تاجر طبقہ اور فرقہ واریت

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2013

ای میل

shopkeeper 800
shopkeeper 800

پاکستان کی ماڈرن زندگی، خاص طور پر سیاسی زندگی سے متعلق کہانیوں میں بہت سے اصلی اور فرضی کردار پاۓ جاتے ہیں: فوجی افسر، زمیندار، تجارت پیشہ افراد، مُلّا، 'غیر ملکی ہاتھ' اور یقینا جانے پہچانے 'عوام'-

ان میں سے اکثر کہانیوں میں دولتمندوں اور طاقتور لوگوں کو ایک طرف رکھا جاتا ہے اور بے بس اور لاچار عوام کو دوسری طرف، جبکہ کبھی کبھار کسی ہیرو جنرل، جج یا کسی سیاستداں کو حکومت کا نقشہ بدلنے والے فرد کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے-

یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حقیقی زندگی کے واقعات اتنے سیدھے سادے نہیں ہوتے- موجودہ پاکستان کا حقیقی تجزیہ کرنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہوگی کہ عام طور پر مشتبہ عناصر سے ہٹ کر کمتر اثر انگیز سماجی قوتوں کو پیش نظر رکھا جائے جو ملک کی سماجی اور سیاسی زندگی میں اہم رول ادا کرتے ییں-

پاکستان اور مسلم اکثریتی معاشرے سے تعلق رکھنے والے بہت سے دانشور یہ دلیل دیتے ہیں کہ چھوٹے اور اوسط درجے کے تاجروں اور بیوپاریوں نے، یا جنھیں بعض لوگ بازار کا بورژوازی بھی کہتے ہیں، جدید دور میں ان معاشروں کی معاشی اور سیاسی زندگی کو خاصا متاثر کیا ہے-

بعض لوگوں کے مطابق اس طبقہ کی ابتداء زمانہ وسطیٰ میں ہوئی تھی، جبکہ دیگر لوگوں کی رائے میں اس کی جدید شکل خود اپنا مظہر آپ ہے- بہرحال، ماہرین کی رائے میں بازار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا-

اگرچہ کہ ہم انہیں عظیم سیاسی تحریکوں سے نہیں جوڑتے، آج کے پاکستانی معاشرے میں تاجروں اور بیوپاریوں کو اہم مقام حاصل ہے- حقیقت تو یہ ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں سامان اور خدمات کی خرید و فروخت میں تاجر طبقات سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور ہم آپس میں ان کے لالچ اور کنجوسی کی باتیں کرتے رہتے ہیں-

ہم میں سے بہت سے یہ بھی جانتے ہیں کہ تاجروں کی تنظیمیں ہمارے معاشرے کی سب سے زیادہ منظم اور با اثر تنظیمیں ہیں- پچھلی چند دہائیوں میں، تاجروں نے نہ صرف سرگرمی کے ساتھ اپنے مفادات کی حفاظت کی ہے بلکہ بہت ساری سماجی اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیا ہے، خاص طورپر'اسلام کی حفاظت' کے قدیم نعرے کے تحت-

تاجر طبقہ سیاسی طورپر پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کی تحریک کے دوران بالغ ہوا جو ذوالفقار علی بھٹو کے لئے موت کی گھنٹی ثابت ہوا-

ہوسکتا ہے پی این اے بظاہر دائیں بازو کی مذہبی تحریک رہی ہو، لیکن بطور تحریک اس کا اہم ترین حصہ چھوٹے شہروں کا آڑھتی (زرعی دلال) تھا جو ایگرو پروسیسنگ کی صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی پر ناراض تھا جس کی ابتداء 1976 میں ہوئی تھی-

ضیاء کی آمریت کے دوران اور اس کے بعد، تاجر طبقات کے اثر و رسوخ میں متواتر اضافہ ہوا، خاص طور پر پنجاب میں- بازار کے بورژوازی نے ریاستی اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے دو سیاسی حلقوں سے خود کو منسلک کرلیا (یہ اس کے علاوہ تھا جو وہ فوجی حکومتوں کی چاپلوسی میں کرتا تھا جب بھی وہ اقتدار میں ہوتی)-

اس کی پہلی ترجیح مذہبی دایاں بازو ہے- یہ محض کسی غلطی کی بناء پر نہیں کہ تاجروں کی تنظیمیں توہین رسالت کے کارٹونوں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے مختلف اسلامی کاز کی حمایت کرتی ہیں-

تاجر طبقہ نہ صرف اپنی منافع خوری کو مذہب کی چادر اڑھا کر پاک صاف کرنا چاہتا ہے، بلکہ مذہبی دائیں بازو اور تاجر-بیوپاری حلقوں کے درمیان ایک واضح سماجی رشتہ بھی موجود ہے- بعض دکان داروں کے بھائی اور رشتہ دار جز-وقتی امام ہیں، آڑھتیوں کی شادیاں مدرسوں کے عالموں کی بیٹیوں سے ہوئی ہے وغیرہ وغیرہ-

ایسی بہت سی مذہبی-سیاسی تنظیمیں موجود ہیں جن کی حمایت انفرادی طور پر تاجر کرتے ہیں، ان میں فوجی اور پارلیمانی دونوں ہی طرح کی تنظیمیں شامل ہیں- اس طرح تاجر فرقہ واریت کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے فرقوں کی مسجدوں اور مدرسوں کی حمایت کرتے ہیں-

اس کی دوسری ترجیح (زیادہ تر پنجابی) بڑا بورژوازی ہے- تاجر طبقات کی سیاسی قوت کو ابتدا میں ضیاء کے دور میں تنظیم کا درجہ دیا گیا جس کے لئے غیر جماعتی بنیاد پر لوکل باڈیز کے انتخابات کروائے گئے اور اس کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 1985 میں کروائے گئے-

تقریبا تین دہائیوں بعد، اب جبکہ ضیاء کے وفاداروں نے حقیقتا تمام قومی پارٹیوں میں اپنی جگہ بنالی ہے، پنجابی بورژوازی نے شریف برادران کو اپنا نمائندہ چن لیا ہے-

چھوٹے/ درمیانے اور بڑے بورژوازی کے درمیان یا دیگر لفظوں میں بازار اور بڑے صنعت کاروں اور تاجر طبقات کے درمیان ایک علامتی تعلق موجود ہے-

پی ایم ایل-ن اور مخصوص نوعیت کے تاجروں کے درمیان جو تعلق ہے اس میں گو کہ تضادات موجود ہیں، پھر بھی، جب بھی پی ایم ایل-ن اقتدارمیں آتی ہے تو یہ اطمینان محسوس کرتے ہیں-

عملی طورپریہ تعلق تین طرفہ ہے: بڑا بورژوازی، بازار، اور مذہبی دایاں بازو- کم از کم ضیاء کے زمانے سے ریاست کے غیرمنتخب اداروں نے اس ٹرائیکا (سہ طرفہ گٹھ جوڑ) کی سرپرستی کی ہے، اگرچہ کہ اپنی مرضی کے مطابق- اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی ساز باز کے لئے 'عوامی' دباؤ کی ضرورت پڑی اس ٹرائیکا کو فورا فعال کر دیا گیا-

اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ پی ایم ایل-ن جب بھی اقتدار سنبھالتی ہے تو فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو جاتا ہے- یقیناً اسے اتفاقی نہیں کہا جاسکتا-

موجودہ حکومت کے ان روائتی دعووں کے باوجود کہ عاشورہ کے دن راولپنڈی میں ہونے والے فسادات سازش تھے، 'ممنوعہ' تنظیموں کی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں جن میں مئی کے عام انتخابات کے بعد ڈرامائی اضافہ ہوا ہے-

پی ایم ایل-ن نےاقتدار سنبھالنے کے بعد بظاہر بہت سے مثبت بیانات دیئے ہیں- خاص طور پر ترقی پسندوں کو خوش کرنے کے لئے نواز شریف کے متواتر وعدے کہ ہندوستان کے ساتھ دیرپا امن کا قیام ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے-

بدقسمتی سے، آج چھ ماہ بعد ان دعووں کے ساتھ اتفاق کرنا مشکل ہے کیونکہ بڑے بورژوازی، بازار اور دائیں مذہبی بازو کا ٹرائیکا ہمیشہ کی طرح متحد ہے-

یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ، پاکستان کی دیگر مانی ہوئی سیاسی قوتوں کی طرح اس گٹھ جوڑ کے اندر بھی بحران موجود ہیں- عالمی اور علاقائی کھلاڑیوں کا دباوُ بھی ملکی سیاست کی طرح 'نارمل' صورت حال میں ابتری کا باعث بن سکتا ہے-

بہرحال، میں جس نکتے پر زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ 'درمیانی' طبقہ جیسے کہ بازار کا بورژوازی پاکستان کی سیاسی معیشت کا اہم حصہ رہے گا- ہمیں چاہیے کہ ہم اس کا کبھی کبھار غیرضروری حوالہ نہ دیں تاکہ معنی خیز تجزیہ ہو سکے اور دائیں بازو کے سخت گیر حملوں کا جواب دینے کے لئے ایک متبادل سیاسی راستہ بنایا جا سکے-

ترجمہ: سیدہ صالحہ