<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 12:35:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 12:35:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کارروائی بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275076/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مفلوج شہر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔</p>
<p>ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔</p>
<p>ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔</p>
<h3><a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مفلوج شہر</h3>
<p>تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔</p>
<p>مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔</p>
<p>ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔</p>
<p>ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔</p>
<p>تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔</p>
<p>تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔</p>
<p>ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔</p>
<p>صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان</h3>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔</p>
<p>صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<h3><a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ</h3>
<p>امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔</p>
<p>رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔</p>
<p>انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔</p>
<p>لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔</p>
<p>یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275076</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:09:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121156167d5b729.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121156167d5b729.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی عوام آزادی چاہتے ہیں، امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275072/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275000/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p>ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275000/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔</p>
<p>ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔</p>
<p>ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔</p>
<p>ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275072</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:41:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1112090564c5a7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1112090564c5a7c.webp"/>
        <media:title>امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے۔ فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’امریکا بھارت تجارتی معاہدہ ملتوی ہونے کی وجہ مودی کا ٹرمپ کو کال نہ کرنا تھا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275061/tijarti-muahide-mein-takheer-ki-asal-wajah-modi-ki-phone-call-se-gurez</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ایک انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک کا کہنا تھا کہ تجارتی مذاکرات گزشتہ سال ناکام ہو گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آل اِن پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں، جو چار وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں کا بزنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی شو ہے، ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ سب کچھ تیار تھا اور بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اس ہفتے خبردار کیا کہ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم نہیں کرتا تو ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دباؤ کے نتیجے میں بھارتی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال طے نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے مگر رابطے میں خلل کے باعث ممکنہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر میں شامل بھارتی حکومتی عہدیدار کے مطابق مودی ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یک طرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی۔</p>
<p>جمعے کو ایک انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک کا کہنا تھا کہ تجارتی مذاکرات گزشتہ سال ناکام ہو گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آل اِن پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں، جو چار وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں کا بزنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی شو ہے، ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ سب کچھ تیار تھا اور بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اس ہفتے خبردار کیا کہ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم نہیں کرتا تو ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس دباؤ کے نتیجے میں بھارتی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال طے نہیں ہو سکا۔</p>
<p>ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے مگر رابطے میں خلل کے باعث ممکنہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔</p>
<p>خبر میں شامل بھارتی حکومتی عہدیدار کے مطابق مودی ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یک طرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275061</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 13:24:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091313445813893.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091313445813893.webp"/>
        <media:title>ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں امیگریشن افسر کی فائرنگ سےخاتون ہلاک، بڑے پیمانے پر احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275048/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ریاست مینیسوٹا  کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا اور مقامی رہنماؤں میں غم و غصہ پھیل گیا, جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ خاتون ایک ’ڈومیسٹک (داخلی) دہشت گرد‘ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنہوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ ان کا راستہ روک رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہے جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=NeLcQO2NHBo'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/NeLcQO2NHBo?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد خاتون کی خون آلود لاش حادثے کا شکار گاڑی میں دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فوری طور پر یہ دعویٰ کیا کہ خاتون نے ایجنٹوں کو مارنے کی کوشش کی تھی، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے ’بکواس‘ قرار دیا اور آئی سی ای پر زور دیا کہ وہ ان کے شہر سے باہر نکل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے بعد منیاپولس کی یخ بستہ سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین نکل آئے، جنہوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ”ICE out of MPLS“ (آئی سی ای منیاپولس سے باہر نکلو)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی حکام کے اعتراضات کے باوجود آئی سی ای کے وفاقی ایجنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے گزشتہ موسم گرما میں موجودہ 6 ہزار کے دستے میں10 ہزار اضافی آئی سی ای ایجنٹوں کو شامل کرنے کے لیے ایک جارحانہ بھرتی مہم شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے یہ تنقید ہوئی کہ فیلڈ میں آنے والے نئے افسران ناکافی طور پر تربیت یافتہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے کہا کہ ’کسی بھی جان کا ضیاع ایک المیہ ہے‘ لیکن انہوں نے اس واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا اور کہا کہ  رینی نکول گڈ ’پورے دن آئی سی ای کا پیچھا کر رہی تھی اور ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی تھی‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’پھر اس نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی جو آئی سی ای کو چلاتا ہے، نے ایکس پر کہا کہ متاثرہ خاتون نے اس کے افسر کو کچلنے کی کوشش کی تھی جس نے ’دفاعی فائر‘ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خوفناک-منظر" href="#خوفناک-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خوفناک منظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے پر وفاقی حکومت کے ردعمل کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیا اوریقین دلایا کہ ان کی ریاست ’مکمل، منصفانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنائے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہد برینڈن ہیوٹ نے ’تین فائر‘ سنے۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’مجھے ان کی ایمبولینس تک لاش لے جانے کی بہت سی ویڈیوز ملیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور عینی شاہد نے ایک خوفناک منظر بیان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہد نے بتایا کہ ’زندہ بچ جانے والا مسافر خون میں لت پت گاڑی سے باہر نکلا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھنے کا ذکر کیا جس نے اپنی شناخت بطور ڈاکٹر کرائی اور خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن افسروں نے اسے رسائی دینے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" href="#آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آئی سی ای کے خلاف احتجاج&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیوں کے خلاف پرجوش احتجاج ہو رہا ہے، جس نے لاکھوں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کا عہد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس تشدد کو ’ہمارے افسروں پر مسلسل حملوں اور انہیں شیطان بنا کر پیش کرنے کا براہ راست نتیجہ‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹی نوم نے کہا کہ جس افسر نے فائرنگ کی، جسے واقعے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا، اسے جون میں آئی سی ای مخالف ایک مظاہرین نے سڑک پر ٹکر ماری تھی اور گھسیٹا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ کی والدہ ڈونا گینگر نے ’مینیسوٹا اسٹار ٹریبیون‘ اخبار کو بتایا کہ ان کی بیٹی ’شاید خوفزدہ ہو گئی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونا گینگر نے مزید کہا کہ رینی نکول گڈ آئی سی ای افسروں کو چیلنج کرنے جیسی ’کسی بھی چیز کا حصہ نہیں تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی ای  جس پر ناقدین ٹرمپ کے دور میں نیم فوجی دستے میں تبدیل ہونے کا الزام لگاتے ہیں کو غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کو ملک بدر کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے بتایا کہ امیگریشن چھاپوں کے لیے تقریباً 2 ہزار افسران منیاپولس میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں شکاگو میں ایک امریکی امیگریشن انفورسمنٹ افسر نے ایک غیرقانونی تارکینِ وطن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وفاقی حکام نے الزام لگایا تھا کہ اس شخص نے اپنی کار افسر پر چڑھا کر حراست میں لیے جانے کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ریاست مینیسوٹا  کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا اور مقامی رہنماؤں میں غم و غصہ پھیل گیا, جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ خاتون ایک ’ڈومیسٹک (داخلی) دہشت گرد‘ تھیں۔</p>
<p>مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنہوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ ان کا راستہ روک رہی تھیں۔</p>
<p>واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہے جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=NeLcQO2NHBo'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/NeLcQO2NHBo?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے بعد خاتون کی خون آلود لاش حادثے کا شکار گاڑی میں دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فوری طور پر یہ دعویٰ کیا کہ خاتون نے ایجنٹوں کو مارنے کی کوشش کی تھی، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے ’بکواس‘ قرار دیا اور آئی سی ای پر زور دیا کہ وہ ان کے شہر سے باہر نکل جائے۔</p>
<p>فائرنگ کے بعد منیاپولس کی یخ بستہ سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین نکل آئے، جنہوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ”ICE out of MPLS“ (آئی سی ای منیاپولس سے باہر نکلو)۔</p>
<p>مقامی حکام کے اعتراضات کے باوجود آئی سی ای کے وفاقی ایجنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے گزشتہ موسم گرما میں موجودہ 6 ہزار کے دستے میں10 ہزار اضافی آئی سی ای ایجنٹوں کو شامل کرنے کے لیے ایک جارحانہ بھرتی مہم شروع کی تھی۔</p>
<p>اس سے یہ تنقید ہوئی کہ فیلڈ میں آنے والے نئے افسران ناکافی طور پر تربیت یافتہ تھے۔</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے کہا کہ ’کسی بھی جان کا ضیاع ایک المیہ ہے‘ لیکن انہوں نے اس واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا اور کہا کہ  رینی نکول گڈ ’پورے دن آئی سی ای کا پیچھا کر رہی تھی اور ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی تھی‘۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/_Nico_Piro_/status/2008990142254751858"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’پھر اس نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔‘</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی جو آئی سی ای کو چلاتا ہے، نے ایکس پر کہا کہ متاثرہ خاتون نے اس کے افسر کو کچلنے کی کوشش کی تھی جس نے ’دفاعی فائر‘ کیا۔</p>
<h3><a id="خوفناک-منظر" href="#خوفناک-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خوفناک منظر</h3>
<p>مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے پر وفاقی حکومت کے ردعمل کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیا اوریقین دلایا کہ ان کی ریاست ’مکمل، منصفانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنائے گی‘۔</p>
<p>عینی شاہد برینڈن ہیوٹ نے ’تین فائر‘ سنے۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’مجھے ان کی ایمبولینس تک لاش لے جانے کی بہت سی ویڈیوز ملیں۔‘</p>
<p>ایک اور عینی شاہد نے ایک خوفناک منظر بیان کیا۔</p>
<p>عینی شاہد نے بتایا کہ ’زندہ بچ جانے والا مسافر خون میں لت پت گاڑی سے باہر نکلا۔‘</p>
<p>انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھنے کا ذکر کیا جس نے اپنی شناخت بطور ڈاکٹر کرائی اور خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن افسروں نے اسے رسائی دینے سے انکار کر دیا۔</p>
<h3><a id="آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" href="#آئی-سی-ای-کے-خلاف-احتجاج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آئی سی ای کے خلاف احتجاج</h3>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیوں کے خلاف پرجوش احتجاج ہو رہا ہے، جس نے لاکھوں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کا عہد کیا ہے۔</p>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس تشدد کو ’ہمارے افسروں پر مسلسل حملوں اور انہیں شیطان بنا کر پیش کرنے کا براہ راست نتیجہ‘ قرار دیا۔</p>
<p>کرسٹی نوم نے کہا کہ جس افسر نے فائرنگ کی، جسے واقعے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا، اسے جون میں آئی سی ای مخالف ایک مظاہرین نے سڑک پر ٹکر ماری تھی اور گھسیٹا تھا۔</p>
<p>مقتولہ کی والدہ ڈونا گینگر نے ’مینیسوٹا اسٹار ٹریبیون‘ اخبار کو بتایا کہ ان کی بیٹی ’شاید خوفزدہ ہو گئی تھی‘۔</p>
<p>ڈونا گینگر نے مزید کہا کہ رینی نکول گڈ آئی سی ای افسروں کو چیلنج کرنے جیسی ’کسی بھی چیز کا حصہ نہیں تھی‘۔</p>
<p>آئی سی ای  جس پر ناقدین ٹرمپ کے دور میں نیم فوجی دستے میں تبدیل ہونے کا الزام لگاتے ہیں کو غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کو ملک بدر کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے بتایا کہ امیگریشن چھاپوں کے لیے تقریباً 2 ہزار افسران منیاپولس میں موجود تھے۔</p>
<p>ستمبر میں شکاگو میں ایک امریکی امیگریشن انفورسمنٹ افسر نے ایک غیرقانونی تارکینِ وطن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وفاقی حکام نے الزام لگایا تھا کہ اس شخص نے اپنی کار افسر پر چڑھا کر حراست میں لیے جانے کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275048</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 13:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکخبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08131050aea4090.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08131050aea4090.webp"/>
        <media:title>مقامی حکام کے اعتراضات کے باوجود آئی سی ای کے وفاقی ایجنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا امریکا کو 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275036/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے اس مطالبے پر ردعمل دے رہی ہے جس کے تحت امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی دی جائے، بصورت دیگر مزید فوجی مداخلت کا خطرہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے پاس اس وقت لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ ٹینکوں میں موجود ہے، جسے دسمبر کے وسط سے عائد امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں کیا جا سکا۔ یہ پابندیاں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر بڑھتے امریکی دباؤ کا حصہ تھیں، جو اس ہفتے امریکی افواج کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے کی کارروائی اور مادورو کو حراست میں لیے جانے پر منتج ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے اعلیٰ حکام امریکا پر ملک کے وسیع تیل ذخائر چرانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وینزویلا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک پابندیوں کے تحت موجود تیل امریکا کے حوالے کرے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کو یقینی بنانے کے لیے ان کے کنٹرول میں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو سونپی گئی ہے اور تیل جہازوں سے نکال کر براہِ راست امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر اس خام تیل کو امریکا بھیجنے کے لیے چین جانے والے بعض کارگو کی ازسرنو تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاص طور پر 2020 میں وینزویلا کے تیل سے وابستہ کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد، چین وینزویلا کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ عمل جلد ہو تاکہ وہ اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حکام اور ریاستی تیل کمپنی پیٹرولیو ڈی وینزویلا (پی ڈی وی ایس اے) نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" href="#وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’وینزویلا کے پاس معاشی بحالی کا موقع‘&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے کہا کہ وینزویلا کے بھاری خام تیل کی امریکا کو بڑھتی ہوئی فراہمی امریکا میں روزگار کے تحفظ، مستقبل میں پیٹرول کی قیمتوں اور خود وینزویلا کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے پاس اب موقع ہے کہ سرمایہ آئے، معیشت کی بحالی ہو اور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کو بدلا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی خلیجی ساحلی پٹی پر واقع ریفائنریز وینزویلا کے بھاری خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکا نے پہلی بار توانائی پابندیاں لگانے سے قبل روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل درآمد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کے باعث پی ڈی وی ایس اے کو پہلے ہی پیداوار کم کرنا پڑی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، اور اگر جلد برآمدات کا راستہ نہ کھلا تو مزید پیداوار میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو تیل کے تاجروں نے ان مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیا اور امریکا کی خلیجی منڈی میں بعض بھاری خام تیل کی اقسام کے نرخوں میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی، کیونکہ وینزویلا سے اضافی سپلائی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے اس مطالبے پر ردعمل دے رہی ہے جس کے تحت امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی دی جائے، بصورت دیگر مزید فوجی مداخلت کا خطرہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔</p>
<p>وینزویلا کے پاس اس وقت لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ ٹینکوں میں موجود ہے، جسے دسمبر کے وسط سے عائد امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں کیا جا سکا۔ یہ پابندیاں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر بڑھتے امریکی دباؤ کا حصہ تھیں، جو اس ہفتے امریکی افواج کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے کی کارروائی اور مادورو کو حراست میں لیے جانے پر منتج ہوئیں۔</p>
<p>وینزویلا کے اعلیٰ حکام امریکا پر ملک کے وسیع تیل ذخائر چرانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وینزویلا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک پابندیوں کے تحت موجود تیل امریکا کے حوالے کرے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2008691566131769746?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008691566131769746%7Ctwgr%5Ed843c1b16fccf48bb5983bfb5def8fdfe536e4ae%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965604"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کو یقینی بنانے کے لیے ان کے کنٹرول میں رہے گی۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو سونپی گئی ہے اور تیل جہازوں سے نکال کر براہِ راست امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر اس خام تیل کو امریکا بھیجنے کے لیے چین جانے والے بعض کارگو کی ازسرنو تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاص طور پر 2020 میں وینزویلا کے تیل سے وابستہ کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد، چین وینزویلا کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔</p>
<p>تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ عمل جلد ہو تاکہ وہ اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے سکیں۔</p>
<p>دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حکام اور ریاستی تیل کمپنی پیٹرولیو ڈی وینزویلا (پی ڈی وی ایس اے) نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<h3><a id="وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" href="#وینزویلا-کے-پاس-معاشی-بحالی-کا-موقع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’وینزویلا کے پاس معاشی بحالی کا موقع‘</strong></h3>
<p>امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے کہا کہ وینزویلا کے بھاری خام تیل کی امریکا کو بڑھتی ہوئی فراہمی امریکا میں روزگار کے تحفظ، مستقبل میں پیٹرول کی قیمتوں اور خود وینزویلا کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے پاس اب موقع ہے کہ سرمایہ آئے، معیشت کی بحالی ہو اور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کو بدلا جا سکتا ہے۔</p>
<p>امریکا کی خلیجی ساحلی پٹی پر واقع ریفائنریز وینزویلا کے بھاری خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکا نے پہلی بار توانائی پابندیاں لگانے سے قبل روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل درآمد کیا تھا۔</p>
<p>پابندیوں کے باعث پی ڈی وی ایس اے کو پہلے ہی پیداوار کم کرنا پڑی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، اور اگر جلد برآمدات کا راستہ نہ کھلا تو مزید پیداوار میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>منگل کو تیل کے تاجروں نے ان مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیا اور امریکا کی خلیجی منڈی میں بعض بھاری خام تیل کی اقسام کے نرخوں میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی، کیونکہ وینزویلا سے اضافی سپلائی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275036</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 13:32:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/07130858977b3f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/07130858977b3f2.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچاڈو کا وطن واپسی کا اعلان، عبوری صدر کو مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275026/</link>
      <description>&lt;p&gt;وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بیان کے بعد یہ ان کا یہ پہلا عوامی سطح پر ردعمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو نے ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلسی روڈریگز جو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں، مادورو کے دور میں وینزویلا کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو کا کہنا تھا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" href="#اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’اکتوبر 2025 کے بعد ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آخری بار بات اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچاڈو کو یہ انعام اس جدوجہد پر دیا گیا جسے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" href="#سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، اس کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہی جائزہ اس فیصلے کی ایک وجہ بنا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہوں اور وینزویلا کو اس کے عوام کے لیے ایک بہتر ملک بنانے میں مدد دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بیان کے بعد یہ ان کا یہ پہلا عوامی سطح پر ردعمل ہے۔</p>
<p>نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آئیں گی۔</p>
<p>ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔</p>
<p>ماچاڈو نے ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔</p>
<p>ڈیلسی روڈریگز جو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں، مادورو کے دور میں وینزویلا کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008367007721550191?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008367007721550191%7Ctwgr%5Ed037e83debd4b4a21ec168bdfeb0e5b614024b6a%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965438"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماچاڈو کا کہنا تھا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں۔</p>
<p>ماچاڈو نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔</p>
<h2><a id="اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" href="#اکتوبر-2025-کے-بعد-ٹرمپ-سے-کوئی-رابطہ-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’اکتوبر 2025 کے بعد ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں‘</h2>
<p>انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آخری بار بات اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>
<p>ماچاڈو کو یہ انعام اس جدوجہد پر دیا گیا جسے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔</p>
<p>تاہم یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔</p>
<h2><a id="سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" href="#سی-آئی-اے-کی-خفیہ-رپورٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ</h2>
<p>دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، اس کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہی جائزہ اس فیصلے کی ایک وجہ بنا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہوں اور وینزویلا کو اس کے عوام کے لیے ایک بہتر ملک بنانے میں مدد دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275026</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 12:39:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06123140c18cb4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06123140c18cb4c.webp"/>
        <media:title>ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئیں تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا، اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275015/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پورے نہ کیے تو امریکا بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نریندر مودی اچھے آدمی ہیں، انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت تجارت کرتا ہے اور ہم ان پر بہت تیزی سے ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے گزشتہ برس روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری پر بھارت کو سزا کے طور پر بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا۔ تاہم بھاری ٹیرف کے باوجود نومبر میں امریکا کو بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر تجارتی اعداد و شمار کے بعد بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیے رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں محدود لچک کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بھارت نے ریفائنریوں سے روسی اور امریکی تیل کی ہفتہ وار خریداری کی تفصیلات طلب کی ہیں اور امکان ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کی کوششوں کے تحت روسی خام تیل کی درآمدات کم ہو کر یومیہ 10 لاکھ بیرل سے نیچے آ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھارتی سیکریٹری تجارت راجیش اگروال نے امریکی نائب تجارتی نمائندے رک سوئٹزر سے دو طرفہ تجارت اور معاشی تعلقات پر بات چیت کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پورے نہ کیے تو امریکا بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نریندر مودی اچھے آدمی ہیں، انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت تجارت کرتا ہے اور ہم ان پر بہت تیزی سے ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ بیان بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/2008009796738486321?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008009796738486321%7Ctwgr%5E791081035b4adb5864c7edf5ac903042c6cac71e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965246"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکا نے گزشتہ برس روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری پر بھارت کو سزا کے طور پر بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا۔ تاہم بھاری ٹیرف کے باوجود نومبر میں امریکا کو بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>بہتر تجارتی اعداد و شمار کے بعد بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیے رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں محدود لچک کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بھارت نے ریفائنریوں سے روسی اور امریکی تیل کی ہفتہ وار خریداری کی تفصیلات طلب کی ہیں اور امکان ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کی کوششوں کے تحت روسی خام تیل کی درآمدات کم ہو کر یومیہ 10 لاکھ بیرل سے نیچے آ جائیں گی۔</p>
<p>ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھارتی سیکریٹری تجارت راجیش اگروال نے امریکی نائب تجارتی نمائندے رک سوئٹزر سے دو طرفہ تجارت اور معاشی تعلقات پر بات چیت کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275015</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:10:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05131123caffb79.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05131123caffb79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05130518e50f4d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05130518e50f4d5.webp"/>
        <media:title>ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: دن کے اوقات میں آن لائن اور ٹی وی پر جنک فوڈ کے اشتہارات دکھانے پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275017/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ میں دن کے اوقات میں  ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی، حکومت نے اسے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں اپنی نوعیت کا نمایاں اقدام قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر لاگو ہوگی، جس کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں 20 ہزار تک کمی آئے گی اور صحت کے شعبے میں تقریباً دو ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ اقدام میں مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتہارات بچوں کی خوراک کے انتخاب اور کھانے کے اوقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے کم عمری میں ذوق بنتا ہے اور موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ میں دن کے اوقات میں  ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی، حکومت نے اسے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں اپنی نوعیت کا نمایاں اقدام قرار دیا ہے۔</p>
<p>اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔</p>
<p>یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر لاگو ہوگی، جس کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں 20 ہزار تک کمی آئے گی اور صحت کے شعبے میں تقریباً دو ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوں گے۔</p>
<p>یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔</p>
<p>تازہ اقدام میں مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتہارات بچوں کی خوراک کے انتخاب اور کھانے کے اوقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے کم عمری میں ذوق بنتا ہے اور موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔</p>
<p>وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p>اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275017</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:52:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0513403769af5f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0513403769af5f1.webp"/>
        <media:title>ہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا پر دوبارہ حملے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275012/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وینزویلا میں موجود قیادت نےتعاون نہ کیا تو تو امریکا وہاں دوسری فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن ملک کو اپنے کنٹرول میں لے کر بعد میں انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات سے لاطینی امریکا میں مزید امریکی فوجی مداخلت کے امکانات سامنے آئے، جبکہ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو امریکا کو منشیات کی اسمگلنگ کم کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کولمبیا مجھے اچھا لگتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا کا قریبی اتحادی کیوبا خود ہی گرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے اور اس کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا پر امریکا ہی قابض ہے، تاہم کاراکاس میں نئی قیادت سے بھی رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہ پوچھیں کہ وہاں کون انچارج ہے کیونکہ جواب متنازع ہوگا، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انچارج ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں انتخابات بعد میں ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا ملک کو چلائے گا، اسے ٹھیک کرے گا اور مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ٹوٹا ہوا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی گفتگو میں ٹرمپ نے دیگر امریکی مخالفین پر بھی سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کولمبیا کا رہنما زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام کیوبا گرنے کے قریب ہے اور اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہاں کی قیادت کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی حصے کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے اہداف پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع خام تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور منشیات کے الزامات پر پیر کے روز عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری نے تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک کے مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو حکومت کے اعلیٰ حکام اب بھی اقتدار میں ہیں اور انہوں نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;63 سالہ مادورو کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہتھکڑیوں میں جکڑی گئی تصاویر نے وینزویلا کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا، یہ کارروائی 37 برس قبل پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکا میں امریکا کی سب سے متنازع مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وینزویلا میں موجود قیادت نےتعاون نہ کیا تو تو امریکا وہاں دوسری فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن ملک کو اپنے کنٹرول میں لے کر بعد میں انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات سے لاطینی امریکا میں مزید امریکی فوجی مداخلت کے امکانات سامنے آئے، جبکہ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو امریکا کو منشیات کی اسمگلنگ کم کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کولمبیا مجھے اچھا لگتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا کا قریبی اتحادی کیوبا خود ہی گرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے اور اس کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008003851295904208?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008003851295904208%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا پر امریکا ہی قابض ہے، تاہم کاراکاس میں نئی قیادت سے بھی رابطے میں ہے۔</p>
<p>دوسری طرف وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات چاہتی ہیں۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہ پوچھیں کہ وہاں کون انچارج ہے کیونکہ جواب متنازع ہوگا، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انچارج ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Acyn/status/2008008733067280877?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008008733067280877%7Ctwgr%5E4193ed37f9c1f0ea06717b61ed745dd494f35fd1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965235"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔</p>
<p>امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں انتخابات بعد میں ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا ملک کو چلائے گا، اسے ٹھیک کرے گا اور مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ٹوٹا ہوا ملک ہے۔</p>
<p>اسی گفتگو میں ٹرمپ نے دیگر امریکی مخالفین پر بھی سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کولمبیا کا رہنما زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام کیوبا گرنے کے قریب ہے اور اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہاں کی قیادت کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی حصے کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے اہداف پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع خام تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی شامل ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور منشیات کے الزامات پر پیر کے روز عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری نے تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک کے مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>مادورو حکومت کے اعلیٰ حکام اب بھی اقتدار میں ہیں اور انہوں نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔</p>
<p>63 سالہ مادورو کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہتھکڑیوں میں جکڑی گئی تصاویر نے وینزویلا کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا، یہ کارروائی 37 برس قبل پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکا میں امریکا کی سب سے متنازع مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275012</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 11:38:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/051136564035a91.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/051136564035a91.webp"/>
        <media:title>جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کے صدر نکولس مادورو گرفتاری کے بعد نیویارک منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275004/</link>
      <description>&lt;p&gt;وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اتوار کے روز نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی رہنما کو گرفتار کرنے اور ملک اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی کارروائی کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کی صبح ہونے والی اس ڈرامائی کارروائی کے دوران کاراکاس کے بعض حصوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اسپیشل فورسز نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحل کے قریب امریکی بحری جہاز تک منتقل کیا، جہاں سے انہیں امریکا لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ پر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اس وقت تک ملک چلائیں گے جب تک محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہینوں سے ٹرمپ انتظامیہ مادورو پر امریکا کو منشیات کی ترسیل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ اس نے کیریبین میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اور مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر مہلک میزائل حملوں کے ذریعے دباؤ میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="نیویارک-میں-مادورو" href="#نیویارک-میں-مادورو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیویارک میں مادورو&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;مادورو کو لے کر آنے والا طیارہ ہفتے کی رات نیویارک سٹی کے قریب اترا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر پہنچایا گیا اور سخت سیکیورٹی میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جاری کردہ تصاویر میں مادورو کو پرواز کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی لگائے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں انہیں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ایک راہداری سے گزرتے دکھایا گیا، جہاں انہیں نئے سال کی مبارک باد دی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نارکو دہشت گردی کی سازش سمیت مختلف وفاقی الزامات کے تحت فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مادورو کو  پیر کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کی نگرانی کیسے کریں گے۔ امریکی افواج کا ملک پر کوئی کنٹرول نہیں اور مادورو کی حکومت بظاہر بدستور اقتدار میں ہے اور واشنگٹن سے تعاون کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ وینزویلا کے ٹی وی پر اس کارروائی کو اغوا قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور مادورو کو وینزویلا کا واحد صدر قرار دیا۔ وینزویلا کی ایک عدالت نے روڈریگز کو عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکی فوجی وینزویلا میں تعینات کیے جا سکتے ہیں اور کہا کہ واشنگٹن زمینی فوج سے خوفزدہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بات جو مزید واضح ہوئی وہ وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر میں ٹرمپ کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بڑی امریکی تیل کمپنیاں وہاں بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کر کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کو درست کریں گی، ہم بڑی مقدار میں تیل فروخت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اتوار کے روز نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی رہنما کو گرفتار کرنے اور ملک اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی کارروائی کا حکم دیا۔</p>
<p>ہفتے کی صبح ہونے والی اس ڈرامائی کارروائی کے دوران کاراکاس کے بعض حصوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اسپیشل فورسز نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحل کے قریب امریکی بحری جہاز تک منتقل کیا، جہاں سے انہیں امریکا لے جایا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ پر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اس وقت تک ملک چلائیں گے جب تک محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو۔</p>
<p>مہینوں سے ٹرمپ انتظامیہ مادورو پر امریکا کو منشیات کی ترسیل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ اس نے کیریبین میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اور مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر مہلک میزائل حملوں کے ذریعے دباؤ میں اضافہ کیا۔</p>
<h2><a id="نیویارک-میں-مادورو" href="#نیویارک-میں-مادورو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیویارک میں مادورو</h2>
<p>مادورو کو لے کر آنے والا طیارہ ہفتے کی رات نیویارک سٹی کے قریب اترا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر پہنچایا گیا اور سخت سیکیورٹی میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا گیا۔</p>
<p>امریکی حکام کی جاری کردہ تصاویر میں مادورو کو پرواز کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی لگائے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں انہیں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ایک راہداری سے گزرتے دکھایا گیا، جہاں انہیں نئے سال کی مبارک باد دی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2007631142200189289?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007631142200189289%7Ctwgr%5E77b4f787be42e6d34102319ad6c8a7183ab2f3a9%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965043"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نارکو دہشت گردی کی سازش سمیت مختلف وفاقی الزامات کے تحت فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مادورو کو  پیر کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کی نگرانی کیسے کریں گے۔ امریکی افواج کا ملک پر کوئی کنٹرول نہیں اور مادورو کی حکومت بظاہر بدستور اقتدار میں ہے اور واشنگٹن سے تعاون کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔</p>
<p>مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ وینزویلا کے ٹی وی پر اس کارروائی کو اغوا قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور مادورو کو وینزویلا کا واحد صدر قرار دیا۔ وینزویلا کی ایک عدالت نے روڈریگز کو عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکی فوجی وینزویلا میں تعینات کیے جا سکتے ہیں اور کہا کہ واشنگٹن زمینی فوج سے خوفزدہ نہیں۔</p>
<p>ایک بات جو مزید واضح ہوئی وہ وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر میں ٹرمپ کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بڑی امریکی تیل کمپنیاں وہاں بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کر کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کو درست کریں گی، ہم بڑی مقدار میں تیل فروخت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275004</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:14:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/041305357ad2353.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/041305357ad2353.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقتدار کی منصفانہ منتقلی تک وینزویلا کو امریکا چلائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275001/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ’وینزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/RBTj8qk3xqk?si=qyXNGWkjpYgX4Am0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/RBTj8qk3xqk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کی ’شراکت داری‘ وینزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی، امریکا میں مقیم وینزویلا کے شہری انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا حملوں کی دوسری اور زیادہ بڑی لہر شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور واشنگٹن نے پہلے ہی یہ فرض کر لیا تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا آئیں گی، تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کریں گی اور ملک کے لیے منافع کمانا شروع کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکا لے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے امریکا میں پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق، امریکی فوجی طیارہ جس میں مادورو موجود ہیں، آج نیویارک کے اسٹیورٹ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیورٹ ایک فوجی ایئرپورٹ ہے جو اورنج کاؤنٹی، نیویارک میں ہڈسن ویلی کے علاقے میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اس وقت امریکی فوج کی تحویل میں ہیں اور لینڈنگ کے بعد انہیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو کو پیر کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ، سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ’وینزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔</p>
<p>فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/RBTj8qk3xqk?si=qyXNGWkjpYgX4Am0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/RBTj8qk3xqk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘</p>
<p>امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کی ’شراکت داری‘ وینزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی، امریکا میں مقیم وینزویلا کے شہری انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔’</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا حملوں کی دوسری اور زیادہ بڑی لہر شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور واشنگٹن نے پہلے ہی یہ فرض کر لیا تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا آئیں گی، تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کریں گی اور ملک کے لیے منافع کمانا شروع کریں گی۔</p>
<p>قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکا لے جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/0321431457bb9e9.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔</p>
<p>بی بی سی کے امریکا میں پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق، امریکی فوجی طیارہ جس میں مادورو موجود ہیں، آج نیویارک کے اسٹیورٹ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اسٹیورٹ ایک فوجی ایئرپورٹ ہے جو اورنج کاؤنٹی، نیویارک میں ہڈسن ویلی کے علاقے میں واقع ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اس وقت امریکی فوج کی تحویل میں ہیں اور لینڈنگ کے بعد انہیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔</p>
<p>مادورو کو پیر کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ، سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275001</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 00:09:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکمانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/032238571693d67.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/032238571693d67.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔ فوٹو اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے وینزویلا پر حملہ کردیا، دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274991/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر کے مطابق ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکے ہوئے، سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور طیاروں کی پروازیں نظر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے جنوبی حصے میں، ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/SrF7IVuzPfA?si=OzG3dqxu3Y8QFe5A'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/SrF7IVuzPfA?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ صورتحال کس وجہ سے پیدا ہوئی، جو تقریباً رات دو بجے شروع ہوئی، یا یہ واقعات شہر کے کن حصوں میں پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="دھماکے-بہت-زور-دار-تھے" href="#دھماکے-بہت-زور-دار-تھے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’دھماکے بہت زور دار تھے‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کاراکس میں مقیم صحافی وینیسہ سلوا نے اپنی کھڑکی سے دھماکے کا منظر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آواز بہت زور دار تھی جس سے ان کا گھر لرزنے لگا۔ وینیسہ نے بتایا کہ کاراکس ایک وادی میں واقع ہے، اس لیے آواز پورے شہر میں گونجتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ میں خوفزدہ تھی کہ دھماکے بہت قریب محسوس ہو رہے تھے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2007370057815601477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007370057815601477%7Ctwgr%5Ee9a7925692820ef4ac58121312b468e3955b006c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F424436-'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2007370057815601477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007370057815601477%7Ctwgr%5Ee9a7925692820ef4ac58121312b468e3955b006c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F424436-"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب شہر میں خاموشی ہے، لیکن لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج کر خیریت دریافت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ انہوں نے آسمان سے کچھ گرتے دیکھا اور دس سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکا سنائی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے وعدے کرتے رہے ہیں اور انہوں نے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا دانشمندانہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ٹرمپ نے وینزویلا کے پانیوں میں آنے جانے والے تمام پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ پابندیوں میں توسیع اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں درجنوں بحری اہداف پر حملے بھی کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس وقت کاراکاس پر بمباری ہو رہی ہے اور فوری عالمی اجلاس کا مطالبہ کیا، تاہم انہوں نے اپنے دعووں کی مزید تفصیل نہیں دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/petrogustavo/status/2007347473073999942?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347473073999942%7Ctwgr%5Ed4e2f866554211dc88233f40e92d40a69f784bd2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/petrogustavo/status/2007347473073999942?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347473073999942%7Ctwgr%5Ed4e2f866554211dc88233f40e92d40a69f784bd2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;امریکا نے خطے میں فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جن میں طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں منشیات سے منسلک ایک علاقے کو نشانہ بنایا، تاہم کارروائی کی نوعیت اور ادارے کی وضاحت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ مادورو حکومت منشیات اسمگلنگ میں کسی بھی کردار سے انکار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="وینزویلا-میں-نیشنل-ایمرجنسی-نافذ" href="#وینزویلا-میں-نیشنل-ایمرجنسی-نافذ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وینزویلا میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری بیان کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین پر کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کردیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر کے مطابق ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکے ہوئے، سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور طیاروں کی پروازیں نظر آئیں۔</p>
<p>عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے جنوبی حصے میں، ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/SrF7IVuzPfA?si=OzG3dqxu3Y8QFe5A'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/SrF7IVuzPfA?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p><br>ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ صورتحال کس وجہ سے پیدا ہوئی، جو تقریباً رات دو بجے شروع ہوئی، یا یہ واقعات شہر کے کن حصوں میں پیش آئے۔</p>
<h2><a id="دھماکے-بہت-زور-دار-تھے" href="#دھماکے-بہت-زور-دار-تھے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’دھماکے بہت زور دار تھے‘</h2>
<p>کاراکس میں مقیم صحافی وینیسہ سلوا نے اپنی کھڑکی سے دھماکے کا منظر دیکھا۔</p>
<p>بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آواز بہت زور دار تھی جس سے ان کا گھر لرزنے لگا۔ وینیسہ نے بتایا کہ کاراکس ایک وادی میں واقع ہے، اس لیے آواز پورے شہر میں گونجتی رہی۔</p>
<p>’میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ میں خوفزدہ تھی کہ دھماکے بہت قریب محسوس ہو رہے تھے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2007370057815601477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007370057815601477%7Ctwgr%5Ee9a7925692820ef4ac58121312b468e3955b006c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F424436-'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2007370057815601477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007370057815601477%7Ctwgr%5Ee9a7925692820ef4ac58121312b468e3955b006c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F424436-"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ اب شہر میں خاموشی ہے، لیکن لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج کر خیریت دریافت کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ انہوں نے آسمان سے کچھ گرتے دیکھا اور دس سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکا سنائی دیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے وعدے کرتے رہے ہیں اور انہوں نے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا دانشمندانہ ہوگا۔</p>
<p>مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ٹرمپ نے وینزویلا کے پانیوں میں آنے جانے والے تمام پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ پابندیوں میں توسیع اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں درجنوں بحری اہداف پر حملے بھی کیے گئے۔</p>
<p>کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس وقت کاراکاس پر بمباری ہو رہی ہے اور فوری عالمی اجلاس کا مطالبہ کیا، تاہم انہوں نے اپنے دعووں کی مزید تفصیل نہیں دی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/petrogustavo/status/2007347473073999942?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347473073999942%7Ctwgr%5Ed4e2f866554211dc88233f40e92d40a69f784bd2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/petrogustavo/status/2007347473073999942?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007347473073999942%7Ctwgr%5Ed4e2f866554211dc88233f40e92d40a69f784bd2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><br>امریکا نے خطے میں فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جن میں طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں منشیات سے منسلک ایک علاقے کو نشانہ بنایا، تاہم کارروائی کی نوعیت اور ادارے کی وضاحت نہیں کی گئی۔</p>
<p>کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ مادورو حکومت منشیات اسمگلنگ میں کسی بھی کردار سے انکار کرتی ہے۔</p>
<h2><a id="وینزویلا-میں-نیشنل-ایمرجنسی-نافذ" href="#وینزویلا-میں-نیشنل-ایمرجنسی-نافذ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وینزویلا میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ</h2>
<p>امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔</p>
<p>وینزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔</p>
<p>وینزویلا کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری بیان کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین پر کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتا ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274991</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 20:24:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/031334530f2c658.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/031334530f2c658.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں منشیات سے منسلک ایک علاقے کو نشانہ بنایا، تاہم کارروائی کی نوعیت اور ادارے کی وضاحت نہیں کی گئی۔ فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا، منشیات اور اسلحے کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274994/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکا کی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے کہا ہے کہ صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ پر نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے کامیابی کے ساتھ وینزویلا اور اُس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے، صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2007381949229478015?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007381949229478015%7Ctwgr%5E6dffcd4c7b114dca7271f1a1cff3018baf177aa7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2007381949229478015?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007381949229478015%7Ctwgr%5E6dffcd4c7b114dca7271f1a1cff3018baf177aa7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔ مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ آج صبح 11 بجے مار اے لاگو میں پریس کانفرنس ہو گی۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید معلومات پریس کانفرنس میں فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں امریکی اٹارنی جنرل بانڈی کے مطابق مادورو پر درج ذیل الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے؛&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نارکو ٹیررازم سازش‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کوکین درآمد کرنے کی سازش‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کا الزام‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’امریکا کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ جلد ہی امریکی سرزمین پر امریکی عدالتوں میں امریکی انصاف کے مکمل غضب کا سامنا کریں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بانڈی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مادورو کی اہلیہ پر کون سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مادورو-اور-ان-کی-اہلیہ-کو-نیویارک-منتقل-کررہے-ہیںٹرمپ" href="#مادورو-اور-ان-کی-اہلیہ-کو-نیویارک-منتقل-کررہے-ہیںٹرمپ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کررہے ہیں،ٹرمپ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کی کارروائی، جو رات بھر جاری رہی، کو ’بالکل ایسے دیکھا جیسے میں کوئی ٹیلی ویژن شو دیکھ رہا ہوں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/oNCn9oeQwfc?si=9xNrTBMrooheNNEi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/oNCn9oeQwfc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے (امریکی کارروائی کی) رفتار اور شدت دیکھی ہوتی، تو یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد اب نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کہا اُن دونوں پر نیویارک میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور انہیں ہیلی کاپٹر اور جہاز کے ذریعے ریاست (نیویارک) میں لے جایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="صدر-اور-ان-کی-اہلیہ-کے-ٹھکانے-کا-علم-نہیں-نائب-صدر" href="#صدر-اور-ان-کی-اہلیہ-کے-ٹھکانے-کا-علم-نہیں-نائب-صدر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صدر اور ان کی اہلیہ کے ٹھکانے کا علم نہیں، نائب صدر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ایک آڈیو میں کہا ہے کہ حکومت کو صدر نکولس مادورو یا ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورز کی زندگی کے فوری ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے امریکا پر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوپیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حملہ آور امریکی افواج نے ہماری سرزمین کی بے حرمتی کی ہے اور یہاں تک کہ جنگی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکا کی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے کہا ہے کہ صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ پر نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے کامیابی کے ساتھ وینزویلا اور اُس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے، صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2007381949229478015?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007381949229478015%7Ctwgr%5E6dffcd4c7b114dca7271f1a1cff3018baf177aa7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2007381949229478015?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007381949229478015%7Ctwgr%5E6dffcd4c7b114dca7271f1a1cff3018baf177aa7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964860"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔ مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ آج صبح 11 بجے مار اے لاگو میں پریس کانفرنس ہو گی۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘</p>
<p>یہ اعلان امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید معلومات پریس کانفرنس میں فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>علاوہ ازیں امریکی اٹارنی جنرل بانڈی کے مطابق مادورو پر درج ذیل الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے؛</p>
<p>’نارکو ٹیررازم سازش‘</p>
<p>’کوکین درآمد کرنے کی سازش‘</p>
<p>’مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کا الزام‘</p>
<p>’امریکا کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ جلد ہی امریکی سرزمین پر امریکی عدالتوں میں امریکی انصاف کے مکمل غضب کا سامنا کریں گے۔‘</p>
<p>تاہم بانڈی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مادورو کی اہلیہ پر کون سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<h2><a id="مادورو-اور-ان-کی-اہلیہ-کو-نیویارک-منتقل-کررہے-ہیںٹرمپ" href="#مادورو-اور-ان-کی-اہلیہ-کو-نیویارک-منتقل-کررہے-ہیںٹرمپ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کررہے ہیں،ٹرمپ</h2>
<p>علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کی کارروائی، جو رات بھر جاری رہی، کو ’بالکل ایسے دیکھا جیسے میں کوئی ٹیلی ویژن شو دیکھ رہا ہوں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/oNCn9oeQwfc?si=9xNrTBMrooheNNEi'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/oNCn9oeQwfc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے (امریکی کارروائی کی) رفتار اور شدت دیکھی ہوتی، تو یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا۔‘</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد اب نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر نے کہا اُن دونوں پر نیویارک میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور انہیں ہیلی کاپٹر اور جہاز کے ذریعے ریاست (نیویارک) میں لے جایا جائے گا۔</p>
<h2><a id="صدر-اور-ان-کی-اہلیہ-کے-ٹھکانے-کا-علم-نہیں-نائب-صدر" href="#صدر-اور-ان-کی-اہلیہ-کے-ٹھکانے-کا-علم-نہیں-نائب-صدر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صدر اور ان کی اہلیہ کے ٹھکانے کا علم نہیں، نائب صدر</h2>
<p>وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ایک آڈیو میں کہا ہے کہ حکومت کو صدر نکولس مادورو یا ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورز کی زندگی کے فوری ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے امریکا پر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔</p>
<p>لوپیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حملہ آور امریکی افواج نے ہماری سرزمین کی بے حرمتی کی ہے اور یہاں تک کہ جنگی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274994</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 20:40:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0315322810b5463.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0315322810b5463.webp"/>
        <media:title>ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ آج صبح 11 بجے مار اے لاگو میں پریس کانفرنس ہو گی۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274984/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/115824439366264186"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=hw1xorjrLLs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/hw1xorjrLLs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کو ایران میں جاری بے چینی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں حالیہ احتجاج اُس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو پہلے ہی سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو امریکی پابندیوں کے بعد مزید بڑھ گیا۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک بڑے احتجاجی سلسلے کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ انتشار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/115824439366264186"><strong>بیان</strong></a> میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=hw1xorjrLLs'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/hw1xorjrLLs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کو ایران میں جاری بے چینی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔</p>
<p>ایران میں حالیہ احتجاج اُس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو پہلے ہی سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو امریکی پابندیوں کے بعد مزید بڑھ گیا۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک بڑے احتجاجی سلسلے کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ انتشار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274984</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 15:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021452455edb08e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021452455edb08e.webp"/>
        <media:title>صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔—فوٹو/ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے‘، ظہران ممدانی کا قرآن پر ہاتھ رکھ کر نیویارک کے میئر کا حلف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274972/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی بائیں بازو کے ابھرتے ہوئے مسلمان نوجوان رہنما زہران ممدانی نے جمعرات کی علی الصبح نیویارک کے میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا، جہاں آئندہ چار برسوں کے دوران ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹکراؤ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما نے آدھی رات کے فوراً بعد سٹی ہال کے نیچے ایک غیر فعال سب وے اسٹیشن میں حلف لیا اور یوں امریکا کے سب سے بڑے شہر کی قیادت سنبھال لی۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زہران ممدانی نے کہا کہ ’قرآن پاک پر حلف اٹھانا ان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے دفتر کے مطابق سٹی ہال کے نیچے سادہ مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے وابستگی کی علامت ہے، کیونکہ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نمٹنے کے وعدے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این بی سی نیوز کے مطابق ممدانی نے حلف اٹھاتے وقت قرآن پاک کے دو نسخوں پر ہاتھ رکھا، ایک ان کے دادا کا اور دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر فار ریسرچ ان بلیک کلچر کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی ہال کے الفاظ کے نیچے محرابی چھت تلے کھڑے ہو کر انہوں نے کہا کہ نئے سال کی مبارکباد، چاہے آپ اس ٹنل کے اندر ہوں یا اوپر، یہ واقعی زندگی کا ایک بڑا اعزاز ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AFP/status/2006607909866578216?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006607909866578216%7Ctwgr%5E45400bd75df315217e78b29ba7b9f72ca4efdee2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964453'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AFP/status/2006607909866578216?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006607909866578216%7Ctwgr%5E45400bd75df315217e78b29ba7b9f72ca4efdee2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964453"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس خوبصورت سب وے اسٹیشن کو شہر کی زندگی، صحت اور ورثے کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ کی اہمیت کی علامت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی نجی حلف برداری نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کرائی، جنہوں نے صدر ٹرمپ کے خلاف فراڈ کا مقدمہ کامیابی سے چلایا تھا۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے مطابق ان کے والدین، فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی بھی تقریب میں شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو بعد میں ایک بڑی اور علامتی تقریب منعقد ہوگی، جس میں سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت بائیں بازو کے اتحادی خطاب کریں گے۔ اس تقریب میں تقریباً چار ہزار مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممدانی کی ٹیم نے براڈوے کے ساتھ ساتھ بڑی اسکرینوں پر تقریب دکھانے کے لیے ایک عوامی بلاک پارٹی کا بھی اہتمام کیا ہے، تاکہ ہزاروں افراد شرکت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کے قانون کے مطابق میئر کی چار سالہ مدت انتخابات کے بعد یکم جنوری سے شروع ہوتی ہے، اسی لیے یہ روایت بن چکی ہے کہ اختیارات کی منتقلی میں کسی ابہام سے بچنے کے لیے آدھی رات کے فوراً بعد مختصر حلف برداری کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے زہران ممدانی سات برس کی عمر میں نیویارک آئے۔ محدود سیاسی تجربے کے باوجود وہ پہلے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بنے اور پھر میئر منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سابق میئرز کی انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کی حکومت سے تجربہ کار معاونین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کاروباری رہنماؤں سے بھی رابطے شروع کیے ہیں، جن میں سے بعض نے ان کی کامیابی کی صورت میں امیر نیویارکرز کے بڑے پیمانے پر شہر چھوڑنے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم رئیل اسٹیٹ رہنماؤں نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممدانی نے کرایوں پر پابندی، مفت بس سروس اور مفت بچوں کی نگہداشت جیسے وعدے کیے ہیں اور اپنی مہم کو عوامی اخراجات اور مہنگائی جیسے مسائل کے گرد مرکوز رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریکارڈ توڑ ووٹر ٹرن آؤٹ کے ساتھ بیس لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے اور 50 فیصد ووٹ لے کر آزاد امیدوار اینڈریو کومو سے تقریباً دس پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جبکہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بہت پیچھے رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی بائیں بازو کے ابھرتے ہوئے مسلمان نوجوان رہنما زہران ممدانی نے جمعرات کی علی الصبح نیویارک کے میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا، جہاں آئندہ چار برسوں کے دوران ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹکراؤ متوقع ہے۔</p>
<p>34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما نے آدھی رات کے فوراً بعد سٹی ہال کے نیچے ایک غیر فعال سب وے اسٹیشن میں حلف لیا اور یوں امریکا کے سب سے بڑے شہر کی قیادت سنبھال لی۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔</p>
<p>امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زہران ممدانی نے کہا کہ ’قرآن پاک پر حلف اٹھانا ان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے‘۔</p>
<p>ان کے دفتر کے مطابق سٹی ہال کے نیچے سادہ مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے وابستگی کی علامت ہے، کیونکہ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نمٹنے کے وعدے کیے تھے۔</p>
<p>این بی سی نیوز کے مطابق ممدانی نے حلف اٹھاتے وقت قرآن پاک کے دو نسخوں پر ہاتھ رکھا، ایک ان کے دادا کا اور دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر فار ریسرچ ان بلیک کلچر کا تھا۔</p>
<p>سٹی ہال کے الفاظ کے نیچے محرابی چھت تلے کھڑے ہو کر انہوں نے کہا کہ نئے سال کی مبارکباد، چاہے آپ اس ٹنل کے اندر ہوں یا اوپر، یہ واقعی زندگی کا ایک بڑا اعزاز ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AFP/status/2006607909866578216?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006607909866578216%7Ctwgr%5E45400bd75df315217e78b29ba7b9f72ca4efdee2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964453'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AFP/status/2006607909866578216?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2006607909866578216%7Ctwgr%5E45400bd75df315217e78b29ba7b9f72ca4efdee2%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964453"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے اس خوبصورت سب وے اسٹیشن کو شہر کی زندگی، صحت اور ورثے کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ کی اہمیت کی علامت قرار دیا۔</p>
<p>ان کی نجی حلف برداری نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کرائی، جنہوں نے صدر ٹرمپ کے خلاف فراڈ کا مقدمہ کامیابی سے چلایا تھا۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں۔</p>
<p>سی این این کے مطابق ان کے والدین، فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی بھی تقریب میں شریک تھے۔</p>
<p>جمعرات کو بعد میں ایک بڑی اور علامتی تقریب منعقد ہوگی، جس میں سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت بائیں بازو کے اتحادی خطاب کریں گے۔ اس تقریب میں تقریباً چار ہزار مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔</p>
<p>ممدانی کی ٹیم نے براڈوے کے ساتھ ساتھ بڑی اسکرینوں پر تقریب دکھانے کے لیے ایک عوامی بلاک پارٹی کا بھی اہتمام کیا ہے، تاکہ ہزاروں افراد شرکت کر سکیں۔</p>
<p>نیویارک کے قانون کے مطابق میئر کی چار سالہ مدت انتخابات کے بعد یکم جنوری سے شروع ہوتی ہے، اسی لیے یہ روایت بن چکی ہے کہ اختیارات کی منتقلی میں کسی ابہام سے بچنے کے لیے آدھی رات کے فوراً بعد مختصر حلف برداری کی جائے۔</p>
<p>یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے زہران ممدانی سات برس کی عمر میں نیویارک آئے۔ محدود سیاسی تجربے کے باوجود وہ پہلے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بنے اور پھر میئر منتخب ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے سابق میئرز کی انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کی حکومت سے تجربہ کار معاونین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کاروباری رہنماؤں سے بھی رابطے شروع کیے ہیں، جن میں سے بعض نے ان کی کامیابی کی صورت میں امیر نیویارکرز کے بڑے پیمانے پر شہر چھوڑنے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم رئیل اسٹیٹ رہنماؤں نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔</p>
<p>ممدانی نے کرایوں پر پابندی، مفت بس سروس اور مفت بچوں کی نگہداشت جیسے وعدے کیے ہیں اور اپنی مہم کو عوامی اخراجات اور مہنگائی جیسے مسائل کے گرد مرکوز رکھا۔</p>
<p>انہوں نے ریکارڈ توڑ ووٹر ٹرن آؤٹ کے ساتھ بیس لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے اور 50 فیصد ووٹ لے کر آزاد امیدوار اینڈریو کومو سے تقریباً دس پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جبکہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بہت پیچھے رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274972</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 12:10:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/011204467ab74ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/011204467ab74ca.webp"/>
        <media:title>ممدانی نے کرایوں پر پابندی، مفت بس سروس اور مفت بچوں کی نگہداشت جیسے وعدے کیے ہیں اور اپنی مہم کو عوامی اخراجات اور مہنگائی جیسے مسائل کے گرد مرکوز رکھا۔فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹلی کا پاکستانی کارکنوں کیلئے 10 ہزار سے زائد ملازمتوں کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274935/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اٹلی نے آئندہ تین برسوں کے دوران پاکستانی کارکنوں کو 10 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت اٹلی نے پاکستان کے لیے لیبر کوٹہ مختص کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت 10 ہزار 500 پاکستانی کارکنوں کو مختلف شعبوں میں روزگار دیا جائے گا، جن میں شپ بریکنگ، مہمان نوازی، صحت، زراعت، ویلڈنگ، ٹیکنیشنز، باورچی، ویٹرز، ہاؤس کیپنگ، نرسنگ، میڈیکل ٹیکنیشنز اور فارمنگ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنر مند اور نیم ہنر مند پاکستانی افراد ان شعبوں میں ملازمت کے لیے اٹلی جائیں گے۔ ہر سال 3 ہزار 500 پاکستانی کارکن سیزنل اور غیر سیزنل کوٹے کے تحت بیرون ملک روزگار حاصل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سالانہ 1 ہزار 500 پاکستانی موسمی کوٹہ جبکہ 2 ہزار غیر موسمی کوٹہ کے تحت جائیں گے۔ اٹلی پہلا یورپی ملک ہے جس نے پاکستان کے لیے مخصوص طور پر ملازمتوں کا کوٹہ مختص کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور اٹلی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس فروری 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اٹلی نے آئندہ تین برسوں کے دوران پاکستانی کارکنوں کو 10 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت اٹلی نے پاکستان کے لیے لیبر کوٹہ مختص کر دیا ہے۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت 10 ہزار 500 پاکستانی کارکنوں کو مختلف شعبوں میں روزگار دیا جائے گا، جن میں شپ بریکنگ، مہمان نوازی، صحت، زراعت، ویلڈنگ، ٹیکنیشنز، باورچی، ویٹرز، ہاؤس کیپنگ، نرسنگ، میڈیکل ٹیکنیشنز اور فارمنگ شامل ہیں۔</p>
<p>ہنر مند اور نیم ہنر مند پاکستانی افراد ان شعبوں میں ملازمت کے لیے اٹلی جائیں گے۔ ہر سال 3 ہزار 500 پاکستانی کارکن سیزنل اور غیر سیزنل کوٹے کے تحت بیرون ملک روزگار حاصل کریں گے۔</p>
<p>ان میں سالانہ 1 ہزار 500 پاکستانی موسمی کوٹہ جبکہ 2 ہزار غیر موسمی کوٹہ کے تحت جائیں گے۔ اٹلی پہلا یورپی ملک ہے جس نے پاکستان کے لیے مخصوص طور پر ملازمتوں کا کوٹہ مختص کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور اٹلی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس فروری 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274935</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 11:59:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بختاور میاں)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/281152241ce74a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/281152241ce74a5.webp"/>
        <media:title>پاکستان اور اٹلی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس فروری 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ میں شہزاد اکبر پر حملہ، ناک اور جبڑا فریکچر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274919/</link>
      <description>&lt;p&gt;لندن: سابق وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں حملہ کیا گیا ہے، جہاں وہ اپریل 2022 سے خودساختہ جلاوطنی میں مقیم ہیں۔ جمعرات کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرزا شہزاد اکبر نے ڈان سے رابطہ کرنے پر ٹیکسٹ پیغامات میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر حملہ ہوا، وہ اسپتال گئے اور پولیس سے بھی رابطہ کیا گیا، انہیں چوٹیں آئی ہیں اور فریکچر بھی ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ پر بدھ کی شب 9:50 بجے (پاکستانی وقت) کی گئی پوسٹ کے مطابق شہزاد اکبر پر صبح کے وقت کیمبرج میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ حملہ آور نے ان کے چہرے پر بار بار مکے مارے جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ پارٹی کے مطابق مقامی پولیس نے تمام تفصیلات جمع کرلی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کی حکومت میں احتساب سے متعلق مشیر رہنے والے مرزا شہزاد اکبر اس سے قبل نومبر 2023 میں بھی ہارٹفورڈشائر میں اپنے گھر پر حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس وقت ایک نقاب پوش شخص نے ان پر تیزابی مادہ پھینکا تھا۔ اکبر نے اس واقعے کے بعد ایکس پر بیان دیا تھا کہ وہ نہ تو مرعوب ہوں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرزا شہزاد اکبر نے اس حملے کو القادر ٹرسٹ کیس سے جوڑا تھا جو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف ہے، اور الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی ادارے ان پر سابق وزیر اعظم کے خلاف گواہی دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے ڈان کو یہ بھی بتایا تھا کہ حالیہ مہینوں میں انہیں پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں اپنے رویے درست کرنے کی وارننگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2024 میں مرزا شہزاد اکبر نے تیزاب حملے کے معاملے پر پاکستان کی حکومت کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں پاکستان ہائی کمیشن اور دیگر پاکستانی حکام کو بھی نوٹس بھیجے تھے۔ تاہم مئی 2024 میں دفتر خارجہ نے 2023 کے تیزاب حملے میں ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایکس پر مبینہ متنازع بیانات کے ایک مقدمے میں مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی اور شہزاد اکبر کی حوالگی کے کاغذات حوالے کیے۔ اگرچہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگی معاہدہ موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایک انتظام موجود ہے جس کے تحت جرائم میں ملوث یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لندن: سابق وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں حملہ کیا گیا ہے، جہاں وہ اپریل 2022 سے خودساختہ جلاوطنی میں مقیم ہیں۔ جمعرات کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p>مرزا شہزاد اکبر نے ڈان سے رابطہ کرنے پر ٹیکسٹ پیغامات میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر حملہ ہوا، وہ اسپتال گئے اور پولیس سے بھی رابطہ کیا گیا، انہیں چوٹیں آئی ہیں اور فریکچر بھی ہوا ہے۔</p>
<p>تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ پر بدھ کی شب 9:50 بجے (پاکستانی وقت) کی گئی پوسٹ کے مطابق شہزاد اکبر پر صبح کے وقت کیمبرج میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ حملہ آور نے ان کے چہرے پر بار بار مکے مارے جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ پارٹی کے مطابق مقامی پولیس نے تمام تفصیلات جمع کرلی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔</p>
<p>تحریک انصاف کی حکومت میں احتساب سے متعلق مشیر رہنے والے مرزا شہزاد اکبر اس سے قبل نومبر 2023 میں بھی ہارٹفورڈشائر میں اپنے گھر پر حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس وقت ایک نقاب پوش شخص نے ان پر تیزابی مادہ پھینکا تھا۔ اکبر نے اس واقعے کے بعد ایکس پر بیان دیا تھا کہ وہ نہ تو مرعوب ہوں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔</p>
<p>مرزا شہزاد اکبر نے اس حملے کو القادر ٹرسٹ کیس سے جوڑا تھا جو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف ہے، اور الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی ادارے ان پر سابق وزیر اعظم کے خلاف گواہی دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے ڈان کو یہ بھی بتایا تھا کہ حالیہ مہینوں میں انہیں پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں اپنے رویے درست کرنے کی وارننگ دی گئی۔</p>
<p>اپریل 2024 میں مرزا شہزاد اکبر نے تیزاب حملے کے معاملے پر پاکستان کی حکومت کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں پاکستان ہائی کمیشن اور دیگر پاکستانی حکام کو بھی نوٹس بھیجے تھے۔ تاہم مئی 2024 میں دفتر خارجہ نے 2023 کے تیزاب حملے میں ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔</p>
<p>ادھر اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایکس پر مبینہ متنازع بیانات کے ایک مقدمے میں مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی اور شہزاد اکبر کی حوالگی کے کاغذات حوالے کیے۔ اگرچہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگی معاہدہ موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایک انتظام موجود ہے جس کے تحت جرائم میں ملوث یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274919</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 12:07:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاتکہ رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/25120535347eb2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/25120535347eb2d.webp"/>
        <media:title>اس سے قبل بھی شہزاد اکبر نومبر 2023 میں بھی ہارٹفورڈشائر میں اپنے گھر پر حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ فائل فوٹو پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 68 کروڑ ڈالر کے اپ گریڈ پیکج کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274902/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کے بیڑے کے لیے 68  کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت کے امریکی فوجی اپ گریڈ پیکج کو امریکی کانگریس کے قانونی نوٹیفکیشن کے تحت کلیئر کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف 16 لڑاکا طیارے بنانے والی امریکی ایئرواسپیس اور دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو مجوزہ فروخت کے لیے مرکزی کنٹریکٹر نامزد کیا گیا ہے جو طویل عرصے سے بین الاقوامی صارفین کے لیے ان طیاروں کے ڈیزائن، اپ گریڈ اور دیکھ بھال کے پروگرامز کی ذمہ دار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین کے تحت فراہم کردہ موجودہ اختیارات کے تحت عمل میں لائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان قوانین کے مطابق جب کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا جائے اور مقررہ مدت میں کوئی اعتراض نہ ہو تو انتظامیہ فنڈز جاری اور خرچ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے پاکستان کی جانب سے 68.6 کروڑ ڈالر کی فارن ملٹری سیل کی درخواست کی منظوری دی، جس میں ایف 16 ہارڈویئر، سافٹ ویئر اپ گریڈز اور دیکھ بھال کی معاونت شامل ہے اور اس فیصلے سے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی قانون کے تحت اس منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس کی نگرانی کو نظرانداز کیا گیا۔ ڈی ایس سی اے کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کانگریس کو لازمی 30 روزہ جائزہ مدت دی جاتی ہے، جس دوران اراکین اعتراض اٹھا سکتے ہیں یا لین دین روکنے کے لیے قرارداد پیش کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274795/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274795"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر اس مدت میں کوئی اعتراض نہ ہو، جو عموماً معمول کی بات ہے، تو فروخت کو کانگریس کی منظوری حاصل تصور کیا جاتا ہے۔ علیحدہ ووٹنگ صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب کانگریس مداخلت کا فیصلہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار امریکی اسلحہ منتقلی کے قانونی فریم ورک کا حصہ ہے۔ ڈی ایس سی اے کو فارن ملٹری سیلز اور فارن ملٹری فنانسنگ جیسے طریقہ کار کے ذریعے اس نوعیت کے لین دین کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام عموماً خریدار ملک کے اپنے فنڈز یا ایسے امریکی قرضوں یا گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں جن کی پہلے ہی صدر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سطح پر منظوری دی جا چکی ہو، جیسا کہ پاکستان کے ایف 16 پیکج کے معاملے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اپ-گریڈ-پیکج" href="#اپ-گریڈ-پیکج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اپ گریڈ پیکج&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کانگریس کی ویب سائٹ پر شائع نوٹیفکیشن کے مطابق مجوزہ فروخت کا مقصد پاکستان کے بلاک 52 اور مڈ لائف اپ گریڈ ایف 16 طیاروں کی سروس لائف 2040 تک بڑھانا ہے جبکہ امریکا اور شراکت دار افواج کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم دفاعی آلات کی مالیت 3.7 کروڑ ڈالر ہے جبکہ باقی 64.9 کروڑ ڈالر دیکھ بھال، مرمت اور اپ گریڈیشن پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکج میں 92 لنک 16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹمز اور انضمام و جانچ کے لیے چھ غیر فعال ایم کے 82 پانچ سو پاؤنڈ بم باڈیز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر حصوں میں ایویونکس اپ گریڈز، محفوظ مواصلاتی اور نیویگیشن آلات، کرپٹوگرافک ڈیوائسز، مشن پلاننگ ٹولز، نیز سافٹ ویئر اور ہارڈویئر میں تبدیلیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تربیتی نظام، اسلحہ کی جانچ اور ری پروگرامنگ کا سامان اور متعلقہ اسپیئر پارٹس بھی پیکج کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساس اجزا میں موڈ 5 شناختی نظام، ہینڈ ہیلڈ کی لوڈرز، اور اسلحہ کے بلٹ ان ٹیسٹ فنکشنز کے لیے ری پروگرامنگ آلات شامل ہیں، جن میں سے بعض کو خفیہ درجہ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1253934/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے پہلی بار 22-2021 میں ایف 16 اپ گریڈز کی درخواست دی تھی۔ اگرچہ ڈی ایس سی اے نے مستقل طور پر اس تجویز کی حمایت کی، تاہم بائیڈن انتظامیہ نے اس وقت دستیاب نوٹیفکیشن طریقہ کار کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا۔ دسمبر 2024 میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا مگر مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کے تحت دسمبر 2025 میں کانگریس کو ایک نیا نوٹیفکیشن بھیجا گیا۔ جب قانونی نوٹیفکیشن کی مدت بغیر کسی اعتراض کے مکمل ہو گئی تو امریکی قانون کے مطابق مجوزہ فروخت کی منظوری دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="امریکی-مؤقف" href="#امریکی-مؤقف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکی مؤقف&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس سی اے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی کیونکہ اس سے پاکستان کو امریکا اور شراکت دار افواج کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق اس سے انسداد دہشت گردی کی جاری کوششوں میں تعاون مضبوط ہوگا اور مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کے لیے تیاری بہتر ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے ایف 16 بیڑے کی مرمت اور اپ گریڈ سے پرواز کے تحفظ سے متعلق اہم خدشات دور ہوں گے اور جنگی کارروائیوں، مشقوں اور تربیت کے دوران پاک فضائیہ اور امریکی فضائیہ کے درمیان انضمام اور ہم آہنگی میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس سی اے کے مطابق مجوزہ فروخت سے خطے میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فروخت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں اضافی امریکی سرکاری یا کنٹریکٹر عملے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس سے امریکی دفاعی تیاری پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے کہا کہ اسے مجوزہ فروخت سے منسلک کسی آف سیٹ معاہدے کا علم نہیں، اور اگر ایسا کوئی انتظام ہوا تو اس کا تعین پاکستان اور کنٹریکٹر کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;خبر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962751/washington-okays-upgrade-package-for-pakistans-f-16-fleet"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کے بیڑے کے لیے 68  کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت کے امریکی فوجی اپ گریڈ پیکج کو امریکی کانگریس کے قانونی نوٹیفکیشن کے تحت کلیئر کردیا گیا ہے۔</p>
<p>ایف 16 لڑاکا طیارے بنانے والی امریکی ایئرواسپیس اور دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو مجوزہ فروخت کے لیے مرکزی کنٹریکٹر نامزد کیا گیا ہے جو طویل عرصے سے بین الاقوامی صارفین کے لیے ان طیاروں کے ڈیزائن، اپ گریڈ اور دیکھ بھال کے پروگرامز کی ذمہ دار رہی ہے۔</p>
<p>یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین کے تحت فراہم کردہ موجودہ اختیارات کے تحت عمل میں لائی گئی۔</p>
<p>ان قوانین کے مطابق جب کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا جائے اور مقررہ مدت میں کوئی اعتراض نہ ہو تو انتظامیہ فنڈز جاری اور خرچ کر سکتی ہے۔</p>
<p>ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے پاکستان کی جانب سے 68.6 کروڑ ڈالر کی فارن ملٹری سیل کی درخواست کی منظوری دی، جس میں ایف 16 ہارڈویئر، سافٹ ویئر اپ گریڈز اور دیکھ بھال کی معاونت شامل ہے اور اس فیصلے سے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا۔</p>
<p>امریکی قانون کے تحت اس منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس کی نگرانی کو نظرانداز کیا گیا۔ ڈی ایس سی اے کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کانگریس کو لازمی 30 روزہ جائزہ مدت دی جاتی ہے، جس دوران اراکین اعتراض اٹھا سکتے ہیں یا لین دین روکنے کے لیے قرارداد پیش کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274795/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274795"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر اس مدت میں کوئی اعتراض نہ ہو، جو عموماً معمول کی بات ہے، تو فروخت کو کانگریس کی منظوری حاصل تصور کیا جاتا ہے۔ علیحدہ ووٹنگ صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب کانگریس مداخلت کا فیصلہ کرے۔</p>
<p>یہ طریقہ کار امریکی اسلحہ منتقلی کے قانونی فریم ورک کا حصہ ہے۔ ڈی ایس سی اے کو فارن ملٹری سیلز اور فارن ملٹری فنانسنگ جیسے طریقہ کار کے ذریعے اس نوعیت کے لین دین کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>یہ پروگرام عموماً خریدار ملک کے اپنے فنڈز یا ایسے امریکی قرضوں یا گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں جن کی پہلے ہی صدر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سطح پر منظوری دی جا چکی ہو، جیسا کہ پاکستان کے ایف 16 پیکج کے معاملے میں ہے۔</p>
<h2><a id="اپ-گریڈ-پیکج" href="#اپ-گریڈ-پیکج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اپ گریڈ پیکج</strong></h2>
<p>گزشتہ ہفتے کانگریس کی ویب سائٹ پر شائع نوٹیفکیشن کے مطابق مجوزہ فروخت کا مقصد پاکستان کے بلاک 52 اور مڈ لائف اپ گریڈ ایف 16 طیاروں کی سروس لائف 2040 تک بڑھانا ہے جبکہ امریکا اور شراکت دار افواج کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔</p>
<p>اہم دفاعی آلات کی مالیت 3.7 کروڑ ڈالر ہے جبکہ باقی 64.9 کروڑ ڈالر دیکھ بھال، مرمت اور اپ گریڈیشن پر مشتمل ہیں۔</p>
<p>پیکج میں 92 لنک 16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹمز اور انضمام و جانچ کے لیے چھ غیر فعال ایم کے 82 پانچ سو پاؤنڈ بم باڈیز شامل ہیں۔</p>
<p>دیگر حصوں میں ایویونکس اپ گریڈز، محفوظ مواصلاتی اور نیویگیشن آلات، کرپٹوگرافک ڈیوائسز، مشن پلاننگ ٹولز، نیز سافٹ ویئر اور ہارڈویئر میں تبدیلیاں شامل ہیں۔</p>
<p>تربیتی نظام، اسلحہ کی جانچ اور ری پروگرامنگ کا سامان اور متعلقہ اسپیئر پارٹس بھی پیکج کا حصہ ہیں۔</p>
<p>حساس اجزا میں موڈ 5 شناختی نظام، ہینڈ ہیلڈ کی لوڈرز، اور اسلحہ کے بلٹ ان ٹیسٹ فنکشنز کے لیے ری پروگرامنگ آلات شامل ہیں، جن میں سے بعض کو خفیہ درجہ دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1253934/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان نے پہلی بار 22-2021 میں ایف 16 اپ گریڈز کی درخواست دی تھی۔ اگرچہ ڈی ایس سی اے نے مستقل طور پر اس تجویز کی حمایت کی، تاہم بائیڈن انتظامیہ نے اس وقت دستیاب نوٹیفکیشن طریقہ کار کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا۔ دسمبر 2024 میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا مگر مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کے تحت دسمبر 2025 میں کانگریس کو ایک نیا نوٹیفکیشن بھیجا گیا۔ جب قانونی نوٹیفکیشن کی مدت بغیر کسی اعتراض کے مکمل ہو گئی تو امریکی قانون کے مطابق مجوزہ فروخت کی منظوری دے دی گئی۔</p>
<h2><a id="امریکی-مؤقف" href="#امریکی-مؤقف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>امریکی مؤقف</strong></h2>
<p>ڈی ایس سی اے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی کیونکہ اس سے پاکستان کو امریکا اور شراکت دار افواج کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق اس سے انسداد دہشت گردی کی جاری کوششوں میں تعاون مضبوط ہوگا اور مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کے لیے تیاری بہتر ہو گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے ایف 16 بیڑے کی مرمت اور اپ گریڈ سے پرواز کے تحفظ سے متعلق اہم خدشات دور ہوں گے اور جنگی کارروائیوں، مشقوں اور تربیت کے دوران پاک فضائیہ اور امریکی فضائیہ کے درمیان انضمام اور ہم آہنگی میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>ڈی ایس سی اے کے مطابق مجوزہ فروخت سے خطے میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔</p>
<p>اس فروخت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں اضافی امریکی سرکاری یا کنٹریکٹر عملے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس سے امریکی دفاعی تیاری پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔</p>
<p>امریکی حکومت نے کہا کہ اسے مجوزہ فروخت سے منسلک کسی آف سیٹ معاہدے کا علم نہیں، اور اگر ایسا کوئی انتظام ہوا تو اس کا تعین پاکستان اور کنٹریکٹر کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جائے گا۔</p>
<hr />
<p>خبر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1962751/washington-okays-upgrade-package-for-pakistans-f-16-fleet"><strong>پڑھیں۔</strong></a></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274902</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 14:26:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/23141803e8f6ba7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/23141803e8f6ba7.webp"/>
        <media:title>یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین کے تحت فراہم کردہ موجودہ اختیارات کے تحت عمل میں لائی گئی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں فوج بھیجنے کی پیشکش پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، امریکی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274878/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شمولیت قبول کر لی ہے تاہم انہوں نے فوجی دستوں کی حتمی تعیناتی کی تصدیق سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ منگل کو پاکستان نے قطر میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی، جس کی میزبانی امریکی سینٹرل کمانڈ نے کی۔ کانفرنس میں آئی ایس ایف کے کمانڈ اسٹرکچر اور دیگر زیرِ التوا آپریشنل معاملات پر بات چیت ہوئی۔ اس اجلاس میں تقریباً 45 ممالک شریک تھے، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے جواب میں کہ آیا واشنگٹن کو غزہ میں امن سازی کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے پر پاکستان کی رضامندی مل چکی ہے، روبیو نے کہا کہ ’امریکا پاکستان کا بے حد شکر گزار ہے کہ اس نے اس عمل کا حصہ بننے کی پیشکش کی، یا کم از کم اس پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک سے باضابطہ وعدہ لینے سے قبل مزید وضاحت درکار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274817'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے پاس ایسے کئی ممالک موجود ہیں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہیں اور اس استحکام فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں اور اگر پاکستان اس پر متفق ہو جاتا ہے تو وہ یقیناً ایک اہم ملک ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کے مطابق فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اسٹرکچر اور فنڈنگ کے انتظامات سے متعلق اہم امور پر تاحال غور جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگلا قدم بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنوکریٹک گروپ کے اعلان کا ہے، جو روزمرہ حکمرانی میں مدد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جب یہ نظام قائم ہو جائے گا تو اس کے بعد اسٹیبلائزیشن فورس کو حتمی شکل دینا ممکن ہوگا، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ اس کی مالی معاونت کیسے ہوگی، قواعد کیا ہوں گے اور ڈی ملٹریائزیشن میں اس کا کردار کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمۂ خارجہ نے مجوزہ فورس کے لیے فوجی دستوں یا مالی معاونت کے حصول کی غرض سے باضابطہ طور پر 70 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 19 ممالک نے فوج، لاجسٹکس یا آلات کی فراہمی کے ذریعے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ غزہ میں بین الاقوامی تعیناتی آئندہ ماہ کے اوائل میں شروع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان آئی ایس ایف کے تحت تین ہزار پانچ سو فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273796'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کے یہ بیانات ایک دن بعد سامنے آئے، جب پاکستان نے اپنا سرکاری مؤقف واضح کیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد نے تاحال آئی ایس ایف کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور یہ کہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی پٹی دو برس سے جاری اسرائیلی حملوں کے بعد بڑی حد تک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس نے اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی بنیاد رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کا ایک بنیادی ستون آئی ایس ایف کا قیام تھا، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجی دستوں پر مشتمل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کے تیار کردہ مسودے پر مبنی قرارداد منظور کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے منصوبے کی توثیق کی گئی اور فلسطینی علاقے میں آئی ایس ایف کی تعیناتی کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل کے 13 ارکان، جن میں پاکستان بھی شامل تھا، نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم حماس نے قرارداد کو مسترد کیا اور ایک ایسے بین الاقوامی فورس کے قیام پر بھی تنقید کی، جس کے مشن میں غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز سے بات کرنے والے دو امریکی حکام کے مطابق اقوامِ متحدہ کی منظوری سے بین الاقوامی فوجی دستے آئندہ ماہ کے اوائل میں غزہ کی پٹی میں تعینات کیے جا سکتے ہیں، تاہم یہ تاحال واضح نہیں کہ فلسطینی حماس  کو کس طرح غیر مسلح کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شمولیت قبول کر لی ہے تاہم انہوں نے فوجی دستوں کی حتمی تعیناتی کی تصدیق سے گریز کیا۔</p>
<p>گزشتہ منگل کو پاکستان نے قطر میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی، جس کی میزبانی امریکی سینٹرل کمانڈ نے کی۔ کانفرنس میں آئی ایس ایف کے کمانڈ اسٹرکچر اور دیگر زیرِ التوا آپریشنل معاملات پر بات چیت ہوئی۔ اس اجلاس میں تقریباً 45 ممالک شریک تھے، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔</p>
<p>اس سوال کے جواب میں کہ آیا واشنگٹن کو غزہ میں امن سازی کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے پر پاکستان کی رضامندی مل چکی ہے، روبیو نے کہا کہ ’امریکا پاکستان کا بے حد شکر گزار ہے کہ اس نے اس عمل کا حصہ بننے کی پیشکش کی، یا کم از کم اس پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک سے باضابطہ وعدہ لینے سے قبل مزید وضاحت درکار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274817'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے پاس ایسے کئی ممالک موجود ہیں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہیں اور اس استحکام فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں اور اگر پاکستان اس پر متفق ہو جاتا ہے تو وہ یقیناً ایک اہم ملک ہوگا۔</p>
<p>مارکو روبیو کے مطابق فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اسٹرکچر اور فنڈنگ کے انتظامات سے متعلق اہم امور پر تاحال غور جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگلا قدم بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنوکریٹک گروپ کے اعلان کا ہے، جو روزمرہ حکمرانی میں مدد فراہم کرے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جب یہ نظام قائم ہو جائے گا تو اس کے بعد اسٹیبلائزیشن فورس کو حتمی شکل دینا ممکن ہوگا، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ اس کی مالی معاونت کیسے ہوگی، قواعد کیا ہوں گے اور ڈی ملٹریائزیشن میں اس کا کردار کیا ہوگا۔</p>
<p>امریکی محکمۂ خارجہ نے مجوزہ فورس کے لیے فوجی دستوں یا مالی معاونت کے حصول کی غرض سے باضابطہ طور پر 70 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 19 ممالک نے فوج، لاجسٹکس یا آلات کی فراہمی کے ذریعے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ غزہ میں بین الاقوامی تعیناتی آئندہ ماہ کے اوائل میں شروع ہو سکتی ہے۔</p>
<p>سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان آئی ایس ایف کے تحت تین ہزار پانچ سو فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273796'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکو روبیو کے یہ بیانات ایک دن بعد سامنے آئے، جب پاکستان نے اپنا سرکاری مؤقف واضح کیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد نے تاحال آئی ایس ایف کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور یہ کہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔</p>
<p>غزہ کی پٹی دو برس سے جاری اسرائیلی حملوں کے بعد بڑی حد تک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس نے اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی بنیاد رکھی۔</p>
<p>امریکا کی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کا ایک بنیادی ستون آئی ایس ایف کا قیام تھا، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجی دستوں پر مشتمل ہوگی۔</p>
<p>نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کے تیار کردہ مسودے پر مبنی قرارداد منظور کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے منصوبے کی توثیق کی گئی اور فلسطینی علاقے میں آئی ایس ایف کی تعیناتی کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>سلامتی کونسل کے 13 ارکان، جن میں پاکستان بھی شامل تھا، نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم حماس نے قرارداد کو مسترد کیا اور ایک ایسے بین الاقوامی فورس کے قیام پر بھی تنقید کی، جس کے مشن میں غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔</p>
<p>رائٹرز سے بات کرنے والے دو امریکی حکام کے مطابق اقوامِ متحدہ کی منظوری سے بین الاقوامی فوجی دستے آئندہ ماہ کے اوائل میں غزہ کی پٹی میں تعینات کیے جا سکتے ہیں، تاہم یہ تاحال واضح نہیں کہ فلسطینی حماس  کو کس طرح غیر مسلح کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274878</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 15:10:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/20150514093c074.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/20150514093c074.webp"/>
        <media:title>مارکو روبیو کے مطابق فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اسٹرکچر اور فنڈنگ کے انتظامات سے متعلق اہم امور پر تاحال غور جاری ہے۔فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ کی جنگ ختم کر کے تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274859/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا، تارکینِ وطن کو نشانہ بنایا اور اپنے ڈیموکریٹک پیش رو پر شدید تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عام طور پر امریکی صدور وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کسی بڑے اعلان کے لیے کرتے ہیں تاہم بدھ کو ٹرمپ نے اپنے 19 منٹ طویل خطاب کو اس بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا کہ ملک اچھی سمت میں جا رہا ہے، ایسے وقت میں جب ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہماری قوم مضبوط ہے۔،امریکا کو عزت حاصل ہے اور ہمارا ملک پہلے سے بہت زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آ چکا ہے، ہم ایسے معاشی عروج کے قریب ہیں جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے خطاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 ماہ میں 8 جنگیں رکوائیں، ایران کے جوہری خطرے کو تباہ کیا اور غزہ کی جنگ ختم کر کے تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ  کا کہنا تھا کہ انہیں کرپٹ نظام ختم کرنے کا بھاری مینڈیٹ ملا ہے، امریکا میں غیرقانونی آمدورفت کا سلسلہ بندکردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ بائیڈن پالیسیاں دوبارہ نافذ ہونے نہیں دی جائیں گی، بائیڈن دور میں غیرقانونی امیگرینٹس نے نوکریاں لیں، ہماری انتظامیہ میں ساری نئی نوکریاں امریکا میں پیدا ہونےوالوں کو ملیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور فیکٹریاں قائم ہوں گی، انہوں نے اس کا سہرا اپنی ٹیرف پالیسی کو دیا اور کہا، ’ایک سال پہلے ہمارا ملک مردہ تھا، اب ہم دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گرم ترین معیشت بن چکے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کا یہ خطاب بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی جانب سے مہنگائی کے حوالے سے  جاری کی گئی رپورٹ سے صرف ایک دن قبل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے صرف تین ماہ بعد اپریل میں سالانہ مہنگائی چار سال کی کم ترین سطح 2.3 فیصد تک آ گئی تھی تاہم اس کے بعد سے مہنگائی کی شرح بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا، تارکینِ وطن کو نشانہ بنایا اور اپنے ڈیموکریٹک پیش رو پر شدید تنقید کی۔</p>
<p>اگرچہ عام طور پر امریکی صدور وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کسی بڑے اعلان کے لیے کرتے ہیں تاہم بدھ کو ٹرمپ نے اپنے 19 منٹ طویل خطاب کو اس بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا کہ ملک اچھی سمت میں جا رہا ہے، ایسے وقت میں جب ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی جارہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہماری قوم مضبوط ہے۔،امریکا کو عزت حاصل ہے اور ہمارا ملک پہلے سے بہت زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آ چکا ہے، ہم ایسے معاشی عروج کے قریب ہیں جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘</p>
<p>صدر ٹرمپ نے خطاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 ماہ میں 8 جنگیں رکوائیں، ایران کے جوہری خطرے کو تباہ کیا اور غزہ کی جنگ ختم کر کے تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ  کا کہنا تھا کہ انہیں کرپٹ نظام ختم کرنے کا بھاری مینڈیٹ ملا ہے، امریکا میں غیرقانونی آمدورفت کا سلسلہ بندکردیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ بائیڈن پالیسیاں دوبارہ نافذ ہونے نہیں دی جائیں گی، بائیڈن دور میں غیرقانونی امیگرینٹس نے نوکریاں لیں، ہماری انتظامیہ میں ساری نئی نوکریاں امریکا میں پیدا ہونےوالوں کو ملیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور فیکٹریاں قائم ہوں گی، انہوں نے اس کا سہرا اپنی ٹیرف پالیسی کو دیا اور کہا، ’ایک سال پہلے ہمارا ملک مردہ تھا، اب ہم دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گرم ترین معیشت بن چکے ہیں۔‘</p>
<p>امریکی صدر کا یہ خطاب بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی جانب سے مہنگائی کے حوالے سے  جاری کی گئی رپورٹ سے صرف ایک دن قبل کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے صرف تین ماہ بعد اپریل میں سالانہ مہنگائی چار سال کی کم ترین سطح 2.3 فیصد تک آ گئی تھی تاہم اس کے بعد سے مہنگائی کی شرح بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274859</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 12:15:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18121042a3d9575.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18121042a3d9575.webp"/>
        <media:title>ڈونلڈ ٹرمپ  کا کہنا تھا کہ انہیں کرپٹ نظام ختم کرنے کا بھاری مینڈیٹ ملا ہے، امریکا میں غیرقانونی آمدورفت کا سلسلہ بندکردیا ہے۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام سمیت مزید سات ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274848/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ان ممالک کی فہرست میں توسیع کر دی جن پر مکمل سفری پابندی عائد ہے، اور شام سمیت مزید سات ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے ایک اعلان نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ’ان ممالک کے شہریوں پر داخلے کی پابندیاں مزید وسیع اور سخت کی جا رہی ہیں جہاں اسکریننگ، جانچ پڑتال اور معلومات کے تبادلے کے نظام میں مسلسل اور سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں، تاکہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو لاحق خطرات سے ملک کو محفوظ رکھا جا سکے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2001026913184166090'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2001026913184166090"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منگل کو کیے گئے فیصلے کے تحت برکینا فاسو، مالی، نائیجر، جنوبی سوڈان، شام اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے تحت لاؤس اور سیرا لیون پر بھی مکمل پابندی نافذ کی گئی ہے، جن پر اس سے قبل صرف جزوی پابندیاں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ توسیع شدہ پابندی یکم جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے نومبر میں شامی صدر احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ احمد الشراع ایک سابق القاعدہ کمانڈر ہیں جنہیں حالیہ عرصے تک واشنگٹن کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد قرار دے کر پابندیوں کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے احمد الشراع کی حمایت کی ہے، جن کا دورہ ایک غیر معمولی سال کے اختتام پر ہوا، جس میں انہوں نے طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے آمر بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ خود کو ایک معتدل رہنما کے طور پر پیش کرنے اور جنگ سے تباہ حال ملک کو متحد کرنے کے لیے دنیا بھر کا دورہ کرتے رہے ہیں، تاکہ شام کو دہائیوں سے جاری عالمی تنہائی سے نکالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہفتے کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ’انتہائی سنگین جوابی کارروائی‘ کا عزم ظاہر کیا، جب امریکی فوج نے بتایا کہ شام میں ایک مشتبہ داعش حملہ آور کے حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک شہری مترجم ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور نے امریکی اور شامی افواج کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا، جسے بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس واقعے کو ’خوفناک‘حملہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے پابندی کے جواز کے طور پر شام کے شہریوں کی جانب سے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کی شرح کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’شام ایک طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی اور داخلی کشمکش سے نکل رہا ہے۔ اگرچہ یہ ملک امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت اپنے سیکیورٹی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم شام کے پاس اب بھی پاسپورٹ یا سول دستاویزات جاری کرنے کے لیے مؤثر مرکزی اختیار موجود نہیں، اور نہ ہی مناسب اسکریننگ اور جانچ پڑتال کے نظام دستیاب ہیں۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ان ممالک کی فہرست میں توسیع کر دی جن پر مکمل سفری پابندی عائد ہے، اور شام سمیت مزید سات ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگا دی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے ایک اعلان نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ’ان ممالک کے شہریوں پر داخلے کی پابندیاں مزید وسیع اور سخت کی جا رہی ہیں جہاں اسکریننگ، جانچ پڑتال اور معلومات کے تبادلے کے نظام میں مسلسل اور سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں، تاکہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو لاحق خطرات سے ملک کو محفوظ رکھا جا سکے‘۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2001026913184166090'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2001026913184166090"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>منگل کو کیے گئے فیصلے کے تحت برکینا فاسو، مالی، نائیجر، جنوبی سوڈان، شام اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>اس اقدام کے تحت لاؤس اور سیرا لیون پر بھی مکمل پابندی نافذ کی گئی ہے، جن پر اس سے قبل صرف جزوی پابندیاں تھیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ توسیع شدہ پابندی یکم جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔</p>
<p>یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے نومبر میں شامی صدر احمد الشراع سے تاریخی ملاقات کے بعد شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ احمد الشراع ایک سابق القاعدہ کمانڈر ہیں جنہیں حالیہ عرصے تک واشنگٹن کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد قرار دے کر پابندیوں کا سامنا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ نے احمد الشراع کی حمایت کی ہے، جن کا دورہ ایک غیر معمولی سال کے اختتام پر ہوا، جس میں انہوں نے طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے آمر بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ خود کو ایک معتدل رہنما کے طور پر پیش کرنے اور جنگ سے تباہ حال ملک کو متحد کرنے کے لیے دنیا بھر کا دورہ کرتے رہے ہیں، تاکہ شام کو دہائیوں سے جاری عالمی تنہائی سے نکالا جا سکے۔</p>
<p>تاہم ہفتے کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ’انتہائی سنگین جوابی کارروائی‘ کا عزم ظاہر کیا، جب امریکی فوج نے بتایا کہ شام میں ایک مشتبہ داعش حملہ آور کے حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک شہری مترجم ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور نے امریکی اور شامی افواج کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا، جسے بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس واقعے کو ’خوفناک‘حملہ قرار دیا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے پابندی کے جواز کے طور پر شام کے شہریوں کی جانب سے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کی شرح کا حوالہ دیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا، ’شام ایک طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی اور داخلی کشمکش سے نکل رہا ہے۔ اگرچہ یہ ملک امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت اپنے سیکیورٹی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم شام کے پاس اب بھی پاسپورٹ یا سول دستاویزات جاری کرنے کے لیے مؤثر مرکزی اختیار موجود نہیں، اور نہ ہی مناسب اسکریننگ اور جانچ پڑتال کے نظام دستیاب ہیں۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274848</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 11:38:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/171137025edb08e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/171137025edb08e.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ’انتہائی سنگین جوابی کارروائی‘ کا عزم ظاہر کیا —فائل فوٹو/ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان کے بیٹوں کا جنوری میں پاکستان آنے کا منصوبہ، والد کو ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھنے کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274847/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے کہا ہے کہ انہوں نے ویزا کے لیے درخواست دے دی ہے اور وہ جنوری میں پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو جیل میں ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیمان خان نے یہ بات اسکائی نیوز کی صحافی یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی، یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا جب عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر ملاقات نہ ہونے کے خلاف دیا گیا ایک اور دھرنا واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا، پارٹی کا الزام ہے کہ حکام نے ’کیمیکل ملا پانی‘ استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی احکامات کے باوجود جیل ملاقاتیں نہ ہونے پر عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی نے جیل میں ان کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کی صبح نشر ہونے والے انٹرویو میں لندن میں مقیم قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یلدا حکیم نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل وہ کہہ چکے تھے کہ انہیں ’پاکستان نہ آنے کی وارننگ دی گئی تھی‘ حالانکہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہیں ’خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ عمران خان سے ملاقات کر سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر قاسم نے کہا، ’اب ہم نے منصوبہ بنا لیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ بات کھلے عام کہی ہے۔ لہٰذا  اگر وہ اپنے الفاظ سے پیچھے نہ ہٹے تو ہمیں امید ہے کہ ہم جنوری میں جا سکیں گے، ہم نے ویزا کے لیے درخواست دے دی ہے۔ابھی ویزا نہیں آیا، مگر ہمیں امید ہے کہ آ جائے گا، اسی لیے ہم جنوری کے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=LdeMJl9OGWo'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/LdeMJl9OGWo?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں یلدا نے ان سے پوچھا کہ وہ عمران خان سے مل کر کیا کہیں گے اور کیا وہ ان سے ’کوئی ڈیل کرنے‘ پر غور کرنے کا کہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال بظاہر سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے عمران خان اور پاکستان کے حکمرانوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت کے حوالے سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر قاسم نے وضاحت کی کہ ’آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ان کی زندگی ہے، یہ ان کا جنون اور مقصد ہے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ان کی زندگی کا مقصد ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ کوئی ڈیل کر کے ہمارے پاس آ جائیں اور انگلینڈ میں رہنے لگیں تو مجھے معلوم ہے کہ ان کے دل میں یہ احساس رہے گا کہ انہوں نے اپنے ملک کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور سچ کہوں تو وہ افسردہ ہو جائیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہی ان کا مقصد ہے، اور اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے والد یہاں ہمارے کرکٹ یا فٹبال میچ دیکھیں، مگر ان کا مقصد اس سے کہیں بڑا ہے، اس کا صرف احترام ہی کیا جا سکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ عمران خان کو اور کیا پیغام دینا چاہیں گے تو قاسم نے کہا، ’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں کیسے باہر نکال سکتے ہیں، ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت ہم خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، بہت سی باتیں ہیں جن پر گفتگو ہونی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جب بھی عمران خان سے بات ہوتی ہے تو وہ اپنی حالت کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم خان کے مطابق عمران خان کہتے ہیں، ’ارے، میری فکر نہ کرو، سب کیسے ہیں؟‘ اور وہ ان کی دادی لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کے بارے میں بھی پوچھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم خان نے مزید کہا، ’ہم ان سے اس وقت سے بات نہیں کر سکے جب چند ماہ قبل ان کا انتقال ہوا۔ میں اس بارے میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد لیڈی اینابیل کو اپنی ماں کہتے تھے اور ان کا رشتہ بہت قریبی تھا۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265482'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265482"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب جیل میں عمران خان کی حالت کے بارے میں پوچھا گیا تو قاسم نے کہا، ’حالات خراب نہیں، بلکہ نہایت خوفناک ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیمان خان نے کہا کہ جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے، اسے ’ڈیتھ سیل‘ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’وہاں بمشکل روشنی ہوتی ہے، کبھی بجلی بند کر دی جاتی ہے، پانی گندا ہے، یہ مکمل طور پر غیر معیاری حالات ہیں جو کسی بھی قیدی کے لیے بین الاقوامی قوانین پر پورا نہیں اترتے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر عمران خان کی موت سے متعلق افواہوں کے بارے میں پوچھے جانے پر سلیمان نے کہا کہ یہ تجربہ ’انتہائی ذہنی دباؤ‘ کا باعث تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’میں فوراً اپنے خاندانی گروپ چیٹ پر گیا کیونکہ یہی پاکستان میں ہمارے لیے واحد قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم نے کہا کہ ایسی افواہیں دیکھنا ’جھنجھوڑ دینے والا‘ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’یہ آپ کو آپ کی روزمرہ زندگی سے اچانک باہر کھینچ لاتا ہے، خاص طور پر جب ہم یہاں بیٹھ کر خود کو بالکل بے بس محسوس کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو میں یلدا حکیم نے عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کا بھی ذکر کیا جنہیں دسمبر کے آغاز میں کئی ہفتوں بعد جیل میں ملاقات کی اجازت ملی تھی۔ اس ملاقات کے بعد عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر فوجی قیادت کے خلاف ایک پوسٹ سامنے آئی، جسے جیل سے ان کا پیغام قرار دیا گیا اور اس پر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سخت پریس بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان نے اس بریفنگ میں قید سابق وزیراعظم پر غیر معمولی سخت تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ ملاقات کے بعد عظمیٰ خانم نے کیا بتایا تو سلیمان نے کہا کہ انہوں نے یقین دلایا کہ عمران خان خیریت سے ہیں مگر جیل کی صورتحال پر شدید غصے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیمان کے مطابق، ’انہوں نے  غالباً عظمیٰ خانم کے ذریعے  ایک ٹویٹ (ایکس پر پوسٹ) ڈکٹیٹ کی، اور میرا خیال ہے کہ اسی ٹویٹ کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ردعمل آیا اور انہیں مکمل طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے کہا ہے کہ انہوں نے ویزا کے لیے درخواست دے دی ہے اور وہ جنوری میں پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو جیل میں ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھا گیا ہے۔</p>
<p>سلیمان خان نے یہ بات اسکائی نیوز کی صحافی یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی، یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا جب عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر ملاقات نہ ہونے کے خلاف دیا گیا ایک اور دھرنا واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا، پارٹی کا الزام ہے کہ حکام نے ’کیمیکل ملا پانی‘ استعمال کیا۔</p>
<p>عدالتی احکامات کے باوجود جیل ملاقاتیں نہ ہونے پر عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی نے جیل میں ان کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>بدھ کی صبح نشر ہونے والے انٹرویو میں لندن میں مقیم قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا ہے؟</p>
<p>یلدا حکیم نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل وہ کہہ چکے تھے کہ انہیں ’پاکستان نہ آنے کی وارننگ دی گئی تھی‘ حالانکہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہیں ’خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ عمران خان سے ملاقات کر سکتے ہیں‘۔</p>
<p>اس پر قاسم نے کہا، ’اب ہم نے منصوبہ بنا لیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ بات کھلے عام کہی ہے۔ لہٰذا  اگر وہ اپنے الفاظ سے پیچھے نہ ہٹے تو ہمیں امید ہے کہ ہم جنوری میں جا سکیں گے، ہم نے ویزا کے لیے درخواست دے دی ہے۔ابھی ویزا نہیں آیا، مگر ہمیں امید ہے کہ آ جائے گا، اسی لیے ہم جنوری کے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=LdeMJl9OGWo'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/LdeMJl9OGWo?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعد ازاں یلدا نے ان سے پوچھا کہ وہ عمران خان سے مل کر کیا کہیں گے اور کیا وہ ان سے ’کوئی ڈیل کرنے‘ پر غور کرنے کا کہیں گے۔</p>
<p>یہ سوال بظاہر سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے عمران خان اور پاکستان کے حکمرانوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت کے حوالے سے تھا۔</p>
<p>اس پر قاسم نے وضاحت کی کہ ’آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ان کی زندگی ہے، یہ ان کا جنون اور مقصد ہے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ان کی زندگی کا مقصد ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ کوئی ڈیل کر کے ہمارے پاس آ جائیں اور انگلینڈ میں رہنے لگیں تو مجھے معلوم ہے کہ ان کے دل میں یہ احساس رہے گا کہ انہوں نے اپنے ملک کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور سچ کہوں تو وہ افسردہ ہو جائیں گے۔‘</p>
<p>’یہی ان کا مقصد ہے، اور اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے والد یہاں ہمارے کرکٹ یا فٹبال میچ دیکھیں، مگر ان کا مقصد اس سے کہیں بڑا ہے، اس کا صرف احترام ہی کیا جا سکتا ہے۔‘</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ عمران خان کو اور کیا پیغام دینا چاہیں گے تو قاسم نے کہا، ’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں کیسے باہر نکال سکتے ہیں، ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت ہم خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، بہت سی باتیں ہیں جن پر گفتگو ہونی ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جب بھی عمران خان سے بات ہوتی ہے تو وہ اپنی حالت کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔</p>
<p>قاسم خان کے مطابق عمران خان کہتے ہیں، ’ارے، میری فکر نہ کرو، سب کیسے ہیں؟‘ اور وہ ان کی دادی لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کے بارے میں بھی پوچھتے ہیں۔</p>
<p>قاسم خان نے مزید کہا، ’ہم ان سے اس وقت سے بات نہیں کر سکے جب چند ماہ قبل ان کا انتقال ہوا۔ میں اس بارے میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد لیڈی اینابیل کو اپنی ماں کہتے تھے اور ان کا رشتہ بہت قریبی تھا۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265482'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265482"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب جیل میں عمران خان کی حالت کے بارے میں پوچھا گیا تو قاسم نے کہا، ’حالات خراب نہیں، بلکہ نہایت خوفناک ہیں۔‘</p>
<p>سلیمان خان نے کہا کہ جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے، اسے ’ڈیتھ سیل‘ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’وہاں بمشکل روشنی ہوتی ہے، کبھی بجلی بند کر دی جاتی ہے، پانی گندا ہے، یہ مکمل طور پر غیر معیاری حالات ہیں جو کسی بھی قیدی کے لیے بین الاقوامی قوانین پر پورا نہیں اترتے۔‘</p>
<p>سوشل میڈیا پر عمران خان کی موت سے متعلق افواہوں کے بارے میں پوچھے جانے پر سلیمان نے کہا کہ یہ تجربہ ’انتہائی ذہنی دباؤ‘ کا باعث تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’میں فوراً اپنے خاندانی گروپ چیٹ پر گیا کیونکہ یہی پاکستان میں ہمارے لیے واحد قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔‘</p>
<p>قاسم نے کہا کہ ایسی افواہیں دیکھنا ’جھنجھوڑ دینے والا‘ ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’یہ آپ کو آپ کی روزمرہ زندگی سے اچانک باہر کھینچ لاتا ہے، خاص طور پر جب ہم یہاں بیٹھ کر خود کو بالکل بے بس محسوس کرتے ہیں۔‘</p>
<p>انٹرویو میں یلدا حکیم نے عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کا بھی ذکر کیا جنہیں دسمبر کے آغاز میں کئی ہفتوں بعد جیل میں ملاقات کی اجازت ملی تھی۔ اس ملاقات کے بعد عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر فوجی قیادت کے خلاف ایک پوسٹ سامنے آئی، جسے جیل سے ان کا پیغام قرار دیا گیا اور اس پر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سخت پریس بریفنگ دی۔</p>
<p>فوجی ترجمان نے اس بریفنگ میں قید سابق وزیراعظم پر غیر معمولی سخت تنقید کی۔</p>
<p>جب قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ ملاقات کے بعد عظمیٰ خانم نے کیا بتایا تو سلیمان نے کہا کہ انہوں نے یقین دلایا کہ عمران خان خیریت سے ہیں مگر جیل کی صورتحال پر شدید غصے میں ہیں۔</p>
<p>سلیمان کے مطابق، ’انہوں نے  غالباً عظمیٰ خانم کے ذریعے  ایک ٹویٹ (ایکس پر پوسٹ) ڈکٹیٹ کی، اور میرا خیال ہے کہ اسی ٹویٹ کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ردعمل آیا اور انہیں مکمل طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274847</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 11:20:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/17104001fdf30b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/17104001fdf30b7.webp"/>
        <media:title>سلیمان کا دعویٰ ہے کہ ان کا والد کو اس کوٹھری میں رکھا گیا ہے جس میں سزائے موت کے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ فوٹو: اسکرین شاٹ اسکائی نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی صدر نے بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274840/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بی بی سی کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں امریکی صدر کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ 6 جنوری 2021ء کو کیپیٹل ہِل پر حملے سے قبل کی گئی ان کی تقریر کو ایڈٹ کر کے نشر کیا گیا جس کے نتیجے میں ناظرین گمراہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ بی بی سی کے ایک دستاویزی پروگرام میں ان کی تقریر کے کچھ حصوں میں ترمیم کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ انہوں نے تشدد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ وہ اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق پروگرام میں ’دارالحکومت کی جانب مارچ‘ اور ’فائٹ لائیک ہیل‘ جیسے الفاظ شامل کیے گئے مگر وہ حصہ نکال دیا گیا جس میں انہوں نے پُرامن احتجاج کی بات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پسِ-منظر" href="#پسِ-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پسِ منظر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع بی بی سی کے پینوراما پروگرام سے جڑا ہے جو 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل برطانیہ میں نشر ہوا تھا تاہم اسے امریکا میں نشر نہیں کیا گیا۔ &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں  برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ٹرمپ سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تقریر میں ترمیم کرنے سے پرتشدد کارروائی کا حکم دینے کا غلط تاثر ملا ہے، وہ  یہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کے بعد ادارے کے ایڈیٹوریل معاملات پر سخت تنقید ہوئی تھی اور اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیاں بھی سامنے آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹو برائے نیوز ڈیبرہ ٹرنَس نے ادارے پر جانبداری کے الزامات لگنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا، الزامات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں مبینہ طور پر کی گئی ایڈیٹنگ بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بی بی سی کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں امریکی صدر کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ 6 جنوری 2021ء کو کیپیٹل ہِل پر حملے سے قبل کی گئی ان کی تقریر کو ایڈٹ کر کے نشر کیا گیا جس کے نتیجے میں ناظرین گمراہ ہوئے۔</p>
<p>فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ بی بی سی کے ایک دستاویزی پروگرام میں ان کی تقریر کے کچھ حصوں میں ترمیم کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ انہوں نے تشدد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ وہ اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ </p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق پروگرام میں ’دارالحکومت کی جانب مارچ‘ اور ’فائٹ لائیک ہیل‘ جیسے الفاظ شامل کیے گئے مگر وہ حصہ نکال دیا گیا جس میں انہوں نے پُرامن احتجاج کی بات کی تھی۔</p>
<h2><a id="پسِ-منظر" href="#پسِ-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پسِ منظر</h2>
<p>یہ تنازع بی بی سی کے پینوراما پروگرام سے جڑا ہے جو 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل برطانیہ میں نشر ہوا تھا تاہم اسے امریکا میں نشر نہیں کیا گیا۔ </p>
<p>بعد ازاں  برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ٹرمپ سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تقریر میں ترمیم کرنے سے پرتشدد کارروائی کا حکم دینے کا غلط تاثر ملا ہے، وہ  یہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کرے گا۔</p>
<p>اس معاملے کے بعد ادارے کے ایڈیٹوریل معاملات پر سخت تنقید ہوئی تھی اور اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیاں بھی سامنے آئی تھیں۔</p>
<p>بعد ازاں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹو برائے نیوز ڈیبرہ ٹرنَس نے ادارے پر جانبداری کے الزامات لگنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا، الزامات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں مبینہ طور پر کی گئی ایڈیٹنگ بھی شامل تھی۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274840</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 12:06:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/16120445c39b088.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/16120445c39b088.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور امریکا کا 60 سالہ پرانا خفیہ مشن، جوہری آلے کی گمشدگی پر کیسے ختم ہوا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274830/himalia-men-cia-ka-johri-aala-gum-lakhon-afrad-kay-liye-khatra</link>
      <description>&lt;p&gt;سرد جنگ کے عروج پر بھارتی ہمالیہ میں ایک خفیہ سی آئی اے مشن حیران کن ناکامی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک پر پلوٹونیم سے چلنے والا جوہری آلہ غائب ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961177/when-the-cia-lost-a-nuclear-device-in-the-himalayas"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تقریباً 60 سال بعد بھی امریکی حکومت اس واقعے کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جبکہ خدشات موجود ہیں کہ یہ آلہ گنگا ندی پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ماحولیاتی اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/interactive/2025/12/13/world/asia/cia-nuclear-device-himalayas-nanda-devi.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خفیہ مشن میں امریکی اور بھارتی کوہ پیماؤں نے نندا دیوی، بھارت کے دوسرے بلند ترین پہاڑ  پر چڑھ کر ایک جوہری توانائی سے چلنے والے نگرانی اسٹیشن کو نصب کرنا تھا تاکہ چین کے میزائل پروگرام کی نگرانی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنریٹر جسے SNAP-19C کہا جاتا ہے، انتہائی تابکار پلوٹونیم سے چلتا تھا اور ایک انٹینا کو توانائی فراہم کرتا تھا جو چینی جوہری تجربات کی ٹیلی میٹری حاصل کر سکتا تھا۔ اس میں شامل Pu-239 وہی آئسوٹوپ ہے جو ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بم میں استعمال ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنریٹر چینی جوہری تجربات کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن ایک برفانی طوفان کے دوران نندا دیوی کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسے آج تک بازیاب نہیں کیا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965 میں جب کوہ پیما چوٹی کے قریب پہنچے تو ایک شدید طوفان کی وجہ سے انہیں فوری واپس جانا پڑا، زندگیاں بچانے کے لیے مشن کے قائد نے ٹیم کو ہدایت دی کہ آلات کو چوٹی کے قریب محفوظ کر کے فوری طور پر نیچے اتر جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 50 پاؤنڈ وزنی یہ جنریٹر وہیں چھوڑ دیا گیا اور اگلے سال جب کوہ پیما واپس آئے تو یہ حیران کن طور پر غائب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہمالیائی برفانی تودہ (Avalanche) نے جنریٹر کے محفوظ مقام کو اڑا دیا تھا، متعدد تلاش مہمات، تابکاری ڈیٹیکٹر اور دھات کے سینسر استعمال کرنے کے باوجود یہ جنریٹر کبھی نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اِس نقصان نے سی آئی اے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی اور واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں تشویش پیدا کر دی، جس سے کئی دہائیوں پر محیط ایک پردہ پوشی (Cover-up) شروع ہو گئی جسے صدر جمی کارٹر جیسے لوگوں نے جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پلوٹونیم سے چلنے والا آلہ اب بھی غالباً نندا دیوی کے برفانی گلیشیئرز کے نیچے دفن ہے، جہاں سے گنگا ندی کو پانی مہیا ہوتا ہے، اگرچہ 1970 کی دہائی میں کیے گئے سائنسی مطالعے میں پانی میں کوئی آلودگی نہیں پائی گئی اور خطرے کو کم قرار دیا گیا مگر خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، خاص طور پر ہمالیہ کے گلیشیئرز کے تیز رفتاری سے پگھلنے کے پیش نظر یہ خطرات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ 1978 میں منظر عام پر آیا جب ایک تحقیقی رپورٹر نے مشن کی پتا لگایا، جس سے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا۔ ارکان پارلیمان نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے سی آئی اے کو بھارتی زمین پر خفیہ کارروائی کی اجازت دی جبکہ اس واقعے پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے کہا کہ ایجنسی نے بھارت کی مقدس ندی کے ماخذ کو خطرے میں ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی کلاسفائیڈ سفارتی خطوط سے پتا چلتا ہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم مورارجی دیسائی نے خاموشی سے اس واقعے کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی یہ معما برقرار ہے، بھارتی سیاستدان، ماحولیاتی کارکن اور نندا دیوی کے قریب رہنے والے گاؤں والے دوبارہ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنریٹر کو ڈھونڈا اور ہٹایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے پر یہ جنریٹر ظاہر ہو سکتا ہے، یا اس کا تابکار مواد غلط استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سرد جنگ کے عروج پر بھارتی ہمالیہ میں ایک خفیہ سی آئی اے مشن حیران کن ناکامی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک پر پلوٹونیم سے چلنے والا جوہری آلہ غائب ہوگیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1961177/when-the-cia-lost-a-nuclear-device-in-the-himalayas"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تقریباً 60 سال بعد بھی امریکی حکومت اس واقعے کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جبکہ خدشات موجود ہیں کہ یہ آلہ گنگا ندی پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ماحولیاتی اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/interactive/2025/12/13/world/asia/cia-nuclear-device-himalayas-nanda-devi.html"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>اس خفیہ مشن میں امریکی اور بھارتی کوہ پیماؤں نے نندا دیوی، بھارت کے دوسرے بلند ترین پہاڑ  پر چڑھ کر ایک جوہری توانائی سے چلنے والے نگرانی اسٹیشن کو نصب کرنا تھا تاکہ چین کے میزائل پروگرام کی نگرانی کی جا سکے۔</p>
<p>یہ جنریٹر جسے SNAP-19C کہا جاتا ہے، انتہائی تابکار پلوٹونیم سے چلتا تھا اور ایک انٹینا کو توانائی فراہم کرتا تھا جو چینی جوہری تجربات کی ٹیلی میٹری حاصل کر سکتا تھا۔ اس میں شامل Pu-239 وہی آئسوٹوپ ہے جو ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بم میں استعمال ہوا تھا۔</p>
<p>یہ جنریٹر چینی جوہری تجربات کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن ایک برفانی طوفان کے دوران نندا دیوی کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسے آج تک بازیاب نہیں کیا جا سکا۔</p>
<p>1965 میں جب کوہ پیما چوٹی کے قریب پہنچے تو ایک شدید طوفان کی وجہ سے انہیں فوری واپس جانا پڑا، زندگیاں بچانے کے لیے مشن کے قائد نے ٹیم کو ہدایت دی کہ آلات کو چوٹی کے قریب محفوظ کر کے فوری طور پر نیچے اتر جائیں۔</p>
<p>تقریباً 50 پاؤنڈ وزنی یہ جنریٹر وہیں چھوڑ دیا گیا اور اگلے سال جب کوہ پیما واپس آئے تو یہ حیران کن طور پر غائب تھا۔</p>
<p>ایک ہمالیائی برفانی تودہ (Avalanche) نے جنریٹر کے محفوظ مقام کو اڑا دیا تھا، متعدد تلاش مہمات، تابکاری ڈیٹیکٹر اور دھات کے سینسر استعمال کرنے کے باوجود یہ جنریٹر کبھی نہیں ملا۔</p>
<p>اِس نقصان نے سی آئی اے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی اور واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں تشویش پیدا کر دی، جس سے کئی دہائیوں پر محیط ایک پردہ پوشی (Cover-up) شروع ہو گئی جسے صدر جمی کارٹر جیسے لوگوں نے جاری رکھا۔</p>
<p>یہ پلوٹونیم سے چلنے والا آلہ اب بھی غالباً نندا دیوی کے برفانی گلیشیئرز کے نیچے دفن ہے، جہاں سے گنگا ندی کو پانی مہیا ہوتا ہے، اگرچہ 1970 کی دہائی میں کیے گئے سائنسی مطالعے میں پانی میں کوئی آلودگی نہیں پائی گئی اور خطرے کو کم قرار دیا گیا مگر خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، خاص طور پر ہمالیہ کے گلیشیئرز کے تیز رفتاری سے پگھلنے کے پیش نظر یہ خطرات برقرار ہیں۔</p>
<p>یہ واقعہ 1978 میں منظر عام پر آیا جب ایک تحقیقی رپورٹر نے مشن کی پتا لگایا، جس سے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا۔ ارکان پارلیمان نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے سی آئی اے کو بھارتی زمین پر خفیہ کارروائی کی اجازت دی جبکہ اس واقعے پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے کہا کہ ایجنسی نے بھارت کی مقدس ندی کے ماخذ کو خطرے میں ڈال دیا۔</p>
<p>ڈی کلاسفائیڈ سفارتی خطوط سے پتا چلتا ہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم مورارجی دیسائی نے خاموشی سے اس واقعے کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>آج بھی یہ معما برقرار ہے، بھارتی سیاستدان، ماحولیاتی کارکن اور نندا دیوی کے قریب رہنے والے گاؤں والے دوبارہ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنریٹر کو ڈھونڈا اور ہٹایا جائے۔</p>
<p>کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے پر یہ جنریٹر ظاہر ہو سکتا ہے، یا اس کا تابکار مواد غلط استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274830</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 13:14:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1513085782cee04.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1513085782cee04.webp"/>
        <media:title>کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے پر یہ جنریٹر ظاہر ہو سکتا ہے، یا اس کا تابکار مواد غلط استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد ٹیرف ختم کرنے کیلئے امریکی کانگریس میں قرارداد پیش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274823/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد ٹیرف کو ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس میں ایک قرارداد پیش کردی گئی، یہ قرارداد کانگریس کے ارکان راجا کرشنامورتی، ڈیبورا روز اور مارک وی سی کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد 50 فیصد ٹیرف کو ختم کرنا اور تجارت پر امریکی کانگریس کے آئینی اختیار کو بحال کرنا بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجا کرشنامورتی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بھارت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ ٹیرف کی حکمت عملی ایک اہم شراکت داری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268186'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268186"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کے بجائے، یہ ٹیرف سپلائی چین میں خلل ڈالتے ہیں، امریکی ورکروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور صارفین کے لیے لاگت میں اضافہ کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مارک وی سی کا کہنا ہے بھارت ایک اہم اقتصادی اور اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور یہ غیر قانونی ٹیرف عام لوگوں پر ایک طرح کا ٹیکس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں سال بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں۔ ابتدائی طور پر انہوں نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا لیکن اگست میں، روس سے تیل کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد ٹیرف کو ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس میں ایک قرارداد پیش کردی گئی، یہ قرارداد کانگریس کے ارکان راجا کرشنامورتی، ڈیبورا روز اور مارک وی سی کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>قرارداد کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد 50 فیصد ٹیرف کو ختم کرنا اور تجارت پر امریکی کانگریس کے آئینی اختیار کو بحال کرنا بتایا گیا ہے۔</p>
<p>راجا کرشنامورتی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بھارت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ ٹیرف کی حکمت عملی ایک اہم شراکت داری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268186'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268186"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کے بجائے، یہ ٹیرف سپلائی چین میں خلل ڈالتے ہیں، امریکی ورکروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور صارفین کے لیے لاگت میں اضافہ کرتے ہیں۔‘</p>
<p>دوسری جانب مارک وی سی کا کہنا ہے بھارت ایک اہم اقتصادی اور اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور یہ غیر قانونی ٹیرف عام لوگوں پر ایک طرح کا ٹیکس ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں سال بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں۔ ابتدائی طور پر انہوں نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا لیکن اگست میں، روس سے تیل کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274823</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 16:40:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131637372cd7aa3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131637372cd7aa3.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں ’اسٹیبلائزیشن فورس‘کی تعیناتی نئے سال کے آغاز میں ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274817/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق، غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے اختیار کے تحت ایک عالمی استحکامی فورس (اسٹیبلائزیشن فورس) تعینات کی جا سکتی ہے، جس میں بین الاقوامی فوجی دستے شامل ہوں گے، اور اس کی تعیناتی ممکنہ طور پر اگلے ماہ ہی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس بات پر ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ حماس کو غیر مسلح کیسے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960869"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک امریکی ٹو اسٹار جنرل کو اس فورس کی قیادت کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فورس کی تعیناتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا ایک اہم حصہ ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت دو سالہ جنگ میں ایک عاضی جنگ بندی کا آغاز 10 اکتوبر کو ہوا، جس کے بعد حماس نے یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیل نے زیرِ حراست فلسطینیوں کو آزادی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ “امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے اس وقت پسِ پردہ کافی خاموش منصوبہ بندی جاری ہے۔ ہم ایک دیرپا اور مستقل امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں صحت اور تعمیر نو سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے 20 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشی وزارتِ دفاع کے ترجمان ریکو سریات نے کہا کہ “یہ معاملہ ابھی منصوبہ بندی اور تیاری کے مراحل میں ہے۔ ہم تعینات کی جانے والی فورس کے تنظیمی ڈھانچے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" href="#غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غزہ کو غیر فوجی بنانے کا عمل&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بین الاقوامی استحکامی فورس کو اجازت دی ہے کہ وہ نئی تربیت یافتہ اور جانچ پڑتال سے گزرنے والی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی کو مستحکم کرے۔ اس میں غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے کا عمل شامل ہے، جس کے تحت عسکری، دہشت گرد اور ان کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا، ان کی دوبارہ تعمیر کو روکنا، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ عمل عملی طور پر کیسے انجام دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے جمعرات کو کہا کہ سلامتی کونسل نے اس فورس کو غزہ کو غیر فوجی بنانے کے لیے ہر ضروری ذریعے، بشمول طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ “یقیناً یہ ہر ملک کے ساتھ بات چیت کا موضوع ہو گا،” اور کہا کہ فورس کے قواعدِ کار (Rules of Engagement) پر مشاورت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس سے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر ثالثوں امریکا، مصر اور قطر  نے باضابطہ طور پر کوئی بات نہیں کی، اور تنظیم کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" href="#یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ادھر جمعے کو آٹھ مسلم اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان پر سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ ان ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ “اقوامِ متحدہ کا فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ادارہ (یو این آر ڈبلیو اے) فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے امور کی دیکھ بھال میں ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یو این آر ڈبلیو اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق، غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے اختیار کے تحت ایک عالمی استحکامی فورس (اسٹیبلائزیشن فورس) تعینات کی جا سکتی ہے، جس میں بین الاقوامی فوجی دستے شامل ہوں گے، اور اس کی تعیناتی ممکنہ طور پر اگلے ماہ ہی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس بات پر ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ حماس کو غیر مسلح کیسے کیا جائے گا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1960869"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک امریکی ٹو اسٹار جنرل کو اس فورس کی قیادت کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p>اس فورس کی تعیناتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا ایک اہم حصہ ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت دو سالہ جنگ میں ایک عاضی جنگ بندی کا آغاز 10 اکتوبر کو ہوا، جس کے بعد حماس نے یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیل نے زیرِ حراست فلسطینیوں کو آزادی دی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ “امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے اس وقت پسِ پردہ کافی خاموش منصوبہ بندی جاری ہے۔ ہم ایک دیرپا اور مستقل امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔”</p>
<p>انڈونیشیا نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں صحت اور تعمیر نو سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے 20 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>انڈونیشی وزارتِ دفاع کے ترجمان ریکو سریات نے کہا کہ “یہ معاملہ ابھی منصوبہ بندی اور تیاری کے مراحل میں ہے۔ ہم تعینات کی جانے والی فورس کے تنظیمی ڈھانچے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔”</p>
<h2><a id="غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" href="#غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غزہ کو غیر فوجی بنانے کا عمل</h2>
<p>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بین الاقوامی استحکامی فورس کو اجازت دی ہے کہ وہ نئی تربیت یافتہ اور جانچ پڑتال سے گزرنے والی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی کو مستحکم کرے۔ اس میں غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے کا عمل شامل ہے، جس کے تحت عسکری، دہشت گرد اور ان کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا، ان کی دوبارہ تعمیر کو روکنا، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنانا شامل ہے۔</p>
<p>تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ عمل عملی طور پر کیسے انجام دیا جائے گا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے جمعرات کو کہا کہ سلامتی کونسل نے اس فورس کو غزہ کو غیر فوجی بنانے کے لیے ہر ضروری ذریعے، بشمول طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ “یقیناً یہ ہر ملک کے ساتھ بات چیت کا موضوع ہو گا،” اور کہا کہ فورس کے قواعدِ کار (Rules of Engagement) پر مشاورت جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس سے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر ثالثوں امریکا، مصر اور قطر  نے باضابطہ طور پر کوئی بات نہیں کی، اور تنظیم کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔</p>
<h2><a id="یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" href="#یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت</h2>
<p>ادھر جمعے کو آٹھ مسلم اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔</p>
<p>بیان پر سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ ان ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ “اقوامِ متحدہ کا فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ادارہ (یو این آر ڈبلیو اے) فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے امور کی دیکھ بھال میں ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے۔”</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یو این آر ڈبلیو اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274817</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 13:16:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131314343dfa172.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131314343dfa172.webp"/>
        <media:title>فلسطینی تباہ شدہ ملبے کے درمیان بنے راستے سے گزر رہے ہیں۔ تصویر رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے پاکستان کےF-16 طیاروں کیلئے جدید ٹیکنالوجی فروخت کرنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274795/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ بات امریکی ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کی جانب سے 8 دسمبر کو کانگریس کو بھیجے گئے خط میں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروخت میں لنک16 سسٹمز، کرپٹوگرافک آلات، ایویونکس اپ گریڈ، تربیت اور مکمل لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس سی اے نے خط میں کہا کہ یہ فروخت امریکا کی خارجہ اور قومی سلامتی کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور مستقبل کے ممکنہ آپریشنز میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ انٹرآپریبلٹی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط کے مطابق یہ فروخت پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو جدید بنانے، اس کی حفاظت بہتر کرنے اور اسے موجودہ و مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانے میں معاون ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1253934'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اپ گریڈ سے بلاک–52 اور Mid Life Upgrade ایف-16 طیاروں کے استعمال کی مدت 2040 تک بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے کہا کہ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو آسانی سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ فروخت خطے میں طاقت کا توازن بھی نہیں بدلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کا مرکزی کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن ہوگا اور اس پر عملدرآمد کے لیے پاکستان میں کسی اضافی امریکی اہلکار کی ضرورت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے اس پیکیج میں 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا بڑی دفاعی سازوسامان شامل ہے، جس میں 92 لنک16 ڈیٹا لنک سسٹمز اور 6 غیر دھماکا خیز Mk–82 بم باڈیز شامل ہیں۔ باقی 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے آلات میں جدید شناختی سسٹمز، کرپٹوگرافک ماڈیولز، سافٹ ویئر و ہارڈویئر اپ گریڈ، تربیت، سمیولیٹرز، اسپئیر پارٹس اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 2021 میں ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن کی درخواست دی تھی، تاہم امریکا نے اس کا جواب مؤخر کر دیا تھا۔ اب جبکہ پاکستان دیگر لڑاکا پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کر رہا ہے، وہ پھر بھی اس پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے، کیونکہ اس سے ایف-16 طیاروں کی آپریشنل عمر 2040 تک بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط کے مطابق یہ فروخت پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے چلانے میں مدد دے گی اور امریکا کے خارجہ و سیکیورٹی مقاصد کو بھی تقویت دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ بات امریکی ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کی جانب سے 8 دسمبر کو کانگریس کو بھیجے گئے خط میں بتائی گئی۔</p>
<p>فروخت میں لنک16 سسٹمز، کرپٹوگرافک آلات، ایویونکس اپ گریڈ، تربیت اور مکمل لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔</p>
<p>ڈی ایس سی اے نے خط میں کہا کہ یہ فروخت امریکا کی خارجہ اور قومی سلامتی کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور مستقبل کے ممکنہ آپریشنز میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ انٹرآپریبلٹی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>خط کے مطابق یہ فروخت پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو جدید بنانے، اس کی حفاظت بہتر کرنے اور اسے موجودہ و مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانے میں معاون ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1253934'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس اپ گریڈ سے بلاک–52 اور Mid Life Upgrade ایف-16 طیاروں کے استعمال کی مدت 2040 تک بڑھ جائے گی۔</p>
<p>امریکا نے کہا کہ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو آسانی سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ فروخت خطے میں طاقت کا توازن بھی نہیں بدلے گی۔</p>
<p>اس معاہدے کا مرکزی کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن ہوگا اور اس پر عملدرآمد کے لیے پاکستان میں کسی اضافی امریکی اہلکار کی ضرورت نہیں ہوگی۔</p>
<p>کل 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے اس پیکیج میں 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا بڑی دفاعی سازوسامان شامل ہے، جس میں 92 لنک16 ڈیٹا لنک سسٹمز اور 6 غیر دھماکا خیز Mk–82 بم باڈیز شامل ہیں۔ باقی 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے آلات میں جدید شناختی سسٹمز، کرپٹوگرافک ماڈیولز، سافٹ ویئر و ہارڈویئر اپ گریڈ، تربیت، سمیولیٹرز، اسپئیر پارٹس اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔</p>
<p>پاکستان نے 2021 میں ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن کی درخواست دی تھی، تاہم امریکا نے اس کا جواب مؤخر کر دیا تھا۔ اب جبکہ پاکستان دیگر لڑاکا پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کر رہا ہے، وہ پھر بھی اس پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے، کیونکہ اس سے ایف-16 طیاروں کی آپریشنل عمر 2040 تک بڑھ جائے گی۔</p>
<p>خط کے مطابق یہ فروخت پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے چلانے میں مدد دے گی اور امریکا کے خارجہ و سیکیورٹی مقاصد کو بھی تقویت دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274795</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 19:24:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/11113405c54247f.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/11113405c54247f.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس نے منگولیا کو 7 کروڑ سال پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ واپس کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274753/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس نے منگولیا کو 7 کروڑ سال پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ واپس کر دیا، جو گو بی صحرا سے لوٹ کر اسمگل کیا گیا تھا، اور بعد میں فرانسیسی کسٹمز کے قبضے میں آ گیا تھا، اور ایشیائی ملک اپنی کھوئی ہوئی قدیم اشیا کی بازیابی کے لیے کوشاں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960076/france-returns-smuggled-dinosaur-skeleton-to-mongolia"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ انتہائی نایاب فوسل ایک ڈائنا سور کا ہے، جسے خوفناک ٹائیرانو سورس &lt;strong&gt;ریکس&lt;/strong&gt; کا ایشیائی رشتہ دار سمجھا جاتا ہے، اور اسے 2015 میں فرانسیسی حکام نے ضبط کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کی وزیر امیلی ڈی مونچالن نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران ڈائناسور کے انڈے اور دیگر اشیا سمیت یہ اسکلیٹن منگولیا کی وزیر ثقافت و کھیل انڈرام چین بات کے حوالے کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268325'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈی مونچالن نے کہا کہ آج گو بی صحرا کا ایک حصہ واپس اپنے وطن لوٹ رہا ہے، یہ ایک طویل اور محتاط تحقیقات کا نتیجہ ہے، یہ ایک سائنسی اور ثقافتی خزانے کی واپسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائناسور کا اسکلیٹن گو بی صحرا سے لوٹا گیا تھا، اس کے بعد یہ جنوبی کوریا سے گزرا اور فروری 2015 میں فرانس کے وسطی کسٹمز کے ذریعے ضبط کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین بات نے کہا کہ میرے اور تمام منگول عوام کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ ہمارے ڈائناسور کے فوسلز واپس آئیں، انہوں نے فرانس کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ فوسلز اس میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے جائیں گے، جسے منگولیا مستقبل قریب میں قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین بات نے مزید کہا کہ تب تک یہ فوسلز واپس بھیجے جائیں گے، ان کا مطالعہ کیا جائے گا اور انہیں بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس نے منگولیا کو 7 کروڑ سال پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ واپس کر دیا، جو گو بی صحرا سے لوٹ کر اسمگل کیا گیا تھا، اور بعد میں فرانسیسی کسٹمز کے قبضے میں آ گیا تھا، اور ایشیائی ملک اپنی کھوئی ہوئی قدیم اشیا کی بازیابی کے لیے کوشاں تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1960076/france-returns-smuggled-dinosaur-skeleton-to-mongolia"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ انتہائی نایاب فوسل ایک ڈائنا سور کا ہے، جسے خوفناک ٹائیرانو سورس <strong>ریکس</strong> کا ایشیائی رشتہ دار سمجھا جاتا ہے، اور اسے 2015 میں فرانسیسی حکام نے ضبط کیا تھا۔</p>
<p>پبلک اکاؤنٹس کی وزیر امیلی ڈی مونچالن نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران ڈائناسور کے انڈے اور دیگر اشیا سمیت یہ اسکلیٹن منگولیا کی وزیر ثقافت و کھیل انڈرام چین بات کے حوالے کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268325'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈی مونچالن نے کہا کہ آج گو بی صحرا کا ایک حصہ واپس اپنے وطن لوٹ رہا ہے، یہ ایک طویل اور محتاط تحقیقات کا نتیجہ ہے، یہ ایک سائنسی اور ثقافتی خزانے کی واپسی ہے۔</p>
<p>ڈائناسور کا اسکلیٹن گو بی صحرا سے لوٹا گیا تھا، اس کے بعد یہ جنوبی کوریا سے گزرا اور فروری 2015 میں فرانس کے وسطی کسٹمز کے ذریعے ضبط کیا گیا۔</p>
<p>چین بات نے کہا کہ میرے اور تمام منگول عوام کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ ہمارے ڈائناسور کے فوسلز واپس آئیں، انہوں نے فرانس کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ فوسلز اس میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے جائیں گے، جسے منگولیا مستقبل قریب میں قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>چین بات نے مزید کہا کہ تب تک یہ فوسلز واپس بھیجے جائیں گے، ان کا مطالعہ کیا جائے گا اور انہیں بحال کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274753</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 13:15:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09123735f040645.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09123735f040645.gif"/>
        <media:title>فرانسیسی وزیر نے کہا کہ آج گو بی صحرا کا ایک حصہ واپس اپنے وطن لوٹ رہا ہے، یہ سائنسی اور ثقافتی خزانے کی واپسی ہے۔ —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگ چکے، امریکی رپورٹ میں تصدیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274701/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی نگرانی کی حتمی رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ 2021 میں افغانستان سے واپسی کے دوران چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار، فوجی سامان اور سیکیورٹی انفرااسٹرکچر اب طالبان کی سیکیورٹی مشینری کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متوازی طور پر اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں اور واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ہتھیاروں میں سے کچھ پہلے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) تک پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستان میں حملوں میں شدت آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے جاری کی گئی 137 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو ’اسپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘ (SIGAR) نے جاری کیا ہے، جو افغانستان میں دو دہائیوں تک امریکی منصوبے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کانگریس نے 2002 سے 2021 تک افغانستان کی تعمیر نو اور جمہوری منتقلی کے لیے تقریباً 144 ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کیے، لیکن آخرکار نہ تو تعمیر نو ہوئی اور نہ ہی جمہوری منتقلی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265394'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265394"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے حالیہ جائزے اس ناکامی کے علاقائی اثرات کو مزید واضح کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ایک پینل نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کر رہے ہیں، جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے دستاویزی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ درجنوں امریکی ساختہ ہتھیار اب پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں، جو ریاست کو نشانہ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگار کی رپورٹ کے مطابق اس ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی ایک وجہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں نگرانی کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے قبضے کی وجہ سے سگار کو افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کو فراہم کیے گئے کسی بھی سامان یا بنائے گئے سہولتوں کی تفتیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 7 ارب ڈالر 10 کروڑ مالیت کا امریکی فراہم کردہ سامان چھوڑا گیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز اور 160 سے زیادہ طیارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منتقلی کے اثرات اب پاکستان میں ظاہر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں پکڑے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز افغان فورسز کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں سے میل کھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے کچھ رائفلز اور کاربائنس ’اس سے کہیں زیادہ بہتر’ ہیں جو 2021 سے پہلے ٹی ٹی پی کے جنگجو استعمال کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس تشویش کی بازگشت کرتی ہیں، 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ (2025) میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان کے غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، اوروزگان، اور زابل صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ تربیتی سہولتوں کا اشتراک کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن لینڈی نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کو کابل میں حکام کی طرف سے لاجسٹک اور اہم مدد مل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274426'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274426"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پہلے کے اقوام متحدہ کے رپورٹس میں طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو مہمان خانوں کی فراہمی، ہتھیاروں کی اجازت، نقل و حرکت کی اجازت، اور گرفتاری سے آزادی جیسے انتظامات کی تفصیل دی گئی ہے، جنہوں نے گروپ کو افغان علاقے میں مزید گہرا اثر رسوخ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگار کی 2025 کی سہ ماہی رپورٹس میں بھی سرحد پار حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنوبی وزیرستان میں ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں 16 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگار کی حتمی رپورٹ امریکی سرمایہ کاری کے حجم اور افغانستان کے سیکیورٹی شعبے میں اس کی بے کار ہونے کا دوبارہ جائزہ بھی پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2002 سے جون 2025 تک، واشنگٹن نے اے این ڈی ایس ایف  کے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، اور سامان کے لیے 13 ارب 20کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویژن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے، جولائی 2021 تک (جب افغان حکومت کا سقوط ہوا) افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے، جن میں سے تقریباً تمام اب طالبان کے زیر قبضہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید 11 ارب 50 کروڑ ڈالر افغان بیسوں، ہیڈکوارٹرز، اور تربیتی سہولتوں کی تعمیر پر خرچ کیے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا امریکی معائنہ کاروں کے لیے مکمل طور پر ناقابل رسائی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا کی افغانستان میں ایک مستحکم اور جمہوری حکومت بنانے کی خواہش شروع ہی سے غلط مفروضوں اور غیر ہم آہنگ شراکت داریوں کی وجہ سے ناکام ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگار کے مطابق، ابتدائی امریکی فیصلوں نے ’کرپٹ، حقوق کی پامالی کرنے والے طاقتور افراد‘ کی حمایت کی، جس سے حکمرانی کو نقصان پہنچا، اور باغی گروپوں کی بھرتی کو تقویت ملی، اور آخرکار وہ ادارے جو امریکا تعمیر کرنا چاہتا تھا، وہ کمزور ہو گئے، نگرانی کا اندازہ ہے کہ 29 ارب ڈالر ضیاع، دھوکا دہی اور بدعنوانی کی نذر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی قیمت کہیں زیادہ تھی، دسیوں ہزار افغان اور 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اور اس کے باوجود طالبان کا اقتدار بحال ہو گیا، جو اب وہی سامان استعمال کر رہے ہیں جو امریکا نے اپنے حریفوں کے لیے خریدا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ناکامی کے باوجود، امریکا افغانستان کا سب سے بڑا معاون رہا ہے، جس نے اگست 2021 کے بعد سے 3 ارب 83 کروڑ ڈالر سے زائد کی انسانی امداد اور ترقیاتی معاونت فراہم کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب بھی انسانی ذمہ داریوں اور سیکیورٹی کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی سگار اپنے مشن کا اختتام کرتا ہے، یہ حتمی رپورٹ ایک پُر اعتماد انتباہ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کا تجربہ کسی بھی مستقبل میں کمزور ریاستوں کی تعمیر نو کے لیے ایک احتیاطی سبق ہونا چاہیے، یہ ایک ناکامی ہے جس کے اثرات اب وسیع تر علاقے کی سیکیورٹی منظرنامے کو نئی شکل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی نگرانی کی حتمی رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ 2021 میں افغانستان سے واپسی کے دوران چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار، فوجی سامان اور سیکیورٹی انفرااسٹرکچر اب طالبان کی سیکیورٹی مشینری کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔</p>
<p>متوازی طور پر اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں اور واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ہتھیاروں میں سے کچھ پہلے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) تک پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستان میں حملوں میں شدت آئی ہے۔</p>
<p>اس ہفتے جاری کی گئی 137 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو ’اسپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘ (SIGAR) نے جاری کیا ہے، جو افغانستان میں دو دہائیوں تک امریکی منصوبے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کانگریس نے 2002 سے 2021 تک افغانستان کی تعمیر نو اور جمہوری منتقلی کے لیے تقریباً 144 ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کیے، لیکن آخرکار نہ تو تعمیر نو ہوئی اور نہ ہی جمہوری منتقلی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265394'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265394"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اقوام متحدہ کے حالیہ جائزے اس ناکامی کے علاقائی اثرات کو مزید واضح کرتے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ایک پینل نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کر رہے ہیں، جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے دستاویزی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ درجنوں امریکی ساختہ ہتھیار اب پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں، جو ریاست کو نشانہ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>سگار کی رپورٹ کے مطابق اس ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی ایک وجہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں نگرانی کی کمی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے قبضے کی وجہ سے سگار کو افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کو فراہم کیے گئے کسی بھی سامان یا بنائے گئے سہولتوں کی تفتیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔</p>
<p>امریکی محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 7 ارب ڈالر 10 کروڑ مالیت کا امریکی فراہم کردہ سامان چھوڑا گیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز اور 160 سے زیادہ طیارے شامل ہیں۔</p>
<p>اس منتقلی کے اثرات اب پاکستان میں ظاہر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں پکڑے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز افغان فورسز کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں سے میل کھاتے ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے کچھ رائفلز اور کاربائنس ’اس سے کہیں زیادہ بہتر’ ہیں جو 2021 سے پہلے ٹی ٹی پی کے جنگجو استعمال کرتے تھے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس تشویش کی بازگشت کرتی ہیں، 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ (2025) میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان کے غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، اوروزگان، اور زابل صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ تربیتی سہولتوں کا اشتراک کرتے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن لینڈی نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کو کابل میں حکام کی طرف سے لاجسٹک اور اہم مدد مل رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274426'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274426"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پہلے کے اقوام متحدہ کے رپورٹس میں طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو مہمان خانوں کی فراہمی، ہتھیاروں کی اجازت، نقل و حرکت کی اجازت، اور گرفتاری سے آزادی جیسے انتظامات کی تفصیل دی گئی ہے، جنہوں نے گروپ کو افغان علاقے میں مزید گہرا اثر رسوخ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔</p>
<p>سگار کی 2025 کی سہ ماہی رپورٹس میں بھی سرحد پار حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنوبی وزیرستان میں ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں 16 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔</p>
<p>سگار کی حتمی رپورٹ امریکی سرمایہ کاری کے حجم اور افغانستان کے سیکیورٹی شعبے میں اس کی بے کار ہونے کا دوبارہ جائزہ بھی پیش کرتی ہے۔</p>
<p>2002 سے جون 2025 تک، واشنگٹن نے اے این ڈی ایس ایف  کے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، اور سامان کے لیے 13 ارب 20کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی۔</p>
<p>امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویژن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے، جولائی 2021 تک (جب افغان حکومت کا سقوط ہوا) افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے، جن میں سے تقریباً تمام اب طالبان کے زیر قبضہ ہیں۔</p>
<p>مزید 11 ارب 50 کروڑ ڈالر افغان بیسوں، ہیڈکوارٹرز، اور تربیتی سہولتوں کی تعمیر پر خرچ کیے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا امریکی معائنہ کاروں کے لیے مکمل طور پر ناقابل رسائی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا کی افغانستان میں ایک مستحکم اور جمہوری حکومت بنانے کی خواہش شروع ہی سے غلط مفروضوں اور غیر ہم آہنگ شراکت داریوں کی وجہ سے ناکام ہوئی۔</p>
<p>سگار کے مطابق، ابتدائی امریکی فیصلوں نے ’کرپٹ، حقوق کی پامالی کرنے والے طاقتور افراد‘ کی حمایت کی، جس سے حکمرانی کو نقصان پہنچا، اور باغی گروپوں کی بھرتی کو تقویت ملی، اور آخرکار وہ ادارے جو امریکا تعمیر کرنا چاہتا تھا، وہ کمزور ہو گئے، نگرانی کا اندازہ ہے کہ 29 ارب ڈالر ضیاع، دھوکا دہی اور بدعنوانی کی نذر ہوئے۔</p>
<p>انسانی قیمت کہیں زیادہ تھی، دسیوں ہزار افغان اور 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اور اس کے باوجود طالبان کا اقتدار بحال ہو گیا، جو اب وہی سامان استعمال کر رہے ہیں جو امریکا نے اپنے حریفوں کے لیے خریدا تھا۔</p>
<p>اس ناکامی کے باوجود، امریکا افغانستان کا سب سے بڑا معاون رہا ہے، جس نے اگست 2021 کے بعد سے 3 ارب 83 کروڑ ڈالر سے زائد کی انسانی امداد اور ترقیاتی معاونت فراہم کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب بھی انسانی ذمہ داریوں اور سیکیورٹی کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔</p>
<p>جیسے ہی سگار اپنے مشن کا اختتام کرتا ہے، یہ حتمی رپورٹ ایک پُر اعتماد انتباہ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>اس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کا تجربہ کسی بھی مستقبل میں کمزور ریاستوں کی تعمیر نو کے لیے ایک احتیاطی سبق ہونا چاہیے، یہ ایک ناکامی ہے جس کے اثرات اب وسیع تر علاقے کی سیکیورٹی منظرنامے کو نئی شکل دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274701</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 13:44:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/071332591003497.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/071332591003497.webp"/>
        <media:title>امریکی محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 7 ارب ڈالر 10 کروڑ مالیت کا امریکی فراہم کردہ سامان چھوڑا گیا تھا۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی جامعات نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلے معطل، محدود کر دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274657/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ کی کئی یونیورسٹیوں نے ہوم آفس کی جانب سے سخت تر امیگریشن قواعد کے نفاذ اور ویزا کے غلط استعمال سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلوں کو معطل یا محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959231/uk-varsities-curb-entry-for-pakistani-bangladeshi-students"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ کم از کم 9 اعلیٰ تعلیمی اداروں نے ان دونوں ممالک کو طلبہ کے ویزوں کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں رکھ کر اپنے داخلہ پالیسیوں کو سخت کر دیا ہے، تاکہ بین الاقوامی درخواست گزاروں کی اسپانسرشپ کی اہلیت برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث برطانوی وزرا نے خبردار کیا تھا کہ اسٹڈی روٹ کو ’آباد کاری کے لیے پچھلے دروازے‘ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقدامات کرنے والی یونیورسٹیوں میں، یونیورسٹی آف چیسٹر نے ’ویزوں کے انکار میں حالیہ اور غیر متوقع اضافے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 2026 کی خزاں تک پاکستان سے داخلے معطل کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258710'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں سے انڈرگریجویٹ درخواستیں قبول نہیں کر رہی، جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے پاکستان سے بھرتیاں مکمل طور پر روک دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ادارے، جن میں سنڈر لینڈ، کوونٹری، ہرٹفورڈ شائر، آکسفورڈ بروکس، گلاسگو کیلیڈونین اور نجی ادارہ بی پی پی یونیورسٹی شامل ہیں، نے بھی انہی ’رسک میٹیگیشن‘ اقدامات کے تحت دونوں ممالک سے داخلوں کو روک دیا ہے یا کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پابندیاں اس ریگولیٹری تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہیں، جو ستمبر میں نافذ ہوئی، جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو اسپانسر کرنے والے اداروں کے لیے ویزا انکار کی زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت شرح 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کی ویزا درخواستوں کی انکار کی شرح بالترتیب 18 اور 22 فیصد ہے، جو نئی حد سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درخواست گزار مجموعی طور پر 23 ہزار 36 ویزا انکار میں سے نصف کے برابر ہیں جو ہوم آفس نے ستمبر 2025 تک کے سال میں درج کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں ممالک سے پناہ کی درخواستوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جن میں سے کئی ایسے طلبہ کی جانب سے تھیں، جو پہلے اسٹڈی یا ورک ویزا پر برطانیہ آئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264137'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی اعلیٰ تعلیم کے مشیر وِنچینزو رائمو نے ’فنانشل ٹائمز‘ کو بتایا کہ کریک ڈاؤن نے کم فیس لینے والی یونیورسٹیوں کے لیے ’ایک حقیقی مخمصہ‘ پیدا کر دیا ہے، جو بیرونِ ملک طلبہ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ چند مسائل والے کیسز بھی سخت کردہ حدوں کے تحت اداروں کی کمپلائنس کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات نے تعلیمی ایجنٹوں میں بھی مایوسی پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں قائم ایڈوانس ایڈوائزرز کی بانی مریم عباس نے کہا کہ یہ فیصلے ’دل توڑ دینے والے‘ ہیں کیوں کہ حقیقی طلبہ کی درخواستیں آخری مرحلے پر مسترد کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مؤقف تھا کہ بھرتی کرنے والے ایجنٹوں کی کمزور نگرانی نے اسٹڈی روٹ کے غلط استعمال میں اضافہ کیا ہے، جسے ’کمانے کا ذریعہ‘ بنا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹیز یوکے انٹرنیشنل نے کہا کہ اسپانسرشپ کے حقوق برقرار رکھنے کے لیے کچھ اداروں کو بین الاقوامی داخلوں میں تنوع لانا ہوگا، اور درخواستوں کی جانچ کو مضبوط بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ کی کئی یونیورسٹیوں نے ہوم آفس کی جانب سے سخت تر امیگریشن قواعد کے نفاذ اور ویزا کے غلط استعمال سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلوں کو معطل یا محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1959231/uk-varsities-curb-entry-for-pakistani-bangladeshi-students"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ کم از کم 9 اعلیٰ تعلیمی اداروں نے ان دونوں ممالک کو طلبہ کے ویزوں کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں رکھ کر اپنے داخلہ پالیسیوں کو سخت کر دیا ہے، تاکہ بین الاقوامی درخواست گزاروں کی اسپانسرشپ کی اہلیت برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث برطانوی وزرا نے خبردار کیا تھا کہ اسٹڈی روٹ کو ’آباد کاری کے لیے پچھلے دروازے‘ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>اقدامات کرنے والی یونیورسٹیوں میں، یونیورسٹی آف چیسٹر نے ’ویزوں کے انکار میں حالیہ اور غیر متوقع اضافے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 2026 کی خزاں تک پاکستان سے داخلے معطل کر دیے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258710'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں سے انڈرگریجویٹ درخواستیں قبول نہیں کر رہی، جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے پاکستان سے بھرتیاں مکمل طور پر روک دی ہیں۔</p>
<p>دیگر ادارے، جن میں سنڈر لینڈ، کوونٹری، ہرٹفورڈ شائر، آکسفورڈ بروکس، گلاسگو کیلیڈونین اور نجی ادارہ بی پی پی یونیورسٹی شامل ہیں، نے بھی انہی ’رسک میٹیگیشن‘ اقدامات کے تحت دونوں ممالک سے داخلوں کو روک دیا ہے یا کم کر دیا ہے۔</p>
<p>یہ پابندیاں اس ریگولیٹری تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہیں، جو ستمبر میں نافذ ہوئی، جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو اسپانسر کرنے والے اداروں کے لیے ویزا انکار کی زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت شرح 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کی ویزا درخواستوں کی انکار کی شرح بالترتیب 18 اور 22 فیصد ہے، جو نئی حد سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درخواست گزار مجموعی طور پر 23 ہزار 36 ویزا انکار میں سے نصف کے برابر ہیں جو ہوم آفس نے ستمبر 2025 تک کے سال میں درج کیے تھے۔</p>
<p>ان دونوں ممالک سے پناہ کی درخواستوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جن میں سے کئی ایسے طلبہ کی جانب سے تھیں، جو پہلے اسٹڈی یا ورک ویزا پر برطانیہ آئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264137'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بین الاقوامی اعلیٰ تعلیم کے مشیر وِنچینزو رائمو نے ’فنانشل ٹائمز‘ کو بتایا کہ کریک ڈاؤن نے کم فیس لینے والی یونیورسٹیوں کے لیے ’ایک حقیقی مخمصہ‘ پیدا کر دیا ہے، جو بیرونِ ملک طلبہ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ چند مسائل والے کیسز بھی سخت کردہ حدوں کے تحت اداروں کی کمپلائنس کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>ان اقدامات نے تعلیمی ایجنٹوں میں بھی مایوسی پیدا کی ہے۔</p>
<p>لاہور میں قائم ایڈوانس ایڈوائزرز کی بانی مریم عباس نے کہا کہ یہ فیصلے ’دل توڑ دینے والے‘ ہیں کیوں کہ حقیقی طلبہ کی درخواستیں آخری مرحلے پر مسترد کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>ان کا مؤقف تھا کہ بھرتی کرنے والے ایجنٹوں کی کمزور نگرانی نے اسٹڈی روٹ کے غلط استعمال میں اضافہ کیا ہے، جسے ’کمانے کا ذریعہ‘ بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p>یونیورسٹیز یوکے انٹرنیشنل نے کہا کہ اسپانسرشپ کے حقوق برقرار رکھنے کے لیے کچھ اداروں کو بین الاقوامی داخلوں میں تنوع لانا ہوگا، اور درخواستوں کی جانچ کو مضبوط بنانا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274657</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 11:31:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/05112033a503b95.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/05112033a503b95.webp"/>
        <media:title>یونیورسٹی آف چیسٹر نے 2026 کی خزاں تک پاکستان سے داخلے معطل کر دیے ہیں۔ —فوٹو: بشکریہ فنانشل ٹائمز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
