<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:53:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:53:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کشمیر کی وادی ہماری ہے‘ چین نے شکسگام پر بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275085/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔</p>
<p>پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔</p>
<p>بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔</p>
<p>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275085</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:19:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13131200632efb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13131200632efb4.webp"/>
        <media:title>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ فوٹو: چینی وزارت خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275084/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔</p>
<p>محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔</p>
<p>یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔</p>
<p>انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275084</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:06:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13125733d38128e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13125733d38128e.webp"/>
        <media:title>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا، تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا 8 ماہ میں دوسرا خلائی مشن ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275082/</link>
      <description>&lt;p&gt;زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;amp;source_ve_path=OTY3MTQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔</p>
<p>تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;source_ve_path=OTY3MTQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔</p>
<p>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔</p>
<p>اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275082</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 17:05:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12170133c92f8c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12170133c92f8c0.webp"/>
        <media:title>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ فوٹو: اسرو یوٹیوب چینل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کارروائی بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275076/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مفلوج شہر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔</p>
<p>ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔</p>
<p>ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔</p>
<h3><a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مفلوج شہر</h3>
<p>تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔</p>
<p>مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔</p>
<p>ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔</p>
<p>ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔</p>
<p>تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔</p>
<p>تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔</p>
<p>ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔</p>
<p>صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان</h3>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔</p>
<p>صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<h3><a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ</h3>
<p>امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔</p>
<p>رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔</p>
<p>انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔</p>
<p>لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔</p>
<p>یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275076</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:09:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121156167d5b729.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121156167d5b729.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حملے کی صورت میں ایران کی اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275074/</link>
      <description>&lt;p&gt;تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہلاکتوں-میں-اضافہ" href="#ہلاکتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہلاکتوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔</p>
<p>یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔</p>
<p>ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔</p>
<h3><a id="ہلاکتوں-میں-اضافہ" href="#ہلاکتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہلاکتوں میں اضافہ</strong></h3>
<p>28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔</p>
<p>ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275074</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 14:24:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/111419057ac8320.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/111419057ac8320.webp"/>
        <media:title>امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی عوام آزادی چاہتے ہیں، امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275072/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275000/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p>ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275000/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔</p>
<p>ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔</p>
<p>ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔</p>
<p>ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275072</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:41:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1112090564c5a7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1112090564c5a7c.webp"/>
        <media:title>امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے۔ فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، نیا سیکیورٹی اتحاد متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275067/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی تازہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;amp;utm_medium=share&amp;amp;utm_campaign=copy&amp;amp;embedded-checkout=true"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا دور&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کی تازہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;utm_medium=share&amp;utm_campaign=copy&amp;embedded-checkout=true"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔</p>
<p>انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔</p>
<h3><a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا دور</h3>
<p>بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275067</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:11:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1014090716ce62e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1014090716ce62e.webp"/>
        <media:title>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے بھارت میں اپنے سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن بند کردیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275059/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p>عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔</p>
<p>توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275059</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:14:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09121013830bdb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09121013830bdb5.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں بے امنی، پاکستانی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275066/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ پڑوسی ملک ایران میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے تک جمہوریہ اسلامی ایران کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، ہوشیار رہنے، غیر ضروری آمد و رفت محدود رکھنے اور تہران، زاہدان اور مشہد میں قائم پاکستانی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی سفارت خانوں کے فون نمبرز بھی جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق جمعے تک 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ پڑوسی ملک ایران میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے تک جمہوریہ اسلامی ایران کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، ہوشیار رہنے، غیر ضروری آمد و رفت محدود رکھنے اور تہران، زاہدان اور مشہد میں قائم پاکستانی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی سفارت خانوں کے فون نمبرز بھی جاری کیے۔</p>
<p>ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔</p>
<p>ایرانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق جمعے تک 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275066</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 13:31:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1013295613f94d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1013295613f94d5.webp"/>
        <media:title>ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’امریکا بھارت تجارتی معاہدہ ملتوی ہونے کی وجہ مودی کا ٹرمپ کو کال نہ کرنا تھا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275061/tijarti-muahide-mein-takheer-ki-asal-wajah-modi-ki-phone-call-se-gurez</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ایک انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک کا کہنا تھا کہ تجارتی مذاکرات گزشتہ سال ناکام ہو گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آل اِن پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں، جو چار وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں کا بزنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی شو ہے، ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ سب کچھ تیار تھا اور بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اس ہفتے خبردار کیا کہ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم نہیں کرتا تو ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دباؤ کے نتیجے میں بھارتی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال طے نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے مگر رابطے میں خلل کے باعث ممکنہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر میں شامل بھارتی حکومتی عہدیدار کے مطابق مودی ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یک طرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی۔</p>
<p>جمعے کو ایک انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک کا کہنا تھا کہ تجارتی مذاکرات گزشتہ سال ناکام ہو گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آل اِن پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں، جو چار وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں کا بزنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی شو ہے، ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ سب کچھ تیار تھا اور بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اس ہفتے خبردار کیا کہ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم نہیں کرتا تو ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس دباؤ کے نتیجے میں بھارتی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال طے نہیں ہو سکا۔</p>
<p>ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے مگر رابطے میں خلل کے باعث ممکنہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔</p>
<p>خبر میں شامل بھارتی حکومتی عہدیدار کے مطابق مودی ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یک طرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275061</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 13:24:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091313445813893.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091313445813893.webp"/>
        <media:title>ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، انٹرنیٹ سروس بند، پروازیں منسوخ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275063/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274984"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275050/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پروازیں-منسوخ" href="#پروازیں-منسوخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پروازیں منسوخ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔</p>
<p>28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<h3><a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای</strong></h3>
<p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔</p>
<p>اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274984"><strong>بیان</strong></a> میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔</p>
<p>آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔</p>
<p>ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔</p>
<p>ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275050/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔</p>
<p>حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔</p>
<h3><a id="پروازیں-منسوخ" href="#پروازیں-منسوخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پروازیں منسوخ</h3>
<p>دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔</p>
<p>استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔</p>
<p>اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔</p>
<p>ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275063</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 19:34:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091919041906e92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091919041906e92.webp"/>
        <media:title>امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09152926ad7879b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09152926ad7879b.webp"/>
        <media:title>آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275057/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" href="#جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنوبی ایشیا میں نئے بحران کا خدشہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274024'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" href="#ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی پر عالمی معاملات مزیر خراب&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔</p>
<p>2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔</p>
<p>افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔</p>
<p>رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔</p>
<h3><a id="جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" href="#جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنوبی ایشیا میں نئے بحران کا خدشہ</strong></h3>
<p>جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p>رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274024'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" href="#ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی پر عالمی معاملات مزیر خراب</strong></h3>
<p>صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔</p>
<p>ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔</p>
<p>ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔</p>
<p>یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275057</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:03:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09111454c2c1076.webp" type="image/webp" medium="image" height="384" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09111454c2c1076.webp"/>
        <media:title>2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال، شیڈول جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275049/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پروازوں کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن نے جمعرات کو بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن کی منیجر بشریٰ اسلام نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ ڈھاکا-کراچی روٹ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;amp;set=a.464372322377147&amp;amp;type=3&amp;amp;ref=embed_post'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook3  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;amp;set=a.464372322377147&amp;amp;type=3&amp;amp;ref=embed_post" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے ایک بیان میں کہا کہ ’براہ راست پروازوں کی بحالی سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروباری سفر، سیاحت اور خاندانوں کے درمیان رابطوں میں مدد ملے گی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو فی الحال دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی مراکز کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس استعمال کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274968'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274968"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2024 میں کراچی سے بنگلہ دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے لیے مال بردار بحری جہازوں نے بھی آمد و رفت دوبارہ شروع کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ ملاقات کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات متزلزل رہے۔ تاہم ان کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کی جلاوطنی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں دسمبر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکا گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2025 میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا اور محمد یونس سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پروازوں کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن نے جمعرات کو بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کی جارہی ہیں۔</p>
<p>بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔</p>
<p>ایئرلائن کی منیجر بشریٰ اسلام نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ ڈھاکا-کراچی روٹ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;set=a.464372322377147&amp;type=3&amp;ref=embed_post'>
        <div class='media__item  media__item--facebook3  media__item--relative'><div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;set=a.464372322377147&amp;type=3&amp;ref=embed_post" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure>
<p>بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے ایک بیان میں کہا کہ ’براہ راست پروازوں کی بحالی سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروباری سفر، سیاحت اور خاندانوں کے درمیان رابطوں میں مدد ملے گی۔‘</p>
<p>بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو فی الحال دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی مراکز کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس استعمال کرنی پڑتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274968'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274968"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نومبر 2024 میں کراچی سے بنگلہ دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے لیے مال بردار بحری جہازوں نے بھی آمد و رفت دوبارہ شروع کر دی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ ملاقات کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔</p>
<p>معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات متزلزل رہے۔ تاہم ان کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کی جلاوطنی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔</p>
<p>حال ہی میں دسمبر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکا گئے تھے۔</p>
<p>اگست 2025 میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا اور محمد یونس سے ملاقات کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275049</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 13:27:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08132303dc68da7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08132303dc68da7.webp"/>
        <media:title>بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں احتجاج کا 12 واں روز، مظاہرے کے دوران پولیس افسر جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275050/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے 12ویں روز دارالحکومت تہران میں مظاہرے کے دوران چاقو لگنے سے ایک پولیس افسرجاں بحق ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ’تہران کے مغرب میں واقع ضلع ملارد میں پولیس فورس کے ایک رکن شاہین دہقان مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران چاقو لگنے کے بعد شہید ہو گئے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو اس وقت ہوا جب تہران کے تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریال کی قدر میں کمی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس کے بعد دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274988/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274988"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیانات اور مقامی میڈیا پر مبنی اے ایف پی  کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسلامی جمہوریہ میں 2023-2022 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے 12ویں روز دارالحکومت تہران میں مظاہرے کے دوران چاقو لگنے سے ایک پولیس افسرجاں بحق ہو گیا۔</p>
<p>فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ’تہران کے مغرب میں واقع ضلع ملارد میں پولیس فورس کے ایک رکن شاہین دہقان مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران چاقو لگنے کے بعد شہید ہو گئے‘۔</p>
<p>مقامی میڈیا کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔</p>
<p>ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو اس وقت ہوا جب تہران کے تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریال کی قدر میں کمی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس کے بعد دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274988/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274988"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سرکاری بیانات اور مقامی میڈیا پر مبنی اے ایف پی  کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یہ اسلامی جمہوریہ میں 2023-2022 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275050</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 14:41:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0814291932ff5ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0814291932ff5ed.webp"/>
        <media:title>یہ اسلامی جمہوریہ میں2023 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے سخت لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275051/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ترکی بن بندر بن عبدالعزیز اور چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کی آمد پر انہیں رائل سعودی ایئر فورس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں دفاعی اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے فضائی سربراہان نے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت، آپریشنل اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امر پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو باہمی اعتماد اور پائیدار برادرانہ تعلقات کی واضح توثیق کا عملی نمونہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتے ہوئے اشتراکِ عمل کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دفاعی قیادت نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین قائم قریبی اور دیرینہ روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل رائٹرز نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275046/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا تھا کہ بات چیت جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے اور پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور دیگر آپشنز کے مقابلے میں جے ایف 17 طیارے بنیادی انتخاب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے، جس میں 2 ارب ڈالر کی قرض کی رقم کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بھی شامل ہو گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ترکی بن بندر بن عبدالعزیز اور چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔</p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کی آمد پر انہیں رائل سعودی ایئر فورس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں دفاعی اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں ممالک کے فضائی سربراہان نے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت، آپریشنل اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امر پر زور دیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو باہمی اعتماد اور پائیدار برادرانہ تعلقات کی واضح توثیق کا عملی نمونہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتے ہوئے اشتراکِ عمل کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دفاعی قیادت نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین قائم قریبی اور دیرینہ روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘</p>
<p>بیان کے مطابق سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>ایک روز قبل رائٹرز نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275046/"><strong>رپورٹ</strong></a> کیا تھا کہ بات چیت جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے اور پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور دیگر آپشنز کے مقابلے میں جے ایف 17 طیارے بنیادی انتخاب ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے، جس میں 2 ارب ڈالر کی قرض کی رقم کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بھی شامل ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275051</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 15:25:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08145809af91219.webp" type="image/webp" medium="image" height="555" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08145809af91219.webp"/>
        <media:title>سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں امیگریشن افسر کی فائرنگ سےخاتون ہلاک، بڑے پیمانے پر احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275048/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ریاست مینیسوٹا  کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا اور مقامی رہنماؤں میں غم و غصہ پھیل گیا, جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ خاتون ایک ’ڈومیسٹک (داخلی) دہشت گرد‘ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنہوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ ان کا راستہ روک رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہے جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=NeLcQO2NHBo'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/NeLcQO2NHBo?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد خاتون کی خون آلود لاش حادثے کا شکار گاڑی میں دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فوری طور پر یہ دعویٰ کیا کہ خاتون نے ایجنٹوں کو مارنے کی کوشش کی تھی، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے ’بکواس‘ قرار دیا اور آئی سی ای پر زور دیا کہ وہ ان کے شہر سے باہر نکل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے بعد منیاپولس کی یخ بستہ سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین نکل آئے، جنہوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ”ICE out of MPLS“ (آئی سی ای منیاپولس سے باہر نکلو)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی حکام کے اعتراضات کے باوجود آئی سی ای کے وفاقی ایجنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے گزشتہ موسم گرما میں موجودہ 6 ہزار کے دستے میں10 ہزار اضافی آئی سی ای ایجنٹوں کو شامل کرنے کے لیے ایک جارحانہ بھرتی مہم شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے یہ تنقید ہوئی کہ فیلڈ میں آنے والے نئے افسران ناکافی طور پر تربیت یافتہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے کہا کہ ’کسی بھی جان کا ضیاع ایک المیہ ہے‘ لیکن انہوں نے اس واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا اور کہا کہ  رینی نکول گڈ ’پورے دن آئی سی ای کا پیچھا کر رہی تھی اور ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی تھی‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’پھر اس نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی جو آئی سی ای کو چلاتا ہے، نے ایکس پر کہا کہ متاثرہ خاتون نے اس کے افسر کو کچلنے کی کوشش کی تھی جس نے ’دفاعی فائر‘ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خوفناک-منظر" href="#خوفناک-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خوفناک منظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے پر وفاقی حکومت کے ردعمل کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیا اوریقین دلایا کہ ان کی ریاست ’مکمل، منصفانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنائے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہد برینڈن ہیوٹ نے ’تین فائر‘ سنے۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’مجھے ان کی ایمبولینس تک لاش لے جانے کی بہت سی ویڈیوز ملیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور عینی شاہد نے ایک خوفناک منظر بیان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہد نے بتایا کہ ’زندہ بچ جانے والا مسافر خون میں لت پت گاڑی سے باہر نکلا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھنے کا ذکر کیا جس نے اپنی شناخت بطور ڈاکٹر کرائی اور خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن افسروں نے اسے رسائی دینے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" href="#آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آئی سی ای کے خلاف احتجاج&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیوں کے خلاف پرجوش احتجاج ہو رہا ہے، جس نے لاکھوں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کا عہد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس تشدد کو ’ہمارے افسروں پر مسلسل حملوں اور انہیں شیطان بنا کر پیش کرنے کا براہ راست نتیجہ‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹی نوم نے کہا کہ جس افسر نے فائرنگ کی، جسے واقعے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا، اسے جون میں آئی سی ای مخالف ایک مظاہرین نے سڑک پر ٹکر ماری تھی اور گھسیٹا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ کی والدہ ڈونا گینگر نے ’مینیسوٹا اسٹار ٹریبیون‘ اخبار کو بتایا کہ ان کی بیٹی ’شاید خوفزدہ ہو گئی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونا گینگر نے مزید کہا کہ رینی نکول گڈ آئی سی ای افسروں کو چیلنج کرنے جیسی ’کسی بھی چیز کا حصہ نہیں تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی ای  جس پر ناقدین ٹرمپ کے دور میں نیم فوجی دستے میں تبدیل ہونے کا الزام لگاتے ہیں کو غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کو ملک بدر کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے بتایا کہ امیگریشن چھاپوں کے لیے تقریباً 2 ہزار افسران منیاپولس میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں شکاگو میں ایک امریکی امیگریشن انفورسمنٹ افسر نے ایک غیرقانونی تارکینِ وطن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وفاقی حکام نے الزام لگایا تھا کہ اس شخص نے اپنی کار افسر پر چڑھا کر حراست میں لیے جانے کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ریاست مینیسوٹا  کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا اور مقامی رہنماؤں میں غم و غصہ پھیل گیا, جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ خاتون ایک ’ڈومیسٹک (داخلی) دہشت گرد‘ تھیں۔</p>
<p>مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنہوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ ان کا راستہ روک رہی تھیں۔</p>
<p>واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہے جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=NeLcQO2NHBo'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/NeLcQO2NHBo?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے بعد خاتون کی خون آلود لاش حادثے کا شکار گاڑی میں دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فوری طور پر یہ دعویٰ کیا کہ خاتون نے ایجنٹوں کو مارنے کی کوشش کی تھی، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے ’بکواس‘ قرار دیا اور آئی سی ای پر زور دیا کہ وہ ان کے شہر سے باہر نکل جائے۔</p>
<p>فائرنگ کے بعد منیاپولس کی یخ بستہ سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین نکل آئے، جنہوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ”ICE out of MPLS“ (آئی سی ای منیاپولس سے باہر نکلو)۔</p>
<p>مقامی حکام کے اعتراضات کے باوجود آئی سی ای کے وفاقی ایجنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے گزشتہ موسم گرما میں موجودہ 6 ہزار کے دستے میں10 ہزار اضافی آئی سی ای ایجنٹوں کو شامل کرنے کے لیے ایک جارحانہ بھرتی مہم شروع کی تھی۔</p>
<p>اس سے یہ تنقید ہوئی کہ فیلڈ میں آنے والے نئے افسران ناکافی طور پر تربیت یافتہ تھے۔</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے کہا کہ ’کسی بھی جان کا ضیاع ایک المیہ ہے‘ لیکن انہوں نے اس واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا اور کہا کہ  رینی نکول گڈ ’پورے دن آئی سی ای کا پیچھا کر رہی تھی اور ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی تھی‘۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’پھر اس نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔‘</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی جو آئی سی ای کو چلاتا ہے، نے ایکس پر کہا کہ متاثرہ خاتون نے اس کے افسر کو کچلنے کی کوشش کی تھی جس نے ’دفاعی فائر‘ کیا۔</p>
<h3><a id="خوفناک-منظر" href="#خوفناک-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خوفناک منظر</h3>
<p>مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے پر وفاقی حکومت کے ردعمل کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیا اوریقین دلایا کہ ان کی ریاست ’مکمل، منصفانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنائے گی‘۔</p>
<p>عینی شاہد برینڈن ہیوٹ نے ’تین فائر‘ سنے۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’مجھے ان کی ایمبولینس تک لاش لے جانے کی بہت سی ویڈیوز ملیں۔‘</p>
<p>ایک اور عینی شاہد نے ایک خوفناک منظر بیان کیا۔</p>
<p>عینی شاہد نے بتایا کہ ’زندہ بچ جانے والا مسافر خون میں لت پت گاڑی سے باہر نکلا۔‘</p>
<p>انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھنے کا ذکر کیا جس نے اپنی شناخت بطور ڈاکٹر کرائی اور خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن افسروں نے اسے رسائی دینے سے انکار کر دیا۔</p>
<h3><a id="آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" href="#آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آئی سی ای کے خلاف احتجاج</h3>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیوں کے خلاف پرجوش احتجاج ہو رہا ہے، جس نے لاکھوں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کا عہد کیا ہے۔</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس تشدد کو ’ہمارے افسروں پر مسلسل حملوں اور انہیں شیطان بنا کر پیش کرنے کا براہ راست نتیجہ‘ قرار دیا۔</p>
<p>کرسٹی نوم نے کہا کہ جس افسر نے فائرنگ کی، جسے واقعے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا، اسے جون میں آئی سی ای مخالف ایک مظاہرین نے سڑک پر ٹکر ماری تھی اور گھسیٹا تھا۔</p>
<p>مقتولہ کی والدہ ڈونا گینگر نے ’مینیسوٹا اسٹار ٹریبیون‘ اخبار کو بتایا کہ ان کی بیٹی ’شاید خوفزدہ ہو گئی تھی‘۔</p>
<p>ڈونا گینگر نے مزید کہا کہ رینی نکول گڈ آئی سی ای افسروں کو چیلنج کرنے جیسی ’کسی بھی چیز کا حصہ نہیں تھی‘۔</p>
<p>آئی سی ای  جس پر ناقدین ٹرمپ کے دور میں نیم فوجی دستے میں تبدیل ہونے کا الزام لگاتے ہیں کو غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کو ملک بدر کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے بتایا کہ امیگریشن چھاپوں کے لیے تقریباً 2 ہزار افسران منیاپولس میں موجود تھے۔</p>
<p>ستمبر میں شکاگو میں ایک امریکی امیگریشن انفورسمنٹ افسر نے ایک غیرقانونی تارکینِ وطن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وفاقی حکام نے الزام لگایا تھا کہ اس شخص نے اپنی کار افسر پر چڑھا کر حراست میں لیے جانے کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275048</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 13:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکخبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08131050aea4090.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08131050aea4090.webp"/>
        <media:title>مقامی حکام کے اعتراضات کے باوجود آئی سی ای کے وفاقی ایجنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا امریکا کو 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275036/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے اس مطالبے پر ردعمل دے رہی ہے جس کے تحت امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی دی جائے، بصورت دیگر مزید فوجی مداخلت کا خطرہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے پاس اس وقت لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ ٹینکوں میں موجود ہے، جسے دسمبر کے وسط سے عائد امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں کیا جا سکا۔ یہ پابندیاں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر بڑھتے امریکی دباؤ کا حصہ تھیں، جو اس ہفتے امریکی افواج کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے کی کارروائی اور مادورو کو حراست میں لیے جانے پر منتج ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے اعلیٰ حکام امریکا پر ملک کے وسیع تیل ذخائر چرانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وینزویلا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک پابندیوں کے تحت موجود تیل امریکا کے حوالے کرے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کو یقینی بنانے کے لیے ان کے کنٹرول میں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو سونپی گئی ہے اور تیل جہازوں سے نکال کر براہِ راست امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر اس خام تیل کو امریکا بھیجنے کے لیے چین جانے والے بعض کارگو کی ازسرنو تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاص طور پر 2020 میں وینزویلا کے تیل سے وابستہ کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد، چین وینزویلا کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ عمل جلد ہو تاکہ وہ اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حکام اور ریاستی تیل کمپنی پیٹرولیو ڈی وینزویلا (پی ڈی وی ایس اے) نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" href="#وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’وینزویلا کے پاس معاشی بحالی کا موقع‘&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے کہا کہ وینزویلا کے بھاری خام تیل کی امریکا کو بڑھتی ہوئی فراہمی امریکا میں روزگار کے تحفظ، مستقبل میں پیٹرول کی قیمتوں اور خود وینزویلا کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے پاس اب موقع ہے کہ سرمایہ آئے، معیشت کی بحالی ہو اور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کو بدلا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی خلیجی ساحلی پٹی پر واقع ریفائنریز وینزویلا کے بھاری خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکا نے پہلی بار توانائی پابندیاں لگانے سے قبل روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل درآمد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کے باعث پی ڈی وی ایس اے کو پہلے ہی پیداوار کم کرنا پڑی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، اور اگر جلد برآمدات کا راستہ نہ کھلا تو مزید پیداوار میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو تیل کے تاجروں نے ان مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیا اور امریکا کی خلیجی منڈی میں بعض بھاری خام تیل کی اقسام کے نرخوں میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی، کیونکہ وینزویلا سے اضافی سپلائی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے اس مطالبے پر ردعمل دے رہی ہے جس کے تحت امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی دی جائے، بصورت دیگر مزید فوجی مداخلت کا خطرہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔</p>
<p>وینزویلا کے پاس اس وقت لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ ٹینکوں میں موجود ہے، جسے دسمبر کے وسط سے عائد امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں کیا جا سکا۔ یہ پابندیاں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر بڑھتے امریکی دباؤ کا حصہ تھیں، جو اس ہفتے امریکی افواج کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے کی کارروائی اور مادورو کو حراست میں لیے جانے پر منتج ہوئیں۔</p>
<p>وینزویلا کے اعلیٰ حکام امریکا پر ملک کے وسیع تیل ذخائر چرانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وینزویلا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک پابندیوں کے تحت موجود تیل امریکا کے حوالے کرے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کو یقینی بنانے کے لیے ان کے کنٹرول میں رہے گی۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو سونپی گئی ہے اور تیل جہازوں سے نکال کر براہِ راست امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر اس خام تیل کو امریکا بھیجنے کے لیے چین جانے والے بعض کارگو کی ازسرنو تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاص طور پر 2020 میں وینزویلا کے تیل سے وابستہ کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد، چین وینزویلا کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔</p>
<p>تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ عمل جلد ہو تاکہ وہ اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے سکیں۔</p>
<p>دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حکام اور ریاستی تیل کمپنی پیٹرولیو ڈی وینزویلا (پی ڈی وی ایس اے) نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<h3><a id="وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" href="#وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’وینزویلا کے پاس معاشی بحالی کا موقع‘</strong></h3>
<p>امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے کہا کہ وینزویلا کے بھاری خام تیل کی امریکا کو بڑھتی ہوئی فراہمی امریکا میں روزگار کے تحفظ، مستقبل میں پیٹرول کی قیمتوں اور خود وینزویلا کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے پاس اب موقع ہے کہ سرمایہ آئے، معیشت کی بحالی ہو اور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کو بدلا جا سکتا ہے۔</p>
<p>امریکا کی خلیجی ساحلی پٹی پر واقع ریفائنریز وینزویلا کے بھاری خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکا نے پہلی بار توانائی پابندیاں لگانے سے قبل روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل درآمد کیا تھا۔</p>
<p>پابندیوں کے باعث پی ڈی وی ایس اے کو پہلے ہی پیداوار کم کرنا پڑی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، اور اگر جلد برآمدات کا راستہ نہ کھلا تو مزید پیداوار میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>منگل کو تیل کے تاجروں نے ان مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیا اور امریکا کی خلیجی منڈی میں بعض بھاری خام تیل کی اقسام کے نرخوں میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی، کیونکہ وینزویلا سے اضافی سپلائی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275036</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 13:32:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07130858977b3f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07130858977b3f2.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے سعودی قرضے کو جے ایف 17 طیاروں کی ڈیل میں تبدیل کرنے پر مذاکرات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275046/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہیں جب شدید مالی دباؤ ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی وعدوں کے بارے میں بے یقینی  کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے اہداف پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوئے تھے، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے بنیادی آپشن تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269450'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ کل سودا 4 ارب ڈالر کا تھا، جس میں قرض کی تبدیلی کے علاوہ سازوسامان پر اضافی 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ فوجی معاملات سے قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس سودے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں تھے، جس میں ’دونوں فریقوں کے درمیان فوجی تعاون‘ پر بات چیت شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-میں-آزمودہ" href="#جنگ-میں-آزمودہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جنگ میں آزمودہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، لیکن وہ مذاکرات کی کسی تفصیل کی تصدیق نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمایا ہوا ہے اور لڑائی میں استعمال ہو چکا ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258755'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فوج یا وزارت خزانہ اور دفاع نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا جبکہ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے بھی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے نے دونوں فریقوں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کریں گے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان طویل عرصے سے سعودی مملکت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، بشمول تربیت اور مشاورتی تعیناتی جبکہ سعودی عرب نے معاشی دباؤ کے دوران بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 2018 میں، ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروانا اور موخر ادائیگی پر 3 ارب ڈالر کا تیل شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اس کے بعد سے متعدد بار رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس میں پچھلے سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" href="#اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسلحے کی فروخت میں تیزی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی رسائی میں تیزی لایا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانا اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو نفع بخش بنانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا سودا کیا، حکام نے بتایا کہ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ فروخت میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم کو وسعت دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274745'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274745"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہتھیاروں کی صنعت کی کامیابی ملک کے معاشی منظر نامے کو بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے طیاروں کا تجربہ کیا جا چکا ہے، اور ہمیں اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ شاید چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ضرورت نہ رہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو اس کا 24 واں پروگرام ہے، اس سے پہلے ایک مختصر مدت کے 3 ارب ڈالر کے معاہدے نے پاکستان کو 2023 میں ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد کی تھی۔ اس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی جانب سے مالی امداد اور ڈپازٹ رول اوور فراہم کرنے کے بعد فنڈ کی مدد حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہیں جب شدید مالی دباؤ ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی وعدوں کے بارے میں بے یقینی  کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے اہداف پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوئے تھے، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے بنیادی آپشن تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269450'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع نے بتایا کہ کل سودا 4 ارب ڈالر کا تھا، جس میں قرض کی تبدیلی کے علاوہ سازوسامان پر اضافی 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ فوجی معاملات سے قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس سودے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔</p>
<p>سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں تھے، جس میں ’دونوں فریقوں کے درمیان فوجی تعاون‘ پر بات چیت شامل تھی۔</p>
<h3><a id="جنگ-میں-آزمودہ" href="#جنگ-میں-آزمودہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جنگ میں آزمودہ</h3>
<p>ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، لیکن وہ مذاکرات کی کسی تفصیل کی تصدیق نہیں کر سکے۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمایا ہوا ہے اور لڑائی میں استعمال ہو چکا ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258755'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فوج یا وزارت خزانہ اور دفاع نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا جبکہ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے بھی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ستمبر میں دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے نے دونوں فریقوں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کریں گے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔</p>
<p>پاکستان طویل عرصے سے سعودی مملکت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، بشمول تربیت اور مشاورتی تعیناتی جبکہ سعودی عرب نے معاشی دباؤ کے دوران بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 2018 میں، ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروانا اور موخر ادائیگی پر 3 ارب ڈالر کا تیل شامل تھا۔</p>
<p>سعودی عرب اس کے بعد سے متعدد بار رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس میں پچھلے سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔</p>
<h3><a id="اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" href="#اسلحے-کی-فروخت-میں-تیزی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسلحے کی فروخت میں تیزی</h3>
<p>پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی رسائی میں تیزی لایا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانا اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو نفع بخش بنانا چاہتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا سودا کیا، حکام نے بتایا کہ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ فروخت میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم کو وسعت دے رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274745'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274745"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>منگل کو وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہتھیاروں کی صنعت کی کامیابی ملک کے معاشی منظر نامے کو بدل سکتی ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے طیاروں کا تجربہ کیا جا چکا ہے، اور ہمیں اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ شاید چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ضرورت نہ رہے۔‘</p>
<p>پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو اس کا 24 واں پروگرام ہے، اس سے پہلے ایک مختصر مدت کے 3 ارب ڈالر کے معاہدے نے پاکستان کو 2023 میں ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد کی تھی۔ اس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی جانب سے مالی امداد اور ڈپازٹ رول اوور فراہم کرنے کے بعد فنڈ کی مدد حاصل کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275046</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 12:22:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/081216424e3a80e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/081216424e3a80e.webp"/>
        <media:title>ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔فوٹو: آئی ایس پ آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ ہے‘ پاکستان کا وینزویلا کی صورتحال پر اظہارِ شدید تشویش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275024/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیویارک: پاکستان نے وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں دیا گیا جو وینزویلا کی تازہ صورتحال پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ یہ سلامتی کونسل کا رواں سال کا پہلا اجلاس بھی تھا، جس کی صدارت اس وقت صومالیہ کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا میں اچانک فوجی کارروائی کی، جس کے دوران خصوصی دستوں نے رات کو چھاپے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، خطے میں عدم استحکام علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275004/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ریاستوں کو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہنے، خودمختار مساوات، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کا پابند بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی استثنا کے نظریے کے بھی منافی ہے اور ایسی کارروائیاں خطرناک مثالیں قائم کرتی ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات انتشار اور افراتفری کو ہوا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے، اور سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے وینزویلا کے عوام کی مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ لاطینی امریکا اور کیریبین جنہیں امن کا خطہ تسلیم کیا جاتا ہے، تنازع اور محاذ آرائی سے پاک رہیں گے اور علاقائی تعاون اور خوشحالی کی جانب بڑھتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275001/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275001"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کریں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہوں اور خلوص نیت سے پیش کی جانے والی ثالثی سمیت مکالمے کے ذریعے حل کی جانب بڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے، کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دینے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل میں پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں امن و استحکام اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود، مکمل قومی ملکیت کے ساتھ، تمام کوششوں کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیویارک: پاکستان نے وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔</p>
<p>یہ بیان پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں دیا گیا جو وینزویلا کی تازہ صورتحال پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ یہ سلامتی کونسل کا رواں سال کا پہلا اجلاس بھی تھا، جس کی صدارت اس وقت صومالیہ کے پاس ہے۔</p>
<p>امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا میں اچانک فوجی کارروائی کی، جس کے دوران خصوصی دستوں نے رات کو چھاپے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، خطے میں عدم استحکام علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275004/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ریاستوں کو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہنے، خودمختار مساوات، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کا پابند بناتا ہے۔</p>
<p>سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی استثنا کے نظریے کے بھی منافی ہے اور ایسی کارروائیاں خطرناک مثالیں قائم کرتی ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات انتشار اور افراتفری کو ہوا دیتے ہیں۔</p>
<p>کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے، اور سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے وینزویلا کے عوام کی مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہیں۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ لاطینی امریکا اور کیریبین جنہیں امن کا خطہ تسلیم کیا جاتا ہے، تنازع اور محاذ آرائی سے پاک رہیں گے اور علاقائی تعاون اور خوشحالی کی جانب بڑھتے رہیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275001/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275001"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کریں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہوں اور خلوص نیت سے پیش کی جانے والی ثالثی سمیت مکالمے کے ذریعے حل کی جانب بڑھیں۔</p>
<p>اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے، کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دینے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل میں پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں امن و استحکام اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود، مکمل قومی ملکیت کے ساتھ، تمام کوششوں کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275024</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 12:15:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/061207559d0c8c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/061207559d0c8c8.webp"/>
        <media:title>عثمان جدون نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، جو تاریخ کے مطابق برسوں تک غیر متوقع اور قابو سے باہر نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ فوٹو: اقوام متحدہ ایکس اکاؤنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آذربائیجان کا غزہ کیلئےعالمی امن فوج میں شامل نہ ہونے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275031/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر بشمول غزہ کسی بھی امن مشن میں فوجی دستہ بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آذربائیجانی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر علیوف نے بتایا کہ آذربائیجان نے غزہ میں مجوزہ امن فورس یعنی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے حوالے سے سوالات کی ایک فہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بھجوائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم نے 20 سے زائد سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے امریکی حکام کو دیا، تاہم امن فورس میں شرکت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، میں آذربائیجان سے باہر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی میں شرکت پر غور نہیں کر رہا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ نومبر میں آذربائیجان کی حکومت کے ذرائع نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، آذربائیجان ایسی کسی کارروائی کے لیے فوج فراہم نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غزہ کے امن عمل سے وابستہ سفارت کاروں نے ڈان کو بتایا کہ شدید تحفظات اور اندرونی ردعمل کے خدشات کے باوجود غزہ سے متعلق معاملات میں شامل بیشتر مسلم اکثریتی ممالک چاہتے ہیں کہ مجوزہ آئی ایس ایف کامیاب ہو کیونکہ ان کے نزدیک صرف یہی فورس محصور علاقے میں فلسطینیوں کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مسلم ملک کے سفارت کار نے کہا کہ اسرائیل اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد کو قتل کر چکا ہے اور صرف واضح اختیارات کی حامل ایک بین الاقوامی فورس ہی اس نسل کشی کو روک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سفارت کار نے اعتراف کیا کہ آئی ایس ایف میں شمولیت شریک ممالک کو نہایت مشکل صورتحال میں ڈال دے گی تاہم ان کے بقول متبادل اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس فورس میں شامل ہونے سے ہم پر شدید دباؤ آئے گا لیکن اس کا متبادل غزہ میں مسلسل خونریزی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر بشمول غزہ کسی بھی امن مشن میں فوجی دستہ بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔</p>
<p>آذربائیجانی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر علیوف نے بتایا کہ آذربائیجان نے غزہ میں مجوزہ امن فورس یعنی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے حوالے سے سوالات کی ایک فہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بھجوائی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم نے 20 سے زائد سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے امریکی حکام کو دیا، تاہم امن فورس میں شرکت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، میں آذربائیجان سے باہر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی میں شرکت پر غور نہیں کر رہا‘۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ نومبر میں آذربائیجان کی حکومت کے ذرائع نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، آذربائیجان ایسی کسی کارروائی کے لیے فوج فراہم نہیں کرے گا۔</p>
<p>دوسری جانب غزہ کے امن عمل سے وابستہ سفارت کاروں نے ڈان کو بتایا کہ شدید تحفظات اور اندرونی ردعمل کے خدشات کے باوجود غزہ سے متعلق معاملات میں شامل بیشتر مسلم اکثریتی ممالک چاہتے ہیں کہ مجوزہ آئی ایس ایف کامیاب ہو کیونکہ ان کے نزدیک صرف یہی فورس محصور علاقے میں فلسطینیوں کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنا سکتی ہے۔</p>
<p>ایک مسلم ملک کے سفارت کار نے کہا کہ اسرائیل اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد کو قتل کر چکا ہے اور صرف واضح اختیارات کی حامل ایک بین الاقوامی فورس ہی اس نسل کشی کو روک سکتی ہے۔</p>
<p>ایک اور سفارت کار نے اعتراف کیا کہ آئی ایس ایف میں شمولیت شریک ممالک کو نہایت مشکل صورتحال میں ڈال دے گی تاہم ان کے بقول متبادل اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس فورس میں شامل ہونے سے ہم پر شدید دباؤ آئے گا لیکن اس کا متبادل غزہ میں مسلسل خونریزی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275031</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 18:33:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06182328b1de305.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06182328b1de305.webp"/>
        <media:title>لییف نے پیر کی شب کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر، بشمول غزہ، کسی بھی امن مشن میں فوجی دستہ بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچاڈو کا وطن واپسی کا اعلان، عبوری صدر کو مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275026/</link>
      <description>&lt;p&gt;وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بیان کے بعد یہ ان کا یہ پہلا عوامی سطح پر ردعمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو نے ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلسی روڈریگز جو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں، مادورو کے دور میں وینزویلا کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو کا کہنا تھا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" href="#اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’اکتوبر 2025 کے بعد ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آخری بار بات اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو کو یہ انعام اس جدوجہد پر دیا گیا جسے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" href="#سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، اس کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہی جائزہ اس فیصلے کی ایک وجہ بنا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہوں اور وینزویلا کو اس کے عوام کے لیے ایک بہتر ملک بنانے میں مدد دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بیان کے بعد یہ ان کا یہ پہلا عوامی سطح پر ردعمل ہے۔</p>
<p>نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آئیں گی۔</p>
<p>ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔</p>
<p>ماچاڈو نے ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔</p>
<p>ڈیلسی روڈریگز جو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں، مادورو کے دور میں وینزویلا کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماچاڈو کا کہنا تھا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں۔</p>
<p>ماچاڈو نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔</p>
<h2><a id="اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" href="#اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’اکتوبر 2025 کے بعد ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں‘</h2>
<p>انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آخری بار بات اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>
<p>ماچاڈو کو یہ انعام اس جدوجہد پر دیا گیا جسے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔</p>
<p>تاہم یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔</p>
<h2><a id="سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" href="#سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ</h2>
<p>دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، اس کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہی جائزہ اس فیصلے کی ایک وجہ بنا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہوں اور وینزویلا کو اس کے عوام کے لیے ایک بہتر ملک بنانے میں مدد دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275026</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 12:39:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06123140c18cb4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06123140c18cb4c.webp"/>
        <media:title>ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئیں تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا، اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی چیف جسٹس کا ’فسادیوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275025/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بےامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  غلام حسین محسنی ایژئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274984/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسنی ایژئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عارضی طور پر کاروبار بند کر دیا، ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے عوام کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جائز ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بےامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  غلام حسین محسنی ایژئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274984/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔</p>
<p>محسنی ایژئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عارضی طور پر کاروبار بند کر دیا، ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>ایرانی حکام نے عوام کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جائز ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275025</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 12:27:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/061219488b0ae58.webp" type="image/webp" medium="image" height="560" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/061219488b0ae58.webp"/>
        <media:title>غلام حسین محسنی کا کہنا تھا کہ اب کوئی بھی فسادی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ دھوکے میں آ گیا تھا۔ فوٹو: پریس ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور چین کا افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ’واضح اور قابل تصدیق‘ اقدامات کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275019/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور ٹھوس اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو چین اور پاکستان کا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے چار جنوری کو بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں کیونکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد افغان طالبان حکومت پر ان حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے جن کی کابل بارہا تردید کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جائے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ تعاون کے حوالے سے چین اور پاکستان نے کہا کہ انہوں نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے آپریشن کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور ٹھوس اقدامات کرے۔</p>
<p>پیر کو چین اور پاکستان کا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے چار جنوری کو بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں کیونکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد افغان طالبان حکومت پر ان حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے جن کی کابل بارہا تردید کرتا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جائے۔‘</p>
<p>مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔</p>
<p>دوطرفہ تعاون کے حوالے سے چین اور پاکستان نے کہا کہ انہوں نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے آپریشن کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275019</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 14:59:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05145014359ff71.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05145014359ff71.webp"/>
        <media:title>دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔ فوٹو: دفتر خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275015/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پورے نہ کیے تو امریکا بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نریندر مودی اچھے آدمی ہیں، انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت تجارت کرتا ہے اور ہم ان پر بہت تیزی سے ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے گزشتہ برس روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری پر بھارت کو سزا کے طور پر بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا۔ تاہم بھاری ٹیرف کے باوجود نومبر میں امریکا کو بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر تجارتی اعداد و شمار کے بعد بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیے رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں محدود لچک کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بھارت نے ریفائنریوں سے روسی اور امریکی تیل کی ہفتہ وار خریداری کی تفصیلات طلب کی ہیں اور امکان ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کی کوششوں کے تحت روسی خام تیل کی درآمدات کم ہو کر یومیہ 10 لاکھ بیرل سے نیچے آ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھارتی سیکریٹری تجارت راجیش اگروال نے امریکی نائب تجارتی نمائندے رک سوئٹزر سے دو طرفہ تجارت اور معاشی تعلقات پر بات چیت کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پورے نہ کیے تو امریکا بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نریندر مودی اچھے آدمی ہیں، انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت تجارت کرتا ہے اور ہم ان پر بہت تیزی سے ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ بیان بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکا نے گزشتہ برس روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری پر بھارت کو سزا کے طور پر بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا۔ تاہم بھاری ٹیرف کے باوجود نومبر میں امریکا کو بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>بہتر تجارتی اعداد و شمار کے بعد بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیے رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں محدود لچک کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بھارت نے ریفائنریوں سے روسی اور امریکی تیل کی ہفتہ وار خریداری کی تفصیلات طلب کی ہیں اور امکان ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کی کوششوں کے تحت روسی خام تیل کی درآمدات کم ہو کر یومیہ 10 لاکھ بیرل سے نیچے آ جائیں گی۔</p>
<p>ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھارتی سیکریٹری تجارت راجیش اگروال نے امریکی نائب تجارتی نمائندے رک سوئٹزر سے دو طرفہ تجارت اور معاشی تعلقات پر بات چیت کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275015</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:10:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05131123caffb79.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05131123caffb79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05130518e50f4d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05130518e50f4d5.webp"/>
        <media:title>ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا پر دوبارہ حملے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275012/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وینزویلا میں موجود قیادت نےتعاون نہ کیا تو تو امریکا وہاں دوسری فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن ملک کو اپنے کنٹرول میں لے کر بعد میں انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات سے لاطینی امریکا میں مزید امریکی فوجی مداخلت کے امکانات سامنے آئے، جبکہ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو امریکا کو منشیات کی اسمگلنگ کم کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کولمبیا مجھے اچھا لگتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا کا قریبی اتحادی کیوبا خود ہی گرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے اور اس کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا پر امریکا ہی قابض ہے، تاہم کاراکاس میں نئی قیادت سے بھی رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہ پوچھیں کہ وہاں کون انچارج ہے کیونکہ جواب متنازع ہوگا، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انچارج ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں انتخابات بعد میں ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا ملک کو چلائے گا، اسے ٹھیک کرے گا اور مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ٹوٹا ہوا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی گفتگو میں ٹرمپ نے دیگر امریکی مخالفین پر بھی سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کولمبیا کا رہنما زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام کیوبا گرنے کے قریب ہے اور اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہاں کی قیادت کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی حصے کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے اہداف پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع خام تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور منشیات کے الزامات پر پیر کے روز عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری نے تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک کے مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو حکومت کے اعلیٰ حکام اب بھی اقتدار میں ہیں اور انہوں نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;63 سالہ مادورو کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہتھکڑیوں میں جکڑی گئی تصاویر نے وینزویلا کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا، یہ کارروائی 37 برس قبل پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکا میں امریکا کی سب سے متنازع مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وینزویلا میں موجود قیادت نےتعاون نہ کیا تو تو امریکا وہاں دوسری فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن ملک کو اپنے کنٹرول میں لے کر بعد میں انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات سے لاطینی امریکا میں مزید امریکی فوجی مداخلت کے امکانات سامنے آئے، جبکہ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو امریکا کو منشیات کی اسمگلنگ کم کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کولمبیا مجھے اچھا لگتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا کا قریبی اتحادی کیوبا خود ہی گرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے اور اس کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا پر امریکا ہی قابض ہے، تاہم کاراکاس میں نئی قیادت سے بھی رابطے میں ہے۔</p>
<p>دوسری طرف وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات چاہتی ہیں۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہ پوچھیں کہ وہاں کون انچارج ہے کیونکہ جواب متنازع ہوگا، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انچارج ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔</p>
<p>امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں انتخابات بعد میں ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا ملک کو چلائے گا، اسے ٹھیک کرے گا اور مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ٹوٹا ہوا ملک ہے۔</p>
<p>اسی گفتگو میں ٹرمپ نے دیگر امریکی مخالفین پر بھی سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کولمبیا کا رہنما زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام کیوبا گرنے کے قریب ہے اور اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہاں کی قیادت کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی حصے کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے اہداف پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع خام تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی شامل ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور منشیات کے الزامات پر پیر کے روز عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری نے تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک کے مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>مادورو حکومت کے اعلیٰ حکام اب بھی اقتدار میں ہیں اور انہوں نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔</p>
<p>63 سالہ مادورو کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہتھکڑیوں میں جکڑی گئی تصاویر نے وینزویلا کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا، یہ کارروائی 37 برس قبل پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکا میں امریکا کی سب سے متنازع مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275012</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 11:38:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/051136564035a91.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/051136564035a91.webp"/>
        <media:title>جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: دن کے اوقات میں آن لائن اور ٹی وی پر جنک فوڈ کے اشتہارات دکھانے پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275017/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ میں دن کے اوقات میں  ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی، حکومت نے اسے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں اپنی نوعیت کا نمایاں اقدام قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر لاگو ہوگی، جس کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں 20 ہزار تک کمی آئے گی اور صحت کے شعبے میں تقریباً دو ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ اقدام میں مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتہارات بچوں کی خوراک کے انتخاب اور کھانے کے اوقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے کم عمری میں ذوق بنتا ہے اور موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ میں دن کے اوقات میں  ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی، حکومت نے اسے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں اپنی نوعیت کا نمایاں اقدام قرار دیا ہے۔</p>
<p>اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔</p>
<p>یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر لاگو ہوگی، جس کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں 20 ہزار تک کمی آئے گی اور صحت کے شعبے میں تقریباً دو ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوں گے۔</p>
<p>یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔</p>
<p>تازہ اقدام میں مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتہارات بچوں کی خوراک کے انتخاب اور کھانے کے اوقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے کم عمری میں ذوق بنتا ہے اور موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔</p>
<p>وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p>اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275017</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:52:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0513403769af5f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0513403769af5f1.webp"/>
        <media:title>ہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچز کیلئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275010/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں نہیں کھیلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش کے کرکٹر مستفیض الرحمان کو ان کی انڈین پریمیئر لیگ ٹیم نے نکال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اتوار کو جاری بیان نے کہا کہ اُس نے باضابطہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپنی ٹیم کے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی سی بی کے بیان کے مطابق ’بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے انڈیا نہیں جائے گی۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275006/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275006"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی ’سکیورٹی کے بڑھتے خدشات‘ کے باعث کیا گیا اور اس میں حکومت کی سفارش بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے فارغ کر دیا اور اس کی وجہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی سفارش کو قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور اسپورٹس کے مشیر آصف نذرل نے کہا تھا کہ غلامی کے دن گزر گئے، کسی بھی قسم کے حالات میں بنگلہ دیش کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی کسی طرح کی توہین قبول نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی معاہدے کے باوجود بھارت میں نہیں کھیل سکتا وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہوگا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں نہیں کھیلے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش کے کرکٹر مستفیض الرحمان کو ان کی انڈین پریمیئر لیگ ٹیم نے نکال دیا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اتوار کو جاری بیان نے کہا کہ اُس نے باضابطہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپنی ٹیم کے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔</p>
<p>بی سی بی کے بیان کے مطابق ’بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے انڈیا نہیں جائے گی۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275006/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275006"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی ’سکیورٹی کے بڑھتے خدشات‘ کے باعث کیا گیا اور اس میں حکومت کی سفارش بھی شامل تھی۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے فارغ کر دیا اور اس کی وجہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی سفارش کو قرار دیا تھا۔</p>
<p>قبل ازیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور اسپورٹس کے مشیر آصف نذرل نے کہا تھا کہ غلامی کے دن گزر گئے، کسی بھی قسم کے حالات میں بنگلہ دیش کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی کسی طرح کی توہین قبول نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی معاہدے کے باوجود بھارت میں نہیں کھیل سکتا وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی۔</p>
<p>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہوگا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275010</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 19:21:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0419175051605c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0419175051605c2.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کے صدر نکولس مادورو گرفتاری کے بعد نیویارک منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275004/</link>
      <description>&lt;p&gt;وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اتوار کے روز نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی رہنما کو گرفتار کرنے اور ملک اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی کارروائی کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کی صبح ہونے والی اس ڈرامائی کارروائی کے دوران کاراکاس کے بعض حصوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اسپیشل فورسز نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحل کے قریب امریکی بحری جہاز تک منتقل کیا، جہاں سے انہیں امریکا لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ پر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اس وقت تک ملک چلائیں گے جب تک محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہینوں سے ٹرمپ انتظامیہ مادورو پر امریکا کو منشیات کی ترسیل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ اس نے کیریبین میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اور مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر مہلک میزائل حملوں کے ذریعے دباؤ میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="نیویارک-میں-مادورو" href="#نیویارک-میں-مادورو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیویارک میں مادورو&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;مادورو کو لے کر آنے والا طیارہ ہفتے کی رات نیویارک سٹی کے قریب اترا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر پہنچایا گیا اور سخت سیکیورٹی میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جاری کردہ تصاویر میں مادورو کو پرواز کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی لگائے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں انہیں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ایک راہداری سے گزرتے دکھایا گیا، جہاں انہیں نئے سال کی مبارک باد دی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نارکو دہشت گردی کی سازش سمیت مختلف وفاقی الزامات کے تحت فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مادورو کو  پیر کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کی نگرانی کیسے کریں گے۔ امریکی افواج کا ملک پر کوئی کنٹرول نہیں اور مادورو کی حکومت بظاہر بدستور اقتدار میں ہے اور واشنگٹن سے تعاون کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ وینزویلا کے ٹی وی پر اس کارروائی کو اغوا قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور مادورو کو وینزویلا کا واحد صدر قرار دیا۔ وینزویلا کی ایک عدالت نے روڈریگز کو عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکی فوجی وینزویلا میں تعینات کیے جا سکتے ہیں اور کہا کہ واشنگٹن زمینی فوج سے خوفزدہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بات جو مزید واضح ہوئی وہ وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر میں ٹرمپ کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بڑی امریکی تیل کمپنیاں وہاں بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کر کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کو درست کریں گی، ہم بڑی مقدار میں تیل فروخت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اتوار کے روز نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی رہنما کو گرفتار کرنے اور ملک اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی کارروائی کا حکم دیا۔</p>
<p>ہفتے کی صبح ہونے والی اس ڈرامائی کارروائی کے دوران کاراکاس کے بعض حصوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اسپیشل فورسز نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحل کے قریب امریکی بحری جہاز تک منتقل کیا، جہاں سے انہیں امریکا لے جایا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ پر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اس وقت تک ملک چلائیں گے جب تک محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو۔</p>
<p>مہینوں سے ٹرمپ انتظامیہ مادورو پر امریکا کو منشیات کی ترسیل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ اس نے کیریبین میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اور مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر مہلک میزائل حملوں کے ذریعے دباؤ میں اضافہ کیا۔</p>
<h2><a id="نیویارک-میں-مادورو" href="#نیویارک-میں-مادورو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیویارک میں مادورو</h2>
<p>مادورو کو لے کر آنے والا طیارہ ہفتے کی رات نیویارک سٹی کے قریب اترا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر پہنچایا گیا اور سخت سیکیورٹی میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا گیا۔</p>
<p>امریکی حکام کی جاری کردہ تصاویر میں مادورو کو پرواز کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی لگائے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں انہیں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ایک راہداری سے گزرتے دکھایا گیا، جہاں انہیں نئے سال کی مبارک باد دی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نارکو دہشت گردی کی سازش سمیت مختلف وفاقی الزامات کے تحت فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مادورو کو  پیر کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کی نگرانی کیسے کریں گے۔ امریکی افواج کا ملک پر کوئی کنٹرول نہیں اور مادورو کی حکومت بظاہر بدستور اقتدار میں ہے اور واشنگٹن سے تعاون کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔</p>
<p>مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ وینزویلا کے ٹی وی پر اس کارروائی کو اغوا قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور مادورو کو وینزویلا کا واحد صدر قرار دیا۔ وینزویلا کی ایک عدالت نے روڈریگز کو عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکی فوجی وینزویلا میں تعینات کیے جا سکتے ہیں اور کہا کہ واشنگٹن زمینی فوج سے خوفزدہ نہیں۔</p>
<p>ایک بات جو مزید واضح ہوئی وہ وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر میں ٹرمپ کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بڑی امریکی تیل کمپنیاں وہاں بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کر کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کو درست کریں گی، ہم بڑی مقدار میں تیل فروخت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275004</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:14:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/041305357ad2353.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/041305357ad2353.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’غلامی کے دن ختم‘ بنگلہ دیش کا اپنے ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقل کروانے کا عندیہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275006/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے اتوار کو سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی صورت بنگلہ دیشی کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے، غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ہفتے کے روز انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے نکال دیا، جب بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274996/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے مشیر نذرل نے کہا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بورڈ کو یہ بات آگاہ کرنی چاہیے کہ اگر کسی بنگلہ دیشی کرکٹر کو معاہدے کے باوجود بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو پوری بنگلہ دیشی ٹیم خود کو ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بورڈ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سات فروری سے شروع ہو رہا ہے، جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب 2024 میں ڈھاکا میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں اُس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی تھیں، اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی کی مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے بھارت پر تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے کہا کہ بورڈ اتوار کو ہنگامی اجلاس کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے کرکٹرز کی عزت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف نذرل نے یہ بھی کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات روکنے کی درخواست کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے اطلاعات و نشریات کے مشیر سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کی نشریات بند کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کرے گا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے اتوار کو سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی صورت بنگلہ دیشی کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے، غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ہفتے کے روز انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے نکال دیا، جب بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274996/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنگلہ دیش کے مشیر نذرل نے کہا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بورڈ کو یہ بات آگاہ کرنی چاہیے کہ اگر کسی بنگلہ دیشی کرکٹر کو معاہدے کے باوجود بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو پوری بنگلہ دیشی ٹیم خود کو ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بورڈ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کی جائے۔</p>
<p>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سات فروری سے شروع ہو رہا ہے، جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔</p>
<p>بھارت اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب 2024 میں ڈھاکا میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں اُس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی تھیں، اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھیں۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی کی مذمت کی تھی۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے بھارت پر تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے کہا کہ بورڈ اتوار کو ہنگامی اجلاس کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے کرکٹرز کی عزت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔</p>
<p>آصف نذرل نے یہ بھی کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات روکنے کی درخواست کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں نے اطلاعات و نشریات کے مشیر سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کی نشریات بند کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275006</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:42:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/041326541df897d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/041326541df897d.webp"/>
        <media:title>فائنل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقتدار کی منصفانہ منتقلی تک وینزویلا کو امریکا چلائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275001/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ’وینزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/RBTj8qk3xqk?si=qyXNGWkjpYgX4Am0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/RBTj8qk3xqk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کی ’شراکت داری‘ وینزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی، امریکا میں مقیم وینزویلا کے شہری انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا حملوں کی دوسری اور زیادہ بڑی لہر شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور واشنگٹن نے پہلے ہی یہ فرض کر لیا تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا آئیں گی، تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کریں گی اور ملک کے لیے منافع کمانا شروع کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکا لے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے امریکا میں پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق، امریکی فوجی طیارہ جس میں مادورو موجود ہیں، آج نیویارک کے اسٹیورٹ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیورٹ ایک فوجی ایئرپورٹ ہے جو اورنج کاؤنٹی، نیویارک میں ہڈسن ویلی کے علاقے میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اس وقت امریکی فوج کی تحویل میں ہیں اور لینڈنگ کے بعد انہیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو کو پیر کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ، سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ’وینزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔</p>
<p>فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/RBTj8qk3xqk?si=qyXNGWkjpYgX4Am0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/RBTj8qk3xqk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘</p>
<p>امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کی ’شراکت داری‘ وینزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی، امریکا میں مقیم وینزویلا کے شہری انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔’</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا حملوں کی دوسری اور زیادہ بڑی لہر شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور واشنگٹن نے پہلے ہی یہ فرض کر لیا تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا آئیں گی، تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کریں گی اور ملک کے لیے منافع کمانا شروع کریں گی۔</p>
<p>قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکا لے جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔</p>
<p>بی بی سی کے امریکا میں پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق، امریکی فوجی طیارہ جس میں مادورو موجود ہیں، آج نیویارک کے اسٹیورٹ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اسٹیورٹ ایک فوجی ایئرپورٹ ہے جو اورنج کاؤنٹی، نیویارک میں ہڈسن ویلی کے علاقے میں واقع ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اس وقت امریکی فوج کی تحویل میں ہیں اور لینڈنگ کے بعد انہیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔</p>
<p>مادورو کو پیر کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ، سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275001</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 00:09:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکمانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/032238571693d67.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/032238571693d67.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔ فوٹو اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
