<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 22:02:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 22:02:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان سرحد کی بندش سے تجارت مفلوج، سیمنٹ، ادویات اور زرعی برآمدات سخت متاثر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274461/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک افغان سرحد کی بندش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت متعدد اہم صنعتیں بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958257/afghan-border-closure-chokes-crucial-exports"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 11 اکتوبر کو سرحد بند ہونے سے دونوں ممالک کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، مختلف کاروباری افراد اس صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو پاکستان کی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بارڈر بند ہونے سے افغانستان سے پاکستان میں آنے والی اسمگل شدہ چیزوں میں بھی کمی ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سیمنٹ-اور-کوئلہ" href="#سیمنٹ-اور-کوئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیمنٹ اور کوئلہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک سیمنٹ کمپنی کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان سے کوئلے کی درآمد اور افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد دونوں رک گئی ہیں، اس وجہ سے مقامی کوئلہ مہنگا ہو کر 30 سے 32 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 42 سے 45 ہزار روپے فی ٹن ہو گیا ہے، افغان کوئلہ بھی پہلے 30 سے 38 ہزار روپے فی ٹن میں مل رہا تھا، لیکن اب بالکل دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی پاکستان کے کارخانے پہلے ہی باہر سے کوئلہ خرید کر استعمال کر رہے تھے، لیکن شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں کا زیادہ تر انحصار افغان کوئلے پر تھا، اب وہ بھی مجبوری میں جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور موزمبیق سے کوئلہ منگوانے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ کی صنعت کو کوئلہ بہت زیادہ مقدار میں چاہیے ہوتا ہے، تقریباً 40 لاکھ ٹن سالانہ۔ کارخانوں نے ایران کے راستے سیمنٹ برآمد کرنے یا کوئلہ منگوانے کے خیال کو مسترد کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سسٹم موجود نہیں اور اتنی بڑی مقدار میں کوئلہ اس راستے سے لانا بھی ممکن نہیں، افغانستان پاکستان کی مجموعی سیمنٹ برآمدات کا تقریباً 7 فیصد حصہ خریدتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ڈی جی خان سیمنٹ نے بتایا کہ اس وقت درآمدی کوئلہ 90 سے 100 ڈالر فی ٹن کے درمیان مل رہا ہے اور بارڈر بند ہونے کے باعث کمپنی اسی درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی رہے گی، کیونکہ افغان کوئلہ استعمال نہیں ہو رہا، کچھ سیمنٹ کمپنیاں آر بی 2 نامی درمیانی کوالٹی کا کوئلہ بھی درآمد کر رہی ہیں، جو قیمت کے لحاظ سے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسائٹ ریسرچ کے مطابق سیمنٹ کی وہ کمپنیاں جن کی زیادہ برآمدات افغانستان جاتی تھیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں چیراٹ سیمنٹ، فوجی سیمنٹ اور میپل لیف شامل ہیں، ان کی افغانستان کو برآمدات بالترتیب 9.8 فیصد، 5.8 فیصد اور 3.1 فیصد آمدنی پر مشتمل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ادویات" href="#ادویات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ادویات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو کل 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر صرف ادویات پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی چینلز کے ذریعے ادویات کی برآمد، قانونی چینلز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ افغان خریدار وہیں آ کر ادویات خرید کر لے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان اپنی یونٹس میں تیار شدہ ادویات کے اسٹاک کے جمع ہونے پر پریشان ہیں، جو بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں، اگر صورتحال برقرار رہی تو ادویات کو مقامی مارکیٹ میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن افغانستان کے لیے تیار کی گئی بہت سی ادویات پاکستان میں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سیریل پاکستان نے بتایا کہ اگر بارڈر پورے سال بند رہے تو اس کی افغانستان کو برآمدات پر 2 ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسائٹ ریسرچ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد بار بارڈر بندش کے باوجود، صورتحال اس وقت سنگین ہو چکی ہے کیونکہ افغانستان نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر 3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے، پانچ بڑی فارما کمپنیوں کی افغانستان کو برآمدات ان کی مجموعی آمدنی کا 1.9 فیصد سے 8.1 فیصد تک بنتی ہیں، جب کہ چند کمپنیوں کی ایکسپوژر 1 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر قاضی زاہد حسین کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے تقریباً 700 سے 750 کنٹینرز چمن پر اور 350 سے 400 کنٹینرز طورخم بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 9 ہزار سے زیادہ کنٹینرز مختلف پاکستانی بندرگاہوں پر کلیئر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ان میں سے 500 سے زائد کنٹینرز آرمیینیا، آذربائیجان اور قازقستان جیسے CIS ممالک بھیجے جانے تھے، جو اب تاخیر کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سبزیاں-اور-پھل" href="#سبزیاں-اور-پھل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سبزیاں اور پھل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ پاکستان سیزن کے دوران افغانستان کو کیلا، آلو، کینو اور آم برآمد کرتا ہے، جب کہ سی آئی ایس ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی افغان روٹس استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق افغانستان اور سی آئی ایس ممالک کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سالانہ 15 کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، ساتھ ہی پاکستان افغانستان سے ٹماٹر، پیاز، انار، انگور اور خوبانیاں بھی درآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو طرفہ تجارت رکنے کے بعد برآمدکنندگان کو خراب ہونے والے پھل اور سبزیاں مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچنے یا خراب ہونے کی صورت میں ضائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا، ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے وزارت قومی غذائی تحفظ میں اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، برآمدکنندگان کو ایران روٹ استعمال کرنے کے لیے بینکوں سے مالیاتی اسناد درکار ہیں، جو فی الحال جاری نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے جے سی سی آئی کے صدر جنید مکڈا نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 19 نومبر کو ایران اور CIS ممالک کے لیے ایران کے راستے برآمدات میں اسناد کی شرط ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد پاکستانی ڈرائیور افغانستان میں ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، کئی گاڑیاں حملوں کا نشانہ بھی بنی ہیں، جب کہ ڈرائیور خوراک، پیسے اور رہائش کی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی ویلفیئر فروٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبد القدیم آغا نے بتایا کہ اب افغانستان کی بجائے زیادہ تر انار ایران سے آ رہے ہیں، جس کی قیمت 2 ہزار سے 2 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار سے 4 ہزار 500 روپے فی 10 کلو کارٹن ہو گئی ہے، کوئٹہ اور بلوچستان سے سپلائی تقریباً بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سیب اور انگور بھی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جن کی قیمت 2 ہزار سے 3 ہزار روپے فی 10 کلو کارٹن ہے، روزانہ 15 سے 20 کنٹینرز ایرانی پھلوں کے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" href="#گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گھی، کوکنگ آئل، آٹا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ تجارت بند ہونے سے پہلے باقاعدہ چینلز کے ذریعے 6 ہزار سے 8 ہزار ٹن گھی ماہانہ افغانستان برآمد کیا جا رہا تھا، جب کہ کوکنگ آئل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے سابق چیئرمین عامر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 سالوں میں پاکستان سے افغانستان بہت ہی کم مقدار میں آٹا جا رہا تھا، پاکستان افغانستان کو گندم برآمد نہیں کرتا، افغانستان اپنی گندم کا زیادہ تر حصہ روس، ترکمانستان اور قازقستان سے خریدتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حقیقت میں ہم افغانستان کی مارکیٹ بھی کھو چکے ہیں اور زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک افغان سرحد کی بندش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت متعدد اہم صنعتیں بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958257/afghan-border-closure-chokes-crucial-exports"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 11 اکتوبر کو سرحد بند ہونے سے دونوں ممالک کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، مختلف کاروباری افراد اس صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو پاکستان کی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا۔</p>
<p>کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بارڈر بند ہونے سے افغانستان سے پاکستان میں آنے والی اسمگل شدہ چیزوں میں بھی کمی ہو گی۔</p>
<h1><a id="سیمنٹ-اور-کوئلہ" href="#سیمنٹ-اور-کوئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیمنٹ اور کوئلہ</h1>
<p>ایک سیمنٹ کمپنی کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان سے کوئلے کی درآمد اور افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد دونوں رک گئی ہیں، اس وجہ سے مقامی کوئلہ مہنگا ہو کر 30 سے 32 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 42 سے 45 ہزار روپے فی ٹن ہو گیا ہے، افغان کوئلہ بھی پہلے 30 سے 38 ہزار روپے فی ٹن میں مل رہا تھا، لیکن اب بالکل دستیاب نہیں۔</p>
<p>جنوبی پاکستان کے کارخانے پہلے ہی باہر سے کوئلہ خرید کر استعمال کر رہے تھے، لیکن شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں کا زیادہ تر انحصار افغان کوئلے پر تھا، اب وہ بھی مجبوری میں جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور موزمبیق سے کوئلہ منگوانے لگے ہیں۔</p>
<p>سیمنٹ کی صنعت کو کوئلہ بہت زیادہ مقدار میں چاہیے ہوتا ہے، تقریباً 40 لاکھ ٹن سالانہ۔ کارخانوں نے ایران کے راستے سیمنٹ برآمد کرنے یا کوئلہ منگوانے کے خیال کو مسترد کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سسٹم موجود نہیں اور اتنی بڑی مقدار میں کوئلہ اس راستے سے لانا بھی ممکن نہیں، افغانستان پاکستان کی مجموعی سیمنٹ برآمدات کا تقریباً 7 فیصد حصہ خریدتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ڈی جی خان سیمنٹ نے بتایا کہ اس وقت درآمدی کوئلہ 90 سے 100 ڈالر فی ٹن کے درمیان مل رہا ہے اور بارڈر بند ہونے کے باعث کمپنی اسی درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی رہے گی، کیونکہ افغان کوئلہ استعمال نہیں ہو رہا، کچھ سیمنٹ کمپنیاں آر بی 2 نامی درمیانی کوالٹی کا کوئلہ بھی درآمد کر رہی ہیں، جو قیمت کے لحاظ سے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>انسائٹ ریسرچ کے مطابق سیمنٹ کی وہ کمپنیاں جن کی زیادہ برآمدات افغانستان جاتی تھیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں چیراٹ سیمنٹ، فوجی سیمنٹ اور میپل لیف شامل ہیں، ان کی افغانستان کو برآمدات بالترتیب 9.8 فیصد، 5.8 فیصد اور 3.1 فیصد آمدنی پر مشتمل تھیں۔</p>
<h1><a id="ادویات" href="#ادویات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ادویات</h1>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو کل 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر صرف ادویات پر مشتمل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی چینلز کے ذریعے ادویات کی برآمد، قانونی چینلز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ افغان خریدار وہیں آ کر ادویات خرید کر لے جاتے ہیں۔</p>
<p>برآمد کنندگان اپنی یونٹس میں تیار شدہ ادویات کے اسٹاک کے جمع ہونے پر پریشان ہیں، جو بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں، اگر صورتحال برقرار رہی تو ادویات کو مقامی مارکیٹ میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن افغانستان کے لیے تیار کی گئی بہت سی ادویات پاکستان میں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سیریل پاکستان نے بتایا کہ اگر بارڈر پورے سال بند رہے تو اس کی افغانستان کو برآمدات پر 2 ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>انسائٹ ریسرچ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد بار بارڈر بندش کے باوجود، صورتحال اس وقت سنگین ہو چکی ہے کیونکہ افغانستان نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر 3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے، پانچ بڑی فارما کمپنیوں کی افغانستان کو برآمدات ان کی مجموعی آمدنی کا 1.9 فیصد سے 8.1 فیصد تک بنتی ہیں، جب کہ چند کمپنیوں کی ایکسپوژر 1 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک ہے۔</p>
<p>پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر قاضی زاہد حسین کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے تقریباً 700 سے 750 کنٹینرز چمن پر اور 350 سے 400 کنٹینرز طورخم بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح 9 ہزار سے زیادہ کنٹینرز مختلف پاکستانی بندرگاہوں پر کلیئر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ان میں سے 500 سے زائد کنٹینرز آرمیینیا، آذربائیجان اور قازقستان جیسے CIS ممالک بھیجے جانے تھے، جو اب تاخیر کا شکار ہیں۔</p>
<h1><a id="سبزیاں-اور-پھل" href="#سبزیاں-اور-پھل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سبزیاں اور پھل</h1>
<p>آل پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ پاکستان سیزن کے دوران افغانستان کو کیلا، آلو، کینو اور آم برآمد کرتا ہے، جب کہ سی آئی ایس ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی افغان روٹس استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق افغانستان اور سی آئی ایس ممالک کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سالانہ 15 کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، ساتھ ہی پاکستان افغانستان سے ٹماٹر، پیاز، انار، انگور اور خوبانیاں بھی درآمد کرتا ہے۔</p>
<p>دو طرفہ تجارت رکنے کے بعد برآمدکنندگان کو خراب ہونے والے پھل اور سبزیاں مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچنے یا خراب ہونے کی صورت میں ضائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا، ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے وزارت قومی غذائی تحفظ میں اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا۔</p>
<p>تاہم، برآمدکنندگان کو ایران روٹ استعمال کرنے کے لیے بینکوں سے مالیاتی اسناد درکار ہیں، جو فی الحال جاری نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>پی اے جے سی سی آئی کے صدر جنید مکڈا نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 19 نومبر کو ایران اور CIS ممالک کے لیے ایران کے راستے برآمدات میں اسناد کی شرط ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔</p>
<p>انہوں نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد پاکستانی ڈرائیور افغانستان میں ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، کئی گاڑیاں حملوں کا نشانہ بھی بنی ہیں، جب کہ ڈرائیور خوراک، پیسے اور رہائش کی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>کراچی ویلفیئر فروٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبد القدیم آغا نے بتایا کہ اب افغانستان کی بجائے زیادہ تر انار ایران سے آ رہے ہیں، جس کی قیمت 2 ہزار سے 2 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار سے 4 ہزار 500 روپے فی 10 کلو کارٹن ہو گئی ہے، کوئٹہ اور بلوچستان سے سپلائی تقریباً بند ہے۔</p>
<p>ایرانی سیب اور انگور بھی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جن کی قیمت 2 ہزار سے 3 ہزار روپے فی 10 کلو کارٹن ہے، روزانہ 15 سے 20 کنٹینرز ایرانی پھلوں کے آ رہے ہیں۔</p>
<h1><a id="گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" href="#گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گھی، کوکنگ آئل، آٹا</h1>
<p>پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ تجارت بند ہونے سے پہلے باقاعدہ چینلز کے ذریعے 6 ہزار سے 8 ہزار ٹن گھی ماہانہ افغانستان برآمد کیا جا رہا تھا، جب کہ کوکنگ آئل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔</p>
<p>پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے سابق چیئرمین عامر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 سالوں میں پاکستان سے افغانستان بہت ہی کم مقدار میں آٹا جا رہا تھا، پاکستان افغانستان کو گندم برآمد نہیں کرتا، افغانستان اپنی گندم کا زیادہ تر حصہ روس، ترکمانستان اور قازقستان سے خریدتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حقیقت میں ہم افغانستان کی مارکیٹ بھی کھو چکے ہیں اور زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274461</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 11:02:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر شفاعت خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/30105314eee2b23.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/30105314eee2b23.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: پاکستان پریس انٹرنیشنل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان سے تاجکستان میں ڈرون حملہ، تین چینی ملازمین ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274375/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان سے تاجکستان میں کیے گئے ڈرون حملے میں تین چینی ملازمین ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کی تخریبی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔افغان طالبان رجیم کے تمام وعدوں کے باوجود افغانستان سے پڑوسی ممالک پر دہشتگردانہ حملے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجک حکام کے مطابق26 نومبر 2025 کی رات افغانستان سے ایک مسلح حملہ ہوا، جس میں ایل ایل سی شوہین ایس ایم کے ملازمین کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،یہ کیمپ ختلون علاقے میں واقع “یول” بارڈر ڈیٹیچمنٹ کی پہلی بارڈر گارڈ پوسٹ “استقلال” کے کنٹرول کے علاقے میں تھا،حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس پر دستی بم اور آتشیں اسلحہ نصب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجک حکام نے کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایل ایل سی شوہین ایس ایم کے تین چینی ملازمین ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجکستان حکومت نے افغانستان سے سرحد پار اس کارروائی پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔تاجک حکام نے اس دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے۔تاجکستان نے افغان حکام سے سرحدی سلامتی کیلئے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان سے تاجکستان میں کیے گئے ڈرون حملے میں تین چینی ملازمین ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کی تخریبی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔افغان طالبان رجیم کے تمام وعدوں کے باوجود افغانستان سے پڑوسی ممالک پر دہشتگردانہ حملے جاری ہیں۔</p>
<p>تاجک حکام کے مطابق26 نومبر 2025 کی رات افغانستان سے ایک مسلح حملہ ہوا، جس میں ایل ایل سی شوہین ایس ایم کے ملازمین کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،یہ کیمپ ختلون علاقے میں واقع “یول” بارڈر ڈیٹیچمنٹ کی پہلی بارڈر گارڈ پوسٹ “استقلال” کے کنٹرول کے علاقے میں تھا،حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس پر دستی بم اور آتشیں اسلحہ نصب تھا۔</p>
<p>تاجک حکام نے کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایل ایل سی شوہین ایس ایم کے تین چینی ملازمین ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>تاجکستان حکومت نے افغانستان سے سرحد پار اس کارروائی پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔تاجک حکام نے اس دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے۔تاجکستان نے افغان حکام سے سرحدی سلامتی کیلئے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274375</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 22:36:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2722352867449a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2722352867449a4.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’طالبان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اس کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات پر ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274336/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے وزیرِ دفاع کے مطابق، ’ہمارے ہمسایے کے ساتھ پُرامن تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہر طرح کی حمایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے’۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان فریق پر بھروسہ کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک سرحد پار حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں نہ مل جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں امریکا کو بھی ٹھوس ضمانتیں نہیں دیں اور قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ایسی ضمانتیں نہیں دیں گے۔ میں طالبان کا وکیل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اُن کی پالیسیز کو سمجھنا چاہوں گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کی ایک مشترکہ مگر تنازعات سے بھرپور تاریخ ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے منسلک شناختیں، سرحدی تنازعات اور تقسیم شدہ قبائل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، اُن کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات کے تابع رہے ہیں اور اُن کی جنگوں کا شکار بھی بنے ہیں۔ یہی وہ تمام عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ کابل کی پاکستان میں کھلی مداخلت اور اس کے ‘پختونستان’ کے دعوؤں سے شروع ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مداخلت کو مؤثر طور پر ناکام بنایا لیکن خود کو افغانستان کے سیاسی عمل میں گھسیٹ لیے جانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں اُس نے افغانستان کی اسلام پسند جماعتوں کی مدد سے اپریل 1978ء کی ثور انقلاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں اُس نے افغانوں کو ہمارے قبائلی علاقوں اور اس سے مضافات میں مہاجرین اور پھر مجاہدین کے طور پر پناہ لینے دی جنہوں نے آگے چل کر طالبان کی صورت اختیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمسایہ ملک کے علاقائی دعووں کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے، ہم نے افغان گروہوں کو اپنے معاشرے اور سیاست میں جڑ پکڑنے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اجازت دی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان نے اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شروع سے ہی طالبان کی سابقہ ​​فاٹا کے علاقے اور بلوچستان میں واضح موجودگی رہی ہے۔ انہوں نے نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے مذہبی مدارس کا استعمال کیا جن میں سے بیشتر میں انہوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ قبائلی علاقے افغانستان میں طالبان کی جنگ کے لیے ایک قسم کا محفوظ حمایتی گڑھ بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور نئے عسکریت پسندوں کے اتحادی پیدا ہوئے۔ اب یہ گروہ ہمارے علاقوں میں وہی کچھ دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طالبان نے ان کی مدد سے افغانستان میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان عوام جنہیں پہلے مجاہدین اور بعد میں ایک بدعنوان امریکا نواز حکمران طبقے نے دھوکا دیا جبکہ پاکستان جہاں سیکیورٹی ایجنسیز کا خیال تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ کیا بہتر ہے، دونوں نے وہ افغانستان کھو دیا ہے جو کبھی موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان ہیرو یا آزادی پسند نہیں ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ نہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے بلکہ اپنے عدم استحکام اور خامیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم کا شکار طالبان قیادت ایک ایسی آبادی پر حکومت کر رہی ہے جو کہ منقسم بھی ہے جبکہ اس کی معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے اور انسانی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان نے کئی جہادی، علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی جگہ فراہم کی ہے جن کے ساتھ انہوں نے برسوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس سے ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جن پر کوئی حقیقی حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ اس سے افغانستان خود اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمزور اور غیر مستحکم صورت حال میں طالبان کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش یا صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان ان کا استعمال داعش خراساں، قومی مزاحمتی محاذ یا ان کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خطرات سے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔ طالبان ان گروہوں کو دوسرے ممالک سے سیاسی شناخت یا تجارتی معاہدوں جیسے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے ساتھ نمٹنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ان سے کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اسلام آباد کو طالبان کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت ہے تو اسے صرف اس بات تک محدود ہونا چاہیے کہ پاکستان کیا سنبھال سکتا ہے اور ایسے میں طالبان کو زیر کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان اگر خطرہ محسوس کریں گے تو اس سے وہ قدرتی طور پر ٹی ٹی پی کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ جبکہ ایک کمزور، غیر مستحکم افغانستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271606/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر، پاکستان کو طالبان سے نمٹنا بھی ہے جبکہ ایسا کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف اپنی حفاظت بھی کرنا ہے۔ ملک کو سرحدی کنٹرول، پناہ گزینوں اور تجارت جیسے مسائل پر صبر، بات چیت اور کسی حد تک دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مسائل کا خالصتاً کوئی فوجی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی بھارت تک رسائی پر زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان کو کابل کو بتانا چاہیے کہ اسے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے لیکن ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایک مناسب حکومت کی طرح کام کرے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ باغیوں جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان گروہوں کو اندرون ملک بھی کمزور کرنا ہوگا جن سے طالبان کو اپنے کام نہ آنے والی پراکسیز کے خلاف کارروائی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ طالبان پاکستان کے لیے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے پھر چاہے وہ حل کرنا کیوں نہ چاہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر مختلف فوجی پہلوؤں رکھنا والا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957653/afghanistan-dilemma"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے وزیرِ دفاع کے مطابق، ’ہمارے ہمسایے کے ساتھ پُرامن تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہر طرح کی حمایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے’۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان فریق پر بھروسہ کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک سرحد پار حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں نہ مل جائیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں امریکا کو بھی ٹھوس ضمانتیں نہیں دیں اور قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ایسی ضمانتیں نہیں دیں گے۔ میں طالبان کا وکیل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اُن کی پالیسیز کو سمجھنا چاہوں گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان اور افغانستان کی ایک مشترکہ مگر تنازعات سے بھرپور تاریخ ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے منسلک شناختیں، سرحدی تنازعات اور تقسیم شدہ قبائل رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، اُن کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات کے تابع رہے ہیں اور اُن کی جنگوں کا شکار بھی بنے ہیں۔ یہی وہ تمام عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔</p>
<p>یہ سب کچھ کابل کی پاکستان میں کھلی مداخلت اور اس کے ‘پختونستان’ کے دعوؤں سے شروع ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مداخلت کو مؤثر طور پر ناکام بنایا لیکن خود کو افغانستان کے سیاسی عمل میں گھسیٹ لیے جانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>ابتدا میں اُس نے افغانستان کی اسلام پسند جماعتوں کی مدد سے اپریل 1978ء کی ثور انقلاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں اُس نے افغانوں کو ہمارے قبائلی علاقوں اور اس سے مضافات میں مہاجرین اور پھر مجاہدین کے طور پر پناہ لینے دی جنہوں نے آگے چل کر طالبان کی صورت اختیار کی۔</p>
<p>ہمسایہ ملک کے علاقائی دعووں کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے، ہم نے افغان گروہوں کو اپنے معاشرے اور سیاست میں جڑ پکڑنے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اجازت دی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان نے اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>شروع سے ہی طالبان کی سابقہ ​​فاٹا کے علاقے اور بلوچستان میں واضح موجودگی رہی ہے۔ انہوں نے نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے مذہبی مدارس کا استعمال کیا جن میں سے بیشتر میں انہوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ قبائلی علاقے افغانستان میں طالبان کی جنگ کے لیے ایک قسم کا محفوظ حمایتی گڑھ بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نتیجتاً، خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور نئے عسکریت پسندوں کے اتحادی پیدا ہوئے۔ اب یہ گروہ ہمارے علاقوں میں وہی کچھ دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو طالبان نے ان کی مدد سے افغانستان میں کیا تھا۔</p>
<p>افغان عوام جنہیں پہلے مجاہدین اور بعد میں ایک بدعنوان امریکا نواز حکمران طبقے نے دھوکا دیا جبکہ پاکستان جہاں سیکیورٹی ایجنسیز کا خیال تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ کیا بہتر ہے، دونوں نے وہ افغانستان کھو دیا ہے جو کبھی موجود تھا۔</p>
<p>طالبان ہیرو یا آزادی پسند نہیں ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں وہ خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ نہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے بلکہ اپنے عدم استحکام اور خامیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔</p>
<p>تقسیم کا شکار طالبان قیادت ایک ایسی آبادی پر حکومت کر رہی ہے جو کہ منقسم بھی ہے جبکہ اس کی معیشت بھی تباہ ہو رہی ہے اور انسانی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>طالبان نے کئی جہادی، علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی جگہ فراہم کی ہے جن کے ساتھ انہوں نے برسوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس سے ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جن پر کوئی حقیقی حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ اس سے افغانستان خود اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔</p>
<p>اس کمزور اور غیر مستحکم صورت حال میں طالبان کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش یا صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>طالبان ان کا استعمال داعش خراساں، قومی مزاحمتی محاذ یا ان کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خطرات سے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔ طالبان ان گروہوں کو دوسرے ممالک سے سیاسی شناخت یا تجارتی معاہدوں جیسے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>طالبان کے ساتھ نمٹنا مشکل ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ان سے کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اسلام آباد کو طالبان کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی بقا کا انحصار پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت ہے تو اسے صرف اس بات تک محدود ہونا چاہیے کہ پاکستان کیا سنبھال سکتا ہے اور ایسے میں طالبان کو زیر کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔</p>
<p>طالبان اگر خطرہ محسوس کریں گے تو اس سے وہ قدرتی طور پر ٹی ٹی پی کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ جبکہ ایک کمزور، غیر مستحکم افغانستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271606/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنیادی طور پر، پاکستان کو طالبان سے نمٹنا بھی ہے جبکہ ایسا کرتے ہوئے اسے ان کے خلاف اپنی حفاظت بھی کرنا ہے۔ ملک کو سرحدی کنٹرول، پناہ گزینوں اور تجارت جیسے مسائل پر صبر، بات چیت اور کسی حد تک دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مسائل کا خالصتاً کوئی فوجی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔</p>
<p>طالبان کی بھارت تک رسائی پر زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان کو کابل کو بتانا چاہیے کہ اسے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے لیکن ساتھ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایک مناسب حکومت کی طرح کام کرے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ باغیوں جیسے گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان گروہوں کو اندرون ملک بھی کمزور کرنا ہوگا جن سے طالبان کو اپنے کام نہ آنے والی پراکسیز کے خلاف کارروائی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ طالبان پاکستان کے لیے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے پھر چاہے وہ حل کرنا کیوں نہ چاہیں۔</p>
<p>اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر مختلف فوجی پہلوؤں رکھنا والا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957653/afghanistan-dilemma"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274336</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 15:05:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (توقیر حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/271217583a6011d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/271217583a6011d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مبینہ فضائی حملوں کے بعد پاک-افغان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274274/</link>
      <description>&lt;p&gt;سرحدی صورتحال ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہوگئی ہے، جب کابل کی جانب سے پاکستان پر مبینہ فضائی حملوں کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957429/kabul-alleges-pakistan-denies-cross-border-blitz"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کابل کی جانب سے پاکستان پر افغانستان میں فضائی حملوں کے الزامات کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے صبر کی حد کھو دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو طالبان حکومت نے الزام لگایا کہ پاکستان نے خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے، لیکن پاکستان کے وزیر دفاع نے اس بات کی تردید کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر کے مطابق یہ حملے اسی دن ہوئے جب فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں 3 اہلکار شہید ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کا اعلان بھی خود کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نزدیک کوئی اچھے یا برے طالبان نہیں، تمام دہشت گرد ایک جیسے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ریاست کی طرح فیصلے کرے، کسی غیر ریاستی گروہ کی طرح نہیں اور سوال کیا کہ افغانستان کی حکمران انتظامیہ کب تک عبوری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ حملوں نے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ ماہ کی کشیدگی کے بعد قائم ہونے والی جنگ بندی کو ختم کر دیا، پاکستان مسلسل افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کی جڑیں افغانستان میں ہیں، جہاں دہشت گرد گروہ بھرتی مراکز اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں پاکستان نے کہا تھا کہ بڑھتے حملوں کے بعد اس کا صبر جواب دے گیا ہے، دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274166/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274166"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ جنگ بندی سے محاذ آرائی ختم ہو گئی تھی، لیکن استنبول میں ہونے والے مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب کابل نے کہا کہ اس سے پاکستان میں سیکیورٹی کی ضمانت کی توقع نہ رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملوں میں مشرقی افغانستان میں کم از کم نو افراد، جن میں ایک خاتون اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوست سے جاری تصاویر میں جنازوں میں شریک افراد دکھائے گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حملوں کے متاثرین تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ تصاویر حالیہ ہیں یا پرانی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="امید-ختم" href="#امید-ختم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امید ختم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان، افغان طالبان سے اپنی امیدیں ختم کر رہا ہے کیونکہ اب ان سے کسی مثبت اقدام کی توقع نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نجی چینل ‘جیو نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے دشمن ہیں، وہ پہلے ہی پاکستان کے دشمن تھے اور اب کھلے دشمن بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے افغان حکومت کے الزامات اور شہری ہلاکتوں کے دعوؤں پر کہا کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر کارروائی کرتا ہے، لیکن عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہماری پالیسی نہیں، ہماری فوج منظم ہے، اصولوں پر چلتی ہے، جب کہ طالبان ایک بے ترتیب گروہ کی طرح ہیں، جن کے پاس نہ کوئی ضابطہ ہے نہ روایت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے پوچھا کہ طالبان نے 20 سال میں کابل پر قبضہ کرنے کے علاوہ کیا حاصل کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ آج بھی ان کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کا مذاق اڑاتے ہیں جس میں انہوں نے طالبان کا خیرمقدم کیا تھا، مگر اس وقت امید تھی، اب ہم ان سے ہر قسم کی امید ختم کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کب جواب دے گا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک ترکیہ، ایران اور قطر خطے میں امن چاہتے ہیں کیونکہ امن سے سب کو فائدہ ہوگا اور افغان عوام سمیت سب کے لیے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اگر بھارت کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، پاکستان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ آخر میں وہی سامان ہماری مارکیٹ میں آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی دھمکی پر وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں سنجیدگی سے لینا بے وقوفی ہوگی، ان پر بھروسہ کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے مسلسل دورے کیے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ ان دوروں سے کوئی فائدہ، کامیابی یا ان کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فیض-حمید-کا-کورٹ-مارشل" href="#فیض-حمید-کا-کورٹ-مارشل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیض حمید کا کورٹ مارشل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں فوجی ترجمان نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کورٹ مارشل سے متعلق افواہوں پر بھی بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ مقدمہ ایک قانونی معاملہ ہے، اس پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے، جب معاملہ حتمی مرحلے تک پہنچے گا تو فوراً اعلان کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سرحدی صورتحال ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہوگئی ہے، جب کابل کی جانب سے پاکستان پر مبینہ فضائی حملوں کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1957429/kabul-alleges-pakistan-denies-cross-border-blitz"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کابل کی جانب سے پاکستان پر افغانستان میں فضائی حملوں کے الزامات کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے صبر کی حد کھو دی ہے۔</p>
<p>منگل کو طالبان حکومت نے الزام لگایا کہ پاکستان نے خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے، لیکن پاکستان کے وزیر دفاع نے اس بات کی تردید کردی۔</p>
<p>خبر کے مطابق یہ حملے اسی دن ہوئے جب فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں 3 اہلکار شہید ہوئے تھے۔</p>
<p>تاہم، آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا۔</p>
<p>پی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کا اعلان بھی خود کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نزدیک کوئی اچھے یا برے طالبان نہیں، تمام دہشت گرد ایک جیسے ہیں۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ریاست کی طرح فیصلے کرے، کسی غیر ریاستی گروہ کی طرح نہیں اور سوال کیا کہ افغانستان کی حکمران انتظامیہ کب تک عبوری رہے گی۔</p>
<p>مبینہ حملوں نے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ ماہ کی کشیدگی کے بعد قائم ہونے والی جنگ بندی کو ختم کر دیا، پاکستان مسلسل افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دے۔</p>
<p>تاہم، اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کی جڑیں افغانستان میں ہیں، جہاں دہشت گرد گروہ بھرتی مراکز اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>اکتوبر میں پاکستان نے کہا تھا کہ بڑھتے حملوں کے بعد اس کا صبر جواب دے گیا ہے، دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274166/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274166"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ جنگ بندی سے محاذ آرائی ختم ہو گئی تھی، لیکن استنبول میں ہونے والے مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب کابل نے کہا کہ اس سے پاکستان میں سیکیورٹی کی ضمانت کی توقع نہ رکھی جائے۔</p>
<p>افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملوں میں مشرقی افغانستان میں کم از کم نو افراد، جن میں ایک خاتون اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔</p>
<p>خوست سے جاری تصاویر میں جنازوں میں شریک افراد دکھائے گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حملوں کے متاثرین تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ تصاویر حالیہ ہیں یا پرانی۔</p>
<h1><a id="امید-ختم" href="#امید-ختم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امید ختم</h1>
<p>دریں اثنا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان، افغان طالبان سے اپنی امیدیں ختم کر رہا ہے کیونکہ اب ان سے کسی مثبت اقدام کی توقع نہیں رہی۔</p>
<p>انہوں نے نجی چینل ‘جیو نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے دشمن ہیں، وہ پہلے ہی پاکستان کے دشمن تھے اور اب کھلے دشمن بن چکے ہیں۔</p>
<p>وزیر دفاع نے افغان حکومت کے الزامات اور شہری ہلاکتوں کے دعوؤں پر کہا کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر کارروائی کرتا ہے، لیکن عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہماری پالیسی نہیں، ہماری فوج منظم ہے، اصولوں پر چلتی ہے، جب کہ طالبان ایک بے ترتیب گروہ کی طرح ہیں، جن کے پاس نہ کوئی ضابطہ ہے نہ روایت۔</p>
<p>وزیر دفاع نے پوچھا کہ طالبان نے 20 سال میں کابل پر قبضہ کرنے کے علاوہ کیا حاصل کیا؟</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ آج بھی ان کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کا مذاق اڑاتے ہیں جس میں انہوں نے طالبان کا خیرمقدم کیا تھا، مگر اس وقت امید تھی، اب ہم ان سے ہر قسم کی امید ختم کر چکے ہیں۔</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کب جواب دے گا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک ترکیہ، ایران اور قطر خطے میں امن چاہتے ہیں کیونکہ امن سے سب کو فائدہ ہوگا اور افغان عوام سمیت سب کے لیے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اگر بھارت کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، پاکستان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ آخر میں وہی سامان ہماری مارکیٹ میں آجاتا ہے۔</p>
<p>طالبان کی دھمکی پر وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں سنجیدگی سے لینا بے وقوفی ہوگی، ان پر بھروسہ کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے مسلسل دورے کیے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ ان دوروں سے کوئی فائدہ، کامیابی یا ان کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔</p>
<h1><a id="فیض-حمید-کا-کورٹ-مارشل" href="#فیض-حمید-کا-کورٹ-مارشل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیض حمید کا کورٹ مارشل</h1>
<p>اپنے بیان میں فوجی ترجمان نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کورٹ مارشل سے متعلق افواہوں پر بھی بات کی۔</p>
<p>پی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ مقدمہ ایک قانونی معاملہ ہے، اس پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے، جب معاملہ حتمی مرحلے تک پہنچے گا تو فوراً اعلان کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274274</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 12:26:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/260954270a45aac.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/260954270a45aac.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور یورپی یونین کا افغانستان سے دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274166/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے ایک مشترکہ بیان میں افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر سامنے آئی، جو برسلز میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ (ایف او) کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق، اسحٰق ڈار اور کایا کالاس نے گزشتہ ماہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات پر گفتگو کی۔ دونوں اعلیٰ سفارتکاروں نے علاقائی امن، استحکام، خوشحالی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا: “دونوں فریقین نے افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے مشترکہ ہدف کے حصول میں تعمیری کردار ادا کریں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحٰق ڈار اور کایا کالاس نے کابل کی بگڑتی ہوئی سماجی و معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور ایک “پُرامن، مستحکم اور خود مختار افغانستان” کے حامی نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ افغانستان “اقوام متحدہ کی سربراہی میں جاری دوحہ عمل سے ہم آہنگ ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل” کی حمایت کرے گا، جو طالبان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز کی جانب سے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کرنے کی تعریف کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ان کی واپسی “محفوظ، باوقار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق” ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا: “دونوں فریقین نے افغان حکام سے انسانی حقوق خصوصاً خواتین، بچوں اور حساس طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔”&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پاکافغان-تعلقات-میں-بگاڑ" href="#پاکافغان-تعلقات-میں-بگاڑ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاک–افغان تعلقات میں بگاڑ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات حالیہ دنوں میں کشیدہ رہے ہیں، کیونکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کابل کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے کارروائی کریں، مگر افغان طالبان پاکستان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کرنے دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد ہونے والے مذاکراتی عمل کے دوران دونوں ممالک نے مستقل امن اور استحکام کے لیے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 اکتوبر کو مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ترک دارالحکومت انقرہ میں ہوا۔ تاہم وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بعد میں اعلان کیا کہ بات چیت “کسی قابل عمل حل تک نہیں پہنچ سکی”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ترکی اور قطر نے مداخلت کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو بچا لیا، اور 31 اکتوبر کو ترکی کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ “نفاذ کی مزید تفصیلات 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں زیر بحث آئیں گی۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر 7 نومبر کو تیسرے دور کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی سے متعلق مذاکرات “ختم ہو چکے ہیں” اور “غیر معینہ مدت کے لیے تعطل کا شکار ہو گئے ہیں” کیونکہ دونوں فریق اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے، جبکہ پاکستان اکتوبر کی جھڑپوں کے فوراً بعد ہی سرحد تجارت کے لیے بند کر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے ایک مشترکہ بیان میں افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔</p>
<p>یہ پیشرفت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر سامنے آئی، جو برسلز میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس نے کی۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ (ایف او) کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق، اسحٰق ڈار اور کایا کالاس نے گزشتہ ماہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات پر گفتگو کی۔ دونوں اعلیٰ سفارتکاروں نے علاقائی امن، استحکام، خوشحالی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا: “دونوں فریقین نے افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے مشترکہ ہدف کے حصول میں تعمیری کردار ادا کریں۔”</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحٰق ڈار اور کایا کالاس نے کابل کی بگڑتی ہوئی سماجی و معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور ایک “پُرامن، مستحکم اور خود مختار افغانستان” کے حامی نظر آئے۔</p>
<p>انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ افغانستان “اقوام متحدہ کی سربراہی میں جاری دوحہ عمل سے ہم آہنگ ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل” کی حمایت کرے گا، جو طالبان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز کی جانب سے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ہو۔</p>
<p>بیان کے مطابق، یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کرنے کی تعریف کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ان کی واپسی “محفوظ، باوقار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق” ہونی چاہیے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا: “دونوں فریقین نے افغان حکام سے انسانی حقوق خصوصاً خواتین، بچوں اور حساس طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔”</p>
<hr />
<h3><a id="پاکافغان-تعلقات-میں-بگاڑ" href="#پاکافغان-تعلقات-میں-بگاڑ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاک–افغان تعلقات میں بگاڑ</h3>
<p>پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات حالیہ دنوں میں کشیدہ رہے ہیں، کیونکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے کابل کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے کارروائی کریں، مگر افغان طالبان پاکستان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کرنے دی جاتی ہے۔</p>
<p>اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد ہونے والے مذاکراتی عمل کے دوران دونوں ممالک نے مستقل امن اور استحکام کے لیے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>25 اکتوبر کو مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ترک دارالحکومت انقرہ میں ہوا۔ تاہم وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بعد میں اعلان کیا کہ بات چیت “کسی قابل عمل حل تک نہیں پہنچ سکی”۔</p>
<p>تاہم ترکی اور قطر نے مداخلت کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو بچا لیا، اور 31 اکتوبر کو ترکی کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ “نفاذ کی مزید تفصیلات 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں زیر بحث آئیں گی۔”</p>
<p>مگر 7 نومبر کو تیسرے دور کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی سے متعلق مذاکرات “ختم ہو چکے ہیں” اور “غیر معینہ مدت کے لیے تعطل کا شکار ہو گئے ہیں” کیونکہ دونوں فریق اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے، جبکہ پاکستان اکتوبر کی جھڑپوں کے فوراً بعد ہی سرحد تجارت کے لیے بند کر چکا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274166</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 18:20:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2318193034c7537.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2318193034c7537.webp"/>
        <media:title>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے  یورپی یونین کی ہائی ری پریزنٹیٹو اور نائب صدر کایا کالاس سے  22 نومبر کو برسلز، بیلجیم میں  ملاقات کی۔ فوٹو: وزارت خارجہ / ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمالی افغانستان میں زلزلے سے اموات 20 ہوگئیں، 500 سے زائد زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273161/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کے شمالی حصے میں شدید زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 20 ہوگئی جبکہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953058/20-dead-over-500-injured-as-quake-jolts-afghanistan"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرفات زمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق 534 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 20 سے زائد لاشیں صوبہ سمنگان اور بلخ کے ہسپتالوں میں لائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزارِ شریف میں ’اے ایف پی‘ کے نمائندے نے بتایا کہ زلزلے کے بعد شہری گھبراہٹ کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کی مشہور فیروزی ٹائلوں سے مزین نیلی مسجد جو 15ویں صدی کی ایک تاریخی یادگار ہے کو بھی نقصان پہنچا، مسجد کے کچھ حصوں بالخصوص ایک مینار کا حصہ ٹوٹ کر صحن میں بکھر گیا، یہ مقام افغانستان کے چند باقی ماندہ سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273074/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت کابل میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں ناقص مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے ماضی میں امدادی کارروائیاں تاخیر کا شکار رہتی رہی ہیں اور حکام کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں گھنٹے یا حتیٰ کہ دن لگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع کے مطابق مزارِ شریف اور خُلم کے درمیان مرکزی سڑک کو صاف کر کے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جبکہ وہاں رات گئے پھنسے ہوئے افراد کو بھی بچا لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ایک پیغام میں کہا کہ بے شمار مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور بھاری مالی نقصان ہوا ہے، تاہم انہوں نے درست اعداد و شمار نہیں بتائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طالبان حکومت کے لیے ایک اور قدرتی آفت ہے، جو 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے تین بڑے زلزلوں کا سامنا کر چکی ہے، جبکہ غیر ملکی امداد، جو کبھی افغان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، اب بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں ملک کے مشرقی حصے میں آنے والے 6 شدت کے ایک تباہ کن زلزلے نے پہاڑی دیہات کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تھا، جس میں 2200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق اس زلزلے سے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں جہاں یوریشین اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں مغربی ہرات اور 2022 میں مشرقی ننگرہار صوبے میں آنے والے بڑے زلزلوں نے سیکڑوں جانیں لیں اور ہزاروں گھروں کو تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں گھر غیر معیاری تعمیر کے باعث آسانی سے زمین بوس ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان پہلے ہی خشک سالی، بینکاری شعبے پر اقتصادی پابندیوں، اور ایران و پاکستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی کے باعث ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بھوک اور غذائی قلت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کے شمالی حصے میں شدید زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 20 ہوگئی جبکہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953058/20-dead-over-500-injured-as-quake-jolts-afghanistan"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرفات زمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق 534 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 20 سے زائد لاشیں صوبہ سمنگان اور بلخ کے ہسپتالوں میں لائی گئی ہیں۔</p>
<p>مزارِ شریف میں ’اے ایف پی‘ کے نمائندے نے بتایا کہ زلزلے کے بعد شہری گھبراہٹ کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے۔</p>
<p>شہر کی مشہور فیروزی ٹائلوں سے مزین نیلی مسجد جو 15ویں صدی کی ایک تاریخی یادگار ہے کو بھی نقصان پہنچا، مسجد کے کچھ حصوں بالخصوص ایک مینار کا حصہ ٹوٹ کر صحن میں بکھر گیا، یہ مقام افغانستان کے چند باقی ماندہ سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273074/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دارالحکومت کابل میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں ناقص مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے ماضی میں امدادی کارروائیاں تاخیر کا شکار رہتی رہی ہیں اور حکام کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں گھنٹے یا حتیٰ کہ دن لگ جاتے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ دفاع کے مطابق مزارِ شریف اور خُلم کے درمیان مرکزی سڑک کو صاف کر کے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جبکہ وہاں رات گئے پھنسے ہوئے افراد کو بھی بچا لیا گیا ہے۔</p>
<p>طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ایک پیغام میں کہا کہ بے شمار مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور بھاری مالی نقصان ہوا ہے، تاہم انہوں نے درست اعداد و شمار نہیں بتائے۔</p>
<p>یہ طالبان حکومت کے لیے ایک اور قدرتی آفت ہے، جو 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے تین بڑے زلزلوں کا سامنا کر چکی ہے، جبکہ غیر ملکی امداد، جو کبھی افغان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، اب بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔</p>
<p>اگست میں ملک کے مشرقی حصے میں آنے والے 6 شدت کے ایک تباہ کن زلزلے نے پہاڑی دیہات کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تھا، جس میں 2200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق اس زلزلے سے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں جہاں یوریشین اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔</p>
<p>2023 میں مغربی ہرات اور 2022 میں مشرقی ننگرہار صوبے میں آنے والے بڑے زلزلوں نے سیکڑوں جانیں لیں اور ہزاروں گھروں کو تباہ کر دیا۔</p>
<p>ملک کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں گھر غیر معیاری تعمیر کے باعث آسانی سے زمین بوس ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>افغانستان پہلے ہی خشک سالی، بینکاری شعبے پر اقتصادی پابندیوں، اور ایران و پاکستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی کے باعث ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بھوک اور غذائی قلت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273161</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 12:19:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/041013387ab73b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="727">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/041013387ab73b2.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمالی افغانستان میں 6.3 شدت کے زلزلے سے کم از کم 10 افراد جاں بحق، 260 زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273074/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کے شمالی شہر مزارِ شریف کے قریب پیر کی صبح 6.3 شدت کا زلزلہ آیا ہے، صوبائی حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور تقریباً 150 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا مرکز مزارِ شریف کے قریب 28 کلومیٹر زیر زمین تھا، مزارِ شریف کی آبادی تقریباً 5 لاکھ 23 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ سمنگان کے محکمہ صحت کے ترجمان سمیم جویندہ نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’اب تک 150 زخمیوں اور 7 اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جنہیں صحت کے مراکز منتقل کیا جا چکا ہے‘، انہوں نے کہا کہ ’یہ اعداد و شمار پیر کی صبح تک ہسپتالوں سے موصول رپورٹس پر مبنی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جیولوجیکل سروے کے پیجر نظام نے اس زلزلے کے لیے نارنجی الرٹ جاری کیا، جو ایک خودکار نظام ہے اور زلزلے کے اثرات سے متعلق ابتدائی اندازے فراہم کرتا ہے، الرٹ میں کہا گیا کہ ’نمایاں جانی نقصان کا خدشہ ہے اور یہ آفت ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے الرٹس والے ماضی کے زلزلے عام طور پر علاقائی یا قومی سطح کے ہنگامی ردعمل کا تقاضا کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268131'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268131"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ بلخ کے ترجمان حاجی زید نے بتایا کہ زلزلے سے مزارِ شریف کے مقدس مقبرے کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ نقصانات اور ہلاکتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، رائٹرز آزادانہ طور پر نقصان کی حد کی تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘  پر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں اور عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئیں، ایک ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے لاشیں نکالتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ’رائٹرز‘ ان ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NilofarAyoubi/status/1985129043939717416?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NilofarAyoubi/status/1985129043939717416?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں سال اگست میں آنے والے زلزلوں اور جھٹکوں کے ایک سلسلے کے نتیجے میں طالبان انتظامیہ کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان زلزلوں کے لیے خاص طور پر حساس ملک ہے کیونکہ یہ دو بڑی فعال فالٹ لائنز پر واقع ہے، جو کسی بھی وقت ٹوٹ کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 میں شمال مشرقی افغانستان میں آنے والے زلزلے نے افغانستان اور پاکستان میں سیکڑوں افراد کی جان لی تھی، جبکہ 2023 میں ایک اور زلزلے میں کم از کم ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کے شمالی شہر مزارِ شریف کے قریب پیر کی صبح 6.3 شدت کا زلزلہ آیا ہے، صوبائی حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور تقریباً 150 زخمی ہوگئے۔</p>
<p>امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا مرکز مزارِ شریف کے قریب 28 کلومیٹر زیر زمین تھا، مزارِ شریف کی آبادی تقریباً 5 لاکھ 23 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔</p>
<p>صوبہ سمنگان کے محکمہ صحت کے ترجمان سمیم جویندہ نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’اب تک 150 زخمیوں اور 7 اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جنہیں صحت کے مراکز منتقل کیا جا چکا ہے‘، انہوں نے کہا کہ ’یہ اعداد و شمار پیر کی صبح تک ہسپتالوں سے موصول رپورٹس پر مبنی ہیں‘۔</p>
<p>امریکی جیولوجیکل سروے کے پیجر نظام نے اس زلزلے کے لیے نارنجی الرٹ جاری کیا، جو ایک خودکار نظام ہے اور زلزلے کے اثرات سے متعلق ابتدائی اندازے فراہم کرتا ہے، الرٹ میں کہا گیا کہ ’نمایاں جانی نقصان کا خدشہ ہے اور یہ آفت ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے‘۔</p>
<p>ایسے الرٹس والے ماضی کے زلزلے عام طور پر علاقائی یا قومی سطح کے ہنگامی ردعمل کا تقاضا کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268131'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268131"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صوبہ بلخ کے ترجمان حاجی زید نے بتایا کہ زلزلے سے مزارِ شریف کے مقدس مقبرے کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔</p>
<p>ملکی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ نقصانات اور ہلاکتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، رائٹرز آزادانہ طور پر نقصان کی حد کی تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘  پر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں اور عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئیں، ایک ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے لاشیں نکالتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ’رائٹرز‘ ان ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NilofarAyoubi/status/1985129043939717416?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NilofarAyoubi/status/1985129043939717416?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ رواں سال اگست میں آنے والے زلزلوں اور جھٹکوں کے ایک سلسلے کے نتیجے میں طالبان انتظامیہ کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>افغانستان زلزلوں کے لیے خاص طور پر حساس ملک ہے کیونکہ یہ دو بڑی فعال فالٹ لائنز پر واقع ہے، جو کسی بھی وقت ٹوٹ کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہیں۔</p>
<p>2015 میں شمال مشرقی افغانستان میں آنے والے زلزلے نے افغانستان اور پاکستان میں سیکڑوں افراد کی جان لی تھی، جبکہ 2023 میں ایک اور زلزلے میں کم از کم ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273074</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 11:06:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/03110310479223e.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/03110310479223e.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/031103238e34404.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/031103238e34404.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0311041045de366.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0311041045de366.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استنبول میں پاک-افغان مذاکرات میں روشنی کی کرن نظر آئی ہے، وزیر دفاع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272865/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ’ امید کی ایک کرن’  نظر آرہی ہے، اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ  پاکستانی اور افغان طالبان وفود کے درمیان  مذاکرات  ہفتے کے روز استنبول میں شروع ہوئے تھے،  لیکن اسلام آباد کی طویل عرصے سے جاری تشویش کہ دہشت گرد حملے افغانستان سے ہو رہے ہیں، اختلافِ رائے کی بڑی وجہ بنی، جس کے نتیجے میں مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ  آصف نے آج صبح کہا کہ اگر کابل اپنے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’  میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں پہلے تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، اب ’ کچھ آثار نظر آرہے ہیں’، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کچھ حتمی نہیں کہہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مسودے تیار کیے جا رہے ہیں، اور جب ایک فریق کسی مسودے سے متفق ہوتا ہے تو اسے دوسرے فریق کو ترمیم کے لیے بھیج دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ نظرثانی کے لیے واپس آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272833/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272833"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیردفاع نے کہا کہ’ آخرکار ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مختلف مسودے تبادلے میں ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ امید کی کچھ کرن نظر آرہی ہے؛ بہت محتاط انداز میں امید پسندی موجود ہے، امید کرتے ہیں کہ اس سے کوئی نتیجہ نکلے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ ’ قطر اور ترکیہ ہمارے لیے قابل احترام اور خیر خواہ ممالک ہیں، ترکیہ نے پاکستان-بھارت تنازع میں کھلے عام ہمارا ساتھ دیا، اس لیے ہم ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ جب مذاکرات کے دوران ہماری امید ختم ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں (مذاکرات کاروں کو) ہوائی اڈے سے واپس بلایا، انہوں نے کہا کہ ‘چلیں ایک بار پھر کوشش کرتے ہیں، ’ لہٰذا ایک خاص قسم کی سفارت کاری اب بھی جاری ہے اور مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی امید کسی تحریری معاہدے سے متعلق ہے تو وزیر دفاع نے کہا کہ ’ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہے، جو بھی وعدے ہوں گے، وہ تحریری ہوں گے اور ان کی گواہی اور توثیق قطر اور ترکیہ کریں گے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے برعکس افغان طالبان حکومت کسی حد تک قطر پر انحصار رکھتی ہے کیونکہ خلیجی ملک نے ماضی میں دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا تھا، اس لیے افغانستان کے رہنما کسی حد تک قطر کے ممنون ہیں اور اسے اہمیت دینے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272787/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272787"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے دہرایا کہ اگر معاہدہ تحریری نہ ہوا تو پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے امریکی ناظم الامور سے ان کی ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا  اور یہ کہ کیا مذاکرات میں امریکا کا کوئی پسِ پردہ کردار ہے، تو خواجہ آصف نے کہا کہ یہ موضوع زیرِ بحث نہیں آیا اور ’ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی …  طویل، خوشگوار ملاقات تھی، مگر سیاسی معاملات پر بات نہیں ہوئی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے کنڑ  پر ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر افغانستان سے کسی ممکنہ تنازع کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر دفاع نے کچھ کہنے سے گریز کیا، سوائے اس کے کہ پاکستان کے پاس اس معاملے میں ’ اثر و رسوخ’  موجود ہے،  انہوں نے کہا کہ’  جو وہ سوچ رہے ہیں اسے سو فیصد پورا نہیں کر سکیں گے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کابل یکطرفہ طور پر دریا کو روک کر یا اس کا رخ موڑ کر اسلام آباد کے پانی کے حقوق سے انکار نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ایک پوسٹ میں انہوں نے ایکس پر کہا کہ ’افغانستان وفد  کا یہ کہنا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اصل میں افغان سر زمین پہ پاکستانی پناہ گزین ہیں جواپنے گھروں میں پاکستان واپس جا رہے ہیں، یہ کیسے پناہ گزین جو اپنے گھروں میں انتہائی تباہ کن اسلحہ سے مسلح ہو کر جارہے ھیں اور سڑکوں کے ذریعے  بسوں ٹرک یا گاڑیوں پہ سوار نہیں جا رہے بلکہ چوروں کی طرح پہاڑوں میں دشوار گزار رستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، یہ تاویل ہی افغانستان کی  نیت کے فتور خلوص سے عاری ہونے کا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KhawajaMAsif/status/1983952045309882543'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/1983952045309882543"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سرحدی-جھڑپیں-اور-ناکام-مذاکرات" href="#سرحدی-جھڑپیں-اور-ناکام-مذاکرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سرحدی جھڑپیں اور ناکام مذاکرات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید خراب  ہوئے ہیں،ان کے درمیان  سرحدی جھڑپیں ہوئی ہیں اور جوابی بیانات اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرحد جھڑپوں  کا آغاز اس ماہ کے اوائل میں ہوا جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان سے پاکستان پر حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد طویل عرصے سے طالبان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پاکستان دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے میں مصروف ہے اور خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیوں میں اس کے سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد شہید ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 اکتوبر کی ابتدائی جھڑپ کے بعد پاکستان-افغانستان سرحد پر متعدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران، اسلام آباد کے حملوں میں افغانستان میں گل بہادر گروپ کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272764/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر دونوں ممالک مذاکرات کے لیے دوحہ میں اکٹھے ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی اور استنبول میں دوبارہ ملاقات کے عہد پر اتفاق ہوا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن و استحکام کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے، دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور، جس کی ثالثی ترکیہ اور قطر کر رہے تھے، ترکیہ کے دارالحکومت میں شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بدھ کو طارق فاطمی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ استنبول میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان ہونے والا تازہ ترین دور ’ کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکا’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ’ امید کی ایک کرن’  نظر آرہی ہے، اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔</p>
<p>خیال رہے کہ  پاکستانی اور افغان طالبان وفود کے درمیان  مذاکرات  ہفتے کے روز استنبول میں شروع ہوئے تھے،  لیکن اسلام آباد کی طویل عرصے سے جاری تشویش کہ دہشت گرد حملے افغانستان سے ہو رہے ہیں، اختلافِ رائے کی بڑی وجہ بنی، جس کے نتیجے میں مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔</p>
<p>خواجہ  آصف نے آج صبح کہا کہ اگر کابل اپنے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’  میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں پہلے تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، اب ’ کچھ آثار نظر آرہے ہیں’، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کچھ حتمی نہیں کہہ سکتے۔</p>
<p>مذاکرات کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مسودے تیار کیے جا رہے ہیں، اور جب ایک فریق کسی مسودے سے متفق ہوتا ہے تو اسے دوسرے فریق کو ترمیم کے لیے بھیج دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ نظرثانی کے لیے واپس آتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272833/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272833"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیردفاع نے کہا کہ’ آخرکار ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مختلف مسودے تبادلے میں ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ امید کی کچھ کرن نظر آرہی ہے؛ بہت محتاط انداز میں امید پسندی موجود ہے، امید کرتے ہیں کہ اس سے کوئی نتیجہ نکلے۔’</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ ’ قطر اور ترکیہ ہمارے لیے قابل احترام اور خیر خواہ ممالک ہیں، ترکیہ نے پاکستان-بھارت تنازع میں کھلے عام ہمارا ساتھ دیا، اس لیے ہم ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔’</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ جب مذاکرات کے دوران ہماری امید ختم ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں (مذاکرات کاروں کو) ہوائی اڈے سے واپس بلایا، انہوں نے کہا کہ ‘چلیں ایک بار پھر کوشش کرتے ہیں، ’ لہٰذا ایک خاص قسم کی سفارت کاری اب بھی جاری ہے اور مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔’</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی امید کسی تحریری معاہدے سے متعلق ہے تو وزیر دفاع نے کہا کہ ’ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہے، جو بھی وعدے ہوں گے، وہ تحریری ہوں گے اور ان کی گواہی اور توثیق قطر اور ترکیہ کریں گے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے برعکس افغان طالبان حکومت کسی حد تک قطر پر انحصار رکھتی ہے کیونکہ خلیجی ملک نے ماضی میں دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا تھا، اس لیے افغانستان کے رہنما کسی حد تک قطر کے ممنون ہیں اور اسے اہمیت دینے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272787/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272787"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر دفاع نے دہرایا کہ اگر معاہدہ تحریری نہ ہوا تو پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔</p>
<p>جب ان سے امریکی ناظم الامور سے ان کی ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا  اور یہ کہ کیا مذاکرات میں امریکا کا کوئی پسِ پردہ کردار ہے، تو خواجہ آصف نے کہا کہ یہ موضوع زیرِ بحث نہیں آیا اور ’ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی …  طویل، خوشگوار ملاقات تھی، مگر سیاسی معاملات پر بات نہیں ہوئی۔’</p>
<p>دریائے کنڑ  پر ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر افغانستان سے کسی ممکنہ تنازع کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر دفاع نے کچھ کہنے سے گریز کیا، سوائے اس کے کہ پاکستان کے پاس اس معاملے میں ’ اثر و رسوخ’  موجود ہے،  انہوں نے کہا کہ’  جو وہ سوچ رہے ہیں اسے سو فیصد پورا نہیں کر سکیں گے۔’</p>
<p>خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کابل یکطرفہ طور پر دریا کو روک کر یا اس کا رخ موڑ کر اسلام آباد کے پانی کے حقوق سے انکار نہیں کر سکتا۔</p>
<p>بعد ازاں ایک پوسٹ میں انہوں نے ایکس پر کہا کہ ’افغانستان وفد  کا یہ کہنا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اصل میں افغان سر زمین پہ پاکستانی پناہ گزین ہیں جواپنے گھروں میں پاکستان واپس جا رہے ہیں، یہ کیسے پناہ گزین جو اپنے گھروں میں انتہائی تباہ کن اسلحہ سے مسلح ہو کر جارہے ھیں اور سڑکوں کے ذریعے  بسوں ٹرک یا گاڑیوں پہ سوار نہیں جا رہے بلکہ چوروں کی طرح پہاڑوں میں دشوار گزار رستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، یہ تاویل ہی افغانستان کی  نیت کے فتور خلوص سے عاری ہونے کا ثبوت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KhawajaMAsif/status/1983952045309882543'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/1983952045309882543"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="سرحدی-جھڑپیں-اور-ناکام-مذاکرات" href="#سرحدی-جھڑپیں-اور-ناکام-مذاکرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سرحدی جھڑپیں اور ناکام مذاکرات</h1>
<p>گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید خراب  ہوئے ہیں،ان کے درمیان  سرحدی جھڑپیں ہوئی ہیں اور جوابی بیانات اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>سرحد جھڑپوں  کا آغاز اس ماہ کے اوائل میں ہوا جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان سے پاکستان پر حملہ کیا گیا۔</p>
<p>اسلام آباد طویل عرصے سے طالبان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، پاکستان دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے میں مصروف ہے اور خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیوں میں اس کے سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد شہید ہوئی ہے۔</p>
<p>11 اکتوبر کی ابتدائی جھڑپ کے بعد پاکستان-افغانستان سرحد پر متعدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران، اسلام آباد کے حملوں میں افغانستان میں گل بہادر گروپ کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272764/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بالآخر دونوں ممالک مذاکرات کے لیے دوحہ میں اکٹھے ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی اور استنبول میں دوبارہ ملاقات کے عہد پر اتفاق ہوا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن و استحکام کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے، دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور، جس کی ثالثی ترکیہ اور قطر کر رہے تھے، ترکیہ کے دارالحکومت میں شروع ہوا۔</p>
<p>تاہم بدھ کو طارق فاطمی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ استنبول میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان ہونے والا تازہ ترین دور ’ کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکا’۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272865</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 00:03:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/302344380dfb808.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/302344380dfb808.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اسکرین گریب، بی بی سی اردو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کا چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272392/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کی طالبان حکومت  نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کا اعلان کر دیا، وزارت توانائی کو ڈیم کی جلد از جلد تعمیر کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.afintl.com/en/202510240194"&gt;افغانستان انٹرنیشنل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی  رپورٹ کے مطابق  طالبان کے وزیر توانائی و آب عبداللطیف منصور نے بتایا کہ رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار نہ کرے بلکہ مقامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر کے منصوبے کا آغاز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللطیف منصور  نے اخوندزادہ کے حوالے سے کہا کہ ’ افغان عوام کو اپنے پانیوں کا نظم و نسق خود کرنے کا حق حاصل ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے کنڑ ، جو افغانستان کے پانچ بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے، پاکستان کے ضلع چترال سے نکلتا ہے، یہ تقریباً 482 کلومیٹر افغانستان کے صوبہ کنڑ سے گزرتا ہے اور  دریائے کابل میں شامل ہونے کے بعد دوبارہ پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272384/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کے لیے طالبان کی نئی کوشش اس وقت سامنے آئی ہے جب طالبان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پانی کی تقسیم طویل عرصے سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک حساس مسئلہ رہا ہے کیونکہ دونوں کے درمیان کوئی باضابطہ آبی معاہدہ موجود نہیں، اور پانی کی تقسیم روایتی طریقوں کے تحت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال، جب طالبان کے مشرقی افغانستان میں ڈیم بنانے کے منصوبوں کی خبریں سامنے آئیں، تو سابق وزیر  جان اچکزئی نے خبردار کیا کہ طالبان کی جانب سے کنڑ پر یکطرفہ تعمیرات پاکستان کے خلاف ایک دشمنی پر مبنی اقدام سمجھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ ایسا اقدام سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن میں کشیدگی میں اضافہ اور ممکنہ تصادم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمساد ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عبداللطیف منصور نے کہا کہ دریائے کنڑ دریا پر ڈیم بنانا طالبان حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے  ہیبت اللہ  اخوندزادہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ اگر ہم نے اب دریائے کنڑ پر ڈیم نہیں بنایا، تو ہم کبھی نہیں بنا پائیں گے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ’ایران کے علاوہ افغانستان کا کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ پانی کا کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طالبان  دریائے ہلمند کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں، لیکن دیگر مقامات پر ڈیموں کی تعمیر پر کوئی پابندی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کی طالبان حکومت  نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کا اعلان کر دیا، وزارت توانائی کو ڈیم کی جلد از جلد تعمیر کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.afintl.com/en/202510240194">افغانستان انٹرنیشنل</a></strong> کی  رپورٹ کے مطابق  طالبان کے وزیر توانائی و آب عبداللطیف منصور نے بتایا کہ رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار نہ کرے بلکہ مقامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر کے منصوبے کا آغاز کرے۔</p>
<p>عبداللطیف منصور  نے اخوندزادہ کے حوالے سے کہا کہ ’ افغان عوام کو اپنے پانیوں کا نظم و نسق خود کرنے کا حق حاصل ہے۔’</p>
<p>دریائے کنڑ ، جو افغانستان کے پانچ بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے، پاکستان کے ضلع چترال سے نکلتا ہے، یہ تقریباً 482 کلومیٹر افغانستان کے صوبہ کنڑ سے گزرتا ہے اور  دریائے کابل میں شامل ہونے کے بعد دوبارہ پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272384/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کے لیے طالبان کی نئی کوشش اس وقت سامنے آئی ہے جب طالبان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پانی کی تقسیم طویل عرصے سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک حساس مسئلہ رہا ہے کیونکہ دونوں کے درمیان کوئی باضابطہ آبی معاہدہ موجود نہیں، اور پانی کی تقسیم روایتی طریقوں کے تحت ہوتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال، جب طالبان کے مشرقی افغانستان میں ڈیم بنانے کے منصوبوں کی خبریں سامنے آئیں، تو سابق وزیر  جان اچکزئی نے خبردار کیا کہ طالبان کی جانب سے کنڑ پر یکطرفہ تعمیرات پاکستان کے خلاف ایک دشمنی پر مبنی اقدام سمجھا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ ایسا اقدام سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن میں کشیدگی میں اضافہ اور ممکنہ تصادم شامل ہیں۔</p>
<p>شمساد ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عبداللطیف منصور نے کہا کہ دریائے کنڑ دریا پر ڈیم بنانا طالبان حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے  ہیبت اللہ  اخوندزادہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ اگر ہم نے اب دریائے کنڑ پر ڈیم نہیں بنایا، تو ہم کبھی نہیں بنا پائیں گے۔’</p>
<p>افغان وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ’ایران کے علاوہ افغانستان کا کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ پانی کا کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ طالبان  دریائے ہلمند کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں، لیکن دیگر مقامات پر ڈیموں کی تعمیر پر کوئی پابندی نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272392</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Oct 2025 19:57:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/24192153b5b933e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/24192153b5b933e.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: افغانستان انٹرنیشنل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیورنڈ لائن پر طالبان کا سخت مؤقف: ’افغان حکومت اب بھی اعتدال کے لیے تیار نہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272197/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ جنگ بندی معاہدے سے پاک-افغان کشیدگی میں شاید کسی حد تک کمی آئی ہے اور یہ سرحدیں دوبارہ کھلنے کا باعث بھی بنا ہے لیکن صورت حال اب بھی انتہائی غیر مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان طالبان رہنما مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان واقع سرحد جوکہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، ’خیالی‘ ہے جبکہ وہ اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ساتھ دوحہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایک آن لائن پریس کانفرنس میں افغان طالبان کے وزیر دفاع نے زور دیا کہ معاہدے کے کسی حصے میں اس ’خیالی‘ سرحد پر بات نہیں ہوئی۔ ممکن ہے بات نہ ہوئی ہو لیکن افغان وزیردفاع کا لہجہ خود اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سچ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے کسی بھی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان قانونی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن حالیہ طالبان انتظامیہ نے اس مسئلے کو زیادہ جارحانہ انداز میں اٹھایا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران جب پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو سرحد کے حوالے سے ان کے مؤقف میں واضح شدت دیکھنے میں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی قدامت پسند اسلامی حکومت، جسے روس کے علاوہ اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے، کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے افغان قوم پرستی کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تاکہ افغانستان سے سرحد پار عسکریت پسندی میں سرگرم گروہوں کی سرپرستی پر طالبان حکومت پر ہونے والی عالمی تنقید سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ دوحہ اجلاس کے بعد ملا یعقوب کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل اب بھی اعتدال کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ افغان طالبان، پاکستان کی پراکسی تھے۔ یہ تاثر اس وقت مزید مضبوط ہوا جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ افغان طالبان کی موجودہ قیادت نے امریکی قبضے کے خلاف اپنی مزاحمتی مہم کا بڑا حصہ پاکستان سے چلایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جو بات نظرانداز کر دی گئی وہ یہ تھی کہ یہ وقتی مفاد پر مبنی اتحاد تھا۔ اس دوران افغان طالبان اور پاکستان کے تعلقات زیادہ ہموار نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی اس قدر دشمنی کی توقع کسی کو نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ ملا عمر کی پہلی افغان طالبان حکومت جو کہ پاکستان کی حمایت پر کافی حد تک انحصار کرتی تھی، اس نے بھی ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ سرحد تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا مگر اس حکومت نے اسے مسئلہ نہیں بنایا تھا۔ لیکن اُس وقت طالبان کے کچھ رہنما بھی اس معاملے پر کافی آواز اٹھا رہے تھے اور اس تقسیم کو ایک مصنوعی لکیر قرار دیتے تھے جسے ان کی نظر میں ختم کرنے کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1893ء میں برطانیہ اور افغان بادشاہ عبدالرحمٰن خان کی جانب سے قائم کردہ 2 ہزار 300 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن جو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو افغانستان سے الگ کرتی ہے، برطانوی راج میں ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو ظاہر کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پاکستان آزاد ہوا تو یہ معاہدہ اسے وراثت میں ملا جو ملک کی مغربی سرحد کی وضاحت کرتا تھا۔ اسے بین الاقوامی قانون کے تحت ایک جائز سرحد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن افغانستان نے اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ ڈیورنڈ لائن تنازع ہی وجہ تھی جس کی بنیاد پر افغانستان نے پاکستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ کابل کی مختلف حکومتوں کی جانب سے عملی طور پر ڈیورنڈ لائن کو ایک سرحد کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ اکثر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی، سرحدی جھڑپوں اور ناکہ بندیوں کا سبب بنتی رہی ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے جو شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے کابل اور دیگر افغان شہروں پر بمباری بھی کی، ایسی صورت حال کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار سے مسلسل مسلح اشتعال انگیزی کے جواب میں کی گئیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔ 4 سال سے زیادہ عرصہ قبل کابل میں طالبان کی حکومت کی واپسی کے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال، گزشتہ ایک دہائی میں سب سے خونریز ثابت ہوا ہے جس میں سیکڑوں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کیے جانے والے فضائی حملے طالبان انتظامیہ کے لیے پیغام تھے کہ انہیں عسکریت پسند گروپوں کی سرپرستی کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ طالبان انتظامیہ نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے لیکن اب تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ وہ اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگی یا نہیں جسے وہ اپنے جہادی بھائیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل رہنے والے چند پاکستانی حکام کے مطابق ایک اور اہم مسئلہ طالبان حکومت کی صلاحیت کا ہے کہ وہ ان مضبوط اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کر بھی سکتی ہے یا نہیں جن کے مقامی افغان طالبان کمانڈروں سے گہرے روابط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو داعش میں شامل ہو سکتے ہیں جو افغانستان کے بعض علاقوں میں اب بھی فعال ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں دیگر سرحد پار عسکریت پسند گروہوں کے دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورت حال نہ صرف خطے کے دیگر ممالک کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایسے میں پاکستان کے ساتھ موجودہ سرحد کی قانونی حیثیت پر طالبان کا اشتعال انگیز مؤقف انتہائی خطرناک معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان طالبان کے لیے ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کی ایک معقول وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ پشتون علاقوں میں قوم پرستی کے جذبے کے تحت عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ملک اب بھی سنگین سماجی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان پر خواتین کو کام کرنے سے روکنے اور ان کے تعلیمی حقوق کو محدود کرنے کی رجعت پسندانہ پالیسی کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272002"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ تعزیری اقدامات بشمول لاکھوں افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے نے طالبان حکومت کے ساتھ اسلام آباد کے اختلافات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ یہ یقیناً پاکستان کا انتہائی غیردانشمندانہ اقدام تھا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کی پالیسیوں نے عوام میں غصے کو بھڑکایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اپنی سیکیورٹی فورسز پر سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر پاکستان کا صبر کا پیمانہ کیوں لبریز ہورہا ہے۔ تاہم اسلام آباد کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنے والے ملک کے مفاد میں نہیں کہ وہ حالات کو مزید خراب کرے۔ جنگ بندی پر راضی ہونا اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنا یقیناً ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ اس تنازع نے سرحد کے دونوں طرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دوحہ اجلاس کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی ہے لیکن امید کی جاتی ہے کہ جلد استنبول میں ہونے والا بات چیت کا اگلا دور، خطے میں امن کے راستے میں موجود کئی دیگر رکاوٹیں دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ خطے کے ممالک کا دو ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مداخلت کرنا ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے تمام اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1950527/a-line-of-contention"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ جنگ بندی معاہدے سے پاک-افغان کشیدگی میں شاید کسی حد تک کمی آئی ہے اور یہ سرحدیں دوبارہ کھلنے کا باعث بھی بنا ہے لیکن صورت حال اب بھی انتہائی غیر مستحکم ہے۔</p>
<p>افغان طالبان رہنما مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان واقع سرحد جوکہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، ’خیالی‘ ہے جبکہ وہ اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے ساتھ دوحہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایک آن لائن پریس کانفرنس میں افغان طالبان کے وزیر دفاع نے زور دیا کہ معاہدے کے کسی حصے میں اس ’خیالی‘ سرحد پر بات نہیں ہوئی۔ ممکن ہے بات نہ ہوئی ہو لیکن افغان وزیردفاع کا لہجہ خود اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ سچ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے کسی بھی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان قانونی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن حالیہ طالبان انتظامیہ نے اس مسئلے کو زیادہ جارحانہ انداز میں اٹھایا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران جب پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو سرحد کے حوالے سے ان کے مؤقف میں واضح شدت دیکھنے میں آئی ہے۔</p>
<p>افغانستان کی قدامت پسند اسلامی حکومت، جسے روس کے علاوہ اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے، کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے افغان قوم پرستی کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تاکہ افغانستان سے سرحد پار عسکریت پسندی میں سرگرم گروہوں کی سرپرستی پر طالبان حکومت پر ہونے والی عالمی تنقید سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ دوحہ اجلاس کے بعد ملا یعقوب کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل اب بھی اعتدال کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔</p>
<p>اور ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ افغان طالبان، پاکستان کی پراکسی تھے۔ یہ تاثر اس وقت مزید مضبوط ہوا جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ افغان طالبان کی موجودہ قیادت نے امریکی قبضے کے خلاف اپنی مزاحمتی مہم کا بڑا حصہ پاکستان سے چلایا تھا۔</p>
<p>تاہم جو بات نظرانداز کر دی گئی وہ یہ تھی کہ یہ وقتی مفاد پر مبنی اتحاد تھا۔ اس دوران افغان طالبان اور پاکستان کے تعلقات زیادہ ہموار نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی اس قدر دشمنی کی توقع کسی کو نہیں تھی۔</p>
<p>حتیٰ کہ ملا عمر کی پہلی افغان طالبان حکومت جو کہ پاکستان کی حمایت پر کافی حد تک انحصار کرتی تھی، اس نے بھی ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ سرحد تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا مگر اس حکومت نے اسے مسئلہ نہیں بنایا تھا۔ لیکن اُس وقت طالبان کے کچھ رہنما بھی اس معاملے پر کافی آواز اٹھا رہے تھے اور اس تقسیم کو ایک مصنوعی لکیر قرار دیتے تھے جسے ان کی نظر میں ختم کرنے کی ضرورت تھی۔</p>
<p>1893ء میں برطانیہ اور افغان بادشاہ عبدالرحمٰن خان کی جانب سے قائم کردہ 2 ہزار 300 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن جو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو افغانستان سے الگ کرتی ہے، برطانوی راج میں ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو ظاہر کرتی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب پاکستان آزاد ہوا تو یہ معاہدہ اسے وراثت میں ملا جو ملک کی مغربی سرحد کی وضاحت کرتا تھا۔ اسے بین الاقوامی قانون کے تحت ایک جائز سرحد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن افغانستان نے اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ ڈیورنڈ لائن تنازع ہی وجہ تھی جس کی بنیاد پر افغانستان نے پاکستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ کابل کی مختلف حکومتوں کی جانب سے عملی طور پر ڈیورنڈ لائن کو ایک سرحد کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ اکثر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی، سرحدی جھڑپوں اور ناکہ بندیوں کا سبب بنتی رہی ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے جو شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے کابل اور دیگر افغان شہروں پر بمباری بھی کی، ایسی صورت حال کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔</p>
<p>پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار سے مسلسل مسلح اشتعال انگیزی کے جواب میں کی گئیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔ 4 سال سے زیادہ عرصہ قبل کابل میں طالبان کی حکومت کی واپسی کے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>رواں سال، گزشتہ ایک دہائی میں سب سے خونریز ثابت ہوا ہے جس میں سیکڑوں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کیے جانے والے فضائی حملے طالبان انتظامیہ کے لیے پیغام تھے کہ انہیں عسکریت پسند گروپوں کی سرپرستی کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔</p>
<p>اگرچہ طالبان انتظامیہ نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے لیکن اب تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ وہ اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگی یا نہیں جسے وہ اپنے جہادی بھائیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل رہنے والے چند پاکستانی حکام کے مطابق ایک اور اہم مسئلہ طالبان حکومت کی صلاحیت کا ہے کہ وہ ان مضبوط اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کر بھی سکتی ہے یا نہیں جن کے مقامی افغان طالبان کمانڈروں سے گہرے روابط ہیں۔</p>
<p>پھر یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو داعش میں شامل ہو سکتے ہیں جو افغانستان کے بعض علاقوں میں اب بھی فعال ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں دیگر سرحد پار عسکریت پسند گروہوں کے دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔</p>
<p>یہ صورت حال نہ صرف خطے کے دیگر ممالک کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایسے میں پاکستان کے ساتھ موجودہ سرحد کی قانونی حیثیت پر طالبان کا اشتعال انگیز مؤقف انتہائی خطرناک معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>افغان طالبان کے لیے ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کی ایک معقول وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ پشتون علاقوں میں قوم پرستی کے جذبے کے تحت عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ملک اب بھی سنگین سماجی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان پر خواتین کو کام کرنے سے روکنے اور ان کے تعلیمی حقوق کو محدود کرنے کی رجعت پسندانہ پالیسی کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272002"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایسا لگتا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ تعزیری اقدامات بشمول لاکھوں افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے نے طالبان حکومت کے ساتھ اسلام آباد کے اختلافات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ یہ یقیناً پاکستان کا انتہائی غیردانشمندانہ اقدام تھا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کی پالیسیوں نے عوام میں غصے کو بھڑکایا ہے۔</p>
<p>درحقیقت یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اپنی سیکیورٹی فورسز پر سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر پاکستان کا صبر کا پیمانہ کیوں لبریز ہورہا ہے۔ تاہم اسلام آباد کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔</p>
<p>یہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنے والے ملک کے مفاد میں نہیں کہ وہ حالات کو مزید خراب کرے۔ جنگ بندی پر راضی ہونا اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنا یقیناً ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ اس تنازع نے سرحد کے دونوں طرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ دوحہ اجلاس کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی ہے لیکن امید کی جاتی ہے کہ جلد استنبول میں ہونے والا بات چیت کا اگلا دور، خطے میں امن کے راستے میں موجود کئی دیگر رکاوٹیں دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ خطے کے ممالک کا دو ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مداخلت کرنا ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے تمام اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1950527/a-line-of-contention">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272197</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Oct 2025 12:50:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/22110028beeaa9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/22110028beeaa9f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-افغان جنگ بندی معاہدہ سرحدی دراندازی نہ ہونے سے مشروط ہے، خواجہ آصف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272059/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ  اسلام آباد اور کابل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ اس بات سے مشروط ہے کہ افغان طالبان پاکستان پر  اپنی سرزمین سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو قابو میں رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ دونوں ممالک نے دوحہ میں ہفتے کے آخر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، یہ فیصلہ کئی دنوں تک جاری سرحدی جھڑپوں کے بعد کیا گیا تھا، یہ 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا بدترین تصادم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل متنازع سرحد پر زمینی لڑائی اور پاکستانی فضائی حملے اس وقت شروع ہوئے تھے، جب اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں پر قابو پائے جو مبینہ طور پر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے حملے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے اپنے پارلیمنٹ میں دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کی طرف سے ہونے والا کوئی بھی حملہ اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، ہر چیز اسی ایک شق پر منحصر ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان انتظامیہ اور افغانستان کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ’ پاکستان، افغانستان، ترکیہ اور قطر کی جانب سے دستخط کردہ معاہدے میں یہ بات واضح طور پر لکھی گئی ہے کہ کوئی سرحدی دراندازی نہیں ہوگی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’جب تک اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی نافذ العمل رہے گی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان سے طالبان کی ’ملی بھگت‘  سے پاکستان پر حملے کرتی رہی ہے، تاہم کابل پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ عربی کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کا بنیادی مقصد ’ دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ’  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کئی برسوں سے پاک-افغان سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے  تھے کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے، دونوں فریقین سنجیدگی سے انسداد دہشت گردی کی کوششیں کریں گے، ورنہ علاقائی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے طے پایا، اور دونوں ممالک کی موجودگی اس معاہدے کی ضمانت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے اس معاہدے میں سہولت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتے استنبول میں ایک اور اجلاس منعقد ہوگا تاکہ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا سکے، اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان کے افغان ہم منصب نے بھی تسلیم کیا کہ دہشت گردی ہی دو طرفہ تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ہے، جسے اب حل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو دہشت گردی کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب امن بحال ہوگا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کے مطابق اس کے نتیجے میں پاک-افغان تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی، جس سے افغانستان دوبارہ پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272047"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ایسے افغان پناہ گزین جو درست ویزا اور دستاویزات رکھتے ہیں، انہیں پاکستان میں رہنے کی اجازت ہوگی، تاہم غیر قانونی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ تمام خدشات دور ہو گئے ہیں، ’آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں دیکھنا ہوگا کہ معاہدے پر عمل درآمد کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نیوز کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ پاکستان نے کابل پر فضائی حملے امریکا کے کہنے پر کیے، انہوں نے کہا کہ ’یہ بالکل  فضول بات ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان ایسا کیوں کرے گا، جب کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان میں مداخلت سے وہ پہلے ہی تنگ آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے کہا کہ’ ہم دور رہنا چاہتے ہیں اور ایک شریف ہمسائے کی طرح رہنا چاہتے ہیں، ہم افغان معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیردفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کا ’ افغانستان کے بھارت یا کسی اور ملک کے ساتھ تعلقات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’بالکل نہیں، جو کچھ وہ اپنی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں، جب تک وہ ہمارے ملک میں اثر انداز نہیں ہوتا، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دوحہ-مذاکرات-اور-پریس-ریلیز-کا-تنازع" href="#دوحہ-مذاکرات-اور-پریس-ریلیز-کا-تنازع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دوحہ مذاکرات اور پریس ریلیز کا تنازع&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بعد ازاں جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کسی تلخ ماحول میں نہیں ہوئے اور اس کا سہرا قطری اور ترک حکام کو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی متنازع نکتے پر محاذ آرائی کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا،‘ مزید کہا کہ تمام ترامیم، اضافے یا اخراج سے متعلق بات چیت قطری اور ترک حکام کے ذریعے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے بتایا کہ ’براہِ راست رابطہ صرف افتتاحی سیشن میں ہوا، جہاں دونوں فریقین نے بات کی … باقی تمام گفت و شنید قطر اور ترکیہ کے ذریعے ہوئی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کا مسودہ صرف ایک صفحے پر مشتمل تھا، برخلاف اس طویل ورژن کے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا، انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں تفصیلات کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جیسے معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272005"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، تو وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’میں اس معاملے پر محتاط امید رکھتا ہوں، مجھے امید ہے لیکن ساتھ ساتھ میں محتاط بھی ہوں، حتمی طور پر کچھ کہنا حالات کے شواہد پر منحصر ہے، ابھی کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن یقیناً ہمیں پُرامید رہنا چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ افغان طالبان ایک ’متحدہ حکومت‘  کے طور پر عمل کریں گے اور پاکستان کے ساتھ معاملہ طے کریں گے، بجائے اس کے کہ کل یہ کہہ دیں کہ مختلف گروہ اس کشیدگی کے پیچھے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع نے وضاحت کی کہ اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو قطر اور ترکیہ کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کا طریقہ کار 25 اکتوبر کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے، اور یہ معاملہ استنبول میں ہونے والے اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان ٹی ٹی پی کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے قطر کی پریس ریلیز میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا (جس میں ’ سرحد پر کشیدگی’  سے متعلق جملہ بعد میں ہٹایا گیا)  تو خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ اس لفظ کے استعمال پر بحث ضرور ہوئی تھی، لیکن بالآخر قطر کی پریس ریلیز کا معاہدے کے مسودے سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس کے مواد کی تفصیل ظاہر نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ’ یہ ان کے درمیان کا معاملہ ہے، اس کا معاہدے پر بالکل کوئی اثر نہیں پڑتا،’
مزید کہا کہ اس واقعے کو جس طرح دیگر لوگ نتائج اخذ کر رہے ہیں، اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ  اسلام آباد اور کابل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ اس بات سے مشروط ہے کہ افغان طالبان پاکستان پر  اپنی سرزمین سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو قابو میں رکھیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ دونوں ممالک نے دوحہ میں ہفتے کے آخر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، یہ فیصلہ کئی دنوں تک جاری سرحدی جھڑپوں کے بعد کیا گیا تھا، یہ 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا بدترین تصادم تھا۔</p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل متنازع سرحد پر زمینی لڑائی اور پاکستانی فضائی حملے اس وقت شروع ہوئے تھے، جب اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں پر قابو پائے جو مبینہ طور پر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے حملے کرتے ہیں۔</p>
<p>خواجہ آصف نے اپنے پارلیمنٹ میں دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کی طرف سے ہونے والا کوئی بھی حملہ اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، ہر چیز اسی ایک شق پر منحصر ہے۔‘</p>
<p>طالبان انتظامیہ اور افغانستان کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ’ پاکستان، افغانستان، ترکیہ اور قطر کی جانب سے دستخط کردہ معاہدے میں یہ بات واضح طور پر لکھی گئی ہے کہ کوئی سرحدی دراندازی نہیں ہوگی۔’</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’جب تک اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی نافذ العمل رہے گی۔‘</p>
<p>وزیر دفاع نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان سے طالبان کی ’ملی بھگت‘  سے پاکستان پر حملے کرتی رہی ہے، تاہم کابل پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔</p>
<p>الجزیرہ عربی کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کا بنیادی مقصد ’ دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ’  ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کئی برسوں سے پاک-افغان سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے  تھے کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے، دونوں فریقین سنجیدگی سے انسداد دہشت گردی کی کوششیں کریں گے، ورنہ علاقائی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے طے پایا، اور دونوں ممالک کی موجودگی اس معاہدے کی ضمانت ہے۔</p>
<p>وزیرِ دفاع نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے اس معاہدے میں سہولت فراہم کی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتے استنبول میں ایک اور اجلاس منعقد ہوگا تاکہ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا سکے، اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کیا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان کے افغان ہم منصب نے بھی تسلیم کیا کہ دہشت گردی ہی دو طرفہ تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ہے، جسے اب حل کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو دہشت گردی کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب امن بحال ہوگا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آ جائیں گے۔</p>
<p>خواجہ آصف کے مطابق اس کے نتیجے میں پاک-افغان تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی، جس سے افغانستان دوبارہ پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کر سکے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272047"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ایسے افغان پناہ گزین جو درست ویزا اور دستاویزات رکھتے ہیں، انہیں پاکستان میں رہنے کی اجازت ہوگی، تاہم غیر قانونی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p>وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ تمام خدشات دور ہو گئے ہیں، ’آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں دیکھنا ہوگا کہ معاہدے پر عمل درآمد کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔‘</p>
<p>عرب نیوز کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ پاکستان نے کابل پر فضائی حملے امریکا کے کہنے پر کیے، انہوں نے کہا کہ ’یہ بالکل  فضول بات ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان ایسا کیوں کرے گا، جب کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان میں مداخلت سے وہ پہلے ہی تنگ آ چکا ہے۔</p>
<p>انہوں  نے کہا کہ’ ہم دور رہنا چاہتے ہیں اور ایک شریف ہمسائے کی طرح رہنا چاہتے ہیں، ہم افغان معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے۔’</p>
<p>وزیردفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کا ’ افغانستان کے بھارت یا کسی اور ملک کے ساتھ تعلقات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔’</p>
<p>خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’بالکل نہیں، جو کچھ وہ اپنی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں، جب تک وہ ہمارے ملک میں اثر انداز نہیں ہوتا، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘</p>
<h1><a id="دوحہ-مذاکرات-اور-پریس-ریلیز-کا-تنازع" href="#دوحہ-مذاکرات-اور-پریس-ریلیز-کا-تنازع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دوحہ مذاکرات اور پریس ریلیز کا تنازع</h1>
<p>وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بعد ازاں جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کسی تلخ ماحول میں نہیں ہوئے اور اس کا سہرا قطری اور ترک حکام کو جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی متنازع نکتے پر محاذ آرائی کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا،‘ مزید کہا کہ تمام ترامیم، اضافے یا اخراج سے متعلق بات چیت قطری اور ترک حکام کے ذریعے ہوئی۔</p>
<p>خواجہ آصف نے بتایا کہ ’براہِ راست رابطہ صرف افتتاحی سیشن میں ہوا، جہاں دونوں فریقین نے بات کی … باقی تمام گفت و شنید قطر اور ترکیہ کے ذریعے ہوئی۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کا مسودہ صرف ایک صفحے پر مشتمل تھا، برخلاف اس طویل ورژن کے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا، انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں تفصیلات کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جیسے معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272005"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، تو وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’میں اس معاملے پر محتاط امید رکھتا ہوں، مجھے امید ہے لیکن ساتھ ساتھ میں محتاط بھی ہوں، حتمی طور پر کچھ کہنا حالات کے شواہد پر منحصر ہے، ابھی کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن یقیناً ہمیں پُرامید رہنا چاہیے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ افغان طالبان ایک ’متحدہ حکومت‘  کے طور پر عمل کریں گے اور پاکستان کے ساتھ معاملہ طے کریں گے، بجائے اس کے کہ کل یہ کہہ دیں کہ مختلف گروہ اس کشیدگی کے پیچھے تھے۔</p>
<p>وزیرِ دفاع نے وضاحت کی کہ اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو قطر اور ترکیہ کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کا طریقہ کار 25 اکتوبر کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے، اور یہ معاملہ استنبول میں ہونے والے اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان ٹی ٹی پی کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرے گا۔</p>
<p>جب ان سے قطر کی پریس ریلیز میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا (جس میں ’ سرحد پر کشیدگی’  سے متعلق جملہ بعد میں ہٹایا گیا)  تو خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ اس لفظ کے استعمال پر بحث ضرور ہوئی تھی، لیکن بالآخر قطر کی پریس ریلیز کا معاہدے کے مسودے سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس کے مواد کی تفصیل ظاہر نہیں کر سکتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ’ یہ ان کے درمیان کا معاملہ ہے، اس کا معاہدے پر بالکل کوئی اثر نہیں پڑتا،’
مزید کہا کہ اس واقعے کو جس طرح دیگر لوگ نتائج اخذ کر رہے ہیں، اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272059</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 23:51:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/201941460068206.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/201941460068206.webp"/>
        <media:title>— فوٹو:  رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-افغان امن معاہدہ: لوگوں کو جھڑپوں کے خاتمے اور سرحد پار تجارت بحال ہونے کی امید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272050/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب رہنے والے لوگ ایک ہفتے کی پرتشدد جھڑپوں کے بعد  امید کر رہے ہیں کہ  نئے جنگ بندی معاہدے سے جھڑپوں کا خاتمہ ہوگا اور اہم سرحد پار تجارت دوبارہ بحال ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ گزرگاہیں بدستور بند ہیں، لیکن زندگی معمول پر آنے لگی ہے،  نان بائی آٹا گوندھ رہے ہیں، پھل اور سبزی فروش اپنی ریڑھیاں لگا رہے ہیں، اور گاہک دکانوں کا رخ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی علاقے بیزئی کے  56 سالہ دکاندار صادق شاہ کہتے ہیں کہ ’ لوگ اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں اور اطمینان محسوس کر رہے ہیں۔ (لیکن) اس سے پہلے، فائرنگ سے ہمارے گاؤں کے کچھ گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔ ’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں 9 اکتوبر کو کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد شروع ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت نے ان دھماکوں کا الزام اسلام آباد پر لگایا  تھا اور پاکستان پر سرحدی حملہ کیا تھا، جس پر اسلام آباد نے سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 اکتوبر کو پاک-افغان سرحد میں کرم کے مقام پر ایک بار پھر افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی تھی، پاک فوج نے بروقت جوابی کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں طالبان پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 اکتوبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ  افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے تھے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا تھا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید جھڑپوں کے بعد ابتدائی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں جمعے کو پاکستان نے افغانستان میں دوبارہ فضائی حملے کیے تھے،  اور کہا کہ  وہ ان مسلح گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں طالبان پناہ دیتے ہیں اور جو پاکستانی سرزمین پر حملے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے اتوار کو دوسری جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس سے سرحدی علاقوں کے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صادق شاہ  کا کہنا تھا کہ’ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ دونوں طرف مسلمان ہیں، (نسلی طور پر) پشتون ہیں، تو پھر لڑائی کیوں؟ پہلے افغانستان کے ساتھ تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی، اور اب ہم ایک دوسرے پر گولیاں چلا رہے ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="-کاروباری-نقصان" href="#-کاروباری-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ کاروباری نقصان’&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے سرحد صرف اتنی دیر کے لیے کھولی گئی تھی کہ پاکستان کی طرف سے نکالے گئے افغان مہاجرین کو واپس جانے دیا جا سکے ، افغان مہاجرین کی بے دخلی کی یہ مہم 2023 میں شروع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی شہر طورخم، جو عام طور پر افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں داخلے کی مصروف گزرگاہ ہے، وہاں پھنسے ہوئے ٹرک ڈرائیور رنگ برنگے ٹرکوں کے پاس چائے پیتے ہوئے انتظار کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور کے قریب ایک پاکستانی کسٹمز اہلکار کے مطابق  1,500 سے زائد ٹرک، ٹریلرز اور کنٹینرز طورخم میں رکے ہوئے ہیں، جن میں سیمنٹ، ادویات، چاول اور دیگر اشیائے ضرورت موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی وزارتِ معیشت کے ترجمان عبد الرحمٰن حبیب نے بتایا کہ پھل اور سبزیاں پاکستان برآمد ہونے کے انتظار میں گل سڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ کاروباری طبقہ نقصان اٹھا رہا ہے’ ، اگرچہ انہوں نے نقصان کا تخمینہ نہیں بتایا، عبد الرحمٰن حبیب نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ’ قیمتوں میں اضافہ، بیروزگاری میں اضافہ، اور منڈیوں میں عدم استحکام’  پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’ تجارتی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں ’پائیدار امن کو مضبوط بنانے کے لیے طریقہ کار کے قیام‘  کی شق شامل ہے، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان شہر اسپن بولدک کے 39 سالہ کار ڈیلر نیاز محمد آخوند  نے کہا کہ ’یہاں کے لوگ جنگ بندی سے بہت خوش ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ’لوگوں کے پاس نہ زمین ہے نہ کوئی اور ذریعہ آمدن ،  دونوں جانب سب کا دارومدار سرحد پار تجارت پر ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 سالہ ریڑھی بان نعمت اللہ نے بھی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’ یہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرحد کے دوسری جانب پاکستانی علاقے میں ایک مزدور عمران خان نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ’ ایسا نظام قائم کریں  جن سے ان تنازعات کا خاتمہ ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں جیسا برتاؤ شروع کیا جائے۔’&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب رہنے والے لوگ ایک ہفتے کی پرتشدد جھڑپوں کے بعد  امید کر رہے ہیں کہ  نئے جنگ بندی معاہدے سے جھڑپوں کا خاتمہ ہوگا اور اہم سرحد پار تجارت دوبارہ بحال ہوگی۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ گزرگاہیں بدستور بند ہیں، لیکن زندگی معمول پر آنے لگی ہے،  نان بائی آٹا گوندھ رہے ہیں، پھل اور سبزی فروش اپنی ریڑھیاں لگا رہے ہیں، اور گاہک دکانوں کا رخ کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی علاقے بیزئی کے  56 سالہ دکاندار صادق شاہ کہتے ہیں کہ ’ لوگ اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں اور اطمینان محسوس کر رہے ہیں۔ (لیکن) اس سے پہلے، فائرنگ سے ہمارے گاؤں کے کچھ گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔ ’</p>
<p>خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں 9 اکتوبر کو کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد شروع ہوئی تھیں۔</p>
<p>طالبان حکومت نے ان دھماکوں کا الزام اسلام آباد پر لگایا  تھا اور پاکستان پر سرحدی حملہ کیا تھا، جس پر اسلام آباد نے سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔</p>
<p>14 اکتوبر کو پاک-افغان سرحد میں کرم کے مقام پر ایک بار پھر افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی تھی، پاک فوج نے بروقت جوابی کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں طالبان پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>15 اکتوبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ  افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے تھے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا تھا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>مزید جھڑپوں کے بعد ابتدائی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>بعدازاں جمعے کو پاکستان نے افغانستان میں دوبارہ فضائی حملے کیے تھے،  اور کہا کہ  وہ ان مسلح گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں طالبان پناہ دیتے ہیں اور جو پاکستانی سرزمین پر حملے کرتے ہیں۔</p>
<p>دونوں ممالک نے اتوار کو دوسری جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس سے سرحدی علاقوں کے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔</p>
<p>صادق شاہ  کا کہنا تھا کہ’ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ دونوں طرف مسلمان ہیں، (نسلی طور پر) پشتون ہیں، تو پھر لڑائی کیوں؟ پہلے افغانستان کے ساتھ تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی، اور اب ہم ایک دوسرے پر گولیاں چلا رہے ہیں۔’</p>
<h1><a id="-کاروباری-نقصان" href="#-کاروباری-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ کاروباری نقصان’</h1>
<p>اس ہفتے سرحد صرف اتنی دیر کے لیے کھولی گئی تھی کہ پاکستان کی طرف سے نکالے گئے افغان مہاجرین کو واپس جانے دیا جا سکے ، افغان مہاجرین کی بے دخلی کی یہ مہم 2023 میں شروع کی گئی تھی۔</p>
<p>پاکستانی شہر طورخم، جو عام طور پر افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں داخلے کی مصروف گزرگاہ ہے، وہاں پھنسے ہوئے ٹرک ڈرائیور رنگ برنگے ٹرکوں کے پاس چائے پیتے ہوئے انتظار کر رہے تھے۔</p>
<p>پشاور کے قریب ایک پاکستانی کسٹمز اہلکار کے مطابق  1,500 سے زائد ٹرک، ٹریلرز اور کنٹینرز طورخم میں رکے ہوئے ہیں، جن میں سیمنٹ، ادویات، چاول اور دیگر اشیائے ضرورت موجود ہیں۔</p>
<p>طالبان کی وزارتِ معیشت کے ترجمان عبد الرحمٰن حبیب نے بتایا کہ پھل اور سبزیاں پاکستان برآمد ہونے کے انتظار میں گل سڑ رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ کاروباری طبقہ نقصان اٹھا رہا ہے’ ، اگرچہ انہوں نے نقصان کا تخمینہ نہیں بتایا، عبد الرحمٰن حبیب نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ’ قیمتوں میں اضافہ، بیروزگاری میں اضافہ، اور منڈیوں میں عدم استحکام’  پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’ تجارتی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔’</p>
<p>دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں ’پائیدار امن کو مضبوط بنانے کے لیے طریقہ کار کے قیام‘  کی شق شامل ہے، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔</p>
<p>افغان شہر اسپن بولدک کے 39 سالہ کار ڈیلر نیاز محمد آخوند  نے کہا کہ ’یہاں کے لوگ جنگ بندی سے بہت خوش ہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ’لوگوں کے پاس نہ زمین ہے نہ کوئی اور ذریعہ آمدن ،  دونوں جانب سب کا دارومدار سرحد پار تجارت پر ہے۔‘</p>
<p>24 سالہ ریڑھی بان نعمت اللہ نے بھی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’ یہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا۔’</p>
<p>سرحد کے دوسری جانب پاکستانی علاقے میں ایک مزدور عمران خان نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ’ ایسا نظام قائم کریں  جن سے ان تنازعات کا خاتمہ ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں جیسا برتاؤ شروع کیا جائے۔’</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272050</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 18:53:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/20175323de665ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/20175323de665ff.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272047/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری اور ترقی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.news.cn/20251020/9ac9880266104b0bb920f97849182dda/c.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا،  مزید یہ کہ دونوں ممالک اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا  کہ دونوں ممالک 25 اکتوبر کو استنبول میں مذاکرات کے ایک اور دور کا انعقاد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان دونوں چین کے روایتی دوستانہ ہمسائے ہیں، اور یہ ایک دوسرے کے ایسے پڑوسی ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MFA_China/status/1980216602273677815"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گو جیاکُن کے مطابق چین دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور متعلقہ ممالک کی کوششوں کو سراہتا ہے جنہوں نے اس میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چین خلوص دل سے امید کرتا ہے اور اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہمی اختلافات کے حل، جامع اور دیرپا جنگ بندی کے حصول، اور دونوں ممالک و خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مسلسل بات چیت اور مشاورت جاری رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گو جیاکُن نے کہا کہ ’چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری اور ترقی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری اور ترقی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.news.cn/20251020/9ac9880266104b0bb920f97849182dda/c.html">رپورٹ</a></strong> کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا،  مزید یہ کہ دونوں ممالک اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔</p>
<p>پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا  کہ دونوں ممالک 25 اکتوبر کو استنبول میں مذاکرات کے ایک اور دور کا انعقاد کریں گے۔</p>
<p>چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان دونوں چین کے روایتی دوستانہ ہمسائے ہیں، اور یہ ایک دوسرے کے ایسے پڑوسی ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MFA_China/status/1980216602273677815"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گو جیاکُن کے مطابق چین دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور متعلقہ ممالک کی کوششوں کو سراہتا ہے جنہوں نے اس میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چین خلوص دل سے امید کرتا ہے اور اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہمی اختلافات کے حل، جامع اور دیرپا جنگ بندی کے حصول، اور دونوں ممالک و خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مسلسل بات چیت اور مشاورت جاری رکھیں۔</p>
<p>گو جیاکُن نے کہا کہ ’چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری اور ترقی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272047</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 18:14:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/201726552854ed9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/201726552854ed9.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں پاکستان کا ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کا مفروضہ کس طرح غلط ثابت ہوا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272027/afghanistan-mein-pakistan-ki-strategic-depth-ka-tasawwur-kyon-khatarnak-saabit-hua</link>
      <description>&lt;p&gt;معاملات اُس دن سے بگڑتے چلے گئے کہ جب اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کابل کے سرینا ہوٹل کی لابی میں چائے کا کپ پیش کیے جانے پر فاتحانہ (اور کسی حد تک قبل از وقت) انداز میں کہا تھا کہ ’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا‘۔ وہ اس وقت چینل 4 کی معتبر نمائندہ لنزے ہلسم کے سوال پر حیران ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ دن تھے کہ جب امریکی انخلا جس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا جبکہ ان کے جانشین جو بائیڈن نے 2021ء میں عملی طور پر اسے مکمل کیا، عمل میں آیا تھا۔ طالبان دوبارہ اقتدار میں آ چکے تھے کیونکہ اشرف غنی حکومت کی افواج نے بغیر کسی مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے تھے اور ان کے رہنما ملک چھوڑ کر فرار ہوچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272002"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حد سے زیادہ امید افزا الفاظ بالکل اسی طرح غیر حقیقت پسندانہ تھے جیسے 1979ء میں سوویت یونین کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی رہی ہے۔ اس وقت پاکستان نے انتہائی مذہبی عقائد کے حامل جنگجوؤں کو ہتھیار بھیجنے اور تربیت دینے میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ہمارے ہی ملک کے لیے وجودی خطرہ پیدا کیا کیونکہ یوں یہ اجنبی نظریات یہاں (ہماری سرزمین) میں جڑ پکڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے یاد ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی یونیورسٹیز کے کیمپسز میں یہ کہتے ہوئے احتجاج کرتے تھے کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں ہے اور ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ مگر ہمیں ‘سوویت ایجنٹ ’ قرار دے دیا جاتا تھا اور اُس وقت کی ضیا الحق نواز اسلامیہ جمعیتِ طلبہ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا تھا جو فوجی آمر کے شانہ بشانہ، مکمل طور پر اس غیرملکی فنڈنگ سے چلنے والے، مسلح اور بیرونی حمایت یافتہ ‘جہاد’ کے حق میں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آج کئی سابق سینئر فوجی افسران اس حقیقت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں مگر 1986ء کے جینیوا معاہدوں کے بعد سوویت انخلا کے وقت ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کا معروف تصور بارہا سننے کو ملتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر خاصا تنگ ہے اور بھارت کے برعکس بعض علاقوں میں کم رسائی رکھتا ہے تو وہ افغانستان کی سرزمین کو دفاعی سرزمین کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان نے متعدد بار شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں بھارت ملوث ہے۔ یہ مؤقف بظاہر درست بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر ہم اسے درست تسلیم کر لیں تو پھر یہ ہمارے کئی دیرینہ قومی مفروضوں کو خود ہی غلط ثابت کر دیتا ہے خاص طور پر یہ مفروضے کہ پہلے سوویت یونین اور پھر مغربی (یعنی امریکی) افواج کے خلاف جنگ میں افغانون کی حمایت کرنے سے پاکستان کو علاقائی تحفظ، دوستانہ ہمسایہ یا اسٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائیدار دوستی کے بجائے اقتدار میں آنے والے طالبان نے اپنے نظریاتی بھائیوں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کیا کیونکہ دونوں ایک جیسے جہالت پر مبنی اور انتہا پسند نظریات کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ یہ سامنے آیا کہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں عوام اور سرحد پر مامور بہادر با وردی فوجیوں کو شہید کیا گیا۔ رواں سال موسمِ گرما میں بھارتی جارحیت کا نئی دہلی کے لیے اچھے نتائج سامنے نہ آنے کے بعد، ہم نے پاکستان کے فوجی و نیم فوجی فورسز کے اہلکاروں پر دہشتگردانہ حملوں میں قابلِ ذکر اضافہ دیکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی، نیم فوجی اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر شہید کیے جا رہے ہیں، کوئی کھل کر نہیں کہے گا مگر پاکستان کے پاس فوجی کارروائیوں سمیت فضائی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ مفکرین اور مصنفین اس تشدد میں اضافے کو ملک میں سیاسی عدم استحکام سے منسلک کریں گے جبکہ دیگر ملک میں حقیقی نمائندہ حکومت نہ ہونے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ وضاحتیں جزوی طور پر سچ ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان کی حیثیت صرف اتنی ہی ہے اور اس سے زیادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے اور 2008ء سے 2016ء کے دوران فوجی آپریشنز نے پاکستان کو ترقی کی راہ میں پیچھے کی جانب دھکیلا ہے۔ یہ ماضی کی حکومت اور فوجی قیادت کے تذبذب کا براہ راست نتیجہ تھا جنہوں نے میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نظریاتی مذاکرات کی نذر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو اپنے ہتھیاروں سمیت واپس آنے کی اجازت دی گئی اور ان کے لیے کوئی شرائط طے نہیں کی گئیں۔ آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر وہ اپنے اصل انتہائی عقائد کی طرف واپس لوٹ گئے اور انہوں نے تشدد کے ذریعے ان جہالت پر مبنی عقائد کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان طویل عرصے سے لہولہان ہے لیکن اس کے چند اتحادی ہی اس کے درد کو صحیح معنوں میں سمجھتے ہیں۔ حالیہ دہشت گردانہ حملوں اور گھات لگا کر جو جنگی کارروائیاں کی گئیں، پاکستان نے ان کا جواب دیا۔ لیکن پاکستان کے جن ممالک کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے ہیں، انہوں نے اسے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر ان حملوں کو خود پر حملہ تصور نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا تعلق افغان طالبان کے اندرونی تناؤ سے ہو سکتا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قندھار میں طالبان کی اہم قیادت اور حقانی نیٹ ورک جیسے دیگر گروہوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں جن کی پاکستان نے طویل عرصے سے ایک دوست اتحادی کے طور پر حمایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ دنوں پاکستانی سرزمین پر ہونے والے کئی حملے جن کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی، ایسے علاقوں سے کیے گئے ہیں جو حقانی نیٹ ورک کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دو میں سے کسی ایک بات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یا تو حقانی نیٹ ورک کنٹرول کھو رہا ہے یا یہ خفیہ طور پر حملوں کی حمایت کرتے ہوئے دوہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ ماہرین اس پر جو بھی رائے رکھتے ہوں، حالیہ صورتِ حال پاکستان کے لیے کسی طور بھی امید افزا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ بار بار افغانوں کی غیرملکی حملہ آوروں سے نمٹنے کی تاریخ کا حوالہ دے رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ پچھلی دہائیوں میں واقعی انہوں نے غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین سے بےدخل کیا ہے مگر یہ بات اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سی آئی اے کی سرپرستی میں اسلحے سے لیس مزاحمت نہ کی جاتی تو سوویت کی ریڈ آرمی کو افغان زمین سے نکالنا ممکن نہ تھا۔ اسی طرح امریکا نے بھی فوجی جانی نقصان کے ساتھ ساتھ، مالی اعتبار سے بھاری قیمت چکائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی رقم امریکا نے افغانستان میں فوجیں رکھنے پر خرچ کی، اگر اس کا صرف ایک تہائی بھی مختلف گروہوں، سرداروں اور دھڑوں کو خریدنے میں لگا دیتا تو شاید اس کے لیے قیامِ امن زیادہ آسان ہوتا۔ امریکا اکثر پینٹاگون کی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی افغانستان پر حملہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں لیکن اگر افغان طالبان یونہی اپنی سرزمین سے متحرک ٹی ٹی پی پر لگام ڈالنے میں بےبسی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے تو پاکستان پھر مجبوراً اپنی فضائی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ان شرپسندوں اور گروہوں کے خلاف منظم حملے جاری رکھے گا جو سرحد پار سے آ کر ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے معاونین اور ان کے عسکری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل کے ساتھ بار بار  مذاکرات کے بعد، شاید وہ وقت آچکا ہے کہ طالبان کو یہ باور کروایا جائے کہ پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں کی اجازت دینے کی انہیں قیمت چکانا ہوگی۔ پاکستان اس درد کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاشبہ عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان کا کوئی بھی حملہ مکمل انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ فوجی کارروائیوں میں کوئی بھی حادثاتی جانی نقصان ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کے مزید منفی نتائج سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1949855/enough-is-enough"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معاملات اُس دن سے بگڑتے چلے گئے کہ جب اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کابل کے سرینا ہوٹل کی لابی میں چائے کا کپ پیش کیے جانے پر فاتحانہ (اور کسی حد تک قبل از وقت) انداز میں کہا تھا کہ ’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا‘۔ وہ اس وقت چینل 4 کی معتبر نمائندہ لنزے ہلسم کے سوال پر حیران ہوئے تھے۔</p>
<p>یہ وہ دن تھے کہ جب امریکی انخلا جس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا جبکہ ان کے جانشین جو بائیڈن نے 2021ء میں عملی طور پر اسے مکمل کیا، عمل میں آیا تھا۔ طالبان دوبارہ اقتدار میں آ چکے تھے کیونکہ اشرف غنی حکومت کی افواج نے بغیر کسی مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے تھے اور ان کے رہنما ملک چھوڑ کر فرار ہوچکے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272002"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ حد سے زیادہ امید افزا الفاظ بالکل اسی طرح غیر حقیقت پسندانہ تھے جیسے 1979ء میں سوویت یونین کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی رہی ہے۔ اس وقت پاکستان نے انتہائی مذہبی عقائد کے حامل جنگجوؤں کو ہتھیار بھیجنے اور تربیت دینے میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ہمارے ہی ملک کے لیے وجودی خطرہ پیدا کیا کیونکہ یوں یہ اجنبی نظریات یہاں (ہماری سرزمین) میں جڑ پکڑ گئے۔</p>
<p>مجھے یاد ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی یونیورسٹیز کے کیمپسز میں یہ کہتے ہوئے احتجاج کرتے تھے کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں ہے اور ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ مگر ہمیں ‘سوویت ایجنٹ ’ قرار دے دیا جاتا تھا اور اُس وقت کی ضیا الحق نواز اسلامیہ جمعیتِ طلبہ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا تھا جو فوجی آمر کے شانہ بشانہ، مکمل طور پر اس غیرملکی فنڈنگ سے چلنے والے، مسلح اور بیرونی حمایت یافتہ ‘جہاد’ کے حق میں تھی۔</p>
<p>اگرچہ آج کئی سابق سینئر فوجی افسران اس حقیقت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں مگر 1986ء کے جینیوا معاہدوں کے بعد سوویت انخلا کے وقت ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کا معروف تصور بارہا سننے کو ملتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر خاصا تنگ ہے اور بھارت کے برعکس بعض علاقوں میں کم رسائی رکھتا ہے تو وہ افغانستان کی سرزمین کو دفاعی سرزمین کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔</p>
<p>لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان نے متعدد بار شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں بھارت ملوث ہے۔ یہ مؤقف بظاہر درست بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر ہم اسے درست تسلیم کر لیں تو پھر یہ ہمارے کئی دیرینہ قومی مفروضوں کو خود ہی غلط ثابت کر دیتا ہے خاص طور پر یہ مفروضے کہ پہلے سوویت یونین اور پھر مغربی (یعنی امریکی) افواج کے خلاف جنگ میں افغانون کی حمایت کرنے سے پاکستان کو علاقائی تحفظ، دوستانہ ہمسایہ یا اسٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے۔</p>
<p>پائیدار دوستی کے بجائے اقتدار میں آنے والے طالبان نے اپنے نظریاتی بھائیوں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کیا کیونکہ دونوں ایک جیسے جہالت پر مبنی اور انتہا پسند نظریات کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>نتیجہ یہ سامنے آیا کہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں عوام اور سرحد پر مامور بہادر با وردی فوجیوں کو شہید کیا گیا۔ رواں سال موسمِ گرما میں بھارتی جارحیت کا نئی دہلی کے لیے اچھے نتائج سامنے نہ آنے کے بعد، ہم نے پاکستان کے فوجی و نیم فوجی فورسز کے اہلکاروں پر دہشتگردانہ حملوں میں قابلِ ذکر اضافہ دیکھا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فوجی، نیم فوجی اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر شہید کیے جا رہے ہیں، کوئی کھل کر نہیں کہے گا مگر پاکستان کے پاس فوجی کارروائیوں سمیت فضائی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوں گے۔</p>
<p>کچھ مفکرین اور مصنفین اس تشدد میں اضافے کو ملک میں سیاسی عدم استحکام سے منسلک کریں گے جبکہ دیگر ملک میں حقیقی نمائندہ حکومت نہ ہونے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ وضاحتیں جزوی طور پر سچ ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان کی حیثیت صرف اتنی ہی ہے اور اس سے زیادہ نہیں۔</p>
<p>پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے اور 2008ء سے 2016ء کے دوران فوجی آپریشنز نے پاکستان کو ترقی کی راہ میں پیچھے کی جانب دھکیلا ہے۔ یہ ماضی کی حکومت اور فوجی قیادت کے تذبذب کا براہ راست نتیجہ تھا جنہوں نے میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نظریاتی مذاکرات کی نذر کردیا۔</p>
<p>ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو اپنے ہتھیاروں سمیت واپس آنے کی اجازت دی گئی اور ان کے لیے کوئی شرائط طے نہیں کی گئیں۔ آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر وہ اپنے اصل انتہائی عقائد کی طرف واپس لوٹ گئے اور انہوں نے تشدد کے ذریعے ان جہالت پر مبنی عقائد کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>پاکستان طویل عرصے سے لہولہان ہے لیکن اس کے چند اتحادی ہی اس کے درد کو صحیح معنوں میں سمجھتے ہیں۔ حالیہ دہشت گردانہ حملوں اور گھات لگا کر جو جنگی کارروائیاں کی گئیں، پاکستان نے ان کا جواب دیا۔ لیکن پاکستان کے جن ممالک کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے ہیں، انہوں نے اسے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر ان حملوں کو خود پر حملہ تصور نہیں کیا۔</p>
<p>پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا تعلق افغان طالبان کے اندرونی تناؤ سے ہو سکتا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قندھار میں طالبان کی اہم قیادت اور حقانی نیٹ ورک جیسے دیگر گروہوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں جن کی پاکستان نے طویل عرصے سے ایک دوست اتحادی کے طور پر حمایت کی ہے۔</p>
<p>تاہم حالیہ دنوں پاکستانی سرزمین پر ہونے والے کئی حملے جن کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی، ایسے علاقوں سے کیے گئے ہیں جو حقانی نیٹ ورک کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ دو میں سے کسی ایک بات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یا تو حقانی نیٹ ورک کنٹرول کھو رہا ہے یا یہ خفیہ طور پر حملوں کی حمایت کرتے ہوئے دوہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ ماہرین اس پر جو بھی رائے رکھتے ہوں، حالیہ صورتِ حال پاکستان کے لیے کسی طور بھی امید افزا نہیں۔</p>
<p>لوگ بار بار افغانوں کی غیرملکی حملہ آوروں سے نمٹنے کی تاریخ کا حوالہ دے رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ پچھلی دہائیوں میں واقعی انہوں نے غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین سے بےدخل کیا ہے مگر یہ بات اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر سی آئی اے کی سرپرستی میں اسلحے سے لیس مزاحمت نہ کی جاتی تو سوویت کی ریڈ آرمی کو افغان زمین سے نکالنا ممکن نہ تھا۔ اسی طرح امریکا نے بھی فوجی جانی نقصان کے ساتھ ساتھ، مالی اعتبار سے بھاری قیمت چکائی ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی رقم امریکا نے افغانستان میں فوجیں رکھنے پر خرچ کی، اگر اس کا صرف ایک تہائی بھی مختلف گروہوں، سرداروں اور دھڑوں کو خریدنے میں لگا دیتا تو شاید اس کے لیے قیامِ امن زیادہ آسان ہوتا۔ امریکا اکثر پینٹاگون کی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی افغانستان پر حملہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں لیکن اگر افغان طالبان یونہی اپنی سرزمین سے متحرک ٹی ٹی پی پر لگام ڈالنے میں بےبسی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے تو پاکستان پھر مجبوراً اپنی فضائی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ان شرپسندوں اور گروہوں کے خلاف منظم حملے جاری رکھے گا جو سرحد پار سے آ کر ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے معاونین اور ان کے عسکری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانا ہوگا۔</p>
<p>کابل کے ساتھ بار بار  مذاکرات کے بعد، شاید وہ وقت آچکا ہے کہ طالبان کو یہ باور کروایا جائے کہ پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں کی اجازت دینے کی انہیں قیمت چکانا ہوگی۔ پاکستان اس درد کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔</p>
<p>بلاشبہ عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان کا کوئی بھی حملہ مکمل انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ فوجی کارروائیوں میں کوئی بھی حادثاتی جانی نقصان ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کے مزید منفی نتائج سامنے آئیں گے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1949855/enough-is-enough">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272027</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 16:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عباس ناصر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/20143332de7b627.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/20143332de7b627.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’پاکستان دشمنی میں طالبان اپنی طاقت کی صلاحیت کو حد سے زیادہ سمجھ رہے ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272002/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان طالبان حکومت کسی فریب کی دنیا میں جی رہی ہے۔ حالیہ دورہ بھارت کے دوران عبوری وزیر خارجہ نے یہ بیان دیا کہ افغانستان نے برطانوی، سوویت یونین اور امریکی افواج کو شکست دی تھی۔ جی نہیں، ایسا بالکل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کے افغان حکمرانوں کو دوسری اینگلو-افغان جنگ (1878ء-1880ء) میں برطانیہ کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست ہوئی تھی جس کے نتیجے میں برطانیہ نے افغانستان کو ’گریٹ گیم‘ کے دوران برطانوی راج اور روسی سلطنت کے درمیان ایک بفر زون میں تبدیل کر دیا تھا۔ عبدالرحمٰن خان نے برطانیہ کے زیرقبضہ ہندوستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کو سرحد کے طور پر قبول کیا جس کی توثیق بعدازاں افغان حکمرانوں نے بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے تو ان کے افغانستان سے انخلا میں امریکا اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں نے اہم کردار ادا کیا تھا جنہوں نے 1980ء کی دہائی میں افغان عوام کو سوویت سے بچایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2001ء سے امریکا کی افغانستان میں موجودگی جاری رہی جو اُس وقت ختم ہوئی کہ جب خود امریکا نے اگست 2021ء میں انخلا کا فیصلہ کیا کیونکہ امریکی رائے عامہ دور دراز کی جنگوں کے خلاف ہو چکی تھی جبکہ پاکستان میں طالبان کو جو اسٹریٹجک پناہ حاصل تھی، وہ بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 4 سال سے دنیا طالبان سے توقع کر رہی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ 2020ء میں طے پائے جانے والے دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ تاہم انہوں نے اس معاہدے کے تحت کیے جانے والے حقیقی نمائندہ حکومت کا قیام، خواتین کے حقوق کا احترام اور افغان سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کو کارروائی کی اجازت نہ دینے، کے تینوں وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان بالخصوص پاکستان کے ساتھ حال ہی میں ایک خاص مخالفانہ رویہ اختیار کررہے ہیں جبکہ وہ دوہری پالیسی چال چل رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ بھارت کے ساتھ اتحاد کررہے ہیں جس کا مقصد نہ صرف صحت، تعلیم اور بنیادی انفرااسٹرکچر میں بھارتی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا ہے بلکہ اس غلط فہمی کے تحت پاکستان پر دوہرا دباؤ ڈالنا بھی ہے کہ پاکستان کا دشمن افغانستان کا دوست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بھارت جو ماضی میں طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے، اس نے اپنی پالیسی یکسر بدل دی ہے تاکہ وہ طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے، بالکل اسی طرح جیسے طالبان بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ بھارت کو امید ہے کہ وہ طالبان کو پاکستان سے مزید دور لے جاسکے اور حتیٰ کہ چین کے اثر سے بھی نکال سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی دوہری چال کا دوسرا رخ ان کی جارحانہ عسکری کارروائیوں میں اضافہ ہے جس کا مقصد پاک-افغان سرحد کو غیرمستحکم کرنا ہے (جس کی مثال 11 اور 12 اکتوبر 2025ء کے سرحدی واقعات ہیں) جبکہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت کی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر پاکستان مخالف گروہوں کی حمایت پر مسلسل احتجاج کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جوکہ پاکستان میں بچوں اور دیگر بے گناہ شہریوں کی شہادت میں ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال پاکستان نے ان افغان حملوں کو ناکام بنادیا ہے اور طالبان فورسز اور ان کے ٹی ٹی پی اتحادیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ طالبان، پاکستان کے اس مطالبے پر کان دھرنے کو تیار نہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگرد عناصر کو پناہ نہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس افغان قیادت ہر بار ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ان دہشتگردوں سے پاکستان کے اندر ہی نمٹا جائے۔ طالبان میڈیا بھی غلط معلومات پھیلانے میں پیش پیش ہے جوکہ بھارتی میڈیا کی ڈگر پر چلتا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان اتنے ناشکرے اور اس قدر پاکستان دشمنی پر کیوں اتر آئے ہیں؟ گمان ہوتا ہے کہ وہ وسیع تر افغان معاشرے سے حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرست بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے زیرِاثر نہیں ہیں۔ وہ شاید پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے امکان کے تحت ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس تمام روش میں وہ اپنی طاقت کی صلاحیت کو حد سے زیادہ سمجھ رہے ہیں اور ممکن ہے کہ جلد ہی انہیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کے لیے یہ سمجھداری ہوگی کہ وہ اپنی سرحدوں کے دفاع اور طالبان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کو شکست دینے کے پاکستان کے عزم کو کم نہ سمجھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پاکستان کو طالبان کے ساتھ کیسے نمٹنا چاہیے؟ اس اثنا میں فوری طور پر کئی اقدامات پر غور کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کو افغانستان (اور بھارت) کے ساتھ اپنی سرحدوں پر مضبوط دفاع کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ صرف طاقت ہی جارحیت کو روک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم اقدام یہ ہوگا کہ پاکستان کو کابل کو یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، بشرطیکہ طالبان، ٹی ٹی پی کی حمایت ختم کرنے کا پختہ اور عملی وعدہ کریں۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتے ہیں تو پھر فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز کے امکانات موجود رہنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا یہ کہ پاکستان کو سعودی عرب (جو اب باہمی دفاعی معاہدے میں پاکستان کا شراکت دار ہے)، چین، روس، ایران، وسطی ایشیائی جمہوریہ ممالک، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکا تک سفارتی رابطے کے ذریعے طالبان پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271511"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القاعدہ کے ساتھ طالبان کی ماضی کی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی برادری کبھی بھی یہ نہیں چاہے گی کہ طالبان دوبارہ دہشتگرد تنظیموں کی میزبانی کریں۔ پاکستان کو بھی اپنی شکایات سلامتی کونسل کی قرارداد 1988ء (1267) کی پابندیوں کے تحت اقوام متحدہ میں درج کروانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان کو اپنے ملک میں ایک وسیع اتفاق رائے قائم کرنا چاہیے تاکہ ماضی میں افغان مہاجرین کے حوالے سے اپنائی گئی فراخ دلانہ پالیسیز کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان پالیسیز میں افغان طلبہ کے لیے اسکالرشپس، پاکستانی ہسپتالوں میں افغانوں کے لیے خصوصی ڈیسک، پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے ہونے والی ٹرانزٹ ٹریڈ پر کسٹم ڈیوٹیز جمع کرنا اور افغان معاشرے تک میڈیا کے ذریعے پیغام پہنچانا شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ماہرین کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کے لیے شامل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل مدتی اقدامات کے طور پر پاکستان کو سابقہ فاٹا کے سرحدی علاقے میں ترقیاتی کاموں کے ذریعے مقیم شہریوں کے دل جیتنے اور ان کی ذہنیت بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ لوگ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1949853/talibans-new-ploy"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان طالبان حکومت کسی فریب کی دنیا میں جی رہی ہے۔ حالیہ دورہ بھارت کے دوران عبوری وزیر خارجہ نے یہ بیان دیا کہ افغانستان نے برطانوی، سوویت یونین اور امریکی افواج کو شکست دی تھی۔ جی نہیں، ایسا بالکل نہیں تھا۔</p>
<p>اس وقت کے افغان حکمرانوں کو دوسری اینگلو-افغان جنگ (1878ء-1880ء) میں برطانیہ کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست ہوئی تھی جس کے نتیجے میں برطانیہ نے افغانستان کو ’گریٹ گیم‘ کے دوران برطانوی راج اور روسی سلطنت کے درمیان ایک بفر زون میں تبدیل کر دیا تھا۔ عبدالرحمٰن خان نے برطانیہ کے زیرقبضہ ہندوستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کو سرحد کے طور پر قبول کیا جس کی توثیق بعدازاں افغان حکمرانوں نے بھی کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے تو ان کے افغانستان سے انخلا میں امریکا اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں نے اہم کردار ادا کیا تھا جنہوں نے 1980ء کی دہائی میں افغان عوام کو سوویت سے بچایا تھا۔</p>
<p>2001ء سے امریکا کی افغانستان میں موجودگی جاری رہی جو اُس وقت ختم ہوئی کہ جب خود امریکا نے اگست 2021ء میں انخلا کا فیصلہ کیا کیونکہ امریکی رائے عامہ دور دراز کی جنگوں کے خلاف ہو چکی تھی جبکہ پاکستان میں طالبان کو جو اسٹریٹجک پناہ حاصل تھی، وہ بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ بنی۔</p>
<p>گزشتہ 4 سال سے دنیا طالبان سے توقع کر رہی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ 2020ء میں طے پائے جانے والے دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ تاہم انہوں نے اس معاہدے کے تحت کیے جانے والے حقیقی نمائندہ حکومت کا قیام، خواتین کے حقوق کا احترام اور افغان سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کو کارروائی کی اجازت نہ دینے، کے تینوں وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔</p>
<p>طالبان بالخصوص پاکستان کے ساتھ حال ہی میں ایک خاص مخالفانہ رویہ اختیار کررہے ہیں جبکہ وہ دوہری پالیسی چال چل رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ بھارت کے ساتھ اتحاد کررہے ہیں جس کا مقصد نہ صرف صحت، تعلیم اور بنیادی انفرااسٹرکچر میں بھارتی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا ہے بلکہ اس غلط فہمی کے تحت پاکستان پر دوہرا دباؤ ڈالنا بھی ہے کہ پاکستان کا دشمن افغانستان کا دوست ہے۔</p>
<p>دوسری جانب بھارت جو ماضی میں طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے، اس نے اپنی پالیسی یکسر بدل دی ہے تاکہ وہ طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے، بالکل اسی طرح جیسے طالبان بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ بھارت کو امید ہے کہ وہ طالبان کو پاکستان سے مزید دور لے جاسکے اور حتیٰ کہ چین کے اثر سے بھی نکال سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>طالبان کی دوہری چال کا دوسرا رخ ان کی جارحانہ عسکری کارروائیوں میں اضافہ ہے جس کا مقصد پاک-افغان سرحد کو غیرمستحکم کرنا ہے (جس کی مثال 11 اور 12 اکتوبر 2025ء کے سرحدی واقعات ہیں) جبکہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت کی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر پاکستان مخالف گروہوں کی حمایت پر مسلسل احتجاج کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جوکہ پاکستان میں بچوں اور دیگر بے گناہ شہریوں کی شہادت میں ملوث ہیں۔</p>
<p>فی الحال پاکستان نے ان افغان حملوں کو ناکام بنادیا ہے اور طالبان فورسز اور ان کے ٹی ٹی پی اتحادیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ طالبان، پاکستان کے اس مطالبے پر کان دھرنے کو تیار نہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگرد عناصر کو پناہ نہ دیں۔</p>
<p>اس کے برعکس افغان قیادت ہر بار ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ان دہشتگردوں سے پاکستان کے اندر ہی نمٹا جائے۔ طالبان میڈیا بھی غلط معلومات پھیلانے میں پیش پیش ہے جوکہ بھارتی میڈیا کی ڈگر پر چلتا دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>طالبان اتنے ناشکرے اور اس قدر پاکستان دشمنی پر کیوں اتر آئے ہیں؟ گمان ہوتا ہے کہ وہ وسیع تر افغان معاشرے سے حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرست بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے زیرِاثر نہیں ہیں۔ وہ شاید پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے امکان کے تحت ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم اس تمام روش میں وہ اپنی طاقت کی صلاحیت کو حد سے زیادہ سمجھ رہے ہیں اور ممکن ہے کہ جلد ہی انہیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کے لیے یہ سمجھداری ہوگی کہ وہ اپنی سرحدوں کے دفاع اور طالبان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کو شکست دینے کے پاکستان کے عزم کو کم نہ سمجھیں۔</p>
<p>تو پاکستان کو طالبان کے ساتھ کیسے نمٹنا چاہیے؟ اس اثنا میں فوری طور پر کئی اقدامات پر غور کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کو افغانستان (اور بھارت) کے ساتھ اپنی سرحدوں پر مضبوط دفاع کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ صرف طاقت ہی جارحیت کو روک سکتی ہے۔</p>
<p>دوسرا اہم اقدام یہ ہوگا کہ پاکستان کو کابل کو یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، بشرطیکہ طالبان، ٹی ٹی پی کی حمایت ختم کرنے کا پختہ اور عملی وعدہ کریں۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتے ہیں تو پھر فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز کے امکانات موجود رہنے چاہئیں۔</p>
<p>تیسرا یہ کہ پاکستان کو سعودی عرب (جو اب باہمی دفاعی معاہدے میں پاکستان کا شراکت دار ہے)، چین، روس، ایران، وسطی ایشیائی جمہوریہ ممالک، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکا تک سفارتی رابطے کے ذریعے طالبان پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271511"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>القاعدہ کے ساتھ طالبان کی ماضی کی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی برادری کبھی بھی یہ نہیں چاہے گی کہ طالبان دوبارہ دہشتگرد تنظیموں کی میزبانی کریں۔ پاکستان کو بھی اپنی شکایات سلامتی کونسل کی قرارداد 1988ء (1267) کی پابندیوں کے تحت اقوام متحدہ میں درج کروانی چاہئیں۔</p>
<p>اسی دوران پاکستان کو اپنے ملک میں ایک وسیع اتفاق رائے قائم کرنا چاہیے تاکہ ماضی میں افغان مہاجرین کے حوالے سے اپنائی گئی فراخ دلانہ پالیسیز کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان پالیسیز میں افغان طلبہ کے لیے اسکالرشپس، پاکستانی ہسپتالوں میں افغانوں کے لیے خصوصی ڈیسک، پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے ہونے والی ٹرانزٹ ٹریڈ پر کسٹم ڈیوٹیز جمع کرنا اور افغان معاشرے تک میڈیا کے ذریعے پیغام پہنچانا شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ماہرین کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کے لیے شامل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>طویل مدتی اقدامات کے طور پر پاکستان کو سابقہ فاٹا کے سرحدی علاقے میں ترقیاتی کاموں کے ذریعے مقیم شہریوں کے دل جیتنے اور ان کی ذہنیت بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ لوگ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1949853/talibans-new-ploy">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272002</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 17:19:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اعزاز احمد چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/201018197a8423d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/201018197a8423d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور افغانستان کو تشدد یا دہشت گردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں، وزیردفاع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271991/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیردفاع نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے  تعلقات معمول پر آ گئے ہیں اور تشدد یا دہشت گردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وائس ایجنسی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.avapress.com/en/news/332351/pakistan-defense-minister-there-is-no-imminent-threat-of-violence-or-terrorism-between-afghanistan-and"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ   انہوں نے افغانستان کے حکام کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی کو فوری طور پر روکا جائے اور دونوں ممالک کی جانب سے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل میں گزشتہ رات کئی گھنٹوں کی مذاکراتی نشست کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے معاہدے پر دستخط کے بعد کہا کہ یہ معاہدہ قطر اور ترکی کی ثالثی سے طے پایا اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی اور دشمنانہ کارروائیاں بند کرنے پر وسیع تر اتفاق رائے موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قطر اور ترکی کی موجودگی اور ان کی نیک نیتی اس معاہدے کے نفاذ اور دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کے مطابق، ’ وہ سرحدیں اور گزرگاہیں جو حالیہ کشیدگی کے باعث بند کی گئی تھیں، ان کا جائزہ استنبول اجلاس میں لیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آ گئے ہیں اور تشدد یا دہشت گردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر اور ترکی کی شمولیت اس معاہدے کے فریم ورک کے تحت نتائج طے کرنے اور مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیردفاع نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے  تعلقات معمول پر آ گئے ہیں اور تشدد یا دہشت گردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔</p>
<p>افغان وائس ایجنسی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.avapress.com/en/news/332351/pakistan-defense-minister-there-is-no-imminent-threat-of-violence-or-terrorism-between-afghanistan-and">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ   انہوں نے افغانستان کے حکام کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی کو فوری طور پر روکا جائے اور دونوں ممالک کی جانب سے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔</p>
<p>کابل میں گزشتہ رات کئی گھنٹوں کی مذاکراتی نشست کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے معاہدے پر دستخط کے بعد کہا کہ یہ معاہدہ قطر اور ترکی کی ثالثی سے طے پایا اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی اور دشمنانہ کارروائیاں بند کرنے پر وسیع تر اتفاق رائے موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قطر اور ترکی کی موجودگی اور ان کی نیک نیتی اس معاہدے کے نفاذ اور دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خواجہ آصف کے مطابق، ’ وہ سرحدیں اور گزرگاہیں جو حالیہ کشیدگی کے باعث بند کی گئی تھیں، ان کا جائزہ استنبول اجلاس میں لیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا۔’</p>
<p>خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آ گئے ہیں اور تشدد یا دہشت گردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر اور ترکی کی شمولیت اس معاہدے کے فریم ورک کے تحت نتائج طے کرنے اور مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271991</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 00:08:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/200005579e7dd31.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/200005579e7dd31.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان مخالف پروپیگنڈا نہ کرنے پر دوسرے بڑے افغان چینل شمشاد ٹی وی کی نشریات معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271960/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان مخالف بیانیہ پیش نہ کرنے پر ملک کے دوسرے بڑے نشریاتی ادارے شمشاد ٹی وی کی نشریات معطل کردیں، میڈیا تنظیموں نے معاملے کی وضاحت اور نشریات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان نشریاتی ادارے خامہ پریس کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaama.com/broadcasts-of-shamshad-tv-suspended-in-afghanistan/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق طالبان حکام اور نہ ہی شمشاد ٹی وی کے نمائندوں نے اس بندش پر کوئی تبصرہ کیا ہے، شمشاد ان چند میڈیا اداروں میں سے ایک تھا جو خطے اور سیاسی معاملات پر نسبتاً آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان جرنلسٹس سینٹر (اے ایف جے سی) نے ہفتے کو بتایا کہ کابل انتظامیہ نے ملک کے نمایاں نجی نشریاتی اداروں میں سے ایک شمشاد ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف جے سی کے بیان کے مطابق جمعے کی شام شمشاد کی نشریات طالبان کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے براہِ راست حکم کے بعد بند کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے کابل اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی مناسب کوریج نہیں کی اور پاکستان کے فضائی حملوں کے دوران کابل کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244209"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اے ایم ایس او) نے بھی ٹی وی کی نشریات کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے میڈیا حکام نے شمشاد کے انتظامیہ کو بتایا کہ یہ حکم براہِ راست قندھار سے آیا ہے، جو تحریکِ طالبان کا سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف جے سی اور اے ایم ایس او دونوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد میڈیا کے کام میں صریح مداخلت قرار دیا اور حکام سے فوری طور پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشریاتی ادارے افغان انٹرنیشنل کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.afintl.com/en/202510187968"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق اے ایف جے سی  نے نشاندہی کی کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران طالبان نے افغانستان میں میڈیا کے ماحول کو سختی سے محدود کر دیا ہے، جس میں وسیع پابندیاں عائد کرنا، میڈیا اداروں کو بند کرنا اور صحافیوں کو گرفتار یا دھمکانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان اس سے قبل بھی کئی دیگر میڈیا نیٹ ورکس کی سرگرمیاں معطل کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے افغان جرنلسٹس سینٹر نے اطلاع دی تھی کہ طالبان کی جانب سے زندہ مخلوقات کی تصاویر نشر کرنے پر پابندی کے احکامات ملک کے 20 سے زائد صوبوں میں نافذ کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان مخالف بیانیہ پیش نہ کرنے پر ملک کے دوسرے بڑے نشریاتی ادارے شمشاد ٹی وی کی نشریات معطل کردیں، میڈیا تنظیموں نے معاملے کی وضاحت اور نشریات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>افغان نشریاتی ادارے خامہ پریس کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaama.com/broadcasts-of-shamshad-tv-suspended-in-afghanistan/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق طالبان حکام اور نہ ہی شمشاد ٹی وی کے نمائندوں نے اس بندش پر کوئی تبصرہ کیا ہے، شمشاد ان چند میڈیا اداروں میں سے ایک تھا جو خطے اور سیاسی معاملات پر نسبتاً آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے تھا۔</p>
<p>افغان جرنلسٹس سینٹر (اے ایف جے سی) نے ہفتے کو بتایا کہ کابل انتظامیہ نے ملک کے نمایاں نجی نشریاتی اداروں میں سے ایک شمشاد ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>اے ایف جے سی کے بیان کے مطابق جمعے کی شام شمشاد کی نشریات طالبان کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے براہِ راست حکم کے بعد بند کر دی گئیں۔</p>
<p>ادارے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے کابل اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی مناسب کوریج نہیں کی اور پاکستان کے فضائی حملوں کے دوران کابل کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244209"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اے ایم ایس او) نے بھی ٹی وی کی نشریات کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے میڈیا حکام نے شمشاد کے انتظامیہ کو بتایا کہ یہ حکم براہِ راست قندھار سے آیا ہے، جو تحریکِ طالبان کا سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اے ایف جے سی اور اے ایم ایس او دونوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد میڈیا کے کام میں صریح مداخلت قرار دیا اور حکام سے فوری طور پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>نشریاتی ادارے افغان انٹرنیشنل کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.afintl.com/en/202510187968">رپورٹ</a> کے مطابق اے ایف جے سی  نے نشاندہی کی کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران طالبان نے افغانستان میں میڈیا کے ماحول کو سختی سے محدود کر دیا ہے، جس میں وسیع پابندیاں عائد کرنا، میڈیا اداروں کو بند کرنا اور صحافیوں کو گرفتار یا دھمکانا شامل ہے۔</p>
<p>طالبان اس سے قبل بھی کئی دیگر میڈیا نیٹ ورکس کی سرگرمیاں معطل کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے افغان جرنلسٹس سینٹر نے اطلاع دی تھی کہ طالبان کی جانب سے زندہ مخلوقات کی تصاویر نشر کرنے پر پابندی کے احکامات ملک کے 20 سے زائد صوبوں میں نافذ کیے جا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271960</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Oct 2025 16:22:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/19161926d657fad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/19161926d657fad.webp"/>
        <media:title>جمعے کی شام شمشاد کی نشریات طالبان کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے براہِ راست حکم کے بعد بند کر دی گئیں، اے ایف جے سی — فوٹو: خامہ پریس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیکٹ چیک: وائرل ویڈیوز اور تصاویر افغانستان کے میزائل تجربے کی نہیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271835/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ روز  سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس  پر متعدد افغان اور بھارتی اکاؤنٹس نے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان کی دفاعی افواج نے پاکستان کے ساتھ حالیہ لڑائی کے دوران 400 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل کا کامیابی سے تجربہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://iverifypakistan.com/viral-visuals-do-not-show-afghanistan-missile-test-amid-pakistan-tensions/"&gt;آئی ویریفائی پاکستان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی ٹیم کی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی کہ  یہ مناظر  افغانستان کی جانب سے کیے گئے کسی میزائل تجربے کے نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  12 اکتوبر کو پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید  جبکہ 200 سے زائد طالبان ہلاک ہوئے تھے، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی جنگجو بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی، 15 اکتوبر کو تیسری بڑی جھڑپ اسپن بولدک میں ہوئی، جہاں پاکستانی فورسز نے طالبان کا حملہ پسپا کیا اور 15 سے 20 جنگجو ہلاک کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دعویٰ" href="#دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دعویٰ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;16 اکتوبر کو ایک  افغانستان کے حامی اکاؤنٹ نے ایک میزائل فائر ہونے کی تصویر ایکس  پر &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/GbVi9"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی، جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’ تازہ خبر: افغانستان کی دفاعی افواج نے 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والا میزائل کامیابی سے تجربہ کیا ہے، ہمارا اپنا میزائل… مبارک ہو!’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوسٹ 83 ہزار بار دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تصویر کے ساتھ ایک اور افغان صارف نے یہی دعویٰ کیا، جسے 93 ہزار سے زائد ویوز ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر افغان صارفین نے بھی یہی ویڈیو اور دعویٰ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/GVRfu"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا، جیسا کہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/6HFst"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/xQDdB"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/hNgEj"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اور &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/1xTlc"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دیکھا جا سکتا ہے؛ جنہیں مجموعی طور پر 76 ہزار سے زیادہ بار دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی تصویر افغان حکومت کے اردو اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی گئی، مگر بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-7/12  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/1717465083d7a06.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ بھارتی اکاؤنٹس نے میزائل فائر کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/5hkvZ"&gt;ویڈیو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; بھی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/B5UjM"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی، جسے 11000 سے زیادہ ویوز ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، کچھ افغان اور بھارتی صارفین نے اسی دعوے کے ساتھ ایک مختلف اور طویل ویڈیو شیئر کی، جیسا کہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/q7GOm"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/ISHtf"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/PpC8F"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/qweFE"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/bP1Ev"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/x2DXq"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/TAhbr"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/mW2LA"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اور &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/KWf1x"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دیکھا جا سکتا ہے؛ جسے مجموعی طور پر 35 ہزار 500 سے زائد بار دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی نیوز چینل آر ٹی انٹرنیشنل نے بھی یہی ویڈیو &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/Qbkx6"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی، لیکن بعد میں پوسٹ ہٹا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فیکٹ-چیک" href="#فیکٹ-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیکٹ چیک&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس دعوے کی وائرل ہونے اور عوامی دلچسپی کے باعث فیکٹ چیک کیا گیا۔ کلیدی الفاظ کی تلاش سے کسی مستند افغان یا بین الاقوامی میڈیا ادارے کی جانب سے کسی ایسے میزائل تجربے کی کوئی رپورٹ یا ویڈیو نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ موجودہ افغان حکومت کی کسی بھی میزائل صلاحیت کے بارے میں کوئی خبر دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریورس امیج سرچ کے ذریعے پتا چلا کہ پہلی تصویر 24 فروری 2023 کی جنوبی کورین میڈیا &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ytn.co.kr/_ln/0101_202302240659077734"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; وائی ٹی این سے لی گئی ہے، جس میں شمالی کوریا کی جانب سے چار میزائلوں کے تجربے کی خبر دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ویڈیو بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز  نے بھی 24 فروری 2023 کو شائع کی تھی، جس میں شمالی کوریا کے نیوکلئیر کاؤنٹر اٹیک کے لیے میزائل فائر کرنے کا ذکر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری ویڈیو کی ریورس سرچ سے پتا چلا کہ یہ 10 مئی 2025 کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=1eEvo1lUDgE"&gt;ویڈیو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہے جو بزنس ریکارڈر (پاکستانی نیوز آؤٹ لیٹ) کے یوٹیوب چینل پر شائع ہوئی تھی، جس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ایئربیس پر ’ فتح-1 میزائل’  فائر کرنے کی فوٹیج دکھائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نتیجہ--گمراہ-کُن" href="#نتیجہ--گمراہ-کُن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نتیجہ : گمراہ کُن&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ دعویٰ کہ وائرل مناظر میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران افغان فوج میزائل تجربہ کر رہی ہے، غلط ہے، یہ ویڈیوز پرانے اور غیر متعلقہ واقعات کی ہیں، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ افغانستان نے ایسا کوئی میزائل تجربہ کیا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ روز  سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس  پر متعدد افغان اور بھارتی اکاؤنٹس نے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان کی دفاعی افواج نے پاکستان کے ساتھ حالیہ لڑائی کے دوران 400 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل کا کامیابی سے تجربہ کیا ہے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://iverifypakistan.com/viral-visuals-do-not-show-afghanistan-missile-test-amid-pakistan-tensions/">آئی ویریفائی پاکستان</a></strong> کی ٹیم کی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی کہ  یہ مناظر  افغانستان کی جانب سے کیے گئے کسی میزائل تجربے کے نہیں ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ  12 اکتوبر کو پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید  جبکہ 200 سے زائد طالبان ہلاک ہوئے تھے، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی جنگجو بھی شامل تھے۔</p>
<p>14 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی، 15 اکتوبر کو تیسری بڑی جھڑپ اسپن بولدک میں ہوئی، جہاں پاکستانی فورسز نے طالبان کا حملہ پسپا کیا اور 15 سے 20 جنگجو ہلاک کیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="دعویٰ" href="#دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دعویٰ</h1>
<p>16 اکتوبر کو ایک  افغانستان کے حامی اکاؤنٹ نے ایک میزائل فائر ہونے کی تصویر ایکس  پر <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/GbVi9">شیئر</a></strong> کی، جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’ تازہ خبر: افغانستان کی دفاعی افواج نے 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والا میزائل کامیابی سے تجربہ کیا ہے، ہمارا اپنا میزائل… مبارک ہو!’</p>
<p>یہ پوسٹ 83 ہزار بار دیکھی گئی۔</p>
<p>اسی تصویر کے ساتھ ایک اور افغان صارف نے یہی دعویٰ کیا، جسے 93 ہزار سے زائد ویوز ملے۔</p>
<p>دیگر افغان صارفین نے بھی یہی ویڈیو اور دعویٰ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/GVRfu">شیئر</a></strong> کیا، جیسا کہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/6HFst">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/xQDdB">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/hNgEj">یہاں</a></strong> اور <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/1xTlc">یہاں</a></strong> دیکھا جا سکتا ہے؛ جنہیں مجموعی طور پر 76 ہزار سے زیادہ بار دیکھا گیا۔</p>
<p>یہی تصویر افغان حکومت کے اردو اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی گئی، مگر بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-7/12  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/1717465083d7a06.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کچھ بھارتی اکاؤنٹس نے میزائل فائر کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/5hkvZ">ویڈیو</a></strong> بھی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/B5UjM">شیئر</a></strong> کی، جسے 11000 سے زیادہ ویوز ملے۔</p>
<p>اسی دوران، کچھ افغان اور بھارتی صارفین نے اسی دعوے کے ساتھ ایک مختلف اور طویل ویڈیو شیئر کی، جیسا کہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/q7GOm">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/ISHtf">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/PpC8F">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/qweFE">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/bP1Ev">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/x2DXq">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/TAhbr">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/mW2LA">یہاں</a></strong> اور <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/KWf1x">یہاں</a></strong> دیکھا جا سکتا ہے؛ جسے مجموعی طور پر 35 ہزار 500 سے زائد بار دیکھا گیا۔</p>
<p>روسی نیوز چینل آر ٹی انٹرنیشنل نے بھی یہی ویڈیو <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.fo/Qbkx6">شیئر</a></strong> کی، لیکن بعد میں پوسٹ ہٹا دی۔</p>
<h1><a id="فیکٹ-چیک" href="#فیکٹ-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیکٹ چیک</h1>
<p>اس دعوے کی وائرل ہونے اور عوامی دلچسپی کے باعث فیکٹ چیک کیا گیا۔ کلیدی الفاظ کی تلاش سے کسی مستند افغان یا بین الاقوامی میڈیا ادارے کی جانب سے کسی ایسے میزائل تجربے کی کوئی رپورٹ یا ویڈیو نہیں ملی۔</p>
<p>مزید یہ کہ موجودہ افغان حکومت کی کسی بھی میزائل صلاحیت کے بارے میں کوئی خبر دستیاب نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ریورس امیج سرچ کے ذریعے پتا چلا کہ پہلی تصویر 24 فروری 2023 کی جنوبی کورین میڈیا <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ytn.co.kr/_ln/0101_202302240659077734">رپورٹ</a></strong> وائی ٹی این سے لی گئی ہے، جس میں شمالی کوریا کی جانب سے چار میزائلوں کے تجربے کی خبر دی گئی تھی۔</p>
<p>یہی ویڈیو بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز  نے بھی 24 فروری 2023 کو شائع کی تھی، جس میں شمالی کوریا کے نیوکلئیر کاؤنٹر اٹیک کے لیے میزائل فائر کرنے کا ذکر تھا۔</p>
<p>دوسری ویڈیو کی ریورس سرچ سے پتا چلا کہ یہ 10 مئی 2025 کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=1eEvo1lUDgE">ویڈیو</a></strong> ہے جو بزنس ریکارڈر (پاکستانی نیوز آؤٹ لیٹ) کے یوٹیوب چینل پر شائع ہوئی تھی، جس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ایئربیس پر ’ فتح-1 میزائل’  فائر کرنے کی فوٹیج دکھائی گئی تھی۔</p>
<h1><a id="نتیجہ--گمراہ-کُن" href="#نتیجہ--گمراہ-کُن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نتیجہ : گمراہ کُن</h1>
<p>یہ دعویٰ کہ وائرل مناظر میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران افغان فوج میزائل تجربہ کر رہی ہے، غلط ہے، یہ ویڈیوز پرانے اور غیر متعلقہ واقعات کی ہیں، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ افغانستان نے ایسا کوئی میزائل تجربہ کیا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271835</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 22:26:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/17205719d4db6a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/17205719d4db6a8.webp"/>
        <media:title>فوٹو: آئی ویریفائی پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271730/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے، سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگران ٹیم نے یہ 36 ویں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://docs.un.org/en/S/2025/482"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; 24 جولائی کو پیش کی تھی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے حکام دہشت گرد گروہوں بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں، یہ دہشتگرد گروہ وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کا تعلق زیادہ تر عرب نژاد جنگجوؤں سے ہے، یہ جنگجو وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں طالبان کے ساتھ مل کر جنگ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو افغانستان کے 6 صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل  میں پھیلے ہوئے ہیں، افغانستان میں القاعدہ سے منسلک کئی تربیتی مراکز کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، 3 نئے تربیتی مراکز  میں القاعدہ اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223374"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے پیراگراف نمبر 93 میں کہا گیا ہے کہ  ٹی ٹی پی فتنۃ الخوارج کے پاس تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں، فتنہ الخوارج کو مختلف اقسام کے ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے، ان ہتھیاروں کی دستیابی نے اس کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کر دیا ہے، خطے کے پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری  کا قلع قمع کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ سال سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اقوام متحدہ داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے متعلق جائزہ رپورٹ میں بھی فتنۃ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان کا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے، جسے افغان طالبان اور القاعدہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دھڑوں کی جانب سے آپریشنل اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1845334"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی داعش اور القاعدہ/طالبان سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی 15ویں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ کے طور پر تصور نہیں کرتے، ان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لگ بھگ 6 ہزار سے 6 ہزار 500 جنگجوؤں کا اندازہ لگاتے ہوئے رپورٹ میں نوٹ کیا گیا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اب ان دو درجن یا اس سے زیادہ گروپوں میں سب سے بڑا ہے، جنہیں طالبان حکومت کے دور میں آزادی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ سے اسلام آباد کے مؤقف کی تصدیق ہوئی تھی کہ کابل پاکستان کو درپیش دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے، جسے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی جیسے حکام نے بار بار دہرایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے، سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p>تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگران ٹیم نے یہ 36 ویں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://docs.un.org/en/S/2025/482"><strong>رپورٹ</strong></a> 24 جولائی کو پیش کی تھی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے حکام دہشت گرد گروہوں بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں، یہ دہشتگرد گروہ وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کا تعلق زیادہ تر عرب نژاد جنگجوؤں سے ہے، یہ جنگجو وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں طالبان کے ساتھ مل کر جنگ کی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو افغانستان کے 6 صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل  میں پھیلے ہوئے ہیں، افغانستان میں القاعدہ سے منسلک کئی تربیتی مراکز کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، 3 نئے تربیتی مراکز  میں القاعدہ اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223374"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے پیراگراف نمبر 93 میں کہا گیا ہے کہ  ٹی ٹی پی فتنۃ الخوارج کے پاس تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں، فتنہ الخوارج کو مختلف اقسام کے ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے، ان ہتھیاروں کی دستیابی نے اس کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کر دیا ہے، خطے کے پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری  کا قلع قمع کیا جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ سال سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اقوام متحدہ داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے متعلق جائزہ رپورٹ میں بھی فتنۃ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان کا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے، جسے افغان طالبان اور القاعدہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دھڑوں کی جانب سے آپریشنل اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1845334"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی داعش اور القاعدہ/طالبان سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی 15ویں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ کے طور پر تصور نہیں کرتے، ان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔</p>
<p>لگ بھگ 6 ہزار سے 6 ہزار 500 جنگجوؤں کا اندازہ لگاتے ہوئے رپورٹ میں نوٹ کیا گیا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اب ان دو درجن یا اس سے زیادہ گروپوں میں سب سے بڑا ہے، جنہیں طالبان حکومت کے دور میں آزادی حاصل ہے۔</p>
<p>اس رپورٹ سے اسلام آباد کے مؤقف کی تصدیق ہوئی تھی کہ کابل پاکستان کو درپیش دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے، جسے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی جیسے حکام نے بار بار دہرایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271730</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 15:54:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ مومند)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/161548192f2c5ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/161548192f2c5ee.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر بمباری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271660/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار  اور دارالحکومت کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر  بمباری کی، تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کیے گئے  جو شہری آبادی سے دور تھے، اس  بمباری کے بعد  پاکستان نے  افغانستان کی جانب سے کی گئی سیز فائر کی درخواست قبول کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی ویژن کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ کابل میں فتنۃ الخوارج کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع  کے مطابق پاکستان نے صوبہ قندھار اور کابل میں مخصوص اہداف کا تعین کرتے ہوئے خالصتاً افغان طالبان اور خوارجین کے ٹھکانوں پر  بمباری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1978439571626238056"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق  پاک فوج نے قندھار میں افغان  طالبان بٹالین ہیڈکوارٹرنمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5  کے اہداف کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ  یہ تمام اہداف  باریک بینی سے منتخب کیے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج  کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/QMLhtzQLJYk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے  کہ قندھار اور کابل میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے بعد افغانستان نے پاکستان سے  &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271639/"&gt;سیزفائر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی درخواست کی جسے پاکستان نے قبول کرلیا، اور دونوں ممالک کے درمیان اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار  اور دارالحکومت کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر  بمباری کی، تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کیے گئے  جو شہری آبادی سے دور تھے، اس  بمباری کے بعد  پاکستان نے  افغانستان کی جانب سے کی گئی سیز فائر کی درخواست قبول کرلی۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی ویژن کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ کابل میں فتنۃ الخوارج کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع  کے مطابق پاکستان نے صوبہ قندھار اور کابل میں مخصوص اہداف کا تعین کرتے ہوئے خالصتاً افغان طالبان اور خوارجین کے ٹھکانوں پر  بمباری کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1978439571626238056"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق  پاک فوج نے قندھار میں افغان  طالبان بٹالین ہیڈکوارٹرنمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5  کے اہداف کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ  یہ تمام اہداف  باریک بینی سے منتخب کیے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کیے گئے۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج  کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/QMLhtzQLJYk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے  کہ قندھار اور کابل میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے بعد افغانستان نے پاکستان سے  <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271639/">سیزفائر</a></strong> کی درخواست کی جسے پاکستان نے قبول کرلیا، اور دونوں ممالک کے درمیان اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>اس سلسلے میں ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271660</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 23:15:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/152159499d888a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/152159499d888a7.webp"/>
        <media:title>فوٹو: اسکرین شاٹ، پی ٹی وی ، ایکس اکاؤنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیکٹ چیک : وائرل ویڈیو میں افغان طالبان کے قبضے میں دکھایا گیا ٹینک پاکستانی نہیں ہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271669/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر افغان صارفین نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان طالبان نے ایک پاکستانی ٹینک قبضے میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://iverifypakistan.com/viral-video-does-not-show-pakistani-tank-captured-by-afghan-taliban-amid-recent-conflict-3/"&gt;آئی ویریفائی پاکستان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی ٹیم کی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی کہ  ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک پاکستانی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948219"&gt;سرحدی جھڑپوں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں پاکستان کے 23 فوجی شہید جبکہ 200 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی دہشت گرد بھی شامل تھے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں دوبارہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1949071/security-forces-repel-attack-along-balochistan-border-15-20-afghan-taliban-killed-ispr"&gt;جھڑپیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; شروع ہوئیں، جبکہ اگلے دن تیسری بڑی لڑائی اس وقت ہوئی جب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے حملے کو اسپن بولدک میں پسپا کر دیا، جس میں 15 سے 20 طالبان ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر کہا کہ افغان فورسز پاکستان کی جانب سے قندھار پر حملوں کے بعد جوابی کارروائی پر مجبور ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز کے حملوں میں 12 سے زائد شہری ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ ان حملوں میں ’ ہلکے اور بھاری ہتھیار’  استعمال کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دعویٰ" href="#دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دعویٰ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، بھارتی صحافی سدھانت سبل (WION کے فارن افیئرز ایڈیٹر) نے  ایکس پر ایک ویڈیو &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/rNCVv"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی جس میں ایک ٹینک دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:’ اسلامی امارت کی حکومت نے افغان فورسز کی وہ ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں پاکستانی ہتھیاروں اور ٹینکوں پر قبضہ دکھایا گیا ہے۔  افغان فریق کا کہنا ہے کہ  پچھلے 24 گھنٹوں میں پاکستان نے افغانستان کی سرحدی علاقوں پر حملہ کیا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ کو  15 ہزار 100  ویوز ملے لیکن چند گھنٹوں بعد اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ویڈیو کو ذبیح اللہ مجاہد نے بھی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/PymSP"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا اور لکھا:’ جوابی کارروائیوں میں کئی پاکستانی حملہ آور فوجی مارے گئے، ان کی پوسٹس اور مراکز پر قبضہ کیا گیا، ہتھیار اور ٹینک افغان فورسز کے ہاتھ لگے، اور ان کی زیادہ تر تنصیبات تباہ کر دی گئیں۔ تاہم، مجاہدین اپنے وطن، عبادت گاہوں اور عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوسٹ دو لاکھ 47  ہزار 800  ویوز حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی افغان ٹی وی RTA پشتو نے بھی وہی ویڈیو اسی دعوے کے ساتھ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/xpodW"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ اسپن بولدک میں دشمن کا قبضہ شدہ ٹینک!’ اس پوسٹ کو پوسٹ کو 12 ہزار ویوز ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے ویڈیو میں دکھائے گئے بالکل اسی ٹینک کی ایک تصویر بھی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/TMfNA"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا: ”فاتح بنو“ ۔  یہ پوسٹ 12 ہزار ویوز حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
اسی ویڈیو اور دعوے کو اس میڈیا ادارے کے انگریزی اکاؤنٹ نے بھی ایکس پر &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/qDZfT"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ زاویہ نیوز نے بھی یہی ویڈیو &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/MxSus"&gt;شیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی اور کہا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ طالبان کا دعویٰ ہے کہ صبح کی لڑائی میں اسپن بولدک کے محاذ پر انہوں نے پاکستانی فورسز کو نقصان پہنچایا اور ان کی چوکیوں، ہتھیاروں اور ایک ٹینک پر قبضہ کیا۔ پاکستانی فائرنگ سے شہریوں اور تاجروں کو بھی جانی و مالی نقصان پہنچا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوسٹ کو سات ہزار ویوز ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ویڈیو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے بھی شیئر کی، جسے 77 ہزار ویوز ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ویڈیو افغان اور بھارتی صارفین کی جانب سے X پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی، جیسا کہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/s21vy"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/byi52"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/QhjFf"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اور &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/WxhJp"&gt;یہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اور  دیکھا جا سکتا ہے، اور مجموعی طور پر اس نے 85 ہزار سے زیادہ ویوز حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فیکٹ-چیک" href="#فیکٹ-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیکٹ چیک&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی، اس لیے اس کے درست ہونے کی تصدیق کے لیے ایک فیکٹ چیک کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشاہدہ کیا گیا کہ پوسٹس کے تبصروں میں کچھ صارفین نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا اور کہا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک افغان T-62 ٹینک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/1523122360855f6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی پہچان 115 ملی میٹر کی ہموار بیرل والی توپ، کم اونچائی والا ٹاور، اور بیرل کے درمیان دھوئیں کے اخراج کے ایکسٹریکٹر سے کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/15201057f1a7d4e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دکھائے گئے ٹینک کے پہیوں کے درمیان فاصلہ اور بیرل پر ایکسٹریکٹر کی پوزیشن بالکل &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tanks-encyclopedia.com/coldwar/ussr/soviet_t-62.php"&gt;T-62&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جاننے کے لیے کہ آیا افغان طالبان T-62 ٹینک استعمال کرتے ہیں یا نہیں، ایک کِی ورڈ سرچ  کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/04597222.2024.2298593?scroll=top&amp;amp;needAccess=true"&gt;انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز&lt;/a&gt; کے مطابق افغان طالبان کے پاس کئی T-62 ٹینک موجود ہیں جو انہوں نے سوویت دور اور سابق افغان نیشنل آرمی سے وراثت میں حاصل کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کئی ٹینک دہائیوں کی جنگ کے بعد روسی فوج افغانستان میں چھوڑ گئی تھی اور بعد میں افغانوں نے  انہیں محدود عملی استعمال یا نمائش کے لیے مرمت کر کے بحال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.oryxspioenkop.com/2021/06/disaster-at-hand-documenting-afghan.html"&gt;23 جون 2021&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو ڈچ اوپن سورس انٹیلی جنس ڈیفنس اینالیسس ویب سائٹ Oryx پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں بھی بتایا گیا کہ طالبان نے سابقہ افغان فورسز سے پانچ T-62 ٹینک قبضے میں لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://militarnyi.com/en/news/afghanistan-begins-restoring-m114-howitzers/"&gt;10 فروری 2025&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو یوکرینی دفاعی ویب سائٹ Militarnyi پر شائع ہونے والے ایک مضمون  میں بھی رپورٹ کیا گیا کہ افغان طالبان نے T-62 ٹینکوں کو بحال کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2022 کو  ایکس  پر شائع ہونے والی ایک &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/aaf_lukas/status/1542485714432032769"&gt;پوسٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;، جس کا اکاؤنٹ خود کو ’ افغانستان کی عسکری تاریخ پر مرکوز’  قرار دیتا ہے، میں یہ لکھا گیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ طالبان نے قندوز میں کئی T-62 اور T-55 ٹینک دوبارہ فعال کر دیے ہیں۔ وہ 217 عمری کور کے زیرِ استعمال ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوسٹ میں افغان طالبان کے ارکان کی ٹینک پر سوار ہونے کی تصاویر شیئر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/aaf_lukas/status/1542485714432032769"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13 اکتوبر 2025 کو انڈونیشی میڈیا Tribun Jateng نے بھی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=N5s8uxwl-ZU"&gt;ویڈیو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; شائع کی جس میں افغان طالبان کو T-62 ٹینک منتقل کرتے دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/N5s8uxwl-ZU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران کِی ورڈ سرچ کے باوجود پاکستان کے پاس یا اس کے استعمال میں T-62 ٹینک ہونے کے بارے میں کسی بڑی میڈیا رپورٹ کا سراغ نہیں ملا، اور امیج سرچ میں بھی پاکستانی فوج کے زیرِ استعمال اس ٹینک کی کوئی تصویر نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابطہ کرنے پر ڈان ڈاٹ کوم کے نیوز ایڈیٹر علی عثمان نے نہ صرف اس بات کی تصدیق کی کہ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک T-62 ہے، بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ ٹینک کبھی پاکستان آرمی میں شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نتیجہ-گمراہ-کُن" href="#نتیجہ-گمراہ-کُن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نتیجہ: گمراہ کُن&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، حقائق کی جانچ  ( فیکٹ چیک) سے یہ ثابت ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ وائرل ویڈیو میں افغان طالبان نے پاکستان کا ٹینک قبضے میں لیا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک T-62 ہے، جو پاکستان کا نہیں بلکہ افغانستان کے زیرِ استعمال ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر افغان صارفین نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان طالبان نے ایک پاکستانی ٹینک قبضے میں لے لیا ہے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://iverifypakistan.com/viral-video-does-not-show-pakistani-tank-captured-by-afghan-taliban-amid-recent-conflict-3/">آئی ویریفائی پاکستان</a></strong> کی ٹیم کی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی کہ  ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک پاکستانی نہیں ہے۔</p>
<p>اتوار کے روز پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1948219">سرحدی جھڑپوں</a></strong> میں پاکستان کے 23 فوجی شہید جبکہ 200 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی دہشت گرد بھی شامل تھے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔</p>
<p>منگل کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں دوبارہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1949071/security-forces-repel-attack-along-balochistan-border-15-20-afghan-taliban-killed-ispr">جھڑپیں</a></strong> شروع ہوئیں، جبکہ اگلے دن تیسری بڑی لڑائی اس وقت ہوئی جب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے حملے کو اسپن بولدک میں پسپا کر دیا، جس میں 15 سے 20 طالبان ہلاک ہوئے۔</p>
<p>دوسری جانب، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر کہا کہ افغان فورسز پاکستان کی جانب سے قندھار پر حملوں کے بعد جوابی کارروائی پر مجبور ہوئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز کے حملوں میں 12 سے زائد شہری ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ ان حملوں میں ’ ہلکے اور بھاری ہتھیار’  استعمال کیے گئے۔</p>
<h1><a id="دعویٰ" href="#دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دعویٰ</h1>
<p>اسی دوران، بھارتی صحافی سدھانت سبل (WION کے فارن افیئرز ایڈیٹر) نے  ایکس پر ایک ویڈیو <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/rNCVv">شیئر</a></strong> کی جس میں ایک ٹینک دکھایا گیا تھا۔</p>
<p>ان کی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:’ اسلامی امارت کی حکومت نے افغان فورسز کی وہ ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں پاکستانی ہتھیاروں اور ٹینکوں پر قبضہ دکھایا گیا ہے۔  افغان فریق کا کہنا ہے کہ  پچھلے 24 گھنٹوں میں پاکستان نے افغانستان کی سرحدی علاقوں پر حملہ کیا ہے۔’</p>
<p>پوسٹ کو  15 ہزار 100  ویوز ملے لیکن چند گھنٹوں بعد اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔</p>
<p>اسی ویڈیو کو ذبیح اللہ مجاہد نے بھی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/PymSP">شیئر</a></strong> کیا اور لکھا:’ جوابی کارروائیوں میں کئی پاکستانی حملہ آور فوجی مارے گئے، ان کی پوسٹس اور مراکز پر قبضہ کیا گیا، ہتھیار اور ٹینک افغان فورسز کے ہاتھ لگے، اور ان کی زیادہ تر تنصیبات تباہ کر دی گئیں۔ تاہم، مجاہدین اپنے وطن، عبادت گاہوں اور عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔’</p>
<p>یہ پوسٹ دو لاکھ 47  ہزار 800  ویوز حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>ریاستی افغان ٹی وی RTA پشتو نے بھی وہی ویڈیو اسی دعوے کے ساتھ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/xpodW">شیئر</a></strong> کی:</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’ اسپن بولدک میں دشمن کا قبضہ شدہ ٹینک!’ اس پوسٹ کو پوسٹ کو 12 ہزار ویوز ملے۔</p>
<p>اس نے ویڈیو میں دکھائے گئے بالکل اسی ٹینک کی ایک تصویر بھی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/TMfNA">شیئر</a></strong> کی۔</p>
<p>پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا: ”فاتح بنو“ ۔  یہ پوسٹ 12 ہزار ویوز حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
اسی ویڈیو اور دعوے کو اس میڈیا ادارے کے انگریزی اکاؤنٹ نے بھی ایکس پر <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/qDZfT">شیئر</a></strong> کیا۔</p>
<p>افغان ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ زاویہ نیوز نے بھی یہی ویڈیو <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/MxSus">شیئر</a></strong> کی اور کہا:</p>
<p>’ طالبان کا دعویٰ ہے کہ صبح کی لڑائی میں اسپن بولدک کے محاذ پر انہوں نے پاکستانی فورسز کو نقصان پہنچایا اور ان کی چوکیوں، ہتھیاروں اور ایک ٹینک پر قبضہ کیا۔ پاکستانی فائرنگ سے شہریوں اور تاجروں کو بھی جانی و مالی نقصان پہنچا۔’</p>
<p>اس پوسٹ کو سات ہزار ویوز ملے۔</p>
<p>یہی ویڈیو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے بھی شیئر کی، جسے 77 ہزار ویوز ملے۔</p>
<p>یہ ویڈیو افغان اور بھارتی صارفین کی جانب سے X پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی، جیسا کہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/s21vy">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/byi52">یہاں</a></strong>، <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/QhjFf">یہاں</a></strong> اور <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/WxhJp">یہاں</a></strong> اور  دیکھا جا سکتا ہے، اور مجموعی طور پر اس نے 85 ہزار سے زیادہ ویوز حاصل کیے۔</p>
<h1><a id="فیکٹ-چیک" href="#فیکٹ-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیکٹ چیک</h1>
<p>چونکہ ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی، اس لیے اس کے درست ہونے کی تصدیق کے لیے ایک فیکٹ چیک کیا گیا۔</p>
<p>یہ مشاہدہ کیا گیا کہ پوسٹس کے تبصروں میں کچھ صارفین نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا اور کہا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک افغان T-62 ٹینک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/1523122360855f6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کی پہچان 115 ملی میٹر کی ہموار بیرل والی توپ، کم اونچائی والا ٹاور، اور بیرل کے درمیان دھوئیں کے اخراج کے ایکسٹریکٹر سے کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/15201057f1a7d4e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ویڈیو میں دکھائے گئے ٹینک کے پہیوں کے درمیان فاصلہ اور بیرل پر ایکسٹریکٹر کی پوزیشن بالکل <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tanks-encyclopedia.com/coldwar/ussr/soviet_t-62.php">T-62</a></strong> کے مطابق ہے۔</p>
<p>یہ جاننے کے لیے کہ آیا افغان طالبان T-62 ٹینک استعمال کرتے ہیں یا نہیں، ایک کِی ورڈ سرچ  کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/04597222.2024.2298593?scroll=top&amp;needAccess=true">انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز</a> کے مطابق افغان طالبان کے پاس کئی T-62 ٹینک موجود ہیں جو انہوں نے سوویت دور اور سابق افغان نیشنل آرمی سے وراثت میں حاصل کیے تھے۔</p>
<p>ان میں سے کئی ٹینک دہائیوں کی جنگ کے بعد روسی فوج افغانستان میں چھوڑ گئی تھی اور بعد میں افغانوں نے  انہیں محدود عملی استعمال یا نمائش کے لیے مرمت کر کے بحال کیا گیا تھا۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.oryxspioenkop.com/2021/06/disaster-at-hand-documenting-afghan.html">23 جون 2021</a></strong> کو ڈچ اوپن سورس انٹیلی جنس ڈیفنس اینالیسس ویب سائٹ Oryx پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں بھی بتایا گیا کہ طالبان نے سابقہ افغان فورسز سے پانچ T-62 ٹینک قبضے میں لیے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://militarnyi.com/en/news/afghanistan-begins-restoring-m114-howitzers/">10 فروری 2025</a></strong> کو یوکرینی دفاعی ویب سائٹ Militarnyi پر شائع ہونے والے ایک مضمون  میں بھی رپورٹ کیا گیا کہ افغان طالبان نے T-62 ٹینکوں کو بحال کر لیا ہے۔</p>
<p>30 جون 2022 کو  ایکس  پر شائع ہونے والی ایک <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/aaf_lukas/status/1542485714432032769">پوسٹ</a></strong>، جس کا اکاؤنٹ خود کو ’ افغانستان کی عسکری تاریخ پر مرکوز’  قرار دیتا ہے، میں یہ لکھا گیا:</p>
<p>’ طالبان نے قندوز میں کئی T-62 اور T-55 ٹینک دوبارہ فعال کر دیے ہیں۔ وہ 217 عمری کور کے زیرِ استعمال ہیں۔’</p>
<p>اس پوسٹ میں افغان طالبان کے ارکان کی ٹینک پر سوار ہونے کی تصاویر شیئر کی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/aaf_lukas/status/1542485714432032769"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>13 اکتوبر 2025 کو انڈونیشی میڈیا Tribun Jateng نے بھی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=N5s8uxwl-ZU">ویڈیو</a></strong> شائع کی جس میں افغان طالبان کو T-62 ٹینک منتقل کرتے دکھایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/N5s8uxwl-ZU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی دوران کِی ورڈ سرچ کے باوجود پاکستان کے پاس یا اس کے استعمال میں T-62 ٹینک ہونے کے بارے میں کسی بڑی میڈیا رپورٹ کا سراغ نہیں ملا، اور امیج سرچ میں بھی پاکستانی فوج کے زیرِ استعمال اس ٹینک کی کوئی تصویر نہیں ملی۔</p>
<p>رابطہ کرنے پر ڈان ڈاٹ کوم کے نیوز ایڈیٹر علی عثمان نے نہ صرف اس بات کی تصدیق کی کہ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک T-62 ہے، بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ ٹینک کبھی پاکستان آرمی میں شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<h1><a id="نتیجہ-گمراہ-کُن" href="#نتیجہ-گمراہ-کُن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نتیجہ: گمراہ کُن</h1>
<p>لہٰذا، حقائق کی جانچ  ( فیکٹ چیک) سے یہ ثابت ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ وائرل ویڈیو میں افغان طالبان نے پاکستان کا ٹینک قبضے میں لیا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ٹینک T-62 ہے، جو پاکستان کا نہیں بلکہ افغانستان کے زیرِ استعمال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271669</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 23:14:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/152303210d5048a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/152303210d5048a.webp"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان: کابل میں 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271647/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے اطلاع دی ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/chashmNews_/status/1978426174435954882"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ایک آئل ٹینکر اور ایک جنریٹر پھٹنے سے کابل میں آگ بھڑک اٹھی، اس کا تعلق کسی بیرونی حملے سے نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے نمائندوں کے مطابق افغان دارالحکومت میں ایمبولینسیں سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں جب کہ طالبان سیکیورٹی فورسز نے شہر کے مرکزی حصے کو گھیرے میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے مطابق دھماکوں کی آوازوں کے بعد کالا دھواں آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے، جب کہ دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جو زمین پر بکھرے ہوئے پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی دنوں سے کشیدگی جاری ہے اور آج ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی درخواست پر سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کیلئے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس دوران دونوں اطراف بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان سرحدی فورسز کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں افغان سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مؤثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے اطلاع دی ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/chashmNews_/status/1978426174435954882"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ایک آئل ٹینکر اور ایک جنریٹر پھٹنے سے کابل میں آگ بھڑک اٹھی، اس کا تعلق کسی بیرونی حملے سے نہیں ہے۔</p>
<p>اے ایف پی کے نمائندوں کے مطابق افغان دارالحکومت میں ایمبولینسیں سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں جب کہ طالبان سیکیورٹی فورسز نے شہر کے مرکزی حصے کو گھیرے میں لے لیا۔</p>
<p>اے ایف پی کے مطابق دھماکوں کی آوازوں کے بعد کالا دھواں آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے، جب کہ دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جو زمین پر بکھرے ہوئے پائے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی دنوں سے کشیدگی جاری ہے اور آج ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی درخواست پر سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کیلئے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس دوران دونوں اطراف بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کر دی تھی۔</p>
<p>طالبان سرحدی فورسز کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں افغان سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔</p>
<p>اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مؤثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271647</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 19:24:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/15191840d7b1b05.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/15191840d7b1b05.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: بشکریہ - چشم نیوز/ ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا افغان طالبان کی درخواست پر سیز فائر کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271639/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے افغان طالبان کی سیز فائر کی درخواست پر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر  آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1978421219134169218?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں اطراف بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ترجمان طالبان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہا کہ افغان فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگ بندی کی اُس وقت تک پاسداری کریں، جب تک کوئی جارحیت نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاک فوج نے بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن کے علاقے اسپن بولدک اور خیبرپختونخوا کے کُرم سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے حملے ناکام بناتے ہوئے 45 سے 50 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ جوابی کارروائی میں کئی چیک پوسٹیں اور ٹینک بھی تباہ کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کو علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اسپن بولدک کا واقعہ منفرد یا الگ نوعیت کا نہیں ہے، 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کُرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے پاکستانی فورسز نے بہادری سے پسپا کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر  نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی میں افغان چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور دشمن کی 8 چوکیوں کے علاوہ 6 ٹینک بھی تباہ کیے گئے جبکہ 25 سے 30 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے 13 اکتوبرکو جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں کہا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اس وقت کوئی تعلقات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فی الحال صورتِ حال جمود کا شکار ہے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ فعال دشمنی نہیں، مگر ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے مزید کہا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جھڑپوں-کا-پس-منظر" href="#جھڑپوں-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جھڑپوں کا پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان سرحدی فورسز کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں افغان سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان حکام نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مؤثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں افغان وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں، یہ کارروائیاں نصف شب ختم ہوئیں، اگر مخالف فریق نے دوبارہ افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی تو ہماری افواج بھرپور جواب دیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے افغان طالبان کی سیز فائر کی درخواست پر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر  آج شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/1978421219134169218?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں اطراف بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔</p>
<p>دریں اثنا، ترجمان طالبان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہا کہ افغان فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگ بندی کی اُس وقت تک پاسداری کریں، جب تک کوئی جارحیت نہیں کی جاتی۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاک فوج نے بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن کے علاقے اسپن بولدک اور خیبرپختونخوا کے کُرم سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے حملے ناکام بناتے ہوئے 45 سے 50 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ جوابی کارروائی میں کئی چیک پوسٹیں اور ٹینک بھی تباہ کیے گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کو علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اسپن بولدک کا واقعہ منفرد یا الگ نوعیت کا نہیں ہے، 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کُرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے پاکستانی فورسز نے بہادری سے پسپا کر دیا تھا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر  نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی میں افغان چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور دشمن کی 8 چوکیوں کے علاوہ 6 ٹینک بھی تباہ کیے گئے جبکہ 25 سے 30 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے 13 اکتوبرکو جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں کہا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اس وقت کوئی تعلقات نہیں ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فی الحال صورتِ حال جمود کا شکار ہے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ فعال دشمنی نہیں، مگر ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے مزید کہا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔</p>
<h1><a id="جھڑپوں-کا-پس-منظر" href="#جھڑپوں-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جھڑپوں کا پس منظر</h1>
<p>واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کر دی تھی۔</p>
<p>طالبان سرحدی فورسز کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں افغان سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔</p>
<p>کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان حکام نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کی۔</p>
<p>اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مؤثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔</p>
<p>قبل ازیں افغان وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں، یہ کارروائیاں نصف شب ختم ہوئیں، اگر مخالف فریق نے دوبارہ افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی تو ہماری افواج بھرپور جواب دیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271639</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 22:15:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ مومند)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/15180657716db96.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/15180657716db96.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان اپنے معاملات کو ترجیح دے، پاکستان کو کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271489/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے  طالبان حکومت کے بیانات  پر  سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  ہم نے طالبان حکومت کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے داخلی معاملات سے متعلق حالیہ بیانات کا نوٹس لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ  ہم افغان ترجمان پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان سے متعلق معاملات کو ترجیح دیں اور اپنے دائرۂ اختیار سے باہر کے امور پر تبصرے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر عمل کرنا بین الاقوامی سفارتی روایات کے مطابق ضروری ہے، پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1977798613125496967"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ طالبان حکومت دوحہ عمل کے دوران عالمی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت کو اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترخارجہ نے کہا کہ اس کے علاوہ حکومت کو بے بنیاد پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کے بجائے ایک جامع اور حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے  طالبان حکومت کے بیانات  پر  سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  ہم نے طالبان حکومت کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے داخلی معاملات سے متعلق حالیہ بیانات کا نوٹس لیا ہے۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ  ہم افغان ترجمان پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان سے متعلق معاملات کو ترجیح دیں اور اپنے دائرۂ اختیار سے باہر کے امور پر تبصرے سے گریز کریں۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر عمل کرنا بین الاقوامی سفارتی روایات کے مطابق ضروری ہے، پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1977798613125496967"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ طالبان حکومت دوحہ عمل کے دوران عالمی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔</p>
<p>طالبان حکومت کو اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔</p>
<p>دفترخارجہ نے کہا کہ اس کے علاوہ حکومت کو بے بنیاد پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کے بجائے ایک جامع اور حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271489</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 00:00:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/13233914f449121.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/13233914f449121.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>50 سال سے ہماری سرزمین پر بیٹھے افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا ہوگا، وزیردفاع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271400/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 50سال سے ہماری سرزمین پر بیٹھے افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا ہوگا،ہمیں اپنی معیشت کو افغان مہاجرین کے قبضے چھڑانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ حالات نے جو کروٹ لی ہے ( اس کےبعد )  50 سال سے ہماری سرزمین پہ بیٹھے افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی معیشت کو افغان مہاجرین کے قبضے چھڑانا ہوگا، تندوروں سے لے کر ٹرانسپورٹ، ٹھیکیداری، ڈمپرمافیا،کنسٹرکشن وغیرہ یہ سارےشعبے ہماری معیشت کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیردفاع  نےاپنے بیان میں مزید کہا کہ  دنیا میں جیسے سرحدیں ہوتی ہیں پاک افغان سرحد بھی ایسے ہی ہونی چاہیے،  تاکہ کوئی بھی منہ اٹھا کہ اپنی مرضی سے سرحد عبور  نہ  کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/1977403693168259076"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گذشتہ شب افغان طالبان نے  پاکستان پر &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271380/"&gt;بلااشتعال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; حملے کیے جن کا پاک افواج نے   بھرپور انداز میں جواب دیا، جوبی کارروائیوں میں 200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی ہلاک کر دیے گئے، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 23 سپوت شہید اور 29 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الخوارج کی جانب سے بلا اشتعال حملہ کیا گیا، پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 50سال سے ہماری سرزمین پر بیٹھے افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا ہوگا،ہمیں اپنی معیشت کو افغان مہاجرین کے قبضے چھڑانا ہوگا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ حالات نے جو کروٹ لی ہے ( اس کےبعد )  50 سال سے ہماری سرزمین پہ بیٹھے افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی معیشت کو افغان مہاجرین کے قبضے چھڑانا ہوگا، تندوروں سے لے کر ٹرانسپورٹ، ٹھیکیداری، ڈمپرمافیا،کنسٹرکشن وغیرہ یہ سارےشعبے ہماری معیشت کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>وزیردفاع  نےاپنے بیان میں مزید کہا کہ  دنیا میں جیسے سرحدیں ہوتی ہیں پاک افغان سرحد بھی ایسے ہی ہونی چاہیے،  تاکہ کوئی بھی منہ اٹھا کہ اپنی مرضی سے سرحد عبور  نہ  کرسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/1977403693168259076"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گذشتہ شب افغان طالبان نے  پاکستان پر <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271380/">بلااشتعال</a></strong> حملے کیے جن کا پاک افواج نے   بھرپور انداز میں جواب دیا، جوبی کارروائیوں میں 200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی ہلاک کر دیے گئے، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 23 سپوت شہید اور 29 زخمی ہوئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الخوارج کی جانب سے بلا اشتعال حملہ کیا گیا، پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271400</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 15:16:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/12225600fa1ce5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/12225600fa1ce5c.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اسکائی نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-افغان جھڑپوں کی خوفناک رات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271415/</link>
      <description>&lt;p&gt;تقریباً 7 گھنٹوں تک پاکستان نے چترال کے ارندو سے لے کر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈے تک پورے سرحدی حصے میں افغانستان کے اندر اہداف پر گولہ باری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب افغان طالبان نے رات 9 بجے کے قریب کرم میں گاوی سرحدی بیلٹ کے ساتھ پاکستانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ سرحد پار اشتعال انگیزی ظاہری طور پر پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں کی گئی جس میں پاکستانی حدود میں 27 دہشت گرد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال سے شروع ہونے والی صورت حال جلد ہی پوری سرحد تک پھیل گئی جہاں افغان فورسز نے کنڑ، ننگرہار اور نورستان صوبوں سے کئی پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے ایک گاؤں میں گرنے کے بعد وادی تیراہ بھی حملے کی زد میں آگیا جس سے ایک شہری جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع جنہوں نے رات بھر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے تصادم کی قریب سے نگرانی کی، بتایا کہ آدھی رات سے پہلے ہی دونوں طرف سے شدید جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں اور پاکستانی افواج نے سرحد پار مخالف چوکیوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن توپ خانے اور فضائی حملے شروع کر دیے تھے جس سے طالبان جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بھاری آرٹلری کے علاوہ، پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے متعدد افغان پوسٹوں اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں افغان صوبے ہلمند، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنگی طیاروں نے اپنے درست حملوں سے سیکنڈ کنڈک کے ہیڈکوارٹر اور عزیز، روات اور ناکہ کے مضبوط قلعوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آدھی رات تک، 11 افغان پوسٹوں کو غیرفعال بنادیا گیا تھا اور دشمن کے 27 اہداف کو تباہ کر دیا گیا جس سے افغان سرزمین کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی طالبان کی سرحدی چوکیوں اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے افغان فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی گونج سنائی دی، طالبان افواج نے جنگ بندی کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا لیکن پاکستان کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا اور اتوار کی صبح تک فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی الصبح 2 بجے سے 4 بجے تک، پاک فضائیہ کے ساتھ توپ خانوں نے بھی افغان پوزیشنز پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا جس سے اطلاعات کے مطابق بربچہ، علی دوست، ملگئی کوہ، ترکمان زئی ٹاپ اور خراچار قلعہ میں دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں نے افغان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد کئی اگلی پوسٹوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سرحد-کے-ساتھ-حملے" href="#سرحد-کے-ساتھ-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سرحد کے ساتھ حملے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لوئر دیر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شاہی بن شاہی بارڈر پر افغان فورسز کو بھرپور جواب دیا، حملوں کو پسپا کر دیا گیا اور طالبان فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیریں جنوبی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ ساتھ کئی دیہات افغان فائرنگ کی زد میں آئے۔ اس اقدام کے جواب میں فورسز کی طرف سے جوابی کارروائی کی گئی جس سے افغانستان کو کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی کے دوران ایک افغان پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا، بعدازاں قبضے کی جگہ پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے درمیان، آدھی رات کے فوراً بعد دراندازی کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ طالبان نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں سری کوند سے دراندازی کی کوشش کی مگر اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھنٹوں کی بمباری اور فائرنگ کے بعد صبح 4 بجے کے قریب حالات معمول پر آگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ ’صورت حال بدستور کشیدہ ہے لیکن پاکستان مکمل کنٹرول میں ہے کیونکہ پاک فضائیہ کے طیارے اور آرٹلری یونٹ ہائی الرٹ پر ہیں۔ مبینہ طور پر 4 بجے کے بعد سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ کم ہوا لیکن مغربی سرحد پر نگرانی کو بڑھا دیا گیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271368"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے بعد حکام نے انگور اڈہ بارڈر کو فوری طور پر بند کردیا جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئیں۔ اچانک بندش سے درجنوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ انگور اڈہ سرحد دو سال کی بندش کے بعد صرف 10 روز قبل ہی دوبارہ کھولا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر میں طورخم بارڈر کراسنگ بھی بند کر دی گئی۔ تاہم اس کراسنگ پر صورت حال پُرامن رہی۔ باچا مینہ کے رہائشی احاطے کے رہائشیوں نے ڈان کو بتایا کہ سرحدی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آدھی رات کو سرحد بند کرنے کے حکم کے بعد کچھ خاندان لنڈی کوتل منتقل ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد غلام خان بارڈر بھی بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرم میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور افغانستان کے ساتھ خرلاچی بارڈر کو بند کر دیا گیا۔ ضلع میں قبائلی جنگجو مبینہ طور پر خرلاچی اور منوجابا قلعوں کے قریب آرٹلری کی مسلسل جھڑپوں کے درمیان فرنٹ لائن پر سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے منتقل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;دیر، خیبر اور جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور کرم میں ہمارے نامہ نگاروں کی مدد بھی اس تحریر میں شامل ہے۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948511/situationer-a-night-of-deadly-clashes"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تقریباً 7 گھنٹوں تک پاکستان نے چترال کے ارندو سے لے کر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈے تک پورے سرحدی حصے میں افغانستان کے اندر اہداف پر گولہ باری کی۔</p>
<p>جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب افغان طالبان نے رات 9 بجے کے قریب کرم میں گاوی سرحدی بیلٹ کے ساتھ پاکستانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ سرحد پار اشتعال انگیزی ظاہری طور پر پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں کی گئی جس میں پاکستانی حدود میں 27 دہشت گرد مارے گئے تھے۔</p>
<p>شمال سے شروع ہونے والی صورت حال جلد ہی پوری سرحد تک پھیل گئی جہاں افغان فورسز نے کنڑ، ننگرہار اور نورستان صوبوں سے کئی پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے ایک گاؤں میں گرنے کے بعد وادی تیراہ بھی حملے کی زد میں آگیا جس سے ایک شہری جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔</p>
<p>ذرائع جنہوں نے رات بھر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے تصادم کی قریب سے نگرانی کی، بتایا کہ آدھی رات سے پہلے ہی دونوں طرف سے شدید جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں اور پاکستانی افواج نے سرحد پار مخالف چوکیوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن توپ خانے اور فضائی حملے شروع کر دیے تھے جس سے طالبان جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بھاری آرٹلری کے علاوہ، پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے متعدد افغان پوسٹوں اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں افغان صوبے ہلمند، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنگی طیاروں نے اپنے درست حملوں سے سیکنڈ کنڈک کے ہیڈکوارٹر اور عزیز، روات اور ناکہ کے مضبوط قلعوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آدھی رات تک، 11 افغان پوسٹوں کو غیرفعال بنادیا گیا تھا اور دشمن کے 27 اہداف کو تباہ کر دیا گیا جس سے افغان سرزمین کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جیسے ہی طالبان کی سرحدی چوکیوں اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے افغان فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی گونج سنائی دی، طالبان افواج نے جنگ بندی کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا لیکن پاکستان کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا اور اتوار کی صبح تک فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p>علی الصبح 2 بجے سے 4 بجے تک، پاک فضائیہ کے ساتھ توپ خانوں نے بھی افغان پوزیشنز پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا جس سے اطلاعات کے مطابق بربچہ، علی دوست، ملگئی کوہ، ترکمان زئی ٹاپ اور خراچار قلعہ میں دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں نے افغان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد کئی اگلی پوسٹوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔</p>
<h1><a id="سرحد-کے-ساتھ-حملے" href="#سرحد-کے-ساتھ-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سرحد کے ساتھ حملے</h1>
<p>لوئر دیر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شاہی بن شاہی بارڈر پر افغان فورسز کو بھرپور جواب دیا، حملوں کو پسپا کر دیا گیا اور طالبان فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔</p>
<p>زیریں جنوبی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ ساتھ کئی دیہات افغان فائرنگ کی زد میں آئے۔ اس اقدام کے جواب میں فورسز کی طرف سے جوابی کارروائی کی گئی جس سے افغانستان کو کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی کے دوران ایک افغان پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا، بعدازاں قبضے کی جگہ پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے درمیان، آدھی رات کے فوراً بعد دراندازی کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ طالبان نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں سری کوند سے دراندازی کی کوشش کی مگر اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔</p>
<p>گھنٹوں کی بمباری اور فائرنگ کے بعد صبح 4 بجے کے قریب حالات معمول پر آگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ ’صورت حال بدستور کشیدہ ہے لیکن پاکستان مکمل کنٹرول میں ہے کیونکہ پاک فضائیہ کے طیارے اور آرٹلری یونٹ ہائی الرٹ پر ہیں۔ مبینہ طور پر 4 بجے کے بعد سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ کم ہوا لیکن مغربی سرحد پر نگرانی کو بڑھا دیا گیا تھا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271368"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے بعد حکام نے انگور اڈہ بارڈر کو فوری طور پر بند کردیا جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئیں۔ اچانک بندش سے درجنوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ انگور اڈہ سرحد دو سال کی بندش کے بعد صرف 10 روز قبل ہی دوبارہ کھولا گیا تھا۔</p>
<p>خیبر میں طورخم بارڈر کراسنگ بھی بند کر دی گئی۔ تاہم اس کراسنگ پر صورت حال پُرامن رہی۔ باچا مینہ کے رہائشی احاطے کے رہائشیوں نے ڈان کو بتایا کہ سرحدی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آدھی رات کو سرحد بند کرنے کے حکم کے بعد کچھ خاندان لنڈی کوتل منتقل ہو گئے تھے۔</p>
<p>شمالی وزیرستان میں سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد غلام خان بارڈر بھی بند کردیا گیا تھا۔</p>
<p>کرم میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور افغانستان کے ساتھ خرلاچی بارڈر کو بند کر دیا گیا۔ ضلع میں قبائلی جنگجو مبینہ طور پر خرلاچی اور منوجابا قلعوں کے قریب آرٹلری کی مسلسل جھڑپوں کے درمیان فرنٹ لائن پر سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے منتقل ہوئے۔</p>
<hr />
<p><em>دیر، خیبر اور جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور کرم میں ہمارے نامہ نگاروں کی مدد بھی اس تحریر میں شامل ہے۔</em></p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1948511/situationer-a-night-of-deadly-clashes">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271415</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 10:33:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمر فاروق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/13091759d42a4ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/13091759d42a4ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امید ہے ایک دن افغان عوام کو آزادی ملے گی، اور وہ نمائندہ حکومت کے تحت زندگی گزار سکیں گے، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271402/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے  پاک افغان سرحد پر بلااشتعال جارحیت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر اور مؤثر جواب دیا جائے گا، طالبان حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن افغان عوام کو آزادی حاصل ہوگی اور وہ ایک حقیقی نمائندہ حکومت کے تحت زندگی گزار سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے کی جانے والی بلاجواز جارحیت پر گہری تشویش ہے۔ ایسے اشتعال انگیز اقدامات، جو پاک افغان سرحد کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیے گئے، دونوں برادر ممالک کے درمیان پرامن ہمسائیگی اور باہمی تعاون کی روح کے منافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سرحد کے مختلف مقامات پر ان حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا بلکہ طالبان فورسز اور ان سے منسلک خوارج کو افرادی نقصان، سامان اور ڈھانچے کے لحاظ سے بھاری نقصان پہنچایا۔ یہ ڈھانچے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی معاونت کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اپنے ہدفی اور درست جوابی کارروائی میں پاکستان نے تمام ممکنہ اقدامات کیے تاکہ کسی قسم کا ضمنی نقصان یا عام شہریوں کو گزند نہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1977430286989492596"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مکالمے، سفارتکاری اور افغانستان کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، حکومتِ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے علاقے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغان نگران وزیر خارجہ کی جانب سے بھارت میں دیے گئے ان بیانات اور اشاروں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔ ان بے بنیاد الزامات سے طالبان حکومت خود کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد عناصر کی مسلسل موجودگی اور ان کی آزادانہ سرگرمیوں کا تذکرہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں بھی واضح طور پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترخارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے۔ ذمہ داریوں سے بچنے کے بجائے طالبان حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، اور اسے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کی سرزمین سے سرگرم  فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان طالبان حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ان دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اچھے ہمسائیگی، اسلامی بھائی چارے اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ اب پاکستان اپنے علاقے میں افغان شہریوں کی موجودگی کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق منظم کرنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، دوستانہ، جامع، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان طالبان حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اپنائے، اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن افغان عوام کو آزادی حاصل ہوگی اور وہ ایک حقیقی نمائندہ حکومت کے تحت زندگی گزار سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے  پاک افغان سرحد پر بلااشتعال جارحیت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر اور مؤثر جواب دیا جائے گا، طالبان حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔</p>
<p>دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن افغان عوام کو آزادی حاصل ہوگی اور وہ ایک حقیقی نمائندہ حکومت کے تحت زندگی گزار سکیں گے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے کی جانے والی بلاجواز جارحیت پر گہری تشویش ہے۔ ایسے اشتعال انگیز اقدامات، جو پاک افغان سرحد کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیے گئے، دونوں برادر ممالک کے درمیان پرامن ہمسائیگی اور باہمی تعاون کی روح کے منافی ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سرحد کے مختلف مقامات پر ان حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا بلکہ طالبان فورسز اور ان سے منسلک خوارج کو افرادی نقصان، سامان اور ڈھانچے کے لحاظ سے بھاری نقصان پہنچایا۔ یہ ڈھانچے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی معاونت کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اپنے ہدفی اور درست جوابی کارروائی میں پاکستان نے تمام ممکنہ اقدامات کیے تاکہ کسی قسم کا ضمنی نقصان یا عام شہریوں کو گزند نہ پہنچے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1977430286989492596"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مکالمے، سفارتکاری اور افغانستان کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، حکومتِ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے علاقے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغان نگران وزیر خارجہ کی جانب سے بھارت میں دیے گئے ان بیانات اور اشاروں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔ ان بے بنیاد الزامات سے طالبان حکومت خود کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتی۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد عناصر کی مسلسل موجودگی اور ان کی آزادانہ سرگرمیوں کا تذکرہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں بھی واضح طور پر موجود ہے۔</p>
<p>دفترخارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے۔ ذمہ داریوں سے بچنے کے بجائے طالبان حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، اور اسے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کی سرزمین سے سرگرم  فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان طالبان حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ان دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان نے اچھے ہمسائیگی، اسلامی بھائی چارے اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ اب پاکستان اپنے علاقے میں افغان شہریوں کی موجودگی کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق منظم کرنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، دوستانہ، جامع، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان طالبان حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اپنائے، اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن افغان عوام کو آزادی حاصل ہوگی اور وہ ایک حقیقی نمائندہ حکومت کے تحت زندگی گزار سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271402</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 09:27:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/122318108281e4b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/122318108281e4b.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسی صورت بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے نہیں کریں گے، طالبان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270927/</link>
      <description>&lt;p&gt;طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس واپس لینے کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی صورت بگرام ایئربیس کو امریکا کے حوالے نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خامہ نیوز پریس ایجنسی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaama.com/bagram-air-base-in-afghanistan-will-not-be-handed-over-to-the-us-taliban-says/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ’ افغان کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کسی کو نہیں دیں گے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکائی نیوز ایشیا کی نامہ نگار کورڈیلیا لنچ کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ طالبان بگرام ایئربیس کا کنٹرول چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، تاہم امریکی حکام کے ساتھ سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ ہم نے اس مسئلے پر گفتگو کی ہے اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک سفارت خانے (کابل اور واشنگٹن) دوبارہ کھولیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتدار میں واپسی کے چار سال بعد بھی طالبان سفارتی طور پر تنہا ہیں، اور اب تک صرف روس نے ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے، تاہم  ذبیح  اللہ مجاہد نے اس تاثر کو رد کیا کہ طالبان حکومت کو جواز یا قانونی حیثیت کے مسئلے کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ کئی ممالک نے نجی طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ عوامی سطح پر اس کا اعلان نہیں کیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269664"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی تعلقات کی خواہش کے باوجود طالبان خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں نافذ کیے ہوئے ہیں، لڑکیوں کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم اب بھی ممنوع ہے، جبکہ خواتین کو زیادہ تر سرکاری اداروں اور صحت کے شعبے سمیت دیگر ملازمتوں سے روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے طالبان کے دو اعلیٰ رہنماؤں، جن میں سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ بھی شامل ہیں، کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، جن پر خواتین اور لڑکیوں کے منظم استحصال کے الزامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب  ذبیح اللہ مجاہد سے اس پابندی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں اس حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتا،‘ حالانکہ طالبان پہلے کہہ چکے تھے کہ اسکولوں کی بندش عارضی ہے اور ’ اسلامی اصولوں‘ کے مطابق نئی پالیسی آنے کے بعد تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے، لیکن چار سال گزرنے کے باوجود لاکھوں افغان لڑکیوں کے لیے اسکولوں کے دروازے اب تک بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں افغانستان  میں عوام کو  48 گھنٹے کے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے بینکاری نظام مفلوج ہو گیا تھا، فضائی سروس متاثر ہوئی تھی اور شہری رابطے سے محروم ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے ترجمان نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ’ہمیں وزارتِ مواصلات کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی،‘ تاہم ایک مقامی سروس فراہم کنندہ نے صارفین کو تصدیق کی کہ یہ تعطل حکومت کے حکم پر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بلیک آؤٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سنسرشپ کی ایک دانستہ کارروائی ہے جس سے وہ خواتین اور لڑکیاں مزید متاثر ہوئیں جو آن لائن تعلیم اور گھروں سے کام پر انحصار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس واپس لینے کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی صورت بگرام ایئربیس کو امریکا کے حوالے نہیں کریں گے۔</p>
<p>خامہ نیوز پریس ایجنسی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaama.com/bagram-air-base-in-afghanistan-will-not-be-handed-over-to-the-us-taliban-says/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ’ افغان کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کسی کو نہیں دیں گے۔’</p>
<p>اسکائی نیوز ایشیا کی نامہ نگار کورڈیلیا لنچ کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ طالبان بگرام ایئربیس کا کنٹرول چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، تاہم امریکی حکام کے ساتھ سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ ہم نے اس مسئلے پر گفتگو کی ہے اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک سفارت خانے (کابل اور واشنگٹن) دوبارہ کھولیں۔’</p>
<p>اقتدار میں واپسی کے چار سال بعد بھی طالبان سفارتی طور پر تنہا ہیں، اور اب تک صرف روس نے ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے، تاہم  ذبیح  اللہ مجاہد نے اس تاثر کو رد کیا کہ طالبان حکومت کو جواز یا قانونی حیثیت کے مسئلے کا سامنا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ کئی ممالک نے نجی طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ عوامی سطح پر اس کا اعلان نہیں کیا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269664"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بین الاقوامی تعلقات کی خواہش کے باوجود طالبان خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں نافذ کیے ہوئے ہیں، لڑکیوں کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم اب بھی ممنوع ہے، جبکہ خواتین کو زیادہ تر سرکاری اداروں اور صحت کے شعبے سمیت دیگر ملازمتوں سے روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے طالبان کے دو اعلیٰ رہنماؤں، جن میں سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ بھی شامل ہیں، کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، جن پر خواتین اور لڑکیوں کے منظم استحصال کے الزامات ہیں۔</p>
<p>جب  ذبیح اللہ مجاہد سے اس پابندی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں اس حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتا،‘ حالانکہ طالبان پہلے کہہ چکے تھے کہ اسکولوں کی بندش عارضی ہے اور ’ اسلامی اصولوں‘ کے مطابق نئی پالیسی آنے کے بعد تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے، لیکن چار سال گزرنے کے باوجود لاکھوں افغان لڑکیوں کے لیے اسکولوں کے دروازے اب تک بند ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں افغانستان  میں عوام کو  48 گھنٹے کے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے بینکاری نظام مفلوج ہو گیا تھا، فضائی سروس متاثر ہوئی تھی اور شہری رابطے سے محروم ہو گئے تھے۔</p>
<p>طالبان کے ترجمان نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ’ہمیں وزارتِ مواصلات کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی،‘ تاہم ایک مقامی سروس فراہم کنندہ نے صارفین کو تصدیق کی کہ یہ تعطل حکومت کے حکم پر کیا گیا تھا۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بلیک آؤٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سنسرشپ کی ایک دانستہ کارروائی ہے جس سے وہ خواتین اور لڑکیاں مزید متاثر ہوئیں جو آن لائن تعلیم اور گھروں سے کام پر انحصار کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270927</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 22:20:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/06215434e6488d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/06215434e6488d8.webp"/>
        <media:title>— فوٹو:  خامہ نیوز پریس ایجنسی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں 48 گھنٹے کی بندش کے بعد موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ بحال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270585/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان میں  48 گھنٹے کی بندش کے بعد موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ بحال کردیا گیا، شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق  افغانستان میں پیر کی  شب اچانک موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بند ہونے سے ملک میں افراتفری پھیل گئی تھی، کاروباری سرگرمیاں منجمد ہوگئی تھیں اور افغان عوام باقی دنیا سے کٹ گئےتھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں وسیع پیمانے پر  یہ بلیک آؤٹ اس وقت آیا تھا، جب حکومت نے ’بے راہ روی‘ کو روکنے کے لیے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر کچھ صوبوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکشن بند کرنا شروع کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے صحافیوں نے آج بتایا کہ موبائل فون سگنلز اور وائی فائی  کی سروس ملک کے مختلف صوبوں میں بحال ہوگئی ہے، جن میں جنوب میں قندھار، مشرق میں خوست، وسطی غزنی اور مغرب میں ہرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ طالبان حکومت نے ابھی تک ٹیلی کمیونی کیشن کی بندش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کی رات انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد کابل میں سیکڑوں افغان سڑکوں پر نکل آئے، 26 سالہ ڈلیوری ڈرائیور سہراب احمدی نے کہا کہ’ یہ عیدالاضحی جیسا ہے؛ جیسے نماز کے لیے تیاری کرنا، ہم دل کی گہرائیوں سے بہت خوش ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دنوں کی کشیدگی کے بعد افغان عوام نے مٹھائیاں اور غبارے خرید کر جشن منایا، ڈرائیور ہارن بجاتے رہے اور لوگ فون کان سے لگائے خوشی مناتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹورنٹ مینیجر محمد تواب فاروقی نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ شہر دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کاروبار-ایئرپورٹ-بینک-بند" href="#کاروبار-ایئرپورٹ-بینک-بند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کاروبار، ایئرپورٹ، بینک بند&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے جب طالبان حکومت نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے اور سخت اسلامی قوانین نافذ کرنے کے بعد ملک میں مواصلاتی سہولیات بند کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ بلاکس، جو سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم ہے، نے کہا کہ یہ بلیک آؤٹ ’  دانستہ سروس منقطع کرنے کے مترادف لگتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ بلاکس کے مطابق انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام سطح کے صرف ایک فیصد تک رہ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری اہلکار نے پیر کی شام بلیک آؤٹ سے چند منٹ قبل اے ایف پی کو خبردار کیا تھا کہ فائبر آپٹک نیٹ ورک کاٹ دیا جائے گا، جس سے موبائل فون سروس متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ بند ہونے سے کاروبار، ایئرپورٹس اور مارکیٹیں  بند ہوگئی تھیں  جبکہ بینک اور ڈاک خانے کام کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان عوام ملک کے اندر یا باہر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے قابل نہ تھے اور کئی خاندانوں نے غیر یقینی صورتحال کے دوران بچوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہرات اور قندھار میں رہنے والے لوگ ایران اور پاکستان کے سرحدی قصبوں تک گئے تاکہ وہاں سے سگنلز حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے منگل کو کہا تھا کہ اس شٹ ڈاؤن نے ’ افغانستان کو دنیا سے تقریباً مکمل طور پر کاٹ دیا‘ اور حکام سے رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتوں میں انٹرنیٹ کنیکشن انتہائی سست یا رُک رُک کر چل رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 ستمبر کو جب شمالی صوبوں میں انٹرنیٹ سب سے پہلے بند کیا گیا، تو بلخ صوبے کے ترجمان عطا اللہ زید نے کہا تھا کہ یہ پابندی طالبان کے سربراہ کے حکم پر لگائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’ یہ اقدام برائی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور رابطے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل اقدامات پورے ملک میں کیے جائیں گے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا تھا کہ’ افغانستان میں حالیہ مطالعات سے پتا چلا ہے کہ انٹرنیٹ ایپلی کیشنز نے معاشرے کی جاری معاشی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔’&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان میں  48 گھنٹے کی بندش کے بعد موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ بحال کردیا گیا، شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق  افغانستان میں پیر کی  شب اچانک موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بند ہونے سے ملک میں افراتفری پھیل گئی تھی، کاروباری سرگرمیاں منجمد ہوگئی تھیں اور افغان عوام باقی دنیا سے کٹ گئےتھے۔</p>
<p>افغانستان میں وسیع پیمانے پر  یہ بلیک آؤٹ اس وقت آیا تھا، جب حکومت نے ’بے راہ روی‘ کو روکنے کے لیے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر کچھ صوبوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکشن بند کرنا شروع کیے تھے۔</p>
<p>اے ایف پی کے صحافیوں نے آج بتایا کہ موبائل فون سگنلز اور وائی فائی  کی سروس ملک کے مختلف صوبوں میں بحال ہوگئی ہے، جن میں جنوب میں قندھار، مشرق میں خوست، وسطی غزنی اور مغرب میں ہرات شامل ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ طالبان حکومت نے ابھی تک ٹیلی کمیونی کیشن کی بندش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بدھ کی رات انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد کابل میں سیکڑوں افغان سڑکوں پر نکل آئے، 26 سالہ ڈلیوری ڈرائیور سہراب احمدی نے کہا کہ’ یہ عیدالاضحی جیسا ہے؛ جیسے نماز کے لیے تیاری کرنا، ہم دل کی گہرائیوں سے بہت خوش ہیں۔’</p>
<p>کئی دنوں کی کشیدگی کے بعد افغان عوام نے مٹھائیاں اور غبارے خرید کر جشن منایا، ڈرائیور ہارن بجاتے رہے اور لوگ فون کان سے لگائے خوشی مناتے رہے۔</p>
<p>ریسٹورنٹ مینیجر محمد تواب فاروقی نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ شہر دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔’</p>
<h1><a id="کاروبار-ایئرپورٹ-بینک-بند" href="#کاروبار-ایئرپورٹ-بینک-بند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کاروبار، ایئرپورٹ، بینک بند</h1>
<p>یہ پہلا موقع ہے جب طالبان حکومت نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے اور سخت اسلامی قوانین نافذ کرنے کے بعد ملک میں مواصلاتی سہولیات بند کی ہیں۔</p>
<p>نیٹ بلاکس، جو سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم ہے، نے کہا کہ یہ بلیک آؤٹ ’  دانستہ سروس منقطع کرنے کے مترادف لگتا ہے‘۔</p>
<p>نیٹ بلاکس کے مطابق انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام سطح کے صرف ایک فیصد تک رہ گئی تھی۔</p>
<p>ایک سرکاری اہلکار نے پیر کی شام بلیک آؤٹ سے چند منٹ قبل اے ایف پی کو خبردار کیا تھا کہ فائبر آپٹک نیٹ ورک کاٹ دیا جائے گا، جس سے موبائل فون سروس متاثر ہوگی۔</p>
<p>انٹرنیٹ بند ہونے سے کاروبار، ایئرپورٹس اور مارکیٹیں  بند ہوگئی تھیں  جبکہ بینک اور ڈاک خانے کام کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔</p>
<p>افغان عوام ملک کے اندر یا باہر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے قابل نہ تھے اور کئی خاندانوں نے غیر یقینی صورتحال کے دوران بچوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہرات اور قندھار میں رہنے والے لوگ ایران اور پاکستان کے سرحدی قصبوں تک گئے تاکہ وہاں سے سگنلز حاصل کر سکیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے منگل کو کہا تھا کہ اس شٹ ڈاؤن نے ’ افغانستان کو دنیا سے تقریباً مکمل طور پر کاٹ دیا‘ اور حکام سے رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتوں میں انٹرنیٹ کنیکشن انتہائی سست یا رُک رُک کر چل رہے تھے۔</p>
<p>16 ستمبر کو جب شمالی صوبوں میں انٹرنیٹ سب سے پہلے بند کیا گیا، تو بلخ صوبے کے ترجمان عطا اللہ زید نے کہا تھا کہ یہ پابندی طالبان کے سربراہ کے حکم پر لگائی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’ یہ اقدام برائی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور رابطے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل اقدامات پورے ملک میں کیے جائیں گے۔’</p>
<p>انہوں نے مزید کہا تھا کہ’ افغانستان میں حالیہ مطالعات سے پتا چلا ہے کہ انٹرنیٹ ایپلی کیشنز نے معاشرے کی جاری معاشی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔’</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270585</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 23:16:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/01223442b0cfc15.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/01223442b0cfc15.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان بھر میں کمیونیکیشن سروسز کا بلیک آؤٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270298/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان بھر میں بڑے پیمانے پر کمیونیکیشن سروسز کا بلیک آؤٹ رپورٹ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ طالبان نے اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر متعدد صوبوں میں ’ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے’  کے لیے فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’نیٹ بلاکس‘ کے  حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’اس وقت پورے افغانستان میں ٹیلی کام سروسز کی بندش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ بلاکس نے رپورٹ کیا کہ ’ہم اس وقت قومی سطح پر رابطے معمول کے مقابلے میں صرف 14 فیصد پر ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netblocks/status/1972658985862922470"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واچ ڈاگ نے کہا کہ  ’سروسز جان بوجھ کر منقطع کیے جانے‘ سے مطابقت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کا کابل میں اپنے دفتر سے رابطہ تقریباً شام  6 بج کر 15 منٹ (پاکستانی وقت 6:45 ) پر کٹ گیا، جس میں موبائل فون سروس بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان طالبان حکام نے اس ماہ کے آغاز میں انٹرنیٹ تک رسائی پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، اور کئی صوبوں میں کنکشن کاٹ دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخندزادہ کے حکم پر کیا گیا تھا، جس سے کئی علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی ترجمان عطا اللہ زید نے 16 ستمبر کو کہا تھا کہ صوبہ بلخ میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کو لیڈر کے حکم پر مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ یہ فیصلہ ’ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے’ کے لیے کیا گیا ہے اور حکام اب متبادل تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت، اے ایف پی کے نمائندوں نے شمالی صوبوں بدخشاں اور تخار، اسی طرح  جنوبی صوبوں قندھار، ہلمند، ننگرہار اور ارزگان میں بھی یہی پابندیاں رپورٹ کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں میں انٹرنیٹ کنکشن انتہائی سست یا وقفے وقفے سے چل رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس کے برعکس 2024 میں کابل نے 9 ہزار 350 کلومیٹر پر مشتمل فائبر آپٹک نیٹ ورک کو ’ترجیح‘ قرار دیا تھا تاکہ ملک کو دنیا سے قریب لایا جا سکے اور غربت سے نکالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان بھر میں بڑے پیمانے پر کمیونیکیشن سروسز کا بلیک آؤٹ رپورٹ ہوا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ طالبان نے اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر متعدد صوبوں میں ’ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے’  کے لیے فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی تھی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’نیٹ بلاکس‘ کے  حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’اس وقت پورے افغانستان میں ٹیلی کام سروسز کی بندش ہے۔</p>
<p>نیٹ بلاکس نے رپورٹ کیا کہ ’ہم اس وقت قومی سطح پر رابطے معمول کے مقابلے میں صرف 14 فیصد پر ہیں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netblocks/status/1972658985862922470"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>واچ ڈاگ نے کہا کہ  ’سروسز جان بوجھ کر منقطع کیے جانے‘ سے مطابقت رکھتی ہیں۔</p>
<p>اے ایف پی کا کابل میں اپنے دفتر سے رابطہ تقریباً شام  6 بج کر 15 منٹ (پاکستانی وقت 6:45 ) پر کٹ گیا، جس میں موبائل فون سروس بھی شامل ہے۔</p>
<p>افغان طالبان حکام نے اس ماہ کے آغاز میں انٹرنیٹ تک رسائی پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، اور کئی صوبوں میں کنکشن کاٹ دیے تھے۔</p>
<p>یہ اقدام طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخندزادہ کے حکم پر کیا گیا تھا، جس سے کئی علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صوبائی ترجمان عطا اللہ زید نے 16 ستمبر کو کہا تھا کہ صوبہ بلخ میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کو لیڈر کے حکم پر مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ یہ فیصلہ ’ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے’ کے لیے کیا گیا ہے اور حکام اب متبادل تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس وقت، اے ایف پی کے نمائندوں نے شمالی صوبوں بدخشاں اور تخار، اسی طرح  جنوبی صوبوں قندھار، ہلمند، ننگرہار اور ارزگان میں بھی یہی پابندیاں رپورٹ کیں۔</p>
<p>گزشتہ چند ہفتوں میں انٹرنیٹ کنکشن انتہائی سست یا وقفے وقفے سے چل رہے تھے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اس کے برعکس 2024 میں کابل نے 9 ہزار 350 کلومیٹر پر مشتمل فائبر آپٹک نیٹ ورک کو ’ترجیح‘ قرار دیا تھا تاکہ ملک کو دنیا سے قریب لایا جا سکے اور غربت سے نکالا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270298</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Sep 2025 20:32:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/292024163fc7545.webp" type="image/webp" medium="image" height="420" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/292024163fc7545.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/292024452cec9da.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/292024452cec9da.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
