خطا کے پتلے

06 جنوری 2014

ای میل

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

'انہیں قائد اعظم کو اس طرح سگریٹ پیتے ہوۓ نہیں دکھانا چاہیے تھا- جناح ایسے تو نہیں تھے! 'کئی سال پہلے میرے ایک دوست کا دہلوی کی مووی دیکھنے کے بعد یہ ردعمل تھا-

ہم دونوں ہی ضیاء دور کی پیداوار ہیں جہاں قائد اعظم کا فرمان فقط 'کام، کام اور کام' تھا- اس وقت بہت سی ایسی باتیں تھیں جو قائد اعظم نہی کہی تھیں، وہ آپ کی عبادت گاہوں کے حوالے سے خاموش تھے، نہ انہوں نے مسلح افواج کو یہ تاکید کی تھی کہ وہ قوم کے خادم ہیں، اور سموکنگ تو وہ بالکل بھی نہیں کرتے تھے-

میرا دوست ایک بالکل مختلف جناح دیکھ کر کافی جذباتی ہو گیا تھا، کیوں کہ ظاہر ہے قائد اعظم محمد علی جناح کے لئے فقط لیڈر ہونا یا اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ہی کافی نہیں تھا بلکہ انہیں ایک مثالی انسان ہونا بھی ضروری تھا-

میرا یہ دوست ہی فقط واحد شخص نہیں جو ایسا محسوس کرتا ہے- بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک انسان کی ذاتی ناکامیاں اور خامیاں اسکی اصل کامیابی اور صلاحیت کو ہیچ بنا دیتی ہیں- ایسا نہیں ہے، ایسا بالکل نہیں ہے!

اپنی فیملی کو یکجا رکھنے کا بہت کم تعلق ایک ملک چلانے سے ہے- اگر دن کے اختتام پر آپ ایک دو ڈرنکس لے لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک اچھے ماہر اقتصادیات نہیں ہو سکتے- بھلے آپ ایک انتہائی برے انسان ثابت ہوں لیکن اپنی شریک حیات کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک بہترین سیاستدان نہیں ہیں-

اس بحث کو تھوڑا اور آگے لے کر چلتے ہیں: کیا آپ ایک ایسے شخص سے ایک پوری سلطنت پر حکومت کی توقع کر سکتے ہیں جسے خود اپنے جسم پر کنٹرول نہ ہو؟ جولیس سیزر نے بالکل ایسا ہی کیا- ایک قابل جنرل اور سیاستدان سیزر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرگی کا مریض تھا- اگر آپ گالز سے پوچھیں تو وہ کہیں گے اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا-

قومی بقا کے لئے ایک ایسے شخص کو جنگ کی اجازت دینے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جس پر ڈپریشن کے سنگین دورے پڑتے ہوں- ایسا دوسری جنگ عظیم میں برٹش نے کیا اور اس کے نتائج بھی برے نہیں نکلے- دوسری جانب سبزی خور، سموکنگ اور شراب سے پرہیز کرنے والے ہٹلر نے اپنے لوگوں کو مایوس اور خوار کرایا-

اگر آپ کے خیال میں ایک شرابی اور افیمچی یکے بعد دیگرے کئی فوجوں کو شکست نہیں دے سکتا تو آپ بابر اور اسکی مختلف جنگوں کا حال پڑھیں- ان لوگوں نے جو کچھ بھی کیا اپنی خامیوں کے باوجود کیا یا شاید انہی کی وجہ سے کیا-

آج کل شہرت کے حامل لوگوں کو جس طرح کڑی جانچ پڑتال کا سامنا ہے اگر ان حضرات کو ہوتا تو ان کے بچنے کے امکان کم ہی تھے- انکی زندگی کی ہر تفصیل پر نکتہ اٹھایا جاتا ہے، ہر خامی کو بے نقاب کیا جاتا ہے اور انہیں ان کی قابلیت اور کیریئر کے ایک ایک پہلو سے منسلک کیا جاتا ہے-

دلچسپ بات یہ ہے کہ بجاۓ کھل کر سامنے آنے کے یہ طرز عمل لیڈروں کو اخلاقیات اور پاکستان کے کیس میں مذہبیت کے پردے کے پیچھے چھپنے پر مجبور کر دیتا ہے- آج کا کونسا لیڈر ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح یہ اعتراف کرے کہ وہ شراب پیتا ہے لیکن لوگوں کا خون نہیں پیتا؟

ایک بھی نہیں، یہ اخلاق بریگیڈ کی شدید تنقید سے ڈرتے ہیں (اور بالکل جائز ڈرتے ہیں)- یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جس شخص نے اعلان کیا تھا اسی نے آگے جا کر شراب پر پابندی عائد کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا، یہ فیصلہ دائیں بازو والوں کو مطمئن کرنے کے لئے تھا- اور ظاہر ہے یہ کامیاب نہیں ہوا، کبھی بھی نہیں ہوتا-

ہمارے ہیرو، ہماری ہی طرح خطا کے پتلے ہیں- ہم میں سے کسی کا دامن پاک نہیں، ہم سبھی نے اپنے گھر کے پچھواڑے بہت سے مردے گاڑ رکھے ہیں، ہمارے بھی دلوں میں بہت سے راز پنہاں ہیں- ہم سبھی نے ایسے کام کیے ہیں جن پر ہمیں کوئی فخر نہیں-

یہ چیزیں ہمیں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے یا کام کاج کرنے سے نہیں روکتیں- سرجری کرنے یا کلاس کو پڑھانے سے- ٹریفک سنبھالنے یا ایسے پرمغز کالم لکھنے سے جو اگلے دن کسی بن کباب پر لپٹے نظر آئیں گے- ہم میں خامیاں ہیں، اور اسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ناصرف اپنے لئے بلکہ ان کے لئے بھی جنہیں ہم چاہتے ہیں-

لیکن ظاہر ہے یہاں ایک شرط بھی ہے- جب ایک لیڈر کی ذاتی خامیاں براہ راست اس کی قائدانہ صلاحیت پر اثر انداز ہو رہی ہوں تو یہ تشویش کی بات ہے- جب کے سیاسی اسلام کا چیمپئن بذات خود بدعنوان ہے تو ہاں یہاں آپ کی تشویش جائز ہے- جب ایک لیڈر عوام کو سادگی کی تلقین کرتا ہے لیکن خود حویلی میں رہتا ہے تو یہاں شکایت کا حق ہے- اگر وہ تعلیم اور انصاف کی بات کرتا ہے اور خود جعلی ڈگری رکھتا ہے تو ہاں ہمیں احتجاج کرنا چاہیے- لیکن سب سے بڑھ کر ان سے خبردار رہیں جن میں کوئی خامی نہیں- یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعی کوئی سنگین برائی چھپا رکھی ہے-

یہ بھی سمجھ لیں کہ لیڈروں کو ضرورتاً جھوٹا بننا پڑتا ہے- یہ ان کے کام کی ضرورت ہے- بعض اوقات مختلف سامعین میں مختلف پیغام پہنچانا پڑتا ہے- بعض اوقات ایک بڑی اچھائی کے لئے عوام کو دھوکے سے متحرک کرنا پڑتا ہے- ظاہر ہے جب وہ یہ کام کرتے ہیں تو انمیں تھوڑا غرور بھی آجاتا ہے، یہ بھی انکے کام کا حصّہ ہے- آخر کو ہر کوئی، مدیبہ (نیلسن منڈیلا) نہیں ہوتا-

بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ آج کے دور کے دیوجانس بن کر دن کی روشنی میں ایک فرضی صادق اور امین کی تلاش میں ہیں- بہت ساری وجوہات کی بنا پر یہ آئیڈیا غلط ہے-

اچھے یا عظیم لوگوں کو دیوتا بنا کر پیش کرنا خطرناک کھیل ہے: جب انکی ذات میں موجود دراڑیں نظر آنا شروع ہوں گی، جب ان کے اندر کا خطا کا پتلا ظاہر ہوگا، تب سنگ مرمر کے تراشیدہ پتلوں کے شائقینوں کا ایمان مجروح ہوگا کیونکہ وہ داغدار جسم والے اصلی انسانوں کو تسلیم نہیں کر پائیں گے- اور حقیقت یہ ہے کہ جتنا آپ کسی کو آسمان پر چڑھائیں گے اتنا لوگوں کے لئے اسکی تحقیر کرنا آسان ہوگا-

اس پر برائی یہ کہ ہم خود کو انکی مثال بنانے کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتے- ہم انہیں سراہتے تو ہیں لیکن انکی تقلید نہیں کرتے- یہ تو تساہل ہے، اس سے دیوتا سے زیادہ دیوتاگر کے بارے میں پتا چلتا ہے- ویسے بھی اس معاملے میں ہماری ہی چلتی ہے ان بیچاروں کی تو کچھ کہی سنی نہیں جاتی-


انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: ناہید اسرار