<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 03:04:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 03:04:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی کے گروہ کو اماراتی شہزادے کی رہائی کے عوض 5 کروڑ ڈالر تاوان کی ادائیگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274180/</link>
      <description>&lt;p&gt;چند ہفتے قبل متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے ایک رکن کی رہائی کے بدلے کم از کم 5 کروڑ ڈالر تاوان ادا کیا گیا، سونے کے کاروبار سے وابستہ اس شہزادے کے ساتھ ایک پاکستانی اور ایک ایرانی کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن خبر رساں ادارے ’ڈی ڈبلیو‘ کی رپورٹ کے مطابق تاوان کی یہ رقم القاعدہ سے منسلک جہادی گروہ ’جماعۃ نصرۃ الاسلام والمسلمین‘ (جے این آئی ایم) کو ادا کی گئی، یہ گروہ مغربی افریقی ملک، مالی کی فوجی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں شریعت نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے ’اقتصادی جہاد‘ کو اپنی بنیادی حکمت عملی بنا رکھا ہے، تاوان اور ایندھن دونوں اس کے اہم ہتھیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جہادی گروہ نے جون 2025 میں دھمکی دی تھی کہ وہ مالی میں قائم کسی بھی غیر ملکی کمپنی یا کارخانے پر حملہ کرے گا اور جو ادارہ حکومت کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے ان عسکریت پسندوں سے ’اجازت‘ لینا ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274141'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274141"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے اس گروہ نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا ہے، یہ گروہ سینیگال اور آئیوری کوسٹ سے آنے والے تیل کے ٹینکرز جلا چکا ہے، کانوں اور فیکٹریوں پر حملے کر چکا ہے جبکہ غیر ملکیوں کے اغوا میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں تنازعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’اے سی ایل ای ڈی‘ کے سینئر تجزیہ کار ہینی نسیبیا کہتے ہیں، ’مئی سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 22 غیر ملکی شہری اغوا ہوئے اور یہ تعداد 2022 کے پچھلے ریکارڈ 13 سے تقریباً دگنی بنتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغویوں میں چینی، بھارتی، مصری، اماراتی، ایرانی، سربیائی، کروشیائی اور بوسنیائی شہری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="علاقے-کا-سب-سے-بڑا-تاوان" href="#علاقے-کا-سب-سے-بڑا-تاوان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;علاقے کا سب سے بڑا تاوان&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;26 ستمبر کو دارالحکومت بماکو کے قریب سونے کے کاروبار سے وابستہ ایک اماراتی شہزادے کو اغوا کیا گیا، اس کے 2 ساتھی، ایک ایرانی اور ایک پاکستانی، بھی یرغمال بنائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے واقف ذرائع اور مالی سکیورٹی حکام کے مطابق ’پہلے یرغمالیوں کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگا گیا اور 40 کروڑ سی ایف اے فرانک (تقریباً 70 لاکھ ڈالر سے زائد) ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر کار اکتوبر کے آخر میں کم از کم 5 کروڑ ڈالر کے عوض ان تینوں یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسیبیا کہتے ہیں کہ یہ خطے میں اب تک کا سب سے بڑا معلوم تاوان اور جے این آئی ایم کے لیے زبردست مالی انجیکشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی کے سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس ڈیل کے تحت جے این آئی ایم کے تقریباً 30 قیدی بھی رہا ہوئے، جو مالی کی انٹیلیجنس کے پاس تھے، جب کہ مالی کے کچھ فوجی بھی اسی تبادلے کے دوران آزاد ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چند ہفتے قبل متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے ایک رکن کی رہائی کے بدلے کم از کم 5 کروڑ ڈالر تاوان ادا کیا گیا، سونے کے کاروبار سے وابستہ اس شہزادے کے ساتھ ایک پاکستانی اور ایک ایرانی کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا۔</p>
<p>جرمن خبر رساں ادارے ’ڈی ڈبلیو‘ کی رپورٹ کے مطابق تاوان کی یہ رقم القاعدہ سے منسلک جہادی گروہ ’جماعۃ نصرۃ الاسلام والمسلمین‘ (جے این آئی ایم) کو ادا کی گئی، یہ گروہ مغربی افریقی ملک، مالی کی فوجی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں شریعت نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے ’اقتصادی جہاد‘ کو اپنی بنیادی حکمت عملی بنا رکھا ہے، تاوان اور ایندھن دونوں اس کے اہم ہتھیار ہیں۔</p>
<p>اس جہادی گروہ نے جون 2025 میں دھمکی دی تھی کہ وہ مالی میں قائم کسی بھی غیر ملکی کمپنی یا کارخانے پر حملہ کرے گا اور جو ادارہ حکومت کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے ان عسکریت پسندوں سے ’اجازت‘ لینا ہو گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274141'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274141"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد سے اس گروہ نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا ہے، یہ گروہ سینیگال اور آئیوری کوسٹ سے آنے والے تیل کے ٹینکرز جلا چکا ہے، کانوں اور فیکٹریوں پر حملے کر چکا ہے جبکہ غیر ملکیوں کے اغوا میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں تنازعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’اے سی ایل ای ڈی‘ کے سینئر تجزیہ کار ہینی نسیبیا کہتے ہیں، ’مئی سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 22 غیر ملکی شہری اغوا ہوئے اور یہ تعداد 2022 کے پچھلے ریکارڈ 13 سے تقریباً دگنی بنتی ہے‘۔</p>
<p>مغویوں میں چینی، بھارتی، مصری، اماراتی، ایرانی، سربیائی، کروشیائی اور بوسنیائی شہری شامل ہیں۔</p>
<h1><a id="علاقے-کا-سب-سے-بڑا-تاوان" href="#علاقے-کا-سب-سے-بڑا-تاوان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>علاقے کا سب سے بڑا تاوان</h1>
<p>26 ستمبر کو دارالحکومت بماکو کے قریب سونے کے کاروبار سے وابستہ ایک اماراتی شہزادے کو اغوا کیا گیا، اس کے 2 ساتھی، ایک ایرانی اور ایک پاکستانی، بھی یرغمال بنائے گئے۔</p>
<p>مذاکرات سے واقف ذرائع اور مالی سکیورٹی حکام کے مطابق ’پہلے یرغمالیوں کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگا گیا اور 40 کروڑ سی ایف اے فرانک (تقریباً 70 لاکھ ڈالر سے زائد) ادا کیے گئے۔</p>
<p>آخر کار اکتوبر کے آخر میں کم از کم 5 کروڑ ڈالر کے عوض ان تینوں یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔</p>
<p>نسیبیا کہتے ہیں کہ یہ خطے میں اب تک کا سب سے بڑا معلوم تاوان اور جے این آئی ایم کے لیے زبردست مالی انجیکشن ہے۔</p>
<p>مالی کے سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس ڈیل کے تحت جے این آئی ایم کے تقریباً 30 قیدی بھی رہا ہوئے، جو مالی کی انٹیلیجنس کے پاس تھے، جب کہ مالی کے کچھ فوجی بھی اسی تبادلے کے دوران آزاد ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274180</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 13:30:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241049125370a7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241049125370a7c.webp"/>
        <media:title>ڈیل کے تحت جہادی گروہ کے 30 قیدی رہا ہوئے، مالی کے کچھ فوجی بھی اسی تبادلے کے دوران آزاد ہوئے — فوٹو: زیگازولا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائیجیریا میں کیتھولک اسکول سے 300 سے زائد طلبہ اور عملے کو اغوا کر لیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274141/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس ہفتے نائیجیریا میں ایک کیتھولک اسکول سے 300 سے زائد طلبہ اور عملے کو اغوا کر لیا گیا، جو وہاں ریکارڈ کیے گئے بدترین اجتماعی اغوا کے واقعات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956803/over-300-taken-from-nigerian-school-in-mass-abduction"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نائجیریا کی کرسچن ایسوسی ایشن (سی اے این) نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے نائیجر ریاست میں جمعہ کو سینٹ میری اسکول سے لے جائے گئے افراد کی تعداد کی تصدیق کے عمل کے بعد اپنی ابتدائی تعداد 227 سے بڑھا کر 315 کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ اب 303 طلبہ اور 12 اساتذہ لاپتا ہیں، یوں اغوا ہونے والے افراد کی کل تعداد 315 ہوگئی ہے، نئی تعداد میں وہ 88 طلبہ بھی شامل ہیں جنہیں فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273012'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اغوا نائیجیریا میں مسلح گروہوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان ہوا ہے، جو اس ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’عیسائیوں کے ساتھ سلوک‘ کے معاملے پر فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد سے مزید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ تعداد درست ثابت ہوئی تو اسکول سے اغوا ہونے والے افراد کی تازہ تعداد 2014 میں چیبوک سے بوکو حرام کے ہاتھوں اغوا ہونے والی 276 اسکول کی طالبات سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائیجر کی ریاستی حکومت نے جمعہ کو کہا کہ اسکول نے وہ ہدایت نظرانداز کی تھی، جس کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں حملوں کے شدید خدشات کے باعث بورڈنگ اسکولز کو بند کر دینا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ریورنڈ بولس ڈاؤوا یوہنّا (جو سی اے این کے چیئرمین ہیں) نے کہا کہ جمعہ کی رات اسکول کا دورہ کرنے کے بعد انہیں کسی ایسی وارننگ کا علم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو بازیاب کرایا جائے اور محفوظ طریقے سے واپس لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273163'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273163"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے تقریباً 50 وفاقی کالجوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور کچھ ریاستوں میں سرکاری اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کا اجتماعی اغوا اس ہفتے نائجیریا میں پیش آنے والا تیسرا ایسا واقعہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو کیبی ریاست کے ایک بورڈنگ اسکول سے 25 اسکول کی لڑکیوں کو اغوا کیا گیا، جب کہ بدھ کے روز کوارا ریاست میں عبادت کے دوران مسلح افراد کے حملے میں 38 عبادت گزاروں کو اغوا کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے جمعرات کو کہا تھا کہ واشنگٹن نائیجیریا کی حکومت کو عیسائی برادریوں کے بہتر تحفظ پر مجبور کرنے کے منصوبے کے تحت پابندیوں اور دہشت گردی کے خلاف پینٹاگون کی شمولیت جیسے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائیجیریا کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سیکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کی غلط عکاسی کرتے ہیں اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس ہفتے نائیجیریا میں ایک کیتھولک اسکول سے 300 سے زائد طلبہ اور عملے کو اغوا کر لیا گیا، جو وہاں ریکارڈ کیے گئے بدترین اجتماعی اغوا کے واقعات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956803/over-300-taken-from-nigerian-school-in-mass-abduction"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق نائجیریا کی کرسچن ایسوسی ایشن (سی اے این) نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے نائیجر ریاست میں جمعہ کو سینٹ میری اسکول سے لے جائے گئے افراد کی تعداد کی تصدیق کے عمل کے بعد اپنی ابتدائی تعداد 227 سے بڑھا کر 315 کر دی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ اب 303 طلبہ اور 12 اساتذہ لاپتا ہیں، یوں اغوا ہونے والے افراد کی کل تعداد 315 ہوگئی ہے، نئی تعداد میں وہ 88 طلبہ بھی شامل ہیں جنہیں فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑ لیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273012'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ اغوا نائیجیریا میں مسلح گروہوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان ہوا ہے، جو اس ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’عیسائیوں کے ساتھ سلوک‘ کے معاملے پر فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد سے مزید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
<p>اگر یہ تعداد درست ثابت ہوئی تو اسکول سے اغوا ہونے والے افراد کی تازہ تعداد 2014 میں چیبوک سے بوکو حرام کے ہاتھوں اغوا ہونے والی 276 اسکول کی طالبات سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔</p>
<p>نائیجر کی ریاستی حکومت نے جمعہ کو کہا کہ اسکول نے وہ ہدایت نظرانداز کی تھی، جس کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں حملوں کے شدید خدشات کے باعث بورڈنگ اسکولز کو بند کر دینا چاہیے تھا۔</p>
<p>لیکن ریورنڈ بولس ڈاؤوا یوہنّا (جو سی اے این کے چیئرمین ہیں) نے کہا کہ جمعہ کی رات اسکول کا دورہ کرنے کے بعد انہیں کسی ایسی وارننگ کا علم نہیں تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو بازیاب کرایا جائے اور محفوظ طریقے سے واپس لایا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273163'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273163"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی حکومت نے تقریباً 50 وفاقی کالجوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور کچھ ریاستوں میں سرکاری اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کا اجتماعی اغوا اس ہفتے نائجیریا میں پیش آنے والا تیسرا ایسا واقعہ تھا۔</p>
<p>پیر کو کیبی ریاست کے ایک بورڈنگ اسکول سے 25 اسکول کی لڑکیوں کو اغوا کیا گیا، جب کہ بدھ کے روز کوارا ریاست میں عبادت کے دوران مسلح افراد کے حملے میں 38 عبادت گزاروں کو اغوا کیا گیا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے جمعرات کو کہا تھا کہ واشنگٹن نائیجیریا کی حکومت کو عیسائی برادریوں کے بہتر تحفظ پر مجبور کرنے کے منصوبے کے تحت پابندیوں اور دہشت گردی کے خلاف پینٹاگون کی شمولیت جیسے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p>نائیجیریا کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سیکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کی غلط عکاسی کرتے ہیں اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274141</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 11:04:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2310554440db6c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2310554440db6c7.webp"/>
        <media:title>یہ واردات صدر ٹرمپ کی ’عیسائیوں کے ساتھ سلوک‘ کے معاملے پر فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد سے مزید توجہ کا مرکز ہے۔  —فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی 20 ممالک نے امریکی شمولیت کے بغیر اعلامیہ منظور کر لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274136/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی افریقہ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس نے ہفتے کے روز ایک اعلامیہ منظور کیا ہے، جس میں ماحولیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجز پر بات کی گئی ہے، تاہم یہ اعلامیہ امریکی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا ہے، جسے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956785/g20-nations-adopt-declaration-without-us-input"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اعلامیے میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے، جس کی واشنگٹن طویل عرصے سے مخالفت کرتا رہا ہے، اور اسے ’دوبارہ مذاکرات کے لیے نہیں کھولا جا سکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس منظوری کے لیے پورا سال کام کیا ہے اور گزشتہ ہفتے خاصا دباؤ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار اجلاس کی میزبانی کرنے والے صدر رامافوسا نے اس سے قبل کہا تھا کہ اعلامیے کے لیے &lt;strong&gt;بھاری اکثریت میں اتفاقِ رائے&lt;/strong&gt; موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273449'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 ذرائع کے مطابق جو اس معاملے سے واقف ہیں، جی 20 کے ایلچیوں نے جمعے کے روز یہ مسودہ &lt;strong&gt;امریکی شرکت کے بغیر&lt;/strong&gt; تیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ ناپسند کرتی رہی ہے، یعنی موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی اور اس سے نمٹنے کی بہتر حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دینا، اس میں قابلِ تجدید توانائی کے حصول کے بلند اہداف کی تعریف کی گئی اور غریب ممالک کی جانب سے قرضوں کی بھاری ادائیگیوں کے بوجھ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی تبدیلی سے متعلق زبان کا شامل کیا جانا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’سفارتی دھچکے‘ کے طور پر دیکھا گیا، جو اس سائنسی اتفاقِ رائے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ عالمی حدت انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتی ہے، امریکی اہلکار پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ اس طرح کے حوالوں کی مخالفت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے افتتاحی خطاب میں رامافوسا نے کہا کہ ہمیں کسی بھی چیز کو پہلے افریقی جی 20 صدارت کی قدر، وقار اور اثر کم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ پُر اعتماد لہجہ اگست میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران ان کے نسبتاً خاموش رویے کے برعکس تھا، جب انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے غط دعوے کو برداشت کیا تھا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے کیوں کہ میزبان ملک پر سفید فام اقلیت کو دبانے کے الزامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جغرافیائی-سیاسی-تقسیم" href="#جغرافیائی-سیاسی-تقسیم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’جغرافیائی سیاسی تقسیم‘&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکی بائیکاٹ کے باوجود رہنماؤں نے خبردار کیا کہ معاشی بحران حل کرنے میں جی 20 کا کردار جغرافیائی سیاسی تقسیم کے باعث خطرے میں پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274066'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رامافوسا نے ٹرمپ کی غیر موجودگی کو کم اہمیت دی اور مؤقف اختیار کیا کہ جی 20 اب بھی بین الاقوامی تعاون کے لیے کلیدی فورم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اجلاس کے دوران خبردار کیا کہ جی 20 شاید اپنے ایک دور کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، افتتاحی خطاب میں میکرون نے کہا کہ رہنما اس میز پر ’بڑے عالمی بحرانوں کے حل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، یورپی یونین کی کمشنر ارسلا وان ڈیر لین نے اپنی تقریر میں ’انحصار کے ہتھیار بننے‘ کے خطرے سے خبردار کیا، جو چین کی جانب سے توانائی کی منتقلی کے لیے ضروری نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں کی طرف اشارہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکا نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، مگر اس نے آئندہ جی 20 اجلاس میں صدارت سنبھالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ٹرمپ 2026 میں اگلا اجلاس فلوریڈا کے ایک گولف کلب میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو ان کی ذاتی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی افریقہ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس نے ہفتے کے روز ایک اعلامیہ منظور کیا ہے، جس میں ماحولیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجز پر بات کی گئی ہے، تاہم یہ اعلامیہ امریکی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا ہے، جسے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956785/g20-nations-adopt-declaration-without-us-input"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اعلامیے میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے، جس کی واشنگٹن طویل عرصے سے مخالفت کرتا رہا ہے، اور اسے ’دوبارہ مذاکرات کے لیے نہیں کھولا جا سکتا‘۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس منظوری کے لیے پورا سال کام کیا ہے اور گزشتہ ہفتے خاصا دباؤ رہا۔</p>
<p>ہفتہ وار اجلاس کی میزبانی کرنے والے صدر رامافوسا نے اس سے قبل کہا تھا کہ اعلامیے کے لیے <strong>بھاری اکثریت میں اتفاقِ رائے</strong> موجود تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273449'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>4 ذرائع کے مطابق جو اس معاملے سے واقف ہیں، جی 20 کے ایلچیوں نے جمعے کے روز یہ مسودہ <strong>امریکی شرکت کے بغیر</strong> تیار کیا۔</p>
<p>دستاویز میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ ناپسند کرتی رہی ہے، یعنی موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی اور اس سے نمٹنے کی بہتر حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دینا، اس میں قابلِ تجدید توانائی کے حصول کے بلند اہداف کی تعریف کی گئی اور غریب ممالک کی جانب سے قرضوں کی بھاری ادائیگیوں کے بوجھ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔</p>
<p>موسمیاتی تبدیلی سے متعلق زبان کا شامل کیا جانا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’سفارتی دھچکے‘ کے طور پر دیکھا گیا، جو اس سائنسی اتفاقِ رائے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ عالمی حدت انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتی ہے، امریکی اہلکار پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ اس طرح کے حوالوں کی مخالفت کریں گے۔</p>
<p>اپنے افتتاحی خطاب میں رامافوسا نے کہا کہ ہمیں کسی بھی چیز کو پہلے افریقی جی 20 صدارت کی قدر، وقار اور اثر کم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔</p>
<p>ان کا یہ پُر اعتماد لہجہ اگست میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران ان کے نسبتاً خاموش رویے کے برعکس تھا، جب انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے غط دعوے کو برداشت کیا تھا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے کیوں کہ میزبان ملک پر سفید فام اقلیت کو دبانے کے الزامات ہیں۔</p>
<hr />
<h1><a id="جغرافیائی-سیاسی-تقسیم" href="#جغرافیائی-سیاسی-تقسیم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’جغرافیائی سیاسی تقسیم‘</strong></h1>
<p>امریکی بائیکاٹ کے باوجود رہنماؤں نے خبردار کیا کہ معاشی بحران حل کرنے میں جی 20 کا کردار جغرافیائی سیاسی تقسیم کے باعث خطرے میں پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274066'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رامافوسا نے ٹرمپ کی غیر موجودگی کو کم اہمیت دی اور مؤقف اختیار کیا کہ جی 20 اب بھی بین الاقوامی تعاون کے لیے کلیدی فورم ہے۔</p>
<p>تاہم فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اجلاس کے دوران خبردار کیا کہ جی 20 شاید اپنے ایک دور کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، افتتاحی خطاب میں میکرون نے کہا کہ رہنما اس میز پر ’بڑے عالمی بحرانوں کے حل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘۔</p>
<p>دوسری جانب، یورپی یونین کی کمشنر ارسلا وان ڈیر لین نے اپنی تقریر میں ’انحصار کے ہتھیار بننے‘ کے خطرے سے خبردار کیا، جو چین کی جانب سے توانائی کی منتقلی کے لیے ضروری نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں کی طرف اشارہ تھا۔</p>
<p>اگرچہ امریکا نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، مگر اس نے آئندہ جی 20 اجلاس میں صدارت سنبھالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ٹرمپ 2026 میں اگلا اجلاس فلوریڈا کے ایک گولف کلب میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو ان کی ذاتی ملکیت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274136</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 10:07:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2309564991a54ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2309564991a54ba.webp"/>
        <media:title>فرانسیسی صدر نے خبردار کیا کہ جی 20 شاید اپنے ایک دور کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ —فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد قومی سانحہ بن چکا، جنوبی افریقی حکومت کا اعتراف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274090/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی افریقہ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی تشدد کی شرح ایک قومی سانحہ بن چکی ہے، ہزاروں افراد نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے احتجاج بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ دنیا میں صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کے قتلِ عام کی سب سے زیادہ شرح رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جو اقوام متحدہ کی صنفی برابری کی تنظیم ’یو این ویمن‘ کے مطابق خواتین کی اموات کی عالمی اوسط سے پانچ گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں ہونے والے درجنوں ’لائی اِن‘ مظاہروں میں سے ایک میں، ہزاروں افراد نے سیاہ لباس پہن کر جوہانسبرگ کے مرکز میں زمین پر 15 منٹ تک لیٹ کر احتجاج ریکارڈ کرایا، جو اس مقام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جہاں ہفتے اور اتوار کو جی 20 رہنما ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظمین نے کہا کہ یہ احتجاج جنوبی افریقہ میں روزانہ قتل ہونے والی 15 خواتین کی یاد میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں کی گئی ایک حکومتی تحقیق میں پتا چلا کہ ہر تین میں سے ایک جنوبی افریقی خاتون نے جسمانی تشدد برداشت کیا، جبکہ تقریباً 10 فیصد خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کی پہلی سہ ماہی میں پولیس کو 10 ہزار 700 سے زیادہ ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے کہا کہ ’تشدد کے جاری واقعات سے لاحق مستقل اور فوری خطرات‘ کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کا قتل عام ’ممکنہ آفت‘ کی حد تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ حکومت کی ایگزیکٹو شاخ اور ’ریاست کے تمام اداروں‘ کے لیے اولین ترجیح بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج میں شامل 19 سالہ طالبہ نومہلے پورگو نے کہا کہ ’ہمیں صرف انصاف چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے امید ظاہر کی کہ احتجاج کے وقت کا انتخاب اس لیے مؤثر ہوگا کہ ’اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ ہماری چیخیں سن سکیں‘ مگر وہ اس فیصلے سے متاثر نہیں تھی کہ حکومت نے بین الاقوامی توجہ حاصل ہونے کے وقت اس مسئلے کو قومی آفت قرار دیا، جبکہ یہ مطالبہ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں برسوں سے کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومہلے پورگو نے اے ایف پی کو بتایا کہ صرف اس لیے کہ بین الاقوامی مہمان آرہے ہیں اور وہ اپنے گھر کو ان کے سامنے صاف ستھرا دکھانا چاہتے ہیں، اس وقت اسے قومی آفت قرار دینا ناانصافی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی افریقہ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی تشدد کی شرح ایک قومی سانحہ بن چکی ہے، ہزاروں افراد نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے احتجاج بھی کیا۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ دنیا میں صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کے قتلِ عام کی سب سے زیادہ شرح رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جو اقوام متحدہ کی صنفی برابری کی تنظیم ’یو این ویمن‘ کے مطابق خواتین کی اموات کی عالمی اوسط سے پانچ گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>ملک بھر میں ہونے والے درجنوں ’لائی اِن‘ مظاہروں میں سے ایک میں، ہزاروں افراد نے سیاہ لباس پہن کر جوہانسبرگ کے مرکز میں زمین پر 15 منٹ تک لیٹ کر احتجاج ریکارڈ کرایا، جو اس مقام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جہاں ہفتے اور اتوار کو جی 20 رہنما ملاقات کریں گے۔</p>
<p>منتظمین نے کہا کہ یہ احتجاج جنوبی افریقہ میں روزانہ قتل ہونے والی 15 خواتین کی یاد میں کیا گیا۔</p>
<p>2022 میں کی گئی ایک حکومتی تحقیق میں پتا چلا کہ ہر تین میں سے ایک جنوبی افریقی خاتون نے جسمانی تشدد برداشت کیا، جبکہ تقریباً 10 فیصد خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوئیں۔</p>
<p>2025 کی پہلی سہ ماہی میں پولیس کو 10 ہزار 700 سے زیادہ ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>حکومتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے کہا کہ ’تشدد کے جاری واقعات سے لاحق مستقل اور فوری خطرات‘ کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کا قتل عام ’ممکنہ آفت‘ کی حد تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ حکومت کی ایگزیکٹو شاخ اور ’ریاست کے تمام اداروں‘ کے لیے اولین ترجیح بن گیا ہے۔</p>
<p>احتجاج میں شامل 19 سالہ طالبہ نومہلے پورگو نے کہا کہ ’ہمیں صرف انصاف چاہیے۔‘</p>
<p>اس نے امید ظاہر کی کہ احتجاج کے وقت کا انتخاب اس لیے مؤثر ہوگا کہ ’اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ ہماری چیخیں سن سکیں‘ مگر وہ اس فیصلے سے متاثر نہیں تھی کہ حکومت نے بین الاقوامی توجہ حاصل ہونے کے وقت اس مسئلے کو قومی آفت قرار دیا، جبکہ یہ مطالبہ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں برسوں سے کر رہی تھیں۔</p>
<p>نومہلے پورگو نے اے ایف پی کو بتایا کہ صرف اس لیے کہ بین الاقوامی مہمان آرہے ہیں اور وہ اپنے گھر کو ان کے سامنے صاف ستھرا دکھانا چاہتے ہیں، اس وقت اسے قومی آفت قرار دینا ناانصافی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274090</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 23:05:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2122164700bf61e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2122164700bf61e.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشکوک اسرائیلی پروازیں غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے ایجنڈے کا حصہ ہیں، جنوبی افریقہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273909/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی افریقہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایک طیارے کے ذریعے 153 فلسطینیوں کی اچانک آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کا صفایا کرنے کا ایک واضح ایجنڈا موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955749/s-africa-says-suspicious-flights-from-israel-an-agenda-to-cleanse-gaza"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ گروپ جمعرات کو ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے جوہانسبرگ پہنچا، جبکہ ان کے پاسپورٹس پر اسرائیل کی مہریں موجود نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں کہا گیا کہ ایک پراسرار تنظیم المجد ان کی غزہ سے روانگی میں ملوث تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنوبی افریقی حکومت کے طور پر اس طیارے کی آمد کے حالات پر شکوک رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقی بارڈر پولیس نے اس گروپ کو 12 گھنٹے تک طیارے ہی میں رکھا، جس کے بعد صدر سیرل رامافوسا نے انہیں 90 روزہ ویزا استثنیٰ کے تحت ملک میں داخلے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273787/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273787"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک پہلا طیارہ 28 اکتوبر کو 176 فلسطینیوں کو لے کر آیا تھا، جن کی امداد کرنے والی فلاحی تنظیم ’گفٹ آف دی گیورز‘ نے اس کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈ لامولا کا کہنا تھا کہ ہم مزید پروازیں نہیں چاہتے، کیونکہ یہ غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کا صفایا کرنے کے ایک واضح ایجنڈے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی جنوبی افریقہ مخالفت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل فلسطینیوں کو فلسطین سے دنیا کے مختلف حصوں میں منتقل کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، اور یہ یقیناً ایک منظم کارروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ، جو اس ہفتے کے آخر میں جی-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، فلسطینی مقصد کے سب سے مضبوط عالمی حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریٹوریا نے 2023 میں عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کے الزام میں مقدمہ دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این جی او ’گفٹ آف دی گیورز‘ کے مطابق فلسطینیوں نے بتایا کہ انہوں نے غزہ سے نکلنے کے لیے المجد نامی گروپ کو فی کس تقریباً 2 ہزار ڈالر ادا کیے تھے، اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ جنوبی افریقہ جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کی نمائندہ سارہ اوسٹہویزن نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ انہیں کسی محفوظ ملک میں لے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو انہیں خوش آمدید کہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بعض مسافروں کو تو یہ بھی یقین تھا کہ وہ انڈونیشیا، ملیشیا یا بھارت جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ نے بتایا کہ پہلے گروپ کے مسافروں کو بالکل معلوم نہیں تھا کہ وہ جنوبی افریقہ آ رہے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا طیارہ، جس میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے، اسرائیل کے رامون ایئرپورٹ سے نیروبی گیا، اور پھر وہاں سے چارٹرڈ پرواز کے ذریعے جوہانسبرگ پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جن رہائش گاہوں کا مسافروں سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ صرف تقریباً ایک ہفتے کے لیے بک کی گئی تھیں، اور جب وہ ان مقامات پر پہنچ گئے تو المجد سے رابطہ اچانک ختم ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کچھ نے این جی او کو بتایا کہ وہ پناہ کی درخواست دینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ میں فلسطینی سفارت خانے نے جمعرات کو کہا کہ دونوں گروپوں کا سفر ایک غیر رجسٹرڈ اور گمراہ کن تنظیم نے ترتیب دیا تھا، جس نے غزہ میں ہمارے لوگوں کی المناک انسانی صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، اس گروپ نے خاندانوں کو دھوکا دیا، ان سے پیسے لیے، اور ان کے سفر کو غیر معمولی اور غیر ذمہ دارانہ طریقے سے سہولت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں نے المجد سے رابطے کی کوشش کی تو ان کی ویب سائٹ پر درج کوئی بھی نمبر فعال نہیں تھا، بتایا گیا پتہ صرف مشرقی بیت المقدس کے محلے شیخ جراح تک ہی لے جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام نے ہفتے کو کہا تھا کہ 153 فلسطینیوں کو غزہ سے روانگی کی اجازت اس لیے دی گئی کہ انہیں ایک تیسرے ملک کی جانب سے قبول کیے جانے کی منظوری ملی تھی، تاہم اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی افریقہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایک طیارے کے ذریعے 153 فلسطینیوں کی اچانک آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کا صفایا کرنے کا ایک واضح ایجنڈا موجود ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی <a href="https://www.dawn.com/news/1955749/s-africa-says-suspicious-flights-from-israel-an-agenda-to-cleanse-gaza"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ گروپ جمعرات کو ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے جوہانسبرگ پہنچا، جبکہ ان کے پاسپورٹس پر اسرائیل کی مہریں موجود نہیں تھیں۔</p>
<p>رپورٹس میں کہا گیا کہ ایک پراسرار تنظیم المجد ان کی غزہ سے روانگی میں ملوث تھی۔</p>
<p>وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنوبی افریقی حکومت کے طور پر اس طیارے کی آمد کے حالات پر شکوک رکھتے ہیں۔</p>
<p>جنوبی افریقی بارڈر پولیس نے اس گروپ کو 12 گھنٹے تک طیارے ہی میں رکھا، جس کے بعد صدر سیرل رامافوسا نے انہیں 90 روزہ ویزا استثنیٰ کے تحت ملک میں داخلے کی اجازت دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273787/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273787"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک پہلا طیارہ 28 اکتوبر کو 176 فلسطینیوں کو لے کر آیا تھا، جن کی امداد کرنے والی فلاحی تنظیم ’گفٹ آف دی گیورز‘ نے اس کی تصدیق کی۔</p>
<p>رونالڈ لامولا کا کہنا تھا کہ ہم مزید پروازیں نہیں چاہتے، کیونکہ یہ غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کا صفایا کرنے کے ایک واضح ایجنڈے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی جنوبی افریقہ مخالفت کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل فلسطینیوں کو فلسطین سے دنیا کے مختلف حصوں میں منتقل کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، اور یہ یقیناً ایک منظم کارروائی ہے۔</p>
<p>جنوبی افریقہ، جو اس ہفتے کے آخر میں جی-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، فلسطینی مقصد کے سب سے مضبوط عالمی حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>پریٹوریا نے 2023 میں عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کے الزام میں مقدمہ دائر کیا تھا۔</p>
<p>این جی او ’گفٹ آف دی گیورز‘ کے مطابق فلسطینیوں نے بتایا کہ انہوں نے غزہ سے نکلنے کے لیے المجد نامی گروپ کو فی کس تقریباً 2 ہزار ڈالر ادا کیے تھے، اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ جنوبی افریقہ جا رہے ہیں۔</p>
<p>تنظیم کی نمائندہ سارہ اوسٹہویزن نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ انہیں کسی محفوظ ملک میں لے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو انہیں خوش آمدید کہے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بعض مسافروں کو تو یہ بھی یقین تھا کہ وہ انڈونیشیا، ملیشیا یا بھارت جا رہے ہیں۔</p>
<p>سارہ نے بتایا کہ پہلے گروپ کے مسافروں کو بالکل معلوم نہیں تھا کہ وہ جنوبی افریقہ آ رہے ہیں ۔</p>
<p>دوسرا طیارہ، جس میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے، اسرائیل کے رامون ایئرپورٹ سے نیروبی گیا، اور پھر وہاں سے چارٹرڈ پرواز کے ذریعے جوہانسبرگ پہنچا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جن رہائش گاہوں کا مسافروں سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ صرف تقریباً ایک ہفتے کے لیے بک کی گئی تھیں، اور جب وہ ان مقامات پر پہنچ گئے تو المجد سے رابطہ اچانک ختم ہو گیا۔</p>
<p>ان میں سے کچھ نے این جی او کو بتایا کہ وہ پناہ کی درخواست دینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>جنوبی افریقہ میں فلسطینی سفارت خانے نے جمعرات کو کہا کہ دونوں گروپوں کا سفر ایک غیر رجسٹرڈ اور گمراہ کن تنظیم نے ترتیب دیا تھا، جس نے غزہ میں ہمارے لوگوں کی المناک انسانی صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>بیان کے مطابق، اس گروپ نے خاندانوں کو دھوکا دیا، ان سے پیسے لیے، اور ان کے سفر کو غیر معمولی اور غیر ذمہ دارانہ طریقے سے سہولت دی۔</p>
<p>جب مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں نے المجد سے رابطے کی کوشش کی تو ان کی ویب سائٹ پر درج کوئی بھی نمبر فعال نہیں تھا، بتایا گیا پتہ صرف مشرقی بیت المقدس کے محلے شیخ جراح تک ہی لے جاتا تھا۔</p>
<p>اسرائیلی حکام نے ہفتے کو کہا تھا کہ 153 فلسطینیوں کو غزہ سے روانگی کی اجازت اس لیے دی گئی کہ انہیں ایک تیسرے ملک کی جانب سے قبول کیے جانے کی منظوری ملی تھی، تاہم اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273909</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 11:35:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/181131115abbfc2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/181131115abbfc2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا کے ساحل کے قریب گزشتہ ہفتے الٹنے والی کشتی میں سوار 42 لاپتا تارکین وطن ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273663/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب گزشتہ ہفتے الٹنے والی کشتی میں سوار 42 لاپتا تارکین وطن ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954711/42-migrants-feared-dead-as-boat-capsizes-off-libya"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ واقعہ بحیرہ روم کے اس حصے میں پیش آنے والے متعدد سانحات میں سے ایک ہے، جہاں اس سال اب تک ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) نے ایک بیان میں کہا کہ 6 دن تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد 7 زندہ بچ جانے والے افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی او ایم کے ترجمان کے مطابق زندہ بچ جانے والے افراد کے مطابق کچھ لوگ لائف جیکٹس پہنے ہوئے تھے، جب کہ دیگر کشتی الٹنے کے بعد اس سے لپٹے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273491'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273491"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ کشتی 47 مردوں اور 2 خواتین کو لے کر 3 نومبر کو زوارہ (طرابلس کے مغرب میں واقع ایک ساحلی شہر) سے روانہ ہوئی تھی، لیکن تقریباً 6 گھنٹے بعد بلند لہروں کے باعث انجن فیل ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کشتی الٹ گئی اور تمام مسافر سمندر میں گر گئے، ہفتے کے روز لیبیائی حکام نے البوری آئل فیلڈ کے قریب تلاش اور امدادی کارروائی شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی او ایم کے مطابق سمندر میں 6 دن تک بھٹکنے کے بعد صرف 7 افراد (4 سوڈان سے، 2 نائیجیریا سے، اور ایک کیمرون سے) کو زندہ بچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ بدقسمتی سے، 42 افراد لاپتا ہیں اور غالب امکان ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 29 سوڈان سے، 8 صومالیہ سے، 3 کیمرون سے اور 2 نائیجیریا سے تعلق رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی او ایم کے عملے نے زندہ بچ جانے والوں کو فوری طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کیا، اور بعد میں انہیں طرابلس منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ ان کی صحت کی حالت ان کے طویل اور کٹھن تجربے کے باوجود کافی بہتر ہے، سوائے نمکین پانی کی وجہ سے جلد کی جلن کے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="رواں-سال-ایک-ہزار-اموات" href="#رواں-سال-ایک-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رواں سال ایک ہزار اموات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آئی او ایم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کے درمیان بحیرہ روم کے مرکزی راستے سے ہجرت کرنے کی کوشش میں ایک ہزار سے زائد تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم او نے کہا کہ اس تازہ حادثے کے بعد اموات کی کل تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے میں تعاون کو مضبوط کرنے، محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستوں کو وسعت دینے، اور تلاش و بچاؤ کی مؤثر کارروائیوں کو بڑھانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب گزشتہ ہفتے الٹنے والی کشتی میں سوار 42 لاپتا تارکین وطن ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1954711/42-migrants-feared-dead-as-boat-capsizes-off-libya"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ واقعہ بحیرہ روم کے اس حصے میں پیش آنے والے متعدد سانحات میں سے ایک ہے، جہاں اس سال اب تک ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) نے ایک بیان میں کہا کہ 6 دن تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد 7 زندہ بچ جانے والے افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔</p>
<p>آئی او ایم کے ترجمان کے مطابق زندہ بچ جانے والے افراد کے مطابق کچھ لوگ لائف جیکٹس پہنے ہوئے تھے، جب کہ دیگر کشتی الٹنے کے بعد اس سے لپٹے رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273491'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273491"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ کشتی 47 مردوں اور 2 خواتین کو لے کر 3 نومبر کو زوارہ (طرابلس کے مغرب میں واقع ایک ساحلی شہر) سے روانہ ہوئی تھی، لیکن تقریباً 6 گھنٹے بعد بلند لہروں کے باعث انجن فیل ہو گیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد کشتی الٹ گئی اور تمام مسافر سمندر میں گر گئے، ہفتے کے روز لیبیائی حکام نے البوری آئل فیلڈ کے قریب تلاش اور امدادی کارروائی شروع کی۔</p>
<p>آئی او ایم کے مطابق سمندر میں 6 دن تک بھٹکنے کے بعد صرف 7 افراد (4 سوڈان سے، 2 نائیجیریا سے، اور ایک کیمرون سے) کو زندہ بچایا گیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ بدقسمتی سے، 42 افراد لاپتا ہیں اور غالب امکان ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 29 سوڈان سے، 8 صومالیہ سے، 3 کیمرون سے اور 2 نائیجیریا سے تعلق رکھتے تھے۔</p>
<p>آئی او ایم کے عملے نے زندہ بچ جانے والوں کو فوری طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کیا، اور بعد میں انہیں طرابلس منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ ان کی صحت کی حالت ان کے طویل اور کٹھن تجربے کے باوجود کافی بہتر ہے، سوائے نمکین پانی کی وجہ سے جلد کی جلن کے۔</p>
<h1><a id="رواں-سال-ایک-ہزار-اموات" href="#رواں-سال-ایک-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رواں سال ایک ہزار اموات</h1>
<p>آئی او ایم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کے درمیان بحیرہ روم کے مرکزی راستے سے ہجرت کرنے کی کوشش میں ایک ہزار سے زائد تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم او نے کہا کہ اس تازہ حادثے کے بعد اموات کی کل تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے میں تعاون کو مضبوط کرنے، محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستوں کو وسعت دینے، اور تلاش و بچاؤ کی مؤثر کارروائیوں کو بڑھانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273663</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 12:08:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/13094823c86042c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/13094823c86042c.webp"/>
        <media:title>یہ کشتی 47 مردوں اور 2 خواتین کو لے کر 3 نومبر کو زوارہ شہر سے روانہ ہوئی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوڈانی حکومت کا امن کیلئے کوششوں پر ٹرمپ کا شکریہ، جنگ جاری رکھنے کا عزم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273252/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوڈان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی فوج نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی، یہ بیان ملک کی سلامتی و دفاعی کونسل نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز پر غور کے لیے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953229/sudan-army-thanks-trump-for-truce-vows-to-keep-fighting"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیرِ دفاع حسن کبرون نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ہم امن کے حصول کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں اور تجاویز کا شکریہ ادا کرتے ہیں، سوڈانی عوام کی جنگ کی تیاری جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جنگ کی ہماری تیاری ایک جائز قومی حق ہے، یہ بیان خرطوم میں سلامتی و دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد دیا گیا، تاہم امریکی جنگ بندی کی تجویز کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال سے جاری جنگ میں دسیوں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور حالیہ دنوں میں لڑائی سوڈان کے نئے علاقوں تک پھیل گئی ہے، جس سے ایک اور بڑے انسانی المیے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273182/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں ثالثی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ اب سوڈان میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے حامی حکام نے اس سے قبل ایک ایسی جنگ بندی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت نہ تو وہ خود اور نہ ہی ان کے مخالف نیم فوجی گروہ، دونوں ہی، عبوری سیاسی عمل میں شامل ہو سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین مذاکرات زمینی صورتحال میں بگاڑ کے بعد ہو رہے ہیں، جب نیم فوجی آر ایس ایف نے دارفور خطے میں فوج کے آخری مضبوط قلعہ سمجھے جانے والے ال-فاشر  پر قبضہ کرنے کے بعد وسطی کردوفان کے علاقے پر حملے کی تیاری شروع کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ال-فاشر سے بھاگنے والے لوگوں نے آر ایس ایف کی جانب سے تشدد اور دھمکیوں کی کہانیاں سنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;56 سالہ محمد عبداللہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز شہر کے سقوط سے چند گھنٹے قبل انہیں آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے روک لیا اور ہمارے فون، پیسے، سب کچھ چھین لیا، وہ ہماری مکمل تلاشی لیتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 70 کلومیٹر مغرب میں واقع ٹویلہ جاتے ہوئے انہوں نے ایک لاش دیکھی جو ’ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی کتے نے اسے کھا لیا ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے افریقہ کے ایلچی مساد بولوس نے اتوار کو سوڈان کے پڑوسی ملک مصر میں وزیرِ خارجہ بدر عبدالعتی سے ملاقات کی تھی، اور پیر کو عرب لیگ کے ساتھ بات چیت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ان مذاکرات کے دوران عبدالعتی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سوڈان بھر میں انسانی ہمدردی پر مبنی جنگ بندی اور فائر بندی کے لیے مشترکہ کوششیں انتہائی ضروری ہیں، تاکہ ملک میں ایک جامع سیاسی عمل کی راہ ہموار ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب لیگ کے مطابق، بولوس نے تنظیم کے سربراہ احمد ابوالغیط سے ملاقات کی اور انہیں سوڈان میں جنگ روکنے، امداد کی ترسیل تیز کرنے اور سیاسی عمل کے آغاز کے لیے امریکی کوششوں سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273016/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نام نہاد کواڈ گروپ (جس میں امریکا، مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں) کئی ماہ سے سوڈان میں 30 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں، ان چاروں طاقتوں نے انسانی بنیادوں پر 3 ماہ کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد مستقل فائر بندی اور 9 ماہ کے عبوری سیاسی عمل کی بات کی گئی تھی، لیکن فوج کے حامی حکمرانوں نے اُس وقت اس منصوبے کو فوراً مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ال-فاشر پر آر ایس ایف کے حملے کے بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ وہاں اجتماعی قتل، جنسی تشدد، امدادی کارکنوں پر حملے، لوٹ مار اور اغوا کے واقعات پیش آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے پیر کے روز ان خبروں پر “گہری تشویش اور شدید فکر” کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات “جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم” کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کو قطر میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس پرتشدد خوابِ خوفناک کا فوراً خاتمہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا سوڈان میں ہولناک بحران قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوڈان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی فوج نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی، یہ بیان ملک کی سلامتی و دفاعی کونسل نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز پر غور کے لیے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953229/sudan-army-thanks-trump-for-truce-vows-to-keep-fighting"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیرِ دفاع حسن کبرون نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ہم امن کے حصول کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں اور تجاویز کا شکریہ ادا کرتے ہیں، سوڈانی عوام کی جنگ کی تیاری جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جنگ کی ہماری تیاری ایک جائز قومی حق ہے، یہ بیان خرطوم میں سلامتی و دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد دیا گیا، تاہم امریکی جنگ بندی کی تجویز کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔</p>
<p>دو سال سے جاری جنگ میں دسیوں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور حالیہ دنوں میں لڑائی سوڈان کے نئے علاقوں تک پھیل گئی ہے، جس سے ایک اور بڑے انسانی المیے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273182/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں ثالثی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ اب سوڈان میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔</p>
<p>فوج کے حامی حکام نے اس سے قبل ایک ایسی جنگ بندی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت نہ تو وہ خود اور نہ ہی ان کے مخالف نیم فوجی گروہ، دونوں ہی، عبوری سیاسی عمل میں شامل ہو سکتے تھے۔</p>
<p>تازہ ترین مذاکرات زمینی صورتحال میں بگاڑ کے بعد ہو رہے ہیں، جب نیم فوجی آر ایس ایف نے دارفور خطے میں فوج کے آخری مضبوط قلعہ سمجھے جانے والے ال-فاشر  پر قبضہ کرنے کے بعد وسطی کردوفان کے علاقے پر حملے کی تیاری شروع کر دی تھی۔</p>
<p>ال-فاشر سے بھاگنے والے لوگوں نے آر ایس ایف کی جانب سے تشدد اور دھمکیوں کی کہانیاں سنائیں۔</p>
<p>56 سالہ محمد عبداللہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز شہر کے سقوط سے چند گھنٹے قبل انہیں آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے روک لیا اور ہمارے فون، پیسے، سب کچھ چھین لیا، وہ ہماری مکمل تلاشی لیتے رہے۔</p>
<p>تقریباً 70 کلومیٹر مغرب میں واقع ٹویلہ جاتے ہوئے انہوں نے ایک لاش دیکھی جو ’ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی کتے نے اسے کھا لیا ہو‘۔</p>
<p>ٹرمپ کے افریقہ کے ایلچی مساد بولوس نے اتوار کو سوڈان کے پڑوسی ملک مصر میں وزیرِ خارجہ بدر عبدالعتی سے ملاقات کی تھی، اور پیر کو عرب لیگ کے ساتھ بات چیت کی تھی۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ان مذاکرات کے دوران عبدالعتی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سوڈان بھر میں انسانی ہمدردی پر مبنی جنگ بندی اور فائر بندی کے لیے مشترکہ کوششیں انتہائی ضروری ہیں، تاکہ ملک میں ایک جامع سیاسی عمل کی راہ ہموار ہو سکے۔</p>
<p>عرب لیگ کے مطابق، بولوس نے تنظیم کے سربراہ احمد ابوالغیط سے ملاقات کی اور انہیں سوڈان میں جنگ روکنے، امداد کی ترسیل تیز کرنے اور سیاسی عمل کے آغاز کے لیے امریکی کوششوں سے آگاہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273016/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نام نہاد کواڈ گروپ (جس میں امریکا، مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں) کئی ماہ سے سوڈان میں 30 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔</p>
<p>ستمبر میں، ان چاروں طاقتوں نے انسانی بنیادوں پر 3 ماہ کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد مستقل فائر بندی اور 9 ماہ کے عبوری سیاسی عمل کی بات کی گئی تھی، لیکن فوج کے حامی حکمرانوں نے اُس وقت اس منصوبے کو فوراً مسترد کر دیا۔</p>
<p>ال-فاشر پر آر ایس ایف کے حملے کے بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ وہاں اجتماعی قتل، جنسی تشدد، امدادی کارکنوں پر حملے، لوٹ مار اور اغوا کے واقعات پیش آئے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے پیر کے روز ان خبروں پر “گہری تشویش اور شدید فکر” کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات “جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم” کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کو قطر میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس پرتشدد خوابِ خوفناک کا فوراً خاتمہ کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا سوڈان میں ہولناک بحران قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273252</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 10:32:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/05101711a6c921f.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/05101711a6c921f.gif"/>
        <media:title>سوڈان میں جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور لڑائی نئے علاقوں تک پھیل گئی ہے۔
—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوڈان خون ریزی: ’سرپرستوں کو غور کرنا چاہیے کہ آخر وہ کس مقصد کی حمایت کررہے ہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273260/</link>
      <description>&lt;p&gt;تقریباً ایک سال کے محاصرے اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سے 10 دنوں کے دوران الفشار میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل عام کی وجہ سے سوڈان کے تنازعے میں بین الاقوامی دلچسپی بحال ہوچکی ہے حالانکہ اس خوفناک خون ریزی کو روکنے کی کوئی واضح کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ امریکی افواج نائیجیریا میں ’ہمارے پیارے مسیحیوں‘ پر حملہ کرنے والے ’دہشت گرد غنڈوں‘ سے نمٹنے کے لیے ’بندوقوں کی چمک‘ کے ساتھ داخل ہو سکتی ہیں۔ افریقی بر اعظم کے بہت سے دوسرے ممالک کی طرح، نائیجیریا کو بھی انتہا پسند تنظیم بوکو حرام کے مظالم کا سامنا ہے لیکن یہ صرف مسیحی لوگ ہی نہیں جو دہشت زدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273016'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ شاید امریکی صدر جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں (ان کی لاعلمی کا امکان زیادہ ہے) کہ افریقہ بھر میں دہائیوں پر محیط امریکی فوجی مداخلت، القاعدہ سے وابستہ افراد اور ذیلی تنظیموں کی مذموم سرگرمیوں سے نمٹنے میں کافی حد تک ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی خاص مذہب پر توجہ مرکوز کرنا ٹرمپ کی تنگ نظر ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے یا شاید یہ ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے جنہوں نے غزہ میں خطرے میں گھرے یا اپنی جان گنوانے والے مسیحیوں کے لیے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ اور جہاں تک نائیجیریا کی بات ہے تو خدشات ٹھیک ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ افریقہ کا وہ ملک نہیں جو اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تشویش تو سوڈان کے بارے میں ہونی چاہیے جو 1956ء میں برطانوی نوآبادیاتی قوت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے تقریباً مختلف نوعیت کے تنازعات سے گھرا ہوا ہے۔ لیکن اس تشدد کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی جو سوڈان نے 7 سال قبل ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں فوجی آمر کا تختہ الٹنے کے بعد سے برداشت کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر البشیر 1989ء سے اقتدار میں تھے اور وہ سنگین جرائم کے ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے مستحق ہیں بشمول 2003ء میں دارفر نسل کشی کہ جب حکومت کی حمایت یافتہ جنجاوید ملیشیا نے خطے میں غیرعرب رہائشیوں پر حملہ کیا تھا۔ جنجاوید کی قیادت ایک سفاک جنگجو محمد حمدان دگالو نے کی تھی جسے ہمدتی بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ ساتھ یہ ملیشیا آر ایس ایف میں تبدیل ہو گیا۔ 2021ء میں فوجی بغاوت کے بعد جزوی طور پر عوامی حکومت کو ہٹانے کے بعد جس نے عمر البشیر کی جگہ لی تھی، آر ایس ایف نے سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) کے ساتھ اقتدار کا اشتراک کیا حالانکہ اس حکومت کا مقصد سوڈان کو جمہوریت کی طرف راغب کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SudaneseEcho/status/1984213317267730926/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SudaneseEcho/status/1984213317267730926/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023ء میں آر ایس ایف اور ایس اے ایف کے درمیان ایک بڑا تنازع ہوا جس کے بعد افراتفری پھیل گئی۔ آر ایس ایف کے اہداف میں خرطوم بھی شامل تھا جسے اس نے غضب کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد سے دونوں فریقین نے مختلف اقسام کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ گزرتے برسوں میں انہوں نے علاقائی اتحادی بھی بنائے ہیں جو ہتھیاروں اور سفارتی سطح میں معاونت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے خاص طور پر آر ایس ایف متحدہ عرب امارات کی مدد پر انحصار کرتی ہے جو چین اور برطانیہ جیسے ذرائع سے آر ایس ایف کو ہتھیار فراہم کرتا ہے جبکہ لڑنے کے لیے اسے کولمبیا سے فوجیوں کی خدمات حاصل ہیں۔ ان کا گٹھ جوڑ برسوں پہلے شروع ہوا کہ جب آر ایس ایف نے یمن کی جنگ میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب متحدہ عرب امارات نے صرف احسان لوٹانے کے مقصد سے ان پُرتشدد گروہوں کی حمایت نہیں کررہی بلکہ اس کے اپنے مقاصد بھی وابستہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات سوڈان سے سونے تک مستقل رسائی، زرخیز زمینوں پر کھیتی باڑی اور بحیرہ احمر پر بندرگاہوں کے کنٹرول کا خواہش مند ہے۔ ان میں سب سے پہلا مقصد یعنی سونے کا حصول ہی اماراتی ریاست کو فوائد پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات اپنی علاقائی بالادستی کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر یمن کے ساحل سے دور بندرگاہیں اور جزیرے بھی حاصل کر رہا ہے اور ساتھ ہی لیبیا اور صومالیہ میں اپنے کلائنٹس کو سوڈان میں اپنی پراکسیز کی مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایس اے ایف کو متحدہ عرب امارات کے علاقائی حریفوں جیسے سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔ چین، روس اور یہاں تک کہ یوکرین جیسے ممالک بھی سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ہیں، اس لیے وہ اس میں ملوث ہونے سے مکمل انکار نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال تو ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر نام نہاد بین الاقوامی برادری نسل کشی روک نہیں سکتی تو آخر اس کی حیثیت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے۔ اکتوبر 2023ء میں غزہ میں ہونے والی شہادتوں کے سلسلے کو فی الوقت روک دیا گیا ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا اور ان کے پیچھے مرکزی گروپ کے دوسرے منصوبے واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈان میں بڑے پیمانے پر قتل عام صرف اس صورت میں کم یا روکا جا سکتا ہے جب لڑنے والے گروپس کے حامی نظر ثانی کریں کہ آخر وہ کس مقصد کی حمایت کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بہت اہم اتحادی ان پر دباؤ ڈالتا ہے تو شیخ اکثر اپنا ذہن بدل لیتے ہیں لیکن انہیں یہ احساس دلانے میں صرف ایک انتباہ کافی نہیں ہوگا کہ حفتر یا ہمدتی جیسے لوگوں کی حمایت کرنا دراصل ان کے اپنے مفادات کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی کو بھی اس وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ متحدہ عرب امارات کو سوڈان کے بدترین گروہوں کی سرپرستی سے روکنے سے اچانک ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ افریقہ میں اثر و رسوخ میں مقابلے کا کھیل اب بھی مضبوط ہے اور دونوں پرانی نوآبادیاتی طاقتیں کے علاوہ خلیج و دیگر مقامات پر نو بالادست ممالک بھی جلد ہی پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوس کی بات یہ ہے کہ غزہ اور دیگر مقامات پر متاثرین اکثر اقتدار میں رہنے والوں کے لیے کسی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ مستقبل حال و ماضی سے بہتر ہوتا ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953269/another-genocide"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تقریباً ایک سال کے محاصرے اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سے 10 دنوں کے دوران الفشار میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل عام کی وجہ سے سوڈان کے تنازعے میں بین الاقوامی دلچسپی بحال ہوچکی ہے حالانکہ اس خوفناک خون ریزی کو روکنے کی کوئی واضح کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ امریکی افواج نائیجیریا میں ’ہمارے پیارے مسیحیوں‘ پر حملہ کرنے والے ’دہشت گرد غنڈوں‘ سے نمٹنے کے لیے ’بندوقوں کی چمک‘ کے ساتھ داخل ہو سکتی ہیں۔ افریقی بر اعظم کے بہت سے دوسرے ممالک کی طرح، نائیجیریا کو بھی انتہا پسند تنظیم بوکو حرام کے مظالم کا سامنا ہے لیکن یہ صرف مسیحی لوگ ہی نہیں جو دہشت زدہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273016'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ شاید امریکی صدر جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں (ان کی لاعلمی کا امکان زیادہ ہے) کہ افریقہ بھر میں دہائیوں پر محیط امریکی فوجی مداخلت، القاعدہ سے وابستہ افراد اور ذیلی تنظیموں کی مذموم سرگرمیوں سے نمٹنے میں کافی حد تک ناکام رہی ہے۔</p>
<p>کسی خاص مذہب پر توجہ مرکوز کرنا ٹرمپ کی تنگ نظر ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے یا شاید یہ ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے جنہوں نے غزہ میں خطرے میں گھرے یا اپنی جان گنوانے والے مسیحیوں کے لیے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ اور جہاں تک نائیجیریا کی بات ہے تو خدشات ٹھیک ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ افریقہ کا وہ ملک نہیں جو اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p>یہ تشویش تو سوڈان کے بارے میں ہونی چاہیے جو 1956ء میں برطانوی نوآبادیاتی قوت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے تقریباً مختلف نوعیت کے تنازعات سے گھرا ہوا ہے۔ لیکن اس تشدد کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی جو سوڈان نے 7 سال قبل ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں فوجی آمر کا تختہ الٹنے کے بعد سے برداشت کیا تھا۔</p>
<p>عمر البشیر 1989ء سے اقتدار میں تھے اور وہ سنگین جرائم کے ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے مستحق ہیں بشمول 2003ء میں دارفر نسل کشی کہ جب حکومت کی حمایت یافتہ جنجاوید ملیشیا نے خطے میں غیرعرب رہائشیوں پر حملہ کیا تھا۔ جنجاوید کی قیادت ایک سفاک جنگجو محمد حمدان دگالو نے کی تھی جسے ہمدتی بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>وقت کے ساتھ ساتھ یہ ملیشیا آر ایس ایف میں تبدیل ہو گیا۔ 2021ء میں فوجی بغاوت کے بعد جزوی طور پر عوامی حکومت کو ہٹانے کے بعد جس نے عمر البشیر کی جگہ لی تھی، آر ایس ایف نے سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) کے ساتھ اقتدار کا اشتراک کیا حالانکہ اس حکومت کا مقصد سوڈان کو جمہوریت کی طرف راغب کرنا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SudaneseEcho/status/1984213317267730926/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SudaneseEcho/status/1984213317267730926/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>2023ء میں آر ایس ایف اور ایس اے ایف کے درمیان ایک بڑا تنازع ہوا جس کے بعد افراتفری پھیل گئی۔ آر ایس ایف کے اہداف میں خرطوم بھی شامل تھا جسے اس نے غضب کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد سے دونوں فریقین نے مختلف اقسام کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ گزرتے برسوں میں انہوں نے علاقائی اتحادی بھی بنائے ہیں جو ہتھیاروں اور سفارتی سطح میں معاونت کرتے ہیں۔</p>
<p>جیسے خاص طور پر آر ایس ایف متحدہ عرب امارات کی مدد پر انحصار کرتی ہے جو چین اور برطانیہ جیسے ذرائع سے آر ایس ایف کو ہتھیار فراہم کرتا ہے جبکہ لڑنے کے لیے اسے کولمبیا سے فوجیوں کی خدمات حاصل ہیں۔ ان کا گٹھ جوڑ برسوں پہلے شروع ہوا کہ جب آر ایس ایف نے یمن کی جنگ میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مدد کی۔</p>
<p>اب متحدہ عرب امارات نے صرف احسان لوٹانے کے مقصد سے ان پُرتشدد گروہوں کی حمایت نہیں کررہی بلکہ اس کے اپنے مقاصد بھی وابستہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات سوڈان سے سونے تک مستقل رسائی، زرخیز زمینوں پر کھیتی باڑی اور بحیرہ احمر پر بندرگاہوں کے کنٹرول کا خواہش مند ہے۔ ان میں سب سے پہلا مقصد یعنی سونے کا حصول ہی اماراتی ریاست کو فوائد پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات اپنی علاقائی بالادستی کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر یمن کے ساحل سے دور بندرگاہیں اور جزیرے بھی حاصل کر رہا ہے اور ساتھ ہی لیبیا اور صومالیہ میں اپنے کلائنٹس کو سوڈان میں اپنی پراکسیز کی مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایس اے ایف کو متحدہ عرب امارات کے علاقائی حریفوں جیسے سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔ چین، روس اور یہاں تک کہ یوکرین جیسے ممالک بھی سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ہیں، اس لیے وہ اس میں ملوث ہونے سے مکمل انکار نہیں کر سکتے۔</p>
<p>یہ سوال تو ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر نام نہاد بین الاقوامی برادری نسل کشی روک نہیں سکتی تو آخر اس کی حیثیت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے۔ اکتوبر 2023ء میں غزہ میں ہونے والی شہادتوں کے سلسلے کو فی الوقت روک دیا گیا ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا اور ان کے پیچھے مرکزی گروپ کے دوسرے منصوبے واضح ہیں۔</p>
<p>سوڈان میں بڑے پیمانے پر قتل عام صرف اس صورت میں کم یا روکا جا سکتا ہے جب لڑنے والے گروپس کے حامی نظر ثانی کریں کہ آخر وہ کس مقصد کی حمایت کررہے ہیں۔</p>
<p>اگر کوئی بہت اہم اتحادی ان پر دباؤ ڈالتا ہے تو شیخ اکثر اپنا ذہن بدل لیتے ہیں لیکن انہیں یہ احساس دلانے میں صرف ایک انتباہ کافی نہیں ہوگا کہ حفتر یا ہمدتی جیسے لوگوں کی حمایت کرنا دراصل ان کے اپنے مفادات کے منافی ہے۔</p>
<p>کسی کو بھی اس وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ متحدہ عرب امارات کو سوڈان کے بدترین گروہوں کی سرپرستی سے روکنے سے اچانک ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ افریقہ میں اثر و رسوخ میں مقابلے کا کھیل اب بھی مضبوط ہے اور دونوں پرانی نوآبادیاتی طاقتیں کے علاوہ خلیج و دیگر مقامات پر نو بالادست ممالک بھی جلد ہی پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں کر رہے ہیں۔</p>
<p>افسوس کی بات یہ ہے کہ غزہ اور دیگر مقامات پر متاثرین اکثر اقتدار میں رہنے والوں کے لیے کسی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ مستقبل حال و ماضی سے بہتر ہوتا ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953269/another-genocide">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273260</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 14:54:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماہر علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/051304536a21bc7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/051304536a21bc7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوڈان میں تشدد جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتا ہے، عالمی فوجداری عدالت کا انتباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273182/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر  آفس نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں کیے گئے مظالم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953055/icc-warns-sudan-violence-may-constitute-war-crimes"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 18 ماہ کے محاصرے، گولہ باری اور بھوک کے بعد نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے 26 اکتوبر کو شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جو دارفور کے مغربی علاقے میں فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے پراسیکیوٹر آفس نے الفاشر سے موصول ہونے والی اجتماعی قتل، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کی اطلاعات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر نے بیان میں کہا کہ ’یہ مظالم تشدد کے اس وسیع سلسلے کا حصہ ہیں جو اپریل 2023 سے پورے دارفور علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273016'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عمل روم اسٹی ٹیوٹ کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیے جائیں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے مطابق الفاشر سے اب تک 65 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں تقریباً 5 ہزار افراد قریب واقع قصبے تاویلا پہنچے ہیں، تاہم اب بھی ہزاروں لوگ وہاں محصور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کے قبضے سے قبل شہر کی آبادی تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار نفوس پر مشتمل تھی، شہر پر قبضے کے بعد قتل و غارت، جنسی تشدد، لوٹ مار، امدادی کارکنوں پر حملے اور اغوا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جب کہ علاقے میں رابطے اب بھی منقطع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کی جڑیں جنجوید ملیشیا سے ملتی ہیں، جو زیادہ تر عرب جنگجوؤں پر مشتمل تھی اور جس پر 2 دہائیاں قبل دارفور میں نسل کشی کے الزامات لگے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفاشر کے سقوط کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ ماضی جیسے مظالم دوبارہ دہرائے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ آئی سی سی نے جنجوید کے ایک بدنام سربراہ کو دارفور میں 20 سال قبل کیے گئے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر  آفس نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں کیے گئے مظالم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953055/icc-warns-sudan-violence-may-constitute-war-crimes"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 18 ماہ کے محاصرے، گولہ باری اور بھوک کے بعد نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے 26 اکتوبر کو شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جو دارفور کے مغربی علاقے میں فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔</p>
<p>آئی سی سی کے پراسیکیوٹر آفس نے الفاشر سے موصول ہونے والی اجتماعی قتل، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کی اطلاعات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا۔</p>
<p>دفتر نے بیان میں کہا کہ ’یہ مظالم تشدد کے اس وسیع سلسلے کا حصہ ہیں جو اپریل 2023 سے پورے دارفور علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273016'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عمل روم اسٹی ٹیوٹ کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیے جائیں گے‘۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے مطابق الفاشر سے اب تک 65 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں تقریباً 5 ہزار افراد قریب واقع قصبے تاویلا پہنچے ہیں، تاہم اب بھی ہزاروں لوگ وہاں محصور ہیں۔</p>
<p>آر ایس ایف کے قبضے سے قبل شہر کی آبادی تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار نفوس پر مشتمل تھی، شہر پر قبضے کے بعد قتل و غارت، جنسی تشدد، لوٹ مار، امدادی کارکنوں پر حملے اور اغوا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جب کہ علاقے میں رابطے اب بھی منقطع ہیں۔</p>
<p>آر ایس ایف کی جڑیں جنجوید ملیشیا سے ملتی ہیں، جو زیادہ تر عرب جنگجوؤں پر مشتمل تھی اور جس پر 2 دہائیاں قبل دارفور میں نسل کشی کے الزامات لگے تھے۔</p>
<p>الفاشر کے سقوط کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ ماضی جیسے مظالم دوبارہ دہرائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ آئی سی سی نے جنجوید کے ایک بدنام سربراہ کو دارفور میں 20 سال قبل کیے گئے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا سنائی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273182</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 15:53:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/041242331240b83.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/041242331240b83.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائیجیریا کے مسیحی اور مسلمان شہریوں کا ٹرمپ کی دھمکی کے خلاف ردِعمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273163/</link>
      <description>&lt;p&gt;نائیجیریا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک میں مسیحیوں کے قتل پر فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے خلاف سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953012/christian-muslim-nigerians-push-back-over-us-threat"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک نائیجیریا تقریباً دو حصوں میں منقسم ہے، جنوبی علاقہ زیادہ تر عیسائی اور شمالی علاقہ اکثریتی طور پر مسلم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں کئی مقامی تنازعات جاری ہیں جن میں ماہرین کے مطابق عیسائی اور مسلمان، دونوں اکثر بغیر کسی امتیاز کے مارے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273012'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، حالیہ مہینوں میں نائجیریا میں مبینہ ’عیسائیوں پر ظلم‘ کے دعووں کو امریکا اور یورپ کی دائیں بازو کی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مسیحی اور کمیونٹی رہنما دانجوما ڈکسن آؤٹا نے کہا کہ عیسائی مارے جا رہے ہیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسلمان بھی مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کو نائجیریا پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ایک صحافی نے ایئر فورس ون میں ان سے پوچھا کہ آیا وہ امریکی فوجی زمین پر بھیجنے یا فضائی حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا تھا کہ ’ممکن ہے، میں بہت سے امکانات دیکھ رہا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ عیسائیوں کو مار رہے ہیں اور بڑی تعداد میں مار رہے ہیں، ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان الزامات کے جواب میں نائیجیریا کے صدر بولا احمد ٹنوبو نے کہا کہ مذہبی رواداری ہماری قومی شناخت کا بنیادی جزو ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نائیجیریا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک میں مسیحیوں کے قتل پر فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے خلاف سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953012/christian-muslim-nigerians-push-back-over-us-threat"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک نائیجیریا تقریباً دو حصوں میں منقسم ہے، جنوبی علاقہ زیادہ تر عیسائی اور شمالی علاقہ اکثریتی طور پر مسلم ہے۔</p>
<p>ملک میں کئی مقامی تنازعات جاری ہیں جن میں ماہرین کے مطابق عیسائی اور مسلمان، دونوں اکثر بغیر کسی امتیاز کے مارے جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273012'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم، حالیہ مہینوں میں نائجیریا میں مبینہ ’عیسائیوں پر ظلم‘ کے دعووں کو امریکا اور یورپ کی دائیں بازو کی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی ہے۔</p>
<p>ایک مسیحی اور کمیونٹی رہنما دانجوما ڈکسن آؤٹا نے کہا کہ عیسائی مارے جا رہے ہیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسلمان بھی مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کو نائجیریا پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔</p>
<p>جب ایک صحافی نے ایئر فورس ون میں ان سے پوچھا کہ آیا وہ امریکی فوجی زمین پر بھیجنے یا فضائی حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا تھا کہ ’ممکن ہے، میں بہت سے امکانات دیکھ رہا ہوں‘۔</p>
<p>انہوں نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ عیسائیوں کو مار رہے ہیں اور بڑی تعداد میں مار رہے ہیں، ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔</p>
<p>ان الزامات کے جواب میں نائیجیریا کے صدر بولا احمد ٹنوبو نے کہا کہ مذہبی رواداری ہماری قومی شناخت کا بنیادی جزو ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273163</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 12:10:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/041030143950932.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/041030143950932.webp"/>
        <media:title>نائیجیریا میں کئی مقامی تنازعات جاری ہیں جن میں عیسائی اور مسلمان، بغیر کسی امتیاز کے مارے جاتے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کو صحت کے شعبے میں ہنگامی مالیاتی صورتحال کا سامنا ہے، ڈبلیو ایچ او</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273159/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کئی ممالک جیسے جیسے بڑھتے ہوئے قرضوں اور گرتی ہوئی امداد سے نبردآزما ہیں، صحت کے اہم نظاموں کی مالی معاونت کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953017/urgent-action-needed-to-tackle-health-financing-emergency-who-says"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارے نے ممالک کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہے کہ وہ بیرونی فنڈنگ میں اچانک اور شدید کمی کے فوری اور طویل المدتی اثرات سے کس طرح نمٹیں، کیونکہ اس کمی نے کئی جگہوں پر بنیادی صحت کی خدمات کو شدید متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے جنیوا میں افریقی یونین کے رکن ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت صحت کے شعبے میں ہنگامی مالیاتی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا (جو روایتی طور پر دنیا کا سب سے بڑا ڈونر ہے) نے غیر ملکی امداد میں نمایاں کمی کی، جس سے دنیا بھر میں مسائل پیدا ہوئے ہیں، جب کہ دیگر بڑے امدادی ممالک نے بھی اپنے اخراجات محدود کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="افریقی-ممالک-زیادہ-متاثر" href="#افریقی-ممالک-زیادہ-متاثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;افریقی ممالک زیادہ متاثر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271547'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271547"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال خاص طور پر افریقی اور دیگر غریب ممالک میں تباہ کن ثابت ہوئی ہے، جو بنیادی صحت کی ضروریات کے لیے غیر ملکی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے مطابق، 2025 میں صحت کے لیے بیرونی امداد 2023 کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ کم ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 70 فیصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں صحت کی خدمات میں فوری تعطل دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ یہ اچانک کٹوتیاں صحت کے نظاموں اور خدمات میں وسیع پیمانے پر خلل پیدا کر رہی ہیں، اب ایک تہائی ممالک بنیادی ادویات اور صحت کے پروگراموں کی شدید قلت کی اطلاع دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان اچانک کٹوتیوں سے پہلے بھی صحت کے لیے فنڈنگ ناکافی تھی، کیونکہ کوویڈ-19 وبا کے دوران قرضوں میں اضافہ ہوا اور شعبہ صحت کی طویل المدتی مالی کمی مزید بگڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران ’امداد پر انحصار کو ختم کر کے خودمختاری، خود انحصاری اور یکجہتی کے نئے دور‘ کا آغاز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوبل فنڈ (ایڈز، تپ دق اور ملیریا کے خلاف عالمی فنڈ) کے سربراہ پیٹر سینڈز نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ افریقی ممالک خود انحصاری کی جانب اپنی پیش رفت کو تیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="عدم-مساوات-میں-اضافہ" href="#عدم-مساوات-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عدم مساوات میں اضافہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام گلوبل کونسل برائے عدم مساوات، ایڈز اور وباؤں کی رپورٹ، جو اس ماہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی-20 اجلاسوں سے قبل شائع ہوئی، اس میں کہا گیا ہے کہ ممالک کے اندر اور ان کے درمیان عدم مساوات کی بلند سطح دنیا کو وباؤں کے لیے زیادہ کمزور، زیادہ تباہ کن، زیادہ مہنگا، زیادہ طویل اور زیادہ جان لیوا بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ وبائیں عدم مساوات کو مزید بڑھاتی ہیں، یوں یہ ایک چکّر نما، خود تقویت پانے والا رشتہ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کونسل نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات جوزف اسٹِگلٹز، نامیبیا کی سابق خاتونِ اوّل مونیکا جینگوس، اور عالمی وبائیات کے ماہر سر مائیکل مارموٹ جیسے ممتاز ماہرین کی سربراہی میں کام کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269773'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ کووڈ-19 کے بعد عدم مساوات اور سماجی عوامل سے نمٹنے میں ناکامی نے دنیا کو اگلی وبا کے لیے انتہائی کمزور اور تیاری کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، کووڈ-19 وبا نے 16 کروڑ 50 لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل دیا، جب کہ دنیا کے امیر ترین افراد نے اپنی دولت میں ایک چوتھائی سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مونیکا جینگوس نے کہا کہ عدم مساوات ایک سیاسی انتخاب ہے، اور ایک خطرناک انتخاب، جو سب کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے لیے اپنے ممالک میں سماجی تحفظ کے نظام میں سرمایہ کاری کریں، اور ساتھ ہی عالمی سطح پر عدم مساوات کو کم کرنے کے اقدامات کریں، جن میں ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی تنظیمِ نو بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوزف اسٹِگلٹز نے کہا کہ وبائیں صرف صحت کے بحران نہیں ہوتیں، یہ معاشی بحران بھی ہیں جو غلط پالیسی فیصلوں کی صورت میں عدم مساوات کو گہرا کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جب وباؤں سے متاثرہ معیشتوں کو اعلیٰ سود والے قرضوں یا کفایت شعاری کی پالیسیوں کے ذریعے مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس سے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبے کمزور ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں معاشرے کمزور اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹِگلٹز نے اختتام پر کہا کہ اس چکر کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک کے پاس اتنی مالی گنجائش ہو کہ وہ صحت کے تحفظ میں سرمایہ کاری کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کئی ممالک جیسے جیسے بڑھتے ہوئے قرضوں اور گرتی ہوئی امداد سے نبردآزما ہیں، صحت کے اہم نظاموں کی مالی معاونت کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953017/urgent-action-needed-to-tackle-health-financing-emergency-who-says"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارے نے ممالک کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہے کہ وہ بیرونی فنڈنگ میں اچانک اور شدید کمی کے فوری اور طویل المدتی اثرات سے کس طرح نمٹیں، کیونکہ اس کمی نے کئی جگہوں پر بنیادی صحت کی خدمات کو شدید متاثر کیا ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے جنیوا میں افریقی یونین کے رکن ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت صحت کے شعبے میں ہنگامی مالیاتی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا (جو روایتی طور پر دنیا کا سب سے بڑا ڈونر ہے) نے غیر ملکی امداد میں نمایاں کمی کی، جس سے دنیا بھر میں مسائل پیدا ہوئے ہیں، جب کہ دیگر بڑے امدادی ممالک نے بھی اپنے اخراجات محدود کر لیے ہیں۔</p>
<h1><a id="افریقی-ممالک-زیادہ-متاثر" href="#افریقی-ممالک-زیادہ-متاثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>افریقی ممالک زیادہ متاثر</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271547'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271547"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ صورتحال خاص طور پر افریقی اور دیگر غریب ممالک میں تباہ کن ثابت ہوئی ہے، جو بنیادی صحت کی ضروریات کے لیے غیر ملکی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او کے مطابق، 2025 میں صحت کے لیے بیرونی امداد 2023 کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ کم ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 70 فیصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں صحت کی خدمات میں فوری تعطل دیکھا گیا۔</p>
<p>ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ یہ اچانک کٹوتیاں صحت کے نظاموں اور خدمات میں وسیع پیمانے پر خلل پیدا کر رہی ہیں، اب ایک تہائی ممالک بنیادی ادویات اور صحت کے پروگراموں کی شدید قلت کی اطلاع دے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان اچانک کٹوتیوں سے پہلے بھی صحت کے لیے فنڈنگ ناکافی تھی، کیونکہ کوویڈ-19 وبا کے دوران قرضوں میں اضافہ ہوا اور شعبہ صحت کی طویل المدتی مالی کمی مزید بگڑ گئی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران ’امداد پر انحصار کو ختم کر کے خودمختاری، خود انحصاری اور یکجہتی کے نئے دور‘ کا آغاز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>گلوبل فنڈ (ایڈز، تپ دق اور ملیریا کے خلاف عالمی فنڈ) کے سربراہ پیٹر سینڈز نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ افریقی ممالک خود انحصاری کی جانب اپنی پیش رفت کو تیز کریں۔</p>
<h1><a id="عدم-مساوات-میں-اضافہ" href="#عدم-مساوات-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عدم مساوات میں اضافہ</h1>
<p>اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام گلوبل کونسل برائے عدم مساوات، ایڈز اور وباؤں کی رپورٹ، جو اس ماہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی-20 اجلاسوں سے قبل شائع ہوئی، اس میں کہا گیا ہے کہ ممالک کے اندر اور ان کے درمیان عدم مساوات کی بلند سطح دنیا کو وباؤں کے لیے زیادہ کمزور، زیادہ تباہ کن، زیادہ مہنگا، زیادہ طویل اور زیادہ جان لیوا بنا رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ وبائیں عدم مساوات کو مزید بڑھاتی ہیں، یوں یہ ایک چکّر نما، خود تقویت پانے والا رشتہ بن جاتا ہے۔</p>
<p>یہ کونسل نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات جوزف اسٹِگلٹز، نامیبیا کی سابق خاتونِ اوّل مونیکا جینگوس، اور عالمی وبائیات کے ماہر سر مائیکل مارموٹ جیسے ممتاز ماہرین کی سربراہی میں کام کر رہی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269773'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ کووڈ-19 کے بعد عدم مساوات اور سماجی عوامل سے نمٹنے میں ناکامی نے دنیا کو اگلی وبا کے لیے انتہائی کمزور اور تیاری کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، کووڈ-19 وبا نے 16 کروڑ 50 لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل دیا، جب کہ دنیا کے امیر ترین افراد نے اپنی دولت میں ایک چوتھائی سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>مونیکا جینگوس نے کہا کہ عدم مساوات ایک سیاسی انتخاب ہے، اور ایک خطرناک انتخاب، جو سب کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے لیے اپنے ممالک میں سماجی تحفظ کے نظام میں سرمایہ کاری کریں، اور ساتھ ہی عالمی سطح پر عدم مساوات کو کم کرنے کے اقدامات کریں، جن میں ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی تنظیمِ نو بھی شامل ہے۔</p>
<p>جوزف اسٹِگلٹز نے کہا کہ وبائیں صرف صحت کے بحران نہیں ہوتیں، یہ معاشی بحران بھی ہیں جو غلط پالیسی فیصلوں کی صورت میں عدم مساوات کو گہرا کر سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جب وباؤں سے متاثرہ معیشتوں کو اعلیٰ سود والے قرضوں یا کفایت شعاری کی پالیسیوں کے ذریعے مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس سے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبے کمزور ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں معاشرے کمزور اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اسٹِگلٹز نے اختتام پر کہا کہ اس چکر کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک کے پاس اتنی مالی گنجائش ہو کہ وہ صحت کے تحفظ میں سرمایہ کاری کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273159</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 12:04:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/04095807b659405.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/04095807b659405.webp"/>
        <media:title>2025 میں صحت کیلئے بیرونی امداد 2023 کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ کم ہونے کا امکان ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوڈان کی قیامت خیز جنگ سے فرار کے دوران خاندان بچھڑ گئے، بچے والدین کے سامنے قتل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273016/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوڈان کے شہر الفاشر سے فرار ہوکر زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا ہے کہ نیم فوجی دستوں نے وہاں خاندانوں کو الگ کر دیا اور بچوں کو ان کے والدین کے سامنے قتل کیا جبکہ شہر پر قبضے کے بعد بھی دسیوں ہزار لوگ اب بھی محصور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1952661/families-separated-children-killed-as-survivors-flee-sudans-apocalyptic-war"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جرمنی کے اعلیٰ سفارتکار جوہان ویڈیفل نے صورتحال کو ’قیامت خیز‘ قرار دیا، جبکہ نئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ پیراملٹری فورسز کی جانب سے اجتماعی قتل عام اب بھی جاری ہے، یہ واقعات اُس کے پانچ دن بعد پیش آ رہے ہیں جب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے الفاشر پر قبضہ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2023 سے سوڈانی فوج کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آر ایس ایف نے 18 ماہ کے محاصرے کے بعد بالآخر دارفور کے اس آخری فوجی گڑھ پر قبضہ کر لیا، قبضے کے بعد سے وہاں اجتماعی قتل، جنسی تشدد، امدادی کارکنوں پر حملے، لوٹ مار اور اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ علاقے کا رابطہ بیرونی دنیا سے تقریباً منقطع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 بچوں کی ماں زہرہ نامی خاتون نے سیٹلائٹ فون پر بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم میرا بیٹا محمد زندہ ہے یا مر گیا، انہوں نے تمام لڑکوں کو پکڑ لیا‘، وہ بتاتی ہیں کہ آر ایس ایف کے اہلکاروں نے ان کے 16 اور 20 سالہ بیٹوں کو پکڑ لیا تھا، تاہم ان کی التجا کے باوجود صرف چھوٹے بیٹے کو چھوڑا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور شخص آدم نے بتایا کہ اس کے 17 اور 21 سالہ بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا گیا، اس نے بتایا کہ ’انہوں نے کہا کہ یہ فوج کے لیے لڑ رہے تھے، پھر انہوں نے مجھے لاٹھیوں سے پیٹا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272920'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272920"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کے زیرِ قبضہ قصبے گرنی میں جنگجوؤں نے آدم کے کپڑوں پر خون دیکھا اور اسے بھی فوجی سمجھ کر تفتیش کی، تاہم کئی گھنٹے بعد چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے مطابق اتوار سے اب تک 65 ہزار سے زائد لوگ الفاشر سے فرار ہو چکے ہیں، مگر دسیوں ہزار اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، شہر میں آر ایس ایف کے حملے سے پہلے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس این) نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ شدید خطرے میں ہیں اور آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے لوگوں کو محفوظ علاقوں تک پہنچنے سے روکا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق صرف 5 ہزار افراد مغربی قصبے تویلا تک پہنچ پائے ہیں، جو الفاشر سے تقریباً 70 کلومیٹر دور ہے، ایم ایس ایف کے ایمرجنسی ڈائریکٹر مشیل اولیور لاشیریٹے نے کہا کہ ’پہنچنے والوں کی تعداد بیانات سے میل نہیں کھاتی، اور بڑے پیمانے پر مظالم کی اطلاعات بڑھ رہی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 500 شہریوں اور فوج کے ساتھ منسلک اہلکاروں نے اتوار کے روز فرار کی کوشش کی، مگر زیادہ تر کو آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں نے قتل یا گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق لوگوں کو عمر، جنس اور نسل کی بنیاد پر الگ کیا گیا، اور متعدد افراد تاوان کے بدلے حراست میں رکھے گئے ہیں، دارفور میں زیادہ تر غیر عرب نسلوں کے لوگ آباد ہیں، جو سوڈان کے غالب عرب باشندوں سے مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہو سکتی ہے، جبکہ فوج کے اتحادیوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایف نے 2 ہزار سے زائد شہریوں کو ہلاک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب کے مطابق الفاشر اور اس کے گردونواح میں ابھی اجتماعی قتل جاری ہیں، ادارے نے بتایا کہ نئی سیٹلائٹ تصاویر میں اتوار سے جمعہ تک شہر کے مختلف علاقوں، یونیورسٹی کے احاطے اور فوجی مقامات پر کم از کم 31 جگہوں پر انسانی لاشوں جیسے نشانات دیکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحرین میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جرمن سفارتکار ویڈیفل نے کہا کہ سوڈان مکمل طور پر ایک قیامت خیز صورتِ حال میں ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے الفاشر پر قبضے کے دوران زیادتیوں کے مرتکب چند جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے گروپ کے اس عزم پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف، جو بیس سال قبل دارفور میں نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنے والی جنجوید ملیشیا سے وجود میں آئی اور سوڈانی فوج، دونوں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد ہیں، امریکا پہلے ہی یہ قرار دے چکا ہے کہ آر ایس ایف نے دارفور میں نسل کشی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق آر ایس ایف کو متحدہ عرب امارات سے ہتھیار اور ڈرون فراہم کیے گئے، تاہم اماراتی حکام نے بیان میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی حمایت کے الزام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فوج کو مصر، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔ الفاشر پر قبضے کے بعد آر ایس ایف نے دارفور کے تمام 5 صوبائی دارالحکومتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، جس سے ملک عملاً مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ تشدد اب پڑوسی علاقے کردوفان تک پھیل رہا ہے، جہاں بڑے پیمانے پر مظالم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اس جنگ نے دسیوں ہزار افراد کو ہلاک، تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ کو بے گھر کر دیا ہے، اور یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی نقل مکانی اور قحط کا بحران بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوڈان کے شہر الفاشر سے فرار ہوکر زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا ہے کہ نیم فوجی دستوں نے وہاں خاندانوں کو الگ کر دیا اور بچوں کو ان کے والدین کے سامنے قتل کیا جبکہ شہر پر قبضے کے بعد بھی دسیوں ہزار لوگ اب بھی محصور ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی <a href="https://www.dawn.com/news/1952661/families-separated-children-killed-as-survivors-flee-sudans-apocalyptic-war"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جرمنی کے اعلیٰ سفارتکار جوہان ویڈیفل نے صورتحال کو ’قیامت خیز‘ قرار دیا، جبکہ نئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ پیراملٹری فورسز کی جانب سے اجتماعی قتل عام اب بھی جاری ہے، یہ واقعات اُس کے پانچ دن بعد پیش آ رہے ہیں جب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے الفاشر پر قبضہ کر لیا تھا۔</p>
<p>اپریل 2023 سے سوڈانی فوج کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آر ایس ایف نے 18 ماہ کے محاصرے کے بعد بالآخر دارفور کے اس آخری فوجی گڑھ پر قبضہ کر لیا، قبضے کے بعد سے وہاں اجتماعی قتل، جنسی تشدد، امدادی کارکنوں پر حملے، لوٹ مار اور اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ علاقے کا رابطہ بیرونی دنیا سے تقریباً منقطع ہے۔</p>
<p>6 بچوں کی ماں زہرہ نامی خاتون نے سیٹلائٹ فون پر بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم میرا بیٹا محمد زندہ ہے یا مر گیا، انہوں نے تمام لڑکوں کو پکڑ لیا‘، وہ بتاتی ہیں کہ آر ایس ایف کے اہلکاروں نے ان کے 16 اور 20 سالہ بیٹوں کو پکڑ لیا تھا، تاہم ان کی التجا کے باوجود صرف چھوٹے بیٹے کو چھوڑا گیا۔</p>
<p>ایک اور شخص آدم نے بتایا کہ اس کے 17 اور 21 سالہ بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا گیا، اس نے بتایا کہ ’انہوں نے کہا کہ یہ فوج کے لیے لڑ رہے تھے، پھر انہوں نے مجھے لاٹھیوں سے پیٹا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272920'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272920"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آر ایس ایف کے زیرِ قبضہ قصبے گرنی میں جنگجوؤں نے آدم کے کپڑوں پر خون دیکھا اور اسے بھی فوجی سمجھ کر تفتیش کی، تاہم کئی گھنٹے بعد چھوڑ دیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے مطابق اتوار سے اب تک 65 ہزار سے زائد لوگ الفاشر سے فرار ہو چکے ہیں، مگر دسیوں ہزار اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، شہر میں آر ایس ایف کے حملے سے پہلے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد موجود تھے۔</p>
<p>بین الاقوامی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس این) نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ شدید خطرے میں ہیں اور آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے لوگوں کو محفوظ علاقوں تک پہنچنے سے روکا جارہا ہے۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق صرف 5 ہزار افراد مغربی قصبے تویلا تک پہنچ پائے ہیں، جو الفاشر سے تقریباً 70 کلومیٹر دور ہے، ایم ایس ایف کے ایمرجنسی ڈائریکٹر مشیل اولیور لاشیریٹے نے کہا کہ ’پہنچنے والوں کی تعداد بیانات سے میل نہیں کھاتی، اور بڑے پیمانے پر مظالم کی اطلاعات بڑھ رہی ہیں‘۔</p>
<p>کئی عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 500 شہریوں اور فوج کے ساتھ منسلک اہلکاروں نے اتوار کے روز فرار کی کوشش کی، مگر زیادہ تر کو آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں نے قتل یا گرفتار کر لیا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق لوگوں کو عمر، جنس اور نسل کی بنیاد پر الگ کیا گیا، اور متعدد افراد تاوان کے بدلے حراست میں رکھے گئے ہیں، دارفور میں زیادہ تر غیر عرب نسلوں کے لوگ آباد ہیں، جو سوڈان کے غالب عرب باشندوں سے مختلف ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہو سکتی ہے، جبکہ فوج کے اتحادیوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایف نے 2 ہزار سے زائد شہریوں کو ہلاک کیا۔</p>
<p>ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب کے مطابق الفاشر اور اس کے گردونواح میں ابھی اجتماعی قتل جاری ہیں، ادارے نے بتایا کہ نئی سیٹلائٹ تصاویر میں اتوار سے جمعہ تک شہر کے مختلف علاقوں، یونیورسٹی کے احاطے اور فوجی مقامات پر کم از کم 31 جگہوں پر انسانی لاشوں جیسے نشانات دیکھے گئے۔</p>
<p>بحرین میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جرمن سفارتکار ویڈیفل نے کہا کہ سوڈان مکمل طور پر ایک قیامت خیز صورتِ حال میں ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا ہے۔</p>
<p>آر ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے الفاشر پر قبضے کے دوران زیادتیوں کے مرتکب چند جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے گروپ کے اس عزم پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>آر ایس ایف، جو بیس سال قبل دارفور میں نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنے والی جنجوید ملیشیا سے وجود میں آئی اور سوڈانی فوج، دونوں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد ہیں، امریکا پہلے ہی یہ قرار دے چکا ہے کہ آر ایس ایف نے دارفور میں نسل کشی کی۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق آر ایس ایف کو متحدہ عرب امارات سے ہتھیار اور ڈرون فراہم کیے گئے، تاہم اماراتی حکام نے بیان میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی حمایت کے الزام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب فوج کو مصر، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔ الفاشر پر قبضے کے بعد آر ایس ایف نے دارفور کے تمام 5 صوبائی دارالحکومتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، جس سے ملک عملاً مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ تشدد اب پڑوسی علاقے کردوفان تک پھیل رہا ہے، جہاں بڑے پیمانے پر مظالم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر اس جنگ نے دسیوں ہزار افراد کو ہلاک، تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ کو بے گھر کر دیا ہے، اور یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی نقل مکانی اور قحط کا بحران بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273016</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 13:11:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/021240226e8b8d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/021240226e8b8d8.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسیحیوں کے قتل عام کا الزام: ٹرمپ کا نائیجیریا میں فوجی کارروائی کیلئے تیاری کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273012/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے پینٹاگون کو نائیجیریا میں ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دیا ہے، وہ بار بار اس ملک پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ مسیحیوں کے خلاف تشدد روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا، تاہم نائیجیریا نے بارہا یہ الزام مسترد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/11/01/politics/trump-pentagon-nigeria-action"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سوشل میڈٰیا پیغام میں، ٹرمپ نے نائیجیریا میں مسیحی برادری کے خلاف ہونے والے ’قتلِ عام‘ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا ’فوری طور پر نائیجیریا کو دی جانے والی تمام امداد اور تعاون بند کر دے گا، اور وہاں کی حکومت کو ’تیزی سے حرکت کرنے‘ کی وارننگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طویل پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ امریکا اب اس بدنام شدہ ملک (نائیجیریا) میں بھرپور ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہو جائے، تاکہ اُن دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے جو یہ ہولناک مظالم انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسیحی برادری اور مسلمان، دونوں ہی اس ملک میں شدت پسند اسلام پسندوں کے حملوں کے شکار رہے ہیں، 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک میں تشدد کے پیچھے مختلف عوامل ہیں، کچھ واقعات مذہبی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور دونوں گروہوں کو متاثر کرتے ہیں، جب کہ دیگر کا آغاز کاشت کاروں اور چرواہوں کے درمیان محدود وسائل پر تنازع، کمیونٹی اور نسلی کشیدگیوں سے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269721'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
اگرچہ مسیحی برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مقامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ زیادہ تر شکار نائیجیریا کے اکثراََ مسلم شمال میں رہنے والے مسلمان ہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے لکھا کہ میں اپنے محکمہ جنگ کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دے رہا ہوں، اگر ہم حملہ کریں گے تو وہ تیز، بے رحم اور مزے دار ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے دہشت گرد غنڈے ہمارے عزیز مسیحیوں پر حملہ کرتے ہیں! نائیجیر کی حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ تیزی سے حرکت کرے!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہِیگسیتھ نے ٹرمپ کے بیانات کی اسکرین شاٹ کے ساتھ سوشل میڈیا پر لکھا ’یس سر‘،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائیجیریا (اور کہیں بھی) معصوم مسیحیوں کا قتل فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، وار ڈپارٹمنٹ کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، یا تو نائیجیریا کی حکومت مسیحیوں کی حفاظت کرے، یا ہم ان دہشت گردوں کو مار ڈالیں گے جو یہ ہولناک مظالم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا یہ اعلان جمعہ کو کیے گئے ایک ایسے الزام کے بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے نائیجیریا پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا تھا، اور کہا تھا کہ مسیحت نائیجیریا میں وجودی خطرے کا سامنا کر رہی ہے اور اس ملک کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’خاص تشویش والا ملک‘ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لیبل اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نائیجیریا کی حکومت انتظامی، جاری، اور سنگین نوعیت کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے یا ان پر خاموش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہماری-مخلصانہ-کوششوں-کو-مد-نظر-نہیں-رکھا-گیا-نائیجیریا" href="#ہماری-مخلصانہ-کوششوں-کو-مد-نظر-نہیں-رکھا-گیا-نائیجیریا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہماری مخلصانہ کوششوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا، نائیجیریا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1247710'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
نائیجیریا کے صدر بولا ٹنوبو نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ نائیجیریا کو مذہبی طور پر عدم برداشت والا ملک قرار دینا ہماری قومی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا، نہ ہی اس میں حکومت کی مسلسل اور مخلصانہ کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے، جو تمام نائیجیریائیوں کی مذہب و عقائد کی آزادی کی حفاظت کے لیے کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نائیجیریا امریکی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کمیونیٹیزِ تمام مذاہب کے تحفظ پر سمجھ بوجھ اور تعاون کو گہرا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹنوبو کے پریس سیکریٹری نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اس سوشل میڈیا پیغام کے جواب میں جس میں ’ہزاروں مسیحیوں کے قتلِ عام‘ کی مذمت کی گئی تھی، اس بیانئے کو نائیجیریا کی صورتحال کی شدید مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسیحی، مسلمان، چرچ اور مسجد سب کو بے ترتیب طور پر حملوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بایو اونانگا نے کہا کہ ہمارے ملک کو امریکا سے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے کچھ ریاستوں میں ان پرتشدد انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے فوجی مدد، ’خاص تشویش والے ملک‘ کا درجہ نہیں چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس اور ٹنوبو کے دفتر کے ترجمانوں نے فوراً تبصرے کے لیے درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے پینٹاگون کو نائیجیریا میں ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دیا ہے، وہ بار بار اس ملک پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ مسیحیوں کے خلاف تشدد روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا، تاہم نائیجیریا نے بارہا یہ الزام مسترد کیا ہے۔</p>
<p>سی این این کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/11/01/politics/trump-pentagon-nigeria-action"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سوشل میڈٰیا پیغام میں، ٹرمپ نے نائیجیریا میں مسیحی برادری کے خلاف ہونے والے ’قتلِ عام‘ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا ’فوری طور پر نائیجیریا کو دی جانے والی تمام امداد اور تعاون بند کر دے گا، اور وہاں کی حکومت کو ’تیزی سے حرکت کرنے‘ کی وارننگ دی۔</p>
<p>اس طویل پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ امریکا اب اس بدنام شدہ ملک (نائیجیریا) میں بھرپور ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہو جائے، تاکہ اُن دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے جو یہ ہولناک مظالم انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>مسیحی برادری اور مسلمان، دونوں ہی اس ملک میں شدت پسند اسلام پسندوں کے حملوں کے شکار رہے ہیں، 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک میں تشدد کے پیچھے مختلف عوامل ہیں، کچھ واقعات مذہبی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور دونوں گروہوں کو متاثر کرتے ہیں، جب کہ دیگر کا آغاز کاشت کاروں اور چرواہوں کے درمیان محدود وسائل پر تنازع، کمیونٹی اور نسلی کشیدگیوں سے ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269721'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
اگرچہ مسیحی برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مقامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ زیادہ تر شکار نائیجیریا کے اکثراََ مسلم شمال میں رہنے والے مسلمان ہی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے لکھا کہ میں اپنے محکمہ جنگ کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دے رہا ہوں، اگر ہم حملہ کریں گے تو وہ تیز، بے رحم اور مزے دار ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے دہشت گرد غنڈے ہمارے عزیز مسیحیوں پر حملہ کرتے ہیں! نائیجیر کی حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ تیزی سے حرکت کرے!</p>
<p>امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہِیگسیتھ نے ٹرمپ کے بیانات کی اسکرین شاٹ کے ساتھ سوشل میڈیا پر لکھا ’یس سر‘،</p>
<p>نائیجیریا (اور کہیں بھی) معصوم مسیحیوں کا قتل فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، وار ڈپارٹمنٹ کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، یا تو نائیجیریا کی حکومت مسیحیوں کی حفاظت کرے، یا ہم ان دہشت گردوں کو مار ڈالیں گے جو یہ ہولناک مظالم کر رہے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کا یہ اعلان جمعہ کو کیے گئے ایک ایسے الزام کے بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے نائیجیریا پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا تھا، اور کہا تھا کہ مسیحت نائیجیریا میں وجودی خطرے کا سامنا کر رہی ہے اور اس ملک کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’خاص تشویش والا ملک‘ قرار دیا تھا۔</p>
<p>یہ لیبل اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نائیجیریا کی حکومت انتظامی، جاری، اور سنگین نوعیت کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے یا ان پر خاموش ہے۔</p>
<h1><a id="ہماری-مخلصانہ-کوششوں-کو-مد-نظر-نہیں-رکھا-گیا-نائیجیریا" href="#ہماری-مخلصانہ-کوششوں-کو-مد-نظر-نہیں-رکھا-گیا-نائیجیریا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہماری مخلصانہ کوششوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا، نائیجیریا</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1247710'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
نائیجیریا کے صدر بولا ٹنوبو نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ نائیجیریا کو مذہبی طور پر عدم برداشت والا ملک قرار دینا ہماری قومی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا، نہ ہی اس میں حکومت کی مسلسل اور مخلصانہ کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے، جو تمام نائیجیریائیوں کی مذہب و عقائد کی آزادی کی حفاظت کے لیے کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نائیجیریا امریکی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کمیونیٹیزِ تمام مذاہب کے تحفظ پر سمجھ بوجھ اور تعاون کو گہرا کر رہا ہے۔</p>
<p>ٹنوبو کے پریس سیکریٹری نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اس سوشل میڈیا پیغام کے جواب میں جس میں ’ہزاروں مسیحیوں کے قتلِ عام‘ کی مذمت کی گئی تھی، اس بیانئے کو نائیجیریا کی صورتحال کی شدید مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسیحی، مسلمان، چرچ اور مسجد سب کو بے ترتیب طور پر حملوں کا سامنا ہے۔</p>
<p>بایو اونانگا نے کہا کہ ہمارے ملک کو امریکا سے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے کچھ ریاستوں میں ان پرتشدد انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے فوجی مدد، ’خاص تشویش والے ملک‘ کا درجہ نہیں چاہیے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس اور ٹنوبو کے دفتر کے ترجمانوں نے فوراً تبصرے کے لیے درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273012</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 13:33:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0211512281e1590.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0211512281e1590.webp"/>
        <media:title>نائیجیریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہمیں ’خاص تشویش والے ملک‘ کا درجہ نہیں بلکہ فوجی امداد چاہیے۔
—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیا: خشک سالی سے نمٹنے کیلئے گائے کی جگہ اونٹوں نے لے لی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272955/</link>
      <description>&lt;p&gt;کینیا میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے گائے کی جگہ اونٹ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1952477/camels-replace-cows-as-kenya-battles-drought"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایک قریبی کنویں کے کنارے بیٹھے چاپن لولپوسیکے نے بتایا کہ گزشتہ 40 سال کی بدترین خشک سالی کے باعث کس طرح اس کی تمام گائے اور بیل مر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے شمالی کینیا کی خشک ندی کے کنارے بیٹھے اس حقیقت کا بھی احساس نہیں تھا کہ اپریل سے وہاں بارش نہیں ہوئی، جو 2021 اور 2022 میں مسلسل کم بارشوں کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1138327'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1138327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اس چرواہے نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم خانہ بدوش سامبورو برادری سے تعلق رکھنے والے لولپوسیکے نے بتایا کہ اب ہمارے گھر میں مویشی نہیں ہیں، ہم صرف اونٹ پالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اونٹ خشک گھاس پر گزارا کر سکتے ہیں، ایک ہفتے سے زیادہ بغیر پانی کے رہ سکتے ہیں، اور گائے کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ دودھ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اونٹ شمالی کینیا جیسے علاقے میں (جو خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہے) ایک ناگزیر متبادل بنتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامبورو کاؤنٹی کے حکام نے 2015 میں اونٹ پالنے کا ایک پروگرام شروع کیا تھا، جب متعدد خشک سالیوں نے کینیا کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں کم از کم 70 فیصد مویشیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک تقریباً 5 ہزار صومالی اونٹ (جو مقامی نسل کے مقابلے میں بڑے اور زیادہ پیداواری ہیں) تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک ہزار صرف پچھلے سال دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہاتی منتظم جیمز لولپوسیکے کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کاؤنٹی کے ہر خاندان کے پاس اپنا اونٹ ہو، اگر خشک سالی اسی طرح جاری رہی تو مویشی کہیں باقی نہیں رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اونٹوں کے ریوڑ بیماریوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، جو نقصان کا باعث بن سکتی ہیں، لیکن جیسے جیسے وہ اس علاقے میں عام ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر بچوں کی صحت میں بہتری جیسی مثبت تبدیلیاں واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کینیا میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے گائے کی جگہ اونٹ لے رہے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1952477/camels-replace-cows-as-kenya-battles-drought"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایک قریبی کنویں کے کنارے بیٹھے چاپن لولپوسیکے نے بتایا کہ گزشتہ 40 سال کی بدترین خشک سالی کے باعث کس طرح اس کی تمام گائے اور بیل مر گئے۔</p>
<p>اسے شمالی کینیا کی خشک ندی کے کنارے بیٹھے اس حقیقت کا بھی احساس نہیں تھا کہ اپریل سے وہاں بارش نہیں ہوئی، جو 2021 اور 2022 میں مسلسل کم بارشوں کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1138327'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1138327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد اس چرواہے نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔</p>
<p>نیم خانہ بدوش سامبورو برادری سے تعلق رکھنے والے لولپوسیکے نے بتایا کہ اب ہمارے گھر میں مویشی نہیں ہیں، ہم صرف اونٹ پالتے ہیں۔</p>
<p>اونٹ خشک گھاس پر گزارا کر سکتے ہیں، ایک ہفتے سے زیادہ بغیر پانی کے رہ سکتے ہیں، اور گائے کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ دودھ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اونٹ شمالی کینیا جیسے علاقے میں (جو خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہے) ایک ناگزیر متبادل بنتے جا رہے ہیں۔</p>
<p>سامبورو کاؤنٹی کے حکام نے 2015 میں اونٹ پالنے کا ایک پروگرام شروع کیا تھا، جب متعدد خشک سالیوں نے کینیا کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں کم از کم 70 فیصد مویشیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔</p>
<p>اب تک تقریباً 5 ہزار صومالی اونٹ (جو مقامی نسل کے مقابلے میں بڑے اور زیادہ پیداواری ہیں) تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک ہزار صرف پچھلے سال دیے گئے تھے۔</p>
<p>دیہاتی منتظم جیمز لولپوسیکے کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کاؤنٹی کے ہر خاندان کے پاس اپنا اونٹ ہو، اگر خشک سالی اسی طرح جاری رہی تو مویشی کہیں باقی نہیں رہیں گے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اونٹوں کے ریوڑ بیماریوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، جو نقصان کا باعث بن سکتی ہیں، لیکن جیسے جیسے وہ اس علاقے میں عام ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر بچوں کی صحت میں بہتری جیسی مثبت تبدیلیاں واضح ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272955</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 14:18:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/01123115e5835e2.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/01123115e5835e2.gif"/>
        <media:title>اب تک تقریباً 5 ہزار صومالی اونٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں، ایک ہزار صرف پچھلے سال دیے گئے تھے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تنزانیہ: انتخابات کے بعد پُرتشدد مظاہروں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، حزبِ اختلاف کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272925/</link>
      <description>&lt;p&gt;افریقی ملک تنزانیہ کی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران صرف تین دن میں تقریباً 700 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ بندش کے باوجود مظاہرین اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر سمیعہ صولوہو حسن نے بدھ کو ہونے والے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور اپنی جماعت کے ناقدین کو خاموش کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اُن کے مرکزی حریف قید میں تھے یا انہیں الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ووٹنگ کے بعد حالات خراب ہو گئے اور دارالحکومت دارالسلام سمیت متعدد شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے،  جنہوں نے صدر سمعیہ صولوہو حسن کے پوسٹر پھاڑ دیے، پولیس اور پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیے، جبکہ حکومت نے انٹرنیٹ بند اور کرفیو نافذ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی صحافیوں پر الیکشن کوریج کی پابندی اور مواصلاتی نظام کے تین دن سے بند ہونے کے باعث زمینی صورتِ حال کے بارے میں معلومات نہایت محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی حزبِ اختلاف کی جماعت چاڈیما نے کہا کہ آج بھی تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاڈیما کے ترجمان  جان کیتوکا  نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس وقت دارالسلام میں اموات کی تعداد تقریباً 350 ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں کے اعداد و شمار شامل کریں تو مجموعی طور پر 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ رات کے کرفیو کے دوران مزید اموات کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194341e75da2e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194341e75da2e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سیکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں 500 سے زائد اموات کی اطلاعات ملی ہیں، ممکنہ طور پر پورے ملک میں 700 سے 800 افراد کی موت ہوئی ہے، ایک سفارتی ذرائع نے بھی بتایا کہ ہم سیکڑوں اموات کی بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، اقوامِ متحدہ نے کہا کہ قابلِ اعتبار رپورٹس کے مطابق 10 افراد مارے گئے ہیں، جبکہ  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کم از کم  100 اموات رپورٹ کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد ہسپتالوں اور صحت کے مراکز نے خوف کے باعث اے ایف پی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سمعیہ صولوہو حسن نے اب تک اس بدامنی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ مقامی نیوز ویب سائٹس بدھ کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئیں، واحد سرکاری بیان گزشتہ رات آرمی چیف جیکب مکونڈا کی جانب سے سامنے آیا، جس میں انہوں نے مظاہرین کو ’مجرم‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاحوں کے مقبول جزیرے اور نیم خودمختار علاقے زنجبار میں صدر سمعیہ صولوہو حسن کی جماعت کے ترجمان حامس مبیتو نے بتایا کہ ’انٹرنیٹ حالات کے بہتر ہونے پر بحال کر دیا جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا ہے، کچھ لوگ دارالسلام میں کشیدگی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنجبار میں چاما چا ماپندو زی (سی سی ایم) جماعت کو گزشتہ روز ہونے والے مقامی انتخابات میں کامیاب قرار دیا گیا، جسے حزبِ اختلاف  نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زنجبار کے عوام سے ان کی آواز چھین لی گئی ہے، انصاف کا واحد راستہ نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اے ایف پی کو بتایا کہ بیلٹ باکسز میں جعلی ووٹ بھرے گئے، لوگوں کو بغیر شناخت کے بار بار ووٹ ڈالنے دیا گیا، اور ہمارے مبصرین کو گنتی کے کمروں سے باہر نکال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194532a7eb294.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194532a7eb294.webp'  alt='&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنجبار میں حزبِ اختلاف کے حامیوں کے ایک اجتماع میں مایوسی اور خوف کا ماحول تھا، ایک 70 سالہ شخص نے بتایا کہ 1995 کے بعد سے آج تک کوئی شفاف انتخاب نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور شخص نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم بولنے سے ڈرتے ہیں، کہیں وہ ہمیں گھروں سے اٹھا نہ لے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر سمعیہ صولوہو حسن کو 2021 میں اپنے سخت گیر پیش رو جان مگوفولی کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالنے سے لے کر اب تک فوج کے بعض حصوں اور مگوفولی کے حامیوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنا چاہی، اور اسی مقصد سے حکام نے مرکزی حزبِ اختلاف چاڈیما پر پابندی لگا دی اور اس کے سربراہ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابات سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشرقی افریقہ کے ملک میں خوف و دہشت کی لہر کی مذمت کی، جس میں خاص طور پر اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افریقی ملک تنزانیہ کی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران صرف تین دن میں تقریباً 700 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ بندش کے باوجود مظاہرین اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر سمیعہ صولوہو حسن نے بدھ کو ہونے والے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور اپنی جماعت کے ناقدین کو خاموش کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اُن کے مرکزی حریف قید میں تھے یا انہیں الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا گیا تھا۔</p>
<p>مگر ووٹنگ کے بعد حالات خراب ہو گئے اور دارالحکومت دارالسلام سمیت متعدد شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے،  جنہوں نے صدر سمعیہ صولوہو حسن کے پوسٹر پھاڑ دیے، پولیس اور پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیے، جبکہ حکومت نے انٹرنیٹ بند اور کرفیو نافذ کر دیا۔</p>
<p>غیر ملکی صحافیوں پر الیکشن کوریج کی پابندی اور مواصلاتی نظام کے تین دن سے بند ہونے کے باعث زمینی صورتِ حال کے بارے میں معلومات نہایت محدود ہیں۔</p>
<p>مرکزی حزبِ اختلاف کی جماعت چاڈیما نے کہا کہ آج بھی تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔</p>
<p>چاڈیما کے ترجمان  جان کیتوکا  نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس وقت دارالسلام میں اموات کی تعداد تقریباً 350 ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں کے اعداد و شمار شامل کریں تو مجموعی طور پر 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ رات کے کرفیو کے دوران مزید اموات کا خدشہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194341e75da2e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194341e75da2e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک سیکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں 500 سے زائد اموات کی اطلاعات ملی ہیں، ممکنہ طور پر پورے ملک میں 700 سے 800 افراد کی موت ہوئی ہے، ایک سفارتی ذرائع نے بھی بتایا کہ ہم سیکڑوں اموات کی بات کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، اقوامِ متحدہ نے کہا کہ قابلِ اعتبار رپورٹس کے مطابق 10 افراد مارے گئے ہیں، جبکہ  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کم از کم  100 اموات رپورٹ کی ہیں۔</p>
<p>متعدد ہسپتالوں اور صحت کے مراکز نے خوف کے باعث اے ایف پی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>صدر سمعیہ صولوہو حسن نے اب تک اس بدامنی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ مقامی نیوز ویب سائٹس بدھ کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئیں، واحد سرکاری بیان گزشتہ رات آرمی چیف جیکب مکونڈا کی جانب سے سامنے آیا، جس میں انہوں نے مظاہرین کو ’مجرم‘ قرار دیا۔</p>
<p>سیاحوں کے مقبول جزیرے اور نیم خودمختار علاقے زنجبار میں صدر سمعیہ صولوہو حسن کی جماعت کے ترجمان حامس مبیتو نے بتایا کہ ’انٹرنیٹ حالات کے بہتر ہونے پر بحال کر دیا جائے گا۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا ہے، کچھ لوگ دارالسلام میں کشیدگی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>زنجبار میں چاما چا ماپندو زی (سی سی ایم) جماعت کو گزشتہ روز ہونے والے مقامی انتخابات میں کامیاب قرار دیا گیا، جسے حزبِ اختلاف  نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زنجبار کے عوام سے ان کی آواز چھین لی گئی ہے، انصاف کا واحد راستہ نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔</p>
<p>پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اے ایف پی کو بتایا کہ بیلٹ باکسز میں جعلی ووٹ بھرے گئے، لوگوں کو بغیر شناخت کے بار بار ووٹ ڈالنے دیا گیا، اور ہمارے مبصرین کو گنتی کے کمروں سے باہر نکال دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194532a7eb294.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/31194532a7eb294.webp'  alt='&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>زنجبار میں حزبِ اختلاف کے حامیوں کے ایک اجتماع میں مایوسی اور خوف کا ماحول تھا، ایک 70 سالہ شخص نے بتایا کہ 1995 کے بعد سے آج تک کوئی شفاف انتخاب نہیں ہوا۔</p>
<p>ایک اور شخص نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم بولنے سے ڈرتے ہیں، کہیں وہ ہمیں گھروں سے اٹھا نہ لے جائیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر سمعیہ صولوہو حسن کو 2021 میں اپنے سخت گیر پیش رو جان مگوفولی کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالنے سے لے کر اب تک فوج کے بعض حصوں اور مگوفولی کے حامیوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنا چاہی، اور اسی مقصد سے حکام نے مرکزی حزبِ اختلاف چاڈیما پر پابندی لگا دی اور اس کے سربراہ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔</p>
<p>انتخابات سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشرقی افریقہ کے ملک میں خوف و دہشت کی لہر کی مذمت کی، جس میں خاص طور پر اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272925</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 22:42:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/31224012368e62d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/31224012368e62d.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوڈان: الفاشر شہر پر نیم فوجی دستوں کے قبضے کے بعد سیکڑوں مردوں کو گولی ماری گئی، عینی شاہدین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272920/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوڈان کے شہر الفاشر کے قریب گزشتہ ہفتےکے آخر میں  اونٹوں پر سوار جنگجو تقریباً 2 سو مردوں کو ایک تالاب کے پاس لے گئے، جہاں انہوں نے نسل پرستانہ نعرے لگائے اور پھر ان پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق الخیر اسمٰعیل  نامی شخص نے مغربی دارفور ریجن کے قریبی قصبے تاویلہ میں رائٹرز کے ایک مقامی صحافی کو ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ اغوا کاروں میں سے ایک نے انہیں اسکول  کے دنوں سے پہچان لیا اور جانے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخیر اسمٰعیل نے کہا کہ انہوں نے میرے دوستوں اور باقی سب کو مار ڈالا مگر  اس اغوا کار  کی وجہ سے میں بچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311934450bd3161.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311934450bd3161.webp'  alt='الخیر اسمٰعیل، سوڈان کے اُن بے گھر افراد میں سے ایک ہیں جو دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد عارضی خیموں میں جمع ہو کر بیٹھے ہیں&amp;mdash; فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;الخیر اسمٰعیل، سوڈان کے اُن بے گھر افراد میں سے ایک ہیں جو دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد عارضی خیموں میں جمع ہو کر بیٹھے ہیں— فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخیر اسمٰعیل نے بتایا کہ وہ شہر میں موجود رشتہ داروں کے لیے کھانا لا رہے تھے، جب اتوار کو پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)  نے شہر پر قبضہ کر لیا، اور  اس وقت وہ بھی  دوسرے حراست میں لیے گئے افراد کی طرح غیر مسلح تھے، تنازع کی وجہ سے رائٹرز فوری طور پر اس کے بیان کی تصدیق نہیں کر سکا، لیکن اسے صحافی سے حاصل کردہ پہلے مواد کی تصدیق ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخیر اسمٰعیل ایسے چار عینی شاہدین اور چھ امدادی کارکنوں میں سے ایک ہیں، جن کا رائٹرز نے انٹرویو کیا، انہوں نے بھی بتایا کہ الفاشر سے فرار ہونے والے لوگوں کو قریبی دیہات میں جمع کیا گیا اور مردوں کو خواتین سے الگ کر  دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے سے سرگرم کارکن اور تجزیہ کار خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر  آر ایس ایف الفاشر میں سوڈانی فوج کا آخری گڑھ  پر قبضہ کرتے ہیں، تو نسلی بنیادوں پر انتقامی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعہ کو دیگر بیانات بھی شیئر کیے، جس میں اندازہ لگایا گیا کہ سیکڑوں عام شہری اور غیر مسلح افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہو گا، اس طرح کے قتل کو جنگی جرائم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کی الفاشر میں فتح سوڈان کی ڈھائی سالہ خانہ جنگی میں ایک سنگِ میل ہے، نے ایسے مظالم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات اس کے دشمنوں کی طرف سے گھڑے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/3119364965c1eed.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/3119364965c1eed.webp'  alt='بے گھر سوڈانی شہری دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد تاویلہ میں جمع ہیں&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بے گھر سوڈانی شہری دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد تاویلہ میں جمع ہیں—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کم از کم تین ویڈیوز کی تصدیق کی ہے، جن میں آر ایس ایف  کی وردی میں ملبوس افراد غیر مسلح افراد کو گولی مار رہے ہیں اور درجنوں دیگر ویڈیوز میں بظاہر گولی مارے جانے کے بعد لاشوں کے ڈھیر دکھائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کے ایک اعلیٰ سطح کے کمانڈر نے ان بیانات کو فوج اور اس سے منسلک جنگجوؤں کی طرف سے ’ میڈیا کی مبالغہ آرائی’  قرار دیا تاکہ ’ وہ الفاشر میں اپنی شکست اور نقصان کو چھپا سکیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آر ایس ایف  کی قیادت نے آر ایس ایف کے ارکان کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور کئی کو گرفتار کیا جا چکا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایف  نے لوگوں کو شہر چھوڑنے میں مدد کی ہے اور امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ باقی ماندہ لوگوں کی مدد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عام شہری بن کر آنے والے فوجیوں اور جنگجوؤں کو پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا تھا، تبصرے کی درخواست کے جواب میں کمانڈر نے رائٹرز کو بتایا کہ ’جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے، کوئی قتل نہیں کیا گیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311940203f8702e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311940203f8702e.webp'  alt='&amp;mdash; فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کا الفاشر پر قبضہ اس ملک کی جغرافیائی تقسیم کو مزید مضبوط کرتا ہے جو پہلے ہی دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد 2011 میں جنوبی سوڈان کی آزادی کے بعد کم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;29 اکتوبر کی رات ایک تقریر میں آر ایس ایف  کے سربراہ محمد حمدان دگالو نے اپنے جنگجوؤں سے عام شہریوں کی حفاظت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں پر مقدمہ چلایا جائے گا، انہوں نے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کا اعتراف کرتے ہوئے قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفاشر میں آر ایس ایف  کی پیش قدمی روکنے والے زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق زاغاوا نسلی گروہ سے تھا، جن کی زیادہ تر عرب آر ایس ایف جنگجوؤں سے دشمنی 2000 کی دہائی کے اوائل سے ہے، جب انہیں جنجاوید ملیشیا کے طور پر دارفور میں مظالم کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارفور کی صورتحال پر طویل عرصے سے نظر رکھنے والے ایلکس ڈی وال نے کہا کہ الفاشر میں رپورٹ ہونے والے آر ایس ایف کے اقدامات ’جینینا اور دیگر جگہوں پر کیے گئے اقدامات سے بہت ملتے جلتے‘ ہیں، جو اس حالیہ جنگ کے ابتدائی مراحل کے ساتھ ساتھ 2000 کی دہائی کے اوائل کے تنازع میں آر ایس ایف کے قبضے میں آنے والے ایک اور دارفور شہر کا حوالہ دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے کہا کہ آر ایس ایف نے جینینا میں نسل کشی کا ارتکاب کیا اور اس حملے کی بین الاقوامی فوجداری عدالت تحقیقات کر رہی ہے، سوڈانی فوج اور دیگر متحدہ عرب امارات پر آر ایس ایف کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں،  جبکہ خلیجی ریاست ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہم-نہیں-کہہ-سکتے-کہ-وہ-زندہ-ہیں" href="#ہم-نہیں-کہہ-سکتے-کہ-وہ-زندہ-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ زندہ ہیں‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تاویلہ میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نان وائلنٹ پیس فورس کی تحفظاتی مشیر میری بریس نے کہا کہ وہاں پہنچنے والے ’ عمومی طور پر خواتین، بچے اور بوڑھے مرد ہیں’ ، انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایف  کی طرف سے ٹرکوں میں کچھ لوگوں کو گارنے سے تاویلہ پہنچایا ہے جبکہ دیگر کو کہیں اور لے جایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف  نے جمعرات کو ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں کہا تھا کہ گارنے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کو خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،  امدادی کارکنوں نے کہا کہ فورس ان لوگوں کو ان قصبوں میں رکھنا بھی چاہتی ہو گی جن پر اس کا کنٹرول ہے تاکہ غیر ملکی امداد حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوڈان کے شہر الفاشر کے قریب گزشتہ ہفتےکے آخر میں  اونٹوں پر سوار جنگجو تقریباً 2 سو مردوں کو ایک تالاب کے پاس لے گئے، جہاں انہوں نے نسل پرستانہ نعرے لگائے اور پھر ان پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق الخیر اسمٰعیل  نامی شخص نے مغربی دارفور ریجن کے قریبی قصبے تاویلہ میں رائٹرز کے ایک مقامی صحافی کو ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ اغوا کاروں میں سے ایک نے انہیں اسکول  کے دنوں سے پہچان لیا اور جانے دیا۔</p>
<p>الخیر اسمٰعیل نے کہا کہ انہوں نے میرے دوستوں اور باقی سب کو مار ڈالا مگر  اس اغوا کار  کی وجہ سے میں بچ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311934450bd3161.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311934450bd3161.webp'  alt='الخیر اسمٰعیل، سوڈان کے اُن بے گھر افراد میں سے ایک ہیں جو دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد عارضی خیموں میں جمع ہو کر بیٹھے ہیں&mdash; فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>الخیر اسمٰعیل، سوڈان کے اُن بے گھر افراد میں سے ایک ہیں جو دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد عارضی خیموں میں جمع ہو کر بیٹھے ہیں— فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>الخیر اسمٰعیل نے بتایا کہ وہ شہر میں موجود رشتہ داروں کے لیے کھانا لا رہے تھے، جب اتوار کو پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)  نے شہر پر قبضہ کر لیا، اور  اس وقت وہ بھی  دوسرے حراست میں لیے گئے افراد کی طرح غیر مسلح تھے، تنازع کی وجہ سے رائٹرز فوری طور پر اس کے بیان کی تصدیق نہیں کر سکا، لیکن اسے صحافی سے حاصل کردہ پہلے مواد کی تصدیق ہو چکی ہے۔</p>
<p>الخیر اسمٰعیل ایسے چار عینی شاہدین اور چھ امدادی کارکنوں میں سے ایک ہیں، جن کا رائٹرز نے انٹرویو کیا، انہوں نے بھی بتایا کہ الفاشر سے فرار ہونے والے لوگوں کو قریبی دیہات میں جمع کیا گیا اور مردوں کو خواتین سے الگ کر  دیا گیا۔</p>
<p>طویل عرصے سے سرگرم کارکن اور تجزیہ کار خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر  آر ایس ایف الفاشر میں سوڈانی فوج کا آخری گڑھ  پر قبضہ کرتے ہیں، تو نسلی بنیادوں پر انتقامی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعہ کو دیگر بیانات بھی شیئر کیے، جس میں اندازہ لگایا گیا کہ سیکڑوں عام شہری اور غیر مسلح افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہو گا، اس طرح کے قتل کو جنگی جرائم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>آر ایس ایف کی الفاشر میں فتح سوڈان کی ڈھائی سالہ خانہ جنگی میں ایک سنگِ میل ہے، نے ایسے مظالم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات اس کے دشمنوں کی طرف سے گھڑے گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/3119364965c1eed.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/3119364965c1eed.webp'  alt='بے گھر سوڈانی شہری دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد تاویلہ میں جمع ہیں&mdash;فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بے گھر سوڈانی شہری دارفور کے شہر الفاشر سے فرار کے بعد تاویلہ میں جمع ہیں—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>رائٹرز نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کم از کم تین ویڈیوز کی تصدیق کی ہے، جن میں آر ایس ایف  کی وردی میں ملبوس افراد غیر مسلح افراد کو گولی مار رہے ہیں اور درجنوں دیگر ویڈیوز میں بظاہر گولی مارے جانے کے بعد لاشوں کے ڈھیر دکھائے گئے ہیں۔</p>
<p>آر ایس ایف کے ایک اعلیٰ سطح کے کمانڈر نے ان بیانات کو فوج اور اس سے منسلک جنگجوؤں کی طرف سے ’ میڈیا کی مبالغہ آرائی’  قرار دیا تاکہ ’ وہ الفاشر میں اپنی شکست اور نقصان کو چھپا سکیں۔’</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آر ایس ایف  کی قیادت نے آر ایس ایف کے ارکان کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور کئی کو گرفتار کیا جا چکا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایف  نے لوگوں کو شہر چھوڑنے میں مدد کی ہے اور امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ باقی ماندہ لوگوں کی مدد کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عام شہری بن کر آنے والے فوجیوں اور جنگجوؤں کو پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا تھا، تبصرے کی درخواست کے جواب میں کمانڈر نے رائٹرز کو بتایا کہ ’جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے، کوئی قتل نہیں کیا گیا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311940203f8702e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/10/311940203f8702e.webp'  alt='&mdash; فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>آر ایس ایف کا الفاشر پر قبضہ اس ملک کی جغرافیائی تقسیم کو مزید مضبوط کرتا ہے جو پہلے ہی دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد 2011 میں جنوبی سوڈان کی آزادی کے بعد کم ہو چکا ہے۔</p>
<p>29 اکتوبر کی رات ایک تقریر میں آر ایس ایف  کے سربراہ محمد حمدان دگالو نے اپنے جنگجوؤں سے عام شہریوں کی حفاظت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں پر مقدمہ چلایا جائے گا، انہوں نے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کا اعتراف کرتے ہوئے قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>الفاشر میں آر ایس ایف  کی پیش قدمی روکنے والے زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق زاغاوا نسلی گروہ سے تھا، جن کی زیادہ تر عرب آر ایس ایف جنگجوؤں سے دشمنی 2000 کی دہائی کے اوائل سے ہے، جب انہیں جنجاوید ملیشیا کے طور پر دارفور میں مظالم کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔</p>
<p>دارفور کی صورتحال پر طویل عرصے سے نظر رکھنے والے ایلکس ڈی وال نے کہا کہ الفاشر میں رپورٹ ہونے والے آر ایس ایف کے اقدامات ’جینینا اور دیگر جگہوں پر کیے گئے اقدامات سے بہت ملتے جلتے‘ ہیں، جو اس حالیہ جنگ کے ابتدائی مراحل کے ساتھ ساتھ 2000 کی دہائی کے اوائل کے تنازع میں آر ایس ایف کے قبضے میں آنے والے ایک اور دارفور شہر کا حوالہ دے رہے تھے۔</p>
<p>امریکا نے کہا کہ آر ایس ایف نے جینینا میں نسل کشی کا ارتکاب کیا اور اس حملے کی بین الاقوامی فوجداری عدالت تحقیقات کر رہی ہے، سوڈانی فوج اور دیگر متحدہ عرب امارات پر آر ایس ایف کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں،  جبکہ خلیجی ریاست ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔</p>
<h1><a id="ہم-نہیں-کہہ-سکتے-کہ-وہ-زندہ-ہیں" href="#ہم-نہیں-کہہ-سکتے-کہ-وہ-زندہ-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ زندہ ہیں‘</h1>
<p>تاویلہ میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نان وائلنٹ پیس فورس کی تحفظاتی مشیر میری بریس نے کہا کہ وہاں پہنچنے والے ’ عمومی طور پر خواتین، بچے اور بوڑھے مرد ہیں’ ، انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایف  کی طرف سے ٹرکوں میں کچھ لوگوں کو گارنے سے تاویلہ پہنچایا ہے جبکہ دیگر کو کہیں اور لے جایا گیا ہے۔</p>
<p>آر ایس ایف  نے جمعرات کو ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں کہا تھا کہ گارنے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کو خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،  امدادی کارکنوں نے کہا کہ فورس ان لوگوں کو ان قصبوں میں رکھنا بھی چاہتی ہو گی جن پر اس کا کنٹرول ہے تاکہ غیر ملکی امداد حاصل کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272920</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 22:05:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/3121140817a9e0b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/3121140817a9e0b.webp"/>
        <media:title>سوڈان کے جنگ زدہ مغربی دارفور علاقے کے شہر الفاشر میں آر ایس ایف  کے اہلکارابو لولو نامی ایک جنگجو (بائیں جانب) کو حراست میں لے رہے ہیں — فوٹو:  اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’حقیقی نسل کُشی’: سوڈان کے شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملے، 1500 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272763/</link>
      <description>&lt;p&gt;افریقی ملک سوڈان  کے شہر الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملوں میں تین روز کے دوران کم از کم 1500 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2025/10/29/horrific-violations-arab-nations-slam-rsf-killings-in-sudans-el-fasher"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ ملک پر قبضے کے لیے سوڈانی فوج سے لڑنے والی آر ایس ایف نے گزشتہ تین دنوں کے دوران شہر سے فرار کی کوشش کرنے والے شہریوں پر حملے میں کم از کم پندرہ سو افراد کو قتل کر دیا، ملک میں خانہ جنگی کا ریکارڈ رکھنے والے گروپ نے صورتحال کو ’حقیقی نسل کشی‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک تنظیم نے کہا کہ ’دنیا آج جن قتلِ عام کا مشاہدہ کر رہی ہے، وہ اُس خونریز سلسلے کی توسیع ہے جو ڈیڑھ سال قبل الفاشر میں ہوا تھا، جب 14 ہزار سے زائد شہری بمباری، بھوک اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ’قتل و غارت اور صفایا کرنے کی ایک منظم اور دانستہ مہم‘ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب (ایچ آر ایل) کی ایک نئی رپورٹ میں اس علاقے میں اجتماعی قتلِ عام کے شواہد سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/292322073658bf0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/292322073658bf0.webp'  alt=' سوڈان کے شمالی دارفور کے علاقے تویلہ میں بے گھر خاندانوں کے کیمپ کا عمومی منظر، جو الفاشر سے فرار ہوئے&amp;mdash; فوٹو: رائٹرز ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سوڈان کے شمالی دارفور کے علاقے تویلہ میں بے گھر خاندانوں کے کیمپ کا عمومی منظر، جو الفاشر سے فرار ہوئے— فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان 2023 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیم فوجی فورس اتوار کو 17 ماہ کے محاصرے کے بعد الفاشر پر قابض ہو گئی، جو دارفور میں فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈانی حکومت نے کہا کہ شہر میں اب تک کم از کم 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں بھاری مظالم کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، فرار ہوتے شہریوں پر حملے، اور گھر گھر جا کر کارروائیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفاشر کے سقوط کے بعد آر ایس ایف نے تقریباً پورے دارفور پر قبضہ  کر لیا ہے، جس سے ایک دہائی بعد سوڈان کے دوبارہ تقسیم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1262648'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈانی فوج کے حمایتی حکومتی عہدیداروں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایف نے شہر پر قبضے کے دوران مساجد میں پناہ لینے والے شہریوں کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈانی حکومت کی انسانی امداد کی افسر مونا نورالدائم نے کہا کہ ’شہر پر ملیشیا کے حملے کے دوران 2 ہزار  سے زیادہ شہری مارے گئے، جن میں مساجد اور ریڈ کریسنٹ کے رضاکار بھی شامل تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کی نمائندہ ہبہ مورگن نے خرطوم سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر آر ایس ایف کے جاری کردہ ویڈیوز میں جنگجوؤں کو ’شہریوں پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’تازہ اور سب سے خوفناک ویڈیو میں آر ایس ایف کے جنگجو الفاشر کے سعودی ہسپتال کے اندر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں، جہاں وہ مریضوں کو گولی مار کر قتل کر رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر سے فرار ہونے والے زندہ بچ جانے والے افراد کے مطابق ہسپتال میں کم از کم 500 افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہبہ مورگن نے بتایا کہ مارے جانے والوں میں طبی عملہ بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ سعودی زچہ و بچہ ہسپتال میں 460 سے زیادہ افراد مارے گئے، انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت ان رپورٹس پر ’انتہائی صدمے اور خوف‘ میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے کہا کہ منگل کو آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے ’سعودی اسپتال کے اندر موجود ہر کسی کو بے دردی سے قتل کر دیا، ان میں مریض، ان کے ساتھی اور عملے کے افراد شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سعودی-عرب-مصر-قطر-ترکیہ-اور-اردن-کا-اظہار-مذمت" href="#سعودی-عرب-مصر-قطر-ترکیہ-اور-اردن-کا-اظہار-مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سعودی عرب، مصر، قطر، ترکیہ اور اردن کا اظہار مذمت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ادھر، سعودی عرب، مصر، قطر، ترکیہ اور اردن نے سوڈان میں آر ایس ایف کے مظالم کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور آر ایس ایف سے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا، مصر نے فوری انسانی جنگ بندی پر زور دیا اور سوڈان کو بحران سے نکالنے میں مدد جاری رکھنے کا عہد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے الفاشر میں دشمنی ختم کرنے اور انسانی امداد کے محفوظ گزر کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا، شہریوں کے خلاف مظالم کی مذمت کی اور پرامن حل کے لیے مکالمے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے بھی خوفناک خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر، ترکیہ اور قطر نے سوڈان کی خودمختاری اور وحدت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا، اردن نے بھی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے صبر و تحمل اور فوری جنگ بندی پر زور دیا تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افریقی ملک سوڈان  کے شہر الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملوں میں تین روز کے دوران کم از کم 1500 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2025/10/29/horrific-violations-arab-nations-slam-rsf-killings-in-sudans-el-fasher"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ ملک پر قبضے کے لیے سوڈانی فوج سے لڑنے والی آر ایس ایف نے گزشتہ تین دنوں کے دوران شہر سے فرار کی کوشش کرنے والے شہریوں پر حملے میں کم از کم پندرہ سو افراد کو قتل کر دیا، ملک میں خانہ جنگی کا ریکارڈ رکھنے والے گروپ نے صورتحال کو ’حقیقی نسل کشی‘ قرار دیا۔</p>
<p>سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک تنظیم نے کہا کہ ’دنیا آج جن قتلِ عام کا مشاہدہ کر رہی ہے، وہ اُس خونریز سلسلے کی توسیع ہے جو ڈیڑھ سال قبل الفاشر میں ہوا تھا، جب 14 ہزار سے زائد شہری بمباری، بھوک اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ’قتل و غارت اور صفایا کرنے کی ایک منظم اور دانستہ مہم‘ کا حصہ ہیں۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب (ایچ آر ایل) کی ایک نئی رپورٹ میں اس علاقے میں اجتماعی قتلِ عام کے شواہد سامنے آئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/10/292322073658bf0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/292322073658bf0.webp'  alt=' سوڈان کے شمالی دارفور کے علاقے تویلہ میں بے گھر خاندانوں کے کیمپ کا عمومی منظر، جو الفاشر سے فرار ہوئے&mdash; فوٹو: رائٹرز ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سوڈان کے شمالی دارفور کے علاقے تویلہ میں بے گھر خاندانوں کے کیمپ کا عمومی منظر، جو الفاشر سے فرار ہوئے— فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان 2023 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔</p>
<p>یہ نیم فوجی فورس اتوار کو 17 ماہ کے محاصرے کے بعد الفاشر پر قابض ہو گئی، جو دارفور میں فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔</p>
<p>سوڈانی حکومت نے کہا کہ شہر میں اب تک کم از کم 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں بھاری مظالم کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، فرار ہوتے شہریوں پر حملے، اور گھر گھر جا کر کارروائیاں شامل ہیں۔</p>
<p>شہر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔</p>
<p>الفاشر کے سقوط کے بعد آر ایس ایف نے تقریباً پورے دارفور پر قبضہ  کر لیا ہے، جس سے ایک دہائی بعد سوڈان کے دوبارہ تقسیم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1262648'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سوڈانی فوج کے حمایتی حکومتی عہدیداروں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایف نے شہر پر قبضے کے دوران مساجد میں پناہ لینے والے شہریوں کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>سوڈانی حکومت کی انسانی امداد کی افسر مونا نورالدائم نے کہا کہ ’شہر پر ملیشیا کے حملے کے دوران 2 ہزار  سے زیادہ شہری مارے گئے، جن میں مساجد اور ریڈ کریسنٹ کے رضاکار بھی شامل تھے‘۔</p>
<p>الجزیرہ کی نمائندہ ہبہ مورگن نے خرطوم سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر آر ایس ایف کے جاری کردہ ویڈیوز میں جنگجوؤں کو ’شہریوں پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’تازہ اور سب سے خوفناک ویڈیو میں آر ایس ایف کے جنگجو الفاشر کے سعودی ہسپتال کے اندر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں، جہاں وہ مریضوں کو گولی مار کر قتل کر رہے ہیں۔‘</p>
<p>شہر سے فرار ہونے والے زندہ بچ جانے والے افراد کے مطابق ہسپتال میں کم از کم 500 افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔</p>
<p>ہبہ مورگن نے بتایا کہ مارے جانے والوں میں طبی عملہ بھی شامل تھا۔</p>
<p>عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ سعودی زچہ و بچہ ہسپتال میں 460 سے زیادہ افراد مارے گئے، انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت ان رپورٹس پر ’انتہائی صدمے اور خوف‘ میں ہے۔</p>
<p>سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے کہا کہ منگل کو آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے ’سعودی اسپتال کے اندر موجود ہر کسی کو بے دردی سے قتل کر دیا، ان میں مریض، ان کے ساتھی اور عملے کے افراد شامل تھے۔</p>
<h3><a id="سعودی-عرب-مصر-قطر-ترکیہ-اور-اردن-کا-اظہار-مذمت" href="#سعودی-عرب-مصر-قطر-ترکیہ-اور-اردن-کا-اظہار-مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سعودی عرب، مصر، قطر، ترکیہ اور اردن کا اظہار مذمت</h3>
<p>ادھر، سعودی عرب، مصر، قطر، ترکیہ اور اردن نے سوڈان میں آر ایس ایف کے مظالم کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>سعودی عرب نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور آر ایس ایف سے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا، مصر نے فوری انسانی جنگ بندی پر زور دیا اور سوڈان کو بحران سے نکالنے میں مدد جاری رکھنے کا عہد کیا۔</p>
<p>ترکیہ نے الفاشر میں دشمنی ختم کرنے اور انسانی امداد کے محفوظ گزر کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا، شہریوں کے خلاف مظالم کی مذمت کی اور پرامن حل کے لیے مکالمے پر زور دیا۔</p>
<p>قطر نے بھی خوفناک خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>مصر، ترکیہ اور قطر نے سوڈان کی خودمختاری اور وحدت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا، اردن نے بھی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے صبر و تحمل اور فوری جنگ بندی پر زور دیا تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272763</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 23:27:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2923202412220f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2923202412220f1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مڈغاسکر میں آئینی بحران کے بعد فوج نے ’2 سال کیلئے‘ اقتدار سنبھالنے کا اعلان کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271614/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقی افریقہ کے ملک مڈغاسکر میں بغاوت کی قیادت کرنے والے ایک فوجی کمانڈر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر اینڈری راجولینا کے قانون سازوں کے ذریعے مواخذے اور ان کے ملک سے فرار ہونے کے بعد فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ پیش رفت نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے کئی ہفتوں کے احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے، صدر راجولینا نے اپنی برطرفی کے بڑھتے ہوئے مظاہروں اور فوج میں ہونے والی بغاوتوں کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنل مائیکل رانڈریانیریانا نے قومی ریڈیو پر اعلان کیا کہ ’ہم نے اقتدار سنبھال لیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فوج ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے سوا تمام اداروں کو تحلیل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں رانڈریانیریانا نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج کی قیادت میں ایک کمیٹی ملک پر زیادہ سے زیادہ 2 سال کے لیے حکومت کرے گی، اور ایک عبوری حکومت کے ساتھ مل کر نئے انتخابات کا انعقاد کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271530"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی رہنماؤں کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سینیٹ، اعلیٰ آئینی عدالت، آزاد قومی انتخابی کمیشن، اعلیٰ عدالت انصاف، اور انسانی حقوق و قانون کی حکمرانی کے دفاع کی اعلیٰ کونسل کو معطل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحر ہند کے جنوبی کنارے پر واقع جزائر کے حامل ملک میں ایک ہنگامہ خیز دن کے دوران 51 سالہ راجولینا نے صبح کے وقت ایک فرمان کے ذریعے ایوان زیریں کو تحلیل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن قانون سازوں نے اس کے باوجود ان کا مواخذہ کر دیا، جس سے ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا تھا، اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجولینا، جو خود 2009 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے، انہوں نے فوجی قبضے کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فوجی-اداروں-کی-معطلی" href="#فوجی-اداروں-کی-معطلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فوجی اداروں کی معطلی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز مڈغاسکر کے دارالحکومت انتاناناریوو میں کیپسیٹ یونٹ کے فوجی صدارتی محل کے دروازوں پر تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہی ایلیٹ فوجی یونٹ ہے، جس نے 2009 کی بغاوت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانڈریانیریانا اسی یونٹ کے کمانڈر ہیں، اور انہوں نے گزشتہ ہفتے راجولینا سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کی رات اپنے قوم سے خطاب میں راجولینا نے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کو لاحق خطرات کے باعث محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا ہے، حزبِ اختلاف کے ایک رہنما، ایک فوجی ذریعے اور ایک غیر ملکی سفارت کار کے مطابق وہ اتوار کے روز ایک فرانسیسی فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی سیاسی تنہائی منگل کو مزید بڑھ گئی تھی، جب ان کی اپنی جماعت کے ارکان (جن کی پارلیمان میں اکثریت ہے) نے بھی ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجولینا نے پچھلے چند دنوں میں کئی بار خبردار کیا تھا کہ ایک فوجی بغاوت کی کوشش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بڑھتا-ہوا-احتجاج" href="#بڑھتا-ہوا-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بڑھتا ہوا احتجاج&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ملک میں 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے، جو تیزی سے کرپشن، بدانتظامی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غصہ نیپال اور مراکش سمیت کئی ممالک میں نوجوانوں کے زیرِ قیادت احتجاجی تحریکوں سے مشابہت رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو دارالحکومت انتاناناریوو کے 13 مئی اسکوائر پر ہزاروں مظاہرین ناچتے، نعرے لگاتے، گاتے اور بینرز لہراتے نظر آئے، جن میں راجولینا کو ’فرانسیسی ایجنٹ‘ قرار دیا گیا، کیوں کہ ان کے پاس فرانسیسی شہریت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے مظاہرین ملیگاسی پرچم اور جاپانی اینیمی ’ون پیس‘ کے کھوپڑی اور ہڈیوں والے ’جن زی‘ احتجاجی نشان اٹھائے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی موقع پر رانڈریانیریانا اسٹیج پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ فوجی اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں؟ جس پر ہجوم نے خوشی کے نعرے لگائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب فوجی قبضے کی خبر مظاہرین تک پہنچی تو بہت سے خوشی سے جھوم اٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
ایک ہائی اسکول طالبہ، فیہ نومینساناہاری نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ آخر کار اینڈری راجولینا چلا گیا … اب ہم نیا آغاز کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کچھ لوگ محتاط بھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;68 سالہ آئی ٹی کنسلٹنٹ، ریزافی لووا نے کہا کہ انہیں جلد از جلد اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کرنا چاہیے اور انتخابات کروانے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بگڑتی-ہوئی-معیشت" href="#بگڑتی-ہوئی-معیشت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بگڑتی ہوئی معیشت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کیپسیٹ یونٹ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ مظاہرین پر فائرنگ نہیں کرے گی، اور بعد میں فوج کی کمان سنبھال لی، اس کے بعد اس نے نیا فوجی سربراہ مقرر کیا، جس پر راجولینا نے اتوار کو ’غیر قانونی بغاوت‘ کی تنبیہ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب سے نیم فوجی جینڈرمیری اور پولیس بھی راجولینا سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈغاسکر کی آبادی تقریباً 3 کروڑ ہے، جس میں سے تین چوتھائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ملک کی اوسط عمر 20 سال سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق 1960 میں آزادی سے لے کر 2020 تک مڈغاسکر کا فی کس جی ڈی پی 45 فیصد تک گر گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقی افریقہ کے ملک مڈغاسکر میں بغاوت کی قیادت کرنے والے ایک فوجی کمانڈر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر اینڈری راجولینا کے قانون سازوں کے ذریعے مواخذے اور ان کے ملک سے فرار ہونے کے بعد فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ پیش رفت نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے کئی ہفتوں کے احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے، صدر راجولینا نے اپنی برطرفی کے بڑھتے ہوئے مظاہروں اور فوج میں ہونے والی بغاوتوں کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔</p>
<p>کرنل مائیکل رانڈریانیریانا نے قومی ریڈیو پر اعلان کیا کہ ’ہم نے اقتدار سنبھال لیا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فوج ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے سوا تمام اداروں کو تحلیل کر رہی ہے۔</p>
<p>بعد میں رانڈریانیریانا نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج کی قیادت میں ایک کمیٹی ملک پر زیادہ سے زیادہ 2 سال کے لیے حکومت کرے گی، اور ایک عبوری حکومت کے ساتھ مل کر نئے انتخابات کا انعقاد کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271530"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فوجی رہنماؤں کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سینیٹ، اعلیٰ آئینی عدالت، آزاد قومی انتخابی کمیشن، اعلیٰ عدالت انصاف، اور انسانی حقوق و قانون کی حکمرانی کے دفاع کی اعلیٰ کونسل کو معطل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>بحر ہند کے جنوبی کنارے پر واقع جزائر کے حامل ملک میں ایک ہنگامہ خیز دن کے دوران 51 سالہ راجولینا نے صبح کے وقت ایک فرمان کے ذریعے ایوان زیریں کو تحلیل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن قانون سازوں نے اس کے باوجود ان کا مواخذہ کر دیا، جس سے ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا تھا، اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔</p>
<p>راجولینا، جو خود 2009 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے، انہوں نے فوجی قبضے کی مذمت کی ہے۔</p>
<h1><a id="فوجی-اداروں-کی-معطلی" href="#فوجی-اداروں-کی-معطلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فوجی اداروں کی معطلی</h1>
<p>منگل کے روز مڈغاسکر کے دارالحکومت انتاناناریوو میں کیپسیٹ یونٹ کے فوجی صدارتی محل کے دروازوں پر تعینات تھے۔</p>
<p>یہ وہی ایلیٹ فوجی یونٹ ہے، جس نے 2009 کی بغاوت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>رانڈریانیریانا اسی یونٹ کے کمانڈر ہیں، اور انہوں نے گزشتہ ہفتے راجولینا سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیر کی رات اپنے قوم سے خطاب میں راجولینا نے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کو لاحق خطرات کے باعث محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا ہے، حزبِ اختلاف کے ایک رہنما، ایک فوجی ذریعے اور ایک غیر ملکی سفارت کار کے مطابق وہ اتوار کے روز ایک فرانسیسی فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔</p>
<p>ان کی سیاسی تنہائی منگل کو مزید بڑھ گئی تھی، جب ان کی اپنی جماعت کے ارکان (جن کی پارلیمان میں اکثریت ہے) نے بھی ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔</p>
<p>راجولینا نے پچھلے چند دنوں میں کئی بار خبردار کیا تھا کہ ایک فوجی بغاوت کی کوشش جاری ہے۔</p>
<h1><a id="بڑھتا-ہوا-احتجاج" href="#بڑھتا-ہوا-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بڑھتا ہوا احتجاج</h1>
<p>ملک میں 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے، جو تیزی سے کرپشن، بدانتظامی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئے تھے۔</p>
<p>یہ غصہ نیپال اور مراکش سمیت کئی ممالک میں نوجوانوں کے زیرِ قیادت احتجاجی تحریکوں سے مشابہت رکھتا تھا۔</p>
<p>منگل کو دارالحکومت انتاناناریوو کے 13 مئی اسکوائر پر ہزاروں مظاہرین ناچتے، نعرے لگاتے، گاتے اور بینرز لہراتے نظر آئے، جن میں راجولینا کو ’فرانسیسی ایجنٹ‘ قرار دیا گیا، کیوں کہ ان کے پاس فرانسیسی شہریت بھی ہے۔</p>
<p>بہت سے مظاہرین ملیگاسی پرچم اور جاپانی اینیمی ’ون پیس‘ کے کھوپڑی اور ہڈیوں والے ’جن زی‘ احتجاجی نشان اٹھائے ہوئے تھے۔</p>
<p>اسی موقع پر رانڈریانیریانا اسٹیج پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ فوجی اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں؟ جس پر ہجوم نے خوشی کے نعرے لگائے۔</p>
<p>جب فوجی قبضے کی خبر مظاہرین تک پہنچی تو بہت سے خوشی سے جھوم اٹھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
ایک ہائی اسکول طالبہ، فیہ نومینساناہاری نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ آخر کار اینڈری راجولینا چلا گیا … اب ہم نیا آغاز کریں گے۔</p>
<p>تاہم کچھ لوگ محتاط بھی تھے۔</p>
<p>68 سالہ آئی ٹی کنسلٹنٹ، ریزافی لووا نے کہا کہ انہیں جلد از جلد اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کرنا چاہیے اور انتخابات کروانے چاہئیں۔</p>
<h1><a id="بگڑتی-ہوئی-معیشت" href="#بگڑتی-ہوئی-معیشت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بگڑتی ہوئی معیشت</h1>
<p>کیپسیٹ یونٹ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ مظاہرین پر فائرنگ نہیں کرے گی، اور بعد میں فوج کی کمان سنبھال لی، اس کے بعد اس نے نیا فوجی سربراہ مقرر کیا، جس پر راجولینا نے اتوار کو ’غیر قانونی بغاوت‘ کی تنبیہ کی تھی۔</p>
<p>تب سے نیم فوجی جینڈرمیری اور پولیس بھی راجولینا سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p>مڈغاسکر کی آبادی تقریباً 3 کروڑ ہے، جس میں سے تین چوتھائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ملک کی اوسط عمر 20 سال سے کم ہے۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق 1960 میں آزادی سے لے کر 2020 تک مڈغاسکر کا فی کس جی ڈی پی 45 فیصد تک گر گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271614</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 13:23:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/151316552c59fc2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/151316552c59fc2.webp"/>
        <media:title>2009 میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آنیوالے صدر راجولینا نے ’فوجی قبضے‘ کی مذمت کی ہے۔
—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’جنریشن زی‘ کی بغاوت سے ایک اور حکومت کا خاتمہ، مڈغاسکر کے صدر ملک چھوڑ کر فرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271530/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقی افریقہ کے ملک مڈغاسکر کی حزبِ اختلاف کے رہنما اور دیگر عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اینڈری راجویلینا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں، یہ دنیا بھر میں جنریشن زی (نوجوانوں کی قیادت) کی بغاوتوں کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر گرنے والی دوسری حکومت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے سربراہ سیتنی رانڈریاناسولونائیکو نے بتایا کہ صدر اینڈری راجویلینا اتوار کو ملک چھوڑ کر فرار ہوئے، جب فوج کے کئی یونٹس نے بغاوت کرتے ہوئے مظاہرین کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے صدارتی عملے سے رابطہ کیا اور انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ملک چھوڑ چکے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ صدر اس وقت کہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدارتی دفتر نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کی شب فیس بک پر قوم سے اپنے خطاب میں راجویلینا نے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کی حفاظت کے لیے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا ہے، انہوں نے اپنا مقام ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ مڈغاسکر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/14141719f0f5b39.webp'  alt=' صدر راجویلینا اتوار کو فرانسیسی فوجی طیارے میں ملک چھوڑ کر فرار ہوئے&amp;mdash; فائل فوٹو: رائٹرز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;صدر راجویلینا اتوار کو فرانسیسی فوجی طیارے میں ملک چھوڑ کر فرار ہوئے— فائل فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سفارتی ذریعے نے تقریر کے بعد بتایا تھا کہ راجویلینا مستعفی ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صدر-فرانسیسی-فوجی-طیارے-پر-فرار-ہوئے" href="#صدر-فرانسیسی-فوجی-طیارے-پر-فرار-ہوئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صدر، فرانسیسی فوجی طیارے پر فرار ہوئے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک فوجی ذریعے نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ راجویلینا اتوار کو ایک فرانسیسی فوجی طیارے میں سوار ہو کر مڈغاسکر سے فرار ہوئے، فرانسیسی ریڈیو ’آر ایف آئی‘ نے بتایا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرون نے مصر میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ فی الحال اس کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ فرانس نے راجویلینا کو فرار ہونے میں مدد دی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ مڈغاسکر میں آئینی نظام برقرار رہنا چاہیے اور اگرچہ فرانس نوجوانوں کے مطالبات کو سمجھتا ہے، لیکن انہیں فوجی دھڑوں کے ذریعے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ذریعے کے مطابق فرانسیسی فوج کا ایک ’کاسا‘ طیارہ اتوار کو سینٹ میری ہوائی اڈے پر اترا، 5 منٹ بعد ایک ہیلی کاپٹر آیا اور ایک مسافر کو طیارے میں منتقل کیا گیا، ’وہ مسافر صدر اینڈری راجویلینا تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مڈغاسکر-میں-احتجاج" href="#مڈغاسکر-میں-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مڈغاسکر میں احتجاج&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف شروع ہوئے تھے، لیکن جلد ہی بدعنوانی، ناقص حکمرانی، اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف عوامی بغاوت میں تبدیل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غصہ ان حالیہ عالمی مظاہروں سے مماثلت رکھتا ہے جنہوں نے نیپال میں وزیرِ اعظم کے استعفے اور مراکش میں سیاسی بحران کو جنم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/14135811b9344e7.webp'  alt=' ماضی میں صدر کی حامی رہنے والی مڈغاسکر کی فوجی یونٹ بغاوت کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگئی تھی&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماضی میں صدر کی حامی رہنے والی مڈغاسکر کی فوجی یونٹ بغاوت کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگئی تھی— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر راجویلینا بتدریج تنہا ہوتے جا رہے تھے، خصوصاً جب انہوں نے کیپسیٹ نامی ایک ایلیٹ یونٹ کی حمایت کھو دی تھی، یہی یونٹ 2009 میں ان کی پہلی بغاوت کے دوران ان کے ساتھ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے آخر میں کیپسیٹ نے اعلان کیا کہ وہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گا اور دارالحکومت انتاناناریوو کے مرکزی چوک میں ہزاروں مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اس یونٹ نے خود کو فوج کا نیا سربراہ قرار دیا، جس کے بعد راجویلینا نے اتوار کو ’اقتدار پر قبضے کی کوشش‘ سے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے نمائندے نے بتایا کہ پیر کے روز، ژنڈرمری (نیم فوجی دستے) کے ایک دھڑے نے بھی مظاہرین کے ساتھ مل کر ژنڈرمری کا کنٹرول سنبھال لیا، یہ کارروائی ایک رسمی تقریب میں ہوئی جس میں اعلیٰ حکومتی اہلکار موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پارلیمانی-تبدیلیاں" href="#پارلیمانی-تبدیلیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پارلیمانی تبدیلیاں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ نے اعلان کیا ہے کہ صدر کو عوامی دباؤ کے باعث برطرف کر دیا گیا ہے، اور ژاں آندرے ندرمنجاری کو عبوری طور پر تعینات کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈغاسکر کے آئین کے مطابق، صدر کی غیر موجودگی میں سینیٹ کا رہنما عبوری صدر بن جاتا ہے جب تک انتخابات نہ ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صدر-کو-استعفیٰ-دینا-ہوگا" href="#صدر-کو-استعفیٰ-دینا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’صدر کو استعفیٰ دینا ہوگا‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پیر کو دارالحکومت کے چوک میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جنہوں نے نعرے لگائے کہ ’صدر کو ابھی استعفیٰ دینا ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل میں کام کرنے والے 22 سالہ کارکن ادریانا ریونی فانومیگانتسوا نے کہا کہ اس کی ماہانہ تنخواہ صرف 3 لاکھ اریاری (67 ڈالر) ہے، جو صرف کھانے کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 16 سال میں صدر اور ان کی حکومت نے صرف خود کو امیر بنایا، عوام غریب ہی رہے اور سب سے زیادہ تکلیف نوجوانوں، یعنی جنریشن زی کو ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے مطابق، 25 ستمبر سے اب تک مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مڈغاسکر-کی-معاشی-صورتحال" href="#مڈغاسکر-کی-معاشی-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مڈغاسکر کی معاشی صورتحال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 3 کروڑ آبادی والے اس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کی عمر 20 سال سے کم ہے، اور تین چوتھائی لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق، 1960 میں آزادی کے بعد سے 2020 تک فی کس آمدنی میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈغاسکر دنیا کی زیادہ تر ونیلا پیدا کرتا ہے لیکن نکل، کوبالٹ، ٹیکسٹائل، اور جھینگے بھی اس کے اہم برآمدی ذرائع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صدر-کا-آخری-اقدام-معافیاں" href="#صدر-کا-آخری-اقدام-معافیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صدر کا آخری اقدام، معافیاں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ملک چھوڑنے سے پہلے راجویلینا نے اتوار کو کئی افراد کو معاف کر دیا، جن میں 2 فرانسیسی شہری بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صدارتی ذریعے نے تصدیق کی کہ یہ دستاویز درست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں فرانسیسی، پال مائیو رافانورانا اور فرانسوا مارک فلپ، 2021 کی ایک ناکام بغاوت کے مقدمے میں ’ریاست کے خلاف سازش‘ کے الزام میں سزا یافتہ تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقی افریقہ کے ملک مڈغاسکر کی حزبِ اختلاف کے رہنما اور دیگر عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اینڈری راجویلینا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں، یہ دنیا بھر میں جنریشن زی (نوجوانوں کی قیادت) کی بغاوتوں کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر گرنے والی دوسری حکومت ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے سربراہ سیتنی رانڈریاناسولونائیکو نے بتایا کہ صدر اینڈری راجویلینا اتوار کو ملک چھوڑ کر فرار ہوئے، جب فوج کے کئی یونٹس نے بغاوت کرتے ہوئے مظاہرین کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے صدارتی عملے سے رابطہ کیا اور انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ملک چھوڑ چکے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ صدر اس وقت کہاں ہیں۔</p>
<p>صدارتی دفتر نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>پیر کی شب فیس بک پر قوم سے اپنے خطاب میں راجویلینا نے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کی حفاظت کے لیے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا ہے، انہوں نے اپنا مقام ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ مڈغاسکر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/14141719f0f5b39.webp'  alt=' صدر راجویلینا اتوار کو فرانسیسی فوجی طیارے میں ملک چھوڑ کر فرار ہوئے&mdash; فائل فوٹو: رائٹرز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>صدر راجویلینا اتوار کو فرانسیسی فوجی طیارے میں ملک چھوڑ کر فرار ہوئے— فائل فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک سفارتی ذریعے نے تقریر کے بعد بتایا تھا کہ راجویلینا مستعفی ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔</p>
<h1><a id="صدر-فرانسیسی-فوجی-طیارے-پر-فرار-ہوئے" href="#صدر-فرانسیسی-فوجی-طیارے-پر-فرار-ہوئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صدر، فرانسیسی فوجی طیارے پر فرار ہوئے</h1>
<p>ایک فوجی ذریعے نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ راجویلینا اتوار کو ایک فرانسیسی فوجی طیارے میں سوار ہو کر مڈغاسکر سے فرار ہوئے، فرانسیسی ریڈیو ’آر ایف آئی‘ نے بتایا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میکرون نے مصر میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ فی الحال اس کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ فرانس نے راجویلینا کو فرار ہونے میں مدد دی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ مڈغاسکر میں آئینی نظام برقرار رہنا چاہیے اور اگرچہ فرانس نوجوانوں کے مطالبات کو سمجھتا ہے، لیکن انہیں فوجی دھڑوں کے ذریعے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>فوجی ذریعے کے مطابق فرانسیسی فوج کا ایک ’کاسا‘ طیارہ اتوار کو سینٹ میری ہوائی اڈے پر اترا، 5 منٹ بعد ایک ہیلی کاپٹر آیا اور ایک مسافر کو طیارے میں منتقل کیا گیا، ’وہ مسافر صدر اینڈری راجویلینا تھے‘۔</p>
<h1><a id="مڈغاسکر-میں-احتجاج" href="#مڈغاسکر-میں-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مڈغاسکر میں احتجاج</h1>
<p>یہ مظاہرے 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف شروع ہوئے تھے، لیکن جلد ہی بدعنوانی، ناقص حکمرانی، اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف عوامی بغاوت میں تبدیل ہوگئے۔</p>
<p>یہ غصہ ان حالیہ عالمی مظاہروں سے مماثلت رکھتا ہے جنہوں نے نیپال میں وزیرِ اعظم کے استعفے اور مراکش میں سیاسی بحران کو جنم دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/10/14135811b9344e7.webp'  alt=' ماضی میں صدر کی حامی رہنے والی مڈغاسکر کی فوجی یونٹ بغاوت کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگئی تھی&mdash; فوٹو: اے ایف پی ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماضی میں صدر کی حامی رہنے والی مڈغاسکر کی فوجی یونٹ بغاوت کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگئی تھی— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>صدر راجویلینا بتدریج تنہا ہوتے جا رہے تھے، خصوصاً جب انہوں نے کیپسیٹ نامی ایک ایلیٹ یونٹ کی حمایت کھو دی تھی، یہی یونٹ 2009 میں ان کی پہلی بغاوت کے دوران ان کے ساتھ تھا۔</p>
<p>ہفتے کے آخر میں کیپسیٹ نے اعلان کیا کہ وہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گا اور دارالحکومت انتاناناریوو کے مرکزی چوک میں ہزاروں مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں اس یونٹ نے خود کو فوج کا نیا سربراہ قرار دیا، جس کے بعد راجویلینا نے اتوار کو ’اقتدار پر قبضے کی کوشش‘ سے خبردار کیا۔</p>
<p>رائٹرز کے نمائندے نے بتایا کہ پیر کے روز، ژنڈرمری (نیم فوجی دستے) کے ایک دھڑے نے بھی مظاہرین کے ساتھ مل کر ژنڈرمری کا کنٹرول سنبھال لیا، یہ کارروائی ایک رسمی تقریب میں ہوئی جس میں اعلیٰ حکومتی اہلکار موجود تھے۔</p>
<h1><a id="پارلیمانی-تبدیلیاں" href="#پارلیمانی-تبدیلیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پارلیمانی تبدیلیاں</h1>
<p>سینیٹ نے اعلان کیا ہے کہ صدر کو عوامی دباؤ کے باعث برطرف کر دیا گیا ہے، اور ژاں آندرے ندرمنجاری کو عبوری طور پر تعینات کیا گیا ہے۔</p>
<p>مڈغاسکر کے آئین کے مطابق، صدر کی غیر موجودگی میں سینیٹ کا رہنما عبوری صدر بن جاتا ہے جب تک انتخابات نہ ہو جائیں۔</p>
<h1><a id="صدر-کو-استعفیٰ-دینا-ہوگا" href="#صدر-کو-استعفیٰ-دینا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’صدر کو استعفیٰ دینا ہوگا‘</h1>
<p>پیر کو دارالحکومت کے چوک میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جنہوں نے نعرے لگائے کہ ’صدر کو ابھی استعفیٰ دینا ہوگا‘۔</p>
<p>ہوٹل میں کام کرنے والے 22 سالہ کارکن ادریانا ریونی فانومیگانتسوا نے کہا کہ اس کی ماہانہ تنخواہ صرف 3 لاکھ اریاری (67 ڈالر) ہے، جو صرف کھانے کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ 16 سال میں صدر اور ان کی حکومت نے صرف خود کو امیر بنایا، عوام غریب ہی رہے اور سب سے زیادہ تکلیف نوجوانوں، یعنی جنریشن زی کو ہوئی ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے مطابق، 25 ستمبر سے اب تک مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<h1><a id="مڈغاسکر-کی-معاشی-صورتحال" href="#مڈغاسکر-کی-معاشی-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مڈغاسکر کی معاشی صورتحال</h1>
<p>تقریباً 3 کروڑ آبادی والے اس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کی عمر 20 سال سے کم ہے، اور تین چوتھائی لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق، 1960 میں آزادی کے بعد سے 2020 تک فی کس آمدنی میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔</p>
<p>مڈغاسکر دنیا کی زیادہ تر ونیلا پیدا کرتا ہے لیکن نکل، کوبالٹ، ٹیکسٹائل، اور جھینگے بھی اس کے اہم برآمدی ذرائع ہیں۔</p>
<h1><a id="صدر-کا-آخری-اقدام-معافیاں" href="#صدر-کا-آخری-اقدام-معافیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صدر کا آخری اقدام، معافیاں</h1>
<p>ملک چھوڑنے سے پہلے راجویلینا نے اتوار کو کئی افراد کو معاف کر دیا، جن میں 2 فرانسیسی شہری بھی شامل تھے۔</p>
<p>ایک صدارتی ذریعے نے تصدیق کی کہ یہ دستاویز درست ہے۔</p>
<p>یہ دونوں فرانسیسی، پال مائیو رافانورانا اور فرانسوا مارک فلپ، 2021 کی ایک ناکام بغاوت کے مقدمے میں ’ریاست کے خلاف سازش‘ کے الزام میں سزا یافتہ تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271530</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 16:39:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/141351511e8f5de.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/141351511e8f5de.webp"/>
        <media:title>جنریشن زی کا کہنا ہے کہ 16 سال میں صرف حکمران امیر بنے، عوام غریب ہی رہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں جنوبی افریقہ کے سفیر پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270384/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس میں جنوبی افریقہ کے سفیر ایمانوئلن نکوسیناتھ متھتھوا منگل کی صبح پیرس کے مغربی علاقے میں واقع ایک لگژری ہوٹل ٹاور کے نیچے مردہ حالت میں پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نیوز کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.arabnews.com/node/2617293/world"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ فرانس میں جنوبی افریقہ کے سفیر ایمانوئلن نکوسیناتھ متھتھوا، جو (جوناتھی متھتھوا کے نام سے مشہور تھے) منگل کی صبح پیرس کے مغربی علاقے میں واقع ایک لگژری ہوٹل ٹاور کے نیچے مردہ حالت میں پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر لور بیکوا نے ایک بیان میں کہا کہ  58 سالہ سفیر کو پیر کی شام لاپتہ رپورٹ کیا گیا تھا، جب ان کی اہلیہ کو ان کا ایک تشویشناک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے معافی مانگی  تھی اور اپنی جان لینے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MarioNawfal/status/1972999039080636625"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر لور بیکوا نے کہا کہ منگل کی صبح ہوٹل ہائیٹ کے ایک سکیورٹی گارڈ نے اندرونی صحن میں  متھتھوا کی لاش دریافت کی  اور مزید بتایا کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لور بیکوا کے مطابق، متھتھوا نے ہوٹل کی 22ویں منزل پر ایک کمرہ بک کیا تھا، جہاں کھڑکی کے حفاظتی لاک کو زبردستی کھولا گیا تھا، بیان میں کہا گیا کہ تفتیش کاروں کو نہ تو کسی لڑائی جھگڑے کے آثار ملے ہیں اور نہ ہی ادویات یا ممنوعہ منشیات کے نشانات۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے  متھتھوا کی ’ افسوسناک حالات میں’  موت پر دکھ کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں رامافوسا نے متھتھوا  کی اہلیہ اور اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ  متھتھوا کو دسمبر 2023 میں فرانس میں سفیر مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہیں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متھتھوا اس سے قبل وزیرِ پولیس اور وزیرِ کھیل، فنون اور ثقافت کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس میں جنوبی افریقہ کے سفیر ایمانوئلن نکوسیناتھ متھتھوا منگل کی صبح پیرس کے مغربی علاقے میں واقع ایک لگژری ہوٹل ٹاور کے نیچے مردہ حالت میں پائے گئے۔</p>
<p>عرب نیوز کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.arabnews.com/node/2617293/world">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ فرانس میں جنوبی افریقہ کے سفیر ایمانوئلن نکوسیناتھ متھتھوا، جو (جوناتھی متھتھوا کے نام سے مشہور تھے) منگل کی صبح پیرس کے مغربی علاقے میں واقع ایک لگژری ہوٹل ٹاور کے نیچے مردہ حالت میں پائے گئے۔</p>
<p>پراسیکیوٹر لور بیکوا نے ایک بیان میں کہا کہ  58 سالہ سفیر کو پیر کی شام لاپتہ رپورٹ کیا گیا تھا، جب ان کی اہلیہ کو ان کا ایک تشویشناک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے معافی مانگی  تھی اور اپنی جان لینے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MarioNawfal/status/1972999039080636625"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پراسیکیوٹر لور بیکوا نے کہا کہ منگل کی صبح ہوٹل ہائیٹ کے ایک سکیورٹی گارڈ نے اندرونی صحن میں  متھتھوا کی لاش دریافت کی  اور مزید بتایا کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>لور بیکوا کے مطابق، متھتھوا نے ہوٹل کی 22ویں منزل پر ایک کمرہ بک کیا تھا، جہاں کھڑکی کے حفاظتی لاک کو زبردستی کھولا گیا تھا، بیان میں کہا گیا کہ تفتیش کاروں کو نہ تو کسی لڑائی جھگڑے کے آثار ملے ہیں اور نہ ہی ادویات یا ممنوعہ منشیات کے نشانات۔</p>
<p>جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے  متھتھوا کی ’ افسوسناک حالات میں’  موت پر دکھ کا اظہار کیا۔</p>
<p>اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں رامافوسا نے متھتھوا  کی اہلیہ اور اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔</p>
<p>جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ  متھتھوا کو دسمبر 2023 میں فرانس میں سفیر مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہیں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔</p>
<p>متھتھوا اس سے قبل وزیرِ پولیس اور وزیرِ کھیل، فنون اور ثقافت کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270384</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 00:16:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/010015018433cfa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/010015018433cfa.webp"/>
        <media:title>فوٹو: دی گارڈیئن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افریقی ملک گنی کو فوجی سے سول حکومت کی طرف منتقل کرنے کیلئے ریفرنڈم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269750/</link>
      <description>&lt;p&gt;مغربی افریقی ملک گنی میں طویل عرصے بعد ریفرنڈم ہو رہا ہے، جس میں نئے آئین پر ووٹنگ ہو رہی ہے، یہ آئین فوجی سربراہ مامادی ڈمبویا کو صدارتی انتخاب لڑنے کا موقع دے سکتا ہے اور ملک کو فوجی سے سول حکومت کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق گنی میں پولنگ اسٹیشن اتوار کے روز کھل گئے ہیں، جہاں 67 لاکھ اہل ووٹرز ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے آئین کے تحت صدارتی مدت 5 سے بڑھا کر 7 سال کی جائے گی، جو ایک بار دوبارہ منتخب ہونے کے قابل ہوگی، اور ایک سینیٹ (ایوان بالا) بنایا جائے گا، جس کے ایک تہائی اراکین کو صدر براہِ راست نامزد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت کوناکری میں جمعہ اور ہفتہ کو انتخابی مہم پر پابندی لگا دی گئی تھی، وہاں لوگ اتوار کو صبح سویرے ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر جمع ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1178361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
’الجزیرہ‘ نے کوناکری سے رپورٹ کیا کہ حکومت نے سیکیورٹی فورسز تعینات کی ہیں اور ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 40 ہزار سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار اس الیکشن کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ توقع کر رہے ہیں کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں مسودہ آئین منظور ہو جائے گا، جسے کچھ لوگ متاثر کن اور ترقی پسند قرار دے رہے ہیں، تاہم جو لوگ اس ریفرنڈم کے مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ فوجی حکمرانوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا جواز فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری چارٹر میں کہا گیا تھا کہ موجودہ فوجی حکومت کا کوئی رکن الیکشن میں حصہ نہیں لے گا، لیکن بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ یہ ریفرنڈم ایسا آئین لا سکتا ہے جو حکومت کے ہر رکن کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین اس ریفرنڈم پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ حکومت کی اپنی حکمرانی کو قانونی حیثیت دینے کی تازہ کوشش ہے، ایسے خطے میں جہاں 2023 کے بعد سے مغربی اور وسطی افریقہ میں 8 فوجی بغاوتوں نے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنڈم پر ڈمبویا کی طاقت ہتھیانے کی کوشش کے طور پر بھی تنقید کی گئی ہے، ان کی فوجی حکومت نے دسمبر کی وہ ڈیڈلائن بھی پوری نہیں کی جو اس نے سول حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے لیے مقرر کی تھی، حالاں کہ وہ 4 سال پہلے اقتدار میں آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صدارتی انتخاب دسمبر میں طے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فوجی سربراہ نے ابھی تک اعلان نہیں کیا کہ وہ صدارتی انتخاب لڑیں گے یا نہیں، مگر ان کی حکومت کے اختیار کردہ عبوری چارٹر میں کہا گیا تھا کہ بغاوت کے کسی رکن کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کی ووٹنگ غالباً منظور ہو جائے گی کیوں کہ دو بڑے اپوزیشن رہنماؤں، سیلو ڈیلین ڈائیلو اور معزول سابق صدر الفا کونڈے، نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائیلو اور کونڈے کی جماعتوں کی رجسٹریشن فی الحال معطل ہے، جب کہ ہیومن رائٹس واچ نے فوجی حکومت پر سیاسی مخالفین کو غائب کرنے کا الزام لگایا ہے جسے حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان 2 سے 3 دن بعد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مغربی افریقی ملک گنی میں طویل عرصے بعد ریفرنڈم ہو رہا ہے، جس میں نئے آئین پر ووٹنگ ہو رہی ہے، یہ آئین فوجی سربراہ مامادی ڈمبویا کو صدارتی انتخاب لڑنے کا موقع دے سکتا ہے اور ملک کو فوجی سے سول حکومت کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق گنی میں پولنگ اسٹیشن اتوار کے روز کھل گئے ہیں، جہاں 67 لاکھ اہل ووٹرز ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔</p>
<p>نئے آئین کے تحت صدارتی مدت 5 سے بڑھا کر 7 سال کی جائے گی، جو ایک بار دوبارہ منتخب ہونے کے قابل ہوگی، اور ایک سینیٹ (ایوان بالا) بنایا جائے گا، جس کے ایک تہائی اراکین کو صدر براہِ راست نامزد کرے گا۔</p>
<p>دارالحکومت کوناکری میں جمعہ اور ہفتہ کو انتخابی مہم پر پابندی لگا دی گئی تھی، وہاں لوگ اتوار کو صبح سویرے ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر جمع ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1178361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
’الجزیرہ‘ نے کوناکری سے رپورٹ کیا کہ حکومت نے سیکیورٹی فورسز تعینات کی ہیں اور ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 40 ہزار سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار اس الیکشن کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>لوگ توقع کر رہے ہیں کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں مسودہ آئین منظور ہو جائے گا، جسے کچھ لوگ متاثر کن اور ترقی پسند قرار دے رہے ہیں، تاہم جو لوگ اس ریفرنڈم کے مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ فوجی حکمرانوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا جواز فراہم کرے گا۔</p>
<p>عبوری چارٹر میں کہا گیا تھا کہ موجودہ فوجی حکومت کا کوئی رکن الیکشن میں حصہ نہیں لے گا، لیکن بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ یہ ریفرنڈم ایسا آئین لا سکتا ہے جو حکومت کے ہر رکن کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے گا۔</p>
<p>مبصرین اس ریفرنڈم پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ حکومت کی اپنی حکمرانی کو قانونی حیثیت دینے کی تازہ کوشش ہے، ایسے خطے میں جہاں 2023 کے بعد سے مغربی اور وسطی افریقہ میں 8 فوجی بغاوتوں نے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا ہے۔</p>
<p>ریفرنڈم پر ڈمبویا کی طاقت ہتھیانے کی کوشش کے طور پر بھی تنقید کی گئی ہے، ان کی فوجی حکومت نے دسمبر کی وہ ڈیڈلائن بھی پوری نہیں کی جو اس نے سول حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے لیے مقرر کی تھی، حالاں کہ وہ 4 سال پہلے اقتدار میں آئے تھے۔</p>
<p>ایک صدارتی انتخاب دسمبر میں طے ہے۔</p>
<p>اگرچہ فوجی سربراہ نے ابھی تک اعلان نہیں کیا کہ وہ صدارتی انتخاب لڑیں گے یا نہیں، مگر ان کی حکومت کے اختیار کردہ عبوری چارٹر میں کہا گیا تھا کہ بغاوت کے کسی رکن کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p>اتوار کی ووٹنگ غالباً منظور ہو جائے گی کیوں کہ دو بڑے اپوزیشن رہنماؤں، سیلو ڈیلین ڈائیلو اور معزول سابق صدر الفا کونڈے، نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ڈائیلو اور کونڈے کی جماعتوں کی رجسٹریشن فی الحال معطل ہے، جب کہ ہیومن رائٹس واچ نے فوجی حکومت پر سیاسی مخالفین کو غائب کرنے کا الزام لگایا ہے جسے حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان 2 سے 3 دن بعد متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269750</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Sep 2025 15:40:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/211538047325aa7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/211538047325aa7.webp"/>
        <media:title>مبصرین کو خدشہ ہے کہ یہ ریفرنڈم حکومت کی اپنی حکمرانی کو قانونی حیثیت دینے کی تازہ کوشش ہے۔
—فوٹو: بشکریہ الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روانڈا-کانگو معدنیات کے شعبے میں امریکا سمیت فریقین ثالث کے ساتھ تعاون پر متفق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269264/</link>
      <description>&lt;p&gt;روانڈا اور جمہوریہ کانگو امریکا سمیت فریقین ثالث کے ساتھ تعاون کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، تاکہ وہ اپنی معدنی سپلائی چینز کو دوبارہ منظم کریں اور اصلاحات تیار کریں، کیونکہ دونوں ممالک واشنگٹن میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1942007/congo-rwanda-deal-offers-us-role-in-minerals-sector"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے فریم ورک کے مسودے پر اتفاق کیا ہے، جو امن معاہدے کا حصہ ہے اور اب اس مسودے پر متعلقہ فریقین، بشمول نجی شعبہ، کثیرالجہتی بینک اور دیگر ممالک کی کچھ ڈونر ایجنسیاں بات چیت کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ کانگو اور روانڈا غالباً اکتوبر کے اوائل میں اس فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات کریں گے، اس پر بعد میں سربراہان مملکت دستخط کریں گے، یہ 17 صفحات پر مشتمل فریم ورک جون میں واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ہونے والی بات چیت کے دوران طے پانے والے امن معاہدے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ لڑائی ختم کرنے کا مقصد رکھتا ہے، جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور ساتھ ہی اربوں ڈالر کی مغربی سرمایہ کاری کو اس خطے میں متوجہ کرنے کی کوشش ہے جو ٹینٹالم، سونا، کوبالٹ، تانبا اور لیتھیم جیسے معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسودہ اگست میں طے پانے والے ابتدائی خدوخال پر مبنی ہے اور اس میں عمل درآمد کے اقدامات اور ہم آہنگی کے طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست کے خدوخال میں توانائی، بنیادی ڈھانچہ، معدنی سپلائی چینز، نیشنل پارکس، اور عوامی صحت پر تعاون کی بات کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسودے کے مطابق فریقین اس بات کا عہد کریں گے کہ وہ امریکا اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اضافی ریگولیٹری اقدامات اور اصلاحات تیار کریں گے، جو نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوں، تاکہ غیر قانونی تجارت کو کم کیا جا سکے اور شفافیت میں اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بیرونی شفافیت کے طریقہ کار کو بھی اپنائیں گے جن میں اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی ہدایات پر عمل درآمد کا عزم بھی شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسودہ فریم ورک میں کان کنی کے مقامات کی فریق ثالث کے ذریعے جانچ پڑتال اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سرحد پار خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کا ذکر بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک میں ہم آہنگی کے طریقہ کار بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں علاقائی معاشی انضمام پر سالانہ اعلیٰ سطح کے اجلاس اور ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اور تکنیکی ورکنگ گروپس کی میٹنگز کی ٹائم لائنز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کِنشاسا اور کیگالی نے جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ 90 دنوں کے اندر علاقائی معاشی انضمام کے فریم ورک کا آغاز کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>روانڈا اور جمہوریہ کانگو امریکا سمیت فریقین ثالث کے ساتھ تعاون کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، تاکہ وہ اپنی معدنی سپلائی چینز کو دوبارہ منظم کریں اور اصلاحات تیار کریں، کیونکہ دونوں ممالک واشنگٹن میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1942007/congo-rwanda-deal-offers-us-role-in-minerals-sector"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے فریم ورک کے مسودے پر اتفاق کیا ہے، جو امن معاہدے کا حصہ ہے اور اب اس مسودے پر متعلقہ فریقین، بشمول نجی شعبہ، کثیرالجہتی بینک اور دیگر ممالک کی کچھ ڈونر ایجنسیاں بات چیت کر رہی ہیں۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ کانگو اور روانڈا غالباً اکتوبر کے اوائل میں اس فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات کریں گے، اس پر بعد میں سربراہان مملکت دستخط کریں گے، یہ 17 صفحات پر مشتمل فریم ورک جون میں واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ہونے والی بات چیت کے دوران طے پانے والے امن معاہدے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ لڑائی ختم کرنے کا مقصد رکھتا ہے، جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور ساتھ ہی اربوں ڈالر کی مغربی سرمایہ کاری کو اس خطے میں متوجہ کرنے کی کوشش ہے جو ٹینٹالم، سونا، کوبالٹ، تانبا اور لیتھیم جیسے معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ مسودہ اگست میں طے پانے والے ابتدائی خدوخال پر مبنی ہے اور اس میں عمل درآمد کے اقدامات اور ہم آہنگی کے طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اگست کے خدوخال میں توانائی، بنیادی ڈھانچہ، معدنی سپلائی چینز، نیشنل پارکس، اور عوامی صحت پر تعاون کی بات کی گئی تھی۔</p>
<p>مسودے کے مطابق فریقین اس بات کا عہد کریں گے کہ وہ امریکا اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اضافی ریگولیٹری اقدامات اور اصلاحات تیار کریں گے، جو نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوں، تاکہ غیر قانونی تجارت کو کم کیا جا سکے اور شفافیت میں اضافہ ہو۔</p>
<p>وہ بیرونی شفافیت کے طریقہ کار کو بھی اپنائیں گے جن میں اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی ہدایات پر عمل درآمد کا عزم بھی شامل ہوگا۔</p>
<p>مسودہ فریم ورک میں کان کنی کے مقامات کی فریق ثالث کے ذریعے جانچ پڑتال اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سرحد پار خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کا ذکر بھی شامل ہے۔</p>
<p>فریم ورک میں ہم آہنگی کے طریقہ کار بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں علاقائی معاشی انضمام پر سالانہ اعلیٰ سطح کے اجلاس اور ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اور تکنیکی ورکنگ گروپس کی میٹنگز کی ٹائم لائنز شامل ہیں۔</p>
<p>کِنشاسا اور کیگالی نے جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ 90 دنوں کے اندر علاقائی معاشی انضمام کے فریم ورک کا آغاز کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269264</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 10:47:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/15100912e489ad7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/15100912e489ad7.webp"/>
        <media:title>فریم ورک جون میں ٹرمپ انتظامیہ کے تحت بات چیت کے دوران امن معاہدہ طے پانے کے بعد تیار کیا گیا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایتھوپیا میں افریقا کے سب سے بڑے ڈیم کا افتتاح، مصر کا اقوام متحدہ میں احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268904/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایتھوپیا نے منگل کو براعظم افریقہ کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے کا افتتاح کردیا جسے وزیرِاعظم ابی احمد نے ’تمام سیاہ فام عوام کے لیے ایک عظیم کارنامہ‘ قرار دیا، تاہم اس اقدام پر مصر نے اقوام متحدہ میں احتجاج درج کرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1940869/ethiopia-inaugurates-africas-biggest-dam"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق گرینڈ ایتھوپین رینیسنس ڈیم (جی ای آر ڈی)، جو دریائے نیل کی ایک شاخ پر تعمیر کیا گیا ہے، ملک کی تاریخ کا ایک قومی منصوبہ ہے اور اندرونی تنازعات سے دوچار اس ریاست میں ایک نادر متحد علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈیم 170 میٹر (550 فٹ) بلند اور تقریباً 2 کلومیٹر لمبا ہے، جو دریائے نیل کے نیلے حصے پر سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس کی تعمیر 2011 میں شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ میگا اسٹرکچر 74 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے اور 5 ہزار 150 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایتھوپیا کی موجودہ پیداوار سے دگنی ہے، یہ بجلی کی گنجائش کے لحاظ سے افریقہ کا سب سے بڑا ڈیم ہے، اگرچہ کہ دنیا کے 10 سب سے بڑے ڈیموں میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب میں کینیا کے صدر ولیم روٹو اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سمیت خطے کے رہنماؤں نے شرکت کی، ابی احمد نے کہا کہ’جی ای آر ڈی کو صرف ایتھوپیا نہیں بلکہ تمام سیاہ فام عوام کے لیے ایک عظیم کارنامہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، میں تمام سیاہ فام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس ڈیم کو دیکھیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم سیاہ فام جو کچھ ارادہ کریں وہ حاصل کر سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر، جو اپنی 97 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے دریائے نیل پر انحصار کرتا ہے، عرصے سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتا آیا ہے، صدر عبدالفتاح السیسی نے اسے اپنی آبی سلامتی کے لیے ’وجودی خطرہ‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں مصر نے اس افتتاح کو ’یکطرفہ اقدام‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کہا اور اپنے عوام کے ’وجودی مفادات‘ کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابی احمد نے تقریب میں کہا کہ ’یہ ڈیم زیریں ممالک کے لیے خطرہ نہیں ہے، یہ ان کی ترقی پر اثرانداز نہیں ہوگا بلکہ سیاہ فام عوام کے لیے ایک روشن مثال ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر نے ایتھوپیا پر الزام عائد کیا ہےکہ کہ وہ اس منصوبے کو ’قبولیت اور قانونی حیثیت کا جھوٹا تاثر‘ دینے کی کوشش کر رہا ہے، قاہرہ نے کہا کہ وہ اپنے عوام کے ناگزیر مفادات کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت تمام اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے نیل کے پانی کا 85 فیصد تک حصہ نیلے نیل سے آتا ہے، جو سفید نیل سے مل کر سوڈان اور پھر مصر سے گزرتا ہے، منصوبے کی اطالوی کمپنی ویبِلڈ کے سی ای او پیٹرو سالینی نے کہا کہ ’یہ پن بجلی منصوبہ پانی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، یہ آبپاشی اسکیم نہیں ہے جو پانی کو استعمال کرے، پانی کے بہاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دہائی میں امریکا، عالمی بینک، روس، متحدہ عرب امارات اور افریقی یونین کی ثالثی کی کوششیں بار بار ناکام ہوئیں، مصر کے سابق مذاکراتی رکن محمد محی الدین کے مطابق ’مصر کے لیے یہ معاملہ صرف پانی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے، کیونکہ پانی کی فراہمی میں بڑی کمی ملک کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم ایتھوپیا کی صنعتی پیداوار بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور بجلی کی ترسیل کے ذریعے خطے کو توانائی فراہم کرنے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق ایتھوپیا کی 13 کروڑ آبادی میں سے 45 فیصد کے پاس بجلی تک رسائی نہیں ہے، جبکہ دارالحکومت عدیس ابابا میں بار بار بجلی کی بندش سے کاروبار اور گھریلو زندگی متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرو سالینی نے کہا کہ ’یہ اب خواب نہیں رہا بلکہ حقیقت ہے‘، انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو افرادی قوت، مالی وسائل اور 2020 سے 2022 کی خانہ جنگی جیسے بڑے چیلنجز کے باوجود مکمل کیا گیا، انہوں نے کہاکہ ’جب میں پہلی بار آیا تو یہ ملک رات کو اندھیرا ہوتا تھا، اور اب یہ اپنے ہمسایہ ممالک کو توانائی فروخت کر رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے الیکس وائنز کے مطابق ’ایتھوپیا ایک مشکل خطے میں واقع ہے اور اندرونی سیاسی کمزوری بڑھ رہی ہے، حکومت اس ڈیم اور ہمسایوں کے ساتھ تناؤ کو ایک متحد حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایتھوپیا نے منگل کو براعظم افریقہ کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے کا افتتاح کردیا جسے وزیرِاعظم ابی احمد نے ’تمام سیاہ فام عوام کے لیے ایک عظیم کارنامہ‘ قرار دیا، تاہم اس اقدام پر مصر نے اقوام متحدہ میں احتجاج درج کرا دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1940869/ethiopia-inaugurates-africas-biggest-dam">رپورٹ</a> کے مطابق گرینڈ ایتھوپین رینیسنس ڈیم (جی ای آر ڈی)، جو دریائے نیل کی ایک شاخ پر تعمیر کیا گیا ہے، ملک کی تاریخ کا ایک قومی منصوبہ ہے اور اندرونی تنازعات سے دوچار اس ریاست میں ایک نادر متحد علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ ڈیم 170 میٹر (550 فٹ) بلند اور تقریباً 2 کلومیٹر لمبا ہے، جو دریائے نیل کے نیلے حصے پر سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس کی تعمیر 2011 میں شروع ہوئی تھی۔</p>
<p>4 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ میگا اسٹرکچر 74 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے اور 5 ہزار 150 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایتھوپیا کی موجودہ پیداوار سے دگنی ہے، یہ بجلی کی گنجائش کے لحاظ سے افریقہ کا سب سے بڑا ڈیم ہے، اگرچہ کہ دنیا کے 10 سب سے بڑے ڈیموں میں شامل نہیں۔</p>
<p>افتتاحی تقریب میں کینیا کے صدر ولیم روٹو اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سمیت خطے کے رہنماؤں نے شرکت کی، ابی احمد نے کہا کہ’جی ای آر ڈی کو صرف ایتھوپیا نہیں بلکہ تمام سیاہ فام عوام کے لیے ایک عظیم کارنامہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، میں تمام سیاہ فام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس ڈیم کو دیکھیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم سیاہ فام جو کچھ ارادہ کریں وہ حاصل کر سکتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مصر، جو اپنی 97 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے دریائے نیل پر انحصار کرتا ہے، عرصے سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتا آیا ہے، صدر عبدالفتاح السیسی نے اسے اپنی آبی سلامتی کے لیے ’وجودی خطرہ‘ قرار دیا ہے۔</p>
<p>منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں مصر نے اس افتتاح کو ’یکطرفہ اقدام‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کہا اور اپنے عوام کے ’وجودی مفادات‘ کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p>ابی احمد نے تقریب میں کہا کہ ’یہ ڈیم زیریں ممالک کے لیے خطرہ نہیں ہے، یہ ان کی ترقی پر اثرانداز نہیں ہوگا بلکہ سیاہ فام عوام کے لیے ایک روشن مثال ہے‘۔</p>
<p>مصر نے ایتھوپیا پر الزام عائد کیا ہےکہ کہ وہ اس منصوبے کو ’قبولیت اور قانونی حیثیت کا جھوٹا تاثر‘ دینے کی کوشش کر رہا ہے، قاہرہ نے کہا کہ وہ اپنے عوام کے ناگزیر مفادات کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت تمام اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔</p>
<p>دریائے نیل کے پانی کا 85 فیصد تک حصہ نیلے نیل سے آتا ہے، جو سفید نیل سے مل کر سوڈان اور پھر مصر سے گزرتا ہے، منصوبے کی اطالوی کمپنی ویبِلڈ کے سی ای او پیٹرو سالینی نے کہا کہ ’یہ پن بجلی منصوبہ پانی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، یہ آبپاشی اسکیم نہیں ہے جو پانی کو استعمال کرے، پانی کے بہاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی‘۔</p>
<p>گزشتہ دہائی میں امریکا، عالمی بینک، روس، متحدہ عرب امارات اور افریقی یونین کی ثالثی کی کوششیں بار بار ناکام ہوئیں، مصر کے سابق مذاکراتی رکن محمد محی الدین کے مطابق ’مصر کے لیے یہ معاملہ صرف پانی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے، کیونکہ پانی کی فراہمی میں بڑی کمی ملک کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ ہے‘۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم ایتھوپیا کی صنعتی پیداوار بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور بجلی کی ترسیل کے ذریعے خطے کو توانائی فراہم کرنے میں مدد دے گا۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق ایتھوپیا کی 13 کروڑ آبادی میں سے 45 فیصد کے پاس بجلی تک رسائی نہیں ہے، جبکہ دارالحکومت عدیس ابابا میں بار بار بجلی کی بندش سے کاروبار اور گھریلو زندگی متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>پیٹرو سالینی نے کہا کہ ’یہ اب خواب نہیں رہا بلکہ حقیقت ہے‘، انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو افرادی قوت، مالی وسائل اور 2020 سے 2022 کی خانہ جنگی جیسے بڑے چیلنجز کے باوجود مکمل کیا گیا، انہوں نے کہاکہ ’جب میں پہلی بار آیا تو یہ ملک رات کو اندھیرا ہوتا تھا، اور اب یہ اپنے ہمسایہ ممالک کو توانائی فروخت کر رہا ہے‘۔</p>
<p>یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے الیکس وائنز کے مطابق ’ایتھوپیا ایک مشکل خطے میں واقع ہے اور اندرونی سیاسی کمزوری بڑھ رہی ہے، حکومت اس ڈیم اور ہمسایوں کے ساتھ تناؤ کو ایک متحد حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268904</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Sep 2025 14:42:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/1014283942b13f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/1014283942b13f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائیجیریا میں کشتی ڈوبنے سے 60افراد جاں بحق، درجنوں کو بچالیا گیا، 10 کی حالت تشویشناک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268440/</link>
      <description>&lt;p&gt;نائیجیریا میں کشتی الٹنے سے کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں کو بچا لیا گیا، مقامی حکام کے مطابق حادثہ ریاست نائیجر کے شمالی وسطی حصے میں پیش آیا، متاثرہ کشتی میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ کشتی منگل کی صبح ضلع مالالے کے گاؤں تونگان سُولے سے روانہ ہوئی تھی اور ایک تعزیتی دورے کے لیے دُگّا جا رہی تھی ، لیکن گاوساوا کمیونٹی کے قریب پانی میں ڈوبے ہوئے ایک درخت سے ٹکرا گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا کے چیئرمین عبداللہ بابا آرا نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ان کے مطابق اب تک 60 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ کئی افراد لاپتہ ہیں اور 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شگومی کے ضلعی سربراہ سعدو انووا محمد نے بتایا کہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے پیش آیا، وہ دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک جائے وقوعہ پر موجود رہے اور اس دوران 31 لاشیں نکالی گئیں، ان کے مطابق 4 لاشوں کی تدفین اسلامی رسومات کے مطابق منگل ہی کے روز کر دی گئی، جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائیجر اسٹیٹ ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ امدادی عملہ اور مقامی غوطہ خور لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں، ایجنسی کے مطابق اب تک 29 ہلاکتوں اور 50 افراد کو زندہ بچانے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2 افراد لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ کشتی حد سے زیادہ مسافروں سے بھری ہوئی تھی اور درخت سے ٹکرا کر الٹ گئی، نائیجیریا میں بالخصوص برسات کے موسم میں کشتیوں کے حادثات عام ہیں، جہاں حفاظت کے ضوابط پر عمل درآمد کمزور ہے، کشتیاں زیادہ بوجھ لاد کر چلائی جاتی ہیں اور اکثر پرانی و خستہ کشتیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نائیجیریا میں کشتی الٹنے سے کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں کو بچا لیا گیا، مقامی حکام کے مطابق حادثہ ریاست نائیجر کے شمالی وسطی حصے میں پیش آیا، متاثرہ کشتی میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ کشتی منگل کی صبح ضلع مالالے کے گاؤں تونگان سُولے سے روانہ ہوئی تھی اور ایک تعزیتی دورے کے لیے دُگّا جا رہی تھی ، لیکن گاوساوا کمیونٹی کے قریب پانی میں ڈوبے ہوئے ایک درخت سے ٹکرا گئی۔</p>
<p>بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا کے چیئرمین عبداللہ بابا آرا نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ان کے مطابق اب تک 60 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ کئی افراد لاپتہ ہیں اور 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شگومی کے ضلعی سربراہ سعدو انووا محمد نے بتایا کہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے پیش آیا، وہ دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک جائے وقوعہ پر موجود رہے اور اس دوران 31 لاشیں نکالی گئیں، ان کے مطابق 4 لاشوں کی تدفین اسلامی رسومات کے مطابق منگل ہی کے روز کر دی گئی، جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔</p>
<p>نائیجر اسٹیٹ ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ امدادی عملہ اور مقامی غوطہ خور لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں، ایجنسی کے مطابق اب تک 29 ہلاکتوں اور 50 افراد کو زندہ بچانے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2 افراد لاپتہ ہیں۔</p>
<p>حکام نے کہا کہ کشتی حد سے زیادہ مسافروں سے بھری ہوئی تھی اور درخت سے ٹکرا کر الٹ گئی، نائیجیریا میں بالخصوص برسات کے موسم میں کشتیوں کے حادثات عام ہیں، جہاں حفاظت کے ضوابط پر عمل درآمد کمزور ہے، کشتیاں زیادہ بوجھ لاد کر چلائی جاتی ہیں اور اکثر پرانی و خستہ کشتیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268440</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 13:19:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/04131748abb6a6a.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/04131748abb6a6a.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں 128 سال پہلے قتل ہونیوالے بادشاہ اور 2 سپاہیوں کی کھوپڑیاں مڈغاسکر منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268325/</link>
      <description>&lt;p&gt;افریقی ملک مڈغاسکر کو 128 سال قبل فرانسیسی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والے بادشاہ سمیت 3 افراد کی کھوپڑیاں منتقل کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1939318/madagascar-receives-skull-of-king-beheaded-by-france"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق فرانس نے 27 اگست کو پیرس میں یہ کھوپڑیاں واپس کی تھیں، یہ 2023 میں منظور ہونے والے قانون کے بعد پہلی واپسی ہے، قانون کے تحت نوآبادیاتی دور میں قبضہ کی گئی انسانی باقیات کی واپسی کو آسان بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کھوپڑیاں ساکالاوا قوم کے بادشاہ تویرا اور اُن کے 2 جنگجو ساتھیوں کی سمجھی جاتی ہیں، جنہیں 1897 میں فرانسیسی فوجیوں نے سر قلم کرکے قتل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1160872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باقیات پیر کے روز مڈغاسکر پہنچیں اور ہوائی اڈے پر ساکالاوا گروہ کے افراد نے ان کا استقبال کیا، جو روایتی لباس پہنے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باقیات تین بکسوں میں رکھی گئی تھیں، جو بحرِ ہند کی اس قوم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان باقیات کو دارالحکومت انتاناناریوو کی سڑکوں سے گزار کر شہر کے مقبرے تک لے جایا گیا، جہاں صدر اینڈری راجولینا اور حکومت و ساکالاوا کے معززین نے ان کا استقبال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجولینا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی اور اپنی تاریخ کو جاننا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پاس ایک بادشاہ اور اُس کے سپاہی تھے، جنہوں نے قوم کا دفاع کیا، انہوں نے ان لوگوں کی تعریف کی، جنہوں نے فرانسیسی نوآبادیاتی فوجیوں کے خلاف ’حوصلے اور جرات‘ کے ساتھ مزاحمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بادشاہ تویرا کے پڑپوتے اور نئے تخت نشین ساکالاوا بادشاہ، جارج ہاریا کامامی نے اپنے آبا و اجداد کی باقیات کو خوش آمدید کہنے کے لیے مقدس دریا ’تسیریبیہینا‘ کا پانی چھڑکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارج ہاریا کامامی نے کہا کہ ہم ساکالاوا مطمئن ہیں، آج خوشی کا دن ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افریقی ملک مڈغاسکر کو 128 سال قبل فرانسیسی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والے بادشاہ سمیت 3 افراد کی کھوپڑیاں منتقل کر دی گئیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1939318/madagascar-receives-skull-of-king-beheaded-by-france">رپورٹ</a> کے مطابق فرانس نے 27 اگست کو پیرس میں یہ کھوپڑیاں واپس کی تھیں، یہ 2023 میں منظور ہونے والے قانون کے بعد پہلی واپسی ہے، قانون کے تحت نوآبادیاتی دور میں قبضہ کی گئی انسانی باقیات کی واپسی کو آسان بنایا گیا ہے۔</p>
<p>یہ کھوپڑیاں ساکالاوا قوم کے بادشاہ تویرا اور اُن کے 2 جنگجو ساتھیوں کی سمجھی جاتی ہیں، جنہیں 1897 میں فرانسیسی فوجیوں نے سر قلم کرکے قتل کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1160872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ باقیات پیر کے روز مڈغاسکر پہنچیں اور ہوائی اڈے پر ساکالاوا گروہ کے افراد نے ان کا استقبال کیا، جو روایتی لباس پہنے ہوئے تھے۔</p>
<p>یہ باقیات تین بکسوں میں رکھی گئی تھیں، جو بحرِ ہند کی اس قوم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے۔</p>
<p>ان باقیات کو دارالحکومت انتاناناریوو کی سڑکوں سے گزار کر شہر کے مقبرے تک لے جایا گیا، جہاں صدر اینڈری راجولینا اور حکومت و ساکالاوا کے معززین نے ان کا استقبال کیا۔</p>
<p>راجولینا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی اور اپنی تاریخ کو جاننا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پاس ایک بادشاہ اور اُس کے سپاہی تھے، جنہوں نے قوم کا دفاع کیا، انہوں نے ان لوگوں کی تعریف کی، جنہوں نے فرانسیسی نوآبادیاتی فوجیوں کے خلاف ’حوصلے اور جرات‘ کے ساتھ مزاحمت کی ہے۔</p>
<p>بادشاہ تویرا کے پڑپوتے اور نئے تخت نشین ساکالاوا بادشاہ، جارج ہاریا کامامی نے اپنے آبا و اجداد کی باقیات کو خوش آمدید کہنے کے لیے مقدس دریا ’تسیریبیہینا‘ کا پانی چھڑکا۔</p>
<p>جارج ہاریا کامامی نے کہا کہ ہم ساکالاوا مطمئن ہیں، آج خوشی کا دن ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268325</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Sep 2025 17:15:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/031106117daaee1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/031106117daaee1.webp"/>
        <media:title>فرانس میں 2023 کے قانون کے تحت نوآبادیاتی دور میں قبضہ کی گئی باقیات کی واپسی کو آسان بنایا گیا ہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوڈان: وسطی دارفور میں تباہ کن بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ، گاؤں زمیں بوس، ایک ہزار افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268240/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوڈان کے وسطی دارفور کے گاؤں تَراسن میں تباہ کن بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاکس نیوز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.foxnews.com/world/landslide-kills-over-1000-people-levels-entire-village-sudans-central-darfur"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق علاقے پر قابض باغی گروہ سوڈان لبریشن موومنٹ/آرمی (ایس ایل ایم-اے) نے کہا کہ یہ خوفناک واقعہ 31 اگست کو کئی دنوں کی طوفانی بارشوں کے بعد پیش آیا اور اس نے ’پورے گاؤں کو مکمل طور پر زمیں بوس کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268073"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاؤں کے تمام ایک ہزار سے زائد رہائشی جاں بحق ہو گئے ہیں، صرف ایک شخص زندہ بچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار کی فی الحال آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکی، کیونکہ تنازع کا شکار اس خطے تک رسائی محدود ہے، لیکن اگر تصدیق ہو جائے تو یہ سوڈان کی حالیہ تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفت ہوگی، دارفور کے گورنر منی مناوی نے اس لینڈ سلائیڈ کو ’انسانی المیہ‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابض گروہ نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی بازیابی اور آفت سے نمٹنے میں مدد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی پہلے کی رپورٹس کے مطابق شمالی دارفور کے کئی باشندے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے ہاتھوں اپنے گھروں سے بے دخل کیے جانے کے بعد اس علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوڈان کے وسطی دارفور کے گاؤں تَراسن میں تباہ کن بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>فاکس نیوز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.foxnews.com/world/landslide-kills-over-1000-people-levels-entire-village-sudans-central-darfur"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق علاقے پر قابض باغی گروہ سوڈان لبریشن موومنٹ/آرمی (ایس ایل ایم-اے) نے کہا کہ یہ خوفناک واقعہ 31 اگست کو کئی دنوں کی طوفانی بارشوں کے بعد پیش آیا اور اس نے ’پورے گاؤں کو مکمل طور پر زمیں بوس کر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268073"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاؤں کے تمام ایک ہزار سے زائد رہائشی جاں بحق ہو گئے ہیں، صرف ایک شخص زندہ بچا ہے۔</p>
<p>ان اعداد و شمار کی فی الحال آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکی، کیونکہ تنازع کا شکار اس خطے تک رسائی محدود ہے، لیکن اگر تصدیق ہو جائے تو یہ سوڈان کی حالیہ تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفت ہوگی، دارفور کے گورنر منی مناوی نے اس لینڈ سلائیڈ کو ’انسانی المیہ‘ قرار دیا۔</p>
<p>قابض گروہ نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی بازیابی اور آفت سے نمٹنے میں مدد کریں۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی پہلے کی رپورٹس کے مطابق شمالی دارفور کے کئی باشندے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے ہاتھوں اپنے گھروں سے بے دخل کیے جانے کے بعد اس علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268240</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 13:51:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/021217478a83e75.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/021217478a83e75.webp"/>
        <media:title>تنازع کا شکار خطے تک رسائی محدود ہونے کی وجہ سے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جاسکی — فائل فوٹو: یورو نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہاجرین کی کشتی مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب ڈوب گئی، 70 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268073/</link>
      <description>&lt;p&gt;مہاجرین کو لے جانے والی کشتی مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1938531/70-drown-as-migrant-boat-capsizes-off-mauritania"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گیمبیا کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز بتایا کہ یہ واقعہ یورپ کی طرف جانے والے ایک مقبول ہجرتی راستے پر حالیہ برسوں میں پیش آنے والے سب سے مہلک حادثات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے بیان کے مطابق مزید 30 افراد کے مرنے کا خدشہ ہے، یہ کشتی بدھ کی صبح موریطانیہ کے ساحل کے قریب ڈوب گئی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ کشتی گیمبیا سے روانہ ہوئی تھی اور اس پر زیادہ تر گیمبیا اور سینیگال کے شہری سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشتی میں تقریباً 150 مسافر تھے، جن میں سے 16 کو بچا لیا گیا ہے، موریطانیہ کے حکام نے بدھ اور جمعرات کو 70 لاشیں برآمد کیں، جب کہ عینی شاہدین کے مطابق 100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230430"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
مغربی افریقہ کے ساحل سے کینری جزائر تک بحرِ اوقیانوس کا ہجرتی راستہ دنیا کے سب سے مہلک راستوں میں شمار ہوتا ہے، جو عام طور پر افریقی مہاجرین اسپین پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے مطابق، گزشتہ سال 46 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کینری جزائر پہنچے، جو ایک ریکارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم کامیناندو فرونتیراس کے مطابق اس خطرناک سفر کے دوران 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیمبیا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے خطرناک سفر پر نہ نکلیں، جو بے شمار جانیں نگل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یونان-کے-جزیرے-کے-قریب-دو-افراد-ڈوب-گئے" href="#یونان-کے-جزیرے-کے-قریب-دو-افراد-ڈوب-گئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یونان کے جزیرے کے قریب دو افراد ڈوب گئے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یونانی کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح یونان کے جنوب مشرقی ایجیئن جزیرے روڈس کے ساحل پر دو مہاجرین، ایک بالغ مرد اور ایک بچی مردہ پائے گئے، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں ڈوب گئے تھے، انہیں کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے ماوروس کاووس ساحل پر پایا، جنہوں نے 3 مزید زندہ بچ جانے والے بھی تلاش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی خبر رساں ویب سائٹ ’رودیاقی‘ کے مطابق یہ افراد ایک اسمگلر کی ربڑ کی کشتی پر سوار تھے، جس نے ساحل کے قریب آ کر اپنے مسافروں کو اتار دیا اور پھر سمندر کی طرف لوٹ گیا، 2 ہلاک افراد نے دیگر 10 لوگوں کے ساتھ ترکی کے ساحل سے سفر شروع کیا تھا، جن میں سے باقی لوگ کسی طرح ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، یونانی پولیس کو روڈس کے قریب گیناڈی علاقے میں 38 مزید مہاجرین ملے، تمام 41 زندہ بچ جانے والوں کو جزیرے کی بندرگاہ اتھارٹی کے حوالے کیا جا رہا ہے، جب کہ لاشوں کو روڈس کے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے یونان طویل عرصے سے یورپ کی جانب خطرناک ہجرتی راستوں کا مرکز رہا ہے، جہاں لوگ جنگ، ظلم و ستم اور غربت سے بچنے کے لیے نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شمالی افریقہ سے سمندر کے راستے آنے والے تمام افراد کی پناہ کی درخواستیں 3 ماہ کے لیے معطل رہیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مہاجرین کو لے جانے والی کشتی مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1938531/70-drown-as-migrant-boat-capsizes-off-mauritania"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق گیمبیا کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز بتایا کہ یہ واقعہ یورپ کی طرف جانے والے ایک مقبول ہجرتی راستے پر حالیہ برسوں میں پیش آنے والے سب سے مہلک حادثات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>وزارت کے بیان کے مطابق مزید 30 افراد کے مرنے کا خدشہ ہے، یہ کشتی بدھ کی صبح موریطانیہ کے ساحل کے قریب ڈوب گئی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ کشتی گیمبیا سے روانہ ہوئی تھی اور اس پر زیادہ تر گیمبیا اور سینیگال کے شہری سوار تھے۔</p>
<p>کشتی میں تقریباً 150 مسافر تھے، جن میں سے 16 کو بچا لیا گیا ہے، موریطانیہ کے حکام نے بدھ اور جمعرات کو 70 لاشیں برآمد کیں، جب کہ عینی شاہدین کے مطابق 100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230430"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
مغربی افریقہ کے ساحل سے کینری جزائر تک بحرِ اوقیانوس کا ہجرتی راستہ دنیا کے سب سے مہلک راستوں میں شمار ہوتا ہے، جو عام طور پر افریقی مہاجرین اسپین پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کے مطابق، گزشتہ سال 46 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کینری جزائر پہنچے، جو ایک ریکارڈ ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیم کامیناندو فرونتیراس کے مطابق اس خطرناک سفر کے دوران 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>گیمبیا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے خطرناک سفر پر نہ نکلیں، جو بے شمار جانیں نگل رہا ہے۔</p>
<h1><a id="یونان-کے-جزیرے-کے-قریب-دو-افراد-ڈوب-گئے" href="#یونان-کے-جزیرے-کے-قریب-دو-افراد-ڈوب-گئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یونان کے جزیرے کے قریب دو افراد ڈوب گئے</h1>
<p>یونانی کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح یونان کے جنوب مشرقی ایجیئن جزیرے روڈس کے ساحل پر دو مہاجرین، ایک بالغ مرد اور ایک بچی مردہ پائے گئے، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں ڈوب گئے تھے، انہیں کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے ماوروس کاووس ساحل پر پایا، جنہوں نے 3 مزید زندہ بچ جانے والے بھی تلاش کیے۔</p>
<p>مقامی خبر رساں ویب سائٹ ’رودیاقی‘ کے مطابق یہ افراد ایک اسمگلر کی ربڑ کی کشتی پر سوار تھے، جس نے ساحل کے قریب آ کر اپنے مسافروں کو اتار دیا اور پھر سمندر کی طرف لوٹ گیا، 2 ہلاک افراد نے دیگر 10 لوگوں کے ساتھ ترکی کے ساحل سے سفر شروع کیا تھا، جن میں سے باقی لوگ کسی طرح ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، یونانی پولیس کو روڈس کے قریب گیناڈی علاقے میں 38 مزید مہاجرین ملے، تمام 41 زندہ بچ جانے والوں کو جزیرے کی بندرگاہ اتھارٹی کے حوالے کیا جا رہا ہے، جب کہ لاشوں کو روڈس کے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے یونان طویل عرصے سے یورپ کی جانب خطرناک ہجرتی راستوں کا مرکز رہا ہے، جہاں لوگ جنگ، ظلم و ستم اور غربت سے بچنے کے لیے نکلتے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شمالی افریقہ سے سمندر کے راستے آنے والے تمام افراد کی پناہ کی درخواستیں 3 ماہ کے لیے معطل رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268073</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Aug 2025 12:09:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/311206058019878.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/311206058019878.webp"/>
        <media:title>موریطانیہ کے حکام نے بدھ اور جمعرات کو 70 لاشیں برآمد کیں، عینی شاہدین کے مطابق 100 افراد ہلاک ہوچکے.
—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھانا میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں 2 وزرا سمیت 8 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266118/</link>
      <description>&lt;p&gt;گھانا کے وزرائے دفاع اور ماحولیات بدھ کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے، صدارتی دفتر نے اس حادثے کی تصدیق کی ہے، یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ملک کی مسلح افواج نے اطلاع دی کہ عملے کے 3 ارکان اور 5 مسافروں کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر ریڈار سے غائب ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1929211/two-ministers-killed-in-ghana-chopper-crash"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مقامی ٹی وی چینل ’جوائے نیوز‘ نے حادثے کی جگہ کی موبائل فوٹیج نشر کی، جس میں گھنے جنگلات میں ملبے سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں معلوم ہوا کہ مرنے والوں میں وزیر دفاع ایڈورڈ اومانے بواما اور وزیر ماحولیات، سائنس و ٹیکنالوجی ابراہیم مرتضیٰ محمد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈورڈ بواما کو رواں سال کے اوائل میں صدر جان مہاما کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا جبکہ محمد مرتضیٰ وزارت ماحولیات، سائنس اور ٹیکنالوجی کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے، گھانا کے میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر غیر قانونی کان کنی سے متعلق ایک تقریب کی جانب جا رہا تھا، جو مغربی افریقی ملک کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مہاما کے چیف آف اسٹاف جولیئس دیبراہ نے بیان میں کہا کہ ’صدر اور حکومت اپنے ساتھیوں اور اُن سروس مینز کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے، جنہوں نے ملک کی خدمت کے دوران جان دی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈورڈ بواما ایسے وقت میں گھانا کی وزارتِ دفاع کی سربراہی کر رہے تھے جب شمالی ہمسایہ ملک برکینا فاسو میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑوسی ممالک ٹوگو اور بینن کے برخلاف اگرچہ گھانا اب تک ساحل کے علاقوں سے پھیلنے والی شدت پسندی سے محفوظ رہا ہے لیکن مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ برکینا فاسو سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور شدت پسندوں کی سرحد پار نقل و حرکت کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جو گھانا کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گھانا کے وزرائے دفاع اور ماحولیات بدھ کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے، صدارتی دفتر نے اس حادثے کی تصدیق کی ہے، یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ملک کی مسلح افواج نے اطلاع دی کہ عملے کے 3 ارکان اور 5 مسافروں کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر ریڈار سے غائب ہو گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1929211/two-ministers-killed-in-ghana-chopper-crash"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مقامی ٹی وی چینل ’جوائے نیوز‘ نے حادثے کی جگہ کی موبائل فوٹیج نشر کی، جس میں گھنے جنگلات میں ملبے سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں معلوم ہوا کہ مرنے والوں میں وزیر دفاع ایڈورڈ اومانے بواما اور وزیر ماحولیات، سائنس و ٹیکنالوجی ابراہیم مرتضیٰ محمد شامل ہیں۔</p>
<p>ایڈورڈ بواما کو رواں سال کے اوائل میں صدر جان مہاما کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا جبکہ محمد مرتضیٰ وزارت ماحولیات، سائنس اور ٹیکنالوجی کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔</p>
<p>حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے، گھانا کے میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر غیر قانونی کان کنی سے متعلق ایک تقریب کی جانب جا رہا تھا، جو مغربی افریقی ملک کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔</p>
<p>صدر مہاما کے چیف آف اسٹاف جولیئس دیبراہ نے بیان میں کہا کہ ’صدر اور حکومت اپنے ساتھیوں اور اُن سروس مینز کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے، جنہوں نے ملک کی خدمت کے دوران جان دی‘۔</p>
<p>ایڈورڈ بواما ایسے وقت میں گھانا کی وزارتِ دفاع کی سربراہی کر رہے تھے جب شمالی ہمسایہ ملک برکینا فاسو میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>پڑوسی ممالک ٹوگو اور بینن کے برخلاف اگرچہ گھانا اب تک ساحل کے علاقوں سے پھیلنے والی شدت پسندی سے محفوظ رہا ہے لیکن مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ برکینا فاسو سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور شدت پسندوں کی سرحد پار نقل و حرکت کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جو گھانا کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266118</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 12:33:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/07102914b844383.jpg?r=102954" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/07102914b844383.jpg?r=102954"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: فرانس 24
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمال مشرقی کانگو میں اے ڈی ایف کے باغیوں کا چرچ پر حملہ، 35 سے زائد افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265036/</link>
      <description>&lt;p&gt;شمال مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں اتحادی ڈیموکریٹک فورسز (اے ڈی ایف) کے باغیوں کے حملے میں 35 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جس سے علاقے میں کئی ماہ سے جاری نسبتاً سکون کا خاتمہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1927001/over-35-killed-in-congo-attack"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اے ڈی ایف نے اتوری صوبے کے دارالحکومت بونیا کے علاقے کمانڈا کے قصبے میں ایک کیتھولک چرچ پر حملہ کیا جہاں لوگ عبادت کے لیے جمع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی ایف اصل میں سابقہ یوگینڈا کے باغیوں پر مشتمل ہے، جس نے 2019 میں داعش سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اموجا محلے کے بزرگ، دیودونے کاتانابو نے کہا کہ گزشتہ رات تقریباً 9 بجے ہمیں پیرش چرچ کے قریب فائرنگ کی آواز سنائی دی، اب تک ہم نے 35 لاشیں دیکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251039"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈا کے ’بلیسڈ انواریت پیرش‘ کے پادری فادر ایمے لوکانا دہیگو نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم 31 مردہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جو یوکریسٹک کروسیڈ تحریک کے رکن تھے، 6 شدید زخمی ہیں، کچھ نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیا ہے، ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، قصبے میں مزید 7 لاشیں بھی ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی این جی او کنونشن فار دی ریسپیکٹ آف ہیومن رائٹس کے کوآرڈینیٹر، کرسٹوف مونیاندیرو نے بھی حملے کو اے ڈی ایف باغیوں سے منسوب کرتے ہوئے ہلاکتوں کی عبوری تعداد 38 بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوری میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جولز نونگو نے ہلاکتوں کی تعداد پر تبصرہ نہیں کیا لیکن ’اے ایف پی‘ کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کی شناخت اے ڈی ایف کے جنگجوؤں میں سے کیے جانے کا یقین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خونریزی یوگینڈا کی سرحد کے قریب اتوری کے علاقے میں کئی ماہ کے امن کے بعد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی ایف کا آخری بڑا حملہ فروری میں ہوا تھا جب مامباسا علاقے میں 23 افراد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرومو علاقے کا شہر کمانڈا ایک تجارتی مرکز ہے جو 3 دیگر صوبوں تشوپو، شمالی کیوو  اور منییما کو آپس میں جوڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی ایف نے ہزاروں عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے اور شمال مشرقی ڈی آر کانگو میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں اضافہ کیا ہے، حالانکہ اس علاقے میں یوگینڈا اور کانگو کی فوجیں تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شمال مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں اتحادی ڈیموکریٹک فورسز (اے ڈی ایف) کے باغیوں کے حملے میں 35 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جس سے علاقے میں کئی ماہ سے جاری نسبتاً سکون کا خاتمہ ہو گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1927001/over-35-killed-in-congo-attack"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اے ڈی ایف نے اتوری صوبے کے دارالحکومت بونیا کے علاقے کمانڈا کے قصبے میں ایک کیتھولک چرچ پر حملہ کیا جہاں لوگ عبادت کے لیے جمع تھے۔</p>
<p>اے ڈی ایف اصل میں سابقہ یوگینڈا کے باغیوں پر مشتمل ہے، جس نے 2019 میں داعش سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>اموجا محلے کے بزرگ، دیودونے کاتانابو نے کہا کہ گزشتہ رات تقریباً 9 بجے ہمیں پیرش چرچ کے قریب فائرنگ کی آواز سنائی دی، اب تک ہم نے 35 لاشیں دیکھی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251039"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمانڈا کے ’بلیسڈ انواریت پیرش‘ کے پادری فادر ایمے لوکانا دہیگو نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم 31 مردہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جو یوکریسٹک کروسیڈ تحریک کے رکن تھے، 6 شدید زخمی ہیں، کچھ نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیا ہے، ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، قصبے میں مزید 7 لاشیں بھی ملی ہیں۔</p>
<p>مقامی این جی او کنونشن فار دی ریسپیکٹ آف ہیومن رائٹس کے کوآرڈینیٹر، کرسٹوف مونیاندیرو نے بھی حملے کو اے ڈی ایف باغیوں سے منسوب کرتے ہوئے ہلاکتوں کی عبوری تعداد 38 بتائی۔</p>
<p>اتوری میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جولز نونگو نے ہلاکتوں کی تعداد پر تبصرہ نہیں کیا لیکن ’اے ایف پی‘ کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کی شناخت اے ڈی ایف کے جنگجوؤں میں سے کیے جانے کا یقین ہے۔</p>
<p>یہ خونریزی یوگینڈا کی سرحد کے قریب اتوری کے علاقے میں کئی ماہ کے امن کے بعد ہوئی ہے۔</p>
<p>اے ڈی ایف کا آخری بڑا حملہ فروری میں ہوا تھا جب مامباسا علاقے میں 23 افراد مارے گئے تھے۔</p>
<p>ایرومو علاقے کا شہر کمانڈا ایک تجارتی مرکز ہے جو 3 دیگر صوبوں تشوپو، شمالی کیوو  اور منییما کو آپس میں جوڑتا ہے۔</p>
<p>اے ڈی ایف نے ہزاروں عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے اور شمال مشرقی ڈی آر کانگو میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں اضافہ کیا ہے، حالانکہ اس علاقے میں یوگینڈا اور کانگو کی فوجیں تعینات ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265036</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 12:31:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/280924022279faf.jpg?r=105929" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/280924022279faf.jpg?r=105929"/>
        <media:title>اے ڈی ایف کا آخری بڑا حملہ فروری میں ہوا تھا، جب مامباسا میں 23 افراد مارے گئے تھے
— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمیاتی تبدیلی 2050 تک مزید 4 کروڑ 10 لاکھ افراد کو شدید غربت میں دھکیل سکتی ہے، ورلڈ بینک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264451/</link>
      <description>&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی غربت کے خاتمے میں ہونے والی پیش رفت کو شدید طور پر سست کر سکتی ہے، اور اس کے باعث ہونے والے آمدنی میں نقصانات 2050 تک مزید 4 کروڑ 10 لاکھ افراد کو شدید غربت میں دھکیل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1925293/climate-change-may-push-41m-more-into-extreme-poverty-by-2050"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غریب افراد کی تعداد میں 14 کروڑ 88 لاکھ تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ جنوبی ایشیا میں یہ تعداد 2030 تک 4 کروڑ 88 لاکھ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج ’دی فیوچر آف پوورٹی: پروجیکٹنگ دی امپیکٹ آف کلائمٹ چینج آن گلوبل پوورٹی تھرو 2050‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ کا حصہ ہیں، جس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید غربت میں رہنے والے افراد کی تعداد تقریباً دوگنا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی تبدیلی کے باعث غربت میں اضافہ سب افریقہ، جنوبی ایشیا، اور لاطینی امریکا و کیریبین میں سب سے زیادہ گہرا ہوگا، جہاں شدید موسمی واقعات پہلے سے موجود ساختی کمزوریوں اور کمزور سوشل پروٹیکشن نظاموں سے مل کر حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
رپورٹ میں سوشل سیفٹی نیٹس اور غریب طبقے کے لیے سبسڈی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے میں زور دیا گیا کہ موسمیاتی چیلنج کی عالمی نوعیت کے پیش نظر بین الاقوامی تعاون نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ آمدنی والے ممالک، جنہوں نے عالمی اخراجات میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے، ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں مدد فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مالی وسائل کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور صلاحیت سازی میں تعاون شامل ہے، تاکہ یہ ممالک موسمی جھٹکوں سے بچاؤ اور کم کاربن ترقی کی طرف منتقل ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، آمدنی میں عدم مساوات کو کم کرنا کسی بھی غربت کے خاتمے کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے، کیونکہ تخمینوں کے مطابق عدم مساوات میں معمولی اضافہ بھی غربت میں بڑے اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے ایسی پالیسیاں اپنانا ضروری ہوں گی، جو جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیں، تعلیم اور ملازمت کے مواقع تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو کم کریں، اور سوشل پروٹیکشن کے نظام کو مضبوط بنائیں، تاکہ ترقی کے ثمرات تمام طبقات میں مساوی طور پر تقسیم ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں سب سے غریب اور کمزور طبقات کو ہدف بنا کر ان کے لیے سوشل سیفٹی نیٹس کو مضبوط بنانے اور معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
اس میں صحت، تعلیم، اور مالیاتی خدمات تک رسائی کو بڑھانا، نیز ذرائع معاش کو زیادہ مستحکم بنانے کے لیے زراعت، انفراسٹرکچر، اور موسمیاتی موافقت پر سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔
!
رپورٹ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ترقی پذیر دنیا میں عالمی غربت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جہاں گھرانوں کے بجٹ کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کچھ نہ بدلا گیا تو تخمینوں کے مطابق 2100 تک عالمی اقتصادی پیداوار میں 23 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر منظرناموں میں عالمی آمدنی کے نقصان کا تخمینہ 20 فیصد سے زائد ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے شدید معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگرچہ امیر اور غریب ممالک درجہ حرارت میں تبدیلی کا یکساں طور پر جواب دیتے ہیں، لیکن اقتصادی نقصانات غریب ممالک میں کہیں زیادہ شدید ہوں گے، کیوں کہ یہ پہلے ہی گرم علاقوں میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ورلڈ بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی غربت کے خاتمے میں ہونے والی پیش رفت کو شدید طور پر سست کر سکتی ہے، اور اس کے باعث ہونے والے آمدنی میں نقصانات 2050 تک مزید 4 کروڑ 10 لاکھ افراد کو شدید غربت میں دھکیل سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1925293/climate-change-may-push-41m-more-into-extreme-poverty-by-2050"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غریب افراد کی تعداد میں 14 کروڑ 88 لاکھ تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ جنوبی ایشیا میں یہ تعداد 2030 تک 4 کروڑ 88 لاکھ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>یہ نتائج ’دی فیوچر آف پوورٹی: پروجیکٹنگ دی امپیکٹ آف کلائمٹ چینج آن گلوبل پوورٹی تھرو 2050‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ کا حصہ ہیں، جس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید غربت میں رہنے والے افراد کی تعداد تقریباً دوگنا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>موسمیاتی تبدیلی کے باعث غربت میں اضافہ سب افریقہ، جنوبی ایشیا، اور لاطینی امریکا و کیریبین میں سب سے زیادہ گہرا ہوگا، جہاں شدید موسمی واقعات پہلے سے موجود ساختی کمزوریوں اور کمزور سوشل پروٹیکشن نظاموں سے مل کر حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
رپورٹ میں سوشل سیفٹی نیٹس اور غریب طبقے کے لیے سبسڈی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>مطالعے میں زور دیا گیا کہ موسمیاتی چیلنج کی عالمی نوعیت کے پیش نظر بین الاقوامی تعاون نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ آمدنی والے ممالک، جنہوں نے عالمی اخراجات میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے، ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں مدد فراہم کریں۔</p>
<p>اس میں مالی وسائل کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور صلاحیت سازی میں تعاون شامل ہے، تاکہ یہ ممالک موسمی جھٹکوں سے بچاؤ اور کم کاربن ترقی کی طرف منتقل ہو سکیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، آمدنی میں عدم مساوات کو کم کرنا کسی بھی غربت کے خاتمے کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے، کیونکہ تخمینوں کے مطابق عدم مساوات میں معمولی اضافہ بھی غربت میں بڑے اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے ایسی پالیسیاں اپنانا ضروری ہوں گی، جو جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیں، تعلیم اور ملازمت کے مواقع تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو کم کریں، اور سوشل پروٹیکشن کے نظام کو مضبوط بنائیں، تاکہ ترقی کے ثمرات تمام طبقات میں مساوی طور پر تقسیم ہو سکیں۔</p>
<p>رپورٹ میں سب سے غریب اور کمزور طبقات کو ہدف بنا کر ان کے لیے سوشل سیفٹی نیٹس کو مضبوط بنانے اور معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
اس میں صحت، تعلیم، اور مالیاتی خدمات تک رسائی کو بڑھانا، نیز ذرائع معاش کو زیادہ مستحکم بنانے کے لیے زراعت، انفراسٹرکچر، اور موسمیاتی موافقت پر سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔
!
رپورٹ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ترقی پذیر دنیا میں عالمی غربت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جہاں گھرانوں کے بجٹ کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر کچھ نہ بدلا گیا تو تخمینوں کے مطابق 2100 تک عالمی اقتصادی پیداوار میں 23 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>زیادہ تر منظرناموں میں عالمی آمدنی کے نقصان کا تخمینہ 20 فیصد سے زائد ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے شدید معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگرچہ امیر اور غریب ممالک درجہ حرارت میں تبدیلی کا یکساں طور پر جواب دیتے ہیں، لیکن اقتصادی نقصانات غریب ممالک میں کہیں زیادہ شدید ہوں گے، کیوں کہ یہ پہلے ہی گرم علاقوں میں واقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264451</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Jul 2025 09:04:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/2008593052943ab.jpg?r=090144" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/2008593052943ab.jpg?r=090144"/>
        <media:title>رپورٹ میں سوشل سیفٹی نیٹس اور غریب طبقے کیلئے سبسڈی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
—فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
