اردو کی دس بہترین سوانح عمریاں

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2014

ای میل

۔ —فائل فوٹو
۔ —فائل فوٹو

امریکا کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن (1826-1743)کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 'عظیم اور بہترین کتابوں' کی متعدد فہرستیں ترتیب دی تھیں۔

اس زمانے سے ہی مغربی ثقافتوں میں 'سو عظیم کتابوں' یا پھر 'ہزار عظیم کتابوں' کی فہرستوں کا خیال مشہور ہے۔

اس حوالے سے کئی لوگوں نے اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرستیں بنائی ہیں۔

ایسی فہرستوں کی بھی کمی نہیں جنہیں دانشوروں کی ٹیم نے مل کر بنایا۔

کچھ نے تو ایسی کتابوں کی فہرستیں بھی تیار کیں جو وہ موت سے پہلے پڑھنے کی خواہش رکھتے تھے۔

گزشتہ ہفتے میری ایک دوست نے مجھ سے اردو میں اس طرح کی فہرستوں کے متعلق پوچھا تو میں نے انہیں بتایا کہ 'جہاں تک مجھے یاد پڑھتا ہے ایسی فہرستیں موجود نہیں اور ایسی کسی فہرست کا بھی ملنا بہت مشکل ہے جس پر تمام متفق ہوں'۔

اس پر انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اردو کی بہترین کتابوں کی فہرست بنانا شروع کر دوں، جس کے بعد دوسرے لوگ بھی میرا ہاتھ بٹانے لگیں گے۔

میرے ذہن میں مختلف اقسام کی بنیاد پر بہترین کتابوں کی فہرست تیار کرنے کا خیال آیا۔

اس لیے میں نے اردو میں لکھی گئی دس بہترین خود نوشت سوانح عمریوں کی فہرست بنائی ہے۔

واضح رہے کہ اس فہرست میں درجہ بندی ترجیحی بنیادوں کے بجائے ان کتابوں کی اشاعت کی تاریخ پر مبنی ہے ۔

یہ فہرست بناتے ہوئے میں نے ان کتابوں کی اہمیت، مطابقت، پڑھنے میں آسانی اور ثقافتی اقدار کو سامنے رکھا۔

ضروری نہیں کہ اچھی کتاب کو سب ہی پسند کریں اور وہ بڑی تعداد میں فروخت ہونے والی بھی ہو۔

مشہور فرانسسی مصنف آندرے ماؤروس کا کہنا تھا: محبت کی طرح ادب میں بھی دوسروں کے انتخاب اور پسندیدگی ہمارے لیے حیران کن ہوتی ہے۔

آپ کے پاس اپنی فہرست بنانے یا اسے تبدیل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

کالا پانی سن 1884 میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والی اس کتاب کا پورا نام 'تواریخِ عجیب المعروف بہ کالا پانی' ہے۔

برطانیہ کے خلاف 'غداری' کے الزامات کے تحت بیس سال تک انڈمان جزائر میں قید رہنے کے بعد جنوری، 1866 میں واپس لوٹنے والے جعفر تھانیساری (1905-1838) نے اسے تحریر کیا تھا۔

حقیقی معنوں میں آپ اسے ایک مکمل خود نوشت سوانح عمری تو نہیں قرار دے سکتے، لیکن یہ ان جزائر پر زندگی گزارنے کے بارے میں پہلا ذاتی تجربہ تھا، جس کی مدد سے 1857 کی جنگ آزادی کا سیاسی و تاریخی پس منظر معلوم ہوتا ہے۔

یہ اردو زبان کی ابتدائی خود نوشت سوانح عمریوں میں سے ایک ہے، اور پڑھنے میں انتہائی دلچسپ۔ حال ہی میں لاہور کی سنگ میل پبلیکیشنز نے اسے دوبارہ شائع کیا۔

اعمال نامہ بہترین ادبی انداز اور زبان کے استمعال کی وجہ سے مشہور اس کتاب میں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں درپیش سیاسی ، سماجی اور ادبی مسائل پر کھل کر بحث کی گئی ہے۔

اس کتاب کے مصنف سید رضا علی (1849-1880) ہیں، جنہوں نے ہندوستانی قانون ساز کونسل اور جنوبی افریقہ میں ایجنٹ جنرل جیسے اہم عہدوں پر فرائض سر انجام دیے۔

انیس سو تینتالیس میں شائع ہونے والی اس کتاب میں رضا علی نے اپنی زندگی کا تفصیل سے ذکر اتنے ہلکے پھلکے اور کھلے انداز میں کیا کہ اردو میں شاید ہی کچھ اور خود نوشت سوانح عمریاں اس پائے کی ہوں۔

یہ کتاب اپنی پہلی اشاعت کے بعد کئی دہائیوں تک دستیاب نہیں تھی لیکن 1992 میں پٹنا کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری نے اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا۔

مشاہدات نواب ہوش یار ہوش بلگرامی (1955-1894)کی اس خود نوشت سوانح عمری کا شمار ان اردو کتابوں میں ہوتا ہے جنہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

انیس سو پچپن میں شائع ہونے والی اس کتاب میں دوسری چیزوں کے علاوہ حیدر آباد دکن اور رام پور کی ریاستوں میں شاہی زندگیوں اور شاہی عدالتوں کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔

اس کتاب میں چند اہم شخصیات کی نجی زندگیوں کے انکشافات شامل ہیں جن کی وجہ سے اسے پڑھنے والے مشتعل ہو گئے۔

سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد کتاب سے متعدد صفحات کو نکال دیا گیا، جبکہ کئی لائنوں کو چھپانے کے لیے ان پر سٹیکر لگا دیے گئے۔

تاہم ان اقدامات کے باوجود مقتدر حلقے مطمئن نہ ہوئے اور بالآخر اس پر دکن میں پابندی لگا دی گئی اور پہلے سے شائع ہونے والی کتابیں ضبط کر لی گئیں۔

اس ساری پیشرفت پر مصنف کو شدید دھچکا پہنچا اور وہ کچھ دنوں بعد انتقال کر گئے۔ آج 'مشاہدات'کی کاپی ملنا انتہائی مشکل ہے۔

ناقابل فراموش صحافی سردار دیوان سنگھ مفتون (1975-1890 ) نے اس خود نوشت سوانح عمری پر 1943 میں جیل کے اندر رہتے ہوئے کام شروع کیا تھا۔

روزنامہ 'ریاست' نے 1944 میں اسے قسط وار شائع کیا۔ بعد میں اس کی کتابی شکل نے بھی شہرت حاصل کی۔

مفتون نے 'ناقابل فراموش' کو دوبارہ تحریر کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد اس کا دوسرا اور وسیع ایڈیشن 1957 میں شائع ہوا۔

اس کتاب میں کچھ نہایت دلچسپ، سچے اور ٹائٹل کی مناسبت سے ناقابل فراموش واقعات درج ہیں۔

اس کتاب کا سیکوئل 'سیف و قلم' شائع نہیں ہو سکا۔لاہور کے ایک پبلشر نے کئی سالوں بعد 'ناقابل فراموش' کو دوبارہ شائع کیا۔

خون بہا ڈرامہ نگار، صحافی اور شاعر حکم احمد شجاع (1969-1893) نے اپنی اس خود نوشت سوانح عمری میں اپنے کچھ دوستوں، رشتہ داروں اور عزیزوں کی موت کا ماتم کیا ہے۔

ان کا یہ افسوس پوری کتاب میں جا بجا نمایاں ہے لیکن اس میں احمد شجاع کے دورِ زندگی میں پیش آنے والے دوسرے دلچسپ واقعات بھی ہیں۔

انیس سو باسٹھ میں شائع ہونے والی کتاب میں ادبی اور فلسفیانہ آمیزش بھی نظر آتی ہے۔

کئی ایڈیشنز پر مشتمل 'خون بہا' اب پرنٹ میں دستیاب نہیں، تاہم آپ انہیں کچھ لائبریوں میں ضرور دیکھ سکتے ہیں۔

سرگزشت زیڈ اے بخاری کے نام سے مشہور سید ذوالفقار علی بخاری نے اپنی اس خود نوشت سوانح عمری پر 1962 میں کام شروع کیا۔

روزنامہ 'حریت' میں قسط وار شائع ہونے کے بعد اسے 1966 میں کتابی شکل دی گئی۔

زیڈ اے بخاری کے مزاج کے عین مطابق، کتاب میں طنز و مزاح بھرپور انداز میں موجود ہے۔

خوبصورتی سے تحریر شدہ اس کتاب میں پاکستان اور ہندوستان کے اندر براڈکاسٹنگ کی تاریخ پر بھی نظر ڈالی گئی ہے۔

یادوں کی دنیا یہ خوب سوچے سمجھے انداز میں انڈین دانش ور ڈاکٹر یوسف حسین خان کی زندگی پر بہترین کتاب ہے۔

انیس سو سڑسٹھ میں شائع ہونے والی اس کتاب کی ابتدا مغل دور سے شروع ہوتی ہے، بعد میں مصنف کی ذاتی ذندگی کا تفصیل سے ذکر اور پھر بڑے کینوس پر پورے معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے۔

سماجیات، تاریخ اور ادب کے خوبصورت امتزاج پر مشتمل یہ کتاب آج کل کے دور میں اتنی آسانی سے نہیں ملتی۔

یادوں کی بارات اسے جوش ملیح آبادی (1982-1898)کی متنازعہ تخلیق بھی سمجھا جاتا ہے۔

انیس سو ستر میں سامنے آنے والی اس کتاب میں جوش کے لاتعداد معاشقوں کی وجہ سے اسے تنقید کا سامنا رہا۔

زبان پر عبور کی وجہ سے مشہور جوش نے یقینی طور پر خوبصورت اور منفرد خود نوشت سوانح عمری لکھی کہ پڑھنے والا ان کی ابتدائی زندگی کے واقعات اور ماحول کی منظر کشی میں ڈوب جاتا ہے۔

حال ہی میں کتاب کے گمشدہ صفحات ملنے کے بعد ڈاکٹر ہلال نقوی نے انہیں شائع کیا۔

بلاشبہ، یادوں کی بارات اردو میں لکھی گئی خود نوشت سوانح عمریوں میں سب سے دلچسپ ہے۔

جہانِ دانش محنت مزدوری کرنے والے احسان دانش (1982-1914) سیلف میڈ شاعر تھے۔

انہوں نے اپنی ذاتی جدوجہد سے علم حاصل کیا اور بالآخر ایک بڑے شاعر اور دانشور تسلیم کیے گئے۔

ان کی خود نوشت سوانح عمری سے حوصلہ مندی کا سبق ملتا ہے۔

اس کتاب کے ذریعے احسان دانش سکھاتے ہیں کہ کس طرح دنیا میں شدید مفلسی کا سامنا کرتے ہوئے خود کو عظیم بنایا جائے۔

انیس سوپچھر میں پہلی مرتبہ شائع ہونے کے بعد کچھ سالوں کے وقفے سے اس کا دوسرا حصہ شائع کیا گیا۔

زرگزشت مشتاق احمد یوسفی کو آج اردو زبان کا سب سے نمایاں مزاح نگار تصور کیا جاتا ہے۔

ان کی یہ خود نوشت سوانح عمری 1967 میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی اور اب تک اسے کئی مرتبہ شائع کیا جا چکا ہے۔

یوسف صاحب کا ماننا تھا کہ حس مزاح ہی دراصل چھٹی حس ہے اور اگر کسی کے پاس یہ حس موجود ہے تو وہ ہسنتے کھیلتے زندگی کے تکلیفیں گزار سکتا ہے۔

انہوں نے بینکر کے طور پر گزاری زندگی کے بارے میں لکھتے ہوئے اسی نقطہ کو اپنایا۔

یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہر کسی کو ضرور پڑھنی چاہیے۔

شہاب نامہ اعلی سطح کے بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب (1986-1917) در حقیقت ایک فکشن رائٹر تھے۔

اور یہی رنگ ان کی خود نوشت سوانح عمری میں بھی نظر آتا ہے۔ان کے ایک قریبی دوست مشتاق خواجہ 'شہاب نامہ' کو ایک فکشن تحریر قرار دیتے ہیں۔

کچھ ناقابل یقین واقعات کو چھوڑ کر، اس کتاب میں نئی وجود میں آنے والی ریاست کی زبوں حالی کا احوال ہے، جہاں کی عوام جمہوریت سے محروم ہے۔

برطانوی راج سے متعلق کتاب کا ابتدائی حصہ بہت شاندار ہے۔ حالیہ تاریخ میں یہ فروخت کے لحاظ سے بہترین کتاب ہے۔