<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 02:02:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 02:02:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کشمیر کی وادی ہماری ہے‘ چین نے شکسگام پر بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275085/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔</p>
<p>پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔</p>
<p>بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔</p>
<p>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275085</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:19:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13131200632efb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13131200632efb4.webp"/>
        <media:title>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ فوٹو: چینی وزارت خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا 8 ماہ میں دوسرا خلائی مشن ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275082/</link>
      <description>&lt;p&gt;زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;amp;source_ve_path=OTY3MTQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔</p>
<p>تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;source_ve_path=OTY3MTQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔</p>
<p>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔</p>
<p>اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275082</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 17:05:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12170133c92f8c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12170133c92f8c0.webp"/>
        <media:title>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ فوٹو: اسرو یوٹیوب چینل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حملے کی صورت میں ایران کی اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275074/</link>
      <description>&lt;p&gt;تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہلاکتوں-میں-اضافہ" href="#ہلاکتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہلاکتوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔</p>
<p>یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔</p>
<p>ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔</p>
<h3><a id="ہلاکتوں-میں-اضافہ" href="#ہلاکتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہلاکتوں میں اضافہ</strong></h3>
<p>28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔</p>
<p>ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275074</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 14:24:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/111419057ac8320.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/111419057ac8320.webp"/>
        <media:title>امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، نیا سیکیورٹی اتحاد متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275067/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی تازہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;amp;utm_medium=share&amp;amp;utm_campaign=copy&amp;amp;embedded-checkout=true"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا دور&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کی تازہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;utm_medium=share&amp;utm_campaign=copy&amp;embedded-checkout=true"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔</p>
<p>انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔</p>
<h3><a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا دور</h3>
<p>بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275067</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:11:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1014090716ce62e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1014090716ce62e.webp"/>
        <media:title>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، انٹرنیٹ سروس بند، پروازیں منسوخ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275063/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274984"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275050/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پروازیں-منسوخ" href="#پروازیں-منسوخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پروازیں منسوخ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔</p>
<p>28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<h3><a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای</strong></h3>
<p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔</p>
<p>اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274984"><strong>بیان</strong></a> میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔</p>
<p>آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔</p>
<p>ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔</p>
<p>ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275050/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔</p>
<p>حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔</p>
<h3><a id="پروازیں-منسوخ" href="#پروازیں-منسوخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پروازیں منسوخ</h3>
<p>دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔</p>
<p>استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔</p>
<p>اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔</p>
<p>ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275063</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 19:34:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091919041906e92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091919041906e92.webp"/>
        <media:title>امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09152926ad7879b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09152926ad7879b.webp"/>
        <media:title>آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے بھارت میں اپنے سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن بند کردیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275059/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p>عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔</p>
<p>توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275059</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:14:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09121013830bdb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09121013830bdb5.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275057/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" href="#جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنوبی ایشیا میں نئے بحران کا خدشہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274024'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" href="#ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی پر عالمی معاملات مزیر خراب&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔</p>
<p>2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔</p>
<p>افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔</p>
<p>رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔</p>
<h3><a id="جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" href="#جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنوبی ایشیا میں نئے بحران کا خدشہ</strong></h3>
<p>جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p>رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274024'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" href="#ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی پر عالمی معاملات مزیر خراب</strong></h3>
<p>صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔</p>
<p>ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔</p>
<p>ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔</p>
<p>یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275057</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:03:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09111454c2c1076.webp" type="image/webp" medium="image" height="384" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09111454c2c1076.webp"/>
        <media:title>2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں احتجاج کا 12 واں روز، مظاہرے کے دوران پولیس افسر جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275050/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے 12ویں روز دارالحکومت تہران میں مظاہرے کے دوران چاقو لگنے سے ایک پولیس افسرجاں بحق ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ’تہران کے مغرب میں واقع ضلع ملارد میں پولیس فورس کے ایک رکن شاہین دہقان مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران چاقو لگنے کے بعد شہید ہو گئے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو اس وقت ہوا جب تہران کے تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریال کی قدر میں کمی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس کے بعد دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274988/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274988"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیانات اور مقامی میڈیا پر مبنی اے ایف پی  کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسلامی جمہوریہ میں 2023-2022 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے 12ویں روز دارالحکومت تہران میں مظاہرے کے دوران چاقو لگنے سے ایک پولیس افسرجاں بحق ہو گیا۔</p>
<p>فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ’تہران کے مغرب میں واقع ضلع ملارد میں پولیس فورس کے ایک رکن شاہین دہقان مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران چاقو لگنے کے بعد شہید ہو گئے‘۔</p>
<p>مقامی میڈیا کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔</p>
<p>ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو اس وقت ہوا جب تہران کے تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریال کی قدر میں کمی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس کے بعد دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274988/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274988"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سرکاری بیانات اور مقامی میڈیا پر مبنی اے ایف پی  کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یہ اسلامی جمہوریہ میں 2023-2022 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275050</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 14:41:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0814291932ff5ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0814291932ff5ed.webp"/>
        <media:title>یہ اسلامی جمہوریہ میں2023 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے سخت لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال، شیڈول جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275049/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پروازوں کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن نے جمعرات کو بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن کی منیجر بشریٰ اسلام نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ ڈھاکا-کراچی روٹ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;amp;set=a.464372322377147&amp;amp;type=3&amp;amp;ref=embed_post'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook3  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;amp;set=a.464372322377147&amp;amp;type=3&amp;amp;ref=embed_post" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے ایک بیان میں کہا کہ ’براہ راست پروازوں کی بحالی سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروباری سفر، سیاحت اور خاندانوں کے درمیان رابطوں میں مدد ملے گی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو فی الحال دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی مراکز کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس استعمال کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274968'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274968"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2024 میں کراچی سے بنگلہ دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے لیے مال بردار بحری جہازوں نے بھی آمد و رفت دوبارہ شروع کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ ملاقات کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات متزلزل رہے۔ تاہم ان کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کی جلاوطنی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں دسمبر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکا گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2025 میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا اور محمد یونس سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پروازوں کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن نے جمعرات کو بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کی جارہی ہیں۔</p>
<p>بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔</p>
<p>ایئرلائن کی منیجر بشریٰ اسلام نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ ڈھاکا-کراچی روٹ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;set=a.464372322377147&amp;type=3&amp;ref=embed_post'>
        <div class='media__item  media__item--facebook3  media__item--relative'><div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1290010456479992&amp;set=a.464372322377147&amp;type=3&amp;ref=embed_post" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure>
<p>بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے ایک بیان میں کہا کہ ’براہ راست پروازوں کی بحالی سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروباری سفر، سیاحت اور خاندانوں کے درمیان رابطوں میں مدد ملے گی۔‘</p>
<p>بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو فی الحال دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی مراکز کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس استعمال کرنی پڑتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274968'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274968"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نومبر 2024 میں کراچی سے بنگلہ دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے لیے مال بردار بحری جہازوں نے بھی آمد و رفت دوبارہ شروع کر دی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ ملاقات کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔</p>
<p>معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات متزلزل رہے۔ تاہم ان کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کی جلاوطنی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔</p>
<p>حال ہی میں دسمبر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکا گئے تھے۔</p>
<p>اگست 2025 میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا اور محمد یونس سے ملاقات کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275049</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 13:27:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08132303dc68da7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08132303dc68da7.webp"/>
        <media:title>بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی چیف جسٹس کا ’فسادیوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275025/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بےامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  غلام حسین محسنی ایژئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274984/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسنی ایژئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عارضی طور پر کاروبار بند کر دیا، ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے عوام کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جائز ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بےامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  غلام حسین محسنی ایژئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274984/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔</p>
<p>محسنی ایژئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عارضی طور پر کاروبار بند کر دیا، ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>ایرانی حکام نے عوام کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جائز ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275025</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 12:27:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/061219488b0ae58.webp" type="image/webp" medium="image" height="560" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/061219488b0ae58.webp"/>
        <media:title>غلام حسین محسنی کا کہنا تھا کہ اب کوئی بھی فسادی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ دھوکے میں آ گیا تھا۔ فوٹو: پریس ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور چین کا افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ’واضح اور قابل تصدیق‘ اقدامات کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275019/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور ٹھوس اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو چین اور پاکستان کا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے چار جنوری کو بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں کیونکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد افغان طالبان حکومت پر ان حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے جن کی کابل بارہا تردید کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جائے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ تعاون کے حوالے سے چین اور پاکستان نے کہا کہ انہوں نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے آپریشن کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور ٹھوس اقدامات کرے۔</p>
<p>پیر کو چین اور پاکستان کا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے چار جنوری کو بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں کیونکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد افغان طالبان حکومت پر ان حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے جن کی کابل بارہا تردید کرتا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2008047308374683926?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008047308374683926%7Ctwgr%5E70d3d2867e4d44f9bf448809ae5f851f86ab338c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جائے۔‘</p>
<p>مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔</p>
<p>دوطرفہ تعاون کے حوالے سے چین اور پاکستان نے کہا کہ انہوں نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے آپریشن کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275019</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 14:59:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/05145014359ff71.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/05145014359ff71.webp"/>
        <media:title>دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔ فوٹو: دفتر خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچز کیلئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275010/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں نہیں کھیلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش کے کرکٹر مستفیض الرحمان کو ان کی انڈین پریمیئر لیگ ٹیم نے نکال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اتوار کو جاری بیان نے کہا کہ اُس نے باضابطہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپنی ٹیم کے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی سی بی کے بیان کے مطابق ’بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے انڈیا نہیں جائے گی۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275006/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275006"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی ’سکیورٹی کے بڑھتے خدشات‘ کے باعث کیا گیا اور اس میں حکومت کی سفارش بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے فارغ کر دیا اور اس کی وجہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی سفارش کو قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور اسپورٹس کے مشیر آصف نذرل نے کہا تھا کہ غلامی کے دن گزر گئے، کسی بھی قسم کے حالات میں بنگلہ دیش کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی کسی طرح کی توہین قبول نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی معاہدے کے باوجود بھارت میں نہیں کھیل سکتا وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہوگا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں نہیں کھیلے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش کے کرکٹر مستفیض الرحمان کو ان کی انڈین پریمیئر لیگ ٹیم نے نکال دیا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اتوار کو جاری بیان نے کہا کہ اُس نے باضابطہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپنی ٹیم کے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔</p>
<p>بی سی بی کے بیان کے مطابق ’بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے انڈیا نہیں جائے گی۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275006/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275006"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی ’سکیورٹی کے بڑھتے خدشات‘ کے باعث کیا گیا اور اس میں حکومت کی سفارش بھی شامل تھی۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے فارغ کر دیا اور اس کی وجہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی سفارش کو قرار دیا تھا۔</p>
<p>قبل ازیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور اسپورٹس کے مشیر آصف نذرل نے کہا تھا کہ غلامی کے دن گزر گئے، کسی بھی قسم کے حالات میں بنگلہ دیش کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی کسی طرح کی توہین قبول نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی معاہدے کے باوجود بھارت میں نہیں کھیل سکتا وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی۔</p>
<p>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہوگا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275010</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 19:21:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0419175051605c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0419175051605c2.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’غلامی کے دن ختم‘ بنگلہ دیش کا اپنے ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقل کروانے کا عندیہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275006/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے اتوار کو سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی صورت بنگلہ دیشی کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے، غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ہفتے کے روز انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے نکال دیا، جب بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274996/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے مشیر نذرل نے کہا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بورڈ کو یہ بات آگاہ کرنی چاہیے کہ اگر کسی بنگلہ دیشی کرکٹر کو معاہدے کے باوجود بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو پوری بنگلہ دیشی ٹیم خود کو ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بورڈ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سات فروری سے شروع ہو رہا ہے، جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب 2024 میں ڈھاکا میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں اُس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی تھیں، اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی کی مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے بھارت پر تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے کہا کہ بورڈ اتوار کو ہنگامی اجلاس کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے کرکٹرز کی عزت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف نذرل نے یہ بھی کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات روکنے کی درخواست کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے اطلاعات و نشریات کے مشیر سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کی نشریات بند کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کرے گا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے اتوار کو سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی صورت بنگلہ دیشی کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے، غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ہفتے کے روز انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے نکال دیا، جب بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274996/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنگلہ دیش کے مشیر نذرل نے کہا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بورڈ کو یہ بات آگاہ کرنی چاہیے کہ اگر کسی بنگلہ دیشی کرکٹر کو معاہدے کے باوجود بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو پوری بنگلہ دیشی ٹیم خود کو ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بورڈ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست کی جائے۔</p>
<p>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سات فروری سے شروع ہو رہا ہے، جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز بھارت میں کھیلنے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کثیر الملکی ٹورنامنٹس میں غیر جانبدار مقامات پر کھیلتے ہیں۔</p>
<p>بھارت اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب 2024 میں ڈھاکا میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں اُس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی تھیں، اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھیں۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی کی مذمت کی تھی۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے بھارت پر تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے کہا کہ بورڈ اتوار کو ہنگامی اجلاس کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے کرکٹرز کی عزت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔</p>
<p>آصف نذرل نے یہ بھی کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات روکنے کی درخواست کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں نے اطلاعات و نشریات کے مشیر سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کی نشریات بند کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275006</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:42:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/041326541df897d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/041326541df897d.webp"/>
        <media:title>فائنل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے، آیت اللہ خامنہ ای کا ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275000/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ٹیلی ویژن پر ریکارڈ شدہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران  دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور مظاہرین میں سے ہنگامہ کرنے والوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی سے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ دکان دار درست کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کاروبار کرنا مشکل ہے، جبکہ انہوں نے کہا کہ ہم مظاہرین سے بات کریں گے لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے بات کرنا بے سود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274978/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بے امنی میں فرق ہے۔ مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے مکالمے کا کوئی فائدہ نہیں، شرپسندوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ میں جانتا ہوں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں دشمن بھی ملوث ہے، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے اور یقیناً اسے روکنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور ایرانی مظاہروں میں اب تک کئی افراد ہلاک جبکہ بےامنی پھیلانےکےالزام میں درجنوں افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274984/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان لفظی جنگ بھی اُس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان داغا کہ اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت سے خطے میں عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ٹیلی ویژن پر ریکارڈ شدہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران  دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور مظاہرین میں سے ہنگامہ کرنے والوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔</p>
<p>دبئی سے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ دکان دار درست کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کاروبار کرنا مشکل ہے، جبکہ انہوں نے کہا کہ ہم مظاہرین سے بات کریں گے لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے بات کرنا بے سود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274978/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بے امنی میں فرق ہے۔ مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے مکالمے کا کوئی فائدہ نہیں، شرپسندوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔</p>
<p>آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ میں جانتا ہوں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں دشمن بھی ملوث ہے، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے اور یقیناً اسے روکنا چاہیے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور ایرانی مظاہروں میں اب تک کئی افراد ہلاک جبکہ بےامنی پھیلانےکےالزام میں درجنوں افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274984/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان لفظی جنگ بھی اُس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان داغا کہ اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔</p>
<p>امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت سے خطے میں عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275000</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 18:40:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/03183703b10eede.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/03183703b10eede.webp"/>
        <media:title>ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بے امنی میں فرق ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں مظاہروں پر امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274988/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعے کو ایران کو خبردار کیے جانے کے بعد کہ اگر وہاں پرامن مظاہرین کو تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی کسی بھی مداخلت کا مطلب پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور امریکا کے مفادات کو تباہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا، جیسا کہ ان کی روایت ہے تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے اور مکمل طور پر الرٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پر کہا کہ اسرائیلی عہدیداروں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ پس پردہ کیا چل رہا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/alilarijani_ir/status/2007022780529664359?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007022780529664359%7Ctwgr%5E2dbc6396096fb50c163e66dff3472648eaea6301%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964665'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/alilarijani_ir/status/2007022780529664359?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007022780529664359%7Ctwgr%5E2dbc6396096fb50c163e66dff3472648eaea6301%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964665"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کرنے والے دکانداروں کے مؤقف اور تخریبی عناصر کی کارروائیوں میں فرق کرتے ہیں، اور ٹرمپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جاننا چاہیے کہ اس مہم جوئی کا آغاز ٹرمپ نے کیا ہے اور انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف ایران میں تین برس کے دوران سب سے بڑے مظاہرے مختلف صوبوں میں پرتشدد ہو گئے ہیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں اس احتجاج میں نمایاں شدت کی علامت ہیں جو اتوار کو دکانداروں کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی معیشت کو 2018 میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران بین الاقوامی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعے کو ایران کو خبردار کیے جانے کے بعد کہ اگر وہاں پرامن مظاہرین کو تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی کسی بھی مداخلت کا مطلب پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور امریکا کے مفادات کو تباہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا، جیسا کہ ان کی روایت ہے تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے اور مکمل طور پر الرٹ ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پر کہا کہ اسرائیلی عہدیداروں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ پس پردہ کیا چل رہا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/alilarijani_ir/status/2007022780529664359?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007022780529664359%7Ctwgr%5E2dbc6396096fb50c163e66dff3472648eaea6301%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964665'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/alilarijani_ir/status/2007022780529664359?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2007022780529664359%7Ctwgr%5E2dbc6396096fb50c163e66dff3472648eaea6301%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964665"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کرنے والے دکانداروں کے مؤقف اور تخریبی عناصر کی کارروائیوں میں فرق کرتے ہیں، اور ٹرمپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگی۔</p>
<p>علی لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جاننا چاہیے کہ اس مہم جوئی کا آغاز ٹرمپ نے کیا ہے اور انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔</p>
<p>یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف ایران میں تین برس کے دوران سب سے بڑے مظاہرے مختلف صوبوں میں پرتشدد ہو گئے ہیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں اس احتجاج میں نمایاں شدت کی علامت ہیں جو اتوار کو دکانداروں کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا تھا۔</p>
<p>ایران کی معیشت کو 2018 میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران بین الاقوامی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274988</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 19:37:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021932182759fb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021932182759fb6.webp"/>
        <media:title>علی لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جاننا چاہیے کہ اس مہم جوئی کا آغاز ٹرمپ نے کیا ہے اور انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ فوٹو:سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274984/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/115824439366264186"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=hw1xorjrLLs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/hw1xorjrLLs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کو ایران میں جاری بے چینی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں حالیہ احتجاج اُس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو پہلے ہی سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو امریکی پابندیوں کے بعد مزید بڑھ گیا۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک بڑے احتجاجی سلسلے کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ انتشار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/115824439366264186"><strong>بیان</strong></a> میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=hw1xorjrLLs'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/hw1xorjrLLs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کو ایران میں جاری بے چینی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔</p>
<p>ایران میں حالیہ احتجاج اُس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو پہلے ہی سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو امریکی پابندیوں کے بعد مزید بڑھ گیا۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک بڑے احتجاجی سلسلے کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ انتشار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274984</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 15:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021452455edb08e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021452455edb08e.webp"/>
        <media:title>صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں‘۔—فوٹو/ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں احتجاج کے پانچویں دن مزید کشیدگی اور ہلاکتوں کی اطلاعات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274978/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پانچویں دن کے احتجاجی مظاہروں میں مزید جانوں کا نقصان ہونے کے اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی اور انسانی حقوق کی تنظیم، ہنگاو دونوں نے کہا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر لاردیگان میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف تین برس میں سب سے بڑے احتجاج کے دوران کئی صوبوں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ایران کے شہر لردیگان میں پولیس اور مسلح مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد مارے گئے۔ حقوق گروپ ہینگاو نے بھی لردیگان میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لردیگان میں ہونے والی جھڑپیں، ایک سکیورٹی اہلکار کی رات گئے ہلاکت اور ایک مظاہرین کی موت، اتوار سے دکانداروں کے احتجاج کے بعد بے امنی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ مغربی شہر کوہدشت میں اس کی ذیلی بسیج رضاکار فورس کا ایک رکن امیرحسام ہلاک ہوا جب کہ 13 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینگاؤ کے مطابق بدھ کو وسطی ایران کے صوبہ اصفہان میں بھی ایک مظاہرین جان سے گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رائٹرز ان خبروں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق حکام تاجروں اور تجارتی یونینز کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ کئی دنوں سے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ، دکاندار اور تاجر احتجاج کر رہے ہیں اور بڑے بازار بند کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے بدھ کو شدید سردی کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو مظاہرین کے جائز مطالبات سننے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی معیشت برسوں سے امریکی اور مغربی پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جو جوہری پروگرام سے جڑی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ فضائی جنگ نے بھی مالی مشکلات میں اضافہ کیا۔ 2025 میں ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی، جب کہ دسمبر میں مہنگائی 42.5 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پانچویں دن کے احتجاجی مظاہروں میں مزید جانوں کا نقصان ہونے کے اطلاعات ہیں۔</p>
<p>نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی اور انسانی حقوق کی تنظیم، ہنگاو دونوں نے کہا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر لاردیگان میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف تین برس میں سب سے بڑے احتجاج کے دوران کئی صوبوں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔</p>
<p>نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ایران کے شہر لردیگان میں پولیس اور مسلح مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد مارے گئے۔ حقوق گروپ ہینگاو نے بھی لردیگان میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>لردیگان میں ہونے والی جھڑپیں، ایک سکیورٹی اہلکار کی رات گئے ہلاکت اور ایک مظاہرین کی موت، اتوار سے دکانداروں کے احتجاج کے بعد بے امنی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔</p>
<p>ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ مغربی شہر کوہدشت میں اس کی ذیلی بسیج رضاکار فورس کا ایک رکن امیرحسام ہلاک ہوا جب کہ 13 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔</p>
<p>ہینگاؤ کے مطابق بدھ کو وسطی ایران کے صوبہ اصفہان میں بھی ایک مظاہرین جان سے گیا۔</p>
<p>تاہم رائٹرز ان خبروں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔</p>
<p>حکومت نے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔</p>
<p>حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق حکام تاجروں اور تجارتی یونینز کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔</p>
<p>گزشتہ کئی دنوں سے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ، دکاندار اور تاجر احتجاج کر رہے ہیں اور بڑے بازار بند کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے بدھ کو شدید سردی کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔</p>
<p>صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو مظاہرین کے جائز مطالبات سننے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>ایران کی معیشت برسوں سے امریکی اور مغربی پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جو جوہری پروگرام سے جڑی ہوئی ہیں۔</p>
<p>جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ فضائی جنگ نے بھی مالی مشکلات میں اضافہ کیا۔ 2025 میں ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی، جب کہ دسمبر میں مہنگائی 42.5 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274978</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 14:37:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/02143638c39fcd8.webp" type="image/webp" medium="image" height="449" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/02143638c39fcd8.webp"/>
        <media:title>مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف تین برس میں سب سے بڑے احتجاج کے دوران کئی صوبوں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان سرحد بند ہونے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274973/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے 11 اکتوبر کو افغانستان کے ساتھ سرحد بند کرنے کے بعد سرحد پار دہشت گرد حملوں اور تشدد سے جڑی ہلاکتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1964391/afghan-border-closure-brings-down-terrorist-violence-in-pakistan"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا ہے کہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق دسمبر میں دہشت گرد حملوں میں تقریباً 17 فیصد کمی آئی، جب کہ نومبر میں یہ کمی 9 فیصد تھی۔ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں بھی آخری سہ ماہی کے دوران کمی دیکھی گئی، نومبر اور دسمبر میں بالترتیب تقریباً 4 فیصد اور 19 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1274461'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1274461'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 سے مسلسل پانچ برسوں سے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو افغانستان میں طالبان کی واپسی سے منسلک ہے۔ سال بہ سال اضافے کی شرح 2021 میں تقریباً 38 فیصد، 2022 میں 15 فیصد سے زائد، 2023 میں 56 فیصد، 2024 میں قریب 67 فیصد اور 2025 میں 34 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 اور 2025 کے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے جڑے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 2555 سے بڑھ کر 2025 میں 3417 ہو گئیں، یعنی 862 اموات کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ اضافہ خیبر پختونخوا میں ریکارڈ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 1620 سے بڑھ کر 2025 میں 2331 ہو گئیں، جو قومی سطح پر اضافے کا 82 فیصد سے زائد اور صوبے میں تقریباً 44 فیصد سالانہ اضافہ بنتا ہے۔ بلوچستان میں بھی ہلاکتیں 787 سے بڑھ کر 956 ہوئیں، یعنی 169 اضافی اموات ہوئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1271486'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1271486'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تشدد کا زیادہ تر بوجھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر رہا، جہاں 2025 میں مجموعی ہلاکتوں کا 96 فیصد سے زائد اور پرتشدد واقعات کا تقریباً 93 فیصد ریکارڈ ہوا۔ پنجاب اور سندھ میں تشدد کی سطح نسبتاً کم رہی، جب کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں واقعات کم مگر زخمیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان سب سے کم متاثرہ علاقہ رہا، تاہم وہاں بھی ہلاکتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے 11 اکتوبر کو افغانستان کے ساتھ سرحد بند کرنے کے بعد سرحد پار دہشت گرد حملوں اور تشدد سے جڑی ہلاکتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1964391/afghan-border-closure-brings-down-terrorist-violence-in-pakistan"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا ہے کہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق دسمبر میں دہشت گرد حملوں میں تقریباً 17 فیصد کمی آئی، جب کہ نومبر میں یہ کمی 9 فیصد تھی۔ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں بھی آخری سہ ماہی کے دوران کمی دیکھی گئی، نومبر اور دسمبر میں بالترتیب تقریباً 4 فیصد اور 19 فیصد رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1274461'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1274461'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔</p>
<p>2021 سے مسلسل پانچ برسوں سے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو افغانستان میں طالبان کی واپسی سے منسلک ہے۔ سال بہ سال اضافے کی شرح 2021 میں تقریباً 38 فیصد، 2022 میں 15 فیصد سے زائد، 2023 میں 56 فیصد، 2024 میں قریب 67 فیصد اور 2025 میں 34 فیصد رہی۔</p>
<p>2024 اور 2025 کے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے جڑے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 2555 سے بڑھ کر 2025 میں 3417 ہو گئیں، یعنی 862 اموات کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>سب سے زیادہ اضافہ خیبر پختونخوا میں ریکارڈ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 1620 سے بڑھ کر 2025 میں 2331 ہو گئیں، جو قومی سطح پر اضافے کا 82 فیصد سے زائد اور صوبے میں تقریباً 44 فیصد سالانہ اضافہ بنتا ہے۔ بلوچستان میں بھی ہلاکتیں 787 سے بڑھ کر 956 ہوئیں، یعنی 169 اضافی اموات ہوئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1271486'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.google.com/amp/s/www.dawnnews.tv/news/amp/1271486'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تشدد کا زیادہ تر بوجھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر رہا، جہاں 2025 میں مجموعی ہلاکتوں کا 96 فیصد سے زائد اور پرتشدد واقعات کا تقریباً 93 فیصد ریکارڈ ہوا۔ پنجاب اور سندھ میں تشدد کی سطح نسبتاً کم رہی، جب کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں واقعات کم مگر زخمیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔</p>
<p>گلگت بلتستان سب سے کم متاثرہ علاقہ رہا، تاہم وہاں بھی ہلاکتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274973</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 13:59:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0113294593c955a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0113294593c955a.webp"/>
        <media:title>2024 اور 2025 کے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے جڑے واقعات میں تیز اضافہ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 2555 سے بڑھ کر 2025 میں 3417 ہو گئیں، یعنی 862 اموات کا اضافہ ہوا۔ فائل فوٹو اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈھاکا میں بھارتی وزیر خارجہ کا اسپیکر ایاز صادق سے مصافحہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274968/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے مصافحہ، جے شنکر خود چل کر اسپیکر سردار ایاز صادق کے پاس آئے اور ہاتھ ملایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکا میں ادا کی گئی۔ جنازے کے بعد تعزیتی ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ شخصیات کے درمیان غیر رسمی ملاقات اور مصافحہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمازِ جنازہ ڈھاکا میں پارلیمنٹ کمپلیکس کے سامنے ادا کی گئی، جس میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس، مقامی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں عوام شریک تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258755/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے اعلی ٰسطح کے رہنماؤں کا آمنا سامنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں کے درمیان تھوڑی دیر گفتگو بھی ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان مسکراہٹ اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک کے وفود خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے تعزیت کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور ہر قسم کے سیاسی اور سفارتی رابطے منقطع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے مصافحہ، جے شنکر خود چل کر اسپیکر سردار ایاز صادق کے پاس آئے اور ہاتھ ملایا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکا میں ادا کی گئی۔ جنازے کے بعد تعزیتی ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ شخصیات کے درمیان غیر رسمی ملاقات اور مصافحہ بھی ہوا۔</p>
<p>نمازِ جنازہ ڈھاکا میں پارلیمنٹ کمپلیکس کے سامنے ادا کی گئی، جس میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس، مقامی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں عوام شریک تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بھی شرکت کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258755/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس موقع پر پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے اعلی ٰسطح کے رہنماؤں کا آمنا سامنا ہوا ہے۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں کے درمیان تھوڑی دیر گفتگو بھی ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان مسکراہٹ اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<p>یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک کے وفود خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے تعزیت کر رہے تھے۔</p>
<p>رواں سال مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور ہر قسم کے سیاسی اور سفارتی رابطے منقطع ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><br></h3>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274968</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 17:28:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/311713428611369.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/311713428611369.webp"/>
        <media:title>یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک کے وفود خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمٰن سے تعزیت کر رہے تھے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274952/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد منگل کے روز انتقال کر گئیں۔ بی این پی کے مطابق وہ 80 برس کی تھیں اور جگر کے شدید عارضے، ذیابیطس، گٹھیا، سینے اور دل کے مسائل میں مبتلا تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ خالدہ ضیا کا انتقال صبح چھ بجے فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوا۔ بیان میں ان کی مغفرت کے لیے دعا اور عوام سے بھی دعا کی اپیل کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/bdbnp78/status/2005817539113161047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005817539113161047%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/bdbnp78/status/2005817539113161047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005817539113161047%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عبوری رہنما محمد یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق خالدہ ضیا کی غیر سمجھوتہ قیادت نے ملک کو بارہا غیر جمہوری حالات سے نجات دلائی اور آزادی کی جدوجہد کو تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں خالدہ ضیا کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/albd1971/status/2005861396219842701?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005861396219842701%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/albd1971/status/2005861396219842701?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005861396219842701%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;طویل بیماری اور قید کے باوجود خالدہ ضیا نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات کی مہم میں حصہ لیں گی، جو گزشتہ برس شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والا پہلا انتخاب تھا۔ تاہم نومبر کے آخر میں ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالدہ ضیا کو 2018 میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں بیرونِ ملک علاج کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ بعد ازاں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے صاحبزادے اور بی این پی کے اہم رہنما طارق رحمٰن 17 برس بعد وطن واپس آئے اور اب وہ پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے 12 فروری کے عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔ پارٹی کی کامیابی کی صورت میں انہیں وزیرِ اعظم نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی مخلص دوست تھیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2005847197078937784?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005847197078937784%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2005847197078937784?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005847197078937784%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی تعزیتی پیغامات جاری کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2005839858208526542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839858208526542%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2005839858208526542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839858208526542%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خالدہ ضیا نے 1991 میں بنگلہ دیش کے پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام نافذ کیا، غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندیاں ختم کیں اور ابتدائی تعلیم کو لازمی اور مفت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ کے ساتھ ان کی طویل سیاسی رقابت نے دہائیوں تک بنگلہ دیش کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اگرچہ وہ دوبارہ اقتدار میں نہ آ سکیں، مگر وہ ملک کی سیاست میں ایک مرکزی اور بااثر کردار کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد منگل کے روز انتقال کر گئیں۔ بی این پی کے مطابق وہ 80 برس کی تھیں اور جگر کے شدید عارضے، ذیابیطس، گٹھیا، سینے اور دل کے مسائل میں مبتلا تھیں۔</p>
<p>پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ خالدہ ضیا کا انتقال صبح چھ بجے فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوا۔ بیان میں ان کی مغفرت کے لیے دعا اور عوام سے بھی دعا کی اپیل کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/bdbnp78/status/2005817539113161047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005817539113161047%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/bdbnp78/status/2005817539113161047?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005817539113161047%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عبوری رہنما محمد یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق خالدہ ضیا کی غیر سمجھوتہ قیادت نے ملک کو بارہا غیر جمہوری حالات سے نجات دلائی اور آزادی کی جدوجہد کو تقویت دی۔</p>
<p>معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں خالدہ ضیا کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/albd1971/status/2005861396219842701?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005861396219842701%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/albd1971/status/2005861396219842701?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005861396219842701%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>طویل بیماری اور قید کے باوجود خالدہ ضیا نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات کی مہم میں حصہ لیں گی، جو گزشتہ برس شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والا پہلا انتخاب تھا۔ تاہم نومبر کے آخر میں ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p>خالدہ ضیا کو 2018 میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں بیرونِ ملک علاج کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ بعد ازاں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔</p>
<p>ان کے صاحبزادے اور بی این پی کے اہم رہنما طارق رحمٰن 17 برس بعد وطن واپس آئے اور اب وہ پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے 12 فروری کے عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔ پارٹی کی کامیابی کی صورت میں انہیں وزیرِ اعظم نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>ادھر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی مخلص دوست تھیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2005847197078937784?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005847197078937784%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2005847197078937784?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005847197078937784%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر آصف علی زرداری اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی تعزیتی پیغامات جاری کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2005839858208526542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839858208526542%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2005839858208526542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839858208526542%7Ctwgr%5E907954b04863f1321e77b5728c3f11fa7d4a021e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964087"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>خالدہ ضیا نے 1991 میں بنگلہ دیش کے پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام نافذ کیا، غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندیاں ختم کیں اور ابتدائی تعلیم کو لازمی اور مفت قرار دیا۔</p>
<p>شیخ حسینہ کے ساتھ ان کی طویل سیاسی رقابت نے دہائیوں تک بنگلہ دیش کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اگرچہ وہ دوبارہ اقتدار میں نہ آ سکیں، مگر وہ ملک کی سیاست میں ایک مرکزی اور بااثر کردار کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274952</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 11:06:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/30110141e224ff9.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/30110141e224ff9.webp"/>
        <media:title>خالدہ ضیا کو 2018 میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں بیرونِ ملک علاج کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عثمان ہادی کے قتل کے دو مرکزی ملزمان بھارت فرار ہوگئے، ڈھاکا پولیس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274938/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی پولیس نے بتایا ہے کہ انقلاب مانچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کے قتل کے دو مرکزی ملزمان بھارت فرار ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے ایڈیشنل کمشنر ایس این محمد نذر الاسلام نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ملزم فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ نے بھارت فرار ہونے کے بعد ریاست میگھالیہ میں پناہ لی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل پولیس حکام کا کہنا تھا کہ انہیں مرکزی ملزمان کے ٹھکانے کا علم نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’عثمان ہادی کا قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ اس سلسلے میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے شوٹر کو بھارت فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل کمشنر نذر الاسلام نے کہا کہ ’جائے وقوع پر موجود افراد کی فراہم کردہ معلومات، سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیس نے شوٹر فیصل کریم مسعود اور ان کے معاون موٹرسائیکل سوار عالمگیر شیخ کو واقعے کے دن ہی شناخت کر لیا تھا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے دو غیر ملکی پستول، میگزین، 52 گولیاں اور ایک شاٹ گن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو واقعے میں استعمال ہوئیں۔ اس کے علاوہ ایک موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹس اور گولیوں کے خول بھی برآمد ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ تقریباً 53 بینک اکاؤنٹس کے دستخط شدہ چیکس برآمد ہوئے ہیں جن کی مالیت 218 کروڑ ٹکا(بنگلہ دیشی کرنسی) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ شریف ہادی عثمان کو ڈھاکا میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان ہادی جو شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف طلبہ کی ملک گیر تحریک کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل تھے، قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد کئی روز تک زیر علاج رہے اور پھر انتقال کرگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان ہادی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پورے بنگلہ دیش میں مظاہرے کیے گئے تھے، مظاہرین اس قتل کا الزام براہِ راست بھارت پر بھی عائد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی پولیس نے بتایا ہے کہ انقلاب مانچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کے قتل کے دو مرکزی ملزمان بھارت فرار ہوگئے۔</p>
<p>ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے ایڈیشنل کمشنر ایس این محمد نذر الاسلام نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ملزم فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ نے بھارت فرار ہونے کے بعد ریاست میگھالیہ میں پناہ لی۔‘</p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل پولیس حکام کا کہنا تھا کہ انہیں مرکزی ملزمان کے ٹھکانے کا علم نہیں ہے۔</p>
<p>پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’عثمان ہادی کا قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ اس سلسلے میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے شوٹر کو بھارت فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔‘</p>
<p>ایڈیشنل کمشنر نذر الاسلام نے کہا کہ ’جائے وقوع پر موجود افراد کی فراہم کردہ معلومات، سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیس نے شوٹر فیصل کریم مسعود اور ان کے معاون موٹرسائیکل سوار عالمگیر شیخ کو واقعے کے دن ہی شناخت کر لیا تھا۔‘</p>
<p>پولیس نے دو غیر ملکی پستول، میگزین، 52 گولیاں اور ایک شاٹ گن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو واقعے میں استعمال ہوئیں۔ اس کے علاوہ ایک موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹس اور گولیوں کے خول بھی برآمد ہوئے۔</p>
<p>اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ تقریباً 53 بینک اکاؤنٹس کے دستخط شدہ چیکس برآمد ہوئے ہیں جن کی مالیت 218 کروڑ ٹکا(بنگلہ دیشی کرنسی) ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ شریف ہادی عثمان کو ڈھاکا میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔</p>
<p>عثمان ہادی جو شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف طلبہ کی ملک گیر تحریک کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل تھے، قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد کئی روز تک زیر علاج رہے اور پھر انتقال کرگئے۔</p>
<p>عثمان ہادی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پورے بنگلہ دیش میں مظاہرے کیے گئے تھے، مظاہرین اس قتل کا الزام براہِ راست بھارت پر بھی عائد کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274938</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 13:27:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2813253735388e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2813253735388e5.webp"/>
        <media:title>ہادی عثمان کو ڈھاکا میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان طالبان کا پاکستان کی جانب مفاہمتی اشارہ، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، سراج حقانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274933/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام کے طور پر عبوری افغان طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں اور وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے اعلان کیا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پابندی جاری رکھے ہوئے ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جیسا کہ افغان طالبان کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماضی کے وعدوں اور دوحہ معاہدے میں کی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار دراندازی اور عسکریت پسندوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغانستان کسی بھی ملک یا خطے کے لیے خطرہ نہیں اور طالبان قیادت عالمی برادری کے ساتھ بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے معقول اور دیرپا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ بظاہر پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کی طرف تھا جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو لگام دینے کا کہا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہیں، جن کے نتیجے میں 11 اکتوبر 2025 سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں بھی ناکام رہیں، جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کے لیے تحریری یقین دہانی دینے سے انکار کیا، جس کے جنگجو اس کے بقول 2600 کلومیٹر طویل غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سراج الدین حقانی کے یہ بیانات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ان سے بیعت لے رکھی ہے اور طویل عرصے سے افغانستان کے اُن علاقوں سے سرگرم ہے جو ان کے کنٹرول میں رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی قطر اور ترکی میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان طالبان ٹیم کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام کے طور پر عبوری افغان طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں اور وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے اعلان کیا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پابندی جاری رکھے ہوئے ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جیسا کہ افغان طالبان کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا۔</p>
<p>تاہم ماضی کے وعدوں اور دوحہ معاہدے میں کی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار دراندازی اور عسکریت پسندوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔</p>
<p>سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغانستان کسی بھی ملک یا خطے کے لیے خطرہ نہیں اور طالبان قیادت عالمی برادری کے ساتھ بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے معقول اور دیرپا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔</p>
<p>اگرچہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ بظاہر پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کی طرف تھا جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو لگام دینے کا کہا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہیں، جن کے نتیجے میں 11 اکتوبر 2025 سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں بند ہیں۔</p>
<p>ترکی اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں بھی ناکام رہیں، جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کے لیے تحریری یقین دہانی دینے سے انکار کیا، جس کے جنگجو اس کے بقول 2600 کلومیٹر طویل غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>سراج الدین حقانی کے یہ بیانات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ان سے بیعت لے رکھی ہے اور طویل عرصے سے افغانستان کے اُن علاقوں سے سرگرم ہے جو ان کے کنٹرول میں رہے ہیں۔</p>
<p>اسی وجہ سے سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی قطر اور ترکی میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان طالبان ٹیم کا حصہ تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274933</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Dec 2025 13:04:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2713022311ffce9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2713022311ffce9.webp"/>
        <media:title>سراج حقانی نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاجکستان۔افغانستان سرحد پر مسلح جھڑپ میں پانچ افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274922/</link>
      <description>&lt;p&gt;تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر مسلح جھڑپ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجک سرکاری خبر رساں ادارے خووار نے تاجک ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے بارڈر ٹروپس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ منگل کی رات تین افراد نے ملک کے جنوب مغربی خطے ختلون کے ضلع شمسی الدین شوہین میں سرحد عبور کی، جنہیں بدھ کے روز تلاش کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق مذکورہ افراد نے تاجک سرحدی اہلکاروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور مسلح مزاحمت کی۔ ان کا ارادہ قومی سلامتی کمیٹی کے بارڈر ٹروپس کی ایک چوکی پر حملہ کرنے کا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274375'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے نتیجے میں تینوں افراد کو ہلاک کر دیا گیا، تاہم جھڑپ کے دوران دو تاجک سرحدی اہلکار بھی جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجک حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے یہ تیسرا مسلح حملہ، دہشت گرد کارروائی اور غیرقانونی سرحدی دراندازی کا واقعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں افغان حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ تاجک۔افغان سرحد پر سلامتی اور استحکام یقینی بنانے سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں پر بارہا عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجک بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ افغان انتظامیہ تاجک عوام سے معذرت کرے گی اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی جانب سے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل رواں ماہ تاجکستان نے کہا تھا کہ افغانستان سے ہونے والے دو سرحد پار حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز تاجک صدر امام علی رحمان نے تاجک۔افغان سرحد کے قریب ہرب میدان تربیتی مرکز میں چار نئی سرحدی چوکیاں اور ٹینکوں کی تربیت کے لیے ایک نیا رینج افتتاح کیا، جس کا مقصد سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر مسلح جھڑپ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>تاجک سرکاری خبر رساں ادارے خووار نے تاجک ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے بارڈر ٹروپس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ منگل کی رات تین افراد نے ملک کے جنوب مغربی خطے ختلون کے ضلع شمسی الدین شوہین میں سرحد عبور کی، جنہیں بدھ کے روز تلاش کر لیا گیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق مذکورہ افراد نے تاجک سرحدی اہلکاروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور مسلح مزاحمت کی۔ ان کا ارادہ قومی سلامتی کمیٹی کے بارڈر ٹروپس کی ایک چوکی پر حملہ کرنے کا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274375'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے نتیجے میں تینوں افراد کو ہلاک کر دیا گیا، تاہم جھڑپ کے دوران دو تاجک سرحدی اہلکار بھی جان سے گئے۔</p>
<p>تاجک حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے یہ تیسرا مسلح حملہ، دہشت گرد کارروائی اور غیرقانونی سرحدی دراندازی کا واقعہ ہے۔</p>
<p>بیان میں افغان حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ تاجک۔افغان سرحد پر سلامتی اور استحکام یقینی بنانے سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں پر بارہا عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>تاجک بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ افغان انتظامیہ تاجک عوام سے معذرت کرے گی اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گی۔</p>
<p>افغانستان کی جانب سے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>اس سے قبل رواں ماہ تاجکستان نے کہا تھا کہ افغانستان سے ہونے والے دو سرحد پار حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>بدھ کے روز تاجک صدر امام علی رحمان نے تاجک۔افغان سرحد کے قریب ہرب میدان تربیتی مرکز میں چار نئی سرحدی چوکیاں اور ٹینکوں کی تربیت کے لیے ایک نیا رینج افتتاح کیا، جس کا مقصد سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274922</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 13:45:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/26133806d01a0dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/26133806d01a0dc.webp"/>
        <media:title>بیان میں افغان حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ تاجک۔افغان سرحد پر سلامتی اور استحکام یقینی بنانے سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں پر بارہا عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین جنگ کے خاتمے پر امریکی مذاکرات کے چند گھنٹے بعد ماسکو میں کار بم دھماکا، روسی جنرل ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274894/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی ماسکو میں ایک کار بم دھماکے میں روسی فوج کا ایک سینئر جنرل ہلاک ہو گیا، یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب کچھ گھنٹے قبل ہی روسی اور یوکرینی وفود نے جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر میامی میں الگ الگ مذاکرات کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیف نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم روسی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ دھماکا یوکرینی خصوصی فورسز سے منسلک ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ ان دیگر ٹارگٹ کلنگ سے مشابہت رکھتا ہے جن میں جنرلز اور جنگ کے حامی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جن کی ذمہ داری یا تو یوکرین نے قبول کی، یا جن کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ انہیں یوکرین نے ہی کروایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;56 سالہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف جو روسی جنرل اسٹاف کے تربیتی شعبے کے سربراہ تھے، اس وقت مارے گئے جب ان کی کھڑی ہوئی کار کے نیچے نصب بم جنوبی ماسکو کے ایک رہائشی علاقے میں دھماکے سے پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے رپورٹرز نے موقع پر ایک بری طرح تباہ شدہ سفید رنگ کی ایس یو وی دیکھی، جس کے دروازے اور پچھلی اسکرین اڑ چکی تھی۔ گاڑی جل کر بری طرح تباہ ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز اور تفتیشی افسران نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;74 سالہ مقامی رہائشی تاتیانا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں بالکل بھی اس کی توقع نہیں تھی، ہمیں لگا تھا ہم محفوظ ہیں اور پھر یہ سب ہمارے بالکل پاس ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;70 سالہ گریگوری، جنہوں نے اپنا پورا نام بتانے سے انکار کیا، نے کہا کہ  کھڑکیاں لرز اٹھیں، صاف محسوس ہو رہا تھا کہ یہ دھماکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی تفتیشی کمیٹی جو بڑے جرائم کی تحقیقات کرتی ہے، نے کہا کہ وہ قتل کے مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہے، اور ان میں سے ایک پہلو یوکرینی خصوصی سروسز کی جانب سے جرم کی ممکنہ منصوبہ بندی سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی وزارت کی ویب سائٹ پر موجود ان کی سرکاری سوانح عمری کے مطابق، سروروف نے شمالی قفقاز میں روسی فوجی مہمات میں حصہ لیا، جن میں 1990 کی دہائی میں چیچنیا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2015 اور 2016 کے دوران شام میں روسی افواج کی قیادت بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مذاکرات-میں-پیش-رفت" href="#مذاکرات-میں-پیش-رفت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مذاکرات میں پیش رفت&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کریملن کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والی ہلاکت کے بارے میں صدر ولادیمیر پوٹن کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ میامی میں تین روزہ مذاکرات کے بعد پیش آیا، جب امریکا چار سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی مذاکرات کار رستم عمروف اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اتوار کو مذاکرات میں پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی ایلچی کریل دمتریف نے بھی امریکی ٹیم سے ملاقات کی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وٹکوف نے ان ملاقاتوں کو بھی نتیجہ خیز اور تعمیری قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابتدائی 28 نکاتی منصوبہ ماسکو کے بنیادی مطالبات سے ہم آہنگ تھا، جس کے باعث کیف اور یورپی دارالحکومتوں میں تشویش پھیل گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد یوکرین اور اس کے اتحادی اس منصوبے کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، تاہم کیف کا کہنا ہے کہ اس سے اب بھی بڑے سمجھوتوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جیسا کہ پورا مشرقی ڈونباس خطہ روس کے حوالے کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آیا روس واقعی جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ یہ جنگ دسیوں ہزار جانیں لے چکی ہے اور مشرقی و جنوبی یوکرین کو تباہ کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن نے پیر کو اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ سوویت یونین کو دوبارہ قائم کرنا، پورے یوکرین پر قبضہ کرنا یا مشرقی یورپ میں مزید زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق پیوٹن صرف مشرقی یوکرین پر کنٹرول سے کہیں زیادہ چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں جب ماسکو نے یوکرین میں فوجیں بھیجیں، اس کے بعد سے روس اور روس کے زیرِ کنٹرول یوکرینی علاقوں میں روسی فوجی اہلکاروں اور کریملن کے حامی افراد کو نشانہ بنانے والے کئی حملوں کا الزام کیف پر لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں جنرل یاروسلاو موسکالک، جو جنرل اسٹاف کے نائب تھے، ماسکو کے قریب ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2024 میں روسی تابکاری، کیمیائی اور حیاتیاتی دفاعی افواج کے سربراہ ایگور کیریلوف اس وقت مارے گئے جب ماسکو میں ایک بارودی سرنگ سے لیس الیکٹرک اسکوٹر پھٹ گئی اور اس حملے کی ذمہ داری یوکرین کی ایس بی یو سیکیورٹی سروس نے قبول کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2023 میں روسی فوجی بلاگر میکسم فومِن سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک کیفے میں اس وقت مارے گئے جب ایک مجسمہ نما تحفہ پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگست 2022 میں ایک کار بم دھماکے میں الٹرا نیشنلسٹ نظریہ دان الیگزینڈر دوگِن کی بیٹی داریا دوگینا ہلاک ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی ماسکو میں ایک کار بم دھماکے میں روسی فوج کا ایک سینئر جنرل ہلاک ہو گیا، یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب کچھ گھنٹے قبل ہی روسی اور یوکرینی وفود نے جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر میامی میں الگ الگ مذاکرات کیے تھے۔</p>
<p>کیف نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم روسی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ دھماکا یوکرینی خصوصی فورسز سے منسلک ہے یا نہیں۔</p>
<p>یہ حملہ ان دیگر ٹارگٹ کلنگ سے مشابہت رکھتا ہے جن میں جنرلز اور جنگ کے حامی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جن کی ذمہ داری یا تو یوکرین نے قبول کی، یا جن کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ انہیں یوکرین نے ہی کروایا۔</p>
<p>56 سالہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف جو روسی جنرل اسٹاف کے تربیتی شعبے کے سربراہ تھے، اس وقت مارے گئے جب ان کی کھڑی ہوئی کار کے نیچے نصب بم جنوبی ماسکو کے ایک رہائشی علاقے میں دھماکے سے پھٹ گیا۔</p>
<p>اے ایف پی کے رپورٹرز نے موقع پر ایک بری طرح تباہ شدہ سفید رنگ کی ایس یو وی دیکھی، جس کے دروازے اور پچھلی اسکرین اڑ چکی تھی۔ گاڑی جل کر بری طرح تباہ ہوگئی تھی۔</p>
<p>سیکیورٹی فورسز اور تفتیشی افسران نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی۔</p>
<p>74 سالہ مقامی رہائشی تاتیانا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں بالکل بھی اس کی توقع نہیں تھی، ہمیں لگا تھا ہم محفوظ ہیں اور پھر یہ سب ہمارے بالکل پاس ہو گیا۔</p>
<p>70 سالہ گریگوری، جنہوں نے اپنا پورا نام بتانے سے انکار کیا، نے کہا کہ  کھڑکیاں لرز اٹھیں، صاف محسوس ہو رہا تھا کہ یہ دھماکا ہے۔</p>
<p>روس کی تفتیشی کمیٹی جو بڑے جرائم کی تحقیقات کرتی ہے، نے کہا کہ وہ قتل کے مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہے، اور ان میں سے ایک پہلو یوکرینی خصوصی سروسز کی جانب سے جرم کی ممکنہ منصوبہ بندی سے متعلق ہے۔</p>
<p>دفاعی وزارت کی ویب سائٹ پر موجود ان کی سرکاری سوانح عمری کے مطابق، سروروف نے شمالی قفقاز میں روسی فوجی مہمات میں حصہ لیا، جن میں 1990 کی دہائی میں چیچنیا بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے 2015 اور 2016 کے دوران شام میں روسی افواج کی قیادت بھی کی تھی۔</p>
<h2><a id="مذاکرات-میں-پیش-رفت" href="#مذاکرات-میں-پیش-رفت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مذاکرات میں پیش رفت</strong></h2>
<p>کریملن کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والی ہلاکت کے بارے میں صدر ولادیمیر پوٹن کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ میامی میں تین روزہ مذاکرات کے بعد پیش آیا، جب امریکا چار سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔</p>
<p>یوکرینی مذاکرات کار رستم عمروف اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اتوار کو مذاکرات میں پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔</p>
<p>روسی ایلچی کریل دمتریف نے بھی امریکی ٹیم سے ملاقات کی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل تھے۔</p>
<p>وٹکوف نے ان ملاقاتوں کو بھی نتیجہ خیز اور تعمیری قرار دیا تھا۔</p>
<p>جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابتدائی 28 نکاتی منصوبہ ماسکو کے بنیادی مطالبات سے ہم آہنگ تھا، جس کے باعث کیف اور یورپی دارالحکومتوں میں تشویش پھیل گئی تھی۔</p>
<p>اس کے بعد یوکرین اور اس کے اتحادی اس منصوبے کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، تاہم کیف کا کہنا ہے کہ اس سے اب بھی بڑے سمجھوتوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جیسا کہ پورا مشرقی ڈونباس خطہ روس کے حوالے کرنا۔</p>
<p>یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آیا روس واقعی جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ یہ جنگ دسیوں ہزار جانیں لے چکی ہے اور مشرقی و جنوبی یوکرین کو تباہ کر چکی ہے۔</p>
<p>کریملن نے پیر کو اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ سوویت یونین کو دوبارہ قائم کرنا، پورے یوکرین پر قبضہ کرنا یا مشرقی یورپ میں مزید زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق پیوٹن صرف مشرقی یوکرین پر کنٹرول سے کہیں زیادہ چاہتے ہیں۔</p>
<p>فروری 2022 میں جب ماسکو نے یوکرین میں فوجیں بھیجیں، اس کے بعد سے روس اور روس کے زیرِ کنٹرول یوکرینی علاقوں میں روسی فوجی اہلکاروں اور کریملن کے حامی افراد کو نشانہ بنانے والے کئی حملوں کا الزام کیف پر لگایا گیا ہے۔</p>
<p>اپریل میں جنرل یاروسلاو موسکالک، جو جنرل اسٹاف کے نائب تھے، ماسکو کے قریب ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوئے۔</p>
<p>دسمبر 2024 میں روسی تابکاری، کیمیائی اور حیاتیاتی دفاعی افواج کے سربراہ ایگور کیریلوف اس وقت مارے گئے جب ماسکو میں ایک بارودی سرنگ سے لیس الیکٹرک اسکوٹر پھٹ گئی اور اس حملے کی ذمہ داری یوکرین کی ایس بی یو سیکیورٹی سروس نے قبول کی تھی۔</p>
<p>اپریل 2023 میں روسی فوجی بلاگر میکسم فومِن سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک کیفے میں اس وقت مارے گئے جب ایک مجسمہ نما تحفہ پھٹ گیا۔</p>
<p>اور اگست 2022 میں ایک کار بم دھماکے میں الٹرا نیشنلسٹ نظریہ دان الیگزینڈر دوگِن کی بیٹی داریا دوگینا ہلاک ہو گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274894</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 15:14:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2215135074db30b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2215135074db30b.webp"/>
        <media:title>کیف نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم روسی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ دھماکا یوکرینی خصوصی فورسز سے منسلک ہے یا نہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں بھارت کے سخت ناقد نوجوان رہنما کی ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہرے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274871/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں ایک مقبول نوجوان سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد  ڈھاکا اور دیگر شہروں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا، جب کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل مزید بے امنی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جن میں مذکورہ رہنما بھی امیدوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو صبح کے وقت سڑکوں پر صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی، تاہم اس مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک کے شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جمعے کی نماز کے بعد ایک بار پھر تشدد مظاہرے شروع ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;32 سالہ شریف عثمان ہادی انقلاب منچہ کے ترجمان تھے اور گزشتہ برس وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ جمعے ڈھاکا میں انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے ہادی کے سر میں گولی ماری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں انہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ چھ دن تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہادی بھارت کے سخت ناقد تھے، جبکہ انقلاب منچہ اپنی ویب سائٹ پر خود کو بغاوت کی روح سے متاثر ایک انقلابی ثقافتی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکا میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعرات کی رات مشتعل ہجوم نے ملک کے سب سے بڑے روزنامے پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کے دوران جذباتی نعرے لگائے گئے جن میں ہادی کا نام لیا گیا، مظاہرین نے اپنی تحریک جاری رکھنے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی، جبکہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائر سروس کے مطابق دی ڈیلی اسٹار کی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، موقع پر فوجی دستے تعینات رہے اور فائر فائٹرز نے عمارت میں پھنسے صحافیوں کو نکال لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="حکومت-پر-دباؤ" href="#حکومت-پر-دباؤ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;حکومت پر دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں اگست 2024 سے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہے، جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اصلاحات میں تاخیر پر نئے احتجاجی مظاہروں کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ، جسے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے، کی جانب سے بھی بے امنی کی وارننگ دی جا چکی ہے۔ انتخابات 12 فروری کو ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہادی کی ہلاکت کے بعد قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں محمد یونس نے کہا کہ ان کی موت ملک کے سیاسی اور جمہوری منظرنامے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوام سے پُرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ضبط و تحمل پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تشدد ملک کو قابلِ اعتبار انتخابات کی راہ سے ہٹا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری حکومت نے ہادی کے اعزاز میں ہفتے کو یومِ سوگ قرار دیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن، جو شیخ حسینہ کے والد تھے، کا گھر ایک بار پھر نذرِ آتش کیا گیا، اس سے قبل فروری اور اگست میں بھی اس عمارت پر حملے ہو چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی رات دی ڈیلی اسٹار کی عمارت کے باہر مظاہرین نے روزنامہ نیو ایج کے مدیر نورالکبیر کو ہراساں کیا، جو ایڈیٹرز کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔ ویڈیوز میں انہیں ہجوم میں دھکیلا گیا، عوامی لیگ کا حامی قرار دے کر گالیاں دی گئیں اور ان کے بال کھینچے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکا میں معروف بنگالی ثقافتی ادارے چھایانوت کے احاطے میں بھی توڑ پھوڑ اور آگ لگائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال مغربی ضلع راجشاہی میں مظاہرین نے بلڈوزر کے ذریعے عوامی لیگ کے دفتر کو مسمار کر دیا، جبکہ کئی دیگر اضلاع میں مظاہرین نے اہم شاہراہیں بند کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چٹاگانگ سمیت بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں بھی تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں مظاہرین نے بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن پر حملہ کیا اور عوامی لیگ کے سابق وزیرِ تعلیم کے ایک گھر کو آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بے امنی رواں ہفتے کے آغاز میں ہونے والے تازہ بھارت مخالف مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جب سے شیخ حسینہ دہلی فرار ہوئیں، دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو دن قبل ہی بدھ کو جولائی اوئیکیا کے نام سے سینکڑوں مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب مارچ کیا، بھارت مخالف نعرے لگائے اور شیخ حسینہ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش میں ایک مقبول نوجوان سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد  ڈھاکا اور دیگر شہروں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا، جب کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل مزید بے امنی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جن میں مذکورہ رہنما بھی امیدوار تھے۔</p>
<p>جمعہ کو صبح کے وقت سڑکوں پر صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی، تاہم اس مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک کے شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جمعے کی نماز کے بعد ایک بار پھر تشدد مظاہرے شروع ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>32 سالہ شریف عثمان ہادی انقلاب منچہ کے ترجمان تھے اور گزشتہ برس وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے تھے۔</p>
<p>گزشتہ جمعے ڈھاکا میں انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے ہادی کے سر میں گولی ماری تھی۔</p>
<p>ابتدا میں انہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ چھ دن تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔</p>
<p>ہادی بھارت کے سخت ناقد تھے، جبکہ انقلاب منچہ اپنی ویب سائٹ پر خود کو بغاوت کی روح سے متاثر ایک انقلابی ثقافتی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے۔</p>
<p>ڈھاکا میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعرات کی رات مشتعل ہجوم نے ملک کے سب سے بڑے روزنامے پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔</p>
<p>مظاہروں کے دوران جذباتی نعرے لگائے گئے جن میں ہادی کا نام لیا گیا، مظاہرین نے اپنی تحریک جاری رکھنے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی، جبکہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے۔</p>
<p>فائر سروس کے مطابق دی ڈیلی اسٹار کی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، موقع پر فوجی دستے تعینات رہے اور فائر فائٹرز نے عمارت میں پھنسے صحافیوں کو نکال لیا۔</p>
<h2><a id="حکومت-پر-دباؤ" href="#حکومت-پر-دباؤ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>حکومت پر دباؤ</strong></h2>
<p>بنگلہ دیش میں اگست 2024 سے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہے، جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئی تھیں۔</p>
<p>حکومت اصلاحات میں تاخیر پر نئے احتجاجی مظاہروں کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ، جسے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے، کی جانب سے بھی بے امنی کی وارننگ دی جا چکی ہے۔ انتخابات 12 فروری کو ہونے والے ہیں۔</p>
<p>ہادی کی ہلاکت کے بعد قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں محمد یونس نے کہا کہ ان کی موت ملک کے سیاسی اور جمہوری منظرنامے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔</p>
<p>انہوں نے عوام سے پُرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے ضبط و تحمل پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تشدد ملک کو قابلِ اعتبار انتخابات کی راہ سے ہٹا سکتا ہے۔</p>
<p>عبوری حکومت نے ہادی کے اعزاز میں ہفتے کو یومِ سوگ قرار دیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔</p>
<p>ملک کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن، جو شیخ حسینہ کے والد تھے، کا گھر ایک بار پھر نذرِ آتش کیا گیا، اس سے قبل فروری اور اگست میں بھی اس عمارت پر حملے ہو چکے تھے۔</p>
<p>جمعرات کی رات دی ڈیلی اسٹار کی عمارت کے باہر مظاہرین نے روزنامہ نیو ایج کے مدیر نورالکبیر کو ہراساں کیا، جو ایڈیٹرز کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔ ویڈیوز میں انہیں ہجوم میں دھکیلا گیا، عوامی لیگ کا حامی قرار دے کر گالیاں دی گئیں اور ان کے بال کھینچے گئے۔</p>
<p>ڈھاکا میں معروف بنگالی ثقافتی ادارے چھایانوت کے احاطے میں بھی توڑ پھوڑ اور آگ لگائی گئی۔</p>
<p>شمال مغربی ضلع راجشاہی میں مظاہرین نے بلڈوزر کے ذریعے عوامی لیگ کے دفتر کو مسمار کر دیا، جبکہ کئی دیگر اضلاع میں مظاہرین نے اہم شاہراہیں بند کر دیں۔</p>
<p>چٹاگانگ سمیت بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں بھی تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں مظاہرین نے بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن پر حملہ کیا اور عوامی لیگ کے سابق وزیرِ تعلیم کے ایک گھر کو آگ لگا دی۔</p>
<p>یہ بے امنی رواں ہفتے کے آغاز میں ہونے والے تازہ بھارت مخالف مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جب سے شیخ حسینہ دہلی فرار ہوئیں، دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔</p>
<p>دو دن قبل ہی بدھ کو جولائی اوئیکیا کے نام سے سینکڑوں مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب مارچ کیا، بھارت مخالف نعرے لگائے اور شیخ حسینہ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274871</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 14:33:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/19143312a6b1c9a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/19143312a6b1c9a.webp"/>
        <media:title>عبوری حکومت نے ہادی کے اعزاز میں ہفتے کو یومِ سوگ قرار دیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ نے افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا طالبان کا دعویٰ مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274857/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:&lt;/strong&gt; اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی اور اسے ’ناقابلِ اعتبار‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک افغانستان کو تیزی سے علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961729"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ جائزہ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16 ویں رپورٹ میں شامل ہے، جو اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے چار سال سے زائد عرصے بعد افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر بڑھتی عالمی تشویش کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ’ڈی فیکٹو حکام مسلسل یہ انکار کرتے ہیں کہ کسی بھی دہشت گرد گروہ کی ان کے علاقے میں موجودگی یا وہاں سے کارروائیاں ہیں۔ یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان نے 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت یہ وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کے خلاف خطرہ بننے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اگرچہ انہوں نے داعش خراسان کے خلاف سخت کارروائیاں کیں، لیکن دیگر دہشت گرد گروہوں کے بارے میں ان کا رویہ نمایاں طور پر مختلف رہا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274805/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تازہ رپورٹ کے مطابق، ’رکن ممالک کی ایک بڑی تعداد مسلسل یہ رپورٹ کر رہی ہے کہ داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ جسے ترکستان اسلامک پارٹی بھی کہا جاتا ہے، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے مطابق القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے اور متعدد صوبوں میں اس کی مستقل موجودگی ہے۔ اگرچہ اس کی سرگرمیاں کم نمایاں رکھی جاتی ہیں، مگر یو این مانیٹرز کے مطابق گروہ کو ایک ایسا ماحول میسر ہے جو تربیت اور تنظیمِ نو کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے برعکس داعش خراسان کو طالبان کا بنیادی حریف سمجھا جاتا ہے۔ طالبان کی کارروائیوں سے اس کے علاقائی کنٹرول کو نقصان پہنچا ہے، تاہم گروہ نے لچک برقرار رکھی اور افغانستان کے اندر اور باہر حملے جاری رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے سب سے شدید خطرہ ٹی ٹی پی ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے طالبان کے اندر بعض عناصر کی مضبوط حمایت سے مستفید ہوتے ہوئے  محفوظ  افغان ٹھکانوں سے کارروائیاں کرنے والا قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ’طالبان حکام ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے میں ناکامی کی ذمہ داری سے انکار اور توجہ ہٹاتے رہتے ہیں۔ طالبان کے اندر ٹی ٹی پی کے لیے ہمدردی اور وفاداری موجود ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274803/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا، ‘کچھ سینئر ارکان ٹی ٹی پی کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری خلل اور کشیدگی پیدا کر رہا ہے، جبکہ دیگر اب بھی اس کے حامی ہیں۔‘ پاکستان کے دباؤ پر طالبان کے اس گروہ سے تعلقات ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا، ‘تاریخی روابط کے پیشِ نظر طالبان کا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنا بعید از قیاس ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا، ‘حتیٰ کہ اگر وہ چاہیں بھی تو ممکن ہے ان میں اس کی صلاحیت نہ ہو۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے ‘افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد ہائی پروفائل حملے کیے ہیں‘ جس کے باعث یہ کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ‘2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق 2025 میں اب تک پاکستان میں 600 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ ‘کئی حملے پیچیدہ نوعیت کے تھے، جن میں گاڑیوں میں نصب خودکش دھماکا خیز مواد کے ساتھ پیدل خودکش حملہ آوروں کی ٹیمیں شامل تھیں‘ اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ’پاکستان میں خودکش حملے کرنے والوں کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل بتائی گئی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان طویل عرصے سے طالبان پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا آ رہا ہے، جن کی تعداد اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً 6 ہزار ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو صوبہ خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا میں مقیم ہیں جبکہ گروہ کا سربراہ نور ولی محسود مبینہ طور پر کابل میں رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نامعلوم رکن ملک کے مطابق نور ولی محسود کے خاندان کو طالبان کی جانب سے ماہانہ 30 لاکھ افغانی (تقریباً 43 ہزار ڈالر) ادا کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی پر تنازع نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے، حالانکہ ماضی میں افغان طالبان کو پاکستان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ‘ان حملوں کے نتیجے میں سرحد پار فوجی جھڑپیں ہوئیں، جانی نقصان ہوا اور دوطرفہ تجارت میں خلل پڑا۔‘ مزید کہا گیا، ‘رپورٹ لکھے جانے کے وقت، انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ، پاکستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغان معیشت کو یومیہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274701/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274701"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنے اہداف کا دائرہ بھی بڑھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ‘جنوری میں ٹی ٹی پی نے ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا جس میں حملوں کے اہداف میں فوج کی ملکیت والے کاروبار بھی شامل کیے گئے، جس سے پاکستان کی فوج اور پاکستان میں چینی اداروں کے معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی مہم میں نمایاں اضافہ ہوا۔‘ رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعاون کی نشاندہی بھی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر عسکری موجودگی کے باوجود رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی میں بعض پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ‘پاکستانی حکام نے کئی ہائی پروفائل گرفتاریاں کیں، جن میں 16 مئی 2025 کو داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم کی گرفتاری شامل ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا، ‘مجموعی طور پر، ڈی فیکٹو حکام اور پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش خراسان کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے‘ اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ‘2025 کے وسط میں ترک اور پاکستانی حکام کی جانب سے اوزگور آلتون المعروف ابو یاسر الترکی  جو گروہ کے میڈیا اور لاجسٹک آپریشنز کی ایک اہم شخصیت تھا، کی گرفتاری ممکنہ طور پر ‘وائس آف خراسان‘ کی معطلی کا سبب بنی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القاعدہ کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا، ‘مارچ 2025 میں اسامہ محمود کو باضابطہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کا ‘امیر’ مقرر کیا گیا۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:</strong> اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی اور اسے ’ناقابلِ اعتبار‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک افغانستان کو تیزی سے علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1961729"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ جائزہ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16 ویں رپورٹ میں شامل ہے، جو اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے چار سال سے زائد عرصے بعد افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر بڑھتی عالمی تشویش کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ’ڈی فیکٹو حکام مسلسل یہ انکار کرتے ہیں کہ کسی بھی دہشت گرد گروہ کی ان کے علاقے میں موجودگی یا وہاں سے کارروائیاں ہیں۔ یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں۔‘</p>
<p>طالبان نے 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت یہ وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کے خلاف خطرہ بننے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اگرچہ انہوں نے داعش خراسان کے خلاف سخت کارروائیاں کیں، لیکن دیگر دہشت گرد گروہوں کے بارے میں ان کا رویہ نمایاں طور پر مختلف رہا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274805/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تازہ رپورٹ کے مطابق، ’رکن ممالک کی ایک بڑی تعداد مسلسل یہ رپورٹ کر رہی ہے کہ داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ جسے ترکستان اسلامک پارٹی بھی کہا جاتا ہے، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔‘</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے مطابق القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے اور متعدد صوبوں میں اس کی مستقل موجودگی ہے۔ اگرچہ اس کی سرگرمیاں کم نمایاں رکھی جاتی ہیں، مگر یو این مانیٹرز کے مطابق گروہ کو ایک ایسا ماحول میسر ہے جو تربیت اور تنظیمِ نو کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے برعکس داعش خراسان کو طالبان کا بنیادی حریف سمجھا جاتا ہے۔ طالبان کی کارروائیوں سے اس کے علاقائی کنٹرول کو نقصان پہنچا ہے، تاہم گروہ نے لچک برقرار رکھی اور افغانستان کے اندر اور باہر حملے جاری رکھے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے سب سے شدید خطرہ ٹی ٹی پی ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے طالبان کے اندر بعض عناصر کی مضبوط حمایت سے مستفید ہوتے ہوئے  محفوظ  افغان ٹھکانوں سے کارروائیاں کرنے والا قرار دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ’طالبان حکام ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے میں ناکامی کی ذمہ داری سے انکار اور توجہ ہٹاتے رہتے ہیں۔ طالبان کے اندر ٹی ٹی پی کے لیے ہمدردی اور وفاداری موجود ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274803/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مزید کہا گیا، ‘کچھ سینئر ارکان ٹی ٹی پی کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری خلل اور کشیدگی پیدا کر رہا ہے، جبکہ دیگر اب بھی اس کے حامی ہیں۔‘ پاکستان کے دباؤ پر طالبان کے اس گروہ سے تعلقات ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا، ‘تاریخی روابط کے پیشِ نظر طالبان کا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنا بعید از قیاس ہے۔‘</p>
<p>مزید کہا گیا، ‘حتیٰ کہ اگر وہ چاہیں بھی تو ممکن ہے ان میں اس کی صلاحیت نہ ہو۔‘</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے ‘افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد ہائی پروفائل حملے کیے ہیں‘ جس کے باعث یہ کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ‘2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق 2025 میں اب تک پاکستان میں 600 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔‘</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ ‘کئی حملے پیچیدہ نوعیت کے تھے، جن میں گاڑیوں میں نصب خودکش دھماکا خیز مواد کے ساتھ پیدل خودکش حملہ آوروں کی ٹیمیں شامل تھیں‘ اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ’پاکستان میں خودکش حملے کرنے والوں کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل بتائی گئی۔‘</p>
<p>پاکستان طویل عرصے سے طالبان پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا آ رہا ہے، جن کی تعداد اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً 6 ہزار ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو صوبہ خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا میں مقیم ہیں جبکہ گروہ کا سربراہ نور ولی محسود مبینہ طور پر کابل میں رہتا ہے۔</p>
<p>ایک نامعلوم رکن ملک کے مطابق نور ولی محسود کے خاندان کو طالبان کی جانب سے ماہانہ 30 لاکھ افغانی (تقریباً 43 ہزار ڈالر) ادا کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی پر تنازع نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے، حالانکہ ماضی میں افغان طالبان کو پاکستان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ‘ان حملوں کے نتیجے میں سرحد پار فوجی جھڑپیں ہوئیں، جانی نقصان ہوا اور دوطرفہ تجارت میں خلل پڑا۔‘ مزید کہا گیا، ‘رپورٹ لکھے جانے کے وقت، انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ، پاکستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغان معیشت کو یومیہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274701/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274701"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنے اہداف کا دائرہ بھی بڑھایا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ‘جنوری میں ٹی ٹی پی نے ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا جس میں حملوں کے اہداف میں فوج کی ملکیت والے کاروبار بھی شامل کیے گئے، جس سے پاکستان کی فوج اور پاکستان میں چینی اداروں کے معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی مہم میں نمایاں اضافہ ہوا۔‘ رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعاون کی نشاندہی بھی کی گئی۔</p>
<p>وسیع تر عسکری موجودگی کے باوجود رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی میں بعض پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ‘پاکستانی حکام نے کئی ہائی پروفائل گرفتاریاں کیں، جن میں 16 مئی 2025 کو داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم کی گرفتاری شامل ہے۔‘</p>
<p>مزید کہا گیا، ‘مجموعی طور پر، ڈی فیکٹو حکام اور پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش خراسان کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے‘ اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ‘2025 کے وسط میں ترک اور پاکستانی حکام کی جانب سے اوزگور آلتون المعروف ابو یاسر الترکی  جو گروہ کے میڈیا اور لاجسٹک آپریشنز کی ایک اہم شخصیت تھا، کی گرفتاری ممکنہ طور پر ‘وائس آف خراسان‘ کی معطلی کا سبب بنی۔‘</p>
<p>القاعدہ کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا، ‘مارچ 2025 میں اسامہ محمود کو باضابطہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کا ‘امیر’ مقرر کیا گیا۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274857</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 11:32:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/181110374503ff6.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/181110374503ff6.webp"/>
        <media:title>رپورٹ میں کہا گیا، ‘ڈی فیکٹو حکام مسلسل یہ انکار کرتے ہیں کہ کسی بھی دہشت گرد گروہ کی ان کے علاقے میں موجودگی یا وہاں سے کارروائیاں ہیں۔ یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں۔’ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے چین کے بزنس ویزوں کی رکاوٹیں ختم کردیں، تعلقات میں بہتری کی جانب بڑی پیش رفت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274811/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے، اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرف پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے تقریباً تمام دورے روک دیے تھے اور بزنس ویزوں کی جانچ کو بھی سخت کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہلکار نے بتایا کہ ویزوں سے متعلق مسائل اب “مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “ہم نے انتظامی جانچ کا وہ اضافی مرحلہ ختم کر دیا ہے اور بزنس ویزے چار ہفتوں کے اندر اندر نمٹا رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، وزیراعظم آفس اور ملکی پالیسی تھنک ٹینک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے بھارت کی جانب سے “مثبت اقدام” کا نوٹس لیا ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تبادلوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ موبائل فون بنانے کے لیے جو مشینری چین سے آتی ہے وہ بروقت نہ پہنچ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی چینی کمپنیوں  جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے کو اپنے عملے کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ویزا پابندیوں نے نہ صرف الیکٹرانکس انڈسٹری بلکہ شمسی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کیا، جہاں مہارت رکھنے والا عملہ نہ ملنے سے کام رکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کا اعلان مودی کے سات سال بعد چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرکے تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بھی بحال ہو گئیں، جو 2020 سے معطل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکاوٹیں ختم کرنے کی سفارش ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے، جو اب سرکاری تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے کہا کہ “ہم حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ یہ تعاون کی علامت ہے اور ہماری سفارشات کو قبول کرنے کا ثبوت بھی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت مختلف مصنوعات مکمل تیار کردہ پروڈکٹ سے لے کر پرزہ جات تک  کی تیاری میں رفتار بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" href="#امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکا کی ٹیرف پالیسی کے بعد چین سے تعلقات میں گرم جوشی&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین کے تعلقات میں یہ بہتری اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جبکہ روسی تیل خریدنے پر اضافی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دی، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس سے تعاون بڑھایا اور واشنگٹن کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس میں چین کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے کچھ عرصہ پہلے ہی کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں نرمی کی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے اہلکار نے آخر میں بتایا کہ“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے، اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔</p>
<p>دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرف پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے تقریباً تمام دورے روک دیے تھے اور بزنس ویزوں کی جانچ کو بھی سخت کر دیا تھا۔</p>
<p>ایک اہلکار نے بتایا کہ ویزوں سے متعلق مسائل اب “مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں”۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “ہم نے انتظامی جانچ کا وہ اضافی مرحلہ ختم کر دیا ہے اور بزنس ویزے چار ہفتوں کے اندر اندر نمٹا رہے ہیں۔”</p>
<p>بھارت کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، وزیراعظم آفس اور ملکی پالیسی تھنک ٹینک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>اس پیش رفت کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے بھارت کی جانب سے “مثبت اقدام” کا نوٹس لیا ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تبادلوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔</p>
<p>تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ موبائل فون بنانے کے لیے جو مشینری چین سے آتی ہے وہ بروقت نہ پہنچ سکی۔</p>
<p>گزشتہ برس رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی چینی کمپنیوں  جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے کو اپنے عملے کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔</p>
<p>انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ویزا پابندیوں نے نہ صرف الیکٹرانکس انڈسٹری بلکہ شمسی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کیا، جہاں مہارت رکھنے والا عملہ نہ ملنے سے کام رکا۔</p>
<p>سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کا اعلان مودی کے سات سال بعد چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرکے تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بھی بحال ہو گئیں، جو 2020 سے معطل تھیں۔</p>
<p>رکاوٹیں ختم کرنے کی سفارش ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے، جو اب سرکاری تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے کہا کہ “ہم حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ یہ تعاون کی علامت ہے اور ہماری سفارشات کو قبول کرنے کا ثبوت بھی ہے۔”</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت مختلف مصنوعات مکمل تیار کردہ پروڈکٹ سے لے کر پرزہ جات تک  کی تیاری میں رفتار بڑھا رہا ہے۔</p>
<h2><a id="امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" href="#امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکا کی ٹیرف پالیسی کے بعد چین سے تعلقات میں گرم جوشی</h2>
<p>بھارت اور چین کے تعلقات میں یہ بہتری اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جبکہ روسی تیل خریدنے پر اضافی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔</p>
<p>اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دی، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس سے تعاون بڑھایا اور واشنگٹن کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری رکھی۔</p>
<p>مودی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس میں چین کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانا بھی شامل ہے۔</p>
<p>بھارت نے کچھ عرصہ پہلے ہی کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں نرمی کی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسرے اہلکار نے آخر میں بتایا کہ“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274811</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 17:15:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1217162257ccd56.webp" type="image/webp" medium="image" height="456" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1217162257ccd56.webp"/>
        <media:title>فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق وزیراعظم بنگلہ دیش خالدہ ضیا کی طبعیت خراب، وینٹی لیٹر پر منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274808/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو طبعیت کی شدید خرابی کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے اور وہ ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں سنگین پیچیدگیوں کے باعث وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق 27 نومبر کو اُنہیں شدید لبلبے کی سوزش کی تشخیص ہوئی، جس کا اب بھی انتہائی توجہ کے ساتھ علاج جاری ہے، شدید انفیکشن کے باعث وہ  اینٹی بائیوٹک اور اینٹی فنگل تھراپی حاصل کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274444'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274444"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بنگلہ دیشی میڈیکل بورڈ کے مطابق ان کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں اور انہیں باقاعدہ ڈائیلاسز کی ضرورت ہے، جبکہ متعدد دیگر طبی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین تعلقدار نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ خالدہ ضیا کو سانس کی شدید قلت، خون میں آکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی سطح جیسے مسائل لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم کو ہائی فلو نزل کینولا اور سپورٹ فراہم کی جا رہی تھی تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر انہیں الیکٹیو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاکہ پھیپھڑوں اور دیگر اہم اعضا کو آرام مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی میں لندن سے علاج کروا کر وطن واپسی کے بعد سے خالدہ ضیا ایورکیئر اسپتال میں باقاعدہ طبی معائنوں سے گزر رہی ہیں، ان کے اہلِ خانہ، بشمول طارق رحمن اور زبیدہ رحمن، ڈاکٹرز سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی تازہ ترین صحت کی صورتحال سے آگاہ رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکل بورڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خالدہ ضیا کی صحت سے متعلق افواہیں نہ پھیلائیں، کیونکہ ان کی حالت انتہائی نازک ہے اور ڈاکٹرز کی ایک مشترکہ ملکی و بین الاقوامی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر علاج کا جائزہ لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ خالدہ ضیا طویل عرصے سے متعدد پیچیدہ اور دائمی صحت کے مسائل کا شکار رہی ہیں، جن میں جگر اور گردوں کی پیچیدگیاں، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گٹھیا اور انفیکشن سے متعلق مسائل شامل ہیں، جن کا وہ طویل مدتی علاج کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی حالت بگڑنے کے باعث 23 نومبر کو انہیں ایورکیئر اسپتال میں داخل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو طبعیت کی شدید خرابی کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے اور وہ ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں سنگین پیچیدگیوں کے باعث وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق 27 نومبر کو اُنہیں شدید لبلبے کی سوزش کی تشخیص ہوئی، جس کا اب بھی انتہائی توجہ کے ساتھ علاج جاری ہے، شدید انفیکشن کے باعث وہ  اینٹی بائیوٹک اور اینٹی فنگل تھراپی حاصل کر رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274444'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274444"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب بنگلہ دیشی میڈیکل بورڈ کے مطابق ان کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں اور انہیں باقاعدہ ڈائیلاسز کی ضرورت ہے، جبکہ متعدد دیگر طبی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین تعلقدار نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ خالدہ ضیا کو سانس کی شدید قلت، خون میں آکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی سطح جیسے مسائل لاحق ہیں۔</p>
<p>سابق وزیر اعظم کو ہائی فلو نزل کینولا اور سپورٹ فراہم کی جا رہی تھی تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر انہیں الیکٹیو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاکہ پھیپھڑوں اور دیگر اہم اعضا کو آرام مل سکے۔</p>
<p>مئی میں لندن سے علاج کروا کر وطن واپسی کے بعد سے خالدہ ضیا ایورکیئر اسپتال میں باقاعدہ طبی معائنوں سے گزر رہی ہیں، ان کے اہلِ خانہ، بشمول طارق رحمن اور زبیدہ رحمن، ڈاکٹرز سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی تازہ ترین صحت کی صورتحال سے آگاہ رہتے ہیں۔</p>
<p>میڈیکل بورڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خالدہ ضیا کی صحت سے متعلق افواہیں نہ پھیلائیں، کیونکہ ان کی حالت انتہائی نازک ہے اور ڈاکٹرز کی ایک مشترکہ ملکی و بین الاقوامی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر علاج کا جائزہ لے رہی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ خالدہ ضیا طویل عرصے سے متعدد پیچیدہ اور دائمی صحت کے مسائل کا شکار رہی ہیں، جن میں جگر اور گردوں کی پیچیدگیاں، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گٹھیا اور انفیکشن سے متعلق مسائل شامل ہیں، جن کا وہ طویل مدتی علاج کر رہی ہیں۔</p>
<p>طبی حالت بگڑنے کے باعث 23 نومبر کو انہیں ایورکیئر اسپتال میں داخل کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274808</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 16:35:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/12162813f523bd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="505" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/12162813f523bd9.webp"/>
        <media:title>تصویر: ڈھاکا ٹریبیون
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرون ملک عسکری سرگرمیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، ایک ہزار افغان علما کی قرارداد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274803/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی جانب سے اس تشویش کے تناظر میں کہ عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں، حال ہی میں ایک ہزار سے زائد افغان علما نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد بظاہر اپنی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف عسکریت پسندی کو روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکردہ افغان علما کی جانب سے منظور کردہ اس قرارداد میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد میں کہا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں ”اسلامی امارت کو ان کے خلاف ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے“۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کسی افغان شہری کو “بیرون ملک فوجی سرگرمیوں کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی، لہٰذا اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرے تو اسلامی امارت کو ایسے افراد کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اگرچہ اس قرارداد کو خوش آئند قرار دیا ہے، مگر طالبان کے عسکریت پسند گروہوں سے متعلق سابقہ رویے کے باعث صرف محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ اس پیش رفت کو “مثبت اقدام” کہتے ہوئے دفترِ خارجہ نے ایک بار پھر عبوری افغان حکومت سے یہ مطالبہ دہرایا کہ وہ تحریری ضمانت دے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ دستاویز ایک اہم پیش رفت ہے، جو افغان حکومت کی باضابطہ توثیق کے بغیر آزاد علما کے ایک گروہ کی جانب سے سامنے آئی ہے، اور اس میں پاکستان کا براہِ راست نام بھی نہیں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس میں یہ ضرور کہا گیا کہ جو بھی ”افغانستان کی سرحدوں سے باہر عسکری کارروائیاں کرے گا، اسے ریاست کا باغی سمجھا جائے گا“  اور اسے امیر کے حکم کی خلاف ورزی بھی تصور کیا جائے گا، جو قابلِ سزا جرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ اب بھی واضح نہیں کہ ایسی سزا نافذ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا، کیونکہ اس قرارداد کو جاری کرنے والے علما کے اس سلسلے میں کوئی قانونی اختیارات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرارداد کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ یہ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اسلام آباد کابل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو لگام دے، جن پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کابل سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے نام سے ایک باضابطہ فرمان جاری کرے تاکہ سرحد پار جنگجوؤں کی آمدورفت روکی جا سکے۔ یہ مطالبہ گزشتہ چند ماہ میں قطر، ترکی اور سعودی عرب میں ہونے والی متعدد بات چیت میں بھی دہرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذاکرات سے باخبر حکام کے مطابق طالبان نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اس حکم کے لیے افغان علما سے رجوع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان مذہبی اسکالر شیخ فقیراللہ فائق، جو اس اجلاس میں شریک تھے، نے کابل یونیورسٹی میں علما کے اس اجتماع میں منظور ہونے والی قرارداد کو “بہت اہم” قرار دیا اور اس کے نتائج کے حوالے سے امید ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ تمام بڑے مذہبی مکاتب فکر کے سینئر علما اس ایک روزہ اجلاس میں شریک تھے۔ ان کے مطابق افغانستان میں 34 بڑے جہادی مدارس ہیں، اور وہ تمام اس تقریب میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اساتذہ کا ان طالبان پر اثر ہوتا ہے جو ملک سے باہر لڑنے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بعض عناصر پاکستان، غزہ اور دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ سپریم لیڈر یہ نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کوئی ہمسایہ ملک مشکل میں پڑے، اور مجھے امید ہے کہ یہ قرارداد مؤثر ثابت ہو گی۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی جانب سے اس تشویش کے تناظر میں کہ عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں، حال ہی میں ایک ہزار سے زائد افغان علما نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد بظاہر اپنی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف عسکریت پسندی کو روکنا ہے۔</p>
<p>سرکردہ افغان علما کی جانب سے منظور کردہ اس قرارداد میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔</p>
<p>قرارداد میں کہا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں ”اسلامی امارت کو ان کے خلاف ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے“۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کسی افغان شہری کو “بیرون ملک فوجی سرگرمیوں کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی، لہٰذا اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرے تو اسلامی امارت کو ایسے افراد کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں”۔</p>
<p>پاکستان نے اگرچہ اس قرارداد کو خوش آئند قرار دیا ہے، مگر طالبان کے عسکریت پسند گروہوں سے متعلق سابقہ رویے کے باعث صرف محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ اس پیش رفت کو “مثبت اقدام” کہتے ہوئے دفترِ خارجہ نے ایک بار پھر عبوری افغان حکومت سے یہ مطالبہ دہرایا کہ وہ تحریری ضمانت دے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ دستاویز ایک اہم پیش رفت ہے، جو افغان حکومت کی باضابطہ توثیق کے بغیر آزاد علما کے ایک گروہ کی جانب سے سامنے آئی ہے، اور اس میں پاکستان کا براہِ راست نام بھی نہیں لیا گیا۔</p>
<p>تاہم اس میں یہ ضرور کہا گیا کہ جو بھی ”افغانستان کی سرحدوں سے باہر عسکری کارروائیاں کرے گا، اسے ریاست کا باغی سمجھا جائے گا“  اور اسے امیر کے حکم کی خلاف ورزی بھی تصور کیا جائے گا، جو قابلِ سزا جرم ہے۔</p>
<p>لیکن یہ اب بھی واضح نہیں کہ ایسی سزا نافذ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا، کیونکہ اس قرارداد کو جاری کرنے والے علما کے اس سلسلے میں کوئی قانونی اختیارات نہیں ہیں۔</p>
<p>اس قرارداد کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ یہ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اسلام آباد کابل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو لگام دے، جن پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے کابل سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے نام سے ایک باضابطہ فرمان جاری کرے تاکہ سرحد پار جنگجوؤں کی آمدورفت روکی جا سکے۔ یہ مطالبہ گزشتہ چند ماہ میں قطر، ترکی اور سعودی عرب میں ہونے والی متعدد بات چیت میں بھی دہرایا گیا۔</p>
<p>تاہم مذاکرات سے باخبر حکام کے مطابق طالبان نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اس حکم کے لیے افغان علما سے رجوع کرے۔</p>
<p>افغان مذہبی اسکالر شیخ فقیراللہ فائق، جو اس اجلاس میں شریک تھے، نے کابل یونیورسٹی میں علما کے اس اجتماع میں منظور ہونے والی قرارداد کو “بہت اہم” قرار دیا اور اس کے نتائج کے حوالے سے امید ظاہر کی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ تمام بڑے مذہبی مکاتب فکر کے سینئر علما اس ایک روزہ اجلاس میں شریک تھے۔ ان کے مطابق افغانستان میں 34 بڑے جہادی مدارس ہیں، اور وہ تمام اس تقریب میں موجود تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اساتذہ کا ان طالبان پر اثر ہوتا ہے جو ملک سے باہر لڑنے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بعض عناصر پاکستان، غزہ اور دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ سپریم لیڈر یہ نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کوئی ہمسایہ ملک مشکل میں پڑے، اور مجھے امید ہے کہ یہ قرارداد مؤثر ثابت ہو گی۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274803</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 11:31:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/12113036b3c3560.webp" type="image/webp" medium="image" height="384" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/12113036b3c3560.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد میں شمولیت ممکن ہے، بنگلہ دیش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274792/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش  نے کہا ہے کہ یہ اسٹریٹجک طور پر ممکن ہے کہ ڈھاکا  علاقائی بلاک میں پاکستان کے ساتھ کسی مرحلے پر شامل ہو اور اس بلاک میں بھارت کی شمولیت نہ ہو جبکہ دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ایسا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960449/bangladesh-open-to-joining-bloc-with-pakistan-sans-india"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بنگلہ دیش کے سرکاری خبر رساں ادارے ب&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bssnews.net/news/340685"&gt;نگلہ دیش سنگ باد سنگستھا&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین کہا ہے کہ ہمارے لیے اسٹریٹجک طور پر یہ ممکن ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ علاقائی سطح پر کسی اتحاد میں شامل ہو اور اس میں بھارت موجود نہ ہو، (لیکن) نیپال یا بھوٹان کے لیے بھارت کو شامل کیے بغیر پاکستان کے ساتھ کوئی گروپنگ بنانا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بیان کو وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کے اسلام آباد میں حالیہ دیے گئے بیان کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش، چین اور پاکستان پر مشتمل ایک تین ملکی پیش رفت شروع ہوچکی ہے اور یہ علاقائی و غیر علاقائی ممالک تک پھیل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد توحید حسین نے کہا کہ ’اسحق ڈار نے کچھ کہا ہے، اور شاید کسی وقت اس میں کچھ پیش رفت بھی ہو سکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں سال اگست میں وزیرِ خارجہ ڈار نے 13 سال بعد پہلی بار بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے درمیان بھی حالیہ مہینوں میں دو خوشگوار ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال اگست میں بنگلہ دیش میں عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرم جوشی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش  نے کہا ہے کہ یہ اسٹریٹجک طور پر ممکن ہے کہ ڈھاکا  علاقائی بلاک میں پاکستان کے ساتھ کسی مرحلے پر شامل ہو اور اس بلاک میں بھارت کی شمولیت نہ ہو جبکہ دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ایسا ممکن نہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1960449/bangladesh-open-to-joining-bloc-with-pakistan-sans-india"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق بنگلہ دیش کے سرکاری خبر رساں ادارے ب<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bssnews.net/news/340685">نگلہ دیش سنگ باد سنگستھا</a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین کہا ہے کہ ہمارے لیے اسٹریٹجک طور پر یہ ممکن ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ علاقائی سطح پر کسی اتحاد میں شامل ہو اور اس میں بھارت موجود نہ ہو، (لیکن) نیپال یا بھوٹان کے لیے بھارت کو شامل کیے بغیر پاکستان کے ساتھ کوئی گروپنگ بنانا ممکن نہیں۔</p>
<p>ان کے بیان کو وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کے اسلام آباد میں حالیہ دیے گئے بیان کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش، چین اور پاکستان پر مشتمل ایک تین ملکی پیش رفت شروع ہوچکی ہے اور یہ علاقائی و غیر علاقائی ممالک تک پھیل سکتی ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد توحید حسین نے کہا کہ ’اسحق ڈار نے کچھ کہا ہے، اور شاید کسی وقت اس میں کچھ پیش رفت بھی ہو سکتی ہے‘۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں سال اگست میں وزیرِ خارجہ ڈار نے 13 سال بعد پہلی بار بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے درمیان بھی حالیہ مہینوں میں دو خوشگوار ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ سال اگست میں بنگلہ دیش میں عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرم جوشی آئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274792</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 10:24:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/11102048933d9a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/11102048933d9a0.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: دفتر خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
