<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 08:08:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 08:08:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، نیا سیکیورٹی اتحاد متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275067/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی تازہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;amp;utm_medium=share&amp;amp;utm_campaign=copy&amp;amp;embedded-checkout=true"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا دور&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کی تازہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;utm_medium=share&amp;utm_campaign=copy&amp;embedded-checkout=true"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔</p>
<p>انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔</p>
<h3><a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا دور</h3>
<p>بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275067</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:11:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1014090716ce62e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1014090716ce62e.webp"/>
        <media:title>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275051/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ترکی بن بندر بن عبدالعزیز اور چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کی آمد پر انہیں رائل سعودی ایئر فورس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں دفاعی اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے فضائی سربراہان نے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت، آپریشنل اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امر پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو باہمی اعتماد اور پائیدار برادرانہ تعلقات کی واضح توثیق کا عملی نمونہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتے ہوئے اشتراکِ عمل کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دفاعی قیادت نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین قائم قریبی اور دیرینہ روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل رائٹرز نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275046/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا تھا کہ بات چیت جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے اور پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور دیگر آپشنز کے مقابلے میں جے ایف 17 طیارے بنیادی انتخاب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے، جس میں 2 ارب ڈالر کی قرض کی رقم کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بھی شامل ہو گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ترکی بن بندر بن عبدالعزیز اور چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔</p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کی آمد پر انہیں رائل سعودی ایئر فورس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں دفاعی اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں ممالک کے فضائی سربراہان نے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت، آپریشنل اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امر پر زور دیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو باہمی اعتماد اور پائیدار برادرانہ تعلقات کی واضح توثیق کا عملی نمونہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتے ہوئے اشتراکِ عمل کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دفاعی قیادت نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین قائم قریبی اور دیرینہ روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘</p>
<p>بیان کے مطابق سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>ایک روز قبل رائٹرز نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1275046/"><strong>رپورٹ</strong></a> کیا تھا کہ بات چیت جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے اور پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور دیگر آپشنز کے مقابلے میں جے ایف 17 طیارے بنیادی انتخاب ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے، جس میں 2 ارب ڈالر کی قرض کی رقم کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بھی شامل ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275051</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 15:25:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08145809af91219.webp" type="image/webp" medium="image" height="555" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08145809af91219.webp"/>
        <media:title>سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آذربائیجان کا غزہ کیلئےعالمی امن فوج میں شامل نہ ہونے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275031/</link>
      <description>&lt;p&gt;آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر بشمول غزہ کسی بھی امن مشن میں فوجی دستہ بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آذربائیجانی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر علیوف نے بتایا کہ آذربائیجان نے غزہ میں مجوزہ امن فورس یعنی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے حوالے سے سوالات کی ایک فہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بھجوائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم نے 20 سے زائد سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے امریکی حکام کو دیا، تاہم امن فورس میں شرکت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، میں آذربائیجان سے باہر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی میں شرکت پر غور نہیں کر رہا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ نومبر میں آذربائیجان کی حکومت کے ذرائع نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، آذربائیجان ایسی کسی کارروائی کے لیے فوج فراہم نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غزہ کے امن عمل سے وابستہ سفارت کاروں نے ڈان کو بتایا کہ شدید تحفظات اور اندرونی ردعمل کے خدشات کے باوجود غزہ سے متعلق معاملات میں شامل بیشتر مسلم اکثریتی ممالک چاہتے ہیں کہ مجوزہ آئی ایس ایف کامیاب ہو کیونکہ ان کے نزدیک صرف یہی فورس محصور علاقے میں فلسطینیوں کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مسلم ملک کے سفارت کار نے کہا کہ اسرائیل اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد کو قتل کر چکا ہے اور صرف واضح اختیارات کی حامل ایک بین الاقوامی فورس ہی اس نسل کشی کو روک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سفارت کار نے اعتراف کیا کہ آئی ایس ایف میں شمولیت شریک ممالک کو نہایت مشکل صورتحال میں ڈال دے گی تاہم ان کے بقول متبادل اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس فورس میں شامل ہونے سے ہم پر شدید دباؤ آئے گا لیکن اس کا متبادل غزہ میں مسلسل خونریزی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر بشمول غزہ کسی بھی امن مشن میں فوجی دستہ بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔</p>
<p>آذربائیجانی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر علیوف نے بتایا کہ آذربائیجان نے غزہ میں مجوزہ امن فورس یعنی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے حوالے سے سوالات کی ایک فہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بھجوائی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم نے 20 سے زائد سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے امریکی حکام کو دیا، تاہم امن فورس میں شرکت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، میں آذربائیجان سے باہر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی میں شرکت پر غور نہیں کر رہا‘۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ نومبر میں آذربائیجان کی حکومت کے ذرائع نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، آذربائیجان ایسی کسی کارروائی کے لیے فوج فراہم نہیں کرے گا۔</p>
<p>دوسری جانب غزہ کے امن عمل سے وابستہ سفارت کاروں نے ڈان کو بتایا کہ شدید تحفظات اور اندرونی ردعمل کے خدشات کے باوجود غزہ سے متعلق معاملات میں شامل بیشتر مسلم اکثریتی ممالک چاہتے ہیں کہ مجوزہ آئی ایس ایف کامیاب ہو کیونکہ ان کے نزدیک صرف یہی فورس محصور علاقے میں فلسطینیوں کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنا سکتی ہے۔</p>
<p>ایک مسلم ملک کے سفارت کار نے کہا کہ اسرائیل اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد کو قتل کر چکا ہے اور صرف واضح اختیارات کی حامل ایک بین الاقوامی فورس ہی اس نسل کشی کو روک سکتی ہے۔</p>
<p>ایک اور سفارت کار نے اعتراف کیا کہ آئی ایس ایف میں شمولیت شریک ممالک کو نہایت مشکل صورتحال میں ڈال دے گی تاہم ان کے بقول متبادل اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس فورس میں شامل ہونے سے ہم پر شدید دباؤ آئے گا لیکن اس کا متبادل غزہ میں مسلسل خونریزی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275031</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 18:33:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/06182328b1de305.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/06182328b1de305.webp"/>
        <media:title>لییف نے پیر کی شب کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر، بشمول غزہ، کسی بھی امن مشن میں فوجی دستہ بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یو اے ای یمن سے فوج واپس بلائے اور کسی بھی فریق کی امداد بند کرے، سعودی عرب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274960/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ یو اے ای یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یمن سے اماراتی فوجیوں کو واپس بُلا لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی میں متحدہ عرب امارات سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا حامی ہے اور اس گروہ نے حالیہ دنوں میں یمن کے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ ادھر سعودی عرب ایس ٹی سی کی مخالفت کرتا ہے اور یمن میں قائم حکومت کا ساتھ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274956/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر  اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے  ( ایس ٹی سی) کو فوجی مدد فراہم کرنا یمن اور سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات ’اتحاد کے اصولوں کے خلاف ہیں‘ اور اِن سے یمن میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کہا گیا ہے کہ’سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کے اِن اقدامات پر مایوسی ہوئی، جن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی افواج پر دباؤ ڈال کر مملکت کی جنوبی سرحدوں پر حضرموت اور المہرا کے صوبوں میں فوجی کارروائیاں کروائی گئیں۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی قومی سلامتی اور یمن و خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274959/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274959"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ایسے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کی خودمختاری، سلامتی اور اتحاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ بحران کا واحد حل ’یمنی قیادت کے مابین سیاسی مکالمہ ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں، بشمول ایس ٹی سی۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ یو اے ای یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یمن سے اماراتی فوجیوں کو واپس بُلا لے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی میں متحدہ عرب امارات سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا حامی ہے اور اس گروہ نے حالیہ دنوں میں یمن کے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ ادھر سعودی عرب ایس ٹی سی کی مخالفت کرتا ہے اور یمن میں قائم حکومت کا ساتھ دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274956/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر  اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے  ( ایس ٹی سی) کو فوجی مدد فراہم کرنا یمن اور سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات ’اتحاد کے اصولوں کے خلاف ہیں‘ اور اِن سے یمن میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>بیان کہا گیا ہے کہ’سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کے اِن اقدامات پر مایوسی ہوئی، جن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی افواج پر دباؤ ڈال کر مملکت کی جنوبی سرحدوں پر حضرموت اور المہرا کے صوبوں میں فوجی کارروائیاں کروائی گئیں۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی قومی سلامتی اور یمن و خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274959/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274959"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ایسے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘</p>
<p>سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کی خودمختاری، سلامتی اور اتحاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ بحران کا واحد حل ’یمنی قیادت کے مابین سیاسی مکالمہ ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں، بشمول ایس ٹی سی۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274960</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 21:48:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/301849524159f4b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/301849524159f4b.webp"/>
        <media:title>سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کے اِن اقدامات پر مایوسی ہوئی، جن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی افواج پر دباؤ ڈال کر مملکت کی جنوبی سرحدوں پر حضرموت اور المہرا کے صوبوں میں فوجی کارروائیاں کروائی گئیں. فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عرب اتحادی افواج کا یمن میں بندرگاہ پر فضائی حملہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274956/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے یمن میں قائم مکلا بندرگاہ پر  فضائی حملہ کیا ہے جس میں ایسے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں موجود بندرگاہ مكلا کو بیرونی فوجی امداد حاصل ہے جس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہاز ہماری اجازت کے بغیر ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے، انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم غیر فعال کر دیے اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی فوجی اعانت کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحاد نے کہا کہ مکلا بندرگاہ پر حملے سے کوئی ہلاکتیں یا اصل اہداف کے علاوہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحاد کے مطابق ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ روز قبل سعودی اتحاد نے یمن کے جنوب میں واقع علیحدگی پسند گروہ کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ملک کے مشرقی صوبے حضرموت کی طرف پیش قدمی روک دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں یمن کے جنوب میں موجود علیحدگی پسندوں کی کارروائی کے باعث متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فوجی دستے آمنے سامنے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ یمن 2014 سے خانہ جنگی سے متاثرہ ہے۔ یمن کے مقامی ذرائع ابلاغ پر دسمبر کے اوائل سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے یمن میں قائم مکلا بندرگاہ پر  فضائی حملہ کیا ہے جس میں ایسے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔</p>
<p>سعودی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں موجود بندرگاہ مكلا کو بیرونی فوجی امداد حاصل ہے جس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی گئی ہے۔</p>
<p>اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہاز ہماری اجازت کے بغیر ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے، انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم غیر فعال کر دیے اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی فوجی اعانت کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔</p>
<p>اتحاد نے کہا کہ مکلا بندرگاہ پر حملے سے کوئی ہلاکتیں یا اصل اہداف کے علاوہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>اتحاد کے مطابق ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔</p>
<p>کچھ روز قبل سعودی اتحاد نے یمن کے جنوب میں واقع علیحدگی پسند گروہ کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ملک کے مشرقی صوبے حضرموت کی طرف پیش قدمی روک دے۔</p>
<p>رواں ماہ کے آغاز میں یمن کے جنوب میں موجود علیحدگی پسندوں کی کارروائی کے باعث متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فوجی دستے آمنے سامنے آئے تھے۔</p>
<p>خیال رہے کہ یمن 2014 سے خانہ جنگی سے متاثرہ ہے۔ یمن کے مقامی ذرائع ابلاغ پر دسمبر کے اوائل سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274956</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 14:17:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/301416001c895da.webp" type="image/webp" medium="image" height="312" width="555">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/301416001c895da.webp"/>
        <media:title>ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔ فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے صومالی لینڈ کو تسلیم اور وہاں فلسطینیوں کی بےدخلی کا ممکنہ اسرائیلی منصوبہ مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274955/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی کسی بھی بے دخلی کی کوشش کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں پاکستان سمیت کئی ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام پر سوال اٹھایا ہے کہ وہ صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کر رہا ہے اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آیا اس کا مقصد غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی یا وہاں فوجی اڈے قائم کرنا تو نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنا انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ اس خطے کا ذکر پہلے فلسطینیوں، بالخصوص غزہ سے تعلق رکھنے والوں، کی جلاوطنی کے لیے ممکنہ منزل کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2005755192839655469?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005755192839655469%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2005755192839655469?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005755192839655469%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ بات پاکستان کے نائب مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ محمد عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی، جو اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بلایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل جمعے کو صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد عثمان اقبال جدون نے کہا کہ صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کے خطے صومالی لینڈ کو فلسطینیوں، خصوصاً غزہ کے عوام کی جلاوطنی کے لیے ممکنہ مقام کے طور پر پیش کرنے کے سابقہ اسرائیلی بیانات کے تناظر میں اس خطے کو تسلیم کرنا نہایت تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مارچ میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے سوڈان، صومالیہ اور صومالی لینڈ کے حکام سے رابطہ کیا تھا تاکہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے لیے ان علاقوں کو ممکنہ مقامات کے طور پر استعمال کرنے پر بات چیت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے فلسطینی زمین پر اسرائیل کا قبضہ اور بے دخلی مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازع کی بنیادی وجہ رہا ہے، اور اب اسرائیل یہی غیر مستحکم رویہ افریقہ کے خطے تک منتقل کر رہا ہے، جس کے علاقائی امن اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے حوالے سے کسی بھی تجویز یا منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی ایک سابق قرارداد، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی تھی، اس میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام اقدامات جو نقل مکانی یا دوبارہ آبادکاری کی وکالت کرتے ہیں یا اس کا عندیہ دیتے ہیں، نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ منصفانہ اور پائیدار امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیرپا امن و استحکام کا واحد راستہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد، متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد عثمان اقبال جدون نے اپنے خطاب میں صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو صومالیہ کی بین الاقوامی سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ کا خطہ صومالیہ کا لازمی، ناقابلِ تقسیم اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے، اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس حقیقت کو بدلنے کا نہ تو قانونی اختیار حاصل ہے اور نہ اخلاقی جواز۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے کئی ممالک اور پاکستان نے اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف صومالیہ کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے سکیورٹی اداروں اور استحکام کی کوششوں کی مسلسل اور قابلِ پیش گوئی حمایت ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس نازک مرحلے پر، جب صومالیہ انتہاپسندی کے خلاف نبرد آزما ہے، کوئی بھی ایسا اقدام جو توجہ ہٹائے، اتحاد کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو مسترد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، عرب لیگ کے 22 رکنی رکن ممالک نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں عرب لیگ کے سفیر ماجد عبدالفتاح عبدالعزیز نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرتے جس کا مقصد فلسطینی عوام کی جبری منتقلی کو آسان بنانا یا شمالی صومالیہ کی بندرگاہوں کو فوجی اڈوں کے قیام کے لیے استعمال کرنا ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOFASomalia/status/2005839242946130430?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839242946130430%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOFASomalia/status/2005839242946130430?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839242946130430%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صومالیہ کے مستقل مندوب ابوکر داہر عثمان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک الجزائر، گیانا، سیرالیون اور صومالیہ نے کسی بھی ایسے اقدام کو یکسر مسترد کیا ہے جس کا مقصد فلسطینی آبادی کو غزہ سے صومالیہ کے شمال مغربی خطے میں منتقل کرنا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، امریکا نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے حق کا دفاع کیا اور اس کا موازنہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک سے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں امریکا کی نائب سفیر ٹیمی بروس نے کہا کہ اسرائیل کو بھی دیگر خودمختار ریاستوں کی طرح سفارتی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رواں برس سلامتی کونسل کے بعض ارکان سمیت کئی ممالک نے ایک غیر موجود فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا، لیکن اس پر کوئی ہنگامی اجلاس نہیں بلایا گیا، اور اس پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلووینیا کے سفیر سیموئیل ژبوگار، جن کے ملک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کسی ریاست کا حصہ نہیں بلکہ ایک غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقہ ہے، جیسا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے قرار دیا ہے، جبکہ صومالی لینڈ اقوامِ متحدہ کے ایک رکن ملک کا حصہ ہے اور اسے تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے سفیر جیمز کاریوکی نے صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور وحدت کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے نمائندے جوناتھن ملر نے کہا کہ یہ اقدام صومالیہ کے خلاف کوئی معاندانہ قدم نہیں اور اس سے فریقین کے درمیان مستقبل میں مکالمے کے امکانات ختم نہیں ہوتے بلکہ اسے خطے میں استحکام کو مضبوط بنانے کا ایک موقع قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی کسی بھی بے دخلی کی کوشش کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں پاکستان سمیت کئی ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام پر سوال اٹھایا ہے کہ وہ صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کر رہا ہے اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آیا اس کا مقصد غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی یا وہاں فوجی اڈے قائم کرنا تو نہیں۔</p>
<p>پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنا انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ اس خطے کا ذکر پہلے فلسطینیوں، بالخصوص غزہ سے تعلق رکھنے والوں، کی جلاوطنی کے لیے ممکنہ منزل کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2005755192839655469?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005755192839655469%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2005755192839655469?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005755192839655469%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ بات پاکستان کے نائب مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ محمد عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی، جو اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بلایا گیا تھا۔</p>
<p>اسرائیل جمعے کو صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد عثمان اقبال جدون نے کہا کہ صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کے خطے صومالی لینڈ کو فلسطینیوں، خصوصاً غزہ کے عوام کی جلاوطنی کے لیے ممکنہ مقام کے طور پر پیش کرنے کے سابقہ اسرائیلی بیانات کے تناظر میں اس خطے کو تسلیم کرنا نہایت تشویشناک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مارچ میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے سوڈان، صومالیہ اور صومالی لینڈ کے حکام سے رابطہ کیا تھا تاکہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے لیے ان علاقوں کو ممکنہ مقامات کے طور پر استعمال کرنے پر بات چیت کی جا سکے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے فلسطینی زمین پر اسرائیل کا قبضہ اور بے دخلی مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازع کی بنیادی وجہ رہا ہے، اور اب اسرائیل یہی غیر مستحکم رویہ افریقہ کے خطے تک منتقل کر رہا ہے، جس کے علاقائی امن اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے حوالے سے کسی بھی تجویز یا منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی ایک سابق قرارداد، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی تھی، اس میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام اقدامات جو نقل مکانی یا دوبارہ آبادکاری کی وکالت کرتے ہیں یا اس کا عندیہ دیتے ہیں، نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ منصفانہ اور پائیدار امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیرپا امن و استحکام کا واحد راستہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد، متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔</p>
<p>محمد عثمان اقبال جدون نے اپنے خطاب میں صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو صومالیہ کی بین الاقوامی سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ کا خطہ صومالیہ کا لازمی، ناقابلِ تقسیم اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے، اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس حقیقت کو بدلنے کا نہ تو قانونی اختیار حاصل ہے اور نہ اخلاقی جواز۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے کئی ممالک اور پاکستان نے اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف صومالیہ کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے سکیورٹی اداروں اور استحکام کی کوششوں کی مسلسل اور قابلِ پیش گوئی حمایت ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس نازک مرحلے پر، جب صومالیہ انتہاپسندی کے خلاف نبرد آزما ہے، کوئی بھی ایسا اقدام جو توجہ ہٹائے، اتحاد کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔</p>
<p>عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو مسترد کیا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب، عرب لیگ کے 22 رکنی رکن ممالک نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کر دیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں عرب لیگ کے سفیر ماجد عبدالفتاح عبدالعزیز نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرتے جس کا مقصد فلسطینی عوام کی جبری منتقلی کو آسان بنانا یا شمالی صومالیہ کی بندرگاہوں کو فوجی اڈوں کے قیام کے لیے استعمال کرنا ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOFASomalia/status/2005839242946130430?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839242946130430%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOFASomalia/status/2005839242946130430?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005839242946130430%7Ctwgr%5E91f6b0297f1a5c0f870fff57b37457a17cb9d3a1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1964093"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صومالیہ کے مستقل مندوب ابوکر داہر عثمان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک الجزائر، گیانا، سیرالیون اور صومالیہ نے کسی بھی ایسے اقدام کو یکسر مسترد کیا ہے جس کا مقصد فلسطینی آبادی کو غزہ سے صومالیہ کے شمال مغربی خطے میں منتقل کرنا ہو۔</p>
<p>اس کے برعکس، امریکا نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے حق کا دفاع کیا اور اس کا موازنہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک سے کیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں امریکا کی نائب سفیر ٹیمی بروس نے کہا کہ اسرائیل کو بھی دیگر خودمختار ریاستوں کی طرح سفارتی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رواں برس سلامتی کونسل کے بعض ارکان سمیت کئی ممالک نے ایک غیر موجود فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا، لیکن اس پر کوئی ہنگامی اجلاس نہیں بلایا گیا، اور اس پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔</p>
<p>سلووینیا کے سفیر سیموئیل ژبوگار، جن کے ملک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کسی ریاست کا حصہ نہیں بلکہ ایک غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقہ ہے، جیسا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے قرار دیا ہے، جبکہ صومالی لینڈ اقوامِ متحدہ کے ایک رکن ملک کا حصہ ہے اور اسے تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے سفیر جیمز کاریوکی نے صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور وحدت کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>اسرائیل کے نمائندے جوناتھن ملر نے کہا کہ یہ اقدام صومالیہ کے خلاف کوئی معاندانہ قدم نہیں اور اس سے فریقین کے درمیان مستقبل میں مکالمے کے امکانات ختم نہیں ہوتے بلکہ اسے خطے میں استحکام کو مضبوط بنانے کا ایک موقع قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274955</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 13:48:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیرائٹرزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/3013443707f3786.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/3013443707f3786.webp"/>
        <media:title>عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو مسترد کیا جائے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا یمن میں امن کیلئے سعودی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274931/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان یمن میں حالیہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق پاکستان مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے جمہوریہ یمن میں امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس ضمن میں متحدہ عرب امارات کی کاوشوں کو بھی سراہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یمنی فریقین ایسے کسی یکطرفہ اقدام سے گریز کریں گے جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں تمام یمنی فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر جامع اور مذاکراتی سیاسی حل کے لیے تعمیری اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں ملک میں دیرپا امن کے قیام اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں کی مرکزی جماعت سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے رواں ماہ کے اوائل میں سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو عدن میں اس کے ہیڈکوارٹر سے بے دخل کر دیا تھا اور جنوبی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ یمن میں سکیورٹی اور استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں استحکام کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے جمعرات کو کہا تھا کہ یمنی علیحدگی پسند حالیہ دنوں میں قبضے میں لی جانے والی علاقوں کو واپس کریں، جبکہ اس نے حکومتی کیمپ کے اندر کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان یمن میں حالیہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق پاکستان مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے جمہوریہ یمن میں امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس ضمن میں متحدہ عرب امارات کی کاوشوں کو بھی سراہتا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یمنی فریقین ایسے کسی یکطرفہ اقدام سے گریز کریں گے جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو۔</p>
<p>بیان میں تمام یمنی فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر جامع اور مذاکراتی سیاسی حل کے لیے تعمیری اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کریں۔</p>
<p>پاکستان نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں ملک میں دیرپا امن کے قیام اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں کی مرکزی جماعت سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے رواں ماہ کے اوائل میں سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو عدن میں اس کے ہیڈکوارٹر سے بے دخل کر دیا تھا اور جنوبی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p>جمعے کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ یمن میں سکیورٹی اور استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں استحکام کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>سعودی عرب نے جمعرات کو کہا تھا کہ یمنی علیحدگی پسند حالیہ دنوں میں قبضے میں لی جانے والی علاقوں کو واپس کریں، جبکہ اس نے حکومتی کیمپ کے اندر کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274931</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Dec 2025 12:24:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/27121931029d879.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/27121931029d879.webp"/>
        <media:title>پاکستان نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں ملک میں دیرپا امن کے قیام اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں گی۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا کوئی ارادہ نہیں، اسرائیلی وزیر دفاع کی وضاحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274913/</link>
      <description>&lt;p&gt;یروشلم: اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ کی پٹی میں دوبارہ آبادکاری کے کسی بھی ارادے کی تردید کی ہے، اس سے قبل منگل کو ان کے ایک بیان سے یہ تاثر ملا تھا کہ اسرائیل مستقبل میں وہاں دوبارہ آباد کاری کرسکتا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینی علاقے سے متعلق منصوبے سے متصادم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962932/israeli-ministers-remarks-about-resettling-gaza-sow-confusion"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کبھی بھی مکمل طور پر غزہ سے نہیں نکلے گی اور وہاں نہال نامی یونٹ تعینات کرنے کا منصوبہ ہے، جو ماضی میں اسرائیلی بستیوں کے قیام میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کاٹز کے اعلان کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے بھی سراسر خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اسرائیلی میڈیا نے ان بیانات کو غزہ میں دوبارہ آبادکاری کے منصوبے کے طور پر رپورٹ کیا تو اسرائیل کاٹز نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا غزہ کی پٹی میں بستیوں کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271146/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی غزہ میں نہال یونٹ کے انضمام کا حوالہ صرف سیکیورٹی تناظر میں دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ہم غزہ کے اندر گہرائی تک موجود ہیں اور ہم کبھی بھی پورے غزہ سے نہیں نکلیں گے، ایسا کبھی نہیں ہوگا، ہم وہاں تحفظ کے لیے موجود ہیں تاکہ دوبارہ وہ کچھ نہ ہو جو پہلے ہوا، ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی اور پر اعتماد نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج بتدریج ساحلی علاقے غزہ سے مکمل انخلا کرے گی اور اسرائیل وہاں دوبارہ شہری آبادیاں قائم نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اسرائیل ایک سیکیورٹی دائرے میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے، جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک غزہ کسی بھی ممکنہ دوبارہ ابھرنے والے ’دہشت گرد‘ خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہ ہو جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یروشلم: اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ کی پٹی میں دوبارہ آبادکاری کے کسی بھی ارادے کی تردید کی ہے، اس سے قبل منگل کو ان کے ایک بیان سے یہ تاثر ملا تھا کہ اسرائیل مستقبل میں وہاں دوبارہ آباد کاری کرسکتا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینی علاقے سے متعلق منصوبے سے متصادم ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1962932/israeli-ministers-remarks-about-resettling-gaza-sow-confusion"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کبھی بھی مکمل طور پر غزہ سے نہیں نکلے گی اور وہاں نہال نامی یونٹ تعینات کرنے کا منصوبہ ہے، جو ماضی میں اسرائیلی بستیوں کے قیام میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔</p>
<p>حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کاٹز کے اعلان کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے بھی سراسر خلاف ہے۔</p>
<p>جب اسرائیلی میڈیا نے ان بیانات کو غزہ میں دوبارہ آبادکاری کے منصوبے کے طور پر رپورٹ کیا تو اسرائیل کاٹز نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا غزہ کی پٹی میں بستیوں کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271146/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی غزہ میں نہال یونٹ کے انضمام کا حوالہ صرف سیکیورٹی تناظر میں دیا گیا تھا۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ہم غزہ کے اندر گہرائی تک موجود ہیں اور ہم کبھی بھی پورے غزہ سے نہیں نکلیں گے، ایسا کبھی نہیں ہوگا، ہم وہاں تحفظ کے لیے موجود ہیں تاکہ دوبارہ وہ کچھ نہ ہو جو پہلے ہوا، ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی اور پر اعتماد نہیں کرتے۔</p>
<p>رواں سال اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج بتدریج ساحلی علاقے غزہ سے مکمل انخلا کرے گی اور اسرائیل وہاں دوبارہ شہری آبادیاں قائم نہیں کرے گا۔</p>
<p>تاہم اس منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اسرائیل ایک سیکیورٹی دائرے میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے، جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک غزہ کسی بھی ممکنہ دوبارہ ابھرنے والے ’دہشت گرد‘ خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہ ہو جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274913</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 14:06:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/24135907ca7a9fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/24135907ca7a9fb.webp"/>
        <media:title>انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ شمالی غزہ میں نہال یونٹ کے انضمام کا حوالہ صرف سیکیورٹی تناظر میں دیا گیا تھا۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا کے آرمی چیف ترکیہ سے واپسی پر طیارہ حادثے میں جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274909/</link>
      <description>&lt;p&gt;لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف محمد علی احمد الحدّاد منگل کو ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے، حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے واپس روانہ ہوئے تھے، طیارے میں سوار چار دیگر افراد بھی جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ نے بیان میں کہا کہ یہ ایک المناک اور دردناک واقعہ ہے جو انقرہ کے سرکاری دورے سے واپسی پر پیش آیا، انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ قوم، عسکری ادارے اور تمام عوام کے لیے بڑا نقصان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن ڈی سی میں قائم اسٹمسن سینٹر کے مطابق لیبیا 2014 سے عملاً دو نیم خودمختار ریاستوں میں منقسم ہے، مغربی حصہ حکومتِ قومی اتحاد کے زیرِ انتظام ہے جس کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ ہیں جبکہ مشرقی حصہ فیلڈ مارشل خلیفہ بلقاسم حفتر کی لیبین آرمڈ فورسز کے کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبیبہ کے مطابق طیارے میں لیبیا کی زمینی افواج کے کمانڈر ملٹری انڈسٹریل اتھارٹی کے سربراہ چیف آف اسٹاف کے مشیر اور ان کے دفتر سے وابستہ ایک فوٹوگرافر بھی سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارہ انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے شام پانچ بج کر 10 منٹ پر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا اور شام پانچ بج کر 52 پر اس سے ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliYerlikaya/status/2003543900099657762?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003543900099657762%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AliYerlikaya/status/2003543900099657762?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003543900099657762%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طیارے کا ملبہ انقرہ کے ضلع ہیمانا میں واقع گاؤں کیسیق کاواک کے قریب سے ملا ہے۔ ان کے مطابق ڈاسو فالکن 50 طیارے نے ہیمانا کے اوپر ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی، تاہم اس کے بعد رابطہ قائم نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے وزیر انصاف یلماز نے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طرابلس میں قائم حکومتِ قومی اتحاد نے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نے وزیر دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک سرکاری وفد انقرہ بھیجیں تاکہ کارروائی کی نگرانی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliYerlikaya/status/2003558272348180835?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003558272348180835%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AliYerlikaya/status/2003558272348180835?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003558272348180835%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومتِ قومی اتحاد کے وزیر مملکت برائے سیاسی امور و ابلاغ ولید العلافی نے نشریاتی ادارے لیبیا الاحرار کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ حادثے کی رپورٹ کب تک تیار ہوگی، انہوں نے کہا کہ طیارہ مالٹا میں رجسٹرڈ لیز پر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکام کے پاس طیارے کی ملکیت یا تکنیکی تاریخ سے متعلق فی الحال مکمل معلومات موجود نہیں، تاہم اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس سے قبل حداد کے دورے کا اعلان کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے ترک وزیر دفاع یشار گولر، اپنے ترک ہم منصب سلجوق بیرقداراوغلو اور دیگر ترک فوجی کمانڈروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف محمد علی احمد الحدّاد منگل کو ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے، حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے واپس روانہ ہوئے تھے، طیارے میں سوار چار دیگر افراد بھی جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ نے بیان میں کہا کہ یہ ایک المناک اور دردناک واقعہ ہے جو انقرہ کے سرکاری دورے سے واپسی پر پیش آیا، انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ قوم، عسکری ادارے اور تمام عوام کے لیے بڑا نقصان ہے۔</p>
<p>واشنگٹن ڈی سی میں قائم اسٹمسن سینٹر کے مطابق لیبیا 2014 سے عملاً دو نیم خودمختار ریاستوں میں منقسم ہے، مغربی حصہ حکومتِ قومی اتحاد کے زیرِ انتظام ہے جس کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ ہیں جبکہ مشرقی حصہ فیلڈ مارشل خلیفہ بلقاسم حفتر کی لیبین آرمڈ فورسز کے کنٹرول میں ہے۔</p>
<p>دبیبہ کے مطابق طیارے میں لیبیا کی زمینی افواج کے کمانڈر ملٹری انڈسٹریل اتھارٹی کے سربراہ چیف آف اسٹاف کے مشیر اور ان کے دفتر سے وابستہ ایک فوٹوگرافر بھی سوار تھے۔</p>
<p>ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارہ انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے شام پانچ بج کر 10 منٹ پر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا اور شام پانچ بج کر 52 پر اس سے ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliYerlikaya/status/2003543900099657762?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003543900099657762%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AliYerlikaya/status/2003543900099657762?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003543900099657762%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ طیارے کا ملبہ انقرہ کے ضلع ہیمانا میں واقع گاؤں کیسیق کاواک کے قریب سے ملا ہے۔ ان کے مطابق ڈاسو فالکن 50 طیارے نے ہیمانا کے اوپر ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی، تاہم اس کے بعد رابطہ قائم نہ ہو سکا۔</p>
<p>حادثے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔</p>
<p>ترکیہ کے وزیر انصاف یلماز نے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>طرابلس میں قائم حکومتِ قومی اتحاد نے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نے وزیر دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک سرکاری وفد انقرہ بھیجیں تاکہ کارروائی کی نگرانی کی جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliYerlikaya/status/2003558272348180835?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003558272348180835%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AliYerlikaya/status/2003558272348180835?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003558272348180835%7Ctwgr%5E894cc2ecab7b136dd35d85b5ed35ef276c00fdda%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962954"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>حکومتِ قومی اتحاد کے وزیر مملکت برائے سیاسی امور و ابلاغ ولید العلافی نے نشریاتی ادارے لیبیا الاحرار کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ حادثے کی رپورٹ کب تک تیار ہوگی، انہوں نے کہا کہ طیارہ مالٹا میں رجسٹرڈ لیز پر لیا گیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکام کے پاس طیارے کی ملکیت یا تکنیکی تاریخ سے متعلق فی الحال مکمل معلومات موجود نہیں، تاہم اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔</p>
<p>ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس سے قبل حداد کے دورے کا اعلان کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے ترک وزیر دفاع یشار گولر، اپنے ترک ہم منصب سلجوق بیرقداراوغلو اور دیگر ترک فوجی کمانڈروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274909</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 12:58:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/24125115c2bfbb1.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/24125115c2bfbb1.webp"/>
        <media:title>لیبیا کے وزیراعظم نے کہا کہ یہ سانحہ قوم، عسکری ادارے اور تمام عوام کے لیے بڑا نقصان ہے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب اور قطر میں غیرمتوقع برفباری، کئی علاقوں میں شدید سردی اور بارش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274872/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب اور قطر کے مختلف علاقوں میں غیرمتوقع طور پر برفباری ہوئی، جب کہ سرد موسم اور موسلا دھار بارش نے مملکت کے کئی شہروں اور دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج ٹائمز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کم دباؤ کے نظام کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شدید بارشیں ہوئیں، جبکہ جمعرات کو موسم کی شدت میں مزید اضافے اور خطے میں گرج چمک کے ساتھ طوفان آنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی ویدر کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ طوفان رات کے وقت مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور قطر کی طرف جانے کا امکان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ قطر کے وسیع علاقے پہلے ہی برف سے ڈھک چکے ہیں اور اس حوالے سے مناظر کی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نیوز کے مطابق  سعودی عرب کے صوبہ تبوک میں واقع جبل اللوز پر ٹروجینا کے پہاڑی سیاحتی مقام پر برفباری اور ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔ یہ علاقہ ہائیکنگ اور اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے اور اس کی بلندی تقریباً 2600 میٹر تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بیر بن حرماس، العینہ، عمار، العلا گورنریٹ اور شقرہ اور اس کے نواحی علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش ہوئی جبکہ ریاض سمیت کئی دیگر علاقوں میں معتدل سے شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض میں گزشتہ روز علی الصبح سے گہرے بادل اور بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ عرب نیوز کے مطابق خراب موسم کے باعث سعودی دارالحکومت میں تمام اسکولوں کو آن لائن تعلیم پر منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DSZ93YwD-0-/'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.instagram.com/reels/DSZ93YwD-0-/'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ القصیم ریجن، بشمول شہر بریدہ میں معتدل سے شدید بارش ہوئی، جبکہ تبوک ریجن میں جمعرات کو ہلکی سے معتدل بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے ریاض کے شمالی علاقوں اور المجمعة اور الغاط کی گورنریٹس میں مزید برفباری کی پیشگوئی کی تھی، جہاں جمعرات کی صبح برف پڑی جس کے باعث بلندی والے علاقوں میں برف جم گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے وضاحت کی کہ شمالی علاقوں میں موسم کی یہ صورتحال سرد ہوا کے ایک بڑے دباؤ کے داخل ہونے کے باعث پیدا ہوئی، جس کے ساتھ بارش لانے والے بادل بھی شامل تھے۔ اس کے نتیجے میں بعض مقامات پر درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مرکز کی جانب سے موسم کے حوالے سے پیشگی انتباہات جاری کیے گئے تھے اور ماہر ٹیمیں مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران درجہ حرارت کم رہنے اور کئی شمالی و وسطی علاقوں میں پارہ منفی ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہریوں اور رہائشیوں کو خاص طور پر کھلی سڑکوں پر ڈرائیونگ کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی کیونکہ برف جمنے کا خدشہ موجود ہے، اور سرکاری موسمی اطلاعات پر عمل کرنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="غیرمعمولی-برفباری-پر-عوامی-ردِعمل" href="#غیرمعمولی-برفباری-پر-عوامی-ردِعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غیرمعمولی برفباری پر عوامی ردِعمل&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;المجمعة اور الغاط میں بڑی تعداد میں لوگ برفباری دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض کے رہائشی ثامر العتیبی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ غیرمعمولی منظر ہے اور ہم اسے دیکھ کر بہت پرجوش ہیں، میں اور میرے دوست اس سردیوں کے حسین تجربے سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گرد آلود اور تیز ہواؤں کے باعث جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے خراب موسم کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی اور شہریوں کو وادیوں کا رخ کرنے سے گریز کا مشورہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض کے رہائشی عبدالحمید نے بتایا کہ ہم نے شہر کے مضافات میں خاندانی تقریب کا منصوبہ بنایا تھا، مگر موجودہ موسم نے ہمیں منصوبہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا اور ہم نے گھر پر ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="برفباری-کوئی-غیرمعمولی-بات-نہیں" href="#برفباری-کوئی-غیرمعمولی-بات-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’برفباری کوئی غیرمعمولی بات نہیں‘&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے ایک ممتاز ماہرِ فلکیات نے کہا ہے کہ موسمِ سرما میں اس نوعیت کی برفباری غیرمعمولی نہیں۔ گلف نیوز کے مطابق محمد بن ردہ الثقفی نے بتایا کہ شمالی سعودی عرب میں ہر موسمِ سرما میں وقفے وقفے سے برفباری ہوتی ہے، اگرچہ اس کا کوئی مقررہ فلکیاتی چکر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق برفباری کا انحصار موسمی اور فضائی حالات میں تبدیلی پر ہوتا ہے اور عموماً یہ دسمبر سے فروری کے درمیان ریکارڈ کی جاتی ہے، خاص طور پر تبوک، الجوف اور عرعر جیسے علاقوں میں جو بحیرہ روم کے موسمی نظام سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جبل اللوز، العلقان اور الظہر تبوک میں، سکاکا اور دومت الجندل الجوف میں، عرعر شمالی سرحدی علاقے میں، جبل اجا اور جبل سلمی حائل میں، اور عسیر کے بلند علاقوں میں برفباری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے گاڑی چلانے والوں اور سیاحوں کو پھسلن والی سڑکوں اور کم حدِ نگاہ کے باعث احتیاط برتنے کی ہدایت کی اور ٹریفک قوانین پر عمل کرنے پر زور دیا تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب اور قطر کے مختلف علاقوں میں غیرمتوقع طور پر برفباری ہوئی، جب کہ سرد موسم اور موسلا دھار بارش نے مملکت کے کئی شہروں اور دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>خلیج ٹائمز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کم دباؤ کے نظام کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شدید بارشیں ہوئیں، جبکہ جمعرات کو موسم کی شدت میں مزید اضافے اور خطے میں گرج چمک کے ساتھ طوفان آنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔</p>
<p>بی بی سی ویدر کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ طوفان رات کے وقت مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور قطر کی طرف جانے کا امکان تھا۔</p>
<p>خلیج ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ قطر کے وسیع علاقے پہلے ہی برف سے ڈھک چکے ہیں اور اس حوالے سے مناظر کی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں۔</p>
<p>عرب نیوز کے مطابق  سعودی عرب کے صوبہ تبوک میں واقع جبل اللوز پر ٹروجینا کے پہاڑی سیاحتی مقام پر برفباری اور ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔ یہ علاقہ ہائیکنگ اور اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے اور اس کی بلندی تقریباً 2600 میٹر تک ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ بیر بن حرماس، العینہ، عمار، العلا گورنریٹ اور شقرہ اور اس کے نواحی علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش ہوئی جبکہ ریاض سمیت کئی دیگر علاقوں میں معتدل سے شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ریاض میں گزشتہ روز علی الصبح سے گہرے بادل اور بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ عرب نیوز کے مطابق خراب موسم کے باعث سعودی دارالحکومت میں تمام اسکولوں کو آن لائن تعلیم پر منتقل کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DSZ93YwD-0-/'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.instagram.com/reels/DSZ93YwD-0-/'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ القصیم ریجن، بشمول شہر بریدہ میں معتدل سے شدید بارش ہوئی، جبکہ تبوک ریجن میں جمعرات کو ہلکی سے معتدل بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے ریاض کے شمالی علاقوں اور المجمعة اور الغاط کی گورنریٹس میں مزید برفباری کی پیشگوئی کی تھی، جہاں جمعرات کی صبح برف پڑی جس کے باعث بلندی والے علاقوں میں برف جم گئی۔</p>
<p>نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے وضاحت کی کہ شمالی علاقوں میں موسم کی یہ صورتحال سرد ہوا کے ایک بڑے دباؤ کے داخل ہونے کے باعث پیدا ہوئی، جس کے ساتھ بارش لانے والے بادل بھی شامل تھے۔ اس کے نتیجے میں بعض مقامات پر درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا گیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مرکز کی جانب سے موسم کے حوالے سے پیشگی انتباہات جاری کیے گئے تھے اور ماہر ٹیمیں مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران درجہ حرارت کم رہنے اور کئی شمالی و وسطی علاقوں میں پارہ منفی ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>انہوں نے شہریوں اور رہائشیوں کو خاص طور پر کھلی سڑکوں پر ڈرائیونگ کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی کیونکہ برف جمنے کا خدشہ موجود ہے، اور سرکاری موسمی اطلاعات پر عمل کرنے پر زور دیا۔</p>
<h2><a id="غیرمعمولی-برفباری-پر-عوامی-ردِعمل" href="#غیرمعمولی-برفباری-پر-عوامی-ردِعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غیرمعمولی برفباری پر عوامی ردِعمل</strong></h2>
<p>المجمعة اور الغاط میں بڑی تعداد میں لوگ برفباری دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔</p>
<p>ریاض کے رہائشی ثامر العتیبی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ غیرمعمولی منظر ہے اور ہم اسے دیکھ کر بہت پرجوش ہیں، میں اور میرے دوست اس سردیوں کے حسین تجربے سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب گرد آلود اور تیز ہواؤں کے باعث جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے خراب موسم کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی اور شہریوں کو وادیوں کا رخ کرنے سے گریز کا مشورہ دیا۔</p>
<p>ریاض کے رہائشی عبدالحمید نے بتایا کہ ہم نے شہر کے مضافات میں خاندانی تقریب کا منصوبہ بنایا تھا، مگر موجودہ موسم نے ہمیں منصوبہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا اور ہم نے گھر پر ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<h2><a id="برفباری-کوئی-غیرمعمولی-بات-نہیں" href="#برفباری-کوئی-غیرمعمولی-بات-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’برفباری کوئی غیرمعمولی بات نہیں‘</h2>
<p>سعودی عرب کے ایک ممتاز ماہرِ فلکیات نے کہا ہے کہ موسمِ سرما میں اس نوعیت کی برفباری غیرمعمولی نہیں۔ گلف نیوز کے مطابق محمد بن ردہ الثقفی نے بتایا کہ شمالی سعودی عرب میں ہر موسمِ سرما میں وقفے وقفے سے برفباری ہوتی ہے، اگرچہ اس کا کوئی مقررہ فلکیاتی چکر نہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق برفباری کا انحصار موسمی اور فضائی حالات میں تبدیلی پر ہوتا ہے اور عموماً یہ دسمبر سے فروری کے درمیان ریکارڈ کی جاتی ہے، خاص طور پر تبوک، الجوف اور عرعر جیسے علاقوں میں جو بحیرہ روم کے موسمی نظام سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جبل اللوز، العلقان اور الظہر تبوک میں، سکاکا اور دومت الجندل الجوف میں، عرعر شمالی سرحدی علاقے میں، جبل اجا اور جبل سلمی حائل میں، اور عسیر کے بلند علاقوں میں برفباری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے گاڑی چلانے والوں اور سیاحوں کو پھسلن والی سڑکوں اور کم حدِ نگاہ کے باعث احتیاط برتنے کی ہدایت کی اور ٹریفک قوانین پر عمل کرنے پر زور دیا تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274872</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 15:06:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/19150115c4a7bdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/19150115c4a7bdf.webp"/>
        <media:title>خراب موسم کے باعث سعودی دارالحکومت میں تمام اسکولوں کو آن لائن تعلیم پر منتقل کر دیا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں شدید سردی اور سیلاب سے 17 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274858/</link>
      <description>&lt;p&gt;شدید سردی اور سیلابی صورت حال غزہ میں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پابندیاں محصور علاقے میں لوگوں تک جان بچانے والی عارضی رہائش اور پناہ سے متعلق امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں مسلسل بارش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے باعث بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی مراکز میں سے 90 فیصد پانی میں ڈوب چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں شدید سردی کے نتیجے میں اب تک 17 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیسف کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے جاری شدید بارش کے بعد جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو جانے والے خاندانوں کو اپنے بچوں کو گرم اور خشک رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں شدید بارش اور تیز ہواؤں نے پہلے ہی مشکل حالات کو مزید بدتر بنا دیا ہے، عارضی خیموں میں رہنے والے لاکھوں بچے اب جان لیوا بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں تقریباً دس لاکھ افراد ایسے خیموں میں رہ رہے ہیں جو سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب طور پر مضبوط اور محفوظ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/18114653edc2500.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/18114653edc2500.webp'  alt='غزہ میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا ہے۔ تصویر رائٹرز۔' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غزہ میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا ہے۔ تصویر رائٹرز۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والی عمارتوں کے بارشوں کی وجہ سے منہدم ہونے سے ان میں پناہ لینے والے کئی افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی بگڑتی صورتحال کے بعد سول ڈیفنس تنظیم نے عالمی برادری سے فوری کارروائی اور امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سیلابی پانی نے رہائشیوں کے خیموں کو ڈبو دیا ہے۔ یہ خیمے ہزاروں خاندانوں کے لیے عارضی رہائش ہیں۔ لوگوں کے کپڑے، گدے اور کمبل بھیگ چکے ہیں۔ اس علاقے میں انسانی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شدید سردی اور سیلابی صورت حال غزہ میں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پابندیاں محصور علاقے میں لوگوں تک جان بچانے والی عارضی رہائش اور پناہ سے متعلق امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔</p>
<p>غزہ میں مسلسل بارش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے باعث بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی مراکز میں سے 90 فیصد پانی میں ڈوب چکے ہیں۔</p>
<p>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں شدید سردی کے نتیجے میں اب تک 17 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یونیسف کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے جاری شدید بارش کے بعد جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو جانے والے خاندانوں کو اپنے بچوں کو گرم اور خشک رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں شدید بارش اور تیز ہواؤں نے پہلے ہی مشکل حالات کو مزید بدتر بنا دیا ہے، عارضی خیموں میں رہنے والے لاکھوں بچے اب جان لیوا بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں تقریباً دس لاکھ افراد ایسے خیموں میں رہ رہے ہیں جو سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب طور پر مضبوط اور محفوظ نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/18114653edc2500.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/18114653edc2500.webp'  alt='غزہ میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا ہے۔ تصویر رائٹرز۔' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غزہ میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا ہے۔ تصویر رائٹرز۔</figcaption>
    </figure>
<hr />
<p>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والی عمارتوں کے بارشوں کی وجہ سے منہدم ہونے سے ان میں پناہ لینے والے کئی افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔</p>
<p>غزہ کی بگڑتی صورتحال کے بعد سول ڈیفنس تنظیم نے عالمی برادری سے فوری کارروائی اور امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سیلابی پانی نے رہائشیوں کے خیموں کو ڈبو دیا ہے۔ یہ خیمے ہزاروں خاندانوں کے لیے عارضی رہائش ہیں۔ لوگوں کے کپڑے، گدے اور کمبل بھیگ چکے ہیں۔ اس علاقے میں انسانی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274858</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 11:51:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/18114128718b674.webp" type="image/webp" medium="image" height="731" width="1300">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/18114128718b674.webp"/>
        <media:title>ایک ضعیف خاتون غزہ میں بارش سے متاثرہ اپنے شیلٹر کے اندر اداس بیٹھی ہوئی ہیں۔ تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں ’اسٹیبلائزیشن فورس‘کی تعیناتی نئے سال کے آغاز میں ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274817/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق، غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے اختیار کے تحت ایک عالمی استحکامی فورس (اسٹیبلائزیشن فورس) تعینات کی جا سکتی ہے، جس میں بین الاقوامی فوجی دستے شامل ہوں گے، اور اس کی تعیناتی ممکنہ طور پر اگلے ماہ ہی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس بات پر ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ حماس کو غیر مسلح کیسے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960869"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک امریکی ٹو اسٹار جنرل کو اس فورس کی قیادت کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فورس کی تعیناتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا ایک اہم حصہ ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت دو سالہ جنگ میں ایک عاضی جنگ بندی کا آغاز 10 اکتوبر کو ہوا، جس کے بعد حماس نے یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیل نے زیرِ حراست فلسطینیوں کو آزادی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ “امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے اس وقت پسِ پردہ کافی خاموش منصوبہ بندی جاری ہے۔ ہم ایک دیرپا اور مستقل امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں صحت اور تعمیر نو سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے 20 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشی وزارتِ دفاع کے ترجمان ریکو سریات نے کہا کہ “یہ معاملہ ابھی منصوبہ بندی اور تیاری کے مراحل میں ہے۔ ہم تعینات کی جانے والی فورس کے تنظیمی ڈھانچے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" href="#غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غزہ کو غیر فوجی بنانے کا عمل&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بین الاقوامی استحکامی فورس کو اجازت دی ہے کہ وہ نئی تربیت یافتہ اور جانچ پڑتال سے گزرنے والی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی کو مستحکم کرے۔ اس میں غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے کا عمل شامل ہے، جس کے تحت عسکری، دہشت گرد اور ان کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا، ان کی دوبارہ تعمیر کو روکنا، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ عمل عملی طور پر کیسے انجام دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے جمعرات کو کہا کہ سلامتی کونسل نے اس فورس کو غزہ کو غیر فوجی بنانے کے لیے ہر ضروری ذریعے، بشمول طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ “یقیناً یہ ہر ملک کے ساتھ بات چیت کا موضوع ہو گا،” اور کہا کہ فورس کے قواعدِ کار (Rules of Engagement) پر مشاورت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس سے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر ثالثوں امریکا، مصر اور قطر  نے باضابطہ طور پر کوئی بات نہیں کی، اور تنظیم کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" href="#یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ادھر جمعے کو آٹھ مسلم اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان پر سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ ان ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ “اقوامِ متحدہ کا فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ادارہ (یو این آر ڈبلیو اے) فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے امور کی دیکھ بھال میں ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یو این آر ڈبلیو اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق، غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے اختیار کے تحت ایک عالمی استحکامی فورس (اسٹیبلائزیشن فورس) تعینات کی جا سکتی ہے، جس میں بین الاقوامی فوجی دستے شامل ہوں گے، اور اس کی تعیناتی ممکنہ طور پر اگلے ماہ ہی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس بات پر ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ حماس کو غیر مسلح کیسے کیا جائے گا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1960869"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک امریکی ٹو اسٹار جنرل کو اس فورس کی قیادت کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p>اس فورس کی تعیناتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا ایک اہم حصہ ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت دو سالہ جنگ میں ایک عاضی جنگ بندی کا آغاز 10 اکتوبر کو ہوا، جس کے بعد حماس نے یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیل نے زیرِ حراست فلسطینیوں کو آزادی دی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ “امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے اس وقت پسِ پردہ کافی خاموش منصوبہ بندی جاری ہے۔ ہم ایک دیرپا اور مستقل امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔”</p>
<p>انڈونیشیا نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں صحت اور تعمیر نو سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے 20 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>انڈونیشی وزارتِ دفاع کے ترجمان ریکو سریات نے کہا کہ “یہ معاملہ ابھی منصوبہ بندی اور تیاری کے مراحل میں ہے۔ ہم تعینات کی جانے والی فورس کے تنظیمی ڈھانچے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔”</p>
<h2><a id="غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" href="#غزہ-کو-غیر-فوجی-بنانے-کا-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غزہ کو غیر فوجی بنانے کا عمل</h2>
<p>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بین الاقوامی استحکامی فورس کو اجازت دی ہے کہ وہ نئی تربیت یافتہ اور جانچ پڑتال سے گزرنے والی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی کو مستحکم کرے۔ اس میں غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے کا عمل شامل ہے، جس کے تحت عسکری، دہشت گرد اور ان کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا، ان کی دوبارہ تعمیر کو روکنا، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنانا شامل ہے۔</p>
<p>تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ عمل عملی طور پر کیسے انجام دیا جائے گا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے جمعرات کو کہا کہ سلامتی کونسل نے اس فورس کو غزہ کو غیر فوجی بنانے کے لیے ہر ضروری ذریعے، بشمول طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ “یقیناً یہ ہر ملک کے ساتھ بات چیت کا موضوع ہو گا،” اور کہا کہ فورس کے قواعدِ کار (Rules of Engagement) پر مشاورت جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس سے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر ثالثوں امریکا، مصر اور قطر  نے باضابطہ طور پر کوئی بات نہیں کی، اور تنظیم کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔</p>
<h2><a id="یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" href="#یو-این-آر-ڈبلیو-اے-کی-حمایت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت</h2>
<p>ادھر جمعے کو آٹھ مسلم اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔</p>
<p>بیان پر سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ ان ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ “اقوامِ متحدہ کا فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ادارہ (یو این آر ڈبلیو اے) فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے امور کی دیکھ بھال میں ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے۔”</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یو این آر ڈبلیو اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274817</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 13:16:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131314343dfa172.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131314343dfa172.webp"/>
        <media:title>فلسطینی تباہ شدہ ملبے کے درمیان بنے راستے سے گزر رہے ہیں۔ تصویر رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم ممالک کے اعتراض پر ٹونی بلیئر کو ’غزہ امن کونسل‘ سے ہٹا دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274759/</link>
      <description>&lt;p&gt;عرب اور مسلم ممالک نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے کردار پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں انہیں غزہ کے انتظام کے لیے تجویز کردہ ’امن کونسل‘ سے ہٹا دیا گیا ہے، اب متوقع ہے کہ وہ اس کے بجائے ایک چھوٹی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈل ایسٹ مانیٹر کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.middleeastmonitor.com/20251209-tony-blair-dropped-from-trumps-proposed-peace-council-for-gaza-after-regional-objections/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہودی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ ٹونی بلیئر اب اس کونسل کی رکنیت کے لیے زیرِ غور نہیں ہیں، جس کی تجویز امریکی صدر &lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ&lt;/strong&gt; نے دی تھی، یہ معلومات ان لوگوں سے حاصل ہوئی ہیں جو بات چیت سے واقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹونی بلیئر واحد عوامی طور پر منسلک شخصیت تھے، جب ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے بعد انتظام کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ٹرمپ نے بلیئر کو ایک مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270317'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270317"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بلیئر نے بھی اس کونسل میں خدمات انجام دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کی صدارت ٹرمپ کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے، ہفتے کے دن ریاستی ٹی وی چینل ’&lt;strong&gt;کان‘&lt;/strong&gt; نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم &lt;strong&gt;بنیامین نیتن یاہو&lt;/strong&gt; نے بلیئر کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی تھی، جس کا مقصد غزہ میں آنے والے دنوں کے انتظامات پر بات چیت کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات علاقے کے ’بعد کے دنوں‘ کی منصوبہ بندی سے متعلق وسیع اقدامات کا حصہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حماس-کا-خیر-مقدم" href="#حماس-کا-خیر-مقدم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حماس کا خیر مقدم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ’پریس ٹی وی‘ نے رپورٹ کیا کہ حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ بلیئر کو ممکنہ طور پر ہٹانے کی رپورٹس حماس کی اس بات سے ہم آہنگ ہیں کہ وہ بار بار ثالثوں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں غزہ سے متعلق کسی بھی ادارے میں شامل نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270135'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270135"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلیئر اب بھی کسی کم مرکزی کردار میں رہ سکتے ہیں، لیکن بلیئر کے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;النونو نے دوہرایا کہ یہ تحریک ’طویل مدتی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیلی حکومت مکمل جنگ بندی کی تمام شرائط کو پورا کرے، جسے تل ابیب نے اب تک واضح طور پر کئی بار توڑ دیا ہے، حالاں کہ اکتوبر کے شروع میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے عہدیدار نے یہ بھی زور دیا کہ کسی بھی منصوبے میں بین الاقوامی فورس کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ’مسترد کیا گیا ہے اور کبھی زیرِ بحث نہیں آیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی موجودگی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ملی، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ تحریک کا ماننا ہے کہ ممالک اس مشن پر متفق نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عرب اور مسلم ممالک نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے کردار پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں انہیں غزہ کے انتظام کے لیے تجویز کردہ ’امن کونسل‘ سے ہٹا دیا گیا ہے، اب متوقع ہے کہ وہ اس کے بجائے ایک چھوٹی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>مڈل ایسٹ مانیٹر کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.middleeastmonitor.com/20251209-tony-blair-dropped-from-trumps-proposed-peace-council-for-gaza-after-regional-objections/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہودی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ ٹونی بلیئر اب اس کونسل کی رکنیت کے لیے زیرِ غور نہیں ہیں، جس کی تجویز امریکی صدر <strong>ڈونلڈ ٹرمپ</strong> نے دی تھی، یہ معلومات ان لوگوں سے حاصل ہوئی ہیں جو بات چیت سے واقف ہیں۔</p>
<p>ٹونی بلیئر واحد عوامی طور پر منسلک شخصیت تھے، جب ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے بعد انتظام کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ٹرمپ نے بلیئر کو ایک مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270317'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270317"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بلیئر نے بھی اس کونسل میں خدمات انجام دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کی صدارت ٹرمپ کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے، ہفتے کے دن ریاستی ٹی وی چینل ’<strong>کان‘</strong> نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم <strong>بنیامین نیتن یاہو</strong> نے بلیئر کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی تھی، جس کا مقصد غزہ میں آنے والے دنوں کے انتظامات پر بات چیت کرنا تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات علاقے کے ’بعد کے دنوں‘ کی منصوبہ بندی سے متعلق وسیع اقدامات کا حصہ تھی۔</p>
<h1><a id="حماس-کا-خیر-مقدم" href="#حماس-کا-خیر-مقدم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حماس کا خیر مقدم</h1>
<p>ایران کے ’پریس ٹی وی‘ نے رپورٹ کیا کہ حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ بلیئر کو ممکنہ طور پر ہٹانے کی رپورٹس حماس کی اس بات سے ہم آہنگ ہیں کہ وہ بار بار ثالثوں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں غزہ سے متعلق کسی بھی ادارے میں شامل نہ کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270135'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270135"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلیئر اب بھی کسی کم مرکزی کردار میں رہ سکتے ہیں، لیکن بلیئر کے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>النونو نے دوہرایا کہ یہ تحریک ’طویل مدتی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیلی حکومت مکمل جنگ بندی کی تمام شرائط کو پورا کرے، جسے تل ابیب نے اب تک واضح طور پر کئی بار توڑ دیا ہے، حالاں کہ اکتوبر کے شروع میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔</p>
<p>حماس کے عہدیدار نے یہ بھی زور دیا کہ کسی بھی منصوبے میں بین الاقوامی فورس کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ’مسترد کیا گیا ہے اور کبھی زیرِ بحث نہیں آیا‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی موجودگی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ملی، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ تحریک کا ماننا ہے کہ ممالک اس مشن پر متفق نہیں ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274759</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 15:29:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09152711e013841.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09152711e013841.webp"/>
        <media:title>حماس کو غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی موجودگی کے مینڈیٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ملی۔ — فوٹو: دی ٹائم
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں،جب تک اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہ ہو، قطری وزیراعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274692/</link>
      <description>&lt;p&gt;قطر کے وزیرِاعظم  شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ گزشتہ تقریبا دو ماہ سے جاری غزہ جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جائے گی جب تک امریکی اور اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج فلسطینی علاقے سے واپس نہیں چلی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق خلیجی ریاست کے دارالحکومت میں ہونے والا سالانہ سفارتی اجلاس دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ ہم اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں، جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا نہ ہو جائے اور غزہ میں استحکام بحال نہ ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا، مصر اور قطر نے مل کر غزہ میں طویل عرصے سے مطلوب جنگ بندی کرائی تھی، جو 10 اکتوبر سے نافذ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے دوسرے مرحلے( جو ابھی شروع ہونا باقی ہے) میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے دستبردار ہونا ہے، عبوری انتظامیہ نے حکمرانی سنبھالنی ہے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعینات کی جانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب اور مسلمان ممالک نئی فورس میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ امکان ہے کہ اس فورس کو فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہکان فدان نے بھی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس فورس کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس کی کمانڈ اسٹرکچر اور کن ممالک کی شمولیت ہوگی یہ بنیادی سوالات اب بھی حل طلب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فدان نے کہا کہ فورس کا پہلا ہدف ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے الگ کرے، یہ ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، پھر باقی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 نکاتی منصوبے کے تحت جس کا خاکہ سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا تھا، حماس کو بھی غیر مسلح ہونا ہوگا، جو ارکان اپنے ہتھیار ڈال دیں گے انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی، تاہم گروہ نے بارہا اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پائیدار-حل" href="#پائیدار-حل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;‘پائیدار حل’&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس استحکام فورس میں شامل ہونا چاہتا ہے، مگر اسرائیل نے اس تجویز کو ناپسندیدگی سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک انقرہ حماس کے بہت قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فدان نے کہا کہ میری رائے میں اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد قابلِ عمل راستہ یہی ہے کہ امن مذاکرات میں مخلصانہ اور بھرپور طریقے سے شامل ہوا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نےکہا کہ قطر اور جنگ بندی کے دیگر ضامن  ترکیہ، مصر اور امریکا آئندہ مرحلے کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور اگلا مرحلہ بھی ہماری نظر میں محض عارضی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف گزشتہ دو برس کے واقعات کو حل کر رہے ہیں تو یہ کافی نہیں، انہوں نے دونوں قوموں کے لیے انصاف پر مبنی پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے فورم کے موقع پر قطری وزیراعظم سے ملاقات کی تاکہ جنگ بندی سے متعلق امور پر بات چیت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اس ملاقات میں غزہ کی زمینی صورتحال پر گفتگو ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے شرم الشیخ امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے 5 ہزار پولیس اہلکاروں کو تربیت دے گا اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو استحکام فورس میں اپنے دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قطر کے وزیرِاعظم  شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ گزشتہ تقریبا دو ماہ سے جاری غزہ جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جائے گی جب تک امریکی اور اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج فلسطینی علاقے سے واپس نہیں چلی جاتی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق خلیجی ریاست کے دارالحکومت میں ہونے والا سالانہ سفارتی اجلاس دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ ہم اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں، جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا نہ ہو جائے اور غزہ میں استحکام بحال نہ ہو جائے۔</p>
<p>امریکا، مصر اور قطر نے مل کر غزہ میں طویل عرصے سے مطلوب جنگ بندی کرائی تھی، جو 10 اکتوبر سے نافذ ہے۔</p>
<p>معاہدے کے دوسرے مرحلے( جو ابھی شروع ہونا باقی ہے) میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے دستبردار ہونا ہے، عبوری انتظامیہ نے حکمرانی سنبھالنی ہے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعینات کی جانی ہے۔</p>
<p>عرب اور مسلمان ممالک نئی فورس میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ امکان ہے کہ اس فورس کو فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہکان فدان نے بھی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس فورس کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس کی کمانڈ اسٹرکچر اور کن ممالک کی شمولیت ہوگی یہ بنیادی سوالات اب بھی حل طلب ہیں۔</p>
<p>فدان نے کہا کہ فورس کا پہلا ہدف ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے الگ کرے، یہ ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، پھر باقی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>20 نکاتی منصوبے کے تحت جس کا خاکہ سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا تھا، حماس کو بھی غیر مسلح ہونا ہوگا، جو ارکان اپنے ہتھیار ڈال دیں گے انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی، تاہم گروہ نے بارہا اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔</p>
<h1><a id="پائیدار-حل" href="#پائیدار-حل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>‘پائیدار حل’</h1>
<p>ترکیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس استحکام فورس میں شامل ہونا چاہتا ہے، مگر اسرائیل نے اس تجویز کو ناپسندیدگی سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک انقرہ حماس کے بہت قریب ہے۔</p>
<p>فدان نے کہا کہ میری رائے میں اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد قابلِ عمل راستہ یہی ہے کہ امن مذاکرات میں مخلصانہ اور بھرپور طریقے سے شامل ہوا جائے۔</p>
<p>شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نےکہا کہ قطر اور جنگ بندی کے دیگر ضامن  ترکیہ، مصر اور امریکا آئندہ مرحلے کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور اگلا مرحلہ بھی ہماری نظر میں محض عارضی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف گزشتہ دو برس کے واقعات کو حل کر رہے ہیں تو یہ کافی نہیں، انہوں نے دونوں قوموں کے لیے انصاف پر مبنی پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>مصر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے فورم کے موقع پر قطری وزیراعظم سے ملاقات کی تاکہ جنگ بندی سے متعلق امور پر بات چیت کی جا سکے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اس ملاقات میں غزہ کی زمینی صورتحال پر گفتگو ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے شرم الشیخ امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے 5 ہزار پولیس اہلکاروں کو تربیت دے گا اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو استحکام فورس میں اپنے دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274692</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Dec 2025 19:08:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/06190639f58a049.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/06190639f58a049.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلسطینی سول سوسائٹی پر اسرائیلی کریک ڈاؤن تشویشناک سطح پر پہنچ گیا، اقوام متحدہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274641/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر ) نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی تنظیم یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز (یو اے ڈبلیو سی ) پر اسرائیلی چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی سول سوسائٹی پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے رام اللہ اور الخلیل (ہیبرون) میں تنظیم کے دفاتر پر چھاپے مارے، املاک کو نقصان پہنچایا اور عملے کے ارکان کو حراست میں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر ) کے مطابق عمارتوں میں موجود افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں، ہاتھ باندھ کر انہیں کئی گھنٹوں تک گھٹنوں کے بل یا زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا اور 8 افراد کو حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یونین، جو فلسطینی قانون کے تحت رجسٹرڈ ہے، کئی دہائیوں سے کسانوں اور دیہی برادریوں خاص طور پر اُن لوگوں کی جو آبادکاروں کی تشدد آمیز سرگرمیوں یا جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں کی مدد کر رہی ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنظیم اُن چھ فلسطینی این جی اوز میں شامل ہے جنہیں اسرائیلی حکام نے 2021 میں دہشت گرد قرار دیا تھا ایسے قانون کے تحت جسے اقوامِ متحدہ حد سے زیادہ وسیع اور سول سوسائٹی پر غیر ضروری و بلاجواز پابندیاں عائد کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے دفتر نے زور دیا کہ اسرائیل نے ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔چھاپہ ایسے وقت میں مارا گیا جب کئی ہفتوں سے اسرائیلی آبادکاروں اور اُن کے رہنماؤں کی جانب سے زیتون کی فصل کی تیاری کے موقع پر یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز کو نشانہ بناتے ہوئے ہراسانی اور عوامی اشتعال انگیزی جاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر کے وسط تک او ایچ سی ایچ آر نے 167 آبادکار حملوں کے دستاویزی ثبوت مرتب کئے جو 87 فلسطینی کمیونٹیز کو متاثر کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم اکتوبر سے اقوامِ متحدہ کے دفتر نے آبادکاروں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کے محافظین، حفاظتی نگرانی فراہم کرنے والے رضاکاروں، اور اُن این جی اوز کے خلاف 81 خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیاہے جو آبادکاروں کے تشدد یا آباد کاری میں توسیع سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں گرفتاری کے 48 اور جسمانی تشدد کے 22 واقعات شامل ہیں۔او ایچ سی ایچ آر کے مطابق غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کا استعمال، حراست اور بدسلوکی مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی آپریشنز کا معمول بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا کہ مجموعی طور پر یہ صورتحال فلسطینیوں کی جسمانی اور شہری آزادیوں کو تیزی سے محدود کر رہی ہے، خاص طور پر جب آبادکاری میں توسیع جاری ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اس علاقے کا ’’غیر قانونی انضمام‘‘بڑھتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں او ایچ سی ایچ آر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ بین الاقوامی قانونی مؤقف بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرنی چاہیے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کے مطابق تمام یہودی آبادکاروں کووہاں سے نکالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کے تحت واضح ذمہ داریاں ہیں جن میں فلسطینیوں کے روزگار کے حق اور اظہارِ رائے و وابستگی کی آزادی کا احترام اور تحفظ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر ) نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی تنظیم یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز (یو اے ڈبلیو سی ) پر اسرائیلی چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی سول سوسائٹی پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے رام اللہ اور الخلیل (ہیبرون) میں تنظیم کے دفاتر پر چھاپے مارے، املاک کو نقصان پہنچایا اور عملے کے ارکان کو حراست میں لیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر ) کے مطابق عمارتوں میں موجود افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں، ہاتھ باندھ کر انہیں کئی گھنٹوں تک گھٹنوں کے بل یا زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا اور 8 افراد کو حراست میں لیا گیا۔</p>
<p>یہ یونین، جو فلسطینی قانون کے تحت رجسٹرڈ ہے، کئی دہائیوں سے کسانوں اور دیہی برادریوں خاص طور پر اُن لوگوں کی جو آبادکاروں کی تشدد آمیز سرگرمیوں یا جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں کی مدد کر رہی ہے ۔</p>
<p>یہ تنظیم اُن چھ فلسطینی این جی اوز میں شامل ہے جنہیں اسرائیلی حکام نے 2021 میں دہشت گرد قرار دیا تھا ایسے قانون کے تحت جسے اقوامِ متحدہ حد سے زیادہ وسیع اور سول سوسائٹی پر غیر ضروری و بلاجواز پابندیاں عائد کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کے دفتر نے زور دیا کہ اسرائیل نے ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔چھاپہ ایسے وقت میں مارا گیا جب کئی ہفتوں سے اسرائیلی آبادکاروں اور اُن کے رہنماؤں کی جانب سے زیتون کی فصل کی تیاری کے موقع پر یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز کو نشانہ بناتے ہوئے ہراسانی اور عوامی اشتعال انگیزی جاری تھی۔</p>
<p>نومبر کے وسط تک او ایچ سی ایچ آر نے 167 آبادکار حملوں کے دستاویزی ثبوت مرتب کئے جو 87 فلسطینی کمیونٹیز کو متاثر کر رہے تھے۔</p>
<p>یکم اکتوبر سے اقوامِ متحدہ کے دفتر نے آبادکاروں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کے محافظین، حفاظتی نگرانی فراہم کرنے والے رضاکاروں، اور اُن این جی اوز کے خلاف 81 خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیاہے جو آبادکاروں کے تشدد یا آباد کاری میں توسیع سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کرتی ہیں۔</p>
<p>ان میں گرفتاری کے 48 اور جسمانی تشدد کے 22 واقعات شامل ہیں۔او ایچ سی ایچ آر کے مطابق غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کا استعمال، حراست اور بدسلوکی مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی آپریشنز کا معمول بن چکا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا کہ مجموعی طور پر یہ صورتحال فلسطینیوں کی جسمانی اور شہری آزادیوں کو تیزی سے محدود کر رہی ہے، خاص طور پر جب آبادکاری میں توسیع جاری ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اس علاقے کا ’’غیر قانونی انضمام‘‘بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
<p>مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں او ایچ سی ایچ آر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ بین الاقوامی قانونی مؤقف بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرنی چاہیے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کے مطابق تمام یہودی آبادکاروں کووہاں سے نکالنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کے تحت واضح ذمہ داریاں ہیں جن میں فلسطینیوں کے روزگار کے حق اور اظہارِ رائے و وابستگی کی آزادی کا احترام اور تحفظ شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274641</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 17:28:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/041728061015dac.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/041728061015dac.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران: میراتھن میں خواتین کی حجاب کے بغیر تصاویر سامنے آنے پر 2 منتظمین گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274711/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایرانی حکام نے ہفتے کے روز کش جزیرے پر ہونے والی ایک میراتھن کے دو منتظمین کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے، اس سے قبل مقابلے کی ایسی خواتین کی تصاویر سامنے آئی تھیں، جنہوں نے حجاب کے بغیر مقابلے میں حصہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے عدالتی حکام کو قدامت پسندوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، کیوں کہ وہ خواتین کے لیے لازمی حجاب کے قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور مغربی اثر و رسوخ کے بڑھنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں حالیہ برسوں میں خواتین نے، خاص طور پر 2022 میں ہونے والے ملک گیر احتجاجات کے بعد حجاب کے قانون کو بڑھتے ہوئے نظرانداز کیا ہے، جب کہ سپریم لیڈر کے دفتر کو پچھلے ہفتے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں مارے جانے والی ایک بے حجاب خاتون کی تصویر شائع کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ہونے والی میراتھن کی تصاویر میں دکھایا گیا کہ متعدد دوڑنے والے شرکا اسلامی جمہوریہ کے خواتین کے لیے سخت لباس کے قواعد کی پیروی نہیں کر رہے تھے، جو 1980 کی دہائی کے اوائل میں قانون کے طور پر نافذ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274582'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274582"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ کی مِیزان آن لائن ویب سائٹ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ مقابلے کے دو اہم منتظمین کو وارنٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، یہ میراتھن کے ایک دن بعد کی خبر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کش فری زون کا ایک افسر ہے، اور دوسرا وہ شخص ہے جو اس دوڑ کا انتظام کرنے والی نجی کمپنی میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 5 ہزار افراد نے اس دوڑ میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ دوڑ کے منتظمین کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ کھولا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی پراسیکیوٹر کا حوالہ دیتے ہوئے مِیزان آن لائن نے کہا کہ ملک کے موجودہ قوانین اور ضوابط کے مطابق عمل کرنے کی پچھلی وارننگز کے باوجود، نیز مذہبی، روایتی اور پیشہ ورانہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ ایونٹ اس طریقے سے منعقد کیا گیا کہ عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ جو خلاف ورزیاں ہوئیں اور قوانین و ضوابط کی بنیاد پر اس ایونٹ کے منتظمین اور ایجنٹس کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مذمت" href="#مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مذمت&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;قدامت پسندوں کے حمایتی میڈیا اداروں بشمول تسنیم اور فارس نے اس میراتھن کو غیر مہذب اور 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد نافذ ہونے والے اسلامی قوانین کی توہین قرار دیا، جو امریکی حمایت یافتہ بادشاہ کو معزول کرنے کے بعد شروع ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں خواتین کو اپنے بال ڈھانپنے اور عوام میں مناسب، ڈھیلے لباس پہننے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1247817'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن 2022 میں احتجاجات کے بعد، جو مہسا امینی نامی نوجوان کرد خاتون کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے، حجاب کے قوانین پر عملدرآمد میں غیر معمولی طور پر کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے کے آغاز میں، اکثریتی ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حجاب کے قانون کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس غلام حسین محسنی اجے نے بعد میں سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں ایرانی حکومت نے اس بل کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا ہے جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا اور جس میں خواتین کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں جو لباس کے ضابطے کی پیروی نہیں کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2023 میں، ایران کی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا تھا، جب خواتین بغیر حجاب کے جنوبی شہر شیراز میں ایک کھیلوں کے ایونٹ میں شریک ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایرانی حکام نے ہفتے کے روز کش جزیرے پر ہونے والی ایک میراتھن کے دو منتظمین کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے، اس سے قبل مقابلے کی ایسی خواتین کی تصاویر سامنے آئی تھیں، جنہوں نے حجاب کے بغیر مقابلے میں حصہ لیا تھا۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے عدالتی حکام کو قدامت پسندوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، کیوں کہ وہ خواتین کے لیے لازمی حجاب کے قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور مغربی اثر و رسوخ کے بڑھنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایران میں حالیہ برسوں میں خواتین نے، خاص طور پر 2022 میں ہونے والے ملک گیر احتجاجات کے بعد حجاب کے قانون کو بڑھتے ہوئے نظرانداز کیا ہے، جب کہ سپریم لیڈر کے دفتر کو پچھلے ہفتے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں مارے جانے والی ایک بے حجاب خاتون کی تصویر شائع کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>جمعہ کو ہونے والی میراتھن کی تصاویر میں دکھایا گیا کہ متعدد دوڑنے والے شرکا اسلامی جمہوریہ کے خواتین کے لیے سخت لباس کے قواعد کی پیروی نہیں کر رہے تھے، جو 1980 کی دہائی کے اوائل میں قانون کے طور پر نافذ کیے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274582'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274582"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدلیہ کی مِیزان آن لائن ویب سائٹ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ مقابلے کے دو اہم منتظمین کو وارنٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، یہ میراتھن کے ایک دن بعد کی خبر تھی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کش فری زون کا ایک افسر ہے، اور دوسرا وہ شخص ہے جو اس دوڑ کا انتظام کرنے والی نجی کمپنی میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 5 ہزار افراد نے اس دوڑ میں شرکت کی۔</p>
<p>عدلیہ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ دوڑ کے منتظمین کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ کھولا گیا ہے۔</p>
<p>مقامی پراسیکیوٹر کا حوالہ دیتے ہوئے مِیزان آن لائن نے کہا کہ ملک کے موجودہ قوانین اور ضوابط کے مطابق عمل کرنے کی پچھلی وارننگز کے باوجود، نیز مذہبی، روایتی اور پیشہ ورانہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ ایونٹ اس طریقے سے منعقد کیا گیا کہ عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہوئی۔</p>
<p>پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ جو خلاف ورزیاں ہوئیں اور قوانین و ضوابط کی بنیاد پر اس ایونٹ کے منتظمین اور ایجنٹس کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔</p>
<h1><a id="مذمت" href="#مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مذمت</strong></h1>
<p>قدامت پسندوں کے حمایتی میڈیا اداروں بشمول تسنیم اور فارس نے اس میراتھن کو غیر مہذب اور 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد نافذ ہونے والے اسلامی قوانین کی توہین قرار دیا، جو امریکی حمایت یافتہ بادشاہ کو معزول کرنے کے بعد شروع ہوئے تھے۔</p>
<p>ایران میں خواتین کو اپنے بال ڈھانپنے اور عوام میں مناسب، ڈھیلے لباس پہننے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1247817'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن 2022 میں احتجاجات کے بعد، جو مہسا امینی نامی نوجوان کرد خاتون کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے، حجاب کے قوانین پر عملدرآمد میں غیر معمولی طور پر کمی آئی ہے۔</p>
<p>اس ہفتے کے آغاز میں، اکثریتی ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حجاب کے قانون کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس غلام حسین محسنی اجے نے بعد میں سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں ایرانی حکومت نے اس بل کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا ہے جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا اور جس میں خواتین کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں جو لباس کے ضابطے کی پیروی نہیں کرتی ہیں۔</p>
<p>مئی 2023 میں، ایران کی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا تھا، جب خواتین بغیر حجاب کے جنوبی شہر شیراز میں ایک کھیلوں کے ایونٹ میں شریک ہوئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274711</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 15:50:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/071540393a7ceca.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/071540393a7ceca.webp"/>
        <media:title>ایران میں خواتین کو اپنے بال ڈھانپنے اور عوام میں مناسب، ڈھیلے لباس پہننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ —فوٹو: فرانس 24
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274628/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد فلسطین کے سوال کے پرامن حل کے عنوان سے پیش کی گئی، جس کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا، 11 نے مخالفت کی، جب کہ 11 ممالک ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے تمام اہم معاملات پر قابلِ اعتماد مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل اسمبلی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے، غیر قانونی قبضہ ختم کرے، نئی آبادکاری روکے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تمام یہودی آبادکاروں کو نکالے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;✅ Adopted&lt;a href="https://twitter.com/hashtag/UNGA?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;#UNGA&lt;/a&gt; resolution on the Peaceful settlement of the question of &lt;a href="https://twitter.com/hashtag/Palestine?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;#Palestine&lt;/a&gt;&lt;br&gt;&lt;br&gt;Read the full text here 🔗 &lt;a href="https://t.co/rHuOqwucVa"&gt;https://t.co/rHuOqwucVa&lt;/a&gt;&lt;br&gt;&lt;br&gt;The resolution was adopted by recorded vote: 151 in favour-11 against-11 abstentions ⤵️ &lt;a href="https://t.co/TgHGtqC2YT"&gt;pic.twitter.com/TgHGtqC2YT&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; UN Media Liaison (MALU) (@UNMediaLiaison) &lt;a href="https://twitter.com/UNMediaLiaison/status/1995973939512635874?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;December 2, 2025&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;قرارداد میں واضح کیا گیا کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا جغرافیائی تبدیلی کو مسترد کیا جاتا ہے اور غزہ و مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو 1967 سے قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حق یعنی حقِ خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ اسامہ افتخار احمد نے کہا کہ دنیا کو اپنے وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی، خود مختاری، امن اور انصاف کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسامہ افتخار نے زور دیا کہ غزہ میں سیزفائر کا مکمل نفاذ، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی کوئی جبری تبدیلی، تقسیم، الحاق یا جبری بے دخلی قابلِ قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad&lt;br&gt;Permanent Representative of Pakistan to the UN&lt;br&gt;At the General Assembly Debate on the Question of Palestine and Adoption of the Resolution on the “Peaceful Settlement of the Question of Palestine”&lt;br&gt;(2nd December 2025)&lt;br&gt;******&lt;br&gt;&lt;br&gt;Madam… &lt;a href="https://t.co/FWFnGbSswe"&gt;pic.twitter.com/FWFnGbSswe&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1995935734264725869?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;December 2, 2025&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ایک سیاسی راستہ ہی پائیدار امن لا سکتا ہے، یعنی 1967 کی سرحدوں پر ایک خودمختار، مکمل، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس الشریف) ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>قرارداد فلسطین کے سوال کے پرامن حل کے عنوان سے پیش کی گئی، جس کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا، 11 نے مخالفت کی، جب کہ 11 ممالک ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔</p>
<p>قرارداد میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے تمام اہم معاملات پر قابلِ اعتماد مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔</p>
<p>جنرل اسمبلی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے، غیر قانونی قبضہ ختم کرے، نئی آبادکاری روکے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تمام یہودی آبادکاروں کو نکالے۔</p>
<raw-html>
<blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">✅ Adopted<a href="https://twitter.com/hashtag/UNGA?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#UNGA</a> resolution on the Peaceful settlement of the question of <a href="https://twitter.com/hashtag/Palestine?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#Palestine</a><br><br>Read the full text here 🔗 <a href="https://t.co/rHuOqwucVa">https://t.co/rHuOqwucVa</a><br><br>The resolution was adopted by recorded vote: 151 in favour-11 against-11 abstentions ⤵️ <a href="https://t.co/TgHGtqC2YT">pic.twitter.com/TgHGtqC2YT</a></p>&mdash; UN Media Liaison (MALU) (@UNMediaLiaison) <a href="https://twitter.com/UNMediaLiaison/status/1995973939512635874?ref_src=twsrc%5Etfw">December 2, 2025</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>
</raw-html>
<p>قرارداد میں واضح کیا گیا کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا جغرافیائی تبدیلی کو مسترد کیا جاتا ہے اور غزہ و مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>قرارداد میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو 1967 سے قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حق یعنی حقِ خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔</p>
<p>بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ اسامہ افتخار احمد نے کہا کہ دنیا کو اپنے وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی، خود مختاری، امن اور انصاف کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>اسامہ افتخار نے زور دیا کہ غزہ میں سیزفائر کا مکمل نفاذ، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو ناگزیر ہیں۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی کوئی جبری تبدیلی، تقسیم، الحاق یا جبری بے دخلی قابلِ قبول نہیں۔</p>
<raw-html>
<blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad<br>Permanent Representative of Pakistan to the UN<br>At the General Assembly Debate on the Question of Palestine and Adoption of the Resolution on the “Peaceful Settlement of the Question of Palestine”<br>(2nd December 2025)<br>******<br><br>Madam… <a href="https://t.co/FWFnGbSswe">pic.twitter.com/FWFnGbSswe</a></p>&mdash; Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1995935734264725869?ref_src=twsrc%5Etfw">December 2, 2025</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>
</raw-html>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ایک سیاسی راستہ ہی پائیدار امن لا سکتا ہے، یعنی 1967 کی سرحدوں پر ایک خودمختار، مکمل، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس الشریف) ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274628</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 10:40:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/041037477b3fe0f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/041037477b3fe0f.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی عدالت کا 2022 کے احتجاج کی حمایت پر امریکا کو 22 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274582/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کی ایک عدالت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے 2022 میں ملک گیر احتجاج کی مبینہ حمایت کی تھی، اور اس سلسلے میں امریکا کو 22 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958876/iranian-court-demands-us-pay-22bn-for-backing-2022-protests"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ ستمبر 2022 میں ملک بھر میں احتجاج اس وقت پھوٹ پڑا تھا، جب 22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی کی حراست میں موت واقع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1214099'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہیں مبینہ طور پر اسلامی جمہوریہ کے خواتین کے لیے سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ کے ترجمان اصغر جاہنگیر نے ہفتہ وار کانفرنس میں کہا کہ امریکا کے نشانات ایران میں ہونے والے کئی جرائم میں واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں، جن میں 2022 کے خزان میں ہونے والے بدنما واقعات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تہران کی عدالت نے امریکی حکومت کو 2022 کے فسادیوں کو مادی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے بدلے 22 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امینی کی موت کے بعد کئی ماہ تک بدامنی جاری رہی، جس میں سینکڑوں افراد جن میں درجنوں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیاتھا،  کیوں کہ حکام نے ان مظاہروں کو قابو کرنے کی کوشش کی جنہیں وہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے بھڑکائے گئے فسادات قرار دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کی ایک عدالت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے 2022 میں ملک گیر احتجاج کی مبینہ حمایت کی تھی، اور اس سلسلے میں امریکا کو 22 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1958876/iranian-court-demands-us-pay-22bn-for-backing-2022-protests"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ ستمبر 2022 میں ملک بھر میں احتجاج اس وقت پھوٹ پڑا تھا، جب 22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی کی حراست میں موت واقع ہوئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1214099'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہیں مبینہ طور پر اسلامی جمہوریہ کے خواتین کے لیے سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
<p>عدلیہ کے ترجمان اصغر جاہنگیر نے ہفتہ وار کانفرنس میں کہا کہ امریکا کے نشانات ایران میں ہونے والے کئی جرائم میں واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں، جن میں 2022 کے خزان میں ہونے والے بدنما واقعات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تہران کی عدالت نے امریکی حکومت کو 2022 کے فسادیوں کو مادی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے بدلے 22 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>امینی کی موت کے بعد کئی ماہ تک بدامنی جاری رہی، جس میں سینکڑوں افراد جن میں درجنوں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیاتھا،  کیوں کہ حکام نے ان مظاہروں کو قابو کرنے کی کوشش کی جنہیں وہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے بھڑکائے گئے فسادات قرار دیتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274582</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 10:56:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/03104257f77f84a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/03104257f77f84a.webp"/>
        <media:title>ستمبر 2022 میں 22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں بڑھتی دلچسپی کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274541/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی سوچ سمجھ کر بنائی گئی مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کے واضح ہونے کے ساتھ ہی بے یقینی کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے سیکیورٹی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر سلامتی کے تعاون کے ذریعے سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے ظاہر ہوتی ہے جس میں ایک ‘عرب-اسلامی ٹاسک فورس’ کے قیام کی تجویز دی گئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں ان کی حمایت کرکے، غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اور قطر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش بھی پاکستان کی حکمت عملی میں نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269619'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی سرگرمیاں، اس کے لیے عالمی سطح پر متعلقہ رہنے کا اہم طریقہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے پاکستان نے کئی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی سیکیورٹی تعاون قائم کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر، فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری اور فضائی افسران کی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ، وہ شعبے ہیں جہاں اسلام آباد اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی عملی تعاون موجود رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان موجودہ ادارہ جاتی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرتے ہوئے اور نئے سیکیورٹی اقدامات شامل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سول اور عسکری قیادت میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ایک اہم اسٹریٹجک موقع اس وقت گنوا دیا تھا کہ  جب اس کی پارلیمنٹ نے سعودی قیادت میں یمن کے خلاف مہم میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اب یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کے اپنے فیصلے کی وجہ سے اس نے اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کی۔ غیرجانبداری کی پالیسی نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو کمزور کیا اور اسلام آباد کی ایک قابل اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی لیے پاکستان اپنے عرب شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے اسٹریٹجک اقدامات کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے خطے میں زیادہ سیکیورٹی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت یقینی بنائے گی کہ اسے مسلسل اقتصادی معاونت ملتی رہے اور ممکنہ مسلح تنازعے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ صورت حال کے دوران بھی تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سیکیورٹی کے میدان میں اس اعلیٰ کردار سے عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی اور دیگر عسکری تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فعال سیکیورٹی کوششیں واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ مثال کے طور پر پاک-سعودی معاہدہ اور اسلام آباد کی آئی ایس ایف میں شرکت واشنگٹن کو اس قابل بنائے گی کہ وہ خلیج کی سیکیورٹی کی کچھ ذمہ داریاں ایک مضبوط علاقائی شراکت دار پر منتقل کر دے کیونکہ اس سے پینٹاگون کی مستقل تعیناتی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی اتحادی کے طور پر خطے میں پاکستان کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ سلامتی کے ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔ ریاض کو دی جانے والی اسلام آباد کی سیکیورٹی یقین دہانیاں حوثیوں جیسے دشمن عناصر کو باز رہنے کا اشارہ دیں گی جبکہ یہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف اسٹریٹجک پراکسی مہم شروع کرنے سے روکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں توانائی کی فراہمی کے راستوں کی حفاظت کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی معاملات میں فعال کردار ادا کرکے اسلام آباد زیادہ قریب سے واشنگٹن کے اسٹریٹجک منصوبوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273083/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد پہلے ہی واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کو ترجیح دے چکا ہے۔ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو واشنگٹن نے پاکستان کی ترجیح کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اپنی پوزیشن پر قائم رہا لیکن وہ بائیڈن انتظامیہ کو قائل نہ کر سکا۔ تاہم ٹرمپ کے مثبت اشارے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہم آہنگی نے اسلام آباد کو دونوں بڑی طاقتوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں پاکستان خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہے۔ نئی دہلی کی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستان میں منفی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ہندو-عربی تعلقات کو نئی دہلی کی ایک کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے قابلِ اعتماد اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داروں سے محروم کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہ خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام حساب کے باوجود، اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار پیچیدہ اور کئی سطح پر محیط خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا باعث بھی بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے اسلام آباد عرب و خلیجی ممالک کو ایک یکساں (مونولیتھک) اکائی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایک ایسا نقطۂ نظر ہے کہ جس میں عیب ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کے مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حوالے سے منفرد پالیسیز اور حکمت عملی اپنائی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے عرب ممالک سعودی عرب کے خطے میں سیکیورٹی انفرااسٹرکچر پر اجارہ داری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ریاض کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ممکنہ طور پر کچھ چھوٹے عرب و خلیجی ممالک کے اسٹریٹجک مقادات کو متاثر کر سکتا ہے جوکہ پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں فعال کردار ادا کرنے سے اسلام آباد کی ایک ’غیر جانبدار‘ ریاست کے طور پر اپنی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے جو عرب و خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ قطر کے سفارتی بحران کے دوران کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم نہیں کرے گا۔ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی تل ابیب کو بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کرے گی جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چوتھا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے میں اثر و رسوخ اسی وقت بڑھ رہے ہیں کہ جب تہران 1979ء کے بعد کی کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایران کے اندر حالیہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے بھی ایران کے خطے میں عزائم کو کمزور کیا ہے تو موجودہ صورت حال میں ایران ممکنہ طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو کھلے عام چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر ایران خطے کی سیکیورٹی انفرااسٹرکچر میں دوبارہ بڑا اسٹریٹجک کردار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ ناگزیر طور پر پاکستان کی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دے گا۔ پاک-سعودی مشترکہ جوابی اقدامات حوثیوں کے خلاف ایران کے عزائم کو مزید غیر مستحکم کرسکتے ہیں جس سے اسلام آباد کو ایک ہمسایہ (ایران) اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار (سعودی عرب) کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل حوثیوں کی حالیہ کارروائی جس میں 24 پاکستانیوں کو لے جانے والی ایل پی جی بحری جہاز پر قبضہ کیا گیا، نے اسلام آباد-ریاض دفاعی معاہدے پر ان کی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ چانچہ اب اسلام آباد کو کیا انتخاب کرنا ہے، اس کا بہت احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان، مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تنازعات میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینے کے قابل ہے یا اس کے بجائے دور دراز کے اقتصادی شراکت دار بننے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ محفوظ ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958684"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی سوچ سمجھ کر بنائی گئی مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کے واضح ہونے کے ساتھ ہی بے یقینی کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے سیکیورٹی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر سلامتی کے تعاون کے ذریعے سامنے آئی ہے۔</p>
<p>یہ بات سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے ظاہر ہوتی ہے جس میں ایک ‘عرب-اسلامی ٹاسک فورس’ کے قیام کی تجویز دی گئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں ان کی حمایت کرکے، غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اور قطر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش بھی پاکستان کی حکمت عملی میں نمایاں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269619'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد کی مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی سرگرمیاں، اس کے لیے عالمی سطح پر متعلقہ رہنے کا اہم طریقہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟</p>
<p>سب سے پہلے پاکستان نے کئی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی سیکیورٹی تعاون قائم کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر، فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری اور فضائی افسران کی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ، وہ شعبے ہیں جہاں اسلام آباد اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی عملی تعاون موجود رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان موجودہ ادارہ جاتی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرتے ہوئے اور نئے سیکیورٹی اقدامات شامل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سول اور عسکری قیادت میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ایک اہم اسٹریٹجک موقع اس وقت گنوا دیا تھا کہ  جب اس کی پارلیمنٹ نے سعودی قیادت میں یمن کے خلاف مہم میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اب یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کے اپنے فیصلے کی وجہ سے اس نے اہم اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کی۔ غیرجانبداری کی پالیسی نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو کمزور کیا اور اسلام آباد کی ایک قابل اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی لیے پاکستان اپنے عرب شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے اسٹریٹجک اقدامات کرنے کے لیے پُرجوش ہے۔</p>
<p>دوسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے خطے میں زیادہ سیکیورٹی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت یقینی بنائے گی کہ اسے مسلسل اقتصادی معاونت ملتی رہے اور ممکنہ مسلح تنازعے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ صورت حال کے دوران بھی تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ سیکیورٹی کے میدان میں اس اعلیٰ کردار سے عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی اور دیگر عسکری تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔</p>
<p>تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فعال سیکیورٹی کوششیں واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔ مثال کے طور پر پاک-سعودی معاہدہ اور اسلام آباد کی آئی ایس ایف میں شرکت واشنگٹن کو اس قابل بنائے گی کہ وہ خلیج کی سیکیورٹی کی کچھ ذمہ داریاں ایک مضبوط علاقائی شراکت دار پر منتقل کر دے کیونکہ اس سے پینٹاگون کی مستقل تعیناتی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>روایتی اتحادی کے طور پر خطے میں پاکستان کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ سلامتی کے ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔ ریاض کو دی جانے والی اسلام آباد کی سیکیورٹی یقین دہانیاں حوثیوں جیسے دشمن عناصر کو باز رہنے کا اشارہ دیں گی جبکہ یہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف اسٹریٹجک پراکسی مہم شروع کرنے سے روکیں گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ، اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں توانائی کی فراہمی کے راستوں کی حفاظت کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی معاملات میں فعال کردار ادا کرکے اسلام آباد زیادہ قریب سے واشنگٹن کے اسٹریٹجک منصوبوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273083/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد پہلے ہی واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کو ترجیح دے چکا ہے۔ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو واشنگٹن نے پاکستان کی ترجیح کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اپنی پوزیشن پر قائم رہا لیکن وہ بائیڈن انتظامیہ کو قائل نہ کر سکا۔ تاہم ٹرمپ کے مثبت اشارے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہم آہنگی نے اسلام آباد کو دونوں بڑی طاقتوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرانے میں مدد دی۔</p>
<p>آخر میں پاکستان خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہے۔ نئی دہلی کی عرب خلیجی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستان میں منفی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ہندو-عربی تعلقات کو نئی دہلی کی ایک کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ کے قابلِ اعتماد اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داروں سے محروم کر دے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہ خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔</p>
<p>اس تمام حساب کے باوجود، اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار پیچیدہ اور کئی سطح پر محیط خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا باعث بھی بنے گا۔</p>
<p>سب سے پہلے اسلام آباد عرب و خلیجی ممالک کو ایک یکساں (مونولیتھک) اکائی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایک ایسا نقطۂ نظر ہے کہ جس میں عیب ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کے مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حوالے سے منفرد پالیسیز اور حکمت عملی اپنائی ہیں۔</p>
<p>چھوٹے عرب ممالک سعودی عرب کے خطے میں سیکیورٹی انفرااسٹرکچر پر اجارہ داری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ریاض کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ممکنہ طور پر کچھ چھوٹے عرب و خلیجی ممالک کے اسٹریٹجک مقادات کو متاثر کر سکتا ہے جوکہ پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات میں فعال کردار ادا کرنے سے اسلام آباد کی ایک ’غیر جانبدار‘ ریاست کے طور پر اپنی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے جو عرب و خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ قطر کے سفارتی بحران کے دوران کیا گیا تھا۔</p>
<p>تیسرا نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم نہیں کرے گا۔ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی تل ابیب کو بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کرے گی جو نئی دہلی کو پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چوتھا نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی ڈھانچے میں اثر و رسوخ اسی وقت بڑھ رہے ہیں کہ جب تہران 1979ء کے بعد کی کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایران کے اندر حالیہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے بھی ایران کے خطے میں عزائم کو کمزور کیا ہے تو موجودہ صورت حال میں ایران ممکنہ طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو کھلے عام چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم اگر ایران خطے کی سیکیورٹی انفرااسٹرکچر میں دوبارہ بڑا اسٹریٹجک کردار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ ناگزیر طور پر پاکستان کی سفارت کاری پر دباؤ بڑھا دے گا۔ پاک-سعودی مشترکہ جوابی اقدامات حوثیوں کے خلاف ایران کے عزائم کو مزید غیر مستحکم کرسکتے ہیں جس سے اسلام آباد کو ایک ہمسایہ (ایران) اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار (سعودی عرب) کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل حوثیوں کی حالیہ کارروائی جس میں 24 پاکستانیوں کو لے جانے والی ایل پی جی بحری جہاز پر قبضہ کیا گیا، نے اسلام آباد-ریاض دفاعی معاہدے پر ان کی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>آخر میں اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ چانچہ اب اسلام آباد کو کیا انتخاب کرنا ہے، اس کا بہت احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان، مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی تنازعات میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینے کے قابل ہے یا اس کے بجائے دور دراز کے اقتصادی شراکت دار بننے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ محفوظ ہوگا؟</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1958684"><strong>پڑھیے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274541</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 12:40:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم عباس)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/021112525f8f37c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/021112525f8f37c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیتن یاہو کی کرپشن کے مقدمے میں صدر سے معافی کی درخواست</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274494/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کے مقدمے میں ملک کے صدر سے  معافی کی درخواست کردی، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فوجداری کارروائیاں ان کی حکومت کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور معافی اسرائیل کے مفاد میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم نیتن یاہو رشوت، فراڈ اور اعتماد میں خیانت کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے وکلاء نے صدر کے دفتر کو ایک خط میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کو اب بھی یقین ہے کہ قانونی کارروائی کے نتیجے میں انہیں مکمل بریت مل جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے اپنی جماعت لیکود کی جانب سے جاری ایک مختصر ویڈیو بیان میں کہا کہ “میرے وکلاء نے آج ملک کے صدر کو معافی کی درخواست بھیج دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ جو کوئی بھی ملک کی بھلائی چاہتا ہے وہ اس قدم کی حمایت کرے گا۔’’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ وزیر اعظم، جو پانچ سال سے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، اور نہ ہی ان کے وکلاء نے کسی قسم کے جرم کا اعتراف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا کہ نیتن یاہو کو اُس وقت تک معافی نہیں دی جانی چاہیے جب تک وہ جرم تسلیم نہ کریں، ندامت کا اظہار نہ کریں اور فوراً سیاسی زندگی سے دستبردار نہ ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/yairlapid/status/1995088255935746548'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/yairlapid/status/1995088255935746548"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل میں عام طور پر معافی اُس وقت دی جاتی ہے جب قانونی کارروائی مکمل ہو چکی ہو اور ملزم کو سزا سنائی جا چکی ہو۔ تاہم نیتن یاہو کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر عوامی مفاد کے تحت مداخلت کر سکتے ہیں، جیسا کہ اس معاملے میں، تاکہ اختلافات ختم کیے جائیں اور قومی اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ کے دفتر نے اس درخواست کو “غیر معمولی” اور “اہم نتائج کی حامل” قرار دیا۔ دفتر کے مطابق صدر متعلقہ آرا موصول ہونے کے بعد اس درخواست پر “ذمہ داری اور سنجیدگی سے غور کریں گے”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ماہ ہرتزوگ کو خط لکھ کر وزیر اعظم کو معافی دینے پر غور کرنے کا کہا، اور کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ “سیاسی اور غیر منصفانہ کارروائی” ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہرتزوگ کے دفتر کا کہنا ہے کہ درخواست کو معمول کے مطابق وزارت انصاف کو بھیجا جائے گا تاکہ آراء اکٹھی کی جا سکیں، جو بعد ازاں صدر کے قانونی مشیر کو بھیجی جائیں گی جو صدر کو سفارش پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے وزیر انصاف یاریو لیون نیتن یاہو کی جماعت لیکود کے رکن اور وزیر اعظم کے قریبی اتحادی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں نیتن یاہو کے وکلاء نے لکھا کہ ان کے خلاف فوجداری کارروائیوں نے معاشرتی تقسیم کو گہرا کر دیا ہے اور قومی مفاہمت کے لیے اس مقدمے کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بار بار ہونے والی عدالتی پیشیاں وزیر اعظم کے لیے بوجھ بن رہی ہیں، جبکہ وہ ملک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے ویڈیو بیان میں کہا “مجھے ہفتے میں تین بار گواہی دینا ہوتی ہے… یہ ایک ناممکن مطالبہ ہے جو کسی اور شہری سے نہیں کیا جاتا،”  نیتن یاہو نے زور دیا کہ انہوں نے بار بار انتخابات جیت کر عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netanyahu/status/1995079559998509231'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netanyahu/status/1995079559998509231"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو پر 2019 میں تین الگ مگر باہم متعلق مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، جن کا تعلق ان الزامات سے ہے کہ انہوں نے نمایاں کاروباری شخصیات کو مراعات دیں، بدلے میں تحائف اور مثبت میڈیا کوریج حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے بارہا کسی بھی قسم کی غلطی سے انکار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی اتحادیوں نے نیتن یاہو کی معافی کی درخواست کی حمایت میں بیانات دیے، جن میں قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بزالل اسموٹریچ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن سیاستدان یائر گولان، جو فوج کے سابق نائب سربراہ رہ چکے ہیں، نے وزیرِ اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر سے اپیل کی کہ وہ معافی نہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو ملک کے سب سے متنازع سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جنہیں پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ حکومت اور اپوزیشن دونوں میں رہے اور 2022 کے انتخابات کے بعد دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے پر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلا انتخاب اکتوبر 2026 تک متوقع ہے، اور کئی رائے عامہ کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا اتحاد، جو اسرائیل کی تاریخ کا سب سے دائیں بازو کا اتحاد ہے، حکومت بنانے کے لیے کافی نشستیں حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے کیریئر کے دوران نیتن یاہو نے سیکیورٹی اور اقتصادی معاملات کو ترجیح دینے کی شہرت حاصل کی، لیکن وہ بدعنوانی کے الزامات سے بھی جڑے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اکتوبر 2023 کو جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس وقت نیتن یاہو وزیرِ اعظم تھے۔ اس کے بعد سے انہوں نے غزہ میں تباہ کن جنگ کی نگرانی کی ہے، جس میں دسیوں ہزار فلسطینی ہلاک ہوئے اور علاقہ بڑی حد تک تباہ ہو گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید اور مذمت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور رواں سال ایران کے خلاف جنگ بھی چھیڑی جس میں اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کے مقدمے میں ملک کے صدر سے  معافی کی درخواست کردی، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فوجداری کارروائیاں ان کی حکومت کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور معافی اسرائیل کے مفاد میں ہوگی۔</p>
<p>ملک کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم نیتن یاہو رشوت، فراڈ اور اعتماد میں خیانت کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے وکلاء نے صدر کے دفتر کو ایک خط میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کو اب بھی یقین ہے کہ قانونی کارروائی کے نتیجے میں انہیں مکمل بریت مل جائے گی۔</p>
<p>نیتن یاہو نے اپنی جماعت لیکود کی جانب سے جاری ایک مختصر ویڈیو بیان میں کہا کہ “میرے وکلاء نے آج ملک کے صدر کو معافی کی درخواست بھیج دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ جو کوئی بھی ملک کی بھلائی چاہتا ہے وہ اس قدم کی حمایت کرے گا۔’’</p>
<p>نہ وزیر اعظم، جو پانچ سال سے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، اور نہ ہی ان کے وکلاء نے کسی قسم کے جرم کا اعتراف کیا۔</p>
<p>اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا کہ نیتن یاہو کو اُس وقت تک معافی نہیں دی جانی چاہیے جب تک وہ جرم تسلیم نہ کریں، ندامت کا اظہار نہ کریں اور فوراً سیاسی زندگی سے دستبردار نہ ہو جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/yairlapid/status/1995088255935746548'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/yairlapid/status/1995088255935746548"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسرائیل میں عام طور پر معافی اُس وقت دی جاتی ہے جب قانونی کارروائی مکمل ہو چکی ہو اور ملزم کو سزا سنائی جا چکی ہو۔ تاہم نیتن یاہو کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر عوامی مفاد کے تحت مداخلت کر سکتے ہیں، جیسا کہ اس معاملے میں، تاکہ اختلافات ختم کیے جائیں اور قومی اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ کے دفتر نے اس درخواست کو “غیر معمولی” اور “اہم نتائج کی حامل” قرار دیا۔ دفتر کے مطابق صدر متعلقہ آرا موصول ہونے کے بعد اس درخواست پر “ذمہ داری اور سنجیدگی سے غور کریں گے”۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ماہ ہرتزوگ کو خط لکھ کر وزیر اعظم کو معافی دینے پر غور کرنے کا کہا، اور کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ “سیاسی اور غیر منصفانہ کارروائی” ہے۔</p>
<p>ہرتزوگ کے دفتر کا کہنا ہے کہ درخواست کو معمول کے مطابق وزارت انصاف کو بھیجا جائے گا تاکہ آراء اکٹھی کی جا سکیں، جو بعد ازاں صدر کے قانونی مشیر کو بھیجی جائیں گی جو صدر کو سفارش پیش کرے گا۔</p>
<p>اسرائیل کے وزیر انصاف یاریو لیون نیتن یاہو کی جماعت لیکود کے رکن اور وزیر اعظم کے قریبی اتحادی ہیں۔</p>
<p>خط میں نیتن یاہو کے وکلاء نے لکھا کہ ان کے خلاف فوجداری کارروائیوں نے معاشرتی تقسیم کو گہرا کر دیا ہے اور قومی مفاہمت کے لیے اس مقدمے کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بار بار ہونے والی عدالتی پیشیاں وزیر اعظم کے لیے بوجھ بن رہی ہیں، جبکہ وہ ملک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>نیتن یاہو نے ویڈیو بیان میں کہا “مجھے ہفتے میں تین بار گواہی دینا ہوتی ہے… یہ ایک ناممکن مطالبہ ہے جو کسی اور شہری سے نہیں کیا جاتا،”  نیتن یاہو نے زور دیا کہ انہوں نے بار بار انتخابات جیت کر عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netanyahu/status/1995079559998509231'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netanyahu/status/1995079559998509231"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نیتن یاہو پر 2019 میں تین الگ مگر باہم متعلق مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، جن کا تعلق ان الزامات سے ہے کہ انہوں نے نمایاں کاروباری شخصیات کو مراعات دیں، بدلے میں تحائف اور مثبت میڈیا کوریج حاصل کی۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے بارہا کسی بھی قسم کی غلطی سے انکار کیا ہے۔</p>
<p>حکومتی اتحادیوں نے نیتن یاہو کی معافی کی درخواست کی حمایت میں بیانات دیے، جن میں قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بزالل اسموٹریچ شامل ہیں۔</p>
<p>اپوزیشن سیاستدان یائر گولان، جو فوج کے سابق نائب سربراہ رہ چکے ہیں، نے وزیرِ اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر سے اپیل کی کہ وہ معافی نہ دیں۔</p>
<p>نیتن یاہو ملک کے سب سے متنازع سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جنہیں پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ حکومت اور اپوزیشن دونوں میں رہے اور 2022 کے انتخابات کے بعد دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے پر آئے۔</p>
<p>اگلا انتخاب اکتوبر 2026 تک متوقع ہے، اور کئی رائے عامہ کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا اتحاد، جو اسرائیل کی تاریخ کا سب سے دائیں بازو کا اتحاد ہے، حکومت بنانے کے لیے کافی نشستیں حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اپنے کیریئر کے دوران نیتن یاہو نے سیکیورٹی اور اقتصادی معاملات کو ترجیح دینے کی شہرت حاصل کی، لیکن وہ بدعنوانی کے الزامات سے بھی جڑے رہے ہیں۔</p>
<p>7 اکتوبر 2023 کو جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس وقت نیتن یاہو وزیرِ اعظم تھے۔ اس کے بعد سے انہوں نے غزہ میں تباہ کن جنگ کی نگرانی کی ہے، جس میں دسیوں ہزار فلسطینی ہلاک ہوئے اور علاقہ بڑی حد تک تباہ ہو گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید اور مذمت کی گئی۔</p>
<p>اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور رواں سال ایران کے خلاف جنگ بھی چھیڑی جس میں اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274494</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 22:42:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/302240021a031b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/302240021a031b1.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی رہائشیوں کیلئے شراب کی فروخت پر پابندیوں میں مزید نرمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274552/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی رہائشیوں نے کہا ہے کہ ملک میں شراب کی فروخت پر پابندیوں میں مزید نرمی کی گئی ہے، چند دن قبل ہی غیر سفارتکار غیر ملکی پہلی بار ملک میں شراب خریدنے کے اہل قرار پائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958652/booze-ban-eased-for-more-foreigners-in-saudi-arabia"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق مقامی افراد کے مطابق، اب غیر مسلم غیر ملکی رہائشی جو کم از کم 50 ہزار ریال ماہانہ کما رہے ہیں، ریاض میں ملک کی واحد شراب کی دکان سے مشروبات خرید سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے مہینے کے آخر میں، پریمیم ویزا ہولڈرز کو ریاض میں شراب خریدنے کی اجازت دی گئی تھی، جو اس بات کی علامت تھی کہ پہلی بار وہ رہائشی جو غیر ملکی سفارتکار نہیں تھے، دارالحکومت کے سفارتی کوارٹر میں واقع دکان سے شراب خریدنے کے اہل ہوئے  تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پھر قوانین کو خاموشی سے دوبارہ نرم کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی رہائش کی دستاویزات دکان کے عملے کو فراہم کرتے ہیں، جو پھر سعودی پلیٹ فارم کے ذریعے ان کی تنخواہ کی معلومات چیک کرتے ہیں، اور اس کے بعد انہیں شراب فروخت کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں شروع ہونے والا سعودی عرب کا پریمیم رہائشی پروگرام مخصوص غیر ملکیوں کے لیے دستیاب ہے، جو مختلف شرائط پوری کرتے ہیں، جن میں 8 لاکھ ریال کی ایک بار ادائیگی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالوں سے شہر کے کچھ رہائشی اپنی خود ساختہ غیر قانونی شراب بناتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ بلیک مارکیٹ کا سہارا لیتے ہیں، جہاں وہسکی کی ایک بوتل کئی سو ڈالر میں فروخت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولی عہد اور عملی حکمران محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے معیشت کو متنوع بنانے، سیاحت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی کاروبار کو راغب کرنے کے اپنے منصوبے کے مطابق مستقل تبدیلیاں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی رہائشیوں نے کہا ہے کہ ملک میں شراب کی فروخت پر پابندیوں میں مزید نرمی کی گئی ہے، چند دن قبل ہی غیر سفارتکار غیر ملکی پہلی بار ملک میں شراب خریدنے کے اہل قرار پائے تھے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1958652/booze-ban-eased-for-more-foreigners-in-saudi-arabia">رپورٹ</a> کے مطابق مقامی افراد کے مطابق، اب غیر مسلم غیر ملکی رہائشی جو کم از کم 50 ہزار ریال ماہانہ کما رہے ہیں، ریاض میں ملک کی واحد شراب کی دکان سے مشروبات خرید سکتے ہیں۔</p>
<p>پچھلے مہینے کے آخر میں، پریمیم ویزا ہولڈرز کو ریاض میں شراب خریدنے کی اجازت دی گئی تھی، جو اس بات کی علامت تھی کہ پہلی بار وہ رہائشی جو غیر ملکی سفارتکار نہیں تھے، دارالحکومت کے سفارتی کوارٹر میں واقع دکان سے شراب خریدنے کے اہل ہوئے  تھے۔</p>
<p>اور پھر قوانین کو خاموشی سے دوبارہ نرم کر دیا گیا۔</p>
<p>حالیہ دنوں میں لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی رہائش کی دستاویزات دکان کے عملے کو فراہم کرتے ہیں، جو پھر سعودی پلیٹ فارم کے ذریعے ان کی تنخواہ کی معلومات چیک کرتے ہیں، اور اس کے بعد انہیں شراب فروخت کی جاتی ہے۔</p>
<p>2019 میں شروع ہونے والا سعودی عرب کا پریمیم رہائشی پروگرام مخصوص غیر ملکیوں کے لیے دستیاب ہے، جو مختلف شرائط پوری کرتے ہیں، جن میں 8 لاکھ ریال کی ایک بار ادائیگی بھی شامل ہے۔</p>
<p>سالوں سے شہر کے کچھ رہائشی اپنی خود ساختہ غیر قانونی شراب بناتے رہے ہیں۔</p>
<p>کچھ لوگ بلیک مارکیٹ کا سہارا لیتے ہیں، جہاں وہسکی کی ایک بوتل کئی سو ڈالر میں فروخت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ولی عہد اور عملی حکمران محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے معیشت کو متنوع بنانے، سیاحت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی کاروبار کو راغب کرنے کے اپنے منصوبے کے مطابق مستقل تبدیلیاں کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274552</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 12:26:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/02122252a5f93be.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/02122252a5f93be.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاہتے ہیں پاکستان غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے، مصری وزیر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274460/</link>
      <description>&lt;p&gt;مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کا دائرہ کار صرف جنگ بندی کی نگرانی اور محاصرے والے علاقے کی سرحدوں کے تحفظ تک محدود ہونا چاہیے، جب کہ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958286/egypt-wants-new-force-to-focus-on-securing-gaza-borders"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ہفتے کو اسلام آباد کے 2 روزہ دورے پر پہنچنے کے فوراً بعد انہوں نے ’&lt;strong&gt;ڈان‘&lt;/strong&gt; سے گفتگو میں کہا کہ ’استحکام فورس کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے کہ اس کا بنیادی مینڈیٹ جنگ بندی کی زمینی سطح پر نگرانی کرنا ہے تاکہ دونوں فریق اپنے وعدوں پر قائم رہیں، اور غزہ کی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ وسیع ایجنڈے پر بات چیت کریں گے، جس میں غزہ اور سوڈان سمیت تنازعات اور ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات کے بارے میں مشاورت سے لے کر معاشی تعاون کو تیز کرنے تک کے امور شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے پہلی بار عوامی طور پر انکشاف کیا کہ اسلام آباد نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کو استحکام فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے کی اپنی آمادگی سے آگاہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273756'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جیسے پاکستان کا موقف ہے کہ وہ حماس کے غیر مسلح کرنے جیسے متنازع معاملے میں فریق نہیں بننا چاہتا، ویسے ہی بدر عبدالعاطی نے کہا کہ فورس کی تفصیلات ابھی زیرِ بحث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم مختلف شراکت داروں (جن میں امریکا بھی شامل ہے) کے ساتھ مل کر ایک مخصوص مشن اور مینڈیٹ پر اتفاق کرنے کے لیے کام کررہے ہیں، جس کا محور امن نافذ کرنے کے بجائے امن برقرار رکھنے پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اُن ممالک پر بھی اتفاق کرنا ہوگا، جو فوجی دستے فراہم کریں گے، مشن، مینڈیٹ، ضمانتوں اور تحفظات پر بھی، سب کچھ ابھی زیرِ غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے بتایا کہ مصر غزہ کی تعمیرِ نو پر ایک کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور وہ اس میں پاکستان کے زیادہ فعال کردار کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے ہمیں پاکستان سے صرف مالی تعاون ہی نہیں بلکہ نجی شعبے کی تعمیرِ نو اور بحالی کی کوششوں میں شمولیت کی ضرورت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تکنیکی معاونت اور طبی مدد کی بھی ضرورت ہے، غزہ میں 50 ہزار ایسے طبی کیس ہیں جنہیں فوری علاج درکار ہے، ہم آپ کے عظیم ملک سے زیادہ متحرک کردار کی توقع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدر عبدالعاطی نے کہا کہ پاکستان اور مصر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ پائیدار امن کا واحد راستہ ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غزہ ہی ان کے ایجنڈے کا واحد مسئلہ نہیں، ہم دیگر امور پر بھی بات کر رہے ہیں، جن میں سوڈان شامل ہے جہاں صورتحال تباہ کن ہے، ہمیں اس بدترین جنگ اور شہریوں کے قتلِ عام کو روکنے کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دیگر علاقائی معاملات پر بھی یہی بات لاگو ہوتی ہے، جن میں ایران کا جوہری مسئلہ شامل ہے، ہمیں تناؤ میں کمی، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت ہے، مصر اور پاکستان ایک جیسے مؤقف رکھتے ہیں، ہم ایران کے ساتھ تناؤ کم کرنے، امن عمل بحال کرنے اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر کاربند رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271470'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271470"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی حل موجود نہیں، صرف سیاسی اور پرامن حل ہیں۔ ہمیں مل کر تناؤ میں کمی کے لیے کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے مصری وزیرِ خارجہ نے اقتصادی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارتی حجم دوگنا کرنا چاہیے، باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا چاہیے اور ساؤتھ-ساؤتھ تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ زیرِ غور تجاویز میں پاکستان-مصر بزنس کونسل کی ازسرِنو تشکیل اور کراچی یا قاہرہ میں بزنس فورم کا انعقاد شامل ہے تاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو جوڑا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مصر اور پاکستان کو توانائی، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، زراعت، آئی ٹی، ڈیجیٹائزیشن، مصنوعی ذہانت اور پیٹروکیمیکلز میں تعاون بڑھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر بدر الطاعی  کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی، غیرقانونی نقل مکانی اور اسمگلنگ کے خلاف لڑائی میں بھی اشتراک کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں پر مبنی دفاعی تعاون کو بھی وسعت دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کا دائرہ کار صرف جنگ بندی کی نگرانی اور محاصرے والے علاقے کی سرحدوں کے تحفظ تک محدود ہونا چاہیے، جب کہ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1958286/egypt-wants-new-force-to-focus-on-securing-gaza-borders"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ہفتے کو اسلام آباد کے 2 روزہ دورے پر پہنچنے کے فوراً بعد انہوں نے ’<strong>ڈان‘</strong> سے گفتگو میں کہا کہ ’استحکام فورس کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے کہ اس کا بنیادی مینڈیٹ جنگ بندی کی زمینی سطح پر نگرانی کرنا ہے تاکہ دونوں فریق اپنے وعدوں پر قائم رہیں، اور غزہ کی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے‘۔</p>
<p>اپنے دورے کے دوران وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ وسیع ایجنڈے پر بات چیت کریں گے، جس میں غزہ اور سوڈان سمیت تنازعات اور ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات کے بارے میں مشاورت سے لے کر معاشی تعاون کو تیز کرنے تک کے امور شامل ہیں۔</p>
<p>ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے پہلی بار عوامی طور پر انکشاف کیا کہ اسلام آباد نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کو استحکام فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے کی اپنی آمادگی سے آگاہ کر دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273756'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جیسے پاکستان کا موقف ہے کہ وہ حماس کے غیر مسلح کرنے جیسے متنازع معاملے میں فریق نہیں بننا چاہتا، ویسے ہی بدر عبدالعاطی نے کہا کہ فورس کی تفصیلات ابھی زیرِ بحث ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم مختلف شراکت داروں (جن میں امریکا بھی شامل ہے) کے ساتھ مل کر ایک مخصوص مشن اور مینڈیٹ پر اتفاق کرنے کے لیے کام کررہے ہیں، جس کا محور امن نافذ کرنے کے بجائے امن برقرار رکھنے پر ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اُن ممالک پر بھی اتفاق کرنا ہوگا، جو فوجی دستے فراہم کریں گے، مشن، مینڈیٹ، ضمانتوں اور تحفظات پر بھی، سب کچھ ابھی زیرِ غور ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے بتایا کہ مصر غزہ کی تعمیرِ نو پر ایک کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور وہ اس میں پاکستان کے زیادہ فعال کردار کا خواہاں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے ہمیں پاکستان سے صرف مالی تعاون ہی نہیں بلکہ نجی شعبے کی تعمیرِ نو اور بحالی کی کوششوں میں شمولیت کی ضرورت بھی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تکنیکی معاونت اور طبی مدد کی بھی ضرورت ہے، غزہ میں 50 ہزار ایسے طبی کیس ہیں جنہیں فوری علاج درکار ہے، ہم آپ کے عظیم ملک سے زیادہ متحرک کردار کی توقع کر رہے ہیں۔</p>
<p>بدر عبدالعاطی نے کہا کہ پاکستان اور مصر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ پائیدار امن کا واحد راستہ ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غزہ ہی ان کے ایجنڈے کا واحد مسئلہ نہیں، ہم دیگر امور پر بھی بات کر رہے ہیں، جن میں سوڈان شامل ہے جہاں صورتحال تباہ کن ہے، ہمیں اس بدترین جنگ اور شہریوں کے قتلِ عام کو روکنے کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دیگر علاقائی معاملات پر بھی یہی بات لاگو ہوتی ہے، جن میں ایران کا جوہری مسئلہ شامل ہے، ہمیں تناؤ میں کمی، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت ہے، مصر اور پاکستان ایک جیسے مؤقف رکھتے ہیں، ہم ایران کے ساتھ تناؤ کم کرنے، امن عمل بحال کرنے اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر کاربند رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271470'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271470"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی حل موجود نہیں، صرف سیاسی اور پرامن حل ہیں۔ ہمیں مل کر تناؤ میں کمی کے لیے کام کرنا ہوگا۔</p>
<p>دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے مصری وزیرِ خارجہ نے اقتصادی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارتی حجم دوگنا کرنا چاہیے، باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا چاہیے اور ساؤتھ-ساؤتھ تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ زیرِ غور تجاویز میں پاکستان-مصر بزنس کونسل کی ازسرِنو تشکیل اور کراچی یا قاہرہ میں بزنس فورم کا انعقاد شامل ہے تاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو جوڑا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مصر اور پاکستان کو توانائی، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، زراعت، آئی ٹی، ڈیجیٹائزیشن، مصنوعی ذہانت اور پیٹروکیمیکلز میں تعاون بڑھانا چاہیے۔</p>
<p>ڈاکٹر بدر الطاعی  کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی، غیرقانونی نقل مکانی اور اسمگلنگ کے خلاف لڑائی میں بھی اشتراک کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں پر مبنی دفاعی تعاون کو بھی وسعت دینی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274460</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 10:51:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/30104728c7604ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/30104728c7604ff.webp"/>
        <media:title>ڈاکٹر بدر الطاعی نے پاکستان کیساتھ تجارت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاع میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ —فائل فوٹو: ٹی آر ٹی ورلڈ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابوظہبی: انسٹا گرام پر کنسرٹ کا جعلی ٹکٹ فروخت کرنیوالے شخص پر 5 ہزار درہم جرمانہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274473/</link>
      <description>&lt;p&gt;ابوظہبی کی ایک سول عدالت نے  کنسرٹ کا جعلی ٹکٹ فروخت کرنے والے ایک شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ خریدار کو 900 درہم واپس کرے اور ساتھ ہی 5 ہزار درہم جرمانہ بھی ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلف نیوز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/crime/uae-man-fined-dh5000-for-selling-fake-concert-tickets-on-instagram-1.500364490"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق خریدار کو اس دھوکے کا اس وقت علم ہوا جب وہ کنسرٹ کے مقام پر پہنچا، شکایت کنندہ نے انسٹاگرام پر کنسرٹ ٹکٹ کے اشتہار کو دیکھا اور اسے جائز سمجھ کر واٹس ایپ کے ذریعے بیچنے والے سے رابطہ کیا اور 900 درہم منتقل کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریدار کو کنسرٹ کے مقام پر عملے نے بتایا کہ ٹکٹ جعلی ہیں، جس پر خریدار نے فوجداری شکایت درج کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="عدالتی-فیصلہ" href="#عدالتی-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;عدالتی فیصلہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مدعا علیہ کو فوجداری کیس میں غیر حاضری میں مجرم قرار دیا گیا اور 5 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی گئی، بعد ازاں، شکایت کنندہ نے سول عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس میں رقم کی واپسی اور 9 ہزار 100 درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول عدالت نے فیصلہ دیا کہ مدعا علیہ خریدار کو 900 درہم واپس کرے اور فوجداری کیس میں عائد جرمانے کو برقرار رکھا جائے، جب کہ اضافی ہرجانہ جائز نہیں سمجھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکم خریدار کو 900 درہم کی واپسی یقینی بناتا ہے اور پہلے سے عائد 5 ہزار درہم کے جرمانے کو برقرار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ابوظہبی کی ایک سول عدالت نے  کنسرٹ کا جعلی ٹکٹ فروخت کرنے والے ایک شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ خریدار کو 900 درہم واپس کرے اور ساتھ ہی 5 ہزار درہم جرمانہ بھی ادا کرے۔</p>
<p>گلف نیوز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/crime/uae-man-fined-dh5000-for-selling-fake-concert-tickets-on-instagram-1.500364490"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق خریدار کو اس دھوکے کا اس وقت علم ہوا جب وہ کنسرٹ کے مقام پر پہنچا، شکایت کنندہ نے انسٹاگرام پر کنسرٹ ٹکٹ کے اشتہار کو دیکھا اور اسے جائز سمجھ کر واٹس ایپ کے ذریعے بیچنے والے سے رابطہ کیا اور 900 درہم منتقل کر دیے۔</p>
<p>خریدار کو کنسرٹ کے مقام پر عملے نے بتایا کہ ٹکٹ جعلی ہیں، جس پر خریدار نے فوجداری شکایت درج کرائی۔</p>
<h1><a id="عدالتی-فیصلہ" href="#عدالتی-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>عدالتی فیصلہ</strong></h1>
<p>مدعا علیہ کو فوجداری کیس میں غیر حاضری میں مجرم قرار دیا گیا اور 5 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی گئی، بعد ازاں، شکایت کنندہ نے سول عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس میں رقم کی واپسی اور 9 ہزار 100 درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>سول عدالت نے فیصلہ دیا کہ مدعا علیہ خریدار کو 900 درہم واپس کرے اور فوجداری کیس میں عائد جرمانے کو برقرار رکھا جائے، جب کہ اضافی ہرجانہ جائز نہیں سمجھا گیا۔</p>
<p>یہ حکم خریدار کو 900 درہم کی واپسی یقینی بناتا ہے اور پہلے سے عائد 5 ہزار درہم کے جرمانے کو برقرار رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274473</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 15:02:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/301303172db8175.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/301303172db8175.webp"/>
        <media:title>خریدار کو کنسرٹ کے مقام پر عملے نے بتایا کہ ٹکٹ جعلی ہیں، جس پر اس نے فوجداری شکایت درج کرائی۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل شدید رکاوٹوں کا شکار ہے، اقوام متحدہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274359/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں اور سخت پابندیوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل شدید رکاوٹوں کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ غزہ کے بیشتر ہسپتال صرف جزوی طور پر فعال ہیں اور 16,500 سے زائد مریضوں کو فوری منتقلی کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں جاری جھڑپیں نہ صرف جانی نقصان کا سبب بن رہی ہیں بلکہ انسانی امداد کی ترسیل میں بار بار رکاوٹیں بھی پیدا کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق منگل کو اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے اسرائیلی حکام کے ساتھ غزہ کے اندر انسانی امداد کی 8 منصوبہ بند نقل و حرکت کو ہم آہنگ کیا، جن میں سے صرف ایک کی اجازت ملی جبکہ سات سرگرمیوں کو روکا، مسترد یا منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پہنچنے والا ہر ٹرک انتہائی فرق پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ غزہ میں کوئی بھی ہسپتال مکمل طور پر فعال نہیں ہے، 36 میں سے صرف 18 ہسپتال جزوی طور پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اب بھی 16,500 سے زائد مریض ایسے ہیں جنہیں غزہ سے باہر فوری علاج کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار پابندیوں میں نرمی ہوتے ہی اپنی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر غیر مشروط انسانی رسائی کی اپیل کرتے ہیں تاکہ امدادی ٹیمیں ہر اس شخص تک پہنچ سکیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی پابندیاں ختم ہوں گی، ہم اور ہمارے شراکت دار کہیں زیادہ موثر انداز میں کام کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں اور سخت پابندیوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل شدید رکاوٹوں کا شکار ہے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ غزہ کے بیشتر ہسپتال صرف جزوی طور پر فعال ہیں اور 16,500 سے زائد مریضوں کو فوری منتقلی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں جاری جھڑپیں نہ صرف جانی نقصان کا سبب بن رہی ہیں بلکہ انسانی امداد کی ترسیل میں بار بار رکاوٹیں بھی پیدا کر رہی ہیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق منگل کو اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے اسرائیلی حکام کے ساتھ غزہ کے اندر انسانی امداد کی 8 منصوبہ بند نقل و حرکت کو ہم آہنگ کیا، جن میں سے صرف ایک کی اجازت ملی جبکہ سات سرگرمیوں کو روکا، مسترد یا منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پہنچنے والا ہر ٹرک انتہائی فرق پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ غزہ میں کوئی بھی ہسپتال مکمل طور پر فعال نہیں ہے، 36 میں سے صرف 18 ہسپتال جزوی طور پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اب بھی 16,500 سے زائد مریض ایسے ہیں جنہیں غزہ سے باہر فوری علاج کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار پابندیوں میں نرمی ہوتے ہی اپنی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر غیر مشروط انسانی رسائی کی اپیل کرتے ہیں تاکہ امدادی ٹیمیں ہر اس شخص تک پہنچ سکیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی پابندیاں ختم ہوں گی، ہم اور ہمارے شراکت دار کہیں زیادہ موثر انداز میں کام کر سکیں گے۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274359</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 17:56:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/27171907c6b8701.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/27171907c6b8701.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، بحرین کا اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274327/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز بحرین کی مملکت کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جو باہمی احترام اور مشترکہ مذہبی اقدار پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957645/pakistan-bahrain-pledge-to-deepen-economic-defence-ties"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 2 روزہ سرکاری دورے پر بحرین میں موجود وزیراعظم نے منامہ میں شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی، اور دونوں ممالک کے مضبوط اور تاریخی تعلقات کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان۔جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ (جو تکمیلی مراحل میں ہے) سے دوطرفہ تجارت میں تیزی آئے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-fullw-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/1993717273488461999/photo/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/1993717273488461999/photo/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے پاکستان میں، خصوصاً فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی، سیاحت اور صحت کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے بحرین میں موجود ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیدیوں کو معاف کرنے پر بھی بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274279/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274279"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے طویل عرصے سے قائم دفاعی شراکت داری کی اہمیت کو برقرار رکھنے اور تربیت، لاجسٹکس، افرادی قوت اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی اور دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے عوام کے لیے دیرپا امن اور استحکام بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے بحرین کو 27-2026 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست جیتنے پر مبارکباد دی اور قریبی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے موجودہ دوطرفہ 55 کروڑ ڈالر سے زائد کی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کی صلاحیت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ولی-عہد-کے-ساتھ-ملاقات" href="#ولی-عہد-کے-ساتھ-ملاقات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ولی عہد کے ساتھ ملاقات&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے بھی ملاقات کی، جو اس اعتماد کے ساتھ ختم ہوئی کہ یہ بات چیت عملی نتائج دے گی اور پاک–بحرین تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کا منامہ ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ خوشگوار تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا مقصد نتیجہ خیز اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ پاکستان اور بحرین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے پہلے اجلاس میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز بحرین کی مملکت کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جو باہمی احترام اور مشترکہ مذہبی اقدار پر مبنی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1957645/pakistan-bahrain-pledge-to-deepen-economic-defence-ties"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 2 روزہ سرکاری دورے پر بحرین میں موجود وزیراعظم نے منامہ میں شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی، اور دونوں ممالک کے مضبوط اور تاریخی تعلقات کی توثیق کی۔</p>
<p>معاشی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان۔جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ (جو تکمیلی مراحل میں ہے) سے دوطرفہ تجارت میں تیزی آئے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-fullw-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/1993717273488461999/photo/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/1993717273488461999/photo/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے پاکستان میں، خصوصاً فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی، سیاحت اور صحت کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>وزیراعظم نے بحرین میں موجود ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیدیوں کو معاف کرنے پر بھی بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274279/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274279"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دونوں ممالک نے طویل عرصے سے قائم دفاعی شراکت داری کی اہمیت کو برقرار رکھنے اور تربیت، لاجسٹکس، افرادی قوت اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>غزہ کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی اور دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے عوام کے لیے دیرپا امن اور استحکام بہت ضروری ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے بحرین کو 27-2026 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست جیتنے پر مبارکباد دی اور قریبی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>دونوں اطراف نے موجودہ دوطرفہ 55 کروڑ ڈالر سے زائد کی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کی صلاحیت پر بھی زور دیا۔</p>
<h1><a id="ولی-عہد-کے-ساتھ-ملاقات" href="#ولی-عہد-کے-ساتھ-ملاقات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ولی عہد کے ساتھ ملاقات</strong></h1>
<p>وزیراعظم نے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے بھی ملاقات کی، جو اس اعتماد کے ساتھ ختم ہوئی کہ یہ بات چیت عملی نتائج دے گی اور پاک–بحرین تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔</p>
<p>وزیراعظم کا منامہ ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔</p>
<p>پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔</p>
<p>پی ٹی وی کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ خوشگوار تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا مقصد نتیجہ خیز اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ پاکستان اور بحرین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے پہلے اجلاس میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274327</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 12:01:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/270846006566f85.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/270846006566f85.webp"/>
        <media:title>وزیراعظم نے بحرینی سرمایہ کاروں کو ایس آئی ایف سی کے ذریعے مواقع تلاش کرنے کی دعوت بھی دی — فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردی کی آمد کے ساتھ غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے سیلاب میں ڈوب گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274278/</link>
      <description>&lt;p&gt;غزہ پٹی میں موسلا دھار بارش کے باعث سیلاب آگیا، جس سے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے ڈوب گئے، جو مضبوط پناہ گاہوں کے بغیر سخت موسمِ سرما کے طوفانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957364/floods-swamp-palestinians-tents-in-gaza-as-winter-looms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق غزہ کی 20 لاکھ آبادی کی بڑی اکثریت اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکی ہے، یہ بے دخلی اسرائیل کے 2 سالہ زمینی اور فضائی حملے کے نتیجے میں ہوئی، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہوا تھا، بہت سے لوگ اب خیموں اور دیگر بنیادی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر کے وسط سے جنگ بندی عمومی طور پر برقرار ہے، لیکن بمباری نے غزہ کے گھنے آباد علاقوں کو تباہ کر دیا ہے، جس میں بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے، جس کے باعث بیشتر لوگوں کی زندگی سخت حالات سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیز بارش میں کھڑی ام احمد عوضہ نے اپنے خیمے کے باہر کھڑے ہو کر کہا کہ ’یہ تکلیف، یہ بارش اور ابھی کم دباؤ والے موسمی نظام شروع بھی نہیں ہوئے، ابھی تو سردیوں کا آغاز ہے اور ہم پہلے ہی ڈوب چکے اور ذلیل ہو رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274097/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274097"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشعوا نے کہا کہ ہمیں نئے خیمے یا ترپال نہیں ملے، ہمارا ترپال دو سال پرانا ہے اور ہمارا خیمہ بھی دو سال پرانا ہے، وہ بالکل گھس چکے ہیں، گھروں سے بے دخل ہونے والے تقریباً 15 لاکھ افراد کو رکھنے کے لیے کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی سول ڈیفنس سروس نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران طوفانی بارشوں اور سیلابی پانی نے بے گھر خاندانوں کے ہزاروں خیموں کو بھر دیا یا نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ خیمے مکمل طور پر بہہ گئے کیونکہ کچھ علاقوں میں سیلابی پانی زمین سے 40 سے 50 سینٹی میٹر تک بلند ہوگیا تھا، جب کہ عملے اور عینی شاہدین کے مطابق ایک فیلڈ ہسپتال کو بھی سیلاب کے باعث اپنا کام معطل کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ غزہ میں سردیوں کا سامان لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے امدادی ٹرکوں کی تعداد محدود ہے جو غزہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تاریخ-کی-بدترین-معاشی-گراوٹ" href="#تاریخ-کی-بدترین-معاشی-گراوٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تاریخ کی بدترین معاشی گراوٹ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں 2 سالہ بمباری اور اسرائیلی قبضے والے مغربی کنارے میں معاشی پابندیوں نے فلسطینی معیشت کو تاریخ کی بدترین گراوٹ کی جانب دھکیل دیا ہے اور دہائیوں کی ترقی کو مٹا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271566'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری کردہ اقوام متحدہ کی تجارتی و ترقیاتی ایجنسی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت نے 2024 میں 2022 کے مقابلے میں 30 فیصد سکڑاؤ کا سامنا کیا ہے، جو اس 2 سالہ جنگ کے اثرات کو جانچنے کے لیے بطور معیار استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی 1972 میں ڈیٹا جمع کرنے کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے، جو اس سے پہلے ہونے والے تمام معاشی بحرانوں سے بھی زیادہ ہے، جن میں 2000 میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع ہونے والا دوسرا انتفاضہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ’یو این سی ٹی اے ڈی‘ کے نائب سربراہ پیڈرو مانوئل مورینو نے کہا کہ جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے، طویل فوجی کارروائی اور دیرینہ پابندیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقے کی معیشت کو اس کی تاریخ کی سب سے گہری گراوٹ میں دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق فی کس جی ڈی پی 2003 کی سطح پر واپس آگئی ہے، جس سے 22 سال کی پیش رفت مٹ گئی ہے، اور اسے 1960 کے بعد عالمی سطح پر بدترین 10 معاشی بحرانوں میں شمار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے کہا کہ غزہ میں تباہی کا پیمانہ اتنا وسیع ہے کہ یہ علاقہ آنے والے کئی برسوں تک بین الاقوامی امداد پر انحصار کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>غزہ پٹی میں موسلا دھار بارش کے باعث سیلاب آگیا، جس سے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے ڈوب گئے، جو مضبوط پناہ گاہوں کے بغیر سخت موسمِ سرما کے طوفانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1957364/floods-swamp-palestinians-tents-in-gaza-as-winter-looms"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق غزہ کی 20 لاکھ آبادی کی بڑی اکثریت اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکی ہے، یہ بے دخلی اسرائیل کے 2 سالہ زمینی اور فضائی حملے کے نتیجے میں ہوئی، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہوا تھا، بہت سے لوگ اب خیموں اور دیگر بنیادی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>اکتوبر کے وسط سے جنگ بندی عمومی طور پر برقرار ہے، لیکن بمباری نے غزہ کے گھنے آباد علاقوں کو تباہ کر دیا ہے، جس میں بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے، جس کے باعث بیشتر لوگوں کی زندگی سخت حالات سے دوچار ہے۔</p>
<p>تیز بارش میں کھڑی ام احمد عوضہ نے اپنے خیمے کے باہر کھڑے ہو کر کہا کہ ’یہ تکلیف، یہ بارش اور ابھی کم دباؤ والے موسمی نظام شروع بھی نہیں ہوئے، ابھی تو سردیوں کا آغاز ہے اور ہم پہلے ہی ڈوب چکے اور ذلیل ہو رہے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274097/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274097"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشعوا نے کہا کہ ہمیں نئے خیمے یا ترپال نہیں ملے، ہمارا ترپال دو سال پرانا ہے اور ہمارا خیمہ بھی دو سال پرانا ہے، وہ بالکل گھس چکے ہیں، گھروں سے بے دخل ہونے والے تقریباً 15 لاکھ افراد کو رکھنے کے لیے کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے۔</p>
<p>فلسطینی سول ڈیفنس سروس نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران طوفانی بارشوں اور سیلابی پانی نے بے گھر خاندانوں کے ہزاروں خیموں کو بھر دیا یا نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>کچھ خیمے مکمل طور پر بہہ گئے کیونکہ کچھ علاقوں میں سیلابی پانی زمین سے 40 سے 50 سینٹی میٹر تک بلند ہوگیا تھا، جب کہ عملے اور عینی شاہدین کے مطابق ایک فیلڈ ہسپتال کو بھی سیلاب کے باعث اپنا کام معطل کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ غزہ میں سردیوں کا سامان لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے امدادی ٹرکوں کی تعداد محدود ہے جو غزہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="تاریخ-کی-بدترین-معاشی-گراوٹ" href="#تاریخ-کی-بدترین-معاشی-گراوٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تاریخ کی بدترین معاشی گراوٹ</strong></h1>
<p>غزہ میں 2 سالہ بمباری اور اسرائیلی قبضے والے مغربی کنارے میں معاشی پابندیوں نے فلسطینی معیشت کو تاریخ کی بدترین گراوٹ کی جانب دھکیل دیا ہے اور دہائیوں کی ترقی کو مٹا دیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271566'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>منگل کو جاری کردہ اقوام متحدہ کی تجارتی و ترقیاتی ایجنسی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت نے 2024 میں 2022 کے مقابلے میں 30 فیصد سکڑاؤ کا سامنا کیا ہے، جو اس 2 سالہ جنگ کے اثرات کو جانچنے کے لیے بطور معیار استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ کمی 1972 میں ڈیٹا جمع کرنے کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے، جو اس سے پہلے ہونے والے تمام معاشی بحرانوں سے بھی زیادہ ہے، جن میں 2000 میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع ہونے والا دوسرا انتفاضہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>جنیوا میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ’یو این سی ٹی اے ڈی‘ کے نائب سربراہ پیڈرو مانوئل مورینو نے کہا کہ جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے، طویل فوجی کارروائی اور دیرینہ پابندیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقے کی معیشت کو اس کی تاریخ کی سب سے گہری گراوٹ میں دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق فی کس جی ڈی پی 2003 کی سطح پر واپس آگئی ہے، جس سے 22 سال کی پیش رفت مٹ گئی ہے، اور اسے 1960 کے بعد عالمی سطح پر بدترین 10 معاشی بحرانوں میں شمار کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ نے کہا کہ غزہ میں تباہی کا پیمانہ اتنا وسیع ہے کہ یہ علاقہ آنے والے کئی برسوں تک بین الاقوامی امداد پر انحصار کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274278</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 16:59:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/261023211b45fd0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/261023211b45fd0.webp"/>
        <media:title>بے گھر تقریباً 15 لاکھ افراد کو رکھنے کیلئے کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی فوج کے 3 جرنیل برطرف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274221/</link>
      <description>&lt;p&gt;7 اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی فوج نے 3 جرنیلوں کو برطرف کرنے اور دیگر متعدد سینئر افسران کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، یہ ملک کی تاریخ کا سب سے مہلک حملہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957143/israel-sacks-several-generals-over-oct-7-attack"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی افواج کے سربراہ ایال زمیر کے حملے کی وجوہات پر ’نظام کے اندر تحقیقات‘ کے مطالبے کے 2 ہفتے بعد کیا گیا ہے، عوامی دباؤ کے باوجود حکومت نے ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے میں تاخیر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطرف کیے گئے جرنیلوں کی فہرست میں 3 ڈویژنل کمانڈر شامل ہیں، جن میں سے ایک اس وقت ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر خدمات سر انجام دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو جاری کیے گئے ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ وہ افواج کی اس ناکامی کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں کہ حملے کو روکا نہ جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1266238'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں برخاست اس وقت کیا گیا، جب تینوں پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے تھے، جن میں جنوبی کمان کے سابق سربراہ جنرل یارون فنکلمین بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوی اور فضائیہ کے سربراہان کے خلاف بھی تادیبی کارروائیوں کا اعلان کیا گیا جب کہ مزید 4 جرنیلوں اور متعدد سینئر افسران کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ابھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھی ان ناکامیوں کی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے حماس کا حملہ روکا نہ جا سکا۔ گزشتہ دو سال سے نیتن یاہو بارہا کہہ چکے ہیں کہ 7 اکتوبر کے حملوں کی ناکامیوں پر جنگِ غزہ کے اختتام کے بعد بات کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی وابستگی سے قطع نظر اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ ایک کمیشن قائم کیا جائے جو یہ طے کرے کہ یہ ناکامیاں کس کی ذمہ داری تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نیتن یاہو کی حکومت نے اب تک ایسا کمیشن تشکیل دینے سے انکار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میزائل-حملے-میں-3-فلسطینی-شہید" href="#میزائل-حملے-میں-3-فلسطینی-شہید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میزائل حملے میں 3 فلسطینی شہید&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اسرائیلی فورسز نے پیر کے روز غزہ میں اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کی حد بندی لائن کے قریب 3 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جو اس جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے کہ 6 ہفتے قبل منظور ہونے والے نازک جنگ بندی معاہدے کو وسعت دینے کی کوششیں کس قدر مشکل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی طبی عملے نے کہا کہ ایک واقعے میں اسرائیلی ڈرون نے خان یونس کے مشرق میں ایک گروپ پر میزائل فائر کیا، جس سے دو فلسطینی شہید اور ایک زخمی ہوا، جب کہ ایک اور واقعے میں غزہ شہر کے مشرقی جانب ایک ٹینک نے گولہ فائر کیا جس سے ایک شہری شہید ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274128'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے فائر اس وقت کیا جب اس نے جنگجوؤں کو نام نہاد ’یلو لائن‘ عبور کرتے اور فوج کے قریب آتے دیکھا، جو ان کے لیے فوری خطرہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس اور اسرائیل نے 9 اکتوبر کو ایک جنگ بندی پر دستخط کیے تھے، جس نے 2 سالہ تباہ کن جنگ کو روک دیا تھا، لیکن یہ معاہدہ سب سے پیچیدہ تنازعات کو آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ گیا، جس سے تنازع منجمد تو ہو گیا مگر حل نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں اور امریکا کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت مطلوبہ اقدامات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر (جنہوں نے امریکا کی اس منصوبے میں مدد کی تھی اور جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امن بورڈ میں شامل ہو سکتے ہیں) نے اتوار کے روز مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے ڈپٹی لیڈر حسین الشیخ سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسن الشیخ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد کی صورتحال اور فلسطینی حقِ خودارادیت کی ضروریات پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غزہ میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ قاہرہ میں حماس کے وفد، جس کی قیادت جلاوطن رہنما خلیل الحیہ کر رہے تھے، نے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی تلاش پر مصری حکام سے بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 342 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>7 اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی فوج نے 3 جرنیلوں کو برطرف کرنے اور دیگر متعدد سینئر افسران کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، یہ ملک کی تاریخ کا سب سے مہلک حملہ تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1957143/israel-sacks-several-generals-over-oct-7-attack"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی افواج کے سربراہ ایال زمیر کے حملے کی وجوہات پر ’نظام کے اندر تحقیقات‘ کے مطالبے کے 2 ہفتے بعد کیا گیا ہے، عوامی دباؤ کے باوجود حکومت نے ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے میں تاخیر کی ہے۔</p>
<p>برطرف کیے گئے جرنیلوں کی فہرست میں 3 ڈویژنل کمانڈر شامل ہیں، جن میں سے ایک اس وقت ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر خدمات سر انجام دے رہا تھا۔</p>
<p>اتوار کو جاری کیے گئے ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ وہ افواج کی اس ناکامی کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں کہ حملے کو روکا نہ جا سکا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1266238'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہیں برخاست اس وقت کیا گیا، جب تینوں پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے تھے، جن میں جنوبی کمان کے سابق سربراہ جنرل یارون فنکلمین بھی شامل ہیں۔</p>
<p>نیوی اور فضائیہ کے سربراہان کے خلاف بھی تادیبی کارروائیوں کا اعلان کیا گیا جب کہ مزید 4 جرنیلوں اور متعدد سینئر افسران کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے۔</p>
<p>یہ ابھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھی ان ناکامیوں کی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے حماس کا حملہ روکا نہ جا سکا۔ گزشتہ دو سال سے نیتن یاہو بارہا کہہ چکے ہیں کہ 7 اکتوبر کے حملوں کی ناکامیوں پر جنگِ غزہ کے اختتام کے بعد بات کی جانی چاہیے۔</p>
<p>رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی وابستگی سے قطع نظر اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ ایک کمیشن قائم کیا جائے جو یہ طے کرے کہ یہ ناکامیاں کس کی ذمہ داری تھیں۔</p>
<p>تاہم نیتن یاہو کی حکومت نے اب تک ایسا کمیشن تشکیل دینے سے انکار کیا ہے۔</p>
<h1><a id="میزائل-حملے-میں-3-فلسطینی-شہید" href="#میزائل-حملے-میں-3-فلسطینی-شہید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میزائل حملے میں 3 فلسطینی شہید</strong></h1>
<p>دریں اثنا، اسرائیلی فورسز نے پیر کے روز غزہ میں اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کی حد بندی لائن کے قریب 3 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جو اس جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے کہ 6 ہفتے قبل منظور ہونے والے نازک جنگ بندی معاہدے کو وسعت دینے کی کوششیں کس قدر مشکل ہیں۔</p>
<p>فلسطینی طبی عملے نے کہا کہ ایک واقعے میں اسرائیلی ڈرون نے خان یونس کے مشرق میں ایک گروپ پر میزائل فائر کیا، جس سے دو فلسطینی شہید اور ایک زخمی ہوا، جب کہ ایک اور واقعے میں غزہ شہر کے مشرقی جانب ایک ٹینک نے گولہ فائر کیا جس سے ایک شہری شہید ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274128'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے فائر اس وقت کیا جب اس نے جنگجوؤں کو نام نہاد ’یلو لائن‘ عبور کرتے اور فوج کے قریب آتے دیکھا، جو ان کے لیے فوری خطرہ تھے۔</p>
<p>حماس اور اسرائیل نے 9 اکتوبر کو ایک جنگ بندی پر دستخط کیے تھے، جس نے 2 سالہ تباہ کن جنگ کو روک دیا تھا، لیکن یہ معاہدہ سب سے پیچیدہ تنازعات کو آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ گیا، جس سے تنازع منجمد تو ہو گیا مگر حل نہیں ہوا۔</p>
<p>دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں اور امریکا کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت مطلوبہ اقدامات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔</p>
<p>برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر (جنہوں نے امریکا کی اس منصوبے میں مدد کی تھی اور جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امن بورڈ میں شامل ہو سکتے ہیں) نے اتوار کے روز مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے ڈپٹی لیڈر حسین الشیخ سے ملاقات کی۔</p>
<p>حسن الشیخ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد کی صورتحال اور فلسطینی حقِ خودارادیت کی ضروریات پر بات چیت کی۔</p>
<p>دوسری جانب غزہ میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ قاہرہ میں حماس کے وفد، جس کی قیادت جلاوطن رہنما خلیل الحیہ کر رہے تھے، نے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی تلاش پر مصری حکام سے بات چیت کی۔</p>
<p>غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 342 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274221</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 12:39:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/250924129ace143.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="692">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/250924129ace143.webp"/>
        <media:title>جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 342 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہو چکے ہیں — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کل بحرین کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274268/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خلیجی ملک بحرین کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے مقصد سے 26 سے 27 نومبر تک بحرین کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کی جانب سے آج جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ توقع ہے کہ یہ دورہ روایتی طور پر گرمجوش اور دوستانہ تعلقات کو تقویت دے گا، شراکت داری کے نئے راستوں کی نشاندہی کرے گا، اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرے گا، جو باہمی طور پر فائدہ مند تعاون میں معاون ثابت ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ‘دیرینہ اور کثیر الجہتی تعلقات’ کی توثیق کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف بحرین کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کے وفد بھی ہو گا، جس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزراء اور سینئر افسران شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات اور امیگریشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، یہ معاہدہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے بحرینی ہم منصب جنرل راشد بن عبداللہ الخلیفہ کے درمیان ملاقات کے دوران طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے انسدادِ منشیات، انسدادِ دہشت گردی، کوسٹ گارڈ آپریشنز، سرحدی سلامتی، امیگریشن اور پولیس تربیت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حوالگی ، باہمی قانونی معاونت اور خصوصی بٹالین کی تربیت سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خلیجی ملک بحرین کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے مقصد سے 26 سے 27 نومبر تک بحرین کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کی جانب سے آج جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ توقع ہے کہ یہ دورہ روایتی طور پر گرمجوش اور دوستانہ تعلقات کو تقویت دے گا، شراکت داری کے نئے راستوں کی نشاندہی کرے گا، اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرے گا، جو باہمی طور پر فائدہ مند تعاون میں معاون ثابت ہو گا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ‘دیرینہ اور کثیر الجہتی تعلقات’ کی توثیق کرتا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف بحرین کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کے وفد بھی ہو گا، جس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزراء اور سینئر افسران شامل ہوں گے۔</p>
<p>ستمبر میں دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات اور امیگریشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، یہ معاہدہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے بحرینی ہم منصب جنرل راشد بن عبداللہ الخلیفہ کے درمیان ملاقات کے دوران طے پایا تھا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے انسدادِ منشیات، انسدادِ دہشت گردی، کوسٹ گارڈ آپریشنز، سرحدی سلامتی، امیگریشن اور پولیس تربیت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے حوالگی ، باہمی قانونی معاونت اور خصوصی بٹالین کی تربیت سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274268</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 23:07:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/252148039d7d277.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/252148039d7d277.webp"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج نے 8 مزید فلسطینی شہید کر دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274097/</link>
      <description>&lt;p&gt;قابض اسرائیلی افواج نے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جمعہ کے روز کم از کم 8 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں دو کم عمر نوجوان بھی شامل تھے، جنہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں گولی مار کر قتل کیا گیا، اسرائیلی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے ایک پناہ گزین کیمپ پر منگل کے روز کیے گئے حملے میں 13 فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956626/despite-truce-israeli-forces-kill-eight-palestinians"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ 2 نو عمر نوجوانوں کو رات کے وقت قصبہ کفر عقب میں شہید کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 سالہ عمر خالد احمد المربو، اور 16 سالہ سامی ابراہیم سامی مشایخ مقبوضہ افواج کی فائرنگ سے کفر عقب، رام اللہ کے قریب، شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/mSaSe7u0t-U'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/mSaSe7u0t-U?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی ریڈ کریسنٹ نے اطلاع دی کہ اس کے طبی کارکنوں نے رات کے دوران کفر عقب سے 2 زخمیوں کو منتقل کیا، جن میں سے ایک کو انتہائی سنگین گولی کا زخم اور دوسرے کو سینے میں گولی لگنے کا زخم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر المربو کے دوست عدی الشرفا، جو اس کی شہادت کے چشم دید گواہ ہیں، انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ دونوں سڑک پر موجود تھے، جب اسرائیلی فوج نے چھاپے کے دوران فائرنگ شروع کر دی، ان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272119'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272119"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الشرفا نے کہا کہ المربو سینے میں، دل کے مقام پر گولی لگنے سے گرے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے، وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ان کا دوست کسی جھڑپ میں شریک نہیں تھا اور نہ ہی پتھراؤ کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قصبہ کفر عقب بظاہر غیر قانونی طور پر ضم کیے گئے مشرقی یروشلم کا حصہ ہے، مگر اسرائیل کی علیحدگی دیوار نے اس علاقے کو کاٹ دیا ہے، جس کے باعث یہاں کے رہائشیوں کو نہ یروشلم کی بلدیہ اور نہ فلسطینی اتھارٹی سے بنیادی خدمات میسر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محصور جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فورسز نے جمعہ کے روز 5 فلسطینیوں کو قتل کیا، یہ اموات جنوبی غزہ کے اس علاقے میں ہوئیں جو اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے اور جسے نام نہاد یلو لائن کے مشرق میں بتایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے ہلاکتوں کو جواز دینے کے لیے ’فوری خطرے‘ کا دعویٰ کیا، یہی بہانہ اسرائیلی فوج کئی بار اپنی جارحیت کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے، حالانکہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں اپنی کارروائیاں معطل رکھنے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں غزہ کے ایک ہسپتال کے عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ایک اور فلسطینی خان یونس کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیلی فوج نے جمعہ کو تصدیق کی کہ جنوبی لبنان کے عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ پر ہفتے کے آغاز میں کیے گئے اس کے حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوئے تھے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے جنگجو تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قابض اسرائیلی افواج نے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جمعہ کے روز کم از کم 8 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں دو کم عمر نوجوان بھی شامل تھے، جنہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں گولی مار کر قتل کیا گیا، اسرائیلی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے ایک پناہ گزین کیمپ پر منگل کے روز کیے گئے حملے میں 13 فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1956626/despite-truce-israeli-forces-kill-eight-palestinians"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ 2 نو عمر نوجوانوں کو رات کے وقت قصبہ کفر عقب میں شہید کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 سالہ عمر خالد احمد المربو، اور 16 سالہ سامی ابراہیم سامی مشایخ مقبوضہ افواج کی فائرنگ سے کفر عقب، رام اللہ کے قریب، شہید ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/mSaSe7u0t-U'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/mSaSe7u0t-U?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فلسطینی ریڈ کریسنٹ نے اطلاع دی کہ اس کے طبی کارکنوں نے رات کے دوران کفر عقب سے 2 زخمیوں کو منتقل کیا، جن میں سے ایک کو انتہائی سنگین گولی کا زخم اور دوسرے کو سینے میں گولی لگنے کا زخم تھا۔</p>
<p>عمر المربو کے دوست عدی الشرفا، جو اس کی شہادت کے چشم دید گواہ ہیں، انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ دونوں سڑک پر موجود تھے، جب اسرائیلی فوج نے چھاپے کے دوران فائرنگ شروع کر دی، ان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے فائرنگ کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272119'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272119"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>الشرفا نے کہا کہ المربو سینے میں، دل کے مقام پر گولی لگنے سے گرے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے، وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ان کا دوست کسی جھڑپ میں شریک نہیں تھا اور نہ ہی پتھراؤ کر رہا تھا۔</p>
<p>قصبہ کفر عقب بظاہر غیر قانونی طور پر ضم کیے گئے مشرقی یروشلم کا حصہ ہے، مگر اسرائیل کی علیحدگی دیوار نے اس علاقے کو کاٹ دیا ہے، جس کے باعث یہاں کے رہائشیوں کو نہ یروشلم کی بلدیہ اور نہ فلسطینی اتھارٹی سے بنیادی خدمات میسر ہیں۔</p>
<p>محصور جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فورسز نے جمعہ کے روز 5 فلسطینیوں کو قتل کیا، یہ اموات جنوبی غزہ کے اس علاقے میں ہوئیں جو اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے اور جسے نام نہاد یلو لائن کے مشرق میں بتایا جاتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے ہلاکتوں کو جواز دینے کے لیے ’فوری خطرے‘ کا دعویٰ کیا، یہی بہانہ اسرائیلی فوج کئی بار اپنی جارحیت کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے، حالانکہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں اپنی کارروائیاں معطل رکھنے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں غزہ کے ایک ہسپتال کے عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ایک اور فلسطینی خان یونس کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔</p>
<p>ادھر اسرائیلی فوج نے جمعہ کو تصدیق کی کہ جنوبی لبنان کے عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ پر ہفتے کے آغاز میں کیے گئے اس کے حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوئے تھے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے جنگجو تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274097</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 11:57:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/220949423e0a281.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/220949423e0a281.webp"/>
        <media:title>اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے پناہ گزین کیمپ پر منگل کے روز حملے میں 13 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا اعتراف کیا ہے —فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات، کینیڈا میں 50 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274075/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے کینیڈا میں 50 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی توثیق کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے &lt;strong&gt;اے پی پی&lt;/strong&gt; نے امارات نیوز ایجنسی وام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ  متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات پر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے متحدہ عرب امارات اور کینیڈا کی حکومتوں کے درمیان سرمایہ کاری فریم ورک کے آغاز کی منظوری دےدی ہے جس کے تحت امارات کینیڈا کے متعدد اہم اور سٹریٹجک شعبوں میں 50 ارب امریکی ڈالر تک سرمایہ کاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی، وزیرِ سرمایہ کاری محمد حسن السویدی اور دونوں ممالک کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کی شرائط کے تحت یواے ای کینیڈا میں توانائی، مصنوعی ذہانت، لاجسٹکس، کان کنی اور دیگر قومی و اسٹریٹجک ترجیحی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرے گا جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور ترقی کے نئے امکانات کھلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرمایہ کاری فریم ورک امارات اور کینیڈا کے درمیان طویل مدتی سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ساتھ دونوں ممالک کی اس خواہش کا بھی عکاس ہے کہ وہ معاشی تعاون کو وسعت اور اعلیٰ قدر کی سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے امارات کی حیثیت ترقی یافتہ معیشتوں میں بڑے عالمی سرمایہ کار کے طور پر مزید مستحکم ہوتی ہے۔ 2024 میں امارات کی جانب سے کینیڈا میں براہِ راست سرمایہ کاری کا حجم 8.8 ارب ڈالر جبکہ اسی سال کینیڈا کی جانب سے امارات میں براہِ راست سرمایہ کاری 242 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات نے کینیڈا میں 50 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی توثیق کر دی۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے <strong>اے پی پی</strong> نے امارات نیوز ایجنسی وام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ  متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات پر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے متحدہ عرب امارات اور کینیڈا کی حکومتوں کے درمیان سرمایہ کاری فریم ورک کے آغاز کی منظوری دےدی ہے جس کے تحت امارات کینیڈا کے متعدد اہم اور سٹریٹجک شعبوں میں 50 ارب امریکی ڈالر تک سرمایہ کاری کرے گا۔</p>
<p>اس موقع پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی، وزیرِ سرمایہ کاری محمد حسن السویدی اور دونوں ممالک کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔</p>
<p>معاہدے کی شرائط کے تحت یواے ای کینیڈا میں توانائی، مصنوعی ذہانت، لاجسٹکس، کان کنی اور دیگر قومی و اسٹریٹجک ترجیحی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرے گا جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور ترقی کے نئے امکانات کھلیں گے۔</p>
<p>یہ سرمایہ کاری فریم ورک امارات اور کینیڈا کے درمیان طویل مدتی سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ساتھ دونوں ممالک کی اس خواہش کا بھی عکاس ہے کہ وہ معاشی تعاون کو وسعت اور اعلیٰ قدر کی سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔</p>
<p>اس سے امارات کی حیثیت ترقی یافتہ معیشتوں میں بڑے عالمی سرمایہ کار کے طور پر مزید مستحکم ہوتی ہے۔ 2024 میں امارات کی جانب سے کینیڈا میں براہِ راست سرمایہ کاری کا حجم 8.8 ارب ڈالر جبکہ اسی سال کینیڈا کی جانب سے امارات میں براہِ راست سرمایہ کاری 242 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274075</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 16:55:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/21165421ad5b713.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/21165421ad5b713.webp"/>
        <media:title>فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
