے آئے تھے اُن کے پاس بندوقیں تھیں اور ہم مہمان تھے تو پرندوں کا شکار تو لازمی ہونا تھا۔ ہم گھومتے گھامتے شام کے 4 بجے جھیل کے شمال میں بنی گھاس پھوس کی جونپڑی میں پہنچے جہاں 2، 3 چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ایک کونے میں لکڑی کا صندوق تھا جس میں کھانا پکانے کا سارا راشن تھا۔</p>
<p>یہ تو جنگل میں منگل تھا۔ یہ جھونپڑی جھبو جھیل سے مچھلی پکڑنے اور بیچنے والے ٹھیکے دار کی تھی، ہمارے واسطے 3 دنوں کے لیے ان گاؤں والوں نے جھونپڑی ٹھیکے دار سے لے لی تھی۔ ٹھیکے دار نے مہمانوں کا سنا تو گھی، چاول، آٹے سے لے کر چائے اور چینی تک کے سامان سے صندوق کو بھردیا تھا۔ نزدیک میں یعنی جھونپڑی کے شمال مغرب میں بلاول نہر جو جھبو کو میٹھا پانی فراہم کرتی تھی اُس پر بنے پُل پر ایک چھوٹا سا چائے کا ہوٹل تھا، جو نزدیکی گاؤں والوں کے لیے کچہری کا زبردست ٹھکانہ بھی تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06122010ab63268.jpg?r=122025'  alt='    جھبو لگون، جو کبھی ہجرت کرنے والے پرندوں کا عارضی مسکن ہوا کرتا تھا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھبو لگون، جو کبھی ہجرت کرنے والے پرندوں کا عارضی مسکن ہوا کرتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>جنوبی سندھ کے اس دریائی کنارے کی اپنی ایک الگ دنیا ہے۔ چونکہ یہاں دریا کا مرکزی بہاؤ بہت سارے چھوٹے بڑے بہاؤں کی صورت اختیار کرلیتا تھا یہی وجہ تھی کہ یہاں ندیوں کا ایک جال سا بچھ جاتا تھا۔ سندھو دریا کے وہ بھی دن تھے جب طغیانی کے موسم میں 150 ملین ایکڑ فٹ تک پانی آتا تھا۔ تو اتنے بے تحاشا پانی کو سمندر میں جانے کے لیے بہت سارے راستے بنانے پڑتے تھے۔ ہم اور زیادہ قدیم نہیں فقط 400 برس پہلے کی بات کررہے ہیں جب ٹھٹہ دریائے سندھ کا ایکٹو ڈیلٹا ہوا کرتا تھا۔ تب دریا 17 بہاؤں کی صورت میں سمندر میں جا گرتا تھا اور نئی زمین بناتا تھا۔</p>
<p>دریا کے یہ راستے مستقل نہیں ہوتے تھے بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ تو دریا جو راستے چھوڑ دیتا تھا وہاں اکثر چھوٹی بڑی جھیلیں وجود میں آجاتیں۔ کبھی آسمان مہربان ہوتا کبھی کبھار دریا کا پانی آنکلتا۔ تو پانی کے ان راستوں میں مسلسل رہنے سے فطرت نے اُن کو اپنی عنایتوں سے گھاس پھوس، مچھلیوں، دوسری آبی حیات اور اس کے کنارے رہنے والے پرندوں اور جانوروں کا مسکن بنادیا۔</p>
<p>ڈیلٹا کے اس قدرتی نظام کی قدامت اور زرخیزی کے لیے ہم ’انڈس فلائے وے زون‘ (انڈس فلائی وے زون دنیا بھر کے ان 7 راستوں میں سے ایک ہے جو پرندے شدید موسمی حالات سے بچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں خوراک کی تلاش  اور افزائشِ نسل کرتے ہیں۔ ہجرت کرنے والے پرندے روس اور چین میں سخت سردی سے بچنے کے لیے شمال سے پاکستان میں داخل ہونے کے لیے 4 ہزار 500 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرتے ہیں اور جنوب کی طرف طاقتور دریائے سندھ کا پیچھا کرتے ہوئے زمین پر 300 سے زیادہ آبی ذخائر اور دوسرے پانی والے علاقوں میں رک جاتے ہیں) کو شاہد بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>مگر فطرت کے تحفظ کے لیے یہاں حالات بہتر نہیں رہے ہیں۔ اگر بہتر رہتے تو آج سمندر، دریائے سندھ کے راستوں میں کبھی اپنا راستہ نہیں بناتا۔ جن کو آج کل ہم کریکس یا کھاڑیاں کہتے ہیں جن میں سمندر کا پانی بہتا ہے یہی دریائے سندھ کے سمندر میں جانے کے بہاؤ تھے۔ یہ اُن ڈیموں اور بیراجوں کی مہربانی ہے کہ انڈس ڈیلٹا کی اراضی جو ایک لاکھ ہیکٹر سے زیادہ پر پھیلی ہوئی تھی، اب سکڑ کر 6 ہزار ہیکٹر رہ گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/061219392714ba6.jpg?r=122025'  alt='    جھبو جھیل جس کی گہرائی 10 سے 12 فٹ ہوا کرتی تھی    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھبو جھیل جس کی گہرائی 10 سے 12 فٹ ہوا کرتی تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>جھبو فقط ایک عام سی جھیل نہیں تھی، میں جب 1992ء میں یہاں گیا تھا تب یہ میٹھے پانی کی شاندار جھیل تھی۔ میرے پاس جھبو کے نیلگوں پانی اور اُس پر تیرتی کشتی جس پر میں بیٹھا ہوں کی یہ اکیلی تصویر ہے جو زمانے کی دھوپ چھاؤں سے بچ گئی ہے۔ میری جہاں تک نظر جاتی پانی ہی پانی تھا اور جھیل کے مرکز میں پانی کی گہرائی شاید 10، 12 فٹ تو یقیناً ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06121955c4ba94d.jpg?r=133647'  alt='    جھبو لگون میں میٹھے پانی کی ایک شاندار جھیل ہوا کرتی تھی لیکن اب یہاں کی زمین خشک ہے    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھبو لگون میں میٹھے پانی کی ایک شاندار جھیل ہوا کرتی تھی لیکن اب یہاں کی زمین خشک ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پھر جیسے کنارے نزدیک آتے جاتے پانی کم ہوتا جاتا اور پھر وہاں کناروں پر سرکنڈوں اور پھوس  (Reeds) کی ہریالی کی ایک دنیا اُگی ہوتی، جن میں کئی پرندوں کے گھونسلے بنے ہوئے تھے۔ یہاں پرندے اور مچھلی اتنی بے تحاشا کہ میں بھی یقیناً حیران تھا کہ اتنی وافر تعداد و مقدار میں پرندے اور مچھلیاں بھی ہوسکتی ہیں کیا؟ مگر جھبو جو قدرتی حیات اور خوبصورتی سے بھری جھیل تھی وہاں یہ سب بے حساب تھا۔ میں نے وہاں بگلوں، آڑیوں (Coots) مرغابیوں کے کئی جُھنڈ دیکھے اور بھی کئی مقامی پرندے تھے۔</p>
<p>میں نے وہاں کچھ آسمان پر اُڑتے Marsh  harrier اور  Hen harrier بھی دیکھے تھے۔ میں جب اس جھیل کے کنارے 3 دن اور راتیں گزار کر واپس گھر لوٹا تھا تو کئی دنوں تک کانوں میں پرندوں کی آوازیں، شمال کی تیز ٹھنڈی ہوا سے سرکنڈے کے جھولنے کی ایک عجیب سرسراہٹ اور مچھلی پکڑنے کے لیے پانی میں جال پھینکنے کی مخصوص آوازیں میرے ساتھ رہیں۔</p>
<p>بلاول نہر جو 1988ء میں اس جھیل کو پانی دینے کے لیے کھودی گئی تھی، جب میں وہاں گیا تھا تب اس نہر کا پانی جھیل میں بہتا تھا اور خوب بہتا تھا۔ مگر 1995ء تک اُس نہر میں ریت جمع ہوگئی۔ ایریگیشن والوں نے بل ضرور بنائے مگر ریت نہیں نکالی اس لیے اس نہر میں پانی آنا کم ہوگیا۔</p>
<p>1997ء تک تو وہ بالکل ہی ناکارہ ہوگئی اور جھبو میں میٹھا پانی کم آنے کی وجہ سے جنوب میں سمندر کی موجودگی اور کوٹڑی ڈاؤن اسٹریم سے پانی نہ جانے کے باعث سمندر کا پانی شمال کی طرف آگے بڑھنے لگا۔ زرخیز زمینوں کو روندتا ہوا وہ جنوبی سندھ کی ان جھیلوں تک آپہنچا۔ یہ جھیلیں نہ صرف قدرتی طور پر مقامی لوگوں کی خوراک اور روزگار کا ذریعہ تھیں بلکہ سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی زمین کے نیچے میٹھے پانی کی ایک دیوار بنا کر یہ سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کا کام بھی کرتیں۔ مگر میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے یہ جھیلیں لگون میں تبدیل ہوگئیں۔</p>
<p>اتفاق یہ ہوا کہ جنوبی سندھ کے ساحلی کنارے پر موجود جھیلیں جیسے پٹیجی، واریارو، نریڑی اور جھبو اسی صورتحال سے گزر رہی تھیں۔ اُن دنوں آئی یو سی این نے انڈس ڈیلٹا کا ایک ماحولیاتی سروے کیا جس میں جھبو کی سروے رپورٹ کچھ اس طرح بنی کہ ’جھبو 706 ہیکٹر پر پھیلا ایک شاندار لگون ہے جہاں مقامی لوگ ماہی گیری کرتے ہیں اور لگون میں موجود گھاس یہاں کے مویشیوں کے لیے اچھا چارہ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>’سردیوں کے موسم میں انڈس فلائی وے زون کے راستے ہزاروں کی تعداد میں پرندے یہاں آتے ہیں اور ساتھ ہی یہ مقامی پرندوں کی رہائش اور تحفظ کے لیے ایک اچھی جگہ ہے۔ جھبو یہاں کی دوسری جھیلوں جیسے چولری، پٹیجی، نریڑی اور واریارو کے سلسلے سے جڑی ہوئی لگون ہے۔‘ اس سروے کے بعد اس کو اہم لگون جانا گیا اور رامسر (RAMSAR) سائیٹ قرار دینے کے لیے اس کا ڈیٹا اس ادارے کو بھیجا گیا۔ اور مئی 2001ء کو اس لگون کو 1067 ریفرنس نمبر دے کر ’رامسر سائیٹ‘ قرار دے دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0612200200d5a59.jpg?r=122025'  alt='    جھبو لگون مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ تھا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھبو لگون مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>مگر جب اس کو رامسر سائیٹ قرار دیا گیا تب تک بہت کچھ تبدیل ہوگیا تھا۔ سائیکلون اے ٹو 1999ء نے یہاں کی ان میٹھے اور سمندری پانی کی جھیلوں کا حلیہ ہی تبدیل کردیا۔ زیادہ تر جھیلیں اور نہریں اس سائیکلون میں ریت سے بھر گئی تھیں۔ اگر گورنمنٹ چاہتی تو اس سائیکلون کی بربادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکال سکتی تھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ جھبو اور نریڑی کے پاس فقط رامسر سائیٹ ہونے کے اعزاز رہ گئے۔ باقی جس بنیاد پر وہ اعزاز ملا تھا وہ وجہ برباد ہوچکی تھی۔</p>
<p>میں 2011ء میں، یو این او کے مسعود لوہار صاحب کے ساتھ اس رامسر سائیٹ جھبو لگون دیکھنے کے لیے گیا۔ جون کا مہینہ تھا۔ ہم بلاول نہر کے اُس پل پر پہنچے جہاں 1992ء میں چائے کے ہوٹل پر چائے پی تھی۔ اطراف کے چھوٹے چھوٹے گاؤں ہونے کی وجہ سے لوگ ہوٹل پر آتے، بیٹھتے، چائے پیتے، کچھ زمانے کی باتیں کرتے اور چلے جاتے۔ اب وہاں کچھ نہیں تھا، بلاول شاخ کو سوکھے برسوں ہوگئے تھے۔ وہاں ہوٹل تو کیا، دُور دُور تک کسی انسان کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ وہ گھاس پھوس کی جھونپڑی جہاں ہم نے 2، 3 دن گزارے تھے۔ وہاں جنگلی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔ جھیل کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ میری نظر جہاں تک جاتی جنگلی جھاڑیاں اور سوکھی زمین پھیلی ہوئی تھی۔</p>
<p>مجھے یقین کرنے میں بہت وقت لگا کہ یہی وہ جھبو ہے۔ جس کے نیلگون پانی کی سطح پر میں نے کشتی میں سارا دن گزارا تھا۔ جہاں میٹھے پانی کی گہرائی 10، 12 فٹ تھی۔ آپ  سوچیں اور اندازہ کریں کہ ایک ایسی جھیل جو 706 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی تھی، جس کو ’رامسر سائیٹ‘ کا اعزاز اس لیے ملا تھا کہ یہاں سرد علاقوں سے آنے والے ہزاروں پرندے جاڑے کے دن گزارتے اور سردیاں ختم ہوتے واپس لوٹ جاتے تھے۔ ساتھ میں مقامی جنگلی حیات کو رہنے اور پھلنے پھولنے کے مواقع یہ جھیل مہیا کرتی تھی۔ جو جھیل 100 سے زائد ماہی گیر خاندانوں کو روزگار فراہم کرتی تھی، وہ ہماری غیر ذمہ داری اور لالچ کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔</p>
<p>وہ لوگ جن کے سیکڑوں گھر اور خاندان اس جھیل کے کنارے پر آباد تھے اُن کو ذریعہ معاش کی پریشانی نہیں تھی۔ بلکہ وہ بڑے خوش تھے۔ مچھلی اور پرندوں کی صورت میں جہاں اُن کو روزگار ملتا وہاں اُن کے لیے ایک اچھی خوراک کا بھی فطرت نے بندوبست کردیا تھا۔ ساتھ میں گائیں اور بکریوں کو چارہ جھیل سے ملتا اور مکھن چھاچھ اُن کو آسانی سے دستیاب ہوجاتا۔</p>
<p>ہمارا ذہن فقط  زراعت تک کیوں محدود ہے؟ کیا زراعت کے سوا اور کچھ بھی ضروری نہیں ہے؟ نہ سمندر کے کنارے، جھیلیں، جنگل ان میں سے کچھ بھی اہم نہیں ہیں کیا؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/061220144d3e960.jpg?r=122025'  alt='    سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان کے آبپاشی نظام پر 3 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ پر کاشتکاری کی جاتی ہے، پاکستان میں دریائی بہاؤ پر پانی جمع کرنے کے 3 ڈیم بنائے گئے ہیں، جن میں 20 ایم اے ایف تک پانی اسٹور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 12 لنک کینال تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دریائے سندھ کا سالانہ بہاؤ اوسطاً 150 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اب اس پوری صورتحال کو دیکھیں تو سارا نزلہ آپ کو کوٹری ڈاؤن اسٹریم پر گرتا نظر آئے گا، جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد ہوچکی ہے اور ہورہی ہے۔</p>
<p>محکمہ ریوینیو کی رپورٹ کے مطابق 1980ء تک 12 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندر کی نذر ہوگئی تھی اور اب 2018ء تک ڈیلٹا کی 35 لاکھ ایکڑ زرعی زمین یا تو سمندر نگل گیا ہے یا سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے، یہاں تک کہ اب گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اُگتا۔</p>
<p>ایک جھیل کی بربادی ایک کلچر کی بربادی ہے۔ سیکڑوں خاندانوں کو بے روزگار اور بے گھر کرنے کا گناہ ہے۔ یہ ماحولیات کی بربادی ہے جس کے اثرات پڑنے کی ابتدا ہوگئی ہے۔ ماحولیاتی بربادیاں لاکھوں لوگوں کو انتہائی لاچاری کی حالت میں نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے شہروں پر دباؤ بڑھتا ہے۔</p>
<p>بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ قدرت نے جس طرح اپنے طریقوں سے انسانوں کو آباد کیا ہے۔ اُن وسائل کو برباد نہ ہونے دیں بلکہ کوشش کریں کہ وہ وسائل جو ہماری کم عقلی اور غلطیوں کی وجہ سے برباد ہوگئے ہیں اُن کو نئے سرے سے پھر آباد کریں۔ یہ سب کرنے سے جہاں ماحولیات میں آئی ہوئی منفی شدت کم ہوگی وہاں ہم نقل مکانی اور کئی نفسیاتی مسائل کو بھی روک سکیں گے۔</p>
<p>اب فیصلہ آپ کریں کہ ایک جھیل یا جھیلوں کا مرنا، صحیح ہے یا غلط؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202256</guid>
      <pubDate>Thu, 11 May 2023 17:12:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/0612200200d5a59.jpg?r=133647" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/0612200200d5a59.jpg?r=133647"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (آخری حصہ)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200697/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1198824/"&gt;پہلی&lt;/a&gt; اور &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199996/"&gt;دوسری&lt;/a&gt; قسط پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;بکھر، سکھر اور روہڑی یقیناً کبھی اتنے خوبصورت شہر نہیں ہوتے اگر دریائے سندھ کو ان سے محبت نہ ہوتی۔ یہ دریائے سندھ کا بہاؤ ہی تھا جو اپنے پرانے مشرقی بہاؤ کو چھوڑ کر ان چھوٹی چھوٹی بستیوں کو اپنی بانہوں میں لینے کے لیے کئی سو برس پہلے یہاں تک آپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بکھر کا قلعہ، سکھر اور روہڑی کے بیچ میں تھا اور اب بھی ہے۔ ان تینوں بستیوں کے لوگوں کے سامنے گزرے زمانوں میں بلکہ اب بھی سندھو کا مٹیالا پانی بہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منریک کو یہاں درخت اور باغات کچھ زیادہ نظر آئے۔ میں نے برٹش زمانے کے کچھ اسکیچ دیکھے ہیں جن میں روہڑی اور بکھر گھنے درختوں سے ڈھکے ہیں۔ 24 یا 25 ستمبر 1641ء کو منریک کی بادبانوں والی کشتی نے سندھ کے قدیم دارالخلافہ کو الوداع کہا اور اپنے سفر کی شروعات کی۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ چوتھے دن سیوہن سرکار (صوبہ) میں داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151339036e81b3b.jpg'  alt='    روہڑی سے بکھر کا نظارہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;روہڑی سے بکھر کا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دریائی راستے میں دریائی قزاقوں کے حملے ہوتے تھے۔ اس حوالہ سے ہمارے پاس کچھ معلومات ہیں جو ہمیں ولیم فوسٹر دیتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ ’1635ء میں جب پرتگیزوں اور دوسرے یورپین کی بیوپاری منڈیوں میں مقامی بنائی ہوئی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ لگی تھی تب کمپنی کی طرف سے لکھے ہوئے خط کے جواب میں آصف خان نے سندھ کے لاڑی بندر (ٹھٹہ) سے اچھی رعایت پر بیوپار کرنے کی دعوت دی۔ سفر میں تحفظ دینے کے ساتھ اجازت نامہ بھی بھیجا، اس کے کچھ دنوں بعد ٹھٹہ حکومت سے ہمیں جو خطوط موصول ہوئے اُن میں ہماری بہت ہمت افزائی کی گئی اور بیوپار کرنے کی دعوت دی گئی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی ’فوسٹر‘، بلوچ اور سمہ قوموں کا ذکر کرتا ہے جو سیوہن سے پہلے اور سیوہن کے بعد، چند مقامات پر جہازوں پر حملہ کرتے تھے۔ ’وتھنگٹن‘ جو 1612ء میں یہاں سے گزرا تھا وہ بھی اس قسم کے قزاقوں کا ذکر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک لکھتا ہے کہ ’سیوہن سرکار کی سرحدوں میں داخل ہونے اور تھوڑا سفر کرنے کے بعد دریا کے پاٹ کی وسعت میں کمی آنے لگی مگر ایک آدھے دن کے بعد دریا کا پاٹ پھر پھیلنے لگا۔ ہم جیسے ہی کھلے دریا میں آئے تو دریا کے کنارے سے ملی ہوئی ایک دیوار کی طرح ایک چھوٹا جزیرہ موجود تھا جس پر درخت اور ہریالی اُگی ہوئی تھی۔ اچانک اس جزیرے کی پرلی طرف سے 2 کشتیاں ظاہر ہوئیں اور انہوں نے ہماری کشتی پر جلتے تیروں، پتھروں (پتھروں کا حملہ یا تو غُلیل سے کیا ہوگا یا ’کھانبھانی‘ سے، کھانبانی سوت کی رسی جو 6 فٹ تک لمبی ہوتی ہے اور اس کی آخر میں مٹی کاچھوٹا گولہ رکھنے کے لیے 4، 5 انچ کی جگہ بنائی ہوئی ہوتی ہے جس میں مٹی یا پتھر کا گولہ ڈال کر دور تک پھینکا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر کھیتوں سے پرندوں کے غولوں کو بھگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں) اور نیزوں سے حملہ کرنا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1514172216ad1f3.jpg'  alt='   ملتان سے ٹھٹہ تک کا دریائے سندھ کا راستہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ملتان سے ٹھٹہ تک کا دریائے سندھ کا راستہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس اچانک حملے سے میرے محافظ سپاہی یہاں وہاں بھاگنے لگے کیونکہ ہم پر یہ حملہ دو اطراف سے ہوا تھا اگر ہمارے پاس گندھک والے بم نہ ہوتے تو وہ ہمیں زیادہ نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ہمارے بموں کے حملے سے اُن کی کشتیوں میں آگ لگ گئی اور 2، 3 آدمیوں کے کپڑوں نے بھی آگ پکڑلی۔ اپنے آپ کو آگ سے بچانے کے لیے وہ پانی میں کود گئے، یہ سب ان کے لیے بالکل نیا اور حیران کردینے والا تھا اس لیے وہ بار بار فرنگی، فرنگی کہہ کر چیخ رہے تھے۔ وہ اتنے خوفزدہ تھے کہ اگر ہم چاہتے تو ان کی کشتیوں پر قبضہ کر لیتے مگر ہم نے انہیں بھاگنے کا موقع دیا۔ ان کے تیروں کے لگنے کی وجہ سے ہماری کشتی میں 3 آدمی شدید زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک تو کچھ گھنٹوں میں اپنی جان گنوا بیٹھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشتی میں مرنے والے کا تعلق ہندو مذہب سے تھا اس لیے کشتی کو کنارے سے لگا دیا گیا۔ لکڑیاں اکٹھی کی گئیں اور مرنے والے کو ہندو رسموں کے مطابق اگنی کے حوالے کیا گیا۔ رات بھی وہ وہیں رہے، صبح کو جب آگ ٹھنڈی ہوئی تو ہڈیوں کی راکھ کو سمیٹ کر سندھو دریا کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے دریا میں نہا کر دوپہر کا کھانا کھا کر، سیوہن کی جانب سفر کی شروعات کی۔ ہندو کے مرنے اور پھر اس کی آخری رسومات پر منریک اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے اور ایسے جملے تحریر کرتا ہے جس کو ہم یہاں دہرانا نہیں چاہیں گے۔ اس کے بس میں شاید بہت کچھ نہیں تھا اگر ہوتا تو وہ شاید بہت کچھ کر گزرتا اور اُن کو اگنی سنسکار تک کرنے نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرے دن سیوہن پہنچے اور کسٹم پر ٹیکس وغیرہ دےکر وہ ٹھٹہ کی طرف روانہ ہوئے۔ میں حیران ہوں کہ منریک سیوہن کے متعلق کچھ نہیں لکھتا جبکہ وہاں ایک شاندار قلعے کے آثار موجود تھے۔ بلکہ فوسٹر تو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ’ان دنوں میں سیوہن بیوپار کے لیے انتہائی شاندار بستی تھی، یہاں پر نیل بہت بڑی مقدار میں بنتی تھی البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ اُس میں مٹی کی آمیزش ہوتی تھی تو وہ کوئی اتنی اچھی کوالٹی والی نیل نہیں تھی جبکہ یہاں بافتہ کپڑے بنانے کی سو کھڈیاں ہیں جہاں اچھا کپڑا بنتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15142630637b106.jpg'  alt='   دریائے سندھ پر ایرانی طرز کا رہٹ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے سندھ پر ایرانی طرز کا رہٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہاں دیسی گھی کی فراوانی ہے، اور یہاں آفیم بڑی مقدار میں اور زبردست بنتی ہے اور مختلف بیجوں سے نکلا ہوا تیل بھی بڑی مقدار میں بازار میں آتا ہے۔ یہاں کے کسٹم کا ٹیکس دوسرے ضلعوں کی نسبت بہت سستا ہے اگر 100 من کا وزن لادے کشتی کا دوسری جگہوں پر ٹیکس 18 سے 20 روپیہ ہے تو یہاں 6 روپے ٹیکس لیتے ہیں‘۔ یقیناً تیل نکالنے کے لیے کئی کولہو بھی ہوں گے جن میں بیل اور اونٹ اپنی قسمت کی طرح سارا دن پھرتے ہوں گے مگر راستہ کوئی نہیں ملتا ہوگا کیونکہ ان کی آنکھیں جو بند ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک لکھتا ہے کہ ’سیوہن سے آگے ہمیں پھر ہری بھری فصلیں اور درخت نظر آئے اور اس طرح آرام سے سفر کرتے ہوئے ہم چوتھے دن اپنی منزل پر پہنچے۔ اس طرح  ہمارے ایک طویل دریائی سفر کا اختتام ہوا اور ہم سلطنتِ سندھ کے میٹروپولیٹن شہر ٹھٹہ پہنچ گئے۔ چونکہ ہم کچھ گھنٹے دیر سے پہنچے تھے اس لیے کسٹم کا عملہ جا چکا تھا اور ہم نے جہاز کسٹم محافظوں کے حوالے کیا اور ہمیں مجبوراً رات جہاز میں گزارنی پڑی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1513540835be50a.jpg'  alt='  ٹھٹہ میں دریائے سندھ کے ساحل پر کھڑی کشتیاں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹھٹہ میں دریائے سندھ کے ساحل پر کھڑی کشتیاں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے دن منریک (یہ اندازاً 5 اکتوبر 1641ء ہفتے کا دن ہوگا) کے ساتھ جو بیوپاری آئے تھے انہوں نے منریک کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان کے سامان کو اپنا سامان کہہ کر ٹیکس سے چھوٹ دلوادے۔ مگر منریک اس پر راضی نہیں ہوا البتہ کچھ رعایتیں دلانے پر وہ ضرور راضی ہوگیا۔ پہلے وہ ٹھٹہ صوبے کے ناظم شاد خان (شاد خان کو حال ہی میں 15ویں جلوس کے دن 28 اگست 1641ء کو ترقی دی گئی تھی) سے ملا اور آصف خان کے اجازت نامے اور خط دکھائے۔ شاد خان نے ان کاغذات کو 3 بار سر پر رکھا اور 3 بار چوما۔ منریک نے جہاز میں پڑے ہوئے سامان پر رعایت دینے کی بات کی جس پر شاد خان نے فوری کسٹم کے عملے کو بلایا اور رعایت کرنے کی ہدایات دیں۔ اس کے بعد منریک نے شہر میں رہائش کے لیے جگہ کرائے پر حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15140331ce88aa8.jpg'  alt='   ٹھٹہ شہر سے مغرب کی جانب کا نظارہ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹھٹہ شہر سے مغرب کی جانب کا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کاموں سے فارغ ہوکر وہ کشتی کے ذریعے ’لاڑی بندر‘ روانہ ہوا جو ٹھٹہ سے 2 دن کے فاصلے (40 میل) پر، مغرب میں تھا۔ منریک لکھتا نہیں ہے مگر ان زمانوں میں لاڑی بندر اور ننگر ٹھٹہ کے بیچ میں ایک بہت بڑی کارواں سرائے تھی جہاں آتے جاتے بیوپاری اور مسافر یہاں رات کو رہتے تھے کیونکہ ٹھٹہ شہر میں دریائے سندھ پر چھوٹے جہازوں اور کشتیوں کی بندرگاہ تھی۔ بڑی بیوپاری کشتیوں کے لیے اکثر کشتیاں سمندر سے یا گھارو والے انتہائی مغربی بہاؤ سے لاڑی بندر پہنچتی تھیں مگر چونکہ اشیا کی فروخت اور خریداری کے لیے ٹھٹہ آنا پڑتا تھا تو لاڑی بندر اور ٹھٹہ میں ایک نہر کے ذریعے کشتیاں آتی جاتی تھیں اور خشکی کے راستے آنے جانے والے قافلوں کے لیے بھی یہ کارواں سرائے تھی جس کا ذکر کئی یورپین اور مقامی لکھاریوں نے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151331542b808a2.jpg'  alt='   لاڑی بندر اور ننگر ٹھٹہ کے بیچ واقع ایک بہت بڑی کارواں سرائے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لاڑی بندر اور ننگر ٹھٹہ کے بیچ واقع ایک بہت بڑی کارواں سرائے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات منریک نے ضرور اس کارواں سرائے میں ہی گزاری ہوگی۔ دوسرے دن شام کو وہ لاڑی پہنچا اور وہاں فادر جارج (Father Jorge de la Natividad)  سے ملا جو وہاں پرتگیز آگسٹین مشینری کا انچارج تھا۔ ان دونوں نے لاڑی بندر میں جو گرجا اور رہائش کو نقصان پہنچا تھا اُس پر تفصیل سے بات چیت کی اور 2 دنوں کے بعد یہ دونوں ٹھٹہ واپس آئے اور شاد خان سے ملے، صلاح مشورہ کیا اور تعمیر کا سامان لےکر لاڑی بندر بھیجا گیا اور تعمیراتی کام شروع ہوا۔ موسموں کا جو احوال منریک نے تحریر کیا ہے اس کے مطابق اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں وہ اسی تعمیراتی کام میں ٹھٹہ اور لاڑی بندر میں مصروف رہا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھی تحریریں اپنے لکھاری کے مخالف کھڑی ہوجاتی ہیں۔ منریک کی تحریر بھی شدید غصے میں تھی جب میں نے اس سے ’شاہ جہاں نامہ‘ میں لکھی اس تحریر کے متعلق پوچھا جس میں مصنف مُلا محمد صالح کمبوہ لکھتے ہیں کہ ’برسات ختم ہونے کے بعد سیروشکار کی غرض سے شاہ جہاں تاریخ 15 شعبان 1051ھ (19 نومبر) کو کانو واہن شکار گاہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن تیسرے ہی روز شاہی خیمے میں اطلاع پہنچی کہ 17 شعبان کی شام یمین الدولہ آصف خان انتقال کرگئے اور یہ دردناک خبر سن کر بادشاہ اس دکھ میں کچھ دیر کے لیے ہوش و حواس کھو بیٹھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخ کو منریک کہاں تھا؟ منریک کی تحریر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ مگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس برس یعنی 1641ء کی سردیوں میں پنجاب اور سندھ میں اچھی بارشیں ہوئی تھیں۔ اگر منریک اپنی تحریر میں تاریخوں اور مہینوں کو تحریر کرتا جاتا تو ان لمحوں میں نہ تاریخ کے صفحات پریشان ہوتے اور نہ ہم پریشان ہوتے۔ کیونکہ آصف خان کا اس جہان سے چلا جانا، منریک کے لیے بہت بڑا نقصان تھا بلکہ ایک حوالے سے لاہور کے دروازے اس کے لیے بند ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15140849723367f.jpg'  alt='    پرتگیزوں کا بنایا ہوا سندھ کا نقشہ    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پرتگیزوں کا بنایا ہوا سندھ کا نقشہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک لکھتا ہے کہ ’لاڑی بندر میں کام مکمل ہوا تو میں نے واپس لاہور جانے کے لیے سوچا مگر واپسی کے لیے دریائی سفر مجھے مشکل اور طویل لگا۔ اس لیے میں نے خشکی کے راستے جانے کا فیصلہ کیا اس لیے 2 اونٹ بھی کرائے پر حاصل کیے۔ چونکہ جاڑے کے دن تھے مگر بارش کی وجہ سے راستے خراب ہوگئے (یہ شاید جاڑوں میں بڑی بارش کا ذکر کرتا ہے جو کسی کسی برس اچھی مقدار میں پڑ جاتی ہیں) اس لیے مجھے ایک ماہ تک ٹھٹہ میں انتطار کرنا پڑا۔ میرے پاس کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں تھا اس لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس بڑے اور مصروف زندگی رکھنے والے شہر کو دیکھا جائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک پہلے تو ٹھٹہ کی ترقی اور بیوپار کے متعلق بتاتا ہے کہ یہاں کی زمین زرخیز ہے۔ خوراک بڑی مقدار میں اُگائی جاتی ہے جیسے چاول اور گندم اور وہ کپاس کی فصل کو بڑی اراضی میں بویا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ 2 ہزار سے زیادہ کھڈیوں پر مختلف رنگوں کے کپڑوں کے بُننے کا ذکر کرتا ہے اور یہ بھی لکھتا ہے کہ اس کپڑے کی پُرتگال تک مارکیٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لکھتا ہے کہ  ’یہاں کپڑے کی ایک قسم Taffeta  بُنی جاتی ہے جو نہایت نفیس اور ملائم ہوتی ہے ایک اور قسم  Tafecirear بھی جو نہایت باریک اور ریشمی کپڑے کی بنتی ہے۔ مویشی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں چمڑے کی صنعت اپنے عروج پر ہے یہاں تک کہ یہاں سے چمڑا دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔ یہاں چمڑے پر انتہائی شاندار کام بھی ہوتا ہے۔ چمڑے سے بنے میزوں کے کور، بچھانے اور دیواروں پر لٹکانے کے لیے جو شیٹیں بنتی ہیں جن پر رنگین ریشمی مضبوط دھاگوں کا زبردست کام کیا ہوتا ہے اور ان شیٹوں کے کونوں پر جھالریں بھی بنی ہوتی ہیں اور بھی بہت ساری اشیا چمڑے سے بنائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151336475028250.jpg'  alt='      کپڑے کی قسم Taffeta  بُنے جانے والا خواتین کا لباس      ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کپڑے کی قسم Taffeta  بُنے جانے والا خواتین کا لباس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتگیز ان کو Sinde Lather  کے نام سے بُلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جو کپاس سے بھرے نرم گدے بنائے جاتے ہیں انہیں ہم Sinde mattresses  کہہ کر بلاتے ہیں۔ ان سب حقائق کی وجہ سے ٹھٹہ جو باہر کے لوگوں کی آبادی سے بھرا پڑا ہے اور اس کی بندرگاہ (لاڑی) پر ہر قسم کے سامان سے لدے ہوئے بیوپاری جہازوں کی قطاریں ہیں جو اندرون ملک سے بھی آتے ہیں اور دور دراز ممالک سے بھی، یہاں پیسوں کی ریل پیل ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مختصر سی تحریر کے بعد وہ ان مُخنثوں کا بڑی نفرت سے اظہار کرتا ہے جو عورتوں کے کپڑے پہنے اُسے ٹھٹہ کی گلیوں میں نظر آئے تھے۔ اس کے بعد شہر کے قرب و جوار میں لگنے والے میلوں میں وہ عورتوں کی شرکت کی مخالفت کرتا ہے اور انتہائی نازیبا جملے تحریر کرتا ہے۔ مطلب کہ منریک نے ٹھٹہ میں وہ دیکھا جو اس کی آنکھیں دیکھنا چاہتی تھیں جبکہ دیکھنے کے لیے ٹھٹہ میں اور بھی بہت کچھ تھا۔ وہ عجیب طبیعت کا چڑچڑا انسان تھا جو اسے اچھا لگتا وہ درست جو اسے اچھا نہیں لگا وہ غلط۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یقیناً یہاں کی ثقافتی روایات سی بے بہرہ تھا ورنہ وہ ایسا کبھی تحریر نہ کرتا۔ یہاں تو ایسا ہے کہ مخنث کو احترام سے دیکھا جاتا ہے اور جب بچہ جنم لیتا ہے تو جب تک مخنثوں (جس کو مقامی زبان میں کھدڑا فقیر کہا جاتا ہے) کی ٹولی گھر پر نہ آئے اور پیدا ہونے والے بچے کے گھر کے آنگن میں گانا بجانا نہ کریں تب تک بچے کے آنے کی خوشی کو مکمل تصور نہیں کیا جاتا۔ بچے کے  گھر والے ان فقیروں کے آنے سے خوش ہوکر اُن سے دعائیں لیتے ہیں۔اور بچے کی خوشی میں گانے بجانے کے بعد مقرر رقم (جس کو لاگ کہا جاتا ہے) وہ دیتے ہیں اور ساتھ میں کپڑے بھی تحفے میں دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب منریک کے لیے نیا اور خراب تھا۔ مگر مقامی لوگ ان ساری رسومات کا احترام کرتے تھے اور ابھی تک یہ رسومات چلی آرہی ہیں۔ مقامی لوگ ان رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں یہ خود منریک بھی محسوس کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ ’مقامی لوگ ان ساری حرکتوں کو اچھا سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں کو وہ دین میں بہت سارے پیسے اور خوراک دیتے ہیں۔ مگر میرے سامنے مخنثوں اور عورتوں کی آزادی کا زیادہ تذکرہ کرنا گناہ ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک سے تقریباً 25 برس بعد 1666ء میں ایک فرانسیسی سیاح ’تھیوناٹ‘ سورت اور اجمیر سے ہوتا ہوا مئی میں (کیونکہ اپریل 1666ء میں اس نے اجمیر میں جشن نوروز دیکھا اور پھر اپریل کی آخر یا مئی کے ابتدائی دنوں میں) وہ ٹھٹہ پہنچا کہ یہاں کی گرمی کا ذکر کرتا ہے۔ ننگر ٹھٹہ کی گلیاں اور شہر وہی تھے مگر ان کو دیکھنے اور محسوس کرنے والی آنکھیں منریک سے بالکل برعکس تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151342448c6930e.jpg'  alt='      فرانسیسی سیاح تھیوناٹ      ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فرانسیسی سیاح تھیوناٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنے طویل اور تفصیلی سفرنامے کے تیسرے حصے میں لکھتا ہے کہ ’ٹھٹہ سندھ کا مشہور اور مصروف ترین شہر ہے جہاں آپ کو ہندوستان کے کئی شہروں سے آئے ہوئے بیوپاری دیکھنے کو ملیں گے جو یہاں بننے والی اشیا خریدنے کے لیے اتنا طویل سفر کر کے یہاں آتے ہیں کیونکہ یہاں کے کاریگر اپنے کام میں لاجواب ہیں۔ سندھو ندی یہاں آکر سمندر میں گرتی ہے اور یہاں کئی جزیرے ہیں جن پر ہریالی ہے اور وہاں اناج اور دوسرے فصلوں کو بویا جاتا ہے۔ یہاں کی زرخیز زمین اور فصلیں اس شہر کو شاہ کار بناتی ہیں۔ مگر یہاں گرمی بہت ہے۔ ٹھٹہ سے 2 دن کے فاصلے پر لاڑی بندر ہے جہاں ہندوستان اور دوسرے ممالک کے بڑے بڑے جہاز کھڑے ملتے ہیں۔ سارے ہندوستان میں سب سے زیادہ بہترین پالکیاں یہاں ٹھٹہ میں بنتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھیوناٹ پالکی پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’جو پیسے والے سیٹھ لوگ ہیں وہ سواری کے لیے نہ تانگہ استعمال کرتے ہیں اور نہ بیل گاڑیاں بلکہ وہ پالکیاں استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا آرام دہ صوفہ ہے جس کے 4 چھوٹے پیر ہوتے ہیں تاکہ اُس کو آرام سے زمین پر رکھا جاسکے۔ اس کو اُٹھانے کے لیے 2 لمبے بانس کے لکڑے ہوتے ہیں جو 5 سے 6 انچ موٹے اور 5، 6 فوٹ لمبے ہوتے ہیں جن سے پالکی کو اُٹھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15134612b9a390c.jpg'  alt='   پالکی کو اٹھانے کے لیے 4 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پالکی کو اٹھانے کے لیے 4 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پالکی میں کوئی عورت سفر کررہی ہوتی ہے تو اُس پالکی کو سرخ کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے اور اگر بارش کا موسم ہو تو پالکی کو مومی کپڑے سے ڈھانپتے ہیں کہ جو اندر آرامدہ اور نرم گادیلوں پر سفر کررہا ہے اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ پالکی کو بہت خوبصورت طریقوں سے سجایا جاتا ہے تاکہ یہ دور سے پُرکشش اور خوبصورت نظر آئے۔ پالکی کو اُٹھانے کے لیے 4 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ماہوار تنخواہ پر آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر سفر طویل ہے تو 4 اور آدمی ساتھ چلتے رہتے ہیں کہ پہلے والے تھک جائیں تو وہ اُٹھائیں اس لیے بڑا سفر آرام سے طے ہوجاتا ہے۔ یہاں 2 پہیوں والی گاڑی (جو آگے چل کر تانگہ اور بگھی بنیں) ’Chariot‘ جس صفائی اور خوبصورتی سے ٹھٹہ میں بنتی ہے اُس کا جواب نہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1513513903f16b1.jpg'  alt='   دو پہیوں والی بیل گاڑی   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دو پہیوں والی بیل گاڑی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھیوناٹ ساتھ میں بیل گاڑیوں کا بھی بڑی حیرت سے ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’سب سے چھوٹی بیل گاڑیاں جن کو 2 بیل کھینچتے ہیں وہ نزدیک کی آبادیوں کے لیے سامان پہنچانے اور سواری کے کام آتی ہیں۔ اور یہاں دُور دراز شہروں سے بیوپاری سامان لانے کے لیے بہت بڑی اور وزنی بیل گاڑیاں بھی بنتی ہیں جن کو 8 سے 10 بیل کھینچتے ہیں اور بیوپاری سامان لانے اور لے جانے کے لیے محافظوں کی حفاظت میں ان بیل گاڑیوں کے قافلے نکلتے ہیں اور ہر قافلے میں 200 سے زیادہ بیل گاڑیاں شامل ہوتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھٹہ ایک شاندار ماضی رکھنے والا شہر رہا ہے۔ جس کی حیرت انگیز حقائق سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ یہ شاندار دن اب وقت نے ٹھٹہ کی بازاروں سے چھین لیے ہیں۔ بہرحال اس زوال کے درد کو جاننے کے لیے ہم کبھی ضرور بات کریں گے۔ فی الوقت منریک نے پورے ایک ماہ میں ٹھٹہ میں خوب مٹر گشتی کی ہے اب اسے واپس لوٹنا ہے کیونکہ سردیوں میں پڑی بارشوں کا پانی خشک ہوچکا ہے اور دن ابھی بھی ٹھنڈے ہیں اس لیے یہ وقت زمینی سفر کے لیے موزوں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک کا قافلہ ٹھٹہ سے نکلا اور جیسلمیر سے ہوتا ہوا وہ جنوری کی ابتدا میں ملتان پہنچا جہاں اُسے نواب آصف خان کے موت کی خبر ملی اور یہ منریک کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں تھی، وہ اپنی تحریر میں آصف خان کی وفات پر نہایت رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور ساتھ میں ملتان سے لاہور جانے کا سفر بھی ملتوی کرتا ہے اور وہاں سے قندھار اور پرشیا سے ہوتا ہوا 1643ء روم پہنچتا ہے اور وہاں اپنے مذہبی کاموں اور اپنا یہ سفرنامہ لکھنے میں مصروف رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15135607e25da5d.jpg'  alt='   آصف خان کی قبر   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آصف خان کی قبر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22 برسوں کے بعد وہ انگلینڈ کے لیے نکلتا ہے جہاں اس کی خوفناک موت وہاں اس کا انتظار کررہی ہے۔ یہ وہ شب و روز تھے جب مذہبی حالات کی وجہ سے لندن شہر اتنا محفوظ نہیں تھا۔ 1669ء میں، منریک کے ایک پرتگیز ملازم ہی نے اسے قتل کرکے اس کی لاش تھیمس ندی میں پھینک دی۔ اس طرح فرے منریک کی زندگی کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دیکھا جائے تو یہ سفر ہم سب کے لیے ایک یادگار سفر ثابت ہونا چاہیے کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا جب بغیر دھواں اُڑائے اور بغیر شور کے ہزاروں کشتیاں دریاؤں میں سفر کرتیں اپنی اپنی منزلوں کو پہنچتی تھیں۔ بیوپار ہوتے، شہر آباد تھے۔ مگر پھر سرمایہ داری نے ترقی کی۔ جلدی نے ہمیں ایسے شہد چٹائی کہ ہم اس کا ذائقہ چکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ہونٹوں پر زبان پھیرنے میں مصروف رہے۔ جب ذائقہ ختم ہوا تو پتا چلا کہ 60، 70 برس میں ہمیں جو فطرت نے دیا تھا ہم سب نے اس وقتی ذائقے کی خاطر برباد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیم بنے دریائی سفر ختم ہوئے۔ اب یہ ہے کہ گلیشیئر بھی اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور سمندر زرخیز زمینوں پر دوڑتا چلا آرہا ہے۔ 30 سے 50 برسوں بعد جب وقت سے پہلے کی ہماری ترقی ہمیں برباد کرکے رکھ دے گی تب الفا سینٹوری پر جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا مگر وہاں سرمایہ دار ہی جاسکے گا اور ہم فقط ترقی کا نام لے کر اپنا آنگن فطرت کے انتقام کے حوالے کرچکے ہوں گے!&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حوالہ جات&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;’شاہ جہاں نامہ‘ (عمل صالح) ۔ ملا محمد صالح کمبوہ۔ 2013ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’تاریخ کے مسافر‘۔ ابوبکرشیخ۔ 2020ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;Travels of Fray Sebastien Manrique. Vol:ii. The Hakluyt Society. Oxford. 1927.&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;The English Factories in India (1634-1636). William Foster. Oxford, London, 1911.&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;The English Factory in Sindh. Edited by: Dr. Mubarak Ali. Fiction House, Lahore. 2005.&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;The Travels of Monfieur de Thevenot into the Levant. Print in London. 1687.&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1198824/">پہلی</a> اور <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199996/">دوسری</a> قسط پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>بکھر، سکھر اور روہڑی یقیناً کبھی اتنے خوبصورت شہر نہیں ہوتے اگر دریائے سندھ کو ان سے محبت نہ ہوتی۔ یہ دریائے سندھ کا بہاؤ ہی تھا جو اپنے پرانے مشرقی بہاؤ کو چھوڑ کر ان چھوٹی چھوٹی بستیوں کو اپنی بانہوں میں لینے کے لیے کئی سو برس پہلے یہاں تک آپہنچا۔</p>
<p>بکھر کا قلعہ، سکھر اور روہڑی کے بیچ میں تھا اور اب بھی ہے۔ ان تینوں بستیوں کے لوگوں کے سامنے گزرے زمانوں میں بلکہ اب بھی سندھو کا مٹیالا پانی بہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منریک کو یہاں درخت اور باغات کچھ زیادہ نظر آئے۔ میں نے برٹش زمانے کے کچھ اسکیچ دیکھے ہیں جن میں روہڑی اور بکھر گھنے درختوں سے ڈھکے ہیں۔ 24 یا 25 ستمبر 1641ء کو منریک کی بادبانوں والی کشتی نے سندھ کے قدیم دارالخلافہ کو الوداع کہا اور اپنے سفر کی شروعات کی۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ چوتھے دن سیوہن سرکار (صوبہ) میں داخل ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151339036e81b3b.jpg'  alt='    روہڑی سے بکھر کا نظارہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>روہڑی سے بکھر کا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس دریائی راستے میں دریائی قزاقوں کے حملے ہوتے تھے۔ اس حوالہ سے ہمارے پاس کچھ معلومات ہیں جو ہمیں ولیم فوسٹر دیتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ ’1635ء میں جب پرتگیزوں اور دوسرے یورپین کی بیوپاری منڈیوں میں مقامی بنائی ہوئی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ لگی تھی تب کمپنی کی طرف سے لکھے ہوئے خط کے جواب میں آصف خان نے سندھ کے لاڑی بندر (ٹھٹہ) سے اچھی رعایت پر بیوپار کرنے کی دعوت دی۔ سفر میں تحفظ دینے کے ساتھ اجازت نامہ بھی بھیجا، اس کے کچھ دنوں بعد ٹھٹہ حکومت سے ہمیں جو خطوط موصول ہوئے اُن میں ہماری بہت ہمت افزائی کی گئی اور بیوپار کرنے کی دعوت دی گئی تھی‘۔</p>
<p>ساتھ ہی ’فوسٹر‘، بلوچ اور سمہ قوموں کا ذکر کرتا ہے جو سیوہن سے پہلے اور سیوہن کے بعد، چند مقامات پر جہازوں پر حملہ کرتے تھے۔ ’وتھنگٹن‘ جو 1612ء میں یہاں سے گزرا تھا وہ بھی اس قسم کے قزاقوں کا ذکر کرتا ہے۔</p>
<p>منریک لکھتا ہے کہ ’سیوہن سرکار کی سرحدوں میں داخل ہونے اور تھوڑا سفر کرنے کے بعد دریا کے پاٹ کی وسعت میں کمی آنے لگی مگر ایک آدھے دن کے بعد دریا کا پاٹ پھر پھیلنے لگا۔ ہم جیسے ہی کھلے دریا میں آئے تو دریا کے کنارے سے ملی ہوئی ایک دیوار کی طرح ایک چھوٹا جزیرہ موجود تھا جس پر درخت اور ہریالی اُگی ہوئی تھی۔ اچانک اس جزیرے کی پرلی طرف سے 2 کشتیاں ظاہر ہوئیں اور انہوں نے ہماری کشتی پر جلتے تیروں، پتھروں (پتھروں کا حملہ یا تو غُلیل سے کیا ہوگا یا ’کھانبھانی‘ سے، کھانبانی سوت کی رسی جو 6 فٹ تک لمبی ہوتی ہے اور اس کی آخر میں مٹی کاچھوٹا گولہ رکھنے کے لیے 4، 5 انچ کی جگہ بنائی ہوئی ہوتی ہے جس میں مٹی یا پتھر کا گولہ ڈال کر دور تک پھینکا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر کھیتوں سے پرندوں کے غولوں کو بھگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں) اور نیزوں سے حملہ کرنا شروع کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1514172216ad1f3.jpg'  alt='   ملتان سے ٹھٹہ تک کا دریائے سندھ کا راستہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ملتان سے ٹھٹہ تک کا دریائے سندھ کا راستہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>’اس اچانک حملے سے میرے محافظ سپاہی یہاں وہاں بھاگنے لگے کیونکہ ہم پر یہ حملہ دو اطراف سے ہوا تھا اگر ہمارے پاس گندھک والے بم نہ ہوتے تو وہ ہمیں زیادہ نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ہمارے بموں کے حملے سے اُن کی کشتیوں میں آگ لگ گئی اور 2، 3 آدمیوں کے کپڑوں نے بھی آگ پکڑلی۔ اپنے آپ کو آگ سے بچانے کے لیے وہ پانی میں کود گئے، یہ سب ان کے لیے بالکل نیا اور حیران کردینے والا تھا اس لیے وہ بار بار فرنگی، فرنگی کہہ کر چیخ رہے تھے۔ وہ اتنے خوفزدہ تھے کہ اگر ہم چاہتے تو ان کی کشتیوں پر قبضہ کر لیتے مگر ہم نے انہیں بھاگنے کا موقع دیا۔ ان کے تیروں کے لگنے کی وجہ سے ہماری کشتی میں 3 آدمی شدید زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک تو کچھ گھنٹوں میں اپنی جان گنوا بیٹھا‘۔</p>
<p>کشتی میں مرنے والے کا تعلق ہندو مذہب سے تھا اس لیے کشتی کو کنارے سے لگا دیا گیا۔ لکڑیاں اکٹھی کی گئیں اور مرنے والے کو ہندو رسموں کے مطابق اگنی کے حوالے کیا گیا۔ رات بھی وہ وہیں رہے، صبح کو جب آگ ٹھنڈی ہوئی تو ہڈیوں کی راکھ کو سمیٹ کر سندھو دریا کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے دریا میں نہا کر دوپہر کا کھانا کھا کر، سیوہن کی جانب سفر کی شروعات کی۔ ہندو کے مرنے اور پھر اس کی آخری رسومات پر منریک اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے اور ایسے جملے تحریر کرتا ہے جس کو ہم یہاں دہرانا نہیں چاہیں گے۔ اس کے بس میں شاید بہت کچھ نہیں تھا اگر ہوتا تو وہ شاید بہت کچھ کر گزرتا اور اُن کو اگنی سنسکار تک کرنے نہیں دیتا۔</p>
<p>تیسرے دن سیوہن پہنچے اور کسٹم پر ٹیکس وغیرہ دےکر وہ ٹھٹہ کی طرف روانہ ہوئے۔ میں حیران ہوں کہ منریک سیوہن کے متعلق کچھ نہیں لکھتا جبکہ وہاں ایک شاندار قلعے کے آثار موجود تھے۔ بلکہ فوسٹر تو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ’ان دنوں میں سیوہن بیوپار کے لیے انتہائی شاندار بستی تھی، یہاں پر نیل بہت بڑی مقدار میں بنتی تھی البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ اُس میں مٹی کی آمیزش ہوتی تھی تو وہ کوئی اتنی اچھی کوالٹی والی نیل نہیں تھی جبکہ یہاں بافتہ کپڑے بنانے کی سو کھڈیاں ہیں جہاں اچھا کپڑا بنتا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15142630637b106.jpg'  alt='   دریائے سندھ پر ایرانی طرز کا رہٹ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے سندھ پر ایرانی طرز کا رہٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>’یہاں دیسی گھی کی فراوانی ہے، اور یہاں آفیم بڑی مقدار میں اور زبردست بنتی ہے اور مختلف بیجوں سے نکلا ہوا تیل بھی بڑی مقدار میں بازار میں آتا ہے۔ یہاں کے کسٹم کا ٹیکس دوسرے ضلعوں کی نسبت بہت سستا ہے اگر 100 من کا وزن لادے کشتی کا دوسری جگہوں پر ٹیکس 18 سے 20 روپیہ ہے تو یہاں 6 روپے ٹیکس لیتے ہیں‘۔ یقیناً تیل نکالنے کے لیے کئی کولہو بھی ہوں گے جن میں بیل اور اونٹ اپنی قسمت کی طرح سارا دن پھرتے ہوں گے مگر راستہ کوئی نہیں ملتا ہوگا کیونکہ ان کی آنکھیں جو بند ہوتی ہیں۔</p>
<p>منریک لکھتا ہے کہ ’سیوہن سے آگے ہمیں پھر ہری بھری فصلیں اور درخت نظر آئے اور اس طرح آرام سے سفر کرتے ہوئے ہم چوتھے دن اپنی منزل پر پہنچے۔ اس طرح  ہمارے ایک طویل دریائی سفر کا اختتام ہوا اور ہم سلطنتِ سندھ کے میٹروپولیٹن شہر ٹھٹہ پہنچ گئے۔ چونکہ ہم کچھ گھنٹے دیر سے پہنچے تھے اس لیے کسٹم کا عملہ جا چکا تھا اور ہم نے جہاز کسٹم محافظوں کے حوالے کیا اور ہمیں مجبوراً رات جہاز میں گزارنی پڑی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1513540835be50a.jpg'  alt='  ٹھٹہ میں دریائے سندھ کے ساحل پر کھڑی کشتیاں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹھٹہ میں دریائے سندھ کے ساحل پر کھڑی کشتیاں</figcaption>
    </figure></p>
<p>دوسرے دن منریک (یہ اندازاً 5 اکتوبر 1641ء ہفتے کا دن ہوگا) کے ساتھ جو بیوپاری آئے تھے انہوں نے منریک کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان کے سامان کو اپنا سامان کہہ کر ٹیکس سے چھوٹ دلوادے۔ مگر منریک اس پر راضی نہیں ہوا البتہ کچھ رعایتیں دلانے پر وہ ضرور راضی ہوگیا۔ پہلے وہ ٹھٹہ صوبے کے ناظم شاد خان (شاد خان کو حال ہی میں 15ویں جلوس کے دن 28 اگست 1641ء کو ترقی دی گئی تھی) سے ملا اور آصف خان کے اجازت نامے اور خط دکھائے۔ شاد خان نے ان کاغذات کو 3 بار سر پر رکھا اور 3 بار چوما۔ منریک نے جہاز میں پڑے ہوئے سامان پر رعایت دینے کی بات کی جس پر شاد خان نے فوری کسٹم کے عملے کو بلایا اور رعایت کرنے کی ہدایات دیں۔ اس کے بعد منریک نے شہر میں رہائش کے لیے جگہ کرائے پر حاصل کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15140331ce88aa8.jpg'  alt='   ٹھٹہ شہر سے مغرب کی جانب کا نظارہ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹھٹہ شہر سے مغرب کی جانب کا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان کاموں سے فارغ ہوکر وہ کشتی کے ذریعے ’لاڑی بندر‘ روانہ ہوا جو ٹھٹہ سے 2 دن کے فاصلے (40 میل) پر، مغرب میں تھا۔ منریک لکھتا نہیں ہے مگر ان زمانوں میں لاڑی بندر اور ننگر ٹھٹہ کے بیچ میں ایک بہت بڑی کارواں سرائے تھی جہاں آتے جاتے بیوپاری اور مسافر یہاں رات کو رہتے تھے کیونکہ ٹھٹہ شہر میں دریائے سندھ پر چھوٹے جہازوں اور کشتیوں کی بندرگاہ تھی۔ بڑی بیوپاری کشتیوں کے لیے اکثر کشتیاں سمندر سے یا گھارو والے انتہائی مغربی بہاؤ سے لاڑی بندر پہنچتی تھیں مگر چونکہ اشیا کی فروخت اور خریداری کے لیے ٹھٹہ آنا پڑتا تھا تو لاڑی بندر اور ٹھٹہ میں ایک نہر کے ذریعے کشتیاں آتی جاتی تھیں اور خشکی کے راستے آنے جانے والے قافلوں کے لیے بھی یہ کارواں سرائے تھی جس کا ذکر کئی یورپین اور مقامی لکھاریوں نے کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151331542b808a2.jpg'  alt='   لاڑی بندر اور ننگر ٹھٹہ کے بیچ واقع ایک بہت بڑی کارواں سرائے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لاڑی بندر اور ننگر ٹھٹہ کے بیچ واقع ایک بہت بڑی کارواں سرائے</figcaption>
    </figure></p>
<p>رات منریک نے ضرور اس کارواں سرائے میں ہی گزاری ہوگی۔ دوسرے دن شام کو وہ لاڑی پہنچا اور وہاں فادر جارج (Father Jorge de la Natividad)  سے ملا جو وہاں پرتگیز آگسٹین مشینری کا انچارج تھا۔ ان دونوں نے لاڑی بندر میں جو گرجا اور رہائش کو نقصان پہنچا تھا اُس پر تفصیل سے بات چیت کی اور 2 دنوں کے بعد یہ دونوں ٹھٹہ واپس آئے اور شاد خان سے ملے، صلاح مشورہ کیا اور تعمیر کا سامان لےکر لاڑی بندر بھیجا گیا اور تعمیراتی کام شروع ہوا۔ موسموں کا جو احوال منریک نے تحریر کیا ہے اس کے مطابق اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں وہ اسی تعمیراتی کام میں ٹھٹہ اور لاڑی بندر میں مصروف رہا ہوگا۔</p>
<p>کبھی کبھی تحریریں اپنے لکھاری کے مخالف کھڑی ہوجاتی ہیں۔ منریک کی تحریر بھی شدید غصے میں تھی جب میں نے اس سے ’شاہ جہاں نامہ‘ میں لکھی اس تحریر کے متعلق پوچھا جس میں مصنف مُلا محمد صالح کمبوہ لکھتے ہیں کہ ’برسات ختم ہونے کے بعد سیروشکار کی غرض سے شاہ جہاں تاریخ 15 شعبان 1051ھ (19 نومبر) کو کانو واہن شکار گاہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن تیسرے ہی روز شاہی خیمے میں اطلاع پہنچی کہ 17 شعبان کی شام یمین الدولہ آصف خان انتقال کرگئے اور یہ دردناک خبر سن کر بادشاہ اس دکھ میں کچھ دیر کے لیے ہوش و حواس کھو بیٹھے‘۔</p>
<p>اس تاریخ کو منریک کہاں تھا؟ منریک کی تحریر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ مگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس برس یعنی 1641ء کی سردیوں میں پنجاب اور سندھ میں اچھی بارشیں ہوئی تھیں۔ اگر منریک اپنی تحریر میں تاریخوں اور مہینوں کو تحریر کرتا جاتا تو ان لمحوں میں نہ تاریخ کے صفحات پریشان ہوتے اور نہ ہم پریشان ہوتے۔ کیونکہ آصف خان کا اس جہان سے چلا جانا، منریک کے لیے بہت بڑا نقصان تھا بلکہ ایک حوالے سے لاہور کے دروازے اس کے لیے بند ہوگئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15140849723367f.jpg'  alt='    پرتگیزوں کا بنایا ہوا سندھ کا نقشہ    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پرتگیزوں کا بنایا ہوا سندھ کا نقشہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>منریک لکھتا ہے کہ ’لاڑی بندر میں کام مکمل ہوا تو میں نے واپس لاہور جانے کے لیے سوچا مگر واپسی کے لیے دریائی سفر مجھے مشکل اور طویل لگا۔ اس لیے میں نے خشکی کے راستے جانے کا فیصلہ کیا اس لیے 2 اونٹ بھی کرائے پر حاصل کیے۔ چونکہ جاڑے کے دن تھے مگر بارش کی وجہ سے راستے خراب ہوگئے (یہ شاید جاڑوں میں بڑی بارش کا ذکر کرتا ہے جو کسی کسی برس اچھی مقدار میں پڑ جاتی ہیں) اس لیے مجھے ایک ماہ تک ٹھٹہ میں انتطار کرنا پڑا۔ میرے پاس کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں تھا اس لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس بڑے اور مصروف زندگی رکھنے والے شہر کو دیکھا جائے‘۔</p>
<p>منریک پہلے تو ٹھٹہ کی ترقی اور بیوپار کے متعلق بتاتا ہے کہ یہاں کی زمین زرخیز ہے۔ خوراک بڑی مقدار میں اُگائی جاتی ہے جیسے چاول اور گندم اور وہ کپاس کی فصل کو بڑی اراضی میں بویا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ 2 ہزار سے زیادہ کھڈیوں پر مختلف رنگوں کے کپڑوں کے بُننے کا ذکر کرتا ہے اور یہ بھی لکھتا ہے کہ اس کپڑے کی پُرتگال تک مارکیٹ ہے۔</p>
<p>وہ لکھتا ہے کہ  ’یہاں کپڑے کی ایک قسم Taffeta  بُنی جاتی ہے جو نہایت نفیس اور ملائم ہوتی ہے ایک اور قسم  Tafecirear بھی جو نہایت باریک اور ریشمی کپڑے کی بنتی ہے۔ مویشی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں چمڑے کی صنعت اپنے عروج پر ہے یہاں تک کہ یہاں سے چمڑا دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔ یہاں چمڑے پر انتہائی شاندار کام بھی ہوتا ہے۔ چمڑے سے بنے میزوں کے کور، بچھانے اور دیواروں پر لٹکانے کے لیے جو شیٹیں بنتی ہیں جن پر رنگین ریشمی مضبوط دھاگوں کا زبردست کام کیا ہوتا ہے اور ان شیٹوں کے کونوں پر جھالریں بھی بنی ہوتی ہیں اور بھی بہت ساری اشیا چمڑے سے بنائی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151336475028250.jpg'  alt='      کپڑے کی قسم Taffeta  بُنے جانے والا خواتین کا لباس      ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کپڑے کی قسم Taffeta  بُنے جانے والا خواتین کا لباس</figcaption>
    </figure></p>
<p>پرتگیز ان کو Sinde Lather  کے نام سے بُلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جو کپاس سے بھرے نرم گدے بنائے جاتے ہیں انہیں ہم Sinde mattresses  کہہ کر بلاتے ہیں۔ ان سب حقائق کی وجہ سے ٹھٹہ جو باہر کے لوگوں کی آبادی سے بھرا پڑا ہے اور اس کی بندرگاہ (لاڑی) پر ہر قسم کے سامان سے لدے ہوئے بیوپاری جہازوں کی قطاریں ہیں جو اندرون ملک سے بھی آتے ہیں اور دور دراز ممالک سے بھی، یہاں پیسوں کی ریل پیل ہے۔’</p>
<p>اس مختصر سی تحریر کے بعد وہ ان مُخنثوں کا بڑی نفرت سے اظہار کرتا ہے جو عورتوں کے کپڑے پہنے اُسے ٹھٹہ کی گلیوں میں نظر آئے تھے۔ اس کے بعد شہر کے قرب و جوار میں لگنے والے میلوں میں وہ عورتوں کی شرکت کی مخالفت کرتا ہے اور انتہائی نازیبا جملے تحریر کرتا ہے۔ مطلب کہ منریک نے ٹھٹہ میں وہ دیکھا جو اس کی آنکھیں دیکھنا چاہتی تھیں جبکہ دیکھنے کے لیے ٹھٹہ میں اور بھی بہت کچھ تھا۔ وہ عجیب طبیعت کا چڑچڑا انسان تھا جو اسے اچھا لگتا وہ درست جو اسے اچھا نہیں لگا وہ غلط۔</p>
<p>وہ یقیناً یہاں کی ثقافتی روایات سی بے بہرہ تھا ورنہ وہ ایسا کبھی تحریر نہ کرتا۔ یہاں تو ایسا ہے کہ مخنث کو احترام سے دیکھا جاتا ہے اور جب بچہ جنم لیتا ہے تو جب تک مخنثوں (جس کو مقامی زبان میں کھدڑا فقیر کہا جاتا ہے) کی ٹولی گھر پر نہ آئے اور پیدا ہونے والے بچے کے گھر کے آنگن میں گانا بجانا نہ کریں تب تک بچے کے آنے کی خوشی کو مکمل تصور نہیں کیا جاتا۔ بچے کے  گھر والے ان فقیروں کے آنے سے خوش ہوکر اُن سے دعائیں لیتے ہیں۔اور بچے کی خوشی میں گانے بجانے کے بعد مقرر رقم (جس کو لاگ کہا جاتا ہے) وہ دیتے ہیں اور ساتھ میں کپڑے بھی تحفے میں دیتے ہیں۔</p>
<p>یہ سب منریک کے لیے نیا اور خراب تھا۔ مگر مقامی لوگ ان ساری رسومات کا احترام کرتے تھے اور ابھی تک یہ رسومات چلی آرہی ہیں۔ مقامی لوگ ان رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں یہ خود منریک بھی محسوس کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ ’مقامی لوگ ان ساری حرکتوں کو اچھا سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں کو وہ دین میں بہت سارے پیسے اور خوراک دیتے ہیں۔ مگر میرے سامنے مخنثوں اور عورتوں کی آزادی کا زیادہ تذکرہ کرنا گناہ ہے‘۔</p>
<p>منریک سے تقریباً 25 برس بعد 1666ء میں ایک فرانسیسی سیاح ’تھیوناٹ‘ سورت اور اجمیر سے ہوتا ہوا مئی میں (کیونکہ اپریل 1666ء میں اس نے اجمیر میں جشن نوروز دیکھا اور پھر اپریل کی آخر یا مئی کے ابتدائی دنوں میں) وہ ٹھٹہ پہنچا کہ یہاں کی گرمی کا ذکر کرتا ہے۔ ننگر ٹھٹہ کی گلیاں اور شہر وہی تھے مگر ان کو دیکھنے اور محسوس کرنے والی آنکھیں منریک سے بالکل برعکس تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/151342448c6930e.jpg'  alt='      فرانسیسی سیاح تھیوناٹ      ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فرانسیسی سیاح تھیوناٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>وہ اپنے طویل اور تفصیلی سفرنامے کے تیسرے حصے میں لکھتا ہے کہ ’ٹھٹہ سندھ کا مشہور اور مصروف ترین شہر ہے جہاں آپ کو ہندوستان کے کئی شہروں سے آئے ہوئے بیوپاری دیکھنے کو ملیں گے جو یہاں بننے والی اشیا خریدنے کے لیے اتنا طویل سفر کر کے یہاں آتے ہیں کیونکہ یہاں کے کاریگر اپنے کام میں لاجواب ہیں۔ سندھو ندی یہاں آکر سمندر میں گرتی ہے اور یہاں کئی جزیرے ہیں جن پر ہریالی ہے اور وہاں اناج اور دوسرے فصلوں کو بویا جاتا ہے۔ یہاں کی زرخیز زمین اور فصلیں اس شہر کو شاہ کار بناتی ہیں۔ مگر یہاں گرمی بہت ہے۔ ٹھٹہ سے 2 دن کے فاصلے پر لاڑی بندر ہے جہاں ہندوستان اور دوسرے ممالک کے بڑے بڑے جہاز کھڑے ملتے ہیں۔ سارے ہندوستان میں سب سے زیادہ بہترین پالکیاں یہاں ٹھٹہ میں بنتی ہیں‘۔</p>
<p>تھیوناٹ پالکی پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’جو پیسے والے سیٹھ لوگ ہیں وہ سواری کے لیے نہ تانگہ استعمال کرتے ہیں اور نہ بیل گاڑیاں بلکہ وہ پالکیاں استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا آرام دہ صوفہ ہے جس کے 4 چھوٹے پیر ہوتے ہیں تاکہ اُس کو آرام سے زمین پر رکھا جاسکے۔ اس کو اُٹھانے کے لیے 2 لمبے بانس کے لکڑے ہوتے ہیں جو 5 سے 6 انچ موٹے اور 5، 6 فوٹ لمبے ہوتے ہیں جن سے پالکی کو اُٹھایا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15134612b9a390c.jpg'  alt='   پالکی کو اٹھانے کے لیے 4 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پالکی کو اٹھانے کے لیے 4 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگر پالکی میں کوئی عورت سفر کررہی ہوتی ہے تو اُس پالکی کو سرخ کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے اور اگر بارش کا موسم ہو تو پالکی کو مومی کپڑے سے ڈھانپتے ہیں کہ جو اندر آرامدہ اور نرم گادیلوں پر سفر کررہا ہے اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ پالکی کو بہت خوبصورت طریقوں سے سجایا جاتا ہے تاکہ یہ دور سے پُرکشش اور خوبصورت نظر آئے۔ پالکی کو اُٹھانے کے لیے 4 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ماہوار تنخواہ پر آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر سفر طویل ہے تو 4 اور آدمی ساتھ چلتے رہتے ہیں کہ پہلے والے تھک جائیں تو وہ اُٹھائیں اس لیے بڑا سفر آرام سے طے ہوجاتا ہے۔ یہاں 2 پہیوں والی گاڑی (جو آگے چل کر تانگہ اور بگھی بنیں) ’Chariot‘ جس صفائی اور خوبصورتی سے ٹھٹہ میں بنتی ہے اُس کا جواب نہیں’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1513513903f16b1.jpg'  alt='   دو پہیوں والی بیل گاڑی   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دو پہیوں والی بیل گاڑی</figcaption>
    </figure></p>
<p>تھیوناٹ ساتھ میں بیل گاڑیوں کا بھی بڑی حیرت سے ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’سب سے چھوٹی بیل گاڑیاں جن کو 2 بیل کھینچتے ہیں وہ نزدیک کی آبادیوں کے لیے سامان پہنچانے اور سواری کے کام آتی ہیں۔ اور یہاں دُور دراز شہروں سے بیوپاری سامان لانے کے لیے بہت بڑی اور وزنی بیل گاڑیاں بھی بنتی ہیں جن کو 8 سے 10 بیل کھینچتے ہیں اور بیوپاری سامان لانے اور لے جانے کے لیے محافظوں کی حفاظت میں ان بیل گاڑیوں کے قافلے نکلتے ہیں اور ہر قافلے میں 200 سے زیادہ بیل گاڑیاں شامل ہوتی ہیں‘۔</p>
<p>ٹھٹہ ایک شاندار ماضی رکھنے والا شہر رہا ہے۔ جس کی حیرت انگیز حقائق سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ یہ شاندار دن اب وقت نے ٹھٹہ کی بازاروں سے چھین لیے ہیں۔ بہرحال اس زوال کے درد کو جاننے کے لیے ہم کبھی ضرور بات کریں گے۔ فی الوقت منریک نے پورے ایک ماہ میں ٹھٹہ میں خوب مٹر گشتی کی ہے اب اسے واپس لوٹنا ہے کیونکہ سردیوں میں پڑی بارشوں کا پانی خشک ہوچکا ہے اور دن ابھی بھی ٹھنڈے ہیں اس لیے یہ وقت زمینی سفر کے لیے موزوں ہے۔</p>
<p>منریک کا قافلہ ٹھٹہ سے نکلا اور جیسلمیر سے ہوتا ہوا وہ جنوری کی ابتدا میں ملتان پہنچا جہاں اُسے نواب آصف خان کے موت کی خبر ملی اور یہ منریک کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں تھی، وہ اپنی تحریر میں آصف خان کی وفات پر نہایت رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور ساتھ میں ملتان سے لاہور جانے کا سفر بھی ملتوی کرتا ہے اور وہاں سے قندھار اور پرشیا سے ہوتا ہوا 1643ء روم پہنچتا ہے اور وہاں اپنے مذہبی کاموں اور اپنا یہ سفرنامہ لکھنے میں مصروف رہتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/15135607e25da5d.jpg'  alt='   آصف خان کی قبر   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آصف خان کی قبر</figcaption>
    </figure></p>
<p>22 برسوں کے بعد وہ انگلینڈ کے لیے نکلتا ہے جہاں اس کی خوفناک موت وہاں اس کا انتظار کررہی ہے۔ یہ وہ شب و روز تھے جب مذہبی حالات کی وجہ سے لندن شہر اتنا محفوظ نہیں تھا۔ 1669ء میں، منریک کے ایک پرتگیز ملازم ہی نے اسے قتل کرکے اس کی لاش تھیمس ندی میں پھینک دی۔ اس طرح فرے منریک کی زندگی کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔</p>
<p>اگر دیکھا جائے تو یہ سفر ہم سب کے لیے ایک یادگار سفر ثابت ہونا چاہیے کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا جب بغیر دھواں اُڑائے اور بغیر شور کے ہزاروں کشتیاں دریاؤں میں سفر کرتیں اپنی اپنی منزلوں کو پہنچتی تھیں۔ بیوپار ہوتے، شہر آباد تھے۔ مگر پھر سرمایہ داری نے ترقی کی۔ جلدی نے ہمیں ایسے شہد چٹائی کہ ہم اس کا ذائقہ چکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ہونٹوں پر زبان پھیرنے میں مصروف رہے۔ جب ذائقہ ختم ہوا تو پتا چلا کہ 60، 70 برس میں ہمیں جو فطرت نے دیا تھا ہم سب نے اس وقتی ذائقے کی خاطر برباد کردیا۔</p>
<p>ڈیم بنے دریائی سفر ختم ہوئے۔ اب یہ ہے کہ گلیشیئر بھی اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور سمندر زرخیز زمینوں پر دوڑتا چلا آرہا ہے۔ 30 سے 50 برسوں بعد جب وقت سے پہلے کی ہماری ترقی ہمیں برباد کرکے رکھ دے گی تب الفا سینٹوری پر جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا مگر وہاں سرمایہ دار ہی جاسکے گا اور ہم فقط ترقی کا نام لے کر اپنا آنگن فطرت کے انتقام کے حوالے کرچکے ہوں گے!</p>
<h1><a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حوالہ جات</h1>
<ul>
<li>’شاہ جہاں نامہ‘ (عمل صالح) ۔ ملا محمد صالح کمبوہ۔ 2013ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور</li>
<li>’تاریخ کے مسافر‘۔ ابوبکرشیخ۔ 2020ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور</li>
<li>Travels of Fray Sebastien Manrique. Vol:ii. The Hakluyt Society. Oxford. 1927.</li>
<li>The English Factories in India (1634-1636). William Foster. Oxford, London, 1911.</li>
<li>The English Factory in Sindh. Edited by: Dr. Mubarak Ali. Fiction House, Lahore. 2005.</li>
<li>The Travels of Monfieur de Thevenot into the Levant. Print in London. 1687.</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200697</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Apr 2023 14:32:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/19203237906be58.jpg?r=203259" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/19203237906be58.jpg?r=203259"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیوسائی کی دو گمنام جڑواں جھیلوں کی کھوج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200792/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ دلکش الفاظ سنتے ہی خیال کی سواری بے اختیار اس سر زمین کے سفر کو نکل پڑتی ہے جو دل کشی اور رنگینی کی الگ ہی دنیا ہے۔ ایسی دنیا جو سال کا بیشتر حصہ غیر آباد رہتی ہے یہاں تک کہ دیوسائی کے جفاکش ریچھ بھی زیر زمین چلے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ حصہ ہے جہاں موسم گرما کے 3 ماہ چہل پہل رہتی ہے اور موسم سرما میں صرف وحشت کا راج ہوتا ہے لیکن 3 ماہ کی زندگی اس خطے کو وہ رنگ پہناتی ہے کہ باقی کی ویرانی کا مداوا ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسم گرما میں جب میدانی علاقے سخت گرمی سے جل رہے ہوتے ہیں اس وقت دیوسائی کا موسم سحر انگیز رنگوں کے ساتھ ایک دل فریب قطعہ زمین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایسا قطعہ جہاں رات کو پریاں اترتی ہیں، ایسا قطعہ جہاں دن کو ایسے حسین مناظر بکھرتے ہیں جو روح کو نئی زندگی بخشتے ہیں، ایسا قطعہ جہاں موسم برسات کی جھڑی لگ جائے تو ہر طرف جل ترنگ بج اٹھتے ہیں، ایسا قطعہ جہاں دھوپ کی تمازت بدن کو گدگداتی ہے، ایسا قطعہ جو باقی دنیا سے قطعی الگ محسوس ہوتا ہے اور یہ ایسا اپنے موسموں کی وجہ سے، اپنے طبعی خدوخال کی وجہ سے، اپنے لمحہ بہ لمحہ بدلتے رنگوں کی وجہ سے، منفرد پھولوں کی وجہ سے، ان پھولوں کی ایسی خوشبو کی وجہ سے جو دنیا کے کسی عطر میں نہیں ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;482 مربع کلومیٹر کے وسیع و عریض رقبے پر محیط دنیا کی دوسری بلند ترین سطح مرتفع دیوسائی کو اگر جھیلوں کا گھر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سلسلہ کوہِ قراقرم اور سلسلہ کوہِ ہمالیہ کے درمیان واقع یہ میدان نباتاتی عجائب گھر ہونے کے ساتھ ساتھ اندازاً  30 سے زائد جھیلوں کا مسکن بھی ہے جن میں سے بیشتر تاحال پردہ گمنامی میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/1412123808fdffa.jpg'  alt='راستے میں آنے والی جھیل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راستے میں آنے والی جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ ساتھ ہم کوہ نوردوں کے ہاتھوں چند جھیلیں پردہِ گمنامی سے نکل کر دنیا کے سامنے آچکی ہیں اور ان کا سلسلہ جاری ہے اور ان شااللہ جاری بھی رہے گا۔ اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں میں کھوج لگا کر  اگست 2022ء میں 2 نئی جھیلوں کی رونمائی کا موقع ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 نئی جڑواں جھیلوں کی تلاش میں ہم 14 اگست کو دیوسائی میں واقع مشہور و معروف شیوسر جھیل کے کنارے قریبی دوست دولت خان کی کیمپ سائٹ پر خیمہ فروش ہوئے۔ رات بھر دولت خان اور ہمایوں کے ساتھ مل بیٹھ کر چائے نوشی کرتے ہوئے جھیلوں تک رسائی کا پروگرام  تشکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14102405a166585.jpg'  alt='شیوسر جھیل اور جھیل سے نکلتا پانی جو بعد میں ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کرلیتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیوسر جھیل اور جھیل سے نکلتا پانی جو بعد میں ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کرلیتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14102824b3dff02.jpg'  alt='شیوسر جھیل کے کنارے دولت خان کی کیمپنگ سائٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیوسر جھیل کے کنارے دولت خان کی کیمپنگ سائٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم 3 کوہ نوردوں کے ساتھ 2 مقامی دوست دولت خان اور فدا علی سلطانی بھی سفر کے لیے تیار ہوئے۔ رہنمائی کے لیے ڈپارٹمنٹ نیشنل پارک کے ایک اہلکار کو بھی ساتھ لے لیا کہ شاید کہیں کوئی ریچھ دکھائی دے اور پھر ہمیں نیشنل پارک کے اس دوست اہلکار کی مدد بھی لینی پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیوسائی طرح طرح کے درندوں چرندوں کی آماج گاہ ہے لہذا انسان جب بھی ان کی آماج گاہ جانے کا قصد کریں تو بہتر ہے کہ علاقے کے خدوخال کی بھرپور چھان بین کرلی جائے۔ ریچھ کے علاوہ یہاں مارموٹ (جسے مقامی زبان میں ترُشونہ کہتے ہیں) تبتی بھیڑیا، لال لومڑی، ہمالین آئی بیکس، اڑیال اور برفانی چیتے کے علاوہ پردیس سے آئے پرندے بھی ہوتے ہیں جن میں گولڈن ایگل، ڈاڑھی والا عقاب اور فیلکن قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اقسام کی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ براستہ سکردو اور براستہ استور بھی دیوسائی جایا جاسکتا ہے۔ راستہ نیشنل پارک کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے کچا ہے لہذا دیوسائی کی تسخیر کے لیے مناسب سواری کا انتظام بےحد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات قیام کے بعد علی الصبح ناشتے کے بعد ضروری کام نمٹا لیے۔ دیوسائی میں پلاننگ کرکے بھی اکثر اوقات کوئی نیا ایڈونچر دیکھنے کا موقع مل ہی جاتا ہے کیوں کہ دیوسائی کا موسم نہایت ہی ظالم ہے۔ 2 سال قبل دیوسائی میں کسارا جھیل کی تلاش میں ہمیں آسمان سے گرتے اولوں کے وار سہنے پڑے تھے کیونکہ سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ کی بلندی کی وجہ سے یہاں نہ درخت اور نہ ہی کوئی بڑی چٹانیں موجود ہیں لہذا دوڑتے ہوئے کم بلندی پر پہنچے، کچھ کم بلندی کی وجہ سے اولے بارش میں تبدیل ہوچکے تھے اور یوں قدرت نے ہماری جان بخشی فرمائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلکے بادلوں کے روبرو پیش آنے والی موسمی شدت کا اندازہ بخوبی لگاتے ہوئے ہم نے سامان سفر میں 2 عدد رک سیک تیار کیے۔ چائے بنانے والا ہائی آلٹیٹیوڈ چولہا اور کچھ بسکٹ اور برساتیاں ہمارے اس سفر کے جیسے جیون ساتھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141210345e417b1.jpg'  alt='جھیل کے کنارے کا دل موہ لینے والا منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھیل کے کنارے کا دل موہ لینے والا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیمپ سائٹ سے ہم مقامی دوستوں کی دعاؤں کے سائے میں روانہ ہوئے۔ ہمارے پیارے دوستوں نے ہمیں کامیابی اور بخیریت واپسی کی دعا دی۔ ان کی پر خلوص دعاؤں سے دامن بھر کر ہم نے انہیں الوداع کہا۔ ہمارا سفر شیوسر جھیل کے عقبی جانب چھوٹے دیوسائی کی سمت میں تھا۔ عام طور پر شیوسر جھیل کے بارے میں مشہور ہے کہ اس جھیل کے پانی کا کوئی مخرج نہیں لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141042289e5e0b3.jpg'  alt='شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت رنگ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت رنگ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14115553cf9787c.jpg'  alt='شیوسر جھیل سے نکلتا ہوا پانی کا نالہ جو کبھی بہت شدت سے بپھرا کرتا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیوسر جھیل سے نکلتا ہوا پانی کا نالہ جو کبھی بہت شدت سے بپھرا کرتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فدا علی سلطانی نے راہ چلتے ہوئے بتایا کہ 40 سال قبل جب وہ جھیل کے مخرج پر ایک مرتبہ اپنے والد کے ساتھ آئے تو پانی کی شدت کی وجہ سے انہیں اس حصے کو پار کرنے میں شدید دشواری پیش آئی لیکن اب شیوسر جھیل کے عقب میں ایک چھوٹی سی ندی کی صورت میں بہتا پانی دیوسائی کے وسیع میدان میں ہی ایک مقام پر کالا پانی کی ندی میں ضم ہوجاتا ہے۔ اس سال جھیل کا پانی کناروں سے ایک فٹ کم دکھائی دیا۔ انسانی طمع و حرص نے ان دور دراز کے قدرتی خزانوں پر بہت ہی برا اثر ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14110122d1f56e0.jpg'  alt='راہ چلنے کا ایک منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راہ چلنے کا ایک منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14110406cefca95.jpg'  alt='شیوسر جھیل کے کنارے پر موجود مختلف رنگوں کی کائی اسے خوبصورت رنگ دیتی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیوسر جھیل کے کنارے پر موجود مختلف رنگوں کی کائی اسے خوبصورت رنگ دیتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہم جلد ہی شیوسر سے دور ہوتے گئے اور ایک ایسے میدان میں داخل ہوئے جہاں زمین اسپنج کی طرح نرم تھی۔ قدم رکھنے پر دبتی تھی اور قدم اٹھانے پر پھر واپس اپنی جگہ پر آجاتی تھی۔ جگہ جگہ پر زمین میں کسی نے جیسے گڑھے کھود رکھے ہیں۔ وائلڈلائف کے ساتھی نے بتایا کہ ریچھ نے میدان میں جگہ جگہ یہ گڑھے کھودے ہیں جن میں وہ بعض اوقات اپنے شکار کو دفن کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141030426ca859a.jpg'  alt='ریچھ کے بنائے ہوئے گڑھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ریچھ کے بنائے ہوئے گڑھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14105235bfe21e7.jpg'  alt='دیوسائی کا میدان اور ہماری ٹیم' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دیوسائی کا میدان اور ہماری ٹیم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح درختوں کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے پرندوں کے گھونسلے بھی زمین پر بنے نظر آتے ہیں۔ دور دور تک لہردار ميدان، بل کھاتے پانی کے چھوٹے چھوٹے صاف و شفاف دریا اور سورج کی روشنی میں طلمساتی چمک اوڑھے پہاڑوں کی چوٹیاں یہی دیوسائی کا وہ حسن ہے جو ناقابل بیان ہے۔ ان مناظر سے دل بہلاتے ہوئے ہم ایک ٹاپ کی چڑھائی چڑھنے لگے۔ ٹاپ سے کچھ نیچے بعض دوست سگریٹ نوشی کرنے میں مصروف ہوگئے جبکہ ہمیشہ کی طرح میں نے گیان بانٹنا شروع کردیا میرے مطابق ٹریکنگ کے دوران سگریٹ نوشی خودکشی کے مترادف ہے کہ اگر ہائیکنگ کرکے بھی آپ نے اپنے شہری زنگ آلود پھیپھڑوں کو دوبارہ خراب کرنا ہے تو زندگی کا فیصلہ آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ سے کچھ نیچے 2 چھوٹی چھوٹی جھیلیں ملیں ایک جھیل بالکل آم کی شکل کی مانند دکھائی دیتی ہے اور یہاں سے شیوسر جھیل بالکل ایک لکیر کے مترادف دور سے دکھائی دے رہی تھی۔ نظارہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ لیکن بادلوں نے آگھیرا تھا اس لیے فوراً ٹاپ کی طرف چل پڑے۔ دور سے تلمیذ رک سیک لےکر لمبے راستے سے گھومتا ہوا ہماری طرف آرہا تھا۔ ہماری طرف سے اسے یہ خاص اجازت شروع میں ہی مل چکی تھی لیکن شرط یہ تھی کہ نظروں سے اوجھل نہیں ہونا لیکن موصوف نہ جانے کہاں غائب رہے اور ہمارا بلڈ پریشر بڑھانے کے بعد اچانک دور سے نظر آتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/1411103367c48de.jpg'  alt='دور سے لکیر کی مانند نظر آتی شیوسر جھیل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دور سے لکیر کی مانند نظر آتی شیوسر جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141109150e5fecb.jpg'  alt='ٹاپ سے نظر آنے والا خوبصورت نظارہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاپ سے نظر آنے والا خوبصورت نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ پر پہنچ کر کچھ دیر سستانے کا ارادہ ہوا۔ چولہا نکال کر چائے بنانے کا قصد کیا ہی تھا کہ ہلکی بارش نے آگھیرا۔ لہذا ٹاپ سے اتر کر پھر چڑھائی چڑھ کر دونوں جھیلوں تک رسائی ممکن تھی۔ البتہ ٹاپ سے جھیل اور شیر قلی ایک دل کی ساخت والی جھیل دونوں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14114925cef399a.jpg'  alt='ٹاپ سے نیچے اترتے ہوئے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاپ سے نیچے اترتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش مزيد تیز ہوتی جارہی تھی اور کسارا جھیل والا نظارہ میرے ذہن میں تھا۔ دولت خان نے میری فکر کو بھانپ لیا تھا اور ہنستے ہوئے کہا کہ ’بھٹی فکر نہ کرو آج ہمارے ٹینٹ بچ جائیں گے کیونکہ گہرا بادل ابھی تک نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اترائی اور دوباره چڑھائی کسی بھی ایڈونچر سے کم نہیں ہوتی۔ مزید 2 گھنٹے کی مسافت طے کرکے بالآخر ہم شیرقلی کی پہلی جھیل کے قرب میں پہنچ چکے تھے۔ شیرقلی کی ان جھیلوں تک رسائی کے لیے عموماً مقامی بکروال چھچھور پاس سے کچھ پہلے شیرقلی گاؤں کی طرف سے جاتے ہیں لیکن ہم نے پہلی مرتبہ شیوسر سے نقشے کی مدد سے جانے کا قصد کیا اور ہمارا اندازہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا۔ 10 سے 15 منٹ کے بعد ہم جھیل کے سامنے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14112028f96a2f5.jpg'  alt='شیرقلی کی پہلی جھیل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیرقلی کی پہلی جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141152120bad7e8.jpg'  alt='شیرقلی کی پہلی جھیل کا پہلا نظارہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیرقلی کی پہلی جھیل کا پہلا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا محسوس ہوا جیسے قدرت ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہو۔ بہت ہی خوبصورت نظارہ تھا۔ میں نے وقت کی بچت اور موسم کے پیش نظر احتیاط برتتے ہوئے قرب میں موجود دوسری جھیل پر جاکر اپنا گوپرو [کیمرا] نصب کردیا۔ بارش قدرے تیز ہوچکی تھی۔ تیر کے وی کے نشان کی مانند یہ جھیل بہت بڑی لیکن سحر انگیز تھی۔ کیا خوبصورت نظارہ تھا۔ کچھ دیر کے لیے موسم کی بدلتی انگڑائی کو بھول چکے تھے۔ جھیل کے اوپر آوارہ بادلوں کی گردش اور کنارے سے چھلکتا پانی بہت ہی دلربا منظر تھا۔ بہرحال سخت موسم نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141124353ebf83b.jpg'  alt='پہلی جھیل کے ساتھ ملحقہ شیرقلی کی دوسری جھیل' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پہلی جھیل کے ساتھ ملحقہ شیرقلی کی دوسری جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/14115359df8faa9.jpg'  alt='شیرقلی کی دوسری جھیل کا پہلا نظارہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیرقلی کی دوسری جھیل کا پہلا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141132262ac7762.jpg'  alt='پہلی جھیل کا پانی دوسری جھیل کے اندر جاتا ہوا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پہلی جھیل کا پانی دوسری جھیل کے اندر جاتا ہوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دوست پہلے سے جھیل کے قرب میں موجود ایک چٹان کی اوٹ میں ایک برساتی کی چھت بناکر چولہا جلانے میں مصروف تھے۔ شدید بھوک سے دوچار کوہ نوردوں کا برا حال تھا۔ چائے کی چسکی اور ساتھ بسکٹ تناول کرنا جیسے دنیا کی تمام نعمت مل گئیں ہوں۔ جمتے ہوئے بدن میں جیسے جان سی پڑ گئی۔ اس ایڈونچر سے ہم بھرپور لطف اندوز بھی ہوئے لیکن دیوسائی کی شدید موسمی صورتحال کا اندازہ ایک مرتبہ پھر اچھے سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141217156a6a48d.jpg'  alt='شیرقلی کی پہلی جھیل جو قدرے بڑی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیرقلی کی پہلی جھیل جو قدرے بڑی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلد ہی واپسی کا فیصلہ ہوا کیونکہ لطف اندوزی کے لمحات اب پیچھے رہ چکے تھے اور بدن کہہ رہا تھا کہ جلد از جلد کسی گرم خیمے کا مسکن مل جائے تو پھر کیا ہی بات ہے۔ ساتھ موجود دوسری جھیل پر ڈرون اڑا کر یادگار تصویریں کھینچیں اور ہمارا قافلہ اب واپسی کے لیے رواں دواں تھا۔ بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور دوبارہ چڑھائیاں اور اترائیاں چڑھتے ہوئے ہم مزید 3 گھنٹے میں شیوسر کے عقب میں جا پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/1411381388b581e.jpg'  alt='شیرقلی کی دوسری جھیل کا ڈرون کا ایک منظر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیرقلی کی دوسری جھیل کا ڈرون کا ایک منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سخت موسم کے باوجود قريباً 8 گھنٹے کی ٹریکنگ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ مقامی دوستوں کے مطابق ہم چلنے میں ان سے کم نہ تھے۔ تعریفوں کے پل باندھتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے، شیوسر کے کناروں سے چھلکتے ہوئے پانی، کناروں پر اُگی گھاس کی سرسراہٹ کی پرسکون آوازیں سنتے ہوئے اپنے خیموں کی طرف رواں دواں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14104950b2d3e6d.jpg'  alt='شیوسر کے کنارے گھاس پر چلتے ہوئے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شیوسر کے کنارے گھاس پر چلتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مقامات کا تعارف کروانے کے پیچھے ایک امید یہ بھی دامنِ دل میں سر اٹھاتی ہے کہ کاش پاکستان کی خوبصورتی کا ہمیں احساس ہو اور ہم اس ارضِ پاک کی قدر کر سکیں۔ ان دور دراز کے خوبصورت علاقوں میں کھربوں روپے کی سیاحت چھپی ہوئی ہے۔ اہل اختیار کی نظرِکرم کی منتظر یہ حسین وادیاں اپنے قدردانوں کے انتظار میں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ دلکش الفاظ سنتے ہی خیال کی سواری بے اختیار اس سر زمین کے سفر کو نکل پڑتی ہے جو دل کشی اور رنگینی کی الگ ہی دنیا ہے۔ ایسی دنیا جو سال کا بیشتر حصہ غیر آباد رہتی ہے یہاں تک کہ دیوسائی کے جفاکش ریچھ بھی زیر زمین چلے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ وہ حصہ ہے جہاں موسم گرما کے 3 ماہ چہل پہل رہتی ہے اور موسم سرما میں صرف وحشت کا راج ہوتا ہے لیکن 3 ماہ کی زندگی اس خطے کو وہ رنگ پہناتی ہے کہ باقی کی ویرانی کا مداوا ہوجاتا ہے۔</p>
<p>موسم گرما میں جب میدانی علاقے سخت گرمی سے جل رہے ہوتے ہیں اس وقت دیوسائی کا موسم سحر انگیز رنگوں کے ساتھ ایک دل فریب قطعہ زمین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایسا قطعہ جہاں رات کو پریاں اترتی ہیں، ایسا قطعہ جہاں دن کو ایسے حسین مناظر بکھرتے ہیں جو روح کو نئی زندگی بخشتے ہیں، ایسا قطعہ جہاں موسم برسات کی جھڑی لگ جائے تو ہر طرف جل ترنگ بج اٹھتے ہیں، ایسا قطعہ جہاں دھوپ کی تمازت بدن کو گدگداتی ہے، ایسا قطعہ جو باقی دنیا سے قطعی الگ محسوس ہوتا ہے اور یہ ایسا اپنے موسموں کی وجہ سے، اپنے طبعی خدوخال کی وجہ سے، اپنے لمحہ بہ لمحہ بدلتے رنگوں کی وجہ سے، منفرد پھولوں کی وجہ سے، ان پھولوں کی ایسی خوشبو کی وجہ سے جو دنیا کے کسی عطر میں نہیں ملے گی۔</p>
<p>482 مربع کلومیٹر کے وسیع و عریض رقبے پر محیط دنیا کی دوسری بلند ترین سطح مرتفع دیوسائی کو اگر جھیلوں کا گھر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سلسلہ کوہِ قراقرم اور سلسلہ کوہِ ہمالیہ کے درمیان واقع یہ میدان نباتاتی عجائب گھر ہونے کے ساتھ ساتھ اندازاً  30 سے زائد جھیلوں کا مسکن بھی ہے جن میں سے بیشتر تاحال پردہ گمنامی میں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/1412123808fdffa.jpg'  alt='راستے میں آنے والی جھیل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راستے میں آنے والی جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<p>وقت کے ساتھ ساتھ ہم کوہ نوردوں کے ہاتھوں چند جھیلیں پردہِ گمنامی سے نکل کر دنیا کے سامنے آچکی ہیں اور ان کا سلسلہ جاری ہے اور ان شااللہ جاری بھی رہے گا۔ اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں میں کھوج لگا کر  اگست 2022ء میں 2 نئی جھیلوں کی رونمائی کا موقع ملا۔</p>
<p>2 نئی جڑواں جھیلوں کی تلاش میں ہم 14 اگست کو دیوسائی میں واقع مشہور و معروف شیوسر جھیل کے کنارے قریبی دوست دولت خان کی کیمپ سائٹ پر خیمہ فروش ہوئے۔ رات بھر دولت خان اور ہمایوں کے ساتھ مل بیٹھ کر چائے نوشی کرتے ہوئے جھیلوں تک رسائی کا پروگرام  تشکیل دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14102405a166585.jpg'  alt='شیوسر جھیل اور جھیل سے نکلتا پانی جو بعد میں ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کرلیتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیوسر جھیل اور جھیل سے نکلتا پانی جو بعد میں ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کرلیتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14102824b3dff02.jpg'  alt='شیوسر جھیل کے کنارے دولت خان کی کیمپنگ سائٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیوسر جھیل کے کنارے دولت خان کی کیمپنگ سائٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم 3 کوہ نوردوں کے ساتھ 2 مقامی دوست دولت خان اور فدا علی سلطانی بھی سفر کے لیے تیار ہوئے۔ رہنمائی کے لیے ڈپارٹمنٹ نیشنل پارک کے ایک اہلکار کو بھی ساتھ لے لیا کہ شاید کہیں کوئی ریچھ دکھائی دے اور پھر ہمیں نیشنل پارک کے اس دوست اہلکار کی مدد بھی لینی پڑے۔</p>
<p>دیوسائی طرح طرح کے درندوں چرندوں کی آماج گاہ ہے لہذا انسان جب بھی ان کی آماج گاہ جانے کا قصد کریں تو بہتر ہے کہ علاقے کے خدوخال کی بھرپور چھان بین کرلی جائے۔ ریچھ کے علاوہ یہاں مارموٹ (جسے مقامی زبان میں ترُشونہ کہتے ہیں) تبتی بھیڑیا، لال لومڑی، ہمالین آئی بیکس، اڑیال اور برفانی چیتے کے علاوہ پردیس سے آئے پرندے بھی ہوتے ہیں جن میں گولڈن ایگل، ڈاڑھی والا عقاب اور فیلکن قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اقسام کی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ براستہ سکردو اور براستہ استور بھی دیوسائی جایا جاسکتا ہے۔ راستہ نیشنل پارک کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے کچا ہے لہذا دیوسائی کی تسخیر کے لیے مناسب سواری کا انتظام بےحد ضروری ہے۔</p>
<p>رات قیام کے بعد علی الصبح ناشتے کے بعد ضروری کام نمٹا لیے۔ دیوسائی میں پلاننگ کرکے بھی اکثر اوقات کوئی نیا ایڈونچر دیکھنے کا موقع مل ہی جاتا ہے کیوں کہ دیوسائی کا موسم نہایت ہی ظالم ہے۔ 2 سال قبل دیوسائی میں کسارا جھیل کی تلاش میں ہمیں آسمان سے گرتے اولوں کے وار سہنے پڑے تھے کیونکہ سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ کی بلندی کی وجہ سے یہاں نہ درخت اور نہ ہی کوئی بڑی چٹانیں موجود ہیں لہذا دوڑتے ہوئے کم بلندی پر پہنچے، کچھ کم بلندی کی وجہ سے اولے بارش میں تبدیل ہوچکے تھے اور یوں قدرت نے ہماری جان بخشی فرمائی۔</p>
<p>ہلکے بادلوں کے روبرو پیش آنے والی موسمی شدت کا اندازہ بخوبی لگاتے ہوئے ہم نے سامان سفر میں 2 عدد رک سیک تیار کیے۔ چائے بنانے والا ہائی آلٹیٹیوڈ چولہا اور کچھ بسکٹ اور برساتیاں ہمارے اس سفر کے جیسے جیون ساتھی تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141210345e417b1.jpg'  alt='جھیل کے کنارے کا دل موہ لینے والا منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھیل کے کنارے کا دل موہ لینے والا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>کیمپ سائٹ سے ہم مقامی دوستوں کی دعاؤں کے سائے میں روانہ ہوئے۔ ہمارے پیارے دوستوں نے ہمیں کامیابی اور بخیریت واپسی کی دعا دی۔ ان کی پر خلوص دعاؤں سے دامن بھر کر ہم نے انہیں الوداع کہا۔ ہمارا سفر شیوسر جھیل کے عقبی جانب چھوٹے دیوسائی کی سمت میں تھا۔ عام طور پر شیوسر جھیل کے بارے میں مشہور ہے کہ اس جھیل کے پانی کا کوئی مخرج نہیں لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141042289e5e0b3.jpg'  alt='شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت رنگ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت رنگ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14115553cf9787c.jpg'  alt='شیوسر جھیل سے نکلتا ہوا پانی کا نالہ جو کبھی بہت شدت سے بپھرا کرتا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیوسر جھیل سے نکلتا ہوا پانی کا نالہ جو کبھی بہت شدت سے بپھرا کرتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>فدا علی سلطانی نے راہ چلتے ہوئے بتایا کہ 40 سال قبل جب وہ جھیل کے مخرج پر ایک مرتبہ اپنے والد کے ساتھ آئے تو پانی کی شدت کی وجہ سے انہیں اس حصے کو پار کرنے میں شدید دشواری پیش آئی لیکن اب شیوسر جھیل کے عقب میں ایک چھوٹی سی ندی کی صورت میں بہتا پانی دیوسائی کے وسیع میدان میں ہی ایک مقام پر کالا پانی کی ندی میں ضم ہوجاتا ہے۔ اس سال جھیل کا پانی کناروں سے ایک فٹ کم دکھائی دیا۔ انسانی طمع و حرص نے ان دور دراز کے قدرتی خزانوں پر بہت ہی برا اثر ڈالا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14110122d1f56e0.jpg'  alt='راہ چلنے کا ایک منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راہ چلنے کا ایک منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14110406cefca95.jpg'  alt='شیوسر جھیل کے کنارے پر موجود مختلف رنگوں کی کائی اسے خوبصورت رنگ دیتی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیوسر جھیل کے کنارے پر موجود مختلف رنگوں کی کائی اسے خوبصورت رنگ دیتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس مقام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہم جلد ہی شیوسر سے دور ہوتے گئے اور ایک ایسے میدان میں داخل ہوئے جہاں زمین اسپنج کی طرح نرم تھی۔ قدم رکھنے پر دبتی تھی اور قدم اٹھانے پر پھر واپس اپنی جگہ پر آجاتی تھی۔ جگہ جگہ پر زمین میں کسی نے جیسے گڑھے کھود رکھے ہیں۔ وائلڈلائف کے ساتھی نے بتایا کہ ریچھ نے میدان میں جگہ جگہ یہ گڑھے کھودے ہیں جن میں وہ بعض اوقات اپنے شکار کو دفن کردیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141030426ca859a.jpg'  alt='ریچھ کے بنائے ہوئے گڑھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ریچھ کے بنائے ہوئے گڑھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14105235bfe21e7.jpg'  alt='دیوسائی کا میدان اور ہماری ٹیم' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دیوسائی کا میدان اور ہماری ٹیم</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس طرح درختوں کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے پرندوں کے گھونسلے بھی زمین پر بنے نظر آتے ہیں۔ دور دور تک لہردار ميدان، بل کھاتے پانی کے چھوٹے چھوٹے صاف و شفاف دریا اور سورج کی روشنی میں طلمساتی چمک اوڑھے پہاڑوں کی چوٹیاں یہی دیوسائی کا وہ حسن ہے جو ناقابل بیان ہے۔ ان مناظر سے دل بہلاتے ہوئے ہم ایک ٹاپ کی چڑھائی چڑھنے لگے۔ ٹاپ سے کچھ نیچے بعض دوست سگریٹ نوشی کرنے میں مصروف ہوگئے جبکہ ہمیشہ کی طرح میں نے گیان بانٹنا شروع کردیا میرے مطابق ٹریکنگ کے دوران سگریٹ نوشی خودکشی کے مترادف ہے کہ اگر ہائیکنگ کرکے بھی آپ نے اپنے شہری زنگ آلود پھیپھڑوں کو دوبارہ خراب کرنا ہے تو زندگی کا فیصلہ آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔</p>
<p>ٹاپ سے کچھ نیچے 2 چھوٹی چھوٹی جھیلیں ملیں ایک جھیل بالکل آم کی شکل کی مانند دکھائی دیتی ہے اور یہاں سے شیوسر جھیل بالکل ایک لکیر کے مترادف دور سے دکھائی دے رہی تھی۔ نظارہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ لیکن بادلوں نے آگھیرا تھا اس لیے فوراً ٹاپ کی طرف چل پڑے۔ دور سے تلمیذ رک سیک لےکر لمبے راستے سے گھومتا ہوا ہماری طرف آرہا تھا۔ ہماری طرف سے اسے یہ خاص اجازت شروع میں ہی مل چکی تھی لیکن شرط یہ تھی کہ نظروں سے اوجھل نہیں ہونا لیکن موصوف نہ جانے کہاں غائب رہے اور ہمارا بلڈ پریشر بڑھانے کے بعد اچانک دور سے نظر آتے دکھائی دیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/1411103367c48de.jpg'  alt='دور سے لکیر کی مانند نظر آتی شیوسر جھیل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دور سے لکیر کی مانند نظر آتی شیوسر جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141109150e5fecb.jpg'  alt='ٹاپ سے نظر آنے والا خوبصورت نظارہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاپ سے نظر آنے والا خوبصورت نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹاپ پر پہنچ کر کچھ دیر سستانے کا ارادہ ہوا۔ چولہا نکال کر چائے بنانے کا قصد کیا ہی تھا کہ ہلکی بارش نے آگھیرا۔ لہذا ٹاپ سے اتر کر پھر چڑھائی چڑھ کر دونوں جھیلوں تک رسائی ممکن تھی۔ البتہ ٹاپ سے جھیل اور شیر قلی ایک دل کی ساخت والی جھیل دونوں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14114925cef399a.jpg'  alt='ٹاپ سے نیچے اترتے ہوئے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاپ سے نیچے اترتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>بارش مزيد تیز ہوتی جارہی تھی اور کسارا جھیل والا نظارہ میرے ذہن میں تھا۔ دولت خان نے میری فکر کو بھانپ لیا تھا اور ہنستے ہوئے کہا کہ ’بھٹی فکر نہ کرو آج ہمارے ٹینٹ بچ جائیں گے کیونکہ گہرا بادل ابھی تک نہیں ہے‘۔</p>
<p>اترائی اور دوباره چڑھائی کسی بھی ایڈونچر سے کم نہیں ہوتی۔ مزید 2 گھنٹے کی مسافت طے کرکے بالآخر ہم شیرقلی کی پہلی جھیل کے قرب میں پہنچ چکے تھے۔ شیرقلی کی ان جھیلوں تک رسائی کے لیے عموماً مقامی بکروال چھچھور پاس سے کچھ پہلے شیرقلی گاؤں کی طرف سے جاتے ہیں لیکن ہم نے پہلی مرتبہ شیوسر سے نقشے کی مدد سے جانے کا قصد کیا اور ہمارا اندازہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا۔ 10 سے 15 منٹ کے بعد ہم جھیل کے سامنے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14112028f96a2f5.jpg'  alt='شیرقلی کی پہلی جھیل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیرقلی کی پہلی جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141152120bad7e8.jpg'  alt='شیرقلی کی پہلی جھیل کا پہلا نظارہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیرقلی کی پہلی جھیل کا پہلا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایسا محسوس ہوا جیسے قدرت ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہو۔ بہت ہی خوبصورت نظارہ تھا۔ میں نے وقت کی بچت اور موسم کے پیش نظر احتیاط برتتے ہوئے قرب میں موجود دوسری جھیل پر جاکر اپنا گوپرو [کیمرا] نصب کردیا۔ بارش قدرے تیز ہوچکی تھی۔ تیر کے وی کے نشان کی مانند یہ جھیل بہت بڑی لیکن سحر انگیز تھی۔ کیا خوبصورت نظارہ تھا۔ کچھ دیر کے لیے موسم کی بدلتی انگڑائی کو بھول چکے تھے۔ جھیل کے اوپر آوارہ بادلوں کی گردش اور کنارے سے چھلکتا پانی بہت ہی دلربا منظر تھا۔ بہرحال سخت موسم نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141124353ebf83b.jpg'  alt='پہلی جھیل کے ساتھ ملحقہ شیرقلی کی دوسری جھیل' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پہلی جھیل کے ساتھ ملحقہ شیرقلی کی دوسری جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/14115359df8faa9.jpg'  alt='شیرقلی کی دوسری جھیل کا پہلا نظارہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیرقلی کی دوسری جھیل کا پہلا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141132262ac7762.jpg'  alt='پہلی جھیل کا پانی دوسری جھیل کے اندر جاتا ہوا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پہلی جھیل کا پانی دوسری جھیل کے اندر جاتا ہوا</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ دوست پہلے سے جھیل کے قرب میں موجود ایک چٹان کی اوٹ میں ایک برساتی کی چھت بناکر چولہا جلانے میں مصروف تھے۔ شدید بھوک سے دوچار کوہ نوردوں کا برا حال تھا۔ چائے کی چسکی اور ساتھ بسکٹ تناول کرنا جیسے دنیا کی تمام نعمت مل گئیں ہوں۔ جمتے ہوئے بدن میں جیسے جان سی پڑ گئی۔ اس ایڈونچر سے ہم بھرپور لطف اندوز بھی ہوئے لیکن دیوسائی کی شدید موسمی صورتحال کا اندازہ ایک مرتبہ پھر اچھے سے ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/141217156a6a48d.jpg'  alt='شیرقلی کی پہلی جھیل جو قدرے بڑی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیرقلی کی پہلی جھیل جو قدرے بڑی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جلد ہی واپسی کا فیصلہ ہوا کیونکہ لطف اندوزی کے لمحات اب پیچھے رہ چکے تھے اور بدن کہہ رہا تھا کہ جلد از جلد کسی گرم خیمے کا مسکن مل جائے تو پھر کیا ہی بات ہے۔ ساتھ موجود دوسری جھیل پر ڈرون اڑا کر یادگار تصویریں کھینچیں اور ہمارا قافلہ اب واپسی کے لیے رواں دواں تھا۔ بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور دوبارہ چڑھائیاں اور اترائیاں چڑھتے ہوئے ہم مزید 3 گھنٹے میں شیوسر کے عقب میں جا پہنچے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/1411381388b581e.jpg'  alt='شیرقلی کی دوسری جھیل کا ڈرون کا ایک منظر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیرقلی کی دوسری جھیل کا ڈرون کا ایک منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>سخت موسم کے باوجود قريباً 8 گھنٹے کی ٹریکنگ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ مقامی دوستوں کے مطابق ہم چلنے میں ان سے کم نہ تھے۔ تعریفوں کے پل باندھتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے، شیوسر کے کناروں سے چھلکتے ہوئے پانی، کناروں پر اُگی گھاس کی سرسراہٹ کی پرسکون آوازیں سنتے ہوئے اپنے خیموں کی طرف رواں دواں تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/04/14104950b2d3e6d.jpg'  alt='شیوسر کے کنارے گھاس پر چلتے ہوئے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شیوسر کے کنارے گھاس پر چلتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان مقامات کا تعارف کروانے کے پیچھے ایک امید یہ بھی دامنِ دل میں سر اٹھاتی ہے کہ کاش پاکستان کی خوبصورتی کا ہمیں احساس ہو اور ہم اس ارضِ پاک کی قدر کر سکیں۔ ان دور دراز کے خوبصورت علاقوں میں کھربوں روپے کی سیاحت چھپی ہوئی ہے۔ اہل اختیار کی نظرِکرم کی منتظر یہ حسین وادیاں اپنے قدردانوں کے انتظار میں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200792</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Apr 2023 13:01:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نصر احمد بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/14102405a166585.jpg?r=002148" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/14102405a166585.jpg?r=002148"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/141042289e5e0b3.jpg?r=002148" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/141042289e5e0b3.jpg?r=002148"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/14115553cf9787c.jpg?r=002148" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/14115553cf9787c.jpg?r=002148"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/1412123808fdffa.jpg?r=002148" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/1412123808fdffa.jpg?r=002148"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/141217156a6a48d.jpg?r=002148" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/141217156a6a48d.jpg?r=002148"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: گلگت کی گلیوں میں (ساتویں قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200361/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;شاہراہِ قراقرم پر دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں کا مقام اتصال اور اس کی یادگار آدھی رات کے اندھیرے میں گزر گئی اور ہم گلگت کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ذرا سا اور آگے بڑھے ہوں گے کہ اسکردو موڑ آگیا۔ یہاں شاہراہِ قراقرم سے دائیں ہاتھ کو ایک پتلی سی سڑک الگ ہوکر نیچے گہرائی میں دریائے گلگت کی جانب جاتی نظر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سڑک کافی نیچے جاکر  ایک آہنی پل پر سے دریا کو عبور کرتی ہے اور دوسری طرف کے بلند و بالا سنگلاخ پہاڑوں سے چمٹی ہوئی دائیں طرف چلی جاتی ہے اور ذرا آگے دریائے گلگت اور دریائے سندھ کے سنگم پر پہنچ کر بائیں سمت دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس طرف مڑ جاتی ہے جہاں سے دریا آرہا ہے۔ یہ اسکردو روڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121520219fbff18.jpg'  alt='  اسکردو روڈ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکردو روڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1215170750eb952.jpg'  alt='  اسکردو روڈ دنیا کی چند خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکردو روڈ دنیا کی چند خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12150619baaf30f.jpg'  alt='  اسکردو روڈ پر گاڑیاں اس کے غیض و غضب سے بچتی بچاتی سہمتی سمٹتی آگے بڑھتی ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکردو روڈ پر گاڑیاں اس کے غیض و غضب سے بچتی بچاتی سہمتی سمٹتی آگے بڑھتی ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن دنوں اس مقام سے اسکردو تک 7، 8 گھنٹے کا سفر ہوا کرتا تھا۔ اسکردو روڈ دنیا کی چند خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ یہاں دریائے سندھ کی راہگزر دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان بہت تنگ ہے اور اسی تنگ جگہ میں سے اسکردو روڈ کو بھی گزارا گیا ہے۔ یہاں دریائے سندھ سڑک کے ساتھ ساتھ عمودی گہرائیوں میں گرجتا گونجتا جھاگ اڑاتا شور مچاتا بہتا ہے اور اسکردو روڈ پر گاڑیاں اس کے غیض و غضب سے بچتی بچاتی سہمتی سمٹتی آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں سے اسکردو  کا فاصلہ پونے 200 کلومیٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس وقت تو آدھی رات ہو رہی تھی اس لیے دریائے گلگت پر معلق ’عالم پل‘ اور دریا پار جانے والی اسکردو روڈ، دونوں اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے، البتہ 2 سال بعد 1988ء میں  اسی روڈ پر ایک ویگن میں اسکردو گیا تھا۔ اسکردو روڈ کی تنگی و اونچائی اور دریائے سندھ کی گہرائی و غضب ناکی سے بچتی بچاتی ویگن میں 7، 8 گھنٹے کا وہ تھکا دینے والا سفر کرکے جب میں شام کو اسکردو پہنچا تو یوں لگا جیسے اب یہاں سے واپس  جانا ممکن ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121508287797de7.jpg'  alt='  دریائے گلگت پر معلق عالم پل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے گلگت پر معلق عالم پل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12150947488b25b.jpg'  alt='  عالم پل اسکردو روڈ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عالم پل اسکردو روڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12152752d6114eb.jpg'  alt='  اسکردو شہر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکردو شہر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس وقت کا اسکردو دنیا سے کٹا ہوا ایک خاموش اور پراسرار سا قصبہ تھا کہ جہاں مقامیوں کے علاوہ صرف غیر ملکی کوہ پیما ہی آیا کرتے تھے۔ یہیں سے وہ کے ٹو کی چوٹی سر کرنے، کنکورڈیا میں مارے مارے پھرنے اور خپلو، شگر اور کھرمنگ کی دور افتادہ دل فریب وادیوں میں بھٹکنے جاتے تھے۔ میں یہاں اپنے ایک دوست کے واقف کار سواتی تاجروں کے ڈیرے پر مہمان ٹھہرا۔ دن بھر میں اسکردو اور اس کے مضافات میں آوارہ گردی کرتا اور شام کو ڈیرے پر واپس پہنچ جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دن میں شنگریلا ہوٹل اور کچورہ جھیل دیکھنے کے لیے اسکردو سے نکلا اور پیدل ہی رواں دواں ہوگیا، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ کچورہ جھیل اسکردو سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے لیکن میں پھر بھی ویران سڑک پر خراماں خراماں چلتا رہا۔ خاصی دیر پیدل چلنے کے بعد ایک جگہ سستانے کے لیے رکا۔ میرا اندازہ تھا کہ 8، 10 کلومیٹر چل لیا ہوں گا۔ وہاں کھڑے ہوئے چند ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ اسکردو کی طرف سے ایک تیز رفتار سوزوکی پک اپ آئی اور میرے قریب آکر کھڑی ہوگئی۔ گاڑی میں فل والیوم پر کوئی فلمی گانا بج رہا تھا۔ ڈرائیور ایک نوجوان تھا۔ اس نے ٹیپ ریکارڈر کی آواز کم کی اور بولا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کدھر جانا ہے بھائی جان؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’شنگریلا‘ میں بولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’وہ تو ابھی بہت دور ہے ۔ آپ گاڑی میں بیٹھو میں آپ کو اس کے قریب چھوڑ دوں گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں تو پیدل چلتے چلتے ویسے ہی تھک چکا تھا۔ جھٹ دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس نے ٹیپ ریکارڈر کا والیوم پھر فل کیا اور گاڑی شنگریلا کی طرف فراٹے بھرنے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری منزل سے 2، 3 کلومیٹر پہلے اسے ایک گاؤں کی طرف مڑ جانا تھا۔ اس نے مجھے سڑک پر اتارا اور سامنے والے پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے بولا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’شنگریلا ہوٹل اس پہاڑ کے نیچے ہے، زیادہ دور نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر سڑک پر چل پڑا ۔ تھوڑی دیر میں میں اس پہاڑ کے قریب پہنچا۔ یہاں ایک کچی سڑک اوپر کی جانب جارہی تھی۔ میں اس پر چڑھنے لگا۔ تھوڑا سا ہی اوپر آیا ہوں گا کہ یکایک ایک دلکش و دلفریب منظر  آنکھوں کے سامنے پھیل گیا۔ سبزے میں گھری ہوئی نیلگوں پانی کی ایک خوبصورت جھیل اور اس کے اطراف میں درختوں کے جھنڈ میں نیم پوشیدہ چینی طرز کی تکونی چھتوں والی خوبصورت عمارات جن کے پس منظر میں چھائے ہوئے بلند و بالا پہاڑ۔ یہ شمالی علاقوں کا مشہور و معروف شنگریلا ہوٹل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12145342b7a1b5d.jpg'  alt='  اسکردو کا مشہور شنگریلا ہوٹل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکردو کا مشہور شنگریلا ہوٹل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگریلا ہوٹل ایئر مارشل اصغر خان کے بھائی بریگیڈیئر اسلم  نے 1983ء میں قائم کیا تھا۔ اس کا نام ’شنگریلا‘ انگریز ناول نگار جیمز ہلٹن (James Hilton) کے مشہور ناول Lost Horizon سے لیا گیا ہے۔ یہ ناول ایک ایسے ہوائی جہاز کے مسافروں کی کہانی ہے جو نامعلوم بلند و بالا پہاڑی وادیوں میں گر جاتا ہے۔ اس کے زندہ بچ جانے والے مسافروں کو یہاں کچھ بدھ بھکشو مل جاتے ہیں جو انہیں ایک ایسی دل فریب جنت نما جگہ لے جاتے ہیں جہاں انہیں انواع و اقسام کی نعمتیں ملتی ہیں۔ اس جگہ کا نام ’شنگریلا‘ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریگیڈیئر اسلم نے نہ صرف یہ کہ اپنے ہوٹل کا نام شنگریلا رکھا بلکہ ناول سے مزید مماثل کرنے کے لیے اوریئنٹ ایئر لائن کا ایک خراب جہاز بھی خرید کر یہاں لا کھڑا کیا۔ اس جہاز کے اندر میز کرسیاں لگا کر اسے ایک انوکھے ریسٹورنٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ بریگیڈیئر اسلم کا شنگریلا ہوٹل یا جیمز ہلٹن کی گمشدہ جنت میرے سامنے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12150447b97a973.jpg'  alt='  شنگریلا کا ہوائی جہاز ریسٹورنٹ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شنگریلا کا ہوائی جہاز ریسٹورنٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگریلا ایک مہنگا ہوٹل ہے۔ 1988ء میں جب کسی عام ہوٹل میں 100، 50 روپے کا کمرہ مل جاتا تھا، اس وقت شینگریلا میں کمرہ 3 ہزار روپے کا تھا۔ (آج کل 40، 50 ہزار روپے ہے غالباًً)۔ میں کچھ دیر یہاں گھومتا پھرتا رہا، جہاز کے ریسٹورنٹ میں جھانکا، جھیل کے گرد ایک چکر لگایا، البتہ کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس بھی نہیں توڑا اور چنانچہ صحیح سلامت واپس نکل آیا۔ شام گہری ہوگئی تھی اس لیے اسکردو واپسی کے لیے پیدل ایڈونچر کا خیال ترک کیا اور ایک لوکل پک اپ میں بیٹھ کر شہر واپس آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت سے اسکردو آتے ہوئے خطرناک روڈ پر سفر کے بعد اب اسلام آباد واپسی کے لیے دوبارہ اسی راستے پر  واپس جانے سے ہول اٹھ رہا تھا، اس لیے میں نے پی آئی اے آفس جاکر اسلام آباد کے لیے اگلے دن کا ایئر ٹکٹ خرید لیا (جو  غالبًا 300 روپے کا تھا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121439577aeb1a3.jpg'  alt='  اسکردو ایئرپورٹ کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اسکردو ایئرپورٹ کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی صبح میں اسکردو ایئرپورٹ پر موجود دیگر مسافروں کے ساتھ اسلام آباد سے آنے والے جہاز کی آمد کا منتظر تھا۔ وقت آگیا، وقت گزرتا رہا اور بالآخر وقت گزر بھی گیا، مگر جہاز نہیں آیا۔ پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں پر موسم خراب ہو جانے کے باعث آج کی فلائٹ معطل ہوچکی تھی۔ بکنگ آفس سے ہمیں ٹکٹ کے پیسے واپس کر دیے گئے اور  ہم  مایوس ہوکر شہر واپس آگئے۔ اگلے دن کی فلائٹ کا بھی کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ میں نے طوعاً و کرہاً بس اڈے پر جا کر گلگت کا ٹکٹ لے لیا اور ویگن کی اگلی سیٹ پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا۔ 7، 8 گھنٹے کا خوفناک سفر ایک بار پھر میرا منتظر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ تو میں نے 2 سال بعد کا قصہ سنا دیا۔ اِس وقت تو میں پہلی بار گلگت جارہا تھا اور یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ اسکردو موڑ پیچھے رہ گیا تھا اور ہم دریائے گلگت کے ساتھ ساتھ پڑی بنگلہ کے ویران سے قصبے سے گزرتے ہوئے گلگت کی طرف بڑھ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت شہر سے پہلے شاہراہِ قراقرم دائیں طرف مڑ گئی جہاں اسے دریا کو عبور کرکے دوسری طرف قراقرم کے پہاڑوں میں چلتے ہوئے وادی ہنزہ اور درّہ خنجراب سے ہوتے ہوئے چین کی طرف نکل جانا تھا۔ گلگت شہر شاہراہ قراقرم سے ذرا ہٹ کر آباد ہے۔ کچھ ہی دیر بعد ہم گلگت شہر میں داخل ہوگئے۔ بس کسی اندھیرے اسٹاپ پر آکر رک گئی۔ اونگھتے جاگتے مسافر قدموں کو بس کے فرش پر  مارتے دھپ دھپ کرتےنیچے اترنے لگے۔ بس میں سے اترنے والے سب سے آخری مسافر ہم 4 تھے۔ہمارے اترتے ہی بس بھی خدا جانے کہاں چلی گئی۔ رات کے 3 بج رہے تھے۔ سارے  مقامی مسافر گلگت کی اندھیری گلیوں میں گم ہوگئے۔ ہم سڑک پر اکیلے کھڑے رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاح کا کسی نئے مقام پر رات گئے پہنچنا عام طور پر پریشان کُن ہوتا ہے۔ ایک تو وہ علاقے سے واقف نہیں ہوتا، دوسرے ہوٹل وغیرہ بھی بند ملتے ہیں۔ چنانچہ وہ شدید کسمپرسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ گلگت میں بھی ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ شاہراہِ قراقرم کے خوفناک پہاڑی راستے پر موڑ درموڑ گھومتی ہوئی بس میں سفر کرتے کرتے ہمارا دماغ ویسے ہی گھوم چکا تھا اور اب یہاں آدھی رات کو  گلگت میں  تھکن اور غنودگی سے لڑکھڑاتے باہر نکلے تو یہاں کوئی ہمارا منتظر نہ تھا۔ سارے مسافر اپنا اپنا سامان اٹھائے غائب ہوگئے اور  ہم چاروں اپنے اپنے تھیلے لٹکائے ویران سڑک پر کھڑے ہوکر ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ تھی مگر اس وقت یہاں ہو کا عالم تھا۔ کہیں کہیں کسی اسٹریٹ لائٹ کا پیلا بلب اپنی کمزور روشنی کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے ماحول کو مزید پراسرار بنا رہا تھا۔  اس طرح چند ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ دور سے وسل کی آواز سنائی دی۔ غور کیا تو کچھ فاصلے پر ایک ہیولا ساحرکت کرتا نظر آیا۔ یہ رات کے گشت پر کوئی سپاہی تھا۔ ہم تیزی سے اس کی طرف لپکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12152438e10902c.jpg'  alt='  گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سپاہی بڑا مدد گار ثابت ہوا۔ اس نے ہمیں ساتھ لیا اورکچھ دور پیدل چل کر ایک  جدید خوبصورت عمارت کے سامنے پہنچ گیا۔ یہ گلگت کا معروف ’پارک ہوٹل‘ تھا۔ہوٹل کا مرکزی دروازہ بند تھا۔ پولیس والے کے بار بار کھٹکھٹانے پر دروازہ کھلا اور ہوٹل کا ایک ملازم آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا۔ ہمیں سامان لٹکائے دیکھ اس کے چہرے پر بیزاری آئی اور وہ منع کرکے پیچھے ہٹنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر سپاہی پر پڑی۔ وہ ٹھٹک کر کھڑا ہوگیا۔ سپاہی نے اسے اپنی زبان میں کچھ کہا تو اس نے شرافت کے ساتھ ہمارا سامان اٹھالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے سپاہی کا شکریہ ادا کیا اور ملازم کے ساتھ ہوٹل کی دوسری منزل پر ایک 4 بستروں والے  سجے سجائے شاندار  کمرے میں آگئے۔ ہوٹل کی عالیشان عمارت اور اس خوبصورت کمرے کا کرایہ سوچ کر ہماری نیند اڑ جانی چاہیے تھی مگر ہم اتنے تھکے ہوئے تھے کہ بستروں پر گرتے ہی انٹا غفیل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح سب سے پہلے میری آنکھ کھلی۔ میں سیڑھیوں سے اوپر ہوٹل کی چھت پر پہنچ گیا  تاکہ ارد گرد کا جائزہ لوں۔ یہاں ایک بالکل مختلف ماحول تھا۔ ہوٹل کے چاروں طرف بلند و بالا خشک پہاڑ تھے اور ایک طرف ان خشک پہاڑوں کے پیچھے سے ایک خوبصورت برف پوش چوٹی بھی جھانک رہی تھی۔ میں نے جھٹ اسے ’کے ٹو‘  کا نام دیا اور خوش ہوگیا کہ کے ٹو بھی دیکھ لیا (حالانکہ اسے آج تک  دیکھنا نصیب نہیں ہوا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دیر میں سب دوست بیدار ہوگئے اور میں نے انہیں چھت پر بلا کر  نام نہاد کے ٹو کی چوٹی دکھائی۔ اب سب سے پہلی فکر یہی دامن گیر ہوئی کہ ہوٹل کا کرایہ کیا ہوگا؟ ۔۔۔ خیر وہ بھی پتا چل گیا۔ 300 روپے تھا۔ ہم نے ناشتہ کیا اور سامان اٹھا کر ایک اور ہوٹل میں منتقل ہوگئے جس کا کرایہ 100 روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہماری گلگت کی اولین سیاحت کا آغاز ہوا۔ گلگت اپنے شاندار محل وقوع، اہم جغرافیائی حیثیت اور صدیوں پرانی تاریخ کے باعث دنیا کے منفرد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کو چین سے ملانے والی عجوبہِ عالم سڑک شاہراہِ قراقرم کو رونق اور اہمیت بخشنے میں بھی گلگت کا کردار بنیادی ہے۔ شاہراہِ قراقرم کی تعمیر سے پہلے بھی یہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔ اس زمانے میں کہ جب پہاڑی ڈھلوانوں سے چمٹے ہوئے خطرناک اور دشوار گزار پگڈنڈی نما راستوں سے سفر کرکے تاجر دونوں اطراف سے گلگت پہنچتے تھے۔ یوں یہ چین اور ہندوستان کے درمیان ایک بڑی منڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ شاہراہ قراقرم کے تعمیر ہونے سے گلگت کو مزید ترقی ملی اور تجارت کو فروغ حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں کے مرکز میں واقع ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی چوٹیاں، کے ٹو، نانگا پربت اور راکاپوشی وغیرہ گلگت کے قرب وجوار میں سر اٹھائے کھڑی ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے کوہِ پیماؤں اور سیاحوں کے لیے گلگت ایک بیس کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت کا قدیم نام سارگن تھا۔ پھر یہ ’گری گرت‘ کہلایا جس کا مطلب ہے ’پہاڑوں سے گرا ہوا‘، پھریہی لفظ زبان کے ردوبدل سے گلگت بن گیا۔ یہ شہر مختلف تہذیبوں کے زیرِ اثر رہا ہے۔ یہاں پائے جانے والے قدیم آثار بتاتے ہیں کہ 250 سال قبلِ مسیح میں یہ بدھ مت کا مسکن تھا اور پھر یہ اسلام کی آمد سے روشن ہوا۔ گلگت کی آبادی مختلف النسل لوگوں کا مجموعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں گلگت کے اصل باشندوں کے علاوہ گوجال، چترالی، بلتی، پٹھان، پنجابی، کاشغری، کرغیز، تاجک، ازبک، چینی، تبتی، لداخی، واخی، کوہستانی اور بلخی وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں کی مقامی زبان شینا ہے مگری ہنزہ والوں کی بھی اکثریت ہے، اس لیے ان کی زبان بروشسکی اور گوجالی بھی کثرت سے بولی جاتی ہیں۔ کھوار بھی بولی جاتی ہے جوکہ چترال والوں کی زبان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12153242c29b88f.jpg'  alt='  گلگت کی آبادی مختلف النسل لوگوں کا مجموعہ ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت کی آبادی مختلف النسل لوگوں کا مجموعہ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت میں آمدورفت کے لیے صرف 2 ذرائع استعمال ہوسکتے ہیں۔ اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز گلگت تک آیا جاسکتا ہے جس کا انحصار موسم کے ٹھیک ہونے پر ہوتا ہے۔ اگر مطلع صاف ہو تو روزانہ 3 اور کبھی کبھی 4 پروازیں بھی مسافروں کو لے آتی ہیں۔ لیکن  موسم خراب ہو جائے تو کئی کئی دن فلائٹ نہیں ہو پاتی۔ دوسرا ذریعہ بسیں، ویگنیں اور جیپیں ہیں جو راولپنڈی سے چل کر شاہراہِ قراقرم کی خوفناک اونچائیوں اورخطرناک گہرائیوں سے کھیلتی ہوئی 18 گھنٹوں میں گلگت پہنچا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درّہ بابوسر کی سڑک تعمیر ہونے کے بعد یہ سفر 4، 5 گھنٹے کم تو ہوجاتا ہے مگر صرف گرمیوں کے موسم میں اور جب درّہ بابوسر کھلا ہو کیونکہ سردیوں میں جب بابوسر برف سے ڈھکا ہوتا ہے تو یہ راستہ بند رہتا ہے اور اکتوبر سے اپریل تک گاڑیاں اسی پرانی شاہراہ قراقرم سے  بشام، داسو اور چلاس کے راستے گلگت پہنچتی ہیں۔ برسات کے دنوں میں شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائڈ ہوجائے تو گلگت سے زمینی رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور سفر کا واحد ذریعہ ہوائی جہاز ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسے دنوں میں خدا نخواستہ موسم خراب ہوجانے سے پروازیں بھی بند ہوجائیں تو گلگت دنیا سے کٹا ہوا ایک جزیرہ بن کر رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت کی سرگرمیوں کا مرکز ایئرپورٹ روڈ ہے۔ اس کے اطراف میں چھوٹے بڑے کئی بازار، ہوٹل، بیکریاں، ڈرائی فروٹ شاپس اور ملکی و غیر ملکی خصوصاً چینی سازوسامان کی دکانیں سٹرک کی رونق ہیں۔ گلگت قدیم تجارتی مرکز ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان تجارت کے لیے گلگت کو صدیوں سے مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور جب سے ہندوستان کی جگہ پاکستان نے لی ہے تو خصوصاً شاہراہِ قراقرم بننے کے بعد اس تجارت کو مزید فروغ ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12154856a7ab0a1.jpg'  alt='  گلگت شہر کی سڑکوں پر ایک مصروف دن  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت شہر کی سڑکوں پر ایک مصروف دن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت دین اسلام سے پہلے مختلف مذاہب کا گہوارہ رہا ہے۔ 250 سال قبل مسیح میں گلگت بدھ مت کے زیراثر تھا۔ اس دور کی یادگار مہاتما بدھ کے وہ چٹانی مجسمے ہیں جو آج بھی گلگت میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ 8ویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد سے گلگت ایک مہذب دور میں داخل ہوا۔ اُس ابتدا اور اِس انتہا کے درمیان مختلف دور آئے۔ ڈوگرہ راج نے پہلے اکیلے اور پھر انگریزوں کے ساتھ مل کر حکومت کی، پھر انہیں مسلمانوں نے بھگا دیا۔ اب یہ پاکستان میں شامل ہے اور ملک کا ایک اہم شہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12153818375c8b7.jpg'  alt='  گلگت پاکستان کا اہم شہر ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت پاکستان کا اہم شہر ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرپورٹ روڈ بڑی دور تک چلتی چلی جاتی ہے اوربالآخر ایک جگہ دو شاخوں میں تقسیم ہو کر راجا بازار اور جماعت خانہ بازار میں بٹ جاتی ہے۔ راجا بازار اور جماعت خانہ بازار گلگت کی روایتی زندگی کے عکاس ہیں۔ ہنزہ کی مخصوص کڑھائی والی زنانہ ٹوپیاں، شالیں، سمور کی واسکٹیں، گول حلقوں والی مردانہ ٹوپیاں، دھاتی زیورات، چینی پی کیپ اور خشک میوے سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ جبکہ پھل، سبزیاں، کریانہ، دوائیں، لالٹینیں، گھڑیاں، ریڈیو، ٹیپ اور ٹی وی وغیرہ مقامی آبادی کے لیے مخصوص ہیں (1986ء میں یہ سب چیزیں اہم تھیں)۔ ہم ایئرپورٹ روڈ پر چلتے ہوئے جماعت خانہ بازار میں پہنچے اور وہاں سے ایک گلی کے راستے جنرل پوسٹ آفس کے پہلو سے نکل کر راجا بازار میں داخل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1215405103ba67a.jpg'  alt='  گلگت شہر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گلگت شہر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت کی گلیاں پرسرار ہیں۔ کئی بار بھٹکنے کے بعد کہیں جاکر مطلوبہ راستہ ملتا ہے۔ ہمیں راجس بازار کے اردگرد پھیلے ہوئے مکانات کی چھتوں پر سے جھانکتا ہوا ایک پل کا بلند محرابی دروازہ بار بار نظر آرہا تھا۔ ہم اس پل تک جانا چاہتے تھے مگر راستہ نہیں مل رہا تھا۔ خاصی دیر تک بھٹک کر ایک گلی میں داخل ہوئے تو وہ پل اچانک سامنے آگیا۔ ہم اشتیاق سے بھرے اس قدیم پل کی طرف بڑھے اور اس کے عظیم محرابی دروازے سے گزر کر، اس کے رسوں کے ذریعے لٹکتے ہوئے طویل، تختہ در تختہ، چوبی وجود کے عین اوپر پہنچ گئے۔ اس پل کے بارے میں بھی یہاں ایک بات مشہور ہے، جی ہاں آپ سمجھ گئے، یہ ایشیا کا طویل ترین معلق پل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121513480f5cbc3.jpg'  alt='  دریائے گلگت پر راجا بازار کا پل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے گلگت پر راجا بازار کا پل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم پل کے عین درمیان میں کھڑے ہوگئے۔ پل کے نیچے دریائے گلگت کا شور مچاتا پانی نئی منزلوں کی طرف بہے چلے جارہا تھا۔ دریا جب شہر کے قریب پہنچتا ہے تو اپنے وسیع پاٹ کو صرف اس کی پل کی خاطر سمیٹ کر کم کرلیتا ہے اورشرافت کے ساتھ گلگت شہرمیں سے گزر جاتا ہے۔ جب بھی کوئی جیپ یا ٹریکٹرپل پر سے گزرتا ہے تو یہ اپنے پورے وجود سے ہلتا ایک سانس لیتا ہوا پل بن جاتا ہے۔ یہ پل دریا کے دوسرے کنارے پر پہاڑ کے دامن میں موجود چھوٹی سی آبادی کو گلگت سے ملاتا ہے۔ پل کے نیچے سبزی اور پھلوں کے باغات دریا کے پہلو بہ پہلو دور تک چلتے چلے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>شاہراہِ قراقرم پر دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں کا مقام اتصال اور اس کی یادگار آدھی رات کے اندھیرے میں گزر گئی اور ہم گلگت کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ذرا سا اور آگے بڑھے ہوں گے کہ اسکردو موڑ آگیا۔ یہاں شاہراہِ قراقرم سے دائیں ہاتھ کو ایک پتلی سی سڑک الگ ہوکر نیچے گہرائی میں دریائے گلگت کی جانب جاتی نظر آئی۔</p>
<p>یہ سڑک کافی نیچے جاکر  ایک آہنی پل پر سے دریا کو عبور کرتی ہے اور دوسری طرف کے بلند و بالا سنگلاخ پہاڑوں سے چمٹی ہوئی دائیں طرف چلی جاتی ہے اور ذرا آگے دریائے گلگت اور دریائے سندھ کے سنگم پر پہنچ کر بائیں سمت دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس طرف مڑ جاتی ہے جہاں سے دریا آرہا ہے۔ یہ اسکردو روڈ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121520219fbff18.jpg'  alt='  اسکردو روڈ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکردو روڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1215170750eb952.jpg'  alt='  اسکردو روڈ دنیا کی چند خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکردو روڈ دنیا کی چند خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12150619baaf30f.jpg'  alt='  اسکردو روڈ پر گاڑیاں اس کے غیض و غضب سے بچتی بچاتی سہمتی سمٹتی آگے بڑھتی ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکردو روڈ پر گاڑیاں اس کے غیض و غضب سے بچتی بچاتی سہمتی سمٹتی آگے بڑھتی ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اُن دنوں اس مقام سے اسکردو تک 7، 8 گھنٹے کا سفر ہوا کرتا تھا۔ اسکردو روڈ دنیا کی چند خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ یہاں دریائے سندھ کی راہگزر دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان بہت تنگ ہے اور اسی تنگ جگہ میں سے اسکردو روڈ کو بھی گزارا گیا ہے۔ یہاں دریائے سندھ سڑک کے ساتھ ساتھ عمودی گہرائیوں میں گرجتا گونجتا جھاگ اڑاتا شور مچاتا بہتا ہے اور اسکردو روڈ پر گاڑیاں اس کے غیض و غضب سے بچتی بچاتی سہمتی سمٹتی آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں سے اسکردو  کا فاصلہ پونے 200 کلومیٹر ہے۔</p>
<p>اُس وقت تو آدھی رات ہو رہی تھی اس لیے دریائے گلگت پر معلق ’عالم پل‘ اور دریا پار جانے والی اسکردو روڈ، دونوں اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے، البتہ 2 سال بعد 1988ء میں  اسی روڈ پر ایک ویگن میں اسکردو گیا تھا۔ اسکردو روڈ کی تنگی و اونچائی اور دریائے سندھ کی گہرائی و غضب ناکی سے بچتی بچاتی ویگن میں 7، 8 گھنٹے کا وہ تھکا دینے والا سفر کرکے جب میں شام کو اسکردو پہنچا تو یوں لگا جیسے اب یہاں سے واپس  جانا ممکن ہی نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121508287797de7.jpg'  alt='  دریائے گلگت پر معلق عالم پل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے گلگت پر معلق عالم پل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12150947488b25b.jpg'  alt='  عالم پل اسکردو روڈ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عالم پل اسکردو روڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12152752d6114eb.jpg'  alt='  اسکردو شہر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکردو شہر</figcaption>
    </figure></p>
<p>اُس وقت کا اسکردو دنیا سے کٹا ہوا ایک خاموش اور پراسرار سا قصبہ تھا کہ جہاں مقامیوں کے علاوہ صرف غیر ملکی کوہ پیما ہی آیا کرتے تھے۔ یہیں سے وہ کے ٹو کی چوٹی سر کرنے، کنکورڈیا میں مارے مارے پھرنے اور خپلو، شگر اور کھرمنگ کی دور افتادہ دل فریب وادیوں میں بھٹکنے جاتے تھے۔ میں یہاں اپنے ایک دوست کے واقف کار سواتی تاجروں کے ڈیرے پر مہمان ٹھہرا۔ دن بھر میں اسکردو اور اس کے مضافات میں آوارہ گردی کرتا اور شام کو ڈیرے پر واپس پہنچ جاتا۔</p>
<p>ایک دن میں شنگریلا ہوٹل اور کچورہ جھیل دیکھنے کے لیے اسکردو سے نکلا اور پیدل ہی رواں دواں ہوگیا، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ کچورہ جھیل اسکردو سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے لیکن میں پھر بھی ویران سڑک پر خراماں خراماں چلتا رہا۔ خاصی دیر پیدل چلنے کے بعد ایک جگہ سستانے کے لیے رکا۔ میرا اندازہ تھا کہ 8، 10 کلومیٹر چل لیا ہوں گا۔ وہاں کھڑے ہوئے چند ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ اسکردو کی طرف سے ایک تیز رفتار سوزوکی پک اپ آئی اور میرے قریب آکر کھڑی ہوگئی۔ گاڑی میں فل والیوم پر کوئی فلمی گانا بج رہا تھا۔ ڈرائیور ایک نوجوان تھا۔ اس نے ٹیپ ریکارڈر کی آواز کم کی اور بولا:</p>
<p>’کدھر جانا ہے بھائی جان؟‘</p>
<p>’شنگریلا‘ میں بولا۔</p>
<p>’وہ تو ابھی بہت دور ہے ۔ آپ گاڑی میں بیٹھو میں آپ کو اس کے قریب چھوڑ دوں گا۔‘</p>
<p>میں تو پیدل چلتے چلتے ویسے ہی تھک چکا تھا۔ جھٹ دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس نے ٹیپ ریکارڈر کا والیوم پھر فل کیا اور گاڑی شنگریلا کی طرف فراٹے بھرنے لگی۔</p>
<p>میری منزل سے 2، 3 کلومیٹر پہلے اسے ایک گاؤں کی طرف مڑ جانا تھا۔ اس نے مجھے سڑک پر اتارا اور سامنے والے پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے بولا:</p>
<p>’شنگریلا ہوٹل اس پہاڑ کے نیچے ہے، زیادہ دور نہیں‘۔</p>
<p>میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر سڑک پر چل پڑا ۔ تھوڑی دیر میں میں اس پہاڑ کے قریب پہنچا۔ یہاں ایک کچی سڑک اوپر کی جانب جارہی تھی۔ میں اس پر چڑھنے لگا۔ تھوڑا سا ہی اوپر آیا ہوں گا کہ یکایک ایک دلکش و دلفریب منظر  آنکھوں کے سامنے پھیل گیا۔ سبزے میں گھری ہوئی نیلگوں پانی کی ایک خوبصورت جھیل اور اس کے اطراف میں درختوں کے جھنڈ میں نیم پوشیدہ چینی طرز کی تکونی چھتوں والی خوبصورت عمارات جن کے پس منظر میں چھائے ہوئے بلند و بالا پہاڑ۔ یہ شمالی علاقوں کا مشہور و معروف شنگریلا ہوٹل تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12145342b7a1b5d.jpg'  alt='  اسکردو کا مشہور شنگریلا ہوٹل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکردو کا مشہور شنگریلا ہوٹل</figcaption>
    </figure></p>
<p>شنگریلا ہوٹل ایئر مارشل اصغر خان کے بھائی بریگیڈیئر اسلم  نے 1983ء میں قائم کیا تھا۔ اس کا نام ’شنگریلا‘ انگریز ناول نگار جیمز ہلٹن (James Hilton) کے مشہور ناول Lost Horizon سے لیا گیا ہے۔ یہ ناول ایک ایسے ہوائی جہاز کے مسافروں کی کہانی ہے جو نامعلوم بلند و بالا پہاڑی وادیوں میں گر جاتا ہے۔ اس کے زندہ بچ جانے والے مسافروں کو یہاں کچھ بدھ بھکشو مل جاتے ہیں جو انہیں ایک ایسی دل فریب جنت نما جگہ لے جاتے ہیں جہاں انہیں انواع و اقسام کی نعمتیں ملتی ہیں۔ اس جگہ کا نام ’شنگریلا‘ ہوتا ہے۔</p>
<p>بریگیڈیئر اسلم نے نہ صرف یہ کہ اپنے ہوٹل کا نام شنگریلا رکھا بلکہ ناول سے مزید مماثل کرنے کے لیے اوریئنٹ ایئر لائن کا ایک خراب جہاز بھی خرید کر یہاں لا کھڑا کیا۔ اس جہاز کے اندر میز کرسیاں لگا کر اسے ایک انوکھے ریسٹورنٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ بریگیڈیئر اسلم کا شنگریلا ہوٹل یا جیمز ہلٹن کی گمشدہ جنت میرے سامنے تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12150447b97a973.jpg'  alt='  شنگریلا کا ہوائی جہاز ریسٹورنٹ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شنگریلا کا ہوائی جہاز ریسٹورنٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>شنگریلا ایک مہنگا ہوٹل ہے۔ 1988ء میں جب کسی عام ہوٹل میں 100، 50 روپے کا کمرہ مل جاتا تھا، اس وقت شینگریلا میں کمرہ 3 ہزار روپے کا تھا۔ (آج کل 40، 50 ہزار روپے ہے غالباًً)۔ میں کچھ دیر یہاں گھومتا پھرتا رہا، جہاز کے ریسٹورنٹ میں جھانکا، جھیل کے گرد ایک چکر لگایا، البتہ کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس بھی نہیں توڑا اور چنانچہ صحیح سلامت واپس نکل آیا۔ شام گہری ہوگئی تھی اس لیے اسکردو واپسی کے لیے پیدل ایڈونچر کا خیال ترک کیا اور ایک لوکل پک اپ میں بیٹھ کر شہر واپس آگیا۔</p>
<p>گلگت سے اسکردو آتے ہوئے خطرناک روڈ پر سفر کے بعد اب اسلام آباد واپسی کے لیے دوبارہ اسی راستے پر  واپس جانے سے ہول اٹھ رہا تھا، اس لیے میں نے پی آئی اے آفس جاکر اسلام آباد کے لیے اگلے دن کا ایئر ٹکٹ خرید لیا (جو  غالبًا 300 روپے کا تھا)۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121439577aeb1a3.jpg'  alt='  اسکردو ایئرپورٹ کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اسکردو ایئرپورٹ کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگلی صبح میں اسکردو ایئرپورٹ پر موجود دیگر مسافروں کے ساتھ اسلام آباد سے آنے والے جہاز کی آمد کا منتظر تھا۔ وقت آگیا، وقت گزرتا رہا اور بالآخر وقت گزر بھی گیا، مگر جہاز نہیں آیا۔ پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں پر موسم خراب ہو جانے کے باعث آج کی فلائٹ معطل ہوچکی تھی۔ بکنگ آفس سے ہمیں ٹکٹ کے پیسے واپس کر دیے گئے اور  ہم  مایوس ہوکر شہر واپس آگئے۔ اگلے دن کی فلائٹ کا بھی کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ میں نے طوعاً و کرہاً بس اڈے پر جا کر گلگت کا ٹکٹ لے لیا اور ویگن کی اگلی سیٹ پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا۔ 7، 8 گھنٹے کا خوفناک سفر ایک بار پھر میرا منتظر تھا۔</p>
<p>لیکن یہ تو میں نے 2 سال بعد کا قصہ سنا دیا۔ اِس وقت تو میں پہلی بار گلگت جارہا تھا اور یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ اسکردو موڑ پیچھے رہ گیا تھا اور ہم دریائے گلگت کے ساتھ ساتھ پڑی بنگلہ کے ویران سے قصبے سے گزرتے ہوئے گلگت کی طرف بڑھ رہے تھے۔</p>
<p>گلگت شہر سے پہلے شاہراہِ قراقرم دائیں طرف مڑ گئی جہاں اسے دریا کو عبور کرکے دوسری طرف قراقرم کے پہاڑوں میں چلتے ہوئے وادی ہنزہ اور درّہ خنجراب سے ہوتے ہوئے چین کی طرف نکل جانا تھا۔ گلگت شہر شاہراہ قراقرم سے ذرا ہٹ کر آباد ہے۔ کچھ ہی دیر بعد ہم گلگت شہر میں داخل ہوگئے۔ بس کسی اندھیرے اسٹاپ پر آکر رک گئی۔ اونگھتے جاگتے مسافر قدموں کو بس کے فرش پر  مارتے دھپ دھپ کرتےنیچے اترنے لگے۔ بس میں سے اترنے والے سب سے آخری مسافر ہم 4 تھے۔ہمارے اترتے ہی بس بھی خدا جانے کہاں چلی گئی۔ رات کے 3 بج رہے تھے۔ سارے  مقامی مسافر گلگت کی اندھیری گلیوں میں گم ہوگئے۔ ہم سڑک پر اکیلے کھڑے رہ گئے۔</p>
<p>سیاح کا کسی نئے مقام پر رات گئے پہنچنا عام طور پر پریشان کُن ہوتا ہے۔ ایک تو وہ علاقے سے واقف نہیں ہوتا، دوسرے ہوٹل وغیرہ بھی بند ملتے ہیں۔ چنانچہ وہ شدید کسمپرسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ گلگت میں بھی ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ شاہراہِ قراقرم کے خوفناک پہاڑی راستے پر موڑ درموڑ گھومتی ہوئی بس میں سفر کرتے کرتے ہمارا دماغ ویسے ہی گھوم چکا تھا اور اب یہاں آدھی رات کو  گلگت میں  تھکن اور غنودگی سے لڑکھڑاتے باہر نکلے تو یہاں کوئی ہمارا منتظر نہ تھا۔ سارے مسافر اپنا اپنا سامان اٹھائے غائب ہوگئے اور  ہم چاروں اپنے اپنے تھیلے لٹکائے ویران سڑک پر کھڑے ہوکر ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگے۔</p>
<p>یہ گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ تھی مگر اس وقت یہاں ہو کا عالم تھا۔ کہیں کہیں کسی اسٹریٹ لائٹ کا پیلا بلب اپنی کمزور روشنی کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے ماحول کو مزید پراسرار بنا رہا تھا۔  اس طرح چند ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ دور سے وسل کی آواز سنائی دی۔ غور کیا تو کچھ فاصلے پر ایک ہیولا ساحرکت کرتا نظر آیا۔ یہ رات کے گشت پر کوئی سپاہی تھا۔ ہم تیزی سے اس کی طرف لپکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12152438e10902c.jpg'  alt='  گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت کی مرکزی سڑک ایئرپورٹ روڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>وہ سپاہی بڑا مدد گار ثابت ہوا۔ اس نے ہمیں ساتھ لیا اورکچھ دور پیدل چل کر ایک  جدید خوبصورت عمارت کے سامنے پہنچ گیا۔ یہ گلگت کا معروف ’پارک ہوٹل‘ تھا۔ہوٹل کا مرکزی دروازہ بند تھا۔ پولیس والے کے بار بار کھٹکھٹانے پر دروازہ کھلا اور ہوٹل کا ایک ملازم آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا۔ ہمیں سامان لٹکائے دیکھ اس کے چہرے پر بیزاری آئی اور وہ منع کرکے پیچھے ہٹنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر سپاہی پر پڑی۔ وہ ٹھٹک کر کھڑا ہوگیا۔ سپاہی نے اسے اپنی زبان میں کچھ کہا تو اس نے شرافت کے ساتھ ہمارا سامان اٹھالیا۔</p>
<p>ہم نے سپاہی کا شکریہ ادا کیا اور ملازم کے ساتھ ہوٹل کی دوسری منزل پر ایک 4 بستروں والے  سجے سجائے شاندار  کمرے میں آگئے۔ ہوٹل کی عالیشان عمارت اور اس خوبصورت کمرے کا کرایہ سوچ کر ہماری نیند اڑ جانی چاہیے تھی مگر ہم اتنے تھکے ہوئے تھے کہ بستروں پر گرتے ہی انٹا غفیل ہوگئے۔</p>
<p>صبح سب سے پہلے میری آنکھ کھلی۔ میں سیڑھیوں سے اوپر ہوٹل کی چھت پر پہنچ گیا  تاکہ ارد گرد کا جائزہ لوں۔ یہاں ایک بالکل مختلف ماحول تھا۔ ہوٹل کے چاروں طرف بلند و بالا خشک پہاڑ تھے اور ایک طرف ان خشک پہاڑوں کے پیچھے سے ایک خوبصورت برف پوش چوٹی بھی جھانک رہی تھی۔ میں نے جھٹ اسے ’کے ٹو‘  کا نام دیا اور خوش ہوگیا کہ کے ٹو بھی دیکھ لیا (حالانکہ اسے آج تک  دیکھنا نصیب نہیں ہوا)۔</p>
<p>کچھ دیر میں سب دوست بیدار ہوگئے اور میں نے انہیں چھت پر بلا کر  نام نہاد کے ٹو کی چوٹی دکھائی۔ اب سب سے پہلی فکر یہی دامن گیر ہوئی کہ ہوٹل کا کرایہ کیا ہوگا؟ ۔۔۔ خیر وہ بھی پتا چل گیا۔ 300 روپے تھا۔ ہم نے ناشتہ کیا اور سامان اٹھا کر ایک اور ہوٹل میں منتقل ہوگئے جس کا کرایہ 100 روپے تھا۔</p>
<p>اب ہماری گلگت کی اولین سیاحت کا آغاز ہوا۔ گلگت اپنے شاندار محل وقوع، اہم جغرافیائی حیثیت اور صدیوں پرانی تاریخ کے باعث دنیا کے منفرد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کو چین سے ملانے والی عجوبہِ عالم سڑک شاہراہِ قراقرم کو رونق اور اہمیت بخشنے میں بھی گلگت کا کردار بنیادی ہے۔ شاہراہِ قراقرم کی تعمیر سے پہلے بھی یہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔ اس زمانے میں کہ جب پہاڑی ڈھلوانوں سے چمٹے ہوئے خطرناک اور دشوار گزار پگڈنڈی نما راستوں سے سفر کرکے تاجر دونوں اطراف سے گلگت پہنچتے تھے۔ یوں یہ چین اور ہندوستان کے درمیان ایک بڑی منڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ شاہراہ قراقرم کے تعمیر ہونے سے گلگت کو مزید ترقی ملی اور تجارت کو فروغ حاصل ہوا۔</p>
<p>گلگت دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں کے مرکز میں واقع ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی چوٹیاں، کے ٹو، نانگا پربت اور راکاپوشی وغیرہ گلگت کے قرب وجوار میں سر اٹھائے کھڑی ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے کوہِ پیماؤں اور سیاحوں کے لیے گلگت ایک بیس کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p>گلگت کا قدیم نام سارگن تھا۔ پھر یہ ’گری گرت‘ کہلایا جس کا مطلب ہے ’پہاڑوں سے گرا ہوا‘، پھریہی لفظ زبان کے ردوبدل سے گلگت بن گیا۔ یہ شہر مختلف تہذیبوں کے زیرِ اثر رہا ہے۔ یہاں پائے جانے والے قدیم آثار بتاتے ہیں کہ 250 سال قبلِ مسیح میں یہ بدھ مت کا مسکن تھا اور پھر یہ اسلام کی آمد سے روشن ہوا۔ گلگت کی آبادی مختلف النسل لوگوں کا مجموعہ ہے۔</p>
<p>ان میں گلگت کے اصل باشندوں کے علاوہ گوجال، چترالی، بلتی، پٹھان، پنجابی، کاشغری، کرغیز، تاجک، ازبک، چینی، تبتی، لداخی، واخی، کوہستانی اور بلخی وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں کی مقامی زبان شینا ہے مگری ہنزہ والوں کی بھی اکثریت ہے، اس لیے ان کی زبان بروشسکی اور گوجالی بھی کثرت سے بولی جاتی ہیں۔ کھوار بھی بولی جاتی ہے جوکہ چترال والوں کی زبان ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12153242c29b88f.jpg'  alt='  گلگت کی آبادی مختلف النسل لوگوں کا مجموعہ ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت کی آبادی مختلف النسل لوگوں کا مجموعہ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>گلگت میں آمدورفت کے لیے صرف 2 ذرائع استعمال ہوسکتے ہیں۔ اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز گلگت تک آیا جاسکتا ہے جس کا انحصار موسم کے ٹھیک ہونے پر ہوتا ہے۔ اگر مطلع صاف ہو تو روزانہ 3 اور کبھی کبھی 4 پروازیں بھی مسافروں کو لے آتی ہیں۔ لیکن  موسم خراب ہو جائے تو کئی کئی دن فلائٹ نہیں ہو پاتی۔ دوسرا ذریعہ بسیں، ویگنیں اور جیپیں ہیں جو راولپنڈی سے چل کر شاہراہِ قراقرم کی خوفناک اونچائیوں اورخطرناک گہرائیوں سے کھیلتی ہوئی 18 گھنٹوں میں گلگت پہنچا دیتی ہیں۔</p>
<p>درّہ بابوسر کی سڑک تعمیر ہونے کے بعد یہ سفر 4، 5 گھنٹے کم تو ہوجاتا ہے مگر صرف گرمیوں کے موسم میں اور جب درّہ بابوسر کھلا ہو کیونکہ سردیوں میں جب بابوسر برف سے ڈھکا ہوتا ہے تو یہ راستہ بند رہتا ہے اور اکتوبر سے اپریل تک گاڑیاں اسی پرانی شاہراہ قراقرم سے  بشام، داسو اور چلاس کے راستے گلگت پہنچتی ہیں۔ برسات کے دنوں میں شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائڈ ہوجائے تو گلگت سے زمینی رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور سفر کا واحد ذریعہ ہوائی جہاز ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسے دنوں میں خدا نخواستہ موسم خراب ہوجانے سے پروازیں بھی بند ہوجائیں تو گلگت دنیا سے کٹا ہوا ایک جزیرہ بن کر رہ جاتا ہے۔</p>
<p>گلگت کی سرگرمیوں کا مرکز ایئرپورٹ روڈ ہے۔ اس کے اطراف میں چھوٹے بڑے کئی بازار، ہوٹل، بیکریاں، ڈرائی فروٹ شاپس اور ملکی و غیر ملکی خصوصاً چینی سازوسامان کی دکانیں سٹرک کی رونق ہیں۔ گلگت قدیم تجارتی مرکز ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان تجارت کے لیے گلگت کو صدیوں سے مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور جب سے ہندوستان کی جگہ پاکستان نے لی ہے تو خصوصاً شاہراہِ قراقرم بننے کے بعد اس تجارت کو مزید فروغ ملا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12154856a7ab0a1.jpg'  alt='  گلگت شہر کی سڑکوں پر ایک مصروف دن  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت شہر کی سڑکوں پر ایک مصروف دن</figcaption>
    </figure></p>
<p>گلگت دین اسلام سے پہلے مختلف مذاہب کا گہوارہ رہا ہے۔ 250 سال قبل مسیح میں گلگت بدھ مت کے زیراثر تھا۔ اس دور کی یادگار مہاتما بدھ کے وہ چٹانی مجسمے ہیں جو آج بھی گلگت میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ 8ویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد سے گلگت ایک مہذب دور میں داخل ہوا۔ اُس ابتدا اور اِس انتہا کے درمیان مختلف دور آئے۔ ڈوگرہ راج نے پہلے اکیلے اور پھر انگریزوں کے ساتھ مل کر حکومت کی، پھر انہیں مسلمانوں نے بھگا دیا۔ اب یہ پاکستان میں شامل ہے اور ملک کا ایک اہم شہر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/12153818375c8b7.jpg'  alt='  گلگت پاکستان کا اہم شہر ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت پاکستان کا اہم شہر ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایئرپورٹ روڈ بڑی دور تک چلتی چلی جاتی ہے اوربالآخر ایک جگہ دو شاخوں میں تقسیم ہو کر راجا بازار اور جماعت خانہ بازار میں بٹ جاتی ہے۔ راجا بازار اور جماعت خانہ بازار گلگت کی روایتی زندگی کے عکاس ہیں۔ ہنزہ کی مخصوص کڑھائی والی زنانہ ٹوپیاں، شالیں، سمور کی واسکٹیں، گول حلقوں والی مردانہ ٹوپیاں، دھاتی زیورات، چینی پی کیپ اور خشک میوے سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ جبکہ پھل، سبزیاں، کریانہ، دوائیں، لالٹینیں، گھڑیاں، ریڈیو، ٹیپ اور ٹی وی وغیرہ مقامی آبادی کے لیے مخصوص ہیں (1986ء میں یہ سب چیزیں اہم تھیں)۔ ہم ایئرپورٹ روڈ پر چلتے ہوئے جماعت خانہ بازار میں پہنچے اور وہاں سے ایک گلی کے راستے جنرل پوسٹ آفس کے پہلو سے نکل کر راجا بازار میں داخل ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/1215405103ba67a.jpg'  alt='  گلگت شہر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گلگت شہر</figcaption>
    </figure></p>
<p>گلگت کی گلیاں پرسرار ہیں۔ کئی بار بھٹکنے کے بعد کہیں جاکر مطلوبہ راستہ ملتا ہے۔ ہمیں راجس بازار کے اردگرد پھیلے ہوئے مکانات کی چھتوں پر سے جھانکتا ہوا ایک پل کا بلند محرابی دروازہ بار بار نظر آرہا تھا۔ ہم اس پل تک جانا چاہتے تھے مگر راستہ نہیں مل رہا تھا۔ خاصی دیر تک بھٹک کر ایک گلی میں داخل ہوئے تو وہ پل اچانک سامنے آگیا۔ ہم اشتیاق سے بھرے اس قدیم پل کی طرف بڑھے اور اس کے عظیم محرابی دروازے سے گزر کر، اس کے رسوں کے ذریعے لٹکتے ہوئے طویل، تختہ در تختہ، چوبی وجود کے عین اوپر پہنچ گئے۔ اس پل کے بارے میں بھی یہاں ایک بات مشہور ہے، جی ہاں آپ سمجھ گئے، یہ ایشیا کا طویل ترین معلق پل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/121513480f5cbc3.jpg'  alt='  دریائے گلگت پر راجا بازار کا پل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے گلگت پر راجا بازار کا پل</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم پل کے عین درمیان میں کھڑے ہوگئے۔ پل کے نیچے دریائے گلگت کا شور مچاتا پانی نئی منزلوں کی طرف بہے چلے جارہا تھا۔ دریا جب شہر کے قریب پہنچتا ہے تو اپنے وسیع پاٹ کو صرف اس کی پل کی خاطر سمیٹ کر کم کرلیتا ہے اورشرافت کے ساتھ گلگت شہرمیں سے گزر جاتا ہے۔ جب بھی کوئی جیپ یا ٹریکٹرپل پر سے گزرتا ہے تو یہ اپنے پورے وجود سے ہلتا ایک سانس لیتا ہوا پل بن جاتا ہے۔ یہ پل دریا کے دوسرے کنارے پر پہاڑ کے دامن میں موجود چھوٹی سی آبادی کو گلگت سے ملاتا ہے۔ پل کے نیچے سبزی اور پھلوں کے باغات دریا کے پہلو بہ پہلو دور تک چلتے چلے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200361</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Apr 2023 15:37:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/12153242c29b88f.jpg?r=211221" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/12153242c29b88f.jpg?r=211221"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/122112042af97ce.jpg?r=211221" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/122112042af97ce.jpg?r=211221"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (پہلا حصہ)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198824/</link>
      <description>&lt;p&gt;حیات کا سفر ان 2 بھائیوں کی کہانی ہے جن میں سے ایک کا نام ’صحیح‘ اور دوسرے کا نام ’غلط‘ ہے۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، بالکل ریل کی اُن پٹڑیوں کی طرح جو آپس میں کبھی نہیں ملتیں اور ایک دوسرے سے کبھی جدا بھی نہیں ہوتیں۔ ان دونوں میں بہت ہی کمال کا رشتہ ہے مگر کمال یہ بھی ہے کہ لاکھوں برسوں کے انسانی ارتقا نے یہ جوہر ہمارے ذہن کی جھولی میں ڈالا ہے کہ ہم ان دونوں بھائیوں کو پرکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلط اور صحیح کو پہچاننے کے لیے بھی ایک فلسفہ ہے۔ پہلا یہ کہ غلط یا صحیح وہ ہے جو ابھی ہے اور دوسرا وہ ہوگا جو تاریخ اپنی باریک چھننی سے چھان کر ہمارے حوالے کرے گی۔ تو جو ابھی غلط یا درست ہے اس کا فی الوقت فیصلہ فرد کے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب تاریخ یہ فیصلہ کرے گی تو انسانی ذات کی دانست اس میں شامل ہوگی اور وہی فیصلہ تقریباً صحیح ہوگا۔ ہم تقریباً کا لفظ اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ کبھی کوئی وجود، خیال یا فیصلہ سو فیصد مکمل یا درست نہیں ہوتا اس لیے ہر جگہ شک اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم مل کر تاریخ کا سفر اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہم گزرے دنوں کے حالات اور واقعات کو الفاظ کی آنکھوں سے دیکھ کر اور ان دونوں بھائیوں سے مل کر اپنے آنے والے دنوں کے لیے کوئی اچھی اور مثبت گزرگاہ تعمیر کرسکیں جس پر ہمارے مستقبل کی سواری سہل طریقے سے سفر کرپائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو آج ہم 380 برس پہلے یعنی 1640ء کے زمانے میں لاہور کے شاندار شہر چلتے ہیں جہاں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا اکثر وقت لاہور کے قلعے اور اس کے اطراف میں تعمیرات کے افتتاح یا آس پاس کے علاقوں میں شکار کرتے گزرتا ہے۔ اکبر کے بنائے ہوئے شاندار قلعے کے مشرقی اکبری گیٹ اور مغربی عالمگیری گیٹ کے شمال میں راوی کا شاندار بہاؤ بہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/171223507d2e570.jpg'  alt='   اکبر کے بنائے ہوئے شاندار قلعے کے اطراف راوی کا شاندار بہاؤ بہتا ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اکبر کے بنائے ہوئے شاندار قلعے کے اطراف راوی کا شاندار بہاؤ بہتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17124951254a136.jpg'  alt='       شاہ جہاں شیروں کا شکار کرتے ہوئے       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہ جہاں شیروں کا شکار کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہ کے بعد یعنی اگلے برس 1641ء میں ایک پرتگیز پادری سفر کرتا آگرہ سے نکلے گا اور 10 فروری کے انتہائی ٹھنڈے شب و روز میں یہاں پہنچ جائے گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس کے پہنچنے کے بعد ہم مسلسل اُس کے ساتھ رہیں اور وہ جو ہمیں دکھائے گا یا بتلائے گا ہم وہ دیکھیں گے اور سنیں گے۔ مگر جب تک وہ پہنچے میں آپ کو اُن دنوں کے سیاسی حالات سے روشناس کرادوں تو یہ زیادہ مناسب رہے گا اور اس سفر کو سمجھنے میں بھی آسانی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ جہاں کی تخت نشینی (1628ء) سے پہلے ازبک قبائل کے حکمران امام قُلی کے بھائی نظر محمد نے کابل کا محاصرہ کرکے قلعہ ضحاک پر قبضہ کرنا چاہا مگر ناکام رہا جبکہ 1629ء میں مغلوں نے بامیان جیت لیا۔ آنے والے دنوں میں ایک دوسرے سے بات چیت کے سلسلے نے افغان اور ہند میں دوستانہ ماحول پیدا کیا۔ مگر کابل اور قندھار پر قبضہ افغانستان کے جنوب میں بسے تیموری خون کا ایک سپنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1712413814268cb.jpg'  alt='       مغل شہنشاہ شاہ جہاں       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مغل شہنشاہ شاہ جہاں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1639ء میں شاہ جہاں 50 ہزار سواروں کی فوج لےکر افغان قبائل پر فتح حاصل کرنے اور افغانستان میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کابل پہنچا مگر شیبانیوں سے جنگ نہیں چھیڑی اور واپس آگیا۔ دوسری طرف بلخ کی جانب وہاں کے مقامی حاکموں کی آپس میں بن نہیں رہی تھی اور آگے چل کر بھائی نے بھائی کا گلا پکڑلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کی طرف 1592ء تک مرزا جانی بیگ نے بہت کوشش کی کہ سندھ، خاص کر جنوبی سندھ مغل سلطنت کا حصہ نہ بنے مگر اسی زمانے میں میاں عبدالرحیم خان خاناں نے حملہ کیا اور مرزا جانی بیگ کو مغل دربار میں بلالیا۔ اس طرح ان دنوں جس کا ذکر ہم کررہے ہیں ہند اور سندھ میں مغل بادشاہ اور اُن کے گورنروں کا طوطی بولتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم 1640ء میں لاہور کی گلیوں اور اکبر کے بنائے ہوئے شاہی محل میں چلتے ہیں۔ اس سفر میں اگر مغل شہنشاہوں کی سیاست اور تہواروں کے ذکر کو چھوڑ دیا جائے تو یہ تحریر سے بےوفائی کے مترادف ہوگا۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اُن زمانوں کے مصنفین کی آنکھوں سے آپ کو وہاں کے منظرنامے دکھائیں جہاں تہواروں کے رنگوں، شیرینیوں اور خوراکوں کی ایک دنیا بستی ہے۔ اُن ماہ و سال میں لاہور کا درجہ دارالسطنت کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’عمل صالح‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’بغداد کے قلعے کی فتح کے بعد ترکی کے سلطان نے شہنشاہِ ہند کے اُس نامے کا جواب ارسلان آقا کے ہاتھ بھیجا جو شہنشاہ ہند کے سفیر میر ظریف کے ہاتھوں ترکی بھیجا گیا تھا۔ ارسلان آقا عربی گھوڑے اور دوسرے تحائف کے ساتھ ٹھٹہ پہنچا تو یہ خبر میر ظریف نے بادشاہ کو بھیجی اور حکم جاری ہوا کہ ’قیصر روم کے ایلچی کو 10 ہزار روپے ہماری سرکار سے عنایت ہوں۔ خواص خان صوبہ دار ٹھٹہ اور نجابت خان صوبہ دار ملتان 6، 6 ہزار روپے، سرکار سیوستان (سبی) کا حاکم قزاق خان اور بکھر کا ناظم شاہ قُلی خان 4، 4 ہزار روپے برسم ضیافت دیں‘۔ ان دنوں شاہ جہاں لاہور سے 18 فروری 1640ء کو کشمیر کی سیر کے لیے نکلے ہوئے تھے اور لاہور میں داراشکوہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17123107e62696e.jpg'  alt='       شاہ جہاں 3 شہزادوں داراشکوہ، شاہ شجاع اورنگزیب اور ابوالحسن آصف خان کے ہمراہ       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شاہ جہاں 3 شہزادوں داراشکوہ، شاہ شجاع اورنگزیب اور ابوالحسن آصف خان کے ہمراہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اپریل 1640ء میں بُخارا کے والی امام قُلی خان کا سفیر ازبک خواجہ جو تحائف لےکر آیا تھا، اس نے وہ داراشکوہ کی خدمت میں پیش کیے۔ یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب شاہ جہاں کے بیٹے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں تھے بلکہ ایک دوسرے کی دعوتیں کیا کرتے تھے اور تحفے و تحائف کی ادلا بدلی بھی خوب ہوا کرتی تھی۔ مگر ان بھائیوں میں یہ کیفیت اتنے ہی وقت تک رہی جتنا وقت انسان کے پاس جوانی رہتی ہے۔ جس کی نہ ابتدا کی خبر ہوتی ہے اور نہ جانے کا کچھ پتا چلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 1640ء میں ٹھٹہ کا صوبے دار تبدیل ہوا اور خواص خان کی جگہ پر غیرت خان کو مقرر کیا گیا۔ جون جولائی میں ہمیں لاہور میں بڑی تقریبات اور چراغاں ہوتے نظر آتے ہیں اور ساتھ ہی دوسرے ممالک کے سفیروں کی آوت جاوت بھی خوب نظر آتی ہے۔ کیونکہ جہانگیر کی وفات کے بعد نورجہاں نے کوشش تو بہت کی کہ تخت اسے ملے اس کے لیے اس نے اپنے بھائی مرزا ابوالحسن آصف جاہ سے مدد بھی لینی چاہی مگر بیٹی کی محبت نے ابوالحسن کو یہ سب کرنے نہیں دیا۔ اس نے سیاسی داؤ پیچ کی چالیں اپنے داماد شاہ جہاں کو تخت پر بٹھانے کے لیے چلیں اور ان چالوں میں وہ کامیاب بھی رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17122136207ac2c.jpg'  alt='       نورجہاں کا بھائی مرزا ابوالحسن آصف       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نورجہاں کا بھائی مرزا ابوالحسن آصف&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے اطراف میں پھیلے ممالک تک شاہ جہاں کی ایک بہتر تصویر پہنچی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو مناسب رہے گا کہ اکبر سے شاہ جہاں تک، مغل عہد کے یہ کمال کے دن تھے اور جب کمال کی کوکھ سے زوال نے جنم لیا تو وہ شاہ جہاں کے نورچشموں کی صورت میں سامنے آیا۔ گویا گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1640ء اگست میں ملک میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں جس سے بہت جانی و مالی نقصان ہوا۔ شاہ جہاں کشمیر سے منزلیں طے کرتا 16 نومبر 1640ء کو لاہور پہنچا اور جاڑے کے ٹھنڈے دنوں میں یعنی 19 شوال یا 1 فروری 1641ء جمعرات کو بادشاہ کے 50ویں شمسی سال کا ’جشن تولادان‘ منعقد ہوا۔ اس جشن کے موقع پر انعامات و خطابات دیے گئے۔ مغل بادشاہ یہ تقریب سال میں 2 مرتبہ اپنی شمسی اور قمری سالگرہ کے مواقع پر منعقد کیا کرتے تھے۔ اس موقع پر بادشاہ کو قیمتی اشیا اور اناج میں تولا جاتا تھا جو بعد میں سال بھر غریبوں میں تقسیم ہوتا رہتا تھا۔ اس جشن کی تیاری 2 ماہ پہلے سے شروع کردی جاتی تھی۔ شاہی محل کو سجایا جاتا اور رنگین اور شاندار شامیانے نصب کیے جاتے۔ عوام بھی اس تقریب کو دعوتوں، موسیقی، رقص اور آتش بازی کے ساتھ منایا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی سالگرہ کے موقع پر بادشاہ 12 اقسام کی اشیا میں تُلا کرتا تھا مثلاً سونا، پارہ، ریشمی کپڑا، خوشبو، تانبا، روح توتیہ، مصالحہ، گھی، چاول، دودھ، 7 اقسام کے اناج اور نمک اور اس کے علاوہ بادشاہ کی عمر کے حساب سے اتنی ہی تعداد میں بھیڑیں، بکریاں پرندے غریبوں میں تقسیم کیے جاتے تھے۔ پرندوں کو قید سے آزاد کیا جاتا تھا جبکہ قمری برس کے موقع پر بادشاہ 8 اقسام کی اشیا جیسے چاندی، کپڑا، سیسہ، ٹِن، پھل، مٹھائی، ترکاریاں اور سرسوں کے تیل میں تُلتا تھا۔ بادشاہ جس ترازو میں تولا جاتا وہ بھی سونے سے بنا ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد بادشاہ تخت پر بیٹھتا اور تولی گئی اشیا جشن میں شامل لوگوں میں تقسیم کی جاتیں اور اس موقع کے لیے ضرب کیے گئے چاندی کے سکے عوام کے ہجوم میں بطور خیرات پھینکے جاتے۔ ان تقریبات کے علاوہ جشن صحت، جشن گلابی، جشن تاج پوشی، عیدیں، شب معراج، عید میلادالنبی کے ساتھ ہندوؤں کے تہوار ہولی، دیوالی، دسہرہ اور بسنت بھی شاہی دربار میں پُرجوش اور شاندار انداز میں منائے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنے جشن اور تقریبات کے متعلق پڑھ کر مجھے لگا کہ یہ مغل بادشاہ جب اتنی زیادہ تقریبات کا انعقاد کرتے تھے تو جنگ کے میدان کب سجتے ہوں گے؟ آپ ذرا سوچیں کہ ایسی تقریبات لاہور کے اس شہر میں ہوتی ہوں گی جب نہ کسی سائلینسر پھٹے موٹر سائیکل کی آواز ہوگی، نہ کسی رکشے کی آواز اور  نہ کانوں کو درد دینے والا ٹرک کا سائرن ہوگا۔ نہ کسی گاڑی کی آوت جاوت ہوگی بلکہ تب تو سائیکل کے آگے لگی اسٹیل کی گھنٹی بھی نہیں بجتی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردیوں سے پہلے جب کبھی کبھار ہوائیں بالکل بھی نہیں چلتیں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے شام کے وقت ہلکی مٹی کی دھند اُٹھتی ہوگی تو مٹی کی ایک تہہ دور تک نظر آتی ہوگی اور جب رات کی ٹھنڈک لاہور کے شاہی قلعے کے وسیع آنگنوں، گلیوں، محلوں، گھروں کے آنگنوں اور راوی کے کناروں پر اُترتی ہوں گی تو وہ کیا شاندار راتیں ہوں گی۔ ذرا تصور تو کریں اور جب جاڑوں کے ٹھنڈے موسموں کی تیز ہوائیں شاہی قلعے کے آسمان پر سے گزرتی ہوں گی اور لاہور کے گھروں اور چوراہوں پر الاؤ جلتے ہوں گے اور کسی جشن کی تیاری میں چراغاں ہوتا ہوگا۔ تو کیسا منظر ہوگا وہ!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17125509eaa9081.jpg'  alt='       دہلی گیٹ کے پاس واقع لاہور بازار       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دہلی گیٹ کے پاس واقع لاہور بازار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم جشن رہ گیا جو ’جشن نوروز‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ’آئین اکبری‘ کے مطابق جشن نوروز ایک قدیم ایرانی تہوار تھا جو پہلی فروردین (ایرانی سال کا پہلا مہینہ اور عیسوی کا ماہ مارچ) جب بہار کا موسم شروع ہوتا ہے تو 7 روز تک انتہائی جوش و مسرت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مونسیراٹ انٹونیو (Monserrate Antonio) اس سے متعلق ہمیں تفصیل سے بتاتے ہیں کہ ’نوروز کے جشن کا اعلان شاہی نوبت خانے میں نقارے بجا کر کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر میناروں، گنبدوں اور شاہی محل کے تمام حصوں پر رنگین چراغاں کیا جاتا ہے۔ مختلف رنگوں سے روشنی جھلکتی ہوئی آتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے سارا میدان رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ موسم بہار کی آمد کا اعلان کرنے کے لیے جگہ جگہ سبز جھنڈے اور جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں۔ فوج کا جلوس شہروں کی شاہراہوں اور گلیوں سے گزرتا ہے۔ اس موقع پر تمام مکانات پر مختلف رنگوں سے رنگ کیا جاتا ہے اور جگہ جگہ خوبصورت رنگین پردے دیواروں پر ڈالے جاتے۔ سپاہی بھی رنگین وردیوں میں ملبوس ہوتے۔ ہاتھیوں کو خاص طور پر زیورات سے سجایا جاتا اور اُن کی پیٹھ پر ہودے رکھے جاتے۔ ہر روز کھیل تماشے ہوا کرتے۔ بادشاہ ایک سونےکے تخت پر جلوہ افروز ہوتا جس پر سیڑھیاں رکھ کر جایا جاسکتا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے سفر کے ساتھی ’منریک‘ نے لاہور میں یہ جشن نوروز دیکھا تھا وہ لکھتے ہیں کہ ’اس جشن میں ہاتھی اپنی سونڈھوں میں تیز دھار والی تلواریں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس شکل میں وہ ڈر اور خوف پیدا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود جب کوئی ان ہودوں پر نظر ڈالتا ہے جو ان کے اوپر سواری کے لیے استعمال ہوتے ہیں تو وہاں رنگ برنگے جھنڈے فضا میں لہرا رہے ہوتے ہیں تو اُن کو دیکھ کر دل خوشی اور مُسرت سے بھر جاتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 فروری 1641ء جمعرات کو بادشاہ کے 50ویں شمسی سال کا ’جشن تولادان‘ منعقد ہوا تھا۔ اس جشن کے موقع پر جو انعامات و خطابات دیے گئے تھے وہ تقریب شاید فرے منریک (Fray Sebastien Manrique) نے نہیں دیکھی ہوگی مگر اس اہم تقریب کے چلتے جشن میں وہ 10 دن بعد یعنی 29 شوال 1050ھ یا 10 فروری 1641ء کو لاہور پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1712181600fa34d.jpg'  alt='       فرے منریک       ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فرے منریک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لاہور کی خوبصورتی اور اس کے قریب سے بہتے ہوئے دریا کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ساتھ میں وہ پہاڑوں سے اُترتی ہوئی سندھو ندی کی بھی تعریف کرتا ہے۔ وہ یہاں کے باغات، حوضوں، پانی کی نہروں اور چشموں کا بڑے مزے سے ذکر کرتا ہے۔ منریک نے لاہور پہنچنے کے بعد اتنے جشن دیکھے کہ اپنی تحریر میں سب کو ملا کر تحریر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اس کے سفرنامے کے دوسرے حصے میں جو باب 63 ہے اسے مہینوں، تاریخوں اور دنوں کے حوالے سے سمجھنے میں بڑی دقت پیش آتی ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سندھ روانہ ہونے سے پہلے وہ کتنا عرصہ لاہور میں رہا اور اس کی کیا کیا مصروفیات رہیں لیکن اگر لاہور میں آنے اور رہنے کا وقت ہمارے سامنے درست نہیں ہوگا تو سندھ کے سفرنامے کو مہینوں اور موسموں کے حوالے سے سمجھنے میں ہمیں مشکل پیش آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1713092307d3264.jpg'  alt='   برطانوی راج میں دریائے راوی کے مناظر   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;برطانوی راج میں دریائے راوی کے مناظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک جب لاہور پہنچا تو اتوار کا دن تھا اور تاریخ 10 فروری 1641ء (29 شوال 1050ھ) تھی۔ عید ہفتے کے دن 12 جنوری کو گزر چکی تھی اور شاہ جہاں کا 50واں شمسی جشنِ تولادان جاری تھا۔ منریک نے جشن نوروز بھی دیکھا تھا، جو 22 مارچ (9 ذی الحج، بروز جمعہ) کو ہوا تھا۔ جشن نوروز کی شروعات اور عید الاضحی کا دن ساتھ تھا۔ مطلب یہ کہ مارچ تک بھی منریک لاہور میں ہی تھا اور منریک نے بادشاہ کا 52واں ’جشن تولادان‘ دیکھا جو جمعے کے دن 13 جولائی (4 ربیع الثانی 1051ھ) کو منعقد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہمیں محمد صالح کمبوہ کی کتاب ’عمل صالح‘ میں یہ حوالہ ملتا ہے کہ بادشاہ سلامت 20 اگست کو ممتاز محل کی بڑی بہن اور آصف خان کی بیٹی کے انتقال کی تعزیت کرنے ان کے محل گئے تھے۔ تعزیت کی اس دعوت میں منریک بھی شامل تھا۔ چونکہ یہ تعزیت کسی غریب کے آنگن کی نہیں تھی جہاں درد اور محرومی کی زمین پر فقط آنسوؤں، آہوں اور دردوں کی فصلیں اُگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شہنشاہِ ہند کی محبوب بیوی کی بہن اور شاہ جہاں کے بعد حکومت کے سب سے بڑے آدمی بلکہ ایک وزیراعظم جس کو بادشاہوں کی طرف سے کم سے کم 36 سے زیادہ القاب ملے تھے، اُس کی بیٹی کی تعزیت تھی۔ شاہ جہاں نے رات کا کھانا بھی وہاں کھایا تھا اور بہت سارے نئے طعام دیکھ کر بادشاہ حیران بھی ہوگیا تھا۔ چونکہ پرتگیز مشنری سے آصف خان کی اچھی دوستی باشی تھی جس کی وجہ سے اُس دعوت میں کچھ پرتگیز کیک اور مٹھائیاں بھی بنی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/171258563f12ffa.jpg'  alt='   آصف خان شاہ جہاں کی خدمت میں نذر پیش کرتے ہوئے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آصف خان شاہ جہاں کی خدمت میں نذر پیش کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضیافتِ شب میں شاہ جہاں نے پرتگیزوں کے لیے جو کہا اُس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس نے سندھ یا ہند میں دیولوں کو مسمار کرنے کے احکامات کیوں دیے ہوں گے۔ شاہ جہاں نے جو پرتگیزوں کے لیے کچھ باتیں کہیں وہ منریک کو ضرور بُری لگیں اس کا اندازہ اُس کی تحریر سے لگایا جاسکتا ہے جس میں وہ ایک انتہا پسند پادری نظر آتا ہے اور بادشاہ کے متعلق کئی باتیں کہہ کر وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک لکھتا ہے کہ ’نواب آصف خان کی وجہ سے اُس کو سندھ جانے اور وہاں گرائے ہوئے دیول اور رہائشی کمروں کی تعمیر کرنے کی اجازت ملی تھی اور ساتھ میں مرزا آصف خان کی طرف سے ملتان، بکھر اور ٹھٹہ کے صوبے داروں کے لیے خاص خط اور  چوکیوں پر ٹیکس نہ لینے اور پریشان نہ کرنے کے بھی خطوط آصف خان نے اپنی خاص مہر سے جاری کیے تھے۔ نواب آصف کی حویلی تک منریک کی رسائی تب ممکن ہوپائی جب لاہور میں رہنے والے پرتگیز مشنری پادری جوزف ڈی کاسٹرو (Father Joseph de Castro) کے مرزا ابوالحسن آصف خان سے اچھا اور قریبی تعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/171316559a7f99a.jpg'  alt='   لاہور کی دیواروں کے ساتھ بہتا دریائے راوی &amp;mdash; تصویر: بریٹش لائبریری بورڈ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لاہور کی دیواروں کے ساتھ بہتا دریائے راوی — تصویر: بریٹش لائبریری بورڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منریک لکھتا ہے کہ ’لاہور میں جب عیدین اور جشن ختم ہوئے تو فادر جوزف نے شہزادے آصف سے میری ملاقات کے لیے گزارش کی۔ نواب آصف نے مجھے دوسرے ہی دن بلالیا۔ میں اس کے شاندار محل میں پہنچا جہاں شاندار باغ تھا اور رنگین پھول کھلے ہوئے تھے۔ نواب مجھے بڑی شفقت سے ملا۔ تحفے تحائف کے تبادلوں کے بعد آنے کا مقصد بیان کیا اور آصف خان سے بہت سارے احکامات کے لیے کاغذوں پر شاہی مہر لگوائی اور خاص کر سندھو سلطنت کے اُن گرجا گھروں اور رہائشوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے جس کو کچھ برس پہلے بادشاہ کے احکامات پر گرا دیا گیا تھا۔ نواب آصف کے یہ احکامات اس لیے بھی ضروری تھے کہ سفر میں یا دیول کی تعمیر کے دوران کوئی پریشانی پیش نہ آئے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ جہاں نامہ میں ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ اپریل کے مہینے میں ٹھٹہ سندھ کے لاہری (لاڑی) بندر کے فدائی خان کا انتقال ہوا جس کی جگہ پر حکیم خوشحال کو مقرر کیا گیا۔ جشن نوروز والے دن بادشاہ کو 7 لاکھ روپے کے تحفے موصول ہوئے۔ ان ہی دنوں گجرات اور کاٹھیاواڑ کی طرف کاٹھی اور کولیوں کی بغاوت کی خبریں تو سنائی دیتی ہیں مگر منریک کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ بادشاہوں کی تاریخ لکھنے والے مصنفین کی آنکھ وہاں وہاں کھُلتی ہے جہاں جہاں بادشاہ کی نظر کا کرم برسے یا قہر برسے۔ باقی عام و خاص کے لیے ان کے قلم کی سیاہی خشک اور ہاتھ سے بنا کاغذ سُکڑ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تاریخوں میں جو بھی منظرنامے نظر آئیں گے ان میں پھرپور زندگی کے رنگ ملیں گے کہ جیسے بادشاہ وہی زندگی جیتے ہیں۔ مگر جن دارالسلطنتوں میں یہ بادشاہ اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کو اگر آبادی کے حوالے سے ہم 10 فیصد بھی مان لیں تو باقی 90 فیصد حیات کی زندگی ان منظرناموں کے بالکل برعکس گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بادشاہ کی رات کی دعوت ختم ہونے پر منریک کو خبر ملی کہ کشتی کل ملتان کے لیے تیار ہے۔ منریک، آصف خان کے محل سے ہوتا ہوا راوی کے قریب آکر رکا کہ صبح کو اسے سورج اُگنے کے ساتھ ملتان کے لیے نکلنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1712443842f377c.jpg'  alt='   قلعے کے پاس بہتا دریائے راوی   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قلعے کے پاس بہتا دریائے راوی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلیے ہم بھی مسٹر منریک کے ساتھ کشتی میں سوار ہوتے ہیں جہاں اس کے ساتھ لاہور کے بیوپاری بھی شامل ہیں جو اس سفر میں کچھ بیچیں گے اور کچھ خریدیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حوالہ جات&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;’شاہجہان نامہ‘ (عمل صالح) ۔ ملا محمد صالح کمبوہ۔ 2013ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’اکبر کا ہندوستان‘ ۔2016ء۔ مونسیراٹ۔ ترجمہ: ڈاکٹر مبارک علی۔ فکشن ہاؤس، لاہور&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;Travels of Fray Sebastien Manrique. Vol:ii. The Hakluyt Society. Oxford. 1927&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حیات کا سفر ان 2 بھائیوں کی کہانی ہے جن میں سے ایک کا نام ’صحیح‘ اور دوسرے کا نام ’غلط‘ ہے۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، بالکل ریل کی اُن پٹڑیوں کی طرح جو آپس میں کبھی نہیں ملتیں اور ایک دوسرے سے کبھی جدا بھی نہیں ہوتیں۔ ان دونوں میں بہت ہی کمال کا رشتہ ہے مگر کمال یہ بھی ہے کہ لاکھوں برسوں کے انسانی ارتقا نے یہ جوہر ہمارے ذہن کی جھولی میں ڈالا ہے کہ ہم ان دونوں بھائیوں کو پرکھ سکیں۔</p>
<p>غلط اور صحیح کو پہچاننے کے لیے بھی ایک فلسفہ ہے۔ پہلا یہ کہ غلط یا صحیح وہ ہے جو ابھی ہے اور دوسرا وہ ہوگا جو تاریخ اپنی باریک چھننی سے چھان کر ہمارے حوالے کرے گی۔ تو جو ابھی غلط یا درست ہے اس کا فی الوقت فیصلہ فرد کے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب تاریخ یہ فیصلہ کرے گی تو انسانی ذات کی دانست اس میں شامل ہوگی اور وہی فیصلہ تقریباً صحیح ہوگا۔ ہم تقریباً کا لفظ اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ کبھی کوئی وجود، خیال یا فیصلہ سو فیصد مکمل یا درست نہیں ہوتا اس لیے ہر جگہ شک اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔</p>
<p>ہم مل کر تاریخ کا سفر اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہم گزرے دنوں کے حالات اور واقعات کو الفاظ کی آنکھوں سے دیکھ کر اور ان دونوں بھائیوں سے مل کر اپنے آنے والے دنوں کے لیے کوئی اچھی اور مثبت گزرگاہ تعمیر کرسکیں جس پر ہمارے مستقبل کی سواری سہل طریقے سے سفر کرپائے۔</p>
<p>تو آج ہم 380 برس پہلے یعنی 1640ء کے زمانے میں لاہور کے شاندار شہر چلتے ہیں جہاں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا اکثر وقت لاہور کے قلعے اور اس کے اطراف میں تعمیرات کے افتتاح یا آس پاس کے علاقوں میں شکار کرتے گزرتا ہے۔ اکبر کے بنائے ہوئے شاندار قلعے کے مشرقی اکبری گیٹ اور مغربی عالمگیری گیٹ کے شمال میں راوی کا شاندار بہاؤ بہتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/171223507d2e570.jpg'  alt='   اکبر کے بنائے ہوئے شاندار قلعے کے اطراف راوی کا شاندار بہاؤ بہتا ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اکبر کے بنائے ہوئے شاندار قلعے کے اطراف راوی کا شاندار بہاؤ بہتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17124951254a136.jpg'  alt='       شاہ جہاں شیروں کا شکار کرتے ہوئے       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہ جہاں شیروں کا شکار کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ ماہ کے بعد یعنی اگلے برس 1641ء میں ایک پرتگیز پادری سفر کرتا آگرہ سے نکلے گا اور 10 فروری کے انتہائی ٹھنڈے شب و روز میں یہاں پہنچ جائے گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس کے پہنچنے کے بعد ہم مسلسل اُس کے ساتھ رہیں اور وہ جو ہمیں دکھائے گا یا بتلائے گا ہم وہ دیکھیں گے اور سنیں گے۔ مگر جب تک وہ پہنچے میں آپ کو اُن دنوں کے سیاسی حالات سے روشناس کرادوں تو یہ زیادہ مناسب رہے گا اور اس سفر کو سمجھنے میں بھی آسانی رہے گی۔</p>
<p>شاہ جہاں کی تخت نشینی (1628ء) سے پہلے ازبک قبائل کے حکمران امام قُلی کے بھائی نظر محمد نے کابل کا محاصرہ کرکے قلعہ ضحاک پر قبضہ کرنا چاہا مگر ناکام رہا جبکہ 1629ء میں مغلوں نے بامیان جیت لیا۔ آنے والے دنوں میں ایک دوسرے سے بات چیت کے سلسلے نے افغان اور ہند میں دوستانہ ماحول پیدا کیا۔ مگر کابل اور قندھار پر قبضہ افغانستان کے جنوب میں بسے تیموری خون کا ایک سپنا رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1712413814268cb.jpg'  alt='       مغل شہنشاہ شاہ جہاں       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مغل شہنشاہ شاہ جہاں</figcaption>
    </figure></p>
<p>1639ء میں شاہ جہاں 50 ہزار سواروں کی فوج لےکر افغان قبائل پر فتح حاصل کرنے اور افغانستان میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کابل پہنچا مگر شیبانیوں سے جنگ نہیں چھیڑی اور واپس آگیا۔ دوسری طرف بلخ کی جانب وہاں کے مقامی حاکموں کی آپس میں بن نہیں رہی تھی اور آگے چل کر بھائی نے بھائی کا گلا پکڑلیا۔</p>
<p>سندھ کی طرف 1592ء تک مرزا جانی بیگ نے بہت کوشش کی کہ سندھ، خاص کر جنوبی سندھ مغل سلطنت کا حصہ نہ بنے مگر اسی زمانے میں میاں عبدالرحیم خان خاناں نے حملہ کیا اور مرزا جانی بیگ کو مغل دربار میں بلالیا۔ اس طرح ان دنوں جس کا ذکر ہم کررہے ہیں ہند اور سندھ میں مغل بادشاہ اور اُن کے گورنروں کا طوطی بولتا تھا۔</p>
<p>اب ہم 1640ء میں لاہور کی گلیوں اور اکبر کے بنائے ہوئے شاہی محل میں چلتے ہیں۔ اس سفر میں اگر مغل شہنشاہوں کی سیاست اور تہواروں کے ذکر کو چھوڑ دیا جائے تو یہ تحریر سے بےوفائی کے مترادف ہوگا۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اُن زمانوں کے مصنفین کی آنکھوں سے آپ کو وہاں کے منظرنامے دکھائیں جہاں تہواروں کے رنگوں، شیرینیوں اور خوراکوں کی ایک دنیا بستی ہے۔ اُن ماہ و سال میں لاہور کا درجہ دارالسطنت کا تھا۔</p>
<p>’عمل صالح‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’بغداد کے قلعے کی فتح کے بعد ترکی کے سلطان نے شہنشاہِ ہند کے اُس نامے کا جواب ارسلان آقا کے ہاتھ بھیجا جو شہنشاہ ہند کے سفیر میر ظریف کے ہاتھوں ترکی بھیجا گیا تھا۔ ارسلان آقا عربی گھوڑے اور دوسرے تحائف کے ساتھ ٹھٹہ پہنچا تو یہ خبر میر ظریف نے بادشاہ کو بھیجی اور حکم جاری ہوا کہ ’قیصر روم کے ایلچی کو 10 ہزار روپے ہماری سرکار سے عنایت ہوں۔ خواص خان صوبہ دار ٹھٹہ اور نجابت خان صوبہ دار ملتان 6، 6 ہزار روپے، سرکار سیوستان (سبی) کا حاکم قزاق خان اور بکھر کا ناظم شاہ قُلی خان 4، 4 ہزار روپے برسم ضیافت دیں‘۔ ان دنوں شاہ جہاں لاہور سے 18 فروری 1640ء کو کشمیر کی سیر کے لیے نکلے ہوئے تھے اور لاہور میں داراشکوہ تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17123107e62696e.jpg'  alt='       شاہ جہاں 3 شہزادوں داراشکوہ، شاہ شجاع اورنگزیب اور ابوالحسن آصف خان کے ہمراہ       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شاہ جہاں 3 شہزادوں داراشکوہ، شاہ شجاع اورنگزیب اور ابوالحسن آصف خان کے ہمراہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>7 اپریل 1640ء میں بُخارا کے والی امام قُلی خان کا سفیر ازبک خواجہ جو تحائف لےکر آیا تھا، اس نے وہ داراشکوہ کی خدمت میں پیش کیے۔ یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب شاہ جہاں کے بیٹے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں تھے بلکہ ایک دوسرے کی دعوتیں کیا کرتے تھے اور تحفے و تحائف کی ادلا بدلی بھی خوب ہوا کرتی تھی۔ مگر ان بھائیوں میں یہ کیفیت اتنے ہی وقت تک رہی جتنا وقت انسان کے پاس جوانی رہتی ہے۔ جس کی نہ ابتدا کی خبر ہوتی ہے اور نہ جانے کا کچھ پتا چلتا ہے۔</p>
<p>جون 1640ء میں ٹھٹہ کا صوبے دار تبدیل ہوا اور خواص خان کی جگہ پر غیرت خان کو مقرر کیا گیا۔ جون جولائی میں ہمیں لاہور میں بڑی تقریبات اور چراغاں ہوتے نظر آتے ہیں اور ساتھ ہی دوسرے ممالک کے سفیروں کی آوت جاوت بھی خوب نظر آتی ہے۔ کیونکہ جہانگیر کی وفات کے بعد نورجہاں نے کوشش تو بہت کی کہ تخت اسے ملے اس کے لیے اس نے اپنے بھائی مرزا ابوالحسن آصف جاہ سے مدد بھی لینی چاہی مگر بیٹی کی محبت نے ابوالحسن کو یہ سب کرنے نہیں دیا۔ اس نے سیاسی داؤ پیچ کی چالیں اپنے داماد شاہ جہاں کو تخت پر بٹھانے کے لیے چلیں اور ان چالوں میں وہ کامیاب بھی رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17122136207ac2c.jpg'  alt='       نورجہاں کا بھائی مرزا ابوالحسن آصف       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نورجہاں کا بھائی مرزا ابوالحسن آصف</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی وجہ سے اطراف میں پھیلے ممالک تک شاہ جہاں کی ایک بہتر تصویر پہنچی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو مناسب رہے گا کہ اکبر سے شاہ جہاں تک، مغل عہد کے یہ کمال کے دن تھے اور جب کمال کی کوکھ سے زوال نے جنم لیا تو وہ شاہ جہاں کے نورچشموں کی صورت میں سامنے آیا۔ گویا گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔</p>
<p>1640ء اگست میں ملک میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں جس سے بہت جانی و مالی نقصان ہوا۔ شاہ جہاں کشمیر سے منزلیں طے کرتا 16 نومبر 1640ء کو لاہور پہنچا اور جاڑے کے ٹھنڈے دنوں میں یعنی 19 شوال یا 1 فروری 1641ء جمعرات کو بادشاہ کے 50ویں شمسی سال کا ’جشن تولادان‘ منعقد ہوا۔ اس جشن کے موقع پر انعامات و خطابات دیے گئے۔ مغل بادشاہ یہ تقریب سال میں 2 مرتبہ اپنی شمسی اور قمری سالگرہ کے مواقع پر منعقد کیا کرتے تھے۔ اس موقع پر بادشاہ کو قیمتی اشیا اور اناج میں تولا جاتا تھا جو بعد میں سال بھر غریبوں میں تقسیم ہوتا رہتا تھا۔ اس جشن کی تیاری 2 ماہ پہلے سے شروع کردی جاتی تھی۔ شاہی محل کو سجایا جاتا اور رنگین اور شاندار شامیانے نصب کیے جاتے۔ عوام بھی اس تقریب کو دعوتوں، موسیقی، رقص اور آتش بازی کے ساتھ منایا کرتے تھے۔</p>
<p>شمسی سالگرہ کے موقع پر بادشاہ 12 اقسام کی اشیا میں تُلا کرتا تھا مثلاً سونا، پارہ، ریشمی کپڑا، خوشبو، تانبا، روح توتیہ، مصالحہ، گھی، چاول، دودھ، 7 اقسام کے اناج اور نمک اور اس کے علاوہ بادشاہ کی عمر کے حساب سے اتنی ہی تعداد میں بھیڑیں، بکریاں پرندے غریبوں میں تقسیم کیے جاتے تھے۔ پرندوں کو قید سے آزاد کیا جاتا تھا جبکہ قمری برس کے موقع پر بادشاہ 8 اقسام کی اشیا جیسے چاندی، کپڑا، سیسہ، ٹِن، پھل، مٹھائی، ترکاریاں اور سرسوں کے تیل میں تُلتا تھا۔ بادشاہ جس ترازو میں تولا جاتا وہ بھی سونے سے بنا ہوتا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد بادشاہ تخت پر بیٹھتا اور تولی گئی اشیا جشن میں شامل لوگوں میں تقسیم کی جاتیں اور اس موقع کے لیے ضرب کیے گئے چاندی کے سکے عوام کے ہجوم میں بطور خیرات پھینکے جاتے۔ ان تقریبات کے علاوہ جشن صحت، جشن گلابی، جشن تاج پوشی، عیدیں، شب معراج، عید میلادالنبی کے ساتھ ہندوؤں کے تہوار ہولی، دیوالی، دسہرہ اور بسنت بھی شاہی دربار میں پُرجوش اور شاندار انداز میں منائے جاتے تھے۔</p>
<p>اتنے جشن اور تقریبات کے متعلق پڑھ کر مجھے لگا کہ یہ مغل بادشاہ جب اتنی زیادہ تقریبات کا انعقاد کرتے تھے تو جنگ کے میدان کب سجتے ہوں گے؟ آپ ذرا سوچیں کہ ایسی تقریبات لاہور کے اس شہر میں ہوتی ہوں گی جب نہ کسی سائلینسر پھٹے موٹر سائیکل کی آواز ہوگی، نہ کسی رکشے کی آواز اور  نہ کانوں کو درد دینے والا ٹرک کا سائرن ہوگا۔ نہ کسی گاڑی کی آوت جاوت ہوگی بلکہ تب تو سائیکل کے آگے لگی اسٹیل کی گھنٹی بھی نہیں بجتی ہوگی۔</p>
<p>سردیوں سے پہلے جب کبھی کبھار ہوائیں بالکل بھی نہیں چلتیں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے شام کے وقت ہلکی مٹی کی دھند اُٹھتی ہوگی تو مٹی کی ایک تہہ دور تک نظر آتی ہوگی اور جب رات کی ٹھنڈک لاہور کے شاہی قلعے کے وسیع آنگنوں، گلیوں، محلوں، گھروں کے آنگنوں اور راوی کے کناروں پر اُترتی ہوں گی تو وہ کیا شاندار راتیں ہوں گی۔ ذرا تصور تو کریں اور جب جاڑوں کے ٹھنڈے موسموں کی تیز ہوائیں شاہی قلعے کے آسمان پر سے گزرتی ہوں گی اور لاہور کے گھروں اور چوراہوں پر الاؤ جلتے ہوں گے اور کسی جشن کی تیاری میں چراغاں ہوتا ہوگا۔ تو کیسا منظر ہوگا وہ!</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/17125509eaa9081.jpg'  alt='       دہلی گیٹ کے پاس واقع لاہور بازار       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دہلی گیٹ کے پاس واقع لاہور بازار</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک اور اہم جشن رہ گیا جو ’جشن نوروز‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ’آئین اکبری‘ کے مطابق جشن نوروز ایک قدیم ایرانی تہوار تھا جو پہلی فروردین (ایرانی سال کا پہلا مہینہ اور عیسوی کا ماہ مارچ) جب بہار کا موسم شروع ہوتا ہے تو 7 روز تک انتہائی جوش و مسرت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔</p>
<p>مونسیراٹ انٹونیو (Monserrate Antonio) اس سے متعلق ہمیں تفصیل سے بتاتے ہیں کہ ’نوروز کے جشن کا اعلان شاہی نوبت خانے میں نقارے بجا کر کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر میناروں، گنبدوں اور شاہی محل کے تمام حصوں پر رنگین چراغاں کیا جاتا ہے۔ مختلف رنگوں سے روشنی جھلکتی ہوئی آتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے سارا میدان رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ موسم بہار کی آمد کا اعلان کرنے کے لیے جگہ جگہ سبز جھنڈے اور جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں۔ فوج کا جلوس شہروں کی شاہراہوں اور گلیوں سے گزرتا ہے۔ اس موقع پر تمام مکانات پر مختلف رنگوں سے رنگ کیا جاتا ہے اور جگہ جگہ خوبصورت رنگین پردے دیواروں پر ڈالے جاتے۔ سپاہی بھی رنگین وردیوں میں ملبوس ہوتے۔ ہاتھیوں کو خاص طور پر زیورات سے سجایا جاتا اور اُن کی پیٹھ پر ہودے رکھے جاتے۔ ہر روز کھیل تماشے ہوا کرتے۔ بادشاہ ایک سونےکے تخت پر جلوہ افروز ہوتا جس پر سیڑھیاں رکھ کر جایا جاسکتا تھا‘۔</p>
<p>ہمارے سفر کے ساتھی ’منریک‘ نے لاہور میں یہ جشن نوروز دیکھا تھا وہ لکھتے ہیں کہ ’اس جشن میں ہاتھی اپنی سونڈھوں میں تیز دھار والی تلواریں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس شکل میں وہ ڈر اور خوف پیدا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود جب کوئی ان ہودوں پر نظر ڈالتا ہے جو ان کے اوپر سواری کے لیے استعمال ہوتے ہیں تو وہاں رنگ برنگے جھنڈے فضا میں لہرا رہے ہوتے ہیں تو اُن کو دیکھ کر دل خوشی اور مُسرت سے بھر جاتا ہے‘۔</p>
<p>1 فروری 1641ء جمعرات کو بادشاہ کے 50ویں شمسی سال کا ’جشن تولادان‘ منعقد ہوا تھا۔ اس جشن کے موقع پر جو انعامات و خطابات دیے گئے تھے وہ تقریب شاید فرے منریک (Fray Sebastien Manrique) نے نہیں دیکھی ہوگی مگر اس اہم تقریب کے چلتے جشن میں وہ 10 دن بعد یعنی 29 شوال 1050ھ یا 10 فروری 1641ء کو لاہور پہنچا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1712181600fa34d.jpg'  alt='       فرے منریک       ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فرے منریک</figcaption>
    </figure></p>
<p>وہ لاہور کی خوبصورتی اور اس کے قریب سے بہتے ہوئے دریا کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ساتھ میں وہ پہاڑوں سے اُترتی ہوئی سندھو ندی کی بھی تعریف کرتا ہے۔ وہ یہاں کے باغات، حوضوں، پانی کی نہروں اور چشموں کا بڑے مزے سے ذکر کرتا ہے۔ منریک نے لاہور پہنچنے کے بعد اتنے جشن دیکھے کہ اپنی تحریر میں سب کو ملا کر تحریر کردیا۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اس کے سفرنامے کے دوسرے حصے میں جو باب 63 ہے اسے مہینوں، تاریخوں اور دنوں کے حوالے سے سمجھنے میں بڑی دقت پیش آتی ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سندھ روانہ ہونے سے پہلے وہ کتنا عرصہ لاہور میں رہا اور اس کی کیا کیا مصروفیات رہیں لیکن اگر لاہور میں آنے اور رہنے کا وقت ہمارے سامنے درست نہیں ہوگا تو سندھ کے سفرنامے کو مہینوں اور موسموں کے حوالے سے سمجھنے میں ہمیں مشکل پیش آسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1713092307d3264.jpg'  alt='   برطانوی راج میں دریائے راوی کے مناظر   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>برطانوی راج میں دریائے راوی کے مناظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>منریک جب لاہور پہنچا تو اتوار کا دن تھا اور تاریخ 10 فروری 1641ء (29 شوال 1050ھ) تھی۔ عید ہفتے کے دن 12 جنوری کو گزر چکی تھی اور شاہ جہاں کا 50واں شمسی جشنِ تولادان جاری تھا۔ منریک نے جشن نوروز بھی دیکھا تھا، جو 22 مارچ (9 ذی الحج، بروز جمعہ) کو ہوا تھا۔ جشن نوروز کی شروعات اور عید الاضحی کا دن ساتھ تھا۔ مطلب یہ کہ مارچ تک بھی منریک لاہور میں ہی تھا اور منریک نے بادشاہ کا 52واں ’جشن تولادان‘ دیکھا جو جمعے کے دن 13 جولائی (4 ربیع الثانی 1051ھ) کو منعقد ہوا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد ہمیں محمد صالح کمبوہ کی کتاب ’عمل صالح‘ میں یہ حوالہ ملتا ہے کہ بادشاہ سلامت 20 اگست کو ممتاز محل کی بڑی بہن اور آصف خان کی بیٹی کے انتقال کی تعزیت کرنے ان کے محل گئے تھے۔ تعزیت کی اس دعوت میں منریک بھی شامل تھا۔ چونکہ یہ تعزیت کسی غریب کے آنگن کی نہیں تھی جہاں درد اور محرومی کی زمین پر فقط آنسوؤں، آہوں اور دردوں کی فصلیں اُگتی ہیں۔</p>
<p>یہ شہنشاہِ ہند کی محبوب بیوی کی بہن اور شاہ جہاں کے بعد حکومت کے سب سے بڑے آدمی بلکہ ایک وزیراعظم جس کو بادشاہوں کی طرف سے کم سے کم 36 سے زیادہ القاب ملے تھے، اُس کی بیٹی کی تعزیت تھی۔ شاہ جہاں نے رات کا کھانا بھی وہاں کھایا تھا اور بہت سارے نئے طعام دیکھ کر بادشاہ حیران بھی ہوگیا تھا۔ چونکہ پرتگیز مشنری سے آصف خان کی اچھی دوستی باشی تھی جس کی وجہ سے اُس دعوت میں کچھ پرتگیز کیک اور مٹھائیاں بھی بنی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/171258563f12ffa.jpg'  alt='   آصف خان شاہ جہاں کی خدمت میں نذر پیش کرتے ہوئے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آصف خان شاہ جہاں کی خدمت میں نذر پیش کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس ضیافتِ شب میں شاہ جہاں نے پرتگیزوں کے لیے جو کہا اُس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس نے سندھ یا ہند میں دیولوں کو مسمار کرنے کے احکامات کیوں دیے ہوں گے۔ شاہ جہاں نے جو پرتگیزوں کے لیے کچھ باتیں کہیں وہ منریک کو ضرور بُری لگیں اس کا اندازہ اُس کی تحریر سے لگایا جاسکتا ہے جس میں وہ ایک انتہا پسند پادری نظر آتا ہے اور بادشاہ کے متعلق کئی باتیں کہہ کر وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔</p>
<p>منریک لکھتا ہے کہ ’نواب آصف خان کی وجہ سے اُس کو سندھ جانے اور وہاں گرائے ہوئے دیول اور رہائشی کمروں کی تعمیر کرنے کی اجازت ملی تھی اور ساتھ میں مرزا آصف خان کی طرف سے ملتان، بکھر اور ٹھٹہ کے صوبے داروں کے لیے خاص خط اور  چوکیوں پر ٹیکس نہ لینے اور پریشان نہ کرنے کے بھی خطوط آصف خان نے اپنی خاص مہر سے جاری کیے تھے۔ نواب آصف کی حویلی تک منریک کی رسائی تب ممکن ہوپائی جب لاہور میں رہنے والے پرتگیز مشنری پادری جوزف ڈی کاسٹرو (Father Joseph de Castro) کے مرزا ابوالحسن آصف خان سے اچھا اور قریبی تعلق تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/171316559a7f99a.jpg'  alt='   لاہور کی دیواروں کے ساتھ بہتا دریائے راوی &mdash; تصویر: بریٹش لائبریری بورڈ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لاہور کی دیواروں کے ساتھ بہتا دریائے راوی — تصویر: بریٹش لائبریری بورڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>منریک لکھتا ہے کہ ’لاہور میں جب عیدین اور جشن ختم ہوئے تو فادر جوزف نے شہزادے آصف سے میری ملاقات کے لیے گزارش کی۔ نواب آصف نے مجھے دوسرے ہی دن بلالیا۔ میں اس کے شاندار محل میں پہنچا جہاں شاندار باغ تھا اور رنگین پھول کھلے ہوئے تھے۔ نواب مجھے بڑی شفقت سے ملا۔ تحفے تحائف کے تبادلوں کے بعد آنے کا مقصد بیان کیا اور آصف خان سے بہت سارے احکامات کے لیے کاغذوں پر شاہی مہر لگوائی اور خاص کر سندھو سلطنت کے اُن گرجا گھروں اور رہائشوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے جس کو کچھ برس پہلے بادشاہ کے احکامات پر گرا دیا گیا تھا۔ نواب آصف کے یہ احکامات اس لیے بھی ضروری تھے کہ سفر میں یا دیول کی تعمیر کے دوران کوئی پریشانی پیش نہ آئے‘۔</p>
<p>شاہ جہاں نامہ میں ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ اپریل کے مہینے میں ٹھٹہ سندھ کے لاہری (لاڑی) بندر کے فدائی خان کا انتقال ہوا جس کی جگہ پر حکیم خوشحال کو مقرر کیا گیا۔ جشن نوروز والے دن بادشاہ کو 7 لاکھ روپے کے تحفے موصول ہوئے۔ ان ہی دنوں گجرات اور کاٹھیاواڑ کی طرف کاٹھی اور کولیوں کی بغاوت کی خبریں تو سنائی دیتی ہیں مگر منریک کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ بادشاہوں کی تاریخ لکھنے والے مصنفین کی آنکھ وہاں وہاں کھُلتی ہے جہاں جہاں بادشاہ کی نظر کا کرم برسے یا قہر برسے۔ باقی عام و خاص کے لیے ان کے قلم کی سیاہی خشک اور ہاتھ سے بنا کاغذ سُکڑ جاتا ہے۔</p>
<p>ان تاریخوں میں جو بھی منظرنامے نظر آئیں گے ان میں پھرپور زندگی کے رنگ ملیں گے کہ جیسے بادشاہ وہی زندگی جیتے ہیں۔ مگر جن دارالسلطنتوں میں یہ بادشاہ اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کو اگر آبادی کے حوالے سے ہم 10 فیصد بھی مان لیں تو باقی 90 فیصد حیات کی زندگی ان منظرناموں کے بالکل برعکس گزرتی ہے۔</p>
<p>بادشاہ کی رات کی دعوت ختم ہونے پر منریک کو خبر ملی کہ کشتی کل ملتان کے لیے تیار ہے۔ منریک، آصف خان کے محل سے ہوتا ہوا راوی کے قریب آکر رکا کہ صبح کو اسے سورج اُگنے کے ساتھ ملتان کے لیے نکلنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/1712443842f377c.jpg'  alt='   قلعے کے پاس بہتا دریائے راوی   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قلعے کے پاس بہتا دریائے راوی</figcaption>
    </figure></p>
<p>چلیے ہم بھی مسٹر منریک کے ساتھ کشتی میں سوار ہوتے ہیں جہاں اس کے ساتھ لاہور کے بیوپاری بھی شامل ہیں جو اس سفر میں کچھ بیچیں گے اور کچھ خریدیں گے۔</p>
<h1><a id="حوالہ-جات" href="#حوالہ-جات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حوالہ جات</h1>
<ul>
<li>’شاہجہان نامہ‘ (عمل صالح) ۔ ملا محمد صالح کمبوہ۔ 2013ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور</li>
<li>’اکبر کا ہندوستان‘ ۔2016ء۔ مونسیراٹ۔ ترجمہ: ڈاکٹر مبارک علی۔ فکشن ہاؤس، لاہور</li>
<li>Travels of Fray Sebastien Manrique. Vol:ii. The Hakluyt Society. Oxford. 1927</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198824</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Mar 2023 11:54:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابوبکر شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/25114319d851de6.jpg?r=114342" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/25114319d851de6.jpg?r=114342"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سفر آسائش ہے یا ضرورت؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196366/</link>
      <description>&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/63d88352e6a15.jpg'  alt='لکھاری فری لانس کالم نگار ہیں۔   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری فری لانس کالم نگار ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اطالوی شاعر جیو ایون نے زور دیا ہے کہ سفر نہ کرنے سے انسانی سوچ محدود ہوجاتی ہے اور خیالات کو پنپنے کا موقع نہیں مل پاتا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سفر کرنا چاہیے کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو  نہ ان کے خیالات پختہ ہوں گے اور نہ ہی نظریات میں تبدیلی آئی گی۔ یوں ان کے خواب بھی کمزور ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ چند برسوں میں پاکستان میں سیاحت کی استطاعت رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک اہم سرگرمی بن چکی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی سالانہ آمدنی میں بچت اسی مقصد کے لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے عیال یا دوستوں کے ساتھ قدرتی مقامات پر سیر یا ایڈونچر پر مبنی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اوقات سیاحت کے لیے لوگ مشرقِ وسطیٰ، تھائی لینڈ یا ترکی جیسے قریبی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تمام سیاحتی دورے تفریح کے لیے، رشتہ داروں سے ملنے کے لیے یا پھر شاپنگ کی غرض سے کیے جاتے ہیں۔ تاہم اس دوران پاکستانی سیاحوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن شوق کے لیے سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سیاح وہ دیکھتا ہے جو وہ دیکھنے آتا ہے جبکہ مسافر کی نظر مختلف ہوتی ہے۔‘ جیو ایون کی نظر میں سیاح، مسافر کے زمرے میں نہیں آتے۔ سیاحوں نے اپنی منزل اور گھومنے کے لیے مقامات کا منصوبہ پہلے ہی بنا رکھا ہوتا ہے۔ سیاحت ایک تفریحی سرگرمی ہے جبکہ سفر ایک الگ مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ایسے بہت کم لوگ ملیں گے جو سیکھنے، اپنی سوچ کو وسعت دینے اور نئے تجربات حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اس بات سے شاید کم ہی لوگ اختلاف کریں گے کہ ہمارا معاشرہ اپنے آباؤاجداد کی تہذیب و روایات کے علاوہ دیگر ثقافتوں کو سیکھنے یا ان کے بارے میں جاننے میں دلچسپی نہیں دکھاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہم مختلف قومیت کے لوگوں سے ملنے، ثقافتوں کا تجزیہ کرنے، مختلف پکوانوں کا تجربہ کرنے اور مختلف زبانیں سننے کی غرض سے دنیا گھومنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم نے اپنی ذات کو اتنی اہمیت دینا شروع کردی ہے کہ یہ دنیا کی نئی روایات سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف سفر کرنے سے ہمیں دنیا کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کا کتنا بڑا حصہ ایسا ہے جو ہم نے نہیں دیکھا۔ جب ہم اپنے آپ کو ایک بڑے نظام کا چھوٹا سا حصہ تصور کرنے لگتے ہیں تب ہمارے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے اور ہماری سوچ تبدیل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ممالک میں طلبہ اپنی جزوقتی نوکریوں یا وظیفوں سے ہونے والی آمدن سے  بچت کرتے ہیں تاکہ یونیورسٹی یا کالج کی تعطیلات کے دوران یا پھر پڑھائی سے ایک سال کا وقفہ لےکر وہ دنیا کی سیر کر سکیں۔ آپ نے ایسا بہت ہی کم سنا ہوگا کہ پاکستان میں طلبہ سفر کرنے کے لیے ایسا کرتے ہوں۔ ایسا صرف محدود  آمدن کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ پاکستان میں آج بھی سفر کرنے کو مکمل طور پر تفریح سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194694"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک آسائش ہے جس کی استطاعت صرف وہی رکھتا ہے جس کے پاس پیسے ہوں اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ گھومنا پسند کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سیاحت کے لیے اپنی نوکریاں لگنے کا انتظار کرتے ہیں تا کہ وہ اس آسائش کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوسکیں۔ جب تک ان کے پاس سفر کرنے کے لیے رقم جمع ہوتی ہے، اس وقت تک وہ اپنی زندگی کے جس مشکل دور سے گزر چکے ہوتے ہیں اس نے ان کی سماجی برتاؤ، سوچنے، سننے یا مشاہدے کی صلاحیتوں کو محدود کردیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ سفر کرنے میں اور دیگر ثقافتوں اور اقدار کو سجھنے میں گزارا ہو اس کی سوچ اور خیالات اس شخص سے زیادہ وسیع ہوتے ہیں جس نے اپنی ساری زندگی چار دیواری میں بند رہ کر گزاری ہو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ مختلف مقامات کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں جس سے وہ اس جگہ کی تصوراتی سیر کرلیتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی بھی جسمانی حرکت اور اس تجربے کا متبادل نہیں ہوسکتے جو انسان خود سفر کرکے حاصل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ دور میں سفر کا شوق صرف نوجوانوں اور مغربی لوگوں کو ہی نہیں ہے بلکہ ہمیں ہوائی جہازوں اور ٹرینوں میں ایسے بہت سے بزرگ افراد ملیں گے جو ریٹائر ہونے کے بعد اپنی زندگی میں نیا تجربہ حاصل کرنے کے لیے دنیا کی سیر کو نکل پڑتے ہیں۔ تو سفر کرنے سے نوجوان اور بزرگ دونوں ہی یکساں تجربات حاصل کرتے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں سفرنامے لکھنے والے نامور افراد کا تعلق مشرق سے ہی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ضروری نہیں ہے کہ جو ہم کتابوں یا سفرناموں میں پڑھیں وہ ہمیشہ درست ہو۔ اس کے ذریعے اکثر ہمارے ذہنوں میں لوگ غلط معلومات ڈالنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اگر ہم اسی جگہ کی سیر کرلیں تو ہمارا تجربہ مکمل تبدیل ہوسکتا ہے۔ جو ہم دوسروں سے سنتے اور ان کے سفرنامے پڑھتے ہیں اس سے ہمارے ذہنوں میں اس جگہ کے حوالے سے ایک جانبدارانہ تصور پیدا ہوجاتا ہے۔ جب ہم خود سیر کرکے دیکھتے یا سنتے ہیں تب ہمارے دل و دماغ میں اس جگہ کے حوالے سے نئے خیالات جنم لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک ٹوین کے مطابق سفر کرنے سے تعصب اور تنگ نظری میں کمی آتی ہے اور یوں دوسروں کے طرز زندگی کے بارے میں ہمدردانہ نظریے کو فروغ ملتا ہے۔ سفر کرنے سے انسان کی اپنی شخصیت کے بھی کچھ پہلو پروان چڑھتے ہیں اور اس سے انسان کی ایسی شخصیت باہر آتی ہے جو معاشرے کے تنگ ماحول کے باعث اس کے اندر ہی کہیں قید تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1921ء میں ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والے فرانسیسی ادیب، اناتول فرانس نے کہا تھا کہ انسان اور فطرت کے درمیان اصل ہم آہنگی سفر کرنے سے دوبارہ قائم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اپنے اصل سے دوبارہ جڑنے کے لیے، ہمیں اپنی معمول کی زندگیوں سے وقفہ لےکر سفر کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1734538/travel-if-you-can"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 31 جنوری 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/63d88352e6a15.jpg'  alt='لکھاری فری لانس کالم نگار ہیں۔   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری فری لانس کالم نگار ہیں۔</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>اطالوی شاعر جیو ایون نے زور دیا ہے کہ سفر نہ کرنے سے انسانی سوچ محدود ہوجاتی ہے اور خیالات کو پنپنے کا موقع نہیں مل پاتا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سفر کرنا چاہیے کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو  نہ ان کے خیالات پختہ ہوں گے اور نہ ہی نظریات میں تبدیلی آئی گی۔ یوں ان کے خواب بھی کمزور ہوں گے۔</strong></p>
<p>حالیہ چند برسوں میں پاکستان میں سیاحت کی استطاعت رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک اہم سرگرمی بن چکی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی سالانہ آمدنی میں بچت اسی مقصد کے لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے عیال یا دوستوں کے ساتھ قدرتی مقامات پر سیر یا ایڈونچر پر مبنی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعض اوقات سیاحت کے لیے لوگ مشرقِ وسطیٰ، تھائی لینڈ یا ترکی جیسے قریبی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تمام سیاحتی دورے تفریح کے لیے، رشتہ داروں سے ملنے کے لیے یا پھر شاپنگ کی غرض سے کیے جاتے ہیں۔ تاہم اس دوران پاکستانی سیاحوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن شوق کے لیے سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔</p>
<p>’سیاح وہ دیکھتا ہے جو وہ دیکھنے آتا ہے جبکہ مسافر کی نظر مختلف ہوتی ہے۔‘ جیو ایون کی نظر میں سیاح، مسافر کے زمرے میں نہیں آتے۔ سیاحوں نے اپنی منزل اور گھومنے کے لیے مقامات کا منصوبہ پہلے ہی بنا رکھا ہوتا ہے۔ سیاحت ایک تفریحی سرگرمی ہے جبکہ سفر ایک الگ مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ایسے بہت کم لوگ ملیں گے جو سیکھنے، اپنی سوچ کو وسعت دینے اور نئے تجربات حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اس بات سے شاید کم ہی لوگ اختلاف کریں گے کہ ہمارا معاشرہ اپنے آباؤاجداد کی تہذیب و روایات کے علاوہ دیگر ثقافتوں کو سیکھنے یا ان کے بارے میں جاننے میں دلچسپی نہیں دکھاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہم مختلف قومیت کے لوگوں سے ملنے، ثقافتوں کا تجزیہ کرنے، مختلف پکوانوں کا تجربہ کرنے اور مختلف زبانیں سننے کی غرض سے دنیا گھومنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم نے اپنی ذات کو اتنی اہمیت دینا شروع کردی ہے کہ یہ دنیا کی نئی روایات سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔</p>
<p>دوسری طرف سفر کرنے سے ہمیں دنیا کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کا کتنا بڑا حصہ ایسا ہے جو ہم نے نہیں دیکھا۔ جب ہم اپنے آپ کو ایک بڑے نظام کا چھوٹا سا حصہ تصور کرنے لگتے ہیں تب ہمارے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے اور ہماری سوچ تبدیل ہوتی ہے۔</p>
<p>بہت سے ممالک میں طلبہ اپنی جزوقتی نوکریوں یا وظیفوں سے ہونے والی آمدن سے  بچت کرتے ہیں تاکہ یونیورسٹی یا کالج کی تعطیلات کے دوران یا پھر پڑھائی سے ایک سال کا وقفہ لےکر وہ دنیا کی سیر کر سکیں۔ آپ نے ایسا بہت ہی کم سنا ہوگا کہ پاکستان میں طلبہ سفر کرنے کے لیے ایسا کرتے ہوں۔ ایسا صرف محدود  آمدن کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ پاکستان میں آج بھی سفر کرنے کو مکمل طور پر تفریح سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194694"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ ایک آسائش ہے جس کی استطاعت صرف وہی رکھتا ہے جس کے پاس پیسے ہوں اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ گھومنا پسند کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سیاحت کے لیے اپنی نوکریاں لگنے کا انتظار کرتے ہیں تا کہ وہ اس آسائش کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوسکیں۔ جب تک ان کے پاس سفر کرنے کے لیے رقم جمع ہوتی ہے، اس وقت تک وہ اپنی زندگی کے جس مشکل دور سے گزر چکے ہوتے ہیں اس نے ان کی سماجی برتاؤ، سوچنے، سننے یا مشاہدے کی صلاحیتوں کو محدود کردیا ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ سفر کرنے میں اور دیگر ثقافتوں اور اقدار کو سجھنے میں گزارا ہو اس کی سوچ اور خیالات اس شخص سے زیادہ وسیع ہوتے ہیں جس نے اپنی ساری زندگی چار دیواری میں بند رہ کر گزاری ہو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ مختلف مقامات کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں جس سے وہ اس جگہ کی تصوراتی سیر کرلیتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی بھی جسمانی حرکت اور اس تجربے کا متبادل نہیں ہوسکتے جو انسان خود سفر کرکے حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>موجودہ دور میں سفر کا شوق صرف نوجوانوں اور مغربی لوگوں کو ہی نہیں ہے بلکہ ہمیں ہوائی جہازوں اور ٹرینوں میں ایسے بہت سے بزرگ افراد ملیں گے جو ریٹائر ہونے کے بعد اپنی زندگی میں نیا تجربہ حاصل کرنے کے لیے دنیا کی سیر کو نکل پڑتے ہیں۔ تو سفر کرنے سے نوجوان اور بزرگ دونوں ہی یکساں تجربات حاصل کرتے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں سفرنامے لکھنے والے نامور افراد کا تعلق مشرق سے ہی تھا۔</p>
<p>لیکن ضروری نہیں ہے کہ جو ہم کتابوں یا سفرناموں میں پڑھیں وہ ہمیشہ درست ہو۔ اس کے ذریعے اکثر ہمارے ذہنوں میں لوگ غلط معلومات ڈالنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اگر ہم اسی جگہ کی سیر کرلیں تو ہمارا تجربہ مکمل تبدیل ہوسکتا ہے۔ جو ہم دوسروں سے سنتے اور ان کے سفرنامے پڑھتے ہیں اس سے ہمارے ذہنوں میں اس جگہ کے حوالے سے ایک جانبدارانہ تصور پیدا ہوجاتا ہے۔ جب ہم خود سیر کرکے دیکھتے یا سنتے ہیں تب ہمارے دل و دماغ میں اس جگہ کے حوالے سے نئے خیالات جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مارک ٹوین کے مطابق سفر کرنے سے تعصب اور تنگ نظری میں کمی آتی ہے اور یوں دوسروں کے طرز زندگی کے بارے میں ہمدردانہ نظریے کو فروغ ملتا ہے۔ سفر کرنے سے انسان کی اپنی شخصیت کے بھی کچھ پہلو پروان چڑھتے ہیں اور اس سے انسان کی ایسی شخصیت باہر آتی ہے جو معاشرے کے تنگ ماحول کے باعث اس کے اندر ہی کہیں قید تھی۔</p>
<p>1921ء میں ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والے فرانسیسی ادیب، اناتول فرانس نے کہا تھا کہ انسان اور فطرت کے درمیان اصل ہم آہنگی سفر کرنے سے دوبارہ قائم ہوتی ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اپنے اصل سے دوبارہ جڑنے کے لیے، ہمیں اپنی معمول کی زندگیوں سے وقفہ لےکر سفر کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1734538/travel-if-you-can">مضمون</a></strong> 31 جنوری 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196366</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Feb 2023 10:09:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نکہت ستار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/010952059c29fd0.jpg?r=095309" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/010952059c29fd0.jpg?r=095309"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک سیاحت: استور روڈ (چھٹی قسط)</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195624/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;بونجی کی خوفناک چڑھائی پیچھے رہ گئی اور ہم ایک ایسے منظر میں داخل ہوئے جہاں سڑک کا وجود ایک میلوں وسیع بیابان میں بالکل بے حیثیت ہو کر گُم ہو رہا تھا۔ یہ پتھریلا صحرا ہمارے دائیں جانب نیچے دریائے سندھ کی طرف ڈھلوان ہوتا جارہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا کی پرلی جانب بھی اسی طرح کا صحرائی میدان دکھائی دیتا تھا۔ لیکن اس کنارے کے وسیع صحرائی منظر میں دُور ایک سیاہ لکیر بھی نظر آتی تھی جس پر چند نقطے ترتیب سے حرکت کر رہے تھے۔ یہ سیاہ لکیر شاہراہ قراقرم کی تھی اور یہ نقطے ٹرکوں کا کوئی قافلہ تھا۔ شاید ٹرکوں والے بھی وہاں سے ہماری جانب دیکھتے ہوں لیکن ہم تو زمین کے ایک ہم رنگ راستے پر اس طرح کیموفلاج ہوچکے تھے کہ ان کو نظر ہی نہیں آتے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے کاغان کے راستے درّہ بابوسر سے گزر کر جو راستہ گلگت آتا تھا وہ بھی صرف ایک صدی پُرانا ہے۔ یہ راستہ برطانوی دور میں 1890ء میں شروع ہوا تھا۔ اُس سے پہلے گلگت آنے کا واحد راستہ یہی ’استور روڈ‘ ہوا کرتا تھا جس پر آج ہم سفر کر رہے تھے۔ یہ راستہ سری نگر سےآتا تھا اور دراس، کارگل، درّہ برزل، دیوسائی اور استور سے گزر کر یہاں بونجی میں دریائے سندھ کو عبور کرکے گلگت پہنچتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/1916061203c7f6d.jpg?r=160616'  alt='  استور کا رہنمائی بورڈ&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور کا رہنمائی بورڈ— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہراہ قراقرم پر دائیں بائیں پہاڑوں کے درمیان جگہ جگہ درّہ نما راستے کئی وادیوں کو جاتے نظر آتے ہیں مگر استور کو جانے والا راستہ کچھ خفیہ سا ہے۔ دریائے استور جس مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے وہ پہاڑوں کی دیوار میں ایک دراڑ کی طرح کھلتا ہے۔ اس دراڑ کے پیچھے پھر پہاڑ ہیں اس لیے شاہراہ قراقرم پر کھڑے ہو کر اس جانب دیکھیں تو یہ راستہ نظر ہی نہیں آئے گا مگر قریب پہنچیں گے تو اس دراڑ کی تہہ میں ایک گرجدار مٹیالا دریا انتہائی تیز رفتاری سے دریائے سندھ کی رفاقت اختیار کرنے کو لپکتا نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بونجی کے صحرا کو عبور کرکے ہم اس دراڑ کے قریب پہنچے تو ایک موڑ لیتے ہی دریائے استور کا جھاگ اڑاتا وجود اور اس پر لٹکتا رسوں کا پُل ہمارے سامنے تھا۔ یہ پُل پہاڑوں کی اُس دراڑ کے دہانے پر تھا جہاں سے دریائے استور برآمد ہوکر چند سو میٹر آگے دریائے سندھ میں شامل ہو رہا تھا۔ پُل عبور کرکے ہم دوسری طرف استور روڈ پر آگئے جو رائے کوٹ سے یہاں تک دریائے سندھ کے کنارے کنارے آرہی تھی۔ دریائے استور کے کنارے کنارے ہم اس کچی سڑک پر کچھ آگے بڑھے تو وادی کُھل گئی۔ دریا کا پاٹ بھی کچھ وسیع ہوا، مگر پتھروں سے دیوانہ وار ٹکراتے پانی کی غصیلی کیفیت ابھی برقرار تھی۔ مسلسل جھاگ اڑاتے پانیوں سے اٹھنے والی سفید دھند دریا کی سطح سے چند فٹ اوپر بادلوں کی طرح معلق تھی۔ دوسرے کنارے پر دیوار نما پہاڑ دریا پر جھکے ہوئے تھے اور ہم ان دیواروں کی سیکڑوں فٹ اونچائی پر بھی پانی بہنے کے قدیم آثار دیکھ رہے تھے۔ پانی کے مسلسل بہنے سے گول اور تہہ دار ہو جانے والی پہاڑی دیوار ظاہر کرتی تھی کہ کبھی دریائے استور اس اونچائی تک بھی بہا کرتا ہوگا۔ دریائے استور بہت تیزی سے نیچے اترتا ہے۔ مسلسل ڈھلوان کی وجہ سے اس کے پانی بے حد تیز رفتار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/1916061855c2ccb.jpg?r=160958'  alt='  بونجی میں دریائے سندھ پر موجود پُل&amp;mdash; تصویر:لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بونجی میں دریائے سندھ پر موجود پُل— تصویر:لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191606193d0340d.jpg?r=160958'  alt='  قدیم بونجی استور روڈ&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قدیم بونجی استور روڈ— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’استور سے نانگا پربت بھی نظر آتا ہے؟‘ میں بولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں استور سے نانگا پربت نظر نہیں آتا۔ استور سے اوپر ایک جگہ ہے راما، وہاں سے نظر آتا ہے۔ پھر استور سے آگے ایک قصبہ ہے تریشنگ جس کے ایک گاؤں روپل سے بھی نانگا پربت نظر آتا ہے۔ بلکہ اس گاؤں کا نام روپل بھی نانگا پربت کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ روپل ہم چاندنی کو کہتے ہیں۔ چاندنی راتوں میں جب چاند نانگا پربت کے سامنے والے پہاڑوں کے پیچھے نکلتا ہے تو نیچے گہرائی میں روپل والوں کو بالکل نظر نہیں آتا لیکن اس کی روشنی سامنے نانگا پربت کی سفید برف سے ٹکراتی ہے تو نانگا پربت اس چاندنی کو ایک آئینے کی طرح منعکس کر کے نیچے روپل میں ڈال دیتا ہے۔ یوں وہاں روپل میں چاند نظر نہ آنے کے باوجود چاندنی ہی چاندنی ہو جاتی ہے یعنی روپل ہی روپل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ اس گاؤں کو روپل کہتے ہیں‘۔ فیاض بولتا گیا اور ہم اس کے چہرے پر اس چاندنی کا عکس دمکتے محسوس کرتے رہے۔ اتنا رومانٹک گاؤں دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استور آگیا۔ ہم پہاڑ کی بلند دیوار سے پیٹھ لگائے پرانی دوکانوں کی ایک قطار میں سے گزرنے لگے۔ استور کے باسیوں نے ایک لحظے کے لیے ہمیں دیکھا اور پھر اپنے کاموں میں لگ گئے۔ ہماری گاڑیاں ایک جگہ رک جاتی ہیں۔ انجن بند ہوتے ہی شور تھم جاتا ہے۔ ہمارے سامنے ایک بوسیدہ سا ہوٹل تھا۔ ٹورسٹ ڈریم لینڈ، جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ یہاں سیاحوں کو صرف ڈراؤنے خواب ہی آتے ہوں گے۔ آج ہمارا قیام اسی ہوٹل میں تھا۔ہوٹل میں کُل 3 کمرے تھے۔ ہر کمرے میں 2، 2 سبستر بھی تھے اور فرش پر دریاں بھی بچھادی گئی تھیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا کیونکہ کارگل میں جنگ کی وجہ سے استور میں بلیک آؤٹ تھا۔ ہوائی حملے کا خطرہ تھا۔ ٹورسٹ ڈریم لینڈ میں ہم رات بھر ہوائی حملوں کے خواب دیکھتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160613c7e2073.jpg?r=162608'  alt='  استور کا ایک منظر&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور کا ایک منظر— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191606151331e8a.jpg?r=164132'  alt='  استور&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح میڈیکل کیمپ کے بعد سب فارغ ہوئے تو نانگا پربت دیکھنے کے لیے ’راما‘ جانے کا پروگرام بنا۔ استور سے راما کا فاصلہ ہے تو صرف 6 کلو میٹر، مگر اس مختصر فاصلے میں ہی یہ راستہ 3500 فٹ بلند ہو جاتا ہے۔ استور کی بلندی 7000 فٹ ہے جبکہ راما 10500 فٹ کی بلندی پر ہے ۔ ہم سب ڈرائیورکفایت کی نیلی جیپ اور بقیہ لوگ اشتیاق کی لینڈ کروزر میں سوار ہوگئے۔کچے پکے مکانوں کے بیچ میں سے راستہ اوپر ہی اوپر اٹھتا چلا گیا۔ آبادی ختم ہوئی اور ویرانہ شروع ہوگیا۔ راستہ مستقل اوپر ہی جا رہا تھا۔ ایک جگہ پر جیپ نے دائرے میں ایک بڑا سا موڑ لیا اور اوپرکی طرف جاتے جاتے ایک دم سیدھی جو ہوئی، تو سامنے سڑک غائب تھی لیکن اس کی جگہ ایک ہوش رُبا منظر آنکھوں کے سامنے موجود تھا۔۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160616861f8b0.jpg?r=162608'  alt='  وادی روپل&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;وادی روپل— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک یہاں اوپر جانے کی بجائے نیچے اتر رہی تھی، اور نیچے کیا تھا؟۔۔۔ نیچے میلوں وسیع ڈھلوانوں پر گہرے سبز رنگ کا ایک ریشمی قالین بچھا ہوا تھا۔ کھیت لہلہا رہے تھے اور ان میں کہیں کہیں کسانوں کے چھوٹے چھوٹے مکان اور جابجا گھنے درختوں کے جھنڈ تھے۔ دوسری طرف کے پہاڑ دُور تھے اور ان کے پیچھے سے مزید دُورکے پہاڑ اپنی سفید برفانی چوٹیاں لیے جھانک رہے تھے۔ یہ نانگا پربت کے سلسلے تھے۔ بائیں ہاتھ پر نیچے نگاہ کی تو دُور گہرائی میں ننھے منے مکانوں کا ایک سلسلہ پہاڑ کی ڈھلان سے چمٹا ہوا تھا۔ یہ استور تھا اور استور سے مزید نیچے پہاڑوں کی جڑ میں ایک نالی سے بہتی نظر آرہی تھی۔ یہ نالی دریائے استور تھا۔ حسن فطرت کی اس فراوانی نے ہم سب کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ جیپیں رک گئی تھیں۔ مسافر گاڑیوں سے اورکیمرے تھیلوں سے باہر آگئے تھے۔ راستے کے اطراف میں سرسبز کھیت آنکھوں کو تازگی بخش رہے تھے۔ ہوا ٹھنڈی تھی اور خوبانی اور اخروٹ کے درخت ہم پر سایہ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب اس راستے کی دلکشی میں مگن چلے جا رہے تھے کہ ایک مشکل پیش آگئی۔ ایک جگہ ایک تیز  رفتار پہاڑی نالا شور مچاتا سڑک کے نازک وجود کو پامال کرتا نیچے کھیتوں میں گم ہو رہا تھا اور اس نالے کی وجہ سے سڑک میں اتنا گہرا گڑھا بن چکا تھا کہ جس میں سے بھری جیپ کا گزرنا محال تھا۔ سب جیپ سے اتر آئے۔ نالے میں بڑے بڑے پتھر بکھرے ہوئے تھے ۔سب ان پتھروں پرپیر جما جما کر آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے دوسری طرف آگئے اور اب یہ ہجوم دوسری طرف کھڑا، اس تیز رفتار پانی کو عبور کرنے کی کوشش میں لڑکھڑاتی جیپ کا تماشا دیکھ رہا تھا۔ چنانچہ ایک فیصلہ ہوگیا کہ جیپ آگے نہیں جائے گی۔ طوعاً و کرہاً ہم سب پیدل چل پڑے۔ راستے کی اٹھان برقرار تھی۔کھیتوں میں پوشیدہ پانی کی نالیوں کی سر سراہٹ خاموش فضا میں صاف سنائی دیتی تھی۔ آسمان زیادہ نیل دیے گئے کپڑے کی مانند نیلگوں ہو رہا تھا۔ استوری کسانوں کے ننھے منے بچے کھیلتے کھیلتے ٹھٹک کر ہمیں دیکھتے اور ہم میں سے کسی کے اشارے پر شرما کر بھاگ جاتے۔ برتن دھوتی کوئی عورت ہمیں دیکھ کر چونکتی اورچہرہ رنگین چادر سے چھپا کر ہماری طرف پیٹھ کرلیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/1916061797c2ff0.jpg?r=164200'  alt='  استور&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160615f9be59f.jpg?r=164200'  alt='  استور کا ایک منظر&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور کا ایک منظر— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160615c1c0099.jpg?r=164200'  alt='  استور&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلتے چلتے ہمارے سامنے سفید چمک دار برف کا ایک عظیم ڈھیر پہاڑوں کے بیچ میں سے سورج کی طرح طلوع ہوا۔ یہ برف پوش چوٹی نانگا پربت کا ایک حصہ ’چانگرا پیک‘ تھی۔ تقریباً 2 گھنٹے کی چڑھائی کے بعد ہم سب ایک گھنے جنگل میں کھڑے تھے۔ نانگا پربت کی چوٹی ہماری آنکھوں کے عین سامنے درختوں کے اوپر سے بلند ہو رہی تھی۔ راستے کے دائیں طرف راما ریسٹ ہاؤس کا بورڈ نصب تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے سامنے درخت کچھ پیچھے ہٹ گئے تھے اور وہاں ایک دلفریب تصویر سجی ہوئی تھی۔ یہ ایک وسیع چراگاہ تھی جس کے گہرے سبز میدان میں قدرتی پھولوں کے جھرمٹ ستاروں کی طرح ٹنکے ہوئے تھے اور اس میدان کے بیچ میں چاندی جیسے پانی کی ایک ننھی منی ندی کروٹیں لیتی ہوئی بہہ رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دلفریب منظر کے سامنے راما ریسٹ ہاؤس کی خوبصورت عمارت ہماری منتظر تھی۔ اچانک بوندا باندی شروع ہوگئی اور ہم ریسٹ ہاؤس کے اندر چلےگئے۔ چیڑ کے درختوں میں گھرے راما ریسٹ ہاؤس کی چھت برستی بوندوں سے جلترنگ بنی ہوئی تھی اور اندر ایک زبردست رونق تھی۔ نفاست سے تلی ہوئی ٹراؤٹ مچھلی کا طشت میز پر سجا ہوا تھا اور گرما گرم چائے سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کی عمارت باہر سے تو حسین تھی ہی، اندر سے بھی کم نہ تھی۔ عالیشان فرنیچر، دبیز قالین اور بھاری پردوں سمیت تمام آسائشوں سے مزین۔ محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ ہم شہروں سے کہیں دُور، دشوار گزار پہاڑوں میں، نانگا پربت کی گود میں، راما کے مقام پر ہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ڈیفنس یا گلبرگ کے کسی محلاتی ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160619f10f2af.jpg?r=162633'  alt='  استور راما روڈ&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استور راما روڈ— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191606147c40a0c.png?r=163648'  alt='  راما کا ریسٹ ہاؤس&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راما کا ریسٹ ہاؤس— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191637189c9e21f.jpg?r=163822'  alt='  راما کا ایک منظر&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راما کا ایک منظر— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوڑی دیر بعد باہر بارش تھم چکی تھی، طشت میں ٹراؤٹ کا ایک ذرّہ بھی بچا نظر نہ آتا تھا اور چائے کی چسکیاں بھی معدوم ہوچکی تھیں۔ اب واپسی کا سفر تھا اور یہ اترائی کا سفر تھا۔ راما کے جنگل سے باہر نکلتے ہی ڈھلوان پر کھیتوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ کچی سڑک وادی میں لہراتی نیچے استور تک جاتی نظر آرہی تھی۔ ہم سب اس سڑک پر چل پڑے۔ اترائی کے راستے پر پیدل چلنے سے اندازہ ہوا کہ چڑھائی پر آدمی ہانپتا ضرور ہے مگر رکنا اور چلنا پھر بھی اس کے اختیار میں ہوتا ہے، لیکن اترائی پر تو کچھ بھی اختیار میں نہیں رہتا۔ میں اس بے اختیاری سے بے خبر اپنی عکس بندی میں مگن لا پرواہی سے چلتے ہوئے باقی لوگوں سے پیچھے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بھئی اب تو اترائی ہے، شارٹ کٹ مارتے ہیں‘۔ فیاض ایک جگہ پر سڑک سے اتر کر کھیتوں میں گھس گیا۔ باقی سب بھی لبیک کہتے ہوئے ڈھلوان پر کھیتوں میں اترگئے۔ فیاض تو ان وادیوں کا پلا بڑھا تھا۔ اس کے لیے ان ڈھلوانوں پر جسم کو تیر کی طرح سیدھا رکھ کر اترنا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مگر ہم تو میدانوں کے باسی تھے۔ تھوڑا ہی چلے ہوں گے کہ نانی یاد آگئی۔ڈھلواں سڑک پر بے اختیار ہوتے جسم کو سنبھالنا پھر بھی کچھ آسان تھا مگر کھیتوں کی ناہموار زمین اور منڈیروں کی گیلی گھاس پر خود کو سنبھالنا اور اترنا دو الگ الگ دشوار کام تھے۔ آج بھی جب میں اپنی اُس ریکارڈ کی ہوئی فلم کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک سبز ڈھلوان پر کچھ سراسیمہ اجسام گھاس پر کولھے ٹکائے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف کھسکنے کی کوشش میں مصروف اور اس عمل سے کامیاب گزر جانے والے بقیہ لوگ نیچے کھڑے بوتھیاں اوپر کیے قہقہے لگاتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اپنے تئیں پہاڑوں کا واقف، میرے خیال میں تو ان ڈھلوانوں پر چڑھنا اترنا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ مجھے اپنے قدموں پر پورا اعتماد تھا لیکن یہ بھولے ہوئے تھا کہ میرے دائیں ہاتھ میں جو کیمرہ ہے وہ مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے۔ اسی لیے جہاں باقی سب چوپائے بن کر اتررہے تھے وہاں میں سہ پایہ بنا ہوا تھا۔ البتہ بظاہر ایک شانِ بے نیازی سے اِدھر اُدھر دیکھتا فلسفیوں کے انداز میں غور و فکر کرتا چلا جا رہا تھا۔ سڑک ایک جگہ طویل موڑ لے کر دوبارہ نیچے سے گزر رہی تھی اور ہم کھیتوں کا شارٹ کٹ لے کر اس تک پہنچنے والے تھے۔ لیکن کھیتوں کی منڈیروں پر جو گھاس ہمارے قدموں تلے تھی اس میں پانی سرایت کیے ہوئے تھا جو ہماری بے خبری میں جوتوں کے تلوے دھو دھو کر چکنے کر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیع اور اسرار مجھ سے چند قدم آگے رینگ رہے تھے کہ اچانک اسرار کا پاؤں پھسلا۔ ایک لمحے کے لیے اس کی دونوں ٹانگیں ہوا میں بلند ہوئیں اور دوسرے ہی لمحے وہ گیلی گھاس پرچاروں شانے چت پڑا تھا۔ بد قسمتی سے آخری لمحے میں کسی سہارے کی تلاش میں اس کے بے تابی سے لہراتے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں سمیع کی ٹانگ آگئی۔ چنانچہ اگلے ہی لمحے سمیع بھی اس کے ساتھ چت تھا اور وہ دونوں کیچڑ پانی میں لت پت ہو کرپھسلتے ہوئے نیچے کی طرف لڑھک رہے تھے۔ دور نیچے سڑک کی عافیت میں کھڑی بقیہ ٹیم کے قہقہے اوپر ہم تک پہنچ رہے تھے اوران میں میرے قہقہے بھی شامل تھے۔ ایک ہاتھ کولہے پر رکھے، دوسرے ہاتھ میں کیمرہ سنبھالے، اسرار اور سمیع کے پہاڑوں کا ناتجربہ کار ہونے کا طنز چہرے پر لیے میں بھی قہقہے لگا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیع اور اسرار تھوڑا نیچے جا کر بالآ خر رک گئے تھے مگر وہیں نڈھال پڑے تھے۔ میں ان کی طرف لپکا۔ مگر یہی وہ لمحہ تھاجب میرا اٹھا ہوا پاؤں تو ہوا میں اٹھا ہی رہا،پچھلا پاؤں بھی گیلی گھاس پر پھسل کرہوا میں اٹھ گیا۔ الٹ کر پیچھے گرنے سے بچنے کے لیے میں صرف اس ایک ہاتھ کو استعمال کر سکتا تھا جس میں کیمرا نہیں تھا۔ مگر اسی لمحے میرا کیمرے والا ہاتھ بھی خالی ہوچکا تھا۔ میں فضا میں جتنا بلند تھا کیمرا اس سے دگنا اوپر معلق ہوگیا۔ میں نے گرنے سے بچنے کی بجائے کیمرا سنبھالنے کے لیے فضا میں ہاتھ چلائے، لیکن گیلی گھاس پر پھسلتا ہوا وہ وجود میرا ہی تھا جو سمیع اور اسرار کے چت پڑے اجسام کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا۔ میرا دماغ ماؤف ہوا، نیچے سڑک پر کھڑی ٹیم کے قہقہے مدھم پڑے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور میں ایک اندھیری ڈھلوان میں اترتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ تو میں نے کئی سال بعد کا قصہ بیان کر دیا۔ اس وقت تو میں 1986ء میں پہلی بار گلگت جارہا تھا اور یہ آدھی رات کا وقت تھا جب ہم جگلوٹ سے گزرے۔ شاہراہِ قراقرم تھاکوٹ سے رائے کوٹ تک دریائے سندھ کے کنارے کنارے دائیں طرف کوہ ہمالیہ کے دامن میں چلتی ہے اور رائے کوٹ پُل کو عبور کرنے کے بعد جگلوٹ اور اسکردو موڑ تک دریائے سندھ کے بائیں کنارے کوہ ہندوکش کے دامن میں چلتی ہے۔ جگلوٹ کے قصبے سے 15 کلومیٹر آگے آئیں تو یہاں دریائے سندھ شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر دائیں سمت میں اسکردو کی طرف مڑ جاتا ہے اور شاہراہ قراقرم سیدھی گلگت کی طرف چلتی رہتی ہے، لیکن اب بھی اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا دریا بہہ رہا ہوتا ہے۔۔۔ یہ دریائے گلگت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160618e125f5c.jpg?r=160816'  alt='  دریائے سندھ اور دریائے گلگت کا سنگم&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے سندھ اور دریائے گلگت کا سنگم— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جگلوٹ کے اور اسکردو موڑ کے درمیان ہی وہ انوکھی جگہ آتی ہے جہاں کوہ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم آمنے سامنے آجاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں دریائے گلگت اور دریائے سندھ آپس میں ملتے ہیں اور دریاؤں کا یہ سنگم اپنے اطراف میں موجود پہاڑی سلسلوں کی حد بندی کر دیتا ہے۔ کوہ ہمالیہ اس مقام سے نیپال تک چلا جاتا ہے جہاں اس کی چوٹی ایورسٹ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے جبکہ پاکستانی حدود میں اس سلسلے کی چوٹی نانگا پربت کے علاوہ کوہِ مری اور کوہِ مارگلہ بھی شامل ہیں۔ اس مقام پر بنی یادگار اندھیرے میں اوجھل نہ جانے کب گزر جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے سندھ اور دریائے گلگت کے درمیانی خطے میں کوہ قراقرم کا سلسلہ ہے جو چین تک چلاگیا ہے ۔ پاکستانی حدود میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے2 اسی سلسلہ قراقرم کا حصہ ہے۔ کوہ ہندوکش یہاں سے افغانستان تک چلاگیا ہے جس کی بلند ترین چوٹیاں ترچ میر وادیِ سوات اور فلک سیر وادیِ چترال میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/cpectravel">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>بونجی کی خوفناک چڑھائی پیچھے رہ گئی اور ہم ایک ایسے منظر میں داخل ہوئے جہاں سڑک کا وجود ایک میلوں وسیع بیابان میں بالکل بے حیثیت ہو کر گُم ہو رہا تھا۔ یہ پتھریلا صحرا ہمارے دائیں جانب نیچے دریائے سندھ کی طرف ڈھلوان ہوتا جارہا تھا۔</p>
<p>دریا کی پرلی جانب بھی اسی طرح کا صحرائی میدان دکھائی دیتا تھا۔ لیکن اس کنارے کے وسیع صحرائی منظر میں دُور ایک سیاہ لکیر بھی نظر آتی تھی جس پر چند نقطے ترتیب سے حرکت کر رہے تھے۔ یہ سیاہ لکیر شاہراہ قراقرم کی تھی اور یہ نقطے ٹرکوں کا کوئی قافلہ تھا۔ شاید ٹرکوں والے بھی وہاں سے ہماری جانب دیکھتے ہوں لیکن ہم تو زمین کے ایک ہم رنگ راستے پر اس طرح کیموفلاج ہوچکے تھے کہ ان کو نظر ہی نہیں آتے ہوں گے۔</p>
<p>شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے کاغان کے راستے درّہ بابوسر سے گزر کر جو راستہ گلگت آتا تھا وہ بھی صرف ایک صدی پُرانا ہے۔ یہ راستہ برطانوی دور میں 1890ء میں شروع ہوا تھا۔ اُس سے پہلے گلگت آنے کا واحد راستہ یہی ’استور روڈ‘ ہوا کرتا تھا جس پر آج ہم سفر کر رہے تھے۔ یہ راستہ سری نگر سےآتا تھا اور دراس، کارگل، درّہ برزل، دیوسائی اور استور سے گزر کر یہاں بونجی میں دریائے سندھ کو عبور کرکے گلگت پہنچتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/1916061203c7f6d.jpg?r=160616'  alt='  استور کا رہنمائی بورڈ&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور کا رہنمائی بورڈ— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>شاہراہ قراقرم پر دائیں بائیں پہاڑوں کے درمیان جگہ جگہ درّہ نما راستے کئی وادیوں کو جاتے نظر آتے ہیں مگر استور کو جانے والا راستہ کچھ خفیہ سا ہے۔ دریائے استور جس مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے وہ پہاڑوں کی دیوار میں ایک دراڑ کی طرح کھلتا ہے۔ اس دراڑ کے پیچھے پھر پہاڑ ہیں اس لیے شاہراہ قراقرم پر کھڑے ہو کر اس جانب دیکھیں تو یہ راستہ نظر ہی نہیں آئے گا مگر قریب پہنچیں گے تو اس دراڑ کی تہہ میں ایک گرجدار مٹیالا دریا انتہائی تیز رفتاری سے دریائے سندھ کی رفاقت اختیار کرنے کو لپکتا نظر آتا ہے۔</p>
<p>بونجی کے صحرا کو عبور کرکے ہم اس دراڑ کے قریب پہنچے تو ایک موڑ لیتے ہی دریائے استور کا جھاگ اڑاتا وجود اور اس پر لٹکتا رسوں کا پُل ہمارے سامنے تھا۔ یہ پُل پہاڑوں کی اُس دراڑ کے دہانے پر تھا جہاں سے دریائے استور برآمد ہوکر چند سو میٹر آگے دریائے سندھ میں شامل ہو رہا تھا۔ پُل عبور کرکے ہم دوسری طرف استور روڈ پر آگئے جو رائے کوٹ سے یہاں تک دریائے سندھ کے کنارے کنارے آرہی تھی۔ دریائے استور کے کنارے کنارے ہم اس کچی سڑک پر کچھ آگے بڑھے تو وادی کُھل گئی۔ دریا کا پاٹ بھی کچھ وسیع ہوا، مگر پتھروں سے دیوانہ وار ٹکراتے پانی کی غصیلی کیفیت ابھی برقرار تھی۔ مسلسل جھاگ اڑاتے پانیوں سے اٹھنے والی سفید دھند دریا کی سطح سے چند فٹ اوپر بادلوں کی طرح معلق تھی۔ دوسرے کنارے پر دیوار نما پہاڑ دریا پر جھکے ہوئے تھے اور ہم ان دیواروں کی سیکڑوں فٹ اونچائی پر بھی پانی بہنے کے قدیم آثار دیکھ رہے تھے۔ پانی کے مسلسل بہنے سے گول اور تہہ دار ہو جانے والی پہاڑی دیوار ظاہر کرتی تھی کہ کبھی دریائے استور اس اونچائی تک بھی بہا کرتا ہوگا۔ دریائے استور بہت تیزی سے نیچے اترتا ہے۔ مسلسل ڈھلوان کی وجہ سے اس کے پانی بے حد تیز رفتار ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/1916061855c2ccb.jpg?r=160958'  alt='  بونجی میں دریائے سندھ پر موجود پُل&mdash; تصویر:لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بونجی میں دریائے سندھ پر موجود پُل— تصویر:لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191606193d0340d.jpg?r=160958'  alt='  قدیم بونجی استور روڈ&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قدیم بونجی استور روڈ— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>’استور سے نانگا پربت بھی نظر آتا ہے؟‘ میں بولا۔</p>
<p>’نہیں استور سے نانگا پربت نظر نہیں آتا۔ استور سے اوپر ایک جگہ ہے راما، وہاں سے نظر آتا ہے۔ پھر استور سے آگے ایک قصبہ ہے تریشنگ جس کے ایک گاؤں روپل سے بھی نانگا پربت نظر آتا ہے۔ بلکہ اس گاؤں کا نام روپل بھی نانگا پربت کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ روپل ہم چاندنی کو کہتے ہیں۔ چاندنی راتوں میں جب چاند نانگا پربت کے سامنے والے پہاڑوں کے پیچھے نکلتا ہے تو نیچے گہرائی میں روپل والوں کو بالکل نظر نہیں آتا لیکن اس کی روشنی سامنے نانگا پربت کی سفید برف سے ٹکراتی ہے تو نانگا پربت اس چاندنی کو ایک آئینے کی طرح منعکس کر کے نیچے روپل میں ڈال دیتا ہے۔ یوں وہاں روپل میں چاند نظر نہ آنے کے باوجود چاندنی ہی چاندنی ہو جاتی ہے یعنی روپل ہی روپل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ اس گاؤں کو روپل کہتے ہیں‘۔ فیاض بولتا گیا اور ہم اس کے چہرے پر اس چاندنی کا عکس دمکتے محسوس کرتے رہے۔ اتنا رومانٹک گاؤں دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو۔</p>
<p>استور آگیا۔ ہم پہاڑ کی بلند دیوار سے پیٹھ لگائے پرانی دوکانوں کی ایک قطار میں سے گزرنے لگے۔ استور کے باسیوں نے ایک لحظے کے لیے ہمیں دیکھا اور پھر اپنے کاموں میں لگ گئے۔ ہماری گاڑیاں ایک جگہ رک جاتی ہیں۔ انجن بند ہوتے ہی شور تھم جاتا ہے۔ ہمارے سامنے ایک بوسیدہ سا ہوٹل تھا۔ ٹورسٹ ڈریم لینڈ، جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ یہاں سیاحوں کو صرف ڈراؤنے خواب ہی آتے ہوں گے۔ آج ہمارا قیام اسی ہوٹل میں تھا۔ہوٹل میں کُل 3 کمرے تھے۔ ہر کمرے میں 2، 2 سبستر بھی تھے اور فرش پر دریاں بھی بچھادی گئی تھیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا کیونکہ کارگل میں جنگ کی وجہ سے استور میں بلیک آؤٹ تھا۔ ہوائی حملے کا خطرہ تھا۔ ٹورسٹ ڈریم لینڈ میں ہم رات بھر ہوائی حملوں کے خواب دیکھتے رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160613c7e2073.jpg?r=162608'  alt='  استور کا ایک منظر&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور کا ایک منظر— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191606151331e8a.jpg?r=164132'  alt='  استور&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>صبح میڈیکل کیمپ کے بعد سب فارغ ہوئے تو نانگا پربت دیکھنے کے لیے ’راما‘ جانے کا پروگرام بنا۔ استور سے راما کا فاصلہ ہے تو صرف 6 کلو میٹر، مگر اس مختصر فاصلے میں ہی یہ راستہ 3500 فٹ بلند ہو جاتا ہے۔ استور کی بلندی 7000 فٹ ہے جبکہ راما 10500 فٹ کی بلندی پر ہے ۔ ہم سب ڈرائیورکفایت کی نیلی جیپ اور بقیہ لوگ اشتیاق کی لینڈ کروزر میں سوار ہوگئے۔کچے پکے مکانوں کے بیچ میں سے راستہ اوپر ہی اوپر اٹھتا چلا گیا۔ آبادی ختم ہوئی اور ویرانہ شروع ہوگیا۔ راستہ مستقل اوپر ہی جا رہا تھا۔ ایک جگہ پر جیپ نے دائرے میں ایک بڑا سا موڑ لیا اور اوپرکی طرف جاتے جاتے ایک دم سیدھی جو ہوئی، تو سامنے سڑک غائب تھی لیکن اس کی جگہ ایک ہوش رُبا منظر آنکھوں کے سامنے موجود تھا۔۔۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160616861f8b0.jpg?r=162608'  alt='  وادی روپل&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>وادی روپل— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>سڑک یہاں اوپر جانے کی بجائے نیچے اتر رہی تھی، اور نیچے کیا تھا؟۔۔۔ نیچے میلوں وسیع ڈھلوانوں پر گہرے سبز رنگ کا ایک ریشمی قالین بچھا ہوا تھا۔ کھیت لہلہا رہے تھے اور ان میں کہیں کہیں کسانوں کے چھوٹے چھوٹے مکان اور جابجا گھنے درختوں کے جھنڈ تھے۔ دوسری طرف کے پہاڑ دُور تھے اور ان کے پیچھے سے مزید دُورکے پہاڑ اپنی سفید برفانی چوٹیاں لیے جھانک رہے تھے۔ یہ نانگا پربت کے سلسلے تھے۔ بائیں ہاتھ پر نیچے نگاہ کی تو دُور گہرائی میں ننھے منے مکانوں کا ایک سلسلہ پہاڑ کی ڈھلان سے چمٹا ہوا تھا۔ یہ استور تھا اور استور سے مزید نیچے پہاڑوں کی جڑ میں ایک نالی سے بہتی نظر آرہی تھی۔ یہ نالی دریائے استور تھا۔ حسن فطرت کی اس فراوانی نے ہم سب کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ جیپیں رک گئی تھیں۔ مسافر گاڑیوں سے اورکیمرے تھیلوں سے باہر آگئے تھے۔ راستے کے اطراف میں سرسبز کھیت آنکھوں کو تازگی بخش رہے تھے۔ ہوا ٹھنڈی تھی اور خوبانی اور اخروٹ کے درخت ہم پر سایہ کر رہے تھے۔</p>
<p>سب اس راستے کی دلکشی میں مگن چلے جا رہے تھے کہ ایک مشکل پیش آگئی۔ ایک جگہ ایک تیز  رفتار پہاڑی نالا شور مچاتا سڑک کے نازک وجود کو پامال کرتا نیچے کھیتوں میں گم ہو رہا تھا اور اس نالے کی وجہ سے سڑک میں اتنا گہرا گڑھا بن چکا تھا کہ جس میں سے بھری جیپ کا گزرنا محال تھا۔ سب جیپ سے اتر آئے۔ نالے میں بڑے بڑے پتھر بکھرے ہوئے تھے ۔سب ان پتھروں پرپیر جما جما کر آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے دوسری طرف آگئے اور اب یہ ہجوم دوسری طرف کھڑا، اس تیز رفتار پانی کو عبور کرنے کی کوشش میں لڑکھڑاتی جیپ کا تماشا دیکھ رہا تھا۔ چنانچہ ایک فیصلہ ہوگیا کہ جیپ آگے نہیں جائے گی۔ طوعاً و کرہاً ہم سب پیدل چل پڑے۔ راستے کی اٹھان برقرار تھی۔کھیتوں میں پوشیدہ پانی کی نالیوں کی سر سراہٹ خاموش فضا میں صاف سنائی دیتی تھی۔ آسمان زیادہ نیل دیے گئے کپڑے کی مانند نیلگوں ہو رہا تھا۔ استوری کسانوں کے ننھے منے بچے کھیلتے کھیلتے ٹھٹک کر ہمیں دیکھتے اور ہم میں سے کسی کے اشارے پر شرما کر بھاگ جاتے۔ برتن دھوتی کوئی عورت ہمیں دیکھ کر چونکتی اورچہرہ رنگین چادر سے چھپا کر ہماری طرف پیٹھ کرلیتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/1916061797c2ff0.jpg?r=164200'  alt='  استور&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160615f9be59f.jpg?r=164200'  alt='  استور کا ایک منظر&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور کا ایک منظر— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160615c1c0099.jpg?r=164200'  alt='  استور&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>چلتے چلتے ہمارے سامنے سفید چمک دار برف کا ایک عظیم ڈھیر پہاڑوں کے بیچ میں سے سورج کی طرح طلوع ہوا۔ یہ برف پوش چوٹی نانگا پربت کا ایک حصہ ’چانگرا پیک‘ تھی۔ تقریباً 2 گھنٹے کی چڑھائی کے بعد ہم سب ایک گھنے جنگل میں کھڑے تھے۔ نانگا پربت کی چوٹی ہماری آنکھوں کے عین سامنے درختوں کے اوپر سے بلند ہو رہی تھی۔ راستے کے دائیں طرف راما ریسٹ ہاؤس کا بورڈ نصب تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے سامنے درخت کچھ پیچھے ہٹ گئے تھے اور وہاں ایک دلفریب تصویر سجی ہوئی تھی۔ یہ ایک وسیع چراگاہ تھی جس کے گہرے سبز میدان میں قدرتی پھولوں کے جھرمٹ ستاروں کی طرح ٹنکے ہوئے تھے اور اس میدان کے بیچ میں چاندی جیسے پانی کی ایک ننھی منی ندی کروٹیں لیتی ہوئی بہہ رہی تھی۔</p>
<p>اس دلفریب منظر کے سامنے راما ریسٹ ہاؤس کی خوبصورت عمارت ہماری منتظر تھی۔ اچانک بوندا باندی شروع ہوگئی اور ہم ریسٹ ہاؤس کے اندر چلےگئے۔ چیڑ کے درختوں میں گھرے راما ریسٹ ہاؤس کی چھت برستی بوندوں سے جلترنگ بنی ہوئی تھی اور اندر ایک زبردست رونق تھی۔ نفاست سے تلی ہوئی ٹراؤٹ مچھلی کا طشت میز پر سجا ہوا تھا اور گرما گرم چائے سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کی عمارت باہر سے تو حسین تھی ہی، اندر سے بھی کم نہ تھی۔ عالیشان فرنیچر، دبیز قالین اور بھاری پردوں سمیت تمام آسائشوں سے مزین۔ محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ ہم شہروں سے کہیں دُور، دشوار گزار پہاڑوں میں، نانگا پربت کی گود میں، راما کے مقام پر ہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ڈیفنس یا گلبرگ کے کسی محلاتی ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160619f10f2af.jpg?r=162633'  alt='  استور راما روڈ&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استور راما روڈ— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191606147c40a0c.png?r=163648'  alt='  راما کا ریسٹ ہاؤس&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راما کا ریسٹ ہاؤس— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/191637189c9e21f.jpg?r=163822'  alt='  راما کا ایک منظر&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راما کا ایک منظر— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>تھوڑی دیر بعد باہر بارش تھم چکی تھی، طشت میں ٹراؤٹ کا ایک ذرّہ بھی بچا نظر نہ آتا تھا اور چائے کی چسکیاں بھی معدوم ہوچکی تھیں۔ اب واپسی کا سفر تھا اور یہ اترائی کا سفر تھا۔ راما کے جنگل سے باہر نکلتے ہی ڈھلوان پر کھیتوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ کچی سڑک وادی میں لہراتی نیچے استور تک جاتی نظر آرہی تھی۔ ہم سب اس سڑک پر چل پڑے۔ اترائی کے راستے پر پیدل چلنے سے اندازہ ہوا کہ چڑھائی پر آدمی ہانپتا ضرور ہے مگر رکنا اور چلنا پھر بھی اس کے اختیار میں ہوتا ہے، لیکن اترائی پر تو کچھ بھی اختیار میں نہیں رہتا۔ میں اس بے اختیاری سے بے خبر اپنی عکس بندی میں مگن لا پرواہی سے چلتے ہوئے باقی لوگوں سے پیچھے رہ گیا۔</p>
<p>’بھئی اب تو اترائی ہے، شارٹ کٹ مارتے ہیں‘۔ فیاض ایک جگہ پر سڑک سے اتر کر کھیتوں میں گھس گیا۔ باقی سب بھی لبیک کہتے ہوئے ڈھلوان پر کھیتوں میں اترگئے۔ فیاض تو ان وادیوں کا پلا بڑھا تھا۔ اس کے لیے ان ڈھلوانوں پر جسم کو تیر کی طرح سیدھا رکھ کر اترنا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مگر ہم تو میدانوں کے باسی تھے۔ تھوڑا ہی چلے ہوں گے کہ نانی یاد آگئی۔ڈھلواں سڑک پر بے اختیار ہوتے جسم کو سنبھالنا پھر بھی کچھ آسان تھا مگر کھیتوں کی ناہموار زمین اور منڈیروں کی گیلی گھاس پر خود کو سنبھالنا اور اترنا دو الگ الگ دشوار کام تھے۔ آج بھی جب میں اپنی اُس ریکارڈ کی ہوئی فلم کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک سبز ڈھلوان پر کچھ سراسیمہ اجسام گھاس پر کولھے ٹکائے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف کھسکنے کی کوشش میں مصروف اور اس عمل سے کامیاب گزر جانے والے بقیہ لوگ نیچے کھڑے بوتھیاں اوپر کیے قہقہے لگاتے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>میں اپنے تئیں پہاڑوں کا واقف، میرے خیال میں تو ان ڈھلوانوں پر چڑھنا اترنا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ مجھے اپنے قدموں پر پورا اعتماد تھا لیکن یہ بھولے ہوئے تھا کہ میرے دائیں ہاتھ میں جو کیمرہ ہے وہ مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے۔ اسی لیے جہاں باقی سب چوپائے بن کر اتررہے تھے وہاں میں سہ پایہ بنا ہوا تھا۔ البتہ بظاہر ایک شانِ بے نیازی سے اِدھر اُدھر دیکھتا فلسفیوں کے انداز میں غور و فکر کرتا چلا جا رہا تھا۔ سڑک ایک جگہ طویل موڑ لے کر دوبارہ نیچے سے گزر رہی تھی اور ہم کھیتوں کا شارٹ کٹ لے کر اس تک پہنچنے والے تھے۔ لیکن کھیتوں کی منڈیروں پر جو گھاس ہمارے قدموں تلے تھی اس میں پانی سرایت کیے ہوئے تھا جو ہماری بے خبری میں جوتوں کے تلوے دھو دھو کر چکنے کر چکا تھا۔</p>
<p>سمیع اور اسرار مجھ سے چند قدم آگے رینگ رہے تھے کہ اچانک اسرار کا پاؤں پھسلا۔ ایک لمحے کے لیے اس کی دونوں ٹانگیں ہوا میں بلند ہوئیں اور دوسرے ہی لمحے وہ گیلی گھاس پرچاروں شانے چت پڑا تھا۔ بد قسمتی سے آخری لمحے میں کسی سہارے کی تلاش میں اس کے بے تابی سے لہراتے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں سمیع کی ٹانگ آگئی۔ چنانچہ اگلے ہی لمحے سمیع بھی اس کے ساتھ چت تھا اور وہ دونوں کیچڑ پانی میں لت پت ہو کرپھسلتے ہوئے نیچے کی طرف لڑھک رہے تھے۔ دور نیچے سڑک کی عافیت میں کھڑی بقیہ ٹیم کے قہقہے اوپر ہم تک پہنچ رہے تھے اوران میں میرے قہقہے بھی شامل تھے۔ ایک ہاتھ کولہے پر رکھے، دوسرے ہاتھ میں کیمرہ سنبھالے، اسرار اور سمیع کے پہاڑوں کا ناتجربہ کار ہونے کا طنز چہرے پر لیے میں بھی قہقہے لگا رہا تھا۔</p>
<p>سمیع اور اسرار تھوڑا نیچے جا کر بالآ خر رک گئے تھے مگر وہیں نڈھال پڑے تھے۔ میں ان کی طرف لپکا۔ مگر یہی وہ لمحہ تھاجب میرا اٹھا ہوا پاؤں تو ہوا میں اٹھا ہی رہا،پچھلا پاؤں بھی گیلی گھاس پر پھسل کرہوا میں اٹھ گیا۔ الٹ کر پیچھے گرنے سے بچنے کے لیے میں صرف اس ایک ہاتھ کو استعمال کر سکتا تھا جس میں کیمرا نہیں تھا۔ مگر اسی لمحے میرا کیمرے والا ہاتھ بھی خالی ہوچکا تھا۔ میں فضا میں جتنا بلند تھا کیمرا اس سے دگنا اوپر معلق ہوگیا۔ میں نے گرنے سے بچنے کی بجائے کیمرا سنبھالنے کے لیے فضا میں ہاتھ چلائے، لیکن گیلی گھاس پر پھسلتا ہوا وہ وجود میرا ہی تھا جو سمیع اور اسرار کے چت پڑے اجسام کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا۔ میرا دماغ ماؤف ہوا، نیچے سڑک پر کھڑی ٹیم کے قہقہے مدھم پڑے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور میں ایک اندھیری ڈھلوان میں اترتا چلا گیا۔</p>
<p>لیکن یہ تو میں نے کئی سال بعد کا قصہ بیان کر دیا۔ اس وقت تو میں 1986ء میں پہلی بار گلگت جارہا تھا اور یہ آدھی رات کا وقت تھا جب ہم جگلوٹ سے گزرے۔ شاہراہِ قراقرم تھاکوٹ سے رائے کوٹ تک دریائے سندھ کے کنارے کنارے دائیں طرف کوہ ہمالیہ کے دامن میں چلتی ہے اور رائے کوٹ پُل کو عبور کرنے کے بعد جگلوٹ اور اسکردو موڑ تک دریائے سندھ کے بائیں کنارے کوہ ہندوکش کے دامن میں چلتی ہے۔ جگلوٹ کے قصبے سے 15 کلومیٹر آگے آئیں تو یہاں دریائے سندھ شاہراہ قراقرم کو چھوڑ کر دائیں سمت میں اسکردو کی طرف مڑ جاتا ہے اور شاہراہ قراقرم سیدھی گلگت کی طرف چلتی رہتی ہے، لیکن اب بھی اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا دریا بہہ رہا ہوتا ہے۔۔۔ یہ دریائے گلگت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/19160618e125f5c.jpg?r=160816'  alt='  دریائے سندھ اور دریائے گلگت کا سنگم&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے سندھ اور دریائے گلگت کا سنگم— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>جگلوٹ کے اور اسکردو موڑ کے درمیان ہی وہ انوکھی جگہ آتی ہے جہاں کوہ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم آمنے سامنے آجاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں دریائے گلگت اور دریائے سندھ آپس میں ملتے ہیں اور دریاؤں کا یہ سنگم اپنے اطراف میں موجود پہاڑی سلسلوں کی حد بندی کر دیتا ہے۔ کوہ ہمالیہ اس مقام سے نیپال تک چلا جاتا ہے جہاں اس کی چوٹی ایورسٹ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے جبکہ پاکستانی حدود میں اس سلسلے کی چوٹی نانگا پربت کے علاوہ کوہِ مری اور کوہِ مارگلہ بھی شامل ہیں۔ اس مقام پر بنی یادگار اندھیرے میں اوجھل نہ جانے کب گزر جاتی ہے۔</p>
<p>دریائے سندھ اور دریائے گلگت کے درمیانی خطے میں کوہ قراقرم کا سلسلہ ہے جو چین تک چلاگیا ہے ۔ پاکستانی حدود میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے2 اسی سلسلہ قراقرم کا حصہ ہے۔ کوہ ہندوکش یہاں سے افغانستان تک چلاگیا ہے جس کی بلند ترین چوٹیاں ترچ میر وادیِ سوات اور فلک سیر وادیِ چترال میں واقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195624</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Feb 2023 18:09:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ کیہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/19165055f10f2af.jpg?r=165103" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/19165055f10f2af.jpg?r=165103"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/19165055babfcde.jpg?r=165103" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/19165055babfcde.jpg?r=165103"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بریمن شہر جو درجنوں مشہور یورپی شہروں سے زیادہ بھلا لگتا ہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195854/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں جو حالات آج کل چل رہے ہیں، آئیے کچھ دیر کے لیے آپ کو ان سے دُور لیے چلتے ہیں۔ ویسے ارادہ تو تھا کہ آپ کو بیلجیئم کے خوبصورت شہروں کی سیر کرواتا لیکن کیا کریں راستے میں ہی رُک گیا ہوں۔ اس شہر کو دیکھے بغیر جرمنی کے روڈ ٹؤر کا مزہ پورا نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ نے جرمنی کے بڑے بڑے شہروں سے تو ملاقات کی ہوگی لیکن بریمن کا نام بھی شاید سنا نہ ہو، بس ایسا ہی ہمارا حال تھا۔ کئی بار اس کے آس پاس سے گزرے لیکن ٹھہرے نہیں، مگر اس دفعہ کیل، جرمنی سے اگلا اسٹاپ بریمن نامی یہ شہر ہے۔ ہم رات گئے اس شہر پہنچے اور سیدھے ہوٹل جا ٹھہرے۔ صبح ناشتے کے بعد ہماری پہلی منزل شہر کا ٹاؤن ہال تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ویک اینڈ کی عام سی صبح تھی، اس لیے شہر کی سڑکوں پر بہت زیادہ رش نہیں تھا۔ ہم نے ایک پارکنگ پلازہ میں گاڑی کھڑی کی جہاں ابھی پارکنگ کی بہت سی جگہیں دستیاب تھی۔ کئی دکانیں بھی ابھی بند تھیں، پارکنگ سے نکل کر ہم ٹاؤن ہال کی طرف چلے آئے۔ یہ ٹاؤن ہال ایک بڑے اسکوائر کا حصہ ہے جسے مارکیٹ پلز کہا جاتا ہے، جس کا ترجمہ مارکیٹ کی جگہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415492edaeb6.jpg?r=141848'  alt='  ویک اینڈ کی صبح ابھی مارکیٹ نہیں کھلی&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ویک اینڈ کی صبح ابھی مارکیٹ نہیں کھلی— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415467ade448.jpg'  alt='  بریمین کا ٹاؤن ہال&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بریمین کا ٹاؤن ہال— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141547fe2713a.jpg?r=142102'  alt='  ٹاؤن ہال کی طرف جاتی سڑک&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاؤن ہال کی طرف جاتی سڑک— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141550fb5ef4d.jpg?r=142233'  alt='  ٹاؤن ہال کے خوبصورت محراب&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاؤن ہال کے خوبصورت محراب— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ پلز نام کا یہ اسکوائر پورے شہر پر بھاری ہے۔ کیا ہی شاندار مارکیٹ اسکوائر ہے. پراگ میں چارلس برج پر کھڑے ہوکر یا ٹالن میں اولڈ ٹاؤن کی برجیوں کے پاس کھڑے ہوکر جو زمانہ دیکھا جاسکتا ہے، بالکل ویسی ہی کھڑکی اس مارکیٹ پلز پر کھلتی ہے۔ ٹائم مشین میں بیٹھ کر جادو کی دنیا کے ایک سفر کی داستان طرز کی یہ جگہ آپ کی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ پوچھیے تو ہماری اس شہر سے توقعات کچھ زیادہ نہیں تھیں اسی لیے اس پُرشکوہ اسکوائر کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ 600 سال پرانا یہ ٹاؤن ہال پاکستان کے اس باسی کو بتا رہا تھا کہ بستی بسنا کھیل نہیں ہے، یہ بستے بستے بستی ہے۔ اس سے دائیں ہاتھ پر بریمن کیتھیڈرل کی عمارت ہے جس کا ڈھانچہ غالباً 10ویں صدی کا اور بعد کے حصے 14ویں صدی میں بنائے گئے ہیں، لیکن اپنے پورے قد سے کھڑی یہ عمارت ہر اہلِ مذہب کی اپنے خدا سے والہانہ عقیدت کی داستان کہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415450e2c647.jpg?r=142102'  alt='      ٹاؤن ہال کے قریب ایک کتھیڈرل&amp;mdash; تصویر: لکھاری      ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاؤن ہال کے قریب ایک کتھیڈرل— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں پر ٹاؤن ہال کے پہلو میں ایک مجسمے کے گرد لوگوں کا جم غفیر رہتا ہے۔ گدھے پر سوار ایک کتا، اس پر سوار ایک بلی اور اس پر سوار ایک مرغا، تھوڑی تحقیق کے بعد پتا چلا کہ یہ ایک لوک کہانی کے کردار ہیں جس میں ان جانوروں کو شہر کا میوزیشن بتلایا گیا ہے۔ اس گدھے کی ناک پر ہاتھ رکھ کر فوٹو کھنچوانے والے کسی خوش بختی کی امید لے کر اس کو چُھوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/2214155381f9f3e.jpg?r=142549'  alt='      برین کا مشہور مجسمہ&amp;mdash; تصویر: لکھاری     ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;برین کا مشہور مجسمہ— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415519f55b77.jpg?r=142549'  alt='  اس مجسمے کے پاس لوگوں کا رش رہتا ہے&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اس مجسمے کے پاس لوگوں کا رش رہتا ہے— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاؤن ہال اور خوبصورت اسکوائر سے چلتے چلتے ہم بریمن کے اولڈ ٹاؤن کی طرف چل دیے۔ اس راستے پر کچھ دیر آگے چلیں تو آپ دریا کنارے جا پہنچتے ہیں۔ ہمارا اس شہر میں قیام مختصر تھا اس لیے دریا کنارے کو سلام کیا اور پرانے شہر کا رخ کرلیا۔ پرانے شہر میں داخلے کے ساتھ ایک بورڈ لگا دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا شنور، بریمن کا سب سے پرانا حص ہے۔ یہ تنگ گلیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے 2، 2 منزلہ گھر 15ویں اور 17ویں صدی کی یادگار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گلیاں دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں تھیں، اس لیے ان میں آج بھی اس گزرے زمانے کی جھلک باقی ہے۔ اس علاقے کا بیشتر حصہ گیلریز اور دکانوں پر مشتمل ہے۔ ان گلیوں میں گئے زمانوں کا سراغ ڈھونڈتے ہم بہت دیر تک چلتے چلے گئے اور بالآخر یہ سوچنے لگے کہ واپسی کی راہ لی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/2214154504ee2d5.jpg?r=141847'  alt='  شہر کا ایک منظر&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شہر کا ایک منظر— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141546fb043e7.jpg?r=142542'  alt='  دریا کا کنارہ&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریا کا کنارہ— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141549a1eda6e.jpg?r=143353'  alt='      پرانے شہر کا بورڈ&amp;mdash; تصویر: لکھاری      ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پرانے شہر کا بورڈ— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141555ef6dfbb.jpg?r=143445'  alt='      پرانے شہر کی ایک گلی&amp;mdash; تصویر: لکھاری      ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پرانے شہر کی ایک گلی— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرانے شہر کی سب گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد ہم پھر مارکیٹ اسکوائر کی طرف چلے آئے۔ ٹاؤن ہال کے پیچھے پرانے زمانے کی ایک فارمز مارکیٹ بنی ہوئی ہے، جہاں پر کھانے پینے کے بے شمار اسٹالز لگے ہوئے تھے۔ تازہ پھل، سبزیاں، پھول، پنیر اور اس طرز کی بے شمار اشیا لوگ خرید اور بیچ رہے تھے۔ یہیں پر ایک مائیکرو گرین بیچنے والے شخص سے ملاقات ہوئی جو مختلف سبزیوں کے ننھے پودے فروخت کر رہا تھا۔ اس کا آج کل خاصا رجحان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صبح کے 11، 12 بجنے والے ہوں گے اور وقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں رش بھی بڑھنے لگا تھا۔ شہر کے میوزیشن جانوروں کے مجسمے کے پاس اب پہلے سے زیادہ بھیڑ تھی۔ ہم ٹرام کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شہر کے بازار کی سمت چل پڑے۔ یہاں پر وہ سبھی برانڈز کی دکانیں دکھائی دے رہی تھیں جو یورپ کے دوسرے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ آگے جاکر ایک دکان پر بیلجیئم فرائز کا بورڈ لگا دیکھا تو سوچا کہ آج بیلجیئم کی یاد میں آلو ہی کھالیے جائیں۔ پھر زاد راہ کے طور پر کچھ پھل اور پانی خریدا، اتنے میں ہلکی ہلکی بارش برسنے لگی۔ ہم نے اپنا رُخ اس مال کی طرف موڑ دیا جس کی بیسمنٹ میں ہم نے گاڑی کھڑی کی تھی۔ مارکیٹ کا وہ راستہ جو صبح جاتے ہوئے تقریباً ویران پڑا تھا، اب خاصے رش کے ساتھ آباد تھا۔ قریباً سبھی دکانیں اب کُھل چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415504e69c23.jpg?r=150613'  alt='  بریمن شہر کا ایک منظر&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بریمن شہر کا ایک منظر— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141552c836cec.jpg?r=143353'  alt='  ٹاؤن اسکوائر مارکیٹ&amp;mdash; تصاویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹاؤن اسکوائر مارکیٹ— تصاویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141551beb909a.jpg?r=143353'  alt='  مارکیٹ اسکوائر کا منظر&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مارکیٹ اسکوائر کا منظر— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/2214154707f7302.jpg?r=143353'  alt='  مائیکرو گرین کا اسٹال&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مائیکرو گرین کا اسٹال— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141547db9f263.jpg?r=143353'  alt='  ٹرام کا ٹریک&amp;mdash; تصویر: لکھاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹرام کا ٹریک— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کی خوبصورتی کو دل ہی دل میں داد دیتے ہم نے اگلی منزل کی جانب قدم اٹھانے کی ٹھانی لیکن آج کئی ماہ بعد بھی بریمن کا ٹاؤن ہال اسکوائر ذہن پر خوبصورت خاکے بناتا ہے۔ اگر آپ بھی کبھی اس طرف سے گزریں تو بریمن کی ضرور سیر کریں، یہ آپ کو درجنوں مشہور یورپی شہروں سے زیادہ بھلا لگے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں جو حالات آج کل چل رہے ہیں، آئیے کچھ دیر کے لیے آپ کو ان سے دُور لیے چلتے ہیں۔ ویسے ارادہ تو تھا کہ آپ کو بیلجیئم کے خوبصورت شہروں کی سیر کرواتا لیکن کیا کریں راستے میں ہی رُک گیا ہوں۔ اس شہر کو دیکھے بغیر جرمنی کے روڈ ٹؤر کا مزہ پورا نہیں ہوگا۔</p>
<p>آپ نے جرمنی کے بڑے بڑے شہروں سے تو ملاقات کی ہوگی لیکن بریمن کا نام بھی شاید سنا نہ ہو، بس ایسا ہی ہمارا حال تھا۔ کئی بار اس کے آس پاس سے گزرے لیکن ٹھہرے نہیں، مگر اس دفعہ کیل، جرمنی سے اگلا اسٹاپ بریمن نامی یہ شہر ہے۔ ہم رات گئے اس شہر پہنچے اور سیدھے ہوٹل جا ٹھہرے۔ صبح ناشتے کے بعد ہماری پہلی منزل شہر کا ٹاؤن ہال تھا۔</p>
<p>وہ ویک اینڈ کی عام سی صبح تھی، اس لیے شہر کی سڑکوں پر بہت زیادہ رش نہیں تھا۔ ہم نے ایک پارکنگ پلازہ میں گاڑی کھڑی کی جہاں ابھی پارکنگ کی بہت سی جگہیں دستیاب تھی۔ کئی دکانیں بھی ابھی بند تھیں، پارکنگ سے نکل کر ہم ٹاؤن ہال کی طرف چلے آئے۔ یہ ٹاؤن ہال ایک بڑے اسکوائر کا حصہ ہے جسے مارکیٹ پلز کہا جاتا ہے، جس کا ترجمہ مارکیٹ کی جگہ کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415492edaeb6.jpg?r=141848'  alt='  ویک اینڈ کی صبح ابھی مارکیٹ نہیں کھلی&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ویک اینڈ کی صبح ابھی مارکیٹ نہیں کھلی— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415467ade448.jpg'  alt='  بریمین کا ٹاؤن ہال&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بریمین کا ٹاؤن ہال— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141547fe2713a.jpg?r=142102'  alt='  ٹاؤن ہال کی طرف جاتی سڑک&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاؤن ہال کی طرف جاتی سڑک— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141550fb5ef4d.jpg?r=142233'  alt='  ٹاؤن ہال کے خوبصورت محراب&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاؤن ہال کے خوبصورت محراب— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>مارکیٹ پلز نام کا یہ اسکوائر پورے شہر پر بھاری ہے۔ کیا ہی شاندار مارکیٹ اسکوائر ہے. پراگ میں چارلس برج پر کھڑے ہوکر یا ٹالن میں اولڈ ٹاؤن کی برجیوں کے پاس کھڑے ہوکر جو زمانہ دیکھا جاسکتا ہے، بالکل ویسی ہی کھڑکی اس مارکیٹ پلز پر کھلتی ہے۔ ٹائم مشین میں بیٹھ کر جادو کی دنیا کے ایک سفر کی داستان طرز کی یہ جگہ آپ کی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔</p>
<p>سچ پوچھیے تو ہماری اس شہر سے توقعات کچھ زیادہ نہیں تھیں اسی لیے اس پُرشکوہ اسکوائر کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ 600 سال پرانا یہ ٹاؤن ہال پاکستان کے اس باسی کو بتا رہا تھا کہ بستی بسنا کھیل نہیں ہے، یہ بستے بستے بستی ہے۔ اس سے دائیں ہاتھ پر بریمن کیتھیڈرل کی عمارت ہے جس کا ڈھانچہ غالباً 10ویں صدی کا اور بعد کے حصے 14ویں صدی میں بنائے گئے ہیں، لیکن اپنے پورے قد سے کھڑی یہ عمارت ہر اہلِ مذہب کی اپنے خدا سے والہانہ عقیدت کی داستان کہتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415450e2c647.jpg?r=142102'  alt='      ٹاؤن ہال کے قریب ایک کتھیڈرل&mdash; تصویر: لکھاری      ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاؤن ہال کے قریب ایک کتھیڈرل— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہیں پر ٹاؤن ہال کے پہلو میں ایک مجسمے کے گرد لوگوں کا جم غفیر رہتا ہے۔ گدھے پر سوار ایک کتا، اس پر سوار ایک بلی اور اس پر سوار ایک مرغا، تھوڑی تحقیق کے بعد پتا چلا کہ یہ ایک لوک کہانی کے کردار ہیں جس میں ان جانوروں کو شہر کا میوزیشن بتلایا گیا ہے۔ اس گدھے کی ناک پر ہاتھ رکھ کر فوٹو کھنچوانے والے کسی خوش بختی کی امید لے کر اس کو چُھوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/2214155381f9f3e.jpg?r=142549'  alt='      برین کا مشہور مجسمہ&mdash; تصویر: لکھاری     ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>برین کا مشہور مجسمہ— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415519f55b77.jpg?r=142549'  alt='  اس مجسمے کے پاس لوگوں کا رش رہتا ہے&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اس مجسمے کے پاس لوگوں کا رش رہتا ہے— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹاؤن ہال اور خوبصورت اسکوائر سے چلتے چلتے ہم بریمن کے اولڈ ٹاؤن کی طرف چل دیے۔ اس راستے پر کچھ دیر آگے چلیں تو آپ دریا کنارے جا پہنچتے ہیں۔ ہمارا اس شہر میں قیام مختصر تھا اس لیے دریا کنارے کو سلام کیا اور پرانے شہر کا رخ کرلیا۔ پرانے شہر میں داخلے کے ساتھ ایک بورڈ لگا دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا شنور، بریمن کا سب سے پرانا حص ہے۔ یہ تنگ گلیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے 2، 2 منزلہ گھر 15ویں اور 17ویں صدی کی یادگار ہیں۔</p>
<p>یہ گلیاں دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں تھیں، اس لیے ان میں آج بھی اس گزرے زمانے کی جھلک باقی ہے۔ اس علاقے کا بیشتر حصہ گیلریز اور دکانوں پر مشتمل ہے۔ ان گلیوں میں گئے زمانوں کا سراغ ڈھونڈتے ہم بہت دیر تک چلتے چلے گئے اور بالآخر یہ سوچنے لگے کہ واپسی کی راہ لی جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/2214154504ee2d5.jpg?r=141847'  alt='  شہر کا ایک منظر&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شہر کا ایک منظر— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141546fb043e7.jpg?r=142542'  alt='  دریا کا کنارہ&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریا کا کنارہ— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141549a1eda6e.jpg?r=143353'  alt='      پرانے شہر کا بورڈ&mdash; تصویر: لکھاری      ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پرانے شہر کا بورڈ— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141555ef6dfbb.jpg?r=143445'  alt='      پرانے شہر کی ایک گلی&mdash; تصویر: لکھاری      ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پرانے شہر کی ایک گلی— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>پرانے شہر کی سب گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد ہم پھر مارکیٹ اسکوائر کی طرف چلے آئے۔ ٹاؤن ہال کے پیچھے پرانے زمانے کی ایک فارمز مارکیٹ بنی ہوئی ہے، جہاں پر کھانے پینے کے بے شمار اسٹالز لگے ہوئے تھے۔ تازہ پھل، سبزیاں، پھول، پنیر اور اس طرز کی بے شمار اشیا لوگ خرید اور بیچ رہے تھے۔ یہیں پر ایک مائیکرو گرین بیچنے والے شخص سے ملاقات ہوئی جو مختلف سبزیوں کے ننھے پودے فروخت کر رہا تھا۔ اس کا آج کل خاصا رجحان ہے۔</p>
<p>اب صبح کے 11، 12 بجنے والے ہوں گے اور وقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں رش بھی بڑھنے لگا تھا۔ شہر کے میوزیشن جانوروں کے مجسمے کے پاس اب پہلے سے زیادہ بھیڑ تھی۔ ہم ٹرام کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شہر کے بازار کی سمت چل پڑے۔ یہاں پر وہ سبھی برانڈز کی دکانیں دکھائی دے رہی تھیں جو یورپ کے دوسرے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔</p>
<p>کچھ آگے جاکر ایک دکان پر بیلجیئم فرائز کا بورڈ لگا دیکھا تو سوچا کہ آج بیلجیئم کی یاد میں آلو ہی کھالیے جائیں۔ پھر زاد راہ کے طور پر کچھ پھل اور پانی خریدا، اتنے میں ہلکی ہلکی بارش برسنے لگی۔ ہم نے اپنا رُخ اس مال کی طرف موڑ دیا جس کی بیسمنٹ میں ہم نے گاڑی کھڑی کی تھی۔ مارکیٹ کا وہ راستہ جو صبح جاتے ہوئے تقریباً ویران پڑا تھا، اب خاصے رش کے ساتھ آباد تھا۔ قریباً سبھی دکانیں اب کُھل چکی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/221415504e69c23.jpg?r=150613'  alt='  بریمن شہر کا ایک منظر&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بریمن شہر کا ایک منظر— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141552c836cec.jpg?r=143353'  alt='  ٹاؤن اسکوائر مارکیٹ&mdash; تصاویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹاؤن اسکوائر مارکیٹ— تصاویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141551beb909a.jpg?r=143353'  alt='  مارکیٹ اسکوائر کا منظر&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مارکیٹ اسکوائر کا منظر— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/2214154707f7302.jpg?r=143353'  alt='  مائیکرو گرین کا اسٹال&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مائیکرو گرین کا اسٹال— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/22141547db9f263.jpg?r=143353'  alt='  ٹرام کا ٹریک&mdash; تصویر: لکھاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹرام کا ٹریک— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>شہر کی خوبصورتی کو دل ہی دل میں داد دیتے ہم نے اگلی منزل کی جانب قدم اٹھانے کی ٹھانی لیکن آج کئی ماہ بعد بھی بریمن کا ٹاؤن ہال اسکوائر ذہن پر خوبصورت خاکے بناتا ہے۔ اگر آپ بھی کبھی اس طرف سے گزریں تو بریمن کی ضرور سیر کریں، یہ آپ کو درجنوں مشہور یورپی شہروں سے زیادہ بھلا لگے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195854</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Feb 2023 14:05:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رمضان رفیق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/2214154504ee2d5.jpg?r=141847" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/2214154504ee2d5.jpg?r=141847"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کالاش کی رمبور گھاٹی: بہوک چھت کی گمشدہ راہیں اور ایک ڈائن ندی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193564/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ سال 2015ء کا مون سون تھا اور میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ چترال کے دورے پر تھا اور انہی دنوں چترال اور سلسلہ کوہِ ہندو کش کا مزاج غیر دوستانہ ہوگیا اور ہم کالاش میں تقریباً 20 دنوں کے لیے محصور ہی کیا بس ’حنوط‘ ہو کر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیا تو میں دو شد چسکے میں تھا کہ ایک تو اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق کے لیے مواد اکٹھا کرلوں گا اور دوسرا یہ کہ کچھ ٹریک ٹرخانے کا من بھی تھا۔ پر ڈَرن چاچا (کلاشا زبان میں ڈرن سے مراد سیلاب) نے تو ہم کو کالاش کی رمبور گھاٹی کے گروم گاؤں میں باندھ سا رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راستے مفقود اور پُل مخدوش تھے اور وادی میں خوراک مسلسل کم ہوتی جارہی تھی۔ خوف کے سائے میرے اندر بھی سرائیت کرتے جارہے تھے کہ میرے ساتھ میرے کمسن (ڈھائی برس سے 11 برس تک کے) بچے بھی تھے۔ وادی رمبور میں گنتی کی چند ہی تو دکانیں ہیں جہاں سے مجھے چاکلیٹ، بسکٹ، نمکو وغیرہ ذخیرہ کرنے کا موقع مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بعد از سیلاب کَتھا، قصہ مختصر‘ یہ کہ ہم رمبور کی گھاٹی اور کوہِ ہندوکش کی وسعتوں میں باقی پاکستان سے کٹ کر رہ گئے تھے۔ وہاں میں اپنے مقامی دوست محمد خان حسن کالاش کے روایتی گھر میں مقیم تھا۔ 2، 4 دن میں گروم، کالاش گروم، بالا گرو اور سجی گور تُھن کے کوہستانی گاؤں میں مخدوش حالات کے باوجود اپنی تحقیق کے لیے مواد جمع کرتا رہا۔ بمبوریت اور بریر کی وادیوں کو جاتے سارے راستے مخدوش تھے کہ وہاں تک لے جانے والے جیپ روڈ کو سیلاب کا عفریت بہا کر لے جاچکا تھا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113229971ee72.jpg?r=113301'  alt='   رمبور گھاٹی کو جاتی جیپ روڈ جسے دریا بہا لے گیا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رمبور گھاٹی کو جاتی جیپ روڈ جسے دریا بہا لے گیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811323020df47e.jpg?r=113301'  alt='  بل کھاتی جیپ روڈ جو دریا کی نذر ہوگئی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بل کھاتی جیپ روڈ جو دریا کی نذر ہوگئی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب میں گھر تو بیٹھا رہ نہیں سکتا تھا کہ وادی میں جاکر ’خانہ بدوشی‘ ٹک کر بیٹھنے دیتی ہے۔ تو بس میں گھر والوں کو نیچے وادی میں چھوڑ کر خود محمد خان حسن کے ساتھ 2 دنوں کے لیے پاک افغان سرحد کے قریب جنگل اور چراگاہوں میں چلا گیا جہاں سے اُمڈ اُمڈ کر سیلاب آرہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم دونوں میں طے یہ پایا کہ ایک دن کی مسافت پر بہوک جنگل سے ہوتے ہوئے بہوک چھت (کلاشا میں چھت مراد جھیل) جایا جائے جہاں وادی بھر کے چرواہے اپنے اپنے ریوڑ کے ساتھ بہوک چراگاہ میں موسمِ گرما گزارتے ہیں، ہمیں ان چرواہوں کی سنگی کمین گاہوں میں بس ایک یا 2 راتیں گزارنی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہونی ہوکر رہتی ہے اور وہ ہوکر رہی کہ گروم گاؤں سے پلاروگ اور پلاروگ سے راہوالیک گاؤں تک جو ٹریک نسبتاً سہل تھا بعد میں وہی آنکھیں دکھانا شروع ہوگیا۔ چیڑ، دیودار اور صنوبری اپسرائیں گھاٹی کی دونوں جانب ندی کے کناروں سے اوپر کو اٹھتی محوِ رقص تھیں۔ مون سون اپنے جوبن پر تھا اور پوری گھاٹی نے سبز ردا اوڑھ رکھی تھی۔ راستے کی بپھری بہوک ندی لپک لپک کر گلے کو آتی تھی اور اس پر قائم لکڑی کے تھرتھراتے پُل ایک ہفتہ پہلے ہی کہیں سے کہیں پہنچ چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113231471b380.jpg?r=113301'  alt='  رمبور گھاٹی کا گروم گاؤں جو روایتی فنِ تعمیر کا مظہر ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رمبور گھاٹی کا گروم گاؤں جو روایتی فنِ تعمیر کا مظہر ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322228a95e4.jpg?r=113300'  alt='  بادلوں میں چھپا سلسلہ کوہِ ہندوکش  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بادلوں میں چھپا سلسلہ کوہِ ہندوکش&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113228747f1d8.jpg?r=125017'  alt='  پلاروگ سے راہوالیک جاتے ہوئے ایک سبزہ زار  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پلاروگ سے راہوالیک جاتے ہوئے ایک سبزہ زار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے بہوک ندی کو 3، 4 بار ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر پار کیا، ایک بار حسن کا جوتا ندی کی نذر ہوا تو ایک بار میں بچا اور اچھا خاصا بچا۔ ویسے بڑی خوفناک ندی تھی جو غراتی بھی تھی، دھمکاتی بھی تھی اور جب ہم پاؤں پاؤں اس کو پار کرتے تھے تو اندر ہی اندر سنگ باری بھی کرتی جاتی تھی کہ پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ سنگریزے جیسے گولیوں کی طرح آکر لگتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب سہ پہر ہمیں الوداع کر رہی تھی تب ہم مِیکی نِیلی کا ایک بہت چھوٹا سا دیہات پار کر رہے تھے جہاں رمبور گھاٹی کے آخری چند ایک گرمائی گھر ملتے ہیں۔ اس کے بعد جنگل ہوتا ہے اور آپ ہوتے ہیں یا اوپر، بہت اوپر بہوک چھت اور بہوک چھت جانے کی کسک آپ کو کھینچے چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسن کا اصرار تھا کا میکی نیلی ایک چھوٹا سا کوہستانی گاؤں ہے لیکن سرِ راہ مجھے تو 4 سے 5 سنگ و چوب کے گھروں کے ڈھانچے نظر آرہے تھے۔ میکی نیلی تک تو پھر بھی راستے کے نشان تھے، مگر آگے کے تمام نشان بارشوں میں بہہ چکے تھے۔ اب نہ راہ تھی نہ راہ کے نشان، بس سمت کا اندازہ تھا وہ بھی میرے رہبر کو، مجھے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگل میں راہ تلاش کرنے میں بکریوں کی مینگنیاں بہت کارآمد ہوتی ہیں مگر اب کی بار میں کالاش دیس کا ایک انوکھا رنگ دیکھ رہا تھا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کی بارشوں نے بہوک کے جنگلوں کی ڈھلوانوں کو بالکل چمکا دیا تھا اور ساری مینگنیاں بہوک ندی کے توسط سے پتا نہیں کس ڈیم کی طرف سفر اختیار کرچکی تھیں۔ نتیجتاً ہم راہ کھوٹی کر بیٹھے، یعنی اب بہوک کے جنگل میں ہم کھوچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113230c1ac113.jpg?r=113301'  alt='  میکی نیلی گاؤں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میکی نیلی گاؤں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113229a95f147.jpg?r=125017'  alt='  تراک دالا (بہوک کے ٹریک پر) میں پاکستان سے بجانب افغانستان آخری مسجد اور اس کے نیچے پرائمری اسکول  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تراک دالا (بہوک کے ٹریک پر) میں پاکستان سے بجانب افغانستان آخری مسجد اور اس کے نیچے پرائمری اسکول&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811323187282cf.jpg?r=113301'  alt='   بہوک ندی جس نے بارہا ہمارا راستہ روکا   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک ندی جس نے بارہا ہمارا راستہ روکا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیودار اور صنوبر کے اداس جنگل میں شام اترنے کے ساتھ ساتھ میری پریشانی میں اضافہ ہونا ایک لازمی امر تھا۔ حسن  کا کہنا تھا کہ ’ہم چھت کے آس پاس ہی تو ہیں بس راستہ کھو گیا ہے‘۔ شام آئی تو ساتھ میں گہرے، گھنے بادل بھی لائی۔ سطح سمندر سے تقریباً 9 ہزار فٹ کی بلندی پر دیودار، چیڑ اور صنوبر کے جنگل میں ٹھنڈ اتر رہی تھی اور بادل اور دھند نے ہماری حدِنگاہ کو تقریباً 15، 20 میٹر تک محدود کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیمپ اور سلیپنگ بیگ ہم ساتھ لائے نہیں تھے کہ ابتدائی منصوبے کے مطابق ہمیں تو 7، 8 گھنٹوں میں چرواہوں کی جلائی ہوئی آگ کے گرد ہونا تھا اور وہ بھی شام سے پہلے۔ کچے چاول اٹھا لائے تھے کہ چھت پر پکا کر پنیر اور بکری کا گوشت ڈال کر کھانے کا منصوبہ تھا۔ اب تھیلے میں صبح کی 4 سوکھی روٹیاں اور 20 سے کم کھجوریں تھیں، بوتل میں ایک گلاس پانی اور ہاں کچھ سگریٹ تھے تو رات گزارنے کے لیے یہ راشن بہت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری ہمت  نے جواب تو کافی دیر پہلے ہی دے دیا تھا مگر اب باقاعدہ انکاری ہوگئی تھی۔ ہمارے پاس موجود ٹارچ بھی دھند کو 5 میٹر سے زیادہ چیر نہیں پا رہی تھا۔ یہ ’قافلے‘ کے مجبوراً قیام کا وقت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس پھر ایک بڑا مہان سا دیودار کا درخت ہماری چھت بنا، صنوبر (جس کو مقامی زبان میں سارس کہا جاتا ہے اور اس کو کالاش میں مقدس درخت مانا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان پر پریاں بسیرا کرتی ہیں) کے پتوں سے حسن  نے نرم گداز بستر بنایا اور کیا کاریگری سے بنایا کہ رات بھر کوئی شاخ ذرا نہیں چبھی، دونوں نے مل کر درختوں کی نسبتاً خشک شاخیں اکٹھی کیں اور حسن  نے چیڑ کے درخت پر چڑھ کر گوند حاصل کی تاکہ آگ جلائی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی راشن بندی کے بعد ہمارے حصے ایک ایک لکڑ قسم کی سوکھی روٹی، 5، 5 کھجوریں مع کیڑوں کے اور 2، 2 گھونٹ پانی آیا۔ اس کے بعد بہوک کے جنگل کی طویل رات نے ہمارے شگوفے سنے جس میں لوچ کم اور لفڑا زیادہ تھا، ہنسی کم اور سسکیاں زیادہ تھیں کہ وہ زیادہ تر خفی شگوفے تھے۔ مگر منٹو زدہ لطیفے بھی ٹھند کم نہ کرسکے اور ہمیں اپنے اپنے جسم کی حدت بچانے کے لیے بغلگیر ہوکر سونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا سارس یعنی صنوبر کے پتوں کے اوپر مگر گھنیرے دیودار درخت تلے یہ ہنی مون عارضی ثابت ہوا کہ صبح کے 4 بجے بادل ہمت چھوڑ گئے اور برس پڑے۔ صبح 9 بجے تک مطلع صاف ہونے کا انتظار کیا کہ چھت کی یاترا مکمل کی جائے پر ازنِ باریابی نہیں ملا اور حسن کا کہنا تھا کہ ’جیسے جیسے بارش بڑھتی جائے گی واپسی میں بہوک ندی مزید وحشی ہوتی جائے گی، تو واپس چلتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113229b8b009f.jpg?r=125017'  alt='  بہوک کے جنگل میں ہماری کمین گاہ جہاں حسن اور میں نے رات گزاری  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک کے جنگل میں ہماری کمین گاہ جہاں حسن اور میں نے رات گزاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132273a42003.jpg?r=125017'  alt='  بہوک کے جنگل میں دھند آلود صبح میں اور حسن باسی روٹی گرم کرتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک کے جنگل میں دھند آلود صبح میں اور حسن باسی روٹی گرم کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113223eeb4631.jpg?r=125017'  alt='  بہوک کے جنگل سے واپسی پر مصنف کی الوادعی تصویر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک کے جنگل سے واپسی پر مصنف کی الوادعی تصویر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 بج چکے تھے مگر بادل اب بھی سورج کو باہر نکلنے سے روکے ہوئے تھے۔دھند تھی کہ ہمیں ملفوف کیے ہوئی تھی۔ منظر تھا کہ پس منظر میں تھا، پیش منظر اگر کچھ تھا تو دھند کا راج اور اسی پیش منظر کے بیچ کہیں ہم زیر و زبر ہوئے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بادل تو دمِ سحری سے اپنے سحر میں لے کر ہمیں جگا چکے تھے اور  مسلسل برس رہے تھے، تاہم وہ تیزی بھی نہ تھی کہ ہم بس اپنی کمین گاہ میں ہی چھپے رہتے۔ میرا دل تو بہوک چھت میں اٹکا ہوا تھا جو ہمارے تھوڑا ہی اوپر تھی، مگر راہ سجھائی دے تو۔ میرے رہبر کا دھیان رہ رہ کر بہوک ندی کی خونخواری کی طرف جا رہا تھا اور اس کی نظریں میرے چہرے کو دیکھ کر استدعا کر رہی تھیں کہ پھر آجانا ابھی نیچے چلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس پھر غبار آلود دل اور ایک کسک کے ساتھ ناکامیابی کا ہاتھ تھامے نیچے کا سفر در پیش تھا جو ’اوپر‘ کے سفر سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ بارشوں نے ڈھلانوں کو پھسلاہٹ میں خود کفیل کر رکھا تھا اور پاؤں جمنے کا نام تک بھولتے جارہے تھے۔ اگر کچھ دل کو بھانے والا تھا تو وہ قریب میں نظر آنے والا بہوک بن کا نظارہ تھا، دیودار و چیڑ اور شاہ بلوط و صنوبر کے طویل القامت درخت تھے اور ہمارے ہاتھوں سے ذرا اوپر بادل برس برس کر جیسے عطر پاشی کر رہے تھے۔ ہم باقاعدہ طور پر بادلوں سے اوپر بھی تھے اور بادلوں کے بیچ بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم صنوبر و دیودار کے غسل لیے ہوئے جنگل کے درمیان سے نیچے اترتے رہے اور دھند و بادل ہمہ وقت ہمارے ہمراہ رہے۔ جب دو، ڈھائی گھنٹوں کے بعد ہم بلندی سے نیچے اترتے ہوئے ایک تنگ گھاٹی میں موجود راہوالیک ندی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ کافی حد تک بپھر چکی تھی۔ اس صورتحال نے ہماری پیشانیوں کو شکن آلود کردیا کہ ندی کے دونوں طرف بہت تنگ راستہ تھا، پھسلن تھی اور پچھلے 2 ہفتوں کی بارشوں نے ندی کے دونوں طرف کی چٹانوں اور پہاڑوں کی سختی کو کچھ حد تک نرم کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113222949ca84.jpg?r=113300'  alt='  بہوک سے واپسی پر دھند نے بھی ہمارا راستہ کھوٹا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک سے واپسی پر دھند نے بھی ہمارا راستہ کھوٹا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322413762ff.jpg?r=140753'  alt='  بہوک کے جنگل کی دھند آلود صبح  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک کے جنگل کی دھند آلود صبح&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132298202b2e.jpg?r=141302'  alt='  بہوک کا جنگل اور واپسی کے نظارے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک کا جنگل اور واپسی کے نظارے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاہے بگاہے چھوٹے بڑے پتھر اوپر پہاڑ سے لڑھکتے ہوئے نیچے ندی میں گررہے تھے اور حسن کا خیال تھا کہ اگر کوئی مٹی کا تودہ ہمارے اوپر والی سمت سے ہم پر آتا ہے تو وہ تو خوفناک ہوگا لیکن اگر ندی کی دوسری طرف سے بھی کوئی مٹی کا تودہ ندی میں گرتا ہے تو لامحالہ اس تودے کی وجہ سے ندی کا پانی ہماری طرف بھی اچھلے گا جو خطرناک ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حسن نے باقاعدہ طور پر سخت لہجہ اختیار کرکے مجھے بھاگنے کا کہا اور ہم اس ڈائن قسم کے علاقے سے 10، 15 منٹ میں اس رفتار سے نکلے کہ اسے تقریباً بھاگنا ہی کہا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آگے چل کر گھاٹی تھوڑی کُھل گئی تو ہم ندی سے ہٹ کر چلنا شروع ہوگئے مگر چلنے سے پہلے میں ایک بڑے سے پتھر پر ڈھیر ہوگیا کہ اترائی اتر کر اور اس ڈائن قسم کے علاقے سے نکل کر میں ذہنی و جسمانی طور پر تھک چکا تھا۔ میں نے بارش میں ہی اس پتھر پر کمر سیدھی کی تاکہ ذرا آرام کے بعد  آگے بڑھا جاسکے اور شام سے پہلے گروم نہیں تو کم از کم راہوالیک گاؤں پہنچا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپسی ہمیشہ مشکل و تکیلف دہ ہی لگتی ہے اور اکثر مشکلات بھی ہوتی ہیں سو ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ندی کے کٹاؤ نے کچھ راستہ ’کھا لیا‘ تھا اور ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم چٹان کے اس حصے کی طرف جاتے جہاں حسن نے چشموں کا پانی آبادی کی طرف لے جانے والے چینل کو دیکھا تھا اور اس پر چلتے ہوئے بھی ایک جگہ پہاڑ کی دیوار کے ساتھ نیچے کھائی تھی۔ کھائی کے اوپر دونوں طرف کی واٹر چینل کو ملانے کے لیے ایک درخت کا تنا اندر سے کھوکھلا کرکے رکھا گیا تھا اور ہم بھی اس سے ہی پار ہولیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322899a59e5.jpg?r=141302'  alt='  تنے سے بنے واٹر چینل کو بطور پُل استعمال کیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تنے سے بنے واٹر چینل کو بطور پُل استعمال کیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113230d144a80.jpg?r=141302'  alt='  راہوالیک میں پاکستان کے قومی درخت دیودار کا جنگل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راہوالیک میں پاکستان کے قومی درخت دیودار کا جنگل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113230dc4d960.jpg?r=141302'  alt='  راہوالیک سے بہوک چھت کی طرف کے جنگل کا نظارہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راہوالیک سے بہوک چھت کی طرف کے جنگل کا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322891db9bc.jpg?r=141851'  alt='  راہوالیک سے رمبور کا شیخاندہ کی طرف کا نظارہ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;راہوالیک سے رمبور کا شیخاندہ کی طرف کا نظارہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 5 گھنٹوں کے تھکا دینے والے ٹریک کے بعد ہم راہوالیک میں حسن کے گھر پہنچ گئے جہاں اس کی امّاں جی نے فوراً چائے کے بعد سامنے کھیتوں سے تازہ کدّو توڑ کر لکڑی کی آگ پر ہانڈی دھر دی، مگر میری کمر جیسے ہی چارپائی سے لگی، نیند نے آ دبوچا۔ ایک گھنٹے کی نیند، گرم روٹی، لذیذ سالن، کڑک چائے اور امّاں جی کے خلوص نے اتنا تازہ دم کردیا تھا کہ میں مزید نیچے گروم کا سفر کرسکتا تھا جہاں میرے بچے میرا انتظار کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچے اترتے ہوئے میں یہ سوچ کر خوش ہورہا تھا کہ ہم ڈائن ندی کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں مگر واپسی کے سفر پر ابھی ایک امتحان اور مقصود تھا۔ گزشتہ روز ندی کے اوپر جو دو تنے رکھ کر پُل بنایا ہوا تھا وہ آج بہہ چکا تھا اور ندی کا بہاؤ بھی تیز تھا، یعنی ندی میں اتر کر پار کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا۔ فطرت جہاں دل موہ لینے والی ہے وہاں خوفناک بھی بہت ہے لیکن پھر اکثر مشکلات میں مہربان بھی ہوجاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اور کچھ مقامی افراد (کیونکہ ہم اب چھوٹی چھوٹی آبادیوں کے قریب تھے، جنگل میں نہیں) پچھلے 10، 15 منٹوں سے ندی کنارے بہہ جانے والے تنوں کی جگہ پریشان کھڑے تھے۔ اتنے میں 2 مقامی افراد اور حسن کو میں نے ندی کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف بھاگتے دیکھا۔ سمجھ کچھ نہ آئی کہ کیوں بھاگے، میں بھی پیچھے گیا تو دیکھا کہ وہ ندی میں اوپر سے بہہ کر آنے والے ایک تنے کو (جو جنگل میں کاٹا گیا تھا مگر سیلاب اسے نیچے لے آیا تھا) پکڑنے کی تگ و دو میں تھے اور کچھ دیر میں اس کو قابو کرلیا۔ اگلے 5، 7 منٹ کی جنگ میں انہوں نے اس کو ندی کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پتھر لگا کر پھنسا لیا تھا اور یوں ایک ہنگامی پُل تیار تھا جس کے اوپر سے ندی کا پانی گزر رہا تھا اور ہمیں بھی گزرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132308cfc147.jpg?r=141940'  alt='  کالاش کا روایتی کھانا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کالاش کا روایتی کھانا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132280a866fb.jpg?r=141940'  alt='  بہوک ندی کا آخری خوفناک حصہ پار کرتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بہوک ندی کا آخری خوفناک حصہ پار کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں اپنے ڈر کی وجہ سے اسے پار کرنے کو کسی طرح بھی راضی نہ تھا، اتنے میں گروم گاؤں کی طرف سے 2 مضبوط قسم کے شیخان (1896ء میں جب افغانستان میں کافرستان پر امیر عبدالرحمٰن نے قبضہ کرلیا تو کچھ کاتی یا سرخ کافروں نے رمبور کے کُنیشٹ گاؤں میں پناہ لی مگر آہستہ آہستہ سارے کاتی اسلام قبول کرگئے اور ان کو شیخان کہا گیا جبکہ ان کے گاؤں کُنیشٹ کو اب شیخاندہ کہا جاتا ہے) آئے اور تقریباً مجھے زبردستی بہوک ندی ایسے پار کروائی کہ اُس ہلتے تنے پر ایک شیخ میرا ہاتھ تھامے میرے آگے اور دوسرا شیخ میرا دوسرا ہاتھ تھامے میرے پیچھے تھا اور کہہ رہا تھا، ’فکر نہیں کرو مجھے تیرنا آتا ہے‘، لیکن فکر تو یہ تھی کہ مجھے تیرنا نہیں آتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تصاویر بشکریہ لکھاری&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ سال 2015ء کا مون سون تھا اور میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ چترال کے دورے پر تھا اور انہی دنوں چترال اور سلسلہ کوہِ ہندو کش کا مزاج غیر دوستانہ ہوگیا اور ہم کالاش میں تقریباً 20 دنوں کے لیے محصور ہی کیا بس ’حنوط‘ ہو کر رہ گئے۔</p>
<p>گیا تو میں دو شد چسکے میں تھا کہ ایک تو اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق کے لیے مواد اکٹھا کرلوں گا اور دوسرا یہ کہ کچھ ٹریک ٹرخانے کا من بھی تھا۔ پر ڈَرن چاچا (کلاشا زبان میں ڈرن سے مراد سیلاب) نے تو ہم کو کالاش کی رمبور گھاٹی کے گروم گاؤں میں باندھ سا رکھا تھا۔</p>
<p>راستے مفقود اور پُل مخدوش تھے اور وادی میں خوراک مسلسل کم ہوتی جارہی تھی۔ خوف کے سائے میرے اندر بھی سرائیت کرتے جارہے تھے کہ میرے ساتھ میرے کمسن (ڈھائی برس سے 11 برس تک کے) بچے بھی تھے۔ وادی رمبور میں گنتی کی چند ہی تو دکانیں ہیں جہاں سے مجھے چاکلیٹ، بسکٹ، نمکو وغیرہ ذخیرہ کرنے کا موقع مل گیا۔</p>
<p>’بعد از سیلاب کَتھا، قصہ مختصر‘ یہ کہ ہم رمبور کی گھاٹی اور کوہِ ہندوکش کی وسعتوں میں باقی پاکستان سے کٹ کر رہ گئے تھے۔ وہاں میں اپنے مقامی دوست محمد خان حسن کالاش کے روایتی گھر میں مقیم تھا۔ 2، 4 دن میں گروم، کالاش گروم، بالا گرو اور سجی گور تُھن کے کوہستانی گاؤں میں مخدوش حالات کے باوجود اپنی تحقیق کے لیے مواد جمع کرتا رہا۔ بمبوریت اور بریر کی وادیوں کو جاتے سارے راستے مخدوش تھے کہ وہاں تک لے جانے والے جیپ روڈ کو سیلاب کا عفریت بہا کر لے جاچکا تھا ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113229971ee72.jpg?r=113301'  alt='   رمبور گھاٹی کو جاتی جیپ روڈ جسے دریا بہا لے گیا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رمبور گھاٹی کو جاتی جیپ روڈ جسے دریا بہا لے گیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811323020df47e.jpg?r=113301'  alt='  بل کھاتی جیپ روڈ جو دریا کی نذر ہوگئی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بل کھاتی جیپ روڈ جو دریا کی نذر ہوگئی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اب میں گھر تو بیٹھا رہ نہیں سکتا تھا کہ وادی میں جاکر ’خانہ بدوشی‘ ٹک کر بیٹھنے دیتی ہے۔ تو بس میں گھر والوں کو نیچے وادی میں چھوڑ کر خود محمد خان حسن کے ساتھ 2 دنوں کے لیے پاک افغان سرحد کے قریب جنگل اور چراگاہوں میں چلا گیا جہاں سے اُمڈ اُمڈ کر سیلاب آرہا تھا۔</p>
<p>ہم دونوں میں طے یہ پایا کہ ایک دن کی مسافت پر بہوک جنگل سے ہوتے ہوئے بہوک چھت (کلاشا میں چھت مراد جھیل) جایا جائے جہاں وادی بھر کے چرواہے اپنے اپنے ریوڑ کے ساتھ بہوک چراگاہ میں موسمِ گرما گزارتے ہیں، ہمیں ان چرواہوں کی سنگی کمین گاہوں میں بس ایک یا 2 راتیں گزارنی تھیں۔</p>
<p>ہونی ہوکر رہتی ہے اور وہ ہوکر رہی کہ گروم گاؤں سے پلاروگ اور پلاروگ سے راہوالیک گاؤں تک جو ٹریک نسبتاً سہل تھا بعد میں وہی آنکھیں دکھانا شروع ہوگیا۔ چیڑ، دیودار اور صنوبری اپسرائیں گھاٹی کی دونوں جانب ندی کے کناروں سے اوپر کو اٹھتی محوِ رقص تھیں۔ مون سون اپنے جوبن پر تھا اور پوری گھاٹی نے سبز ردا اوڑھ رکھی تھی۔ راستے کی بپھری بہوک ندی لپک لپک کر گلے کو آتی تھی اور اس پر قائم لکڑی کے تھرتھراتے پُل ایک ہفتہ پہلے ہی کہیں سے کہیں پہنچ چکے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113231471b380.jpg?r=113301'  alt='  رمبور گھاٹی کا گروم گاؤں جو روایتی فنِ تعمیر کا مظہر ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رمبور گھاٹی کا گروم گاؤں جو روایتی فنِ تعمیر کا مظہر ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322228a95e4.jpg?r=113300'  alt='  بادلوں میں چھپا سلسلہ کوہِ ہندوکش  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بادلوں میں چھپا سلسلہ کوہِ ہندوکش</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113228747f1d8.jpg?r=125017'  alt='  پلاروگ سے راہوالیک جاتے ہوئے ایک سبزہ زار  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پلاروگ سے راہوالیک جاتے ہوئے ایک سبزہ زار</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم نے بہوک ندی کو 3، 4 بار ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر پار کیا، ایک بار حسن کا جوتا ندی کی نذر ہوا تو ایک بار میں بچا اور اچھا خاصا بچا۔ ویسے بڑی خوفناک ندی تھی جو غراتی بھی تھی، دھمکاتی بھی تھی اور جب ہم پاؤں پاؤں اس کو پار کرتے تھے تو اندر ہی اندر سنگ باری بھی کرتی جاتی تھی کہ پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ سنگریزے جیسے گولیوں کی طرح آکر لگتے ہوں۔</p>
<p>جب سہ پہر ہمیں الوداع کر رہی تھی تب ہم مِیکی نِیلی کا ایک بہت چھوٹا سا دیہات پار کر رہے تھے جہاں رمبور گھاٹی کے آخری چند ایک گرمائی گھر ملتے ہیں۔ اس کے بعد جنگل ہوتا ہے اور آپ ہوتے ہیں یا اوپر، بہت اوپر بہوک چھت اور بہوک چھت جانے کی کسک آپ کو کھینچے چلی جاتی ہے۔</p>
<p>حسن کا اصرار تھا کا میکی نیلی ایک چھوٹا سا کوہستانی گاؤں ہے لیکن سرِ راہ مجھے تو 4 سے 5 سنگ و چوب کے گھروں کے ڈھانچے نظر آرہے تھے۔ میکی نیلی تک تو پھر بھی راستے کے نشان تھے، مگر آگے کے تمام نشان بارشوں میں بہہ چکے تھے۔ اب نہ راہ تھی نہ راہ کے نشان، بس سمت کا اندازہ تھا وہ بھی میرے رہبر کو، مجھے نہیں۔</p>
<p>جنگل میں راہ تلاش کرنے میں بکریوں کی مینگنیاں بہت کارآمد ہوتی ہیں مگر اب کی بار میں کالاش دیس کا ایک انوکھا رنگ دیکھ رہا تھا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کی بارشوں نے بہوک کے جنگلوں کی ڈھلوانوں کو بالکل چمکا دیا تھا اور ساری مینگنیاں بہوک ندی کے توسط سے پتا نہیں کس ڈیم کی طرف سفر اختیار کرچکی تھیں۔ نتیجتاً ہم راہ کھوٹی کر بیٹھے، یعنی اب بہوک کے جنگل میں ہم کھوچکے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113230c1ac113.jpg?r=113301'  alt='  میکی نیلی گاؤں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میکی نیلی گاؤں</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113229a95f147.jpg?r=125017'  alt='  تراک دالا (بہوک کے ٹریک پر) میں پاکستان سے بجانب افغانستان آخری مسجد اور اس کے نیچے پرائمری اسکول  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تراک دالا (بہوک کے ٹریک پر) میں پاکستان سے بجانب افغانستان آخری مسجد اور اس کے نیچے پرائمری اسکول</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811323187282cf.jpg?r=113301'  alt='   بہوک ندی جس نے بارہا ہمارا راستہ روکا   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک ندی جس نے بارہا ہمارا راستہ روکا</figcaption>
    </figure></p>
<p>دیودار اور صنوبر کے اداس جنگل میں شام اترنے کے ساتھ ساتھ میری پریشانی میں اضافہ ہونا ایک لازمی امر تھا۔ حسن  کا کہنا تھا کہ ’ہم چھت کے آس پاس ہی تو ہیں بس راستہ کھو گیا ہے‘۔ شام آئی تو ساتھ میں گہرے، گھنے بادل بھی لائی۔ سطح سمندر سے تقریباً 9 ہزار فٹ کی بلندی پر دیودار، چیڑ اور صنوبر کے جنگل میں ٹھنڈ اتر رہی تھی اور بادل اور دھند نے ہماری حدِنگاہ کو تقریباً 15، 20 میٹر تک محدود کردیا تھا۔</p>
<p>کیمپ اور سلیپنگ بیگ ہم ساتھ لائے نہیں تھے کہ ابتدائی منصوبے کے مطابق ہمیں تو 7، 8 گھنٹوں میں چرواہوں کی جلائی ہوئی آگ کے گرد ہونا تھا اور وہ بھی شام سے پہلے۔ کچے چاول اٹھا لائے تھے کہ چھت پر پکا کر پنیر اور بکری کا گوشت ڈال کر کھانے کا منصوبہ تھا۔ اب تھیلے میں صبح کی 4 سوکھی روٹیاں اور 20 سے کم کھجوریں تھیں، بوتل میں ایک گلاس پانی اور ہاں کچھ سگریٹ تھے تو رات گزارنے کے لیے یہ راشن بہت تھا۔</p>
<p>میری ہمت  نے جواب تو کافی دیر پہلے ہی دے دیا تھا مگر اب باقاعدہ انکاری ہوگئی تھی۔ ہمارے پاس موجود ٹارچ بھی دھند کو 5 میٹر سے زیادہ چیر نہیں پا رہی تھا۔ یہ ’قافلے‘ کے مجبوراً قیام کا وقت تھا۔</p>
<p>بس پھر ایک بڑا مہان سا دیودار کا درخت ہماری چھت بنا، صنوبر (جس کو مقامی زبان میں سارس کہا جاتا ہے اور اس کو کالاش میں مقدس درخت مانا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان پر پریاں بسیرا کرتی ہیں) کے پتوں سے حسن  نے نرم گداز بستر بنایا اور کیا کاریگری سے بنایا کہ رات بھر کوئی شاخ ذرا نہیں چبھی، دونوں نے مل کر درختوں کی نسبتاً خشک شاخیں اکٹھی کیں اور حسن  نے چیڑ کے درخت پر چڑھ کر گوند حاصل کی تاکہ آگ جلائی جاسکے۔</p>
<p>نئی راشن بندی کے بعد ہمارے حصے ایک ایک لکڑ قسم کی سوکھی روٹی، 5، 5 کھجوریں مع کیڑوں کے اور 2، 2 گھونٹ پانی آیا۔ اس کے بعد بہوک کے جنگل کی طویل رات نے ہمارے شگوفے سنے جس میں لوچ کم اور لفڑا زیادہ تھا، ہنسی کم اور سسکیاں زیادہ تھیں کہ وہ زیادہ تر خفی شگوفے تھے۔ مگر منٹو زدہ لطیفے بھی ٹھند کم نہ کرسکے اور ہمیں اپنے اپنے جسم کی حدت بچانے کے لیے بغلگیر ہوکر سونا پڑا۔</p>
<p>ہمارا سارس یعنی صنوبر کے پتوں کے اوپر مگر گھنیرے دیودار درخت تلے یہ ہنی مون عارضی ثابت ہوا کہ صبح کے 4 بجے بادل ہمت چھوڑ گئے اور برس پڑے۔ صبح 9 بجے تک مطلع صاف ہونے کا انتظار کیا کہ چھت کی یاترا مکمل کی جائے پر ازنِ باریابی نہیں ملا اور حسن کا کہنا تھا کہ ’جیسے جیسے بارش بڑھتی جائے گی واپسی میں بہوک ندی مزید وحشی ہوتی جائے گی، تو واپس چلتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113229b8b009f.jpg?r=125017'  alt='  بہوک کے جنگل میں ہماری کمین گاہ جہاں حسن اور میں نے رات گزاری  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک کے جنگل میں ہماری کمین گاہ جہاں حسن اور میں نے رات گزاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132273a42003.jpg?r=125017'  alt='  بہوک کے جنگل میں دھند آلود صبح میں اور حسن باسی روٹی گرم کرتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک کے جنگل میں دھند آلود صبح میں اور حسن باسی روٹی گرم کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113223eeb4631.jpg?r=125017'  alt='  بہوک کے جنگل سے واپسی پر مصنف کی الوادعی تصویر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک کے جنگل سے واپسی پر مصنف کی الوادعی تصویر</figcaption>
    </figure></p>
<p>9 بج چکے تھے مگر بادل اب بھی سورج کو باہر نکلنے سے روکے ہوئے تھے۔دھند تھی کہ ہمیں ملفوف کیے ہوئی تھی۔ منظر تھا کہ پس منظر میں تھا، پیش منظر اگر کچھ تھا تو دھند کا راج اور اسی پیش منظر کے بیچ کہیں ہم زیر و زبر ہوئے جا رہے تھے۔</p>
<p>بادل تو دمِ سحری سے اپنے سحر میں لے کر ہمیں جگا چکے تھے اور  مسلسل برس رہے تھے، تاہم وہ تیزی بھی نہ تھی کہ ہم بس اپنی کمین گاہ میں ہی چھپے رہتے۔ میرا دل تو بہوک چھت میں اٹکا ہوا تھا جو ہمارے تھوڑا ہی اوپر تھی، مگر راہ سجھائی دے تو۔ میرے رہبر کا دھیان رہ رہ کر بہوک ندی کی خونخواری کی طرف جا رہا تھا اور اس کی نظریں میرے چہرے کو دیکھ کر استدعا کر رہی تھیں کہ پھر آجانا ابھی نیچے چلتے ہیں۔</p>
<p>بس پھر غبار آلود دل اور ایک کسک کے ساتھ ناکامیابی کا ہاتھ تھامے نیچے کا سفر در پیش تھا جو ’اوپر‘ کے سفر سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ بارشوں نے ڈھلانوں کو پھسلاہٹ میں خود کفیل کر رکھا تھا اور پاؤں جمنے کا نام تک بھولتے جارہے تھے۔ اگر کچھ دل کو بھانے والا تھا تو وہ قریب میں نظر آنے والا بہوک بن کا نظارہ تھا، دیودار و چیڑ اور شاہ بلوط و صنوبر کے طویل القامت درخت تھے اور ہمارے ہاتھوں سے ذرا اوپر بادل برس برس کر جیسے عطر پاشی کر رہے تھے۔ ہم باقاعدہ طور پر بادلوں سے اوپر بھی تھے اور بادلوں کے بیچ بھی۔</p>
<p>ہم صنوبر و دیودار کے غسل لیے ہوئے جنگل کے درمیان سے نیچے اترتے رہے اور دھند و بادل ہمہ وقت ہمارے ہمراہ رہے۔ جب دو، ڈھائی گھنٹوں کے بعد ہم بلندی سے نیچے اترتے ہوئے ایک تنگ گھاٹی میں موجود راہوالیک ندی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ کافی حد تک بپھر چکی تھی۔ اس صورتحال نے ہماری پیشانیوں کو شکن آلود کردیا کہ ندی کے دونوں طرف بہت تنگ راستہ تھا، پھسلن تھی اور پچھلے 2 ہفتوں کی بارشوں نے ندی کے دونوں طرف کی چٹانوں اور پہاڑوں کی سختی کو کچھ حد تک نرم کردیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113222949ca84.jpg?r=113300'  alt='  بہوک سے واپسی پر دھند نے بھی ہمارا راستہ کھوٹا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک سے واپسی پر دھند نے بھی ہمارا راستہ کھوٹا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322413762ff.jpg?r=140753'  alt='  بہوک کے جنگل کی دھند آلود صبح  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک کے جنگل کی دھند آلود صبح</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132298202b2e.jpg?r=141302'  alt='  بہوک کا جنگل اور واپسی کے نظارے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک کا جنگل اور واپسی کے نظارے</figcaption>
    </figure></p>
<p>گاہے بگاہے چھوٹے بڑے پتھر اوپر پہاڑ سے لڑھکتے ہوئے نیچے ندی میں گررہے تھے اور حسن کا خیال تھا کہ اگر کوئی مٹی کا تودہ ہمارے اوپر والی سمت سے ہم پر آتا ہے تو وہ تو خوفناک ہوگا لیکن اگر ندی کی دوسری طرف سے بھی کوئی مٹی کا تودہ ندی میں گرتا ہے تو لامحالہ اس تودے کی وجہ سے ندی کا پانی ہماری طرف بھی اچھلے گا جو خطرناک ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حسن نے باقاعدہ طور پر سخت لہجہ اختیار کرکے مجھے بھاگنے کا کہا اور ہم اس ڈائن قسم کے علاقے سے 10، 15 منٹ میں اس رفتار سے نکلے کہ اسے تقریباً بھاگنا ہی کہا جاسکتا ہے۔</p>
<p>جب آگے چل کر گھاٹی تھوڑی کُھل گئی تو ہم ندی سے ہٹ کر چلنا شروع ہوگئے مگر چلنے سے پہلے میں ایک بڑے سے پتھر پر ڈھیر ہوگیا کہ اترائی اتر کر اور اس ڈائن قسم کے علاقے سے نکل کر میں ذہنی و جسمانی طور پر تھک چکا تھا۔ میں نے بارش میں ہی اس پتھر پر کمر سیدھی کی تاکہ ذرا آرام کے بعد  آگے بڑھا جاسکے اور شام سے پہلے گروم نہیں تو کم از کم راہوالیک گاؤں پہنچا جاسکے۔</p>
<p>واپسی ہمیشہ مشکل و تکیلف دہ ہی لگتی ہے اور اکثر مشکلات بھی ہوتی ہیں سو ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ندی کے کٹاؤ نے کچھ راستہ ’کھا لیا‘ تھا اور ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم چٹان کے اس حصے کی طرف جاتے جہاں حسن نے چشموں کا پانی آبادی کی طرف لے جانے والے چینل کو دیکھا تھا اور اس پر چلتے ہوئے بھی ایک جگہ پہاڑ کی دیوار کے ساتھ نیچے کھائی تھی۔ کھائی کے اوپر دونوں طرف کی واٹر چینل کو ملانے کے لیے ایک درخت کا تنا اندر سے کھوکھلا کرکے رکھا گیا تھا اور ہم بھی اس سے ہی پار ہولیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322899a59e5.jpg?r=141302'  alt='  تنے سے بنے واٹر چینل کو بطور پُل استعمال کیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تنے سے بنے واٹر چینل کو بطور پُل استعمال کیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113230d144a80.jpg?r=141302'  alt='  راہوالیک میں پاکستان کے قومی درخت دیودار کا جنگل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راہوالیک میں پاکستان کے قومی درخت دیودار کا جنگل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/18113230dc4d960.jpg?r=141302'  alt='  راہوالیک سے بہوک چھت کی طرف کے جنگل کا نظارہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راہوالیک سے بہوک چھت کی طرف کے جنگل کا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/1811322891db9bc.jpg?r=141851'  alt='  راہوالیک سے رمبور کا شیخاندہ کی طرف کا نظارہ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>راہوالیک سے رمبور کا شیخاندہ کی طرف کا نظارہ</figcaption>
    </figure></p>
<p>تقریباً 5 گھنٹوں کے تھکا دینے والے ٹریک کے بعد ہم راہوالیک میں حسن کے گھر پہنچ گئے جہاں اس کی امّاں جی نے فوراً چائے کے بعد سامنے کھیتوں سے تازہ کدّو توڑ کر لکڑی کی آگ پر ہانڈی دھر دی، مگر میری کمر جیسے ہی چارپائی سے لگی، نیند نے آ دبوچا۔ ایک گھنٹے کی نیند، گرم روٹی، لذیذ سالن، کڑک چائے اور امّاں جی کے خلوص نے اتنا تازہ دم کردیا تھا کہ میں مزید نیچے گروم کا سفر کرسکتا تھا جہاں میرے بچے میرا انتظار کر رہے تھے۔</p>
<p>نیچے اترتے ہوئے میں یہ سوچ کر خوش ہورہا تھا کہ ہم ڈائن ندی کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں مگر واپسی کے سفر پر ابھی ایک امتحان اور مقصود تھا۔ گزشتہ روز ندی کے اوپر جو دو تنے رکھ کر پُل بنایا ہوا تھا وہ آج بہہ چکا تھا اور ندی کا بہاؤ بھی تیز تھا، یعنی ندی میں اتر کر پار کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا۔ فطرت جہاں دل موہ لینے والی ہے وہاں خوفناک بھی بہت ہے لیکن پھر اکثر مشکلات میں مہربان بھی ہوجاتی۔</p>
<p>ہم اور کچھ مقامی افراد (کیونکہ ہم اب چھوٹی چھوٹی آبادیوں کے قریب تھے، جنگل میں نہیں) پچھلے 10، 15 منٹوں سے ندی کنارے بہہ جانے والے تنوں کی جگہ پریشان کھڑے تھے۔ اتنے میں 2 مقامی افراد اور حسن کو میں نے ندی کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف بھاگتے دیکھا۔ سمجھ کچھ نہ آئی کہ کیوں بھاگے، میں بھی پیچھے گیا تو دیکھا کہ وہ ندی میں اوپر سے بہہ کر آنے والے ایک تنے کو (جو جنگل میں کاٹا گیا تھا مگر سیلاب اسے نیچے لے آیا تھا) پکڑنے کی تگ و دو میں تھے اور کچھ دیر میں اس کو قابو کرلیا۔ اگلے 5، 7 منٹ کی جنگ میں انہوں نے اس کو ندی کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پتھر لگا کر پھنسا لیا تھا اور یوں ایک ہنگامی پُل تیار تھا جس کے اوپر سے ندی کا پانی گزر رہا تھا اور ہمیں بھی گزرنا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132308cfc147.jpg?r=141940'  alt='  کالاش کا روایتی کھانا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کالاش کا روایتی کھانا</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/181132280a866fb.jpg?r=141940'  alt='  بہوک ندی کا آخری خوفناک حصہ پار کرتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بہوک ندی کا آخری خوفناک حصہ پار کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں اپنے ڈر کی وجہ سے اسے پار کرنے کو کسی طرح بھی راضی نہ تھا، اتنے میں گروم گاؤں کی طرف سے 2 مضبوط قسم کے شیخان (1896ء میں جب افغانستان میں کافرستان پر امیر عبدالرحمٰن نے قبضہ کرلیا تو کچھ کاتی یا سرخ کافروں نے رمبور کے کُنیشٹ گاؤں میں پناہ لی مگر آہستہ آہستہ سارے کاتی اسلام قبول کرگئے اور ان کو شیخان کہا گیا جبکہ ان کے گاؤں کُنیشٹ کو اب شیخاندہ کہا جاتا ہے) آئے اور تقریباً مجھے زبردستی بہوک ندی ایسے پار کروائی کہ اُس ہلتے تنے پر ایک شیخ میرا ہاتھ تھامے میرے آگے اور دوسرا شیخ میرا دوسرا ہاتھ تھامے میرے پیچھے تھا اور کہہ رہا تھا، ’فکر نہیں کرو مجھے تیرنا آتا ہے‘، لیکن فکر تو یہ تھی کہ مجھے تیرنا نہیں آتا تھا۔</p>
<hr />
<p><strong>تصاویر بشکریہ لکھاری</strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193564</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Feb 2023 10:44:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد کاشف علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/181427079f97c5f.gif?r=142726" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/181427079f97c5f.gif?r=142726"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2023 کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں پاکستان کا نمبر کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195258/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاسپورٹس کی درجہ بندی میں جاپان کی برتری برقرار ہے، 2023 کے لیے کی گئی عالمی درجہ بندی میں جاپان کا پاسپورٹ طاقتور ترین قرار پایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال بھی عالمی درجہ بندی میں جاپان اور سنگاپور کے پاسپورٹس سال کے طاقتور ترین پاسپورٹس قرار پائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.henleyglobal.com/passport-index/ranking"&gt;ہینلے پاسپورٹ انڈیکس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; نے 2023 کے لیے دنیا کے طاقتور پاسپورٹس کی فہرست جاری کی ہے جس میں جاپان ایک مرتبہ پھر سرفہرست ہے، اس کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا سفر  کرسکتے ہیں یا ایئرپورٹ پہنچتے ہی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 109 پاسپورٹس کی درجہ بندی کی گئی ہے، فہرست میں جاپان کے بعد سنگاپور اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹ کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، ان ملکوں کے شہری  192 ممالک میں ویزا فری انٹری حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا فری یا کسی جگہ پہنچنے پر ویزا حاصل کرنے والے پاسپورٹ کی اس فہرست میں جرمنی اور اسپین کو مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جس کے شہری 190 ممالک میں ویزا فری انٹری حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی، فن لینڈ اور لگسمبرگ مشترکہ طور پر  چوتھے نمبر پر ہیں جن کے شہریوں کو 189 ممالک میں یہ سہولت دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1043947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;188 ممالک کے لیے اس سہولت کے ساتھ ڈنمارک، نیدرلینڈز، سوئیڈن اور آسٹریا کے پاسپورٹس پانچویں نمبر پر رہے جب کہ پرتگال، آئرلینڈ، فرانس اور انگلینڈ کے پاسپورٹس کے حامل افراد 187 ملکوں میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;186 ممالک کے لیے سہولت حاصل کرنے والے پاسپورٹس بلجیئم، جمہوریہ چیک، سوئٹزرلینڈ، امریکا، ناروے اور نیوزی لینڈ کے شہریوں کے پاس ہے جب کہ آسٹریلیا، یونان، مالٹا، اور کینیڈا کے پاسپورٹس 185 ممالک کے لیے اس سہولت کے ساتھ فہرست میں 8 ویں نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولینڈ اور ہنگری کے پاسپورٹ 183 ممالک کے ساتھ 9ویں، لتھوانیا اور سلواکیہ کے پاسپورٹس  10 ویں نمبر پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس جن خطوں کے شہریوں کو سب سے کم ممالک میں مفت ویزا یا ایئرپورٹ پر ہی ویزا کی سہولت میسر ہے ان میں پہلے نمبر پر افغانستان اور دوسرے نمبر پر عراق کے شہری ہیں، جن کو صرف بالترتیب 27 اور 29 ممالک میں یہ سہولت حاصل ہے جب کہ شام کے پاسپورٹ کے حامل افراد صرف 30 ملکوں میں اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1029456"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی پاسپورٹ بدستور چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ ہے جسے  ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت 32 ممالک تک محدود ہے جب کہ یمن اور صومالیہ کے پاسپورٹس بالترتیب 5ویں اور چھٹے بدترین قرار پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ہینلے کے علاوہ ’پاسپورٹ انڈیکس‘ نامی ویب سائٹ کی جانب سے بھی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.passportindex.org/byRank.php"&gt;&lt;strong&gt;پاسپورٹ انڈیکس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جاری کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انڈیکس میں سب سے طاقتور پاسپورٹ ایک مسلم ملک کا قرار پایا ہے جو متحدہ عرب امارات ہے جس کے بعد سوئیڈن، فن لینڈ، اٹلی، جرمنی، نیدرلینڈز، ڈنمارک، آسٹریا، فرانس، اسپین، سوئٹزرلینڈ، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ کے پاسپورٹس طاقتور ترین قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست میں بھی پاکستانی پاسپورٹ کمزور ترین پاسپورٹ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جسے ویزا فری یا آن ارائیول کی سہولت صرف 36 ممالک کے لیے دستیاب قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاسپورٹس کی درجہ بندی میں جاپان کی برتری برقرار ہے، 2023 کے لیے کی گئی عالمی درجہ بندی میں جاپان کا پاسپورٹ طاقتور ترین قرار پایا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال بھی عالمی درجہ بندی میں جاپان اور سنگاپور کے پاسپورٹس سال کے طاقتور ترین پاسپورٹس قرار پائے تھے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.henleyglobal.com/passport-index/ranking">ہینلے پاسپورٹ انڈیکس</a></strong> نے 2023 کے لیے دنیا کے طاقتور پاسپورٹس کی فہرست جاری کی ہے جس میں جاپان ایک مرتبہ پھر سرفہرست ہے، اس کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا سفر  کرسکتے ہیں یا ایئرپورٹ پہنچتے ہی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر 109 پاسپورٹس کی درجہ بندی کی گئی ہے، فہرست میں جاپان کے بعد سنگاپور اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹ کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، ان ملکوں کے شہری  192 ممالک میں ویزا فری انٹری حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ویزا فری یا کسی جگہ پہنچنے پر ویزا حاصل کرنے والے پاسپورٹ کی اس فہرست میں جرمنی اور اسپین کو مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جس کے شہری 190 ممالک میں ویزا فری انٹری حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>اٹلی، فن لینڈ اور لگسمبرگ مشترکہ طور پر  چوتھے نمبر پر ہیں جن کے شہریوں کو 189 ممالک میں یہ سہولت دستیاب ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1043947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>188 ممالک کے لیے اس سہولت کے ساتھ ڈنمارک، نیدرلینڈز، سوئیڈن اور آسٹریا کے پاسپورٹس پانچویں نمبر پر رہے جب کہ پرتگال، آئرلینڈ، فرانس اور انگلینڈ کے پاسپورٹس کے حامل افراد 187 ملکوں میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>186 ممالک کے لیے سہولت حاصل کرنے والے پاسپورٹس بلجیئم، جمہوریہ چیک، سوئٹزرلینڈ، امریکا، ناروے اور نیوزی لینڈ کے شہریوں کے پاس ہے جب کہ آسٹریلیا، یونان، مالٹا، اور کینیڈا کے پاسپورٹس 185 ممالک کے لیے اس سہولت کے ساتھ فہرست میں 8 ویں نمبر پر رہے۔</p>
<p>پولینڈ اور ہنگری کے پاسپورٹ 183 ممالک کے ساتھ 9ویں، لتھوانیا اور سلواکیہ کے پاسپورٹس  10 ویں نمبر پر موجود ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس جن خطوں کے شہریوں کو سب سے کم ممالک میں مفت ویزا یا ایئرپورٹ پر ہی ویزا کی سہولت میسر ہے ان میں پہلے نمبر پر افغانستان اور دوسرے نمبر پر عراق کے شہری ہیں، جن کو صرف بالترتیب 27 اور 29 ممالک میں یہ سہولت حاصل ہے جب کہ شام کے پاسپورٹ کے حامل افراد صرف 30 ملکوں میں اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1029456"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستانی پاسپورٹ بدستور چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ ہے جسے  ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت 32 ممالک تک محدود ہے جب کہ یمن اور صومالیہ کے پاسپورٹس بالترتیب 5ویں اور چھٹے بدترین قرار پائے۔</p>
<p>خیال رہے کہ ہینلے کے علاوہ ’پاسپورٹ انڈیکس‘ نامی ویب سائٹ کی جانب سے بھی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.passportindex.org/byRank.php"><strong>پاسپورٹ انڈیکس</strong></a> جاری کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس انڈیکس میں سب سے طاقتور پاسپورٹ ایک مسلم ملک کا قرار پایا ہے جو متحدہ عرب امارات ہے جس کے بعد سوئیڈن، فن لینڈ، اٹلی، جرمنی، نیدرلینڈز، ڈنمارک، آسٹریا، فرانس، اسپین، سوئٹزرلینڈ، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ کے پاسپورٹس طاقتور ترین قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس فہرست میں بھی پاکستانی پاسپورٹ کمزور ترین پاسپورٹ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جسے ویزا فری یا آن ارائیول کی سہولت صرف 36 ممالک کے لیے دستیاب قرار دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195258</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Jan 2023 17:33:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/111610440601a85.jpg?r=173310" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/111610440601a85.jpg?r=173310"/>
        <media:title>پاکستانی پاسپورٹ ایک بار پھر چوتھا کمزور ترین قرار پایا — اے پی پی فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
