<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 16:12:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 16:12:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا 8 ماہ میں دوسرا خلائی مشن ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275082/</link>
      <description>&lt;p&gt;زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;amp;source_ve_path=OTY3MTQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔</p>
<p>تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;source_ve_path=OTY3MTQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔</p>
<p>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔</p>
<p>اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275082</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 17:05:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12170133c92f8c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12170133c92f8c0.webp"/>
        <media:title>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ فوٹو: اسرو یوٹیوب چینل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے بھارت میں اپنے سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن بند کردیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275059/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p>عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔</p>
<p>توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275059</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:14:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09121013830bdb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09121013830bdb5.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت بنگلہ دیش کشیدگی: کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو نکالنے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274996/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیوجیت سائکیا نے کہا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان پر اپنی فرنچائز میں مستفیض الرحمان کو شامل کرنے پر تنقید کی اور انہیں غدار قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستفیض الرحمان کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شمولیت ایسے وقت ہوئی تھی جب بھارتی دائیں بازو کی جانب سے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ حملوں کے الزامات سامنے آ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے قریب سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا تھا، یہ احتجاج بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ میں ہندو فیکٹری ورکر دیپو چندر داس کو ایک ہجوم کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ دیپو چندر داس نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے میں مجموعی طور پر 12 افراد کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیوجیت سائکیا نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ حالیہ پیش رفت کے باعث بی سی سی آئی نے فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اسکواڈ سے بنگلہ دیش کے کھلاڑی مستفیض الرحمان کو ریلیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو ٹیم متبادل کھلاڑی کی درخواست کر سکتی ہے، جس کی بی سی سی آئی اجازت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی پی ایل کے قواعد کے مطابق ٹیم کو متبادل کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت دی جائے گی اور اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس معاملے پر مستفیض الرحمان سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ مستفیض الرحمان اس سے قبل آئی پی ایل میں سن رائزرس حیدرآباد، ممبئی انڈینز، راجستھان رائلز، چنئی سپر کنگز اور دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئی پی ایل کے 60 میچز میں 65 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ہونے والی نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 92 ملین بھارتی روپے (تقریباً 10 لاکھ 20 ہزار ڈالر) میں خریدا تھا، جس کے ساتھ وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے بنگلہ دیشی کھلاڑی بن گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان ٹائمز کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن کانگریس پارٹی نے سنگیت سوم کی جانب سے شاہ رخ خان پر کی جانے والی تنقید کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتر پردیش کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم نے شاہ رخ خان کو غدار قرار دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ ایک ایسے ملک کے کھلاڑی پر سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک ویڈیو کلپ میں سنگیت سوم نے کہا کہ جس طرح بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم ہو رہے ہیں، خواتین اور بچیوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے، ان کے گھروں کو جلایا جا رہا ہے اور وہاں بھارت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، اس کے باوجود شاہ رخ خان جیسے لوگ، جنہیں انہوں نے غدار کہا، ایسے ملک کے کھلاڑیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے بھارت اور اس کے ہمسایہ ملک کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے، جو پہلے ہی 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے حکومت مخالف احتجاج کے بعد نئی دہلی منتقل ہونے کے بعد کشیدہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی ایل کا 19واں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا، اس سے قبل بھارت اور سری لنکا فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیوجیت سائکیا نے کہا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان پر اپنی فرنچائز میں مستفیض الرحمان کو شامل کرنے پر تنقید کی اور انہیں غدار قرار دیا۔</p>
<p>مستفیض الرحمان کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شمولیت ایسے وقت ہوئی تھی جب بھارتی دائیں بازو کی جانب سے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ حملوں کے الزامات سامنے آ رہے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے قریب سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا تھا، یہ احتجاج بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ میں ہندو فیکٹری ورکر دیپو چندر داس کو ایک ہجوم کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ دیپو چندر داس نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیے تھے۔</p>
<p>اس واقعے میں مجموعی طور پر 12 افراد کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>دیوجیت سائکیا نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ حالیہ پیش رفت کے باعث بی سی سی آئی نے فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اسکواڈ سے بنگلہ دیش کے کھلاڑی مستفیض الرحمان کو ریلیز کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو ٹیم متبادل کھلاڑی کی درخواست کر سکتی ہے، جس کی بی سی سی آئی اجازت دے گا۔</p>
<p>کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی پی ایل کے قواعد کے مطابق ٹیم کو متبادل کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت دی جائے گی اور اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس معاملے پر مستفیض الرحمان سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>30 سالہ مستفیض الرحمان اس سے قبل آئی پی ایل میں سن رائزرس حیدرآباد، ممبئی انڈینز، راجستھان رائلز، چنئی سپر کنگز اور دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے آئی پی ایل کے 60 میچز میں 65 وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ہونے والی نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 92 ملین بھارتی روپے (تقریباً 10 لاکھ 20 ہزار ڈالر) میں خریدا تھا، جس کے ساتھ وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے بنگلہ دیشی کھلاڑی بن گئے تھے۔</p>
<p>ہندوستان ٹائمز کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن کانگریس پارٹی نے سنگیت سوم کی جانب سے شاہ رخ خان پر کی جانے والی تنقید کی مذمت کی۔</p>
<p>اتر پردیش کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم نے شاہ رخ خان کو غدار قرار دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ ایک ایسے ملک کے کھلاڑی پر سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔</p>
<p>ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک ویڈیو کلپ میں سنگیت سوم نے کہا کہ جس طرح بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم ہو رہے ہیں، خواتین اور بچیوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے، ان کے گھروں کو جلایا جا رہا ہے اور وہاں بھارت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، اس کے باوجود شاہ رخ خان جیسے لوگ، جنہیں انہوں نے غدار کہا، ایسے ملک کے کھلاڑیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔</p>
<p>اس واقعے نے بھارت اور اس کے ہمسایہ ملک کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے، جو پہلے ہی 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے حکومت مخالف احتجاج کے بعد نئی دہلی منتقل ہونے کے بعد کشیدہ تھے۔</p>
<p>آئی پی ایل کا 19واں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا، اس سے قبل بھارت اور سری لنکا فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274996</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 16:23:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/03161421d5321f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/03161421d5321f5.webp"/>
        <media:title>اتر پردیش کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم نے شاہ رخ خان کو غدار قرار دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ ایک ایسے ملک کے کھلاڑی پر سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے اپنی تاریخ کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274914/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی خلائی ایجنسی نے اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ خلا میں روانہ کر دیا، جس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے خلائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل وی ایم تھری ایم سکس راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ اے ایس ٹی اسپیس موبائل کمیونی کیشن سیٹلائٹ کو نچلے زمینی مدار میں پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(اسرو) کے مطابق یہ بھارتی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لانچ بھارت کے کم لاگت مگر بلند عزائم پر مبنی خلائی پروگرام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں بغیر انسان کے مدار میں مشن اور انسانی خلائی پروازوں کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2003677923820335183?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003677923820335183%7Ctwgr%5Eab25cd412bd823d40932741956878f2e0441cb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962974'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2003677923820335183?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003677923820335183%7Ctwgr%5Eab25cd412bd823d40932741956878f2e0441cb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962974"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;6 ہزار 100 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو راکٹ کے ایک ترمیم شدہ ورژن کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا، جسے بھارت مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت تیزی سے پھیلتے ہوئے کمرشل سیٹلائٹ بزنس میں بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں فون، انٹرنیٹ اور دیگر کمپنیاں جدید اور وسیع کمیونی کیشن سہولیات کی متلاشی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ لانچ بھارت کے خلائی سفر میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس سے بھارت کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت مضبوط ہوئی ہے اور عالمی کمرشل لانچ مارکیٹ میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل رواں سال اسرو نے سی ایم ایس زیرو تھری کمیونی کیشن سیٹلائٹ لانچ کیا تھا جس کا وزن تقریباً 4 ہزار 410 کلوگرام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بھاری لانچز کے لیے بھارت نے راکٹ کا اپ گریڈ شدہ ورژن استعمال کیا ہے، جس کے ذریعے اگست 2023 میں بغیر انسان کے ایک خلائی جہاز کو چاند پر بھیجا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک گزشتہ ایک دہائی میں اپنے خلائی عزائم کا بھرپور اظہار کر چکا ہے، جہاں اس کا خلائی پروگرام کم لاگت میں بڑی خلائی طاقتوں کے ہم پلہ کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا کہنا ہے کہ وہ 2027 میں پہلی انسانی خلائی پرواز سے قبل ایک بغیر انسان کے مدار میں مشن لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی اس سے قبل یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ بھارت 2040 تک ایک خلاباز کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی خلائی ایجنسی نے اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ خلا میں روانہ کر دیا، جس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے خلائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔</p>
<p>ایل وی ایم تھری ایم سکس راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ اے ایس ٹی اسپیس موبائل کمیونی کیشن سیٹلائٹ کو نچلے زمینی مدار میں پہنچایا گیا۔</p>
<p>انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(اسرو) کے مطابق یہ بھارتی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ ہے۔</p>
<p>یہ لانچ بھارت کے کم لاگت مگر بلند عزائم پر مبنی خلائی پروگرام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں بغیر انسان کے مدار میں مشن اور انسانی خلائی پروازوں کا منصوبہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2003677923820335183?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003677923820335183%7Ctwgr%5Eab25cd412bd823d40932741956878f2e0441cb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962974'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2003677923820335183?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003677923820335183%7Ctwgr%5Eab25cd412bd823d40932741956878f2e0441cb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962974"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>6 ہزار 100 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو راکٹ کے ایک ترمیم شدہ ورژن کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا، جسے بھارت مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>بھارت تیزی سے پھیلتے ہوئے کمرشل سیٹلائٹ بزنس میں بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں فون، انٹرنیٹ اور دیگر کمپنیاں جدید اور وسیع کمیونی کیشن سہولیات کی متلاشی ہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ لانچ بھارت کے خلائی سفر میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق اس سے بھارت کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت مضبوط ہوئی ہے اور عالمی کمرشل لانچ مارکیٹ میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل رواں سال اسرو نے سی ایم ایس زیرو تھری کمیونی کیشن سیٹلائٹ لانچ کیا تھا جس کا وزن تقریباً 4 ہزار 410 کلوگرام تھا۔</p>
<p>ان بھاری لانچز کے لیے بھارت نے راکٹ کا اپ گریڈ شدہ ورژن استعمال کیا ہے، جس کے ذریعے اگست 2023 میں بغیر انسان کے ایک خلائی جہاز کو چاند پر بھیجا گیا تھا۔</p>
<p>دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک گزشتہ ایک دہائی میں اپنے خلائی عزائم کا بھرپور اظہار کر چکا ہے، جہاں اس کا خلائی پروگرام کم لاگت میں بڑی خلائی طاقتوں کے ہم پلہ کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔</p>
<p>بھارت کا کہنا ہے کہ وہ 2027 میں پہلی انسانی خلائی پرواز سے قبل ایک بغیر انسان کے مدار میں مشن لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>نریندر مودی اس سے قبل یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ بھارت 2040 تک ایک خلاباز کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274914</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 14:28:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/241418558a07cb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/241418558a07cb4.webp"/>
        <media:title>انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے مطابق یہ بھارتی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں خوفناک حادثہ، مسافر ٹرین نے 7 ہاتھیوں کو کچل ڈالا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274881/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں ایک مسافر ٹرین ہاتھیوں کے ایک ریوڑ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 7 ہاتھی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسام ریاست میں پیش آنے والے اس حادثے میں کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا۔ آسام بھارت میں موجود تقریباً 22 ہزار جنگلی ہاتھیوں میں سے 4 ہزار سے زائد کا مسکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسام پولیس کے سینئر افسر وی وی راکیش ریڈی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 7 ہاتھی ہلاک ہوئے جبکہ ایک ہاتھی زخمی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے باعث ٹرین کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ یہ ٹرین دور دراز ریاست میزورم سے نئی دہلی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین ریلوے کے ترجمان کپل کشن شرما کے مطابق ہاتھیوں کی آمد و رفت کے لیے مختص راہداریوں (ایلیفینٹ کوریڈورز) پر رفتار کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم تازہ حادثہ ان علاقوں سے باہر پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لوکو پائلٹ نے ہاتھیوں کے ریوڑ کو دیکھتے ہی ایمرجنسی بریک لگائے، تاہم ہاتھی ٹرین سے ٹکرا گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی اور ہاتھیوں کے قدرتی مسکن کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث یہ جانور خوراک کی تلاش میں مزید دور نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے انسانوں کے ساتھ ان کے تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق 2023-2024 کے دوران بھارت بھر میں ہاتھیوں کے حملوں کے نتیجے میں 629 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں ایک مسافر ٹرین ہاتھیوں کے ایک ریوڑ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 7 ہاتھی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>آسام ریاست میں پیش آنے والے اس حادثے میں کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا۔ آسام بھارت میں موجود تقریباً 22 ہزار جنگلی ہاتھیوں میں سے 4 ہزار سے زائد کا مسکن ہے۔</p>
<p>آسام پولیس کے سینئر افسر وی وی راکیش ریڈی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 7 ہاتھی ہلاک ہوئے جبکہ ایک ہاتھی زخمی ہوا۔</p>
<p>حادثے کے باعث ٹرین کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ یہ ٹرین دور دراز ریاست میزورم سے نئی دہلی جا رہی تھی۔</p>
<p>انڈین ریلوے کے ترجمان کپل کشن شرما کے مطابق ہاتھیوں کی آمد و رفت کے لیے مختص راہداریوں (ایلیفینٹ کوریڈورز) پر رفتار کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم تازہ حادثہ ان علاقوں سے باہر پیش آیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لوکو پائلٹ نے ہاتھیوں کے ریوڑ کو دیکھتے ہی ایمرجنسی بریک لگائے، تاہم ہاتھی ٹرین سے ٹکرا گئے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی اور ہاتھیوں کے قدرتی مسکن کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث یہ جانور خوراک کی تلاش میں مزید دور نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے انسانوں کے ساتھ ان کے تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق 2023-2024 کے دوران بھارت بھر میں ہاتھیوں کے حملوں کے نتیجے میں 629 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274881</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 15:45:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2015442266b0edb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2015442266b0edb.webp"/>
        <media:title>لوکو پائلٹ نے ہاتھیوں کے ریوڑ کو دیکھتے ہی ایمرجنسی بریک لگائے، تاہم ہاتھی ٹرین سے ٹکرا گئے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان پہلگام حملے میں ملوث نہیں تھا، بھارت نے حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، اقوام متحدہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274868/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی، پہلگام حملے اور 7 مئی کو بھارتی فوجی کارروائی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی ماہرین نے ایک جامع رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بھارت کے اقدامات پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ماہرین کی رپورٹ میں پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نےحملے میں ملوث ہونےکی تردید کی اور غیرجانبدار و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے 5 خصوصی نمائندوں کی یہ آبزرویشن 16 اکتوبر کی ایک رپورٹ میں کی گئی تھی، جو 15 دسمبر کو منظرِ عام پر آئی۔ رپورٹ میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے فوجی ردعمل کے ساتھ ساتھ اس واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 مئی کو بھارت نے پاکستان کی حدود میں فوجی طاقت کا استعمال کیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258754'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بھارت نے اس فوجی کارروائی سے قبل سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا، بھارتی حملوں کے دوران آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، مساجد متاثر ہوئیں جبکہ پاکستانی حدود میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق 7 مئی کو پاکستان نے بھارتی کارروائی کی مذمت کی اور سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت کے استعمال کا کوئی الگ یا تسلیم شدہ حق بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی اقدامات پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں، بھارتی اقدامات عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سندھ-طاس-معاہدے-پر-بھی-پاکستانی-موقف-کی-تائید" href="#سندھ-طاس-معاہدے-پر-بھی-پاکستانی-موقف-کی-تائید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سندھ طاس معاہدے پر بھی پاکستانی موقف کی تائید&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھی اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق بھارت ثالثی کے عمل میں شرکت سے گریز کر رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ⁠پانی روکنا یا معاہدہ معطل کرنا غیر مناسب قدم ہے، پانی روکنے کا بوجھ براہِ راست عام پاکستانیوں کے حقوق پر پڑتا ہے، کاؤنٹرمیژرز(جوابی اقدامات) بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں سے استثنیٰ نہیں دیتے، کاؤنٹر میژرز کیلئے نوٹس، مذاکرات کی پیشکش اور طریقہ کار کی قانونی شرائط پوری ہونی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273385'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273385"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں بھارت کی وجہ سے سندھ طاس معاہدے میں بگاڑ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ انڈس کمیشن کے سالانہ اجلاس 2022 کے بعد نہیں ہوئے، ⁠ڈیٹا تبادلے میں رکاوٹ اور تصفیہ جاتی شقوں پر تنازع معاہدے کی روح کے خلاف ہے، بھارت نے ثالثی کارروائیوں میں شرکت سے گریز کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا، ‎بھارت سے وضاحت، ممکنہ تلافی و معذرت پر باضابطہ جواب طلب کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ماہرین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل درآمد کرے۔‎&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‎بھارت پانی میں رکاوٹ سے پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی اور نقصانات روکنے کے لیے عملی اقدامات واضح کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی، پہلگام حملے اور 7 مئی کو بھارتی فوجی کارروائی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی ماہرین نے ایک جامع رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بھارت کے اقدامات پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔</p>
<p>یو این ماہرین کی رپورٹ میں پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نےحملے میں ملوث ہونےکی تردید کی اور غیرجانبدار و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے 5 خصوصی نمائندوں کی یہ آبزرویشن 16 اکتوبر کی ایک رپورٹ میں کی گئی تھی، جو 15 دسمبر کو منظرِ عام پر آئی۔ رپورٹ میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے فوجی ردعمل کے ساتھ ساتھ اس واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p>یو این ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 مئی کو بھارت نے پاکستان کی حدود میں فوجی طاقت کا استعمال کیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258754'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق بھارت نے اس فوجی کارروائی سے قبل سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا، بھارتی حملوں کے دوران آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، مساجد متاثر ہوئیں جبکہ پاکستانی حدود میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق 7 مئی کو پاکستان نے بھارتی کارروائی کی مذمت کی اور سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت کے استعمال کا کوئی الگ یا تسلیم شدہ حق بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی اقدامات پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں، بھارتی اقدامات عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔</p>
<h2><a id="سندھ-طاس-معاہدے-پر-بھی-پاکستانی-موقف-کی-تائید" href="#سندھ-طاس-معاہدے-پر-بھی-پاکستانی-موقف-کی-تائید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سندھ طاس معاہدے پر بھی پاکستانی موقف کی تائید</h2>
<p>اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھی اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق بھارت ثالثی کے عمل میں شرکت سے گریز کر رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کر رہا ہے۔</p>
<p>خصوصی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ⁠پانی روکنا یا معاہدہ معطل کرنا غیر مناسب قدم ہے، پانی روکنے کا بوجھ براہِ راست عام پاکستانیوں کے حقوق پر پڑتا ہے، کاؤنٹرمیژرز(جوابی اقدامات) بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں سے استثنیٰ نہیں دیتے، کاؤنٹر میژرز کیلئے نوٹس، مذاکرات کی پیشکش اور طریقہ کار کی قانونی شرائط پوری ہونی چاہئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273385'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273385"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں بھارت کی وجہ سے سندھ طاس معاہدے میں بگاڑ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ انڈس کمیشن کے سالانہ اجلاس 2022 کے بعد نہیں ہوئے، ⁠ڈیٹا تبادلے میں رکاوٹ اور تصفیہ جاتی شقوں پر تنازع معاہدے کی روح کے خلاف ہے، بھارت نے ثالثی کارروائیوں میں شرکت سے گریز کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا، ‎بھارت سے وضاحت، ممکنہ تلافی و معذرت پر باضابطہ جواب طلب کیا جائے۔</p>
<p>رپورٹ میں ماہرین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل درآمد کرے۔‎</p>
<p>خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‎بھارت پانی میں رکاوٹ سے پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی اور نقصانات روکنے کے لیے عملی اقدامات واضح کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274868</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 13:13:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/191310242a7822c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/191310242a7822c.webp"/>
        <media:title>یو این ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے کی شکایت درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274865/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار اور اتر پردیش کے کابینہ وزیر سنجے نشاد کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے، جس کا تعلق اس واقعے سے ہے جس میں نتیش کمار نے ایک  مسلم خاتون کا حجاب کھینچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعہ ایک گریجویشن تقریب کے دوران پیش آیا تھا، جب 74 سالہ سیاسی رہنما نتیش کمار ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کو سندی خط دے رہے تھے اور انہیں حجاب ہٹانے کا اشارہ کیا، اس دوران خاتون کے ردعمل سے قبل کمار نے حجاب کھینچ کر ان کا چہرہ بے نقاب کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس کلپ کے بعد بھارت اور پاکستان میں غصہ پایا گیا اور  وزیرِ اعلیٰ سے معافی اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم سنجے نشاد نے واقعے کی سنجیدگی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بس برقعہ ہٹانے‘ کا معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق سماج وادی پارٹی کی رہنما سمائیا رانا نے لکھنؤ میں پولیس میں شکایت درج کرائی، جس میں دونوں رہنماؤں کے خلاف ’سخت قانونی کارروائی‘ اور ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما نے کہا کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ خاتون کا حجاب کھینچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک آئینی عہدہ رکھنے والے شخص کا ایسا رویہ اپنے کارکنوں کو بھی ایسے عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سنجے نشاد کے تبصروں پر بھی اعتراض کیا، جو انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا، ’بس برقعہ ہٹانے پر اتنی بات کیوں بن گئی؟ ان کا ہاتھ صرف چہرے پر لگا۔ اگر کہیں اور لگا ہوتا تو کیا ہوتا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل مشام زیدی نے آئی این اے کو بتایا کہ نتیش کمار کے اقدام اور سنجے نشاد کے بیان نے خاتون کی حیا کو ٹھیس پہنچائی۔ ان کے مطابق سنجے نشاد کا رویہ مذہبی جذبات بھڑکانے والا ہے اور یہ آئی پی سی کی دفعہ 153 اے کے تحت آتا ہے جبکہ نتیش کمار پر دفعہ 354 کے تحت کارروائی ہوگی، جو خواتین کی حیا کو ٹھیس پہنچانے کے جرم سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنجے نشاد نے اپنی جانب سے کہا کہ ان کے تبصرے کو ’غلط طور پر سمجھا گیا، ان کا مقصد کوئی برا ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے  پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار اور اتر پردیش کے کابینہ وزیر سنجے نشاد کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے، جس کا تعلق اس واقعے سے ہے جس میں نتیش کمار نے ایک  مسلم خاتون کا حجاب کھینچا۔</p>
<p>واقعہ ایک گریجویشن تقریب کے دوران پیش آیا تھا، جب 74 سالہ سیاسی رہنما نتیش کمار ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کو سندی خط دے رہے تھے اور انہیں حجاب ہٹانے کا اشارہ کیا، اس دوران خاتون کے ردعمل سے قبل کمار نے حجاب کھینچ کر ان کا چہرہ بے نقاب کر دیا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس کلپ کے بعد بھارت اور پاکستان میں غصہ پایا گیا اور  وزیرِ اعلیٰ سے معافی اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم سنجے نشاد نے واقعے کی سنجیدگی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بس برقعہ ہٹانے‘ کا معاملہ ہے۔</p>
<p>انڈیا نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق سماج وادی پارٹی کی رہنما سمائیا رانا نے لکھنؤ میں پولیس میں شکایت درج کرائی، جس میں دونوں رہنماؤں کے خلاف ’سخت قانونی کارروائی‘ اور ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی۔</p>
<p>رہنما نے کہا کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ خاتون کا حجاب کھینچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک آئینی عہدہ رکھنے والے شخص کا ایسا رویہ اپنے کارکنوں کو بھی ایسے عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے سنجے نشاد کے تبصروں پر بھی اعتراض کیا، جو انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا، ’بس برقعہ ہٹانے پر اتنی بات کیوں بن گئی؟ ان کا ہاتھ صرف چہرے پر لگا۔ اگر کہیں اور لگا ہوتا تو کیا ہوتا؟‘</p>
<p>وکیل مشام زیدی نے آئی این اے کو بتایا کہ نتیش کمار کے اقدام اور سنجے نشاد کے بیان نے خاتون کی حیا کو ٹھیس پہنچائی۔ ان کے مطابق سنجے نشاد کا رویہ مذہبی جذبات بھڑکانے والا ہے اور یہ آئی پی سی کی دفعہ 153 اے کے تحت آتا ہے جبکہ نتیش کمار پر دفعہ 354 کے تحت کارروائی ہوگی، جو خواتین کی حیا کو ٹھیس پہنچانے کے جرم سے متعلق ہے۔</p>
<p>سنجے نشاد نے اپنی جانب سے کہا کہ ان کے تبصرے کو ’غلط طور پر سمجھا گیا، ان کا مقصد کوئی برا ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے  پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274865</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 15:02:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18144928037e120.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="673">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18144928037e120.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سے جنگ ہارنے کا اعتراف، کانگریس رہنما کے بیان پر بی جے پی سیخ پا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274853/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس کے سینئر رہنما اور مہاراشٹرا کے سابق وزیرِ اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کے بھارتی فضائیہ اور ’آپریشن سندور‘ سے متعلق بیانات پر سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی ’بھارتی مسلح افواج سے نفرت کرتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتھوی راج چوہان، جنہوں نے مراٹھی زبان میں گفتگو کی، پونے میں پارٹی کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے بڑی فوج برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مستقبل کی جنگیں فضا میں لڑی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: ’پہلے ہی دن ہمیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سات (مئی) کو ہونے والی فضائی لڑائی، جو صرف آدھے گھنٹے تک جاری رہی، میں ہمیں مکمل طور پر شکست ہوئی، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس دن بھارتی طیارے مار گرائے گئے اور پوری بھارتی فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک بھی طیارہ نہیں اڑا، کیونکہ گوالیار، بھٹنڈہ یا سرسا سے جب بھی کوئی طیارہ اڑتا، اسے پاکستان کی جانب سے مار گرائے جانے کا شدید خطرہ ہوتا۔ اسی وجہ سے پوری فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں  پرتھوی راج چوہان کے ان ’حیران کن اور متنازع بیانات‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کانگریس بھارتی مسلح افواج سے نفرت کرتی ہے، فوج کی تضحیک ہی کانگریس کی پہچان ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پرتھوی راج چوہان نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔ انہوں نے امریکا میں اینٹی سب میرین وارفیئر کے لیے طیارہ جاتی آلات اور آڈیو ریکارڈرز کی ڈیزائننگ کے شعبے میں بھی کام کیا، اس کے بعد 1974 میں بھارت واپس آ کر بطور کاروباری شخصیت اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ راجیو گاندھی سے ملاقات کے بعد سیاست کی جانب مائل ہوئے۔ اپنی عملی زندگی کے بیشتر حصے میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کی سیاست سے وابستہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس کے سینئر رہنما اور مہاراشٹرا کے سابق وزیرِ اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کے بھارتی فضائیہ اور ’آپریشن سندور‘ سے متعلق بیانات پر سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی ’بھارتی مسلح افواج سے نفرت کرتی ہے‘۔</p>
<p>پرتھوی راج چوہان، جنہوں نے مراٹھی زبان میں گفتگو کی، پونے میں پارٹی کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے بڑی فوج برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مستقبل کی جنگیں فضا میں لڑی جائیں گی۔</p>
<p>’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: ’پہلے ہی دن ہمیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سات (مئی) کو ہونے والی فضائی لڑائی، جو صرف آدھے گھنٹے تک جاری رہی، میں ہمیں مکمل طور پر شکست ہوئی، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس دن بھارتی طیارے مار گرائے گئے اور پوری بھارتی فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک بھی طیارہ نہیں اڑا، کیونکہ گوالیار، بھٹنڈہ یا سرسا سے جب بھی کوئی طیارہ اڑتا، اسے پاکستان کی جانب سے مار گرائے جانے کا شدید خطرہ ہوتا۔ اسی وجہ سے پوری فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا‘</p>
<p>بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں  پرتھوی راج چوہان کے ان ’حیران کن اور متنازع بیانات‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کانگریس بھارتی مسلح افواج سے نفرت کرتی ہے، فوج کی تضحیک ہی کانگریس کی پہچان ہے‘۔</p>
<p>واضح رہے کہ پرتھوی راج چوہان نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔ انہوں نے امریکا میں اینٹی سب میرین وارفیئر کے لیے طیارہ جاتی آلات اور آڈیو ریکارڈرز کی ڈیزائننگ کے شعبے میں بھی کام کیا، اس کے بعد 1974 میں بھارت واپس آ کر بطور کاروباری شخصیت اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔</p>
<p>وہ راجیو گاندھی سے ملاقات کے بعد سیاست کی جانب مائل ہوئے۔ اپنی عملی زندگی کے بیشتر حصے میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کی سیاست سے وابستہ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274853</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 14:45:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/17142449c32776a.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/17142449c32776a.webp"/>
        <media:title>کانگریس رہنما نے کہا تھا کہ پہلے ہی دن ہمیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سات (مئی) کو ہونے والی فضائی لڑائی، جو صرف آدھے گھنٹے تک جاری رہی، میں ہمیں مکمل طور پر شکست ہوئی۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور امریکا کا 60 سالہ پرانا خفیہ مشن، جوہری آلے کی گمشدگی پر کیسے ختم ہوا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274830/himalia-men-cia-ka-johri-aala-gum-lakhon-afrad-kay-liye-khatra</link>
      <description>&lt;p&gt;سرد جنگ کے عروج پر بھارتی ہمالیہ میں ایک خفیہ سی آئی اے مشن حیران کن ناکامی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک پر پلوٹونیم سے چلنے والا جوہری آلہ غائب ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1961177/when-the-cia-lost-a-nuclear-device-in-the-himalayas"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تقریباً 60 سال بعد بھی امریکی حکومت اس واقعے کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جبکہ خدشات موجود ہیں کہ یہ آلہ گنگا ندی پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ماحولیاتی اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/interactive/2025/12/13/world/asia/cia-nuclear-device-himalayas-nanda-devi.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خفیہ مشن میں امریکی اور بھارتی کوہ پیماؤں نے نندا دیوی، بھارت کے دوسرے بلند ترین پہاڑ  پر چڑھ کر ایک جوہری توانائی سے چلنے والے نگرانی اسٹیشن کو نصب کرنا تھا تاکہ چین کے میزائل پروگرام کی نگرانی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنریٹر جسے SNAP-19C کہا جاتا ہے، انتہائی تابکار پلوٹونیم سے چلتا تھا اور ایک انٹینا کو توانائی فراہم کرتا تھا جو چینی جوہری تجربات کی ٹیلی میٹری حاصل کر سکتا تھا۔ اس میں شامل Pu-239 وہی آئسوٹوپ ہے جو ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بم میں استعمال ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنریٹر چینی جوہری تجربات کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن ایک برفانی طوفان کے دوران نندا دیوی کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسے آج تک بازیاب نہیں کیا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965 میں جب کوہ پیما چوٹی کے قریب پہنچے تو ایک شدید طوفان کی وجہ سے انہیں فوری واپس جانا پڑا، زندگیاں بچانے کے لیے مشن کے قائد نے ٹیم کو ہدایت دی کہ آلات کو چوٹی کے قریب محفوظ کر کے فوری طور پر نیچے اتر جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 50 پاؤنڈ وزنی یہ جنریٹر وہیں چھوڑ دیا گیا اور اگلے سال جب کوہ پیما واپس آئے تو یہ حیران کن طور پر غائب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہمالیائی برفانی تودہ (Avalanche) نے جنریٹر کے محفوظ مقام کو اڑا دیا تھا، متعدد تلاش مہمات، تابکاری ڈیٹیکٹر اور دھات کے سینسر استعمال کرنے کے باوجود یہ جنریٹر کبھی نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اِس نقصان نے سی آئی اے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی اور واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں تشویش پیدا کر دی، جس سے کئی دہائیوں پر محیط ایک پردہ پوشی (Cover-up) شروع ہو گئی جسے صدر جمی کارٹر جیسے لوگوں نے جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پلوٹونیم سے چلنے والا آلہ اب بھی غالباً نندا دیوی کے برفانی گلیشیئرز کے نیچے دفن ہے، جہاں سے گنگا ندی کو پانی مہیا ہوتا ہے، اگرچہ 1970 کی دہائی میں کیے گئے سائنسی مطالعے میں پانی میں کوئی آلودگی نہیں پائی گئی اور خطرے کو کم قرار دیا گیا مگر خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، خاص طور پر ہمالیہ کے گلیشیئرز کے تیز رفتاری سے پگھلنے کے پیش نظر یہ خطرات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ 1978 میں منظر عام پر آیا جب ایک تحقیقی رپورٹر نے مشن کی پتا لگایا، جس سے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا۔ ارکان پارلیمان نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے سی آئی اے کو بھارتی زمین پر خفیہ کارروائی کی اجازت دی جبکہ اس واقعے پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے کہا کہ ایجنسی نے بھارت کی مقدس ندی کے ماخذ کو خطرے میں ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی کلاسفائیڈ سفارتی خطوط سے پتا چلتا ہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم مورارجی دیسائی نے خاموشی سے اس واقعے کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی یہ معما برقرار ہے، بھارتی سیاستدان، ماحولیاتی کارکن اور نندا دیوی کے قریب رہنے والے گاؤں والے دوبارہ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنریٹر کو ڈھونڈا اور ہٹایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے پر یہ جنریٹر ظاہر ہو سکتا ہے، یا اس کا تابکار مواد غلط استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سرد جنگ کے عروج پر بھارتی ہمالیہ میں ایک خفیہ سی آئی اے مشن حیران کن ناکامی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک پر پلوٹونیم سے چلنے والا جوہری آلہ غائب ہوگیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1961177/when-the-cia-lost-a-nuclear-device-in-the-himalayas"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تقریباً 60 سال بعد بھی امریکی حکومت اس واقعے کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جبکہ خدشات موجود ہیں کہ یہ آلہ گنگا ندی پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ماحولیاتی اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/interactive/2025/12/13/world/asia/cia-nuclear-device-himalayas-nanda-devi.html"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>اس خفیہ مشن میں امریکی اور بھارتی کوہ پیماؤں نے نندا دیوی، بھارت کے دوسرے بلند ترین پہاڑ  پر چڑھ کر ایک جوہری توانائی سے چلنے والے نگرانی اسٹیشن کو نصب کرنا تھا تاکہ چین کے میزائل پروگرام کی نگرانی کی جا سکے۔</p>
<p>یہ جنریٹر جسے SNAP-19C کہا جاتا ہے، انتہائی تابکار پلوٹونیم سے چلتا تھا اور ایک انٹینا کو توانائی فراہم کرتا تھا جو چینی جوہری تجربات کی ٹیلی میٹری حاصل کر سکتا تھا۔ اس میں شامل Pu-239 وہی آئسوٹوپ ہے جو ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بم میں استعمال ہوا تھا۔</p>
<p>یہ جنریٹر چینی جوہری تجربات کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن ایک برفانی طوفان کے دوران نندا دیوی کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسے آج تک بازیاب نہیں کیا جا سکا۔</p>
<p>1965 میں جب کوہ پیما چوٹی کے قریب پہنچے تو ایک شدید طوفان کی وجہ سے انہیں فوری واپس جانا پڑا، زندگیاں بچانے کے لیے مشن کے قائد نے ٹیم کو ہدایت دی کہ آلات کو چوٹی کے قریب محفوظ کر کے فوری طور پر نیچے اتر جائیں۔</p>
<p>تقریباً 50 پاؤنڈ وزنی یہ جنریٹر وہیں چھوڑ دیا گیا اور اگلے سال جب کوہ پیما واپس آئے تو یہ حیران کن طور پر غائب تھا۔</p>
<p>ایک ہمالیائی برفانی تودہ (Avalanche) نے جنریٹر کے محفوظ مقام کو اڑا دیا تھا، متعدد تلاش مہمات، تابکاری ڈیٹیکٹر اور دھات کے سینسر استعمال کرنے کے باوجود یہ جنریٹر کبھی نہیں ملا۔</p>
<p>اِس نقصان نے سی آئی اے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی اور واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں تشویش پیدا کر دی، جس سے کئی دہائیوں پر محیط ایک پردہ پوشی (Cover-up) شروع ہو گئی جسے صدر جمی کارٹر جیسے لوگوں نے جاری رکھا۔</p>
<p>یہ پلوٹونیم سے چلنے والا آلہ اب بھی غالباً نندا دیوی کے برفانی گلیشیئرز کے نیچے دفن ہے، جہاں سے گنگا ندی کو پانی مہیا ہوتا ہے، اگرچہ 1970 کی دہائی میں کیے گئے سائنسی مطالعے میں پانی میں کوئی آلودگی نہیں پائی گئی اور خطرے کو کم قرار دیا گیا مگر خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، خاص طور پر ہمالیہ کے گلیشیئرز کے تیز رفتاری سے پگھلنے کے پیش نظر یہ خطرات برقرار ہیں۔</p>
<p>یہ واقعہ 1978 میں منظر عام پر آیا جب ایک تحقیقی رپورٹر نے مشن کی پتا لگایا، جس سے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا۔ ارکان پارلیمان نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے سی آئی اے کو بھارتی زمین پر خفیہ کارروائی کی اجازت دی جبکہ اس واقعے پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے کہا کہ ایجنسی نے بھارت کی مقدس ندی کے ماخذ کو خطرے میں ڈال دیا۔</p>
<p>ڈی کلاسفائیڈ سفارتی خطوط سے پتا چلتا ہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم مورارجی دیسائی نے خاموشی سے اس واقعے کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>آج بھی یہ معما برقرار ہے، بھارتی سیاستدان، ماحولیاتی کارکن اور نندا دیوی کے قریب رہنے والے گاؤں والے دوبارہ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنریٹر کو ڈھونڈا اور ہٹایا جائے۔</p>
<p>کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے پر یہ جنریٹر ظاہر ہو سکتا ہے، یا اس کا تابکار مواد غلط استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274830</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 13:14:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1513085782cee04.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1513085782cee04.webp"/>
        <media:title>کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے پر یہ جنریٹر ظاہر ہو سکتا ہے، یا اس کا تابکار مواد غلط استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِاعظم کے پیوٹن سے ملاقات کے انتظار کی خبر غلط نکلی، آر ٹی انڈیا نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274815/</link>
      <description>&lt;p&gt;آر ٹی انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِاعظم شہباز شریف کے بارے میں ایک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے “انتظار کر رہے تھے”۔ آر ٹی انڈیا نے وضاحت میں کہا ہے کہ یہ پوسٹ “واقعات کی غلط عکاسی” ہو سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیرِاعظم شہباز شریف ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں ایک بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ جمعے کے روز وزیرِاعظم نے فورم کے موقع پر متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، کرغزستان کے صدر صدر جپاروف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کی رات ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا،&lt;br&gt;“عالمی رہنماؤں سے شاندار ملاقاتیں ہوئیں، عالمی سطح پر پاکستان نمایاں نظر آ رہا ہے۔”&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/1999541627531256112'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1999541627531256112"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ویڈیو میں وزیرِاعظم شہباز شریف کو ولادیمیر پیوٹن سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب دونوں ایک راہداری میں کھڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پیوٹن، اردوان اور پزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو “گرم جوش اور خوشگوار تبادلۂ خیال” قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے بھی یہی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وزیرِاعظم نے فورم میں شریک تمام ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ “مثبت اور بامقصد ملاقاتیں” کیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mosharrafzaidi/status/1999513698302591076?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999513698302591076%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mosharrafzaidi/status/1999513698302591076?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999513698302591076%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا،&lt;br&gt;“روابط میں روایتی گرمجوشی واضح طور پر نظر آئی، جب وزیرِاعظم نے صدر اردوان، صدر پیوٹن اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں کے ساتھ وقت گزارا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ویڈیو پاکستان میں روسی سفارت خانے نے بھی شیئر کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RusEmbPakistan/status/1999516442711011542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999516442711011542%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RusEmbPakistan/status/1999516442711011542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999516442711011542%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، آر ٹی انڈیا نے مبینہ طور پر ایک مختلف ویڈیو شیئر کی تھی، جسے بعد ازاں ایکس سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کی رات جاری وضاحتی بیان میں آر ٹی انڈیا نے کہا،&lt;br&gt;“ہم نے ترکمانستان میں منعقدہ پیس اینڈ ٹرسٹ فورم کے دوران پاکستانی وزیرِاعظم کے ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے انتظار سے متعلق ایک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے۔ یہ پوسٹ واقعات کی غلط تشریح ہو سکتی تھی۔”&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_India_news/status/1999563611086422053?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999563611086422053%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_India_news/status/1999563611086422053?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999563611086422053%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی انڈیا، روس کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے عالمی میڈیا نیٹ ورک آر ٹی کی تازہ ترین شاخ ہے۔ صدر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی کے دورے کے دوران آر ٹی انڈیا نیوز چینل کا افتتاح کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق، آر ٹی انڈیا کی اصل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیوٹن کا 40 منٹ تک انتظار کیا اور بعد ازاں “تھک کر” ترک صدر اردوان اور پیوٹن کی ملاقات میں “بلا اجازت داخل ہو گئے”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز کے مطابق، پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم دس منٹ بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف بعد میں صدر اردوان اور صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شامل ہوئے، جو بند کمرے میں 40 منٹ تک جاری رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آر ٹی انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِاعظم شہباز شریف کے بارے میں ایک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے “انتظار کر رہے تھے”۔ آر ٹی انڈیا نے وضاحت میں کہا ہے کہ یہ پوسٹ “واقعات کی غلط عکاسی” ہو سکتی تھی۔</p>
<p>یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیرِاعظم شہباز شریف ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں ایک بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ جمعے کے روز وزیرِاعظم نے فورم کے موقع پر متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، کرغزستان کے صدر صدر جپاروف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شامل تھے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کی رات ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا،<br>“عالمی رہنماؤں سے شاندار ملاقاتیں ہوئیں، عالمی سطح پر پاکستان نمایاں نظر آ رہا ہے۔”</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/1999541627531256112'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1999541627531256112"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><br>ویڈیو میں وزیرِاعظم شہباز شریف کو ولادیمیر پیوٹن سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب دونوں ایک راہداری میں کھڑے تھے۔</p>
<p>انہوں نے پیوٹن، اردوان اور پزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو “گرم جوش اور خوشگوار تبادلۂ خیال” قرار دیا۔</p>
<p>وزیرِاعظم کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے بھی یہی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وزیرِاعظم نے فورم میں شریک تمام ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ “مثبت اور بامقصد ملاقاتیں” کیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mosharrafzaidi/status/1999513698302591076?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999513698302591076%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mosharrafzaidi/status/1999513698302591076?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999513698302591076%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا،<br>“روابط میں روایتی گرمجوشی واضح طور پر نظر آئی، جب وزیرِاعظم نے صدر اردوان، صدر پیوٹن اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں کے ساتھ وقت گزارا۔”</p>
<p>یہی ویڈیو پاکستان میں روسی سفارت خانے نے بھی شیئر کی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RusEmbPakistan/status/1999516442711011542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999516442711011542%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RusEmbPakistan/status/1999516442711011542?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999516442711011542%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، آر ٹی انڈیا نے مبینہ طور پر ایک مختلف ویڈیو شیئر کی تھی، جسے بعد ازاں ایکس سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔</p>
<p>جمعے کی رات جاری وضاحتی بیان میں آر ٹی انڈیا نے کہا،<br>“ہم نے ترکمانستان میں منعقدہ پیس اینڈ ٹرسٹ فورم کے دوران پاکستانی وزیرِاعظم کے ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے انتظار سے متعلق ایک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے۔ یہ پوسٹ واقعات کی غلط تشریح ہو سکتی تھی۔”</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_India_news/status/1999563611086422053?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999563611086422053%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_India_news/status/1999563611086422053?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1999563611086422053%7Ctwgr%5Ef0a9bd5dfe3cf3d17b6512c4d00e9395a41f51f0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1960880"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آر ٹی انڈیا، روس کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے عالمی میڈیا نیٹ ورک آر ٹی کی تازہ ترین شاخ ہے۔ صدر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی کے دورے کے دوران آر ٹی انڈیا نیوز چینل کا افتتاح کیا تھا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق، آر ٹی انڈیا کی اصل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیوٹن کا 40 منٹ تک انتظار کیا اور بعد ازاں “تھک کر” ترک صدر اردوان اور پیوٹن کی ملاقات میں “بلا اجازت داخل ہو گئے”۔</p>
<p>ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز کے مطابق، پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم دس منٹ بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔</p>
<p>دوسری جانب، روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف بعد میں صدر اردوان اور صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شامل ہوئے، جو بند کمرے میں 40 منٹ تک جاری رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274815</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 12:48:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/13123117e93a80b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/13123117e93a80b.webp"/>
        <media:title>فوٹو: انادولو نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے چین کے بزنس ویزوں کی رکاوٹیں ختم کردیں، تعلقات میں بہتری کی جانب بڑی پیش رفت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274811/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے، اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرف پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے تقریباً تمام دورے روک دیے تھے اور بزنس ویزوں کی جانچ کو بھی سخت کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہلکار نے بتایا کہ ویزوں سے متعلق مسائل اب “مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “ہم نے انتظامی جانچ کا وہ اضافی مرحلہ ختم کر دیا ہے اور بزنس ویزے چار ہفتوں کے اندر اندر نمٹا رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، وزیراعظم آفس اور ملکی پالیسی تھنک ٹینک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے بھارت کی جانب سے “مثبت اقدام” کا نوٹس لیا ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تبادلوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ موبائل فون بنانے کے لیے جو مشینری چین سے آتی ہے وہ بروقت نہ پہنچ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی چینی کمپنیوں  جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے کو اپنے عملے کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ویزا پابندیوں نے نہ صرف الیکٹرانکس انڈسٹری بلکہ شمسی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کیا، جہاں مہارت رکھنے والا عملہ نہ ملنے سے کام رکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کا اعلان مودی کے سات سال بعد چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرکے تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بھی بحال ہو گئیں، جو 2020 سے معطل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکاوٹیں ختم کرنے کی سفارش ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے، جو اب سرکاری تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے کہا کہ “ہم حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ یہ تعاون کی علامت ہے اور ہماری سفارشات کو قبول کرنے کا ثبوت بھی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت مختلف مصنوعات مکمل تیار کردہ پروڈکٹ سے لے کر پرزہ جات تک  کی تیاری میں رفتار بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" href="#امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکا کی ٹیرف پالیسی کے بعد چین سے تعلقات میں گرم جوشی&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین کے تعلقات میں یہ بہتری اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جبکہ روسی تیل خریدنے پر اضافی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دی، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس سے تعاون بڑھایا اور واشنگٹن کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس میں چین کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے کچھ عرصہ پہلے ہی کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں نرمی کی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے اہلکار نے آخر میں بتایا کہ“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے، اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔</p>
<p>دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرف پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے تقریباً تمام دورے روک دیے تھے اور بزنس ویزوں کی جانچ کو بھی سخت کر دیا تھا۔</p>
<p>ایک اہلکار نے بتایا کہ ویزوں سے متعلق مسائل اب “مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں”۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “ہم نے انتظامی جانچ کا وہ اضافی مرحلہ ختم کر دیا ہے اور بزنس ویزے چار ہفتوں کے اندر اندر نمٹا رہے ہیں۔”</p>
<p>بھارت کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، وزیراعظم آفس اور ملکی پالیسی تھنک ٹینک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>اس پیش رفت کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے بھارت کی جانب سے “مثبت اقدام” کا نوٹس لیا ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تبادلوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔</p>
<p>تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ موبائل فون بنانے کے لیے جو مشینری چین سے آتی ہے وہ بروقت نہ پہنچ سکی۔</p>
<p>گزشتہ برس رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی چینی کمپنیوں  جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے کو اپنے عملے کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔</p>
<p>انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ویزا پابندیوں نے نہ صرف الیکٹرانکس انڈسٹری بلکہ شمسی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کیا، جہاں مہارت رکھنے والا عملہ نہ ملنے سے کام رکا۔</p>
<p>سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کا اعلان مودی کے سات سال بعد چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرکے تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بھی بحال ہو گئیں، جو 2020 سے معطل تھیں۔</p>
<p>رکاوٹیں ختم کرنے کی سفارش ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے، جو اب سرکاری تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے کہا کہ “ہم حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ یہ تعاون کی علامت ہے اور ہماری سفارشات کو قبول کرنے کا ثبوت بھی ہے۔”</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت مختلف مصنوعات مکمل تیار کردہ پروڈکٹ سے لے کر پرزہ جات تک  کی تیاری میں رفتار بڑھا رہا ہے۔</p>
<h2><a id="امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" href="#امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکا کی ٹیرف پالیسی کے بعد چین سے تعلقات میں گرم جوشی</h2>
<p>بھارت اور چین کے تعلقات میں یہ بہتری اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جبکہ روسی تیل خریدنے پر اضافی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔</p>
<p>اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دی، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس سے تعاون بڑھایا اور واشنگٹن کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری رکھی۔</p>
<p>مودی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس میں چین کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانا بھی شامل ہے۔</p>
<p>بھارت نے کچھ عرصہ پہلے ہی کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں نرمی کی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسرے اہلکار نے آخر میں بتایا کہ“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274811</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 17:15:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1217162257ccd56.webp" type="image/webp" medium="image" height="456" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1217162257ccd56.webp"/>
        <media:title>فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی ریاست گوا کے نائٹ کلب میں آتشزدگی، ملازمین اور سیاحوں سمیت 25 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274704/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست گوا کے ساحلی علاقے میں واقع مشہور نائٹ کلب میں آگ لگنے سے 25 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نیوز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cdj82d0nd4eo"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد میں نائٹ کلب ’برچ بائی رومیو لین‘ کا عملہ شامل ہے، جو ایک مشہور ساحل کے قریب واقع ہے، سیاحوں کی اموات کی اطلاع بھی ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا اندازہ ہے کہ کلب کے کچن میں گیس کے سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی، جس کے بعد یہ آگ اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق 12 بجے کے قریب پورے کلب میں پھیل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کی صبح حکام نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد 23 سے بڑھ کر 25 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258281'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258281"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے جائے وقوعہ پر موجود ایک گواہ سے بات کی، جس نے بتایا کہ اس مصروف نائٹ لائف علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، گوا کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آلوک کمار نے کہا کہ  آگ زیادہ تر کچن کے علاقے میں لگی تھی، جو کہ گراؤنڈ فلور پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر لاشیں کچن کے قریب ملیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کلب میں کام کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوا کے وزیراعلیٰ پرمود ساونت نے صحافیوں کو بتایا کہ 3 افراد جھلسنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر دم گھٹنے سے مر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 3 سے 4  سیاح بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ان کی عمریں یا قومیتیں نہیں بتائیں، 6 افراد کی حالت اب مستحکم ہے، اور ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلب میں اس رات زیادہ ہجوم تھا، کیوں کہ وہاں ایک بالی وڈ اسپیشلسٹ ڈی جے پرفارم کر رہا تھا، آگ لگنے والا علاقہ اسی طرح کے مصروف نائٹ کلبز سے بھرا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک شیف جس کا کام قریبی کلب میں ہے، اس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ برچ کلب کے کچھ ملازمین کو جانتا ہے، پورے ملک اور نیپال سے لوگ گوا کے مختلف کلبز میں کام کرتے ہیں، مجھے کچھ لوگوں کی فکر ہو رہی ہے جنہیں میں کلب میں جانتا تھا۔ ان کے فون بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے آغاز پر ایمرجنسی ٹیمیں جلنے کے بعد کلب کے ملبے کو چھان بین کر رہی تھیں تاکہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائے وقوعہ پر بھاری سیکیورٹی موجود تھی، کلب کے دروازے بند تھے اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے کلب کے ایک کونے میں پگھلے ہوئے کرسیوں، میزوں اور پودوں کے باقیات دیکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عینی شاہد نے کہا کہ یہ ایک معمول کی ہفتہ کی رات تھی اور سیاح خوشگوار ماحول میں محظوظ ہو رہے تھے، میں کلب کے باہر تھا جب میں نے چیخوں کی آواز سنی، شروع میں مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے، کچھ دیر بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایک بڑا آتشزدگی واقعہ پیش آیا تھا۔ منظر بہت ہولناک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو ورکروں نے متاثرہ افراد کی لاشوں کو گوا میڈیکل کالج پوناجی منتقل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائے وقوعہ پر موجود ایک فائر فائٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ابھی بھی متاثرہ افراد کی شناخت کر رہے ہیں اور پھر ان کے خاندانوں کو آگاہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جو لوگ اس کے ذمہ دار پائے جائیں گے، ان کے خلاف قانون کے تحت سخت ترین کارروائی کی جائے گی ، کسی بھی غفلت پر سختی سے نمٹا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں بہت غمزدہ ہوں اور تمام سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر گوا کی آگ کو ’افسوسناک‘ واقعہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوا بحیرہ عرب کے کنارے واقع ایک سابق پرتگالی کالونی ہے، اس کی نائٹ لائف، ریتیلے ساحل اور ریزورٹس ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ڈیٹا کے مطابق، 2023 کے پہلے نصف میں تقریباً 55 لاکھ سیاح گوا آئے تھے، جن میں سے 2 لاکھ 70 ہزار غیر ملکی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں حالیہ برسوں میں تفریحی مقامات پر متعدد مہلک آگ کے واقعات ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی میں حیدرآباد شہر کی ایک 3 منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ ایک ماہ قبل کولکتہ کے شمال مشرقی حصے میں ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال، گجرات کے مغربی ریاست میں ایک تفریحی پارک کے آرکیڈ میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب سیاح اندر پھنس گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حفاظتی معیار کی کمی کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست گوا کے ساحلی علاقے میں واقع مشہور نائٹ کلب میں آگ لگنے سے 25 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>بی بی سی نیوز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cdj82d0nd4eo"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد میں نائٹ کلب ’برچ بائی رومیو لین‘ کا عملہ شامل ہے، جو ایک مشہور ساحل کے قریب واقع ہے، سیاحوں کی اموات کی اطلاع بھی ملی ہے۔</p>
<p>پولیس کا اندازہ ہے کہ کلب کے کچن میں گیس کے سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی، جس کے بعد یہ آگ اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق 12 بجے کے قریب پورے کلب میں پھیل گئی۔</p>
<p>اتوار کی صبح حکام نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد 23 سے بڑھ کر 25 ہو گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1258281'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258281"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بی بی سی نے جائے وقوعہ پر موجود ایک گواہ سے بات کی، جس نے بتایا کہ اس مصروف نائٹ لائف علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، گوا کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آلوک کمار نے کہا کہ  آگ زیادہ تر کچن کے علاقے میں لگی تھی، جو کہ گراؤنڈ فلور پر تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر لاشیں کچن کے قریب ملیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کلب میں کام کرتے تھے۔</p>
<p>گوا کے وزیراعلیٰ پرمود ساونت نے صحافیوں کو بتایا کہ 3 افراد جھلسنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر دم گھٹنے سے مر گئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 3 سے 4  سیاح بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ان کی عمریں یا قومیتیں نہیں بتائیں، 6 افراد کی حالت اب مستحکم ہے، اور ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔</p>
<p>کلب میں اس رات زیادہ ہجوم تھا، کیوں کہ وہاں ایک بالی وڈ اسپیشلسٹ ڈی جے پرفارم کر رہا تھا، آگ لگنے والا علاقہ اسی طرح کے مصروف نائٹ کلبز سے بھرا ہوا ہے۔</p>
<p>ایک شیف جس کا کام قریبی کلب میں ہے، اس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ برچ کلب کے کچھ ملازمین کو جانتا ہے، پورے ملک اور نیپال سے لوگ گوا کے مختلف کلبز میں کام کرتے ہیں، مجھے کچھ لوگوں کی فکر ہو رہی ہے جنہیں میں کلب میں جانتا تھا۔ ان کے فون بند ہیں۔</p>
<p>اتوار کے آغاز پر ایمرجنسی ٹیمیں جلنے کے بعد کلب کے ملبے کو چھان بین کر رہی تھیں تاکہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جا سکے۔</p>
<p>جائے وقوعہ پر بھاری سیکیورٹی موجود تھی، کلب کے دروازے بند تھے اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔</p>
<p>بی بی سی نے کلب کے ایک کونے میں پگھلے ہوئے کرسیوں، میزوں اور پودوں کے باقیات دیکھی ہیں۔</p>
<p>ایک عینی شاہد نے کہا کہ یہ ایک معمول کی ہفتہ کی رات تھی اور سیاح خوشگوار ماحول میں محظوظ ہو رہے تھے، میں کلب کے باہر تھا جب میں نے چیخوں کی آواز سنی، شروع میں مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے، کچھ دیر بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایک بڑا آتشزدگی واقعہ پیش آیا تھا۔ منظر بہت ہولناک تھا۔</p>
<p>ریسکیو ورکروں نے متاثرہ افراد کی لاشوں کو گوا میڈیکل کالج پوناجی منتقل کر دیا۔</p>
<p>جائے وقوعہ پر موجود ایک فائر فائٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ابھی بھی متاثرہ افراد کی شناخت کر رہے ہیں اور پھر ان کے خاندانوں کو آگاہ کریں گے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جو لوگ اس کے ذمہ دار پائے جائیں گے، ان کے خلاف قانون کے تحت سخت ترین کارروائی کی جائے گی ، کسی بھی غفلت پر سختی سے نمٹا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں بہت غمزدہ ہوں اور تمام سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر گوا کی آگ کو ’افسوسناک‘ واقعہ قرار دیا۔</p>
<p>گوا بحیرہ عرب کے کنارے واقع ایک سابق پرتگالی کالونی ہے، اس کی نائٹ لائف، ریتیلے ساحل اور ریزورٹس ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔</p>
<p>سرکاری ڈیٹا کے مطابق، 2023 کے پہلے نصف میں تقریباً 55 لاکھ سیاح گوا آئے تھے، جن میں سے 2 لاکھ 70 ہزار غیر ملکی تھے۔</p>
<p>بھارت میں حالیہ برسوں میں تفریحی مقامات پر متعدد مہلک آگ کے واقعات ہوئے ہیں۔</p>
<p>مئی میں حیدرآباد شہر کی ایک 3 منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ ایک ماہ قبل کولکتہ کے شمال مشرقی حصے میں ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ سال، گجرات کے مغربی ریاست میں ایک تفریحی پارک کے آرکیڈ میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب سیاح اندر پھنس گئے تھے۔</p>
<p>ایک سرکاری جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حفاظتی معیار کی کمی کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274704</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 14:23:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/07140613e9e4eaf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/07140613e9e4eaf.webp"/>
        <media:title>3 افراد جھلسنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر دم گھٹنے سے مر گئے۔ —فوٹو بشکریہ بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: براہموس میزائل ایرو سپیس انجینیئر پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام سے بری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274629/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں ممبئی ہائی کورٹ نے براہموس میزائل ایرو سپیس انجینیئر نشانت اگروال کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا کو ختم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی اردو کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/urdu/articles/cpq4785g525o?at_format=link&amp;amp;at_ptr_name=facebook_page&amp;amp;at_link_id=50CC29FA-D0C4-11F0-96B2-DFEC59A4CBD7&amp;amp;utm_social_handle_id=126548377386804&amp;amp;at_bbc_team=editorial&amp;amp;at_campaign_type=owned&amp;amp;at_medium=social&amp;amp;at_link_type=web_link&amp;amp;at_link_origin=BBC_URDU&amp;amp;utm_social_post_id=613913936&amp;amp;at_campaign=Social_Flow&amp;amp;fbclid=IwY2xjawOd_IZleHRuA2FlbQIxMQBzcnRjBmFwcF9pZBAyMjIwMzkxNzg4MjAwODkyAAEe9U3WPVDvCNnPFK99nreonZVwhDeWKFdu8GVTiV9nWFM7yY3j6RhLP_ATvHE_aem_O4ulWVifsx7lISfCDzMl4w"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 2 ججز پر مشتمل باگپور بینچ نے اگروال کی اپیل کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام ہے کہ ملزم نے براہموس میزائل کے اہم راز پاکستان کو فراہم کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس فیصلے میں نشانت اگروال کو اپنے ذاتی کمپیوٹر پر بلا اجازت براہموس کے اہم راز رکھنے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے، انھیں آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی پر 3  برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر چوں کہ وہ 3 برس کی سزا پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں تو اس لیے انہیں عدالت نے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشانت اگروال کا تعلق اتراکھنڈ ریاست سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے براہموس ایرو سپیس کے ٹکنیکل ریسرچ ڈویژن میں 4  برس تک سسٹم انجینیئر کے طور پر کام کیا تھا، بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق وہ اس اہم ٹیم کے رکن تھے جس نے مسلح افواج کے لیے 2014 سے 2018 تک 70 سے 80 میزائل ہینڈل کیے، ’وہ براہموس کے خفیہ پروجیکٹس کا حصہ تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں 2017-2018 کے دوران ’نوجوان سائنسدان کے ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا تھا، جب کہ انہیں 2017 میں سینیئر سسٹم انجینیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 میں اتر پردیش اور مہاراشٹر کی انسداد دہشت گردی شاخ اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے نشانت کو پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کرنے اور براہموس سپر سونک میزائل کے حساس راز پاکستان کو فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا دعویٰ تھا کہ ان کے ذاتی کمپیوٹر سے براہموس میزائل کی خفیہ معلومات کی دستاویزات برآمد کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق حکام کا دعویٰ تھا کہ ’سیجل کپور‘ نامی خاتون نے ان سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا اور بیرون ملک پُرکشش نوکری کی پیشکش کی تھی، ’بعد میں تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فیس بک پر سیجل کپور نام کی خاتون نے 2015 اور 2018 کے درمیان انڈین فضائیہ اور انڈین بری فوج کے 98 سے زیادہ اہلکاروں کے کمپیوٹر ہیک کر لیے تھے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ دسمبر 2017 میں نشانت کے کمپیوٹر میں ’ٹرسٹ ایکس‘، ’چیٹ ٹو ہائر‘ اور ’کیو وہسپر‘ نام کے 3 وائرس پروگرام داخل کیے گئے تھے، ان کے مطابق انہی میلویئر پروگرامز کے ذریعے براہموس کا ڈیٹا نشانت کے کمپیوٹر سے پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استغاثہ کا کہنا تھا کہ براہموس کا راز یا تو میلویر کے ذریعے پاکستان کو منتقل کیا گیا یا نشات نے خود بطور جاسوس ایسا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2024 میں نشانت کو ناگپور کی سیشن کورٹ نے پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے سائبر دہشتگردی اور سرکاری رازداری قانون کی کئی دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہموس ایرو سپیس انڈیا اور روس کا ایک مشترکہ دفاعی ادارہ ہے جہاں دونوں ملکوں کے تعاون سے براہموس سُپر سونک کروز میزائل پر تحقیق و ترقی اور پروڈکشن کا کام ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک حساس دفاعی مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنے اہم ادارے میں غیر ممالک کے لیے جاسوسی کے مبینہ معاملے نے دفاعی اداروں کی سکیورٹی کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے، لیکن ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد صرف نشانت اگروال نے ہی نہیں براہموس ایروسپیس کمپنی نے بھی راحت کی سانس لی ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں ممبئی ہائی کورٹ نے براہموس میزائل ایرو سپیس انجینیئر نشانت اگروال کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا کو ختم کر دیا ہے۔</p>
<p>بی بی سی اردو کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/urdu/articles/cpq4785g525o?at_format=link&amp;at_ptr_name=facebook_page&amp;at_link_id=50CC29FA-D0C4-11F0-96B2-DFEC59A4CBD7&amp;utm_social_handle_id=126548377386804&amp;at_bbc_team=editorial&amp;at_campaign_type=owned&amp;at_medium=social&amp;at_link_type=web_link&amp;at_link_origin=BBC_URDU&amp;utm_social_post_id=613913936&amp;at_campaign=Social_Flow&amp;fbclid=IwY2xjawOd_IZleHRuA2FlbQIxMQBzcnRjBmFwcF9pZBAyMjIwMzkxNzg4MjAwODkyAAEe9U3WPVDvCNnPFK99nreonZVwhDeWKFdu8GVTiV9nWFM7yY3j6RhLP_ATvHE_aem_O4ulWVifsx7lISfCDzMl4w"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 2 ججز پر مشتمل باگپور بینچ نے اگروال کی اپیل کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام ہے کہ ملزم نے براہموس میزائل کے اہم راز پاکستان کو فراہم کیے تھے۔</p>
<p>تاہم اس فیصلے میں نشانت اگروال کو اپنے ذاتی کمپیوٹر پر بلا اجازت براہموس کے اہم راز رکھنے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے، انھیں آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی پر 3  برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔</p>
<p>مگر چوں کہ وہ 3 برس کی سزا پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں تو اس لیے انہیں عدالت نے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>نشانت اگروال کا تعلق اتراکھنڈ ریاست سے ہے۔</p>
<p>ملزم نے براہموس ایرو سپیس کے ٹکنیکل ریسرچ ڈویژن میں 4  برس تک سسٹم انجینیئر کے طور پر کام کیا تھا، بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق وہ اس اہم ٹیم کے رکن تھے جس نے مسلح افواج کے لیے 2014 سے 2018 تک 70 سے 80 میزائل ہینڈل کیے، ’وہ براہموس کے خفیہ پروجیکٹس کا حصہ تھے‘۔</p>
<p>انہیں 2017-2018 کے دوران ’نوجوان سائنسدان کے ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا تھا، جب کہ انہیں 2017 میں سینیئر سسٹم انجینیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔</p>
<p>2018 میں اتر پردیش اور مہاراشٹر کی انسداد دہشت گردی شاخ اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے نشانت کو پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کرنے اور براہموس سپر سونک میزائل کے حساس راز پاکستان کو فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔</p>
<p>حکام کا دعویٰ تھا کہ ان کے ذاتی کمپیوٹر سے براہموس میزائل کی خفیہ معلومات کی دستاویزات برآمد کی گئی تھیں۔</p>
<p>خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق حکام کا دعویٰ تھا کہ ’سیجل کپور‘ نامی خاتون نے ان سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا اور بیرون ملک پُرکشش نوکری کی پیشکش کی تھی، ’بعد میں تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فیس بک پر سیجل کپور نام کی خاتون نے 2015 اور 2018 کے درمیان انڈین فضائیہ اور انڈین بری فوج کے 98 سے زیادہ اہلکاروں کے کمپیوٹر ہیک کر لیے تھے۔‘</p>
<p>تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ دسمبر 2017 میں نشانت کے کمپیوٹر میں ’ٹرسٹ ایکس‘، ’چیٹ ٹو ہائر‘ اور ’کیو وہسپر‘ نام کے 3 وائرس پروگرام داخل کیے گئے تھے، ان کے مطابق انہی میلویئر پروگرامز کے ذریعے براہموس کا ڈیٹا نشانت کے کمپیوٹر سے پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p>استغاثہ کا کہنا تھا کہ براہموس کا راز یا تو میلویر کے ذریعے پاکستان کو منتقل کیا گیا یا نشات نے خود بطور جاسوس ایسا کیا تھا۔</p>
<p>جون 2024 میں نشانت کو ناگپور کی سیشن کورٹ نے پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے سائبر دہشتگردی اور سرکاری رازداری قانون کی کئی دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p>براہموس ایرو سپیس انڈیا اور روس کا ایک مشترکہ دفاعی ادارہ ہے جہاں دونوں ملکوں کے تعاون سے براہموس سُپر سونک کروز میزائل پر تحقیق و ترقی اور پروڈکشن کا کام ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ ایک حساس دفاعی مرکز ہے۔</p>
<p>اتنے اہم ادارے میں غیر ممالک کے لیے جاسوسی کے مبینہ معاملے نے دفاعی اداروں کی سکیورٹی کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے، لیکن ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد صرف نشانت اگروال نے ہی نہیں براہموس ایروسپیس کمپنی نے بھی راحت کی سانس لی ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274629</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 10:48:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/04104506507062d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/04104506507062d.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے اسمارٹ فونز میں سرکاری سائبر سیکیورٹی ایپ پہلے سے انسٹال کریں، بھارت کی کمپنیوں کو ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274508/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی وزارت برائے ٹیلی کام نے نجی طور پر اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام نئی ڈیوائسز میں سرکاری ملکیت والی سائبر سیکیورٹی ایپ پہلے سے انسٹال کریں، جسے صارف حذف نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ بات ایک سرکاری حکم نامے میں ظاہر ہوئی ہے، اور اس اقدام سے ممکنہ طور پر ایپل اور پرائیویسی کے حامی ناراض ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی فون مارکیٹوں میں سے ایک ہے، جہاں ایک ارب 20 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں متعارف کرائی گئی یہ ایپ اب تک 7 لاکھ سے زائد کھوئے ہوئے فونز بازیاب کرا چکی ہے، جن میں صرف اکتوبر میں 50 ہزار بازیاب کرائے گئے فون شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کا ماضی میں حکومت کے اینٹی اسپیم موبائل ایپ کی وجہ سے ٹیلی کام ریگولیٹر سے تناؤ رہا ہے، ایپل اب سام سنگ، ویوو، اوپو اور شیاؤمی جیسی کمپنیوں میں شامل ہے جن پر نئے حکم کا اطلاق ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1259426'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259426"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;28 نومبر کے حکم نامے (جسے ’رائٹرز‘ نے دیکھا) میں بڑی اسمارٹ فون کمپنیوں کو 90 دن دیے گئے ہیں، تاکہ وہ حکومت کی ’سنچار ساتھی‘ ایپ کو نئے موبائل فونز پر پری انسٹال کر دیں، اور صارفین اسے غیر فعال نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی چین میں موجود ڈیوائسز کے لیے وزارت نے کہا کہ مینوفیکچررز کو چاہیے کہ وہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کے ذریعے یہ ایپ فونز پر بھیجیں، یہ حکم نامہ عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا بلکہ منتخب کمپنیوں کو نجی طور پر بھیجا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایپ ٹیلی کام سائبر سیکیورٹی کو ’سنگین خطرات‘ سے بچانے کے لیے ضروری ہے، جو ڈپلیکیٹ یا جعلی آئی ایم ای آئی نمبروں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور جنہیں مختلف فراڈ اور نیٹ ورک کے غلط استعمال میں استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق 2025 کے وسط تک بھارت میں 73 کروڑ 50 لاکھ اسمارٹ فونز میں سے تقریباً 4.5 فیصد ایپل کے آئی او ایس پر چل رہے تھے، جب کہ باقی اینڈرائیڈ استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹیلی-کام-سائبر-سیکیورٹی" href="#ٹیلی-کام-سائبر-سیکیورٹی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹیلی کام سائبر سیکیورٹی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;معلومات سے آگاہی رکھنے والے ذرائع کے مطابق اگرچہ ایپل اپنے فونز میں پہلے سے اپنی مخصوص ایپس انسٹال کرتا ہے، مگر اس کی اندرونی پالیسیاں اسمارٹ فون کی فروخت سے قبل کسی سرکاری یا تھرڈ پارٹی ایپ کی پری انسٹالیشن کی اجازت نہیں دیتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاؤنٹرپوائنٹ کے ریسرچ ڈائریکٹر ترون پاتھک نے کہا کہ ’ایپل نے تاریخی طور پر حکومتوں کی ایسی درخواستیں مسترد کی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ لازمی پری انسٹالیشن کے بجائے کوئی درمیانی راستہ نکالیں،  وہ بات چیت کر کے صارفین کو ایپ انسٹال کرنے کی ترغیب دینے کا آپشن مانگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256830'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایپل، گوگل، سام سنگ اور شیاؤمی نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، بھارت کی ٹیلی کام وزارت نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر فون کے لیے مختص 14 سے 17 ہندسوں پر مشتمل آئی ایم ای آئی نمبر (انٹرنیشنل موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈنٹیٹی) عام طور پر ان فونز کا نیٹ ورک منقطع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جن کی چوری کی اطلاع دی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ایپ صارفین کو مشکوک کالز کی رپورٹ کرنے، آئی ایم ای آئی کی تصدیق کرنے اور مرکزی رجسٹری کے ذریعے چوری شدہ ڈیوائسز کو بلاک کرنے کی سہولت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپ کے 50 لاکھ سے زائد ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں، اور اس کی مدد سے 37 لاکھ سے زائد چوری یا گم شدہ موبائل فون بلاک کیے جا چکے ہیں، جب کہ 3 کروڑ سے زائد جعلی کنکشنز بھی منقطع کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سائبر خطرات کی روک تھام میں مدد دیتی ہے، گم شدہ یا چوری شدہ فونز کی ٹریکنگ اور بلاکنگ میں سہولت فراہم کرتی ہے، پولیس کو ڈیوائسز کا سراغ لگانے میں مدد دیتی ہے اور جعلی فونز کو بلیک مارکیٹ سے دور رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی وزارت برائے ٹیلی کام نے نجی طور پر اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام نئی ڈیوائسز میں سرکاری ملکیت والی سائبر سیکیورٹی ایپ پہلے سے انسٹال کریں، جسے صارف حذف نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ بات ایک سرکاری حکم نامے میں ظاہر ہوئی ہے، اور اس اقدام سے ممکنہ طور پر ایپل اور پرائیویسی کے حامی ناراض ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>بھارت دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی فون مارکیٹوں میں سے ایک ہے، جہاں ایک ارب 20 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں متعارف کرائی گئی یہ ایپ اب تک 7 لاکھ سے زائد کھوئے ہوئے فونز بازیاب کرا چکی ہے، جن میں صرف اکتوبر میں 50 ہزار بازیاب کرائے گئے فون شامل ہیں۔</p>
<p>ایپل کا ماضی میں حکومت کے اینٹی اسپیم موبائل ایپ کی وجہ سے ٹیلی کام ریگولیٹر سے تناؤ رہا ہے، ایپل اب سام سنگ، ویوو، اوپو اور شیاؤمی جیسی کمپنیوں میں شامل ہے جن پر نئے حکم کا اطلاق ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1259426'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259426"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>28 نومبر کے حکم نامے (جسے ’رائٹرز‘ نے دیکھا) میں بڑی اسمارٹ فون کمپنیوں کو 90 دن دیے گئے ہیں، تاکہ وہ حکومت کی ’سنچار ساتھی‘ ایپ کو نئے موبائل فونز پر پری انسٹال کر دیں، اور صارفین اسے غیر فعال نہ کر سکیں۔</p>
<p>سپلائی چین میں موجود ڈیوائسز کے لیے وزارت نے کہا کہ مینوفیکچررز کو چاہیے کہ وہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کے ذریعے یہ ایپ فونز پر بھیجیں، یہ حکم نامہ عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا بلکہ منتخب کمپنیوں کو نجی طور پر بھیجا گیا ہے۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایپ ٹیلی کام سائبر سیکیورٹی کو ’سنگین خطرات‘ سے بچانے کے لیے ضروری ہے، جو ڈپلیکیٹ یا جعلی آئی ایم ای آئی نمبروں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور جنہیں مختلف فراڈ اور نیٹ ورک کے غلط استعمال میں استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق 2025 کے وسط تک بھارت میں 73 کروڑ 50 لاکھ اسمارٹ فونز میں سے تقریباً 4.5 فیصد ایپل کے آئی او ایس پر چل رہے تھے، جب کہ باقی اینڈرائیڈ استعمال کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="ٹیلی-کام-سائبر-سیکیورٹی" href="#ٹیلی-کام-سائبر-سیکیورٹی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹیلی کام سائبر سیکیورٹی</strong></h1>
<p>معلومات سے آگاہی رکھنے والے ذرائع کے مطابق اگرچہ ایپل اپنے فونز میں پہلے سے اپنی مخصوص ایپس انسٹال کرتا ہے، مگر اس کی اندرونی پالیسیاں اسمارٹ فون کی فروخت سے قبل کسی سرکاری یا تھرڈ پارٹی ایپ کی پری انسٹالیشن کی اجازت نہیں دیتیں۔</p>
<p>کاؤنٹرپوائنٹ کے ریسرچ ڈائریکٹر ترون پاتھک نے کہا کہ ’ایپل نے تاریخی طور پر حکومتوں کی ایسی درخواستیں مسترد کی ہیں‘۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ لازمی پری انسٹالیشن کے بجائے کوئی درمیانی راستہ نکالیں،  وہ بات چیت کر کے صارفین کو ایپ انسٹال کرنے کی ترغیب دینے کا آپشن مانگ سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256830'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایپل، گوگل، سام سنگ اور شیاؤمی نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، بھارت کی ٹیلی کام وزارت نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ہر فون کے لیے مختص 14 سے 17 ہندسوں پر مشتمل آئی ایم ای آئی نمبر (انٹرنیشنل موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈنٹیٹی) عام طور پر ان فونز کا نیٹ ورک منقطع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جن کی چوری کی اطلاع دی گئی ہو۔</p>
<p>سرکاری ایپ صارفین کو مشکوک کالز کی رپورٹ کرنے، آئی ایم ای آئی کی تصدیق کرنے اور مرکزی رجسٹری کے ذریعے چوری شدہ ڈیوائسز کو بلاک کرنے کی سہولت دیتی ہے۔</p>
<p>ایپ کے 50 لاکھ سے زائد ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں، اور اس کی مدد سے 37 لاکھ سے زائد چوری یا گم شدہ موبائل فون بلاک کیے جا چکے ہیں، جب کہ 3 کروڑ سے زائد جعلی کنکشنز بھی منقطع کیے گئے ہیں۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سائبر خطرات کی روک تھام میں مدد دیتی ہے، گم شدہ یا چوری شدہ فونز کی ٹریکنگ اور بلاکنگ میں سہولت فراہم کرتی ہے، پولیس کو ڈیوائسز کا سراغ لگانے میں مدد دیتی ہے اور جعلی فونز کو بلیک مارکیٹ سے دور رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274508</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 12:06:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/01115458d10b97f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/01115458d10b97f.webp"/>
        <media:title>اسمارٹ فون کمپنیوں کو ’سنچار ساتھی‘ ایپ کو نئے موبائل فونز پر پری انسٹال کرنے کیلئے 90 دن ملے ہیں۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274357/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔بھارتی جبر و استبداد کا شکار سکھوں نے پاکستان کیخلاف دہشت گرد مودی کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔سکھ رہنماؤں نے سکھ فوجیوں سے سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہونے کی ہدایت کی ہے۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;پاکستان ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق سکھوں کی سب سے بڑی تحریک “سکھ فار جسٹس “ نے بھارت کیخلاف سکھوں کی پاک فوج میں بھرتی کا مطالبہ کیا ہے۔سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شمولیت کی دعوت دینے کی درخواست کی ہے۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی سندھ پر قبضے کی کھلی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری سکھوں کیلئے خصوصی بھرتی کاراستہ کھولنا ہوگا۔پاکستان سکھوں کیلئے بھرتی کا راستہ کھولے تاکہ وہ سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہو سکیں۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;سکھوں کی سب سے بڑی تحریک “سکھ فار جسٹس “ نے درخواست کی ہے کہ سکھ رضاکاروں کی خصوصی فہرست اور ایک وقف سکھ دفاعی یونٹ کی تشکیل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکھ رضا کاروں کے اس یونٹ کی تعیناتی خاص طور پر سندھ کے دفاع کے لیے کی جائے ۔جیسے ہی پاکستان اندراج کاپروٹوکول جاری کرے گا، دنیا بھر میں ہزاروں سکھ رضاکار شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;سکھ فارجسٹس نے واضح کیا ہے کہ ہم اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مضبوط مؤقف رکھتے ہیں ۔عالمی قوانین کے تحت فوجیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضمیر یا اخلاقی وجوہات کی بنا ء پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا پاکستان کے مضبوط مؤقف اور بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی مکمل حمایت کا اظہار کر رہی ہے۔ بھارتی جنگی سیاست اور دہشت گردی کے فروغ کے منصوبے کیخلاف دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔بھارتی جبر و استبداد کا شکار سکھوں نے پاکستان کیخلاف دہشت گرد مودی کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔سکھ رہنماؤں نے سکھ فوجیوں سے سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہونے کی ہدایت کی ہے۔<br><br>پاکستان ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق سکھوں کی سب سے بڑی تحریک “سکھ فار جسٹس “ نے بھارت کیخلاف سکھوں کی پاک فوج میں بھرتی کا مطالبہ کیا ہے۔سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شمولیت کی دعوت دینے کی درخواست کی ہے۔<br><br>سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی سندھ پر قبضے کی کھلی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری سکھوں کیلئے خصوصی بھرتی کاراستہ کھولنا ہوگا۔پاکستان سکھوں کیلئے بھرتی کا راستہ کھولے تاکہ وہ سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہو سکیں۔<br><br>سکھوں کی سب سے بڑی تحریک “سکھ فار جسٹس “ نے درخواست کی ہے کہ سکھ رضاکاروں کی خصوصی فہرست اور ایک وقف سکھ دفاعی یونٹ کی تشکیل کی جائے۔</p>
<p>سکھ رضا کاروں کے اس یونٹ کی تعیناتی خاص طور پر سندھ کے دفاع کے لیے کی جائے ۔جیسے ہی پاکستان اندراج کاپروٹوکول جاری کرے گا، دنیا بھر میں ہزاروں سکھ رضاکار شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔<br><br>سکھ فارجسٹس نے واضح کیا ہے کہ ہم اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مضبوط مؤقف رکھتے ہیں ۔عالمی قوانین کے تحت فوجیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضمیر یا اخلاقی وجوہات کی بنا ء پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>دنیا پاکستان کے مضبوط مؤقف اور بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی مکمل حمایت کا اظہار کر رہی ہے۔ بھارتی جنگی سیاست اور دہشت گردی کے فروغ کے منصوبے کیخلاف دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274357</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 16:58:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/271658020e8aaaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/271658020e8aaaa.webp"/>
        <media:title>فوٹو: پی ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں نایاب ارضی مقناطیس کی پیداوار میں اضافے کیلئے 80 کروڑ ڈالر کا منصوبہ منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274345/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے نایاب ارضی مقناطیس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے 80 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، تاکہ سپلائی کو محفوظ بنایا جا سکے اور چین جیسے ممالک سے درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق نایاب ارضی مستقل مقناطیس (آر ای پی ایمز) مستقل مقناطیس کی مضبوط ترین اقسام میں شمار ہوتے ہیں، اور نایاب ارضی عناصر کے الائی سے تیار کیے جاتے ہیں، جو برقی گاڑیوں، ہوا باز ی اور قابلِ تجدید توانائی سمیت کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی اس وقت اپنی ضروریات بنیادی طور پر درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، اور حکومت کا اندازہ ہے کہ 2030 تک ملک کی طلب دگنی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267646'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کابینہ نے منگل کے روز 81 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد آر ای پی ایمز کی پیداوار کو فروغ دینا ہے، حکومت نے کہا کہ یہ منصوبہ مقامی صنعتوں کے لیے ’سپلائی چین کو محفوظ‘ بنانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں فروخت سے منسلک مراعات اور سبسڈیز کی فراہمی شامل ہے، تاکہ سالانہ تقریباً 6 ہزار  میٹرک ٹن پیداواری صلاحیت قائم کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے بیان میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے، جس کا مقصد بھارت میں 6 ہزار میٹرک ٹن سالانہ مربوط آر ای پی ایمز مینوفیکچرنگ قائم کرنا ہے، جس سے خود انحصاری بڑھے گی اور عالمی آر ای پی ایمز مارکیٹ میں بھارت کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اُبھارا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی صنعتی حلقوں نے اقدام کا خیر مقدم کیا، اور آٹوموٹو کمپوننٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے سی ایم اے ) نے کہا کہ اس سے آٹو موبائل سپلائی چین کو طویل المدتی استحکام ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے سی ایم اے کے صدر وکرام پتی سنگھانیا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قدم جدید مواد میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا اور بھارت کو برقی گاڑیوں اور صاف توانائی کی عالمی ویلیو چینز میں مضبوط مقام دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ایک حکمت عملی پر مبنی اور دور اندیشی پر مبنی مداخلت ہے، جو ای وی اور جدید نقل و حرکت کے نظام میں موجود ایک انتہائی اہم خلا کو پُر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بھارت کئی ممالک سے نایاب ارضی مقناطیس حاصل کرتا ہے، لیکن رواں سال کے اوائل میں چین کی برآمدی پابندیوں نے بعض بھارتی کمپنیوں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے نایاب ارضی مقناطیس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے 80 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، تاکہ سپلائی کو محفوظ بنایا جا سکے اور چین جیسے ممالک سے درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق نایاب ارضی مستقل مقناطیس (آر ای پی ایمز) مستقل مقناطیس کی مضبوط ترین اقسام میں شمار ہوتے ہیں، اور نایاب ارضی عناصر کے الائی سے تیار کیے جاتے ہیں، جو برقی گاڑیوں، ہوا باز ی اور قابلِ تجدید توانائی سمیت کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>نئی دہلی اس وقت اپنی ضروریات بنیادی طور پر درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، اور حکومت کا اندازہ ہے کہ 2030 تک ملک کی طلب دگنی ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267646'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی کابینہ نے منگل کے روز 81 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد آر ای پی ایمز کی پیداوار کو فروغ دینا ہے، حکومت نے کہا کہ یہ منصوبہ مقامی صنعتوں کے لیے ’سپلائی چین کو محفوظ‘ بنانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>منصوبے میں فروخت سے منسلک مراعات اور سبسڈیز کی فراہمی شامل ہے، تاکہ سالانہ تقریباً 6 ہزار  میٹرک ٹن پیداواری صلاحیت قائم کی جاسکے۔</p>
<p>حکومت نے بیان میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے، جس کا مقصد بھارت میں 6 ہزار میٹرک ٹن سالانہ مربوط آر ای پی ایمز مینوفیکچرنگ قائم کرنا ہے، جس سے خود انحصاری بڑھے گی اور عالمی آر ای پی ایمز مارکیٹ میں بھارت کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اُبھارا جا سکے گا۔</p>
<p>مقامی صنعتی حلقوں نے اقدام کا خیر مقدم کیا، اور آٹوموٹو کمپوننٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے سی ایم اے ) نے کہا کہ اس سے آٹو موبائل سپلائی چین کو طویل المدتی استحکام ملے گا۔</p>
<p>اے سی ایم اے کے صدر وکرام پتی سنگھانیا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قدم جدید مواد میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا اور بھارت کو برقی گاڑیوں اور صاف توانائی کی عالمی ویلیو چینز میں مضبوط مقام دے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ایک حکمت عملی پر مبنی اور دور اندیشی پر مبنی مداخلت ہے، جو ای وی اور جدید نقل و حرکت کے نظام میں موجود ایک انتہائی اہم خلا کو پُر کرتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ بھارت کئی ممالک سے نایاب ارضی مقناطیس حاصل کرتا ہے، لیکن رواں سال کے اوائل میں چین کی برآمدی پابندیوں نے بعض بھارتی کمپنیوں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274345</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 13:40:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/27132720ef2f428.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/27132720ef2f428.webp"/>
        <media:title>رواں سال کے اوائل میں چین کی برآمدی پابندیوں نے بعض بھارتی کمپنیوں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کو ایک اور دھچکا، آرمینیا نے تیجس طیاروں کی خریداری روک دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274304/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی ایئر شو میں جنگی طیارے کی تباہی کے بعد بھارتی فضائیہ کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، آرمینیا کی حکومت نے بھارت سے تیجَس طیاروں کی خریداری کے لیے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق آرمینیا نے بھارت سے تیجس طیاروں کی خریداری روک دی، آرمینیا کے بھارت کے ساتھ 12تیجس طیاروں کی خریداری پرمذاکرات جاری تھے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمینیا نے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا سودا طے پانے سے پہلے ہی مذاکرات ختم کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو دبئی ائیر شو میں تیجس کے ایروبیٹک مظاہرے کے دوران طیارہ گرگیا تھا، حادثے میں بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر نمنش سیال ہلاک ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی ایئر شو میں حادثے کا شکار ہونے والے بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر نمنش سیال کی میت ان کے آبائی گاؤں پتیالکر، کنگرا (ہماچل پردیش) پہنچائی گئی، جہاں اتوار کے روز ان کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274074'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری رسومات روایتی طریقوں کے مطابق ادا کی گئیں، جن میں گن سالیوٹ، جلوس اور پھول چڑھانے کی تقریب شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی میڈیا کے مطابق آرمینیا کے اس تازہ اعلان نے اسرائیل کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اسے اس سودے سے خاطر خواہ آمدنی کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمینیا، بھارت اور طیارہ ساز کمپنی ہال کے ساتھ 12 تیجَس طیاروں کی خریداری کے لیے 1.2 ارب ڈالر کے معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا، اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو یہ تیجَس کے لیے پہلا برآمدی آرڈر ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجَس لڑاکا طیارے کی تیاری 1982 میں شروع ہوئی تھی، جب بھارت خود کو دنیا کے بڑے اسلحہ برآمد کنندگان و درآمد کنندگان میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجَس طیارہ دراصل بھارتی میگ-21 طیاروں کی جگہ لینے کے لیے بنایا گیا تھا، جنہیں رواں سال آخر کار گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، مجموعی طور پر، پہلی کھیپ میں تیار کیے گئے صرف 40 تیجَس طیارے اب تک بھارتی فضائیہ کو ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر ورژن اے-1 کے 97 یونٹس کی تیاری شروع ہو چکی ہے، ان تبدیلیوں کا مقصد اسے مغربی لڑاکا طیاروں کے زیادہ قریب لانا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس کی تیاری میں اسرائیلی نظام استعمال کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی ایئر شو میں جنگی طیارے کی تباہی کے بعد بھارتی فضائیہ کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، آرمینیا کی حکومت نے بھارت سے تیجَس طیاروں کی خریداری کے لیے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق آرمینیا نے بھارت سے تیجس طیاروں کی خریداری روک دی، آرمینیا کے بھارت کے ساتھ 12تیجس طیاروں کی خریداری پرمذاکرات جاری تھے،</p>
<p>آرمینیا نے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا سودا طے پانے سے پہلے ہی مذاکرات ختم کردیے۔</p>
<p>ہفتے کو دبئی ائیر شو میں تیجس کے ایروبیٹک مظاہرے کے دوران طیارہ گرگیا تھا، حادثے میں بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر نمنش سیال ہلاک ہوگیا تھا۔</p>
<p>دبئی ایئر شو میں حادثے کا شکار ہونے والے بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر نمنش سیال کی میت ان کے آبائی گاؤں پتیالکر، کنگرا (ہماچل پردیش) پہنچائی گئی، جہاں اتوار کے روز ان کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274074'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آخری رسومات روایتی طریقوں کے مطابق ادا کی گئیں، جن میں گن سالیوٹ، جلوس اور پھول چڑھانے کی تقریب شامل تھی۔</p>
<p>اسرائیلی میڈیا کے مطابق آرمینیا کے اس تازہ اعلان نے اسرائیل کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اسے اس سودے سے خاطر خواہ آمدنی کی توقع تھی۔</p>
<p>آرمینیا، بھارت اور طیارہ ساز کمپنی ہال کے ساتھ 12 تیجَس طیاروں کی خریداری کے لیے 1.2 ارب ڈالر کے معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا، اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو یہ تیجَس کے لیے پہلا برآمدی آرڈر ہوتا۔</p>
<p>تیجَس لڑاکا طیارے کی تیاری 1982 میں شروع ہوئی تھی، جب بھارت خود کو دنیا کے بڑے اسلحہ برآمد کنندگان و درآمد کنندگان میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔</p>
<p>تیجَس طیارہ دراصل بھارتی میگ-21 طیاروں کی جگہ لینے کے لیے بنایا گیا تھا، جنہیں رواں سال آخر کار گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، مجموعی طور پر، پہلی کھیپ میں تیار کیے گئے صرف 40 تیجَس طیارے اب تک بھارتی فضائیہ کو ملے ہیں۔</p>
<p>بہتر ورژن اے-1 کے 97 یونٹس کی تیاری شروع ہو چکی ہے، ان تبدیلیوں کا مقصد اسے مغربی لڑاکا طیاروں کے زیادہ قریب لانا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس کی تیاری میں اسرائیلی نظام استعمال کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274304</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 16:40:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/26162051ba739e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/26162051ba739e7.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی ایئرلائنز نے ایتھوپیا کے آتش فشاں کی راکھ پھیلنے کے بعد کئی پروازیں منسوخ کردیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274281/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور اکاسا ایئر نے منگل کے روز کہا کہ ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے اٹھنے والے راکھ کے بادلوں کے باعث پروازوں کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد انہوں نے کچھ پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957363/indian-airlines-cancel-flights-after-volcano-eruption"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے پیر اور منگل کو 11 پروازیں منسوخ کیں، تاکہ اُن طیاروں کی احتیاطی جانچ کی جا سکے جو آتش فشاں پھٹنے کے بعد کچھ علاقوں کے اوپر سے پرواز کر چکے تھے، یہ اقدام بھارت کے ہوا بازی کے نگران ادارے کی ہدایت کے بعد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274216'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی چھوٹی ہم منصب ایئرلائن اکاسا نے بتایا کہ اس نے گزشتہ 2 دنوں کے دوران جدہ، کویت اور ابوظہبی جیسے مشرقِ وسطیٰ کے مقامات کی شیڈیول پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ شہری ہوا بازی نے کہا کہ صرف چند پروازوں کا رخ احتیاطی طور پر تبدیل کیا گیا ہے اور ایئرپورٹ اتھارٹی نے تمام متاثرہ طیاروں کو نوٹس جاری کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی محکمہ موسمیات نے اپنے بیان میں کہا کہ راکھ کا بادل چین کی طرف بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ بدھ تک بھارتی فضائی حدود صاف ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور اکاسا ایئر نے منگل کے روز کہا کہ ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے اٹھنے والے راکھ کے بادلوں کے باعث پروازوں کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد انہوں نے کچھ پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1957363/indian-airlines-cancel-flights-after-volcano-eruption"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے پیر اور منگل کو 11 پروازیں منسوخ کیں، تاکہ اُن طیاروں کی احتیاطی جانچ کی جا سکے جو آتش فشاں پھٹنے کے بعد کچھ علاقوں کے اوپر سے پرواز کر چکے تھے، یہ اقدام بھارت کے ہوا بازی کے نگران ادارے کی ہدایت کے بعد کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274216'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کی چھوٹی ہم منصب ایئرلائن اکاسا نے بتایا کہ اس نے گزشتہ 2 دنوں کے دوران جدہ، کویت اور ابوظہبی جیسے مشرقِ وسطیٰ کے مقامات کی شیڈیول پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>وزارتِ شہری ہوا بازی نے کہا کہ صرف چند پروازوں کا رخ احتیاطی طور پر تبدیل کیا گیا ہے اور ایئرپورٹ اتھارٹی نے تمام متاثرہ طیاروں کو نوٹس جاری کردیا ہے۔</p>
<p>بھارتی محکمہ موسمیات نے اپنے بیان میں کہا کہ راکھ کا بادل چین کی طرف بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ بدھ تک بھارتی فضائی حدود صاف ہو جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274281</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 10:56:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/261051335f7779b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/261051335f7779b.webp"/>
        <media:title>بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق راکھ کا بادل چین کی طرف بڑھ رہا ہے، بدھ تک فضائی حدود صاف ہو جائیں گی۔ —فوٹو: ہنگامہ ایکسپریس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تیجس پائلٹ کی موت کو عزت دینے کے لیے بھارت کو دفاعی معاہدوں میں شفافیت لانا ہوگی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274230/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ دن بھی ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زندگی کے کسی عام دن کی طرح مہارت اور بے خوفی سے بھرپور ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ دبئی ایئر شو میں دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے بھارتی فضائیہ کے تقریباً دیسی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس جو تیاری میں تاخیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنا، سے مشہور کیلسیتھنکس کرتب بازی کا مظاہرہ کریں گے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فضائی کرتب کے دوران تیجس اچانک کرتب دکھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر ایک خوفناک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/PakVanguard/status/1991855879436783667"&gt;&lt;strong&gt;آگ کے گولے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں تبدیل ہوگیا جس میں نمنش سیال کی جان چلی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274148'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بُری چیزیں عموماً اس وقت ہوتی ہیں کہ جب ان کی توقع سب سے کم ہوتی ہے۔ اس سے ٹائٹینک ذہن کے پردے پر اُبھرتا ہے۔ ایک اور مثال یوری گاگرین کی ہے جو سائنس کی دنیا کے ہیرو تھے اور 1959ء میں خلا میں جانے والے پہلے انسان تھے لیکن سوویت یونین کے خلاباز کے موت خلائی سفر کے 8 سال بعد اس وقت ہوئی کہ جب ایک ٹیسٹ فلائٹ میں وہ اپنے شریک پائلٹ کے ساتھ جس MiG-15 کو اڑا رہے تھے، وہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 ماہ میں یہ تیجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے لیکن پہلے واقعے میں پائلٹ بحفاظت طیارے سے نکل گیا تھا۔ اپولو مشن کی نمایاں تباہی اس بات کی یاددہانی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی میں بھی خامیاں ہو سکتی ہے۔ 1967ء میں اپولو-1 کے پری لانچ ٹیسٹ کے دوران لگنے والی آگ میں تینوں خلاباز ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اپولو-13 کا حادثہ خلا میں پیش آیا تھا مگر معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمنش سیال کی موت لوگوں کے نرم پہلو کو سامنے لے کر آئی کہ جب سرحد پار سے ہلاک پائلٹ کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ بہ ظاہر ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر لیکن کشیدہ فوجی تعطل کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی تھی، ہمدردی کا جذبہ کس طرح اسے پُرسکون کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خط کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sabrangindia.in/a-salute-across-the-skies-from-air-commodore-pervez-akhtar-khan/amp/"&gt;&lt;strong&gt;سبرنگ انڈیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے آن لائن شیئر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ ’بھارتی فضائیہ کے نام، اس خاندان کے نام جس نے بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں حالانکہ الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے۔ صرف ساتھی پائلٹ ہی اس درد کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’صرف ایک پائلٹ کی موت نہیں ہوئی ہے بلکہ بلندیوں کے نگہبان کو گھر بلا لیا گیا ہے۔ کہیں آج رات ایک وردی لٹک رہی ہے جسے پہنا نہیں گیا۔ کہیں ایک بچہ پوچھ رہا ہے کہ اس کا باپ کب لوٹے گا۔ کہیں آسمان خود کو پہلے سے زیادہ خالی محسوس کر رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274079'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غم زدہ خاندان میں نمنش سیال کی اہلیہ افشاں شامل ہیں جو خود بھی بھارتی فضائیہ کی افسر ہیں۔ یہ تعزیتی پیغام سرحد کے اُس پار محسوس کی جانے والی ہمدردی کا عکاس تھا۔ اس نے اُن بے ہودہ رویوں کی مذمت کی جو دونوں ممالک کے درمیان وطن پرستی کو بہانہ بنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خط بظاہر پاک فضائیہ کے سابق فوجی کی جانب سے بھیجا گیا تھا مگر اس کی صداقت کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس طرح کے جذبات بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں جو کبھی کبھار دونوں اطراف مثبت اثرات ڈالنے کا کام بھی کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا صرف 20 ماہ میں تیجس طیارے کے دوسرے حادثے کے بعد ممکنہ کاروباری نقصانات سے بہت پریشان نظر آرہا ہے۔ یہ اس نوعیت کی چیزیں ہیں جو روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا جب میں مغربی نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہا تھا اور روانڈا میں قتل عام ہورہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ ہونے والی خونریزی کی خبریں، ایک کالم کی موسم کی خبروں سے بھی زیادہ کم اہم سمجھی جاتی تھیں۔ پھر ایک دن کیگالی میں موجود اسی ایجنسی کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ قتل عام کے نتیجے میں روانڈا کی کافی کی پیداوار کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جلد ہی ردعمل سامنے آیا اور اس نمائندے کو عوامی طور پر سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے مشہور فضائی ہیروز، ریڈ ایروز کئی فضائی حادثات کا شکار ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سنا کہ ہاک T1 طیارے نے مالی نقصان اٹھایا ہو؟ ریڈ ایروز نے 2011ء میں فلائٹ لیفٹیننٹ جون ایگنگ کو فضائی حادثے میں کھو دیا۔ جون ایگنگ کا ہاک T1 طیارہ بورنماؤتھ ایئر فیسٹیول میں کرتب کے مظاہرہ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا اور تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ جی-فورس کی کمزوری ممکنہ طور پر حادثے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قیاس بھی ہے کہ نمنش سیال کے ساتھ بھی اسی طرح کی رولر کوسٹر نما جسمانی دباؤ کی کیفیت پیش آئی ہو جو زمین کی کشش کے خلاف تیز رفتار حرکت کے ساتھ آتی ہے۔ کارپورل جوناتھن بیلس 2018ء میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا طیارہ RAF ویلی سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک انجن ناکامی کے دوران حادثے کا شکار ہوا جبکہ کو-پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈیوڈ اسٹارک بحفاظت ایجیکٹ کر گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی وائر نے بھارت کو دفاعی پیداوار اور غیرملکی خریداروں کو ہارڈویئر کی فروخت میں درپیش مسائل پر ایک تشویش ناک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thewire.in/security/dubai-tejas-crash-more-than-pr-embarrassment-hal-credibility-gap"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; شائع کی۔ معتبر دفاعی تجزیہ کار راہول بیڈی نے لکھا، ’تیجس کا حادثہ ناگزیر طور پر ایک پرانی تباہ کُن برآمدات کی مہم کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ جب 2009ء-2008ء میں 7 دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹرز (AHLs) ایکواڈور کو 40 کروڑ 25 لاکھ ڈالر میں فروخت کیے گئے جن میں سے 4 گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ان حادثات نے بلآخر ایکواڈور ایئر فورس کو مجبور کیا کہ وہ اکتوبر 2015ء میں HAL کے ساتھ ALH معاہدہ ختم کر دے جس سے بھارت کے ایک مقامی فوجی ساز و سامان کے پلیٹ فارم کی پہلی بڑی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے تو نمنش سیال کی موت کو عزت دینے کا ایک بامعنی طریقہ یہ ہوگا کہ بھارت ہتھیاروں کے سودوں میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرے جسے بھارتی حکومتیں اکثر خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے بجائے نمنش سیال کی موت، کسی کو قصوروار ٹھہرانے کی دوڑ کا سبب بنی ہے۔ سرکاری تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں لیکن بھارتی چینلز پر قوم پرست تجزیہ کار امریکا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے مبینہ طور پر تیجس میں استعمال کے لیے کم معیار کے انجن بھارت کو فروخت کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانیت کی سطح پر نمنش سیال کی موت اور انہیں پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ذاتی روابط دونوں ممالک کے لیے ایک مہربان، دوستانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔ بھارتی پائلٹ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصد سے لکھے گئے خط کا بنیادی پیغام یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957243/decency-knows-no-passport"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ دن بھی ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زندگی کے کسی عام دن کی طرح مہارت اور بے خوفی سے بھرپور ہونا تھا۔</p>
<p>اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ دبئی ایئر شو میں دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے بھارتی فضائیہ کے تقریباً دیسی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس جو تیاری میں تاخیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنا، سے مشہور کیلسیتھنکس کرتب بازی کا مظاہرہ کریں گے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔</p>
<p>ایک فضائی کرتب کے دوران تیجس اچانک کرتب دکھاتے ہوئے زمین سے ٹکرا کر ایک خوفناک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/PakVanguard/status/1991855879436783667"><strong>آگ کے گولے</strong></a> میں تبدیل ہوگیا جس میں نمنش سیال کی جان چلی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274148'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بُری چیزیں عموماً اس وقت ہوتی ہیں کہ جب ان کی توقع سب سے کم ہوتی ہے۔ اس سے ٹائٹینک ذہن کے پردے پر اُبھرتا ہے۔ ایک اور مثال یوری گاگرین کی ہے جو سائنس کی دنیا کے ہیرو تھے اور 1959ء میں خلا میں جانے والے پہلے انسان تھے لیکن سوویت یونین کے خلاباز کے موت خلائی سفر کے 8 سال بعد اس وقت ہوئی کہ جب ایک ٹیسٹ فلائٹ میں وہ اپنے شریک پائلٹ کے ساتھ جس MiG-15 کو اڑا رہے تھے، وہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>20 ماہ میں یہ تیجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے لیکن پہلے واقعے میں پائلٹ بحفاظت طیارے سے نکل گیا تھا۔ اپولو مشن کی نمایاں تباہی اس بات کی یاددہانی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی میں بھی خامیاں ہو سکتی ہے۔ 1967ء میں اپولو-1 کے پری لانچ ٹیسٹ کے دوران لگنے والی آگ میں تینوں خلاباز ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اپولو-13 کا حادثہ خلا میں پیش آیا تھا مگر معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>نمنش سیال کی موت لوگوں کے نرم پہلو کو سامنے لے کر آئی کہ جب سرحد پار سے ہلاک پائلٹ کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ بہ ظاہر ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر لیکن کشیدہ فوجی تعطل کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی تھی، ہمدردی کا جذبہ کس طرح اسے پُرسکون کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس خط کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sabrangindia.in/a-salute-across-the-skies-from-air-commodore-pervez-akhtar-khan/amp/"><strong>سبرنگ انڈیا</strong></a> نے آن لائن شیئر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ ’بھارتی فضائیہ کے نام، اس خاندان کے نام جس نے بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں حالانکہ الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے۔ صرف ساتھی پائلٹ ہی اس درد کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں۔</p>
<p>’صرف ایک پائلٹ کی موت نہیں ہوئی ہے بلکہ بلندیوں کے نگہبان کو گھر بلا لیا گیا ہے۔ کہیں آج رات ایک وردی لٹک رہی ہے جسے پہنا نہیں گیا۔ کہیں ایک بچہ پوچھ رہا ہے کہ اس کا باپ کب لوٹے گا۔ کہیں آسمان خود کو پہلے سے زیادہ خالی محسوس کر رہا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274079'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>غم زدہ خاندان میں نمنش سیال کی اہلیہ افشاں شامل ہیں جو خود بھی بھارتی فضائیہ کی افسر ہیں۔ یہ تعزیتی پیغام سرحد کے اُس پار محسوس کی جانے والی ہمدردی کا عکاس تھا۔ اس نے اُن بے ہودہ رویوں کی مذمت کی جو دونوں ممالک کے درمیان وطن پرستی کو بہانہ بنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ خط بظاہر پاک فضائیہ کے سابق فوجی کی جانب سے بھیجا گیا تھا مگر اس کی صداقت کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس طرح کے جذبات بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں جو کبھی کبھار دونوں اطراف مثبت اثرات ڈالنے کا کام بھی کر جاتے ہیں۔</p>
<p>بھارتی میڈیا صرف 20 ماہ میں تیجس طیارے کے دوسرے حادثے کے بعد ممکنہ کاروباری نقصانات سے بہت پریشان نظر آرہا ہے۔ یہ اس نوعیت کی چیزیں ہیں جو روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے بھی کچھ اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا جب میں مغربی نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہا تھا اور روانڈا میں قتل عام ہورہا تھا۔</p>
<p>روزانہ ہونے والی خونریزی کی خبریں، ایک کالم کی موسم کی خبروں سے بھی زیادہ کم اہم سمجھی جاتی تھیں۔ پھر ایک دن کیگالی میں موجود اسی ایجنسی کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ قتل عام کے نتیجے میں روانڈا کی کافی کی پیداوار کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جلد ہی ردعمل سامنے آیا اور اس نمائندے کو عوامی طور پر سراہا گیا۔</p>
<p>برطانیہ کے مشہور فضائی ہیروز، ریڈ ایروز کئی فضائی حادثات کا شکار ہوئے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سنا کہ ہاک T1 طیارے نے مالی نقصان اٹھایا ہو؟ ریڈ ایروز نے 2011ء میں فلائٹ لیفٹیننٹ جون ایگنگ کو فضائی حادثے میں کھو دیا۔ جون ایگنگ کا ہاک T1 طیارہ بورنماؤتھ ایئر فیسٹیول میں کرتب کے مظاہرہ کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا اور تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ جی-فورس کی کمزوری ممکنہ طور پر حادثے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>یہ قیاس بھی ہے کہ نمنش سیال کے ساتھ بھی اسی طرح کی رولر کوسٹر نما جسمانی دباؤ کی کیفیت پیش آئی ہو جو زمین کی کشش کے خلاف تیز رفتار حرکت کے ساتھ آتی ہے۔ کارپورل جوناتھن بیلس 2018ء میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کا طیارہ RAF ویلی سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک انجن ناکامی کے دوران حادثے کا شکار ہوا جبکہ کو-پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈیوڈ اسٹارک بحفاظت ایجیکٹ کر گئے تھے۔</p>
<p>دی وائر نے بھارت کو دفاعی پیداوار اور غیرملکی خریداروں کو ہارڈویئر کی فروخت میں درپیش مسائل پر ایک تشویش ناک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thewire.in/security/dubai-tejas-crash-more-than-pr-embarrassment-hal-credibility-gap"><strong>رپورٹ</strong></a> شائع کی۔ معتبر دفاعی تجزیہ کار راہول بیڈی نے لکھا، ’تیجس کا حادثہ ناگزیر طور پر ایک پرانی تباہ کُن برآمدات کی مہم کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ جب 2009ء-2008ء میں 7 دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹرز (AHLs) ایکواڈور کو 40 کروڑ 25 لاکھ ڈالر میں فروخت کیے گئے جن میں سے 4 گر گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273907/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’ان حادثات نے بلآخر ایکواڈور ایئر فورس کو مجبور کیا کہ وہ اکتوبر 2015ء میں HAL کے ساتھ ALH معاہدہ ختم کر دے جس سے بھارت کے ایک مقامی فوجی ساز و سامان کے پلیٹ فارم کی پہلی بڑی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچا‘۔</p>
<p>اگر واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے تو نمنش سیال کی موت کو عزت دینے کا ایک بامعنی طریقہ یہ ہوگا کہ بھارت ہتھیاروں کے سودوں میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرے جسے بھارتی حکومتیں اکثر خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔</p>
<p>تحقیقات کے بجائے نمنش سیال کی موت، کسی کو قصوروار ٹھہرانے کی دوڑ کا سبب بنی ہے۔ سرکاری تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں لیکن بھارتی چینلز پر قوم پرست تجزیہ کار امریکا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے مبینہ طور پر تیجس میں استعمال کے لیے کم معیار کے انجن بھارت کو فروخت کیے۔</p>
<p>انسانیت کی سطح پر نمنش سیال کی موت اور انہیں پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ذاتی روابط دونوں ممالک کے لیے ایک مہربان، دوستانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔ بھارتی پائلٹ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصد سے لکھے گئے خط کا بنیادی پیغام یہی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1957243/decency-knows-no-passport"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274230</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 13:39:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/25124102ad73794.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/25124102ad73794.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حادثے کی شکار دلہن کی ہسپتال میں شادی کی تقریب، ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274191/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست کیرالا میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے کے بعد شدید زخمی ہونے والی دلہن کے ساتھ دلہے نے ہسپتال میں شادی کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/kerala-hospital-turns-wedding-venue-as-kochi-man-marries-bride-suffering-spinal-injury-in-emergency-room-101763801783240.html"&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/a&gt; کے مطابق کیرالا میں اسکول ٹیچر آوانی شادی کی تقریب کے لیے 21 نومبر کو بیوٹی پارلر جا رہی تھیں کہ راستے میں ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئیں، موقع پر موجود افراد نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، دلہن کو ریڑھ کی ہڈی اور کولہے میں شدید چوٹیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثہ کوٹایم ضلع کے سیاحتی مقام کماراکم میں پیش آیا، جس کے بعد آوانی کو ابتدائی طور پر کوٹایم میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، بعد ازاں خصوصی علاج کے لیے انہیں وی پی ایس لیکشور ہسپتال بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکل ٹیم نے تفصیلی معائنے کے بعد صبح سرجری کا آغاز کیا اور دوپہر تک یہ مکمل کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آوانی کی ریڑھ کی ہڈی کے L4 حصے کو شدید چوٹ پہنچی تھی، جو حرکت اور استحکام کے لیے اہم نقطہ ہے، جب کہ کولہے کو بھی زخم پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اعصابی چوٹ کامیابی سے ٹھیک کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ کیس تھا، لیکن سرجری منصوبے کے مطابق ہوئی، آوانی کی ریڑھ کی ہڈی مستحکم کر دی گئی ہے، اعصاب پر دباؤ کم کر دیا گیا ہے اور وہ اب نیوروسائنسز آئی سی یو میں نگرانی میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271515/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے باوجود دلہا اور دلہن کے اہل خانہ نے شادی کی تقریب منسوخ کرنے کے بجائے ہسپتال میں انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں، نرسوں اور قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں آوانی اور ان کے منگیتر شیرو نے بغیر موسیقی، سجاوٹ یا روایتی تقاریب کے سادگی سے شادی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہسپتال انتظامیہ نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے شادی کی اجازت دی کیونکہ دلہا دلہن کے لیے یہ دن خاص تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ہونے والی شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے صارفین کو 2006 میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ویواہ کی یاد دلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلہا شیرو نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/video-uae-entrepreneur-steps-in-for-kerala-bride-who-married-in-an-emergency-ward-1.500356370"&gt;گلف نیوز&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جو حمایت ملی، اس کی ہمیں توقع نہیں تھی، یہ جان کر کہ آوانی کی سرجری کامیاب رہی، ہمیں وہ امید ملی جس کے لیے ہم دعا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیرو نے مزید بتایا کہ وہ اور آوانی کئی برسوں سے ایک ساتھ ہیں اور اہل خانہ پہلے ہی ہمارے رشتے کو قبول کر چکے تھے، شادی اسی دن طے تھی اور سب خوشی سے تیاریوں میں مصروف تھے کہ حادثے نے حالات بدل دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آوانی کو اب مکمل دیکھ بھال اور سہارا درکار ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" data-instgrm-version="14" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt;View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;A post shared by NEWS9 (@news9live)&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;script async src="//www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست کیرالا میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے کے بعد شدید زخمی ہونے والی دلہن کے ساتھ دلہے نے ہسپتال میں شادی کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/kerala-hospital-turns-wedding-venue-as-kochi-man-marries-bride-suffering-spinal-injury-in-emergency-room-101763801783240.html">ہندوستان ٹائمز</a> کے مطابق کیرالا میں اسکول ٹیچر آوانی شادی کی تقریب کے لیے 21 نومبر کو بیوٹی پارلر جا رہی تھیں کہ راستے میں ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئیں، موقع پر موجود افراد نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، دلہن کو ریڑھ کی ہڈی اور کولہے میں شدید چوٹیں آئیں۔</p>
<p>حادثہ کوٹایم ضلع کے سیاحتی مقام کماراکم میں پیش آیا، جس کے بعد آوانی کو ابتدائی طور پر کوٹایم میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، بعد ازاں خصوصی علاج کے لیے انہیں وی پی ایس لیکشور ہسپتال بھیجا گیا۔</p>
<p>میڈیکل ٹیم نے تفصیلی معائنے کے بعد صبح سرجری کا آغاز کیا اور دوپہر تک یہ مکمل کر دی۔</p>
<p>آوانی کی ریڑھ کی ہڈی کے L4 حصے کو شدید چوٹ پہنچی تھی، جو حرکت اور استحکام کے لیے اہم نقطہ ہے، جب کہ کولہے کو بھی زخم پہنچا تھا۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اعصابی چوٹ کامیابی سے ٹھیک کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ کیس تھا، لیکن سرجری منصوبے کے مطابق ہوئی، آوانی کی ریڑھ کی ہڈی مستحکم کر دی گئی ہے، اعصاب پر دباؤ کم کر دیا گیا ہے اور وہ اب نیوروسائنسز آئی سی یو میں نگرانی میں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271515/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حادثے کے باوجود دلہا اور دلہن کے اہل خانہ نے شادی کی تقریب منسوخ کرنے کے بجائے ہسپتال میں انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>ڈاکٹروں، نرسوں اور قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں آوانی اور ان کے منگیتر شیرو نے بغیر موسیقی، سجاوٹ یا روایتی تقاریب کے سادگی سے شادی کی۔</p>
<p>ہسپتال انتظامیہ نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے شادی کی اجازت دی کیونکہ دلہا دلہن کے لیے یہ دن خاص تھا۔</p>
<p>بعد ازاں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ہونے والی شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے صارفین کو 2006 میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ویواہ کی یاد دلا دی۔</p>
<p>دلہا شیرو نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/video-uae-entrepreneur-steps-in-for-kerala-bride-who-married-in-an-emergency-ward-1.500356370">گلف نیوز</a> سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جو حمایت ملی، اس کی ہمیں توقع نہیں تھی، یہ جان کر کہ آوانی کی سرجری کامیاب رہی، ہمیں وہ امید ملی جس کے لیے ہم دعا کر رہے تھے۔</p>
<p>شیرو نے مزید بتایا کہ وہ اور آوانی کئی برسوں سے ایک ساتھ ہیں اور اہل خانہ پہلے ہی ہمارے رشتے کو قبول کر چکے تھے، شادی اسی دن طے تھی اور سب خوشی سے تیاریوں میں مصروف تھے کہ حادثے نے حالات بدل دیے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آوانی کو اب مکمل دیکھ بھال اور سہارا درکار ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔</p>
<raw-html>
<blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-instgrm-version="14" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;">View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank">A post shared by NEWS9 (@news9live)</a></p></div></blockquote>
<script async src="//www.instagram.com/embed.js"></script>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274191</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 13:43:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241256054242896.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241256054242896.webp"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیجس جیٹ کا حادثہ منفرد واقعہ ہے، یہ ’غیر معمولی حالات‘ کی وجہ سے پیش آیا، بھارت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274190/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے پیر کے روز کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے دبئی میں تیجس جنگی طیارے کا حادثہ ایک ’منفرد واقعہ‘ تھا جو غیر معمولی حالات کے باعث پیش آیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جمعے کے روز دبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارت کا تیجس لڑاکا طیارہ شعلوں کے گولے میں تبدیل ہو کر تماشائیوں کے سامنے گر کر تباہ ہوگیا، جس سے شائقین خوفزدہ ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ نے کہا ہے کہ وہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274074'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ملکیت والی ہندوستان ایئروناٹکس یہ طیارہ تیار کرتی ہے، جو جنرل الیکٹرک کے انجن سے چلتا ہے، دونوں کمپنیوں نے تحقیقات میں مکمل تعاون کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس (جس کا مطلب سنسکرت میں ’چمک‘ ہے) بھارت کی فضائیہ کے بیڑے کو جدید بنانے کی کوششوں میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے، جو زیادہ تر روسی اور سابق سوویت لڑاکا طیاروں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حادثے میں پائلٹ بھی ہلاک ہوگیا تھا، یہ نئی دہلی کی امیدوں کو دھچکا پہنچاتا ہے کہ وہ گھریلو ساختہ طیارے کو برآمد کر سکے، اور اس سے یہ منصوبہ بھارتی فوجی آرڈرز پر ہی منحصر ہو جاتا ہے تاکہ مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائش برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر عوامی سطح پر ہونے والا نقصان، 40 سال کی محنت کے بعد تیار کیے گئے اس طیارے کو بیرون ملک منوانے کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان ایروناٹکس نے پیر کے روز کہا کہ یہ حادثہ اس کے کاروباری عمل، مالی امور یا آئندہ کی فراہمیوں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے شیئرز صبح سے 3 فیصد تک نیچے تھے، تاہم بیان جاری ہونے کے بعد بغیر تبدیلی کے برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے پیر کے روز کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے دبئی میں تیجس جنگی طیارے کا حادثہ ایک ’منفرد واقعہ‘ تھا جو غیر معمولی حالات کے باعث پیش آیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جمعے کے روز دبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارت کا تیجس لڑاکا طیارہ شعلوں کے گولے میں تبدیل ہو کر تماشائیوں کے سامنے گر کر تباہ ہوگیا، جس سے شائقین خوفزدہ ہوگئے تھے۔</p>
<p>بھارتی فضائیہ نے کہا ہے کہ وہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274074'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری ملکیت والی ہندوستان ایئروناٹکس یہ طیارہ تیار کرتی ہے، جو جنرل الیکٹرک کے انجن سے چلتا ہے، دونوں کمپنیوں نے تحقیقات میں مکمل تعاون کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>تیجس (جس کا مطلب سنسکرت میں ’چمک‘ ہے) بھارت کی فضائیہ کے بیڑے کو جدید بنانے کی کوششوں میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے، جو زیادہ تر روسی اور سابق سوویت لڑاکا طیاروں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>اس حادثے میں پائلٹ بھی ہلاک ہوگیا تھا، یہ نئی دہلی کی امیدوں کو دھچکا پہنچاتا ہے کہ وہ گھریلو ساختہ طیارے کو برآمد کر سکے، اور اس سے یہ منصوبہ بھارتی فوجی آرڈرز پر ہی منحصر ہو جاتا ہے تاکہ مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائش برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر عوامی سطح پر ہونے والا نقصان، 40 سال کی محنت کے بعد تیار کیے گئے اس طیارے کو بیرون ملک منوانے کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>ہندوستان ایروناٹکس نے پیر کے روز کہا کہ یہ حادثہ اس کے کاروباری عمل، مالی امور یا آئندہ کی فراہمیوں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔</p>
<p>کمپنی کے شیئرز صبح سے 3 فیصد تک نیچے تھے، تاہم بیان جاری ہونے کے بعد بغیر تبدیلی کے برقرار رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274190</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 15:33:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/24125139802e41f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/24125139802e41f.webp"/>
        <media:title>حادثے میں پائلٹ بھی ہلاک ہوگیا تھا، یہ نئی دہلی کی امیدوں کو دھچکا پہنچاتا ہے کہ وہ گھریلو ساختہ طیارے کو برآمد کر سکے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی سپریم کورٹ اور مفرور ارب پتی بھائیوں میں 57 کروڑ ڈالر کے تصفیے پر اتفاق ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274193/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات ختم کرنے کے لیے 2 ارب پتی بھائیوں نیتن اور چیتن سندیسارا پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کے بینک فراڈ میں سے ایک تہائی رقم واپس کرنے کی شرط عائد کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بینک کے قرض کی عدم ادائیگی کے بعد یہ دونوں بھائی البانیہ کے پاسپورٹ پر بھارت سے فرار ہوگئے تھے۔ ان کی کمپنیاں دوا سازی اور توانائی سے لے کر مختلف صنعتوں میں سرگرم تھیں، تاہم الزامات کا سامنا کرنے والے دونوں بھائیوں نے کسی بھی قسم کے ’غلط کام‘ سے انکار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے پہلی بار رپورٹ کیے جانے والے حکم میں دونوں ارب پتی بھائیوں کے وکیل مکُل روہتگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیتن اور چیتن سندیسارا 57 کروڑ ڈالر کے تصفیے پر رضا مند ہیں، اور عدالت میں 17 دسمبر کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے، تاکہ یہ وہاں پیش ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246856'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکُل روہتگی نے عدالت میں کہا کہ ان کے مؤکل تصفیہ کرنے کو تیار ہیں، تاکہ طویل کارروائیوں سے جان خلاصی کرا سکیں، انہوں نے اپنے مؤکلوں کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں 2018 کا قانون متعلقہ اداروں کو مفرور مجرموں کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار تفویض کرتا ہے، اور یہ دونوں ارب پتی بھائی 14 مفرور معاشی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست میں فشر ایئرلائنز کے بانی وجے مالیا، اور ہیروں کے تاجر نیرو مودی بھی شامل ہیں، تاہم سندیسارا خاندان نائیجیریا کی اسٹرلنگ آئل ایکسپلوریشن اینڈ انرجی پروڈکشن کا مالک بھی ہے، جو کمپنی کے مطابق وفاقی آمدن کا ڈھائی فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی مالیاتی جرائم سے نمٹنے والی ایجنسی نے نیتن اور چیتن سندیسارا پر الزام عائد کیا ہے کہ ان لوگوں نے بینکوں سے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا فراڈ کرکے دھوکا دہی کا ارتکاب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل دیبو پریو مولک کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ معاشی مجرموں کے لیے اسی طرز کے تصفیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جس سے قرض دہندگان کو اپنی پوری رقوم کی وصولی میں آئندہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیبو مولک کے مطابق یہ بالکل ویسے طریقہ کار کے مطابق ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں اپنایا جاتا ہے، جہاں مقدمے کا سامنا کرنے کا متبادل ’جرمانہ‘ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات ختم کرنے کے لیے 2 ارب پتی بھائیوں نیتن اور چیتن سندیسارا پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کے بینک فراڈ میں سے ایک تہائی رقم واپس کرنے کی شرط عائد کی ہے۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بینک کے قرض کی عدم ادائیگی کے بعد یہ دونوں بھائی البانیہ کے پاسپورٹ پر بھارت سے فرار ہوگئے تھے۔ ان کی کمپنیاں دوا سازی اور توانائی سے لے کر مختلف صنعتوں میں سرگرم تھیں، تاہم الزامات کا سامنا کرنے والے دونوں بھائیوں نے کسی بھی قسم کے ’غلط کام‘ سے انکار کیا ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے پہلی بار رپورٹ کیے جانے والے حکم میں دونوں ارب پتی بھائیوں کے وکیل مکُل روہتگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیتن اور چیتن سندیسارا 57 کروڑ ڈالر کے تصفیے پر رضا مند ہیں، اور عدالت میں 17 دسمبر کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے، تاکہ یہ وہاں پیش ہوسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246856'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مکُل روہتگی نے عدالت میں کہا کہ ان کے مؤکل تصفیہ کرنے کو تیار ہیں، تاکہ طویل کارروائیوں سے جان خلاصی کرا سکیں، انہوں نے اپنے مؤکلوں کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔</p>
<p>بھارت میں 2018 کا قانون متعلقہ اداروں کو مفرور مجرموں کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار تفویض کرتا ہے، اور یہ دونوں ارب پتی بھائی 14 مفرور معاشی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>اس فہرست میں فشر ایئرلائنز کے بانی وجے مالیا، اور ہیروں کے تاجر نیرو مودی بھی شامل ہیں، تاہم سندیسارا خاندان نائیجیریا کی اسٹرلنگ آئل ایکسپلوریشن اینڈ انرجی پروڈکشن کا مالک بھی ہے، جو کمپنی کے مطابق وفاقی آمدن کا ڈھائی فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>بھارت کی مالیاتی جرائم سے نمٹنے والی ایجنسی نے نیتن اور چیتن سندیسارا پر الزام عائد کیا ہے کہ ان لوگوں نے بینکوں سے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا فراڈ کرکے دھوکا دہی کا ارتکاب کیا ہے۔</p>
<p>بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل دیبو پریو مولک کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ معاشی مجرموں کے لیے اسی طرز کے تصفیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جس سے قرض دہندگان کو اپنی پوری رقوم کی وصولی میں آئندہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>دیبو مولک کے مطابق یہ بالکل ویسے طریقہ کار کے مطابق ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں اپنایا جاتا ہے، جہاں مقدمے کا سامنا کرنے کا متبادل ’جرمانہ‘ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274193</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 15:39:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241328127689f04.webp" type="image/webp" medium="image" height="580" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241328127689f04.webp"/>
        <media:title>قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ عدالتی فیصلہ معاشی مجرموں کیلئے اسی طرز کے تصفیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے — فوٹو: اکانومی اینڈ نیشن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی ایئر شو میں ’تیجس‘ کے حادثے سے بھارتی فائٹر جیٹ کی برآمدات کی امیدیں ماند پڑگئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274148/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی ایئر شو میں عالمی اسلحہ خریداروں کے سامنے بھارت کے تیجس فائٹر طیارے کا حادثہ قومی اعزاز کے لیے ایک نیا دھچکا ہے، جس سے یہ جیٹ اپنے کردار کو بطور گھریلو دفاعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے برقرار رکھنے کے لیے بھارتی فوجی آرڈرز پر انحصار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، لیکن یہ واقعہ اس ہفتے کے اثر و رسوخ کے مقابلے کا اختتام تھا، جس میں بھارت کا بڑا حریف پاکستان بھی شریک تھا، 6 ماہ قبل دونوں پڑوسی ممالک نے دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی لڑائی میں سامنا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایسا عوامی نقصان بھارت کی کوششوں پر ’سائے‘ ڈالے گا کہ وہ جیٹ کو بیرون ملک متعارف کرائے، جو 4 دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا، بھارت نے اس موقع پر ونگ کمانڈر نمانش سیال کو خراج تحسین پیش کیا جو اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دبئی-میں-نمائش-کے-دوران-حادثہ" href="#دبئی-میں-نمائش-کے-دوران-حادثہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دبئی میں نمائش کے دوران حادثہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1228361'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے کہا کہ ’یہ منظر نامہ بے رحم ہے‘، اور ایئر شوز میں ہونے والے سابقہ حادثات کی طرف اشارہ کیا جہاں ممالک اور صنعتیں قومی کامیابیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک حادثہ بالکل الٹ پیغام دیتا ہے، ایک ڈرامائی ناکامی کا پیغام، تاہم انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیجس منفی تشہیر کا سامنا کرے گا، لیکن امکان ہے کہ یہ دوبارہ رفتار حاصل کر لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی، پیرس اور برطانیہ کے فارنبرو کے بعددنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایئر شو ہے، اور ایسے پروگراموں میں حادثات اب نایاب ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1999 میں روسی سوخو Su-30 پیرس ایئر شو میں زمین سے ٹکرانے کے بعد کریش کر گیا تھا، اور ایک دہائی قبل اسی ایئر شو میں سوویت MiG-29 کریش ہوا تھا، تمام عملہ محفوظ رہا اور بھارت نے دونوں طیاروں کے آرڈرز دے دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برکی نے کہا کہ فائٹر طیاروں کی فروخت اعلیٰ آرڈر سیاسی حقائق سے متاثر ہوتی ہے، جو ایک وقتی واقعے پر فوقیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جی-ای-انجن-سے-طاقت" href="#جی-ای-انجن-سے-طاقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جی ای انجن سے طاقت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا، جب بھارت نے پرانے سوویت MiG-21s کی جگہ لینے کی کوشش کی تھی، جس میں آخری طیارہ حال ہی میں ستمبر میں ریٹائر ہوا، کیوں کہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ملکیت والی کمپنی نے 180 جدید Mk-1A طیاروں کے لیے ملکی آرڈرز دیے ہیں، لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سابق ایچ اے ایل ایگزیکٹو نے (جنہوں نے حال ہی میں کمپنی چھوڑ دی تھی) کہا کہ دبئی میں حادثہ ’ابھی برآمدات کے امکانات ختم کر دیتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آنے والے سالوں کے لیے توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارتی-فضائیہ-کی-تشویش" href="#بھارتی-فضائیہ-کی-تشویش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارتی فضائیہ کی تشویش&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تاہم بھارتی فضائیہ اپنی کم ہوتے ہوئے فائٹر اسکواڈرنز کے بارے میں فکر مند ہے، جو 42 کی منظور شدہ تعداد سے کم ہو کر 29 رہ گئے ہیں، اور مگ 29 کی ابتدائی اقسام، اینگلو-فرینچ جیگوار اور فرنچ میراج 2000 آئندہ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263676'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263676"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ایئر فورس کے ایک افسر نے کہا کہ تیجس ان کی جگہ لینے والا طیارہ تھا، لیکن اس کے پیداواری مسائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 بھارتی دفاعی اہلکاروں نے کہا کہ بھارت فوری خالی جگہوں کو پر کرنے کے لیے شیلف سے خریداری پر غور کر رہا ہے، جس میں مزید فرینچ رافیلز شامل ہیں، ، اور یہ بھی بتایا کہ بھارت تقریباً 40 تیجس طیاروں میں اضافہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جو پہلے ہی سروس میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت امریکا اور روس کی جانب سے پانچویں نسل کے F-35 اور Su-57 فائٹرز کی پیشکش پر بھی غور کر رہا ہے، یہ دونوں جدید ماڈل ہیں، جو اس ہفتے دبئی میں شاذ و نادر ہی ایک اسٹیج پر دکھائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مستقبل-کے-پروگراموں-کیلئے-بنیاد" href="#مستقبل-کے-پروگراموں-کیلئے-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مستقبل کے پروگراموں کیلئے بنیاد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سالوں سے بھارت دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ درآمد کنندگان میں شامل رہا ہے، لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے نومبر 2023 میں تیجس میں سوار ہو کر اسے خود انحصاری کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر فائٹر پروگراموں کی طرح، تیجس نے بھی ٹیکنالوجی اور سفارتکاری کے درمیان توجہ کے لیے جدوجہد کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ لندن کے ایسوسی ایٹ فیلو، ولٹر لیڈوِگ کے مطابق ترقی ابتدائی طور پر بھارت کے 1998 کے جوہری تجربات کے بعد عائد پابندیوں اور مقامی انجن کی ترقی میں مسائل کی وجہ سے رک گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جیٹ کی طویل مدتی اہمیت زیادہ تر بیرون ملک فروخت میں نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کے جنگی طیاروں کے پروگراموں کے لیے صنعتی اور تکنیکی بنیاد بنانے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="علاقائی-حریفوں-کی-موجودگی" href="#علاقائی-حریفوں-کی-موجودگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;علاقائی حریفوں کی موجودگی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273323'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور پاکستان، دونوں ایئر شو میں بھرپور طور پر موجود تھے، جہاں تیجس نے پاکستانی حریف کی موجودگی میں متعدد فضائی مظاہرے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ایک ’دوست ملک‘ کے ساتھ عارضی معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا تاکہ چین کے ساتھ مشترکہ ترقی یافتہ JF-17 تھنڈر بلاک تھری فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریمپ پر، ایک جے ایف 17 کے پاس ہتھیار رکھے گئے تھے، جن میں پی ایل 15 ای شامل ہے، جو چینی میزائل کا برآمدی ماڈل ہے، جسے امریکی اور بھارتی اہلکاروں کے مطابق مئی میں پاکستان کے ساتھ فضائی لڑائی کے دوران بھارت کے کم از کم ایک فرانسیسی رافیل کو گرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسہبیٹ اسٹینڈ پر پی اے سی نے جے ایف 17 کے بروشرز تقسیم کیے، جو 4 روزہ تنازع میں پاکستان کے دو ماڈلز میں سے ایک تھا، اور اسے ’لڑائی میں تجربہ کار‘ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اہلکاروں نے کہا کہ بھارت تیجس کے معاملے میں زیادہ محتاط ہے، جسے مئی میں 4 روزہ تنازع میں فعال طور پر استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اسے استعمال نہ کرنے کی وجہ نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکاروں کے مطابق یہ طیارہ اس سال 26 جنوری کے سالانہ ریپبلک ڈے فضائی مظاہرے میں بھی سنگل انجن طیارے کی حفاظتی وجوہات کی بنا پر شریک نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی ایئر شو میں عالمی اسلحہ خریداروں کے سامنے بھارت کے تیجس فائٹر طیارے کا حادثہ قومی اعزاز کے لیے ایک نیا دھچکا ہے، جس سے یہ جیٹ اپنے کردار کو بطور گھریلو دفاعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے برقرار رکھنے کے لیے بھارتی فوجی آرڈرز پر انحصار کرے گا۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، لیکن یہ واقعہ اس ہفتے کے اثر و رسوخ کے مقابلے کا اختتام تھا، جس میں بھارت کا بڑا حریف پاکستان بھی شریک تھا، 6 ماہ قبل دونوں پڑوسی ممالک نے دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی لڑائی میں سامنا کیا تھا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایسا عوامی نقصان بھارت کی کوششوں پر ’سائے‘ ڈالے گا کہ وہ جیٹ کو بیرون ملک متعارف کرائے، جو 4 دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا، بھارت نے اس موقع پر ونگ کمانڈر نمانش سیال کو خراج تحسین پیش کیا جو اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>
<h1><a id="دبئی-میں-نمائش-کے-دوران-حادثہ" href="#دبئی-میں-نمائش-کے-دوران-حادثہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دبئی میں نمائش کے دوران حادثہ</h1>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1228361'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے کہا کہ ’یہ منظر نامہ بے رحم ہے‘، اور ایئر شوز میں ہونے والے سابقہ حادثات کی طرف اشارہ کیا جہاں ممالک اور صنعتیں قومی کامیابیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک حادثہ بالکل الٹ پیغام دیتا ہے، ایک ڈرامائی ناکامی کا پیغام، تاہم انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیجس منفی تشہیر کا سامنا کرے گا، لیکن امکان ہے کہ یہ دوبارہ رفتار حاصل کر لے گا۔</p>
<p>دبئی، پیرس اور برطانیہ کے فارنبرو کے بعددنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایئر شو ہے، اور ایسے پروگراموں میں حادثات اب نایاب ہو چکے ہیں۔</p>
<p>1999 میں روسی سوخو Su-30 پیرس ایئر شو میں زمین سے ٹکرانے کے بعد کریش کر گیا تھا، اور ایک دہائی قبل اسی ایئر شو میں سوویت MiG-29 کریش ہوا تھا، تمام عملہ محفوظ رہا اور بھارت نے دونوں طیاروں کے آرڈرز دے دیے تھے۔</p>
<p>برکی نے کہا کہ فائٹر طیاروں کی فروخت اعلیٰ آرڈر سیاسی حقائق سے متاثر ہوتی ہے، جو ایک وقتی واقعے پر فوقیت رکھتی ہیں۔</p>
<h1><a id="جی-ای-انجن-سے-طاقت" href="#جی-ای-انجن-سے-طاقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جی ای انجن سے طاقت</h1>
<p>تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا، جب بھارت نے پرانے سوویت MiG-21s کی جگہ لینے کی کوشش کی تھی، جس میں آخری طیارہ حال ہی میں ستمبر میں ریٹائر ہوا، کیوں کہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست تھی۔</p>
<p>ریاستی ملکیت والی کمپنی نے 180 جدید Mk-1A طیاروں کے لیے ملکی آرڈرز دیے ہیں، لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ایک سابق ایچ اے ایل ایگزیکٹو نے (جنہوں نے حال ہی میں کمپنی چھوڑ دی تھی) کہا کہ دبئی میں حادثہ ’ابھی برآمدات کے امکانات ختم کر دیتا ہے‘۔</p>
<p>ہدف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔</p>
<p>سابق ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آنے والے سالوں کے لیے توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر ہوگی۔</p>
<h1><a id="بھارتی-فضائیہ-کی-تشویش" href="#بھارتی-فضائیہ-کی-تشویش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارتی فضائیہ کی تشویش</h1>
<p>تاہم بھارتی فضائیہ اپنی کم ہوتے ہوئے فائٹر اسکواڈرنز کے بارے میں فکر مند ہے، جو 42 کی منظور شدہ تعداد سے کم ہو کر 29 رہ گئے ہیں، اور مگ 29 کی ابتدائی اقسام، اینگلو-فرینچ جیگوار اور فرنچ میراج 2000 آئندہ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263676'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263676"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی ایئر فورس کے ایک افسر نے کہا کہ تیجس ان کی جگہ لینے والا طیارہ تھا، لیکن اس کے پیداواری مسائل ہیں۔</p>
<p>2 بھارتی دفاعی اہلکاروں نے کہا کہ بھارت فوری خالی جگہوں کو پر کرنے کے لیے شیلف سے خریداری پر غور کر رہا ہے، جس میں مزید فرینچ رافیلز شامل ہیں، ، اور یہ بھی بتایا کہ بھارت تقریباً 40 تیجس طیاروں میں اضافہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جو پہلے ہی سروس میں ہیں۔</p>
<p>بھارت امریکا اور روس کی جانب سے پانچویں نسل کے F-35 اور Su-57 فائٹرز کی پیشکش پر بھی غور کر رہا ہے، یہ دونوں جدید ماڈل ہیں، جو اس ہفتے دبئی میں شاذ و نادر ہی ایک اسٹیج پر دکھائے گئے تھے۔</p>
<h1><a id="مستقبل-کے-پروگراموں-کیلئے-بنیاد" href="#مستقبل-کے-پروگراموں-کیلئے-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مستقبل کے پروگراموں کیلئے بنیاد</h1>
<p>سالوں سے بھارت دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ درآمد کنندگان میں شامل رہا ہے، لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے نومبر 2023 میں تیجس میں سوار ہو کر اسے خود انحصاری کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا۔</p>
<p>زیادہ تر فائٹر پروگراموں کی طرح، تیجس نے بھی ٹیکنالوجی اور سفارتکاری کے درمیان توجہ کے لیے جدوجہد کی ہے۔</p>
<p>رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ لندن کے ایسوسی ایٹ فیلو، ولٹر لیڈوِگ کے مطابق ترقی ابتدائی طور پر بھارت کے 1998 کے جوہری تجربات کے بعد عائد پابندیوں اور مقامی انجن کی ترقی میں مسائل کی وجہ سے رک گئی تھی۔</p>
<p>تاہم اس جیٹ کی طویل مدتی اہمیت زیادہ تر بیرون ملک فروخت میں نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کے جنگی طیاروں کے پروگراموں کے لیے صنعتی اور تکنیکی بنیاد بنانے میں ہے۔</p>
<h1><a id="علاقائی-حریفوں-کی-موجودگی" href="#علاقائی-حریفوں-کی-موجودگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>علاقائی حریفوں کی موجودگی</h1>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273323'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارت اور پاکستان، دونوں ایئر شو میں بھرپور طور پر موجود تھے، جہاں تیجس نے پاکستانی حریف کی موجودگی میں متعدد فضائی مظاہرے کیے۔</p>
<p>پاکستان نے ایک ’دوست ملک‘ کے ساتھ عارضی معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا تاکہ چین کے ساتھ مشترکہ ترقی یافتہ JF-17 تھنڈر بلاک تھری فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>ریمپ پر، ایک جے ایف 17 کے پاس ہتھیار رکھے گئے تھے، جن میں پی ایل 15 ای شامل ہے، جو چینی میزائل کا برآمدی ماڈل ہے، جسے امریکی اور بھارتی اہلکاروں کے مطابق مئی میں پاکستان کے ساتھ فضائی لڑائی کے دوران بھارت کے کم از کم ایک فرانسیسی رافیل کو گرایا گیا تھا۔</p>
<p>ایکسہبیٹ اسٹینڈ پر پی اے سی نے جے ایف 17 کے بروشرز تقسیم کیے، جو 4 روزہ تنازع میں پاکستان کے دو ماڈلز میں سے ایک تھا، اور اسے ’لڑائی میں تجربہ کار‘ قرار دیا گیا۔</p>
<p>بھارتی اہلکاروں نے کہا کہ بھارت تیجس کے معاملے میں زیادہ محتاط ہے، جسے مئی میں 4 روزہ تنازع میں فعال طور پر استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اسے استعمال نہ کرنے کی وجہ نہیں بتائی۔</p>
<p>اہلکاروں کے مطابق یہ طیارہ اس سال 26 جنوری کے سالانہ ریپبلک ڈے فضائی مظاہرے میں بھی سنگل انجن طیارے کی حفاظتی وجوہات کی بنا پر شریک نہیں ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274148</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 12:30:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/23120739156c016.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/23120739156c016.webp"/>
        <media:title>بھارت تیجس کے معاملے میں زیادہ محتاط ہے، جسے مئی میں 4 روزہ تنازع میں فعال طور پر استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ —فوائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امبانی کے چڑیا گھر کی تحقیقات، بھارت میں جانوروں کی درآمد پر پابندی کی سفارش واپس لے لی گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274158/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے جنگلی حیات کے تجارتی ادارے نے اتوار کے روز یہ فیصلہ کیا کہ بھارت کو نایاب جانوروں کی درآمد سے نہیں روکا جائے گا، کیوں کہ متعدد ممالک نے اس سخت سفارش کو واپس لینے کی حمایت کی ہے، جس نے ایشیا کے امیر ترین خاندان کے نجی چڑیا گھر کو تنازع میں گھیر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’وانتارا‘  گجرات میں 3 ہزار 500 ایکڑ پر مشتمل ایک چڑیا گھر ہے اور ریلائنس گروپ کے فلاحی شعبے کے تحت امبانی خاندان چلاتا ہے، جس کو غیر منافع بخش اور وائلڈ لائف گروپس کی جانب سے بعض جانوروں کی غلط طریقے سے درآمد کے الزامات کا سامنا تھا، جس کے باعث جرمنی اور یورپی یونین نے اس پر سخت نظر رکھنا شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں اس سہولت کا دورہ کرنے کے بعد بین الاقوامی معاہدہ برائے تجارتِ انواعِ معدوم (سائیٹس) کے سیکریٹریٹ نے اس ماہ ایک رپورٹ میں بھارت سے کہا تھا کہ وہ کوئی مزید درآمدی پرمٹ جاری نہ کرے، کیوں کہ برآمد اور درآمد کے اعداد و شمار میں تضادات پائے گئے تھے اور کچھ جانوروں کے ماخذ کے بارے میں مناسب تصدیق موجود نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز ازبکستان میں ہونے والی سائیٹس میٹنگ لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دکھائی گئی تھی، اس میں اس سفارش کو واپس لے لیا گیا ہے، کیوں کہ بھارت، امریکا، جاپان اور برازیل سمیت کئی ممالک نے کہا کہ یہ کارروائی قبل از وقت ہے، اور بعض نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں غیر قانونی درآمدات کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1172121'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172121"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے کہ اس سفارش کو برقرار رکھنے کے لیے کافی حمایت موجود نہیں، ضرورت پڑنے پر مزید ریگولیٹری اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;CITES ایک عالمی معاہدہ ہے جو نایاب پودوں اور جانوروں کی تجارت کو منظم کرتا ہے، بھارت نے اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی اس سفارش کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وانتارا نے پہلے کہا تھا کہ وہ شفافیت اور قانونی پابندیوں کے لیے پُرعزم ہے، اس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وانتارا-چڑیا-گھر-میں-دنیا-بھر-کے-جانور-موجود" href="#وانتارا-چڑیا-گھر-میں-دنیا-بھر-کے-جانور-موجود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وانتارا چڑیا گھر میں دنیا بھر کے جانور موجود&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وانتارا چڑیا گھر میں تقریباً 2 ہزار اقسام کے جانور موجود ہیں، جن میں جنوبی افریقہ، وینزویلا اور کانگو جمہوریہ سے درآمد کیے گئے نایاب جانور بھی شامل ہیں، جیسے سانپ، کچھوے، شیر، زرافے اور کانٹے دار دم والی چھپکلیاں وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے نمائندے نے سائیٹس قوانین کی پاسداری کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، لیکن بیلجیئم اور کم از کم ایک ادارے (پین افریقن سینکچری الائنس) نے کہا کہ جب تک خدشات دور نہیں ہوتے، بھارت کے لیے برآمدات معطل کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں بھارتی سپریم کورٹ کی نامزد کردہ ایک تحقیقاتی کمیٹی نے وانتارا کو کسی بھی بے ضابطگی سے بری قرار دیا تھا، جب کہ اس سہولت نے کہا کہ وہ تمام قوانین کی پابندی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ماحولیات کمشنر جیسیکا روسوال نے اگست میں کہا تھا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک بھارت اور اس مخصوص سہولت کی طرف آنے والی برآمدی درخواستوں کا خاص طور پر جائزہ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کے جنگلی حیات کے تجارتی ادارے نے اتوار کے روز یہ فیصلہ کیا کہ بھارت کو نایاب جانوروں کی درآمد سے نہیں روکا جائے گا، کیوں کہ متعدد ممالک نے اس سخت سفارش کو واپس لینے کی حمایت کی ہے، جس نے ایشیا کے امیر ترین خاندان کے نجی چڑیا گھر کو تنازع میں گھیر لیا تھا۔</p>
<p>’وانتارا‘  گجرات میں 3 ہزار 500 ایکڑ پر مشتمل ایک چڑیا گھر ہے اور ریلائنس گروپ کے فلاحی شعبے کے تحت امبانی خاندان چلاتا ہے، جس کو غیر منافع بخش اور وائلڈ لائف گروپس کی جانب سے بعض جانوروں کی غلط طریقے سے درآمد کے الزامات کا سامنا تھا، جس کے باعث جرمنی اور یورپی یونین نے اس پر سخت نظر رکھنا شروع کی تھی۔</p>
<p>ستمبر میں اس سہولت کا دورہ کرنے کے بعد بین الاقوامی معاہدہ برائے تجارتِ انواعِ معدوم (سائیٹس) کے سیکریٹریٹ نے اس ماہ ایک رپورٹ میں بھارت سے کہا تھا کہ وہ کوئی مزید درآمدی پرمٹ جاری نہ کرے، کیوں کہ برآمد اور درآمد کے اعداد و شمار میں تضادات پائے گئے تھے اور کچھ جانوروں کے ماخذ کے بارے میں مناسب تصدیق موجود نہیں تھی۔</p>
<p>اتوار کے روز ازبکستان میں ہونے والی سائیٹس میٹنگ لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دکھائی گئی تھی، اس میں اس سفارش کو واپس لے لیا گیا ہے، کیوں کہ بھارت، امریکا، جاپان اور برازیل سمیت کئی ممالک نے کہا کہ یہ کارروائی قبل از وقت ہے، اور بعض نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں غیر قانونی درآمدات کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1172121'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172121"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایسا لگتا ہے کہ اس سفارش کو برقرار رکھنے کے لیے کافی حمایت موجود نہیں، ضرورت پڑنے پر مزید ریگولیٹری اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>CITES ایک عالمی معاہدہ ہے جو نایاب پودوں اور جانوروں کی تجارت کو منظم کرتا ہے، بھارت نے اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی اس سفارش کی مخالفت کی تھی۔</p>
<p>وانتارا نے پہلے کہا تھا کہ وہ شفافیت اور قانونی پابندیوں کے لیے پُرعزم ہے، اس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<h1><a id="وانتارا-چڑیا-گھر-میں-دنیا-بھر-کے-جانور-موجود" href="#وانتارا-چڑیا-گھر-میں-دنیا-بھر-کے-جانور-موجود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وانتارا چڑیا گھر میں دنیا بھر کے جانور موجود</h1>
<p>وانتارا چڑیا گھر میں تقریباً 2 ہزار اقسام کے جانور موجود ہیں، جن میں جنوبی افریقہ، وینزویلا اور کانگو جمہوریہ سے درآمد کیے گئے نایاب جانور بھی شامل ہیں، جیسے سانپ، کچھوے، شیر، زرافے اور کانٹے دار دم والی چھپکلیاں وغیرہ۔</p>
<p>بھارت کے نمائندے نے سائیٹس قوانین کی پاسداری کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، لیکن بیلجیئم اور کم از کم ایک ادارے (پین افریقن سینکچری الائنس) نے کہا کہ جب تک خدشات دور نہیں ہوتے، بھارت کے لیے برآمدات معطل کی جائیں۔</p>
<p>ستمبر میں بھارتی سپریم کورٹ کی نامزد کردہ ایک تحقیقاتی کمیٹی نے وانتارا کو کسی بھی بے ضابطگی سے بری قرار دیا تھا، جب کہ اس سہولت نے کہا کہ وہ تمام قوانین کی پابندی کرتی ہے۔</p>
<p>یورپی ماحولیات کمشنر جیسیکا روسوال نے اگست میں کہا تھا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک بھارت اور اس مخصوص سہولت کی طرف آنے والی برآمدی درخواستوں کا خاص طور پر جائزہ لیں گے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274158</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 16:00:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2315222529e0c66.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2315222529e0c66.webp"/>
        <media:title>گجرات میں 3 ہزار 500 ایکر پر قائم ’وانتارا‘ چڑیا گھر میں تقریباً 2 ہزار اقسام کے جانور موجود ہیں۔
—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی کے دعوے نے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274145/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ آج ایک مسلمان نیویارک یا لندن کا میئر بن سکتا ہے، لیکن بھارت میں ایک مسلمان ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے اس بڑے دعوے کے بعد بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256494'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256494"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مسلمان کبھی سر نہ اُٹھا سکیں، اگر کوئی مسلمان کسی طرح وائس چانسلر بن بھی جائے، تو اسے فوری طور پر جیل بھیج دیا جاتا ہے، جیسا کہ اعظم خان کے ساتھ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دیکھیں آج الفلاح میں کیا ہو رہا ہے، الفلاح یونیورسٹی کے مالک جیل میں سڑ رہے ہیں، اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ وہاں کب تک رہیں گے، یہ کس قسم کا عدالتی نظام ہے جو کسی شخص کو مسلسل قید میں رکھتا ہے، یہاں تک کہ اس کے خلاف کیس ابھی مکمل طور پر ثابت بھی نہیں ہوا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ آزادی کے 75 سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں کو تعلیم، قیادت اور انتظامی ڈھانچوں میں ترقی سے منظم طریقے سے روکا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنا چاہتی ہے، اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو چکی ہے، آج مسلمانوں کا حوصلہ توڑ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے اس بیان کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ آج ایک مسلمان نیویارک یا لندن کا میئر بن سکتا ہے، لیکن بھارت میں ایک مسلمان ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے اس بڑے دعوے کے بعد بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1256494'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256494"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ روز دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مسلمان کبھی سر نہ اُٹھا سکیں، اگر کوئی مسلمان کسی طرح وائس چانسلر بن بھی جائے، تو اسے فوری طور پر جیل بھیج دیا جاتا ہے، جیسا کہ اعظم خان کے ساتھ کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دیکھیں آج الفلاح میں کیا ہو رہا ہے، الفلاح یونیورسٹی کے مالک جیل میں سڑ رہے ہیں، اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ وہاں کب تک رہیں گے، یہ کس قسم کا عدالتی نظام ہے جو کسی شخص کو مسلسل قید میں رکھتا ہے، یہاں تک کہ اس کے خلاف کیس ابھی مکمل طور پر ثابت بھی نہیں ہوا ہے؟</p>
<p>مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ آزادی کے 75 سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں کو تعلیم، قیادت اور انتظامی ڈھانچوں میں ترقی سے منظم طریقے سے روکا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنا چاہتی ہے، اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو چکی ہے، آج مسلمانوں کا حوصلہ توڑ دیا گیا ہے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے اس بیان کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274145</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 11:43:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2311405810b04fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2311405810b04fc.webp"/>
        <media:title>مولانا نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنا چاہتی ہے، اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو چکی۔ —فوٹو: اے بی این اے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کتنے بھارتی لڑاکا طیارے گر کر تباہ ہوئے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274079/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارہ تیجس دبئی ایئر شو میں مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائٹر جیٹ کے زمین سے ٹکراتے ہی آگ کا شعلہ دیکھا گیا، جبکہ جائے حادثہ پر سیاہ دھواں اڑتا ہوا نظر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) نے واقعے میں پائلٹ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا حادثہ رونما ہوا ہو، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پیش آنے والے ایسے حادثات کی تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="2020" href="#2020" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2020&lt;/h2&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فروری-23-مگ-29کے" href="#فروری-23-مگ-29کے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فروری 23: مگ-29کے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا نے ایک بھارتی بحریہ کے ترجمان کے حوالے سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/india/navys-mig-29k-aircraft-crashes-in-goa-pilot-ejects-safely/articleshow/74265084.cms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کا ایک میگ-29 گوا کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جو معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/211721584bec572.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/211721584bec572.webp'  alt='&amp;mdash; فائل فوٹو: ٹائمز آف انڈیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فائل فوٹو: ٹائمز آف انڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="2021" href="#2021" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2021&lt;/h2&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="17-مارچ-مگ-21-بائیسن" href="#17-مارچ-مگ-21-بائیسن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;17 مارچ: مگ-21 بائیسن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں میگ-21 بائیسن طیارہ گرنے سے ایک آئی اے ایف پائلٹ ہلاک ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ایف کے بیان میں کہا گیا کہ گروپ کیپٹن اے گپتا ایک جنگی تربیتی مشن کے لیے ایئربیس سے اُڑے تھے، جب انہیں یہ مہلک حادثہ پیش آیا، مزید کہا گیا تھا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="2022" href="#2022" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2022&lt;/h2&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="29جولائی-مگ-21-بائیسن" href="#29جولائی-مگ-21-بائیسن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;29جولائی: مگ-21 بائیسن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں سوویت دور کا ایک میگ-21 تربیتی پرواز کے دوران راجستھان میں کریش کر گیا، جبکہ 2 پائلٹ ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ نے بتایا تھا کہ تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا‘ اور وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا جبکہ وِنگ کمانڈر ایم۔ رانا اور فلائٹ لیفٹیننٹ آدویتّیہ بال ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="2023" href="#2023" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2023&lt;/h1&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="29-جنوری-سوخوئی-ایس-یو-30-ڈسالٹ-میراج-2000" href="#29-جنوری-سوخوئی-ایس-یو-30-ڈسالٹ-میراج-2000" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;29 &lt;strong&gt;جنوری: سوخوئی ایس یو-30، ڈسالٹ میراج 2000&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارتی دارالحکومت کے قریب مشقوں کے دوران بظاہر فضا میں ٹکرانے سے 2 فائٹر جیٹ طیارے گر کر تباہ ہو گئے، جس میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی ساختہ سوخوئی ایس یو-30 میں دو پائلٹ سوار تھے، اور فرانسیسی ساختہ میراج 2000 ایک تیسرے پائلٹ نے اڑایا، دونوں طیارے گوالیار ایئربیس سے اڑے تھے، جو جائے حادثہ سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/28152726f89e57f.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/28152726f89e57f.jpg'  alt='فائل فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8 مئی: مگ-21 بائیسن&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجستھان کے علاقے سورت گڑھ کے قریب ایک روسی ساختہ مگ-21 آن بورڈ ایمرجنسی کے باعث گرنے سے زمین پر موجود تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ایک گھر تباہ ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ایف نے بتایا تھا کہ پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا اور حادثہ معمول کی تربیتی پرواز کے تھوڑی دیر بعد پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="2024" href="#2024" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2024&lt;/h1&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="12-مارچ-ایچ-اے-ایل-تیجس" href="#12-مارچ-ایچ-اے-ایل-تیجس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;12 مارچ: ایچ اے ایل تیجس&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ کا مقامی طور پر تیار کردہ جنگی طیارہ ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا، یہ اس طیارے کے شامل کیے جانے کے بعد پہلا ایسا واقعہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/21172805d7f9b03.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/21172805d7f9b03.webp'  alt='فائل فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4 نومبر: مگ-29&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ایف نے بتایا کہ ایک مگ-29 لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران آگرہ کے قریب ’سسٹم کی خرابی‘ کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ پائلٹ نے زمین پر جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے طیارے کو قابو میں رکھا، پھر محفوظ طور پر باہر نکل آیا، وجہ جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IAF_MCC/status/1853407777420353982'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IAF_MCC/status/1853407777420353982"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="2025" href="#2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2025&lt;/h1&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="9-جولائی-جیگوار" href="#9-جولائی-جیگوار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;9 جولائی:  جیگوار&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ کے مطابق اس کے دو پائلٹ راجستھان کے ضلع چورو کے ایک گاؤں کے قریب جیگوار لڑاکا طیارہ &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1923047"&gt;&lt;strong&gt;گرنے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجالدیسر تھانہ انچارج کملیش نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ptinews.com/stories-detail/national/jaguar-fighter-jet-crashes-in-rajasthan/2712385/0"&gt;&lt;strong&gt;پریس ٹرسٹ آف انڈیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بتایا تھا کہ برطانوی-فرانسیسی ساختہ طیارہ دوپہر ۱:۲۵ بجے کے قریب ایک زرعی کھیت میں گرا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارہ تیجس دبئی ایئر شو میں مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔</p>
<p>فائٹر جیٹ کے زمین سے ٹکراتے ہی آگ کا شعلہ دیکھا گیا، جبکہ جائے حادثہ پر سیاہ دھواں اڑتا ہوا نظر آیا۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) نے واقعے میں پائلٹ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا حادثہ رونما ہوا ہو، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پیش آنے والے ایسے حادثات کی تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔</p>
<h2><a id="2020" href="#2020" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2020</h2>
<h3><a id="فروری-23-مگ-29کے" href="#فروری-23-مگ-29کے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فروری 23: مگ-29کے</h3>
<p>ٹائمز آف انڈیا نے ایک بھارتی بحریہ کے ترجمان کے حوالے سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/india/navys-mig-29k-aircraft-crashes-in-goa-pilot-ejects-safely/articleshow/74265084.cms"><strong>رپورٹ</strong></a> کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کا ایک میگ-29 گوا کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جو معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/211721584bec572.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/211721584bec572.webp'  alt='&mdash; فائل فوٹو: ٹائمز آف انڈیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فائل فوٹو: ٹائمز آف انڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<h2><a id="2021" href="#2021" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2021</h2>
<h3><a id="17-مارچ-مگ-21-بائیسن" href="#17-مارچ-مگ-21-بائیسن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>17 مارچ: مگ-21 بائیسن</strong></h3>
<p>بھارت میں میگ-21 بائیسن طیارہ گرنے سے ایک آئی اے ایف پائلٹ ہلاک ہوا۔</p>
<p>آئی اے ایف کے بیان میں کہا گیا کہ گروپ کیپٹن اے گپتا ایک جنگی تربیتی مشن کے لیے ایئربیس سے اُڑے تھے، جب انہیں یہ مہلک حادثہ پیش آیا، مزید کہا گیا تھا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔</p>
<h2><a id="2022" href="#2022" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2022</h2>
<h3><a id="29جولائی-مگ-21-بائیسن" href="#29جولائی-مگ-21-بائیسن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>29جولائی: مگ-21 بائیسن</strong></h3>
<p>بھارت میں سوویت دور کا ایک میگ-21 تربیتی پرواز کے دوران راجستھان میں کریش کر گیا، جبکہ 2 پائلٹ ہلاک ہوئے۔</p>
<p>بھارتی فضائیہ نے بتایا تھا کہ تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا‘ اور وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا جبکہ وِنگ کمانڈر ایم۔ رانا اور فلائٹ لیفٹیننٹ آدویتّیہ بال ہلاک ہوئے۔</p>
<h1><a id="2023" href="#2023" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2023</h1>
<h3><a id="29-جنوری-سوخوئی-ایس-یو-30-ڈسالٹ-میراج-2000" href="#29-جنوری-سوخوئی-ایس-یو-30-ڈسالٹ-میراج-2000" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>29 <strong>جنوری: سوخوئی ایس یو-30، ڈسالٹ میراج 2000</strong></h3>
<p>بھارتی دارالحکومت کے قریب مشقوں کے دوران بظاہر فضا میں ٹکرانے سے 2 فائٹر جیٹ طیارے گر کر تباہ ہو گئے، جس میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔</p>
<p>روسی ساختہ سوخوئی ایس یو-30 میں دو پائلٹ سوار تھے، اور فرانسیسی ساختہ میراج 2000 ایک تیسرے پائلٹ نے اڑایا، دونوں طیارے گوالیار ایئربیس سے اڑے تھے، جو جائے حادثہ سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/28152726f89e57f.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/28152726f89e57f.jpg'  alt='فائل فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<hr />
<p><strong>8 مئی: مگ-21 بائیسن</strong></p>
<p>راجستھان کے علاقے سورت گڑھ کے قریب ایک روسی ساختہ مگ-21 آن بورڈ ایمرجنسی کے باعث گرنے سے زمین پر موجود تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ایک گھر تباہ ہو گیا تھا۔</p>
<p>آئی اے ایف نے بتایا تھا کہ پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا اور حادثہ معمول کی تربیتی پرواز کے تھوڑی دیر بعد پیش آیا۔</p>
<h1><a id="2024" href="#2024" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2024</h1>
<h3><a id="12-مارچ-ایچ-اے-ایل-تیجس" href="#12-مارچ-ایچ-اے-ایل-تیجس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>12 مارچ: ایچ اے ایل تیجس</strong></h3>
<p>بھارتی فضائیہ کا مقامی طور پر تیار کردہ جنگی طیارہ ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا، یہ اس طیارے کے شامل کیے جانے کے بعد پہلا ایسا واقعہ تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/21172805d7f9b03.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/21172805d7f9b03.webp'  alt='فائل فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>4 نومبر: مگ-29</strong></p>
<p>آئی اے ایف نے بتایا کہ ایک مگ-29 لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران آگرہ کے قریب ’سسٹم کی خرابی‘ کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔</p>
<p>بھارتی فضائیہ نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ پائلٹ نے زمین پر جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے طیارے کو قابو میں رکھا، پھر محفوظ طور پر باہر نکل آیا، وجہ جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IAF_MCC/status/1853407777420353982'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IAF_MCC/status/1853407777420353982"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="2025" href="#2025" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2025</h1>
<h3><a id="9-جولائی-جیگوار" href="#9-جولائی-جیگوار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>9 جولائی:  جیگوار</strong></h3>
<p>بھارتی فضائیہ کے مطابق اس کے دو پائلٹ راجستھان کے ضلع چورو کے ایک گاؤں کے قریب جیگوار لڑاکا طیارہ <a href="https://www.dawn.com/news/1923047"><strong>گرنے</strong></a> سے ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>راجالدیسر تھانہ انچارج کملیش نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ptinews.com/stories-detail/national/jaguar-fighter-jet-crashes-in-rajasthan/2712385/0"><strong>پریس ٹرسٹ آف انڈیا</strong></a> کو بتایا تھا کہ برطانوی-فرانسیسی ساختہ طیارہ دوپہر ۱:۲۵ بجے کے قریب ایک زرعی کھیت میں گرا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274079</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 19:20:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/21191706a4e9854.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/21191706a4e9854.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کو شرمندگی کا سامنا، دبئی ایئرشو میں جنگی طیارہ ’تیجس‘ گر کر تباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274074/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ کو عالمی سطح پربڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، دبئی ایئرشو میں بھارتی فائٹر جیٹ ’تیجس‘ گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی ایئر شو کے آخری دن دوپہر کے ڈیمو کے دوران بھارتی فضائیہ کا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی ایئر شو میں بڑی تعداد میں لوگ بیرونی حصے میں موجود طیاروں کے ڈسپلے دیکھنے کے لیے موجود تھے، حادثے کے بعد شو کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور شرکا کو مرکزی نمائشی ایریا میں واپس جانے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے ڈسپلے کے دوران بھارت کا لڑاکا طیارے کے گرنے سے شرکا میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم فوری طور پر پائلٹ کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ بعد ازاں پائلٹ کے بھی حادثے میں ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، دبئی ایئرشو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے تیجس سے تیل لیک ہونے کی فوٹیج بھی وائرل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس کا مطلب ہندی میں چمک یا درخشندگی ہے، بھارت میں ملکی سطح پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا ایک لڑاکا طیارہ ہے جسے 2016 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا، تیجس کو ڈیزائن اور دیگر تکنیکی مسائل کا سامنا رہا ہے اور ایک وقت میں بھارتی بحریہ نے اسے زیادہ وزنی ہونے کی وجہ سے مسترد بھی کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سالہ ایئر شو 17 سے 21 نومبر تک دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں منعقد ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شو کی ویب سائٹ کے مطابق  اس میں 1,500 سے زائد نمائش کنندگان، 200 طیارے (فضائی مظاہروں اور جامد نمائش دونوں میں)، 12 کانفرنس ٹریکس اور 450 بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس کا یہ دوسرا معروف حادثہ ہے، پہلا حادثہ 2024 میں بھارت میں ایک مشق کے دوران پیش آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس ایم کے-1 اے لڑاکا طیارے بھارت کی فضائیہ کے کم ہوتے اسکواڈرنز کو مضبوط بنانے اور ’ پرانے’ ہوتے طیاروں کی جگہ لینے کے لیے انتہائی اہم ہیں، خصوصاً اس وقت جب چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور پاکستان کے لیے اس کی حمایت بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس طیاروں کی تیاری اور فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ جی ای کی جانب سے 2021 میں آرڈر کیے گئے 99 انجنوں میں سے صرف چار فراہم کیے گئے ہیں، کمپنی نے اس تاخیر کی وجہ کووڈ کے بعد پیدا ہونے والے سپلائی چین کے مسائل کو قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی فضائیہ کو عالمی سطح پربڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، دبئی ایئرشو میں بھارتی فائٹر جیٹ ’تیجس‘ گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی ایئر شو کے آخری دن دوپہر کے ڈیمو کے دوران بھارتی فضائیہ کا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DRUN5DxCKKR/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=bb61232c-8fa8-4186-a524-19d9ed8d3196" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>دبئی ایئر شو میں بڑی تعداد میں لوگ بیرونی حصے میں موجود طیاروں کے ڈسپلے دیکھنے کے لیے موجود تھے، حادثے کے بعد شو کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور شرکا کو مرکزی نمائشی ایریا میں واپس جانے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p>دوپہر کے ڈسپلے کے دوران بھارت کا لڑاکا طیارے کے گرنے سے شرکا میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم فوری طور پر پائلٹ کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ بعد ازاں پائلٹ کے بھی حادثے میں ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔</p>
<p>اس سے قبل، دبئی ایئرشو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے تیجس سے تیل لیک ہونے کی فوٹیج بھی وائرل ہوئی تھی۔</p>
<p>تیجس کا مطلب ہندی میں چمک یا درخشندگی ہے، بھارت میں ملکی سطح پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا ایک لڑاکا طیارہ ہے جسے 2016 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا، تیجس کو ڈیزائن اور دیگر تکنیکی مسائل کا سامنا رہا ہے اور ایک وقت میں بھارتی بحریہ نے اسے زیادہ وزنی ہونے کی وجہ سے مسترد بھی کر دیا تھا۔</p>
<p>دو سالہ ایئر شو 17 سے 21 نومبر تک دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں منعقد ہو رہا ہے۔</p>
<p>شو کی ویب سائٹ کے مطابق  اس میں 1,500 سے زائد نمائش کنندگان، 200 طیارے (فضائی مظاہروں اور جامد نمائش دونوں میں)، 12 کانفرنس ٹریکس اور 450 بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔</p>
<p>تیجس کا یہ دوسرا معروف حادثہ ہے، پہلا حادثہ 2024 میں بھارت میں ایک مشق کے دوران پیش آیا تھا۔</p>
<p>تیجس ایم کے-1 اے لڑاکا طیارے بھارت کی فضائیہ کے کم ہوتے اسکواڈرنز کو مضبوط بنانے اور ’ پرانے’ ہوتے طیاروں کی جگہ لینے کے لیے انتہائی اہم ہیں، خصوصاً اس وقت جب چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور پاکستان کے لیے اس کی حمایت بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p>تیجس طیاروں کی تیاری اور فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ جی ای کی جانب سے 2021 میں آرڈر کیے گئے 99 انجنوں میں سے صرف چار فراہم کیے گئے ہیں، کمپنی نے اس تاخیر کی وجہ کووڈ کے بعد پیدا ہونے والے سپلائی چین کے مسائل کو قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274074</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 17:45:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/21192540338f8a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/21192540338f8a1.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/211548440bb3bdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/211548440bb3bdc.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: گلف نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/211926075577e58.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/211926075577e58.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کا نیا نوٹم جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274026/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں 23 دسمبر تک توسیع کردی، بھارتی مسافر اور عسکری طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے جمعرات کو نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین) جاری کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں 24 دسمبر تک توسیع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئی پابندی اس وقت نافذ کی گئی ہے جب پچھلی پابندی کے خاتمے میں صرف چار دن باقی رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر بھارت اور پاکستان نے اپنی فضائی حدود ایک دوسرے کی ایئرلائنز کے لیے بند کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273977/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273977"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹم کے مطابق نئی پابندی 19 نومبر بروز منگل پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 50 منٹ سے 24 دسمبر صبح 4 بج کر 59 منٹ تک نافذ العمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پابندی بھارت میں رجسٹرڈ تمام طیاروں کے ساتھ ساتھ ان تمام طیاروں پر بھی لاگو ہو گی جو بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کی ملکیت، نگرانی یا لیز پر ہوں، جن میں فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی 2022 کی دستاویز کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود دو فلائٹ انفارمیشن ریجنز (کراچی اور لاہور) پر مشتمل ہے، یہ نوٹم دونوں کراچی  اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجنز پر لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 24 اپریل کو بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں پاکستان نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں بھارت کی ملکیت یا بھارت کے زیرِ انتظام تمام ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے حملے کی حمایت کی تھی جب کہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی اور وزیراعظم شہباز شریف غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، مئی کے اوائل میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان دہائیوں میں سب سے شدید فوجی تصادم ہوا جس میں پاکستان نے رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے 7 طیارے مار گرائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں 23 دسمبر تک توسیع کردی، بھارتی مسافر اور عسکری طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند رہے گی۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے جمعرات کو نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین) جاری کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں 24 دسمبر تک توسیع کر دی ہے۔</p>
<p>یہ نئی پابندی اس وقت نافذ کی گئی ہے جب پچھلی پابندی کے خاتمے میں صرف چار دن باقی رہ گئے تھے۔</p>
<p>اپریل کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر بھارت اور پاکستان نے اپنی فضائی حدود ایک دوسرے کی ایئرلائنز کے لیے بند کر دی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273977/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273977"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نوٹم کے مطابق نئی پابندی 19 نومبر بروز منگل پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 50 منٹ سے 24 دسمبر صبح 4 بج کر 59 منٹ تک نافذ العمل ہے۔</p>
<p>یہ پابندی بھارت میں رجسٹرڈ تمام طیاروں کے ساتھ ساتھ ان تمام طیاروں پر بھی لاگو ہو گی جو بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کی ملکیت، نگرانی یا لیز پر ہوں، جن میں فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی 2022 کی دستاویز کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود دو فلائٹ انفارمیشن ریجنز (کراچی اور لاہور) پر مشتمل ہے، یہ نوٹم دونوں کراچی  اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجنز پر لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ 24 اپریل کو بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں پاکستان نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں بھارت کی ملکیت یا بھارت کے زیرِ انتظام تمام ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش بھی شامل تھی۔</p>
<p>بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے حملے کی حمایت کی تھی جب کہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی اور وزیراعظم شہباز شریف غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی۔</p>
<p>بعد ازاں، مئی کے اوائل میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان دہائیوں میں سب سے شدید فوجی تصادم ہوا جس میں پاکستان نے رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے 7 طیارے مار گرائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274026</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 12:35:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/201219202e2f8a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/201219202e2f8a9.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: دیر سے اسکول آنے پر 100 اٹھک بیٹھک کی سزا سے کمسن طالبہ کی موت، بچی کس بیماری میں مبتلا تھی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274023/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے ایک علاقے میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جب 13 سالہ کمسن طالبہ کاجول گور دیر سے اسکول آنے پر سزا کے طور پر 100 دفعہ اٹھک بیٹھک کرنے پر مجبور کی گئی، جس کے بعد اچانک اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ چل بسی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tribuneindia.com/news/india/late-to-school-girl-punished-to-do-100-sit-ups-with-bag-on-her-back-dies-teacher-held/"&gt;انڈین ٹریبیون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 8 نومبر کو مہاراشٹرا کے پلگار ضلع کے وسائی علاقے کے ایک اسکول میں 13 سالہ طالبہ کاجول گور اس وقت المناک طور پر چل بسی، جب اسے دیر سے اسکول آنے پر سزا کے طور پر 100 دفعہ اٹھنے بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاجول کو یہ سزا 50 دیگر دیر سے آنے والے طلبہ کے ساتھ دی گئی تھی اور سب نے اپنے اسکول کے بیگ کندھوں پر اٹھا کر یہ ورزش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے دن کاجول نے اسکول سے واپس آنے کے بعد شدید جسمانی درد کی شکایت کی اور اسی دن گھر پر گر گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر وسائی کے آستھا ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں حالت بگڑنے پر اسے ایک دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا اور پھر ممبئی کے جے جے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں 15 نومبر کو اس کی موت ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی رپورٹس سے پتا چلا کہ کاجول شدید انیمیا میں مبتلا تھی، ایک ایسی حالت جس میں جسم میں صحت مند سرخ خون کے خلیات کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے تھکن، کمزوری اور آکسیجن کی مناسب ترسیل متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکل رپورٹ میں سامنے آیا کہ کاجول کا ہیموگلوبین لیول چار تھا، جو انتہائی کم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243072'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243072"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سزا دینے والی استاد ممتا یادو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول حکام نے اعتراف کیا کہ وہ کاجول کی نازک صحت سے واقف تھے اور والدین کو پہلے ہی طبی معائنہ کرانے کی ہدایت دے چکے تھے، لیکن سزا دینے والی استاد اس کا ادراک نہیں کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرنسپل نے بتایا کہ کاجول دیر سے آنے والے طلبہ کے گروپ کا حصہ تھیں اور استاد انہیں چھوٹے قد کی وجہ سے پہچان نہیں سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، استاد کو معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ اسکول پولیس اور محکمہ تعلیم کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کاجول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اسکول کی جانب سے کبھی اس کی صحت کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی فیکلٹی ممبر نے کوئی ہدایت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاجول کے والد نے کہا کہ اگر انہیں معلوم تھا کہ وہ کمزور ہے، تو پھر اسے اتنی سخت سزا کیوں دی گئی؟ اور کسی بھی بچے کو یہ سزا کیوں دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی منقطع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال پولیس نے اس معاملے میں حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے ایک علاقے میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جب 13 سالہ کمسن طالبہ کاجول گور دیر سے اسکول آنے پر سزا کے طور پر 100 دفعہ اٹھک بیٹھک کرنے پر مجبور کی گئی، جس کے بعد اچانک اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ چل بسی۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tribuneindia.com/news/india/late-to-school-girl-punished-to-do-100-sit-ups-with-bag-on-her-back-dies-teacher-held/">انڈین ٹریبیون</a></strong> کے مطابق 8 نومبر کو مہاراشٹرا کے پلگار ضلع کے وسائی علاقے کے ایک اسکول میں 13 سالہ طالبہ کاجول گور اس وقت المناک طور پر چل بسی، جب اسے دیر سے اسکول آنے پر سزا کے طور پر 100 دفعہ اٹھنے بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔</p>
<p>کاجول کو یہ سزا 50 دیگر دیر سے آنے والے طلبہ کے ساتھ دی گئی تھی اور سب نے اپنے اسکول کے بیگ کندھوں پر اٹھا کر یہ ورزش کی۔</p>
<p>واقعے کے دن کاجول نے اسکول سے واپس آنے کے بعد شدید جسمانی درد کی شکایت کی اور اسی دن گھر پر گر گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر وسائی کے آستھا ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔</p>
<p>بعد میں حالت بگڑنے پر اسے ایک دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا اور پھر ممبئی کے جے جے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں 15 نومبر کو اس کی موت ہو گئی۔</p>
<p>طبی رپورٹس سے پتا چلا کہ کاجول شدید انیمیا میں مبتلا تھی، ایک ایسی حالت جس میں جسم میں صحت مند سرخ خون کے خلیات کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے تھکن، کمزوری اور آکسیجن کی مناسب ترسیل متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>میڈیکل رپورٹ میں سامنے آیا کہ کاجول کا ہیموگلوبین لیول چار تھا، جو انتہائی کم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1243072'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243072"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سزا دینے والی استاد ممتا یادو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔</p>
<p>اسکول حکام نے اعتراف کیا کہ وہ کاجول کی نازک صحت سے واقف تھے اور والدین کو پہلے ہی طبی معائنہ کرانے کی ہدایت دے چکے تھے، لیکن سزا دینے والی استاد اس کا ادراک نہیں کر سکیں۔</p>
<p>پرنسپل نے بتایا کہ کاجول دیر سے آنے والے طلبہ کے گروپ کا حصہ تھیں اور استاد انہیں چھوٹے قد کی وجہ سے پہچان نہیں سکیں۔</p>
<p>تاہم، استاد کو معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ اسکول پولیس اور محکمہ تعلیم کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب کاجول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اسکول کی جانب سے کبھی اس کی صحت کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی فیکلٹی ممبر نے کوئی ہدایت دی۔</p>
<p>کاجول کے والد نے کہا کہ اگر انہیں معلوم تھا کہ وہ کمزور ہے، تو پھر اسے اتنی سخت سزا کیوں دی گئی؟ اور کسی بھی بچے کو یہ سزا کیوں دی جانی چاہیے؟</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی منقطع ہیں۔</p>
<p>فی الحال پولیس نے اس معاملے میں حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274023</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 13:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/201159470386eba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/201159470386eba.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>4 روزہ جنگ میں پاکستان بھارت پر فاتح رہا، امریکی کانگریس میں رپورٹ جمع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273990/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کی کانگریس میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس برس مئی میں ہونے والے چار روزہ تصادم میں بھارت پر ’فوجی برتری‘ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو امریکا-چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن کی جانب سے کانگریس میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار روزہ جھڑپ میں پاکستان کی بھارت پر فوجی کامیابی نے چینی ہتھیاروں کو نمایاں کیا، یہ کمیشن امریکا اور چین کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات کے قومی سلامتی پر اثرات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فضائی لڑائی میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں، تاہم بعد میں یہ تعداد بڑھا کر سات کر دی  تھی، اسلام آباد نے اپنے کسی طیارے کے نقصان کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ تین فضائی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس نے بھارت کے 26 اہداف کو نشانہ بنایا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ عملاً  8 طیارے مار گرائے گئے، جو اس تنازع پر تبصرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی سالانہ رپورٹ میں کمیشن نے مئی کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے اس موقع کو ’اپنی دفاعی صلاحیتوں کو آزمائش اور فروغ دینے‘ کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ نے اس تنازع میں چین کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ اس وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا کہ پاکستان کی فوج نے چینی ہتھیاروں پر انحصار کیا اور مبینہ طور پر چینی انٹیلی جنس سے فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273323'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں بھارت کے اس دعوے کا بھی حوالہ دیا گیا کہ چین نے پاکستان کو بحران کے دوران بھارتی فوجی پوزیشنز پر براہِ راست معلومات فراہم کیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی اور چین نے اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، چین نے 2025 میں پاکستان کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری کو وسعت دی، جس کی وجہ سے خود اس کی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ  نومبر اور دسمبر 2024 میں چین اور پاکستان نے تین ہفتے طویل ’وارئیر-VIII‘ انسدادِ دہشت گردی مشقیں کیں، اور اس سال فروری میں چین کی بحریہ نے پاکستان کی کثیر القومی ’امن‘ مشقوں میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ مشقیں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی تبصرہ نگاروں نے ان مشقوں کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نقصان اور اپنی سرحدی پوزیشنز کے لیے براہ راست سیکیورٹی خطرہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ اس تنازع کو ‘پراکسی وار’ کہنا چین کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے، مگر بیجنگ نے اس تنازع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کی جدیدیت کو جانچا اور اس کی تشہیر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہونے کے ناتے چین نے 2019 سے 2023 تک پاکستان کی دفاعی درآمدات کا تقریباً 82 فیصد فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273894/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کی جھڑپ میں پہلی بار چین کے جدید عسکری نظام بشمول HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم، PL-15 فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل، اور J-10 لڑاکا طیارے عملی جنگ میں استعمال ہوئے، اور یہ سب ایک حقیقی جنگی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جون میں چین نے پاکستان کو 40، ففتھ جنریشن جے-35 لڑاکا طیارے، KJ-500 طیارے اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی پیشکش کی، اسی ماہ پاکستان نے اپنے 26-2025 کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا، جس سے دفاعی اخراجات مجموعی بجٹ میں کمی کے باوجود 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ تنازع کے بعد کے ہفتوں میں، چینی سفارتخانوں نے بھارت-پاکستان جھڑپ میں اپنے ہتھیاروں کی کامیابیوں کو سراہا، جس کا مقصد ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے اس الزام کا بھی ذکر کیا گیا کہ چین نے فرانسیسی رفال طیاروں کی فروخت کو روکنے اور اپنے جے-35 کی تشہیر کے لیے غلط معلومات کی مہم شروع کی اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اے آئی اور ویڈیو گیم کی تصاویر کو ایسا ظاہر کیا کہ جیسے یہ وہ ملبہ ہو جو چین کے ہتھیاروں سے تباہ کیے گئے بھارتی طیاروں کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازع اس وقت بھڑکا جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملہ ہوا، جسے بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان سے جوڑ دیا۔ اسلام آباد نے اس الزام کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن 7 مئی کو نئی دہلی نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں  فضائی حملے کیے، جن سے چار روزہ جھڑپ کا آغاز ہوا، دونوں جانب سے ایک دوسرے کے فضائی اڈوں پر جوابی حملوں کے بعد 10 مئی کو امریکی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کی کانگریس میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس برس مئی میں ہونے والے چار روزہ تصادم میں بھارت پر ’فوجی برتری‘ حاصل کی۔</p>
<p>منگل کو امریکا-چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن کی جانب سے کانگریس میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار روزہ جھڑپ میں پاکستان کی بھارت پر فوجی کامیابی نے چینی ہتھیاروں کو نمایاں کیا، یہ کمیشن امریکا اور چین کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات کے قومی سلامتی پر اثرات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فضائی لڑائی میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں، تاہم بعد میں یہ تعداد بڑھا کر سات کر دی  تھی، اسلام آباد نے اپنے کسی طیارے کے نقصان کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ تین فضائی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس نے بھارت کے 26 اہداف کو نشانہ بنایا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ عملاً  8 طیارے مار گرائے گئے، جو اس تنازع پر تبصرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اپنی سالانہ رپورٹ میں کمیشن نے مئی کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے اس موقع کو ’اپنی دفاعی صلاحیتوں کو آزمائش اور فروغ دینے‘ کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ نے اس تنازع میں چین کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ اس وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا کہ پاکستان کی فوج نے چینی ہتھیاروں پر انحصار کیا اور مبینہ طور پر چینی انٹیلی جنس سے فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273323'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس میں بھارت کے اس دعوے کا بھی حوالہ دیا گیا کہ چین نے پاکستان کو بحران کے دوران بھارتی فوجی پوزیشنز پر براہِ راست معلومات فراہم کیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی اور چین نے اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، چین نے 2025 میں پاکستان کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری کو وسعت دی، جس کی وجہ سے خود اس کی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ  نومبر اور دسمبر 2024 میں چین اور پاکستان نے تین ہفتے طویل ’وارئیر-VIII‘ انسدادِ دہشت گردی مشقیں کیں، اور اس سال فروری میں چین کی بحریہ نے پاکستان کی کثیر القومی ’امن‘ مشقوں میں حصہ لیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ مشقیں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>بھارتی تبصرہ نگاروں نے ان مشقوں کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نقصان اور اپنی سرحدی پوزیشنز کے لیے براہ راست سیکیورٹی خطرہ قرار دیا۔</p>
<p>مئی کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ اس تنازع کو ‘پراکسی وار’ کہنا چین کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے، مگر بیجنگ نے اس تنازع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کی جدیدیت کو جانچا اور اس کی تشہیر کی۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہونے کے ناتے چین نے 2019 سے 2023 تک پاکستان کی دفاعی درآمدات کا تقریباً 82 فیصد فراہم کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273894/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مئی کی جھڑپ میں پہلی بار چین کے جدید عسکری نظام بشمول HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم، PL-15 فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل، اور J-10 لڑاکا طیارے عملی جنگ میں استعمال ہوئے، اور یہ سب ایک حقیقی جنگی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جون میں چین نے پاکستان کو 40، ففتھ جنریشن جے-35 لڑاکا طیارے، KJ-500 طیارے اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی پیشکش کی، اسی ماہ پاکستان نے اپنے 26-2025 کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا، جس سے دفاعی اخراجات مجموعی بجٹ میں کمی کے باوجود 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ تنازع کے بعد کے ہفتوں میں، چینی سفارتخانوں نے بھارت-پاکستان جھڑپ میں اپنے ہتھیاروں کی کامیابیوں کو سراہا، جس کا مقصد ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے اس الزام کا بھی ذکر کیا گیا کہ چین نے فرانسیسی رفال طیاروں کی فروخت کو روکنے اور اپنے جے-35 کی تشہیر کے لیے غلط معلومات کی مہم شروع کی اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اے آئی اور ویڈیو گیم کی تصاویر کو ایسا ظاہر کیا کہ جیسے یہ وہ ملبہ ہو جو چین کے ہتھیاروں سے تباہ کیے گئے بھارتی طیاروں کا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازع اس وقت بھڑکا جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملہ ہوا، جسے بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان سے جوڑ دیا۔ اسلام آباد نے اس الزام کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>لیکن 7 مئی کو نئی دہلی نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں  فضائی حملے کیے، جن سے چار روزہ جھڑپ کا آغاز ہوا، دونوں جانب سے ایک دوسرے کے فضائی اڈوں پر جوابی حملوں کے بعد 10 مئی کو امریکی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273990</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 17:43:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1916584615aa38b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1916584615aa38b.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
